تحریک ختم نبوت
29 مئی 1974ء تا 7 ستمبر 1974ء
۳
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوّت
29 مئی 1974ء تا 7 ستمبر 1974ء
۴
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۳) ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء)
(۳)
ترتیب و تحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء) (جلد سوم) ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا صفحات : ۷۸۰ قیمت : ۳۰۰ روپے اشاعت اوّل : جون ۱۹۹۵ء اشاعت دوم : جنوری ۲۰۲۰ء مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فہرست
انتساب ۵۳ الحمدللہ ۵۴ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں یکم جنوری ۱۹۷۴ء سے ۲۸ مئی ۱۹۷۴ء تک کے چند اہم واقعات ۵۵ باب اوّل ...... مرزائی امت کی خدمات کا تذکرہ، اسرائیل کے سرکاری جریدے میں ۵۶ ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۶۳ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں ۶۵ لائل پور ۶۵ ۳۰؍مئی کی عمومی رپورٹ ۶۶ ملتان ۶۷ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ۶۷ پنجاب اسمبلی ۶۷ ۳۱؍مئی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ (سرگودھا) ۶۷ پنجاب اسمبلی اور حنیف رامے کی زناری ۶۸ ملتان ہاسٹل نشتر کالج بند، طلباء کی گرفتاریاں ۶۹ انتقامی کارروائیاں ۶۹ خانیوال میں طلباء کا جلوس ۷۰ گجرات ۷۰ منڈی بہاؤالدین ۷۱ چک جھمرہ ۷۱ جڑانوالہ ۷۱ کمالیہ میں دو میل لمبا جلوس ۷۱ رحیم یارخان احتجاجی جلوس ۷۲ ضلع جھنگ ۷۲ چنیوٹ میں پرامن جلوس پر قادیانیوں کی فائرنگ ۷۲
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساہیوال میں مکمل ہڑتال ۷۳ لاہور احتجاجی مظاہرے، طلباء کے جلوس اور قادیانی اشتعال انگیزی ۷۳ مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کا اجلاس ۷۳ راولپنڈی ۷۴ پنجاب فیڈریشن آف ٹریڈ یونین ملتان ۷۴ ربوہ کا خطرناک حادثہ (اداریہ نوائے وقت) ۷۵ ربوہ سازش کیس (اداریہ روزنامہ ایام لائل پور) ۷۶ نشتر میڈیکل کالج کے ۱۰۰ طلباء پر ربوہ میں قادیانی حملہ ناصر احمد کے اشارہ پر ہوا (چٹان) ۷۷ ہم بھٹو کے ساتھ ہیں ۷۷
یکم جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۷۸
ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم کا بیان ۷۸ صوبائی وزیر اعلیٰ حنیف رامے کی ٹیلی ویژن پر تقریر ۷۸ صوبائی وزیر کا دورہ ملتان ۸۰ نشتر ہسپتال میں زیر علاج طلباء ۸۰ احتجاج ...... ملتان کی جماعتوں کے اجلاس ۸۰ پنجاب اسمبلی ۸۱ قومی اسمبلی، مولانا غلام غوث اور چوہدری ظہور الٰہی کی تحریک التواء ۸۲ پیر پگاڑا ۸۲ ملتان و بہاول پور ڈویژن کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ۸۳ بہاول پور ۸۳ عبد الحکیم ۸۳ احمد پور شرقیہ ۸۴ خانیوال میں جلوس ۸۴ رحیم یار خان میں ہڑتال ۸۴ چشتیاں جلسے و جلوس ۸۵ بہاول نگر میں طلباء کا احتجاجی جلوس ۸۵ ملتان ۸۵ نشتر میڈیکل کالج کے پروفیسر پر حملہ ۸۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرید پراچہ کا انتباہ ۸۶ شاہ کوٹ میں احتجاجی جلوس ۸۶ بھکر میں جلوس نکالے گئے ۸۶ لاہور ۸۷ رحیم یار خان ایسوسی ایشن کا اجلاس ۸۷ لائل پور میں قادیانیوں کی فائرنگ سے ایک مسلمان شہید ۸۷ قادیانیوں نے سرگودھا میں مسلمان کو حبس بے جا میں رکھا ۸۸ عارف والا ۸۹ گجرات میں جلوس ۸۹ راولپنڈی میں جلوس ۸۹ جہلم میں جلوس ۸۹ جھنگ، دیپالپور، مرید کے، بھکر اور بصیر پور میں جلوس ۹۰ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر کیا گزری؟ زخمی ہونے والے طلباء کے حلفیہ بیانات، حملہ کسی اشتعال کے بغیر کیا گیا ۹۰ سرگودھا میں پولیس کارروائی ۹۱ طلباء پر حملہ کی مذمت، کبیر والا و سرگودھا ۹۲ ریاست در ریاست قائم کرنے کی اجازت نہ دی جائے، پیپلز پارٹی کا مطالبہ ۹۲ لاہور، طالب علم رہنما جاوید ہاشمی کی گرفتاری، طلباء کی سرگرمیاں ۹۲ لاہور ہاسٹل خالی کرنے سے انکار ۹۳ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور ۹۳ لاہور میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں حکومت سے مطالبہ ۹۳ وزیر آباد میں ہنگامی اجلاس ۹۴ میانوالی میں طلباء کا مظاہرہ ۹۵ پسرور میں اجتماع ۹۵ خانیوال میں اجلاس ۹۵ ساہیوال میں احتجاج ۹۶ چنیوٹ میں ستر ہزار افراد کا جلوس ۹۶ حافظ آباد، سکھیکی منڈی ۹۶ سیالکوٹ میں اجلاس ۹۷
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ میں قادیانیوں کی طرف سے سنگ باری ۹۷ حویلی لکھا میں ہڑتال ۹۷ راولپنڈی میں تمام سکول اور کالج بند کر دیئے گئے ۹۸ حضرت مولانا مفتی محمود گوجرہ میں ۹۸ مولانا مفتی زین العابدین ۹۸ لائل پور کے وکلاء کا اجلاس ۹۹ مرزائی کا قبول اسلام ۹۹ مجلس احرار اسلام لائل پور ۹۹ چوہدری حبیب الرحمن اور تاج دین شیخ کی مرزائیوں کی فائرنگ کی مذمت ۱۰۰ ربوہ کا ایک کارکن گرفتار ۱۰۰ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی تقریر کا مکمل متن ۱۰۰ لائل پور میں ۳۵۵ افراد گرفتار ۱۰۵ خبروں کی اشاعت پر پابندی ۱۰۵ پشاور، جمعیۃ کے رہنما کی گرفتاری ۱۰۵ یکم جون کے اخبارات کے اداریے ۱۰۵ لائل پور کا الاٹمنٹ سیکرٹری قادیانی ۱۰۶ داخلی انتشار کو روکئے ، روزنامہ امروز کا اداریہ ۱۰۶ اپنے گھر کو خود آگ نہ لگائیے ، روزنامہ مشرق کا اداریہ ۱۰۸ ربوہ کا واقعہ ...... اب کیا ہونا چاہئے ، روزنامہ وفاق کا اداریہ ۱۱۰ اسلامی نظریہ کی کونسل سے رجوع کرنے کا مشورہ ۱۱۰ سانحہ ربوہ، روزنامہ سعادت لائل پور کا اداریہ ۱۱۱ ۲/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۱۲ حنیف رامے کی بدترین قادیانیت نوازی ۱۱۲ نظر ثانی کی ضرورت ...... روزنامہ نوائے وقت کا شذرہ ۱۱۲ حکومت پنجاب کی کذب بیانی ۱۱۳ پنجاب حکومت کی پھرتیاں ۱۱۴ سکھر میں گرفتاریاں و ہڑتال ۱۱۴ چک جھمرہ میں گرفتاریاں ۱۱۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملتان ڈویژن میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ۱۱۴
رامے حکومت کی کذب بیانی ۱۱۴
اخبارات کے بعد پریس مالکان پر پابندی ۱۱۵
راولپنڈی میں علماء اور خطیبوں کا اجلاس ۱۱۵
راولپنڈی انتظامیہ کا پریس نوٹ ۱۱۵
سرکاری اخبار مساوات کا اداریہ.......پاکستان کو داخلی امن کی ضرورت ہے ۱۱۵
۳؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۱۷
امن و عامہ کے متعلق سرکاری اعلامیہ ۱۱۸
گوجرانوالہ میں گڑبڑ ۱۱۹
الفضل کا ۲؍ جون کا شمارہ ضبط کر لیا گیا ۱۱۹
لیگ رہنماؤں کا بیان ۱۱۹
گجرات میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی ۱۱۹
قومی اسمبلی میں حکومت کا معاندانہ رویہ ۱۱۹
کوثر نیازی کا فرمان ۱۲۰
انجمن طلباء اسلام سیالکوٹ ۱۲۰
۴؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۲۱
پنجاب اسمبلی میں حکومتی روّیہ ۱۲۱
بورے والا کے اے سی و ڈی ایس پی ملازمت سے برطرف ۱۲۱
سیالکوٹ میں دوماہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ لگادی گئی ۱۲۱
قائدین کا لاہور میں اجلاس و پریس کانفرنس ۱۲۱
لاہور میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگادی گئی ۱۲۲
پشاور یونیورسٹی بند ۱۲۲
عشق نبی ﷺ ۱۲۳
بھٹو صاحب کی قومی اسمبلی میں تقریر ۱۲۳
تھر پارکر میں دفعہ ۱۴۴ ۱۲۵
لاہور، گیارہ رہنماؤں کی گرفتاری و رہائی ۱۲۵
راولپنڈی کی میٹنگ اور حضرت مولانا تاج محمود اور ان کے رفقاء کی گرفتاری ۱۲۶
راولپنڈی میں گرفتاریاں ۱۲۹
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۲۹ ۶؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۲۹ پنجاب اسمبلی میں مولانا عبید اللہ انور کے بارے میں رامے کی غلط بیانی ۱۲۹ لاہور میں تجارتی مراکز بند ۱۳۱ بہاول پور میں سات طالب علم رہنما گرفتار ۱۳۲ مسٹر بھٹو کے تدبر کی آزمائش ...... نوائے وقت کا اداریہ ۱۳۲ مستحسن مگر ......! نوائے وقت کا شذرہ ۱۳۴ وزیراعظم کا مشورہ ....... روزنامہ ”جنگ“ کا اداریہ ۱۳۴ ۷؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۳۶ پنجاب اسمبلی ۱۳۶ ۸؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۳۶ ظفر اللہ قادیانی کی ژاژ خائی ۱۳۶ حکومت کے زیر اہتمام علماء کا اجلاس ۱۳۷ نوابزادہ نصر اللہ خان کا بیان ۱۳۷ لاہور میں تیس طلباء گرفتار کر لئے گئے ۱۳۸ حافظ آباد میں ہڑتال ۱۳۸ میاں چنوں میں مسلم لیگ کے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ ۱۳۹ شورکوٹ میں اجتماعی جمعہ ۱۳۹ جیکب آباد میں احتجاجی جلوس ۱۴۰ ہارون آباد میں ہڑتال ۱۴۰ ازالہ غلط فہمی ۱۴۰ ہم مرزائی نہیں ہیں ۱۴۰ علماء کا رامے کی موجودگی میں کلمہ حق ۱۴۰ اسلام آباد ، لاہور ، رحیم یار خان ، کراچی سرکاری اعلامیہ ۱۴۱ قومی اسمبلی میں معرکہ ۱۴۱ لندن ٹیلی گراف ۱۴۱ خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے، ربوہ کی دیوار پر قادیانیوں کا نعرہ ۱۴۲
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۴۲ صوبائی وزیر مال کا گوجرانوالہ مسجد میں خطاب ۱۴۲ میاں چنوں، طلباء کے ساتھ اشتعال انگیز رویہ کی سخت مذمت ۱۴۲ لالہ موسیٰ کے دو خاندان مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گئے ۱۴۳ گوجرانوالہ میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت ۱۴۳ متحدہ محاذ میں شامل سیاسی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس ۱۴۳ صوبائی اسمبلی میں حنیف رامے کی مولانا عبیداللہ انور کے بارے میں خلاف بیانی کی معافی ۱۴۳ تحریک استقلال میدان تحریک میں ۱۴۴ کمالیہ میں ہڑتال اور جلوس ۱۴۴ اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۱۴۴ وزیراعظم لاہور آ رہے ہیں ۱۴۵ بھارتی ایٹمی دھماکہ......ہم کیا کر رہے ہیں؟ قادیانی مسئلہ کو بھی ہمیشہ کے لئے ختم کیجئے......اداریہ نوائے وقت ۱۴۵ سندھ اور ”نوائے وقت“ ۱۴۷ ظفر اللہ خاں کا بیان......اداریہ روزنامہ جمہور لاہور ۱۴۷ حنیف رامے، ظفر اللہ کے جواب ۱۴۹
۱۰/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۵۱ مرکزی مجلس عمل کی تشکیل ۱۵۱ مرکزی مجلس عمل کے اجلاس کی کارروائی و فیصلے ۱۵۲ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے ۱۵۲ مرکزی مجلس عمل ۱۵۲ پہل قادیانیوں نے کی ہے ۱۵۳ مؤتمر عالم اسلامی مکہ کا مطالبہ ۱۵۳ اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال رہی ۱۵۴ ہارون آباد میں ہڑتال ۱۵۴ ساہیوال ۱۵۴ ازالہ غلط فہمی ۱۵۴ میں سنی العقیدہ مسلمان ہوں ۱۵۴ چوہدری حفیظ اللہ چیمہ رکن قومی اسمبلی کا بیان ۱۵۵
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ کی صورتحال ۱۵۵ عارف والا میں ہڑتال ۱۵۵ اوکاڑہ میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۵۵ جاوید ہاشمی رہا ۱۵۶ نشتر کالج کے زخمی طلباء کو لاہور جانے سے روک دیا گیا ۱۵۶ ممتاز دولتانہ کا بیان ۱۵۶ تحریک استقلال کی نمائندگی ۱۵۶ بی۔بی۔سی لندن کا نشریہ ۱۵۶ آغا شورش کاشمیری کا بیان ۱۵۷ علامہ احسان الٰہی ظہیر کا بیان ۱۵۸ فرید پراچہ کا بیان ۱۵۸ پنجاب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ۱۵۸ بھٹو صاحب مسئلہ حل کریں گے (صوبائی وزیر صادق ملہی) ۱۵۸ بورے والا میں ۵ روزہ ہڑتال ختم ہوگئی ۱۵۹ مرزا ناصر واشنگٹن سے ۱۵۹ جماعت اسلامی کے امیر ۱۵۹ مردان میں جلوس وقادیانی فائرنگ، سات افراد کی ہلاکت ۱۶۰ میں سنی العقیدہ مسلمان ہوں ۱۶۰ ظفراللہ کا لندن پلان ۱۶۰ وزیر اعظم بھٹو آخرت کمالیں...... اداریہ نوائے وقت ۱۶۰ نوائے وقت کا سرراہے ۱۶۱ ۱۱؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۶۲ نشتر کے طلباء کا استقبال ۱۶۲ ہزاروی گروپ مجلس عمل کے شانہ بشانہ ۱۶۲ بوریوالہ میں ساتویں روز بھی ہڑتال جاری رہی ۱۶۳ تونسہ شریف میں ہڑتال ۱۶۳ سکھیکی منڈی میں چھ قادیانیوں نے اسلام قبول کرلیا ۱۶۳ تاندلیانوالہ، لائل پور میں حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان ۱۶۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گجرات، بریگیڈئیر صاحب داد خان کا بیان ۱۶۴
تحریک استقلال ۱۶۴
وزیر آباد ۱۶۵
ساہیوال ۱۶۵
ہارون آباد، منچن آباد اور بہاول نگر میں مکمل ہڑتال اور جلوس ۱۶۵
واربرٹن ۱۶۶
متحدہ جمہوری محاذ کی قرارداد ۱۶۶
قادیانیوں کا حساب چیک کیا جائے ۱۶۶
منظور قادر قادیانیوں کی وکالت نہ کریں ۱۶۷
بھٹو صاحب لاہور پہنچ گئے ۱۶۷
نوائے وقت میں لاہوری مرزائیوں کا اشتہارا ۱۶۷
وزیر داخلہ خان قیوم کی منطق ۱۶۸
مرزا ناصر قادیانی بھی بولے ...... اداریہ نوائے وقت ۱۶۸
پنجاب کے وزیر قانون کا بیان ۱۶۹
۱۲/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۷۰
وزیر اعظم کے آغا شورش کاشمیری سے مذاکرات ۱۷۰
وزیر اعظم کی قومی رہنماؤں سے طویل ملاقات ۱۷۰
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ۱۷۱
منڈی مرید کے میں بیس افراد نے اسلام قبول کرلیا ۱۷۱
ربوہ میں قادیانیوں کے تعینات کردہ ”ڈپٹی کمشنر“ اور ”ایس. پی“ کو گرفتار کرلیا گیا ۱۷۱
سانحہ ربوہ کے ملزمان کو چنیوٹ نہ لایا جائے ۱۷۲
پروفیسر انوار الحسن شیر کوٹی کا اخباری بیان ۱۷۲
قادیانیوں کے عزائم کیا ہیں؟ ہماری پالیسی کیا ہوگی؟ جلسہ عام ۱۷۳
مسٹر جسٹس محمد منیر فاروقی ۱۷۳
فورٹ عباس، چار روزہ ہڑتال ۱۷۳
شیخوپورہ ۱۷۳
تحریک استقلال کے رہنما کی رہائی ۱۷۴
نوائے وقت کا قادیانی عقائد کی آگاہی کے لئے اشتہار ۱۷۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد ۱۷۴
ان کی اپنی اور ان کے صاحبزادے کی تحریروں اور ارشادات کی روشنی میں ۱۷۴ مرزا قادیانی کی نبوت کے ارتقائی مدارج ۱۷۵ مرزا قادیانی بطور محدث ۱۷۵ ترک عقیدہ کی تعریف ۱۷۵ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد ان کی اپنی تحریرات کی رو سے ۱۷۶ ظفر اللہ خان کی دہلیز پر ۱۷۷ ہم مسلمانوں کا فرض ۱۷۷ پشاور ۱۷۷
۱۳؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۷۷
بھٹو صاحب کی حضرت بنوری سمیت مجلس عمل کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ۱۷۷ حضرت بنوری کی وزیراعظم سے ملاقات ۱۷۸ مذاکرات کے بعد مجلس عمل کا ردعمل، کل ہڑتال ہوگی ۱۷۹ جمعیۃ علماء اسلام کی ہڑتال کی اپیل ۱۷۹ جماعت اسلامی اور ہڑتال ۱۸۰ رامے کی تقریر ...... کل ہڑتال نہ کی جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا ۱۸۰ پنجاب اسمبلی میں قرارداد کا نوٹس ۱۸۱ صمدانی کمیشن کی برہمی ۱۸۲ اوکاڑہ ۱۸۲ اسیران ختم نبوت رہا نہیں ہوئے ۱۸۳ سرگودھا ۱۸۳ عارف والا ۱۸۳ لائل پور ۱۸۳ قبول اسلام ۱۸۳ مرکزی مجلس عمل میں مجلس احرار اسلام کی نمائندگی ۱۸۴ مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار ختم نبوت ...... نیز مرزا کا دعویٰ نبوت اپنی تحریرات کے آئینہ میں ۱۸۴ قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جائے ۱۸۵ ظفر اللہ کو ٹام کا جواب ۱۸۵
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرراہے ۱۸۶ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۸۶ وزیر اعظم بھٹو صاحب کا ٹی. وی پر خطاب ۱۸۷ بھٹو کی تقریر پر غور کے لئے مرکزی مجلس عمل نے اپنا اجلاس ۱۶؍ جون کو لائل پور میں طلب کرلیا ۱۸۹ ہڑتال پرامن ہو، مجلس عمل کی اپیل ۱۸۹ ملتان میں فوج کا گشت ۱۸۹ لندن میں عزیز احمد اور سر ظفر اللہ میں طویل ملاقات ۱۸۹ چشتیاں ۱۸۹ پنجاب اسمبلی ۱۹۰ ہڑتال اور جلسہ ہائے عام ۱۹۰ قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے ۱۹۰ ہم مسلمانوں کا فرض ۱۹۰ دو ٹوک فیصلے کی ضرورت ۱۹۱ اس سلسلے میں تمام کام صرف رضائے الٰہی کے لئے کئے جائیں (مولانا یوسف بنوری) ۱۹۱ ریکارڈ درست رکھنے کے لئے ۱۹۲ سرور کائنات کی قسم...... بھٹو صاحب! ۱۹۲ ظفر اللہ خاں کو کیا میں نے وزیر خارجہ بنایا تھا؟ ۱۹۳ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۱۹۳ پاکستان کی تاریخ میں ایسی مکمل و پرامن ہڑتال کی مثال نہیں ملتی...... احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو یہ امن برقرار نہ رہ سکے گا ۱۹۳ حیدرآباد میں ہڑتال ۱۹۴ اندرون سندھ ۱۹۵ پنجاب میں ہڑتال ۱۹۶ بلوچستان و سرحد میں بھی ہڑتال ۱۹۷ امروز نے لکھا ۱۹۷ مسجد وزیر خان لاہور میں جلسہ عام ۱۹۸ مظفر علی شمسی ۲۰۰ عبدالقادر روپڑی ۲۰۰ واقعہ ربوہ کے ۲۰؍ ملزموں کی شناخت کرلی گئی ۲۰۰
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول پور کی عدالت میں مرزا ناصر احمد کے خلاف استغاثہ......میری جان کی حفاظت کی جائے، تائب ہونے والے اللہ دتہ کی عدالت سے اپیل
۲۰۱
پنجاب اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان نے بائیکاٹ کیا
۲۰۱
اصغر خاں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبات سے متفق نہیں......اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جماعت احمدیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے
۲۰۲
سرکار کے ٹاؤٹس ، رانا تاج نون و پیر دیول
۲۰۲
محاذ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں......روزنامہ امروز کا اداریہ
۲۰۳
۱۶/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
۲۰۴
آج لائل پور میں مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ہوگا
۲۰۴
سکھر میں مکمل ہڑتال
۲۰۴
کچا کھوہ
۲۰۴
لائل پور انکم ٹیکس بار ایسوسی ایشن
۲۰۵
سانگلہ ہل
۲۰۵
وزیراعظم بھٹو راولپنڈی واپس چلے گئے
۲۰۵
قومی اسمبلی میں علماء کرام کی گرفتاریوں کے مسئلے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ
۲۰۶
علماء کا بیان
۲۰۷
ڈی۔ پی۔ آر کے تحت گرفتاریاں
۲۰۷
کراچی ، گجرات ، سانگھڑ ، ٹنڈو آدم میں گرفتاریاں
۲۰۷
وزیر اعظم کی تقریر آج پھر ٹیلی کاسٹ ہوگی
۲۰۸
بھٹو کی مخالفت ، احمدیوں کی حمایت آل انڈیا ریڈیو کا شر انگیز تبصرہ
۲۰۸
حاصل پور میں مکمل ہڑتال ، بسیں بھی نہیں چلائی گئیں
۲۰۸
قادیانی باپ کے خلاف احتجاجاً خود کشی
۲۰۸
مسلم لیگ پنجاب کی قرارداد
۲۰۹
زاہد سرفراز کی طرف سے بھوک ہڑتال کی دھمکی
۲۰۹
مولانا احتشام الحق تھانوی
۲۱۰
ربوہ کے واقعہ کے دو ملزمان کا ریمانڈ
۲۱۰
قادیانیوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ
۲۱۱
ہم مسلمانوں کا فرض
۲۱۱
روزنامہ ”جسارت“ کا اداریہ وزیر اعظم کی نشری تقریر
۲۱۱
اس دفعہ ۱۴۴ کو دفع کیجئے...... اداریہ روزنامہ جسارت
۲۱۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صحیح راہ عمل......اداریہ روزنامہ امروز ۲۱۴
۱۷/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۱۵
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس لائل پور میں ۲۱۵
ساہیوال میں جلسہ عام ۲۱۷
ڈسکہ میں جناب فرید پراچہ کا خطاب ۲۱۷
چوہدری ظہور الٰہی کا احتجاجی بیان ۲۱۸
خواجہ قمر الدین سیالوی کا سرگودھا میں خطاب ۲۱۸
طلباء کی گرفتاری کی مذمت ۲۱۸
میں احمدی نہیں ہوں ۲۱۸
احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا ایک فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں؟......تحقیقاتی ٹربیونل کی جانب سے وکلاء کو تحریری دلائل پیش کرنے کی ہدایت ۲۱۸
مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کی قرارداد ۲۱۹
علماء کرام کی گرفتاریاں......اداریہ ”نوائے وقت“ ۲۱۹
۱۸/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۲۰
اجلاس مجلس عمل کی قراردادیں ۲۲۱
آج پھر رامے صاحب نے فرمایا ۲۲۳
قلعہ دیدار سنگھ ۲۲۳
قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور ۲۲۳
جماعت احمدیہ قائد آباد کے صدر اور سیکرٹری مشرف بہ اسلام ہو گئے ۲۲۳
تئیس افراد کی قادیانیت سے توبہ ۲۲۴
منظور قادر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ۲۲۴
آج پھر مولانا کوثر نیازی بولے ۲۲۴
لاہور کی سیاسی، دینی اور طلباء کی تنظیموں کا مطالبہ ۲۲۵
گرفتار علماء اور طلباء کو رہا کرنے کا مطالبہ ۲۲۶
اردو محاذ پاکستان کا اجلاس ۲۲۶
نیپ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حامی ہے ۲۲۶
چھ ارکان اسمبلی ۲۲۶
دو اشتہار ۲۲۷
کالونی مل کے مرزائی ۲۲۷
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری اعلان ...... کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ اسماعیل آباد، ملتان ۲۲۸
حادثہ ربوہ پر مکہ کے اخبار کا تبصرہ ۲۲۸
۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
۲۳۰
بحرین میں مجلس ختم نبوت کا قیام ۲۳۰
تحریک استقلال ۲۳۱
نیپ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حامی ہے ۲۳۱
خانیوال ۲۳۱
گڑھ مہاراجہ ۲۳۱
چیچہ وطنی مجلس احرار اسلام ۲۳۱
ملتان وکلاء کی ڈیفنس کمیٹی کا قیام ۲۳۲
منڈی بہاؤالدین علامہ عنایت اللہ گجراتی کا بیان ۲۳۲
قائد آباد، ملک محمد اکبر ساقی ۲۳۳
کراچی، سندھ ارکان اسمبلی ۲۳۳
دریا خان میں بین المسلمین اتحاد کمیٹی ۲۳۳
اے بی شورکوٹ کا اعلان ۲۳۳
اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال ۲۳۳
مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کا اجلاس ۲۳۴
رحیم یار خان، جمعیۃ علماء اسلام ۲۳۴
تحقیقاتی ٹربیونل میں مسلم لیگ کی درخواست ۲۳۴
تحریک استقلال ۲۳۵
قائد اعظم اور قادیانی ۲۳۵
گوجرہ میں پولیس تشدد، جناب حمزہ کا بیان ۲۳۵
۲۰؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
۲۳۶
”سرحد اسمبلی زندہ باد“ متفقہ قرارداد پاس ۲۳۶
سرگودھا ۲۳۶
نواب شاہ، انجمن طلباء اسلام ۲۳۶
نارووال ۲۳۷
ڈسکہ پریس کانفرنس ۲۳۷
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیۃ طلباء اسلام لاہور ۲۳۷ لندن میں قادیانی رہنما چوہدری ظفر اللہ خان کی پریس کانفرنس کا مکمل متن ...... اخبار وفاق لاہور ۲۳۸ ضروری تصریح ۲۴۲ قانون و آئین میں ”قادیانی“ کی نشاندہی ...... روزنامہ ”وفاق“ کا اداریہ ۲۴۲ ۲۱/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۴۳ راولپنڈی اسلام آباد کے علماء رہا ۲۴۳ سرحد اسمبلی کی قرارداد ۲۴۳ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لئے اقدامات ۲۴۴ تحریک خاکسار ۲۴۴ ایئر مارشل (ر) اصغر خان کا اعلان ۲۴۴ جاوید ہاشمی کا خان پور ریلوے اسٹیشن پر خطاب ۲۴۵ نصیر اے شیخ چیئر مین کالونی ملز وضاحت فرمائیں ۲۴۵ مرزائیوں کے بھیانک عزائم کی نقاب کشائی کے لئے جلسے ۲۴۵ روزنامہ ”نوائے وقت“ کا اداریہ ۲۴۶ نوائے وقت کے دو ادارتی نوٹ ...... پٹھانوں کی طرف سے دینی حمیت کا مظاہرہ ۲۴۷ سرکاری ملازمین سے ڈیکلیریشن حاصل کریں ۲۴۸ ۲۲/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۴۸ حکومتی اعلیٰ سطح کا اجلاس مری میں ۲۴۸ حضرت مفتی محمود صاحب کا مطالبہ ۲۴۸ چنیوٹ ۲۴۹ عارف والا ۲۴۹ میانوالی ۲۴۹ ایم. این. اے و ایم. پی. اے حضرات ضلع میانوالی توجہ فرمائیں ۲۵۰ سکھر، متحدہ جمہوری محاذ ۲۵۰ سرگودھا، طالب علم رہنماؤں کے بیانات ۲۵۱ سیالکوٹ ۲۵۱ مولانا ضیاء القاسمی ۲۵۱ مولانا احمد سعید لدھیانوی ۲۵۲
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک محمد اکبر ساقی (قائد آباد) ۲۵۲ ملتان مجلس عمل کے رہنماؤں کا دورہ ۲۵۲ ساہیوال میں جلسہ عام ۲۵۳ بہاول نگر میں پریس کانفرنس ۲۵۳ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر ۲۵۳ سرگودھا کے ممبران اسمبلی سے دستخطی مہم ۲۵۴ نارنگ منڈی میں جلسہ ۲۵۴ نور شاہ ضلع ساہیوال ۲۵۵ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ۲۵۵ ساہیوال ۲۵۵ لائل پور میں قادیانی کی اندھا دھند فائرنگ ۲۵۵ ووٹروں نے کوثر نیازی سے وضاحت مانگ لی ۲۵۶ حضرت شیخ بنوری کی پریس کانفرنس ۲۵۶ پنجاب اسمبلی کے قادیانی رکن چوہدری محمد اعظم کا اسمبلی میں بیان ۲۵۷ ظہور الحسن بھوپالی کا بیان ۲۵۷ گجرات میں علماء کا جلوس ۲۵۷ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا اجلاس ۲۵۷ سمندری ۲۵۸ میاں جمیل احمد شرقپوری ۲۵۸ چنیوٹ ۲۵۸ وزیر آباد میں مجلس عمل کا انتخاب ۲۵۸ مجلس عمل کا اجلاس ۲۵۹ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام (جماعت احمدیہ لاہور) کے عقائد ۲۵۹ جماعت احمدیہ لاہور کا اپنے مجدد کے بارے میں عقیدہ ۲۶۰ ۲۳؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۶۱ مولانا محمد ذاکر کا قومی اسمبلی کو قرارداد کا نوٹس ۲۶۱ اوکاڑہ کا ایک مرزائی خاندان مشرف بہ اسلام ہو گیا ۲۶۱ لائل پور میں قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی زبردست مہم ۲۶۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کا فنڈ ۲۶۲ علامہ رضوی صاحب کا بیان ۲۶۲ مولانا عبدالکریم مباہلہ کا انتقال ۲۶۲ کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں کی فہرستیں ۲۶۳ لائل پور میں گرفتاریاں ۲۶۳ وفاقی کابینہ کا اجلاس ۲۶۴ دنیا پور میں تحریک کے کارکنوں پر پولیس تشدد ۲۶۵ حافظ آباد میں رکن قومی اسمبلی کا حلف ۲۶۵ مولانا غلام اللہ مجلس عمل راولپنڈی کے صدر منتخب ہو گئے ۲۶۵ ملتان میں کنونشن ۲۶۵ پنجاب اسمبلی ...... خاموش کیوں ؟...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۲۶۶ ”نوائے وقت“ میں ”سر راہے“ میں شائع ہوا ۲۶۶ ۲۴ / جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۶۶ اعلیٰ حکومتی اجلاس مری میں ختم ہو گیا ۲۶۵ لائل پور فائرنگ کیس ۲۶۷ ملتان میں مرکزی مجلس عمل کا جلسہ ۲۶۷ بیالیس افراد ہلاک ۲۶۸ راولپنڈی میں دو خطیب گرفتار ۲۷۰ سندھ اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد کا نوٹس ۲۷۰ بلوچستان اسمبلی میں صدائے بازگشت ۲۷۰ ۲۵ / جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۷۱ پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش نہ کرنے دی ۲۷۱ جمعیۃ علماء پاکستان، لائل پور ۲۷۱ گجرات، سوشل بائیکاٹ ۲۷۱ موچھ، عیسیٰ خیل میں جلسہ ہائے عام ۲۷۲ سیالکوٹ میں ۲۵ مرزائی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۲۷۲ مجلس عاملہ جماعت اسلامی کی قرارداد ۲۷۳ مریدکے کے تاجروں کا فیصلہ ۲۷۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا حضرت بنوری کی کوئٹہ میں تقریر ۲۷۳ قبولہ ضلع ساہیوال ۲۷۵ منڈی بہاؤالدین، دو قادیانی مسلمان ہو گئے ۲۷۳ قائد آباد کی تمام جماعتوں کا مطالبہ ۲۷۳ حضرت مفتی صاحب کا ملتان بار سے خطاب ۲۷۳ ملتان کے طالب علم رہنماؤں کی رہائی و گرفتاری ۲۷۶ ملتان دفتر مرکزیہ میں اجلاس ۲۷۶ اصغر خان پر قادیانیت نوازی کا الزام ۲۷۷ قادیانیوں کے سرکردہ افراد ترک وطن کر گئے ۲۷۷ ۲۶؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۷۷ قادیانی مسئلہ پر اسلامی ممالک سے رائے طلب کر لی گئی..... حکومت پاکستان متفقہ موقف اختیار کرنا چاہتی ہے ۲۷۷ حکومتی اقدام ۲۷۸ جلال پور بھٹیاں میں کوئی قادیانی نہیں رہا، آخری قادیانی بھی مشرف بہ اسلام ہو گیا ۲۷۸ قصور، اسلامی جمعیۃ طلباء ۲۷۸ شہریان وہاڑی کا نمائندہ اجلاس ۲۷۸ حنیف رامے کی اسمبلی میں غلط بیانی کے خلاف احتجاج ۲۷۹ گجرات میں ایس. پی شریف چیمہ کے ظلم کے خلاف احتجاج ۲۷۹ ملتان ہول سیل کلاتھ مرچنٹ کا اجلاس ۲۸۰ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت اور لاہوری جماعت ۲۸۰ بہاول پور، انجمن طلباء اسلام ۲۸۱ مجلس عمل کی طرف سے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرنے کا اعلان ۲۸۱ حافظ آباد کے عوام کا مطالبہ ۲۸۲ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مسٹر محمد حنیف نارو کا بیان ۲۸۲ ضروری تردید ۲۸۳ شجاع آباد تا خانیوال ۲۸۳ مرزائیت سے توبہ کر لی ۲۸۳ ڈسکہ قادیانی محاسبہ کمیٹی ۲۸۳ گوجرہ، انجمن صرافہ و کریانہ ایسوسی ایشن کا فیصلہ ۲۸۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاندلیانوالہ میں مجلس عمل کی اپیل پر مکمل ہڑتال ۲۸۴ شیخ منیر احمد خاں چیئرمین ایٹمی توانائی کمیشن قادیانیت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھتے ۲۸۴ قائد آباد میں جلسہ عام ۲۸۴ جاوید ہاشمی کا اخباری بیان ۲۸۵ گکھڑ میں بائیکاٹ مہم ۲۸۵ نیپ کی پالیسی سے اختلافات ۲۸۵ لائل پور قادیانی فائرنگ کیس ۲۸۵ علی پور، نوابزادہ نصر اللہ خان کا خطاب ۲۸۶ رکن قومی اسمبلی میاں ساجد پرویز، ملتان ۲۸۶ سیالکوٹ ۲۸۷ شیخوپورہ کی مجلس عمل کا اعلان ۲۸۷ فیض مصطفیٰ گیلانی ملتان ۲۸۷ لاہور میں جلسہ عام ۲۸۷ بائیکاٹ جاری رہے گا ۲۸۸ ۲۷؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۸۹ وفاقی وزیر قانون کا بیان ۲۸۹ لندن سے ظفر اللہ پھر بولے ۲۸۹ پنجاب اسمبلی میں سینئر وزیر کا بیان ۲۹۰ ۲۸؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۲۹۰ ستر ارکان پنجاب اسمبلی کی قرارداد ۲۹۰ مولانا محمد ذاکر ۲۹۲ خاکسار تحریک ۲۹۳ فورٹ عباس، جلسہ عام ۲۹۳ علامہ رحمت اللہ ارشد نے قرارداد کا متن اور دستخط کرنے والے ارکان کے نام جاری کر دیئے ۲۹۳ ملتان، سید شوکت حسین گیلانی ۲۹۴ اسلامیہ کالج اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کا اجلاس ۲۹۴ کبیر والا میں تین مسلمانوں اور تین قادیانیوں کی گرفتاری ۲۹۵ میانوالی، مولانا علی محمد مظاہری ۲۹۵
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ کیس کے ۷۶ ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا ۲۹۵
میاں طفیل محمد کا دورۂ حیدرآباد ۲۹۵
پروفیسر ایسوسی ایشن ۲۹۶
ملک رب نواز چنیوٹی کی گرفتاری ۲۹۶
پتوکی امور مذہبی کمیٹی ۲۹۶
قومی اسمبلی ۲۹۷
خانیوال میں ظلم وستم ۲۹۷
لائل پور کے قادیانی اور اس کے بیٹے کا ریمانڈ ۲۹۸
جہانیاں ۲۹۸
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ۲۹۸
خواجہ صفدر سینیٹر ۲۹۹
وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ ۲۹۹
احرار کی مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس ۲۹۹
بسلسلہ تحریک تحفظ ختم نبوت ...... جلسہ ہائے عام ۳۰۰
لالہ موسیٰ مجلس عمل ۳۰۰
۲۹؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۰۰
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس و قرارداد ۳۰۰
پنجاب اسمبلی، ممتاز کاہلوں، حافظ علی اسد اللہ، کنور محمد یسین کا بیان ۳۰۱
بینکوں سے قادیانیوں نے سرمایہ نکال لیا ۳۰۲
چیچہ وطنی ۳۰۲
لالیاں مجلس عمل کا جلسہ عام ۳۰۳
سمندری کے شہریوں کے وفد کی ارکان اسمبلی سے ملاقات ۳۰۳
چنیوٹ ۳۰۴
پتوکی میں قادیانیوں کا اجتماع ۳۰۴
سرگودھا مجلس عمل کا اجلاس ۳۰۴
ڈسکہ دارالعلوم مدنیہ ۳۰۵
حافظ آباد میں پرامن جدوجہد ۳۰۵
کینٹین میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ۳۰۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چونیاں کے قادیانی ہیڈ ماسٹر کو تبدیل کیا جائے ۳۰۶
ساہیوال ضلع سرگودھا ۳۰۶
قادیانی مسئلہ...... اشتعال کے باوجود پرامن رہئے...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۳۰۶
تفسیرالقرآن (انگریزی) کے قادیانی ایڈیٹر کا بیان ۳۰۸
۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۰۹
بھٹو صاحب نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا ۳۰۹
سابق اٹارنی جنرل ۳۰۹
جمعیۃ علماء اسلام لاہور ۳۰۹
رحیم یار خان میں مجلس عمل کے ضلعی رہنماؤں کی پریس کانفرنس ۳۰۹
لاہور میں جلسہ عام ۳۱۰
جمعیۃ علماء جموں و کشمیر ۳۱۱
جمعیۃ طلباء اسلام آزاد کشمیر ۳۱۱
گرفتار طلباء جیل چلے گئے ۳۱۲
جہانیاں میں پولیس اہل کار کی دل آزاری کے خلاف ہڑتال ۳۱۲
جلسہ عام...... آرام باغ ، کراچی ۳۱۲
خانیوال میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا خطاب ۳۱۳
عیسیٰ خیل بار ایسوسی ایشن ۳۱۳
قومی اسمبلی کا اجلاس ۳۱۳
امیر عبداللہ خان روکھڑی کا بیان ۳۱۴
مرزائی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۳۱۴
لاڑکانہ قادیانی جماعت کے سربراہ تائب ہو گئے ۳۱۴
ملتان بار ایسوسی ایشن کے صدر کا بیان ۳۱۵
قادیانیوں سے علیحدگی کا اعلان ۳۱۵
غلہ منڈی گوجرانوالہ کا بائیکاٹ کا اعلان ۳۱۵
حنیف رامے کی منطق ، سر راہے ”نوائے وقت“ ۳۱۵
امریکی اخبار کو لکھے جانے والے شرانگیز خط کا عکس ۳۱۶
یکم جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۱۶
خان پور چوہدری محمد انور کا ایمان پرور بیان ۳۱۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شیخوپورہ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ۳۱۷ گوجرانوالہ تحریک استقلال ۳۱۷ بہاول نگر میں عظیم اجتماع ۳۱۸ قومی اسمبلی میں سپیشل کمیٹی ۳۱۸ اپوزیشن کی قومی اسمبلی میں قرارداد ۳۱۹ اپوزیشن کی قرارداد کا متن ۳۱۹ قومی اسمبلی میں سرکاری تحریک کا متن ۳۲۰ قومی اسمبلی کے باہر حفاظتی انتظامات ۳۲۰ سرحد اسمبلی کو مبارک باد ۳۲۱ راولپنڈی مجلس احرار اسلام ۳۲۱ حیدر آباد میں میاں طفیل محمد کا بیان ۳۲۱ ”نوائے وقت“ کا سرراہے ۳۲۱ کراچی، مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی پریس کانفرنس ۳۲۲ خان عبدالقیوم خان کی صفائی ۳۲۲ ۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۲۲ مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ۳۲۲ ملتان، مولانا احتشام الحق تھانوی ۳۲۳ رب نواز چنیوٹی کی درخواست ضمانت مسترد ۳۲۴ جوہر آباد مشترکہ اجتماع ۳۲۴ بھٹو صاحب اور بنگلہ دیش کے قادیانی ۳۲۴ لالہ موسیٰ میں جلسہ عام ۳۲۵ بورے والا میں تحریکی مہم ۳۲۵ عارف والا میں مجلس کا اجلاس ۳۲۵ چک نمبر ۷۰ جنوبی سرگودھا ۳۲۵ حاصل پور میں مجلس عمل کا قیام ۳۲۵ لاہور میں یونیورسٹی کے طلباء کی سرگرمیاں ۳۲۵ ڈیرہ غازی خان میں ہنگامی اجلاس ۳۲۶ کامونکے میں جلسہ عام ۳۲۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام قبول کرنے کا اعلان ۳۲۶
اوکھلی موہلہ میں جلسہ عام ۳۲۶
سلانوالی میں جلسہ عام ۳۲۷
قادیانی مسئلہ ۳۲۷
خان عبدالقیوم خان کا اعلان ۳۲۷
صوبائی وزیر قانون سردار صغیر احمد اور ربوہ ۳۲۷
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ۳۲۸
سیالکوٹ، مرے کالج ۳۲۸
صحیح اور جمہوری طریق کار ...... اداریہ روزنامہ ”مشرق“ ۳۲۸
شیخوپورہ غلہ منڈی ۳۲۹
گجرات ۳۲۹
قبول اسلام ۳۳۰
مرزائی کا قبول اسلام ۳۳۰
کراچی میں پولیس گردی کے خلاف ہڑتال ۳۳۰
اسلام آباد، مرچنٹس ایسوسی ایشن ۳۳۰
کیمبل پور، مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۳۰
آزاد کشمیر، ورلڈ اسلامک مشن ۳۳۱
راولپنڈی، جلسہ عام ۳۳۱
جمعیۃ طلباء اسلام کے رہنماؤں کی گرفتاری ۳۳۱
قادیانی فرقہ کے عقائد اور عبادات، مسلمانوں کے عقائد کے منافی ہیں (جامع الازہر کا فتویٰ) ۳۳۲
جہلم، نوجوانان اسلام ۳۳۳
کراچی، روزنامہ ”جسارت“ پر پابندی ۳۳۳
قبول اسلام ۳۳۴
تنظیم علماء آزاد کشمیر ۳۳۴
بھٹو اپنے وعدے پر قائم ہیں ...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۳۳۴
۳ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۳۶
راولپنڈی، حضرت مولانا عبدالحق ۳۳۶
ملتان کے نزدیک قادیانیوں کا مسلح حملہ ...... آٹھ مسلمان زخمی ہو گئے، پانچ مسلمان گرفتار ۳۳۷
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی، کھوکھرا پار ۳۳۷ لاہور، جاوید ہاشمی کی ضمانت ۳۳۸ کراچی، اسلامی جمعیۃ طلباء ۳۳۹ گجرات، جمعیۃ علماء پاکستان ۳۳۹ راولپنڈی، جمعیۃ علماء پاکستان ۳۴۰ دوکانوں پر آویزاں کتبے کا عکس ۳۴۰ مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں علماء کرام کا خطاب ۳۴۰ برطانیہ میں یوم تحفظ ختم نبوت منایا گیا..... ظفر اللہ اور مرزا ناصر پر مقدمے چلانے کا مطالبہ ۳۴۱ کچھ اندیشے، کچھ امیدیں ۳۴۱ پیپلز پارٹی اپنا مؤقف واضح کرے ۳۴۳ یہ دو عوامل کیوں؟ ۳۴۳ ۴ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۴۴ کراچی، انجمن طلباء اسلام ۳۴۴ گکھڑ، مولانا محمد عمر کا مرزا ناصر کو چیلنج ۳۴۴ ٹوبہ ٹیک سنگھ، تحریک نکتہ عروج پر ۳۴۴ تاندلیانوالہ، مجلس عمل کی اپیل ۳۴۵ شورکوٹ ریلوے گارڈ ۳۴۵ چاروں صوبوں میں اخبارات پر پھر پابندی ۳۴۵ ۵ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۴۵ قومی اسمبلی کی ۱۲ رکنی رہبر کمیٹی ۳۴۵ سندھ میں اخبارات پر پابندی ۳۴۷ ۶ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۴۷ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، گلبرگ لاہور ۳۴۸ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، پھمن سنگھ لاہور ۳۴۸ ”جسارت“ پر پابندی..... اداریہ ”نوائے وقت“ لاہور ۳۴۸ ۷ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۴۹ لاہور، آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری ۳۴۹ قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ۳۵۰
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک استقلال کی مرکزی مجلس عاملہ کی قرارداد، قادیانی غیر مسلم ہیں ۳۵۰
مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی کا بیان ۳۵۱
۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۵۱
مولانا یوسف صاحب بنوری صدر مجلس عمل پاکستانی سیاست میں اچانک اس قدر سرگرم کیوں ہو گئے؟ ۳۵۰
مولانا یوسف بنوری صدر مجلس عمل سے چند مزید سوالات ۳۵۲
مولانا محمد یوسف بنوری کے متعلق چند حقائق ...... اشتہار از سردار میر عالم لغاری ۳۵۳
حضرت بنوری کا انٹرویو اشتہارات کی روشنی میں ۳۵۴
گرفتاری کی مذمت ۳۵۸
میاں طفیل محمد کا احتجاجی بیان ۳۵۸
گجرات، مولانا سید عطاء المحسن کی گرفتاری ۳۵۸
۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۵۹
لاہور، مرکزی مجلس عمل کا شورش کی گرفتاری کے خلاف اجلاس ۳۵۹
۱۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۰
حنیف رامے دور کی کوڑی لائے ۳۶۰
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، باٹا پور لاہور ۳۶۱
شورش کی گرفتاری کے خلاف لاہور میں جلسہ عام ۳۶۱
آل پاکستان شیعہ پولیٹیکل کانفرنس ۳۶۲
قبولہ میں چار قادیانی خاندانوں کا قبول اسلام ۳۶۲
چٹان ...... سرکاری وضاحت، روزنامہ ”جنگ“ کا اداریہ ۳۶۲
۱۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۳
لائل پور، مولانا محمد ضیاء القاسمی کا مطالبہ ۳۶۳
ربوہ میں مزید سات افراد کی گرفتاری ۳۶۴
وزیر اعظم کا اعلان ۳۶۴
اسلام آباد کے تین علماء کی گرفتاری ۳۶۴
مولانا یوسف بنوری خالص دینی رہنما ہیں ۳۶۴
۱۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۵
وزیر اعظم کا اعلان ۳۶۵
علامہ ارشد کا بیان ۳۶۵
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان ۳۶۶ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۶ قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ۳۶۶ لاہور کے طلباء کی رہائی ۳۶۷ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۷ صمدانی کمیشن ربوہ جائے گا ۳۶۷ سرگودھا میں جلسہ عام ۳۶۸ لاہور بریگیڈیئر ڈاکٹر منظور احمد قادیانی ۳۶۸ بی. بی. سی ۳۶۸ ۱۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۶۸ قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ۳۶۸ سنی ختم نبوت کنونشن، راولپنڈی ۳۶۹ حفیظ پیرزادہ کا بیان ۳۶۹ ۱۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۰ کھاریاں فائرنگ کیس ۳۷۰ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۰ لاہور مجلس عمل کا دفتر ۳۷۰ ۱۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۰ کراچی، ایڈیٹر جسارت کی رہائی وگرفتاری ۳۷۰ کھاریاں فائرنگ کیس ۳۷۰ لاہور طالب علم رہنماء ۳۷۱ ۱۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۱ جمعیۃ طلباء اسلام کا اشتہار....... بسلسلۂ تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ ۳۷۱ لاہور، صمدانی کمیشن میں مرزا ناصر کا بیان ۳۷۲ ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۳ لاہور، صمدانی کمیشن کا دورۂ ربوہ ۳۷۳ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۴ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ۳۷۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بلوچستان ....... پنجاب، سندھ کے بعد اب بلوچستان ۳۷۴
۲۲/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۵
لاہور، مجلس شاد باغ ۳۷۵
مرکزی مجلس عمل کے صدر حضرت بنوری کی پریس کانفرنس ۳۷۵
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ۳۷۶
ہائیکورٹ، چار طالب علم رہنماؤں کی رہائی ۳۷۶
۲۳/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۶
راولپنڈی ، جمعیۃ المشائخ اصفیاء ۳۷۶
قادیانی مقاطعہ ....... روز نامہ جنگ کا ادارتی شذرہ ۳۷۷
۲۴/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۸
مؤقف ملت اسلامیہ کی اہمیت ۳۷۸
۲۵/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۷۹
بھٹو صاحب فورٹ سنڈیمن میں ۳۷۹
ضروری وضاحت ۳۷۹
قومی اسمبلی ۳۷۹
۲۶/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۰
شورش کی تحقیقاتی عدالت میں گواہی ۳۸۰
علامہ محمود احمد رضوی کی پریس کانفرنس ۳۸۱
اخبارات پر سنسر مساجد میں سپیکروں پر پابندی ۳۸۱
۲۷/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۲
لاہور ، آغا شورش کی رہائی ۳۸۲
لائل پور میں مولانا محمد حسن کی گرفتاری ۳۸۲
۲۸/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۲
عبدالحفیظ پیرزادہ کا اخباری بیان ۳۸۲
کوثر نیازی کا بیان ۳۸۲
۲۹/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۳
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، شالا مار ٹاؤن ۳۸۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، نئی انارکلی ۳۸۳
تشکیل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، مزنگ ۳۸۳
اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال ۳۸۴
اصل مجلس احرار کون سی ہے؟ ۳۸۴
۳۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۴
ہڑتال کا فیصلہ (اشتہار) ۳۸۴
پاکستان متحدہ جمہوری محاذ ۳۸۴
محمود احمد رضوی، صمدانی کمیشن سے بائیکاٹ کا اعلان ۳۸۵
انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۳۸۶
۳۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۶
یکم اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۶
راولپنڈی کے پچاس شیعہ علماء کا بیان ۳۸۶
سرگودھا کی مجلس عمل کا بیان ۳۸۷
اوکاڑہ میں ایک سو کارکنوں کی گرفتاری ۳۸۷
سانحہ ربوہ کی تحقیقات مکمل ہوگئی ۳۸۸
۲؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۸۸
کوئٹہ میں قادیانی مسئلہ کے حل کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی خاطر حکومتی اجلاس ۳۸۸
راولپنڈی کے علماء کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ ۳۸۹
جمعیۃ طلباء اسلام کے جلسہ ہائے عام بسلسلہ تحفظ ختم نبوت ۳۸۹
سرگودھا میں گرفتاریاں ۳۹۰
اخبارات پر سنسر کی میعاد ایک ماہ بڑھا دی گئی ۳۹۰
۳؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۹۰
اوکاڑہ میں ۹ روز سے ہڑتال جاری ہے ۳۹۰
پتوکی میں جلسہ عام ۳۹۱
اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ ۳۹۱
مرکز اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۳۹۱
گرفتاریاں افسوس ناک ہیں ۳۹۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۹۲
واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ مورخہ ۲۰ اگست کو پیش کر دی جائے گی ۳۹۲ پنڈی کے علماء کو رہا کر کے پھر گرفتار کر لیا گیا ۳۹۲ قومی اسمبلی ۳۹۳ راولپنڈی ڈویژن میں مکمل ہڑتال کی اپیل ۳۹۳ لاہور میں مجالس عمل کا اجلاس ۳۹۴ آر۔اے بازار لاہور ۳۹۴ حلقہ لکھوڈیر لاہور ۳۹۴ لائل پور میں گرفتاریاں ۳۹۴ لائل پور میں مکمل ہڑتال ۳۹۴ ۵ اگست سوموار کو مکمل ہڑتال کی جائے ۳۹۵ ختم نبوت کانفرنس ۳۹۵ کراچی کے زاہر قاسمی کی گوہر افشانی ۳۹۵ تو پھر پکڑ دھکڑ کیوں؟...... ”نوائے وقت“ کا شذرہ ۳۹۶
۵ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۹۷
قادیانی مسئلہ کے حل کے لئے ۷ ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی ۳۹۷ اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات ہائیکورٹ کے جج سے کرائی جائے ۳۹۷ اوکاڑہ میں خواتین کا جلوس ۳۹۸ سرگودھا میں راؤ منان کے گھر پر بم دھماکہ ۳۹۸
۶ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۳۹۹
تحریک استقلال پر قادیانی نوازی کا الزام ۳۹۹ ۷ ستمبر دور نہیں ...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۳۹۹
۷ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۰۰
قومی اسمبلی ۴۰۰ واقعہ ربوہ کے ۸۶ ملزموں کا ریمانڈ ۴۰۰ لاہور میں مولانا شاہ احمد نورانی کا خطاب ۴۰۰ واقعہ ربوہ کے ۸۶ ملزموں کی درخواست ضمانت ۱۳ اگست کو سماعت کے لئے منظور ۴۰۱ اوکاڑہ میں مزید علماء گرفتار ۴۰۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۰۱ قومی اسمبلی ۴۰۱ لاہور، میاں طفیل محمد کا بیان ۴۰۲ ۹؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۰۲ مولانا مفتی محمود کا اخباری بیان ۴۰۲ پولیس کی زیادتیوں پر احتجاج ۴۰۲ سرگودھا ۴۰۲ قصور، حاجی محمد شفیع کا بیان ۴۰۳ کھاریاں کیس کے لئے ٹربیونل کا قیام ۴۰۳ ساہیوال میں ہڑتال، گرفتاریاں شروع ۴۰۳ اپوزیشن لیڈروں کا مشترکہ بیان ۴۰۳ ملک محمد قاسم کی طرف سے پرزور مذمت ۴۰۴ مولانا عبدالستار نیازی کا بیان ۴۰۴ قصور میں احتجاجی ہڑتال ۴۰۵ متعدد علماء اور کارکنوں کے خلاف نئے مقدمات درج کر لئے گئے ۴۰۵ مسلم لیگ پنجاب زون کا بیان ۴۰۵ اوکاڑہ کے گرفتار شدگان کی ضمانت منظور ۴۰۶ متحدہ جمہوری محاذ پنجاب ۴۰۶ جمعیۃ طلبائے اسلام ۴۰۶ مسیحی عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل ۴۰۶ لاہور، مولانا عبدالرشید کشمیری ۴۰۶ تحریک استقلال ۴۰۶ رحیم یار خاں کے تحریک استقلال کے رہنما ۴۰۷ مرزا ناصر احمد پر جرح جاری ہے ۴۰۷ ۱۰؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۰۷ پنجاب میڈیکل کالج لائل پور کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا ۴۰۷ وہاڑی میں مکمل ہڑتال ۴۰۸ مولانا محمود احمد رضوی کا مرید کے میں جلسہ عام سے خطاب ۴۰۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکم ستمبر کو لاہور میں کنونشن کے لئے اخبار میں اشتہار ۴۰۸
یکم ستمبر بروز اتوار لاہور میں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کنونشن ۴۰۹
اشتعال انگیزی کیوں؟...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۴۰۹
۱۱؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۱۰
رحیم یار خان...... مولانا غلام ربانی کی پریس کانفرنس ۴۱۰
سرگودھا میں جلسہ عام ۴۱۱
لاہور میں جلسہ عام ۴۱۱
وزیراعظم نے چاروں گورنروں کی میٹنگ طلب کر لی ۴۱۲
اصغر خان کا وضاحتی بیان ۴۱۲
قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی میں مرزا ناصر احمد پر جرح ملتوی ہوگئی ۴۱۲
۱۲؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۱۲
شہریوں پر تشدد کی مذمت ۴۱۲
اصغر خان اور ناصر احمد کے درمیان مفاہمت ناقابل تردید حقیقت ہے (ڈاکٹر اے.آر.اعوان) ۴۱۲
۱۳؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۱۳
کھاریاں فائرنگ کیس ۴۱۳
گوجرانوالہ میں ہڑتال ۴۱۳
حافظ آباد میں ہڑتال ۴۱۳
اسیر علماء اور کارکن رہا کئے جائیں (حضرت بنوری) ۴۱۴
فیصل آباد میں ختم نبوت کنونشن و جلسہ عام ۴۱۵
ضلعی ختم نبوت کنونشن فیصل آباد ڈویژن کی جھلکیاں ۴۲۰
گاڑی جب روانہ ہوتی ہے ۴۲۰
ہماری تاریخ مصائب کی تاریخ ہے ۴۲۰
مشین گرم ہوگئی ہے ۴۲۰
تم مجھے قتل کروانا چاہتے ہو؟ ۴۲۰
اپنوں کا دباؤ قبول کرو ۴۲۰
بکاؤ مولوی کا کیا کریں؟ ۴۲۱
حضور ﷺ کی مکی زندگی کو نمونہ بناؤ ۴۲۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ضلع کا ایکسرے ۴۲۱ وہ ہم میں سے نہیں ۴۲۱ جواب جاہلاں...... ۴۲۱ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ...... ۴۲۱ پنجاب کی سعادت ۴۲۱ قصور اپنا نکل آیا ۴۲۱ طوفان کا رونا رو کر ۴۲۲ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پیر محل کا قیام ۴۲۲ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت روڑالہ روڈ کا قیام ۴۲۲ لائل پور کی تبلیغ کمیٹی ۴۲۳ مولانا اشرف ہمدانی کا تبلیغی دورہ ۴۲۳ ”لولاک“ کے چار شذرات ۴۲۳ (۱) ۲۲ یا ۲۹ مئی ۴۲۳ (۲) یہ بم اور گرنیڈ ۴۲۴ (۳) ربوہ سے مرزائیوں کو سگنل ۴۲۴ (۴) صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ۴۲۵ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ۴۲۵ ۱۶؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۲۷ کھاریاں فائرنگ کیس کی تحقیقات ۴۲۷ ۱۷؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۲۷ ربوہ کیس کے ۸۶ قادیانی ملزموں کی ضمانتیں منظور کرلی گئیں ۴۲۷ کھاریاں کیس ۴۲۷ ۱۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۲۸ راولپنڈی کے علماء کا مقدمہ ۴۲۸ مساجد سے لاؤڈ سپیکروں کے ہٹانے کا مقدمہ ۴۲۸ مولانا سید عطاء المنعم بخاری کی ضمانت ۴۲۸ نوید انور نوید کی نظر بندی کے خلاف رٹ ۴۲۸ رب نواز کی ضمانت میں توسیع ۴۲۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحیم یار خان میں ۵۰ علماء اور طلباء کی گرفتاریاں ۴۲۹ خورشید حسن میر، آئینہ دیکھئے...... اداریہ ”نوائے وقت“ ۴۲۹ ۱۹ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۳۰ نعش دفن کرنے پر تصادم...... پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، شیخوپورہ میں ہڑتال ۴۳۰ قادیانی مسئلے کے فیصلے کے لئے تاریخ کے تعین کا مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی طرف سے خیر مقدم ۴۳۱ متحدہ جمہوری محاذ پنجاب ۴۳۱ مولانا شاہ احمد نورانی ۴۳۲ پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کا کنونشن لاہور ۴۳۲ طلباء کنونشن کے فیصلے ۴۳۲ ایک قادیانی اور پولیس والے کے ہاتھوں مسلمان کی پٹائی اور ہڑتال ۴۳۳ مجلس عمل کے دو رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری ۴۳۳ ۲۰ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۳۳ قومی اسمبلی کی کارروائی پر اطمینان ہے، پروفیسر غفور احمد ۴۳۳ شیخوپورہ میں ہڑتال جاری رہے گی ۴۳۴ یکم ستمبر کا کنونشن لاہور ۴۳۴ علماء کی درخواست ضمانت سماعت کے لئے منظور ۴۳۴ کھاریاں کیس کی تحقیقات ۴۳۴ تحقیقاتی ٹربیونل کا دائرہ اختیار محدود کر دیا گیا ۴۳۶ خورشید حسن میر نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے ۴۳۶ ۲۲ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۳۶ بہاول نگر کی ختم نبوت کانفرنس ۴۳۶ قومی اسمبلی ۴۳۷ صمدانی کمیشن رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کر دی ۴۳۷ جلسہ عام ۴۳۸ ۲۳ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۳۸ سانحہ ربوہ کی تحقیقات رپورٹ پر کابینہ میں غور ۴۳۸ ۲۴ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۳۸ قادیانیوں کا بائیکاٹ غلط ہے (مودودی) ۴۳۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجھ سے سماجی بائیکاٹ کی مخالفت میں بیان منسوب کر کے ریڈیو نے سخت بددیانتی کی ہے (مولانا مودودی) ۴۳۸ قومی اسمبلی ۴۳۹ وزیر اعلیٰ نے ربوہ سانحہ کی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی ۴۳۹ ۲۵ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۰ قومی اسمبلی ۴۴۰ کبیر والہ کے واقعات کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے ۴۴۰ کوثر نیازی کا اعلان ۴۴۰ ۲۶ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۱ مولانا شاہ احمد نورانی ۴۴۱ ۲۷ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۱ خورشید حسن میر کی برہمی، زبانیں کھینچ لی جائیں گی، ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۴۴۱ ملک محمد قاسم اور یسین وٹو کا مطالبہ ۴۴۲ سانحہ ربوہ میں حکومت کے ہاتھ بالکل صاف ہیں، بھٹو ۴۴۲ کراچی میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۲ گجرات میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۳ حمید ریاض قادیانی نہیں ہیں ۴۴۳ مولانا یوسف بنوری ۳۱ اگست کو اوکاڑہ میں خطاب کریں گے ۴۴۳ کھاریاں کیس ۴۴۳ ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۴ سیالکوٹ، انجمن طلباء اسلام ۴۴۴ کھاریاں کیس کی سماعت ۴۴۴ قادیانی، بہائی ۴۴۴ ۲۹ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۵ کھاریاں کیس کی انکوائری ۴۴۵ قومی اسمبلی ۴۴۷ مجلس عمل لاہور کے زیر اہتمام جلسہ ۴۴۷ ملتان کنونشن ۴۴۷ جامع مسجد نقشبندیہ محلہ شیخان وسن پورہ لاہور میں جمعہ ۳۰ اگست کو بعد نماز عشاء جلسہ عام ۴۴۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۱؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۴۸ ملتان میں ختم نبوت کنونشن و کانفرنس ۴۴۸ بہاول پور ختم نبوت ۳۱؍اگست ۱۹۷۴ء کنونشن ۴۴۸ بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۹ کھاریاں کیس کی تحقیقات ۴۴۹ واقعہ کربلا اور ختم نبوت، کوثر نیازی ۴۵۰ قومی اسمبلی ۴۵۰ مجلس عمل نے جلسے کی اجازت نہیں لی ۴۵۰
یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۵۱ مولانا شاہ احمد نورانی سرگودھا میں ۴۵۱
۲؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۵۱ پاکستان سٹوڈنٹس ختم نبوت ﷺ کنونشن ۴۵۱ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے سلسلہ میں جلسہ عام ۴۵۲ طلباء کا اعلان ۴۵۲ ختم نبوت لاہور کنونشن شیرانوالہ باغ مسجد ۴۵۲ ختم نبوت کانفرنس لاہور، یکم ستمبر بعد از عشاء بادشاہی جامع مسجد ۴۵۲ یکم ستمبر لاہور بادشاہی مسجد کی کانفرنس میں بدمزگی ۴۵۷ متحدہ جمہوری محاذ کا اجلاس و فیصلہ ۴۵۸ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد کے سلسلہ میں حضرت بنوری کا بیان ۴۵۸ موچہ، طلباء کی ہڑتال ۴۵۹ ظفر جمال بلوچ کا بیان ۴۵۹ ۳؍ستمبر کو بھٹو صاحب کا بیان ۴۵۹ بہاول پور ۴۶۰ چشتیاں ۴۶۰ خان پور ۴۶۰
۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ ۴۶۰ غلام مصطفیٰ جتوئی وزیر اعلیٰ سندھ کی عوام سے اپیل ۴۶۰ جمعیۃ علماء اسلام حقیقی ۴۶۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور اہم مقامات پر مسلح دستے تعینات کر دیئے گئے ۴۶۱
مجلس عمل کا وفد سندھ کے دورے سے واپس آگیا ۴۶۱
طلباء کی ہڑتال ۴۶۱
رحیم یار خان میں بھی طلباء کا بائیکاٹ ۴۶۲
میاں چنوں میں طلباء پر لاٹھی چارج ۴۶۲
بہاول نگر ۴۶۳
خان قیوم خان کی سینٹ میں تقریر ۴۶۳
واپڈا ہاؤس لاہور میں بم دھماکہ اور رامے صاحب ۴۶۳
احتیاط و ہوش مندی سے کام لیجئے ...... اداریہ روزنامہ ”جنگ“ ۴۶۴
۶، ۷ ستمبر کی کارروائی حضرت مولانا تاج محمود کی زبانی ۴۶۵
۷ ستمبر ۱۹۷۴ء فیصلہ کا دن لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹ ۴۶۸
لمحہ بہ لمحہ، دھڑکتے دل کا سا منظر ۴۷۰
سینٹ سے منظوری کا منظر ۴۷۱
تاریخی قرارداد کا متن ۴۷۱
تاریخی بل کا متن ۴۷۲
آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات ۴۷۳
آرٹیکل نمبر ۲۶۰ ۴۷۳
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر ۴۷۳
ریڈیو پاکستان کی بدحواسی پر نکتہ اعتراض ۴۷۵
پاکستانی قوم کے تاریخی فیصلہ کی تائید ربانی ۴۷۵
قادیانیوں کے مسئلے پر خصوصی کمیٹی نے ۲۸؍اجلاس کئے...... مجموعی طور پر ۹۶ گھنٹے تک غور وخوض کیا گیا ۴۷۵
واقعات کی ترتیب ۴۷۶
تحریک ختم نبوت اور ملتان ۴۷۷
گرفتار شدگان رہا کر دیئے جائیں گے، وزیر اعظم بھٹو کا اعلان ۴۷۷
احمد رضا قصوری صاحب کا مؤقف ۴۷۸
غیر مسلم قادیانیوں کی اکثریت ربوہ چلی گئی ۴۷۸
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی ۴۷۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باب دوم...... سانحہ ربوہ ۱۹۷۴ء کے بارے میں جسٹس صمدانی ٹربیونل کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی ۴۷۹
صمدانی کمیشن ۴۷۹
یکم جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۴۷۹
رجسٹرار کا تقرر ۴۸۰
عدالت کا اشتہار، اعلان ۴۸۰
تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جائے گی، بھٹو وزیر اعظم پاکستان ۴۸۱
۵؍ جون ۱۹۷۴ء ٹربیونل کا اجلاس ۴۸۲
گواہ نمبر ۱...... ملک اقبال حسین ولد محمد حسین بکنگ گارڈ (چناب ایکسپریس) قادیانی ۴۸۳
چوہدری نذیر احمد انچارج گارڈ (احمدی) ۴۸۴
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۴
مسٹر ایم اے رحمن صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۵
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۵
۵؍ جون ۱۹۷۴ء عدالت کا پریس نوٹ ۴۸۶
۶؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۴۸۶
گواہ نمبر ۱...... (ملک اقبال حسین) رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۷
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۸
اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۸۸
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جرح کے جواب میں ۴۸۸
گواہ نمبر ۲...... آفتاب احمد وارثی ۴۸۹
۷؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۴۹۱
کارروائی سے متعلق اجمالی خبر جو اخبارات کو ٹربیونل نے جاری کی ۴۹۱
مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں ۴۹۲
اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۴۹۲
جناب رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۴۹۲
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۴۹۳
۸؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۴۹۳
گواہ نمبر ۳...... نذیر احمد گارڈ انچارج ۴۹۳
گواہ نمبر ۴...... صدیق احمد ۴۹۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۵...... شریف خان انجن ڈرائیور ۴۹۷
۱۰؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۴۹۷
انجن ڈرائیور شریف خان کا بیان (مسٹر اعجاز بٹالوی نے جرح شروع کی) ۴۹۸
گواہ نمبر ۶...... فائر مین غلام مصطفیٰ کا بیان ۴۹۹
گواہ نمبر ۷...... گواہ شکر دین پھاٹک والا ۵۰۰
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۰۱
میاں آفتاب فرخ کی جرح کے جواب میں ۵۰۲
کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۰۲
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۰۳
گواہ نمبر ۸...... کالے خان چک ۲۱۲ لائل پور ۵۰۳
گواہ نمبر ۹...... یونس مسیح ولد مینگا مل سویپر ریلوے ربوہ اسٹیشن ۵۰۴
۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۰۴
گواہ نمبر ۱۰...... مسٹر اللہ بخش اے.ایس.ایم ۵۰۴
جرح: ایم.اے رحمان ۵۰۶
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۰۸
مرزا نصیر احمد کی جرح کے جواب میں ۵۰۸
کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۰۸
گواہ نمبر ۱۱...... عبدالصمد سیکشن کنٹرولر لائل پور ۵۱۰
کمال مصطفیٰ بخاری کی جرح کے جواب میں ۵۱۱
میاں شیر عالم کی جرح کے جواب میں ۵۱۱
گواہ نمبر ۱۲...... سید صفدر حسین، بکنگ کلرک ربوہ ۵۱۱
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۲
اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۲
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۳
گواہ نمبر ۱۳...... مقبول اختر فوڈ گرین سپروائزر ۵۱۳
۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۱۴
کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۱۵
احسان وائیں کی جرح کے جواب میں ۵۱۵
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شیر عالم صاحب ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں ۵۱۶ اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۶ گواہ نمبر ۱۴...... مظفر حسین گارڈ انچارج (۱۱/اپ، پی، ڈبلیو، آر) ۵۱۷ گواہ نمبر ۱۵...... عبد الحمید اختر اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر، ہیڈ کوارٹر لاہور ۵۱۷ ۱۴/ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۱۸ شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۸ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۱۹ مسٹر احسان وائیں کی جرح کے جواب میں ۵۱۹ مسٹر رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۱۹ مسٹر خلیل الرحمن کی جرح کے جواب میں ۵۱۹ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جرح کے جواب میں ۵۱۹ مسٹر لطیف رانا کی جرح کے جواب میں ۵۲۰ رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۲۰ اسماعیل قریشی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۲۰ ۱۵/ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۲۱ (شام کا اجلاس) ایم۔اے رحمن کی جرح کے جواب میں ۵۲۵ ۱۶/ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۲۵ رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۲۶ محمد دین صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۲۷ کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۲۷ عاصم جعفری کی جرح کے جواب میں ۵۲۸ لطیف رانا کی جرح کے جواب میں ۵۲۸ ۱۷/ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۲۸ گواہ نمبر ۱۷...... بشیر احمد سکنہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا ۵۲۹ اعجاز حسین بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۲۹ رفیق باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۲۹ جرح: ایم۔اے رحمان ۵۲۹ گواہ نمبر ۱۸...... ارباب عالم، طالب علم ۵۲۹
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ایم۔اے رحمٰن کی جرح کے جواب میں ۵۳۲ مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۳۲ ۱۸؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۳۳ افتخار احمد انصاری ایڈووکیٹ جھنگ ۵۳۳ اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۳۴ رفیق باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۳۵ رفیق باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۳۵ محمد دین ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں ۵۳۶ گواہ نمبر ۱۹...... حسین بخش، ٹرین ایگزامینر ملتان کینٹ ۵۳۶ خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۵۳۶ گواہ نمبر ۲۰...... آفتاب محمود طالب علم ۵۳۶ گواہ نمبر ۲۱...... خالد عبداللہ ولد محمد صدیق (ڈیرہ غازی خان) طالب علم فرسٹ ایئر نشتر میڈیکل کالج ملتان ۵۳۷ میاں شیر عالم صاحب ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں ۵۳۸ مسٹر ایم۔اے رحمان صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۳۹ ۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۳۹ گواہ نمبر ۲۲...... محمد فاروق، طالب علم نشتر میڈیکل کالج ۵۳۹ اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۴۰ گواہ نمبر ۲۳...... رفعت حیات باجوہ طالب علم ۵۴۰ اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۴۱ گواہ نمبر ۲۴...... محمد امین، طالب علم نشتر میڈیکل کالج ۵۴۱ ۲۰؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۴۳ گواہ نمبر ۲۵...... محمد حسن محمود، طالب علم نشتر میڈیکل کالج ۵۴۳ جرح: مسٹر جعفری ۵۴۴ اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۴۴ ۲۳؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۴۵ گواہ نمبر ۲۷...... محمد اصغر، ڈسپنسر ریلوے ہسپتال ۵۴۶ عاصم جعفری کی جرح کے جواب میں ۵۴۶ گواہ نمبر ۲۸...... نعیم احمد طالب علم نشتر میڈیکل کالج ملتان ۵۴۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵؍جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۴۷ ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۴۸ اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۴۸ گواہ نمبر ۲۹...... نثار احمد طالب علم سال سوم نشتر میڈیکل کالج ملتان ۵۵۰ گواہ نمبر ۳۰...... محمد صالح نور ولد محمد یامین (باغبان پورہ، پنجاب ویجی ٹیبل گھی مل باقرار صالح) ۵۵۰ اسماعیل قریشی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۵۳ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۵۳ مسٹر ایم۔ اے رحمٰن کی جرح کے جواب میں ۵۵۳ ایف۔ ای جعفری کی جرح کے جواب میں ۵۵۵ مسٹر ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۵۶ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۵۵۶ رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۵۶ عزیز احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۵۷ ایم۔ انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۵۹ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۵۵۹ مبشر لطیف احمد کی جرح کے جواب میں ۵۵۹ کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۵۹ مسٹر ابو العاصم جعفری کی جرح کے جواب میں ۵۶۰ مسٹر ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۶۰ گواہ نمبر ۳۱...... محمد ابراہیم، طالب علم نشتر میڈیکل کالج ملتان ۵۶۰ گواہ نمبر ۳۲...... جناب رفیق باجوہ چونڈہ، سیالکوٹ ۵۶۱ ۲۷؍جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۶۱ تنظیم طلیعہ انقلابیہ ۵۶۴ یکم؍جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۶۶ محمد لطیف رانا صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۶۶ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۵۶۷ میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۶۸ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۶۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر شباب مفتی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۶۸ مسٹر ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۶۸ مسٹر احسان وائیں کی جرح کے جواب میں ۵۶۹ رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۶۹ گواہ نمبر ۳۳...... ثناء اللہ، سرگودھا ۵۶۹ اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں ۵۷۱ کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۱ ۲/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۷۲ گواہ نمبر ۳۴...... مسٹر رشید مرتضیٰ قریشی ، ۵-سی گلبرگ لاہور ۵۷۲ گواہ نمبر ۳۵...... مسٹر طیب بخاری ولد محمد عبداللہ (۱۷/ظفر سٹریٹ شاہد کالونی، وحدت روڈ لاہور ) ۵۷۳ مسٹر ایم۔ اے رحمٰن صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۳ مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں ۵۷۳ ایڈیشنل ناظر امور عامہ ربوہ ظہور احمد کا خط ۵۷۴ مسٹر ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۴ میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۴ مسٹر خلیل الرحمٰن صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۵ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۷۵ مسٹر ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۷۵ گواہ نمبر ۳۶...... طالب علم محمد اشرف ۵۷۶ گواہ نمبر ۳۷...... امیر الدین موٹر مکینک ۵۷۷ مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں ۵۷۸ مسٹر شباب مفتی کی جرح کے جواب میں ۵۷۹ میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۷۹ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۷۹ اعجاز حسین بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۸۰ ۴/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۸۰ مسٹر خلیل الرحمٰن کی جرح کے جواب میں ۵۸۰ گواہ نمبر ۳۸...... ڈاکٹر محمد زبیر C.M.O نشتر ہسپتال ملتان باقرارِ صالح ۵۸۰
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۳۹...... ڈاکٹر اقبال احمد ولد چوہدری غلام حسین C.M.O نشتر ہسپتال ملتان باقرار صالح ۵۸۱ ۵ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۸۱ گواہ نمبر ۴۰...... شریف احمد صدیقی ولد ڈاکٹر عبدالسمیع ۵۸۱ ۸ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۸۲ اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں ۵۸۲ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۵۸۲ مسٹر شباب مفتی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۸۴ گواہ نمبر ۴۱...... بشیر احمد ولد چوہدری رحمت علی، صدر عمومی جماعت احمدیہ ربوہ (مکان ۱۷/ ۵ دارالصدر شرقی ربوہ) ۵۸۵ ۱۰ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۸۹ مسٹر ایم انور کی جرح کے جواب میں ۵۸۹ مسٹر ایم اے رحمن کی جرح کے جواب میں ۵۹۰ گواہ نمبر ۴۲...... مولانا غلام غوث ہزاروی (ایم این اے) ولد مولوی سید گل مرحوم، اسلام آباد ۵۹۰ ۱۱ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۹۱ ۱۲ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۹۲ مسٹر کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۹۲ ۱۵ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۵۹۲ گواہ نمبر ۴۳...... ظہور احمد باجوہ، ناظر امور عامہ ۵۹۲ مسٹر رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۵۹۵ میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں ۵۹۸ ملک محمد قاسم صاحب کی جرح کے جواب میں ۵۹۹ مسٹر ایم ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں ۵۹۹ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۵۹۹ ۱۶ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۰۰ مسٹر ابوالعاصم جعفری کی جرح کے جواب میں ۶۰۰ مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں ۶۰۰ مسٹر محمد لطیف رانا کی جرح کے جواب میں ۶۰۰ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۶۰۱ گواہ نمبر ۴۴...... محمد صادق ولد محمد شریف، کلرک بیت المال ربوہ محلہ دارالرحمٰن غربی ساکن ربوہ ۶۰۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۰۵ گواہ نمبر ۴۵...... رشید احمد کلرک امور عامہ ربوہ باقرار صالح (ہتھکڑی کھولی گئی) ۶۰۵ گواہ نمبر ۴۶...... ملک نصیر احمد ولد ملک منور احمد (محلہ دارالوسطیٰ ربوہ) ۶۰۸ گواہ نمبر ۴۷...... ادریس احمد ولد شریف احمد (پرائیویٹ طالب علم، ایف.اے، دارالرحمت غربی ربوہ) ۶۰۹ ۱۸ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۱۰ گواہ نمبر ۴۸...... مرزا ناصر احمد، امام جماعت احمدیہ ۶۱۰ ایم.اے رحمن کی تجویز پر ۶۱۱ میاں شیر عالم کی تجویز پر ۶۱۲ ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۱۶ گواہ نمبر ۴۹...... مسٹر مسکین احسن کلیم ولد محمد امین احسن (ایڈیٹر روزنامہ مشرق لاہور) ۶۱۶ گواہ نمبر ۵۰...... مسٹر مجید نظامی (ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت لاہور) ۶۱۷ گواہ نمبر ۵۱...... ظفر حسین ولد محمد حسین (منیجر اشتہارات روزنامہ مشرق لاہور) ۶۱۷ گواہ نمبر ۵۲...... مسٹر جہاں زیب برکی (ایس.ایس.پی، لائل پور) ۶۱۸ گواہ نمبر ۵۳...... سعید الدین احمد ڈپٹی کمشنر لائل پور ۶۲۱ ۲۰ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۲۲ صمدانی ٹربیونل کا دورہ ربوہ ۶۲۲ ۲۳ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۲۶ گواہ نمبر ۵۴...... حسن علی ولد محمد علی (نلکا مرمت کرنا، گول بازار دارالصدر جنوبی ربوہ) ۶۲۶ گواہ نمبر ۵۵...... فہیم احمد ولد سلطان احمد (دوکاندار سگریٹ پان، محلہ دارالنصر غربی ربوہ) ۶۲۸ گواہ نمبر ۵۶...... عبد المنان ولد عبد السلام (گول بازار، مکان ۵/۱۶، محلہ دارالصدر مشرقی ربوہ) ۶۲۹ ۲۴ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۳۰ گواہ نمبر ۵۷...... انور اے دہامی برانچ منیجر نیشنل سیکورٹی انشورنس کمپنی لائل پور ۶۳۰ گواہ نمبر ۵۸...... عبد الرحیم ولد محمد اکبر سب انسپکٹر تھانہ ریلوے پولیس سرگودھا (ایس.ایچ.او) ۶۳۱ مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں ۶۳۲ ملک محمد قاسم صاحب کی جرح کے جواب میں ۶۳۲ گواہ نمبر ۵۹...... عبد الرشید چوہدری ولد میاں عبد الرحمن (آفس سپرنٹنڈنٹ پاکستان جنرل انشورنس کمپنی لاہور) ۶۳۴ ۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۳۴ گواہ نمبر ۶۰...... مبشر احمد ولد ڈاکٹر رشید احمد (طالب علم، مکان محلہ دارالصدر غربی الف ربوہ) ۶۳۴
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۶۱...... آغا عبدالکریم شورش کاشمیری ولد میاں نظام الدین احمد (۲۴- دی مال روڈ لاہور) ۶۳۵
۲۶/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۳۶
گواہ نمبر ۶۲...... محمد عنایت اللہ ولد راجہ لال خاں (ایس . ایچ . او لالیاں) ۶۳۶
مبشر لطیف کی جرح کے جواب میں ۶۳۷
چوہدری عزیز احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں ۶۳۷
گواہ نمبر ۶۳...... شکیل اختر ہاشمی ولد اکرام الحق ہاشمی (منیجر اورینٹ ایڈورٹائزر لمیٹڈ تھارنٹن روڈ لاہور) ۶۳۸
گواہ نمبر ۶۴...... صابر حسن علوی ولد محمد احسن علوی (منیجر اسلام آباد برانچ، اورینٹ ایڈورٹائزر لمیٹڈ) ۶۳۸
گواہ نمبر ۶۵...... عطاء الحق ولد چوہدری محمد عبداللہ (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ۴ مزنگ روڈ لاہور) ۶۳۸
۲۹/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۴۰
گواہ نمبر ۶۶...... مقصود احمد ولد محمد، قوم گوڑھ (سبزی فروش ساکن رحمت بازار ربوہ) ۶۴۰
ایم . اے طاہر کی جرح کے جواب میں ۶۴۱
گواہ نمبر ۶۷...... بشارت احمد ولد عبداللہ خان (زیر حراست) دوکاندار سبزی فروش رحمت بازار ربوہ باقرار صالح ۶۴۱
گواہ نمبر ۶۸...... خان لطیف غزنوی ولد نیک محمد خان غزنوی ۶۴۳
گواہ نمبر ۶۹...... محمد انور لودھی ولد محمد افضل خان لودھی، ریلوے گارڈ لائل پور ہیڈ کوارٹر، ۲۶۱- ریلوے کالونی لائل پور ۶۴۴
۳۰/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی ۶۴۶
گواہ نمبر ۷۰...... محمد طارق ملک ولد ملک جمال دین، طالب علم تھرڈ ائیر Engineering لاہور، باقرار صالح ۶۴۶
ٹریبیونل نے سماعت مکمل کر لی ۶۴۹
پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کر دی گئی ۶۵۰
واقعہ ربوہ کی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی ۶۵۱
وفاقی کابینہ میں رپورٹ پر غور ۶۵۱
جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ۶۵۲
باب سوم...... متفرق رپورٹیں ، روایات ، انٹرویو ، شخصیات ، تاریخی اشتہارات ، نظمیں ۶۵۳
روایات حضرت مولانا تاج محمود ۶۵۳
قادیانی اور کھر ۶۵۳
کھر اور تحریک ختم نبوت ۶۵۴
جناب ساجد اعوان ۶۵۶
مجلس عمل سرگودھا کی رپورٹ ۶۶۴
مجلس عمل تحریک ختم نبوت ضلع سرگودھا، ۳۰/ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷/ ستمبر ۱۹۷۴ء ۶۶۵
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کے عہدیداران ۶۶۵ شہری مضافاتی مجالس عمل ۶۶۵ خدام مجلس عمل ۶۶۵ سب کمیٹیاں ۶۶۵ نشر و اشاعت ۶۶۵ بیرونی رابطہ ۶۶۵ ضلع سرگودھا میں گرفتاریاں ۶۶۶ سوشل بائیکاٹ ۶۶۶ تاریخی ہڑتال ۶۶۶ مرزائیوں کی اشتعال انگیزیاں ۶۶۷ تاریخی استقبال ۶۶۷ تاریخی قافلہ یکم ستمبر لاہور کے لئے ۶۶۷ میانی ضلع سرگودھا ۶۶۷ مجلس عمل کوٹ مومن ۶۶۸ بھیرہ ۶۶۸ ضلع اٹک کی رپورٹ ...... ”جناب عابد حسین صدیقی“ ۶۶۹ پنجند اور کسراں ۶۷۰ ۴...... دارالمطالعہ ۶۷۰ ۵...... جلوس و ہڑتالیں ۶۷۱ ۶...... گرفتاریاں ۶۷۱ سجاد شہید ۶۷۲ مقدمات ۶۷۲ قبول اسلام ۶۷۳ کیمبل پور جلسوں کے مقررین ۶۷۳ راولپنڈی اور شیخ القرآن ۶۷۴ اسلام آباد دارالحکومت میں تاریخی جلوس ۶۷۵ اسیران ختم نبوت کا لاٹھیوں اور شیلنگ سے استقبال ۶۷۶ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں ہری پور کا کردار ۶۷۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام آباد ۶۷۹ مولانا محمد ابراہیم مسجد انارکلی لاہور کے چند واقعات ۶۸۰ ایک اہم واقعہ ۶۸۱ اوباڑہ ضلع سکھر ۶۸۱ کوٹ عبدالمالک ضلع شیخوپورہ ۶۸۲ ایک بچے کے جذبات ۶۸۳ جلوس و جلسہ چن کوٹ، آزاد کشمیر ۶۸۵ بلہگ بالا ضلع مانسہرہ ۶۸۵ ژوب بلوچستان (صوفی محمد علی) ۶۸۶ گرفتاریاں ۶۸۷ تحریک تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان ۶۸۷ کراچی ۶۸۷ حیدر آباد ۶۸۸ ٹنڈو الہ یار ۶۸۸ خیر پور ۶۸۹ سکھر ۶۸۹ نواب شاہ ۶۸۹ شکار پور ۶۸۹ جیکب آباد ۶۸۹ لاڑکانہ ۶۹۰ رحیم یار خان ۶۹۰ بہاول پور ۶۹۰ بہاول نگر ۶۹۱ ملتان ۶۹۱ مظفر گڑھ ۶۹۲ ڈیرہ غازی خان ۶۹۲ ساہیوال ۶۹۲ سرگودھا ۶۹۳
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لائل پور ۶۹۳ جھنگ ۶۹۳ میانوالی ۶۹۴ لاہور ۶۹۴ شیخوپورہ ۶۹۵ گوجرانوالہ ۶۹۵ حافظ آباد ۶۹۵ سیالکوٹ ۶۹۵ گجرات ۶۹۶ جہلم ۶۹۶ کیمبل پور ۶۹۶ راولپنڈی ۶۹۶ پشاور ۶۹۶ مردان ۶۹۷ بنوں ۶۹۷ کوئٹہ ۶۹۷ قلات ۶۹۸ ژوب ۶۹۸ شعبہ نشریات ۶۹۸ ضلع بہاول نگر کی رپورٹ ۷۰۰ فیصلہ جمعیۃ القرآن بہاول نگر بابت قربانی قادیانی ۷۰۱ گوجرانوالہ ۷۰۳ یکم / جون ۱۹۷۴ء کا جلسہ ۷۰۴ ٹنکے والی میں مجلس عمل کا قیام ۷۰۵ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سکھیکی منڈی تحصیل حافظ آباد ۷۰۵ نوشہرہ ورکاں مجلس عمل ۷۰۵ منڈی کامونکی ۷۰۶ مجلس عمل فیروز والہ ۷۰۶
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قلعہ دیدار سنگھ ۷۰۶ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت علاقہ نوشہرہ ورکاں ۷۰۷ ضلع کی رپورٹیں ۷۱۱ مولانا شیر الرحمن (گوجرانوالہ) ۷۱۱ حافظ حمید اختر صاحب (گکھڑ) ۷۱۱ عبد الشکور وزیر آبادی ۷۱۲ قلعہ دیدار سنگھ ۷۱۲ حبیب اللہ (سکھیکی) ۷۱۲ فیروز والہ ۷۱۳ ایمن آباد موڑ ۷۱۳ محمد اسحاق (علی پور) ۷۱۳ کلاسکے، کولو والا، مولوی امیر حسین ۷۱۳ حکیم عبد الرحمن (گوجرانوالہ) ۷۱۴ مولانا محمد اسحاق (نوشہرہ ورکاں) ۷۱۵ رپورٹ کارکردگی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وزیر آباد ۷۱۶ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی شام تاریخ کے نازک لمحات کا منظر ۷۱۶ صاحبزادہ فاروق علی سپیکر قومی اسمبلی ۷۲۰ مولانا ظفر احمد انصاری ۷۲۰ صاحبزادہ صفی اللہ خان (جماعت اسلامی دیر) ۷۲۰ مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) ۷۲۰ مولانا مفتی محمود ۷۲۰ پروفیسر غفور احمد ۷۲۱ مولانا شاہ احمد نورانی ۷۲۱ سردار مولا بخش سومرو ۷۲۱ جناب یحییٰ بختیار کا انٹرویو ۷۲۲ بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو کیسے غیر مسلم قرار دیا...... جناب مصطفیٰ صادق ایڈیٹر روزنامہ وفاق ۷۲۶ علماء اور نوابزادہ نصر اللہ خان ۷۲۶ بائیکاٹ کی مہم ۷۲۷
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وزارت اطلاعات کی جوابی مہم ۷۲۷ نازک ترین لمحات ۷۲۸ کوئٹہ میں بھٹو سے ملاقات ۷۲۸ اعتماد کا ووٹ ۷۲۸ اہم واقعات (رندھاوا، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا محمد بخش مسلم، راولپنڈی کے عالم دین) ۷۲۸ بھٹو کا رد عمل ۷۲۹ کامیابی کی علامت ۷۲۹ واپسی کا سفر ۷۳۰ عجیب و غریب اتفاق ۷۳۰ معلومات کا بوجھ ۷۳۱ ٹیپ کے انتظامات ۷۳۱ بے چینی کی رات، بے قراری کے لمحات ۷۳۲ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں ۷۳۲ مسز بھٹو کو بلاوا ۷۳۳ غیر معمولی صورتحال ۷۳۳ کیا خوب سوجھی ۷۳۴ دھونس اور دبدبے سے دلیل اور اپیل تک ۷۳۴ یحییٰ بختیار ...... مرد جری ۷۳۴ حفیظ پیرزادہ بھی بولے ۷۳۵ بیٹی (بے نظیر بھٹو) کا خط ۷۳۵ ماحول میں آسودگی ۷۳۵ ایک اہم گزارش ۷۳۶ یحییٰ بختیار کی تائید ۷۳۶ وفد سے ملاقات ۷۳۶ معنی خیز گفتگو ۷۳۶ اف یہ بے بسی ۷۳۷ توشۂ آخرت ۷۳۷ تاریخی اشتہارات، نظمیں ۷۳۸
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انتساب
مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھری جو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کے نائب ناظم تھے، انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور بھر پور محنت شاقہ سے تحریک کو اپنا خون جگر دے کر آبیاری فرمائی۔
مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمد جنہوں نے سانحہ ربوہ کو ملک گیر تحریک کی شکل دی۔ اپنی گراں مایہ ذہانت سے تحریک کو پروان چڑھایا اور اسلامیان پاکستان کو منزل مراد سے ہمکنار فرمایا۔ یہ ہر دو بزرگ فقیر کے مربی ومحسن تھے۔ ان کے بھر پور اعتماد نے فقیر کو ختم نبوت کے کام کرنے کا ٹوٹا پھوٹا سلیقہ نصیب فرمایا۔ ان کے فیضان صحبت کی یادیں فقیر کے لئے دنیا میں سہارا اور آخرت کا توشہ ہیں۔ فقیر کا ہر سانس ان کا ممنون احسان ومشکور فیضان ہے۔ ان ہر دو بزرگوں کے نام اپنی اس کتاب کو منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔ حق تعالیٰ شانہ تادم واپسیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزاں فرمائیں۔ آمین بحرمة النبى الامى الكريم!
فقیر اللہ وسایا ۱۵/ذیقعدہ ۱۴۱۵ھ / ۱۷/اپریل ۱۹۹۵ء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمد للہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ اما بعد!
محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے تحریک ختم نبوت کی تیسری جلد پیش خدمت ہے۔
اس جلد میں ۲۹؍ مئی سے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء تک تحریک ختم نبوت کی رپورٹ شامل ہے۔ جب کہ آخر پر متفرق رپورٹیں اور اشتہارات شامل کئے ہیں۔ الحمد للہ! یوں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے باب اوّل، احرار کانفرنس قادیان اکتوبر ۱۹۳۴ء سے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ تک، شروع ہونے والا یہ سفر اس کتاب میں طے ہو گیا ہے۔ جو کچھ ہوا، محض توفیق ایزدی سے اور آئندہ بھی جو کچھ ہوگا، اسی ذات کریم کے کرم سے ہوگا۔ اس جلد میں تمام تر مواد اخبارات سے لیا گیا ہے۔ زیادہ تر استفادہ ”نوائے وقت“ سے کیا گیا ہے۔ ۲۹؍ مئی سے ۷؍ ستمبر تک بارہا اخبارات پر سنسر شپ رہا۔ اس لئے جتنا تحریک کا جوش و خروش، جوبن و جوانی تھی یا جو اس کی آن بان تھی، اس کی مکمل رپورٹنگ نہیں ہو سکی۔
اخبارات پر اگر سنسر شپ نہ ہوتا تو کتاب میں نہ صرف یہ کہ اضافہ ہو جاتا بلکہ ایک دینی و قومی تحریک کی مکمل روئیداد قوم کے سامنے آ جاتی۔ بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ خان کا بیان آپ اس کتاب میں پڑھیں گے۔ ان کی ساری زندگی تحریکوں میں گزری ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں ۷۴ء کی تحریک ختم نبوت جیسی پرامن اور منظم تحریک کبھی نہیں دیکھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ تحریک بڑی منظم اور پرامن تحریک تھی۔ کتاب کے مطالعہ کے وقت یہ بات پیش نظر رہے کہ تحریک کی روئیداد اخبارات کی ”تاریخوں“ کے اعتبار سے مرتب کی ہے۔ (واقعات کے اعتبار سے نہیں) مثلاً ۱۶؍ جون کو فیصل آباد میں مجلس عمل کی میٹنگ ہوئی۔ اس کی خبر ۱۷؍ جون کو اخبارات میں شائع ہوئی۔ قرار دادیں ۱۸؍ جون کو جاری کیں تو وہ ۱۹؍ جون کو شائع ہوئیں تو اب ۱۶؍ جون کی میٹنگ کی کارروائی آپ ۱۷، ۱۸، ۱۹؍ جون کی تاریخوں میں ملاحظہ فرما سکیں گے۔ ہفتہ وار ”ختم نبوت“ کراچی اور ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد میں بارہا اعلان کیا گیا کہ رفقاء اپنے اپنے حلقہ کی تحریک کی رپورٹیں بھجوائیں۔ بہت کم رفقاء نے رپورٹیں بھجوائیں تاہم جو کچھ ملا وہ آخری باب میں شامل کر دیا ہے۔ کوشش و خواہش یہی تھی کہ تحریک سے متعلق کوئی واقعہ یا تحریک کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔ اس میں کتنی کامیابی ہوئی، مکمل کتاب پڑھنے کے بعد اپنی قیمتی رائے سے مطلع فرمائیں۔
دفتر مرکزیہ کے رفقاء مخدوم زادہ چوہدری محمد عثمان شاہد ایڈووکیٹ، برادرم محترم رانا محمد طفیل جاوید، برادرم محترم جمعہ خان، جناب جمال عبد الناصر، محترم جاوید اور مولانا ظفر محمود نے پروف ریڈنگ کے لئے معاونت فرمائی۔ مبلغین حضرات میں سے حضرت مولانا خدا بخش (چناب نگر)، مولانا عبد العزیز (مبلغ خانیوال)، مولانا محمد علی (مبلغ راولپنڈی) اور مہمانوں میں سے محترم قاضی رضوان احمد، مخدوم زادہ جناب صاحبزادہ نجیب احمد نے بھی گاہے بگاہے معاونت فرمائی۔ حق تعالیٰ شانہ ان سب حضرات کو جزائے خیر دیں۔
برادرم محترم محمد متین خالد نے بھی حسب سابق بدل و جان تعاون فرمایا۔ انہی کی کرم فرمائیوں کے باعث اس قابل ہوا ہوں کہ کتاب آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر سکوں۔
حق تعالیٰ شانہ اس کتاب کو محض اپنے فضل سے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ فقیر کے لئے ذریعہ نجات اخروی اور حضور سرور کائنات ﷺ کی شفاعت کبریٰ کے لئے وسیلہ بنائیں۔ آمین بحرمۃ النبی الامی الکریم!
فقیر اللہ وسایا، ملتان ۱۳؍ ذوالحجہ ۱۴۱۵ھ / ۱۳؍ مئی ۱۹۹۵ء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
یکم جنوری ۱۹۷۴ء
سے
۲۸؍ مئی ۱۹۷۴ء
تک کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باب اوّل
قارئین تحریک ختم نبوت ایبٹ آباد میں قادیانیوں کی طرف سے کاکول ملٹری اکیڈمی کے قریب ایک ربوہ ثانی بنانے کی سازش کی تفصیلات گزشتہ جلد میں پڑھ چکے ہیں۔
- ۱...... ۱۱؍جنوری ۱۹۷۴ء کے ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ کی رپورٹ کے مطابق قادیانیوں نے دوبارہ اس جگہ منہ مارنے کی کوشش کی جو کامیاب
نہ ہوسکی۔ ان کی الاٹمنٹ منسوخ ہوگئی۔ وہاں پر کالج قائم ہوا۔ آج اسی کالج میں ختم نبوت طلباء کی شاخ قائم ہے جو جگہ قادیانی اپنی جھوٹی نبوت کے کاروبار چلانے کے لئے حاصل کر چکے تھے، اس جگہ آج ختم نبوت کے تحفظ کے پھریرے بلند ہورہے ہیں۔
- ۲...... لاہور میں ۲۲؍فروری ۱۹۷۴ء کو اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کے
انگلش رسائل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عربی رسائل واشتہارات تقسیم کر کے دنیا بھر کے مسلم سربراہوں کو فتنہ قادیانیت سے باخبر کیا گیا۔
- ۳...... اسرائیل سے ایک یہودی کا سرکاری رسالہ میں مضمون شائع ہوا جس میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی جماعت قرار دیا گیا۔ اس کی
تفصیلات ذیل کی خبر سے معلوم ہوسکتی ہیں۔
مرزائی امت کی خدمات کا تذکرہ ،اسرائیل کے سرکاری جریدے میں
ہر حکومت اپنے مخصوص مقاصد کی تبلیغ واشاعت کے لئے مختلف رسائل نکالتی ہے۔ مثلاً گورنمنٹ آف انڈیا کا اردو ماہنامہ ’’آج کل‘‘ اور پاکستان کی مرکزی حکومت کا ’’ماہ نو‘‘۔
اسرائیل کی حکومت بھی کئی رسالے شائع کرتی ہے۔ اس کا ایک عربی رسالہ ’’الاخبار الاسلامیہ‘‘ ہے۔ ایڈیٹر ایک خوفناک یہودی یعقوب یوشع ہے۔ اس رسالہ کے صفحہ ۲۰ پر ’’الجماعت الاسلامیہ الاحمدیہ‘‘ کے زیرعنوان قادیانی امت کے سوانح افکار اور آثار ومساعی پر ۱۱ صفحات کا مقالہ شائع ہوا ہے۔ یہ مقالہ عربوں کو پاکستان سے بدظن کرنے کے لئے کافی ہے۔ آخر عرب کیوں کر گوارا کر سکتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسی امت کا ہیڈ کوارٹر ہو، جو محمد عربی ﷺ کی ختم المرسلینی کو اپنی مقراض سے دو لخت کر کے ایک ہندی نژاد کو پیغمبر مانتی اور اس کے نام سے احمدی امت کہلاتی ہے۔
یہ بات ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ عرب ممالک میں مرزائی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان ان کی ریاست ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
(چٹان،مؤرخہ ۴؍فروری ۱۹۷۴ء)
- ۴...... رفیق باجوہ اور مولانا محمد صدیق صاحب پر چونڈہ میں قادیانیوں نے قاتلانہ حملہ کیا۔ مولانا تاج محمود مرحوم اور آغا شورش کاشمیری
نے اس قادیانی جارحیت کو ملک کے عوام کے سامنے واضح کیا۔ اس سے قادیانیوں کے متعلق مسلمان قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ قادیانی، مسلمانوں کے ساتھ کس قسم کا سفاکانہ سلوک کرنے کے متمنی ہیں۔
- ۵...... ۳۱؍جنوری ۱۹۷۴ء کو سیاسی قادیانی لابی نے بھٹو صاحب کو لاہور مل کر غلام مصطفی کھر کے خلاف شکایت کی اور بدظن کیا۔
قادیانی، بھٹو صاحب اور کھر صاحب کو لڑا کر بھٹو صاحب کو پنجاب میں غیر مؤثر بنانا چاہتے تھے۔ یہ ان کی سازش محض آئین میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان کی تعریف درج کرنے کے جرم میں بھٹو صاحب سے انتقام لینے کے لئے تھی۔
- ۶...... چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے ۱۸؍ جنوری ۱۹۷۴ء میں بھارت کا خفیہ دورہ کیا اور ہندوستان حکومت کے سیاسی نمائندوں اور انٹیلی
جنس بیورو کے افسروں سے ملاقات کی۔
- ۷...... مارچ ۱۹۷۴ء میں مولانا شمس الدین مجاہد ختم نبوت کا واقعہ شہادت پیش آیا۔
- ۸...... مارچ ۱۹۷۴ء میں کوئٹہ سے ختم نبوت کے ترجمان ہفتہ وار ’’نوائے بلوچستان‘‘ پر بندش عائد کر دی گئی۔
- ۹...... قادیانیوں کی ہر محکمہ میں جارحانہ ارتدادی سرگرمیاں پاکستان کے مسلمانوں کے لئے پریشانی کا باعث بن گئیں۔
- ۱۰...... جناب بھٹو نے پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ظفر چوہدری قادیانی کو فوج سے بیک بینی و دوگوش نکال دیا تو مرزائی بھٹو صاحب
کے خلاف سراپا انتقام بن گئے۔
- ۱۱...... کھر صاحب، بھٹو صاحب سے علیحدہ ہوئے تو قادیانیوں نے کھر صاحب پر فیصل آباد میں سنگ باری کرائی تاکہ وہ اسے
پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے خیال کر کے بھٹو صاحب کے خلاف سرگرم عمل ہو جائیں۔
- ۱۲...... کھر صاحب کی ’’بڑھکوں‘‘ کو دیکھ کر قادیانی سربراہ مرزا ناصر نے ’’غلبہ اسلام‘‘ پر خطبے دینے شروع کر دیئے۔ جس سے وہ
قادیانیوں کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ بھٹو حکومت کا تختہ الٹا جا رہا ہے۔
- ۱۳...... کھر صاحب کے بعد پنجاب میں رامے صاحب آئے تو اس کے مشیر راجہ منور مقرر ہوئے۔ یہ دونوں قادیانی لابی شمار کئے جاتے تھے۔
- ۱۴...... یہ اور اس قسم کے دیگر ایسے عوامل تھے، جس سے قادیانی بھٹو صاحب سے آئین میں مسلمان کی تعریف درج کرنے اور
ظفر چوہدری کو برطرف کرنے کا انتقام لینے کے لئے اس کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہر طرف ان کے مہرے کام کر رہے تھے اور قادیانی شاطر قیادت ملک میں ایک کھیل کھیلنا چاہتی تھی۔
- ۱۵...... مرزا ناصر نے انگلستان وافریقہ کا سفر کیا۔ واپسی پر اپنے نوجوانوں کی تنظیم ’’خدام الاحمدیہ‘‘ کا ربوہ میں عسکری تربیت کا ڈول ڈالا
اور جنگی تربیتی گھوڑوں کی نمائش پر انعامات کا اعلان کیا۔ اپنے پیروؤں سے اڑھائی کروڑ کی رقم طلب کی۔ چند دنوں بعد اعلان کیا کہ یہ رقم پانچ کروڑ ہو جائے گی۔ یہ دراصل اس روپے کی پردہ پوشی کے لئے حیلہ تھا جو عالمی استعمار کی معرفت ربوہ میں آ رہا تھا۔ لیکن اس کا بڑا حصہ غیر ملکی بینکوں میں محفوظ تھا۔
- ۱۶...... مرزا ناصر کی ہدایت پر قادیانی نوجوان مختلف سیاسی وسماجی تنظیموں کے ممبر بن کر ان کے راز ربوہ کو پہنچا رہے تھے۔
- ۱۷...... حکومتی راز قادیانی سرکاری ملازمین کی معرفت (ہر محکمہ کے) مرزا ناصر کی میز پر تھے۔ ادھر علاقائی افسروں کا یہ عالم تھا کہ
مرزائیت کے رسوخ کی بدولت کوئی سی بھی کارروائی کرنے سے معذور تھے۔ مرزا ناصر ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔ اپنے پٹھے پر کسی کو ہاتھ نہ رکھنے دیتے تھے۔ ملک میں اقتدار کے خواب دیکھ رہے تھے کہ جناب مولانا مفتی محمود اور ان کے گرامی قدر رفقاء کی کاوشوں سے آئین میں مسلمان کی تعریف شامل ہو گئی۔ مرزا ناصر کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ اپنے پاؤں تلے زمین سرکتی نظر آئی تو بھٹو صاحب سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے خون خرابہ اور لاء اینڈ آرڈر کی ہیجانی کیفیت پیدا کرنی چاہی۔ اس کے لئے انہوں نے منصوبہ بندی کی۔ قادیانی سازش جوں جوں بڑھتی گئی، توں توں مسلمانوں میں بیداری اور قادیانی گروہ کے احتساب کے لئے سوچ و بچار کی لہر پیدا ہوتی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان اور قادیانی دونوں ایک دوسرے کو اپنے لئے خطرہ سمجھنے لگے۔ ان حالات میں قدرت کی طرف سے یہ ہوا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر کی وفات (جون ۱۹۷۳ء) کے بعد عارضی طور پر کچھ عرصہ کے لئے حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات امیر مقرر ہوئے۔ عالمی مجلس کی مستقل امارت کے لئے امیر مرکزیہ کا انتخاب درپیش تھا۔ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کو اکابرین امت نے آمادہ کیا۔ وہ اس شرط پر امیر بننے کے لئے آمادہ ہوئے کہ نائب امیر حضرت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب ہوں۔ چنانچہ ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء، مطابق ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ کے انتخاب کے لئے اجلاس طلب کیا گیا۔ دعوت نامہ ریکارڈ پر محفوظ رکھنے کے لئے درج کیا جاتا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمده ونصلى على رسوله الكريم انا خاتم النبيين لا نبى بعدى (الحديث)
مکرمی ............................................................................ زید مجدکم سلام مسنون ! مزاج گرامی
حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کنوئیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرکزی امارت کے انتخاب کے لئے ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ مطابق ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء بروز منگل مقرر فرمائی ہے۔ یہ اجتماع دفتر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان میں ہوگا۔ ہر رکن بذریعہ خط یا بالمشافہ رائے دینے کا مجاز ہے۔ از راہ کرم آپ کے مقامی اراکین ختم نبوت دونوں صورتوں میں جس پر عمل کرنا چاہیں، اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ تشریف آوری کی صورت میں مذکورہ تاریخ پر علی الصبح ۸ بجے دفتر ملتان پہنچنا ضروری ہے۔ بصورت خط ۱۴؍ ربیع الاول تک جواب پہنچنا ضروری ہے۔ خط کی صورت میں مقامی امیر کی تصدیق، تشریف آوری کی صورت میں مقامی امیر کی تصدیق یا فیس رکنیت کی حاصل کردہ رسید ہمراہ ہونا ضروری ہے۔ احقر الانام : عبدالرحیم اشعر دفتر تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان
چنانچہ ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو ملتان دفتر مرکزیہ میں اجلاس منعقد ہوا۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، نائب امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری منتخب ہوئے۔ قدرت کی طرف سے امت مسلمہ پر ایسا فضل ہوا جس سے مسلمانوں کو حضرت شیخ بنوری جیسا قائد مل گیا۔ آپ کی علمی وجاہت، دینی شخصیت، غیر متنازعہ عظیم روحانی رہنما، تمام حلقوں میں یکساں مقبول تھی۔ حضرت بنوری کا ختم نبوت جماعت کی قیادت کو سنبھالنا تھا کہ سانحہ ربوہ پیش آگیا۔
اب غور فرمائیے کہ اپریل ۱۹۷۴ء میں حضرت بنوری امیر بنتے ہیں اور مئی ۱۹۷۴ء میں سانحہ ربوہ پیش آ جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں بھر پور قیادت، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا عبدالحکیم دیگر رہنماؤں کی شکل میں موجود تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مرحوم ان دنوں قائد حزب اختلاف تھے۔ مرکز میں وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ تھے۔ وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان اور دوسری طرف پنجاب میں حنیف رامے وزیر اعلیٰ، راجہ منور اس کا مشیر خاص، ربوہ میں مرزا ناصر اور مرزا طاہر قادیانی قیادت تھی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رب کریم کا کرنا یہ ہوا کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان میں طلباء یونین کا الیکشن ہوا۔ مسلمان طلباء کے مقابلہ پر بعض قادیانی بھی الیکشن میں آگئے ۔ اس سے مسلمان طلباء میں قادیانی عقائد و عزائم کو سمجھنے کا موقع میسر آیا۔ ” آئینہ قادیانیت “ نامی پمفلٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر و اشاعت نے شائع کر کے وسیع تعداد میں نشتر میڈیکل کالج ملتان میں تقسیم کیا۔ الیکشن جیت کر مسلمان طلباء سیر و سیاحت کے لئے پشاور کے سفر پر جانا چاہتے تھے ۔ وہ لاہور کے راستہ کی طرف سے پشاور جانے کے لئے خیبر میل میں بکنگ کرانے کے لئے گئے ۔ خیبر میل میں ان کو بوگی میسر نہ آئی تو چناب ایکسپریس سے بکنگ ہوئی ۔ چناب ایکسپریس ربوہ سے ہو کر گزرتی ہے ۔ ربوہ کے قادیانی ہر آنے جانے والی گاڑی کے مسافروں میں قادیانیت کا ان دنوں لٹریچر تقسیم کرتے تھے ۔ انہوں نے ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب ایکسپریس کے مسافروں میں لٹریچر تقسیم کیا۔ ان میں نشتر کالج کے زیر تعلیم سٹوڈنٹس بھی تھے ۔ وہ بپھر گئے ۔ اسٹیشن پر تو تکار ہوئی ۔ ٹرین چلی گئی ۔ قادیانی قیادت نے اسے اپنی خود ساختہ اسٹیٹ میں مداخلت بے جا اور اپنی توہین تصور کیا ۔ ان طلباء نے ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو واپس آنا تھا۔ قادیانی شاطر قیادت منصوبہ بندی میں لگ گئی کہ ان طلباء سے انتقام لینا ہے ۔ ربوہ ، لالیاں ، نشتر آباد ، سرگودھا وغیرہ اسٹیشنوں پر قادیانی عملہ تعینات تھا۔ ان مقامات سے قادیانی جتھے ٹرین پر سوار ہوئے ۔ مسلمان طلباء کی بوگی نمبر اور ٹرین کی آمد کے متعلق قادیانی عملہ نے ان کو معلومات مہیا کیں ۔ جس کی تفصیلات صمدانی ٹربیونل میں گواہوں کے بیانات کی روشنی میں آپ آگے ملاحظہ کریں گے ۔ ٹرین ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ پہنچی تو شیطان نے قادیانیت کے روپ میں جارحانہ و سنگدلانہ کھیل کھیلا ۔ ۲۹ مئی کو سانحہ ربوہ پیش آیا ، جس کی تفصیلات آپ ملاحظہ فرمائیں ۔
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر جو چناب ایکسپریس سے سفر کر رہے تھے ، قادیانی اوباشوں نے حملہ کیا ۔ یہی واقعہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کا پیش خیمہ بن گیا ۔ اس واقعہ سے متعلق حضرت مولانا تاج محمود مرحوم کے انٹرویو کا ایک حصہ پیش خدمت ہے ، جو ” تذکرہ مجاہدین ختم نبوت “ کے ص ۷۹ تا ۸۵ سے ماخوذ ہے ۔
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر آہنی سلاخوں ، لوہے کی تاروں کے بنائے ہوئے کوڑوں ، آہنی پنجوں سے حملہ کیا گیا ۔ ان کو خوب مارا پیٹا ، زخمی کیا گیا ۔ ایک ہفتہ پہلے یہ لڑکے تفریحی سفر پر پشاور کے لئے جاتے ہوئے چناب ایکسپریس سے ربوہ اسٹیشن پر اتر کر اپنے کلاس فیلو قادیانی طلباء سے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ قادیانیوں کا اس زمانہ میں معمول تھا کہ وہ ربوہ سے تمام گزرنے والی ٹرینوں پر مسافروں میں اپنا تبلیغی لٹریچر تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس روز ان طلباء میں بھی انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا۔ اس سے قبل طلباء کا نشتر میڈیکل کالج ملتان میں انتخاب ہوا تھا۔ ایک قادیانی اس میں امیدوار تھا۔ مسلمان طلباء نے قادیانیت کی بنیاد پر اس کی مخالفت کی تھی۔ قادیانیت کے خلاف مسلمان طلباء کی ذہن سازی تھی ، اس لئے اس قادیانی لٹریچر کے تقسیم ہوتے ہی مسلمان طلباء بپھر گئے۔ قادیانیوں نے بھی ان کی جرات رندانہ کا شدید نوٹس لیا۔ قریب کی گراؤنڈ میں قادیانی نوجوان کھیل رہے تھے ۔ ان کو اطلاع ملی وہ ہاکیوں سمیت اسٹیشن پر آ دھمکے ۔ مسلمان طلباء بھی برہم ، تو تکار تک معاملہ پہنچا ۔ خدا کا شکر ہے ٹرین روانہ ہو گئی اور کوئی حادثہ نہ ہوا۔ تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ قادیانیوں نے طلباء پر سی آئی ڈی لگا دی ۔ ان کے پروگرام کا معلوم کیا اور ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگے ۔ ہفتہ کے بعد جب وہ اسی ٹرین سے واپس ہوئے تو سرگودھا سے ہی ان کے ڈبے میں قادیانی نوجوان ”خدام الاحمدیہ“ نیم فوجی تنظیم کے رضا کار سوار ہو گئے۔ جب یہ گاڑی نشتر آباد پہنچی ، وہاں کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے بذریعہ ریلوے فون ، ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو مطلع کیا کہ طلباء کا ڈبہ آخری سے تیسرا ہے ۔ اس سے قبل ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر سرگودھا تک کے اسٹیشن سے ٹرین کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا ۔ گویا قادیانی قیادت بڑی تیاری سے دیوانگی کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرگودھا، شاہین آباد، لالیاں سے بھی قادیانی نوجوان اس ڈبہ میں سوار ہوئے۔ حالانکہ یہ ڈبہ ریزرو تھا۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو پہلے سے موجود قادیانی غنڈوں نے طلباء کے ڈبہ کا دونوں اطراف سے گھیراؤ کر لیا۔ قادیانی غنڈوں نے صدر و ناظم امور عامہ ربوہ اور محتسب اعلیٰ ربوہ کی قیادت میں بڑی بے دردی سے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا ، زخمی کیا۔ طلباء لہولہان ہو گئے۔ ان کے کپڑے پھٹ گئے۔ جسم زخموں سے چور چور ہو گئے۔ غنڈوں نے ان کا سامان لوٹ لیا۔ جب تک قادیانی غنڈوں کا ایکشن مکمل نہیں ہوا، اس وقت تک قادیانی اسٹیشن ماسٹر نے ٹرین کو ربوہ اسٹیشن پر روکے رکھا۔ فیصل آباد ریلوے کنٹرول نے پوچھا کہ ٹرین اتنی دیر ہو گئی ، چلی کیوں نہیں؟ تو ریلوے کے عملہ نے بتایا کہ فساد ہو گیا ہے۔ ریلوے کنٹرول کے ذریعہ یہ خبر مقامی انتظامیہ و صوبائی انتظامیہ تک پہنچی ۔ ہم لوگ بے خبر تھے۔ ٹرین چنیوٹ، برج، سے ہوتی ہوئی چک جھمرہ پہنچ گئی۔ وہاں سے فیصل آباد کا سفر پندرہ بیس منٹ سے بھی کم کا ہے۔ اتنے میں دوپہر کے وقت ہانپتا کانپتا ایک آدمی میرے مکان کے عقبی دروازہ پر آیا۔ دستک دی۔ بچوں نے مجھے اطلاع کی۔ میں نے کہا کہ اسے کہو کہ مسجد کے اوپر سے ہو کر مین گیٹ کی طرف سے آئے۔ مگر اس نے کہا کہ ضروری کام ہے۔ مولانا ایک منٹ کے لئے جلدی سے تشریف لائیں۔ میں گیا تو وہ ریلوے کنٹرول کا ایک ذمہ دار آفیسر تھا۔ اس کی زبان و ہونٹ خشک ، چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ اس نے ڈبڈباتی آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا۔ میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ خدایا خیر ہو، اتنا ذمہ دار آدمی اور یہ کیفیت ۔
اس نے اپنی طبیعت کو سنبھالا تو مجھے ربوہ حادثہ کی اطلاع دی۔ اب ٹرین کو پہنچنے میں صرف دس پندرہ منٹ باقی تھے۔ میں نے شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء، علماء، شہریان اور فیصل آباد کے ڈی سی، ایس۔ پی کو فوراً اسٹیشن پر پہنچنے کا کہا۔ پریس رپورٹران، پنجاب میڈیکل کالج ، گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹس اور چیدہ چیدہ حضرات کو جہاں جہاں اطلاع ممکن تھی ، کر دی۔ ریلوے لوکو شیڈ میں کام کرنے والے تمام لوگ میرے جمعہ کے مقتدی ہیں۔ ان کو پیغام بھجوایا کہ کام چھوڑ کر فوراً اسٹیشن پر پہنچ جائیں ۔ میں ان امور سے فارغ ہو کر جب اسٹیشن پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ نعرے بازی، احتجاج ہو رہا ہے۔ پولیس کے گارڈ ، مجسٹریٹ ، ڈاکٹر صاحبان موجود ہیں۔ جو مسلمان اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے اور جنہوں نے قادیانی غنڈہ گردی کا ربوہ میں نظارہ دیکھا تھا، وہ بھی ہمارے اس احتجاج میں شریک ہو گئے۔ اسٹیشن پر اشتعال انگیز نعروں کا یہ عالم کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی احتجاجی نعروں کا فلک شگاف شور اٹھا۔ اس عالم میں مسلمان زخمی طلباء کو ٹرین سے اتارا۔ ڈاکٹر صاحبان کے مشورہ پر ان طلباء کو گرم دودھ سے گولیاں دی گئیں۔ زخموں پر مرہم پٹی کی گئی۔ ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں ایک قادیانی ڈاکٹر ( ولی محمد ) تھا۔ میں نے دیکھا تو سخت پریشان ہوا کہ اگر کسی کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہو گیا تو اس کا یہیں پر کام تمام ہو جائے گا۔ میں نے اپنے معتمد کے ذریعے اس کو وہاں سے چلتا کر دیا کہ اگر بد بخت رکا رہا تو اپنی جان کا خود ذمہ دار ہوگا۔ ابھی اس قضیہ سے فارغ ہوا تھا کہ اطلاع ملی کہ فلاں اگلے ڈبے میں ایک قادیانی کو چھرا مار دیا گیا ہے۔ میں وہاں گیا تو مشتعل ہجوم نے ادھیڑ عمر کے فربہ بدن قادیانی کو زخمی کیا ہوا ہے۔ اس کی پٹائی جاری ہے۔ لوگوں نے اسے نکال کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لا کر بند کر دیا۔ اس قادیانی نے مجھے کہا کہ مولانا مجھے بتایا جائے کہ مجھے کس جرم میں مارا گیا ہے۔ میں نے کہا جس جرم میں ربوہ کے قادیانیوں نے ہمارے معصوم مسلمان بچوں کو مارا ہے۔
ان دنوں فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین احمد تھے۔ ان کو فون کر کے بلایا گیا۔ ان کے ہمراہ ایس۔ پی (جہاں زیب برکی ) بھی تھے۔ ان کو کہا کہ وہ آ کر دیکھیں کہ ہمارے بے گناہ بچوں کو قادیانیوں نے کس بے دردی سے زدوکوب کیا ہے۔ ان افسروں نے طلباء سے ملاقات کی۔ اس ڈبہ کو دیکھا جس کے اوپر کے لوہے کے کنڈے مڑے ہوئے تھے۔ جب مرہم پٹی کے عمل سے فارغ ہوئے تو افسران نے کہا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ اب گاڑی کو آگے جانے دیں۔ ان زخمی طلباء کو یہاں اتار لیا جائے اور ان کا علاج معالجہ کیا جائے۔ ان زخمی طلباء سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم اسی حالت میں ملتان جائیں گے۔ ہم وہاں نشتر ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ کہا کہ اب آپ گاڑی آگے جانے دیں۔ میں نے ان سے کہا کہ جب تک صوبائی حکومت ہمارے یہ مطالبات مان نہیں لیتی، اس وقت تک گاڑی آگے نہیں جاسکتی۔
- ......۱۔ اس سانحہ کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔
- ......۲۔ اس سانحہ میں شریک تمام ملزمان بشمول اسٹیشن ماسٹر قادیانی ربوہ ونشتر آباد کو گرفتار کیا جائے۔
- ......۳۔ اس سانحہ کے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرہ سے چیف سیکرٹری کو فون کیا اور تمام مطالبات ان کو پیش کئے۔ چیف سیکرٹری منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ انہوں نے تمام مطالبات تسلیم کر لئے۔ ڈپٹی کمشنر نے مجھے یقین دلایا کہ آپ کے تینوں مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں۔ میں نے ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر کھڑے ہو کر تقریر کی۔ طلباء کو مخاطب ہو کر کہا: بچو! تم ہماری اولاد ہو۔ جگر کے ٹکڑے ہو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک قادیانیوں سے آپ کے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لے لیا جاتا، اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پریس رپورٹران نے فوٹو لئے۔ زخمی طلباء کو ایئرکنڈیشنڈ کوچ میں شفٹ کیا گیا اور ٹرین روانہ ہوگئی۔ پلیٹ فارم پر ہی شام کے پانچ بجے الخیام ہوٹل چوک گھنٹہ گھر فیصل آباد میں پریس کانفرنس اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرنے کے لئے میں نے پریس والوں کو ٹائم دے دیا۔ گھر آ کر گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شورکوٹ، عبدالحکیم، مخدوم پور، خانیوال اور ملتان جہاں جہاں ٹرین رکتی تھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو مظاہرہ کرنے کا سگنل دے دیا۔ چنانچہ جہاں جہاں سے ٹرین گزرتی گئی، احتجاجی مظاہرہ ہوتا گیا۔
ملتان دفتر مرکزیہ میں فون کر کے مولانا محمد شریف جالندھری، لاہور آغا شورش کاشمیری اور راولپنڈی میں مولانا غلام اللہ خان مرحوم کو سانحہ کی اطلاع دی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے کراچی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کو، جو اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے اور خانقاہ سراجیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو جو اس وقت نائب امیر تھے، اطلاع دی۔ سارا دن فون کے ذریعے مولانا محمد شریف جالندھری ملک بھر میں اطلاع کرتے رہے اور تحریک کے لئے احباب کو اپنے مشوروں سے نوازتے رہے۔ چونکہ قادیانیت کے متعلق حالات پہلے سے ہی تحریک کے متقاضی تھے۔ یہ خبر بجلی کا کام دے گئی۔
شام کو الخیام میں پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں مولانا مفتی زین العابدین، مولانا فقیر محمد، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، صاحبزادہ سید افتخار الحسن، مولانا فضل رسول حیدر، مولانا محمد صدیق، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے رہنما موجود تھے۔ اخباری نمائندوں کے سامنے پوری تفصیلات بیان کیں اور دوسرے روز فیصل آباد شہر میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ لاہور، کراچی، بہاول پور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، پشاور، راولپنڈی کے علماء سے مشوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان سے رابطہ کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ شہر کی تمام مساجد کے سپیکروں اور رکشہ پر سپیکر باندھ کر شہر میں اگلے روز کی ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرایا گیا۔ رات عشاء کے قریب ان امور سے فارغ ہو کر گھر آیا تو آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ٹیلیفون کیا کہ آپ لوگ کل کیا کر رہے ہیں۔ میں نے ساری تفصیلات بتائیں۔
آغا مرحوم نے فرمایا کہ کل کے جلسہ عام میں ''قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کریں، تاکہ عوام کا غصہ حکومت کی بجائے قادیانیت کی طرف ہو۔ اس لئے کہ پچھلی تحریک میں قادیانیوں نے ہمارا تصادم حکومت سے کرا دیا تھا۔ اب تصادم بجائے حکومت کے، قادیانیوں سے رہے تاکہ پرامن تحریک جاری رکھ سکیں ۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ان دنوں سوات کے سفر پر تھے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے ملتان سے فون کیا تو اس پر سردار میر عالم خان لغاری، جو حضرت بنوری کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے، انہوں نے حضرت بنوری کو اطلاع کے لئے ذیل کی کارروائی کی۔ مولانا قاری زرین احمد صاحب مدرس جامعہ فرقانیہ کوہاٹی بازار راولپنڈی اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں: ”ماہ مئی میں محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری مدیر جامعۃ العلوم کراچی پنجاب اور صوبہ سرحد کے دورہ پر روانہ ہوئے تھے۔ چنانچہ ۲۹؍ مئی کو حضرت بنوری کے معتمد خاص جناب میر عالم خان لغاری نے حضرت مولانا عبدالحکیم کو جامعہ فرقانیہ مدنیہ کوہاٹی بازار کے فون نمبر پر فون کیا اور حکم دیا کہ جلد سے جلد کسی کو سوات روانہ کر کے کسی طرح حضرت کو اس واقعہ سے باخبر کرائیں اور حضرت کو پیغام دیا جائے کہ آپ جلد واپس راولپنڈی آ کر اس واقعہ کے نتیجے میں حالات کو قابو میں رکھیں۔ چنانچہ حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب نے بندہ (قاری محمد زرین نقشبندی ناظم جامعہ فرقانیہ مدنیہ) کو حکم دیا اور بندہ بذریعہ بس اس سفر پر روانہ ہوا۔ بندہ بوقت ظہر مینگورہ سوات حضرت مولانا فضل محمد صاحب سابق استاد جامعۃ العلوم کراچی کے مدرسہ مظہر العلوم محلہ خونہ گل پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت شیخ بنوری آگے بحرین مدین تشریف لے گئے ہیں۔ ساتھ بہت سے علماء کرام اور مولانا فضل محمد صاحب بھی گئے ہیں۔ چنانچہ پہلے سے پروگرام کے مطابق حضرت بنوری کے لئے مولانا فضل محمد صاحب نے ایک برتن میں علاقائی ڈش تیار کروا کر وہاں پہنچانے کا حکم دیا تھا۔ بندہ اور مولانا فضل محمد صاحب کے داماد قاری عبدالمنان صاحب گاڑی میں بیٹھ کر سیدھے بحرین مدین پہنچے۔ آگے یہ حضرات کھانے سے فارغ ہو کر چائے پی رہے تھے۔ بندہ نے پہنچتے ہی حضرت استاد محترم مولانا فضل محمد صاحب کو الگ کر کے ساری صورت اور آنے کی وجہ بتلائی۔ حضرت نے مولانا بنوری صاحب کو تفصیل سے آگاہ فرمایا تو حضرت نے فوراً روانگی کا حکم فرمایا۔ چنانچہ اس ہوٹل سے روانہ ہوئے اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ سب علماء افضل خان صاحب کی دعوت پر ان کے گھر بمقام درشخیلہ تشریف لائے۔ وہاں نماز عصر جماعت سے ادا فرمائی اور حضرت نے حاضرین کو یہ واقعہ بتلایا۔ چائے نوش فرما کر اسی وقت حضرت اپنے رفقاء کرام کے ساتھ واپس راولپنڈی روانہ ہوئے۔“
حضرت شیخ بنوری نے راولپنڈی پہنچ کر مولانا تاج محمود صاحب سے فیصل آباد، مولانا محمد شریف جالندھری سے ملتان، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا عبیداللہ انور، حضرت نوابزادہ نصراللہ خان، آغا شورش کاشمیری کو فون پر ہدایات دیں اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے احیاء اور تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ تمام حضرات نے ”حضرت“ سے درخواست کی کہ آنجناب چونکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر ہیں اور یہی جماعت ہی اس مسئلہ کی داعی ہے۔ چنانچہ آپ مجلس عمل کا اجلاس طلب فرمائیں۔ راولپنڈی میں حضرت مولانا غلام اللہ خان شیخ القرآن، مولانا عبدالحکیم، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور دوسرے حضرات موجود تھے۔ اکوڑہ خٹک میں مولانا عبدالحق اور سخاکوٹ میں حضرت مولانا عزیر گل غرضیکہ جن حضرات کو حضرت بنوری کے راولپنڈی آنے کا علم ہوا۔ رابطہ شروع ہو گیا۔ تحریک کو منظم کرنے، پروان چڑھانے اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے کاوش شروع ہو گئی۔ مجاہدین سربکف ہو کر میدان میں اتر آئے۔ اہل اللہ نے اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہو کر گڑ گڑا کر رحمت خداوندی کو مدد کے لئے پکارا اور یوں اہل حق کا قادیانیت کے تعاقب میں ایک اور ”سفر“ شروع ہو گیا۔
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰ مئی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لائل پور: مؤرخہ ۲۹ مئی (نمائندہ خصوصی) پشاور سے آنے والی بارہ ڈاؤن چناب ایکسپریس پر آج ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ایک فرقہ کے تقریباً پانچ ہزار افراد نے حملہ کر دیا۔ حملہ بوگی نمبر ۴۰۵۵ پر کیا گیا۔ جس میں ملتان کے نشتر میڈیکل کالج کے ۱۶۰ طلباء سوار تھے۔ حملہ آور خنجروں ، لاٹھیوں ، تلواروں اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ انہوں نے تمام طلباء کو سخت زدوکوب کیا۔ نشتر میڈیکل کالج یونین کے صدر ارباب عالم کو بہت زیادہ پیٹا گیا اور وہ بیہوش ہو گئے ۔ تیس طالب علم سخت زخمی ہو گئے ہیں ۔ حملہ کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ملتان کے طالب علم تفریحی دورے پر پشاور گئے تھے اور راستہ میں ربوہ سے گزرتے ہوئے انہوں نے ختم نبوت کے حق میں نعرے لگائے ۔ جس پر ربوہ کے ایک فرقہ کے طلباء اور دیگر افراد نے انتقام لینے کا پروگرام بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام میں ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر بھی شریک تھے، جو اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سگنل ہونے کے باوجود ٹرین نہیں جانے دی۔ پچاس ساٹھ آدمی سرگودھا سے ہی ٹرین میں سوار ہو گئے تا کہ ربوہ پہنچ کر ملتانی طلباء کے ڈبہ کی نشاندہی کر سکیں۔ ٹرین رکی تو تقریباً پانچ ہزار مسلح افراد نے بوگی نمبر ۴۰۵۵ پر حملہ کر دیا ۔ دروازے میں کھڑے ایک طالب علم کو زبردستی گھسیٹ کر نیچے گرا لیا گیا ۔ طلباء نے صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر ڈبہ کی کھڑکیاں بند کر لیں ۔ مگر شیشے توڑ دیئے گئے۔ ڈبہ پر زبردست پتھراؤ کیا گیا ۔ دروازہ زبردستی کھول لیا گیا اور حملہ آوروں نے اندر گھس کر ایک ایک کو زدوکوب کیا ۔ بھاگتے ہوئے طلباء کا تعاقب کر کے انہیں مارا۔ ملتانی طلباء کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے ۔ ان کی متعدد گھڑیاں ، چار سوٹ کیس ، ایک ریڈیو ، ایک تھرماس اور ایک پریشر ککر چھین لیا گیا ۔ ایک طالب علم عبدالرحمن کو پکڑ کر حملہ آور اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لے گئے اور اسے حد سے زیادہ زدوکوب کیا۔ ٹرین کے گارڈ نے اس تمام واقعہ کی تصدیق کی ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ حملہ آوروں میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے طلباء ، بعض استاد ، متعدد دوکاندار اور شہری شامل تھے ۔ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور انہوں نے چلا چلا کر کہا کہ ملتانی طلباء کو خوب مارو ۔ جب ٹرین لائل پور پہنچی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے سربراہ وہاں پہنچ گئے ۔ انہوں نے زخمی طلباء کو طبی امداد مہیا کی اور زیادہ زخمی طلباء ایک خاص ٹرین میں فوری طور پر ملتان بھیج دیئے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر نے طلباء کو یقین دلایا کہ وہ صورتحال کی تحقیقات اور ضروری کارروائی کریں گے ۔ تاہم یہاں طلباء میں بے حد بے چینی پائی جاتی ہے اور طالب علم لیڈروں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ شدید زخمی طلباء کے نام یہ ہیں : ارباب عالم ( صدر نشتر میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین ) خالد عبداللہ ، محمد امین ، محمد فاروق ، عبدالرحمن ، منظور حسین ، مسرت حسین ، طلعت محمود ، آفتاب اور حسن محمود ۔
سپرنٹنڈنٹ پولیس لائل پور نے رابطہ قائم کرنے پر بتایا کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی یہ جماعت ۲۲ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر گزری تھی ۔ احمدی حلقوں کے مطابق ان طلباء نے اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے ۔ چنانچہ آج جب یہ جماعت واپس جا رہی تھی تو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر تین چار ہزار مسلح نوجوان پہلے سے موجود تھے ۔ طلباء نے ایس ۔ پی کو بتایا کہ ان لوگوں نے ٹرین کے رکتے ہی ہاکیوں ، لاٹھیوں ، تلواروں ، سوؤں اور چاقوؤں سے ان پر حملہ کر دیا ۔ اس حملہ میں ۲۰ طالب علم زخمی ہو گئے ۔ سب طلباء کو ایک ایئر کنڈیشنڈ ڈبے میں ملتان روانہ کر دیا گیا ۔ طلباء میں خاصا اشتعال پایا جاتا تھا ۔ (سرکاری ترجمان )
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور میں صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث بیس ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید ملزموں کی تلاش جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی. آئی. جی سرگودھا اور ایس. پی جھنگ فوراً ربوہ پہنچے اور ملزموں کی گرفتاری کے لئے کارروائی کی۔
اس ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ حکومت امن وامان برقرار رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور جس کسی نے بھی اشتعال انگیزی کی اور امن وامان کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی ۔ اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔ قانون کی خلاف ورزی کسی بھی حال میں برداشت نہیں کی جائے گی اور جو کوئی بھی مجرم ہو، خواہ وہ کسی بھی گروہ یا طبقہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے اپنی بداعمالیوں کی سزا بھگتنا پڑے گی اور نہ اس واقعہ کو اس طرح سے استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔ جس سے عوامی امن کو خطرہ لاحق ہو۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت اس واقعہ کے حساس پہلو کو پوری طرح سمجھتی ہے اور صورتحال سے بطریق احسن عہدہ برآ ہو گی۔ ترجمان نے بتایا کہ رات دس بجے تک قریب دو درجن افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے عملہ کے بعض ارکان کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر کی گئی غنڈہ گردی کے سلسلہ میں پولیس گرفتار شدگان کو کل بروز جمعرات سرگودھا عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کرے گی۔ تاکہ اس واقعہ کی تفتیش کی جاسکے۔
ملتان سے نمائندہ خصوصی کے مطابق جن زخمی طلباء کو نشتر ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: (۱) عبدالرحمن ولد خان محمد رول نمبر ۱۰، (۲) محمد امین ولد چوہدری الہی بخش رول نمبر ۷۲ فرسٹ ایئر، (۳) خالد عزیز ولد برکت علی رول نمبر ۸۲ فرسٹ ایئر، (۴) محمد حسن محمود ولد سید امجد حسین رول نمبر ۱۱۲ فرسٹ ایئر، (۵) ارباب عالم خان ولد شیر عالم خان رول نمبر ۱۸۵ فائنل ایئر، (۶) سعید باجوہ ولد محمد ابراہیم باجوہ رول نمبر ۸۸ فرسٹ ایئر، (۷) نعیم احمد ولد منظور احمد رول نمبر ۷۰ فرسٹ ایئر، (۸) آفتاب محمود ولد کمال الدین رول نمبر ۱۳ فورتھ ایئر، (۹) خالد عبداللہ ولد محمد صدیق رول نمبر ۱۲۹ فرسٹ ایئر، (۱۰) محمد فاروق ولد چوہدری الہی رول نمبر ۷۲ فرسٹ ایئر، زخمیوں میں سے خالد عزیز اور آفتاب محمود کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔
آج شام جب ان زخمی طلباء کو لے کر خصوصی گاڑی ملتان پہنچی تو وہاں طلباء کی ایک بڑی تعداد پہلے سے موجود تھی۔ وہ سخت بپھرے ہوئے اور مشتعل تھے۔ پولیس کی بھاری تعداد وہاں پہلے ہی متعین کر دی گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر ملتان اور ایس. ایس. پی بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے طلباء سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ چنانچہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ ان طلباء کو نشتر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ جہاں انہیں وارڈ نمبر ۱ میں داخل کیا گیا۔ اپنے زخمی ساتھیوں کو دیکھ کر طلباء میں سخت اشتعال پیدا ہو گیا۔ انہوں نے طارق ہاسٹل اور ابن سینا ہاسٹل میں ایک فرقے کے طالب علموں پر حملہ کیا اور ان کا سارا سامان باہر نکال کر آگ لگا دی۔ طلباء نے اس کے بعد مبشر میڈیکل ہال پر حملہ کر دیا اور وہاں شوکیس توڑ ڈالا۔ لیکن پولیس بروقت پہنچ گئی اور میڈیکل ہال کو مکمل تباہی سے بچا لیا گیا۔ طلباء نے اس کے بعد شبستان ہوٹل پر بھی حملہ کی کوشش کی۔ اس ہوٹل کو بھی پولیس نے بمشکل بچایا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نشتر میڈیکل سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری میاں احسان باری کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔
لاہور: مورخہ ۲۹ مئی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل چوہدری رحمت الہی نے ایک بیان میں ربوہ کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین واقعہ کی اعلیٰ عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاع کے مطابق آج صبح ربوہ ریلوے اسٹیشن پر اڑھائی تین ہزار مسلح افراد نے، جو پہلے سے اسٹیشن پر اس غرض کے لئے جمع کئے گئے تھے، چناب ایکسپریس کو روک کر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملہ کر دیا۔ طلباء کو ڈبوں سے نکال نکال کر مارا پیٹا گیا۔ ان کا سامان لوٹ لیا گیا اور تقریباً پون گھنٹہ تک تشدد اور غنڈہ گردی کرنے کے بعد گاڑی کو وہاں سے جانے دیا گیا۔ چوہدری رحمت الہی نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ کے واقعہ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں
لائل پور: مؤرخہ ۲۹؍مئی (نمائندہ خصوصی) لائل پور کی دینی و سیاسی اور سماجی تنظیموں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں ربوہ اسٹیشن پر نشتر کالج کے طلباء پر ایک خاص فرقہ کے منظم اور مسلح حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ آل پارٹیز کے کنوینئر مولانا تاج محمود نے ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر، جن ریلوے ملازمین نے منظم سازش کے تحت حملہ کرایا۔ انہیں فوری طور پر معطل کیا جائے اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ہائیکورٹ کے جج کے تقرر کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں مولانا تاج محمود نے الزام عائد کیا کہ خاص فرقہ کے لوگ ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر کے حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو اس فرقہ سے خبردار رہنا چاہئے۔
انہوں نے کہا ربوہ اسٹیشن پر حملہ اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت تھا۔ پنجاب میڈیکل کالج لائل پور اور میڈیکل کالج راولپنڈی کے طلباء کے ترجمان عبدالوحید نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی فوری تحقیقات کی جائیں۔ جماعت اسلامی، تحریک استقلال اور اسلامی جمعیۃ طلباء نے بھی اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے طلباء پر حملہ کے خلاف آج سرگودھا کے تمام کاروباری مراکز احتجاج کے طور پر بند رہے اور تاجر، طلباء، مزدور اور دیگر شہری سڑکوں پر نکل آئے اور غنڈہ گردی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے ایک فرقہ کی کچھ دوکانوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ اس فرقہ کے ارکان نے اپنی دوکانوں سے فائرنگ کی اور بعض طلباء کو پکڑ کر حبس بے جا میں رکھا اور زدوکوب کر کے شدید زخمی کر دیا۔ دریں اثناء آج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے دو صد سے زائد وکلاء نے اس واقعہ کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ جس کی قیادت صدر بار چوہدری محمد اکبر چیمہ ایڈووکیٹ کر رہے تھے۔ مختلف اجتماعات میں قاری عبدالسمیع، رانا ظہور احمد خاں، مفتی محمد طفیل گوندی ایڈووکیٹ و دیگر رہنماؤں نے اس واقعہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے۔ ورنہ حالات بگڑ جانے کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ آج پولیس اور طلباء کے درمیان بھی کئی جھڑپیں ہوئیں۔
لائل پور
لائل پور سے ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ربوہ کے خاص فرقہ کے قاتلانہ حملہ کے خلاف احتجاج کے طور پر آج لائل پور میں مکمل ہڑتال رہی اور جگہ جگہ مشتعل ہجوم نے مرزائیوں کی دوکانوں کا سامان بازاروں میں رکھ کر نذر آتش کر دیا۔ آج لائل پور کی مختلف سیاسی، دینی اور سماجی تنظیموں نے مشترکہ اور علیحدہ علیحدہ اجلاس میں طلباء پر ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر قاتلانہ حملہ کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دے کر ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور ربوہ کے واقعہ کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ کل اس المیہ کی خبر سنتے ہی طلباء اور تمام مکتب فکر کے شہریوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ آج زرعی یونیورسٹی، تمام کالجوں اور سکولوں کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور بازار میں آگئے۔ انہوں نے مرزائیوں کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی دوکانوں کے سامان کو نذر آتش کر دیا۔ ہجوم نے مراد کلاتھ ہاؤس (ریل بازار)، سفینہ پرنٹنگ ملز کا سیل ڈپو (مندر گلی)، پبلک بک ڈپو (بھوانہ بازار)، ممتاز آپٹیکل (کچہری بازار)، ناصر دواخانہ (گول بازار)، لودھی واچ کمپنی (افغان چوک)، شاہ میڈیکوز (کچہری بازار)، سفینہ پرنٹنگ ملز (مقبول دواخانہ)، حمیدیہ دواخانہ (عبداللہ پور) کا سامان بازاروں میں رکھ کر جلا دیا۔ پولیس نے جگہ جگہ مظاہرین پر اشک آور گیس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استعمال کی۔ لائل پور میں مشتعل ہجوم سارا دن مظاہرے کرتا رہا۔ کارخانہ بازار کی لوہے کی دو دوکانیں بھی مظاہرین نے لوٹ لیں۔ فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کے مسلح دستے پورے شہر میں گشت کرتے رہے۔ مظاہرین ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے اور مرزائیوں کی دوکانوں کو چن چن کر لوٹتے رہے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ نے ایک ہنگامی اجلاس میں مرزائیوں کی جانب سے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کی مذمت کی ہے۔ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ پہلے سے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا گیا اور ایک وفاقی وزیر کے حالیہ بیان کے ردعمل کے طور پر یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے خاص ٹربیونل مقرر کیا جائے۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ان کی ریاست در ریاست کے وجود کو ختم کیا جائے۔ عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے اور احتجاجی جلوس نکالیں گے۔
تحریک استقلال کی مجلس عاملہ، تحریک تحفظ اسلام، جامعہ طیبیہ اسلامیہ نے بھی اس المیہ کی شدید مذمت کی ہے۔ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کے اساتذہ اور انجمن طلباء نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج سے اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ آج لائل پور کی تمام سیاسی، دینی اور سماجی تنظیموں کا ایک مشترکہ اجلاس جامع مسجد کچہری بازار میں منعقد ہوا۔ مفتی جناب زین العابدین (تبلیغی جماعت)، مولانا تاج محمود (کنوئینر آل پارٹیز)، مولانا طفیل احمد ضیاء (جماعت اسلامی)، چوہدری صفدر علی رضوی (جمعیت علماء پاکستان)، ملک احمد سعید اعوان (پیپلز پارٹی) اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
پیپلز پارٹی کے سربراہ نے نہایت ہی ایمان افروز تقریر کی اور مطالبہ کیا کہ غنڈہ گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ربوہ کے سانحہ کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کی جائے۔ مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر ریاست کے اندر ریاست کے تصور کو ختم کیا جائے۔ اجلاس کے بعد علماء کرام اور سیاستدانوں نے شہر میں ایک جلوس نکالا۔ کچہری بازار کے آخری حصہ پر حبیب بینک کی بڑی بلڈنگ کے سامنے مولانا مفتی زین العابدین کی اپیل پر جلوس منتشر کر دیا گیا۔ پولیس نے آج لائل پور شہر میں مظاہرہ کرنے کی بناء پر چالیس افراد کو زیر حراست لے لیا ہے۔ ان میں زیادہ تر تعداد طلباء کی ہے۔ گزشتہ رات جن تین افراد خالد لطیف اور سعید شاہ نے لاؤڈ سپیکر پر ہڑتال کا اعلان کیا تھا، پولیس نے انہیں بھی زیر حراست لے لیا ہے۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مرزائیوں کی بہت بڑی تعداد گزشتہ شب ہی ربوہ اور دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئی تھی۔ لائل پور ضلع کے دیگر تمام بڑے بڑے شہروں ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، کمالیہ، سمندری، جڑانوالہ، چک جھمرہ وغیرہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی مشتعل مظاہرین نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور مرزائیوں کی دوکانوں کے تجارتی سامان کو نقصان پہنچایا۔ گوجرہ میں سگریٹ کے بٹو کی ایجنسی، چوہان میڈیکل سٹور، رفیق میڈیکل سٹور اور کپڑے کی ایک دوکان کو نذر آتش کر دیا گیا۔
ایک سرکاری ذریعہ نے آج ٹیلی فون پر بتایا کہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود شہر میں ہنگامے ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ جناح کالونی میں مرزائیوں کی دو کوٹھیاں نذر آتش کر دی گئیں۔
۳۰ مئی کی عمومی رپورٹ
مولانا مفتی محمود اور دوسرے رہنماؤں نے قومی اسمبلی میں سانحہ ربوہ کے متعلق آواز بلند کی تو وفاقی وزیر تعلیم مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت کو گزشتہ ربوہ کے واقعہ کا سخت افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ چونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔ اس لئے اسے قومی اسمبلی میں زیر بحث نہ لایا جائے۔ صوبائی حکومت نے کمیشن قائم کر دیا ہے۔ اس کی سفارشات موصول ہوتے ہی ملزمان اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
ملتان
ملتان میں تمام دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء پاکستان، مجلس احرار اسلام نے مشترکہ اجلاس میں قرارداد مذمت پاس کی۔ ایبٹ آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں بل پیش کریں گے جس کے تحت مذہب کے مقدس مقامات کو سیاست کے لئے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ وہ کل رات ایبٹ آباد میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں منعقد ہونے والے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔
(سنگ میل ملتان، مؤرخہ ۳۰؍ مئی ۱۹۷۴ء)
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
پنجاب کے تمام سکول و کالج بند کر دیئے گئے۔ زرعی یونیورسٹی لائل پور کے طلباء کا احتجاجی جلسہ و جلوس، ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ ربوہ واقعہ کے ملزمان گرفتار کر لئے گئے۔ قانون شکنی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ شام تک لائل پور میں ربوہ مظالم کی مذمت اور احتجاج کرنے والے ۸۵ مظاہرین گرفتار کر لئے گئے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد نے قرارداد مذمت پاس کی۔ لائل پور سینما اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اللہ دتہ چوہدری نے ربوہ قادیانی مظالم کے خلاف سینماؤں کی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر ملک معراج خالد نے واقعہ ربوہ کی مذمت کی اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ اس واقعہ کو سیاسی مقاصد کے لئے مفاد پرستوں کو استعمال کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ سندھ میں اخبارات کو فرقہ وارانہ منافرت کی خبروں کو شائع کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔
پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اپوزیشن رہنما علامہ رحمت اللہ ارشد، حاجی سیف اللہ، سید تابش الوری، خالق داد بندیال نے سانحہ ربوہ پر دھواں دھار تقریریں کیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن علی اسد اللہ نے بھی ایمان پرور تقریر کی۔ حنیف رامے صاحب نے بحث کو سمیٹا تو دھمکی دی کہ اس واقعہ کے خلاف تحریک چلائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اکثریت میں ہے، وہ قانون سے بچ جائے گا تو قانون اندھا ہے تو وہ اس کو پیس کر رکھ دے گا۔ (دیکھئے ایسا لگتا ہے کہ حنیف رامے نہیں بول رہے، مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کا منادی اس کا فرشتہ ٹیچی ٹیچی بول رہا ہے)
پورے ملک میں سانحہ ربوہ کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ ہر مسلمان بلا امتیاز مسلک، فتنہ قادیانیت کے خلاف اسلام کا چلتا پھرتا سپاہی نظر آ رہا ہے۔
۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ (سرگودھا)
۲۹؍ مئی۔ سانحہ ربوہ کے خلاف ۳۰؍ مئی کو سرگودھا کے تمام کاروبار احتجاج کے طور پر بند رہے۔ تاجر، طلباء، مزدور، علماء و دیگر شہری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سڑکوں پر نکل آئے اور قادیانی غنڈہ گردی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ قادیانیوں نے اپنی دوکانوں سے فائرنگ کی اور بعض طلباء کو پکڑ کر حبس بے جا میں رکھا اور زدوکوب کر کے شدید زخمی کر دیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودھا کے دو صد سے زائد وکلاء نے اس واقعہ کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس کی قیادت صدر بار چوہدری محمد اکبر چیمہ ایڈووکیٹ نے کی۔ مختلف اجتماعات منعقد ہوئے۔ جن سے مولانا قاری عبدالسمیع، رانا ظہور احمد خان، مفتی محمد طفیل گوندی ایڈووکیٹ، جناب راؤ عبدالمنان نے خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ تمام قادیانی حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور سخت ترین سزا دی جائے۔ ورنہ حالات بگڑنے کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ آج تمام تعلیمی اداروں کے طلباء نے احتجاج کیا۔ پولیس اور طلباء کے درمیان بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ آج سلانوالی میں تمام سرکاری و کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے اور چناب ایکسپریس میں سوار طلباء پر ربوہ میں حملہ کے خلاف زبردست جلوس نکالا گیا۔ جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن احرار اور محمد مشتاق نے کی۔ ختم نبوت کے حق میں زبردست نعرے لگائے گئے اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سلانوالی میں آج جیسی مکمل ہڑتال کبھی نہیں ہوئی۔ پان، سگریٹ تک کی دوکانیں بند رہیں۔ سلانوالی کی تاریخ میں پہلی بار طالبات نے بھی جلوس نکالا۔
سرگودھا: تھانہ ریلوے پولیس سرگودھا نے ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے طلباء پر حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے بہتر (۷۲) افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ریلوے پولیس نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے انچارج کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی جانے والی چناب ایکسپریس ۲۹؍ مئی کو دس بج کر پانچ منٹ پر ربوہ پہنچی۔ گاڑی میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء بھی سوار تھے۔ انہوں نے قادیانی فرقہ کے خلاف نعرے لگائے۔ جس کے جواب میں پلیٹ فارم پر موجود قادیانی طلباء نے بھی نعرے لگائے۔ بعد ازاں فریقین میں ہاتھا پائی ہوئی۔ جس سے متعدد طلباء اور اسٹیشن ماسٹر زخمی ہوگئے۔
ریلوے پولیس نے ریلوے ایکٹ ۱۲۰، ۱۲۷ اور ۱۴۸، ۱۴۹ ت۔پ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ آج گرفتار شدہ افراد کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے سرگودھا جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور سرگودھا میں مظاہرین پر جن پانچ قادیانی افراد ڈاکٹر مسعود احمد، منصور احمد، محبوب جنود، محمد عامر کمپوڈر اور محمد اطہر کمپوڈر نے فائرنگ کی، ان کے خلاف سٹی پولیس نے دفعہ ۳۰۷ ت۔پ کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کا اسلحہ، دو رائفلیں، دو بندوقیں اور بائیس کارتوس اپنی تحویل میں لے لئے ہیں اور انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ آج ڈپٹی کمشنر سرگودھا نے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں شہریوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف شہریوں کو پرامن مظاہرہ کرنے کا تو حق ہے۔ مگر قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی شخص کو نہیں دی جا سکتی اور شرپسند عناصر کا سختی سے محاسبہ کیا جائے گا۔ ہر محبِ وطن شہری کا فرض ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے، جس سے قومی املاک کو نقصان پہنچے۔ آج کمشنر سرگودھا ڈی آئی جی اور صوبائی وزیر قانون سردار صغیر احمد بھی چنیوٹ پہنچ گئے اور اپیل کی کہ عوام امن وامان قائم کرنے میں تعاون کریں۔
پنجاب اسمبلی اور حنیف رامے کی زناری
لاہور: مورخہ ۳۰؍ مئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ روز رونما ہونے والے واقعہ کو سنگین قرار دیا ہے اور اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس کی عدالتی تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کل کے واقعہ کے بارے میں التواء کی تحریکوں پر بحث ختم کرتے ہوئے بتایا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے طلباء کو زدوکوب کرنے کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کل رات ہی ربوہ میں ۷۱ افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہیں آج سرگودھا کی ایک عدالت میں پیش کر دیا گیا اور اب وہ سرگودھا کی ایک حوالات میں بند ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں سخت ترین سزا دی جائے گی۔ جو طالب علم زخمی ہوئے تھے، وہ ملتان کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کسی حالت میں بھی غیر قانونی سرگرمیاں برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں حکومت سے تعاون کیا جائے۔
اس واقعہ پر حزب اختلاف کے میاں خورشید انور، سید تابش الوری، حاجی سیف اللہ، چوہدری امان اللہ ملک، ملک خالق داد بندیال، خانزادہ خان محمد اور قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے ایوان میں التوائے اجلاس کی تحریک پیش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے کہا کہ اگر کسی فرد یا گروہ نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کو کچل دیا جائے گا اور اس واقعہ کو فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کی گئی اور فسادات کرائے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوری طور پر ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکومت قانون کی بالا دستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ اگر کوئی قانون شکنی کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اکثریت میں ہے اور قانون سے بچ جائے تو قانون اندھا ہے اور وہ اس کو پیس کر رکھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے اور دشمن نے مغربی پاکستان میں سازشیں کر کے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن سرحد، بلوچستان اور سندھ میں اپنے مقاصد کی ناکامی کے بعد دشمنوں نے اب پنجاب میں فسادات کھڑے کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ کیونکہ جب تک پنجاب قائم ہے۔ پاکستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اس سازش سے واقف ہے اور اہل پنجاب فرقہ واریت کی اس آگ کو پھیلنے نہیں دیں گے۔
(نوائے وقت مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء)
ملتان ہاسٹل نشتر کالج بند، طلباء کی گرفتاریاں
۳۰ مئی۔ آج صبح سویرے نشتر کالج کی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے کالج کے ہوسٹل بھی بند کر دیئے اور طلباء کو فوری طور پر گھروں کو چلے جانے کا حکم دیا۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی آج دن بھر مسلح پولیس کے دستوں کے ہمراہ شہر بھر میں گھومتے رہے۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے دستے اہم ناکوں پر تعینات ہیں۔ اس وقت تک پولیس نے چھ طالب علم رہنماؤں اور متعدد افراد کو اندیشہ نقص امن دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کیا ہے۔ انجمن تاجران ملتان اور صرافہ ایسوسی ایشن کے فیصلہ کے مطابق آج دوپہر ایک بجے سے شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ بار ایسوسی ایشن ملتان نے ایک قرارداد کے ذریعے طالب علم رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قرارداد میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور ٹرین کے حملہ آوروں کے خلاف مقدمات قائم کر کے انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
انتقامی کارروائیاں
کل رات جب چناب ایکسپریس سے دس زخمی طالب علموں کو اتار کر نشتر ہسپتال میں داخل کیا گیا تو طلباء میں اشتعال پھیل گیا۔ طالب علموں نے ابن سینا ہوسٹل اور طارق ہوسٹل میں رہنے والے ایک فرقہ کے طالب علموں کا پورا سامان بستر، اٹیچی کیس وغیرہ چارپائیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور انہیں آگ لگا دی۔ طلباء نے بعد میں میڈیکل ہال پر بھی پتھراؤ کیا۔ طالب علم بعد میں ایک ہوٹل پر بھی گئے۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسے تباہ ہونے سے بچا لیا۔ کمشنر ملتان ڈویژن مسٹر صدیق چوہدری، ڈپٹی انسپکٹر جنرل ملک بشیر احمد، ڈپٹی کمشنر ملتان حفیظ احمد اور ایس ایس پی نثار احمد نے دو بجے رات تک نشتر کالج کی انتظامیہ کونسل سے بات چیت کی۔ اس بات چیت کے بعد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوسٹل کو بند کر دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملتان میں گرفتار ہونے والوں کے نام یہ ہیں: نشتر میڈیکل کالج کے میاں احسان باری، گورنمنٹ کالج بوسن روڈ کے صدر ملوک خان، جنرل سیکرٹری نصیر الدین ہمایوں، طالب علم رہنما ابراہیم صدیقی، فیض حسن اور اسلم اور متعدد افراد شامل ہیں۔
نشتر میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری میاں احسان باری کو گزشتہ رات ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ آج صبح گورنمنٹ کالج بوسن روڈ میں کچھ طالب علم اکٹھے ہو گئے۔ یہ طالب علم جلوس کی صورت میں باہر نکلے تو پولیس نے انہیں منتشر کر دیا۔ طالب علم بعد میں پانچ پانچ دس دس کی ٹولیوں میں شہر میں پھرنے لگے۔ پولیس نے گورنمنٹ ڈگری کالج بوسن روڈ یونین کے جنرل سیکرٹری نصیر الدین ہمایوں، سال چہارم کے طالب علم مسٹر صدیقی کو گرفتار کر لیا۔ دو طالب علموں کو چھاؤنی صدر میں ہوٹل بند کرانے اور اسلم اور اس کے بھائی کو پنکھے کی ایک دوکان کو بند کرانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ مجلس احرار اسلام، جمعیتہ العلماء اسلام، جماعت اسلامی، مجلس تحفظ ختم نبوت، مزدور مجلس عمل کے رہنماؤں نے چناب ایکسپریس پر حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ لاء کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر خورشید خان، گورنمنٹ ڈگری کالج سول لائنز کے صدر تنویر کوثر ملک، بشیر اعوان اور عمرحیات باب نے طالب علم رہنماؤں کی رہائی کا فوری مطالبہ کیا ہے۔
خانیوال میں طلباء کا جلوس
۳۰ مئی آج خانیوال میں طالب علموں اور جوانوں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر تشدد اور حملہ کرنے کے خلاف زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس کے اختتام پر چھوٹے چھوٹے بچوں اور جوانوں کا ایک گروہ بلاک نمبر ۱ میں پہنچ گیا اور احمدیہ لائبریری کو آگ لگادی۔ پولیس نے آگ پر قابو پالیا۔ اسی دوران ملحقہ مکان میں رہنے والے احمدی میاں بیوی نے بندوقیں تان لیں۔ پولیس نے بعد میں ایک بندوق پر قبضہ کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون خانہ نے ہجوم پر فائرنگ بھی کی لیکن کوئی شخص زخمی نہ ہوا۔ اس پر حالات بگڑ گئے اور ہجوم نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ جس پر حکام بالا نے پولیس کو ہوائی فائرنگ کا حکم دے دیا۔ بعد ازاں جلوس منتشر ہو گیا۔ علاوہ ازیں کچہری بازار میں اس فرقہ کی ایک دوکان کے سامنے پڑی ہوئی لکڑی کی پیٹیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔
ملتان سے ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق خانیوال میں آج سکول کے بچوں نے جلوس نکالا اور احمدیہ لائبریری پر پتھراؤ کیا اور فرقہ کے مبلغ رحمت اللہ مربی کے گھر کا گھیراؤ کیا۔ جمعیتہ العلماء اسلام کے مطابق اس گھر سے اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور بچوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ جس پر ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ رحمت اللہ مربی کے گھر کا سامان باہر نکال کر آگ لگا دی گئی اور انہیں گھیر لیا گیا۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور زبردست لاٹھی چارج کے بعد ہجوم منتشر کیا جا سکا۔ پولیس اس وقت تک طالب علم رہنما طارق جاوید کے علاوہ عبدالشکور، شریف جالندھری، عبدالستار انجم اور محمد اکرم کو گرفتار کر چکی ہے اور دوسرے لوگوں کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ خانیوال شہر میں فیڈرل سیکورٹی پولیس کے مسلح دستے گشت کر رہے ہیں۔ بازار بند ہیں اور مکمل ہڑتال ہے۔
گجرات
۳۰ مئی ۔ شہر کی سیاسی، دینی اور سماجی تنظیموں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کل بعد نماز جمعہ چوک فوارہ میں ایک احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا جائے۔ جس میں تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے رہنما خطاب کریں گے۔ یہ جلسہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے طلب کیا ہے۔ شہر کے ممتاز عالم دین سید محمود شاہ نائب صدر جمعیتہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علمائے پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ربوہ کے لوگوں سے تمام ناجائز اسلحہ برآمد کیا جائے۔ امیر جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد اور طالب علموں پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزموں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں مرزا عنایت اللہ اور چوہدری نثار احمد ایڈووکیٹ نے ایک مشترکہ بیان میں طلباء پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزموں کو عبرتناک سزا دینے اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گجرات نے ایک ہنگامی اجلاس میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ جس میں ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر بھی ملوث ہے۔ جس نے گھناؤنا کردار ادا کیا اور حملہ آوروں کو اس نفرت انگیز کارروائی کے لئے موقع فراہم کیا۔ اجلاس میں واقعہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدام کا مطالبہ کیا گیا تاکہ اس واقعہ سے ملک کے دوسرے حصوں میں آگ نہ لگے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج سے اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے۔
منڈی بہاؤالدین
ربوہ کے افسوس ناک واقعہ پر منڈی بہاؤالدین میں بھی شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ شہر کی تمام دوکانیں اور بازار بند رہے اور شہریوں نے احمدیوں کے مظالم پر زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی جلسے بھی منعقد ہوئے۔ کھاریاں ، لالہ موسیٰ اور دیگر شہروں میں بھی مختلف مقامات پر جلوس نکالے گئے۔
چک جھمرہ
چک جھمرہ سے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق ربوہ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ روز ملتان کے طلباء پر مرزائیوں کے حملہ کے خلاف آج یہاں غضبناک مظاہرے کئے گئے۔ مشتعل مظاہرین نے چک جھمرہ شہر اور نواحی بستیوں میں مرزائیوں کے مکانوں اور دوکانوں کو لوٹ کر سامان کو جلا کر راکھ کر دیا۔ شہر میں آج مکمل ہڑتال رہی اور پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آج علی الصبح ملتان کے طلباء پر حملہ کی خبر ملتے ہی ہزاروں مشتعل افراد سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے۔ انہوں نے مرزائی فرقہ کے امیر کے جنرل سٹور پر حملہ کر کے اس کا سامان لوٹا اور سٹور اور سامان کو آگ لگادی۔ آگ آناً فاناً پھیل گئی اور اس نے ساتھ کے مکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لائل پور سے فائر بریگیڈ پہنچنے تک سٹور اور دو ملحق مکان جل کر راکھ ہو چکے تھے۔ اس کے بعد ہزاروں مشتعل افراد شہر میں پھیل گئے اور انہوں نے مرزائیوں کے گھروں اور دوکانوں کے سامان کو آگ لگادی۔ انہوں نے مرزائیوں کے گھروں کے دروازے، کھڑکیاں اور چھتیں تک اکھاڑ کر نذرآتش کردیں۔ مشتعل مظاہرین نے قبل دوپہر چنیوٹ کے ایک ایس۔ ڈی۔ او کے گھر پر بھی حملہ کیا اور سامان باہر نکال کر آگ لگا دی۔
جڑانوالہ
آج شہر میں بعد دوپہر مکمل ہڑتال رہی۔ یہ ہڑتال شہر کی تمام انجمنوں اور طالب علموں کی یونینوں کی اپیل پر کی گئی۔ ربوہ میں ہونے والے واقعہ پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
کمالیہ میں دو میل لمبا جلوس
ربوہ میں طلباء پر تشدد کے خلاف آج کمالیہ میں بھی جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس گورنمنٹ پی۔ ایس۔ ٹی کالج سے شروع ہوا اور مختلف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بازاروں سے ہوتا ہوا عیدگاہ جا کر ختم ہوا۔ جلوس میں کالجوں کے طلباء اور عوام نے حصہ لیا۔ یہ جلوس قریباً دو میل لمبا تھا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جلوس کے ساتھ پولیس کا کوئی سپاہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ طلباء ”ختم نبوت زندہ باد“ کے نعرے لگا رہے تھے۔ دریں اثناء پی۔ پی۔ پی ضلع لائل پور کے سیکرٹری چوہدری عبدالستار ایڈووکیٹ نے طلباء پر قادیانی تشدد کی مذمت کی اور اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
رحیم یار خان احتجاجی جلوس
رحیم یار خان سے ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق شہر کے تمام کاروباری حلقوں اور تنظیموں نے ربوہ کے المناک واقعہ پر آج مکمل ہڑتال کی اور اس واقعہ کی مذمت کی۔ جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا غلام ربانی، قاری حماد اللہ شفیق، رشید احمد لدھیانوی، جمعیۃ طلباء کے حافظ محمد عتیق اور حافظ محمد اکبر کی زیر قیادت طلباء اور شہریوں نے ریلوے روڈ پر واقع ایک خاص فرقہ کے ہوٹل کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اس فرقہ کے دل آزار عقائد کے خلاف نعرے لگائے۔ دریں اثناء احتجاجی جلسے بھی منعقد کئے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ ملزموں کو کڑی سزا دی جائے۔ خان پور میں شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی، بریلوی مکتب فکر کے عالم دین مولانا حافظ سراج احمد، مولانا مختار احمد، دین پور شریف سے حضرت میاں عبد الہادی نے اپنے متعلقین کو تحریک ختم نبوت میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار کیا۔ خان پور، لیاقت پور، فیروزہ، صادق آباد وغیرہ میں بھی احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ شہروں وقصبات تک شدید احتجاج اور ہڑتال ہوئی۔
ضلع جھنگ
۳۰؍ مئی کو ضلع جھنگ کے ضلعی صدر مقام جھنگ صدر، جھنگ شہر میں سانحہ ربوہ کے خلاف مکمل ہڑتال رہی۔ مولانا سید صادق حسین شاہ، مولانا حق نواز، مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ ہمدانی، مولانا مفتی غلام یسین، مولانا غلام حسین، مولانا رشید احمد مدنی، مولانا اسد اللہ قاسمی اور جماعت اسلامی کے چوہدری محمود احمد نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر غنڈوں کے حملہ کی زبردست مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ طالب علموں پر احمدیوں کے سرکردہ افراد نے حملہ کرایا ہے، جس سے تمام مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ انہوں نے حکومت سے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
چنیوٹ میں پرامن جلوس پر قادیانیوں کی فائرنگ
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ روز نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر مرزائیوں کے حملہ کے خلاف آج شہر میں نکالے گئے پرامن احتجاجی جلوس پر مرزائی فرقہ کے افراد کی فائرنگ اور خشت باری کے بعد شہر میں امن وامان کی صورتحال سخت کشیدہ ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کل کے سانحہ پر احتجاج کے لئے شہریوں نے آج پرامن جلوس نکالا تھا۔ یہ جلوس جب ریل بازار میں پہنچا تو شاہ میڈیکوز قادیانی کے مالک کے مکان کی چھت سے جلوس پر شدید خشت باری کی گئی۔ اس پر جلوس کے شرکاء مشتعل ہو گئے اور انہوں نے شاہ میڈیکوز اور شہر میں مرزائیوں کی تمام دوکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ جلوس جب شہر کے ایک دندان ساز محمد شریف قادیانی کے مکان کے قریب پہنچا تو مکان کی چھت سے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ سے متعدد طلباء زخمی ہوگئے۔ جن میں سے تین کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ ایس۔ پی چنیوٹ ملک یارن خان نے ان واقعات کے بعد موقع پر پہنچ کر طلباء سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور انہیں یقین دلایا کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پنجاب کے وزیر قانون سردار صغیر احمد بھی چنیوٹ پہنچ گئے ہیں۔ آج شہر میں مکمل ہڑتال
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہی۔ کل بھی ہڑتال ہوگی اور جلوس نکالے جائیں گے۔ شورکوٹ روڈ وشہر، احمد پور سیال اور دیگر قصبات میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ہڑتال رہی۔
ساہیوال میں مکمل ہڑتال
۳۰؍مئی۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر تشدد کے خلاف آج ساہیوال شہر میں ۱۲ بجے دوپہر سے مکمل ہڑتال ہے۔ تحریک استقلال ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، جمعیتہ طلباء اسلام، انجمن طلباء اسلام، اسلامی جمعیتہ طلباء، پاکستان جمہوری پارٹی، انجمن فلاح ملازمین کے علیحدہ علیحدہ ہنگامی اجلاس منعقد ہوئے۔ جن میں طلباء پر تشدد کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ملزموں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انجمن تاجران کے اجلاس میں بھی طلباء پر تشدد کی مذمت کی گئی۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا محمد عبداللہ، حضرت مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی، مفتی ضیاء الحسن لدھیانوی اور دیگر تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے عارف والا، پاک پتن، چیچہ وطنی، اوکاڑہ میں تحریک ختم نبوت کے لئے ہراول دستے کے طور پر شامل ہونے کے لئے اپنے اپنے حلقہ کے لوگوں کو پیغامات بھجوائے۔ ضلع بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے قادیانی گروہ کی جارحانہ روش کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔
لاہور احتجاجی مظاہرے، طلباء کے جلوس اور قادیانی اشتعال انگیزی
لاہور: مورخہ ۳۰؍مئی۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ایک فرقہ کے لوگوں کے طلباء پر حملہ کے خلاف آج یہاں گورنمنٹ کالج، اسلامیہ کالج سول لائنز اور ایم ۔ اے ۔ او کالج لاہور کے طلباء نے احتجاجی مظاہرے کئے اور جلسے منعقد کر کے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو زدوکوب کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ اسلامیہ کالج سول لائنز اور گورنمنٹ کالج کے طلباء نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن اسے ناکام بنا دیا گیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کر کے اور آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ پتہ چلا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کے ہوسٹلوں میں بھی بعض طلباء نے احمدی طلباء کو کمروں سے نکال باہر کیا۔ گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کے مسٹر سہیل بٹ اور ان کے ساتھیوں کو ٹاؤن ہال کے سامنے مظاہرہ کرنے پر پولیس نے تھوڑی دیر کے لئے حراست میں لیا اور پھر رہا کر دیا۔
گمٹی بازار، صرافہ بازار، اعظم کلاتھ مارکیٹ، برانڈرتھ روڈ مارکیٹ، بزاز ہٹہ اور کناری بازار مارکیٹ میں تاجروں کی انجمنوں نے اپنے اجلاس منعقد کئے اور متذکرہ مارکیٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ دوپہر کے وقت جملہ مارکیٹیں تمام دن کے لئے بند کر دی گئیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین، فاطمہ جناح میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین، انجینئرنگ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین، گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین اور دیگر مقامی کالجوں کے طلباء کی یونینوں نے آج احتجاجی جلوس منعقد کئے اور اپنی قراردادوں میں ربوہ کے واقعہ کی مذمت کی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین کی ایک پریس ریلیز کے مطابق طلباء جمعہ ۳۱؍مئی کو علامتی ہڑتال کریں گے۔
(نوائے وقت مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۷۴ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کا اجلاس
لائل پور: مورخہ ۳۱؍مئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کی جنرل باڈی کا اجلاس مولانا تاج محمود امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں مندرجہ ذیل قراردادیں پاس کی گئیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۱ ربوہ کے ظلم و تشدد پر شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعہ کے سرغنہ اور اصل ظلم و تشدد کے محرک مرزا ناصر کو
گرفتار کیا جائے۔
- ......۲ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ......۳ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ مجلس ختم نبوت کے مرکزی آفس سے جاری ہونے والے سرکلر میں تمام جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن طور پر تحریک جاری رکھیں۔ تا وقتیکہ مطالبات نہ مان لئے جائیں۔
(غریب، لائل پور، مؤرخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء)
راولپنڈی
راولپنڈی سے ’’مشرق‘‘ کے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق آج مختلف کالجوں کے طلباء نے احمدیہ عبادت گاہ مری روڈ کے دارالمطالعہ پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے شیشے، فرنیچر اور پنکھے توڑ پھوڑ دیئے، کتابیں پھاڑ دیں۔ بعد میں وہ ٹوٹا ہوا فرنیچر اور کتابیں سڑک پر لے آئے اور ان کو آگ لگا دی۔ راولپنڈی کے طلباء نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ظلم و ستم کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا تھا۔ جب وہ عبادت احمدیہ کے پاس پہنچے تو وہ مشتعل ہو گئے اور دارالمطالعہ پر، جو کہ احمدیہ عبادت کی نچلی منزل میں قائم ہے، دھاوا بول دیا۔ توڑ پھوڑ کرنے کے بعد فرنیچر اور کتابوں کو آگ لگا دی۔ فائر بریگیڈ نے آگ بجھا دی۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور ایس. ایس. پی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس کی بھاری جمیعۃ علاقہ میں متعین کر دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضلع کی حدود میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی ہے اور پولیس نے مقدمہ رجسٹر کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس واقعہ کے متعلق امیر جماعت احمدیہ ضلع راولپنڈی کے احمد جان نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ مذہبی تعصب کی بناء پر کیا گیا ہے جب کہ طلباء کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لئے کیا ہے۔
(مشرق لاہور، مؤرخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء)
پنجاب فیڈریشن آف ٹریڈ یونین ملتان
پنجاب فیڈریشن آف ٹریڈ یونین کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت چوہدری ظہیر احمد تاج منعقد ہوا۔ جس میں طلباء پر اس قاتلانہ حملے کی مذمت کی گئی ہے اور قادیانیوں کے اس اشتعال انگیز رویہ کے خلاف ٹھوس اقدام کا مطالبہ کیا گیا تا کہ ملک دشمن عناصر کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ اجلاس میں لیبر یونین پنجند ٹیکسٹائل ملز ملتان، مزدور یونین اللہ وسایا ٹیکسٹائل اینڈ فنشنگ ملز، حبیب سلک ملز لیبر یونین، گل ٹیکس ورکرز یونین، ایگریکلچرل انجینئرنگ فیلڈ اینڈ ورکشاپ یونین، پاک پنجاب یونین واپڈا، بورے والا ٹیکسٹائل ملز، لیہ شوگر ملز اور دیگر متعدد یونینوں نے شرکت کی۔
تحریک استقلال ملتان شہر کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت شیخ ظہور احمد چیئرمین فنانس کمیٹی منعقد ہوا، جس میں شیخ ظہور احمد، ملک عبدالغفور سہیل، دوست محمد خاں بابر، آفتاب احمد ایڈووکیٹ، سید وجاہت علی شاہ نے خطاب کیا اور سانحہ ربوہ کو ملک کے خلاف ایک بھیانک سازش قرار دیتے ہوئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر مرزائیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
(سنگ میل ملتان، مؤرخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس واقعہ کے خلاف ملک بھر کے اخبارات وجرائد نے اداریے تحریر کئے جو ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
ربوہ کا خطرناک حادثہ (اداریہ نوائے وقت)
”ربوہ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ روز بارہ ڈاؤن چناب ایکسپریس کی ایک بوگی پر لاٹھیوں ، تلواروں، خنجروں اور ہاکیوں سے مسلح قریباً پانچ ہزار افراد کا حملہ کوئی ایسا حادثہ نہیں کہ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ انتہائی خطرناک مضمرات کا حامل ہے اور اگر ارباب اقتدار واختیار نے اس کی تفتیش و تحقیقات یا ملزموں کو قرار واقعی سزا دینے میں کسی نرمی یا تساہل سے کام لیا تو یہ حادثہ داخلی انتشار واضطراب اور خارجی خطرات سے دو چار ملت کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت پنجاب کے ترجمان کا یہ اعلان باعث اطمینان ہے کہ حکومت کو اس واقعہ سے پیدا شدہ صورتحال کی نزاکت کا پورا احساس ہے اور وہ امن عامہ خراب کرنے اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے مرتکب ہونے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی اور ملزموں کو چاہئے وہ کسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ حکومت کی اس یقین دہانی کے پیش نظر ہم عوام سے یہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سرکاری تفتیش و تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں، ضبط وتحمل کا ثبوت دیں اور اپنے جذبات پر اشتعال کے سائے نہ پڑنے دیں۔
اس حادثہ کی جو تفاصیل منظر عام پر آئی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ایک سو ساٹھ طلباء پشاور ڈویژن کا تفریحی دورہ ختم کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ جب ان کی گاڑی ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رکی تو ایک فرقہ کے پانچ ہزار مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں بری طرح زدوکوب کیا۔ اس حملہ میں تیس طالب علم زخمی ہوگئے اور کئی مسافر طلباء کا سامان بھی لٹ گیا۔ حملہ کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء نے ۲۲ مئی کو پشاور جاتے ہوئے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ختم نبوت کے حق میں نعرے لگائے تھے، جس پر ربوہ کے متذکرہ فرقہ کے طلباء اور دوسرے افراد نے انتقام لینے کا پروگرام بنایا تھا۔ اس پروگرام میں مبینہ طور پر ریلوے اسٹیشن ربوہ ماسٹر بھی شریک تھا، جو اسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اور جس نے سگنل ہونے کے باوجود ٹرین کو کافی دیر تک ریلوے اسٹیشن پر روکے رکھا۔
نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کا ”قصور“ اگر واقعی یہ تھا کہ انہوں نے ختم نبوت کے حق میں نعرے لگائے تھے تو اس میں برائی یا اشتعال کی کیا بات ہے، یہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ خاتم المرسلین ہیں اور ربوہ والے بھی گزشتہ دسمبر میں اپنے سالانہ اجتماع میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اب تو چنیوٹ سے سرگودھا جاتے وقت ربوہ کی حدود میں داخل ہوتے ہی بڑے بڑے پتھروں پر جلی حروف میں ”خاتم المرسلین زندہ باد“ لکھا نظر آتا ہے۔ اس سے ان کی مراد یقیناً یہ نہیں کہ وہ خدانخواستہ مرزا صاحب کو خاتم المرسلین سمجھتے ہیں، پھر اشتعال اور حملہ کا کیا جواز تھا؟ انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟
پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ آئین کی رو سے سرکاری مذہب اسلام قرار پایا ہے اور پاکستان کے ارباب اقتدار اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے وقت اپنے مسلمان ہونے اور ختم نبوت کے عقیدہ پر یقین رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ربوہ کے اس فرقہ والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں (اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ اب وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح ختم نبوت کو تسلیم کرنے کا اظہار کر چکے ہیں) پھر مسلمانوں کے ایک فرقہ کے لئے ختم نبوت کا نعرہ کیوں وجہ اشتعال بنا۔ ہمیں یقین ہے کہ صوبائی حکومت متذکرہ حادثہ کی تحقیقات کے دوران اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھے گی اور اس امر کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیا جائے گا کہ یہ فرقہ اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کس عقیدہ کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بناء پر الگ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ختم نبوت کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں اور سڑک پر خاتم المرسلین زندہ باد کے کتبے لگوانے کا کیا مطلب ہے؟ اس ضمن میں ہم ارباب حکومت کی توجہ اس امر کی جانب بھی مبذول کرائیں گے کہ اس فرقہ کا ترجمان اخبار مرزا صاحب اور ان کے عزیز واقارب کے لئے وہی القاب استعمال کرتا ہے جو رسول پاک ﷺ، صحابہ کرام، امہات المومنین یا اہل بیت ؓ کے لئے مختص ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک فرقہ اپنے مسلمان ہونے کا دعویدار بھی ہو، ختم نبوت کے اقرار کا اظہار بھی کرے۔ لیکن اس فرقہ کے سربراہ ان کے خاندان کے دوسرے افراد کے لئے ایسے القاب استعمال کئے جائیں، جو محض رسول پاک ﷺ، صحابہ کرام ؓ اور خانوادۂ رسول ﷺ کے لئے مختص ہوں اور پھر ختم نبوت کے حق میں نعرہ اس فرقہ کے افراد کے لئے وجہ اشتعال بھی بنے۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ربوہ کے علاقہ میں سرکاری افسر و اہلکار وغیرہ تعینات کرتے وقت بالعموم ایسے لوگ یہاں بھیجے جاتے ہیں جو اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر اور عملہ کے بعض دوسرے افراد کا اس فرقہ سے تعلق اس کا ثبوت ہے۔ ہمارے لئے یہ امر ناقابل فہم ہے کہ ربوہ کے قصبہ یا شہر کو انتظامی عملہ کے اعتبار سے ایک خاص فرقہ کے لوگوں کے لئے کیوں محدود و مختص کیا جا رہا ہے۔ آخر ربوہ کو ایک ’’بند شہر‘‘ کیوں بنایا جا رہا ہے۔
آخر میں ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے ایک بار پھر اپیل کریں گے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ بڑی بڑی زیادتیاں برداشت کرتے آئے ہیں، اس نازک مرحلہ پر ضبط و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور انتظار کریں کہ ارباب حکومت اس ’’تازہ شگوفہ‘‘ کا کیا علاج کرتے ہیں۔ مسلمانان پاکستان کو ہوش کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور اشتعال یا جوش میں آ کر کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جو ملت کے لئے باعث زیاں ہو۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے یہ کالم گواہ ہیں کہ ہم نے ربوہ کے اس فرقہ کے تو کیا، ہر فرقہ کے بارے میں ہمیشہ حزم و احتیاط سے کام لیا ہے اور اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے ہمیشہ کسی فرقہ وارانہ بحث سے دامن بچانے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک ایسی نازک بحث کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جو کچھ ہوا ہے، اس کے بعد ہمارے لئے اس مسئلہ پر اظہار خیال سے اجتناب کرنا ممکن نہیں رہا۔ لیکن ہم یہ کہنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کو تشدد و طاقت کے ذریعے یا قانون ہاتھ میں لے کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے اس حادثہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس کی ساری مشینری حرکت میں آئی ہوئی ہے۔ ہمیں قانون کی حکمرانی کے عمل اور اس کے منطقی نتیجہ کا انتظار کرنا چاہئے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء)
ربوہ سازش کیس (اداریہ روزنامہ پیام لائل پور)
’’نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ربوہ کے اسٹیشن پر مرزائیوں نے جو بے پناہ تشدد کیا ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کیونکہ اس تشدد سے جہاں ملک میں فرقہ وارانہ فضا مکدر ہو گئی ہے۔ وہاں خود حکومت اور عوام کو آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرانے کی بھی راہ پیدا کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی سازش ہے کہ جس کا ایک مقصد تو حکومت کے ذرائع استعمال کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے اور دوسرا مقصد موجودہ حکومت کو امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ثابت کر کے اس کا تختہ الٹنا ہے اور اس مقصد کے لئے آلہ کار مسلمانوں کو بنانا ہے۔
اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اور مسلمان عوام دونوں کی طرف سے پوری سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا جائے اور باہم الجھنے کی بجائے سازش کے اصل محرکوں کو پکڑ کر ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ جس گاڑی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے ڈرائیور کا بیان ہے کہ اس سازش میں جہاں ربوہ کی پوری مرزائی آبادی شامل ہے، وہاں سکھانوالی (نشتر آباد) اور ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی شریک ہیں۔ نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر نے ان ڈبوں کی نشاندہی کی، جن میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء واپس آ رہے تھے جب کہ ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر نے جان بوجھ کر گاڑی کو ربوہ کے اسٹیشن پر ۴۳ منٹ تک ٹھہرائے رکھا اور کلیئرنس کا سگنل نہ دیا تا کہ شر پسند مرزائی طلباء کو زیادہ سے زیادہ تشدد کا نشانہ بنا سکیں۔
مزید برآں اس سازش میں وہ تمام سرکاری عملہ شامل ہے کہ جو ربوہ میں تعینات ہے۔ ان تمام کو نہ صرف اس سازش کا پورا پورا علم تھا، جس کے باعث انہوں نے تشدد کو روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ مذہبی جنون کی وجہ سے مرزائیوں ہی کی مدد کی۔ مرزائی، ملت اسلامیہ کے جسد میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اسلامی ملک میں ان کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ پاکستان ہی ہے جس میں ان کو پناہ ملی ہوئی ہے۔ جس سے غلط فائدہ اٹھا کر انہوں نے اتنے قدم پھیلائے ہیں۔‘‘
(اداریہ روزنامہ عوام لائل پور، مورخہ ۳۱؍ مئی ۱۹۷۴ء)
نشتر میڈیکل کالج کے ۱۰۰ طلباء پر ربوہ میں قادیانی حملہ ناصر احمد کے اشارہ پر ہوا (چٹان)
لائل پور: مؤرخہ ۲۹؍مئی۔ پونے تین بجے سہ پہر حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت مولانا فضل رسول نے فون پر اطلاع دی ہے کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے لگ بھگ سو طلباء کا قافلہ برائے سیاحت پشاور گیا تھا۔ ان طلباء نے جاتی دفعہ ربوہ اسٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد کے والہانہ نعرے لگائے تھے۔ لیکن جب یہ قافلہ چناب ایکسپریس میں ۲۹؍مئی کی صبح کو واپس آ رہا تھا تو ان طلباء میں سے دو تین قادیانی طلباء نے ربوہ کے دارالخلافت سے پخت و پز کر کے انہیں وحشیانہ طور پر زد و کوب کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ جب چناب ایکسپریس واپسی میں نشتر آباد کے اسٹیشن پر پہنچی تو اس اسٹیشن کے قادیانی العقیدہ لیکن ذلیل ترین اسٹیشن ماسٹر نے ربوہ کے قادیانی اسٹیشن ماسٹر کو اطلاع کی، جو خود ایک وحشی درندہ ہے۔ گاڑی میں تاخیر کی گئی۔ اس عرصہ میں ربوہ سے پانچ چھ سو گرانڈیل قادیانی اور سکول اور کالج کے میرزائی طلباء اپنے ہمراہ تین چار سو بازاری فطرت کی عورتیں لے کر اسٹیشن پر آ گئے۔ جب گاڑی رکی تو ان طلباء کو ان کی بوگی سے، جو سب سے پیچھے تھی، اتار لیا گیا اور اتنا زخمی کیا گیا کہ ڈیڑھ درجن طلباء ہلکان ہو گئے۔ ان کے زخموں کو دیکھنا مشکل تھا۔
قادیانیوں نے اپنی پیاس بجھائی تو ان طلباء کو محفوظ طلباء گاڑی میں لاد کر لائل پور لائے۔ اس حالت زار کی اطلاع لائل پور میں بجلی کی طرح دوڑ گئی۔ دس ہزار کے لگ بھگ لوگ اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے نہایت تدبیر سے صورتحال پر قابو پایا۔ زخمی طلباء کو فی الفور طبی امداد دی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ وہ لائل پور ہسپتال میں چلیں لیکن طلباء نے اپنی تعلیم گاہ کے ہسپتال میں جانے پر اصرار کیا۔ چنانچہ گاڑی ان مجروحین کو لے کر ملتان روانہ ہو گئی۔ جس قدر طلباء زخمی ہوئے ہیں، ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ یہ مسلمانان پنجاب کو ایک ایسا چیلنج ہے، جس کے لئے ہم سب سے پہلے وزیر اعظم بھٹو کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن ساتھ ہی حشرات الارض کے امام ناصر احمد علیہ ماعلیہ کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے فوراً معافی مانگیں ورنہ ان کی خلافت کے تابوت میں غیرت اسلامی کی آخری میخ ٹھونک دی جائے گی۔
ہم بھٹو کے ساتھ ہیں
ہمارے مختلف ذرائع کی مستند معلومات کے مطابق ربوہ کا سانحہ ایک ایسی سازش کا دیباچہ ہے۔ جس سازش کے مضمرات میں بھٹو کی حکومت کو الٹ کر آمرانہ فضا پیدا کرنا اور اپنے ایک سیاسی لے پالک کی معرفت پنجاب میں عجمی اسرائیل کی زمین تیار کرنا تھا۔ قومی
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیاست میں جمہوری انداز سے اختلاف حب الوطنی کا خاصا ہے، ہمیں پیپلز پارٹی سے کبھی اتفاق نہیں رہا۔ اسی طرح وزیر اعظم بھٹو کے بعض سیاسی نظریات سے اختلاف و اتفاق کرنا ہم جمہوری روایت سمجھتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کو یہ بتا دینا ہمارا بنیادی فرض ہے کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ اگر انہوں نے بھٹو کے خلاف کسی بین الاقوامی منصوبے کے تابع ملک میں کوئی فوجی سازش تیار کرنے کی حمایت کی تو ہم نہ صرف بھٹو کے شانہ بشانہ سیاسی جمہوریت کے لئے دست و بازو ہوں گے بلکہ قادیانیت کی سازش کو تہس نہس کرنا ہمارا اسلامی و ایمانی فرض ہے۔ ہم اندرونی طور پر وزیر اعظم بھٹو سے شدید سے شدید اختلاف کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کسی کو یہ گوارا نہیں کہ کوئی بیرونی دشمن قادیانی امت کو ساتھ ملا کر مسٹر بھٹو سے اس لئے نبرد آزما ہوں کہ بین الاقوامی استعمار کی مدد سے قادیانی امت کے لئے عجمی اسرائیل قائم کیا جائے۔‘‘
(اداریہ شورش کاشمیری چٹان، مورخہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء)
یکم؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم کا بیان
راولپنڈی : وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے آج رات درج ذیل بیان جاری کیا ہے۔ ’’مجھے پنجاب کے مختلف علاقوں میں گڑبڑ کی خبروں پر بہت دکھ ہوا ہے۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت اس امر کا تہیہ کر چکی ہے کہ امن وامان میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ ہائیکورٹ کے ایک جج کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کر دیا گیا ہے، جو اس واقعہ کی تحقیقات کرے گا، جس سے یہ گڑبڑ پھیلی ہے۔ تمام شہریوں کو اس تحقیقات کے نتیجہ کا انتظار کرنا چاہئے جسے شائع کر دیا جائے گا کسی کو اس بات پر ذرہ بھر شبہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم ان لوگوں سے مؤثر طور پر نپٹ سکتے ہیں، جو ملک میں لاقانونیت پھیلا کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ حکومت ملک میں کسی قسم کی خانہ جنگی کی اجازت نہیں دے گی۔ میں اپنے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کوشش میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ سیدھی سی بات ہے کہ ہم عدم اتحاد کی قوتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے اور نہ ہی انہیں برداشت کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس قدر بہت سے مسائل درپیش ہیں کہ ملک میں امن وامان کو تباہ کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہونے دیں گے۔
ہر پاکستانی کو رک کر یہ سوچنا چاہئے کہ ہم ایک نازک وقت سے گزر رہے ہیں۔ دور رس نتائج کے حامل واقعات سے ہمارا سامنا ہے۔ کیا بھارت کے ایٹمی دھماکہ کا جواب ہم سے یہی ہوگا کہ ہم آپس میں لڑیں اور اپنے آپ کو ٹکڑے کر دیں۔ ہمیں موجودہ صورتحال کا مقابلہ ذمہ دار قوم کی حیثیت سے کرنا چاہئے۔ یہ بات سب کو معلوم ہونی چاہئے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہر کارروائی کریں گی۔ ہمارا ملک غریب ملک ہے جو قدرتی ، اقتصادی مسائل کی اس قدر زد میں آچکا ہے کہ پاکستان کو زیادہ نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘
(امروز لاہور، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
صوبائی وزیر اعلیٰ حنیف رامے کی ٹیلی ویژن پر تقریر
لاہور: مورخہ ۳۱؍ مئی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ: ’’وہ پاکستان کے ان دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہو جائیں جو ربوہ کے ریلوے اسٹیشن کے ۲۹؍ مئی کے واقعہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے میدان میں آگئے ہیں۔ مسٹر رامے نے یہ اپیل آج رات ٹیلی ویژن پر کی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت صورتحال سے اچھی طرح
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باخبر ہے اور وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی کو اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات پر مامور کر دیا ہے۔ ان کی تحقیقاتی رپورٹ میں جو شخص بھی مجرم قرار پائے گا، حکومت اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ کے واقعہ کو، جو ایک امن وامان کا مسئلہ ہے، مذہبی معاملہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس طرح اسے مذہبی رنگ دیا گیا ہے۔ مسٹر رامے نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس بات پر ناز ہے کہ اس کی حکومت نے ختم نبوت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے دین کو بھر پور تحفظ دیا ہے اور پاکستان کے مستقل آئین میں اس ضمن میں شق رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو پیغمبر اسلام کا وہ رویہ پیش نظر رکھنا چاہئے جو انہوں نے ایسی صورتحال میں اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک مذہب پر حاوی ہے۔ منافرت اور بغض و عناد میں بھی انصاف وعدل کی راہ کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ حکومت نے عوام کے منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا موقع دیا ہے۔ عوام بھی مسجدوں میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مناسب اور جائز حدود سے زیادہ کسی مسئلہ کو طول دینے سے یقیناً مسائل جنم لیں گے۔ مسٹر رامے نے یاد دلایا کہ ایسی ہی صورتحال نے ۱۹۵۳ء میں بدترین رخ اختیار کر لیا تھا۔ جس نے ملک کی سیاسی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ۱۹۵۳ء کے ہنگامے ملک میں پہلے مارشل لاء کے نفاذ کا سبب بنے تھے اور یہ مارشل لاء ہی تھا، جس نے ملک سے جمہوری روایات اور اقدار کی جڑیں اکھاڑ دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی منصفانہ اور جائز مقصد کی خاطر جدوجہد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص تشدد اور تباہی کی کارروائیوں میں مصروف ہو جائے۔ جائز نصب العین کی تقلید کرنے کی غرض سے جذبات کی رو میں نہیں بہہ جانا چاہئے بلکہ ہر قدم پر اپنی کارروائیوں کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ صحیح راہ سے انحراف تو نہیں ہو رہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچھ وقت تک ملک کے مختلف صوبوں میں بیرونی دنیا کو تاثر دینے کی خاطر صورتحال پیدا کی جاتی رہی کہ پاکستان زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ اور مسلسل جدوجہد کے بعد پاکستان کو عظیم خوبیوں کا حامل رہنما مل گیا ہے، جس نے پاکستانی قوم کو ایک مضبوط اور متحد قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر ابھرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن عناصر اور قوتیں بیکار نہیں بیٹھیں ۔ ان کا یہ تجربہ ہے کہ جب تک پنجاب کا ماحول خراب نہیں ہوگا، پاکستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم رہے گا۔ اپنے مذموم عزائم کو حاصل کرنے کے لئے ایسے عناصر کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے۔ انہوں نے دریافت کیا ہے کہ کیا پنجاب کے عوام ایسے عناصر کو اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے کی اجازت دیں گے۔ اس کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب ان لوگوں کو اپنے عزائم میں کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، اسلام کا قلعہ ہے اور پنجاب، پاکستان کا قلعہ ہے۔ پاکستان کو عالم اسلام کے نصب العین کی بڑے جوش وجذبہ کے ساتھ خدمت کرنے کے قابل بنانے کی خاطر پنجاب کو ایک غیرمعمولی کردار سرانجام دینا ہے۔ مسٹر رامے نے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی گزشتہ روز کی اپیل پر دھیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اپیل کا صحت مند اثر ہوا ہے اور صوبوں میں کئی مقامات پر صورتحال مکمل طور پر انتظامیہ کے قابو میں آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر لاقانونیت اور تشدد کے جو واقعات ہوئے ہیں۔ یہ سماج دشمن عناصر نے کئے ہیں جو بالعموم غنڈہ عناصر کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کسی نے امن پسند شہریوں کی عزت اور املاک پر اپنے غلیظ ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی، اس کے ساتھ قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘
(امروز لاہور، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صوبائی وزیر کا دورۂ ملتان
ملتان: صوبائی وزیر تعمیرات ومواصلات ڈاکٹر محمد صادق ملہی نے کہا ہے کہ ربوہ کے واقعہ میں ملوث ملزموں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ حکومت نے ہائیکورٹ کے جج کو تحقیقات کے لئے مامور کر دیا ہے۔ اس تحقیقات کی روشنی میں حکومت ہر ممکن اقدام کرے گی۔ اس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور امن وامان قائم رکھنے میں حکومت سے تعاون کریں۔ ڈاکٹر صادق ملہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد حنیف رامے کی ہدایت پر زخمی طلباء کے علاج معالجہ کے لئے کل رات ایک بجے خصوصی طیارے میں ملتان پہنچے تھے۔ وہ اپنے ہمراہ ممتاز نیوروسرجن ڈاکٹر بشیر کو بھی ملتان لائے۔ جنہوں نے آج طلباء کا بھی معائنہ کیا۔ صوبائی وزیر نے آج صبح پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور شہر کی دوسری سیاسی ،سماجی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان سے واقعہ ربوہ کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی اور کہا کہ ملکی مفاد کے پیش نظر حکومت کسی قسم کی ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دے سکتی۔ عوام کی جان ومال اور عزت و آبرو کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برآ ہوگی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے عناصر سے خبردار رہیں جو اس واقعہ کو ذاتی اغراض کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہوئے عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس واقعہ کے کسی ملزم کو معاف نہیں کرے گی ، خواہ وہ کسی بھی حیثیت کا حامل کیوں نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے پہلے اسی ہائیکورٹ کے ایک فاضل جج کو تحقیقات کے لئے مقرر کرایا ہے ،اس طرح اب ہماری یہ ڈیوٹی ہے کہ تمام متعلقہ لوگ تحقیقاتی جج سے تعاون کریں تاکہ ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال میں زیرعلاج طلباء کی حالت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔ ادھر شہر میں مختلف تنظیموں اور انجمنوں نے آج بھی اس واقعہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
نشتر ہسپتال میں زیرعلاج طلباء
نشتر ہسپتال میں زیرعلاج ۱۰/زخمی طلباء کی حالت بہتر ہورہی ہے۔ ان طلباء میں سے ایک طالب علم آفتاب محمود کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔ چنانچہ معروف نیورو سرجن ڈاکٹر بشیر احمد نے آج اس کا معائنہ کیا۔ یادرہے کہ ان طلباء کو دو روز قبل ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں کے ایک بڑے گروہ نے حملہ کر کے اس وقت زخمی کیا تھا۔ جب چناب ایکسپریس کے ذریعے ملتان آ رہے تھے۔ جب ان کی گاڑی ریلوے اسٹیشن ربوہ پر پہنچی تو ایک بڑے گروہ نے حملہ کر کے متعدد طلباء کو بری طرح پیٹا۔ ان میں سے کئی طلباء شدید زخمی ہوئے۔ دو طالب علم لائل پور کے تھے جو راستے میں اپنے گھر ٹھہر گئے۔ ان میں اعجاز رسول اور طلعت محمود شامل ہیں۔ یہ طلباء بھی نشتر کالج ہی کے تھے۔ ان کے علاوہ دس طلباء نشتر ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان میں محمد فاروق، خالد عزیز، محمد امین، محمد نعیم، خالد عبداللہ، مسرت حسین، آفتاب محمود، ارباب عالم خاں، سعید باجوہ اور حسن محمود شامل ہیں۔ ان میں آفتاب محمود کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔ جس کے لئے صوبائی حکومت نے معروف نیورو سرجن ڈاکٹر بشیر کو گزشتہ رات ملتان بھیجا تھا۔ ڈاکٹر بشیر صوبائی وزیر ڈاکٹر صادق ملہی کے ساتھ ملتان آئے۔ انہوں نے آج صبح طلباء کا معائنہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان طلباء کے علاوہ بھی کئی دوسرے طلباء زخمی ہوئے تھے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا۔ ان دس طلباء کی حالت اب بتدریج سنبھل رہی ہے۔
احتجاج ......ملتان کی جماعتوں کے اجلاس
پیپلز پارٹی ملتان کے کارکنوں کا اجلاس ملک نبی بخش کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سانحہ ربوہ کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جنہوں نے اس واقعہ کے ذریعے ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ اجلاس سے شہر کے متعدد کارکنوں نے خطاب کیا۔ پاکستان جمہوری پارٹی ملتان شہر کے صدر میاں ظہور الحق اور جنرل سیکرٹری چوہدری الطاف حسین ایڈووکیٹ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کی اس امن دشمن حرکت کا پوری سختی سے نوٹس لے اور ربوہ کی سٹیٹ کو ختم کر کے تمام پاکستانی شہریوں کو وہاں آباد ہونے کے حقوق دے۔ شاپ لیبر یونین چوک بازار حسین آگاہی ملتان کے صدر شیخ سراج الدین نے کہا ہے کہ جب تک اس واقعہ کے ملزموں کو قرار واقعی سزا نہیں دی جاتی ، عوام چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اسلامی جمعیۃ طلباء ضلع ملتان کے ناظم فیاض چوہدری اور ملتان جمعیۃ کے ناظم حفیظ انور نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ربوہ اسٹیشن کے واقعہ کے بعد قادیانی افراد نے کل احتجاجی جلوسوں پر فائرنگ کی اور پر امن جلوسوں میں شامل لوگوں کو زخمی کیا۔ انہوں نے حکومت سندھ کے غیر جمہوری اقدام کی مذمت کی ، جس کے تحت اس واقعہ کی خبروں کی اشاعت روک دی ہے۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ یونین کے سابق جنرل سیکرٹری فاروق تسنیم نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شدہ طلباء کو رہا کیا جائے۔ انجمن طلباء اسلام ملتان کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے قادیانیوں کے خلاف ضروری کارروائی نہ کی تو نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ۔ پیپلز پارٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن ملتان کے صدر ملک اسلم نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ کی تحقیقات کے بعد جو بھی مجرم ثابت ہو، اسے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ کالج آف سائنس ملتان کے جنرل سیکرٹری نوشیروان عادل قیصر نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے، اس واقعہ کی پشت پناہی کرنے والے تمام افسروں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔ جامع مسجد اہل حدیث چوک ڈبگراں کے ایک اجتماع میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
جماعت اسلامی ملتان کے زیر اہتمام آج ایک جلسے میں مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ کے سانحہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اجلاس کی صدارت چوہدری نذیر احمد نے کی ۔ شیخ عبدالحمید ، ملک سلطان امیر اور نشتر کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم خان نے تقاریر کیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔
(امروز ملتان ، مورخہ یکم / جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی میں آج اس وقت ہنگامہ ہو گیا جب سپیکر نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی یقین دہانی کے بعد حزب اختلاف کے سات اراکین کی طرف سے پیش کردہ التواء کی تحریکوں پر بحث کی اجازت نہ دی ۔ قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے کہا کہ یہ سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے ۔ قائد ایوان مسٹر رامے نے کہا کہ ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت ہے۔ اس پر حزب اختلاف کی اجارہ داری نہیں ۔ یہ تمام مسلمانوں کے جذبات کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی مسلمان کو خوشی نہیں ہو سکتی ۔ حزب اختلاف جذبات کی رو سے بہہ جانے کے بجائے رہنمائی کرے ۔ حاجی سیف اللہ نے کہا کہ تحریک منظور کر کے بحث کی جائے ۔ سپیکر نے کہا کہ اس تحریک پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ مسئلہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر حزب اختلاف نے احتجاج کیا اور سپیکر پر زور دیا کہ تحریک پر بحث کی جائے ۔ سپیکر نے کہا کہ میں قواعد کا پابند ہوں ۔ اس موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے کھڑے ہو کر ”ختم نبوت زندہ باد“ کے نعرے لگائے ۔ قائد ایوان نے کہا کہ اگر حزب اختلاف زور دیتی ہے تو میں پیشکش کرتا ہوں کہ ایوان میں اس مسئلہ پر بحث کی جائے ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی اسمبلی ، مولانا غلام غوث اور چوہدری ظہور الہی کی تحریک التواء
اسلام آباد وفاقی وزیر تعلیم مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے آج یہاں قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ ربوہ کے واقعہ کے بعد امن عامہ کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے حکومت پنجاب تمام ممکن ذرائع استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ اس واقعہ پر سنجیدگی سے غور کریں اور کسی شخص کو اس معاملہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔ وفاقی وزیر تعلیم، مسلم لیگی رہنما چوہدری ظہور الہی کی طرف سے پیش کردہ تحریک التواء پر حکومت کا مؤقف بیان کر رہے تھے۔ یہ تحریک التواء فوری طور پر بحث کے لئے منظور کر لی گئی تھی۔ مسٹر پیرزادہ نے ایوان کو مطلع کیا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی حالات پر قابو پا لیا ہے اور ہائیکورٹ کے ایک جج کو اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے مامور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ انتظار کریں۔ انہوں نے کہا وقت کا اوّل ترین تقاضا یہ ہے کہ ملک میں مکمل امن وامان قائم رہے۔
چوہدری ظہور الہی نے آج ربوہ کے واقعہ پر غور کرنے کے لئے ایوان میں تحریک التواء پیش کی۔ قواعد کے مطابق ہر تحریک التواء پر اس کی باری آنے پر غور کیا جاتا ہے۔ لیکن چوہدری ظہور الہی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ربوہ کا واقعہ انتہائی اہم اور فوری نوعیت کا ہے۔ لہٰذا اس تحریک پر فوری طور پر غور کیا جائے۔ ایوان نے اس مؤقف کو قبول کر لیا۔ وفاقی وزیر تعلیم مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اوّل تو یہ معاملہ صوبائی ہے اور دوسرے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے ہائیکورٹ کے ایک جج کی تقرری کی جا چکی ہے۔ اس طرح یہ معاملہ عدالت میں پیش ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس پر بحث نہیں ہو سکتی۔ پنجاب اسمبلی بھی گزشتہ روز اس واقعہ پر بحث کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پنجاب صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات کر رہی ہے اور آئین کے تحت مرکز کی طرف سے مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزیر تعلیم کی تقریر کے بعد پیشتر اس کے کہ ایوان اس تحریک پر کوئی فیصلہ دیتا، سپیکر نے اعلان کیا کہ اس معاملہ پر اب کل کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ سپیکر نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے جو وقت مقرر کیا گیا تھا، وہ ختم ہو گیا ہے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے سلسلہ میں دو اور تحریک التواء بھی پیش ہوئی تھیں، جن میں ایک تحریک التواء جمعیۃ علمائے اسلام کے مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کی تھی۔
(امروز لاہور، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء)
پیر پگاڑا
لاہور پاکستان مسلم لیگ کے صدر جناب پیر پگاڑا نے واقعہ ربوہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو اس کا پوری گہرائی سے جائزہ لینا چاہئے۔ کیونکہ اس کے نتائج بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پیر صاحب آج گلبرگ (لاہور) میں پاکستان مسلم لیگ لائرز سرکل (پنجاب) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ صدارت سینیٹر خواجہ محمد صفدر ایڈووکیٹ نے کی۔ جناب پیر پگاڑا نے سرکل کے کنونیر مسٹر کرم الہی بھٹی کے سپاسنامے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم نے ملک کو سنبھالنے اور اس کے استحکام کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان اور اسلام کی سربلندی، جمہوریت، معاشی انصاف اور مسلمانوں کے استحکام کے لئے بنایا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ملک دو ٹکڑے ہو چکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان میں حالات اس سے مختلف ہیں۔ جس کے لئے یہ ملک بنایا گیا تھا۔ آج ملک میں جمہوریت ختم ہے۔ آزادیاں سلب کر لی گئی ہیں اور غنڈہ گردی کا دور دورہ ہے۔ کئی بیرونی ازم ہم پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں وکلاء اور سب پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ قائد اعظم کے بتائے ہوئے اصولوں پر اتحاد،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تنظیم، یقین پر عمل پیرا ہو کر ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔ پیر صاحب نے کہا کہ سپاسنامے میں قرارداد لاہور کا حوالہ دیا گیا ہے۔ آج بھی مسلمان قوم اس عہد پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات جس طریقہ پر جا رہے ہیں، میں یا کوئی اور پاکستانی خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں ملک کو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ ہمیں ملک کو اس بحران اور مسائل سے بہر حال نکالنا ہوگا۔ پیر صاحب نے کہا کہ بھارت کے ایٹم بم سے ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔ لیکن اندرون ملک علاقائیت اور افتراق کے رجحان کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلم لیگ کے سربراہ نے ربوہ کے گھناؤنے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو اس واقعہ کے مضمرات کا بڑی احتیاط اور توجہ سے جائزہ لینا چاہئے۔ کیونکہ یہ خطرناک نتائج کا حامل ہے۔ پیر صاحب نے مسلم لیگ کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس جماعت کے استحکام سے بچایا جا سکتا ہے۔
(روزنامہ مشرق لاہور، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء)
ملتان و بہاول پور ڈویژن کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
ملتان: مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء۔ ملتان اور بہاول پور ڈویژن کے مختلف شہروں میں آج ربوہ کے واقعہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا اور جلوس نکالے گئے۔ بعض شہروں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے واقعات بھی ہوئے۔ تاہم مجموعی طور پر صورتحال انتظامیہ کے قابو میں ہے۔
بہاول پور
بہاول پور سے ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق ربوہ کے واقعہ کے خلاف آج شہر میں دو جدا گانہ جلوس نکالے گئے۔ صادق ایجرٹن اور انٹر میڈیٹ کالج کے طلباء نے مشترکہ طور پر آج صبح پر امن جلوس نکالا۔ جلوس شہر کی بڑی بڑی سڑکوں سے گزرا۔ دوسرا جلوس جمعہ کی نماز کے بعد الصادق مسجد سے شہریوں کی تشکیل شدہ مجلس عمل کے فیصلے پر نکالا گیا۔ اس جلوس میں مذہبی اور سیاسی پارٹیوں نے شرکت کی۔ شہر کے بڑے بڑے بازاروں سے گزر کر جلوس نے فرید گیٹ پر جلسہ عام کی صورت اختیار کر لی۔ جلسہ سے جناب عبید الرحمن، سردار اسلم، بابر شاہین، جناب غلام سرور خان، جناب محمد حسن چغتائی، حاجی سیف الرحمن اور مولوی عمران نے خطاب کیا۔ متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، جن کے ذریعے ربوہ واقعہ کے ملزموں کو مثالی سزا دینے، قادیانی فرقہ کو اقلیتی فرقہ اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین اپنے عقائد کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔ علاوہ ازیں بہاول پور بار ایسوسی ایشن کا بھی ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔ ایک قرارداد کے ذریعے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قادیانیوں کے حملہ کی مذمت کی گئی۔ بار ایسوسی ایشن نے ربوہ کی انتظامیہ کی فوری معطلی کا بھی مطالبہ کیا۔
عبدالحکیم
ہمارے نامہ نگار کے مطابق آج عبدالحکیم میں مکمل ہڑتال رہی۔ ہڑتال اس قدر مکمل تھی کہ لوگوں کو ضروریات زندگی اور دودھ، سگریٹ تک نہیں مل سکے۔ آج نماز جمعہ کے بعد عید گاہ سے شہریوں کا ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔ جس میں پندرہ ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ بعد میں شیخانوالی مسجد میں ایک جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت پیر ظہور اسماعیل نے کی۔ جلسہ میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ ربوہ کے شرکاء کو سخت سزائیں دی جائیں۔ ربوہ میں مسلمانوں کو بھی رہائشی پلاٹ فراہم کئے جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد پور شرقیہ
احمد پور شرقیہ سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق سانحہ ربوہ پر شہریوں اور طلباء میں زبردست غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آج سکول اور کالج کے طلباء نے احتجاجی جلوس نکالے، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ ربوہ کے ملزموں کو سخت سزا دی جائے۔ تحریک طلباء اسلام ، تحریک استقلال ، مجلس احرار ، مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ جمہوری محاذ نے اپنے اجلاس میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور حکومت سے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اوچ شریف ، ڈیرہ نواب، مبارک پور ، چنی گوٹھ میں زبردست احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ کل احمد پور شرقیہ میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔
خانیوال میں جلوس
خانیوال سے ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق خانیوال میں آج جمعہ کی نماز کے بعد ربوہ کے واقعہ پر جلوس نکالا گیا۔ جلوس نے سارے شہر کا گشت کیا اور مطالبہ کیا کہ گرفتار کئے جانے والوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ شام کو اسسٹنٹ کمشنر سے شہریوں کے وفد نے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا کیا جائے، جس پر گرفتار کئے جانے والوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس سے قبل شہر میں مسلح پولیس اور فیڈرل فورس گشت کرتی رہی۔ تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
رحیم یار خان میں ہڑتال
رحیم یار خان سے ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ آج بھی شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس میں مظاہرین نے قادیانیوں کے خلاف پرجوش نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ربوہ اسٹیشن پر حملہ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ مظاہرین نے بعض دوکانوں پر پتھراؤ کیا اور شیشے توڑ دیئے۔ لاہور ہوٹل، کراچی ہوٹل، البرق، المینار ، سیالکوٹ اسپورٹس کی دوکانوں کو نقصان پہنچایا۔ ڈاکخانہ بازار میں ایک شخص خادم حسین کی دوکان کو آگ لگا دی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان مسلسل آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس پھینکی اور ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔ مختلف تنظیموں نے بعد میں غلہ منڈی کی مسجد میں جمع ہو کر آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا۔ جب وہ لوگ مسجد میں جمع تھے تو مبینہ طور پر پولیس کا ایک آنسو گیس کا بم مسجد کے صحن میں گرا، جس سے ساری مسجد میں دھواں بھر گیا۔ جس وقت مظاہرین خادم حسین کی دوکان کو آگ لگا رہے تھے تو وہاں فائر بریگیڈ فوراً پہنچ گیا۔ مگر مظاہرین نے اس پر پتھراؤ کر کے اسے ناکارہ بنادیا۔ پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ آج کے ہنگامے کے متعلق مقامی انتظامیہ نے جو پریس نوٹ جاری کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ آج سہ پہر رحیم یار خان کے شہریوں نے ربوہ کے واقعہ پر احتجاج کے لئے جلوس نکالا۔ چونکہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے، اس لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے تحریری اجازت حاصل کی گئی تھی۔ جلوس نکالنے والوں نے انتظامیہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ پرامن رہیں گے، جس کی بناء پر انہیں جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی اور جلوس واقعی پرامن رہا۔ مگر جلوس کے اختتام پر جب لوگ گھروں کو واپس جانے لگے تو کچھ لوگوں نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے شہر کے ایک فرقے کے لوگوں کی دوکانوں اور ہوٹلوں پر پتھراؤ کیا اور ایک دوکان کو آگ لگا دی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس. پی جو جلوس کے ساتھ ساتھ تھے، نے بار بار انتباہ کیا مگر جب وہ باز نہ آئے تو ان پر آنسو گیس پھینکی گئی اور ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا، جس سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور مظاہرین منتشر ہو گئے۔ پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید گرفتاریاں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
متوقع ہیں اور رات تک صورتحال معمول پر آ گئی تھی اور حالات پرسکون ہوگئے تھے۔ ادھر رحیم یار خان کی بار ایسوسی ایشن نے آج اپنے خاص اجلاس میں، جو بار کے صدر خاں ضیاء الحق خاں کی صدارت میں ہوا، ربوہ کے واقعہ کی مذمت میں قرارداد منظور کی اور مطالبہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مرزا ناصر احمد کو شامل تفتیش کیا جائے۔ سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو معطل کیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیانیوں کا سماجی و معاشی بائیکاٹ کیا جائے گا۔
چشتیاں جلسے جلوس
چشتیاں سے ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق گورنمنٹ ڈگری کالج اور دوسرے اسکولوں کے طلباء نے طلباء یونین کے صدر ندیم اقبال اور طالب علم لیڈر اکرام غازی کی سرکردگی میں ربوہ کے واقعہ کے خلاف آج ایک جلوس نکالا۔ جب جلوس کچہری کے احاطہ کے قریب پہنچا تو طلباء نے ایک ایڈووکیٹ کا فرنیچر توڑ پھوڑ دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے کہا چونکہ دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے، اس لئے جلوس کو منتشر ہو جانا چاہئے۔ مظاہرین کے انکار پر پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ اس پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ یہ ہنگامہ کوئی نصف گھنٹہ تک جاری رہا۔ پولیس نے یونین کے صدر ندیم اقبال اور اکرام غازی سمیت آٹھ طلباء کو حراست میں لے لیا۔ طلباء نے نعرے اور مظاہرہ جاری رکھا۔ بعد میں طلباء چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ کر شہر بھر میں پھرتے رہے۔
بالآخر پولیس نے اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایت پر آٹھوں طلباء کو چھوڑ دیا۔ طلباء نے پھر جلوس نکالا اور مختلف نعرے لگائے۔ جلوس چوک بخاری پہنچا، جہاں طالب علم لیڈروں نے تقریریں کیں۔ مظاہرین نے پتلا بھی جلایا اور پھر وہ پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ علاوہ ازیں شہریوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اجتماع ہوا۔ جس میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قادیانیوں کے حملہ کی سخت مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں چشتیاں میں جلوس پر پولیس لاٹھی چارج کی بھی مذمت کی گئی۔ ربوہ کے واقعہ اور چشتیاں میں پولیس لاٹھی چارج کے خلاف کل شہریوں نے مکمل ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اطلاع کے مطابق کل بھی شہریوں کا اجلاس ہوگا۔ شہر کی تمام مسجدوں میں بھی ربوہ کے واقعہ کی مذمت کی گئی۔
بہاول نگر میں طلباء کا احتجاجی جلوس
ہمارے نامہ نگار کی خبر کے مطابق بہاول نگر میں طلباء نے آج احتجاجی جلوس نکالا اور مظاہرہ کیا۔ جلوس نعرے لگا رہا تھا اور شہر کی بڑی بڑی سڑکوں پر گشت کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو گیا۔ البتہ جلوس کے اختتام پر بعض شرپسندوں نے ورائٹی جنرل اسٹور اور محمود کلاتھ ہاؤس کو آگ لگا دی، جس پر عوام اور انتظامیہ نے مل کر فوراً قابو پا لیا۔ پولیس نے دو افراد افضل قادر اور عمر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان دونوں کا تعلق کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے نہیں بتایا جاتا۔ شہر میں امن و امان ہے اور پولیس گشت کر رہی ہے۔
(امروز ملتان، مورخہ یکم جون ۱۹۷۴ء)
ملتان
ملتان: مورخہ ۳۱ مئی ۔ آج نماز جمعہ کے اجتماعات میں ملتان کی تمام جامع مساجد میں قراردادوں کے ذریعے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ ربوہ شہر میں قادیانی اقلیت نے آتشیں اسلحہ اکٹھا کر رکھا ہے۔ اس لئے اس شہر میں گھر گھر کی تلاشی لی جائے اور پاکستان کو اس تشدد پسند فرقہ کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جائے۔ علاوہ ازیں تحریک استقلال ملتان کے ضلعی صدر مہر محمد رفیق، کونسل مسلم لیگ کے صدر چوہدری عرفان اللہ انصاری، انجمن تاجران بوہڑ گیٹ کے صدر مولوی محبوب احمد اویس، پیپلز
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر جمال الرحمن خان، انجمن طلباء اسلام کے ناظم محمد اقبال، سرائیکی سٹوڈنٹس فیڈریشن کے امین بھٹی، گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج کے صدر مسٹر اعجاز، نیشنل لیبر فیڈریشن ملتان زون کے جنرل سیکرٹری سید رحمت حسین شاہ، تحریک استقلال کے شیخ ظہور احمد، ڈینٹل سرجن ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر امیر ریاض الدین نے علیحدہ علیحدہ بیانوں میں ربوہ کے واقعہ کی پرزور مذمت کی ہے۔
نشتر میڈیکل کالج کے پروفیسر پر حملہ
نشتر کالج کے طلباء نے آج فزیو لوتھراپسٹ مسٹر عطاء اللہ پر حملہ کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ مسٹر عطاء اللہ نے کوئی اشتعال انگیز بات کر دی تھی۔ فزیو لوتھراپسٹ کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ پولیس مصروف تفتیش ہے۔ آج ملتان میں گرفتاریاں پیش کی جائیں گی۔ دینی وسیاسی جماعتوں کے اجتماع میں آج فیصلہ کیا گیا کہ کل شام چھ بجے عثمانیہ مارکیٹ میں ربوہ اسٹیشن پر غنڈہ گردی کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرفتاریاں پیش کی جائیں۔ جلسہ عام سے پاکستان جمہوری پارٹی کے کشتونس خان ایڈووکیٹ، جمعیۃ العلماء پاکستان، سید کبیر علی شاہ، مجلس احرار اسلام سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے صاحبزادے سید عطاء المؤمن، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد شریف جالندھری، خاکسار تحریک کے صوبائی صدر اور بار ملتان کے صدر محمد اشرف اور جمعیۃ العلماء اسلام کے ناظم شیخ محمد یعقوب خطاب کریں گے۔
فرید پراچہ کا انتباہ
سرگودھا سے ”نوائے وقت“ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر فرید پراچہ نے آج یہاں مطالبہ کیا کہ حکومت ربوہ میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات ہر قیمت پر دو ماہ میں مکمل کر لے۔ اگر یہ عرصہ طویل کیا گیا تو طلباء تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے اور ربوہ سے تمام اسلحہ تحویل میں لیا جائے دریں اثناء آج کمپنی باغ میں تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ جلسہ عام ہوا۔ جس میں مقررین نے ربوہ کے واقعات پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جائے۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ ربوہ کو کھلا شہر اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
شاہ کوٹ میں احتجاجی جلوس
ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق آج شاہ کوٹ میں مکمل ہڑتال رہی۔ تاجر پیشہ حضرات اور سیاسی اور سماجی کارکنوں نے پرامن احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر بہیمانہ تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔ جلوس نے تمام شہر کا چکر کاٹا۔
بھکر میں جلوس نکالے گئے
