گستاخِ رسول ﷺ کی سزا اور فقہاءِ احناف · علامہ محمد تصدّق حسین
Ghustakh-e-Rasool ki Sharai Saza aur Fiqha Ahnaaf · Allama Muhammad Tassaduq Hussain
PDF 1

گستاخ رسول ﷺ کی سزا

اور

فقہاءِ احناف

تصنیف:

علامہ محمد تصدّق حسین

ناظم تعلیمات: جامعہ المرکز الاسلامی، لاہور

فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

زیر اہتمام

تحریکِ مُطالعۂ قُرآن

المرکز الاسلامی والٹن روڈ لاہور

0300-4109731

صفحہ 2

گستاخ رسول کی سزا اور فقہاء احناف

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں

نام کتاب : گستاخ رسول کی سزا اور فقہاء احناف مصنف : محمد تصدق حسین نظر ثانی : حافظ نصیر احمد نورانی، مولانا محمد مدنی چشتی پروف ریڈنگ : مولانا عبدالقدیر، مولانا لیاقت علی رضوی تعداد : 1000 مطبع : جے ایم آرٹ پریس اردو بازار لاہور 37231566-042 0302-4329566 قیمت : 85 روپے

ملنے کے پتے

گستاخ رسول کی سزا اور فقہاء احناف عک نمبر شمار

صفحہ 3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بحق مصنف محفوظ ہیں

گستاخ رسول کی سزا اور فقہاء احناف

محمد تصدق حسین حافظ نصیر احمد نورانی، مولانا محمد مدنی چشتی مولانا عبد القدیر، مولانا لیاقت علی رضوی

1000 مطبع ایم آرٹ پریس اُردو بازار، لاہور 37231566-042 0302-4329566 85 روپے

ملنے کے پتے

ی مین والٹن روڈ لاہور کینٹ منظور گنج بخش روڈ لاہور مدینہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور مارکیٹ لاہور ☆ فضل حق پبلی کیشنز دربار مارکیٹ لاہور گیٹ لاہور نظامیہ کتاب گھر اردو بازار لاہور

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

عکسِ جمیل

نمبر شمار عنوانات صفحہ نمبر

صفحہ 4

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

صفحہ 5

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

صفحہ 6

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

صفحہ 7

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

تقریظ جمیل

استاذ العلماء یادگار اسلاف حضرت علامہ حافظ خادم حسین رضوی صاحب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ وامیر فدایان ختم نبوت پاکستان

نحمده ونصلی ونسلم علی رسوله الكريم

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفیٰ
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

میدان اُحد میں لڑائی کے اختتام پر ابوسفیان نے سب سے پہلے ہمارے آقا ومولیٰ ﷺ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ زندہ ہیں جواب ہاں میں آنے کے بعد انہوں نے حضرت صدیق اکبر ؓ کے بچ جانے کا سوال کیا جواب ہاں میں آنے پر انہوں نے تیسرا سوال حضرت فاروق اعظم ؓ کے متعلق پوچھا اور جواب میں انہیں بتایا گیا کہ وہ خیریت سے ہیں اس کے بعد کی گفتگو احادیث مبارکہ کی کتب میں موجود ہے۔ لیکن اس موقع پر صرف ہمارے آقا ومولیٰ ﷺ کے نام کے ساتھ شیخین کا نام لیا گیا۔

اس پر علمائے اُمت نے ایک اہم سوال اُٹھایا کہ ایسا کیوں کیا گیا کہ صرف تین نام کے بعد خاموشی اختیار کی گئی تو جواب دیا گیا۔ ”اِنَّ قِيَامَ الْاِسْلَامِ بِھِمْ“ اب اس طرف آئیے کہ حضرت مولانا محمد تصدق حسین رضوی زید مجدہ نے اس حساس موضوع پر قلم کیوں اُٹھایا اور نہایت جانفشانی سے دلائل وبراہین کا ایک گلشن اُمت مسلمہ کے سامنے رکھنے کی سعی مشکور کی۔ ادنیٰ سی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی بھی بخوبی جانتا ہے کہ حضور پرنور شافع یوم النشور ﷺ کے ساتھ اہلِ اسلام کو جو عقیدت ومحبت ہے اسی سے اسلام کی عمارت قائم ودائم ہے اور اہل کفر ونفاق اس بات سے بھی پوری طرح باخبر ہیں کہ اُمت مسلمہ کو جو والہانہ لگاؤ آپ ﷺ

صفحہ 8

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

کی ذات گرامی سے ہے اس کو اگر ختم نہ بھی کیا جا سکے لیکن کم از کم اس کی حدت و گرمی کو ٹھنڈا بھی کر دیا جائے تو اُمت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر جو کچھ ہوا ہے یا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔

ادھر اُمت مسلمہ کے ذمہ دار اور امین لوگ بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق میدان کارزار میں موجود ہیں حضرت علامہ موصوف نے بڑی محنت کر کے امہات الکتب کے حوالہ جات سے اپنی کتاب کو مزین و مبرہن کیا اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک ﷺ کے توسل سے اس کتاب کے ذریعے ملت اسلامیہ میں بیداری پیدا فرمائے اور مولانا موصوف کے لیے دارین کی کامیابی کا سبب بنائے۔ آمین

حافظ خادم حسین رضوی ۰۶ ربیع الثانی ۱۴۳۲ھ

صفحہ 9

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ الہادی النصیر فنعم النصیر ونعم الہاد، اللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم ویبین لہ سبل الحق والرشاد، والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد عبدہ ورسولہ سید المرسلین واکرم العباد، ارسلہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ اہل الشرک والعناد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ افضل الصلوات صلاۃ وسلاماً دائمین الی یوم التناد

خالق ارض و سما نے دنیا کو مختلف انواع و اقسام کی نعمتوں سے مزین فرمایا، برگ و ثمر، بیل بوٹے، بلند و بالا پہاڑ، ہوا کی خنکی، پانی کی ٹھنڈک و مٹھاس، چاند ستاروں کی روشنی، سورج کی حدت و حرارت، پھلوں اور پھولوں کی مہک دنیا کے حسن و جمال کی آئینہ دار ہیں، اور یہ چیزیں انسانی زندگی کے ارتقاء کیلئے ضروری ہیں، انسانی جسم کے لیے عقل و شعور، آنکھوں کی بصارت، کانوں کی سماعت، ذائقہ و لمس کی حس، چلنے پھرنے اور پکڑنے کی قوت وغیرہ اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کے بغیر انسان نامکمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ تمام نعمتیں عطا فرمائیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے خالق کائنات نے احکام و ضوابط بھی عطا فرمائے، ان قواعد پر عملدرآمد ہی انسان کی دنیا و آخرت میں فوز و فلاح کا باعث ہے، کیونکہ کسی ضابطہ اور قاعدہ کے بغیر نظام حیات کو برقرار رکھنا ناممکن ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقصود کائنات ہیں اور آپ کے طفیل ہی یہ عالم رنگ و بو

صفحہ 10

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف معرض وجود میں آیا، خالق کائنات جل جلالہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت والفت اور تعظیم و توقیر کا حکم ارشاد فرمایا، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت اصل ایمان ہے، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ اس کا قلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے، کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت والفت اور آپ کی تعظیم و توقیر ہی مدار ایمان ہے اور سارے دین کی بنیاد ہے، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثناء اور تعظیم و احترام سے کل دین کا قیام ہے اور اگر یہ ختم ہو جائے تو تمام دین بھی ختم ہو جائے گا۔ کسی ملک یا ریاست کے استحکام اور اس کی بقاء کے لیے جس طرح اس کی جغرافیائی حد بندی کا تحفظ ضروری ہے، اسی طرح اس کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی ازحد ضروری ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہی جب وجہ وجود کائنات ہے تو ایسی شخصیت کے بارے میں کسی قسم کی بے ادبی اور ہرزہ سرائی سارے معاشرے کے بگاڑ، فساد اور عدم استحکام کا باعث ہوگی، لہٰذا یہ لازم ہے کہ حرمت و ناموس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لیے سخت ترین قانون ہو، تاکہ ریاست میں فتنہ و فساد کی نشو و نما نہ ہو سکے، اللہ تعالیٰ کے جن مقرب اور برگزیدہ بندوں کی بدولت دنیا نیکی، تقویٰ، اخلاص، سچائی، حق پرستی، دیانت ، امانت، رواداری، عدل و انصاف جیسی اعلیٰ اقدار سے روشناس ہوئی ان کی شان میں دشنام طرازی انتہائی سنگین جرم ہے، جسے کوئی مہذب شخص برداشت نہیں کر سکتا، ملک کے امن وامان، معاشرے کے باوقار تہذیب و تمدن اور استحکام کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اہانت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم کو سخت سزا دی جائے۔ اُمت مسلمہ کے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ناقابل معافی جرم ہے اور اس کی سزا موت ہے کیونکہ ایسے بدطینت شخص کے تعفن زدہ وجود سے زمین کو پاک کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں امن و استحکام قائم رہے۔

صفحہ 11

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ناموس مصطفےٰ ﷺ :

کائنات میں بسنے والے لوگ خواہ ایک قبیلہ وقوم سے تعلق رکھتے ہوں یا ایک خطہ و ملک میں رہتے ہوں، اس دنیا میں امن وسکون کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے انہوں نے قواعد وضوابط متعین کر رکھے ہیں، ہر شخص پر ان قوانین کی پابندی لازم ہے، اگر ایسا نہ ہو تو انسانی نظام حیات درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ ان قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کے مقام ومرتبہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی عزت و توقیر کا خیال رکھے۔ بیٹا اپنے باپ کی، شاگرد اپنے استاذ کی، غلام اپنے مالک کی تعظیم اسی لیے کرتا ہے کہ ان کا مقام اس سے بلند ہے، تو جو ہستی تمام مخلوق سے اعلیٰ وارفع ہے، جو وجہ تخلیق کائنات ہے، جس کے تمام انسانیت پر ان گنت احسان ہیں، جو ذات تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، جس شخصیت نے انسانیت کو جہالت کی پستی سے نکال کر ہدایت کے اوج ثریا پر پہنچایا، ان کی تعظیم وتوقیر بھی تمام کائنات سے زیادہ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ ان کا مقام ومرتبہ اور ان کی عزت و رفعت تمام مخلوق سے بلند ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر ان کے غلاموں کی عقیدت ہی نہیں بلکہ مدار ایمان ہے، حضور سید عالم ﷺ کی تعظیم وتوقیر اور محبت والفت کے بغیر تصور ایمان واسلام نامکمل ہے۔

خالق کائنات ﷻ اپنے حبیب کی تعظیم وتوقیر کا حکم ارشاد فرماتا ہے: اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا O لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ ط وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا O

﴿الفتح: 09-08﴾

”بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا، تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح شام اللہ کی پاکی بولو“

صفحہ 12

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

خالق کائنات ﷻ نے تعظیم مصطفےٰ ﷺ کو واجب اور ضروری قرار دیا کہ اس کے بغیر تکمیل ایمان ناممکن ہے، اور تعظیم رسول ﷺ کے حکم کو مطلق رکھا کہ تم تعظیم کا جو بھی طریقہ اختیار کرو وہ درست ہے سوائے اس کے انہیں اُلوہیت میں شریک نہ کرو اور نہ اُن کی عبادت کی جاسکتی ہے۔

قال المبرد و تعزروه ای تبالغوا فی تعظيمه

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 23﴾

امام مبرد نے کہا: تعزروہ کا معنی ہے آپ کی تعظیم میں مبالغہ کرو۔

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ:

تعظیم مصطفےٰ ﷺ اُمت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کیونکہ تعظیم مصطفےٰ اُمت مسلمہ کے قلوب میں جس قدر زیادہ ہوگی ان کے ایمان کو اتنی جلا ملے گی اور ظلمت و گمراہی ان کے قلوب سے ختم ہوگی۔ دامن مصطفےٰ ﷺ سے مضبوطی ایمان کی لذت و حلاوت ہے ۔ اس بات کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

انه يجب على الامة ان يعظموه عليه الصلوة والسلام ويوقروه في جميع الاحوال فى حال حياته و بعد وفاته فانه بقدر ازدياد تعظيمه و توقيره في القلوب يزداد نور الايمان

﴿روح البیان جلد 07 صفحہ 216﴾

”حضور ﷺ کی اُمت پر واجب ہے کہ وہ آپ کی ہر حال میں تعظیم بجا لائیں، آپ کی ظاہری حیات ہو یا آپ کے وصال کے بعد کا زمانہ، اس لیے کہ جب دلوں میں تعظیم و توقیر مصطفےٰ ﷺ بڑھے گی تو اتنا ہی نور ایمان قلوب مومنین میں زیادہ ہوگا۔“

تعظیم رسول کریم ﷺ ایسا جذبہ ہے جب یہ دل میں جاگزین ہو تو ایمان کے

صفحہ 13

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

جانے کا خطرہ نہیں رہتا، بلکہ اس دل میں ایمان اور زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ قلب لذت ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ط..... O

﴿النور: 63﴾

”رسول اکرم ﷺ کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے“

اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے بارگاہ رسالت کے آداب کو بیان فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس کا تذکرہ فرمایا۔ اس آیت کریمہ کی مفسرین کرام نے دو توجیہات بیان کی ہیں۔

پہلی توجیہ:

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ قول مختار ہے کہ اس سے مراد رسول کائنات ﷺ کا حکم اور دعوت ہے یعنی تم آپ کے بلانے اور آپ کے ارشادات عالیہ کو اپنے اقوال کی طرح نہ سمجھو، بلکہ جب میرا حبیب تمہیں بلائے تو فوراً بارگاہ میں حاضر ہو کر تعمیل حکم کرو، اور حبیب کبریا ﷺ کے حکم کو اپنے آپ پر لازم کر لو۔ حضور سید عالم ﷺ کے حکم کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث پاک سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

عن ابی سعید بن المعلى قال كنت اصلى فى المسجد فدعانی رسول اللہ ﷺ فلم اجبه فقلت یا رسول اللہ انی کنت اصلی فقال الم يقل الله استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم

﴿صحیح بخاری جلد 02 صفحہ 642﴾

صفحہ 14

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”حضرت ابو سعید بن معلی فرماتے ہیں میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا اور میں جواب نہ دے سکا (پھر نماز سے فارغ ہو کر) میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول جب تمہیں بلائیں تو فوراً حاضر ہو جاؤ“

اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور حضور نبی کریم ﷺ اسے بلائیں تو اس پر واجب ہے کہ بلاتاخیر خدمت اقدس میں حاضر ہو اگر چہ چلنا ہی پڑے اور اس حاضری سے اس کی نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا یہ حضور کے خصائص میں سے ہے۔

دوسری توجیہ:

اس آیت کے تحت مفسرین نے دوسرا قول یہ نقل کیا، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو، آواز دے کر اور نام لے کر، بارگاہ مصطفےٰ ﷺ میں تمہارا یہ انداز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ جب تم حضور سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور حضور سید عالم ﷺ سے تخاطب کی ضرورت پڑے تو تم یا رسول اللّٰہ ﷺ، یا نبی اللّٰہ ﷺ کے الفاظ استعمال کرو تا کہ تمہارے دلوں میں بارگاہ نبوی کا ادب و احترام باقی رہے۔

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لا تجعلوا نداء كم اياه وتسميتكم له كنداء بعضكم بعضا باسمه مثل يا محمد و يا ابن عبد الله ورفع الصوت به والنداء وراء الحجرة ولكن بلقبه المعظم مثل يا نبي الله يا رسول الله كما قال الله تعالى يايها النبى يايها الرسول

﴿روح البیان جلد 06 صفحہ 185﴾

صفحہ 15

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

"تم انہیں آواز دے کر اور نام لے کر نہ پکارو جیسا کہ تم آپس میں نام لے کر ایک دوسرے کو پکارتے ہو مثلاً یا محمد، یا ابن عبداللہ اور اونچی آواز میں گھر کے باہر سے بھی آواز نہ دو بلکہ عظیم القاب کے ساتھ مثلاً یانبی اللہ یا رسول اللہ ﷺ کہہ کر آپ کو مخاطب کرو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یایھا النبی یا یایھا الرسول فرمایا"

مفسرین کے ان اقوال کی روشنی میں اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُمت مسلمہ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتوقیر کتنی اہمیت کی حامل ہے، اور ایک مومن کے لیے بارگاہ رسالت کے آداب سے واقفیت کتنی اہم ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر انسان کا ایمان نامکمل ہے۔

تعظیم مصطفیٰ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم :

دین اسلام میں عبادت ایک اہم فریضہ ہے اس کے ارکان میں نماز، روزہ، حج، زکوۃ، یہ تمام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا انکار کرنے والا شخص مومن متصور نہیں ہوتا، بلکہ ان ارکان کے انکار کے بعد اس کا دین اسلام کے ساتھ رشتہ وتعلق ختم ہو جاتا ہے۔ مگر تعظیم مصطفیٰ ﷺ عبادت سے مقدم قرار دی گئی، عبادت کا اصل مقصد اور روحانی لذت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب قلوب محبت وتوقیر مصطفیٰ کریم ﷺ سے لبریز ہوں۔ خالق کائنات جل جلالہ نے قرآن پاک میں پہلے حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر کا حکم دیا اور پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا ”وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا“ یعنی عبادت کا حکم تعظیم مصطفیٰ ﷺ کے بعد ہے۔ پوری کائنات میں اُمت مسلمہ کے وہ افراد جنہیں محبوب دوجہاں آقا حضور ﷺ کی صحابیت کا شرف حاصل ہے وہ اُمت کے سب سے بہتر اور عزت وشرف کے حامل

PDF 16

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ہیں ۔ صحابہ کرام ؓ قرآن پاک کی تعلیم خود حضور ﷺ سے حاصل کرتے تھے، لہذا قرآن حکیم کا سب سے زیادہ فہم بھی انہی کو حاصل ہے، ان کے تمام معمولات اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ تعلیمات قرآنی اور سنت نبوی کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ”رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ“ کا اعزاز عطا فرمایا۔ اگر آپ صحابہ ؓ کی زندگی کا مطالعہ کریں اور ان کے کردار و اخلاق پر نظر دوڑائیں تو آپ کو یہ اصول اور قانون واضح طور پر ملے گا کہ صحابہ کرام ؓ نے حضور سید کائنات ﷺ کی تعظیم وتوقیر کو ہر چیز پر فوقیت دی، بلکہ تعظیم مصطفےٰ ﷺ کو عبادت سے بھی مقدم جانا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ ...... O

﴿النساء: 80﴾

”جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا“

حضرت صدیق اکبر ؓ کا عشق رسول ﷺ :

حضرت عمر فاروق ؓ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بارے میں روایت کرتے ہیں:

سار مع رسول الله ﷺ الى الغار فلما انتهيا اليه قال والله لا تدخل حتى ادخل قبلك فان كان فيه شئ اصابنى دونك فدخل فكسحه ووجد فى جانبه ثقبا فشق ازاره وسدها به بقى منها اثنان فالقمهما رجليه ثم قال لرسول الله ﷺ ادخل فدخل رسول الله ﷺ ووضع رأسه فى حجره و نام فلدغ ابوبكر فى رجله من الجحر و لم يتحرك مخافة ان ينتبه رسول الله ﷺ فسقطت دموعه على وجه رسول الله ﷺ فقال مالك يا ابابكر قال لدغت فداك ابى وامى فتفل رسول الله ﷺ فذهب ما يجده ثم انتقض عليه وكان سبب موته

﴿مشکوٰۃ جلد 02 صفحہ 556﴾

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”جب وہ ہجرت کی رات رسول ا... عرض کی واللہ آپ غار میں داخل نہیں... سے پہلے داخل ہو جاؤں تا کہ کوئی م... تکلیف پہنچے اور آپ محفوظ رہیں۔ ب... اسے صاف کیا، پھر آپ نے غار م... کپڑے پھاڑ کر وہ سوراخ بند کر د... ایڑیاں رکھ کر حضور ﷺ سے عرض ک... غار میں تشریف لے گئے اور صدیق... اسی حالت میں صدیق اکبر ؓ ک... سانپ نے کاٹ لیا، آپ نے حرک... رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ... آنسو نکل کر چہرہ مصطفےٰ ﷺ پر پ... آپ نے پوچھا ابو بکر کیا ہوا؟ عرض... ہوں مجھے سانپ نے کاٹ لیا تو... دہن زخم پر لگایا تو تکلیف دور ہوگئی... وہی زہر لوٹ آیا اور وہ آپ کے و...