بھکر کے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق وہاں بھی ربوہ اسٹیشن کے واقعہ کے خلاف شدید ردّعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آج شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ ہزاروں افراد نے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود پرامن جلوس نکالے۔ سب سے پہلے گورنمنٹ ڈگری کالج بھکر کے طلباء نے ملک گلزار حسین اور دیگر طالب علموں کی قیادت میں ایک پرامن جلوس نکالا۔ جب یہ جلوس اے سی بھکر کی عدالت میں پہنچا تو وہاں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسسٹنٹ کمشنر بھکر، ڈی ایس پی بھکر اور شفیق مجسٹریٹ نے طلباء کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی سے باز رہنے کی تلقین کی۔ لیکن شہریوں کا ایک جلوس معززین شہر کی یقین دہانی پر شہر کی مختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا چوک بازار بھکر پہنچا جہاں سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ، غلام حسن دھاندلہ (ایم این اے)، ملک سعید ایڈووکیٹ، مولوی محمد عبداللہ، محمد حنیف غوری، نور سلطان خادم سلطان باہو، احسان اللہ خان ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں نے تقاریر کیں۔ بعدازاں یہ جلوس کالج جا کر ختم ہو گیا۔ علاوہ ازیں نماز جمعہ کے بعد ۳ بجے تمام مکتبہ فکر کے علماء نے مسجد (فاروق اعظم) طویلہ گیٹ میں قادیانیت کے خلاف تقاریر کیں اور مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ علماء نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور مرکزی حکومت اس ضمن میں فی الفور آئینی انتظامات کرے تاکہ امت مسلمین کے جذبات کو تسکین مل سکے۔
لاہور
لاہور کی مساجد میں نمازیوں نے ختم نبوت کے مسئلہ پر اپنے پختہ عقیدے کا اظہار ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے کیا۔ اہم مساجد کے باہر پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کی بھاری فورس متعین تھی اور پولیس کے ٹرک گشت کر رہے تھے۔ اس دوران صوبائی دارالحکومت میں آج نماز جمعہ کے خطبہ میں علماء نے مسئلہ ختم نبوت کے دینی اور سیاسی پہلوؤں پر خصوصیت کے ساتھ روشنی ڈالی اور ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر کالج کے طلباء پر احمدیوں کے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ علماء نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ قادیانیت کے سیاسی اور دینی مضمرات کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور ناموس رسول ﷺ کی حفاظت کے لئے پوری طرح تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، خدا اور رسول کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ تصور پاکستان کے خالق علامہ اقبال نے ختم المرسلین ﷺ سے بے پناہ عشق و محبت کے جذبات کا اظہار کیا اور مسلمانوں کو رسول پاک ﷺ کے ساتھ دنیا کی ہر شئے سے زیادہ محبت رکھنے کی تلقین کی۔ اس لئے پاکستان میں یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی فرقہ ختم نبوت میں شک کرے، چہ جائیکہ کسی نئی نبوت کا دعویٰ کیا جائے۔
رحیم یار خان ایسوسی ایشن کا اجلاس
رحیم یار خان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس زیرصدارت محمد ضیاء الحق خان منعقد ہوا۔ جس میں ربوہ میں ملتان کے طلباء پر تشدد کی پرزور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی روشنی میں اس سانحہ میں ملوث افراد کو سنگین سزائیں دی جائیں اور تحقیقات کی رپورٹ شائع کی جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ نیز عوام کے ان شکوک کی تحقیقات کرائی جائے کہ یہ فرقہ ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ مولانا غلام ربانی سینئر نائب صدر جمعیۃ العلماء اسلام صوبہ پنجاب نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہوا ہے تاکہ ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کی جائے۔
لائل پور میں قادیانیوں کی فائرنگ سے ایک مسلمان شہید
لائل پور آج صبح محلہ رضا آباد اور پیپلز کالونی میں قادیانی فرقے کے لوگوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ دو زخمیوں کو نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ فائرنگ کے واقعات کے بعد پورے شہر میں کشیدگی بڑھ گئی اور ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ کے خلاف جو مظاہرے کل شروع ہوئے تھے، آج اور زیادہ شدت اختیار کر گئے۔ لائل پور کے علاوہ سرگودھا، چنیوٹ، وزیرآباد، ساہیوال، شاہ کوٹ، پتوکی، چشتیاں اور متعدد دوسرے شہروں سے بھی مظاہروں کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اطلاعات ملی ہیں۔ لائل پور میں مظاہرین نے اسلام آباد، رضا آباد، مائی کی جھگی، گلشن کالونی، پیپلز کالونی، فیض آباد اور محمد پورہ میں پانچ کوٹھیوں اور دو سو مکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ رضا آباد میں ڈاکٹر نعیم اور ان کی بہن کی کوٹھیوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ گلشن میں شیخ ظہور احمد کی کوٹھی کو آگ لگا دی گئی۔ جس سے ایک سکوٹر، ٹیلی ویژن سیٹ اور گھر کا قیمتی سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔ فیض آباد میں ان کی ۸۰ پاور لومز کو بھی جلا دیا گیا۔ جب کہ غلام محمد آباد میں ۷۰ سے زائد کھڈیاں نذر آتش کر دی گئیں۔
گلشن کالونی میں ایک اور کوٹھی اور کئی مکان جلا دیئے گئے۔ محمد پورہ میں تین مکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مظاہرین نے پچاس سے زیادہ مکانوں کے اندر سے سامان نکال کر جلا دیا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران بعض شر پسندوں نے لوٹ مار شروع کر دی۔ پولیس اب تک ساڑھے تین سو افراد کو لوٹ مار اور آتش زنی کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے۔ گرفتار ہونے والوں کو سنٹرل جیل بھیج دیا گیا ہے۔ زرعی یونیورسٹی لائل پور کے تقریباً چار سو طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جائے گا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔ مظاہرین مارچ کرتے ہوئے گھنٹہ گھر کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے آنسو گیس چھوڑی اور لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کر دیا۔ معلوم ہوا ہے کہ آج صبح تقریباً ۹ بجے رضا آباد میں رہنے والے تین قادیانی نوجوان سکوٹر پر بیٹھ کر فرار ہونا چاہتے تھے۔ لیکن وہ ابھی چند گز ہی گئے تھے کہ انہوں نے اپنے مکان کے سامنے کچھ لوگوں کو کھڑے ہوئے دیکھا اور بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے ایک شخص غلام رسول موقع پر جاں بحق ہو گیا اور دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ جنہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ فائرنگ کے دو واقعات پیپلز کالونی میں ہوئے، جن میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ پیپلز کالونی نمبر ۲ میں ایک نوجوان ریوالور کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ اس علاقے میں ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کے ایک سب ڈویژنل افسر راجہ ناصر احمد قادیانی نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے لوگوں کو ہراساں کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کر دی۔ جس سے علاقے میں زبردست اشتعال پھیل گیا۔ زرعی یونیورسٹی لائل پور کے ڈپٹی رجسٹرار عبدالرشید کی کوٹھی واقع لالہ زار کالونی کو آج رات شر پسندوں نے آگ لگا دی۔ اسی طرح زرعی یونیورسٹی کے طلباء نے یونیورسٹی کے احمدی طلباء کی اشیاء جلا دیں۔ پورے شہر میں پولیس گشت کر رہی ہے۔ چک جھمرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرہ سے لوٹ مار اور آتش زنی کی اطلاعات ملی ہیں۔
قادیانیوں نے سرگودھا میں مسلمان کو حبس بے جا میں رکھا
امروز کے نامہ نگار کے مطابق پولیس نے ودود میڈیکل ہال کے مالک مسعود احمد قادیانی اور ان کے بیٹے سعید احمد قادیانی اور دو قادیانی کمپاؤنڈروں کو ایک شخص سعید احمد کو حبس بے جا میں رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ علاوہ ازیں آج بعد نماز جمعہ کمپنی باغ میں ایک جلسہ ہوا، جس میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ربوہ میں عملاً متوازی حکومت قائم ہے۔ حکومت کو اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے ماہ مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ پھر پاکستان کی حکومت کی راہ میں اس فرقہ کو اقلیت قرار دینے میں کون سی چیز مانع ہے۔ جلسہ کے بعد طلباء نے پرامن جلوس نکالا جسے منتشر کرنے کے لئے پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عارف والا
ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق آج صبح اسلامی فکری محاذ کے نوجوانوں اور کالج کے سینکڑوں طلباء نے مساجد کے خطیبوں کی قیادت میں ربوہ کے واقعہ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ جب یہ جلوس تھانہ بازار پہنچا تو مشتعل طلباء نے ڈاکٹر خالد ہاشمی کی دوکان پر پتھراؤ شروع کر دیا اور بعد ازاں دوکان کا تالہ توڑ کر اس کا سارا سامان تباہ کر ڈالا اور فرنیچر کو سڑک پر جمع کر کے نذر آتش کر دیا۔ پولیس کے موقع پر پہنچتے ہی جلوس آگے چل پڑا اور غلہ منڈی پہنچ کر منتشر ہو گیا۔ اوکاڑہ، چیچہ وطنی، ساہیوال میں بھی مظاہرے۔
گجرات میں جلوس
امروز کے نامہ نگار کے مطابق آج گجرات میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں ربوہ کے افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کی گئی۔ نماز کے بعد چوک فوارہ سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جو چوک پاکستان پر پہنچ کر منتشر ہو گیا۔ عطاء الحسن، سید محمود شاہ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، نثار احمد چوہدری اور باقر رضوی نے جلوس سے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ میں قادیانیوں کی الگ ریاست کا وجود ختم کیا جائے اور وہاں مسلمانوں کو بھی آباد کیا جائے۔
راولپنڈی میں جلوس
امروز کے نامہ نگار کے مطابق ربوہ کے واقعہ کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں آج دوسرے روز بھی احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ نماز جمعہ کے بعد شہر کے مختلف حصوں سے متعدد چھوٹے چھوٹے جلوس نکالے گئے۔ جو راجہ بازار میں آ کر جمع ہو گئے۔ ان کی قیادت قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الحکیم، مولانا حبیب الرحمٰن اور قاری حبیب اللہ کر رہے تھے۔ بعد میں ایک بہت بڑا جلوس مولانا غلام اللہ کی قیادت میں چوک فوارہ، ٹرنک بازار اور مری روڈ سے ہوتا ہوا لیاقت باغ پہنچا، جہاں مولانا غلام احمد اور دوسرے علمائے دین نے خطاب کیا۔ مقررین نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء طلباء نے ایک زیر تعمیر عبادت گاہ کو آگ لگادی۔ پولیس نے چھ طلباء کو گرفتار کر لیا۔ مری روڈ پر جہاں کل قادیانیوں کے مرکز پر حملہ کیا گیا تھا، آج سارا دن پولیس متعین رہی۔
منڈی بہاؤالدین میں ایک مشتعل ہجوم نے احمدی فرقے کی کئی دوکانوں سے سامان نکال کر اسے آگ لگادی۔ یہ ہجوم واقعہ ربوہ کے خلاف اظہار نفرت کر رہا تھا۔ واقعہ کے خلاف پورے شہر میں ہڑتال رہی۔ وزیر آباد سے امروز کے نامہ نگار کے مطابق واقعہ ربوہ کے خلاف کل پورے شہر میں ہڑتال ہوگی۔ نور شاہ میں آج ربوہ کے خلاف طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا اور احمدیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ جمعہ کے اجتماعات میں علمائے دین نے واقعہ ربوہ کی مذمت کی۔ شاہ کوٹ میں آج دوسرے روز بھی ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے طلباء پر حملہ کے خلاف احتجاجی ہڑتال رہی۔ مظاہرین نے، جو لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلح تھے، احمدیوں کے مکانوں پر حملے کئے، تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
جہلم میں جلوس
جہلم سے امروز کے نامہ نگار کے مطابق مقامی ڈگری کالج کی سٹوڈنٹس یونین کے زیر اہتمام واقعہ ربوہ کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ اس کے بعد طلباء کا ایک اجلاس ہوا، جس میں واقعہ ربوہ کی شدید مذمت کی گئی۔ بعد میں متحدہ جمہوری محاذ کے زیر اہتمام ایک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جلسہ ہوا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت واقعہ ربوہ کے محرکات کو بے نقاب کرے۔ ربوہ کے افسوس ناک واقعہ کے خلاف کل جہلم میں مکمل ہڑتال ہوگی۔ پتوکی میں بھی اسی واقعہ کے خلاف آج جلوس نکالا گیا۔ جس میں کل شہر میں مکمل ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ قائد آباد میں بھی ربوہ کے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کل مظاہرین نے تین دوکانوں کو آگ لگا دی تھی ، جس کے نتیجے میں پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ شہر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
جھنگ، دیپالپور، مریدکے، بھکر اور بصیر پور میں جلوس
ہمارے نامہ نگار کے مطابق آج جھنگ میں بھی واقعہ ربوہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے اور جلوس نکالے گئے۔ آج شہر میں مکمل ہڑتال رہی اور تمام کاروباری ادارے بند رہے۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں حکومت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ چشتیاں سے امروز کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ واقعہ ربوہ کے خلاف مقامی ڈگری کالج کے طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے ایک مقامی ایڈووکیٹ کے دفتر کا فرنیچر توڑ پھوڑ ڈالا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے جلوس کو منتشر ہونے کی ہدایت کی۔ لیکن مظاہرین نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جس پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور انہیں منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس پھینکی۔ پولیس نے آٹھ طلباء کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرین نے مرزا غلام احمد قادیانی کا پتلا جلایا۔ کل شہر میں مکمل ہڑتال ہوگی۔
دیپال پور کے شہر نے آج واقعہ ربوہ کے خلاف احتجاج کے طور پر ہڑتال کی۔ نماز جمعہ کے بعد ایک قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ بعد میں شاہی مسجد سے ایک جلوس نکالا گیا۔ مریدکے میں واقعہ کے خلاف احتجاجی جلوس اور مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا ، جس سے مولانا محمد ادریس کا بازو ٹوٹ گیا اور کئی شہری زخمی ہو گئے۔ امروز کے نامہ نگار کے مطابق بھکر میں بھی طلباء نے واقعہ ربوہ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔ بصیر پور سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق واقعہ ربوہ کے خلاف کل بصیر پور اور نواحی قصبہ حویلی لکھا میں مکمل ہڑتال ہوگی۔
(امروز لاہور)
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر کیا گزری؟
زخمی ہونے والے طلباء کے حلفیہ بیانات، حملہ کسی اشتعال کے بغیر کیا گیا
ملتان: ۳۱ مئی (نمائندہ خصوصی) نشتر میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم خان اور ربوہ اسٹیشن پر غنڈی گردی کے دوران زخمی ہونے والے طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، گھر گھر کی تلاشی لے کر اسلحہ برآمد کیا جائے اور اس حملہ میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ آج نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر ۱ میں ارباب عالم خان اور ان کے ساتھی طلباء نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر کالج کے طلباء پر حملہ کی حلفیہ روئیداد بیان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ مجموعی طور پر ۵۵ طلباء زخمی ہوئے۔ ان میں سے بارہ شدید مجروح ہیں۔ ارباب عالم خان نے بتایا کہ ۲۲ مئی کو پشاور جاتے ہوئے چناب ایکسپریس جب ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رکی تو نشتر کالج کے بعض طلباء نے ٹرین سے اتر کر اسٹیشن پر کھڑے ہوئے ایک کوتاہ قد گنجے آدمی سے اپنی معلومات کے لئے ربوہ میں جنت کی موجودگی کے بارے میں سوال کیا۔ یہ ایک بے ضرر اور معلوماتی سوال تھا مگر اس آدمی نے طیش میں آ کر گالیاں دینا شروع کر دیں، جس پر طلباء نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ارباب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالم خان نے کہا کہ اس آدمی نے اسٹیشن کے سامنے والی بال کھیلنے والے ایتھلیٹوں کو اشارہ کیا اور پندرہ بیس آدمی آ گئے۔ ان لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ طلباء نے بھاگ کر بوگیوں میں پناہ لی اور دروازے بند کر دیئے۔ اس عرصہ میں ٹرین چلنے لگی۔ پتھراؤ سے دو تین لڑکے زخمی ہوئے۔
ارباب عالم خان نے کہا کہ ۲۳؍ مئی کو مری، ۲۴؍ مئی کو نوشہرہ، ۲۵؍ اور ۲۶؍ مئی کو سوات اور ۲۷؍ مئی کو پشاور میں قیام کرنے کے بعد طلباء ۲۸؍ مئی کو چناب ایکسپریس کے ذریعے ملتان کے لئے روانہ ہوئے۔ طالب علموں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ربوہ اسٹیشن پر وہ اپنی بوگی کے دروازے بند رکھیں گے اور اگر ان پر زیادتی بھی ہوئی تو وہ خاموشی سے گزر جائیں گے۔ ٹرین جب ربوہ ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے لگی تو چھوٹے چھوٹے لڑکے اس کے ساتھ دوڑنے لگے۔ سرگودھا سے سوار چھ نوجوانوں نے اشارہ سے ہمارے ڈبوں کی نشاندہی کی۔ جب ٹرین ٹھہر گئی تو ٹرین کے دونوں اطراف سے ہزاروں افراد ہتھوڑے، ڈنڈے، ہاکیاں، تلواریں اور چاقو لے کر حملہ آور ہو گئے اور شدید پتھراؤ شروع ہو گیا۔ ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ نشتر کالج کے طلباء کے انچارج کو ان کے حوالے کیا جائے۔ جب بڑے کمپارٹمنٹ کا دروازہ توڑ کر حملہ آور اندر گھسے تو طلباء نے ایک چھوٹے سے کمپارٹمنٹ میں پناہ لی اور اس کا دروازہ بند کر لیا۔
ارباب عالم خان نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا اور یہ لوگ مجھے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے۔ کمپارٹمنٹ کے دروازے کو توڑنے لگے۔ کچھ ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے ریوالور نکالا۔ دوسرے نے اسے روکا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ زخمی لڑکوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بوگیوں سے ان کا سارا سامان باہر پھینک دیا۔ حملہ آور، طلباء کے سروں پر ہی وار کرتے تھے، جو طالب علم گر جاتا تھا، اسے اٹھا کر اسٹیشن پر پھینک دیتے تھے۔ حملہ آور احمدیت زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ عبدالرحمن (تھرڈ ائیر) حملہ آوروں سے فرار ہو کر اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں پناہ لینے گھسا تو اسٹیشن ماسٹر نے اسے پکڑ کر حملہ آوروں کے سپرد کر دیا۔ عورتوں نے چھ سات لڑکوں کو اس افراتفری کے عالم میں سیٹوں کے نیچے چھپا کر بچایا۔ دس لڑکوں نے ایک گارڈ کے کمرہ میں چھپ کر جان بچائی۔ ارباب عالم خان نے بتایا کہ یہ ہنگامہ ایک گھنٹے تک جاری رہا اور مسافر اپنی جان کے خوف سے خاموش تماشائی بنے رہے۔ زخمی طلباء نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ طلباء نے ۲۲؍ مئی کو کوئی غیر شائستہ حرکت کی تھی۔
سرگودھا میں پولیس کارروائی
سرگودھا: مورخہ ۳۱؍ مئی (نمائندہ خصوصی) اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ نے ربوہ میں ہونے والے تشدد کے واقعہ میں ملوث ۷۱؍ افراد کو جیل بھیج دیا ہے اور ۱۳؍ جون کو اپنی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناء گزشتہ رات اسٹیشن ماسٹر ربوہ سمیع اللہ اور ربوہ کی بااثر شخصیت رشید احمد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ان سے نامعلوم مقام پر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ امر تعجب خیز ہے کہ گرفتار شدگان میں صرف دو طلباء ہیں اور باقی مزدور قسم کے لوگ شامل ہیں، جن کے نام یہ ہیں۔ بشیر احمد بھٹی، عبد الستار جٹ، ضیاء قریشی، بشارت راجپوت، احمد خان راجپوت، مجید کشمیری، محمود احمد، مبشر احمد، عبد الرشید چیمہ، عبد المتین چیمہ، نذیر احمد، علی محمد گوجر، عبد المجید، نصیر لوہار، مظفر احمد، حمید بھٹی، نثار جٹ، حمید ڈار، ظفر احمد فضل، محمد بوٹا، رونق علی شیخ، نثار احمد، بشارت احمد، ضیاء اللہ، عبد الصمد قریشی، احمد الدین، محمد سلیم ملک، طاہر جٹ، اعجاز فضل، مبشر مقصود، نعیم، عبد الوہاب، اشرف علی، منیر احمد، عبد المجید، مقصود احمد، منیر احمد، حمید احمد، ملک خالد، منیر احمد، احمد حسین، بشیر بھٹی، افتخار، اعجاز، کرامت، سید محمد ادریس، حسن علی، عبد المنان، فہیم احمد، محمد رفیق، عبد العزیز، نعمت اللہ، نعیم احمد، سعید احمد، مقصود احمد، مشتاق احمد،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبارک، ادریس احمد، رشید، محمد رفیق، سلطان بھٹی، ملک نصیر، محمد افضل وڑائچ، نذیر احمد، مسعود احمد اور رشید احمد بھٹی۔
کل سرگودھا میں مظاہرین پر جن پانچ قادیانی افراد ڈاکٹر مسعود احمد، منصور احمد، محبوب جنود، محمد عالم کمپوڈر اور محمد اطہر کمپوڈر نے فائرنگ کی، ان کے خلاف سٹی پولیس نے دفعہ ۳۰۷ ت.پ کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کا اسلحہ دو رائفلیں اور دو بندوقیں اور بائیس کارتوس اپنی تحویل میں لے لئے ہیں اور انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
طلباء پر حملہ کی مذمت، کبیر والا و سرگودھا
کبیر والا: مؤرخہ ۳۱؍ مئی۔ اسلامی جمعیۃ طلباء صوبہ پنجاب کے ناظم مسٹر ظفر جمال بلوچ نے اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس میں سوار طالب علموں پر حملہ کر کے زخمی کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات ہرگز برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ آپ نے کہا اگرچہ حکومت نے آج تعلیمی ادارے زبردستی بند کر دیئے ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ حکومت کی بے حسی کی وجہ سے پیش آیا اور وہی اس کی ذمہ دار ہے۔
سرگودھا: مؤرخہ ۳۱؍ مئی (نمائندہ خصوصی) تحریک استقلال طلباء کے مرکزی صدر محمد طارق مرزا نے مطالبہ کیا ہے کہ اسیر طلباء کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ انہوں نے محمد اقبال جاڑا، محمد نصیر تبسم اور وحید نواز خان کی معیت میں مقامی سول ہسپتال میں تنظیم کے مقامی جنرل سیکرٹری خالد محمود انجم کی عیادت کی، جن کا آپریشن ہوا ہے۔
ریاست در ریاست قائم کرنے کی اجازت نہ دی جائے، پیپلز پارٹی کا مطالبہ
چنیوٹ: مؤرخہ ۳۱؍ مئی۔ پیپلز پارٹی چک نمبر ۱۳ ساڑوالا کے نائب صدر میر نذیر احمد ہرل، پیپلز پارٹی پیپل بھٹہ کے سیکرٹری ممتاز میر زادہ، محمد سلیم ہرل ایڈووکیٹ چنیوٹ اور ہیلی کالج آف کامرس کے طالب علم صفدر علی ہرل نے ایک مشترکہ بیان میں ریلوے اسٹیشن ربوہ کے سانحہ پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس مسئلہ کو معمولی اور جذباتی سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرے کہ آیا ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کسی بھی جماعت یا فرقے کو اجازت دی جا سکتی ہے؟ اگر دستور ہمیں اس امر کی اجازت نہیں دیتا تو ہمیں اس فرقے کا سختی کے ساتھ مواخذہ کرنا چاہئے۔ جو ریاست کے اندر ریاست بنائے بیٹھا ہے۔
(امروز ملتان)
لاہور، طالب علم رہنما جاوید ہاشمی کی گرفتاری، طلباء کی سرگرمیاں
لاہور: پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین اور پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر مسٹر جاوید ہاشمی کو گزشتہ شب طلباء کو ہنگاموں پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نیو کیمپس میں طلباء کے ایک وفد سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سے قبل رات بھر نیو کیمپس کے ہاسٹلوں کے طلباء لاء کالج ہاسٹل اور انجینئرنگ یونیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ہاسٹل کے طلباء ہاسٹلوں میں مقیم قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء کا سامان ان کے کمروں سے تالے توڑ کر اور نکال کر جلاتے رہے۔
آج پولیس ایسے تمام طلباء کو تلاش کرتی رہی جنہوں نے مختلف ہاسٹلوں میں مقیم قادیانی فرقے سے تعلق رکھنے والے طلباء کو زدوکوب کیا یا ان کے سامان کو آگ لگائی۔ نیو کیمپس میں آج امن رہا اور طلباء نے جلوس نکالنے کا پروگرام بھی منسوخ کر دیا۔ پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کی اپیل پر آج لاہور کی تمام مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تعطیلات گرما
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شروع ہو جانے کی وجہ سے کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ رات گئے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعبہ آرکیٹیکچر کے طلباء نے شعبہ کے ڈین اصغر حمید کے گھر پر حملہ کر دیا اور ان کی موٹر کار اور موٹر سائیکل کو نذر آتش کر دیا۔ اصغر حمید اور ان کے اہل خانہ نے انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی رہائش گاہ پر پناہ لے کر جان بچائی۔
گورنمنٹ کالج، اسلامیہ کالج سول لائنز اور ایم.اے.او کالج لاہور کے طلباء نے احتجاجی مظاہرے کئے اور جلسے منعقد کر کے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو زدوکوب کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا۔ اسلامیہ کالج سول لائنز اور گورنمنٹ کالج کے طلباء نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن اسے ناکام بنا دیا گیا اور پولیس نے لاٹھی چارج کر کے اور آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔
لاہور ہاسٹل خالی کرنے سے انکار
تعطیلات کے اعلان کے ساتھ ہی حکام نے نیو کیمپس اور دیگر تمام تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں میں مقیم طلباء وطالبات کو ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کر دی۔ جس پر طلباء وطالبات کی اکثریت ہاسٹل خالی کر گئی۔ لیکن نیو کیمپس میں طلباء نے اچانک جانے سے انکار کر دیا۔ شام کو نیو کیمپس میں طلباء نے ایک جلسہ بھی منعقد کیا، جس میں طالب علم لیڈر جاوید ہاشمی، مسعود کھوکھر اور انور گوندل نے خطاب کیا اور ربوہ میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ایک فرقہ کے ہزاروں افراد کے حملہ کو ایک سوچی سمجھی تخریبی کارروائی قرار دیا۔
انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور
جی.ٹی روڈ پر انجینئرنگ یونیورسٹی کے سامنے طلباء نے ایک مرزائی کی کار کو نذر آتش کر دیا۔ فائر بریگیڈ کے عملہ نے جب آگ پر قابو پانے کی کوشش کی تو طلباء نے خشت باری کی۔ دو گھنٹے تک جی.ٹی روڈ پر ٹریفک بند رہا۔ کار جل کر راکھ ہو گئی۔
لاہور میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں حکومت سے مطالبہ
لاہور: آج نماز جمعہ کے اجتماعات میں منظور کردہ قراردادوں کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی فرقہ کو اقلیتی فرقہ قرار دے اور اس فرقہ کے ایسے افراد کو سخت سزا دے، جنہوں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملہ کیا۔ اجتماعات میں حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ اگر مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی یلغار پر پابندی نہ لگائی گئی تو مسلمانوں کے جذبات کے سیلاب کو دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی۔ اجتماعات میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پاکستان میں احمدیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں تمام اہم و کلیدی سرکاری و نیم سرکاری آسامیوں پر سے فوراً ہٹا دیا جائے۔ ٹکسالی دروازہ میں نماز جمعہ کے اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کی سرکاری طور پر کی جانے والی حوصلہ افزائی ختم کی جائے۔
عوام نے کہا کہ جن لوگوں نے بانی پاکستان کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کرنا مناسب نہیں سمجھا، وہ کس طرح پاکستان کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں نے ہر بار پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اور مرزائیوں کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں وہی کام کر رہا ہے، جو اسرائیل کا تل ابیب کر رہا ہے۔ لہٰذا ہر پاکستانی کو چاہئے کہ وہ مرزائیوں کا بائیکاٹ کرے۔ بکر منڈی میں انجمن نوجوانان اہل سنت کے ایک ہنگامی اجلاس میں جو میاں معراج دین کی زیر صدارت منعقد ہوا، ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طالب علموں پر حملہ کے خلاف زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں مذہبی منافرت پیدا کرنے کے ذمہ دار افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل علمائے اوقاف کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ مشتاق الرحمن ہاشمی نے جامع حنفیہ فاروقیہ کرشن نگر میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مخالفین ختم نبوت کا طلباء پر سوچی سمجھی سکیم کے تحت قاتلانہ حملے کی زبردست مذمت کی اور کہا کہ آج جس ملک کے دستور میں عقیدۂ ختم نبوت کو تحفظ حاصل ہو، وہاں ملک کی سرزمین پر ختم نبوت کا نعرہ لگانا جرم کیوں ہے؟ مولانا ہاشمی نے کہا کہ ملک دشمن عناصر خانہ جنگی کے بہانے اس بقیہ پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ خطبہ جمعہ کے دوران منظور کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور تمام کلیدی آسامیوں پر عقیدہ ختم نبوت کے حامل افراد کا تقرر کیا جائے اور واقعہ ربوہ کے مرتکب مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
قرارداد میں یکم / جون کو بطور احتجاج کرشن نگر کے تمام بازار بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ جامعہ نعیمیہ کے مفتی محمد حسین نعیمی نے ربوہ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسلامیان فیض باغ کے اجتماع میں نشتر میڈیکل کالج کے نہتے طلباء پر ربوہ میں قادیانیوں کے منظم حملہ کی مذمت کی گئی۔ اجتماع میں مسٹر نیاز محی الدین بٹ نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو حالات خراب ہو جائیں گے۔ جس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ جامع مسجد باغ جناح کے خطیب میاں عبدالرشید نے کہا کہ قادیانیوں کو فوری طور پر اقلیتی فرقہ قرار دیا جائے۔ ورنہ وہ اس ملک کے بقیہ حصہ کو بھی ختم کرنے کی سازش مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اس ملک کے لئے لعنت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دیگر مساجد میں منظور کردہ قراردادوں میں بھی یہی مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ کے اشتعال انگیز واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے اور تشدد کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ اس طرح یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ فوج کی نگرانی میں ربوہ کی بھرپور تلاشی لی جائے اور غیر قانونی اسلحہ ضبط کیا جائے۔ نیز قادیانیوں کی رضا کار فورس کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور ریلوے کے اس راستہ پر مسافروں کو تحفظ دیا جائے۔ جن مساجد میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: جامع مسجد حضوری گڑھی شاہو، جامع مسجد نعیمیہ گڑھی شاہو، جامع مسجد ابو القاسم، جامع مسجد علامہ اقبال روڈ، جامع مسجد شاہ ابوالخیر، جامع مسجد بابا کرم بخش، جامع مسجد موتی، جامع مسجد بھیکے وال وحدت روڈ، جامع مسجد رحمان پورہ، جامع مسجد راواں، جامع مسجد مجاہد آباد مغل پورہ، جامع مسجد اہل حدیث مغل پورہ، جامع مسجد کالونی طیب اکبر مین بازار نہروالی مسجد، توحید گنج مسجد، نورانی حنفیہ مدینہ مسجد، حنفیہ غوثیہ مسجد شیخاں کشمیری محلہ، مدرسہ جامعہ حنفیہ قاسمیہ۔
وزیر آباد میں ہنگامی اجلاس
ہمارے نامہ نگار کے مطابق جمعیۃ علمائے اسلام وزیر آباد، الہ آباد، نظام آباد اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ہنگامی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری خان محمد عاشق نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ملتان کے طلباء پر تشدد کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حملہ آوروں کو فوراً گرفتار کر کے سخت ترین سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا اگر ملزموں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پھر ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر رابطہ عالم اسلامی کے فیصلہ کا احترام کیا جائے۔ ادھر جامع مسجد کے خطیب مفتی عبدالشکور نے بھی اپنے خطبہ میں مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو فوری طور پر اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے ملتان کے طلباء پر احمدیوں کے حملہ کی بھی شدید مذمت کی۔ ادھر اسسٹنٹ کمشنر نے آج یہاں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلا کر ان سے اپیل کی کہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میانوالی میں طلباء کا مظاہرہ
ہمارے نمائندے مسٹر طارق نیازی کی ایک اطلاع کے مطابق آج گورنمنٹ کالج میانوالی کے طلباء نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ غنڈہ گردی اور اسٹیشن پر ان کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور کالج سے ایک جلوس نکالا۔ جلوس موسیٰ خیل روڈ پر مارچ کرتا ہوا کچہری کے قریب سے گزر کر مین بازار پہنچا۔ جہاں بہت سے مقامی تعلیمی اداروں کے طلباء اور عوام بھی کثیر تعداد میں شامل ہو گئے۔ طلباء نے دوکانداروں سے اپیل کی کہ وہ آج احتجاجاً اپنی دوکانیں بند رکھیں۔ چوک بازار میں طالب علم رہنماؤں نے تقاریر کیں۔ اس جلوس کے بعد وکلاء نے بھی جلوس نکالا اور وحشیانہ تشدد کی مذمت کی۔ میانوالی کے عوام نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کی پرزور مذمت کرتے ہوئے آج زبردست مظاہرہ کیا اور ایک بہت بڑا جلوس نکالا۔ جلوس موتی مسجد سے نکل کر صغیر بازار میانوالی سے ہوتا ہوا چوک ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ جہاں مختلف مقررین نے جلوس کے شرکاء سے خطاب کیا۔ صاحبزادہ سید محمد جمال الدین نے تقریر کرتے ہوئے اس حملہ کی مذمت کی۔ آج شہر میں مکمل ہڑتال رہی، کل بھی ہڑتال رہے گی۔ جلوس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، جن میں مولانا محمد رمضان، اسلام آباد یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر حفیظ اللہ نیازی، جماعت اسلامی میانوالی کے جنرل سیکرٹری مولانا علی محمد مظاہری، اسلامی جمعیۃ وکلاء کے صدر ممتاز احمد خان، صاحبزادہ عبدالمالک، انجمن طلباء گورنمنٹ کالج میانوالی کے جنرل سیکرٹری حافظ نعمان احمد انصاری، طارق نیازی اور اصلاحی کونسل کے رکن ملک شیر رسول شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں اعلان کیا کہ ہماری تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک ربوہ کے واقعہ میں ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، مرزائیوں کو اقلیتی فرقہ قرار نہیں دیا جاتا اور تمام کلیدی مناصب سے انہیں الگ نہیں کیا جاتا۔ شہر میں کشیدگی ہے اور پولیس کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ گلی لوریا میں ایک دوکان کو چند افراد نے مل کر توڑ پھوڑ دیا۔
پسرور میں اجتماع
ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق یہاں بھی ربوہ میں تشدد کے واقعہ پر زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ آج یہاں مقامی ٹاؤن ہال میں ایک اجتماع ہوا، جس میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کل ہفتہ کو اس افسوسناک واقعہ کے خلاف احتجاج کے طور پر مکمل ہڑتال کی جائے۔ آج نماز عشاء کے بعد تمام مکاتیب فکر کے علماء کرام اس واقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
خانیوال میں اجلاس
آج یہاں اسسٹنٹ کمشنر خانیوال کی زیر صدارت معززین شہر کے ایک اجلاس میں خانیوال میں امن عامہ کی صورتحال پر سکون رکھنے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ مسٹر بشیر احمد خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ اشتعال انگیزی خود مرزائیوں نے پھیلائی ہے۔ اسلامی جمعیۃ طلباء کے مسٹر جاوید احمد نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ دیگر معززین نے مطالبہ کیا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ آج خانیوال میں کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، نہ ہی کل کے ہنگاموں کے سلسلہ میں کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساہیوال میں احتجاج
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر تشدد کے خلاف آج ضلع ساہیوال میں زبردست احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف مقامات پر جلوس نکالے گئے۔ عارف والا میں مشتعل ہجوم نے خالد میڈیکل سٹور کو آگ لگا کر جلا دیا۔ ساہیوال میں بعد نماز جمعہ ایک جلوس نکالا گیا۔ اختتام پر ٹاؤن ہال گراؤنڈ میں جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ طلباء پر تشدد کے محرک مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے، ربوہ کے اسلحہ خانہ سے تمام اسلحہ برآمد کیا جائے، مرزائیوں کو اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر عام مسلمانوں کو داخلے کی اجازت دی جائے۔ اجلاس سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیخ اصغر حمید، حافظ عبدالحق، مولانا حبیب اللہ، مولانا منظور احمد، شیخ محمد اکرم، عبدالمتین چوہدری اور مولانا بشیر احمد نے خطاب کیا۔ انجمن تاجران کے صدر میاں نذیر احمد اور جنرل سیکرٹری مسٹر جمیل بٹ نے بھی طلباء پر تشدد کی شدید مذمت کی۔
چنیوٹ میں ستر ہزار افراد کا جلوس
چنیوٹ میں عبادت گاہ احمدیہ پر مسلمانوں نے قبضہ کر کے مسجد ختم نبوت میں بدل دیا ہے۔ آج چنیوٹ کے شہریوں کا جمعہ کا سب سے عظیم الشان اجتماع مسجد ختم نبوت میں منعقد ہوا، جس میں تحریک طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر ملک رب نواز نے دو گھنٹے تک خطاب کیا۔ انہوں نے مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مرزائیوں کی دیدہ دلیری کی انتہاء ہے۔ قاضی محمد ادریس صدر سٹوڈنٹس گورنمنٹ کالج چنیوٹ نے مسجد گڑھا میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ نماز جمعہ کے بعد چنیوٹ کی تاریخ کا فقید المثال جلوس نکلا۔ جس میں تقریباً ۷۰ ہزار افراد نے شرکت کی اور شہر کے تمام مکتبہ فکر کے لوگ اس جلوس میں شریک ہوئے۔ جلوس کے شرکاء کا مطالبہ تھا کہ مرزا ناصر کو گرفتار کرو اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دو۔ جلوس کا اختتام شاہی منڈی چنیوٹ میں ہوا۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی جھنگ نے آج ریسٹ ہاؤس چنیوٹ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ربوہ، لالیاں اور نشتر آباد کے ریلوے اسٹیشن ماسٹروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حافظ آباد، سکھیکی منڈی
ہمارے نمائندہ خصوصی کے مطابق ربوہ کے واقعہ پر آج سکھیکی منڈی میں مشتعل ہجوم نے آج یہاں احمدیوں کی دو دکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ جس میں ایک میڈیکل سٹور اور دوسری کریانہ کی دوکان تھی۔ مشتعل ہجوم نے ختم نبوت زندہ باد اور مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ مقامی پولیس نے متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ آج حافظ آباد کی پندرہ جامع مساجد میں ربوہ کے واقعہ پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ شہریوں کے ایک بڑے اجتماع میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ کے روز شہر میں مکمل طور پر ہڑتال کی جائے گی۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے صدر مولانا محمد الطاف حسین، جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر غلام علی، جمہوری پارٹی کے صدر سلیم شاہد، جمعیۃ اہل حدیث کے مولانا محمد ابراہیم، جمعیۃ علمائے پاکستان کے ناظم مولانا عبدالستار انصاری اور تحریک استقلال کے صدر رانا محمد سلیمان خان نے آج ایک مشترکہ تحریری بیان میں ربوہ میں طلباء پر تشدد کے واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیالکوٹ میں اجلاس
یہاں کی سیاسی دینی و سماجی تنظیموں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملے کی مذمت کی ہے۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں تمام سیاسی ودینی جماعتوں کے ایک اجلاس کے بعد وزیر اعظم پاکستان کو اس سلسلہ میں سینکڑوں تار ارسال کئے گئے۔ آج شہر کی تمام مساجد میں ربوہ کے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعہ میں ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزادی جائے۔
گوجرانوالہ میں قادیانیوں کی طرف سے سنگ باری
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر مسلح حملے کے خلاف یہاں ایک پر امن جلوس پر مرزائیوں نے پتھراؤ کر کے شہر کی صورتحال کو خراب کر دیا۔ بعد میں مشتعل ہجوم نے مرزائیوں کی ایک لائبریری کی تمام کتابیں لوٹ لیں اور اس کا تمام فرنیچر توڑ دیا اور اسے آگ لگا دی۔ حافظ آباد، گوجرانوالہ روڈ پر ٹریفک معطل ہو گئی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے کئی دفعہ آنسو گیس کا استعمال کیا۔ لیکن لوگوں نے احمدی عبادت گاہ کا محاصرہ توڑنے سے انکار کر دیا۔ جہاں سے مرزائیوں نے جلوس پر پتھراؤ کیا تھا۔ پولیس نے آٹھ مرزائیوں اور تین دوسرے افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ آج نماز جمعہ کے بعد شہر کی تمام مساجد سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ یہ جلوس پر امن طور پر باغ جناح میں پہنچے، جہاں گوجرانوالہ کے تمام علماء نے عوام سے خطاب کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ مرزائیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے سبکدوش کیا جائے اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ جلسے کے بعد عوام ایک جلوس کی صورت میں نعرے لگاتے ہوئے شہر کی طرف آگئے۔ جب جلوس باغبانپورہ سے احمدیہ عبادت گاہ کے پاس سے گزرنے لگا تو اس کی چھت پر سے پتھراؤ شروع ہو گیا۔ جلوس میں شامل افراد نے مشتعل ہو کر جوابی پتھراؤ شروع کر دیا اور عوام نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ لوگوں نے گلیوں اور چھتوں پر پناہ لے لی اور پتھراؤ جاری رکھا۔ اسی دوران ہجوم نے احمدیہ لائبریری کا دروازہ کھول کر تمام کتابیں سڑک پر پھینک دیں اور فرنیچر کو توڑ دیا۔ ڈپٹی کمشنر، ایس پی، اے سی سٹی مجسٹریٹ اور پولیس کی بھاری جمعیت صورتحال پر کنٹرول کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ”ختم نبوت ایکشن کمیٹی“ کی اپیل پر گوجرانوالہ کے تمام کاروباری مراکز نے یکم جون کو مکمل ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”ختم نبوت ایکشن کمیٹی“ کے زیر اہتمام صبح آٹھ بجے باغ جناح میں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ عام بھی منعقد ہوگا۔
رات گئے ہمارے نمائندہ خصوصی نے اطلاع دی ہے کہ گوجرانوالہ میں صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ اس وقت تک آٹھ دوکانیں اور پانچ مکانوں کو آگ لگائی جا چکی ہے۔ شہر میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھوں میں مٹی کے تیل کے کنستر اٹھائے پھرتے نظر آتے ہیں اور خدشہ ہے کہ کل صبح تک صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ اس وقت تک جن دوکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، ان میں سب سے زیادہ نقصان شیزان اور سنگر مشین کی مقامی ایجنسی کو پہنچا ہے۔ ادھر جس عبادت گاہ پر قبضہ کیا گیا تھا، آج رات اہل سنت والجماعت عقیدہ کے مسلمانوں نے اس میں نماز ادا کی۔ انتظامیہ اور پولیس صورتحال پر کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔
(نوائے وقت لاہور، مورخہ یکم جون ۱۹۷۴ء)
حویلی لکھا میں ہڑتال
ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رونما ہونے والے نا خوشگوار واقعہ کے ردعمل کے طور پر اور ملتان کے مضروب اور محبوس طلباء سے اظہار
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمدردی کے لئے انجمن شبان الاسلام اور انجمن صارفین حویلی لکھا کی اپیل پر ۲ /جون بروز اتوار کو حویلی لکھا میں مکمل ہڑتال ہوگی۔ تمام کاروباری مراکز، دوکانیں اور پرائیویٹ ادارے بند رہیں گے۔ دریں اثناء علاقہ کے مشہور عوامی کارکن میاں گوہر خاں کلس اور انجمن صحافیاں دیپال پور سب ڈویژن کے جنرل سیکرٹری وانجمن صارفین کے صدر محمد الطاف قریشی نے اس واقعہ کو اشتعال انگیزی کی شرمناک اور سنگین واردات قرار دیا ہے۔ انہوں نے حویلی لکھا کے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری تفتیش و تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں اور اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریز کریں۔ ہڑتال کے روز نظم وضبط کا ثبوت دیں اور جذبات کو مشتعل نہ ہونے دیں۔ انہوں نے ملتان کے گرفتار طلباء کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
راولپنڈی میں تمام سکول اور کالج بند کر دیئے گئے
حکومت پنجاب کے احکام پر آج راولپنڈی میں تمام کالج اور سکول بند کر دیئے گئے۔ سابقہ پروگرام کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے لئے تمام تعلیمی ادارے کل یکم /جون سے بند ہونے تھے۔ لیکن اب ایک دن پہلے ہی بند کر دیئے گئے ہیں۔ تعلیمی ادارے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ۱۶ /اگست سے کھل جائیں گے۔
حضرت مولانا مفتی محمود گوجرہ میں
جمعیتہ علمائے اسلام گوجرہ کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا جس میں دیگر مقررین کے علاوہ مولانا مفتی محمود صاحب نے بھی خطاب عام فرمایا۔ مندرجہ ذیل قراردادیں متفقہ طور پر پاس کی گئیں۔ یہ عظیم الشان اجتماع عام رابطہ عالم اسلامی کی جنرل کونسل کے اجلاس منعقدہ مکہ مکرمہ کی فرقہ مرزائیہ قادیانیہ کو تمام ممالک اسلامیہ میں غیر مسلم قرار دینے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے فوراً الگ کرنے کے فیصلہ کی مکمل تائید وحمایت کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس پوری قرارداد کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنا کر اسلامیان پاکستان کے دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کرے۔ رابطہ عالم اسلامی میں پاکستان کے سرکاری وفد کے مندوب کے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں خالص اسلامی دفعات کی مخالفت کرنے پر سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے مرزائیت نواز شخص کو، جو بین الاقوامی طور پر ملک کی رسوائی کا سبب بنا، فی الفور اس کے عہدے سے الگ کر کے عامتہ المسلمین کو مطمئن کرے۔
مولانا مفتی زین العابدین
مفتی زین العابدین خطیب شہر لائل پور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام مرزائیوں اور ان کے سرغنوں کو گرفتار کر کے سزائیں دی جائیں۔ جنہوں نے نہتے مسلمان طلباء پر ربوہ کے اسٹیشن پر حملہ کیا اور انہیں شدید مضروب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کوئی بھی کام اپنے سربراہ مرزا ناصر احمد کی منظوری کے بغیر نہیں کیا کرتے۔ اس لئے یقینی ہے کہ ربوہ کے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے مسلمان طلباء پر حملہ بھی اس کی تحریک اور منظوری سے کیا گیا۔ لہٰذا اسے بھی گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے۔ مولانا نے جو آج جمعتہ المبارک کے اجتماع سے جامع مسجد کچہری بازار میں خطاب کر رہے تھے، مزید مطالبہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ پاکستان کے اندر ایک مرزائی ریاست کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے عام مسلمانوں کو بھی وہاں رہائش اختیار کرنے کا حق دیا جائے تاکہ مرزائیوں کی سازش کی ہر آن خبر ہوتی رہے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام مرزائیوں کی تلاشیاں لی جائیں اور انہیں غیر مسلح کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطابق ربوہ میں بے شمار اسلحہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ جو مرزائی پاکستان کے اندر مختلف شہروں میں بستے ہیں، وہ بھی پوری طرح مسلح ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی عورتیں بھی مسلح ہیں۔ جس کا ثبوت فائرنگ کے ان واقعات سے ملتا ہے۔ جن میں مرزائی عورتوں نے بندوقوں سے گولیاں چلا کر مسلمانوں کو زخمی کیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ انہیں غیر مسلح کیا جائے۔
ان کا چوتھا مطالبہ یہ تھا کہ مرزائیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اس کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ مقرر کیا جائے۔ ان کے پاس جتنی بھی کلیدی آسامیاں ہیں، وہ سب واپس لی جائیں اور ان کی جگہ مسلمان مقرر کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک نہایت معمولی اقلیت ہونے کے باوجود مرزائی پاکستان کی بیشتر کلیدی آسامیوں پر قابض ہیں۔ جس سے مسلمانوں اور پاکستان کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اسلامی ملکوں کے سربراہوں کے مطالبہ پر بادل نخواستہ بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا ہے تو پھر انہی کے کہنے پر رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کے مطابق مرزائیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت بھی قرار دے دینا چاہئے اور انہیں تمام کلیدی آسامیوں سے ہٹا دینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مسلمانوں کے یہ مطالبات تسلیم کر لئے تو ملک میں فوری طور پر امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن اگر اپنی موجودہ پالیسی پر ڈٹی رہی اور مسلمانوں کو محض ٹالنے کی کوشش کی تو پھر ایسا ہونا ہرگز ممکن نہیں۔ کیونکہ اب مسلمان کسی وعدۂ فردا کو قبول نہیں کریں گے۔ ربوہ کو کھلا شہر اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
لائل پور کے وکلاء کا اجلاس
آج صبح ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے پرامن جلوس نکالا۔ جس کی قیادت تحریک استقلال کے ضلع لائل پور کے صدر چوہدری حبیب الرحمن کر رہے تھے۔ وکلاء نعرے لگا رہے تھے کہ دانشوروں کا فیصلہ ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ جلوس لائل پور کی مختلف سڑکوں پر گشت کے بعد ضلع کچہری میں واپس جا کر اختتام پذیر ہو گیا۔
مرزائی کا قبول اسلام
آج شاہی چوک غلام محمد آباد لائل پور کے ایک مرزائی نثار احمد بنگوی مرزائیت سے تائب ہو گئے اور انہوں نے آج قبول اسلام کرنے کا اعلان کر دیا۔
(سعادت، لائل پور)
مجلس احرار اسلام لائل پور
مجلس احرار اسلام لائل پور کا ایک ہنگامی اجلاس بروز جمعۃ المبارک زیر صدارت میاں محمد عالم بٹالوی منعقد ہوا۔ جس میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے معصوم و نہتے طلباء پر ہزاروں کی تعداد میں مسلح مرزائیوں نے ایک منظم سازش کے تحت کئے گئے حملے کی شدید مذمت اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے کے اس بیان کا خیر مقدم کیا گیا، جس میں انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کے متعلق پنجاب اسمبلی میں یقین دلایا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کے لئے ایک جج کی بجائے مسلمان ججوں پر مشتمل ٹربیونل مقرر کیا جائے، جو تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزیہ مولانا عبید اللہ احرار نے فرمایا کہ عوام الناس کو معلوم ہے کہ مرزائی کوئی حرکت امیر جماعت کے حکم کے بغیر نہیں کر سکتے اور حقیقتاً یہ سازش مرزا ناصر احمد کی منظوری سے ہی عمل میں لائی گئی ہے۔ لہٰذا تحقیقات کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا، جب تک مرزا ناصر احمد کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتار کر کے شامل تفتیش نہ کیا جائے۔
مولانا نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام گرفتار شدہ مسلمان طلباء عوام سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو فی الفور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ مولانا نے علامہ رحمت اللہ ارشد کی اس تقریر پر، جو انہوں نے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر کی حیثیت سے کی، خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ایک ایک لفظ کی تائید اور خیر مقدم کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر پاکستان کے کسی بھی حصہ میں، جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کے ناموس کی توہین کی جاتی ہو اور ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں پر ظالمانہ قسم کا تشدد کیا جاتا ہو، ایسے ناپاک خطہ و وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے تا کہ پاکستان اور ملت اسلامیہ کے خلاف ایسا سازشی مرکز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔
چوہدری حبیب الرحمن اور تاج دین شیخ کی مرزائیوں کی فائرنگ کی مذمت
تحریک استقلال ضلع لائل پور کے صدر چوہدری حبیب الرحمن ایڈووکیٹ اور سٹی صدر تاج دین شیخ ایڈووکیٹ نے ایک مشترکہ بیان میں رضا آباد میں مرزائیوں کی مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کی شدید مذمت کی ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرزائیوں کو اب اتنی جرأت ہو گئی ہے کہ وہ سرعام فائرنگ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مرزائیت نواز پالیسی ترک کرے اور ملزموں کی فوری گرفتاری کے حکم صادر کرے۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ ربوہ کو آزاد شہر قرار دے۔ مشترکہ بیان میں رضا آباد کے شہید ختم نبوت کے پسماندگان اور زخمی ہونے والوں سے اظہار ہمدردی کیا گیا۔
ربوہ کا ایک کارکن گرفتار
سرگودھا، ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے ہنگامے کے الزام میں پولیس نے ربوہ میں ایک سرگرم کارکن رشید احمد کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ جب کہ اسٹیشن ماسٹر ربوہ سمیع اللہ کو پولیس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے ریلوے اسٹیشن نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے ربوہ سے ۷۱ افراد کو گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا بھیج دیا تھا جنہیں ۲۳؍جون کو اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے حادثہ کے سلسلے میں ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر کو کل گرفتار کیا گیا۔
(روزنامہ پیام لائل پور، مورخہ یکم؍جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی تقریر کا مکمل متن
جناب والا! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ آپ کی رولنگ کے بعد اس پر بحث کرنا، اپنی جگہ یہ بھی خطرے سے کھیلنے سے کم نہیں ۔ اس کے باوجود دو گھنٹے سے اس مسئلہ پر بحث ہو رہی ہے۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ ہم اس بحث کو کسی نہج پر لے جا کر اسے نتیجہ خیز بنالیں گے، یہ خیال عبث ہے۔ جب سے یہ مسئلہ اٹھا، تب سے علماء اور مختلف صحافی اور ادیب قلم اٹھاتے رہے ہیں اور یہ ابھی تک اسی طرح سے چل رہا ہے۔ اس مسئلہ کو ہم یہاں حل نہیں کر پاتے۔ اس لئے زیادہ ضروری یہی ہے کہ جس واقعہ کی رعایت سے آج ہم تحریک التوائے کار لے کر آئے ہیں اور اس پر بحث کرنا چاہتے تھے، اس پر ہم اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ لیکن چونکہ دونوں جانب سے میرے دوستوں نے جس گرم گفتاری کا ثبوت دیا ہے، اس کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ اب میں اپنی گزارشات میں بھی کسی نہ کسی حد تک گفتگو کو شامل کروں۔ اس کا جواب دینے کی کوشش کروں۔
جناب والا! میں مانتا ہوں کہ یہ مسئلہ واقعی ایسا تھا کہ اس پر گرم گفتاری جائز ہے اور جیسا علامہ اقبال نے فرمایا ہے ؎
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب والا! واقعی یہ مسائل ایسے ہیں جو ہماری روحوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے جذبات میں آ جانا کوئی نئی بات نہیں۔ کوئی عجب بات نہیں لیکن ان کے متعلق میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسائل ایسے ہیں جو انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی سے ان کی بنائی ہوئی معاشروں کی صحت اور ان معاشروں کے اندر رچنے بسنے والی نسلوں کے لئے ان کے مستقبل کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لئے ہمیں صرف جذبات سے ہی نہیں بلکہ ٹھنڈے سبھاؤ سے، اپنے ذہن سے، تحمل اور رواداری کے جذبے کے تحت بھی ان پر سوچنا اور غور کرنا ہوگا۔
جناب والا! ہم نے بار بار اسلام کی بات کی ہے۔ اسلام کی رعایت سے بات کی ہے۔ لیکن اسلام ہی ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ: ”ولا يجرمنكم شنان قوم ان صدوكم عن المسجد الحرام ان تعتدوا“ ہمیں کسی سے بغض، کسی سے عداوت اتنا دور نہ لے جائے کہ ہم انصاف سے منحرف ہو جائیں۔ جناب والا! یہی اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ: ”قولوا للناس حسنا“ کہ جب انسانوں سے یا انسانوں کے بارے میں بات کی جائے تو اس میں حسن ہونا چاہئے۔ اس میں خوبصورتی ہونی چاہئے۔ اس میں شائستگی ہونی چاہئے۔ اس میں یقیناً وہ اسلوب نہیں ہونا چاہئے۔ جس سے انسان کے احترام کی بجائے انسانیت سے نفرت ٹپکتی ہو۔
جناب والا! یوں بھی اگر ہم کسی کو برا سمجھتے ہوں، کسی سے نفرت بھی کرتے ہوں تو ہمارے نبی ﷺ نے جو شیوہ اختیار کیا، جس طریقہ سے انہوں نے بدی کا مقابلہ کیا، قرآن اس پر یہ کہتا ہے اور دستور کی صورت میں کہتا ہے: ”ادفع بالتی ھی احسن“ کہ برائی کو بھی اس طرح ختم کرو کہ اس مقابلے میں جو قوت اپنی طرف سے روئے عمل لاؤ، وہ اچھائی کی قوت ہو۔ اگر دوسرے برے ہیں، اگر وہ آپ کو ایسے کلمات سے یاد کرتے ہیں جو آپ کو پسند نہیں آتے، جناب والا اسلام نے ہمیں یہی راستہ دکھایا ہے کہ ان بروں کے لئے، ان بروں کے کلمات کے مقابلے میں آپ اچھے کلمات کہیں اور اچھائی کو پسند کریں۔ ”ادفع بالتی ھی احسن“
جناب والا! اسلام نے یہ تعلیم دی کہ اگر آپ دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو برا کہیں گے، تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ آپ کے سچے خدا کو برا کہیں گے۔ اس لئے ہمیں اگر کوئی نا پسند بھی ہے، کسی کا مسلک، کسی کا عقیدہ پسند نہیں بھی ہے، تب بھی یہی دستور، یہی شیوہ، یہی مسلک ہے۔ اہل ایمان کا کہ وہ اچھے سبھاؤ اور اچھے کلمات سے گفتگو کرتا ہے۔ اگر آپ اپنے خیالات کی تبلیغ چاہتے ہیں، اچھے کلمات کہیں اور اچھائی کو پسند کریں۔ ”ادفع بالتی ھی احسن“
تو کیا جن لوگوں نے اسلام کی تبلیغ کی، انہوں نے تبلیغ کا یہ راستہ اختیار کیا؟ گفتگو کا ایسا راستہ اختیار کیا کہ اس نہج پر ابھارا کہ دلوں میں اترتے چلے گئے۔ اسلام کی بات تلوار سے نہیں پھیلی، اسلام کی بات ایک خوشبو کی طرح، ایک رس کی طرح، جیسے رس اور خوشبو پھلوں کے اندر سرایت کر جاتی ہے، اسی طرح اسلام کی خوشبو اور اسلام کا رس پھیلا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بھی اس معاملہ میں سرخرو ہوں اور نبی ﷺ کی بات آپ ثابت کریں اور اسے غالب کریں تو راستہ بھی انہیں کا اختیار کیجئے۔ یہ راستہ نبی ﷺ کا راستہ نہیں ہے۔
جناب والا! حکومت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جھجک محسوس کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس غریب حکومت کے ساتھ اس سے زیادہ کیا مذاق ہو سکتا ہے۔ جناب والا! میں پوچھتا ہوں کہ آج ۲۶ سال کی تاریخ میں وہ کون سی حکومت ہے جسے دعویٰ نہ رہا ہو کہ وہ زبردست اسلامی حکومت ہے۔ لیکن کوئی اسلامی حکومت متفقہ طور پر یہ نہیں کر سکی۔ میں سمجھتا ہوں پہلی مرتبہ بلکہ دنیا میں پہلی مرتبہ ختم نبوت کے نظریات کو استحکام دیا گیا۔ لیکن جناب والا! ہم سے کوئی اچھا کام ہو جائے تو اس کی تعریف کریں۔ سیانے کہتے ہیں، میں اگرچہ سیانا نہیں لیکن پھر بھی اگر بروں میں کوئی اچھی چیز نظر آئے، اس کا بھی اقرار اور اعتراف کرنا چاہئے۔ وہ شخص جو یوں تو اپنے کردار اور عمل کے عمل اور کردار عمل کے عمل لحاظ کے عمل اور کردار یوں تو اپنے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے پورا متاثر نہ ہو۔ لیکن آپ کی داد اور اعتراف کے بعد ہو سکتا ہے وہ پورا اترے اور وہ اچھائی اس کے بعد استحکام پکڑ جائے۔ اگر میرے اور آپ کے دوست یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم بھی کوئی اچھا کام کریں تو پھر انہیں اچھے کام کی داد دینی چاہئے۔
جناب والا! یہ بات اپنی جگہ پر، لیکن آج ہم جس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں، وہ مسئلہ یہ نہیں تھا جس پر بحث کی گئی۔ بہر حال اس پر اتنی بحث ہوئی، یہ آپ نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے بحث کی یا اس بات کے لئے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعہ جو ہوا، اس کی تہہ میں دراصل یہ ایک خلفشار ہے جو ہمارے ذہنوں اور روحوں میں موجود ہے۔ میں اس اعتبار سے سمجھتا ہوں کہ آپ نے اچھا کیا کہ اس بات کو بھی ہوا دے دی۔ بہر حال یہ مسائل ہیں جو ہمارے علماء کو اور ہماری دستور ساز اسمبلی اور اس کے قائم کردہ اداروں کو حل کرنا ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اپنے وقت پر ایک بہتر اور ٹھنڈے ماحول میں ہونا چاہئے اور آج کے سلگتے ہوئے ماحول میں اگر ہم اس پر غور کریں گے تو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکیں گے۔
جناب والا! بے شک میرے فاضل دوستوں نے اپنی طرف سے کچھ وضاحتیں کی ہیں، لیکن ہو سکتا ہے اس ایوان کے کچھ اور فاضل ممبر ہوں جو اس عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان کے بارے میں آج ہم نے اچھی زبان استعمال نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں کم از کم اتنا تو خیال کر لینا چاہئے تھا کہ کچھ دوست ہمارے ہاں بھی ہو سکتے ہیں جو اس عقیدے سے، اس جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اور نہیں تو کم از کم ان کے استحقاق کا ہی خیال کر لیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ بے شک سمجھیں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ لیکن ایک ایسی حقیقت بھی ہے، جس میں ہم اور وہ ہمیشہ ایک رہے ہیں۔ نہ آپ ان کو نکال سکتے ہیں، نہ وہ اپنے سے آپ کو نکال سکتے ہیں۔ یہ انسانیت کا دائرہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسانیت میں کسی ایک فرد پر بھی آنچ آئے تو قرآن حکیم کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر تم ایک انسان کو قتل کرتے ہو تو تم نے پوری انسانیت کو قتل کیا ہے اور جب ایک انسان کا دل دکھاتے ہیں تو اس کے عقائد، ان کے خیال کے بارے میں اس زبان سے بات کرتے ہیں تو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا ہم احترام انسانیت کے اصول پر قائم ہیں یا نہیں۔ میں بہر حال جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، اس کی پوزیشن بالکل واضح ہے کہ حکومت قانون کے ذریعے سے حکومت کرنا چاہتی ہے۔ میں نے کہا تھا اور میرا یہ یقین ہے اور میرا ایمان ہے کہ ہماری حکومت کا اولین اور بنیادی اصول یہ ہوگا کہ ہم قانون کی بالا دستی قائم رکھیں۔
جناب والا! قانون کی بالا دستی کے لئے کوئی بھی طبقہ، کوئی بھی جماعت اپنے آپ کو بالا تر نہیں سمجھ سکتی۔ نہ تو اقلیت اس سے بالا تر ہے اور نہ ہی اکثریت۔ جناب والا! قانون ایک ایسی سفاک چیز ہے، نہ وہ وزیر اعلیٰ کو دیکھتا ہے، نہ وہ قائد ایوان کو دیکھتا ہے، نہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ قائد حزب اختلاف ہے اور نہ ہی وہ یہ دیکھتا ہے کہ کون سے طبقے کے لوگ زیادہ ہیں، نہ ہی یہ دیکھتا ہے کہ کون سے طبقہ کے لوگ کم ہیں۔ کم ہوں یا زیادہ، جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا۔ قانون کا پہیہ گردش میں آجائے گا اور اس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس سلسلہ میں اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے تو میں یہ واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ قانون اس شخص کو پیس کر رکھ دے گا۔
جناب والا! ہم قانون اور تشدد کے جس ماحول میں بات کر رہے ہیں، کیا ہم اس سے اپنی آنکھیں چار نہیں کریں گے یا ہم نہیں دیکھیں گے کہ آج کس زمان و مکان پر گفتگو ہو رہی ہے۔ جناب والا! میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان، جو نیا نیا صدمہ اور شکست سے باہر نکلا ہے اور اس نے ایک نئی زندگی کا سامان پیدا کیا ہے، پاکستان کیسے بھول سکتا ہے۔ جب اس کے حصے کر کے دو نیم کر دیا گیا۔ جب ہم شکست کے صدمہ سے دوچار کر دیئے گئے اور اس دشمن کے ہاتھ سے ایک صدمہ پہنچا۔ جس کا سر ہزار سال تک ہمارے اسلاف کے سامنے جھکا ہوا تھا، اس دشمن نے ہمارا سر جھکا دیا تو اس دشمن کی سر براہ نے یہ اعلان کیا کہ میں اس سے بھی بڑی خوشخبری ۱۹۷۱ء مارچ میں اپنی قوم کو دوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گی ۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں اور توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ اتنی بڑی خوشخبری پاکستان کے ختم ہو جانے کے بعد اور کیا ہو سکتی ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں ۔ جناب والا ! یہ خوشخبری اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں اور بقیہ چار ٹکڑے اور کر دیئے جائیں ۔ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا یہ ہی منصوبہ تھا جو اندرا گاندھی نے اپنی قوم کے سامنے پیش کرنا تھا ۔ لیکن یہی دستور ، جسے بنانے میں خداوند تعالیٰ نے اپنی جانب سے ایک شرفِ عظیم عطاء کیا اور جس پر پوری قوم متحد اور متفق ہو گئی تو دشمن کے عزائم خاک میں مل گئے ۔ لیکن جناب والا ! کیا دشمن اس کے باوجود چپکے سے بیٹھا رہا، کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جس منصوبہ کو وہ پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتا تھا ، اسے بلوچستان ، سندھ ، سرحد اور اسے یہاں تک کہ سندھ میں لسانی فسادات کی صورت میں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی سازش کی گئی۔
جناب والا ! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری سرحدوں پر ایسے سامان پیدا کئے ، ہمارے ان اصولوں میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ یوں معلوم ہو کہ پاکستان آج ختم ہوا، کل ختم ہوا ۔ جناب والا ! نہ سندھ میں یہ سازش کامیاب ہوئی ، نہ سرحد میں یہ سازش کامیاب ہوئی ۔ اگر سندھ میں ، بلوچستان میں یا سرحد میں ایسے تھوڑے بہت فساد ہو بھی جائیں تب بھی پاکستان کا اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ جب تک پنجاب قائم ودائم ہے ۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی سازش آخری کڑی تک پہنچ گئی ہے اور اب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ پنجاب بھی فسادات کی آگ کی لپیٹ میں آجائے ۔ لیکن میں ایوان کے اس مقام سے یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ اہل پنجاب اس سازش سے واقف ہیں اور دشمن کی اس سازش کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ (نعرہ ہائے تحسین ) اور ہم پنجاب کو فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا خانہ جنگی ہو، کسی صورت میں آگ میں دھکیلنے کے لئے تیار نہیں ۔ جناب والا ! یہاں بڑی آسانی کے ساتھ یہ کہہ دیا گیا کہ پاکستان چاہے جل کر راکھ ہو جائے لیکن پھر بھی ہم یہ بات نہیں چھوڑیں گے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام ایک نظریہ ہے، اسلام ایک حقیقت ہے ۔ اسلام ایک دستور ہے۔ لیکن اسلام کو نافذ کرنے کے لئے ایک جسم کی بھی ضرورت ہے۔
اس برصغیر پاک و ہند میں اسلام اس وقت بھی آزاد تھا، اقبال کے انداز میں ملاّ کو اس وقت بھی اذان دینے کی آزادی تھی اور اس کے باوجود بھی برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں نے یہ اندازہ کیا کہ صرف اذان دے لینے اور سجدے کر لینے سے اسلام پر عمل نہیں ہوتا۔ اسلام پر عمل اس صورت میں ہوگا کہ ایک جداگانہ سرزمین اور ایک وطن عزیز ہو۔ ایک جسم ہو ، جس کے اندر اسلام کی روح جاری وساری ہو ۔ جناب والا ! پاکستان کی دنیا ہی اسلام کا ایک جسم ہے ۔ جب جسم ختم ہو جاتا ہے، جب جسم کو کاٹ دیا جاتا ہے تو روح بھی پرواز کر جاتی ہے۔ جناب والا ! میں جنگ بدر کے وہ لمحے آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں ، جب میرے اور آپ کے آقائے نامدار ﷺ نے اپنے رب کے سامنے یہ کہا تھا، اے خدا ! اگر آج یہ مٹھی بھر انسان ، جو تیرے حضور میں حاضر ہیں، اگر آج ان کو کچھ ہو گیا تو اے خدا! یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی تیرا نام لیوا باقی نہ رہے ۔ اس لئے یہ انسان جو کہ اسلام کے جسم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ان کا وجود بھی ضروری ہے۔ اسلام کے لئے مسلمان کا وجود بھی ضروری ہے اور ایک وطن عزیز کی بھی ضرورت ہے۔ ایک خطہ زمین کی بھی ضرورت ہے۔ جہاں اسلام کا قانون ، اسلام کا نظریہ، اسلام کی ثقافت اور وہ تمام ادارے ، جو کہ اسلام نے رائج کئے ہیں، جاری وساری رہیں ۔ ورنہ اس کے بغیر اسلام ایک تجریدی حقیقت ہو گا ۔ اس لئے جناب والا ! جو شخص اسلام اور پاکستان کو جدا کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ نہ تو وہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے اور نہ وہ پاکستان کی خدمت کر رہا ہے۔ (نعرہ ہائے تحسین )
جناب والا ! یہ صورتحال ہے جس سے آج ہم گزر رہے ہیں ۔ اس میں بے شک ہمارا یہ رویہ ہو سکتا ہے کہ ہم گرما گرم تقریریں کریں اور جذبات کا اظہار کریں ۔ لیکن خدارا کسی صورت میں بھی اس گرم گفتاری کو خانہ جنگی اور فسادات کی جانب نہ چلنے دیں ۔ اس لئے
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ اس سے پہلے بھی ہماری اپنی تاریخ میں، ہماری اپنی حکومت میں، ہماری اپنی نظروں کے سامنے ۱۹۵۳ء میں وہ سب کچھ ہوا، جس نے اس ملک میں پہلی دفعہ مارشل لاء کی داغ بیل رکھی۔ جو کوئی بھی اس واقعہ کو اتنا طول دینا چاہتا ہے کہ فسادات ہوں اور وہ اپنے جذبات کے پردے میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے ۔ وہ دوسرے معنوں میں یہ کوشش کر رہا ہے کہ پھر ایک دفعہ جمہوریت کا کارواں واپس ہو جائے اور مارشل لاء کو دعوت دینا چاہتا ہے۔ ہم جنہوں نے جمہوریت کی جنگ لڑی ہے، ہم یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اس معزز ایوان میں کہ ہم کسی صورت میں بھی جمہوریت کے اس کارواں کو رکنے نہیں دیں گے اور اس کارواں کو آگے لے جائیں گے۔
(نعرہ ہائے تحسین)
جناب والا! یہ لمحہ ایسا ہے کہ اس میں ہم تحمل سے سوچیں۔ یہ لمحہ ایسا ہے کہ بے شک باہر آتش نمرود بھڑک رہی ہو۔ لیکن اس میں ہمارا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ؎
آج مجھے افسوس ہے کہ ہمارا رویہ اس طرح کا ہے جسے دانہ اسفند کا رویہ کہا جا سکتا ہے۔ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم زیادہ بول کر، ہم اونچا بول کر اور جذبات کا اظہار کر کے سمجھتے ہیں کہ یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ نہیں، یقیناً نہیں، جذبات آپ کے بھی ہیں، میرے بھی ہیں، شاید میرے ان ساتھیوں کے، جن کو میری اس تقریر کی وجہ سے بولنے کا موقع نہیں مل سکا۔ ان کے جذبات آپ کو دیکھنا چاہئیں۔ آپ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے، اپنے جذبات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جناب والا! کس کے جذبات نہیں ہیں۔ اپنے آقا کے لئے، اپنے ہادی کے لئے، اپنے رہنما کے لئے، میرے ماں باپ، میری اولاد، میرا سب کچھ نبی پر قربان، جس نے ہمیں اور ہمارے اسلاف کو راہ ہدایت دی۔ کس کے جذبات نہیں ہیں، لیکن آج یہ لمحہ ہے کہ ہمیں جذبات کے ساتھ ہوش مندی سے بھی کام لینا ہو گا اور یقیناً ان لوگوں کو، جنہوں نے جذبات کا اظہار کرنا چاہا۔ میرے ساتھیوں نے بھی کیا۔ آپ نے بھی کیا، ان کی نیت بہت نیک ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ بعض اوقات جہنم کا راستہ نیک نیتوں سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا نہ کہ ہم اپنی نیت کی نیکی کو اتنا دور لے جائیں کہ ہم جب پہنچیں تو پتہ چلے کہ ہم جہنم میں پہنچ گئے ہیں۔ اس لئے کہ ہم جہنم خود ہی دنیا میں بھی بنا لیتے ہیں۔ اس لئے آئیے ہم یہ سوچیں کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں، اس کو حاصل کیسے کرنا چاہئے۔ اس لئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ جب ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ ہم کس زمان و مکان پر کھڑے ہیں، آج جب ہماری سرحدوں کے آس پاس ایٹم بم پھٹ رہے ہیں تو کیا یہ وقت نہیں ہے کہ ہم اپنے آپ کو متحد اور منظم رکھیں۔ آج جب کہ ہم ساری دنیا کو، العالم الثالث کو، اسلامی دنیا کے اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ کیا ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم اپنی صفوں میں انتشار کو ختم کریں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے اپنے اندر اتحاد کی قوتوں کو محفوظ کریں، مستحکم کریں۔
جناب والا! میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے تمام دوست اس سے متفق ہوں گے کہ آج کا یہ لمحہ بے شک کتنا ہی آتشیں ہو، کتنا ہی سنگین ہو۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں اور کسی صورت میں بھی وطن عزیز کو آگ کے ان شعلوں کے سپرد نہ کریں۔ جس میں ۲۵ سال تک وہ جلتا رہا ہے۔ جناب والا! حکومت نے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی کی خاطر ہر وہ اقدام کیا ہے کہ جس کے تحت اس واقعہ میں ملوث لوگوں کو پوری طرح سے انتہائی شدت کے ساتھ گرفت میں لیا جائے گا اور فوری طور پر لیا گیا ہے۔
(نعرہ ہائے تحسین)
اور کسی صورت میں بھی کوئی لحاظ نہیں کیا گیا ہے کہ اس میں کون لوگ ملوث تھے جو بھی تھے، جن کے بارے میں ہمیں اطلاع ملی ہے کہ یہ لوگ شامل تھے، کسی بھی رو رعایت کے بغیر قانون ان کے اوپر اپنی گرفت لا چکا ہے۔ ان لوگوں کو عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ان لوگوں کا پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت چالان کیا جا چکا ہے۔ ان کو جوڈیشل لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔ اس صورت میں تمام
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوستوں کو تسلی ہونی چاہئے کہ حکومت کسی صورت میں بھی، کہیں بھی، جہاں بھی کوئی شخص قانون کو اپنی گرفت میں لینا چاہے گا، اس کو کسی صورت میں معاف نہیں کرے گی۔ تمام بڑے شہروں میں اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے اور میں نے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اس بات کی ہدایات کی ہیں کہ کسی بھی رو رعایت کے بغیر، کوئی بھی، چاہے وہ اقلیت سے تعلق رکھتا ہو، اکثریت سے تعلق رکھتا ہو، کوئی شخص جو اس واقعہ کو فرقہ وارانہ شکل دینے کی کوشش کرے گا، جو اس کو فسادات کی جانب اور خانہ جنگی کی جانب لے جائے گا، اس کے اوپر قانون سختی سے گرفت کرے گا۔
آخر میں جناب والا! اس معزز ایوان کے معزز اراکین کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس واقعہ کی انتہائی غیر جانبدارانہ تحقیق کے لئے ہائیکورٹ کے جج کا تقرر کیا گیا ہے۔ (نعرہ ہائے تحسین)
(امروز لاہور، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
لائل پور میں ۳۵۵؍ افراد گرفتار
ضلعی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز سے لائل پور میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی وارداتوں سے جو صورتحال پیدا ہوگئی تھی، اس پر قابو پالیا گیا ہے اور اب حالات معمول پر ہیں۔ ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے، آج آگ لگانے اور لوٹنے کی جو وارداتیں ہوئیں پولیس نے سختی سے شرپسندوں کا محاسبہ کیا۔ لوٹ مار اور آتش زدگی کے الزامات کے تحت ضلع میں ۳۵۵؍ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
(جسارت کراچی، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
خبروں کی اشاعت پر پابندی
حکومت سندھ نے پورے صوبہ میں تمام اخبارات میں ہر قسم کی فرقہ وارانہ خبروں کی اشاعت ممنوع قرار دے دی ہے۔ یہ اقدام تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ پابندی مورخہ ۳۰؍ مئی سے ایک ماہ تک نافذ رہے گی۔
(ربوہ کے واقعہ پر لائل پور، لاہور، سرگودھا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، ملتان، راولپنڈی، ساہیوال، بہاول پور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں ہونے والے ردعمل سے متعلق خبریں اور اس سلسلہ میں مختلف حلقوں کی جانب سے جاری کردہ پیغامات ہم اسی پابندی کے باعث شائع نہیں کرسکے۔ ایڈیٹر)
(جسارت کراچی، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
پشاور، جمعیۃ کے رہنما کی گرفتاری
جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر محمد یونس اور جمعیۃ علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر فدا حسین کو آج یہاں مغربی پاکستان تحفظ امن عامہ آرڈیننس کی دفعہ ۱۶ کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ یہ بات آج یہاں دونوں جماعتوں کے ایک اعلان میں بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹر یونس پاکستان میڈیکل کونسل کے رکن اور آل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری بھی ہیں۔ جمعیۃ کے ایک پریس ریلیز کے مطابق جماعت اسلامی پشاور کے امیر قاضی حسین احمد کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں۔ ان پر ۶ ماہ قبل ایک قابل اعتراض تقریر کرنے کا الزام ہے۔
(جنگ کراچی، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
یکم جون کے اخبارات کے اداریے
لائل پور: حکومت مختلف شہروں میں منسٹری آف ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ کے تحت نئی کالونیاں بنارہی ہے۔ اس سکیم کے تحت کوہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نور ملز لائل پور کے متصل چک ۲۱۳ میں ایک بہت بڑی کالونی کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ عبدالحمید نامی ایک مرزائی کو اس محکمہ کا لائل پور میں ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈسٹرکٹ الاٹمنٹ کمیٹی کا سیکرٹری لگا دیا گیا ہے۔ اس مرزائی افسر نے ایک رسوائے زمانہ اور سینئر راجہ ناصر احمد کو، جو مہا مرزائی ہے اور جو اس سے قبل میونسپل کمیٹی لائل پور میں ایک چھاپے میں پکڑا گیا اور تنزلی کے علاوہ وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ اپنے محکمہ میں بطور ایس. ڈی او منگوالیا۔ کوہ نور ملز کے متصل کالونی کی پچھلے دنوں محکمہ نے درخواستیں مجوزہ فارموں پر وصول کی ہیں۔ یہ فارم محکمہ نے ایک روپیہ فی فارم کے حساب سے فروخت کئے ہیں۔ عبدالحمید ڈپٹی ڈائریکٹر مذکور نے خود چار سو فارم خرید کر ربوہ پہنچائے اور وہ وہاں کے مرزائیوں نے پر کر کے یہاں دفتر میں جمع کرا دیئے ۔ اس کے علاوہ ایک ہزار قادیانیوں کو مسلسل نمبر کے فارم تقسیم کئے گئے اور یہ تقریباً ڈیڑھ ہزار فارم مسلسل نمبروں والا دفتر میں جمع ہو گیا ہے۔
عبدالحمید مرزائی ڈپٹی ڈائریکٹر اور راجہ ناصر احمد مرزائی ایس.ڈی.او کی سکیم یہ ہے کہ اس کالونی میں ایک عظیم بلاک ڈیڑھ ہزار گھروں کا مرزائیوں کو الاٹ کر دیا جائے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق اس بلاک کا نقشہ راجہ ناصر احمد بنا رہا ہے۔ اس بلاک میں ایک سکول، ایک مسجد، ایک ڈسپنسری اور کئی اوپن گراؤنڈ مرزائیوں کے لئے مخصوص ہوں گے اور اس طرح یہ ایک نیا ربوہ اور مرزائیوں کا ہیڈ کوارٹر لائل پور میں بن جائے گا۔
لائل پور کا الاٹمنٹ سیکرٹری قادیانی
لائل پور کے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد کا بیان آج کی اشاعت میں شامل ہے۔ وہ جناب کمشنر صاحب کے نوٹس میں مرزائیوں کا یہ سکینڈل لے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ لائل پور کے خطیب صاحبان نے مرزائیوں کے اس منصوبہ کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ لائل پور کے شہریوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ لائل پور کی تمام مذہبی جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ لائل پور میں اس نئے ربوہ کو نہیں بننے دیا جائے گا۔ بڑی سے بڑی قربانی دے کر بھی مرزائیوں کی یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ لائل پور کے تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالحمید اور راجہ ناصر احمد کو یہاں سے فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت نے مرزائیوں کے اس سکینڈل کا نوٹس نہ لیا اور عبدالحمید کو یہاں من مانی کرنے کی اجازت دی گئی تو یہاں آل پاکستان ختم نبوت کنونشن بلایا جائے گا۔
ایبٹ آباد کے گرمائی ربوہ کی طرح لائل پور کے اسی سازشی مرکز کو نذر آتش کر دیا جائے گا اور حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت کے ذمہ ہو گی۔ امید ہے کہ صوبائی حکومت کے ارباب اختیار اس سازش کے نتائج پر غور کریں گے۔ عبدالحمید اور راجہ ناصر احمد کو تبدیل کر کے لائل پور میں کوئی امن وامان کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیں گے۔
(لولاک، مؤرخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
داخلی انتشار کو روکئے، روزنامہ امروز کا اداریہ
’’ربوہ کے المناک واقعہ کی تحقیقات کے لئے ہائیکورٹ کے جج کا تقرر عمل میں آچکا ہے۔ تادم تحریر اکہتر افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب نے غیر مبہم الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو بھی، خواہ وہ کتنا ہی با رسوخ کیوں نہ ہو، معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان واضح اعلانات اور اقدامات کے بعد امن عامہ کو درہم برہم کرنے کی ہر کوشش بے جواز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ایک مسلح گروہ کا حملہ کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ شبہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لئے پہلے سے باقاعدہ تیاریاں کی گئی تھیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے، تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ صوبائی حکومت نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قانون کے تقاضے پورے کرنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے معاملے میں انتہائی مستعدی کا ثبوت دیا ہے۔ حکومت نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بلا رو رعایت قصور وار افراد کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے اور ابھی قانون کا ہاتھ سرگرمی سے حرکت میں ہے اور اس ضمن میں مزید گرفتاریاں بعید از امکان نہیں ہیں اور یہ توقع بھی بجا طور پر کی جاتی ہے کہ اس واردات کی مکمل اور بے لاگ تحقیقات کے نتیجے میں طلباء پر مسلح حملہ کی پشت پناہی کرنے والے جو لوگ بے نقاب ہوئے ، انہیں بھی کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی مصلحت کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تحقیقات کے نتائج منظر عام پر آنے سے قبل اس ضمن میں مزید کچھ کہنا شاید مناسب نہ ہوگا۔ تاہم اس موقع پر ہم برادران وطن سے ضرور یہ گزارش کریں گے کہ وہ جوش کے اس عالم میں ہوش کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ یہ خدشہ بعید از امکان نہیں ہے کہ بعض حلقے جو بعض قابل فہم اسباب کی بناء پر شکست خوردگی کے احساس میں مبتلا ہیں ۔ اس ملک کا امن تہہ و بالا کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں بعض ملک دشمن عناصر کی خفیہ یا اعلانیہ امداد پر بھروسہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس خدشہ کی بناء پر برادران وطن کو اور زیادہ احتیاط اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے جذبات کے اظہار میں حدود سے تجاوز کر کے کسی گروہ کی سوچی سمجھی سازش کا شکار ہو جائیں۔
یہ امر محتاج صراحت نہیں ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ آئین کی رو سے اس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور اعلیٰ مناصب کا حلف اٹھاتے وقت مسلمان ہونے اور ختم نبوت کے عقیدہ پر یقین کا اعلان ضروری ہے۔ برسر اقتدار جماعت کے منشور کا پہلا جزو ہی یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب جناب حنیف رامے نے کل صوبائی اسمبلی میں اس مسئلے پر بحث کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ہماری جان ، اولاد ، مال بلکہ سب کچھ ختمی مرتبت ﷺ کے نام پر قربان ، جنہوں نے ہمیں اور ہمارے اسلاف کو راہ ہدایت دکھائی۔ پھر کون مسلمان ہے جو اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ یہ احساسات و جذبات انتہائی ارفع و پاکیزہ ہیں اور قانونی حدود کے اندر رہ کر ان کا اظہار و اعلان بھی قابل قدر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شدت جذبات میں حدود سے تجاوز تو نہیں کیا جا رہا ہے جس کی اجازت خود اسلام نے ، جس کے لئے ہم یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں، نہیں دی ہے۔ کیا انتشار و افتراق کی آگ اس حد تک تو نہیں بھڑکائی جا رہی ہے جس سے خود اس ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اس میں شک نہیں کہ ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے، حضور پاک ﷺ کی غلامی کے طفیل ملا ہے۔ لیکن آج جو لوگ اس مقدس جذبہ کے اظہار کی آڑ میں قانون شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں ، انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے دشمن کے معاملے میں بھی اسلام ہمیں بعض آداب و قواعد کا احترام کرنے کی تلقین ہی نہیں کرتا۔ ان آداب و قواعد کا احترام لازمی ہے۔ اسلام اس بات کی اجازت تو دیتا ہے کہ جس فرد یا گروہ نے کسی پر کوئی زیادتی کی ہے ، اس سے اس زیادتی کا بدلہ لیا جاسکتا ہے۔ لیکن محض ان لوگوں سے ، جنہوں نے فی الواقع زیادتی کی ہو، کسی کو ان افراد سے تعرض کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، جو محض زیادتی کرنے والے گروہ کے ہم عقیدہ ہوں اور ان کا اپنا کوئی قصور نہ ہو ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں ، جن لوگوں پر زیادتی کا الزام ہے، ان کے خلاف قانون کا ہاتھ پوری طرح حرکت میں ہے اور ان کے معاملے میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کسی کو اس واقعہ کے سلسلے میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔
حکومت نے اس ضمن میں جو موقف اور طریق کار اختیار کیا ہے ، اس کے معقول اور مبنی بر انصاف ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی بھی حکومت لاقانونیت اور فساد آرائی کی اجازت نہیں دے سکتی اور موجودہ حکومت کو بھی لازماً یہ دیکھنا ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اس واقعہ کی آڑ میں خانہ جنگی کی بنیاد نہ رکھے۔ حکومت سے یہ مطالبہ کرنے کا حق تو ہر ایک کو پہنچتا ہے کہ کسی قصور وار کو نہ بخشے اور جو لوگ با قاعدہ تحقیقات کے بعد مجرم ثابت ہوں ، انہیں عبرت ناک سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی جن لوگوں کے جذبات ، ربوہ کے واقعہ سے قدرتی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طور پر مجروح ہوئے ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی انضباطی کارروائی اور عدالتی تحقیقات کے نتائج کی تکمیل تک صبر و تحمل کا ثبوت دیں اور ہنگامہ و فساد کی سازش کے دانستہ یا نادانستہ آلہ کار نہ بنیں۔ یہ باتیں ہمیں اس لئے کہنا پڑی ہیں کہ ربوہ کے واقعہ کے خلاف ردعمل میں بعض مقامات پر قانون شکنی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ یہ بجا کہ اس واقعہ کے خلاف ردعمل قدرتی تھا اور قانونی حدود کے اندر اس کا اظہار ایسی بات نہیں جسے نامناسب سمجھا جائے۔ لیکن ہنگامہ و فساد کی کوئی بھی انفرادی یا اجتماعی کوشش اس ملک اور سواد اعظم کے مفاد کے منافی ہے۔ کون اس بات سے آگاہ نہیں ہے کہ ابھی پچھلے ہی دنوں ہماری سرحدوں کے قریب ایٹم بم کا دھماکہ کیا گیا ہے اور ہمارے دشمن عرصہ سے اس تاک میں ہیں کہ جو قوم ۱۹۷۱ء کی جنگ کے شدید صدمات سہنے کے باوجود زندہ و پائندہ ہے۔ اسے خاکم بدہن ایسے داخلی انتشار سے دوچار کر دیا جائے کہ وہ پارہ پارہ ہو کر رہ جائے اور یہاں مختلف علاقائی ، طبقاتی اور گروہی اختلافات کی ایسی آگ بھڑکائی جائے کہ خدانخواستہ اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ داخلی انتشار بیرونی حملے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ہمیں بچے کھچے پاکستان کو دوبارہ تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے اور یہ عظیم ذمہ داری اتحاد اور تنظیم کی بدولت ہی پوری ہو سکتی ہے۔
۱۹۵۳ء کے اوائل کی ایجی ٹیشن کے تلخ نتائج آج ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں۔ اس ایجی ٹیشن کے نتیجے میں لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا اولین تجربہ کیا گیا اور رفتہ رفتہ ایک ایسی فضا پروان چڑھی جس میں نوکر شاہی کے نمائندہ ٹولے نے ، جو حالات کی ستم ظریفی سے زمام اختیار پر قابض ہو چکا تھا، نمائندہ حکومت کو برطرف کر کے من مانی شروع کر دی۔ اس کے بعد نوکر شاہی ہاتھ مضبوط تر کرتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ ۱۹۵۸ء میں پورے ملک پر مارشل لاء کی تاریک رات مسلط کر دی گئی۔ بہرحال قوم نے طویل جدوجہد اور زبردست قربانیوں اور نقصانات کے بعد اس منحوس چکر سے نجات حاصل کر لی ہے اور اب ملک میں ایک ایسی حکومت برسر اقتدار ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئی تھی۔ اس حکومت نے جن حالات میں زمام اختیار سنبھالی ، اس کا علم بھی سب کو ہے۔ بہر نوع مستقل آئین کے نفاذ کے بعد خدا خدا کر کے جمہوری قدروں کی بالادستی پر قوم کا اعتماد پھر بحال ہوا ہے۔ اس لئے سب کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جمہوریت کا یہ قافلہ رواں دواں رہے اور کوئی خفیہ ہاتھ ہم پر پھر سابقہ تاریک دور مسلط کرنے میں کامیاب نہ ہو، جیسا کہ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا ہے اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں اور جو شخص اسلام اور پاکستان کو جدا کرتا ہے، ان کے نزدیک نہ وہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے، نہ پاکستان کی لیکن ہمیں یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اس خطہ ارض کی بقاء ہی پر اسلام کے نام لیواؤں کی زندگی کا انحصار ہے اور یہ خطہ ارض اسی صورت میں قائم رہ سکتا اور ترقی کر سکتا ہے کہ یہاں کسی شکل میں داخلی انتشار کو پنپنے کا موقع نہ دیا جائے۔‘‘
(امروز لاہور، مورخہ یکم / جون ۱۹۷۴ء)
اپنے گھر کو خود آگ نہ لگایئے ، روزنامہ مشرق کا اداریہ
’’ پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب حنیف رامے نے ربوہ کے متعلق صوبائی اسمبلی میں تحریک التواء کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی عوام کو تلقین کی ہے کہ وہ گھر پھونک کر تماشا دیکھنے کی نادانی نہ کریں۔ کیونکہ یہ تباہی کا راستہ ہے، خودکشی اور جنون کا راستہ ہے۔ یہ طریقہ ہے اپنے دشمنوں کے لئے خود راستہ ہموار کرنے کا، کیونکہ ربوہ میں جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ بلاشبہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ کی جو لہر دوڑ گئی ہے، وہ بالکل فطری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہنگامہ آرائی کرنے ، توڑ پھوڑ ، تشدد اور آتش زنی سے کبھی کوئی مسئلہ حل بھی ہوا ہے۔ کیا اس طرح ہم اپنے وطن اور اپنی حکومت کے لئے بہت سے نئے اور مشکل مسائل پیدا نہیں کر دیں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ عین ممکن ہے کہ ہم محسوس کر رہے ہوں کہ آج ہمارے چاروں طرف آتش نمرود بھڑک رہی ہو۔ لیکن جیسا کہ حکیم الامت نے فرمایا ہے۔ بندۂ مؤمن کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ ایسے آتشیں حالات میں بھی صبر وسکون اور ضبط وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ نہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے، نہ شدت جذبات کی وجہ سے اپنا توازن درہم برہم ہونے دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ہمارے بدخواہ، ہمارے مخالف اور ہمارے دشمن ملک کے اندر بھی اور ہماری سرحدوں کے پار بھی خاص طور پر بہت سرگرم ہو گئے ہیں۔ ہمارے لئے یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ ہم جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر اپنے وطن کو انتشار، افراتفری اور خانہ جنگی کے راستے پر چلنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
پاکستان کو جن لوگوں نے دل سے قبول نہیں کیا، وہ اس مملکت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش میں آج بھی مصروف ہیں۔ پنجاب، پاکستان کا دل ہے۔ اب انہوں نے ہمارے وطن عزیز کے قلب پر وار کیا ہے، ان کی کوشش ہے کہ اہل پنجاب کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونک دیں تا کہ ۱۹۵۳ء کی طرح یہاں ایک بار پھر مارشل لاء نافذ کر دیا جائے اور تاریخ ۲۱ سال پیچھے واپس چلی جائے، لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موجودہ حکومت عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوئی ہے اور ایک مستقل آئین کے تحت امور مملکت چلا رہی ہے۔ یہ فسادات سے کسی طرح کا سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتی، بلکہ اس نے آئین کے تحفظ اور قانون کی بالا دستی قائم کرنے کا عہد کیا ہے۔ ان حالات میں لوگوں کا مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آنا اور توڑ پھوڑ یا آتش زنی شروع کر دینا نہ اسلام کی کوئی خدمت ہے، نہ پاکستان کی۔ یہ کسی کی خدمت ہو سکتی ہے تو صرف ہمارے دشمنوں کی، جن کی آنکھوں میں اسلام کے ایک قلعہ کی حیثیت سے پاکستان کا وجود ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے۔
ربوہ کے ریلوے اسٹیشن کا واقعہ یقیناً بڑا المناک تھا۔ لیکن اس پر غصہ اور برہمی کے اظہار کے لئے جو طریقے اختیار کئے جارہے ہیں، اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہوش مندی سے کام لینے کی بجائے ہم اپنے جذبات کے غلام بن گئے ہیں۔ جیسا کہ جناب حنیف رامے نے کہا ہے، آج کا یہ لمحہ کتنا ہی آتشیں ہو، کتنا ہی سنگین ہو، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے سوچیں اور کسی صورت میں وطن عزیز کو آگ کے ان شعلوں کے سپرد نہ کریں۔ جس میں یہ پچیس سال تک جلتا رہا ہے۔ اسلام اور پاکستان سے ہمیں اگر واقعی محبت ہے اور ہم اپنے دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ہوش مندی سے کام لیں اور کسی کو ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی اجازت نہ دیں کہ جمہوری نظام درہم برہم ہو جائے اور فسادات کی آگ میں جمہوریت کا وہ پودا جھلس کر رہ جائے، جس کی ہم نے اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے، جنہوں نے ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر معصوم بچوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنایا تھا، تو حکومت انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں پوری تندہی سے مصروف ہے۔ ملزموں کی گرفتاریاں جاری ہیں اور اس اعلان کو بڑی دیانت داری کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جارہا ہے کہ ملزم چاہے کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں اپنے جرم کی سزا بھگتنا ہوگی۔ لیکن جو لوگ اس کے باوجود قانون کو ہاتھ میں لینے سے باز نہیں آتے اور جو احترام آدمیت کے بنیادی تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنے کے لئے تیار نہیں، ان کے خلاف اگر قانون حرکت میں آئے تو انہیں کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ قانون شکنی کا یوں تو کبھی کوئی جواز نہیں ہوتا تاہم حکومت ربوہ کے واقعہ پر خاموش رہتی یا بر وقت کارروائی سے گریز کرتی تو بھی ہنگامہ و فساد کو ایک حد تک قابل فہم قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن جب حکومت خود غیر معمولی مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس نے ہائیکورٹ کے ایک فاضل جج کو تحقیقات کے لئے بھی مقرر کر دیا ہے تو قانون کو ہاتھ میں لینے کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ یقین ہے کہ پنجاب کی محب وطن عوام اس نازک موقع پر اپنے قومی مفادات کے تحفظ میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔‘‘
(مشرق لاہور، یکم جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ کا واقعہ...... اب کیا ہونا چاہئے، روزنامہ وفاق کا اداریہ
”ردعمل کا سلسلہ عام طور پر اصل عمل اور اقدام یا واقعہ کے مقابلہ میں زیادہ شدید اور وسیع ہوتا ہے۔ اس کی تصدیق ۲۹ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر دیدہ دلیرانہ اور شرانگیز واردات کے ردعمل نے کر دی ہے کہ اس واقعہ کے بعد جو شدید اور زبردست لہر اٹھی، صرف ۲۴ گھنٹوں کے اندر پورا صوبہ بلکہ سارا ملک اس کی لپیٹ میں آگیا اور اس طرح ربوہ میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جسارت نے ملک بھر میں امن و امان کے مسئلہ کو یک بیک نازک سنگین بنا دیا ہے۔ ایک خوفناک نوعیت کے واقعہ کے علاوہ اس شدید اور زبردست ردعمل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اصل واقعہ کا تعلق صرف جذبات سے ہی نہیں، عقیدہ و ایمان سے بھی تھا۔ صرف جذبات مشتعل ہو جائیں تو ان پر قابو پانا مشکل نہیں ہوتا۔ عقیدہ و ایمان تک نوعیت پہنچ جائے تو پھر صورتحال کو سنبھالنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ اپنی جگہ اطمینان کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے حقیقت پسندی سے کام لیا اور ربوہ کے واقعہ پر اسمبلی میں کھل کر بحث و اظہار کی اجازت دے دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ کے ایک فاضل جج کو سارے واقعہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات پر مامور کر کے بھی ہوش مندی کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اب یہ امید کرنی چاہئے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مراحل جلد از جلد طے کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ عدالتی تحقیقات کا بلا تاخیر اہتمام ہو جانے کے بعد ربوہ کے واقعہ پر اس مخالفانہ ردعمل کو بھی روکنے میں مدد ملے گی۔ جس نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو نازک بنادیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہر مقام اور ہر مکتب فکر کے شریف، فہمیدہ اور امن پسند لوگوں سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ امن و امان کے تحفظ میں انتظامیہ سے پورا تعاون کریں گے۔ کیونکہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا رجحان کسی بھی صورت میں مفید ثابت نہیں ہوتا بلکہ ایسی تباہی اور نقصان تک نوبت پہنچا دیتا ہے کہ اصل مسئلہ دب کر رہ جاتا ہے۔ اس خاص معاملہ میں عامۃ المسلمین کو اس لئے بھی تحمل اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ شروع میں معاملہ صرف ربوہ میں کھلے اور منظم ظلم تک محدود تھا۔ لیکن اب لائل پور، ملتان، چنیوٹ وغیرہ میں بعض واقعات نے اصل ظلم کے مرتکب عناصر کو بھی مظلوم ہونے کی دہائی دینے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے۔
صوبائی حکومت نے عدالتی تحقیقات اور امن عامہ کے تحفظ کے لئے جو فوری اقدامات کئے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان سے صورتحال کو معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ لیکن اس سلسلہ میں یہ احتیاط بے حد ضروری ہے کہ انتظامیہ مشینری کو اپنے اختیار اور قوت کو استعمال کرنے میں زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی جائے۔ یعنی مظاہرۂ قوت کے بجائے مقامی طور پر بااثر لوگوں کے تعاون پر زیادہ انحصار کیا جائے۔ مزید برآں اگر وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کل جماعتی کانفرنس بلا کر وسیع تر تعاون حاصل کرنے کا اہتمام کریں تو اس سے بھی صورتحال کو اور زیادہ خوش اسلوبی سے معمول پر لایا جا سکے گا۔ بلاشبہ امن و امان کو بڑی فوقیت حاصل ہے۔ لیکن اس کی ٹھوس بنیاد اور مثبت ضمانت کی ضرورت صرف ڈنڈے سے نہیں، افہام و تفہیم سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔“
(وفاق، مورخہ یکم/جون ۱۹۷۴ء)
اسلامی نظریہ کی کونسل سے رجوع کرنے کا مشورہ
”حکومت پنجاب نے ربوہ کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرانے کا جو فوری اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ صوبے بھر میں امن و امان کے تحفظ کے لئے جو دوسرے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ان کی وجہ سے یہ امید ہے کہ جو صورتحال یک بیک بڑی نازک اور سنگین ہوگئی تھی، اس پر جلد ہی قابو پا لیا جائے گا۔ لیکن یہاں تک نوبت پہنچانے والا مسئلہ چونکہ بہت بنیادی اور پرانا ہے۔ اس لئے وہ تجویز بھی سنجیدہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توجہ کی مستحق ہے جس کا ذکر خود حکمران پارٹی کے ایک سرکردہ لیڈر یعنی سابق صوبائی وزیر مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے پنجاب اسمبلی میں بحث کے دوران میں کہا کہ اصل مسئلہ پر اسلامی نظریہ کی کونسل کی رائے معلوم کی جائے۔ یہ مسئلہ اس قدر اہم اور بنیادی ہے کہ ۱۹۵۳ء میں ملک گیر اضطراب تک نوبت پہنچا چکا ہے اور اب تو اس کی اہمیت کا نئے آئین میں بھی اس طرح بالواسطہ اعتراف کیا گیا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے رسمی حلف ناموں کے الفاظ میں بھی اس مسئلہ کے تقاضوں کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر اہم اور بنیادی ہے کہ پنجاب کے دانشور وزیراعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے بھی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران میں اپنے تمام تر احساس ذمہ داری کے باوجود اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکے۔ اس لئے بجائے اس کے کہ یہ معاملہ وقتاً فوقتاً پریشانی اور مشکل کا موجب بنتا رہے۔ مناسب اور بہتر یہی ہے کہ اس کے بارے میں اسلامی نظریہ کی کونسل سے رجوع کیا جائے۔ آئین میں اس علمی وتحقیقی ادارہ کا اہتمام اسی مقصد کے لئے کیا گیا ہے کہ قانون سازوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مستند ترین رائے ملے اور وہ اس کی روشنی میں اپنے فرائض ادا کریں۔‘‘
(وفاق لاہور، مورخہ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء)
سانحہ ربوہ، روزنامہ سعادت لائل پور کا اداریہ
’’ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کے ایک گروپ کو جس بے دردی سے پیٹا گیا، اس پر خصوصیت سے سارا پنجاب سراپا احتجاج دکھائی دیتا ہے۔ لائل پور اور دیگر شہروں، قصبوں بلکہ دیہات میں مذمت اور مظاہروں کا جو سلسلہ جاری ہے، اس سے حملہ کرنے والے اور کرانے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ اہل ربوہ باشعور اور متحمل ہونے کا بھی دعویٰ رکھتے ہیں۔ مگر سانحہ ربوہ سے ان کی بے شعوری اور عدم تحمل کا جواز ملتا ہے۔ تعصب میں انسان اندھا ہو جاتا ہے، تو وہ گرد و پیش کا جائزہ نہیں لیتا۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کے تعصب کے شعلوں سے ان کی قوم کے تمام افراد کو کیا سزا ملے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طلباء کے خلاف حملہ کرنا کسی گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اب جو ردعمل ہو رہا ہے، اس کے شعلے اگر اور زیادہ بلند ہو گئے تو ملک کی سالمیت ہی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ایک طرف مزدوروں کے جلوس، مظاہرے، گرانی سے عوام میں اضطراب اور اب دوسری طرف فرقہ وارانہ آگ کا پھیلایا جانا...... اس سے وزیراعظم بھٹو کے ہاتھ تو مضبوط نہیں ہوں گے، البتہ اندرا گاندھی کے مشن کو تقویت ضرور پہنچے گی۔
اس لئے جذبات کے ساتھ ساتھ ہوش اور تدبر کرنا چاہئے۔ حکومتی سطح پر اگر کسی فرقہ کو اقلیت قرار نہیں دیا گیا مگر عوام جو سرچشمہ اقتدار ہیں، مسلمانوں نے تو اسے اقلیت قرار دے دیا ہے۔ اس لئے عوام مسلمانوں کو اپنے تئیں ان سے ایک اقلیتی فرقہ کی طرح سلوک روا رکھنا چاہئے۔ اقلیتی فرقہ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اکثریت پر ہے۔
ربوہ اسٹیشن پر طلباء کے ساتھ ربوہ کے جن لوگوں نے تشدد کیا ہے، انہیں گرفتار کرانے اور کڑی سزا دینے کا شدت سے مطالبہ ہونا چاہئے۔ مگر اس شدت میں ملکی مال و منال کو نذرآتش کرنا اور لوٹ کر گھروں میں لے جانا کسی طرح مناسب نہیں۔ اگر فرقہ قادیانیت کے افراد کو مالی نقصان پہنچا کر احساس دلانا ضروری ہے تو یہ مال، مال غنیمت تصور نہ کیا جائے بلکہ بحق سرکار جمع ہونا چاہئے۔ موجودہ صورتحال سے لوٹ مار کی افراد اور نونہالوں کو جو لت پڑ جائے گی تو کل یہ لوٹ مار عام ہو سکتی ہے اور خانہ جنگی پر منتج ہو گی۔ پاکستان جو اس وقت مختلف مسائل اور مشکلات میں مبتلا ہے، اندرونی کسی نوعیت کی بھی گڑبڑ اس کی مشکلات میں اضافہ کر دے گی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطالبہ یہی ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کی جان و مال کو نقصان پہنچانا مجلس کے مشن میں شامل نہیں۔ اس لئے احتجاج اور مظاہرہ پرامن ہونا چاہئے۔ لوٹ مار اور غارت گری کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اس طرح ممکن ہے کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کی فیاضی اور بلند اخلاقی سے متاثر ہو کر اقلیتی فرقہ اجتماعی طور پر یا اس کا کچھ حصہ صراط مستقیم پر آ جائے۔ مسلمان کا مقصد کسی کو ستانا یا لوٹنا کبھی بھی نہیں ہوا۔ ہمارا مقصد عزیز تبلیغ اسلام ہے اور یہ فریضہ اگر بہتر طور پر سرانجام ہو تو اس کے نتائج بھی خوشگوار ہوتے ہیں۔ حکومت کا تغافل اور بے اعتنائی بھی افسوس ناک ہے۔ پاکستان میں اہل سنت کی غالب اکثریت ہے۔ مگر ملک کے بیشتر کلیدی عہدوں پر فرقہ قادیانیت کی اکثریت ہے اور اس سلسلہ میں مسلمانوں نے کئی بار حکومت کو متوجہ کیا ہے۔ لیکن حکومت نے کبھی بھی ان مطالبات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت کلیدی عہدوں پر متمکن قادیانیوں کے باعث بے بس ہے۔ جس طرح ظفر چوہدری (سابق ائیر مارشل) کی بدعنوانیوں کا ارباب اختیار پر انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح دیگر کلیدی عہدوں پر کارگزاریوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے خطرناک عزائم کا مزید انکشاف ہوگا۔ ریلوے اسٹیشن ربوہ پر اگر سارا عملہ اقلیتی فرقہ سے متعلق نہ ہوتا تو یقیناً طلباء پر یہ زیادتی نہ ہوتی۔‘‘
(روزنامہ سعادت لائل پور،مؤرخہ یکم/ جون ۱۹۷۴ء)
۲/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
حنیف رامے کی بدترین قادیانیت نوازی
لاہور: مؤرخہ یکم/ جون ۔ حکومت پنجاب نے ایک پریس نوٹ جاری کیا ہے، ’’جس کے مطابق تحفظ امن عامہ آرڈیننس مجریہ ۱۹۶۰ء کے رول ۶(۱) کے تحت فرقہ وارانہ صورتحال کے متعلق کسی طرح کی خبر، تبصرے، اظہار خیال، بیانات، اطلاعات، تصاویر، کارٹون یا اس صورتحال کو پیش کرنے والا کسی طرح کا مواد بھی شائع کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔ یہ حکم ایک ماہ تک نافذ رہے گا۔
پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امتناعی حکم اس واقعہ کے نتیجے میں جاری کرنا پڑا ہے۔ جو ۲۹ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رونما ہوا۔ اس فرقہ وارانہ صورتحال سے قانون اور امن وامان کا ایسا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس کی موجودگی میں پنجاب میں متذکرہ پابندیاں عائد کرنا پڑی ہیں۔ اس حکم کے مطابق کوئی روزنامہ یا جریدہ کوئی ایسی خبر یا کوئی ایسا مواد شائع نہیں کر سکے گا، جو فرقہ وارانہ امن کے لئے ضرر رساں ہو یا جس سے مذہبی جذبات ابھرتے ہوں۔ اس حکم کے تحت ایسے مواد کی اشاعت بھی ممنوع ہوگی۔ جس سے کسی بھی فرقے یا مذہب کی اساس پر، اس کی پیش گوئیوں پر، اس کے الہامات پر یا عقائد پر حملہ کیا گیا ہو یا خصومت، بدسگالی یا منافرت پھیلنے کا امکان ہو۔ اس حکم کی خلاف ورزی قانوناً سزا کی مستوجب ہوگی۔‘‘
واقعہ ربوہ پر روزنامہ نوائے وقت لاہور نے اداریہ لکھا جو سنسر کی نذر ہوگیا۔ اخبار نے اپنے ادارتی صفحہ کے دو کالم احتجاجاً سفید چھوڑ دیئے۔ پابندی پر البتہ ایک شذرہ شائع ہوا جو یہ ہے:
نظرثانی کی ضرورت....... روزنامہ نوائے وقت کا شذرہ
’’حکومت پنجاب نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے حالیہ حادثہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں کسی قسم کی خبر یا تبصرہ شائع کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔ یہ پابندی ایک ماہ کے لئے عائد کی گئی ہے۔ ہم یہ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ ارباب حکومت نے اس قسم کا انتہائی قدم اٹھانے میں کیا مصلحت سمجھی ہے۔ کیونکہ اس پابندی سے عامتہ الناس میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا اور اس خلاء میں طرح طرح کی افواہیں پھیلیں گی۔ سرگوشیاں ہوں گی، فضاء مسموم ہوگی اور اس مسموم فضاء سے پاکستان دشمن عناصر کو انتشار وافراتفری پھیلانے کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
موقع ملے گا۔ پاکستان اس وقت انتہائی نازک حالات سے دوچار ہے اور جیسا کہ وزیراعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ہے، ہم اس وقت انتشار و تفریق کی کسی کارروائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے حادثہ کے خلاف جو کچھ ہو رہا تھا، وہ سواد اعظم کا فطری ردعمل تھا۔ لیکن یہ بات بڑی اطمینان بخش تھی کہ کسی بھی جگہ صورتحال بے قابو نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ اکثر مقامات پر شہریوں نے ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اخبارات اس بارے میں انتہائی حزم و احتیاط سے کام لے رہے تھے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے گزشتہ روز لاہور کے مدیران جرائد سے بات چیت کرتے ہوئے بعض اخبارات کے رویہ کو قابل تعریف قرار دیتے ہوئے خیال ظاہر کیا تھا کہ اس حادثہ کے بارے میں سنسر شپ یا مکمل پابندی عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس لئے اس حادثہ سے متعلقہ خبروں یا تبصروں کی اشاعت پر پابندی مناسب معلوم نہیں ہوتی بلکہ خدشہ ہے کہ افواہوں اور سرگوشیوں کی لہریں کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت نہ ہوں۔
انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے واقف ہونا چاہتا ہے اور ایسی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے جو اس کی زندگی پر کسی بھی انداز سے اثر انداز ہو سکتی ہوں۔ اگر اس کے ذوق تجسس کی تسکین کے ذرائع مسدود کر دیئے جائیں تو وہ ایسے وسائل تلاش کرنے لگتا ہے جو اسے کسی ممنوعہ چیز کے بارے میں کوئی معلومات مہیا کر سکتے ہوں۔ اس لئے صوبائی حکومت کے متذکرہ اقدام کا ردعمل نہ صرف افواہوں اور سرگوشیوں کی افزائش میں ہو گا بلکہ لوگ آل انڈیا ریڈیو اور بی۔بی۔سی پر انحصار کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بی۔بی۔سی بھارتی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور طرح طرح کے منفی رجحانات پھیلانے کا موقع ملے گا۔ متذکرہ پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرتے وقت شاید اس پہلو کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ ارباب حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر نظرثانی کریں اور خواہ مخواہ دشمنوں کو انتشار پھیلانے کا موقع نہ دیں۔ اس کی بجائے اخبارات سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ مزید احتیاط سے کام لیں۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
حکومت پنجاب کی کذب بیانی
لاہور : مؤرخہ یکم؍ جون ۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ لائل پور، چنیوٹ اور سرگودھا میں صورتحال پر پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے اور اس سارے علاقے میں کل سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ان تینوں شہروں میں بازار اور خرید و فروخت کے تمام مراکز کھلے رہے اور معمول کے مطابق کاروبار جاری رہا۔ دریں اثناء صوبائی وزیر محنت، قانون و پارلیمنٹ امور سردار صغیر احمد نے جو اس علاقے کا دورہ کر رہے ہیں، آج ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ حکومت صوبے بھر میں قانون امن عامہ کے تحفظ کا عزم کر چکی ہے اور متشددانہ سرگرمیوں کے مرتکب افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کراچی : سندھ کے وزیر اعلیٰ جناب غلام مصطفیٰ جتوئی واقعہ ربوہ سے متعلق اخبارات پر پہلے پابندی کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔ تاہم انہوں نے آج اتنی مہربانی فرمائی کہ سندھ اسمبلی کی کارروائی ربوہ واقعہ سے متعلق شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے فرمایا کہ ریڈیو میں اس واقعہ سے متعلق جو کچھ تفصیل آ رہی ہے، میں اس کی تشہیر کے حق میں بھی نہیں ہوں۔
لاہور : جاوید ہاشمی کی گرفتاری پر ایف سی کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر رانا مسعود اختر، سیکرٹری جنرل راجہ شفقت حیات نے احتجاج کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
ساہیوال میں دو ماہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی۔ ضلع میں ہر قسم کے جلسے جلوس ممنوع قرار دے دیئے گئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور: مؤرخہ ۳۱؍ مئی کو سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس کے۔ ایم صمدانی پر یک رکنی ٹربیونل مقرر کیا گیا تھا۔ اسی دن انہوں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کمال مصطفیٰ کے نائب مسٹر عبدالستار سے مشاورت کر کے ٹربیونل کا طریقہ کار طے کیا۔ یکم جون کو کارروائی، ضابطوں اور شہادتوں کے قلمبند طے کرنے کے طریقوں پر غور کے لئے اجلاس منعقد کیا۔ اسی روز ہی انہوں نے اخبارات کو اشتہار جاری کیا، جس میں ٹربیونل کی کارروائی سے متعلق عوام کے لئے ہدایات تھیں۔ (اشتہار تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، ج۱ ص۹۱۸، ۹۱۹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے) ہائیکورٹ لاہور کی معائنہ ٹیم کے رکن جناب خضر حیات کو ٹربیونل کا رجسٹرار مقرر کیا گیا۔
پنجاب حکومت کی پھرتیاں
لاہور: مؤرخہ ۳۱؍ مئی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ لائل پور میں امن وامان قائم کرنے کی ذمہ داری براہ راست خود سنبھالیں۔ لہٰذا انسپکٹر جنرل پولیس نے آج وہاں اپنا دفتر قائم کر دیا ہے اور ذاتی طور پر امن وامان کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
سکھر میں گرفتاریاں و ہڑتال
سکھر: شام سکھر پولیس نے حزب اختلاف کے تین رہنماؤں کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان میں جمہوری پارٹی کے میاں عبداللطیف، مسلم کے حیات محمد صدیقی اور تحریک استقلال کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر انور پراچہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک استقلال طلباء کے شیخ محبوب، جماعت اسلامی کے صلاح الدین بٹ، جمعیۃ علمائے اسلام کے مولانا محمد مراد، پی۔ ڈی۔ پی سکھر کے صدر حاجی محمد رفیق، جماعت اسلامی کے ظہیر الدین کشمیری اور تحریک استقلال طلباء کے نعمان بھٹو کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے قریبی حلقوں نے بتایا ہے کہ تقریباً ۵۰؍ افراد کو گرفتار کرنے کا حکم ملا ہے۔ ان گرفتاریوں کے خلاف کل شہر میں مکمل ہڑتال ہوگی۔
چک جھمرہ میں گرفتاریاں
آج چک جھمرہ میں پولیس نے ۳۴؍ افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں اکتیس ایسے طلباء ہیں جن کی عمر دس اور تیرہ سال کے درمیان ہے۔ پولیس نے ۳؍ افراد کا جسمانی ریمانڈ بھی لے لیا ہے۔ جن کے نام محمد انور، عبدالعزیز اور طارق ہیں۔
ملتان ڈویژن میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ
ملتان ڈویژن کے چاروں اضلاع میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسے جلوسوں اور چار آدمیوں سے زیادہ کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ حکم ایک ماہ تک نافذ رہے گا۔ اس حکم کے تحت ملتان، ساہیوال، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ڈویژن بھر میں دفعہ ۱۴۴ ناخوشگوار واقعات کو روکنے کی خاطر لگائی گئی ہے۔
رامے حکومت کی کذب بیانی
لاہور: ایک سرکاری پریس نوٹ کے مطابق صوبہ میں صورتحال پوری طرح انتظامیہ کے قابو میں ہے۔ گوجرانوالہ، ہارون آباد اور رحیم یار خان جیسے چند مقامات پر قانون شکنی کے چند افسوس ناک واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ ان مقامات پر پرامن جلوس نکالے گئے۔ تاہم لاقانونیت کے اکا دُکا واقعات کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے فوری طور اور سخت اقدامات کئے اور صورتحال مکمل طور پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قابو میں ہے۔ لاہور، ملتان، راولپنڈی، بہاول پور جیسے بڑے بڑے شہروں اور دوسرے علاقوں میں ماحول پر امن رہا۔ بجز اس کے کہ بعض مقامات پر چند دکانیں بند رہیں۔ لائل پور شہر اور ضلع میں امن رہا۔ سوائے کمالیہ میں ایک ادنیٰ سے واقعہ کے کہیں بھی کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ حکومت کی ہدایت کے تحت بدنام اور شرارت پسند لوگوں کو پکڑا جارہا ہے۔ بعض مقامات پر سماج دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر صورتحال کو قابو سے باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شرپسندوں اور غنڈہ عناصر کی بڑی تعداد کو قبل ازیں پولیس حراست میں لے چکی ہے۔ دریں اثناء محلہ دار امن کمیٹیاں ماحول کو خوشگوار بنانے کی ضمانت دینے کی خاطر مصروف کار ہیں۔ آج علماء نے صوبہ بھر میں پرامن ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور لوگوں نے بالعموم طور پر اس طریقہ کو قبول کرلیا ہے۔ جس طرح حکومت صورتحال سے عہدہ برآ ہورہی ہے۔ مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور زندگی معمول پر آرہی ہے۔
اخبارات کے بعد پریس مالکان پر پابندی
پنجاب حکومت کے حکم میں کہا گیا کہ تمام پریس مالکان کوئی ایسا ہینڈ بل، پوسٹر، پمفلٹ وغیرہ نہیں چھاپ سکیں گے، جن سے مختلف فرقوں کے درمیان بدگمانی، دشمنی، نفرت کے جذبات پیدا ہوں۔ اخبارات پر پابندی ہے، کوئی خبر شائع نہ ہوسکی تاہم ذیل کی یہ خبریں چھپ گئیں۔ ہر دو خبریں ”جسارت“ کراچی کی ہیں۔
راولپنڈی میں علماء اور خطیبوں کا اجلاس
راولپنڈی میں آج علماء اور خطیبوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں ربوہ کے واقعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان کی اطلاع کے مطابق اس اجلاس میں قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالحکیم نے بھی شرکت کی۔ جب کہ قومی اسمبلی کے رکن مولانا غلام غوث ہزاروی نے اجلاس کی صدارت کی۔ علماء نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنے سے گریز کریں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
راولپنڈی انتظامیہ کا پریس نوٹ
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی پر کسی بھی کوشش پر سختی سے نمٹا جائے گا۔ آج جاری کئے جانے والے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ چند طلباء یکم جون کی شام کو راولپنڈی شہر میں جلسہ عام کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ راولپنڈی ضلع میں دفعہ ۱۴۴ ابھی نافذ کر دی گئی ہے۔ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کو چھوٹ کے طور پر چند جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن عوام کے کچھ طبقوں نے اس اجازت کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس لئے یہ چھوٹ ختم کر دی گئی اور اس میں مزید اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ضلعی انتظامیہ امن وامان کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کی ہر کوشش پر سختی سے نمٹا جائے گا۔
(جسارت کراچی، مورخہ ۲؍جون ۱۹۷۴ء)
سرکاری اخبار مساوات کا اداریہ...... پاکستان کو داخلی امن کی ضرورت ہے
”ربوہ کے افسوس ناک واقعہ کے بعد امن عامہ کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں امن عامہ کو تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے ہائیکورٹ کے ایک جج کی زیر قیادت ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے، جو واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرے گا۔ واقعہ کے کسی مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
ربوہ کے سانحہ کی جو ابتدائی تفصیلات لوگوں کے سامنے آئیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ ایک وقتی اور ہنگامی جوش کی پیداوار نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم سازش کارفرما تھی۔ جس کا اغلب مقصد ملک میں لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا تھا اور پورے ملک کے امن کو انتشار اور افراتفری کی نذر کر دینا تھا۔ اس لحاظ سے یہ واقعہ ہمارے ہاں کی منفی سیاست کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ملک کے مختلف فرقوں کو آپس میں دست و گریبان کروایا جائے اور لوگوں کے اتحاد پر ضرب لگا کر ملک کو داخلی طور پر کمزور کیا جائے۔ اس واقعہ کو مزید سنگین بنا کر پیش کرنے سے نہ تو عوام کے ہمہ جہتی معاشی اور سماجی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور تاریخ کے اس نازک موڑ پر ملک کی سیاسی قوت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اندریں حالات ہر محب وطن پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ عوام دشمن اور ملک دشمن طاقتوں کی اس سازش سے باخبر رہے اور جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے تحقیقاتی رپورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے۔ تاکہ ملک کا اندرونی اتحاد بھی برقرار رہے اور اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
ربوہ کے دردناک واقعہ کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب محمد حنیف رامے نے لوگوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی تھی اور اس واقعہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اس یقین دہانی کے باوجود اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب اور پنجاب کے باہر متعدد جگہوں پر تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ، جو پاکستان کے داخلی اتحاد اور سالمیت کے درپے ہیں، اس واقعے کو فرقہ وارانہ فساد بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔
جناب محمد حنیف رامے کے بیان کی روشنی میں اگر ہم اپنے ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جس غیرملکی سازش کے ذریعے گزشتہ پاک بھارت جنگ میں ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا، وہ سازش ہمارے ملک کے اندر کسی نہ کسی صورت میں آج بھی جاری وساری ہے۔ ملک میں ایک عوامی، جمہوری اور وفاقی آئین بن جانے کے بعد بھی بعض لوگ غیر جمہوری اقدامات سے ملک کی فضاء کو مکدر کرتے رہے ہیں اور جس وقت ملک ۱۹۷۱ء کی جنگ کے اثرات بد کے تلے دبا ہوا تھا، وہ مختلف قسم کی انتہاء پسندانہ غیر جمہوری تحریکوں اور ناممکن مطالبوں کے ذریعے ملک کے داخلی انتشار کو پارہ پارہ کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ جہاں ان کے تخریب پسندانہ حربے ایک ایک کر کے ناکام ہوتے گئے، وہاں پاکستان بھی آہستہ آہستہ ماضی کی نحوستوں سے دامن چھڑاتا گیا۔ چنانچہ اس وقت پاکستان اپنے خارجی مسائل سے بڑی حد تک عہدہ برآ ہو چکا ہے اور اب اپنے داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
داخلی طور پر پاکستان کو مضبوط اور ناقابل شکست بنانے کے لئے ابھی بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جن میں معاشی، معاشرتی مسائل اور داخلی اتحاد کا مسئلہ خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس مرحلے پر یقیناً ہماری دشمن قوتوں کی یہ خواہش ہو گی کہ ہمارے داخلی اتحاد کا خواب کبھی پورا نہ ہو اور ہم متنازعہ مسائل کا شکار ہو کر حفاظت وطن کے بنیادی فریضہ سے غافل ہو جائیں۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ ربوہ کے واقعہ کو جذباتی رنگ دے کر فرقہ وارانہ منافرت کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یا تو پاکستان کے دشمن ہیں یا نادان دوست ہیں اور وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ پاکستان دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے بعد ہر امن پسند اور انصاف پسند شہری کو یہ توقع رکھنی چاہئے کہ اس اشتعال انگیز واقعہ میں جو لوگ بھی ملوث پائے جائیں گے، انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی اور آئندہ کے لئے ایسے مہلک واقعات کا تدارک کیا جائے گا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمارے ہاں بعض ایسے مستقل ادارے قائم ہیں جو دن رات فرقہ وارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کے اپنے ذرائع اظہار وابلاغ بھی ہیں، جن کے ذریعے وہ گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ یہ ادارے جب انتہاء پسندی پر اتر آتے ہیں اور ایک دوسرے پر سنگ زنی کرتے ہیں تو ملک کی جذباتی فضا میں خطرناک تموج پیدا ہو جاتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کی فرقہ وارانہ جارحیت کا سدباب کرے تا کہ ربوہ میں ایسے دردناک واقعات کا پھر سے اعادہ نہ ہو سکے اور متشدد فرقہ وارانہ گروہوں کو ملکی امن وسلامتی سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔
پاکستان اگرچہ اپنے خارجی معاملات کامیابی سے سلجھا چکا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو ملک اور قوتیں آج تک ہم سے متصادم رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی پرانی سیاسی روش بھی ترک کر دی ہے۔ روس اور بھارت کا دفاعی معاہدہ ہی ہمارے لئے کچھ کم معنی خیز نہیں تھا کہ اب بھارت اور افغانستان بھی دفاعی رشتے استوار کر رہے ہیں اور بھارت، پاکستانی سرحدوں سے ۹۰ میل دور ایٹمی دھماکہ کر کے ہمارے لئے نئی سنگین صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ اب جب کہ پاکستان کے ارد گرد عسکری حصار قائم کئے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان عناصر اور ان لابیوں سے ہمہ وقت خبردار رہنے کی ضرورت ہے جو پاکستان دشمن طاقتوں کے آلہ کار کی حیثیت سے اندرون ملک کام کر رہی ہیں اور جو ربوہ ایسے واقعہ کو بڑھا پھیلا کر ملکی امن و سلامتی کو خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔
اس وقت ملک کے داخلی امن کا ملک کی خود مختاری اور سلامتی سے گہرا تعلق ہے۔ اس لئے ملک کے داخلی امن کا مسئلہ بلاشبہ فروعی سیاسی اختلافات سے بلند ہے۔ داخلی امن کی بحالی اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے حکومت کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں کو میدان عمل میں اترنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام میں جذباتی اعتدال پیدا کیا جا سکے اور ملک کو انتشار اور انارکی کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بصورت دیگر ملک وقوم کو جو نقصان پہنچے گا۔ اس سے نہ تو ہمارا جمہوری عمل محفوظ رہ سکے گا اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی۔
اس سلسلے میں علمائے کرام بھی بہت بڑا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور وہ صورتحال کو معمول پر لانے میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔ حکومت کا جہاں یہ فرض ہے کہ وہ پوری تندہی سے متشددانہ فرقہ واریت کی روک تھام کرے اور ملک میں انتشار اور بد نظمی کا دائرہ وسیع نہ ہونے دے۔ وہاں اسے واقعہ ربوہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے تا کہ آئندہ کوئی تخریب پسند عنصر ملکی امن و سلامتی کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔‘‘
(روزنامہ مساوات، مورخہ ۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
افسوس کہ پورے ملک میں اخبارات پر پابندی تھی۔ چند حکومتی خبروں وحکومتی کارروائیوں کے سوا تحریک کی مزید تفصیلات نہ مل سکیں۔
۳؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور: مورخہ ۲؍ جون۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے نے صوبے میں امن وامان بحال کرنے کے لئے تمام شہروں میں غنڈوں اور سماج دشمن عناصر کو گرفتار کر لینے کا حکم دے دیا ہے۔ آج رات گئے ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ قتل وغارت اور لوٹ مار کی جو وارداتیں ہورہی ہیں۔ ان میں شریف شہریوں کا کوئی ہاتھ نہیں۔ یہ صرف سماج دشمن عناصر کی حرکتیں ہیں۔ لہٰذا وسیع پیمانے پر ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں پنجاب کے عوام، علمائے کرام اور انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے موجودہ نازک ترین حالات میں امن وامان برقرار رکھنے میں بے مثال کردار سرانجام دیا ہے۔ باوجود اس کے کہ بعض زیر زمین قوتیں صوبے میں امن وامان کی فضا کو بگاڑ کر قتل وغارت کا بازار گرم کرنا چاہتی ہیں۔ عوام کے شعور، علمائے کرام کی دینی وملی بصیرت اور انتظامیہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی مستعدی و فرض شناسی نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
مسٹر رامے نے مزید کہا کہ اس موقع پر جہاں میں پولیس اور انتظامیہ کے کردار کی تعریف کرتا ہوں، وہاں انہیں خبردار بھی کرتا ہوں کہ انہیں مسلسل مستعد اور سرگرم رہنا ہوگا۔ اگر صوبے میں کسی بھی شہری کی جان و مال کی حفاظت میں پولیس اور انتظامیہ کے کسی فرد نے ذرا سی غفلت یا معمولی سا تساہل برتا تو اس کا شدید محاسبہ کیا جائے گا اور اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجھے احساس ہے کہ اتنے بڑے صوبے اور اتنی بڑی آبادی پر نگاہ رکھنی اور ہر جگہ بروقت پہنچ کر حالات کو قابو میں لانا بڑا کام ہے اور یہ کام عوام اور عوام کے رہنماؤں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن کہیں کہیں سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ اگر انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار وقت پر مناسب کارروائی کرتے تو کئی ناخوشگوار واقعات کا سدباب کیا جاسکتا تھا۔ میں یہ واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ انتظامیہ اور پولیس کے اہل کاروں کی طرف سے موجودہ حالات میں کسی تساہل یا تغافل کو وطن دشمنی گردانا جائے گا اور معاف نہیں کیا جائے گا۔ ہمیں اس بحران کو ہر قیمت پر قابو میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصر کو وسیع پیمانے پر گرفتار کرلیا جائے۔ آخر میں انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے کام پر چلے جائیں۔ فیکٹریوں اور دوکانوں میں کام شروع ہونا چاہئے۔ ان تمام مقامات پر پولیس کے حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عوام دینی اور سیاسی رہنما اور حکومت آپس میں تعاون کریں تو حالات کسی طرح بھی قابو سے باہر نہیں نکلیں گے۔ انتشار اور نفاق کی قوتوں کو اپنی شکست تسلیم کرنا پڑے گی۔‘‘
(نوائے وقت، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
امن و عامہ کے متعلق سرکاری اعلامیہ
لاہور: مورخہ ۳؍ جون۔ پنجاب کے مختلف حصوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق پورے صوبہ میں آج مکمل امن و امان رہا اور کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ آج یہاں ایک سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ بعض شہروں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی اکا دکا وارداتیں ہوئیں۔ جن پر فوری قابو پالیا گیا اور امن عامہ کو درہم برہم نہیں ہونے دیا گیا۔ حکومت کے اعلان کے مطابق عوام کو اس امر کا بخوبی احساس ہو چکا ہے کہ انتشار و شرپسندی کی وجہ سے ملک کو اور خصوصاً صوبہ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اسی وجہ سے عوام کے مختلف طبقات امن و امان برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔ پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ضلع لاہور کے شہری علاقوں میں لڑکوں نے جلوس نکالا۔ لوگوں کے سمجھانے پر جلوس منتشر ہوگیا۔ لاہور ڈویژن کے کسی بھی علاقہ سے کسی قسم کے قابل ذکر واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تمام بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں حالات پر امن اور پرسکون رہے۔
راولپنڈی ڈویژن میں لالہ موسیٰ میں ایک چھوٹا سا جلوس نکالا گیا۔ بعدازاں پولیس نے منتشر کر دیا۔ گوجر خان اور کیمبل پور میں بھی جلوس نکالنے کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ سرگودھا ڈویژن کے تمام اضلاع میں امن و سکون رہا۔ جھنگ لائل پور اور چنیوٹ میں بھی زندگی معمول پر رہی۔ تمام تجارتی مراکز اور ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ملتان ڈویژن میں آج چوتھے روز بھی کسی غیر معمولی واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم بورے والا میں املاک کو آگ لگانے کے چند واقعات ہوئے۔ لیکن ان کی نوعیت مقامی تھی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر قابو پا لیا اور کسی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا۔ ساہیوال شہر میں بھی آتش زنی کی ایک واردات ہوئی۔ لیکن فوری مداخلت کی بناء پر کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ بہاول پور ڈویژن کے تینوں اضلاع میں امن عامہ کی صورتحال بہتر ہے اور کسی قسم کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ میں گڑبڑ
حکومت نے آج شب جو پریس نوٹ جاری کیا، اس کے مطابق رات کے دس بجے تک صوبے بھر میں عام صورتحال ٹھیک تھی۔ البتہ گوجرانوالہ میں ضرور ایک ناگوار واردات ہوئی۔ لیکن پولیس نے فوری کارروائی کر کے اس واردات کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کر لیا اور اب صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔ البتہ فورٹ عباس ضلع بہاول نگر میں آتش زنی کی چند وارداتیں ہوئیں۔ ۹؍افراد گرفتار کر لئے گئے۔
(نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)
الفضل کا ۲؍جون کا شمارہ ضبط کر لیا گیا
سرکاری اعلان کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے آج ربوہ کے روزنامہ الفضل کے پریس پر چھاپہ مار کر ۲؍جون کے شمارہ کے ۱۹۶۰ پرچوں پر قبضہ کر لیا۔
(نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)
لیگ رہنماؤں کا بیان
لاہور:مؤرخہ ۲؍جون ۔ پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ملک محمد قاسم، سینیٹر خواجہ محمد صفدر صدر مسلم لیگ پنجاب زون،مسلم لیگی رہنما چوہدری ظہور الٰہی ایم این اے،صوبائی جنرل سیکرٹری غلام حیدر وائیں اور مرکزی جوائنٹ سیکرٹری میجر اعجاز احمد خاں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار طالب علموں کو فوری رہا کر کے صورتحال کو معمول پر لایا جائے اور طلباء میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے طالب علم رہنما سابق صدر سٹوڈنٹس یونین پنجاب یونیورسٹی جاوید ہاشمی، نشتر میڈیکل کالج کے جنرل سیکرٹری مسٹر احسان باری اور دیگر طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری پر شدید اظہار تشویش کیا۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے کہا کہ اس قسم کی گرفتاریاں حالات کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتیں۔ بلکہ طلباء کے حساس طبقہ میں ایسی غلط کاریوں کا الٹا ردعمل ہوتا ہے، جس سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ان کے مشتعل ہونے کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔
(نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)
ضروری اعلان
”میں اعلان کرتا ہوں کہ عرصہ ایک سال سے احمدیت چھوڑ چکا ہوں۔ اب میرا اس فرقہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس کی تصدیق خطیب جامعہ مسجد لائل پور مفتی زین العابدین صاحب بھی کر چکے ہیں۔ اب مجھے احمدی تصور نہ کیا جائے ۔“ (محمود احمد ولد رشید احمد، ۱۴۷۔سی، پیپلز کالونی لائل پور)
(اشتہار نوائے وقت ،مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)
گجرات میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی
گجرات: مؤرخہ یکم جون۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گجرات نے یہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی ہے۔ جس کے تحت جلسے کرنے، جلوس نکالنے، ہر قسم کے نعرے لگانے اور اشتعال انگیز آوازیں نکالنے اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر دو ماہ کے لئے ضلع بھر میں پابندی عائد کر دی ہے۔
(اشتہار نوائے وقت ،مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۷۴ء)
قومی اسمبلی میں حکومت کا معاندانہ رویہ
قومی اسمبلی ہال، یکم جون۔قومی اسمبلی نے آج ربوہ کے واقعہ کے بارے میں پیش کردہ تحریک التواء پر بحث کی اجازت دینے کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصلہ دوسرے روز بھی ملتوی کر دیا۔ سپیکر اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان نے آج ایوان کو بتایا کہ تحریک کے قانونی نکات پر پیر کے روز بحث ہوگی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی وزیر قانون نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ مسئلہ ایک صوبے کا ہے اور صوبائی حکومت نے اس ضمن میں ہائیکورٹ کے فاضل جج پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹربیونل مقرر کر دیا ہے۔ تحریک کے محرک چوہدری ظہور الٰہی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اپنی بقاء کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور اس پر آشوب دور میں، جب کہ قومی اتحاد و یگانگت ناگزیر ہے۔ اس قسم کا افسوس ناک حادثہ پیش آ گیا۔ چوہدری ظہور الٰہی نے کہا کہ حکومت پنجاب نے تحقیقاتی ٹربیونل ضرور مقرر کر دیا ہے۔ لیکن چونکہ یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ اسے ایوان میں زیر بحث لایا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا قطعی انسداد ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مکمل حقائق جاننے کے لئے اس معاملہ کو کچھ روز کے لئے ملتوی بھی رکھے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
مولانا غلام غوث ہزاروی نے بھی، جو اسی قسم کی ایک تحریک التواء کے محرک ہیں، کہا کہ قومی اسمبلی ملک کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ ہے، اس لئے اس مسئلہ کو یہاں ضرور زیر بحث لایا جانا چاہئے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری جہانگیر علی نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے اور اس پر بحث مفاد عامہ کے منافی ہوگی۔ بعد ازاں سپیکر نے اس تحریک پر پیر کے روز تک کے لئے بحث ملتوی کر دی۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
کوثر نیازی کا فرمان
حیدرآباد کے شہریوں کی طرف سے گزشتہ روز ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کوثر نیازی نے کہا ہے کہ وہ عناصر، جو قیام پاکستان کے مخالف رہے اور قائد اعظم کی مخالفت کرتے رہے۔ پھر قائد عوام وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں، اس لئے اب یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ محب وطن لوگ، جنہوں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دیں اور کام کئے اور اب بھی پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے خواہاں ہیں، ایک جھنڈے تلے جمع ہو جائیں تاکہ پاکستان دشمن عناصر کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مولانا نے وزیر اعظم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ پاکستانی عوام کو بھٹو جیسی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ کا رہنما ملا۔ جس نے پاکستان کی تاریخ کے زبردست بحرانوں میں پاکستانی عوام کی قیادت کی۔ مولانا نے پیپلز پارٹی کے اندر مکمل اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض پارٹی کارکن اور عہدیدار ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند تنقید بری نہیں لیکن یہ پارٹی کے اندر ہونی چاہئے۔ اس سے پیشتر قاضی محمد اکبر نے استقبالیہ پیش کیا۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
انجمن طلباء اسلام سیالکوٹ
انجمن طلباء اسلام سیالکوٹ کے ناظم مسٹر نوید اقبال نے اپنے ایک اخباری بیان میں حکومت پنجاب کی طرف سے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء پر کئے جانے والے بہیمانہ تشدد کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے جس قدر طلباء پر تشدد کیا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی اور یہ بات پاکستان کے وقار کے منافی ہے۔ دریں اثناء مسٹر نوید اقبال نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ طلباء ملک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور انہوں نے آگے چل کر ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں طلباء پر تشدد کر کے انہیں اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ تعمیری کام کرنے کی بجائے حکومت سے نبرد آزما
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو جائیں اور اس طرح ملک میں حالات نازک صورت اختیار کر جائیں۔ چنانچہ ان امور کے پیش نظر مسٹر نوید اقبال نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملک وقوم کے بہتر مفاد کی خاطر طلباء پر تشدد بند کر کے ان کے جائز مطالبات کو بلا تاخیر پورا کیا جائے۔
(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
۴؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
پنجاب اسمبلی میں حکومتی رویہ
لاہور: مؤرخہ ۳؍ جون ۔ پنجاب اسمبلی میں آج سپیکر شیخ رفیق احمد نے اخبارات میں فرقہ وارانہ نوعیت کی خبروں کی اشاعت پر سنسر کی پابندیوں کے خلاف ایک ہی مفہوم کی چار تحریک التواء کو باضابطہ قرار دے دیا۔ لیکن ایوان نے ان پر بحث کی اجازت نہ دی۔ تحاریک التواء میاں خورشید انور، سید تابش الوری، حاجی میاں سیف اللہ اور مرزا فضل حق نے پیش کی تھیں۔ التواء کی تحریکوں کی مخالفت کرتے ہوئے سینئر وزیر ڈاکٹر عبدالخالق نے کہا کہ محض ایسی خبروں کی اشاعت ممنوع قرار دی گئی ہے۔ جن سے کسی فرقہ کے مذہب، عقیدہ، ایمان مجروح ہوں۔ ان کے سوا کسی اور نوع کی خبروں پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا جہاں تک واقعہ ربوہ کی خبروں کا تعلق ہے، اخبارات سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی خبریں محکمہ اطلاعات کے ڈویژنل یا ڈسٹرکٹ افسروں سے سنسر کرائیں۔ ایوان کی طرف سے تحاریک التواء پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کیا۔
بورے والا کے اے سی و ڈی۔ایس۔پی ملازمت سے برطرف
ملتان : مؤرخہ ۳؍ جون۔ کمشنر ملتان ڈویژن نے وہاڑی کے اسسٹنٹ کمشنر مسٹر سیف اللہ خاں اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس وہاڑی راجہ محمد ایوب خان کو بوریوالہ میں گزشتہ روز رونما ہونے والے لاقانونیت کے واقعہ کی بناء پر ملازمت سے سبکدوش کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے کمشنر ملتان ڈویژن کے اسی فیصلہ کی توثیق کردی ہے۔ ایک سرکاری پریس نوٹ کے مطابق سیف اللہ خان کو جبری طور پر ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ جب کہ راجہ محمد ایوب خان ڈی۔ایس۔پی کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے اور اس کے خلاف ضروری مناسب کارروائی بھی کی جارہی ہے۔
سیالکوٹ میں دو ماہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ لگادی گئی
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سیالکوٹ نے دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کے تحت ضلع بھر میں دو ماہ کے لئے پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع، آتشیں اسلحہ لے کر باہر نکلنے، جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کی ممانعت کر دی ہے۔ اس دفعہ کے تحت سیالکوٹ، نارووال اور ڈسکہ میں لاؤڈ سپیکروں یا دیگر آلات مکبر الصوت کے ذریعے سینماؤں میں یا اشتہاری مقاصد کے لئے میونسپل حدود میں ریکارڈ بجانے کی بھی ممانعت کردی گئی ہے۔
قائدین کا لاہور میں اجلاس و پریس کانفرنس
لاہور: مؤرخہ ۳؍ جون ۔ آج صبح مولانا عبیداللہ انور کے ہاں، اندرون شیرانوالہ گیٹ، مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس میں جمعیتہ علمائے اسلام، جمعیتہ علمائے پاکستان، جماعت اسلامی،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیۃ اہل حدیث، تنظیم اہل حدیث، پاکستان مسلم لیگ، پاکستان جمہوری پارٹی، مجلس احرار، خاکسار اتحاد پارٹی، مجلس تحفظ ختم نبوت، مرکزی قادیانی محاسبہ کمیٹی اور تحفظ حقوق شیعہ کے رہنما موجود تھے۔ ان رہنماؤں میں نوابزادہ نصر اللہ خان، آغا شورش کاشمیری، مولانا عبدالستار نیازی، چوہدری غلام جیلانی، سید مظفر علی شمسی اور مولانا محمود احمد رضوی شامل تھے۔ تحریک استقلال کے علامہ احسان الہی ظہیر اور شیخ حفیظ نے بھی ذاتی حیثیت میں شرکت کی۔
لاہور میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی
لاہور: مؤرخہ ۳؍ جون۔ حکومت پنجاب نے ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت آج رات ایک حکم جاری کیا ہے۔ جس کے ذریعہ ضلع لاہور میں کسی بھی جگہ تمام عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جن میں ایسے فرقہ وارانہ موضوعات پر تقاریر ہونے کا امکان ہو، جو امن عامہ کی صورتحال کو بری طرح متاثر کر سکتی ہوں۔ اس حکم کا اطلاق ہر قسم کے اجلاس پر ہوگا، جو خواہ کہیں بھی منعقد ہو، ایسے مقامات میں جہاں ان اجتماعات کے منعقد کئے جانے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ سرکاری عمارت اور مذہبی امور کے اجتماعات کی جگہ بھی شامل ہے۔
پشاور یونیورسٹی بند
جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ ربوہ کے ذمہ دار افراد پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ حکومت قادیانیوں پر کڑی نظر رکھتی تو موجودہ حالات پیدا نہ ہوتے۔ پشاور یونیورسٹی بند کر دی گئی۔ دس ملحقہ کالج بھی بند کر دیئے گئے۔ امتحانات ملتوی ہو گئے۔ جناب بھٹو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ سانحہ ربوہ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن سفارشات بھی پیش کر سکے گا۔
ربوہ میں سرکاری عہدوں پر آئندہ صرف قادیانی ہی متعین نہیں کئے جائیں گے۔ حکومت نے موجودہ عدم توازن کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عوامی حکومت موجودہ صورتحال کی ذمہ دار نہیں۔ سرکاری پریس نوٹ۔ وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے بہاول پور میں اعلان کیا کہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے ربوہ کے واقعہ کی تفتیش کا کام صوبائی کرائمز برانچ کے سپرد کر دیا ہے۔ حکومت نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ امیر جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد کو شامل تفتیش کر لیا جائے۔ حکومت نے یہ احکام اس لئے صادر کئے ہیں کہ اس کے نزدیک کوئی شخص بھی قانون سے بالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ پریس پر پابندی عائد تھی، اس لئے مجلس عمل کی طرف ایک مختصر اشتہار ”نوائے وقت“ ۴؍ جون ۱۹۷۴ء میں شائع کیا گیا، جو یہ ہے:
اہم اعلان
آج بروز منگل بعد از نماز عصر بوقت پانچ بجے شام، مسجد وزیر خان میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور قومی اکابر و ملی رہنما، سامعین سے ہم کلام ہوں گے۔
- ۞.......مولانا عبید اللہ انور
- ۞.......علامہ احسان الہی ظہیر
- ۞.......مولانا خلیل احمد قادری
- ۞.......چوہدری غلام جیلانی
- ۞.......نوابزادہ نصر اللہ خان
- ۞.......آغا شورش کاشمیری
جناب وقار انبالوی کا ”نوائے وقت“ ۴؍ جون ۱۹۷۴ء میں یہ قطعہ شائع ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عشق نبی ﷺ
بہت مکلف ہیں یہ اشارے کہ اس سے بچئے اور اس سے بچئے مجھے غرض کیا ہو مصلحت سے کہ میں ہوں عشق نبیؐ کا مارا
(وقار انبالوی)
بورے والا میں حکومت پنجاب نے تحریک کے اکیس افراد کو گرفتار کر لیا۔ سرگودھا میں قادیانی دوکانوں پر پکٹنگ جاری رہی۔ بعض مقامات پر اکا دُکا تصادم کے واقعات بھی ہوئے۔ بھٹو صاحب نے سانحہ ربوہ سے متعلق پانچ تحاریک التواء کی مخالفت کی۔ انہوں نے ایک دھواں دھار تقریر کی۔ ان کی تقریر کا مکمل متن یہ ہے۔
بھٹو صاحب کی قومی اسمبلی میں تقریر
اسلام آباد: مورخہ ۳؍ جون ۱۹۷۴ء۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ہے کہ : ’’ان کی حکومت احمدی نہیں ہے۔ یہ صحیح معنوں میں عوام کی منتخب حکومت ہے۔ ہمارا مذہب اسلام ہے۔ ہم نے ملک کا جو آئین اتفاق رائے سے منظور کیا ، اس میں واضح طور پر درج ہے کہ ہم ختم نبوت ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ ملک کے دو بڑے عہدوں کے لئے حلف کا جو متن منظور کیا گیا ہے، اس میں بھی اس اہم مسئلہ کی وضاحت موجود ہے۔ اس صورت میں احمدیوں کا مسئلہ ایوان میں زیر بحث لانے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں۔ وہ آج (۳؍ جون ۱۹۷۴ء) قومی اسمبلی میں واقعہ ربوہ پر التواء کی پانچ تحریکوں کو زیر بحث لانے کی مخالفت میں تقریر کر رہے تھے۔ سپیکر صاحبزادہ فاروق علی ان پر کل اپنی رولنگ دیں گے۔
وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ اس وقت امن و آشتی قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح ہی ملک کی یکجہتی و سالمیت کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ تمام مہذب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور اسے صدق دل سے پورا کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانیوں کے مسئلہ سے ان کی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت ملک کو جو مسئلہ درپیش ہے، نیا نہیں بہت پرانا ہے۔ تاہم عوام کا فرض ہے کہ وہ رواداری کا مظاہرہ کریں۔ حکومت کے لئے نت نئے مسائل کھڑے نہ کریں بلکہ اب جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس پر قابو پانے میں حکومت سے تعاون کریں۔ حکومت نے عدالتی ٹربیونل قائم کر دیا ہے۔ حکومت اسے اپنا کام بطریق احسن مکمل کرنے کے سلسلہ میں ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔ اس ٹربیونل کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ یہ صرف واقعہ ربوہ کی تحقیقات نہیں کرے گا بلکہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد اپنی سفارشات بھی پیش کر سکے گا۔
مسٹر بھٹو نے کہا کہ مناسب وقت پر وہ اس مسئلہ پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ اگر بحث و تمحیص سے قومی یکجہتی کو تقویت پہنچانے میں مدد ملتی ہے تو پھر اس پر اعتراض کرنے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن ہم ان عناصر کے عزائم سے اچھی طرح آگاہ ہیں جو اس وقت جب کہ اشتعال پھیلا ہوا ہے۔ اس مسئلہ پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مسئلہ پر بحث جلتی پر تیل کا کام کرے گی اور نتیجتاً پاکستان اور زیادہ کمزور ہو جائے گا۔ پنجاب کی حکومت نے جو عدالتی ٹربیونل مقرر کیا ہے، وہ واقعہ ربوہ سے متعلق تمام مسائل کا جائزہ لے گا اور حکومت اس سے مکمل تعاون کرے گی۔ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی مناسب وقت پر کھلے یا خفیہ اجلاس میں اس طرح زیر بحث لایا جا سکتا ہے کہ اس سے قومی مفادات پر کسی قسم کی زد نہ پڑے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وزیراعظم نے اپنی تقریر مغرب کی نماز کے وقفہ کے بعد شروع کی۔ انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ربوہ پر جو پانچ تحاریک پیش کی گئیں انہیں بحث کے لئے منظور کرنے یا نہ کرنے کے سلسلہ میں آپ اپنا فیصلہ کل دیں گے۔ لیکن عوام اس مسئلہ پر اپنا فیصلہ دے چکے ہیں۔ پوری دنیا انگشت بدنداں ہے کہ پاکستان کے معاشرتی نظام میں کون سی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ استفسار کرتے ہیں کہ کیا اتنی عدم رواداری پیدا ہو چکی ہے کہ ہم اپنے مسائل کو جمہوری اور شائستہ طریقے سے حل کرنے کے اہل نہیں رہے۔ قوم پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے رہے ہیں۔ لیکن ہمیں ہوش نہیں آیا۔ ہم نت نئے مسائل پیدا ہی کرتے چلے جاتے ہیں۔ باہم دست و گریباں ہونا ہمارا معمول بن گیا ہے۔ اشتعال میں آ کر ایک دوسرے کو پھاڑ کھانا ہماری عادت ہو گئی ہے۔ کدورت، منافرت اور انتہاء پسندی ہم میں رچ بس گئی ہے۔ اب ربوہ میں جو واقعہ پیش آیا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ مسئلہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے بھی موجود تھا۔ اس مسئلہ نے ۱۹۵۳ء میں ایسے حالات پیدا کئے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مارشل لاء نافذ ہوا۔ ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ یہ سنگین قومی مسئلہ ہے اور اس سے پاکستان کے استحکام کا گہرا تعلق ہے۔ یہ امکان بھی بعید از قیاس نہیں قرار دیا جا سکتا کہ اس مسئلہ کو مخصوص مقاصد کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا دی گئی ہے۔ بادی النظر میں یہ ایک سازش ہی معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس ضمن میں اس مرحلہ پر کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی۔
مسٹر بھٹو نے کہا کہ اس بات پر کسی قسم کا اختلاف رائے نہیں ہے کہ یہ مسئلہ طے ہونا چاہئے اور اگر حکومت اس معاملہ میں براہ راست ملوث ہوتی ہے، اس کا رویہ جانبدارانہ ہو سکتا تھا، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا حکومت شہریوں کو ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے کی کھلی چھٹی دیں۔ میں حزب اختلاف سے کہتا ہوں کہ راست بازی اختیار کریں۔ وہ خود غور کریں اور سوچیں آیا وہ اس مسئلہ کو سنگین قومی مسئلہ تصور کرتے ہیں۔ اس مسئلہ پر معقولیت سے بحث ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا مقصد جلتی پر تیل ڈالنا نہیں ہونا چاہئے۔ معقولیت کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر اس وقت اظہار خیال کیا جائے جب ملک میں امن بحال ہو، اپوزیشن میں ہمارے دوستوں کی حالت عجیب ہے۔ یہ شکست خوردہ ہیں۔ انہوں نے جنگی قیدیوں کی رہائی، بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے، غرض کہ ہر مسئلہ میں مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی کبھی پیش نہ گئی۔ وہ یہ مسئلہ اٹھانے کی تاک میں بیٹھے تھے۔
مسٹر بھٹو نے سوال کیا کہ کیا جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار یہی ہوتا ہے۔ بہرصورت ہم ان سے یہی گزارش کریں گے کہ جلتی پر تیل نہ ڈالیں۔ ہمیں پہلے موجودہ صورتحال سے نمٹ لینے دیں۔ اس معاملہ میں ہمارا دامن صاف ہے۔ ہمیں کوئی چیز چھپانے یا پوشیدہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ حکومت نے عدالتی ٹربیونل قائم کر دیا ہے۔ جس کا سربراہ ہائیکورٹ کا جج ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے اپوزیشن کو مطمئن ہو جانا چاہئے تھا۔ ویسے تو یہ کوشش یہی کرتے ہیں کہ ایسے معاملات میں، جن کا عدالت سے کوئی واسطہ بھی نہیں، عدلیہ کو ملوث کر دیا جائے۔ یہ معاملہ جس پر فیصلہ عدالتیں دے سکتی ہیں، ٹربیونل کے قیام سے بھی مطمئن نہیں۔ اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ انتظامی کارروائی کی جائے۔ جب انتظامی کارروائی کی ضرورت ہو تو وہ پہلو بدل کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے سپرد کیا جائے۔ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ اپوزیشن اپنا تمسخر خود اڑانے پر تلی ہوئی ہے۔ اس مسئلہ میں حکومت کے لئے کسی قسم کی الجھن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ حکومت احمدیوں کی نہیں ہے۔ وزیراعظم بھٹو نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ سنجیدہ اور معقول رویہ اختیار کریں کہ اس میں ہی ملک اور قوم کے بچوں کے مستقبل کا انحصار ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ آئین میں اقلیتوں کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ آئین اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس پر جماعت اسلامی کے ارکان اور مفتی محمود نے بھی دستخط کئے تھے۔ اس وقت اپوزیشن نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حزب اختلاف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واک آؤٹ کر جاتی تھی۔ اس مسئلہ پر اگر انہیں کوئی اعتراض تھا تو وہ خاموش کیوں رہے۔ اگر مفتی محمود اس مسئلہ کو بنیادی نوعیت کا تصور کرتے تھے تو انہوں نے آئین میں اقلیتوں کے بارے میں دفعات سے اتفاق کیوں کیا تھا۔ صدر اور وزیراعظم کے لئے جو حلف نامہ تیار کیا گیا، اس میں حضور نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا عقیدہ شامل ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہو گیا۔ اس کے پس منظر میں ایک فلسفہ اور تاریخ ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی مسئلہ متنازعہ نہیں رہ جاتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان کا استحکام عزیز ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ یہ وقت واقعہ ربوہ پر بحث کے لئے موزوں نہیں ہے۔ وزیرقانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ وضاحت کر چکے ہیں کہ واقعہ ربوہ خالصتاً امن عامہ کا معاملہ ہے۔ اس کے بعد اس پر بحث کا کوئی بھی جواز باقی نہیں رہتا۔ حکومت تحقیقاتی ٹریبونل کو ہر ممکن سہولت دے گی اور کوئی بھی شخص اس کے سامنے پیش ہو سکتا ہے۔ ٹریبونل واقعہ ربوہ سے متعلق مسائل کا جائزہ بھی لے سکے گا۔‘‘
تھرپارکر میں دفعہ ۱۴۴
سندھ حکومت نے ضلع تھرپارکر میں ایک ماہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی، جس کے تحت ہر قسم کے جلسے جلوس ممنوع قرار دے دیئے گئے۔ یاد رہے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ قادیانیوں کی تعداد تھرپارکر میں ہے۔ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام اداروں کو بند کر دیا۔ تمام امتحانات غیر معینہ عرصہ کے لئے ملتوی کر دیئے گئے۔
لاہور، گیارہ رہنماؤں کی گرفتاری و رہائی
لاہور: مورخہ ۴؍جون ۱۹۷۴ء۔ آج رات یہاں سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ لاہور میں ایک واقعہ کے سوا، جس میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلوسوں پر پابندی کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی گئی۔ پورے پنجاب میں امن وامان رہا۔ لاہور میں جلوس نکالنے پر پابندی کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش مسجد وزیرخان کے باہر کی گئی جہاں نماز عصر کے بعد تقریباً پانچ سو افراد جمع ہو گئے۔ پولیس نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ جلوس تشکیل نہ دیں۔ جس پر کچھ لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس استعمال کی۔ ہجوم کے تتر بتر ہونے کے بعد آتش زنی کی کچھ کوششیں کی گئیں۔ لیکن پولیس اور فائر بریگیڈ کے بروقت پہنچ جانے سے آگ پر قابو پا لیا گیا۔
پولیس نے شہر میں گیارہ مذہبی اور سیاسی لیڈروں کو مسجد وزیرخان روانگی سے قبل پھر حراست میں لے لیا۔ جہاں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت فرقہ وارانہ نوعیت کا جلسہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کو اس خاطر حراست میں لیا گیا کہ خدشہ تھا کہ ان کے جلسہ سے فرقہ وارانہ جذبات کو انگیخت پہنچے گی جو کہ اب پورے صوبہ میں مدھم پڑ گئے ہیں۔ یہ جلسہ خود بھی ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت حال ہی میں لگائی جانے والی پابندیوں کی خلاف ورزی کے مترادف تھا۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کو میکلوڈ روڈ پر حراست میں لینے کے بعد ایک مضافاتی سرکاری ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا اور چار گھنٹے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ ان میں سے ایک شخص کو مسجد میں نماز عصر کی امامت کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا، جہاں جلسہ منعقد ہونا تھا۔
ہمارے نامہ نگار کی خبر کے مطابق آج جن گیارہ افراد کو رہا کیا گیا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کاشمیری، نوابزادہ نصراللہ خاں، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالستار خاں نیازی، سید محمود احمد، چوہدری غلام جیلانی، ملک محمد قاسم، مظفر علی شمسی، مولانا عبدالقادر روپڑی اور مفتی محمد حسین۔ مسجد وزیرخان میں آج عصر کی نماز مولانا عبیداللہ انور نے پڑھائی تھی۔ ادھر خانیوال ضلع
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملتان میں لاقانونیت کی کارروائیاں کرنے کے الزام میں ۲۱ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ منڈی بہاؤ الدین ضلع گجرات میں بھی ایک چھوٹا سا جلوس نکالا گیا جو منتشر کر دیا گیا۔ لائل پور، جھنگ اور ساہیوال میں جزوی ہڑتال رہی۔
(امروز، مورخہ ۴/ جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب میں مساجد میں جلسہ کرنے کی ممانعت، اذان اور خطبہ جمعہ کے علاوہ لاؤڈ سپیکر پر پابندی ہے۔ ہر قسم کی مطبوعات کے متعلق تفصیلات مہیا نہ کرنے پر بلانوٹس کارروائی کی جائے گی۔ ہر کتاب، رسالے، پمفلٹ، اخبار کی طباعت سے قبل صوبائی حکومت پنجاب کو تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نشتر میڈیکل کالج یونین کے صدر ارباب عالم جو تعلیمی تفریحی ٹور پر سوات جانے والی جماعت کے سربراہ بھی تھے۔ انہوں نے بستر علالت سے نشتر ہسپتال ملتان سے پریس کانفرنس کی۔ ان کا فوٹو اخبار امروز ملتان میں شائع ہوا۔ بڑا ہی دردانگیز ہے۔ پنجاب اسمبلی سے اپوزیشن نے سانحہ ربوہ پر تحریک پیش نہ کرنے کی اجازت نہ دینے کے خلاف علامتی احتجاجی واک آؤٹ کیا۔
(امروز ملتان، مورخہ ۴/ جون ۱۹۷۴ء)
۴/ جون ۱۹۷۴ء کو مجلس عمل کے زیر اہتمام مسجد وزیر خان لاہور میں پانچ بجے شام جلسہ کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا اعلان آپ نے پڑھ لیا ہے۔ مسجد وزیر خان تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں تحریک کا مرکز و قلعہ سمجھی جاتی تھی۔ اس جلسہ کے اعلان ہوتے ہی اسے روکنے کے لئے حکومت نے ۳/ جون کی رات کو مساجد میں مسئلہ ختم نبوت کے اظہار پر پابندی عائد کر دی۔ ۴/ جون کی صبح کو ضلعی حکام اور چیف سیکرٹری سے علماء کے وفد کی ملاقات ہوئی۔ چیف سیکرٹری و ضلعی حکام جلسہ کو بند کرنا چاہتے تھے۔ جب کہ علماء کا مؤقف تھا کہ جلسہ ضرور ہونا چاہئے۔ مسئلہ کی عظمت کے علاوہ امن و امان بھی اس صورت میں برقرار رہ سکتا ہے کہ جلسہ پر پابندی عائد نہ کی جائے۔ ملاقات بغیر کسی تصفیہ کے ختم ہو گئی۔
جلسہ سے قبل ساڑھے تین بجے دن دفتر ’’چٹان‘‘ پر چھاپہ مار کر موجود علماء و زعماء اور تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دفتر ’’چٹان‘‘ سے گرفتار ہونے والوں میں مولانا محمد اجمل خان، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا محمود احمد رضوی، سید مظفر علی شمسی، علامہ عزیز انصاری، آغا شورش کاشمیری شامل تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا محمد حسین نعیمی، ملک محمد قاسم (مسلم لیگ)، چوہدری غلام جیلانی کو ان کی رہائش گاہوں سے پابند سلاسل کیا گیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی تحریک کے کارکنوں کا جلوس لے کر مسجد کے دروازے پر پہنچ گئے تو ان کو روک کر گرفتار کر لیا گیا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور مسجد میں پہنچ گئے اور عوام سے خطاب بھی فرمایا۔ بعد میں ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا خلیل احمد قادری کو ہیرا منڈی کے تھانہ میں رکھا گیا۔ لاہور کی فضا میں شدت و حدت دیکھ کر رات گئے ان تمام حضرات کو رہا کر دیا گیا۔
راولپنڈی کی میٹنگ اور حضرت مولانا تاج محمود اور ان کے رفقاء کی گرفتاری
مولانا تاج محمود کے انٹرویو کا ایک اقتباس ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ ص ۸۶ تا ص ۹۱ تک کا پیش خدمت ہے: جس روز ہم فیصل آباد میں جلسہ جلوس میں مصروف تھے، اسی دن آغا شورش کاشمیری، مولانا عبید اللہ انور، نوابزادہ نصر اللہ خان نے لاہور میں تمام مکاتب فکر کی میٹنگ کی اور اسی طرح کے فیصلے کئے جو ہم فیصل آباد میں کر چکے تھے۔ ملتان اور راولپنڈی میں تیسرے روز مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا غلام اللہ خان کو فون کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بلایا جائے۔ چنانچہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی طرف سے مولانا محمد شریف جالندھری نے لاہور، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور، کراچی، سرگودھا، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں کے علماء کرام کو ۳/ جون ۱۹۷۴ء کو میٹنگ کے لئے راولپنڈی پہنچنے کی دعوت دی۔
فیصل آباد سے میں (مولانا تاج محمود)، مولانا مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا محمد صدیق
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راولپنڈی کے لئے تیار ہوئے۔ مولانا محمد صدیق صاحب کار کے ذریعہ اور ہم لوگ ۲/ جون کی شام کو چناب ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئے۔ ٹیلی فون کے ذریعے تمام تر پروگرام کی اطلاع تھی۔ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے۔ گورنمنٹ منٹ منٹ کی کارروائی سے باخبر تھی۔ رات بارہ بجے کے قریب ٹرین لالہ موسیٰ پہنچی تو پولیس کا ایک دستہ اور مجسٹریٹ آدھمکے۔ ہمارے ڈبہ کے دروازے اور کھڑکیوں کو کھٹکھٹایا۔ ہم لوگ بیدار ہوئے۔ دروازہ کھولا، تعارف ہوا۔ ہمیں اپنا سامان باندھ کر نیچے اترنے کا حکم ملا۔ اسٹیشن سے پیادہ پا تھانہ لالہ موسیٰ لائے۔ سامان پولیس والوں نے اٹھایا۔ مولانا محمد اسحاق صاحب زمیندار ٹائپ انسان ہیں۔ ہر چند کوشش کی کہ یہ بچ جائیں مگر ان کا مولوی ہونا رکاوٹ بن گیا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ دھر لئے گئے۔ تھانہ سے ہمیں ایک بس میں بٹھا کر رات کوئی ایک بجے کے قریب جہلم کی طرف روانہ ہوگئے۔ آگے بڑی سڑک چھوڑ کر ایک چھوٹی سڑک پر رواں دواں صبح سحری کے وقت ہم ایک دیہاتی تھانہ میں پہنچا دیئے گئے۔ بھٹو مرحوم کا دور تھا۔ گرفتار ہونے والوں کے ساتھ عجیب وغریب سانحات پیش آ رہے تھے۔ ہزاروں وساوس کا شکار بے خبری کے عالم میں وہاں پہنچے۔ حیران تھے کہ شہر کے تھانہ سے دیہات کے بے آباد علاقہ کے تھانہ میں ہمیں کیوں لایا گیا؟
چار پائیاں دی گئیں۔ تھوڑی دیر لیٹے۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ ہم نماز کے عمل میں مشغول ہوئے۔ پولیس والوں کی ایک بارک میں انہوں نے ہماری چار پائیاں ڈال دیں۔ ایس. ایچ. او نے اپنی جیب سے دس روپے دیئے۔ ہمیں چائے پلائی گئی۔ ہم نے اپنے طور پر پیسے دینے کی کوشش کی مگر ایس. ایچ. او صاحب راضی نہ ہوئے۔ ادھر ادھر کی گفتگو ہوئی۔ ہمارا تعارف ہوا تو وہ کچھ مانوس ہوا۔ ہم نے پوچھا کہ ہم اس وقت کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ تھانہ ڈنگہ ہے، گجرات کا ضلع ہے۔ ہم نے پوچھا کہ ہمیں یہاں کیوں لایا گیا۔ انہوں نے خود لا علمی ظاہر کی۔ ہم لوگ لیٹ گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو ایس. ایچ. او نے بڑے اہتمام سے کھانا کھلایا۔ کھانا کھا کر پھر لیٹ گئے۔ نماز کے لئے اٹھے۔ ابھی نماز پڑھ کر فارغ نہ ہوئے تھے تو اطلاع ملی کہ جناب ذوالقرنین ڈپٹی کمشنر، محمد شریف چیمہ ایس. پی صاحب آپ کی ملاقات کے لئے تشریف لائے ہیں۔ نماز پڑھ کر ہم نے عمداً تھوڑی تاخیر کی آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ تھانہ میں لوٹے۔ آپس میں گپ شپ ہوئی۔ اتنے میں دیکھا کہ صحن میں میز کرسیاں لگائی جا رہی ہیں۔ تازہ پھل، مٹھائیاں، چائے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ ہم سمجھے کہ پولیس والے ایس. پی، ڈی. سی صاحب کی خاطر تواضع کے لئے اپنے عمل میں مصروف ہیں۔ ان کی آؤ بھگت کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمیں بلایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اور ایس. پی صاحب آپ حضرات کو بلاتے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دونوں بڑے تپاک سے ملے۔ ذوالقرنین مجھے ذاتی طور سے جانتے تھے۔ وہ فیصل آباد میں اے. ڈی. سی. جی رہ چکے تھے۔ گفتگو شروع ہوئی۔ دونوں کا روئے سخن میری طرف تھا۔ قبلہ مفتی صاحب وحکیم صاحب بڑی محتاط گفتگو کے دلدادہ ہیں۔ میں ایک دبنگ انسان ہوں۔ اب لگے وہ معافی مانگنے کہ خدا کے لئے آپ ہمیں معاف کر دیں، غلطی ہو گئی۔ ہم نے کہا کہ آپ ہم سے کیوں مذاق کرتے ہیں، آپ لوگوں نے ہمیں گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں جناب بس تھوڑی سی غلطی ہو گئی۔ چیف سیکرٹری صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ جا کر ان سے معافی مانگیں اور سرکاری گاڑی پر راولپنڈی پہنچائیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ نہیں، جہلم میں ہمارے دوست ہیں، آپ ہمیں وہاں پہنچا دیں۔ ہم کوئی مزید آپ سے مراعات نہیں چاہتے۔ ہم نے جہلم پہنچ کر فیصلہ کیا کہ اب راولپنڈی جانا فضول ہے۔ میٹنگ کا وقت گزر گیا ہے۔ جو فیصلے ہوں گے، اطلاع ہو جائے گی۔ اب ہمیں فیصل آباد جانا چاہئے۔ حضرت مفتی صاحب کے ایک تعلق والے کے ہاں ہم جہلم میں ٹھہرے تھے کہ جہلم کی ضلعی انتظامیہ کا اعلیٰ آفیسر آیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فون کیا تو چیف سیکرٹری صاحب لگے معذرت کرنے اور کہا کہ ہم نے آپ چاروں حضرات کے گھروں میں پیغام دے دیا ہے کہ آپ خیریت سے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سارے ڈرامے کا بعد میں پس منظر معلوم ہوا کہ ریلوے کے وفاقی منسٹر خورشید حسن پر تنقید کرتے ہوئے میں نے اسے مرزائی نوازی تک کا طعنہ دے دیا یا مرزائی لکھ دیا۔ اس پر وہ بہت جزبز ہوئے۔ اس نے مجھے ایک خط لکھا کہ میرے حلقوں میں بعض لوگ مجھے مرزائی کہہ رہے ہیں۔ اب آپ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے، جس کا آپ شکار ہوگئے۔ آپ اس کی تردید شائع کریں۔ میں نے جواب میں تحریر کیا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کرنے کے باعث کافر، دجال و کذاب لکھ دیں، میں آپ کی یہ تردید شائع کردوں گا اور جو کچھ پہلے ”لولاک“ میں لکھا ہے، اس کی بھی معذرت چھاپ دوں گا۔ لیکن ان کا جواب آج تک نہ آیا، نہ میں نے تردید کی۔ انہوں نے دل میں ناراضگی رکھ لی۔ کچھ عرصہ بعد ریلوے نے راولپنڈی اور فیصل آباد کے درمیان نئی ٹرین فیصل آباد ایکسپریس چلائی۔ ریلوے کے مقامی حکام نے مشہور سماجی رہنما مولانا فقیر محمد کی معرفت اس کا افتتاح کرنے کی استدعا کی، میں نے افتتاح کیا۔ فیتہ کاٹا، اخبارات میں خبر اور فوٹو شائع ہونے پر خورشید حسن میر خبریں اور فوٹو دیکھ کر آگ بگولا ہو گیا تو مقامی حکام کی شامت آگئی کہ میں ریلوے منسٹر ہوں، میری پیشگی اجازت کے بغیر مولانا تاج محمود صاحب سے افتتاح آپ نے کیوں کرایا۔
جب ہم راولپنڈی جانے کے لئے تیار ہوئے تو ایک دن پہلے میری سرکٹ ہاؤس فیصل آباد میں کمشنر سرگودھا ڈویژن کاظمی صاحب اور ڈی۔آئی۔جی میاں عبد القیوم سے مرزائیت کے عنوان پر ملاقات ہوئی۔ مرزائیت کے کفر و ارتداد ملک دشمنی کے حوالے ان کو سنائے تو وہ بہت حیران اور متأثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے کاش! آپ وزیر اعظم بھٹو صاحب سے ایک ملاقات کریں اور یہ تمام چیزیں ان کے علم میں لائیں اس لئے کہ اعلیٰ طبقہ مرزائیوں کے ان عقائد و عزائم سے بے خبر ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کل میں راولپنڈی جا رہا ہوں، میری پوری کوشش ہوگی کہ میں وزیر اعظم سے ملوں۔ ایک تو اس طرح، دوسرا یہ کہ ہمارے فون ٹیپ ہو رہے تھے۔ تیسرے یہ کہ ہماری روانگی کی اطلاع مقامی سی آئی ڈی نے اعلیٰ حکام تک پہنچا دی۔ کسی طرح خورشید حسن میر کو بھی ہماری راولپنڈی آمد کی اطلاع ہوگئی۔ ان دنوں پنڈی کے کمشنر مسعود مفتی تھے جو پہلے فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے۔ میرے ان سے دوستانہ مراسم تھے لیکن خورشید حسن میر کے دباؤ میں آکر انہوں نے ہدایت کی کہ جونہی ہم راولپنڈی ڈویژن کی حدود میں داخل ہوں، لالہ موسیٰ سے ہمیں گرفتار کر لیا جائے۔ چنانچہ ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ ٹرین راولپنڈی پہنچی تو مولانا غلام اللہ خان کے آدمی ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہ خالی واپس لوٹے تو مولانا نے میرے گھر فون کیا۔ اطلاع ملی کہ وہ تو راولپنڈی کے لئے چناب ایکسپریس سے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہنچے نہیں، اب فیصل آباد اور راولپنڈی دونوں جگہ تشویش ہوئی کہ ہوا کیا۔ مولانا غلام اللہ خان معاملہ سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گرفتار ہو گئے۔ یہ خبر فیصل آباد کے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ فیصل آباد کی مقامی مجلس عمل کے رفقاء نے شہر میں ہڑتال اور جلسہ عام اگلے دن کرنے کا پروگرام بنالیا۔ ڈی سی صاحب سے میرے رفقاء نے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ ڈی۔سی صاحب نے کمشنر و ڈی۔آئی۔جی سے پوچھا جو ابھی فیصل آباد سرکٹ ہاؤس میں مقیم تھے، سرگودھا نہ گئے تھے۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سے پوچھا، انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ کمشنر صاحب اور ڈی۔آئی۔جی نے کہا کہ مولانا تاج محمود تو وزیر اعظم سے ملنے جا رہے تھے۔ چیف سیکرٹری پریشان ہوا کہ اتنے بڑے آدمیوں کو پنجاب گورنمنٹ کی اطلاع و منظوری کے بغیر کیسے گرفتار کیا گیا۔ راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر صاحب سے چیف سیکرٹری نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ ڈی سی اور ایس۔پی گجرات نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہماری رہائی کے آرڈر کئے۔
ہم لوگوں نے فون کر کے گھر اطلاع دی کہ ہم چناب ایکسپریس کے ذریعے کل واپس آ رہے ہیں۔ ہماری آمد کی اطلاع سن کر دوسرے روز پورا شہر اسٹیشن پر امڈ آیا۔ پورے ملک میں تحریک کا زور تھا۔ ہر جگہ ہڑتالیں، جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع تھا۔ راولپنڈی ہم نہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاسکے چونکہ وقت تھوڑا تھا۔ باقی حضرات بھی بہت کم تعداد میں پہنچے۔ اس لئے اس راولپنڈی کی میٹنگ میں مولانا سید محمد یوسف بنوری نے فیصلہ کیا کہ ۹؍جون ۱۹۷۴ء کو لاہور میں اجلاس رکھا جائے۔ اب اس کی تیاری کے لئے صرف ۶ دن باقی تھے۔ اطلاعات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ۹؍جون ۱۹۷۴ء کو لاہور میں میٹنگ ہوئی۔‘‘
راولپنڈی میں گرفتاریاں
ملتان سے نشتر میڈیکل کالج، ایمرسن کالج اور گورنمنٹ کالج کے پانچ طالب علم رہنماؤں احسان باری، ملک خان، نصیر الدین ہمایوں، ابراہیم صدیقی اور مہدی حسن کو گرفتار کر لیا گیا۔ راولپنڈی سے گارڈن کالج کے شیخ رشید، ناظم الدین، ملک محمد، فیاض ملک اور بعض طالب علموں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ضلع ساہیوال میں ۳۸ طالب علم رہنماء گرفتار ہو چکے ہیں۔
(چٹان مؤرخہ ۱۰؍جون ۱۹۷۴ء)
۵؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
گوجرہ میں بائیس افراد کو گرفتار کر کے ٹوبہ ٹیک سنگھ جیل بھیج دیا گیا۔ بہاول پور میں دفعہ ۱۴۴ دو ماہ کے لئے نافذ کر دیا گیا۔ ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جہاں پر ختم نبوت کا جلسہ جلوس ہوتا، وہاں کی انتظامیہ اور رائے صاحب پنجے جھاڑ کر پڑ جاتے۔ پہلے بورے والا میں اے سی، ڈی ایس پی کو سبکدوش کیا گیا تھا، ان کا قصور یہ ہے کہ ختم نبوت کے جلسہ وجلوس پر تم نے گولیاں کیوں نہیں چلائیں؟ آج کے روز ملتان سے سانحہ میں زخمی ہونے والے طلباء کا وفد تحقیقاتی کمیشن میں بیان دینے کے لئے ملتان سے روانہ ہوا۔ آج صمدانی کمیشن نے تحقیقات شروع کر دیں۔
۶؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
شاہ پور: مؤرخہ ۵؍جون۔ خوشاب میں کل دوپہر احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ جلوس کے شرکاء مطالبہ کر رہے تھے کہ موجودہ ہنگاموں میں گرفتار طلباء اور شہریوں کو رہا کیا جائے۔ ایک جلوس کی قیادت شریف خاں اور دوسرے جلوس کی قیادت سائیں عبدالرحمٰن کر رہے تھے۔ جلوس جس کی قیادت شریف خان کر رہے تھے، بس اسٹینڈ سے نکالا گیا جو مختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا اسسٹنٹ کمشنر چوہدری ریاض احمد کے دفتر پہنچا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے لیکن لا قانونیت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا آپ کے یہ تمام مطالبات حکومت تک پہنچا دیئے جائیں گے اور موجودہ ہنگاموں میں مقامی گرفتار شدہ افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ بعد ازاں پولیس نے ایک جلوس پر لاٹھی چارج کیا، جس سے ایک اخبار نویس محمد انور زخمی ہو گئے، جنہیں سول ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر واقعہ کے خلاف آج خوشاب اور جوہرآباد میں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری ادارے، ہوٹل اور دوکانیں بند رہے۔
پنجاب اسمبلی میں مولانا عبیداللہ انور کے بارے میں رائے کی غلط بیانی
لاہور: مؤرخہ ۵؍جون (چیف رپورٹر) صوبائی اسمبلی میں آج اپوزیشن کی طرف سے سیاسی رہنماؤں اور علمائے دین کی گزشتہ روز گرفتاریوں اور مسجد وزیر خان میں نماز عصر کی ادائیگی سے روکنے پر التوائے کار کی پانچ تحریکیں پیش کی گئیں جنہیں سپیکر نے مسترد کر دیا۔ جس پر اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کیا۔ یہ تحریکیں علامہ رحمت اللہ ارشد، میاں خورشید انور، حاجی سیف اللہ، سید تابش الوری، مسٹر امان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ لک اور مسٹر مصطفیٰ ظفر قریشی کی طرف سے پیش کی گئی تھیں۔ ان تحریکوں میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے مسجد وزیر خان میں جلسہ روکنے کے لئے ممتاز علماء دین اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ اس اخباری اطلاع کے باوجود کہ حکومت مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے سوال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، حکومت کا یہ اقدام بہت تشویش ناک ہے۔ حکومت نے علماء کو نماز ادا کرنے سے بھی روکا، جو دین میں مداخلت کے مترادف ہے۔ نمازیوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس چھوڑی گئی۔ مسجد میں لاؤڈ سپیکر کے تار کاٹ دیئے گئے۔
وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے تحریکوں کے جواب میں حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شہر میں امن وامان قائم کرنے کے لئے یہ واضح اعلان کر دیا تھا کہ جلسہ قانون کے مطابق نہیں ہو سکے گا اور ایسا کرنا قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔ رات کے وقت علماء کرام اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کو ایک نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں بھی اس امر کی وضاحت کر دی گئی تھی۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ پر مناسب تشہیر بھی کر دی گئی ہے۔ جب جلسہ کا اعلان ہوا تو جلسہ کو روکنے کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔ لیکن بعد میں جب قانون عمل میں آ گیا تو اس سے تمام حضرات کو باقاعدہ مطلع کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اور پھر چیف سیکرٹری نے بھی ان سے بات کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لاہور پنجاب کا مرکز حساس ہے۔ یہ شہر پر امن رہا ہے اور علماء کو احساس دلایا گیا کہ فضاء کو خراب نہ کیا جائے۔ لیکن حکومت کو جب احساس ہوا کہ وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں تو مجبوراً ان حضرات کو کچھ وقت کے لئے حکومت نے اپنا مہمان بنا لیا تاکہ وہ اس متوقع وقوعہ سے باز رہیں۔ ان حضرات کو راوی کے کنارے ایک ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا۔ وہاں چائے اور کھانے سے ان کی تواضع کی گئی اور رات کو آٹھ بجے ان کو عزت و احترام کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ مسلمانوں کو اسلام کے امن و سلامتی کے اصول کی پیروی پر آمادہ کیا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ ایک عالم دین نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ ایک چار پائی پر لیٹ کر، جسے چار آدمیوں نے اٹھا رکھا تھا، مسجد وزیر خان کے پاس پہنچے۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ ایک مریض ہے۔ ان کو چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ مسجد کے پاس پہنچ کر انہوں نے جون بدل لی اور مولانا عبید اللہ انور چار پائی سے اتر آئے اور کہا کہ میں اب ٹھیک ہوں، نماز پڑھوں گا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ میں صرف نماز پڑھوں گا۔ نہ تقریر کروں گا اور نہ سنوں گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ نماز عصر ادا کی اور باہر آ گئے۔ نماز کے بعد ہجوم سے کوئی تعرض نہ کیا گیا۔ لیکن نمازیوں نے جلوس کی صورت اختیار کر لی اور اس جلوس نے اینٹوں، روڑوں سے پولیس کی خوب تواضع کی۔ چنانچہ مجبور ہو کر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور پانچ منٹ میں یہ دوست وہاں سے تشریف لے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ انتہائی وضاحت کے باوجود کہ ایسا کرنا خلاف قانون ہوگا، ہم نے ان حضرات کو گرفتار نہیں کیا بلکہ انتہائی محبت اور شرافت کے ساتھ قانون کی خلاف ورزی سے روک دیا۔
حاجی سیف اللہ: وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد صورتحال اور بھی سنگین ہو گئی ہے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ علماء کو مسجد میں جانے سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ نوبت یہ آ گئی کہ ایک عالم دین کو چارپائی پر مریض بن کر مسجد میں آنا پڑا۔
سپیکر: کیا وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تھے؟
حاجی سیف اللہ: نہیں، ایسا تو ہوا ہی نہیں ہے۔
رامے: انہوں نے چیف سیکرٹری کو بتا دیا تھا کہ وہ مسجد میں جائیں گے۔ آخر ارادہ اور کیا ہوتا ہے۔
اپوزیشن کے ارکان: ان لوگوں نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہیں پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سید تابش الوری: لاہور میں آگ خود نہیں لگی، لگائی گئی ہے۔ آزادی اظہار نہ ہوگی تو پھر یہی ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ چونکہ خلاف ورزی کا ارادہ تھا اور جلوس نکالنے کی کوشش کی گئی تھی اور وزیراعلیٰ نے بتایا ہے کہ نماز کے لئے نہیں روکا گیا تھا۔ اس لئے یہ تحریکیں مسترد کی جاتی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر میاں خورشید انور نے اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جو حالت پیدا ہوگئی ہے، حکومت اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ حکومت درحقیقت حالات کو بگاڑ کر مارشل لاء کے لئے راستہ ہموار کر رہی ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو مرزائیوں کا مسئلہ حل ہوگیا ہوتا۔ ایک اخبار کے مطابق حکومت مرزائیوں کو اقلیت قرار دے رہی ہے۔ اگر یہ فیصلہ جلد کر دیا جائے تو پھر کسی قسم کے تشدد کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن علامتی واک آؤٹ کر رہی ہے۔ طالب علم رہنما جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بارے میں سید تابش الوری، مرزا فضل حق اور حاجی سیف اللہ کی التواء کی تحریکوں پر سپیکر نے آج غور کیا۔ یہ تحریکیں آج پر ملتوی کی گئی تھیں۔ انہیں پھر کل ملتوی کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب حنیف رامے نے حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ۳۰؍مئی کو شام سات بجے نیوکیمپس میں مرزائی طلباء کو زدوکوب کیا گیا اور کمروں سے نکال دیا گیا۔ ہاسٹل نمبر ۷ میں طلباء کا اجلاس ہوا جس میں جاوید ہاشمی نے تقریر کرتے ہوئے یہ تجویز کیا کہ جو کچھ ہوا ہے، وہ کافی نہیں ہے۔ قوم آگے بڑھے۔ چنانچہ ان طلباء کا سامان کمروں سے نکال کر جلا دیا گیا، جس پر جاوید ہاشمی کو زیر دفعہ ۴۳۶، ۱۴۸ اور ۱۴۹ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ اب کیمپ جیل میں ہیں۔
سپیکر: یہ مقدمہ عدالت میں ہے۔
سیف اللہ، تابش: جی نہیں۔
سید تابش الوری نے کہا کہ جب دوسرے طالب علم گرفتار نہیں ہوتے تو جاوید ہاشمی اکیلے کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت میں خرابی ہے۔ سپیکر نے جب وزیراعلیٰ سے وضاحت کے لئے کہا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ لیکن سپیکر نے کہا کہ آئین کی رو سے کسی گرفتار شخص کو ۲۴ گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بارے میں معلوم کر کے بتاؤں گا۔ چنانچہ یہ تحریک کل پر ملتوی کر دی گئی۔‘‘
(نوائے وقت، مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۷۴ء)
لاہور میں تجارتی مراکز بند
صوبائی دارالحکومت میں آج کئی تجارتی مراکز بند رہے۔ گزشتہ روز تجارتی مراکز کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں دوکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آج شہر کے اہم تجارتی مراکز، جن میں انارکلی، سوہا بازار، شاہ عالم مارکیٹ، ہال روڈ، کشمیری بازار، اعظم مارکیٹ، ڈبی بازار، دہلی دروازہ، صرافہ بازار، اکبری منڈی، چوک رنگ محل کی دوکانیں مکمل طور پر بند رہیں۔
اسلام آباد ”نوائے وقت“ نے خبر شائع کی کہ: ”انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت مرزائیوں کو اقلیتی فرقہ قرار دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس بارے میں جلد ہی کسی اعلان کی توقع ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حکومت قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو غور و خوض کے لئے اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کرے گی یا اس بارے میں کوئی قانون نافذ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم بھٹو گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قطعی طور پر یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ حکومت ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھتی ہے کیونکہ یہ مسئلہ آئینی طور پر طے شدہ ہے۔“ حضرو میں پولیس نے جلوسوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی۔ دونوں شہروں میں کئی افراد گرفتار کئے گئے۔ سرگودھا میں جلوس نکالا گیا۔ بعض جگہ تصادم و آتش زنی کی اطلاع ملی ہے۔ پنجاب کے اکثر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
و بیشتر شہروں میں مکمل ہڑتال رہی۔ شجاع آباد میں ہڑتال ، اس کے قریبی شہر چک میں نامعلوم افراد نے تین دوکانوں کو نذر آتش کر دیا۔
(امروز ملتان، مؤرخہ ۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
قومی اسمبلی میں سپیکر نے سانحہ ربوہ سے متعلق پانچ تحریکوں کو خلاف ضابطہ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس کی رولنگ کے خلاف اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے علامتی واک آؤٹ کیا۔
بہاول پور میں سات طالب علم رہنما گرفتار
بہاول پور : مؤرخہ ۶؍ جون ۔ مقامی پولیس نے سات افراد کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۸۸ کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ پچیس افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۴۸، ۱۴۹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، جس میں سے گیارہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کو گزشتہ روز ڈیوٹی مجسٹریٹ زوار حسین کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ ان کا ۱۸؍ جون تک ریمانڈ لے لیا گیا ہے۔
مداخلت بے جا کے الزام میں گرفتار ہونے والوں میں محمد صفدر ، منور بلوچ ، انیس الرحمن ، محمد یونس عرف یوسی شاہ ، محمد شفیق ، واجد عزیز اور ساجد عزیز یہ دونوں ایک مقامی اے ۔ ڈی ۔ آئی ایجوکیشن عبدالعزیز کے صاحبزادے ہیں۔ محمد سلیم پٹھان ، ظہور احمد پٹھان ، غلام مصطفیٰ اور غلام مرتضیٰ شامل ہیں۔ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والوں میں ارشاد ، طارق ، ذکاء اللہ ، سید عارف جمیل ، عاشق (یہ تمام طالب علم ہیں) ، محمد امتیاز کلاتھ مرچنٹ اور خلیل احمد شامل ہیں۔
مسٹر بھٹو کے تدبر کی آزمائش...... نوائے وقت کا اداریہ
”وزیر اعظم بھٹو نے قومی اسمبلی میں واقعہ ربوہ پر بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ قادیانی مسئلہ اس حکومت کا پیدا کردہ نہیں ، یہ قیام پاکستان سے بھی پہلے موجود تھا۔ جہاں تک اس حکومت کا تعلق ہے ، اس نے آئین کے ذریعے صدر اور وزیر اعظم کے حلف ناموں سے ختم نبوت پر قوم کا اعتقاد واضح کر دیا ہے۔ لیکن درپیش مسائل کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں امن وامان برقرار رکھا جائے ۔ جذبات مشتعل ہونے سے پاکستان کمزور ہو جائے گا۔ موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا حل سنجیدگی کے ساتھ سوچا جانا چاہئے ۔
۲۹؍ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جو کچھ ہوا ، اس کا حکومت نے سخت سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا ہے۔ اس سے پہلے بھی وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے قومی اتحاد و یکجہتی کی خاطر ضبط و تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے ملزموں کو اپنے کیفر کردار تک پہنچانے کا یقین دلا چکے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس صمدانی نے اس المناک حادثہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو بھی حادثہ ربوہ کے ضمن میں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت محسوس کرتی ہے کہ کوئی شخص بھی قانون سے بالا نہیں۔ وہ مقام آ گیا ہے جب حکام نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ مرزا صاحب کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا جانا چاہئے ۔ حکومت ابھی تک زیادہ تر اس واقعہ کے ردعمل سے ہی نمٹ رہی تھی۔ امید ہے اب وہ اس واقعہ اور اس کے محرکات سے بھی سختی کے ساتھ عہدہ برآ ہوگی۔ اس واقعہ کا جو بھی ردعمل ہوا ، وہ قدرتی تھا۔ لیکن ملک و ملت کو درپیش اندرونی انتشار و خلفشار اور بیرونی خطرات کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنے جذبات پر قابو رکھیں ۔ قادیانی اقلیت ہیں یا الگ فرقہ ہیں ، ان کی جو بھی حیثیت ہے ، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ ان کے جان و مال کی حفاظت بہر حال سواد اعظم کی ذمہ داری اور حکومت کا فرض ہے۔ پھر جو جرم ربوہ والوں سے سرزد ہوا ہے ، اس کا بدلہ دوسرے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شہروں اور قصبوں میں رہنے والے لوگوں سے لینا کس شریعت میں جائز ہے۔ ہم بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تشدد اور لاقانونیت کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ نہ رکیں اور عیار دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں کامیاب ہو جائیں۔
پاکستان اس وقت جس قسم کے حالات سے دوچار ہے، ان کے پیش نظر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اگر صورتحال قابو میں نہ رہی تو اس کا لازمی نتیجہ جزوی فوجی کنٹرول یا مکمل مارشل لاء کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ ملک وملت اس وقت ان میں سے کسی کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ جمہوریت خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو، آمریت اور فوجی کنٹرول سے بہر حال بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں اصلاح احوال اور جمہوری نشو و ارتقاء کا امکان بہر حال باقی رہتا ہے۔ پاکستان میں جیسی بھی بری بھلی جمہوریت ہے، اگر خدانخواستہ وہ بھی نہ رہی تو پھر پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سازشیں زیادہ شدت کے ساتھ بروئے عمل آسکتی اور بہت جلد کامیاب ہو سکتی ہیں۔ جس کے نتائج بہرحال ملک وملت کے حق میں اچھے نہیں ہوں گے۔ پاکستان اب کسی بھی نوعیت کے فوجی راج کو برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ عمل نقصان دہ ثابت ہو گا۔ پھر ہمیں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ایک سپر طاقت کے ایجنٹ کچھ عرصہ سے پاکستان میں کچھ زیادہ ہی مصروف ہیں۔ سندھ، بلوچستان، سرحد وغیرہ میں انہی ایجنٹوں نے علاقائی قومیتوں کی تحریکیں چلانے اور صوبائی تعصبات ابھارنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان میں قادیانیوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں اور یہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ملک وملت اس مسئلہ کی تباہ کاریوں سے ایک مرتبہ پہلے بھی دوچار ہو چکی ہے۔ حکومت کو اب اس مسئلہ کا کوئی دیر پا اور مستقل حل سوچنا چاہئے اور قوم کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ حکمران پیپلز پارٹی نے ختم نبوت کو آئین کے ذریعے حلف میں شامل کر کے بعض ایجی ٹیٹر علماء کرام سے یقیناً بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسٹر بھٹو کو اس کا اجر دے گا۔ اب انہیں قادیانی مسئلہ کا کوئی مستقل اور دیر پا، مذہبی و سیاسی حل بھی پیش کرنا چاہئے۔ قادیانی حضرات اگر خود ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں، وہ مسلمانوں کو اپنے میں سے نہیں سمجھتے۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہیں کرتے۔ ان کی نماز اور جنازے میں شرکت نہیں کرتے۔ ان کی دعا میں ان کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر شامل ہونا پسند نہیں کرتے تو پھر ایسے طرز عمل کے بعد انہیں بطور مسلمان وہ تمام مراعات حاصل کرنے کا حق نہیں ہونا چاہئے جو انہیں دفاعی اور سول ملازمتوں میں میسر ہیں یا بینکنگ، صنعت و تجارت اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں حاصل ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں اقلیت قرار دینے کا مطالبہ غیر منطقی یا غیر ضروری یا جذباتی نہیں۔ پھر انہیں اسمبلیوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی دینے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
قادیانی جماعت نے دور حاضر میں سب سے پڑھا لکھا، قابل، روشن خیال، علوم جدید کا ماہر، قابل فخر فرزند، چوہدری سر محمد ظفر اللہ پیدا کیا ہے۔ لیکن چوہدری صاحب نے بھی ۱۹۵۳ء کی اینٹی قادیانی تحریک سے پانچ برس پیشتر اس مرحوم و مغفور کی نماز جنازہ میں شرکت کی بجائے غیر مسلم سفیروں کے ساتھ زمین پر بیٹھنا پسند کیا تھا۔ جس نے چوہدری صاحب کو سواد اعظم کے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ نامزد کر دیا تھا اور قوم جسے بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے، عقیدہ کے لحاظ سے اس سے بڑھ کر کسی کی پختہ زناری کیا ہو سکتی ہے؟
پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کو سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے۔ قادیانی حضرات اگر خود کو سواد اعظم سے الگ سمجھتے ہیں۔ ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا مرکز قادیان ہے جو بھارت میں واقع ہے، یہ تصور ان کا جزو ایمان ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور واپس قادیان جائیں گے۔ اب قادیان جانے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مشرقی پنجاب کو بزور بازو فتح کر کے قادیان پہنچا جائے، یہ ناممکن ہے۔ ویسے بھی قادیانی حضرات جہاد پر یقین نہیں رکھتے اور ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ لڑ کر مشرقی پنجاب فتح کریں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گے ۔ دوسرا طریقہ اکھنڈ بھارت کے ذریعے ہے یعنی مغربی پاکستان بھی خدانخواستہ بھارت کا حصہ بن جائے یا پنجاب اور باقی صوبوں میں تقسیم ہو جائے جنہیں بھارت کی زیر سرپرستی بنگلہ دیش یا نیپال کا درجہ حاصل ہو جائے۔ ہمارے خیال میں یہ صورت کسی بھی باغیرت پاکستانی کو پسند نہیں ہو گی۔
گزشتہ انتخابات میں قادیانی فرقہ نے پیپلز پارٹی کی ”دامے درمے قدمے سخنے“ مدد کی تھی۔ اسے بدقسمتی کہہ لیجئے یا خوش قسمتی یا کچھ اور نام دے لیجئے۔ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکی اور یہ فرقہ اس سے شاکی ہو گیا۔ ظفر چوہدری کی علیحدگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کوئی عجب نہیں کہ یہ منظم فرقہ اب بھٹو صاحب اور ان کی پارٹی سے انتقام لینے پر تل گیا ہو۔ حکمران جماعت اس مسئلہ سے کس طرح عہدہ برآ ہوتی ہے، یہ مسٹر بھٹو کے تدبر کی آزمائش ہے جہاں تک قادیانی حضرات کا تعلق ہے، یہ بڑی عجیب بات ہے کہ تادمِ تحریر اس فرقہ کے کسی بزرگ کی طرف سے حادثہ ربوہ کے بارے میں کسی معذرت، وضاحت یا تردید کا اعلان نہیں ہوا۔ انہوں نے رسمی اظہار افسوس کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔
ان مسائل سے بہر کیف اربابِ اقتدار و حکومت کو عہدہ برآ ہونا ہے اور ہمیں دیکھنا اور انتظار کرنا چاہئے کہ وہ صوبے میں پیدا شدہ نازک صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے پھر عرض کریں گے کہ وہ تحمل، برداشت اور نظم وضبط سے کام لیں۔ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ قادیانی اگر اقلیت میں ہیں تو ان کے جان و مال کی حفاظت بھی عامتہ الناس کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں مشتعل نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے پرامن احتجاج پر تشدد و لاقانونیت کے منحوس سائے پڑنے لگیں اور ہمارے نشیمن کو برباد کرنے کی مکروہ سازشیں کامیاب ہو جائیں۔“
(اداریہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
مستحسن مگر ......! نوائے وقت کا شذرہ
منگل کے روز تیسرے پہر مسجد وزیر خان سے جن سیاسی و دینی رہنماؤں کو جلسہ منعقد کرنے سے باز رکھنے کے لئے پولیس نے گرفتار کیا تھا، انہیں حکومت نے اسی شام چار گھنٹے بعد رہا کر دیا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان سے کسی قسم کا ناروا سلوک نہیں ہونے دیا۔ انہیں مہذب طریقے سے حراست میں لے کر مہذب انداز میں دریائے راوی کے کنارے ایک ریسٹ ہاؤس میں خاطر تواضع کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے اور اس کی تعریف ہونی چاہئے۔ اگر حنیف رامے صاحب نے ایک مہذب روایت کا آغاز کیا ہے تو انہیں اس نوجوان کی رہائی کا بھی حکم جاری کر دینا چاہئے جس کا نام جاوید ہاشمی ہے۔ اس کا کسی ایجی ٹیشن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان دنوں تو یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ اسے حراست میں رکھنا کہاں تک درست ہے اور پھر یہ نوجوان متذکرہ بالا دینی و سیاسی شخصیتوں سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتا۔“
(نوائے وقت مؤرخہ ۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
وزیراعظم کا مشورہ ...... روزنامہ ”جنگ“ کا اداریہ
”ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والا واقعہ ہر محبِ وطن کے لئے تشویش اور افسوس کا باعث ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ باعث تشویش اس واقعہ پر ردعمل کا وہ سلسلہ ہے، جو ملکی ترقی میں بھی رخنہ ڈال سکتا ہے اور بیرون ملک پاکستان کی مزید ذلت و رسوائی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان جب داخلی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہے، نہ تو ان کی تعداد کم ہے اور نہ اس دوران ان کی سنگینی میں کوئی کمی آئی ہے۔ اس صورتحال کی موجودگی میں ربوہ کے واقعہ پر جذبات کو قابو میں رکھنا از حد ضروری ہے۔ اسی بناء پر وزیراعظم مسٹر بھٹو نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی اسمبلی میں حزب اختلاف اور تمام محبان وطن کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کراتے ہوئے حالات پر مہذب شہریوں کی طرح پورے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور جذبات سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
جہاں تک واقعہ ربوہ اور اس کے بعد پیش آنے والے دیگر واقعات کی سنگینی کا تعلق ہے، کوئی فرد اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد غور طلب بات یہ ہے کہ اس پر ایک مہذب و غیور اور صد ہا مشکلات میں گھری ہوئی قوم کی حیثیت سے ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہئے کہ ہمارے پریشان حال ملک کو بھی نقصان نہ پہنچے اور صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا بھی مل جائے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنا چاہئے اور ان بیرونی خطرات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ، جن میں ہمارا ملک چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے حزب اختلاف سے یہ بات بڑی دل سوزی کے ساتھ کہی ہے کہ اس وقت جب کہ آپ تحریک التواء کو بحث کے لئے قبول کرنے یا نہ کرنے کی بابت فیصلہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، پوری دنیا کے لوگ آپ کے بارے میں ایک فیصلہ دے چکے ہیں۔ دنیا کے لوگ اس پر حیرت کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں کیا گڑبڑ ہو گئی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ پاکستان میں سماجی ڈھانچے کو کس طرح دوبارہ استوار کیا جائے ؟ ترقی و خوشحالی کی منزلوں سے محرومی کس طرح دور کی جائے؟ اور ان مقاصد کے لئے جمہوریت اور قانون کی عملداری کی ضروری نشوونما کو خطرات سے کس طرح بچایا جائے؟ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وزیر اعظم نے ربوہ کے واقعہ پر قوم کی توجہ جس مثبت اور پرامن رویہ کی ضرورت کی طرف مبذول کرائی ہے، وہ داخلی امن وسکون کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
مسٹر بھٹو نے کھلے دل کے ساتھ موجودہ صورتحال کو ایک قومی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ان کے اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ اسے قومی مسئلہ تسلیم کرتے ہیں تو اس کا حل بھی قوم کے سامنے پیش کریں۔ تحقیقات کے مکمل ہونے تک قوم کو مہذب اور جمہوری طریقہ کار پر یقین کی سخت آزمائش در پیش ہے۔ اگر خدانخواستہ اس دوران لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لئے رکھا تو ایک طرف تو عدالتی تحقیقات کا مقصد فوت ہو جائے گا اور دوسری طرف پاکستانی قوم کو یہ طعنہ بھی سننا پڑے گا کہ وہ ملک کے لئے خطرناک معاملات میں بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرپائی۔
یوں تو اس موقع پر پوری قوم کو بڑی ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن عام لوگوں کے مقابلے میں ہمارے سیاست دانوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ جیسا کہ وزیر اعظم بھٹو نے حزب اختلاف کی پارٹیوں سے کہا ہے، انہیں پوری صورتحال پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔ جہاں تک مسئلہ کے مذہبی پہلوؤں کا تعلق ہے۔ ان کے بارے میں اختلافات موجودہ حکومت کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ یہ اختلافات تقسیم سے پہلے سے موجود ہیں۔ ان پر طویل بحث ومباحثہ بھی ہوتا رہا ہے اور ۱۹۵۳ء میں ان کی وجہ سے ایک خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوچکی ہے۔ لیکن اس سب کا حاصل یہ ہے کہ اختلافات میں مزید شدت پیدا ہوئی۔ یہ سب کچھ خواہ کسی طرح بھی ہوا ہو لیکن اس سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان حالات کی سزا بھی حکومت کو نہیں ملنی چاہئے۔ حب الوطنی اور سوجھ بوجھ کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت کے واضح مؤقف کو سمجھا جائے اور اس مخصوص مسئلہ کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے سے اجتناب برتا جائے۔ موجودہ حکومت آنحضرت (ﷺ) کے ختمی مرتبت ہونے پر پورا یقین رکھتی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس سے قبل کسی اور حکومت نے ملک کے سب سے بڑے عہدیداروں کے حلف میں حضور (ﷺ) کو خاتم النبیین تسلیم کرنے کا عہد شامل نہیں کیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ربوہ کے واقعہ کے سلسلے میں جو مؤقف اختیار کیا ہے، وہ ملک کے وسیع تر مفادات اور بیرون ملک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کے وقار کی حفاظت کے پیش نظر بالکل درست ہے۔ قوم کو ترقی کی دشوار منزلیں حاصل کرنے کے لئے بہر حال نظم وضبط اور قانون کے احترام کی شدید ضرورت ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ وہ کوشش کر کے نظم وضبط اور قانون کے احترام کی روایت قائم کریں گے یا ایسے حالات پیدا کریں گے جو ہر حکومت کے لئے وبال جان بن جائیں۔‘‘
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۷۴ء)
۷؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
’’مرزا ناصر نے قبل از گرفتاری ضمانت کے لئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ سرکاری وکیل کی وضاحت کے بعد درخواست غیر مؤثر قرار دے دی گئی۔ آج کے اخبارات میں کئی لوگوں کی طرف سے بیانات واشتہارات شائع ہوئے کہ ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ ملتان کی بندش کر دی گئی۔ ’’جسارت‘‘ کراچی کی اشاعت روک دی گئی۔ ایک سرکاری اعلان کے مطابق تمام بڑے شہروں اور گنجان آباد قصبوں میں دن پوری طرح امن سے گزرا۔ بازار اور دوکانوں پر خریداری معمول کے مطابق ہوتی رہی۔ تاہم بہت سے چھوٹے قصبوں میں دو روز قبل لاہور میں سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی عارضی نظر بندوں کے خلاف ہڑتال رہی۔ لاہور میں لاہوری گیٹ سے باہر ایک دینی مدرسے کے تقریباً ۱۲۵ نوجوانوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن انہیں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی اور پولیس انہیں ٹرکوں میں ڈال کر لے گئی۔ تاہم چند گھنٹے بعد ان تمام افراد کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ضلع رحیم یار خان میں ایک چھوٹے قصبے ظاہر پیر میں پولیس نے لوگوں کو جلوس نکالنے سے روکنے کی کوشش کی۔ جس پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا، جس سے پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔
(امروز ملتان، مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب اسمبلی
سپیکر نے آج سید تابش الوری کی ایک تحریک التواء پر بحث ملتوی کر دی، جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ روز ہڑتال کے موقع پر پولیس کے لاٹھی چارج کے باعث ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے، لہٰذا اس اہم مسئلہ پر بحث کی جائے۔ جاوید ہاشمی کو پولیس لاہور جیل سے ڈیرہ غازی خان منتقل کرنا چاہتی ہے۔ ہاشمی صاحب کی طرف سے ان کے وکیل نے درخواست دائر کر دی کہ وہ علیل ہیں۔ عدالت نے ہاشمی صاحب کے طبی معائنہ کی ہدایت کر دی۔
نوٹ: اخبارات پر سنسر کے باعث اتنی معلومات میسر آئیں۔
۸؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ظفر اللہ قادیانی کی ژاژ خائی
’’لندن: مؤرخہ ۷؍جون۔ قادیانی جماعت کے ایک رہنما اور عدالت انصاف کے سابق جج مسٹر محمد ظفر اللہ نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں ان کے فرقہ پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور صوبہ کی انتظامیہ اور پولیس بے نیازی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قادیانیوں کے متعدد مکانات اور دوکانیں لوٹ لی گئی ہیں۔ سینکڑوں قادیانی بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکومت فرقہ وارانہ فسادات کی خبروں کو چھپا رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال ظاہری تاثر سے زیادہ سنگین ہے۔ آل انڈیا ریڈیو کے مطابق مسٹر ظفر اللہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ غیر جانبدار نہیں۔ انہوں نے عالمی اداروں سے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپیل کی کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے مبصرین پاکستان بھیجیں۔‘‘
(نوائے وقت مؤرخہ ۸/ جون ۱۹۷۴ء)
حکومت کے زیر اہتمام علماء کا اجلاس
لاہور : مؤرخہ ۷/ جون ۱۹۷۴ء ۔ وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر محمد حنیف رامے نے آج علماء اور آئمہ مساجد سے انتہائی جذباتی انداز میں اپیل کی ہے کہ وہ نظم و نسق اور امن وامان بحال رکھنے اور جمہوریت کا تحفظ کرنے میں حکومت سے تعاون کریں۔ وزیراعلیٰ صوبائی اسمبلی کی عمارت میں تقریباً تین سو مذہبی رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا یہ بات علماء سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ اسلامی رواداری کے جذبہ اور جمہوریت کو کچلنے کے خواہشمند کس طرح ایک مقدس مذہبی معاملہ پر عوام کے بھڑکے ہوئے جذبات کو تباہی اور تشدد کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے پھر وضاحت کی کہ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم نبوت کے مسئلہ پر عوام سے پوری طرح متفق ہے مگر جمہوری طور پر منتخب شدہ کوئی حکومت شہریوں کے کسی بھی طبقہ کے خلاف قتل یا آتش زنی کی وارداتوں کی اجازت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ حکومت آئینی طور پر ہر طبقہ کے تحفظ کی ضامن ہے۔ انہوں نے کہا آئین میں ختم نبوت کے مقدس تصور کا قطعی تحفظ بھی موجود ہے۔ کوئی بھی شخص جو اس تصور پر ایمان نہیں رکھتا ، صدر یا وزیراعظم بننے کا اہل نہیں۔ انہوں نے کہا پیغمبری کی تکمیل وخاتمہ کے اس تصور کو پوری اسلامی دنیا میں کہیں اور آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ صورتحال کے تمام پہلو ذہن میں رکھ کر ٹھنڈے دل سے اجتماعی بھلائی کے لئے سوچا جائے تاکہ کوئی شخص حالات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کا حوالہ دیا ، جو اپنے دشمنوں سے محبت اور رواداری کا سلوک کیا کرتے تھے۔
مسٹر رامے نے کہا مسلمانوں کا اتحاد اور یہ رواداری ہی اس پرانے مسئلہ کو حل کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے جسے ربوہ کے حالیہ واقعہ نے پھر تازہ کر دیا ہے اور اسی طریقہ سے ختم نبوت کے تصور کی حفاظت ہو سکے گی اور اسے قائم ودائم رکھا اور مضبوط بنایا جا سکے گا۔ آئین کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر حنیف رامے نے بار بار سوال کیا کہ کیا علماء ایک اچھے مسلمان کی حیثیت سے یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ اس دستاویز کو کوئی نقصان پہنچے جو نہ صرف اجتماعی طرز حیات ، قومی اتحاد اور صوبائی خودمختاری کی ضامن ہے بلکہ اس میں واضح الفاظ میں مسلمان کی ’’تعریف‘‘ متعین کی گئی ہے اور تعریف میں ختم نبوت پر ایمان لازم قرار دیا گیا ہے۔
مسٹر رامے نے متنبہ کیا کہ ۱۹۵۳ء کے حالات کا اعادہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا اس انتہائی مقدس اور پرامن جدوجہد میں یہ قتل وغارت گری اور لوٹ مار کی وارداتیں تھیں جنہوں نے ۲۱ برس پہلے مارشل لاء لگوایا اور پھر بار بار مارشل لاء لگنے کا راستہ ہموار کیا ، جس سے جمہوریت تباہ ہوئی اور بالآخر مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ متعدد علماء نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ علماء اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، جب تک قادیانیوں کے بارے میں ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ وہ عوام کو سماج دشمن سرگرمیوں پر اکسانے میں ہرگز فریق نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آتش زنی اور قتل وغارت گری ان کے عقائد کے منافی ہیں۔
(نوائے وقت، مؤرخہ ۸/ جون ۱۹۷۴ء)
نوابزادہ نصر اللہ خان کا بیان
لاہور : مؤرخہ ۶/ جون ۔ پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک اس وقت داخلی وخارجی مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے نازک موقع پر میں ملک ، قوم اور حکومت کے مفاد میں اپیل کرتا ہوں کہ مجلس عمل کے مطالبات تسلیم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کئے جائیں، تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور تمام ناروا پابندیاں واپس لی جائیں ورنہ فضاء خوشگوار نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے ربوہ میں ہونے والے واقعہ اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر وزیر اعظم بھٹو کی قومی اسمبلی کی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے کی صوبائی اسمبلی کی تقاریر کا ذکر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ حزب اختلاف اس مسئلہ سے سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد جو ردعمل ظاہر ہوا، وہ کسی سیاسی اور دینی جماعت کی کوششوں کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ عوامی ردعمل تھا جو قادیانیوں کے حملہ کا فطری تقاضا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ملک کی دینی اور سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے، انہوں نے قادیانیوں کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ اس فرقہ نے عام انتخاب میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے اور ان کی حمایت کی تاکہ پیپلز پارٹی ان کے عزائم میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ اس لئے ربوہ کا حملہ بھی اسی تاثر کا نتیجہ تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس موقع پر رواداری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن وزیر اعظم بھٹو اور قادیانی لیڈروں نے اس واقعہ کی مذمت تک نہیں کی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو درست قرار نہیں دیا جو مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے ضمن میں اسمبلی میں دیا تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے جلسہ کا اعلان کیا تھا، پابندی بعد میں لگائی گئی ہے۔ ہم نے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں بعض قومی مطالبات پیش کئے تھے جو شائع نہ ہو سکے، اس لئے ہم مجبور تھے کہ اپنا موقف عوام تک جلسہ کے ذریعہ پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہم سے بہتر سلوک کا ذکر کیا ہے، غالباً وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم پر تشدد نہیں کیا گیا۔ حالانکہ ملک بھر میں گرفتاریاں جاری ہیں۔ طلباء، علماء، وکلاء، دوکاندار اور شریف شہری گرفتار کئے گئے۔ ان کے ساتھ نہایت سنگ دلانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں جیل میں سی کلاس دی گئی ہے۔ ان کی ضمانت نہیں ہو رہی اور نہ ہی ان کے رشتہ داروں کو ملنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے مولانا عبید اللہ انور کے ضمن میں جو کہانی گھڑی ہے، اس کی مذمت کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبید اللہ انور اپنے گھر سے سینکڑوں رفقاء کے ہمراہ مسجد تک پیدل گئے اور اخبار نویسوں نے انہیں دیکھا۔ انہوں نے ڈی۔ پی۔ آر کے تحت مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی پابندی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ انگریزوں کے دور میں بھی اس طرح کی پابندی نہیں لگائی گئی۔
لاہور میں تیس طلباء گرفتار کر لئے گئے
لاہور: مؤرخہ ۷؍ جون۔ آج نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد نیلا گنبد سے لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علموں نے واقعہ ربوہ کے خلاف ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا۔ نماز جمعہ کے بعد طالب علم رہنماؤں نے مسجد میں تقاریر کیں۔ بعد میں ان طالب علم رہنماؤں کو مسجد سے نکلتے ہی موقع پر موجود پولیس افسروں نے گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر فرید پراچہ، سیکرٹری جنرل عبد الشکور، انجینئرنگ یونیورسٹی کے صدر مسٹر نعیم سرویا اور دیگر ۲۵ کے قریب طلباء شامل ہیں۔ ان طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد طلباء اور نمازیوں نے نیلا گنبد سے جی۔ پی۔ او تک دفعہ ۱۴۴ کی وجہ سے چار چار کی ٹولیوں میں احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس کے شرکاء نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔ جی۔ پی۔ او پر جلوس پر امن طور پر منتشر ہو گیا۔ آج نماز سے قبل ہی پولیس اور سیکورٹی فورس کی بھاری جمعیت نیلا گنبد چوک میں متعین کر دی گئی تھی۔ تاہم کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔
حافظ آباد میں ہڑتال
حافظ آباد: مؤرخہ ۷؍ جون۔ یہاں ہجوم نے املاک جلا دیں۔ شہر میں دو روز مکمل طور پر ہڑتال رہی۔ پہلے روز ہجوم پر ایک قادیانی فرقے کے خاندان نے فائرنگ کی۔ پولیس نے صوبائی اسمبلی کے رکن فدا حسین، مظفر احمد باجوہ، شیخ عطاء اللہ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پرامن عوام پر فائرنگ کر کے زخمی کرنے کے الزام میں اقدام قتل کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے رکن اور اس کے ساتھیوں نے پرامن فضا کو مکدر بنانے اور ہڑتال کو ناکام کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا تھا لیکن عوام کو اس طریقہ کار پر اشتعال آ گیا تو انہوں نے ایک روز احتجاجی طور پر ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم انتظامیہ نے امن وامان بحال کرنے کے لئے حتی المقدور کوشش کی اور اب حالات پرسکون ہیں۔ انتظامیہ کی حکمت عملی سے حالات خوشگوار رہے۔ امن کمیٹی کے صدر مولانا الطاف حسین اور دیگر سماجی مذہبی انجمنوں کے رہنماؤں نے حکومت کو تاریں ارسال کی ہیں، جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقامی ممبر صوبائی اسمبلی نے خوشگوار فضاء کو مکدر بنایا۔ جس سے عوام مشتعل ہو گئے تھے۔ تاروں میں کہا گیا ہے کہ حالات ابتر بنانے میں ممبر صوبائی اسمبلی کا ہاتھ ہے جب کہ ان کے خلاف تھانہ میں مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ ایک جلسہ عام میں مقررین نے عوام کو تلقین کی کہ وہ ملکی حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور پرامن طور پر احتجاج کریں اور توڑ پھوڑ کی کارروائیوں سے اجتناب کریں۔ شہر میں امن وامان بحال کرنے کے لئے مقامی اسسٹنٹ کمشنر نے امن کمیٹی کی تشکیل دے دی ہے۔ اس کے علاوہ مرزائی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کے لئے ایک تنظیم قائم کی گئی ہے۔ جس میں جمعیتہ علمائے اسلام، جمعیتہ علمائے پاکستان، جماعت اسلامی، جمہوری پارٹی، خاکسار تحریک اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔
میاں چنوں میں مسلم لیگ کے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
لاہور: مورخہ ۷؍ جون۔ پاکستان مسلم لیگ (پنجاب زون) کے جنرل سیکرٹری اور بلدیہ میاں چنوں کے سابق نائب صدر غلام حیدر وائیں نے سٹی مسلم لیگ میاں چنوں کی مجلس عاملہ کے رکن سردار محمد، مقامی علماء اور دیگر طالب علم رہنماؤں کی حالیہ گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں خوشگوار فضا قائم کرنے کے لئے ان رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کر کے ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ نیز میاں چنوں اور خانیوال سے جن دیگر کارکنوں کے خلاف بلاوجہ پولیس کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، اسے ختم کیا جائے۔
شورکوٹ میں اجتماعی جمعہ
شورکوٹ: مورخہ ۷؍ جون۔ شورکوٹ شہر میں ۳۱؍ مئی جمعہ کو مسلمانوں کے تمام فرقوں نے جامع مسجد نور محمد اکٹھے نماز جمعہ ادا کی۔ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اس اجتماع عظیم سے مولانا محمد بشیر خاکی، مولانا محمد بشیر نوری، محمد شریف صابری، مولانا محمد صدیق اعظمی، میاں محمد افضل شاکر امیر جماعت اسلامی شورکوٹ اور طلباء کے قائدین نے خطاب کیا۔ متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ:
- ۱...... ربوہ میں غنڈہ گردی کے مرتکب ہزاروں افراد تھے۔ ان سب کو سخت سزادی جائے۔
- ۲...... قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
- ۳...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ۴...... انجمن احمدیہ ربوہ کو اوقاف کی تحویل میں لیا جائے۔
عوام میں بے پناہ جوش وخروش تھا۔ شورکوٹ شہر میں جلوس بھی نکلے اور مشتعل ہجوم نے کچھ دوکانیں جلا ڈالیں۔ تین آدمی شدید زخمی ہو گئے۔ امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد نے ملتان میں زخمی طلباء کی عیادت کی۔ لائل پور جماعت اسلامی کے امیر طفیل محمد ضیاء نے اخباری بیان میں کہا ہے کہ حکومت سندھ اور حکومت پنجاب کی جانب سے خبروں کی اشاعت پر ناروا پابندی سے عوام کو نہ صرف بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا ہے، بلکہ عوام کے دلوں میں بے سروپا شکوک بھی ابھر رہے ہیں اور حکومت کے اس عاقبت نااندیشانہ فعل سے حکومت پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کراچی کے اساتذہ پر بہیمانہ تشدد کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے اساتذہ کو اس طرح ظالمانہ تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔ مولانا طفیل احمد ضیاء نے مطالبہ کیا کہ اخبارات پر سنسر لگانے کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے اور معماران قوم کے خلاف متشددانہ کارروائیاں بند کی جائیں۔
جیکب آباد میں احتجاجی جلوس
یہاں ربوہ اسٹیشن پر مسلمان طلباء پر حملہ کی خبر ملتے ہی شہریوں میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مجلس عمل کی اپیل پر شہر کی تمام اہم جامع مسجدوں کے خطیب حضرات نے مندرجہ بالا واقعہ پر شدید احتجاج کیا۔ نماز جمعہ سے قبل گورنمنٹ کالج جیکب آباد سے اسلامی جمعیت طلباء کی سرکردگی میں طلباء کا ایک جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء نعرے لگاتے ہوئے چھتری چوک پہنچے، جہاں مسٹر محمد عظیم کھوسہ، محمد ایوب پٹھان اور دیگر طلباء نے ربوہ کے واقعہ پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
ہارون آباد میں ہڑتال
ہارون آباد، ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے اشتعال انگیز واقعہ کے خلاف احتجاج کے لئے دوسرے روز بھی ہارون آباد شہر میں تمام دن مکمل ہڑتال رہی۔ ہزاروں شہریوں نے اپنے شدید ردعمل کے اظہار کے لئے دفعہ ۱۴۴ کے باوجود زبردست احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے ”ختم نبوت زندہ باد“ اور ”مرزائیوں کو اقلیت قرار دو“ کے پرجوش نعرے لگائے۔ مختلف مقامات پر طالب علم رہنماؤں رؤف طاہر، ارشاد قمر اور عبدالحمید قریشی نے عوام سے خطاب کیا۔
روزانہ اخبارات میں بعض لوگوں کے بیانات شائع ہو رہے ہیں کہ ہم قادیانی نہیں۔ مثلاً آج کے اخبار میں دو اشتہار شائع ہوئے۔
ازالہ غلط فہمی
”عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ میرا یا میرے اہل خانہ کا قادیانی جماعت یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ لہٰذا ہمارے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے ۔“ اظہر امین شیخ ، پروپرائٹر کراؤن موٹر سٹور جنرل بس اسٹینڈ ، بادامی باغ لاہور
ہم مرزائی نہیں ہیں
”بعض لوگوں نے مجھے مرزائی مشہور کر رکھا تھا۔ جس کی میں اور میرے بھائی حلفاً تردید کرتے ہیں ۔ ہم بحمد اللہ مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت عقیدہ رکھتے ہیں۔ مرزائیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔“ چوہدری محمد رفیق ، چوہدری عنایت اللہ مالکان رفیق ویونگ فیکٹری ، چھچھر والی (گوجرانوالہ)
علماء کا رامے کی موجودگی میں کلمہ حق
لاہور : مؤرخہ ۷؍ جون۔ علماء نے آج صوبائی وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے پر واضح کر دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہونے کے لئے کسی صورت میں تیار نہیں ہیں ۔ صوبائی وزیر اعلیٰ نے آج تقریباً دو اڑھائی سو کے قریب علماء سے خطاب کیا ، جس کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر ، تحریک استقلال اور بعض دوسرے علماء نے وزیر اعلیٰ پر واضح کر دیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ، ربوہ کو کھلا شہر بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے بنیادی مطالبات ہیں۔ بعض علماء نے وزیر اعلیٰ کی طرف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے تقریب کے بعد چائے کی دعوت کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم تمام علماء نے یقین دلایا کہ وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور فساد نہیں چاہتے۔ لیکن یہ پرامن جدوجہد مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔
اسلام آباد، لاہور، رحیم یار خان، کراچی سرکاری اعلامیہ
لاہور : مؤرخہ ۷؍ جون۔ پنجاب میں آج جمعہ نہایت پرامن طریقے سے گزر گیا۔ کروڑوں مسلمان، جنہوں نے ملک کی ہزاروں مساجد میں نماز جمعہ ادا کی، کسی کو امن وامان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی۔ حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں بڑی مسجد سے ایک جلوس نکالا گیا جو قومی اسمبلی کی عمارت تک جانا چاہتا تھا لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی اور آنسو گیس کے استعمال و ہلکے لاٹھی چارج کے بعد ہجوم کو منتشر کر دیا گیا۔ صوبے کی مساجد میں علماء نے موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کیا، تاہم انہوں نے ایسی کوئی بات کہنے سے گریز کیا۔ جس کے نتیجے میں لاقانونیت کی کارروائیوں کو ہوا ملے۔ فی الحقیقت انہوں نے انتہائی شدومد سے یہ بتایا کہ تشدد اور تباہ کاری میں ملوث ہونے والا ہر شخص اسلام کے جذبے کے خلاف کام کا مرتکب ہو گا اور کسی بھی طرح اس مقصد میں معاون نہیں ہو گا جو عوام کے ذہنوں میں ہے۔ لاہور میں صرف مسجد نیلا گنبد سے نماز جمعہ کے بعد ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی گئی۔ مدرسوں کے طلباء اور زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہجوم نے جلوس نکال کر مال روڈ تک جانا چاہا۔ ضلعی حکام نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم ہجوم جنرل پوسٹ آفس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ جہاں جلوس کے افراد نے گرفتاریاں پیش کیں اور پولیس بیس افراد کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی۔ رحیم یار خان میں آج آتش زنی کا ایک معمولی واقعہ ہوا۔
قومی اسمبلی میں معرکہ
اسلام آباد: مؤرخہ ۷؍ جون۔ آج قومی اسمبلی میں بھارت کے ایٹمی دھماکہ پر حزب اختلاف کی تحریک التواء پر بحث کے دوران حزب اختلاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ چوہدری ظہور الٰہی تقریر کر رہے تھے کہ تحریک استقلال کے احمد رضا قصوری نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہا کہ اسمبلی کے باہر مظاہرین جمع ہیں، جو عمارت کے قریب آنا چاہتے ہیں مگر ان کو دور روک دیا گیا ہے۔ اس پر وفاقی وزیر داخلہ خان عبد القیوم خان نے حزب اختلاف پر الزام عائد کیا کہ وہ موجودہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور عوام کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے مولانا مفتی محمود اور حزب اختلاف کے دیگر ارکان کھڑے ہو گئے اور سب نے بولنا شروع کر دیا۔ اس پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر عبد الحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ حزب اختلاف حکومت پر بے بنیاد الزامات لگا کر زہر پھیلانے میں کوشاں ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق مولانا مفتی محمود نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان ہاسٹل کی طرف جلوس نکال کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرین ایک ایسے رکن اسمبلی یہاں تک لائے ہیں جن کو نہ تو ملکی آئین کی پرواہ ہے اور نہ ہی قومی اسمبلی کی۔ اس پر مسٹر جاوید ہاشمی چیف وہپ پارلیمانی پارٹی نے کہا کہ کسی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔ یہ مظاہرین ارکان اسمبلی کے ہاسٹل میں گھس آئے تھے اور ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے زور دینے کے باوجود انہوں نے ہاسٹل خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے مابین اس جھڑپ کے دوران حزب اختلاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
لندن ٹیلی گراف
لندن : مؤرخہ ۷؍ جون۔ آج یہاں ڈیلی ”ٹیلی گراف“ میں اس کے پاکستانی نمائندہ کا مراسلہ شائع ہوا ہے کہ پنجاب میں واقعہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ ریلوے اسٹیشن، وزیر اعظم بھٹو کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے۔ کراچی کے اس نامہ نگار نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان فرقہ وارانہ فسادات میں غیر ملکی افراد کا ہاتھ ہے۔ بی۔بی۔سی کے نمائندہ اسلام آباد نے اطلاع دی ہے کہ کراچی میں متحدہ جمہوری محاذ کی اپیل پر احتجاجی ہڑتال ہوئی ہے۔ نامہ نگار نے مولانا مفتی محمود کے حوالے سے یہ خبر بھی ارسال کی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف تحریک اب سرحد اور بلوچستان میں بھی شروع ہو چکی ہے اور ان دونوں صوبوں میں لوگ امتناعی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آرہا ہے، ربوہ کی دیوار پر قادیانیوں کا نعرہ
لاہور: مؤرخہ ۷/ جون۔ ”معلوم ہوا ہے کہ ربوہ میں قادیانی فرقہ نے حال ہی میں سیمنٹ کی ایک بڑی دیوار پر جلی حروف میں ایک انگریزی عبارت درج کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ: ”خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آرہا ہے۔“ باخبر ذرائع کے مطابق یہ نعرہ قادیانی فرقہ کے سربراہ کی ۱۹۵۳ء کی ایک طویل تحریر سے ماخوذ ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس تحریر کا مندرجہ بالا اقتباس ایک بار پہلے بھی اس وقت قادیانی جماعت نے نعرے کی صورت میں مشہور کیا تھا۔ جب قادیانیوں کے خلاف ۱۹۵۳ء میں تحریک چلائی گئی تھی۔ اس نعرے کی تشہیر کے کچھ دن بعد مارشل لاء لگا دیا گیا تھا۔“
۹/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
صوبائی وزیر مال کا گوجرانوالہ مسجد میں خطاب
گوجرانوالہ: مؤرخہ ۸/ جون۔ صوبائی وزیر مال رانا اقبال احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کر دیا ہے کہ حکومت ختم نبوت پر یقین رکھتی ہے۔ اس سلسلہ میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے جذبات و احساسات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے یہ بات جامع مسجد اہل سنت والجماعت میں نماز جمعہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے مطالبہ پر پوری توجہ دے رہی ہے۔ مگر بعض شر پسند عناصر پرسکون حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت نے ایسے افراد پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بعض طاقتیں ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ مگر پرامن شہری ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔
میاں چنوں، طلباء کے ساتھ اشتعال انگیز رویہ کی سخت مذمت
میاں چنوں: مؤرخہ ۸/ جون۔ پاکستان مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مقامی صدر میاں محمد امیر بودلہ، سینئر نائب صدر طاہر اقبال سندھو، جنرل سیکرٹری مبشر سعید خان، پاکستان مسلم لیگ رضا کار یوتھ فورس کے سیکرٹری نشر و اشاعت مسٹر غلام احمد نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر کالج ملتان کے طلباء کے ساتھ ناروا سلوک پر سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نشتر کالج ملتان کے طلباء کو جس بے دردی سے مارا پیٹا گیا ہے۔ اس سے ہر مسلمان کا دل تڑپ اٹھا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ جماعتوں کو اتنی کھلی چھٹی نہ دی جائے کہ جس سے خانہ جنگی کی صورت پیدا ہو جائے۔ مٹھی بھر لوگوں نے طلباء کی طرف سے نعرہ بازی کو مذہبی رنگ دے کر جو ظلم کیا ہے، اس کی پاکستان کی تاریخ میں آج تک مثال نہیں ملتی۔ اس واقعہ کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کروائی جائے اور اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لالہ موسیٰ کے دو خاندان مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گئے
لالہ موسیٰ کے وارڈ نمبر ۵ ، محلہ صابری کے دو خاندان مرزائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہو گئے ۔ انہوں نے مولانا غلام قادر اشرفی صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور اس موقع پر مولانا سید بشیر شاہ صاحب ، مولانا غلام ربانی چشتی اور دیگر معزز شہری موجود تھے ۔ ان دونوں خاندانوں کے اسلام قبول کرنے پر لالہ موسیٰ کے مسلمان شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ایک خاندان کا سربراہ محمد ظفر ولد بشارت احمد ہے ۔ ظفر کی بیوی ثریا بیگم بھی مسلمان ہوگئی ہے ۔ اس خاندان کے دوسرے افراد کے نام یہ ہیں جو مسلمان ہوئے ہیں ۔ یہ سب ظفر کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ پرویز اختر ، نوید اختر ، وحید اختر ، متین احمد ، نعیم احمد ، وسیم احمد ، تسلیم احمد ، ناصر احمد ، سجاد احمد ، شاہد احمد ، راحیلہ شاہین ، نبیلہ ظفر ، ثمینہ ظفر ۔ دوسرے خاندان کا سربراہ میاں یوسف ولد بشارت احمد ہے ۔ اس کی بیوی مبارکہ بھی مسلمان ہوگئی ہے ۔ یہ یوسف اور مبارکہ دونوں کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ ندیم اختر ، روبینہ شاہین ، ثمینہ اختر ، تنویر احمد ، شکیل احمد ، عصمہ شہزادی ، عتیق احمد ۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر حاضرین کی ٹھنڈے مشروب سے تواضع کی گئی ۔
گوجرانوالہ میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت
پاکستان مسلم لیگ گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری علامہ عزیز انصاری ، تحریک استقلال گوجرانوالہ کے صدر ، سرفروش تنظیم گوجرانوالہ کے سیکرٹری حافظ محمد رفیق وڑائچ ، پاک تنظیم گوجرانوالہ کے صدر محمد یونس کھوکھر اور جمعیۃ علمائے اسلام کے علامہ محمد احمد کے علاوہ متعدد شہریوں نے گوجرانوالہ میں اندھا دھند گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ لوٹ مار کرنے والوں کا محاسبہ کرنا ایک مستحسن اقدام ہے ۔ لیکن انتظامیہ نے کئی ایسے افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے ۔ جن کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔
متحدہ محاذ میں شامل سیاسی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس
لاہور: مؤرخہ ۸؍ جون ۔ متحدہ جمہوری محاذ میں شامل سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور مرکزی مجلس عمل کا ایک ہنگامی اجلاس کل شام پانچ بجے لاہور میں منعقد ہوگا ۔ اجلاس میں موجودہ ملکی صورتحال پر غور کیا جائے گا ۔ اجلاس میں متحدہ محاذ کے صدر پیر صاحب پگاڑو ، جمعیۃ علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا مفتی محمود ، جمہوری پارٹی کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان ، جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد ، جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر پروفیسر عبدالغفور ، جمعیۃ علماء پاکستان کے صدر مولانا شاہ احمد نورانی ، خاکسار تحریک کے رہنما حاجی محمد سرفراز ، قومی اسمبلی کے رکن مسٹر شیر باز خان مزاری اور نیشنل عوامی پارٹی کے صدر مسٹر عبدالولی خان شرکت کریں گے ۔
صوبائی اسمبلی میں حنیف رامے کی مولانا عبیداللہ انور کے بارے میں خلاف بیانی کی معافی
انہوں نے مولانا عبیداللہ انور کے مسجد وزیر خان تک چارپائی پر لیٹ کر آنے کے واقعہ کے بارے میں کہا کہ مولانا جو کہتے ہیں ، وہی صحیح ہے کیونکہ مولانا سی آئی ڈی کے کسی آدمی کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد ہیں ۔ میں نے ان سے معذرت کر لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ کو ریاست در ریاست نہیں بننے دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کسی افسر کو ربوہ جانے سے نہیں روکا گیا ۔ آخر ربوہ سے گرفتاریاں ہوئیں ، ”الفضل“ پر وہیں چھاپہ پڑا ، مرزا ناصر احمد سے پولیس نے وہیں رابطہ قائم کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں کہا کہ متحدہ جمہوری محاذ کے رہنما کل لاہور شوق سے تشریف لائیں لیکن خدا کے لئے قتل و غارت کے لئے نہ آئیں، جمہوری عمل کے لئے آئیں۔ انہوں نے کہا کچھ لوگ اس دینی عقیدے کو سیاسی مسئلہ بنارہے ہیں۔
تحریک استقلال میدان تحریک میں
لاہور :مؤرخہ ۸؍جون۔ تحریک استقلال کے مرکزی دفتر سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں کی جارحیت کے خلاف تحریک میں بھرپور حصہ لیں۔ پارٹی کے سینئر نائب صدر مسٹر وزیر علی نے تحریک کے کارکنوں کے نام ایک گشتی مراسلہ میں کہا ہے کہ پارٹی نے ۴؍جون کو اس ضمن میں بیان جاری کیا تھا۔ لیکن ایسی خبروں پر مکمل پابندی کی وجہ سے یہ بیان اخبارات میں شائع نہ ہوسکا۔ صورتحال یہ ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے بیانات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ واقعہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔ یہ منصوبہ غور و خوض کے ساتھ سات دنوں میں تیار ہوا۔ پاکستان کی آبادی میں قادیانیوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔ ایسی کم تعداد کا قانون ہاتھ میں لینا بہت معنی خیز اقدام ہے۔ قادیانیوں نے ارادتاً خود تشدد کو دعوت دی ہے۔ یہ باور کرنا مشکل ہے کہ قادیانیوں کی قیادت نے ایسا سنگین فیصلہ عاقبت نا اندیشی یا وقتی ہیجان کے تحت کیا ہو۔ واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرین پر حملہ کر کے قادیانیوں نے مسٹر بھٹو کا امتحان لینا چاہا ہے کہ حکومت حاصل کرنے میں ہم نے پارٹی کی جو امداد کی تھی، اس کی قیمت ادا کرو۔ اب ہماری پشت پناہی کر کے پاکستان میں ہماری طاقت کا سکہ منواؤ ورنہ ہم اپنے اسلحہ اور تنظیم کے بل بوتے پر ملک میں فساد برپا کر دیں گے۔ جس سے ملک کا نظام درہم برہم ہوگا اور اس جماعت کی حمایتی پڑوسی طاقت کو پاکستان میں پھر مداخلت کا جواز مل جائے گا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ احمدیوں کا یہ دو دھاری وار نہایت خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔
کمالیہ میں ہڑتال اور جلوس
کمالیہ :مؤرخہ ۸؍جون۔ کمالیہ میں سانحہ ربوہ کے خلاف آج مکمل ہڑتال ہوئی۔ عید گاہ سے علماء اور خاکسار رہنما امیر حبیب اللہ خان سعدی سابق ایم۔پی۔اے کی قیادت میں ایک پرامن جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء ”ختم نبوت زندہ باد، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دو“ اور دیگر نعرے لگا رہے تھے۔ جلوس کے ہمراہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ چل رہے تھے۔ پولیس جلوس کے ساتھ نہیں تھی۔ جب جلوس میونسپل پارک کے قریب پہنچا تو پولیس نے لاٹھی چارج اور فائرنگ شروع کر دی۔ مظاہرین کی طرف سے بھی پتھراؤ کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں امیر حبیب اللہ خان سعدی سابق ایم۔پی۔اے، رانا عبدالواجد خان نسیم نامہ نگار ”نوائے وقت“ ایک اے ۔ایس ۔آئی اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے۔ اب صورتحال قابو میں ہے۔ امیر حبیب اللہ خان سعدی سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔
اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا
اسلام آباد :مؤرخہ ۸؍جون۔ قومی اسمبلی اپوزیشن نے آج بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران کوئی رکن ایوان میں نہ آیا۔ اس کی وجہ مولانا شاہ احمد نورانی نے گزشتہ رات بتائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے پارلیمانی گروپ نے گزشتہ روز وزیر قانون مسٹر پیرزادہ کے رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر صرف بجٹ کے آج کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ کل گورنمنٹ ہوسٹل پر ہنگامہ اور پولیس زیادتی کے بارے میں وزیر قانون اور اپوزیشن کے ارکان میں شدید جھڑپ ہوئی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وزیر اعظم لاہور آرہے ہیں
لاہور : مؤرخہ ۸؍جون۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پیر کے روز لاہور پہنچیں گے اور قادیانیوں کے مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرنے کے لئے مختلف مذہبی، سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اس بات کا انکشاف وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر محمد حنیف رامے نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی مسئلہ کا مستقل حل تشدد کے ذریعہ تلاش نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لئے افہام و تفہیم کے جذبہ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ سے پریس کانفرنس میں اس مسئلہ کے مستقل حل کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں نے اس مسئلہ کے بارے میں وزیر اعظم سے درخواست کی تھی اور وہ پیر کے روز مختلف رہنماؤں سے ملاقات کے لئے لاہور آرہے ہیں۔
بھارتی ایٹمی دھماکہ......ہم کیا کر رہے ہیں؟ قادیانی مسئلہ کو بھی ہمیشہ کے لئے ختم کیجئے......اداریہ نوائے وقت
’’وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں ایک تحریک التواء پر بحث کو سمیٹتے ہوئے بالکل بجا کہا ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکہ سے نہایت سنگین اور نازک صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور پاکستان کو تاریخ میں کبھی اتنے بڑے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو کا یہ ارشاد بھی سو فیصد درست ہے کہ بھارت نہ صرف جنگ کی صورت میں بلکہ بلیک میل اور اپنی دھونس جمانے کے لئے بھی ایٹمی اسلحہ استعمال کرسکتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا ظلم، فریب، زیادتی اور دھوکہ روا نہیں رکھا کہ ایٹمی طاقت کے پرامن استعمال کے بارے میں ان کی یقین دہانیوں پر اعتبار کر لیا جائے۔ پاکستان کو روزِ اوّل سے ہی ذہنی طور پر تسلیم نہ کرنے والے بھارتی حکمرانوں نے امن و آشتی کے نام پر ہی پاکستان کو تین مرتبہ جارحیت کا نشانہ بنایا۔ اسے دولخت کیا اور اس کے مزید حصے بخرے کرنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ کہہ کر بالکل عوام کی ترجمانی کی ہے کہ ’پاکستانی قوم اس چیلنج کا بھی پورے عزم و ثبات اور پامردی سے مقابلہ کرے گی اور بھارت ہمیں سیاسی طور پر بلیک میل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس خطرہ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ خطرہ صرف بھارت میں روایتی اسلحہ کی بھر مار اور اس کے ایٹمی طاقت بننے سے ہی نہیں بلکہ وہ ’’راکٹری اور میزائلی‘‘ میں بھی ’’سپر پاور‘‘ کی حیثیت اختیار کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ کیمیاوی اور جراثیمی اسلحہ بھی تیار کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ابھرتے ہوئے سامراج کی ممکنہ جارحیت کے خلاف تحفظ کی کوئی ضمانت حاصل کر سکے ہیں یا نہیں؟ اور ہم اس بھیانک خطرہ کا احساس کرنے کے باوجود اپنی ایٹمی طاقت کو ترقی دینے اور خود ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا بھی کوئی اہتمام کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ مسئلہ صرف شور مچانے اور پراپیگنڈے کے بل بوتے پر تو حل نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھارت کے پاس ایٹم بم ہے اور ہمارے پاس نہیں۔
پاکستان کے تمام محب وطن شہریوں کو بھارت کے حالیہ ایٹمی دھماکہ نے ایک اذیت ناک تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے تشویش و اضطراب میں یہ دیکھ کر اور بھی اضافہ ہوتا ہے کہ ملک میں انتشار، افراتفری اور بدامنی فروغ پا رہی ہے اور ارباب اقتدار و حکومت اس ملک میں روس اور بھارت کے ایجنٹوں، کمیونسٹوں اور ففتھ کالمسٹوں کا استیصال و تدارک کرنے کی بجائے انہیں سرکار دربار میں ’’محفوظ کمین گاہیں‘‘ مہیا کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ عناصر پاکستان میں انتشار و افراتفری، مایوسی، اور بدامنی پھیلا کر کس طرح دشمن کے ’’آخری حملہ‘‘ کے لئے فضا سازگار کر رہے ہیں۔ کیا اس بھیانک خطرہ سے عہدہ برآ ہونے کی یہی صورت ہے کہ کسی واقعہ کے ردعمل کا سارا ’’ملبہ‘‘ اپوزیشن پر ڈال دیا جائے اور اسے دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے کا مورد الزام گردانا جائے۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ قومی اسمبلی میں بھارتی ایٹمی دھماکہ پر بحث کے دوران اپوزیشن کو ایوان میں موجود رہنا چاہئے تھا۔ یہ تحریک التواء اپوزیشن ہی کے ایک ممتاز رکن پروفیسر غفور احمد نے پیش کی تھی اور اس پر اپوزیشن کے ایک اور ممتاز رکن چوہدری ظہور الہی تقریر کر رہے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو بھارتی ایٹمی دھماکہ سے تشویش ہے۔ اسے ایوان میں موجود رہنا چاہئے تھا اور ارباب اقتدار سے پوچھنا چاہئے تھا کہ وہ اس خطرہ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے عملی طور پر بھی کچھ کر رہے ہیں یا ان کی سرگرمیاں تقاریر، بیانات اور محدود سفارتی کاوشوں تک ہی محدود ہیں؟ لیکن اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بارے میں کوئی جذباتی رد عمل ظاہر کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کن حالات نے انہیں واک آؤٹ کرنے پر مجبور کیا اور سرکاری بنچوں کی طرف سے اپوزیشن پر الزام تراشی اور نعرے بازی کو کیوں روا رکھا گیا۔ اس کے باوجود ہماری ایمان دارانہ رائے ہے کہ اپوزیشن کو نسبتاً طویل واک آؤٹ کے بعد واپس آکر بحث میں حصہ لینا چاہئے تھا۔
پاکستان کے بعض شہروں اور قصبوں میں اب تک جو کچھ ہوا ہے یا بعض مقامات پر تھوڑی بہت جو کشیدگی پائی جاتی ہے، وہ ایک واقعہ کا ردعمل ہے، کوئی عام فساد یا کسی کی پیدا کردہ افراتفری ہرگز نہیں۔ یہ واقعہ جس قدر شدید تھا، اس کا ردعمل بھی اسی قدر شدید ہوا ہے، بلکہ اپوزیشن نے تو اس بارے میں تحمل و برداشت کا ثبوت دیا ہے۔ اپوزیشن اگر چاہتی تو وہ اسے ایک خوفناک تحریک کی شکل وصورت دے سکتی تھی اور گزشتہ جمعہ کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھ سکتی تھی۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی اسے پاکستان کو درپیش نازک حالات کے پیش نظر ایسا کرنا چاہئے۔ اس پر اپوزیشن کو لتاڑنا مناسب نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی حلقوں میں مکمل اتحاد و یکجہتی کی فضاء پیدا کی جائے۔ ملک کو داخلی مسائل اور انتشار آسا حالات سے نجات دلانے کے لئے مل کر کام کیا جائے۔
اس وقت سواد اعظم کی طرف سے جو مطالبہ کیا جارہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں۔ ایک پرانا مسئلہ اور ایک پرانا مطالبہ ایک شدید واقعہ کے شدید ردعمل کی صورت میں دوبارہ سامنے آ گیا۔ جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے، وہ تقسیم برصغیر کے وقت سے موجود ہے۔ قادیانی تقسیم کے خلاف تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں اور ان کی تحریک کا مقصد یہ تھا۔ (اور اب بھی ہے) کہ دنیا کے مسلمانوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کو احمدی بنایا جائے۔ وہ ہندوستان کو اس لئے اکھنڈ رکھنا چاہتا تھا کہ ”وسیع بیس“ سے اس مقصد کے لئے کام کیا جائے۔ وہ برصغیر کی تقسیم کو عارضی سمجھتے تھے۔ ان کے عزائم کی تصدیق قادیانیوں کے ترجمان روزنامہ ”الفضل“ کے ۵؍ اپریل ۱۹۴۷ء کے اس شمارے سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ جس میں چوہدری اعجاز نصر اللہ (ولد چوہدری اسد اللہ خاں بیرسٹر برادر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں) کے نکاح کے موقع پر امیر جماعت کا خطبہ شائع ہوا تھا۔ اس خطبہ میں قادیانی جماعت کے امیر نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا: ”ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہوکر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق پیدا ہوا اور دونوں قومیں جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہوجائے“۔
قادیانی یا احمدی حضرات اگر اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں اور موجودہ حکومت نے حلف میں ختم نبوت کے عقیدے کو شامل بھی کر لیا ہے تو پھر اس مسئلہ کا منطقی انجام بھی ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے یہ مسئلہ تشدد یا طاقت کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ اسے پرامن طور پر آئینی طریقہ سے ہی حل ہونا چاہئے۔ اگر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور وزیر اعلیٰ حنیف رامے بھی اپنے آپ کو سواد اعظم سے الگ نہیں سمجھتے تو پھر اسے حکومت کے وقار کا مسئلہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسے بلا تاخیر حل کر دینا چاہئے۔ اس میں سب کا بھلا ہے۔ اب حکمران پیپلز پارٹی بھی اس مسئلہ کو سواد اعظم کی منشاء کے مطابق حل کر کے اس قدر ہر دلعزیز ہوسکتی ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات میں شاید تمام نشستیں حاصل کرلے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخر میں ہم اس ضمن میں عالمی عدالت انصاف کے سابق جج اور قادیانیوں کے ایک رہنما سر محمد ظفر اللہ کے اس بیان کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتے ہیں جو انہوں نے لندن میں دیا ہے اور جس میں انہوں نے پنجاب میں اپنے فرقہ پر مظالم ڈھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے مبصرین بھیجیں۔ عالمی اداروں کے وفد بڑے شوق سے یہاں آئیں، وہ خود دیکھ لیں گے کہ سر ظفر اللہ کے واویلا کی حقیقت کیا ہے۔ ہم سر ظفر اللہ صاحب سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے ہی فرقہ کے عمل کے جوابی ردعمل پر تو اپنے فرقہ پر مظالم کا گمان گزرنے لگا لیکن خود انہیں اس وقت احساس نہیں تھا کہ بانی پاکستان کے جنازے میں شریک نہ ہونے پر پاکستانی مسلمانوں کے جذبات کو کس قدر ٹھیس پہنچے گی اور ان کی اس حرکت کا خود ان کے اور ان کے فرقہ کے بارے میں کیا ردعمل ہوگا؟ اور پھر چوہدری صاحب یا اس فرقہ کے کسی بزرگ نے تادم تحریر حادثہ ربوہ کی مذمت میں بیان جاری کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ چوہدری صاحب کی پریس کانفرنس کو بھارتی ریڈیو بہت اچھال رہا ہے۔ چوہدری صاحب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا گزشتہ چھبیس ستائیس سال میں کتنی بار قتل عام ہو چکا ہے۔ ایسے کئی مواقع پر تو چوہدری صاحب نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک بار پھر ہم پاکستانی عوام سے گزارش کریں گے کہ وہ اس مسئلہ کو پرامن طور پر حل ہونے دیں اور کسی بھی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔ یہ مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ حکومت کے زیر غور ہے۔ انہیں اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے ۔‘‘
(اداریہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
سندھ اور ”نوائے وقت“
”ہفتہ عشرہ پیشتر حادثہ ربوہ کے بعد حکومت سندھ نے اپنے صوبے میں سنسر کی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور لاہور سے جانے والے اخبارات کے بنڈل بھی روک لئے تھے۔ اس کے بعد پنجاب میں بھی حادثہ ربوہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں خبروں اور تبصروں کی اشاعت ممنوع قرار دے دی گئی ۔ ابتدائی دو ایک روز میں تو سندھ میں اخبارات کے بنڈلوں کا روکنا بے جواز نہیں تھا۔ لیکن ”نوائے وقت“ کے بنڈل سندھ میں بدستور روکے جا رہے ہیں۔ سندھ کے مختلف مقامات کے لئے بک ہونے والے بنڈل ڈھرکی ریلوے اسٹیشن پر رک جاتے ہیں اور بذریعہ ہوائی جہاز کراچی پہنچنے والے بنڈل ہوائی اڈے سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ اب جب کہ پنجاب میں بھی سنسر کی پابندیاں عائد ہیں اور کوئی قابل اعتراض مواد شائع ہو ہی نہیں سکتا تو پھر بنڈل روکنے میں آخر کیا تک ہے ۔ ہمیں توقع ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مسٹر غلام مصطفیٰ جتوئی اور مرکزی وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی اس ضمن میں ذاتی دلچسپی لیں گے اور سندھ میں ”نوائے وقت“ کے قارئین کو اس اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ختم کرائیں گے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات تو باقاعدگی سے لاہور اور پنجاب کے دوسرے مقامات تک پہنچ رہے ہیں لیکن سندھ میں لوگوں کو ”نوائے وقت“ اور شاید پنجاب کے دوسرے اخبارات پڑھنے سے محروم رکھا جارہا ہے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت ، مورخہ ۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
ظفر اللہ خاں کا بیان ...... اداریہ روزنامہ جمہور لاہور
”پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ اور ربوی فرقہ کے انتہائی ممتاز رہنما چوہدری ظفر اللہ خاں کی پریس کانفرنس کی جو رپورٹ لندن کے دو اخبارات میں شائع ہوئی اور جسے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ بی . بی سی نے بھی نشر کیا ہے۔ وہ اگر واقعی درست ہے تو اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ چوہدری صاحب کے بارے میں پہلے ہی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے ایک زمانہ میں یہ فرمایا تھا کہ پاکستان کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قیام ممکن نہیں، پھر انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے جو بیان دیا۔ اس کے بارے میں بھی عام رائے یہی تھی کہ انہوں نے پاکستان کے مؤقف و تقویت پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچایا۔ اب ان سے جو بیان منسوب کیا گیا ہے۔ اس میں چوہدری صاحب نے نہ صرف یہ کہ حکومت پاکستان پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ ایک حالیہ واقعہ کے سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی بلکہ انہوں نے عالمی برادری سے بھی یہ اپیل کی کہ وہ اپنے مبصروں کو پاکستان بھیج کر ربوہ والوں کی حالت کا اندازہ لگائے اور انہیں مدد بھی دے۔ اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو نہ صرف اپنی حکومت پر کوئی اعتماد نہیں بلکہ ان کی اولین وفاداری بھی پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی عدالت انصاف اور دوسرے عالمی اداروں سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی انتہائی غیر دانشمندانہ تجویز سے جہاں دوسرے ملکوں میں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ وہاں چوہدری صاحب کے اپنے فرقہ کے مفاد کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
ربوہ والوں کے بارے میں پہلے ہی یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ربوہ کے سربراہ اور ان کی وکالت تبشیر کے خصوصی تعلقات ہیں۔ چنانچہ جہاں اسرائیل میں دوسرے کسی ملک کا کوئی نمائندہ موجود نہیں، وہاں ربوہ والوں کے مشن کو اسرائیل میں اپنا مشن قائم کرنے کی اجازت دی گئی اور یہ مشن ایک عرصہ سے وہاں کام بھی کر رہا ہے۔ اب چوہدری ظفر اللہ خان نے جو بیان دیا ہے اور اس میں مبینہ طور پر جو الزامات لگائے ہیں۔ ان کی وجہ سے ربوہ والوں کے بارے میں شکوک بڑھیں گے۔ اگر چوہدری صاحب اپنے فرقہ کے واقعی ہمدرد ہوتے تو وہ اس کے لئے مزید مشکلات پیدا نہ کرتے۔ چوہدری صاحب ایک پرانے مدبر ہیں۔ انہیں علم ہونا چاہئے تھا کہ دوسرے ملکوں اور غیر ملکی اداروں کو اپنے ملکی حالات میں مداخلت کی دعوت دینا اپنے ملک کی سالمیت کے تقاضوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ آج ہی ایک مقامی اخبار میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ربوہ میں سیمنٹ کی ایک بڑی دیوار پر جلی حروف میں ایک انگریزی عبارت درج کی گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ”خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے“، ممکن ہے ایسا نعرہ لکھنے والوں کا مفہوم کچھ اور ہی ہو لیکن چوہدری ظفر اللہ خان کے مبینہ بیان کے بعد پاکستانی قوم اس نعرہ کے بارے میں آخر کیا رائے قائم کرے گی اور اس سے کیا مفہوم نکالے گی؟
ہم نے ان کالموں میں ہمیشہ یہی لکھا ہے کہ پاکستان میں ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ ہونا چاہئے اور پچھلے چند دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں، ان سے ہمیں دلی رنج پہنچا ہے۔ چنانچہ ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ حکومت ربوہ والوں کے بارے میں جو فیصلہ بھی کرنا چاہتی ہے، جلد کرے۔ کیونکہ تاخیر سے ملک کے اتحاد و سالمیت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ لیکن ہم ربوہ والوں کو بھی یہ مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بارے میں جمہور مسلمانوں کی بدگمانیاں ختم کریں لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ربوہ کے امام کو ابھی تک ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی مذمت کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی اور دوسرے معاملات کے متعلق بھی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ربوہ والوں کی تنظیم کو ایسے قالب میں ڈھالا گیا ہے، جس کے نتیجہ میں عام مسلمانوں سے ان کا کوئی میل جول نہیں۔
ربوہ میں خوفناک قسم کا معاشی استحصال ”وقف تحریک“ اور ”وقف جدید“ وغیرہ کے ناموں سے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مزدوروں اور کارکنوں کے حقوق کا اتلاف ہوتا ہے۔ ربوہ والوں کو اپنی اس پوزیشن کو بھی واضح کرنا چاہئے کہ اگر وہ خالصتاً مذہبی جماعت ہیں تو انہیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاسی جدوجہد سے کنارہ کش رہنا چاہئے اور اگر وہ سیاسی تنظیم بننا چاہتے ہیں تو وہ کھل کر ایک سیاسی جماعت کی شکل میں سامنے آئیں۔ موجودہ دوغلا پن انہیں ہرگز زیب نہیں دیتا۔ پھر ”خدام الاحمدیہ“ کی تنظیم سے جو ناجائز کام لئے جاتے ہیں، ان کے پیش نظر اس تنظیم کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر عام خیال یہ ہے کہ اشاعت اسلام کے نام پر جو کروڑوں روپیہ جمع ہے۔ اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بھی علم نہیں کہ ربوہ کے سربراہ نے حال ہی میں جو سولہ سالہ تحریک چلائی ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور یہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرمایہ کس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ربوہ والوں کی متعدد دوسری سرگرمیاں بھی محل نظر ہیں اور انہیں اپنی پوزیشن واضح کر کے لوگوں کے شکوک ختم کرنے چاہئیں۔ لیکن اب جو ظفر اللہ نے چنگاری لگائی ہے، اس کے بعد تو معاملہ بڑا ہی سنگین ہو گیا ہے۔ لندن کے اخبار ”ٹیلی گراف“ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ربوہ کا واقعہ وزیر اعظم بھٹو کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سازش معلوم ہوتا ہے اور اس میں غیر ملکی عنصر کا ہاتھ ہے۔ ربوہ کو کم از کم اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد اپنی پوزیشن ضرور واضح کرنی چاہئے۔“
(اداریہ روزنامہ جمہور لاہور، مورخہ ۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
حنیف رامے، ظفر اللہ کو جواب
لاہور : مورخہ ۸؍ جون ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے آج ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پنجاب بھر میں آج مکمل امن وامان رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر اخبارات پر سے سنسر کی تمام پابندیاں ختم کی جارہی ہیں۔ ان تمام گرفتار شدگان کو آج رہا کیا جا رہا ہے جو گزشتہ دس روز میں واقعہ ربوہ کے ضمن میں گرفتار کئے گئے تھے۔ ماسوائے ان لوگوں کے جو سماج دشمن ہیں یا جنہوں نے باقاعدہ غیر قانونی حرکات کا ارتکاب کیا ہے۔ نیز ڈی.جی.پی.آر کے تحت مساجد میں جن اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ وہ بھی واپس لی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دنیا بھر کے مبصرین کو دعوت دی ہے کہ وہ پنجاب میں امن وامان کی کیفیت کو یہاں آ کر دیکھیں اور ان نقصانات کا خود مشاہدہ کریں جو بدامنی کے واقعات کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔ اگر یہ بیرونی مبصرین کسی خاص عینک کے بغیر ان واقعات کا جائزہ لیں گے تو ان پر واضح ہوگا کہ حالات کو انتہائی حزم و احتیاط کے ساتھ سنبھالا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سر ظفر اللہ کو بھی میں یہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ حالات کو بچشم خود دیکھیں۔ وزیر اعلیٰ نے علماء، صحافیوں اور مجموعی طور پر عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دانشمندی ، تحمل اور بردباری کا ثبوت دیا۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہماری پالیسی نے جمہوری اقدار پر مکمل عملدرآمد کیا ہے اور ہم کسی مسئلے سے گریز نہیں کرتے بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا سامنا کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو طوفان اٹھا تھا ، وہ پسپا ہو گیا ہے اور صوبے کی حکومت کے سربراہ کے طور پر میں مسرت سے اعلان کرتا ہوں کہ آج پنجاب کے تمام شہروں اور قصبوں میں امن وامان پوری طرح سے قائم ہو گیا ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں یقیناً ایسے لمحات آئے جو صوبے میں امن وامان کو تشویشناک بنا دیتے۔ جو واقعات پیش آئے اور ان کے پس منظر میں جو عوامل تھے ، وہ لوگوں کے لئے نئے نہ تھے۔ بہت سے لوگوں نے ۱۹۵۳ء میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ایسے واقعات کے نتیجے میں کتنی جانوں کا اتلاف ہوا اور کیا کیا لوٹ مار ہوئی۔ یہ سب اب ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں اس دور کی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔ ہمارے بدقسمت عوام نے دیکھا کہ جس جمہوری عمل سے یہ ملک بنا تھا، وہ تعطل کا شکار ہو گیا اور مارشل لاء نافذ ہوا۔ ایک بار جب جمہوریت کی دیوار میں شگاف ڈالنے کا موقع ملا تو پھر تیرہ برس تک مارشل لاء رہا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب ۲۹؍ مئی کو جب دوبارہ ایسے ہی واقعات رونما ہوئے اور جس مقام سے ان واقعات کی ابتداء ہوئی ، اس سے ۱۹۵۳ء کے مقابلے میں زیادہ اشتعال کا امکان تھا لیکن عوام ، جنہوں نے جمہوریت کے ساتھ ظلم ہوتے دیکھا تھا۔ ملک کو تباہ ہوتے دیکھا تھا اور جن کے سینوں میں شکست کا داغ تازہ تھا ، وہ ۱۹۵۳ء کے بعد کے اکیس برسوں کی مسافت طے کر کے کہیں زیادہ دانشمند ہو چکے تھے ، اس لئے انہوں نے اشتعال کے امکانات کے باوجود مجموعی طور پر صبر و تحمل کا ثبوت دیا۔ علماء یہ جان چکے تھے کہ جس مقصد کے لئے وہ مدت سے جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ جب بھی اس کے لئے تشدد اور قتل وغارت ہوا ، وہ مقصد پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا۔ چنانچہ عوام کے ساتھ علماء نے بھی تحمل کا ثبوت دیا ، جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ میں اخبارات کا بھی شکریہ کرتا ہوں، جنہوں نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان نازک حالات میں اشتعال انگیزی سے مقدور بھر پرہیز کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا میری ابتداء سے ہی یہ روش رہی ہے کہ کسی بھی سیاسی و دینی اور معاشی مسئلہ کو گریز سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنا کرنا چاہئے۔ چنانچہ پنجاب اسمبلی میں اس واقعہ پر تحریک التواء کی جب بوچھاڑ ہوئی تو سپیکر نے انہیں مسترد کر دیا۔ لیکن میں نے کہا کہ یہ واقعی اضطراب کا مسئلہ ہے اور اس کا بہتر ”فورم“ اسمبلی ہے۔ میں نے اسمبلی میں اور پھر وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کیا اور واضح طور پر بتایا گیا کہ عقائد کا جہاں تک تعلق ہے، ہم اکثریت کے ساتھ ہیں اور دستور میں ختم نبوت کے مسئلہ کو واضح تحفظ دیا گیا ہے۔ ختم نبوت کی تشریح عوام الناس اور ان کے علماء کے مطابق کی گئی۔ عوام نے بھی اس صورتحال کا احساس کیا اور ۱۹۵۳ء کے برعکس فسادات سے احتراز کیا۔ لیکن افسوس ہے کہ کوشش کے باوجود ایسے واقعات ہوئے، جو نہ ہوتے تو ہمارا سر فخر سے بلند ہوتا لیکن یہ واقعات بہت معمولی تھے۔ تاہم صوبے کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے ان معمولی واقعات پر شرمساری محسوس ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک تو آج معمولی واقعات کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے واقعات سے ہم اپنی سرحدوں کے آس پاس آباد لوگوں کو ہنسنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے واقعات پر دنیا نے ہمارے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ آسانی کے ساتھ آج کے واقعات کو بھی اسی طرح ہوا دے سکتے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے خواہ یہاں بسنے والی ایک جماعت کی حفاظت کی کتنی بھی کوشش کیوں نہ کی ہو، باہر کی دنیا میں یہ پراپیگنڈا کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ چنانچہ میں ساری دنیا کے مبصروں کو پنجاب کے حالات کے مشاہدہ کی دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایک جماعت کو شکایت ہے کہ ان کی حفاظت نہیں کی گئی۔ دوسری طرف اکثریت کو گلہ ہے کہ سرکاری مشینری ایک اقلیت کی حفاظت پر لگی ہوئی ہے۔ ہم ایک نازک سی لکیر پر کھڑے رہے۔ ہم حالات سے عہدہ برآ ہوئے اور میں انتظامیہ کی کارکردگی پر ان کا شکر گزار ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب انکوائری کر رہے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ربوہ میں سرکاری دفاتر کے عملہ میں توازن قائم ہو رہا ہے اور احمدی ملازمین کی فہرستیں بن رہی ہیں تاکہ ماضی کی عدم مساوات ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج علماء، ائمہ مساجد، صحافیوں اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ لوگ پنجاب میں حالات بگاڑنا نہیں چاہتے۔ اس یقین دہانی کی بناء پر اور حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر میں اعلان کرتا ہوں کہ سنسر اٹھا دیا گیا ہے، لاہور کی مساجد میں اجتماعات کی پابندی ختم کر دی گئی ہے اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ۲۲؍ مئی کو ٹرین کے واقعہ کی احمدی حضرات حکومت کو اطلاع کرتے تو حکومت اقدام کرتی اور واپسی پر ۲۹؍ مئی کو یہ واقعہ نہ ہوتا۔ ربوہ والے کہا کرتے ہیں کہ ایسے واقعات وہاں اسٹیشن پر اکثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز کا معاملہ ہے، پھر صرف پنجاب کا نہیں، دوسرے صوبوں کا بھی ہے۔ پنجاب کی حکومت مرکزی حکومت کو یہ بتا سکتی ہے کہ پنجاب کے عوام احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اشتعال انگیز مضامین کی اشاعت کی اجازت نہیں ہے اور آئندہ ایسی فضاء بنانے کی اجازت نہ ہوگی۔ اس کے لئے پریس کے قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے صحافیوں پر اعتماد ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں گے، تاہم جو حد سے بڑھے گا، اس پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے گرفتار شدگان کی رہائی کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ رہا ہوں گے جو ہنگامے میں یونہی پکڑے گئے ہیں۔
(نوائے وقت مؤرخہ ۱۰؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مرکزی مجلس عمل کی تشکیل
آپ پڑھ چکے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری واقعہ ربوہ سنتے ہی راولپنڈی تشریف لائے تھے۔ وہاں پر حضرات علماء کرام بالخصوص حضرت مفتی محمود سے ملاقات کے بعد آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل کے لئے راولپنڈی میں اجلاس طلب کر لیا تھا۔ لیکن حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مفتی زین العابدین، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف لائل پور سے پنڈی جاتے ہوئے گرفتار ہو گئے۔ پنڈی کا اجلاس عجلت میں طلب کیا گیا تھا۔ اس لئے اس میں فیصلہ ہوا کہ ۹؍ جون کو لاہور میں مجلس عمل کا اجلاس بلایا جائے۔ چنانچہ حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کی بھر پور محنت، آغا شورش کاشمیری، مولانا عبید اللہ انور کی سرپرستی، نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذہانت، احسان الٰہی ظہیر اور سید مظفر علی شمسی کی خطابت نے رنگ دکھایا۔ ۹؍ جون کو اجلاس منعقد ہوا۔ ہزاروں علماء تشریف لائے۔ بحمدہ تعالیٰ فقیر راقم کو اجلاس میں شرکت کا شرف حاصل ہے۔ آج بھی اس جذبہ کی ترجمانی کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ چاروں صوبوں سے آئے ہوئے نمائندگان، جن میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ سبھی شامل تھے۔ ان کا ایک ہی جملہ تھا کہ مجلس عمل حکم دے، ہم جان دے دیں گے یا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے گا۔
شیرانوالہ مسجد کے متصل مدرسہ قاسم العلوم میں میٹنگ تھی۔ ادھر مسجد میں ہزاروں شمع ختم نبوت کے پروانے فیصلہ سننے کے انتظار میں تھے۔ ان کو سنبھالنا ایک مستقل کام تھا۔ تفصیل میں نہیں جاتا، آپ اخبارات کی رپورٹ پڑھیں۔ حضرت بنوری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ اجتماع ”ختم نبوت“ کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دین رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہئے جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں، ان کا مطمح نظر دین ہی ہوگا اور حزب اقتدار وحزب اختلاف کی کشمکش سے بالاتر ہوگا۔ ختم نبوت کی تحریک کا طریق کار نہایت پرامن ہوگا اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لئے اس کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا۔ مظلوم بن کر رہنا ہوگا اور ہمارے مدمقابل صرف مرزائی امت ہوگی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔“
(ماہنامہ بینات رمضان وشوال ۱۳۹۴ھ)
لاہور: مؤرخہ ۹؍ جون۔ علماء ومشائخ اور سیاسی اکابرین کے ایک مشترکہ اجلاس میں آج ”آل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت“ قیام میں نمائندگی کے لئے دو دو نمائندے نامزد کئے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا محمد یوسف بنوری اس تنظیم کے کنوئیر مقرر کئے گئے ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے جن افراد کو نمائندہ نامزد کیا ہے۔ ان میں جماعت اسلامی کے پروفیسر عبدالغفور، چوہدری غلام جیلانی، جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا مفتی محمود، مولانا عبید اللہ انور، جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، قاضی محمد فضل رسول، تنظیم اہل سنت والجماعت کے مولانا نور الحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی، اشاعت توحید وسنت کے مولانا غلام اللہ خاں، سید عنایت اللہ شاہ بخاری، تبلیغی جماعت کے مفتی زین العابدین، مرکزی جماعت اہل سنت کے مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا سید حبیب اللہ، جمعیۃ اہل حدیث کے حافظ عبدالقادر روپڑی، مولانا صدیق، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے سید مظفر علی شمسی، قادیانی محاسبہ کمیٹی کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آغا شورش کاشمیری، مولانا احسان الٰہی ظہیر، نیشنل عوامی پارٹی کے مسٹر ارباب سکندر خان خلیل اور امیر زادہ خاں، مجلس احرار اسلام کے مولانا ابوذر بخاری، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، جمہوری پارٹی کے نوابزادہ نصر اللہ خان، رانا ظفر اللہ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت مولانا خواجہ خان محمد، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم لغاری، قومی اسمبلی کے آزاد رکن مولانا ظفر احمد انصاری اور طلباء کی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۰/جون ۱۹۷۴ء)
مرکزی مجلس عمل کے اجلاس کی کارروائی و فیصلے
لاہور: مورخہ ۹ /جون ۔ ملک کی اٹھارہ دینی وسیاسی جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس آج صبح اندرون شیرانوالہ گیٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے مجلس عمل کے مطالبات جمعرات ۱۳/ جون تک تسلیم نہ کئے تو مطالبات کے ضمن میں ۱۴/جون ۱۹۷۴ء بروز جمعہ ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ علماء، مشائخ اور سیاسی اکابرین کے اس مشترکہ کنونشن میں حالیہ ربوہ اسٹیشن کے واقعہ پر غور کیا گیا اور کل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کنونشن صبح ۱۰/ بجے سے ۳/ بجے سہ پہر تک جاری رہا۔ مجلس عمل کے کنونیئر مولانا محمد یوسف بنوری اور جمعیۃ علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الستار خان نیازی نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں کنونشن کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر اور وزیر اعظم کے حلف کو پیش نظر رکھتے ہوئے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے فوراً ہٹایا جائے۔ کیونکہ اسلام کے نام پر قائم کردہ ملک میں ختم نبوت کے باغی کلیدی آسامیوں پر فائز نہیں رہ سکتے۔ کنونشن نے مطالبہ کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور وہاں جو اراضی موجود ہے۔ اس کو بحق سرکار ضبط شہری آبادکاری کے تحت ربوہ میں پاکستانیوں کو آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔
مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جس میں سلطنت در سلطنت کا نظام موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امیر جماعت احمدیہ مرزا ناصر احمد اور خدام احمدیہ کے ذمہ دار افراد کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ کیونکہ ابھی تک کوئی ذمہ دار فرد گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر مذاکرات کرنا چاہے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ حکومت کو اس امر کا موقع نہ دیا جائے کہ وہ یہ کہے کہ مجلس عمل اپنے مطالبات منوانے کے لئے تشدد پر اتر آئی ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو حکومت کو بھی باغیان ختم نبوت کے زمرہ میں شمار کیا جائے گا اور اس وقت ہم حکومت کے کسی حکم کو ماننے کے پابند نہ ہوں گے۔
مرکزی مجلس عمل
انہوں نے کہا کہ علماء، مشائخ اور سیاسی رہنماؤں کے اس کنونشن میں ایک مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت منتخب کی گئی ہے۔ جس میں ملک کی تمام سیاسی، مذہبی جماعتیں شامل ہیں اور آئندہ کے لئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا اور عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن ملک میں تخریبی کارروائیوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ملک میں ہر قیمت پر امن وامان قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہل قادیانیوں نے کی ہے
انہوں نے کہا کہ ہم نے کنونشن میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سردست ہمارا تصادم حکومت سے نہیں ہے، یہ تو جماعت قادیانی خود ہم سے الجھ پڑی ہے اور ربوہ اسٹیشن پر جو بربریت اور درندگی کا مظاہرہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں ازخود ردعمل کے طور پر کارروائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں بھی جانی نقصان ہوا ہے، وہاں پہل قادیانیوں نے ہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے کیونکہ یہ ملک توحید اور ختم نبوت کے نظریہ پر حاصل کیا گیا ہے اور ختم نبوت پر ایمان دستور کا حصہ ہے۔ اس لئے کسی شخص، فرقہ اور گروہ کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ نظریہ پاکستان یا عقیدۂ توحید کی مخالفت کرے اور اکثریت کی دل آزاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی روز اوّل ہی سے پاکستان کے خلاف ہیں اور انہوں نے علاقہ قادیان کو الگ یونٹ بنوانے کے لئے گورداسپور کو اقلیت میں بدل دیا اور پٹھان کوٹ سے کشمیر کا راستہ بھارت کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی آج بھی کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان ایک ہو جائیں۔ مرزا بشیر الدین محمود کو ربوہ میں امانتاً دفن کیا گیا ہے اور ان کی وصیت ہے کہ ان کو قادیان میں دفن کیا جائے۔
مؤتمر عالم اسلامی مکہ کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ: ”مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس مکہ میں سو ممالک کے نمائندوں نے مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیا جائے۔“ انہوں نے کہا کہ اگر اہل اسلام حکومت سے مطالبہ کریں کہ صدر اور وزیراعظم کے حلف کے تحفظ کی خاطر قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے تو ہمارا یہ مطالبہ مذہبی جنون یا ملائیت کی تنگ نظری نہیں۔ ہمارے سامنے اس ضمن میں چینی اور روسی کمیونسٹوں کی مثال موجود ہے۔ انہوں نے سر ظفر اللہ کی حالیہ پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کی عدلیہ اور انتظامیہ سے بالا بالا ایک داخلی مسئلہ کے ضمن میں عالمی رائے عامہ کو مداخلت کی دعوت دے رہا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی گروہ ہے۔ ان حالات میں ایک ایسے گروہ کو، جس کی وفاداری بھی مشکوک ہے، کنونشن یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
مجلس عمل کے جن فیصلوں کا پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا وہ آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ مجلس عمل کے اجلاس سے فارغ ہوتے ہی آغا شورش کاشمیری، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالستار خان نیازی، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت شیخ بنوری باہر مسجد میں تشریف لائے تو ملک کے کارکنوں کو تین ہدایات فرمائیں۔
- ۱...... ہمارا دشمن صرف قادیانی ہے۔ اس کا خیال رکھیں۔ حکومت سے تصادم نہ ہونے پائے۔
- ۲...... قادیانیوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے۔
- ۳...... ۱۴؍ جون کو ہڑتال کو کامیاب بنایا جائے۔
اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ ملک بھر میں ایک منظم کوشش شروع ہوگئی۔ اب دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث کا سوال نہ رہا۔ تیرے دربار میں پہنچے تو سب ایک ہوئے۔ ملک بھر میں اب مجلس عمل کی شاخیں قائم ہونی شروع ہوگئیں۔ قیادت کے اتحاد نے تمام حضرات کو ہر جگہ اکٹھا کر دیا۔ ملک بھر میں قادیانیوں کا بائیکاٹ شروع ہوگیا۔ ہر قادیانی دوکان پر پکٹنگ لگائی گئی۔ ہر مسجد و مدرسہ کا عالم دین ختم نبوت کا علم لے کر میدان عمل میں آ گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال رہی
اوکاڑہ: مؤرخہ ۹؍جون۔ ربوہ کے واقعہ کے خلاف آج اوکاڑہ شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام صنعتی اور تجارتی ادارے بند رہے۔ گزشتہ روز بعد نماز عشاء تمام مذہبی اور تجارتی انجمنوں کے اجلاس کے فیصلہ کے مطابق آج ہڑتال کی گئی۔ یکم؍جون کو بھی ہڑتال کی گئی اور جلوس نکالے گئے تھے۔ ہر روز بعد نماز عشاء شہر کی ہر مسجد میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے حق میں احتجاجات ہورہے ہیں۔ شہر کے بیشتر قادیانی خاندانوں نے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ہے۔ گزشتہ رات تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے جلسہ میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹا دیا جائے۔
ہارون آباد میں ہڑتال
ہارون آباد: مؤرخہ ۹؍جون۔ یہاں پر چار روز کے مسلسل مظاہروں اور ہنگاموں کے بعد اب صورتحال معمول پر آگئی ہے۔ ہارون آباد کی تمام سیاسی، سماجی، مذہبی، طالب علم اور مزدور تنظیموں پر مشتمل مجلس عمل نے اعلان کیا ہے کہ اس دوران گرفتار کئے جانے والے طلباء اور شہریوں کی رہائی اور ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی واپسی تک شہر میں پرامن ہڑتال رہے گی۔ واضح رہے کہ پولیس نے مقامی ڈگری کالج کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری محمد ارشاد خان قمر سمیت پندرہ افراد کو گرفتار کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم رہنما رؤف طاہر کے خلاف دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور اشتعال انگیز تقاریر کے الزامات میں ایک اور مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ساہیوال
ساہیوال: مؤرخہ ۹؍جون۔ مجلس عمل ساہیوال کے اجلاس میں ظفراللہ کے بیان کی مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
ازالہ غلط فہمی
’’عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمارا یا ہمارے اہل خانہ کا قادیانی جماعت سے یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
مسعود احمد، شاہد احمد کمرشل آٹو کارپوریشن، ۶۱۔ اے میکلوڈ روڈ لاہور (ایک اشتہار)
میں سنی العقیدہ مسلمان ہوں
گوجرانوالہ: مؤرخہ ۹؍جون۔ ’’پیپلز پارٹی سٹی گوجرانوالہ کے سابق نائب صدر اور پیپلز لیبر فیڈریشن کے صدر شیخ ایزد مسعود ایڈووکیٹ نے ایک وضاحتی بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے سیاسی مخالفین نے ان کے خلاف یہ شرانگیز افواہ پھیلادی ہے کہ میں مرزائی ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرا مرزائیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ایک سنی العقیدہ مسلمان ہوں اور ختم نبوت پر میرا ایمان ہے۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوہدری حفیظ اللہ چیمہ رکن قومی اسمبلی کا بیان
سرگودھا: مؤرخہ ۹؍ جون۔ قومی اسمبلی کے رکن چوہدری حفیظ اللہ چیمہ نے ایک پریس کانفرنس میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہ کر دشمن کی یہ سازش ناکام بنادیں کہ ملک میں خانہ جنگی اور انتشار پیدا کر کے اسے ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک خالص اسلامی ہے اور اس کا آئین اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا سربراہ صرف ختم نبوت پر دل سے یقین رکھنے والا ہی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرقہ مستقل آئین کو پسند نہیں کرتا، لیکن حکومت اس کی پرواہ نہیں کرتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انکوائری کمیشن کامیابی سے اپنا کام ختم کر لے گا، جس کی روشنی میں حکومت صحیح فیصلہ کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ بدامنی کو برداشت نہیں کرے گی اور انتشار ختم کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ املاک کا نقصان ملک و قوم کا نقصان ہے۔ جس سے بچنا ہر محبّ وطن شہری کا فرض ہے۔
گوجرانوالہ کی صورتحال
گوجرانوالہ: مؤرخہ ۹؍ جون۔ گوجرانوالہ میں یکم اور ۲؍ جون کے ہنگاموں کے بعد حالات بالکل پرسکون ہیں۔ تاہم وفاقی پولیس اور سٹی پولیس کے دستے دن اور رات کو مسلسل گشت کر رہے ہیں اور شہر میں گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ لیکن کئی افراد جو ہنگاموں کے الزام میں گرفتار کئے گئے تھے، پیپلز پارٹی اور اہم افراد کی سفارش پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ سٹی پولیس نے کئی ایسے افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جن کا ہنگاموں سے کوئی تعلق نہیں۔ رات کو گشت کرنے والے سٹی پولیس کے دستے عوام کو ہراساں کر رہے ہیں اور کئی افراد کے ساتھ زیادتی بھی کر چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر، سپرنٹنڈنٹ پولیس کے علاوہ عدلیہ اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ضلع کے اہم مقامات کا روزانہ دورہ کر رہے ہیں اور ضلع میں امن وامان بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ شہریوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو سینماؤں کا آخری شو بند کرا دیا جائے اور دوکانداروں کو سرشام دوکانیں بند کرنے کا حکم دے دیا جائے۔ وگرنہ پولیس کو ہدایات کر دی جائیں کہ وہ رات کو گشت کے دوران عوام کو پریشان نہ کرے۔
عارف والا میں ہڑتال
عارف والا: مؤرخہ ۹؍ جون۔ گزشتہ روز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس صوفی محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں قبولہ اور عارف والا کی ممتاز سیاسی و دینی شخصیتوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں آج عارف والا اور قبولہ میں مکمل ہڑتال تھی۔ فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس شہر میں گشت کر رہی ہے۔ اس سے قبل شہر میں دو دن تک مکمل ہڑتال ہو چکی ہے۔ مجلس عمل ختم نبوت کے اجلاس میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔
اوکاڑہ میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام
اوکاڑہ: مؤرخہ ۹؍ جون آج یہاں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے صدر امیر حسین گیلانی (جمعیتہ علمائے اسلام)، جنرل سیکرٹری مولانا منیر الزمان (جمعیتہ علمائے پاکستان)، سیکرٹری ڈاکٹر ذاکر حسین (جماعت اسلامی) اور نائب صدر مولانا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذکاء اللہ (جمعیۃ اہل حدیث) منتخب ہوئے۔ اراکین میں شیخ بشیر احمد رضوانی، میاں عبدالعزیز، حاجی فضل حق، شیخ محمد صدیق، حاجی سراج دین اور میاں محمد رمضان شامل ہیں۔
جاوید ہاشمی رہا
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون۔ حکومت پنجاب نے طالب علم لیڈر اور پنجاب یونیورسٹی یونین کے سابق صدر مسٹر جاوید ہاشمی کو رہا کر دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ اور دوسرے طالب علم لیڈروں کو بھی آج رہا کر دیا گیا ہے۔ جنہیں ہنگاموں کی وجہ سے گزشتہ جمعہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
نشتر کالج کے زخمی طلباء کو لاہور جانے سے روک دیا گیا
ملتان: مؤرخہ ۹/ جون۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے سابق جنرل سیکرٹری میاں احسان باری اور طالب علم رہنما محمد امین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ آج ضلعی انتظامیہ نے نشتر کالج کے زخمی طلباء کو عدالت میں بیان دینے کے لئے لاہور جانے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نشتر کالج کے زخمی طلباء نے ربوہ کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے روبرو بیان دینے کے لئے تیزرو ایکسپریس کے ذریعے لاہور روانہ ہونا تھا۔ لیکن طلباء کی روانگی سے قبل اسسٹنٹ کمشنر ملتان سید عبدالحکیم اور ایس. ایس. پی ملتان کی قیادت میں پولیس کی بھاری تعداد نے فرسٹ سرجیکل وارڈ میں داخل ہو کر زخمی طلباء کو گھیر لیا اور ان سے کہا کہ وہ لاہور نہیں جاسکتے کیونکہ اس سے مزید اشتعال پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ نشتر کالج یونین کے صدر ارباب عالم خان پولیس کو دیکھ کر بیہوش ہو گئے۔ طالب علم رہنماؤں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملتان کی ضلعی انتظامیہ کے اس رویے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔
ممتاز دولتانہ کا بیان
لندن: مؤرخہ ۹/ جون۔ بی. بی. سی کے نامہ نگار نے برطانیہ میں قادیانی فرقے کے امیر سر ظفر اللہ خان اور پاکستانی سفیر میاں ممتاز محمد خان دولتانہ سے ملاقاتوں کے بعد یہ تاثر بیان کیا ہے کہ عام پاکستانیوں کی رائے میں اگر ۱۹۴۷ء میں قادیانی ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا موقف پیش نہ کرتے تو پنجاب تقسیم نہ ہوتا۔ نامہ نگار کے مطابق اس وقت پنجاب میں امن ہے مگر لوگوں کا یہ مطالبہ موجود ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ قادیانی خود کو عام مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں۔ وہ (عقیدے کی رو سے) جہاد ترک کر چکے ہیں۔ جب کہ عام مسلمان جہاد پر عقیدہ رکھتے ہیں۔
تحریک استقلال کی نمائندگی
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون۔ ممتاز قانون دان ایم انور تحریک استقلال کے نمائندے کی حیثیت سے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس بات کا اعلان تحریک استقلال کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔
بی. بی. سی لندن کا نشریہ
لندن: مؤرخہ ۹/ جون۔ (بی. بی. سی) گزشتہ رات خبروں کے بعد بی. بی. سی نے پاکستان کے احمدیہ فرقہ کے بارے میں ایک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خصوصی پروگرام نشر کیا۔ بی۔بی۔سی کے تبصرہ نگار نے بتایا کہ پاکستان میں اس فرقہ کے خلاف تحریک جاری ہے اور علماء کا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ تبصرہ نگار کے مطابق مشرقی پنجاب بھارت کے ایک قصبہ قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا جس سے ہندوستان کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ مسلمانوں کا مؤقف یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس وقت وہاں برطانوی حکومت قائم تھی جس کے تحت ہر فرقہ کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی پوری آزادی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کے علاوہ بھارت میں جہاد کو منسوخ قرار دے دیا تھا۔ چنانچہ انگریزوں کے مفاد کی بروقت حمایت کے سبب اس فرقہ کو گزند نہ پہنچا۔
جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان بنا تو اس فرقہ کا مرکز تو قادیان ہی میں رہا۔ مگر پاکستان میں اس نے ایک نیا شہر آباد کیا۔ پاکستان کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا اور خواجہ ناظم الدین (سابق وزیراعظم) کے دور میں وزیر خارجہ سر محمد ظفر اللہ خان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا اور ۱۹۵۳ء میں اس نے سنگین صورت اختیار کی۔ حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جس نے قادیانیوں کے خلاف ۱۹۵۳ء کی تحریک پر مفصل دستاویزات تیار کی۔ اس کے بعد حالات قدرے رو بہ اعتدال آتے رہے۔ لیکن اب ریلوے اسٹیشن کے واقعہ سے پورے ملک میں پھر تحریک پیدا ہو گئی ہے اور آج بھی پاکستان کے تمام علماء متفقہ طور پر مطالبہ کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔
وزیراعظم بھٹو نے ملک کو جو نیا آئین دیا ہے، اس میں ملک کے صدر اور وزیراعظم کے لئے مسلمان ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس آئین میں کوئی ایسی بات نہیں جس میں کسی اقلیت کو کلیدی آسامیوں پر تعینات کرنے کی ممانعت ہو۔
آغا شورش کاشمیری کا بیان
لاہور: مورخہ ۹ ؍ جون۔ آغا شورش کاشمیری ایڈیٹر ”چٹان“ رکن انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ اینڈ کامن ویلتھ پریس یونین نے ایک بیان میں سر ظفر اللہ خان کے اس بیان پر نکتہ چینی کی ہے جو انہوں نے لندن میں دیا تھا اور کہا کہ ظفر اللہ خان کا یہ بیان طرفدارانہ اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قادیانی اپنے عقائد کے مطابق ایک الگ مذہبی فرقہ ہیں جو مسلمانوں کی اکثریت کو کافر خیال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ شادی بیاہ تک نہیں کرتے۔ انہوں نے ربوہ میں ریاست در ریاست بنا رکھا ہے اور فریب کاری سے وہ معاشی، انتظامی اور دفاعی کلیدی آسامیوں پر قابض ہیں۔
حال ہی میں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر پانچ ہزار مسلح قادیانیوں کا ایک گاڑی پر حملہ، جس میں میڈیکل کالج کے مسلمان طلباء تھے۔ ایک سوچا سمجھا جارحانہ منصوبہ تھا، جس کا مقصد حکومت کی قوت کو آزمانا اور عوام کے ردعمل کا اندازہ لگانا تھا۔ سر ظفر اللہ کے تعصب کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے قائداعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی کہ ان کے نزدیک پاکستان کے خالق قائداعظم مسلمان نہیں تھے۔ آغا صاحب نے مزید کہا کہ قادیانیوں کا پاکستان پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ یہ لوگ غیر ملکی طاقت کے فعال ایجنٹ ہیں۔ دنیا کو سر ظفر اللہ خان کی حرکتوں سے باخبر رہنا چاہئے۔ کیونکہ وہ بین الاقوامی مقام اور پوزیشن کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ شورش کاشمیری نے بی۔بی۔سی کے نامہ نگار کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آئیں اور اپنی آنکھوں سے تمام صورتحال کا خود مشاہدہ کر لیں۔ کیونکہ حکومت نے انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کو کہا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علامہ احسان الہی ظہیر کا بیان
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون۔ تحریک استقلال کے رہنما علامہ احسان الہی ظہیر نے ایک بیان میں عالمی عدالت کے سابق جج اور قادیانی جماعت کے رہنما محمد ظفر اللہ خان کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ظفر اللہ نے لندن میں اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں غیر ملکی پریس کو پاکستان آنے کی دعوت دے کر وہی کردار ادا کیا ہے، جو بھارت اور اس کے ایجنٹوں نے مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران ادا کیا تھا اور یہ کردار محب وطن افراد انجام نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی بار شیعہ سنی فساد ہوئے۔ راولپنڈی میں متحدہ جمہوری محاذ کے جلسہ پر گولیاں برسائی گئی تھیں، تحریک استقلال کے جلسے اکھاڑے گئے۔ لیکن کبھی کسی سیاسی رہنما نے غیر ملکی مبصروں کو پاکستان آنے کی دعوت نہ دی۔ علامہ احسان الہی ظہیر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قادیانی فرقہ کی ریشہ دوانیوں کا سختی سے نوٹس لے اور انہیں فی الفور اقلیت قرار دے۔
فرید پراچہ کا بیان
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون لاہور۔ سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین مسٹر فرید پراچہ، سیکرٹری مسٹر نعیم سرویا، انجینئرنگ یونیورسٹی کے سیکرٹری جنرل اکمل جاوید نے ایک مشترکہ پریس میں کہا ہے کہ طلباء نے ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھر تحریک ختم نبوت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء نے جو تحریک ختم نبوت کے ضمن میں چلائی ہے۔ منزل کے حصول تک جاری رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔ کیونکہ یہ واقعہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سر ظفر اللہ نے برطانیہ میں پریس کانفرنس کر کے قوم کی توہین کی ہے۔ ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے اور انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلباء کے مطالبات چار دن میں تسلیم نہ کئے گئے تو طلباء ۱۴/ جون جمعہ سے ملک گیر ہڑتال کریں گے۔
پنجاب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کل ۱۰/ جون کو سر ظفر اللہ کے خلاف زیر دفعہ ۱۴۴۔الف اور ۱۲۱۔ت۔پ کے تحت عدالت میں مقدمہ دائر کرے گی۔ یونین کی ایک پریس ریلیز کے مطابق یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ سر محمد ظفر اللہ کے حالیہ باغیانہ بیان، جو انہوں نے لندن میں دیا ہے، اس کے خلاف ان پر مقدمہ دائر کیا جائے۔ یونین کے عہدیداران نے اس ضمن میں ملک کے ماہرین قانون سے رابطہ قائم کیا ہے اور کل مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یونین کے صدر مسٹر فرید پراچہ اور سیکرٹری جنرل مسٹر عبدالشکور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سر محمد ظفر اللہ کو ان کی مشکوک سرگرمیوں اور سالمیت پاکستان کے خلاف بیان دینے کی وجہ سے فوراً گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سر محمد ظفر اللہ کی بھارت میں خفیہ آمد و رفت اس بات کی واضح شہادت ہے کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں اور ان کے حالیہ بیان سے صورتحال پوری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔
بھٹو صاحب مسئلہ حل کریں گے (صوبائی وزیر صادق ملہی)
لاہور: مؤرخہ ۹/ جون۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر محمد صادق ملہی نے کہا ہے کہ سانحہ ربوہ کے سلسلے میں جو افراد مجرمانہ کارروائیوں کے مرتکب ہوئے۔ ان کے ساتھ ہرگز کوئی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔ خواہ ان کی حیثیت کتنی بڑی کیوں نہ ہو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
اور ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ عوام کو صمدانی ٹربیونل کی تحقیقاتی رپورٹ کا صبر سے انتظار کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر ملہی نے یہ اعلان خانیوال کے نزدیک عبدالحکیم میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کی حکومت ختم نبوت کے عقیدے پر پورا ایمان رکھتی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ پہلی مرتبہ آئین میں شامل کیا گیا ہے، اس لئے لوگوں کو وزیر اعظم بھٹو پر اعتماد کرنا چاہئے جو اس مسئلے کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق حل کریں گے۔ انہوں نے عوام سے متحد ہو جانے کی اپیل کی تاکہ وہ دشمنان پاکستان کی سازشوں کو ملیا میٹ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں اندرونی اتحاد اور نظم و ضبط قائم رکھنا چاہئے اور بے لوث ہو کر خدمت خلق کرنی چاہئے۔
بورے والا میں ۵ روزہ ہڑتال ختم ہو گئی
بورے والا : مورخہ ۹ /جون۔ بورے والا میں ۵ روزہ مکمل ہڑتال آج ختم ہو گئی۔ ہڑتال امن کمیٹی کی مداخلت پر ختم کی گئی۔ بتایا گیا ہے مقامی انتظامیہ اور امن کمیٹی کے سربراہ سید شاہد مہدی اور دیگر ارکان کے مابین اس یقین دہانی پر کہ قادیانیوں کے خلاف تحریک کے دوران گرفتار کئے جانے والے ۴۶ /افراد کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ مقدمات واپس لے لئے جائیں اور کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کی جائے۔ شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ معطل ہونے والے افسروں کو بحال کیا جائے۔ کیونکہ ان دونوں حضرات نے امن و امان بحال رکھنے کے لئے کسی قسم کی کارروائی نہ کی۔ شہریوں نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ یہ خبر غلط ہے کہ ہڑتال کے روز دونوں افسران کسی کے گھر کھانا کھا رہے تھے۔
مرزا ناصر واشنگٹن سے
واشنگٹن : مورخہ ۹ /جون۔ (آل انڈیا ریڈیو) قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے حکومت پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ قادیانیوں کے خلاف تشدد کے رجحان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ قادیانیوں کی املاک کو آگ لگائی گئی اور انہیں لوٹا گیا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ مرزا ناصر احمد سے یہ انٹرویو اے۔ پی۔ اے کے نمائندے نے پاپائے اعظم کی مملکت وٹیکن کی طرز پر خودساختہ ریاست ربوہ میں لیا تھا۔ مرزا ناصر احمد نے اس انٹرویو میں کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ گڑبڑ کا مقصد احمدی فرقہ کو تباہ کرنا ہے۔ ان کے فرقے کے لوگوں نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ جس وقت ان کی جائیدادوں کو لوٹا اور جلایا جا رہا تھا تو وفاقی پولیس تماشائی بنی ہوئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر بھٹو کی پیپلز پارٹی نے یہ فسادات خود کرائے ہیں تا کہ وہ انتہاء پسندوں کی حمایت کر کے اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو بحال کر سکے۔ مرزا ناصر نے کہا کہ قادیانیوں کو خواہ قتل ہی کیوں نہ کر دیا جائے ، وہ اپنے مسلک اور عقیدے پر قائم رہیں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر
ملتان : مورخہ ۹ /جون۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے مرزائی فرقہ کے ایک لیڈر مسٹر ظفر اللہ خان کے اس بیان پر شدید نکتہ چینی کی ہے جس میں انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان میں ان کے فرقہ کے لوگوں پر مبینہ ظلم و تشدد کے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے مبصرین پاکستان بھیجیں۔ مسٹر ظفر اللہ خان نے یہ بیان لندن میں ایک پریس کانفرنس میں دیا تھا اور بی۔بی۔سی اور آل انڈیا ریڈیو نے اسے نشر کیا تھا۔ یہاں اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے میاں طفیل محمد نے کہا کہ جو بیرونی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طاقتیں پاکستان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں، وہ بچے کھچے پاکستان کو بھی تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا اس وقت صیہونی اور دوسری پاکستان دشمن طاقتوں نے اپنے ایجنٹوں اور ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا تیز تر کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ مکہ میں مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں ایک بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرائے گی۔ اجلاس سے مولانا جان محمد عباسی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے بھی مسٹر ظفر اللہ خان کے بیان پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ بیرونی مداخلت کو دعوت دے کر ظفر اللہ خان نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دی ہے۔
ممتاز قانون دان مسٹر ایم۔ انور بار ایٹ لاء نے بھی لاہور میں ایک بیان میں سر ظفر اللہ کی لندن کی پریس کانفرنس پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر ظفر اللہ نے عالمی اداروں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے نمائندے بھیجیں تاکہ ان کے فرقہ پر ہونے والے نام نہاد مظالم کا جائزہ لیا جا سکے۔ ایم۔ انور نے کہا کہ سر ظفر اللہ کی طرف سے یہ مطالبہ کرنے کی جسارت ناقابل معافی ہے۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور فوراً کوئی کارروائی کرنی چاہئے۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس مخصوص فرقے کے بہت زیادہ افراد بڑے بڑے ذمہ دار عہدوں پر فائز ہیں۔ اب اس تعیش کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو پہلے ہی ایسے افراد کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس روایت کو ختم کر دیا جائے۔
مردان میں جلوس پر قادیانی فائرنگ، سات افراد کی ہلاکت
مردان: مؤرخہ ۱۰؍ جون۔ یہاں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے خلاف جلوس نکالا گیا۔ جلوس میں قادیانیوں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے اس سلسلہ میں تین قادیانیوں ہاشم علی، سعید احمد اور رشید احمد کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے مختلف مقامات پر قادیانیوں کی دوکانیں نذر آتش کر دیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق قصبہ ٹوپی میں بھی دو فرقوں میں فائرنگ سے چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ صوبائی گورنر نے لڑائی کی جگہ کا معائنہ کیا۔
میں سنی العقیدہ مسلمان ہوں
لاہور: مؤرخہ ۹؍ جون۔ ”میو ہسپتال کے ڈسپنسری سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبد الغفور قمر نے اس امر کی تردید کی ہے کہ ان کا تعلق مرزائیوں یا قادیانیوں کی جماعت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سنی العقیدہ خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ۔“
ظفر اللہ کا لندن پلان
کھولی ہے اپنی ٹانگ تو لاجوں بھی خود مریں جتنے مقام عز و شرف کے تھے کھو دیئے
(وقار انبالوی)
وزیر اعظم بھٹو آخرت کمالیں ...... اداریہ نوائے وقت
”وزیر اعلیٰ پنجاب جناب حنیف رامے نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صوبہ بھر میں امن و امان قائم ہو گیا ہے۔ چنانچہ حکومت نے اخبارات پر سے سنسر اور مساجد میں اجتماع پر سے عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں اور واقعہ ربوہ کے ردعمل کے بعد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتار شدگان کو رہا کیا جا رہا ہے۔ رامے صاحب نے علمائے کرام، عوام اور اخبارات کا بھی شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے ختم نبوت کے سلسلے میں پنجاب کے سواد اعظم کے جذبات سے مرکز کو آگاہ کر دیا ہے اور اس مسئلہ کا کوئی دیر پا حل سوچا جا رہا ہے۔ چنانچہ لاہور کے اہل فکر حضرات سے ملنے اور اس ضمن میں مشورہ کرنے کے لئے وزیر اعظم بھٹو پیر کو صوبائی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت حادثہ ربوہ کی شرارت کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف پولیس مصروف تفتیش ہے۔ ہائیکورٹ کے ایک معزز جج نے انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔
حادثہ ربوہ کے ردعمل پر بھی صوبائی حکومت نے قابو پالیا ہے اور اس کی وجہ وزیر اعلیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اخبارات، علماء کرام اور بالخصوص عوام نے تعاون کے جذبے اور شدید اور بھڑکے ہوئے جذبات کے باوجود صبر و تحمل سے کام لیا ہے۔
فریق ثانی کا رویہ یہ ہے کہ تا دم تحریر حادثہ ربوہ کی اس کی طرف سے مذمت نہیں کی گئی۔ سرظفراللہ ایسی شخصیت نے لندن میں ایک یک طرفہ شرانگیز بیان دے کر پاکستان کے بارے میں اپنے خبث باطن کو ظاہر کر دیا ہے۔ اگر قادیانیوں نے یا ان کی طرف سے سرظفراللہ نے اپنی جماعت کے لئے پاکستان کی بجائے کوئی اور پناہ گاہ چن لی ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں یہ انتخاب مبارک کرے۔ مسلمانان پاکستان نے اس سلسلے میں جس صبر و ضبط کا گزشتہ ۲۷ سال میں مظاہرہ کیا ہے، قادیانی حضرات ان سے اس سے زیادہ قربانی کی امید نہ رکھیں۔ ان کے رویے کی وجہ سے پاکستان کا امن دوبارہ سخت خطرے سے دوچار ہو چکا ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ دور غلامی کی یادگار ہیں۔ کسی آزاد اسلامی مملکت میں یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ مسلمان تو خدا کی خدائی کا بھی سیدنا محمد ﷺ کی ختم المرسلینی کی وجہ سے قائل ہے۔
گزشتہ ایام میں ہمیں قادیانیوں کے لاہوری فرقہ کے کئی بزرگوں کے خطوط اور فون موصول ہوئے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ وہ اس فرقہ یعنی قادیانی حضرات سے الگ ہیں اور جناب مرزا غلام احمد کو نبی نہیں، صرف مجدد مانتے ہیں۔ ہمارے کالم حاضر ہیں، وہ جو کہنا چاہتے ہیں لکھ بھیجیں۔ اشتہار چھپوائیں، پوسٹر چھپوائیں اور اپنے مسلک کا اعلان کریں لیکن ہم ان سے اتنا ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کا دعویدار ہو۔ رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین ماننے کے بعد ...... اسے مجدد ماننا بھی کہاں تک مناسب ہے۔ توحید اور ختم نبوت اسلام کے دو بنیادی عقیدے اور ستون ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ ملت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش ہے اور اس سے اتحاد کا تحفظ وطن عزیز کی جغرافیائی حدود کی حفاظت سے بھی زیادہ لازمی ہے۔ اسی لئے حضرت علامہ اقبال نے بھی حضور ﷺ کے بعد کسی کی نبوت کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیا تھا۔ بہرحال یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔ ہم وزیر اعظم بھٹو سے یہی عرض کریں گے کہ وہ اپنی روایتی جرأت رندانہ سے کام لے کر ایک فانی انسان کی تمام کمزوریوں کے باوجود سیدنا صدیق اکبرؓ کے ایک ادنیٰ غلام کی حیثیت میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آخرت کما لیں۔ دین کے ساتھ انہیں دنیا بھی مل جائے گی۔‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۰؍ جون ۱۹۷۴ء)
نوائے وقت کا سرراہے
’’ہمارے قارئین کرام پر بخوبی روشن ہے کہ ’’نوائے وقت‘‘ نے نہ تو پیپلز پارٹی کو کبھی تنقید سے بالا سمجھا ہے، نہ اس کی ہیئت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقتدرہ کو۔ جہاں کہیں ارباب حکومت کے کسی اقدام یا ارشاد کو ہم نے ملکی وقومی مصالح کے خلاف دیکھا، تنقید کا حق بھی ادا کیا اور طنز و تعریض میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ربوہ کے واقعہ پر ہماری پالیسی بالکل واضح اور عیاں رہی ہے اور قادیانی جماعت کے بارے میں ہمارا رویہ بالکل اسلام کے سواد اعظم کے خیال وعقائد کے مطابق ہے لیکن اس ضمن میں ہم جناب نوابزادہ نصراللہ خاں (جمہوری پارٹی کے سربراہ) کی یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ ربوہ کی مذمت نہیں کی۔ دونوں حضرات کی تقریریں اخبارات میں آچکی ہیں اور دونوں میں اس واقعہ ہائلہ کی مذمت موجود ہے۔ البتہ نوابزادہ صاحب اور ان دونوں بزرگوں کے نقطۂ نگاہ میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف اتنا کہ ان دونوں کی تقریروں میں کرسی نشین ہونے کی وجہ سے امن کی ذمہ داری کا احساس بھی موجود ہے۔
لفظی مذمت کے ساتھ ساتھ یہ بھی تو دیکھئے اور سوچئے کہ قادیانی جماعت کے امیر کو پولیس نے یونہی شامل تفتیش کر لیا اور کیا اس امیر کی طرف سے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری محض حزب اختلاف کے خوف کی وجہ سے دی گئی؟ یہ عملی مذمت کیا ہزار لفظی مذمتوں پر بھاری نہیں ہے۔ پھر نوابزادہ صاحب نے جناب مفتی محمود کا وہ تازہ بیان ملاحظہ فرمایا ہوگا، جس میں انہوں نے لاہور میں علمائے دین اور مشائخ کرام کی مشترکہ مجلس کے انعقاد کا ذکر فرماتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس اجلاس کے سلسلہ میں خان عبدالولی خان سے بھی رابطہ قائم کیا جا رہا ہے اور تحریک استقلال سے بھی تعاون کی اپیل کی جارہی ہے۔ اب نوابزادہ صاحب خود ہی خدا لگتی کہیں کہ یہ دونوں حضرات علمائے دین میں کب شامل ہوئے؟ اور ان کا شمار کون سے مشائخ کرام میں ہوتا ہے۔
نوابزادہ صاحب نے یقیناً یہ خبر پڑھی ہوگی کہ قادیانی جھگڑے کو ہمیشہ کے لئے طے کرنے کی غرض سے بعض خاص اقدامات بھی ہیئت مقتدرہ کے زیر غور ہیں۔ اس لئے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ انتظار کر لیا جائے، اس بات کا کہ عدالتی تحقیقات کا نتیجہ کیا سامنے آتا ہے اور ارباب اقتدار اس ضمن میں اپنا فرض کس طرح ادا کرتے ہیں؟‘‘ آج کی تمام خبریں ’’نوائے وقت‘‘ لاہور اور ’’امروز‘‘ ملتان مورخہ ۱۰؍ جون سے لی گئی ہیں۔
۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
نشتر کے طلباء کا استقبال
لاہور : مورخہ ۱۰؍ جون ۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ نے طلباء سے اپیل کی ہے کہ ملتان نشتر میڈیکل کالج کے زخمی طالب علموں کا شایان شان استقبال کیا جائے، جو کل صبح غزالہ ایکسپریس پر لاہور پہنچ رہے ہیں۔ نشتر میڈیکل کالج کے یہ طلباء عدالت میں اپنا بیان دینے کے لئے آرہے ہیں۔
ہزاروی گروپ مجلس عمل کے شانہ بشانہ
لاہور : جمعیتہ علمائے اسلام ہزاروی گروپ پنجاب کے کنوینئر مولانا محمد ضیاء القاسمی نے کہا ہے کہ مختلف دینی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں نے لاہور میں جو متحدہ مجلس عمل قائم کی ہے۔ میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا جمعیتہ علمائے اسلام مجلس عمل کی آئینی تحریک میں مسئلہ ختم نبوت حل کرنے کے لئے پورا تعاون کرے گی ۔ انہوں نے جمعیتہ کے کارکنوں کو کہا: ہدایت ہے کہ وہ پنجاب میں ہر جگہ مجلس عمل سے تعاون کریں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بوریوالہ میں ساتویں روز بھی ہڑتال جاری رہی
بوریوالہ میں آج ساتویں روز بھی ہڑتال رہے گی۔ یہ فیصلہ کل اس اجلاس میں کیا گیا جو جامع مسجد میں منعقد ہوا تھا۔ شہریوں کی بھاری تعداد نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک گرفتار شدگان کو رہا اور مقدمات واپس نہ لئے جائیں گے، اس وقت تک ہڑتال جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ پولیس نے پچھلے دنوں گڑ بڑ کے سلسلے میں بوریوالہ میں تقریباً ۷۰ افراد گرفتار کر لئے تھے۔ بوریوالہ میں دفعہ ۱۴۴ کے پیش نظر پولیس نے تمام مسجدوں میں سپیکر بند کرنے اور خطبہ نہ دینے کی ہدایات بھی بھیجیں۔ پولیس کے اعلان کے مطابق کوئی خطیب سوائے عربی خطبہ کے کچھ اور کہنے کا مجاز نہیں۔ لوگوں نے اس اعلان کی مذمت کی ہے۔ چنانچہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔
- ۱...... گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور مقدمات واپس لئے جائیں۔
- ۲...... قادیانیوں کو اقلیتی فرقہ قرار دیا جائے۔
- ۳...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
- ۴...... قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر وہاڑی اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو جنہیں حالیہ ہنگاموں میں ذاتی رنجش کی
بناء پر جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا، انہیں ان کے عہدوں پر بحال کیا جائے۔
- ۵...... آخر میں بوریوالہ تھانہ میں گرفتار شدگان پر تشدد کی بھی مذمت کی گئی ہے۔
تونسہ شریف میں ہڑتال
تونسہ شریف : مؤرخہ ۱۰؍ جون ۔ ربوہ اسٹیشن پر طلباء کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک کے خلاف سارے شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام جامع مساجد ، خانقاہ سلیمانیہ ، خانقاہ محمودیہ ، جامع مسجد جماعت اسلامی ، جامع مسجد اہل تشیع ، امام باڑہ اور جامع مسجد عثمانیہ میں نماز جمعہ پر کئی قراردادیں منظور کی گئیں۔ مسلمانوں نے اس ناروا حرکت کو سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ قرار دیا۔ قراردادوں میں موجودہ حکومت کی مرزائیت نواز پالیسی کی پرزور مذمت کی ۔ تمام چوکوں ، تھڑوں اور سماجی و سیاسی محفلوں میں ربوہ شہر کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ جاری رہا۔
سکھیکی منڈی میں چھ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا
جمعیت علمائے پاکستان کے مقامی صدر کی صدارت میں یہاں ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ ’’اس موقع پر چھ افراد سراج الحق قریشی ، محمد حنیف قریشی ، محمد جمیل قریشی ، محمد خلیل قریشی ، محمد ظفر قریشی اور ثناء اللہ قریشی نے قادیانیت کو چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان کیا ۔‘‘ اجلاس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر حملہ کرنے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
تاندلیانوالہ ، لائل پور میں حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان
تاندلیانوالہ : مؤرخہ ۱۰؍ جون ۔ ’’تاندلیانوالہ کی جامع مسجد میں ایک بڑے اجتماع کے سامنے ایک تاجر محمد اسلم ساجن نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل وہ قادیانی تھے ۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لائل پور: مؤرخہ ۱۰؍جون ۔’’محلہ گورونانک پورہ گلی نمبر ۳ کے ڈاکٹر عبدالمجید اور ان کے چچیرے بھائی محمد سلیم گزشتہ ماہ اپنے ہی محلہ کی مسجد میں مولانا غلام محمد کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ ان دونوں نے ختم نبوت پر کامل ایمان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جو فرد نبی آخر الزمان ﷺ کو ختم الرسل نہیں مانتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ زرعی یونیورسٹی فزکس ڈیپارٹمنٹ کے جونیئر کلرک اکرام اللہ طارق بھی مرزائیت سے تائب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف مسلمان ہیں۔‘‘
گجرات، بریگیڈیئر صاحب داد خان کا بیان
گجرات: مؤرخہ ۱۰؍جون ۔ وزیر زراعت و جنگلات بریگیڈیئر صاحب داد خان نے کہا ہے کہ عوامی حکومت نے پہلی دفعہ ملک کے آئین میں مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے ختم نبوت کو تحفظ دیا ہے اور آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ رسول کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو قومی اسمبلی میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ وہ یہاں ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں گجرات کی دینی اور سیاسی جماعتوں کی مجلس عمل کے اراکین سے بات چیت کر رہے تھے۔ مجلس کے صدر صاحبزادہ سید محمود شاہ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر چوہدری نثار احمد ایڈووکیٹ، نیپ کے نائب صدر سید باقر رضوی، میاں ارشد پگانوالہ اور طارق محمود شاہ نے انہیں مجلس عمل کے مطالبات سے آگاہ کیا، جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت، جماعت احمدیہ کو سیاسی جماعت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب داد خان نے مجلس عمل کے اراکین کو بتایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ ۷۰، ۸۰ سال پرانا ہے۔ مگر عوامی حکومت نے پہلی بار آئین میں اس کو حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں امن وامان کی صورت بہتر رہی۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ کے واقعہ سے بعض لوگ ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ مگر حکومت امن عامہ کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا حکومت عدالت عالیہ کے ایک جج سے واقعہ کی تحقیقات کرا رہی ہے۔ اس لئے عوام کو اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے مجلس عمل کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ شہریوں کو پرامن رہنے کی تلقین کریں تاکہ ۱۹۵۳ء کے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکے۔ جس سے جمہوری عمل رک گیا تھا اور ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا تھا۔ صاحبزادہ سید محمود شاہ اور مجلس کے دوسرے اراکین نے وزیر زراعت کو یقین دلایا کہ ان کی جدوجہد پرامن رہے گی اور سماج دشمن عناصر یا مفاد پرستوں کو امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے قبل بریگیڈیئر صاحب داد خان نے ڈاک بنگلہ میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سینیٹر ثمینہ عثمان فتح، چوہدری ظفر مہدی، چوہدری جہانگیر چیمہ، خان نصر اللہ خان اور امن کمیٹی کے اراکین اور طالب علم لیڈروں سے بات چیت کی۔
تحریک استقلال
لاہور: تحریک استقلال کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس گزشتہ روز ملک وزیر علی، سینئر نائب صدر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں واقعہ ربوہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اس سے پیدا شدہ حالات اور اس سلسلہ میں پارٹی کے گرفتار شدہ کارکنوں کے معاملہ پر غور و خوض کیا گیا۔ پارٹی چونکہ سواد اعظم کے احساسات کی ترجمانی کرنا اپنا فرض اولین سمجھتی ہے۔ اس لئے اس اجلاس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ موجودہ سنگین نامساعد صورتحال میں بھی مسلمانان پاکستان کے مافی الضمیر کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ اجلاس میں میاں محمود علی قصوری، ملک غلام جیلانی، علامہ احسان الہی ظہیر، راجہ محمد افضل خان، ابو سعید انور، میر مشتاق احمد، سید معین الدین شاہ، میر مظاہر حسین، شکیل احمد خان، ملک حامد سرفراز، بیگم طاہرہ قریشی، مس رابعہ قاری اور بیگم صبیحہ نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور: تحریک استقلال طلباء کے مرکزی سیکرٹری ملک بشیر بھٹہ اور تحریک استقلال طلباء پنجاب کے صدر چوہدری نذیر احمد نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تحریک ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کررہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کالجوں کی یونینوں کے انتخابات میں مرزائیوں کو منتخب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اعلان کیا گیا کہ تحریک استقلال ۱۴/جون کو پاکستان بھر میں ختم نبوت کے موضوع پر جلسے منعقد کرے گی۔
وزیر آباد
وزیر آباد: مورخہ ۱۰/جون (نامہ نگار) وزیر آباد کے متعدد دینی اور سیاسی رہنماؤں نے صدر مملکت ، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب سے تاروں میں مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر ہر پاکستانی کو یہاں آباد ہونے کا حق دیا جائے۔
ساہیوال
ساہیوال کی متعدد تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور سواد اعظم کے عقائد کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ کیونکہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ مسلمان طلباء پر قادیانیوں کا حملہ کھلا چیلنج ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ احمدیوں کی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور اس فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو فوری طور پر کلیدی سرکاری عہدوں سے الگ کیا جائے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی مفاد کی خاطر ان لوگوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جانی چاہئے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ربوہ میں مبینہ طور پر اسلحہ کے جو ذخائر جمع کئے گئے ہیں، ان کا پتہ چلایا جائے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن میں سر ظفر اللہ خان کا حالیہ بیان، قادیانیوں کے ناپاک عزائم کا ثبوت ہے، جس میں انہوں نے پاکستان میں غیر ملکی مداخلت کی دعوت دی ہے۔ بیان میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم حالات کا جائزہ لینے کے لئے خود لاہور پہنچے ہیں۔ مشترکہ بیان پر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ابراہیم چاولہ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اصغر حمید، ہول سیل کلاتھ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری محمد اصغر، کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر سعید احمد، سیکرٹری عبدالحمید، جمعیۃ اہل حدیث کے حافظ عبدالحق، تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل کے صدر مولانا حبیب اللہ، امیر جماعت اسلامی بشیر احمد، اسلامی فکری محاذ کے محمد اکرم شیخ کے دستخط ہیں۔
ہارون آباد، منچن آباد اور بہاول نگر میں مکمل ہڑتال اور جلوس
بہاول نگر: مورخہ ۱۰/جون ۔ آج بھی شہر میں مکمل ہڑتال رہی اور مسلمانوں نے بہت بڑا جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔ ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس نے شہر کے مختلف حصوں کا چکر لگایا اور قادیانیوں کے خلاف اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ دو گھنٹے مظاہرہ کرنے کے بعد جلوس چوک میں جاکر ختم ہوا، جہاں عبدالرؤف لودھی، مولانا محمد یوسف، سید اظہر حسین زبیری اور طالب علم رہنما رؤف انجم اور قادر شاہین نے خطاب کیا۔ ہارون آباد، منچن آباد اور ضلع کے دوسرے شہروں میں مکمل ہڑتال رہی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وار برٹن
مختلف مکاتب فکر کے علماء کا ایک اجلاس ہوا، جس میں کئی قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور ایک قرارداد کے ذریعہ قادیانیوں سے میل جول ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں مولانا نور احمد کے علاوہ مولانا نور محمد، مولانا حسین علی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا نصیر اللہ، مولوی محمد عمر اور قاری نذیر احمد نے بھی شرکت کی۔
متحدہ جمہوری محاذ کی قرارداد
لاہور: مورخہ ۱۰؍ جون۔ متحدہ جمہوری محاذ کی مجلس عمل کا دو روزہ اجلاس آج ختم ہو گیا۔ مجلس عمل نے اعلان کیا کہ ۱۴؍ جون تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور وہاں کی تلاشی لی جائے۔ قادیانیوں کی مسلح تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے ورنہ ۱۴؍ جون کو پورے ملک میں مکمل اور پرامن ہڑتال کی جائے گی۔ عوام اور محاذ میں شامل تمام جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ ملکی تحفظ اور بقاء کی خاطر ہڑتال کو کامیاب بنائیں مگر امن وامان مکمل طور پر قائم رکھیں۔ اخلاق کا مظاہرہ کریں اور تشدد پسند اور غنڈہ عناصر سے ہوشیار رہیں جو اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ اس مقدس فرض کو بدنام کرنے اور ناکام بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ قادیانی فرقہ انگریزوں نے اپنے مفادات کے لئے پیدا کیا تھا۔ وہ آج بھی پاکستان میں بیرونی عناصر کا آلہ کار بن کر ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ اس لئے مستعفی ہو جائے۔ اجلاس میں جو پیر صاحب پگاڑو کی زیرصدارت ہوا، جس میں گرانی اور امن وامان کی نازک صورتحال اور بلوچستان کے حالات پر گہرے اضطراب کا اظہار کیا گیا اور الزام لگایا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی اکثریت قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اجلاس میں تشویش ظاہر کی گئی کہ ریل کے کرایوں میں اضافہ کر کے اور گھی، مٹی کے تیل، چینی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عام آدمی پر ایک اور ضرب لگائی گئی ہے۔
قادیانیوں کا حساب چیک کیا جائے
لاہور: مورخہ ۱۰؍ جون۔ معلوم ہوا ہے کہ انجمن جماعت احمدیہ نے اندرون اور بیرون ملک وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پاکستان میں بھی قادیانیوں کے صنعتی اداروں کی مالی معاونت کرنے کے لئے اس جماعت نے کروڑوں روپیہ بعض قادیانی اداروں میں لگا رکھا ہے۔ مثال کے طور پر قادیانی صنعتی ادارے غریب وال سیمنٹ ملز کے ۲۰؍ ہزار حصص جن کی مالیت ۲۰؍ لاکھ روپے ہے۔ ۶۴-۱۹۶۳ء میں انجمن جماعت احمدیہ نے نقد ادا کر کے حاصل کئے تھے۔ حالانکہ اقتصادیات سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والا شخص بھی اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ اتنے بڑے سودے صرف چیکوں کی صورت میں کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے قادیانی اپنی آمدنی کا کم از کم دس فیصد حصہ جماعت کے نام پر زرمبادلہ کی صورت میں ملک سے باہر بھی جمع کروا رہے ہیں جب کہ یہ رقم پاکستان میں ان قادیانیوں کے لواحقین کو پاکستانی کرنسی میں ادا کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح جماعت احمدیہ نے مرزا غلام احمد کی صد سالہ تقریبات منانے کے لئے امسال دس کروڑ روپے جمع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
مرزا ناصر احمد نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران گزشتہ انتخابات سے قبل جنوبی افریقہ میں ”نصرت جہاں“ کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ انتخابات کے بعد اس فنڈ کا کثیر حصہ ناجائز ذرائع سے ملک میں لایا گیا اور بعض مخصوص مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واضح رہے کہ ان دنوں مسٹر ایم ایم احمد حکومت کے اقتصادی مشیر تھے۔ دارالحکومت کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی جماعت کی مشکوک اور ملک دشمن اقتصادی سرگرمیوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے احمدیہ جماعت کے حساب کی پڑتال کی جائے اور اس مقصد کے لئے کسی ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کی خدمات حاصل کی جائیں۔
منظور قادر قادیانیوں کی وکالت نہ کریں
لاہور: دینی مدارس کے طلباء نے آج مسٹر منظور قادر بیرسٹر کے گھر پر مظاہرہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ واقع ربوہ کے بارے میں ٹربیونل کے سامنے قادیانیوں کی وکالت نہ کریں۔ مظاہرین کی قیادت آغا شورش کاشمیری، علامہ احسان الٰہی ظہیر، سید مظفر علی شمسی اور مولانا محمود رضوی نے کی۔ مظاہرین ایک بس پر سوار تھے اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے دفتر نوائے وقت کے سامنے نوائے وقت زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔
بھٹو صاحب لاہور پہنچ گئے
لاہور: مورخہ ۱۰؍ جون۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبائی دارالحکومت کے مختصر دورے پر آج شام لاہور پہنچ گئے۔ وزیر اعظم سے ہوائی اڈے پر جب احمدی فرقے کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے بیان پر تبصرہ کے لئے کہا گیا تو وزیر اعظم نے کہا کہ میں آپ لوگوں سے اس پر اور دوسرے بہت سے معاملات پر گفتگو کروں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں کوشش کروں گا کہ لاہور میں ہی آپ لوگوں سے بات چیت ہو جائے۔ وزیر اعظم اپنے لاہور کے قیام میں مختلف طبقوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور احمدی فرقے کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کا استقبال کرنے والوں میں گورنر پنجاب نواب صادق حسین قریشی، وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے، ملک معراج خالد، صوبائی وزراء، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان شامل تھے۔ ملک غلام مصطفیٰ کھر صاحب نے کچھ وقت کے لئے وزیر اعلیٰ حنیف رامے سے بھی گفتگو کی۔ وزیر اعظم کا جہاز موسم کی خرابی کے سبب چالیس منٹ تاخیر سے پہنچا۔
نوائے وقت میں لاہوری مرزائیوں کا اشتہار
حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے عقائد ان کی اپنی تحریرات کی رو سے:
- ۱...... "مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں ۔ ’لا الہ الا الله محمد رسول الله‘ میرا عقیدہ ہے اور ’لکن رسول الله
وخاتم النبیین‘ پر آنحضرت ﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔ میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھا سکتا ہوں، جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت ﷺ کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔ کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔"
(کرامات الصادقین ص ۲۵، خزائن ج ۷ ص ۶۷)
- ۲...... "میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔"
(آسمانی فیصلہ ص ۴، خزائن ج ۴ ص ۳۱۳)
- ۳...... "سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر جانتا ہوں اور میرا یقین ہے
کہ وحی نبوت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔"
(اشتہار مورخہ ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۳۱)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... ”ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں اور ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کے قائل ہیں اور
آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۲۹۷)
- ۵...... ”وہ شخص لعنتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے سوا آپ کے بعد کسی اور کو نبی یقین کرتا ہے اور آپ کی ختم نبوت کو توڑتا ہے۔“
- ۶...... ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعویٰ (ملہمیت، محدثیت، ناقل) کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو
سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ۱۳۰، خزائن ج ۱۵ ص ۴۳۲)
نوٹ: اراکین احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کا عقیدہ حضرت مرزا صاحب کے مندرجہ بالا اعلانات کے مطابق ہے اور ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔
سیکرٹری: احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ بلڈنگس، برانڈرتھ روڈ لاہور
وزیر داخلہ خان قیوم کی منطق
گجرات : مورخہ ۹ / جون ۔ وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ ربوہ کے واقعہ کی آڑ لے کر حزب اختلاف کی جماعتوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت کو اقتدار سے ہٹایا جائے ۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے اس اقدام سے ملک کو نقصان پہنچے گا ۔ خان قیوم نے کہا کہ ملک کی سالمیت، استحکام اور بقاء کے لئے حکومت امن عامہ کو تباہ نہیں ہونے دے گی اور ایسے حالات پیدا نہیں ہونے دے گی ۔ جس سے ملک غیر ملکی سازشوں کا شکار ہو جائے ۔ وزیر داخلہ نے جو آج یہاں پاکستان مسلم لیگ (قیوم گروپ) جوائنٹ سیکرٹری مشتاق احمد بٹ کے انتقال پر تعزیت کے لئے آئے تھے ۔ علماء کے ایک وفد سے بات چیت کے دوران کہا کہ علماء کو ملک کی نازک صورتحال اور ہمسایہ ملکوں میں پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں کا اندازہ کرنا چاہئے ۔ ملک میں ایسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہئیں ۔ جن سے تخریبی قوتیں کامیاب ہو کر ملک کو تباہ کردیں ۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملکی آئین میں مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے ختم نبوت پر ایمان کو تحفظ دیا گیا ہے اور اس میں رسول اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہوئے صدر اور وزیر اعظم نے حلف اٹھائے تھے ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں صبر وتحمل کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور امن عامہ کو تباہ ہونے سے بچانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایٹم بم بنایا ہے اور بعض دیگر ہمسایہ ممالک بھی پاکستان کی بقاء اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں ۔ اگر ہم نے خود اپنے ملک میں بدامنی پیدا کی اور فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکا دی تو اس سے تخریبی قوتوں اور پاکستان دشمن طاقتوں کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلہ کی نزاکت کا پورا پورا احساس ہے اور اس نے ایک تحقیقاتی ٹریبونل قائم کر دیا ہے جو اس معاملہ کی چھان بین کر رہا ہے۔
۱۰ / جون کو امریکی خبر رساں ایجنسی اے. پی. اے کے حوالہ سے واشنگٹن سے مرزا ناصر کا انٹرویو شائع ہوا ۔ اس پر ۱۱ / جون ۱۹۷۴ء کو نوائے وقت نے ذیل کا ادارتی نوٹ شائع کیا ۔
مرزا ناصر قادیانی بھی بولے...... اداریہ نوائے وقت
”واشنگٹن سے آمدہ اطلاع کے مطابق امریکی خبر رساں ایجنسی اے. پی. اے کو انٹرویو دیتے ہوئے ’پاکستان کے ویٹیکن ربوہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے پاپائے اعظم‘‘ (نوٹ یہ الفاظ ہمارے نہیں) مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیوں کے خلاف موجودہ گڑبڑ کا مقصد احمدی فرقہ کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہماری جائیدادوں کو لوٹا گیا، آگ لگائی گئی۔ لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں مسٹر بھٹو کی پارٹی ...... بلکہ اپنی سابقہ پارٹی ...... پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ یہ فسادات خود اس نے کروائے ہیں تاکہ وہ انتہاء پسندوں کی حمایت حاصل کر کے اپنی بگڑی ہوئی ساکھ بحال کر سکے۔ مرزا قادیانی نے کہا قادیانیوں کو خواہ قتل ہی کیوں نہ کر دیا جائے ، وہ اپنے مسلک اور عقیدے پر قائم رہیں گے۔
یہ فسادات پیپلز پارٹی نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے کروائے ہیں یا قادیانیوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ پنجہ آزمائی کے لئے خود شروع کئے۔ اس کا جواب تو جلد صمدانی کمیشن رپورٹ میں مل جائے گا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرزا ناصر احمد اپنے مقلد سر ظفر اللہ کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ ہم بڑے ادب کے ساتھ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پولیس ۲۹؍مئی کو بھی ربوہ ریلوے اسٹیشن پر خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی تھی۔ جب ان کی ’’امت‘‘ نوجوان مسلمان طلباء کے خون سے ہولی کھیل رہی تھی۔ مرزا ناصر احمد قادیانی موجودہ مسند امارت سنبھالنے سے پہلے ساری عمر استاد اور پرنسپل رہے ہیں۔ ایک استاد کے نزدیک سب طالب علم اولاد کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کا دل نہ اس وقت پسجا جب ان کی درگت بن رہی تھی، نہ تا دم تحریر انہیں اس واقعہ کی مذمت کی توفیق نصیب ہوئی ہے جو ان فسادات کا باعث بنا۔ جن کی مذمت سر ظفر اللہ لندن میں پریس کانفرنس میں اور مرزا ناصر احمد قادیانی ربوہ میں غیر ملکی اخباری نمائندوں کو انٹرویو کے ذریعے کر رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد قادیانی نے ہر قیمت پر اپنے مسلک اور عقیدے پر قائم رہنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مسلک اور عقیدہ ہے کیا؟ ابھی گزشتہ سال دسمبر میں اپنے سالانہ اجلاس میں خود مرزا ناصر احمد قادیانی نے فرمایا تھا کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ کیا مرزا ناصر احمد قادیانی نے اپنے تازہ ترین مؤقف پر بھی نظر ثانی کر لی ہے؟
کوئی نہیں چاہتا کہ مرزا ناصر احمد قادیانی اپنے دادا کا باطل مسلک وعقیدہ چھوڑیں لیکن وہ کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں اور غلامان محمد ﷺ سے کس طرح توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان اور اسلام کے بنیادی نظریے سے دستبردار ہو جائیں۔
(اداریہ نوائے وقت، مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب کے وزیر قانون کا بیان
سرگودھا: مؤرخہ ۱۰؍جون۔ پنجاب کے وزیر قانون و محنت سردار صغیر احمد نے بتایا ہے کہ حکومت نے سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں مسلمان ملازمین کے تقرر کے احکامات جاری کر کے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں علماء سماجی انجمنوں اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے نمائندوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ میں آئین میں پہلی بار مسلمان کی تعریف کی شق شامل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے۔ وہ حکمران جماعت ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھتی ہے اور ختم نبوت کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا ربوہ ریلوے اسٹیشن کا شرمناک واقعہ کسی بین الاقوامی سازش کے سلسلہ کی کڑی ہے جس کی تحقیقات کے لئے حکومت نے مناسب اقدامات کئے ہیں تاکہ عوام کو صحیح صورتحال سے آگاہ کر دیا جائے۔ انہوں نے علماء کرام اور ہر مکتب فکر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ شمع رسالت کے پروانوں کو حقائق سے باخبر رکھ کر اپنا ملی فریضہ ادا کریں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۲؍ جون ۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
وزیر اعظم کے آغا شورش کاشمیری سے مذاکرات
لاہور: مؤرخہ ۱۱؍ جون (رپورٹ عارف نظامی) وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج یہاں قادیانیوں کے مسئلے پر ممتاز دینی و سیاسی رہنماؤں سے صلاح مشورے شروع کر دیئے۔ صلاح مشوروں اور مذاکرات کا یہ دور کل بھی جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے آج یہاں اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کی بھی صدارت کی۔ معتبر ذرائع کی اطلاع کے مطابق اس اجلاس میں بھی امن عامہ کی صورتحال اور خصوصاً ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کے ردعمل کی صورت میں رونما ہونے والے حالات پر غور کیا گیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سوال پر بھی بحث کی گئی۔ یہ اجلاس ساڑھے چار بجے سہ پہر سے نو بجے رات تک جاری رہا اور اس میں گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ حنیف رامے، مرکزی وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ، وزیر صحت شیخ رشید، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ملک معراج خالد، وزیر داخلہ خاں قیوم، صوبائی وزراء ڈاکٹر عبد الخالق، سردار صغیر احمد، انسپکٹر جنرل پولیس، چیف سیکرٹری پنجاب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مولانا کوثر نیازی نے شرکت کی۔
سرکاری ذرائع نے صرف اتنا بتایا ہے کہ اس اجلاس میں امن عامہ کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ لیکن باخبر ذرائع کے مطابق آج کے اجلاس میں ملک کے مذہبی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے قادیانیوں کو اقلیتی فرقہ قرار دینے کے بارے میں جو مطالبات کئے جارہے ہیں، ان کے محرکات پر غور کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت میں شامل بعض سوشلسٹ وفاقی وزراء قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مان لینے سے ملک میں ملائیت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں عنقریب کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر لیا جائے۔ پتہ چلا ہے کہ آج کے اجلاس میں مرزا ناصر احمد کی طرف سے ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کو دیئے جانے والے انٹرویو کے مندرجات بھی زیر غور آئے۔ کل وزیر اعظم کی طرف سے کسی اہم اعلان کی توقع کی جاسکتی ہے۔
وزیر اعظم کی قومی رہنماؤں سے طویل ملاقات
وزیر اعظم بھٹو کے ساتھ آج جن رہنماؤں نے ملاقات کی ہے ان میں قادیانیوں کے خلاف تحریک کے روح رواں مشترکہ مجلس عمل ختم نبوت کے رکن مدیر ’’چٹان‘‘ آغا شورش کاشمیری بھی شامل تھے۔ وزیر اعظم نے شورش کاشمیری کے ساتھ ملک کی داخلی و خارجی صورتحال کے بارے میں دو گھنٹہ تک بات چیت کی۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم بھٹو اور سیاسی و دینی رہنماؤں کے مابین کل بھی بات چیت جاری رہے گی اور کل جن لیڈروں کی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات ہوگی، ان میں پاکستان جمہوری پارٹی کے نوابزادہ نصر اللہ خان، جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا تاج محمود، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبید اللہ انور اور مظفر علی شمسی شامل ہیں۔
اس اثناء میں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت متعدد سیاسی و دینی رہنماؤں کی طرف سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کر دے گی۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور اس میں بعض سیاسی و انتظامی تبدیلیاں لانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
اسلامی مشاورتی کونسل کی سفارش کو منظور کر لینے کے بعد حکومت یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی اور قادیانیوں کو غیر مسلم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اقلیت قرار دینے کے لئے آئین میں ضروری ترمیم کرنا ہو گی۔ ایسی صورت میں یہ مرحلہ آسانی سے طے ہو جائے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومت اس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات سے پوری طرح آگاہ ہے اور وہ اسلامی مشاورتی کونسل کو خاص طور پر ہدایت کرے گی کہ کم سے کم مدت میں اس مسئلے پر رپورٹ پیش کر دی جائے۔ حکومت اس مسئلہ کو سواد اعظم کے نظریہ کے مطابق حل کرنے کی خواہاں ہے۔ لیکن فی الحال اسے اپنی ہی پارٹی میں اختلاف رائے اور بیرونی دنیا میں قادیانیوں کی پروپیگنڈہ مہم سے ہراس ہے۔ اس عالمی پروپیگنڈے میں اسرائیل اور مغربی پریس بہت سرگرم ہو گا۔
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس
لاہور : مؤرخہ ۱۱؍ جون ۔ یہاں مشترکہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں آغا شورش کاشمیری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں آغا صاحب اور وزیر اعظم کے مابین آج ہونے والے مذاکرات پر غور کیا گیا۔ تاہم فیصلہ کیا گیا کہ مجلس عمل کی طرف سے ۱۴؍ جون کو عام ہڑتال کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ ضرور ہوگی۔ اس روز مسجد وزیر خان میں ایک جلسہ بھی ہوگا۔ مجلس عمل کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ تاہم اس اجلاس میں وزیر اعظم بھٹو اور آغا شورش کاشمیری کے مابین ہونے والی بات چیت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا اور مجلس عمل کے ارکان نے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد اس مسئلہ پر کوئی حتمی فیصلہ کرنے پر اتفاق رائے کیا۔ یہ اجلاس کل پھر آغا شورش کاشمیری کے دفتر میں منعقد ہوگا۔ آج کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ جناب رامے صاحب، چیف منسٹر پنجاب شام سات بج کر دس منٹ پر ٹی وی سنٹر لاہور سے واقعہ ربوہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اہم تقریر کریں گے۔
منڈی مرید کے میں بیس افراد نے اسلام قبول کر لیا
مؤرخہ ۱۱؍ جون ۔ ”سابق امیر جماعت احمدیہ مرید کے منشی نور حسین نے اپنے انیس ساتھیوں سمیت مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت مرید کے کے سامنے اعلان کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں۔ مسلمان ہونے والے افراد میں منشی نور حسین، برکت علی، مختار احمد، رشید احمد، محمد یوسف، شیخ محمد عنایت اللہ، شیخ محمد جمیل، شیخ محمد سلیم شامل ہیں۔“
ربوہ میں قادیانیوں کے تعینات کردہ ”ڈپٹی کمشنر“ اور ”ایس پی“ کو گرفتار کر لیا گیا
لاہور : مؤرخہ ۱۱؍ جون ۔ واقعہ ربوہ کی تفتیش کے دوران کرائمز برانچ نے آج ربوہ کی ”ریاست کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک بشیر احمد عمومی عرف بشیر عمومی ہے جو ربوہ کی عمومی نظامت انتظامیہ کا صدر ہے اور اس کے ذمہ وہی کام ہے جو کسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے ذمہ ہوا کرتا ہے۔ دوسرا شخص عبد العزیز بھانبڑی ہے۔ یہ نظامت امور عامہ کا صدر ہے اور اس کی ذمہ داریاں کسی ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس و ایس پی کی ہیں۔ پولیس کے مطابق ان دونوں نے ۲۹؍ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ہنگامے کے دوران قادیانی حملہ آوروں کو اکسایا تھا اور مار دھاڑ میں ان کی رہنمائی کی تھی۔ کرائمز برانچ نے قادیانیوں کے اخبار ”الفضل“ کے ایڈیٹر مسعود احمد دہلوی سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سانحہ ربوہ کے ملزمان کو چنیوٹ نہ لایا جائے
لاہور: مورخہ ۱۱؍ جون۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے حمید احمد نصر اللہ وغیرہ کی طرف سے دائر کردہ اس رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ وقوعہ ربوہ کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والوں کو جیل سے باہر کسی عدالت میں پیش نہ کیا جائے اور ان سے ملنے کے لئے ان کے وکیل کو اجازت دی جائے۔ فاضل جج کے روبرو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ متعلقہ ڈی آئی جی (کرائمز) نے انہیں اطلاع دی ہے کہ گرفتار شدگان کو جیل سے باہر کسی عدالت میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر عبدالستار نجم نے بتایا کہ درخواست کنندگان کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ ۱۳؍ جون کو انہیں اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ ان کا علاقہ مجسٹریٹ نہیں ہے بلکہ سرگودھا کے کسی مجسٹریٹ کی اس سلسلہ میں ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ درخواست کنندہ کے وکیل خواجہ سرفراز نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر پولیس نے کسی قسم کا شناخت پریڈ کرانا ہے تو وہ سرگودھا کے متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں گرفتار شدگان کی پیشی سے قبل کرالیا جائے اور گرفتار شدگان کے وکلاء کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ فاضل جج نے اس ضمن میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر عبدالستار نجم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سلسلہ میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
درخواست کنندہ کے وکیل نے بتایا کہ ڈی آئی جی کرائمز کو اس امر کی درخواست دے دی گئی ہے کہ وہ شناخت پریڈ گرفتار شدگان کو کسی عدالت میں پیش کرنے سے قبل کرائیں۔ فاضل جج نے اس پر ہدایت جاری کردی کہ ڈی آئی جی کرائمز ان کی درخواست پر لازمی طور پر غور کریں اور اگر شناخت پریڈ کرانا مقصود ہو تو سرگودھا کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے سے قبل کرائیں۔ فاضل جج نے لکھا کہ جہاں تک وکلاء کو ملاقات کی اجازت دینے کا تعلق ہے، وہ جیل حکام کے پاس درخواستیں دیں جو قانونی کارروائی کریں گے۔ قادیانیوں نے یہ درخواست اس لئے دائر کی تھی کہ پورے ملک میں تحریک جوبن پر تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ان کو چنیوٹ لایا گیا تو صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے۔
پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی کا اخباری بیان
لائل پور: مورخہ ۱۱؍ جون۔ پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی کی زیر صدارت و زیر اہتمام انجمن تنظیم المسلمین رجسٹرڈ پیپلز کالونی لائل پور نے ایک اجتماع میں حسب ذیل تجاویز متفقہ طور پر پاس کیں۔
- ۱...... یہ اجتماع ”ربوہ“ کے ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملے کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
- ۲...... مسلمانوں کا اجتماع حکومت پاکستان سے سخت احتجاج کرتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف تحقیق کر کے ان کو سخت
سزائیں دی جائیں اور یہ کہ قانونی بالا دستی کو انصاف کے تقاضے پورے کر کے مقدم رکھا جائے۔
- ۳...... مسلمانوں کا اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی جماعت کو جلد از جلد اقلیت قرار دیا جائے تاکہ اکثریت کے حقوق پامال
ہونے سے بچ جائیں۔
- ۴...... یہ اجتماع یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مسلمانوں کی ایک مخصوص آبادی کی اس میں انہی رعایات کے
ساتھ آباد کاری کا اہتمام کیا جائے جو قادیانیوں کو ماضی میں وہاں دی گئی ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے عزائم کیا ہیں؟ ہماری پالیسی کیا ہوگی؟ جلسہ عام
آج مؤرخہ ۱۲؍ جون، بروز بدھ، وقت ۵؍ بجے بعد نماز عصر۔
بمقام: دفتر اسلامی جمعیۃ طلباء، ۴-اے، ذیلدار پارک، اچھرہ لاہور۔
مقررین:
- ظفر جمال بلوچ (ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیۃ طلباء پاکستان)
- لیاقت بلوچ (ناظم جمعیۃ پنجاب)
- عبدالرحمن قریشی (ناظم جمعیۃ سندھ)
- خالد محمود (ناظم جمعیۃ سرحد)
- فرید پراچہ (صدر جامعہ پنجاب)
- نعیم احمد سرویا (صدر انجینئرنگ یونیورسٹی)
(اشتہار منجانب) اسلامی جمعیۃ طلباء، لاہور
مسٹر جسٹس محمد منیر فاروقی
”مسٹر جسٹس محمد منیر فاروقی، جج لاہور ہائیکورٹ کے بارے میں کچھ دوستوں سے یہ سن کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ بعض لوگ ان کی فرنچ کٹ داڑھی کی بناء پر انہیں قادیانی خیال کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ جسٹس فاروقی سیالکوٹ کے اس مشہور ومعروف علمی خانوادہ کے فرد ہیں، جس نے نہ صرف سیالکوٹ بلکہ پورے پنجاب میں اسلام کی نورانی قندیلیں روشن کیں۔ جن کے نور سے ہزاروں مسلمانوں کا شبستانِ وجود جگمگاتا رہا۔ آپ کے والد مولانا محمد عبداللہ سیالکوٹ میں اہلِ حدیث کے نامور راہنما اور خطیب تھے اور آپ کے دادا مولانا غلام حسن، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کے استاد، علامہ جمال الدین افغانی کے دوست اور ہمسفر اور پنجاب میں اہلِ حدیث کے سرخیل تھے۔ آپ کے نانا شیخ پنجاب حافظ عبدالمنان صاحب وہ مشہور بزرگ اور محدث تھے، جن کے تلامذہ برصغیر ہی نہیں بلکہ ممالک عربیہ اور اسلامیہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جسٹس منیر فاروقی اسی خانوادہ کے نیک دیندار اور خدا ترس انسان ہیں۔ ان کے بارے میں ایسی نیت بھی گناہ سے کم نہیں۔“
(احقر احسان الٰہی ظہیر)
فورٹ عباس، چار روزہ ہڑتال
فورٹ عباس: مؤرخہ ۱۱؍ جون۔ گزشتہ روز یہاں چار روزہ ہڑتال ختم ہوگئی لیکن عوام کے جذبات بدستور مشتعل ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ شہریوں نے سانحہ ربوہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شیخوپورہ
لاہور: مؤرخہ ۱۱؍ جون۔ مقامی پولیس نے آج دوپہر اسمبلی ہال کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے ضلع شیخوپورہ کے قریباً ڈیڑھ سو افراد کو ٹرکوں پر سوار کر کے اڈہ لاریاں بھجوا دیا۔ پولیس نے انہیں منع کیا تھا کہ لاہور میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ پر احتجاج
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور بعد ازاں انہیں اڈہ لاریاں چھوڑ آئی۔
تحریک استقلال کے رہنما کی رہائی
ملتان: مؤرخہ ۱۱؍ جون۔ اسسٹنٹ کمشنر ملتان نے تحریک استقلال گارڈ کے سالار یوسف انور پاشا کو رہا کر دیا ہے۔ انہیں پولیس نے ہنگامے پر اکسانے کے الزام میں ۸؍ جون کو گرفتار کیا تھا۔
نوائے وقت کا قادیانی عقائد کی آگاہی کے لئے اشتہار
کل کے نوائے وقت میں مرزائیوں کی لاہور پارٹی کا ایک اشتہار شائع ہوا تھا۔ جس میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے قبل کے حوالہ پیش کر کے اسے ختم نبوت کا قائل ظاہر کیا گیا تھا۔ آج ۱۲؍ جون ۱۹۷۴ء کے نوائے وقت میں ادارہ نوائے وقت کی طرف سے اس اشتہار کے مقابلہ میں دو گنا اشتہار شائع کیا گیا جو یہ ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد
ان کی اپنی اور ان کے صاحبزادے کی تحریروں اور ارشادات کی روشنی میں
کل (۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء) کے نوائے وقت میں ہم نے سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری پارٹی) کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کے بارے میں ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ چونکہ لاہوری پارٹی کے حضرات سے اپنے عقائد کی تشریح کے لئے ہم نے اپنے ۱۰؍ جون کے اداریے میں خود دعوت دی تھی، اس لئے دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی طرف سے آمدہ مواد کو من وعن شائع کر دیتے۔ اس کی اشاعت سے ہمارے قارئین کرام کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم ہمیں عرض کرنا ہے کہ موجودہ تنازعے میں ہمیں ہر کسی کا مؤقف خواہ وہ غلط ہو یا صحیح سننے کے لئے آمادہ اور تیار رہنا چاہئے۔ اشتہار میں لاہوری پارٹی کے عقائد کی وضاحت ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم اس سے متفق بھی ہوں۔
درج ذیل سطور میں ہم مرزا قادیانی کی نبوت کے ارتقائی مدارج درج کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ارتقائی مدارج خود منہاج نبوت کی شان کے خلاف ہیں لیکن مرزا قادیانی ایک مبلغ سے مناظر ، مناظر سے مصنف اور مصنف سے واعظ کی حیثیت میں متعارف ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے محدث کا روپ دھارا۔ پھر مجدد کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور بالآخر نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے ہمسری کا دعویٰ بھی کیا اور ان کی امت ایمان لے آئی کہ: ’’ظل نبوت نے مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔‘‘
(حوالہ بشیر احمد قادیانی، ریویو نمبر ۳ ج ۱۴ ص ۱۱۳)
’’مسیح موعود در حقیقت محمد اور عین محمد ہیں اور آپ میں اور آنحضرت ﷺ میں باعتبار نام ، کام اور مقام کوئی دوئی یا مغائرت نہیں۔‘‘
(الفضل مؤرخہ یکم؍ جولائی ۱۹۱۶ء)
’’مسیح موعود بھی جامع جمیع کمالات محمدیہ ہیں۔ پھر صحابہ مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ اور آنحضرت کے صحابہ قرار دیا۔ ان دونوں گروہوں میں تفریق یا ایک دوسرے سے مجموعی رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’گو وہی فخر الاولین والآخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمت العالمین بن کر آیا۔‘‘
(الفضل مؤرخہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۱۵ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”میرے پاس آئل آیا اور اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۰۳، خزائن ج ۲۲ ص ۱۰۶)
”میں بار بار بتا چکا ہوں کہ میں بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)
”مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا، امتی گروہ سمجھنا گویا آنحضرت کو جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں، امتی قرار دینا، امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر ہے۔“
(الفضل مورخہ ۲۹؍ جون ۱۹۱۵ء)
مرزا قادیانی کی نبوت کے ارتقائی مدارج
”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا احترام کرے۔ نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوئی ہے۔ وہ ایک امت بنائے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہو۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۴۴، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
”آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔ مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔ ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ۷۹، خزائن ج ۷ ص ۲۹۷)
”اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔“
مرزا قادیانی بطور محدث
”یہ عاجز اللہ تعالیٰ کی طرف سے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔ اگر خدا سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتاؤ اس کو کس نام سے پکارا جائے۔“
(توضیح المرام ص ۱۸، خزائن ج ۳ ص ۶ ملخص)
ترک عقیدہ کی تعریف
غلام احمد قادیانی کے اس ترک عقیدہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ : ”جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور وفات کے بارے میں آپ کے عقیدہ میں تبدیلی ہوئی تھی، پہلے ایک زمانہ تک حضرت مسیح موعود کو زندہ سمجھتے رہے اور پھر ان کے فوت شدہ ہونے کا اعلان کیا۔ اسی طرح نبوت کے بارے میں بھی حضور کے خیالات ہی متغیر ہوا۔ یعنی ایک زمانہ تک آپ اپنے کو نبی نہیں خیال کرتے تھے لیکن پھر اپنے آپ کو نبی یقین کرنے لگے۔ مسئلہ نبوت میں آپ نے عقیدۂ ۱۹۰۱ء کے قریب تبدیل کیا۔“
(الفضل مورخہ ۱۳؍ جون ۱۹۲۰ء)
اور یہ عقیدہ کب تک قائم رہا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتے دم تک وہ اس عقیدہ پر قائم رہے اور توبہ کی توفیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک خط میں لکھا کہ : ”میں خدا کے حکم سے نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں گا تو میرا گناہ ہوگا۔“
یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا اور آپ کے یوم وصال ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔
(کلمۃ الفصل ریویو آف ریلیجنز نمبر ۳ ج ۱۴ ص ۱۱۰)
تکمیل نبوت:
یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا زمانہ کم و بیش ۸ سال رہا۔ مرزا قادیانی کا ارشاد ہے کہ: ”میں جس طرح قرآن شریف کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۱۱، خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
چونکہ مرزا قادیانی کی نبوت میں تناقضات کی بھرمار تھی، اس لئے انہوں نے بڑی حوصلہ مندی سے اس کا اعتراف بھی فرما لیا ہے۔
- ......۱ ”پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ لیکن خدا تعالیٰ کی وحی نے مجھے اس خیال پر نہ رہنے دیا۔“
- ......۲ ”اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے
نازل ہوگا۔ مگر بعد میں لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا۔“
”اس جگہ حضرت مسیح موعود نے جس وضاحت سے نبوت کے بارے میں اپنے عقیدہ کی تبدیلی فرمائی ہے، اس کے متعلق کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔“
(الفضل مؤرخہ ۳؍ جنوری ۱۹۲۰ء)
ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے سابقہ اعلانات کو اپنے نئے دعوؤں سے خود جھٹلا دیا۔ اس کے بعد لاہوری پارٹی کا فرض تھا کہ وہ مرزا قادیانی کے نئے دعاوی کے بعد ان سے قطع تعلق کر لیتے لیکن وہ بدستور ان کے حلقہ اثر میں رہے۔ اس لئے ان کی یہ وضاحت کسی مسلمان کو مطمئن نہیں کر سکتی کہ وہ پہلے دعوؤں کی وجہ سے ان کو صرف مجدد مانتے ہیں۔
(ادارہ)
آج کے اخبار نوائے وقت میں لاہوری مرزائیوں کے جواب میں اتنے سائز کا اشتہار جناب اقبال الدین صدیقی کی جانب سے شائع ہوا، جتنا سائز مرزائیوں کے اشتہار کا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد ان کی اپنی تحریرات کی رو سے
۱۱؍ جون کے ”نوائے وقت“ میں سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام (مرزائیوں کے لاہوری فرقہ کی انجمن) کی جانب سے اس امر کے ثبوت میں کہ مرزا غلام احمد نبوت کے دعویدار نہ تھے اور وہ رسول اکرم ﷺ کو نبی آخر الزمان تسلیم کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کی چند تحریروں کے اقتباسات پیش کئے گئے ہیں، جن سے گمراہ کن تأثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ وگرنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد نے شدومد سے خود کو مسیح موعود اور مہدی موعود ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی تصانیف میں جگہ جگہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے ان کی کتاب ”تریاق القلوب“ (ص ۱۵، خزائن ج ۱۵ ص ۱۳۲) میں ان کی ایک فارسی نظم درج ہے، جس کا ایک شعر یہ ہے:
ترجمہ: ”میں ہی اس زمانہ کا مسیح ہوں اور میں ہی کلیم اللہ ہوں اور میں ہی محمد و احمد مجتبیٰ ہوں۔“ (نعوذ باللہ)
اس سے زیادہ واضح صورت دعویٰ پیغمبری کی اور کیا ہو سکتی ہے۔ نیز مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان پر بذریعہ وحی یا الہام ایک کتاب نازل ہوئی جس کا نام ”تذکرہ“ رکھا گیا ہے اور جس میں یہ جملہ بھی ہے: ”انت منی وانا منک“ (یعنی نعوذ باللہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی سے کہتا ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں)
ان سب باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد نہ صرف خود کو پیغمبر ظاہر کرتے تھے بلکہ ان کو صاحب کتاب ہونے کا بھی دعویٰ تھا۔
(اقبال الدین احمد صدیقی)
(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۱۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج بھی وقار انبالوی صاحب کا نوائے وقت میں قطعہ شائع ہوا جو یہ ہے:
ظفر اللہ خان کی دہلیز پر
تو ہی کہہ دے کہ کہاں جائیں پرستار ترے کوئی سنتا نہیں دنیا میں ہمارا دکھڑا
(وقار انبالوی)
ہول سیل کلاتھ مرچنٹس فیصل آباد کا آج کے روز یہ اشتہار نوائے وقت میں شائع ہوا:
ہم مسلمانوں کا فرض
ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم المرسلینی کے منکر: قادیانیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کریں۔ ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھیں اور ان کی تیار کردہ کسی چیز کی خرید و فروخت نہ کریں۔ ’’ہم وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو بلا تاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور اس طرح دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں ۔‘‘ منجانب: اراکین دی لائل پور ہول سیل کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن صدر دفتر گول بازار لائل پور
پشاور
پشاور: مؤرخہ ۱۱؍ جون ۔ جناح پارک میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے ، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور تمام سیاسی جماعتیں احمدیوں کو خارج کر دیں۔ جلسہ سے قومی اسمبلی کے رکن صاحبزادہ صفی اللہ امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد ارباب محمد سعید خان ، مولانا گوہر الرحمٰن اور جمعیۃ علمائے اسلام کے ڈاکٹر فدا حسین نے بھی خطاب کیا۔
۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
بھٹو صاحب کی حضرت بنوری سمیت مجلس عمل کے رہنماؤں سے ملاقاتیں
لاہور: مؤرخہ ۱۳؍ جون ۔ معلوم ہوا ہے کہ کل یا پرسوں وزیر اعظم بھٹو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کریں گے اور اپنے خطاب میں قادیانیت کے مسئلے کے بارے میں کوئی اہم اعلان کریں گے۔ صوبائی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں کی رائے میں وزیر اعظم بھٹو کا متوقع اعلان قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کرنے کے بارے میں ہوگا۔ یہ بھی توقع کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم بھٹو اپنے خطاب میں قادیانی جماعت کے امیر مرزا ناصر احمد اور قادیانی رہنما سر ظفر اللہ کے حالیہ بیانات پر بھی سیر حاصل تبصرہ کریں گے۔ دریں اثناء وزیر اعظم بھٹو کی صدارت میں آج دوسرے روز بھی ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ جس میں گورنر پنجاب ، وزیر اعلیٰ ، وفاقی اور صوبائی وزراء کے علاوہ بری فوج کے چیف آف سٹاف جنرل ٹکا خان نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ۱۰؍ بجے صبح سے ۲؍ بجے دوپہر تک چار گھنٹے جاری رہا اور اس میں گزشتہ روز کی طرح واقعہ ربوہ سے پیدا شدہ امن و امان کی صورتحال اور قادیانیوں کے مسئلے پر غور کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر بھٹو نے آج سہ پہر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و دینی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ان رہنماؤں میں جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد، پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا تاج محمود، علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا عبید اللہ انور اور شیعہ رہنما مولانا مظفر علی شمسی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم بھٹو مدیر چٹان آغا شورش کاشمیری سے تفصیلی ملاقات کر چکے ہیں۔ دریں اثناء آج صبح دفتر چٹان میں آغا شورش کاشمیری کی زیر صدارت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم بھٹو سے ملاقات کے دوران لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے میں غور و فکر کیا گیا۔
علماء اور سیاسی رہنماؤں سے وزیر اعظم کی ملاقاتیں آج سہ پہر ساڑھے چار بجے سے پونے آٹھ بجے تک جاری رہیں۔ جن دیگر رہنماؤں سے وزیر اعظم نے تبادلہ خیال کیا، ان میں مولانا ظفر انصاری، مولانا عبد الرحیم اشرف اور مولانا زین العابدین شامل ہیں۔ سب سے طویل ملاقات عبید اللہ انور سے تھی، جو پون گھنٹہ جاری رہی۔ یہ صلاح مشورے کل تیسرے روز بھی جاری رہیں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے آج کی ملاقاتوں میں ۱۴؍ جون کو واقعہ ربوہ کے خلاف ہڑتال کرنے کی اپیل پر بھی بات کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب تک باہمی مذاکرات جاری ہیں اور ان کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آتا، ہڑتال نہ کی جائے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے علمائے کرام پر یہ واضح کیا کہ بین الاقوامی سیاسی مصلحتوں اور اندرون ملک سیاسی حالات کی وجہ سے قادیانیوں کو فوری طور پر اقلیت قرار دینا مناسب نہیں۔ لہٰذا اس مسئلے کو اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم بھٹو گزشتہ دو روز سے صوبائی دارالحکومت میں ہیں۔ ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد واقعہ ربوہ کے سلسلے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی روشنی میں قادیانی مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ اس لئے ان کی صدارت میں لاہور میں دو دن سے اعلیٰ سطح کے اجلاس ہو رہے ہیں۔
(نوائے وقت، مورخہ ۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
نوٹ: ان ملاقاتوں میں مولانا تاج محمود کا نام بھی ہے۔ بعض دیگر کتابوں میں ملاقات کی بعض تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مرحوم کی بھٹو صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ بھٹو صاحب ۱۴؍ جون کی ہڑتال ختم کرانے پر مصر تھے۔ یہ بات مجلس عمل کے رہنماؤں نے نہ تسلیم کی۔ بھٹو صاحب کی ذووجہین سیاست کا اندازہ فرمائیں کہ گورنمنٹ میٹنگوں میں جو خالصتاً اس مسئلہ کے لئے منعقد ہو رہی تھیں، ان میں چیف آف سٹاف کو بھی بلایا گیا۔ اس سے وہ مجلس عمل کو فوج کا ہوا دکھانا چاہتے تھے۔ اس لئے کہ آج تک بھٹو صاحب اس مسئلہ کو حل کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ حضرت بنوری مرحوم کی ملاقات کی تفصیل ماہنامہ بینات کراچی جنوری، فروری ۱۹۷۸ء اشاعت خاص بنوری نمبر کے ص ۳۵۶، ۳۵۷ سے پیش ہے۔
حضرت بنوری کی وزیر اعظم سے ملاقات
اس دوران وزیر اعظم نے ’’مجلس عمل‘‘ کے ارکان سے فرداً فرداً ملاقات کی۔ حضرت نے نہایت صفائی اور سادگی سے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں وزیر اعظم کے سامنے مسلمانوں کے مؤقف کی وضاحت کی۔ آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ آپ (حضرت بنوری) ہی کے الفاظ میں یہ تھا۔ قادیانی مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے روزِ اوّل سے موجود ہے۔ پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ شہید ملت (خان لیاقت علی خان مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کر لیا تھا۔ لیکن افسوس کہ وہ شہید کر دیئے گئے اور ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب ہوا ہو۔ اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیئے گئے تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی (قادیانیوں کی) جان و مال کی حفاظت حکومت کے لئے مشکل ہوگی۔ اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ”ذمی“ کی ہوگی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہوگی۔ اس طرح ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔ میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی غیر اسلامی حکومتوں کا دباؤ ہوگا لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ خارجی دنیا میں غیر اسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرنا دانش مندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل واعتماد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کر سکتی اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔“
مذاکرات کے بعد مجلس عمل کا ردعمل، کل ہڑتال ہوگی
لاہور: مورخہ ۱۲/ جون۔ تحریک ختم نبوت کی مشترکہ مجلس عمل کا ایک اجلاس آج رات گئے تک نوابزادہ نصر اللہ خان کے دفتر میں جاری رہا۔ اجلاس میں وزیر اعظم بھٹو کے ساتھ مجلس عمل کے رہنماؤں کے آج کے مذاکرات پر غور و فکر کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق جمعہ ۱۴/ جون ۱۹۷۴ء کو واقعہ ربوہ کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ یہ ہڑتال وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات کے پیش نظر ملتوی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ ابھی تک وزیر اعظم نے مجلس کے مطالبہ پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا اعلان نہیں کیا۔ مجلس عمل نے تمام دینی وسیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ ۱۴/ جون کو ملک بھر میں مکمل ہڑتال کریں۔
جمعیۃ علماء اسلام کی ہڑتال کی اپیل
لاہور: مورخہ ۱۲/ جون۔ صوبائی دارالحکومت کی سیاسی، دینی اور مذہبی تنظیموں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مجلس عمل کے مطالبات کے ضمن میں ۱۴/ جون جمعہ کو ملک گیر ہڑتال کریں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے صدر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، سیکرٹری مولانا مفتی محمود اور مولانا عبید اللہ انور نے جمعیۃ علماء اسلام کی تمام شاخوں کو ہدایت کی ہے کہ ۱۴/ جون جمعہ کو ملک گیر ہڑتال میں تعاون کریں اور ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مشائخ، علماء کے فیصلہ کے مطابق جب تک حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی، جدوجہد جاری رہے گی۔ مجلس عمل لاہور کے سیکرٹری جنرل چوہدری غلام جیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے عوام ملک کے علماء، مشائخ اور متحدہ محاذ کے فیصلہ کے مطابق ۱۴/ جون کو مکمل ہڑتال کر کے دینی حمیت کا ثبوت دیں، قادیانیوں کو اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبات پر پوری قوم متحد و متفق ہیں۔ انجمن تاجران پنجاب نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ قومی و دینی معاملہ میں ملک کے علماء ومشائخ کی دعوت پر صوبہ بھر میں ہڑتال کی جائے گی۔ تاجران کے اجلاس کی صدارت مسٹر غلام مرتضیٰ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ انار کلی اور اس کے ملحقہ بازار جمعہ کو بند رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاجران نے یہ فیصلہ مجلس عمل کی دعوت پر کیا ہے۔ یہ کسی تنظیم یا کسی مفاد پرست فرد کی اپیل پر نہیں کیا گیا ہے۔ فروٹ مارکیٹ ٹریڈ گروپ کے صدر حاجی سمیع الدین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ علماء کے فیصلہ کے مطابق فروٹ، سبزی وغیرہ مارکیٹیں مکمل بند ہوں گی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت اسلامی اور ہڑتال
مجلس شوریٰ جماعت اسلامی لاہور نے ایک قرارداد کے ذریعے لاہور کے شہریوں، تاجروں اور دوکانداروں، مزدوروں اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ جمہوری محاذ اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اعلان کے مطابق ۱۴؍ جون جمعہ کو مکمل ہڑتال کریں اور قادیانیوں کے بارے میں مسلمانان پاکستان کے متفقہ مطالبات کی تائید کے لئے اپنے دینی اور اسلامی جذبات کا بھر پور مظاہرہ کریں۔ مجلس شوریٰ نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، انہیں کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کرنے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنے کے مطالبات سواد اعظم کے مطالبات ہیں اور یہ صرف مسلمانان پاکستان کے ہی مطالبات نہیں، بلکہ رابطہ عالم اسلامی کے حالیہ اجلاس میں دنیا بھر کی مسلمان تنظیموں کے نمائندے بھی اسی نوع کے مطالبات کر چکے ہیں۔ اس لئے حکومت پاکستان کو ان مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کر کے اس معاملہ کو امن وامان کے لئے خطرہ بننے سے روکنا چاہئے۔
رامے کی تقریر
کل ہڑتال نہ کی جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کچل دیا جائے گا
لاہور: مورخہ ۱۲؍ جون (ا.پ.پ) وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے کہا ہے کہ ربوہ کے واقعہ کے فوری ردعمل سے نمٹنے کے بعد اب حکومت اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے آج رات ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر صوبے کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ربوہ کے واقعہ کے بعد حکومت اطمینان سے نہیں بیٹھی۔ وہ اس مسئلے کے فوری اور دور رس امکانات سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پہلا موقعہ ہے کہ حکومت نے اس مسئلہ پر تشدد کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ ہمارے ایمان اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے حکومت اسے حل کرنے پر پوری توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جب کہ وزیراعظم لاہور میں موجود ہیں اور دینی اور سیاسی رہنماؤں سے مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔ بعض عناصر کی طرف سے ہڑتال اور مظاہروں کی دھمکی ناقابل فہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس انتباہ کے باوجود موقع پرست عناصر باز نہ آئے تو قانون شکنی اور امن درہم برہم کرنے کی ہر کوشش پوری سختی سے دبا دی جائے گی اور حکومت امن وامان برقرار رکھنے کے لئے کسی سخت سے سخت اقدام سے بھی نہیں ہچکچائے گی۔ انہوں نے عوام اور علماء کرام دونوں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے پر امن فضا قائم کرنے میں مدد دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ جس سے ہم آج دوچار ہیں، صرف اہم مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس کی تاریخ بڑی پیچیدہ اور طویل ہے اور یہ مسئلہ سالہا سال سے چلا آ رہا ہے۔ اسے چٹکی بجانے میں حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر حد درجہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کی تلاش میں رخنے نہیں ڈالنے دیں گے۔ انہوں نے محب وطن سیاسی لیڈروں سے بھی امید ظاہر کی کہ وہ قولاً وفعلاً ہڑتال اور ایجی ٹیشن سے اپنی بے تعلقی کا مظاہرہ کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ۲۹؍ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رونما ہونے والے افسوس ناک واقعے اور اس سے ابھرنے والی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ راتوں رات پولیس نے ربوہ کا گوشہ گوشہ چھان کر ستر سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس کی کرائمز برانچ نہایت مستعدی اور سرگرمی سے مصروف تفتیش ہے۔ جوں جوں تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، اس واقعے میں ملوث با اثر افراد کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتاری عمل میں آرہی ہے۔ امیر جماعت احمدیہ کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ساتھ اس واقعہ کے پورے منظر و پس منظر کی بھی ہائیکورٹ کی سطح پر تحقیقات ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ عامتہ المسلمین کے نازک جذبات اور مقدس عقائد سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے ہم نے ابتداء ہی اس پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان واشگاف الفاظ میں اعلان کر چکے ہیں کہ ہمارے اور عامتہ المسلمین کے جذبات اور عقائد ایک ہیں۔ ان میں ہم نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ جہاں تک امن وامان برقرار رکھنے اور پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کی جان، مال، عزت اور آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری کا تعلق ہے، ہم اس ذمہ داری کو ہر قیمت پر پورا کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صوبے میں مکمل امن وامان ہے۔ یہ کام اکیلے حکومت کے بس کے نہ تھا۔ عوام کا شعور، علماء کے تعاون اور اخبارات کے رویے نے اس اشتعال انگیز فضاء کو سنبھالنے میں جو قابل فخر کردار ادا کیا ہے، اسے نہ میں فراموش کر سکتا ہوں اور نہ تاریخ ۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مسئلے کے فوری اور ہنگامی پہلوؤں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد ہم مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں رہے۔ اخبارات سے سنسر اور مساجد سے ڈی. پی. آر کی پابندیاں اٹھانے اور گرفتار شدگان کی رہائی کے فوراً بعد ہم نے اس برسوں پرانے اور پیچیدہ مسئلے کے مستقل حل کی کوشش کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ یا کوئی بھی مسئلہ تشدد اور لاقانونیت سے مستقل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ مسائل کا مستقل حل صرف افہام و تفہیم اور غور وفکر سے ممکن ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر میں نے وزیر اعظم بھٹو سے استدعا کی کہ وہ دینی اور سیاسی رہنماؤں سے گفت و شنید کریں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اس وقت لاہور میں ہیں اور اب تک متعدد دینی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ملاقات و مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات کو افسوس ناک قرار دیا کہ ایک طرف یہ مذاکرات جاری ہیں۔ مگر دوسری طرف بعض سیاسی عناصر اس مسئلے کو ایک نیا رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود ان عناصر نے بھی وزیر اعظم سے مذاکرات پر آمادگی کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ الٹی میٹم بھی دے دیا ہے کہ تین روز کے اندر اگر ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو وہ ہڑتال اور احتجاج کا راستہ اختیار کر لیں گے۔ گفت و شنید میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہڑتال اور احتجاج کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ آج جو مسئلہ در پیش ہے، وہ سنگین بھی ہے اور اہم بھی اور اس مسئلے کی عہد در عہد پھیلی ہوئی ایک طویل اور پیچ در پیچ تاریخ ہے۔ اس لئے یہ چٹکیوں میں حل ہونے کی بجائے سنجیدہ غور وفکر کا متقاضی ہے۔ جب ہم نے بات چیت کی پیشکش کر دی ہے اور ملک میں ایک ایسا دستور موجود ہے جو ختم نبوت کے عقیدے کو تحفظ دیتا ہے تو پھر ہڑتال اور احتجاج کے اس الٹی میٹم کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ خصوصاً جب الٹی میٹم دینے والے حضرات نے خود بھی بات چیت کی پیشکش قبول کر لی ہو۔
(نوائے وقت، مؤرخہ ۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب اسمبلی میں قرارداد کا نوٹس
لاہور: مؤرخہ ۱۲؍ جون۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے متعدد ارکان نے ایک قرارداد کا نوٹس دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ احمدی فرقے کو اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ قرارداد اپوزیشن کے لیڈر علامہ رحمت اللہ ارشد، ڈپٹی لیڈر میاں خورشید انور، ملک خالق داد بندیال، سید تابش الوری، حاجی سیف اللہ، مرزا فضل حق، میاں افضل حیات کی طرف سے پیش کی جا رہی ہے۔ ان تمام ارکان نے علیحدہ علیحدہ قرارداد کا نوٹس دیا ہے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر میاں خورشید انور نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی ایسی ہی ایک قرارداد کا نوٹس دیا تھا لیکن سپیکر نے اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔ میاں صاحب نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حکومت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عوام کے جذبات کا احترام کرے گی۔ کیونکہ عوام نے اپنی رائے کو کھل کر ظاہر کر دیا ہے۔ میاں صاحب نے کہا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے اسی بنیادی مسئلہ کو حل کر دے تا کہ حکومت اور قوم دونوں دلجمعی کے ساتھ ملک کے معاشی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے سکیں۔ میاں صاحب نے کہا کہ حکومت نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا تو یہ اس امر کا واضح اعلان ہوگا کہ حکمرانوں نے سوشلزم اور دوسرے خلاف اسلام نظریات کو ترک کر دیا ہے اور اسلام کی صحیح راہ پر چل نکلے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں سے کہا ہے کہ اگر انہوں نے عامتہ المسلمین کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا تو اس میں ان کا بہت فائدہ ہوگا اور قطعاً کوئی نقصان نہ ہوگا۔
صمدانی کمیشن کی برہمی
صمدانی کمیشن کی مکمل کارروائی علیحدہ مکمل یکجا شامل کریں گے، تاہم آج مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات میں ایک مسئلہ ایسا آیا ہے جسے درج کرنا ضروری ہے۔
لاہور : مؤرخہ ۱۲؍جون۔ واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے کارروائی کے دوران پیش ہونے والے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی کوئی غیر ضروری چیز ، خط یا تار یا دوسرا مواد ٹربیونل کے سامنے پیش نہ کریں۔ جس کے بارے میں انہوں نے اس بات کی مکمل چھان بین نہ کر لی ہو کہ قرار واقعی ایسی چیز کا عدالت میں پیش کرنا سود مند ہوگا۔ انہوں نے یہ بات شباب مفتی بٹ ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کردہ ایک تار کی فوٹوسٹیٹ اور درخواست پر کہی۔ تار لاہور کے ایک شخص امیر الدین کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کو بھیجا گیا تھا اور تار بھیجنے والے نے کہا تھا کہ وہ احمدی ہے اور وقوعہ کے روز ربوہ میں باہر سے بھی قادیانیوں کو بلوایا گیا تھا۔ اس میں اس واقعہ کی تحقیقات کرانے کی اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ ان کی جماعت کے سربراہ پنجاب کے امن کو تباہ کرنے پر تلے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وکلاء حضرات کوئی غیر ضروری چیز عدالت میں پیش نہ کریں۔ انہوں نے مسٹر شباب مفتی کو حکم دیا کہ وہ تار بھیجنے والے شخص کا پتہ کر کے اسے ٹربیونل کے روبرو پیش کریں تاکہ اس سے صحیح صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔ فاضل ٹربیونل نے کہا کہ جب تک تار بھیجنے والا شخص عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور یہ اقرار نہیں کرتا کہ تار اس نے بھیجا ہے ، اس وقت تک تار کی صحت پر کوئی یقین نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس وقت تک تار کی ایک ناکارہ کاغذ کے پرزے سے زیادہ حیثیت نہیں۔
فاضل جج نے کہا کہ وہ یہ بھی پتہ کرائیں گے کہ وزیر اعظم کو موصول شدہ اس تار کی فوٹوسٹیٹ نقل کس طرح کن حالات میں اور کن مقاصد کے تحت حاصل کی گئی ہے۔ فاضل جج نے اس موقع پر بتایا کہ انہیں بھی بعض گروہوں کے افراد کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ خطوط وصول ہو رہے ہیں ، جن میں ایک خاص فرقہ کے خلاف باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
اوکاڑہ
اوکاڑہ : مؤرخہ ۱۲؍جون۔ اوکاڑہ کی تمام انجمنوں جن میں کریانہ مرچنٹس کلاتھ مرچنٹس ، آئرن مرچنٹس اور جنرل سٹورز ایسوسی ایشن کے علاوہ بہت سی دینی اور سماجی انجمنیں شامل ہیں ، ایک مشترکہ اجلاس میں قادیانیوں سے مکمل لین دین ختم کرنے کے بارے میں قرارداد منظور کی ۔ اجلاس کی صدارت شیخ محمد رفیق نے کی ۔ اجلاس سے جنرل سیکرٹری چوہدری رحمت علی نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں شہر بھر میں اس سوشل بائیکاٹ کے اعلان کے بعد تمام قادیانیوں نے گاہک نہ ہونے کے باعث آج بعد دوپہر تمام دوکانیں بند کر دیں۔ دریں اثناء پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے جوان قادیانیوں کا مکمل تحفظ کئے ہوئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسیران ختم نبوت رہا نہیں ہوئے
لائل پور : مؤرخہ ۱۲؍جون۔ تحریک استقلال کے ضلعی چیئرمین چوہدری حبیب الرحمٰن ایڈووکیٹ ، شہر لائل پور کے چیئرمین تاج دین شیخ ، سب سٹی کونسل کے قائمقام چیئرمین مسٹر خالد مسعود شیخ نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مسٹر حنیف رامے نے حالیہ ہنگاموں میں گرفتار شدگان کی رہائی کی خوشخبری سنائی ہے لیکن ابھی تک سینکڑوں لوگ جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے دوران شیخ محمد شریف ، چیئرمین تحریک استقلال جھنگ شہر کو گرفتار کیا گیا اور پولیس نے ان پر ناروا تشدد کیا جس کی محبّ وطن افراد پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ تحریک استقلال کا ہر کارکن اپنے ہادی برحق رسول اکرم ﷺ کی عظمت کے لئے قربانی دیتا رہے گا۔
سرگودھا
مجلس عمل تحریک ختم نبوت کے اجلاس میں وزیر اعظم بھٹو سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مجلس عمل کا ایک ہنگامی اجلاس مسجد فاروق اعظم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چوہدری ظفر اللہ اور مرزا ناصر احمد کے بیانات کی شدید مذمت کی گئی اور وزیر اعظم بھٹو سے اپیل کی گئی کہ وہ عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر عوامی فیصلہ کر کے قوم کے دل جیت لیں۔
عارف والا
عارف والا : مؤرخہ ۱۲؍جون ۔ عارف والا میں تحریک ختم نبوت کے دوران گرفتار ہونے والوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ واپس عارف والا پہنچ گئے ہیں۔ ان کی واپسی پر پر جوش استقبال کیا گیا ۔ اڈہ پر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو چکے تھے۔ وہاں سے انہیں غلہ منڈی لے جایا گیا جہاں ایک جلسہ ہوا۔ رانا احسان ، شیخ محمد اکرم اور سلیم شاہ نعیم نے لوگوں سے خطاب کیا اور مجمع پر امن طور پر منتشر ہو گیا ۔ قبولہ میں بھی رہا ہونے والوں کا پر جوش استقبال کیا گیا اور دفتر جماعت اسلامی میں ایک جلسہ منعقد ہوا ، جس میں ایک قرار داد میں قادیانیوں کے سماجی بائیکاٹ کا عہد کیا گیا۔
لائل پور
لائل پور : مؤرخہ ۱۲؍جون۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے آج ایک ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ۱۴؍جون کو شہر میں مکمل ہڑتال کی جائے۔ مجلس عمل نے مسلمانوں سے استدعا کی ہے کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کریں۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ اجلاس میں وزیر اعظم بھٹو سے اپیل کی گئی کہ وہ سواد اعظم کے جذبات کے مطابق قادیانیوں کو اقلیت قرار دے کر دنیاوی اور اخروی سرخروئی حاصل کریں ۔
قبول اسلام
بہاول پور : مؤرخہ ۱۲؍جون۔ ” مسجد الصادق میں نماز عصر کے بعد نمازیوں کے اجتماع میں قادیانی مبلغ ارشد بیگ کے ۲۱ سالہ بیٹے نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ۔“
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزی مجلس عمل میں مجلس احرار اسلام کی نمائندگی
لاہور:مورخہ ۱۲؍جون۔ مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام پاکستان میں تقریر کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام پاکستان سید ابو معاویہ ابو ذر بخاری نے کہا کہ مجلس نے مسئلہ ختم نبوت کے لئے مرکزی مجلس عمل میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور ان کے علاوہ ملک عبدالغفور انوری اور سیٹھ اشرف کو نمائندے نامزد کیا گیا ہے۔
نوٹ: مجلس احرار کے دوگروپ تھے۔ ایک کی نمائندگی وسربراہی حضرت مولانا حافظ سید عطاء المنعم ابوذر بخاری فرمارہے تھے۔ دوسرے گروپ کی نمائندگی کا دعویٰ چوہدری ثناء اللہ صاحب بھٹہ کررہے تھے۔ مجلس عمل میں حضرت حافظ صاحب اور چوہدری صاحب دونوں کو لے لیا گیا۔ اس پر حضرت حافظ نے اجلاس منعقد کر کے حضرت بنوری کو خط تحریر کیا کہ مجلس احرار کی نمائندگی وہ خود اور ملک صاحب و سیٹھ صاحب کریں گے۔ اس ضمن میں حضرت حافظ صاحب کی حضرت بنوری سے ایک ملاقات بھی ہوئی۔ تاہم حضرت بنوری نے حافظ صاحب کو سمجھا بجھا کر دونوں گروپوں کی سابقہ حیثیت برقرار رکھی۔
۞....... لاہوری مرزائیوں کے اشتہار کے جواب میں مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کی طرف سے اخبار نوائے وقت میں آج (ایک اشتہار) شائع ہوا۔ فقیر راقم الحروف تحریک کے دنوں فیصل آباد میں مبلغ تھا۔ حضرت مولانا سعید الرحمٰن علوی مرحوم، اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں، وہ لائل پور میں جمعیۃ علمائے اسلام کے مبلغ تھے۔ فقیر نے حوالہ جات جمع کئے۔ مولانا علوی صاحب نے اشتہار مرتب کیا جو مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کرایا گیا وہ یہ ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار ختم نبوت
نیز مرزا کا دعویٰ نبوت اپنی تحریرات کے آئینہ میں
انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کا ایک اشتہار ”نوائے وقت“ مجریہ مورخہ ۱۱؍جون ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا۔ جس میں عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرزا غلام احمد ختم نبوت کے قائل تھے۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس اشتہار میں مرزا قادیانی کے جو حوالے درج ہیں، وہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے ہیں جب کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت ۱۹۰۱ء میں کیا۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
- ۱....... ”محمد الرسول اللہ والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور
رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، از مرزا قادیانی تحریر مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء)
- ۲....... ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱)
- ۳....... ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور اسی نے میرا نام نبی رکھا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۶۸، تاریخ مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء)
- ۴....... ”صریح طور پر مجھے نبی کا خطاب دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۵۰)
- ۵....... ”مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی
کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۵۰، تاریخ اشاعت مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۷ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶...... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(روزنامہ بدر قادیان، مؤرخہ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء، مرزا قادیانی کا سالِ وفات)
- ۷...... ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا نام نبی رکھتا ہے تو میں
کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘
(آخری خط، مندرجہ اخبار عام مؤرخہ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)
- ٭...... یہ خط مرزا قادیانی نے ۲۳؍ مئی کو لکھا۔ ۲۶؍ مئی کو شائع ہوا اور یہی دن مرزا قادیانی کی وفات کا ہے۔
نوٹ: اب لاہوری مرزائی فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے ارشاد کے مطابق مدعی نبوت لعنتی ہے۔ (جیسا کہ ان کے اشتہار میں اعلان ہے) تو پھر مرزا قادیانی اپنے فتوے سے خود ہی لعنتی ٹھہرے۔
اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد مدعی نبوت کافر ہے۔ اس کو کافر نہ کہنے والے بھی کافر ہیں۔ چہ جائیکہ اسے مجدد یا مسیح موعود مانا جائے۔ ایسا شخص کفر کا مجدد تو ہو سکتا ہے، اسلام کا نہیں۔ منجانب: مجلس تحفظ ختم نبوت، لائل پور
آج کے نوائے وقت میں ایک اور اشتہار شائع ہوا۔
قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جائے
۱۱؍ جون کو نوائے وقت میں شائع شدہ اشتہار میں مرزائیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ مرزا غلام احمد کی اپنی تحریریں اسے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔
- ۱...... ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص ۱۱، طبع قدیم)
- ۲...... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(اخبار بدر مؤرخہ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء)
- ۳...... ’’صدہا نبیوں کی نسبت ہمارے معجزات اور پیش گوئیاں سبقت لے گئی ہیں۔‘‘
(ریویو جلد اوّل ص ۳۹۳)
- ۴...... ’’جو کوئی میری جماعت میں داخل ہوگیا، صحابہ میں داخل ہوگیا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۱)
- ۵...... ’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا نام نبی رکھا ہے اور
میری تصدیق کے لئے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۶۸)
- ۶...... ’’ہاں میں وہ ہوں جو بشارتوں کے موافق آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں جو میرے ممبر پر قدم رکھے۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع سوم)
- ۷...... ’’میں ہی مسیح زماں ہوں، میں ہی کلیم خدا ہوں، میں ہی محمد واحمد مجتبیٰ ہوں۔‘‘
(تریاق القلوب ص ۳)
منجانب: تنظیم نوجوانانِ اسلام، بلاک نمبر ۱۲، سرگودھا
آج بھی وقار انبالوی کا قطعہ شائع ہوا۔
ظفر اللہ کو ٹام کا جواب
آپ نے ڈنڈے کی خدمت کی تھی، اب ڈنڈا کہاں گردشِ ایام سے پس پس کے ہم خود گرد ہیں
(وقار انبالوی)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سر راہے
استاذ ذوق نے ایک غزل کہتے کہتے قافیہ پیمائی کے زور میں اور رواروی کے عالم میں کہا تھا ؎
لیکن خدا جانے اس ”چلے چلو“ میں کیا تاثیر تھی کہ بیسویں صدی کی ان تحریکوں میں جو مسلمانوں نے وقتاً فوقتاً شروع کیں، اس ”چلے چلو“ نے بڑی ہلچل مچائی۔ بیسویں صدی کا تیسرا دہہ ختم ہو رہا تھا کہ لاہور کی فضاؤں میں ایک نعرہ گونجا ؎
یہ غالباً افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کی نصرت کے لئے نعرہ ایجاد ہوا لیکن کچھ دن بعد خود امان اللہ قندھار سے چلے گئے اور یہ نعرہ ہوا میں تحلیل ہو کر رہ گیا۔ چوتھا دہہ شروع ہوا ہی تھا کہ لاہور کی فضاؤں میں ایک اور نعرہ گونجا ؎
پہلے نعرہ پر بھی مولانا ظفر علی خان مرحوم نے طبع آزمائی کی اور دوسرے نعرے پر بھی۔ لیکن تحریک کشمیر کا جو انجام قادیانیوں کے ہاتھوں ہوا اس نے اس نعرہ کی کشش بھی چھین لی۔ اب کراچی کی فضاؤں میں ایک نعرہ گونجا ہے ؎
یہ نعرہ صحافیوں کی ایجاد ہے اور صرف صحافیوں کے بلاوے کے لئے ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے یہ نعرہ بھی اب چل چلاؤ کی منزل کے قریب ہے۔ کیونکہ لاہور اس وقت ایک بڑے مسئلے کے حل میں مصروف ہے۔
لاہوری مرزائیوں میں اور قادیانی مرزائیوں میں قادیان کے ”خلیفہ اوّل“ کی موت کے بعد جب ان کی جانشینی کا جھگڑا ہوا تو دونوں کی راہیں جدا جدا ہو گئیں لیکن مرزا غلام احمد کے پرستار دونوں گروہ رہے۔ ایک نے ان کو ایک مقام بخشا، دوسرے نے ذرا بلند مقام دے دیا۔ اب جو قادیانی جماعت کھل کھیلی اور اس نے اپنے عزائم مشومہ کے اظہار کے لئے چناب ایکسپریس سے ابتداء کی تو لاہوری مرزائیوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے حریف گروہ سے ذرا آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کی تشہیر اپنے خیال کے مطابق شروع کر دی۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ مرزا غلام احمد نبوت کے جھوٹے دعوے کے بعد جب اپنا اگلا پچھلا کہا سنا بھول گئے تھے، تو اب ان کے کلام سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کے کیا معنی؟ کہ ان کا دعویٰ کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کے ملفوظات سے بارہا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی مسلمانوں کی اس مرکزیت کو محض انگریز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ختم کرنا چاہتے تھے جو حضور خاتم المرسلین ﷺ کے صدقے میں ان کو حاصل ہوئی تھی۔ ایسا شخص چاہے کوئی دعویٰ کرے، عامۃ المسلمین کے نزدیک وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ لاہوری مرزائیوں کی تاویل ہو یا قادیانی مرزائیوں کی تعبیر۔ مسلمان دونوں سے بیزار ہیں اور بیزار رہیں گے اور مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی، مسلمانوں کے نزدیک ان میں کوئی فرق نہیں۔ ایک اگر کمیونسٹ ہے تو دوسرا سوشلسٹ۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۳؍جون ۱۹۷۴ء)
۱۴؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مجلس عمل نے ملک بھر میں ۱۴؍جون کو ہڑتال کی کال دی تھی۔ ۱۲، ۱۳؍جون کو دو روز تک جناب بھٹو صاحب کے مجلس عمل کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہنماؤں سے قادیانی مسئلہ پر مذاکرات ہوئے۔ مجلس عمل نے ہڑتال کی کال واپس نہ لی۔ جناب بھٹو صاحب نے ۱۳؍ جون کی شام کو ریڈیو، ٹی۔ وی پر قوم سے خطاب کیا اور قادیانی مسئلہ کو بجٹ کے بعد قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔ ارکان اسمبلی پارٹی وابستگی سے بالا تر ہو کر اظہار رائے کر سکیں گے۔ امن وامان میں خلل برداشت نہیں ہوگا۔ فوج تیار ہے۔ بھٹو صاحب کا خطاب ایک سیاستدان کا خطاب تھا۔ اس میں منت و دھمکی دونوں چیزیں تھیں۔ بہرحال ان کا خطاب وہ چونکہ خالصتاً قادیانی مسئلہ اور تحریک ختم نبوت سے متعلق تھا، پیش خدمت ہے۔
وزیر اعظم بھٹو صاحب کا ٹی۔ وی پر خطاب
لاہور: مؤرخہ ۱۳؍ جون ۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ۳۰؍ جون کو بجٹ اجلاس کے فوراً بعد مرزائیوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ لاہور میں مختلف مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے ربوہ کے واقعہ پر سہ روزہ تفصیلی مذاکرات کے بعد آج شام ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنی سوا گھنٹے کی نشری تقریر میں وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ارکان پر پارٹی کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور انہیں اس مسئلے پر کھل کر اپنے عقیدے اور نظریے کے مطابق اظہار خیال کی پوری آزادی ہوگی۔ اگر قومی اسمبلی نے اس مسئلے پر اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ سے فیصلہ لئے جانے کی سفارش کی تو حکومت ایسا ہی کرے گی۔ وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ مناسب وقت پر اسلامی نظریے کی بنیاد پر اس مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کر لیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے بعض حلقوں کی جانب سے اس مسئلے کے فوری فیصلے کے مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں فوری فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔
انہوں نے بعض حلقوں کی طرف سے عام ہڑتال کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنی دوکانیں بند رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا کسی کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ حکومت ہر شہری کے جان ومال کی بلا امتیاز مذہب حفاظت کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں جو ربوہ کے واقعہ کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ کے واقعہ سے جو مسئلہ کھڑا ہوا ہے، وہ مذہبی ہے اور اس کا حل ایسا ہونا چاہئے جس سے ملک کی سالمیت و یکجہتی متاثر نہ ہو۔ مزید برآں اس مسئلے کا حل عوامی امنگوں کا عکاس ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی ۳۰؍ جون تک بجٹ کو منظور کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہوگی اور اس کے بعد عوام کے نمائندوں کو منظور کرنے کی کارروائیوں میں مصروف ہوگی اور اس کے بعد عوام کے نمائندوں کو اس مسئلے پر آزادانہ اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا۔ اس مسئلے کو اہم اور نازک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان پر اس مسئلے پر بحث کے دوران پارٹی نظم و ضبط کی پابندی لازم نہیں ہوگی۔ وہ اپنے عقائد اور مؤقف کے مطابق کھل کر بات کر سکیں گے۔ کورٹ کا ایک جج ربوہ کے واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس ٹربیونل کے فیصلے کا بھی انتظار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ نیا نہیں، اسّی نوے سال پرانا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے لاہور میں اپنے موجودہ قیام کے دوران بہت سے مذہبی و سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ ان مذاکرات کی تفصیلات خفیہ ہے۔ وہ صرف ان لوگوں کا ذکر کریں گے، جنہوں نے ان سے کہا تھا کہ اگر میں فوری طور پر یہ مسئلہ حل کردوں تو ہیرو بن سکتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ایسے افراد کو بتایا کہ وہ اس بارے میں یک طرفہ فیصلہ کر کے ہیرو نہیں بننا چاہتے۔ وہ ۱۹۶۵ء کی جنگ تاشقند اور انتخابات میں ہیرو بن چکے ہیں۔ اس لئے اب ان میں ہیرو بننے کی کوئی امنگ نہیں رہی۔ مزید برآں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ آمر نہیں بلکہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ اگر وہ آمر ہوتے تو عوام سے مشورہ کئے بغیر کئی فیصلے کر چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کا منصفانہ حل چاہتے ہیں۔ اس کے لئے عوام کے منتخب نمائندوں کے خیالات سنے جانا چاہئیں۔ اس لئے وہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں اپنے مسلمان ہونے اور ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھنے کا فخر ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ختم نبوت کا ملک کے آئین میں ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے سابقہ دساتیر میں اس کا ذکر نہیں تھا۔ موجودہ آئین کے تحت کوئی ایسا شخص ملک کا صدر یا وزیر اعظم نہیں بن سکتا جو ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ اپنے عہدے کے حلف میں انہیں یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ مسئلہ پاکستان کے عوام کا مسئلہ ہے۔ ایسے حلقے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو عوام پر نہیں چھوڑنا چاہئے لیکن پیپلز پارٹی عوام پر یقین رکھتی ہے کہ عوام ہی حقیقی قوت ہے۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور عوام کو کسی مسئلے پر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر ۱۹۷۱ء میں انہوں نے انتہائی نازک دور میں اقتدار سنبھالا تھا۔ ملک تقسیم ہو چکا تھا۔ مغربی پاکستان کا پانچ ہزار مربع علاقہ بھارتی قبضہ میں تھا اور نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدی بھارتی قید میں تھے۔ اس وقت وہ اقتدار سنبھالنے سے انکار کر سکتے تھے لیکن ہم نے محض ملکی سالمیت اور استحکام کے لئے اقتدار قبول کیا۔
حکومت نے عوامی امنگوں کے مطابق کام کرتے ہوئے قوم کو درپیش اہم مسائل حل کر لئے اور موجودہ مسئلے کا حل بھی پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق تلاش کر لیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بعض عناصر ہڑتال کرنے ، اشتعال انگیز تقریریں کرنے اور گڑ بڑ پھیلانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ آخر وہ سب کچھ کس کے خلاف کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے وقت کا تعین ممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مناسب وقت پر عوام کے تعاون سے اس مسئلے کا اسلامی نظریات کے مطابق منصفانہ حل تلاش کر لیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ امن وامان برقرار رکھنا صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ عوام کی ذمہ داری ہے۔ صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے سخت تنبیہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ بلا امتیاز مذہب اور رنگ ونسل وہ پاکستانی شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرے۔ وہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہڑتالوں کی دھمکیوں کا مقصد محض حکومت کو ڈرانا دھمکانا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آج ہڑتال کی دھمکیاں دینے والے لوگ جب نو ماہ تک صوبہ سرحد میں برسر اقتدار تھے تو انہوں نے اس مسئلے پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان شر پسندوں کے ہاتھ میں نہ کھیلیں جو اس مذہبی مسئلے کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوام ان عناصر کو ان کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کسی الٹی میٹم یا دھمکی سے نہیں ڈرتے۔ ان کے پیش نظر صرف یہ بات ہے کہ چونکہ اس مسئلے کا تعلق اسلام کے بنیادی نظریے سے ہے اس لئے وہ صرف اس مسئلے پر کوئی فیصلہ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ عوام کو دھوکا دینے کے لئے وقت نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا پاکستان کے قیام کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی وقت درکار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مرزائی مسئلہ کھڑا کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ہے۔‘‘
(امروز ملتان، مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھٹو کی تقریر پر غور کے لئے مرکزی مجلس عمل نے اپنا اجلاس ۱۶؍ جون کو لائل پور میں طلب کرلیا
لاہور: مؤرخہ ۱۳؍ جون۔ تحریک ختم نبوت کی مجلس عمل نے اپنا اجلاس ۱۶؍ جون کو لائل پور میں طلب کرلیا ہے۔ مجلس عمل کے اس اجلاس میں وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی آج کی نشری تقریر کی روشنی میں نیا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اس امر کا اعلان آج مجلس عمل کے ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔
ہڑتال پرامن ہو، مجلس عمل کی اپیل
لاہور: مؤرخہ ۱۳؍ جون۔ کل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کل ہڑتال کے دوران مکمل طریقے سے پرامن رہیں اور کسی قسم کی کوئی بدامنی کا مظاہرہ نہ کریں۔ مجلس عمل کے ترجمان نے کہا کہ کل قطعی پرامن ہڑتال کی جائے۔
ملتان میں فوج کا گشت
متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر جمعہ کو ملتان شہر اور چھاؤنی کے علاقوں میں ہڑتال رہے گی اور تمام کاروباری مراکز بند رہیں گے۔ ضلعی انتظامیہ نے امن وامان قائم رکھنے کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں اور عوام کی جان ومال کا ہرطرح سے تحفظ کیا جائے گا۔ آج دن بھر فوج نے شہر میں گشت کیا۔ آج شہر کی کاروباری انجمنوں اور تاجروں کی ایسوسی ایشنوں کے مختلف اجلاسوں میں فیصلہ کیا گیا کہ کل جمعہ کو مکمل طور پر ہڑتال کی جائے۔ اس طرح ٹریڈرز چیمبر کا اجلاس شیخ عبدالحمید کی صدارت میں ہوا اور مکمل ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ مجلس عمل نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ پر زور دینے کے لئے ہڑتال کرانے کی اپیل کی ہے۔ چنانچہ آج کاروباری انجمنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ دوکانیں بند رہیں گی۔ ادھر ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن وامان قائم رکھنے کے لئے ہرممکن اور ضروری اقدامات کئے ہیں اور شہریوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ انتظامیہ ان کے جان ومال کی حفاظت کے فرض اور ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برآ ہوگی۔ آج ملتان میں دن بھر فوج نے گشت کیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد شہر کے اہم بازاروں، چوکوں اور سڑکوں پر فوج کے ٹرک پھرتے رہے۔
لندن میں عزیز احمد اور سر ظفراللہ میں طویل ملاقات
کراچی: مؤرخہ ۱۳؍ جون۔ لندن کی اطلاع کے مطابق پاکستان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ دفاع عزیز احمد نے آج یہاں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ سر ظفراللہ خاں سے ملاقات کی۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ اس طویل ملاقات میں کون سے مسائل زیرغور آئے۔ واضح رہے کہ سر ظفراللہ خاں نے گزشتہ ہفتہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بین الاقوامی ریڈ کراس قانون دانوں کے کمیشن اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان میں احمدیوں کی حمایت میں مداخلت کریں۔
چشتیاں
چشتیاں: مؤرخہ ۱۳؍ جون۔ انجمن شہریان نے جمعۃ المبارک کو شہر میں مکمل ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شہر کی تمام مساجد میں علماء کرام ختم نبوت کے مسئلے پر تقاریر بھی کریں گے۔ انجمن شہریان کے ترجمان کے مطابق ربوہ واقعہ کے خلاف پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ علاوہ ازیں ایک اجلاس میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں جس میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء شہر میں پولیس اور رینجرز گشت کررہی ہے تاکہ حالات پرسکون رہ سکیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طلباء بھی ربوہ واقعہ کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بارے میں دو روز سے اجلاس کر رہے ہیں۔ تاہم اجلاس کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا۔
پنجاب اسمبلی
تابش الوری نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قادیانی مسئلہ کا حل کرے۔ اسے مؤخر کرنا یا اس کے لئے تاخیری حربے استعمال کرنے قومی سلامتی کے منافی ہیں۔ حکومت کو اس کا فوری حل کرنا چاہئے۔ اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے سے قبل حزب اختلاف کے ڈپٹی لیڈر میاں خورشید انور نے ایوان میں اعلان کیا کہ مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے کل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل دینی کاز کے لئے ہے۔ قادیانی مسئلہ پر ریفرنڈم کے لئے کل کے اجلاس میں حزب اختلاف اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہوگی تاکہ ہڑتال کی اپیل پر قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں۔
(امروز ملتان، مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء)
ہڑتال اور جلسہ ہائے عام
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی تھی اور ساتھ ہی اعلان کیا تھا کہ قادیانیوں کے خلاف اس روز پورے ملک میں جلسہ ہائے عام منعقد کئے جائیں۔ آج کے روز لاہور مسجد وزیر خان میں ایک اہم جلسہ عام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ۱۹۵۳ء میں قادیانی شاطر لابی نے مسلمانوں کو حکومت سے لڑا دیا تھا اور خود بچ گئے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مجلس عمل کا طریقہ کار یہ طے کیا گیا کہ تحریک ختم نبوت کا رخ قادیانیت کی طرف رہے حکومت سے تصادم نہ ہونے پائے۔ حکومت کے ساتھ تصادم سے ہر طریقہ پر بچنے کی کوشش کی جائے۔ ہڑتال کامیاب ہو مگر کہیں تصادم نہ ہو۔ اظہار جذبات ہو لیکن امن کو گزند نہ پہنچے۔ الحمدللہ! مسلمانوں کے غم وغصہ اور جذبات کو ایک صحیح رخ پر لگا دیا گیا اور وہ تھا قادیانیوں کا اقتصادی بائیکاٹ۔
قارئین محترم! پورے ملک میں کہیں بھی قادیانیوں کی دوکان پر ایک مسلمان نہ جاتا تھا، نہ ہی کسی قادیانی کو جرأت تھی کہ وہ کسی مسلمان کی دوکان پر قدم رکھے۔ ملک بھر کے تاجر طبقہ نے قادیانیوں کا اقتصادی بائیکاٹ کر کے تحریک کی بھر پور حمایت کی۔ آج کے اخبارات میں دو اشتہار شائع ہوئے۔
قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے
’’مسلمانوں کا فرض ہے کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی ختم المرسلینی کے منکر مرزائیوں سے ہر قسم کا لین دین اور راہ ورسم مکمل طور پر بند کی جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ ہم وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ مرزائیوں کو فوراً غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور اس طرح دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔‘‘ منجانب: اراکین مندر کلاتھ مارکیٹ ایسوسی ایشن، لائل پور
ہم مسلمانوں کا فرض
’’ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم المرسلینی کے منکر۔
قادیانیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کریں
ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھیں اور ان کی تیار کردہ کسی چیز کی خرید وفروخت نہ کریں۔
’’ہم وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو بلاتاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
اس طرح دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں ۔‘‘ منجانب: اراکین پرچون یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن سوتر منڈی ،لائل پور
آج ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کے نوائے وقت میں بھی وقار انبالوی صاحب کا ایک قطعہ شائع ہوا۔
دوٹوک فیصلے کی ضرورت
اک قدم بس اور اٹھا دو ٹوک کر دے فیصلہ جنت ارضی سے آگے جنگ اصلی بھی ہے
(وقار انبالوی)
قارئین محترم! آج کے روز پورے ملک میں ہڑتال ہے۔ کراچی تا خیبر ہر جگہ ختم نبوت کے مقدس عنوان پر اجتماعات ہیں۔ اکثر و بیشتر شہروں میں اجتماعی جمعہ ہوا۔ دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث کی تفریق مٹ گئی۔
خاندانی روایت کے مطابق تقسیم ملک کے وقت فقیر کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ اس لحاظ سے اس وقت ( ۱۴؍نومبر۱۹۹۴ء) فقیر کی عمر تقریباً پچاس سال ہے۔ فقیر نے اپنے سن شعور میں بے شمار سیاسی، مذہبی، احتجاجی، ہڑتالیں دیکھی ہیں۔ لیکن دیانت داری کی بات ہے کہ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کے مقدس عنوان پر ہڑتال قادیانی فتنہ سے اظہار نفرت کے لئے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اتنی کامیاب ہڑتال تھی کہ آج تک اس کی نظیر دیکھنے میں نہیں آئی۔ ہڑتال کرنے والوں میں اخلاص تھا۔ ہڑتال کی کال دینے والے بھی مخلص تھے۔ ہر شخص اسے عبادت تصور کرتا تھا۔ اتنی پر امن و کامیاب ہڑتال پورے ملک میں اس کی نقشہ کشی کرنا فقیر کے بس میں نہیں۔ اس وقت ۱۴؍ جون کے اخبارات کی رپورٹ آپ کے سامنے پیش ہورہی ہے۔ ۱۴؍ جون کی ہڑتال کی خبر ۱۵؍ جون کے اخبارات میں آئے گی۔
اس سلسلے میں تمام کام صرف رضائے الٰہی کے لئے کئے جائیں (مولانا یوسف بنوری)
لاہور: مورخہ ۱۳؍ جون۔ تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل نے اپنے آج کے اجلاس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ کل ہڑتال ہوگی اور کل تیسرے پہر مسجد وزیر خاں میں ایک جلسہ ہوگا۔ ادھر پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان بھی ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ مغربی پاکستان ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے بھی ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی میں ٹانگے، ٹیکسیوں اور بسوں والوں نے بھی ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور سے پی.پی.آئی کی اطلاع مظہر ہے کہ لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے آج یہاں ایک ہنگامی اجلاس میں کل مکمل ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بار کے ارکان کل عدالتوں میں حاضر نہیں ہوں گے۔ آج یہاں جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق ایسوسی ایشن کے اس اجلاس کی صدارت چوہدری غلام باری سلیمی نے کی۔ جماعت اسلامی کے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانان پاکستان کے متفقہ فیصلے کے مطابق کل ۱۴؍ جون بروز جمعہ مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں پورے ملک میں جو ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس میں پوری قوم اور اس کے ہر اہل ایمان کو شریک ہونا چاہئے لیکن اس امر کو لازماً ملحوظ رکھنا چاہئے کہ یہ ہڑتال ایک پاکیزہ اور مقدس دینی مسئلہ کے بارے میں اپنے جذبات اور رائے کے اظہار کے لئے کی جارہی ہے۔ اس لئے اسے نہایت باوقار، پرامن اور اسلامی اخلاقیات کا پابند ہونا چاہئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کل کوئی ایسی حرکت نہ ہونی چاہئے۔ جس سے ہم پر یا ہمارے دین پر کوئی حرف آئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک پریس ریلیز کے مطابق مجلس کے کل پاکستان کنوینر مولانا محمد یوسف بنوری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ: ”خدا کا شکر ہے کہ اس وقت پوری ملت اسلامیہ اس مسئلے پر عدیم النظیر اتحاد اور اسلامی جوش و حمیت کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اتحاد کو مستحکم کیا جائے اور مسئلہ ختم نبوت پر پورے ملک کے دینی جذبات کا مظاہرہ کرنے کے لئے مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق ۱۴/جون ۱۹۷۴ء بروز جمعۃ المبارک ہڑتال کی جائے۔ اس سلسلے میں میں عامۃ المسلمین سے استدعا کرتا ہوں کہ اس ہڑتال کو خالص دینی جذبات کے تحت اس انداز سے کامیاب کیا جائے کہ ملک بھر میں یہ ہڑتال اپنی مثال آپ ہو اور ملت اسلامیہ کے تمام عناصر کے کامل اتحاد کا بہترین مظاہرہ ہو۔ میں مسلمانان پاکستان کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ پرسوں سے وزیراعظم سے ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ خالص دینی اور ملی جذبات سے بھر پور انداز میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو ارباب اختیار پر واضح کیا جا چکا ہے۔ ان ملاقاتوں پر اگر وزیراعظم اس دوران کوئی اظہار خیال کرتے ہیں تو اس پر غور و فکر اور آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مجلس عمل کا اجلاس ۱۶/جون ۱۹۷۴ء بروز اتوار لائل پور میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں کئے گئے فیصلوں سے قوم کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ مساجد میں عام جلسے کئے جائیں جن میں تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار افراد شریک ہوں اور اس مسئلے پر اظہار خیال کریں۔ میں اس بات کی پر زور تاکید کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہوں کہ اس عظیم مسئلے کے تمام کام صرف رضائے الٰہی کے لئے کئے جائیں اور مقصود صرف یہ ہو کہ یہ مسئلہ بطریق احسن حل ہو جائے۔“
ڈاکٹر محمد اظہر قریشی، صدر متحدہ جمہوری محاذ کراچی نے کراچی کے عوام سے کل کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔ اسلامی جمعیۃ طلباء کراچی کے ناظم اور کراچی اسٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین جناب عبدالملک مجاہد نے عوام اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جمعہ کو مکمل ہڑتال کریں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر جذبات کے اظہار کا یہ مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اس موقعہ پر اسلامی جمعیۃ طلباء اور کراچی اسٹوڈنٹس کونسل کے تحت بعد نماز جمعہ جامع مسجد نیو ٹاؤن میں جلسہ ہوگا۔ جس سے طالب علم رہنما خطاب کریں گے۔
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۵/جون ۱۹۷۴ء)
ریکارڈ درست رکھنے کے لئے
کراچی: مؤرخہ ۱۳/جون ۔ جمعیۃ العلماء پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی مولانا محمد حسن حقانی نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے آج اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ان لوگوں نے احمدیوں کے خلاف کوئی قرارداد پیش کیوں نہیں کی جو نو ماہ تک صوبہ سرحد میں برسر اقتدار رہے۔ مولانا حقانی نے کہا کہ وہ ریکارڈ درست رکھنے کی غرض سے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے قرارداد پیش کی گئی تھی جو اسپیکر کے چیمبر ہی میں مسترد کر دی گئی تھی۔
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۵/جون ۱۹۷۴ء)
سرور کائنات کی قسم ...... بھٹو صاحب !