حضرت صدیق اکبر ؓ کا پہلے غار م... کرنا، جو سوراخ بچے ان پر اپنی ایڑیاں رکھنا، ج... بھی پرواہ نہ کرنا، یہ سب کام عشق و اخلاص کی وج... کا نظریہ بھی واضح ہورہا ہے کہ ایمان کے ب...

صفحہ 17

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”جب وہ ہجرت کی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار ثور پہنچے تو عرض کی واللہ آپ غار میں داخل نہیں ہونگے یہاں تک کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں تاکہ کوئی موذی چیز ہو تو اس سے مجھے ہی تکلیف پہنچے اور آپ محفوظ رہیں۔ پس آپ غار میں داخل ہوئے اور اسے صاف کیا، پھر آپ نے غار کے اندر کچھ سوراخ دیکھے تو اپنے کپڑے پھاڑ کر وہ سوراخ بند کر دیئے دو سوراخ بچ گئے تو ان پر اپنی ایڑیاں رکھ کر حضور ﷺ سے عرض کی آپ اندر تشریف لائیں۔ آپ غار میں تشریف لے گئے اور صدیق اکبر کی گود میں سر رکھ کر سو گئے، اسی حالت میں صدیق اکبر ؓ کے پاؤں میں سوراخ کے اندر سے سانپ نے کاٹ لیا، آپ نے حرکت نہیں کی اس وجہ سے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آئے، پس آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل کر چہرہ مصطفےٰ ﷺ پر پڑے آپ ﷺ کی آنکھ کھل گئی اور آپ نے پوچھا ابو بکر کیا ہوا؟ عرض کی میرے ماں باپ آپ قربان ہوں مجھے سانپ نے کاٹ لیا تو حضور سید عالم ﷺ نے اپنا لعاب دہن زخم پر لگایا تو تکلیف دور ہوگئی (حکمت الہی کے مطابق) بعد میں وہی زہر لوٹ آیا اور وہ آپ کے وصال کا سبب بنا“

حضرت صدیق اکبر ؓ کا پہلے غار میں داخل ہونا پھر اپنے کپڑے پھاڑ کر سوراخ بند کرنا، جو سوراخ بچے ان پر اپنی ایڑیاں رکھنا، حضور سید عالم ﷺ کے آرام کی خاطر اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کرنا، یہ سب کام عشق و اخلاص کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ اس سے حضرت صدیق اکبر ؓ کا نظریہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ ایمان کے بعد سب سے افضل عمل تعظیم مصطفےٰ ﷺ ہے۔

صفحہ 18

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم :

ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوا یہودی نے کہا میرے اور تمہارے درمیان ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے منافق نے کہا: کعب بن اشرف فیصلہ کرے گا کیونکہ کعب بن اشرف بہت رشوت خور تھا یہودی اس مقدمہ میں حق پر تھا اور منافق باطل پر تھا اس لیے یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور منافق کعب بن اشرف کے پاس مقدمہ لے جانا چاہتا تھا یہودی نے اس بات پر اصرار کیا تو دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا منافق اس فیصلہ سے راضی نہ ہوا اور کہا میرے اور تمہارے درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ فیصلہ کریں گے جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو یہودی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں فیصلہ کر چکے لیکن یہ شخص مانتا نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس منافق سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے اس نے کہا ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ٹھہرو انتظار کرو میں ابھی آتا ہوں گھر گئے تلوار لے کر آئے اور منافق کا سر قلم کر دیا پھر اس منافق کے گھر والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شکایت کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تفصیل معلوم کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے آپ کے فیصلے کو مسترد کیا تھا اسی وقت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہا یہ فاروق رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم فاروق ہو۔

﴿تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر وغیرہ﴾

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے یہ بات مترشح اور واضح ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی اہانت رسول ہے اور توہین رسول کے مرتکب شخص کی سزا وہی ہے جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تجویز فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے پر مہر تصدیق ثبت فرما کر اس کی توثیق فرمادی۔

صفحہ 19

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت عثمان غنی ؓ اور تعظیم رسول ﷺ :

حضرت عثمان غنی ؓ امیر المؤمنین اور خلیفہ راشد ہیں، رسول اللہ ﷺ کے داماد ہیں ۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور سید عالم ﷺ نے آپ کو اپنا سفیر نامزد کر کے قریش مکہ کے پاس بھیجا تا کہ انہیں یہ باور کرایا جا سکے کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے بلکہ ہماری نیت صرف عمرہ کرنے کی ہے، اور ہم عمرہ کر کے واپس چلے جائیں گے۔

قریش مکہ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو قید کر لیا ، پھر بعد میں معاہدہ ہوا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے کفار مکہ نے حضرت عثمان ؓ کو طواف کعبہ کی اجازت دے دی لیکن آپ نے انکار کر دیا۔

حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس بات کو اس طرح نقل کرتے ہیں۔

لما اذنت قريش لعثمان فى الطواف بالبيت حين وجهه النبى ﷺ اليهم فى القضية ابى وقال ما كنت لافعل حتى يطوف به رسول الله

﴿الشفاء جلد 02 صفحہ 25﴾

”حضرت عثمان غنی ؓ کو قریش مکہ نے طواف کعبہ کی اجازت دے دی، جب انہیں نبی کریم ﷺ نے کفار مکہ کے پاس فیصلہ کے لیے بھیجا تھا تو انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا جب تک رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں میں نہیں کر سکتا“

جو شخص مکہ المکرمہ میں رہا ہو، وہیں جوان ہوا ہو، کعبۃ اللہ کو دیکھنا صبح و شام اس کا معمول ہو، پھر حالات کی وجہ سے اپنا وطن، گھر بار، جائیداد کو چھوڑ کر اسے کہیں اور جانا پڑ جائے۔ پھر مدینہ طیبہ سے احرام باندھ کر بیت اللہ کے طواف کی آرزو لے کر مکمل تیاری کے ساتھ

صفحہ 20

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف آئے۔ اس کا دل مچل رہا ہو، اس کی آنکھیں کعبۃ اللہ کا بوسہ لینے کو ترس رہی ہوں، اس کا جگر آب زمزم کے لیے بیتاب ہو، جب وہ کعبۃ اللہ پہنچ جائے، نگاہیں بیت اللہ پر پڑ رہی ہیں، کفار مکہ اجازت بھی دے رہے ہیں کہ عثمان اگر چاہو تو بیت اللہ کا طواف کر سکتے ہو، ہماری طرف سے تمہیں کوئی رکاوٹ نہیں۔ مگر حضرت عثمان ؓ ہیں کہ انکار پر ڈٹے ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ تمام تر آرزوؤں کے باوجود بھی حضرت عثمان غنی ؓ کا انکار ہے تو وہ اس لیے کہ آپ نے واضح لفظوں میں فرما دیا کہ جب تک رسول اللہ ﷺ طواف نہ کریں عثمان بھی ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت عثمان ؓ مدینہ طیبہ سے یہی مقصد لے کر آئے تھے لیکن آپ نے اعلان فرما دیا کہ حضور سیّد کائنات ﷺ کی تعظیم وتوقیر اور آپ کا ادب ایمان کا اہم ترین رکن ہے۔

حضرت علی ؓ کا ادب مصطفےٰ ﷺ :

حضرت علی المرتضیٰ ؓ باب مدینۃ العلم ہیں، ان کا تعظیم مصطفےٰ ﷺ کا انوکھا انداز ملاحظہ فرمائیں:

عن اسماء بنت عمیس ان النبی ﷺ کان یوحی الیہ وراسہ فی حجر علی فلم یصل العصر حتی غربت الشمس فقال رسول اللہ ﷺ اصلیت یا علی قال لا فقال اللہم انہ کان فی طاعتک وطاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس قالت اسماء فرایتہا غربت ثم رایتہا طلعت بعد ما غربت، وقفت علی الجبال والارض وذلک بالصہباء فی خیبر

﴿الشفا جلد 1 صفحہ 177﴾

”حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ کا سر مبارک حضرت علی ؓ کی گود میں تھا، پس انہوں نے نماز عصر نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہو

صفحہ 21

صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم

لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَرْفَعُوا

آپ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے، آپ احترام کے لیے ہمیں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک ہم اپنے سے بڑے مثلاً اپنے پیر و مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر

کعبۃ اللہ کا بوسہ لینے کو ترس رہی ہوں ، اس کا جگر پھٹتا جائے ، نگاہیں بیت اللہ پر پڑ رہی ہیں ، کفار کو تو بیت اللہ کا طواف کر سکتے ہو ، ہماری طرف ہیں کہ انکار پر ڈٹے ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ تمام انکار ہے تو وہ اس لیے کہ آپ نے واضح لفظوں کریں عثمان بھی ایسا نہیں کرے گا۔ حضرت تھے لیکن آپ نے اعلان فرما دیا کہ حضور سید کا اہم ترین رکن ہے۔

معلم ہیں ، ان کا تعظیم مصطفےٰ ﷺ کا انوکھا

كان يوحى اليه وراسه حتى غربت الشمس فقال لا فقال اللهم انه كان عليه الشمس قالت اسماء ن ما غربت ، وقفت على

﴿شرح الشفاء جلد 1 صفحہ 177﴾

مروی ہے ، نبی کریم ﷺ پر مبارک حضرت علی ؓ کی گود میں یہاں تک کہ سورج غروب ہو

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف گیا ، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اے علی تو نے نماز پڑھ لی؟ عرض کی نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ علی تیری اور تیرے رسول ﷺ کی اطاعت میں تھا پس تو اس پر سورج کو لوٹا دے حضرت اسماء فرماتی ہیں میں نے دیکھا سورج غروب ہو گیا پھر میں نے دیکھا غروب ہونے کے بعد طلوع ہو گیا اس کی روشنی پہاڑوں اور زمین پر پڑتی رہی اور یہ واقعہ خیبر میں مقام صہباء پر پیش آیا“

نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور سب سے زیادہ قرآن پاک میں نماز کی تاکید کی گئی ، بالخصوص قرآن پاک میں بقیہ نمازوں کے ساتھ نماز وسطیٰ یعنی نماز عصر کی بہت تلقین کی گئی ، اس حکم کو حضرت علی المرتضیٰ ؓ بخوبی جانتے تھے مگر انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ جس شخصیت کا سر مبارک میری گود میں ہے وہ حبیب باری تعالیٰ ہیں ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اسی لیے انہوں نے نماز عصر کو قربان کر دیا مگر آرام مصطفےٰ ﷺ میں خلل نہ آنے دیا پھر رسول ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی طاعتك وطاعة رسولك ، قابل غور بات یہ ہے کہ آرام نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے تو یہ اطاعت خداوندی کیسے ہو گئی؟ نبی کریم ﷺ نے یہ جملے ارشاد فرما کر قیامت تک کے لیے حضرت علی ؓ سے اس اعتراض کو ختم کر دیا کوئی بد باطن یہ نہ کہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑی بلکہ یہ بتا دیا کہ حضرت علی ؓ کا اس مقام پر نماز کو قربان کرنا اطاعت خداوندی ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ من يطع الرسول فقد اطاع الله اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے فرمان خداوندی پر عمل کیا اور اس کا صلہ یہ ملا کہ چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج اس لیے پلٹا تا کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ نماز عصر ادا کر لیں ۔ حضرت علی ؓ کے اس عمل سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ حرمت و ناموس رسول ﷺ بہت اہمیت کی حامل ہے۔

صفحہ 22

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کا ادب:

حضرت امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں۔

قيل للنبی ﷺ لو اتيت عبداللہ بن ابی فانطلق اليه النبى ﷺ وركب حمارا فانطلق المسلمون يمشون معه وهى ارض سبخة فلما اتاه النبى ﷺ قال اليك عنّى واللہ لقد اذانی نتن حمارك فقال رجل من الانصار منهم واللہ لحمار رسول اللہ ﷺ اطیب ریحا منك۔

﴿صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 370﴾

”نبی کریمﷺ سے عرض کیا گیا کہ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے جاتے تو اچھا تھا۔ نبی کریمﷺ دراز گوش پر سوار ہو کر اس کے ہاں تشریف لے گئے۔ مسلمان پیدل حضورﷺ کے ساتھ چلے اور وہ شور زمین تھی جب حضور نبی کریمﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا! ہم سے دور رہیں واللہ تیرے گدھے کی بو سے مجھے ایذا پہنچی۔ تو ان میں سے ایک انصاری نے کہا! واللہ رسول اللہﷺ کے دراز گوش کی خوشبو تیری بو سے زیادہ بہتر ہے“

علامہ بدر الدین عینی ؒ کا رُوح پرور تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:

صحابہ کرام ؓ کا یہ فعل تعظیم رسولﷺ سے ہے اور حضورﷺ کے ادب اور محبت شدید پر دلالت کر رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہﷺ کی تعظیم و توقیر میں مبالغہ جائز ہے کیونکہ صحابی نے مطلقاً گدھے کی خوشبو کو عبداللہ بن ابی کی بو سے بہتر قرار دیا اور نبی کریمﷺ نے انکار نہیں فرمایا۔

﴿عمدۃ القاری جلد 13 صفحہ 381﴾

صفحہ 23

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت ابوایوب انصاری ؓ کا انداز محبت !

حضور نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو صحابہ کرام ؓ میں سے ہر انصاری کے دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ آقائے دو جہاں ﷺ اس کے گھر جلوہ فرما ہوں، صحابہ کرام ؓ دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے تھے مگر قرعہ حضرت ابوایوب انصاری ؓ کے نام نکلا۔ کتنے خوش نصیب تھے وہ کہ ان کے گھر والی کائنات رونق افروز ہوئے۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ کے گھر کے دو حصے تھے ایک نیچے اور ایک اوپر، نیچے والے حصے کو حضور سید عالم ﷺ نے شرف بخشا۔ حضرت ابوایوب انصاری کی محبت سے یہ گوارا نہ ہوا کہ آقا نیچے تشریف فرما ہوں اور غلام اوپر رہے۔ حضرت امام مسلم اپنی سند کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔

ان النبی ﷺ نزل عليه فنزل النبی ﷺ فی السفل وابوایوب فی العلو فانتبه ابو ایوب ليلة فقال نمشی فوق رأس رسول الله ﷺ فتنحوا فباتوا فی جانب ثم قال للنبی ﷺ فقال النبی ﷺ السفل ارفق فقال لا اعلو سقيفة انت تحتها فتحول النبی ﷺ فی العلو وابوایوب فی السفل

﴿صحیح مسلم جلد ۰۲ صفحہ ۱۸۳﴾

”نبی کریم ﷺ جب حضرت ابوایوب ؓ کے گھر تشریف فرما ہوئے تو نبی کریم ﷺ نچلے حصے میں ٹھہرے اور حضرت ابوایوب اوپر والے حصے میں۔ رات کو اچانک حضرت ابوایوب کو خیال آیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے سر کے اوپر چل رہے ہیں تو فوراً ہٹ گئے اور ایک کونے میں رات بسر کی۔ پھر نبی کریم ﷺ کو یہی بات عرض کی: آپ نے فرمایا ہمارے

صفحہ 24

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

لیے نچلا حصہ آسان ہے۔ حضرت ابو ایوب نے عرض کی جب تک آپ نیچے ہیں میں اوپر نہیں جاؤں گا، پس نبی کریم ﷺ اوپر والے حصے میں تشریف لے گئے اور حضرت ابو ایوب نچلے حصے میں آ گئے“

حضور نبی کریم ﷺ کی اجازت کے باوجود بھی حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی محبت نے اجازت نہ دی کہ غلام آقا سے اوپر رہے، حضور نبی کریم ﷺ کی عزت اور وقار کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ غلام آداب کا خیال رکھے۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ایوب کی عرض کو شرف قبول بخشا اور اوپر والی منزل پر منتقل ہونے کو منظور فرمالیا۔

صحابہ کرام ؓ کا انداز ادب:

مرد کے سر پر جب بال بڑھ جائیں تو انہیں کٹوا دینا چاہیے، یہ سنت رسول ہے حضور سید عالم ﷺ جب اپنے بال مبارک ترشواتے تو اس وقت بڑا عجیب منظر ہوتا اور غلاموں کا اپنے آقا ومولیٰ سے عشق ومحبت قابل دید ہوتا کہ وہ کس طرح دیوانہ وار اپنے محبوب کریم ﷺ کے بال مبارک حاصل کرنے کے لیے ترستے تھے اور ہر کوئی موئے مبارک اپنے پاس محفوظ کرنے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا امام مسلم حضرت انس ؓ کی زبانی اس کی منظر کشی کرتے ہیں۔

عن انس قال لقد رايت رسول الله ﷺ والحلاق يحلقه واطاف به اصحابه فما يريدون ان تقع شعرة الا في يد رجل

﴾صحیح مسلم جلد 02 صفحہ 256﴿

”حضرت انس ؓ سے روایت ہے میں نے دیکھا کہ حجام رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک اتار رہا تھا اور صحابہ کرام آپ کے اردگرد گھوم رہے تھے کہ ہر بال مبارک کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ پر ہی آتا“

صفحہ 25

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

صحابہ کرام ؓ وہ مقدس جماعت ہے جنہیں خالق کائنات نے اپنے حبیب کریم ﷺ کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا، اور نسبت مصطفیٰ ﷺ سے یہ اوج کمال کو پہنچے۔ صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ کے اقوال وافعال کو اُمت مسلمہ تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیا۔ صحابہ کرام ؓ کا ہر عمل چونکہ حضور سید عالم ﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا، حضور نبی کریم ﷺ نے ان اعمال کو قبولیت کی سند عطا کر کے انہیں اُمت کے لیے راہنمائی کا بہترین ذریعہ بنا دیا۔ تعظیم وتوقیر مصطفیٰ ﷺ کے حوالے سے صحابہ کرام کا انداز بڑا والہانہ اور عشق ومحبت سے لبریز تھا، صحابہ کرام ؓ حضور نبی کریم ﷺ سے حد درجہ عقیدت ومحبت رکھتے تھے، صحابہ کرام ؓ کے عمل سے اُمت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وحرمت کے حوالے سے بہت واضح راہ ملتی ہے کہ صحابہ کرام ؓ حضور سید عالم ﷺ کی تعظیم وتوقیر اور آپ کی حرمت وناموس کے لیے ہر چیز قربان کرنے کو تیار تھے، اور ان کے عمل سے واضح ہے کہ اُمت مسلمہ کے لیے تحفظ ناموس رسول ﷺ سب سے اہم مسئلہ ہے۔

ناموس رسول کریم ﷺ اصلِ ایمان ہے:

عقیدہ رسالت یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا دینِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسی سے عقیدہ توحید کی بھی معرفت حاصل ہوئی، حضور نبی کریم ﷺ خالقِ کائنات کی سب سے بڑی دلیل وحجت ہیں اور آپ مدارِ ایمان ہیں۔ انسان کامل طور پر اسی وقت مومن کہلاتا ہے جب اس کا تعلق دامن مصطفیٰ ﷺ سے مضبوط وقائم ہو، یہاں تک کہ اگر ناموس رسول ﷺ پر جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے تو بھی دریغ نہ کیا جائے، کیونکہ تعظیم مصطفیٰ ﷺ کے بغیر دین اسلام پر عمل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، حضور سید کائنات ﷺ کی تعظیم وتکریم آپ کی عزت وعظمت، ادب واحترام انتہائی ضروری ہے، جس نے اسے چھوڑ دیا تو اس نے سارے دین کو ترک کر دیا۔

صفحہ 26

اور رسول اللہﷺ کے ساتھ بے ادبی، گستاخی کے ساتھ گفتگو نہ کرو، ورنہ تمہارے اعمال غارت

نبی پر آواز بلند کرنے کا حکم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

شیخ ابن تیمیہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اما انتهاك عرض رسول اللهﷺ فانه مناف لدين الله بالكلية، فان العرض متى انتهك سقط الاحترام والتعظيم، فسقط ماجاء به من الرسالة فبطل الدين فقيام المدحة والثناء عليه والتعظيم والتوقير له قيام الدين كله وسقوط ذلك سقوط الدين كله

﴿الصارم المسلول صفحہ 176﴾

”حضور سید عالمﷺ کی بے ادبی اللہ تعالیٰ کے دین کے کلیتاً منافی ہے اس لیے کہ جب آپ کی بے ادبی ہوگی تو احترام اور تعظیم ختم ہوگئے، جب یہ ساقط ہوئے تو جو تعلیمات آپ لے کر آئے وہ بھی ساقط ہوگئیں پس سارا دین باطل ہوگیا حضور سید عالمﷺ کی مدح و ثناء اور تعظیم وتوقیر کے قیام سے کل دین کا قیام ہے اور یہ ساقط ہوں تو تمام دین ساقط ہوجائے گا“