کراچی: مؤرخہ ۱۳/جون ۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ : ”میں سرور کائنات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا۔ لوگ مجھے بھی کافر کہتے تھے۔ اگر میں کافر ہوتا تو حج پر پابندیاں کیوں اٹھاتا۔ میں مسلمان ہوں، مسلمان مروں گا۔ کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا ہوں، کلمہ کے ساتھ مروں گا۔“
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۵/جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ظفر اللہ خاں کو کیا میں نے وزیر خارجہ بنایا تھا؟
کراچی: مورخہ ۱۳؍ جون۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج یہاں اپنی نشری تقریر کے دوراں بتایا کہ احمدیوں کا مسئلہ ۹۰ سال پرانا ہے۔ جب یہ مسئلہ ۹۰ سال میں حل نہ ہوسکا تو میں اس کو تین دن میں کس طرح حل کر سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ بہت سی باتوں کے علاوہ احمدیوں کا مسئلہ بھی میری جھولی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ بات میں نے پیدا کی ہے؟ یہ مسئلہ ۹۰ برس سے چل رہا ہے۔ کیا قادیان کو میں نے قائم کیا ہے؟ کیا قادیان میں گاندھی وغیرہ کی تقریریں میرے دور میں ہوئی تھیں؟ کیا ظفر اللہ خان کو میں نے وزیر خارجہ بنایا تھا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ مسئلہ ۹۰ برس پرانا نہ ہو تو ۲۵، ۲۶ برس پرانا ضرور ہے۔ اس مسئلہ کو میں تین دن میں کس طرح حل کردوں۔
(جنگ کراچی، مورخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
پاکستان کی تاریخ میں ایسی مکمل و پرامن ہڑتال کی مثال نہیں ملتی
احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو یہ امن برقرار نہ رہ سکے گا
کراچی: مورخہ ۱۴؍ جون۔ متحدہ جمہوری محاذ کے کراچی کے صدر اور جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر محمد اطہر قریشی نے کہا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ میں پرامن ہڑتال کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ وہ آج شب آرام باغ میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں نے بالخصوص طرح طرح کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ایک غلط قدم نہیں اٹھایا کہ یہ ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ لیکن اس طرح انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ کسی کی املاک کو یا جان و مال کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔
حکومت اس امن پسندی کو صحیح طرح محسوس کرلے۔ اگر اس نے مطالبات نہ مانے تو کراچی کی تاریخ شاہد ہے کہ اس کے شہری اپنے حقوق کی جدوجہد میں تاخیر پر پرامن نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا پرامن رہنا بزدلی نہیں، جنگ کی حکمت عملی ہے۔ کیونکہ اشتعال انگیزی تحریک کو سبوتاژ کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو نے بے شمار فیصلے قومی اسمبلی سے پوچھے بغیر کئے ہیں۔ اس لئے ایک ایسے مطالبہ کو ماننے میں تاخیر کرنا جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے مسلمانوں کے دل کی آواز ہے، تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احمدیوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔ ہم ان کے ساتھ ظلم و ستم نہیں کریں گے بلکہ وہی سلوک کریں گے، جو اسلامی شریعت کے تحت ذمیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جمعیۃ العلماء اسلام کراچی کے صدر مولانا نور الہدیٰ نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے پرامن رہنے کو ان کی بزدلی نہ سمجھے۔ اگر اس نے فوری طور پر احمدیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا تو پھر مسلمان سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک حکومت کو مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کر دیا جاتا۔ جلسہ سے جمعیۃ العلماء پاکستان کراچی کے صدر صوفی ایاز خان نیازی، مولانا محمد شریف احرار، مفتی غلام قادر کشمیری، سید احمد شاہ ہمدانی، جناب عبداللہ اور جناب احمد عبدالشکور نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ کے دوران کئی مرتبہ جلسہ گاہ کے باہر پٹاخوں کے دھماکے ہوئے لیکن جلسہ جاری رہا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملیر، کورنگی، لانڈھی کے ڈپوؤں سے بسیں نہیں چلائی گئیں۔ شہر کے دیگر علاقوں میں معمول سے کم بسیں چل رہی تھیں۔ ۱۰؍ بجے تک ہڑتال کے باوجود کراچی کے شہریوں کے پرامن رویہ کی وجہ سے فوج نے شہر کا گشت بند کر دیا اور صرف سندھ کانسٹیبلری پولیس گشت کرتی رہی۔ لیاقت آباد میں صبح کچھ لوگوں نے سڑک پر چلنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا لیکن پولیس کے پہنچ جانے کے بعد منتشر ہو گئے۔ نماز جمعہ تک پورا کراچی پرسکون تھا۔ اس شہر کا سب سے بڑا جلسہ جامع مسجد نیوٹاؤن میں ہوا، جس سے اسلامی جمعیۃ طلباء کراچی کے ناظم جناب عبدالمالک مجاہد، طالب علم رہنما آصف مسعود جامعی، جناب قیصر خان، جناب مصباح العزیز، جناب مجید بلوچ وغیرہ نے خطاب کیا۔ جلسہ کے بعد جلوس نکالا گیا۔ جلوس جامع مسجد نیوٹاؤن سے ہوتا ہوا ایمپریس مارکیٹ کی طرف جانا چاہتا تھا۔ گرومندر کے نزدیک بھاری تعداد میں مسلح پولیس اور سندھ کانسٹیبلری نے جلوس کا راستہ روک لیا۔ جلوس کے مشتعل شرکاء آگے بڑھنا چاہتے تھے جب کہ پولیس انہیں جانے کا راستہ نہیں دے رہی تھی۔ اس موقع پر سخت کشیدگی پیدا ہوگئی اور محسوس ہونے لگا کہ پولیس اور جلوس کے شرکاء میں تصادم ہو جائے گا لیکن کسی بھی قسم کا کوئی سانحہ نہیں ہوا۔
پولیس حکام کی درخواست پر جلوس کے قائد جناب عبدالمالک مجاہد نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلوس کے شرکاء سے پرامن رہنے اور تصادم سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ جلوس کو آگے لے جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا گیا اور دعا مانگ کر جلوس کے شرکاء منتشر ہو گئے۔ تحفظ ختم نبوت ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جیکب لائن جامع مسجد کے باہر بھی جلسہ ہوا۔ اس موقع پر پولیس نے ہلکا سا لاٹھی چارج کیا اور دس افراد کو گرفتار کر لیا۔ جن میں نیوٹاؤن مدرسہ کے دو غیر ملکی طالب علم محمد علی اور یوسف بھی شامل ہیں۔ کورنگی، ڈرگ کالونی اور کھوکھراپار ملیر میں بھی طلباء نے جلوس نکالے۔ کورنگی اور کھوکھراپار میں پولیس نے جلوسوں کو منتشر کرنے کے لئے بید چارج کیا اور اسلامی جمعیۃ طلباء رحیم پاشا سمیت ۱۵ سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیاقت آباد میں ساڑھے تین بجے دوپہر کے قریب ایک گروہ نے بس ایچ ڈی بی ۵۹۵۹ کو روک لیا۔ اس کے شیشے توڑ ڈالے اور اس میں آگ لگانے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے انہیں منتشر کر دیا اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔ چار بجے کے قریب نیرنگ سینما کے سامنے کھڑی ہوئی پولیس کی ایک وین پر بھی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ پولیس نے پتھراؤ کرنے والے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔
حیدرآباد میں ہڑتال
حیدرآباد میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ کاروباری ادارے، دوکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ سارے دن مسلح افواج پولیس اور سیکورٹی فورس کے جوان شہر میں گشت کرتے رہے۔ طلباء کی جانب سے نصف درجن سے زائد مقامات پر کارنر میٹنگیں ہوئیں۔ مساجد میں قراردادیں منظور کی گئیں جن میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر بنانے، کلیدی عہدوں سے احمدیوں کو ہٹانے اور مرزا ناصر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیۃ طلباء کے زیر اہتمام آج شام جلسہ ہائے عام ہوئے۔ جماعت اسلامی حیدرآباد کے سیکرٹری میاں محمد شوکت نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب بھٹو کا سب سے بڑا قومی جرم یہ ہے کہ ان کے دور میں قادیانیوں کو سیاسی اہمیت دی گئی اور انہیں مسلم ملت کے خلاف کھلم کھلا سازش کرنے کا حوصلہ بخشا گیا، جو ناقابل معافی جرم ہے۔ میاں محمد شوکت نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ متحدہ جمہوری محاذ سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا سلیمان طاہر نے کہا ہے کہ جناب بھٹو کے دور میں ناموس رسالت ﷺ کے منکرین کو ملک میں پہلی بار اس قدر اہمیت دی گئی کہ انہوں نے نہ صرف شمع رسالت ﷺ کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پروانوں پر حملہ کیا بلکہ اکثریت پر غلبہ کے خواب دیکھنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو مسٹر بھٹو التواء میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے مسلمانوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے جو تمام مسلم ممالک کے علماء کے نمائندہ تنظیم ہے۔ امیر جماعت اسلامی حیدر آباد جناب محمد عمر قریشی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے مطالبات منوانے کی جدوجہد تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص یا حکومت مسلمان نہیں کہی جاسکتی، جو قادیانیوں کی پشت پناہی کرے۔ جناب علیم الدین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا۔ اسلامی جمعیتہ طلباء کے جلسہ سے جناب کفایت اللہ، عتیق احمد جیلانی، مشتاق احمد خان، سندھ میڈیکل کالج کے عبد الماجد رانا نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر مسٹر بھٹو نے قوم کا مطالبہ مان لیا تو جہاں ان کا پسینہ گرے گا۔ طلباء وہاں اپنا خون بہائیں گے۔ بصورت دیگر انہیں ماضی کے آمروں کا حشر یاد رکھنا چاہئے۔ جلسہ میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ دریں اثناء مقامی طلباء رہنماء مسعود علی خان، زاہد عسکری، شکیل احمد خان اور عبدالوحید ناصر نے کراچی میں طلباء کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔
اندرون سندھ
آج سکھر، شکار پور، پنوں عاقل، گھوٹکی، میر پور ماتھیلو، ڈھرکی اور اوباڑو میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ سکھر میں تمام کاروباری مراکز، سبزی اور پھل مارکیٹ، گوشت کی منڈیاں، ہوٹل حتیٰ کہ پان بیڑی کی دوکانیں بھی بند رہیں۔ ٹریفک پوری طرح معطل رہا۔ تاہم سرکاری بسیں چل رہی تھیں۔ رکشے، تانگے، شاہراہوں سے غائب ہو گئے۔ جامع مسجد بندر روڈ میں نماز جمعہ سے قبل مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
آج جیکب آباد میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری ادارے بند رہے۔ ٹرانسپورٹ معطل رہا۔ پیپلز پارٹی کے بعض عناصر کے اشارے پر دوپہر کو پولیس نے زبردستی دوکانیں کھلوانے کی کوشش کی۔ لیکن عوام نے دوکانیں نہ کھول کر ان کی کوشش ناکام بنادی اور ان کی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ بعد میں پولیس نے طلباء کے ایوب پٹھان، محمد صدیق کھوسو اور نمائندہ جسارت ملک الطاف حسین کو گرفتار کر لیا اور ۱۱؍بجے رات رہا کر دیا۔ آج تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے زیر اہتمام مدرسہ قاسم العلوم میں ایک جلسہ ہوا۔ مقررین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس ضمن میں جلسہ میں متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور متحدہ جمہوری محاذ کی اپیل پر نواب شاہ میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ اس سے قبل ایسی ہڑتال ۱۴؍فروری ۱۹۶۹ء کو ایوب آمریت کے خلاف ہوئی تھی۔ شہر کے تمام ہوٹل، بازار اور کیبن بند رہے۔ جمعہ کے اجتماعات میں علماء نے قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کی سخت مذمت کی اور انہیں ملت اسلامیہ اور پاکستان کے لئے خطرناک قرار دیا۔ ان اجتماعات میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مسلح افواج کے دستے تمام دن سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔ چوکوں میں بھی مسلح پولیس پہرہ دیتی رہی۔ ہڑتال پر امن رہی۔
کل جماعتی مجلس عمل کی اپیل پر آج میر پور خاص میں مکمل ہڑتال اور کاروباری اداروں اور دوکانوں کے علاوہ سینما گھر بھی بند رہے۔ مساجد میں ائمہ نے تقاریر کیں اور عوام کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا۔ آج سانگھڑ میں مکمل ہڑتال رہی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ کچھ دوکانداروں اور ہوٹل والوں، نور اللہ، بشیر قریشی، حنیف ہوٹل والا اور ملک صدیق وغیرہ کو ہڑتال کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن بعد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں انہیں ذاتی مچلکہ پر رہا کر دیا گیا۔ ٹنڈو محمد خان میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کی حمایت میں آج مکمل پرامن ہڑتال رہی۔ پولیس گشت کرتی رہی مگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ نماز جمعہ میں مساجد میں مطالبہ کی حمایت میں تقریریں ہوئیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور متحدہ جمہوری محاذ کی اپیل پر آج ٹنڈو آدم میں مکمل ہڑتال رہی۔ کاروبار بند رہا۔ انتظامیہ کے بعض افسروں نے ہڑتال کو ناکام بنانے کی کوشش کی اور دھمکیاں دیں۔ پولیس نے ایک طالب علم عبدالرزاق ہاشمی کو گرفتار کر کے تھانہ میں ننگا کر کے زدوکوب کیا جس سے وہ بیہوش ہوگیا اور اس کی حالت نازک ہوگئی۔ طلباء کے رہنما عبدالعزیز غوری نے انتظامیہ کے اس شرمناک رویہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے مجرم افسران کو معطل کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ افسر احمدیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
آج محراب پور میں بھی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور جمہوری محاذ کی اپیل پر کاروبار بند رہا اور پرامن ہڑتال کی گئی۔ محراب پور کے علاقہ کنڈیارو اور ہالانی میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور تمام کاروبار بند رہا۔ شہر میں بے انتہاء پولیس کے دستوں کی وجہ سے تمام دن شہریوں میں شدید خوف و ہراس رہا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیر پور کے رکشہ، تانگہ اور بسوں کے ڈرائیوروں نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا جس کی وجہ سے ٹریفک بالکل جام رہا۔ خیر پور کے قرب و جوار کے علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ پریالو، پیر گوٹھ، کھیڑی، ببرلو، ماچھی، راہوجہ کرم آباد، کوٹ دیجی اور رانی پور کے علاقے شامل ہیں۔
پنجاب میں ہڑتال
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری ادارے بند رہے اور ٹرانسپورٹ معطل رہا۔ وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، علماء اور خطیبوں نے جمعہ کی نماز سے قبل خطابات میں مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کے جوان آج سارا دن شہر کی اہم شاہراہوں پر گشت کرتے رہے۔
لائل پور میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ نماز جمعہ کے بعد شہر کی جامع مسجد میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران ہی پیش کر کے اس پر فیصلہ کیا جائے۔ جامع مسجد کے خطیب مفتی زین العابدین، مجلس عمل کے رہنما مولانا تاج محمود، پاکستان مسلم لیگ لائل پور کے صدر مولانا صفدر علی رضوی اور ہفت روزہ المنبر لائل پور کے مدیر مولانا عبدالرحیم اشرف نے کہا کہ ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کی واحد صورت یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے احمدیوں سے متعلق مسلمانوں کے مطالبات کو فوراً تسلیم کرے۔ مقررین نے کہا کہ مسٹر بھٹو اس نازک مسئلہ کے فیصلہ میں لیت ولعل سے کام لے کر قوم کو تشدد کی طرف لے جارہے ہیں۔ جلسہ میں اعلان کیا گیا کہ اتوار کو لائل پور میں اعلیٰ سطح پر کل جماعتی مجلس عمل کا اجلاس ہوگا۔
رحیم یار خان میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ نماز جمعہ میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ خانپور بار ایسوسی ایشن کے فیصلہ کے مطابق وکلاء نے عدالت کا بائیکاٹ کیا۔ خانپور کے شہریوں نے بھی ہڑتال کی۔ شہریوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ جناب حنیف رامے اور وزیر اعظم بھٹو کے نام متعدد تار بھیجے ہیں، جن میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
صادق آباد میں واقعہ ربوہ اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ پر مکمل پرامن ہڑتال رہی۔ ہر قسم کی ٹریفک بند
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہی۔ پولیس سیکورٹی فورس اور مسلح فوج کے جوان شہر کی شاہراہوں پر گشت کرتے رہے۔ نمائندہ جسارت کی اطلاع کے مطابق آج شہر میں مکمل ہڑتال رہی اور تمام دوکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔ سڑک پر پولیس اور فرنٹیئر سیکورٹی فورس گشت کرتی رہی۔ جمعہ کے بعد کئی مقامات پر نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ بھی دیکھے گئے جو تھوڑی دیر بعد منتشر ہوگئے۔ شہر کے کسی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تاہم انتظامیہ نے ہر طرح کے حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے اور مختلف مقامات پر پولیس گشت کر رہی تھی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں آج قادیانیوں کے خلاف مکمل ہڑتال رہی۔ تاہم دونوں شہروں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ ٹیکسیاں، ٹانگے اور دوسری گاڑیاں سڑکوں سے غائب تھیں۔ بڑے بڑے تجارتی ادارے بھی بند رہے۔ تاہم دونوں شہروں کے درمیان چلنے والی اومنی کی بسیں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔ سینما گھروں سے پبلسٹی شو منسوخ کر دیئے گئے۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر پولیس، فیڈرل، سیکورٹی فورس اور مسلح افواج کے جوان گشت کرتے رہے۔
بلوچستان و سرحد میں بھی ہڑتال
پشاور اور سرحد کے دوسرے شہروں میں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری مراکز اور مارکیٹ بند رہیں۔ آج دن بھر شہر کی شاہراہوں پر ٹریفک معمول سے بہت کم رہا۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ شہر کی شاہراہوں پر فوجی دستے گشت کرتے رہے۔
ایبٹ آباد میں آج مکمل ہڑتال رہی۔ تمام دوکانیں، شاپنگ سنٹر بند رہے۔ مختلف مساجد میں نماز جمعہ منعقد ہونے کے بعد لوگ پرامن طریقہ سے منتشر ہو گئے۔ تاہم نوجوانوں نے قادیانیوں کے خلاف جلوس نکالا، نعرے لگائے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی۔ پورے ضلع سوات میں آج مکمل ہڑتال رہی۔ دوکانیں بند رہیں، کوئٹہ اور صوبہ بھر میں مجلس عمل کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔ مرکزی جامع مسجد میں جلسہ ہوا۔
(جسارت کراچی، مورخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
امروز نے لکھا
ملک بھر میں مکمل اور پرامن ہڑتال، ملک میں کسی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
امروز کے نامہ نگار کے مطابق آج عبدالحکیم میں ہڑتال رہی۔ یہ عبدالحکیم کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ مرزائیوں کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں نے مشترکہ طور پر نماز جمعہ ادا کی۔ یہ اجتماع عیدگاہ پر ہوا۔ اس میں اہل حدیث، اہل سنت، شیعہ حضرات کے علاوہ بریلوی حضرات نے بھی شرکت کی۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر درج ذیل قراردادیں منظور کی گئیں:
- ...... ”مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔“
- ...... ”ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔“
- ...... ”کلیدی آسامیوں پر سے مرزائیوں کو ہٹایا جائے۔“
احمد پور شرقیہ سے امروز کے نامہ نگار کے مطابق آج یہاں ربوہ کے مسئلے پر مکمل ہڑتال رہی۔ البتہ گوشت کی مارکیٹ کھلی رہی۔ بعض دوکانیں چار بجے کے بعد کھل گئیں۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر پولیس اور فوج کے دستے گشت کرتے رہے۔ احمد پور شرقیہ میں مکمل امن وامان رہا اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ چنی گوٹھ میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔
پنو عاقل سے ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ آج وہاں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام دوکانیں، کاروباری ادارے بند رہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹیکسیاں، حتیٰ کہ تانگے اور گدھے گاڑیوں والوں نے بھی ہڑتال کی۔
آج چشتیاں میں مکمل ہڑتال رہی۔ انجمن شہریان نے متفقہ طور پر ہڑتال کا فیصلہ کیا تھا۔ بڑے بازار میں رینجرز گشت کرتے رہے۔
آج علی پور میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروبار بند رہا۔ ہڑتال اتنی منظم تھی کہ صفائی کا عملہ بھی گھروں میں کام کرنے نہیں آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس کے ساتھ شہر میں گشت کرتے رہے۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔
رحیم یار خان میں آج عام ہڑتال رہی اور کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے۔ مسجدوں میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علماء نے مسئلہ ختم نبوت پر تقریریں کیں۔
اے۔ پی۔ پی کی اطلاع کے مطابق بہاول نگر میں آج ہڑتال ہوئی۔ تمام دوکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔ ہارون آباد، منچن آباد، فورٹ عباس سے بھی ہڑتال کی خبر ملی ہے۔
راجن پور میں مکمل ہڑتال رہی۔ کسی قسم کا ہنگامہ نہیں ہوا اور نہ ہی جلوس نکالا گیا ہے۔ یہاں کی تمام جامع مساجد میں جمعہ کی نماز کے بعد قراردادیں پاس کی گئیں، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پورے شہر میں پولیس گشت کرتی رہی۔ لیکن کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ادھر کوٹ مٹھن، روجھان اور فاضل پور اور جام پور سے بھی ہڑتال کی اطلاع ملی۔ وہاں بھی پرامن ہڑتال رہی۔
شجاع آباد سے ہمارے نمائندہ خصوصی نے خبر دی ہے کہ سب ڈویژن شجاع آباد میں امن عامہ کی صورتحال مکمل طور پر اطمینان بخش رہی۔ ٹاؤن ہال میں اس سلسلے میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں شہر کے معززین کے علاوہ تمام سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد مسٹر علی صفدر کاظمی نے کی۔ اجلاس میں انتظامیہ اور عوام میں تعاون اور شہر میں امن و عامہ کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ شجاع آباد کی سب تحصیل جلال پور پیروالہ کا بھی اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر نے تفصیلی دورہ کیا۔ دریں اثناء شجاع آباد شہر میں آج ہڑتال کے نتیجے میں دوکانیں بند رہیں اور شہر کی مساجد میں جمعہ کے اجتماعات میں سانحہ ربوہ کی پرزور مذمت کی گئی اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق ملتان و بہاول پور کے اکثر شہروں میں ہڑتال رہی۔ آج یہاں بہاول پور شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ آج صبح لوگ گوشت اور سبزی وغیرہ سے محروم رہے۔ جمعہ کے روز کریانہ کی جو دوکانیں کھلتی تھیں، وہ بھی آج بند رہیں۔ سگریٹ کی محض چند دوکانیں اور دو یا تین ہوٹل کھلے تھے۔ مسلح فوج اور پولیس شہر کی تقریباً عام سڑکوں اور اہم مقامات پر گشت کرتی رہی۔ بسوں نے بھی ہڑتال کی اور مقامی جنرل بس اسٹینڈ پر بہت سارے مسافر رکے رہے۔ اب تک کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔
(امروز ملتان، مورخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
مسجد وزیر خان لاہور میں جلسہ عام
لاہور: مورخہ ۱۴؍ جون۔ تحریک ختم نبوت کی متحدہ مجلس کے زیر اہتمام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کے ضمن میں آج نماز جمعہ کے بعد مسجد وزیر خان میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا اور مقررین نے کہا کہ جب تک اس فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا اور متحدہ مجلس عمل کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے، تحریک ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاری رہے گی۔ جلسہ عام کی صدارت پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان نے کی۔ اجتماع سے متحدہ مجلس عمل کے کنوینئر مولانا سید محمد یوسف بنوری، جمعیۃ علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الستار نیازی، مدیر چٹان آغا شورش کاشمیری، جماعت اہل حدیث کے امیر حافظ عبد القادر روپڑی، جمعیۃ علمائے اسلام پنجاب کے صدر مولانا عبید اللہ انور، حزب احناف کے سربراہ مولانا محمود احمد رضوی، تحریک استقلال کے رہنما علامہ احسان الہی ظہیر، احرار اسلام کے جناب ثناء اللہ بھٹہ، پاکستان مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری میاں اعجاز احمد، جماعت اسلامی پنجاب کے امیر چوہدری غلام جیلانی، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے سیکرٹری سید مظفر علی شمسی، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے سید علی غضنفر کراروی، جمعیۃ اہل حدیث کے میاں فضل الحق، مسٹر بارک اللہ ایڈووکیٹ اور مولانا ابراہیم نے خطاب کیا۔
نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ بھارتی ایٹم بم اور قادیانیوں کا طلباء پر حملہ ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں۔ بھارت نے ایٹم بم کا دھماکہ کر کے ہمیں مضمحل کرنے کی کوشش کی ہے اور قادیانیوں نے بھی اسی مقصد کے لئے طلباء پر حملہ کیا ہے اور جان بوجھ کر طاقت آزمائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کسی سیاسی یا دینی جماعت نے نہیں چلائی بلکہ یہ ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم ختم نبوت کے مسئلہ پر متحدہ ہوگئی ہے اور یہ خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجلس عمل کا اجلاس ۱۶؍ جون کو اس پر غور کرے گا اور وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کا تفصیلاً جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کا فتنہ اس لئے کھڑا کیا گیا تھا کہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد کو ختم کیا جاسکے۔ یہ انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔ اگر ہماری موجودہ تحریک اسی جذبہ اور جوش کے ساتھ جاری رہی تو ہم اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے مکمل ہڑتال پر مسلمانان پاکستان کو مبارک باد دی اور کہا آج تک مسلمانان پاکستان نے اپنے اتحاد کا اتنا بھر پور مظاہرہ کبھی نہیں کیا تھا۔
مولانا عبد الستار نیازی نے کہا کہ کل ملت منتشر تھی لیکن آج عشق رسول نے انہیں متحد کر دیا ہے۔ سارے ملک میں ہڑتال ہے اور علاقائی تعصب ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومیت کی اساس نسل، علاقہ، زبان اور معاشی مفادات پر نہیں ہے بلکہ امت کا تصور اسلام کے اصول، عقیدہ اور نظریہ پر ہے اور عشق رسول ﷺ ہماری اساس اور ہماری امت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سازش اگر ہو سکتی ہے تو وہ ربوہ اور برسر اقتدار طبقہ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ہم کسی سازش میں ملوث نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت سیاسی یا غیر سیاسی بات نہیں۔ یہ ہمارا ایمان و عقیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی کافروں کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے اسرائیل میں مشن قائم کر رکھا ہے اور یہود جو عالم اسلام کا دشمن ہے، ان کا دوست ہے۔ وہ نظریہ پاکستان اور اساس پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ رفیق، ڈاکٹر نذیر اور جاوید نذیر کو اس لئے گولی ماری گئی کہ وہ وزیر اعظم پر نکتہ چینی کرتے تھے تو پھر ان لوگوں کو غیر مسلم اقلیت کیوں قرار نہیں دیا جاتا جو ختم نبوت کے باغی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۶؍ جون تک مہلت دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ ۳۰؍ جون تک حل نہ ہوا تو ہم اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے، جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔
آغا شورش کاشمیری نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال ہم نے اس لئے کی ہے تاکہ حکومت کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے مطالبات کیا ہیں۔ وزیر اعظم بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اعلان کے بعد قومی اسمبلی میں جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر وزیر اعظم بھٹو نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا قانون تیار کیا تو یہ قوم ان کو آنکھوں پر بٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو مجلس عمل کے مطالبات مان لیں گے۔ اب قادیانی ملک میں مسلمان بن کر نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اگر کسی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکن نے مرزائیوں کے حق میں ووٹ دیا تو ہم اس کا سختی سے محاسبہ کریں گے۔ کسی ممبر ، وزیر کو جرأت نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے حاضرین سے کہا کہ وہ قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کرنے کا عہد کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو ۳۰؍ جون تک اقلیت قرار دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم انہیں ملک میں کوئی تحفظ نہ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جھگڑا فساد کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن ان کی تمام چیزوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ان کی دوکانوں ، ہوٹلوں اور کارخانوں کی بنی ہوئی چیزیں نہ خریدی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کی انتہائی کوشش ہے کہ لاہور میں فساد ہو لیکن ہم فساد نہیں چاہتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹا دیا جائے۔ چوہدری غلام جیلانی نے کہا کہ آج کی مکمل ہڑتال دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مسلمان قوم زندہ ہے۔ جماعت اسلامی اس مسئلہ کے لئے تختہ دار تک گئی ہے اور اس کے لئے ہم جان دینا سعادت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا اتحاد اسی طرح قائم رہا تو ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر نے کہا کہ جب تک حکومت ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ، ہم اس کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر اعظم بھٹو نے ۳۰؍ جون تک مہلت مانگی ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ ہمارے جذبات سرد ہو جائیں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل پر مذاکرات اور مصالحت ہو سکتی ہے لیکن ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی مصالحت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن وامان چاہتے ہیں اور حکومت سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر حکومت نے قادیانیوں کے تحفظ کے لئے ہم سے تصادم کیا تو ہم سنگینوں کا مقابلہ کریں گے۔
مظفر علی شمسی
سید مظفر علی شمسی نے کہا کہ ہم لاقانونیت اور تشدد کے حامی نہیں ہیں۔ لیکن جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مولانا محمود احمد رضوی نے کہا کہ جب تک مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جائے گا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا دستور کے عین مطابق ہے کیونکہ دستور میں ختم نبوت کو تحفظ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی امت کا کوئی بنیادی مسئلہ زیر غور آیا ہے، اس وقت علماء نے متحد ہو کر تحریک چلائی ہے۔
عبد القادر روپڑی
حافظ عبد القادر روپڑی نے کہا کہ ربوہ اسٹیشن کے طلباء کا خون رنگ لائے گا اور یہ تحریک ہمارے مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔
واقعہ ربوہ کے ۲۰؍ ملزموں کی شناخت کر لی گئی
سرگودھا: مورخہ ۱۴؍ جون ۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے مقدمہ میں ماخوذ ۷۱؍ ملزمان کو آج مقامی مجسٹریٹ قاضی جاوید شفیع کی عدالت میں پیش کیا گیا اور پولیس کی درخواست پر مجسٹریٹ نے مقدمہ کی آئندہ سماعت ۲۷؍ جون پر ملتوی کر دی۔ دریں اثناء سٹی مجسٹریٹ نے آج ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں ان ملزموں کی شناختی پریڈ کی نگرانی کی۔ شناختی پریڈ میں سات گواہوں نے حصہ لیا۔ معلوم ہوا کہ اب تک ۲۰؍ ملزموں کی شناخت کی جاچکی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول پور کی عدالت میں مرزا ناصر احمد کے خلاف استغاثہ
میری جان کی حفاظت کی جائے، تائب ہونے والے اللہ دتہ کی عدالت سے اپیل
بہاول پور: مؤرخہ ۱۲؍ جون ۔ ”حال ہی میں مشرف بہ اسلام ہونے والے اللہ دتہ ولد مرزا ارشد بیگ نے مجسٹریٹ درجہ اوّل رانا اورنگزیب کی عدالت میں مرزا ناصر احمد (ربوہ) امیر جماعت احمدیہ اور اپنے والد ارشد بیگ مبلغ فرقہ احمدیہ بہاول پور کے خلاف استغاثہ دائر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ احمدیہ فرقہ کے افراد اسے قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس لئے اسے قانونی تحفظ دیا جائے اور مسئول علیہم کے خلاف حسب ضابطہ کارروائی کی جائے۔ اللہ دتہ ولد مرزا ارشد بیگ جس کا سابقہ نام مرزا اعظم بیگ ولد مرزا ارشد بیگ تھا، گزشتہ دنوں یہاں کی ایک مقامی مسجد میں مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔ اپنے استغاثہ میں اللہ دتہ نے کہا کہ میں قبل ازیں اپنے والد مرزا ارشد بیگ جو بہاول پور میں احمدیہ فرقہ کے مبلغ ہیں، کے ساتھ تھا اور تربیت کی بناء پر میں بھی احمدیہ فرقہ کا نظریہ رکھتا تھا لیکن علماء کی صحبت اور کتب کے مطالعہ کے بعد میں اس نظریہ پر پہنچا کہ احمدیہ فرقہ کا نظریہ باطل اور کفر ہے۔ اس لئے میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں اور ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتا ہوں۔ مستغیث نے کہا کہ اگر میری والدہ میرے والد کے قبضہ سے آزاد ہو جائیں تو وہ بھی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لے آئیں گی۔ اللہ دتہ سابقہ اعظم بیگ نے استغاثہ میں مزید کہا کہ جب سے میں دائرہ اسلام میں داخل ہوا ہوں، احمدیہ فرقہ کے افراد امیر جماعت احمدیہ ربوہ مرزا ناصر احمد کی ہدایت پر مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کیونکہ احمدیہ فرقہ سے جو شخص انحراف کر جائے، اسے احمدیہ فرقہ کے لوگ لالچ اور دھمکی کی بناء پر واپس احمدیہ فرقہ میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ایسا شخص واپس اپنے فرقہ میں نہ جائے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ جس کی باقاعدہ مثالیں موجود ہیں۔ مستغیث نے کہا کہ میرا والد ارشد بیگ اور اس فرقہ کے کئی افراد اسے قتل کرنے کے درپے ہیں۔ اس لئے مجھے قانونی تحفظ دیا جائے اور مسئول علیہم کے خلاف باضابطہ کارروائی کی جائے۔ فاضل مجسٹریٹ نے مستغیث کے بیان کے بعد سرسری ثبوت کے لئے ۱۵؍ جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ مستغیث کی جانب سے وکلاء کی ڈیفنس کمیٹی کی ہدایت پر مسٹر منور نقوی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔“
(امروز ملتان، مؤرخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
پنجاب اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان نے بائیکاٹ کیا
لاہور: مؤرخہ ۱۴؍ جون ۔ آج پنجاب اسمبلی اور سندھ میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ہڑتال کے باعث اجلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ آج پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے صرف ایک رکن مسٹر محمد نواز موجود تھے۔ جو کونسل مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کے بعد جس میں انہوں نے قادیانیوں کے مسئلے کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس کے بائیکاٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حزب اختلاف نے آج سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور وزیر اعلیٰ سندھ مسٹر غلام مصطفیٰ جتوئی کی بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف کے اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے۔ ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل اور دوسری مذہبی و سیاسی پارٹیوں کی اپیل پر چونکہ آج شہر میں عام ہڑتال ہے۔ اس لئے حزب اختلاف نے بھی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ حزب اختلاف کے اس رکن نے مزید کہا حزب اختلاف نے اس بائیکاٹ سے حکمران پارٹی کے قائد کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ مسٹر جتوئی کی دو گھنٹے کی بجٹ تقریر کے دوران حزب اختلاف کی نشستیں خالی رہیں۔ البتہ آزاد رکن سید ظفر علی شاہ ایوان میں موجود تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اصغر خاں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبات سے متفق نہیں
اہم مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جماعت احمدیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے
(امروز کے نامہ نگار سے) لاہور: مؤرخہ ۱۴؍ جون۔ تحریک استقلال کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان نے آج یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبے سے متفق نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اقلیت کی حیثیت حاصل ہے۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ مرکزی مجلس عمل کے مطالبات کے سلسلے میں ان کی پارٹی کا کیا ردعمل ہے جس کے جواب میں اصغر خان نے کہا جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی تھے اور اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہم ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ سرکاری اہل کاروں کو بھی ربوہ میں مقرر کرنا چاہئے اور حالیہ واقعہ پر اگر جماعت احمدیہ کے خلیفہ ملوث ہیں تو انہیں گرفتار کرنے کے مطالبے کی بھی ہم حمایت کرتے ہیں۔ ہم مجلس عمل کے اس مطالبے سے بھی متفق ہیں کہ اس مسئلے کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جب ان سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ پر ان کی رائے معلوم کی گئی تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ان کی تعداد دو اڑھائی لاکھ ہوگی۔ وہ تو پہلے ہی اقلیت میں ہیں۔ اصغر خان نے کہا کہ مرزائیوں کو بھٹو صاحب آگے لا رہے ہیں۔ اگر مرزائیوں کا مسئلہ حل کرنا ہے تو پہلے بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹانا چاہئے۔ پھر ہم ایک دن میں یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہمیشہ کی طرح اہم ملکی مسائل کی طرف سے عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر جماعت احمدیہ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اصغر خان نے عوام پر زور دیا کہ وہ قادیانیوں کے مسئلے پر احتیاط سے کام لیں۔ انہوں نے سیکورٹی فورس کے بجائے امن و امان کے لئے فوج استعمال کرنے پر بھی نکتہ چینی کی۔
(امروز، مؤرخہ ۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
سرکار کے ناقوس، رانا تاج نون و پیر دیول
شجاع آباد: مؤرخہ ۱۴؍ جون۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا خیر مقدم کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے رکن رانا تاج محمد نون نے ایک بیان میں عوام سے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس تک پرامن رہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی سازشوں سے آگاہ رہتے ہوئے شرپسندوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم بھٹو کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ سانحہ ربوہ کے اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جاسکے۔ رانا تاج محمد نون نے مزید کہا کہ سب ڈویژن شجاع آباد کے عوام نے اس جذباتی مسئلہ پر پرامن رہ کر اپنے علاقہ کی روایات کو زندہ رکھا اور اس طرح اپنے نمائندوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔
اے. پی. پی کے مطابق پیر صاحب دیول شریف نے احمدیوں کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بارے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے فیصلہ کو سراہا ہے۔ آج انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں اس انتہائی نازک موڑ پر وزیر اعظم بھٹو نے صحیح فیصلہ کر کے اپنی سیاسی بصیرت، تدبر اور فہم وفراست کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ پیر صاحب نے قوم سے کہا ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کے نتائج کا انتہائی صبر وتحمل سے انتظار کرنا چاہئے۔ وزیر مملکت برائے امور عامہ میجر جنرل (ریٹائرڈ) جمالدار نے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہ احمدیہ مسئلہ کو بجٹ اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم کا یہ فیصلہ جمہوریت کی روح کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نوعیت کے اس مسئلہ کو عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کرنے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا فیصلہ انتہائی درست اور صحیح سمت میں قدم ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی اسمبلی کے فیصلہ کا امن وسکون کے ساتھ انتظار کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو کے اس فیصلہ کی روشنی میں ملک میں ہڑتال کرانا بے مقصد ہے اور بدامنی پیدا کرنے سے ملک کے مفاد کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
محاذ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں...... روزنامہ امروز کا اداریہ
’’اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار شاید ہی کوئی دل ایسا ہو گا جو جمعرات کی شام وزیر اعظم پاکستان کی تقریر سے متاثر نہ ہوا ہو۔ یہ تقریر خطابت کا شاہکار نہیں تھی، فصاحت و بلاغت کے معیار پر بھی پوری نہیں اترتی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی اردو میں تقریر تھی۔ لیکن جس نے بھی یہ تقریر سنی ہے، اس کے دل نے یقیناً گواہی دی ہو گی کہ یہ ایک سچے اور بہادر آدمی کے دل کی باتیں تھیں۔ یہ ایک ایسے وزیر اعظم کی آواز تھی جو اپنے نہاں خانہ دل میں ملت اسلامیہ پاکستان کے دائمی، حتمی اور غیر متبدل عقیدہ...... عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کا جذبہ بھی بدرجہ اتم رکھتا ہے اور جو یہ برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مسلمانان پاکستان کے اس جذبہ کی آڑ میں اندرونی یا بیرونی کوئی دشمن، کوئی بدخواہ، کوئی شر پسند، مملکت پاکستان کو کوئی گزند پہنچا سکے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے بدترین مخالف بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ واقعہ ربوہ سے پہلے اور واقعہ ربوہ کے بعد بھی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے جتنا کچھ بھٹو کی حکومت نے کیا ہے، پاکستان کی کسی سابقہ حکومت نے اس کا عشر عشیر بھی نہیں کیا۔ اس سے پہلے کسی حکومت کو عقیدۂ ختم نبوت کو ملت کے دستور اساسی کا حصہ بنانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کسی کو یہ پابندی لگانے کی جرأت نہیں ہوئی کہ مملکت کا صدر اور وزیر اعظم کوئی ایسا شخص نہیں ہو سکتا جو عقیدۂ ختم نبوت پر یقین کامل نہ رکھتا ہو۔ پھر واقعہ ربوہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت جس سرعت اور مستعدی کے ساتھ اس واقعہ کے ذمہ دار قادیانیوں کے خلاف سرگرم عمل ہوئی ہے، جس وسیع پیمانہ پر احمدیوں کے مرکز ربوہ میں گرفتاریاں کی گئی ہیں اور جس طرح کسی تاخیر کے بغیر پورے واقعہ اور اس سے متعلقہ مسائل کی تحقیق کے لئے ہائیکورٹ کے جج کو مقرر کیا گیا ہے، یہ ہر کسی کے سامنے ہے اور جمعرات کو اپنی نشری تقریر میں وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیں گے اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان بھی پوری طرح آزاد ہوں گے۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اس اہم مسئلہ پر جو فیصلہ چاہیں، کریں۔ چاہیں تو اسے اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کریں۔ چاہیں تو سپریم کورٹ سے مشورہ لیں اور چاہیں تو خود ہی فیصلہ کر دیں۔ ایمانداری اور دیانتداری سے ملت کے ہر بہی خواہ کے لئے یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا ۸۰ سال سے لٹکے ہوئے ایک مسئلہ کو سلجھانے کے لئے کوئی بھی حکومت عوامی خواہشات سے اس درجہ قریب آئی ہے۔ قادیانیوں کے خلاف تحریکیں اس سے پہلے بھی چلائی گئی ہیں۔ ۱۹۵۳ء میں اسی تحریک کے نتیجہ میں پاکستان میں پہلی مرتبہ مارشل لاء لگایا گیا لیکن کیا اس کے باوجود سابقہ حکومتوں میں سے کسی نے عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ایک قدم بھی اٹھایا؟
قادیانیت کے فتنہ سے ہمیشہ کے لئے عہدہ برآ ہونے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے ان ٹھوس اور مثبت اقدامات کے باوجود اگر آج کچھ لوگ اس مسئلہ کو حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا بہانہ بنا رہے ہیں تو پاکستان کے محب وطن عوام کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ اس محاذ آرائی کی حقیقی غرض وغایت کیا ہے۔ مسلمانان پاکستان پر یہ اللہ تعالیٰ کا انتہائی احسان ہے کہ اس نے انہیں پاکستان کی شکل میں ایک مملکت دی ہے۔ اس احسان کا تقاضا ہے کہ ہم اس مملکت کی حفاظت کریں اور کسی طرح اسے انتشار وافتراق کا شکار نہ ہونے دیں۔ دشمن
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج بھی ہماری تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں اور صرف اس انتظار میں ہیں کہ ہم خانہ جنگی میں گرفتار ہوں اور وہ ہمیں دبوچ لیں۔
ملت اسلامیہ پاکستان کے ہر فرد کو ان خطرات کو ہمہ وقت احساس رکھنا چاہئے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ ہر نازک سے نازک مسئلہ کو بھی کسی قسم کی بدامنی کے بغیر اپنی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کے بہترین مفادات کے مطابق حل کر سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ الٹی میٹم ، مظاہروں، جلوسوں اور ہنگاموں کا طریقہ وہاں سمجھ میں آتا ہے، جہاں حکومت اور عوام ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوں لیکن جہاں حکومت اور عوام کے جذبات ایک ہوں، وہاں ان طریقوں کا استعمال کسی طرح بھی مملکت کے لئے سودمند نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم کی جمعرات کی تقریر کا یہی لب لباب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہر پاکستانی اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کرے گا ۔‘‘
(امروز ملتان، مؤرخہ ۱۵ / جون ۱۹۷۴ء)
۱۶ / جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
آج لائل پور میں مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ہوگا
لاہور : مورخہ ۱۵ / جون ۔ تحریک ختم نبوت کی متحدہ مجلس عمل کی مرکزی مجلس عمل کا اجلاس کل ۱۶ / جون کو لائل پور میں منعقد ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کے کنوینر مولانا سید محمد یوسف بنوری اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حالیہ نشری تقریر کا تفصیلاً جواب مرتب کیا جائے گا اور متحدہ مجلس عمل کے تین مطالبات :
- ۱...... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
- ۲...... انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔
- ۳...... ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جانے کے ضمن میں غور کیا جائے گا۔
مجلس عمل تحریک ختم نبوت کو ملک کے کونے کونے میں روشناس کرانے کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی مرتب کرے گی۔ متحدہ مجلس عمل کے ایک اجلاس میں ملک کی اٹھارہ سیاسی و دینی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے جن میں پاکستان مسلم لیگ، پاکستان جمہوری پارٹی، جماعت اسلامی ،نیشنل عوامی پارٹی ، جمعیۃ العلمائے اسلام پاکستان، جمعیۃ اہل حدیث ، قادیانی محاسبہ کمیٹی، مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام، مرکزی حزب احناف اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
سکھر میں مکمل ہڑتال
سکھر : مؤرخہ ۱۵ / جون ۔ گزشتہ روز سکھر میں مکمل ہڑتال رہی ۔ یہ ہڑتال مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر کی گئی تھی ۔ تمام کاروباری ادارے ، تجارتی مراکز اور دوکانیں بند رہیں ۔سکھر سے کوئی مسافر بس نہ تو کسی اور شہر کو روانہ ہوئی اور نہ سکھر آئی ۔ اس کے باعث مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ نماز جمعہ سے پہلے جامع مسجد بندر روڈ میں ایک جلسہ عام ہوا جس سے معراج الدین ، ڈاکٹر انور پراچہ ، حاجی محمد ابراہیم، مولانا محمد مراد، عبداللطیف میاں اور حیات محمد صدیقی نے خطاب کیا۔
کچا کھوہ
کچا کھوہ : مؤرخہ ۱۴ / جون ۔ نواحی چک ساہووالہ میں پیر سید خورشید احمد گیلانی کی یاد میں ایک جلسہ زیر صدارت پیر زادہ میاں محمد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسعد ہوا۔ جس میں مولانا عبدالعزیز، مولانا محمد منظور الحق اور دیگر چند علماء کرام نے تقاریر کیں۔ دو روزہ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر حضرت پیر خورشید احمد گیلانی مرحوم کے لئے دعائے مغفرت مانگی گئی۔
لائل پور انکم ٹیکس بار ایسوسی ایشن
لائل پور: مؤرخہ ۱۵؍جون۔ انکم ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے قادیانی فرقہ کی طرف سے ربوہ اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر باقاعدہ منصوبہ کے تحت قاتلانہ حملہ کی پرزور مذمت کی ہے اور اس واقعہ کو ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی ایک خوفناک سازش قرار دیا ہے بار ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ریاست در ریاست کا سلسلہ ختم کر کے ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
سانگلہ ہل
سانگلہ ہل: مؤرخہ ۱۴؍جون۔ اسلامیان سانگلہ ہل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یہ مطالبہ ایک جلسہ عام میں کیا گیا تھا۔ جو واقعہ ربوہ کے بعد سانگلہ ہل کے مین بازار میں منعقد ہوا تھا اور اس جلسہ عام سے مختلف مکتبہ فکر کے مسلمان علماء اور مختلف سیاسی و سماجی انجمنوں کے کارکنوں نے خطاب کیا تھا، جن میں جامع اہل حدیث کے خطیب سید عبدالشکور اثری، جامع مسجد غلہ منڈی کے خطیب مولانا محمد صدیق، پیپلز پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری صوفی محمد صادق، طارق نظامی، رضاء مصطفیٰ مدنی اور متعدد دیگر مقررین شامل تھے۔ جلسہ میں مقررین نے واقعہ ربوہ کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر بنایا جائے۔ وہاں پر مسلمان حکام کو تعینات کیا جائے اور کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو سبکدوش کیا جائے۔ علاوہ ازیں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ چونکہ مملکت پاکستان اسلامیہ جمہوریہ قرار پا چکی ہے اور آئین میں حکومت کا مذہب اسلام ہے، جس کا ختم نبوت پر پورا پورا ایمان ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کے لٹریچر کے وہ حصے جس میں ختم نبوت اور اہل بیت کی توہین کی گئی ہے، حذف کئے جائیں اور وہ لٹریچر ضبط کر لیا جائے۔
سانگلہ ہل: یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر منیر احمد فیضی نے تنظیم کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سنی العقیدہ مسلمان ہیں اور سرکار مدینہ آقائے نامدار کو نبی آخرالزمان بلکہ ان کی حب کو وسیلہ نجات جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا: ’’میرے مخالفین میرے متعلق غلط پروپیگنڈہ کر کے میری ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘‘ لہٰذا میں سختی سے اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ میں نے اپنا عقیدہ تبدیل نہیں کیا بلکہ خاتم النبیین ﷺ کا ادنیٰ سا غلام ہوں۔
وزیراعظم بھٹو راولپنڈی واپس چلے گئے
لاہور: مؤرخہ ۱۵؍جون۔ وزیراعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو آج سہ پہر راولپنڈی روانہ ہو گئے۔ ہوائی اڈے پر ایک رپورٹر نے وزیراعظم کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی تو وزیراعظم نے پوچھا: ’’کون سی کامیابی؟‘‘ اس پر ایک اخباری نمائندے نے صوبے میں امن وامان اور ان کی کامیاب تقریر کا ذکر کیا تو وزیراعظم نے انکساری سے دونوں ہاتھ ہلائے اور مسکرا دیئے۔ ہوائی اڈے پر نواب صادق حسین قریشی، وزیراعلیٰ حنیف رامے، پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر ملک معراج خالد، صوبائی وزراء اور قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وزیر اعظم کو الوداع کیا۔
قومی اسمبلی میں علماء کرام کی گرفتاریوں کے مسئلے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ
راولپنڈی : مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۔ آج علی الصبح پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں ۱۶ ممتاز علماء کو حراست میں لے لیا ۔ گجرات سے آمدہ ایک اطلاع کے مطابق وہاں بھی کل رات اور آج گیارہ علماء کو گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ گرفتاریاں جمعہ کے روز مساجد میں مسئلہ ختم نبوت پر تقاریر کرنے کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہیں ۔ گرفتار ہونے والے علماء میں مولانا غلام اللہ خاں اور جمعیتہ علمائے پاکستان کے مرکزی نائب صدر مولانا سید محمود شاہ گجراتی بھی شامل ہیں ۔ راولپنڈی میں آج شام تک ۱۶؍علماء کے علاوہ تین طالب علم رہنما بھی گرفتار کئے جاچکے تھے ۔ ابھی پولیس مزید افراد کی تلاش میں ہے۔
ان گرفتاریوں کی اطلاع ملتے ہی آج سہ پہر راولپنڈی کے کاروباری مراکز اور منڈیاں بطور احتجاج بند کردی گئیں ۔ گرفتار شدہ علماء نے اس بے جواز گرفتاری کے خلاف حوالات سے اپیل کی ہے کہ کل بروز اتوار تمام راولپنڈی شہر اور صدر اور اسلام آباد میں مکمل ہڑتال کی جائے ۔ آج صبح قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف کے ارکان نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا ۔ گرفتاریوں کی وجہ نہیں بتائی گئی مگر عام خیال ہے کہ علماء کرام کو نماز جمعہ سے خطابات کے موقع پر قادیانیوں کے بارے میں کی جانے والی تقاریر کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
آج صبح جب اسمبلی میں بجٹ تقاریر جاری تھیں تو مولانا مفتی محمود نے اچانک سپیکر کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں آج علی الصبح اور کل رات متعدد علماء کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ حالانکہ گزشتہ روز کی ہڑتال بالکل پرامن تھی ۔ سپیکر نے مولانا کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا ۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ یہ گرفتاریاں مرکزی حکومت کے صدر مقام میں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے مرکزی حکومت بھی ذمہ دار ہے ۔ وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان نے بتایا کہ ان علماء کو مرکزی حکومت نے گرفتار نہیں کیا۔ اس لئے مرکز کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر حزب اختلاف کے ارکان واک آؤٹ کر گئے ۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئے تو خان قیوم نے مفتی محمود سے مشورہ کر کے سپیکر سے کہا کہ وہ ان گرفتاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور معلومات حاصل کر کے ایوان کو بتائیں گے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے جن علماء کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار جامع مسجد کے خطیب مولانا غلام اللہ خان اور ان کے صاحبزادے مولانا احسان الحق بھی شامل ہیں ۔ باقی علماء کے نام یہ ہیں : قاری سعید الرحمن (خطیب جامعہ اسلامیہ) ، قاری محمد امین (خطیب جامع مسجد محلہ ورکشاپی) ، مولانا عبدالستار (خطیب جامع مسجد نیا محلہ) ، مولانا حبیب الرحمن بخاری (خطیب جامع مسجد اہل حدیث مومن پورہ) ، مولانا حبیب الرحمن (خطیب جامع مسجد نیلانوالی) ، مولانا سید اکبر (خطیب مغل آباد) ، مولانا محمد اکرم ہمدانی (خطیب جامع مسجد کہوٹہ) ۔ ان کے علاوہ اسلام آباد کے چھ علماء کرام یہ ہیں : مولانا حافظ عبداللہ (خطیب مرکزی لال مسجد) ، مولانا غلام حیدر (خطیب مسجد بلال) ، مولانا سیف اللہ خالد (مکی مسجد اسلام آباد) ، مولانا رویس خان (خطیب جامع مسجد الفلاح) ، مولانا محمد اسحاق نذیری (خطیب مدینہ مسجد) ، مولانا عبدالخالق مجددی (خطیب جامع مسجد نور) ، ان کے تین طالب علم رہنما نوید الطاف، تحسین سہیل، شفقت عباس بھی گرفتار ہیں جب کہ ایک طالب علم فیاض ملک پولیس کی وین سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا ۔ پولیس نے نصف شب کے قریب بعض علماء کے گھروں پر چھاپے مارے اور کوئی وارنٹ دکھائے بغیر انہیں ساتھ لے گئے ۔ بعض علماء کے گھروں کی تلاشی لی گئی اور خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔ مولانا غلام اللہ خان کو آج دوپہر کیمبل پور کی جامع اسلامیہ اشاعت اسلام سے گرفتار
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا۔ انہیں ایس ایس پی کے پاس لے جایا گیا اور بتایا کہ انہیں ڈی آئی جی نے طلب کیا ہے اور اس طرح انہیں راولپنڈی حوالات میں پہنچا دیا گیا۔ راولپنڈی حوالات میں ان علماء کو دوپہر تک ناشتہ ، کھانا اور پانی تک نہیں دیا گیا۔ آج دوپہر چند افراد نے ان علماء سے حوالات میں ملاقات کی اور علمائے کرام نے اخبارات کے نام انہیں ایک مشترکہ بیان دیا۔
علماء کا بیان
اس بیان پر قاری محمد امین، مولانا سید اکبر، مولانا حبیب الرحمٰن بخاری ، مولانا عبدالستار ، مولانا محمد اکرم ہمدانی اور مولانا حبیب الرحمٰن کے دستخط ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد کے علماء اور طلباء کو آج علی الصبح انتہائی مذموم طریقہ سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے رات دو بجے ان کے گھروں کی ناکہ بندی کر لی تھی اور انہیں مفروروں اور بھگوڑوں کی طرح گرفتار کیا گیا۔ انہیں اتنی مہلت بھی نہ دی گئی کہ وہ کپڑے یا جوتا پہن سکتے۔ بعض علماء کے گھروں میں پولیس نے دیواریں پھلانگ کر مستورات کی بے حرمتی کی اور شام تک علماء کو کھانا تک نہ دیا۔ ان علماء نے اپنے اس بیان میں ختم نبوت کے پروانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مذموم کارروائی کے خلاف احتجاج کے طور پر کل ہڑتال کریں۔
ڈی پی آر کے تحت گرفتاریاں
رات گئے کی اطلاع کے مطابق ان تمام علمائے کرام کو ڈیفنس آف پاکستان رولز گرفتار کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے دو اور طالب علم رہنما شیخ رشید احمد اور عبدالودود کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ باقی علمائے کرام اور طالب علم لیڈروں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر روپوش ہوگئے ہیں۔
کراچی، گجرات ، سانگھڑ ، ٹنڈو آدم میں گرفتاریاں
کراچی: مؤرخہ ۱۳ / جون ۔ واقعہ ربوہ پر احتجاج کے لئے آج ملک بھر میں عام ہڑتال کے موقع پر کراچی ، گجرات ، سانگھڑ اور ٹنڈو آدم میں ۶۰ سے زائد طالب علم اور سیاسی و دینی رہنما گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ کراچی میں آج پولیس نے مختلف مقامات سے ۴۰ سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ انجمن طلباء جامعہ کراچی کے جنرل سیکرٹری جناب محمد قاسم سید کو صبح چار بجے ملیر کالونی پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہ ہوسکی ۔ پولیس نے کورنگی ، کھوکھرا پار، جیکب لائن اور لیاقت آباد سے جن افراد کو گرفتار کیا ہے، ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: محمد اسحق، کلیم اللہ، محمد انصار، مولوی محمد حسین، صدیق ، محمد آفتاب ، محمد ابراہیم ، محمد اکرم، محمد علی یوسف، صمیم پاشا، انجمن طلبائے اسلام کراچی کے جنرل سیکرٹری محمد افضال قریشی اور حلقہ کھاردر کے ناظم حافظ محمد حنیف کے علاوہ مدرسہ جامع مسجد نیو ٹاؤن اور دارالاسلام کے بھی تین طلباء گرفتار کر لئے گئے ہیں، جن میں سے ایک کا نام یوسف اسماعیل ہے۔ گجرات پولیس نے آج ۴ بجے شام مسجد حاجی پیر بخش سے گجرات کے گیارہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ ان رہنماؤں میں جمعیت العلمائے پاکستان کے سید محمود شاہ، جماعت اسلامی کے جناب نثار احمد چوہدری ایڈووکیٹ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مستری فتح محمد ، نیپ کے میاں سلیم اللہ اور تحریک استقلال کے چوہدری محمد طفیل کے علاوہ ، حافظ لیاقت علی، محمد رمضان، اقبال نبی، طارق اقبال اور فاروق بھٹی شامل ہیں۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے کسی بھی شخص کو ان رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سانگھڑ میں ۵ مجاہدین عبدالرحیم نظامانی، پیرو نظامانی، وصی محمد نظامانی، غلام قادر نظامانی اور عارف کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی اور امن میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔
وزیر اعظم کی تقریر آج پھر ٹیلی کاسٹ ہوگی
راولپنڈی:مؤرخہ ۱۴؍جون۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر جو کل پاکستان ٹیلی ویژن سے کاسٹ کی گئی تھی، کل شام ساڑھے آٹھ بجے پاکستان ٹیلی ویژن کے تمام اسٹیشنوں سے پھر ٹیلی کاسٹ ہوگی۔
بھٹو کی مخالفت، احمدیوں کی حمایت آل انڈیا ریڈیو کا شر انگیز تبصرہ
کراچی:مؤرخہ ۱۴؍جون۔ آل انڈیا ریڈیو نے آج وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قادیانی مسئلہ پر کی جانے والی تقریر پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور اپنے تبصرہ میں معنی خیز انداز میں مرزا ناصر احمد کے انٹرویو اور مسٹر ظفر اللہ خان کی پریس کانفرنس میں حکومت پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو دہرایا ہے۔ تبصرہ میں کہا گیا ہے کہ نہ معلوم وہ کون سے غیر ملکی عناصر ہیں، جنہیں مسٹر بھٹو نے ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن کے نتیجے میں ۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں روپے کی تجارتی املاک کا نقصان ہوا ہے۔ تبصرہ نگار نے احمدیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسجدوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ تبصرہ نگار نے شر انگیزی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں احمدیوں کو اقلیت قرار دینے اور انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے اگر احمدیوں کو اقلیت قرار دے بھی دیا جائے تو کیا انہیں سرکاری مراعات حاصل کرنے کا حق نہیں ہوگا؟
حاصل پور میں مکمل ہڑتال، بسیں بھی نہیں چلائی گئیں
حاصل پور:مؤرخہ ۱۵؍جون۔کل حاصل پور میں کل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی، جس سے مسافر کھانے پینے کی اشیاء نہ ملنے کے باعث پریشان ہوئے۔ مزید برآں بہاول پور سے حاصل پور اور چشتیاں کے درمیان بسوں کی ہڑتال رہی، جس سے عوام کو بیرون شہروں میں جانے کے لئے کافی پریشانی اٹھانی پڑی۔ حاصل پور کی تمام سیاسی جماعتوں نے ربوہ کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ دہرایا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے، کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو ہٹایا جائے، ربوہ شہر کو کھلا قرار دیا جائے۔ دریں اثناء شہر میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لئے فوج اور پولیس گشت کر رہی ہے۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
قادیانی باپ کے خلاف احتجاجاً خودکشی
رحیم یار خان:مؤرخہ ۱۵؍جون۔ شہر کے گنجان آباد محلہ کالونی امانت علی میں ایک جواں سال بیٹے نے قادیانی باپ کے عقیدہ ختم نبوت سے مسلسل انکار پر گاڑی تلے آ کر خود کشی کر لی۔ جواں سال منور کی جواں مرگ پر شہر بھر میں اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔ بیٹے کی خود کشی کے بعد باپ نے مرزائیت سے تائب ہونے کا اعلان کر دیا۔ لیکن بیٹے کی مرگ کے بعد باپ کا یہ فیصلہ منور کی متاع زندگی کو، جو دو روز قبل لٹ چکی تھی، واپس نہ لا سکا۔
جواں سال منور ڈی سی آفس رحیم یار خان میں کلرک تھا۔ وہ کافی عرصہ سے اپنے قادیانی باپ، منشی کمال الدین کو مرزائیت ترک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔ واقعہ ربوہ کے بعد مسلمانوں میں جو شدید ردعمل پیدا ہوا، اس سے منور نے بھی قدرتی طور پر مرزائیت کے خلاف اثر قبول کیا۔ وہ کئی روز باپ کو مرزائیت ترک کرنے پر آمادہ کرتا رہا۔ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا تو اس نے بیوی سے کہا کہ وہ اپنے میکے چلنے کو تیار رہے۔ ہم یہاں نہیں رہیں گے لیکن بعد میں وہ ریلوے لائن پر چلا گیا، جہاں اس نے ایک مال گاڑی تلے آکر خودکشی کر لی۔ اس واقعہ کی اطلاع شہر بھر میں پھیل گئی۔ منور کی نماز جنازہ میں بے شمار لوگوں نے شرکت کی اور اسے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ دفن کیا گیا۔ منور اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ اس کی خودکشی سے ماں کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ باپ نے لوگوں کی ملامت اور بیٹے کی موت سے متاثر ہو کر مرزائیت سے تائب ہونے کا اعلان کر دیا۔
یاد رہے کہ چار سال پہلے بھی منور کے خاندان کو اس وقت شدید صدمہ سے دو چار ہونا پڑا تھا، جب تمام مسلمان عید کی خوشیاں منا رہے تھے۔ منور کا نو عمر بھائی اور اس کی کمسن بہن عید کے روز غلہ منڈی کے قریب بس اسٹینڈ سے ملحقہ شاہی روڈ سے گزر رہے تھے تو دونوں بہن بھائی ایک بس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے اور اس حادثہ کے باعث نہ صرف منور کے خاندان میں بلکہ اہل محلہ کے گھروں میں عید کے روز صف ماتم بچھ گئی۔ ابھی اس حادثہ کا زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ منور کی موت نے اس خاندان کا آخری سہارا بھی چھین لیا۔ منور کے پسماندگان میں ایک کمسن بچہ، بیوی اور بوڑھے والدین شامل ہیں۔
مسلم لیگ پنجاب کی قرارداد
لاہور: مؤرخہ ۵؍ جون۔ پاکستان مسلم لیگ (پنجاب زون) کے صدر سینیٹر خواجہ محمد صفدر، صوبائی جنرل سیکرٹری غلام حیدر وائیں، ختم نبوت مرکزی مجلس عمل میں پاکستان مسلم لیگ کے ارکان میجر اعجاز احمد خان اور مولانا صفدر علی نے قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کے حق میں ملک گیر پرامن ہڑتال پر پاکستان کے تمام دینی اور سیاسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مسلم حلقوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کے لئے یہ پرامن تاریخی مظاہرہ ملت اسلامیہ کے قومی مطالبہ کی صداقت اور عوامی اتحاد و یگانگت کا مظہر ہے۔ درحقیقت ۱۴؍ جون کی ملک گیر ہڑتال قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ پر پاکستان کے عوام کی جانب سے ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے اور اب برسر اقتدار حکومت قومی اسمبلی یا کسی اور ملکی ادارے کو اس ناقابل تنسیخ عوامی فیصلہ کی توثیق میں ہرگز تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملی اتحاد اور عوامی خواہشات کے اس پرامن مظاہرہ کے تاریخ ساز نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ قوم کی طرف سے یہ حقیقت پوری طرح سے واضح کر دی گئی ہے کہ اب کوئی بھی برسر اقتدار حکومت قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے قومی مطالبہ سے سرمو انحراف نہیں کر سکے گی۔
زاہد سرفراز کی طرف سے بھوک ہڑتال کی دھمکی
لائل پور : مؤرخہ ۱۵؍ جون۔ کونسل مسلم لیگ کے صدر میاں زاہد سرفراز نے اعلان کیا ہے کہ اگر ۱۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو میں عوام کے اس مطالبہ کے حق میں بھوک ہڑتال کر دوں گا اور جب تک حکومت یہ اجتماعی اور متفقہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتی، بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ سانحہ ربوہ کے سلسلہ میں شہری مسلم لیگ لائل پور کے کارکنوں کے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی کے رفقاء سے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے اور ہم نے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کی اس مجبوری کو بھی پیش نظر رکھا ہے کہ بجٹ کے باعث ۳۰؍ جون کو وہ قادیانیوں کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش نہیں کر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکتے۔ انہوں نے کہا ہم اس مسئلہ سے قطعاً کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن حکمران پارٹی کے سربراہ اسے غیر معینہ عرصہ تک ملتوی رکھ کر سیاسی مقصد برآری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم بھٹو نے اپنی حالیہ تقریر میں واقعہ ربوہ کو بین الاقوامی طاقتوں کی سازش کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر اس مسئلہ کو مزید معرض تعویق میں رکھا گیا تو ملک دشمن عناصر اس بین الاقوامی سازش سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔
میاں صاحب نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت بھی اس سازش سے بری الذمہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا بھٹو صاحب نے ہمیشہ یہ طرز عمل اپنائے رکھا کہ جب کوئی مسئلہ اسمبلی میں پیش کرنے والا ہو تو کہتے ہیں کہ عوام کے پاس جاؤں گا۔ جب عوام سے مایوسی ہوتی ہے تو کہتے ہیں اسمبلی میں فیصلہ کراؤں گا۔ جب فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو نہ عوام سے پوچھتے ہیں، نہ اسمبلی سے بلکہ خود ہی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بیٹھ کر اعلان کر دیتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں روا رکھا۔ اب قادیانیوں کا مسئلہ آیا تو کہتے ہیں کہ اسمبلی میں جاؤں گا، سپریم کورٹ میں بھیجوں گا، اسلامی مشاورتی کونسل سے رجوع کروں گا، محض اپنے مقاصد کے حصول کے لئے قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔
مولانا احتشام الحق تھانوی
کراچی: مؤرخہ ۱۴/جون۔ ممتاز عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ: ”مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں وزیر اعظم کی نشری تقریر پر میرا رد عمل مختلف اخبارات میں مختلف الفاظ میں دیا گیا ہے، جس سے ذہنی الجھن اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے، اس لئے وضاحت ضروری ہے۔ پاکستان میں مرزائیت کے عروج اور ملک و ملت کے خلاف سازش کی ابتداء اس نامبارک گھڑی سے ہوئی ہے، جب غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ پر چوہدری ظفر اللہ خان کو پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیر خارجہ کے اہم ترین عہدہ پر لیا گیا۔ مرزائی وزیر خارجہ نے پانچ چھ سال کے اندر بیرونی ملکوں میں اپنی تبلیغی شاخیں قائم کر کے اور اندرون ملک سول اور فوج کی کلیدی آسامیوں پر قبضہ کر کے پاکستان بنانے والے مسلمانوں کو حیرت زدہ بنا دیا اور اسلام و پاکستان کی محبت میں مرزائیت کے خلاف پورے ملک میں اس لئے لہر دوڑ گئی کہ مرزائی نہ مسلمان ہیں اور نہ پاکستان کے وفادار۔ اس کے نتیجے میں ان کو اقلیت قرار دینے اور کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کی ہمہ گیر تحریک ۱۹۵۳ء میں شروع ہوئی اور مسلمانوں نے اس تحریک میں عظیم قربانیاں بھی دیں۔
مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ خان نے غیر ملکی ایجنسیوں کو جو بیانات دیئے ہیں، وہ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف ہیں اور وزیر اعظم نے اپنی نشری تقریر میں ختم نبوت کے مسئلے پر جو غیر مبہم حمایت کا اظہار کیا ہے، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی حکومت کے مقابلے میں فریق ہیں اور وزیر اعظم کی تمام ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا ختم نبوت کی تحریک میں کامیابی جب ہی ممکن ہے کہ ہماری تحریک جبر و تشدد اور لا قانونی مظاہروں سے پاک رہے اور سیاسی عزائم کی آمیزش سے بالا تر رہے۔ اگر ہم نے اس تحریک کے نام پر ملک میں لاقانونیت اور جبر و تشدد کا مظاہرہ کیا تو ایک طرف ہم حکومت کے مقابلے میں فریق بن کر ختم نبوت کے سلسلے کی سرکاری حمایت کو نقصان پہنچائیں گے، دوسری طرف عام افراتفری سے ملک کو خطرہ میں مبتلا کر دیں گے۔“
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۷۴ء)
ربوہ کے واقعہ کے دو ملزمان کا ریمانڈ
لاہور: مؤرخہ ۱۴/جون۔ لاہور کے ایک مجسٹریٹ نے ربوہ کی قادیانی انتظامیہ ”ڈپٹی کمشنر“ بشیر احمد عمومی اور ”سپرنٹنڈنٹ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پولیس، عبدالعزیز بھانبڑی کو ۲۵؍ جون تک کرائم برانچ پولیس کی حراست میں رکھنے کے لئے ریمانڈ دے دیا ہے۔ بشیر احمد اور عبدالعزیز کو ربوہ کے واقعہ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ پولیس نے دونوں ملزمان کو شیخ شمس الدین کی عدالت میں پیش کیا۔ انہیں ہتھکڑی نہیں لگائی گئی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہم ملزمان سے ان ہتھیاروں کو برآمد کرانا چاہتے ہیں جو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو زخمی کرنے کے لئے استعمال کئے گئے تھے۔ پولیس کے بیان کے مطابق ان دونوں ”افسروں“ نے طلباء پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا اور طلباء پر ہجوم کے حملے کی نگرانی کے لئے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھے۔
قادیانیوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ
لاہور: مؤرخہ ۱۵؍ جون۔ تحریک ختم نبوت کی متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر آج مسلمانوں نے قادیانیوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا۔ صوبائی دارالحکومت میں قادیانیوں کے ریستورانوں اور دوکانوں پر مسلمان گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ شہر کے تمام پان سگریٹ فروشوں نے اس مشروب (شیزان) کا بائیکاٹ کیا جو ایک قادیانی کی ملکیت ہے۔ پان سگریٹ فروشوں اور دیگر اداروں نے اس مشروب کو لینے سے انکار کر دیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ایک مقامی ریستوران کا بھی مسلمانوں نے بائیکاٹ کیا۔ مجلس احرار اور کئی تنظیموں کی طرف سے عوام میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے، جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کا مکمل سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کریں۔ متحدہ مجلس عمل اور پنجاب سٹوڈنٹس کونسل نے گزشتہ روز عوام سے اپیل کی تھی کہ قادیانیوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ آج کے اخبارات میں اس ضمن میں ذیل کے اشتہار بھی شائع ہوئے۔
ہم مسلمانوں کا فرض
”ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم المرسلینی کے منکر قادیانیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کریں۔ ان سے کسی قسم کے مراسم نہ رکھیں اور ان کی تیار کردہ کسی چیز کی خرید و فروخت نہ کریں۔ ہم وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو بلا تاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیں اور اس طرح دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔“
منجانب: بروکرز گروپ کریانہ، کیمیکل فوڈ گرین، اکبر منڈی لاہور
”ہم تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے منکرین قادیانیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھیں اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کی خرید و فروخت نہ کریں۔ ہم وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلا تاخیر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور قیامت کے دن خاتم النبیین ﷺ کی شفاعت سے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل کریں۔“
منجانب: صدر ہول سیل کلاتھ ایسوسی ایشن گوجرانوالہ
اور خواجہ کلاتھ مارکیٹ، انصاف کلاتھ مارکیٹ، خاکوانی کلاتھ مارکیٹ، مدینہ کلاتھ مارکیٹ، نیو کلاتھ مارکیٹ، فردوس کلاتھ مارکیٹ، ستارہ کلاتھ مارکیٹ، کھجور منڈی کلاتھ مارکیٹ، انصار کلاتھ مارکیٹ، آزاد کلاتھ مارکیٹ، نگینہ کلاتھ مارکیٹ، محمدی کلاتھ مارکیٹ، صوفیہ کلاتھ مارکیٹ، شبنم کلاتھ مارکیٹ، زینت کلاتھ مارکیٹ، چوہدری کلاتھ مارکیٹ، آصف کلاتھ مارکیٹ۔
روزنامہ ”جسارت“ کا اداریہ وزیر اعظم کی نشری تقریر
”وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے جمعرات کے نشریے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں احمدیوں کے مسئلے کی سنگینی کا کچھ کچھ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احساس ہو چلا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ واقعہ ربوہ سازش ہے اور اس میں بیرونی ہاتھ ہے۔ ایک عام بے خبر شہری کا اظہار خیال نہیں، حکومت کے سب سے ذمہ دار منصب دار کا اظہار خیال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اس الزام کے ٹھوس شواہد بھی ہوں گے۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا بھی اطمینان بخش ہے کہ جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں۔ ہمارے رسول ﷺ آخری پیغمبر تھے۔ وزیر اعظم کے اس اظہار خیال سے ان کی سوچ اور فکر کا رخ سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کرنے میں انہیں کچھ جھجک ہے اور وہ کوئی خوف محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس مسئلے کو اسمبلی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ہم نے کل ان ہی کالموں میں عرض کیا تھا کہ مسئلے کو اسمبلی میں یا اسلامی مشاورتی کونسل میں لے جانے سے ہمیں کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے۔ مگر ہم یہ اس لئے مناسب نہیں سمجھتے کہ اس سے فیصلے میں تاخیر ہو گی۔ تاہم اسمبلی سے اس مسئلے میں فیصلہ حاصل کرنے کی بات وزن رکھتی ہے اور ایسی صورت میں جب کہ بھٹو صاحب نے اولین فرصت میں یعنی ایک ڈیڑھ ہفتے ہی میں یہ مسئلہ اسمبلی کے سامنے لے جانے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے، تو ٹھیک ہے۔ مگر اس سے اگلی بات معاملے کو ٹالنے والی نظر آتی ہے۔ یعنی اسمبلی سے یہ معاملہ اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ میں بھیجے جانے کا امکان جو فیصلے کو اتنا مؤخر کر دے گا کہ اس عرصہ میں کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے۔ خود بھٹو صاحب نے کہا ہے کہ مسئلہ قادیانیت اسی نوے سال پرانا ہے۔ ان اسی نوے سالوں میں اس مسئلے پر ملت اسلامیہ کے فقہاء، علماء، قانون دان، سیاست دان اور دانشور غور و فکر کرتے چلے آئے ہیں اور مسلمانوں کی پچھلے اسی نوے برس میں گزرنے والی دو تین نسلوں نے بالاتفاق رائے وہی نتیجہ اخذ کیا ہے اور وہی فیصلہ صادر کیا ہے، جو بھٹو صاحب نے کیا ہے۔ یعنی ختم نبوت کے عقیدے پر ایمان نہ رکھنے والے مسلمان نہیں ہیں۔ جس مسئلہ پر قریب قریب ایک صدی سے مسلسل غور و فکر سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہو اور ایک ہی فیصلہ صادر ہو رہا ہو، اور یہ فیصلہ مسلمانوں کے کسی بھی مکتبہ فکر و علم کے لئے متنازعہ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نتیجہ اور فیصلہ مصدقہ، مسلمہ اور طے شدہ ہے۔ اب اسے کسی مشاورتی کونسل کے سامنے پیش کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں۔ یہ محض ایک رسمی کارروائی ہو گی اور یہ وقت رسمی کارروائیوں کی تکمیل کا بہر حال نہیں ہے۔ وزیر اعظم صاحب کی سمجھ میں یہ بات بھی آ جائے تو اچھا ہے۔
وزیر اعظم کی تقریر کا ایک جملہ البتہ ہمارے لئے حیرت انگیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی پر پارٹی ڈسپلن نافذ نہیں کروں گا۔ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق اظہار رائے اور فیصلہ کرنے کی آزادی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر آپ پارٹی ڈسپلن نافذ کر کے اسلام کی مدافعت کیوں نہیں کراتے۔ پیپلز پارٹی کے تمام ارکان مسلمان ہیں، اگر مسلمان نہ ہوتے تو پارٹی ان کے لئے یہ نعرہ کیسے تجویز کرتی کہ ہمارا مذہب اسلام ہے۔ پارٹی کے اس اساسی نعرے کا مطلب یہ ہے کہ عقیدۂ پارٹی کے تمام ارکان مسلمان ہیں جو اقرار کرتے ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ جب سب ہی پارٹی ارکان مسلمان ہیں تو ان پر پارٹی ڈسپلن نافذ کر کے ختم رسالت کا تحفظ کرانا کیا مشکل ہے؟ آخر آپ چھوٹے چھوٹے معاملات حسب خواہش طے کرانے کے لئے پارٹی ڈسپلن نافذ کرتے ہیں تو اسلام کے ایک بنیادی عقیدے کا تحفظ کرنے کے لئے آپ پارٹی ڈسپلن کی قوت کیوں استعمال نہیں کرتے۔ کیا یہ آپ کی پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے یا کیا آپ کی پارٹی کو بحیثیت پارٹی اس مسئلے سے دلچسپی نہیں ہے۔ اگر اس قسم کے مسئلے سے دلچسپی نہیں ہے تو پھر پارٹی کے لئے ’’اسلام ہمارا دین ہے‘‘ کے نمائشی نعرے کی کیا ضرورت ہے؟
وزیر اعظم صاحب نے اس کمزوری کا پس منظر خود ہی دے دیا کہ مجھے انتخاب میں ہر فرقے کے لوگوں نے ووٹ دیئے تھے۔ گویا احمدیوں کے ووٹ بھی پارٹی کی کامیابی کا باعث بنے۔ صرف یہی نہیں کہ احمدیوں کے ووٹ ملے، بلکہ پارٹی میں بھی احمدی شامل ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیپلز پارٹی کے زینے سے احمدی اسمبلیوں تک جا پہنچے اور اسمبلیوں میں موجود یہی احمدی اصل مسئلہ ہیں، جن پر ختم نبوت کی حمایت میں پارٹی ڈسپلن نافذ کرنا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔ اسی لئے اس مسئلے کو اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے آزادی دینے کی بات کی جارہی ہے تاکہ پارٹی کے اس کمزور پہلو پر پردہ پڑجائے۔ ہم کہتے ہیں کہ اس صورت میں پارٹی ڈسپلن سے آزادی دینا پارٹی کے اندر شامل احمدیوں کی قوت کے سامنے اپنی عاجزی کا اعتراف ہوگا۔ جب پیپلز پارٹی کے احمدی ارکان پارٹی کا ڈسپلن قبول نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ پارٹی کے اندر ایک الگ پارٹی ہیں جو پیپلز پارٹی کا ڈسپلن قبول کرنے کی بجائے اپنی اس اصل پارٹی کا ڈسپلن قبول کرتے ہیں جس کے سربراہ مرزا ناصر احمد ہیں۔ آخر ایسے لوگ پیپلز پارٹی کے اندر کیوں چھپائے جارہے ہیں، انہیں پارٹی سے نکال باہر کیجئے۔ اس سے پیپلز پارٹی کی عزت پر بٹہ نہیں لگے گا، اس کی توقیر میں اضافہ ہی ہوگا۔ غلطی ہو چکنے کے بعد اس کی اصلاح کر لینا کوئی شرم کی بات نہیں۔‘‘
(اداریہ روزنامہ جسارت کراچی، مورخہ ۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
اس دفعہ ۱۴۴ کو دفع کیجئے...... اداریہ روزنامہ جسارت
پشاور، کوہاٹ، مردان، ہزارہ اور شیخوپورہ کے اضلاع میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب اس دفعہ کے اطلاق کے ساتھ جاری ہونے والی فہرست ممنوعات سے مل رہا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ نعرے لگانا یا ایسے اشارے کرنا جو دوسرے فرقوں کے جذبات مجروح کرنے کا باعث ہوں، ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اس ممانعت کے ساتھ ساتھ پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔ ہمیں حکومت کے اس طرزعمل سے شدید اختلاف ہے کہ وہ مختلف حیلے بہانوں سے دفعہ ۱۴۴ نافذ رکھ کر شہری آزادیوں اور اجتماع و اظہار کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے۔ کیا حکومت کی نظر میں عوام اتنے ہی شرپسند، فسادی، تخریب کار اور ناشائستہ ہیں کہ انہیں امن و شائستگی سے احتجاج کا سلیقہ بھی نہیں آتا۔ اگر حکومت ایسا نہیں سمجھتی اور ہم بھی یہی سمجھتے ہیں تو پھر دفعہ ۱۴۴ کے نافذ کئے رکھنے سے یقیناً حکومت کا منشاء اجتماع و اظہار کی آزادیاں سلب کرنا ہی ہے جس کا مقصد حزب اختلاف کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنا اور سیاسی عمل کو روک کر سیاسی جمود کی فضاء میں خاموشی اور سکون سے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے اقدامات کئے چلے جانا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ حکومت پنجاب نے اخبارات پر سے سنسر کی پابندی اٹھائی تو کون سی قیامت آئی؟ کون سا دنگا فساد ہوا؟ کیا سنسر اٹھنے کے بعد اخبارات کا ذمہ دارانہ رویہ اور پورے صوبے میں امن کا برقرار رہنا اس امر کا ثبوت نہیں ہے کہ اجتماع اور اظہار پر دفعہ ۱۴۴ یا سنسر کی پابندیاں عائد کرنا بے معنی بات ہے۔ اس سے زیادہ قابل اعتماد بات یہ ہے کہ شہریوں کے مزاج کی ذمہ داری اور امن پسندی پر بھروسہ کیا جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح حکومت پنجاب نے سنسر ہٹانے کا خوشگوار تجربہ کر کے یہ نتیجہ دیکھ لیا کہ کوئی امن شکنی نہیں ہوئی، صورتحال معمول پر رہی اور اخبارات نے اس آزادی سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، اسی طرح حکومت شہری آزادیوں کو بحال رکھنے کا بھی تجربہ کر دیکھے۔ ان شاء اللہ ! کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی بلکہ ہمارے خیال میں تو فساد اور بدامنی کے واقعات ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ شہریوں کے لئے احتجاج اور اظہار کے جائز راستے مسدود ہو جاتے ہیں تو وہ مایوس اور عاجز آکر احتجاج، اجتماع و اظہار کی آزادی پر عائد پابندیوں کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں اور یوں فساد پھیلتا ہے۔ لاہور میں دفعہ ۱۴۴ کہ جسے ہم حکومت کی ناک کا بال کہتے ہیں، محفوظ رکھنے کے لئے روزانہ صحافیوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور محاذ آرائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں حکومت سندھ نے بھوک ہڑتالی اساتذہ کے معاملے میں وہ رویہ اختیار نہیں کیا جو حکومت پنجاب کا ہے۔ لہٰذا یہاں نہ تو اساتذہ کی بھوک ہڑتال سے کوئی ہنگامہ و فساد برپا ہوا،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہ کوئی امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا جو رویہ حکومت سندھ نے اب اختیار کیا ہے، وہ اگر ۲۹ مئی کو اختیار کرتی اور بلاوجہ اساتذہ کے احتجاج کے راستے میں دفعہ ۱۴۴ کا روڑا نہ اٹکاتی تو اساتذہ کا احتجاج بھی ایسا ہی پرامن رہتا جیسے اب ان کی بھوک ہڑتال پرامن ہے۔ اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ دفعہ ۱۴۴ سے بدامنی رکتی نہیں، پھیلتی ہے۔ لہٰذا ہم حکومت کو مشورہ دیں گے کہ دفعہ ۱۴۴ کا استعمال ختم کرے اور اس ملک کے شہریوں کو ذمہ دار، شریف، شائستہ اور امن پسند سمجھنے کا رویہ اختیار کرے۔
اگر نقص امن کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کرنا بھی ہو تو اس کے تحت ہتھیاروں کے لے کر چلنے پر پابندی یا اشتعال انگیزی اور نامناسب نعروں پر پابندی کافی ہے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ چار یا چار سے زائد افراد کا اجتماع بھی لازماً روک دیا جائے۔ اس پابندی سے تو پرامن احتجاج کا راستہ رک جاتا ہے اور پرتشدد اور قانون شکن احتجاج ہی کا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ چنانچہ عوام کو اس راہ پر ڈالنے کی ذمہ داری تو حکومت ہے نہ کہ خود عوام۔ ہم مطالبہ کریں گے کہ پورے ملک میں جہاں جہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے، وہاں اس دفعہ کے تحت اجتماع و اظہار پر عائد شدہ پابندیاں واپس لی جائیں تاکہ پورے ملک میں سیاسی عمل کی مسدود راہ کھلے، بدامنی کا راستہ بند ہو اور امن وسکون قائم ہو۔‘‘
(اداریہ روزنامہ جسارت مؤرخہ ۱۶؍جون ۱۹۷۴ء)
صحیح راہ عمل...... اداریہ روزنامہ امروز
’’لوگوں نے وزیر اعظم بھٹو کی تقریر سنی اور جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔ عقیدہ وہی، ایمان وہی، جذبات وہی، فرق یا اختلاف کا کہیں شائبہ بھی نہ تھا۔ ہوتا بھی کیسے، ختم نبوت کے بارے میں جو عقیدہ عام مسلمان کا ہے، وہی جناب بھٹو اور ان کی حکومت کا ہے۔ اس عقیدے کو ملک کے دستور میں تحفظ حاصل ہے، یہ تحفظ عوامی حکومت ہی کے دور میں دیا گیا ہے، اس سے پہلے کے دساتیر میں اس کا اہتمام نہ تھا۔ ماضی میں جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار رہی، انہیں اس کی توفیق نہ ہوئی، انہیں جاہ ومنصب کے جھمیلوں سے ہی فرصت نہ تھی کہ عوام کے اقتصادی، معاشرتی، دینی اور سیاسی مسائل کو سلجھاتے بلکہ وہ تو جان بوجھ کر مسائل کو الجھاتے رہے۔ تاکہ عوام مشکل میں گھرے رہیں، انہیں انفرادی اور اجتماعی مسئلوں کا احساس اور ادراک نہ ہو پائے، وہ بیدار ومنظم نہ ہوسکیں اور سیاسی طالع آزماؤں کی گرفت و احتساب کرنے کے قابل نہ بن سکیں۔ انہیں اس ملک کی اصل متاع ...... عوام سے محبت ہوتی، تو ان کی مادی آسودگی اور روحانی تسکین کا بندوبست کرتے، انہیں افلاس کی دلدل سے نکالتے، ان کی تہذیب مزین کرتے اور ایسا ماحول استوار اور ایسے اسباب فراہم کرتے کہ سیاسی بیداری اور معاشرتی شعور کی پختگی کی صورت نمایاں ہوتی۔ تمام امور ومعاملات کے بارے میں ہر طرح کے اشکال ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتے۔ لوگوں کو علم ہوتا کہ سیاست، معیشت اور معاشرت کے بارے میں انہیں کون سا اسلوب اختیار کرنا ہے۔ ان کے دینی معتقدات اپنی اصل اور خالص شکل میں کیا ہیں، پھر ان کے مقدس دینی عقائد اور جذبات کا کاملاً احترام بھی ہوتا اور تحفظ بھی تاکہ وہ ہر طرح کے خرخشوں سے آزاد ہوجاتے۔ انہیں روحانی تسکین اور اطمینان حاصل ہوتا اور ان کی تمام تر توجہ معاشرے کی مادی اور روحانی ترفیع پر مرکوز رہتی جہاں خود ارباب اقتدار کا تاریخی اور معاشرتی شعور پختہ نہ ہو، جو وقت کا ساتھ دینے کی صلاحیت مستقبل کے تقاضوں کی تفہیم اور تعمیر وارتقاء کے کسی جامع، جاندار اور حقیقت پسندانہ تصور سے عاری ہوں، تو پھر ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ عوام کو سیدھی راہ پر ڈال سکیں گے اور انہیں ان اوصاف سے متصف کرسکیں گے، جو دین مبین کا بھی اقتضاء ہیں اور تہذیب وشائستگی کے کسی بھی جدید تصور کا بھی، چنانچہ ماضی میں دوسرے مسائل کے علاوہ ختم نبوت کے مسئلے کو بھی تعویق والتواء میں ڈالا جاتا رہا۔ دور رفتہ کے انہی کم نظر، عاقبت نا اندیش اور بے حوصلہ حکمرانوں کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجرمانہ غفلت کا جو خمیازہ ملک وقوم کو بھگتنا پڑا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وہ چوکس و ہوشیار ہوتے ، انہوں نے قومی اور ملی معاملات کو ڈھنگ اور سلیقے سے سلجھانے کی تدبیر کی ہوتی تو نہ اغیار کی سازشیں کامیاب ہوتیں، نہ ملک دو نیم ہوتا اور نہ شدائد و مصائب کا وہ طوفان اٹھتا ، جس سے نکلنے کے لئے بے پایاں تدبر وفراست، بے مثل جرأتِ عمل اور عوام کی صفوں میں کامل اتحاد از بس لازمی ہے۔
اسے قوم کی خوش نصیبی سمجھنا چاہئے کہ اب زمام اقتدار جناب بھٹو کے ہاتھ میں ہے، جن کی فہم وفراست، حکمت وتدبر، فکری دیانت، بے پناہ قوتِ عمل اور سب سے بڑھ کر عوام دوستی کا ایک زمانہ معترف ہے۔ انہوں نے اڑھائی برس کی مختصر سی مدت میں آلام وشدائد کے بھنور میں گھری ہوئی کشتی کو ساحلِ مراد پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں، ہم بے جہتی کا شکار ہیں۔ تمام دوائر میں ہمارے مقاصد بھی معین ہیں اور ان کی تحصیل وتکمیل کے ذرائع بھی۔ کسی بھی مسئلے کے بارے میں کوئی ابہام اور کوئی اشکال باقی نہیں۔ سب کو علم اور یقین ہے کہ آنے والا ہر دن عوام کی بیداری، آسودگی اور ترفیع کا پیامی ہوگا اور وہ ڈھیروں مسائل جو ہمیں ماضی سے ورثے میں ملے ہیں، ایک ایک کر کے حل ہو جائیں گے۔ انتشار اور خلفشار کی تمام صورتیں ناپید ہو جائیں گی۔ عامتہ المسلمین کے اساسی دینی معتقدات کی لفظاً اور معناً تکریم بھی ہوگی اور ان کا بے ریائی سے تحفظ بھی ہوگا۔ کسی کو امتِ مسلمہ کے پاک جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ سارے معاملات دین اور آئین کی منشاء کے مطابق اور خالصتاً جمہوری انداز میں طے ہوں گے۔ تحفظِ ختمِ نبوت کے مسئلے کے حل کے لئے وزیرِ اعظم بھٹو نے جو راہِ عمل تجویز کی ہے، وہی موزوں اور صحیح ہے۔ یہ معاملہ عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔ وہ اس پر اتفاقِ رائے سے آخری فیصلہ کریں گے۔ مناسب سمجھیں گے تو عدالتِ عالیہ اور اسلامی مشاورتی کونسل سے بھی استمداد کر سکیں گے اور یوں عام مسلمانوں کی تسکین واطمینان کا اہتمام ہو جائے گا۔ پھر اس میں کچھ زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا۔ قومی اسمبلی کے رواں بجٹ اجلاس کے بعد، جو ۳۰؍ جون کو ختم ہو رہا ہے، یہ مسئلہ ایوان کے زیرِ غور آئے گا...... اس واضح لائحہ عمل کے اعلان کے بعد، اس مسئلے پر کسی قسم کی ایجی ٹیشن کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ تحریک ومطالبے کی ضرورت تو جب پڑتی ہے کہ کسی درپیش مسئلے کی اہمیت اور سنگینی کا احساس نہ ہو، یہاں تو عام آدمی سے لے کر عمائدینِ حکومت تک، ختمِ نبوت پر ہم عقیدہ اور اس مسئلے کو حل کرنے پر متفق ہیں۔ اس لئے سب کو اطمینان ہو جانا چاہئے اور ان عناصر سے خبردار رہنا چاہئے جو فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کے خوگر ہیں، عوام نے اس دوران جس صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی سیاسی بیداری کا غماز ہے۔ وہ ماضی کے تلخ اور ناگوار تجربات کی بناء پر جان گئے ہیں کہ سیاسی طالع آزماؤں کو تو کھل کھیلنے کا بہانہ چاہئے، انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ عوام پر کیا بیتی ہے اور ملک پر کیا آفت آتی ہے۔“
(اداریہ روزنامہ امروز مؤرخہ ۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
۱۷؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مرکزی مجلسِ عمل کا اجلاس لائل پور میں
سانحہ ربوہ کے فوراً بعد اسلام آباد پہنچ کر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرکزی مجلسِ عمل کا اجلاس طلب کیا۔ فوری اجلاس طلب کیا گیا تھا، اس میں بھر پور رابطہ نہ ہونے کے باعث اور لائل پور کے حضرات علماء کرام، جو اجلاس کے لئے تشریف لے جا رہے تھے اور راستہ میں گرفتار کر لئے گئے تھے، ان کی گرفتاری کے باعث آئندہ اجلاس ۹؍ جون کو لاہور میں رکھا گیا جس میں ۱۴؍ جون کی ہڑتال اور قادیانیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹/ جون کے اجلاس میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کنوئیر مقرر کیا گیا اور مستقل انتخاب کے لئے ۱۶/ جون کو لائل پور میں اجلاس طلب کیا گیا۔ چنانچہ آج اجلاس منعقد ہوا۔ اخباری رپورٹ یہ ہے:
لائل پور: مؤرخہ ۱۶/ جون ۔ آج یہاں ماڈل ٹاؤن کے ایک بنگلہ میں پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا خاص اجلاس مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ جمہوری پارٹی، مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیۃ اہل سنت، حزب الاحناف، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث اور اتحاد العلماء کے متعدد رہنماؤں نے شرکت کی۔ مجلس عمل کا فیصلہ یا قرارداد کا متن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا، تاہم مجلس عمل نے قادیانی مسئلہ سے متعلق وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کا تفصیلی جائزہ لیا اور بھٹو کی تقریر پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مجلس عمل کا مؤقف یہ ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مسئلہ سوادِ اعظم اور مختلف مکاتب فکر کا متفقہ مطالبہ ہے۔ ایسے غیر متنازعہ مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ مجلس عمل کی رائے ہے کہ ایسے اہم مسئلہ کو ایک خاص آرڈیننس کے ذریعے حل کرنا چاہئے تھا۔
مجلس عمل میں ربوہ کے واقعہ کی جج کے ذریعے تحقیقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ جن علماء نے اس میں شرکت کی، ان کے نام یہ ہیں: مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار نیازی، میجر اعجاز احمد، چوہدری صفدر علی رضوی، مفتی محمود، مولانا تاج محمود، مولانا عبید اللہ انور، مفتی زین العابدین، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا محمود احمد رضوی، مولانا خان محمد، مولانا عبید اللہ احرار، سید حسین الدین شاہ، صاحبزادہ قاری فضل رسول، مفتی سیاح الدین، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا ظفر احمد انصاری، آغا شورش کاشمیری، میاں فضل حق، مولانا محمد صدیق، سردار امیر عالم لغاری، حکیم عبد الرحیم اشرف، مولانا محمد شریف جالندھری، غلام دستگیر باری، صاحبزادہ اسرار الحق، سید مبارک گیلانی، مولانا عبد القادر روپڑی، چوہدری غلام جیلانی، مولانا عبد الرحمٰن اور مولانا سید ابوذر بخاری۔
(نوائے وقت مؤرخہ ۱۷/ جون ۱۹۷۴ء)
لائل پور کے اس اجلاس میں مرکزی مجلس کا انتخاب ہونا تھا۔ آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ قراردادیں پاس ہونا تھیں۔ بھٹو صاحب سے مجلس کے رہنماؤں کے مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ بھٹو صاحب کی تقریر پر مجلس عمل نے اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا۔ ۱۴/ جون کی کامیاب ہڑتال اور پورے ملک میں تحریک کی صورتحال کا تجزیہ کرنا تھا۔ انتہائی اہم اجلاس تھا۔ ملک بھر کی دینی و سیاسی قیادت فیصل آباد میں جمع تھی۔ رات کو کچہری بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ (وہ کوٹھی غالباً ڈاکٹر ظفر کی تھی) اجلاس میں ایجنڈا پر بحث ہوتی رہی۔ پالیسی بیان، قراردادوں اور مجلس عمل کے فیصلوں کے اعلان کے لئے جناب پروفیسر غفور احمد صاحب اور حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری پر مشتمل کمیٹی مقرر کر دی گئی تاکہ وہ قراردادوں کو مرتب کریں۔
ظہر کا وقت ہو گیا۔ صبح سے اجلاس جاری تھا۔ میزبان تقاضا کر رہے تھے کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ حضرت مولانا حافظ سید عطاء لمنعم شاہ بخاری نے دیکھا کہ کھانا لگ رہا ہے۔ اجلاس ختم ہو جائے گا مگر مرکزی مجلس عمل کا باضابطہ انتخاب نہیں ہوا، تو انہوں نے ایک دو بار اجلاس میں اسی سوال کو اٹھایا۔ مختلف مکاتب فکر، مختلف اذہان، سیاسی جماعتوں کے قائدین تشریف فرما تھے۔ اللہ تعالیٰ کروڑ رحمتیں نازل فرمائیں۔ آغا شورش کاشمیری پر جب حضرت حافظ عطاء المنعم شاہ نے بار بار انتخاب کا فرمایا تو آغا صاحب بولے حافظ صاحب! کیا انتخاب انتخاب لگا رکھا ہے؟ یہ بھی کوئی مسئلہ ہے؟ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری مرکزی مجلس عمل کے صدر ہیں۔ حضرت مولانا صاحبزادہ محمود احمد رضوی لاہور، یہ جنرل سیکرٹری ہیں۔ مولانا محمد شریف جالندھری، آپ صاحبزادہ رضوی صاحب کے معاون ہوں گے۔ ناظم اعلیٰ وہ اور آپ ناظم۔ ہو گئے انتخاب۔ مولانا تاج محمود صاحب کھانا لائیں۔ آغا صاحب نے کمال ذہانت سے ایک منٹ میں مسئلہ حل کر دیا۔ سب
نے صادر کر دی اور یہ تصفیہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔
مولانا تاج محمود نے ہم خدام کو کھانا لانے کا فرمایا۔ کھانا رکھا تو آغا صاحب نے ایک ڈونگہ، جو سامنے تھا اٹھایا۔ سامنے رکھا، چند نوالے لئے اور اسی میں ہاتھ دھو کر ایک سائیڈ پر بیٹھ گئے۔ مکرم بھائی محمد اقبال صاحب منیجر ہفتہ وار ’’لولاک‘‘ اور فقیر یہ صورتحال دیکھ رہے تھے۔ ایک دن فقیر نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب سے تحریک کے ختم ہو جانے کے کافی عرصہ بعد سوال کیا کہ حضرت اس دن آغا صاحب نے عجیب کیا کہ ڈونگہ میں کھانا شروع کر دیا۔ چند لقمے لئے اور پھر اسی ڈونگہ میں ہاتھ دھو ڈالے۔ مولانا مسکرائے اور فرمایا: آغا شورش کاشمیری مرحوم عجیب وغریب درویش، صاحب جذب انسان تھے۔ جب وہ کسی گہری سوچ میں ہوتے تو اس میں اتنے مستغرق ہوتے تھے کہ خیال نہ رہتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ بارہا ایسے ہوا کہ کام کوئی کر رہے ہیں، گفتگو کچھ ہو رہی ہے، سوچ کچھ اور رہے ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں۔
رات کو جامع مسجد کچہری بازار میں مجلس عمل کے اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کی تقریریں ہوئیں۔ جامع مسجد، ملحقہ مکانات، گلیاں، بازار سب میں انسانوں کا ٹھاٹھ تھا۔ جیسے انسانوں کا سمندر موجزن ہو۔ رات گئے جلسہ ختم ہوا۔ فیصل آباد کی تاریخ کا عظیم اجتماع تھا۔
ساہیوال میں جلسہ عام
ساہیوال: مورخہ ۱۶؍جون۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے صدر مفتی ضیاء الحسن نے قومی اسمبلی کے حزب اختلاف کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ بجٹ کو بلا کسی بحث و تمحیص کے منظور کرلیں تاکہ وزیر اعظم بھٹو کا عذر ختم ہو جائے اور وہ قادیانیوں کے مسئلہ پر غور کرسکیں۔ وہ گزشتہ روز ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی نشری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قادیانیوں کے مسئلہ کو معرض التواء میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے بارے میں تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر اس قدر خالی زمین پڑی ہے، جس کو کلکٹر اپنے اختیارات کے تحت قادیانیوں سے واپس لے کر مسلمانوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔ اجلاس سے مولانا حبیب اللہ، شیخ اصغر حمید، چوہدری محمد اشرف، مسٹر مسعود احمد پوسوال، عبدالمتین چوہدری، حاجی محمد ابراہیم چاولہ، میاں سعید احمد، مولانا منظور احمد، حافظ عبدالحق اور میاں مشتاق احمد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔
ڈسکہ میں جناب فرید پراچہ کا خطاب
ڈسکہ: مورخہ ۱۶؍جون۔ پنجاب یونیورسٹی کے صدر مسٹر فرید پراچہ نے کہا کہ ملک بھر کے طالب علم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ وہ آج دوپہر جامع مسجد فاروق میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ کی صدارت پروفیسر عثمان غنی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے کونہ کونہ میں تحریک ختم نبوت کا پیغام پہنچائیں گے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک عوام کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء نے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے اور جلد ہی قادیانی اداروں کی فہرست شائع کر دی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی، وہ اس تحریک میں طلباء کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ہمارے ملک میں جاسوس ہیں، اس لئے ملکی جاسوسوں سے اغماض نہیں کرنا چاہئے۔ وہ وطن دشمن سازشیں کر رہے ہیں۔ طالب علم رہنما مسٹر انور گوندل نے کہا، نئی نسل قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی کیونکہ یہ مرتد ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ برسر اقتدار طبقہ اس مسئلہ کو التواء میں ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوہدری ظہور الٰہی کا احتجاجی بیان
اسلام آباد : مؤرخہ ۱۷؍ جون ۔ ممتاز اپوزیشن لیڈر اور قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں علمائے کرام کی گرفتاریوں پر اظہار افسوس کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ علمائے کرام کو فی الفور رہا کیا جائے اور صورتحال کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ جمعہ کو جو ملک گیر ہڑتال ہوئی تھی، وہ بڑی پرامن تھی۔ یہ بات تعجب خیز ہے کہ حکومت نے علماء کو گرفتار کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں قادیانیوں کے خلاف مہم کو غلط راہ پر ڈال دیں گی۔
خواجہ قمر الدین سیالوی کا سرگودھا میں خطاب
حضرت پیر قمر الدین سجادہ نشین سیال شریف نے مقامی مسجد گول چوک سرگودھا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو مکمل بائیکاٹ کر کے یہ ثابت کر دیا جائے کہ وہ مسلمانوں سے بالکل الگ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کو عوام کے متفقہ مطالبات فوراً تسلیم کر لینا چاہئیں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہئے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔
طلباء کی گرفتاری کی مذمت
لائل پور : ۱۶؍ جون (نمائندہ خصوصی) انجمن طلباء اسلام کے صوبائی نائب ناظم نے کراچی کے طالب علم رہنما حافظ محمد تقی اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے طالب علم رہنما رانا لیاقت علی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اگر امن و امان بحال کرنا چاہتی ہے تو ربوہ کے سازشی ٹولہ کے افراد، بالخصوص مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرے، جو عرصہ دراز سے دین وملت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ کیا کہ محمد تقی اور رانا لیاقت علی کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں ورنہ طلباء راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گے۔
میں احمدی نہیں ہوں
’’میں اعلان کرتا ہوں کہ میں عرصہ ایک سال پیشتر احمدیت چھوڑ چکا ہوں۔ اب میرا اس فرقہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کی تصدیق خطیب جامع مسجد لائل پور مفتی زین العابدین بھی کر چکے ہیں، لہٰذا مجھے احمدی تصور نہ کیا جائے ۔‘‘ محمود احمد ولد رشید احمد ۱۴۔ سی پیپلز کالونی لائل پور (اشتہار)
احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا ایک فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں؟
تحقیقاتی ٹربیونل کی جانب سے وکلاء کو تحریری دلائل پیش کرنے کی ہدایت
مؤرخہ ۱۵؍ جون ۔ وقوعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل مسٹر جسٹس کے ایم صمدانی نے آج ٹربیونل کے روبرو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء کی ٹربیونل کے روبرو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء کی استدعا پر اس اہم نکتہ کا فیصلہ کرنے کے لئے طرفین کے وکلاء سے تحریری دلائل طلب کر لئے ہیں کہ آیا احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا اسلام کے اندر ایک فرقہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۲۱۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں؟ آج مختلف سیاسی جماعتوں کے وکلاء نے اس سلسلہ میں یہ استدعا کی تھی کہ احمدیوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء اپنے مؤکل سے اس بارے میں ہدایت لے کر بتائیں کہ عقیدہ کے بارے میں ان کا کیا مؤقف ہے۔ اس پر احمدیوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل مسٹر لطیف اور مرزا نصیر احمد نے بتایا کہ ان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو عقیدہ کے سلسلہ میں ۱۹۵۳ء میں منیر کمیشن کے روبرو تھا، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ احمدی اسلام کے اندر ایک فرقہ ہیں۔ اس پر دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے اعتراض کیا کہ احمدی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ چنانچہ فاضل جج نے طرفین کے وکلاء سے کہا کہ وہ اس ضمن میں اپنے دلائل تحریری طور پر پیش کریں اور جس مواد یا لٹریچر پر ان کا انحصار ہو، وہ بھی پیش کریں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور کی قرارداد
لائل پور: ۱۵؍ جون۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک ہنگامی اجلاس میں لاہوری مرزائیوں کی گمراہ کن سازش کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ لاہوری مرزائی مرزا غلام احمد کے پرانے الہامات کو شائع کر کے عوام کو یہ تاثر دینے میں کوشاں ہیں کہ وہ ختم نبوت کے قائل ہیں۔ حالانکہ مرزا غلام احمد کی سینکڑوں عبارات میں ختم نبوت کا انکار کیا گیا ہے اور اپنی جھوٹی نبوت کا ڈھول پیٹا گیا ہے۔ مجلس کے ایک پریس ریلیز میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مرزائیوں کے دھوکے میں نہ آئیں۔ جو شخص انبیاء کی توہین کرتا ہے۔ ختم نبوت کا باغی اور توہین قرآن کا مرتکب ہے۔ وہ کس طرح مسلمان ہو سکتا ہے۔ سواد اعظم کے نزدیک مدعی نبوت کو کافر نہ کہنے والے بھی کافر ہیں۔
علماء کرام کی گرفتاریاں...... اداریہ ”نوائے وقت“
راولپنڈی، اسلام آباد اور گجرات میں ۲۷ ممتاز علماء کرام اور بعض طالب علم لیڈروں کی جو گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، انہیں قومی حلقوں میں جوش و اضطراب کی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا۔ اس وقت جب کہ حالات بڑی نازک صورت اختیار کر چکے ہیں اور ہر فریق کی جانب سے انتہائی حزم و احتیاط کا مظاہرہ بلکہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ علماء کرام کی گرفتاریاں فضا کو مکدر و پراگندگی کے بگولوں میں دھکیلنے کا موجب بن سکتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ان گرفتاریوں کے خلاف عوام کے ردعمل کا مظاہرہ شروع ہو چکا ہے۔ راولپنڈی میں ان گرفتاریوں کی اطلاع منظر عام پر آتے ہی کاروباری مراکز اور منڈیاں بطور احتجاج بند کر دی گئیں۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان نے بھی واک آؤٹ کر کے ان گرفتاریوں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور جس قسم کی فضاء پیدا ہو چکی ہے، اس کے پیش نظر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ گرفتار شدہ علماء کرام نے حوالات سے اپنی بے جواز گرفتاریوں کے خلاف راولپنڈی شہر، صدر اور اسلام آباد میں ہڑتال کرنے کی جو اپیل کی ہے، وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔
ممتاز علماء کرام کی گرفتاریوں کی وجہ بیان نہیں کی گئی، البتہ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ انہیں گزشتہ جمعہ کے روز مساجد میں قادیانیوں کے بارے میں تقاریر کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تادم تحریر ان گرفتاریوں کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لئے ہم یہ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ متذکرہ عام قیاس میں کس حد تک صداقت ہے، البتہ ہم یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اگر علماء کرام کو واقعی قادیانیوں کے بارے میں تقاریر کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے تو پھر اس اقدام کی اجازت دینے والے حکام نے انتہائی بے تدبیری کا مظاہرہ کیا ہے۔ گزشتہ جمعہ کے روز پاکستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں مکمل ہڑتال تھی۔ یہ ہڑتال قادیانیوں کے بارے میں سواد اعظم کے جذبات واحساسات کا مظاہرہ تھا اور یہ بڑے اطمینان کی بات ہے کہ عامتہ الناس نے ہوش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اس ہڑتال کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوران لوگوں نے مساجد میں علماء کرام کی تقاریر اور خطابات بھی سنے اور نماز جمعہ کے بعد اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اس روز ملک بھر میں کسی جگہ ہنگامہ نہیں ہوا، کہیں کوئی جھگڑا نہیں ہوا، کسی جگہ کوئی شروفساد رونما نہیں ہوا اور عوامی جذبات کا مظاہرہ انتہائی پرامن رہا۔ اب اگر اس روز کی تقاریر کو اندیشہ نقض امن پر محمول کرتے ہوئے علماء کرام کو گرفتار کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ فضاء خواہ مخواہ خراب ہوگی۔ اگر ان تقاریر کا کوئی منفی نتیجہ برآمد ہوتا تو یہ نماز جمعہ کے بعد ہی ہو جاتا جب کہ صورتحال (ہڑتال کی وجہ سے) انتہائی نازک تھی اور ذرا سی بے احتیاطی خرابی کا باعث بن سکتی تھی۔ اگر اس نازک صورت میں بھی علماء کرام کی تقاریر امن وامان کو خراب کرنے کا موجب نہیں بن سکیں تو پھر انہیں اندیشہ نقض امن پر محمول کرنا درست نہیں، اس لئے مناسب یہی ہے کہ گرفتار شدہ علماء کو رہا کر دیا جائے اور فضاء کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے۔
قادیانیوں کا مسئلہ حادثہ ربوہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جہاں تک اس حادثہ کا تعلق ہے، ربوہ والوں نے ابھی تک اس کی مذمت تو کیا، اس پر اظہار افسوس تک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بہر کیف یہ مسئلہ اب تحقیقاتی ٹربیونل کے روبرو پیش ہے اور ہم اس پر کوئی رائے زنی کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ البتہ جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہے۔ وہ اس ضمن میں یہ وضاحت بھی کر چکے ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی اس ضمن میں کوئی قرارداد اسلامی مشاورتی کونسل میں بھیجے گی۔ اب جب تک یہ مسئلہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتا یعنی اسمبلی یا مشاورتی کونسل قرارداد منظور نہیں کرتی، اس وقت تک حکومت سمیت تمام فریقین کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ امن وامان کی فضاء قائم رکھیں اور ایسی کوئی بات نہ ہونے دیں جو ملک میں انتشار ولاقانونیت پھیلا کر پاکستان اور اسلام کے دشمنوں کو تقویت پہنچانے کا موجب بن سکتی ہو۔ ہم اس وقت انتہائی نازک حالات سے دوچار ہیں۔ ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ انڈوسوویت لابی بالخصوص سرگرم کار ہے اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اس لابی کے بعض بدبخت غیر ملکی و پاکستانی ایجنٹ اور گماشتے یہاں انتشار وافراتفری پیدا کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں اور سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ انڈوسوویت لابی کے یہ ملکی و غیر ملکی ایجنٹ ارباب حکومت کی نظروں سے پوشیدہ نہ ہونے کے باوجود کھلم کھلا اپنے ناپاک مشن کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ارباب حکومت پاکستان دشمن عناصر کو کھلم کھلا کام کرنے کے مواقع کیوں مہیا کر رہے ہیں اور ان کا احتساب و مواخذہ کیوں نہیں کیا جاتا۔ بہر کیف ہم عامتہ الناس سے اپیل کریں گے کہ وہ پرامن رہیں اور ان بدباطن ایجنٹوں کو انتشار پھیلانے کا موقع مہیا نہ ہونے دیں۔ ہم ارباب حکومت سے بھی کہیں گے کہ وہ ملک وملت کو درپیش نازک حالات کا سنجیدگی سے احساس کریں، حزم واحتیاط کا مظاہرہ کریں اور کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو فضاء کو خراب کرنے کا موجب بن سکتا ہو۔ وزیراعظم بھٹو کو ان ایام میں بالخصوص زیادہ چوکس رہنا چاہئے اور سرکاری افسروں کی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔ ہو سکتا ہے انڈوسوویت لابی سے تعلق رکھنے والا کوئی افسر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے یہاں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے اور حالات کو اس قدر خراب کر دے کہ پھر انہیں سنبھالا نہ جاسکے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۱۷؍ جون ۱۹۷۴ء)
۱۸؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ۱۶؍ جون کے اجلاس میں مرکزی مجلس عمل نے پروفیسر غفور احمد صاحب اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی تھی، جنہوں نے مجلس عمل کی قراردادیں مرتب کرنا تھیں۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے ۱۶؍ جون
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی شام دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت امین پور بازار لائل پور میں رات گئے تک قراردادیں مرتب کر لیں۔ ۱۷؍ جون کو لاہور پہنچ کر وہ پروفیسر صاحب کو دکھائیں۔ چنانچہ اسی روز لاہور میں پریس کانفرنس منعقد ہوئی اور قراردادیں جاری کی گئیں۔ تفصیل آپ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ ۱۸؍ جون کے اخبارات میں شائع ہوئیں۔ ”نوائے وقت“ سے پریس کانفرنس پیش خدمت ہے۔
اجلاس مجلس عمل کی قراردادیں
لاہور: مؤرخہ ۱۷؍ جون۔ تحریک ختم نبوت کی متحدہ مجلس عمل نے گزشتہ روز لائل پور میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اس تجویز کو کلیتاً مسترد کر دیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ضمن میں قومی اسمبلی میں ۳۰؍ جون کے بعد قرارداد پیش کی جائے۔ آج وہ قراردادیں جاری کی گئیں جنہیں گزشتہ روز کے اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔ مجلس عمل نے ایک قرارداد میں کہا ہے کہ یہ اجلاس اس امر پر اتفاق کرتا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مسئلہ قانون اور دستوری شکل میں حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ لیکن قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ قرارداد کے ذریعے حل کرنے کی کوشش قوم کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگی۔ کیونکہ قرارداد کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ یہ ایک سفارش ہوتی ہے۔ آگے حکومت کا اختیار ہے کہ وہ اسے تسلیم کرے یا نہ کرے، اس لئے وزیر اعظم کی یہ تجویز کہ اس سلسلہ میں قومی اسمبلی میں ۳۰؍ جون کو قرارداد پیش کی جائے گی، کلیتاً مسترد کیا جاتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے ۳۰؍ جون تک قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کو پیش نہ کرنے کا جو جواز پیدا کیا ہے، وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران بھی اس کے لئے وقت نکالا جاسکتا ہے اور اس کے لئے کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم بھٹو مسلمانوں کے جذبات اور احساسات اور اس مسئلہ کی اہمیت کو سنجیدگی سے محسوس کرتے ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں بل پیش کریں اور اکثریتی پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی پارٹی کے ارکان کو آزاد چھوڑنے کے بجائے اپنی پارٹی کے ممبران کے ووٹ مطالبہ کے حق میں دلوانے کی ضمانت دیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ بل حکومت اور حزب اختلاف کے اتفاق سے متفقہ طور پر ایک گھنٹہ میں منظور ہوسکتا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم عوام کے شدید مطالبہ کے پیش نظر اس مسئلہ کو آئینی اور قانونی طریق پر فوراً حل کریں۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر بحث کو براہ راست نشر کیا جائے تاکہ عوام اپنے نمائندوں کے مؤقف سے پوری طرح باخبر ہوسکیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے نشری تقریر میں مسلمانوں کے ان مطالبات کا، جو قومی اسمبلی میں پیش کئے بغیر ان کے حکم سے طے ہوسکتے ہیں، ان کا ذکر نہیں کیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم ایک حکم کے ذریعے فوراً ربوہ کو کھلا شہر قرار دیں، مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے، مرزائیوں کی نیم فوجی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے، ربوہ اسٹیشن کے واقعہ کے ذمہ دار افسروں بشمول مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے اور سر ظفر اللہ پر ملک کے خلاف عالمی طور پر پروپیگنڈا کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے اور ان کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے۔
قرارداد میں اس امر پر اظہار افسوس کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی نشری تقریر میں بعض مذہبی اور سیاسی رہنماؤں پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان رہنماؤں نے سر ظفر اللہ اور مرزا ناصر احمد کے ان بیانات کی مذمت نہیں کی، جس میں انہوں نے بیرونی ملکوں کو پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت پر اکسایا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس وزیر اعظم کے اس رویہ کو انتہائی جانبدارانہ قرار دیتا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ قرارداد میں ۱۴؍ جون کی ملک گیر ہڑتال کرنے پر مسلمانوں کو مبارک باد دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی مثالی کامیابی حکومت پر یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ امت مسلمہ اپنے مطالبات کے بارے میں جن جذبات سے سرشار ہے اور ان کے مطالبات کو سرد خانے میں ڈالنے میں حکومت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ہڑتال دراصل عوام کی طرف سے استصواب کی حیثیت رکھتی ہے۔
تحریک ختم نبوت کی متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا سید محمد یوسف بنوری نے ایک پریس کانفرنس میں متحدہ مجلس عمل کی قراردادیں جاری کیں۔ پریس کانفرنس میں پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر نوابزادہ نصر اللہ خان، قومی اسمبلی کے رکن مولانا ظفر احمد انصاری، متحدہ مجلس عمل کے علامہ محمود احمد رضوی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مولانا یوسف بنوری نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اپنے مطالبات منوانے کے لئے پرامن اور پروقار طریقے سے جدوجہد جاری رکھے گی، یہاں تک کہ ملک قادیانی فتنہ سے مکمل طور پر محفوظ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے ۱۹۵۳ء میں تمام مکاتب فکر کے ۳۵ علماء نے متفقہ فتویٰ دیا تھا اور حال ہی میں مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس مکہ مکرمہ میں ۱۴۴ مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی طور پر اس مسئلہ پر متفقہ فیصلہ کے بعد اس مسئلہ کو سپریم کورٹ اور اسلامی مشاورتی کونسل میں لے جانے یا قرارداد کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسے بل کی صورت میں ایوان میں پیش کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم اس ضمن میں مذاکرات کرنے کی خواہش کریں گے تو متحدہ مجلس عمل مذاکرات کے لئے بھی تیار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل عوامی پارٹی کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا لیکن وہ مسلمانوں کی جماعت ہے اور اسے ہمارے مؤقف سے اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے حالیہ ملاقات میں کہہ دیا تھا کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ اس طرح ان کی جان و مال کا تحفظ کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ ۲۵ سال قبل طے ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے متحدہ مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور چودہ اہم شہروں میں جلسے منعقد کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم آئینی حدود میں رہ کر جدوجہد کریں گے اور جہاں دفعہ ۱۴۴ ہوگی، مسجد میں جلسہ کریں گے۔ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔
مجلس عمل کی ایک اور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ لائحہ عمل پیش کرنے اور رابطہ مستحکم کرنے کے لئے جلسے کئے جائیں گے، جن کی تاریخوں اور مقررین کا تقرر مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی کریں گے۔ ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے اراکین سے ایک ایسے عہدنامے پر دستخط لئے جائیں گے، جس میں ان سے اقرار لیا جائے گا کہ جب یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا، وہ ایوان میں حاضر ہو کر اپنے دینی اور ملی فریضہ کو ادا کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلائیں گے۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ مرزائیوں کا سماجی، اقتصادی بائیکاٹ کریں اور ان سے کاملاً علیحدگی اختیار کریں۔
ایک اور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جسٹس صمدانی کمیشن کو حادثہ ربوہ اور اس کے پس منظر تک محدود رکھا جائے۔ اس مسئلہ کو کمیشن کے سامنے نہ اٹھایا جائے کیونکہ مرزائیوں کے خارج از اسلام ہونے میں ملت متحد ہے۔ یہ کوئی نزاعی اور بحث طلب مسئلہ نہیں ہے۔ مولانا یوسف بنوری نے بتایا کہ مجلس عمل نے اپنے وکلاء کو ہدایت کر دی ہے کہ اس ضمن میں بحث میں حصہ نہیں لیں۔
متحدہ مجلس عمل نے ایک اور قرارداد میں تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل اصغر خان کے مرزائیوں کے بارے میں مؤقف کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملت مسلمہ کے متفقہ موقف کے خلاف قرار دیا ہے اور اس کی پرزور مذمت کی ہے۔ ایئر مارشل نے اپنے اس موقف کا پریس کانفرنس میں اظہار کیا تھا۔ ایک اور قرارداد میں راولپنڈی اور گجرات میں علماء اور طلباء کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ انہیں فوراً رہا کیا جائے۔
آج پھر رامے صاحب نے فرمایا
لاہور: مورخہ ۱۷؍جون۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو چوکنا رہنا چاہئے اور صحیح سمت پر عوام کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر رامے نے کہا کہ اب حالات پر امن ہیں اور یہ اس لئے ہوا ہے کہ حال ہی میں جو اب تک صورت حال پیدا ہو گئی تھی، اس میں عوام نے مکمل طور پر حکومت سے تعاون کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ اب صورتحال معمول کے مطابق ہے، تاہم بعض عناصر عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر عوامی نمائندوں کو ہوشیار رہنا چاہئے اور عوام کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم نے انتہائی فراست سے قادیانیوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا دانش مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اب اس بات کی توقع ہے کہ جب تک اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا، کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ توقع ظاہر کی کہ اس دیرینہ مسئلہ کا حل بھی تلاش کر لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ امن و امان کی بحالی اور اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومت سے تعاون کریں۔
قلعہ دیدار سنگھ
قلعہ دیدار سنگھ کی مختلف سیاسی، سماجی اور دینی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مرزائیوں کو اہم عہدوں سے الگ کیا جائے۔ بیان جاری کرنے والوں میں جناب امان اللہ بٹ امیر جماعت اسلامی قلعہ دیدار سنگھ، مولانا علامہ قاضی عصمت اللہ امیر جمعیۃ اشاعت التوحید وسنت، مولانا محمد یوسف ضیاء امیر جماعت اہل حدیث، الحاج مولانا عبدالمالک خطیب جامع مسجد مکی، مولانا مفتی محمد شفیع خطیب جامع مسجد رشیدیہ، جناب بشیر احمد ڈار صدر انجمن تقویت الاسلام، ضیاء اللہ صدر مفاد عامہ، خالد محمود میر صدر انجمن شہریان قلعہ دیدار سنگھ، علی حسین خزانچی پیپلز پارٹی قلعہ دیدار سنگھ۔
قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور
بہاول پور: مورخہ ۱۷؍جون۔ قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری داؤد ناصر اور جوائنٹ سیکرٹری خالد محمود نے ایک بیان میں اپیل کی ہے کہ وہ قادیانیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کریں اور حضور رسالت مآب ﷺ کی ختم المرسلین کے منکر طبقوں سے ہر قسم کا تعلق ختم کر دیں۔
جماعت احمدیہ قائد آباد کے صدر اور سیکرٹری مشرف بہ اسلام ہو گئے
قائد آباد: مورخہ ۱۷؍جون۔ ’’جماعت احمدیہ قائد آباد کے صدر ڈاکٹر مبارک علی شاہ اور سیکرٹری احمد علی شاہ نے بغدادی جامع مسجد میں مولانا عبدالحق بندیالوی کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا ہے اور مسلمانوں کے اجتماع کے سامنے انہوں نے حلف اٹھا کر کہا کہ وہ مرزائیت سے تائب ہوتے ہیں اور حضور سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی، خواہ ظلی ہو یا بروزی، نہیں آ سکتا اور آج سے تمام احمدیوں سے اپنے ہر قسم کے تعلقات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینی و دنیاوی منقطع کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگر آج کے بعد ان کا اس جماعت یا کسی فرد کے ساتھ کوئی تعلق ثابت ہو جائے تو وہ واجب القتل ہوں گے۔ انہوں نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا اور خارج از اسلام سمجھتے ہیں۔ ان کے اس اعلان کا مسجد میں جمع مسلمانوں نے پرجوش نعروں کے ساتھ خیر مقدم کیا اور نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت اور ختم نبوت زندہ باد سے ساری فضاء گونج اٹھی۔‘‘
تیس افراد کی قادیانیت سے توبہ
”پپلاں ضلع میانوالی کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۵-ڈی.بی کے تقریباً تیس افراد نے مرزائیت سے توبہ کر کے مولانا پیر غلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں چک کے سبھی افراد شامل تھے۔ ان میں جماعت احمدیہ کے مقامی صدر رستم خان اور ان کے خاندان کے سبھی افراد شامل ہیں۔“
راہوالی: مؤرخہ ۱۷؍جون۔ ”ایک قادیانی فضل حق نے اہل وعیال کے ہمراہ بعد نماز مغرب جامع مسجد شوگر ملز راہوالی میں مرزائیت سے توبہ کر کے حلقہ بگوش اسلام کا اعلان کر دیا۔“
لائل پور: مؤرخہ ۱۷؍جون۔ ”زرعی یونیورسٹی پریس کے کمپوزیٹر مسٹر شمس الرحمن نے بلا جبر اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ رسول اکرم ﷺ کو نبی آخر الزمان مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے کو کافر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ قادیانیت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔“
منظور قادر کے خلاف تحریک عدم اعتماد
لاہور: مؤرخہ ۱۷؍جون۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے متعدد ممبران نے موجودہ صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مسٹر منظور قادر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے۔ عدم اعتماد کی قرارداد میں مسٹر منظور قادر کے خلاف الزام لگایا گیا ہے کہ گزشتہ ایام میں ان کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں سانحہ ربوہ کی مذمت کی گئی اور اس سلسلہ میں وکلاء کی ایک کمیٹی تشکیل دی جانے کی تجویز منظور ہوئی۔ بعد میں مسٹر منظور قادر کے قادیانیوں کی طرف سے وکیل کے فرائض سرانجام دینے کے لئے ان کی طرف سے ان کا وکیل بننا منظور کیا۔ ممبران نے کہا ہے کہ مسٹر منظور قادر نے ایسا کر کے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ لہٰذا انہیں عہدہ صدارت پر نہیں رہنا چاہئے۔ یہ قرارداد ۲۲؍جون کو ساڑھے دس بجے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس میں پیش کی جائے گی۔
آج پھر مولانا کوثر نیازی بولے
راولپنڈی: مؤرخہ ۱۷؍جون۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات وحج واوقاف مولانا کوثر نیازی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کا مسئلہ انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ یہ سیاسی یا انتظامی فیصلوں یا کسی فوری حکم کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صدی کے ایک بڑے حصہ میں حل نہیں ہوا۔ اب ایک دن میں کیسے حل ہوسکتا ہے۔ مولانا کوثر نیازی علماء کے ایک نو رکنی وفد سے بات چیت کر رہے تھے۔ وفد نے مولانا سے قادیانیوں کے مسئلہ اور اس سے پیدا شدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں جامع مسجد راولپنڈی کے خطیب صاحبزادہ فیض علی فیضی، جمعیۃ علمائے پاکستان کے نائب صدر مولانا اسرار الحق اور مولانا سید محمد ذاکر شاہ شامل تھے۔ مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو حالات ہیں، اس کے پیش نظر وزیر اعظم بھٹو اس مسئلہ کا حل اپنی حالیہ تقریر میں پیش کر چکے ہیں۔ مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ یہاں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیاسی عناصر نے ہمیشہ حکومت کے ان فیصلوں کی مخالفت کی ہے جو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کئے جاتے ہیں مگر آج یہی لوگ اس مسئلہ کو آرڈیننس کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مولانا نے علماء پر بالخصوص اور عوام پر بالعموم زور دیا کہ یہ ایک بنیادی آئینی مسئلہ ہے۔ اسے ان تمام مراحل سے گزرنا ہے جن کا وزیر اعظم نے ذکر کیا ہے اور اس کے بعد یہ مسئلہ دستور کا حصہ بنے گا۔ اس سے قبل کہ قومی پارلیمنٹ دستور میں ترمیم کرے، سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل یا دونوں کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلہ پر فیصلہ دینا چاہئے یا فیصلہ کی توثیق کرنی چاہئے۔ مولانا کوثر نیازی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ علماء حکومت سے تعاون کریں گے اور اپنے پیروکاروں کو اس وقت تک صبر کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کریں جب تک یہ مسئلہ تمام مراحل سے گزر کر حل نہیں ہو جاتا۔ مولانا کوثر نیازی نے کہا، جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے، میں اس مسئلہ پر اپنی کتابوں میں اظہار کر چکا ہوں، اپنے خطبات میں بیس سال اس مسئلہ کی وضاحت کرتا رہا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کسی مسلمان کو شک نہیں اور پوری امت مسلمہ کا یہ متفقہ مؤقف ہے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین نہیں رکھتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولانا نے کہا کہ اس مسئلہ کو بہر طور پر امن طریقہ سے پارلیمنٹ میں طے ہونا چاہئے، گلیوں اور سڑکوں پر نہیں۔ وفد نے جب مولانا کی توجہ راولپنڈی میں گرفتار کئے جانے والے علماء کی طرف دلائی تو انہوں نے کہا کہ مجھے خود اس بات کا دکھ ہوا ہے کہ علمائے دین کو کیوں گرفتار کیا گیا لیکن چونکہ یہ مسئلہ صوبائی ہے، اس لئے میں حکومت پنجاب سے اس ضمن میں بات کروں گا۔
لاہور کی سیاسی، دینی اور طلباء کی تنظیموں کا مطالبہ
لاہور: مورخہ ۱۷؍جون۔ صوبائی دارالحکومت کی سیاسی، دینی اور طلباء کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے مطالبات فوراً تسلیم کئے جائیں اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔ مسٹر ظفر جمال بلوچ نے کہا ہے کہ طلباء اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار نہیں دیا جاتا اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا نہیں جاتا۔ وہ آج شاد باغ میں اسلامی جمعیۃ طلباء کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلہ کو التواء میں نہ ڈالے اور مطالبات فوراً تسلیم کرے۔ انہوں نے مرزائیوں کے متعلق ایئر مارشل اصغر خان کی پالیسی پر نکتہ چینی کی۔
جلسہ سے انجینئرنگ یونیورسٹی یونین کے صدر مسٹر نعیم سرویا، جامعہ پنجاب یونین کے نائب صدر مسٹر مسعود کھوکھر اور مسٹر ارباب عالم نے خطاب کیا۔ انہوں نے مرزائیوں کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کا یوم حساب آ گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ قادیانیوں کا سماجی، اقتصادی بائیکاٹ کریں۔ لوہاری گیٹ میں بھی اسلامی جمعیۃ طلباء کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ متحدہ مجلس عمل کے رکن سید مبارک گیلانی نے ملک کے سجادہ نشینوں اور روحانی پیشواؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نازک مرحلہ پر متحدہ مجلس عمل کی حمایت کریں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تحریک استقلال سے الگ ہو جائیں کیونکہ تحریک مرزائیوں کی حمایت کر رہی ہے۔
مرکزی جمعیۃ علماء احناف پاکستان کے صدر مولانا عبدالحلیم قاسمی نے وزیر اعظم بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو فوراً غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے اضطراب کو ختم کیا جاسکے۔ وہ قاسمیہ گلبرگ میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے پر امن ہڑتال پر مسلمانوں کو مبارک باد دی۔ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزا ناصر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ انجمن اصلاح المسلمین ڈھنڈی آزاد کشمیر، جمیعۃ علماء پاکستان لاہور کے ممتاز ارکان مولانا خادم حسین، مولانا غلام نبی جانباز، مولوی جمیل احمد ، حافظ محمد اقبال ، مولانا عباس علی ، مولانا محمد جعفر، مولانا محمد دین اور حافظ رضا علی نے ممتاز علماء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ، انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔
گرفتار علماء اور طلباء کو رہا کرنے کا مطالبہ
لاہور : مؤرخہ ۱۷ / جون۔ انجمن طلباء اسلام پاکستان پنجاب کے ناظم اعلیٰ محمد اقبال اظہری نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کے اعلان کے باوجود علماء اور طلباء کی گرفتاریاں جاری ہیں ، جس سے عوام میں اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں نظر بند علماء کے علاوہ انجمن طلباء اسلام کراچی کے جنرل سیکرٹری افضال قریشی ، کھاریاں یونٹ کے ناظم محمد حنیف اور ضلع بہاول نگر کے ناظم عبدالرحمٰن مجاہد کو فوراً رہا کیا جائے۔
اردو محاذ پاکستان کا اجلاس
لاہور : مؤرخہ ۱۷ / جون ۔ اردو محاذ پاکستان کے ایک اجلاس میں واقعہ ربوہ کی شدید مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ میں ریاست کے اندر جو ریاست قائم ہے ، اسے فوری طور پر ختم کیا جائے ، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ، مرزائیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ اجلاس میں مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔ اجلاس میں وکلاء سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ مرزائیوں کی وکالت نہ کریں۔
نیپ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حامی ہے
لاہور : مؤرخہ ۱۶ / جون ۔ مولانا اشفاق جوائنٹ سیکرٹری پنجاب نیشنل عوامی پارٹی نے کہا ہے کہ قادیانی ایک علیحدہ سیاسی اور مذہبی فرقہ ہیں جو عوام کے مفادات کے خلاف خود غرض اور سرمایہ دار قوتوں کے آلہ کار رہے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بعض اخبارات نے نیشنل عوامی پارٹی کے بعض رہنماؤں کے بیانات مسخ کر کے شائع کئے ہیں ، جس سے یہ غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حامی نہیں ہے۔ یہ غلط اور بے بنیاد تاثر ہے ۔ نیپ اس مسئلہ پر امت مسلمہ کے ساتھ ہے۔
چھ ارکان اسمبلی
لاہور : مؤرخہ ۱۷ / جون ۔ پنجاب اسمبلی کے ۱۶ ارکان نے قادیانیوں کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے ضمن میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ایک مشترکہ بیان میں ، جس پر ناصر علی بلوچ ، سید مہتاب احمد شاہ ، حاجی دلاور خان ، خان تاج محمد خاں ، رانا رب نواز نون نے دستخط کئے ، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے اس واضح اعلان کے بعد کہ ان کا رسالت مآب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر راسخ ایمان ہے اور وہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں لے جائیں گے ، ہڑتالوں اور ایجی ٹیشن کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ۔ انہوں نے ۳۰ / جون تک کوئی قدم نہ اٹھانے کے بارے میں علماء کے متفقہ فیصلہ کا بھی خیر مقدم کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس نازک مسئلہ پر علماء کرام ، اسلام کے جذبہ ضبط و تحمل کا ثبوت دیں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
دو اشتہار
حکومت سے مطالبہ
مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے
عوام سے اپیل
مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے
تحریک طلباء اسلام، پاکستان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی (الحدیث) ممبران کھڈی کلاتھ کمیشن ایجنٹس، لائل پور
عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے منکرین، قادیانیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرتے ہیں اور تمام مسلمان بھائیوں سے التماس کرتے ہیں کہ قادیانیوں کا اقتصادی، معاشرتی، سماجی تعلق قطع کریں۔ ہم اپنے محبّ وطن وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو سے اپیل کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانان عالم کی دلی دعائیں لیں اور اللہ جل شانہ، کی خوشنودی حاصل کریں ۔“ منجانب: کھڈی کلاتھ کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن، لائل پور
کالونی مل کے مرزائی
ملتان وغیرہ میں کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مالکان لاہوری مرزائی ہیں۔ کیا کیا جائے منافقت کا کہ جب الیکشن یا کوئی اور سیاسی ضرورت ہو فوراً مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں ، بعد میں پھر مرزائی ۔ اسی طرح لاہوری گروپ کو چندہ وغیرہ ۔ ایک دفعہ الیکشن میں یہ کھڑے ہوئے لوگوں نے کہا قادیانی ہے۔ اس نے کہا کہ میں حضور علیہ السلام کو آخری نبی مانتا ہوں۔ علماء کے پاس گیا ۔ کسی نے سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا ۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے پاس یہ نصیر مختار آئے ۔ مولانا کے سامنے مرزا قادیانی کو وہ ملاحیاں سنائیں کہ الامان ۔ مولانا نے فرمایا میاں صاحب آپ نے مرزا کو کافر کہا ۔ میں آپ کے بیان پر شک نہیں کرتا ، اس لئے کہ دل کا حال اللہ میاں جانتے ہیں ۔ نمبر ۲ سرٹیفکیٹ نہیں دوں گا ۔ اس لئے کہ جب تک کہ آپ کے آئندہ طرز عمل کو نہ دیکھ لوں ۔ اگر آپ کے عمل سے ثابت ہوا کہ آپ مرزائی نہیں تو آپ کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں اور اگر آپ مرزائی رہے تو سرٹیفکیٹ کا فائدہ کوئی نہیں ۔ اس نے کہا کہ میں کیسے آپ کو یقین دلاؤں کہ میں صدق دل سے مرزائیت کو چھوڑتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ ۵ سال الیکشن میں حصہ نہ لیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ آپ الیکشن کی ضرورت کے لئے منافقت کر رہے ہیں ۔ وہ الیکشن میں کھڑا تھا اس کی ضرورت تھی ، اس کے لئے وہ جتن کر رہا تھا ۔ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔
گزشتہ سال ۱۹۷۳ء کے الیکشن میں یہ پھر کھڑا ہوا۔ عبدالقوی نامی ایک مولانا نے ایک دن اسے مرزائی کہا، دوسرے دن مسلمان ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! یہ صورتحال اس لئے پیدا ہوئی کہ جو مرزائی ضرورت کے وقت منافقت سے مرزا قادیانی کو کافر کہہ دیتا ہے، ضرورت پوری ہوئی پرنالہ وہیں ۔ اسی قسم کا واقعہ عصمت اللہ قادیانی چک جھمرہ ”۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت“ نامی کتاب میں آپ پڑھ چکے ہوں گے ۔ بہر حال ۱۹۷۴ء کی تحریک میں جب قادیانیوں کا بائیکاٹ ہوا تو اس فیملی نے بائیکاٹ سے تنگ آ کر یہ اشتہار ”نوائے وقت“ میں شائع کرایا، ریکارڈ کے لئے پیش خدمت ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری اعلان
کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ اسماعیل آباد، ملتان
بعض ایسوسی ایشنوں کی جانب سے قادیانیوں کے اقتصادی، معاشرتی اور سماجی بائیکاٹ کے عہد کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ اس قطع تعلق کے موقع پر چند اصحاب نے کاروباری رقابت کی وجہ سے کالونی ملز کا نام لینے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس غلط فہمی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کرنے کے لئے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارا تعلق ان چار ملز سے ہے:
- ۱...... کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، اسماعیل آباد، ملتان۔
- ۲...... کالونی وولن ملز لمیٹڈ، اسماعیل آباد، ملتان۔
- ۳...... ملتان کاٹن انڈسٹریز، ملتان۔
- ۴...... نفیس کاٹن ملز لمیٹڈ، مظفرگڑھ۔
پیشتر ازیں اسی افواہ کی تردید میں ہم نے بیان جاری کیا تھا، جس کا متن درج ذیل ہے: ’’کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے، جو کسی شخص کی ذاتی یا واحد ملکیت نہیں ہے۔ ملتان کاٹن انڈسٹریز اس کا ذیلی ادارہ ہے۔ ان کا انتظامی کمپنی لاز کے تحت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سپرد ہے، جو مندرجہ ذیل سات افراد پر مشتمل ہے۔
- ۱...... مسٹر نصیر اے شیخ۔
- ۲...... مسٹر مغیث اے شیخ۔
- ۳...... مسٹر ہمایوں این شیخ۔
- ۴...... مسٹر ریاض احمد دولتانہ۔
- ۵...... سیدہ عابد حسین۔
- ۶...... مسٹر بخش الٰہی۔
- ۷...... مسٹر وہاب الدین شاہ۔
ان ڈائریکٹرز کے مذہبی عقائد کے متعلق میں نے خود مکمل تحقیق کر لی ہے اور پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ان سات اصحاب میں کوئی بھی احمدی نہیں ہے، نہ قادیانی اور نہ لاہوری۔ ہر ایک کا ایمان ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب اور خارج از دائرہ اسلام ہے۔ اس بیان کا اطلاق کالونی وولن ملز لمیٹڈ اور نفیس کاٹن ملز لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز پر بھی من وعن ہوتا ہے۔‘‘
ہم اپنے قارئین کرام سے التماس کرتے ہیں کہ وہ ایسی کسی قسم کی افواہ یا شرانگیز پراپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔
چیئرمین نصیر احمد شیخ بورڈ آف ڈائریکٹرز، مندرجہ بالا کمپنی مؤرخہ ۱۷؍جون ۱۹۷۴ء
حادثہ ربوہ پر مکہ کے اخبار کا تبصرہ
سعودی عرب کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ ’’الندوۃ‘‘ نے ۶؍جون ۱۹۷۴ء کے شمارے میں حادثہ ربوہ پر فکر انگیز اور عبرت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آموز تبصرہ کیا ہے۔ اس کا ترجمہ ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور حکومت کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہ اس مضمون میں جن خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کو محسوس کرے۔
”آج کل پاکستان میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین خونریز تصادم ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے اس تصادم کا آغاز قادیانیوں نے کیا ہے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ فرقہ پاکستان کی کلیدی آسامیوں میں خفیہ طور پر اپنا قبضہ جمائے چلے آیا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی وزارت خارجہ، مسلح افواج کی مختلف یونٹوں خاص کر پاک فضائیہ اور جی. ایچ. کیو کے اندر مختلف اہم عہدوں پر وہ فائز ہو چکے ہیں۔ اب انہوں نے اپنے دیرینہ خطرناک عزائم کو بروئے کار لانے کے لئے حکومت پاکستان اور اس کے مسلمان عوام کے خلاف وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں تاکہ یہ گروہ اپنی طاقت آزمائی کے ذریعے اس ملک کے اقتدار پر زبردستی قابض ہو کر اپنی من مانی کرتا پھرے۔ حالیہ سانحہ ربوہ اسی سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اس فرقے نے یہ خون ریزیاں اس لئے شروع کر رکھی ہیں کہ اپنے پورے اثر و رسوخ کے ذریعے پاکستان کے عوام کو اسلامی عقائد اور ختم نبوت جیسے غیر متزلزل عقیدہ سے منحرف کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے اپنے فاسد خیالات و عقائد کا پرچار کرنے کے لئے انہوں نے پاکستان کو اپنا مضبوط گہوارہ بنایا ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس فرقہ کا مذہب اسلام، اس کے اصول و احکام سے قطعاً کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کے بارے میں وہ مخلص ہیں۔
دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں اور اسلامی اداروں نے اس تخریب کار گروہ کے بارے میں بار ہا اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے تاکہ مسلمان اس فتنہ کے پنجے میں نہ پھنسنے پائیں کیونکہ یہ قادیانیت ایک ایسی تنظیم ہے جس کی بنیاد ہی انگریز سامراج کی تائید و حمایت پر رکھی گئی ہے اور اس وقت برصغیر سے انگریزوں کا تسلط ابھی ختم نہیں ہوا تھا بلکہ وہ برصغیر میں برطانوی سامراج کا آلہ کار رہے۔ مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کے لئے کی گئی بغاوتوں کے بعد اپنے اس خود کاشتہ پودا کو باقی چھوڑ کر انگریز یہاں سے رخصت ہو کر چلے گئے اور پاک و ہند سے اسلام کی بیخ کنی کرنے اور اپنے اثر و نفوذ کو باقی رکھنے کے لئے انہوں نے اس قادیانی امت کی خود مدد کی اور باقاعدہ وہ ان کی پشت پناہی کرتے رہے۔
نیز یہ بات بھی عیاں ہے کہ مشرق و مغرب کے تمام مکاتب فکر کے علماء اسلام نے ایسی بے شمار کتابیں لکھی ہیں جو قادیانیت کے عقائد اور خیالات کو بے نقاب کرتی ہیں اور یہ کہ وہ محض اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پس پردہ اپنے ناپاک اور تخریب کن منصوبوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلم اتحاد کی صفوں میں فتنہ، فساد اور انتشار برپا کرنے کے درپے ہوئے ہیں۔ اس بناء پر یہ کوئی نرالی بات نہیں جب کہ ہم اس گمراہ فرقہ کے پیروکاروں کو دنیا کی ہر جگہ پھیلے ہوئے دیکھتے ہیں۔ خاص کر افریقہ اور یورپ کے ممالک میں انہوں نے نام نہاد ”دعوتِ اسلام“ کے مختلف مراکز اور انجمنیں قائم کی ہوئی ہیں۔ اس نام نہاد مشن کے ذریعے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ”دعویٰ نبوت“ کی تبلیغ کر رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی آخری زمانہ کا مسیح موعود ہے اور قرآن مجید کے اندر ”یاتی من بعدی اسمہ احمد“ جو ارشاد کیا گیا ہے، اس کا مصداق یہی شخص ہے۔ اسی طرح قرآن کی بے شمار آیتوں میں انہوں نے ”مدعی نبوت“ کے حق میں تحریفیں کی ہیں جو کہ لغویات پر مبنی ہیں۔ اسی طرح انگریز سامراج کی نمک حلالی کے لئے انہوں نے مسلمانوں کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا ہے اور استدلال قرآن کی آیت ”واولی الامر منکم“ سے یوں کرتے ہیں کہ یہاں ”اولی الامر“ سے مراد انگریز قوم ہے، جن کی اطاعت و فرمانبرداری اسی طرح لازم ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول کی لازم ہے۔ (العیاذ باللہ)
یہی وہ خطرناک قادیانی ٹولہ ہے جو آج کل پاکستانی مسلمانوں پر شرمناک مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صرف اپنے بغض کا ثبوت دے رہا ہے بلکہ اس طرح وہ درحقیقت ان سامراجی طاقتوں کے منصوبوں کی تکمیل کر رہا ہے جو پاکستان کو ایک مسلمان مملکت کی حیثیت سے دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ رابطہ عالم اسلامی کی مجلس تاسیسی کے متعدد اجلاسوں میں اور مکہ مکرمہ میں ہونے والی عالم اسلام کی تنظیموں کے حالیہ اجلاس میں اس قادیانی فرقہ اور دیگر اسلام دشمن تنظیموں مثلاً بہائی فرقہ، فری میسن، سیکولرسٹ اور روٹری کلبوں کی خطرناک سازشوں کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے اور ان کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں کہ یہ تمام تحریکیں اور انجمنیں دراصل سامراجیوں کی ایجنٹ ہیں اور دشمنان اسلام کی آلہ کار ہیں، لہٰذا تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کی خطرناک چالوں اور سازشوں سے چوکس رہیں اور اپنے دامن کو ان کی سازشوں سے بچائیں۔
اسی طرح شاہ فیصل کی موجودہ حکومت نے اپنے نہایت قابل قدر اقدامات میں سے ایک جرأت مندانہ یہ قدم اٹھایا ہے کہ ایک فرمان جاری کیا گیا ہے جس کے تحت مملکت سعودیہ عربیہ کے اندر سے تمام مرزائیوں کو نکال باہر کیا جائے جو کہ چوری چھپے اس مقدس سرزمین میں آچھپے تھے اور جن کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ فساد پر مبنی ہے۔ (یہ تجویز بھی رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے شاہ فیصل کی خدمت میں پیش کی گئی تھی جسے باقاعدہ قانونی درجہ دے کر نافذ کر دیا گیا ہے) دوسرے اسلامی ممالک کے سربراہوں سے بھی ہم پرامید ہیں کہ وہ بھی اپنی اپنی حکومتوں میں شاہ فیصل کے اس اقدام کی اقتداء کریں گے۔
آخر میں ہم حکومت پاکستان کے ارباب اختیار سے اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ کیا مرزائیوں نے پاکستان کے اندر امن وامان کو تہہ و بالا کر کے پاکستان کے عوام کی غیرت ایمانی کو جو للکارا ہے اور مسلمانوں کی عزت سے کھیلنے کی جو شرمناک کوشش کی ہے، کیا ہم اس پر صرف خاموش تماشائی بنے رہیں؟‘‘
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۸؍جون ۱۹۷۴ء)
۱۹؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
بحرین میں مجلس ختم نبوت کا قیام
خلیج فارس کی ریاست بحرین میں مقامی اور پاکستانی باشندوں نے ربوہ میں میڈیکل کالج کے طلباء پر قادیانیوں کے مسلح حملہ کی پر زور مذمت کی ہے اور اپنے ان جذبات سے حکومت پاکستان کو مطلع کر دیا ہے۔ بحرین میں قائم ہونے والی مجلس ختم نبوت کے کنوینر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین کے عوام اور خصوصاً پاکستانی سانحہ ربوہ پر اپنی قلبی قلق کا اظہار کرتے ہیں اور قادیانیوں کی حالیہ بربریت پر ہمارے جذبات شدید مجروح ہیں۔ اس گروہ نے پاکستان کی مستقبل کی قوت پر جس وحشیانہ طور سے حملہ کیا ہے، اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے اور ان کو تمام عسکری، انتظامی اور نشر و اشاعت کے اداروں سے فوراً برطرف کر دے۔ کیونکہ یہ اپنے ارتداد کی بناء پر عالم اسلام کے نزدیک کافر مرتد ہو چکے ہیں۔ ان کے یہودی اور ہندو جاسوس ہونے میں کوئی شک نہیں رہا ہے۔ یہ ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں اور پاکستان کو قادیانی ریاست بنانے کے لئے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس گروہ کا ہر لحاظ سے مقاطعہ بھی ضروری ہے اور دینی فرض بھی۔ دوسرے ہم مسٹر ظفر اللہ خان قادیانی کی اس پریس کانفرنس کی مذمت کرتے ہیں جو اس نے لندن میں کی ہے اور پاکستان دشمنی کا دل کھول کر اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے عرب بھائی بھی اس فتنہ سے متعلق وہی جذبات رکھتے ہیں جو ہم پاکستانیوں کے ہیں اور شدت کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس گروہ کے فتنہ کو ہمیشہ کے لئے پاکستان سے پاک کر دے، جس نے مسلمانوں کے سواد اعظم کے خلاف یہودیوں اور ہندوؤں سے مل کر پاکستان کو دولخت کیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے اور اب بھی ان کی سازشیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کسی قادیانی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دے کیونکہ یہ لوگ باہر جا کر عالمی سازشی قوتوں سے ساز باز رکھتے ہیں۔
تحریک استقلال
تحریک استقلال پنجاب کے جوائنٹ سیکرٹری ملک حیدر عثمان ایڈووکیٹ اور مشتاق احمد قریشی نے اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ تحریک استقلال گارڈ ملتان کے سالار یوسف انور پاشا کو رہا کیا جائے۔ ربوہ اسٹیشن پر ملتان نشتر کالج کے طلباء پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جو حملہ کیا گیا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور پریس کو مکمل آزادی دی جائے۔
نیپ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حامی ہے
پنجاب نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی مجلس عاملہ کے رکن سید باقر رضوی نے بعض اخبارات میں شائع شدہ ان خبروں کی تردید کی ہے کہ قادیانیوں کے مسئلہ پر نیپ میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپ میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل عوامی پارٹی کا ایک اہم اجلاس جلد ہورہا ہے، جس میں ان لوگوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے انتہائی نامناسب بیان دے کر پنجاب کے مسلمانوں کی پارٹی کے خلاف جذبات کو ابھارا ہے۔ دراصل یہ عنصر حکمران ٹولے کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو دوسروں کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کو پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔
خانیوال
اسلامی جمعیت طلباء حلقہ سی ٹی ایم کے ناظم احمد بلال عامر نے قادیانی فرقہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ خان کے بیانات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، قادیانیوں کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ خان کے خلاف ملک دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
گڑھ مہاراجہ
گڑھ مہاراجہ میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی آسامیوں سے فوراً ہٹایا جائے اور تعلیم ، محنت، دفاع، معاشیات کے محکمہ جات میں ان کی آئندہ سے تقرری نہ کی جائے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، جماعت احمدیہ کو ایک سیاسی جماعت قرار دیا جائے۔ جب دوسری سیاسی پارٹیوں سے متعلقہ حضرات حکومت کے کسی بھی منصب پر فائز نہیں ہو سکتے تو ان پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کئے جائیں۔
چیچہ وطنی مجلس احرار اسلام
مجلس احرار اسلام کے سید عطاء المہیمن بخاری نے کہا ہے کہ ربوہ کا واقعہ فوری ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ وہ گزشتہ روز تحریک طلباء اسلام کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے نعرے لگانے پر مسلمان طلباء کے ساتھ جس وحشت و بربریت اور درندگی کا ثبوت دیا گیا ہے اور جس انداز میں اسٹیشن پر تقریباً پانچ ہزار قادیانیوں کا ہجوم مسلمان طلباء پر حملہ آور ہوا، اس سے یہ بات واضح طور پر سامنے آگئی ہے کہ قادیانی اس ملک میں اپنی الگ ریاست قائم کرنے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ مرزا ناصر کے بیان اور ظفر اللہ خان کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بیانات میں دراصل غیرملکی طاقتوں کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دے کر پاکستان کے وقار کو مجروح کیا ہے اور ملک سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر ظفر اللہ خان کا پاسپورٹ ضبط کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ مرزا ناصر اور ظفر اللہ خان دونوں پر ملکی سالمیت کے خلاف سازش کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے ، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ اجلاس سے محمد عباس نجمی اور عبداللطیف خالد چیمہ نے بھی خطاب کیا۔
ملتان وکلاء کی ڈیفنس کمیٹی کا قیام
مسلم لیگ لائرز سرکل ملتان کے کنوئیر خان صادق احسن خان نے وکلاء پر مشتمل پاکستان مسلم لیگ ڈیفنس کمیٹی کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگی وکلاء پر مشتمل یہ ڈیفنس کمیٹی ضلع ملتان میں سانحہ ربوہ اور دیگر سیاسی وجوہات کی بناء پر گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں کو مفت قانونی امداد مہیا کرے گی۔ مسلم لیگ ملتان ڈیفنس کمیٹی کے ارکان یہ ہیں: خان محمد صادق احسن خان ، مولوی محمد فیضان انصاری ، لیفٹیننٹ کرنل مرزا بشیر احمد ، میاں مشتاق احمد ، نذیر احمد صدیقی ، ملک عبدالحئی ، چوہدری گلزار احمد علوی ، امیر شفاعت علی نقوی ، شیخ ناظر علی ، مظفر حسین ، صاحبزادہ محمد ابراہیم ، صلاح الدین خان ۔
منڈی بہاؤالدین علامہ عنایت اللہ گجراتی کا بیان
علامہ عنایت اللہ گجراتی نے راولپنڈی ، گجرات ، اسلام آباد اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں علماء کرام کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا علماء کرام پر تشدد کرنے سے پرامن تحریک اشتعال انگیزی کی راہ پر جاسکتی ہے۔ اس لئے حکومت کو یہ روش اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا جمعہ کو مکمل ہڑتال بالکل پر امن تھی۔ اگر علماء کرام کی تقریریں اشتعال انگیز ہوتیں تو جمعہ کو ہڑتال پر امن نہ ہوتی۔ ایسی صورت میں حکومت کا علماء کرام کو گرفتار کرنا سراسر زیادتی اور صریح ظلم ہے۔ انہوں نے کہا تحریک جاری رہے گی جب تک قادیانیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا ، ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا نہیں جاتا اور ربوہ کو کھلا شہر قرار نہیں دیا جاتا۔ مسلمان اپنا مطالبہ منوانے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ علامہ صاحب نے مجلس عمل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا۔ جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان ، مجلس عمل کی رکن ہے اور ہم تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین کے زیر اہتمام مسجد غوثیہ میں ایک اجتماع زیر صدارت الحاج محمد رشید خواجہ منعقد ہوا۔ اجتماع عام سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے خطاب کیا۔ مسلمانان منڈی بہاؤالدین نے متفقہ طور پر مندرجہ ذیل قرارداد پاس کی اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت سواد اعظم کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کر کے دینی فریضہ سے عہدہ برآ ہو۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ ربوہ کو پاکستان کا کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ حکومت اس شہر میں مسلمانوں کو آباد کرنے کا اہتمام کرے۔ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے فوری طور پر الگ کیا جائے۔ ربوہ کے واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قائد آباد، ملک محمد اکبر ساقی
جماعت اسلامی کے رہنما میاں رمضان چٹھہ، ملک حبیب اللہ وفاقی ڈی۔ پی تحصیل خوشاب کے صدر ملک شیر محمد کٹو خیل اور جمعیۃ علماء پاکستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک محمد اکبر خاں ساقی نے ایک مشترکہ بیان میں قادیانی لیڈر ظفر اللہ خاں کے اس بیان پر شدید نکتہ چینی کی ہے، جس میں انہوں نے عالمی ادارے سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان میں ان کے فرقہ کے لوگوں پر مبینہ ظلم و تشدد کے واقعات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے مبصرین پاکستان بھیجیں۔
کراچی، سندھ ارکان اسمبلی
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد شاہ فرید الحق ، ظہور الحسن بھوپالی (ایم۔ پی۔ اے) ، حاجی زاہد علی (ایم۔ پی۔ اے) اور محمد عثمان کینیڈی نے طالب علم رہنما حافظ محمد تقی کی گرفتاری کی پرزور مذمت کی ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا ہے ایک طرف حکومت طلباء کی رہائی کا اعلان کرتی ہے جب کہ دوسری طرف طلباء کی گرفتاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ انہوں نے ان تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو مرزائیوں کے خلاف تحریک کے سلسلہ میں گرفتار ہوئے ہیں۔
دریا خاں میں بین المسلمین اتحاد کمیٹی
گزشتہ روز دریا خاں کے شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں قادیانی فتنہ کا محاسبہ کرنے کے لئے ”بین المسلمین اتحاد کمیٹی“ کا انتخاب عمل میں آیا، جس کے عہدیدار درج ذیل ہیں: صدر مولانا غلام فرید (خطیب جامعہ گلزار ) ، نائب صدر مولانا غلام رسول (خطیب جامعہ قدیم) ، قاری محمد نواز آرگنائزر جماعت اسلامی، صوفی رحمت اللہ اور مولانا غلام قاسم خاں جنرل سیکرٹری ، شاہد حسین زیدی جوائنٹ سیکرٹری ، حافظ محمد شفیع خازن ، شیخ ابراہیم اور سیکرٹری نشر و اشاعت سید مہدی حسن شاہ نقوی۔ عہدیداروں کا انتخاب بہ اتفاق رائے عمل میں آیا۔ علاوہ ازیں ہر فرقہ کے تین ممبروں پر مشتمل مجلس مشاورت کا قیام عمل میں آیا۔
اے سی شورکوٹ کا اعلان
شورکوٹ تحصیل کے اعلیٰ افسر رائے سلطان احمد اے سی عوامی رابطہ کے سلسلے میں یہاں آئے۔ ان کی دعوت پر معززین چھاؤنی اور مختلف انجمنوں کے نمائندے جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں جناب اے سی نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا پیغام سنایا کہ آپ مطمئن اور پر امن رہیں۔ کیونکہ حکومت نہایت سنجیدگی سے قادیانی مسئلہ پر غور کر رہی ہے اور اس سے قبل کسی حکومت نے اس عظیم مسئلہ پر غور نہیں کیا اور آپ یقین جانیں کہ حکومت تہیہ کر چکی ہے کہ اس مسئلہ کا پر امن اور دائمی حل نکالا جائے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فی الحال کسی قسم کی ہڑتال وغیرہ نہ کی جائے۔ معززین نے ان سے پورا پورا اتفاق کیا ہے اور وعدہ کیا کہ وہ امن قائم رکھیں گے۔
اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے جمعہ کے روز ہڑتال کا جو فیصلہ کیا تھا، اس کے مطابق اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ تمام بازار اور دوکانیں بند رہیں۔ رات کو مسجد توحید میں ختم نبوت کے سلسلے میں ایک جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولوی محمد عبداللہ ، چوہدری نذیر احمد ، مولانا احمد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یار اور دیگر علماء نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہو جاتے اور قادیانیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جائے گا، ہم اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے چوہدری ظفر اللہ کے بیان پر بھی کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ ان کا پورا بیان ان کی ملک دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کا اجلاس
چوہدری فضل حسین کی رہائش گاہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس زیر صدارت سید محبوب علی شمسی منعقد ہوا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے علاوہ آل پارٹیز ورکرز نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں حادثہ ریلوے اسٹیشن ربوہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے علاوہ انہیں کلیدی آسامیوں سے فوری طور پر ہٹایا جائے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مرزا ناصر احمد جو اس المئے کے مرکزی کردار ہیں انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور جن لوگوں نے یہ خونی ڈرامہ سٹیج کیا ہے، انہیں کڑی سے کڑی سزائیں دی جائیں۔
رحیم یار خان، جمعیۃ علماء اسلام
گزشتہ روز جمعیۃ العلمائے اسلام ضلع رحیم یار خان کی مجلس شوریٰ نے اپنے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے ربوہ کے واقعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے علمائے دین کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو وہ اپنے مطالبات اور جدوجہد جاری رکھیں گے، خواہ انہیں کوئی بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ اس اجلاس میں مولانا غلام ربانی سینئر نائب صدر پنجاب نے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ منظم ہو کر اس تحریک کو مضبوط بنائیں۔ اجلاس میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹانے، مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ٹربیونل میں مسلم لیگ کی درخواست
پاکستان مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ملک محمد قاسم نے واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل کے روبرو ایک درخواست پیش کی ہے جس میں انہوں نے ختم نبوت کے متعلق اپنی جماعت کا موقف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کا ختم نبوت پر پورا ایمان ہے اور وہ متحدہ پاکستان کی حامی ہے۔ ربوہ کا حادثہ اس سازش کی ایک اور کڑی ہے جو باقی ماندہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ ملک محمد قاسم نے اپنی درخواست تفصیلی تحریری بیان پیش کرنے کے لئے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس میں اہم سوالات وابستہ ہیں۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ گزشتہ چار پانچ سال سے بعض افراد کی طرف سے جان بوجھ کر پاکستان میں خطرناک اور مشکل حالات پیدا کئے جا رہے ہیں، جنہوں نے انجام کار پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ ملک کی تقسیم کے باوجود یہ عمل جاری ہے اور ملک کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کبھی یہ کوششیں یوم استقلال کے موقع پر منعقدہ جلسے میں پاکستانیوں کے بے دریغ کشت و خون، کبھی لسانی جھگڑے اور کبھی بلوچستان میں قانونی طور پر قائم صوبائی حکومت کو برطرف کرنے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ ٹربیونل کے سامنے ایک بہت بڑا قومی مسئلہ پیش ہے، فوراً ایک جامع بیان دینا مشکل ہے، اس لئے مہلت دی جائے۔ البتہ مختصر الفاظ میں وہ اس درخواست کے ذریعے پارٹی کا موقف ظاہر کر رہے ہیں اور مفصل بیان بعد میں دیں گے۔ عدالت نے اس بات کی بھی اجازت دے دی کہ جامع اور مفصل تحریری بیان بعد میں داخل کر دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک بھر میں تحریک استقلال کے متعلق متضاد خبریں آرہی تھیں ۔ چنانچہ پنجاب کی تحریک استقلال نے ”نوائے وقت“ میں ذیل کا اشتہار دیا۔
تحریک استقلال
”مرزائیوں کو اسمبلیوں میں پہنچانے ، سیاسی قوت عطاء کرنے اور پاکستان کا چوہدری بنانے پر پیپلز پارٹی کی مذمت کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ : ”ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے کافر ہیں۔“
تحریک استقلال اپنے قائد شاہین پاکستان ایئر مارشل اصغر خان کے ارشاد کے مطابق عامتہ المسلمین کے شانہ بشانہ پر امن اور پر جوش جدوجہد کا ہر اول دستہ ثابت ہوگی اور تحریک استقلال برسر اقتدار آنے کے بعد اس مسئلہ کو ملت اسلامیہ کی خواہشوں کے مطابق مستقل طور پر حل کرے گی۔“
منجانب : تحریک استقلال پنجاب
قائد اعظم اور قادیانی
مرزائیوں نے ۱۹۴۶ء کے ان تاریخ ساز انتخابات میں مسلم لیگ کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی ، جس کی اساس پر ہندوستان تقسیم ہوا اور دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت اور قائداعظم مرحوم ومغفور مسلمانوں کے واحد ترجمان ہیں ۔ یہ انکشاف ایک بزرگ مسلم لیگی نے آج ایک ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب شملہ کانفرنس کانگریسی لیڈروں کی اس ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوئی کہ کانگریس کو سارے ہندوستان کے عوام کی طرف سے بات چیت کا حق ہے اور مسلم لیگ کی حیثیت صرف ایک سیاسی جماعت کی ہے۔ شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد آئین حکومت ہند مجریہ ۱۹۳۵ء کے تحت سارے ملک میں صوبائی اور مرکزی انتخابات منعقد کرائے گئے ۔ ان انتخابات کے وقت قائداعظم نے واشگاف الفاظ میں اس امر کا اعلان کیا تھا کہ یہ انتخابات ثابت کر دیں گے کہ مسلم لیگ کی عوام میں کیا حیثیت ہے، چنانچہ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مسلم لیگ کی نمائندہ حیثیت کو ثابت کرنے کے لئے صرف مسلم لیگی امیدواروں کو ووٹ دیں اور مسلم لیگی امیدواروں کی مخالفت نہ کریں کیونکہ مسلم لیگی امیدوار کی مخالفت پاکستان کے مطالبہ کی مخالفت ہوگی ۔ کانگریس نے مسلم لیگ کو نیچا دکھانے کے لئے ہر جگہ مسلم لیگی امیدواروں کے مقابلہ میں قادیانیوں کو آگے کر دیا۔ گورداسپور میں لیگی امیدوار کا مقابلہ قادیانی امیدوار نے کیا تھا۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
گوجرہ میں پولیس تشدد، جناب حمزہ کا بیان
پاکستان جمہوری پارٹی پنجاب کے صدر حمزہ نے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید قریشی رکن بار کونسل و جنرل سیکرٹری پاکستان جمہوری پارٹی پنجاب اور محمد بشیر خاور ایڈووکیٹ ممبر بار کونسل پنجاب کی تحفظ امن عامہ ایکٹ کے تحت گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں کو بلاجواز کالے قوانین کے تحت گرفتار کرنے کی روایت ختم کی جائے ۔ انہوں نے کہا ، بہاول نگر اور ملتان کی انتظامیہ محض اپنی کارگزاری دکھانے کے لئے بار بار ان رہنماؤں کو من گھڑت مقدمات میں ملوث کرتی ہے اور ان کے ساتھ حوالات اور جیل میں عام اخلاقی مجرموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے ۔ جناب حمزہ نے جمعہ کے روز گوجرہ میں عام ہڑتال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گوجرہ میں اے ایس پی لائل پور اور ریزیڈنٹ مجسٹریٹ نے سبزی منڈی میں لوگوں کو ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کیا لیکن ناکام لوٹے ۔ بازار میں ایک قصاب کو، جو ہڑتال میں شامل تھا ، مجبور کیا گیا کہ وہ سرعام بکرا ذبح کرے ۔ یادرہے کہ گوشت فروخت کرنے کے لئے جانوروں کو مذبح میں باقاعدہ ویٹرنری اسسٹنٹ کے پاس ذبح کیا جاتا ہے ۔ جناب حمزہ نے ایک شخص بشیر پر پولیس تشدد کی مذمت کی جسے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار کر کے گوجرہ پولیس نے زدوکوب کیا تھا۔
۲۰ / جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
”سرحد اسمبلی زندہ باد“ متفقہ قرارداد پاس
صوبہ سرحد کی اسمبلی نے آج وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ایوان نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ چونکہ قادیانی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ لہٰذا انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ایسا انتظام کیا جائے اور تحفظ دیا جائے کہ قادیانی سیاسی اور انتظامی شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کر سکیں۔ یہ قرارداد جمعیتہ علمائے اسلام کے رکن مولانا حبیب گل نے پیش کی اور حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں نے نعرۂ تکبیر اور اللہ اکبر کے پر جوش نعروں کی گونج میں اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کا یہ متفقہ مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے، کوئی مسلمان اس مطالبہ کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کے اس متفقہ مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے مرزائیوں کے تمام فرقوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ قرارداد پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور نے کہا کہ ہمیں ربوہ کے واقعہ پر شدید دکھ پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس لئے قبل از وقت اس واقعہ کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے، تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ناموس رسول ﷺ کی خاطر اپنی جان و مال سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس موضوع پر متعدد قراردادیں ایوان میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی تھیں لیکن پھر میں نے اپوزیشن کے رہنما ارباب سکندر خاں خلیل کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد اس قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ واضح رہے کہ جب قرارداد پیش کی گئی تو اس میں ترمیم کی گئی کہ تمام مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانا چاہئے۔ خواہ وہ احمدی ہوں یا قادیانی، لاہوری گروپ کے ہوں یا ربوہ گروپ کے۔
سرگودھا
جمعیتہ علماء پاکستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک محمد اکبر خان ساقی نے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس عمل تحریک ختم نبوت کے مطالبات فوری طور پر منظور کئے جائیں کیونکہ ان مطالبات کے تسلیم کرنے میں جتنی دیر کی جا رہی ہے، اس سے مسلمانوں میں ایک اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے گزشتہ رات غلہ منڈی سرگودھا اور بلاک نمبر ۱۵ میں مجلس عمل تحریک ختم نبوت کے زیر اہتمام دو جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت نے جس جرأت اور بے باکی کے ساتھ سواد اعظم پر حملہ کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ملک محمد اکبر ساقی نے کہا کہ پاکستان کے مسلمان اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ تمام مطالبات پورے طور پر تسلیم نہیں کر لئے جاتے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں قادیانیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کرنے کی بھی اپیل کی۔
نواب شاہ، انجمن طلباء اسلام
انجمن طلباء اسلام نواب شاہ کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت محمد عاشق خواجہ ناظم انجمن طلباء اسلام نواب شاہ منعقد ہوا۔ جس میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومت پاکستان سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ انجمن طلباء اسلام کراچی کے ناظم حافظ محمد تقی اور جنرل سیکرٹری محمد افضال، کھارادر کے ناظم محمد حنیف اور اس کے علاوہ لاہور کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت، صوبہ پنجاب کے سیکرٹری نشر واشاعت محمد خاں لغاری کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان پر قائم کردہ تمام مقدمات واپس لئے جائیں اور تمام گرفتار طلباء کو فوراً رہا کیا جائے اور اساتذہ کے مطالبات بھی فوراً تسلیم کئے جائیں۔ گرفتار شدہ مزدور بھی رہا کئے جائیں۔
نارووال
پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر فرید پراچہ نے کہا ہے کہ طالب علم اس وقت تک تعلیمی اداروں میں واپس نہیں جائیں گے جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہ دے دیا جائے گا۔ وہ جامع مسجد اہل حدیث میں اسلامی جمعیتہ طلباء نارووال کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے اجتماع عام سے خطاب کر رہے تھے۔ فرید پراچہ نے نعروں کی گونج میں اعلان کیا کہ حکومت ربوہ کو کھلا شہر قرار دے دے اور اگر کھلا شہر قرار نہ دیا گیا تو پھر اس شہر سے کوئی قادیانی ہمارے پاک وطن عزیز کے شہروں میں آ کر نہ تو کاروبار کر سکے گا نہ مکان ہو گا اور نہ ہی دوکانیں کھول سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی خود کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں سے علیحدہ ہیں لہذا مرزائیوں کو ایک سیاسی جماعت قرار دیا جائے اور سیاسی جماعت کا کوئی کارکن سرکاری ملازم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے جیلوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ہم ناموس رسالت کے لئے ہر قربانی دیں گے۔ انہوں نے سامعین سے عہد لیا کہ وہ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک انہیں اقلیت قرار نہ دیا جائے گا، ہم قریہ قریہ جائیں گے اور اس وقت تک تعلیمی اداروں میں نہیں جائیں گے، جب تک مرزائیوں کے متعلق تمام مطالبات پورے نہ ہو جائیں گے۔ فرید پراچہ کے علاوہ اسلامی جمعیتہ طلباء کے رکن محمد نفیس اور ناظم جمعیتہ طلباء پنجاب نے بھی خطاب کیا۔
ڈسکہ پریس کانفرنس
ڈسکہ میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں تحریک شروع کی گئی ہے جو کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات منظور ہونے تک جاری رہے گی۔ یہ بات قادیانی محاسبہ کمیٹی ڈسکہ کے صدر منظور احمد اور جنرل سیکرٹری سید غلام عباس نقوی نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی مسئلہ کو صرف قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا وعدہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا واحد حل یہی ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مرزائیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اس میں اپنی طرف سے اضافے کرنے کی حرکت ناقابل معافی ہے۔ چنانچہ حکومت کو اسلام دشمن عناصر کے خلاف انتہائی سخت اقدام کرنا چاہئے۔ مولانا محمد فیروز خان اور حاجی محمد فاضل نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
جمعیتہ طلباء اسلام لاہور
جمعیتہ طلباء اسلام لاہور کے رہنما محمد ریاض غوری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جب کہ سارا ملک یہ کہہ رہا ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے تو حکومت کو چاہئے کہ اسمبلی میں بل پیش کر کے فوراً قانون بنایا جائیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علماء و طلباء کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کی کوئی چیز استعمال نہ کی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لندن میں قادیانی رہنما چوہدری ظفر اللہ خان کی پریس کانفرنس کا مکمل متن ...... اخبار وفاق لاہور
”سر ظفر اللہ خان نے ۵/ جون ۱۹۷۴ء بروز جمعرات بوقت گیارہ بجے دن بمقام سینٹ برائیڈ چرچ فلیٹ اسٹریٹ لندن عوامی رابطہ کی ایک کمپنی فورمین ہاؤس پبلک ریلیشنز لمیٹڈ کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں ”پنجاب میں احمدیوں کے خلاف تشدد“ کے موضوع پر پریس سے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کی تفصیل ہمارے نمائندہ خصوصی لندن نے روانہ کی ہے جسے ہم من وعن قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر سرظفر اللہ کے ہمراہ قادیانیوں کی لندن عبادت گاہ کے امام اور ان کی جماعت کے دوسرے افراد بھی آئے تھے۔ ہمارے نمائندہ خصوصی کے علاوہ اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے مندرجہ ذیل نمائندے بھی موجود تھے۔
- ۱...... دی ٹائمز (مسٹر مارٹن ہکر بی)
- ۲...... فنانشل ٹائمز (مسٹر مارٹن ہکر بی)
- ۳...... سنڈے ٹائمز (مسٹر انتھونی میکر انہس) یہ صاحب اپنی پاکستان دشمنی میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔
- ۴...... پریس ایسوسی ایشن
- ۵...... ایسٹرن ڈیلی پریس
- ۶...... دی امپیکٹ ، پندرہ روزہ لندن (ایک حقیقی بین الاقوامی مسلم اخبار )
- ۷...... پاکستانی سفارت خانہ (جس کی نمائندگی ایک قادیانی سیکنڈ سیکرٹری ہدایت اللہ نے کی )
- ۸...... لندن قادیانی عبادت گاہ (جس کی نمائندگی اس کے امام بشیر احمد رفیق نے کی )
- ۹...... لندن براڈ کاسٹنگ کارپوریشن
سر ظفر اللہ نے حاضرین کی شرکت کے شکریہ سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ چند الفاظ میں اس کے انعقاد کی غرض وغایت بیان کی۔ اس کے بعد اپنا تعارف کرایا کہ ”میں پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ تھا ، پھر ’یو. این. او‘ کی جنرل اسمبلی کا صدر رہا۔ اس کے بعد ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ہیگ‘ کا رکن اور پھر صدر رہا۔ گزشتہ برس وہاں سے ریٹائر ہوا ہوں۔ تحریک احمدیہ کا ایک ممتاز رکن ہوں ۔ یہ تحریک آج سے ۸۰ برس قبل اسلام کو خالص کرنے کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔ اس تحریک کے ایک کروڑ (دس ملین) افراد مختلف ملکوں میں رہتے ہیں۔ برطانیہ میں اس کے دس ہزار افراد اور اکیس مراکز قائم ہیں۔“
اس تمہید وتعارف کے بعد سرظفر اللہ خان نے بتایا کہ: ”مئی کے آخری ہفتے کے دوران میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف تشدد کی ایک لہر شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے ۔ ہماری جماعت کے افراد کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حکومت اور پولیس ان کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس بات کا اطمینان دلائے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت اپنے فرائض کو پورا کرے گی اور اپنی آبادی کے تمام لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے گی ۔“
سرظفر اللہ خان نے مزید بتایا کہ: ”مئی کے تیسرے ہفتے کے دوران میں نشتر میڈیکل کالج کے ایک سو پچاس طلباء ریل گاڑی پر ملتان سے پشاور جا رہے تھے۔ راستے میں گاڑی جب ربوہ کے اسٹیشن پر رکی تو طلباء نے وہاں دنگا فساد کیا اور اسٹیشن پر جو احمدی موجود تھے، ان کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ریل کو تین گھنٹے تک ربوہ کے اسٹیشن پر روکا گیا اور اس پورے عرصے میں طلباء کو کھلے بندوں دنگا فساد کرنے کا موقع دیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا۔ بالآخر جب ریل گاڑی روانہ ہونے لگی تو یہ طلباء چیلنج دے کر گئے کہ ہم لوگ واپسی پر ۲۹ مئی کو پھر یہاں سے گزریں گے اور دوبارہ تم لوگوں کی خبر لیں گے۔ چنانچہ ۲۹ مئی کو ان طلباء نے واپسی پر واقعی ربوہ اسٹیشن پر موجود احمدیوں کو دوبارہ نشانہ تشدد بنایا۔‘‘
’’اس کے بعد پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ہمارے خلاف تشدد کا ایک سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ آج تک ہمارے بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہماری دس مسجدیں نذر آتش کی جا چکی ہیں۔ دو سو احمدیوں کے گھر جلائے جا چکے ہیں۔ تین سو سے زیادہ احمدیوں کی کاروباری اور صنعتی جائیدادوں کو لوٹ لیا گیا ہے۔ دو ہزار احمدی بے گھر ہو چکے ہیں۔ ربوہ میں، جو احمدیہ تحریک کا مرکز ہے، ۷۲ احمدیوں کو ناجائز طور پر گرفتار کیا جا چکا ہے اور انہیں اپنے وکیلوں سے مشورہ کرنے کے ابتدائی حق تک سے محروم کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ اندھا دھند ایک سو افراد کو گرفتار کر لیا جائے۔ یہ افراد خواہ کون ہوں مگر احمدی ہونے چاہئیں۔‘‘
’’پنجاب میں پولیس ایسے اجلاس میں مداخلت کرنے میں ناکام رہی ہے جو لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑکانے کی غرض سے منعقد کئے گئے تھے۔ بعض ممتاز احمدیوں کو، جن میں کوئٹہ بلوچستان کے امیر تحریک بھی شامل ہیں، قتل کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔‘‘
’’پنجاب اور بیرونی دنیا کے درمیان اطلاعات کا سلسلہ بہت محدود ہو چکا ہے۔ برطانیہ میں پاکستانیوں، پاکستان نژاد برطانوی شہریوں اور جماعت احمدیہ کے تمام اراکین کو پنجاب میں اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور ہم مذہبوں کی سلامتی کے بارے میں سخت تشویش اور اضطراب ہے۔‘‘
سر ظفر اللہ خان نے کہا کہ: ’’آج ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم عالمگیر انسانی برادری کی توجہ پنجاب کی صورتحال کی جانب مبذول کرائیں۔ میں بین الاقوامی اداروں مثلاً ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریڈ کراس، ہیومن رائٹس کمیشن، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور رفاہ عامہ کے اداروں مثلاً OXFAM وغیرہ سے پرزور استدعا کرتا ہوں کہ پنجاب جا کر نقصانات کا جائزہ لیں اور امدادی ضروریات کا اندازہ لگائیں۔‘‘
اس خطاب کے بعد مختلف نمائندوں نے سوالات کئے، جن کے سر ظفر اللہ خان نے مندرجہ ذیل جوابات دیئے:
سوال: (ٹائمز) آپ کی جماعت کے خلاف اس تشدد کی وجہ کیا ہے اور آپ کی جماعت کو فسادات کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
جواب: بعض ملاؤں اور دوسرے عناصر کی جانب سے ہمیں کافر کہا جاتا ہے، اس لئے ہم پر یہ تشدد کیا جا رہا ہے۔
سوال: (ٹائمز) جب سے فسادات شروع ہوئے ہیں، وزیر اعظم پاکستان نے اس معاملہ میں کوئی بیان دیا ہے؟
جواب: فسادات کے شروع میں انہوں نے اصولی طور پر یقین دلایا تھا کہ سب شہریوں کی جان و مال کا یکساں تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر قرار نہیں دیا جائے گا۔ لیکن اس بیان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد وزیر اعظم نے بیان ہی دیا ہے۔
سوال: کیا غیر احمدیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے؟
جواب: نہیں، بالکل نہیں۔ کسی غیر احمدی کو حکومت نے گرفتار نہیں کیا۔
سوال: (ہدایت اللہ قادیانی سیکنڈ سیکرٹری پاکستان سفارت خانہ) کیا کرفیو کے اوقات میں بھی احمدیوں پر گولیاں چلائی گئی ہیں؟
جواب: ہاں! احمدیوں کو کرفیو کے اوقات میں بھی گولیوں سے ہلاک کیا گیا ہے۔
سوال: (ٹائمز) آپ نے جو حالات بیان کئے ہیں، ان کے تحت آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟
جواب: ’’میں بتا چکا ہوں کہ ہمیں عالمگیر رائے عامہ کو بیدار کرنا ہے اور ہم پر جو مظالم ہو رہے ہیں، ان کا تدارک کرنا ہے۔ امریکہ میں ہماری جماعت امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ملاقی ہوئی ہے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو صورتحال سمجھا کر اس سے درخواست
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی ہے کہ حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ہماری جماعت کو بتایا ہے کہ یہ حالات پہلے ہی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے علم میں ہیں۔ اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ انگلستان میں احمدی لوگ برطانوی فارن آفس سے تعلق پیدا کریں اور برٹش پارلیمنٹ کے اراکین کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائیں تاکہ برطانوی حکومت بھی اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔‘‘
سوال: (سنڈے ٹائمز) کیا آپ کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگوں کے قبضہ میں جو کلیدی مناصب ہیں، موجودہ حالات کا ان پر کوئی اثر پڑے گا؟
جواب: نہیں، فی الحال ایسی کسی بات کا امکان نہیں ہے۔
سوال: (ٹائمز) آپ نے اس پریس کانفرنس میں جن حالات کا انکشاف کیا ہے، ان سے متعلق آپ کی معلومات کا ذریعہ کیا ہے؟
جواب: جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، پنجاب سے براہ راست اطلاعات کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ ہم نے پنجاب میں اپنی جماعت کے جن لوگوں سے بھی ٹیلیفون پر بات کی ہے، انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ یہاں سب خیریت ہے۔ ان لوگوں پر پنجاب حکومت کا دباؤ ہے کہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں لیکن کراچی میں اپنی جماعت کے لوگوں سے ٹیلیفون پر ہماری جو باتیں ہوئی ہیں، انہوں نے یہ معلومات فراہم کی ہیں جو میں نے یہاں بیان کی ہیں۔ مزید برآں اس دوران میں ہمارے جو لوگ پاکستان سے برطانیہ آئے ہیں، انہوں نے بھی یہ باتیں ہمیں بتائی ہیں۔
سوال: (ٹائمز) برطانیہ میں آپ کی جماعت کے کتنے لوگ ہیں اور کن کن علاقوں میں رہ رہے ہیں؟
جواب: ’’(قادیانی عبادت گاہ لندن کے امام سے مشورہ کے بعد ) یہاں ہمارے دس ہزار افراد مقیم ہیں۔ زیادہ لوگ لندن اور مضافات میں ہیں۔ اس کے بعد چیکنٹ، گیلن اور یارک شائر میں ہیں۔ دوسرے مقامات پر بھی ہیں۔ برطانیہ میں ہمارے ۳۱مشن ہیں۔‘‘
سوال: (ٹائمز) آپ نے فسادات پنجاب کی تفصیل بیان کی ہے۔ براہ کرم اس کے خاص خاص نکات اور بالخصوص متعلقہ شہروں کے نام دوبارہ بتائیں تاکہ میں اچھی طرح ان کا نوٹس لے سکوں۔
جواب: اس سوال کے جواب میں سر ظفر اللہ خان نے اپنے بیان کی خاص خاص باتوں کو پھر بیان کیا۔
سوال: (ٹائمز) آپ کی جماعت کے خلاف اس خاص موقع پر فسادات برپا کرنے کی کوئی خاص وجہ تو نہیں ہے؟
جواب: ہاں! پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے (یہ فقرہ خاص زور سے طنزیہ انداز میں ادا کیا گیا) لہٰذا اس ملک میں خاص خاص موقعوں پر ہمیں ہدف ملامت اور نشانہ ستم بنایا جاتا ہے۔
سوال: (ٹائمز) خاص خاص موقعوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب: خاص طور پر انتخابات کے موقع پر ہم لوگوں کو ضرور چھیڑا جاتا ہے اور تنگ کیا جاتا ہے۔ مثلاً ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جب ہماری قلیل لیکن انتہائی منظم جماعت کی مدد سے پیپلز پارٹی کامیاب ہو گئی تو ہم پر ملاؤں اور دوسرے مخالفانہ عناصر کی جانب سے اعتراضات اور نکتہ چینی کی گئی۔ میں یہ بات بطور خاص بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے عوام کو ہم سے کوئی وجہ اختلاف یا کوئی نزاع نہیں ہے، یہ صرف چند ملاؤں اور مختصر سے شر پسند عناصر کا کام ہے جو آئے دن ہمارے خلاف ہنگامے ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: (ٹائمز) لیکن اب انتخابات کو تو چار سال کا زمانہ گزر چکا ہے۔
جواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی کو پورا یقین تھا کہ وہ انتخابات جیت لے گی اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان میں اپنی حکومت قائم کر لے گی، لیکن انتخابات میں اسے بہت بری طرح شکست ہوئی۔ اس کا صرف ایک (ایک کے لفظ پر انگلی اٹھا کر زور دیا گیا) نمائندہ نیشنل اسمبلی میں جا سکا۔ اس سے پہلے یہ جماعت ہمارے خلاف خاص طور پر سرگرم عمل رہی ہے۔ لیکن الیکشن میں اپنی شکست کے بعد اس جماعت نے ہمارے خلاف منافرت انگیزی کی مہم کو تیز کر دیا اور طلباء کو مسلسل ہمارے خلاف اکسایا جاتا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں جماعت اسلامی کے سربراہ مسٹر طفیل محمد (میاں صاحب کا پورا نام بھی انہوں نے لندن کی قادیانی عبادت گاہ کے امام سے پوچھ کر بتایا) ورلڈ مسلم لیگ، نام نہاد ورلڈ مسلم لیگ (رابطہ عالم اسلامی کا انگریزی نام دہرا کر اس کے ساتھ خاص طور پر نام نہاد (Called Theso) کا اضافہ کیا گیا) منعقدہ سعودی عرب میں شامل ہوئے۔ وہاں بھی انہوں نے ہمارے خلاف قراردادیں منظور کرائیں اور وہاں سے واپسی پر بھی پاکستان میں ہمارے خلاف نفرت انگیزی کی لہر کو تیز تر کر دیا۔ جگہ جگہ ہمارے خلاف تقریریں کیں اور طلباء کو اشتعال دلایا گیا جس کے نتیجے میں یہ فسادات ہوئے ہیں۔
سوال : (راقم الحروف) آپ نے بتایا ہے کہ آپ کی جماعت کے خلاف آپ کی بیان کردہ ہنگامہ آرائی کی ذمہ دار جماعت اسلامی ہے؟
جواب : میں نے یہ تو نہیں کہا کہ جماعت اسلامی تنہا اس کی ذمہ دار ہے، دوسرے عناصر بھی ہیں لیکن جماعت کا اس میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔
سوال : (راقم الحروف) چلئے یوں ہی سہی، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ تشدد اور غیر آئینی ذرائع جماعت اسلامی کے طریق کار میں شامل نہیں ہیں، بالخصوص آپ کی جماعت کے سلسلہ میں تو جماعت اسلامی کا آئینی موقف بالکل واضح ہے۔ وہ آپ کی جماعت کو پاکستان میں آئینی تحفظات دلانا چاہتی ہے۔ کیا آپ جماعت اسلامی کے اس موقف سے واقف ہیں؟
جواب : میں اس سے واقف نہیں ہوں۔
سوال : (راقم الحروف) آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ میاں طفیل محمد نے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس سے واپس آ کر طلباء کو آپ کی جماعت کے خلاف اکسایا، جس کے نتیجے میں ربوہ کے اسٹیشن پر ۲۹ مئی کو فسادات ہوئے۔ کیا آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ میاں طفیل محمد صاحب ۲۹ مئی کو یا اس سے قبل پاکستان لوٹ چکے تھے؟
جواب : (اس پر ظفر اللہ خان نے قادیانی عبادت گاہ کے امام سے پوچھا کہ طفیل ...... کب واپس آئے تھے؟) انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق وہ یکم جون کو واپس پہنچے ہیں۔
سوال : (راقم الحروف) تو پھر آپ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ رابطہ کے اجلاس سے واپس آ کر طلباء کو اکساتے رہے جس کے نتیجے میں ۲۹ مئی کو فسادات کا آغاز ہوا؟
جواب : (از ظفر اللہ خان) ”اس دو تین روز کے تقدم اور تاخر سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہ ایک عرصہ سے ہمارے خلاف تشدد کی مہم چلا رہے ہیں ۔“ اس جواب پر قادیانی عبادت گاہ کے ”امام“ بشیر احمد رفیق نے یہ اضافہ کیا: ”ابھی حال ہی میں ہمارے خلاف ایک اور تنظیم قائم ہوئی ہے، جس کا نام ہے ”تحریک تحفظ ناموس رسول ﷺ“ یہ تنظیم جماعت اسلامی اور احرار کے اشتراک سے قائم ہوئی ہے۔“
سوال : (راقم الحروف) بس جناب آپ کا شکریہ، میں مزید کچھ پوچھنا نہیں چاہتا۔
جواب : (ظفر اللہ خان) شکریہ۔ اس پر پریس کانفرنس ختم ہوگئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری تصریح
اس پریس کانفرنس کے انعقاد کی اطلاع عین وقت پر ملنے کے باعث اور پاکستان میں حالیہ فسادات میں مرزائیوں کی ستم رانیوں کی تفصیل معلوم نہ ہونے کے باعث سر ظفر اللہ خان سے کچھ زیادہ سوالات نہ کئے جاسکے۔ مندرجہ بالا دو سوالات صرف اس لئے کئے گئے کہ صریح غلط بیانیوں پر کسی حد تک توجہ دلائی جاسکے۔ یہ کانفرنس انگریزی میں ہوئی۔‘‘
(وفاق لاہور، مورخہ ۲۰/جون ۱۹۷۴ء)
قانون و آئین میں ”قادیانی“ کی نشاندہی ...... روزنامہ ”وفاق“ کا اداریہ
”قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کے دیرینہ مطالبہ کو بالآخر اس حد تک ...... اور اپنی جگہ بہت اہم ...... پذیرائی حاصل ہو گئی ہے کہ حکومت نے اس معاملہ کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بلاشبہ اس ضمنی مطالبہ کا بھی باعث بنا ہے کہ قومی اسمبلی سے رجوع کرنے کی صورت محض قرارداد نہیں ہونی چاہئے بلکہ مطالبہ کو عملی شکل دینے کے لئے مسودہ قانون پیش کرنا چاہئے۔ یہ ضمنی مطالبہ بھی بہت اہم اور جائز ہے، لیکن اصل دیرینہ مطالبہ کی اس حد تک پذیرائی کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس کے محض اعادہ و تکرار پر اکتفاء نہ کیا جائے بلکہ پوری سنجیدگی سے یہ جائزہ بھی لیا جائے کہ اس مطالبہ کو قانون و آئین کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لئے کس نوعیت کی کارروائی ضروری ہے؟ دوسرے الفاظ میں مسودہ قانون کیسا ہونا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دیرینہ مطالبہ کا اصل مقصد بہ تمام و کمال پورا ہو جائے۔
اس گزارش کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی ہے کہ ۲۱ سال پہلے جب پنجاب میں ”قادیانی تحریک“ کے بارے میں عدالتی تحقیقات ہوئی تھی تو تحقیقاتی کمیشن کے ایک رکن مسٹر محمد منیر نے مسلمان کی تعریف کا سوال اٹھا کر اپنی طرف سے علمائے کرام کو پریشانی سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی اور اس پہلو کو تحقیقات کے دوران میں اور پھر اپنی رپورٹ میں بھی بہت اچھالا تھا کہ علمائے کرام مسلمان کی کوئی متفقہ تعریف کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ اگرچہ اس ساری کوشش کا ایک بنیادی مقصد علمائے کرام کا استخفاف تھا۔ بہر حال اس تجربہ سے سبق نہ سیکھنا اور عبرت حاصل نہ کرنا بھی کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہوگا اور یہ مقصد اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ اب ”قادیانی“ کی قانون و آئین میں نشاندہی اس قدر جامعیت اور صراحت سے کر دی جائے کہ کسی بھی قادیانی کے لئے الفاظ واصطلاحات کے پردے میں اپنی اصلیت کو مستور رکھنا ناممکن ہو جائے۔
اس ضرورت کی اہمیت کا اندازہ ان اخباری اشتہارات سے بھی ہو جاتا ہے جو اہل ربوہ نے انہی دنوں شائع کرائے ہیں، جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کے عقائد کسی طرح بھی عامۃ المسلمین سے مختلف نہیں ہیں لیکن جب واقف حال حلقوں نے حقیقت حال کی مستند حوالوں سے وضاحت کی تو یہ معلوم ہوا کہ اہل ربوہ نے عامۃ المسلمین کو گمراہ کرنے کے لئے اپنے معتقدات کا کتنا حصہ ظاہر کیا تھا اور کتنا حصہ چھپانے کی کوشش کی تھی؟
اس پس منظر میں جہاں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے اصل مطالبہ پر زور دینے کی تحریک ...... پرامن اور قانون کی حدود کے اندر ...... جاری رکھی جائے، وہاں اس مطالبہ کو قانونی اور آئینی شکل دینے کے لئے دو محاذوں پر بلا تاخیر بھر پور توجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ایک محاذ ارکان اسمبلی سے انفرادی رابطہ کا ہے اور ان سے عامۃ المسلمین کے مطالبہ کی پوری حمایت کرنے کی ٹھوس ضمانت حاصل کرنی چاہئے۔ دوسرا محاذ قانون و آئین کے ماہرین سے مشورہ کرنے کا ہے تاکہ جب قومی اسمبلی میں اس معاملہ کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلسلہ میں مسودۂ قانون پیش کرنے کا مرحلہ آئے تو وہ مقصد کسی ابہام اور تاویل کے بغیر پورا ہونے کی ٹھوس اور مثبت صورت نکل آئے، جس پر صحیح العقیدہ مسلمان شروع سے زور دیتے آئے ہیں اور جس کی خاطر وہ گاہے گاہے غیر معمولی سختیاں بھی برداشت کرنے پر مجبور ہوتے رہے ہیں۔‘‘
(وفاق مؤرخہ ۲۰؍جون کا اداریہ)
۲۱؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
راولپنڈی اسلام آباد کے علماء رہا
صوبائی وزیر اعلیٰ محمد حنیف رامے کی ہدایت پر گزشتہ رات ۱۴ علماء کو ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ان حضرات کو ڈیفنس آف پاکستان رولز اور تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ حسن رضا پاشا کو موصول ہوئی تھی۔ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے کل آدھی رات کے بعد اسلام آباد سٹی اور چھاؤنی کے علاقوں میں واقع ان کی رہائش گاہوں پر پہنچایا۔ جن علماء کو رہا کیا گیا ہے ان کے نام یہ ہیں: کہوٹہ کے مولوی محمد اکرم ہمدانی، اسلام آباد کے مولانا عبداللہ، قاری سیف اللہ اور قاری غلام حیدر، خطیب راولپنڈی سٹی کے مولانا غلام اللہ خان، مولانا عبدالخالق، قاری سعید الرحمٰن، قاری سید اکبر خطیب، قاری محمد امین، مولانا احسان الحق، مولانا حبیب الرحمٰن بخاری، مولانا عبدالستار اور کیلیاں مسجد کے مولانا حبیب الرحمٰن۔ پی پی آئی کے مطابق علماء کے ایک وفد نے گزشتہ پیر کو وفاقی وزیر نشریات و اطلاعات اور اوقاف وحج مولانا کوثر نیازی سے ملاقات کی اور ان کی توجہ علمائے کرام کی گرفتاری کی طرف مبذول کرائی تھی۔
سرحد اسمبلی کی قرارداد
آپ نے سرحد اسمبلی کی قرارداد کل کے اخبارات کی کارروائی میں پڑھی جس میں درج تھا کہ وہ جمعیۃ العلمائے اسلام کے رکن نے پیش کی۔ جنگ کراچی ۲۱؍جون کی خبر یہ ہے کہ یہ نیپ کے امیر زادہ اور پیپلز پارٹی کے حق نواز خان نے پیش کی۔ بہر حال قرارداد نعرۂ ہائے تکبیر کی فضاء میں متفقہ طور پر پاس ہوئی۔
سرحد اسمبلی نے آج متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو اقلیتی فرقہ قرار دیا جائے۔ آج سرحد اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد اپوزیشن اور حکومتی پارٹی کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی حکومت کی جانب سے یہ قرارداد صوبائی وزیر صحت حق نواز خان اور اپوزیشن کی جانب سے نیپ کے امیر زادہ خان نے پیش کی۔ لیکن اس پر یہ فیصلہ ہوا کہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف دونوں مل کر اس قرارداد کا مسودہ تیار کریں۔ متفقہ طور پر مندرجہ ذیل قرارداد منظور ہوئی۔
’’چونکہ پاکستان کی عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ مرزائی جو احمدیوں اور قادیانیوں پر مشتمل ہیں عقیدۂ ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں۔ اس لئے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ ایسا مطالبہ ہے کہ جس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا اس لئے یہ اسمبلی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس عوامی مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کرائے تا کہ مذکورہ فرقہ کو اقلیتی غیر مسلم فرقہ قرار دیا جائے اور ایسے تحفظات کئے جائیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی اور انتظامی امور پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔‘‘ اس قرارداد کی منظوری کے فوراً بعد ختم نبوت زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے گئے۔ اس قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر عنایت اللہ نے کہا کہ ہر مسلمان کو ربوہ کے واقعہ پر افسوس ہے اور سب ہی اس واقعہ پر اظہار نفرت کرتے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات عدالت کر رہی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لئے اقدامات
ایک سرکاری ذریعہ نے بتایا ہے کہ حکومت نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری اقدامات بھی شروع کر دیئے ہیں۔ چنانچہ ربوہ شہر میں سرکاری ملازمین کی تعداد میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی بنیاد پر توازن پیدا کیا جارہا ہے۔ نیز ربوہ میں دو بڑے قطعات اراضی مسلمانوں کی آبادکاری کے لئے مخصوص کر دیئے گئے ہیں جن کا مجموعی رقبہ ۱۴۵ /ایکڑ ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق حکومت پنجاب نے ربوہ میں موجود سرکاری ملازمین کا سروے مکمل کر لیا ہے۔ یہ سروے اس مقصد کے لئے کیا گیا ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ ربوہ میں کتنے قادیانی ملازمین موجود ہیں۔ حکومت پنجاب کے علاوہ وفاقی حکومت نے بھی اپنے محکموں کا سروے مکمل کرلیا ہے کہ ربوہ میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی تعداد کتنی ہے۔ اب اس میں توازن پیدا کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس بات کا اہتمام کیا جائے گا کہ کسی بھی شعبہ میں قادیانی اپنی تعداد کی نسبت سے زیادہ نہ ہوں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت اس بات کا ارادہ رکھتی ہے کہ ربوہ شہر میں رہائشی پلاٹ غیر قادیانیوں کو بھی دیئے جائیں۔ یہ پلاٹ بلاتخصیص فرقہ دیئے جائیں گے۔ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ ربوہ کی بلدیاتی حدود بڑھا دی جائیں اور اس میں ربوہ شہر کے بعض نواحی علاقے موضع چمن عباس وغیرہ شامل کر لئے جائیں۔ ایک سرکاری ذریعہ کے مطابق یہ تمام اقدامات اس لئے کئے جارہے ہیں تاکہ حکومت کے اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنایا جاسکے کہ ربوہ پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر کی طرح ایک کھلا شہر ہے۔
تحریک خاکسار
متحدہ محاذ کی مرکزی کمیٹی کے رکن بار ایسوسی ایشن کے صدر اور خاکسار تحریک کے صوبائی صدر محمد اشرف خان نے اپنے ایک بیان میں عامۃ المسلمین سے اپیل کی ہے کہ مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق مکمل طور پر قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشن ملتان کے چند ارکان قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بار کا اجلاس عام بلا کر ان ارکان کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ایئر مارشل (ر) اصغر خان کا اعلان
تحریک استقلال کو حکومت بنانے کا موقع دیا گیا تو برسر اقتدار آنے کے پہلے روز ہی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے منظور کردہ قرارداد پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ان کی پریس کانفرنس کی غلط اور گمراہ کن رپورٹنگ کی بناء پر ہوئی ہے۔ تحریک استقلال کے سینئر نائب صدر وزیر علی کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اصغر خان کا موقف قادیانیوں کے بارے میں بالکل واضح ہے اور انہوں نے واقعہ ربوہ کے اگلے روز ہی ہری پور ہزارہ میں ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ شریعت کی رو سے قادیانی ایک غیر مسلم اقلیت ہیں۔ انہوں نے پریس ریلیز میں الزام عائد کیا کہ حکومت بعض ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ پر تاخیر کر رہی ہے۔
تحریک استقلال کی ایک دوسری پریس ریلیز میں رکن قومی اسمبلی و سیکرٹری اطلاعات مسٹر احمد رضا قصوری نے کہا کہ ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان نے قادیانیوں کو کبھی مسلمان قرار نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت قادیانیوں کو اقلیت قرار دلائے گی مگر اس نوعیت کا کوئی مطالبہ حکومت سے نہیں کرے گی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاوید ہاشمی کا خان پور ریلوے اسٹیشن پر خطاب
طالب علم رہنما پنجاب سٹوڈنٹس فیڈریشن کونسل کے چیئرمین جاوید ہاشمی نے بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کے موجودہ مسئلہ پر عوام اپنا فیصلہ دے چکے ہیں اور حکومت کو اس کی روشنی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر عوام کے جذبات و احساسات کی قدر کرنی چاہئے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے جن غیر ملکی سازشوں کا ذکر کیا ہے، ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ کون محب وطن ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام پر اس مسئلہ کی اہمیت کی وضاحت کرنے اور ان عقائد سے باخبر رکھنے کے لئے میدان عمل میں آئے ہیں اور ان کو تمام طلباء کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ عوام کے ساتھ طلباء کے رابطہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اور طلباء کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تشدد نہیں کرنا چاہتے۔ پرامن طور پر عوام تک اپنے خیالات پہنچانا چاہتے ہیں۔ جس کا ہمیں حق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ہم اراکین اسمبلی سے رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ طلباء کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے رکاوٹیں ختم کرے۔ قبل ازیں انہوں نے ریلوے اسٹیشن پر ایک ہجوم سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ختم نبوت کا نعرہ لگانے پر ہمیں انتشار پسند کہا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ نعرے عوام کے جذبات کا اظہار ہیں۔
نصیر اے شیخ
کل کے اخبارات میں اشتہار شائع ہوا تھا۔ اس کے جواب میں آج مجلس عمل لائل پور کا یہ اشتہار اخبار میں شائع ہوا۔
نصیر اے شیخ چیئرمین کالونی ملز وضاحت فرمائیں
چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ، کالونی ملز ملتان نصیر اے شیخ نے قومی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کرایا ہے جس میں انہوں نے قادیانیت کے دونوں گروہوں ”ربوہ‘‘ اور ’’لاہوری‘‘ سے بریت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلایا ہے۔ یہ اعلان مبہم اور قادیانیوں کی روایت کے مطابق مشکوک ہے۔ اس لئے حسب ذیل امور کی وضاحت کے بغیر عام مسلمان ”کالونی ملز‘‘ اور ان کے دوسرے اداروں کا بائیکاٹ ختم نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کو مسلمان تصور کر سکتے ہیں۔
- ......۱ کیا ان کا کوئی تعلق کبھی مرزائیت سے رہا ہے؟
- ......۲ اگر رہا ہے تو انہوں نے کب اور کس وجہ سے یہ تعلق منقطع کیا ہے؟
- ......۳ کیا کبھی انہوں نے اس اعلان کے بعد ان دونوں تنظیموں کو کوئی چندہ دیا؟
- ......۴ اس وقت وہ مرزا غلام احمد جن کا دو ٹوک اعلان ہے کہ وہ خدا کا نبی اور رسول ہے اس کے متعلق ان کا کیا عقیدہ ہے؟ کیا وہ
مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب، کافر اور مرتد کہتے اور سمجھتے ہیں اور اس کا اعلان کرتے ہیں؟
ان امور کی وضاحت کے بعد ہی نصیر اے شیخ کی حیثیت متعین ہوگی اور جب تک وہ یہ وضاحت نہیں کریں گے ”کالونی ملز‘‘ اور اس کے دوسرے اداروں کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، لائل پور
مرزائیوں کے بھیانک عزائم کی نقاب کشائی کے لئے جلسے
- ٭...... آج ۲۱؍ جون ۱۹۷۴ء بروز جمعتہ المبارک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- مسجد جی بلاک وحدت کالونی لاہور اڑھائی بجے بعد نماز جمعہ
- مدینہ مسجد چراغ پارک شاد باغ تین بجے بعد نماز جمعہ
- سمن آباد (کل جماعتی) اڑھائی بجے بعد نماز جمعہ
- یتیم خانہ ساڑھے پانچ بجے بعد نماز عصر نورانی مسجد گلی نمبر ۴۱، قلعہ لچھمن سنگھ (راوی روڈ) ۹ بجے بعد نماز عشاء
مقررین: (۱) ظفر جمال بلوچ، (۲) نعیم سرویا، (۳) ارباب عالم، (۴) حافظ شفیق الرحمٰن، (۵) احسان اللہ وقاص، (۶) اکمل جاوید، (۷) مسعود کھوکھر، (۸) ضیاء اللہ خان، (۹) منصور الحمید، (۱۰) اقبال خان، (۱۱) سہیل بٹ، (۱۲) نعمت اللہ۔
اسلامی جمعیۃ طلباء، لاہور
روزنامہ ”نوائے وقت“ کا سرراہے
”آپ نے بھی کبھی نہ کبھی ضرور دیکھا یا سنا ہوگا کہ کسی چور کا راز کھل جانے پر جب اہل خانہ بیدار ہوجاتے اور شور مچا دیتے ہیں کہ ”چور چور“ تو عیار چور بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا اور چور چور کا شور مچانے لگتا ہے۔ ایک دفعہ پنجاب میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا تو محلے کے جمع شدہ لوگوں نے اپنے میں ایک اجنبی شخص کو دیکھ کر پکڑ لیا اور اس کی خوب مرمت کی۔ لوگ اس کی ٹھکائی کرتے جاتے اور کہتے جاتے تھے کہ: ”دیکھو جی کی زمانہ آ گیا اے، چور وی کہندے چور چور۔“
یہ واقعہ ہمیں ایک مقامی قادیانی ہفت روزہ کی اس گزارش پر یاد آیا جو اس نے اپنی ۱۷؍جون کی اشاعت میں نوائے وقت اور دیگر تمام قومی اخبارات سے کی ہے اور طرفہ تماشا یہ کہ صدق دل کے ساتھ کی ہے۔ حالانکہ ہماری دانست میں صدق کی کوئی قسم ایسی نہیں جس سے اس ہفت روزہ اور اس کے ہم مسلکوں کا کوئی دور کا بھی واسطہ ہو، نہ صدق لسانی سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ نہ صدق عملی سے ان کی کچھ شناسائی ہے اور نہ صدق دلی سے ان کا کوئی رابطہ ہے۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو ان کا لٹریچر اور ان کے قول وفعل کا تضاد بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے۔
ہفت روزہ مذکور نے اپنے گزارش نامے میں پہلے تو ”نوائے وقت“ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور لکھا ہے کہ آخر موجودہ حکومت کے سخت مخالف اخبار کو ایک دم کیا سوجھی کہ وہ حکومت کا اتنا خیر خواہ ہو گیا ہے۔ یقیناً اس خیر خواہی میں بھی بدخواہی ہے جو وقت ظاہر کر دے گا۔
ہم نہیں سمجھتے کہ حکومت کی خیر خواہی سے ہفت روزہ کی کیا مراد ہے؟ اور وہ بدخواہی کیا ہے جو وقت پر ظاہر ہو کر رہے گی؟ اتنا ضرور عرض کریں گے کہ حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں۔ اس لئے ان کی خیر خواہی یا بدخواہی کبھی ہمارے پیش نظر نہیں رہی۔ البتہ اس پر ہمیں فخر ہے کہ ہم ملک وقوم کے ہمیشہ خیر خواہ رہے ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ خیر خواہ رہیں گے اور قادیانیوں کے متعلق ہم نے حکومت کو جو مشورہ دیا ہے اس میں بھی حکومت کی خیر خواہی کا کوئی پہلو ہمارے سامنے نہ تھا اور نہ ہے۔ ہم نے اپنے اس مشورے میں ملک وقوم کے مفاد میں جو بات سمجھی ہے اس کا اظہار کیا ہے۔
ہفت روزہ مذکور نے یاد دلایا ہے کہ: ”پاکستان کی تخلیق میں کون سی بنیادی کڑی تھی یہی کہ ...... ہر مسلمان مسلم لیگ کا ممبر ہو سکتا ہے ۔“ اور مسلمان کی تعریف قائد اعظم نے یہ کی تھی کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہے۔ اسی اصول کو نوائے وقت کے بانی ایڈیٹر محترم حمید نظامی مرحوم نے جزو ایمان اور حرز جان بنائے رکھا لیکن اب تو ان کی خلد آشیاں روح بھی تڑپ رہی ہوگی کہ جس باغ کی آبیاری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے محنت شاقہ سے کی تھی، اس باغ کی جڑیں ان کے اپنوں ہی کے ہاتھوں سے کٹ رہی ہیں۔‘‘
بالکل بجا کہ پاکستان کی تخلیق میں بنیادی کڑی یہی تھی کہ ہر مسلمان مسلم لیگ کا ممبر بن سکتا ہے۔ یہ تو نہیں تھی کہ ایک غیر مسلم اقلیت کے افراد بھی مسلم لیگ کے ممبر بن سکتے ہیں اور پھر قائد اعظم نے مسلمان کی جو تعریف کی تھی وہ بھی بالکل ٹھیک تھی۔ اس کو ہم نے اس وقت بھی تسلیم کیا تھا اور اب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے قادیانیوں کا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں بلکہ کچھ اور کہلوانا پسند کرتے ہیں، اس لئے وہ قائد اعظم کی بیان کردہ مسلمان کی تعریف سے باہر ہیں۔ باقی رہی محترم حمید نظامی مرحوم کے حرز جاں والی بات تو ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نوائے وقت کی پالیسی کے جو اصول انہوں نے طے کر دیئے تھے ہم انہی پر عمل پیرا ہیں اور اس پاک ملک کو اسی طرح پاک دیکھنا چاہتے ہیں، جس طرح پاک دیکھنے کی ان کی خواہش تھی اور جس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی میں پوری کوشش کی اور اب ان کے بعد ہمارا فرض ہے کہ کوشش کریں۔
آخر میں موصوف نے نوائے وقت اور دیگر تمام قومی اخبارات سے یہ گزارش کی ہے کہ: ’’وہ ملک دشمن گروہوں کا آلہ کار نہ بنیں اور مسلمان قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ نہ کریں۔ یہ دولت پھر فراہم نہ ہوگی۔‘‘
ہمیں یقین ہے کہ موصوف کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ہم ملک دشمن گروہوں کا آلہ کار بننے کے بجائے اس کوشش میں ہیں کہ ملک دشمن گروہ کو اپنی صفوں سے ہی نکال دیں کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ اب رہا مسلمان قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سوال تو قادیانیوں کا لٹریچر پڑھنے اور ان کے ماضی و حال کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ: ’’چور وی کہندے چور چور۔‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲۱؍ جون ۱۹۷۴ء)
نوائے وقت کے دو ادارتی نوٹ
پٹھانوں کی طرف سے دینی حمیت کا مظاہرہ
’’وزیراعظم بھٹو نے ۱۳؍ جون کو قوم کے نام اپنی ’’ختم نبوت‘‘ والی نشری تقریر میں نام لئے بغیر صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمود کو طعنہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نو ماہ وزیراعلیٰ رہے۔ لیکن صوبائی اسمبلی سے ’’ختم نبوت‘‘ پر قرارداد منظور نہ کروا سکے۔ انہیں کس نے منع کیا تھا؟ اس کا جواب مفتی محمود نے تو ٹیکنیکل دیا تھا کہ یہ صوبائی نہیں مرکزی مسئلہ ہے اور اس ضمن میں صرف قومی اسمبلی ہی قانون بنا سکتی ہے۔ لیکن بھٹو صاحب کو صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے اس کی اوّلین فرصت میں مسکت جواب مل گیا ہے۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی کے بجٹ کے عین پہلے روز ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جس میں وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، خواہ ان کا تعلق قادیان یعنی ربوہ سے ہو یا لاہوری پارٹی سے۔ سردار گنڈا پور وزیراعلیٰ سرحد نے بتایا کہ یہ قرارداد اس موضوع پر بہت سی قراردادوں پر غور اور حزب اختلاف کے لیڈر ارباب سکندر کے ساتھ مشورے کے بعد پیش کی گئی تھی۔
اس دینی حمیت کے مظاہرہ پر صوبہ سرحد کی اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے۔ اس نے یہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر کے باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں اور مسٹر بھٹو کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ پنجاب و سندھ میں تو پیپلز پارٹی کی اکثریتی وزارتیں ہیں اور بلوچستان میں بھی عام انتخابات میں ایک بھی نشست نہ جیتنے کے باوجود حکمران جماعت ہی وزارتی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ اتفاق سے اس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وقت یہ تینوں صوبائی اسمبلیاں بھی سیشن میں ہیں۔ انہیں بھی سرحد کی صوبائی اسمبلی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حب رسول ﷺ اور قوت ایمانی کا ثبوت دے کر ایسی ہی قراردادیں منظور کر کے مسٹر بھٹو کے مشن کو تقویت پہنچا کر سعادت دارین حاصل کرنی چاہئے۔‘‘
سرکاری ملازمین سے ڈیکلریشن حاصل کریں
’’بجٹ سیشن کے فوراً بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں بل یا قرارداد پر غور کر رہی ہے۔ وزیر اعظم بھٹو وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے وفاقی وزیر اطلاعات مولانا نیازی وغیرہ دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان کر کے حکومت کا مؤقف واضح کر چکے ہیں کہ ختم نبوت میں یقین نہ رکھنے والا مسلمان نہیں۔ اب صوبہ سرحد کی اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی سفارش بھی کر دی ہے۔ ان حالات میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہر سرکاری ملازم سے اس مفہوم کا ڈیکلریشن حاصل کریں کہ وہ احمدی یا قادیانی ہے یا نہیں۔ کسی زمانے میں حکومت پاکستان نے جماعت اسلامی کے سلسلے میں بھی اسی مفہوم کے ڈیکلریشن سرکاری ملازمین سے حاصل کئے تھے۔‘‘
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲۱؍ جون ۱۹۷۴ء)
۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
حکومتی اعلیٰ سطح کا اجلاس مری میں
وزیر اعظم بھٹو کی صدارت میں کل مری میں اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلے پر مزید غور و خوض کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر اعلیٰ اجلاس میں شرکت کے لئے راولپنڈی چلے گئے ہیں، جہاں سے وہ کل مری جائیں گے۔ انہیں وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے طلب کیا ہے۔ اعلیٰ سطح کا اجلاس صبح دس بجے شروع ہو گا اور اس کی ایک سے زائد نشستیں متوقع ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزراء شیخ محمد رشید، مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مسٹر جے۔اے رحیم، وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان اور مسٹر خورشید حسن میر کے علاوہ اعلیٰ فوجی و سول حکام بھی شرکت کریں گے۔ پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر ملک معراج خالد اور دیگر صوبوں سے پارٹی کے صدر بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ مجوزہ اجلاس میں قادیانیوں کو اقلیتی فرقہ قرار دینے کے بارے میں سواد اعظم کے پرزور مطالبے کو ٹھوس عملی شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد وزیر اعظم بھٹو کی نشری تقریر کے مطابق قادیانیوں کو اقلیتی فرقہ قرار دینے کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں بحث ہو گی۔ اجلاس میں وزیر اعظم بھٹو نے اس مجوزہ بحث میں حصہ لینے والے پیپلز پارٹی کے ارکان ڈسپلن سے آزاد کر کے اپنے ضمیر کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم توقع ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا۔
حضرت مفتی محمود صاحب کا مطالبہ
متحدہ جمہوری محاذ کے مرکزی نائب صدر اور صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی نیم عسکری تنظیموں فرقان فورس اور خدام الاحمدیہ پر پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ حکومت نے پختون زلمے اور بلوچ ورنا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس لئے حکومت کو قادیانیوں کی عسکری تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا ذکر کیا ہے۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے دوسرے مطالبات مثال کے طور پر قادیانیوں کو کلیدی ملازمتوں سے الگ کرنے، مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ کو گرفتار کر کے مقدمہ چلانے پر کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا سرحد اسمبلی نے جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک رکن کی قرارداد پر قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی سفارش کر کے جہاں ملی غیرت کا ثبوت دیا ہے، وہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ صوبائی حکومت صوبائی اسمبلیوں کے بجائے اقلیت قرار دینے کے اختیارات صرف وفاقی حکومت کے ہاتھ میں ہیں۔ مولانا مفتی محمود نے کہا کہ نوے سالہ خان عبدالغفار خان پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ تاہم پابندیاں ختم نہیں کی گئیں بلکہ پابندیوں کی میعاد گزر گئی، ان میں توسیع نہیں کی گئی۔ مولانا نے کہا کہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کی تفصیلات قوم کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق پانچ ماہ پہلے اس قسم کی سازش کی گئی مگر اتنے طویل عرصہ کے بعد اس سازش کا انکشاف اس وقت کیا گیا جب ولی خان کی طرف سے اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کے واقعات کو منظر عام پر لایا گیا۔
چنیوٹ
پنجاب یونیورسٹی یونین کے صدر مسٹر فرید پراچہ نے کہا کہ حکومت ختم نبوت کے مسئلہ کو سنگین بنا کر کھٹائی میں ڈالنا چاہتی ہے اور اسے مزید طول دے کر مرزائیوں کو مسلمانوں پر مسلط کرنا چاہتی ہے وہ گزشتہ روز یہاں منوں ہال میں اسلامی جمعیۃ طلباء کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک طلباء نے شروع کی تھی اور طلباء اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ ۷؍ جولائی تک حل نہ ہوا تو طلباء انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طلباء اس وقت تک کسی امتحان میں نہیں بیٹھیں گے، جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ محمد انور گوندل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا فیصلہ ہے جسے قانونی شکل دینا چاہئے۔ تحریک طلباء اسلام کے مرکزی صدر ملک رب نواز نے کہا کہ چوہدری ظفر اللہ نے ملک سے باہر جا کر جو غلط پراپیگنڈا کیا ہے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔ جلسہ کی صدارت گورنمنٹ کالج چنیوٹ یونین کے نائب صدر عبد الحفیظ نے کی۔ جلسہ سے شیخ سعید احمد، نسیم احمد شاہ، ہمایوں اور پنجاب یونیورسٹی کے دیگر طلباء نے مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ جلسہ میں ایک مرزائی نوجوان نے اسلام قبول کر لیا۔
عارف والا
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس غلہ منڈی میں صوفی محمد علی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس سے شیخ محمد اکرم ایڈووکیٹ ناظم اعلیٰ اسلامی فکری محاذ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیوں کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ عوام جنہیں حکومت ”سب سے بڑی اسمبلی“ قرار دیتی رہی ہے۔ بیک زبان اس مسئلہ پر اپنا فیصلہ صادر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک فوری اور ہنگامی مسئلہ تھا۔ جسے اب التواء میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا قوم رسالت مآب کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، تمام کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو برطرف کیا جائے اور ربوہ کی تلاشی لی جائے۔
میانوالی
انجمن تحفظ ناموس رسالت کے جنرل سیکرٹری اور جمعیۃ علمائے پاکستان ضلع میانوالی کے سیکرٹری اطلاعات محمد اقبال نے ایک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخباری بیان میں کہا ہے کہ ربوہ کی علیحدہ حیثیت پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست کے مترادف ہے۔ اس طرح کی ریاست کسی بھی ملک میں برداشت نہیں کی جاسکتی۔ آپ نے بیان میں مطالبہ کیا کہ اس خصوصی حیثیت کو ختم کیا جائے اور ربوہ میں عام شہریوں کو آنے جانے کی اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ قادیانی پنجاب کو مرزائی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے انہوں نے پوری تیاری کر رکھی ہے۔ مسٹر ظفر اللہ خان اور مرزا ناصر احمد کے بیانات پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام دیا۔ حکومت فوری طور پر ان کے خلاف قدم اٹھائے کیونکہ ان کی سرگرمیاں انتہائی خطرناک اور قابل اعتراض ہیں۔ مسٹر ظفر اللہ خان کو پاکستان آنے پر پابندیاں عائد کی جائیں اور مرزا ناصر احمد کو ملک بدر کر دیا جائے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میانوالی کا نوائے وقت میں ایمان پرور اشتہار ملاحظہ ہو۔
ایم۔ این۔ اے وایم۔ پی۔ اے حضرات ضلع میانوالی توجہ فرمائیں
مرکزی مجلس عمل ضلع میانوالی تحریک تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کے حق میں اپنے بیانات اخبارات میں شائع کرائیں اور ہمارے مطالبات کے حق میں قومی اسمبلی میں پیش ہوانے والی قرارداد میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کی حمایت کریں تا کہ آپ نمائندگی کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکیں۔ نیز قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹوانے کی بھر پور کوشش کریں۔
منجانب: مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی
سکھر، متحدہ جمہوری محاذ
متحدہ جمہوری محاذ ضلع سکھر کے مفتی دائم الدین، میاں عبداللطیف، مسٹر حیات محمد صدیقی، مولانا محمد مراد، حاجی محمد رفیق، حاجی محمد عمر قریشی اور مسٹر عثمان غنی سرحدی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر سخت افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے ایک سابق وزیر خارجہ اور قادیانی امت کے اہم ستون ظفر اللہ خان اب بھی پاکستان کے سفارت خانوں اور عملے کے ارکان کو مکمل طور پر کنٹرول اور استعمال کر رہے ہیں جس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ موصوف کی لندن والی پریس کانفرنس میں پاکستان سفارت خانہ کے سیکنڈ سیکرٹری مسٹر ہدایت اللہ بنفس نفیس موجود تھے۔ اسی طرح کراچی کے ایک اخبار میں شائع ہونے والے عکس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کے مشیر خاص مسٹر یوسف پچ بھی ظفر اللہ خان اور ان کی قوم کے لئے پورے خلوص اور تندہی سے کام کرتے رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ مسٹر یوسف پچ اور ہدایت اللہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں جنہوں نے حکومت پاکستان اور موجودہ وزیر اعظم کے گرد قادیانی امت کو حلقہ مکمل طور پر مضبوط کر رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مسئلہ کی اہمیت و نزاکت کے قائل ہونے اور قادیانی امت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ سے متفق ہونے کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور اپنی نشری تقریر میں اپوزیشن کو خواہ مخواہ گھسیٹنے اور رگیدنے کا کارنامہ انجام دیتے رہے۔ مگر قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور ظفر اللہ کے خلاف ایک لفظ تک کہنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اس طرح سے ان کو یہ بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ ربوہ کے وحشیانہ اور قاتلانہ حملہ کے پس پردہ شخصیت کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کے مسلمان ارکان سے جو مسلمانوں کے ووٹوں اور ”اسلام ہمارا مذہب“ کے نعرے پر منتخب ہوئے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے وزیر اعظم کو مسلمانوں کے متفقہ فیصلہ کو فوری طور پر ماننے پر مجبور کریں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرگودھا، طالب علم رہنماؤں کے بیانات
نشتر میڈیکل کالج ملتان سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم نے کہا ہے کہ طلباء ملک کو ختم کرنے یا مکمل آمریت قائم کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنادیں گے۔ یہاں مرکزی جامع مسجد گول چوک میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعہ ربوہ گہری سازش کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد انتشار پیدا کر کے مارشل لاء نافذ کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کی بقاء کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اسلام آباد یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ اگر اس فتنہ کو ختم نہ کیا گیا تو ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ اسلامی جمعیتہ طلباء کے رہنما لیاقت بلوچ اور حافظ وصی محمد خاں نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی کی پشت پناہی نے قادیانیوں کو یہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ اس دیدہ دلیری سے ملک کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو بلا تاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی آسامیوں سے برطرف کر کے قوم کے شکوک وشبہات دور کئے جائیں۔ اس اثناء میں قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی تحریک تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ آج ۲۰ علماء پر مشتمل ایک وفد اسلام آباد روانہ ہو گیا جو ارکان قومی اسمبلی سے اس عہدنامے پر دستخط کرائے گا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل قومی اسمبلی میں خود پیش کریں یا اس کی حمایت کریں۔ عہدنامہ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران اسمبلی سے غیر حاضر رہنے والے ارکان کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
سیالکوٹ
مرکزی انجمن نوائے اسلام سیالکوٹ کی سپریم کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی حالیہ تقریروں کی بناء پر ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے اور مرزا ناصر احمد کے خلاف عوامی حکومت کی تضحیک کرنے پر مقدمہ چلایا جائے۔ گزشتہ روز مرکزی انجمن نوائے اسلام سیالکوٹ کی سپریم کونسل کا اجلاس زیر صدارت جناب مشتاق احمد مغل مرکزی صدر انجمن ہذا منعقد ہوا۔ واقعہ ربوہ پر وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حالیہ نشری تقریر کی روشنی میں غور کیا گیا۔ وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قومی اسمبلی میں بجٹ کو ایک دن کے لئے روک کر قادیانیوں کے متعلق بل پیش کر کے قادیانیوں کو فی الفور اقلیت قرار دے کر نہ صرف مسلمانان پاکستان کا بلکہ تمام عالم اسلام کا دیرینہ مطالبہ پورا کریں اور خدا اور اس کے رسول کی رضا اور خوشنودی حاصل کریں۔ آخر میں متفقہ طور پر درج ذیل قرارداد منظور ہوئی یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے ہٹا کر آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی میں نشستیں دی جائیں، واقعہ ربوہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
مولانا ضیاء القاسمی
جمعیتہ علماء اسلام (ہزاروی گروپ) پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا ضیاء القاسمی نے قومی اسمبلی کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ فرقہ قرار دے کر دنیا و آخرت کی حسنات سمیٹ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی متعدد سازشوں کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ۲۹ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن کا واقعہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے اور اب جب کہ یہ مسئلہ پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکا ہے اور خود وزیر اعظم بھٹو اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں اور قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت قرار دیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا ضیاء القاسمی نے کہا کہ ایسا فیصلہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ مولانا ضیاء القاسمی نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ نوکر شاہی کے بعض کل پرزے ابھی تک پنجاب کے شریف النفس وزیر اعلیٰ جناب حنیف رامے کو غلط رپورٹیں بھیج کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی ہی غلط رپورٹیں بعض علماء کرام کی گرفتاریوں پر منتج ہوئی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار شدہ تمام علماء کرام اور عام مسلمانوں کو رہا کر کے فضا کو خوشگوار بنایا جائے۔
مولانا احمد سعید لدھیانوی
پاکستان انقلابی محاذ کی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس میں جو محاذ کے جنرل سیکرٹری مولانا احمد سعید لدھیانوی کی صدارت میں منعقد ہوا، مرزائیوں کے بارے میں مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مؤقف کی مکمل تائید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کسی سیاسی سودے بازی سے بے نیاز ہو کر سواد اعظم کے متفقہ مطالبات کو بلا تاخیر تسلیم کیا جائے۔ انقلابی کونسل نے مرزائیوں کو مغربی سامراج کی آلہ کار جماعت قرار دیا ہے، جس نے عوام کو دام تزویر میں الجھانے کے لئے جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور یہ ننھی اقلیت مغربی سامراج کے اشارے پر برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنے آقاؤں کے تعاون سے سیاسی، اقتصادی اور فوجی تسلط حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مولانا سعید احمد نے کہا کہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے لئے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینا، کلیدی آسامیوں سے الگ کرنا، ان کی مسلح تنظیموں کو ختم کرنا، نیز ربوہ کو کھلا شہر قرار دینا بے حد ضروری ہے اور اس سلسلہ میں مزید تاخیر ملک کی سالمیت کے لئے مہیب خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ملک محمد اکبر ساقی (قائد آباد)
یہاں مقامی مذہبی سماجی اور سیاسی تنظیموں کے زیر اہتمام بغدادی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے جمعیۃ علمائے پاکستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک محمد اکبر خان ساقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شمع رسالت کے پروانے ناموس رسالت پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ کے حالیہ واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ قادیانی گروہ کے حوصلے بہت بڑھ چکے ہیں۔ ورنہ مٹھی بھر اقلیت کو بے باکی کے ساتھ اکثریت پر بہیمانہ تشدد کی ہرگز جرأت نہ ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قادیانی گروہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو اپنی حکومت سمجھتا ہے۔ انہوں نے اپنے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری ظفر اللہ پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی طاقتوں کو مداخلت کی دعوت دینے پر مقدمہ درج کرایا جائے۔
ملتان مجلس عمل کے رہنماؤں کا دورہ
مرکزی مجلس عمل کے مرکزی رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالستار نیازی مؤرخہ ۲۳؍ جون کو ملتان پہنچ رہے ہیں۔ وہ صبح نو بجے ملتان ڈویژن کے کارکنوں، ورکروں سے خطاب کریں گے۔ ۲۴؍ جون کو یہ رہنما بار ایسوسی ایشن ملتان کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ مجلس عمل کے رہنما بعد میں مختلف گروپوں کی صورت میں ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، بہاول پور، بہاول نگر اور خانیوال میں عام جلسوں سے خطاب کرنے کو روانہ ہوں گے۔ ملتان میں قادیانی بائیکاٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے صدر شیخ عبدالحمید ہوں گے۔ سید عطاء المؤمن، شیخ قمر الدین، چوہدری الطاف حسین، اشفاق بٹ اور احمد خان درانی پر مشتمل ہوگی۔ علاوہ ازیں مجلس عمل ملتان کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے۔ صدر حکیم انور علی شاہ، نائب صدر مفتی ہدایت اللہ، چوہدری نذیر احمد، عبدالرشید صدیقی جنرل سیکرٹری سید رہبر علی شاہ اور سیکرٹری قاری نور الحق قریشی ہوں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساہیوال میں جلسہ عام
مجلس عمل ختم نبوت ضلع ساہیوال کی ہدایت پر ضلع بھر میں مرزائیوں کا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اشتہارات، جلسے، جلوس اور باہمی میل جول کے تحت جو تحریک چلائی گئی ہے وہ جاری ہے۔ شہر بھر میں اشتہارات کے ذریعے مرزائیوں سے لین دین کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ تقریباً ہر دوکان پر ایسے اشتہارات چسپاں ہیں جن پر تحریر ہے کہ یہاں مرزائیوں کو آنے کی اجازت نہیں۔ آج مدینہ مسجد ساہیوال میں جمعہ کی نماز کے بعد جلسہ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت مجلس عمل کے صدر مفتی ضیاء الحسن نے کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے پارلیمانی رکن محمد اعظم نے جو بیان دیا ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ پیش کرنے والی جماعت انتخابات میں شکست کھا گئی ہے، وہ غلط ہے ختم نبوت کا مسئلہ تمام مسلمانوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر قادیانیوں کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر دکھائیں۔ اجلاس میں فرید پراچہ صدر پنجاب یونیورسٹی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر کے طلباء نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تحریک ختم نبوت میں سرگرم حصہ لیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ اجلاس میں قاضی سعید لائل پور اور انور گوندل نے بھی تقریریں کیں۔ کل فرید ٹاؤن ساہیوال کی مسجد شہداء میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد ہو رہا ہے۔
بہاول نگر میں پریس کانفرنس
ضلعی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے عہدیداروں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ارکان اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد اسمبلی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قادیانیوں و غیر مسلم اقلیت قرار دینے، تمام کلیدی عہدوں سے ہٹانے اور ربوہ کی تلاشی لینے کے لئے قرارداد پاس کرائیں۔ مجلس عمل نے سرحد اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دیگر صوبائی اسمبلیوں کو اس کی پیروی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عمل نے ایک قرارداد میں ضلع بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کو واشگاف الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے قادیانیوں کی وطن دشمن سرگرمیوں سے گریز نہ کیا اور اسمبلیوں میں ضلع بہاول نگر میں دس لاکھ نفوس کے جذبات کا احترام نہ کیا تو ان کا زبردست محاسبہ کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں بہاول نگر سے متعلق ارکان اسمبلی کی موجودگی میں صوبائی اسمبلی کی خاتون رکن بیگم آباد احمد خان کی دل آزار اسلامی احساسات سے منافی تقریر کی مذمت کی گئی اور اس موقعہ پر بہاول نگر کے ارکان اسمبلی کا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ اگر اسمبلی میں اسلام نافذ نہیں کر سکتے تو فوری طور پر اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں۔ مجلس عمل نے مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد اور چوہدری ظفر اللہ کی وطن دشمنی اور غیر ممالک میں ملک کے خلاف بیان دینے کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلایا جائے تمام قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ مجلس عمل نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کے سرمایہ کا بھی حساب لیا جائے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں جو حضرات موجود تھے ان میں جمعیۃ العلماء کے نائب صدر مولانا محمد شریف، مسلم لیگ کے رانا اکرام اللہ، جمہوری پارٹی کے بشیر احمد شاد، جمہوری محاذ کے ثناء اللہ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اسماعیل اور انجمن تاجران کے صدر خان عبدالرحمن شامل ہیں۔
شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر
جب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ربوہ کو کھلا شہر قرار نہیں دیا جاتا اور تمام کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو نکال باہر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہماری اس تحریک کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دبا سکتی اور نہ ہمیں کسی قسم کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دھمکیوں سے مرعوب کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ شام اسیر علماء نے گکھڑ کے طلباء کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی جانے والی ایک ضیافت میں ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جمعیۃ العلمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے قادیانیوں کا پس منظر تفصیل سے بیان کیا اور بتایا کہ برصغیر میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو ختم کرنے اور اپنے مذموم مقاصد اور مفادات کی تکمیل کے لئے انگریزوں نے ایک جھوٹا نبی کھڑا کیا جس نے نہ صرف اپنی نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر زبردست رکیک حملے کئے۔ اس جھوٹے نبی غلام احمد نے انگریزوں کی تعریف وتوصیف میں سینکڑوں کتابیں لکھیں اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں یہاں تک لکھا کہ جو مجھے نہیں مانتے ان پر لعنت بلکہ ”لعنت“ کے لفظ کو اس نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ پورے ایک ہزار دفعہ لکھا ہے اور مسلمانوں کو لعنتی بنانے کے لئے ورق کے ورق سیاہ کئے ہیں۔ مولانا نے اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنا کچھ ہو چکنے کے بعد بھی اس فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے مرزائیوں کے ہر قسم کے لٹریچر کو فوراً ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوہدری بشیر احمد نہنگ، قاری محمد انور، محمد مقبول بٹ اور جمعیۃ علمائے اسلام تحصیل وزیر آباد کے ناظم ملک عبدالقیوم اختر نے کہا کہ اسلامی حکومت میں مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور اللہ اور اس کے رسول کے نام کی اہانت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جو خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، میں ”محمدیت مردہ باد“ کا نعرہ لگانے کا مطلب خدا کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ اس لئے حکومت کو اس سلسلہ میں فوراً نوٹس لینا چاہئے۔ اجلاس کے آخر میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں سرحد اسمبلی کی متفقہ قرارداد پر ممبران اسمبلی اور صوبہ کی حکومت کو دلی مبارک باد دی گئی اور دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی مرزائیوں کے بارے میں اتفاق رائے سے قراردادیں منظور کر کے وفاقی حکومت کو بھیجیں۔
سرگودھا کے ممبران اسمبلی سے دستخطی مہم
مجلس عمل تحریک ختم نبوت ضلع سرگودھا کے بیس افراد پر مشتمل ایک وفد آج یہاں سے اسلام آباد روانہ ہوا جہاں وہ ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان سے ملاقات کرے گا اور ان سے مجلس عمل کے مرتب کردہ ایک عہد نامے پر دستخط لے گا، عہد نامے کی شرائط حسب ذیل ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی غیر مشروط حمایت کی جائے اور قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہ کی جائے جس میں قادیانیوں کے مسئلہ کو فیصلے کے لئے سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل میں پیش کرنے کی سفارش کی جائے۔
ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے تمام ارکان قومی اسمبلی کے اس اجلاس سے غیر حاضر نہیں ہوں گے جس میں قادیانیوں کے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ مجلس عمل نے مزید بتایا کہ مجلس عمل کا ایک وفد عنقریب لاہور جائے گا۔ جہاں وہ پنجاب اسمبلی میں ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ارکان سے ایسے ہی عہد نامے پر دستخط لے گا۔
نارنگ منڈی میں جلسہ
گزشتہ روز جامع مسجد شیخاں میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے ، انہیں کلیدی عہدوں سے علیحدہ کرنے ، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنے کے مطالبہ پر ملک گیر ہڑتال ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طور پر اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کر لے۔ اگر حکومت نے اس اہم فیصلے کو التواء میں ڈالا تو اس سے عوام اور حکومت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نور شاہ ضلع ساہیوال
تحفظ ختم نبوت مجلس عمل نور شاہ کے جنرل سیکرٹری مولانا غلام رسول ہزاروی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں نمایاں کردار مرزائیوں نے ادا کیا ہے۔ اب وہ بچے کھچے پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز یہاں عوام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مولانا غلام رسول نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ داری اور جاگیرداری کو قادیانیوں نے تحفظ دے رکھا ہے۔ انہوں نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان
شیخ القرآن مولانا غلام اللہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں قرارداد کی بجائے بل پیش کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ جلد حل ہو سکے اور معاملہ کھٹائی میں نہ پڑ جائے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ مرزائیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے زیادہ سوچ بچار کی ضرورت نہیں ہے۔ بجٹ اجلاس کو ایک دن کے لئے روک کر آسانی سے تمام کام مکمل کیا جا سکتا ہے۔ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کے مطالبہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کام وزیر اعظم بھٹو اپنے ایک حکم کے ذریعہ اسی طرح کر سکتے ہیں جس طرح انہوں نے تیرہ سو افسران کو برطرف کیا تھا۔ مولانا غلام اللہ نے مرکزی مجلس ختم نبوت کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کی حمایت کی اور واضح کیا کہ قادیانیوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ملک میں بدامنی پھیلائی ہے اور اس میں کسی سیاسی جماعت کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پریس کانفرنس میں مولانا غلام اللہ کے علاوہ وزیر اعلیٰ محمد حنیف رامے کے حکم پر رہا ہونے والے دیگر تیرہ علماء بھی موجود تھے۔
ساہیوال
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر آج پورے شہر میں قادیانیوں کے تجارتی اور دیگر اداروں پر مجلس عمل کے رضا کاروں نے زبردست پکٹنگ کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن طور پر قادیانی وکلاء، ڈاکٹروں، تاجروں اور صنعت کاروں کا بائیکاٹ کریں۔
سرحد اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے متعلق جو قرارداد منظور کی ہے، مقامی حلقوں نے اس کا پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔ خیر مقدم کرنے والوں میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیخ اصغر حمید، مجلس عمل کے صدر مفتی ضیاء الحسن، کپڑے کے تھوک فروشوں اور پرچون فروشوں کی انجمن کے سیکرٹری اور صدر شیخ اصغر اور شیخ سعید احمد، صدر جمعیۃ طلبائے اسلام پنجاب عبدالمتین چوہدری، جمعیۃ علمائے پاکستان ساہیوال کے نائب صدر شیخ محمد سعید شامل ہیں۔
لائل پور میں قادیانی کی اندھا دھند فائرنگ
ڈی ٹائپ کالونی محمدی چوک کے ایک قادیانی الٰہی بخش نے آج شام اندھا دھند فائرنگ کر کے تمام کالونی میں سنسنی پھیلا دی۔ بتایا گیا ہے کہ چند روز قبل بھی اس قادیانی نے پرامن مسلمانوں پر فائرنگ کی تھی۔ پولیس نے اس کی حفاظت کے لئے مکان کے باہر مسلح دستہ متعین کر رکھا تھا۔ آج شام الٰہی بخش نے مسلمانوں پر گولی چلا دی۔ پولیس نے مداخلت کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں ایک اے ایس آئی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خورشید عالم گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ اس کے سر میں گولی لگی ہے۔ اسے طبی امداد کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ قادیانی کی فائرنگ سے ایک دوسرا شخص مجروح ہوا ہے۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
ووٹروں نے کوثر نیازی سے وضاحت مانگ لی
۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں مولانا کوثر نیازی کو بھاری تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب بنانے والے ووٹروں کی نمائندہ اکثریت نے مولانا کوثر نیازی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دینی مسلک کی وضاحت کریں۔ بیان کے شروع میں انہوں نے مولانا کوثر نیازی کو یاد دلایا ہے کہ انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ اس کے باوجود پسرور حلقہ سے انہوں نے ۹۳ ہزار ووٹوں کی اکثریت سے انہیں کامیاب بنایا۔ اس بیان پر چوہدری لال خان اور چوہدری نصر اللہ خاں صدر پیپلز پارٹی، راجہ چوہدری نصر اللہ خاں مالک محبوب محل سینما، ملک مبارک علی، آرگنائزر پیپلز پارٹی تحصیل پسرور چوہدری محمد رفیق صدر سنٹرل کوآپریٹو بینک، پچھریالی، نوشہرہ ککے زئیاں، بقاپور بن باجوہ کے بھی دستخط ہیں۔
حضرت شیخ بنوری کی پریس کانفرنس
مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں وزیر اعظم کی یقین دہانی کے مطابق ۳۰؍ جون تک انتظار کیا جائے گا اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی، لیکن اگر ٹال مٹول کی گئی تو آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا جائے گا، وہ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی پاکستان کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اس لئے انہیں فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر تمام کلیدی عہدوں سے ہٹا دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے جہاں انہوں نے ایک الگ ریاست بنالی ہے اور الفرقان کے نام سے ایک فوجی تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے۔ مولانا بنوری نے کہا کہ ہمارا مقصد حکومت سے ٹکر لینا نہیں ہے اور گزشتہ ملک گیر ہڑتال کا مقصد اس امر کا اظہار کرنا تھا کہ اس مسئلہ پر ساری قوم متفق ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے اور یہ معاملہ اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کی حیثیت محض سفارش کی ہے۔ مشاورتی کونسل بالکل بیکار ہے اور سپریم کورٹ میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ اس معاملہ پر سب متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی بین الاقوامی طور پر اس قدر بااثر ہوگئے ہیں کہ چند ماہ قبل چینی سفیر لائل پور پہنچے اور بذریعہ کار ربوہ گئے۔ وہاں چھ گھنٹے گزارنے کے بعد واپس لائل پور آئے اور پرواز کر گئے۔ لیکن اس واقعہ کی اطلاع اخبار نویسوں کو بھی نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنوایا تھا۔ ظفر اللہ نے دنیا بھر میں دورے کر کے اپنے فرقہ کے مراکز قائم کئے اور جڑیں مضبوط کیں۔ انہوں نے ربوہ کا علاقہ صرف دس ہزار چھ سو چھتیس روپے میں خریدا۔ بعد میں قائد ملت قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے پر آمادہ ہوگئے تھے، لیکن انہیں شہید کر دیا گیا اور ظفر اللہ خان نے لیاقت علی خان کی نماز جنازہ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں برطانیہ کا ہاتھ ہو۔ انہوں نے شکایت کی کہ قادیانیوں کے اوقاف سرکاری تحویل میں نہیں لئے گئے اور اسلام کے نام پر تبلیغ کے لئے اسٹیٹ بینک انہیں بے پناہ زرمبادلہ دیتا رہا جس کی وجہ سے انہوں نے افریقی ممالک میں جڑیں قائم کر لیں اور اب ان کے لئے فتنہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور لیبیاء میں بھی ڈاکٹروں اور نرسوں کے ذریعہ نفوذ کیا۔ لیکن وہاں سے نکال دیئے گئے۔ اس طرح مسلمان ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوئے اور غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مولانا نے کہا ہے کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انگریزوں نے برصغیر میں قدم جمانے کے بعد اسلام کو مٹانے کی کوششیں شروع کردیں۔ وہ جہاد سے سخت خوفزدہ تھے۔ انہوں نے اس کام کے لئے مرزا غلام احمد کو منتخب کیا جس نے پہلے مبلغ، پھر مجدد، اس کے بعد مہدی اور بڑھتے بڑھتے نبی اور مستقل پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا اور جہاد کی منسوخی کا اعلان کیا جو انگریزوں کا مقصود تھا۔ مولانا بنوری نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کا آخری فیصلہ کرلیا جائے۔ اگر مزید غفلت سے کام لیا گیا تو اس کے نتائج ناقابل تصور حد تک خطرناک ہوں گے۔ مولانا نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کرنے پر سرحد اسمبلی کے ارکان کو مبارک باد پیش کی۔
پنجاب اسمبلی کے قادیانی رکن چوہدری محمد اعظم کا اسمبلی میں بیان
پیپلزپارٹی کے قادیانی فرقہ کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد اعظم نے بجٹ پر بحث کے دوران آج ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے فرقے کو اقلیت قرار نہ دیا جائے۔ اس مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے، کیونکہ عوام نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اس مسئلے پر اپنا فیصلہ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت جماعت اسلامی کے منشور میں یہ بات رکھی گئی تھی کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے گا لیکن عوام نے جماعت اسلامی کے منشور کو ٹھکرا دیا اور پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دے کر اسے برسراقتدار لائے۔
ظہور الحسن بھوپالی کا بیان
جمعیتہ علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ظہور الحسن بھوپالی نے قادیانی مسئلے کو سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کرنے کی تجویز کی مذمت کی ہے۔ جناب بھوپالی نے کہا کہ وہ مسئلہ جس پر چودہ سو سال سے مسلمانوں کا اجماع ہے اور اب بھی جس پر تمام مسلمان فرقوں کے علماء متفق ہیں۔ اس کو متنازعہ حیثیت سے سپریم کورٹ میں پیش کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ جناب بھوپالی نے علماء اور طلباء کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام گرفتار شدگان کو فی الفور رہا کرے۔
گجرات میں علماء کا جلوس
آج نماز جمعہ کے بعد گیارہ علماء نے مسجد حاجی پیر بخش سے ایک جلوس نکال کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ ان علماء کے نام یہ ہیں: صاحبزادہ سید حسین شاہ نقشبندی، مولانا حافظ محمد حیات، مولانا محمد صغیر، مولانا عبدالعزیز، مولانا محمد اشرف، مولانا عبدالغنی، مولانا عنایت علی، مولانا محمد بشیر قاری، سید بشارت چن جعفری، حافظ فضل الہی اور مولوی بہاول بخش۔ یہ علماء صاحبزادہ سید محمود شاہ کی گرفتاری اور دیگر گرفتار شدگان کے خلاف ناروا سلوک کے خلاف گرفتار ہوئے ہیں۔ ان علماء نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور انہیں اقلیت قرار دینے کے لئے مطالبات درج تھے۔
گوجرانوالہ میں جمعیتہ علماء اسلام کا اجلاس
جمعیتہ علمائے اسلام ضلع گوجرانوالہ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس مولانا محمد سرفراز خاں صفدر کی صدارت میں ہوا۔ جس میں ضلع گوجرانوالہ میں تحریک ختم نبوت کی رفتار کا جائزہ لیا گیا اور ضلع کے مختلف حصوں میں مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ ضلع گوجرانوالہ اور ملک کے دوسرے حصوں میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ گرفتاریوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا یہ سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔ گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور مقدمات واپس لئے جائیں۔
سمندری
یہاں تمام مکتب فکر کے لوگوں نے مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے۔ متعدد مرزائی سمندری سے مستقل طور پر ترک سکونت کر گئے ہیں۔ رانا محمد اقبال جنرل سیکرٹری انجمن راجپوتاں سمندری، دلشاد علی قریشی صدر انجمن اتحاد القریش سمندری اور رشید بھٹی سیکرٹری پریس کلب سمندری نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔
میاں جمیل احمد شرقپوری
حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرحد اسمبلی نے دینی، ملی اور قومی فرض کا احساس کرتے ہوئے مرزائیوں کے بارے میں وفاقی حکومت سے جو مطالبہ کیا ہے، جو بڑا مستحسن ہے۔ انہوں نے سرحد اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی۔ پنجاب، بلوچستان اور سندھ اسمبلیاں بھی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قراردادیں منظور کریں گی۔
چنیوٹ
تحریک طلباء اسلام کے مرکزی صدر ملک رب نواز نے سرحد اسمبلی کی اس سفارش کا خیر مقدم کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ سرحد اسمبلی کے اس ایمان افروز فیصلہ سے ہماری منزل اور بھی قریب آگئی ہے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے ارکان سے بھی ایسی ہی قرارداد منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔ تحریک استقلال چنیوٹ کے صدر مسٹر نسیم احمد شاہ، اسلامی جمعیۃ طلباء کے عبدالحفیظ، جمعیۃ طلباء اسلام کے محمد اشرف ندیم نے بھی الگ الگ بیانات میں سرحد اسمبلی کی قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کو تقلید کرنے کے لئے کہا ہے۔
وزیر آباد میں مجلس عمل کا انتخاب
شہر کی تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں مجلس عمل ختم نبوت کے عہدیدار چنے گئے جس کے تحت مولانا مفتی عبدالشکور ہزاروی صدر، مولانا ظفر عباس اور راجہ خلیق اللہ خان، بابو بشیر احمد بٹ نائب صدر، جنرل سیکرٹری شیخ محمد انور، جوائنٹ سیکرٹری برکت علی سالار، خازن شیخ احسان اللہ، سیکرٹری نشر واشاعت عبدالکریم بٹ، معاون محمد عاشق اور چیئرمین رابطہ کمیٹی بشیر احمد خان ایڈووکیٹ جب کہ شیخ خورشید انور، شیخ محمد الیاس، چوہدری عبدالحمید، چوہدری نثار احمد چیمہ، مولوی محمد ریاض، شیخ محمد حنیف اور مولانا ظفر عباس رابطہ کمیٹی کے ارکان چنے گئے۔
وزیر آباد مقامی پولیس نے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں پرامن شہریوں کی پھر گرفتاریاں شروع کر دی ہیں اور تین شہریوں محمد دین، مقصود احمد اور مقصود قصاب کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقامی مجلس احرار کے صدر شیخ احسان اللہ اور جنرل سیکرٹری عبدالکریم بٹ نے ایک بیان میں ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جب صورتحال معمول پر آ رہی ہے تو ان گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں تھا۔ شہریوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور آئندہ کے لئے گرفتاریاں بند کی جائیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کا اجلاس
کل پاکستان ختم نبوت متحدہ مجلس عمل کے چیئر مین مولانا محمد یوسف بنوری نے بتایا ہے کہ قادیانیوں کے مسئلہ پر مستقبل میں لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے کمیٹی کا اجلاس جولائی کی ۲ تاریخ کو ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں شامل ۱۹ سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے قادیانیوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ مولانا نے اس توقع کا اظہار کیا کہ صدر اور وزیر اعظم کے حلف میں ختم نبوت پر ایمان کو شامل کرنے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ایسا قانون اتفاق رائے سے منظور ہو جائے گا۔
ضروری اعلان
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کی جانب سے نوائے وقت مؤرخہ ۲۰؍ جون میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے، جس میں مجھ سے بعض امور کی وضاحت طلب کی گئی ہے جو حسب ذیل ہے۔
- ۱....... میں پیدائشی لاہوری جماعت احمدیہ لاہور کا فرد تھا۔
- ۲....... عرصہ دس سال سے بوجہ اختلاف رائے، میں نے لاہوری جماعت احمدیہ سے تعلق منقطع کرلیا ہوا ہے۔
- ۳....... میرا تعلق کبھی بھی قادیانی جماعت سے نہیں رہا۔ لہٰذا اس کو چندہ دینے کا سوال خارج از بحث ہے۔
- ۞....... لاہوری جماعت سے تعلق منقطع کرنے کے بعد میں نے انہیں کوئی چندہ نہیں دیا۔
- ۞....... اس کے برعکس انجمن حمایت اسلام لاہور کے مختلف اجلاس کی صدارت کر چکا ہوں اور وقتاً فوقتاً معقول رقم بطور چندہ دے چکا ہوں۔
- ۞....... ۱۹۶۴ء میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسہ میں، جس کی صدارت کے فرائض مجھے سونپے گئے تھے، میں نے اپنا
احمدیت، لاہوری یا قادیانی سے لاتعلقی کا اعلان بر ملا کیا تھا۔
- ۴....... میری حیثیت کوئی مذہبی عالم یا مفتی کی نہیں کہ کسی مسئلہ پر فتویٰ صادر کروں۔ البتہ اپنے عقیدہ کی پھر غیر مبہم الفاظ میں وضاحت کرتا ہوں۔
”میرا ایمان کامل ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ان کے بعد ہر مدعی نبوت، خواہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہو یا کوئی اور شخص، کاذب، کافر اور خارج از دائرہ اسلام ہے۔“
مجھے شدید دکھ پہنچا ہے کہ ایک مذہبی مسئلہ کو کاروباری رقابت کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ میں پر خلوص اور دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان بھائی کے ایسے اعلان پر ”امنا وصدقنا“ کہنا چاہئے۔
دستخط: نصیر اے شیخ مؤرخہ ۲۰؍ جون ۱۹۷۴ء چیئرمین کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، اسماعیل آباد ملتان
احمدیہ انجمن اشاعت اسلام (جماعت احمدیہ لاہور) کے عقائد
- ۱....... ہم اسلام کے پانچ ارکان توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تمام ان عقائد واحکام پر ایمان رکھتے ہیں جو قرآن مجید اور احادیث
نبویہ میں درج ہیں اور جن پر سلف صالحین اور اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے۔
- ۲....... ہمارا ایمان ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... حضور نبی کریم ﷺ کے بعد جبرائیل کسی شخص پر بھی وحی نبوت لے کر نازل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جاتی ہے۔
- ۴...... وحی نبوت کے منقطع اور مسدود ہونے کے بعد صرف ولایت کا سلسلہ جاری ہے تاکہ امت محمدیہ کے ایمان و اخلاق کی آبیاری ہوتی رہے۔
- ۵...... اس امت میں حضور نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق صرف اولیاء کرام، مجددین اور محدثین آسکتے ہیں، نبی نہیں آسکتے۔
- ۶...... اس امت کے مجددین میں سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں مجددین آتے رہے ہیں۔ لیکن حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے انکار سے کوئی شخص کافر نہیں ہو سکتا۔
- ۷...... ہمارے نزدیک ہر کلمہ گو مسلمان ہے اور ہم مسلمانوں کے کسی فرقہ کو بھی دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے۔ ہم ائمہ اربعہ کے علاوہ اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کے ائمہ اور بزرگوں کا دل سے احترام کرتے ہیں اور ان کی خدمات اسلامی کے معترف ہیں۔
- ۸...... احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ایک تبلیغی ادارہ ہے جو یورپ و امریکہ، افریقہ اور کئی دیگر ممالک میں اشاعت اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے اور اعلائے کلمۃ اللہ قرآن مجید کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم اور ان کی اشاعت کے سوا ہمارا اور کوئی مقصد نہیں اور اسی کام پر ہمیں مجدد زمان نے لگایا تھا اور یہی آپ کی بعثت کی غرض تھی جیسا کہ آپ نے فرمایا: ”یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خادم اسلام ہونے کے اور کوئی دعویٰ نہیں۔“
صدر الدین امیر جماعت احمدیہ، لاہور
(نوائے وقت، مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
جماعت احمدیہ لاہور کا اپنے مجدد کے بارے میں عقیدہ
انجمن احمدیہ اشاعت اسلام (جماعت احمدیہ لاہور) کی طرف سے نوائے وقت ۱۱؍ جون میں ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد ان کی اپنی تحریروں کی رو سے دیئے گئے تھے۔ اس کے دوسرے دن (۱۲؍ جون) کے نوائے وقت میں ادارے کی طرف سے مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے کی تحریروں اور ارشادات کی روشنی میں دیئے گئے تھے تا کہ صورتحال واضح ہو جائے اور قارئین نوائے وقت جماعت احمدیہ لاہور کی طرف سے دیئے جانے والے اس گمراہ کن تاثر سے محفوظ رہیں جو انہوں نے اس اشتہار سے دینے کی کوشش کی تھی۔
اب ہم نے اسی انجمن کے اصرار پر ”جماعت احمدیہ لاہور“ کے عقائد ان کے اپنے مطابق دے دینے میں اس لئے کوئی مضائقہ نہیں سمجھا کہ اس سے اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کی وضاحت ہمارے پیش نظر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ لاہور کے اراکین اس طرح اپنے اس اعتراف کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، جو اپنے عقائد کے بارے میں وہ خود کر چکے ہیں۔ ذیل میں ہم ان کا اپنا ایک اقتباس دیتے ہیں اور فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ (ادارہ)
”مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھی (لاہوری مرزائی) حلفیہ اعلان کر چکے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے حضرت مسیح موعود و مہدی موعود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانے کی ہدایت کے لئے نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔“
(پیغام صلح مورخہ ۷؍ ستمبر ۱۹۱۳ء ص۳، از الفضل خلافت جوبلی نمبر ۲۸؍ دسمبر ۱۹۳۹ء ص۱۷، ادارہ نوائے وقت، مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۲۶۱ ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۳؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مولانا محمد ذاکر کا قومی اسمبلی کو قرارداد کا نوٹس
قومی اسمبلی کے رکن اور ممتاز دینی رہنما مولانا محمد ذاکر نے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کا نوٹس دے دیا ہے جس کا مقصد آئین میں ترمیم کرنا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر فی الفور کلیدی آسامیوں سے الگ کر دینا ہے۔ انہوں نے اس قرارداد کا نوٹس ۴؍ جون کو جامعہ محمدی شریف سے ارسال کر دیا تھا۔ اس قرارداد میں محمد ذاکر نے تجویز کیا ہے کہ چونکہ قادیانی اپنے عقائد کے لحاظ سے جو آئین کے جدول سوم متعلقہ (دفعہ ۴۲) سے متصادم ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کی تعریف میں نہیں آتے۔ لہٰذا وہ اسمبلی کی نظروں میں دائرہ اسلام سے خارج اور غیر مسلم ہیں۔ ان کے عقائد کا ثبوت ان کی طرف سے شائع ہونے والا لٹریچر ہے۔ یہ فرقہ نہ صرف مذہبی اختلاف کے اعتبار سے الگ حیثیت رکھتا ہے بلکہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی یہ فرقہ خود کو سواد اعظم سے الگ تصور کرتا ہے اور واقعات کے لحاظ سے یہ انگریز اسرائیل اور بھارت کا ففتھ کالمسٹ ہے جو پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور اس کی وفاداری بھی مشکوک ہے۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد سے جان بوجھ کر اپنی جماعت کا ایک حصہ قادیان میں متعین کر رکھا ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر اس سے کام لیا جا سکے۔ قرارداد میں آگے چل کر کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر جو واقعہ رونما ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فرقہ دراصل پاکستان میں ریاست در ریاست قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا اظہار مختلف موقعوں پر اس فرقے کے سرگرم کارکن کر چکے ہیں۔ اس فرقے کو معمولی تصور نہ کیا جائے بیشتر اسلامی ممالک بھی اس فرقے پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ مولانا محمد ذاکر نے تجویز کیا ہے کہ ان حالات کی روشنی میں پاکستان اور ملکی سالمیت کا تحفظ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس مرزائی احمدی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور کلیدی آسامیوں سے انہیں الگ کیا جائے اور ربوہ کے دروازے ساری قوم کے لئے کھول دیئے جائیں۔
اوکاڑہ کا ایک مرزائی خاندان مشرف بہ اسلام ہو گیا
ایک قادیانی کنبہ نے مسجد گول چوک اوکاڑہ کے خطیب کے ہاتھوں قبول اسلام کر کے مرزائیت سے توبہ کر لی ہے۔ عبدالرحیم حقہ ساز اپنے کنبہ کے گیارہ افراد کی معیت میں مسجد گول چوک میں آیا اور اس نے برسرعام مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کی تکذیب کی اور اعلان کیا کہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ہے۔ اس نے اور اس کے افراد کنبہ نے سچے دل کے ساتھ مرزائیت سے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔
لائل پور میں قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی زبردست مہم
شہر کی تمام دوکانوں پر ’’قادیانیوں کا داخلہ بند‘‘ کے کتبے آویزاں کر دیئے گئے۔
مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کی اپیل کا ردعمل یہ ہوا ہے کہ تاجروں، ڈاکٹروں، عام شہریوں، معماروں، مزدوروں اور خوانچہ فروشوں تک نے قادیانیوں سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔ شہر کی ۶۸ فیصد دوکانوں پر ’’قادیانیوں کے داخلہ کی ممانعت‘‘ کے کتبے آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔ صارفین کو جب پتہ چلتا ہے کہ مرزائی نے انہیں سودا دیا ہے تو وہ اشیائے صرف لینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں، گول کپڑا کے ایک تاجر نے ایک قادیانی کے ہاتھ کپڑے کی چار گانٹھیں فروخت کیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہول سیل کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے عہد کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں اس کا مواخذہ کیا تو تاجر نے نہ صرف قادیانی سے کپڑا واپس لیا بلکہ ایسوسی ایشن سے معافی بھی چاہی۔ اسے عہد شکنی کی پاداش میں جرمانہ بھی کیا گیا۔
کارخانہ بازار کے ایک قادیانی دوکاندار سے ایک دیہاتی نے چاول کی ایک بوری خریدی۔ جب دیہاتی کو معلوم ہوا کہ دوکاندار مرزائی ہے تو اس نے یہ چاول واپس کر دیئے۔ ہوٹلوں اور قہوہ خانوں میں مرزائیوں کے داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ خوانچہ فروشوں نے اپنے سروں کی ٹوپیوں پر کتبے لگا رکھے ہیں جن پر تحریر کیا گیا ہے کہ مرزائیوں کو سودا فروخت نہیں کیا جائے گا۔
مجلس عمل کا فنڈ
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت قائم ہوئی تو حضرت بنوری نے مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، حضرت مولانا مفتی محمود سے فرمایا کہ اخراجات کیسے پورے کئے جائیں گے،۔ مولانا تاج محمود نے فرمایا کہ مجلس عمل میں شریک ہر جماعت حصہ دے۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہمارے پاس تو پیسہ نہیں ہے۔ اس پر حضرت بنوری نے اجلاس میں اعلان فرما دیا کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے تمام تر اخراجات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بیت المال سے ادا کئے جائیں گے۔ اب آپ علامہ رضوی صاحب کا ذیل کا بیان پڑھیں کہ اس کے باوجود پھر بھی بعض حرام خوروں نے چندہ کرنا شروع کر دیا۔
علامہ رضوی صاحب کا بیان
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی نے پھر اعلان کیا ہے کہ مجلس عمل کے تمام مطالبات پورے ہونے تک تحریک ختم نبوت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کا ایک اجلاس ۳۰؍ جون کو منعقد ہوگا۔ علامہ محمود احمد رضوی نے کہا ہے کہ بعض افراد مجلس عمل ختم نبوت کے نام پر فنڈز اکٹھا کر رہے ہیں، حالانکہ فنڈز اکٹھا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس کا فوری طور پر اعلان کر دیا جائے گا۔
مولانا عبد الکریم مباہلہ کا انتقال
ممتاز عالم دین مولانا بہاء الحق قاسمی نے ایک بیان میں مولانا عبد الکریم مباہلہ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور ان کی خدمات کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرحوم ۱۹۲۸ء سے قبل مرزائیوں کے پرجوش مبلغ اور مناظر تھے لیکن مرزا محمود احمد کے اطوار دیکھ کر اپنے خاندان سمیت مرزائیت سے تائب ہو گئے جس کی پاداش میں انہیں ان کے خاندان سمیت قادیان سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور بے پناہ مظالم توڑے گئے۔ مولانا عبد الکریم نے مرزا محمود احمد کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے عائد کردہ الزامات غلط ہیں تو وہ کھلے میدان میں ان کے ساتھ نکل کر مباہلہ کر لیں لیکن یہ چیلنج قبول نہ کیا گیا اور اس وقت سے لفظ مباہلہ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے دین اسلام کی جو خدمت کی، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ مولانا بہاء الحق قاسمی نے مرحوم و مغفور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جہاں گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے مرزائیت کے حقیقی خدوخال اپنے اخبار مباہلہ میں آشکار کئے۔ وہاں انہوں نے ۱۹۳۵ء میں مباہلہ کانفرنس کے نام سے امرتسر میں ایک بڑے اجتماع کا انتظام بھی کیا۔ جس میں ہندوستان بھر کے چوٹی کے علماء نے شرکت کی۔ مولانا بہاء الحق قاسمی نے اجتماعی جمعہ میں نمازیوں سے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرائی۔ یہاں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں مولانا کی وفات کو ملت اسلامیہ کے لئے ایک سانحہ قرار دیا گیا۔ مولانا صاحب نے اظہار تاسف کرتے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے کہا ہے کہ غم تو اس بات کا ہے کہ مولانا عبدالکریم مباہلہ ایک ایسے وقت میں ہمارا ساتھ چھوڑ کر راہی ملک عدم ہوئے ہیں جب ان کا وہ مشن جس کے لئے عمر بھر سرگرم عمل رہے پورا ہونے والا ہے اور مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والے ہیں۔ مرحوم کا جنازہ مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر نے پڑھایا۔
(مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۷۴ء)
کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں کی فہرستیں
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے اعلیٰ عہدوں اور کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانی فرقہ سے متعلق افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور اس مقصد کے لئے انٹیلی جنس کے مختلف شعبوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلے کو قومی اسمبلی میں لانے سے قبل اس فرقہ کی بعض شخصیتوں کی حیثیت کا اندازہ لگانا چاہتی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد تینوں مسلح افواج، ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں، سفارت خانوں، عدلیہ، تعلیمی شعبوں اور دوسرے اداروں کی اعلیٰ آسامیوں پر فائز ہیں اور بعض حالتوں میں نظم و نسق کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ لوگ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی موجود ہیں جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔
لائل پور میں گرفتاریاں
گزشتہ روز مسلمانوں پر قادیانیوں کی فائرنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجہ میں آج پولیس نے ۴۲؍ افراد کو گرفتار کر لیا جن میں ۱۹؍ قادیانی بھی شامل ہیں، کل کے واقعہ کے بعد سے یہاں سخت کشیدگی ہے اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لائل پور کی نواحی بستی آبادی ڈی ٹائپ کالونی میں مرزائیوں کی فائرنگ سے دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں چوکی پولیس ڈی ٹائپ کالونی کے اے.ایس.آئی رانا خورشید عالم اور ایک شخص محمد شریف ٹھیکیدار کا بیٹا شامل ہیں۔ اے.ایس.آئی رانا خورشید عالم کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ علاقہ میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے فیڈرل سیکورٹی فورس اور مسلح پولیس کے دستے گشت کر رہے ہیں اور کسی شخص کو اس علاقہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ واقعات کے مطابق ڈی ٹائپ کالونی میں رہائش پذیر ایک مرزائی خاندان کا نو عمر لڑکا آلو بخارہ خریدنے کالونی کے چوک گیا چونکہ اس وقت شہر میں واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کی تحریک جاری ہے۔ اس لئے دوکاندار نے مرزائی لڑکے کو سودا دینے سے انکار کر دیا ہے مگر وہ کسی اور دوکان سے آلو بخارے خریدنے میں کامیاب ہو گیا۔ چوک پر موجود چند نوجوانوں نے لڑکے سے آلو بخارے چھین کر پھینک دئے اور دوکاندار کو گالیاں دیں۔ لڑکا جب گھر گیا تو اس کا والد الٰہی بخش اپنے دوسرے ساتھیوں کو لے کر چوک میں آ گیا۔ اس نے وہاں موجود مسلمانوں کے ساتھ ترش رویہ اختیار کیا جس میں مسلمان مشتعل ہو گئے۔ الٰہی بخش اور اس کے ساتھی یہ صورتحال دیکھ کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور آتشیں اسلحہ لے کر چھتوں پر چڑھ گئے اور مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے وہاں موجود ایک اے.ایس.آئی خورشید عالم اور شریف نامی ایک ٹھیکیدار کا بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔ جب مسلمانوں کو فائرنگ کی اطلاع ہوئی تو وہ بھی اسلحہ لے کر آ گئے اور انہوں نے جوابی فائرنگ کی۔ دونوں طرف سے تقریباً ایک گھنٹہ تک فائرنگ جاری رہی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لئے فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کی بھاری جمعیت موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور پھر ہوائی فائرنگ کی جس سے دس افراد زخمی ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر لائل پور اور ایس.پی لائل پور موقع پر پہنچ گئے اور علاقہ میں بھاری تعداد میں فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دستے گشت کر رہے ہیں۔ فائرنگ کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ پولیس چوکی فیکٹری ایریا نے اب تک ۱۲۳ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ خورشید عالم کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس
مری: آج یہاں میونسپل ہال میں وفاقی کابینہ کا ایک طویل خصوصی اجلاس ہوا یہ اجلاس دو حصوں میں جو مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے آٹھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کی۔ اجلاس کل بھی جاری رہے گا۔ ربوہ کے واقعے سے پیدا شدہ صورت حال کے تمام پہلوؤں اور اس کے نتائج پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ آج کے اجلاس کے اختتام پر سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اس مسئلہ پر بحث وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کل بھی جاری رہے گی۔ آج کے اجلاس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ قومی اسمبلی کے سپیکر فاروق علی، اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار اور وفاقی وزراء، پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ مسٹر معراج خالد، وزارت خارجہ اور قانون و داخلہ کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں ربوہ کے واقعہ کے بعد سے لے کر اب تک کی تمام صورت حال پر پیش کردہ رپورٹ پر غور کیا گیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کی تقریر کی روشنی میں قادیانیوں کے اس پرانے مسئلے کے بارے میں غور کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں اس بات کی جانب نشاندہی کی تھی کہ اس مسئلہ کا حل عوام کے براہ راست منتخب نمائندوں پر مشتمل قومی اسمبلی بجٹ کی منظور کے فوراً بعد تلاش کیا جائے گا۔ چنانچہ آج کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی اور پاکستان کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اجلاس میں ان قانونی اور فنی پہلوؤں پر غور کیا گیا جن کے تحت اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس معاملے کا جائزہ لینے اور سفارش مرتب کرنے کے لئے سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب رجوع کرنے کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کل کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل اور اقدامات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ قومی اسمبلی اس معاملے پر آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں غور کرے گی۔ دریں اثناء مختلف علاقوں کے وفود نے اسلام آباد میں اپنے علاقوں کے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے آئین میں ترمیمی بل پیش کریں اور وہ اس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل کو نہ بھیجیں اور اس کی سفارش کی مخالفت کریں۔ آج کے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جن وفاقی وزراء نے شرکت کی۔ ان میں اطلاعات ونشریات کے وزیر مولانا کوثر نیازی، وزیر قانون و پارلیمانی امور عبدالحفیظ پیرزادہ، وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان، وزیر تجارت و پیداوار مسٹر جے اے رحیم، وزیر بے محکمہ و پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مسٹر خورشید حسن میر، وزیر محنت رانا محمد حنیف، وزیر صحت شیخ محمد رشید اور جمالدار خان کے علاوہ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی مسٹر یوسف بچ، فیروز قیصر، خدا بخش بچہ اور محمد حیات ٹمن نے بھی شرکت کی۔ یہ خصوصی اجلاس آج صبح ساڑھے نو بجے میونسپل ہال میں شروع ہوا اور اڑھائی بجے تک جاری رہا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد یہ اجلاس ساڑھے چار بجے دوبارہ شروع ہوا اور شب آٹھ بجے تک جاری رہا۔ وزیر اعظم بھٹو کے ایوان وزیر اعظم سے میونسپل ہال آنے اور جانے کے موقع پر راستے میں سڑک کے دونوں جانب کھڑے سینکڑوں لوگوں نے فلک شگاف نعرے لگائے۔ وزیر اعظم نے ان نعروں کا جواب ہاتھ ہلا ہلا کر دیا۔ وزیر اعظم جو گزشتہ شب اسلام آباد سے یہاں پہنچے تھے۔ ۲۶؍ جون تک قیام کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دنیا پور میں تحریک کے کارکنوں پر پولیس تشدد
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ملتان کے ہنگامی اجلاس میں اس بات پر شدید احتجاج کیا گیا کہ موضع دنیا پور میں تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار کئے جانے والے افراد پر پولیس بہیمانہ تشدد کر رہی ہے۔ ایک قرارداد کے ذریعہ صوبائی حکومت کو خبردار کیا گیا کہ ملتان پولیس کو جارحانہ کارروائیوں سے نہ روکا گیا تو عوام کے مشتعل ہونے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اجلاس میں سرحد اسمبلی کے ارکان کو مبارک باد پیش کی گئی اور سندھ بلوچستان اور پنجاب اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھی ملی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں قرارداد منظور کریں۔ اجلاس میں شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قادیانیوں کا مکمل سماجی اور سوشل بائیکاٹ کریں۔ اجلاس میں تحریک کے سلسلہ میں گرفتار طلباء اور علماء کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
حافظ آباد میں رکن قومی اسمبلی کا حلف
مجلس عمل تحریک ختم نبوت سب ڈویژن حافظ آباد کی جانب سے منعقدہ ایک بہت بڑے جلسہ عام میں قومی اسمبلی کے رکن میاں شہادت خاں بھٹی نے حلف اٹھایا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی بھر پور حمایت کریں گے۔ جلسہ عام میں جمعیۃ علماء پاکستان کے صدر مولانا سید شبیر حسین نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے یا اسے مجدد ماننے والوں کو بلا تفریق غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جلسہ سے جمعیۃ اہل حدیث کے مولانا نصر اللہ خان بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ مرزائیوں کا شہر میں مکمل طور پر سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔
مولانا غلام اللہ مجلس عمل راولپنڈی کے صدر منتخب ہو گئے
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ۱۹؍ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس جامع مسجد پرانا قلعہ میں منعقد ہوا، جس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت راولپنڈی اسلام آباد کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صدر، مولانا مطیع الرضا خان نائب صدر، شیخ صراط علی نائب صدر، مولانا محمد عبداللہ نائب صدر، مولانا سید حبیب الرحمٰن شاہ بخاری جنرل سیکرٹری، مولانا حافظ عبدالغفور نائب سیکرٹری، مولانا عبدالخالق نائب سیکرٹری، مولانا قاری سعید الرحمٰن سیکرٹری اطلاعات، منشی غلام فاروق آفس سیکرٹری اور شیخ عبدالغفور خزانچی منتخب ہوئے۔ اجلاس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت راولپنڈی و اسلام آباد مرکزی مجلس عمل کی پالیسی اور مطالبات کی پرزور حمایت کرتی ہے اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے ہر قسم کی قربانی کا یقین دلاتی ہے۔ ایک قرارداد میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ ایک قرارداد میں گرفتار شدہ طلباء کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ملتان میں کنونشن
مجلس عمل تحریک ختم نبوت ملتان کے زیر اہتمام ۲۳؍ جون اتوار کو ایک روزہ کنونشن ہوگا۔ جس میں ملک کے ممتاز علماء عقیدۂ تحفظ ختم نبوت اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے موضوع پر تقاریر کریں گے۔ کنونشن کے دو اجلاس ہوں گے۔ پہلا اجلاس دس بجے صبح دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں ہوگا۔ جہاں مختلف علماء کارکنوں سے خطاب کریں گے۔ رات کو بعد نماز عشاء مسجد پھول ہٹ چوک بازار میں جلسہ عام
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوگا۔ جلسہ عام سے مولانا عبد الستار خان نیازی ،مفتی محمود ایم۔این۔اے، مولانا عبیداللہ انور،سید محمود احمد رضوی،علامہ احسان الٰہی ظہیر،سید مظفر علی شمسی، چوہدری غلام جیلانی، جناب حمزہ ایم۔اے، نوابزادہ نصر اللہ خاں، مولانا سید ابو معاویہ ابوذر بخاری، مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور دوسرے علماء خطاب کریں گے۔ مجلس عمل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جلسہ مسجد القمر میں ہونا تھا۔ لیکن اب مسجد پھول ہٹ چوک بازار میں ہوگا۔
پنجاب اسمبلی ...... خاموش کیوں؟ ...... اداریہ ’’نوائے وقت‘‘
’’حادثہ ربوہ کے بعد جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دیرینہ عوامی مطالبہ زور پکڑنے لگا تھا اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہ کہہ دیا تھا کہ ختم نبوت کے عقیدے پر ایمان نہ رکھنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا تو ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا جب بعض حلقوں میں یہ توقع ظاہر کی جانے لگی تھی کہ پنجاب اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سفارش کرے گی۔ یہ توقع ہنوز پوری نہیں ہوسکی۔ البتہ سرحد اسمبلی نے اس مفہوم کی ایک قرارداد منظور کر دی ہے۔ ربوہ پنجاب میں واقعہ ہے اور قادیانیوں کی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھتی ہے مگر یہ عجیب بات ہے کہ پنجاب اسمبلی نے اس بارے میں معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ایک قادیانی رکن چوہدری محمد اعظم کا ایوان اسمبلی میں یہ بیان بھی قومی حلقوں میں حیرت واستعجاب کا موجب بنا ہے کہ عوام نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اس مسئلہ پر اپنا فیصلہ دے دیا تھا۔ ان کی یہ منطق بڑی گمراہ کن ہے کہ انتخابات کے وقت جماعت اسلامی کے منشور میں یہ بات رکھی گئی تھی کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔ لیکن عوام نے جماعت اسلامی کے منشور کو ٹھکرا دیا اور پیپلز پارٹی کو ووٹ دیئے۔ ہمیں حیرت ہے کہ چوہدری صاحب کس دیدہ دلیری سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی قادیانیوں کی جماعت ہے یا قادیانیوں کے زیر اثر ہے۔ کیونکہ انتخابات قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلہ پر نہیں ہوئے تھے اور ان میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کی وجہ اس کے دلفریب معاشی واقتصادی وعدے تھے۔ چوہدری صاحب کی اس منطق کا جواب تو خیر پیپلز پارٹی والے دیں گے اور یہ بتائیں گے کہ ان کی جماعت قادیانیوں کے زیر اثر ہے یا نہیں۔ پنجاب اسمبلی سے ہم یہ ضرور توقع کریں گے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے عوامی مطالبہ کی حمایت میں قرارداد منظور کر کے اپنی حمیت دینی اور غیرت ملی کا ثبوت دے گی۔‘‘
(اداریہ ’’نوائے وقت‘‘ ،مؤرخہ ۲۳؍جون۱۹۷۴ء)
’’نوائے وقت‘‘ میں ’’سر راہے‘‘ میں شائع ہوا
عارف والا سے جناب محمود فریدی نے دو شعر برائے اشاعت بھیجے ہیں ،ملاحظہ ہوں:
تا عمر ’’نبوت‘‘ رہی امراض سے بے دم پولیس کی تفتیش میں شامل ہے خلیفہ
۲۴؍جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
اعلیٰ حکومتی اجلاس مری میں ختم ہوگیا
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس آج دوسرے دن بھی جاری رہا جس کی صدارت وزیر اعظم بھٹو نے کی۔ اجلاس میں اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ،خاص طور پر اس کے ملکی اور غیر ملکی اثرات پر غور کیا گیا۔ آج اعلیٰ سطحی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں اس مسئلہ پر غور مکمل کر لیا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ حکومت اس مسئلہ کو مسلمانوں کی امنگوں اور عقائد کے مطابق حل کرنا چاہتی ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کل بھی ہوا تھا، جو آٹھ گھنٹے جاری رہا تھا، جس میں وفاقی وزیر مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، خان عبدالقیوم خاں، مسٹر خورشید حسن میر، مولانا کوثر نیازی، شیخ محمد رشید، پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے، پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر ملک معراج خالد بھی شریک ہوئے تھے۔ اجلاس میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ واقعہ ربوہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اجلاس میں حالات کو مزید پرسکون رکھنے کے لئے متعدد اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے بھی وزیر اعظم بھٹو نے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
(مشرق، مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۷۴ء)
لائل پور فائرنگ کیس
ڈی ٹائپ کالونی لائل پور میں مرزائیوں کی طرف سے مسلمانوں پر فائرنگ کے سلسلہ میں ماخوذ ۴۲ ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ زخمی رانا خورشید کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ امن وامان کے لئے پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے مسلح دستے علاقہ میں اب بھی گشت کر رہے ہیں اور مشکوک افراد پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ علاقہ کے دوکانداروں نے فائرنگ کے خلاف احتجاجاً کل ہڑتال کی جس سے لوگوں کو ضروریات زندگی میسر نہ آ سکیں۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے ایس ایس پی جہاں زیب برکی سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت مولانا تاج محمود نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ۲۳ مسلمانوں کو جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے۔ ایس ۔ ایس ۔ پی نے یقین دلایا کہ اگر وہ بے قصور پائے گئے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ وفد کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ اس مقدمہ کی تفتیش ڈی ۔ ایس ۔ پی سٹی منظور احمد خاں کریں۔ وفد کے ارکان نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ وفد نے بتایا کہ مرزائی مضافاتی بستیوں اور کاروباری مراکز میں لوگوں کو اسلحہ دکھا کر ہراساں کر رہے ہیں۔
(مشرق لاہور، مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۷۴ء)
ملتان میں مرکزی مجلس عمل کا جلسہ
تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمل نے ملک بھر کے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کا اتنے مؤثر طریقے سے سماجی بائیکاٹ کریں کہ قادیانی مسلمانوں کے مطالبے کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور خود کو اقلیت قرار دینے میں کوئی مزاحمت نہ کریں۔ مجلس عمل کے رہنماؤں نے قادیانیوں کے خلاف تحریک جاری رکھنے کے سلسلے میں آج گلگشت کالونی میں کارکنوں کے اجلاس اور بعدازاں مسجد پھول ہٹ چوک بازار میں ایک جلسہ عام سے بھی خطاب کیا۔ ان رہنماؤں میں نوابزادہ نصراللہ خان، مولانا تاج محمود، مفتی محمود، علامہ احسان الٰہی ظہیر، علامہ محمود احمد رضوی، مولانا خلیل احمد قادری، علی غضنفر کراروی، پیر محمد اشرف، ابوذر بخاری اور سید مظفر علی شمسی شامل تھے۔ مقررین نے کارکنوں سے کہا کہ وہ عوام کو مرزائیوں کے سماجی بائیکاٹ کی تحریک سے آگاہ کریں اور مجلس عمل کے پیغام کو گھر گھر پہنچا دیا جائے۔
نوابزادہ نصراللہ خان نے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں اور پاکستان میں ان کی ریشہ دوانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے لے کر بچے کھچے پاکستان میں قومیتوں کے نام پر انتشار پھیلانے کی سازشوں میں قادیانیوں کا ہاتھ رہا ہے۔ مجلس عمل نے داخلی انتشار اور خارجی خطرات پر قابو پانے کے لئے قوم کو متحد کر دیا ہے۔ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے برطرف کرنے کے سلسلے میں بل پیش کرے۔
مولانا تاج محمود نے اپنی تقریر میں بتایا کہ لائل پور میں قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے بائیکاٹ کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خلاف ورزی کرنے پر نہ صرف مجلس عمل سے معافی مانگی بلکہ سولہ سو روپے تاوان بھی ادا کیا ہے۔ مولانا مفتی محمود نے بتایا کہ ضلع سرگودھا کے عوام نے ارکان قومی اسمبلی سے مجلس عمل کے مطالبات کے سلسلے میں ایک محضر نامے پر دستخط حاصل کر لئے ہیں۔ انہوں نے دوسرے اضلاع کے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ ارکان قومی اسمبلی سے محضر ناموں پر دستخط لیں تا کہ ارکان اسمبلی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بل کی حمایت پر مجبور ہو جائیں۔
(روزنامہ مشرق لاہور، مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
بیالیس افراد ہلاک
یہاں ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ حالیہ ہنگاموں کے دوران ملک بھر میں ۴۲؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ جلد بازی میں اپنے بچاؤ کے لئے گولی نہ چلاتے تو جانی نقصان اس سے کہیں کم ہوتا۔ ہلاک شدگان میں ۲۷ قادیانی اور ۱۵ دیگر افراد شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ملک بھر میں صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔ انہوں نے مرزا ناصر احمد اور مسٹر ظفر اللہ خان کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کا بلالحاظ عقیدہ مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ بیرونی اخبارات حالیہ ہنگاموں کے بارے میں توڑ مروڑ کر خبریں شائع کر رہے ہیں جب کہ دوسرے ممالک میں کہیں زیادہ سنگین صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے دونوں فریقوں سے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔
سرکاری ترجمان نے بعض عالمی اخبارات کے اس رجحان پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی واقعات کو مسخ کر کے شائع کرتے ہیں اور ان کا خاکہ اڑاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ان اخبارات نے گزشتہ ماہ فرقہ وارانہ تنازعہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو جس رنگ میں پیش کیا ہے وہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ملکوں میں پیش آنے والے زیادہ سنگین واقعات کو تو معمولی واقعات کا رنگ دے دیا گیا۔ لیکن پاکستان کے ایک ہنگامہ کو جو کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا تھا اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔ ترجمان نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا کہ حکومت نے اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کیا۔ عالمی اخبارات نے ہنگامہ کی تفصیلات شائع کی ہیں جو سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر مبنی ہیں۔ اس سے ان تنظیموں کو تشویش ہوتی ہے جو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار ہیں اور جو اس مقصد کے لئے کام کرتی ہیں کہ مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر گروپوں یا افراد کی آزادی سلب نہ کی جائے۔ ان جرائد نے یہ بے بنیاد الزام لگایا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے اور قانون کو نافذ کرنے والے اداروں نے نیم دلی کے ساتھ یا امتیازی انداز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے جانی اور مالی نقصان کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ ایک الزام یہ لگایا گیا ہے کہ ربوہ میں احمدیوں کے ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ٹیلی مواصلات کے سلسلے کاٹ دیئے گئے ہیں یا ان میں دانستہ طور پر خلل ڈالا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ الزامات احمدی فرقہ کے لیڈروں نے اپنے بیانات میں عائد کئے ہیں۔ ان لیڈروں میں احمدیوں کے مذہبی سربراہ مرزا ناصر احمد اور بین الاقوامی عدالت کے سابق صدر سر محمد ظفر اللہ خان شامل ہیں۔ لیکن حکومت واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ ان الزامات کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ایک افسوس ناک واقعہ کے نتیجہ میں ملک کے بعض حصوں میں فسادات ہوئے۔ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک تھا لیکن جیسا کہ آئین میں ضمانت دی گئی ہے حکومت نے بلا لحاظ مذہب و عقیدہ اپنے ہر شہری کے پورے تحفظ کے لئے اپنے انسانی اور قانونی فرض کو پورا کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ ان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی گئی جنہوں نے جھگڑے کو بھڑکانے اور امن و امان کو درہم برہم کرنے کے لئے ایک مذہبی معاملے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ تشدد کو دبانے سے نہ صرف صوبائی پولیس سے بلکہ فیڈرل سیکورٹی فورس اور رینجرز سے بھی کام لیا گیا۔ فوج سے کہا گیا کہ وہ سڑکوں پر گشت کر کے سول حکام کی مدد کرے۔ اس طرح یہ ظاہر کر دیا گیا کہ شہری نظام میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت پاکستان ملک کو اس قسم کے فرقہ وارانہ تشدد میں مبتلا نہیں ہونے دے گی جو برصغیر، جنوبی ایشیاء کی المناک یاد بن گیا ہے۔ ربوہ کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے لئے ہائیکورٹ کے ایک جج پر مشتمل ایک ٹربیونل قائم کیا گیا ہے۔ یہ ٹربیونل شہادتیں قلمبند کر رہا ہے اور مناسب مدت کے اندر حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کر دے گا۔ اخبارات میں فسادات کی خبروں کی اشاعت پر ماضی میں پابندیاں اس خیال سے لگائی گئیں تھیں کہ اگر ان خبروں کی اشاعت کو نہ روکا گیا تو جذبات مشتعل ہوں گے اور انسانی جان و مال خطرہ میں پڑ جائے گی۔ یہ پابندیاں ان ملکوں میں غیر معمولی بات نہیں ہیں جہاں عام خواندگی کے ماحول میں جھوٹی افواہیں اور مبالغہ آمیز خبریں پھیلتی رہتی ہیں۔ جوں ہی صورتحال معمول پر آنا شروع ہوئی ان پابندیوں کو ہٹا لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے تمام متعلقہ گروپوں کے وفدوں سے بات چیت کی جو لوگ وزیر اعظم سے ملے ان میں احمدی فرقے کے مذہبی سربراہ کا بیٹا شامل تھا۔ صوبائی حکومت نے احمدی فرقے کے لیڈروں اور تنازعہ میں ملوث دوسرے گروپوں کے لیڈروں کے ساتھ رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ ان تمام انتظامی، عدالتی اور سیاسی اقدامات کے نتیجہ میں تین ہفتہ کے اندر بلوہ ختم ہو گیا۔ یہ ہنگامہ ۱۹۵۳ء کے فسادات کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اس وقت کے ایجی ٹیشن نے اتنی سنگین صورت اختیار کر لی تھی کہ لاہور میں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا تھا۔ تازہ ہنگامہ میں ۴۲ افراد ہلاک ہوئے۔ ایک انسانی جان کا نقصان بھی حکومت کے نزدیک افسوس ناک ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جانی نقصان بہت زیادہ نہیں ہوا ہے۔ اگر بعض لوگ جلد بازی میں اپنے بچاؤ کے لئے گولی نہ چلاتے تو جانی نقصان اس سے کم ہوتا۔ بہر حال دونوں جانب نقصانات کم و بیش برابر ہوئے ہیں۔ پورے پاکستان میں کل ۴۲ اموات ہوئی ہیں۔ ان میں احمدیوں کی تعداد ۲۷ ہے۔ افواہوں کے برعکس اعضاء کاٹنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ترجمان نے کہا کہ احمدی فرقہ کے بعض افراد نے ٹیلیفون کا سلسلہ منقطع کرنے کا جو الزام عائد کیا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ربوہ کو ٹیلی مواصلات کی سہولتوں سے محروم کرنے کی کوئی دانستہ کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ صورتحال کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے بے شمار کالیں لائنوں پر تھیں۔ جس کی وجہ سے طویل فاصلوں کی کالوں میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس مذہبی تنازعہ کی وجہ سے یہ فسادات ہوئے وہ نیا نہیں ہے اور اس میں دینی امور کے علاوہ دوسرے معاملات بھی ملوث ہیں۔ حکومت اس بات پر شکر بجا لاتی ہے کہ اس تنازعہ کے مفسدانہ اور اشتعال انگیز اثرات پر پوری طرح کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں اور ساری دنیا میں ذمہ دار لوگ صورتحال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں۔ وزیر اعظم نے ۱۳؍ جون کو قوم کے نام اپنی نشری تقریر میں صبر و تحمل اور رواداری کا مشورہ دیا تھا اور لوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اگلے دن ہڑتال بحیثیت مجموعی پر امن رہی۔ حکومت نے مسئلہ کی نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اس کا معقول اور جمہوری حل تلاش کرے۔ حکومت عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنے اور اس کے مفاد کو نقصان پہنچائے۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راولپنڈی میں دو خطیب گرفتار
آج علی الصبح پولیس نے جامع مسجد کے حجرے سے مولانا عبد الستار خطیب کو اور ویسٹ کی مسجد نعمانیہ سے صوفی محمد اسحاق کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ انہیں جمعتہ المبارک کی نماز کے بعد مسجد میں قابل اعتراض تقریریں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ دریں اثناء پولیس طالب علم رہنما نظام الدین نظام اور دیگر چار طلباء کی گرفتاری کے لئے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ نظام الدین نظام کی گرفتاری کے لئے پولیس کی بھاری جمعیت راجہ بازار کے اطراف میں تعینات تھی۔ لیکن وہ مدرسہ تعلیم القرآن میں تقریر کرنے کے بعد روپوش ہو گئے۔ مدرسہ تعلیم القرآن کے ایک پریس ریلیز کے مطابق مولانا محمد اسحاق پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا اور انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سندھ اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد کا نوٹس
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے ۱۳؍ ارکان نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں ایک قرارداد پیش کرنے کا نوٹس دیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ جو لوگ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اور کسی دوسرے نبی پر یقین رکھتے ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں اور قومی اسمبلی میں ۳۰؍ جون کو اس مسئلے پر غور کیا جائے گا۔ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے سفارش کی ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس لئے سندھ اسمبلی بھی وفاقی حکومت سے سفارش کرے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات کی جائے اور قادیانیوں کو تمام اہم اور کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ اس قرارداد کے نوٹس پر شاہ فرید الحق قائد حزب اختلاف، مسٹر ظہور الحسن بھوپالی، مولانا محمد حسن حقانی، حاجی زاہد علی، مفتی محمد حسن، بوستان علی ہوتی، افتخار احمد، نواب مظفر حسین، صوفی رحیم بخش، سرور علی، قطب شاہ، نادر شاہ اور خلیفہ عاقل کے دستخط ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں صدائے بازگشت
بلوچستان اسمبلی میں آج دوسرے دن بھی صوبے کے بجٹ پر عام بحث جاری رہی۔ آج کل تین ممبران نے بحث میں حصہ لیا۔ جن میں دو صوبائی وزراء مولوی صالح محمد، مولوی محمد حسن شاہ اور پیپلز پارٹی کے صابر بلوچ شامل ہیں۔ آج کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قادر بخش بلوچ نے کی۔ اپوزیشن نے آج تیرہویں دن بھی اپنا بائیکاٹ جاری رکھا۔ جمعیۃ علمائے اسلام (ہزاروی) کے دونوں وزراء نے بجٹ کا خیر مقدم کیا اور صوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز تر کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ صوبائی لاء کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کر کے صوبے میں اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے جو بلوچستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔ ان دونوں نے خطیبوں اور معلمین کی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا۔ قادیانی مسئلہ کے بارے میں دونوں نے وزیر اعظم بھٹو کی تقریر کا خیر مقدم کیا۔ مولوی محمد حسن شاہ نے عوام کے اس مطالبہ کی حمایت کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ تاہم انہوں نے اپوزیشن پر ربوہ کے واقعہ کو ہوا دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ ربوہ کا واقعہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کو ٹکڑے کرنا ہے۔
تحریک ختم نبوت(۳)مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش نہ کرنے دی
آج پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف نے احتجاج کے طور پر اس وقت بائیکاٹ کیا جب سپیکر شیخ رفیق احمد نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں حزب اختلاف کے متعدد ارکان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر بحث کی اجازت نہ دی۔ حزب اختلاف نے آج دوپہر بارہ بج کر باون منٹ پر واک آؤٹ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اسمبلی کی باقی ماندہ کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ بعدازاں قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد اور حزب اختلاف کے رکن سید تابش الوری نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ آج شام بجٹ پر عام بحث کے لئے اسمبلی کا جو خصوصی اجلاس ہو گا حزب اختلاف اس کا بھی بائیکاٹ کرے گی۔ آج دوپہر حزب اختلاف کے رکن امیر عبداللہ خان روکھڑی نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ بشمول ان کے حزب اختلاف کے متعدد ارکان نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت میں قراردادوں کے جو نوٹس دے رکھے ہیں ان پر بحث کی جائے۔ سپیکر نے امیر عبداللہ روکھڑی سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس میں یہ مسئلہ پیش نہیں ہوگا۔
جمعیۃ علماء پاکستان، لائل پور
جمعیۃ علمائے پاکستان کے ضلعی صدر چوہدری اختر حسین گل اور ممتاز رہنما مولانا شیر محمد سیالوی نے ایک مشترکہ بیان میں جمعیۃ کے نائب صدر سید محمود شاہ گجراتی اور راولپنڈی و گجرات کے متعدد علماء کی گرفتاری کی پرزور مذمت کی ہے اور پرامن ہڑتال کے باوجود علماء اور طلباء کی گرفتاری کو نامناسب قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ پورے ملک کے مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اس مطالبہ کو تسلیم کرنے میں جس قدر تاخیر روا رکھی جائے گی۔ ملک و ملت کے لئے اتنا ہی نقصان دہ ہوگی۔ علماء اور طلباء کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
گجرات، سوشل بائیکاٹ
جمعیۃ العلمائے پاکستان پنجاب کے صدر مولانا غلام علی اوکاڑوی نے مسجد حاجی پیر بخش میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام مرزائیوں کا مکمل طور پر سوشل بائیکاٹ کریں کیونکہ ان سے ہر قسم کا لین دین حرام ہے۔ آپ نے کہا اگر بھٹو صاحب اس مسئلہ میں مخلص ہیں تو مرزائی اجماع امت، دین اسلام اور آئین پاکستان کی رو سے کافر ہیں تو اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر حکومت ختم نبوت پر ایمان رکھتی ہے تو مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اپنی ایمانداری کا ثبوت دے۔ آپ نے اس بات کو غلط قرار دیا کہ اپوزیشن فوجی انقلاب چاہتی ہے۔ آپ نے کہا کہ ہم فوجی انقلاب نہیں بلکہ اسلامی انقلاب چاہتے ہیں۔ آپ نے وزیر اعظم بھٹو سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کے حل سے پہلے بنگلہ دیش نہ جائیں۔
آپ نے صاحبزادہ سید محمود شاہ مرکزی نائب صدر جمعیۃ العلمائے پاکستان کی گرفتاری پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا اگر انتظامیہ گجرات نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ہم گجرات شہر کو اس تحریک کا مرکز بنا دیں گے۔ اس موقع پر جمعیۃ العلمائے پاکستان پنجاب کے نائب صدر مفتی مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں ہم حکومت سے ٹکرانا نہیں چاہتے۔ لیکن اگر حکومت نے ٹکرانے کی کوشش کی تو ان شاء اللہ ہمیں تیار پائے گی۔ جمعیۃ العلمائے پاکستان گجرات کے دو رہنماؤں مولانا اورنگزیب نقشبندی اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحبزادہ سید احمد حسین شاہ نے ایک مشترکہ بیان میں گجرات کے علماء پر لاٹھی چارج و تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی انتظامیہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والے علماء اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے اور بعض دوسرے علماء کو خواہ مخواہ پریشان کر رہی ہے جس کے پیش نظر عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور اگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بر وقت مداخلت نہ کی تو ممکن ہے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والی گرفتاریاں عوام کے شدید ردعمل کا بین ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ حل کرانے کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے اور کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کریں گے۔
موچھ، عیسیٰ خیل میں جلسہ ہائے عام
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ضلعی صدر صاحبزادہ محمد جمال الدین کاظمی نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا اسے فی الفور مستعفی ہو جانا چاہئے۔ وہ عیسیٰ خیل میں ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے حکومت کے متشددانہ اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات عوام کا جوش و جذبہ ٹھنڈا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
سیالکوٹ میں ۲۵؍ مرزائی حلقہ بگوش اسلام ہو گئے
جمعۃ المبارک کے اجتماع میں سیالکوٹ کے مرزائیوں نے استاذ العلماء علامہ حافظ محمد عالم خطیب جامع مسجد دو دروازہ سیالکوٹ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا اور مرزائیت سے توبہ کی اور اعلان کیا کہ وہ لوگ ایک مدت تک غلط فہمی کی بناء پر مرزائیت سے وابستہ رہے ہیں۔ اب بحمدہ تعالیٰ ان پر قادیانی عقائد کی حقیقت واضح ہو چکی ہے۔ بلاشبہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و نظریات قرآن وسنت اور اجماع امت کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حدیث پاک کی رو سے کذاب اور دجال سمجھتے ہیں اور ان کے جملہ معتقدین کو جو خواہ اسے نبی مانیں یا مجدد، کافر و مرتد سمجھتے ہیں بلکہ جو شخص ان کے کافر ہونے میں شک کرے ہمارے نزدیک وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ تائبین میں محمد رمضان معہ اہلیہ اور نصیر احمد معہ اہل خانہ چھ افراد بازار صرافاں، نذیر احمد ولد عبد العزیز معہ اہل وعیال محلہ بڈھی بازار، اعجاز احمد بھٹی محلہ دھالینوال، آفتاب احمد معہ اہلیہ ناصرہ بیگم پھلانوالی گلی، محمد اسلم کوچہ حسین شاہ، نظام دین معہ اہلیہ و پسر منور احمد اور دو بیٹیاں اس طرح تقریباً پچیس افراد شامل ہیں۔
امیر جماعت اسلامی ضلع سیالکوٹ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) نثار احمد قریشی نے سرحد اسمبلی کے غیور ارکان کو اتفاق رائے سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کرنے پر دلی مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد منظور کر کے صوبہ سرحد نے اپنے جذبہ اسلامی اور حمیت ملی کا اظہار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ سرحد اسمبلی کے اس نیک جذبے اور بر وقت اقدام کی تہہ دل سے مشکور ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے غیرت مند ارکان اسمبلی بھی سرحد اسمبلی کی پیروی کرتے ہوئے ایسی ہی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرائیں گے تاکہ مرکزی اسمبلی بھی ان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے قادیانیوں کو قانونی طور پر اقلیت قرار دے کر ان کو کلیدی آسامیوں سے الگ کرنے کے لئے ضروری قانون سازی کر سکیں۔ مجلس عمل سیالکوٹ کے صدر شیخ محمد اسلم نے بھی سرحد اسمبلی کی اس قرارداد پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے پنجاب اسمبلی کے ارکان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کرائیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عاملہ جماعت اسلامی کی قرارداد
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے یہاں اپنے دو روزہ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ ان تمام لوگوں کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں، غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے قادیانی گروہ کی طرف سے اس شر انگیز مہم کی شدید مذمت کی گئی ہے جو اس نے دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ یہ قرارداد آج صبح امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد نے ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنائی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جب کہ پاکستان مختلف سنگین مسائل سے دوچار ہے، بغیر کسی وجہ سے قادیانیوں کے اپنے مرکز سے فساد انگیزی کا آغاز اور دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی اس مہم سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کسی عالمی سازش کا حصہ ہے۔ گزشتہ ۲۷ سال میں مسلمانوں کے مسلسل احتجاج کے باوجود یہ گروہ خود غرض اور اقتدار پرست حکمرانوں کی سرپرستی میں تمام مسلمانوں کا استحصال کر کے بے پناہ سیاسی اور معاشی فائدے حاصل کرتا جا رہا ہے لیکن ان خصوصی عنایات کے باوجود پاکستان کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں میں کوئی فرق نہیں آیا اور اب یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ یہ گروہ پاکستان دشمن قوتوں کا آلہ کار ہے اور ملک کے لئے عظیم خطرہ ہے۔ ان کی جرأت و بے باکی کا یہ حال ہو گیا ہے کہ بیرون ملک ہی میں نہیں خود اسلام آباد میں کھلم کھلا اپنے سرکاری ملازمین کے ہمراہ غیر ملکی سفارت خانوں میں جا کر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں بھی نہیں چوکتے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان حالات کے پیش نظر حکومت کو اپنا فرض پہچاننا چاہئے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی کے ذریعہ ضروری دستوری اور قانونی کارروائی بلا تاخیر عمل میں لائی جائے۔ جماعت کی مجلس عاملہ نے وزیر اعظم کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اس متفقہ دینی مسئلہ کو سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل یا قومی اسمبلی کے ارکان پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس مسئلہ کو جب اور جیسے چاہیں حل کریں یا نہ کریں اور اس بارے میں جو موقف چاہیں اختیار کریں۔
مرید کے کے تاجروں کا فیصلہ
چوہدری فیض محمد چٹھہ انجمن آڑھتیان غلہ منڈی مرید کے الحاج محمد عارف نوری سرپرست انجمن تاجران ریل بازار مرید کے نے اعلان کیا ہے کہ غلہ منڈی کے آڑھتیوں اور ریل بازار اور مین بازار کے دوکانداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں ان تمام دوکانداروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
حضرت بنوری کی کوئٹہ میں تقریر
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزی مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری نے آج (۲۴؍ جون ۱۹۷۴ء) ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم خطرناک دور سے گزر رہے ہیں، ہماری حکومت ایسے موڑ پر کھڑی ہے کہ اگر اس نے تدبر، دانشمندی اور انصاف سے کام نہ لیا تو اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے خطرات موجود ہیں۔ ملک میں مسئلہ قادیانیت ایک زمانہ سے موجود تھا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے غفلت کی اگر ان کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا احساس ہوتا تو وہ اس کو خطرہ سمجھتے۔ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔ عقیدہ ختم نبوت پر اسلامی احکام کا دارومدار ہے۔ انگریزوں کو اس کی اہمیت کا احساس تھا۔ اس لئے انہوں نے چور دروازے سے ختم نبوت کے خلاف تدبیر اختیار کی وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان برداشت نہیں کریں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گے کہ کوئی نبی پیدا ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ میرے بعد دجال کذاب پیدا ہوں گے۔ ساتھ ہی ساتھ قدرت نے ختم نبوت کے عقیدے کی تکمیل کے لئے ہر جھوٹے مدعی نبوت کو سزا دی ۔ پہلا جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا جس نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں دعویٰ نبوت کیا تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کا یہ خیال تھا کہ نعوذ باللہ حضور قبیلہ قریش کے نبی ہیں۔ اس لئے اس نے حضور کو دعوت دی کہ آپ اس کو نبی تسلیم کر لیں تاکہ مفاہمت ہو جائے۔ حضور ﷺ نے اس جھوٹے مدعی نبوت کو اسلام لانے کی دعوت دی۔ پھر خلیفہ اوّل صدیق اکبر ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اسے دعوت دی۔ جب وہ اپنے دعویٰ نبوت پر قائم رہا تو عظیم الشان جہاد کیا گیا ، جس میں ہزاروں صحابہ ؓ شہید ہوئے جن میں اکثر حافظ قرآن تھے۔ مسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ نبوت کا دعویٰ کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ انگریز مسلمانوں سے بڑے پریشان تھے۔ صلیبی جنگوں سے لے کر برصغیر کی جنگ آزادی تک وہ اسی سوچ بچار میں تھے کہ مسلمانوں میں جہاد کے جذبے کو کس طرح ختم کیا جائے۔
کیونکہ برصغیر میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں تھے۔ اس لئے انگریزوں نے سوچ سمجھ کر ایک شخص کو منتخب کر لیا۔ اس نے سب سے پہلے مبلغ اسلام ہونے کا دعویٰ کیا۔ کچھ لوگ اس کے معتقد ہو گئے۔ پھر اس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا کہ دین میں تجدید ہو گی۔ رفتہ رفتہ دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں ، کچھ لوگ اس کے تابع ہو گئے۔ اس کو انگریزوں کی رہنمائی اور مکمل حمایت حاصل تھی۔ پھر اس نے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا تاکہ مسلمان اس کو بھی برداشت کر لیں۔ جب اس کے معتقدین کی تعداد خاصی ہو گئی تو اس نے دعویٰ کیا کہ میں نبی ہوں ، مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس نے انگریزوں کے ایماء پر جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ انگریز حج کو بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ وہاں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع ہوتا تھا۔ اس لئے اس نے حج کو بھی منسوخ کر دیا اور کہا کہ مکہ مدینہ کی چٹانوں کو کب تک چومو گے۔ ان میں دودھ خشک ہو گیا ہے۔ اب قادیان آیا کرو اس طرح اس نے جہاد اور حج کی عبادت کو منسوخ کیا۔
مولانا بنوری نے کہا کہ قیام پاکستان پر ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں ظفر اللہ خان جتنے دن رہا پاکستان کے لئے کام نہیں کیا بلکہ وہ قادیانیوں کی مشنری کے لئے کام کرتا رہا۔ پاکستان سے قادیانیوں کو باہر کے ملکوں میں پھیلاتا رہا۔ انہوں نے کروڑوں روپے کی اوقاف کی جائیداد بنائی ، لاکھوں روپے کا زرمبادلہ وصول کر کے نائیجیریا ، یوگنڈا اور افریقہ کے نو آزاد ممالک میں شاخیں قائم کیں۔ حکومت کی غفلت کی وجہ سے یہ بین الاقوامی معاملہ بن گیا۔ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کریں گے۔ بین الاقوامی طور پر سازشیں ہونے لگیں۔ انہوں نے سازش کو آزمانے کے لئے ربوہ اسٹیشن پر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جگا دیا۔ اللہ کی مہربانی سے مسلمان قوم پوری طرح بیدار ہو کر اس کا مقابلہ کرنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تباہی سے بچانے اور استحکام کے لئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ پوری قوم اور ملت اسلامیہ کا مطالبہ ہے۔ ۳؍ جون کو راولپنڈی میں علماء کا اجتماع ہوا۔ بعد میں ۹؍ جون کو لاہور میں لگ بھگ تمام دینی جماعتوں ، تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کا اجتماع ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس مسئلہ کو دینی انداز سے اٹھایا جائے تاکہ فساد اور بدنامی نہ ہو۔ ہم حکومت سے ٹکر نہیں لینا چاہتے۔ ہمارا مقابلہ صرف قادیانیوں سے ہے۔ لائل پور میں اجتماع ہوا جس میں غور و خوض کے بعد تین مطالبات پیش کئے گئے۔ امن قائم رکھنے کے لئے اور ملک کو برے اثرات سے بچانے کے لئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تاکہ قوم مطمئن ہو، تاکہ حکومت کے لئے بہتری ہو۔ اس میں قادیانیوں کی بھی بہتری ہے۔ ہم نے وزیر اعظم بھٹو سے بھی ملاقات کی اور مسئلہ کی اہمیت سمجھائی ۔ ایک اور مطالبہ یہ ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، تاکہ قادیانیوں کا اسٹیج ختم ہو اور یہ طاقت نہ بن سکیں ، تمام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عمل حکومت سے سوچ بچار کے بعد کرے گی۔ کیونکہ وزیر اعظم ایک مدبر شخص ہیں۔ اس لئے وہ یہ کام بہتر انداز میں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم ۳۰؍ جون کو ایک بل کی صورت میں اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کر کے پاس کرائیں۔ وہ اپنے تمام ممبروں کو اس بل کی حمایت کرنے کا حکم دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تدبر اور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے حالات کو مزید خراب نہ ہونے دیں گے اور برے اثرات سے ملک کو بچانے کے لئے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر قوم کو مطمئن کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قوم کو بیدار کرنے کے لئے ملک بھر میں دورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے ظفر اللہ خان اور دوسرے قادیانیوں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کا مطالبہ کیا جو قوم ملک پاک فوج اور نظریہ اسلام کے خلاف بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ بیرونی ممالک میں قادیانیوں کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے، انہوں نے کہا کہ مجلس عمل ممبران اسمبلی کو ترغیب دے گی کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھیں۔ مجلس عمل کا اجلاس آئندہ ماہ بلایا گیا جس میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ اس سے قبل مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد تقی عثمانی کا کوئٹہ پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنے والوں میں مولانا عبد الوحید، مولانا غفور، سینیٹر حاجی محمد زماں اچکزئی اور دوسرے افراد شامل تھے۔ مدرسہ مطلع العلوم پہنچنے پر طلباء نے ”ختم نبوت زندہ باد“ کے پر جوش نعرے لگائے۔ مولانا محمد شاہ امروٹی بھی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔
قبولہ ضلع ساہیوال
گزشتہ روز یہاں انجمن مجاہدین اسلام کے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ شہر کو کھلا شہر قرار دے کر قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ اجلاس میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قادیانیوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کریں۔
منڈی بہاؤالدین، دو قادیانی مسلمان ہو گئے
بہاؤالدین کے دو افراد سرور بیگ اور مرزا انور بیگ نے جامع مسجد نور میں مرزائیت سے تائب ہو کر مشرف بہ اسلام ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سینکڑوں اشخاص کی موجودگی میں حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کیا۔
قائد آباد کی تمام جماعتوں کا مطالبہ
سنٹرل کوآپریٹو بینک ضلع سرگودھا کے ڈائریکٹر یوسف رضا، قادیانی محاسبہ کمیٹی کے ممبر صدیق رضا، جمعیۃ العلمائے پاکستان کے محمد اکبر ساقی، تحریک استقلال کے ملک عبد العزیز اختر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تصدیق سنبل، کونسل مسلم لیگ کے صدر یوسف چوہان، پیپلز پارٹی کے رہنما سیف اللہ خاں اور رانا شمشاد علی خاں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ مرزائیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد تمام حکومتیں اس مسئلہ پر ٹال مٹول کرتی چلی آ رہی تھیں اور آج تک یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ مسلمانوں کا مذہبی دینی اور اولین مسئلہ ہے اس لئے حکومت کو فوری طور پر اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔
حضرت مفتی صاحب کا ملتان بار سے خطاب
مرکزی مجلس عمل کے رہنما اور صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے کہا ہے اگر قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا بل
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومتی پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا تو اپوزیشن کے ارکان اس مقصد کے لئے اپنا بل پیش کریں گے۔ انہوں نے ایک خصوصی ملاقات میں نمائندہ نوائے وقت کو بتایا کہ نیپ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں جمعیۃ اور مرکزی مجلس عمل کی مکمل تائید کرتی ہے اور نیپ کے سربراہ خان عبدالولی خان نے پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس محض اس لئے بلایا ہے کہ جماعتی سطح پر طریقہ کار طے کیا جائے۔ مفتی محمود نے بتایا کہ ان کی جمعیۃ نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں ایک قرارداد قومی اسمبلی کے سپیکر کو بھیج دی ہے، تاہم اپوزیشن چاہتی ہے کہ اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں بل حکومتی پارٹی پیش کرے تاکہ کریڈٹ کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
مفتی محمود نے آج دوپہر بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ”انہوں نے ملک کا آئین بنانے کے لئے آئینی سب کمیٹی میں اس شق کو شامل کرنے پر اصرار کیا تھا کہ ملک کا سربراہ وزیر اعظم تینوں افواج کے کمانڈر اور صوبائی وزراء اعلیٰ صرف مسلمان ہی بن سکتے ہیں۔ اس پر خان قیوم اور جے. اے رحیم نے اس شرط کو آئین کا جزو بنانے کی شاید مخالفت کی۔ تاہم بعد میں طویل بحث و تمحیص کے بعد وزیر اعظم کے عہدہ کے سلسلہ میں یہ شرط آئین میں شامل کرانے میں ہمیں کامیابی ہوئی۔
مولانا تاج محمود نے کہا کہ قادیانیوں کا مسئلہ مذہبی ہی نہیں، سیاسی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۲؍مئی کو ربوہ سے طلباء کی ٹرین گزری اور ۲۳ سے ۲۹؍مئی تک ملک بھر میں تمام قادیانی کاروباری اداروں اور دوکانوں کا بیمہ کرالیا گیا۔ ۲۹؍مئی کو منظم منصوبہ کے تحت طلباء پر حملہ کیا گیا۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشرف خان نے آخر میں اعلان کیا کہ قادیانیوں کے سماجی بائیکاٹ کی مہم بار سے ہی شروع کی جارہی ہے اور بار کے ارکان آج سے اپنے چند قادیانی وکلاء کا سماجی مقاطعہ کریں گے۔ بار کے ارکان پر مشتمل وفد شہر میں گھوم پھر کر قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کو مؤثر انداز میں نافذ کرانے کے لئے ہر جگہ جائیں گے۔
ملتان کے طالب علم رہنماؤں کی رہائی و گرفتاری
ملتان: مقامی مجسٹریٹ درجہ اوّل نے پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے جنرل سیکرٹری میاں احسان باری، حافظ مظفر اسحاق اور طاہر حسین اظہر کو چھ چھ ہزار روپے کی ضمانتوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان طالب علم رہنماؤں کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ناظم اسلامی جمعیۃ طلباء ملتان فیاض چوہدری، پنجاب یونیورسٹی کے جنرل سیکرٹری عبد الشکور، گورنمنٹ کالج ملتان کے سابق صدر منظور خاں اور صدیق صفدر ایڈووکیٹ کو نیو سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔
ملتان دفتر مرکزیہ میں اجلاس
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے قائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کر کے ان پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔ ان قائدین نے مرزائیوں کے مکمل سماجی و اقتصادی بائیکاٹ پر بھی زور دیا ہے اور عوام کو تلقین کی ہے کہ موجودہ جدوجہد میں تشدد کی راہ اختیار کرنے سے مکمل اجتناب کریں۔ یہ رہنما آج مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں مقامی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی نے اپنی تقریر میں کہا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دلانے کے سلسلے میں ہماری تمام تر جدوجہد قانون کے دائرے کے اندر رہے گی۔ تاکہ اگر تقریروں پر پابندی عائد کی جائے تو ہم اشاروں سے بھی تقریریں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان میں اثر پیدا کرے گا۔ ہم کسی صورت بھی اس موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں اور تحریک اس وقت تک جاری رہے گی۔ جب تک مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ ختم نبوت کے جذبہ کو سرد نہ ہونے دیں۔ مولانا مفتی محمود نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنی تقریر میں کہا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے اور ان پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔ ربوہ کی تلاشی لے کر وہاں سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا جائے اور فرقان فورس اور خدام الاحمدیہ جیسی نیم فوجی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرارداد کے بجائے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مشاورتی کونسل کو یہ معاملہ پیش کرنا ایک مذاق ہوگا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان، میاں طفیل محمد، سید مظفر علی شمسی، مولانا تاج محمود، علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا سید ابوذر بخاری، پیر محمد اشرف، مولانا خلیل احمد اور مولانا علی غضنفر کراروی نے بھی تقریریں کیں۔
اصغر خان پر قادیانیت نوازی کا الزام
تحریک استقلال لاہور کے اکیس کارکنوں نے تحریک کے سربراہ ریٹائر ایئر مارشل اصغر خان کے بقول ان کے قادیانی نواز رویہ کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا ہے۔ آج یہاں ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ سے اصغر خاں کے رویہ کا بغور جائزہ لے رہے تھے اور انہیں یہ دیکھ کر شدید صدمہ پہنچا کہ اصغر خاں بعض مذہب دشمن اور جمہوریت دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ ان کارکنوں نے کہا کہ تحریک استقلال کے سربراہ ربوہ کے زیر اثر ہیں۔
قادیانیوں کے سرکردہ افراد ترک وطن کر گئے
لاہور کے ایک روزنامہ کی اطلاع کے مطابق قادیانی فرقہ کے متعدد سرکردہ افراد ترک وطن کر کے ڈنمارک، نائیجیریا اور دیگر افریقی ممالک چلے گئے ہیں، ترک وطن کا فیصلہ ربوہ مجلس مشاورت کے ان خصوصی اجلاسوں میں ہوا جو گزشتہ ہفتہ کے دوران ربوہ میں ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ مرزا ناصر احمد نے ان اجلاسوں کی صدارت کی تھی اور مرزا ناصر احمد نے اپنے ایک بھتیجے مرزا طاہر احمد کو بیرون ملک احمدیہ جماعت کا دفتر قائم کرنے کے لئے جگہ کا انتخاب کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قادیانیوں کے سرکردہ افراد نے جن میں سر ظفر اللہ خان خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں، عالمی بینک پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی پچاس کروڑ ڈالر کی امداد کچھ عرصے کے لئے معرض التواء میں ڈال دی جائے۔ قادیانی رہنماؤں کا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ایسے حالات پیدا کرنا ہے جو کہ حکومت پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے باز رہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلہ سے قبل ہی اپنا ہیڈ کوارٹر ڈنمارک یا نائیجیریا منتقل کر دے گی۔
۲۶/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قادیانی مسئلہ پر اسلامی ممالک سے رائے طلب کر لی گئی
حکومت پاکستان متفقہ موقف اختیار کرنا چاہتی ہے
باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نے تمام عرب ممالک اور افریقہ کے اسلامی ممالک سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب، اردن اور لیبیا کی حکومتوں نے پاکستان کو اپنے اس موقف سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلامی ممالک کی حکومتوں کو اسرائیل میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مشن کی موجودگی پر شدید تشویش ہے اور وہ اسے عالم اسلام کے لئے ایک شدید خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان قادیانیوں کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی رائے کا خیال رکھے گی تاکہ پورا عالم اسلام اس اہم مسئلہ پر متفقہ موقف اختیار کرے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ اسلامی ممالک میں پاکستانی سفیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام حکومتوں سے رابطہ قائم رکھیں۔
حکومتی اقدام
معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق سرکاری محکموں میں کام کرنے والے بیشتر مرزائی ملازمین کو ایک سے دو ماہ کی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ نیم سرکاری اداروں میں بھی انہی ہدایات پر عمل کیا گیا اور ان ملازمین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر سے رابطہ رکھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کلیدی آسامیوں پر فائز مرزائی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی فہرستیں تیار کرنے کا پہلے ہی حکم دیا جا چکا ہے۔ بعض سرکاری محکموں میں مرزائیوں کو ہی نظم و نسق پر کنٹرول حاصل ہے اور وہ ان محکموں پر پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔
جلال پور بھٹیاں میں کوئی قادیانی نہیں رہا، آخری قادیانی بھی مشرف بہ اسلام ہوگیا
جلال پور بھٹیاں کے آخری قادیانی کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد جلال پور بھٹیاں پاکستان کا پہلا شہر ہے جو قادیانی فتنہ سے پاک ہو گیا۔ اب کوئی بھی قادیانی باقی نہیں رہا۔ آخری قادیانی جس نے اسلام قبول کیا، وہ محکمہ بجلی کا اسسٹنٹ لائن مین نور محمد تھا، اس کے والدین اور دیگر عزیز واقارب پہلے ہی مسلمان ہیں۔ نور محمد نے پانچ چھ سال قبل قادیانی مذہب قبول کیا تھا۔ نور محمد نے اسلام قبول کرتے وقت اعلان کیا کہ اسے لالچ سے بہکا کر اسلام سے دور کیا گیا تھا۔ نور محمد کے اسلام قبول کرنے کے بعد تمام اہل قصبہ نے بڑی خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور مساجد میں نوافل شکرانہ ادا کئے گئے۔
قصور، اسلامی جمعیۃ طلباء
گزشتہ شب قصور میں اسلامی جمعیۃ طلباء کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کے رہنماؤں فرید پراچہ، انور گوندل اور مسعود کھوکھر نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے میں تساہل پسندی یا مصلحت پسندی کا مظاہرہ کیا تو عوام رسول اکرم ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے لئے موجودہ حکومت سے بھی ٹکر لینے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد اور نظم وضبط قائم رکھیں اور مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کریں۔
شہریان وہاڑی کا نمائندہ اجلاس
گزشتہ روز شہریان وہاڑی کا ایک نمائندہ اجلاس مسجد مبارک اہل حدیث میں منعقد ہوا، جس میں شہر کی دینی، سیاسی سماجی اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے شمولیت کی۔ اجلاس میں واقعہ ربوہ سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ہر مسلمان، مرزائیوں کا سماجی بائیکاٹ کرے۔ اجلاس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کنوینر مولانا عبد العزیز راشد کو مقرر کیا گیا۔ اجلاس میں مسلمانان پاکستان کے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جب تک مجلس عمل کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے وہ اپنی جدوجہد پر امن طور پر جاری رکھیں گے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی وہاڑی نے ایک قرارداد کے ذریعہ واقعہ ربوہ کے بعد پے درپے طلباء اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ عوام کی تحفظ ناموس رسالت کے لئے پر امن جدوجہد میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بے جواز گرفتاریوں سے بے چینی پیدا ہورہی ہے۔
حنیف رامے کی اسمبلی میں غلط بیانی کے خلاف احتجاج
حزب اختلاف کے ڈپٹی لیڈر میاں خورشید انور اور ممتاز رکن حاجی سیف اللہ نے آج صبح صوبائی اسمبلی میں اعلان کیا کہ وہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور وزیراعلیٰ مسٹر حنیف رامے کی ہدایات درست نہیں ہے کہ اپوزیشن نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ میاں خورشید انور نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری عدم موجودگی میں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے ایوان میں کہا ہے کہ میرے اور حاجی سیف اللہ کے مشورے سے یہ طے ہوا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد اسمبلی میں پیش نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون ہم دونوں کو بلا کر لے گئے کہ متفقہ قرارداد تیار کی جائے۔ بعد میں ہم وزیراعلیٰ سے ملے جنہوں نے ایک قرارداد ہمیں دکھائی لیکن اس میں مرزائیوں کا ذکر نہ تھا۔ چنانچہ ہم نے یہ سرکاری قرارداد مسترد کر دی اور کہا کہ ہماری اپنی جو قراردادیں غیر سرکاری کارروائی کے روز پیش کی جاتی ہیں، ہم ہی پیش کریں گے۔ میاں صاحب نے کہا کہ میں نے تو گزشتہ سال بھی قرارداد کا نوٹس دیا تھا لیکن سپیکر نے اسے اپنے چیمبر میں ہی مسترد کر دیا۔ حاجی سیف اللہ نے اپنی طرف سے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے جو سرکاری قرارداد ابھی دکھائی۔ اس کا مضمون یہ تھا کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ہم اس سے متفق نہ تھے اور اصرار کیا کہ اس میں واضح طور پر کہا جائے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ورنہ اس مبہم قرارداد سے مسئلہ الجھ جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ہمارے مؤقف کے جواب میں کہا کہ ہم قرارداد میں احمدیوں کا نام درج کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ ہماری مجبوریاں ہیں، ہم نے کہا کہ آپ مجبور ہیں مگر ہم ایمان کے مقابلے میں کسی بات سے مجبور نہیں ہیں۔ آپ کی قرارداد تو مرزائیوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ مگر وزیر اعلیٰ متفق نہ ہوئے۔ انہوں نے کہا، مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں اپوزیشن کے ارکان اپنی قراردادوں پر قائم ہیں۔ ان کا نوٹس دے رکھا ہے اور بجٹ کے بعد جب غیر سرکاری کارروائی کا دن ہوگا تو ہم یہ قراردادیں ایوان کے سامنے منظوری کے لئے پیش کریں گے۔
سینئر وزیر ڈاکٹر عبدالخالق نے اس ضمن میں حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اپوزیشن اس قرارداد کے حق میں نہیں ہے۔ صرف یہ کہا تھا کہ جو بات میرے ساتھ ہوئی ہے۔ اس پر عمل نہیں ہوا۔ حکومت کو کوئی مجبوری نہیں ہے تاہم آپ لوگوں سے حکومت کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں کہ امن وامان کا قیام حکومت کا فرض ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی مرکزی معاملات کے بارے میں جب کوئی قرارداد پیش کرتی ہے تو اس کا مقصد مرکزی حکومت کی توجہ دلانا ہوتا ہے۔ احمدیوں کے معاملے میں مرکزی حکومت پہلے سے ہی متوجہ ہے اس لئے کسی قرارداد کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک ایمان وعقیدہ کا معاملہ ہے وہ ہمارا آپ کا مشترک ہے۔
گجرات میں ایس پی شریف چیمہ کے ظلم کے خلاف احتجاج
قومی اسمبلی کے رکن اور متحدہ جمہوری محاذ کے ممتاز رہنما چوہدری ظہور الٰہی نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ گجرات کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر شریف چیمہ کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے اور ان کے خلاف پرامن جلوس پر تشدد، علماء کی بے جواز گرفتاریوں اور علماء کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا کر بازار میں سے پیدل لے جانے، دور دراز تھانوں میں بند کرنے اور نماز تک پڑھنے کی اجازت نہ دینے کے الزامات کی تحقیقات کی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے سوال پر گجرات میں پرامن جلوس نکالا گیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیکن جلوس پر بے جواز تشدد کیا گیا جس کا نتیجہ اشتعال اور لوٹ مار کی صورت میں نکل سکتا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے نے اعلان کیا ہے کہ اب صوبے میں شریفوں کی حکومت ہے۔ لیکن جو کچھ گجرات میں ہوا ہے وہ اس کے مطابق نہ تھا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے توقع کی ہے کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق فوری کارروائی کریں گے اور پولیس افسروں کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایس پی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایوبی دور کے حربوں سے باز آئیں۔ لوگ ابھی تک یہ نہیں بھولے کہ انہوں نے ایوب کے خلاف مظاہروں میں لاہور میں مولانا عبید اللہ انور اور دوسرے علماء پر تشدد کیا تھا۔ چوہدری صاحب نے کہا ہے کہ مسٹر چیمہ جان بوجھ کر امن وامان کا مسئلہ پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ملتان ہول سیل کلاتھ مرچنٹ کا اجلاس
ہول سیل کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن ملتان کے اجلاس میں کہا گیا کہ یہ تنظیم مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ اجلاس میں تمام مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قادیانیوں کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ جاری رکھیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شہر کے تمام دوکاندار قادیانیوں کے مال کا اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک انہیں اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ ادھر جمعیۃ طلباء اسلام ملتان کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے لائل پور کے طالب علم رہنما محمد اشفاق بھٹہ، احمد خاں قریشی اور محمد احمد نے کہا کہ اگر ۳۰؍ جون تک مسٹر بھٹو نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا بل اسمبلی میں پیش نہ کیا تو طلباء زبردست تحریک چلائیں گے۔ اجلاس میں سرحد اسمبلی کے ارکان کو مبارک باد پیش کی گئی جنہوں نے اس مسئلے پر سب سے پہلے اور بروقت رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ انجمن تاجران اندرون حرم گیٹ کالے منڈی نے بھی اپنے اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
مرزاغلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت اور لاہوری جماعت
مرزائیوں کی لاہوری جماعت غلام احمد قادیانی کی ابتدائی تحریروں اور تقریروں کے اقتباس شائع کر کے مسلمانوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظلی، بروزی، غیر تشریعی نبوت کا منزل بہ منزل دعویٰ کرتے ہوئے مرزاغلام احمد مکمل تشریعی نبی اور تمام انبیاء بشمول حضور اکرم ﷺ سے (نعوذ باللہ) افضل ہونے کے دعوے تک پہنچے اور اسی کفریہ عقیدہ پر ان کا خاتمہ ہوا، ملاحظہ فرمائیے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا: ”میں کوئی نیا نبی نہیں، مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے ہیں۔“
(الحکم مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۸ء، مباحثہ راولپنڈی ۱۳۳)
”اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد میں مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں، نبی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ص۲۱۱، مباحثہ راولپنڈی)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر مورخہ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء، مباحثہ راولپنڈی ۱۳۷، ملفوظات ج ۵ ص ۴۴۷)
”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۱)
”اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۴۸، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۲)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت؟ وہ نبی اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے ......مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۰، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳، مباحثہ راولپنڈی ص ۸۵)
”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہے مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے نہیں مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، خزائن ج ۱۱ ص ایضاً)
”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔“
(نزول المسیح ص ۴، خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۲)
”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔“
(الہام مندرجہ تبلیغ رسالت ج ۹ ص ۲۷، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)
یہ محض ایک نمونہ ہے، ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بے شمار عبارتیں ان کے دعوائے نبوت کی شاہد ہیں، جب تک مرزا بشیر الدین محمود اور محمد علی لاہوری صاحبان کے درمیان خلافت کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا نہیں تھا، لاہوری جماعت بھی ہمیشہ مرزا غلام احمد کو صراحتاً نبی کہتی آئی ہے، مثلاً لاہوری جماعت کا اخبار ”پیغام صلح“ لکھتا تھا: ”ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔“
(پیغام صلح مورخہ ۷/ ستمبر ۱۹۱۳ء، از قادیانی مذہب ص ۲۹۱)
پورے عالم اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جھوٹے دعوائے نبوت کی بناء پر خارج از اسلام ہیں اور جس طرح ایک جھوٹے مدعی نبوت کا بھی ماننا موجب کفر ہے۔ اسی طرح اس کو مسلمان سمجھنا کفر ہے چہ جائیکہ مسیح موعود یا مجدد مہدی۔ لاہوری جماعت آج بھی اسے مسیح موعود، مہدی آخر الزمان مجدد سمجھتی ہے اور اس کی تمام تعلیمات کو واجب الاتباع قرار دیتی ہے، جو کفریات سے بھری ہوئی ہیں۔ لہٰذا مرزا کی لاہوری جماعت ہو یا قادیانی جماعت اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتی جب تک وہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے جھوٹے مدعی نبوت کو کافر قرار دے کر اس کی تمام تعلیمات سے برأت کا اظہار نہ کرے۔ مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کراچی (اشتہار)
بہاول پور، انجمن طلباء اسلام
انجمن طلباء اسلام بہاول پور کے رہنماؤں سید شاہد حسن رضوی، صاحبزادہ محمد نعیم چشتی اور نذیر مرزا نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو فوراً غیر مسلم اقلیت قرار دے اور اس فرقے کے تمام افراد کو کلیدی عہدوں سے برطرف کر دیا جائے۔ تینوں رہنماؤں نے عوام اور طلباء برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کریں اور ان سے ہر قسم کا لین دین ختم کر دیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انجمن طلباء اسلام کے کارکن یہ عزم کر چکے ہیں کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب تک ملک کے اس مسئلہ کو قطعی طور پر حل نہیں کر لیتے۔ انجمن کے کارکن مقام و نظام مصطفیٰ کے تحفظ کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو شمع رسول کے پروانے ناموس رسالت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
مجلس عمل کی طرف سے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کرنے کا اعلان
جمعیۃ علماء پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالستار خاں نیازی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی کی خصوصی دعوت پر ۲۷/ جون کو تین روزہ دورہ پر بھکر پہنچ رہے ہیں۔ مجلس عمل کے پریس نوٹ کے مطابق مولانا نیازی ۲۷/ جون کی شام کو بھکر ۲۸/ جون کو بعد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نماز جمعہ لیاقت آباد اور بعد نماز عشاء میانوالی۔ ۲۹؍ جون کو پہلے وقت میں داؤد خیل اور شام کو عیسیٰ خیل میں جلسہ ہائے عام سے خطاب کریں گے ۔مجلس عمل نے ضلع میانوالی سے قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ تحریک ختم نبوت کو کامیاب بنانے کے لئے سیاسی اختلافات سے قطع نظر مشترکہ اور واضح طور پر جامع پالیسی اختیار کی جائے ۔ بھکر میں غلام حسن خاں ڈھانڈلہ ایم۔ این۔ اے ، کیپٹن احمد فواد خاں ایم۔ پی۔ اے، لیاقت آباد میں فقیر عبدالمجید خاں ایم۔ پی۔ اے، خان تاج محمد خاں ایم۔ پی۔ اے، میانوالی میں امیر عبداللہ خاں روکھڑی ایم۔ پی۔ اے ، داؤد خیل میں نوابزادہ ملک مظفر خاں ایم۔ این۔ اے اور عیسیٰ خیل میں کرنل محمد اسلم خان ایم۔ پی۔ اے کو مجلس عمل کے جلسوں میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے۔ مجلس عمل نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ۔ مجلس عمل نے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کو احمدی قرار دینا درست نہیں ۔ اس لئے انہیں اقلیت قرار دیا جائے ۔ اقلیت قرار دیتے وقت احمدی کا لفظ استعمال نہ کیا جائے اور اس کا اطلاق قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں پر مشترکہ طور پر ہونا چاہئے۔
حافظ آباد کے عوام کا مطالبہ
دینی ، سماجی ، مذہبی ، سیاسی اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حال ہی میں تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں راولپنڈی، گجرات اور دوسرے شہروں میں جن علماء کرام اور دوسرے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان کو فوراً رہا کیا جائے ۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مسٹر محمد حنیف نارو کا بیان
رحیم یار خاں سٹی پیپلز پارٹی کے ایک اجلاس میں مسٹر محمد حنیف نارو ایم۔ پی۔ اے نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت تک ہی قادیانیوں نے ایک سازش کے تحت کلیدی عہدوں پر چھا جانے کا پروگرام بنالیا تھا۔ جس طرح امریکہ کے ہر شعبہ زندگی پر یہودیوں کا تسلط ہے۔ اسی طرح یہاں بھی قادیانی اقلیت اکثریت پر غلبہ کے خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو اس مسئلہ کو حل کر دیں گے ۔ مسٹر نارو نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کو اس مسئلہ کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ اس کا مقصد بلاوجہ موجودہ حکومت کے خلاف عوام کو بھڑکانا ہے ۔ مسٹر نارو نے مزید کہا کہ کچھ لوگ میجر عبدالنبی کانجو کا گھیراؤ کرنے اور ان کے سینے سے گولیاں پار کرنے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میجر عبدالنبی کانجو تنہا نہیں ہیں وہ ہماری پارٹی کے ایم۔ این۔ اے ہیں اور ہم سب ان کے ساتھ ہیں ایسے لوگوں کو ہم سب کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ میاں عبدالخالق صدر ڈسٹرکٹ پیپلز پارٹی نے بھی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ورکر اور عوام سے رابطہ قائم کر کے انہیں اصل حقائق سے آگاہ کر کے اپوزیشن کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا اثر زائل کریں ۔ صدر سٹی پیپلز پارٹی چوہدری محمد رمضان نے بھی کارکنوں سے خطاب کیا۔
آج کے اخبارات میں ذیل کے وضاحتی اشتہار شائع ہوئے :
ضروری اعلان
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور کی جانب سے میرے متعلق یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ میں جماعت احمدیہ (ربوہ ) یا لاہوری سے تعلق رکھتا ہوں لہٰذا میں اعلان کرتا ہوں کہ:
- ۱...... میں پیدائشی طور پر اہل سنت والجماعت کے عقیدے کا مسلمان ہوں ۔
- ۲...... کچھ عرصہ میرا تعلق لاہوری جماعت سے رہا ہے ۔ اس وقت بھی میں محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین سمجھتا رہا ہوں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... عرصہ ہوا میں نے لاہوری جماعت سے بھی تعلقات منقطع کر لئے ہوئے ہیں۔ کسی قسم کا کوئی چندہ وغیرہ بھی ادا نہیں کرتا۔
- ۴...... میرا ایمان کامل ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ہر مدعی نبوت خواہ وہ مرزا غلام احمد ہو یا
کوئی اور شخص، میں اسے کاذب و کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتا ہوں۔
نذر حسین، حصہ دار ملک آئل ملز، سمندری روڈ لائل پور
ضروری تردید
ہفت روزہ ”ستارہ صبح“ کے ضمیمہ میں میری دوکان ”پیپر کارنر“ واقع گنپت روڈ، لاہور کو قادیانیوں کی دوکان بتایا گیا ہے۔ جو سراسر کسی غلط اطلاع پر مبنی ہے۔ میں پوری ذمہ داری سے اعلان کرتا ہوں کہ میرا اس فرقہ سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور میں سنی العقیدہ مسلمان ہوں۔
منجانب: حاجی ملک محمد حنیف
پیپر کارنر، گنپت روڈ لاہور
شجاع آباد تا خانیوال
اسلامی جمعیتہ طلباء خانیوال کے قائم مقام ناظم محمد اصغر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پچھلے دنوں شجاع آباد سے لے کر خانیوال کی ناکہ بندی کر کے شریف شہریوں کو پریشان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس حرکت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی نیت صاف نہیں اور وہ جان بوجھ کر مسئلہ کو پھیلا رہی ہے تاکہ عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹ جائے جو اس وقت در پیش ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ حالات کی ذمہ داری اس پر ہوگی۔ انہوں نے ظفر اللہ قادیانی کے مبینہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے اس بیان کا، جو غداری کے مترادف ہے، فوری طور پر نہ صرف نوٹس لے، بلکہ ان کا پاکستان میں داخل ہونے کا پاسپورٹ منسوخ کر کے پاکستان میں ان کی جائیدادوں کی ضبطی کے احکام جاری کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت مرزا ناصر احمد کو فوری طور پر گرفتار کرے۔
مرزائیت سے توبہ کر لی
۲۵؍ جون گزشتہ دن ایک مرزائی مسمی محمد طفیل حاجی عبدالجبار امیر جماعت اسلامی تاجگڑھ و خطیب جامع مسجد تاجگڑھ کے ہاتھ پر مرزائیت سے توبہ کر کے مشرف بہ اسلام ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو کاذب، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کیا۔
ڈسکہ قادیانی محاسبہ کمیٹی
قادیانی محاسبہ کمیٹی ڈسکہ کے جنرل سیکرٹری سید غلام عباس نقوی نے اسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ وہ قانون اور امن عامہ کا احترام کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے کے سلسلہ میں اپنی موجودہ جدوجہد کو حصول مقصد تک پورے جوش و خروش اور لگن کے ساتھ جاری رکھیں۔ وہ گزشتہ رات جامع مسجد سلیمان والی میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ارباب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسلام اور پاکستان کے اعلیٰ تر مفادات کے پیش نظر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں مملکت کے کلیدی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عہدوں سے الگ کر دینے کے مطالبہ کو بلا تاخیر تسلیم کر لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سواد اعظم کے اس متفقہ فیصلہ کو منظور کرنے میں اگر ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اس مطالبہ کو پورے عالم اسلام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔
گوجرہ، انجمن صرافہ و کریانہ ایسوسی ایشن کا فیصلہ
اہالیان گوجرہ نے مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی مرزائی کے ساتھ لین دین کیا تو اس کا بھی بائیکاٹ کر دیا جائے گا، یہ فیصلہ انجمن صرافہ اور کریانہ ایسوسی ایشن نے کیا ہے۔
تاندلیانوالہ میں مجلس عمل کی اپیل پر مکمل ہڑتال
جمعیتہ العلمائے اسلام ہزاروی گروپ ضلع لائل پور کے جنرل سیکرٹری اور مجلس عمل تاندلیانوالہ کے کنوینر مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی نے جمعتہ المبارک کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی۔ جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے۔ مولانا نے بھٹو کی تقریر کے اس حصہ کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے مرزائیوں کے مسئلہ کو ۳۰/ جون کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مولانا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حلقہ کے رکن قومی اسمبلی کو مجبور کریں کہ وہ مرزائیوں کے خلاف ووٹ دے کر عوام کے مطالبات کی ترجمانی کریں تاکہ اس طرح یہ مسئلہ حل ہو سکے۔ آخر میں مولانا نے اجتماع سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں سے ہر طرح کا لین دین بند کردیں۔ اجتماع میں دوسرے مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
شیخ منیر احمد خاں چیئرمین ایٹمی توانائی کمیشن قادیانیت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھتے
”بعض حلقوں میں یہ انتہائی گمراہ کن غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے کہ منیر احمد خاں چیئرمین ایٹمی توانائی کمیشن کا قادیانیت سے کوئی تعلق ہے۔ منیر احمد خاں صاحب شیخ خورشید احمد مرحوم سابق وزیر قانون حکومت پاکستان کے برادر اصغر اور شیخ مقبول احمد ریٹائرڈ جج کے صاحبزادے ہیں۔ ان کا یا ان کے کنبے کے کسی فرد کا لاہوری یا قادیانی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہے اور نہ کبھی تھا۔ ان کے خاندان کا ہر فرد اہل سنت والجماعت کے عقائد رکھتا ہے۔ ان کا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ختم المرسلین ہونے پر پورا ایمان ہے۔“
(آغا شورش کاشمیری، مدیر چٹان لاہور)
قائدآباد میں جلسہ عام
پنجاب یونیورسٹی کے صدر مسٹر فرید احمد پرچہ نے کہا کہ ملک بھر کے طالب علم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ آج دوپہر شمس میڈیکل ہسپتال کی چار دیواری میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جس کی صدارت یعقوب نیازی نے کی۔ انہوں نے کہا اسلامی جمعیتہ طلباء ملک کے قریہ قریہ میں تحریک ختم نبوت کا پیغام پہنچائے گی اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عوام کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا طلباء نے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں طلباء کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا قادیانی ہمارے ملک کے جاسوس ہیں اور وہ وطن دشمن سازشیں کر رہے ہیں۔ طالب علم رہنما ملک فیروز قیصر اترا نے کہا نئی نسل قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ برسر اقتدار طبقہ اس مسئلہ کو التواء میں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا اگر وزیر اعظم بھٹو مرزائیوں کو غیر مسلم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرار دے دیں تو ان کے اقتدار پر جو بھی ہاتھ اٹھے گا ہم اسے روکیں گے اور ان کی حکومت کا مکمل تحفظ کریں گے۔ ڈاکٹر شمس الدین نے خطاب کرتے ہوئے قادیانی مسئلہ سے متعلق مسٹر بھٹو کی تقریر پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ہم ہر حالات کا مقابلہ کریں گے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت دلوا کر ہی دم لیں گے۔ اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے مرزائیت سے تائب ہونے پر سید احمد علی شاہ، مبارک علی شاہ، علی شاہ، مرزا انور بیگ کو مبارک باد دی اور ان کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ثابت قدم رکھے۔
جاوید ہاشمی کا اخباری بیان
ملتان: پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین مسٹر جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی کو خبردار کیا ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبے میں ٹال مٹول برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے آج یہاں ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم بھٹو نے بھی اس مسئلہ پر ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم ۳۰؍ جون تک اس بات کا انتظار کریں گے کہ مرزائیوں کے متعلق امت مسلمہ کی امنگوں کو پورا کیا جائے۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے بہاول پور میں کہا تھا کہ وزیر اعظم بھٹو کو ہم تحریک ختم نبوت کا مخالف نہیں سمجھتے۔ طالب علم رہنما نے کہا میں نے صرف یہ کہا تھا کہ طلباء کی لڑائی براہ راست قادیانیوں سے ہے اور وزیر اعظم بھٹو کی حکومت بلاوجہ طلباء کو گرفتار کر کے اس میں فریق بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں تمام اسیر طلباء، رہنماؤں، علمائے کرام اور شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔
گکھڑ میں بائیکاٹ مہم
گکھڑ میں بھی دوسرے شہروں اور قصبوں کی طرح قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ شروع ہو چکا ہے۔ بائیکاٹ کی اپیل جمعہ کے روز مقامی علماء نے کی تھی اور مساجد میں شہریوں سے ہاتھ اٹھوا کر یہ عہد لیا تھا کہ وہ قادیانیوں سے ہر قسم کا بائیکاٹ کریں گے۔ چنانچہ ان کی اپیل اور طلباء کی ترغیب پر بیشتر دوکانداروں، تجارتی اداروں اور صنعت کاروں نے قادیانیوں سے ہر قسم کا لین دین ختم کر دیا ہے۔
نیپ کی پالیسی سے اختلافات
سندھ نیپ کے صدر ممتاز خٹک اور جنرل سیکرٹری علی احمد بلوچ نے ایک مشترکہ بیان میں قادیانیوں کے خلاف تحریک میں نیپ کی شرکت پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیپ ایک سیکولر تنظیم ہے جو فرقہ بندی کے خلاف ہے۔ تحریک کو ہوا دینے کے لئے یہ جماعت کس طرح کسی کی آلہ کار بن سکتی ہے۔
لائل پور قادیانی فائرنگ کیس
ڈی۔آئی۔جی سرگودھا میاں قیوم نے ڈی ٹائپ کالونی میں فائرنگ کے حالیہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے ڈی۔ایس۔پی سٹی خان منظور کو مقرر کر دیا ہے، وہ گزشتہ رات اس کالونی کے دو فرقوں میں تصادم کے واقعہ کی چھان بین کے لئے یہاں آئے تھے۔ مجلس عمل کے ارکان نے ان سے شکایت کی تھی کہ اس آبادی کے ایس۔ایچ۔او کا رویہ جانبدارانہ ہے اور مطالبہ کیا تھا کہ تحقیقات کسی غیر جانبدار افسر کے سپرد کی جائے۔ ڈی۔ایس۔پی نے آج واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ گواہوں نے بتایا کہ قادیانیوں کی اشتعال انگیزیوں سے اس آبادی کی امن عامہ کی صورتحال غیر اطمینان بخش ہوگئی ہے۔ تاہم مرزائی فرقہ کے الٰہی بخش نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پرامن مسلمانوں پر فائرنگ کر کے مزید اشتعال دلایا اور بعد ازاں پولیس کو ہوائی فائرنگ کر کے جلوس کو منتشر کرنا پڑا۔ اس وقت مرزائیوں کی املاک کی حفاظت کے لئے پولیس کی بھاری جمعیت مقرر کر دی گئی۔
مجلس عمل اور شہری عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے ہی اسلحہ تقسیم کیا گیا ہے۔ اس لئے ان سے اسلحہ برآمد کیا جائے تاکہ امن عامہ کی صورتحال بگڑنے نہ پائے۔ ان حلقوں نے فائرنگ کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
علی پور، نوابزادہ نصر اللہ خان کا خطاب
قادیانی اکھنڈ بھارت بنانے کے لئے پاکستان کے ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ قادیانی اب بھی اکھنڈ بھارت کے حق میں ہیں اور وہ بچے کھچے پاکستان کے مزید ٹکڑے کر کے اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ نوابزادہ نے کہا کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ قادیانی اب بھی اپنے مردوں کو ربوہ میں امانتاً دفن کرتے ہیں تاکہ موقعہ ملنے پر وہ اپنے مردوں کو قادیان لے جائیں۔ یہ بات علی پور کی مدنی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انگریزوں نے مسلمانوں کا جذبہ جہاد ختم کرنے اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی سے فائدہ اٹھایا۔ نوابزادہ نے کہا کہ اسلامی مشاورتی کونسل میں وہ مسئلہ جاتا ہے جس کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں مسلمانوں کے کسی بھی فرقے میں اختلاف نہیں۔ اس لئے اسے اسلامی مشاورتی کونسل میں بھیجنا مسئلہ کو ٹالنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے اسلامی مشاورتی کونسل کے ارکان پر بھی اپنے شک و شبہ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے ارکان میں سوائے ایک دو کے باقی سب حکومت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے لاہوری اور قادیانی دونوں کو کافر قرار دے دیا ہے تو پنجاب اسمبلی کو بھی اس بارے میں اپنا فیصلہ سنا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ۳۰؍ جون کو مجلس عمل کے رہنما راولپنڈی میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اگر اس وقت تک حکومت نے کوئی فیصلہ نہ کیا تو مجلس عمل سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے موجودہ دور میں مہنگائی اور رشوت ستانی کے بارے میں بھی حکومت پر سخت تنقید کی۔ اس سے قبل جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ملتان کے قاری نور الحق نے کہا کہ جب شیخ مجیب الرحمٰن کو چھوڑنے کا وقت آتا ہے تو کسی اسمبلی کا انتظار نہیں کیا جاتا۔ مارشل لاء بڑھانے کے لئے پارٹی کے ممبروں کو مجبور کیا جا سکتا ہے تو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں دیر کیوں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کے ممبروں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں ذرا بھر بھی روگردانی کی تو انہیں واپس حلقے میں آنے نہیں دیا جائے گا۔
رکن قومی اسمبلی میاں ساجد پرویز، ملتان
قومی اسمبلی کے رکن میاں ساجد پرویز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو قادیانیوں کا مسئلہ جمہوری اصولوں کے مطابق حل کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے اور اس مسئلہ پر وہ اپنے چیئرمین کی پیروی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دوسری سیاسی شخصیتوں نے قادیانیوں کے مسئلہ پر قومی اسمبلی کے ارکان سے رابطہ کی مہم شروع کی ہے۔ اس سلسلہ میں جب ان سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور قادیانیوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے وزیر اعظم بھٹو جو کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے پر زور حامی ہیں یہ مسئلہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ کسی سیاسی جماعت یا تنظیم کا اپنا مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ کوئی انفرادی موقف اختیار نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کسی دوسری جماعت کی تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم بھٹو اس مسئلہ کو حل
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس کو پہلے کبھی سنجیدگی کے ساتھ مستقل طور پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
سیالکوٹ
مقامی ٹرنک اور بانو بازار کے دوکانداروں اور تاجروں کا ایک مشترکہ اجلاس مدینہ مسجد میں ہوا جس میں مشترکہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ قادیانیوں سے سماجی ، معاشرتی اور کاروباری طور پر مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور یہ بائیکاٹ مکمل طور پر جاری رہے گا۔ جب تک کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا جلسہ سے حافظ منظور احمد نے بھی خطاب کیا۔
شیخوپورہ کی مجلس عمل کا اعلان
شیخوپورہ میں مجلس عمل ختم نبوت کی اپیل پر قادیانیوں کا سماجی بائیکاٹ جاری ہے۔ دوکانوں پر قادیانیوں کا آنا منع ہے کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ مقامی علماء نے شہر میں نماز عشاء کے بعد روزانہ جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں آج آٹھویں روز ایک جلسہ عام پرانا شہر میں نیم والی مسجد میں ہوا۔ جلسے کے حاضرین سے قادیانیوں کا سماجی بائیکاٹ جاری رکھنے کے لئے کہا گیا۔
فیض مصطفیٰ گیلانی ملتان
مسلم لیگ قیوم گروپ ملتان کے رہنما مخدوم زادہ سید فیض مصطفیٰ گیلانی رکن صوبائی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا بل پاس کر کے حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت اور محبت کا اظہار کریں اور مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبے پر بھی زور دیں۔ سید فیض مصطفیٰ گیلانی نے سرحد اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا جس نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے بارے میں قرارداد منظور کی ہے۔
لاہور میں جلسہ عام
جمعیتہ علماء پاکستان کے رہنماؤں نے آج مغربی مسجد سلامت پورہ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرزائیوں کو فوری طور پر اقلیت قرار دیا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر وہاں مسلمانوں کو آباد کیا جائے تمام قادیانیوں کی عسکری و نیم عسکری تنظیموں کو خلاف قانون قرار دیا جائے اور مرزائیوں کی تمام منقولہ و غیر منقولہ املاک کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دیا جائے۔ ان رہنماؤں نے تمام مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مرزائیوں کا ہر شعبہ زندگی میں مکمل سماجی، تجارتی بائیکاٹ کریں۔ جلسہ سے جمعیتہ علمائے پاکستان پنجاب کے سینئر نائب صدر علامہ مولانا مفتی مختار احمد صدر مجلس ختم نبوت لاہور، علامہ قاری غلام رسول ، صاحبزادہ فیض القادری ، ناظم اعلیٰ جمعیتہ العلماء پاکستان لاہور نے خطاب کیا۔
ایک اور اشتہار ملاحظہ ہو:
ضروری اعلان
ہمیں یہ جان کر دکھ ہوا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہمارا تعلق احمدی ، لاہوری ، یا قادیانی جماعت سے ہے۔ میں اس غلط فہمی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور کرنے کے لئے وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ڈائریکٹران:
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۱ کالونی تھل ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، اسماعیل پور بھکر
- ......۲ کالونی فلور ملز، فیکٹری ایریا لائل پور
- ......۳ عزیز ماڈل جنگ فیکٹری ملتان
- ......۴ شمسی انڈسٹریز لمیٹڈ گوجرانوالہ
کا مذہبی لحاظ سے احمدی، لاہوری یا قادیانی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سب کا یہ ایمان ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی کسی قسم کا مدعی نبوت، خواہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہی کیوں نہ ہو، کاذب، کافر اور خارج از دائرہ اسلام ہے۔
میاں الماس عزیز شیخ ڈائریکٹر کالونی تھل ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ اسماعیل پور بھکر، کالونی فلور ملز فیکٹری ایریا لائل پور عزیز ماڈل جنگ فیکٹری ملتان، شمسی انڈسٹریز لمیٹڈ گوجرانوالہ
بائیکاٹ جاری رہے گا
سیالکوٹ میں مرزائی اداروں میں تیار کردہ مصنوعات:
- ......۱ رشید برانڈ چولہے ۔
- ......۲ عیسیٰ ورک سینٹری فٹنگ ۔
- ......۳ ایٹ مور آئس کریم ۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، سیالکوٹ
اطلاع
کاروباری دشمنی کی بناء پر ہمارے متعلق یہ غلط افواہ ہے کہ ہمارا تعلق احمدی فرقہ سے ہے۔ یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ ہم حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
حاجی افتخار احمد انصاری فارمیکس ڈی پاک، کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ نزد سبحانی ہسپتال، لیاقت آباد کراچی
آج کے نوائے وقت میں بہت بڑا ذیل کا اشتہار شائع ہوا۔
وضاحت
میں پیدائشی طور پر لاہوری جماعت میں تھا۔ لیکن ۱۹۶۸ء یعنی عرصہ ۶ سال سے بوجہ اختلاف ایمان میں نے لاہوری جماعت احمدیہ سے ہمہ قسم کا تعلق منقطع کر دیا ہوا ہے۔ لہٰذا تعلق منقطع کرنے کے بعد میں نے یا کسی ایسی کمپنی نے جو میرے زیر اثر کام کرتی ہو کسی مرزائی ادارہ، لاہوری یا قادیانی کو چندہ نہیں دیا۔ ’’میرا ایمان کامل ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان کے بعد ہر مدعی نبوت، خواہ وہ مرزا غلام احمد ہو یا کوئی اور شخص، کاذب، کافر اور خارج از دائرہ اسلام ہے۔‘‘
شیخ میاں آفتاب احمد (چیئرمین) سن شائن کاٹن ملز لمیٹڈ، شیخوپورہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۷؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
وفاقی وزیر قانون کا بیان
قومی اسمبلی کے اسپیکر نے آج ایوان میں مختلف ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی استحقاق کی تمام تحاریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیں۔ ان میں سرگودھا سے پیپلز پارٹی کے رکن چوہدری جہانگیر علی کی طرف سے سرگودھا بار ایسوسی ایشن کی ان پر کی جانے والی نکتہ چینی کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک استحقاق بھی شامل ہے۔ چوہدری جہانگیر علی نے کہا کہ انہوں نے ربوہ کے واقعہ پر بحث کے بارے میں اس ماہ ایوان میں پیش کی جانے والی التواء کی تحریک کے جواز کی نئی وجوہ کی بناء پر مخالفت کی تھی۔ کیونکہ یہ مسئلہ پہلے ہی ٹربیونل کے سامنے زیرغور تھا۔ لیکن سرگودھا بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری محمد اکبر چیمہ اور بار کے بعض دوسرے ارکان نے ۴؍ جون کو ایک قرارداد منظور کی ، جس میں ان پر قومی اسمبلی میں ربوہ کے واقعہ پر بحث کے لئے پیش کی جانے والی التواء کی تحریک کے جواز پر فنی اعتراض کی بناء پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور بار ایسوسی ایشن کی اس قرارداد کی بناء پر ان کے استحقاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اس بات کا تعین مطلوب ہے کہ آیا بار کی قرارداد کے ذریعے چوہدری جہانگیر علی پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان کی کوئی خدمت نہیں ہوگی کہ ارکان پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ ایوان میں پیش ہونے والے نہایت اہم مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایوان میں پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ارکان کو اس مسئلے پر اظہار خیال کی آزادی ہوگی۔ سپیکر نے اس بات کے تعین کے لئے کہ یہ بات استحقاق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، چوہدری جہانگیر علی کی تحریک استحقاق ، متعلقہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کردی۔
لندن سے ظفر اللہ پھر بولے
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے اعلان کیا ہے کہ احمدیہ فرقہ کے افراد پاکستان میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی مہم کی بھر پور مزاحمت کریں گے ۔ آج ایک انٹرویو دیتے ہوئے ۸۱ سالہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ ہم اس قسم کی ہر مہم کے خلاف آئینی اور پرامن لڑائی لڑیں گے اور اس کی خاطر ہم کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ اس لئے کہ یہ ہمارے ایمان کی آزمائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے پہلے ’’مسلمان‘‘ کی تعریف پر اتفاق ہونا چاہئے اس قسم کی ہر مہم سے سنگین نوعیت کی آئینی و قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور نتائج برآمد ہوں گے۔ لندن کے احمدی سینٹر میں ، جہاں وہ ایک کمرہ میں قیام پذیر ہیں ۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے اعلان کیا کہ جو لوگ احمدیوں کے خلاف اس قسم کے ہتھکنڈوں اور کارروائیوں میں ملوث ہیں ، وہ مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کو مسلمان تصور نہیں کرتے ہیں جو ہمیں کافر قرار دیتے ہیں ۔ ظفر اللہ خان نے کہا کہ احمدیہ جماعت کے ہیڈ کوارٹر کو ربوہ سے منتقل کر کے پاکستان سے باہر لے جانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ اس قسم کا کوئی امکان نہیں ہے، ہم زندہ یا مردہ پاکستان میں رہیں گے۔ ظفر اللہ خان نے ان الزامات کی تردید کی کہ انہوں نے اپنی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری کی توجہ پنجاب کی صورتحال کی جانب مبذول کرائی تھی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ نقصانات کا اندازہ لگائیں اور ضروریات کے لئے رقم کا تخمینہ تیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ خود پاکستان میں لوگ اپنی کارروائیوں سے پاکستان کے وقار کو مجروح کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ انہوں نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیرونی طاقتوں سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد وہ شخص ہیں جنہوں نے شاہ فیصل سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں اور پاکستان حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ احمدیوں کو کافر قرار دے۔
ظفر اللہ خاں نے دعویٰ کیا کہ قائد اعظم مجھے مسلمان سمجھتے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قائد اعظم نے ۱۹۳۹ء میں بھارت کی غیر منقسم مرکزی اسمبلی میں ۱۹۳۸ء کے تجارتی معاہدہ کی یہ کہہ کر حمایت کی تھی کہ وہ اس تجارتی معاہدہ کو ایک اچھے معاہدہ کے طور پر قبول کریں گے۔ اس لئے کہ ایک مسلم وزیر ظفر اللہ خان نے یہ معاہدہ طے کیا ہے۔ تاہم ظفر اللہ خان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس لئے کہ احمدی غیر احمدیوں کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے ہیں، یہ اس لئے کہ غیر احمدیوں نے احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے دیئے ہیں۔ اگر یہ فتویٰ واپس لے لئے جائیں اور ہمیں بطور مسلمان قبول کر لیا جائے تو ہم یقیناً غیر احمدیوں کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ سر ظفر اللہ خان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس سال (۱۹۷۴ء) یکم مئی سے ۳ مئی تک قادیان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خفیہ طریقے سے وہاں نہیں گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر داخلہ خان قیوم نے مجھے لاہور سے بذریعہ کار قادیان جانے کی زبانی اور تحریری اجازت دی تھی میں تنہا نہیں تھا۔ میرے ساتھ پچیس احمدیوں کی جماعت تھی۔ ظفر اللہ خان اپنے ان الزامات کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے کہ حکومت کی شہ پر احمدیوں کے خلاف فسادات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا تاثر ہے کہ صوبائی حکام کا اس گڑبڑ کے پیچھے ہاتھ تھا۔
(امروز لاہور، مورخہ ۲۷؍ جون ۱۹۷۴ء)
نوٹ: چوہدری ظفر اللہ نے کہا کہ وہ پاکستان سے اپنا ہیڈ کوارٹر تبدیل نہیں کریں گے، جب کہ آج دنیا بھر کے قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر لندن ہے۔ ربوہ صرف پاکستان کا قادیانی مرکز ہے، لندن پوری دنیا کے قادیانیوں کا مرکز ہے۔ مرزا طاہر نے ربوہ کی بجائے لندن کو ہیڈ کوارٹر بنانے کا فیصلہ جماعت کے آئین میں تبدیل کر کے کیا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں سینئر وزیر کا بیان
پنجاب کے سینئر وزیر ڈاکٹر عبدالخالق نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی طرح حکومت کا بھی ختم نبوت پر ایمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کے قیام کے سلسلے میں حکومت کی کچھ مجبوریاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن اسے ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے متعلق قرارداد میں احمدیوں کا نام نہ رکھنے کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ وہ آج صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے دو ارکان میاں خورشید انور اور میاں سیف اللہ کے بیانات کا جواب دے رہے تھے۔
۲۸؍ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ستر ارکان پنجاب اسمبلی کی قرارداد
پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے حزب اختلاف نے آج اس وقت واک آؤٹ کیا جب سپیکر شیخ رفیق احمد نے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے ستر اراکین کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کو ایوان میں زیر بحث لانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے ایوان میں ختم نبوت زندہ باد اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دو کے نعرے بھی لگائے۔ آج صبح ایوان کا اجلاس ایک گھنٹہ ۲۵ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ارشد نے کہا کہ سرحد اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی متفقہ قرارداد منظور کی ہے اور سندھ اسمبلی میں بھی حزب اختلاف اور قائد ایوان کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف واقتدار کے ستر ارکان کے دستخطوں سے یہ قرارداد پیش کی گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کو ایوان میں زیر بحث لایا جائے۔ سپیکر شیخ رفیق احمد نے کہا کہ میرا اور تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی مدعی نبوت ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد کو پیش کرنے کے لئے قواعد وضوابط ہیں اور میں اس ضمن میں قواعد معطل نہیں کر سکتا۔
علامہ رحمت اللہ ارشد: جناب والا! قواعد کو معطل کیا جائے۔ سپیکر اگر کوئی نیا رکن یہ بات کرتا تو میں کچھ نہ کہتا لیکن آپ ضابطوں اور ایوان کی روایات کو جانتے ہیں۔
راجہ محمد افضل: جناب والا! یہ ہمارے ایمان اور غیرت کا مسئلہ ہے۔
سپیکر: میں راجہ صاحب سے یہ پوچھ سکتا ہوں کہ ۲۵ / جون کے بعد انہیں اس کا خیال کیوں آیا۔
علامہ رحمت اللہ ارشد: یہ تحریک میری ہے اور اس کو زیر بحث لایا جائے۔
سپیکر: آپ جانتے ہیں کہ تحریک کس طرح پیش کی جاسکتی ہے۔
امیر عبداللہ روکڑی: جناب والا! قرارداد پر ستر افراد کے دستخط موجود ہیں۔ ہمارے پاس اکثریت ہے اور اکثریت کی بات تسلیم کر لینی چاہئے۔
سپیکر: قواعد کے لئے کسی اکثریت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے: جناب والا! یہ قرارداد پہلے بھی ایوان میں پیش ہوئی تھی جس پر آپ نے فیصلہ دیا تھا اور حزب اختلاف واک آؤٹ کر گئی تھی، لیکن حزب اختلاف نے کل اور آج ایوان کی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ضابطہ کے مطابق یہ قرارداد ایوان میں پیش ہوگی تو اس پر بات ہو جائے گی۔ انہوں نے سرحد اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے اس مسئلہ پر سب سے پہلے اظہار خیال کیا ہے اور وہ اتنا واضح تھا کہ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو لاہور آئے اور اعلان کیا کہ قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مسئلہ میں پیش قدمی کی ہے اور قوم کے لئے ایک راستہ متعین کیا ہے لیکن حزب اختلاف کی طرف سے بغیر کسی وجہ کے بار بار اشتعال پیدا کیا جا رہا ہے۔
علامہ رحمت اللہ ارشد: جناب! ہم نے ایوان کی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔ اب جب سرحد اسمبلی نے قرارداد منظور کی ہے اور سندھ اسمبلی میں کل متفقہ فیصلہ ہو رہا ہے تو ضروری ہے کہ پنجاب اسمبلی بھی اس ضمن میں پیچھے نہ رہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب: اسمبلی نے اس ضمن میں کتنا حصہ لیا ہے۔
علامہ ارشد: قرارداد منظور کی جائے۔
سید تابش الوری: جناب والا! ستر ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قرارداد کو زیر بحث لایا جائے۔
اسپیکر: میں رولز معطل نہیں کر سکتا۔
سید تابش الوری: جناب والا! مبارک باد دیتا ہوں۔ بھٹو صاحب پر اعتماد کا اظہار کرنا ہو تو قواعد معطل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ختم نبوت کا مسئلہ ہو تو قواعد معطل نہیں ہو سکتے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاجی سیف اللہ: یہ طے ہوا تھا کہ بجٹ اجلاس کے بعد قرارداد منظور کی جائے گی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ۲۸ / جون سے ۱۰ / جولائی تک کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کی جارہی ہے۔ ہم نے عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنی ہے۔ اگر ۲۹ / جون کو غیر سرکاری ممبروں کا دن مقرر کر دیا جائے تو پھر ہم قرارداد اس دن پیش کریں گے۔ یہ قانونی اخلاقی اور سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے جس کے لئے ہم کوئی اخلاقی، قانونی بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ سیاسی مقاصد کے لئے ایوان میں بے قاعدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ کیا قواعد و قانون حزب اختلاف ہی کے لئے ہے؟ جب کہ بہت سے مواقع پر اسمبلی کے قواعد معطل کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔
سپیکر: اب ہمیں مطالبات زر پر غور کرنا چاہئے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے مطالبہ نمبر ۱۱ پڑھا لیکن حزب اختلاف کے تمام اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اصرار کیا کہ قرارداد پر ایوان میں بحث کی جائے۔
سپیکر: قرارداد ایوان میں پیش نہیں ہوئی۔
حاجی سیف اللہ: قرارداد ایوان میں پیش ہو گئی ہے۔
سپیکر: آپ کے کہنے سے پیش نہیں ہو سکتی۔
اس موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے ”ختم نبوت زندہ باد“ اور ”قادیانیوں کو اقلیت قرار دو“ کے نعرے لگائے اور قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے کہا کہ آپ نے اکثریت کے احترام کا خیال نہیں کیا ہے۔ اس لئے ہم بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہم کل بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ کونسل مسلم لیگ کے رکن چوہدری محمد نواز نے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا واک آؤٹ کے بعد وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ سرحد اسمبلی میں یہ قرارداد کس وقت پاس ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے بہت بڑے دوست جو اکثر کابل تشریف لے جاتے ہیں۔ ان دنوں کابل میں تھے وہ بھاگم بھاگ پاکستان آئے اور قرارداد کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات چیت کی ہے۔ وہ بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ جب وزیر اعظم نے اعلان کر دیا ہے کہ ختم نبوت پر ہمارا ایمان ہے اور دستور میں ختم نبوت کو تحفظ دیا گیا ہے اور جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا۔ ہم اسے مسلمان نہیں سمجھتے۔ اس لئے سندھ اسمبلی میں یہ معاملہ پیش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قتل و غارت گری کی باتیں کی جارہی ہیں تاکہ بعض لوگوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ سب کچھ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملہ کا فیصلہ، قاعدے آئین اور اصول کے مطابق کریں گے۔ ہم اتنا کچھ کریں گے کہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا۔
مولانا محمد ذاکر
جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا محمد ذاکر نے اپنے ایک تحریری بیان کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور اسلام کی برتری بحال رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ احمدی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کلیدی آسامیوں سے انہیں الگ کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے، تاکہ نظریہ پاکستان اور ملکی سالمیت کا کما حقہ تحفظ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی یہ رائے ہے۔ چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی جدول سوم دفعہ ۴۲ کی رو سے مرزائی اپنے عقائد کے لحاظ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جس کے ثبوت میں ان کا شائع شدہ لٹریچر شاہد ہے اور ان کی طرف سے اس قسم کا اظہار مسلسل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہبی اختلاف کے علاوہ سماجی اور سیاسی حیثیت سے پاکستان میں یہ اپنے آپ کو ایک الگ فرقہ سمجھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت سے ہی انہوں نے اپنی جماعت کا ایک حصہ قادیان میں متعین کر رکھا ہے تاکہ ضرورت کے وقت کام آسکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ حادثہ ربوہ اسٹیشن اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ دراصل ان کا پروگرام پاکستان میں اپنی ریاست قائم کرنا ہے۔ جس کا اظہار مختلف موقع پر ان کے کارکنوں کی طرف سے ہوتا آرہا ہے۔ اس لئے اس فرقہ کو معمولی تصور نہ کیا جائے۔ بیشتر اسلامی ممالک اس فرقہ پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔
خاکسار تحریک
خاکسار تحریک سیالکوٹ کے جنرل سیکرٹری طارق محمود بٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب جناب حنیف رامے سے اپیل کی ہے کہ وہ راولپنڈی، اسلام آباد، گجرات اور دوسرے شہروں میں گرفتار شدہ علماء اور طلباء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
فورٹ عباس، جلسہ عام
پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم رہنما مسٹر رؤف طاہر نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن ختم ہوتے ہی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف بل پیش نہ کیا گیا تو طلباء اپنے مطالبات کی منظوری اور تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے لئے بھر پور تحریک چلائیں گے۔ گزشتہ روز یہاں اسلامی جمعیت طلباء کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنما نے کہا کہ ہمارے مقابلے میں فریق صرف قادیانی ہیں۔ انہوں نے کہا اگر حکمران پارٹی نے اس مسئلہ پر عوام کے جذبات و خواہشات کا احترام کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لینے کی کوشش کی تو ہم قادیانیوں کے علاوہ حکمران پارٹی کے خلاف بھی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ جلسہ عام سے دیگر طالب علم رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اسلامی جمعیت طلباء کے پریس ریلیز کے مطابق جامع مسجد ہارون آباد میں بھی ایک جلسہ عام ہوا جس سے ہیلی کالج آف کامرس لاہور کے صدر حافظ عتیق الرحمٰن، گورنمنٹ کالج رحیم یار خان کے صدر زین العابدین عباسی اور ڈگری کالج ہارون آباد کے سیکرٹری ارشاد قمر نے خطاب کیا۔
علامہ رحمت اللہ ارشد نے قرارداد کا متن اور دستخط کرنے والے ارکان کے نام جاری کر دیئے
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے آج ایوان سے واک آؤٹ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اس قرارداد کا متن جاری کیا جو انہوں نے اپوزیشن اور حزب اقتدار کے ستر ارکان کی حمایت سے آج ایوان میں منظوری کے لئے پیش کی تھی۔ لیکن جسے سپیکر نے پیش کرنے کی اجازت نہ دی۔ علامہ نے قرارداد پر دستخط کرنے والے ۷۰ ارکان کے نام بھی بتائے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل مسلم لیگ کے چوہدری محمد نواز نے اس واک آؤٹ میں ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کر کے انہیں اپوزیشن سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا انڈونیشیاء کی صبوحی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی شیخ صبوح کے عقائد سے میرا کوئی واسطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مسٹر رامے شیخ صبوح کو ماننے والے ہیں۔
ایوان میں ڈپٹی لیڈر حزب اختلاف میاں خورشید انور نے کہا کہ گزشتہ رات سابق وزیر چوہدری ممتاز احمد کاہلوں، علامہ ارشد صاحب کے پاس آئے اور انہوں نے نہ صرف قرارداد پر دستخط کئے بلکہ ختم نبوت پر خاصی دیر گفتگو کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اراکین نے آج دستخط کر کے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا ہے۔ حزب اختلاف آئندہ ان سے کوئی تعاون نہیں کرے گی اور نہ ہی ان کے
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استحقاق کی حمایت کرے گی۔ آج ۷۰ اراکین کی جانب سے جو قرارداد پیش کی گئی اس میں کہا گیا کہ : ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عالم اسلام اور دنیا کے تمام دینی مکاتب فکر کے متفقہ فیصلہ کے مطابق ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے کی بناء پر تمام مرزائیوں، قادیانیوں (لاہوری جماعت احمدیہ سمیت) کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور مرزائی اوقاف کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ قرارداد پر حکمران جماعت کے جن اراکین نے دستخط کئے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہیں۔ (۱) قاضی محمد اسماعیل جاوید، (۲) سابق وزیر مسٹر ممتاز احمد کاہلوں، (۳) سابق صوبائی وزیر مسٹر عبدالحفیظ کاردار، (۴) محترمہ بلقیس حبیب اللہ، (۵) محترمہ حسینہ بیگم، (۶) مس ناصرہ کھوکھر، (۷) سید فدا حسین، (۸) فقیر عبدالمجید، (۹) سردار محمد عاشق، (۱۰) رانا پھول محمد خان، (۱۱) بیگم آباد احمد خان، (۱۲) چوہدری محمد حنیف، (۱۳) مسٹر محمد حنیف، (۱۴) چوہدری محمد انور، (۱۵) سید الطاف حسین، (۱۶) سید تقی شاہ، (۱۷) مسٹر اختر عباس بھروانہ، (۱۸) ملک محمد علی، (۱۹) مسٹر خالد نواز وٹو، (۲۰) سید کاظم علی شاہ، (۲۱) مسٹر محمد انور، (۲۲) سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد انور سلمان، (۲۳) رانا شوکت محمود، (۲۴) چوہدری شاہ نواز، (۲۵) خان محمد کھوکھر، (۲۶) حافظ علی اسد اللہ، (۲۷) مسٹر محمد سرور جوڑا، (۲۸) کرنل اسلم نیازی، (۲۹) امیر عبداللہ خان روکڑی، (۳۰) مسٹر رستم علی بلوچ، (۳۱) ملک محمد اکرم اعوان، (۳۲) کنور محمد یاسین، (۳۳) مسٹر یار لغاری اور قیوم لیگ کے (۳۴) دیوان غلام عباس بخاری، (۳۵) مسٹر فیض مصطفیٰ گیلانی اور (۳۶) چوہدری لعل خان، حکمران جماعت کے کسی بھی رکن نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔ جب کہ (۳۷) چوہدری محمد نواز کے سوا حزب اختلاف کے تمام اراکین نے واک آؤٹ میں حصہ لیا۔ انہوں نے ایوان کے باہر بھی ’’ختم نبوت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔‘‘
حزب اختلاف کی طرف سے قرارداد پر قائد حزب اختلاف (۳۸) علامہ رحمت اللہ ارشد، (۳۹) میاں خورشید انور، (۴۰) سید تابش الوری، (۴۱) مسٹر ناصر علی بلوچ، (۴۲) حاجی سیف اللہ، (۴۳) امیر عبداللہ روڑی، (۴۴) میاں خالق داد بندیال، (۴۵) مرزا فضل الحق، (۴۶) راجہ محمد افضل، (۴۷) مخدوم زادہ سید حسن محمود، (۴۸) کیپٹن احمد نواز خان، (۴۹) راؤ مراتب علی خان، (۵۰) مسٹر نذر محمد جتوئی، (۵۱) مسٹر امان اللہ ملک، (۵۲) راؤ محمد افضل خان، (۵۳) میاں مصطفیٰ ظفر قریشی، (۵۴) ملک محمد مظفر خان، (۵۵) شیخ محمد اقبال، (۵۶) میاں احسان الحق پراچہ، (۵۷) میاں محمد اسلام، (۵۸) ملک فتح محمد خان، (۵۹) خان زادہ تاج محمد، (۶۰) رائے عمر حیات، (۶۱) میاں افضل حیات نے دستخط کئے۔
ملتان، سید شوکت حسین گیلانی
دربار حضرت پیران پاک کے سجادہ نشین الحاج مخدوم سید شوکت حسین گیلانی نے ایک اخباری بیان کے ذریعے سرحد اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق قرارداد منظور کرنے پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ قرارداد کے بجائے اس سلسلہ میں بل پیش کریں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قومی اسمبلی کے رکن مسٹر ساجد پرویز نے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی مکمل حمایت کریں گے۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم بھٹو قوم کے جذبات اور احساسات کے عین مطابق قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین کی ہدایات کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پوری جدوجہد کرے گی۔
اسلامیہ کالج اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس
ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر یعقوب ایاز کی صدارت میں ہوا جس میں ایک قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے ، ربوہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو کھلا شہر بنانے اور قادیانیوں کی مسلح تنظیموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیۃ طلباء اسلام ملتان کا اجلاس عاطف شیخ صدر جمعیۃ طلباء اسلام منعقد ہوا، جس میں ایک قرارداد کے ذریعے وزیر اعظم بھٹو سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خود قومی اسمبلی کے ایک رکن کی حیثیت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے بل پیش کریں۔ اجلاس میں اس بات پر اظہار افسوس کیا گیا کہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے ابھی اس سلسلہ میں قرارداد منظور نہیں کی۔
انجمن تاجران اندرون بوہر گیٹ کا اجلاس محبوب احمد اویس کی صدارت میں ہوا جس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے فیصلے کی مکمل حمایت کی۔ انجمن نے یہ فیصلہ کیا کہ قادیانیوں کا اس وقت تک سوشل بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ جب تک انہیں غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔
کبیر والا میں تین مسلمانوں اور تین قادیانیوں کی گرفتاری
کبیر والا پولیس نے تین قادیانیوں فیروز ، ظفر اور بشیر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ ملزم کبیر والا کے بازار میں اپنے مسلک کے حق میں پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے اور اشتعال انگیز باتیں کھلم کھلا کر رہے تھے۔ پولیس نے بعد میں مولانا محمد شفیع، شیخ محمد انور اور ان کے ایک ساتھی کو بھی گرفتار کر لیا۔
میانوالی، مولانا علی محمد مظاہری
مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی کے نائب صدر مولانا علی محمد مظاہری نے کہا ہے کہ حکومت قادیانیوں کو فی الفور اقلیت قرار دے۔ انہوں نے امام باڑہ غلام محمد شاہ میں منعقد جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ۳۰؍ جون تک حکومت کا انتظار کریں گے اور اگر اس کے بعد بھی حکومت نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں لیت ولعل سے کام لیا تو اسے عوامی محاسبہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اب زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے۔ مسٹر شیر رسول ڈھڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے ملک کا ہر فرد ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسول کے تحفظ کے لئے تمام مسلمان متحد ہیں۔ شیعہ رہنما سید غلام علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل شیعہ بھی ناموس رسول کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور وہ کسی صورت بھی قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے میں تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ جلسہ سے کلیم اللہ، عبدالمالک، مولانا محمد امیر ، مولانا محمد رمضان اور طارق نیازی نے بھی خطاب کیا۔
ربوہ کیس کے ۷۶ ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا
ریلوے پولیس سرگودھا نے ربوہ کیس میں ملوث ۷۶ ملزمان کا چالان اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ آج سرگودھا جیل میں مذکورہ ملزمان کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سرگودھا کے سامنے پیش کیا گیا۔ مجسٹریٹ نے پولیس کی درخواست پر مقدمہ کی سماعت ۱۰؍ جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
میاں طفیل محمد کا دورۂ حیدر آباد
امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد آج سندھ کے چار روزہ دورے پر یہاں پہنچے۔ انہوں نے جماعت کی ڈسٹرکٹ کانفرنس اور ایک عام جلسے سے خطاب کیا۔ وہ ۳۰؍ جون کو کراچی سے راولپنڈی پہنچیں گے۔ جہاں مرکزی مجلس عمل کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی روز مجلس عمل کے زیر اہتمام جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔
پروفیسر ایسوسی ایشن
پنجاب پروفیسر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری پروفیسر خورشید احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ : ”تنخواہ پڑتال کمیٹی‘ کا محاسبہ کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تنخواہ پڑتال کمیٹی قادیانی غلبہ کے لئے کام کرتی رہی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم نے نوٹیفکیشن نمبر ایس. او(آر اینڈ بی) ۲-۲/۵۷ مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۷۳ء کے تحت اس قادیانی کمیٹی نے سرکاری تحویل میں لئے گئے ۔ کالجوں کے اساتذہ کی سنیارٹی لسٹ شائع کی جس کے پیرا نمبر ۷ (IV) کے تحت سفارش کی کہ مشرقی پنجاب (قادیان) کی ملازمت شمار کر کے سنیارٹی متعین کی جائے جس کے تحت ربوہ کالج کے دو اساتذہ کی ملازمت مئی ۱۹۴۴ء سے شمار کر کے اس لسٹ کے صفحہ نمبر ۱ پر سب سے سینئر ظاہر کیا گیا۔ نیز اس کمیٹی نے سنیارٹی لسٹ کے پیش لفظ کے پیرا نمبر ۸ (III) میں سفارش کی کہ پنجاب کی حدود سے باہر کی ملازمت (یعنی سندھ وغیرہ) سنیارٹی میں شمار نہ ہوگی۔ ان حقائق کے باوجود اگر پڑتال کمیٹی کی سفارشات قادیانی غلبہ کے خطرناک عزائم کی مظہر نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کالج ٹیچر ایسوسی ایشن کے ترجمان مسٹر عبدالحئی نائیک نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی جو کوشش کی ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں۔
ملک رب نواز چنیوٹی کی گرفتاری
ملتان پولیس نے تحریک طلباء اسلام کے مرکزی صدر رب نواز چنیوٹی کو گرفتار کر لیا ہے۔ مسٹر رب نواز، مفتی ہدایت اللہ پسروری، چوہدری الطاف ایڈووکیٹ ، سید عطاء المؤمن اور نور عالم قریشی نے گزشتہ رات جامع مسجد کالے منڈی میں خطاب کیا تھا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
پتوکی امور مذہبی کمیٹی
کل رات امور مذہبی کمیٹی پتوکی کی طرف سے جامعہ مسجد مینار والی میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت علاقہ کے ممتاز مذہبی رہنما مولانا مفتی محمد شریف نے کی۔ جلسہ سے اسلامی جمعیۃ طلباء، جمعیۃ طلباء اسلام اور انجمن طلباء اسلام کے ممتاز رہنماؤں فرید پراچہ ، انور گوندل ، حافظ عبدالقادر انور ، مسعود کھوکھر اور ارشد حسین نے خطاب کیا۔ اسلامی جمعیۃ طلباء کے رہنما اور پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر فرید پراچہ نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر سے لے کر کراچی تک کے طلباء ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر سروں پر کفن باندھ کر جہاد کے لئے میدان عمل میں نکل آئے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی تعلیمی اداروں میں جائیں گے۔ جب تک قادیانیت کا مسئلہ مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق مستقل طور پر حل نہیں ہو جاتا اور اگر حکومت نے اس مسئلہ کے حل میں مصلحت بینی اور تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا تو ہم موجودہ حکومت سے ٹکر لینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے جلسہ میں موجود حاضرین سے ہاتھ اٹھوا کر تحفظ ختم نبوت کے لئے جانیں قربان کرنے کا وعدہ لیا۔ مسٹر فرید پراچہ نے عوام سے اپیل کی کہ جب تک حکومت مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیتی۔ اس وقت تک مسلمان عوام خود ان کا سوشل بائیکاٹ کر کے انہیں اقلیت قرار دے دیں۔
اسلامی جمعیۃ طلباء کے رہنما انور گوندل نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج کے صدر نے ربوہ کی ناپاک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زمین پر اپنا خون بہا کر ختم نبوت کا جو نعرہ بلند کیا ہے وہ اب پورے ملک میں بلند سے بلند تر ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ۲۹ مئی کو ربوہ میں مرزائیوں نے بیس سال کا جمع کردہ اسلحہ اور طاقت کو آزمانے کے لئے طلباء کو مشق ستم بنایا ہے تو ہم ان کا چیلنج قبول کرتے ہوئے میدان عمل میں نکل آئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چوہدری ظفر اللہ اور مرزا ناصر کو غداری کے الزام میں سزا دی جائے۔
پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر مسٹر مسعود کھوکھر نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ چند دن مظاہرے، ہڑتالیں، جلسے اور جلوس ہوں گے جنہیں لاٹھی اور گولی سے دبا دیا جائے گا۔ یہ حکومت کی غلط فہمی ہے کیونکہ یہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ یہ ملک کے تمام مسلمانوں کا انتہائی نازک مذہبی معاملہ ہے اگر حکومت نے قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق بل منظور نہ کیا تو وہ نوشتہ دیوار پڑھ لے۔ جمعیتہ طلباء اسلام کے حافظ عبدالقادر نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے لئے ہم علماء کی زیر سرپرستی جان و مال کسی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
قومی اسمبلی
معلوم ہوا ہے کہ قادیانی فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق حکومت قومی اسمبلی میں قرارداد کے بجائے تحریک پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے ذریعہ اسمبلی سے رائے لی جائے گی کہ اس فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق کیا طریقہ اختیار کیا جائے، یہ تحریک ۲۹ یا ۳۰؍ جون کو پیش کی جائے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس روز حکمران پارٹی کی طرف سے ایک اور تحریک بھی پیش کی جائے گی کہ قادیانی فرقہ سے متعلق تحریک پر وزیر اعظم بھٹو کی روس سے واپسی کے بعد غور کیا جائے۔ وزیر اعظم ۱۵؍ جولائی تک روس سے واپس آجائیں گے۔ اس وقت تک کے لئے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔ صورتحال میں اس تبدیلی کے پیش نظر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی مرکزی کمیٹی کا جو ہنگامی اجلاس ۳۰؍ جون کو ہونے والا تھا۔ اب ۲۸؍ جون کی صبح کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ مولانا مفتی محمود نے آج رات نوائے وقت کو بتایا کہ انہوں نے مجلس عمل کی مرکزی کمیٹی کے تمام ارکان کو فوراً اسلام آباد پہنچنے کو کہا ہے۔ مجلس عمل کے اجلاس میں تحریک کا مضمون پیش کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کی طرف سے حکمران پارٹی سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس تحریک کا مضمون اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے انہیں دکھایا جائے۔ مفتی صاحب نے اس بات کی پھر وضاحت کی کہ پاکستان کے مسلمان اس مسئلہ کے حل میں اب مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے مجلس عمل کے اجلاس میں تحریک پر بحث کو دو ہفتے کے لئے ملتوی کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن کی طرف سے کوشش کی جائے گی کہ تحریک ۲۹؍ جون کو ہی پیش کر دی جائے۔ ادھر حکومت نے قادیانیوں کے مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے اپوزیشن سے صلاح و مشورہ شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے آج اسمبلی کی لابی میں اپوزیشن ارکان سے تبادلہ خیالات کیا۔ توقع ہے مذاکرات کل بھی جاری رہیں گے اور تحریک کا مسودہ متفقہ طور پر طے کیا جائے گا۔
خانیوال میں ظلم و ستم
پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری عبدالشکور، گورنمنٹ ڈگری کالج ملتان کے سابق صدر مسٹر منظور خان اور اسلامی جمعیتہ طلباء کے ضلعی ناظم فیاض اسلم نے بتایا ہے کہ خانیوال پولیس نے انہیں دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد پولیس حوالات میں رات بھر سونے نہیں دیا۔ آہنی بیڑیاں طالب علم رہنماؤں کے پاؤں اور ہاتھوں میں لگا دی گئیں اور ان بیڑیوں کو چارپائیوں سے باندھ دیا گیا۔ طالب علم رہنماؤں نے آج یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانیوال مسجد کے اندر خطاب کیا تھا۔ اس وقت پولیس نے مسجد کو گھیرا ہوا تھا، شہر بھر میں ناکہ بندی کر رکھی تھی اور نمازیوں کو مسجد میں آنے سے روک رکھا تھا۔ طالب علم رہنما جب باہر نکلے تو انہیں گرفتار کر لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کی طرف سے ضمانت کی درخواست منظور ہونے کے باوجود رہائی کی روبکار ملتان جیل نہیں بھیجی۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ پنجاب کی موجودہ حکومت شائستگی سے حکمرانی کے جو دعوے کرتی ہے ان واقعات سے ان دعوؤں کا کھوکھلا پن ظاہر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کو ناجائز مراعات بدستور دی جارہی ہیں۔ اسلامی جمعیتہ طلباء اور طالب علم برادری قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کا ہراول دستہ ثابت ہوں گے۔ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔ پنجاب یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی ادارے مکمل بند رہیں گے اور طلباء اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ طالب علم رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام اسیر طالب علم رہنماؤں اور دیگر افراد کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان کے ایک کارکن شریف بٹ کو سر بازار پیٹا گیا اور تھانہ میں بھی زدوکوب کیا گیا۔
لائل پور کے قادیانی اور اس کے بیٹے کا ریمانڈ
ڈی ٹائپ کالونی کے مرزائی الہی بخش اور اس کے بیٹے رزاق کا ریمانڈ ملک اللہ یار مجسٹریٹ نے یکم جولائی ۱۹۷۴ء تک دے دیا ہے۔ ملزموں کے خلاف مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے۔
جہانیاں
اسلامی جمعیتہ طلباء جہانیاں کے ناظم جناب جمشید احمد نے اپنے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری جناب عبدالشکور گورنمنٹ کالج ملتان کے صدر جناب ملوک خاں اور طالب علم رہنما جناب احسان باری کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ناظم صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے یہ ظاہر ہے کہ حکومت قادیانیوں کی سرکاری پشت پناہی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کا اس کے سوا کوئی قصور نہیں کہ وہ محب وطن ہیں اور اسلام کے سچے خادم ہیں۔ جناب جمشید نے کہا کہ اگر حکومت ملک میں امن و امان بحال رکھنا چاہتی ہے تو فوری طور پر تمام طالب علموں کو رہا کیا جائے۔
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس
تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل کا جو اجلاس کل صبح یہاں ہونے والا تھا۔ اب کل شام پانچ بجے راجہ بازار کی جامع مسجد میں ہوگا۔ اجلاس میں اس مجوزہ تحریک کے نفس مضمون پر غور کیا جائے گا جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی ہے۔ مجلس عمل کے متعدد ارکان آج یہاں پہنچ گئے۔ مولانا محمد یوسف بنوری کل صبح پہنچیں گے۔ مجلس عمل کے اکابرین کا قطعی موقف ہے کہ مجوزہ تحریک میں قادیانیوں کا واضح ذکر ہونا چاہئے۔ مولانا مفتی محمود نے بتایا ہے کہ ان کے علم کے مطابق مجوزہ تحریک میں قادیانیوں کا ذکر شامل نہیں اور اسمبلی سے محض یہ رائے طلب کی گئی ہے کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ تو طے شدہ ہے اصل معاملہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوئی نبوت کا ہے جس پر اسمبلی کو رائے دینا چاہئے اور مجوزہ تحریک اس وقت تک مؤثر یا سود مند نہیں ہو سکتی جب تک قادیانیوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کا واضح ذکر موجود نہ ہو۔ مولانا نے بتایا کہ وزیر اعظم نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا دعویٰ کیا تھا تا کہ اس کا حل تلاش کیا جاسکے۔ مگر اب تحریک پیش کرنے کی تجویز سے اس مسئلہ کے التواء کے جو آثار پیدا ہوئے ہیں ان کو تشویش ہے۔ انہوں نے کہا اس مسئلہ کے حل میں مزید تاخیر قبول نہیں ہوگی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خواجہ صفدر سینیٹر
سیالکوٹ: جامع مسجد چوک علامہ اقبال میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ کے رکن خواجہ محمد صفدر نے کہا کہ وہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مسئلہ سینیٹ میں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلمان اس مسئلہ پر متفق ہیں۔ مگر حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کے اس بیان پر کہ ارکان اسمبلی کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا۔ نکتہ چینی کی اور کہا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کے متعلق حکم جاری کیا جائے۔ خواجہ صفدر نے ظفر اللہ خان کے بیان پر نکتہ چینی کی۔
حضرت بنوری کوئٹہ، کراچی، حیدر آباد، کنری، میر پور خاص کا سفر مکمل کرنے کے بعد آج راولپنڈی پہنچ رہے ہیں۔
آج کے اخبارات میں ذیل کے اشتہار شائع ہوئے:
ضروری اعلان
ہمیں یہ جان کر دکھ ہوا ہے کہ ہماری فیکٹری کے مالکان کے متعلق ہمارے چند بدخواہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے۔ اس پروپیگنڈے کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ سابقہ مالکان میاں آفتاب احمد وغیرہ کے متعلق یہ عام تاثر تھا کہ ان کا تعلق احمدی جماعت سے ہے مگر وہ بھی اخبارات کے ذریعے اس کی پر زور تردید کر چکے ہیں۔
عوام کی اطلاع کے لئے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ سن شائن بسکٹ فیکٹری اب میری اور میرے قریبی رشتہ داران کی ملکیت ہے اور ہمارا احمدی لاہوری یا قادیانی جماعت سے کبھی بھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے اور نہ ہی اب کوئی تعلق ہے۔
شیخ محمد اصغر (ای۔ پی۔ اے) و دیگر مالکان سن شائن بسکٹ فیکٹری داروغہ والا جی۔ٹی روڈ لاہور
وضاحت
کچھ احباب کو میرے متعلق غلط فہمی ہے کہ میں مرزائی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میرا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں اور میں ختم نبوت پر پورا ایمان رکھتا ہوں۔
ڈاکٹر اے، اے خاں، لائل پور
وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ
ہم اسلامیان ضلع لائل پور، وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو، صاحبزادہ فاروق علی خان سپیکر قومی اسمبلی پاکستان اور معزز ممبران قومی اسمبلی سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے منکر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کر کے دین و دنیا میں سرخروئی حاصل کریں۔
اہالیان ضلع لائل پور (اشتہار)
احرار کی مرکزی شوریٰ کا ہنگامی اجلاس
ملک کے موجودہ حالات اور مجلس احرار کے تنظیمی امور کے فیصلہ کے لئے مرکزی شوریٰ مجلس احرار اسلام پاکستان کا ہنگامی اجلاس مؤرخہ ۱۲؍ جولائی بروز جمعہ ۹ بجے صبح میرے مکان واقع لائل پور میں منعقد ہوگا۔ اس اعلان کو ایجنڈا سمجھ کر ممبران شوریٰ شرکت فرمائیں۔
عبید اللہ احرار (صدر مجلس احرار اسلام پاکستان)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلسلہ تحریک تحفظ ختم نبوت
جلسہ ہائے عام
آج ۲۸/ جون ۱۹۷۴ء جمعتہ المبارک۔
- ...... ا؍ بجے قبل نماز جمعہ، مسجد بخاری اندرون موری گیٹ۔
- ...... ۲؍ بجے بعد نماز جمعہ جامع مسجد شیرانوالہ دروازہ۔
- ...... ۳؍ بجے بعد نماز جمعہ، مسجد عکس جمیل، سمن آباد۔
- ...... بعد نماز عشاء مسجد نورانی، قلعہ لچھمن سنگھ۔
- ...... بعد نماز عشاء، مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ۔
مقررین: محمد اسلوب قریشی، عبدالمتین چوہدری، نذیر احمد سیال، رشید اختر، قاضی محمد اشرف، ضیاء الرحمن فاروقی، محمد اقبال خان شیروانی، حافظ محمد طاہر، حبیب احمد، حفیظ الرحمن جھنگوی، انیس الحسن۔ شعبہ نشر و اشاعت، جمعیۃ طلباء اسلام لاہور
لالہ موسیٰ مجلس عمل
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لالہ موسیٰ نے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مولانا غلام قادر اشرفی، مولانا سید خورشید الحسن شاہ، شیخ تاج الدین بھنڈاری، مولانا غلام ربانی چشتی، شیخ غلام سرور، قاری نور عالم اور چوہدری محمد اکرم ایڈووکیٹ پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو دوکانداروں سے مل کر سیاسی، سماجی، ثقافتی، تجارتی، مزدور یونینوں اور دوسری تنظیموں کے تعاون سے انہیں اور عوام کو اس پر آمادہ کرے گی کہ مرزائیوں سے کسی قسم کا لین دین نہ کریں۔ شہر میں مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کے لئے ہر مسلمان کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔ اجلاس میں سرحد اسمبلی کے ممبروں کو مبارک باد دی ہے۔ جنہوں نے دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ اجلاس نے دوسرے صوبوں کی اسمبلی کے ممبروں کی بے حسی پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس نے بیگم نسیم جہاں اور پنجاب اسمبلی کے رکن محمد اعظم کے بیانات کی مذمت کی۔ اجلاس نے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ جلد مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کرائیں۔
۲۹/ جون ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس و قرارداد
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے آج یہاں (راولپنڈی) مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم بھٹو کے وعدہ کے مطابق ۳۰/ جون کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے بل پیش کیا جائے اور بل کی منظوری تک اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جائے۔ مجلس عمل نے جس کا اجلاس چار گھنٹے سے زائد عرصہ تک ہوا۔ ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ یہ اجلاس اس عمل پر اضطراب کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت ملک گیر مطالبہ کے باوجود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹانے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے معاملہ میں عملاً تاخیر سے کام لے رہی ہے اور چاہتی ہے کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کے اس مطالبہ کو سرد خانہ میں ڈال دیا جائے۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے اپنا اجلاس یکا یک ختم کر کے ممبران اسمبلی کو اپنی تحریک پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پنجاب کی حکومت نے اس قرارداد کو پیش نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ ان دونوں صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ جب کہ صوبہ سرحد کی اسمبلی پہلے ہی اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر چکی ہے جسے مجلس نظر تحسین سے دیکھتی ہے۔ دوسری طرف قادیانی پریس ملک میں سول اور ملٹری حکام، ارکان اسمبلی، تاجروں، صنعت کاروں کو اپنا اشتعال انگیز لٹریچر بھیج کر اس پر امن جدوجہد کو تشدد کی راہ پر ڈالنے کی سازش کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے باوجود اس دوران میں بھی حکومت نے مسلمانوں کے مطالبہ کے برعکس جس بڑے اہم عہدوں پر قادیانیوں کو متعین کیا ہے، اس طرح اندرون ملک و بیرون ملک خود حکومت سازشوں کو پروان چڑھانے میں مدد دے رہی ہے۔ مجلس عمل کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل پیش کر کے منظور کروائے اور اسمبلی کا اجلاس اس کی منظوری سے قبل ہرگز ملتوی نہ کیا جائے۔ مجلس عمل کا دوسرا اجلاس ۳۰؍ جون کو بعد نماز عصر راولپنڈی میں منعقد ہوگا اور قومی اسمبلی کی کارروائی کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود احمد رضوی جنرل سیکرٹری مجلس عمل نے کہا کہ دو انتظامی مطالبات ایسے ہیں جنہیں اسمبلی میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں اور وہ حکومت خود کر سکتی ہے۔ ان میں ایک کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو ہٹانا اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینا۔ ادھر مرزائیوں نے اپنی تبلیغ کو مؤثر اور منظم طور پر شروع کر دیا ہے۔ لاہور اور بعض دوسرے شہروں میں مرزائیوں نے اس کام کے لئے لڑکیاں مقرر کی ہیں۔ ارکان اسمبلی، تاجروں، صحافیوں، صنعت کاروں کے گھروں میں مرزائیت کا لٹریچر بھیج کر اشتعال پھیلایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی میں تحریک پیش کئے جانے کی صورت میں حزب اختلاف فوری طور پر اس میں ترمیم پیش کرے گی جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل منعقد ہوگا جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ مجلس عمل نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی عسکری تنظیم پر پابندی لگائی جائے اور ان کے تمام فنڈز ضبط کئے جائیں۔ آغا شورش کاشمیری نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ روز میں مرزائیوں نے شیڈول بینکوں سے دو کروڑ روپے نکلوائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس دعوے کے ثبوت موجود ہیں۔ مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ ملک بھر میں عام جلسے کئے جائیں۔ مجلس عمل کے قائدین بذریعہ ٹرین کراچی سے پشاور تک کا دورہ کریں گے۔ آج کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں دوسرے رہنماؤں کے علاوہ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، پروفیسر غفور احمد، مولا بخش سومرو، صاحبزادہ صفی اللہ، مولانا غلام اللہ خان، محمود احمد رضوی، میاں فضل حق، آغا عبدالکریم شورش کاشمیری، سید مظفر علی شمسی، حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا تاج محمود، ثناء اللہ بھٹہ، مولانا محمد شریف جالندھری، مفتی زین العابدین شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی، ممتاز کاہلوں، حافظ علی اسد اللہ، کنور محمد یسین کا بیان
پنجاب اسمبلی کے سپیکر رفیق احمد شیخ نے کہا ہے کہ بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ حزب اختلاف نے قادیانیوں کے بارے میں کوئی قرارداد پیش کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا۔ حالانکہ میرے دفتر میں قرارداد کے بارے میں کوئی نوٹس نہیں ملا۔ صرف قائد حزب اختلاف نے قرارداد کا کچھ حصہ ایوان میں پڑھا تھا جسے وہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ دریں اثناء سابق وزیر قانون چوہدری ممتاز احمد کاہلوں نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس امر کی تردید کی کہ انہوں نے قرار داد پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حزب اختلاف سے واک آؤٹ کے بارے میں بھی کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کا رکن اور پارٹی کے نظم وضبط کا پابند ہوں۔ پیپلز پارٹی کے کنور محمد یاسین اور حافظ علی اسد اللہ نے بھی ایوان میں اس قسم کا بیان دیا۔
بینکوں سے قادیانیوں نے سرمایہ نکال لیا
قادیانی جماعت نے اپنا سرمایہ نکال کر بیرونی ممالک میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ قادیانی ادارے اور تنظیموں کا بینکوں سے سرمایہ نکلنا اس خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ مرکزی حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جائیداد اور کروڑوں روپے کا سرمایہ محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے گی۔ ادھر قادیانی خلافت نے ملک بھر کے قادیانی اداروں اور سرمایہ داروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا سرمایہ بینکوں اور صنعت و تجارت سے نکال کر جلد از جلد کراچی بھیج دیں تا کہ اس کو کسی بیرونی ملک میں منتقل کیا جائے۔ گزشتہ ماہ لائل پور کے یونائیٹڈ بینک سے انجمن احمدیہ تحریک جدید اور دوسرے قادیانی اداروں کا دو کروڑ روپیہ کراچی اور دوسرے شہروں میں منتقل کیا گیا۔ اس طرح سندھ میں ضلع تھر پارکر کی تین قادیانی اسٹیٹوں بشیر آباد، محمود آباد وغیرہ سے لاکھوں روپے کراچی اور چنیوٹ بھیجے گئے۔ کنری (سندھ) اور رحیم یار خان سے گزشتہ ہفتے تقریباً پانچ لاکھ روپے چنیوٹ بھیجے گئے جو کہ یونائیٹڈ بینک چنیوٹ کامرس بینک چنیوٹ نے وصول کئے۔ لیکن صدر انجمن احمدیہ نے اس رقم کو فوراً ہی نکلوا لیا اور کراچی میں منتقل کر دیا۔ چنیوٹ کے بینکوں سے تقریباً ایک کروڑ روپیہ صدر انجمن احمدیہ ربوہ تحریک جدید اور قادیانیوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ نکال کر کراچی بھیجے ہیں۔ چنیوٹ کے یونائیٹڈ بینک سے تقریباً تیس لاکھ نکلوا لئے گئے ہیں۔ دس لاکھ روپے کا ڈرافٹ کراچی کی الہارون برانچ اور بارہ لاکھ روپے یونائیٹڈ بینک کی مین برانچ کراچی کو بھیجے گئے ہیں۔ اس بینک سے دو لاکھ روپے راولپنڈی گئے ہیں۔ مزید چھ لاکھ روپے کراچی کی کئی برانچوں کو بھیجے گئے ہیں۔ دو لاکھ روپے کے چیک مختلف شہروں سے ادائیگی کے لئے بینک کو وصول ہوئے ہیں جو انجمن احمدیہ ربوہ نے جاری کئے ہیں۔ اس طرح یونائیٹڈ بینک چنیوٹ میں صدر انجمن احمدیہ ربوہ اور تحریک جدید کا سرمایہ لاکھوں کے بجائے ہزاروں میں رہ گیا ہے۔ مسلم کمرشل بینک چنیوٹ سے صدر انجمن احمدیہ ربوہ اور تحریک جدید ربوہ کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے نکلوا کر کراچی اور اسلام آباد بھیجا گیا۔ اس بینک میں بھی انجمن احمدیہ ربوہ کا روپیہ ہزاروں میں رہ گیا ہے۔ نیشنل بینک آف پاکستان چنیوٹ سے صدر انجمن احمدیہ کا آٹھ لاکھ روپیہ کراچی بھیجا گیا ہے۔ تحریک جدید کا ۷۵ ہزار روپیہ نکال لیا گیا ہے۔ اس بینک میں صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے جاری کئے ہوئے مختلف بینکوں کے نام چھ لاکھ روپے کے چیک ادائیگی کے لئے کراچی اور دوسرے شہروں سے وصول ہوئے ہیں۔ اس وقت نیشنل بینک میں انجمن احمدیہ کا بارہ لاکھ روپے ریزرو ڈیپارٹمنٹ میں موجود ہے۔ جسے نکلوانے کی کوشش جاری ہے۔ آسٹریلیا بینک لالیاں کے منیجر راجہ صدیق کی معرفت ۲۳ لاکھ روپے نکلوا لئے گئے۔ جس میں ۲۰ لاکھ روپے کراچی اور تین لاکھ روپے اسلام آباد بھیجے گئے ہیں۔
چیچہ وطنی
اسلامی جمعیۃ طلباء ساہیوال کے ناظم سعید سلیمی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ۳۰؍ جون تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ نہ کیا گیا تو طلباء ربوہ میں ختم نبوت کنونشن منعقد کریں گے اور اگر امن وامان کی صورتحال میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ مسٹر سعید سلیمی مقامی مدرسہ نور المساجد میں اسلامی جمعیۃ طلباء چیچہ وطنی کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں ایک جلسہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی ساہیوال مولوی بشیر احمد نے کی۔ مسٹر سعید سلیمی اسلامی جمعیۃ طلباء ساہیوال نے کہا کہ حکومت یہ نہ سمجھے کہ ختم نبوت کا مسئلہ وقتی یا جذباتی ہے۔ بلکہ اسلامی جمعیۃ نے اسے ملکی سطح پر اٹھایا ہے اور شہر شہر، قریہ قریہ جا کر اس وقت تک اس مسئلہ کو زندہ رکھیں گے۔ جب تک مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ ہمارے اس احتجاج کو روکنے کے لئے دفعہ ۱۴۴ اور گرفتاریوں جیسی دھمکیاں ہمیں مرعوب نہیں کر سکتیں۔ سعید سلیمی نے انکشاف کیا کہ باڑہ میں طلباء نے شیر پاؤ اور گورنر سرحد کا گھیراؤ کر لیا تھا اور ان سے زبردستی ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگوائے تھے۔ مسٹر حفیظ الرحمن رکن اسلامی جمعیۃ طلباء نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں پیپلز پارٹی کا ایک شیخ مسلم گولی سے مر گیا تو وزیر اعظم کی طرف سے تعزیت کا تار آیا تھا۔ لیکن واقعہ ربوہ پر ۷۵ منٹ کی تقریر میں بھٹو صاحب کو ایک مرتبہ بھی اس واقعہ کی مذمت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اس لئے کہ بھٹو صاحب مرزائیوں کی دولت اور ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔
لالیاں مجلس عمل کا جلسہ عام
طلباء رہنماؤں نے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ مرزائیوں کی پشت پناہی کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ورنہ طلباء کسی طاقت کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ طلباء رہنما آج لالیاں میں مجلس عمل کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے صدر سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ کالج چنیوٹ قاضی محمد ادریس نے کہا کہ مرزائی امت مسلمہ کے سینے پر ناسور ہیں۔ اب اس ناسور کو کاٹ کر الگ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی اس ملک کے غدار ہیں اور اس ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ علماء کرام کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ یہ تحریک دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ پنجاب اسمبلی میں سپیکر نے قرارداد پیش نہیں ہونے دی۔ سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ کالج چنیوٹ کے نائب صدر عبد الحفیظ جوہر نے کہا کہ وہ دور اب بیت چکا کہ جب مرزائی اس ملک کی تقدیر کے وارث تھے۔ اب مسلمان اپنے حقوق کے لئے جاگ اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء نے اب اس تحریک کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کے اس بیان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے قرارداد کو بجٹ کے بعد پیش کرنے کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ایک گھنٹہ میں کیا جا سکتا تھا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ مسئلہ پہلے حل نہ ہو سکے۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو ایسا طوفان اٹھے گا جس کو روکنا حکومت کے بس میں نہ ہو گا۔ انہوں نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کی سکیم کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس سکیم کو ایک مذاق قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اضافی بستیوں کے بجائے ربوہ کے اندر مسلمانوں کو بسایا جائے۔ آخر میں قرارداد کے ذریعے اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر سپیکر کے رویے کی مذمت کی گئی۔
سمندری کے شہریوں کے وفد کی ارکان اسمبلی سے ملاقات
آج سمندری کے شہریوں کے ایک وفد نے صوبائی ارکان اسمبلی ناصر علی خان بلوچ، رائے سخاوت علی، چوہدری علی محمد خادم، عبد القیوم بٹ، چوہدری طالب حسین، ملک غلام قادر اور دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور تمام ارکان اسمبلی قومی اسمبلی کے اندر اور باہر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور اس سلسلے میں ایک غیر مبہم اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واضح قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کرائیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قادیانی اپنے عقیدے کے لحاظ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ارکان اسمبلی نے وعدہ کیا کہ وہ قرارداد منظور کرانے میں اپنا تمام اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ سمندری کے شہریوں کا وفد ڈاکٹر عبدالمنان، غازی محمد عبداللہ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر علی محمد خان، ملک محمد شریف، قاری عطاء الرحمن اور طالب علم رہنما عبد الخالق پر مشتمل تھا۔
چنیوٹ
تحریک طلبائے اسلام پاکستان کے صدر ملک رب نواز کی گرفتاری پر آج یہاں جمعہ کے اجتماع میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اجتماع میں حکومت پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ ملک رب نواز کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پتوکی میں قادیانیوں کا اجتماع
وزیر اعظم بھٹو کی اپیل پر پتوکی کے مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف تحریک کو اب تک پرامن رکھا اور یہاں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے صوبہ بھر کے قادیانیوں نے پتوکی کو ”دارالامن“ قرار دیا ہوا ہے اور مختلف شہروں کے قادیانی پتوکی کو دوسرا ربوہ بنانے کے لئے یہاں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنے پاس بھاری تعداد میں اسلحہ جمع کرلیا ہے۔ اب پتوکی میں قادیانیوں کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو سرعام گالیاں دیتے ہیں اور معمولی معمولی بات پر گولیاں چلانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اس سے شہر بھر میں زبردست اشتعال پیدا ہورہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قادیانیوں نے اپنے گھروں میں بھاری تعداد میں اسلحہ جمع کیا ہے اور مزید آتشیں اسلحہ منگوارہے ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو حالات انتہائی خوفناک صورت اختیار کر جائیں گے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس خطرناک صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے مقامی انتظامیہ قادیانیوں کو مزید تحفظ دینے اور ان کی طرفداری کرنے کی بجائے قادیانیوں کے گھروں کی تلاشی لے کر ان کا تمام اسلحہ ضبط کیا جائے۔
سرگودھا مجلس عمل کا اجلاس
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گجرات و دیگر شہروں سے جن علماء و طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ ایک قرارداد میں لائل پور میں قادیانیوں کی فائرنگ کی سخت مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ملک دشمن قادیانیوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہ دی جائے اور سرگودھا ریلوے اسٹیشن کے قادیانی پارسل کلرک جو ربوہ کیس میں ملوث ہے کو تبدیل کرکے انکوائری کی جائے۔ اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ پرامن رہتے ہوئے قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ جاری رکھیں۔
صاحبزادہ خواجہ محمد قمر الدین سجادہ نشین سیال شریف نے کہا ہے کہ قادیانیوں کا مسئلہ مسلمانوں کے ایمان اور غیرت کا مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں ٹال مٹول سے کام لینا سراسر زیادتی ہے مقامی مسجد گول چوک میں ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردینا چاہئے۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس فرقہ کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرے۔ مجلس عمل کے رہنما علامہ احسان الٰہی ظہیر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں نے ملک کو ٹکڑے کرنے کی سازش تیار کی ہے اور اگر اب ان کے منصوبوں کو ناکام نہ بنایا گیا تو ملک و قوم کا مستقبل ہمیشہ کے لئے تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے اور اگر قوم کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ اس اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ ظفر جمال اور دیگر طلباء کو رہا کیا جائے۔ مقررین نے اپیل کی کہ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔
ڈسکہ دارالعلوم مدنیہ
تحریک استقلال کے راہنما علامہ احسان الہی ظہیر نے کہا ہے کہ علماء کرام وسیاسی لیڈر قادیانیوں کے خلاف اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے۔ جب تک قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر کلیدی عہدوں سے الگ نہیں کر دیا جاتا۔ وہ جامع دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں قادیانی محاسبہ کمیٹی ڈسکہ کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ کی صدارت صوفی نذیر احمد نے کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ کیونکہ مسلمانوں کے اس مطالبہ کو پورے عالم اسلام کی تائید وحمایت حاصل ہے۔ علامہ احسان الہی ظہیر نے کہا کہ ہم گرفتاریوں کی پرواہ نہیں کریں گے۔ مگر مسلمان کسی کے سامنے بے بس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قادیانیوں کی جان، مال کا اس صورت میں تحفظ کر سکتے ہیں کہ وہ اقلیت قرار دیئے جائیں۔ علامہ ظہیر نے کہا کہ ملک میں جو آگ لگی ہے کہ وہ عشق رسالت کی آگ ہے، ختم نبوت کی آگ ہے اور ان شاء اللہ اس آگ میں جھوٹی نبوت کا محل جل جائے گا اور کسی آمر نے جھوٹی نبوت کی حفاظت کرنے کی کوشش کی ہم چھوٹی آمریت کا محل بھی توڑ دیں گے۔ انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ قادیانیوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے مرزا غلام احمد کی اپنی تحریر کردہ کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے غلام احمد کو جھوٹا اور دجال قرار دیا۔ علامہ احسان الہی نے مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے ممبران اسمبلی سے بھی اپیل کی کہ وہ مسلمان ہونے کی صورت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں حکومت سے پرزور مطالبہ کریں۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محاسبہ کمیٹی سید غلام عباس نقوی نے اعلان کیا کہ جو شخص قادیانیوں سے لین دین کرے گا اس کے ساتھ بھی کوئی شخص لین دین نہیں کرے گا۔ مولانا فیروز خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ محاسبہ کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ جو شخص مرزائیوں سے لین دین کرے گا۔ کوئی عالم اس کا جنازہ نہیں پڑھائے گا اور نہ ہی کوئی شخص اس کا جنازہ پڑھے گا۔
حافظ آباد میں پرامن جدوجہد
تحصیل حافظ آباد میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی مہم پرامن طور پر جاری ہے۔ عوامی حلقوں نے مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ معمولی خوانچہ فروشوں نے بھی مرزائیوں کے ہاتھ چیزیں فروخت کرنے سے قطعی انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو جلسے منعقد ہوئے جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔ چوہدری ظفر اللہ کا پاسپورٹ ضبط کیا جائے۔ مرکزی جامع مسجد میں منعقدہ ایک اجتماع میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرزائیوں کی نیم فوجی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ علماء کرام نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیوں کے اسرائیل میں مشن کی موجودگی سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ وہ عالم اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ جامع مسجد چشتیہ قادریہ میں مولانا عبدالستار انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی ٹولہ کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کے لئے ان سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کینٹین میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی
بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر مسٹر محمد اشرف خان نے اعلان کیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن کی کینٹین میں مرزائیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے اور بار کے مرزائی ارکان کو بار کے کولر سے پانی پینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ محمد اشرف خان نے ملتان کے تمام تاجروں کا قادیانیوں کا بائیکاٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔
چونیاں کے قادیانی ہیڈ ماسٹر کو تبدیل کیا جائے
جمعیۃ طلباء اسلام تحصیل چونیاں کے رہنماؤں حافظ عبدالقادر انور، حافظ مسعود الحسن، حافظ محمد اسحق اور محمود علی نے اپنے مشترکہ بیان میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول چونیاں کے قادیانی ہیڈ ماسٹر کو جلد از جلد تبدیل کیا جائے، کیونکہ چونیاں کے طلباء اور تمام مسلمانوں کے جذبات انتہائی مشتعل ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ ہیڈ ماسٹر کے تبادلہ کے لئے چونیاں کے طلباء اور عوام نے کئی دفعہ جلوس بھی نکالے ہیں۔
ساہیوال ضلع سرگودھا
سرگودھا کے ممتاز عالم دین اور ساہیوال کے مدرسہ حقانی کے بانی و ناظم مولانا قاری عبدالشکور ترمذی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ربوہ کے بارے میں اخبارات میں جو باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہیں تو ربوہ کسی وقت بھی پاکستان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ آپ نے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو فوری طور پر اہم اعلیٰ عہدوں سے الگ کر دیا جائے۔ قاری صاحب نے کہا کہ اسلام نے مسلمانوں پر اقلیتوں کی حفاظت کی بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو پرامن رہ کر جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ آپ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ سواد اعظم کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے قادیانیوں کو فوراً ایک آرڈیننس کے ذریعے اقلیت قرار دے اور بعد میں قومی اسمبلی سے اس فیصلہ کے حق میں رائے حاصل کرے۔
قادیانی مسئلہ
اشتعال کے باوجود پرامن رہئے...... اداریہ ”نوائے وقت“
’’ایک اخباری اطلاع کے مطابق ۸۱ سالہ قادیانی لیڈر سر ظفر اللہ خان نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو پاکستان میں رہنے والے اس فرقہ کے لوگ حکومت کے اس فیصلے کی بھر پور مزاحمت کریں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کی آزمائش ہے۔
سر ظفر اللہ جس کھونٹے پر ناچ رہے ہیں اس کا سب کو علم ہے۔ انہیں اپنے آقا و مولا انگریز کی سرپرستی پر بڑا ناز ہے۔ انگریز کی وساطت سے انہیں امریکہ کی سرپرستی پر بھی بھروسہ ہے۔ اپنے اسی بیان میں انہوں نے اعتراف فرمایا ہے کہ انہوں نے یکم تا ۳ مئی تک اسی سال قادیان کا بھی دورہ کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے یہ تسلیم کرنے کی جرات نہیں کی کہ وہ اپنی تازہ ترین سازش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی بھارت یاترا کے دوران قادیان سے نئی دہلی بھی گئے تھے اور بھارت کی راج دھانی میں بھارتی حکمرانوں سے ملے تھے۔
پاکستان اور عربوں کے مشترکہ دشمن اسرائیل کے شہر حیفہ میں بھی ان کا ایک مشن موجود ہے۔ اگرچہ وہ گزشتہ ستائیس سال میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک بھی یہودی کو قادیانی نہیں بنا سکے۔ لیکن یہ مشن وہاں ”کام“ کر رہا ہے۔ سر ظفر اللہ کو پاکستان کے خلاف مستقبل قریب میں متوقع لفظی جنگ میں دنیا بھر کے یہودی اور صہیونی ذرائع ابلاغ کی تائید و حمایت پر بھی ناز ہے۔ اس جنگ کا آغاز خود سر ظفر اللہ نے لندن میں پاکستان کے خلاف اپنی پریس کانفرنس سے کیا تھا اور دوسری توپ خلیفہ قادیان مرزا ناصر احمد نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو یہ بیان دے کر چلائی تھی کہ قادیانی فرقہ کے خلاف یہ تحریک وزیر اعظم بھٹو کی پیپلز پارٹی نے چلائی ہے جو اپنی ہر دلعزیزی کو خطرے میں دیکھ کر انتہاء پسندوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر اعظم بھٹو کے خلاف اس معاندانہ پراپیگنڈے کا پاکستان کے ذرائع ابلاغ ریڈیو، ٹیلی ویژن، پریس ٹرسٹ کے سرکاری اخبارات اور برسر اقتدار پارٹی کے ترجمانوں نے نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا۔ خود وزیر اعظم بھٹو ختم نبوت پر اپنی طویل نشری تقریر میں بھی اس ضمن میں خاموش رہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کو تو دبی زبان میں لتاڑنے کی کوشش کی۔ لیکن فرمودات مرزا ناصر احمد اور سر ظفر اللہ کو وہ بالکل فراموش کر گئے۔
وزیر اعظم بھٹو نے اپنی اس تقریر کے ذریعے اپنے مخصوص تدبر سے کام لیتے ہوئے وقتی طور پر تو عامۃ المسلمین کے بھڑکے ہوئے جذبات پر قابو پا لیا اور عام مسلمانوں کو یہ یقین آ گیا کہ ان کے وزیر اعظم واقعی اس نازک مسئلہ کو قومی اسمبلی کے ذریعے ان کے جذبات و احساسات کی روشنی میں حل کرنا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم کے اپنے الفاظ میں صرف ”وقت گزاری“ نہیں کرنا چاہتے۔ قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن ختم ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم اس سے پہلے ہی بنگلہ دیش کے سہ روزہ دورے پر تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی روانگی سے پہلے یہ دورہ بنگلہ دیش ریڈیو کی پاکستان کے خلاف اچانک معاندانہ روش کی وجہ سے معرض خطر میں پڑ گیا تھا۔ ممکن ہے اس پریشانی کی وجہ سے وہ یہ طے نہ کر سکے کہ قادیانی مسئلہ پر کب اور کس قسم کی تحریک قرارداد یا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ لیکن بعض سرکاری حلقوں کی روش یہ تاثر دے رہی ہے کہ حکومت ”وقت گزاری“ کرنا چاہتی ہے۔ سرحد اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی سفارش کر دی ہے۔ خیال تھا کہ بلوچستان سندھ اور پنجاب کی اسمبلیاں بھی ایسی ہی سفارش کر دیں گی تا کہ مسٹر بھٹو کے ہاتھ مضبوط ہو سکیں۔ لیکن وجہ خواہ کچھ ہوتا دم تحریر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ممکن ہے وزیر اعظم بھٹو کو ان کے سوشلسٹ، سیکولر، ترقی پسند مشیر اور بیک وقت سوویت، بھارتی، امریکہ لابی سے تعلق رکھنے والے صلاح کار یہ مشورے دے رہے ہوں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے ہم دقیانوسی اور تنگ دل کہلائیں گے۔ پاکستان کے لئے اور نئے مسئلے کھڑے ہو جائیں گے۔ تمام قادیانی ففتھ کالمسٹ اور غیر ملکی جاسوس اور پاکستان دشمن بن جائیں گے۔ ممکن ہے مسٹر بھٹو کو ڈرایا جارہا ہو کہ اس کے بعد شیعہ حضرات کی باری آئے گی۔ لیکن شیعہ حضرات تو خود اس تحریک کے ہراول دستہ میں ہیں۔ وہ تو زیادہ سے زیادہ حضرت علیؓ کے خلیفہ اوّل کی حق تلفی کے سلسلہ میں شاکی ہیں۔ وہ رسول اکرمﷺ کی ختم نبوت کے بارے میں تو اسی طرح ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح باقی تمام مسلمان، اسی طرح عامتہ المسلمین کو حضرت امام حسینؓ شیعان علی کی طرح عزیز ہیں۔ باقی رہا قادیانیوں کا مسئلہ تو خود وزیر اعظم بھٹو، مرزا ناصر احمد اور سر ظفر اللہ سے دریافت فرمالیں کہ ان کا ایمان اور عقیدہ کیا ہے؟ وہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو خاتم النبیین تو مانتے ہیں۔ لیکن عام مسلمانوں...... شیعہ اور سنیوں کی طرح نہیں بلکہ ان کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ رسول کریمﷺ کے بعد انبیاء کرام کی آمد کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی خدا کے فرستادہ نبی تھے اور صرف یہی نہیں ان کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ یعنی اگر اللہ وزیر اعظم بھٹو کو توفیق دے تو وہ بھی نبوت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز قادیانیوں کا ایک وفد ہمارے دفتر میں تشریف لایا۔ اس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ترجمان جناب مرزا ناصر احمد کے زیر اہتمام شائع ہونے والے تفسیر القرآن (انگریزی) کے ایڈیٹر ملک غلام فرید صاحب تھے۔ جب انہوں نے یہ گلہ فرمایا کہ نوائے وقت قادیانیوں کے خلاف یک طرفہ مواد شائع کر رہا ہے تو ان سے عرض کیا گیا کہ وہ اپنے عقیدہ کے بارے میں لکھ کر دے دیں۔ ہم اسے بھی شائع کر دیں گے۔ لیکن وہ نوائے وقت سے برابر کے سلوک کی امید نہ رکھیں۔ نوائے وقت ان کا ترجمان نہیں۔ سواد اعظم کا اخبار ہے۔ اس کا عقیدہ بھی وہی ہے جو سواد اعظم کا ہے۔ اس عقیدہ کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن وہ بھی سواد اعظم کے مذہبی جذبات کا کچھ خیال کریں۔ ان کی خاطر اکثریت تو اپنا عقیدہ ترک نہیں کر سکتی نہ ہی اپنے مذہب سے دستبردار ہو سکتی ہے۔ اگر سر ظفر اللہ اپنے عقیدے میں اس قدر پختگی کا برملا اظہار کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے محسن حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیں تو وہ عام مسلمانوں سے کس طرح توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی ختم نبوت کی تاویل قبول کرلیں؟ بہر حال ہم ذیل میں جناب ملک غلام فرید صاحب کی تحریر کا عکس شائع کر رہے ہیں اور فیصلہ مسٹر بھٹو پر چھوڑتے ہیں۔
وزیر اعظم بھٹو پاکستان عوام کے ساتھ ختم نبوت کے مسئلہ پر اس قدر آگے جاچکے ہیں کہ اب ان کے انگلش سپیکنگ یونین سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ سیکولر مشیر چاہیں بھی تو ’’وقت گزاری‘‘ نہیں کر سکتے اور اگر کر بھی لیں تو پھر بھی اب اس مسئلہ کا ایسا حل انہیں بہر حال تلاش کرنا پڑے گا۔ جس سے عام مسلمان مطمئن ہو جائیں ،ممکن ہے کہ ان کے سیکولر سوشلسٹ مشیر اس کا یہ حل بھی بتائیں کہ ملک کو ’’سیکولر‘‘ بنا دیا جائے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری تو ایسے مشیر احمقوں کی جنت میں بس رہے ہیں۔ وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری جیب میں تو واپسی کا ٹکٹ ہے۔ لیکن مسٹر بھٹو نے تو اس ملک میں رہنا ہے۔ اگر انہیں مسلمان ہونے پر فخر ہے تو پھر انہیں ’’مسلمانی‘‘ کے غلبہ سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ مسئلہ کے تمام نتائج وعواقب پر غور کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے ذریعے اسے اپنے وعدے کے مطابق بجٹ سیشن کے بعد حل کر دینا چاہئے اور اس کے منطقی نتائج سے نپٹنے کے لئے پہلے سے تیاری کر لینی چاہئے۔ لیکن ایسی تیاری کے لئے انہیں اپنے موجودہ مشیروں کے گھیرے سے نکلنا پڑے گا۔
آخر میں ہم مجلس عمل اور عامۃ المسلمین سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ہر حالت میں پرامن رہیں۔ قادیانی چاہتے ہیں کہ ان کے اور مسٹر بھٹو کے درمیان محاذ آرائی ہو، جھگڑا ہو، فساد ہو۔ اس محاذ آرائی میں ان کا سراسر فائدہ اور جیت ہے اور حکومت کا اور عوام کا نقصان ہی نقصان۔ وہ بدامنی کی فضا پیدا کر کے اس آئین کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں صدر اور وزیر اعظم کے حلف ناموں میں ختم نبوت کا ذکر کر کے مرزائیت کی جڑ پر پہلی ضرب لگا دی گئی تھی۔
(اداریہ ’’نوائے وقت‘‘، مورخہ ۲۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
تفسیر القرآن (انگریزی) کے قادیانی ایڈیٹر کا بیان
’’جہاں تک میں سمجھتا ہوں جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے انبیاء کا سلسلہ بند نہیں کیا لیکن بعد میں اگر کوئی نبی آئے تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی غلام ، حضور ﷺ کی شریعت کا خادم اور اس پر عمل کرنے والا ہوگا۔‘‘
اگر کوئی ایسا شخص شریعت محمدیہ میں ایک شوشہ بھی زیادہ یا کم کرے اور حضور ﷺ محمد عربی مکی مدنی ابطحی و ہاشمی کو اس پوری شان کے ساتھ جو قرآن کریم میں وارد ہوئی ہے یا حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے اپنے متعلق بیان فرمائی ہے۔ خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتا۔ اس پر اور اس جماعت پر جس میں وہ شامل ہے خدا، اس کے فرشتوں اور تمام مومنوں کی لعنت ہو۔ ملک غلام فرید ایڈیٹر تفسیر القرآن (انگریزی) یہ بیان ملک غلام فرید ایڈیٹر تفسیر القرآن (انگریزی) کا ہے۔ جس کا عکس اداریے میں شائع کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا پر یہ بات واضح
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور ثابت ہو جائے کہ جس طرح تمام مسلمان سنی اور شیعہ حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ اس طرح مرزائی نہیں مانتے ہیں۔ مسلمانوں کا ایمان تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور اس کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا۔
(ادارہ)
۳۰؍جون ۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
بھٹو صاحب نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا
معلوم ہوا ہے کہ یکم جولائی کو راولپنڈی میں وزیر اعظم بھٹو نے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ جس میں ملک کی سیاسی واقتصادی صورتحال پر غور کرنے کے علاوہ قادیانیوں کے مسئلہ کے بارے میں اہم اعلان کیا جائے گا۔ ملک کے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے حکومت کو ۳۰؍جون تک کا نوٹس دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اہم اجلاس میں صوبوں کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ چاروں صوبوں کے پولیس کے سربراہ بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر اعلیٰ محمد حنیف رامے، صوبائی وزیر جیل خانہ جات ملک حاکمین خان کے ہمراہ آج سہ پہر لاہور سے راولپنڈی پہنچے۔ کوئٹہ سے گورنر بلوچستان مختصر دورے پر آج راولپنڈی پہنچے۔
سابق اٹارنی جنرل
پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل چوہدری نذیر احمد اور شیخ عنایت اللہ نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مسلمان کی ایسی جامع تعریف کی جائے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار اس تعریف میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی ایسی جامع تعریف آئین کی دفعہ ۲۲ اور ۹۱ (۲) کی رو سے ضروری ہے۔ جس کے تحت ملک کے صدر اور وزیر اعظم کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالت کی روشنی میں مسلمان کی تعریف کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک نئی دفعہ شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے آئین کے مقاصد کے مطابق بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہے۔ انہیں غیر مسلم سمجھا جائے گا تاہم دوسری اقلیتوں کی طرح انہیں اپنے مذہب کی پوری آزادی ہو گی۔
جمعیۃ علماء اسلام لاہور
جمعیۃ علماء اسلام لاہور کا اجلاس زیر صدارت مولانا عبیداللہ انور مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عوامی مہم کو تیز کرنے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ جب تک حکومت مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار نہیں دیتی اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف نہیں کیا جاتا اس وقت تک تحریک جاری رہے گی۔ اجلاس میں طے پایا کہ کارکنوں کو تیار کیا جائے کہ وہ ممبران قومی اسمبلی کا گھیراؤ کریں کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات کے حق میں ووٹ دیں۔
رحیم یار خان میں مجلس عمل کے ضلعی رہنماؤں کی پریس کانفرنس
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ضلعی رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا قادیانیوں کا وجود پاکستان کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالمیت اور استحکام کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ تقسیم پاکستان سے ہی ان عناصر نے تمام کلیدی عہدوں پر قابض ہو کر پاکستان کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مجلس کے ضلعی صدر مولانا غلام ربانی نے کہا کہ حکومت پاکستان نے مسٹر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنا کر غلطی کی تھی جس کی بناء پر بیرونی ممالک میں پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور پراپیگنڈے کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کے خلاف غداری اور ناپسندیدہ کارروائیوں کے الزام میں مسٹر ظفر اللہ کو گرفتار کیا جائے اور پاسپورٹ ضبط کیا جائے۔ مولانا غلام ربانی نے پنجاب اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں قرارداد پیش نہ کرنے پر حکومت پنجاب کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ڈیڑھ سال سے بلوچستان میں فوج مسلط ہے مگر کسی نے بھی بیرونی طاقتوں سے مداخلت کی اپیل نہیں کی۔ مجلس احرار اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا اگر حکومت نے ۳۰؍ جون کے بعد مرزائیوں کے خلاف اسمبلی میں بل پیش نہ کیا تو ہم سنگین اقدام سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ختم نبوت کا داعی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس مسئلے کو التواء میں ڈالا جا رہا ہے۔
مولانا عبید اللہ لدھیانوی نے کہا کہ اس مسئلے کو مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ میں لے جا کر حکومت قوم کو ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دفعہ ۱۴۴ ختم کر کے عوامی حقوق بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ حافظ محمد اکبر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کا ناجائز اسلحہ فوری طور پر ضبط کیا جائے اور ربوہ کی تلاشی لی جائے۔ شیخ عبدالعزیز ایڈووکیٹ نے کہا کہ فرقہ جعفریہ کے لوگ ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور وہ اس سلسلہ میں اپنے مسلمان بھائیوں کا ہر حال میں ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا اس مسئلے کو کسی قسم کا سیاسی رنگ نہیں دینا چاہئے بلکہ دینی نکتہ نظر سے پرامن حالات میں اپنے جذبات کا اظہار کیا جائے۔ آخر میں مسٹر ممتاز مصطفیٰ ایڈووکیٹ نے جو تحریک استقلال کے ڈویژنل نائب صدر بھی ہیں کہا کہ مرزائی ایک منظم سازش کے تحت موجودہ صورتحال کے تحت انڈیا کی مداخلت کے خواہاں ہیں تاکہ وہ ایک سیکولر ریاست میں رہ کر زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو نہ صرف غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے بلکہ ان کی اندرونی ملک سرگرمیوں پر بھی کڑی نگاہ رکھی جائے۔
لاہور میں جلسہ عام
جامعہ شمس القرآن اسلام پورہ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ عام زیر صدارت مولانا صوفی عبدالکریم نقشبندی منعقد ہوا جس میں مقررین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مسجد کے خطیب مولانا عبدالحکیم اشرف نے کہا جب کہ علماء فتویٰ دے چکے ہیں کہ قادیانی مسلمان نہیں اور بہاول پور کورٹ بھی اس قسم کا اعلان کر چکی ہے تو پھر ان کو غیر مسلم اقلیت کیوں قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے ان کو تمام کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔
انجمن گلزار مدینہ کے سیکرٹری اطلاعات حافظ عبدالرزاق نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ۳۰؍ جون تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو ہم پورے ملک میں ہڑتال کر دیں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی قیام پاکستان کے بھی مخالف تھے اور آج بھی وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنا قبلہ اسرائیل میں بنا رکھا ہے۔ جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا قاری محمد حنیف نے کہا کہ یہ ہمارا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ دینی مسئلہ ہے جس کے لئے ہم اپنی گردنیں تو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کٹوا سکتے ہیں لیکن ناموس ختم نبوت پر کوئی دھبہ نہیں آنے دیں گے۔ انجمن گلزار مدینہ کے صاحبزادہ غلام صدیق احمد نقشبندی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی کبھی پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک وہ اس خطہ ارض کو ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ واقعہ ربوہ بھی پاکستان کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔ انہوں نے کہا ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے۔ انہوں نے مرزا ناصر احمد اور سر ظفر اللہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ علامہ محمد مقصود احمد جنرل سیکرٹری تنظیم سواد اعظم پاکستان کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان پر باغیانہ سرگرمیوں کے سلسلہ میں مقدمہ چلایا جائے۔ انہیں تمام کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے اور ربوہ کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھول دیئے جائیں۔ علامہ مقصود نے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور مسلمانان پاکستان سے اپیل کی وہ ان حالات میں جب کہ حکومت اس مسئلہ کو آئینی اور جمہوری انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تصادم اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
جمعیتہ علماء جموں و کشمیر
ممتاز رہنما مولانا نعمت اللہ خان کشمیری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو بلا تاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر تمام کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ انہوں نے ظفر اللہ خان کے اس رویّہ پر شدید نکتہ چینی کی جس میں انہوں نے دشمن ممالک سے پاکستان کے اندرونی معاملہ میں دخل اندازی کی اپیل کی ہے، انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ظفر اللہ خان کی ملک دشمن سرگرمیوں کے پیش نظر ان کا پاسپورٹ منسوخ کیا جائے۔
جمعیتہ العلمائے پاکستان لاہور کے صدر محمد علی قادری نے ایک احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے پنجاب اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دے کر پورے پنجاب کی توہین کرائی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ۳۰؍ جون کو مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل قومی اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا تو جمعیتہ وسیع پیمانے پر حکومت کے خلاف مہم چلائے گی۔ قادری صاحب نے گرفتار طلباء اور دیگر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
جمعیتہ طلباء اسلام آزاد کشمیر
جمعیتہ طلباء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے جنرل سیکرٹری اشفاق ہاشمی ، مسعود قریشی اور عبدالرشید ترابی نے طلباء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسیر طالب علم رہنماؤں کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تیس جون کو طلباء اسلام آباد میں اسمبلی ہال کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کریں گے اور یہ ثابت کر دیں گے کہ پاک سر زمین دشمنان اسلام و پاکستان کو کسی قیمت پر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
انجمن طلباء اسلام لاہور کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں تقریباً تین سو طلباء نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مقامی ناظم حاجی محمد امین نے کی۔ اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد میں انجمن کے رہنماؤں، صوبائی ناظم محمد اقبال اظہری اور ان کے معتمد رفقائے کار قاری عطاء اللہ، راؤ ارتضیٰ حسن اشرفی اور رضوان شکیل تبسم کی گرفتاریوں پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا گیا کہ ان طالب علم رہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ تمام رہنما ۲۰/ جون کو لائل پور میں ختم نبوت کے سلسلے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد گرفتار کر لئے گئے۔
گرفتار طلباء جیل چلے گئے
مزنگ پولیس نے قابل اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کئے جانے والے طالب علم انور گوندل کو مقامی عدالت میں پیش کر کے دس دن کے لئے جیل بھیج دیا ہے۔ وحدت کالونی پولیس کے مطابق پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ کو پہلے ہی یکم جولائی تک کے لئے جیل بھیجا جا چکا ہے۔ ان پر بھی قابل اعتراض تقریر کرنے کا الزام ہے۔ اس الزام میں گورنمنٹ کالج کے طالب علم واجد علی خان کے خلاف مصری شاہ پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔
جہانیاں میں پولیس اہل کار کی دل آزاری کے خلاف ہڑتال
گزشتہ سہ پہر مقامی پولیس کے ایک اے.ایس.آئی نے اچانک ”مجلس تحفظ ناموس رسالت لائل پور کی طرف سے مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ“ کے عنوان سے چھپے ہوئے اشتہار دوکانوں سے اتارنے شروع کر دیئے جس سے شہریوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں اے.ایس.آئی کے اس فعل کو مذہبی معاملات میں مداخلت اور دل آزاری قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہڑتال کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کی تمام دوکانیں بند ہوگئیں۔ اس موقع پر جب مذکورہ اے۔ایس۔آئی سے رابطہ قائم کیا گیا تو بتایا گیا کہ اشتہار اتارنے کا حکم ڈی.ایس.پی خانیوال کی طرف سے بذریعہ ٹیلیفون آیا ہے۔ اس وقت مقامی ایس.ایچ.او تھانہ میں نہیں تھے۔ اس واقعہ کے تقریباً دو گھنٹے بعد ایس.ایچ.او تھانہ پہنچے اور انہوں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ شہر کی دوکانوں سے اشتہار اتارنے کا واقعہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اصل میں مذکورہ اے۔ایس۔آئی کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ مرزائیوں کی طرف سے شائع کردہ اشتہارات پر قبضہ کر لیا جائے جن میں دل آزار مواد ہے جو امن عامہ میں گڑبڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ مگر مغالطے میں شہر کی دوکانوں پر آویزاں مرزائیوں کے بائیکاٹ کے اشتہارات اتار لئے گئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کے بعد شہر میں فضا خاصی جذباتی ہے اور لوگ اے۔ایس۔آئی موصوف کے فوری تبادلے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مکمل طور پر کیا جا رہا ہے اور اس وضاحت کے باوجود ہڑتال جاری رہی۔
جلسہ عام...... آرام باغ، کراچی
گزشتہ روز آرام باغ میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اگر قادیانی مسئلہ حل نہ ہو تو وہ اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا شاہ فرید الحق نے کہا کہ ایوان کے قائد غلام مصطفیٰ جتوئی اور وزیر قانون عبد الوحید کٹپر کا قادیانیوں کے مسئلہ پر قرارداد پر بحث کے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دینا انتہائی افسوس ناک ہے۔ مولانا نے کہا کہ ان لیڈروں نے اس پر ایوان میں بحث کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے ارکان سے کہیں کہ اگر وعدہ کے مطابق وزیر اعظم بھٹو قومی اسمبلی سے قادیانیوں کا مسئلہ حل نہ کراسکیں تو وہ اپنی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں۔
جماعت اہل سنت کے صدر مولانا محمد شفیع نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی، خواہ وہ ربوہ سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فرقہ سے، غیر مسلم ہیں۔ جماعت اہل سنت کے سیکرٹری جنرل مولانا سعادت علی قادری نے کہا کہ اگر قادیانی مسئلہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو جماعت ”ربوہ چلو“ تحریک شروع کرے گی۔ جلسہ سے مسلم لیگ کراچی کے صدر بوستان ہوتی، جمعیۃ العلمائے پاکستان کے مولانا اللہ وسایا،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیتہ العلمائے اسلام کے مولانا محمد شاہ، جماعت اسلامی کے محی الدین ایوبی، اسلامی جمعیتہ طلباء کے عبدالمالک مجاہد اور انجمن طلباء اسلام کے انور عظیم یعقوب نے خطاب کیا۔
خانیوال میں مولانا احتشام الحق تھانوی کا خطاب
مولانا احتشام الحق تھانوی نے بلاک نمبر ۱ کی جامع مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چوہدری ظفر اللہ سابق وزیر خارجہ پاکستان کے بیان کا فوری محاسبہ کرنا چاہئے تھا۔ لیکن اب تک اس کے بیان کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے خلاف تحریک منظم اتحاد کے ساتھ پرامن طریقہ سے چلانی چاہئے اور اس سلسلہ میں حکومت کے تعاون سے یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے۔ جس سے ملک کو خطرہ ہو انہوں نے کہا کہ مرزائی ۱۹۴۷ء میں بھی پاکستان کے حق میں نہ تھے اور نہ ہی آج پاکستان کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو اسلام کے اصولوں سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ اجلاس کے اختتام پر حاضرین جلسہ نے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ، انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹائے جانے کے مطالبات کی حمایت کی۔
عیسیٰ خیل بار ایسوسی ایشن
تحصیل عیسیٰ خیل بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد ظفر اللہ خان ایڈووکیٹ نے ایک اخباری بیان میں قادیانی رہنما چوہدری ظفر اللہ کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ جس میں انہوں نے حکومت پاکستان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے، انہوں نے کہا چوہدری ظفر اللہ خان کی طرف سے غیر جانبداری عالمی اداروں کو پاکستان آ کر حالات کا جائزہ لینے کی دعوت دینا پاکستان کے خلاف ان کے معاندانہ رویے کی آئینہ دار ہے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں غیروں کو کھلی مداخلت کی دعوت دینا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چوہدری ظفر اللہ کا نہ صرف پاسپورٹ ضبط کیا جائے بلکہ ان پر کھلی عدالت میں غداری کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کل قومی اسمبلی میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں سرکاری طور پر ایک قرار داد پیش کی جائے گی اور اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس ہفتہ عشرہ کے لئے ملتوی ہو جائے گا۔ دوبارہ جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گا تو اس قرار داد پر بحث ہو گی۔ خیال ہے کہ قرار داد میں عقیدے کا مسئلہ طے کیا جائے گا۔ اس اصول کو طے کیا جائے گا کہ کن کن امور پر ایمان رکھنے والے مسلمان ہیں اور کن باتوں کو ماننے والے مسلمان نہیں ہیں۔ اس قرار داد کی منظوری کے بعد آئین میں اس طے شدہ اصول کے مطابق ضروری ترمیم کر دی جائے گی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم بھٹو کے دور میں جو آئین منظور کیا گیا ہے اس میں یہ امر طے شدہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ کا آخری نبی تسلیم نہ کرنے والا کوئی شخص پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم نہیں ہو سکتا۔ یہ آئینی تحفظ اس سے پہلے پاکستان کے دونوں آئین میں نہیں تھا۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی آئین میں یہ اصول طے کر سکتی ہے کہ فلاں فلاں باتوں کو تسلیم نہ کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے، اس کے بعد کسی شخص کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ سپریم کورٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ آئین کی تشریح اور تعبیر کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے، بعض حلقوں کی رائے یہ بھی ہے کہ مرزائیوں نے کئی مسلمان ملکوں میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں۔ اس لئے اس مسئلہ کو عالمی برادری کی سطح پر طے کرنا چاہئے تا کہ مسلمان ملک ان کے بارے میں یکساں رویہ اختیار کریں۔ اس سلسلے میں یہ تجویز بھی پیش کی جاتی ہے کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان اکابرین کی خواہش کے مطابق اب جب کہ بین الاقوامی سطح پر اسلامی بلاک کی ایک باضابطہ تنظیم اسلامی کانفرنس موجود ہے۔ اس کا مستقل سیکرٹریٹ سر زمین مقدس پر ہے تو یہ مسئلہ وہاں بھی پیش کر کے ایک اجتماعی فیصلہ کرایا جائے۔
امیر عبداللہ خان روکھڑی کا بیان
صوبائی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے قائد امیر عبداللہ خان روکھڑی نے کہا ہے کہ وہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود تحفظ ختم نبوت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ وہ گزشتہ روز جامع مسجد مولوی اکبر علی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی تمام کوششوں کے باوجود حکمران جماعت نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکمران پارٹی کے ستر ارکان نے مشترکہ طور پر جو تحریری قرار داد پیش کی تھی۔ اس کا بھی وہی حشر ہوا لیکن حزب اختلاف کے واک آؤٹ میں ان ارکان اسمبلی نے حصہ نہیں لیا۔ جنہوں نے قرار داد پر دستخط کئے تھے انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم بھٹو کو مبارک باد پیش کرنا ہوتی ہے تو سپیکر تمام قواعد کو معطل کر دیتے ہیں۔ لیکن ناموس رسالت کا سوال ہو تو سپیکر قاعدے اور قانون کی بات دہرانے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ارکان اسمبلی نے قرار داد پر دستخط کرنے کے باوجود اجتماعی واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔ انہیں ناموس رسول کے بجائے حکمران طبقے کی خوشنودی مطلوب ہے۔ اس لئے اگر آئندہ حکمران جماعت نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی کوئی قرار داد پیش کی تو یہ ان ارکان اسمبلی کے جذبہ ایمانی کی دلیل نہیں ہوگی بلکہ ان کی روایتی قوت مدافعانہ پالیسی کی آئینہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت حزب اختلاف کے ارکان واک آؤٹ کر رہے تھے تو ایک ضلع کے معزز رکن قرار داد پر دستخط کرنے کے باوجود ایوان میں ہمارے خلاف ہی تقریر کر رہے تھے۔ اس پر جلسہ عام میں موجود ہزاروں افراد نے مطالبہ کیا کہ ضلع میانوالی کے ان ارکان اسمبلی کے نام ظاہر کئے جائیں جنہوں نے دستخط کرنے کے باوجود واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔ امیر عبداللہ نے کہا کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ میانوالی سے کرنل محمد اسلم خان ایم۔پی۔اے، فقیر عبدالمجید خاں اور تاج محمد خان ہی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ جلسہ عام میں ایک متفقہ قرار داد میں ان ارکان کی شدید مذمت کی گئی جنہوں نے قرار داد پر دستخط کرنے کے باوجود واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا بلکہ حکمران جماعت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایوان میں بیٹھے رہے۔
مرزائی خاندان نے اسلام قبول کر لیا
قبولہ (ضلع ساہیوال) کے ایک ڈاکٹر لال دین نے معززین شہر کے ایک اجتماع میں تمام خاندان سمیت مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ ڈاکٹر لال دین نے اپنے تحریری بیان میں مرزا غلام احمد اور مرزا ناصر احمد کو مرتد اور کافر کہا اور آئندہ زندگی میں اسلام کے اصولوں پر کاربند رہنے کا عہد کیا۔
لاڑکانہ قادیانی جماعت کے سربراہ تائب ہو گئے
قادیانی ٹولہ لاڑکانہ کے سربراہ محمد صادق نے آج یہاں جامع مسجد میں مفتی شہر مولانا محمد شفیق کے ہاتھ پر تائب ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ٹولہ مسلمانوں سے علیحدہ ہے اور میرا ایمان ہے کہ حضرت محمد پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔ ان کے علاوہ ہر دعویدار جھوٹا ہے۔ محمد صادق کے علاوہ ان کے صاحبزادے محمد انور عادل اور ان کی اہلیہ نے اہل سنت والجماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملتان بارایسوسی ایشن کے صدر کا بیان
قادیانی بائیکاٹ کمیٹی کے چیئرمین اور بارایسوسی ایشن کے صدر محمد اشرف خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے دھڑا دھڑ گرفتاریوں اور قادیانیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود سماجی مقاطعہ کی تحریک پر امن طور پر جاری رہے گی۔ انہوں نے جامع مسجد لوہاری گیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فدایان ختم نبوت تہیہ کرچکے ہیں کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے لئے مجلس عمل کا ساتھ دیا جائے گا۔ بائیکاٹ کمیٹی کے صدر نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان مختلف بازاروں کا دورہ کر رہے ہیں جو مرزائیوں کے ساتھ تعاون کرنے والوں کا سختی سے محاسبہ کریں گے۔ گورنمنٹ رفاہ عامہ ہائی سکول کے طلباء کے اجتماع میں طالب علم رہنما صلاح الدین اور بلال نے اعلان کیا کہ طالب علم قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی ہر مہم کا ہراول دستہ ثابت ہوں گے۔ مدرسہ جامع الاکبر قادر پور راواں میں اساتذہ اور طلباء کے ایک ہنگامی اجلاس میں مولانا نذر محمد حسینی نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹا دیا جائے۔
قادیانیوں سے علیحدگی کا اعلان
ہمارا ربوہ جماعت سے کسی قسم کا تعلق نہیں اور پہلے بھی نہ تھا۔ ہم ہر اس آدمی کو جو رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں بلکہ ہم ایسے مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم ختم نبوت پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔ ہم اسلام کے پانچوں ارکان توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تمام ان عقائد واحکام پر ایمان رکھتے ہیں جو قرآن مجید اور احادیث نبوی میں درج ہیں اور جن پر سلف صالحین اور اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے۔
عبدالقیوم حصہ دار ایٹ مور ریسٹورنٹ، سیالکوٹ چھاؤنی
غلہ منڈی گوجرانوالہ کا بائیکاٹ کا اعلان
غلہ منڈی گوجرانوالہ کے تاجران نے آج جنرل اجلاس میں متفقہ طور پر یہ پاس کیا ہے کہ وہ آئندہ کسی قادیانی سے کوئی لین دین نہیں کریں گے۔ امید ہے دوسری منڈیوں کے تاجران بھی اسی جذبہ ایمانی کا ثبوت دیں گے۔
منجانب: میاں سلطان محمود صدر انجمن آڑھتیان غلہ منڈی، گوجرانوالہ
حنیف رامے کی منطق، سر راہے ”نوائے وقت“
پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب حنیف رامے نے قادیانیوں سے رسمی ربط و ضبط اور خوشگوار تعلقات کے باوجود ختم نبوت کے مسئلے پر جو واضح اور اسلام کے سواد اعظم کے عقائد کے مطابق مؤقف اختیار کیا ہے وہ قابل داد ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ان کے دماغ کی کیفیت خواہ کچھ ہو ان کا قلب ایک مرد مؤمن کے دل کی طرح ختم نبوت کے معاملے میں بالکل صاف ہے لیکن حزب اختلاف کے صوبائی اسمبلی سے واک آؤٹ کے موقع پر انہوں نے جس اسلامی روایت کا حوالہ دیا ہے، وہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ حنیف رامے صاحب ادبی مزاج کے آدمی ہیں۔ لیکن تشبیہ کے لئے اگر وجہ شبہ موجود نہ ہو تو وہ تشبیہ ہی بیکار نہیں ہوتی بلکہ ادب کی دھن میں سوئے ادب کا کام بھی کر جاتی ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف عام نفرت کے بارے میں کہا کہ ہم یہ مسئلہ آئین اور اسلامی تعلیمات کے مطابق حل کریں گے۔ یزید کی طرح پانی بند کر کے نہیں۔ معلوم نہیں رامے صاحب نے قادیانیوں کو شہیدان کربلا سے تشبیہ دینے اور عام مسلمانوں کو یزید سے نسبت دینے میں کیا مصلحت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سمجھی ہے۔ آخر قادیانیوں کو ان پاک ہستیوں سے کیسے تشبیہ دی جاسکتی ہے؟ جب کہ خود قادیانیوں کے پیر و مرشد کا عقیدہ یہ ہے کہ ؎