اس عبارت میں ابن تیمیہ نے بڑے واضح الفاظ میں اس بات کا اظہار کیا کہ تعظیم مصطفےﷺ اصل ایمان اور روحِ دین ہے، کیونکہ تعظیم مصطفےﷺ پر ایمان کا مدار ہے اگر یہ نہ ہوگی تو دین کا سارا نظام ساقط ہوجائے گا، یہی بات مدنظر رکھتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:۔

واذا كان كذلك وجب علينا ان ننتصر له ممن انتهك عرضه والانتصار له بالقتل، لان انتهاك عرضه انتهاك لدين الله

﴿الصارم المسلول صفحہ 177﴾

”جب یہ حقیقت ہے تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ جو شخص آپ کی گستاخی کرے اس کے خلاف عملی قدم اٹھائیں، اور وہ عمل یہ ہے کہ

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اسے قتل کردیں اس لیے کہ آپ اہانت کرنا ہے“

جو شخص تعظیم مصطفےﷺ سے منحرف کے خلاف بغاوت کررہا ہے اور دین اسلا مصروف ہے۔ لہٰذا ایسے گستاخ کو سزا ضرو شخص کو اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ا

تعظیم کے لیے معظم کا سامنے ہو

ہوسکتا ہے کہ کسی ذہن میں یہ شب کے سامنے تھے، اس لیے وہ آپ کی تعظی کرتے تھے، چونکہ حضور سید عالمﷺ اب تعظیم کی بھی کوئی ضرورت نہیں، یہ خیال با ضروری ہو اور وہ معظم ومکرم ہو تو وہ سامنے ضروری نہیں۔

حضرت سائب بن خلاد سے رو ان رجلا ام قوماً فبصق ف فقال رسول اللهﷺ لقو بعد ذلك ان يصلى لهم ف ﷺ فذكر ذلك لرسول قال انك قد اذيت الله ورسو ”ایک شخص اپنی قوم کی امام

صفحہ 27

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اسے قتل کر دیں اس لیے کہ آپ کی اہانت کرنا اللہ تعالیٰ کے دین کی اہانت کرنا ہے‘‘

جو شخص تعظیم مصطفےٰ ﷺ سے منحرف ہو کر بے ادبی کی راہ پر چلے تو وہ دین اسلام کے خلاف بغاوت کر رہا ہے اور دین اسلام کی عمارت کو منہدم کرنے کی کوشش و سعی میں مصروف ہے۔ لہٰذا ایسے گستاخ کو سزا ضرور ملنی چاہیے اور وہ سزا یہی ہے کہ ایسے بدطینت شخص کو اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں، اسے قتل کر دیا جائے۔

تعظیم کے لیے معظم کا سامنے ہونا ضروری نہیں:

ہو سکتا ہے کہ کسی ذہن میں یہ خیال جنم لے کہ حضور نبی کریم ﷺ چونکہ صحابہ کرام ؓ کے سامنے تھے، اس لیے وہ آپ کی تعظیم و توقیر کرتے اور آپ کے ادب و احترام کا خیال کرتے تھے، چونکہ حضور سید عالم ﷺ اب ظاہری طور پر ہمارے سامنے نہیں، اس لیے اب تعظیم کی بھی کوئی ضرورت نہیں، یہ خیال بالکل فاسد اور غلط ہے اس لیے کہ جس چیز کی تعظیم ضروری ہو اور وہ معظم و مکرم ہو تو وہ سامنے ہو یا نہ ہو اس کی تعظیم ضروری ہے، اس کا دیکھنا ضروری نہیں۔

حضرت سائب بن خلاد سے روایت ہے:

أن رجلا أم قوما فبصق في القبلة ورسول الله ﷺ ينظر فقال رسول الله ﷺ لقومه حين فرغ لا يصلى لكم فاراد بعد ذلك ان يصلى لهم فمنعوه فاخبروه بقول رسول الله ﷺ فذكر ذلك لرسول الله ﷺ فقال نعم وحسبت انه قال انك قد اذيت الله ورسوله

﴿مشکوٰۃ صفحہ 71﴾

”ایک شخص اپنی قوم کی امامت کرتا تھا تو اس نے قبلہ کی طرف تھوک

صفحہ 28

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے جب وہ نماز سے فارغ ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے فرمایا کہ آئندہ یہ شخص تم لوگوں کو نماز نہ پڑھائے، بعد میں جب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آگاہ کیا، جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات دریافت کی تو آپ نے فرمایا: ہاں میں نے منع کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے حضور نے فرمایا تو نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی‘‘

اس حدیث پاک سے یہ واضح ہو گیا کہ تعظیم کے لیے معظم کا سامنے ہونا ضروری نہیں، کیونکہ کعبہ شریف اس امام کو دکھائی نہیں دے رہا تھا، لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امامت سے منع فرما دیا کہ اس نے کعبۃ اللہ کی تعظیم نہیں کی۔

حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کے حوالے سے اپنے خلوص کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

واعلم ان حرمة النبى صلى الله عليه وسلم بعد موته وتوقيره وتعظيمه لازم كما كان حال حياته وذلك عند ذكره وذكر حديثه وسنته وسماع اسمه وسيرته ومعاملة آله وعترته وتعظيم اهل بيته وصحابته

﴿شفا شریف جلد 02 صفحہ 26﴾

”جان کہ بیشک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر پردہ فرمانے کے بعد بھی لازم ہے جیسے بحالتِ دنیوی میں لازم تھی ، اور اسی طرح آپ کے ذکر کے وقت ، ذکر حدیث وسنت ، نام پاک سنتے وقت ، ذکر سیرت ، آل وعترت کے معاملہ میں اہل بیت اور آپ کے صحابہ کی تعظیم بھی ضروری ہے“

صفحہ 29

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اُمت مسلمہ کے عروج کا سبب:

تاریخ اس بات پر شاہد ہے، صحابہ کرام ؓ کا دور حکومت مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اسلام دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچا، حضرت فاروق اعظم ؓ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو بے پناہ فتوحات حاصل ہوئیں، اگر آپ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگی کہ جس بادشاہ کا تعلق دامن مصطفےٰ ﷺ سے مضبوط تھا، وہ دور اُمت مسلمہ کے لیے سنہری دور تھا، لہٰذا ثابت ہوا کہ تعظیم مصطفےٰ ﷺ کی بدولت مسلمان عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ سے مسلمانوں کا تعلق جتنا قریب و مضبوط ہوگا، اللہ تعالیٰ انہیں اتنا ہی عروج عطا فرمائے گا۔ حدیبیہ کے مقام پر جب عروہ بن مسعود نے تعظیم مصطفےٰ ﷺ کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اپنی قوم کے سامنے اس منظر کو اس طرح بیان کیا۔

فقال ای قوم والله لقد وفدت على الملوك ووفدت على قيصر وكسرى والنجاشي والله ان رايت ملكاً قط يعظمه اصحابه ما يعظم اصحاب محمد محمدا والله ان تنخم نخامة الا وقعت فى كف رجل منهم فدلك بها وجهه وجلده واذا امرهم ابتدروا امره واذا توضا كادو يقتتلون على وضوئه واذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده وما يحدون اليه النظر تعظيما له

﴿صحیح بخاری جلد 01 صفحہ 379﴾

”اے قوم میں بادشاہوں کے پاس گیا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے پاس گیا، اللہ کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ لوگ اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی اصحاب محمد، حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم

صفحہ 30

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

کرتے ہیں۔ واللہ اگر وہ ناک صاف کریں تو اس کی رطوبت ان میں سے کسی کے ہاتھ پر آتی ہے، تو وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے، جب کسی کو کچھ کرنے کا حکم دیتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ وضو فرماتے ہیں تو اس کے پانی کے لیے لڑ پڑتے ہیں اور جب آپ بولتے ہیں تو سب لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اور عظمت کی بنا پر ان سے آنکھیں چار نہیں کر پاتے“

عروہ بن مسعود کا اپنی قوم کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ تم ان سے جنگ کرنا چاہتے ہو، مسلمانوں اور اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتے ہو تو یہ ہرگز ممکن نہیں، کیونکہ ان کے قلوب و اذہان تعظیم و محبت مصطفےٰ ﷺ سے لبریز ہیں، اب دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ جو قوم اپنے رسول کی نخامہ اور ان کے وضو کے پانی کے قطرے زمین پر گرنا گوارا نہیں کرتی ، وہ ان کی حرمت و ناموس کے حوالے سے کوئی بات کیسے برداشت کرے گی۔ جو آپ کے ایک اشارہ پر مر مٹنے کے لیے تیار ہوں انہیں کیسے شکست دی جا سکتی ہے اور جو قوم ناقابل شکست ہو ترقی و عروج ان کا ہی مقدر ہوتا ہے۔

توہین رسالت کیا ہے؟

بطحا کی وادیوں سے جب طیبہ کا نورانی چاند نمودار ہوا تو اس کی روشن کرنوں سے دنیا کی تاریک وادی جگمگا اٹھی اور ہر طرف اس کے نور سے اجالا ہو گیا۔ آپ کی جلوہ افروزی سے جہاں عالم انسانیت کو راحت و آرام ملا اور وہ معبود حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے، وہاں نحن ابناء اللہ واحباءہ کے دعویدار اور حضرت عیسیٰ ؑ کو ابن اللہ کہنے والے تڑپ اُٹھے، جب انہوں نے اپنا جاہ و جلال اور قوت و سطوت ختم ہوتے دیکھا تو وہ

صفحہ 31

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

رسول اکرم ﷺ کی دشمنی پر اتر آئے، ذات مصطفےٰ ﷺ اور دین اسلام کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں انہیں مدینہ طیبہ سے جلاوطن ہونا پڑا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے حسد و بغض میں اضافہ ہوتا رہا، ان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا کہ مسلمانوں کے دلوں سے محبت مصطفےٰ ﷺ کے جذبات کو ختم کیا جائے۔ علامہ اقبال اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

یہ فاقہ کش موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

اس کے لیے انہوں نے اپنا مال و زر پانی کی طرح بہایا، اپنی عزتیں داؤ پر لگا دیں کہ کسی طرح مسلمانوں کا رابطہ و تعلق دامن مصطفےٰ ﷺ سے ختم کیا جائے۔ چونکہ مسلمانوں کا ذات مصطفےٰ ﷺ سے تعلق ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، ان کے ایمان کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بارگاہ رسالت سے تعلق انتہائی مضبوط ہو۔ لیکن غیروں کی بجائے اپنوں کے روپ میں آنے والے بدبختوں نے اس مسئلے کو اتنا الجھا دیا کہ عوام کے اذہان و قلوب شدید اضطراب کا شکار ہو گئے حالانکہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق کوئی بھی غلط جملہ زبان سے نکل جائے تو صرف دنیا ہی نہیں آخرت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ جن نام نہاد مسلمانوں نے حضور سید عالم ﷺ کی حرمت و ناموس کے حوالے سے ناشائستہ کلمات کہے، ان کے پس منظر میں انگریز کی معاونت و کارستانی ضرور شامل ہے، چاہے وہ مال و زر کی صورت میں ہو یا حسن و جمال کی رنگینی نے ان بے ضمیروں کی آنکھوں کو خیرہ کیا ہو، انہوں نے انگریز کے ہاتھ پر اپنے ایمان و ایقان کا سودا کیا۔ تمام اُمت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی توہین و تنقیص کرنے والا شخص چاہے وہ کوئی بھی ہو دائرہ اسلام سے خارج ہے، بلکہ ایسے آدمی کے کفر میں شک کرنے والا شخص بھی مسلمان نہیں رہتا۔ اس بات کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ ذکر فرمایا۔

صفحہ 32

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اجمع العلماء ان شاتم النبی ﷺ المتنقص له كافر وحكمه عند الامة القتل ومن شك في كفره وعذابه كفر

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

”علمائے اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ گستاخِ نبی اور آپ میں نقص نکالنے والا شخص کافر ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک واجب القتل ہے جو ایسے شخص کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے“

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے امور ہیں اور وہ کون سے کلمات ہیں جو بارگاہ رسالت کے لائق نہیں اور انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں استعمال کرنا منع ہے ، ایسے کلمات کہنے والا شخص توہین رسالت کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا، تا کہ اسے قرار واقعی سزا دی جائے اور آئندہ کوئی شخص وہ کلمہ کہنے کی جرأت نہ کر سکے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ O

﴿البقرہ:104﴾

”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے“

اس آیت کریمہ میں اللہ ﷻ بارگاہ رسالت مآب کے آداب بیان فرما رہا ہے کہ کوئی ایسا لفظ جس سے سید کائنات ﷺ کی بے ادبی اور تنقیص کا پہلو نکلتا ہو تو وہ لفظ بارگاہ رسالت کے لائق نہیں ، میرے حبیب کریم ﷺ کی بارگاہ ناز میں ہرگز وہ لفظ استعمال نہ کرو، ورنہ وللكفرین کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تنقیص رسالت کے بعد تمہارا ایمان سے کوئی واسطہ و تعلق نہیں رہے گا اور وہ شخص عذاب الیم کا مستحق قرار پائے گا۔

صفحہ 33

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

شانِ نزول :

آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو راعنا کہنے سے منع فرمایا، حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام ؓ کو وعظ و نصیحت فرماتے اور اسلامی احکام سے روشناس کراتے تو دوران گفتگو کوئی بات اگر صحابہ کو ذہن نشین نہ ہوتی تو وہ عرض کرتے ”راعنا یا رسول اللہ“ اے اللہ کے رسول ہماری رعایت فرمائیے، یہود کے ہاں یہ لفظ برے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔

امام رازی فرماتے ہیں :

روى ان سعد بن معاذ سمعها منهم فقال يا اعداء الله عليكم لعنة الله والذي نفسي بيده لئن سمعتها من رجل منكم يقولها لرسول الله لا ضربن عنقه فقالوا اولستم تقولونها فنزلت هذه الآية

(تفسیر کبیر جلد 01 صفحہ 634)

” روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے ان (یہودیوں) سے یہ کلمہ سنا تو آپ نے کہا اے اللہ کے دشمنوں تم پر اللہ کی لعنت ہو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر یہ کلمہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تمہارے کسی آدمی نے کہا تو میں اسے قتل کردوں گا تو وہ بولے کیا تم یہ جملہ نہیں کہتے تو یہ آیت نازل ہوئی“

راعنا میں استہزاء :

راعنا سے صحابہ کرام ؓ مطلقاً ایسا معنی ہرگز مراد نہ لیتے تھے جس سے توہین کا پہلو نکلتا ہو، بلکہ وہ بارگاہ رسالت میں انتہائی ادب سے عرض گزار ہوتے، یا رسول اللہ ہماری رعایت فرمائیے۔ پھر کیوں اس لفظ سے منع کیا گیا۔ امام فخر الدین رازی وجہ بیان کرتے ہیں۔

صفحہ 34

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

هذه كلمة وان كانت صحيحة المعنى الا ان اهل الحجاز كانوا يقولونها لا عند الهزو والسخرية فلا جرم نهى الله عنها

﴿تفسیر کبیر جلد 01 صفحہ 634﴾

یہ کلمہ اگرچہ صحیح المعنی ہے مگر اہل حجاز اسے مذاق اور تسخر کے موقع پر استعمال کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کلمہ کہنے سے منع فرما دیا۔

راعنا میں مساوات:

راعنا کا لفظ باب مفاعلہ سے ہے اور مفاعلہ میں باہم تقابل ہوتا ہے، یعنی راعنا کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ رعایت میں باہم مقابلہ ہے تو اس جملہ میں مساوات اور برابری کا شبہ ہو سکتا ہے کہ اس کا قائل نبی کریم ﷺ کو اپنے ہم مرتبہ کہہ کر مخاطب کر رہا ہو اور یہ بات بارگاہ نبوت کے آداب کے خلاف ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس لفظ سے منع فرما دیا۔ امام رازی یہ بات اس طرح نقل فرماتے ہیں۔

راعنا مفاعلة من الرعى بين اثنين فكان هذا اللفظ موهما للمساواة بين المخاطبين ...... لا بد من تعظيم الرسول عليه الصلوٰة والسلام فى المخاطبة

﴿تفسیر کبیر جلد 01 صفحہ 635﴾

”راعنا رعی سے مفاعلہ ہے، مفاعلہ میں دونوں کے درمیان تقابل ہوتا ہے پس اس لفظ سے مخاطبین کے درمیان مساوات کا وہم پیدا ہوتا ہے لیکن حضور سید عالم ﷺ کو مخاطب کرنے میں حضور کی تعظیم ضروری ہے“

لفظ محتمل سے اجتناب:

اگر کسی لفظ کے کئی معانی ہوں اور ان میں سے بعض استہزا اور تحقیر کے لیے

صفحہ 35

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

استعمال ہوتے ہوں، تو جو معنی صحیح اور درست ہوں انہیں بھی بارگاہ رسالت میں بولنا خلاف ادب اور منع ہے۔ تا کہ اہانت اور تنقیص کا راستہ ہی ختم ہو جائے۔ قاضی شوکانی بھی یہی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

وفى ذلك دليل انه ينبغى يجتنب الفاظ المحتملة للسب والنقص وان لم يقصد المتكلم بها هذا المعنى المفيد للشتم سدًّا للذريعة ودفعا للوسيلة

﴿فتح القدیر جلد 01 صفحہ 124، فتح البیان جلد 01 صفحہ 173﴾

”آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے الفاظ جن میں عیب اور گالی کا احتمال ہو ان سے بچنا ضروری ہے اگر چہ متکلم اس معنی کا قصد نہ کرے جس سے سب وشتم کا وہم ہو، تا کہ تنقیص کا ذریعہ اور وسیلہ ہی ختم ہو جائے“

بارگاہِ مصطفےٰ ﷺ میں رفعِ صوت کی ممانعت:

پہلی آیت میں خالق کائنات ﷻ نے بارگاہ نبوی میں گفتگو کا انداز سکھایا کہ کون سے الفاظ بارگاہ رسالت کے لائق ہیں یہاں خالق کائنات ﷻ نے بلند آوازی سے بھی منع فرمادیا اور حکم ارشاد فرمایا کہ تم اپنی آوازوں کو حضور کی بارگاہ میں پست رکھو، حضور کی بارگاہ میں بلند آواز سے گفتگو کرنا بھی خلاف ادب قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ O

﴿الحجرات: 02﴾

”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے

صفحہ 36

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

(نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو“

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریقہ ارشاد فرمایا کہ بلند آواز سے چلا کر بات کرنے میں ادب واحترام باقی نہیں رہتا، لہٰذا تم مجلس نبوی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے با ادب طریقے سے پست اور نرم آواز میں گفتگو کرو، یہی بات زیادہ لائق ادب ہے۔

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ :

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اجعلوا صوتكم اخفض من صوته وتعهدوا في مخاطبة اللين القريب من الهمس كما هو الدأب عند مخاطبة المهيب المعظم وحافظوا على مراعاة جلالة النبوة

﴿تفسیر روح البیان جلد 09 صفحہ 64﴾

تم اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے پست رکھو اور آپ کے ساتھ مخاطب کے وقت آوازوں کو انتہائی نرم اور پست رکھو جیسا کہ کوئی انتہائی باعظمت و بارعب شخص کے ساتھ بات کرتا ہے اور منصب نبوت کی جلالت واحترام کا ہر لمحہ خیال رکھو۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ :

اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

ممانعت کی علت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کی آواز سے اپنی

صفحہ 37

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

آواز کو اونچا کرنا توہین نبی پر دلالت کرتا ہے اور توہین نبی کفر ہے اور حبط اعمال کا موجب پس نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی کرنا اگر اہانت نبی کے ارادہ سے ہو تو کفر ہے۔

﴿تفسیر مظہری جلد 11 صفحہ 15﴾

ایذاء رسول ﷺ اور اعمال کا ضیاع:

اللہ تعالیٰ نے بارگاہ رسالت کا ادب بتایا اور آداب رسالت ترک کرنے پر وعید شدید سنائی، عام روش کے مطابق جس طرح ایک دوسرے کو بلایا جاتا ہے اگر یہی انداز بارگاہ رسول میں اپنایا جائے تو یہ اہانت و تنقیص متصور ہوگی کہ وہ شخص حضور سید عالم ﷺ کو اپنے جیسا سمجھ کر مخاطب کر رہا ہے اور یہ کفر ہے۔ خالق کائنات ﷻ کا ارشاد ہے۔

ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون
”کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو“

یعنی جب تم بارگاہ رسالت میں اہانت کے مرتکب ہوئے، تو تمہارے سارے اعمال صالحہ برباد ہوگئے، معلوم ہوا کہ تعظیم مصطفے ﷺ کے بغیر بارگاہ خداوندی میں کوئی بھی عمل مقبول نہیں، اور اعمال صالحہ ختم ہو جانے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ اس شخص کو بھی معلوم ہو، وہ اپنے آپ کو مومن سمجھ رہا ہوتا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ مصطفے کریم ﷺ کی بے ادبی اور اہانت کی وجہ سے اب اس کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

حبط اعمال بسبب کفر:

جو شخص مومن ہو اسے نیک اعمال پر اجر ضرور ملتا ہے، مومن اگر گناہ کبیرہ کا بھی مرتکب ہو تو اس سے اس کے اعمال صالحہ ضائع نہیں ہوتے، خالق کائنات ﷻ نے قرآن پاک میں اعمال کے ضائع ہونے کا سبب کفر ہی قرار دیا۔ یعنی کافر کو ہی اعمال صالحہ پر اجر نہیں ملتا اور اس کے سارے اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

صفحہ 38

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

...... وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِينَO

﴿المائدہ:05﴾

”اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے“

لا ترفعوا اصواتکم کا حکم مطلق ہے:

حضور پرنور شافع یوم النشور ﷺ کی تعظیم و تکریم اُمت پر ہر حال میں واجب ہے چاہے حضور ﷺ کی ظاہری حیات مبارکہ ہو یا بعد از وصال آداب بارگاہ رسالت کا حکم مطلق ہے، اور اسی ادب میں ایمان کی بقا و سلامتی ہے، بارگاہ نبوی میں آواز کو پست رکھنے کا حکم جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں تھا اسی طرح آج بھی ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے۔

ان الله حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء فنبی الله حتی یرزق

﴿مشکوۃ جلد 01 صفحہ 121﴾

”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام کو حرام فرما دیا، اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دیئے جاتے ہیں“

بارگاہِ رسالت میں حاضری کے لیے جو شخص آج بھی روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہو، اس پر حضور نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام ضروری ہے، اور ان آداب میں سے یہ بھی ہے کہ وہ روضہ رسول کے قریب ہرگز بلند آواز سے گفتگو نہ کرے، انتہائی ادب و احترام سے بارگاہ رسول ﷺ میں ہدیہ درود و سلام پیش کرے۔

روی عن عائشۃ ؓ انها کانت تسمع صوت وتد یوتد والمسمار یضرب فی بعض الدور المتصلۃ بمسجد النبی ﷺ فترسل الیہم لا تؤذوا رسول الله ﷺ

﴿منہاج القبول صفحہ 129﴾

صفحہ 39

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے میخ ٹھوکنے کی آواز سنی جو مسجد نبوی سے متصل بعض مکانوں میں ٹھونکی جاتی ، تو آپ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت نہ دو۔

علامہ ابن کثیر اپنے الفاظ میں یہ بات اس طرح نقل کرتے ہیں:

قال العلماء يكره رفع الصوت عند قبره كما كان يكره في حياته صلی اللہ علیہ وسلم لانه محترم حيا في قبره دائما

﴿تفسیر ابن کثیر جلد 04 صفحہ 207﴾

”علماء نے کہا جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں آپ کے سامنے آواز بلند کرنا مکروہ تھا اسی طرح آپ کی قبر انور کے پاس بھی آواز بلند کرنا مکروہ ہے اس لیے کہ آپ قابلِ احترام ہیں اور اپنی قبر مبارک میں ہمیشہ دائمی طور پر زندہ ہیں“

ان آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر اور آپ کا ادب واحترام انتہائی ضروری ہے، ذراسی بے ادبی انسان کے اعمال صالحہ کو برباد کر دیتی ہے، اور اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتکب شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان آیات سے فقہائے کرام نے مسائل استنباط کر کے اُمت مسلمہ کے لیے واضح راستہ متعین کیا کہ اہانت رسول ناقابل معافی جرم ہے اور ایسے بہت سے امور اور الفاظ کی نشاندہی بھی کی کہ یہ امور و الفاظ بارگاہ رسالت کے لائق نہیں، جو شخص ایسے الفاظ بارگاہِ نبوی کی طرف منسوب کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔ امام قاضی عیاض رحمہ اللہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

من سب النبي صلی اللہ علیہ وسلم او عابه او الحق به نقصا في نفسه او نسبه او دينه او خصلة من خصاله او عرض به او شبهه بشئ على

صفحہ 40

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

طريق السب له او الازراء عليه او التصغير لشانه او الغض منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 133﴾

”جس شخص نے حضور ﷺ کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب کو منسوب کیا یا آپ کی ذات، آپ کے نسب، آپ کے دین، آپ کی عادات کریمہ میں سے کسی عادت کی طرف نقص کو منسوب کیا، اشارۃً یا کنایۃً نامناسب بات کہی، گالی دینے کے طریق پر آپ کو کسی شے سے تشبیہ دی، آپ کی عظمت و شان میں کمی کی یا اس کا خواہش مند ہوا، یا آپ کی عیب جوئی کرے، تو یہ شخص سب و شتم کرنے والا ہے، اس پر گالی دینے والے شخص کا حکم جاری ہوگا اور یہ قتل کیا جائے گا“

سنت رسول کا استہزاء کفر ہے:

حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس تمام کائنات کے لیے باعث رحمت ہے، آپ نے دین اسلام کی تعلیم و تربیت اس انداز سے فرمائی کہ اُمت کے لیے اپنے ہر عمل کو بطور نمونہ و اسوہ پیش کیا۔ حضور سید عالم ﷺ کے افعال میں سے کسی فعل کی اگر کوئی شخص توہین کرے اس حیثیت سے کہ وہ حضور سید عالم ﷺ کی سنت ہے یا حضور ﷺ کی طرف منسوب ہے تو وہ شخص کافر ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

رسول الله ﷺ فقال ذلك الرجل لا افعل وان كان سنة فقد كفر

﴿فتاوی تاتارخانیہ جلد 05 صفحہ 482﴾

صفحہ 41

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سر کے بال کٹا اور اپنے ناخن تراش کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، اس نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا اگر چہ یہ سنت ہے تو وہ کافر ہو گیا“

مرد کا سر کے بال عورتوں کی طرح لمبے رکھنا اور ناخن نہ تراشنا اسلام میں ممنوع ہے۔ اس کے باوجود بھی بہت سے نوجوان فیشن کے طور پر ایسی روش اختیار کرتے ہیں، یہ بھی ناجائز ہے۔ مگر اس شخص کو کہا گیا کہ یہ سنت رسول ہے اور اس نے علم کے باوجود کہ یہ حضور ﷺ کی سنت ہے بطور اہانت یہ جملہ کہا کہ اگر چہ یہ سنت ہے مگر میں ایسا نہیں کروں گا تو وہ کافر ہو گیا۔

اصابعه الثلاث فقال ذلك الرجل ایں بے ادبی است فهذا كفر

﴿فتاوی تاتارخانیہ جلد 05 صفحہ 482﴾

”ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹتے ، اس شخص نے کہا یہ بے ادبی ہے تو وہ کافر ہوگا“

اس لیے کہ اس شخص نے سنت رسول کے لیے بے ادبی کا لفظ بولا، یہ کون ہے جو ادب اور بے ادبی کے پیمانے وضع کر رہا ہے اور معلم کائنات ﷺ کی سنت کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے، ایسا شخص اپنے آپ کو مومن کہلانے کا حق دار نہیں۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہی مرقوم ہے:

﴿فتاوی تاتارخانیہ جلد 05 صفحہ 477﴾

صفحہ 42

کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم يَدَىِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا

نے عام طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، کے لیے عین ادب و شائستگی کے ساتھ ہو، کیونکہ میں جو درشت خوئے اور بے باکی اپنے افسر

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

"جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی عیب جوئی کی یا آپ کی سنن میں سے کسی سنت پر ناراض ہوا وہ کافر ہے"

سید کائنات کی پسند کو ناپسند کرنا :

حضور سید عالم ﷺ اپنی اُمت کے لیے شفیق باپ کی مانند تھے، اور اُمت کو ہر چیز کی تعلیم و تربیت دی اور اُمت کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا کہ وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں، جس چیز کو حضور ﷺ نے پسند فرمایا مومن کو بھی وہ چیز محبوب ہے، کیونکہ اس بارگاہ میں اپنی پسند و ناپسند کے تمام معیار ختم ہو جاتے ہیں، فلاح و کامیابی صرف اطاعتِ رسول میں ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے اگرچہ حضور نور مجسم ﷺ کو فلاں چیز پسند تھی مگر مجھے ناپسند ہے تو وہ کافر ہے اور اپنی دنیا و آخرت برباد کرنے والا ہے۔

﴿البحر الرائق جلد 05 صفحہ 121﴾

جب کہا گیا کہ نبی رحمت ﷺ کو کدو شریف پسند تھا تو کسی شخص نے کہا میں پسند نہیں کرتا تو وہ کافر ہوگیا۔

قال مثلا يحب القرع فقال ذلك الغير انا لا احبه فهذا كفر ....... وحكى عن ابي يوسف انه كان جالساً مع هارون الرشيد على المائدة فروى عن النبي ﷺ حديثاً انه كان يحب القرع فقال حاجب من حاجبه اما انا فلا احبه فقال ابو يوسف يا أمير المؤمنين انه كفر

﴿فتاوی تاتارخانیہ جلد 05 صفحہ 481﴾

"اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو فلاں چیز پسند

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

کرتے مثلا اس نے کہا کہ کدو شریف پ نے کہا مجھے پسند نہیں تو یہ کافر ہوگیا۔ اما آپ ہارون الرشید کے ساتھ دستر خوان ﷺ کی حدیث بیان کی گئی کہ آپ کو ک میں سے ایک دربان نے کہا مگر مجھے اس پر کفر کا فتوی دیا"

لباسِ مصطفےٰ ﷺ کی طرف میلے پن ک

نبی کریم ﷺ جو چیز بھی زیب تن فرم ٹھنڈک ہے، ایک مومن کے نزدیک وہ معزز اور م ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، کسی شخص کو یہ زیب نہیں دیت کے متعلق کوئی ایسی بات کہے جو غلامانِ مصطفےٰ ﷺ

روى ابن وهب عن مالك من قـ زر النبى ﷺ وسخ ارادبه عيبه قتل

"ابن وہب امام مالک سے روایت حضور ﷺ کی چادر یا آپ کی قمیص م سے عیب جوئی مقصود ہے تو اس شخص کو ق

آپ کے شعر (بال مبارک) کو شعیر کہ

جس طرح حضور سید عالم ﷺ بے مثل و سراپا انور کی ہر چیز درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے، کائنات

صفحہ 43

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

کرتے مثلاً اس نے کہا کدو شریف پسند کرتے تھے، دوسرے شخص نے کہا مجھے پسند نہیں تو یہ کافر ہو گیا۔ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ آپ ہارون الرشید کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھے تھے اس دوران حضور ﷺ کی حدیث بیان کی گئی کہ آپ کو کدو شریف پسند تھا، تو دربانوں میں سے ایک دربان نے کہا مگر مجھے پسند نہیں، امام ابو یوسف نے اس پر کفر کا فتوی دیا“

لباس مصطفےٰ ﷺ کی طرف میلے پن کی نسبت کرنا:

نبی کریم ﷺ جو چیز بھی زیب تن فرمالیں وہ مسلمانوں کی آنکھوں کے لیے ٹھنڈک ہے، ایک مومن کے نزدیک وہ معزز اور لائق ادب ہے، مسلمان اس کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، کسی شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حضور سید عالم ﷺ کے لباس اطہر کے متعلق کوئی ایسی بات کہے جو غلامان مصطفےٰ ﷺ کے جذبات کو مجروح کرے۔

روى ابن وهب عن مالك من قال ان رداء النبي ويروى زر النبي ﷺ وسخ اراد به عيبه قتل

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

”ابن وہب امام مالک سے روایت کرتے ہیں جس شخص نے کہا حضور ﷺ کی چادر یا آپ کی قمیص مبارک کا آستین میلا ہے، اس سے عیب جوئی مقصود ہے تو اس شخص کو قتل کیا جائے گا“

آپ کے شعر (بال مبارک) کو شعیر کہنا:

جس طرح حضور سید عالم ﷺ بے مثل ہیں، اسی طرح آپ کا ہر عضو اور آپ کے سراپا انور کی ہر چیز درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے، کائنات میں اس کی کوئی مثل نہیں، اس کے باوجود

صفحہ 44

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اگر کوئی بدبخت ایسی گھٹیا حرکت کرے تو فقہائے ملت ایسے شخص کے کفر کا فتوی دیتے ہیں۔

لو قال لشعر النبى عليه ﷺ شعير كفر

﴿فتاوی عالمگیری جلد 02 صفحہ 285، رسائل ابن عابدین جلد 01 صفحہ 326﴾

”اگر کوئی شخص حضور پر نور ﷺ کے موئے مبارک کو بطور اہانت شعیر کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا“

سرورِ عالم ﷺ کی طرف جہالت کی نسبت کرنا:

آقائے کائنات ﷺ کو خالق کائنات نے تمام علوم سے نوازا ، آپ مظہر ذات خدا ہیں، آپ کا ہر وصف کامل و اکمل ہے، منافقین نے جب علم مصطفےٰ ﷺ میں طعن کیا تو خالق کائنات نے قرآن حکیم میں اس کا جواب دیا۔ پھر بھی اگر کوئی بدطینت آپ ﷺ کی طرف جہالت کی نسبت کرے تو یہ کھلی گمراہی ہے اور وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے، علماء نے اس کے قتل کا فتوی دیا ۔

افتی ابو عبداللہ بن عتاب في عشار قال لرجل اتواشك الى النبي ﷺ وقال ان سالت اوجهلت فقد جهل وسأل النبي ﷺ بالقتل

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 35﴾

”ایک شخص نے دوسرے آدمی کو ستایا اور ٹیکس کا مطالبہ کیا اور کہا میرے معاملہ کی شکایت حضور ﷺ کو کر دینا اور کہا اگر میں نے سوال کیا یا جاہل رہا تو بعض امور میں (معاذ اللہ) حضور نے بھی سوال کیا اور جاہل رہے اس پر امام ابو عبداللہ بن عتاب نے اس شخص کے قتل کا فتوی دیا“

جو حضور سید عالم ﷺ کے علم پر طعن کرے اور آپ کے صدقے حاصل ہونے والی نعمتوں سے فائدہ بھی حاصل کرے یہ ممکن نہیں، لہٰذا ایسے بدبخت کے وجود سے زمین کو پاک کرنا ضروری ہے۔

صفحہ 45

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

سراپا حسن و جمال پر اسود کا اتہام کرنا:

حضور سید عالم ﷺ کے حسن و جمال کی رعنائیوں سے ہی دنیا کی روشنی برقرار ہے، آپ کے رُخ انور کی تابانی کے سامنے چاند و سورج کی چمک بھی ماند ہے جس نے ایک مرتبہ جلوہ زیبا کا نظارہ کرلیا، اسے دنیا کی تمام رعنائیاں بھی اپنی طرف متوجہ نہ کرسکی، آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو مشک و کستوری سے کہیں زیادہ ہے، آپ جس راستے پر چلتے وہ راستے اور فضائیں بھی خوشبو سے معطر ہوجاتیں، آپ کے جلوہ زیبا اور رُخ انور کی تابانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔

ما رايت شيئا احسن من رسول الله ﷺ كان الشمس تجرى فى وجهه واذا ضحك يتلالأ فى الجدر

﴿الشفا جلد 01 صفحہ 46﴾

"میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیں دیکھی گویا سورج آپ کے رخ انور میں چل رہا ہے آپ جب تبسم فرماتے دیواریں بھی موتیوں کی طرح چمک اٹھتیں"

حضور نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور ہر وصف میں کامل و اکمل ہیں، مگر پھر بھی کوئی شخص اپنی ازلی بدبختی و شقاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نازیبا بات آپ کی طرف منسوب کرے تو قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں۔

قال احمد بن ابى سليمان من قال ان النبى ﷺ كان اسود يقتل

﴿الشفاء جلد 02 صفحہ 135﴾

"علامہ احمد بن ابی سلیمان نے فرمایا جس شخص نے (نعوذ باللہ) حضور ﷺ پر اسود کی تہمت لگائی اسے قتل کیا جائے گا"

صفحہ 46

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اپنے آپ یا کسی کو رسول یا پیغمبر کہنا:

پیغامبر لغت میں پیغام دینے والے اور رسول، قاصد کو کہتے ہیں انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور خالق کائنات کا پیغام دنیا والوں کو پہنچاتے ہیں، چونکہ پیغام کو کامل طور پر انبیاء ہی پہنچاتے ہیں اس لیے انبیاء کرام کو پیغمبر اور رسول کہتے ہیں۔ اب اگر کوئی بدبخت اس لفظ کو اپنے لیے یا کسی دوسرے کے لیے استعمال کرے تو فقہاء ایسے شخص کے کفر اور قتل کا فتویٰ دیتے ہیں۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے۔

لو قال انا رسول الله او قال بالفارسیة من پیغمبرم یرید به پیغام می برم یکفر

﴿فتاویٰ عالمگیری جلد 02 صفحہ 285﴾

”اگر کوئی شخص کہے میں رسول اللہ ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں اور اس سے مراد یہ لے میں پیغام دینے والا ہوں وہ کافر ہو جائے گا“

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ احمد بن ابی سلیمان کے حوالے سے رقم کرتے ہیں:

قال فی رجل قیل له لا وحق رسول الله ﷺ فقال فعل الله برسول الله کذا و ذکر کلاماً قبیحاً فقیل له ما تقول یا عدو الله فقال اشد من کلامه الاول ثم قال انما اردت برسول الله العقرب فقال ابن ابی سلیمان للذی سأله اشهد علیہ وانا شریکك یرید فی قتله و ثواب ذلك

﴿الشفاء جلد 02 صفحہ 135﴾

”اگر کسی سے کہا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کے حق کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا کرے اور کلام قبیح ذکر کرے جب اس سے کہا گیا اے اللہ کے دشمن تو نے کیا کہا تو

صفحہ 47

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اس نے پہلے سے بھی سخت کلام کیا اور پھر کہا کہ رسول اللہ سے میری مراد بچھو ہے تو ابن ابی سلیمان نے اس آدمی سے کہا جو اس سے مخاطب تھا میں تمھارا ساتھی اور گواہ ہوں وہ اس کے قتل میں شریک ہونا چاہتے تھے ثواب کے ارادے سے‘‘

یہ شخص رسول سے کوئی اور معنی مراد لینا چاہتا تھا اور تاویل یہ کر رہا تھا کہ میں نے اہانت کی نیت نہیں کی، سوال یہ پیدا ہوا جب قاتل خود واضح کر رہا ہے کہ میری نیت توہین کی نہیں تو پھر اس کے قتل کا فتویٰ کیوں؟ آج کل بھی سیکولر طبقہ اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ جب تاویل ہو گئی تو پھر کیوں قتل؟ تو حبیب بن ربیع اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں۔

لان ادعاء التاويل في لفظ صراح لا يقبل لانه امتهان وهو غير معزر لرسول الله ولا موقر له فوجب اباحة دمه

﴿الشفا جلد 2 صفحہ 135﴾

’’جس مقام پر صریح یعنی واضح لفظ استعمال کیا جائے وہاں تاویل قبول نہیں کی جائے گی چونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا اس لیے وہ مباح الدم تھا‘‘

یہاں یہ بات واضح ہو گئی کہ عرف میں کوئی لفظ اہانت کیلئے استعمال ہوتا ہو، تو اگر کوئی شخص وہ لفظ بارگاہِ رسالت میں استعمال کرے تو وہ کافر ہو جائے گا، بارگاہِ مصطفےٰ ﷺ میں غلط اور غلیظ الفاظ استعمال کرنے کے بعد تاویل کرتا پھرے کہ اس کا معنی یہ بھی تو ہو سکتا ہے، تو اس کے دعویٰ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ بارگاہ رسالت کے آداب خود خالقِ کائنات نے بیان فرمائے، یہ وہ مقدس بارگاہ ہے جس میں ذرا سی بے ادبی بھی اعمالِ صالحہ کو برباد کر دیتی ہے۔