قادیانی امام حسین ؓ کی توہین کریں اور ہم انہیں حسین ؓ سے تشبیہ دیں؟ یہ بات کس کی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ تلمیحات کا استعمال بھی موقع و محل کا متقاضی ہے۔ رامے صاحب کو اس بارے میں احتیاط لازم ہے۔
(نوائے وقت، مورخہ ۳۰؍جون ۱۹۷۴ء)
امریکی اخبار کو لکھے جانے والے شر انگیز خط کا عکس
قادیانیوں نے بیرون ملک پاکستان کو بدنام کرنے کی بھرپور مہم شروع کر رکھی ہے۔ حکومت پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں نے بیرون ملک زہریلے پروپیگنڈے کی جو زبردست مہم شروع کر رکھی ہے اس کا ایک اور ثبوت ملا ہے۔ آج کل بیرون ملک قادیانی مشنوں سے امریکی اور یورپی اخبارات کو خط لکھے جا رہے ہیں۔ جن میں پاکستان میں قادیانیوں پر نام نہاد ظلم و ستم کی بڑی ہولناک اور گمراہ کن تصاویر کھینچی گئی ہیں۔ پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے اور پاکستان کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کیمبرج سے ایک قادیانی شخص باری جی وائٹ نے امیر جماعت احمدیہ ہوسٹن عبدالراغب ولی کے لیٹر پیڈ پر امریکی اخباروں کے مدیران کے نام ایک مکتوب میں پاکستان کے مسلمانوں اور حکومت پر شدید الزامات لگائے ہیں اور اخبارات سے اپیل کی ہے کہ وہ مکتوب میں بتائی جانے والی صورتحال کی بخوبی تشہیر کریں اور پاکستان میں قادیانیوں کی جانیں بچانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ مکتوب نگار باری جی وائٹ نے برطانوی اخبارات کے مدیروں کو لکھا ہے کہ : ” جناب ایڈیٹر! آج کل پورے پاکستان میں احمدی مسلمانوں کو قتل کرنے اور انہیں ایذائیں پہنچانے کی ناپاک مہم جاری ہے۔ بے شمار احمدی زخمی اور لا تعداد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ بہت سے ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔ ہماری مسجدیں، مکانات اور کاروبار جلائے اور لوٹے جا رہے ہیں۔ سڑکیں مرزائیوں کی لاشوں سے پٹی پڑی ہیں اور مسلمان ان کو مناسب طرح سے دفن کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ ہم نے وہ کون سا جرم کیا ہے جس کی بناء پر ہمارے ساتھ یہ سفاکانہ برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم دقیانوسی مسلمانوں سے مذہبی عقائد میں اختلاف رکھتے ہیں۔ ہماری مقدس کتاب قرآن کریم حکم دیتی ہے کہ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں لیکن اس کے باوجود دقیانوسی مسلمان اس کی پوری طرح نافرمانی کرتے ہیں۔ میں آپ سے اور آپ کے قارئین سے ملتمس ہوں کہ آپ اس صورتحال کی تشہیر کریں اور بے گناہ انسانی جانوں کو بچانے اور انسانی حقوق کے علم کو بلند رکھنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔“
(نوائے وقت، مورخہ ۳۰؍جون ۱۹۷۴ء)
یکم؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
خان پور چوہدری محمد انور کا ایمان پرور بیان
انجمن اسلامیان خان پور کے نائب صدر چوہدری محمد انور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج کل جو حضرات اخبارات میں اپنے مرزائی نہ ہونے کے بارے میں وضاحتیں، ضروری اعلانات اور تردیدی اشتہارات کی صورت میں چھپوا رہے ہیں۔ ان سب کے ایک فقرے میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ بات خالی از علت نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوے کی طرف سے مرزائیوں کو یہ ہدایت ملی ہے کہ وہ اپنے اعلانات کے آخر میں اگر اس ایک فقرے یعنی ”محمد ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت، خواہ وہ مرزا غلام احمد ہو یا کوئی اور ، کاذب اور جھوٹا ہے“ کا اضافہ کر دیں تو وہ کاروبار کے ساتھ ساتھ مرزائیت پر اپنا ایمان بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس فقرے میں بڑی چالاکی کے ساتھ مرزا غلام احمد کے جھوٹے اور کاذب ہونے کو اس بات سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ اگر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو تو جھوٹا اور کاذب ہے۔ یہ بات لاہوری مرزائیوں کے عقیدے سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ وہ تو اس چیز کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ قادیانی مرزائیوں نے بھی ”الفضل“ اخبار کے حالیہ شمارے میں مصلحتاً اسی عقیدے کا اظہار کیا ہے۔
چوہدری محمد انور نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہم ان مرزائیوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو وہ مزید دھوکہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اب اگر مگر سے کام نہیں چلے گا ...... ”خواہ وہ مرزا غلام احمد ہو“ کا کیا مطلب؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یقیناً مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس دعویٰ کا علم مرزائیوں سے زیادہ اور کسے ہو سکتا ہے۔ اس لئے واضح ، صاف اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیجئے کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، وہ کافر اور کاذب ہے۔ آخر میں انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اتحاد کو قائم رکھیں ۔ ان جھوٹے اور مکارانہ اعلانات پر یقین نہ کریں اور مرزائیوں کے خلاف اپنا بائیکاٹ جاری رکھیں ۔ فتح یقیناً مسلمانوں کے قدم چومے گی۔
شیخوپورہ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
پنجاب سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سید ارشد محمود ہاشمی نے کہا ہے کہ سانحہ ربوہ امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے طالب علموں کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی طالب علموں کو نہ صرف تعلیمی اداروں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا بلکہ انہیں امتحان میں بھی شریک نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وہ یہاں مسجد نیم والی پرانا شہر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے مسلمانوں کے اندر ہمیشہ انتشار اور بے چینی پھیلانے کی سازش کی ہے اور امت مسلمہ کے جذبات کو دانستہ برانگیختہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں سے اپنے سماجی روابط ختم کرلیں۔ ان سے اپنی تجارت اور معیشت علیحدہ کر لیں تا کہ کوئی مزید سازش جنم نہ لے سکے۔ جلسہ عام سے پنجاب یونیورسٹی کے سابق نائب صدر سید تنویر عباس تابش نے تقریر کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی تحریک کو پرامن طریقہ سے جاری رکھیں اور کسی قسم کی امن شکنی کئے بغیر اس تحریک کو منزل سے ہمکنار کریں۔ جلسہ عام سے مولانا عبدالحمید ، قاری امین اختر ، حافظ خالد ، حافظ عبداللہ اور دوسرے علمائے کرام نے خطاب کیا۔
گوجرانوالہ تحریک استقلال
تحریک استقلال صوبہ پنجاب کے جوائنٹ سیکرٹری مسٹر ارشد وحید نے تحریک کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کے بارے میں بعض مفاد پرست عناصر کے مبینہ بے بنیاد اور شرانگیز پروپیگنڈا کی شدید مذمت کی ہے۔ مسٹر ارشد وحید نے ایک بیان میں تحریک استقلال کے سربراہ کے بارے میں گوجرانوالہ متحدہ مجلس عمل کی قرارداد مذمت کو، ایئر مارشل اصغر خان کو عوام کی نظروں سے گرانے کی ایک مذموم اور سوچی سمجھی سازش قرار دیا ۔ وہ آج یہاں تحریک کے دفتر میں کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جناب اصغر خان سنی العقیدہ مسلمان ہیں ۔ وہ حضور پاک رسول کریم ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ وہ اپنے اس عقیدہ کا ہری پور اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئٹہ کے علاوہ متعدد مقامات پر جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن اس امر کے باوجود مفاد پرست عناصر ان کے خلاف پروپیگنڈا کر کے عوام میں ان کی مقبولیت کو کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ مسٹر ارشد وحید نے مزید کہا ہے کہ مجلس عمل نے یہ قرارداد صرف اس لئے منظور کی ہے کہ تحریک استقلال مجلس عمل میں شامل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کسی ایسی تنظیم سے اتحاد نہیں کر سکتی، جو موجودہ حکومت سے بات چیت کی حامی ہو۔ محاذ میں ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک مرزائیوں کے متعلق اپنا لائحہ عمل تیار نہیں کیا جب کہ ختم نبوت کی تحریک شروع ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہے۔ ارشد وحید نے مزید کہا کہ بعض اپوزیشن رہنما اصغر خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بوکھلا گئے ہیں اور اپوزیشن کی صفوں میں شامل حکومت کے بعض مفاد پرست ایجنٹوں کے ایماء پر قرارداد منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزائیوں کے بارے میں تحریک استقلال کا مؤقف واضح اور صاف ہے کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت ہے۔
بہاول نگر میں عظیم اجتماع
جناب عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ رکن پنجاب بار کونسل و جنرل سیکرٹری پاکستان جمہوری پارٹی پنجاب نے حکمران پارٹی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پہلو تہی کی تو اس سے نہ صرف ملک کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے بلکہ خود پیپلز پارٹی بھی تباہ و برباد ہو جائے گی۔ جناب عبدالرشید قریشی جیل سے رہا ہونے کے بعد رضائے مصطفیٰ جامع مسجد میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے پورے عزم اور بھر پور اعتماد کے ساتھ کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ قادیانیوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دو ٹوک فیصلہ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو یہ فتنہ آئندہ ملت اسلامیہ کے لئے ایک عذاب کی شکل اختیار کر لے گا۔ جناب قریشی نے کہا انگریز نے غلام احمد قادیانی کی نبوت کا سوانگ محض مسلمانوں میں انتشار پیدا کر کے اپنی گرفت کو مضبوط بنانے کے لئے رچایا تھا لیکن بدقسمتی سے اسلام کے جسم میں قادیانیت نے آہستہ آہستہ ناسور کی شکل اختیار کر لی ہے جسے ختم کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں، اس لئے یہ ہر مسلمان کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ ناموس محمد ﷺ کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ مسٹر قریشی نے کہا کہ انگریز کے بعد اب قادیانی گماشتوں نے یہودیوں کی ایجنٹی کے فرائض سنبھال لئے ہیں اور اسلامی اور عرب اتحاد کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو ان کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔ انہوں نے غیر ملکی پریس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط طور پر قادیانیوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مسٹر عبدالرشید قریشی نے حکمران پیپلز پارٹی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قادیانیوں کو عملی سیاست میں حصہ لینے اور کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کرنے کی بڑی ذمہ داری صرف پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ اجتماع میں کئی قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
قومی اسمبلی میں سپیشل کمیٹی
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آج قادیانیوں کے مسئلہ سے متعلق حکمران پارٹی کی ایک تحریک اور حزب اختلاف کی ایک قرارداد کو ایوان کی ایک خاص کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس دو ہفتے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ ایوان کی یہ خاص کمیٹی کل یکم جولائی سے تحریک اور قرارداد پر بیک وقت غور شروع کرے گی۔ اس خاص کمیٹی کے تمام اجلاس خفیہ ہوں گے۔ اس سے قبل آج صبح اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی وزیر قانون کی درخواست پر دو گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اس وقفہ کے دوران قادیانیوں سے متعلق کوئی قرارداد یا تحریک اسمبلی میں پیش کرنے کے بارے میں حکمران پارٹی اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان سپیکر کے کمرے میں اہم مذاکرات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے۔ ان میں سپیکر کے علاوہ وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، سیکرٹری وزارت قانون مسٹر جسٹس محمد افضل چیمہ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ حنیف رامے نے بھی شرکت کی جب کہ اپوزیشن کی طرف سے پروفیسر غفور احمد ، مولانا مفتی محمود، سردار شیر باز خان مزاری، مولانا شاہ احمد نورانی، مسٹر غلام فاروق اور سردار شوکت حیات نے شرکت کی۔ ان مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے حکمران جماعت پر واضح کر دیا کہ وہ اپنی قرارداد ہر صورت میں ایوان میں پیش کرے گی اور اس پر فوری غور کا مطالبہ کیا جائے گا۔ دوسری طرف اس وقفہ کے دوران پیپلز پارٹی کی پارلیمانی گروپ کے اجلاس بھی کمیٹی روم میں ہوتے رہے۔
اپوزیشن کی قومی اسمبلی میں قرارداد
قومی اسمبلی میں آج صبح قادیانیوں کے مسئلہ سے متعلق حزب اختلاف کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے جو قرارداد پیش کی اور جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اس پر اپوزیشن کے ۲۴ حاضر اور سرکاری پارٹی کے تین ارکان کے دستخط ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں: (۱) مولانا مفتی محمود، (۲) شاہ احمد نورانی، (۳) مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، (۴) پروفیسر غفور احمد ، (۵) مولانا سید محمد علی رضوی، (۶) مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) ، (۷) چوہدری ظہور الٰہی ، (۸) سردار شیر باز مزاری ، (۹) مولانا ظفر احمد انصاری، (۱۰) مخدوم نور محمد ہاشمی، (۱۱) صاحبزادہ احمد رضا خاں قصوری، (۱۲) محمود اعظم فاروقی، (۱۳) مسٹر غلام فاروق، (۱۴) عبدالحمید جتوئی، (۱۵) حاجی مولانا بخش سومرو، (۱۶) مولانا صدرالشہید، (۱۷) سردار شوکت حیات خاں، (۱۸) مولانا نعمت اللہ عمران خان (نیپ) ، (۱۹) راؤ خورشید علی خان اور (۲۰) میر علی احمد تالپور ...... ماضی میں حکومت کا ساتھ دینے والے اپوزیشن کے ان ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ مسلم لیگ کے (۲۱) نواب ذاکر قریشی، (۲۲) کرم بخش اعوان، (۲۳) غلام حسن ڈھانڈلہ، جمعیتہ العلمائے پاکستان کے (۲۴) غلام حیدر بھروانہ اور (۲۵) صاحبزادہ نذیر سلطان ، اس جماعت کے غلام ابراہیم برق نے ساتھیوں کے زور دینے کے باوجود قرارداد پر دستخط نہ کئے۔
جمعیتہ علماء پاکستان کے (۲۶) مولانا محمد ذاکر علالت کی وجہ سے حاضر نہ تھے لیکن انہوں نے ٹیلی فون پر قرارداد سے اتفاق کر دیا۔ (۲۷) خان عبدالولی خان اور (۲۸) محمود علی قصوری کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ مگر نیپ اور تحریک استقلال کے حاضر ارکان نے قرارداد پر دستخط کر دیئے۔ جماعت اسلامی کے (۲۹) صاحبزادہ سیف اللہ ایوان میں حاضر نہ تھے۔
اپوزیشن کی قرارداد کا متن
- چونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد ﷺ کے بعد، جو اللہ کے آخری نبی ہیں، نبوت کا دعویٰ کیا۔
- اور چونکہ اس کا جھوٹا دعویٰ نبوت ، قرآن کریم کی بعض آیات میں تحریف کی سازش اور جہاد کو ساقط کر دینے کی کوشش، اسلام کے
مسلمات سے بغاوت کے مترادف ہے۔
- اور چونکہ وہ سامراج کی پیداوار ہے۔ جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
- چونکہ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ، خواہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہوں یا
اسے کسی اور شکل میں اپنا مذہبی پیشوا یا مصلح مانتے ہوں، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
- چونکہ اس کے پیروکار ، خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو، وہ دھوکہ دہی سے مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ بن کر اور اس طرح ان سے
گھل مل کر اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۞...... چونکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی تنظیموں کی ایک کانفرنس میں، جو ۶ تا ۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر کی ۱۴۰ مسلم تنظیموں اور انجمنوں نے شرکت کی، اس میں کامل اتفاق رائے سے یہ فیصلہ صادر کر دیا گیا کہ قادیانیت، جس کے پیروکار دھوکہ دہی سے اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ کہتے ہیں۔ دراصل اس فرقہ کا مقصد اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنا ہے۔ اس لئے اب یہ اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار، خواہ انہیں کسی نام سے پکارا جاتا ہو، مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو دستور میں ضروری ترامیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا سکے اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
جب دو گھنٹے کے وقفے کے بعد اسمبلی کا اجلاس ساڑھے ۱۲؍بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ کی طرف سے پیش کردہ منکرین ختم نبوت کی اسلام میں حیثیت کے تعین کے بارے میں ایک تحریک اور اپوزیشن کی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اس مقصد کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد اور تحریک کی منظوری کے وقت وزیر اعظم بھٹو بھی ایوان میں موجود رہے۔ قرارداد اور تحریک، ایوان کی رائے کے مطابق، تمام ممبروں پر مشتمل ایک خاص کمیٹی کے سپرد کر دی گئی۔ اس کمیٹی کے اجلاس کے لئے چالیس ممبروں کا کورم ضروری قرار دیا گیا۔ ان میں دس ارکان، حکومت کی مخالف جماعتوں سے ہوں گے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ چالیس ارکان کی موجودگی کے بغیر کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکے گا۔ وزیر قانون نے مزید کہا کہ چونکہ اب اپوزیشن اور حکومتی پارٹی کے درمیان قادیانیوں کے مسئلہ کو زیر بحث لانے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے قومی اسمبلی ہی مناسب اور واحد ادارہ ہے۔ اس لئے اب اسمبلی کے باہر کسی قسم کے مظاہرے نہیں ہونے چاہئیں۔
قومی اسمبلی میں سرکاری تحریک کا متن
یہ ایوان سارے ایوان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کرتا ہے، جس میں تقریریں کرنے کا حق رکھنے والے اور دوسرے ارکان بھی شامل ہیں اور جس کے چیئرمین اس ایوان کے سپیکر ہوں گے اور یہ خصوصی کمیٹی حسب ذیل فرائض سرانجام دیں گے:
- ......۱ ان لوگوں کی حیثیت متعین کی جائے، جو آنحضور محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلے پر ایمان نہیں رکھتے۔
- ......۲ اس سلسلے میں کمیٹی کی پیش کردہ تجاویز، مشوروں اور قراردادوں پر اس معینہ مدت کے اندر غور و خوض مکمل کر لیا جائے جس کا اعلان
کمیٹی کرے گی۔
- ......۳ اس غور و خوض کے نتیجے میں شہادتیں قلمبند کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد کمیٹی اپنی سفارشات ایوان میں پیش
کرے گی۔
مسٹر پیرزادہ کی تحریک کے مطابق متذکرہ خصوصی کمیٹی کا کورم، چالیس ممبروں کا مقرر کیا گیا، جن میں سے دس ممبر حزب اختلاف کے ارکان ہوں گے۔
قومی اسمبلی کے باہر حفاظتی انتظامات
آج صبح سے اسمبلی کے گردونواح میں دور دور تک سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ اسمبلی کی طرف جانے والوں کی کئی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرلانگ کے فاصلے سے چیکنگ شروع کر دی جاتی ۔ ویگنوں اور موٹر ٹیکسیوں کو آب پارہ مارکیٹ سے آگے جانے کی اجازت نہ تھی ۔ فیڈرل سیکورٹی فورس کے دستے موٹر گاڑیوں پر اسمبلی کے آس پاس اور تمام اسلام آباد میں گشت کرتے رہے۔
سرحد اسمبلی کو مبارک باد
جمعیتہ علماء اسلام کوٹ ادو کے امیر چوہدری شوکت علی نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ صوبہ سرحد کی اسمبلی نے جو قرارداد منظور کی ہے ۔ اس پر اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے ۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی ، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اسی قسم کی قراردادیں منظور کر کے وفاقی حکومت کو بھیجیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
راولپنڈی مجلس احرار اسلام
مجلس احرار اسلام راولپنڈی کے ناظم حافظ مشتاق احمد لدھیانوی نے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس کو اس کی قادیان (بھارت) میں جائیداد کے عوض ربوہ میں اراضی الاٹ کی جائے ۔ حافظ مشتاق احمد نے کہا کہ قادیان میں مجلس کا ایک رجسٹر ڈ ٹرسٹ قائم تھا اور اس کی رجسٹر ڈ باڈی موجود تھی ۔ جس کا کلیم مجلس احرار اسلام نے قیام پاکستان کے بعد کیا تھا لیکن احرار کی یہ درخواست ابھی تک فیصلہ طلب پڑی ہے اور اس کے عوض مجلس کو اراضی الاٹ نہیں کی گئی جب کہ قادیانیوں کو برائے نام قیمت پر ربوہ میں وسیع اراضی دی گئی ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب جب کہ ربوہ میں مسلمانوں کو آباد کرنے کے لئے قطعات اراضی مختص کئے جا رہے ہیں تو احرار کو بھی اراضی الاٹ کی جائے ۔
حیدر آباد میں میاں طفیل محمد کا بیان
امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے کہا ہے کہ جناب بھٹو کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ہیں یا مسلمانوں کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ۔ وہ آج پھلیلی پریت آباد میں کارکنوں کے ایک استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھٹو صاحب سے یہ کہہ دیا ہے کہ اگر قادیانیوں کو کافر قرار نہیں دے سکتے تو پھر پوری ملت مسلمہ کو کافر قرار دے دیجئے ۔ کیونکہ قادیانیوں کے لئے ہمارے درمیان کوئی جگہ نہیں اور آپ کو اس سلسلہ میں کوئی نہ کوئی قانون بنانا پڑے گا ۔ قبل ازیں امیر جماعت اسلامی سندھ مولانا جان محمد عباسی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام نے ختم نبوت کے حق میں ووٹ دیا ہے ۔
’نوائے وقت‘ کا سر راہے
’’طالب علم رہنما جاوید ہاشمی کی تلاش میں پولیس ایک ایسے مقام پر پہنچی ، جہاں ایک مکان پر ایک تختی سجاد ہاشمی کے نام کی اور دوسرے مکان پر ایک تختی اظہر جاوید کے نام کی لگی تھی ۔ پولیس کا دستہ بارہ افراد پر مشتمل تھا ۔ ان میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ ملزم بڑا سیانا ہے ، اپنے نام کے دو حصے کر کے اس نے دو تختیاں لگا دی ہیں اور آدھا آدھا نام دونوں تختیوں پر بانٹ دیا ہے ۔ چنانچہ پہلے اظہر جاوید کے مکان پر دستک دی گئی ۔ وہاں پولیس کو معلوم ہوا کہ اس مکان میں جاوید ہاشمی نہیں رہتے ۔ نہ اس مکان کے رہنے والوں کا جاوید ہاشمی سے کوئی دور یا نزدیک کا تعلق ہے ۔ پھر پولیس نے سجاد ہاشمی کے مکان پر دستک دی ۔ پر رات گزر چکی تھی ۔ سجاد ہاشمی سو رہے تھے ۔ دستک پر ان کا صاحبزادہ باہر آیا اور اس نے پولیس کو بتایا کہ اس مکان کے مکین کا نام سجاد ہاشمی ہے ۔ وہ سجاد چنیوٹی کے نام سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں اور ان کے بے تکلف دوست ان کو سجاد چنیوٹی بھی کہہ دیتے ہیں ۔ اس پر پولیس مایوس ہو کر لوٹ گئی ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مزا آ جاتا اگر پولیس اپنے ہی ہمراہی کی تفتیش کے مطابق دونوں مکانوں کے مکینوں کو پکڑ کر لے جاتی اور تھانہ پہنچ کر رپورٹ درج کراتی ہے کہ: ”ملزم جاوید ہاشمی کو اس حالت میں گرفتار کیا گیا ہے کہ اس نے بڑی چالاکی سے اپنا نام دو آدمیوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ہم نے دونوں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا ہے۔ کیونکہ ہماری تفتیش کے مطابق آدھا جاوید ایک ماخوذ ملزم میں ہے اور آدھا ہاشمی دوسرے ماخوذ ملزم میں۔ اس طرح ہم جاوید ہاشمی کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور اس کا ضابطہ چالان صبح کو پیش کر دیا جائے گا۔ ضمنی مرتب ہو رہی ہے۔“
(اداریہ ”نوائے وقت“، یکم / جولائی ۱۹۷۴ء)
کراچی، مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی پریس کانفرنس
مرکزی جماعت اہل سنت کے سربراہ مولانا شفیع اوکاڑوی نے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تاکہ مسلمانوں کے خلاف سامراجی عزائم کی تکمیل کے لئے جس گروہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور اسلامی ملکوں کے بلاک کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وہ آج جماعت اہل سنت کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جدہ میں اپریل کے مہینے میں رابطہ عالم اسلامی کے جلسے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قادیانی خارج از اسلام ہیں۔ مولانا شفیع اوکاڑوی نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیا جائے، انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کے پاس جو غیر قانونی اسلحہ ہے۔ اس پر قبضہ کیا جائے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ وہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی حمایت میں ووٹ دیں ورنہ ان کے حلقہ انتخاب کے لوگ ان کا محاسبہ کریں گے۔
خان عبدالقیوم خان کی صفائی
پاکستان مسلم لیگ کراچی کے نائب صدر مسٹر عبدالمنان نے ایک بیان میں خان عبدالقیوم خان پر احمدیوں کی حمایت کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی کے رکن حاجی زاہد علی کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان قیوم احمدیوں کے کبھی حامی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ انہوں نے احمدیوں کے آقا انگریزوں کو ملک سے نکالنے کے لئے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
۲ / جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مرکزی مجلس عمل کا اجلاس
راولپنڈی : مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں سے متعلق اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد پر اظہار اطمینان کیا ہے اور ارکان اسمبلی پر زور دیا ہے کہ وہ اس قرارداد کے الفاظ و معانی کے مطابق بلا تاخیر آئین میں مناسب ترمیم منظور کریں۔ آج رات یہاں مجلس کے ایک ہنگامی اجلاس میں قومی اسمبلی کی آج کی کارروائی پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ مجلس عمل کے زعماء رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے یکم / جولائی سے سارے ملک کا دورہ کریں گے اور مرزائیوں (قادیانی و لاہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ کو منوانے کے لئے تحریک شروع کریں گے۔ مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ جس میں اسمبلی کی قرارداد کو ملت اسلامیہ اور پاکستانی عوام کی خواہشات کا مظہر قرار دیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ حزب اقتدار نے اس قرارداد سے اختلاف نہیں کیا۔ ارکان اسمبلی پر زور دیا گیا کہ وہ بلا تاخیر آئینی ترمیم
منظور کرائیں اور اس طے شدہ اور مسلمہ مسئلہ پر غیر ضروری بحث کی قطعاً اجازت نہ دیں۔ قرارداد میں پاکستانی عوام کے قومی جذبہ کو سراہا گیا کہ انہوں نے تحریک کے دوران قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہ کر نظم وضبط کا جو مظاہرہ کیا، وہ پاکستان میں ملت اسلامیہ کے مستقبل کے لئے نیک فال کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجلس عمل نے غیور عوام سے پرامن طور پر تحریک اس وقت تک جاری رکھنے کی اپیل کی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہو جاتے۔ مجلس کی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فضاء کو سازگار بنانے کے لئے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والے تمام علماء کرام، طلباء اور مسلمانوں کو باعزت طور پر رہا کیا جائے۔ مقدمات واپس لئے جائیں۔ دفعہ ۱۴۴ کی پابندی ختم کی جائے اور مندرجہ ذیل مطالبات کے حل کے لئے فوری طور پر انتظامی اقدامات کئے جائیں۔ مرزائیوں ( قادیانی ولاہوری ) کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ ان کی عسکری اور نیم عسکری تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ ان کے فنڈز کی تحقیقات کی جائے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں اور کس طرح خرچ ہوتے ہیں۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ بانی فساد مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے اور پاکستان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرنے کے الزام میں ظفر اللہ خان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ امن وامان کے قیام کے لئے مرزائیوں سے تمام اسلحہ واپس لیا جائے اور انہیں شر انگیز لٹریچر تقسیم کرنے سے روکا جائے۔
مجلس کے سیکرٹری جنرل سید محمود احمد رضوی نے بتایا کہ مجلس عمل کے تمام قائدین کل سے سارے ملک میں پھیل جائیں گے اور اس دورے کے دوران ختم نبوت کی تحریک کو منظم کریں گے۔ شہروں، بازاروں، گلی کوچوں میں بینر اور پوسٹر لگائے جائیں گے اور مجلس عمل کو ضلعی سطح پر منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے تحریک کے لئے کام کرنے والے طلباء کے خلوص ومحبت کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ علمائے کرام اور طلباء مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رکھیں گے۔ مجلس عمل کے اجلاس میں پانچ مرکزی نائب صدر صاحبان کا بھی انتخاب ہوا۔ ان کے نام یہ ہیں: سید مظفر علی شمسی، چوہدری غلام جیلانی، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) اور مولانا عبد الواحد ( کوئٹہ ) ۔ مجلس کا آئندہ اجلاس ۱۵؍ جولائی کو ہوگا۔ مجلس کے اجلاس میں مندرجہ ذیل علماء کرام اور مذہبی قائدین نے بھی شرکت کی۔ مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد یوسف بنوری، مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا عبدالحق، مولانا غلام اللہ خان، مولانا عطاء المنعم بخاری، سید محمود احمد رضوی، پروفیسر غفور احمد، مولانا خان محمد ( کندیاں ) ، مولانا ظفر احمد انصاری، سید مظفر علی شمسی، آغا شورش کاشمیری، قاری سعید الرحمن، مولانا عبدالرحمن ( لاہور ) ، مولانا سمیع الحق، نوابزادہ نصر اللہ خان، قاری محمد امین، میر اعجاز احمد، ثناء اللہ بھٹہ، چوہدری غلام جیلانی، مولانا تاج محمود، علامہ احسان الٰہی ظہیر، میاں فضل حق، مولانا حبیب اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد شریف جالندھری۔
ملتان، مولانا احتشام الحق تھانوی
ملتان: ممتاز عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی نے شجاع آباد کی شاہی مسجد میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانیوں کا مسئلہ سیاسی کے علاوہ مذہبی ہے۔ قادیانی پاکستان کے وفادار نہیں۔ انہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ مولانا نے کہا کہ مسٹر ظفر اللہ ۱۹۳۲ء میں مسلم لیگ میں تھے۔ مگر اس دور میں تحریک پاکستان شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔ جب مسلم لیگ نے پاکستان کا نعرہ لگایا تو وہ فوری طور پر مسلم لیگ سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے کہا فوج کے تمام شعبوں سے تمام قادیانی کو نکال دیا جائے۔ ان میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے نبی کی امت سے الگ ہوکر دوسرے نبی کو مان لے تو وہ دوسرے نبی کا امتی کہلائے گا۔ انہوں نے کہا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ قادیانی قرآن مجید کی غلط تفسیر کر کے نئی نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ مولانا محمد صابر نے بھی اس موضوع پر خطاب کیا۔ اجتماع کے آخر میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزئیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
رب نواز چنیوٹی کی درخواست ضمانت مسترد
ملتان: اسسٹنٹ کمشنر ملتان نے تحریک طلباء اسلام کے مرکزی صدر اور طالب علم رہنما ملک ربنواز چنیوٹی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔ طالب علم رہنما کو پانچ روز پہلے جامع مسجد کالے منڈی میں قادیانیوں کے خلاف تقریر کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
جوہر آباد مشترکہ اجتماع
ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا ایک مشترکہ اجتماع جامع مسجد میں ہوا۔ جس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور ان سے مکمل سماجی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مجلس کے عہدیداران کے نام یہ ہیں: صدر مولانا عبد الحق خطیب جامع مسجد، نائب صدر ڈاکٹر محمد رشید باجوہ اور جوہر نظامی، جنرل سیکرٹری میاں نذیر عالم ایڈووکیٹ، جوائنٹ سیکرٹری ملک شیر محمد ڈھڈی، خزانچی حاجی عبد الغنی۔
بھٹو صاحب اور بنگلہ دیش کے قادیانی
لاہور: جماعت احمدیہ نے پاکستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سطح پر جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس سلسلہ میں پاکستان کے خلاف بنگلہ دیش میں بھی قادیانیوں کا ایک مشن زور و شور سے کام کر رہا ہے۔ اس ضمن میں بنگلہ دیش کے دورہ کے موقع پر جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کی طرف سے وزیر اعظم بھٹو کو ایک یادداشت پیش کی گئی، جس پر جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے امیر کا نام صرف ”محمد“ لکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ دستاویز یادداشت کی صورت میں ہے۔ لیکن اس کا مقصد بیرون ممالک میں پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ کیونکہ اس میں جہاں خلاف واقعہ باتیں درج ہیں، وہاں پاکستان میں قادیانیوں پر ”مظالم“ کی بعض تصاویر بھی پیش کی گئیں جو پاکستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔ یہ تصاویر صرف لندن کے راستے ہی بنگلہ دیش پہنچ سکتی ہیں۔ یادداشت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد احمدی آباد ہیں اور یہ جماعت ۸۰ سال سے اسی کی خدمت کر رہی ہے۔
یادداشت میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں جس جماعت کو غیر مسلم قرار دیا جا رہا ہے، دنیا میں اس جماعت نے ”اسلام“ کا صحیح ”پرچار“ کیا ہے۔ یادداشت میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ قادیانیوں کو پاکستان میں ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ انہیں مارا اور لوٹا جا رہا ہے۔ ان کی مساجد اور وہاں رکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخوں کو (نعوذ باللہ) نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک فرضی تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔ اس یادداشت میں بنگلہ دیش میں سیکولرازم کے نفاذ کو اسلام کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ”کمزور“ احمدیوں کو بچانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کے وزراء نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ یادداشت میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ایک سوچی سازش کے تحت قادیانیوں کو پاکستان سے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف حوالوں سے کہا گیا ہے کہ احمدی مسلمان ہیں۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مسئلے میں سنی مسلمان ایک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے سنی جج کے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں بقول ان کے غیر جانبدار جج مقرر کئے جائیں اور ان کے سامنے مسلمان اور قادیانی دونوں اپنا اپنا مؤقف بیان کریں۔ یہ یادداشت پندرہ فل سکیپ صفحات پر مشتمل ہے اور نیلے کاغذ پر احمدیہ آرٹ پریس ڈھاکہ میں شائع کی گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لالہ موسیٰ میں جلسہ عام
جامع مسجد تھڑے والی لالہ موسیٰ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس عمل ختم نبوت کے تحت ایک جلسہ ہوا، جس سے چوہدری محمد اکرم ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت دولتانہ کے حشر سے سبق لے جو قابل اور ذہین ہونے کے باوجود اپنی سیاسی زندگی میں ناکام صرف اس لئے رہے ہیں کہ انہوں نے تحریک ختم نبوت سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے ختم نبوت سے غداری کی تھی۔ جلسہ سے مولانا غلام ربانی چشتی، مولانا عبدالخالق، مولانا سید خورشید الحسن، قاری نور عالم، مفتی غلام رسول نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے، مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ بھی قرار پایا کہ مرزائیوں اور مرزائی نوازوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور کوئی حلوائی مرزائی ڈپو سے چینی نہ لے۔
بورے والا میں تحریکی مہم
بورے والا میں قادیانیوں کے خلاف مہم پوری طرح جاری ہے اور شہر میں کاروباری طبقہ نے قادیانیوں کا بھرپور بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ بورے والا میں مجلس عمل کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قادیانیوں کا بائیکاٹ ان کے اقلیت قرار دیئے جانے تک جاری رکھیں۔
عارف والا میں مجلس کا اجلاس
گزشتہ روز یہاں غلہ منڈی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس ہوا، جس میں تاجروں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ دینی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حادثہ ربوہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مرزائیوں کو فوراً غیر مسلم اقلیت قرار دے۔
چک نمبر ۷۰ جنوبی سرگودھا
سرگودھا: حافظ غلام علی امیر جماعت اسلامی تحصیل سرگودھا نے وزیر اعظم بھٹو سے کہا ہے کہ وہ قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں کے مطالبات فوری تسلیم کریں۔ وہ چک نمبر ۷۰ جنوبی میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ختم نبوت کے جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔
حاصل پور میں مجلس عمل کا قیام
تحصیل حاصل پور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جامع مسجد میں عوام کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اتفاق رائے سے مجلس عمل کے لئے مندرجہ ذیل عہدیدار چنے گئے۔ امیر مولانا غلام احمد خاں، نائب امیر قاضی قمرالدین، جنرل سیکرٹری مولانا محمد سلیم، پروپیگنڈا سیکرٹری مسٹر اکرام الحق غازی، خزانچی سید خادم حسین شاہ منتخب ہوئے۔ مجلس عاملہ کے ارکان درج ذیل ہیں: سید جاوید اقبال شاہ ایڈووکیٹ، چوہدری دوست محمد، ڈاکٹر محمد شریف، عبدالستار آدم، حکیم شیر محمد، چوہدری عبدالحمید ایڈووکیٹ، سید اختر حسین شاہ ایڈووکیٹ۔ مجلس عمل نے فیصلہ کیا ہے کہ دیہات کے عوام کو بیدار کیا جائے گا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔
لاہور میں یونیورسٹی کے طلباء کی سرگرمیاں
پنجاب یونیورسٹی یونین کے جنرل سیکرٹری مسٹر عبدالشکور، ہیلی کالج یونین کے صدر حافظ عتیق الرحمن اور ایف سی کالج یونین کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری جنرل راجہ شفقت حیات نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں قادیانیوں کے ضمن میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی سرکاری تحریک کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے اور اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اس طرح اس اہم مسئلہ کو التواء میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک میں عوام کے پانچ اہم مطالبات شامل نہیں کئے گئے ہیں اور یہ حکومتی تحریک عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی۔ انہوں نے طلباء کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت کو اس تحریک میں فریق نہیں بننا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کل شروع ہو رہے ہیں اور طلباء چاہتے ہیں کہ امتحانات بروقت ہوں مگر طالب علم رہنماؤں کو قید کر کے پرامن طور پر امتحانات منعقد نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قادیانی ، طلباء میں اشتعال پیدا کر کے گڑبڑ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ مسلمان طلباء میں اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کی غیر ملکی سرگرمیوں اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔
ڈیرہ غازی خان میں ہنگامی اجلاس
جمعیۃ العلمائے پاکستان ضلع ڈیرہ غازی خان کے ارکان کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔ جس میں واقعہ ربوہ پر اظہار افسوس کیا گیا اور نشتر کالج کے طلباء اور لائل پور کے پرامن شہریوں پر مرزائیوں کے حملے اور فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس کی قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کر کے ملک دشمنی کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔ ربوہ کو تمام مسلمانوں کے لئے کھلا شہر قرار دیا جائے۔ بلا تاخیر سواد اعظم کے مطالبہ کو تسلیم کیا جائے۔ آخر میں ایک قرارداد کے ذریعے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار شدہ علماء، وکلاء اور طلباء کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مولانا محمد ذاکر کو قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے پر مبارک باد دی گئی۔
کامونکے میں جلسہ عام
انجمن طلباء اسلام کامونکے کے زیر اہتمام ختم نبوت کے موضوع پر گزشتہ دنوں ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں عوام اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ امجد علی چشتی صوبائی نائب ناظم پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مرزائیوں نے مسلمان طلباء پر حملہ کر کے طلباء کو ایک چیلنج دیا ہے۔ ہم طلباء، اسلام اور پاکستان کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کریں گے۔
اسلام قبول کرنے کا اعلان
وار برٹن کے ٹیلی فون آپریٹر مسٹر سلیم احمد نے جامع مسجد پرانی وار برٹن کے خطیب قاری نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے مرزائیت سے توبہ کر لی ہے۔ انہوں نے برسر عام اعلان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہوں اور مرزا غلام احمد سمیت ان کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والوں کو کذاب اور دجال سمجھتا ہوں۔
اوکھلی موہلہ میں جلسہ عام
جمعیۃ علمائے پاکستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک محمد اکبر خان ساقی نے مرکزی جامع مسجد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت کی طرف سے پیش کردہ تمام مطالبات کے تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی گروہ ملکی مفاد کے خلاف سازش میں مصروف رہتا ہے اور اس کا ہر فرد ملک دشمن قوتوں کا ایجنٹ بن کر کام کر رہا ہے اور جماعتی ہدایات کے زیر اثر ملکی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی مفاد کے لئے حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانی گروہ سے تعلق رکھنے والے تمام افسران کو کلیدی عہدوں سے فی الفور ہٹا دیا جائے۔ جلسہ میں مولانا عبدالوحید ربانی، شیخ محمد انور اور قاری محمد جلیل نے بھی تقاریر کیں۔
سلانوالی میں جلسہ عام
یہاں ایک اجلاس عام میں چوہدری محمد سلیم امیر جماعت اسلامی ضلع سرگودھا نے خطاب کیا۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں آیا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل عہدیدار منتخب ہوئے: صدر سید فضل الرحمن، نائب صدر سید لئیق احمد، حکیم نذیر احمد، مولانا محمد اسحاق، مولانا فضل الرحمن جوہر آبادی، جنرل سیکرٹری میاں دین محمد، جوائنٹ سیکرٹری شیخ محمد یامین، حافظ محمد ادریس، پبلسٹی سیکرٹری شیخ محمد اقبال، خزانچی حکیم منظور احمد، محاسب قریشی، وکیل احمد۔
قادیانی مسئلہ
عمومی تڑپ معرض مصلحت میں ہے گم سنبھالا خصوصی کمیٹی نے اب مسئلہ
(وقار انبالوی)
خان عبدالقیوم خان کا اعلان
راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر خان عبدالقیوم خان نے اعلان کیا ہے کہ میں اور میری پارٹی کا ہر رکن اس عقیدے پر ایمان رکھتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ان کو آخری نبی تسلیم نہ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
خان قیوم نے آج یہاں ایک بیان میں کہا ہے کہ میرا ایمان ہے کہ جو لوگ محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے۔ وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر غور کے لئے کل اسلام آباد میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں قومی اسمبلی کے جن ارکان کا اجلاس ہوا تھا، اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ کا پارلیمانی گروپ، قبائلی ارکان اور حکومت کے حامی دوسرے ارکان اسمبلی بھی شریک تھے۔ اس اجلاس میں قادیانیوں کے بارے میں جو فیصلہ کیا گیا وہ متفقہ تھا اور اس کے بعد ہی اس مسئلے کے متعلق تحریک ایوان میں پیش کی گئی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں یقین رکھتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ نہ صرف میرا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کے تمام ارکان کا بھی ہے۔
صوبائی وزیر قانون سردار صغیر احمد اور ربوہ
سرگودھا: صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار صغیر احمد نے سیاسی طالع آزماؤں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ ختم نبوت جیسے دینی مسئلہ کو سیاسی رنگ دے کر سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش ترک کر دیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اس مسئلہ کو عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور حکومت نے ربوہ میں مسلمانوں کو پلاٹ دینے، ربوہ میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے اور وہاں قادیانی ملازمین کی جگہ مسلمان ملازمین تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں مقامی سینما میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سردار صغیر احمد نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ تمام مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے۔ حکومت نے آئین میں اس کی وضاحت کر دی ہے اور اب صرف قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا باقی ہے۔ حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے سے پہلو تہی نہیں کرے گی اور اس مسئلہ کو مسلمانوں کے جذبات اور امنگوں کے مطابق حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عبدالولی خان اور جمعیۃ علمائے اسلام نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ اگر پاکستان قائم نہ ہوتا تو ولی خان اور مفتی محمود، اندرا گاندھی سے قادیانیوں کو کس طرح اقلیت قرار دلاتے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے سب سے پہلے اس مسئلہ پر بحث کی تھی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی رائے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے باوجود اپوزیشن اسمبلی میں دوبارہ اس مسئلہ کو زیر بحث لانا چاہتی تھی۔ حکومتی پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا تھا۔ مگر قرارداد کے مسودہ پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ قیام پاکستان سے قبل بھی موجود تھا۔ لیکن گزشتہ ۲۶ سال میں صرف ایک بار اس کو حل کرنے کے لئے تحریک چلائی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی شخص کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر قانون نے کہا کہ پنجاب میں انتظامی اصلاحات جلد نافذ کر دی جائیں گی۔
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی خاص کمیٹی کا اجلاس سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کی صدارت میں ہوا، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کی کارروائی کے بارے میں چیئرمین کے جاری کردہ پریس ریلیز کے سوا کوئی کارروائی کسی بھی صورت میں نشر، ٹیلی کاسٹ یا شائع نہیں کی جائے گی۔ کارروائی کے بارے میں کوئی مضمون یا مقالہ بھی شائع نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی قیاس آرائی کی جائے گی۔ ان فیصلوں کی خلاف ورزی کمیٹی کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ کمیٹی کا استحقاق بھی وہی ہے جو قومی اسمبلی کا ہوگا اور اس کے خلاف ورزی پر سزا دی جاسکے گی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جمعہ ۵ / جولائی تک قراردادیں، تجاویز اور مشورے وصول کئے جائیں گے۔ کمیٹی کا دوسرا اجلاس بدھ کو ہو گا جس میں کمیٹی کی کارروائی کے ضمنی رولز تیار کئے جائیں گے۔
سیالکوٹ، مرے کالج
مرے کالج سٹوڈنٹس یونین سیالکوٹ کے نائب صدر اکرام الحق قریشی کو گزشتہ شب سیالکوٹ پولیس نے پورن نگر سے گرفتار کر لیا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری مسٹر اکمل جاوید نے ایک بیان میں انکی گرفتاری کی مذمت کی اور انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
صحیح اور جمہوری طریق کار ...... اداریہ روزنامہ ”مشرق“
قومی اسمبلی نے پورے ایوان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو اسلام میں ان لوگوں کی حیثیت پر غور کرے گی ، جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ کمیٹی اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور وخوض کے بعد ایوان کو اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی۔ اس کمیٹی کا قیام وزیر اعظم بھٹو کی ۱۳ / جون (۱۹۷۴ء) کی نشری تقریر کے مطابق عمل میں آیا ہے۔ جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ قادیانیوں کی حیثیت متعین کرنے کا مسئلہ بجٹ منظور ہوتے ہی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ یہ ایک واضح اور غیر مبہم اعلان تھا لیکن بعض حلقوں کی جانب سے بلاوجہ اس کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مسئلہ کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ کچھ اور لوگ بڑے وثوق کے ساتھ یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور بجٹ منظور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوتے ہی ایوان کا اجلاس برخاست کر دیا جائے گا، لیکن یہ تمام بدگمانیاں سراسر غلط ثابت ہوئیں اور بجٹ کی منظوری کا مرحلہ مکمل ہوتے ہی قانون اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر مسٹر پیرزادہ نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قادیانی مسئلہ سے متعلق تحریک ایوان میں پیش کر دی۔
قادیانیوں کی حیثیت متعین کرنے کے لئے قومی اسمبلی نے جو طریق کار اختیار کیا ہے۔ وہ جمہوری اصولوں سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔ اس پر حکومت اور حزب اختلاف کو مکمل اتفاق ہے۔ پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی انہی ضابطوں کے تحت کام کرے گی، جو ایوان کی دوسری کمیٹیوں کے لئے مقرر ہیں لیکن اس نے محسوس کیا کہ کسی خاص معاملے کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی ضابطہ پہلے سے موجود نہیں ہے تو کمیٹی کو خود ضابطہ بنانے کا اختیار ہوگا۔
حکومت نے قادیانی مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک ایسا طریق کار اختیار کیا ہے، جس سے کوئی جمہوریت پسند شخص اختلاف نہیں کر سکتا۔ قومی اسمبلی ایک بااختیار ادارہ ہے، جسے عوام نے اپنے براہ راست ووٹ سے منتخب کیا ہے۔ ختم نبوت کے عقیدے کو اگرچہ آئین میں پہلے ہی تحفظ دے دیا گیا ہے لیکن اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جو لوگ ختم نبوت پر عقیدہ نہیں رکھتے، ان کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔ ظاہر ہے کہ قومی اسمبلی ہی یہ فیصلہ کرنے کے لئے موزوں ترین جگہ ہے اور اب یہ معاملہ چونکہ ایوان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد کرنا اور ان کو یہ موقع دینا چاہئے کہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں اور مضمرات پر غور کرنے کے بعد وہ صحیح اور صائب فیصلہ کر سکیں۔ اس کے لئے ملک میں مکمل امن وامان انتہائی ضروری ہے تا کہ قومی اسمبلی کے ارکان پورے اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ جلد سے جلد کسی فیصلے پر پہنچ جائیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک پیش ہونے کے بعد قادیانی مسئلہ کے حل کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس لئے ایوان کے باہر کسی تحریک یا ایجی ٹیشن کی کوئی ضرورت یا گنجائش باقی نہیں رہی۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے ملک کے علمائے دین اور سیاسی رہنما مثبت اور تعمیری اندازِ فکر اختیار کریں گے اور ملک کی فضا کو قادیانی مسئلہ کے پرامن اور جمہوری حل کے لئے زیادہ سے زیادہ سازگار فضا پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ مشرق لاہور، مورخہ ۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
شیخوپورہ غلہ منڈی
گزشتہ روز غلہ منڈی شیخوپورہ میں انجمن آڑھتیان غلہ منڈی شیخوپورہ کی طرف سے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ اور ہر قسم کا لین دین نہ کرنے کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے غلہ منڈی کے دلال رانا عبدالرشید نے احمد برادرز شیخوپورہ کا ٹوٹا باسمتی اس لئے فروخت کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کا ایک حصہ دار قادیانی ہے۔ چنانچہ فرم کے دو حصہ داروں محمد اسد اللہ اور منظور احمد نے اس معاملہ پر غلہ منڈی مسجد کے امام اور تحریک ختم نبوت ضلع شیخوپورہ کے صدر فقیر سلطانی غلام رسول سے مسئلہ کی وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ اصولی طور پر جب کہ قادیانیوں کے خلاف امت مسلمہ نبرد آزما ہے تو ایسے حالات میں ان کے ساتھ کاروبار کرنا ٹھیک نہیں۔ اس پر دونوں حصہ داروں نے اپنے تیسرے حصہ دار علی احمد کو، جو قادیانی ہے، فرم سے علیحدہ کر دیا ہے۔
گجرات
ایس ۔ پی محمد شریف چیمہ نے اس امر کی تردید کی ہے کہ انٹی مرزائی تحریک کے دوران گرفتار ہونے والوں کو بیڑیاں پہنائی گئیں یا ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے عوام اس امر کے گواہ ہیں کہ جن حضرات نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ انہیں پرامن طور پر تھانے لے جایا گیا اور بعد میں جیل منتقل کر دیا گیا۔ جہاں انہیں تمام لوگوں کو ملنے کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجازت دی گئی اور کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
قبول اسلام
جامع مسجد ملک وال کے ایک مرزائی مشرف نے سینکڑوں افراد کے سامنے اسلام قبول کر لیا اور کہا کہ حضرت رسول اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کسی دوسرے نبی کو ماننے والے کافر ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
مرزائی کا قبول اسلام
جہانیاں : مقامی نئی کالونی کے محمد طفیل نے گزشتہ روز مقامی مسجد رحمانیہ کے خطیب مولانا محمد سلیمان طارق کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ محمد طفیل نے بتایا کہ وہ غریب آدمی ہے اور سات سال قبل اس نے مالی پریشانی سے تنگ آکر مرزائیت کو قبول کر لیا تھا۔ جس کے بعد اسے ہر ماہ یک صد روپے ملتے رہے۔ لیکن ان پیسوں کے باوجود اس کا ضمیر مطمئن نہ ہوسکا اور بالآخر اسے مرزائیت کے باطل ہونے کا یقین ہو گیا۔ محمد طفیل نے مسجد میں موجود افراد کی موجودگی میں اعلان کیا کہ : ”سچا مذہب صرف اسلام ہے اور رسول اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ مرزا جھوٹا نبی ہے، مرتد ہے، کافر ہے۔“ اس موقع پر تمام مسلمانوں نے دعا کی کہ اللہ اسے دین حق پر قائم رہنے کی توفیق دیں۔
کراچی میں پولیس گردی کے خلاف ہڑتال
پلازا کوارٹرز کے موٹر گاڑیوں کے پرزوں کے تاجروں نے منگل کو اجتماعی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے آج بعد دوپہر ان کے علاقے کے چار تاجروں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا۔ آٹو موبائل سپیئر پارٹس ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مسٹر ایس ایم انعام نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے ان چار تاجروں کو پلازا کوارٹرز کی کچھ دکانوں سے قادیانیوں کے خلاف پمفلٹ دستیاب ہونے کے بعد گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدگان کو پہلے پریڈی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور اس کے بعد پولیس انہیں آرٹلری میدان پولیس اسٹیشن لے گئی۔ چار گھنٹے کے بعد ان کو رہا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے حکام کو پولیس کی اس زیادتی سے آگاہ کر دیا ہے اور منگل کو احتجاجاً کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد، مرچنٹس ایسوسی ایشن
گزشتہ روز مرچنٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد کا ایک اجلاس زیر صدارت مسٹر نعیم حیدری نائب صدر ایسوسی ایشن منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مرزائیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے اداروں کی اشیاء کوئی تاجر فروخت نہیں کرے گا اور نہ ہی مرزائیوں سے کوئی لین دین کیا جائے گا۔ ادھر سی ڈی اے ہارٹیکلچر ایمپلائز یونین، طالب علم لیڈر عبادالرحمن لودھی، مجلس اشاعت التجوید القرات، مجلس اخوان الحفاظ، جامعہ رحمانیہ آبپارہ بازار کے علیحدہ علیحدہ بیانات میں مذکورہ مطالبات کی پرزور حمایت کی گئی ہے۔
کیمبل پور، مجلس تحفظ ختم نبوت
مجلس ختم نبوت کیمبل پور کی مجلس عاملہ کے صدر خطیب مرکزی جامع مسجد قاری خلیل احمد نے کہا ہے کہ ان کی تحریک پرامن طور پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس وقت تک جاری رہے گی۔ جب تک مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا جاتا۔ گورنمنٹ کمرشل انسٹیٹیوٹ میں طلباء کا ایک اجلاس یونین کے صدر طارق محمود کیانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ اجلاس میں اس تحریک کے سلسلے میں گرفتار کئے جانے والے طلباء کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سودگ کالی ساگری کی مرکزی جامع مسجد میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ایک جلسہ عام مولانا حاجی حیات علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس سے سعود طاہر حنفی، ساجد اقبال اور امیر حسین نے خطاب کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو گرفتار کیا جائے۔ اسلامی جمعیتہ طلباء پاکستان جہلم کے ناظم عارف حسین بھٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مرزائیوں کا مسئلہ حل کرتے ہوئے گرفتار کئے جانے والے طلباء کو فوری رہا کرے۔
آزاد کشمیر، ورلڈ اسلامک مشن
ورلڈ اسلامک مشن آزاد کشمیر نے سانحہ ربوہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے۔ تحریک ختم نبوت بنوں کی مجلس عاملہ کا اجلاس مولانا حضرت علی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی میں احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے قرارداد کی بجائے بل پیش کیا جائے۔ آل پاکستان قائد اعظم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر سید شوکت علی کاظمی اور دیگر عہدیداروں نے پاکستان بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرزائیوں کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھیں۔
راولپنڈی، جلسہ عام
کھوئی رٹہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز ہاشمی اور مولانا عبداللہ جتوئی نے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کے ٹولے کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹا کر پاکستان کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے بچایا جائے۔ کوہاٹ کی جامع مسجد حضرت حاجی بہادر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں کہا گیا کہ مرزائی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس فتنے کو ختم کرنے کے لئے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ تنظیم دوکانداروں مغل آباد راولپنڈی کینٹ کے اجلاس میں مسٹر منظور احمد مغل صدر تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ گرفتار شدہ علماء، طلباء اور رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ اجلاس میں پیر صاحب گولڑہ شریف کے انتقال کے سلسلے میں اظہار غم کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بنوں نے ایک قرارداد منظور کی ہے۔ جس میں مرزائیت کے مسئلے پر مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی گئی۔
جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنماؤں کی گرفتاری
راولپنڈی: مقامی پولیس نے کل رات ایک بجے کے بعد جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے صدر محمد اسلوب قریشی جمعیتہ پنجاب کے ناظم اعلیٰ عبدالمتین چوہدری اور لاہور جمعیتہ کے ناظم قاضی محمد اشرف کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب کہ وہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ میں تقریر کرنے کے بعد واپس گھروں کو جا رہے تھے۔ جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے قائم مقام جنرل سیکرٹری سید مطلوب علی اور قائم مقام صدر جاوید ابراہیم پراچہ نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ مولانا بشیر احمد آف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنڈی گھیپ کو بھی ڈی۔ پی۔ آر کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہارڈ ویئر ٹریڈر گروپ کے جنرل سیکرٹری مسٹر محمد ثناء اللہ قادری، مولانا محمد یوسف چشتی اور جمعیۃ العلمائے پاکستان راولپنڈی نے مولانا محمد بشیر احمد کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری رہا کیا جائے۔
قادیانی فرقہ کے عقائد اور عبادات، مسلمانوں کے عقائد کے منافی ہیں (جامع الازہر کا فتویٰ)
”ان کی مسجد میں نماز پڑھنا ہرگز درست نہیں ۔“
قاہرہ: مؤرخہ ۳۰؍جون (جنگ نیوز) جامعہ الازہر کے دارالافتاء نے فتویٰ دیا ہے کہ قادیانی فرقہ کے عقائد اور عبادات مسلمانوں کے صحیح عقائد اور عبادات کے سراسر منافی ہیں۔ اس لئے ان کی مساجد میں نماز پڑھنا ہرگز درست نہیں ہے۔ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں مصری سفارت خانے نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا تھا اور اس کا ہمہ پہلو جائزہ لینے کے بعد مصری وزیر خارجہ کی وساطت سے ازہر کے دارالافتاء سے مسئلہ دریافت کیا تھا۔ دارالافتاء نے اس کا تفصیلی جواب دیا۔ جامعہ ازہر کے دارالافتاء سے جو سوالات کئے گئے تھے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
- ۱...... احمدی فرقے کے بارے میں جامعہ ازہر کی کیا رائے ہے۔ کیا اس فرقے کے لوگ مسلمان ہیں؟
- ۲...... ایسے مشکوک فرقوں کی مساجد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا احمدی فرقے کی مسجد میں عامۃ المسلمین نماز ادا کر سکتے ہیں؟
- ۳...... کیا ایمسٹرڈم میں احمدی فرقے کو مسجد تعمیر کرنے میں شرعاً مدد دی جاسکتی ہے؟
جامعہ ازہر کا جواب یہ ہے: دارالافتاء نے احمدی فرقے کے بارے میں ازہر کے سابق مرحوم ریکٹر شیخ الخضر حسین صاحب نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے، مطالعہ کیا اور ان مضامین کا مطالعہ کیا ہے جو علماء کی سپریم کونسل کے آرگن ”نور الاسلام“ (بابت رجب ۱۳۵۱ھ ) میں شائع ہوئے تھے، ان سے یہ ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد نے خدا کے نبی اور اس کا فرستادہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس نے لوگوں کو دھمکیاں دی تھیں کہ اگر وہ اسے نہیں مانیں گے تو ان کا انجام بہت برا ہوگا۔ اس نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ اس کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ اس پر باقاعدہ وحی نازل ہوتی ہے اور اس کی تحریریں اور خطبے وحی الٰہی ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے اس نے قرآن کریم کی ایک آیت میں بھی تحریف کی ہے۔ مرزا غلام احمد کی کتابوں میں بکثرت ایسے دلائل پائے جاتے ہیں جو صریح کفر ہیں اور دین حق کے خلاف ہیں۔ اس لئے دارالافتاء کی رائے میں احمدی فرقہ جو غلام احمد کا پیروکار ہے اور اسے قادیانی بھی کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کا مذہب جھوٹا ہے۔ اس کے عقائد اور عبادات مسلمانوں کے صحیح عقائد اور عبادات کے سراسر منافی ہیں اور اس فرقے کا یہ دعویٰ کہ ان کے مبلغین پر وحی نازل ہوتی ہے اور ان میں سے نبی اور رسول ہوتے ہیں۔ جن سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتا ہے۔ ان کی یہ خرافات قرآن اور سنت کے خلاف ہیں۔ نیز اس دعوے کے لحاظ سے قرآن کی اس آیت کے منکر ہیں جس میں فرمایا گیا ہے۔ (ترجمہ) ”لوگو! محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“
ان کا یہ دعویٰ حضرت ابو ہریرہؓ کی اس روایت کے سراسر خلاف ہے جو بخاری میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ ان کی قیادت انبیاء کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کی جانشینی کرتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ نیز یہ روایت کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ اس اینٹ کی جگہ کیوں نہ پر کر دی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“
(بخاری)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک اور حدیث شریف جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا: ’’میں آیا اور میں نے انبیاء کے سلسلے پر مہر لگادی۔‘‘
(مسلم شریف)
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث متواترہ سے آپ کے آخری نبی ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ لہٰذا پوری امت مسلمہ کا اس عقیدے پر اتفاق ہے اور آپ کا خاتم النبیین ہونا بالکل واضح ہے اور ہر ایک کو یہ مسئلہ معلوم ہے۔ پس اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ نیز ایسے فرقے اور اس کے ماننے والوں کی کسی لحاظ سے بھی مدد کرنا ناجائز ہے۔ خواہ وہ عبادت گاہ کی تعمیر کے لئے مدد طلب کریں یا کسی اور کام کے لئے کیونکہ ان کی عبادت گاہیں گمراہی اور فریب کاری کے اڈے ہیں اور مسلمانوں کی نئی پود کو شکار کرنے کے جال ہیں۔ یہ لوگ نوجوانوں کو دھوکہ دے کر وہاں لے جاتے ہیں اور ان کے ذہنوں کو گمراہ کن عقائد سے مسموم کر دیتے ہیں۔
قادیانیوں کی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجدیں ہوتے ہوئے مسجد ضرار کے حکم میں آتی ہیں جو نبیﷺ کے عہد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کے اندر تفریق برپا کرنے کے لئے تعمیر کی گئی تھی اور جس میں منافقین کی جماعتیں جمع ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو مسجد ضرار میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا اور اس مسجد کے تعمیر کرنے والوں کے خفیہ اور ناپاک ارادوں سے پردہ کشائی کی۔ البتہ نماز ہر پاک زمین پر دنیا کے ہر حصہ میں ادا کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ آنحضورﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور اس کی مٹی کو پاک بنادیا ہے۔‘‘ لیکن اس فرقے کی عبادت گاہوں میں نماز جائز نہیں ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے پروپیگنڈے کے لئے مسجدوں کے نام پر اڈے بنا رکھے ہیں۔ ان اڈوں میں یہ اپنے جھوٹے مذہب اور باطل عقائد کی ترویج کرتے ہیں اور ہمارے نوجوان اور عامۃ المسلمین کو قادیانی بنانے کے لئے ان کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں۔ اس لئے ان کی عبادت گاہوں میں نماز پڑھنا ہرگز درست نہیں ہے۔ اسلامی شریعت کا یہ اصول ہے: ’’حصول مصلحت پر ازالہ مفاسد کو ترجیح دی جائے گی ۔‘‘
نوٹ: قرآنی آیات کی بے ادبی کے پیش نظر دارالافتاء کے جواب میں صرف قرآنی آیات کا ترجمہ دیا گیا ہے۔
(جنگ کراچی، مورخہ ۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
جہلم، نوجوانان اسلام
انجمن نوجوانان اسلام پاکستان کے صدر حافظ محمد اکرم زاہد نے کہا ہے کہ قادیانیت ملک وملت کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے۔ اگر اس کا فوری تدارک نہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار یہاں گزشتہ رات ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جب کہ پاکستان کے ساتھ اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مرزائیوں کا اسرائیل میں مشن موجود ہے۔ وہاں سے اخبارات، رسالے شائع ہوتے ہیں۔ جس طرح عربوں کے لئے اسرائیل ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح پاکستان کے لئے ربوہ بھی ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔
کراچی، روزنامہ ’’جسارت‘‘ پر پابندی
’’جسارت‘‘ کے نیوز ایڈیٹر کشش صدیقی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج رات حکومت سندھ نے تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت کراچی کے اردو روزنامہ ’’جسارت‘‘ کی اشاعت پر دو ماہ کے لئے پابندی عائد کردی ہے۔ اس حکم کو فوری طور پر نافذ کیا گیا ہے اور اخبار کی اشاعت بند کردی گئی ہے۔ اس حکم میں، جو ’’جسارت‘‘ کے منیجنگ ایڈیٹر، ایڈیٹر اور پبلشر جناب حکیم اقبال حسین، جناب محمد صلاح
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الدین اور سید ذاکر علی کے علاوہ پرنٹر کے نام جاری ہوا ہے، کہا گیا ہے کہ حکومت سندھ کے لئے اس بات کے تعین کے بعد کہ اردو روزنامہ جسارت کی سرگرمیاں صوبہ سندھ میں امن عامہ کے منافی ہیں، اس پر دو ماہ کے لئے پابندی عائد کی جاتی ہے۔
قبول اسلام
گوال منڈی : راولپنڈی میں مقیم دو بھائیوں محمد الیاس اور مقصود احمد ولد میاں شریف نے گوال منڈی کی مسجد کے قاری عبدالمالک کے سامنے مرزائیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم علماء آزاد کشمیر
تنظیم علماء آزاد کشمیر کے علماء مولانا اختر کاشمیری ، قاضی خورشید احمد ، حافظ محبوب الحق ، مولانا فضل کریم ، مولانا مقبول الرحمن قریشی ، میاں عبدالرحمن نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پندرہ دن کے اندر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ تنظیم علمائے اسلام پاک و کشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا اختر کاشمیری کو آج انارکلی پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا۔
بھٹو اپنے وعدے پر قائم ہیں......اداریہ ”نوائے وقت“
”وزیر اعظم بھٹو نے بنگلہ دیش کے دورے سے واپسی پر سفر کی تکان دور کرنے کا بہانہ بنائے بغیر بجٹ پر بحث کے فوراً بعد قادیانیوں کا مسئلہ ایوان میں پیش کر دیا ہے۔ چنانچہ ایوان نے متفقہ طور پر اس مسئلہ پر حکمران پارٹی کی ایک تحریک اور حزب اختلاف کی ایک قرارداد کو ایوان کی ایک خاص کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ خاص کمیٹی ساری قومی اسمبلی پر مشتمل ہوگی ۔ چنانچہ اسمبلی کا اجلاس دو ہفتے کے لئے ملتوی ہو گیا ہے اور ایوان کی اس خاص کمیٹی نے یکم جولائی سے سرکاری تحریک اور اپوزیشن کی قرارداد پر بیک وقت غور شروع کر دیا ہے۔ سرکاری تحریک اور اپوزیشن کی قرارداد میں فرق یہ ہے کہ سرکاری تحریک میں صرف ختم نبوت کے منکرین کے مسئلہ پر غور کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے برعکس اپوزیشن کی قرارداد میں مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کو ختم نبوت کا منکر قرار دیتے ہوئے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن کی قرارداد زیادہ موزوں اور حقیقت پسندانہ ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق اپوزیشن نے سانڈھ کو سینگوں سے پکڑنے کی کوشش کی جب کہ حکومت نے صرف اس کی دم کو چھیڑا ہے۔ بہر حال وزیر قانون مسٹر پیرزادہ نے ”اصولی طور پر“ نہ صرف اپوزیشن کی قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کا ”خیر مقدم“ کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے اگر حالات سازگار رہے اور مرزائی کوئی بہت بڑا فساد یا لڑائی جھگڑا کروانے میں کامیاب نہ ہوئے تو قومی اسمبلی ان شاء اللہ تعالیٰ اپوزیشن کی قرارداد کو مفہوم میں تبدیلی کئے بغیر معمولی ردو بدل کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لے گی۔ قومی اسمبلی میں یہ ایشو لے جانے سے پہلے مرکزی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کا گروپ اسمبلی میں اپنے اتحادی ارکان سمیت وزیر اعظم بھٹو کی صدارت میں اس مسئلہ پر غور کے لئے اکٹھا ہوا تھا۔ حاضرین کی غالب اکثریت سواد اعظم کے موقف کی پرجوش حامی تھی ۔ چنانچہ وزیر اعظم بھٹو نے بھی اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے ان سے کہا کہ یہ تمہارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ تم قومی اسمبلی میں جا کر اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اس کا فیصلہ کرو۔
اب قومی اسمبلی کو بطور سب کمیٹی اس مسئلہ پر ۱۵؍ جولائی سے پہلے پہلے غور کر کے اپنی سفارشات پیش کرنی ہیں ۔ اپوزیشن اور حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی ، جو علمائے دین بھی ہیں ، ان کا یہ فرض ہے کہ وہ کوئی وقت ضائع کئے بغیر اس سب کمیٹی میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عام ارکان کی صحیح رہنمائی فرمائیں اور بقول وزیراعظم بھٹو کوئی ”خوبصورت فیصلہ“ کرنے میں ان کی مدد کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کو آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ بہرحال یہ درد سر وزیر قانون اور آئین کے ماہر اسمبلی میں موجود دوسرے بزرجمہروں کا ہے، قوم تو صرف نتیجہ میں دلچسپی رکھتی ہے۔
مرزائیوں کی حامی لابی نے عامتہ المسلمین کو ڈرانے کے لئے یہ پراپیگنڈا اور کھسر پھسر شروع کی ہوئی ہے کہ اس طرح:
- ......۱ مرزائی ففتھ کالمسٹ اور وطن دشمن بن جائیں گے۔
- ......۲ تمام سروسز میں ان کی بھر مار ہے، انہیں کہاں کہاں سے نکالا جائے گا۔
- ......۳ یہ منافقت سے کام لیتے ہوئے ”مسلمان“ کہلانا شروع کر دیں گے۔
- ......۴ باہر کی ”مہذب“ دنیا ہمیں ”انتہاء پسند مذہبی جنونی“ سمجھنا شروع کر دے گی۔
- ......۵ اور خبر نہیں کیا قیامت آجائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ دور غلامی کی یادگار ہے۔ اگر ہم غلام نہ ہوتے تو یہ مسئلہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ گزشتہ تیرہ سو سال میں کسی بھی آزاد اسلامی یا مسلمان ملک میں یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ کسی بھی اسلامی یا مسلمان ملک میں کسی دیوانے یا پاگل نے بھی دعویٰ نبوت کی جرأت نہیں کی۔ ایران میں بہائی مذہب کے بانی کا جو حشر ہوا، اس سے کون ناواقف ہے؟ بہاء اللہ نے خود ہی اپنے آپ کو اسلام سے خارج کر لیا۔ مسلمان کہلانے کی اسے بھی جرأت نہ ہوئی۔ لیکن ایران نے اس کے باوجود اسے یا اس کے مقلدین کو برداشت نہ کیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ آزادی کے بعد ۲۶، ۲۷ سال تک ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہ کی۔ حالانکہ ہم نے یہ ملک اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔ اگر ختم نبوت ہمارا جزو ایمان ہے تو رسول کریم ﷺ کو خاتم النبیین ماننے کے بعد ختم نبوت کی مختلف تاویلیں کرتے ہوئے دعویٰ نبوت کرنے والے اور اس جھوٹے نبی کی امت کے لئے پاکستان میں کیا جگہ رہ جاتی ہے؟ یہ پنجاب کی بدقسمتی تھی کہ یہ پودا اس سرزمین میں ہی لگ سکا اور اس نے یہیں نشوونما پائی۔ یہ پنجابیوں کی مذہب کے معاملے میں سادہ لوحی اور اسلام کی طرف سے عطاء کردہ فراخ دلی کا نتیجہ تھا کہ انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا تناور درخت بن گیا۔
کسی کلمہ گو کو کافر یا غیر مسلمان قرار دینا واقعی گناہ کبیرہ سے کم تر فعل نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ ختمی مرتبت کو خاتم النبیین تسلیم کرنے کے بعد مرزا غلام احمد کو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ نبی ماننے والے کلمہ گو مسلمان کہلا بھی سکتے ہیں؟ یہ ہماری فراخ دلی ہے یا دینی بے حمیتی کہ آج سر ظفر اللہ یہ کہنے کی جرأت کر رہا ہے کہ اسے مسلمان نہ ماننے والے کروڑوں مسلمان خود کافر ہیں۔
اب ہم مندرجہ بالا سوالات کے جوابات کی طرف آتے ہیں:
- ......۱ ہمیں یقین ہے موجودہ بحث کے نتیجہ کے طور پر مرزائیوں کی اکثریت برضا و رغبت اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لے گی۔ اگر
انہیں حضرت رسول کریم ﷺ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی غلامی میں سے کسی ایک کی غلامی کا انتخاب کرنا پڑا تو وہ یقیناً رضا کارانہ طور پر رسول اکرم ﷺ کی غلامی بخوشی قبول کریں گے۔ بہر حال اسلام کے اندر اس نقب زنی کا خاتمہ تو ہو جائے گا۔
- ......۲ اگر گزشتہ دو سال میں اس ملک میں ہزاروں سرکاری ملازمین کو بغیر کسی نوٹس، دلیل اور اپیل کے نکالا جا سکتا ہے تو سروسز میں اپنی
آبادی سے زیادہ نمائندگی حاصل کر لینے والے مرزائیوں کو فارغ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اور ان کی علیحدگی سے کون سا خلاء پیدا ہو جائے گا جو پر نہیں ہو سکے گا؟ بہر حال آئندہ انہیں اپنے حق سے زیادہ غصب کرنے کا موقع تو نہیں ملے گا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... اگر کوئی قادیانی منافقت سے کام لیتے ہوئے ”مسلمان“ کہلاتا ہے تو یہ اس کے ضمیر کا مسئلہ ہے۔ آخر آج بھی تو وہ مسلمان ہی
کہلا رہے ہیں جب کہ مسلمان انہیں مسلمان نہیں سمجھتے اور وہ مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ بہرحال بیرونی دنیا میں تو یہ تاثر ہو جائے گا کہ غلام احمدی بھی مسلمان ہیں اور رسول عربی ﷺ کے غلام بھی مسلمان ہیں۔
- ۴...... ”مہذب دنیا“ سے ہمیں ضرور مذہبی رواداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہے؟ آج سر ظفر اللہ کے آقا و مولا انگریز بہادر آئرلینڈ
میں کیا کر رہے ہیں؟ وہاں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں میں جنگ کی نوعیت سیاسی ہے یا مذہبی؟ کیا ”سیکولر“ برطانیہ میں کوئی حکمران ایسا بھی ہو سکتا ہے جس کا تعلق برطانوی کلیسا کی بجائے کیتھولک یا کسی دوسرے عیسائی فرقہ سے ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں مذہبی رواداری کا سبق دینے والے خود بڑے تنگ دل مذہبی ہیں۔ ہمارے حکمران باہر جاتے ہیں تو جمعہ کی نماز بھی ادا نہیں کرتے۔ لیکن ملکہ برطانیہ یا ان کے شوہر نامدار کسی اسلامی ملک کے دورے پر بھی جائیں تو اتوار کے روز چرچ جانا نہیں بھولتے۔ انگریزوں سمیت کوئی مہذب سے مہذب یورپی قوم صلیبی جنگوں میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں شکست کو ابھی تک فراموش کر سکی ہے؟
مسلمان کا مذہبی رواداری میں کوئی جواب نہیں۔ اگر ان میں رواداری نہ ہوتی تو آج مشرق وسطیٰ میں یہودی مسئلہ پیدا نہ ہوتا اور نیم براعظم میں مسلمان کو ہندو غلبہ کے مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور تو اور، آج ہم قادیانی مسئلہ سے دوچار نہ ہوتے۔ ہم تو مسٹر بھٹو سے یہی عرض کریں گے کہ وہ اللہ کا نام لے کر اس نیک کام کو ببانگ دہل کر ڈالیں۔ اس کے منطقی نتائج سے نمٹنے کی بھر پور تیاری کریں۔ قادیانی مسئلہ کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ عرب افریقہ میں اس محاذ پر کرنل قذافی اور کالے افریقہ میں عدی امین ایسے مسلمان مجاہدوں سے اس فتنہ سے نمٹنے کی درخواست کریں اور پاکستان میں یہ کارنامہ سرانجام دینے کے بعد بابر کی طرح خود جام و سبو کو توڑ کر پاکستان کو اقبال کا پاکستان بنانے کے لئے میدان عمل میں کود پڑیں اور اس ملک کو اتنا مضبوط بنا دیں کہ روس اور اس کے طفیلیوں کو اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہو۔“
(اداریہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۲؍جولائی ۱۹۷۴ء)
۳؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
راولپنڈی، حضرت مولانا عبدالحق
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نائب صدر اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالحق نے تمام ارکان قومی اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ وہ قادیانیوں کے مسئلہ کے بارے میں اپنی سفارشات ۱۵؍جولائی تک مرتب کر لیں کیونکہ اس مسئلہ میں تاخیر ملک وملت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ مجلس عمل کی ہدایات کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ جامع مسجد کیریج فیکٹری اسلام آباد میں بعد نماز عشاء مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں علماء کرام نے خطاب کیا۔ آخر میں حافظ محمد اسحاق خطیب مسجد نے ایک قرارداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ممبران اسمبلی کو عوام کے مطالبے اور شریعت مصطفیٰ ﷺ کا احساس کرتے ہوئے اپنا فرض منصبی ادا کرنا چاہئے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں قرارداد کی مکمل حمایت کرنی چاہئے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر علماء کرام اور طلباء کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میلاد کمیٹی انجمن فدایان مصطفیٰ کے زیر اہتمام جامع مسجد نیو کٹاریاں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ختم نبوت کے سلسلہ میں جلسہ عام سے مولانا بشیر احمد چشتی ، مولانا الف دین اور مولانا محمد مسکین کے علاوہ دیگر مقامی علماء نے خطاب کیا۔ اجلاس میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں عوام کے جذبات کا احترام کرے۔
جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر جناب ارباب محمد سعید خان اور صوبہ پنجاب کے نائب امیر مولانا فتح محمد نے آج ایک مشترکہ بیان میں مرکزی مجلس عمل اور ارکان قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے ارکان نے قومی اسمبلی میں جو قرار داد پیش کی ہے، وہ ملت کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ اسمبلیوں کے باہر بھی تحریک پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔ جماعت کے رہنماؤں نے قومی اسمبلی کی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل جلد از جلد ایوان میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے حکمران پارٹی سے مطالبہ کیا کہ ملت اسلامیہ کے مطالبے تسلیم کرنے میں وہ ہرگز روڑے نہ اٹکائے۔ بصورت دیگر انہیں مسلمانوں کے اجتماعی غیظ وغضب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
ملتان کے نزدیک قادیانیوں کا مسلح حملہ
آٹھ مسلمان زخمی ہو گئے ، پانچ مسلمان گرفتار
ملتان سے بارہ میل دور بازار کوٹھے والا کے قریب شاہ جیون سنگھ میں قادیانیوں نے مسلمانوں پر پستول ، برچھی اور کلہاڑیوں سے حملہ کر کے آٹھ مسلمانوں کو زخمی کر دیا ، جس میں دو شدید زخمی ہیں ۔ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق بستی رام سنگھ کے شاہ محمد کو شاہ جیون سنگھ کے قادیانی مشتاق سے قرض کی رقم وصول کرنی تھی۔ گزشتہ شام شاہ محمد نے اپنے پیسوں کا تقاضا کیا تو مشتاق نے شاہ محمد کو گالی دی ، جس پر محمد یوسف نے گالی دینے سے منع کیا۔ اس پر مشتاق قادیانی نے محمد یوسف سے کہا کہ ہم تمہاری خبر لینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے پیسے دینے سے انکار کیا اور بد کلامی کی ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے قادیانی ساتھیوں کو آواز دی ، جو پستول ، برچھی اور کلہاڑیوں سے مسلح ہو کر موقع پر پہنچ گئے ۔ محمد یوسف نے یہ صورتحال دیکھ کر اپنے رشتہ داروں کو آواز دی۔ جو قریب ہی کنویں پر موجود تھے ۔ وہ وہاں پہنچ گئے ۔ کیونکہ قادیانی مسلح تھے ، انہوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے ۔ شاہ محمد اور محمد شریف شدید زخمی ہیں ۔ انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے اقدام قتل اور دیگر الزامات کے تحت دونوں گروہوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس نے قادیانیوں کی بجائے پانچ مسلمان افراد کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔
کراچی، کھوکھرا پار
جماعت اسلامی سرکل سعود آباد کھوکھرا پار کے اجتماع میں ایک قرارداد منظور کی گئی ، جس میں اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ دستور میں ختم نبوت کی شرط شامل کرنے اور وزیر اعظم کے اس اعلان کے باوجود کہ جو ختم نبوت پر عقیدہ نہ رکھے، وہ مسلمان نہیں ۔ حکومت مسلمانوں کے متفقہ مطالبے کو منظور کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے روکنے اور علماء اور طلباء کی گرفتاریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی نیت درست نہیں ہے۔ اجتماع نے حکومت پر واضح کیا کہ مسلمان اب اس مسئلہ پر فریب کھانے کے لئے تیار نہیں ۔ اجتماع نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرزا ناصر احمد اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
ظفر اللہ خان سے باز پرس کی جائے۔ قادیانیوں کو فوراً غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی عہدوں سے علیحدہ کیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مسجد اقصیٰ ایچ ایریا کھوکھرا پار میں ایک اجتماع منعقد ہوا، جس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قادیانی قطعی طور سے کافر ہیں اور انہیں ملک میں کسی بھی اہم عہدے پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر اس مسئلہ کا مسلمانوں کے متفقہ دینی عقیدے کے برعکس کوئی نیا حل پیش کیا گیا تو مسلمان خود ہی اس مسئلہ کو حل کر لیں گے۔ جمعیۃ العلماء پاکستان نیو کراچی کے زیر اہتمام ایک جلسہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر کلیدی عہدوں سے برطرف کرنے ، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے ، ظفر اللہ خان اور مرزا ناصر احمد پر ملک دشمن پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام رقیہ پلاٹ ڈرگ کالونی نمبر ۲ میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ میں کراچی مجلس کے مبلغ مولانا محمد شریف احرار نے قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ علاقہ کے عوام نے ختم نبوت کے سلسلہ میں ہر قسم کی قربانی کا عہد کیا۔ مرکزی جماعت اہل سنت کے زیر اہتمام عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں جامع مسجد غوثیہ آگرہ تاج کالونی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صوفی ایاز خان نیازی نے کہا کہ جس طرح اسرائیل ، عرب مسلمانوں کے لئے ناسور بنا ہوا ہے ، اسی طرح قادیانیت پاکستان میں ایک ناسور ہے اور اگر آج متحد ہو کر اس ناسور کا خاتمہ نہیں کیا گیا تو ملت اسلامیہ مزید نقصانات اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک وملت کا استحکام اسی میں ہے کہ حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ اس لئے کہ مسلمانوں کا یہ دشمن روز اوّل سے قادیان کو ربوہ سے ملا کر قادیانی اسٹیٹ بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے تاکہ دوسرا اسرائیل وجود میں آسکے۔ بزم ضیائے قادریہ کے زیر اہتمام اورنگی ٹاؤن میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بزم کے ناظم اعلیٰ محمد عبداللہ قادری نے مطالبہ کیا کہ حکومت قادیانیوں کو بلاتاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ ایس ایم گورنمنٹ کامرس کالج اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری محمد ظہیر الاسلام نے ایک بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے باوجود قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کو بلاتاخیر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ انجمن طلباء اسلام کراچی کے جوائنٹ سیکرٹری احسان اللہ صدیقی نے نور مسجد ڈرگ کالونی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انجمن کے رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔
جمعیۃ علماء پاکستان کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی مولانا محمد حسن حقانی نے طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف تو حکومت بلند بانگ دعوؤں کے ذریعے اپنے آپ کو اسلام اور نبی کریم ﷺ کا خیر خواہ ظاہر کر رہی ہے اور دوسری طرف وہ ان طلباء کے لئے ظالمانہ پالیسی اختیار کر رہی ہے جو نبی آخر الزمان ﷺ کے تقدس کے لئے دستور میں ترمیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کھلے ہوئے تضاد سے حکومت کے عزائم کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ مولانا حقانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی جمعیۃ طلباء کے ناظم اعلیٰ ظفر جمال بلوچ جمعیۃ علماء پاکستان کے نائب صدر علامہ محمود شاہ گجراتی اور انجمن طلباء اسلام کے اقبال اظہری سمیت دیگر طالب علم رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔
لاہور، جاوید ہاشمی کی ضمانت
پنجاب ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عطاء اللہ سجاد نے آج پنجاب اسٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین جاوید ہاشمی کی ضمانت قبل از
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتاری عبوری طور پر منظور کر لی۔ جاوید ہاشمی نے درخواست میں کہا ہے کہ درخواست گزار کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا حکومت کا پرانا مشغلہ ہے۔ اب ایک بار پھر انہیں نظر بند کرنے یا جھوٹے مقدمات میں الجھا کر گرفتار کرنے کے لئے پولیس سرگرم عمل ہے۔ درخواست گزار ایم۔اے کا امتحان دے رہا ہے جو کہ ۲؍ جولائی سے شروع ہونے والا ہے۔ حکومت کی تازہ انتقامی کارروائی اس کے امتحانات کو متاثر کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے حکم جاری کیا جائے کہ درخواست گزار کو نہ نظر بند کیا جائے اور نہ ہی جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا جائے تاکہ وہ امتحانات کے دوران خلل اندازی سے محفوظ رہے۔ فاضل عدالت نے درخواست گزار جاوید ہاشمی کو عبوری ضمانت دیتے ہوئے حکومت کے نام نوٹس جاری کر دیا ہے۔ آئندہ سماعت ۱۲؍ جولائی کو ہو گی۔ درخواست گزار کی پیروی ملک محمد قاسم ایڈووکیٹ کر رہے تھے۔
کراچی، اسلامی جمعیۃ طلباء
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ پر اسلامی جمعیۃ طلباء کی عوامی رابطہ مہم کے دسویں روز آج شہر کے مختلف مقامات پر قادیانیوں اور پولیس نے طالب علم رہنماؤں کو مساجد میں تقریر کرنے سے روکا۔ آج گارڈن پر اللہ والی مسجد میں جب ایک اجتماع سے جمعیۃ حلقہ گارڈن کے ناظم اظہر ثاقب خطاب کرنے والے تھے تو حسین ڈی سلوا میں رہنے والے قادیانیوں نے پولیس کو جا کر اطلاع دی کہ یہاں حکومت کے خلاف تقاریر کی جا رہی ہیں۔ لہٰذا ان تقاریر کو روکا جائے۔ اس اطلاع پر پولیس ان قادیانیوں کے ہمراہ مسجد میں پہنچی اور جمعیۃ کے ناظم کو ختم نبوت پر تقریر کرنے سے منع کیا۔ پولیس کے اس اقدام پر نمازیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے پولیس کو غنڈوں سمیت مسجد سے باہر نکال دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نیو کراچی میں بھی حکمران پارٹی کے افراد اور قادیانیوں نے پولیس کی مدد سے جمعیۃ کے ایک کارکن نعیم احمد کو زدوکوب کیا تھا۔ گارڈن پر اللہ والی مسجد میں سے پولیس کو نکالے جانے کے بعد اظہر ثاقب نے تقریر کی۔ انہوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی سے زیادہ ہمیں اس ملک کے عوام پر اعتماد ہے اور عوام کا یہ فیصلہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ محمود آباد میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ناظم حلقہ سعید احمد نے کہا کہ طلباء نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اپنی تمام تر کوششیں اس بات پر صرف کی ہیں کہ اس نازک موقع پر عوام کو قادیانیوں کے عزائم سے آگاہ کیا جا سکے۔ ناظم آباد میں تین بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ کے ناظم فاروق احمد میمن نے کہا کہ حکومت بغیر کسی وجہ کے اس مسئلے کو طول دے رہی اور اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے التواء میں ڈال رہی ہے۔ جلسے سے جہانزیب اور حامد اللہ نے بھی خطاب کیا۔
سمن آباد میں مختلف جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے طالب علم مقصود مناظر اور مکرم علی خان نے کہا کہ ظفر جمال بلوچ کی گرفتاری سے حکومت کی قادیانیت نوازی پالیسی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ملیر سعود آباد میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حلقہ ملیر سٹی کے ناظم حسین حقانی نے کہا کہ ہمیں آستین کے سانپوں کو اپنی صفوں سے ہٹانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قبل اس کے کہ حالات خراب ہوں، حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے اور انہیں کلیدی عہدوں سے برطرف کرے۔ جلسے سے ظفر عالم طلعت نے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کے ناظم اعلیٰ ظفر جمال بلوچ، پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ اور دیگر طلباء کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
گجرات، جمعیۃ علماء پاکستان
جمعیۃ العلمائے پاکستان گجرات کے دو رہنماؤں مولانا اورنگزیب اور صاحبزادہ سید احمد حسین شاہ نے اپنے ایک مشترکہ اخباری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیان میں گجرات کے علماء پر لاٹھی چارج و تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی انتظامیہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والے علماء اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے اور دیگر علماء کو خواہ مخواہ پریشان کر رہی ہے۔ جس کے پیش نظر عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بروقت مداخلت نہ کی تو ممکن ہے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والی گرفتاریاں عوام کے شدید ردعمل کا بین ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ حل کرانے کے لئے ہم خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے اور کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کریں گے۔
راولپنڈی، جمعیۃ علماء پاکستان
جمعیۃ علمائے پاکستان (فیض الحسن گروپ) کے صدر صاحبزادہ فیض الحسن نے کہا ہے کہ میری پارٹی نے قادیانی مسئلہ کے حل کے لئے اپنی جدوجہد میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی علماء کا ایک اجلاس بلایا جائے گا۔ آج اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے بارے میں میری پارٹی کا موقف اس بات سے پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ اس کے دو ممبران قومی اسمبلی جناب غلام حیدر بھروانہ اور صاحبزادہ نذیر سلطان نے قادیانی مسئلہ سے متعلق قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی حزب اختلاف کی قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری پارٹی کے خیالات مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شامل مختلف مذہبی گروپوں کے خیالات سے ہم آہنگ ہیں۔ لیکن یہ بات افسوس ناک ہے کہ اس کے باوجود میری پارٹی کو مجلس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بعض عناصر میری پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علمائے پاکستان کی تمام شاخوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا ہے اور ہم مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد آئینی طور پر جاری رکھیں گے۔ دریں اثناء پارٹی نے نائب صدر قاضی محمد اسرار الحق کی قیادت میں ایک بارہ رکنی کمیٹی قائم کی ہے جو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں ملک بھر میں رائے عامہ ہموار کرے گی۔
................ ۞ ............ ۞ ............ ۞ ................
دوکانوں پر آویزاں کتبے کا عکس
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ارشاد ختم المرسلین ﷺ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(الحدیث)
یہاں مرزائیوں کا داخلہ ممنوع ہے مرزائی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
(فتویٰ علمائے اسلام)
منجانب: لائل پور آٹو موبائلز سپیئر پارٹس ڈیلرز ایسوسی ایشن، لائل پور
مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں علماء کرام کا خطاب
قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر پروفیسر غفور نے کہا ہے کہ میں سرور کائنات ﷺ کے غلام کی حیثیت سے یہ کہتا ہوں کہ اب دنیا کی کوئی طاقت قادیانی مسئلہ کے حل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی اور جھوٹے نبی کو ماننے والے جسد ملی سے علیحدہ کر دیئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائیں گے۔ وہ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ سے مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا عطاء المنعم بخاری، مولانا علی غضنفر کراروی، رکن قومی اسمبلی مولانا عبد المصطفیٰ الازہری اور دوسرے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اس ہدایت پر سختی سے عمل کریں گے، جس میں آئین کے اندر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے کے لئے واضح دفعات شامل کرانے کے لئے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے۔
مولانا عبدالرحیم اشرف نے کہا کہ قادیانی انسان ہیں۔ ہم ان کے جان و مال کے دشمن نہیں ہیں لیکن حضور ﷺ سے غداری کرنے والوں کو مملکت خداداد چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ یہ بات کہی کہ مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں دین کی بازی ہاری گئی ہے اور گزشتہ تین سال میں جس طرح دینی اقدار کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کی گئی ہیں، وہ بڑی اندوہناک داستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ ربوہ نے اس مسئلہ کے حل کی راہ نکال دی ہے۔
مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری نے کہا کہ آئین میں صدر اور وزیراعظم کے لئے جو حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے، وہ حزب اختلاف کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور اب سندھ اور بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ممتاز شیعہ عالم مولانا علی غضنفر کراروی نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی لیکن ہم نبی کریم ﷺ کی ناموس کے لئے ہر طاقت سے ٹکرانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے اس پر بھی اظہار افسوس کیا کہ بعض وکلاء چند ٹکوں کی خاطر قادیانیوں کی وکالت کر رہے ہیں۔ مولانا علی غضنفر کراروی نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جو اقدام کیا تھا، مرزا غلام احمد کا مناسب حل بھی وہی ہے۔
برطانیہ میں یوم تحفظ ختم نبوت منایا گیا
ظفر اللہ اور مرزا ناصر پر مقدمے چلانے کا مطالبہ
ڈیوزبری (انگلینڈ) یکم جولائی (جسارت رپورٹ) جمعیۃ علماء برطانیہ کی اپیل پر پورے ملک میں گزشتہ جمعہ کو مسلمانوں نے یوم تحفظ ختم نبوت منایا۔ جمعیۃ کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرشید ربانی کے مطابق اس موقع پر ائمہ مساجد نے جمعہ کے خطبات میں مسئلہ تحفظ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، چوہدری ظفر اللہ خان اور مرزا ناصر احمد پر ان کے حالیہ تخریب پسندانہ بیانات کی بناء پر پاکستان میں مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ملک بھر کی مساجد میں منظور کی جانے والی قراردادیں حکومت پاکستان کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
کچھ اندیشے، کچھ امیدیں
”قادیانی مسئلے پر پوری قومی اسمبلی کو کمیٹی بنا کر اسے اس امر کے تعین کا کام سونپ دیا گیا ہے کہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی اسلام میں حیثیت پر غور کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایوان میں حزب اختلاف کی طرف سے پیش کی جانے والی وہ قرارداد بھی، جس پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ کر دیا گیا۔ کمیٹی کے کام کی تکمیل کی مدت کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔ یہ سب کچھ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان اسمبلی کے اجلاس کے دو گھنٹے کے تعطل کے وقفے میں ہونے والی بات چیت کے نتیجہ میں ہوا۔ کمیٹی کے قیام کی تجویز کو ایوان نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بالاتفاق منظور کیا اور اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے سے قبل وزیر قانون نے ایوان میں یہ اعلان بھی فرمایا کہ وزیراعظم بھٹو کی نشری تقریر والا وعدہ پورا ہوگیا اور اب اسمبلی سے باہر مظاہرے ختم کر دیئے جائیں۔
ہم حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان دو گھنٹے کے وقفے میں ہونے والے تبادلہ خیال کی تفصیلات سے لاعلم ہیں اور باخبر بھی ہوں تو ہمارے لئے پنجاب اور سندھ اسمبلی میں حکومت کے رویّہ کے بعد کسی خوش گمانی کی گنجائش پیدا کرنا فضول ہے۔ ہمیں بہرحال اندرونی مذاکرات سے لاعلم ہوتے ہوئے دور سے جو کچھ نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ اچھا نہیں ہے اور ہم اس پر اطمینان کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اسمبلی کی اس کارروائی کے گردو پیش میں جو واقعات پیش آئے ہیں، ان کو پس منظر میں رکھا جائے تو خوش گمانی کا کوئی امکان دور دور نظر نہیں آتا۔ مسئلے کو سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل میں نہ پہنچایا گیا تو کیا ہوا۔ پورے ایوان کو ایوان سے باہر کر کے اس کے سپرد اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اس کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہی مشکل ہو جائے۔ پنجاب اسمبلی میں ایک قادیانی رکن اسمبلی نے تجویز پیش کی تھی کہ اس مسئلے پر مسلم تھنکرز اور قادیانی عالموں میں مباحثہ ہونا چاہئے۔ یہ تجویز قادیانیوں کا پسندیدہ حربہ ہے۔ وہ مباحثے اور مناظرے میں الجھا کر دوسرے مسائل کھڑے کر دیتے ہیں اور اصل معاملہ گول ہو جاتا ہے۔ اب بھی وہ یہی چاہتے تھے اور ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یہ تجویز روبہ عمل آگئی ہے۔ اسمبلی کے ارکان کو اسمبلی سے باہر لا کر انہیں اس بحث میں لگا دیا گیا ہے کہ ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔ یہ خالص دینی مسئلہ ہے اور ارکان اسمبلی سب کے سب عالم دین نہیں ہیں۔ ان کا اس بحث میں پڑ کر سلامتی سے کسی نتیجہ پر پہنچنا ہمیں مشکل نظر آتا ہے۔ ایک طے شدہ مسئلے کی غیر طے شدہ حیثیت بھی تسلیم کرالی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ ابھی ختم نبوت سے انکار کرنے والوں کی اسلام میں حیثیت متعین کرنے کے لئے غوروفکر کی گنجائش ہے۔ حالانکہ ہم اس سلسلے میں کوئی گنجائش نہیں پاتے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔
کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھ کر کمیٹی کے اندر قادیانیوں یا ان کے ایجنٹوں کی موشگافیوں اور سرگرمیوں کو عوام کی نظروں سے تحفظ دے دیا گیا ہے۔ اس سے ایک خرابی یہ ہوگی کہ باہر اس قسم کی افواہیں پھیلائی جائیں گی کہ فلاں مسلمان نے قادیانیوں کی اس طرح حمایت کی اور فلاں نے اس طرح اور یوں ۱۹۵۳ء کی طرح حزب اختلاف کی جماعتوں کو ایک دوسرے سے بدظن کر کے انہیں باہم الزام اور جوابی الزام کی مہم میں الجھا دیا جائے گا۔ مدت کا تعین نہیں کیا گیا تا کہ کمیٹی کے اندر ہونے والے مناظروں کو لامتناہی طول دے کر اس کمیٹی بالفاظ دیگر پوری اسمبلی کو فیصلے سے عاجز کیا جاسکے اور یوں اسمبلی کی ناکامی سے فیصلے کی ناکامی لوٹ کر پوری قوم پر عائد ہو جائے گی۔ وزیر قانون نے کہہ ہی دیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ یعنی وزیراعظم نے تو وعدہ پورا کر دیا۔ اب اگر کوئی ناکامی ہوئی تو وزیراعظم کی نہیں، قوم کی ہوگی۔ قوم کے نمائندوں کی ہوگی۔ کیا اچھا جال ہے۔
ہمارے لئے اس پوری کارروائی کے سلسلے میں خوش گمانی کے امکانات محدود ہونے کے اسباب یہ ہیں کہ اوّلاً ہمیں حکومت کا رویّہ بدلا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اگر کمیٹی اور کمیٹی کے ذریعے اسمبلی میں مفاہمت تک پہنچنا اور مسئلے کو طے کرنا مقصود ہے تو اسمبلی سے باہر یہ بے حساب گرفتاریوں کا کیا مطلب ہے؟ دوم یہ کہ پہلے تو پالیسی یہ بتائی گئی تھی کہ پیپلز پارٹی اپنے ارکان پر کوئی ڈسپلن عائد نہیں کرے گی۔ اب پارلیمانی پارٹی کا مؤقف طے کئے جانے کی خبر آئی ہے۔ کیا حزب اختلاف نے کمیٹی کی تشکیل پر سمجھوتہ کرنے سے قبل یہ معلوم کیا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی پارلیمانی پارٹی کے لئے کیا مؤقف طے کیا ہے؟ آخر اس پارلیمانی پارٹی کے مؤقف کو صیغہ راز کیوں بنایا گیا ہے؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور پھر اسمبلی میں پیرزادہ صاحب کی یہ اپیل بھی محل نظر ہے کہ چونکہ وعدہ پورا ہو گیا۔ لہٰذا اسمبلی سے باہر مظاہرے بھی بند کر دیئے جائیں۔ کیا مقصد یہی ہے کہ معاملے کو کھٹائی میں ڈال کر جوش ٹھنڈا کیا جائے اور تحریک ختم کر دی جائے؟ یہ ہمارے تاثرات اور اندیشے ہیں اور ہماری تمنا اور دعا یہ ہے کہ ہمارے یہ تاثرات اور اندیشے غلط ثابت ہوں اور اسمبلی اپنی تشکیل کردہ کمیٹی کے ذریعے اس نازک مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو۔ ہماری طرف سے ان تاثرات کے اظہار کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ پیدا کریں۔ ہم اپنی اس تمنا کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہم اپنے ان تاثرات اور اندیشوں کے غلط ثابت ہونے کے خواہش مند ہیں۔ ہم نے اپنے ان وسوسوں کا اظہار محض اس لئے کیا ہے کہ ہمارا نقطۂ نظر ریکارڈ پر آ جائے اور اگر اس سے کسی ٹھوکر سے بچنے کی سبیل ہو جائے تو یہ بہتر ہی ہو گا۔
اہل وطن کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ اس مطالبے کی حمایت میں اپنے پرجوش مظاہرے ضرور جاری رکھیں تا کہ ارکان اسمبلی اس مسئلے کی سنگینی سے غافل نہ ہونے پائیں۔ ارکان اسمبلی کے سروں پر رائے عامہ کی تلوار لٹکتی ہی رہنی چاہئے۔ البتہ مظاہروں کو کسی بھی صورت قادیانیوں کے خلاف تشدد کی راہ پر نہ لایا جائے۔ قادیانیوں کے جان و مال کے تحفظ کا کام خود مسلمان سنبھالیں تا کہ انہیں مظلوم بن کر عالمی رائے عامہ کی حمایت بٹورنے کا موقع نہ مل پائے کہ جس کی انہیں شدت سے ضرورت اور تلاش ہے۔‘‘
(اداریہ جسارت کراچی، مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۷۴ء)
پیپلز پارٹی اپنا مؤقف واضح کرے
’’سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں اتوار کے روز قومی اسمبلی کے کمیٹی روم میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس تقریباً ۴۰ منٹ جاری رہا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اجلاس میں ختم نبوت کے مسئلے پر ایوان میں اختیار کئے جانے والے مؤقف کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی حامی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ خبر سرکاری ایجنسی سے جاری ہوئی ہے تو ظاہر ہے خوب چھان پھٹک کر شائع ہوئی ہوگی اور اس میں ’’خیال کیا جاتا ہے‘‘ والا ٹکڑا بھی غلط نہ ہوگا۔ تاہم اگر پیپلز پارٹی نے ختم نبوت کے سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کا مؤقف طے کیا ہے تو یہ وزیر اعظم بھٹو کے اس اعلان کے بالکل برعکس ہے جو انہوں نے اپنی نشری تقریر میں کیا تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ اس مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے ارکان پر کوئی پارٹی ڈسپلن عائد نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں اپنے ضمیر کی آزادی کے مطابق مؤقف اختیار کرنے کا حق ہوگا۔ ہم نے وزیر اعظم بھٹو کے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پارٹی ڈسپلن کی قوت سے کام لے کر پارٹی کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بل کی حمایت میں استعمال کیا جانا چاہئے۔ اب اس خبر سے ظاہر ہے کہ پارٹی نے ختم نبوت پر پارلیمانی پارٹی کا مؤقف طے کیا ہے تو یہ گویا ہمارے مطالبے کی جزوی تکمیل ہے اور وزیر اعظم بھٹو نے اپنی اعلانیہ پالیسی کو بالا علان واپس لے کر پارٹی ڈسپلن کی قوت استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مگر یہ پتہ نہیں کہ پارٹی ڈسپلن مسلمانوں کے مطالبے کی تکمیل کے لئے استعمال ہوگا یا قادیانیوں کو تحفظ دینے کے لئے، ہم مطالبہ کریں گے کہ پیپلز پارٹی بتائے کہ اس نے ختم نبوت کے مسئلے پر اپنی پارلیمانی پارٹی کے لئے کیا مؤقف طے کیا ہے؟‘‘
(شذرہ جسارت، مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۷۴ء)
یہ دو عوامل کیوں؟
’’مقامی پولیس نے سندھ اسپیشل پولیس کی رہنمائی میں قادیانیوں کے خلاف پمفلٹ روکنے کے لئے مہم شروع کر دی ہے۔ کیوں؟ شاید اس لئے کہ سندھ میں سنسر کی پابندی برقرار ہے۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیا قادیانیوں کو اس پابندی کے باوجود گمراہ کن اشتہارات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبارات میں چھپوانے کی آزادی ہے؟ اور مسلمانوں کو اس گمراہ کن مہم کا سدباب کرنے کے لئے پمفلٹ چھاپنے کی آزادی نہیں؟ قادیانیوں کے اشتہارات جو ہمارے خیال میں گمراہ کن ہیں، مختلف اخبارات میں چھپ رہے ہیں۔ مگر ہم نے ان کے چھپنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کیونکہ ہم قادیانیوں سے آزادی اظہار سلب نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن جب جوابی مہم کے لئے مسلمانوں کو پمفلٹ چھاپنے سے روکا جائے گا تو ہم قادیانیوں کے ان اشتہارات پر ضرور معترض ہوں گے اور حکومت سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ پابندی اور آزادی کا ٹریفک یک طرفہ کیوں ہے؟ کراچی پولیس اور کراچی انتظامیہ کے دو ذمہ دار منصب دار قادیانی ہیں۔ یہ بات ہمارے علم میں ہے۔ ہم حکومت سے پوچھنا چاہیں گے کہ یہ مہم کہیں ان قادیانی حکام کی اپنی کارگزاری تو نہیں؟‘‘
(ادارتی نوٹ جسارت مورخہ ۳ جولائی ۱۹۷۴ء)
نوٹ: اس کے بعد روزنامہ جسارت کراچی کے اخبار پر پابندی لگا دی گئی جیسا کہ آپ نے پہلے پڑھا ہے۔
۴ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کراچی، انجمن طلباء اسلام
انجمن طلباء اسلام سندھ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ضلع تھرپارکر کے دورے پر روانہ ہو گیا ہے جہاں وہ قادیانیوں کے اثرات کا جائزہ لے گا اور وہاں پر ان کی سیاسی سازشوں اور منصوبوں کے بارے میں معلومات جمع کرے گا۔ وفد میں انجمن کے رکن شوریٰ محمد یعقوب قادری، سندھ کے سیکرٹری عثمان ہنکورو، کراچی کے ناظم حافظ محمد تقی اور کراچی کے ممتاز طالب علم رہنما شبیر مشرقی شامل ہیں۔ اس دورے کے بعد سندھ کی تمام شاخوں کے ناظمین، سیکرٹریز اور ارکان کا اجلاس ہو گا جس میں وفد کے ارکان رپورٹ پیش کریں گے۔ رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
گکھڑ، مولانا محمد عمر کا مرزا ناصر کو چیلنج
جمعیۃ اہل حدیث کے ممتاز رہنما مولانا محمد عمر نے قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اکیس روز تک ایک بند کوٹھڑی میں محبوس رہیں اور اکیس روز تک دونوں کو کھانے پینے کی کوئی چیز فراہم نہ کی جائے۔ اکیس روز بعد جو اس عرصہ میں مر جائے اسے جھوٹا اور جو زندہ رہے اسے سچا تسلیم کر لیا جائے۔ یہ چیلنج انہوں نے گزشتہ روز یہاں جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ میں بعد نماز عشاء کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کامل یقین ہے کہ وہ اپنے نبی کی صداقت اور نبوت آخر الزمان کے صدقے اکیس روز تک بغیر کھائے پیئے زندہ و سلامت رہ سکتے ہیں۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ، تحریک نکتہ عروج پر
مرزائیوں کے خلاف سماجی بائیکاٹ کی مہم یہاں نکتہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس مہم کے تحت خطیب جامع مسجد غلہ منڈی مولانا الطاف کی قیادت میں نوجوانوں نے مشروبات کی دوکانوں پر جا کر شیزان کی بوتلوں سے شربت سڑکوں پر انڈیل دیا۔ بوتلوں کی قیمت مولانا الطاف نے دوکانداروں کو نقد ادا کی۔ اس موقع پر نوجوانوں نے ’’مرزائیت مردہ باد‘‘ اور ’’مرزائیوں کو اقلیت قرار دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ ایک جگہ تھانہ چٹیانہ کے ایس ایچ او ملک عبدالمجید نے مظاہرین کے بوتلیں توڑنے پر اعتراض کیا تو مظاہرین نے ان سے بھی مرزائیت کے خلاف نعرہ لگوا کر چھوڑا۔ شہر کی تمام دوکانوں پر ’’مرزائی یہاں سے سودا خریدنے کے لئے نہ آئیں‘‘ کے طبع
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شدہ اشتہار بھی آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔ بعض مرزائیوں نے غریب خاندانوں کے بچوں کو پیسے دے کر اشیاء منگوانے کی سعی کی لیکن بچوں نے بھی انہیں سودا لا کر دینے سے انکار کر دیا۔
تاندلیانوالہ ، مجلس عمل کی اپیل
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر تاندلیانوالہ میں قادیانیوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ جاری ہے۔ دوکانداروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر کاروباری اداروں نے قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دوکانداروں نے مرزائیوں کے ہاتھ ہر قسم کی چیزیں فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی دوکانوں پر نمایاں جگہ پر ”یہاں مرزائیوں کا داخلہ ممنوع ہے“ کے پوسٹر آویزاں کر رکھے ہیں۔ گزشتہ روز سے مسلمانوں سے اظہار تعاون کے طور پر تاندلیانوالہ کے خاکروبوں نے بھی مقامی قادیانیوں کے گھروں کی صفائی کرنے کے لئے ان کے ہاں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ خاکروبوں نے یہ فیصلہ مسیحی برادری پنجاب کے صدر چوہدری ناگا مسیح کی ہدایت پر کیا ہے۔
شورکوٹ ریلوے گارڈ
آج شورکوٹ روڈ کے مسلمان ریلوے گارڈوں نے مرزائیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ گارڈ روم کے عملہ نے اسٹیشن انچارج کو کہہ دیا کہ مرزائیوں کے برتن اور بستر علیحدہ کر دیئے جائیں اور گارڈ روم کے عملہ نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
چاروں صوبوں میں اخبارات پر پھر پابندی
حکومت پنجاب نے ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت احمدیوں کے متعلق کوئی خبر، تبصرہ، بیان، تصاویر، کارٹون یا کسی قسم کا دیگر مواد شائع کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں گورنروں کی دو روزہ کانفرنس کے فیصلہ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کا اطلاق چاروں صوبوں پر ہوگا۔ یہ اقدام عوام کی سلامتی اور اس امر کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی جو خصوصی کمیٹی کی حیثیت سے احمدیوں کے مسئلہ پر غور کر رہی ہے، غیر جانبداری سے اس مسئلہ پر غور کر سکے۔ ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اس معاملہ میں اپنے رائے دہندگان کے خیالات سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس لئے انہیں اخباری اطلاعات اور تبصروں سے متاثر ہوئے بغیر آزادی سے اس معاملے پر غور کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ پابندی کے حکم میں کہا گیا ہے کہ احمدی مسئلہ کے متعلق کسی قسم کا مواد شائع کرنے سے پہلے جانچ پڑتال کے لئے متعلقہ مجاز حکام کو پیش کیا جائے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی پر قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ اعلیٰ تر قومی مفاد کے پیش نظر اخبارات اس سلسلہ میں مکمل تعاون کریں گے اور اس حکم پر پوری طرح عمل درآمد کریں گے۔
۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی کی ۱۲ رکنی رہبر کمیٹی
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے آج اپنے اجلاس کے دوسرے دن اتفاق رائے سے بارہ ارکان پر مشتمل ایک رہبر کمیٹی منتخب کی۔ وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ اس کے کنوئیر ہیں۔ ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق رہبر کمیٹی ان قراردادوں اور تجویزوں کا جائزہ لے گی جو ۵؍ جولائی کی نصف شب تک قومی اسمبلی کے سیکرٹری کو موصول ہوں گی۔ علاوہ ازیں رہبر کمیٹی، خصوصی کمیٹی اس مسئلہ پر غور و خوض اور کارروائی چلانے کے لئے طریقہ کار اور پروگرام تجویز کرے گی۔ کمیٹی کے ممبروں کے نام یہ ہیں: مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا کوثر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۳۴۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نیازی، مولانا مفتی محمود، رانا محمد حنیف خان، پروفیسر غفور احمد، مسٹر عبدالعزیز بھٹی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا ظفر احمد انصاری، مسٹر نعمت اللہ خان شنواری، ملک محمد اختر اور بیگم شیریں وہاب۔ خصوصی کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک ہوا۔ جس میں طریقہ کار کے ضمنی قواعد منظور کئے گئے جو اخبارات میں اشاعت کے لئے جاری کئے جارہے ہیں۔ رہبر کمیٹی کا اجلاس ۶ جولائی کو صبح ساڑھے دس بجے ہوگا۔ پورے ایوان پر مشتمل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ۳ جولائی ۱۹۷۴ء کو اپنے اجلاس میں مندرجہ ذیل کارروائی کے ضمنی ضابطے منظور کئے۔ چونکہ قومی اسمبلی میں ضوابط کار کے رول ۲۰۵ کے تحت اسمبلی نے ۳۰ جون ۱۹۷۴ء کو ایک خصوصی کمیٹی مقرر کی اور چونکہ مذکورہ خصوصی کمیٹی کے لئے، جسے اس کے بعد ’’کمیٹی‘‘ کہا جائے گا، ضمنی ضوابط کار بنانا قرین مصلحت ہے، اسی لئے اب ان رولز کے رول ۲۰۰ بشمول رول ۲۰۶ کے تحت اور اسپیکر کی منظوری کے ساتھ کمیٹی بمسرت مندرجہ ذیل ضمنی ضابطوں کو منظور کرتی ہے۔
- ......۱ مختصر عنوان: ان ضابطوں کو خصوصی کمیٹی (ضمنی) کے ضابطے مجریہ ۱۹۷۴ء کہا جائے گا۔
- ......۲ چیئرمینوں کا پینل: چیئرمین ممبروں میں سے ترتیب کے لحاظ سے چیئرمینوں کا ایک پینل مقرر کرے گا جن کی تعداد ۴ سے زیادہ
نہیں ہوگی۔ جب چیئرمین غیر حاضر ہوگا یا کسی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں ہوگا، ڈپٹی اسپیکر چیئرمین کی جگہ کام کرے گا اور اگر اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر بھی غیر حاضر ہوگا یا وہ کسی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں ہوگا تو جن ممبروں کے نام چیئرمینوں کے پینل پر ہوں گے، وہ ترتیب کے لحاظ سے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
- ......۳ خفیہ اجلاس: کمیٹی کے اجلاس بند کمرے میں ہوں گے اور سیکرٹری، سیکرٹری وزارت قانون و پارلیمانی امور اور ایسے دیگر
افسران اور عملے کے سوا، جن کی چیئرمین اجازت دے، اجلاس میں کسی اجنبی کی موجودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- ......۴ ووٹنگ: (۱) کمیٹی میں قومی اسمبلی کے رکن کے سوا کسی دوسرے شخص کو ووٹ دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔
- ......۵ کمیٹی کے خصوصی اختیارات: (۱) کمیٹی کو ضابطہ دیوانی کے تحت ذیل کے معاملات میں سول عدالت ...... درجہ اوّل کے
اختیارات حاصل ہوں گے۔ (الف) کسی شخص کو طلب کرنا، اس کو حاضر کرنا اور ان پر حلفیہ جرح کرنا۔ (ب) کسی دستاویز کو تلاش کرنا اور اس کو پیش کرنا۔ (ج) حلفیہ بیان کی صورت میں شہادتیں حاصل کرنا۔ (د) گواہوں اور دستاویزات کی پیشی کے لئے احکامات جاری کرنا۔ (۲) کمیٹی کسی بھی شخص کو انفرادی حیثیت میں یا کسی تنظیم یا مذہبی گروپ کے نمائندے کی حیثیت سے طلب کر سکتی ہے اور اس کو سن سکتی ہے۔ (۳) چیئرمین یا اسمبلی کا کوئی بھی افسر یا حکومت پاکستان کی ملازمت میں کوئی شخص جس کی چیئرمین منظوری دے، کسی بھی بلڈنگ یا ایسی جگہ جہاں کمیٹی کے پاس یقین کرنے کی وجوہ ہوں کہ کوئی کتابیں یا تحقیقات سے متعلق مضمون کے بارے میں کوئی دستاویز مل سکتی ہے، داخل ہو سکتا ہے اور وہ ایسی کتابیں یا دستاویزات کو ضبط کر سکتا ہے یا ان کی نقول یا اقتباسات حاصل کر سکتا ہے جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۰۲ اور ۱۰۳ مجریہ ۱۸۹۸ء کے تحت آتے ہوں۔ (۴) جب تعزیرات پاکستان کی دفعات ۱۷۵، ۱۷۸، ۱۷۹، ۱۸۰ یا ۲۲۸ کے مطابق کوئی جرم کمیٹی کی موجودگی میں سرزد ہوگا، کمیٹی حقائق کو معلوم کرنے اور جرم کا یقین کرنے اور ملزم کا بیان لینے کے بعد جیسا کہ ضابطہ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ء میں مہیا کیا گیا ہے، مقدمہ با اختیار مجسٹریٹ کے پاس بھیج دے گی اور وہ مجسٹریٹ اس مقدمہ کو اس طرح تصور کرے گا کہ یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۴۸۲ کے تحت اسے بھیجا گیا ہے۔ (۵) کمیٹی کے سامنے ہونے والی تمام کارروائی عدالتی کارروائی تصور ہوگی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جیسا کہ اس کا مطلب تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۹۳ اور ۲۲۸ میں دیا گیا ہے۔ (۶) عدالت کو ضابطہ دیوانی کے تحت دعویٰ کی سماعت کرتے ہوئے دیوانی عدالت کے اختیار ہوں گے اور اس طرح اسے کسی بھی عدالت سے یا دفتر سے کوئی ریکارڈ یا نقل حاصل کرنے کے اختیارات ہوں گے۔
- ......۶ کمیٹی کے سامنے افراد کے بیانات: کمیٹی کے سامنے شہادت دیتے وقت کسی بھی شخص کا کوئی بیان کسی دیوانی یا فوجداری
عدالت میں اس شخص کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ جھوٹا بیان دے۔ بشرطیکہ (الف) یہ بیان کسی سوال کے جواب میں دیا گیا ہو اور جس کے جواب کی کمیٹی کو ضرورت ہو۔ (ب) جو تحقیقاتی معاملے کے موضوع سے متعلق ہو۔
- ......۷ اچھی نیت سے کئے گئے اقدام کا تحفظ: کمیٹی یا کسی بھی ممبر یا کسی ایسے شخص کے خلاف، جو کسی بھی معاملہ میں کمیٹی کی ہدایت
کے مطابق کام کر رہا ہو اور جو ضابطوں کے مطابق اچھی نیت سے کئے جائیں یا کرنے کا ارادہ ہو یا اس کے تحت احکامات یا اشاعت کے سلسلے میں یا کمیٹی کی اتھارٹی کے تحت یا کسی رپورٹ، کاغذ یا کارروائی پر کوئی دعویٰ یا قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
- ......۸ کارروائی کا ریکارڈ: (۱) چیئرمین کمیٹی کی کارروائی کا ریکارڈ جس طرح چاہے رکھ سکتا ہے اور اسے محفوظ کر سکتا ہے۔ کوئی شخص
کمیٹی کی کارروائی یا فیصلوں کا مکمل یا جزوی ریکارڈ نہیں رکھ سکتا۔ اسے نوٹ نہیں کر سکتا۔ کوئی شخص کارروائی یا فیصلوں کی کوئی رپورٹ جاری یا شائع نہیں کر سکتا۔ نہ ہی کوئی کارروائی یا فیصلوں کا افشاء یا بیان کر سکتا ہے اور یہ کہ چیئرمین اپنی منظوری سے جس طرح چاہے جاری کرے۔ (۲) کمیٹی کا ممبر صرف اپنے ذاتی استعمال کے لئے کارروائی کے نوٹس لے سکے گا۔
سندھ میں اخبارات پر پابندی
حکومت سندھ نے فوری طور پر پورے صوبے میں کسی بھی فرقہ وارانہ مسئلہ کے بارے میں کسی بھی دستاویز، خبر، پوسٹر، پمفلٹ، تبصرہ، بیان، تصویر، کارٹون یا کسی بھی قابل دید مواد کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ کارروائی ڈیفنس آف پاکستان رولز کی دفعات ۵۴ اور ۵۴- الف اور رول نمبر ۲۱۳ کے تحت کی گئی ہے۔ آج یہاں صوبائی سیکرٹری داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک حکم کے مطابق یہ اقدام تحفظ امن عامہ کی خاطر کیا گیا ہے۔ حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ جو شخص بھی مندرجہ بالا ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، وہ سزا کا مستوجب ہوگا۔ جو پانچ سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
جماعت اسلامی کے ایک پریس ریلیز کے مطابق مدیر ’’جسارت‘‘ مسٹر صلاح الدین اور ’’جسارت‘‘ کے منیجنگ ایڈیٹر حکیم اقبال حسین سے، جنہیں کل رات گرفتار کیا گیا تھا، غیر قانونی برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ آج جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر مولانا جان محمد عباسی اور پروفیسر غفور احمد رکن قومی اسمبلی نے گرفتار شدگان سے ملاقات کی۔ انہیں پولیس نے حوالات کی ایک کوٹھڑی نما سیل میں رکھا ہے اور اس کوٹھڑی میں جانے سے پہلے ان کے جوتے اتروائے گئے، گھڑیاں لے کر رکھ لی گئیں۔ امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ جان محمد عباسی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کے ساتھ اس ناشائستہ سلوک سے باز آجائے۔
اسی دوران سب ڈویژنل مجسٹریٹ سول لائنز مسٹر عبدالرحیم جان کی عدالت میں گزشتہ روز ’’جسارت‘‘ کے منیجنگ ایڈیٹر حکیم اقبال حسین اور ایڈیٹر مسٹر صلاح الدین احمد کو پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں ۱۱؍ جولائی تک ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ دونوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو تھانہ سول لائنز کی حوالات میں رکھا گیا ہے۔ انہیں ساڑھے بارہ بجے جب عدالت میں پیش کیا گیا تو پولیس نے ڈیفنس آف پاکستان رولز ۴۲(۴۹) کے تحت قائم مقدمے کی ابتدائی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی۔ جس پر وکیل صفائی راجہ حق نواز خان نے اعتراض کیا کہ عدالت ابتدائی رپورٹ کی عدم موجودگی میں ریمانڈ دینے کی مجاز نہیں۔ چنانچہ تھانے سے ایف آئی آر کی نقل منگوائی گئی اور پونے تین بجے ریمانڈ دیا گیا۔ عدالت میں آج دونوں گرفتار شدگان کی درخواست ضمانت بھی پیش کی گئی۔ عدالت نے وکیل سرکاری کو نوٹس دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ گرفتار شدگان کو جیل میں ”بی“ کلاس دی جائے۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، گلبرگ لاہور
جامعہ غوثیہ مین مارکیٹ گلبرگ لاہور میں حلقہ گلبرگ کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا انتخاب ہوا، جس میں متفقہ طور پر درج ذیل عہدیداران منتخب ہوئے۔ سرپرست اعلیٰ مولانا محمد عبدالحلیم قاسمی، نائب سرپرست مولانا عبدالعلیم قاسمی، صدر مولانا عتیق الرحمٰن، نائب صدر مولانا سعید الرحمٰن، نائب صدر سید صادق علی شاہ نجفی، نائب صدر مولانا عبداللطیف قادری، جنرل سیکرٹری مولانا محمد زبیر احمد ظہیر، سیکرٹری مولانا محمد اسحاق، خازن مولانا حسین احمد قاسمی، ناظم نشر و اشاعت سید گل محمد مدنی۔ فیض باغ چاہ میراں وارڈ کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کا اجلاس کاچھوپورہ میں ہوا، جس میں مقامی سطح پر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل دی گئی اور اس کے درج ذیل عہدیداران منتخب کئے گئے۔
صدر قاری شفاعت علی، جنرل سیکرٹری محمد زمان، نائب صدر مولانا نظام الدین، نائب صدر ڈاکٹر محمد سعید گل، نائب صدر بلند اختر نظامی، نائب صدر یعقوب دل شاد، نائب صدر مسٹر محمد یسین، جوائنٹ سیکرٹری سرفراز احمد، فنانس سیکرٹری ڈاکٹر محمد جان، پراپیگنڈا سیکرٹری گل دراز خان۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، لچھمن سنگھ لاہور
دفتر جماعت اسلامی حلقہ راوی روڈ میں علاقہ قلعہ لچھمن سنگھ راوی پارک الحمد فروٹ مارکیٹ کے معززین اور مساجد کے خطباء کرام کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت کے فرائض مولانا محمد افضل خطیب جامع مسجد غوثیہ قلعہ لچھمن سنگھ نے انجام دیئے۔ اجلاس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا اور حسب ذیل عہدیدار متفقہ طور پر منتخب ہوئے۔
صدر مولانا جمیل احمد، نائب صدر مولانا سیف الدین، سیکرٹری مولانا محمد ادریس ہاشمی، جوائنٹ سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، سیکرٹری نشر و اشاعت نیاز احمد، خزانچی ملک عبدالواحد۔ علاوہ ازیں گیارہ افراد پر مشتمل مجلس عمل مشاورت بھی تشکیل دی گئی۔
”جسارت“ پر پابندی...... اداریہ ”نوائے وقت“ لاہور
حکومت سندھ نے تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت کراچی کے اردو روزنامہ ”جسارت“ پر دو ماہ کے لئے پابندی عائد کر دی ہے۔ اخبار کے منیجنگ ایڈیٹر اور پبلشر حکیم اقبال حسین اور ایڈیٹر محمد صلاح الدین کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کے بھی ایک ہفتہ وار جریدہ (ندائے بلوچستان) کی اشاعت معطل کر دی ہے۔
حکومت سندھ نے اپنے حکم میں روزنامہ ”جسارت“ کی سرگرمیوں کی کوئی واضح نشاندہی تو نہیں کی۔ البتہ انہیں امن عامہ کے منافی قرار دیا ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ قدم محض کسی مفروضہ کی بناء پر اٹھایا گیا ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار شخص، ادارہ یا اخبار امن عامہ کے منافی باتوں کو پسند نہیں کر سکتا اور قومی پریس یقیناً اس تقاضا اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ ”جسارت“ کو جو سزا دی گئی ہے، اس کی بنیاد کوئی جرم ہونا چاہئے تھا اور جرم کا تعین عدالت ہی کر سکتی ہے، اس لئے اگر حکومت سندھ کو اس اخبار پر کوئی اعتراض تھا یا اس کی نظر میں اخبار سے کوئی جرم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرزد ہوا تھا تو یہ معاملہ عدالت میں لے جایا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز لاہور کے ارکان نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ”جسارت“ کے منیجنگ ایڈیٹر اور ایڈیٹر کو بلا تاخیر رہا کرے اور اخبار پر پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔ اگر ضروری ہو تو حکومت اس معاملہ کو عدالت میں لے جائے۔ جب عدل و انصاف کا ایک بہتر راستہ موجود ہے تو حکومت کیوں نہ اسے اختیار کرے۔ اس قسم کی یک طرفہ کارروائی سے تو لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہوں گے اور حکومت پر ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔ کوئٹہ کے رسالہ کے بارے میں حکومت بلوچستان کو بھی یہی راہ اختیار کرنی چاہئے۔“
(اداریہ نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
چونکہ اخبارات پر سنسر شپ ہے، اس لئے اب بذریعہ اشتہار لاہور میں جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ”نوائے وقت“ میں آج یہ اشتہار شائع ہوا۔
مرکزی جامع مسجد شادباغ لاہور میں عظیم الشان جلسہ عام بتاریخ ۶؍ جولائی (۱۹۷۴ء) بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء زیر صدارت: علامہ سید محمود احمد رضوی
مقررین:
- ٭.......نوابزادہ نصر اللہ خان
- ٭.......چوہدری رحمت الٰہی
- ٭.......علامہ احسان الٰہی ظہیر
- ٭.......مولانا محمد اجمل خان
- ٭.......سید محمد مظفر علی شمسی
المعلن: انجمن نوجوانان اسلام، شادباغ لاہور
۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور، آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری
حکومت پنجاب نے آج ہفت روزہ ”چٹان“ کے ایڈیٹر آغا عبدالکریم شورش کاشمیری کو تین ماہ کے لئے گرفتار کر کے ہفت روزہ ”چٹان“ کا ڈیکلریشن منسوخ اور اس کا پریس ضبط کر لیا ہے۔ ہفت روزہ ”چٹان“ کے تازہ ترین شمارہ کی تمام کاپیاں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ یہ تمام کارروائی فرقہ وارانہ مواد شائع کرنے کی ممانعت کے حکم کی خلاف ورزی کی بناء پر ڈیفنس آف پاکستان رولز ۱۹۷۱ء کی دفعہ ۳۲ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ آج رات اس سلسلہ میں جو سرکاری پریس نوٹ جاری کیا گیا۔ اس کا متن حسب ذیل ہے۔ ”حکومت پنجاب نے ۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کی دفعہ ۵۴ کے تحت ایک حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت فرقہ وارانہ منافرت اور کشیدگی پیدا کرنے والا مواد شائع کرنے کی ممانعت کر دی گئی تھی تاکہ قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی بیرونی تعصب یا دباؤ کے بغیر احمدیہ مسئلہ پر بحث و تمحیص کر سکے۔ لیکن لاہور کے ہفت روزہ ”چٹان“ نے اس حکم کی واضح خلاف ورزی کی۔ اس کے تازہ ترین شمارہ ۲۷ میں، جس پر یکم تا ۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی تاریخ درج ہے اور جو شمارہ ۲۶ کے بعد شائع ہوا۔ موجودہ فرقہ وارانہ عناد کے سلسلہ میں قابل اعتراض مواد موجود ہے۔ لہٰذا حکومت پنجاب نے ”چٹان“ کے پرنٹر اور پبلشر کا ڈیکلریشن منسوخ کرنے، اس کے تازہ ترین شمارہ کو ضبط کرنے اور اس کے پرنٹنگ پریس کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تین ماہ کے لئے ”چٹان“ کے ایڈیٹر آغا عبدالکریم شورش کاشمیری کو بھی نظر بند کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ایسا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
اقدام نہ کر سکیں، جس سے پرسکون حالات متاثر ہوں۔ یہ اقدام ڈیفنس آف پاکستان رولز ۱۹۷۱ء کے قاعدہ ۳۲ کی شق (ب) ضمنی شق (الف) کے تحت کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد ہفتہ کی رات آغا شورش کاشمیری کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘‘
قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس
آج قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ جس میں مفتی اعظم فلسطین الحاج سید امین الحسینی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی نے رہنما کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ پروگرام ، قراردادوں اور تجاویز پر غور کیا اور خاص کمیٹی کے اجلاس میں ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ ربوہ اور جنرل سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے اپنا اپنا نقطۂ نظر تحریری طور پر پیش کرنے اور بعض امور میں دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی۔ اس فیصلہ کے مطابق ان دو جماعتوں کی طرف سے ۱۱؍ جولائی کو شام ۶ بجے تک سیکرٹری قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو تحریری بیان دیئے جاسکیں گے۔ قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی مذکورہ جماعتوں کے سربراہوں کی رائے لے گی اور ان کے بیانات کی سماعت اور پیش کردہ دستاویزات کے معائنہ کے بعد خاص کمیٹی ان سے سوالات بھی کرے گی۔ قومی اسمبلی کی رہنما کمیٹی بعض دیگر افراد اور تنظیموں کے نمائندوں کو سماعت کے لئے بلانے کے بارے میں سفارشات پیش کرے گی۔ قومی اسمبلی کی رہنما کمیٹی کے اجلاس میں بعض اخبارات میں شائع ہونے والی قابل اعتراض تصاویر کے بارے میں سفارشات منظور کی گئیں اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات واوقاف وحج سے کہا گیا کہ وہ ایڈیٹروں کے اجلاس کو بلا کر انہیں ایسا مواد شائع کرنے سے باز رکھیں۔ خاص کمیٹی نے رہنما کمیٹی کے لئے دیگر ارکان کا انتخاب بھی کیا۔ ان کے نام بھی یہ ہیں: شیخ محمد رشید ڈپٹی لیڈر، سردار عبدالحلیم ، میاں عطاء اللہ، ظہور الٰہی اور مسٹر غلام فاروق ہیں۔ خاص کمیٹی کا اجلاس ۱۳؍ جولائی شام ۶ بجے تک ملتوی کرنے پر متفقہ فیصلہ کیا گیا۔
تحریک استقلال کی مرکزی مجلس عاملہ کی قرارداد، قادیانی غیر مسلم ہیں
۷؍ جولائی (۱۹۷۴ء) کو ایبٹ آباد میں تحریک استقلال کی مرکزی مجلس عاملہ کا دوروزہ اجلاس ہوا۔ جس میں ملک کے سیاسی حالات پر غور و خوض کیا گیا اور قادیانی مسئلہ پر مندرجہ ذیل قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔
مجلس عاملہ نے قادیانی مسئلہ پر تحریک کے قائد ایئر مارشل اصغر خان کی ۳۱؍ مئی کو ہری پور ہزارہ کے جلسہ عام میں تقریر اور پھر لاہور کانفرنس میں اس کے اعادہ کے بیان پر غور وخوض کر کے ان کے نظریات کی مکمل تائید کی۔ اس تقریر اور بیان میں کہا گیا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور تحریک استقلال ملکی امور کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی اس مسئلہ کو فوری طور پر حل کر دے گی۔ مجلس عاملہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ تحریک نہ صرف قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے گی۔ بلکہ ان کی پاکستان کے مفاد کے منافی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کرے گی۔ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ربوہ ریاست کے اندر ریاست کے طور پر باقی نہیں رہنے دیا جائے گا اور ایسی سرگرمیاں جو پاکستان کے اندر ایک الگ ریاست کے نظام کی مظہر ہوں، سختی سے روک دی جائیں گی۔
مرکزی مجلس عاملہ نے قادیانیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان رابطہ پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس امر کا بھی خاص طور پر جائزہ لیا گیا کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں قادیانیوں نے پیپلز پارٹی کی حمایت کی اور مالی امداد دی تھی۔ چنانچہ آج عملاً وہ تمام ملکی امور پھر ان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں۔ مزید برآں پاکستان کو لخت لخت کرنے میں مسٹر بھٹو کا کردار ، بلوچستان میں اس کی پالیسی ، کشمیر کے مسئلہ کے بارے میں اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ رویّہ ، ملکی اقتصادی حالت کی بتدریج تباہی اور فاشسٹ ریاست کا قیام جسے مسلمانوں کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فسادات کے خلاف، یہ ایسے امور ہیں جو مجلس عاملہ کی رائے میں جن سے مسٹر بھٹو کے قادیانیوں اور بیرونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے۔ مجلس عاملہ کا پختہ یقین ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینا ہی کافی نہیں بلکہ مسئلہ کی نوعیت کا تقاضا ہے کہ مسٹر بھٹو اور اس کی حکومت کو بھی اقتدار سے الگ کیا جائے۔ ایک بار ایسا ہو گیا تو پاکستان کے تحفظ کو لاحق خطرہ اور اس مسئلہ کا کسی اور شکل میں ابھرنے کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔
مجلس عاملہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات خاص طور پر اسلامی نظریہ اور امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنے کے لئے شروع کی گئی تھیں۔ اس لئے یہ لازم ہے کہ فوری اور مؤثر طور پر ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے عالم اسلام کو اس خطرہ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی کا بیان
جمعیۃ العلمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل جناب مولانا مفتی محمود اور جمعیۃ العلمائے پاکستان کے صدر جناب مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ایئر مارشل اصغر خان صدر تحریک استقلال کو ان کے حالیہ بیان پر، جو انہوں نے راولپنڈی میں کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے اور جس میں بر ملا اور حتمی انداز میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے اور کلیدی آسامیوں سے برطرف کرنے کا اظہار کیا ہے، کی بے حد تعریف کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے ایئر مارشل اور تحریک استقلال کی ختم نبوت کے مسئلہ پر بھر پور امداد کو بھی سراہا ہے اور کہا ہے کہ اب ان تمام غلط فہمیوں کو ختم ہو جانا چاہئے جو مقبوضہ پریس نے ان کے خلاف پھیلائی تھیں۔
انہوں نے کہا اس وقت تحریک ختم نبوت ملک بھر میں نہایت پرسکون انداز میں جاری و ساری ہے۔ انہوں نے اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت بغیر کسی جواز کے علماء، طلباء اور تحریک ختم نبوت کے کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کر رہی ہے۔
دستخط : شاہ احمد نورانی دستخط : مفتی محمود ۳/ جولائی ۱۹۷۴ء ۳/ جولائی ۱۹۷۴ء
۸/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
سندھ اور پنجاب میں تحریک ختم نبوت کی خبروں پر پابندی ہے۔ ”جسارت“، کراچی ”چٹان“ لاہور ”ندائے بلوچستان“، کوئٹہ ضبط کر لئے گئے۔ ان کے ڈیکلریشن منسوخ، ان کے ایڈیٹران گرفتار اور دوسری طرف مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خلاف ایک فرضی انجمن کی طرف سے حکومتی ”ملاّ“ نے مبینہ طور پر ذیل کے اشتہارات اخبارات میں شائع کرائے۔ اس کے ساتھ فیصل آباد کا ایک اوقافی ملاّ بھی بد نصیبی سے شریک تھا اور مبینہ طور پر اس فیصل آبادی روسیاہ نے اشتہار مرتب کئے تھے۔ ریکارڈ کے لئے ۵، ۶/ جولائی کے جنگ کراچی سے حکومتی اشتہارات اور ۸/ جولائی کے اخبار سے ان کا جواب پیش خدمت ہیں۔
مولانا یوسف صاحب بنوری صدر مجلس عمل
پاکستانی سیاست میں اچانک اس قدر سرگرم کیوں ہو گئے؟
مولانا یوسف صاحب بنوری بھارت کے ایٹمی دھماکہ کے فوراً بعد اپنا درس وتدریس کا بہانہ چھوڑ کر اچانک پاکستان کی اندرونی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیاست میں دخل انداز ہو گئے ہیں اور ”الٹی میٹم“ (یعنی اعلان جنگ ) وغیرہ جاری فرمارہے ہیں۔
اس معمہ کا حل کیا ہے؟ اس کے پیچھے راز کیا ہے؟ کیا مولانا صاحب فی الحال ان چند سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں گے؟
- ......۱ کیا یہ صحیح ہے کہ مولانا نے پاکستان بن جانے کے بعد بھارتی شہریت اور قومیت اختیار کر رکھی تھی؟
- ......۲ کیا یہ صحیح ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی وہ بھارت کے شہری بنے رہے اور وہاں صوبہ گجرات کے شہر ڈابھیل میں ملازمت کرتے
رہے اور مع اہل وعیال محفوظ طور پر سکونت پذیر رہے۔ (جب کہ بھارت میں دوسرے مسلمانوں کا قتل عام جاری رہا؟)
- ......۳ کیا یہ صحیح ہے کہ مولانا صاحب ہندوستان کی مشہور پاکستان دشمن جماعت ”جمعیۃ علمائے ہند“ کے صوبائی صدر تھے اور اسی حیثیت
میں وہ کانگریس سے تعاون کرتے رہے، جس کے معنی یہ تھے کہ وہ کانگریسی پالیسی کے تحت مطالبہ پاکستان کی مخالفت کرتے رہے؟
- ......۴ کیا یہ صحیح ہے کہ وہ بھارتی شہری کی حیثیت میں بھارت کے پاسپورٹ پر پاکستان میں وارد ہوئے (پاکستان سے محض ویزا لے
کر) اور پھر یہیں بیٹھ گئے اور اب ادھر بھارت کا ایٹمی دھماکہ ہوا اور ادھر مولانا صاحب کا پاکستانی سیاست میں دھماکہ۔
یہ نکات قابل غور ہیں اور جواب کے متقاضی۔ پاکستان عوام کو ان سوالوں کے جواب کا انتظار رہے گا۔
استفسار کنندگان : اراکین انجمن فدایان رسول ، لاہور
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
مولانا یوسف بنوری صدر مجلس عمل سے چند مزید سوالات
مولانا موصوف سے گزارش ہے کہ وہ مزید چند سوالات کے جوابات سے سرفراز فرمائیں۔
- ......۱ کیا یہ صحیح ہے کہ بھارت سے پاکستان میں وارد ہونے کے بعد بھی آپ کا بھارت سے تعلق قائم رہا ہے؟
- ......۲ کیا مولانا اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ بھارت سے ان کے رابطہ کا ذریعہ مولوی اسعد مدنی صدر جمعیۃ علمائے ہند رہے ہیں؟
- ......۳ کیا یہ صحیح ہے کہ مولوی اسعد بھارتی جب بھی پاکستان آئے تو آپ سے خفیہ ملاقات ہوئی؟ یہ خفیہ باتیں کیا تھیں اور کہاں ہوئیں؟
- ......۴ کیا یہ صحیح ہے کہ ابھی چند ماہ پہلے آپ مولوی اسعد بھارتی سے خفیہ ملاقات کے لئے ملک سے باہر گئے تھے؟ وہاں آپ کے اور ان
کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟
- ......۵ کیا لوگوں کا یہ خیال صحیح ہے کہ مولوی اسعد بھارتی سے آپ کی ملاقات کے بعد آپ یکا یک پاکستان کی سیاست میں کود پڑے ہیں؟
- ......۶ کیا مولوی اسعد بھارت نے آپ تک بھارت کا یہ پیغام تو نہیں پہنچایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مغربی پاکستان میں کوئی داخلی فتنہ
کھڑا ہو جانا چاہئے اور اسی وجہ سے آپ یکا یک مسجد منبر چھوڑ کر سیاسی جھمیلوں میں گھس آئے ہیں؟
- ......۷ کیا اسعد مدنی صاحب کے والد مولانا حسین احمد مدنی پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش نہ تھے؟ اور ان کے متعلق حکیم الامت علامہ
اقبال نے یہ نہیں فرمایا کہ ؎
اراکین انجمن فدایان رسول ، لاہور
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد یوسف بنوری کے متعلق چند حقائق ...... اشتہار از سردار میر عالم لغاری
- ۱...... مولانا کے دینی مرتبہ کا احترام نہ صرف پاکستان بلکہ سارے عالم اسلام میں کیا جاتا ہے اور اس بناء پر مراکش، مصر اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی آپ علمی وعملی لحاظ سے معزز ترین شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے پہلے شام کی ”اکیڈمی کونسل“ نے پاکستان سے صرف مولانا کو رکن منتخب کیا۔ گزشتہ دو سال میں عالم اسلام کی ممتاز شخصیتیں یعنی شیخ الازہر ڈاکٹر فحام اور ڈاکٹر عبدالحلیم محمود پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو مولانا کی ملاقات کو مقدم رکھا۔ اسلام آباد سے تعلیمات واوقاف کے سیکرٹریوں نے اس ملاقات کے لئے خصوصی انتظام کیا۔
- ۲...... مولانا عالم اسلام کی ایک گراں بہا علمی شخصیت ہیں۔ مولانا کے علمی کارناموں میں جامع ترمذی کی شرح ”معارف السنن“ ہے جو عالم اسلام میں اس صدی کا ”اہم ترین علمی شاہکار“ شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ مصری حکومت کی ”مجلس بحوث“ نے مولانا سے اجازت لے کر اس کی طباعت کا انتظام کیا ہے۔ دیگر اہم ممالک اسلامیہ کے علمی ادارے مولانا کی علمی صلاحیتوں سے استفادے کی خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
- ۳...... مولانا موصوف امام العصر محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں اور مولانا کو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنا خلیفہ اور مجاز قرار دیا اور اپنے خلفاء میں مولانا کا نام درج کر کے اسے شائع کرایا اور مولانا کا کوئی خلیفہ کبھی تحریک پاکستان سے باہر نہیں رہا۔
- ۴...... مولانا ہمیشہ پاکستان کے بہی خواہ رہے۔ پچھلی پاک بھارت جنگ میں مولانا نے شاہ فیصل سے ملاقات کر کے ان کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرانے کی اہم اور کامیاب کوشش کی۔
- ۵...... مولانا ہر دور میں سیاست سے الگ تھلگ رہ کر دین کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
- ۶...... مولانا بنوری، سید سلیمان ندوی کی صدارت میں مختلف مکاتب فکر کی متفقہ دستوری ترمیمات کرنے والے ۳۱ علمائے دین سے ہیں۔ ان علماء میں سے اب صرف گیارہ افراد بقید حیات ہیں۔
- ۷...... اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر غیر سیاسی دینی مقتدر علماء کی طرف سے جو اہم دینی وعلمی مضامین عربی میں شائع ہوئے تھے۔ اس کے اصل محرک مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان اور مولانا ہاشم مجددی کے ساتھ مولانا یوسف بنوری ہی ہیں۔
- ۸...... مولانا کے آباؤ اجداد پشاور کے تھے۔ مولانا کے جد امجد میر احمد شاہ کے نام سے ایک محلہ ۱۲۰ مکان آج بھی پشاور میں موجود ہے۔ وہ خود بھی ۱۹۰۶ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی پاکستان آئے تو مولانا یوسف بنوری کو جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ جہاں مولانا شبیر احمد پندرہ، بیس سال تک اہم خدمات انجام دیتے رہے۔
- ۹...... قیام پاکستان کے بعد مولانا شبیر احمد کی کوششوں سے پاکستان کا جو اولین دارالعلوم ٹنڈوالہ یار سندھ میں قائم ہوا۔ اس میں مولانا یوسف بنوری کو شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر کے عہدے پر مقرر کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۰...... مولانا شبیر احمد عثمانی جو قائد اعظم کے دست راست رہے ہیں۔ ایک زمانے میں مرکزی جمعیۃ العلماء میں رہ چکے ہیں اور ان کے
ایماء و مشورے پر مولانا یوسف بنوری کو جمعیۃ علمائے ہند کا صوبائی امیر بنایا گیا تھا۔ مولانا ہمیشہ علماء کی سیاسی جماعتوں سے بھی طبعاً مجتنب رہے ہیں۔
- ۱۱...... مولانا نے حصول تعلیم کے بعد اپنی ابتدائی سرگرمیوں کے دور میں ۱۹۳۱ء سے ۱۹۴۴ء تک سرخ پوش خان عبد الغفار خان کے
مقابلہ میں بہت مؤثر جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے اثرات سارے صوبہ سرحد پر رہے۔
- ۱۲...... مولانا یوسف بنوری کے پاس کبھی بھارتی پاسپورٹ نہیں رہا۔ وہ ۱۶/ جنوری ۱۹۵۱ء کو پاکستانی پرمٹ پر پاکستان تشریف لائے۔
یہ پرمٹ اور اجازت نامہ پاکستانی ہائی کمشنر نے مولانا یوسف بنوری کو پیش کیا اور کہا کہ حکومت پاکستان آپ کی پاکستان آمد کی خواہش رکھتی ہے۔ مولانا جب پاکستان پہنچے تو مرکزی وزراء نے ان کا استقبال کیا۔
سردار میر عالم لغاری، مدرسہ عربیہ نیو ٹاؤن کراچی
(روزنامہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۸/ جولائی ۱۹۷۴ء)
حضرت بنوری کا انٹرویو اشتہارات کی روشنی میں
بھٹو گورنمنٹ نے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خلاف امروز، مشرق، حریت وغیرہ میں اشتہار شائع کرائے۔ اس کی تفصیلات صمدانی کمیشن کے بیانات کے ضمن میں اسی جلد میں ملاحظہ فرمائیں۔ کچھ عرصہ ہوا روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے ویکلی ایڈیشن میں لاہور کی اخبار یونین کے صدر کا بیان شائع ہوا ہے کہ اس اشتہاری حکومتی مہم میں کوثر نیازی اور فیصل آباد کے ایک مولانا شامل تھے۔ اللہ رب العزت بہتر جانتے ہیں کہ کون کون اس سازش میں شریک تھے؟ کوثر نیازی مرحوم ہوگئے ہیں۔ فیصلہ اگلے دربار میں ہوگا۔ البتہ یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ قرآنی فیصلہ ہے۔
ان اشتہارات کے شائع ہونے کے بعد حسین اعظمی صاحب نے حضرت بنوری سے انٹرویو لیا جو ۱۵/ جولائی ۱۹۷۴ء کو روزنامہ ’’اعلان کراچی‘‘ کے صفحہ اوّل پر شائع ہوا۔ وہ یہ ہے: جب تک علامہ یوسف بنوری کے خلاف اخبارات میں اشتہاری مہم شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت تک اہل علم اور خاص خاص لوگوں کے سوا عوام الناس کو علامہ یوسف بنوری کی کردار ساز اعلیٰ علمی شخصیت کا علم نہیں تھا۔ میں بھی ان بدقسمت لوگوں میں سے ایک ہوں جو اب تک علامہ یوسف بنوری کو ایک مولوی اور اسلامی علوم کا عالم سمجھتا تھا۔ میں ان کے ماہنامہ ’’بینات‘‘ کا مطالعہ کرتا تھا۔ بعض بعض مسائل پر ’’بینات‘‘ میں شائع شدہ مضامین کے مندرجات سے مجھے اختلاف بھی ہوتا تھا۔ اس لئے مجھے اس بات کی کبھی خواہش نہیں ہوئی کہ میں اس نابغۂ روزگار، وحید عصر، عالم بے بدل اور گفتار و کردار کے اس غازی اور علم و دانش کے اس روشن چراغ کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش کروں۔ لیکن جب ’’فدایان رسول‘‘ لاہور نے کراچی کے بیشتر اخبارات میں علامہ موصوف کے خلاف جہازی سائز کے اشتہارات صفحہ اوّل پر تواتر سے شائع کرانے شروع کئے تو مجھے یہ اندازہ ہوا کہ فدایان رسول لاہور کی نظر میں بھی علامہ موصوف کی شخصیت اور علمی حیثیت اتنی بڑی ہے کہ اسے چھوٹا کرنے کے لئے انہیں مسلسل کئی روز تک جہازی قسم کے اشتہارات شائع کرانے پڑے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اشتہارات پڑھنے کے بعد مجھے علامہ موصوف کے مخالفوں کے ذہنی افلاس کا بھی اندازہ ہوا کہ ان بے چاروں کے پاس علامہ کے خلاف کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے ان لغو اور بیہودہ الزامات کے جوابات میں جو پروقار خاموشی اختیار کی۔ اس کی وجہ سے میرے دل میں مولانا سے ملنے اور اس عظیم علمی و ذہنی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔ علامہ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ علامہ موصوف کراچی سے باہر ہیں۔ بالآخر یہ سعادت مجھے آج نصیب ہوئی۔ میں احتیاطاً چند سوالات لکھ کر لے گیا۔ آج جب میں علامہ یوسف بنوری سے مقررہ وقت کے مطابق ٹھیک دس بجے مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن پہنچا تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ وہ موجود تھے۔ بڑے اخلاق سے میرا خیر مقدم کیا، پہلو میں بٹھایا۔ سوچ کر تو یہ گیا تھا کہ علامہ موصوف سے ملکی سیاست سے لے کر بین الاقوامی سیاست تک اور علم دین سے لے کر سائنس اور فلسفہ تک ہر موضوع پر بات چیت کروں گا۔ لیکن ان کی شخصیت اور علمی ماحول کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ پہلے علامہ موصوف کے علمی مشاغل کے بارے میں گفتگو کی جائے، اس سے اندازہ ہو جائے گا۔ علامہ ذہنی طور پر سیاسی آدمی ہیں یا علمی۔ اس لئے میں نے علامہ موصوف سے پوچھا۔
آپ کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد کیا ہے۔ نیز آپ کی تصانیف کس زبان میں ہیں اور کس موضوع پر ہیں؟ علامہ نے عالمانہ انکسار سے کام لیتے ہوئے فرمایا: میری تصانیف و تالیفات معدودے چند ہیں۔ میری سب سے بڑی کتاب ”شرح معارف السنن“ ہے جو چھ جلدوں اور تیس ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو مصر کی ”المجلس الاعلى الشئون الاسلامیہ“ چھاپ رہا ہے۔ علامہ موصوف نے فرمایا، میں آپ کو ضمناً یہ بھی بتادوں کہ میری ساری کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ میری دوسری کتاب ”بغیة الاریب فی احکام القبله والمحاریب“ ہے جو آج سے ۳۸ سال پہلے مصر میں شائع ہوئی تھی۔ میری ایک اور کتاب ہے جس کا نام ”نفحة العنبر فی حیاة الشیخ انور“ ایک کتاب اور ہے۔ ”یتیمة البیان فی مشکلات القرآن“ یہ کتاب آج سے چالیس سال پہلے دہلی میں شائع ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ میری ایک کتاب ”عوارف المنن مقدمہ معارف السنن“ مصر میں زیر طبع ہے۔
میرے ایک ضمنی سوال کے جواب میں علامہ بنوری نے فرمایا: میری زندگی کے دو ہی اہم مشغلے ہیں: تصنیف و تالیف اور درس و تدریس۔ انہوں نے مدرسہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ مدرسہ اور یہی مسجد میری سرگرمیوں کے سب سے بڑے مرکز ہیں۔ یہی میری دنیا ہے اور میں اسی حصار میں گھرا رہتا ہوں۔ درس و تدریس سے فارغ ہو کر تصنیف و تالیف میں لگ جاتا ہوں۔
میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کے اس مدرسہ سے ، جسے اگر دارالعلوم کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا ۔ اس وقت کتنے تشنگان علم سیراب ہو رہے ہیں۔
علامہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، تین سو پچاس طالب علم تو ایسے ہیں جو یہیں رہتے بھی ہیں اور درس بھی حاصل کرتے ہیں اور ۱۶۰ طالب علم ایسے ہیں جو درس تو یہاں لیتے مگر رہتے ہیں اپنے گھروں پر ۔ اس وقت اس مدرسہ میں دنیا کے ۲۶ ملکوں کے طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ نیو یارک، لندن، پیرس، نیوزی لینڈ، یوگنڈا، نائیجیریا، جنوبی افریقہ، برما، انڈونیشیا، سیلون، سیام، شام، مدینہ، ایران وغیرہ کے باشندے ہیں۔ غیر ملکی طلباء کی تعداد ۳۰۰ کے قریب ہے۔ جن میں ایران کے ۱۳ طالب علم ہیں۔ ان سب کو ۲۶ اساتذہ درس دیتے ہیں۔ سب کے سب فضل و کمال کا پیکر ہیں۔ اس درسگاہ میں حدیث ، فقہ اسلامیہ اور دعوت و ارشاد میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ فارغ التحصیل طلباء کو، جو مذکورہ بالا شعبوں میں سے کسی ایک میں ڈاکٹر بننا چاہیں ۔ دو سال تعلیم حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عرصے میں انہیں بیس سے تیس ہزار صفحات تک کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے مبسوط مقالہ سپرد قلم کرتے ہیں، جس کی جانچ پڑتال علماء کرتے ہیں۔ اگر ان کا مقالہ معیار کے مطابق ہوتا ہے تو انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی جاتی ہے اور طلباء کے علمی کارناموں اور نگارشات کے معیار کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ بنوری نے بتایا کہ جب جامع ازہر کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر عبدالحلیم محمود یہاں تشریف لائے اور انہوں نے ہمارے طالب علموں کی تحریر کردہ بعض کتب کا مطالعہ کیا تو وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ان کتابوں کو مصر میں شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ایک ضمنی سوال کے جواب میں علامہ نے یہ بھی بتایا کہ میرے مدرسے میں تمام دینی علوم اور عربی زبان و ادب کا درس دیا جاتا ہے۔ علامہ بنوری نے میرے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مدرسہ میں تصنیفی کام کے لئے ایک دارالتصنیف قائم کیا گیا ہے۔ جس میں سردست چار مصنف کام کر رہے ہیں۔ یہ دارالتصنیف عربی اور اردو دونوں زبانوں میں کتابیں تیار کر رہا ہے۔ میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اب تک اس مدرسہ سے تقریباً پانچ سو طلباء فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، جن میں سو کے قریب غیر ملکی طلباء ہیں۔ یہ مدرسہ ۱۹۵۳ء میں قائم ہوا تھا۔ اس حساب سے اس کی عمر اب ۲۱ سال ہے۔
میرے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ طلباء کی تعلیم، دوا، علاج، رہائش اور کھانے کا انتظام مدرسہ کی طرف سے ہوتا ہے، جس کا ان سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا۔ البتہ غیر ملکی طلباء اپنے کھانے کے اخراجات ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر علامہ موصوف نے یہ بات زور دے کر بتائی کہ ہمارے مدرسہ میں طلباء کو اچھا اور صحت مند کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ یوں ہی سمجھئے جیسا کھانا ہماری فوج کو ملتا ہے۔ میں نے کہا: مولانا صاحب پھر تو مدرسہ پر کافی رقم خرچ ہوتی ہوگی۔ علامہ بنوری نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ ۲ لاکھ روپے سالانہ۔
میں نے پوچھا کہ اس مدرسہ کا کوئی وقف ہے۔
علامہ نے جواب دیا کہ نہیں، صرف مسجد کی دوکانوں سے ہمیں دس ہزار روپے سالانہ ملتے ہیں۔
میں نے پوچھا: باقی رقم کہاں سے آتی ہے؟
علامہ نے جواب دیا: باقی اخراجات مسلمانوں کے عطیات اور زکوٰۃ کی رقم سے پورے کئے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے اس سلسلے میں کبھی دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بہت سے لوگ از خود رقم بھیج دیتے ہیں۔ ہمارے مدرسے کی طرف سے کوئی شخص عطیات جمع کرنے یا چندہ لینے نہیں جاتا۔
میں نے پوچھا: حکومت اس نیک کام کے لئے کوئی رقم نہیں دیتی۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ محکمہ اوقاف نے امداد دینے کی پیش کش ضرور کی تھی۔ میں نے وہ امداد قبول کرنے سے صرف اس وجہ سے انکار کر دیا کہ اس رقم کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وقف کی رقم واقف کی منشاء کے خلاف استعمال کی جائے تو جائز نہیں ہے۔ البتہ حاجی سومار کے وقف سے ہمیں تین ہزار چھ سو روپے کی رقم ہر سال ملتی ہے۔ اس رقم کو قبول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اوقاف کے سرکاری تحویل میں آنے سے پہلے بھی اتنی ہی رقم اس ادارے کو اس وقف سے ملتی تھی۔ میں اس وقت اس کا متولی بھی تھا۔ لہٰذا اس رقم کو قبول کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے۔
اب علامہ سے علمی سرگرمیوں سے ہٹ کر میں نے ایک سیاسی سوال پوچھا۔ آپ نے کبھی عملی سیاست میں حصہ لیا ہے؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علامہ یوسف نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے مزید فرمایا: البتہ پاکستان بننے سے بہت عرصہ پہلے بلکہ قرارداد پاکستان منظور ہونے سے بھی بہت پہلے یعنی ۱۹۳۱ء، ۱۹۳۲ء اور ۱۹۳۳ء میں، میں نے عملی سیاست میں حصہ لیا۔ اس وقت میں جمعیتہ علماء ہند کا سیکرٹری تھا۔ اس کے بعد سے میں عمومی سیاست سے ہمیشہ کے لئے کنارہ کش ہوگیا۔
میں نے پوچھا: آپ پاکستان کب تشریف لائے اور کس حیثیت سے؟ اس کے جواب میں علامہ نے بتایا کہ وہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۵۱ء کو پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے بھارتی پاسپورٹ کبھی نہیں لیا۔ پاکستان کے ہائی کمشنر یا ڈپٹی ہائی کمشنر شاہ جہان نے انہیں پاکستان کے شہری کی حیثیت سے پاکستان آنے کا پرمٹ دیا تھا۔
میں نے علامہ یوسف بنوری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اس وقت نئی نسل میں مذہب سے بیزاری بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے انسداد کے لئے کیا کرنا چاہئے ۔ علامہ موصوف نے فرمایا کہ ہم نے نئی نسل کی بے راہ روی روکنے کے لئے کتابیں شائع کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں نئی نسل کے لئے ایک کتاب ”دینی نفسیات“ شائع کر چکے ہیں۔ دوسری کتاب ”ایمان اور ایمانیات“ زیر طبع ہے۔ ان شاء اللہ! نئی نسل کے مزاج اور افتاد طبع کو دیکھتے ہوئے مفید لٹریچر شائع کیا جائے گا۔ میں نے آخر میں مولانا سے پوچھا کہ حال ہی میں کراچی کے متعدد اخبارات میں آپ کے خلاف جو اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
علامہ بنوری نے فرمایا کہ اس سلسلے میں کیا عرض کروں۔ یہ اطلاع صحیح ہے تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس مہم کی غرض و غایت کیا تھی۔ میری اطلاعات کے مطابق اس اشتہاری مہم پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں۔
میں نے ایک اور سوال کیا کہ دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے آپ کے ذہن میں کوئی اور منصوبہ بھی ہے یا نہیں؟
علامہ نے فرمایا: منصوبے تو بہت سے ہیں۔ سردست ارادہ یہ ہے کہ جب یہ امریکی طلباء فارغ التحصیل ہو جائیں گے تو پھر امریکہ میں ایک استاد کی نگرانی میں ایک مدرسہ یا شعبہ قائم کیا جائے گا اور اس شعبہ کے ذریعے امریکہ میں اسلامی تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بیرونی ملکوں میں اسلام کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پیرس سے میرے دوست ڈاکٹر حمید اللہ نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے مدرسہ اور مسجد قائم کرنے کے لئے پیرس میں ایک گرجا گھر خرید لیا ہے۔
میں نے ان سے مزید دریافت کیا کہ آپ نے بیرونی ممالک کا بھی دورہ کیا ہے تو علامہ بنوری نے بتایا کہ پاکستان بننے سے ۱۰ سال پہلے یعنی ۱۹۳۷ء میں ترکی، مصر، حجاز اور یونان گیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد مصر، لیبیا، عراق، ایران، ترکی، جنوبی افریقہ اور مشرقی افریقہ گیا تھا۔
۱۹۶۶ء میں مراکش کے شاہ حسن نے مجھے رمضان میں درس قرآن دینے کے لئے مدعو کیا تھا مگر حکومت نے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ ان ملکوں کے علاوہ میں اسپین، لندن، پیرس اور سوئٹزر لینڈ بھی جاچکا ہوں۔
میں نے مولانا سے درج ذیل آخری سوال کیا: اگر قومی اسمبلی نے مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کو حل نہ کیا تو آپ کا اور مجلس عمل کا کیا ردعمل ہوگا؟
علامہ نے جواب دیا کہ میں اس سلسلے میں قبل از وقت کیا کہہ سکتا ہوں۔ قومی اسمبلی کے فیصلے کے متعلق مجلس عمل غور کرے گی اور جو فیصلہ اتفاق رائے سے ہوگا، سبھی اس کی پابندی کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علامہ بنوری سے گفتگو کرنے کے بعد میں دارالاقامہ گیا، جہاں غیر ملکی طلباء سے ملاقات کی ۔ ان طلباء میں نیویارک کے عبدالباسط اور عبدالمالک کے علاوہ جوہانس برگ کے فیض الحق ، کیپ ٹاؤن کے داؤد اسماعیل ، نیویارک کے یوسف طلال جو لبنان میں مسلمان ہوئے تھے، نیویارک کے عبدالحامد ، موزمبیق کے محمد شفیع وغیرہ شامل ہیں ۔ ان سب طلباء سے گفتگو کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کریں گے ۔
(روزنامہ اعلان کراچی ص ۱۱ رنگین، مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
گرفتاری کی مذمت
پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے ڈپٹی لیڈر میاں خورشید انور نے ایک بیان میں مدیر ’چٹان‘ آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے سنسر شپ مؤرخہ ۲؍ جولائی کو اخبارات پر لگایا تھا جب کہ ’چٹان‘ کا شمارہ اس سے قبل شائع ہوچکا تھا۔ اس لئے آغا صاحب کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آغا صاحب عرصہ سے علیل ہیں اور ان حالات میں ان کی نظر بندی ان کی صحت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لئے حکومت کو اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرکے انہیں رہا کردینا چاہئے اور پریس بحال کر دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خلاف توقع پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔ اس لئے آغا صاحب کی گرفتاری پر اسمبلی میں تحریک التواء اور احتجاج نہیں کیا جاسکتا۔
میاں طفیل محمد کا احتجاجی بیان
امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آغا شورش کاشمیری کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہفت روزہ ’چٹان‘ اور اس کے پریس کو بند کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسی طرح کی کارروائی روزنامہ ’جسارت‘ کراچی اور اس کے دو ایڈیٹروں حکیم اقبال حسین اور صلاح الدین کے خلاف کی جاچکی ہے۔ جس وقت صلاح الدین صاحب کو گرفتار کیا گیا، ان کو ایک سو تین درجہ بخار تھا اور ان کو اسی حال میں لے جاکر ”سی“ کلاس کی کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ آغا شورش کاشمیری کو بھی بیماری میں اس حالت میں گرفتار کیا گیا کہ ان کو ہسپتال لے جانا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ اگر آغا شورش اور ’چٹان‘ نے یا ’جسارت‘ اور اس کے ایڈیٹروں نے کوئی جرم کیا تھا تو پریس ایکٹ اور تعزیرات پاکستان موجود ہیں۔ ان کے تحت کارروائی کرنے میں کیا امر مانع تھا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان یک طرفہ اقدامات کو واپس لے۔ آغا شورش ، حکیم اقبال حسین اور صلاح الدین کو فوراً رہا کرے یا ان پر عدالت میں مقدمات چلائے اور ’چٹان‘ اور ’جسارت‘ کی اشاعت کو بحال کیا جائے ۔
۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو جامع مسجد نیلا گنبد میں بعد نماز عشاء آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری کے خلاف ایک جلسہ منعقد ہو رہا ہے۔ صدارت مولانا محمد یوسف بنوری کریں گے اور نوابزادہ نصر اللہ خان ، علامہ سید محمود احمد رضوی ، پروفیسر عبدالغفور احمد ، سید مظفر علی شمسی ، مولانا تاج محمود ، حافظ عبدالقادر روپڑی ، علامہ احسان الہی ظہیر اور مولانا محمد اجمل خطاب کریں گے۔
(اشتہار)
گجرات ، مولانا سید عطاء المحسن کی گرفتاری
مجلس احرار اسلام کے ممتاز رہنما سید عطاء المحسن بخاری کو آج صبح ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ مقامی علماء نے سید محسن کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا ہے۔ سید محسن ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور، مرکزی مجلس عمل کا شورش کی گرفتاری کے خلاف اجلاس
مرکزی مجلس عمل ختم نبوت نے ہفت روزہ ”چٹان“ کے ایڈیٹر آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری، چٹان پریس کی ضبطی اور ”جسارت“ کراچی پر پابندی پر نکتہ چینی کی ہے۔ گزشتہ رات مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقدہ مجلس کے ایک ہنگامی اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ جس میں بعض ایسے عناصر کی طرف سے مجلس کے ممتاز لیڈروں کو بدنام کرنے کی کوشش پر تشویش ظاہر کی گئی جو عوام کو برانگیختہ کر کے سیاسی ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی مسئلہ پر غور کر رہی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک گیر ہڑتال کے بعد مجلس عمل کی اپیل پر صورت حال معمول پر آرہی تھی۔ اگر اشتعال انگیزیاں جاری رہیں تو یہ صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ مجلس نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو ہفت روزہ ”چٹان“، روزنامہ ”جسارت“ اور ان کے ایڈیٹروں کے خلاف اپنے احکام واپس لے لینے چاہئیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ خبروں پر سنسر شپ کی موجودگی میں اخبارات پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خبروں کی اشاعت پر پابندیاں ختم کی جائیں۔
دریں اثناء قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی نے ہفت روزہ ”چٹان“ اور اس کے ایڈیٹر کے خلاف کی گئی کارروائی پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہفت روزہ ”چٹان“ کو بحال اور اس کے ایڈیٹر کو رہا کیا جائے۔ گزشتہ روز یہاں ایک اخباری بیان میں چوہدری ظہور الٰہی نے کہا کہ اس اقدام سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہوگئے ہیں۔ چوہدری ظہور الٰہی نے مولانا یوسف بنوری کے خلاف، جو کہ برصغیر کے ایک ممتاز عالم ہیں۔ ایک پراسرار تنظیم کی طرف سے شروع کی گئی۔ مہم پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس مہم کو عوام کی توجہ اصل مقصد سے ہٹانے کی ایک گھناؤنی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تنظیم کی آمدنی کا ذریعہ جاننا چاہتے ہیں جو مذہبی شخصیتوں کو بدنام کرنے کے لئے اشتہارات پر بے دریغ روپیہ صرف کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی کے رکن اور پاکستان مسلم لیگ اور متحدہ جمہوری محاذ کے لیڈر چوہدری ظہور الٰہی نے صوبائی حکومت کی اس کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے جو آغا عبدالکریم شورش کاشمیری اور ان کے ہفت روزہ ”چٹان“ اور چٹان پریس کے خلاف کی گئی ہے اور آغا شورش کاشمیری کی رہائی، چٹان کے ڈیکلریشن اور پریس کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ چوہدری ظہور الٰہی نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں، جو ”چٹان“ کے ایڈیٹر اور ”جسارت“ کراچی اور اس کے ایڈیٹروں کے خلاف کی گئی ہیں۔ عوام اس شبہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ انہیں مذہبی عقائد اور نقطۂ نظر پیش کرنے سے محروم کیا جارہا ہے۔
حکومت پنجاب نے ”چٹان پرنٹنگ پریس“ کے بعد آغا شورش کاشمیری کے بچوں کے پرنٹنگ پریس ”مسعود پرنٹرز“ کو بھی سربمہر کر دیا ہے۔ جس کے کیپر خواجہ صادق کاشمیری ہیں۔ ورکس منیجر مسٹر محمد یونس طور نے بتایا ہے کہ جس وقت پریس سربمہر کیا گیا۔ اس وقت انتظامیہ کا کوئی رکن پریس میں موجود نہ تھا۔ انہوں نے اس بات پر اظہار حیرت کیا ہے کہ جب ہفتہ کی شب آغا شورش کاشمیری سے باقاعدہ طور پر ”چٹان پرنٹنگ پریس“ کی ضبطی کے حکم نامہ کی تعمیل کرائی گئی تھی تو اس کے ایک روز بعد نیا اقدام کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسعود پرنٹرز میں ہفت روزہ ”چٹان“ کبھی نہیں چھپا۔ بیگم آغا شورش کاشمیری نے الزام لگایا ہے کہ یہ تمام کارروائی غیر قانونی اور منتقمانہ ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری کے ڈاکٹری معائنہ کے بعد پتہ چلا ہے کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے۔ ان کے پیشاب اور خون میں شوگر کی مقدار بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق آغا صاحب کو شوگر کی شکایت کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں میں شدید درد شروع ہو گیا ہے اور کمزوری اور نقاہت بڑھ گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ آغا صاحب کی ایکسرے رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی۔ خیال رہے کہ انہیں ۶؍جولائی کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب وہ میو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
۱۰؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
حنیف رامے دور کی کوڑی لائے
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں فتنہ و فساد برپا کیا گیا تو اس سے اس آئین کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ جس میں پہلی بار ختم نبوت کے تصور کو تحفظ دیا گیا ہے۔ وہ آج شام نیشنل بینک آف پاکستان ورکرز یونین کے عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ملک میں ایک عظیم عقیدے کے لئے آواز اٹھ رہی ہے اور وزیر اعظم بھٹو نے عوام کی عظیم اکثریت کے مطالبہ کے احترام کے طور پر وعدہ کیا تھا کہ وہ ختم نبوت کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کریں گے اور اسمبلی میں عوام کے نمائندے اس مسئلہ کا ایسا فیصلہ کریں گے جو عوام کی امنگوں اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ اس پیشکش پر ان لوگوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا جن کو عوام نے انتخابات میں رد کر دیا تھا۔
نوابزادہ نصر اللہ خان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس حکومت پر، جسے عوام نے منتخب کیا ہے، اعتبار نہیں کرتے کہ وہ اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، لیکن حکومت نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا اور اب اسمبلی کے باہر صبح و شام اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح فتنہ و فساد برپا کیا جائے۔ جب ۱۹۵۳ء میں فتنہ و فساد برپا ہوا تو یہی تحریک، جس کے لئے اب آواز اٹھائی جارہی ہے، ناکام ہو گئی۔ کیونکہ اس تحریک کو بظاہر کامیاب کرنے کے لئے فتنہ و فساد برپا کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مارشل لاء نافذ ہوا اور جب بھی ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا، دستور ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اگر فتنہ و فساد برپا کیا گیا اور اس کے نتیجے میں مارشل لاء لگا تو کون سا دستور ختم ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ اس سے وہ دستور ختم ہوگا جس میں پہلی بار ختم نبوت کے تصور کو تحفظ دیا گیا ہے اور جسے ملک میں پہلے منصفانہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے عوامی نمائندوں نے تیار کیا ہے۔
رامے نے کہا کہ آج سوشل بائیکاٹ کے نام سے ایک نیا طریقہ شروع کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی جدوجہد کے آغاز میں کہا تھا کہ ہم حضرت عمرؓ کے دور کا نظام لائیں گے اور حضرت عمرؓ نے ایک بار فرمایا تھا کہ اگر نیل کے کنارے کوئی کتا بھوکا مر جاتا ہے تو قیامت کے دن مجھ سے باز پرس ہوگی۔ رامے نے کہا کہ ایک طرف تو ہم حضرت عمرؓ کے دور کا نظام لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف سوشل بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: ”وہ“ کچھ بھی ہوں، انسان تو ہیں۔ اگر ہم ان کے بچوں کا دودھ، پانی اور راشن بند کردیں گے تو یہ کہاں کا اخلاق اور کہاں کا نظام ہوگا۔ ہمیں دینی اور اسلامی طریقے سیاست اور ٹریڈ یونین تحریک میں اپنانا چاہئیں اور ہم سب کو اپنے دل ٹٹولنا چاہئیں کہ ہم کون سا طریقہ اپنا رہے ہیں۔
نوٹ: رامے صاحب فتویٰ دیتے ہوئے قادیانیت نوازی میں اس حد تک کور چشم ہو گئے ہیں کہ انہیں حضرت عمرؓ کی، کتا کے پیاسے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۳۶۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہنے کی، روایت تو نظر آ گئی لیکن یہ نظر نہ آیا کہ ایک یہودی اور ایک مسلم نما منافق کا قضیہ حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش ہوا۔ حضور علیہ السلام نے قضیہ کی نوعیت کے مطابق فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا۔ یہودی کے حق میں فیصلہ ہوتے ہی منافق نے کہا کہ چلو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کراتے ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کا فیصلہ تو یہودی کے حق میں ہے، اس لئے کہ وہ اس مقدمہ میں حق پر ہے، یہ منافق نما مسلمان فیصلہ نبوی پر راضی نہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار سے منافق کا سر تن سے جدا کر دیا اور فرمایا کہ جسے حضور علیہ السلام کا فیصلہ منظور نہیں، اس کا فیصلہ عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کرے گی۔ رامے صاحب کی اس روایت پر نظر نہیں پڑی۔ پھر رامے صاحب کو نہیں بھولنا چاہئے کہ جو جاندار کے حقوق ہیں، باغی و مرتد اپنے ظالمانہ فعل کی وجہ سے ان حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ رامے صاحب اپنے مخالفین کو گرفتار کرا کر ان پر قدغن لگا رہے تھے اور اگر مسلمان قادیانی سے صرف لین دین ختم کر دیں تو اس پر وہ سیخ پا ہیں۔ کیا اس پوری تحریک میں کوئی ایک قادیانی کھانا پینا نہ ملنے کے باعث مرا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کون سا قانون ہے جس کے تحت مسلمانوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ضرور قادیانیوں سے لین دین کریں۔ ایک مسلمان کسی مرتد و باغی رسول سے ملنا نہیں چاہتا، اس سے معاشی تعلقات نہیں رکھنا چاہتا تو کیا یہ اسلام کی خلاف ورزی ہے؟ رامے صاحب قادیانیت نوازی میں اس حد تک اندھے ہو گئے تھے کہ وہ اپنی حکومت، عہدہ، عزت و وقار، سب کچھ قادیانیت پر قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور اوپر کا بیان اسی کا مظہر ہے۔
(مرتب)
مرکزی جمعیۃ العلمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری کی نظر بندی، چٹان کی ضبطی اور چٹان پریس، روزنامہ جسارت کراچی کی ضبطی، پرنٹر، پبلشر اور ایڈیٹر کی گرفتاری اور اس سے پہلے طلباء اور اکابر علماء کی گرفتاریاں غیر جمہوری اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد حکومت، پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لئے زبان، علاقہ، نسل، وطنیت، رنگ اور قومیت کے بتوں کو پاش پاش کرنے کی تحریک چلائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روزنامہ ”جسارت“ اور ہفت روزہ ”چٹان“ کی اشاعت پر سے پابندی فوری ختم کی جائے اور تمام اسیران ختم نبوت، علماء و طلباء کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، باٹا پور لاہور
جامع مسجد نہر والی باٹا پور جلو موڑ میں علاقہ کے علماء کرام کا اجتماع ہوا۔ جس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں آیا اور مندرجہ ذیل عہدیداران کا انتخاب ہوا۔ امیر مولانا منظور احمد، نائب امیر مولانا فیض الرحمٰن، ناظم اعلیٰ مولانا سید محمد حسین شاہ، نائب ناظم مولانا محمد رمضان، خازن مولانا سید انور حسین شاہ، ناظم نشر و اشاعت حمید الرحمٰن عباسی اور پبلسٹی سیکرٹری منظور احمد۔
شورش کی گرفتاری کے خلاف لاہور میں جلسہ عام
لاہور میں آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری کے خلاف منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آغا صاحب کو فوراً رہا کرے۔ کیونکہ ان کی گرفتاری سراسر انتقامی اور سیاسی جذبہ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ مقررین میں مولانا محمد یوسف بنوری، نوابزادہ نصر اللہ خان، پروفیسر غفور احمد، فیض القادری، سید مظفر علی شمسی اور مولانا محمد اجمل شامل تھے۔ جلسہ میں مسٹر بارک اللہ کی طرف سے پیش کردہ اس امر کی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ جس میں آغا شورش کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوراً رہا کرنے اور ان کے پریس کی ضبطی کے احکام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح طالب علم لیڈروں کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پریس پر جو پابندیاں دو سالوں میں عائد کی ہیں۔ وہ انگریز کے دور میں بھی نہیں لگائی گئی تھیں۔ مولانا محمد یوسف بنوری نے پریس ٹرسٹ کے اخبارات میں شائع کردہ اشتہارات میں دیئے گئے تاثر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ایسا محض انہیں بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ حکومت نے آغا شورش کاشمیری کو گرفتار کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے ارباب اختیار کے قول و فعل میں سخت تضاد ہیں اور یہ کہہ کر اس ملک میں وہ پریس کی آزادی کے خواہاں ہیں۔ اس کے قطعی برعکس اقدامات میں مصروف ہیں۔ سید مظفر علی شمسی نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری سراسر انتقامی کارروائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام گرفتار شدہ طالب علم لیڈروں اور آغا شورش کاشمیری کو فوراً رہا کرے۔
آل پاکستان شیعہ پولیٹکل کانفرنس
آل پاکستان شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے چیف آرگنائزر مسٹر جعفر علی میر نے آغا شورش اور ”جسارت“ کے ایڈیٹر محمد صلاح الدین کی گرفتاری کی مذمت کی اور انہوں نے آغا شورش کے بچوں کے پرنٹنگ پریس ”مسعود پرنٹرز“ کو بھی سربمہر کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے ان اقدامات کو نامناسب ہتھکنڈے قرار دیا۔
قبولہ میں چار قادیانی خاندانوں کا قبول اسلام
”قبولہ کے چار خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے والے خاندانوں کے سربراہوں کے نام یہ ہیں: ڈاکٹر نصیر احمد ، ڈاکٹر ناصر احمد ، ظفر احمد اور بشیر احمد زرگر۔ اپنے تحریری بیان میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ آئندہ زندگی اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر لال دین بھی اپنے خاندان سمیت مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔“
جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس مولانا محمد چراغ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب، سندھ اور سرحد کے علمائے کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا اور تمام صوبوں کی رپورٹوں کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام اسیران ختم نبوت کو فوری رہا کیا جائے۔ روزنامہ ”جسارت“ اور ہفت روزہ ”چٹان“ پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں اور آغا شورش کاشمیری ، صلاح الدین اور حکیم اقبال حسین کو رہا کیا جائے۔ اجلاس میں مولانا حسین الدین ، مولانا محمد سلیمان طاہر ، قاضی عبدالرزاق ، علامہ عنایت اللہ ، مولانا حبیب الغفور ، مولانا خلیل الرحمٰن ، مولانا عبدالرشید ، مولانا محمد انور ، مولانا نذیر احمد ، مولانا محمد حنیف ، مولانا محمد سعید اور پروفیسر امین جاوید نے شرکت کی۔
چٹان ....... سرکاری وضاحت، روزنامہ ”جنگ“ کا اداریہ
حکومت پنجاب نے ایک ہینڈ آؤٹ میں ہفت روزہ ”چٹان“ کے خلاف ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت کی جانے والی حالیہ کارروائی کے ضمن میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ”چٹان“ کے شمارہ نمبر ۲۶ (جس پر یکم جولائی کی تاریخ درج ہے ) کے بارے میں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ یکم جولائی سے پہلے شائع اور تقسیم کیا گیا تھا لیکن شمارہ نمبر ۲۷ (جس پر یکم تا ۸؍ جولائی کی تاریخ درج ہے اور جس میں قابلِ اعتراض مواد شائع ہونے کی بناء پر کارروائی کی گئی ہے ) کے بارے میں یہ موقف اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ ہینڈ آؤٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ہفت روزہ کے ایک ہی ہفتے میں دو شمارے شائع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ہفتگی جرائد کے دو شماروں کی اشاعت میں سات روز کا وقفہ ہونا ضروری ہے۔ ہینڈ آؤٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”چٹان“ کے خلاف کارروائی کے جواز یا عدم جواز کا فیصلہ کرنا ٹربیونل کا کام ہے،
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جو اس معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لئے قائم کیا جارہا ہے۔ دریں اثناء حکومت پنجاب نے ”چٹان“ پرنٹنگ پریس کے بعد آغا شورش کاشمیری کے بچوں کے پرنٹنگ پریس ”مسعود پرنٹرز“ کو بھی سر بمہر کردیا ہے۔
آغا شورش کاشمیری پولیس کی حراست میں میو ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور تین ماہ کے لئے نظر بند ہیں۔ چٹان کے ۲۶ رویں اور ۲۷ رویں شمارہ میں یکم جولائی کی تاریخ کے اندراج کے بارے میں ان کی کوئی وضاحت ہمارے سامنے نہیں۔ اس صورت میں قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں شائع ہونے والے شمارہ (نمبر ۲۷) پر یکم جولائی کا اندراج سہواً ہوگیا ہوگا۔ یہ امر محتاج وضاحت نہیں کہ کسی ہفت روزہ کی کتابت، ادارت، طباعت وغیرہ کے مراحل ایک ہی دن میں طے نہیں ہو جایا کرتے۔ یہ عمل تین چار دن تک جاری رہتا ہے اور یہ بات بھی تجربہ و مشاہدہ میں ہے کہ ہفتگی جریدوں پر بالعموم پیشگی تاریخ لکھی جاتی ہے، پھر یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ آغا صاحب نے اپنے شمارہ نمبر ۲۷ کے بارے میں متعلقہ افسروں سے رابطہ قائم کیا تھا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔ ہمارے خیال میں ہوا یہ ہے کہ ۲؍جولائی کو جب سنسر کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس وقت ”چٹان“ کے شمارہ نمبر ۲۷ کی آخری کاپیاں چھپنے کے لئے پریس جارہی ہوں گی۔ بہرکیف تاریخ کے اندراج کا یہ سارا معاملہ مشتبہ ہے اور شبہ کا فائدہ ملزم کو ہی ملنا چاہئے۔
ان معروضات کا مقصد یہ ہے کہ ایک معمولی تکنیکی غلطی یا سہو کی بناء پر چٹان کے خلاف سخت ترین کارروائی مناسب نہیں۔ پھر یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ آغا صاحب کو سزا تو پہلے دے دی گئی اور ان کے خلاف کارروائی کے جواز یا عدم جواز کے لئے ٹربیونل بعد میں قائم کیا جارہا ہے۔ اس قسم کا انصاف سوشلسٹ اور کمیونسٹ معاشروں میں تو سننے میں آتا رہتا ہے۔ اسلام اور جمہوریت کے دعویدار پاکستان میں اسے زیادتی ہی سمجھا جائے گا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ قصور (اگر واقعی کوئی قصور تھا) تو آغا صاحب اور چٹان پریس نے کیا لیکن سربمہر مسعود پرنٹرز کو بھی کردیا گیا ہے۔ یعنی گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہے۔ آخر اس کارروائی کا کیا جواز ہے۔ حکومت پنجاب کو اس سارے مسئلہ پر ہمدردانہ غور کرنا چاہئے اور اسے خواہ مخواہ اپنے وقار کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ حکومت سے ہمیشہ وسعت قلبی کے توقع کی جاتی ہے۔ لہٰذا اسے فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔“
(اداریہ جنگ کراچی،مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۷۴ء)
پنجاب حکومت نے وزن بڑھانے کے لئے یہ کارروائی بھی کی۔ خبر مظہر ہے کہ آل انڈیا ریڈیو نے آج رات خبروں کے بلیٹن میں بتایا کہ حکومت پنجاب نے ربوہ سے شائع ہونے والے روزنامہ الفضل کی اشاعت پر پابندی عائد کردی ہے۔
۱۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لائل پور، مولانا محمد ضیاء القاسمی کا مطالبہ
جمعیتہ علماء اسلام ہزاروی گروپ پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا ضیاء القاسمی نے مطالبہ کیا ہے کہ مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری کو فوری طور پر رہا کر کے فضا کو خوشگوار بنایا جائے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب جب کہ قومی اسمبلی نہایت ذمہ داری سے قادیانیوں کے مسئلہ کا قابل قبول حل تلاش کرنے میں مصروف عمل ہے۔ قوم، اخبارات اور خود حکومت پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اخبارات، رسائل، علمائے کرام اور طلباء نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے حکومت سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ حکومت کو بھی ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہئے جو فضاء کو ناخوشگوار بناتے ہوں۔ آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری اور ”چٹان پریس“ کی ضبطی ایک ایسا غلط اور اشتعال انگیز قدم ہے، جس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کی جاسکتی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۳۶۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ میں مزید سات افراد کی گرفتاری
کرائمز برانچ پولیس نے طلباء پر حملہ کرنے کے الزام میں ربوہ کے مزید سات افراد منظور احمد، محمد اسلم، ارشد احمد، محمد خان، عبدالغفور، محمود اختر اور لطیف احمد کو گرفتار کیا ہے۔ آج ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں ملزموں کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس کی درخواست پر مقدمہ کی سماعت ۲۳؍ جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ مزید برآں آج واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں پہلے سے گرفتار شدہ ۷۶ ملزموں کو بھی ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے مقدمے کی سماعت ۲۳؍ جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ کرائمز برانچ پولیس واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں اب تک ۸۳؍ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔
وزیر اعظم کا اعلان
دیر: وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج یہاں جلسہ عام میں اعلان کیا کہ ہم ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ وزیر اعظم نے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے اور مسجدوں کی بے حرمتی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا : یہ دل آزار کارروائیاں افغانستان کے ایجنٹ کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔ انہوں نے بلند آواز میں اعلان کیا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ہمیشہ اسلامی مملکت رہے گا۔ وزیر اعظم کے اعلان پر عوام نے پاکستان زندہ باد اور جئے بھٹو کے پرجوش نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے اور اس ملک کا انتظام اسلامی آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے حزب اختلاف کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اسلام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں اور پیغمبر آخر الزمان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا : ملک کا نظام اسلامی شریعت کے مطابق چلایا جائے گا۔
اسلام آباد کے تین علماء کی گرفتاری
آج اسلام آباد پولیس نے تین علماء کرام، بلال مسجد کے مولانا غلام حیدر، مولانا عبد الخالق اور قاری محمد شریف کو گرفتار کیا ہے۔ ان کی گرفتاری دفاع پاکستان کے قواعد کی دفعہ ۱۲۱۶ اور ۳۲ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ ان پر اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا الزام ہے۔ دو روز قبل اسلام آباد ہی سے رئیس خان، مرکزی جامع مسجد کے مولوی عبد اللہ اور طالب علم لیڈر مفتی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار شدگان کو ڈسٹرکٹ جیل پہنچا دیا گیا۔ گجرات سے نمائندہ ”جنگ“ نے اطلاع دی ہے کہ مولانا محمد مدنی کو آج شام ۵؍ بجے ڈی۔ پی۔ آر کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مولانا یوسف بنوری خالص دینی رہنما ہیں
جامعہ اسلامیہ راولپنڈی کے مہتمم قاری سعید الرحمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مولانا محمد یوسف بنوری کو علماء نے بالاتفاق مجلس عمل کی صدارت پر فائز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا بنوری اعلیٰ پایہ کے عالم اور خالص دینی رہنما ہیں۔ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کی مسند پر درس حدیث دیتے رہے اور اب بھی مولانا یوسف بنوری اپنے مدرسہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی طلباء کے علاوہ غیر ملکی مہمان طلباء کو دینی تعلیم دینے کے فرائض
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مدرسہ سے فارغ التحصیل طلباء، تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے فریضہ میں مصروف ہیں۔
۱۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
وزیر اعظم کا اعلان
وزیر اعظم پاکستان مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سرحدی دورے کے خاتمے کے بعد قومی اسمبلی کے ارکان کو مدعو کریں گے اور ان سے کہیں گے کہ وہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں اپنا کام جلد مکمل کریں۔ انہوں نے دیر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مسئلہ پر عدالتی تحقیقات ہو رہی ہیں اور اس سلسلے میں ایک ٹربیونل گواہوں کے بیانات قلمبند کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی ایک خاص کمیٹی بھی اس مسئلہ پر غور کر رہی ہے۔ وہ دورے کی تکمیل کے بعد جب اسلام آباد پہنچیں گے تو قومی اسمبلی کے ارکان کو فوری طور پر مدعو کریں گے اور انہیں یہ کہیں گے کہ وہ اس کام کو فی الفور مکمل کریں۔
وزیر اعظم بھٹو نے احمدیوں کے بائیکاٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ احمدیوں کا مقاطعہ کیا جائے۔ کیونکہ کسی بھی گروہ کو ضروریات زندگی سے محروم کرنا کسی بھی اعتبار سے احسن نہیں۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ خود ہی بتائیں کہ کیا ایسا کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
مسٹر بھٹو نے کہا: ان کی جماعت قادیانی مسئلہ کو فوری طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ اسلام کی خدمت کرنا ان کا اوّلین فرض ہے۔ ان کی جماعت کے منشور میں بھی تھا کہ اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہماری سیاست اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ انہوں نے کہا بعض لوگ اس مسئلے پر سراسیمگی (انتشار) پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ یہ مسئلہ اس وقت کیوں کھڑا کیا گیا جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ظفر اللہ کو وزارت خارجہ جیسے اہم عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ اب ایٹمی دھماکہ اور داؤد کے دورہ ماسکو کے پس منظر میں اس مسئلہ کو اٹھانے کا مطلب ہے کہ پاکستان دشمن عناصر سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وعدہ کے مطابق یہ مسئلہ بجٹ اجلاس کے فوراً بعد قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے اور وہ اس مسئلہ کو جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ایوان کی کمیٹی کو قادیانی مسئلہ پر بے شمار کتابیں اور دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطالعہ میں کچھ وقت لگے گا۔ تاہم یہ وقت ایک سال یا چھ ماہ کا نہیں ہوگا۔ انہوں نے عوام سے ان عناصر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی جو مذہبی معاملات کو اچھال کر ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
علامہ ارشد کا بیان
علامہ صاحب نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلانا، اراکین اسمبلی کے حقوق کا استحصال ہوگا اور عوام کے نمائندوں کو عوامی رائے کے اظہار سے روکنے کے مترادف ہوگا۔ اپوزیشن کے قائد نے بتایا کہ مسٹر حنیف رامے نے واضح طور پر عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن جب پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف نے اس موضوع پر قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تو حکومت نے ہر بار یہ کوشش ناکام بنادی۔ ہم نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ۷۰ ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے ۲۷؍ جون کو ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ لیکن ایوان میں اس وقت موجود ارکان کی واضح اکثریت کے باوجود اس تحریری مطالبہ کو مسترد کر دیا، جس پر حزب اختلاف نے بجٹ کا بائیکاٹ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر دیا۔ وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ سرکاری کارروائی کے روز یہ قرارداد پیش ہوگی۔ چنانچہ متفقہ طور پر طے پایا کہ ۲۸ جون کو بجٹ کی کارروائی کے بعد اجلاس برخاست کرنے کی بجائے ۸ جولائی تک ملتوی ہوگا۔ پھر ۸ سے ۱۰ جولائی تک حکومت کی حکمت عملی پر بحث ہوگی۔ لیکن حکومت حکمت عملی پر عملدرآمد سے متعلق صوبائی رپورٹ پر بحث کو ٹال رہی ہے۔ آئین کے مطابق سال میں ایک مرتبہ حکمت عملی پر بحث لازمی ہے۔ لیکن سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے، بحث نہیں ہوئی جو آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں یہ بھی طے پایا تھا کہ آج کے دن یعنی ۱۱ جولائی کو ہماری غیر سرکاری قراردادوں پر بحث ہوگی، جو دینی مسئلوں کے بارے میں تھیں۔ لیکن حکومت تمام وعدوں سے منحرف ہوگئی اور گورنر نے ۶ جولائی کو اسمبلی کا اجلاس برخاست کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس مقصد سے ظاہر ہے کہ حکومت حکمت عملی اور بعض دینی مسائل پر ہر طرح سے گھبراتی ہے۔ یہ اقدام صریحاً غیر اخلاقی، غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی ہے۔
علامہ صاحب نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ صوبائی حکومت کیوں اس قدر بوکھلا گئی ہے کہ ایوان میں غیر معمولی اکثریت کے باوجود اسمبلی کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہے اور اسی نے ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع پر غیر جمہوری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تعجب ہے کہ حکومت کے اپنے دو آرڈینینس ۱۴ جولائی کو ختم ہو رہے ہیں اور اس سے قبل اسمبلی سے ان کی توثیق ضروری ہے۔ علامہ صاحب نے کہا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ اور اقتصادی ناکہ بندیوں کے باعث پہلے ہی اخبارات پابند سلاسل ہیں۔ اب سنسر کا طوق بھی ڈال دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے ”جسارت“ اور اس کے ایڈیٹروں کے خلاف افسوسناک اور شرمناک اقدام کیا۔ لیکن پنجاب حکومت اس سے آگے بڑھ گئی اور اس نے نہ صرف ”چٹان“ کو بند کیا، آغا شورش کاشمیری کو گرفتار کیا بلکہ اس کے پریس کو بھی ضبط کر لیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ اقدام واپس لئے جائیں ورنہ اس سے سیاسی فضا بدتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دفعہ ۱۴۴ کی حکمرانی ہے۔ جلسے جلوس بند ہیں اور طلباء سیاسی کارکن اور دینی و سیاسی رہنما گرفتار ہو رہے ہیں۔ اس کا مقصد ایک خالص دینی مسئلہ کو دبانا ہے۔ بعض فرقوں کو فائدہ پہنچانا ہے اور حزب اختلاف کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کچلنا ہے۔ ہمارا حتمی مطالبہ یہ ہے کہ گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور اخبارات کو آزاد کیا جائے۔ علامہ صاحب نے وزیر اعلیٰ رامے پر الزام لگایا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس انہوں نے ملتوی کرایا ہے تا کہ وہاں دینی مسائل زیر بحث نہ آئیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳ جولائی ہفتہ کو بعد نماز عشاء جامع محمدی مسجد کریم پارک بلاک نمبر ۴ میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر جلسہ ہوگا۔ جس میں مرزا غلام نبی جانباز، شیر محمد، مولانا غلام یٰسین چشتی، قاری جمیل احمد چشتی، مولانا قاری حافظ محمد اقبال اور قاری زین العابدین حاضرین سے خطاب کریں گے۔
قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان
”رحمت منزل چوک رحمان پورہ لاہور کے دو ممتاز شہریوں عبدالرحمن اور آغا سبحان عادل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرزائیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ہیں اور اب ان کا قادیانی یا احمدی طبقہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔“
۱۳ جولائی ۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی نے جو رہبر کمیٹی قائم کر رکھی ہے، آج اس نے ساڑھے تین گھنٹے تک اپنے اجلاس میں انجمن احمدیہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان ربوہ اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے تحریری بیانات اور ان کے پیش کردہ مسودات پر غور کیا۔ وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ کمیٹی نے رفتار کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنا کام پوری رفتار سے صحیح طور پر مکمل کرے گی۔ رہبر کمیٹی نے قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی کے آئندہ پروگرام کے سلسلہ میں متفقہ طور پر سفارشات مرتب کیں۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مولانا کوثر نیازی اور حکمران جماعت کے ارکان کے علاوہ مولانا مفتی محمود ، پروفیسر غفور احمد ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، چوہدری ظہور الٰہی ، مسٹر غلام فاروق نے بھی شرکت کی۔ سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات خاص کمیٹی کو پیش کی جائیں گی۔ جس کا اجلاس ۱۳؍ جولائی کو شام چھ بجے منعقد ہو گا۔
لاہور کے طلباء کی رہائی
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شفیع الرحمن کے روبرو آج جب گرفتار شدہ طالب علم رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف رٹ درخواست کی سماعت ہوئی تو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت نے چار طالب علموں کے سوا باقی تمام طلباء کو رہا کر دیا ہے اور ان چار طلباء طفیل ہاشمی، عبدالمتین ، مسعود کھوکھر اور فرید پراچہ کا معاملہ حکومت کے زیر غور ہے۔ اس بیان کے بعد عدالت نے جن طلباء کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں ظفر جمال ، انور گوندل ، امان اللہ ، مسعود الحمید ، ہمایوں وجاہت ، محمد اسلوب قریشی اور قاضی محمد اشرف شامل ہیں۔
۱۴؍ جولائی ۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
صمدانی کمیشن ربوہ جائے گا
واقعہ ربوہ کا تحقیقاتی ٹریبونل ، جو مسٹر جسٹس کے ۔ ایم صمدانی پر مشتمل ہے۔ ۲۰؍ جولائی کو اس جگہ کا معائنہ کرنے ربوہ جائے گا۔ جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کا اظہار آج کارروائی کے دوران ٹریبونل نے کیا۔ مسٹر جسٹس صمدانی کے ساتھ مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء بھی موجود ہوں گے۔ ٹریبونل ۳۰؍ جولائی سے قبل لائل پور بھی جائے گا اور ان حقائق کا پتہ چلائے گا۔ جن کا حوالہ ۲۹؍ مئی کے واقعہ کے بعد لائل پور کے بارے میں دیا گیا ہے۔ دریں اثناء آج ٹریبونل کے سامنے صدر عمومی ربوہ چوہدری ناصر احمد پر جرح مکمل ہوگئی۔ دوبارہ مسٹر رفیق احمد باجوہ نے ٹریبونل کے سامنے درخواست پیش کی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر غلام مصطفیٰ کھر کو واقعہ ربوہ کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے طلب کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شفیع الرحمن نے ممتاز صحافی آغا شورش کاشمیری کی نظر بندی اور ہفت روزہ ”چٹان“ کے ڈیکلریشن کی منسوخی کے خلاف اجرائے پروانہ کی دو درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ ان درخواستوں کی آئندہ سماعت ۱۸؍ جولائی کو ہوگی۔ آغا شورش کاشمیری کی نظر بندی کے خلاف رٹ درخواست بیگم شورش کاشمیری نے اور ”چٹان“ کے ڈیکلریشن کی منسوخی کے خلاف ”چٹان“ کے پبلشر خواجہ صادق کاشمیری نے دائر کی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مسٹر رفیق احمد باجوہ اور خواجہ عبدالرحیم نے پیروی کی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرگودھا میں جلسہ عام
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری غلام جیلانی، مولانا عبید اللہ انور اور طلباء کی تمام تنظیموں کے رہنما ۱۴؍جولائی کو سرگودھا پہنچ رہے ہیں۔ جہاں وہ مجلس عمل کے صوبائی کنونشن میں شرکت کرنے کے علاوہ بعد نماز عشاء گول چوک سرگودھا میں خطاب کریں گے۔
لاہور بریگیڈیئر ڈاکٹر منظور احمد قادیانی
چوہدری اسد اللہ خان نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ: ’’بریگیڈیئر ڈاکٹر منظور احمد چوہدری مرکزی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے اور ان کی بیوی اور بچے کٹر سنی العقیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افواہ غلط ہے کہ ان کا تعلق قادیانی فرقہ سے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چوہدری صاحب کی والدہ نے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد قادیانی جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن ڈاکٹر منظور اور ان کے دیگر اہل خانہ کٹر سنی العقیدہ مسلمان ہیں۔‘‘
بی۔بی۔سی
برصغیر میں بی۔بی۔سی کے متعین نامہ نگار مسٹر ولیم کرالے نے بتایا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جو خاص کمیٹی قائم کی ہے، وہ ایک ہفتہ میں اپنا کام مکمل کر لے گی۔ ولیم کرالے نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں تسلیم شدہ ستر فرقے ہیں۔ لیکن احمدی ایک ایسا فرقہ ہے جسے مسلمانوں کے ہر فرقہ سے ایک بنیادی اختلاف ہے۔ وہ اختلاف یہ ہے کہ احمدی فرقہ اپنے بانی مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہے۔ ولیم کرالے نے لکھا ہے کہ احمدیوں کو اسلام سے الگ فرقہ قرار دینے کے لئے پاکستان کے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی اور اگر یہ فیصلہ کیا گیا کہ احمدیوں کو بڑی بڑی سرکاری ملازمتوں اور عہدوں سے الگ کیا جائے تو اس کے لئے بھی آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ ولیم کرالے نے لکھا ہے کہ حزب اختلاف نے یہ تحریک پیش کی ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم فرقہ قرار دے کر ان کے حقوق متعین کر دیئے جائیں۔ بی۔بی۔سی کے نامہ نگار نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان کو قائم ہوئے ۲۷ سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران کبھی کسی غیر مسلم اقلیت کو کسی اجتماعی بدسلوکی کی شکایت نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس اقلیتوں کو پاکستان میں ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں۔
۱۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس
آج قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے رہبر کمیٹی کی سفارشات اتفاق رائے سے منظور کر لیں۔ سفارشات یہ ہیں:
- ۱...... انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے سربراہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا کام ۲۲؍جولائی ۱۹۷۴ء تک مکمل کر لیا جائے۔
- ۲...... خصوصی کمیٹی کے جو ممبر دونوں جماعتوں کے سربراہوں سے سوالات دریافت کرنا چاہتے ہوں، وہ ۲۴؍جولائی ۱۹۷۴ء تک قومی اسمبلی کے سیکرٹری کو بھیج سکتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... رہبر کمیٹی انجمنوں کے سربراہوں سے دریافت کئے جانے والے سوالات کو آخری شکل دے گی اور منظور کرے گی۔
- ۴...... اٹارنی جنرل سے، جن کے ذریعے سوالات دریافت کئے جائیں گے۔ کہا جائے گا کہ وہ ۲۵/جولائی ۱۹۷۴ء سے رہبر کمیٹی اور خصوصی کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں شرکت کریں۔
- ۵...... جب جماعتوں کے سربراہ اپنے بیانات اور سوالات کے جواب دے چکیں گے تو ایوان کے ان ارکان کو، جو اس مواد اور دستاویزات کی روشنی میں، جو خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی ہیں یا سوالات کے جوابات کی روشنی میں اپنے مشاہدات اور خیالات قلمبند کرنا چاہیں گے تو انہیں اس کی اجازت ہوگی۔
- ۶...... مختلف ارکان کی پیش کردہ قراردادوں پر خصوصی کمیٹی میں غور ہونے سے پہلے ان قراردادوں کے محرک اپنے نکتہ ہائے نظر کی وضاحت کرنے کے لئے رہبر کمیٹی کے سامنے بیانات دیں گے۔
جو کام کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے، اس کے بارے میں کمیٹی نے اطمینان ظاہر کیا کہ اب تک کام کی رفتار درست رہی ہے اور کام میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ تمام ضروری لوازمات کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گی۔ قومی اسمبلی ۱۵/جولائی کو شام چھ بجے اپنا عمومی کام شروع کر دے گی۔ لیکن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ خصوصی کمیٹی کے کام کو فوقیت دی جانی چاہئے تاکہ اس کا کام جلد مکمل کیا جاسکے۔ خصوصی کمیٹی اب آئندہ ہفتے کسی دن اپنا اجلاس منعقد کرے گی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر وفاقی وزیر قانون کو اختیار دیا کہ وہ ۱۴/جولائی کو صبح ۱۰ بجے کمیٹی روم نمبر ۳ میں پریس کانفرنس منعقد کر کے خصوصی کمیٹی کے کام سے عوام کو مطلع کریں۔
سنی ختم نبوت کنونشن ، راولپنڈی
آل پاکستان ختم نبوت سنی کنونشن نے موجودہ نازک موقع پر مسلمانوں کے درمیان مکمل اتحاد پر زور دیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے متحدہ محاذ قائم کریں۔ اس کنونشن میں ، جو مرکزی جمعیۃ علمائے پاکستان کے زیر اہتمام ہوا تھا، ملک بھر سے کوئی تین سو سے زائد علماء اور مشائخ نے شرکت کی۔ کنونشن میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت مسلمانوں کے عقیدے کا بنیادی پتھر ہے۔ قرارداد میں قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا کہ جو لوگ ختم نبوت کو نہیں مانتے، انہیں دائرہ اسلام سے خارج کیا جائے اور اس سلسلے میں ۱۵/جولائی تک فیصلہ کیا جائے کیونکہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر سے سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کنونشن نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
حفیظ پیر زادہ کا بیان
وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی جو کمیٹی ان لوگوں کے بارے میں غور کر رہی ہے، جو حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے ، وہ اپنے کام میں ضرورت سے ایک دن زیادہ کی بھی تاخیر نہیں کرے گی۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو بلا جواز اور بے بنیاد قرار دیا کہ کمیٹی کے کام میں تاخیر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ سے تعلق رکھنے والے کسی فریق نے ایسی شکایت نہیں کی۔ اس لئے اس قسم کی قیاس آرائیاں ختم ہو جانی چاہئیں۔ مسٹر پیرزادہ نے بتایا، کمیٹی کی سفارشات اتفاق رائے سے پیش کی گئی ہیں۔ قادیانیوں کے دونوں گروپوں نے اپنے تحریری بیان پیش کئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۶؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کھاریاں فائرنگ کیس
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گجرات شیخ علی ذوالقرنین نے شیخ خالد محمود اے. ڈی سی. جی کو کھاریاں فائرنگ کی تحقیقات پر مامور کیا ہے۔ کھاریاں میں چند روز قبل دو مسلمان پولیس فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ فائرنگ کے خلاف احتجاج کے لئے کل گجرات میں مکمل ہڑتال رہی۔ صوبائی وزیر بریگیڈیئر صاحب داد خان کل صورتحال کا جائزہ لینے گجرات آئے تو ایک وفد نے ان سے فائرنگ کی تحقیقات عدالت عالیہ کے جج سے کرانے کا مطالبہ کیا۔ صوبائی وزیر زراعت نے وفد کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے مطالبہ سے وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کریں گے۔
۱۷؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور مجلس عمل کا دفتر
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور کا باقاعدہ دفتر ۹۔ شارع فاطمہ جناح میں قائم کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناء مجلس عمل لاہور کے جنرل سیکرٹری بارک اللہ خاں نے شہر اور ضلع لاہور کی تمام تشکیل شدہ مجلس ہائے عمل کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر دفتر سے رابطہ قائم کریں تاکہ آئندہ تحریک کو مؤثر اور منظم کرنے کے لئے انہیں مجلس عمل کی ہدایات سے آگاہی ہو سکے۔
صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور مولانا صاحبزادہ فیض القادری نے تحریک کو زیادہ فعال کرنے اور مجلس عمل کی مقامی شاخوں کے قریبی رابطہ کے لئے لاہور شہر کے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں حسب ذیل نگران کنونیر مقرر کئے ہیں۔ حلقہ نمبر ۱: مولانا حمید الرحمٰن مدرس مسجد شیرانوالہ۔ حلقہ نمبر ۲: غلام نبی جانباز۔ حلقہ نمبر ۳: مولانا محمد عارف۔ حلقہ نمبر ۴: مولانا قاری عبد الرشید چشتی خطیب مسجد سان شیرا کوٹ بکرمنڈی۔
۱۸؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کراچی، ایڈیٹر جسارت کی رہائی و گرفتاری
روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے ایڈیٹر مسٹر محمد صلاح الدین اور منیجنگ ایڈیٹر حکیم اقبال حسین کو آج ایک مقامی عدالت سے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا مگر دونوں صاحبان کو رہائی کے فوراً بعد ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا اور عدالت نے ان کا ۲۷؍جولائی تک جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
کھاریاں فائرنگ کیس
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیخ علی ذوالقرنین نے کھاریاں فائرنگ کیس میں جاں بحق ہونے والے دو افراد کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام چوہدری ظہور الٰہی ایم. این. اے اور وکلاء کے ایک وفد کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ جس میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے شکایت کی گئی تھی کہ فائرنگ کی تحقیقات کرنے والے مجسٹریٹ نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے نعشوں کو قبروں سے نکال کر پوسٹ مارٹم کا حکم دیا۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل شیخ محمد خالد کی عدالت میں متوفی محمد یوسف کے بھائی محمد صابر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی طرف سے پولیس کے خلاف قتل کے الزام میں استغاثہ کی سماعت شروع ہوئی تو استغاثہ کے وکلاء نے مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ مقدمہ کی کارروائی سے پہلے نعشوں کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیں۔ لیکن مجسٹریٹ نے کہا کہ پہلے وہ استغاثہ دائر کرنے والے کا بیان سنیں گے۔ اس کے بعد پوسٹ مارٹم کا حکم دیں گے۔ اس پر وکلاء کی طرف سے عدالت میں زیر دفعہ ۵۲۶ ضابطہ فوجداری درخواست دی گئی کہ چونکہ استغاثہ ضلع کے ایس . پی اور انسپکٹر پولیس کھاریاں کے خلاف ہے اور مقامی عدالت سے انہیں انصاف نہیں مل سکتا۔ اس لئے وہ ہائیکورٹ میں کیس لے جانا چاہتے ہیں۔ اس پر عدالت نے کارروائی روک دی۔ چوہدری ظہور الہی ایم . این . اے جنہیں مجلس عمل نے کیس کی پیروی کے لئے کہا ہوا ہے۔ عدالت میں موجود تھے۔ چوہدری ظہور الہی نے فائرنگ میں ہلاک ہونے والے محمد یوسف کی بیوہ اور بچوں کے لئے تین سو روپے ماہوار اور دوسرے ہلاک ہونے والے غلام نبی کی بیوہ اور ایک بچی کے لئے دو سو روپے ماہوار تاحیات وظیفہ کا اعلان بھی کیا۔
لاہور طالب علم رہنماء
پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین جاوید ہاشمی، پنجاب یونیورسٹی کے قائم مقام صدر عبد الشکور، انجینئرنگ یونیورسٹی کے قائم مقام صدر اکمل جاوید، ینگ سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ کالج لاہور کے صدر شہباز احمد شیخ، ایف سی کالج کے جنرل سیکرٹری راجہ شفقت حیات، ہیلی کالج کے صدر حافظ عتیق الرحمٰن، اسلامی جمعیتہ طلباء لاہور کے قائم مقام ناظم ضیاء اللہ خان نے ایک مشترکہ بیان میں گورنمنٹ کالج میں پولیس کے گھس کر طلباء کو گرفتار کرنے کی جسارت کی شدید مذمت کی ہے۔ ان طالب علم رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت جس طرح طلباء کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج کے طلباء پر ہونے والی زیادتی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طلباء کو فی الفور رہا کیا جائے اور تمام قائم کردہ مقدمات واپس لئے جائیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور کا ایک ہنگامی اجلاس ۱۸/ جولائی جمعرات کو ساڑھے چار بجے شام دفتر پاکستان جمہوری پارٹی نکلسن روڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ مدرسہ غوث العلوم نیو سمن آباد میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت حلقہ سمن آباد اچھرہ ملتان روڈ لاہور کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس ۱۸/ جولائی کو منعقد ہو رہا ہے۔
۱۹/ جولائی ۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
جمعیتہ طلباء اسلام کا اشتہار
بسلسلہ تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ
جلسہ ہائے عام
آج ۱۹/ جولائی ۷۴ء بروز جمعتہ المبارک
- ۱....... بعد از نماز جمعہ، جامع مسجد باغبان پورہ لاہور
- ۲....... بعد از نماز عشاء، جامع مسجد دھرم پورہ لاہور
- ۳....... بعد از نماز جمعہ، جامع مسجد اہل حدیث جہلم
- ۴....... بعد از نماز جمعہ، جامع مسجد سیالکوٹ
- ۵....... بعد از نماز عشاء، مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶ ...... بعد از نماز جمعہ، مخزن العلوم خان پور
- ۷ ...... بعد از نماز عشاء، جامع مسجد لیاقت پور
- ۸ ...... بعد از نماز جمعہ، جامع مسجد صدیقیہ نواں شہر ملتان
- ۹ ...... بعد از نماز عشاء، جامع مسجد شاہی، کہروڑ پکا ضلع ملتان
مقررین : جناب محمد اسلوب قریشی، جاوید ابراہیم پراچہ، سید مطلوب علی زیدی، رانا شمشاد علی، حافظ محمد طاہر، محمد فاروق قریشی، واجد علی خان، ضیاء الرحمن فاروقی، محمد اقبال خان، سید عشرت علی، حافظ عبد العزیز، حفیظ الدین، رشید اختر، حبیب احمد، عبدالرؤف ربانی، حسین احمد، حسیب احمد۔
لاہور، صمدانی کمیشن میں مرزا ناصر کا بیان
قادیانی فرقہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے آج جسٹس صمدانی ٹربیونل کے سامنے بند کمرے میں اپنا بیان قلمبند کرایا۔ مرزا ناصر احمد کی گواہی کے پروگرام کو خفیہ رکھا گیا تھا اور رپورٹروں تک کو علم نہ تھا کہ آج مرزا ناصر عدالت میں شہادت دیں گے۔ آج صبح ہی سے ہائیکورٹ کے باہر پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کی بھاری جماعت متعین تھی۔ ہائیکورٹ کے فین روڈ گیٹ اور عمارت کے اس حصہ میں جہاں ٹربیونل کا اجلاس ہو رہا ہے۔ وہاں بھی عام لوگوں کا داخلہ بند تھا اور قدم قدم پر پولیس کے سپاہی کھڑے تھے۔ علاقہ کے ڈی۔ایس۔پی مجسٹریٹ اور دیگر پولیس افسر ہائیکورٹ میں موجود تھے۔
ٹربیونل کی کارروائی آج دوسرے کمرے میں کی گئی اور کمرۂ عدالت میں وکلاء کے علاوہ کسی اور فرد کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ پولیس کسی فرد کو برآمدے کے اس حصہ میں بھی جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی جہاں ساتھ والے کمرے میں واقعہ ربوہ کی سماعت ہو رہی تھی۔ سوا نو بجے شاہراہ قائد اعظم کے گیٹ سے تقریباً دس کاروں کے ایک قافلہ کے ساتھ کریم کلر کی مرسڈیز کار میں، جس کی پچھلی کھڑکیوں کے شیشوں پر پردے پڑے ہوئے تھے ، مرزا ناصر احمد عدالت عالیہ میں آئے۔ اس موقع پر ہائیکورٹ میں ان کے فرقے کے سینکڑوں افراد موجود تھے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس ایس رحمن نے مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری کی ”چٹان پریس“ کو ضبط کرنے کے خلاف دائر کردہ رٹ درخواستوں کی سماعت ۲۴؍ جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔ رٹ درخواستوں میں حکومت کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے رٹ درخواست کا تحریری جواب دائر کیا تھا۔ ہوم سیکرٹری نے اپنے دائر کردہ حلفیہ بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بدنیتی پر مبنی نہیں ہے۔ درخواست دہندگان کے وکلاء کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل نے یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ آغا شورش کاشمیری کے وکلاء کی ان سے اکٹھے یا علیحدہ علیحدہ ملاقات کرائیں گے۔
درخواست دہندگان نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ ”چٹان پریس“ کی ضبطی اور آغا شورش کاشمیری کی نظر بندی کا ریکارڈ عدالت میں طلب کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کن الزامات کے تحت یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے بتایا کہ جب صوبائی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوں گے تو وہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں گے۔ وکلاء کی اس درخواست پر کہ آغا شورش کاشمیری کو عدالت میں طلب کیا جائے تاکہ وہ ان سے ہدایات لے سکیں۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ جب عدالت میں آغا شورش کو پیش کیا جائے گا، تو آپ ان کو مل سکیں گے۔ بارہ دن بعد گزشتہ رات نظر بندی کی وجوہات موصول ہوئی ہیں۔ اس لئے ان کا فوری جواب دینا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے جواب دائر کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔ چنانچہ عدالت عالیہ نے دونوں درخواستوں کی سماعت ۲۴؍ جولائی کے لئے ملتوی کر دی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درخواست دہندگان کی طرف سے خواجہ عبدالرحیم بار ایٹ لاء، چوہدری محمد رفیق باجوہ، شیخ مقبول احمد اور مسٹر آفتاب فرخ پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دائر کردہ تحریری جواب میں لکھا ہے کہ حکومت نے بغض یا عناد کے تحت یہ احکامات جاری نہیں کئے۔ حکومت کے پاس جو مواد تھا۔ اس کے مطابق یہ احکامات جاری کئے گئے تھے۔ یہ قانونی احکامات ہیں۔ علاوہ ازیں ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب نے بھی اپنا حلفیہ بیان دائر کیا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ۳؍ جولائی کو آغا شورش کاشمیری نے انہیں فون پر بتایا تھا کہ یکم جولائی کو ’’چٹان‘‘ کا تازہ شمارہ بازار میں چھپ کر آ گیا ہے۔ اب میں کیا کروں، جس پر میں نے جواب دیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔
۲۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور، صمدانی کمیشن کا دورۂ ربوہ
آج مسٹر جسٹس کے. ایم صمدانی کی عدالت میں واقعہ ربوہ کی سماعت بند کمرے میں ہوئی۔ ٹربیونل نے آج روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ایڈیٹر جناب مجید نظامی، روزنامہ ’’مشرق‘‘ کے ایڈیٹر جناب مکین احسن کلیم اور روزنامہ ’’مشرق‘‘ کے شعبہ اشتہارات کے انچارج کے بیانات قلمبند کئے۔
مسٹر رفیق باجوہ ایڈووکیٹ نے ٹربیونل سے درخواست کی تھی کہ ان گواہوں کو ٹربیونل کے روبرو طلب کیا جائے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری کے خلاف جو اشتہار مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اسے کس فرد یا جماعت نے شائع کرایا ہے۔
(آج ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء ربوہ کا کمیشن نے دورہ کیا۔ اس کی رپورٹ ’’تحریک ختم نبوت‘‘ جلد سوم، باب صمدانی کمیشن میں ملاحظہ فرمائیں گے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ طوالت سے بچنے کے لئے یہاں دوبارہ شائع نہیں کیا ......مرتب)
آج ۲۰؍ جولائی بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء رحمانیہ مسجد قلعہ لچھمن سنگھ جلسہ عام منعقد ہورہا ہے زیر صدارت: صاحبزادہ فیض القادری صدر مجلس عمل، لاہور مقررین نوابزادہ نصر اللہ خان چوہدری رحمت الہی مولانا عبید اللہ انور علامہ محمود احمد رضوی بارک اللہ خان احسان الہی ظہیر محمد انور گوندل (طالب علم رہنما) مجلس عمل قلعہ لچھمن سنگھ، راوی روڈ لاہور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
آج کے اخبارات میں وفاقی وزیر مملکت برائے دفاع و خارجہ عزیز احمد کا بیان ان سرخیوں سے شائع ہوا کہ ”بھارت اور افغانستان کی فوجیں بیک وقت پاکستانی سرحدوں کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔‘‘ سیالکوٹ اور چھمب سیکٹروں میں پاکستانی سرحدوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجوں نے مورچے قائم کر لئے ہیں۔ ہم کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں۔ افغان فوجیں سرحد پر اور سرحد سے پیچھے دور تک تیار کھڑی ہیں۔ چین اور امریکہ کی طرف سے پاکستان کی سالمیت کی یقین دہانی ہمارے لئے قابل اطمینان ہے۔ اسلام آباد میں وزیر دفاع کی ہنگامی پریس کانفرنس۔
(یہ آج کے اخبارات کی سرخیاں ہیں۔ قوم کی تحریک ختم نبوت سے توجہ ہٹانے کے لئے ملک عزیز کی سرحدوں کے متعلق اتنا خطرناک اور بھیانک نقشہ پیش کرنا، بھٹو حکومت کا ہی کرشمہ تھا۔ لیکن رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے صدقے جائیے کہ قوم نے ان امور کو حکومتی چابک دستی سے شمار کیا اور اپنی توجہ تحریک ختم نبوت کی طرف ہی مبذول کئے رکھی۔ رب کریم کا کرم ہوا کہ ملک کی جغرافیائی سرحدیں بھی محفوظ رہیں اور نظریاتی سرحدوں کے دشمن قادیانی بھی غیر مسلم اقلیت قرار پائے)
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج اڑھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سربراہ صدر الدین کا محضر نامہ پڑھا گیا۔ (جرح اگست میں ہوئی، جس کی تفصیل پانچ جلدوں میں شائع ہو چکی ہے ) آج یہاں سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ۲۱؍ جولائی کو صبح ۱۱؍ بجے ہوگا۔
بلوچستان ...... پنجاب ، سندھ کے بعد اب بلوچستان
روزنامہ ”سچائی‘‘ کوئٹہ پر پھر دو ماہ کے لئے پابندی لگادی گئی۔ اس اخبار پر تیسری بار پابندی لگائی گئی ہے۔ سہ روزہ ”ہمت‘‘ اور ہفت روزہ ”ندائے بلوچستان‘‘ پر دو ماہ کی پابندی کی مدت ختم ہونے پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی ہے۔
ایک اشتہار
مجلس عمل کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف
۲۲؍ جولائی بروز پیر، بعد نماز عشاء، مسجد چینیاں والی نزد کوچہ چابک سواران، رنگ محل لاہور میں
جلسہ عام
زیر صدارت: سید عباس علی ایڈووکیٹ
مقررین
میاں طفیل محمد علامہ محمود احمد رضوی نوابزادہ نصر اللہ خان علامہ احسان الہی ظہیر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا مفتی محمود بارک اللہ خان صاحبزادہ فیض القادری حافظ عبدالقادر روپڑی مولانا عبید اللہ انور طارق سعید سیکرٹری جنرل، مجلس عمل، حلقہ نمبر ۱، لاہور
۲۲ / جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور، مجلس شاد باغ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت شاد باغ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں درج ذیل عہدیداروں کو منتخب کیا گیا۔ صدر حاجی محمد شریف اشرفی جماعت اسلامی، نائب صدر مولانا عبدالغفور، مولانا طفیل محمد، مولانا قاری خادم حسین، مولانا حافظ بشیر احمد خطیب، جنرل سیکرٹری مولانا خورشید احمد قصوری، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ ظہیر الدین، ناظم نشر و اشاعت مسعود اختر، خازن حافظ محمد ابراہیم۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت حلقہ نمبر ۱ کے زیر اہتمام ۲۲ / جولائی پیر کو بعد نماز عشاء مسجد چینیا نوالی کوچہ چابک سواراں رنگ محل میں ایک جلسہ عام منعقد ہو رہا ہے۔ میاں طفیل محمد، طارق سعید، نوابزادہ نصر اللہ خان، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا مفتی محمود، بارک اللہ خان، مولانا عبدالستار خان نیازی، صاحبزادہ فیض القادری، علامہ عنایت اللہ گجراتی، علامہ محمود احمد رضوی، ملک قاسم، ثناء اللہ بھٹہ اور مولانا عبید اللہ انور خطاب کریں گے۔
مرکزی مجلس عمل کے صدر حضرت بنوری کی پریس کانفرنس
راولپنڈی: مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ ایک خالصتاً دینی مسئلہ پر اظہار رائے کے سلسلے میں اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان پابندیوں کے خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہوئے مجلس عمل نے حکومت سے کہا ہے کہ وطن عزیز کو خارجی خطرات اور داخلی انتشار سے بچانے کے لئے ملی اتحاد کے اس مقدس جذبہ کو، جو موجودہ تحریک سے پیدا ہوا ہے۔ برقرار رکھنے کی کوشش کرنے اور عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم منظور کی جائے۔ مجلس عمل کے اس مؤقف کا اظہار اس کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری نے پریس کانفرنس میں کیا۔ مولانا نے پریس کانفرنس میں وہ قراردادیں بھی پیش کیں۔ جو گزشتہ روز سات گھنٹے کے طویل اجلاس میں منظور کی گئی تھیں۔ ایک قرارداد سوشل اور اقتصادی بائیکاٹ کے بارے میں تھی۔ انہوں نے اس بات پر نکتہ چینی کی کہ اپوزیشن اور تحریک کے ارکان پر بھی اسمبلی سے باہر کسی قسم کی بات کرنے پر پابندی ہے۔ مگر حکومت کی اعلیٰ شخصیتیں جلسوں کے ذریعے سے اس موضوع پر اظہار خیال کر رہی ہیں۔ پریس کانفرنس میں مولانا تاج محمود، مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا خان محمد، مولانا حبیب الرحمٰن بخاری، قاری سعید الرحمٰن، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا سمیع الحق اور دوسرے علماء کرام بھی موجود تھے۔
قرارداد میں حکومت کے جانبدارانہ رویہ اور اخبارات پر پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کی انتہاء یہ ہے کہ اس عنوان سے متعلق ہر قسم کا لٹریچر شائع کرنے یا سائیکلو سٹائل کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ”جسارت“، ”چٹان“، ”ندائے بلوچستان“، ”اعلان“ بند کر دیئے گئے اور تین جرائد کے ایڈیٹروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی ہے۔ مذہبی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجتماعات کے لئے بھی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی منظوری لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ طلباء، علماء، سیاسی کارکنوں اور وکلاء کو وسیع پیمانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے تحریک کے خلاف یک طرفہ مہم جاری ہے۔ پریس ٹرسٹ کے اخبارات میں تحریک کے خلاف اداریے لکھوائے گئے اور ملک کے اکثر اخبارات میں زرکثیر خرچ کر کے مرکزی مجلس عمل کے صدر کے خلاف بے سروپا الزامات پر مشتمل اشتہارات شائع کرائے گئے ہیں۔ مجلس عمل نے وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ سرحد کے دوران بعض ریمارکس پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اخبارات پر عائد پابندیاں واپس لی جائیں اور گرفتار ایڈیٹروں کو رہا کیا جائے۔ فضاء کو بہتر بنانے کے لئے تمام اسیر طلباء اور کارکنوں کو فوراً رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ مزید برآں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس ٹرسٹ کے اخبارات کے ذریعے تحریک کے خلاف مہم بند کی جائے۔ مجلس عمل نے قومی اسمبلی کے ارکان سے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ اسلامی جذبہ، ملک کے بنیادی نظریہ کے تحفظ اور پاکستانی ہمہ گیر مطالبہ کے پیش نظر بالاتفاق اس بل کو منظور کرائیں جو زیر بحث مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج شام پھر منعقد ہوا، جس میں جماعت احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کا حلفی بیان قلمبند کیا گیا۔ مرتب)
کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، جو چھ گھنٹے تک جاری رہے۔ بیان ابھی جاری تھا کہ اجلاس کل صبح تک کے لئے ملتوی ہو گیا۔
ہائیکورٹ ، چار طالب علم رہنماؤں کی رہائی
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شفیع الرحمٰن نے چار طالب علم رہنماؤں کی نظر بندی میں توسیع کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔ ان چار طلباء کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ جن طلباء کی فوری رہائی کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں اسلامی جمعیۃ طلباء کے مسٹر فرید پراچہ اور مسٹر مسعود کھوکھر اور جمعیۃ طلباء اسلام کے مسٹر عبدالمتین چوہدری اور محمد طفیل ہاشمی شامل ہیں۔ انہیں ۷ جون کو پندرہ دنوں کے لئے نظر بند کیا گیا تھا۔ تاہم پندرہ دن گزرنے کے بعد ان کی مدت نظر بندی میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ توسیع کے احکام کے خلاف ان طلباء کی طرف سے ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کی گئی۔ جس پر آج ہائیکورٹ نے سرکاری احکام کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے ان کی فوری طور پر رہائی کا حکم دیا ہے۔
۲۳؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
راولپنڈی، جمعیۃ المشائخ اصفیاء
جمعیۃ المشائخ اصفیاء کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں قوم پر زور دیا گیا ہے کہ احمدیہ مسئلہ کے بارے میں وزیر اعظم بھٹو نے قوم سے جو وعدہ کیا ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے تحمل مزاجی سے انتظار کریں۔ اجلاس، جس کی صدارت پیر صاحب دیول شریف نے کی۔ جمعیۃ کے ناظم اعلیٰ پیر صاحب چورہ شریف نے بھی شرکت کی۔ پیر صاحب نے اجلاس میں تین صفحے کا بیان پڑھ کر سنایا۔ جس میں وزیر اعظم بھٹو کے اقدامات اور ان کی تقریر کی تعریف کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعظم پہلے سربراہ مملکت ہیں جنہوں نے ختم نبوت کے بارے میں اعلان کیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مقاطعہ ...... روزنامہ جنگ کا ادارتی شذرہ
”وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورۂ سرحد کے دوران متعدد مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانی مسئلہ پر عدالتی تحقیقات ہو رہی ہے۔ ایک ٹربیونل گواہوں کے بیانات قلمبند کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی بھی ایک خاص کمیٹی کی حیثیت سے اس مسئلہ پر غور کر رہی ہے۔ وہ جب سرحد کا دورہ ختم کر کے اسلام آباد پہنچیں گے تو قومی اسمبلی کے ارکان سے کہیں گے کہ وہ اس کام کو فی الفور مکمل کریں۔ وزیر اعظم نے اپنی تقاریر میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کے حق میں نہیں کہ قادیانیوں کا مقاطعہ کیا جائے۔ کیونکہ کسی بھی گروہ کو ضروریات زندگی سے محروم کرنا کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں اور نہ ہی یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
وزیر اعظم بھٹو قادیانی کے مسئلہ پر متعدد مرتبہ اپنی ذاتی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ وہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں لے گئے ہیں اور بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ وہ یہ مسئلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل کر دیں گے۔ ان یقین دہانیوں کے پیش نظر بھی توقع کرنی چاہئے کہ یہ مسئلہ حل کرنے میں تاخیر نہیں ہوگی۔ اگرچہ اس بارے میں اسلامی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، مراکش، نائیجیریا، انڈونیشیا، مصر وغیرہ کے علماء کرام کا کنونشن بلا کر ان کی رائے حاصل کر لی جاتی تو زیادہ مناسب تھا۔ کیونکہ اس طرح ہم قادیانیوں کے بین الاقوامی پروپیگنڈا اور دباؤ کا احسن اور مؤثر طریق پر جواب دے سکتے تھے۔ ہماری رائے میں اب بھی کوئی زیادہ دیر نہیں ہوئی اور دنیائے اسلام کے علماء کرام سے اس مسئلہ پر رائے لی جا سکتی ہے۔ بہر کیف یہ بات یقینی نظر آتی ہے کہ مسٹر بھٹو اس مسئلہ کا بہت جلد فیصلہ کر لیں گے۔ اس مسئلہ کا جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس وقت تک سواد اعظم کا یہ اولین فرض ہونا چاہئے کہ وہ ملک کو درپیش بھیانک خطرات اور نازک حالات کا احساس کریں، پرامن رہیں اور کوئی ایسی بات نہ ہونے دیں کہ پاکستان کے دشمن یہاں امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرنے یا انتشار و افتراق پیدا کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس اثناء میں اگر انہیں کسی جانب سے اشتعال دلانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے تو انہیں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن رہنا چاہئے۔ ایسے اکا دُکا واقعات سننے میں آئے ہیں کہ سواد اعظم کے جذبات کا احترام نہیں کیا گیا اور انہیں مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم عوام سے یہ اپیل کریں گے کہ وہ مشتعل نہ ہوں۔ اکثریت میں ہونے کی وجہ سے سواد اعظم کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔
جہاں تک قادیانیوں کے مقاطعہ کا تعلق ہے، اس بارے میں ہم کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سنسر کی پابندیوں کے باعث ایسی خبریں منظر عام پر نہیں آ رہیں جن کے پیش نظر کوئی رائے قائم کی جائے۔ البتہ طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ اگر کسی جگہ قادیانیوں کے مقاطعہ یا سماجی بائیکاٹ کی قسم کی کوئی چیز ہے تو اسے نرم یا کسی حد تک ختم کرنا چاہئے۔ کیونکہ جیسا کہ وزیر اعظم بھٹو نے کہا کسی کو اشیائے خوردنی سے محروم کرنا مناسب نہیں۔ آخر احمدی بھی پاکستان کے شہری ہیں اور اس مسئلہ کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی وہ پاکستان کے شہری رہیں گے۔ شہریوں کے کسی طبقہ کو ضروریات زندگی سے محروم کرنا اچھا نہیں بلکہ نامناسب ہے۔“
(ادارتی شذرہ جنگ کراچی، مؤرخہ ۲۳؍جولائی ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(یہ روزنامہ جنگ کا ادارتی شذرہ ہے، جس میں انہوں نے اپنا فلسفہ پیش کیا ہے۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ قادیانیوں نے قادیان میں مسلمانوں کا کس طرح مقاطعہ کیا، کس طرح اب ربوہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کا مقاطعہ کرتے ہیں۔ ربوہ کے اسٹیشن پر مسلمان طلباء کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ کیا حربی کافروں کے ساتھ کم از کم مقاطعہ پر بھی عملدرآمد کے لئے دینی قوتوں کو ہی مطعون کرنا ملک کی خدمت ہے؟ اس ضمن میں مجلس عمل نے اپنا فرض ادا کیا۔ پاکستان کے نامور مفتی حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب سے ایک فتویٰ مرتب کرا کر شائع کیا گیا۔ اس کا نام تھا۔ ”قادیانیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت“ اسی عنوان سے فیصل آباد بریلوی مکتبہ فکر کے مدرسہ جھنگ بازار کے مفتی محمد امین صاحب کا بھی ایک فتویٰ شائع ہوا۔ اس کے نتیجے میں مالکان اخبارات کی تحریک ختم نبوت پر یہ یلغار رک گئی)
۲۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مَوّقف ملت اسلامیہ کی ترتیب
مرزا ناصر کا قومی اسمبلی کی کمیٹی میں محضر نامہ پڑھنے کا عمل مکمل ہو گیا۔ اس محضر نامہ کا جواب مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے مَوّقف ملت اسلامیہ کے نام سے ترتیب دیا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری نے راولپنڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے کتب خانہ اور مناظرین مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبدالرحیم اشعر کو پنڈی طلب کر لیا۔ محضر نامہ کے دینی حصہ کا ان دونوں حضرات نے مواد مہیا کیا۔ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب نے اسے مرتب فرمایا۔ سیاسی حصہ کا مواد حضرت مولانا محمد شریف جالندھری اور حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے مہیا کیا۔ جب کہ اسے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب نے مرتب فرمایا۔ جتنا حصہ مرتب ہو جاتا، اسے شام کو حضرت مولانا مفتی محمود صاحب، مولانا شاہ احمد نورانی، چوہدری ظہور الٰہی وغیرہم، حضرت شیخ بنوری مرحوم کی موجودگی میں سن لیتے۔ ترمیم واضافہ کے بعد اسے سید الخطاطین سیدی و مرشدی حضرت قبلہ سید انور حسین نفیس رقم دامت برکاتہم کے سپرد کر دیا جاتا۔ آپ اپنے شاگردوں کی جماعت کے ساتھ راولپنڈی میں حضرت بنوری مرحوم کے ساتھ مقیم تھے۔ وہ آپ کتابت کر دیتے اور پھر اسے پریس اشاعت کے لئے بھیج دیا جاتا۔ پریس پر پابندیاں تھیں۔ قادیانیت کے خلاف کچھ شائع کرنے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ ان نامساعد حالات میں ہمارے بزرگوں نے کوشش کر کے قادیانی ولاہوری گروپ کے محضر ناموں کا جواب ”ملت اسلامیہ کا مَوّقف“ نامی مرتب کیا۔ یہ کتاب ۶ دن کی قلیل مدت میں مکمل ہو گئی۔ اسے حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم نے قومی اسمبلی میں پڑھا۔ تمام ممبران میں اسے تقسیم کیا گیا۔ سب سے پہلے اسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کیا۔ بعد میں اسے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کے ادارہ ”الحق“ نے شائع کیا اور پھر مکتبہ حقانیہ (امدادیہ) ٹی بی روڈ ہسپتال ملتان نے شائع کیا۔ حضرت شیخ بنوری کے حکم پر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب سکندر نے اس کا عربی میں اور حضرت مولانا تقی عثمانی نے اس کا انگلش میں ترجمہ کیا۔ عربی، انگلش بھی مرکزی شعبہ نشر واشاعت دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے شائع کیا۔ عرب ممالک میں عربی اور یورپی ومغربی ممالک میں انگلش فری تقسیم کرنے کا عالمی مجلس نے اہتمام کیا۔ لاہوری گروپ کے محضر نامہ کا مستقل جواب حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم نے شائع کر کے نہ صرف قومی اسمبلی میں پڑھا۔ بلکہ اسے ممبران اسمبلی میں بھی تقسیم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ یوں الحمدللہ! قادیانی ولاہوری گروپ کے محضر ناموں کا جواب قومی اسمبلی میں دیا گیا۔ فالحمد للہ علی ذالک!