صفحہ 48

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں جا

حضور ﷺ کو شتربان کہنا:

حضور سید عالم ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ ؓ آپ کی اس دنیا میں جلوہ گری سے قبل وصال فرماگئے آپ اپنے جدامجد حضرت عبدالمطلب کے بعد ابوطالب کے گھر جلوہ فرما رہے، اور نبی کریم ﷺ تعلیم اُمت کے لیے بکریوں کو بھی پہاڑ پر لے کر گئے۔ لیکن ان باتوں سے اگر کوئی شخص (نعوذ باللہ) آپ کی محتاجی ظاہر کرنا چاہے تو یہ تنقیص رسالت ہے، لہٰذا اس شخص کا جرم ناقابل معافی ہے۔ امام ابوالحسن قابسی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں۔

افتی ابوالحسن القابسی فیمن قال فی النبی ﷺ الجمال یتیم ابی طالب بالقتل

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

”ابوالحسن قابسی نے اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا جو آپ کو شتربان یا یتیم ابی طالب کہے“

نامناسب کلمات کا انتساب:

حضور نبی کریم ﷺ اور جملہ انبیاء کرام علیہم السلام اس دنیا فانی سے اعلیٰ علیین کی طرف منتقل ہوگئے اور وہاں وہ ابدی اور دائمی حیات کے ساتھ جلوہ فرما ہیں، صحابہ کرام اور علمائے اُمت کا یہی عقیدہ ہے، ابن کثیر کے حوالہ سے یہ بات پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی بدبخت تردد اور تشکیک کا اظہار کرے تو وہ کافر ہوجائے گا۔

وقال انا لا ادری ان النبی ﷺ فی القبر مومن ام کافر یکفر

﴿فتاویٰ عالمگیری جلد 02 صفحہ 287﴾

صفحہ 49

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

"اگر کوئی شخص کہے میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبر میں مومن ہیں یا نہیں (نعوذ باللہ ) تو وہ کافر ہو جائے گا"

جو ہستی مدار ایمان ہے، جس کے طفیل پوری کائنات ایمان کی روشنی سے منور ہوئی ، جس کے توسط سے کائنات کو خالق کائنات کی معرفت نصیب ہوئی، جو ذات مرکز ایمان ہے، اس کے بارے میں مسلمان تو کجا منصف مزاج کافر بھی ایسا نہیں کہے گا، لیکن اس کے باوجود بھی اگر کوئی بدبختی کا مظاہرہ کرے تو اس شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اسے اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

زہد اختیاری کی بجائے اضطراری پر اصرار:

حضور نبی کریم ﷺ مالک دو جہاں ہیں، رب کی عطا سے قاسم نعمت ہیں، اگر آپ پہاڑوں کو حکم دیتے تو وہ سونے کے ہو جاتے ، اللہ تعالیٰ نے خزانوں کی چابیاں آپ کو عطا فرمادیں، آپ جسے چاہیں ، جتنا چاہیں عطا فرمائیں، مگر آپ نے خود تعلیم اُمت کے لیے زہد و فقر اختیار فرمایا، صبر وقناعت کو اختیار فرمایا، قالینوں اور عمدہ بچھونوں کی بجائے چٹائی کو اختیار فرمایا، لذیذ کھانوں کی بجائے جو کی روٹی اور کھجوروں پر قناعت کی، یہ سب تعلیم امت کیلئے تھا، آپ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ دنیا کی آسائشیں عارضی ہیں اصل مدار اُخروی نجات ہے، تمھارے دلوں میں دنیاوی مال وزر کی کوئی حیثیت نہ ہونی چاہیے، اُمت کو یہی درس دینے کیلئے حضور ﷺ نے فقر کو اختیار فرمایا، لیکن ایک بد بخت ابن حاتم طلیطلی نے زہد اضطراری پر اصرار کیا تو فقہائے اندلس نے اس کے قتل کا فتوی دیا ۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے قتل کے متعلق لکھا۔

ان زهده لم يكن قصداً ولو قدر على الطيبات اكلها

﴿الشفا جلد 1 صفحہ 135﴾

صفحہ 50

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”حضور نبی کریم ﷺ کا زہد اختیاری نہیں اگر آپ اچھے کھانے تناول کرنے پر قدرت رکھتے تو ضرور استعمال کرتے“ یہ کلمات ابن حاتم نے دوران مناظرہ استعمال کیے اور آپ کو یتیم اور حقیر قرار دیا اور اس سے اس کا مطلوب شان رسالت میں تنقیص کرنا تھا تو فقہائے اندلس نے اس کے قتل کا فتویٰ دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام پر طعن درازی کرنا:

اللہ تعالیٰ کے تمام برگزیدہ رسولوں میں سے کسی نبی کی توہین انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے اور انسان کے دل میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا ادب واحترام ہونا ضروری ہے اگر کوئی شخص کسی نبی کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔

من قال آمنت بجميع الانبياء ولا اعلم آدم نبی ام لا یکفر

﴿تفسیر روح البیان جلد 03 صفحہ 460﴾

جس شخص نے کہا کہ میں تمام انبیاء پر ایمان لایا مگر مجھے نہیں معلوم کہ حضرت آدم علیہ السلام نبی ہیں یا نہیں تو وہ کافر ہو جائے گا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

رجل قال مع غیرہ : ان آدم علیہ السلام نسج الکرباس پس ما ہمہ جولاہہ بچگان باشیم فهذا کفر

﴿فتاویٰ عالمگیری جلد 02 صفحہ 286﴾

”اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام کپڑا بنتے تھے تو اس نے کہا پھر تو ہم جولاہے کی اولاد ہوئے پس یہ کفر ہے“

صفحہ 51

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

قرآن وسنت اور امت مسلمہ کے جلیل القدر علماء کی آرا کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ رسولِ معظم ﷺ کی تعظیم وتوقیر انتہائی ضروری ہے اور حضور سید کائنات ﷺ کی محبت والفت کے بغیر کسی شخص کے دعویٰ اسلام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ذرا سی بے ادبی انسان کے اعمالِ صالحہ کو ختم کر دیتی ہے اور ایسے شخص کی دنیا و آخرت تباہ ہو جاتی ہے، بارگاہِ نبوی ﷺ میں گفتگو اور الفاظ کے چناؤ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور اس بارگاہ کا ادب واحترام ہر حال میں لازم ہے، اگر کوئی شخص اہانت و تنقیص کا مرتکب ہو تو وہ باغی اسلام ہے اس کا جرم ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا صرف موت ہے۔

ناموس رسول ﷺ اور فقہائے اُمت:

حضور نبی کریم ﷺ کی اس دنیا میں جلوہ گری کے بعد سلسلہ نبوت اختتام پذیر ہو گیا۔ دینِ اسلام کی تکمیل کے بعد اب رہتی دنیا تک کسی دوسرے نبی کی آمد کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، خاتم النبیین حضور سید عالم ﷺ کی فضیلت مختصہ ہے، اور اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد صحابہ کرام ؓ نے امتِ مسلمہ کی راہنمائی فرمائی اور اس کے بعد آئمہ و فقہاء نے قرآن وسنت سے ہی ہر مشکل کا حل تلاش کر کے امتِ مسلمہ کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا، حضور نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنا نائب اور وارث قرار دیا، قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لیے جو قوانین اُمتِ مسلمہ کے لیے ضروری تھے، فقہائے اُمت نے رسول اللہ ﷺ کے گلستانِ علم سے انہیں اخذ کر کے اُمت مسلمہ کے سامنے پیش کیا۔ صحابہ کرام ؓ نے بھی قرآن وسنت کی روشنی میں شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل مقرر کی اور اپنے دورِ حکومت میں اسی سزا کو نافذ کیا۔

صفحہ 52

میں لہجہ اختیار کرنے کا حکم یَدَیِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا حَتّٰى آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا

ما لیطری الخازلہ الا تو اب ہے میں ادب و شائستگی کے منافی ہو کیونـ پر ورعشوا نے اور سچائی اپنے افسر

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت مہاجر بن امیہ ؓ نے حضرت صدیق ؓ کو بتایا کہ یمن میں ایک عورت اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ کو سب وشتم کرتی تھی تو انہوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور اس کے اگلے دانت نکال دیئے، حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا اگر تم نے یہ سزا نہ دی ہوتی ”لا مرتک بقتلها“ میں تمہیں اس کے قتل کا حکم دیتا، کیونکہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔

﴿الصارم المسلول صفحہ 169﴾

حضرت مجاہد روایت کرتے ہیں:

اتی عمر برجل سب النبی ﷺ فقتله ثم قال عمرا من سب الله او سب احدا من الانبياء فاقتلوه

﴿الصارم المسلول صفحہ 170﴾

”حضرت عمر ؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو شاتم رسول تھا آپ نے اسے قتل کروا دیا پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا جو اللہ تعالیٰ یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کو گالی دے اسے قتل کردو“

صحابہ کرام ؓ کے دور سے لے کر آج تک پوری اُمت اس مسئلہ پر متفق ہے، جو شخص حضور سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں اشارۃً یا کنایۃً گستاخی کا مرتکب ہو، وہ اسلام کا مدعی ہو یا کافر اس کی سزا قتل ہے۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ :

اُمت کے اس مسئلہ پر متفق ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قال ابوبكر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سب النبی ﷺ يقتل وممن قال ذلك مالك بن انس والليث واحمد واسحاق وهو مذهب الشافعي قال القاضی ابوالفضل

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

وهو مقتضى قول ابوبكر الصديق عندهولاء وبمثله قال ابو حنيفة وا الكوفة والا و زاعى

”ابوبکر بن منذر کہتے ہیں تمام اہل علم شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا اور یہی قول امام احمد ، اسحاق اور امام شافعی کا ہے

حضرت صدیق اکبر ؓ کے قول کا مقـ نزدیک بھی تو بہ قبول نہیں، امام ابو حنـ اھل کوفہ اور اوزاعی کا بھی یہی مذہب

ابوسلیمان خطابی:

اجماع امت کا تذکرہ کرتے ہوئے

لا اعلم احدا من المسلمين اختلف

”میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں قتل میں اختلاف کیا ہو“

حضرت محمد بن سحنون:

اجمع العلماء ان شاتم النبی ﷺ عليه بعذاب الله له وحكم كفره وعذابه كفر

صفحہ 53

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

وهو مقتضی قول ابوبکر الصدیق ؓ ولا تقبل توبته عند هولاء وبمثله قال ابو حنیفة و اصحابه والثوری واهل الکوفة والاوزاعی

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 133﴾

’’ابوبکر بن منذر کہتے ہیں تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا اور یہی قول امام مالک بن انس، لیث، امام احمد، اسحاق اور امام شافعی کا ہے قاضی ابوالفضل فرماتے ہیں حضرت صدیق اکبر ؓ کے قول کا مقتضیٰ بھی یہی ہے کہ ان کے نزدیک بھی توبہ قبول نہیں، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، ثوری، اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے‘‘

ابوسلیمان خطابی:

اجماع امت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتله

﴿الصارم المسلول صفحہ 24﴾

’’میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کسی نے شاتم رسول کے قتل میں اختلاف کیا ہو‘‘

حضرت محمد بن سحنون:

اجمع العلماء ان شاتم النبی المتنقص له کافر والوعید جار علیه بعذاب الله له وحکمه عند الامة القتل ومن شک فی کفره وعذابه کفر

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

صفحہ 54

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”علماء امت کا اس پر اجماع ہے کہ گستاخ نبی اور آپ میں نقص نکالنے والا شخص کافر ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک واجب القتل ہے، جو ایسے شخص کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے“

علامہ ابن تیمیہ:

اس مسئلہ پر اجماع ائمہ اربعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ان الساب ان كان مسلما فانه يكفر ويقتل بغير خلاف وهو مذهب الائمة الاربعة وغيرهم

﴿الصارم المسلول صفحہ 24﴾

”بے شک حضور نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کرنے والا اگرچہ مسلمان ہی کہلاتا ہو وہ کافر ہو جائے گا۔ ائمہ اربعہ (امام اعظم، امام مالک، امام شافعی، امام احمد) اور دیگر کے نزدیک اسے بلا اختلاف قتل کیا جائے گا“

فقہائے احناف:

عصر حاضر میں اٹھنے والے فتنوں میں سب سے عظیم فتنہ جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، وہ شعائر اللہ کی توہین اور رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس پر رکیک حملے کی صورت میں ہے، یہود و نصاریٰ نت نئے طریقوں سے اُمت مسلمہ کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی سعی میں مصروف ہیں، نوبت بایں جا رسید کہ اسلام کی دعویدار حکومتوں کی سلطنت میں سرعام رسول اللہ ﷺ کی حرمت و ناموس کے حوالے سے عوام کے اذہان و قلوب کو منتشر کیا جا رہا ہے، انگریز کے زرخرید غلام مسلمانوں کو محبت مصطفےٰ ﷺ سے تہی دامن کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ و فساد کی اس شورش میں یہود و ہنود کے کچھ گماشتے ملک پاکستان کی بنیادوں میں لادینیت کا زہر گھولنا چاہتے ہیں، کوئی کہتا ہے قائد اعظم سیکولر تھے، تو کوئی یہ

صفحہ 55

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نظام مصطفے کے لیے نہیں بنا۔ انہی حالات میں جب (آسیہ) عاصیہ ملعونہ نے نبی کریم ﷺ کی ناموس پر حملہ کیا اور عدالت نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اسے موت کی سزا سنائی تو ایک طوفان بدتمیزی بپا ہو گیا، قانون ناموس رسالت ختم کروانے کے لیے انگریز کے وفادار نام نہاد مسلمان میدان عمل میں آگئے تو ایک نام نہاد سکالر جاوید غامدی نے یہ شوشہ پھیلانے کی کوشش کی کہ فقہائے احناف کے نزدیک گستاخ رسول کی سزا موت نہیں، لہٰذا 295-C کو ختم کر دینا چاہیے۔ اس شخص کا مقصود اُمت مسلمہ میں افتراق و انتشار کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اُمت مسلمہ کو ایسے اشخاص کے گھناؤنے کردار سے خبردار رہنا چاہیے۔ گستاخ رسول کی سزا کے حوالے سے احناف کے جلیل القدر علماء کی آراء ملاحظہ کیجیے۔

امام محقق ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ:

قانون ناموس رسول اللہ ﷺ کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کل من ابغض رسول اللہ ﷺ بقلبہ کان مرتدا فالساب بطریق اولی ثم یقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته فی اسقاط القتل ...... وان سب سکران ولا یعفی عنہ

﴿فتح القدیر جلد 05 صفحہ 332﴾

’’ہر وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ سے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے اور آپ کو سب و شتم کرنے والا تو بدرجہ اولی مرتد ہے، اسے قتل کیا جائے گا اور قتل کو ساقط کرنے میں اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اگرچہ حالت نشہ میں کلمہ گستاخی بکا جب بھی معاف نہ کیا جائے گا‘‘

صفحہ 56

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

علامہ زین الدین ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ :

ناموس رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اپنے عشق و اخلاص کا اظہار اس انداز میں کرتے ہیں:

كل كافر تاب فتوبته مقبولة في الدنيا والاخرة الا جماعة الكافر بسب النبى ...... لا تصح ردة السكران الا الردة بسب النبى لا يعفى عنه واذا مات او قتل لم يدفن في مقابر المسلمين ، ولا اهل ملته وانما يلقى في حفيرة كالكلب

﴿الاشباہ والنظائر صفحہ 59-158﴾

’’ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دنیا و آخرت میں مقبول ہے، مگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور ﷺ کو گالی دی اس کی توبہ قبول نہیں۔ نشہ کی حالت میں ارتداد صحیح نہ مانا جائے گا مگر حضور ﷺ کی اہانت حالت نشہ میں بھی کی جائے تو اسے معافی نہ دی جائے گی، جب وہ شخص مر جائے تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ اہل ملت (یہودی، نصرانی) کے گورستان میں، بلکہ اسے کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے گا‘‘

اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

سب واحد من الانبياء كذلك فلا يفيد الانكار مع البينة لانا نجعل انكار الردة توبة ان كانت مقبولة

﴿بحرالرائق جلد 05 صفحہ 126﴾

صفحہ 57

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کا یہ حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے، بعد ثبوت اسے انکار فائدہ نہ دے گا، مرتد کا انکار دفع سزا کے لیے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں توبہ سنی جائے لیکن نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“

امام ابن بزاز کردری رحمۃ اللہ علیہ :

قانون ناموس رسالت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ توبہ کے ساتھ بھی اس کا قتل ساقط نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس نے محسن انسانیت کی عزت پر حملہ کیا اور ان کا حق بھی متعلق ہے جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوگا۔

اذا سب الرسول او واحدا من الانبياء فانه يقتل حدا فلا توبة له اصلا سواء بعد القدرة عليه والشهادة او جاء تائباً من قبل نفسه كالزنديق لانه حد واجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور فيه خلاف لاحد لانه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحد القذف لا يزول بالتوبة

﴿رسائل ابن عابدین جلد 02 صفحہ 327﴾

”جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اہانت کرے یا انبیاء میں سے کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسے بطور حد قتل کیا جائے گا، اور اس کی توبہ کا اعتبار نہیں خواہ وہ تائب ہو کر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد تائب ہو اور اس پر شہادت مل جائے وہ زندیق کی طرح ہے اس لیے کہ اس پر حد واجب ہے اور وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی، اس میں کوئی اختلاف

صفحہ 58

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نہیں اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حق عبد کے ساتھ متعلق ہے، جو بقیہ حقوق العباد کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوتا جیسے حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی“

امام ابن بزاز نے عدم قبولیت توبہ کی وجہ بھی بیان فرمادی کہ ایک حق حضور سرور عالم ﷺ کے ساتھ بھی متعلق ہے تو جب تک وہ معاف نہ فرما دیں، اس وقت تک توبہ اور معافی قابل قبول نہیں ہوگی ، اور احادیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ خود حضور سید کائنات ﷺ نے ایسے گستاخان کے قتل کا حکم فرمایا اور ابن ابی سرح کو معاف کر دینے کے بعد بیعت میں تامل کی وجہ بیان فرمادی کہ میرا منشا یہی تھا کہ تم میں سے کوئی اسے قتل کر دے، آپ کے اس ارشاد عالی سے قانون تحفظ ناموس رسالت کی بڑے واضح انداز میں توثیق ہوگئی کہ ایسا مجرم کس سزا کا حق دار ہے۔

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ : قانون ناموس رسول ﷺ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

واعلم انه قد اجتمعت الامة على ان الاستخفاف بنبينا وبای نبی كان من الانبياء كفر سواء فعله فاعل ذلك استحلالا ام فعله معتقدا بحرمته ليس بين العلماء خلاف فى ذلك والقصد للسب وعدم القصد سواء اذ لا يعذر احد فى الكفر بالجهالة ولا بدعوى زلل اللسان اذا كان عقله فى فطرته سليماً

﴿روح البیان جلد 03 صفحہ 394﴾

”تمام علمائے اُمت کا اجماع ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ یا کوئی اور

صفحہ 59

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نبی علیہ السلام ہوں ان کی ہر قسم کی تنقیص واہانت کفر ہے، اس کا قائل اسے جائز سمجھ کر گستاخی کرے یا اسے حرام سمجھے، قصداً گستاخی کرے یا بلا قصد، ہر طرح اس پر کفر کا فتویٰ ہے شانِ نبوت کی گستاخی میں لاعلمی اور جہالت کا عذر نہیں سنا جائے گا، سبقت لسانی کا عذر بھی قابل قبول نہیں، اس لیے کہ عقل سلیم کو ایسی غلطی سے بچنا ضروری ہے“

علامہ حقی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ صورت مسئلہ کو قلمبند فرمایا کہ صورت کوئی بھی ہو چاہے قائل غیر ارادی طور پر، عدم نیت یا سبقت لسانی کا بہانہ تراشے۔ اس کا کوئی دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، اور سید کائنات ﷺ کی شانِ اقدس میں ہرزہ سرائی کے جرم میں اسے قتل کر دیا جائے گا۔

علامہ خیر الدین رملی رحمۃ اللہ علیہ :

تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

من سب رسول الله ﷺ فانه مرتد وحكمه حكم المرتدين ويفعل به ما يفعل بالمرتدين ولا توبة له اصلا واجمع العلماء انه كافر ومن شك في كفره كفر

﴿فتاویٰ خیریہ باب المرتدین جلد 01 صفحہ 103﴾

”جو شخص مسلمان کہلا کر نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرے وہ مرتد ہے اس کا وہی حکم ہے جو مرتدین کا ہے، اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا جو مرتدین سے کرنے کا حکم ہے، اور اس کی توبہ نہیں اصلاً اور باجماع تمام علماء وہ کافر ہے، جو اس کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہے“

صفحہ 60

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

علامہ عبداللہ بن محمد سلیمان رحمۃ اللہ علیہ :

اذا سبه ﷺ او واحدا من الانبياء مسلم ولو سكران فلا توبة له اصلا لا تنجيه كالزنديق ومن شك فى عذابه و كفره فقد كفر

﴿مجمع الانہر جلد 01 صفحہ 677﴾

”جو مسلمان کہلا کر نبی کریم ﷺ یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگر چہ حالت نشہ میں ہو، تو زندیق کی طرح اس کی توبہ کبھی قبول نہیں کیا جائے گا جو اس کے کفر میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے“

علامہ مولیٰ خسرو رحمۃ اللہ علیہ :

اذا سبه او واحدا من الانبياء صلوات الله عليهم اجمعين مسلم فانه يقتل حدا و لاتوبة له اصلا سواء بعد القدرة عليه والشهادة او جاء تائبا من قبل نفسه كالزنديق لانه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور خلاف لاحد لانه حد تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر الادميين وكحد القذف لايزول بالتوبة قلنا اذا شتمه سكران لايعفى ويقتل ايضا حدا وهذا مذهب ابى بكر الصديق رضى الله عنه والامام الاعظم والثورى واهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك واصحابه

﴿الدرر الحکام جلد 01 صفحہ 300﴾

”جو شخص نبی کریم ﷺ یا انبیاء میں سے کسی کی اہانت کا مرتکب ہو وہ مسلمان کہلاتا ہوا اسے بطور حد قتل کیا جائے گا، اس کی توبہ کا کوئی اعتبار

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نہیں، وہ تائب ہو کر آئے یا طرح اس کی توبہ قبول نہیں نہیں ہوتی، اس میں اختلا کے ساتھ متعلق ہے اور ی ہوگا جیسے حدقذف توبہ سے تنقیص کرے تو معافی ن جائے گا، یہی مذہب حض ثوری، اہل کوفہ، امام مالک

علامہ حسن شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ :

محل قبول توبة الم فان كان سبه لا تقبل عليه بذلك بخلاف

”نبی کریم ﷺ کی شان ہر طرح کے مرتد کو توبہ لیے اس کی اجازت نہیں خلاف گواہی دی جائے

علامہ یوسف اخی رحمۃ اللہ علیہ :

قد اجتمعت الامة عل

صفحہ 61

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نہیں، وہ تائب ہو کر آئے یا گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے زندیق کی طرح اس کی توبہ قبول نہیں اس لیے کہ حد واجب ہے اور توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اس میں اختلاف نہیں اس لیے کہ یہ ایسا حق ہے جو حق عبد کے ساتھ متعلق ہے اور بقیہ حقوق العباد کی طرح توبہ سے ساقط نہیں ہوگا جیسے حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اگر کوئی حالت نشہ میں بھی تنقیص کرے تو معافی نہ دی جائے گی، اور اسے بھی بطور حد قتل کیا جائے گا، یہی مذہب حضرت صدیق اکبر ؓ کا ہے، اور امام اعظم، ثوری، اہل کوفہ، امام مالک اور ان کے اصحاب کا بھی یہی موقف ہے“

علامہ حسن شُرنُبلالی رحمۃ اللہ علیہ :

محل قبول توبة المرتد مالم تكن ردته بسب النبى ﷺ فان كان به لاتقبل توبته سواء جاء تائباً من نفسه او شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات

﴿غنیۃ ذوی الاحکام جلد 01 صفحہ 301﴾

”نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، ہر طرح کے مرتد کو توبہ کے بعد معافی کا حکم ہے مگر اس کافر و مرتد کے لیے اس کی اجازت نہیں چاہے وہ خود تائب ہو کر آئے یا اس کے خلاف گواہی دی جائے“

علامہ یوسف اخی رحمۃ اللہ علیہ :

قد اجتمعت الامة على ان الاستخفاف بنبينا ﷺ وبأى نبى

صفحہ 62

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

كان عليهم الصلوٰة والسلام كفر سواء فعله على ذلك مستحلا ام فعله معتقد الحرمة وليس بين العلماء خلاف فى ذلك ومن شك فى كفره وعذابه كفر

﴾ذخيرة العقبیٰ جلد 02 صفحہ 493﴿

”تمام اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو حضور نبی کریمﷺ خواہ کسی بھی نبی کی شان میں اہانت کرے وہ کافر ہے، اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہو یا حرام جان کر، جمیع علماء کا اس پر اتفاق ہے، جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے“

علامہ ابو عبد اللہ رحمہ اللہ علیہ :

كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة الا الكافر بسب النبى

﴾درمختار شرح تنویر الابصار جلد 06 صفحہ 356﴿

”ہر مرتد کی توبہ قبول ہے مگر جس شخص نے نبی کریمﷺ کی اہانت کی اس کی توبہ قبول نہیں“

علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمہ اللہ علیہ :

الكافر بسب النبى من الانبياء لا تقبل توبته مطلقا ومن شك فى عذابه وكفره كفر

﴾درمختار جلد 06 صفحہ 356﴿

”کسی نبی کی اہانت کرنے والا شخص ایسا کافر ہے جسے مطلقاً کوئی معافی نہیں دیں گے جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے“

صفحہ 63

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی رحمۃ اللہ علیہ:

ولا خلاف بين المسلمين ان من قصد النبى بذلك فهو ممن ينتحل الاسلام انه مرتد يستحق القتل

﴿احکام القرآن جلد 03 صفحہ 112﴾

”تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ جس شخص نے حضور ﷺ کی اہانت و ایذاء رسانی کا قصد کیا وہ مسلمان کہلاتا ہو تو وہ مرتد مستحق قتل ہے“

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ:

فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته لان الحد لا يسقط بالتوبة وافاد انه حكم الدنيا واما عند الله تعالى فهى مقبولة

﴿رد المحتار جلد 04 صفحہ 232﴾

”گستاخ رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا، اس کی توبہ قبول نہیں اس لیے کہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، یہ حکم اس دنیا کے ساتھ متعلق ہے اور عنداللہ اس کی توبہ مقبول ہوگی“

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ:

من آذى رسول الله ﷺ بطعن فى شخصه او دينه او نسبه او صفة من صفاته او بوجه من وجوه الشتم فهو صراحة او كناية او تعريضا او اشارة كفر ولعنة الله فى الدنيا والاخرة وأعد لهم عذاب جهنم، فلا تقبل توبته

﴿تفسیر مظہری جلد 07 صفحہ 382﴾

صفحہ 64

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”رسول اللہ ﷺ کی شخصیت، دین، نسب یا حضور سید عالم ﷺ کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحتاً یا کنایۃً یا اشارۃً یا بطور تعریض آپ پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے۔ ایسے شخص پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت اور اس کے لیے عذاب جہنم ہے، اسے قتل کرنے میں اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی“

حضور نبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت اور امت مسلمہ کی غیرت ایمانی کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص خاتم النبیین ، سید کائنات ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ہرزہ سرائی کرے اس کا اس دنیا میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، جو شخص آپ کی بارگاہ میں نازیبا کلمات استعمال کرے اور پھر اس کی تاویلات کرے، وہ بد بخت اگر چہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتا ہو، وہ سزا کا مستحق ہے، یہ کیسا مسلمان ہے جو نبی کریم ﷺ کا کلمہ بھی پڑھتا ہے اور آپ کی اہانت کا بھی مرتکب ہے۔

ذمی شاتم رسول کا حکم :

وہ کافر جو مسلمان ملک میں رہائش پذیر ہوں، اسلامی سلطنت میں رعایا کی حیثیت سے مقیم ہوں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہوں، ان کفار کو اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے، ان کے جان و مال کا تحفظ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن جب کوئی ذمی حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں اہانت و تنقیص کا مرتکب ہو تو اب اس کا قتل ضروری ہے اور اسلامی حکومت اہانت رسول ﷺ کے مرتکب ذمی کی حفاظت نہیں کرے گی۔

حضرت فاروق اعظم ؓ :

حضرت شیخ شہاب الدین ؒ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

صفحہ 65

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ان غلماناً من اهل البحرين خرجوا يلعبون بالصوالجة واسقف البحرين قاعد فوقعت الكرة على صدره فأخذها فجعلوا يطلبونها منه فأبى فقال غلام منهم سألتك بحق محمد ﷺ الا رددتها علينا، فأبى لعنة الله وسب رسول الله ﷺ فأقبلو عليه بصوالجهم، فما زالوا يخبطونه حتى مات لعنة الله عليه فرفع ذلك الى عمر رضى الله عنه فوالله ما فرح بفتح ولا غنيمة كفرحته بقتل الغلمان لذلك الاسقف وقال الان عز الاسلام ان اطفالا صغارا شتم نبيهم فغضبوا له وانتصروا واهدر دم الاسقف

﴿المستطرف جلد 02 صفحہ 233﴾

”بحرین کے لڑکے باہر میدان میں ہاکی کھیل رہے تھے اور ساتھ بحرین کا پادری بیٹھا ہوا تھا، گیند اس کے سینے پر لگی اور اس نے اٹھالی۔ لڑکوں نے اس سے گیند طلب کی لیکن اس نے انکار کردیا۔ ان میں سے ایک لڑکے نے کہا: میں تجھے حضورﷺ کا واسطہ دیتا ہوں گیند واپس کردو۔ اس نے انکار کیا اور حضور نبی کریمﷺ کی توہین کی، وہ لڑکے اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے اتنا مارا کہ وہ لعنتی مرگیا۔ حضرت عمر ؓ کی بارگاہ میں یہ مقدمہ پیش ہوا (راوی کہتے ہیں) خدا کی قسم حضرت عمر ؓ فتوحات اور مال غنیمت سے کبھی اتنا خوش نہ ہوئے تھے جتنا اس پادری کے قتل پر خوش ہوئے اور فرمایا اسلام کی عزت یہ ہے کہ چھوٹے بچے بھی نبی کریمﷺ کی توہین پر غضب ناک ہو گئے، اور بدلہ لے لیا آپ نے اس پادری کے خون کو ضائع قرار دے دیا“

صفحہ 66

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ :

فان الذمی اذا سبه لا يستتاب بلا تردد فانه يقتل لكفره الاصلى كما يقتل الاسير الحربي

﴿الصارم المسلول صفحہ 260﴾

”اگر کوئی ذمی حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت کرے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اسے اس کے کفر اصلی کے سبب قتل کیا جائے گا جیسے حربی کافر کو“

عند ابى حنيفة يستتاب الذمى بطعنه فى الدين ولا ينتقض عهده بمجرد طعنه ما لم يصرح بالنكث

﴿روح البيان جلد 03 صفحہ 393﴾

”حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک ذمی اسلام پر طعن و تشنیع کرے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اس کا عہد نہیں توڑیں گے مگر جب وہ اس کی تصریح کرے“

اس سے زیادہ اور کیا تصریح ہوگی کہ وہ شخص حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و تنقیص کرے، جب اُس شخص نے حضور سید عالم ﷺ کی توہین کی تو اس کا عہد ختم ہو گیا۔ دین میں طعن کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو مرضی اسلام کے خلاف بکواس کرے ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے، مطلب یہ ہے جن باتوں کو نبی کریم ﷺ نے اسلام میں کفر قرار دیا اور وہ یہود و نصاریٰ کے عقائد میں شامل ہیں۔ ذمی کو علی الاعلان ان باتوں کی ترویج و اشاعت ممنوع ہے کیونکہ وہ باتیں اسلام میں کفر ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ کہنا (نعوذ باللہ ) ایسی حرکت کے بعد وہ توبہ کرے تو وہ مقبول ہے اور اس کا عہد بھی برقرار رہے گا۔

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

امام محقق ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ :

والذى عندى ان سبه عليه السلـ ان كان ممالا يعتقدونه هم يعتقده النصارى واليهود و

”میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف غیر مناسب سے خارج ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی کا عقیدہ ہے، جب وہ ان چیز جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ :

ذكره (الامام محمد) فـ قتل الذمى المنهى عن ايضا، واستدل لذلك فـ منها حديث ابی اسحق الله عليه وقال سمعت رسول الله انها لمحمـ

”امام محمد نے سیر کبیر میں

صفحہ 67

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

امام محقق ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ :

والذی عندی ان سبہ علیہ السّلام أو نسبتہ الی ما لا ینبغی الی اللّٰہ ان کان ممّا لا یعتقدونہ کنسبۃ الولد الی اللّٰہ تعالیٰ الذی یعتقدہ النصاریٰ والیہود واذا اظہر یقتل بہ وینتقض عہدہ

﴿فتح القدیر جلد 05 صفحہ 303﴾

’’میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضورﷺ کی اہانت کی یا اللہ تعالیٰ کی طرف غیر مناسب چیز منسوب کی اگر وہ ان کے معتقدات سے خارج ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت یہ یہود و نصاریٰ کا عقیدہ ہے، جب وہ ان چیزوں کا اظہار کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کر دیا جائے گا‘‘

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ :

ذکرہ (الامام محمد) فی السیر الکبیر فیدل علی جواز قتل الذمی المنہی عن قتلہ بعقد الذمۃ اذا اعلن بالشتم ایضاً واستدل لذلک فی شرح السیر الکبیر بعدۃ احادیث منہا حدیث ابی اسحق الہمدانی قال : جاء رجل الی رسول اللّٰہ ﷺ وقال سمعت امراۃ من یہود وہی تشتمک واللّٰہ یا رسول اللّٰہ انہا لمحسنۃ الی فقتلتہا فاہدر النبی ﷺ دمہا

﴿ردالمحتار جلد 06 صفحہ 334﴾

’’امام محمد نے سیر کبیر میں لکھا کہ اس میں دلالت ہے کہ ذمی کو بوجہ عہد

صفحہ 68

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ذمہ قتل سے امان مل چکی تھی، جب وہ علانیہ حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و تنقیص کا مرتکب ہو تو اسے قتل کر دیا جائے گا شرح السیر الکبیر میں کئی احادیث سے ذمی کے قتل پر استدلال کیا گیا۔ ان میں ایک ابو اسحق ہمدانی کی روایت ہے، ایک شخص حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ایک یہودی عورت میری محسنہ تھی، لیکن وہ آپ کو سب و شتم کرتی تھی تو میں نے اسے قتل کر دیا حضور ﷺ نے اس کے خون کو ضائع قرار دے دیا“

علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمہ اللہ علیہ :

ويودب الذمى ويعاقب على سب دين الاسلام او القران او النبى ﷺ قال العينى واختيارى فى السب ان يقتل وتبعه ابن الهمام وبه افتى شيخنا الرملى وهو قول الشافعى ...... والحق انه يقتل عندنا اذا اعلن بشتمه عليه الصلوۃ والسلام صرح به فى سير الذخيرة واستدل محمد لبيان قتل المرأة اذا اعلنت بشتم الرسول بما روى ان عمر بن عدى لما سمع عصماء بنت مروان تؤذى الرسول فقتلها ليلاً مدحه ﷺ على ذلك

﴿درمختار جلد 06 صفحہ 332﴾

”ذمی اگر اسلام یا قرآن یا نبی کریم ﷺ کو گالی دے تو اسے سزا دی جائے گی علامہ عینی نے فرمایا میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ اس ذمی کو قتل کر دیا جائے امام ابن ہمام بھی یہی فرماتے ہیں ہمارے شیخ رملی کا بھی

صفحہ 69

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

یہی فتوی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، حق یہ ہے کہ اگر ذمی علانیہ حضور ﷺ کو سب وشتم کرے تو اسے قتل کیا جائے گا سیر الذخیرہ میں اس کی تصریح ہے امام محمد نے عورت کے قتل کا استدلال اس حدیث سے کیا جب حضرت عمیر بن عدی نے عصماء بنت مروان کے متعلق سنا کہ وہ حضور ﷺ کی تنقیص کرتی ہے تو آپ نے ایک رات اسے قتل کر دیا تو حضور انور ﷺ نے حضرت عمیر بن عدی ؓ کی تعریف فرمائی“

علامہ ابن عابدین ؒ :

فلواعلن بشتمه او اعتاده يقتل ولو امراة وبه يفتى اليوم

﴿ردالمحتار جلد 06 صفحہ 331﴾

”جب ذمی علانیہ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کا مرتکب ہو اسے قتل کیا جائے گا اگرچہ عورت ہو اسی پر فتوی ہے“

امام ابوبکر بن احمد بن علی رازی ؒ :

فاذا ثبت ذلك كان من اظهر سب النبى من اهل العهد ناقضا للعهد اذ سب رسول الله من اكبر الطعن فى الدين

﴿احکام القرآن جلد 03 صفحہ 111﴾

”جب یہ ثابت ہو گیا تو ذمی شخص نبی کریم ﷺ کو گالیاں دے تو وہ عہد توڑنے والا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینا دین میں طعن کرنے سے زیادہ برا ہے“

صفحہ 70

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

علامہ ابولیث رحمۃ اللہ علیہ :

علامہ ابو بکر رازی ان کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قال الليث فى المسلم يسب النبى انه لا يناظر ولا يستتاب يقتل مكانه وكذلك اليهودى والنصارى

﴿احکام القرآن جلد 03 صفحہ 111﴾

"ابولیث کہتے ہیں جو مسلمان کہلاتا ہو اور حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو اس سے نہ مناظرہ کریں گے اور نہ توبہ کا مطالبہ کریں گے بلکہ اسے اس جگہ قتل کردیں گے یہی حکم یہودی اور نصرانی (شاتم) کے لیے بھی ہے"

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ :

فى الفتاوى من مذهب ابى حنيفة ان من سب النبى ﷺ يقتل ولا يقبل توبته سواء كان مومناً اوكافراً اوبهذا يظهر انه ينتقض عهده ويؤيده ماروى ابو يوسف عن حفص بن عبدالله بن عمر ان رجلا قال : له سمعت راهباً سب النبى ﷺ فقال له لوسمعته لقتلته انالم نعطهم العهود على هذا

﴿تفسیر مظہری جلد 04 صفحہ 174﴾

"فتاوی میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ بیان کیا گیا جس نے بھی نبی کریم ﷺ کی توہین کی وہ قتل کر دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی برابر ہے کہ وہ مومن ہو یا کافر، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ

صفحہ 71

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

حضور ﷺ کو سب و شتم کرنے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، اس کی تائید امام ابو یوسف کی روایت سے ہوتی ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا گیا کہ راہب نے حضور ﷺ کو سب و شتم کیا تو آپ نے فرمایا اگر میں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا ، ہم نے انہیں امان اس لیے نہیں دی کہ وہ شان رسالت میں تنقیص کریں‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ اسلامی حکومت میں ذمی کو تحفظ اس وقت تک حاصل ہے جب وہ دین اسلام میں طعن نہ کریں جب ذمی حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و تنقیص کرے تو اس نے حضور سید عالم ﷺ کی تنقیص کے سبب اسلام میں طعن کیا لہٰذا اس کا عہد ختم ہو جائے گا اور اسے قتل کیا جائے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت دونوں صورتوں میں اس کا حکم یہی ہے۔

ماقبل سطور میں بھی یہ بات گزر چکی ہے کہ تمام علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول ﷺ سزا کا مستحق ہے، برابر ہے وہ مومن ہو یا کافر۔ علمائے احناف کے علاوہ چند دیگر علماء کرام کے اقوال بھی ملاحظہ کریں۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ :

من سب رسول اللہ ﷺ اوشتمہ اوعابہ اوتنقصہ قتل مسلما كان او كافرا ولا يستتاب

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

’’جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی اہانت کی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی اسے قتل کیا جائے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی‘‘

صفحہ 72

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ :

ان عهده ينتقض بسب النبى ﷺ وانه يقتل

﴿الصارم المسلول صفحہ 28﴾

”جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے اس کا عہد ختم ہو گیا اور وہ قتل کیا جائے گا“

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ :

كل من شتم النبى ﷺ او تنقصه مسلماً كان او كافرا فعليه القتل وارى ان يقتل ولا يستتاب

﴿الصارم المسلول صفحہ 25﴾

”ہر وہ شخص جو نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کا مرتکب ہو وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائیگا اس کی توبہ قبول نہیں“

فقہاء قیروان کا فتویٰ:

ابراہیم فزاری ایک شاعر اور عالم تھا وہ ابو عباس بن طالب کی مجلس میں مناظرہ کے لیے بلایا گیا تو دوران مناظرہ اس نے حضور سید المرسلین ﷺ اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے خلاف نازیبا کلمات کہے، قاضی یحییٰ بن عمر کی غیرت سے گوارا نہ ہوا اور انہوں نے اسے سولی چڑھانے کا فتویٰ دیا دوسرے علماء نے بھی اس فتویٰ کی تائید کی جب اسے سولی چڑھایا گیا تو اس کا کیا حشر ہوا، اسے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ یوں بیان کرتے ہیں۔

وحكى بعض المورخين انه لما رفعت خشبته وزالت عنها الايدی استدارت وحولته عن القبلة فكأن آية وكبر الناس وجاء الكلب فولغ فى دمه فقال يحيى بن عمر صدق رسول الله ﷺ و ذكر حديثاً عنه انه قال لا يلغ الكلب فى دم مسلم

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 135﴾

صفحہ 73

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

”مورخین نے بیان کیا ہے جب اسے سولی دی گئی تو وہ لکڑی گھومی اور اس کا رخ سمت قبلہ سے پھر گیا، یہ سب کے لیے عبرت ناک نشانی تھی، سب نے نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر ایک کتا آیا اور اس کے خون میں منہ مارنے لگا، یہ منظر دیکھ کر یحییٰ بن عمر کہنے لگے سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اور پھر حدیث رسول بیان کی کہ کتا کسی مسلمان کے خون میں منہ نہیں مارتا“

حضرت عثمان بن کنانہ رحمۃ اللہ علیہ :

من شتم النبی ﷺ من المسلمین قتل او صلب حیا ولم یستتب والامام مخیر فی صلبه حیا او قتله

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 134﴾

”مسلمانوں میں سے جو شخص حضور ﷺ کی اہانت کا مرتکب ہو اسے قتل کیا جائے گا یا زندہ سولی پر چڑھا دیا جائے گا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، قاضی کو اختیار ہے اسے زندہ سولی چڑھائے یا اس کے قتل کا حکم دے“

علامہ ابن عتاب مالکی رحمۃ اللہ علیہ :

الکتاب والسنة موجبان ان من قصد النبی ﷺ باذی او نقص معرضا او مصرحا وان قل فقتله واجب

﴿الشفا جلد 2 صفحہ 135﴾

”قرآن وسنت اس بات کو ضروری قرار دیتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی ایذا کا ارادہ کرے، اشارۃً، کنایۃً یا واضح الفاظ میں آپ کی تنقیص کرے اگرچہ وہ قلیل ہی ہو تو ایسے شخص کا قتل واجب ہے“

صفحہ 74

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

قاضی عیاض مالکی رحمة اللہ علیہ :

اندلس کے چیف جسٹس ، پیکر عشق و محبت ، قانون ناموس رسالتﷺ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حكم من غمصه اوعيره برعاية الغنم اوالسهو اوالنسيان اوالسحر اوما اصابه من جرح اوهزيمة لبعض جيوشه اوادى من عدوه اوشدة من زمنه اوبالميل الى نسائه فحكم هذا كله لمن قصد به نقصه القتل

﴿الشفا جلد 02 صفحہ 136﴾

”جو شخص آپ کو حقیر جانے یا بکریوں کے چرانے ،سہو ونسیان ،جادو کے حملے، آپ کو زخم لگنے، آپ کے لشکر کی شکست، دشمنوں کی تکلیف ، آپ پر مصائب کے نزول یا عورتوں کی طرف آپ کے میلان کے حوالے سے آپ کو عار دلائے یا آپ پر تنقید کرے تو ان تمام باتوں کا حکم یہ ہے کہ جو شخص ان باتوں سے آپ کی تنقیص کا ارادہ کرے وہ واجب القتل ہے“

یعنی وہ امور جن سے بے ادبی کی بو آئے ایسے الفاظ سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ یہ وہ بارگاہ اقدس ہے جہاں ملائکہ بھی بغیر اجازت نہیں آتے۔ انسان کو بارگاہ نبوت کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے تا کہ وہ ایمان کی لذت وحلاوت سے آشنا ہو۔

علامہ ابوبکر الفارسی رحمة اللہ علیہ :

اجماع المسلمين على ان حد من سب النبى القتل

﴿الصارم المسلول صفحہ 23﴾

”تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے“

صفحہ 75

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ :

و ان نکثوا ایمانہم الخ کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: وهو قول الاكثرين ان المراد نكثهم عهد رسول اللهﷺ قال الزجاج هذه الآية توجب قتل الذمى اذا اظهر الطعن فى الاسلام لان عهده مشروط بأن لا يطعن فان طعن فقد نكث و نقض عهده

﴿تفسیر کبیر جلد 05 صفحہ 535﴾

”اکثر علماء کا قول ہے کہ نکثھم سے مراد رسول اللہﷺ کے عہد کو ختم کرنا ہے (یعنی ذمی حضورﷺ کی تنقیص کرے تو عہد ختم) زجاج کہتے ہیں اگر ذمی دین میں طعن کرے تو یہ آیت اس کے قتل کو واجب کرتی ہے اس لیے کہ اس کا عہد مشروط تھا کہ وہ طعن نہیں کرے گا پس اس نے طعن کیا تو اپنے عہد کو ختم کر دیا“

علامہ ابو عبداللہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ :

استدل بعض العلماء بهذه الآية على وجوب قتل كل من طعن فى الدين اذ هو كافر وقال ابن المنذر اجمع عامة اهل العلم على ان من سب النبىﷺ عليه القتل

﴿تفسیر قرطبی جلد 08 صفحہ 77﴾

”بعض علماء نے اس آیت سے ہر اس شخص کے قتل کے وجوب پر استدلال کیا جو دین (اسلام) میں طعن کرے اگرچہ وہ کافر ہو اور ابن منذر نے کہا اکثر اہل علم کا گستاخ رسول کو قتل کرنے پر اتفاق ہے“

صفحہ 76

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

علامہ ابن کثیر:

وطعنوا فى دينكم اى عابوه وانتقصوه ومن ههنا اخذ قتل من سب الرسول صلوات الله وسلامه عليه او من طعن فى دين الاسلام او ذكره بنقص

﴿تفسیر ابن کثیر جلد 02 صفحہ 350﴾

’’وطعنوا فی دینکم یعنی اگر وہ تمہارے دین میں عیب نکالیں یا اس میں نقص تلاش کریں (تو ان سے قتال ضروری ہے ) اسی سے نبی کریم ﷺ کو سب وشتم کرنے والے اور دین اسلام میں طعن کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم اخذ کیا گیا ہے‘‘

کوئی شخص حضور سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے اور تنقیص رسالت کا مرتکب ہو تو ایسا شخص اگر چہ پہلے سے ہی کافر ہو اس کے بارے میں قتل کا حکم ہے، کوئی مسلمان حضور سرور عالم ﷺ کے بارے میں ایسے کلمات جو آپ کی شان کے خلاف ہیں ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اگر کوئی بدبخت دل میں کفر و نفاق چھپائے زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت و تنقیص کا مرتکب ہو تو وہ بھی کافر اور واجب القتل ہے۔

گستاخ رسول کے قتل میں اُمت کی بقاء ہے:

اُمت مسلمہ کا تشخص حضور سید عالم ﷺ کی مرہون منت ہے، اس اُمت کی تمام امتیازی خصوصیات حضور سرور کائنات ﷺ کا صدقہ ہیں، حضور نبی کریم ﷺ کے توسل سے ہی یہ اُمت تمام امم سابقہ سے بہتر قرار پائی اور حضور سید عالم ﷺ کے طفیل ہی یہ اُمت چشمہ توحید سے سیراب ہوئی ، اُمت مسلمہ کا فرض اولین ہے کہ وہ ناموس رسول ﷺ کا تحفظ کرے،

صفحہ 77

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اگر ناموس رسالت کا تقدس پامال ہو تو اُمت مسلمہ کی انفرادیت ختم ہو جائے گی اور مسلمانوں کی وحدت کا شیرازہ بھی بکھر کر رہ جائے گا، امام مالک نے اس حقیقت کو بیان فرمایا، قاضی عیاض ؒ اس فکر کو بیان کرتے ہوئے امام مالک کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

وسأل الرشيد مالكاً في رجل شتم النبي ﷺ وذكر له ان فقهاء العراق افتوه بجلده فغضب مالك وقال يا امير المؤمنين ما بقاء الامة بعد شتم نبيها من شتم الانبياء قتل

﴿الشفا، جلد 02 صفحہ 138﴾

’’ہارون الرشید نے امام مالک سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کرنے والے شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے کہ فقہاء عراق نے ایسے شخص کو کوڑے مارنے کا فتویٰ دیا ہے تو امام مالک غضب ناک ہو گئے اور فرمایا اے امیر المومنین جس اُمت کے نبی کو گالی دے جائے تو اس کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے، جو نبی کریم ﷺ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے گا‘‘

حضرت امام مالک ؒ کے غیرت و جلال میں ڈوبے ہوئے الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ اُمت مسلمہ کے قلوب میں کس طرح غیرت ایمانی کے جوت جگا رہے ہیں، اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں زبان دراز کرنے کے بعد بھی زندہ رہے تو اُمت مسلمہ کے زندہ رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، اگر اُمت مسلمہ حضور نبی کریم ﷺ کی حرمت و ناموس کو پامال ہوتے دیکھ کر بھی زندہ رہے تو اس کی زندگی کا کیا فائدہ؟ لہٰذا اُمت مسلمہ کا اولین فرض ہے کہ وہ ناموس رسالت کا تحفظ کرے اور گستاخ رسول کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

صفحہ 78

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

گستاخ رسول کی اصل میں خطا ہے:

جس شخص کو اپنی عزت نفس کا خیال ہو، وہ دوسرے لوگوں کے جذبات کو بھی ملحوظ خاطر رکھتا ہے، لیکن جو خود مجہول النسب ہو، وہ دوسروں کی عزت و حرمت کا کیا پاس کرے گا، جب ولید بن مغیرہ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں تنقیص کی تو اللہ تعالیٰ نے غضب سے بھر پور حکم ارشاد فرمایا۔

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ O هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍ O مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ O عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ O

﴿سورة القلم: 13-10﴾

”ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار درشت خو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا“

حضرت مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمد ﷺ نے میرے حق میں دس باتیں فرمائی ہیں نو (09) کو تو میں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی مجھے معلوم نہیں، تو مجھے سچ سچ بتا دے ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا، اس پر اس کی ماں نے کہا تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مر جائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کو بلایا تو اس سے ہے۔

﴿خزائن العرفان صفحہ 737﴾

صفحہ 79

گستاخ

رسول کی سزا

اور فقہائے احناف

عالمی

مجلس تحفظ

ختم نبوت

کراچی

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

والے شخص کے جہاں دیگر عیوب بیان فرمائے وہیں یہ بھی فرما دیا کہ یہ بدگوہر یہ باپ کے نطفہ سے نہیں، ثابت ہوا کہ جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے اس کا نسب بھی مشکوک ہوتا ہے کہ وہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی کی شان میں بکواس کر کے اپنے مجہول النسب ہونے کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔

عیوب قرآن حکیم میں ذکر فرمائے اس سے ثابت ہوا کہ ہر آدمی کا حق ہے کہ اس کی برائیوں کو بیان کرنے سے گریز کیا جائے لیکن اہانت رسول کے مرتکب شخص کو یہ حق بھی حاصل نہیں۔

قانون ناموس رسالت 295-C مختلف مراحل:

مملکت اسلامیہ پاکستان نظریہ اسلام کے تحت معرض وجود میں آیا، اس کی بنیادیں کلمہ طیبہ کے سہارے قائم کی گئیں، اسلامی نظام اور اپنے اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کے لیے اس خطے کو حاصل کیا گیا، اس ملک کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں کئی نوجوانوں کے سینے نیزوں اور تلواروں سے چھلنی ہوئے، کئی بوڑھوں نے اپنی حیات مستعار کو اس ملک پر قربان کیا، کئی ماؤں کے لخت جگر ذبح ہوئے اور ان کے سروں سے شرم وحیا کے دوپٹے چھینے گئے، کئی عفت مآب عورتوں کی عزتیں اس مملکت پر قربان ہوئیں، کئی سہاگنیں بیوہ ہوئیں، کئی بچے باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہوئے۔ اتنی عظیم قربانیوں کو جمع کیا جائے تو اس کے بعد ملک پاکستان کا نقشہ ذہن کے گوشے پر نمودار ہوتا ہے۔ اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے اتنے لوگوں نے اس کی بنیادوں میں اپنا لہو اس لیے نچھاور کیا کہ دامن مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق ومحبت کا تعلق مضبوط رہے، اور ان کے پاس زمین کا کچھ حصہ ایسا بھی ہو کہ وہ مکمل آزادی اور سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہو سکیں، اللہ تعالیٰ کی توحید اور

صفحہ 80

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

اپنے آقا و مولیٰ کی تعریف وتوصیف کے نغمات سے اپنے قلوب واذہان کو معطر و منور رکھیں، اس خطے کی فضائیں اور ہوائیں بھی نغمات توحید ورسالت سے مسرور ہوں اور اذہان و قلوب عشق مصطفیٰ ﷺ کی تابانی سے تسکین حاصل کریں اور محبت مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو سے یہ گلستان مہک اُٹھے۔ لیکن شومی قسمت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد ہی اقتدار مخلص قیادت سے چھین لیا گیا، میر جعفر اور میر صادق کے ورثا نے بھی اقتدار کی بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے اور اس طرح اس وقت سے لے کر آج تک ملک پاکستان اور پاکستانی قوم اہل اقتدار کے سامنے تختہ مشق بنی ہوئی ہے۔

1927ء میں جب بدبخت، دریدہ دہن متعصب ہندو راج پال نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات پر مشتمل ایک گستاخانہ کتاب شائع کی۔ اس کے رد عمل میں مسلمانوں نے احتجاج کیا اور راج پال کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کنور دیپ سنگھ نے راج پال کو بری کرتے ہوئے لکھا۔ ”کتاب کی عبارت کتنی ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہو اس سے بہرحال کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی“۔

اس فیصلہ نے مسلمانوں کی آتش غضب کو اور بھڑکا دیا اور مسلمانوں کے احتجاج نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی اور راج پال کے خلاف اظہار نفرت جاری تھا کہ اسلام کے غیور سپاہی عاشق رسول غازی علم الدین شہیدؒ نے اس گستاخ راج پال کو واصل جہنم کر دیا۔ مسلمانان برصغیر کے پرزور احتجاج اور غازی صاحبؒ کی پرخلوص سعی کے نتیجہ میں انگریز حکومت نے تعزیرات ہند میں دفعہ 295 کا اضافہ کیا، اسی قانون کی رو سے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کی سزا دو سال مقرر کی گئی۔ یہ قانون تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ پاکستان کے آئین میں بھی شامل ہے، قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کے خلاف دل آزار سرگرمیاں زیادہ تر قادیانیوں کی طرف سے کی گئیں جس پر مسلمانوں نے شدید

صفحہ 81

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

احتجاج کیا، قادیانی جماعت کے خلاف احتجاج کے جرم میں حکومت نے مولانا عبدالستار نیازی، مولانا خلیل قادری کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا، لیکن حضور سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں اہانت کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے فرنگی سامراج کے قانون کو اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔

1983ء میں مشتاق راج قادیانی نے ایک کتاب لکھ کر اُمت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا اور کچھ ہی عرصہ بعد اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقدہ سیمینار میں عاصمہ جہانگیر نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا کلمات استعمال کیے، عاصمہ جہانگیر اس وقت عاصمہ جیلانی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ان واقعات کے بعد مسلمانوں میں شدید اضطراب کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے انتہائی غم وغصہ کا اظہار کیا۔ اُمت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے علماء کرام کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے قانون بنایا جائے اور گستاخ رسول کی سزا موت مقرر کی جائے۔

1973ء کے متفقہ آئین کی شق نمبر 227 میں یہ طے کیا گیا کہ خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے، اس آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے ایک غیرت مند مسلمان محمد اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ نے 1984ء میں فیڈرل شریعت کورٹ میں ایک پٹیشن (Petition) دائر کی جس میں توہین رسالت کے جرم میں سزا کے تعین کا مطالبہ کیا گیا، اور اسی دوران عاصمہ جہانگیر کی بکواس کے بعد محترمہ نثار فاطمہ نے توہین رسالت کی سزا ”سزائے موت“ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر 03 سال 1986ء کی صورت میں منظور ہوا اس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں C-295 کا اضافہ کیا گیا۔ جو حسب ذیل ہے۔

صفحہ 82

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

دفعہ C-295:

جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے یا کسی تہمت کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بالواسطہ یا بلاواسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کی سزا کا مستوجب ہوگا۔

﴿میجر ایکٹ صفحہ 400 مرتبہ ایس اے حیدر﴾

محمد اسماعیل قریشی کی درخواست پر وفاقی شرعی عدالت نے 30 اکتوبر 1990 کو فیصلہ سناتے ہوئے C-295 سے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے اور اس دفعہ میں اس شق کا اضافہ کر دیا کہ کسی بھی نبی کی توہین کی سزا ”موت“ ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے یہ فیصلہ صدر پاکستان کو ارسال کرتے ہوئے لکھا کہ تعزیرات پاکستان میں دفعہ C-295 سے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیئے جائیں ورنہ 30 اپریل 1991ء سے عمر قید کے الفاظ ازخود حذف متصور ہوں گے۔

مذکورہ تاریخ تک حکومت نے مطلوبہ قانون سازی نہ کی جس کے نتیجے میں فاضل عدالت کا فیصلہ از خود نافذ ہو گیا۔ یہ نواز شریف حکومت کا پہلا دور تھا، حکومت سپریم کورٹ میں اس اپیل کے خلاف جانا چاہتی تھی مگر عوام کے دباؤ کی وجہ سے اسے پیچھے ہٹنا پڑا، اور حکومت نے قومی اسمبلی میں اس بل کو پیش کر دیا۔ قومی اسمبلی کے بعد 08 جولائی 1993ء کو سینٹ میں بھی اس بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور یوں قانون تحفظ ناموس رسالت کے بل سے عمر قید کے الفاظ حذف ہو گئے اور گستاخ رسول کی سزا بطور حد ”سزائے موت“ مقرر کی گئی۔

بے بنیاد واویلا:

پاکستان کے سیکولر عناصر کو پاکستان کا اسلامی تشخص کسی دور میں بھی قبول نہیں رہا،

صفحہ 83

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

وہ روز اول سے اسے ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اسلامی حدود کے قوانین ہوں یا C-295 سیکولر عناصر کو ہر وقت انہیں ختم کرنے کی فکر لاحق رہتی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اسلام آباد اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام میں بھی اسلام کا لفظ کھٹکتا ہے، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والے فیصلے کو بھی یہ غلط قرار دیتے ہیں، یہ لوگ پاکستان کے کلچر اور تاریخ سے بھی اسلام کے لفظ کو حذف کرانے کے خواہش مند ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو پاکستانی تہذیب و ثقافت کو ہندوانہ رسم و رواج اور انگریزوں کی فکری آوارگی سے ہم آہنگ کرنے کے متمنی ہیں، C-295 کے حوالے سے یہ بے بنیاد واویلا کیا جاتا ہے کہ یہ قانون ایک آمر نے بنایا اور اسے اقلیتوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا۔

ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی اہانت کے مجرم کی سزا قتل قرآن وسنت سے ثابت ہے اور اُمت مسلمہ کے جلیل القدر علماء کے نزدیک متفقہ قانون ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ C-295 کی شق کے ذریعے کوئی نیا قانون نہیں بنایا گیا بلکہ آئین کو اسلامی اور شرعی تقاضے سے ہم آہنگ کیا گیا۔

اس قانون کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کرنے کا زہریلا پروپیگنڈا بھی محض اس قانون کو ختم کرنے کی سازش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ”قومی کمیشن برائے امن“ کی رپورٹ کے مطابق 1986ء سے 2009ء تک پاکستان میں کل 986 مقدمات سامنے آئے جن میں 479 کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور 120 کے قریب عیسائیوں کے متعلق ہیں ان تمام مقدمات میں کسی ایک شخص کو بھی سزائے موت نہیں دی گئی اس سے جہاں حکومتوں کے منافقانہ کردار اور انگریز کی ذہنی غلامی کا پتہ چلتا ہے وہیں اس زہریلے اعتراض کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔

صفحہ 84

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

ایک دردناک المیہ:

قانون تحفظ ناموس رسول ﷺ اسلام کا متفقہ تقاضا اور پاکستان کی پارلیمنٹ کا منظور شدہ قانون ہے لیکن اس قانون کے نفاذ کے بعد آج تک کسی کو توہین رسالت کی سزا نہیں دی جاسکی۔ سیکولر عناصر کا زہریلا پروپیگنڈا، عالمی طاقتوں کا شدید دباؤ اور پاکستانی حکمرانوں کی منافقت کی وجہ سے اس قانون کو ہر مرحلہ پر غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی گئی، چاہے وہ پیپلز پارٹی کی آزاد خیال حکومت ہو یا امیر المؤمنین کے خواب دیکھنے والے نواز شریف کی حکومت یا پرویز مشرف کا دور آمریت، ہر ایک نے انگریز کے ساتھ وفاداری کی اور اسلام کے ساتھ غداری۔ عاصمہ جہانگیر ہو یا سلامت مسیح اور رحمت مسیح کا معاملہ یا آسیہ ملعونہ کا کیس ہر معاملہ میں گستاخان رسول کو خصوصی پروٹوکول سے نوازا جاتا رہا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد عالمی طاقتوں سے حاصل ہونے والی تمام تر امداد کو اس قانون کے خاتمہ سے مشروط رکھا گیا، کوئی تجارتی معاہدہ ہو یا اسلحہ کی خرید و فروخت کا معاملہ، معاہدہ امریکہ یا فرانس کے ساتھ ہو یا یورپی یونین کے ساتھ ہر ایک نے اسے 295-C کے خاتمہ کے ساتھ مشروط کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے حکمران اس قانون کو ختم کرنے کے درپے ہوگئے۔

بے نظیر بھٹو دور حکومت:

بے نظیر بھٹو جب دوبارہ برسر اقتدار آئیں تو اس وقت حکومت نے 295-C کو بدلنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ دورانِ اقتدار حکومت کے دو وفاقی وزراء ڈاکٹر شیر افگن اور نصیر اللہ بابر نے یہ بیانات دیئے کہ توہین رسالت اب قابل دست اندازی پولیس جرم نہیں رہا اس کی رپورٹ سیشن کورٹ یا کم از کم علاقہ مجسٹریٹ کے پاس ہی بطور استغاثہ درج ہوسکے گی۔ بے نظیر کے دورِ اقتدار میں ہی جب سلامت مسیح اور رحمت مسیح

صفحہ 85

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

دو عیسائی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے اور ان پر مقدمہ چلا تو عیسائی دنیا میں بھونچال آگیا، انسانی حقوق کی نام نہاد این جی اوز کو انسانی حقوق پر زد پڑتی نظر آنے لگی، عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے حکومت بھیگی بلی بن گئی اور ہائی کورٹ سے ضمانت کروا کے مجرموں کو وزیر اعظم کے خصوصی طیارے کے ذریعے یورپ کی عیش گاہ میں پہنچا دیا گیا، انسانی حقوق کے نام پر توہین رسالت کے قانون کو موضوع بحث بنایا گیا، اس قانون کو انتہا پسندی اور اقلیتوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

نواز شریف دور حکومت:

بے نظیر دور حکومت میں جب تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کی باتیں ہوئیں تو اس وقت نواز شریف نے اس کی مخالفت کی اور راجہ ظفر الحق نے اس تبدیلی کو مایوس کن قرار دیا لیکن نواز شریف جب دوبارہ برسر اقتدار آئے تو عوام کی دھوکہ دہی کے لیے شریعت بل اور اسلام کا ڈھونگ تو رچایا لیکن دل سے انگریز کے وفادار رہے اور سیکولر طبقہ کے مفادات کے لیے کام کرتے رہے۔

09 مئی 1998 کو وفاقی وزیر برائے مذہبی و اقلیتی امور راجہ ظفر الحق نے بیان دیا کہ توہین رسالت قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی پر غور ہو رہا ہے۔ یہ موصوف وہی شخصیت ہیں جنہوں نے بے نظیر حکومت میں اس قانون کی تبدیلی یا ترمیم کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ 24 مئی 1998 کو نواز حکومت کے وفاقی وزیر قانون خالد انور نے بیان دیا کہ حکومت توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کرے گی۔ پھر نواز شریف کی منظوری سے یہ فیصلہ کیا گیا جہاں توہین رسالت کا واقعہ پیش آئے تو اس کی تحقیق و تفتیش ایس ایس پی کرے گا، اور اس علاقہ کے دو مسلمان اور دو عیسائی بھی تفتیشی کمیٹی میں شامل ہوں گے پھر ان کی رپورٹ پر F-I-R درج کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے دور حکومت میں ہوا، جو اپنے آپ کو قائد اعظم ثانی اور

صفحہ 86

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

عالم اسلام کا ہیرو کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور اس سے پہلے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے نظیر دور حکومت میں اس قانون کی برملا حمایت کا اعلان کر چکے تھے۔

پرویز مشرف دور حکومت:

1999ء میں پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو ختم کر کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ پرویز مشرف نے بھی واشنگٹن کو ہی مطمح نظر بنایا، ان کی جبین نیاز امریکی صدور کے سامنے جھکی اور امریکہ کی ہر بات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا انہوں نے اپنے لیے فرض منصبی سمجھا۔ پرویز مشرف خود سیکولر ذہن کے حامل تھے، پتنگ بازی، شراب نوشی، گانا بجانا ان کے محبوب مشاغل تھے، پرویز مشرف نے مئی 2000ء میں یہ اعلان کیا کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کا غلط استعمال ہوتا ہے ہم اس میں ترمیم کریں گے، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ نے پرویز مشرف کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تحریک کا اعلان کیا۔ اس دباؤ کی وجہ سے پرویز مشرف کو اپنا بیان واپس لینا پڑا۔ لیکن قادیانیوں اور سیکولر افراد کی سازشیں اندرون خانہ جاری رہیں۔ 2004ء میں قتل غیرت کے حوالے سے ایک بل اسمبلی میں پیش کیا گیا، اس بل کے حوالے سے قانون سازی کے مطالبہ میں بھی شیری رحمٰن پیش پیش تھی، اس بل کی آڑ میں قانون تحفظ ناموس رسول کے طریقہ نفاذ میں تبدیلی کی گئی اور یہ طے کیا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کم درجے کا افسر دفعہ C-295 کے تحت درج مقدمہ کی تفتیش کرنے کا مجاز نہیں۔

کرنے کی کوشش کی لیکن وہ عوام اور علماء کے شدید دباؤ کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے لیکن قانونی مشکلات پیدا کر کے اس قانون کو غیر موثر کرنے کی سعی و کاوش میں ضرور مصروف عمل رہے۔

صفحہ 87

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

زرداری دور حکومت:

14 جون 2009ء کو ننکانہ کی باسی عاصیہ ملعونہ نے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کیا ، کئی ماہ کی تفصیلی سماعت کے بعد جب جسٹس محمد نوید اقبال نے 08 نومبر 2010ء ملزمہ کو سزائے موت سنائی تو دفعہ C-295 کو ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنایا گیا، سیکولر طبقہ اس حوالے سے بہت مضطرب اور بے چین دکھائی دینے لگا۔ 20 نومبر 2010ء کو گورنر سلمان تاثیر اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر عاصیہ ملعونہ کے پاس پہنچے اور عدالتی احکامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عاصیہ کے ساتھ رہائی کا وعدہ کیا، دوسری طرف 24 نومبر کو شیری رحمن نے قانون تحفظ ناموس رسالت کے خلاف قومی اسمبلی میں بل پیش کیا، اس بل کا مقصد ایک طرف C-295 میں تبدیلی کرنا اور دوسری طرف اس قانون کے ضمن میں شکایت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دینا ہے میڈیا کے کچھ عناصر نے بھی اس سازش میں بھر پور حصہ لیا اور قانون تحفظ ناموس رسالت میں تبدیلی کے حوالے سے بھر پور مہم چلائی۔

اہم سوال:

سیکولر طبقہ کی طرف سے ایک بہت بڑا اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔

غلط استعمال ہو رہا ہے؟ جب دوسرے قوانین کا بھی غلط استعمال ہو رہا ہے تو پھر دوسرے قوانین سے الگ ہر حکومت نے صرف C-295 میں ہی تبدیلی کا اعلان کیوں کیا۔ مقصد صاف ظاہر ہے کہ اس سے یہود ونصاریٰ کی خوشنودی مقصود ہے۔

صفحہ 88

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

پاکستان کا داخلی معاملہ ہے، دستور، آئین اور قوانین میں تبدیلی وترمیم یا نفاذ پاکستان کے رہنے والوں کا مسئلہ ہے تو پھر امریکہ، برطانیہ، یورپی ممالک اور عیسائی پوپ کو C-295 کے متعلق بیان بازی کی کیا ضرورت ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ C-295 کو ختم کرنا اصل ایجنڈا یہودونصاریٰ کا ہے، ان کے زرخرید غلام اپنے آقاؤں کی خاطر ہی ساری سعی وکاوش میں مصروف ہیں۔

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے:

عاصیہ ملعونہ کی سزائے موت کا سن کر انگریز کے وفادار ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے۔ عافیہ صدیقی کی سزا کو قانونی حیثیت تسلیم کروانے پر زور دینے والوں نے سب قوانین کو پس پشت ڈال دیا۔ آہستہ آہستہ اسلام کے خلاف نفرت ظاہر ہونے لگی، بالخصوص گورنر پنجاب کی زبان اس مسئلہ میں بے لگام ہو گئی اور علماء کے متنبہ کرنے پر گورنر نے انتہائی بے رخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا میں علماء کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ گورنر نے عاصیہ ملعونہ کے ساتھ کھڑے ہو کر قانون تحفظ ناموس رسالت کو نعوذباللہ ’’کالا قانون‘‘ تک کہہ ڈالا اور عاصیہ ملعونہ کی حمایت میں نہ صرف عدلیہ کے احکامات کو مسترد کیا بلکہ پاکستان کے آئین وقانون کو بھی پامال کیا۔

04 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کوہسار مارکیٹ سے گھر جانے لگے تو جرأت و ہمت کے پیکر، تحفظ ناموس رسالت کے امین، عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری نے گورنر کو قتل کر دیا۔ گورنر کے قتل پر سیکولر عناصر نے بہت احتجاج کیا اور گورنر کے قتل کو ظلم، بربریت، انتہا پسندی، شدت پسندی، دہشت گردی، قانون کی خلاف ورزی جیسے الفاظ سے تعبیر کیا، دوسری طرف عوام نے ممتاز حسین قادری کے ساتھ انتہائی محبت وعقیدت کا اظہار

صفحہ 89

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

کرتے ہوئے اسے اپنا ہیرو قرار دیا۔ گورنر کے قتل کی وجوہات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ درست رائے کیا ہے۔

مرتکب ہوئی گورنر گستاخ ملعونہ کی حمایت کر کے خود بھی اس جرم میں شریک ہو گئے اور آخری وقت تک گستاخ رسول کی حمایت کو ”انسانی حقوق“ کا نام دے کر اس پر ڈٹے رہے۔

بعد ملزمہ کو سزا سنائی۔ اگر سیشن کورٹ کا فیصلہ نامنظور تھا تو ملزمہ ہائی کورٹ میں اپیل کرتی، ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کا موقع موجود تھا۔ گورنر نے اس کی نفی کر کے تین جرم کیے۔

نوٹ: کچھ عناصر ممتاز حسین قادری کے اس عمل کو خلاف قانون قرار دے کر سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ گورنر کے خلاف قانون عمل پر ان کا یہ ردعمل کیوں نہیں تھا۔

تمام امت متفق ہے، پاکستان کے آئین میں قرآن و سنت کے مطابق گستاخ رسول کی سزا موت مقرر کر کے اسے 295-C کا نام دیا گیا۔ گورنر نے نہ صرف آئین کی توہین کی بلکہ قرآن و سنت کی تشریحات کا مذاق اڑایا۔

صفحہ 90

گستاخ رسول کی سزا اور فتوائے احناف

سے بچے پیدا کیے، بیٹے کے مطابق میرا والد سور کا گوشت حلال سمجھ کر کھاتا، بیٹی کے مطابق میرا والد نہ صرف ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم چاہتا تھا بلکہ وہ احمدیوں (قادیانیوں) کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والی قانونی شق کا بھی مخالف تھا۔ اور وہ شخص شراب بھی جائز سمجھ کر پیتا تھا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہنے میں بھی اسے کوئی جھجک محسوس نہ ہوتی ذہن و ضمیر سے تعصب و عناد کی پٹی اتار کر سوچنے سے حقیقت حال واضح ہو جاتی ہے۔

نوٹ: عاصیہ ملعونہ کی حمایت کو انسانی حقوق کا نام دینے والوں سے سوال ہے کہ جو سید المرسلین، تاجدار انبیاء، حضور سید عالم ﷺ کی اہانت کرے اس کے لیے تو انسانی حق ہے، اسے موت کی سزا نہیں دینی چاہیے تو پھر آپ ممتاز حسین قادری کے لیے کیوں یہ حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں؟

علماء و عوام تو آپ کے نزدیک جذباتی اور انتہا پسند ٹھہرے لیکن آپ تو فکر و دانش اور عقل و بصیرت کے دعویدار ہیں آپ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اور ممتاز حسین قادری کا یہ حق تسلیم کرتے ہوئے اسے رہا کر دیں۔

کیا ممتاز حسین قادری نے ماورائے عدالت قتل کیا؟

بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی سامنے آرہا ہے کہ اگر گورنر مجرم تھا تو اس کے خلاف قانون کا سہارا لیا جاتا اور ممتاز حسین قادری خود یہ قدم نہ اُٹھاتا؟

دین اور شریعت کی روشنی میں دیکھا جائے تو دنیا کی کوئی بھی عدالت مسجد نبوی کی عدالت سے بڑی نہیں، اس عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں ممتاز حسین قادری کا یہ اقدام نہ صرف درست ہے بلکہ یہ انعام واکرام اور داد و تحسین کے بھی مستحق ہیں۔

حضرت عمیر بن عدی، صحابی کا ام ولد کو قتل کرنا، ابو عفک یہودی کا قتل، قبیلہ خطمیہ کی عورت کا قتل، ان سب افراد نے اہانت رسول کا جرم کیا اور غیرت مند صحابہ ؓ نے حضور

صفحہ 91

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نبی کریم ﷺ کی اجازت کے بغیر ہی انہیں قتل کر دیا، جب یہ مقدمات رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے گستاخانِ رسول کا خون ضائع قرار دیا اور انہیں قتل کرنے والوں کی نبی کریم ﷺ نے داد و تحسین فرمائی۔ تفصیل کے لیے ہماری کتاب ”توھین رسالت کا علمی و تاریخی جائزہ“ ملاحظہ کریں۔

دوسری بات یہ ہے کہ 295-C کا مقدمہ درج کروا کر مجرم کو سزا دلوانا کتنا آسان ہے اس کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا مجرم کافر قوتوں کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے اور کفر اپنے سارے طائفے کے ساتھ اس کی حمایت میں کھڑا ہو جاتا ہے ایسے بدبختوں اور ان کے خاندانوں کو یورپ کے ویزے فراہم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کسی منصب پر فائز شخصیت کے خلاف مقدمہ دائر کرنا اور اس کے لیے کتنے مالی وسائل کا تقاضا اپنی جگہ لیکن علماء اور عوام کے احتجاج کے بعد صدر زرداری، وزیر اعظم گیلانی نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا اور گورنر پنجاب کو اس مسئلہ میں لگام کیوں نہیں دی، اگر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا تو چیف جسٹس ہی گورنر کی ہرزہ سرائی پر نوٹس لے لیتے، اشیائے خوردونوش کی قیمت بڑھ جانے پر اور VIP موومنٹ کی وجہ سے رکشہ میں بچے کی پیدائش پر سوموٹو (Suo Motu) ایکشن لیا جاسکتا ہے تو میڈیا پر گورنر کی مسلسل ہرزہ سرائی کے باوجود حکام بالا کیوں خاموش رہے؟ جہاں تک ممتاز حسین قادری کا تعلق ہے تو اس کے ساتھ ہمارے رشتے کی بنیاد محبت رسول ہے جیسے روشنی کو بند نہیں کیا جا سکتا ایسے ہی محبت مصطفےٰ ﷺ کو زنجیریں نہیں پہنائی جاسکتیں۔ ممتاز حسین قادری نے جو کچھ کیا اگر یہ جرم ہے تو اس جرم کا اعلان تو وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے بھی کیا ”اگر کوئی شخص میرے سامنے حضور نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرے تو میں اسے گولی مار دوں گا“ یہی کام ممتاز حسین قادری نے کیا تو یہ جرم کیوں ٹھہرا؟

صفحہ 92

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

آخری گزارش:

295-C انسانی حقوق کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت کے تحفظ کی ضمانت ہے حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت سے ہی دنیا کی بقا اور تحفظ ممکن ہے۔ اُمت مسلمہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہر رسول اور نبی پر ایمان رکھتی ہے کسی بھی نبی کی توہین و تنقیص اسے گوارا نہیں، حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اُمت مسلمہ کے لیے حرف اول ہے ان کے سینوں سے محبت مصطفےٰ ﷺ کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے، یہ پرامن لوگ ہیں لیکن جب حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا الفاظ کہے جائیں تو غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے کہ گستاخ رسول کے خلاف عملی اقدام کیا جائے۔ 295-C برقرار رہے گی تو گستاخان رسول کا منہ بند رہے گا اور یہ ہی ملک کے امن وامان کے لیے بہتر ہے۔ یہ ملک ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ کے نعرہ پر حاصل کیا گیا، یہود و نصاریٰ کی خواہشات کی تکمیل کو چھوڑ کر اس ملک میں مقام مصطفےٰ ﷺ کے تحفظ اور نظام مصطفےٰ ﷺ کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ قائد اعظم اور اقبال کے پاکستان کی تکمیل ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنے حبیب کریم ﷺ کی محبت میں ثابت قدم فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ ہو۔ آمین بجاہ النبی الکریم

﴿تمت بالخیر﴾ ☆☆☆☆

صفحہ 93

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

نذر عقیدت

نتیجہ فکر مولانا محمد فرمان علی

جب تک نہ ہو روح محمد کی پاسداری
ہو سکتی نہیں شجر اسلام کی آبیاری
یہی اک راز ہے بے خبر ہے جس سے دنیا
یہی جستجوئے قلم ہے کہ سب کو کرے آشنا
ناموس مصطفےٰ کا لحاظ مومن کی ہے پہچان
یہی ہے حسن کائنات یہی ہے اصلِ ایمان
معافی مل نہیں سکتی اسے جو ہو گستاخِ رسول
ہر مومن کی ہے صدا اور خدا کا ہے اصول
جس نے بھی کی بغاوت آمنہ کے دلدار سے
وہ بچ نہیں سکا عشاقِ حق کے وار سے
حیاتِ نبوی کا زمانہ ہو یا خلفائے حق کا
موت ہی مقرر تھی شاتمِ رسول کی سزا
کیوں کرے کوئی پرواہ اپنی جان کی
یہ مسئلہ فقط نازک نہیں ہے آزمائشِ ایمان کی
خدا نے یہ اعزاز بخشا اس ارضِ پاکستان کو
یہاں کہ غازیوں نے لٹایا عزت مصطفےٰ پہ اپنی جان کو
صفحہ 94

گستاخ رسول کی سزا اور فقہائے احناف

جب سلطنت غیر میں شور اُٹھا شیطان کا
غازی عبدالرحمٰن نے دیا نذرانہ اپنی جان کا
جب ارباب مسند نے گستاخ کی حمایت کی
ملت کے غازی ممتاز قادری نے پھر جرأت کی
مار کر گستاخ کو وہ کامیاب ہو گیا ہے
ملت کی نگاہوں میں گل نایاب ہو گیا ہے
یارب عطا کر جام عشق مصطفےٰ فرمان کو
بیدار کرتا رہے یہ ملت کے نوجوان کو
PDF 95

گستاخِ رسول کی سزا

اور

فقہاءِ احناف

علّامہ محمّد تصدّق حُسین

ناظم تعلیمات: جامعہ المرکز الاسلامی ، لاہور

تحریکِ مطالعۂ قرآن