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵ / جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
بھٹو صاحب فورٹ سنڈیمن میں
بھٹو صاحب نے ان دنوں چترال، دیر، پشاور وغیرہ کا دورہ کیا۔ وہ جہاں تشریف لے گئے، جلسہ عام میں لوگوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس طرح آپ بلوچستان کے دورہ کے موقع پر ژوب، فورٹ سنڈیمن گئے۔ صوفی محمد علی مرحوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ بہادر رہنما اور مولانا سید شمس الدین مرحوم کے ساتھی تھے۔ انہوں نے جلسہ میں ایسی منصوبہ بندی سے بھٹو صاحب سے سوالات کئے کہ ان کو تقریر روکنا پڑی اور یہ اعلان کرنا پڑا۔
”وزیر اعظم بھٹو نے آج یہاں کہا ہے کہ قومی اسمبلی مرزائیوں کے مسئلے پر غور کر رہی ہے اور یہ جمہوری ادارہ جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ ان کے لئے قابل قبول ہوگا۔ آج شام یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں خود کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے۔ کیونکہ یہ نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان کا جو آئین تیار کیا ہے، اس میں اس بات کی مکمل ضمانت دی گئی ہے کہ صرف مسلمان ہی پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ ان دونوں عہدوں کے لئے افراد کو یہ حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہیں۔“
آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ صاحبزادہ سید فیض الحسن نے سنی ختم نبوت کنونشن کے نام سے راولپنڈی میں ایک اجتماع کیا تھا۔ اس اجتماع کی رپورٹنگ میں ٹرسٹ کے اخبارات نے ان کے متعلق لکھ دیا کہ وہ قادیانیوں کے بائیکاٹ کو جائز نہیں سمجھتے۔ اس کی یہ وضاحت اخبارات میں اشتہار ہذا کے ذریعے صاحبزادہ نے کی۔
ضروری وضاحت
”میں نے راولپنڈی کنونشن میں سوشل بائیکاٹ کی مخالفت میں قطعاً کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ محض بہتان ہے۔ میری تمام زندگی تحفظ ختم نبوت میں گزری ہے اور گزرے گی۔“
(صاحبزادہ فیض الحسن)
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی اپنا کام کر رہی تھی۔ ادھر ملک بھر میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنما طوفانی دورے کر رہے تھے۔ سرگودھا میں دن کو عظیم الشان کنونشن اور رات کو جلسہ عام ہوا۔ دوسرے دن حضرت شیخ بنوری اور دیگر رہنما سرگودھا سے لالیاں، چنیوٹ ہوتے ہوئے فیصل آباد تشریف لائے۔ تیسرے دن فیصل آباد سے کھرڑیانوالہ، شاہ کوٹ، مانانوالہ، شیخوپورہ، کوٹ عبدالمالک میں خطاب کرتے ہوئے لاہور، وہاں سے اگلے روز شاہدرہ، مریدکے، کامونکے سے گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہوئے۔ خبر ملاحظہ ہو:
مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری، جنرل سیکرٹری علامہ محمود احمد رضوی، نوابزادہ نصر اللہ خان، حافظ عبدالقادر روپڑی، سید مظفر علی شمسی اور دیگر قائدین ۲۹ / جولائی بروز پیر گوجرانوالہ آ رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق صبح دس بجے ضلعی مجلس عمل کے کنونشن میں شریک ہوں گے اور رات کو نو بجے جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک اشتہار
نمائندگان مجالس عمل شہر لاہور
اجلاس
شہر لاہور اور تحصیل قصور و چونیاں کی مجالس عمل کے نمائندوں کا ایک اجلاس آج ۲۵؍جولائی ۱۹۷۴ء کو ساڑھے چار بجے شام دفتر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور شہر واقع ۹- شارع فاطمہ جناح میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں تمام مقامی مجالس عمل کے دو دو نمائندے شریک ہوں اور اس اعلان کو دعوت نامہ تصور کریں۔
بارک اللہ خاں جنرل سیکرٹری، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور
۲۶؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
جناب بھٹو صاحب فورٹ سنڈیمن سے مسلم باغ پہنچے تو ان کو جلسہ عام میں یہ اعلان کرنا پڑا۔
”وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ حکومت احمدی مسئلہ کو منصفانہ اور مکمل طور پر حل کر دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نازک مذہبی مسئلہ پر، جو ۹۰ برس پرانا ہے۔ اپنی طرف سے کوئی فیصلہ مسلط کرنے کے حق میں نہیں۔ ایسا انداز تو میں نے کسی سیاسی مسئلہ پر بھی اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا اس لئے حکومت نے یہ مسئلہ قومی اسمبلی کو پیش کر دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اسے مشترکہ طور پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مزید برآں ماہرین سے بھی مشورہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا وہ راولپنڈی واپس پہنچنے پر اس سلسلے میں اب تک کی کارکردگی کے بارے میں معلوم کریں گے اور غیر ضروری تاخیر ہرگز نہیں ہونے دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے آئین کے تحت میں نے اپنے عہدہ کا جو حلف اٹھایا ہے، اس میں آنحضرت ﷺ پر ایمان کا اقرار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کسی سابق آئین میں یہ دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی۔“
شورش کی تحقیقاتی عدالت میں گواہی
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس کے. ایم. اے صمدانی کی عدالت میں آج واقعہ ربوہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں سماعت بند کمرے میں ہوئی۔ فاضل ٹربیونل نے آج مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری اور بشیر نامی ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا۔ آج عدالت میں ربوہ پولیس اسٹیشن کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا۔ مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری کو میو ہسپتال سے، جہاں وہ زیر حراست ہیں، پولیس کی نگرانی میں ساڑھے گیارہ بجے عدالت میں گواہی کے لئے پیش کیا گیا۔ عدالت کی کارروائی کیونکہ بند کمرے میں ہو رہی تھی۔ اس لئے کمرۂ عدالت کے باہر متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔
جلسے
آج ۲۶؍جولائی ۱۹۷۴ء بروز جمعۃ المبارک
- بمقام: جامع مسجد نور، نسبت روڈ، بعد نماز جمعہ
- بمقام: مدرسہ تقویت الاسلام، لال مندر، شیش محل روڈ، بعد نماز جمعہ
- بمقام: غوثیہ مسجد، عبدالکریم روڈ، بعد نماز عشاء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ❁....... بمقام: مسجد مزمل، بندر روڈ، چوک یتیم خانہ، بعد نماز عشاء
مقررین
عبدالشکور، مسعود کھوکھر، اکمل جاوید، احسان اللہ وقار، حافظ شفیق الرحمن، ضیاء اللہ خان، راجہ شفقت حیات، انور گوندل، مقصود احمد، منصور الحمید اور ہمایوں مجاہد۔
(اسلامی جمعیتہ طلباء (پاکستان) لاہور)
علامہ محمود احمد رضوی کی پریس کانفرنس
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری علامہ محمود احمد رضوی نے کہا ہے کہ مرزائیوں کے متعلق جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک متحدہ مجلس عمل کا مطالبہ ہماری وضاحت کے ساتھ قومی اسمبلی میں پیش ہو کر منظور نہیں ہو جاتا۔ وہ آج دفتر جماعت اسلامی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی ملت اسلامیہ کی امنگوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق اس مسئلے کے حل کی جو صورت نکالی جائے گی، وہ یہ ہو گی کہ آئین میں یہ کہہ دیا جائے گا کہ ختم نبوت کے منکر مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن ہم یہ حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے نہ ہی یہ مسئلہ حل ہو گا اور نہ ہی قوم مطمئن ہو گی۔ صحیح صورت صرف یہ ہے کہ واضح طور پر منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا اگر یہ مسئلہ قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ہمارے مطالبات کے مطابق حل ہوتا نظر نہ آیا تو مجلس عمل نے قومی اسمبلی کے ارکان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ کمیٹی سے واک آؤٹ کر جائیں اور پھر مسئلہ قوم خود حل کرائے گی۔
اخبارات پر سنسر مساجد میں سپیکروں پر پابندی
انہوں نے اخبارات پر سنسر اور مساجد میں لاؤڈ سپیکروں کی پابندی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ صورتحال افسوس ناک ہے کہ حکومت نے تحریک کو پرامن طور پر چلانے کے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے اور برصغیر کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جب کسی مذہبی مسئلے کی طباعت و اشاعت پر پابندی لگائی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر روز تحریک کے جلسے ہو رہے ہیں۔ لیکن خبروں پر پابندی ہے۔ یہ عدل و انصاف اور جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل پر پابندی ہے لیکن مرزائیوں کے لٹریچر پر کوئی پابندی نہیں ہے اور وزیر اعظم اور ان کے رفقاء اس مسئلے پر تقاریر کر رہے ہیں، جن کی اشاعت پر کوئی پابندی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر اور مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی ہے جو نا قابل برداشت ہے اور مجلس عمل نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت نزاعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ اس بات پر متفق ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کرے گی جس سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سالمیت و بقاء کے لئے ہر فتنہ کا استیصال ہر محب وطن پر فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں کے ضمن میں دستاویزی حقائق پر مشتمل ایک بیان مجلس عمل نے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل میں جو دینی اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں، ان کا مقصد صرف اس دینی مسئلہ کو حل کرنا ہے اور اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل کے مسئلے پر غور کرنے کے لئے چوہدری غلام جیلانی، نوابزادہ نصر اللہ خان اور علامہ محمود احمد رضوی پر مشتمل ایک سہ رکنی کمیٹی مرتب کی گئی ہے اور وہ اس ضمن میں ایک دو روز میں فیصلہ کرے گی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
لاہور، آغا شورش کی رہائی
حکومت پنجاب نے ہفت روزہ ”چٹان“ کے مدیر آغا عبدالکریم شورش کاشمیری کو رہا کر دیا ہے اور ان کے پریس اور رسالے پر عائد پابندی اٹھالی ہے۔ آغا شورش کاشمیری کی رہائی کا حکم آج شام انہیں ایک مقامی مجسٹریٹ نے ہسپتال میں دیا اور اپنی نگرانی میں پریس کی سیلیں کھلوائیں۔ آغا شورش کاشمیری کو تقریباً دو ہفتے قبل ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بیماری کی وجہ سے وہ میو ہسپتال میں نظر بند کر دیئے گئے تھے۔
لائل پور میں مولانا محمد حسن کی گرفتاری
چک جھمرہ پولیس نے قانون تحفظ امن عامہ کی خلاف ورزی کرنے پر مولانا محمد حسن کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے گزشتہ روز جامع مسجد میں ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کی تھی۔ جڑانوالہ پولیس نے جلسہ عام سے خطاب کرنے پر طالب علم جلیل اور ان کے متعدد ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
۲۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
عبدالحفیظ پیرزادہ کا اخباری بیان
وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا ہے کہ قادیانیوں کے مسئلے پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی مقررہ وقت میں اپنی سفارشات مرتب کرلے گی۔ آج خیبر میل کے ذریعے راولپنڈی سے کراچی پہنچنے کے بعد اے. پی. پی سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر پیرزادہ نے کہا کہ قادیانیوں کے مسئلہ کا فیصلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی ہی صحیح جگہ ہے۔ قومی اسمبلی کی سفارشات کو عوام کے سامنے ریفرنڈم کے لئے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی اس قسم کی گنجائش نہیں ہے۔
کوثر نیازی کا بیان
حیدرآباد: اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر مولانا کوثر نیازی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی تقدیس اور تکریم کو آئینی تحفظ دے گی جو اب تک کسی دوسرے اسلامی ملک نے نہیں کیا ہے۔ مولانا نے کل رات ایک سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرور کائنات ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی حالت میں بھی اجازت نہیں دے گی اور گستاخی کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔ انہوں نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ میرا اور میرے قائد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا یہ ایمان ہے کہ جو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ مولانا نے کہا کہ حکومت قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی میں جمہوری اور آئینی طریقے سے حل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ عوامی حکومت سے اپنے سیاسی جھگڑے چکانے کے لئے صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جس کسی نے بھی اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے حضور ﷺ کے نام نامی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ کبھی شادماں نہیں ہوا۔ اسے نہ اب کامیابی نصیب ہو سکتی ہے اور نہ آئندہ۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
متنبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی دھڑے بندی سے بالا تر رکھیں اور حضور ﷺ کی تقدیس وتکریم کی حفاظت کرنے کا عہد کریں۔ اسی طریقہ پر چل کر ہم ملک کو مضبوط اور مستحکم کر سکتے ہیں۔
۲۹ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ، شالامار ٹاؤن
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت شالامار ٹاؤن کا انتخاب ہوا اور مندرجہ ذیل حضرات کو متفقہ طور پر عہدیدار مقرر کیا گیا۔ صدر مولوی حاجی محمد اسماعیل، نائب صدر حاجی فیروز دین، قاری محمد بشیر، جنرل سیکرٹری میاں غلام محمد، جوائنٹ سیکرٹری پرویز، خزانچی حاجی محمد جمیل، ناظم نشر و اشاعت حکیم محمد علی۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ، نئی انار کلی
نئی انار کلی ، پرانی انار کلی ، پیسہ اخبار، ہسپتال روڈ کی مجلس عمل کا انتخاب ہوا، جس کے سر پرست مولانا محمد ابراہیم، امیر مولانا فضل الرحیم مہتمم جامعہ اشرفیہ، نائب امیر مولانا غلام یسین چشتی خطیب، (نائب امیر دوم ) مولانا نذیر احمد ، جنرل سیکرٹری محمد ارشاد، سیکرٹری حافظ مقبول الرحمن قریشی، نائب سیکرٹری مولانا مجید اللہ، خازن محمد حنیف، ناظم نشریات آفتاب اور سالار محمد متین منتخب ہوئے۔
تشکیل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، مزنگ
گزشتہ روز یہاں مزنگ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۳۵ افراد کا ایک اجتماع زیر صدارت حافظ محمد فاضل منعقد ہوا۔ جس میں مجلس عمل مزنگ کے لئے درج ذیل عہدیدار منتخب کئے گئے۔ صدر حافظ محمد فاضل، نائب صدر قاری محمد فقیر، نائب صدر رحمان گل، جنرل سیکرٹری نسیم اصغر، ناظم نشر و اشاعت قاری محمد عارف، خزانچی احمد سعید، تشکیل ذیلی مجالس عمل کے مطابق حلقہ یکی گیٹ کے لئے صدر میر محمد اسحاق، نائب صدر محمد اشرف، مولوی محمد عبداللہ، حکیم محمد سلیم، مولانا یار محمد، جوائنٹ سیکرٹری محمد یونس، جوائنٹ سیکرٹری حافظ لال دین، پبلسٹی سیکرٹری رحمت علی، فنانشل سیکرٹری ماسٹر علی محمد، کنوینئر رابطہ کمیٹی جمعے خاں، سر پرست حاجی فیض محمد ، مرزا سلطان بیگ منتخب ہوئے۔ حلقہ آسٹریلیا بلڈنگ کے لئے صدر مولانا عبدالباری، سیکرٹری جنرل آغا محمد نواز، نائب صدر محمد فاروق، مولانا حکیم ثناء اللہ، ڈاکٹر اختر، جوائنٹ سیکرٹری عصمت اللہ ، خزانچی عبدالغفور منتخب ہوئے۔
انجمن طلباء اسلام پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات محمد خان لغاری نے گزشتہ روز مسجد حسین شاہ بازار جوڑے موری اندرون لوہاری گیٹ انجمن کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسول ﷺ کا تحفظ مؤمن کی زندگی کا بنیادی مقصد ہے اور طلباء اس عظیم نصب العین کے حصول کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم جذبہ حسینی سے سرشار ہیں۔
اسلامی جمعیتہ طلباء حلقہ باغبانپورہ کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت کے سلسلے میں ایک جلسہ عام مسجد باغیچی سیٹھا والی میں منعقد ہوا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ جلسہ سے جامعہ پنجاب کے طالب علم رہنما قاری مغیث احمد ، محمد صدیق ہاشمی ، صابر حسین، اسرار الحق اعوان،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرفراز احمد شاکر اور ارشد بھٹی نے خطاب کیا۔
ایک اشتہار
اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال
جمعرات ۲۵/ جولائی ۱۹۷۴ء سے اوکاڑہ میں تحفظ ختم نبوت ﷺ کے رضا کاروں کی گرفتاری کے خلاف مکمل احتجاجی ہڑتال جاری ہے اور تا اطلاع ثانی جاری رہے گی از طرف مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، اوکاڑہ
(اخبارات پر سنسر ہے۔ آج ۲۹/ جولائی ہے۔ ۲۵/ جولائی سے اوکاڑہ میں یعنی پانچ روز سے ہڑتال ہے۔ یہ ہڑتال چودہ دن تک رہی)
اصل مجلس احرار کون سی ہے؟
مجلس احرار اسلام کے امیر سید ابو معاویہ ابو ذر بخاری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس احرار اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور اس ضمن میں مجلس احرار، مجلس عمل کی جدوجہد میں شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس احرار کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے میں نے مجلس عمل کے صدر مولانا یوسف بنوری کو تحریری طور پر مجلس احرار کی خدمات پیش کرتے ہوئے اس امر سے بھی آگاہ کیا تھا کہ جو لوگ متحدہ مجلس عمل میں مجلس احرار کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور انہیں جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۵/ جون کو ملتان میں مجلس شوریٰ کی عظیم اکثریت نے ثناء اللہ بھٹہ اور ان کے رفقاء کو مجلس احرار سے نکال دیا ہے اور لائل پور میں ہونے والے اجلاس کا مجلس احرار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس احرار کی شوریٰ کی اکثریت کی تائید مجھے حاصل ہے اور میری جماعت صحیح مجلس احرار ہے۔
(امروز لاہور، مورخہ ۲۹/ جولائی ۱۹۷۴ء)
۳۰/ جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ہڑتال کا فیصلہ (اشتہار)
اوکاڑہ، ساہیوال، سرگودھا، گجرات اور ملک کے دوسرے شہروں میں عوام پر بے جا تشدد، علماء، طلباء اور کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور انتظامیہ کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر آج لائل پور شہر میں مکمل ہڑتال ہوگی۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، لائل پور
پاکستان متحدہ جمہوری محاذ
پاکستان متحدہ جمہوری محاذ کی جنرل کونسل نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جنرل کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے علماء، طلباء اور دیگر کارکنوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو مذموم مہم جاری ہے، وہ فی الفور ختم کی جائے۔ قومی اسمبلی آئین میں جلد سے جلد ترمیم کر کے قادیانیوں کا مسئلہ عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔ جنرل کونسل نے ان خیالات کا اظہار قراردادوں کی صورت میں کیا ہے۔ جو آج یہاں جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد متحدہ جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے ایک پریس کانفرنس میں جاری کیں۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اخبارات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور ان کے اسیر ایڈیٹروں کو رہا کیا جائے۔ اس قرارداد میں حکومت کے حسب ذیل اقدامات کو جانبدارانہ قرار دیا گیا ہے۔
- ۱...... مساجد میں اجتماعات ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ممنوع قرار دیئے گئے۔
- ۲...... مذہبی اجتماعات میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی منظوری ضروری قرار دے دی گئی۔
- ۳...... اخبارات پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں کوئی خبر، تبصرہ یا آرٹیکل شائع نہیں کر سکتے۔
- ۴...... چھاپہ خانوں کو اس مسئلہ کے بارے میں کوئی مواد شائع کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
- ۵...... جسارت، اعلان، چٹان، سچائی اور ندائے بلوچستان کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی اور جسارت، اعلان اور چٹان کے
ایڈیٹروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
- ۶...... ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس ٹرسٹ کے اخبارات کے ذریعے اس مقدس تحریک کے خلاف یک طرفہ پراپیگنڈا کیا گیا اور پریس
ٹرسٹ کے اخبارات کے اداریے تحریر کروائے گئے۔
- ۷...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے خلاف جھوٹے اور بے سروپا الزامات پر مبنی اشتہارات اہتمام سے شائع کر دیئے گئے۔
- ۸...... ملک کے اکثر مقامات پر علماء، وکلاء، سیاسی کارکنوں اور طلباء کی گرفتاریاں ڈی۔ پی۔ آر اور تحفظ امن عامہ آرڈیننس کے تحت عمل
میں لائی گئیں۔
- ۹...... وزیراعظم نے حالیہ دورۂ سرحد کے دوران ہندوستان کے ایٹمی دھماکے بھارتی افواج کے چھمب اور سیالکوٹ سیکٹر سے متصل
سرحدوں پر اجتماع، افغان افواج کی ڈیورنڈ لائن کے ساتھ نقل وحرکت، ۲۲؍مئی کے ربوہ اسٹیشن پر مفروضہ واقعہ اور تحریک ختم نبوت کو ایک ہی سازش کی مختلف کڑیاں قرار دیا۔ یہ تمام باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ حکومت ان حالات کو سنوارنے کی بجائے بگاڑنے پر تلی ہوئی ہے۔
محمود احمد رضوی، صمدانی کمیشن سے بائیکاٹ کا اعلان
متحدہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ مرکزی مجلس عمل کے وکلاء کو صمدانی ٹربیونل کی کارروائی سے دستبردار ہونے کی ہدایت کی گئی ہے اور وکلاء تحقیقات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج فاضل جج کی عدالت میں وکلاء نے درخواست پیش کی کہ مرزا ناصر احمد پر ان کے سابقہ بیان کی روشنی میں وکلاء کو جرح کی اجازت دی جائے۔ مختلف وکلاء نے جو گواہوں کی فہرست دی ہے۔ انہیں بطور گواہ طلب کیا جائے، جماعتوں کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔ جرح کی اجازت دی جائے اور بند کمرے کے بیانات شائع کئے جائیں۔ لیکن فاضل عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی جس پر وکلاء کو دستبردار ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں حکومت کا رویہ غیر جمہوری اور ظالمانہ ہے اور ہر جگہ پر تحریک کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اوکاڑہ، راولپنڈی، ننکانہ، سرگودھا اور لاہور میں وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کی تشدد آمیز حرکتوں سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے ضمن میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل اسی سلسلے میں اپنے مؤقف کا واضح اظہار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی سے اگر یہ مسئلہ ہماری توضیحات کے مطابق حل نہیں ہوتا تو مجلس عمل واک آؤٹ کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔
انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ...... اداریہ ”نوائے وقت“
”ہفتہ عشرہ قبل گجرات کے نواحی موضع تہال میں ایس۔ پی پولیس کی فائرنگ سے دو لڑکے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس ضمن میں ابھی تک کوئی تعزیری کارروائی منظر عام پر نہیں آئی۔ دوسری طرف علاقہ میں لوگوں کی طرف سے ہر روز احتجاجی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ مبینہ طور پر لوگوں کے ایک ہجوم پر ایس۔ پی (شریف) چیمہ نے اپنے پستول سے براہ راست فائر کئے۔ جس سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس سے علاقہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس واقعہ کے دو تین روز بعد صوبائی وزیر زراعت ریٹائرڈ بریگیڈئر صاحب داد خاں نے متوفی محمد یوسف کے گھر جا کر لواحقین سے اظہار تعزیت کیا تھا اور گاؤں کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ لیکن اتنے دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایس۔ پی چیمہ اور اس کے ساتھی نہ معطل کئے گئے ہیں، نہ انہیں لائن حاضر کیا گیا ہے۔ ان حالات میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہونے کی توقع ہو سکتی ہے؟ حکومت کو ایسے غیر ذمہ دار پولیس افسر کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف تحقیقات مکمل کرنی چاہئے تاکہ جرم ثابت ہونے پر اسے اس کے کئے کی سزا مل سکے۔“
(اداریہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۷۴ء)
۳۱؍جولائی ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
اخبارات پر پابندی کے باعث آج کے روز کوئی خبر شائع نہ ہوسکی۔
یکم اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
راولپنڈی کے پچاس شیعہ علماء کا بیان
ختم نبوت کے مسئلہ پر تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کا ایمان ہے۔ اس مسئلہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ بات شیعہ مکتب فکر کے ۵۰ مقتدر علماء اور مذہبی لیڈروں نے ایک بیان میں کہی ہے۔ ان شیعہ علماء کا کہنا ہے کہ ختم نبوت مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے اور جو ختم نبوت کا منکر ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ گزشتہ ۹۰ سال سے برصغیر پاک و ہند میں موجود ہے۔ البتہ قیام پاکستان کے بعد یہ مسئلہ ذرا زیادہ شدت اختیار کر گیا۔ گزشتہ ربع صدی میں اسلام کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والی حکومتوں نے اس مسئلہ کو حل نہ کیا بلکہ تحریک ختم نبوت کے مجاہدین پر گولیاں چلائیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم بھٹو نے اس سلسلہ میں آئینی ضمانت کا اہتمام کیا اور پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے حلف نامے میں لازم قرار دیا کہ صدر اور وزیر اعظم یہ اعلان کریں کہ ختم نبوت پر ان کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پختہ ایمان ہے۔ اب حکومت ختم نبوت کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں لے گئی ہے اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل کر دیا جائے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم وزیراعظم کے ممنون ہوں گے۔ اگر وہ اس امر کا جلد فیصلہ کرائیں کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں اور ایسے شخص کے پیروکاروں کو بھی مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔ جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے، ہم اس کے ساتھ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ لاقانونیت سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جہاں تک سماجی بائیکاٹ کی مہم کا تعلق ہے۔ ہم اس کی حمایت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہادی برحق ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
مشترکہ بیان میں جن علماء کے دستخط ہیں: ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: مولانا توقیر حسین زیدی (کراچی)، مولانا محمد اسحاق نجفی (کراچی)، مولانا محمد یونس رضوی (کراچی)، مولانا طالب حسین جعفری (لائل پور)، مولانا ابرار حسین شیرازی (لاہور)، احمد علی شاہ (سکردو)، مولانا نذر حسین قمر (وزیر آباد)، مولانا محمد باقر نقوی (لاہور)، پیر خورشید عباس بخاری (موچھ)، ظہور حسین شاہ (کہروڑ پکا)، جعفر حسین جعفری (کراچی)، شاہد حسین نقوی (لاہور)، غلام حسین نقوی (جھنگ) اور کلیم عباس شیرازی (پشاور)۔
سرگودھا کی مجلس عمل کا بیان
مجلس عمل سرگودھا نے گوجرانوالہ، ملتان اور اوکاڑہ میں علماء اور طلباء کی گرفتاریوں اور تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ دفعہ ۱۴۴ ختم کی جائے اور اخبارات پر سے سنسر کی پابندی اٹھائی جائے۔ دریں اثناء مولانا عبدالستار خان نیازی مؤرخہ ۷؍ اگست کو بعد نماز عشاء مسجد گول چوک میں خطاب کریں گے۔ آج مسجد بلاک نمبر ۱۴ میں جلسہ ہوا۔ جس میں قاری عبدالسمیع، راؤ عبدالمنان، مولانا احمد سعید ہاشمی اور شیعہ لیڈر غلام حسین نے مطالبہ کیا کہ یک طرفہ کارروائی بند کی جائے اور شہر میں اشتعال انگیز واقعات کے ذمہ دار افراد کو فوراً گرفتار کیا جائے۔
اوکاڑہ میں ایک سو کارکنوں کی گرفتاری
گزشتہ ایک ہفتہ میں اوکاڑہ سے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ایک سو کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ کارکنوں کی گرفتاریوں، پولیس کی اندھا دھند فائرنگ، آتش زدگی اور اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ کی دھاندلیوں کے خلاف ضلع بھر کے لوگوں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات عدالت عالیہ کے کسی جج سے کرائی جائے۔ پولیس فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ رات رینالہ خورد کی جامع مسجد میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں مفتی ضیاء الحسن، مولانا منظور احمد شاہ، شیخ اصغر میر اور سید بشیر حسین جعفری نے اپنی تقاریر میں کارکنوں کی گرفتاریوں کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجلاس میں اوکاڑہ میں مسلسل سات روز تک احتجاجی ہڑتال کرنے پر اوکاڑہ کے شہریوں کو مبارک باد دی گئی اور اپیل کی گئی کہ ہڑتال ختم کر دیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے قائدین مفتی ضیاء الحسن، شیخ اصغر حمید، عبدالمتین چوہدری، حاجی ابراہیم چاولہ، میاں سعید احمد اور شیخ محمد اصغر نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کو تار بھیجے ہیں۔ جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات ہائیکورٹ کے جج سے کرائی جائے۔ آج شام اس سلسلہ میں گگو کے مقام پر ایک جلسہ عام بھی منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اوکاڑہ کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے۔
(نوائے وقت لاہور، یکم اگست ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سانحہ ربوہ کی تحقیقات مکمل ہو گئی
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے آج واقعہ ربوہ کی تحقیقات کے سلسلے میں اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ آج بھی ٹربیونل کی سماعت بند کمرے میں ہوئی اور فاضل ٹربیونل نے انجینئرنگ یونیورسٹی کے طالب علم مسٹر عزیز طارق ملک کی آخری شہادت قلمبند کی۔ آج متحدہ مجلس عمل کے وکلاء نے ٹربیونل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ٹربیونل نے ہدایت کی ہے کہ جو وکلاء دلائل پیش کرنا چاہیں، وہ ہفتہ تک اپنے تحریری دلائل عدالت عالیہ میں پیش کر دیں۔ اب ٹربیونل کی کوئی نشست نہیں ہو گی۔ ۲۹؍ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر ہونے والے ہنگامہ کے ضمن میں حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے۔ ایم صمدانی پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹربیونل مقرر کیا تھا تا کہ ٹربیونل واقعہ کے اسباب کے ضمن میں تحقیقات کر سکے۔ فاضل ٹربیونل نے ایک ماہ ۲۵ دن میں شہادتیں مکمل کیں۔ ٹربیونل نے جماعت احمدیہ کے امیر مرزا ناصر احمد، قومی اسمبلی کے رکن مولانا غوث ہزاروی، مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری، نشتر میڈیکل کالج کے زخمی ہونے والے طالب علم اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے طلباء، ڈی سی لائل پور، ایس۔ پی لائل پور، ربوہ اسٹیشن کے عملہ اور ربوہ شہر میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مقرر کردہ افراد کے بیانات قلمبند کئے۔ فاضل ٹربیونل نے ربوہ اسٹیشن اور ربوہ کے دیگر دفاتر کا معائنہ بھی کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے وکلاء کے ٹربیونل میں نمائندگی کی۔ ان میں مسٹر ایم انور بار ایٹ لاء، ملک محمد قاسم، مسٹر رفیق احمد باجوہ، مسٹر ایس رحمن، مسٹر شیر عالم، مسٹر کرم الٰہی بھٹی، مسٹر ایم۔ ڈی طاہر، چوہدری عبداللطیف راں وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ جماعت احمدیہ کی جانب سے مسٹر اعجاز بٹالوی، مسٹر مبشر لطیف، چوہدری عبدالعزیز پیش ہوئے۔ ۱۸؍ جولائی کے بعد بارہ دن ٹربیونل کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی اور آج فاضل ٹربیونل نے شہادتیں مکمل کر کے ٹربیونل کی کارروائی ہفتہ تک ملتوی کر دی، جس دن فاضل ٹربیونل میں تحریری دلائل پیش کئے جائیں گے۔
واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے تحقیقاتی ٹربیونل کے رجسٹرار نے حسب ذیل پریس ریلیز جاری کیا ہے۔
آج ٹربیونل کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ تحقیقاتی کارروائی سے وابستہ بعض تنظیموں نے اپنے وکلاء کو کارروائی سے علیحدگی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جن تنظیموں نے اب تک کارروائی میں شرکت کی ہے اور جو ابھی تک شریک ہیں، انہیں خود ان کی درخواست پر شرکت کی اجازت دی گئی تھی اور وہ کسی بھی وقت کارروائی سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں۔ بعض تنظیموں کی علیحدگی سے تحقیقات پر جو تقریباً مکمل ہو چکی ہے، کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مجھے ٹربیونل نے ہدایت کی ہے کہ ان تمام اراکین وکلاء، جنہوں نے شہادتیں حاصل کرنے اور ریکارڈ جمع کرنے کے مشکل کام میں امداد دی، ان کا شکریہ ادا کروں۔
۲؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کوئٹہ میں قادیانی مسئلہ کے حل کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی خاطر حکومتی اجلاس
قادیانی مسئلے کے فیصلے کی تاریخ متعین کرنے اور اس اہم مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے معاملہ پر غور و خوض کے لئے آج وزیر اعظم بھٹو کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست صبح دس بجے گورنمنٹ ہاؤس میں ہوئی۔ دوسری نشست سہ پہر کو ہوئی۔ کانفرنس میں پنجاب اور بلوچستان کے گورنروں، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی، ڈاکٹر مبشر حسن، مسٹر رفیع رضا اور مسٹر عزیز احمد شریک ہوئے۔ وزیر اعظم کے خاص اسسٹنٹ یوسف بچہ اور ملک خدا بخش بچہ، سیکرٹری دفاع میجر جنرل ریٹائرڈ فضل مقیم اور سیکرٹری جنرل خزانہ مسٹر اے۔ جی۔ این قاضی نے بھی شرکت کی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نے یہ اجلاس قادیانی مسئلے کے حل کا اعلان کرنے کی تاریخ طے کرنے کے لئے طلب کیا تھا۔ تاہم وضاحت کی تھی کہ اگر تاریخ کا تعین نہ ہوسکا تو وہ راولپنڈی پہنچ کر مسئلے کے جلد حل کی تدبیر کے لئے فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔ وزیر اعظم نے کوئٹہ میں اپنا قیام ایک دن بڑھا دیا ہے۔ کل وہ ایک عام جلسے سے خطاب کریں گے، جس میں بلوچستان کے سیاسی حل کے بارے میں بھی اظہار خیال کریں گے۔
وزیر اعظم ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں مسٹر بھٹو کا کل کا جلسہ سننے کے لئے دور دور سے لوگ آ رہے ہیں اور شہر بھر میں زبردست گہما گہمی ہے۔ آج کے اعلیٰ سطح کی کانفرنس کی کارروائی اور فیصلے کے بارے میں رات تک کوئی انکشاف نہیں کیا گیا تھا، تاہم خیال ہے کہ اجلاس میں قادیانی مسئلے کے تمام پہلوؤں اور ان کا مزید جائزہ لینے کے لئے درکار وقت کے بارے میں غور کیا گیا۔
راولپنڈی کے علماء کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ
آج عدالت عالیہ کے مسٹر جسٹس شفیع الرحمن نے ۳۰ علماء اور طلباء کی طرف سے دائر کردہ درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی اور حکومت اور ایڈووکیٹ جنرل کے نام نوٹس جاری کر دیا کہ وہ ۹؍ اگست کو عدالت میں پیش ہو کر وجہ بتائیں کہ کیوں نہ انہیں رہا کر دیا جائے۔ رٹ درخواست میں درخواست دہندہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ درخواست دہندگان محمد سیف اللہ خالد، عبداللہ، عبدالخالق اور غلام حیدر کو ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راولپنڈی نے ۳۲ ڈیفنس آف پاکستان رولز ۱۹۷۱ء کے تحت نظر بند کر دیا۔ ان کی میعاد نظر بندی گزرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔ چونکہ تمام افراد کو ایک سے حالات میں نظر بند کیا گیا ہے۔ اس لئے ان سب کی طرف سے مشترکہ رٹ درخواست پیش کی گئی ہے۔ رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راولپنڈی نے نظر بندی کے احکامات جاری کئے تھے۔ وہ سائیکلو سٹائلڈ تھے۔ حالانکہ مرکزی حکومت کو دفعہ ۳۲ کے تحت جو اختیار حاصل ہے۔ اس کے تحت یہ لازم ہے کہ حکومت نظر بندی کا حکم ٹھوس حقائق کی بناء پر جاری کرے لیکن درخواست دہندوں کو ایک سائیکلو سٹائلڈ فارم پر ان کے نام درج کر کے ایک ہی مفروضہ کے تحت گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ ان میں سے ایک کے سوا باقی ماندہ درخواست دہندوں کو تاحکم ثانی نظر بند کر دیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا یہ حکم غیر قانونی اور سراسر ناجائز ہے اور یہ حکم بد نیتی پر مبنی ہے۔ کیونکہ راولپنڈی میں کوئی فرقہ وارانہ فساد یا وقوعہ نہیں ہوا۔ اس لئے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان علماء کو اس لئے نظر بند کیا گیا ہے کہ حکمران پارٹی سے سیاسی اختلافات رکھنے والے علماء پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ درخواست کی آئندہ سماعت ۹؍ اگست کو ہو گی۔
جمعیۃ طلباء اسلام کے جلسہ ہائے عام بسلسلہ تحفظ ختم نبوت
آج مورخہ ۲؍ اگست ۱۹۷۴ء صبح نو بجے: بار روم ساہیوال سے خطاب محمد اسلوب قریشی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعد از نماز جمعہ حضرو ضلع کیمبل پور بعد از نماز جمعہ بہبودی ضلع کیمبل پور بعد از نماز جمعہ قبولہ ضلع ساہیوال بعد از نماز عصر عارف والا، ضلع ساہیوال بعد از نماز عشاء ساہیوال شہر بعد از نماز عشاء ٹیکسلا، ضلع راولپنڈی بعد از نماز عشاء واہ، ضلع راولپنڈی بعد از نماز عشاء ملتان روڈ، لاہور
مقررین: محمد اسلوب قریشی، عبدالمتین چوہدری، رانا شمشاد علی خاں، سید عشرت علی زیدی، ضیاء الرحمن فاروقی، عبدالرؤف ربانی، مشتاق ہاشمی اور شاعر طلباء جناب سلمان گیلانی
شعبہ نشریات: جمعیۃ طلباء اسلام، پاکستان
سرگودھا میں گرفتاریاں
مجلس عمل سرگودھا نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے یک طرفہ کارروائی بند نہ کی اور گرفتار شدہ کارکنوں کو رہا نہ کیا تو سرگودھا میں مسلسل ایک ہفتہ کے لئے ہڑتال کر دی جائے گی۔ سرگودھا میں آج بھی پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور ۱۳؍ کارکنوں کو شاہ پور جیل میں بھیج دیا گیا۔ آج یہاں فیکٹری ایریا اور واٹر سپلائی روڈ پر جلسے منعقد ہوئے۔
اخبارات پر سنسر کی میعاد ایک ماہ بڑھا دی گئی
حکومت پنجاب نے ۲؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے رول ۵۴ (الف) کے تحت فرقہ وارانہ مسئلہ کے بارے میں کوئی خبر، تبصرہ، بیان، رپورٹ یا کارٹون اور یادداشتیں وغیرہ شائع کرنے پر جو پابندی عائد کی تھی، اس کی میعاد ایک ماہ کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔
۳؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
اوکاڑہ میں ۹ روز سے ہڑتال جاری ہے
پولیس تشدد اور اسسٹنٹ کمشنر کے رویہ کے خلاف آج نویں روز بھی اوکاڑہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ اس کی وجہ سے کاروباری حلقوں کا روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ شہری معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اوکاڑہ ملک بھر میں کاروباری منڈی کے لحاظ سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس منڈی کے مسلسل ۹ روز تک بند رہنے سے نہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صرف مزدور پیشہ لوگوں کو پریشانی ہے بلکہ ملک کی دوسری بڑی منڈیوں پر بھی برا اثر پڑا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع بھر میں احتجاجی جلسوں کا پروگرام جاری ہے۔ ایک جلسہ گول مسجد اوکاڑہ میں منعقد ہوا، دوسرا جلسہ قصبہ نور شاہ میں منعقد ہوا۔ جس میں مفتی ضیاء الحسن، شیخ اصغر حمید صدر بار ایسوسی ایشن اور مولانا منظور احمد شاہ نے خطاب کیا۔
پتوکی میں جلسہ عام
مجلس عمل پتوکی کے زیر اہتمام جامع مسجد نورانی میں آج یہاں ایک جلسہ عام ہوا، جس سے مقامی علماء کے علاوہ مولانا احسان اللہ فاروقی ، مولانا نیاز احمد نیازی اور جمعیۃ طلباء اسلام کے حافظ عبدالعزیز جھنگوی اور سلمان گیلانی نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کے عوام ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میدان میں نکل آئے ہیں اور اس مسئلہ کو حل کرائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جلسہ میں اوکاڑہ، سرگودھا، گوجرانوالہ، کبیروالہ اور ملتان میں علماء، طلباء اور ختم نبوت کے کارکنوں کی گرفتاریوں، ان پر پولیس تشدد، فائرنگ اور پولیس کی طرف سے مسجدوں کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ناروا سلوک کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ
مجلس عمل ساہیوال کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات کے لئے عدالت عالیہ کے کسی جج کو مقرر نہ کیا تو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں کے مشورہ سے از خود تحقیقات کمیشن مقرر کر دیا جائے گا۔
مرکز اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور میں ختم نبوت کانفرنس
مؤرخہ ۴؍ اگست بروز اتوار ۹؍ بجے صبح
۞ ...... مولانا مفتی محمود ۞ ...... میاں طفیل محمد ۞ ...... مولانا شاہ احمد نورانی ۞ ...... پروفیسر غفور احمد ۞ ...... علامہ احسان الہی ظہیر ۞ ...... مولانا محمد اجمل ۞ ...... چوہدری ظہور الہی ۞ ...... حافظ عبدالقادر روپڑی ۞ ...... صاحبزادہ فیض القادری ۞ ...... صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوری
منجانب: خدام ختم نبوت محمد شفیع جوش، پیر ابرار محمد، نیاز احمد نیازی، احسان اللہ فاروقی
گرفتاریاں افسوس ناک ہیں
انجمن طلبائے اسلام جڑانوالہ کے زیر اہتمام عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں گزشتہ روز جامع مسجد نور میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں انجمن کے صوبہ پنجاب کے نائب ناظم قاری عطاء اللہ، ضلع لائل پور کے ناظم میاں محمد اظہر نعیم اور صدر سٹوڈنٹس یونین گورنمنٹ کالج جڑانوالہ مسٹر محمد پرویز جلیس علوی نے تقاریر کیں۔ قاری عطاء اللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلباء کی بدستور گرفتاریاں کر رہی ہے۔ مگر ہم ان گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ قاری عطاء اللہ نے مزید کہا کہ اخبارات پر سنسر اور بعض جرائد پر پابندیاں قابل مذمت فعل ہے اور ایسا فعل جمہوریت کے دعوے کرنے والوں کے لئے مناسب نہیں۔
(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۳؍ اگست ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ مورخہ ۲۰ اگست کو پیش کر دی جائے گی
حادثہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والا ایک رکنی ٹربیونل اپنی رپورٹ ۱۵ سے ۲۰ اگست کی درمیانی مدت میں پنجاب کی حکومت کو پیش کر دے گا۔ یہ بات ٹربیونل کے سربراہ مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی نے بتائی۔ ٹربیونل نے اپنی کارروائی آج یہاں مکمل کر لی۔ اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے لئے جسٹس صمدانی آج یہاں سے مری روانہ ہونے والے تھے۔ ایک انٹرویو میں آپ نے بتایا کہ انہیں نہ صرف ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے والی جماعتوں اور بار کے ارکان بلکہ عوام سے بھی مفید تعاون حاصل ہوا۔ ان سب لوگوں نے سخت مشقت کی۔ جس سے میرا کام کافی آسان ہو گیا ہے۔ آپ نے ان وکیلوں کی امداد کو سراہا جنہیں ان کے موکلوں نے کارروائی سے بلا لیا تھا۔ دریافت کیا گیا کہ چند گواہوں کی شہادتوں کے بعد ٹربیونل نے اپنی کارروائی کو بند کمرے میں کیوں محدود کر لیا تھا۔ جسٹس صمدانی نے جواب دیا، ایسا ملک کی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ ممکن تھا بعض گواہ ملک کی سلامتی کے لئے کوئی نقصان دہ بات کہہ دیتے، بعد میں جب میں نے دیکھا کہ بند کمرے کی سماعت کے دوران ایسی کوئی بات نہیں، تب ٹربیونل نے ایسی شہادتیں شائع کرنے کی اجازت دے دی جو بند کمرے میں قلمبند کی گئی تھی۔
مسٹر جسٹس صمدانی کے مطابق ٹربیونل نے پانچ جون کو اپنا اجلاس شروع ہونے کے بعد سے اب تک کل ستر افراد کی شہادتیں قلمبند کیں۔ جن میں قادیانی بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں بہت سے افراد نے بذریعہ ڈاک بیان ارسال کئے، جنہیں ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ آپ نے کہا، کام کی زیادتی کے سبب ان کے لئے ممکن نہیں کہ مواد بھیجنے والے ہر فرد کو جواب ارسال کر سکیں۔ تاہم جب ممکن ہوا ایسے افراد کو ضرور جواب روانہ کیا جائے گا۔ آپ نے ایسے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ آپ نے ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس وقت ان سے تعاون کیا جب وہ تحقیقات سے متعلق بعض مقامات دیکھنے گئے۔ ایک بار آپ ریلوے کی اس بوگی کا معائنہ کرنے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر گئے تھے۔ جس پر ۲۹؍ مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر حملہ ہوا تھا، بعد میں آپ ربوہ ریلوے اسٹیشن اور ربوہ قصبہ گئے۔
پنڈی کے علماء کو رہا کر کے پھر گرفتار کر لیا گیا
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت راولپنڈی نے جیل میں نظر بند علماء کرام اور طلباء کی رہائی اور ان کی دوماہ کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان علماء اور طلباء کے ساتھ انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف بطور احتجاج ۶ اگست بروز منگل راولپنڈی اور اسلام آباد میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ یہ اعلان آج ایک پریس کانفرنس میں مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل سید حبیب الرحمن بخاری نے کیا۔ انہوں نے ایک بیان جاری کیا، جو مجلس عمل کے دوسرے قائدین اور مولانا غلام اللہ خان، قاری سعید الرحمن، قاری محمد امین، مولانا عبدالغفور وغیرہ کی طرف سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت راولپنڈی جیل میں ۳۴ علماء کرام اور طالب علم لیڈر اور دوسرے کارکن ڈیفنس رولز کے تحت نظر بند ہیں۔ ان میں سے بعض دو ماہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ نظر بند ائمہ کرام کو مساجد کی ملازمت سے الگ کر دیا گیا ہے اور انہیں مکان خالی کرنے کے نوٹس دے دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۳۱؍ جولائی کو ان طلباء اور علماء کو جیل کے حکام نے جیل کی ڈیوڑھی میں اکٹھا کیا اور انہیں رہائی کی خبر سنائی گئی اور ساتھ ہی انہیں دوبارہ نظر بند کر دیا گیا اور جب ان قیدیوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا تو انہیں بارکوں میں بند کر کے ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس تشدد سے ایک طالب علم کی پسلی اور دوسرے کا بازو ٹوٹ گیا اور دوسرے حضرات کو بھی چوٹیں آئیں اور ان میں سے کئی جیل کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ حالات کو خوشگوار بنانے کی بجائے دھمکیوں اور تشدد سے کام لے رہی ہے۔ انہوں نے کبیر والا، اوکاڑہ اور کیمبل پور کے واقعات کا حوالہ دے کر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جانبداری کا تاثر مٹانا چاہئے وگرنہ یہ اقدامات جس صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، اس کے نتیجے بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کی سارے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج شام ہوا، جس میں جماعت احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے سربراہوں کے بیانات سے متعلق معاملوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی کمیٹی نے رہبر کمیٹی کی سفارشات کو آخری شکل دی۔ رہبر کمیٹی کا اجلاس کل ہوا تھا، جس میں رہبر کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا تھا۔ رہبر کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کے کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے التواء کے بعد رہبر کمیٹی کا اجلاس آج شام پھر ہوا، جس میں رہبر کمیٹی کے طریقہ کار کو آخری شکل دی گئی۔ پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ۵ اگست کو صبح دس بجے پھر ہوگا۔
راولپنڈی ڈویژن میں مکمل ہڑتال کی اپیل
علماء کرام اور طلباء کی گرفتاریوں اور ان پر ہونے والے تشدد کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت راولپنڈی ڈویژن اسلام آباد کے تمام تاجروں اور دوسرے شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ منگل ۶؍اگست کو مکمل ہڑتال کر کے ایمانی غیرت کا ثبوت دیں۔
منجانب: مجلس عمل تحفظ ختم نبوت راولپنڈی ڈویژن (اشتہار)
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بعد از نماز جمعہ، لال مسجد، چوک برف خانہ، باغبانپورہ میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں واقعہ اوکاڑہ کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احسان الاحد توحیدی نے حکومت کو متنبہ کیا کہ ایسے واقعات سے حالات بگڑے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔ علامہ محمد خلیق الرحمن چشتی نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ تحریک کے گرفتار شدہ ورکرز کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
جمیعۃ اہل حدیث کے صدر مولانا عبدالقادر روپڑی، مجلس عمل لاہور کے صدر صاحبزادہ فیض القادری صاحب کی ضمانت قبل از گرفتاری سعید صابر ایڈیشنل سیشن جج نے منظور کر لی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے ایک جلسہ میں قابل اعتراض تقاریر کرنے پر پولیس نے ان کے خلاف دفعہ نمبر ۱۶ تحفظ امن عامہ اور دفعہ نمبر ۱۸۸ فوجداری کیس رجسٹر کیا تھا۔ درخواست دہندگان کی جانب سے جناب بارک اللہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت غازی آباد، لاہور کا ایک احتجاجی اجلاس گزشتہ روز بعد از نماز جمعہ جامع مسجد باغبانپورہ بازار نمبر ۱ میں الحاج حکیم مظفر عزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں پولیس تشدد، کارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریوں پر حکومت کے جانبدارانہ رویہ کی سخت مذمت کی گئی۔ مقررین میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء محمد ارشد (ناظم اسلامی جمیعۃ طلباء)، محمد رشید چشتی، طیب حسین کاظمی، حافظ محمد نذیر، محمد شریف، سید نور الدین اور قاری عبدالحی عابد کے نام شامل ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور میں مجالس عمل کا اجلاس
گزشتہ روز یہاں جامعہ فاروقیہ والٹن میں پیر کالونی، ماڈل کالونی، فاروق کالونی، رضا کالونی اور مدینہ کالونی کے نمائندہ، مختلف مکاتیب فکر کے علماء کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں متذکرہ علاقوں پر مشتمل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ درج ذیل عہدیداران کو منتخب کیا گیا۔ صدر مولانا محمد حسین، نائب صدر، مولانا عزیز الرحمن، جنرل سیکرٹری مولانا احسان اللہ فاروقی، جوائنٹ سیکرٹری مولانا ثناء اللہ، خزانچی مولانا محمد یسین، ناظم نشر و اشاعت محمد عارف۔
آر۔اے بازار لاہور
آر۔اے بازار لاہور میں معززین کے ایک اجتماع مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تشکیل کی گئی۔ درج ذیل عہدیدار منتخب قرار پائے۔ صدر محمد رفیق، نائب صدر اوّل شفیق احمد، دوم تصدق عباس، سوم شیخ محمد اشتیاق، جنرل سیکرٹری قاضی ظفر، خزانچی سردار محمد اسلم خان، سیکرٹری نشر و اشاعت جاوید اقبال۔
حلقہ لکھوڈیر لاہور
حلقہ لکھوڈیر نزد داروغہ والا لاہور کے معززین کا اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس عمل تشکیل دی گئی۔ مندرجہ ذیل عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ صدر قاری محمد عبدالشکور، نائب صدر محمد امین، ناظم اعلیٰ مولانا محمد گل امیر خاں، نائب ناظم چوہدری محمد صفدر، ناظم نشر و اشاعت حاجی عنایت اللہ، نائب ناظم نشر و اشاعت مجاہد دوست محمد، خازن میاں محمد دین شیدا، نائب خازن منظور حسین قریشی۔
لائل پور میں گرفتاریاں
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رکن اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری صفدر علی رضوی کو آج تحفظ امن عامہ کے آرڈیننس کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے محمد پورہ کی مسجد میں قابل اعتراض تقریر کی تھی۔ مجلس عمل کے رہنماؤں صاحبزادہ فضل رسول، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالرحیم اشرف، حافظ عبدالغفار، شیخ محمد قمر، مسلم لیگ کے رہنماؤں چوہدری سراج دین ناگرہ، چوہدری مختار احمد، مسٹر رشید لدھیانوی، جمعیۃ العلماء پاکستان کے صدر چوہدری غلام فرید اور جامع حنفیہ کے طلباء نے چوہدری صفدر رضوی اور جھنگ کے چوہدری ادریس کی گرفتاری کی پرزور مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسیروں کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔ ان رہنماؤں کی گرفتاری اور پولیس کے ظالمانہ رویہ کے خلاف ۵؍ اگست کو لائل پور میں مکمل ہڑتال ہو گی۔
لائل پور میں مکمل ہڑتال
- چوہدری صفدر علی رضوی رکن مرکزی مجلس عمل وصدر پاکستان مسلم لیگ لائل پور کی گرفتاری۔
- صدر مجلس عمل کیمبل پور عابد حسین صدیقی کے گھر میں بم پھینکنے سے ان کے برادر محترم کی شہادت۔
- جھنگ، چنیوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ اور دوسرے شہروں میں بلا جواز گرفتاریوں اور پولیس کے ناروا تشدد کے خلاف احتجاج کے
مؤثر مظاہرہ کے لئے لائل پور کے تاجر حضرات سے اپیل ہے کہ:
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵؍ اگست سوموار کو مکمل ہڑتال کی جائے
اسی روز جامع مسجد کچہری بازار میں ۹؍بجے قبل دوپہر احتجاجی جلسہ ہوگا مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور (اشتہار)
چوک لوہاری مسلم مسجد لاہور میں ۴؍ اگست، بروز اتوار، بعد از نماز عشاء
ختم نبوت کانفرنس
زیر صدارت : مولانا عبید اللہ انور ( صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ، صوبہ پنجاب )
- ٭....... مولانا شاہ احمد نورانی (ایم۔این۔اے)
- ٭....... مولانا مفتی محمود (ایم۔این۔اے)
- ٭....... چوہدری ظہور الٰہی (ایم۔این۔اے)
- ٭....... پروفیسر غفور احمد (ایم۔این۔اے)
- ٭....... صاحبزادہ فیض القادری
- ٭....... بارک اللہ خان ایڈووکیٹ
الداعی : عبدالرؤف ملک ( کنونیئر رابطہ کمیٹی ، مجلس عمل لاہور ) اشتہار
کراچی کے زاہر قاسمی کی گوہر افشانی
مرکزی جمعیۃ علماء اسلام (حقیقی) کی مجلس عاملہ کے اجلاس نے عوام سے متحد ہو کر وزیراعظم بھٹو کی قیادت میں اندرونی اور بیرونی سازشوں کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور یقین ظاہر کیا ہے کہ ملک کی منتخب حکومت، جس نے صدر اور وزیراعظم کے لئے ختم نبوت پر ایمان لازمی قرار دیا ہے۔ وہ قادیانیوں کے قدیم مسئلہ کو بھی عوامی خواہشات اور اسلامی اصولوں کے مطابق حقیقت پسندانہ طور پر حل کر دے گی۔ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس مولانا زاہر قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں اتفاق رائے سے قرار پایا کہ مرکزی جمعیۃ علمائے اسلام (حقیقی) کی مجلس عاملہ کا اجلاس ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ کانگریسی علماء اور رہنما، جنہوں نے قیام پاکستان کی شدید مخالفت کی تھی، وہ اب مذہبی اور سیاسی پلیٹ فارموں سے پاکستان میں سیاسی حقوق کی بحالی کے نام پر ختم پاکستان کی کوشش کر رہے ہیں اور جمعیۃ علمائے اسلام کا مقدس نام استعمال کر رہے ہیں۔ کانگریسی علماء اور رہنماؤں کی ملک دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے ملک کے خانہ جنگی میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔
بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان میں اچانک ربوہ کے سانحہ کا پیش آنا، پورے ملک میں خلفشار کی سی صورتحال کا پیدا ہونا، انہی ایام میں نیپ کے سربراہ اور حزب اختلاف کے لیڈر عبدالولی خان کا کابل میں افغانستان کے سربراہ سردار داؤد کی روس سے واپسی کے بعد ملاقاتیں کرنا، پھر بھارت اور افغانستان کا پاکستان کی سرحدوں پر فوجوں کا جمع کرنا، ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں محاذ رائے شماری کے پلیٹ فارم سے شیخ عبداللہ اور مرزا افضل بیگ کا مقبوضہ کشمیر کے بھارت سے الحاق پر آمادگی کا اعلان کرنا، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مجلس عاملہ نے تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے علمائے کرام اور ان علماء سے، جنہیں وحدت پاکستان کا نصب العین عزیز ہے اپیل کی کہ وہ میدان میں آئیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی سرکوبی کے لئے جمعیۃ علمائے اسلام (حقیقی) کے پلیٹ فارم سے کام کریں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس، قومی اسمبلی سے اپیل کرتا ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ کو آئینی تحفظ دے اور ایسے اقدامات کرے کہ جس سے یہ مسئلہ حقیقی صورت میں حل ہو جائے۔ پاکستانی عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ پورے نظم وضبط کے ساتھ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ جمعیۃ علمائے اسلام (حقیقی) کے زیر اہتمام پاکستانی ذہن رکھنے والوں اور تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں اور وحدت پاکستان پر یقین رکھنے والے علمائے کرام کے ایک کنونشن کے انعقاد اور انتظامات کے لئے اپنے صدر مولانا زاہر قاسمی کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اس ضمن میں علمائے کرام کے وفود ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کی غرض سے روانہ کریں اور علماء کرام کا کنونشن جلد از جلد منعقد کرنے کے انتظامات کریں۔ تاریخ، مقام کا تعین کر کے اعلان کریں۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے حضرات کے نام یہ ہیں: مولانا زاہر قاسمی، مولانا محمد متین خطیب، علامہ نصیر الاجتہادی، مولانا عبدالقیوم کانپوری، مولانا قاضی عبدالرحمن، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا عادل قدوسی، مولانا فضل الرحمن جعفری، حافظ بشیر احمد غازی آبادی، مولانا محمد رشید فریدی، مولانا عبدالواحد عثمانی، مولانا عبدالحئی عباسی، ڈاکٹر امیر احمد، ملک شریح الدین، مولانا اخلاق احمد عثمانی۔
(جنگ کراچی، مورخہ ۴؍ اگست ۱۹۷۴ء)
تو پھر پکڑ دھکڑ کیوں؟ ...... ’’نوائے وقت‘‘ کا شذرہ
’’قادیانی مسئلے کے بارے میں ایک طرف تو اطلاع بڑی اطمینان بخش ہے کہ صمدانی ٹربیونل نے اپنا کام قریب قریب مکمل کر لیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان نے اپنے دورۂ بلوچستان میں ہی نہ صرف یہ اعلان کیا کہ اس مسئلے کے حل میں عجلت روا رکھی جائے گی، بلکہ انہوں نے اس سلسلہ میں یکم؍ اگست کو کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطح کی کانفرنس بھی بلائی۔ توقع ہے کہ قومی اسمبلی اس سلسلہ میں فیصلے کے لئے کوئی قریبی تاریخ مقرر کرے گی۔ یہ باتیں ان لوگوں کے لئے بھی تسلی کا باعث ہونی چاہئیں جو اس بارے میں کسی تساہل کے روادار نہیں اور پنجاب کی انتظامیہ کے لئے بھی ان میں صبر و تحمل اور نرم روی کا اشارہ موجود ہے کہ مسئلہ چونکہ حل ہونے کے قریب ہے۔ اس لئے اس سلسلہ میں پکڑ دھکڑ اور سخت گیری سے احتراز کیا جائے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ نہ تو فیصلہ طلب کرنے والوں نے اب تک انتظار کی زحمت گوارا کی اور نہ انتظامیہ کے ذمہ دار افسروں نے صبر و تحمل کا کوئی ثبوت دیا۔ سرگودھا، چنیوٹ، لاہور، اوکاڑہ وغیرہ کئی شہروں اور قصبوں سے ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ پکڑ دھکڑ اور سخت گیری کا سلسلہ پہلے سے کچھ کم نہیں، زیادہ ہی ہے۔ کئی مقامات پر پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف احتجاج بھی ہوئے۔ حد یہ ہے کہ اسیر طالب علموں سے ملاقات کرنے والوں پر بھی پولیس نے لاہور میں لاٹھی چارج کیا اور ملاقات بھی نہ ہونے دی۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ جب اس مسئلے کو جلد از جلد طے کرنے کے اقدامات ہو رہے ہیں تو فریقین میں یہ کشمکش کیوں جاری ہے؟ مطالبہ کرنے والوں اور انتظامیہ دونوں کو اب صبر وضبط سے انتظار کرنا چاہئے۔ لیکن انتظامیہ شاید اس بارے میں کچھ زیادہ ذکاوت حس کا ثبوت دے رہی ہے۔ ایک اعلان کے ذریعے اخباروں پر سنسر شپ کی پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اگر فیصلہ چند دن میں ممکن ہے تو پھر ہفتہ بھر کی توسیع کیا معنی؟ سوائے اس کے کہ اس سے شکوک پیدا ہوں۔ اخبارات نے اس معاملے میں جس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، اس کے پیش نظر اس توسیع کا کوئی جواز ہے، نہ ان اقدامات کے پیش نظر، جو جلد فیصلہ کرنے کے سلسلے میں کئے جا رہے ہیں۔‘‘
(نوائے وقت لاہور کا ادارتی نوٹ، اتوار مورخہ ۴؍ اگست ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قادیانی مسئلہ کے حل کے لئے ۷؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی
کوئٹہ : وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی قادیانی مسئلہ پر بحث ۷؍ ستمبر تک لازماً مکمل کر لے گی۔ آج یہاں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر قانون کو ماہ رواں کی پہلی تاریخ کو اس لئے کوئٹہ طلب کیا تھا کہ ان کے ساتھ صلاح و مشورہ سے قومی اسمبلی میں بحث کے اختتام کی حد مقرر کر سکوں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی سے اگلے ماہ کی سات تاریخ تک حل کر لیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی وزراء، قومی اسمبلی کے سپیکر اور قومی اسمبلی کے بعض ارکان سے صلاح ومشورہ بھی کیا ہے۔ وزیر قانون کو وزیر اعظم بھٹو نے خصوصی طور پر کوئٹہ طلب کیا تھا۔ اب وہ وفاقی دارالحکومت واپس جا کر حزب اختلاف سمیت قومی اسمبلی کے ارکان سے بات چیت کر کے ایوان میں بحث کے لئے تاریخ کا تعین کرائیں گے۔ وزیر اعظم بھٹو نے کہا، میں خود بھی اس مسئلہ کو طول دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ میری خواہش ہے کہ یہ مسئلہ جلد از جلد طے کر لیا جائے تاہم مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے اور بعض قومی اور بین الاقوامی پیچیدگیاں اس میں موجود ہیں۔ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۰؍ اگست سے ۲۰؍ اگست تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔ یہ وقفہ ارکان کو باہم صلاح و مشورہ کی مہلت دینے کے لئے کیا جارہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس مسئلہ کو معرض تعویق میں ڈالنا قومی مفاد میں نہیں ہوگا اور جو بات قومی مفاد میں نہیں ہوسکتی، وہ حکومت کے مفاد میں بھی ہرگز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا یہ مسئلہ پیچیدہ ضرور ہے اور اس لئے اسے چشم زدن میں یا ایک دو یوم میں حل کر لینا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے کہا حکومت اس مسئلہ پر علماء کی آراء سے بھی استفادہ کرے گی۔ انہوں نے کہا صمدانی ٹربیونل ۲۰؍ اگست تک اپنی رپورٹ حکومت پنجاب کو پیش کر دے گا اور اس کے بعد حکومت پنجاب اپنی سفارشات کے ساتھ یہ رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کرے گی۔ انہوں نے کہا ان تمام عوامل کے پیش نظر توقع کی جاسکتی ہے کہ قومی اسمبلی قادیانی مسئلہ پر بحث ۷؍ ستمبر تک مکمل کر لے گی۔
قادیانی مسئلہ جو ۹۰ برس پرانا ہے، ربوہ میں ۲۲ اور ۲۹ مئی کے واقعات کے بعد دوبارہ ابھرا ہے۔ ان واقعات کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ وزیر اعظم نے ۱۳؍ جون کو قوم سے خطاب کے دوران وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں لے جائیں گے جو کسی فیصلہ تک پہنچنے کے لئے ملک کا سب سے اعلیٰ جمہوری ادارہ ہے۔ قومی بجٹ کی منظوری کے بعد ۳۰؍ جون کو یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی نے اس پر بحث کے لئے پورے ایوان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی۔ قومی اسمبلی نے ایک سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی، جسے اس مسئلہ کے بارے میں مختلف ذرائع سے ضروری مواد فراہم کرنے اور ایوان کی کمیٹی کو حتمی فیصلہ کے لئے سفارشات پیش کرنے کا فرض سونپا گیا۔
اوکاڑہ کے واقعات کی تحقیقات ہائیکورٹ کے جج سے کرائی جائے
مختلف لیڈروں کے ایک روزہ ضلعی کنونشن میں مطالبہ کیا گیا کہ اوکاڑہ کے واقعات، پولیس تشدد، مسجد کی بے حرمتی اور آتش
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زدگی اور اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ کے مبینہ رویے کے خلاف عدالت عالیہ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔ کنونشن میں ضلع ساہیوال سے تین سو مندوبین نے شرکت کی ۔ کنونشن جامعہ فریدیہ ساہیوال میں منعقد ہوئی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ میں نے ۲۵ سالہ سیاسی زندگی میں اتنی منظم تحریک کبھی نہیں دیکھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح اگر متحد ہو کر تحریک کو جاری رکھا گیا تو ہم اپنا مقصد پالیں گے ۔ انہوں نے ملک کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو نے ڈرامائی انداز میں بھارت اور افغانستان کی فوجوں کا سرحدوں پر جمع ہونے اور واپس جانے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ صورتحال عوام کی توجہ اصل مسائل کی جانب سے ہٹانے کے لئے کی جارہی ہے ۔
اجلاس سے علامہ محمود احمد رضوی ، مفتی ضیاء الحسن ، حافظ عبدالحق صدیقی ، مولانا منظور احمد اور چوہدری نذیر احمد نے بھی خطاب کیا ۔ مفتی ضیاء الحسن نے ضلع میں تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عارف والا اور قبولہ میں بھی عوام پر تشدد کیا گیا ۔ شام کے وقت بعد نماز عصر جامع مسجد عید گاہ میں ایک بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا ۔ جس میں علامہ علی غضنفر کراروی اور محمود احمد رضوی نے خطاب کیا ۔
اوکاڑہ میں خواتین کا جلوس
آج اوکاڑہ کی سینکڑوں خواتین نے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ ہتک آمیز رویے ، پولیس تشدد، مسجد کی بے حرمتی اور بلاجواز دوسو سے زائد افراد کی گرفتاریوں کے خلاف شدید احتجاج کے لئے ایک زبردست جلوس نکالا ۔ خواتین گرفتار شدگان کی رہائی کے لئے نعرے لگاتی ہوئیں شہر کے اہم گلی کوچوں اور سڑکوں پر تین گھنٹے سے زائد مظاہرہ کرتی رہیں ۔ قدم قدم پر جلوس میں شریک خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ شہریوں نے خواتین کے جلوس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔ پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے سینکڑوں مسلح نوجوانوں نے اے سی کی ہدایت پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن خواتین کا مظاہرہ جاری رہا ۔ خواتین نے فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کے مسلح دستوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سینوں پر گولیاں چلاؤ ۔ دیپالپور روڈ ، مین مارکیٹ کے قریب پولیس نے جلوس کی رہنمائی کے الزام میں چار افراد کو حراست میں لے لیا ۔ خواتین نے حراست میں لئے گئے افراد کی رہائی کے لئے اسسٹنٹ کمشنر کا گھیراؤ کر لیا اور سینکڑوں خواتین سیکورٹی فورس کے ٹرک میں سوار ہو گئیں ، بالآخر اسسٹنٹ کمشنر نے مجبوراً زیر حراست افراد کو رہا کر دیا ۔ واضح رہے کہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے ۔ علاوہ ازیں آج اوکاڑہ میں گیارھویں روز بھی ہڑتال جاری رہی ۔ یہ ہڑتال اسسٹنٹ کمشنر کے توہین آمیز رویہ، پولیس تشدد، مسجد کی بے حرمتی اور پولیس فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جاری ہے۔ جلوس کے اختتام پر مسجد ضیاء الدین میں خواتین کے زبردست اجتماع سے ایک خاتون نے خطاب کرتے ہوئے ملک کی تمام سیاسی ، سماجی اور مذہبی انجمنوں اور دیگر اداروں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو جائیں ۔ اوکاڑہ میں کل بھی ہڑتال رہے گی ۔
سرگودھا میں راؤ منان کے گھر پر بم دھماکہ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع سرگودھا کے رہنما راؤ عبدالمنان کے مکان پر بم پھینکنے اور فائرنگ کے واقعہ کے خلاف آج شہر بھر میں احتجاجی ہڑتال کی گئی ۔ دوکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ۔ مختلف الخیال لیڈروں نے مطالبہ کیا ہے کہ راؤ صاحب کے مکان پر حملہ کرنے والے ملزموں کو گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ دفعہ ۱۴۴ فی الفور ختم کر کے پولیس کو اپنی ڈیوٹیوں پر واپس بھیجا جائے ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
تحریک استقلال پر قادیانی نوازی کا الزام
تحریک استقلال پنجاب کی مالیاتی کمیٹی کے چیئرمین شیخ ظہور احمد اور تحریک استقلال ملتان کے نائب صدر ملک غفور سہیل نے ایئر مارشل اصغر خان کی آمرانہ پالیسیوں سے بدظن ہو کر تحریک استقلال سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے آج یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک استقلال قادیانی نواز جماعت ہے۔ جماعت کو زیادہ تر فنڈ احمدیہ جماعت سے مل رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئر مارشل اصغر خان نے دورۂ لندن کے دوران چوہدری ظفر اللہ خان اور دیگر احمدی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے دورے کے دوران قادیانیوں نے بھاری رقوم ایئر مارشل اصغر خان کو دیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اصغر خان فوجی افسروں سے مل کر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اصغر خان اس سلسلہ میں ریٹائرڈ ایئر مارشل ظفر چوہدری اور وائس ایڈمرل اختر سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک استقلال ضلع ملتان کے سیکرٹری مسٹر باسط قریشی مرزائی ہیں لیکن کارکنوں کی شدید مخالفت کے باوجود انہیں جماعت سے نکالا نہیں گیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اصغر خان اب امریکہ سے مایوس ہو کر روس اور بھارت نواز کمیونسٹوں سے رابطہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیر پگاڑہ پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس میں ملک محمد قاسم، ریٹائرڈ میجر ایاز احمد خان، رانا محمد اشرف اور زبیر احمد بٹ بھی موجود تھے۔
(امروز ملتان، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۷۴ء)
۷؍ ستمبر دور نہیں ...... اداریہ ”نوائے وقت“
”وزیر اعظم بھٹو نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی ۷؍ ستمبر تک قادیانیوں کے مسئلہ کا فیصلہ کر دے گی۔ حکومت اس مسئلہ کو طول نہیں دینا چاہتی۔ کیونکہ یہ نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ حکومت ہی کے مفاد میں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلہ کو طے کرنے کے لئے وہ بذات خود حزب اختلاف کے رہنماؤں سے صلاح مشورہ کریں گے۔
بڑی اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم نے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلے کے (جس نے قومی زندگی کو بے چینی و اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے) حل کے لئے ایک قطعی تاریخ کا تعین کر دیا ہے۔ ایک ماہ کی مدت کچھ زیادہ نہیں۔ صمدانی کمیشن کی رپورٹ ۲۰؍ اگست تک پیش ہو گی۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی اس رپورٹ سے بھی استفادہ کر سکے۔ وہ خود اس مسئلہ کے ضمن میں اپوزیشن لیڈروں سے بھی ملنا چاہتے ہیں۔ یہ جذبہ بھی نیک ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اپنے اس وعدہ پر قائم ہیں کہ وہ قادیانی مسئلہ کو سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل کریں گے۔ بلاشبہ اس مسئلہ کی راہ میں بین الاقوامی نوعیت کی پیچیدگیاں بھی حائل ہوں گی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ اس مسئلہ کے بارے میں پورے عالم اسلام کے بھی کچھ احساسات ہیں اور وہ بھی پاکستان سے کچھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ بہر کیف ۷؍ ستمبر دور نہیں، جو بھی فیصلہ ہو گا، سامنے آ جائے گا۔ تاہم اس مرحلہ پر وزیر اعظم بھٹو کی توجہ پولیس تشدد کی جانب مبذول کرانا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہایت ضروری ہے۔ فیڈرل سیکورٹی فورس نے ظلم و تشدد کی جو کارروائیاں کی ہیں ، ان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز اوکاڑہ میں سینکڑوں خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مبینہ طور پر پولیس نے ایک مسجد کی بھی بے حرمتی کی ۔ اس شہر میں شہری حکام اور پولیس کے رویّہ کے خلاف گزشتہ بارہ روز سے ہڑتال جاری ہے۔ ادھر لائل پور میں بھی اندھا دھند پکڑ دھکڑ کے خلاف بطور احتجاج ہڑتالیں کی جا رہی ہیں۔ بے چینی و اضطراب کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کے ضمن میں سواد اعظم کے جن افراد کو مختلف شہروں اور قصبوں سے گرفتار کیا گیا تھا ، انہیں رہا نہیں کیا جا رہا۔ ایک واضح تاریخ کے تعین کے بعد اب ان تمام گرفتار شدگان کو رہا کر دینا چاہئے تا کہ حالات معمول پر آ جائیں اور عام لوگوں کا غصہ ٹھنڈا ہو، جس کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ مسئلے کو جلد حل کیا جانا چاہئے ۔
ہم احتجاج کرنے والوں سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ پرامن رہیں۔ ۷؍ستمبر کو برآمد ہونے والے نتیجہ کا انتظار کریں۔ وزیر اعظم بھٹو ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل ہو گا ۔ وہ دیکھیں وزیر اعظم کس حد تک اپنا وعدہ ایفاء کرتے ہیں۔
مختلف شہروں میں دستی بم وغیرہ پھینکنے کی جو وارداتیں ہو رہی ہیں۔ حکومت کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے وارداتوں کے مرتکبین کو سخت سزا دینی چاہئے ۔ یہ لوگ فساد، افراتفری اور حکومت کے لئے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ حالات پر امن نہ رہیں اور حکومت کسی اچھے فیصلہ تک نہ پہنچ سکے ۔
آخر میں ہم ایک بار پھر ارباب حکومت کو مشورہ دیں گے کہ وہ اس سلسلے میں تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کر دیں تا کہ ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بند ہو کر حالات بہتر ہو سکیں ۔‘‘
(اداریہ نوائے وقت مورخہ ۶؍اگست ۱۹۷۴ء)
۷؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے آج دوسرے روز بھی انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی جو پانچ گھنٹے جاری رہی ۔ آج خصوصی کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے ۔ جرح جاری تھی کہ شام کو کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہو گیا ۔ یہ اجلاس کل صبح ۱۰؍بجے پھر شروع ہو گا۔
واقعہ ربوہ کے ۸۶ ملزموں کا ریمانڈ
واقعہ ربوہ میں مبینہ طور پر ملوث ۸۶؍افراد کو آج ڈسٹرکٹ جیل میں مقامی مجسٹریٹ چوہدری سعادت علی کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ ان کا عدالتی ریمانڈ ختم ہو گیا تھا۔ مجسٹریٹ نے مزید عدالتی ریمانڈ دیتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں ۱۹؍اگست کو پیش کیا جائے۔ سرگودھا ریلوے پولیس نے ان کے خلاف غیر قانونی طور پر جمع ہونے ، بڑے پیمانے پر فساد میں ملوث ہونے اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔
لاہور میں مولانا شاہ احمد نورانی کا خطاب
انجمن طلبائے اسلام پاکستان کے جلسہ عام میں مولانا شاہ احمد نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں قادیانیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی سے ہم مطمئن ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ تسلی بخش طور پر حل کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہوا اور قوم کی خواہشات اور جذبات کے برعکس کوئی فیصلہ زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ قومی اسمبلی سے باہر نکل آئیں گے۔ انہوں نے پنجاب میں انجمن طلباء اسلام کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
واقعہ ربوہ کے ۸۶ ملزموں کی درخواست ضمانت ۱۳؍ اگست کو سماعت کے لئے منظور
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ایس رحمٰن نے واقعہ ربوہ میں ملوث ۸۶؍ افراد کی طرف سے ضمانت کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لی اور حکومت کو ۱۳؍ اگست کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ دریں اثناء قادیانیوں مودود احمد اور عبداللہ کی قبل از گرفتاری کی ضمانت کی درخواست جسٹس محمد صدیق کی عدالت میں سماعت کے لئے پیش ہوئی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عبدالستار نجم نے عدالت کو بتایا کہ دونوں درخواست دہندگان واقعہ ربوہ کے مقدمہ میں ملزم ہیں اور مودود احمد کا نام تو ملزموں کی اس فہرست میں شامل ہے جو جماعت احمدیہ نے مہیا کی ہے۔ فاضل جج نے درخواست ضمانت کی سماعت ۱۳؍ اگست تک کے لئے ملتوی کردی جب کہ جسٹس ایس رحمٰن کی عدالت میں ضمانت کی اصل درخواست زیر سماعت آئے گی۔
اوکاڑہ میں مزید علماء گرفتار
اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ کی ہدایت پر مقامی پولیس نے آج پھر احتجاج کرنے والے آٹھ افراد، جن میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رکن اور جمعیۃ علمائے پاکستان صوبہ پنجاب کے صدر مولانا غلام علی اوکاڑہ شامل ہیں، کو مسجد غوثیہ اوکاڑہ سے گرفتار کر لیا۔ دیگر سات افراد خواجہ مسعود وغیرہ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے۔ ان کی گرفتاریاں ان کے گھروں سے عمل میں لائیں گئیں۔ پتہ چلا ہے کہ پولیس کچھ مزید افراد کو گرفتار کرنے کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔ مولانا غلام علی کو مسجد سے اس وقت گرفتار کیا گیا۔ جب مسجد کے اندر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور شہریوں کو پر امن رہنے اور انتظامیہ سے بات چیت کرنے کا لائحہ عمل تیار کر رہے تھے۔ گرفتار شدہ افراد کو چار بجے کے قریب ساہیوال سنٹرل جیل پہنچا دیا گیا۔ شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس رویہ کے خلاف مختلف مساجد میں شدید مذمت کی اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ جب گزشتہ روز انتظامیہ سے سمجھوتہ ہو گیا کہ پرامن احتجاج جاری رکھتے ہوئے ہڑتال ختم کرا کر شہری حالات کو معمول پر لایا جائے گا تا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جا سکے اور اس پر آج ہڑتال ختم کر دی گئی اور کاروباری اداروں میں حسب معمول کام شروع ہو گیا تو اس کے باوجود پرامن شہریوں کو ان کے گھروں سے اور مولانا غلام علی کو مسجد سے کیوں گرفتار کیا گیا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ شہریوں کو ہراساں کرنے والے ملازمین کے خلاف تحقیقات کرائی جائے۔ یادرہے تازہ گرفتاریوں سے شہر میں زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے۔
۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی نے آج انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر تیسرے روز بھی جرح جاری رکھی۔ یہ جرح دو اجلاسوں میں کی گئی جو سات گھنٹے تک رہی۔ اجلاس کل صبح دس بجے پھر ہوگا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور، میاں طفیل محمد کا بیان
امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے اپنے ایک بیان میں اسلامی جمعیتہ طلباء پاکستان کے ناظم اعلیٰ ظفر جمال بلوچ اور ان کے ساتھی طلباء نعیم سرویا، حافظ شفیق الرحمٰن، اکمل جاوید، حافظ وصی محمد، راؤ محمد اختر اور دیگر طلباء کے خلاف حکومت کے طرز عمل کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ طلباء کا اس سے زیادہ کوئی قصور نہیں کہ وہ مساجد میں ملک کی عوام کو حضور نبی کریم ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کے معنی و مفہوم اور اس بارے میں مسلمانوں کے ان مطالبات سے روشناس کرا رہے ہیں جو قومی اسمبلی میں ان دنوں زیر غور اور فیصلہ کے لئے پیش ہیں۔ آخر یہ انصاف کی کون سی قسم ہے کہ جب ان میں سے کسی کی عدالت سے رہائی عمل میں آتی ہے تو جیل سے برآمد ہونے سے پہلے ہی کئی سال قبل کی کسی تقریر پر دوبارہ گرفتار کر کے واپس جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ میاں طفیل محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبر وتشدد کی پالیسی کو بدلے اور ان تمام طلباء کو فی الفور رہا کرے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت حلقہ نئی و پرانی انارکلی کے زیر اہتمام مسجد حاجی مولا بخش پیسہ اخبار لاہور میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اسیران اوکاڑہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
۹ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مولانا مفتی محمود کا اخباری بیان
مجلس عمل کے رہنما متحدہ جمہوری محاذ کے مرکزی نائب صدر اور جمعیتہ علمائے اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی محمود نے ایک بیان میں جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنماؤں کے خلاف ناروا کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے محمد طفیل ہاشمی، زرعی یونیورسٹی کے محمد اشفاق احمد، محمد احمد، محمد رفیق، سرگودھا کے محمد اشفاق، شیخ خالد محمود، یونس، شیخ محمد ملک، خالد مقصود شاہد، جھنگ کے محمد حنیف یزدانی، عبداللطیف عثمانی، چنیوٹ کے ندیم اشرف، ملک خلیل احمد، محمد یوسف حسرت، اوکاڑہ کے افتخار شاہد، خوشی محمد، عبدالسلام، رحیم یار خان کے عبدالرؤف، ملتان کے محمد احمد، عبداللطیف احمد خان، بہاول نگر کے ندیم اقبال، محمد اقبال محسن، بیسیوں دیگر طالب علم رہنماؤں اور سینکڑوں طالب علم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نوجوان طلباء پر تشدد اور بربریت کے ذریعے خوف بٹھا کر تحریک ختم نبوت کو بے جان اور ناکام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اوکاڑہ میں مسجد کی بے حرمتی اور جلسہ پر پولیس لاٹھی چارج، بلاوجہ جمعیتہ طلبائے اسلام اور دیگر کارکنوں کی گرفتاریوں، ان پر غیر انسانی ظلم و تشدد کو بے حد افسوس ناک قرار دیا۔ مفتی صاحب نے وزیر اعظم بھٹو سے کہا کہ وہ پنجاب کی انتظامیہ سے طلباء کے خلاف جارحانہ اقدامات کا نوٹس لیں۔
پولیس کی زیادتیوں پر احتجاج
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت آر.اے بازار کے زیر اہتمام ختم نبوت کے موضوع پر جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں علامہ سید محمود احمد رضوی، صاحبزادہ فیض القادری، ملک محمد قاسم، رانا نذر الرحمٰن، بارک اللہ خان، مولانا نیاز احمد نیازی، مولانا عبدالرؤف ملک اور قاری عبدالحمید قادری نے خطاب کیا۔ پاکستان میں اندھا دھند گرفتاریوں اور پولیس کی زیادتیوں پر شدید احتجاج کیا گیا۔
سرگودھا
مرکزی مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری ۱۲؍ اگست کو نماز عشاء کے بعد مسجد گول چوک سرگودھا میں خطاب کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قصور، حاجی محمد شفیع کا بیان
گزشتہ روز تحریک طلباء تحفظ ختم نبوت کا ایک اجلاس تحریک کے دفتر میں منعقد ہوا۔ تحریک کے کنوئیر کے۔ ایم چوہدری اور صدر حافظ محمد جاوید نے طلباء کو زور دیا کہ وہ تحریک میں شامل ہوں۔ صدارتی تقریر کرتے ہوئے تحریک کے سرپرست حاجی محمد شفیع نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ تحریک کی ذیلی شاخیں ہر شہر اور ہر گاؤں میں قائم کریں اور جہاں جہاں طلباء مقیم ہوں، متحد ہو کر تحریک میں شامل ہوں تا کہ تحریک اپنے منشور کو لے کر آگے چل سکے۔
کھاریاں کیس کے لئے ٹربیونل کا قیام
گورنر پنجاب نے کھاریاں پولیس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے ٹربیونل قائم کیا ہے۔ ٹربیونل سیشن جج جہلم مسٹر محمد امین ملک پر مشتمل ہو گا۔ ایک سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ ۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو تہال الیارا دیہات میں فساد ہو گیا تھا، جس میں پولیس کی فائرنگ سے جانی نقصان بھی ہوا۔ ٹربیونل اس وقوعہ کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری متعین کرے گا اور حکومت کو مناسب کارروائی کی سفارش کرے گا۔ گورنر نے ۴؍ جولائی کو جہلم میں ہونے والے حادثہ کی تحقیقات کے لئے بھی ایک ٹربیونل مقرر کیا ہے۔ یہ حادثہ ۴؍ جولائی کے لگ بھگ ہوا تھا اور اس میں جہلم میں کئی دوکانیں نذر آتش کر دی گئی تھیں اور بہت سا سامان لوٹ لیا گیا تھا۔ ایک گھر پر حملہ کیا گیا۔ اس حادثہ کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔ ٹربیونل سیشن جج گجرات شیخ محمد شفیع پر مشتمل ہے۔ دونوں ٹربیونل اس ماہ کے آخر تک تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں گے۔
ساہیوال میں ہڑتال، گرفتاریاں شروع
مجلس عمل ساہیوال شہر کے صدر مفتی ضیاء الحسن کو گزشتہ رات ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ مجلس عمل ضلع ساہیوال نے انتظامیہ کی اس کارروائی پر زبردست احتجاج کیا ہے۔ احتجاجی طور پر آج ضلع ساہیوال میں مکمل ہڑتال رہی۔ مجلس عمل نے فیصلہ کیا ہے کہ انتظامیہ جب تک اسیر رہنماؤں کو رہا نہیں کرتی اور آئندہ کے لئے گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہیں کرتی، ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضلعی انتظامیہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کر کے منحرف ہو گئی اور گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جب اس سلسلہ میں چوہدری نذیر احمد ڈپٹی کمشنر سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس سلسلہ میں کسی گرفتاری کا علم نہیں۔
اپوزیشن لیڈروں کا مشترکہ بیان
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان نے ایک مشترکہ بیان میں ملک کے مختلف حصوں خصوصاً پنجاب کے عام شہروں میں ہونے والے بعض اشتعال انگیز واقعات، علما اور طلباء کی گرفتاریوں پر مبینہ تشدد پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی کے پیش نظر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ۱۰؍ اگست سے وقفہ نہ کیا جائے اور قادیانی مسئلہ کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کے لئے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو بلا توقف کام کرنے دیا جائے۔ یہ بیان متحدہ حزب اختلاف قومی اسمبلی کے جنرل سیکرٹری مولانا شاہ احمد نورانی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے اور اس پر اپوزیشن کے پروفیسر غفور احمد، مفتی محمود، احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا سید محمد علی،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا مصطفیٰ الازہری، چوہدری ظہور الہٰی، غلام فاروق، حاجی مولا بخش سومرو اور صاحبزادہ فیض اللہ کے بھی دستخط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست اور وفاقی وزیر قانون کے ذریعے بار بار اپیل کی ہے کہ اس دوران جب کہ قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ زیر بحث ہے، انتظامیہ کے غیر ضروری اشتعال انگیز اقدامات، پولیس کی جانب سے یک طرفہ بے جا تشدد اور گرفتاریوں سے صوبے کی فضاء کو مکدر کرنے سے گریز کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سے یہ اپیل بھی کی گئی کہ مساجد میں دفعہ ۱۴۴ نافذ نہ کی جائے۔ ڈی۔ پی۔ آر کے تحت گرفتار شدہ طلباء اور علماء کو رہا کر دیا جائے۔ زیر حراست افراد کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے ذریعے تشدد کی پالیسی کو سخت سے سخت تر کیا جارہا ہے۔ جس کے خلاف احتجاج کے طور پر صوبے کے بہت سے اہم شہروں میں پرامن باشندے مسلسل ہڑتال کرنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت اپنی روایتی ہٹ دھرمی کے ساتھ حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی غیر دانش مندانہ حرکات سے انہیں خراب سے خراب تر کر رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کوئی سازشی ہاتھ پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں حالات کو اس حد تک بگاڑ دینا چاہتا ہے کہ اسمبلی کے لئے کام کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔ ان حالات میں ہم ایک مرتبہ پھر حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر حالات کو خراب نہ کیا جائے۔ پولیس اور سیکورٹی فورس کے ذریعے کیا جانے والا تشدد بند کیا جائے۔ مساجد کی حرمت و تقدس کو پامال نہ کیا جائے۔ مساجد سے چھینے ہوئے لاؤڈ سپیکر واپس کئے جائیں۔ ڈی۔ پی۔ آر کے تحت گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے خود ہی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ عوام بے چینی سے اسمبلی کے فیصلے کے منتظر ہیں اور اس بارے میں تاخیر مناسب نہیں۔
ملک محمد قاسم کی طرف سے پرزور مذمت
ملک محمد قاسم سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ انہیں بہاول نگر میں مختلف جماعتوں کے مقامی رہنماؤں، کارکنوں، علماء اور طلباء کی گرفتاریوں اور طلباء پر ناجائز و بے رحمانہ تشدد کی خبر اخبارات میں پڑھ کر از حد صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن شہریوں پر ناجائز تشدد کر کے حکومت جان بوجھ کر حالات کو بگاڑ رہی ہے۔ جس قسم کا برتاؤ یہ ”عوامی“ حکومت اپنے عوام سے کر رہی ہے۔ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بہاول نگر کے واقعات سے ہر پاکستانی کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسیران کو فوری طور پر رہا کرے اور اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔
مولانا عبدالستار نیازی کا بیان
سرگودھا: جمعیۃ العلماء پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا ہے کہ ولی خان نے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ انہیں غدار کہہ کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات مسجد گول چوک میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام لیواؤں کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ جو نظریہ پاکستان سے انحراف کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور بانی اسلام کے دشمنوں کو ختم کرنا حکومت کا کام ہے۔ مگر حکومت کی موجودہ پالیسی نے عوام کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پسند نوجوان گرفتاریوں اور تشدد سے مرعوب نہیں ہوں گے بلکہ اپنے مقدس مشن کی تکمیل کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا گرانی، غنڈہ گردی، رشوت اور چور بازاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ مگر عوامی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کئے گئے علماء، طلباء اور کارکنوں کو رہا کیا جائے اور سنسر کی پابندیاں ختم کی جائیں۔ فرید احمد پراچہ، حکیم مشتاق احمد، مولانا احمد سعید ہاشمی اور قاضی مرید احمد نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔
قصور میں احتجاجی ہڑتال
اوکاڑہ میں پولیس تشدد اور رضا کاروں کی گرفتاریوں کے خلاف دیگر شہروں کی طرح قصور میں بھی احتجاجی ہڑتال کی گئی۔ شہر کی تمام مارکیٹیں، صنعتی ادارے، سبزی منڈی اور دیگر تجارتی ادارے مکمل طور پر بند رہے اور جامع مسجد کوٹ اندرون میں ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت مجلس عمل کے کنوینیئر چوہدری فضل حسین نے کی۔ مختلف مقررین نے پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تشدد کرنے والے پولیس افسران کو سزائیں دی جائیں اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔
متعدد علماء اور کارکنوں کے خلاف نئے مقدمات درج کر لئے گئے
لاہور: مقامی پولیس نے تحفظ امن عامہ کے آرڈیننس کی دفعہ ۱۶ کے تحت قابل اعتراض تقاریر کرنے اور ضلعی حکام کی اجازت کے بغیر لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے پر دفعہ ۱۸۸ کے تحت متعدد علماء اور مجلس عمل ختم نبوت کے کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔ جن افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں، ان میں متحدہ جمہوری محاذ کے مسٹر بارک اللہ خان اور ان کے دو ساتھیوں پر لوہاری جامع مسجد میں، مولانا ضیاء الدین اور ان کے سات ساتھیوں پر جامع مسجد حمام والی میں، پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سیکرٹری جنرل مسٹر عبدالشکور پر جامع مسجد مصطفیٰ آباد میں، سید غلام مصطفیٰ اور ان کے ایک ساتھی پر مسجد اہل اسلام اندرون بھاٹی گیٹ میں، حافظ زاہد اور ان کے ایک ساتھی پر مسجد پسوڑیاں والی میں قابل اعتراض تقاریر کرنے پر شہر کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
مسلم لیگ پنجاب زون کا بیان
پاکستان مسلم لیگ (پنجاب زون) کے صدر سینیٹر خواجہ محمد صفدر اور صوبائی جنرل سیکرٹری غلام حیدر وائیں نے ایک مشترکہ بیان میں لائل پور، جھنگ، اوکاڑہ، سرگودھا، بہاول نگر، راولپنڈی اور دیگر مقامات پر اندھا دھند گرفتاریوں اور پولیس انتظامیہ کی زیادتیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام گرفتار شدگان کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں لائل پور سے سٹی مسلم لیگ لائل پور کے صدر اور مرکزی مجلس عمل میں پاکستان مسلم لیگ کے رکن چوہدری صفدر علی رضوی، ضلع مسلم لیگ جھنگ کے صدر چوہدری محمد ادریس ایڈووکیٹ، سٹی مسلم لیگ بوریوالہ کے رکن ادریس جانباز اور بہت سے مسلم لیگی و دیگر رہنماؤں و کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسیران کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کا رویہ اس قدر افسوس ناک اور ظالمانہ ہے کہ اس کی مذمت کے لئے اوکاڑہ میں قوم کی مائیں اور بیٹیاں تک گلیوں میں نکل کر صدائے احتجاج بلند کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ اس طرح پنجاب کے دیگر مقامات پر پولیس اور انتظامیہ عوام سے جس طرح پیش آ رہی ہے، اس سے مجبور ہو کر قریباً بڑے چھوٹے شہر میں مکمل ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پر امن احتجاج کے لئے حکومت نے تمام ذرائع پر پابندی لگا کر کوئی اور راستہ عوام کے لئے نہیں چھوڑا۔ مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صوبہ میں امن وامان کی فضاء کو سازگار رکھنے کے لئے اپنی پالیسی پر فوری نظر ثانی کرے اور تمام گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کرتے ہوئے عوام کے جذبات کے اظہار کے لئے پر امن جلسوں اور جلوسوں پر پابندیوں کو ختم کرے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اوکاڑہ کے گرفتار شدگان کی ضمانت منظور
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شفیع الرحمٰن نے اوکاڑہ کے گرفتار شدگان ۸۱؍ افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ فاضل جج نے یہ حکم مجلس عمل ختم نبوت اوکاڑہ کے گرفتار شدگان کی طرف سے دائر کردہ درخواست ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔ اس سے قبل چوہدری نذیر احمد کی طرف سے دائر کردہ حبس بے جا کی رٹ درخواست پر پولیس نے اپنا ریکارڈ پیش کیا تھا۔
متحدہ جمہوری محاذ پنجاب
متحدہ جمہوری محاذ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق متحدہ جمہوری محاذ نے صوبوں اور اضلاع کی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متحدہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سے تعاون کریں اور محاذ کی سرگرمیاں تیز کر دیں۔
جمعیۃ طلبائے اسلام
جمعیۃ طلبائے اسلام کے صدر محمد اسلوب قریشی اور پنجاب کے ناظم اعلیٰ عبدالمتین چوہدری نے مجلس عمل ساہیوال کے صدر مفتی ضیاء الحسن کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ضلع ساہیوال کی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ضلع کے حالات خراب نہ کرے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کر کے حالات کو پرسکون بنانے کی کوشش کرے۔
مسیحی عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل
چوہدری نعیم شاکر ایڈووکیٹ سیکرٹری جنرل پاکستان یونائیٹڈ کرسچین کونسل نے ایک اخباری بیان میں ایک مسیحی رہنماء کے حالیہ بیان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اگر انتخابی فہرستوں میں مذہب کا خانہ شامل نہ کیا گیا تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور ملک میں جداگانہ طریق انتخاب رائج کرنے کا مطالبہ ۱۴؍ اگست تک پورا نہ ہوا تو وہ یوم آزادی پر ترک وطن کر جائیں گے۔
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۹؍ اگست ۱۹۷۴ء)
نوٹ: اسی نعیم شاکر کا اب کیا طرز عمل ہے، اس پر مفصل تبصرہ کی ضرورت ہے۔ مگر اس وقت یہ موضوع زیر بحث نہیں۔ (مرتب)
لاہور، مولانا عبدالرشید کشمیری
مجلس عمل حلقہ ریلوے روڈ اور تنظیم علماء اسلام پاک و کشمیر اور تنظیم فدایان ختم نبوت کے کارکنوں کا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا عبدالرشید کشمیری منعقد ہوا۔ جس میں علمائے دین کی گرفتاریوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ مولانا محمد رمضان نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مولانا اختر کاشمیری اور دیگر علمائے کرام کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مجلس عمل کے سیکرٹری عبدالوحید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک سے مہنگائی اور غنڈہ گردی کا بھی خاتمہ کیا جائے۔
تحریک استقلال
ملتان: ”امروز“ کے حوالہ سے تحریک استقلال کے بعض رہنماؤں کی پریس کانفرنس پہلے گزر چکی ہے، جنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک استقلال کے رہنما قادیانی لابی سے ملے ہوئے ہیں۔ اس کی تردید کے لئے تحریک کے دوسرے رہنماؤں کے بیانات ملاحظہ ہوں:
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک استقلال پنجاب کے سربراہ مسٹر مسعود احمد پوسوال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان کی قیادت کے تحت روز بروز مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی سالمیت و یکجہتی کے تحفظ کی خاطر حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام صحت مند افراد کو لازمی فوجی تربیت دے۔ انہوں نے ایئر مارشل اصغر خان کے اس مطالبہ کو دہرایا کہ پاکستان، چین کے ساتھ دفاعی معاہدہ پر دستخط کرے۔ مسٹر مسعود احمد پوسوال نے کہا کہ تحریک استقلال میں شامل اصغر خان سمیت ہر شخص ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نہ تو ان کی جماعت اور نہ جماعت کے سربراہ احمدیوں سے کسی قسم کی ساز باز رکھتے ہیں۔ انہوں نے دفعہ ۱۴۴ ہٹانے اور اخبارات پر سے پابندی ختم کرنے پر بھی زور دیا۔
(جنگ کراچی، مورخہ ۹؍ اگست ۱۹۷۴ء)
رحیم یار خان کے تحریک استقلال کے رہنما
تحریک استقلال کے رہنما چوہدری محمد انور زاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لندن میں تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل محمد اصغر خان نے سر ظفر اللہ خان سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی قادیانی فرقہ سے پارٹی کے لئے مالی امداد حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انگلستان میں تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل (ریٹائرڈ) اصغر خان کے دورہ کے دوران ان کے ہمراہ رہا ہوں۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی بھاری اکثریت کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہیں۔ دورہ کا تمام خرچہ برطانیہ کی تحریک استقلال نے برداشت کیا تھا۔ میرے علاوہ احمد رضا خان قصوری ایم.این.اے، میاں نور اللہ، حامد سرفراز، مرتضیٰ کھر، ظہور بٹ بار ایٹ لاء بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ ظہور اور غفور سہیل نے ایئر مارشل ریٹائرڈ کی لندن سے واپسی کے چھ ماہ بعد ان پر جو بے بنیاد الزامات عائد کئے ہیں، اس کی وجہ محض یہ ہے کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور انہیں تحریک استقلال کی جانب سے سنگین بدعنوانیوں اور پارٹی مفادات کے خلاف کام کرنے کی بناء پر جماعت کی بنیادی رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ مسٹر زاہد نے کہا کہ شیخ ظہور کی بدعنوانیوں کے سلسلہ میں قبل ازیں اخبارات میں متعدد خبریں شائع ہو چکی ہیں۔ اس قسم کے فرد کی جانب سے بے بنیاد الزامات بجائے خود اپنی نفی آپ ہیں اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ ان اصحاب کا وجود مسلم لیگ کے لئے بھی سودمند ثابت نہیں ہوگا۔
(نوائے وقت لاہور، مورخہ ۹؍ اگست ۱۹۷۴ء)
مرزا ناصر احمد پر جرح جاری ہے
آج چوتھے روز بھی قومی اسمبلی کے ایوان نے خاص کمیٹی کی حیثیت سے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح جاری رکھی جو سات گھنٹے پر مشتمل دو اجلاسوں میں کی گئی۔ ابھی جرح جاری تھی کہ کمیٹی کا اجلاس کل دس بجے تک ملتوی ہو گیا۔
۱۰؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
پنجاب میڈیکل کالج لائل پور کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا
پنجاب میڈیکل کالج لائل پور کے طلباء نے پولیس کے رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لئے جائیں۔ بتایا گیا ہے کہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر طوسی نے گزشتہ روز ایک فرقہ کے طلباء میں مختلف نصابی کتب تقسیم کیں۔ طلباء کی کثیر تعداد نے پرنسپل کے اس جانبدارانہ رویہ کے خلاف احتجاج کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے لوکل بس کے ذریعے طوسی کے بنگلہ واقع جیل روڈ میں گئے۔ واپسی پر تھانہ کوتوالی کی پولیس یونیورسٹی کے مین گیٹ سے طلباء کو تھانے لے آئی اور انہیں ۷ بجے شام سے ڈیڑھ بجے رات تک مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھا۔ اسی اثناء میں انہیں کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں دیا گیا۔ منت سماجت کے باوجود انہیں نماز ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ رات ڈیڑھ بجے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ طلباء کے خلاف زیردفعات ۳۴۲، ۵۰۴ تعزیرات پاکستان اور ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
وہاڑی میں مکمل ہڑتال
وہاڑی میں کل مکمل ہڑتال رہی۔ یہ ہڑتال اوکاڑہ، بہاول نگر، کبیر والہ، راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف حصوں میں انتظامیہ اور پولیس کے جانبدارانہ رویہ کے خلاف احتجاج کے طور پر کی گئی ہے۔ وہاڑی میں تیسری بار ہڑتال کی گئی ہے۔ مجلس عمل نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسیر علماء اور طلباء کو رہا کیا جائے۔
مولانا محمود احمد رضوی کا مرید کے میں جلسہ عام سے خطاب
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل علامہ رضوی نے کہا ہے کہ ملک میں ختم نبوت کے کارکنوں کی گرفتاریوں، جھوٹے مقدمات اور لاؤڈ اسپیکر کی ضبطی کا سلسلہ وسیع پیمانے پر شروع ہو چکا ہے۔ جس سے ملک کا داخلی امن تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کر کے فضاء کو خوشگوار بنائے تاکہ درپیش مسائل جلد از جلد پرامن طریقے سے حل ہو جائیں۔ علامہ سید محمود احمد رضوی جامع مسجد مرید کے میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس جلسہ سے صاحبزادہ فیض القادری، جناب ثناء اللہ بھٹہ اور مولانا حافظ عبد القادر روپڑی نے بھی خطاب کیا۔
مجلس عمل لاہور کے صدر صاحبزادہ فیض القادری نے کہا کہ ہم قانون کا احترام کر رہے ہیں۔ لیکن انتظامیہ قانون کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ پرامن شہریوں کو دھمکانا اور مقتدر علماء کو گرفتار کرنا معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے سنجیدگی سے اس جانب توجہ نہ دی تو ہو سکتا ہے کہ حالات مزید خراب ہو جائیں۔ جناب ثناء اللہ بھٹہ سیکرٹری جنرل احرار نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کامیابی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ عوام کو کسی بھی مرحلے میں اشتعال میں نہیں آنا چاہئے۔ جمعیۃ اہل حدیث کے رہنما حافظ عبدالقادر روپڑی نے کہا کہ سرکاری علماء غلط پراپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی کسی بھی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یکم ستمبر کو لاہور میں کنونشن کے لئے اخبار میں اشتہار
- تحریک ختم نبوت کی ملک گیر جدوجہد کا جائزہ لینے کے لئے۔
- مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین۔
- کارکنوں کے مشوروں اور تجاویز پر غور۔
- تحریک ختم نبوت کی برکت سے دینی جماعتوں کے مابین رونما ہونے والے خوشگوار اتحاد کو مستقل شکل دینے کی تجاویز پر عملدرآمد
کے لئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکم ستمبر بروز اتوار لاہور میں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کنونشن
جس میں مرکزی مجلس کے قائدین، علماء، مشائخ، صوبہ سرحد، بلوچستان، سندھ اور پنجاب بھر کی مجالس عمل کے نمائندگان شریک ہو رہے ہیں۔
...... پروگرام ......
- ...... ۹؍ بجے صبح تا ۶؍ بجے شام ...... اجلاس مندوبین: جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ
- ...... ساڑھے آٹھ بجے شب ...... بادشاہی مسجد لاہور میں مرکزی قائدین ایک فقید المثال ۔
تاریخی جلسہ عام سے خطاب کریں گے صاحبزادہ فیض القادری (صدر) ...... بارک اللہ خان (سیکرٹری جنرل) مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور
اشتعال انگیزی کیوں؟ ...... اداریہ ”نوائے وقت“
”قومی اسمبلی کے اپوزیشن ممبروں نے ایک مشترکہ بیان میں ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پنجاب کے شہروں میں رونما ہونے والے اشتعال انگیز واقعات، علماء اور طلباء کی گرفتاریوں اور ان پر مبینہ تشدد پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی بے چینی کے پیش نظر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ۱۰؍ اگست سے وقفہ نہ کیا جائے اور قادیانی مسئلہ کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کے لئے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو بلا توقف کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کوئی سازشی ہاتھ پورے ملک میں اور بالخصوص پنجاب میں حالات کو اس حد تک بگاڑ دینا چاہتا ہے کہ اسمبلی کے لئے کام کرنا قریباً ناممکن ہو جائے ۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اپوزیشن ارکان کی بار بار اپیلوں کے باوجود حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی غیر دانش مندانہ حرکات سے انہیں خراب تر کر رہی ہے ۔ بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ پولیس اور سیکورٹی فورس کا تشدد بند کرایا جائے ۔ مساجد کی حرمت و تقدس کو پامال نہ کیا جائے ۔ مساجد میں دفعہ ۱۴۴ نافذ نہ کی جائے ۔ ان کے لاؤڈ سپیکر واپس کئے جائیں اور ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے ۔
جہاں تک اپوزیشن ارکان کے پہلے مطالبہ یعنی قومی اسمبلی کے مسلسل یا بلا وقفہ اجلاس کا تعلق ہے، ہم نہیں سمجھتے کہ اسے پذیرائی سے کیوں محروم رکھا جائے ۔ کیونکہ وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو خود یہ فرما چکے ہیں کہ عوام اسمبلی کے فیصلہ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور اس بارے میں تاخیر مناسب نہیں ۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ واقعی مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کا خیال بھی ذہن میں لایا جائے ۔ ہمیں توقع ہے کہ ارباب اقتدار اس جائز و معقول مطالبہ کو تسلیم کرنے اور اسمبلی کا اجلاس بلا وقفہ جاری رکھنے میں تامل سے کام نہیں لیں گے ۔
ہم ان کالموں میں بارہا گزارش کر چکے ہیں کہ تشدد کی کوکھ سے ہمیشہ تشدد ہی پیدا ہوتا ہے ۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ ردعمل انتہائی شدید ہوتا ہے ۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے پولیس اور سیکورٹی فورس کے بے جا تشدد اور اشتعال انگیزی کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں اور اس کے ردعمل کے طور پر بعض شہروں میں مسلسل ہڑتالیں بھی ہوئی ہیں ۔ اس صورتحال نے فضاء کو کافی حد تک مکدر کیا ہے اور یہ تسلیم کر لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے کہ اشتعال انگیزی اور تشدد عوامی تشویش و اضطراب میں اضافہ کا موجب ہی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنے ہیں۔ لوگ پہلے ہی ملک وملت کو درپیش خطرات ومسائل کی سنگینی سے پریشان ہیں۔ قادیانی مسئلہ کے بارے میں انتظامیہ کے رویہ نے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے اور وہ منفی رجحانات کے شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ خود وزیر اعظم اس بارے میں اس دو ٹوک موقف کا اعلان کر چکے ہیں کہ یہ مسئلہ سواد اعظم کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے گا۔
ہمارے لئے یہ امر نا قابل فہم ہے کہ جب اس مسئلہ پر حزب اقتدار اور حزب مخالف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، حکومت یہ معاملہ عوام کی اکثریت کی رائے کے مطابق طے کرنا چاہتی ہے۔ وہ عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کا احترام کرتی ہے۔ پھر یہ اشتعال انگیزی اور بلا جواز تشدد کیوں؟ علماء وطلباء کی گرفتاریوں کا کیا مقصد؟ اوکاڑہ ، گوجرانوالہ ، لائل پور، کھاریاں ، جہلم وغیرہ سے اشتعال انگیزی اور تشدد کی جو خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔ ان کا کیا جواز تھا؟ جہاں تک کھاریاں کا تعلق ہے، گورنر پنجاب نے وہاں پولیس فائرنگ کی تحقیقات کے لئے ایک ٹربیونل قائم کر دیا ہے۔ ٹربیونل کے قیام کے اس اقدام سے مقامی آبادی کو واقعی اطمینان نصیب ہوگا۔ لیکن جس سپرنٹنڈنٹ پولیس پر سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔ (ایس. پی شریف چیمہ) اسے ہنوز معطل یا لائن حاضر نہیں کیا گیا۔ حالانکہ یہ تحقیقات کا بنیادی تقاضا تھا۔ اسی طرح اوکاڑہ میں وسیع پیمانہ پر گرفتاریوں کا آخر کیا مقصد تھا۔ جہاں تک گرفتاریوں کا تعلق ہے، یہ عمل دوسرے شہروں میں بھی جاری ہے اور اپوزیشن کے دعوؤں کے مطابق پنجاب میں قریباً پانچ ہزار افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف لوگوں میں بے چینی اور اضطراب پھیلتے ہیں بلکہ حکومت کے خلاف بدظنی اور بدگمانی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ارباب اقتدار کو سوچنا چاہئے کہ جب وہ سواد اعظم کی رائے کا احترام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو پھر یہ سب کچھ آخر کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟‘‘
(نوائے وقت کا اداریہ مؤرخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۷۴ء)
۱۱؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
رحیم یار خان...... مولانا غلام ربانی کی پریس کانفرنس
مجلس عمل رحیم یار خان کے صدر مولانا غلام ربانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تشدد کے ذریعے عوام کے جذبات کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ ملک کے ہر حصے میں نہتے شہریوں، طلباء اور عوام کو بلا جواز گرفتار کر کے ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بالآخر انتشار و افرا تفری کی صورت پیدا ہوگی۔ جس کی تمامتر ذمہ داری برسر اقتدار حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے کہا اوکاڑہ میں خواتین کے پرامن جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ جس سے متعدد خواتین زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پڑی ہیں۔ اس وقت ملک میں قانون صرف شریف شہریوں کے لئے ہے۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہر جگہ پولیس اور غنڈہ عناصر کے ہاتھوں عوام پر تشدد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پولیس تشدد کے خلاف رحیم یار خان میں کھلی ہڑتال کے سلسلے میں کہا، اس وقت ہڑتال سے مقامی انتظامیہ بوکھلا اٹھی ہے۔ کئی لوگوں کو بلاوجہ گرفتار کر کے حوالات میں بند کیا گیا ہے۔ پانچ کم عمر لڑکوں کو بھی پولیس گرفتار کر کے تھانے لے گئی ہے۔ جنہیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور نہ دوپہر کا کھانا ان تک پہنچنے دیا گیا ہے، جس سے طلباء کی جانب سے سخت اقدام یقیناً پیدا ہوگا کیونکہ ان حالات کے بعد طلباء کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔ مجلس عمل (رحیم یار خان) کے جنرل سیکرٹری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک سے سنسر شپ اور دفعہ ۱۴۴ کی لعنت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جلسہ عام
آج مؤرخہ ۱۱؍ اگست بروز اتوار بعد از نماز عشاء جامعہ مسجد خضراء سمن آباد لاہور میں ایک جلسہ عام منعقد ہو رہا ہے جس میں مندرجہ ذیل مقررین خطاب فرمائیں گے
- ۱....... میاں طفیل محمد ۲....... نوابزادہ نصر اللہ خان ۳....... پروفیسر غفور احمد
- ۴....... چوہدری ظہور الٰہی ۵....... صاحبزادہ فیض القادری ۶....... مولانا عبد القادر روپڑی
- ۷....... بارک اللہ خان ایڈووکیٹ ۸....... چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ۹....... مولانا محمد ابراہیم
- ۱۰....... علامہ عنایت اللہ گجراتی
منجانب: اشفاق مرزا، صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سمن آباد لاہور
سرگودھا میں جلسہ عام
فخر ملت، شیخ الحدیث، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری (صدر مجلس عمل پاکستان) مجاہد ملت مولانا شاہ احمد نورانی (ایم۔این۔اے) صدر جمعیۃ العلماء پاکستان و دیگر رہنما ۱۲؍ اگست سوموار بعد نماز عشاء جامع مسجد گول چوک سرگودھا میں خطاب فرمائیں گے منجانب: مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع سرگودھا
لاہور میں جلسہ عام
امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے کہا ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ دراصل نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دفاع کا مسئلہ ہے جو ہر صاحب ایمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے ارکان، کارکنوں اور ووٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنے منتخب کردہ ارکان پارلیمنٹ کو مجبور کریں کہ وہ اس بارے میں قانونی تقاضوں کو جلد از جلد پورا کریں۔ میاں صاحب جامعہ مبارک لاہور میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس جلسے سے مولانا عبد القادر روپڑی، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ اور مجلس عمل کے مقامی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
میاں طفیل محمد نے کہا کہ نبی پاک کے ختم المرسلین ہونے کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی عقیدے اور عمل اور ان کے ہر دینی اور دنیوی شعبہ زندگی کی اساس نبوت محمدی ﷺ پر قائم ہے۔ اس اساس کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی جو اس میں کسی ردو بدل کی کوشش کرتا ہے، وہ مسلمانوں کا شیرازہ منتشر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی اجازت دنیا کی کوئی قوم نہیں دے سکتی کہ اس کی اصل بنیاد کو ڈھانے کی کوشش کرے۔
انہوں نے ڈیفنس رولز کے ذریعے مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی اور طالب علم رہنماؤں اور علمائے کرام کی یک طرفہ گرفتاریوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری ظفر اللہ خان اور مرزا ناصر احمد نے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ساری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دنیا میں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے متفقہ مطالبات کو تسلیم کریں اور مسلمانوں پر تشدد بند کریں۔
وزیراعظم نے چاروں گورنروں کی میٹنگ طلب کر لی
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں گورنروں کی کانفرنس طلب کی ہے۔ اس میں امن عامہ کی صورتحال کے علاوہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق ضروری قوانین کے نفاذ کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کا مسئلہ بھی زیرغور آئے گا اور وہاں کے ترقیاتی منصوبوں اور امن وامان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کانفرنس ایک روز جاری رہے گی اور اس کے دو اجلاس ہوں گے۔ جن میں چاروں صوبوں کے گورنر، وزراء اعلیٰ اور اعلیٰ افسر شرکت کریں گے۔
اصغرخان کا وضاحتی بیان
تحریک استقلال کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغرخان نے کہا ہے کہ بعض شرپسند عناصر مجھ پر مرزائی ہونے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں واحد شخص ہوں جس نے واقعہ ربوہ کے دوسرے ہی روز اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا میں واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں اور میرے عقیدے کے مطابق ان کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس فرقہ کو غیر مسلم اقلیت سمجھتا ہوں اور اپنے اس مطالبہ کو دہراتا ہوں کہ حکومت انہیں فوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی باقاعدہ نگرانی کرے۔ مانسہرہ میں پارٹی کارکنوں اور عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی میں مرزا ناصر احمد پر جرح ملتوی ہو گئی
قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی کا اجلاس آج صبح پانچویں دن بھی جاری رہا۔ جس میں انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی گئی۔ آج کا اجلاس دو گھنٹے جاری رہا اور بعدازاں کسی بعد کی تاریخ پر ملتوی ہو گیا۔ جس میں گواہ پر جرح جاری رہے گی۔ اب ایوان کا اجلاس ۱۲ / اگست کو قومی اسمبلی کی حیثیت سے شروع ہوگا۔
۱۲ / اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
شہریوں پر تشدد کی مذمت
پاکستان خاکسار ورکرز پارٹی کے رہنما سید ظفر مشہدی نے بہاول نگر شہر اور منچن آباد کے شریف شہریوں پر پولیس اور انتظامیہ کے تشدد کی مذمت کی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مناسب کارروائی کریں۔ مسٹر مشہدی نے متذکرہ مقامات کے خاکسار رہنماؤں کے حوالے سے بتایا کہ ان مقامات پر معزز شہریوں سے شرمناک سلوک کیا گیا۔ اگر اس سلسلہ میں مناسب کارروائی نہ کی گئی تو امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
اصغرخان اور ناصر احمد کے درمیان مفاہمت ناقابل تردید حقیقت ہے (ڈاکٹر اے. آر. اعوان)
تحریک استقلال کے ایک لیڈر نے کہا ہے کہ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغرخان نے قادیانی فرقہ کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سربراہ مرزا ناصر احمد سے مفاہمت کر لی تھی۔ ڈاکٹر اے. آر. اعوان نے جو پارٹی کے ڈپٹی چیف آرگنائزر ہیں، آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس قادیانیوں کے لیڈر کے ساتھ اصغر خان کی مفاہمت کا ٹھوس ثبوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ مسٹر اصغر خان نے مرزا ناصر احمد کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے ربوہ کے واقعے کے بارے میں اپنے بیان کی وضاحت کی تھی اور قادیانیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ ڈاکٹر اعوان نے کہا کہ پارٹی کے کارکن اس گٹھ جوڑ پر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے پارٹی کے اندر ایک پروگریسو گروپ قائم کیا، جس کا مقصد اصغر خان کو پارٹی سے نکالنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اصغر خان نے لندن کے دورے میں سر ظفر اللہ خان سے ملاقاتیں کی تھیں تا کہ احمدی فرقے سے گہرا رابطہ قائم کیا جائے۔ ڈاکٹر اعوان نے کہا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر اپنے ان الزامات کو ثابت کر سکتے ہیں۔ ایبٹ آباد کی دیواروں پر بھی کئی پوسٹر نظر آئے تھے، جن میں مرزا ناصر احمد اور اصغر خان کے درمیان مفاہمت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
۱۳؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کھاریاں فائرنگ کیس
تحصیل کھاریاں کے دیہات تہال اور ڈھوگو پیارا میں فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات ۱۵؍ اگست کو صبح ۹ بجے اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں کی عدالت میں شروع ہوں گی۔ ان فسادات میں پولیس فائرنگ کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہلم مسٹر محمد امین ملک نے جو گورنر پنجاب کی طرف سے ٹربیونل جج مقرر ہوئے تھے، ان لوگوں سے جو اس سلسلہ میں شہادت دینا چاہتے ہیں، درخواست کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ کو عدالت میں آکر بیان دیں۔ ٹربیونل اپنی تحقیقات کی روشنی میں واقعہ کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کا تعین کرے گا اور حکومت سے ان سب اقدامات کی سفارش کرے گا۔ پبلک پراسیکیوٹر گجرات اور کھاریاں اور گجرات کی بار ایسوسی ایشنوں کے صدر ٹربیونل سے ملاقات کر رہے ہیں۔ جن میں تحقیقات کا طریق کار طے کیا جائے گا۔ ٹربیونل کے ایک ذریعے کے مطابق بار کے ارکان اگر ٹربیونل کی اعانت کرنا چاہیں تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
گوجرانوالہ میں ہڑتال
طالب علم رہنما نوید انور نوید نے گوجرانوالہ کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ۱۲؍ اگست کو مجلس عمل کی اپیل پر ہونے والی احتجاجی ہڑتال کو کامیاب بنانے میں پورا تعاون کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ کے علاوہ اوکاڑہ، ساہیوال اور دوسرے شہروں میں جو پولیس تشدد کیا گیا ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے اسیروں کو فوراً رہا کیا جائے۔ جمعیۃ طلباء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری محمد ظہیر، شہری جمعیۃ کے صدر حافظ عبدالقدوس اور جنرل سیکرٹری محمد فاروق نے ایک مشترکہ بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ۱۲؍ اگست کو مکمل ہڑتال کریں۔ جمعیۃ علماء پاکستان گوجرانوالہ کے رہنماؤں نے بھی ۱۲؍ اگست کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
حافظ آباد میں ہڑتال
مجلس عمل حافظ آباد کی اپیل پر گوجرانوالہ، بہاول نگر، اوکاڑہ، کبیر والہ اور دیگر مقامات پر پولیس اور حکومت کی دھاندلیوں،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زیادتیوں اور تشدد کے خلاف مکمل ہڑتال ہوئی۔ شہر میں ہر قسم کا کاروبار بند رہا۔ حتیٰ کہ پان سگریٹ کی دوکانیں اور چائے کے ہوٹل بھی بند رہے۔ مجلس عمل حافظ آباد کے صدر مولانا محمد الطاف حسین، پاکستان جمہوری پارٹی ضلع گوجرانوالہ کے صدر علیم شاہد، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر غلام نبی، سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے صدر محمد صدیق بھٹی، انجمن خواجگان کے صدر شیخ امان اللہ، جمعیۃ اہل حدیث کے امیر مولانا محمد ابراہیم، محمد نصر اللہ خاں بھٹی، جمعیۃ علمائے پاکستان کے صدر مولانا سید شبیر حسین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سیاسی اور دینی رہنماؤں کی گرفتاری اور تشدد کی شدید مذمت کی۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پر امن تحریک کو کچلنے کے لئے فاشی عزائم رکھتی ہے۔ مجلس عمل اس کا سختی سے مقابلہ کرے گی۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم اس تحریک کو پر امن طور پر کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔
اسیر علماء اور کارکن رہا کئے جائیں (حضرت بنوری)
سرگودھا: مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا محمد یوسف بنوری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ علماء اور کارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریوں اور تشدد نے عوام کو شبہات میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مجلس عمل کے مطالبات کو دبانا ممکن نہیں اور حقائق کو مسخ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ پر امن طور پر اپنے مطالبات منوانے کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی انہوں نے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی کے ارکان بھی اپنا دینی فریضہ فراموش نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف مہم حکومت کے ایماء پر چلائی گئی تھی، جس کا مقصد عوام کے اتحاد کو ختم کرنا تھا۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی پر یک طرفہ پراپیگنڈہ کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ گرفتار کئے گئے تمام علماء اور کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔
۱۲؍اگست ۱۹۷۴ء کو آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کارواں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں سرگودھا پہنچا۔ لاہور سے سرگودھا تک ہر شہر میں کارواں کا مثالی استقبال ہوا۔ کارواں میں جناب نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا احسان الہیٰ ظہیر، مولانا شاہ احمد نورانی، حضرت مفتی محمود، سید مظفر علی شمسی، جناب مولانا محمود احمد رضوی اور دیگر رہنما شامل تھے۔ قافلہ کے پہنچتے ہی پریس کانفرنس ہوئی جسے آپ نے پڑھ لیا ہے۔ سرگودھا میں بھی پورے ملک کی طرح مثالی استقبال ہوا۔ شہر سے کئی میل باہر جلوس کی شکل میں قافلہ کو سرگودھا میں لایا گیا۔ پورے ڈویژن کے تمام مکاتب فکر کے رہنما اپنے اپنے علاقہ کے وفود اور جلوس لے کر سرگودھا داخل ہوئے۔ مرکزی قائدین کی آمد پر مثالی اور والہانہ انداز سے استقبال پر سرگودھا شہر کے در و دیوار جھوم اٹھے۔ ایک طوفان تھا۔ دن کو صبح دس بجے سے عصر تک گول چوک کی جامع مسجد میں کنونشن منعقد ہوا۔ میں اس وقت کراچی دفتر میں بیٹھا رپورٹ مرتب کر رہا ہوں۔ ۱۳؍اگست کے اخبارات میں رپورٹ شائع ہوئی۔ مگر اس وقت اخبار میسر نہیں۔ ۱۴؍اگست کے اخبارات بھی موجود نہیں۔ ۱۴؍اگست کو چھٹی تھی۔ ۱۵؍اگست کے اخبارات شائع نہ ہوئے۔ مجھے اس کنونشن اور رات کے جلسہ عام میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ صرف اپنی یادداشت پر اس کی کارروائی قلمبند کر رہا ہوں۔ کنونشن و جلسہ عام کی منظر کشی اور پوری رپورٹ تو بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے حکم پر مولانا محمد شریف جالندھری کھاریاں گجرات ڈنگہ میں شریف چیمہ پولیس آفیسر کی فائرنگ سے جو مسلمان شہید ہوئے تھے، ان کی انکوائری کر کے اس کنونشن کے درمیان میں آپ تشریف لائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوابزادہ نصر اللہ خان نے مولانا محمد شریف جالندھری کو دیکھتے ہی کنونشن میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا۔ مولانا نے کیس کی تفصیلات ، پولیس کے ظلم اور شریف چیمہ کی بربریت کی داستان بیان کی تو کہرام مچ گیا۔ احسان الہی ظہیر کی خطابت نے اجتماع کو سراپا آگ بنا دیا۔ سید مظفر علی شمسی اٹھے تو انہوں نے اپنے انداز میں کربلا کا نقشہ پیش کر دیا۔ حضرت شیخ بنوری کی بردباری اور حلم اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی بیدار مغزی کام آئی۔ ورنہ کنونشن کا ہر شخص اس وقت ٹکرانے کا عزم کئے ہوئے تھا۔ کنونشن کیا تھا، تحریک ختم نبوت کو فیصلہ تک جاری وساری رکھنے کا بھر پور مظاہرہ اور عزم بالجزم۔
رات کو جلسہ عام تھا۔ سرگودھا نے بڑے بڑے اجتماع دیکھے ہوں گے، لیکن اس جلسہ کی شان ہی نرالی تھی۔ وسیع و عریض مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ تمام بازاروں میں انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ مجھے یاد ہے تمام مکاتب فکر کے رہنما سٹیج پر موجود تھے۔ حضرت بنوری کی صدارت تھی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے ستاروں میں چاند ہو۔ مولانا فضل الرحمن احرار نے تقریر کے دوران احراری کلہاڑی لہرائی تو جذبات کا سمندر موجزن ہو گیا۔ حضرت شیخ بنوری کو اٹھ کر عوام کو کنٹرول کرنا پڑا۔ ورنہ لوگ اسی وقت کم از کم سرگودھا شہر کے قادیانیوں کا قضیہ نمٹانے کے موڈ میں تھے۔ رات گئے تک جلسہ جاری رہا۔ مجھے مولانا محمد شریف صاحب جالندھری نے فرمایا کہ تم علی الصبح چنیوٹ چلے جاؤ۔ قافلہ کے استقبال کے لئے اعلان کراؤ۔ آٹھ نو بجے عوام جمع ہوں۔ قائدین وہاں خطاب کریں گے۔ پھر وہاں سے لائل پور جانا ہے۔ میں رات ۲ بجے کو سویا تو کسی نے جیب کاٹ لی۔ صبح نماز کے بعد حضرت مولانا عبد العزیز رائے پوری کے مکان پر، جہاں حضرت بنوری تشریف رکھتے تھے، مولانا محمد شریف جالندھری نے مجھے دیکھتے ہی تعجب کیا۔ جلدی سے باہر تشریف لائے۔ میری بپتا سنی، کرایہ دیا اور مجھے چنیوٹ بھیج دیا۔ میں پہنچا۔ عالمی مجلس چنیوٹ کے بہادر ساتھی جناب چوہدری ظہور احمد کو قافلہ کے آنے کی خبر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام مساجد کے سپیکر کھل گئے۔ قائدین کے استقبال کے لئے اعلان شروع ہو گئے۔ عوام کا بہت بڑا اجتماع اڈہ پر جمع ہو گیا۔ اتنے میں حضرت بنوری کی قیادت میں قائدین کا قافلہ پہنچ گیا۔ چنیوٹ کے علماء کرام نے آگے بڑھ کر خیر مقدم کیا۔ (مولانا منظور احمد چنیوٹی ملک سے باہر تھے اور پورے تحریک کے زمانہ میں، شروع ہونے سے فیصلہ تک، باہر رہے۔ فیصلہ کے بعد تشریف لائے) دیگر علماء کی درخواست پر قائدین محلہ راجگان کی مسجد میں تشریف لائے۔ اس طرح تمام شہر ساتھ ہو گیا۔ خوب بیانات ہوئے۔ بھر پور اجتماع تھا۔ حضرت بنوری پر ان دنوں وجد کی کیفیت طاری تھی۔ آپ بیان کرتے ، خود بھی روتے ، لوگوں کو بھی رلاتے۔ یہاں سے فراغت کے بعد قافلہ فیصل آباد کے لئے روانہ ہوا۔
فیصل آباد میں ختم نبوت کنونشن و جلسہ عام
۱۳؍ اگست کو فیصل آباد، جھنگ بازار مولانا سردار احمد مرحوم کے مزار کے اوپر واقع عظیم الشان ہال میں حضرت بنوری کی صدارت میں کنونشن منعقد ہوا۔ رات کو کچہری بازار میں جلسہ عام تھا۔ ہفتہ وار ”لولاک“ سے کنونشن و جلسہ وغیرہ کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا یوسف بنوری نے کہا ہے کہ تحریک ختم نبوت کو سیاسی آویزش سے پاک رکھا جائے گا اور ہم اس وقت تک اپنی جد و جہد جاری رکھیں گے جب تک حکومت اس مسئلے کو سواد اعظم کی امنگوں اور آرزوؤں کے مطابق حل نہیں کر دیتی۔ ہم اس مقدس تحریک کو شائستگی ، وقار اور سنجیدگی سے چلائیں گے اور عدم تشدد پر کار بند رہ کر خلوص نیت سے اللہ کے دین کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حفاظت کریں گے ۔ مولانا بنوری گزشتہ روز مجلس عمل کے زیر اہتمام منعقدہ ضلعی کنونشن میں افتتاحی تقریر کر رہے تھے۔ آپ نے کہا : ہم اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے آزمائش کے میدان میں آئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہم جیسے ضعیفوں کو ختم نبوت کے مقدس مشن کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ اس لئے صداقت اور سچائی کے اس راستے میں جو بھی مشکل پیش آئے گی ، ہم اس کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے ۔ ہم مظلوموں کی صف میں کھڑے ہیں۔ ہماری تاریخ مظلومیت کی تاریخ ہے اور ہم اس پر ناز کرتے ہیں۔ اس لئے ہم ہر ظلم کو صبر و ہمت سے برداشت کریں گے۔
آپ نے کہا تحریک میں شامل کارکنوں اور عام مسلمانوں کو حالات کی سنگینی اور مشکلات سے مایوس نہ ہونا چاہئے ۔ یہ ختم نبوت کی برکت اور حضور نبی کریم ﷺ کا فیضان ہے۔ مسلمانوں کی مختلف الخیال اکیس جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہیں اور ہم آئین کی حدود میں رہ کر حکومت سے تصادم کئے بغیر اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر زور دے رہے ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ حضور کی ختم نبوت کی حفاظت کے لئے ہم ہر قسم کی قربانی دیں گے۔
مولانا بنوری نے تحریک ختم نبوت کی کامیاب جدوجہد کے مختلف مراحل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم حالات سے مایوس نہیں ہیں۔ اسلام کے غداروں نے جس روز سے پہل کی ہے، ہم نے بہت سے محاذوں پر ان کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اور جو لوگ ان کو نوازنا چاہتے ہیں ، ہم نے ان کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور مجلس عمل کی قرارداد کی منظوری ہماری پہلی بڑی کامیابی تھی۔ اسی طرح سواد اعظم کو یاد رکھنا چاہئے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں ویٹو پاور ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر غلط فیصلہ کرنے کی کوشش کی گئی یا مسئلہ کو کھٹائی میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا تو ہم اپنے نمائندوں سے کہیں گے کہ وہ ویٹو استعمال کریں تا کہ قوم پر کوئی غلط فیصلہ مسلط نہ کیا جاسکے۔
آپ نے کہا ابھی ہم مایوس نہیں ہوئے اور تشدد کی کارروائیوں اور اسلام کے غداروں کو تحفظ دینے کے باوجود ہم حکومت سے تعاون کی فضاء برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن جس روز ہم نے یہ محسوس کر لیا کہ اب ہمارا زندہ رہنا فضول ہے۔ اسی روز ہم قوم کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے بلکہ قوم کو ایک متبادل پروگرام ضرور دیں گے۔ آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع ہمارے خلاف دن رات پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ پریس پر پابندی ہے۔ ہم عام جلسوں میں عوام کو حالات سے آگاہ نہیں کر سکتے۔ اس سے ہمیں برسراقتدار جماعت کی نیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس نہج پر سوچ رہی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں خدا نے ان کو اقتدار دیا ہے۔ خدائی نہیں دے دی۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب پاکستان میں نبی کے دشمنوں کو مسلمانوں کی صف سے الگ کر دیا جائے گا۔ آپ نے کہا ہم صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور خدا سے ڈرنے والا مسلمان بہادر ہوتا ہے۔ ہم مظالم کو بہادری سے برداشت کر کے سرخروئی حاصل کریں گے۔
مرکزی مجلس عمل کے امیر نے اپنی تقریر میں فیصلہ کن انداز میں کہا کہ اقتصادی بائیکاٹ قرآن وحدیث اور اسلامی فقہ کی رو سے اس وقت میرے نزدیک فرض عین ہے اور سنت نبوی کے مطابق ہے جو شخص رواداری اور لچک کی بات کرتا ہے، اس کا ایمان کمزور ہے۔ آپ نے کہا میں بائیکاٹ کے مسئلہ پر بہت جلد مضبوط دلائل پر مبنی ایک فتویٰ کتابی صورت میں شائع کر رہا ہوں۔ میرے نزدیک اسلام کے دشمنوں سے بائیکاٹ جہاد کی ایک ادنیٰ قسم ہے اور عالم اسلام کے دشمنوں سے ہم اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک ان کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دے دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کے زیر اہتمام ضلعی کنونشن میں ضلع لائل پور اور سرگودھا کی تحصیلوں اور قصبات سے آئے ہوئے چار سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ مرکزی مجلس عمل کے رکن اور لائل پور شہر کے صدر حضرت مولانا تاج محمود نے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ لائل پور کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے سانحہ ربوہ کے بعد ختم نبوت کی تحریک کو ملک میں پھیلایا اور سارے ملک بلکہ عالم اسلام میں اس کی صدائے بازگشت گونجی۔ آپ نے کہا ۱۹۵۳ء اور موجودہ تحریک ختم نبوت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت ہم نے ایک تنظیم قائم کر کے مطالبات پیش کئے۔ حکومت کو نوٹس دیا اور پھر تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن موجودہ تحریک منجانب اللہ ہے۔ اسلام کے غداروں نے جارحیت کے ذریعے پہل کی اور تحریک از خود شروع ہو گئی۔ ہم بعد میں اس سے وابستہ ہوئے اور حضور کی محبت اور جذبہ ایمانی کے مطابق شمع رسالت ﷺ کے پروانے سفینہ محمدی میں سوار ہوتے چلے گئے۔
مولانا تاج محمود نے کہا ہم ضلعی کنونشن تاخیر سے بلانے پر معذرت خواہ ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے والے اکابر اپنے کام سے فارغ ہو کر اور حکومت کا رویہ دیکھ کر ناموس رسالت ﷺ کے جانثاروں کو صحیح صورتحال بتائیں گے۔ لیکن چونکہ ابھی مرزا ناصر احمد پر جرح جاری ہے۔ اس لئے اسمبلی کے اکابر تشریف نہ لا سکے۔ لیکن حضرت بنوری، نوابزادہ نصر اللہ خان اور مولانا حافظ عبدالقادر اور دوسرے رہنماؤں کی تشریف آوری ہمارے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔
مجلس عمل کے رہنما مولانا تاج محمود نے کنونشن کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں وقت کے تقاضے کے مطابق اپنی صفوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اس تحریک میں عدم تشدد اور تعاون کی فضا کو برقرار رکھا ہے اور ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے لیکن یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ اب کوئی یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جائے کہ حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں یا نہیں۔ یہ مسئلہ طے شدہ اور غیر متنازعہ ہے۔ ہم سمجھتے تھے حکومت اپنی بھلائی اور سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے کم از کم غیر جانبدار رہے گی۔ لیکن ہماری توقع کے خلاف ایسا نہ ہوا اور ملک کے مختلف حصوں اور شہروں میں جو ہو رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کھلم کھلا جانبداری کا ثبوت دے رہی ہے اور قادیانیوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک پچیس مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ بے شمار شہروں میں اندھا دھند گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ قادیانی مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں پر بم مار کر جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اشتعال انگیز کارروائیوں پر ضبط و تحمل سے اس لئے کام لیا گیا کہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہے اور ہم امن و سکون کی فضاء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ مولانا نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قادیانی اشتعال پھیلا کر خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کے خواب پورے نہیں ہونے دیں گے۔ قوم اب اس مسئلہ کو حل کر کے رہے گی۔ ہم ۷؍ ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں نہ خوش فہمی ہے اور نہ بدگمانی، لیکن ضرور کہیں گے اگر اب یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان کا استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ ہمیں پاکستان اور اسلام دونوں عزیز ہیں اور ہم ہر قسم کی قربانی دے کر ملک اور اسلام دونوں کو بچائیں گے۔ مولانا تاج محمود نے اپنی تقریر کے آخر میں آئین میں ترمیم کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر اور ان کو کلیدی آسامیوں سے ملک اور ملی مفاد کی خاطر ہٹا دینے کی قراردادیں پیش کیں۔ ایک دوسری قرارداد میں پولیس کے ظلم و تشدد کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی۔
پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما نوابزادہ نصر اللہ خان نے اپنی تقریر میں برسر اقتدار پارٹی کے اس اعتراض کا کھلے لفظوں میں جواب دیا کہ اپوزیشن، تحریک ختم نبوت سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ آپ نے کہا ہم عقیدے کی بنیاد پر اس تحریک میں شامل ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ہم سے محمد عربی ﷺ کی غلامی کا شرف کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہم ختم نبوت سے سیاسی فائدہ اٹھانا گناہ سمجھتے ہیں۔ آپ نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا بھٹو صاحب نے قوم کو مسائل کے سلسلہ میں مفلس نہیں رکھا۔ مہنگائی ، رشوت ، بدعنوانی، غنڈہ گردی ، لاقانونیت اور عدم تحفظ کا احساس بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کو سیاسی گفتگو کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے ۔ جناب نصر اللہ خان نے کہا موجودہ تحریک از خود منظم ہوئی ہے اور بھٹو صاحب نے اس مسئلے پر اپنی خواہش پر رہنماؤں سے مذاکرات کئے۔ اگر چہ بعد میں ان سیاسی اور دینی رہنماؤں پر اپنی تقریر میں کیچڑ اچھالا ۔ ہم نے صبر کیا اور اس مسئلے کے حل کے لئے ان سے تعاون کی فضاء برقرار رکھی ۔ لیکن ہم اسمبلی ، مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ میں اس کے احترام کے باوجود کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ وہاں یہ فیصلہ کیا جائے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی تھے یا نہیں ؟
نوابزادہ نصر اللہ خان نے آگے چل کر کہا کہ تحریر وتقریر اور اجتماع پر جتنی پابندیاں اب ہیں، اتنی تو انگریز کے زمانہ میں بھی نہیں تھی اور انتہائی ذمہ دار لوگ جتنی بے وزن اور جھوٹی باتیں آج کر رہے ہیں، اتنا جھوٹ اور غلط بیانی کی ایک عام آدمی سے توقع نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا علماء کو برہنہ کر کے ان پر تشدد کرنا ، مسلمانوں کی بے قصور گرفتاریاں اور ان پر ظلم کیا ۔ پریس پر پابندی اور علماء کے خلاف حکومت کے اشارے پر چلائی جانے والی کردار کشی کی مہم حکومت کی غیر جانبداری کے کرشمے ہیں۔ آپ نے کہا ہمیں ہر وقت حالات کا تجزیہ اور احتساب کرتے رہنا چاہئے اور کسی لمحہ تحریک سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔ آپ نے کہا کہ بعض اوقات ایک لمحہ کی غفلت قوموں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔
کنونشن سے مرکزی مجلس عمل کے رکن مولانا مفتی زین العابدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ختم نبوت کی برکت سے قوم متحد ہو گئی ۔ اب اس اتحاد کو ہر قیمت پر برقرار رہنا چاہئے ۔ آپ نے کہا ہمیں جن سے کٹنا تھا ان سے کٹ چکے ہیں اور جن سے منشائے ایزدی کے مطابق جڑنا تھا ۔ ان سے جڑ گئے ہیں اور ہم عہد کرتے ہیں کہ اب ہم کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے اپیل کی کہ سبقت کے جذبے سے تحریک میں حصہ لیا جائے ۔
مجلس عمل کا ضلعی کنونشن دارالحدیث جامعہ رضویہ جھنگ بازار میں منعقد ہوا۔ نہایت کامیابی سے دو نشستوں میں سات گھنٹے تک جاری رہا ۔ کنونشن میں داخلہ کے لئے باقاعدہ پاس جاری کئے گئے تھے۔ اس لئے کارروائی نہایت اطمینان اور سکون سے سنی گئی ۔ مرکزی رہنماؤں کی تقریروں کے بعد مندوبین کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے مسائل اور تحریک کی صورتحال اور مشکلات سے آگاہ کریں اور مثبت تجاویز پیش کریں ۔ چنانچہ سب سے پہلے مجلس عمل چنیوٹ کے رکن جناب محمد اسماعیل نے تجویز پیش کی کہ مجلس عمل کو رضا کار بھرتی کرنے چاہئیں ۔ ملک اللہ دتہ چنیوٹ نے کہا جب تک ہمیں ربوہ میں رہنے کی اجازت نہیں ملے گی ۔ ہم چنیوٹ میں کسی قادیانی کو رہنے کا حق نہیں دیں گے ۔ سرگودھا مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری راؤ عبدالمنان نے کہا ہم مصیبتوں کو عبادت سمجھ کر برداشت کئے جارہے ہیں ۔ پیرمحل کے عبدالقادر حامد صاحب نے کہا مرکزی رہنماؤں کو ضلع کا تفصیلی دورہ کرنا چاہئے ۔
چک جھمرہ کے رانا محمد یوسف نے کہا ہم کٹ مریں گے لیکن بائیکاٹ جاری رکھیں گے ۔ اس موقع پر مولانا تاج محمود نے بائیکاٹ کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں مرزائی مصنوعات خریدی اور بیچی نہ جائیں ۔ عوام کو ذہنی طور پر اس سے باز رکھنے کی فضاء پیدا کرنا چاہئے ۔ اس سے آگے تصادم کا مرحلہ آتا ہے ۔ ہم تصادم کے حق میں نہیں ہیں ۔ مرزائیوں کے اشتعال کو حوصلہ سے برداشت کیا جائے ۔ جڑانوالہ کے محمد امین اور گوجرہ کے محمد حنیف توکلی صاحب نے علماء کے مضبوط اتحاد پر زور دیا ۔ بہاول نگر کے صابر علی صاحب نے مقامی پولیس کے تشدد ، گرفتاریوں کی ایک المناک داستان سنائی اور کہا کہ ہم نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم ہر ظلم کو برداشت کریں گے ۔ لیکن جب تک مسئلہ حل نہیں ہو جاتا تحریک کو کامیابی سے جاری رکھیں گے ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سمندری کے حاجی عبداللطیف صاحب نے علاقہ میں اندھا دھند گرفتاریوں اور ”درباری مولویوں“ کے ساتھ مسلمانوں کے بائیکاٹ کی تفصیل سنائی۔ تاندلیانوالہ کے مولانا امداد الحسن نے بتایا کہ وہاں تحریک کامیابی سے جاری ہے۔ ایک آدھ بکاؤ مولوی رواداری کی بات کرتا ہے۔ لیکن لوگ اس کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے۔
ضلعی کنونشن کی دوسری نشست ظہرانے کے بعد شروع ہوئی۔ اس نشست کی صدارت مرکزی مجلس عمل کے رہنماء صاحبزادہ فضل رسول صاحب نے کی۔ مولانا تاج محمود نے مندوبین کے ضمنی سوالات اور ان کا حل پیش کیا۔ دوسری نشست کا آغاز بھی پہلی نشست کی طرح تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولوی ضیاء الدین نے تلاوت کی۔ جڑانوالہ کے ڈاکٹر محمد اسلم نے تجویز پیش کی کہ سارے ملک میں ایک ہڑتال کروائی جائے تاکہ حکومت کو رائے عامہ کا اندازہ ہو جائے۔ مولانا تاج محمود نے اضافہ کیا کہ حکومت عوام کے جذبات سے بے خبر نہیں بس ذرا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عبدالغفور صاحب نے کہا ابھی ہمارے اندر غیرت باقی ہے۔ عورتوں کو جلوس نکالنے کی ضرورت نہیں۔ کمالیہ کے محمد اکرم بٹ نے کہا رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر نشر و اشاعت کا اہتمام کیا جائے۔ قاری غلام رسول لائل پور نے کہا پریس سے اپیل کی جائے کہ وہ محبت رسول ﷺ کے پیش نظر تحریک سے تعاون کرے۔ توکل حسین رضوی سمندری نے تجویز کیا کہ ختم نبوت کی خبریں شائع نہ کرنے والے اخبارات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ کمالیہ کے مولانا عبدالرحمن نے کہا تحریک سے تعاون نہ کرنے والے نام نہاد مولویوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مولانا عطاء محمد صدر سنی مجلس عمل نے کہا ہم مجلس عمل کے تمام فیصلوں کی پابندی کریں گے اور ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ اختر حسین گل ایڈووکیٹ نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ صرف وعظ سے حل نہیں ہوگا۔ مولانا صفدر رضوی رکن مرکزی مجلس عمل نے کہا ضلعی تنظیم کا ایک ڈھانچہ قائم کیا جائے۔
حافظ عبدالقادر روپڑی، رکن مرکزی مجلس عمل نے کہا اگر پریس پر پابندی ہے تو ہمیں سارے ملک میں جلسوں کا جال بچھا دینا چاہئے اور مرکزی رہنماؤں کو دور دراز کے علاقوں میں دورہ کے لئے بھیجا جائے۔ تحریک کو حضور ﷺ کی مکی زندگی کے مطابق جاری رکھا جائے۔ جذبات کو قابو میں رکھ کر اور جوش کو ہوش کے تابع کر کے ختم نبوت کا پیغام قریہ قریہ بستی بستی پہنچایا جائے۔ مندوبین کی مختصر تقریروں اور رپورٹوں کو سننے کے بعد مولانا تاج محمود نے ضلعی مجلس کی تنظیم کے لئے غازی فضل احمد کا نام بطور کنوئیر تجویز کیا اور ہاؤس نے نعروں کی گونج میں اس تجویز سے اتفاق کیا۔ طے پایا کہ ضلعی مجالس عمل جامعہ رضویہ ہر ضلعی کنوئیر سے رابطہ رکھیں۔ اس موقعہ پر مولانا تاج محمود نے وضاحت کی کہ تنظیم کے دوران اس امر کا پورا پورا خیال رکھا جائے کہ مجلس عمل میں ثقہ اور قابل اعتماد افراد شامل کئے جائیں۔
آپ نے کہا نچلی سطح پر مجالس میں وہی جماعتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ جن کا مرکزی مجلس عمل سے تعلق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک استقلال نے ابھی تک مرکزی مجلس عمل میں شرکت نہیں کی۔ اس لئے اس کی جماعتی حیثیت سے کوئی نمائندہ مجلس عمل کی کسی شاخ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ آپ نے مندوبین کو ان کے جذبہ ایمانی اور اخلاص پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا آپ نا مساعد حالات میں بھی اپنے مشن کے لئے کام کرتے رہیں جو تعاون کرے، اس کا شکریہ ادا کریں۔ جو مخالفت کرے اس کا خاموشی سے جواب دیں۔ آپ نے کہا مرکزی مجلس عمل نے چندہ کی اپیل نہیں کی۔ اس لئے مقامی طور پر مخیر لوگوں کا تعاون حاصل کیا جائے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ اقتصادی بائیکاٹ کے ضمن میں کسی قسم کی رواداری نہ برتی جائے۔ مرکزی مجلس عمل کے تین مطالبات پر زور دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومت اور پولیس کے مظالم پر شائستگی سے تنقید کی جائے کہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا یاد رکھیں تاریخ کی لہر ہمارے ساتھ ہے اور ہم ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ مجلس عمل لائل پور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا ضلعی کنونشن نہایت کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ کنونشن کے انتظامات اور مندوبین کے طعام و قیام کا نہایت معقول انتظام تھا۔ مرکزی مجلس عمل کے رہنماؤں نے بھی اس حسن انتظام کی تعریف کی اور ان مخیر اصحاب کے لئے جزائے خیر کی دعا کی، جنہوں نے اس کنونشن کو کامیاب بنانے کے لئے اعانت کی۔
وما توفیقی الا باللہ
ضلعی ختم نبوت کنونشن فیصل آباد ڈویژن کی جھلکیاں
گاڑی جب روانہ ہوتی ہے
حضرت بنوری نے کنونشن میں افتتاحی خطاب شروع کیا تو ضعف اور نقاہت کے باعث آواز دھیمی تھی۔ ایک کونے سے آواز آئی۔ حضرت ذرا بلند آواز سے۔ آپ نے فرمایا دوستو گاڑی جب پلیٹ فارم سے روانہ ہوتی ہے تو آہستہ چلتی ہے۔ فکر نہ کریں میری رفتار اور آواز میں آپ کمی نہیں پائیں گے۔
ہماری تاریخ مصائب کی تاریخ ہے
مندوبین نے پولیس کے تشدد کی داستانیں سنائیں تو حضرت بنوری آبدیدہ ہو گئے اور آپ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی مشکلات اور مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تو ساری تاریخ مصائب کی تاریخ ہے۔ لیکن ہم انتقام اور تشدد کی راہ اختیار کرنے کی بجائے صبر کریں گے۔
مشین گرم ہو گئی ہے
مولانا بنوری کو تقریر کرتے ہوئے اور صدر اول کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے جب پون گھنٹہ گزر گیا تو آپ نے مندوبین سے اچانک پوچھا، آواز آ رہی ہے۔ سب نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا دیکھا مشین گرم ہو گئی ہے۔
تم مجھے قتل کروانا چاہتے ہو؟
وزیر اعظم بھٹو سے مذاکرات کے دوران ایک مرحلے پر مولانا بنوری نے کہا لیاقت علی خان قادیانی مسئلہ کو حل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کو شہید کر دیا گیا۔ بھٹو صاحب فوراً کہنے لگے تم مجھے بھی قتل کروانا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا جی ہاں! خدا کی راہ میں جان چلی جائے اس سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہو سکتی ہے؟
اپنوں کا دباؤ قبول کرو
مذاکرات میں بھٹو صاحب نے کہا مولانا آپ نہیں جانتے اس مسئلے میں بین الاقوامی پیچیدگیاں اور زبردست بیرونی دباؤ پڑ رہا ہے۔ مولانا نے جواب دیا بھٹو صاحب دباؤ ہی قبول کرنا ہے تو اپنوں کا کرو۔
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بکاؤ مولوی کا کیا کریں؟
تاندلیانوالہ کے ایک مندوب نے پوچھا ہمارے ہاں ایک بکاؤ مولوی بائیکاٹ کے بارے میں رواداری کی باتیں کرتا ہے، اس کا کیا کریں۔ صاحب صدر نے فرمایا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو، قوم خود ان کا محاسبہ کرے گی۔
حضور ﷺ کی مکی زندگی کو نمونہ بناؤ
مولانا روپڑی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تحریک میں حضور ﷺ کی مکی زندگی ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے۔ مصیبتوں کو عبادت سمجھ کر برداشت کرو اور ختم نبوت کا پیغام قریہ قریہ پہنچا دو۔
ضلع کا ایکسرے
مولانا تاج محمود نے مندوبین کی تقاریر سن کر کہا: آپ کی گفتگو کے ذریعہ ہم نے ضلع کا ایکسرے کر لیا ہے۔ اب روحانی معالج ایکسرے کے مطابق علاج تجویز کریں گے۔
وہ ہم میں سے نہیں
اس سوال کے جواب میں کہ تحریک استقلال کو مجالس عمل میں نمائندگی دی جائے یا نہیں، مولانا تاج محمود نے کہا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ انہوں نے مرکزی مجلس عمل میں شرکت نہیں کی، اس لئے نچلی سطح پر تحریک استقلال کے کسی رکن کو نمائندگی نہیں دی جاسکتی۔
جواب جاہلاں ......
رواداری کی تبلیغ کرنے والوں کا کیا کریں۔ اس سوال کے جواب میں مولانا نے فرمایا جو حمایت کرے اس کا شکریہ ادا کرو اور جو مخالفت کرے اور رواداری کی باتیں کرے اس سے تصادم کی بجائے خاموشی اختیار کرو۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ......
نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ سرحد اور بلوچستان کی تقریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اعصاب پر دو چیزیں سوار ہیں۔ ایک ولی خان دوسرے ختم نبوت۔
پنجاب کی سعادت
حضرت بنوری نے فرمایا اہل پنجاب نے وزیر اعظم بھٹو کو کندھوں پر اٹھایا اور اب ختم نبوت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔ مجھے یقین ہے پنجاب اس سعادت کا اہل ثابت ہوگا۔
قصور اپنا نکل آیا
نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا مقبوضہ پریس اور بعض دوسرے اخبارات میں حضرت بنوری کے متعلق کردار کشی کی مہم چلائی گئی اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا گیا کہ وہ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد بھارت سے یہاں آئے۔ لیکن خود بھٹو صاحب کو پاکستان قائم ہو جانے کے بارہ سال بعد تک بھارتی شہریت حاصل رہی اور وہ بھارت میں اپنی جائیداد کے مقدمے لڑتے رہے۔ گویا ؎
طوفان کا رونا رو کر
نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا مرکزی مجلس عمل کی رابطہ عوام مہم اور تحریک کے زبردست دباؤ کو کمزور کرنے کے لئے وزیر اعظم صاحب نے ڈیورنڈ لائن اور سیالکوٹ سرحد پر فوجوں کی نقل و حرکت کا واویلا شروع کر دیا۔ گویا ؎
ناخدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا
رات کو کچہری بازار میں اجتماع تھا۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ پورے ضلع میں عوام جمع ہو گئے۔ تمام شہروں وقصبات میں لوگ جمع تھے۔ لائل پور میں تمام بازار ایسے بھرے ہوئے تھے، جیسے میلے کا سماں ہو۔ رات گئے تک جلسہ جاری رہا۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پیر محل کا قیام
مکرمی معظمی جناب صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور
السلام علیکم! ہم اراکین مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پیر محل نے باقاعدہ انجمن کا انتخاب عمل میں لاکر کافی دنوں سے تحریک شروع کر رکھی ہے بلکہ مکمل سوشل بائیکاٹ بھی کر رکھا ہے جو کامیاب جا رہا ہے۔
عالی جاہ! تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے مرکز ضلع اور راولپنڈی سے ہمارا رابطہ بذریعہ ڈاک ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ ہماری انجمن آپ کے حکم کے مطابق آرڈر کی تعمیل کرتی رہے بلکہ ہماری گزارش ہے کہ آپ خود بخود ہر شہر کے صدر سے رابطہ قائم کریں تاکہ ہر شہر سے بذریعہ خط و کتابت آپ کو اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پیر محل ضلع لائل پور۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت روڑالہ روڈ کا قیام
مؤرخہ ۱۸؍ جون جامع مسجد اہل سنت والجماعت میں بعد از نماز ظہر تمام مکتبہ فکر کے علماء کا اجتماع ہوا جس میں مندرجہ ذیل عہدیدار منتخب ہوئے۔
- ۱...... صدر: مولانا نور احمد صاحب، خطیب جامع مسجد۔
- ۲...... نائب صدر: مولانا مسعود الرحمن صاحب، خطیب جامع مسجد۔
- ۳...... نائب صدر: مولانا محمد یوسف صاحب۔
- ۴...... جنرل سیکرٹری: آغا منصف صاحب۔
- ۵...... نائب سیکرٹری: ڈاکٹر محمد یسین صاحب کلسی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لائل پور کی تبلیغ کمیٹی
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور نے رابطہ عوام مہم کو بہتر بنانے کے لئے ایک تبلیغ کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہیں۔ کمیٹی کے انچارج مولانا محمد یوسف انور اہل حدیث ہیں اور سر پرست مولانا غازی فضل احمد صاحب ناظم جامعہ رضویہ ہیں۔ اراکین میں حضرت مولانا محمد شریف صاحب اشرف اہل حدیث، حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی دیوبندی، مولانا عطاء محمد صاحب بریلوی، مولانا شیر محمد بریلوی، مولانا اللہ وسایا مبلغ ختم نبوت، مولانا سعید الرحمن دیوبندی شامل ہیں۔ ان حضرات نے عنقریب ضلع بھر کا تنظیمی و تبلیغی دورہ کرنا ہے۔ اس لئے ضلع بھر کی جماعتیں مولانا محمد یوسف صاحب انور معرفت مجلس تحفظ ختم نبوت امین پور بازار لائل پور کے پتہ پر رابطہ قائم کریں۔
مولانا اشرف ہمدانی کا تبلیغی دورہ
خطیب ختم نبوت مولانا سید محمد اشرف ہمدانی و مولانا اللہ وسایا مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور نے پچھلے دنوں ایک طوفانی تبلیغی دورہ کر کے عوام کو آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس جیسے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی۔ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ ہر جگہ عوام دیدہ و دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ جلسوں میں حاضری عدیم المثال ہوتی تھی۔ عوام دلچسپی سے جلسہ سنتے اور علماء کرام کو دل کی گہرائیوں سے یقین دلاتے کہ ہم ہر اس قربانی کے لئے تیار ہیں جو وقت ہم سے مانگے گا جہاں یہ حضرات تشریف لے گئے ان میں سے گوجرہ، ماموں کانجن، تاندلیانوالہ، جڑانوالہ، کھرڑیانوالہ، قصور، ہارون آباد، جھنگ، وہاڑی، فقیروالی، بہاول نگر، چک جھمرہ، مانوالہ، خوشاب، ملتان خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
”لولاک“ کے چار شذرات
(۱) ۲۲ یا ۲۹؍ مئی
”وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پچھلے دنوں اپنے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے دورہ میں عجیب و غریب تقریریں کیں۔ جب انہوں نے سرحد سے دورہ شروع کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انڈیا کی فوجیں سرحدوں پر آگئی ہیں اور انڈیا کے ساتھ شاید جنگ چھڑ جانے والی ہے۔ وہ خدشات اور خطرات کو بڑے شدومد سے بیان کرتے چلے گئے اور جب بلوچستان کا دورہ ختم کیا تو آخری تقریر میں ایک دن انکشاف کر دیا کہ بھارت کی طرف سے یقین دہانی آگئی ہے اور اب فضاء سازگار ہو گئی ہے اور شملہ معاہدہ کے لئے مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔ خیر یہ تو ایک ڈرامائی انداز تھا جو بھٹو صاحب جیسی شخصیت نے تحریک ختم نبوت کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اختیار کیا اور جب دیکھا کہ لوگوں کی توجہ مسئلہ ختم نبوت کی طرف سے نہیں ہٹائی جاسکتی تو آپ نے فرضی خطرات کو دورہ کے خاتمہ پر ایک ہی تقریر میں ختم کر دیا۔ ہمیں وزیر اعظم کے اس کارنامے سے نہ اختلاف ہے اور نہ اس پر اعتراض۔ ہمیں افسوس ہے کہ انہوں نے ربوہ کے اسٹیشن ۲۲؍ مئی کے واقعہ کی کڑیاں ہندوستان کی فوجوں اور افغانی فوجوں اور بھارتی ایٹمی دھماکے سے جوڑ دی تھیں۔ اگرچہ پھر انہوں نے تھوڑی سی اصلاح کر لی۔ وہ ۲۲؍ مئی کے ساتھ ۲۹؍ مئی کا بھی ذکر کرنے لگے تھے۔ لیکن پھر بھی بڑے صدمے کی بات ہے۔ ۲۲؍ مئی اور ۲۹؍ مئی کو انہوں نے ہم وزن قرار دینے کی کوشش فرمائی۔ حالانکہ ۲۲؍ مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے ۱۸۰ کے قریب طلباء چناب ایکسپریس کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذریعہ ملتان سے سوات جاتے ہوئے گزرے تھے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہ انہوں نے ربوہ کے اسٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ اس کے برعکس ۲۹ مئی کو ربوہ والوں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام اور منصوبے کے تحت طلباء سے ایسا المناک اور اشتعال انگیز سلوک کیا جس کے ردعمل میں پورا ملک شعلہ جوالہ بن گیا۔ اب ۲۲ مئی اور ۲۹ مئی کو ہم وزن قرار دینا انتہائی افسوس ناک ہے اور خصوصاً ملک کی انتہائی ذمہ دار شخصیت جناب وزیر اعظم کی طرف سے یہ دھاندلی تو بالکل ہی نا انصافی ہے۔ ۲۲ مئی اور ۲۹ مئی کے واقعات میں اتنا ہی فرق ہے جتنا مرزائیوں اور مسلمانوں میں فرق ہے۔ کسی شخص کو مرزائی اور مسلمان کو ہم وزن کرنے کی جسارت نہیں کرنا چاہئے ۔‘‘
(۲) یہ بم اور گرنیڈ
’’پچھلے کچھ دنوں سے اخبارات میں مسلسل ایسی خبریں چھپ رہی ہیں کہ فلاں شہر میں بم پھینکا گیا۔ فلاں جگہ ٹائم بم رکھ کر دکانیں جلا دی گئیں۔ فلاں جگہ دھماکہ ہوا۔ ہماری اپنی اطلاعات کے مطابق بھی یہ واقعات صحیح ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک قابل احترام رہنما شیخ عابد حسین صدیقی کے گھر واقع کیمبل پور میں ہینڈ گرنیڈ پھینک کر ان کے حقیقی چھوٹے بھائی کو شہید کر دیا گیا۔ یہ بم اور گرنیڈ کون پھینک رہا ہے؟ جہاں تک مجلس عمل اور اس کے پیروکاروں کا تعلق ہے وہ پرامن تحریک چلا رہے ہیں۔ تشدد، بدامنی، قانون شکنی ان کے پروگرام میں شامل نہیں ہے۔ ان کے صدر گرامی قدر کا واضح اعلان ہے کہ ہم مظلوموں کی صف میں کھڑے ہیں اور صبر واستقامت سے ہر ظلم کے وار کو برداشت کریں گے اور تاریخ گواہ ہے کہ آخری فتح ہمیشہ مظلوموں ہی کی ہوا کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بم تحریک کے مخالف چلا رہے ہیں اور یہ ایک ایسا خطرناک کھیل ہے جو وہ اپنی سابقہ حماقتوں میں اضافہ کرنے کے لئے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے جو پہلے حماقتیں کی ہیں ان کا نتیجہ ان کے سامنے ہے اور اب مزید حماقتیں جو وہ کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی ان کے سامنے آسکتا ہے۔ بہر حال حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے میں غفلت اور تساہل چھوڑ دے۔ جانبداری کے الزام میں ملوث نہ ہو بلکہ ان حادثات کی فوری تحقیقات کر کے ملزموں کی حوصلہ شکنی کرے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر اپنے آپ کو ملوث اور برباد ہونے سے بچائے ۔‘‘
(۳) ربوہ سے مرزائیوں کو سگنل
’’روزنامہ ”الفضل“ ربوہ اشاعت ۲۲ اگست ۱۹۷۴ء کے آخری صفحہ پر تین کالمی جلی حروف سے لکھی ہوئی دو سرخیاں جمائی گئی ہیں۔ ”غلبہ اسلام کے دن مجھے افق سماء پر نظر آ رہے ہیں ۔‘‘ ”یہ سورج ان شاء اللہ طلوع ہوگا اور بہت جلد نصف النہار پر پہنچے گا ۔‘‘
یہ دونوں سرخیاں مرزا ناصر احمد کے کسی پرانے خطبہ سے نکال کر لگائی گئی ہیں۔ ہم ربوہ والوں کے انداز بیان اور طرز خطاب سے آگاہ ہیں۔ اس لئے ہمارا یہ یقین ہے کہ یہ ۱۰ جولائی ۱۹۷۰ء کے پرانے خطبے کی اشاعت اور اس پر یہ مخصوص اشارے پر مشتمل سرخیاں بلا وجہ نہیں جمائی گئی ہیں۔ ”الفضل“ نے اپنے مخصوص صحافیانہ طریقہ واردات کے مطابق یہ سرخیاں نہیں جمائیں بلکہ اپنی جماعت کے لوگوں کو کوڈ ورڈز (مخصوص اشاراتی الفاظ) میں یہ سگنل دیا ہے کہ ڈٹے رہو۔ سب اچھا ہونے والا ہے۔ گویا جماعت بھٹو صاحب کی ذہانت اور فطانت کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ۵ جولائی ۱۹۷۴ء سے جماعت بھٹو صاحب کو جس شیشے میں اتارنا چاہتی تھی ، وہ اس میں کامیاب ہوگئی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۰؍ اگست ۱۹۷۴ء کو صمدانی صاحب نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں پیش کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے متعلق یہ حسن ظن رکھنے کے باوجود کہ انہوں نے بھٹو صاحب کو پنجاب کے جذبات سے ٹھیک ٹھیک آگاہ کر دیا ہے۔ ان کے مشیر خاص راجہ منور احمد ہیں۔ راجہ صاحب کے پی۔اے مشہور قادیانی تصنیف احمدیہ پاکٹ بک کے مصنف عبدالرحمن خادم کے صاحبزادے باسط صاحب ہیں۔ پھر راجہ غالب احمد قادیانی کو جو اہمیت اس حکومت میں حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ گویا حکومت پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں اس مخصوص فرقہ نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں یہ گنجائش اور امکان موجود ہے کہ حکومت کا ہر راز کسی نہ کسی طرح ربوہ پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں علم غیب نہیں ہے لیکن تیور بتا رہے ہیں کہ صمدانی رپورٹ میں کیا ہے اور ۲۲؍ اگست کی اعلیٰ سطح کانفرنس میں مشاورت کے بعد کیا کچھ طے پایا ہے۔ ۲۹؍ مئی سے قبل کے ’’الفضل‘‘ کا فائل اٹھا کر دیکھ لیں، اسی غلبہ اسلام کی پیش گوئیاں ہو رہی تھیں اور یہ مژدے بھی سنائے جا رہے تھے کہ یہ غلبہ اسلام اس مخصوص جماعت کے ہاتھوں ہونے والا ہے اور خدا کی رحمتوں کا پھل پک چکا ہے اور وہ ان کی جھولیوں میں گرنے ہی والا ہے اور اس سے انہیں ہی فائدہ پہنچنے والا ہے۔ دس کروڑ روپے سے زائد چندہ جمع ہونے کی باتیں تھیں اور ایسے بیانات تھے جیسا کہ کوئی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو اور سامنے آنے والی ہر چیز کو روندتا ہوا جا رہا ہو۔ ۲۹؍ مئی کے بعد ’’الفضل‘‘ کے شمارے اٹھا کر دیکھئے: درود، دعا، استغفار کے علاوہ کوئی بات نظر نہیں آتی تھی۔ اب پھر یکا یک مرزا ناصر احمد کو غلبہ اسلام کے دن افق سماء پر نظر آنے والی سرخیاں چھپنے لگی ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ سگنل تازہ حالات کا ہے لیکن خطبہ پرانا شائع کیا ہے تاکہ کند ذہن لوگ دھوکہ کھا کر اصل بات نہ سمجھ سکیں۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں اور پہچاننے والے پہچانتے ہیں کہ ان کے عزائم کیا ہیں اور انہیں افق سماء کے علاوہ کیا کیا خواب آ رہے ہیں۔‘‘
(۴) صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے
’’جسٹس صمدانی نے وعدہ کے مطابق سانحہ ربوہ سے متعلق ۱۱۲ صفحات پر مشتمل رپورٹ ۲۰؍ اگست ۱۹۷۴ء کو مسٹر حنیف رامے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں پیش کر دی ہے۔ حکومت پنجاب اسے مرکزی حکومت کو اپنی مناسب سفارشات کے ساتھ بھیج چکی ہے۔ اس وقت ملک میں قادیانی مسئلے پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس خاص فرقہ کے متعلق کئی قسم کے شکوک وشبہات اور خطرات ہیں۔ وہ جس طرح ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی سے کوئی مثبت فیصلہ سننے کے لئے مضطرب ہیں، اسی طرح وہ سانحہ ربوہ اور اس کے کسی پس منظر کو جاننے کے لئے بھی بڑے بے تاب ہیں۔ ملک میں آئے دن کئی ایسے سانحے ہوتے رہتے ہیں جن کی عدالتی انکوائریاں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ بالکل اپنی مثال آپ نوعیت کا ہے۔ اسے دوسرے کسی کمیشن کی رپورٹ کی مانند پردہ التواء میں رکھنا بالکل نامناسب ہوگا۔ عوام کے جذبات اور احساسات اور ملک کے مخصوص حالات کا تقاضا یہ ہے کہ جسٹس صمدانی کی رپورٹ کو فوراً شائع کر دیا جائے تاکہ لوگ کسی مزید بدگمانی، غلط فہمی اور کوئی غلط رخ اختیار کرنے سے بچ سکیں۔‘‘
(لولاک مؤرخہ ۲۱؍ اگست ۱۹۷۴ء)
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
اس وقت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ملک میں منکرین ختم نبوت کے خلاف پرامن تحریک چلانے کے لئے جو مرکزی مجلس عمل بنائی گئی ہے، اس کی ہیئت ترکیبی یہ ہے:
صدر: حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری (مہتمم مدرسہ عربیہ) ناظم اعلیٰ: علامہ سید محمود احمد رضوی (مہتمم مدرسہ حزب الاحناف لاہور)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نائب صدر: (۱) مولانا عبدالستار خان نیازی (لاہور)، (۲) سید مظفر علی شمسی (لاہور)، (۳) مولانا عبدالحق صاحب (ایم۔این۔اے، اکوڑہ خٹک)، (۴) مولانا عبدالواحد صاحب (کوئٹہ)، (۵) نوابزادہ نصر اللہ خان (لاہور)
نائب ناظم: مولانا محمد شریف جالندھری (ملتان)
خازن: میاں فضل حق صاحب (لاہور)
ممبران
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان: مولانا محمد یوسف صاحب بنوری (کراچی)، مولانا خان محمد صاحب (کندیاں ضلع میانوالی)، جناب سردار امیر عالم لغاری (رحیم یار خان)، مولانا تاج محمود صاحب (لائل پور)، مولانا محمد شریف جالندھری (ملتان)
جمعیتہ العلماء پاکستان: مولانا شاہ احمد نورانی (ایم۔این۔اے، کراچی)، مولانا عبدالستار خان نیازی (میانوالی)، مولانا صاحبزادہ فضل رسول (لائل پور)
جمعیتہ العلماء اسلام پاکستان: مولانا مفتی محمود (ایم۔این۔اے، ڈیرہ اسماعیل خان)، مولانا عبدالحق (ایم۔این۔اے، اکوڑہ خٹک)، مولانا عبید اللہ انور (لاہور)
جمعیتہ اہل حدیث: میاں فضل حق (لاہور)، حافظ عبدالقادر روپڑی (لاہور)، مولانا محمد اسحاق چیمہ (لائل پور)، شیخ محمد اشرف (لاہور)، مولانا محمد صدیق (لائل پور)، مولانا محمد شریف اثری (لائل پور)
تبلیغی جماعت: مولانا مفتی زین العابدین (لائل پور)
شیعہ حضرات: سید مظفر علی شمسی (لاہور)، مولانا محمد اسماعیل صاحب (لائل پور)
مسلم لیگ: میجر اعجاز احمد (لاہور)، چوہدری صفدر علی رضوی (لائل پور)
پاکستان جمہوری پارٹی: نوابزادہ نصر اللہ خان (مظفر گڑھ)، رانا ظفر اللہ خان (لاہور)
مجلس احرار: مولانا عبید اللہ احرار (لائل پور)، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ (لاہور)، حافظ عطاء المنعم (ملتان)، ملک عبدالغفور انوری (ملتان)
اشاعت التوحید: مولانا غلام اللہ خان (راولپنڈی)، مولانا سید عنایت اللہ بخاری (گجرات)
جماعت اہل سنت: مولانا غلام علی اوکاڑوی (کراچی)، مولانا سید محمود شاہ گجراتی
اتحاد العلماء: مولانا مفتی سیاح الدین (لائل پور)، مولانا محمد چراغ صاحب (گوجرانوالہ)
تنظیم اہل سنت: مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری (ملتان)، مولانا عبدالستار تونسوی (ڈیرہ غازیخان)
حزب الاحناف: سید محمود احمد رضوی (لاہور)، مولانا خلیل احمد قادری (لاہور)
قادیانی محاسبہ کمیٹی: جناب آغا شورش کاشمیری (لاہور)، جناب احسان الٰہی ظہیر (سیالکوٹ)
نیشنل عوامی پارٹی: ارباب سکندر خان (پشاور)، جناب امیر زادہ (پشاور)
جماعت اسلامی: پروفیسر غفور احمد (کراچی)، چوہدری ظہور الٰہی (گجرات)، چوہدری غلام جیلانی (لاہور)، قومی اسمبلی میں آزاد گروپ کے لیڈر مولانا ظفر احمد انصاری
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شخصیات : مولانا عبدالرحیم اشرف (لائل پور )، مولانا مفتی محمد شفیع (کراچی)
(لولاک مورخہ ۲۱؍ اگست ۱۹۷۴ء)
۱۶؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کھاریاں فائرنگ کیس کی تحقیقات
لالہ موسیٰ، کھاریاں فائرنگ کیس کے سلسلہ میں ایک رکنی تحقیقاتی ٹریبونل نے آج یہاں امیر جماعت احمدیہ تہال غلام غوث کا بیان قلمبند کیا:
امیر جماعت احمدیہ تہال نے تحقیقاتی ٹربیونل کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پولیس کو اپنی جان و مال کو درپیش خطرہ کی اطلاع دی تو ایس پی گجرات نے ایک پولیس افسر اور چار کانسٹیبل مقرر کر دیئے۔ تاہم میں نے اس مقصد کے لئے کسی دوسرے اعلیٰ افسر کو اطلاع نہیں دی۔ مسٹر غلام غوث نے بتایا کہ ان کی خواتین کے مٹکے مسلمان خواتین نے توڑ دیئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی چھت کے سوراخ سے ایک دستی بم بھی ان کے گھر میں پھینکا گیا جس سے وہ اور دو دیگر اہل خانہ زخمی ہو گئے۔ جن کو سول ہسپتال کھاریاں میں داخل کرا دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے گولی چلنے کی آواز نہیں سنی اور نہ ہی گولی چلائی ہے۔ تحقیقاتی ٹریبونل نے ایک پولیس افسر راجہ ولایت کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ بعد ازاں میڈیکل آفیسر کھاریاں مسٹر غیور عالم اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گجرات کو بھی بیان دینے کے لئے طلب کر لیا گیا۔ وہ ۱۷؍ اگست کو ٹربیونل کے سامنے پیش ہوں گے۔ جن چار پولیس کانسٹیبلوں کو ڈیوٹی پر متعین کیا گیا کل ان سے پوچھ ہوگی۔
۱۷؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ربوہ کیس کے ۸۶؍ قادیانی ملزموں کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ایس رحمن نے واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں ربوہ سے گرفتار کئے جانے والے ۸۶ قادیانیوں کی ضمانت پر رہائی کی اجازت دے دی۔ یہ لوگ ڈسٹرکٹ سرگودھا جیل میں بند ہیں۔ فاضل جج نے ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست کنندگان تفتیش اور مقدمہ کے سلسلے میں ضرورت پڑنے پر حاضر ہوتے رہیں۔ بصورت دیگر ان کی ضمانت منسوخ کی جا سکے گی۔
کھاریاں کیس
یہاں فائرنگ کیس کے ٹربیونل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک محمد امین نے آج دوسرے روز بھی اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں کی عدالت میں موضع تہال میں پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو افراد کے سلسلہ میں پنجاب ریزرو پولیس کے دو کانسٹیبلوں اکرام اور سرور کے مکمل بیانات لئے جب کہ تیسرے پولیس کانسٹیبل یونس کا بیان جاری تھا کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ بیانات کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔ کارروائی کے اختتام پر فاضل ٹربیونل نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گجرات کو حکم دیا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کا فوری طور پر اعلیٰ اختیارات کے ڈاکٹروں کے بورڈ سے پوسٹ مارٹم کرائیں۔ جس میں ایک ڈاکٹر گجرات سے اور دو لاہور سے ہوں اور یہ ڈاکٹر اچھی شہرت کے مالک ہوں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کل تک انہیں اس حکم کی اطلاع دیں کہ وہ اس حکم کی تعمیل کرا سکتے ہیں یا نہیں۔ بصورت دیگر ٹربیونل صوبائی حکومت کو اس امر کے لئے تحریر کرے گا کہ وہ خود اعلیٰ اختیارات کے ڈاکٹروں کا تقرر کرے جو نعشوں کا پوسٹ مارٹم کرے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
راولپنڈی کے علماء کا مقدمہ
مسٹر جسٹس ایس رحمان نے راولپنڈی میں گرفتار کئے جانے والے ۳۱ علماء اور طلباء کی اجرائے پروانہ کی درخواست کو داخل دفتر کر دیا۔ ان علماء کو ڈی۔ پی۔ آر کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ آج جب مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو وکیل سرکار نے عدالت کو بتایا کہ ان نظر بندوں کی حراست کا حکم واپس لے لیا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راولپنڈی نے نظر بندوں کو رہا کر دیا ہے۔ عدالت نے اس بیان کے بعد درخواست کو داخل دفتر کر دیا۔
مساجد سے لاؤڈ سپیکروں کے ہٹانے کا مقدمہ
مسٹر جسٹس ایس۔ اے رحمن ہی نے آج تحریک طلباء اسلام پاکستان کے ملک رب نواز کی ایک رٹ درخواست باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لی۔ جس میں اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کے، چنیوٹ کی سات مساجد کے لاؤڈاسپیکروں کو مساجد سے ہٹانے کے حکم کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا تھا۔ فاضل جج نے حکومت کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مسٹر ایس۔ ایم ادریس پیش ہوئے۔
مولانا سید عطاء المنعم بخاری کی ضمانت
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس چوہدری محمد صدیق کی عدالت میں آج برصغیر کے مشہور خطیب سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے صاحبزادے سید عطاء المنعم بخاری کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری کی سماعت کی اور وکیل سرکار کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ صوبے میں درخواست گزار کسی مقدمہ میں حکومت کو مطلوب تو نہیں۔ درخواست گزار کی عارضی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جا چکی ہے۔ ان کی جانب سے بھی مسٹر ایس۔ ایم ادریس پیش ہوئے۔
نوید انور نوید کی نظر بندی کے خلاف رٹ
گوجرانوالہ کے حالیہ ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار مسٹر نوید انور نوید کی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ان کی نظر بندی کے خلاف رٹ درخواست کی سماعت پیر کو مسٹر جسٹس چوہدری محمد صدیق کی عدالت میں ہوگی۔ درخواست گزار کی جانب سے مسٹر رفیق احمد باجوہ پیش ہوئے۔
رب نواز کی ضمانت میں توسیع
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ایس رحمن نے تحریک طلباء اسلام پاکستان کے صدر ملک رب نواز کی عبوری ضمانت کی مدت میں ۱۵؍ یوم کی توسیع کر دی ہے اس سے قبل عدالت نے رب نواز کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ سیشن جج جھنگ سے ضمانت کرائیں۔ درخواست دہندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیشن جج کی جگہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کام کر رہے ہیں جن سے ضمانت کی امید نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحیم یار خان میں ۵۰ علماء اور طلباء کی گرفتاریاں
مقامی پولیس نے گزشتہ روز پچاس علماء اور طلباء کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ دریں اثناء کل شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ ایک فرقہ کے شخص نے ایک دوکان پولیس کے پہرہ میں دوبارہ کھولی تو لوگوں میں اضطراب پھیل گیا جس کے نتیجہ میں شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ انجمن تاجران کے اجلاس میں مزید گرفتاریاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آج بھی گرفتاریاں جاری رہیں۔
خورشید حسن میر، آئینہ دیکھئے...... اداریہ ”نوائے وقت“
”مرکزی وزیر بے محکمہ اور حکمراں پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مسٹر خورشید حسن میر کے پیٹ میں پھر ’سائنٹفک سوشلزم‘ کا مروڑ اٹھا ہے اور انہوں نے گزشتہ کچھ عرصے سے ’انقلاب‘ ، ’سوشلزم‘ اور ’سائنٹفک سوشلزم‘ کے نعروں کی بڑی زوردار پراپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم میں وہ ایک جانب پارٹی میں اپنے مخالفوں کو رجعت پسند، غیر انقلابی، موقع پرست وغیرہ ایسے القاب سے نواز رہے ہیں تو دوسری جانب پارٹی میں مشترکہ قیادت کی ضرورت کا ذکر کر کے بالواسطہ اپنے چیئرمین کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کے دن پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار میں ان کا ایک طویل انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر نظریاتی انتشار کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ : ”رجعت پسند ہماری پارٹی کے اندر بہت حد تک نظریاتی انتشار پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اس میں عوام دشمن مبلغین اور غیر سوشلسٹ پریس سے زیادہ پارٹی کے اندر گھس آنے والے موقع پرستوں کا دخل ہے۔ ان کا یہ طویل انٹرویو اس اعتبار سے تضادات کا مجموعہ تھا کہ وہ سوشلزم نظام اور سوشلسٹ معیشت کی کوئی توضیح کرنے میں ناکام رہنے کے علاوہ اپنے محسن وقائد چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف کے ساتھ ساتھ انہیں بالواسطہ ہدف تنقید بنانے کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ گزشتہ روز حکومت آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم خان نے مسٹر خورشید حسن میر کی معاشرتی وسیاسی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ میر صاحب جس قسم کے سوشلزم کا پرچار کر رہے ہیں ، وہ کنبہ پروری ، بندر بانٹ، حقائق سے انحراف اور اسلام سے شدید نفرت سے عبارت ہے۔ سردار عبدالقیوم نے مسٹر خورشید حسن میر پر کنبہ پروری جیسے سنگین الزامات بھی عائد کئے تھے۔ مسٹر خورشید حسن میر نے علماء کرام کو ’فتویٰ فروش‘ کا خطاب بھی دیا تھا، جس پر پیپلز پارٹی راولپنڈی ریجن کی وارڈ کمیٹیوں کے چوالیس عہدیداروں نے میر صاحب کی مذمت کی اور کہا کہ اب جب کہ مسٹر خورشید حسن میر صاحب کو یقین ہو گیا ہے کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے وہ وزارت سے محروم ہورہے ہیں، تو وہ مسٹر بھٹو کو بھی چیلنج کرنے لگے ہیں۔ ان عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں میر صاحب کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے اور انہیں پارٹی سے الگ کر دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ میر صاحب نے نہ صرف ان عہدیداروں کو کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا بلکہ سردار عبدالقیوم خان کے بارے میں بھی کہا ہے کہ ان کی ’الزام تراشی‘ کو نظر انداز کر دیا جائے۔
سردار عبدالقیوم خان ایک ذمہ دار شخصیت ہیں۔ وہ حکومت آزاد جموں و کشمیر کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے میر صاحب پر جو سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ وہ ایسے نہیں جن کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے۔ مسٹر خورشید حسن کا اگر دامن پاک تھا تو پھر انہیں محاسبہ سے نہ ڈرتے ہوئے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کرانے کی دعوت دینی چاہئے تھی۔ میر صاحب کی یہ منطق تو بڑی نا قابل فہم ہے کہ سردار قیوم خان جیسی ہستی کی طرف سے عائد کردہ الزامات کا کوئی نوٹس نہ لیا جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے میر صاحب کے خلاف کشمیر کے ضمن میں بعض الزامات عائد کئے تھے اور کہا تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو کلیدی آسامیوں پر فائز کر کے کنبہ پروری ایسی لعنت کے مرتکب ہوئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میر خورشید حسن ان الزامات کا نوٹس نہ لیں لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ استحصال کی بدترین شکل یہ ہے کہ اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھا کر رشوت و بدعنوانی کے دروازے وا کئے جائیں اور کنبہ پروری رشوت و بدعنوانی کے زمرہ میں ہی شامل ہے۔ ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے اور لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میر صاحب کا دامن صاف ہے یا نہیں۔ اگر وہ خود ہی بدعنوانیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں تو پھر انہیں دوسروں کو کردار و عمل کی پختگی کے مشورے دینے کا کیا حق پہنچتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ میں سوشلسٹ وزیر مسٹر جے . اے رحیم اور ان کے کچھ اور ساتھی اقتدار و اختیار اور ”اقتداری سیاست“ سے الگ ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میر خورشید حسن نے جے . اے رحیم کی مدح میں ایک قصیدہ بھی کہا تھا لیکن اگر انہیں رحیم صاحب کی علیحدگی شاق گزری ہے تو اس کا برملا اظہار کر کے اپنے سوشلسٹ ساتھی کی صفائی پیش کرنی چاہئے تھی۔ اگر ان کی علیحدگی درست تھی تو اس کی تعریف یا حمایت کرنی چاہئے تھی۔ مسٹر رحیم کی علیحدگی کے بعد میر صاحب یہ تو کہتے رہے کہ ”ان حالات“ میں ان کے پارٹی کا جنرل سیکرٹری بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن انہوں نے نہ تو ان ”حالات“ کی کوئی وضاحت کی اور نہ ہی رحیم صاحب کی علیحدگی پر کوئی تبصرہ کیا۔ اب وہ پارٹی سے دیرینہ انقلابی کارکنوں کی علیحدگی کا ماتم کر کے لوگوں کو کیا تاثر دینا چاہتے ہیں اور وہ نظریاتی انتشار پیدا کر کے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
جناب خورشید حسن میر نے علمائے کرام کو ”فتویٰ فروش“ کہہ کر واقعی گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا ہے اور اس ضمن میں پیپلز پارٹی راولپنڈی ریجن کی وارڈ کمیٹیوں کے چوالیس عہدیداروں کا احتجاج بالکل مناسب و درست ہے۔ علمائے کرام کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے ختم نبوت کے مسئلہ پر سوادِ اعظم کی ترجمانی کی ہے اور حرمت رسول ﷺ کا پرچم تھاما ہے۔ خود وزیر اعظم بھٹو نے بھی اپنی متعدد تقاریر میں اس ضمن میں وہی کچھ کہا ہے جو علمائے کرام کہہ رہے ہیں لیکن مسٹر خورشید حسن میر اور ان کے سائنٹفک سوشلسٹ گروپ کے دوسرے حضرات اس مسئلہ پر ایک عرصہ تک خاموش رہے۔ اب میر صاحب نے لب کشائی فرمائی ہے تو علمائے کرام کو ”فتویٰ فروش“ کہہ ڈالا ہے۔ اگر وہ فتویٰ فروش ہی ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے سیاست دان سے بہرحال بہتر ہیں جو کسی کے طفیل اپنی بے حیثیتی اور بے اثری کے خول سے نکل کر اقتدار و اختیار پر فائز ہوئے اور ذرا سا اختیار ملا تو اختیار سے فائدہ اٹھا کر اپنے غیر مستحق رشتہ داروں کو نوازنے لگے۔ علمائے کرام پر سب و شتم کے بعد یہ لازم ہو گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقتدار و اختیار پر فائز ہونے والے میر صاحب اور ان کے رفقاء سائنٹفک سوشلسٹ بھی، مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں اپنے عقیدے کی وضاحت کریں۔
سردار عبدالقیوم خان نے مسٹر خورشید حسن میر پر کشمیر کے معاملات اور سیاست میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے وہ اس میدان میں اکیلے نہیں تھے۔ ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ سردار صاحب کو ان کے ساتھیوں کے نام بھی لینے چاہئیں تھے اور متعلقہ ارباب اختیار کو اس بارے میں بھی مکمل تحقیقات کرنی چاہئے۔ میر خورشید حسن اور ان کے رفقاء کی مداخلت اگر واقعی اس نوعیت کی تھی کہ وہ پاکستان کے دشمنوں کے لئے باعث تقویت تھی تو پھر میر صاحب سمیت ایسے تمام افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے جو اس ملک کے نقصان کا موجب بن گئے ہیں۔“
(اداریہ نوائے وقت مورخہ ۱۸؍ اگست ۱۹۷۴ء)
۱۹؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
نعش دفن کرنے پر تصادم...... پولیس نے مقدمہ درج کرلیا، شیخوپورہ میں ہڑتال
آج صبح ۹ بجے کے قریب محلہ رام گڑھ کے قبرستان میں ایک شخص ظفر احمد کی بیوی کی نعش دفن کرنے پر دو گروہوں کے درمیان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تصادم ہو گیا جس کے نتیجے میں حاجی اللہ دتہ لونہ، ان کا صاحبزادہ حاجی محمد یونس، مستری انور اور دوسرے دو افراد زخمی ہو گئے۔ حاجی اللہ دتہ لونہ کے سر میں گہرے زخم آئے ہیں اور انہیں خطرناک حالت میں مقامی ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد شہر بھر میں مکمل ہڑتال کر دی گئی جو رات تک جاری تھی۔ نماز ظہر اور نماز عشاء کے بعد اس واقعہ کے سلسلہ میں جامعہ مسجد عید گاہ میں دو جلسے ہوئے جن میں اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سٹی پولیس نے حاجی اللہ دتہ کی اطلاع پر چوہدری انور حسین ایڈووکیٹ، خورشید احمد ایڈووکیٹ، قاضی مہنگا، ظفر احمد، جان محمد، شیخ محمد اور دیگر اٹھارہ قادیانی افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ آج ہڑتال کے دوران پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے مسلح دستے شہر میں ٹرکوں پر گھومتے رہے۔ ایس پی شیخوپورہ چوہدری محمد امین نے بتایا ہے کہ پولیس نے حاجی اللہ دتہ اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف بلوہ کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
قادیانی مسئلے کے فیصلے کے لئے تاریخ کے تعین کا مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی طرف سے خیر مقدم
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے وزیر اعظم بھٹو کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کے لئے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی تاریخ مقرر کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قادیانی مسئلہ کو طے کرنے کے لئے تاریخ کے تعین سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے محسوس کر لیا ہے کہ قوم کیا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخ سے پہلے حکومت کو ایک ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر کے اسے منظور کرا لینا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر قانون، وزیر اعلیٰ پنجاب اور حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کے تحت احمدیہ مسئلہ کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والے تمام افراد کو فوراً رہا کر دینا چاہئے۔
متحدہ جمہوری محاذ پنجاب
متحدہ جمہوری محاذ پنجاب کی جنرل کونسل کے اجلاس میں حکمران طبقہ پر غیر آئینی روش اپنانے، سیاسی اغراض کے لئے حزب اختلاف کے لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے ساتھ جیلوں میں شرمناک سلوک روا رکھنے اور سرکاری ذرائع ابلاغ کو حزب اختلاف کے خلاف پروپیگنڈا کے لئے استعمال کرنے کے الزامات عائد کئے گئے۔ جنرل کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر قانون پر اراکین اسمبلی سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ جنرل کونسل نے محاذ کی مرکزی کونسل کی ۲۹ جولائی ۱۹۷۴ء کی قرارداد کی مکمل تائید کی اور پنجاب کے عوام، علماء، طلباء، ماہرین اور دیگر طبقوں کو مرکزی مجلس عمل کی اپیل پر ملک بھر میں پر امن جدو جہد جاری رکھنے پر مبارک باد دی۔
ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مساجد میں ڈی پی آر اور دفعہ ۱۴۴ کے تحت اجتماعات اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں علماء، طلباء، وکلاء، سیاسی کارکنوں اور شریف شہریوں کی وسیع پیمانہ پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور گرفتار شدگان کے ساتھ جیلوں میں انتہائی شرمناک سلوک روا رکھا گیا ہے۔ کھاریاں، گجرات، سرگودھا، اوکاڑہ، کبیر والہ، چنیوٹ، بہاول نگر، علی پور میں بے گناہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے۔ محکمہ اوقاف کی تحویل میں مساجد کے علماء کو ملازمت سے علیحدگی کے نوٹس دیئے گئے اور ان کو رہائش گاہوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزیر قانون اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے برعکس بلا جواز گرفتار ہونے والوں کو آج تک رہا نہیں کیا بلکہ گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اظہار خیال پر پابندیاں تا حال نہیں ہٹائی گئیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مسئلہ کے حتمی فیصلہ کے لئے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اس مسئلہ کو اجماع امت کے مطابق بلا تاخیر حل کرے۔ مزید برآں حکومت کا یہ فرض ہے کہ ملک میں خوشگوار فضاء پیدا کرنے کے لئے گرفتار شدہ سیاسی کارکنوں، علماء، طلباء کو فوراً رہا کرے۔ پریس پر ناروا پابندیاں ختم کرے اور تشدد کے ذمہ دار افسران کو معطل کیا جائے۔ عدالت عالیہ کے جج کے ذریعے تشدد کے تمام واقعات کی تحقیقات کروائی جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
مولانا شاہ احمد نورانی
قادیانیوں کے مسئلے پر غور کرنے والی خاص کمیٹی کے رکن اور جمعیۃ علمائے پاکستان کے رہنما مولانا شاہ احمد نورانی نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے ۹۵ فیصد ارکان منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حق میں ہیں اور قوی امید ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔ گزشتہ روز انہوں نے منڈی مرید کے میں ایک عام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی کے روبرو قادیانی لیڈروں کی جرح تسلی بخش طور پر جاری ہے اور اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق مولانا نورانی نے کہا کہ دوسرے فریق کی طرف سے وزیر اعظم بھٹو پر زبردست دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس لئے وہ قومی اسمبلی کے فیصلے پر اثر انداز بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسی صورت میں عوامی نمائندوں اور عوام کا ردعمل بہت سخت ہوگا۔
پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کا کنونشن لاہور
پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے نومنتخب چیئرمین اور پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے سلسلے میں طلباء نے جو تحریک شروع کی تھی اسے ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے آج یہاں نیو کیمپس میں پنجاب بھر سے آئے کونسل کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے طلباء کا ختم نبوت کی تحریک کے بارے میں یہ نعرہ ہوگا۔ ”ابھی ورنہ کبھی نہیں“۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ختم نبوت کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے تمام طالب علموں کو فوراً رہا کر دینا چاہئے۔ آپ نے کہا کہ اب تعلیمی اداروں کی مزید بندش کا حربہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آپ نے کہا کہ طلباء کو لالچ اور دباؤ ڈال کر خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن طلباء ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ آپ نے کہا کہ ہماری تحریک اس وقت مکمل ہوگی جب رسول اکرم ﷺ کے قانون کو آخری قانون تسلیم کیا جائے گا۔ طلباء کے اس کنونشن میں مختلف شہروں کے ۵۰ سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ کنونشن سے معصوم خان، حافظ وسیم احمد، ارباب عالم، انور حسین، خواجہ مصباح الدین، عبدالستار، محمد سلیم، سکندر خان، زین العابدین، حافظ مظفر، محمد رفیق، نصر اللہ، سجاد کھوکھر، ادریس باجوہ، فیروز الدین، محمد ارشد، عطاء محمد، راجہ شاہد، صلاح الدین، سید افضل، رانا عبدالعزیز، خالد عمر، عبدالرحیم، محمد عرفان، عرفان احمد، عبدالکریم، حافظ خوشی محمد، محمد مسعود، عبدالحسن اور عبدالشکور نے بھی خطاب کیا۔ پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر خالد علوی نے بھی ختم نبوت کے سلسلے میں ایک طویل تقریر کی۔ اس سے قبل نئے انتخابات کرائے گئے۔ جس میں مسٹر فرید احمد پراچہ کو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔
طلباء کنونشن کے فیصلے
کنونشن کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین مسٹر فرید پراچہ نے کنونشن کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حکومت کو طلباء کی طرف سے ۷؍ ستمبر کے لئے الٹی میٹم دے دیا گیا ہے کہ وہ ۷؍ ستمبر تک قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا اعلان کرے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ورنہ حکومت کے خلاف ”حکومت چھوڑ دو، نئے انتخابات کراؤ“ کی تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ۷؍ستمبر کو کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے طلباء اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ طلباء ۷؍ستمبر تک پورے صوبہ میں مختلف مقامات پر جلسے منعقد کریں گے اور طلباء برادری کو قومی مسائل سے آگاہ کریں گے۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ چنیوٹ میں گرلز ڈگری کالج قائم کیا جائے۔ اسی طرح ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ جن افراد کے تبادلے قادیانی اساتذہ کی جگہ ربوہ کے تعلیمی اداروں میں ہوئے تھے۔ انہیں لازمی طور پر ربوہ بھیجا جائے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ طالب علم لیڈر ارکان قومی اسمبلی سے ملاقات کر کے انہیں طلباء کے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔ ایک قرارداد میں طلباء کی غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
ایک قادیانی اور پولیس والے کے ہاتھوں مسلمان کی پٹائی اور ہڑتال
شالیمار ٹاؤن لاہور مجلس عمل ختم نبوت کے کارکنوں کے مطابق آج صبح دال چھولے بیچنے والے ایک نامعلوم خوانچہ فروش کو وہاں کے ایک شخص بشیر باجوہ نے پولیس کی مدد سے زدوکوب کیا جس سے یہ شخص بیہوش ہوگیا اور اس کا اتہ پتہ معلوم نہیں ہوسکا۔ اس واقعہ کے بعد شالیمار ٹاؤن میں ہڑتال ہوگئی ہے۔ مضروب اس وقت جماعت اسلامی کے دارالمطالعہ اور مجلس عمل کے دفتر میں بیہوش پڑا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پھیری والا صبح نو بجے کے قریب جب فہیمی سٹریٹ نزد مسجد ایک مینار سے گزر رہا تھا تو وہاں سے ایک شخص بشیر باجوہ قادیانی نے اس سے دال چھولے خریدنے چاہے۔ لیکن مضروب نے اسے دال چھولے دینے سے انکار کر دیا۔ مجلس عمل کے کارکنوں کے مطابق اس انکار پر اے. ایس. آئی شریف نے جو وہاں پہرہ دے رہا تھا بشیر باجوہ قادیانی سے مل کر پھیری والے کو مارا پیٹا جس سے وہ بیہوش ہوگیا۔ پولیس مضروب کو تانگے پر سوار کر کے تھانہ باغبان پورہ لے گئی۔ جہاں سے مجلس عمل کے کارکن اسے واپس لے آئے اور میو ہسپتال لے گئے۔ لیکن وہاں اسے داخلہ نہ مل سکا جس کے بعد یہ مضروب مجلس عمل کے دفتر میں پڑا ہے۔ جہاں بہت بڑا ہجوم ہے۔ رابطہ کمیٹی جی روڈ مرکز نے خوانچہ فروش محمد بشیر پر پولیس تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کرنے والے پولیس والوں کو فوراً برطرف کیا جائے۔
مجلس عمل کے دو رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری
علامہ احسان الٰہی ظہیر نے آج رات بتایا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے صدر حافظ عبدالحق اور مجلس عمل کامونکی کے صدر مولانا حبیب الرحمن کے خلاف قابل اعتراض تقاریر کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور دونوں رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں۔
۲۰؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی کی کارروائی پر اطمینان ہے، پروفیسر غفور احمد
متحدہ جمہوری محاذ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر اب تک جو کارروائی کی ہے حزب اختلاف اس سے مطمئن ہے۔ جماعت اسلامی کے مقامی دفتر میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ متحدہ جمہوری محاذ کی مجلس عمومی کا اجلاس ستمبر کے پہلے ہفتے میں لاہور میں ہو رہا ہے۔ جس میں قادیانی مسئلہ پر سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی اور انہیں بعد ازاں خصوصی کمیٹی کے چیئرمین کو پیش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک اخبار نویس کے استفسار پر بتایا کہ
تحریک ختم نبوت(۳) مئی۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی اسمبلی کے اجلاس کی دس روز کی تعطیلات کے دوران قادیانی مسئلہ پر اتفاق رائے کے سلسلہ میں اپوزیشن اور حکمران جماعت میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ مسئلہ کے تصفیہ کے لئے قومی اسمبلی نے ابھی تک کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ اب تک صرف وزیر اعظم نے کوئٹہ کے دوران اپنی پریس کانفرنس میں یہ بیان دیا ہے کہ مسئلہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء تک حل کر دیا جائے گا۔
شیخوپورہ میں ہڑتال جاری رہے گی
مجلس عمل شیخوپورہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار افراد کو فی الفور رہا کیا جائے اور مخالف گروپ کے افراد کو گرفتار کیا جائے۔ مجلس نے مزید مطالبہ کیا کہ متنازعہ میت قبر سے نکال کر کسی اور جگہ دفن کی جائے۔ رات گئے مجلس عمل کے رہنماؤں نے جامع مسجد عید گاہ میں جلسہ میں اعلان کیا کہ جب تک ان کے یہ مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے عوام کی پرامن ہڑتال جاری رہے گی۔ مجلس کے صدر مولانا غلام رسول نے بتایا کہ آج دوسرے روز بھی ہڑتال کامیاب رہی اور اس سے عوام کا اتحاد اجاگر ہو گیا ہے۔ شیخوپورہ میں آج ہڑتال کا دوسرا روز تھا۔
یکم ستمبر کا کنونشن لاہور
مجلس عمل، لاہور کینٹ کے ناظم مالیات قاری عبدالحمید قادری نے کہا ہے کہ مجلس عمل لاہور کے زیراہتمام یکم ستمبر کو لاہور میں کل پاکستان کنونشن منعقد ہو گا جس میں تمام صوبوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ انہوں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متذکرہ کنونشن میں تمام اضلاع کے صدر سیکرٹری اور مقتدر نمائندے شریک ہوں گے۔ کنونشن کے تین اجلاس ہوں گے۔ پہلا اجلاس صبح نو بجے سے دو بجے بعد از دوپہر تک دوسرا چار بجے شام سے چھ بجے شام تک جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ میں اور تیسرا اجلاس بعد نماز عشاء شاہی مسجد میں ہو گا۔ کنونشن میں شریک ہونے کے بارے میں مجلس عمل کے دعوت نامے جاری کر دیئے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ کنونشن کے انعقاد کے سلسلہ میں عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مجوزہ کنونشن کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔ قاری عبدالحمید قادری نے کہا کہ کنونشن کے انعقاد کے سلسلے میں مختلف سب کمیٹیاں بنادی گئی ہیں، جنہوں نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ دوسرے باہر سے سینکڑوں کی تعداد میں رضا کار لاہور پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ مرکزی مجلس عمل کی پالیسی کے مطابق تحریک کے رضا کار نہایت پرامن طور پر تحریک چلا رہے ہیں۔
علماء کی درخواست ضمانت سماعت کے لئے منظور
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس نسیم حسن شاہ نے راولپنڈی کے علماء حبیب الرحمٰن، مولانا غلام اللہ خان اور شیخ محمد شریف کی طرف سے دائر کردہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کو سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست کنندگان مجلس عمل کے سرگرم رکن ہیں اور مولانا حبیب الرحمٰن جمعیۃ اہل حدیث راولپنڈی کے ناظم بھی ہیں۔ جب کہ مولانا غلام اللہ خان جامع مسجد پنڈی کے خطیب ہیں۔ ان کے خلاف دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے ضمن میں انتقاماً مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
کھاریاں کیس کی تحقیقات
تحقیقاتی ٹربیونل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جہلم ملک محمد امیر نے اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں کی عدالت کے کمرہ میں کھاریاں فائرنگ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیس کی تحقیقات کے دوران امیر جماعت احمدیہ تہال غلام غوث اور پنجاب ریزرو پولیس کے تھانیدار راجہ ولایت کے بعد بعض کانسٹیبلوں کے بیانات قلمبند کئے۔ کانسٹیبل محمد اکرم نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ جب ہجوم نے حملہ کیا تو ہم زخمی ہو گئے اور ان کے نرغے میں سے نکل کر ایک مکان میں داخل ہو کر پناہ لی۔ تھانیدار اور دوسرا کانسٹیبل محمد یونس بھی زخمی ہوا تھا۔ یہ بھی اسی مکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے دو کانسٹیبل جو رائفلوں سے مسلح تھے وہ ہم سے بچھڑ گئے تھے۔ تھانیدار نے ہجوم کو منتشر ہونے کی وارننگ دی لیکن وہ منتشر نہ ہوئے۔ اس پر تھانیدار نے ریوالور سے تین فائر کئے حبیب نے ایک ہوائی فائر رائفل سے کیا۔ سرور نے دو ہوائی فائر رائفل سے کئے تھے مکان میں ہم ۶/بجے سے ۹/بجے تک رات کو رہے اور ۹/بجے ہم پیدل کھاریاں کی طرف چل دیئے پھر ہمیں تانگہ مل گیا۔ سی ایم ایچ میں ہمارے زخموں پر ٹنکچر لگایا گیا جس سے خون بند ہو گیا۔ اس کے بعد سول ہسپتال کھاریاں میں ۱۱ بج کر ۲۵ منٹ پر پہنچ گئے۔ ایس ایچ او کھاریاں راجہ منور نے میرا بیان ۱۴/جولائی کو لیا۔ اسی روز راجہ ولایت تھانیدار اور یونس کا بیان بھی لیا گیا۔ وقوعہ کے پانچ روز بعد ہمارے بیان لئے گئے۔ میری آنکھ کے پاس کلہاڑی لگی۔ سر میں بھی کلہاڑی لگی ہے۔ اس وقوعہ پر فاضل ٹربیونل نے سپاہی کی مندمل شدہ زخموں کا بغور معائنہ کیا۔ اس نے بتایا کہ میری لاٹھی ہنگامہ میں رہ گئی۔ وہ پرائیویٹ لاٹھی تھی۔ اس لئے اس لاٹھی کے گم ہونے کی اطلاع ایس ایچ او کو نہیں دی گئی۔ ایک سوال میں بتایا کہ ہجوم چاروں طرف سے آ رہا تھا۔ چھتوں پر سے بھی لوگ آ رہے تھے۔ ہمارے اس مکان پر لوگوں نے اس لئے حملہ نہیں کیا کہ کسی کو ہمارے پناہ لینے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اس مکان میں ایک کمرہ تھا۔ صحن میں ایک چارپائی پڑی تھی۔ اس پر ہم دونوں سپاہی بیٹھ گئے۔ تھانیدار کمرہ میں چلا گیا اور وہاں پناہ لی۔ جب تک شور ہوتا رہا ہم مکان میں ہی چھپے رہے۔ میری خیریت کا پتہ کرنے ایس ایچ او کے سوا کوئی بڑا افسر نہیں آیا۔ کانسٹیبل محمد یونس نے بتایا کہ جب ہم اس مکان سے باہر نکلے (جس میں، میں نے اور اکرم تھانیدار ولایت نے پناہ لی تھی) باہر آکر دیکھا تو مرزائیوں کے مکانوں کو آگ لگی ہوئی تھی ہم سیدھے ہسپتال تانگہ میں گئے اور تھانہ کھاریاں میں اس کی اطلاع نہیں دی۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں نے خون میں بھری ہوئی یونیفارم ایس ایچ او کھاریاں کو نہیں دکھائی۔ میری ٹوپی وہیں گر گئی تھی جو پھر نہیں ملی۔ اس نے بتایا کہ لاٹھیاں ہمیں چوہڑکانہ سے ملی تھیں۔ چوہڑکانہ ہیڈ کوارٹر کو ٹوپی اور لاٹھی کے گم ہونے کی اطلاع نہیں دی۔ جب ہم مکان میں پناہ لینے آئے تھے تو چھتوں پر کوئی آدمی نظر نہیں آیا تھا۔ میں نے مجمع میں سے کسی کو زخمی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ عدالت کے ایک سوال پر کہا کہ میں وہ مکان موقع پر جا کر دکھا سکتا ہوں جس میں پناہ لی تھی۔ محمد سرور کانسٹیبل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں نے راجہ ولایت کے حکم پر دو ہوائی فائر رائفل سے کئے تھے اور حملہ کرنے والوں کی تعداد پانچ چھ ہزار تھی۔ وہ عدالت کے اس سوال کا جواب نہ دے سکا کہ ساڑھے پانچ بجے حملہ ہوا اور دس منٹ بعد ہجوم کے گھیرے سے نکل گئے تو نو بجے گاؤں سے روانہ ہوئے۔ اس طرح تین گھنٹے کہاں گزارے ہیں۔ اس نے یہاں سے چیک پوسٹ کا فاصلہ دو میل بتایا اور کہا کہ نو بجے سے گیارہ بجے تک یہ دو میل کا فاصلہ طے کیا۔ سرور نے بتایا کہ اندھیرا تھا جس کی وجہ سے فاصلہ طے کرنے میں دیر لگی۔ عدالت نے اس موقع پر کہا کہ چاندنی رات تھی اندھیرا نہیں تھا۔ سرور نے بتایا جب چیک پوسٹ پر پہنچا وہاں پر انسپکٹر پولیس چوہدری خورشید مل گئے۔ ان کے ہمراہ پندرہ سپاہی تھے جو بس میں تھے اور بس آدھی خالی تھی ایک سوال پر بتایا کہ میں نہیں جانتا کہ اس عرصہ میں ایس پی یا ڈی سی وہاں پہنچے۔
۱۰/ جولائی کو ہم نے تہال کے دس پندرہ افراد کو گرفتار کیا۔ ہم مکان پر جاتے تھے۔ جب ان کو بتایا جاتا تھا کہ تمہیں گرفتار کرنا ہے تو وہ شخص ساتھ ہو لیتا تھا۔ جب گنجیال میں گرفتاری کے لئے گئے تو راستہ میں آٹھ دس ہزار افراد نے پولیس کو گھیرے میں لے لیا۔ ہم صرف پندرہ کانسٹیبل تھے۔ ایس ایچ او کھاریاں ہمارے ہمراہ تھے۔ ہجوم نے پہلے ہمارے پاس آکر تین دستی بم پھینکے۔ یہ نہیں بتا سکتا کہ کتنے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاصلے سے پھینکے گئے تھے۔ ساڑھے بارہ بجے سے ساڑھے تین بجے تک پولیس اور عوام میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس سوال کے جواب میں کہ جب مکان پر جاتے تھے اور گرفتاری کر لیتے تھے تو کیا وجہ ہے کہ تم اتنی تعداد میں کیوں گئے جب کہ کسی نے گرفتاری سے انکار بھی نہیں کیا۔ اس کا گواہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سوال پر کہ جب پولیس اور عوام کے درمیان فائرنگ ہو رہی تھی تو انسپکٹر پولیس کہاں تھا؟ گواہ نے بتایا کہ مجھے پتہ نہیں۔
تحقیقاتی ٹربیونل کا دائرہ اختیار محدود کر دیا گیا
آج کھاریاں فائرنگ کیس کے تحقیقاتی ٹربیونل ملک محمد امیر نے ڈاکٹر غیور ڈاکٹر کا بیان قلمبند کیا۔ ایس۔ ایچ۔ او کھاریاں راجہ منور کا بیان ابھی جاری تھا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن ٹربیونل کو موصول ہوا جس میں سابقہ نوٹیفکیشنوں کو جو اس ٹربیونل کے دائرہ اختیار سے متعلق جاری ہوئے تھے انہیں منسوخ کر کے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس پر عدالت نے کارروائی ملتوی کر دی اور وکلاء کو اس نئے نوٹیفکیشن پر غور کرنے کے لئے کہا۔ وکلاء نے اس کا جائزہ لیا اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ٹربیونل نے کہ وہ اس نوٹیفکیشن پر اچھی طرح غور کر لیں اور اعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں بات کر کے وضاحت کرالیں۔ آج ٹربیونل نے کارروائی ۲۳؍ اگست تک ملتوی کر دی۔ اس روز راجہ منور کا بیان مکمل کیا جائے گا۔ پہلے نوٹیفکیشن کے مطابق ٹربیونل نے واقعہ کی ذمہ داری کسی پر عائد کرنی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکے گی۔ اس طرح ٹربیونل کا دائرہ اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔
خورشید حسن میر نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے
ممتاز عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر بے محکمہ مسٹر خورشید حسن میر نے حکومت سے اس کی اسلامی اقدامات کی بناء پر تعاون کرنے والے علمائے کرام کے بارے میں اہانت آمیز الفاظ استعمال کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ وہ ایک مقامی ہفت روزہ میں وفاقی وزیر کے شائع شدہ ان کے انٹرویو کا حوالہ دے رہے تھے۔ مسئلہ ختم نبوت اور واقعہ ربوہ کے بارے میں مسٹر خورشید حسن میر نے جو موقف اختیار کیا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی نے اس پر بھی کڑی تنقید کی۔
۲۲؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
بہاول نگر کی ختم نبوت کانفرنس
گزشتہ شب یہاں عید گاہ گراؤنڈ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مجلس عمل کے مرکزی ارکان نوابزادہ نصر اللہ خان، علامہ سید محمود احمد رضوی، ملک محمد قاسم، عبدالرشید قریشی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر نے اعلان کیا کہ مسلمانان پاکستان اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور اگر ۷؍ ستمبر کو وزیر اعظم بھٹو نے اپنے وعدے کے مطابق قوم کی توقعات کو پورا نہ کیا تو عوام اسلام آباد اور لاڑکانہ میں مظاہرہ کریں گے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ ملک بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور جیلوں میں علماء اور کارکنوں پر ظلم و تشدد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ فسطائی طریقے ترک کر دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پہلے سرحدوں پر خطرے کی نشاندہی کی۔ پھر اچانک بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد قوم کو یہ بتائے بغیر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ کی کیا ضمانتیں حاصل ہوتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا مجلس عمل کسی سیاسی یا دیگر جماعت کی نمائندہ نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے جبر و تشدد یا خوف و لالچ کے حربے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس نے عوام کے ساتھ جو یہ وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرے۔ مرکزی مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری علامہ محمود احمد رضوی نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ ملک اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے جو عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں تو انہیں اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنے کے لئے عوام کی بات کو تسلیم بھی کرنا چاہئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ۷؍ ستمبر کو حکومت نے عوام کو مایوس کیا تو مرکزی مجلس عمل عوام کو مایوس نہیں کرے گی اور تحریک چلائے گی۔ عبدالرشید قریشی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عقائد کا پوری طرح تحفظ کریں گے اور اس مقصد کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ ملک محمد قاسم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحدہ ہو جائیں اور باہمی اختلافات ختم کر دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مجلس عمل کی شکل میں یہاں مختلف جماعتوں نے جس اتحاد کا ثبوت دیا ہے۔ اس کا دائرہ عمل بڑھانا چاہئے اور ملکی مسائل حل کرنے کے لئے بھی اجتماعی جدوجہد کرنی چاہئے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے عوام کی منشاء کے خلاف کوئی اقدام کیا تو عوام اسے اقتدار سے محروم کر دیں گے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں دھوکہ کھا سکتے تھے لیکن عقائد کے معاملے میں دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ مولانا محمد یوسف ہارون آبادی نے جلسہ کی صدارت کی۔ حاضری کے اعتبار سے اسے تاریخی جلسہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مرکزی مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری علامہ محمود احمد رضوی نے آج یہاں ملک محمد قاسم کی قیام گاہ پر بھی تحریک کے کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔
قومی اسمبلی
انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں آج بھی تفصیلاً جرح کی گئی۔ آج آٹھویں روز بھی چار گھنٹے تک جرح جاری رہی۔ کمیٹی کا اجلاس اب کل صبح دس بجے ہوگا۔
صمدانی کمیشن رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کر دی
واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ٹربیونل نے آج اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر محمد حنیف رامے کو پیش کر دی ہے۔ مسٹر جسٹس صمدانی نے سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور انہیں رپورٹ کی تین دستخط شدہ کاپیاں پیش کیں جو ۱۱۲ صفحات پر مشتمل تھی۔ وزیر اعلیٰ نے جسٹس صمدانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد جس مختصر مدت میں اور محنت کے ساتھ رپورٹ مرتب کی ہے، وہ قابل قدر ہے۔ پنجاب کی حکومت اس رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور بعد میں اسے قومی اسمبلی کے حوالے کیا جائے گا جو پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی حیثیت سے احمدیہ مسئلہ پر غور کر رہی ہے۔ یہ ٹربیونل ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے ۲۹؍ مئی کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے حکومت پنجاب نے قائم کیا تھا۔ اس واقعہ میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے بعض طلباء پر حملہ کیا گیا تھا اور ان میں سے ۱۳ زخمی ہو گئے تھے۔ ٹربیونل نے ۵؍ جون کو تحقیقات کا آغاز کیا۔ ٹربیونل نے کل ۷۰ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ جن میں احمدیہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد، ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر مرزا شفیع احمد نشتر میڈیکل کالج کے متعدد طلباء اور ربوہ کے بعض احمدی بھی شامل ہیں۔ مسٹر جسٹس صمدانی نے ربوہ کے معائنہ کے علاوہ ان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بوگیوں کا بھی معائنہ کیا، جن میں طلباء نے سفر کیا تھا اور ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ ٹریبونل نے ۳؍اگست کو اپنی تحقیقات ختم کر لی تھی۔
جلسہ عام
جمعۃ المبارک ۲۳؍اگست ۱۹۷۴ء بعد نماز عشاء بمقام جمیل مسجد سمن آباد لاہور۔
مقررین: حافظ عبدالقادر روپڑی، صاحبزادہ فیض القادری، مولانا محمد ابراہیم، بارک اللہ خاں ایڈووکیٹ، فرید پراچہ صدر سٹوڈنٹس یونین جامعہ پنجاب، عبدالشکور سیکرٹری جنرل سٹوڈنٹس یونین پنجاب۔ - مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سمن آباد اسلامیہ پارک لاہور
۲۳؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
سانحہ ربوہ کی تحقیقات رپورٹ پر کابینہ میں غور
وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس راولپنڈی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں منعقد ہوا جو صبح دس بجے سے اڑھائی بجے دوپہر تک جاری رہا۔ اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور اور صوبائی رابطہ مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مسٹر خورشید حسن میر، مولانا کوثر نیازی، مسٹر رفیع رضا، ڈاکٹر مبشر حسن اور رانا حنیف کے علاوہ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین طاہر محمد خاں نے بھی شرکت کی۔ راولپنڈی سے باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ کے خصوصی اجلاس میں سانحہ ربوہ کے بارے میں جسٹس صمدانی کی تحقیقاتی رپورٹ پر غور کیا گیا اور قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی اب تک کی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔ نیز اس بات پر خاص طور پر غور کیا گیا کہ وزیر اعظم نے قادیانی مسئلہ پر غور کرنے کے لئے ۷؍ستمبر کو جو قطعی تاریخ مقرر کی ہے اس مدت میں قومی اسمبلی اپنی کارروائی مکمل کر سکے گی یا نہیں۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات کا پتہ نہیں چلا۔ اس بات کا امکان ہے کہ اگلے چند روز میں وفاقی کابینہ کا پھر اجلاس ہوگا۔
۲۳؍اگست کے اخبار میں مزید کوئی خبر نہیں۔
۲۴؍اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قادیانیوں کا بائیکاٹ غلط ہے (مودودی)
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا ہے کہ بعض حلقوں نے عوام کے ایک طبقے کے سماجی بائیکاٹ کے حق میں جو مؤقف اختیار کیا ہے، وہ حسن سلوک اور مہربانی کی اس عظیم مثال کے منافی ہے جو پیغمبر اسلام نے قائم کی تھی۔ مولانا نے کہا میں نے امریکہ سے واپس آکر گزشتہ شب اپنی تقریر میں بتایا تھا کہ مجھے قادیانی مسئلے کے بارے میں صورتحال کا علم امریکہ میں نیویارک ٹائمز کے ذریعہ ہوا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے اخبارات انہیں وہاں بہت کم ملتے رہے۔ اس لئے اس سلسلے میں کوئی تبصرہ کرنے سے قبل حالات کا جائزہ لینا ضروری تھا۔ مولانا نے کہا تاہم بعض حلقوں نے ایک طبقے کے سماجی بائیکاٹ کے مسئلے پر جو مؤقف اختیار کیا ہے، وہ رحم و مہربانی کے اس معیار کے منافی ہے جو رسول اکرم ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
مجھ سے سماجی بائیکاٹ کی مخالفت میں بیان منسوب کر کے ریڈیو نے سخت بددیانتی کی ہے (مولانا مودودی)
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا ہے کہ سوشل بائیکاٹ اسلام کے عین مطابق ہے انہوں نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسول اکرم ﷺ نے جنگ تبوک میں شریک نہ ہونے والے چند مسلمانوں کے بارے میں سوشل بائیکاٹ کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ یہ لوگ منافق نہیں تھے بلکہ سچے مسلمان تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا سماجی مقاطعہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ مولانا مودودی نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت صدیق اکبرؓ اور جلیل القدر صحابہؓ نے جو جنگ کی تھی، وہ محض اس لئے تھی کہ مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ حالانکہ مسیلمہ، نبی کریم ﷺ کو نبی مانتا تھا۔ لیکن خود کو بھی نبوت میں شریک کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کے باوجود صحابہؓ نے اس کے خلاف جنگ کی، ان مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی رو سے نبوت کا دعویٰ کرنے والے کے خلاف سماجی مقاطعہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے احکامات اور صحابہؓ کے عمل کے عین مطابق ہے۔ مولانا مودودی نے کہا کہ جو لوگ قادیانیوں کے سماجی مقاطعہ کے خلاف باتیں کرتے ہیں، وہ شریعت سے نابلد ہیں۔
آج رات مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ امریکہ سے واپسی پر لاہور کے ایک جلسہ میں انہوں نے جو تقریر کی تھی۔ اس کی خبر ریڈیو پر سن کر انہیں انتہائی صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل بائیکاٹ کے متعلق ان کے بیان کو جس سوفیصد غلط انداز سے ریڈیو پر پیش کیا گیا، وہ انتہائی افسوس ناک جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ جلسے میں، میں نے ان لوگوں کے دعوؤں کی سختی سے تردید کی تھی جو کہتے ہیں کہ سوشل بائیکاٹ اسلامی اصول وتعلیمات کے منافی ہے۔ انہوں نے پورے زور سے کہا کہ سوشل بائیکاٹ اسلامی اصول اور عمل کے عین مطابق ہے۔ مولانا مودودی نے مزید کہا کہ جلسے میں، میں نے یہ واضح طور پر کہا تھا کہ سوشل بائیکاٹ کے طریقے کی پوری تائید رسول اکرم ﷺ کی سنت سے ہوتی ہے۔ جنہوں نے غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے تین مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کرنے کا بنفس نفیس حکم دیا تھا۔ مولانا نے کہا کہ بالکل بددیانتی کی بات ہے کہ جو بات میں نے جلسے میں کہی اس کے عین الٹ ریڈیو پر نشر کی گئی اور کروڑوں سامعین تک یہ جھوٹ پہنچایا گیا۔ مولانا مودودی نے مزید کہا کہ یہ اور بھی افسوس ناک بات ہے کہ ان کے بیان کی ایک بالکل جھوٹی خبر اس ریڈیو کی طرف سے نشر کی جائے جس کا کوئی نمائندہ جلسے کی کارروائی میں موجود نہیں تھا۔
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کی پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے آج بھی اپنے اجلاس میں انجمن احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح کی۔ اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا۔ کمیٹی کل بھی اپنے اجلاس میں انجمن احمدیہ کے سربراہ پر جرح کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے ربوہ سانحہ کی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے نے واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں صمدانی ٹریبونل کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم بھٹو کو پیش کر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر محمد حنیف رامے نے دو روز تک راولپنڈی میں قیام کرنے کے بعد آج واپس صوبائی دارالحکومت پہنچنے پر بتایا کہ انہوں نے تحقیقاتی رپورٹ کے ہمراہ وزیر اعظم بھٹو کو اس مسئلہ کے بارے میں اپنی سفارشات بھی پیش کر دی ہیں۔ واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹریبونل کے چیئرمین مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے ۲۰؍اگست کو اپنی یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ حنیف رامے کو پیش کی تھی۔ مسٹر رامے نے بتایا کہ چونکہ خود وزیر اعظم بھٹو یہ کہہ چکے ہیں کہ قومی اسمبلی صمدانی رپورٹ سے استفادہ کرے گی۔ لہٰذا یہ رپورٹ خود قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت صمدانی رپورٹ سے متعلق فیصلوں کو پورے طور پر نافذ کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن وعامہ کے قیام کی ذمہ داری بنیادی طور پر صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا صمدانی رپورٹ کو اس کی روح کے مطابق صوبے میں نافذ کرنا ضروری ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر رامے نے بتایا کہ راولپنڈی میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اعلیٰ سطح کے جس اجلاس میں شرکت کی اس میں بھی اس مسئلہ پر بات چیت ہوئی۔ وزیر اعظم بھٹو نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے اعلیٰ نمائندے بھی شریک تھے۔
مسٹر حنیف رامے نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ کچھ جماعتیں اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس بات کو محسوس کیا جانا چاہئے کہ یہ مسئلہ حکومت کا نہیں بلکہ قومی اسمبلی کا ہے جو اس کی مفصل چھان بین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی اس مسئلہ پر پوری سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ حزب اختلاف کے ارکان بھی قومی اسمبلی میں موجود ہیں اور وہ تمام صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر شدید افسوس کیا کہ آئے روز حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اس مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ حالانکہ اب یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے زیر غور ہے۔ اس طرح اس کی ذمہ داری حکومت اور حزب اختلاف دونوں پر مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تمام جماعتیں اس مسئلہ کے بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں گی۔ استفسار پر وزیر اعلیٰ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو وقت مقرر کیا گیا ہے قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی جو پورے ایوان پر مشتمل ہے اس مدت میں اپنا کام مکمل کر لے گی اور تمام متعلقہ حلقے سفارشات مکمل کرانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت پنجاب میں امن عامہ کی صورتحال قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب قومی اسمبلی نے اپنا کام مکمل کر لیا اس مسئلہ پر اضطراب و بے چینی کا کوئی جواز باقی نہ رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اس کے بعد بھی بعض عناصر نے اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینا چاہا تو پھر حکومت مضبوط ہاتھوں سے ان سے نمٹ لے گی۔
۲۵؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
قومی اسمبلی
پورے ایوان پر مشتمل قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے آج انجمن احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر جرح مکمل کر لی ہے۔ کمیٹی نے آج دو اجلاس منعقد کئے جو قریباً سات گھنٹے جاری رہے۔ گواہ پر جرح کل گیارہ روز جاری رہی۔ کمیٹی کا اجلاس اب منگل ۲۷؍ اگست کو ہوگا۔ اجلاس کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
کبیر والہ کے واقعات کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے
گورنر پنجاب صادق حسین قریشی، وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے سے کبیر والہ کے شہری پرزور اپیل کرتے ہیں کہ پچھلے دنوں کبیر والہ میں معزز شہریوں اور علمائے کرام پر تشدد کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان کے ذمہ دار حکام کو معطل کر کے واقعات کی چھان بین عدالت عالیہ کے فاضل جج سے کرائی جائے۔ اس بارے میں قومی پریس میں خبریں آچکی ہیں۔
ہم نے تحریری طور پر اور حکام کو تاریں بھیج کر جو الزامات عائد کئے ہیں، ان کی غیر جانبدارانہ چھان بین انتہائی ضروری ہے
(خان) شیر دین سابق چیئرمین بلدیہ کبیر والہ و صدر مجلس عمل کبیر والہ
کوثر نیازی کا اعلان
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اوقاف اور حج مولانا کوثر نیازی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی قادیانی مسئلے کا فیصلہ ۷ ستمبر کی مقررہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاریخ پر لازماً کر دے گی۔ راولپنڈی سے کراچی پہنچنے پر اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے مولانا نے کہا وزیر اعظم نے اسمبلی میں، اکثریتی جماعت کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ قادیانی مسئلے کا تصفیہ ۷؍ ستمبر تک ہر صورت ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتیں اس سلسلے میں اکثریتی جماعت کے ساتھ تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا جہاں تک قادیانی مسئلے کے حل کا تعلق ہے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اسے جمہوری انداز میں اسلام کے اصولوں کے عین مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حل ایسا ہوگا جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا ختم نبوت پر ایمان اسلام کی اساس ہے اور قومی اسمبلی اپنے فیصلہ میں اسے مکمل آئینی تحفظ دے گی۔
۲۶؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مولانا شاہ احمد نورانی
لائل پور: مولانا شاہ احمد نورانی (ایم . این . اے ) نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ۷؍ ستمبر تک قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کر دیا اور خاص فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو بہتر ہوگا اور اگر حکومت نے اس مسئلہ کا جو خالصتاً دینی مسئلہ ہے، مسلمانوں کی امنگوں کے خلاف فیصلہ کیا تو مرکزی مجلس عمل ۷؍ ستمبر کے بعد اپنے اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔ مولانا گزشتہ رات جامع مسجد گلزار مدینہ محمد پورہ میں سنی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ سواد اعظم کے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ انہوں نے شرح وبسط سے قرآن وحدیث کی روشنی میں خاص فرقہ کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کو جائز اور درست قرار دیا۔
۲۷؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
خورشید حسن میر کی برہمی، زبانیں کھینچ لی جائیں گی، ٹانگیں توڑ دی جائیں گی
وفاقی وزیر بے محکمہ خورشید حسن میر نے کہا ہے کہ فتویٰ فروش علماء ختم نبوت کی تحریک سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آج ٹاؤن ہال میں ”انقلابی جدوجہد کا نیا موڑ“ کے موضوع پر ایک مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب جب کہ احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں زیر غور ہے، ملاؤں کو شور مچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان فتویٰ فروشوں نے دھمکی دی ہے کہ یہ ۶؍ ستمبر کو راولپنڈی میں جمع ہو جائیں گے۔ ہم ان کے استقبال کے لئے تیار ہیں۔ یہ نام نہاد علماء مسجدوں کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے طعن وتشنیع بند نہ کی تو ان کی زبانیں کھینچ لی جائیں گی۔ جلسہ کے دوران بار بار وفاقی وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ مسٹر میر نے کہا کہ پرانے ساتھیوں نے عجلت میں پیپلز پارٹی چھوڑ دی۔ اب دور سے نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے چلے جانے کی وجہ سے رجعت پسند پارٹی میں گھس آئے۔ خورشید میر نے کہا کہ مجھے قادیانی کہا جاتا ہے، یہ غلط ہے۔ مولوی غلام اللہ نے مجھے سائیکل سوار وکیل کا نام دیا ہے۔ حالانکہ میرے پاس اس وقت بھی کار تھی۔ جب میں حکومت میں نہیں تھا۔ اصغر خان اس کے گواہ ہیں جو کئی بار میری کار میں بیٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے قومی اخبارات کو رجعت پسند قرار دیا۔ مجلس مذاکرہ میں دو سو افراد موجود تھے۔ تاج محمد لنگاہ نے بھی تقریر کی۔ قیوم نظامی نے کہا کہ جو لوگ رجعت پسند مولویوں کی حمایت میں بولیں گے ان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک محمد قاسم اور یسین وٹو کا مطالبہ
پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ملک محمد قاسم نے جھنگ میں کی گئی حالیہ گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ آزادی تقریر و تحریر پر پابندی کے بعد اب حکومت نے مذہبی مسائل پر اظہار خیال کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ پابندیاں اتنی شدید ہیں کہ معمولی باتوں پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے رکن نوابزادہ افتخار احمد انصاری اور جھنگ میں علماء کرام اور طالب علم رہنماؤں کی گرفتاریاں اسی پالیسی کی آئینہ دار ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان اسیروں پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام اسیران ختم نبوت کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور پالیسی کو تبدیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومتی پارٹی کی موجودہ پالیسی غیر جمہوری ہے۔
مسٹر محمد یسین وٹو نائب صدر پنجاب بار کونسل اور چیف آرگنائزر پاکستان مسلم لیگ (پنجاب زون) نے بھی پاکستان بار کونسل کے رکن نوابزادہ افتخار احمد انصاری، مولوی محمد یسین، جنرل سیکرٹری جمعیۃ علمائے پاکستان ضلع جھنگ اور جامعہ مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن جھنگ کے خطیب مولوی عبدالشکور کی حالیہ گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بے ضرر اور محب وطن رہنماؤں کی گرفتاری نے اب یہ بات واضح طور پر ثابت کر دی ہے کہ وطن عزیز میں حکومتی پارٹی نے تحریر و تقریر کے تمام دروازے جبراً عوام پر بند کر دیئے ہیں۔ زبان بندی کا یہ آمرانہ رجحان نہ صرف برسر اقتدار پارٹی بلکہ جمہوریت کی نشو و نما کے لئے بھی سخت نقصان دہ ہے۔ آخر میں انہوں نے گرفتار شدگان کی غیر مشروط فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
سانحہ ربوہ میں حکومت کے ہاتھ بالکل صاف ہیں، بھٹو
وزیر اعظم بھٹو نے آج پارلیمنٹ میں قادیانی مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی نے حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ ٹربیونل کے جج مسٹر جسٹس صمدانی کی رپورٹ میں واقعہ ربوہ سے حکومت کو بالکل بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس واقعہ کے بارے میں ہاتھ بالکل صاف ہیں اور مسٹر صمدانی بھی اپنی رپورٹ میں اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ انہوں نے ملک میں امن و سکون بحال رکھنے کے لئے ذاتی کوششوں اور حکومت کی مساعی پر بھی روشنی ڈالی۔
کراچی میں ختم نبوت کانفرنس
مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے قادیانی مسئلہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ اس مسئلہ کا فیصلہ مسلمانان عالم کی خواہش کے مطابق ۷؍ ستمبر تک کر دیا جانا چاہئے۔ بصورت دیگر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ گزشتہ رات مولانا محمد یوسف بنوری کی زیر صدارت مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء المنعم ابوذر بخاری نے کہا کہ یہ مسئلہ ہرگز کسی بحث کے لائق نہیں بلکہ سادہ اور واضح ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسلام کے نام پر قائم کئے گئے اس ملک میں گزشتہ ۲۷ برس سے اسلام کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ فرقہ وارانہ اتحاد پر مسرت کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ یہ سنگین مسئلہ پر امن طور پر حل کر لیا جائے گا۔ سید مظفر علی شمسی نے کہا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کوئی سیاسی مقصد نہیں بلکہ یہ ایک خالص مذہبی معاملہ ہے جس کی قیادت ایک درویش اور عالم دین مولانا بنوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تشدد کے خلاف ہیں اور پر امن تحریک چلائیں گے۔ مجلس کے صوبائی صدر صوفی ایاز خان نیازی نے کہا کہ ملت اسلامیہ کا بند، تربیلا بند سے کہیں زیادہ اہم ہے اور اس کے ٹوٹنے کے نتائج بھی بے پناہ ہولناک ہوں گے۔ اس لئے اسے فوری طور پر ملت کی منشاء کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ جلسہ سے حافظ
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالقادر روپڑی، قاری محمد اجمل خان، شیخ لیاقت حسین، نائب صدر پاکستان مسلم لیگ، حافظ عزیز الرحمن اور سید علی کوثر نے بھی خطاب کیا اور مولانا محمد یوسف بنوری نے دعا کی۔
گجرات میں ختم نبوت کانفرنس
ارکان قومی اسمبلی مولانا مفتی محمود اور چوہدری ظہور الہی نے کہا ہے کہ ہم قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی کی کارروائی سے مطمئن ہیں اور اگر حکومت کی نیت میں کوئی فرق محسوس کیا تو وہ اسمبلی سے باہر آ جائیں گے ۔ وہ گزشتہ رات یہاں مسجد لاہوری دروازہ میں مجلس عمل ختم نبوت کے زیر اہتمام جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ مولانا مفتی محمود نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو کو اپنی پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کو ختم نبوت کے مسئلہ پر پارٹی ڈسپلن سے آزاد نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کو ختم نبوت کے حق میں فیصلہ کا پابند بنانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو غدار کہنے والے خود غدار ہیں ۔ مولانا نے بلوچستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں اکثریتی پارٹی کو اقتدار دینے کا مطالبہ کیا ۔ چوہدری ظہور الہی نے جمہوریت کے لئے اپنی قربانیوں کا ذکر کیا اور ولی خان کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ولی خان محب وطن ہیں ۔ انہوں نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان اور سرحد سے کی جانے والی ناانصافی کی مخالفت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرقہ کے لوگوں کو اقلیت قرار دینے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ۔
حمید ریاض قادیانی نہیں ہیں
بیکو ہیڈ آفس سٹاف یونین سی بی اے پاکستان انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ لاہور کے صدر محمد صادق نے ایک بیان میں گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر حمید ایس ریاض کے خلاف بہتان تراشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور انہیں خلافت ربوہ کا حلقہ بگوش قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہرگز قادیانی فرقے سے تعلق نہیں رکھتے اور سنی العقیدہ مسلمان ہیں ۔
مولانا یوسف بنوری ۳۱ اگست کو اوکاڑہ میں خطاب کریں گے
مرکزی مجلس عمل کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری اور علامہ محمود احمد رضوی ۳۱ اگست کو اوکاڑہ میں مجلس عمل پنجاب کی کنونشن سے خطاب کریں گے ۔ مجلس عمل ساہیوال کے اجلاس میں آج ان کے دورہ کو آخری شکل دی گئی ۔
کھاریاں کیس
کھاریاں فائرنگ کیس کے تحقیقاتی ٹربیونل ملک محمد امیر کی عدالت میں آج ایس ایچ او کھاریاں راجہ منور کا بیان مکمل کیا گیا اور محمد نذیر اے ایس آئی تھانہ صدر گجرات اور منظور حسین ہیڈ کانسٹیبل کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے ۔ محمد نذیر کو کل کے لئے بھی پابند کیا گیا ہے ۔ منظور حسین نے بتایا کہ اسے پولیس لائن افسر گجرات باغ بہار قریشی نے حکم دیا تھا کہ چار کانسٹیبل لے کر عزیز بھٹی شہید ہسپتال گجرات سے غلام نبی مقتول کی نعش لے آئیں اور اسے ایس ایچ او کھاریاں کے حوالے کردوں ۔ اس نے بتایا کہ اس نے یہ نعش سوا نو بجے حاصل کی اور ساڑھے دس اور گیارہ بجے گجرات سے کھاریاں پہنچا دی ۔ محمد نذیر اے ایس آئی نے بتایا کہ ۱۰ جولائی کو سوا سات بجے گجرات ہسپتال سے ایک چھٹی آئی کہ غلام نبی کی نعش پڑی ہے ۔ اس کو کھاریاں ہسپتال میں پہنچا دیا جائے تا کہ وہاں اس کا پوسٹ مارٹم ہو جائے ۔ میں نے سپاہی کو ہسپتال بھیجا تو منظور حسین ہیڈ کانسٹیبل اس کے پہنچنے سے پہلے نعش لے گیا تھا ۔ نذیر نے بتایا کہ میں نے نعش کے سلسلہ میں تھانہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کھاریاں سے بات کرنے کے لئے کال بک کرائی لیکن کال نہ مل سکی۔ اس پر ٹربیونل نے گجرات اور کھاریاں کے ایکسچینج کا ۱۰؍ جولائی کا ریکارڈ طلب کر لیا اور نذیر کو بھی کل کے لئے پابند کر لیا۔ ۲۷؍ اگست کو باغ بہار قریشی پولیس لائن افسر، لال خان کانسٹیبل موضع تہال کے اللہ دتہ، غلام رسول اور فضل الٰہی کو عدالت میں گواہی کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ ٹربیونل کو کارروائی کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں نے اطلاع دی کہ ہوم سیکرٹری کا فون آیا ہے کہ اس تحقیقات کے لئے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ چوہدری محمد اکرم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ قبروں پر پولیس گارڈ متعین نہیں کی گئی بلکہ گاؤں کے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ ٹربیونل نے ٹیلیفون ایکسچینج کا ریکارڈ کل عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
۲۸؍ اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
سیالکوٹ، انجمن طلباء اسلام
انجمن طلباء اسلام (پاکستان) کی مجلس مشاورت کے سابق رکن اور جامعہ پنجاب کے مشہور طالب علم رہنما جناب محمد اقبال قمر نے حالیہ تحریک ختم نبوت کے دوران مختلف مقامات پر منعقدہ جلسہ ہائے عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منکرین ختم نبوت کا مسئلہ اب بھی نتیجہ خیز مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور طالب علم برادری اسی سلسلہ میں کسی ایسے فیصلہ کو قطعی طور پر قبول نہیں کرے گی جو کہ عوامی امنگوں کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت عالم اسلام کا مشترکہ اور طے شدہ مسئلہ ہے۔ لہٰذا حکومت کو منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ دریں اثناء انہوں نے اپنی تقاریر میں مجاہد ختم نبوت سید محمود شاہ گجراتی و دیگر اسیران ختم نبوت کی بلا تاخیر غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کھاریاں کیس کی سماعت
آج کھاریاں فائرنگ کیس کے تحقیقاتی ٹربیونل ملک محمد امیر کی عدالت میں لال خان کانسٹیبل اور اللہ دتہ کا بیان قلمبند ہوا۔ لال خان نے ٹربیونل کو بتایا کہ اس نے ۱۰؍ جولائی کو ۹ فائر کئے تھے اور خالی کارتوس تھانہ محرر کے حوالے کر دیئے تھے۔ فائرنگ کے بعد ایس ایچ او کھاریاں جب رپورٹ مرتب کر رہا تھا تو ایس پی گجرات موقع پر پہنچ گئے اور ہدایات دیں۔ جن کی روشنی میں رپورٹ مرتب ہوئی۔ اللہ دتہ نے جو فائرنگ کے دوران پولیس کے ہمراہ تھا، بتایا کہ یکم؍ جولائی سے قبل موضع تہال میں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ ٹربیونل نے وکلاء کے سوال کے جواب میں بتایا کہ ۱۷؍ اگست کو صوبائی حکومت کو محمد یوسف اور غلام نبی کی نعشوں کے پوسٹ مارٹم کے لئے لکھا گیا تھا لیکن ابھی تک اس کے بارے میں کوئی جواب نہیں آیا۔
قادیانی، بہائی
مولانا عبدالقدوس ہاشمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ بہائی فرقہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہا ہے اور زور دے رہا ہے کہ انہیں ایک غیر مسلم مذہبی فرقہ قرار دیا جائے۔ بہائیوں کا عقیدہ ہے۔ باب اور بہاء اللہ جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ امام مہدی اور مسیح موعود تھے جن کی آمد کی پیشین گوئی قرآن و رسول کریم ﷺ نے کی ہوئی ہے۔ مولانا صاحب نے کہا کہ اس عقیدہ پر ہمارا ان سے اختلاف ہے جیسا کہ مرزائیوں سے ہے۔ قادیانی ایک غیر مسلم فرقہ کہلائے جانے پر رضا مند نہیں ہوتا۔ لیکن بہائی رضا کارانہ طور پر ایسا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ انہیں پاکستان کی مسلم اکثریت میں شامل رہنے پر مجبور نہ کریں۔ جب کہ وہ خود واضح طور پر اعلان کر رہے ہیں کہ مسلمانوں اور ان کے عقائد میں فرق ہے۔ بہتر یہی ہے کہ حکومت پاکستان ان کے اس مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دے۔
(روزنامہ سعادت لاہور، مورخہ ۲۸/اگست ۱۹۷۴ء)
۲۹/اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
کھاریاں کیس کی انکوائری
کھاریاں فائرنگ کیس کے تحقیقاتی ٹربیونل ملک محمد امیر کی عدالت میں ڈاکٹر غیور عالم میڈیکل افسر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ڈاکٹر غیور عالم نے ٹربیونل کو بتایا کہ ۹/جولائی کی رات کے گیارہ بجے راجہ ولایت، محمد اکرم اور یونس ہسپتال میں پہنچے۔ راجہ ولایت کو تو زخم آئے تھے جن میں دو زخم زیادہ نازک تھے۔ محمد یونس کانسٹیبل معمولی زخمی تھا۔ غلام غوث اور فضل الٰہی، دولت بی بی اور زہرہ بی بی کے ساتھ رات کے دو بج کر دس منٹ پر ہسپتال میں پہنچے۔
فضل الٰہی کو تین زخم آئے تھے جو سادہ تھے۔ دولت بی بی کے چار ضربات اور زہرہ بی بی کے تین ضربات آئی تھیں جب کہ غلام غوث کو سات زخم آئے تھے۔ ان کو زیر مشاہدہ رکھا گیا۔ غلام نبی جو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا اس کو پہلوان نامی ایک شخص لے کر کھاریاں ہسپتال میں آیا۔ میں نے پندرہ منٹ اس کو روکا۔ اس کے بعد ایمبولینس میں اس کو فوری طور پر گجرات عزیز بھٹی ہسپتال میں بھجوا دیا۔ اس کا میڈیکل لیگل کیس تیار کیا اور ڈسپنسر کے حوالے کر دیا۔ اس کے علاوہ اور کوئی رپورٹ میں نے اس کے ہمراہ گجرات نہیں بھیجی۔ غلام نبی کی حالت بہت خراب تھی۔ چنانچہ میں نے اس کو گجرات ہسپتال میں بھیجنا زیادہ ضروری سمجھا تا کہ اس کی جان بچ جائے۔
سوال : آپ نے کیا طبی امداد دی؟ جواب : گلوکوز دیا۔ زخموں پر پٹی باندھی۔
سوال : کس کی نگرانی میں گجرات بھیجا؟ جواب : میں نے غلام نبی کو ڈرائیوروں، ڈسپنسر اور پہلوان اور دوسرے آدمیوں کے ہمراہ گجرات بھیجا۔
سوال : وہ کتنی دیر ہسپتال میں رہا؟ جواب : پندرہ منٹ۔
سوال : غلام نبی کے ہمراہ کتنے افراد تھے جب وہ ہسپتال میں لایا گیا؟ جواب : چھ سات آدمی تھے۔
سوال : آپ کی کتنی ملازمت ہے؟ جواب : ۴/ستمبر ۱۹۷۱ء کو ملازم ہوا تھا۔ اب تک ۱۰۰ میڈیکل لیگل کیس اور ۳۵ پوسٹ مارٹم کر چکا ہوں۔
سوال : کیا ۱۰/جولائی کو تہال ڈوگہ کے اور بھی زخمی آئے تھے؟ جواب : ہاں عورتیں اور بچے بھی زخمی حالت میں ساڑھے چھ بجے شام کو ہسپتال پہنچے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ سائرہ، حلیمہ، مسمات عزرینہ نزاکت علی دو سال، نذیر بی بی، مسمات سجادہ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سب انسپکٹر پولیس راجہ منور ایس ایچ او کھاریاں نے عدالت کو بتایا کہ ۴/جولائی کو غلام غوث میرے پاس تھانہ میں آیا تھا۔ اس نے تہال کے حالات بتائے اور کہا کہ ہماری حفاظت کے لئے گارڈ دی جائے۔ میں نے غلام غوث کو بتایا کہ میں گارڈ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ میرے پاس کانسٹیبلوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایس پی گجرات کو ملیں وہ گارڈ دے سکتا ہے۔ ایس پی گجرات نے راجہ ولایت تھانیدار کو چار کانسٹیبل دے کر تہال بھیج دیا۔ ۹/جولائی ۱۹۷۴ء تک راجہ ولایت نے مجھے کوئی رپورٹ نہ بھیجی تھی۔ ۹ تاریخ کو گلیانہ روڈ پر ایک جلسہ ہو رہا تھا (کھاریاں میں) علاقہ مجسٹریٹ شیخ احسن بشیر اور میں موقع پر موجود تھے۔ اللہ دتہ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب میرے پاس آیا۔ اس کے بیان پر میں نے استغاثہ مرتب کر کے تھانہ بھجوایا۔ میں نے دس کانسٹیبل لے کر جن میں سے چھ کے پاس رائفلیں اور چار کے پاس لاٹھیاں تھیں، علاقہ مجسٹریٹ شیخ احسن بشیر کے ہمراہ موضع تہال کی طرف روانہ ہو گیا۔
سوال: گاؤں تہال میں کس وقت پہنچے۔
جواب: ساڑھے دس اور گیارہ بجے کے قریب۔
سوال: سب سے پہلے کہاں گئے؟
جواب: غلام غوث کے ہاں۔ وہاں سے دولت بی بی، زہرہ بی بی اور غلام غوث زخمیوں کو ہسپتال بھجوایا۔ اس وقت تک ۱۶ مکان جل چکے تھے یا جل رہے تھے، کچھ گر چکے تھے۔ میں نے موقع پر ہی رف نقشے بنائے۔
سوال: ایس پی کب موقع پر پہنچا؟
جواب: ایس پی رات کو ہی موقع پر پہنچ گئے اور ڈیڑھ گھنٹہ تک وہاں رہے۔ انہوں نے مختلف جگہوں کا معائنہ کیا اور واپس چلے گئے۔ میں نے ۱۰ بجے صبح تک موقع جات دیکھے اور بیانات لئے۔ ۱۰/جولائی کو ایس پی گجرات دوبارہ تہال آ گئے۔ سکول میں ایس پی موجود تھے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ گرفتاریاں شروع کر دو۔ میں نے رحمت علی، محمد وزیر، رحمت، عبد الغفور، امانت علی اور اللہ دتہ موضع تہال کو گرفتار کر لیا تھا۔ دوسروں کو گرفتار کرنے کے لئے اللہ دتہ، غلام رسول، فضل احمد کے ہمراہ گیا۔ وہ کانسٹیبل لے کر روانہ ہو گیا جو لوگ گرفتار ہو چکے تھے۔ ان کو ایس پی اور انسپکٹر کھاریاں کے حوالے کر دیا گیا۔ جب ہم ڈوگہ کی طرف چل پڑے تو ہمیں پانچ ہزار کے ہجوم نے للکارا کہ کوئی زندہ بچ کر نہ جائے۔ ان کے پاس برچھیاں، لاٹھیاں اور رائفلیں تھیں۔ انہوں نے فائرنگ شروع کر دی اور تین ہینڈ گرنیڈ پھینکے۔ ساڑھے بارہ بجے سے ساڑھے تین بجے تک فائرنگ ہوتی رہی۔ ہم نے ہوائی فائر کئے اور لیٹ کر پوزیشنیں لئے رکھیں۔ تین گھنٹے کی فائرنگ کے بعد ہجوم خود بخود منتشر ہو گیا۔ اللہ دتہ ہمارے ہاں رہا تھا۔ اس نے کچھ ملزموں کی شناخت کر لی تھی۔ میں نے چھ ملزموں کو انسپکٹر کے ہمراہ کھاریاں روانہ کر دیا اور واپس سکول کی عمارت میں آ گیا۔ ۱۲/جولائی تک تہال میں سکول کی عمارت میں رہا۔ ۱۲/جولائی کو چوہدری منظور الٰہی ایڈووکیٹ نے سردار خان، محمد یونس، منظور حسین، محمد حسین، رشید، احمد سکنہ تہال، بہاول گنجیال کو پولیس کے حوالے کیا۔ ۱۳/جولائی کو چوہدری منظور الٰہی ایڈووکیٹ نے چار آدمی پولیس کے سامنے پیش کئے۔ محمد نذیر (تہال) محمد اقبال (گنجیال) اور محمد حنیف (ڈوگہ) پولیس اور پبلک کے درمیان فائرنگ میں لال کانسٹیبل زخمی ہوا تھا۔ ایس ایچ او راجہ منور نے بتایا کہ چھت میں چار انچ اینٹوں کا سوراخ تھا۔ اس سے ہینڈ گرنیڈ پھینکے گئے اور میں نے دیواروں سے ہینڈ گرنیڈ کے ٹکڑے نکالے ہیں۔ میں نے ایس پی گجرات کو فیڈرل سیکورٹی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۴۴۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فورس بھیجنے کے لئے نہیں لکھا تھا۔ ایس. پی نے خود ہی فورس بھیج دی تھی۔ جس وقت میں نے رپورٹ مرتب کی، اس وقت اللہ دِتہ، غلام رسول، فضل احمد میرے پاس تھے۔ ان کے علاوہ اور کوئی شخص موقع پر نہیں آیا اور نہ ہی میرے پاس سے کوئی گیا۔ جس وقت میں رپورٹ تیار کر چکا، اس وقت ایس. پی گجرات اور انسپکٹر پولیس میرے پاس پہنچے۔ میں نے ان کو رپورٹ دکھا دی۔
سوال: بلوائیوں کی جانب جو دو افراد زخمی ہوئے تھے ان کا کیسے پتہ چلا؟
جواب: ہجوم کی طرف سے شور برپا تھا کہ دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ عورتیں اور مرد مکانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ لیکن حالات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ میں ان کا پتہ نہیں چلا سکتا تھا۔ راجہ منور نے بتایا کہ انہوں نے مقتولین کی قبروں پر پہرہ نہیں لگایا تھا اور لواحقین کی درخواست کے باوجود قبروں کو کھود کر نعشوں کا پوسٹ مارٹم بھی نہ کراسکا۔ خود ڈاکٹر نے بھی پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایس. ایچ. او نے ٹربیونل کو بتایا کہ کمرے کی دیواروں پر دستی بم کے پھٹنے کے نشانات نمایاں تھے اور بموں کے ٹکڑے تجزیہ کے لئے بھی بھیج دیئے گئے تھے۔ پولیس کی طرف سے ہجوم پر پچاس ساٹھ فائر کئے گئے جب کہ ہجوم کی طرف سے دو تین سو فائر ہوئے۔ پولیس نے کوئی خالی کارتوس محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی کسی شخص سے ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ایس. ایچ. او راجہ منور پر جرح جاری تھی کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ چوہدری ارشاد احمد ایڈووکیٹ سوالات کر رہے تھے۔ ٹربیونل کی مدد چوہدری منظور الٰہی ایڈووکیٹ، چوہدری محمد اکرم ایڈووکیٹ، چوہدری غلام احمد ایڈووکیٹ، کیپٹن ایاز احمد ایڈووکیٹ، بشارت احمد، چوہدری میاں خان ایڈووکیٹ، چوہدری فضل حسین ایڈووکیٹ نے کی۔
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کے سارے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے آج انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے سربراہ جرح مکمل کر لی۔ اجلاس چار گھنٹے جاری رہا۔ کمیٹی کا اجلاس اب کل ۶/ بجے شام دوبارہ شروع ہوگا۔
مجلس عمل لاہور کے زیر اہتمام جلسہ
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام یکم ستمبر اتوار کو ساڑھے آٹھ بجے شب بادشاہی مسجد میں ایک جلسہ عام زیر صدارت مولانا محمد یوسف بنوری منعقد ہو رہا ہے۔ اس جلسہ سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، مولانا عبد الہادی دین پوری، صاحبزادہ غلام معین الدین شاہ (گولڑہ شریف)، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا تاج محمود، مولانا عبد اللہ درخواستی، پیر صاحب پگاڑا شریف، مولانا مفتی محمود، علامہ سید محمود احمد رضوی، مولانا شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا جان محمد عباسی، مولانا عبد الستار خان نیازی، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا عبد القادر روپڑی، سید مظفر علی شمسی، مولانا عبید اللہ انور، مولانا ابو ذر عطاء المنعم بخاری، چوہدری ثناء اللہ چھٹہ اور دیگر مشائخ علماء کرام اور اکابرین خطاب کریں گے۔
ملتان کنونشن
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۰/ اگست کو کنونشن منعقد ہو رہا ہے۔ صدر مجلس عمل مولانا محمد یوسف بنوری اور دوسرے قائدین کا استقبال صبح ساڑھے آٹھ بجے مدرسہ قاسم العلوم میں ہوگا۔ ۹/ بجے سے گیارہ بجے صبح تک کنونشن ہوگا۔ جس سے مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا ابو ذر بخاری، سید مظفر علی شمسی، چوہدری غلام جیلانی، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا محمد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجمل، میر عالم لغاری، مولانا تاج محمود، مولانا عبدالمجید ندیم، خان محمد اشرف خان اور سید امین گیلانی خطاب کریں گے۔ تمام قائدین نماز جمعہ عیدگاہ میں ادا کریں گے۔ ساڑھے پانچ بجے مرکزی مجلس عمل کے قائدین کے اعزاز میں جامعہ تعلیم الابرار میں عصرانہ دیا جائے گا۔ انتظامات کے سلسلہ میں محمد اشرف خان، شیخ عبدالحمید، مولانا ابوالحسن قاسمی کو مختلف تنظیمی کمیٹیوں کا صدر بنا دیا گیا ہے۔
جامع مسجد نقشبندیہ محلہ شیخاں وسن پورہ لاہور میں جمعہ ۳۰/ اگست کو بعد نماز عشاء جلسہ عام
مولانا جان محمد عباسی قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان، مولانا عبدالستار خان صاحب نیازی، مولانا عبیداللہ انور، صاحبزادہ فیض القادری، بارک اللہ خان، مولانا فقیر محمد، چشتی خطیب مسجد، مولانا سلیم اللہ خطاب فرمائیں گے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، وسن پورہ لاہور
۳۱ / اگست ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
ملتان میں ختم نبوت کنونشن و کانفرنس
مجلس عمل ختم نبوت کے مرکزی صدر مولانا محمد یوسف بنوری نے کہا ہے کہ ہم سختی کا جواب صبر سے دیں گے اور ظلم کا مقابلہ پرامن جدوجہد سے کریں گے۔ مولانا یوسف بنوری آج صبح مدرسہ قاسم العلوم میں مجلس عمل کے ڈویژنل کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سختی کے باوجود عوام کے جوش ایمانی میں روز بروز اضافہ ہوگا اور ہماری تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک کہ ہم مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔ مولانا نے کہا کہ ختم نبوت مسئلہ خالص دینی مسئلہ ہے۔ اس کے پس پردہ کوئی سیاسی مقصد نہیں۔ انہوں نے کہا کبیروالہ، اوکاڑہ، بہاول نگر، کیمبل پور اور دوسرے مقامات پر جو زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں اور کارکنوں نے جس صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے تحریک میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہم اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ڈویژنل کنونشن سے علامہ محمود احمد رضوی اور مظفر علی شمسی نے بھی خطاب کیا۔ علامہ رضوی نے کہا کہ مجلس عمل نے پورے ملک میں اپنی تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں اور ملک کا کوئی ایسا کونہ باقی نہیں جہاں کے عوام نے اس تحریک کی آواز پر لبیک نہ کہی ہو۔ سید مظفر علی شمسی نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ تیرہ سو سال پہلے حل ہو چکا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اس میں ترمیم نہیں کر سکتی۔ مولانا بنوری کے اعزاز میں انجمن طلباء اسلام کی طرف سے دعوت استقبالیہ دی گئی، جس سے انہوں نے خطاب کیا اور ان ہی خیالات کا اظہار کیا۔
آج دوپہر ایک مقامی ہوٹل میں جمعیۃ طلبائے اسلام کی طرف سے مولانا بنوری کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد عید گاہ ملتان میں ایک بڑا جلسہ ہوا جس میں مجلس عمل کے مرکزی رہنماؤں نے تقریریں کیں۔ دریں اثناء متحدہ جمہوری محاذ کے نائب صدر نوابزادہ نصر اللہ خان نے موجودہ حکومت پر غیر جمہوری آمرانہ ہتھکنڈے اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ مخالف جماعتیں تشدد کی کارروائیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن کو جاری رکھیں گی۔ نوابزادہ نصر اللہ خاں آج ملتان بار ایسوسی ایشن سے خطاب کر رہے تھے۔
بہاول پور ختم نبوت ۳۱ / اگست ۱۹۷۴ء کنونشن
مجلس عمل ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد یوسف بنوری نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے خلاف اس وقت تک تحریک جاری رہے گی، جب تک مجلس عمل کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اصولوں پر کسی قسم کی سودے بازی ہرگز نہیں کی جائے گی۔ حکومت اس معاملے میں فریق نہیں ہے۔ ہماری اپیل یہ ہے کہ حکمران جماعت ہمارا مطالبہ پورا کرے اور دستور میں عوام کی خواہشات کے مطابق ترمیم کرے۔ مولانا بنوری نے یہ بھی کہا کہ یہ تحریک کلیتہً مذہبی تحریک ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کو اسے اپنی مقصد براری کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ کنونشن سے نصر اللہ خان اور مسٹر مظفر علی شمسی نے بھی خطاب کیا۔ اس کنونشن میں مختلف حصوں سے آنے والے مندوبین نے شرکت کی اور تحریک کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں کی رپورٹ پیش کی۔
بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس
مرکزی مجلس عمل کے کنونیر مولانا محمد یوسف بنوری نے جامع مسجد الصادق میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ قادیانی مسئلہ میں مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک کو پوری قوم کی تائید و حمایت حاصل ہے اور اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کے فیصلہ کو قومی اسمبلی کے ذریعہ قانونی شکل دے کر اس پر عملدرآمد کرائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی سیاسی پارٹی کو اس تحریک سے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی تحریک ایک عوامی تحریک ہے اور اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اخبارات کے ذریعہ اظہار رائے پر پابندی کی مذمت کی اور گرفتار ہونے والے طلباء، علماء اور وکلاء اور دیگر معززین کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ جلسہ سے مولانا محمد اجمل، مولانا گلزار مظاہری، مولانا عبدالشکور دین پوری اور علامہ محمود احمد رضوی، مظفر علی شمسی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا اللہ وسایا اور سید ہمدانی ایڈووکیٹ خیر پور نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں جنرل سیکرٹری مرکزی مجلس عمل علامہ محمود احمد رضوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے لئے موجودہ دینی مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو ملکی سالمیت کے خلاف ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والے لوگ امریکہ اور برطانیہ کے ایجنٹ ہیں اور ایسے لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۶/ ستمبر کو راولپنڈی میں مجلس عمل کا ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں نئی صورتحال پر غور و فکر کر کے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں نوابزادہ نصر اللہ خان، مظفر علی شمسی اور مولانا گلزار احمد مظاہری بھی موجود تھے۔
آج جب ملتان سے حضرت بنوری کی قیادت میں کاروان ختم نبوت ستلج پل پر پہنچا تو پنجاب اسمبلی کے رکن علامہ رحمت اللہ ارشد، مولانا غلام مصطفیٰ، الحاج سیف الرحمٰن امیر مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کی قیادت میں موٹر سائیکلوں، کاروں پر مشتمل ہزارہا عوام نے مہمانوں کا استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں کاروان کو شہر لایا گیا۔ پورا شہر سراپا تحریک بنا ہوا تھا۔ جلسہ عام و کنونشن مثالی طور پر کامیاب ہوئے۔ حضرت بنوری کا رات کو حضرت حاجی سیف الرحمٰن کے ہاں قیام تھا۔ صبح روانگی کے وقت بے ساختہ حضرت بنوری نے حضرت حاجی سیف الرحمٰن کو فرمایا کہ حاجی صاحب آپ جنتی ہیں۔
کھاریاں کیس کی تحقیقات
لالہ موسیٰ، کھاریاں فائرنگ کیس کے تحقیقاتی ٹربیونل ملک محمد امیر نے ایس. پی اسپیشل برانچ راولپنڈی چوہدری افتخار احمد کو واقعہ کھاریاں کے بارے میں یکم/ جولائی سے ۱۵/ جولائی تک کے ریکارڈ کے ہمراہ ۲۰/ ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گجرات شیخ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذوالقرنین ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گجرات شیخ محمد خالق، اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں ، سعید اختر بھٹہ ، قاضی جاوید مجسٹریٹ درجہ اوّل، شیخ احسن بشیر مجسٹریٹ درجہ اوّل کھاریاں کو ۳؍ ستمبر کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ کھاریاں کیس کے متعلق ان کے پاس جو ریکارڈ ہے، ہمراہ لائیں۔ ٹربیونل نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ کھاریاں کے واقعہ کے بارے میں لاء اینڈ آرڈر کے متعلق تمام رپورٹیں ہمراہ لائیں۔ محمد شریف چیمہ سابق ایس. پی گجرات ، انسپکٹر پولیس کھاریاں چوہدری محمد خورشید کو ۴؍ ستمبر کو ٹربیونل نے طلب کیا ہے اور ایس. ایچ. او کھاریاں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ۴؍ ستمبر کو ریکارڈ کے ہمراہ عدالت میں حاضر رہیں۔
آج سیکرٹری جنرل ہیلتھ پنجاب کی طرف سے ٹربیونل کو اطلاع دی ہے کہ اس نے غلام نبی و محمد یوسف جو پولیس فائرنگ سے ۱۰؍ جولائی کو ہلاک ہوئے تھے، ان کی قبریں کھود کر پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ مقرر کر دیا ہے جو یہ ہیں۔ چیئرمین میڈیکل سپرنٹنڈنٹ گجرات ڈاکٹر بی. اے کیانی ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گجرات ڈاکٹر اصغر نیّر اور اسسٹنٹ پروفیسر اناٹومی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور اے. ایچ. ناگی ہیں۔ میڈیکل بورڈ کے چیئرمین سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گجرات سے رابطہ قائم کریں۔ آج ٹربیونل کے سامنے فضل بیگم، برکت بی بی اور اللہ دتہ کے بیانات قلمبند ہوئے۔
واقعہ کربلا اور ختم نبوت، کوثر نیازی
کراچی، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مولانا کوثر نیازی نے عوام کو تلقین کی ہے کہ وہ حضرت سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعلیمات پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی اسلام کی خاطر اور ختم نبوت کا پرچم بلند رکھنے کے لئے قربان کی۔ جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا کے یوم ولادت پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلمانوں کے کسی فرقہ کو اقلیت تصور نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں اقلیت صرف وہ ہیں جو اسلام پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا شیعہ حضرات سے تمام معاملات پر اتفاق ممکن نہیں۔ لیکن مجھے ذکر حسین رضی اللہ عنہ سے تسکین و تحفظ میسر آتا ہے۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر اپنی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا بعض عناصر نے واضح وجوہ کی بناء پر اس کتاب کے بعض اقتباسات اصل متن سے ہٹ کر پیش کر کے غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اے. پی. پی کے مطابق مولانا کوثر نیازی نے کہا ایک مذہب میں اقلیت واکثریت نہیں ہو سکتی۔ یہاں صرف وہ لوگ اقلیت میں ہیں جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ قبل ازیں علامہ عقیل ترابی نے خطاب کیا۔
قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کے سارے ایوان کی اسپیشل کمیٹی نے آج دو اجلاس کئے جو تقریباً ساڑھے سات گھنٹے تک جاری رہے۔ احمدیوں کے مسئلے پر دو قراردادوں پر غور وخوض کیا۔ ایوان کی اسپیشل کمیٹی کا اجلاس کل ۹؍ بجے صبح پھر منعقد ہوگا۔
مجلس عمل نے جلسے کی اجازت نہیں لی
محکمہ اوقاف کے صوبائی ناظم اعلیٰ نے کہا ہے کہ مرکزی مجلس عمل یا کسی اور تنظیم کی طرف سے بادشاہی مسجد میں یکم ستمبر کی شب کو جلسہ منعقد کرنے کے لئے اجازت حاصل نہیں کی گئی۔ ان سے جلسہ کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار سے متعلق تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں ابھی تک اس جلسہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بادشاہی مسجد کا انتظام وانصرام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ اس لئے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہاں کوئی جلسہ منعقد کرنے سے قبل محکمہ سے باضابطہ اجازت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاصل کی جائے گی۔ ناظم اعلیٰ نے کہا کہ مسجد میں خالصتاً مذہبی اجتماع پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم وہاں سیاسی جلسہ منعقد کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
مولانا شاہ احمد نورانی سرگودھا میں
جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی مولانا شاہ احمد نورانی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قادیانی مسئلے کو امت مسلمہ کی خواہش کے مطابق حل کر کے شکوک و شبہات کو دور کرے۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ بات بلاک نمبر ۱۲ میں ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مجلس عمل کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پرامن جدوجہد جاری رکھیں۔ آج جب مولانا شاہ احمد نورانی سرگودھا پہنچے تو سرگودھا سے سات میل باہر ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور ان کو ٹرکوں، بسوں اور سکوٹروں پر سوار سینکڑوں افراد کے جلوس کے ساتھ شہر لایا گیا۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے لکھیڑ منڈی میں بھی عوام سے خطاب کیا۔ ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق انہوں نے وہاں بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ قادیانی مسئلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ۷؍ ستمبر تک حل کر دیا جائے۔ ورنہ عوام مضطرب ہو کر میدان میں نکل آئیں گے۔ جامع مسجد پیر حضرت عبداللہ شاہ لکھیڑ میں دارالعلوم سلطانہ رضویہ کے چھٹے سالانہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو ختم کرنے کے لئے یہ پودا کاشت کیا تھا۔ جس کی پاکستان کے سابق حکمران بھی آبیاری کرتے رہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دے تو مسلمانوں اور حکومت کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اقلیتی فرقہ کی حیثیت سے ان کے جان و مال کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کو مرزا ناصر احمد سے براہ راست سوالات پوچھنے کی اجازت نہ تھی بلکہ انہیں پہلے اپنے سوالات لکھ کر اٹارنی جنرل کو دینا پڑتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا ناصر احمد ہمارے سوالات سے اس قدر بوکھلا اٹھے کہ وہ کہتے سنے گئے کہ میں تنگ آ چکا ہوں، سوالات کا سلسلہ کب ختم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے ساتھ سوشل بائیکاٹ جائز ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت ۷؍ ستمبر کو اس مسئلہ کو مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق حل کر دے گی۔
۲؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
دو اشتہار
ذیل میں دو اشتہارات ملاحظہ فرمائیں جو آج کے اخبارات میں شائع ہوئے۔
پاکستان سٹوڈنٹس ختم نبوت ﷺ کنونشن زیر اہتمام : لائل پور سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی مقام : زرعی یونیورسٹی لائل پور، مورخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۷۴ء، خصوصی اجلاس بوقت ۹ بجے صبح جلسہ عام : ساڑھے آٹھ بجے رات ...... لائبریری ہال مقام : ڈی گراؤنڈ زرعی یونیورسٹی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تمام یونیورسٹیوں، کالجوں کے منتخب نمائندوں اور طلباء تنظیموں سے شرکت کی استدعا ہے۔ اس اشتہار کو ہی دعوت نامہ تصور کرتے ہوئے عظیم کنونشن میں شرکت فرمائیں۔
منجانب : رانا محمد اشفاق، کنونیر و قائم مقام صدر سٹوڈنٹس یونین زرعی یونیورسٹی لائل پور
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے سلسلہ میں جلسہ عام
مقام : جامع مسجد کچہری بازار، بوقت ۵ بجے بعد نماز عصر، تاریخ ۴؍ ستمبر بروز بدھ مقررین : مسعود کھوکھر (نائب صدر پنجاب یونیورسٹی)، حافظ وصی محمد خان (سابق صدر یونیورسٹی)، محمد سعید سلیمی (ناظم اسلامی جمعیت طلباء ضلع لائل پور)
طلباء کا اعلان
لاہور پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین مسٹر فرید احمد پراچہ نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے طلباء اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لئے ۵؍ ستمبر کو تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ اگر ۷؍ ستمبر کو قادیانیوں کے بارے میں حکومت نے کوئی غلط فیصلہ کیا تو طلباء اسے کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔
۵؍ ستمبر کو اندرونی جارحیت کے خاتمہ کے لئے جلسہ منعقد کئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جو لوگ اندرون ملک جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تمام کالجوں کی طالب علم یونینوں سے اپیل کی کہ وہ ۵؍ ستمبر کو جلسے منعقد کریں اور اپنے اتحاد کا عملی نمونہ پیش کریں۔ مسٹر پراچہ نے بتایا کہ ۶؍ ستمبر کو پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کی مجلس عاملہ کی میٹنگ بھی بہت جلد طلب کی جائے گی۔
ختم نبوت لاہور کنونشن شیرانوالہ باغ مسجد
یکم ستمبر ۱۹۷۴ء کو لاہور میں دن کو شیرانوالہ باغ، جامع مسجد حضرت لاہوری میں کنونشن منعقد ہوا۔ ۲؍ ستمبر کے اخبارات میں اس کی یہ کارروائی شائع ہوئی۔
لاہور: یکم ستمبر (سٹاف رپورٹر) آج جامعہ مسجد شیرانوالہ گیٹ میں ملک بھر کے علماء کا تاریخی کنونشن منعقد ہوا۔ صدارت مولانا محمد یوسف بنوری نے کی۔ کنونشن میں سیالکوٹ، جھنگ، ملتان، بہاول پور، لائل پور، بہاول نگر، راولپنڈی، گوجرانوالہ، جہلم، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، مظفر گڑھ، ساہیوال، گجرات اور کیمبل پور سے آئے ہوئے علماء کے مندوبین نے خطاب کیا۔ کنونشن میں منظور کردہ قراردادوں میں منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور قادیانیوں کا مسئلہ ہر حالت میں ۷؍ ستمبر کو عوامی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ اگر ۷؍ ستمبر کو مسئلہ عوامی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوا تو پورے ملک میں علماء حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ ایک اور قرارداد کے ذریعہ ملک بھر میں ان گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں کی گئی تقاریر کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ختم نبوت کانفرنس لاہور، یکم ستمبر بعد از عشاء بادشاہی جامع مسجد
اسی دن رات کو بادشاہ جامع مسجد لاہور میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ اس کی ۲؍ ستمبر کے اخبار ”نوائے وقت“ میں یہ خبر شائع ہوئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکم ستمبر (رپورٹ: عبدالقادر حسن، محمد حسین ملک) مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام آج رات بادشاہی مسجد میں ایک تاریخی جلسہ عام منعقد ہوا جس سے خطاب کرنے والے ممتاز دینی وسیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ۷؍ستمبر کو قادیانی مسئلے کے بارے میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کا اعلان کردے۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کی خواہشات اور عقائد کے مطابق ہونا چاہئے۔ حکومت نے جب یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے سپرد کیا ہے تو اسے عوام کے منتخب نمائندوں کی اکثریت کا فیصلہ بھی قبول کرلینا ہوگا۔ اگر اسمبلی یا حکومت نے قوم کی خواہشات کے مطابق نہ کیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا جائے گا اور ناموس رسالت کے پروانے حصول مقصد کے لئے باقاعدہ تحریک کا آغاز کریں گے۔ مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی کو منکرین ختم نبوت کے بارے میں فیصلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق کرنا چاہئے۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ مسلمان عقیدہ ختم نبوت کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے اور اس کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے پر تیار ہوں گے۔ بادشاہی مسجد میں تاریخی جلسہ تقریباً پونے نو بجے رات شروع ہوا۔ مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ لوگ گیارہ بجے تک بھی باہر سے آتے رہے۔
قومی اسمبلی کے رکن جناب مصطفیٰ الازہری نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کے بارے میں پیش کردہ قرارداد پر حزب اختلاف اور حکومتی ارکان قومی اسمبلی قطعی طور پر متفق ہیں۔ آپ نے کہا کہ قادیانیوں کو پاکستان میں اقلیت قرار دیا جائے تاکہ انگریزوں نے جو مرزائیوں کو مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا اور یہ فرقہ انگریزوں کی پیداوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی عظمت غریبوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بادشاہی مسجد کے اجتماع سے عوامی خواہشات کا اندازہ کرلینا چاہئے۔ آپ نے کہا کہ آج اسلام کی کشتی کی ناخدائی مسلمان عوام کے ذمہ ہے۔ اس موقع پر مولانا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سامعین جلسہ نے ہاتھ اٹھا کر اس بات سے اتفاق کیا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ مولانا گلزار احمد مظاہری نے کہا کہ ۷؍ستمبر کو وزیراعظم بھٹو عوامی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اگر انہوں نے فیصلہ عوامی خواہشات کے برعکس کیا تو ہم تحریک چلائیں گے۔ مولانا غلام علی اوکاڑوی نے اپنی تقریر میں کہا کہ عوام کو مرکزی مجلس عمل کے ہر فیصلہ کی پابندی کرنی چاہئے اور جو تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں شروع کی گئی ہے۔ اسے پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو اقلیت قرار نہ دیا گیا تو پھر زیادہ ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا۔ مفتی مختار احمد نعیمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ابلاغ عامہ کے سرکاری ذرائع کو اس عظیم الشان جلسہ کی خبریں دینے سے روک دیا گیا ہے جو سراسر زیادتی اور آزادی تحریر و تقریر پر پابندی کے مترادف ہے۔ مولانا عبدالقادر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں ناموس رسالت کا تحفظ ہر قیمت پر کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ارباب حکومت کو یہاں آکر بادشاہی مسجد میں عوام کے جذبات کا اندازہ کرنا چاہئے۔
مجلس عمل گجرات کے رہنما مولانا عنایت اللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج کا اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں منکرین ختم نبوت کو اقلیت قرار دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہمارے ایمان اور دین اسلام کی عظمت کا مسئلہ ہے۔ مسلمان سب کچھ قربان کرسکتا ہے لیکن رسول اکرم ﷺ کے ناموس و حرمت پر کوئی حرف برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی دولت عشق رسول ﷺ ہے۔
مولانا عبدالقادر روپڑی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ تو پہلے سے حل شدہ ہے۔ لہٰذا رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ماننے والا شخص کسی صورت بھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ۷ ستمبر کو حسب وعدہ اور حسب خواہش فیصلہ نہ ہوا تو مرکزی مجلس عمل کے ہر فیصلہ کی ہم پابندی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسمبلی نے بھی مسلمانوں کی منشاء کے خلاف فیصلہ دیا تو اسے بھی کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
رہبر کمیٹی کے ممبر اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ منکرین ختم نبوت کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ مجلس عمل کا نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کا ہے۔ یہ مطالبہ عالم اسلام کی ان تمام تنظیموں کا ہے جو اپریل ۱۹۷۴ء میں مکہ و مدینہ میں جمع ہوئی تھیں۔ ہم بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو۔ بصورت دیگر مسلمان منکرین ختم نبوت کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے جو عہد ابوبکر ؓ میں غیر مسلموں کے ساتھ ہوا تھا۔ اگر حکومت اس نازک بات کو نہیں سمجھتی تو پھر نتائج کے لئے تیار رہے۔ اگر حکومت نے منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا تو پھر خود حکومت کی نیت پر بھی شبہ ہونے لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل عنقریب اس سلسلہ میں اپنے فیصلہ کا اعلان کرے گی۔ آپ نے کہا کہ مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا ہوگی۔ مسلمان حکومت کے کسی غلط فیصلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔
علامہ احسان الہی ظہیر نے کہا کہ آج کا اجتماع یہ اعلان کرنے کے لئے منعقد ہوا ہے کہ مسلمان تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنی جانیں بھی نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ نے کہا کہ ایسے وقت میں خیبر سے کراچی تک کے مسلمان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ حکومت نے ۷ ستمبر حتمی فیصلہ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ پاکستان کے مسلمان اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت اس مسئلہ کا تصفیہ کرے۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو پھر عوام کا ردعمل بڑا سخت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجیب الرحمن کو آزاد کرنا تھا تو قوم سے نہ پوچھا۔ عوام سے نہ پوچھا گیا۔ شملہ معاہدہ کیا تو اسمبلی میں نہیں گئے۔ بلوچستان و سرحد کی قانونی حکومتوں کو برطرف کیا گیا تو عوام سے نہ پوچھا گیا۔ اسمبلیوں سے نہ پوچھا۔ اب جب وزیر اعظم یہ مسئلہ لے کر قومی اسمبلی میں گئے ہیں تو اس کے فیصلہ کو بھی قبول کریں۔
مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ۱۴ جون کو ملک گیر ہڑتال اور پھر آج کی تاریخی رات میں یہ عظیم الشان اجتماع مسلمانوں کے ایک اہم مسئلہ پر مکمل اتحاد کی علامت ہے اور مسلمان ۷ ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں۔ فیصلہ خواہشات کے مطابق نہ ہوا تو ہم جان و مال قربان کر دیں گے۔ انہوں نے تحریک میں گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مولانا عبدالستار خان نیازی نے کہا کہ یہ ختم المرسلینؐ کا معجزہ ہے کہ قوم متحد ہو چکی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ محض اخروی نجات کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی مسلمان اس عقیدے کی بدولت خدا کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔ آج کا اجتماع اندھوں کو آنکھیں دینے، بہروں کو کان دینے اور بے شعور لوگوں کو شعور دینے کے لئے کافی ہے۔
مولانا شاہ فرید الحق نے کہا کہ ۱۴ جون کو مکمل ہڑتال کر کے عوام نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر جگہ متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتا ہو۔ یہی بات ہمارے آئین میں بھی ہے۔ وزیر اعظم و صدر کے حلف میں بھی یہ الفاظ ہیں۔ آپ نے کہا کہ ہم نے مسلمانوں کو کافر کہنے والوں کا محاسبہ نہ کیا تو یہ فتنہ جڑ پکڑ جائے گا اور پھر ایک دن آئے گا جب یہ فتنہ اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ بنجائے گا۔ انہوں نے دفعہ ۱۴۴ کو ہر جگہ سے ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے سلسلہ میں گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ملک کو بچانے کی فکر کریں۔ آدھا ملک ضائع ہو گیا ہے اور جو باقی ہے، اس کے بارے میں سب کو تشویش ہے۔ حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ مسجدوں کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے لیکن میں کہتا ہوں کہ مسلمان ملک میں مسلمانوں کے تمام مسائل مساجد میں طے پاتے ہیں۔ البتہ اگر سیاست، دھوکہ بازی، غنڈی گردی اور جھوٹ کی ہو تو واقعی مساجد اس کی جگہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم متحد ہیں۔ ہم اسمبلی کے ارکان اس فیصلہ کے لئے جان لڑا دیں گے۔ عوام وعدہ کریں کہ وہ پر امن رہیں گے۔ کسی کو غدار نہ کہیں گے۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کریں گے۔
پیر صاحب سیال شریف، خواجہ قمر الدین نے مطالبہ کیا کہ منکرین ختم نبوت کو مرتد قرار دیا جائے۔ حکومت ختم نبوت کے مطالبہ کو تسلیم کرے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک خاص فرقہ کو اقلیت قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس عوام نے بھٹو کو قائد عوام بنایا ہے، وہی عوام اب مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ اگر انگریز نے بھی مساجد میں پابندی نہ لگائی تھی۔ تحریک ختم نبوت کے دوران علماء کی جو توہین کی گئی ہے اور جس طرح تشدد ہوا اور مساجد کی جس طرح بے حرمتی کی گئی اس کی انگریز کے دور میں بھی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا یہ الزام بالکل غلط ہے کہ کچھ لوگ اس مسئلہ سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ سیاسی مفاد کے لئے اگر تحریک چلانی ہو تو اور دوسرے مسائل موجود ہیں۔ جن پر تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مجلس عمل جو فیصلہ کرے گی، اسے قبول کیا جائے اور اتحاد کو برقرار رکھا جائے۔
جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا کہ اگرچہ منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جو جدوجہد شروع کی گئی ہے، وہ بروقت نہیں اور میں اسے بہت بعد از وقت سمجھتا ہوں۔ یہ تحریک پاکستان بھر کے مسلمانوں کے کامل اتحاد اور اتفاق کی مظہر ہے اور ماہ مئی کے حادثہ ربوہ پر مسلمانوں کا ردعمل بالکل فطری ہے۔ انہوں نے آج بادشاہی مسجد کے تاریخی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو قطعی فیصلے تک پہنچائے بغیر ہرگز نہ چھوڑیں اور ملک کی حکومت اور ارکان اسمبلی بھی سیاسی اغراض اور مصلحتوں کو بھول کر وہ فیصلہ کریں جو ان کے دین اور ایمان کے مطابق ہو۔ اس موقع پر مولانا نے جو تقریر کی اس کا باقی حصہ سنسر کے بعد ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے...... یہ معاملہ جو اس وقت اسمبلی میں زیر بحث ہے، اپنے اندر کوئی پیچیدگی نہیں رکھتا بلکہ کھلے آسمان کی طرح صاف اور واضح ہے۔ جس شخص کو دین کی معمولی واقفیت بھی ہو، وہ جانتا ہے کہ اسلام میں نبوت ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ ربوہ کا حادثہ اسی پس منظر میں پیش آیا ہے۔ ہزار ہزار شکر ہے اس خداوند عظیم کا کہ اس تنبیہ پر پاکستان کے علماء و مشائخ سیاسی لیڈر اور عام مسلمان بھی پوری طرح بیدار ہو گئے ہیں اور حکومت بھی بروقت اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ جیسا کہ صمدانی ٹربیونل کے قیام، مسٹر بھٹو کی ۱۳؍ جون والی تقریر اور پوری قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کی صورت میں اس مسئلے کے حل کی کوشش میں لگ جانے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس موقع پر میں چند ضروری تجاویز پیش کرتا ہوں جن سے میرے نزدیک یہ مسئلہ بخوبی حل کیا جا سکتا ہے۔
- ۱...... میری پہلی تجویز یہ ہے کہ پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲ میں جو ریاست کا مذہب اسلام قرار دیتی ہے، حسب ذیل شقوں کا اضافہ
کیا جائے:
- (۱) اللہ کی توحید، تمام انبیاء کے بعد حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی ماننا۔ تمام کتب الہیہ کے بعد قرآن کو اللہ کی آخری کتاب تسلیم کرنا
اور آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کے لازمی بنیادی عقائد ہیں، جن میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (۲) محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور ایسے مدعی کو جو شخص اپنا مذہبی پیشوا مانے، وہ کافر اور خارج از اسلام ہے۔
اس کے بعد یہ ضروری ہے کہ قومی اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت کو حسب ذیل تدابیر جلدی سے جلدی اختیار کرنے کا مشورہ دے۔
- (۱) تمام ملازمین حکومت سے ایک ڈیکلریشن فارم پر کرایا جائے جس میں ہر ملازم یہ واضح کرے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتا ہے یا نہیں۔
- (۲) جو شخص غلط ڈیکلریشن دے، اس کی غلط بیانی جس وقت بھی ظاہر ہو، اسی وقت اس کو ملازمت سے الگ کر دیا جائے اور اس کے تمام حقوق جو سرکاری ملازمت کی بناء پر اسے حاصل ہوں، ساقط کر دیئے جائیں اور اس کو آئندہ ہر ملازمت کے لئے نااہل قرار دے دیا جائے۔
- (۳) رائے دہندگان کی فہرست اور مردم شماری میں منکرین ختم نبوت کا خانہ علیحدہ رکھا جائے۔ شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں میں بھی ان کے لئے ان کے فارم کے ساتھ ان کے مذہب کی بھی تصریح کی جائے۔
- (۵) تمام کلیدی آسامیوں سے اس گروہ کے افراد کو ہٹا دیا جائے۔
- (۶) سرکاری ملازمتوں میں اس گروہ کے لوگوں کا تناسب ان کی آبادی کے مطابق کر دیا جائے اور تناسب سے بہت زیادہ مناسب ان کو دے کر مسلمانوں کے ساتھ جو بے انصافی کی جاتی رہی ہے، اس کا تدارک کیا جائے۔
- (۷) ربوہ کی زمین جن شرائط پر انہیں دی گئی ہے، ان پر نظر ثانی کی جائے اور مفاد عامہ کو ملحوظ رکھ کر از سر نو شرائط مقرر کی جائیں۔ نیز اگر یہ ثابت ہو کہ انہوں نے ایگریمنٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے تو اس ایگریمنٹ کو منسوخ کر دیا جائے۔
- (۸) ربوہ کو جسے انہوں نے ریاست در ریاست بنا رکھا ہے، کھلا شہر قرار دیا جائے اور وہاں سب کو جائیداد حاصل کرنے، سکونت اختیار کرنے یا کاروبار کرنے کے پورے مواقع دیئے جائیں۔
ایسی قرارداد پاس ہونے کے بعد اگر حکومت اس پر مستعدی کے ساتھ انتظامی کارروائی کرے تو ملک بہت جلد ان خطرات سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میں وزیر اعظم صاحب سے دو گزارشیں اور کروں گا۔ ایک یہ کہ صمدانی رپورٹ کو بلا کم و کاست شائع کر دیں۔ دوسرے یہ کہ ختم نبوت کی تحریک پر جو بے جا پابندیاں ملک میں لگائی گئی ہیں، جو گرفتاریاں تحریک کو روکنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہیں اور پریس کا گلا گھونٹنے کے لئے جو کچھ کیا گیا ہے، اس پورے سلسلے کو انہیں فوراً ختم کر دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ سب کچھ ان ......(نامکمل ہے)
مولانا مودودی صاحب یہ تقریر لکھ لائے تھے۔ اخبارات کو پہلے سے انہوں نے یہ تقریر مہیا کر دی تو ان کی تمام مندرجہ بالا تقریر چھپ گئی۔ جلسہ عام بادشاہی مسجد لاہور کی تاریخ کا ایک عظیم اجتماع تھا۔ بعض مقررین کی تقریروں کو آپ نے اخبار سے ملاحظہ فرما لیا۔ اس کے علاوہ بھی درجن بھر سے زائد مقررین نے تقریریں کیں۔ دعا سے قبل سب سے آخری تقریر جو کانفرنس کا خلاصہ تھی، وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مرحوم کی تھی۔ وہ چونکہ رات ایک بجے کے قریب ہوئی، جو دوسرے دن اخبارات میں نہ چھپ سکی۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۴۵۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکم ستمبر لاہور بادشاہی مسجد کی کانفرنس میں بدمزگی
کانفرنس سے مولانا سید عطاء المنعم ، حضرت مولانا تاج محمود، پروفیسر غفور احمد ، خاکسار رہنما اشرف خان ، سید مظفر علی شمسی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس میں ایک بدمزگی بھی ہوئی۔ ہوا یہ کہ دن کو شیرانوالہ میں کنونشن ہو رہا تھا۔ بادشاہی مسجد میں سٹیج لگانے پر جمعیتہ طلباء اسلام اور اسلامی جمعیتہ طلباء کا جھگڑا ہو گیا۔ رات کے جلسہ عام میں تمام مقررین حضرات کو لانے کے لئے برآمدہ سے ایک علیحدہ راستہ بنایا گیا اور اسے قناتیں لگا کر ڈھانپ دیا گیا تھا تا کہ جب مقررین وقائدین میں سے جو شخصیت بھی آئے ، اس کا حاضرین کو اس وقت پتہ چلے جب وہ سٹیج پر آجائے تا کہ مہمانوں کے آنے جانے سے جلسہ کا نظام درہم برہم نہ ہو۔ مگر اسلامی جمعیتہ طلباء نے اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کے لئے جناب مولانا مودودی صاحب کو متعین راستہ کی بجائے مین گیٹ صحن یعنی سامعین کے درمیان سے لائے۔ اس وقت اتنا انہوں نے ہلڑ بازی کی کہ الامان ۔ جیوے مودودی ، سید مودودی کے نعروں سے جلسہ کا نظم سخت متاثر ہوا۔ مولانا سید عطاء المنعم تقریر کر رہے تھے۔ ان کو نا تمام تقریر روکنا پڑی۔ مودودی صاحب سٹیج پر جیسے تیسے براجمان ہو گئے۔ ان کی تقریر شروع ہوئی۔ وہ اپنی تقریر پڑھ رہے تھے کہ اس دوران حضرت مولانا مفتی محمود صاحب تشریف لائے۔ جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنوں نے حضرت مفتی محمود صاحب کو بھی متعین راستے کی بجائے مسجد کے مین گیٹ اور صحن سے سامعین کے اندر سے گزار کر لائے۔ حضرت مفتی محمود صاحب مجلس عمل کے قابل احترام رہنما تھے۔ حزب اختلاف کے قائد تھے۔ اسمبلی میں ان کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف جنگ لڑی جارہی تھی۔ عوام حاضرین نے فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ حضرت مفتی صاحب کو قطعاً علم نہ تھا کہ میرے کارکن کیا کر رہے ہیں یا پہلے کیا ہوا ہے۔ مفتی صاحب کی آمد پر ان کا اتنا شاندار اور مثالی استقبال ہوا کہ مولانا سید عطاء المنعم کی طرح سید مودودی صاحب کو بھی نہ صرف تقریر روکنا پڑی بلکہ تقریر ادھوری چھوڑنی پڑی۔ حضرت مفتی صاحب تشریف لائے۔ مودودی صاحب چل دیئے۔ جلسہ جاری رہا۔ مقررین کی دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔
اسلامی جمعیتہ طلباء مودودی صاحب کو روانہ کر کے اجتماع میں مختلف مقامات پر منصوبہ بندی سے براجمان ہو گئے اور پروگرام بنالیا کہ مفتی صاحب کی آمد نے اگر مودودی صاحب کی تقریر کو خراب کیا ہے تو ہم حضرت مفتی صاحب کی تقریر کو خراب کریں گے۔ حضرت مفتی صاحب اور پوری مجلس عمل ان تمام واقعات وسازش سے بالکل بے خبر تھی۔ رات گئے مفتی صاحب نے جب تقریر کا آغاز کیا تو مودودی صاحب کے تربیت یافتہ نوجوانوں نے نعرہ بازی شروع کر دی۔ نہ صرف یہ، بلکہ سٹیج کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ مفتی صاحب نے تقریر جاری رکھی۔ جب ان عزیزوں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو سید مظفر علی شمسی اور علامہ احسان الہی ظہیر نے مائک سنبھال کر اپنی گھن گرج سے ان عزیزوں کے نعروں کو مدھم کر دیا۔
اشرف خان کی خاکسار پارٹی نے بیلچہ لہرایا۔ احرار ورکروں نے کلہاڑی اٹھائی اور سامعین و حاضرین نے ان عزیزوں کا راستہ روک دیا تو فتنہ فرو ہوا۔ یہ عزیز اپنا سا منہ لے کر تشریف لے گئے ۔ حضرت بنوری اٹھے، سامعین کو صبر کی تلقین ، استغفار اور لاحول پڑھنے کا وظیفہ بتایا۔ شمسی صاحب کی خطابت اور حالات کی نزاکت کو سمجھ کر سنبھالنے پر مبارک دی۔ کیوں نہ ہوتا، آخر وہ حضرت امیر شریعت کے تربیت یافتہ تھے۔ جناب احسان الہی ظہیر کی گھن گرج و شیر کی للکار کام آئی تھی۔ جلسہ میں اب سکون تھا تو حضرت بنوری نے حضرت مفتی صاحب کو تقریر مکمل کرنے کی دعوت دی۔ اس دوران میں حضرت مفتی صاحب بڑے ہی پروقار انداز میں سٹیج پر کھڑے رہے۔ آپ نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوبارہ تقریر شروع کی ۔ العظمة لله وللرسول مفتی صاحب کی اب بقیہ تقریر الہامی تھی۔ اس میں محبت واخلاص کی چاشنی تھی۔ عزیزوں کو نصیحت تھی اور اصل واقعہ سے متعلق اپنی لاعلمی تھی اور ساتھ ہی چیلنج تھا کہ عزیزو! ۷؍ ستمبر گزر لینے دو، یہ مسئلہ حل ہو جائے، جہاں جی چاہے ہمارے جلسہ میں مداخلت کر کے اپنی اور ہماری قوت کا اندازہ کر لو۔ ختم نبوت کا جلسہ خراب کر کے قادیانیوں اور حکومت کو کیوں خوش کرتے ہو۔ ان کے ایک ایک جملہ پر نعرہ ہائے تحسین بلند ہوئے۔ حضرت شیخ بنوری نے دعا کرائی۔ خود بھی تڑپے، لوگوں کو بھی تڑپایا، رلایا اور یوں شیطان کے فساد کے اثرات ضائع کر دئیے۔
الحمدللہ! ملک بھر سے آئے ہوئے کارکن جب جلسہ سے واپس ہوئے تو تمام کے تمام پھر متحد تھے، یکجان تھے۔ اسلامی جمعیتہ و جمعیتہ طلباء اسلام کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ نادم تھے۔ ہر ایک کو اپنی غلطی کا احساس تھا۔ عظیم اجتماع اپنے عظیم اثرات چھوڑ گیا۔ حکومت اور قادیانیوں نے امت کے سیلاب کا رخ دیکھ کر اندازہ کر لیا کہ ان عاشقانِ نبوی کو اب سوائے مسئلہ کے حل کے اور کوئی صورت قابو نہ رکھ سکے گی۔ مگر بیرونی اشاروں پر قادیانی پھر بھی ”شاید“ کے درجہ میں امید لگائے بیٹھے تھے۔ مگر یہ اجتماع عقل والوں کے لئے فیصلہ سے قبل فیصلہ کا اعلان تھا۔ ہر آدمی کو اندازہ ہو گیا کہ اب حکومت کے پاس سوائے مسئلہ کے حل کرنے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں۔ جلسہ کے حاضرین صبح ۲؍ ستمبر کو بیدار ہوئے تو پہلے سے زیادہ ہر شہر میں تحریک کو فعال کر دیا۔ الحمدلله علیٰ ذالک!
متحدہ جمہوری محاذ کا اجلاس و فیصلہ
جمہوری متحدہ محاذ کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمد نے آج کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ قومی اسمبلی ۷؍ ستمبر کو قادیانی مسئلہ کے بارے میں عامتہ المسلمین کے جذبات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے سوال پر ملک بھر میں ہڑتال ہوئی ہے۔ سوائے ایک شہر لاڑکانہ کے اس ہڑتال نے تمام مسلمانوں کے جذبات کی بھر پور عکاسی کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو ۷؍ ستمبر تک ہر حال میں اپنا فیصلہ دے دینا چاہئے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ۳؍ ستمبر کو راولپنڈی میں مجلس عمل ختم نبوت کی مجلس مشاورت کا اجلاس ہو گا۔ ۶؍ ستمبر کو مجلس عمل ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمل کا اجلاس ہو گا اور عین ممکن ہے کہ یہ اجلاس اس وقت تک جاری رہے جب تک قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی میں واضح فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ۳؍ ستمبر سے شروع ہونا چاہئے اور ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں فیصلہ کا اعلان ہو جانا چاہئے۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ متحدہ جمہوری محاذ کی مرکزی مجلس عمل کا ایک اجلاس ۶ ،۷ اور ۸؍ ستمبر کو راولپنڈی میں منعقد ہو گا۔ اس اجلاس میں بھی ختم نبوت کے مسئلہ پر غور ہو گا۔ محاذ کا اجلاس چوہدری ظہور الٰہی کی قیام گاہ پر منعقد ہوا۔ صدارت پیر پگاڑو نے کی۔ اجلاس میں خان عبد الولی خان، مولانا مفتی محمود، مولانا جان محمد عباسی، چوہدری رحمت الٰہی، نوابزادہ نصر اللہ خان، سردار محمد نواز بگٹی، خان عبد المجید خان (بلوچستان)، ارباب حاجی عون اللہ، میاں غلام دستگیر باری، ملک محمد قاسم، سینیٹر خواجہ محمد صفدر، ارباب سکندر خان، سید قسور گردیزی، سینیٹر محمد زمان اچکزئی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد الستار نیازی، حاجی سرفراز، صدر الشہید (ایم. این. اے)، عدیل احمد، سردار شیر باز مزاری اور محاذ کے دوسرے رہنماؤں نے شرکت کی۔
ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد کے سلسلہ میں حضرت بنوری کا بیان
لاہور: مولانا محمد یوسف بنوری (صدر مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان)، مولانا مفتی محمود (صدر جمعیتہ علمائے اسلام)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۴۵۹ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور مولانا جان محمد عباسی (قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یکم ستمبر کی رات شاہی مسجد کے جلسہ عام میں بے پناہ ہجوم اور غیر معمولی جوش وخروش کے باعث کچھ بدنظمی اور بدمزگی پیدا ہوگئی ، جسے بعض عناصر غلط رنگ دے کر ہمارے اتحاد کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ ہم اس بدنظمی کے ذمہ دار افراد کی مذمت کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان ختم نبوت کے مسئلے اور اس کے حل کے لئے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ ہم ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے اکابرین کا احترام کرتے ہیں اور اپنے کارکنوں اور عام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی مغالطے اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور اپنی صفوں میں کامل اتحاد برقرار رکھیں تاکہ ہم اجتماعی قوت کے ساتھ اپنی منزل پاسکیں۔
موچھ ، طلباء کی ہڑتال
موچھ، انجمن طلباء جامعہ پنجاب کے صدر فرید پراچہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کل طلباء احتجاجی ہڑتال کریں گے اور کلاسوں میں نہیں جائیں گے ۔ جامعہ مسجد حنفیہ میانوالی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے طلباء کے اس احتجاج پر توجہ نہ دی اور ۷/ ستمبر کو عوامی جذبات و احساسات کے خلاف قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کیا تو ”حکومت چھوڑو“ مہم چلائی جائے گی ۔ مسٹر پراچہ نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے بھی خطاب کیا اور وکلاء پر زور دیا کہ وہ تحفظ پاکستان کا فریضہ ادا کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک ختم نبوت کے دوران اب تک ۱۸۸۲ جلسے کئے گئے ۔ ۱۸۰۰ جلوس نکالے گئے اور ۲۰۰ گرفتاریاں پیش کی گئی ہیں ۔
ظفر جمال بلوچ کا بیان
لاہور: اسلامی جمعیۃ طلباء کے سربراہ مسٹر ظفر جمال بلوچ جو حال ہی میں دو ماہ کی نظربندی کے بعد رہا ہو کر آئے ہیں، آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ حکومت ۷/ ستمبر کو قادیانیوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت طلباء کے جذبات اور ان کی خواہشات کو بھی مدنظر رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹا کر ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلباء کی یہ باتیں تسلیم نہ کی گئیں تو ان کا ردعمل شدید ہوگا اور طلباء ہر قیمت پر ناموس رسالت کا تحفظ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ۵/ ستمبر کو طلباء نے ہڑتال اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا جو فیصلہ کیا ہے، اس پر پورے پنجاب میں عمل درآمد ہوگا۔ کیونکہ ۹۰ فیصد کالجوں کے طلباء کے نمائندوں نے اسلامی جمعیۃ طلباء کی اس اپیل پر لبیک کہا ہے ۔ مسٹر ظفر جمال بلوچ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک کے سلسلے میں گرفتار کئے جانے والے افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔
۳/ ستمبر کو بھٹو صاحب کا بیان
اسلام آباد: ۴/ ستمبر (ریڈیو رپورٹ ) وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بتایا ہے کہ وہ قادیانی مسئلے پر اپنے رفقائے کار سے صلاح مشورہ کر رہے ہیں ۔ ارکان قومی اسمبلی بھی اس سلسلے میں فیصلہ کن مشوروں میں مصروف ہیں اور ۷/ ستمبر کو جس دن قومی اسمبلی قادیانیوں کے معاملے پر اپنی کارروائی مکمل کرے گی، وہ ایوان میں خود موجود ہوں گے ۔ وزیر اعظم آج اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اخباری نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا قومی اسمبلی قادیانیوں کے مسئلے پر کوئی قرارداد منظور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو وزیر اعظم نے کہا کہ اس معاملہ پر غور کیا جارہا ہے ۔ وہ اپنے رفقاء سے اور ان کے رفقاء اپوزیشن لیڈروں سے اہم مشوروں میں مصروف ہیں ۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول پور، چشتیاں، خان پور میں طلباء کے جلوس
بہاول پور
مؤرخہ ۵؍ ستمبر (نمائندہ خصوصی) آج بہاول پور اور خان پور میں سکولوں کے طلباء نے تحریک تحفظ ختم نبوت کی حمایت میں کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہرہ کیا۔ بہاول پور شہر میں طلباء اور پولیس میں معمولی جھڑپ ہوئی اور پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ کالجوں میں کلاسیں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ ہڑتالی طلباء جلوس کی شکل میں مختلف سڑکوں اور بازاروں سے گزر کر فرید گیٹ پہنچے۔ انہوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے انہیں روک دیا جس پر انہوں نے ختم نبوت زندہ باد اور ہمارا مطالبہ منظور کرو کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ پولیس نے لاٹھی چارج کی دھمکی دی تو جلوس منتشر ہو گیا۔
چشتیاں
چشتیاں کے نامہ نگار کے مطابق وہاں بھی آج ڈگری کالج اور ہائی سکول کے طلباء نے پنجاب سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی اپیل پر تحفظ ختم نبوت کی تحریک کی حمایت میں کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ کالج کی حدود میں طلباء کا احتجاج ہوا جس میں سٹوڈنٹس یونین کے صدر ندیم اقبال اور طالب علم رہنما اکرام غازی نے تقریر کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک قادیانی مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاتا، طلباء چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ طالب علم رہنماؤں نے کہا کہ ہم ۶؍ ستمبر کو ہونے والے مجلس عمل کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس فیصلے کی پوری تعمیل کریں گے۔ طلباء بعد میں نعرے لگاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔ دریں اثناء پولیس کے دستے شہر کے اہم حصوں میں گشت کر رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد طلباء نے ٹولیوں کی شکل میں اکٹھے ہو کر بس پر معمولی پتھراؤ کیا۔ پولیس نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی اور مجسٹریٹ کی اپیل پر طلباء نعرے لگاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔
خان پور
خان پور سے ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق یہاں کے سکولوں میں آج طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ کالجوں میں کام جاری رہا۔ بائیکاٹ کرنے والے طلباء جلوس کی شکل میں کچہری پہنچے اور ایک بس اور جیپ کو روکنے کی کوشش کی لیکن حکام کی اپیل پر وہ نعرے لگاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔
(مشرق لاہور، مؤرخہ ۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء)
۶؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے اخبارات کی رپورٹ
غلام مصطفیٰ جتوئی وزیر اعلیٰ سندھ کی عوام سے اپیل
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مسٹر غلام مصطفیٰ جتوئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہ کر قادیانی مسئلہ پر قومی اسمبلی کے فیصلے کا انتظار کریں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں کسی بھی حالت میں امن عامہ میں خلل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وہ آج سہون شریف روانہ ہونے سے قبل کینٹ ریلوے اسٹیشن پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ سہون میں وہ حضرت لعل شہباز قلندر کے تین روزہ عرس کا افتتاح کریں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی کے فیصلے کے وقت امن عامہ کے کسی مسئلہ کا خطرہ محسوس کرتے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ امن عامہ کے کسی مسئلے کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا فیصلہ صحیح اور منصفانہ ہو گا جب لوگوں کو حکومت اور قومی اسمبلی پر اعتماد ہے تو میں لاء اینڈ آرڈر کے کسی مسئلہ کی توقع نہیں کرتا ۔
جمعیۃ علماء اسلام حقیقی
کراچی : مرکزی جمعیۃ علماء اسلام (حقیقی) کے سربراہ مولانا زاہر قاسمی نے کہا ہے کہ ختم نبوت کے بارے میں مسلمانوں میں نہ تو کوئی اختلاف ہے اور نہ اس کی گنجائش وہ آج یہاں علماء کے کنونشن کے دوسرے دن ایک قرارداد پیش کر رہے تھے ۔ جس میں حکومت پاکستان اور قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کو آئینی تحفظ دیا جائے اور جو لوگ ہمارے حضور ﷺ کی ختم نبوت کے بعد بھی اجرائے نبوت کے قائل ہوں ۔ انہیں شریعت کے مطابق غیر مسلم قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے ۔ علامہ مفتی نصیر الاجتہادی نے اس قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت پر ہر مسلمان کا ایمان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے ۔ اس لئے اگر یہاں اسلام نہ ہو تو یہ ایک ویرانہ ہے اور یہاں اگر کوئی ختم نبوت کا منکر ہو تو وہ دیوانہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کی تفسیر اور تعبیر کا انحصار علوم شریعت سے واقفیت پر ہے ۔
لاہور اہم مقامات پر مسلح دستے تعینات کر دیئے گئے
لاہور : معلوم ہوا ہے کہ آئندہ پیش آنے والے بعض واقعات کے پیش نظر ملک بھر میں فوج فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کو مستعد کر دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں آج صوبائی دارالحکومت میں فوج کے دستے یونیورسٹی گراؤنڈ ، عتیق سٹیڈیم ، قذافی سٹیڈیم اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں جمع کر دیئے گئے ہیں اور ٹیلی ویژن اسٹیشن ، ریڈیو اسٹیشن ، جنرل پوسٹ آفس ، ٹیلی گراف آفس سٹیٹ بینک اور دیگر اہم مقامات پر فیڈرل سیکورٹی فورس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے ۔
سرکاری ذرائع کی اطلاع کے مطابق آج ایک اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل سے فوج ، فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس کے دستے مزید کن مقامات پر متعین کئے جائیں گے ۔ پولیس شہر کے مختلف مقامات پر اپنی عارضی چوکیاں بھی قائم کرے گی ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان حفاظتی اقدامات کے بارے میں فیصلہ چند روز قبل کیا گیا تھا ۔
مجلس عمل کا وفد سندھ کے دورے سے واپس آ گیا
کراچی : مؤرخہ ۴؍ ستمبر مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے ناظم نشر و اشاعت مولانا غلام مصطفیٰ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ مجلس عمل کا جو وفد سندھ کے ایک ہفتے کے دورے پر سکھر ، حیدرآباد ، جیکب آباد ، نواب شاہ گیا تھا واپس کراچی پہنچ گیا ہے ۔ وفد نے ان مقامات پر عام جلسوں کے علاوہ تنظیمی امور پر بھی خاص توجہ دی وفد میں مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد شریف احرار اور حافظ عزیز الرحمن اور صوفی محمد ایاز صاحب شامل تھے ۔
طلباء کی ہڑتال
لاہور : طلباء نے اپنے اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کے لئے آج پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کی اپیل پر صوبے بھر میں علامتی ہڑتال کی ، ہڑتال ختم نبوت کے مسئلے پر جذبات کے اظہار کے لئے کی گئی اور متعدد شہروں میں جلسوں اور جلوس سے خطاب کرتے ہوئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طالب علم رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور بطور اقلیت قادیانیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں کوئی تدریسی کام نہیں ہوا اور طلباء نے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ آج پڑھائی صرف خواتین کے تعلیمی اداروں میں ہوئی جہاں معمول کے مطابق کام جاری رہا اور طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ نہ کیا۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج کی پرنسپل اور اپوا کالج، لاہور کالج فار ویمن، باغبانپورہ گرلز کالج، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لاہور چھاؤنی کنیئرڈ کالج کی طالبات کی نمائندوں نے بتایا کہ وہ کلاسوں کے بائیکاٹ کے فیصلہ میں چونکہ شامل نہیں تھیں اور نہ طالبات سے سٹوڈنٹس کونسل نے کوئی خصوصی اپیل کی تھی اس لئے وہ ہڑتال میں شامل نہیں ہوئیں۔ دریں اثناء آج پرائمری مڈل اور ہائی سکولوں میں بھی پڑھائی جاری رہی۔ البتہ کالجوں، یونیورسٹی اولڈ اور نیوکیمپس، انجینئرنگ یونیورسٹی، میڈیکل کالج، اورینٹل کالج لاء کالج اور کامرس کالجوں میں طلباء نے ایک مختصر جلسہ بھی منعقد کیا جس میں انہوں نے تقاریر کے ذریعے قادیانیوں کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو طلباء ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے میدان میں نکل آئیں گے۔ سکولوں میں معمول کے مطابق تدریس کا کام جاری رہا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر رہے۔ تاہم طلباء نے چونکہ کلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ اس لئے انہوں نے کلاسیں نہیں لیں۔ پنجاب یونیورسٹی اور اورینٹل کالج کی طالبات نے بھی طلباء کا ساتھ دیا اور کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔
جلوس
مسلم ماڈل سکول اور سنٹرل ماڈل سکول کے بچوں نے چھٹی کے بعد ایک مختصر جلوس نکالا اور مال روڈ کی جانب آئے جلوس جب گورنمنٹ کالج سے گزرا تو اس میں گورنمنٹ کالج کے بعض طلباء بھی شامل ہو گئے۔ طلباء نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دو، طلباء اتحاد زندہ باد کے نعروں پر مبنی کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ریگل چوک سے تھوڑی دور آگے اسمبلی کی جانب جا کر جلوس پرامن طور پر منتشر ہو گیا۔
رحیم یار خان میں بھی طلباء کا بائیکاٹ
رحیم یار خان سے ہمارے نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کی اپیل پر یہاں بھی تمام تعلیمی اداروں کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ جامعہ ہائی سکول ، تعمیر ملت ہائی سکول اور پائلٹ ہائی سکول کے طلباء کا ایک جلوس نکلا۔ پولیس کی بھاری جمعیت بھی جلوس کے ہمراہ تھی۔ تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ طلباء بعد میں مقامی کالج کی طرف چلے گئے اور انہوں نے ختم نبوت کے حق میں نعرے لگائے، گورنمنٹ خواجہ فرید کالج کے سبزہ زار میں تمام سکولوں اور کالجوں کے طلباء کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں خواجہ فرید کالج یونین کے نائب صدر حافظ خوشی محمد نے کہا کہ بائیکاٹ طلباء کے اتحاد اور ان کے عزائم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ۷ ستمبر تک قادیانی مسئلہ حل نہ کیا تو طلباء تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے طلباء سے متحد رہنے کی اپیل کی بعد میں طلباء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ آج کالج کھلتے ہی پولیس کی بھاری جمعیت نے کالج کی چاردیواری کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ فیڈرل سیکورٹی فورس رینجرز اور پولیس کے دستے گشت کرتے رہے۔
میاں چنوں میں طلباء پر لاٹھی چارج
پولیس نے آج ان طلباء پر ایم بی ہائی سکول کی بیرونی چار دیواری کے اندر لاٹھی چارج کر دیا جو کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے باہر نکل رہے تھے۔ لاٹھی چارج سے تین طلباء زخمی ہو گئے۔ آج جب طلباء کلاسوں میں پہنچے تو کچھ دیر بعد انہوں نے کلاسوں سے نکلنا شروع کر دیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پولیس باہر موجود تھی۔ اس نے طلباء پر لاٹھی چارج کر دیا۔ جس سے تین لڑکے زخمی ہو گئے۔ گورنمنٹ کالج میاں چنوں کے باہر پولیس نے کالج کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ کالج کے طلباء نے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ گزشتہ شب مقامی پولیس نے مقامی کالج کے دو طلباء مسٹر رشید احمد ترابی اور شعیب کو ان کے گھروں سے گرفتار کر لیا تھا۔ تیسرے لڑکے مقبول احمد قادری کو پولیس گرفتار نہ کر سکی۔ چنانچہ پولیس اس کے والد کو گرفتار کر کے لے گئی۔ مختلف مذہبی، سیاسی اور طالب علم تنظیموں نے طلباء کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ مذمت کرنے والوں میں جمعیۃ العلمائے پاکستان، مسلم لیگ، اسلامی جمعیۃ طلباء، جماعت اسلامی، جمعیۃ العلمائے اسلام اور جمہوری پارٹی شامل ہیں۔ طلباء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ عوامی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ اگر فیصلہ اس کے برعکس کیا گیا تو طلباء مزاحمت کریں گے۔
بہاول نگر
مقامی کالجوں اور سکولوں کے طلباء نے آج کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ طلباء نے آج ایک بڑا جلوس بھی نکالا۔ لیکن پولیس نے انہیں منتشر کر دیا۔ کسی نا خوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔
خان قیوم خان کی سینٹ میں تقریر
اسلام آباد: مورخہ ۵؍ ستمبر ۔ وفاقی وزیر داخلہ خان عبد القیوم خان نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی زیر بحث مذہبی مسئلہ کا منصفانہ اور صحیح فیصلہ کرے گی جو عوام کے لئے قابل قبول ہوگا۔ وہ آج سینٹ میں اپوزیشن کی ایک تحریک التواء پر بحث کا جواب دے رہے تھے۔ خان قیوم نے مزید کہا ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی کے فیصلے سے پہلے اور بعد میں امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی اسمبلی مسئلہ کا انصاف پسندانہ فیصلہ کرے گی۔ لیکن اس کے باوجود بعض عناصر بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں اور انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ۶ اور ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی اور ایم۔ این۔ اے ہاسٹل کا گھیراؤ کرنے کے لئے اسلام آباد کی جانب مارچ کریں۔ اس سلسلے میں ان عناصر نے طلباء کو بھی اسلام آباد جانے کے لئے کہا ہے اس کے پیش نظر حکومت کو اپنا فرض پورا کرنا پڑے گا اور اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ عوام کے منتخب نمائندے آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کر سکیں۔ حکومت امن عامہ کو برقرار رکھنے کی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ یہ کسی اور مقصد کے لئے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا دفاع کرنے والے نام نہاد لیڈروں کا اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کو آزادانہ فیصلہ نہ کرنے دیا جائے۔ خان قیوم نے کہا کہ اس امر کا انتظام کیا گیا ہے کہ کافی فورس کو اس بات پر لگا دیا جائے کہ ان عناصر کے ناپاک عزائم کو پورا نہ ہونے دیا جائے اور کوئی گڑ بڑ نہ ہونے پائے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم بھٹو صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے اور بعد میں کوئی غیر قانونی اقدام نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت کو فیصلے کی بناء پر اطمینان ہے۔ کیونکہ فیصلہ عوام کو مطمئن کرنے والا ہوگا۔ یہ انتظامات ان عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ہیں جو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے ہنگامہ کرانا چاہتے ہیں۔
واپڈا ہاؤس لاہور میں بم دھماکہ اور رامے صاحب
لاہور: مورخہ ۴؍ ستمبر۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد حنیف رامے نے کہا ہے کہ واپڈا ہاؤس میں بم کے دھماکے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں ان امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دھماکے میں نیپ کے افراد کا بھی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہاتھ ہو۔ کیونکہ اس کے اکابرین بھی ان دنوں لاہور آتے رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کارروائی احمدیوں کے کسی ایسے گروہ نے کی ہو جو اقلیت قرار پانے کے خوف سے ملک میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہوں۔ آج لاہور میں یوم حسین ؓ کے سلسلے کی ایک تقریب سے خطاب کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ میں فی الحال یہ نہیں بتا سکتا کہ اس دھماکے کے لئے جو بم استعمال ہوا ہے اس کی طاقت کیا تھی یا یہ کس قسم کا بم تھا۔ تاہم یہ بہت طاقتور بم تھا۔ جس کے پھٹنے سے ایک مضبوط ترین عمارت کی چھت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج واپڈا ہاؤس کا معائنہ کیا ہے اور عمارت کے باقی ماندہ تمام حصے پوری طرح محفوظ ہیں۔
احتیاط و ہوش مندی سے کام لیجئے...... اداریہ روزنامہ ”جنگ“
”قادیانی مسئلے کے بارے میں قومی اسمبلی فیصلہ دینے والی ہے۔ یہ موقع پوری دانشمندی اور ہوشمندی سے کام لینے کا ہے۔ سانحہ ربوہ کے بعد ایک سنگین صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور عوام نے بجا طور پر اس کے حل کا مطالبہ کیا تھا کہ اس سانحے کے ذمہ دار افراد کا احتساب کیا جائے اور قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کا تعین کیا جائے۔ وزیر اعظم بھٹو نے ان دونوں مسئلوں کا مناسب حل تلاش کرنے کے لئے ایک قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کر کے سانحہ ربوہ کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی ٹربیونل تشکیل دیا جس نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے اپنی مفصل رپورٹ حکومت پنجاب کو پیش کر دی۔ جہاں تک قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کے تعین کا تعلق ہے اس مسئلے کو قومی اسمبلی کے حوالے کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی کی پوری اسمبلی کو تحقیقاتی کمیٹی میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا جس میں نامور ماہر قانون دان اور علماء کی بھی خاص تعداد مجلس عمل کی نمائندگی کرتی ہے تا کہ وہ اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو اچھی طرح چھان بین کر کے اپنی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے اور اس طرح عوام کے نمائندوں کو ایک ایسے فیصلے تک پہنچنے میں مدد دے جو مسئلے کا حل کرے جو قوم و ملک کے مفاد میں بھی ہو۔
قومی اسمبلی کی اس کمیٹی نے قادیانی مسئلہ کو جانچنے پرکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس مقصد کے لئے طویل اور مسلسل اجلاس ہوتے رہے ان میں قادیانی فرقے کے سربراہ پر بھی تفصیلی جرح کی گئی۔ کمیٹی کی کارکردگی اور اس کی کارروائیوں پر حزب اختلاف کے لیڈروں نے بھی پورے اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی میں نہ صرف حزب اختلاف کے اراکین کو کھل کر اپنی رائے دینے کا موقع ملا بلکہ حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکین کو بھی اپنے ضمیر و اعتقاد کے مطابق رائے دینے کی پوری آزادی دی گئی۔ اس طویل جمہوری و پارلیمانی کارروائی کے بعد قومی اسمبلی پر پورے تدبر سے کام لے کر ایک دانش مندانہ فیصلہ کرنے کی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ عوام کے نمائندے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ذمہ داری سے عہدہ برآء ہونے کی کوشش کریں گے اور زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے کے ساتھ کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے فیصلہ کرتے ہوئے یہ نہایت ضروری ہے کہ اسمبلی کا ہر رکن ملک وملت کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھے۔ سیاسی و جماعتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچے اور رائے دے۔
اس نازک مسئلے کے بارے میں جمہوری طریقہ کار اختیار کر کے ہم نے بیرونی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کیا ہے۔ اب اسے ہمیں خود اپنے ہاتھوں پامال نہیں ہونے دینا چاہئے۔ قومی مسائل کا تصفیہ پارلیمنٹ کے ذریعہ کرانا ایک جمہوری اور پارلیمانی طریقہ ہے جسے ہم نے قبول کیا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت جو فیصلے کئے جاتے ہیں انہیں قبول کر لیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر پارلیمانی طریقوں سے ان میں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ترمیم و تبدیلی لانے کے لئے باوقار جمہوری طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ تشدد، ہنگاموں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس طرح قومی اسمبلی کا احترام بھی باقی رہتا ہے اور قومی مسائل بھی باوقار طریقے پر حل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جمہوری راہ ترک کی تو ملک کا وقار بھی متاثر ہوگا اور اس کی اجتماعی قوت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ جمہوری روایات کے احترام کی بجائے انتشار کو فروغ ہوگا جو کسی طرح قومی مفاد میں نہیں ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ قومی اسمبلی ایک دانشمندانہ فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کرے گی اور دوسری طرف عوام جمہوری اسپرٹ اور نظم وضبط کا دامن ہر حال میں مضبوطی سے تھامے رہیں گے اور ہر جگہ بحث و تکرار کی بجائے اپنی بحث کو صرف جمہوری اداروں تک محدود رکھیں گے۔‘‘
(اداریہ روزنامہ ”جنگ“ کراچی، مؤرخہ ۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء)
۶، ۷؍ستمبر کی کارروائی حضرت مولانا تاج محمود کی زبانی
جناب نصیر احمد آزاد فیصل آبادی نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب مرحوم سے ایک انٹرویو لیا تھا جس کا تحریک ۱۹۵۳ء اور تحریک ۱۹۷۴ء سے متعلق حصہ ”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۴۹ سے ۱۰۹ تک پر شائع ہوا ہے۔ ۶، ۷؍ ستمبر کی کارروائی سے متعلق حضرت مرحوم کے انٹرویو کا حصہ مذکورہ کتاب سے پیش خدمت ہے۔
مجلس عمل نے ۶؍ ستمبر کو راولپنڈی تعلیم القرآن راجہ بازار میں اپنا اجلاس طلب کیا ہوا تھا۔ ۶، ۷؍ ستمبر کی درمیانی رات کو اسی دارالعلوم کی وسیع وعریض جامع مسجد میں آخری جلسہ عام منعقد ہونے والا تھا۔ اس کے بعد تحریک نے ۷؍ ستمبر کے بعد نیا رخ اختیار کرنا تھا۔ ۵؍ ستمبر رات کے آخری حصہ میں راولپنڈی کے لئے میں روانہ ہوا۔ پلیٹ فارم کے قریب سے گزرا کوئی ۳؍ بجے کا عمل ہوگا۔ اس وقت فوجی، مال گاڑیوں کے ڈبوں سے ٹینک، توپ بردار گاڑیاں اور اسلحہ اتار رہے تھے۔ فوج کی مسلح آمد اور اس تیاری کے تیور دیکھ کر میں بھانپ گیا کہ یہ سب کچھ ۷؍ ستمبر کے بعد تحریک کو کچلنے کے لئے ہے۔
دوسری بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ یہ تھی کہ ۴، ۵؍ ستمبر کو مرزائیوں نے ملک بھر کی فون کی ڈائریکٹریوں سے پتہ جات لے کر مرزا قادیانی کی صداقت کے دلائل اور اسے قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط ارسال کئے۔ ۶؍ ستمبر کو چھٹی تھی۔ مرزائیوں کا خیال تھا کہ ۷؍ ستمبر کو جب یہ ڈاک مسلمانوں کو ملے گی۔ اس وقت تحریک کے رہنماؤں کی لاشیں سڑکوں پر ہوں گی۔ تحریک کچلی جا چکی ہوگی ۔ قوم کے حوصلے پست ہوں گے۔ مرزا کی صداقت کا یہ خط ایک عظیم پیش گوئی کا کام دے جائے گا۔
تیسرا یہ کہ ۳، ۴؍ ستمبر کو ڈی بی فیصل آباد آفس میں ایک خاص واقعہ پیش آیا۔ جس کی اطلاع اسی دن شام کو مجھے مل گئی تھی۔ وہ یہ کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک سربمہر لفافہ جس پر ٹاپ سیکرٹ لکھا تھا، موصول ہوا۔ اتفاق سے جس کلرک نے اس دن ڈاک کھولی وہ مرزائی تھا۔ اس نے یہ لفافہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ یہ چٹھی ڈی بی صاحب کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے تحریک ختم نبوت کے متعلق تازہ ہدایات پر مشتمل ہوگی ۔ چوری چوری اس لفافہ کو اس نے کھول لیا اور اس کی باہر سے فوٹو سٹیٹ کاپی کرائی اور امیر جماعت مرزائیہ فیصل آباد کو مہیا کر دی ۔ واقعی وہ چٹھی تحریک ختم نبوت کے متعلق تھی جس میں صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات بھیجی گئی تھیں کہ ۷؍ ستمبر کے بعد جو تحریک ختم نبوت میں مزید شدت آنے والی ہے، اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ ایک اے ایس آئی کو بھی گولی چلانے اور بغیر نوٹس دیئے کسی مکان میں داخل ہونے، تلاشی لینے، جس کو مناسب سمجھے گرفتار کرنے کے اختیار ہوں گے۔ اس چٹھی کا فوٹوسٹیٹ مرزائی جماعت کے امیر کو اور اصل چٹھی کو ڈی بی آفس کے سٹاف روم میں میز کے نیچے ڈال دیا۔ اس روز اس مرزائی کے علاوہ ایک مسلمان کلرک نے بھی کچھ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاک کھولی تھی، کچھ دیر بعد تیسرے کلرک کی میز کے نیچے سے اس چٹھی پر کسی کی نظر پڑ گئی۔ اسے اٹھایا گیا تو اس کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس صورتحال سے تمام کلرک پریشان ہوگئے کہ یہ چٹھی کیوں کھولی گئی۔ کس نے کھولی؟ اس لئے کہ اسے تو ضابطہ کے مطابق ڈی بی صاحب کے سامنے کھولنا تھا۔ معاملہ سنگین تھا۔ ڈی بی صاحب کے نوٹس میں لایا گیا۔ انہوں نے مسلمان کلرک اللہ رکھا کو معطل کر دیا۔ سپرنٹنڈنٹ ڈی بی آفس مسلمان اور سمجھدار شخص تھا۔ اس نے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ کھولنے سے قبل لفافے کے کونہ پر کس کے دستخط ہیں۔ اس لئے کہ ڈی بی آفس کی ڈاک کھولنے سے پہلے ہر لفافہ پر کھولنے والا اپنے دستخط کرتا ہے۔ جب وہ دستخط دیکھے گئے تو وہ مرزائی کلرک کے تھے۔ اللہ رکھا مسلمان کلرک بحال ہو گیا اور مرزائی کلرک کو معافی مانگنے پر معاف کر دیا گیا۔ اس چٹھی اور پورے ملک میں حکومت پولیس و فوج کے عمل سے مرزائیوں نے اندازہ لگا لیا کہ تحریک کچلی جائے گی۔ اس لئے انہوں نے خطوط لکھے۔
۶ ستمبر کی صبح گورنمنٹ ایم۔ این۔ اے ہاسٹل میں مولانا مفتی محمود کے کمرہ میں مجلس عمل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الہی، امیر زادہ، خان عبد الولی خان، نوابزادہ نصر اللہ خان، مفتی زین العابدین، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبد الرحیم اشرف، میاں فضل حق اور بندہ تاج محمود شریک ہوئے۔ میں نے یہ تینوں واقعات گوش گزار کئے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان نے میری معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے لاہور میں فوج کی پوزیشن سنبھالنے کے چشم دید واقعات بیان کئے۔ مجلس پر سناٹا طاری رہا۔ چوہدری ظہور الہی نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ حکومت ہمارے مطالبات مان لے گی اور آج ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ ہماری معلومات کے خلاف ان کی یہ بات ہمارے لئے اچنبہ معلوم ہوئی۔ دوستوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا شواہد ہیں۔ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ کل مسز بندرانائیکے وزیر اعظم سری لنکا پاکستان کے دورہ پر آئی تھیں۔ ان کے اعزاز میں بھٹو صاحب نے ضیافت دی۔ تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بلایا گیا۔ کھانے کی میز پر تمام کے ناموں کی چٹیں لگی ہوئی تھیں۔ کوئی اپوزیشن رہنما اس میں شریک نہ ہوا۔ اتفاق سے میں چلا گیا۔ کھانا کھانے سے فارغ ہوئے تو مسز بندرانائیکے اور وزیر اعظم بھٹو صاحب دونوں بیرونی گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ ہر جانے والے کو الوداع کہہ رہے تھے۔ میں اس روش پر چلتا ہوا بھٹو صاحب کے قریب پہنچا تو میرا دل ان سے ملاقات کے لئے آمادہ نہ ہوا۔ راستہ چھوڑ کر پلاٹ سے گزر کر گیٹ کے ایک سائیڈ سے گزرنا چاہا۔
بھٹو صاحب نے مجھے فوراً آواز دی۔ ظہور الہی مل کر جاؤ۔ چھپ کر کیوں جا رہے ہو۔ میں واپس لوٹ کر بھٹو صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے کہا کہ چوہدری ظہور الہی تمہیں کیا ہو گیا ہے تو میرا جانی دوست تھا۔ میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے کہ تو میرا سخت مخالف ہو گیا ہے۔ اتنے میں لاء سیکرٹری افضل چیمہ آ گئے۔ بھٹو صاحب نے ان کو کہا کہ چیمہ صاحب آپ ظہور الہی کو سمجھائیں اس کو کیا ہو گیا ہے یہ آپ کا میرا دونوں کا دوست تھا۔ خدا جانے میں نے اس کا کیا قصور کیا ہے کہ اب یہ مجھے جلسوں اور جلوسوں میں گالیاں دیتا ہے۔ میری سی آئی ڈی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ اگر گھر پر ہو اور کوئی مخاطب نہ ہو تو بھی مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے۔ چوہدری ظہور الہی صاحب نے کہا کہ جناب ایسے نہیں ہے آپ کے ہمارے اصولی اختلاف ہیں۔ ہم اخلاص اور نیک نیتی سے آپ پر تنقید کرتے ہیں۔ اب ختم نبوت کا مسئلہ آپ کے سامنے ہے۔ اسے حل کیجئے اور قوم کے ہیرو بن جائیے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں ۱۴؍ جون کو (ملک گیر ہڑتال کے دن) اس مسئلہ کو مان لیتا تو ہیرو بن سکتا تھا۔ لیکن بعد از خرابی بسیار مسئلہ ماننے سے ہیرو کیسے بن سکتا ہوں؟ افضل چیمہ نے کہا کہ بھٹو صاحب باقی علماء کو تو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر اتنا اصرار نہیں ہے۔ البتہ چوہدری ظہور الہی صاحب بڑا اصرار کر رہے ہیں۔ اترا رہا ہے اور ضد کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ بھٹو صاحب یہ چیمہ صاحب آپ کے سامنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں۔ میں ضد نہیں کر رہا۔ علماء کرام کا اپنا مؤقف ہے۔ وہ میرے تابع نہیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ ایک دینی مؤقف اور شرعی امر پر علماء کرام کو یوں مطعون کرنا چیمہ صاحب کے لئے مناسب نہیں ہے اور صرف علماء کرام نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامیان پاکستان اس مسئلہ کو حل کرانے کے لئے سراپا تحریک بنے ہوئے ہیں۔
دنیائے اسلام کی نگاہیں اس مسئلہ کے لئے آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ دنیائے عالم کے مسلمان اس مسئلہ کا مثبت حل چاہتے ہیں ۔ اسے صرف مولویوں کا مسئلہ کہہ کر چیمہ صاحب آپ کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ علماء کرام قطعاً اس مسئلہ میں کسی بھی قسم کی معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ آپ اس بارے میں علماء کرام سے خود دریافت کرلیں بلکہ میں ایسے عالم دین کا نام بتاتا ہوں جو آپ کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ آپ ان سے پوچھ لیں کہ مسئلہ ختم نبوت فروعی امر ہے یا دین کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ اس کا تحفظ کرنا مسلمان حکومت کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا کون سے عالم دین ۔ میں نے کہا کہ مولانا ظفر احمد انصاری ۔ آپ ان سے پوچھ لیں اگر وہ ختم نبوت کے مسئلہ کو فروعی مسئلہ سمجھتے ہوں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تحریک سے لاتعلق ہو جائیں گے ۔ بھٹو صاحب نے چیمہ صاحب کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ مجھے ( ظہور الٰہی ) ساتھ لے کر مولانا ظفر احمد انصاری سے ملیں اور ان کا مؤقف معلوم کریں ۔ چنانچہ اب وقت ہو گیا ہے چیمہ صاحب میرا انتظار کر رہے ہوں گے ۔ ہم دونوں نے مولانا ظفر احمد انصاری سے ملنا ہے۔ مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے چیمہ صاحب اور مولانا ظفر احمد انصاری سے اچھے تعلقات تھے ۔ چیمہ صاحب تو ویسے بھی فیصل آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ چنانچہ طے ہوا کہ یہ دونوں حضرات بھی آپ کے ساتھ جائیں ۔ چوہدری ظہور الٰہی ، افضل چیمہ ، حکیم عبدالرحیم اشرف ، مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا ظفر احمد انصاری کی طویل گفتگو ہوئی ۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے صراحۃً فرمایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ دین کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ اس کو فروعی مسئلہ قرار دینا غلط ہے ۔ حقیقت میں خود افضل چیمہ اس مسئلہ میں ضد کر رہے تھے ۔ تمام حضرات کی گرفت سے چیمہ صاحب زچ ہو گئے تو ہاتھ جھٹک کر کہا کہ اگر آپ لوگ ملک کی جڑیں اس طرح کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے جو چاہے کر جائیے ۔ بہر حال مولانا ظفر احمد انصاری کی ملاقات کی رپورٹ بھٹو صاحب کو دی گئی ۔
اس کے بعد قومی اسمبلی کے دفاتر میں سب کمیٹی کا اجلاس تھا ۔ ظہور الٰہی ، مولانا مفتی محمود ، پروفیسر غفور احمد ، مولانا شاہ احمد نورانی ، حفیظ پیرزادہ ، مولانا کوثر نیازی ، افضل چیمہ شریک ہوئے ۔ اجلاس میں جاتے وقت مولانا مفتی محمود نے ہمیں حکم فرمایا کہ آپ لوگ چل کر راجہ بازار میں مجلس عمل کی میٹنگ کریں ۔ میں نے مفتی محمود صاحب سے استدعا کی کہ سب کمیٹی کی مثبت یا منفی جو بھی کارروائی ہو ہمیں حکومت کے رویہ سے ضرور باخبر رکھیں تاکہ اسی روشنی میں ہم مجلس عمل میں اپنی پالیسی طے کر سکیں ۔ دارالعلوم میں میٹنگ شروع ہوئی ۔ آغا شورش کاشمیری کی صحت ناساز تھی ۔ وہ میٹنگ میں لیٹ شریک ہوئے ۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اجلاس کی صدارت فرمائی ۔ سید مظفر علی شمسی ، سید محمود احمد رضوی ، مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، مولانا محمد شریف جالندھری ، سردار میر عالم خان لغاری ، بندہ تاج محمود ، مفتی زین العابدین ، حکیم عبدالرحیم اشرف ، علی غضنفر کراروی ، مولانا غلام اللہ خان ، مولانا غلام علی اوکاڑوی ، مولانا احسان الٰہی ظہیر ، مولانا عبیداللہ انور ، نوابزادہ نصر اللہ خان ، خان زمان ، مولانا محمد علی رضوی ، مولانا عبدالرحمٰن جامعہ اشرفیہ ، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر اور دوسرے کئی حضرات شریک اجلاس ہوئے ۔ پوری مجلس عمل اس پر غور کر رہی تھی کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہ کرے تو پھر ہمیں تحریک کو کن خطوط پر چلانا ہوگا اور اب مرزائیوں سے زیادہ حکومت سے مقابلہ ہوگا ۔ سبھی حضرات تحفظ ناموس ختم نبوت کے لئے جان کی بازی لگانے پر تیار تھے ۔ اتنے میں مولانا مفتی محمود صاحب کا فون آ گیا کہ حالات پر امید ہیں ۔ توقع ہے کہ سب کمیٹی کسی متفقہ مسودہ پر کامیاب ہو جائے گی ۔ حفیظ پیرزادہ نے بھٹو صاحب کو فون کر کے سب کمیٹی کی کارروائی سے باخبر کیا۔ بھٹو صاحب نے تمام اراکین کمیٹی کو اپنے ہاں طلب کیا۔ تھوڑی دیر گفتگو ہوئی
بھٹو صاحب نے تمام کا مؤقف سنا اور کہا کہ اب مزید وقت ضائع نہ کریں۔ رات بارہ بجے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ آپ تمام حضرات تشریف لائیں۔ اس وقت دو ٹوک فیصلہ کریں گے۔ ہم لوگ اپنی میٹنگ سے فارغ ہوئے۔ امید و یاس کی کیفیت طاری تھی۔ میں سخت پریشان تھا۔ بھٹو صاحب جیسے چالاک آدمی سے پالا پڑا تھا۔ کسی وقت بھی وہ جھٹکا دے کر تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر سکتے تھے۔ تمام حالات ہمارے سامنے تھے۔ میں انتہائی پریشانی کے عالم میں مولانا محمد رمضان علوی کے گھر گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ اگر فیصلہ صحیح نہ ہوا تو میری جان نکل جائے گی۔ ان کے ہاں کروٹیں بدلتے وقت گزرا۔ رات کو راجہ بازار کی جامع مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔
مقررین نے بڑی گرم تقریریں کیں۔ ہجوم آتش فشاں پہاڑ کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اعلان کیا گیا کہ کل اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو راجہ بازار میں شہیدان ختم نبوت کی لاشوں کا انبار ہوگا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا۔ جلسہ کی تقریروں میں شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی۔ بھٹو صاحب جلسہ کی ایک ایک منٹ کی کارروائی سے باخبر تھے۔ تمام حالات ان کے سامنے تھے رات بارہ بجے حسب پروگرام بھٹو صاحب کی صدارت میں کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ پنڈی میں جلسہ ہو رہا تھا۔ اسلام آباد میں میٹنگ ہو رہی تھی۔
ڈیڑھ بجے کے قریب مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور چوہدری ظہور الٰہی ڈیڑھ گھنٹہ کے مذاکرات کے بعد جلسہ میں تشریف لائے۔ مولانا مفتی محمود صاحب نے سٹیج پر چڑھنے سے قبل مجھے اشارہ سے بلوایا اور فرمایا مبارک ہو۔ کل آپ کی ان شاء اللہ العزیز جیت ہو جائے گی۔ لیکن اس کا ابھی افشاء نہ کریں کہ حکومت کا اعتبار نہیں ہے۔ میں سٹیج پر آیا شیخ بنوری کے کان میں کہا کہ افشاء نہ کریں۔ لیکن آپ کو مبارک ہو۔ شیخ بنوری کے منہ سے بے ساختہ زور سے نکلا۔ الحمدللہ! جس سے اکثر لوگ میری سرگوشی اور مولانا کے ”الحمدللہ“ کا مطلب سمجھ گئے۔ بھٹو صاحب بڑے ذہین آدمی تھے۔ وہ پہلے سے فیصلہ دل میں کئے ہوئے تھے کہ مسئلہ کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کر کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں گے۔ لیکن وہ اس مسئلہ کی مشکلات اور رکاوٹوں سے باخبر تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اس طرح جلدی سے فیصلہ کرنے سے امریکہ، برطانیہ، فرانس، مغربی جرمنی کی حکومتیں مجھ پر زبردست دباؤ ڈالیں گی۔ اس نے پیرزادہ کو کہا کہ آپ لوگ گھر جا کر آرام کریں۔ کل ایک دن میں قومی اسمبلی ایوان بالا دونوں سے متفقہ قرارداد منظور کرا لوں گا کہ مرزائی غیر مسلم ہیں اور ان کا نام غیر مسلم اقلیتوں میں شامل کر دیا جائے گا۔ صوبائی، ڈویژنل، ضلعی انتظامیہ کو تحریک کو کچلنے کی ہدایات، فوج کا اسلحہ سمیت شہروں میں متعین ہونا یہ محض مرزائی و مرزائی نواز طاقتوں کی توجہ کو دوسری طرف پھیرنے کے لئے تھا۔“
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء فیصلہ کا دن لمحہ بہ لمحہ کی رپورٹ
۶، ۷؍ ستمبر کی درمیانی شب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی جس کی اخباری رپورٹ یہ ہے:
”پارلیمنٹ میں مختلف طبقوں کے اپوزیشن رہنماؤں نے کل رات وزیر اعظم بھٹو سے دوسری بار ملاقات کی جو اڑھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں احمدی مسئلے پر مکمل اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، چوہدری ظہور الٰہی، مسٹر غلام فاروق اور حاجی مولا بخش سومرو نے اپوزیشن کی طرف سے مذاکرات میں حصہ لیا۔ جب کہ مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا کوثر نیازی اور اٹارنی جنرل پاکستان مسٹر یحییٰ بختیار نے مسٹر بھٹو کی معاونت کی۔ بتایا گیا ہے کہ مذاکرات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئے۔“
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء اڑھائی بجے دن پوری قومی اسمبلی پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں کمیٹی کی سفارشات کو آخری شکل دی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گئی اور قرارداد و بل کا متفقہ مسودہ تیار کیا گیا۔ شام ساڑھے چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس کی خبر یہ ہے: ”اسلام آباد: ۷؍ستمبر (عارف نظامی نامہ نگار خصوصی) اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے آج قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اس طرح غلامان محمد ﷺ کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے جو ایک طویل مدت سے معلق چلا آ رہا تھا۔ اس فیصلہ کا نفاذ فوری طور پر ہو گا۔ امت مسلمہ کی اس دیرینہ آرزو کی تکمیل کے لئے آئین پاکستان کی دفعات میں ترمیم کر دی گئی ہے جس کے مطابق ”ایسا کوئی شخص جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا یا خود کسی بھی صورت میں نبی یا مصلح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا ایسے کاذب نبی یا مصلح کو مانتا ہے، مسلمان نہیں ہو سکتا۔“ آئین کے آرٹیکل نمبر ۱۰۶ میں ترمیم بھی کی گئی ہے کہ: ”وہ افراد جو خود کو ’احمدی‘ کہلاتے ہیں ان کے قادیانی اور لاہوری دونوں گروپ اقلیت شمار ہوں گے۔“ قانون سازی کے ذریعہ تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵۔ب کا اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ”جس کے تحت ختم نبوت کے خلاف تبلیغ قابل تعزیر جرم ہو گی۔“ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کئے گئے اس تاریخ ساز فیصلہ کی رو سے ”آئندہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کے وقت قادیانیوں کو غیر مسلموں میں شمار کیا جائے گا اور ان کی قومی رجسٹریشن بھی غیر مسلم کے طور پر ہی ہو گی۔“
قومی اسمبلی کے عہد آفریں اجلاس سے قبل جو ساڑھے چار بجے شام شروع ہوا، اڑھائی بجے بعد دوپہر پوری قومی اسمبلی کے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں قادیانی مسئلے کے بارے میں سفارشات کو آخری شکل دی گئی۔ قومی اسمبلی نے ان سفارشات کی من وعن منظوری دے دی۔ وزیر اعظم بھٹو قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے۔ وہ قوم سے اپنے اس وعدہ کی تکمیل پر مسرور وشاداں نظر آ رہے تھے کہ قادیانی مسئلہ ۷؍ ستمبر تک حل کر لیا جائے گا۔ جہاں تک اس مسئلے سے متعلق دیگر پہلوؤں اور مطالبات کا تعلق ہے، ان کی حیثیت زیادہ تر انتظامی ہے۔ چنانچہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کے مطالبات ساتھ ساتھ پورے ہوں گے۔ ربوہ کو تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دے دیا جائے گا اور عام مسلمانوں کو اس شہر میں رہائش اختیار کرنے اور کاروبار کرنے کے مواقع میسر ہوں گے۔ عام لوگ یہاں زمین بھی حاصل کر سکیں گے اور یہ شہر صرف قادیانیوں کے لئے مخصوص نہیں ہو گا۔
۲۹؍ مئی کو واقعہ ربوہ کے بعد ملک میں تحریک ختم نبوت زور پکڑ گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ چنانچہ وزیر اعظم بھٹو نے ۱۳؍ جون کو قوم کے نام اپنی نشری تقریر میں بتایا وہ اس مسئلے کو قومی اسمبلی کے سپرد کر رہے ہیں اور جو بھی فیصلہ ہو گا وہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہو گا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اپنے دورۂ بلوچستان کے موقع پر قومی اسمبلی کے فیصلے کے لئے ۷؍ستمبر کی تاریخ کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم کی ۱۳؍جون کی تقریر کے بعد قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ جس میں اپوزیشن کے ارکان بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ دستاویزات کا معائنہ کیا اور احمدیہ جماعت کے سربراہ پر کئی روز تک جرح کی۔ اس کے بعد اپنی سفارشات متفقہ طور پر مرتب کیں۔
گزشتہ ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی میں دو قراردادیں پیش کی گئی تھیں۔ حکومت کی طرف سے جو قرارداد پیش کی گئی اس میں اسلام میں منکرین ختم نبوت کی حیثیت متعین کرنے کا ذکر تھا جب کہ اپوزیشن کی طرف سے قرارداد میں اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کے لئے کہا گیا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکار خواہ انہیں کسی بھی نام سے پکارا جائے مسلمان نہیں اور اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جائے تاکہ اس کو آئین میں ضروری ترامیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جا سکے اور ان لوگوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر پاکستان میں ان کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ ان قراردادوں پر غور کرنے کے لئے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کی گئی جس نے اس مسئلہ پر اہم متفقہ سفارشات پیش کیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریڈیو پاکستان کے مطابق آج جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے وہ تاریخ ساز قرارداد پیش کی جسے پوری قومی اسمبلی پر مشتمل کمیٹی نے اتفاق رائے سے تیار کیا تھا۔ مسٹر پیرزادہ نے کہا کہ ارکان کمیٹی نے قرارداد کی تیاری میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔ یہ قرارداد اتفاق رائے سے تالیوں کی گونج میں منظور کر لی گئی تو پھر مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا قرارداد میں کہا گیا تھا کہ آئین میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ: ’’کوئی بھی ایسا شخص جو نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا۔ اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاسکے۔‘‘
لمحہ بہ لمحہ، دھڑکتے دل کا سا منظر
اسلام آباد: ۷؍ستمبر (ا. پ. پ/ پ. پ) آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منکرین ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ آج شام قومی اسمبلی اور سینٹ نے آئین کی دفعات ۱۰۶ اور ۲۶۰ میں ترمیم کا ایک بل منظور کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا کوئی مدعی یا اسے نبی یا مصلح تسلیم کرنے والا مسلمان نہیں ہے۔ ترمیمی بل کے مطابق قادیانیوں اور لاہوری جماعت کے اراکین کو غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے ۱۴۶ ممبروں میں سے ۱۳۰ حاضر تھے۔ سب نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ تھوڑی دیر بعد سینٹ نے بل پر غور شروع کیا اور کل ۴۵ ممبروں میں سے اکتیس ممبروں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تاریخی بل سے پہلے قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی ایک خصوصی کمیٹی ۳۰؍ جون سے قادیانیوں کے مسئلے پر غور کر رہی تھی۔ ترمیمی بل میں قومی اسمبلی کی اس قرارداد کی سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ جسے پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی نے پاس کیا تھا اور آج تیسرے پہر قومی اسمبلی کے کھلے اجلاس نے اس کی توثیق کی تھی۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تمام شہریوں کی خواہ ان کا تعلق کسی فرقہ سے ہو جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’’ختم نبوت کے خلاف عقیدہ رکھنے، عمل کرنے یا تبلیغ کرنے والا مستوجب سزا ہوگا۔‘‘ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے اس فیصلے کے نتیجہ میں ’’نیشنل رجسٹریشن ایکٹ ۱۹۷۳ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ۱۹۷۴ء میں ترمیمیں کی جائیں گی۔‘‘
وزیر قانون مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے قرارداد پیش کرنے سے پہلے ایک مختصر تقریر میں کہا کہ خصوصی کمیٹی کے اجلاسوں میں پورا پورا اتفاق رائے رہا۔ کچھ مشکلات پیدا ہوئیں۔ لیکن ان کا تعلق طریقہ کار سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہوسکا ایوان میں تمام نقطۂ ہائے خیال کا قرارداد پر اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں قرارداد سات ارکان مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، غلام فاروق، چوہدری ظہور الٰہی اور سردار مولا بخش سومرو نے پیش کی تھی۔ لیکن بعد میں بل پر دستخط کنندگان میں مولانا غلام غوث ہزاروی بھی شامل ہو گئے۔ مسٹر پیرزادہ کی تقریر شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد وزیر اعظم بھٹو ایوان میں داخل ہوئے۔ ممبروں نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
بل کی دوسری خواندگی پر کوئی لفظ کسی نے اختلافی نہیں کہا اور آئین میں دوسرے ترمیمی بل ۱۹۷۴ء کی تینوں دفعات اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں۔ دفعہ دو: ایک سو چھبیس ووٹوں سے دفعہ تین: ایک سو پچیس ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس طرح دفعہ ایک بھی اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ دفعہ تین میں تحریک استقلال کے سینیٹر احمد رضا قصوری نے ایک ترمیم پیش کرنے کے لئے ایوان کی اجازت حاصل کرنا چاہی۔ ان کی ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ: ’’مرزا غلام احمد اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔‘‘ وزیر تعلیم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا کہ یہ ترمیم بالکل غیر ضروری ہے۔ کیونکہ میں نے ایوان کی اتفاق رائے سے جو ترمیم پیش کی ہے وہ جامع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ترمیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ایوان کے لیڈر اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم ضابطے میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون نے ایوان کے اتفاق رائے سے جو اصل ترمیم پیش کی ہے، اس میں ضروری وضاحت موجود ہے۔ اس کے پیش نظر دوسری ترمیم پیش کرنا ضروری نہیں۔ جب ووٹ لئے گئے تو ایوان نے تحریک استقلال کے ممبر کو ترمیم پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر مسٹر رضا قصوری ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ جب بل پر تیسری خواندگی شروع ہوئی تو اسپیکر نے مولانا مفتی محمود (جمعیۃ علماء اسلام) سے دریافت کیا کہ کیا آپ تقریر کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا مفتی محمود نے اپنے مختصر تبصرے میں کہا کہ میں اور میرے رفقائے کار ہر لحاظ سے بل کی حمایت کرتے ہیں اور اس قسم کی صورتحال میں کوئی تفصیلی تقریر میرے لئے ضروری نہیں ہے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے کہا کہ یہ بل اس بات کا مستحق ہے کہ ایوان اس کی پوری حمایت اور تعریف و توصیف کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل تعریف ہے کہ موجودہ حکومت نے احمدی مسئلہ یعنی قادیانی اور لاہوری دونوں طبقوں کا مسئلہ حل کر دیا جس پر وہ مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو فیصلہ دیا جائے گا ، وہ سنہری حروف سے لکھا جانا چاہئے۔
سینٹ سے منظوری کا منظر
سینٹ نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں دستوری ترمیم کے بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا اور اس کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں موجود تمام سینیٹروں نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ رائے شماری کے ذریعہ آخری ووٹ سے پہلے قائد حزب اختلاف احمد ہاشم خان غلزئی نے اعلان کیا کہ اپوزیشن بل کی مکمل اور دل سے حمایت کرتی ہے۔ بل پر غور شروع ہونے سے پہلے نیپ کے شہزاد گل نے شکایت کی کہ سینٹ کو دستوری ترمیم کے سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ریڈیو پاکستان نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ بل قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد فوراً نافذ ہو گیا ہے۔ چیئرمین حبیب اللہ خان نے ممبر کو بتایا کہ سینٹ کے قواعد کے مطابق کام ہوگا۔ جس کے تحت اسے اس بل پر غور کرنا ہوگا جو اس کے پاس قومی اسمبلی سے بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خصوصی کمیٹی کے ارکان سینیٹر نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے ارکان ہیں۔ وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے سینٹ کے ارکان سے معذرت کی کہ معاملے کی اہمیت اور نزاکت کی وجہ سے انہیں مختصر نوٹس پر سینٹ کے اجلاس کے لئے بلانا پڑا۔ انہوں نے ریڈیو سے بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کی خبر میں غلطی پر بھی معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کی اہمیت کو کبھی بھی کم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سینٹ کو ہمیشہ اس کا جائز مقام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دستوری طریق کار کا نہ صرف احترام کیا جائے گا بلکہ اس پر سختی سے عمل بھی کیا جائے گا۔ جب چیئرمین نے رائے شماری کے لئے بل پیش کیا تو ایوان میں موجود کل ۳۱ سینیٹروں نے ووٹ دیا اور نتیجے کے اعلان کا ڈیسک بجا کر خیر مقدم کیا گیا۔
تاریخی قرارداد کا متن
آج یہاں قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے ہر اس شخص کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے جو حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ قرارداد جو وزیر قانون و پارلیمانی امور مسٹر پیرزادہ نے پیش کی تھی کا متن حسب ذیل ہے۔ ”قومی اسمبلی کے پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی قرار دیتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات غور خوض اور منظوری کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے قومی اسمبلی کو بھیجی جائیں ۔ پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی جسے اس کی رہبر کمیٹی اور سب کمیٹی کی مدد حاصل تھی۔ اپنے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے حوالے کی جانے والی قراردادوں پر غور کرنے اور دستاویزات اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ و انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد قومی اسمبلی کے سامنے درج ذیل سفارشات پیش کرتی ہے ۔
- الف ...... کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے ۔
- اوّل ...... دفعہ ۱۰۶(۳) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) کا ذکر کیا جائے ۔
- دوم ...... دفعہ ۲۶۰ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے ۔
- ب ...... کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (الف) میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے ۔
تشریح
کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ۲۶۰ کی شق (۳) کی تصریحات کے مطابق محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہٰذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔
- ج ...... کہ متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ۱۹۷۳ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ۱۹۷۴ء میں منتجہ قانونی اور ضابطے کی ترامیمات
کی جائیں ۔
- د ...... کہ پاکستان کے تمام شہریوں، خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال ، آزادی ، عزت اور بنیادی حقوق کا
پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔
- ۱ ...... عبدالحفیظ پیرزادہ
- ۲ ...... مولانا مفتی محمود
- ۳ ...... مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
- ۴ ...... پروفیسر غفور احمد
- ۵ ...... غلام فاروق
- ۶ ...... چوہدری ظہور الٰہی
- ۷ ...... سردار مولا بخش سومرو
- ۸ ...... مولانا غلام غوث ہزارویؒ
تاریخی بل کا متن
”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اور مقاصد کے لئے جن کا ذکر ذیل میں آئے گا ترمیم کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا حسب ذیل قانون منظور کیا جاتا ہے ۔
- ۱ ...... مختصر عنوان اور آغاز: (i) یہ قانون آئین میں دوسری ترمیم کا قانون مجریہ ۱۹۷۴ء کہلائے گا۔ (ii) یہ قانون فوری طور پر نافذ
العمل ہوگا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۱۰۶ کی دفعہ (۳) میں لفظ فرقے کے بعد قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کے افراد کے الفاظ شامل کئے جائیں گے۔
- ۳...... آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ میں دفعہ (۲) کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ شامل کی جائے گی۔ جو شخص حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر مکمل اور غیر مشروط یقین نہ رکھتا ہو یا حضرت محمد ﷺ کے بعد الفاظ کے کسی بھی مفہوم یا اظہار کی صورت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہو یا اس قسم کے دعویدار کو نبی یا مصلح مانتا ہو۔ وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے تحت مسلمان نہیں ہے۔‘‘ دوسری خواندگی کے دوران کوئی بحث نہ ہوئی اور آئین میں دوسری ترمیم کے بل مجریہ ۱۹۷۴ء کی تینوں کی تینوں دفعات اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں۔ دفعہ (۲) ۱۲۶؍ ووٹوں اور دفعہ (۳) ۱۲۵؍ ووٹوں سے منظور ہوئی۔ دفعہ الف بھی اسی طریقے سے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کر لی گئی۔
آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات
اسلام آباد: ۷؍ستمبر (ا. پ. پ) قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو فیصلہ صادر کیا ہے اس کی روشنی میں آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات کی ترمیم کے بعد یہ صورت ہوگی۔
آرٹیکل نمبر ۲۶۰
’’جو شخص خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان نہیں لاتا یا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی بھی انداز میں نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا کسی ایسے مدعی نبوت یا مذہبی مصلح پر ایمان لاتا ہے، وہ از روئے آئین و قانون مسلمان نہیں ہے۔‘‘ آرٹیکل نمبر ۱۰۶ کی کلاز نمبر ۳ میں طبقوں کے لفظ کے بعد قادیانی یا لاہوری گروپ کے اشخاص جو ’احمدی‘ کہلاتے ہیں کے جملہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔‘‘
اضافہ کے بعد کلاز نمبر ۳ کی صورت یہ ہوگی: ’’صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان، پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی کلاز نمبر ایک میں دی گئی نشستوں کے علاوہ ان اسمبلیوں میں عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھوں، پارسیوں اور قادیانیوں یا شیڈول کاسٹس کے لئے اضافی نشستیں ہوں گی۔‘‘
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر
راولپنڈی: ۷؍ستمبر (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کے بل کی منظوری کے بعد وزیر اعظم مسٹر بھٹو نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی متفقہ منظوری کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں۔ یہ بل پاکستان کے مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق پیش کیا گیا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ حکومت کا کوئی فرد اس کا کریڈٹ لے۔ یہ بڑا مشکل فیصلہ تھا اور جمہوری اداروں کی موجودگی اور جمہوری اتھارٹی کے بغیر فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ ۹۰ سال پرانا مسئلہ تھا اور وقت کے ساتھ پیچیدہ ہوتا جا رہا تھا اور افسوس کا مقام ہے کہ اسے اب تک حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ احمدیوں کے بارے میں آج جو فیصلہ کیا گیا، وہ متفقہ اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ وہ آئین میں دوسرے ترمیمی بل کی تیسری خواندگی کے موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فیصلہ اسمبلی کے تمام حلقوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے صلاح مشورہ سے کیا گیا ہے۔ اس طرح اس فیصلہ کو قومی فیصلہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ پاکستان کے مسلمانوں کی خواہشات کا آئینہ دار ہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ یہ مسئلہ کئی بار پیدا ہوا۔ ماضی میں حکومتوں نے یہی سمجھا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کر دیا ہے لیکن اس مسئلہ کو کسی طرح حل کیا گیا، اس کی میں صرف ایک مثال دینا چاہتا ہوں جو ۱۹۵۳ء کی ہے۔ وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ ۱۹۵۳ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ظالمانہ طاقت استعمال کی گئی۔ لیکن دراصل یہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے نہیں بلکہ دبانے کے لئے استعمال کی گئی تھی۔ وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ کیا مسئلہ دبانے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ لیکن ماضی کے برعکس آج میری حکومت نے اس مسئلہ کو صحیح معنوں میں حل کر لیا ہے۔ ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ گزشتہ چند ماہ میں شدید جذباتی طور پر یہ مسئلہ پیدا ہوا جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ بعض لمحات نازک تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں جو کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، ہر شخص اسے خود محسوس کر سکتا ہے۔ لوگ خوف و ہراس اور امید و بیم کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ گلیوں اور مسجدوں میں تقریریں ہو رہی تھیں اور افواہیں پھیل رہی تھیں۔ ملک بھر میں شدید اضطراب و کشیدگی کی فضاء موجود تھی۔ وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ وہ ماضی کی جانب لوٹنا نہیں چاہتے اور مئی کے واقعات کو بیان نہیں کرنا چاہتے کہ واقعات کیونکر رونما ہوئے۔ انہوں نے اپنی ۱۳؍جون کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر مذہبی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کی اساس صرف اسلام تھی۔ اس علاقہ کے مسلمان اپنا ایک الگ وطن چاہتے تھے اور بلاشبہ اسلام ہی اس تحریک کی بنیاد تھا۔
وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ احمدی مسئلہ ایک مذہبی مسئلہ تھا۔ اسے حکومت یا کوئی شخص انفرادی طور پر حل نہ کر سکتا تھا۔ گزشتہ دنوں جب میں لاہور گیا تو بہت سے لوگوں نے مجھ پر زور دیا کہ میں اس مسئلہ کو اس وقت حل کر دوں لیکن ان کے خیال میں اس مسئلہ کو قومی اسمبلی ایسے جمہوری اور عوامی ادارے کی طرف سے حل کیا جانا چاہئے تھا۔ چنانچہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس نے اسے حل کر دیا۔
وزیر اعظم بھٹو نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں ’’اسلام ہمارا دین ہے‘‘ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمہوریت ہماری سیاست ہے، یہی ہماری جماعت کا نعرہ ہے۔ اسی طرح ہم اس وعدہ کے بھی پابند ہیں کہ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ چنانچہ احمدیوں کے مسئلہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر کے ہم نے اپنے اصولوں کی ہرگز نفی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو جس طرح حل کیا گیا ہے، وہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر اپنے مذہب پر قائم رہے۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میری حکومت کے لئے ضروری ہے کہ تمام شہریوں کے جان و مال اور حقوق کی پوری طرح حفاظت کی جائے۔ ہر شہری کے حقوق کی حفاظت ہمارا اسلامی فریضہ ہے اور ہم کسی فرقہ کی تضحیک و توہین برداشت نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چونکہ یہ فیصلہ پورے ایوان نے کیا ہے، اس لئے اب یہ باب بند کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم بھٹو نے اپنی تقریر میں بار بار یہ بات دہرائی کہ یہ فیصلہ کسی شخص کا انفرادی فیصلہ نہیں ۔ یہ پورے پاکستان کا فیصلہ ہے۔ یہ عوام کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ رواداری کے جذبات کے تحت متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ اس لئے اس فیصلہ کا کریڈٹ پوری قوم کو جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک الجھا ہوا بنیادی مسئلہ تھا جو نہ صرف گزشتہ نوے سال سے موجود تھا بلکہ اس نے قیام پاکستان کے بعد سے مسلمانوں کے ذہنوں میں احتجاج کی کیفیت پیدا کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب لاہور میں علمائے کرام کے ایک گروہ نے ان سے ملاقات کی تو میں نے ان سے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور قومی اسمبلی اعلیٰ ترین جمہوری ادارہ ہے۔ اس لئے مناسب ترین بات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ میں نے ان علماء کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ میں پیپلز پارٹی کے قائد کی حیثیت سے اپنی پارٹی کے ارکان پر کوئی اثر نہ ڈالوں گا بلکہ میں یہ مسئلہ ان کے ضمیر پر چھوڑ دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مختلف مواقع پر اپنے ارکان کو مختلف احکام و ہدایات جاری کیں۔ لیکن احمدیوں کے مسئلہ پر میں نے انہیں ہرگز کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔ یہاں تک کہ میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی رکن کو اس سلسلہ میں ملاقات کرنے کے لئے بھی از خود طلب نہیں کیا۔
ریڈیو پاکستان کی بدحواسی پر نکتہ اعتراض
اسلام آباد: ۷؍ ستمبر ( نامہ نگار خصوصی ) آج جب سینٹ کا اجلاس شروع ہوا تو نیپ کے سینیٹر شہزاد گل نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی ہے کہ قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے اور اب یہ بل فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ چنانچہ اب سینٹ کے اجلاس کی کوئی ضرورت نہیں۔ چیئرمین: ہم اپنے طے شدہ طریق کار کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ریڈیو کی نشریات کے پابند نہیں۔ سینیٹر: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ مگر سینٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ چیئرمین: آپ مسئلہ سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے رکن نہ تھے۔ پیرزادہ: اس مسئلے سے ریڈیو پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک سیدھا سادھا آئینی مسئلہ ہے۔ آئین کے مطابق بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینٹ کو بھی منظوری دینا ہوتی ہے۔ میں سینٹ کا اجلاس مختصر مدت پر بلانے کی معذرت کرنے والا تھا اور اگر ریڈیو پاکستان کے کسی ملازم نے اس بارے میں بدحواسی کا مظاہرہ کیا ہے تو اس پر بھی معذرت چاہتا ہوں۔
پاکستانی قوم کے تاریخی فیصلہ کی تائید ربانی
راولپنڈی: ۷؍ ستمبر ( نمائندہ خصوصی ) راولپنڈی کے علاقے میں اگرچہ موسمی تغیر و تبدل کی کوئی انوکھی بات نہیں لیکن آج باران رحمت جس غیر متوقع طور پر دیکھنے میں آئی۔ اس نے یہاں کے لوگوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں خاصی گرمی تھی اور آج بعد دوپہر تک تیز دھوپ سے ہر شئے تپ رہی تھی۔ دور دور تک آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہ آتا تھا لیکن جس وقت قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے اپنے تاریخی فیصلے کا اعلان کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پورے مطلع کو سیاہ گھٹائوں نے گھیر لیا اور موسلادھار بارش شروع ہوگئی جو شام تک جاری رہی۔ عوام اس باران رحمت کو خداوند ذوالجلال کی رضا و خوشنودی کی دلیل قرار دے رہے ہیں۔
قادیانیوں کے مسئلے پر خصوصی کمیٹی نے ۲۸؍ اجلاس کئے
مجموعی طور پر ۹۶ گھنٹے تک غور و خوض کیا گیا
آج آئین میں دوسری ترمیم کا مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور ہو جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ آج کا اجلاس بھی اسمبلی کے بجٹ سیشن ہی کا حصہ تھا جو ۳۰؍ مئی سے شروع ہوا تھا۔ بجٹ کی منظوری کے بعد قادیانیوں کے مسئلے پر غور و خوض کے لئے بند کمرے میں اجلاس جاری رہا۔ اس مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی نے سارے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حیثیت سے ۲۸؍ اجلاس منعقد کئے اور بحیثیت مجموعی ۹۶ گھنٹے غور کیا۔ کمیٹی کے سامنے ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے ۴۱؍ گھنٹے اور ۵۰ منٹ تک شہادت قلمبند کرائی اور ان کا بیان گیارہ دن جاری رہا۔ لاہوری جماعت کے سربراہ پر دو اجلاس میں بحیثیت مجموعی ۸ گھنٹے ۲۰؍ منٹ تک جرح ہوئی۔ خصوصی کمیٹی کے چیئرمین قومی اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان تھے۔
واقعات کی ترتیب
- ۱...... ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء کو طلباء کے وفد کی ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں سے توتکار ہوئی۔
- ۲...... ۲۹؍ مئی کو بدلہ لینے کے لئے قادیانیوں نے ربوہ اسٹیشن پر طلباء پر قاتلانہ، سفاکانہ حملہ کیا۔
- ۳...... ۳۰؍ مئی کو لاہور اور دیگر شہروں میں ہڑتال ہوئی۔
- ۴...... ۳۱؍ مئی کو سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے صمدانی ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا۔
- ۵...... ۳؍ جون کو مجلس عمل کا پہلا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔
- ۶...... ۹؍ جون کو مجلس عمل کا کنوینر لاہور میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کو مقرر کیا گیا۔
- ۷...... ۱۳؍ جون کو وزیر اعظم نے نشری تقریر میں بجٹ کے بعد مسئلہ قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔
- ۸...... ۱۴؍ جون کو ملک گیر ہڑتال ہوئی۔
- ۹...... ۱۶؍ جون کو مجلس عمل کا لائل پور میں اجلاس ہوا۔ جس میں حضرت بنوری کو امیر اور مولانا محمود احمد رضوی کو سیکرٹری منتخب کیا گیا۔
- ۱۰...... ۳۰؍ جون کو قومی اسمبلی میں دو قراردادیں پیش ہوئیں۔ ایک اپوزیشن کی طرف سے اور دوسری گورنمنٹ کی طرف سے۔ جن پر
غور کے لئے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔
- ۱۱...... ۲۴؍ جولائی کو وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جو قومی اسمبلی کا فیصلہ ہوگا، ہمیں منظور ہوگا۔
- ۱۲...... ۳؍ اگست کو صمدانی ٹربیونل نے تحقیقات مکمل کر لیں۔
- ۱۳...... ۵؍ اگست سے ۲۴؍ اگست تک وقفوں سے مکمل گیارہ روز مرزا ناصر پر قومی اسمبلی میں جرح کی گئی۔
- ۱۴...... ۲۰؍ اگست کو صمدانی ٹربیونل نے اپنی رپورٹ سانحہ ربوہ سے متعلق وزیر اعلیٰ کو پیش کی۔
- ۱۵...... ۲۴؍ اگست کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے صمدانی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی۔
- ۱۶...... ۲۴؍ اگست کو وزیر اعظم نے کوئٹہ میں فیصلہ کے لئے ۷؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔
- ۱۷...... ۲۷، ۲۸؍ اگست کو لاہوری گروپ پر قومی اسمبلی میں جرح ہوئی۔
- ۱۸...... یکم ستمبر کو لاہور شاہی مسجد میں ملک گیر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
- ۱۹...... ۵، ۶؍ ستمبر کو اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی میں عمومی بحث کی اور مرزائیوں پر جرح کا خلاصہ پیش کیا۔
- ۲۰...... ۶؍ ستمبر کو مجلس عمل کی راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس، وزیر اعظم سے ملاقات (اور فیصلہ)
- ۲۱...... ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی نے فیصلہ کا اعلان کیا کہ مرزا قادیانی کے ماننے والے ہر دو گروپ غیر مسلم ہیں۔ خس کم جہاں پاک!
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت اور ملتان
- ......۱ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آج جو تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے اس میں ملتان کو بڑا دخل ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم جناب ذوالفقار
علی بھٹو کی حکومت کے دور میں کیا گیا جو ملتان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
- ......۲ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کی صدارت میں خصوصی کمیٹی کی کارروائی کے بعد قومی
اسمبلی کے اجلاس میں کیا گیا۔ صاحبزادہ فاروق علی خان وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے ملتان کی نشست خالی کر دینے کے بعد ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
- ......۳ ۱۹۵۳ء میں بھی ختم نبوت کی تحریک ملتان میں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں شروع ہوئی تھی۔ اس
تحریک میں مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دیگر بزرگ شامل تھے۔
- ......۴ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد بھی ملتان میں رکھی گئی۔ ملتان ہی میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔
- ......۵ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد پہلی تقریر لائل پور میں ارشاد فرمائی۔ فرمایا تھا کہ ۱۹۵۳ء کے
شہداء کے خون کا میں ذمہ دار ہوں اور آئندہ بھی جب ضرورت پڑی تحریک ختم نبوت کے لئے قوم کو قربانی دینے کے لئے تیار کروں گا۔
- ......۶ مولانا محمد علی جالندھری نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد فرمایا تھا کہ اس وقت تو ہماری تحریک ختم نبوت کو قادیانی اور قادیانی
نواز حکومت نے تشدد سے کچل دیا ہے۔ مگر ایک وقت آئے گا کہ لوگ شہداء ختم نبوت کی قبروں کو تلاش کریں گے اور ان پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے۔ آج ملتان ہی میں یہ دونوں بزرگ ابدی استراحت فرما رہے ہیں۔ آج ان بزرگوں کی شروع کی ہوئی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
- ......۷ اس سال مئی میں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن سے جب قادیانیوں کے خلاف تحریک ابھری تو اس میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے
طلباء کا لہو شامل تھا۔
- ......۸ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر بھی ملتان میں ہے اور آج اس دفتر میں عشاء کے بعد بیٹھا ہوں۔ اس وقت صبح کی اذانیں
ہو رہی ہیں۔
- ......۹ اور اس کتاب کے اس باب کو مکمل کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
(مرتب)
- ......۱۰ اس کتاب کی ترتیب اوّل ۱۹۹۵ء میں ہوئی۔ اب ترتیب ثانی جنوری ۲۰۱۹ء ملتان میں ہو رہی ہے۔
گرفتار شدگان رہا کر دیئے جائیں گے، وزیر اعظم بھٹو کا اعلان
وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ مرزائی مسئلہ پر ہنگامہ اور ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی اور انہیں جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے یہ بات آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد رضا قصوری صاحب کا موقف
تحریک استقلال سے منسلک دو ارکان قومی اسمبلی مسٹر احمد رضا قصوری اور میاں محمود علی قصوری آج اس وقت ایوان سے اٹھ کر چلے گئے جب احمد رضا قصوری نے آئین میں ترمیم کے بل میں ترمیم پیش کرنا چاہی جسے سپیکر نے خلاف ضابطہ قرار دے دیا۔ اس پر دونوں ارکان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب وفاقی وزیر مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔ اس مرحلہ پر مسٹر احمد رضا قصوری نے شق نمبر ۳ کی جگہ دوسری دفعات پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس لئے ترمیم پیش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ”مرزا غلام احمد اور ان کے ماننے والوں کو نام لے کر غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا گیا ۔“ اس مرحلہ پر مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ یہ ترمیم بے قاعدہ ہے۔ کیونکہ کمیٹی کی سطح پر اس پر اعتراض نہیں کیا گیا اور فیصلہ متفقہ تھا۔ مزید برآں اس کو پیش کرنے کے لئے ایک تہائی ارکان کی حمایت درکار ہے اور اس کے علاوہ یہ مکمل طور پر بے معنی اور فضول ہے۔ اس مرحلہ پر وزیر اعظم نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم بے قاعدہ ہے۔ کیونکہ آئین میں ترمیم کے بارے میں قرارداد متفقہ تھی۔ اس مرحلے پر سپیکر نے ترمیم پیش کرنے کی اجازت نہ دی تو مسٹر احمد رضا قصوری یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے کہ میں واک آؤٹ کرتا ہوں۔ ”چونکہ مرزا غلام احمد اور ان کے ماننے والوں کو نام لے کر غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا ۔“ میاں محمود علی قصوری نے ان کا ساتھ دیا اس مرحلہ پر بہت سے ارکان نے آواز لگائی، جاؤ جاؤ۔ حکومتی پارٹی کے ایک رکن یہ کہتے سنے گئے کہ ہمیں تمہارے واک آؤٹ کی کوئی پرواہ نہیں۔
غیر مسلم قادیانیوں کی اکثریت ربوہ چلی گئی
مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا مجدد ماننے والے پاکستانیوں پر قومی اسمبلی کا اعلان بجلی بن کر گرا۔ صوبائی دارالحکومت میں ان لوگوں کی بڑی تعداد کل رات اور آج علی الصبح اپنے ہیڈ کوارٹر ربوہ روانہ ہوگئی۔ ان لوگوں کو کل سے یقین ہوگیا تھا کہ قومی اسمبلی ان کے خلاف فیصلہ کرنے والی ہے جو لوگ ربوہ نہیں جاسکے وہ آج شام سے اپنے گھروں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔ پولیس نے قادیانیوں کے گھروں کے باہر پہرہ لگایا ہوا ہے تاکہ ان شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کی جاسکے۔ عامتہ المسلمین نے قومی اسمبلی کا اعلان سننے کے بعد قادیانیوں سے کوئی تعرض نہیں کیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی
قومی اسمبلی کا اجلاس آج ایک اہم تاریخی و آئینی ترمیم منظور کرنے کے بعد غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ۳۰؍ مئی کو بجٹ منظور ہونے کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ بجٹ منظور کرنے کے بعد قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے احمدیوں کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا۔ آج ساڑھے چار بجے اجلاس ہوا۔ تلاوت کے بعد ۴ بج کر پچاس منٹ پر وزیر قانون نے قرارداد اور پھر بل پیش کیا۔ ۵ بج کر ۵ منٹ پر بل کی آخری خواندگی مکمل ہوئی اور اتفاق رائے سے بل منظور ہوا۔ اسمبلی کے کل ممبران ۱۴۶ موجود تھے۔ تمام نے اتفاق رائے سے بل منظور کیا۔ (ایک شق پر احمد رضا قصوری نے ترمیم پیش کرنا چاہی) اس کے بعد جناب بھٹو صاحب کی تقریر شروع ہوئی جو ساڑھے پانچ بجے ختم ہوئی۔ اس کے ساتھ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اس طرح سینٹ کا اجلاس بھی بل کی متفقہ منظوری کے بعد ملتوی ہوگیا۔
اسلام زندہ باد ...... ختم نبوت زندہ باد ...... قادیانیت مردہ باد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باب دوم
سانحہ ربوہ ۱۹۷۴ء کے بارے میں جسٹس صمدانی ٹربیونل کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی
(۱) سانحہ ربوہ ۱۹۷۴ء، (۲) قادیانی غنڈوں کا مسلمان طلباء پر وحشیانہ ظلم وستم، (۳) حنیف رامے کی بدترین مرزائیت نوازی، (۴) قادیانی حوروں کی حقیقت، (۵) قادیانی جنت دوزخ، (۶) مرزا ناصر کے اندرون خانہ راز دار باورچی کا قتل، (۷) کوثر نیازی ربوہ میں، (۸) لیبیا کا ایٹمی پلانٹ اور قادیانی، (۹) شیزان، قادیانیوں کی فیکٹری، (۱۰) ملک قاسم، مجید نظامی، آغا شورش کاشمیری کے عدالت میں باطل شکن بیانات، (۱۱) مرزا ناصر احمد عدالت کے کٹہرے میں، (۱۲) خلیفہ ربوہ کی لاہوری گروپ سے لاتعلقی، (۱۳) بہت سے دوسرے قادیانی رازوں کی نقاب کشائی، (۱۴) سانحہ ربوہ کے سلسلہ میں جسٹس صمدانی ٹربیونل کی لمحہ بہ لمحہ کارروائی اس باب میں ملاحظہ فرمائیں:
صمدانی کمیشن
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو سانحہ ربوہ پیش آیا۔ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی (خواجہ محمد احمد صمدانی) پر مشتمل یک رکنی ٹربیونل کا اعلان کیا جس کی تفصیل یہ ہے: (یاد رہے کہ اس دن ہی ٹربیونل نے اپنا کام شروع کر دیا تھا)
لاہور: ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء (ا.پ.پ) حکومت پنجاب نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے مقرر کردہ ٹربیونل کے دائرہ کار کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ایک رکنی ٹربیونل جو ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی پر مشتمل ہے، ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ اور اس سے متعلقہ دوسرے معاملات کی تحقیقات کے بعد یہ بتائے گا کہ اس واقعہ کی انفرادی اور اجتماعی طور پر ذمہ داری کن پر عائد ہوتی ہے۔ ٹربیونل مجرموں کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش بھی کرے گا اور اپنی رپورٹ جتنی جلدی ممکن ہوگا پیش کرے گا۔ ایک اعلان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی سے درخواست کی ہے کہ وہ ربوہ ریلوے اسٹیشن کے ۳۱ مئی کے المیہ کی آج ہی تحقیقات شروع کر دیں۔ مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی نے آج یہاں اپنے چیمبر میں واقعہ ربوہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر عبدالستار نجم سے ملاقات کی۔ ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق سینئر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری تحقیقات کے سلسلہ میں ٹربیونل کی معاونت کریں گے۔ چونکہ مسٹر کمال آج لاہور میں موجود نہیں تھے، اس لئے مسٹر عبدالستار نجم نے ابتدائی امور کے سلسلہ میں فاضل ٹربیونل کی معاونت کی۔ تحقیقات کے بارے میں مزید کارروائی کل فاضل ٹربیونل کے چیمبر میں جاری رہے گی۔“
(نوائے وقت لاہور، مؤرخہ یکم جون ۱۹۷۴ء)
میاں محمد عالم بٹالوی، مولانا عبیداللہ احرار نے فیصل آباد سے روزنامہ سعادت کی رپورٹ کے مطابق مطالبہ کیا کہ ایک رکنی ٹربیونل کی بجائے تین ججوں پر مشتمل ٹربیونل ہونا چاہئے۔
(روزنامہ سعادت فیصل آباد، مؤرخہ یکم جون ۱۹۷۴ء)
یکم جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: یکم جون۔ مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی نے جنہیں ضلع سرگودھا (جھنگ) میں حالیہ واقعہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقرر کیا گیا ہے۔ آج اپنے پہلے اجلاس میں کارروائی کے ضابطوں اور شہادتیں قلمبند کئے جانے کے طریقوں پر غور کیا۔ ٹربیونل نے فیصلہ کیا کہ شہادتیں ۵؍جون سے قلمبند کی جائیں گی اور وقوعہ کے روز ڈیوٹی پر متعین ریلوے اسٹیشن کے عملے کی شہادتیں قلمبند کی جائیں گی۔ ۶؍جون کو وقوعہ کے روز ٹرین پر ڈیوٹی پر متعین لوگوں کے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔ ۷؍جون کو میڈیکل کالج کے سٹاف کے ان ارکان کے بیان قلمبند کئے جائیں گے جو تفریحی دورے میں طلباء کے ہمراہ تھے۔ اس دن نشتر کالج کے ان طلباء کے بھی بیانات قلمبند کئے جائیں گے جو آسانی کے ساتھ ٹربیونل کے سامنے پیش ہوسکیں۔ ایسے عام افراد کے بیانات جو اس واقعہ کے بارے میں براہ راست کوئی بات ٹربیونل کے علم میں لانا چاہتے ہوں، ۱۰؍جون کو قلمبند کئے جائیں گے۔ ایسے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ۱۰؍جون تک بذریعہ ڈاک یا ذاتی طور پر لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو مطلع کردیں۔ ایسے افراد کو ٹربیونل کے روبرو پیش ہونے کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔‘‘
(ا۔پ۔پ، امروز لاہور، ۲؍جون ۱۹۷۴ء)
رجسٹرار کا تقرر
’’لاہور: یکم؍جون۔ لاہور ہائیکورٹ کی معائنہ ٹیم کے رکن مسٹر خضر حیات، مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی کے رجسٹرار کے طور پر بھی کام کریں گے جنہیں سانحہ ربوہ کی تحقیقات کرنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔‘‘
(ا۔پ۔پ، امروز لاہور، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۷۴ء)
اس کے ساتھ ہی عدالتی ٹربیونل کی طرف سے یکم؍جون کو ذیل کا اشتہار مرتب کر کے اخبارات کو بھجوایا گیا جو ۲؍جون کے اخبارات میں شائع ہوا۔ اشتہار مندرجہ ذیل ہے۔
عدالت کا اشتہار، اعلان
عوام کی آگہی کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ حکومت پنجاب نے حسب ذیل تحقیقات کے لئے ایک تحقیقاتی ٹربیونل قائم کر دیا ہے جو:
- الف...... ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر رونما ہونے والے واقعہ،
- ب...... اور اس واقعہ سے متعلق دیگر امور کی تحقیقات کرے گا تا کہ اس واقعہ کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کا تعین کر کے اس کے
مرتکب عناصر کے خلاف ضروری کارروائی کے سلسلے میں حکومت کو سفارش بھیجی جائے۔
ٹربیونل مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۷۴ء کے ۹ بجے صبح سے لاہور ہائیکورٹ لاہور میں شہادتیں قلمبند کرنا شروع کرے گا۔ جن کا آغاز جائے حادثہ پر موجود ریلوے کے عملے کے افراد کی شہادتوں سے ہوگا۔ جن میں واقعہ کے وقت اسٹیشن پر موجود ریلوے پولیس کے ارکان اور اس واقعہ سے متاثر ہونے والے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء اور سٹاف کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ پبلک میں سے کوئی بھی شخص جو تحقیقاتی ٹربیونل کی تحقیقات کی متذکرہ صدر (الف) اور (ب) شقوں میں بیان کردہ امور کے متعلق اپنی ذاتی معلومات کی بناء پر شہادت دینا چاہے، وہ بھی بطور گواہ شہادت قلمبند کرانے کے لئے اپنا نام، پورا پتہ اور جس مسئلے کے بارے میں وہ شہادت دینا چاہتا ہے ۱۰؍جون ۱۹۷۴ء تک تحقیقاتی ٹربیونل میں یہ تفصیلات رجسٹر کرا سکے گا۔ ایسے افراد کو ان کی شہادتوں کی تاریخوں کا تعین کر کے ان سے انہیں مطلع کر کے شہادت کے لئے طلب کر لیا جائے گا۔ جو افراد تحریری شہادتیں بھیجنا چاہیں وہ اپنی لکھی ہوئی شہادتیں ۱۰؍جون ۱۹۷۴ء تک ٹربیونل کو ارسال کر دیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اگر کوئی فرد تحقیقات کے طریق کار کے متعلق ٹربیونل کو مشورہ پیش کرنا چاہتا ہو تو یہ مشورہ ۳ یا ۴؍ جون ۱۹۷۴ء تک گیارہ بجے قبل از دوپہر ٹربیونل میں حاضر ہو کر پیش کر دے یا لکھ کر ان ہی تاریخوں تک بذریعہ ڈاک ارسال کر دے۔ تمام خط و کتابت ممبر انسپکشن ٹیم لاہور ہائیکورٹ لاہور کے نام ہونی چاہئے۔
دستخط: (کے۔ایم۔اے صمدانی) جج
(لاہور یکم؍ جون ۱۹۷۴ء نوائے وقت، مؤرخہ ۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جائے گی، بھٹو وزیر اعظم پاکستان
راولپنڈی : ۳۱؍ مئی (اَ۔پ۔پ / پ۔پ) وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آج رات ایک بیان کے ذریعہ اعلان کیا کہ ملک میں امن عامہ کو تباہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور امن و امان قائم کریں۔ وزیر اعظم کے بیان کا متن حسب ذیل ہے۔ ’’پنجاب کے بعض علاقوں میں گڑبڑ کے واقعات کو میں نہایت کرب کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت اس بات پر تلی ہوئی ہے کہ وہ کسی کو قانون کو تہ و بالا کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ ہائیکورٹ کے ایک جج کی زیر قیادت ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے جو واقعہ کے حقائق کی تحقیقات کرے گا۔ جس کی بناء پر گڑبڑ ہوئی ہے۔ تمام شہریوں کو تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے۔ یہ رپورٹ شائع کر دی جائے گی۔ اس بات میں ذرہ برابر شبہ نہیں کہ ہم انارکی پھیلانے والوں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے عناصر کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔ حکومت ملک میں کسی قسم کی بھی شہری ہڑتال کی اجازت نہ دے گی۔ میں اپنے اہل وطن سے اس بارے میں تعاون کی اپیل کرتا ہوں۔ ہم اس وقت انتشار و تفریق کی کسی کارروائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم متعدد مسائل کا شکار ہیں۔ اب یہاں لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تمام پاکستانیوں کو احساس کرنا چاہئے کہ ہم ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے ارد گرد بہت سے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ کیا بھارت کے ایٹمی دھماکہ کا یہی جواب ہے کہ آپس میں جھگڑنا شروع کر دیں اور ایک دوسرے کو علیحدہ کریں۔ ہمیں موجودہ صورتحال کا ایک ذمہ دار اور پختہ کار اور بالغ نظر قوم کی طرح جواب دینا چاہئے۔ اس بات کو پوری طرح سمجھ لینا چاہئے کہ مرکزی اور صوبائی حکام پاکستان کے تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے لئے ہر اقدام کریں گے۔ ہم ایک غریب قوم ہیں اور کئی قدرتی اور اقتصادی مسائل سے دو چار ہیں۔ ہم پاکستان کو کسی نئے خطرے سے دو چار نہیں کر سکتے۔‘‘
محترم ذوالفقار علی بھٹو نے وعدہ کیا کہ رپورٹ شائع کی جائے گی۔ مگر اس پر بعض حلقے حتیٰ کہ واقعہ کے مضروبین طلباء بھی مطمئن نہ تھے۔ انہوں نے زخمی حالت میں نشتر ہسپتال سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ملتان : مورخہ ۴؍ جون۔ نشتر کالج کے زخمیوں کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ آج مقامی اخبار نویسوں نے نشتر ہسپتال میں زخمی طلباء سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ زخمیوں میں نشتر کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر ارباب عالم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کے ساتھی بھی رو بصحت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحقیقاتی عدالت نے زخمی طالب علموں کو بیان دینے کے لئے طلب کیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ۶؍ جون کو لاہور میں حاضر ہوں۔ لیکن ابھی بعض طلباء کی حالت اس قابل نہیں ہوئی کہ وہ دو سو میل کا سفر کر سکیں۔ اس لئے طلباء کی طرف سے عدالت کے نام ایک تار میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ طلباء کو کسی اور تاریخ پر طلب کرے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شام
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نشتر کالج کے پرنسپل کے نام عدالت کا تار آیا ہے۔ جس میں بیان قلمبند کرنے کی تاریخ ملتوی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بعض طلباء کے کانوں کے قریب چوٹیں آئی ہیں اور ایک طالب علم کی ناک پر چوٹ آئی ہے۔ جس کے لئے ماہر امراض ناک اور کان سے معائنہ کے لئے کہا جا رہا ہے۔ لیکن ابھی تک اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے خود بھی ایک کان کے قریب چوٹ آئی ہے اور اس کان سے اونچا سنائی دے رہا ہے۔ مسٹر ارباب عالم نے کہا کہ طلباء نے تحقیقاتی عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ کیونکہ طلباء کا مطالبہ ہے کہ حکومت یقین دلائے کہ تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوگی اور قصور وار لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ لائل پور سے ایک زخمی طالب علم طلعت محمود بھی نشتر ہسپتال ملتان پہنچ گیا ہے۔‘‘
(روزنامہ امروز ، مورخہ ۵؍ جون ۱۹۷۴ء)
۵؍ جون ۱۹۷۴ء ٹربیونل کا اجلاس
لاہور: مورخہ ۵؍ جون ۱۹۷۴ء ربوہ کے واقعہ سے متعلق انکوائری ٹربیونل نے جو لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی پر مشتمل ہے۔ آج ہائیکورٹ کے ایک کمرے میں اپنی کارروائی شروع کر دی۔ ایک پریس نوٹ کے مطابق ٹربیونل نے آج جزوی طور پر ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا۔ یہ گواہ وقوعہ کے وقت گاڑی کے سامان کے گارڈ کی حیثیت سے متعلق تھا۔ اس کا بیان کل بھی جاری رہے گا۔ ٹربیونل کی کارروائی آج ٹھیک نو بجے شروع ہوئی۔ عدالت کے ریڈر نے تحقیقاتی ٹربیونل کی تقرری کا اعلان کھلی کچہری میں پڑھ کر سنایا اور تحقیقات کے دائرے اور اخبارات میں شائع شدہ نوٹس کی وضاحت کی۔ عدالت میں ہائیکورٹ بار کے درج ذیل ارکان ، مختلف تنظیموں کی وکالت کے لئے موجود تھے۔
- ۱...... مسٹر ایم انور معاون ایم. اے رحمان (جماعت اسلامی)
- ۲...... قاضی محمد سلیم (مجلس تحفظ ختم نبوت)
- ۳...... مسٹر رفیق احمد باجوہ ( قادیانی محاسبہ کمیٹی ، مجلس تحفظ ختم نبوت ، پاکستان اتحاد پارٹی)
- ۴...... مسٹر ایم اعجاز حسین بٹالوی معاون مسٹر بشیر احمد (مقامی انجمن احمدیہ ربوہ)
- ۵...... مرزا نصیر احمد ( سٹوڈنٹس یونین تعلیم الاسلام کالج ربوہ)
- ۶...... مسٹر ایم اسماعیل قریشی، چوہدری نذیر احمد خان، حاجی شیخ عنایت محمد (غیر حاضر) (لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن وکلاء کی رابطہ کمیٹی)
- ۷...... مسٹر سی. ایم لطیف رانا (جمیعۃ علمائے اسلام سنی حنفی مکتب فکر)
- ۸...... مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، سرکار)
کمرہ عدالت عوام الناس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو عدالت کی کارروائی دیکھنے آئے تھے۔ ٹربیونل نے ہر شخص کو خبردار کیا کہ وہ اپنے ساتھی شہریوں کے جذبات کا احترام کرے اور کوئی ایسا لفظ یا اظہار کا طریقہ استعمال نہ کرے۔ جس سے دوسرے کے جذبات مجروح ہوں۔ اخباری نمائندوں کو بتایا گیا ہے کہ ہر دن کی کارروائی کے بعد انہیں ٹربیونل کی طرف سے پریس نوٹ جاری کیا جائے گا اور ان سے توقع کی جائے گی کہ وہ ٹربیونل کی کارروائی کے بارے میں عوام الناس کے مفاد میں اس پریس نوٹ کے علاوہ اور کوئی بات شائع نہ کریں۔ ٹربیونل کی کارروائی اردو میں کی جا رہی ہے اور اس کا ریکارڈ بھی اردو میں رکھا جا رہا ہے۔ ٹربیونل نے چناب ایکسپریس کے لگیج گارڈ کا بیان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قلمبند کیا۔ ابھی ان کا بیان جاری تھا کہ ڈیڑھ بجے ٹربیونل کا اجلاس کل صبح نو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ ٹربیونل کا اجلاس اتوار اور چھٹیوں کے دوسرے دنوں کے علاوہ روزانہ ہوگا۔
(ا۔پ۔پ، روزنامہ امروز، مورخہ ۶؍جون ۱۹۷۴ء)
عدالتی کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے قاضی محمد سلیم ( مجلس تحفظ ختم نبوت ) نے کہا کہ اس سانحہ کی تفتیش کرائمنز برانچ کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ٹربیونل انکوائری کر رہا ہے۔ دو مختلف انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ ان دونوں میں ممتاز حیثیت کس کو حاصل ہے؟ کسی فریق یا کسی ملزم کو اس سے شک کا فائدہ نہ پہنچے۔ مسٹر اسماعیل قریشی نے فرمایا کہ پروسیجر اور شہادتوں کا آغاز زخمیوں سے کیا جائے۔ رفیق احمد باجوہ نے کہا کہ ٹربیونل اور کرائمنز برانچ کی انکوائری میں تضاد کا قوی امکان ہے۔ خواجہ رفیق کے قتل کی تحقیقات کی مثال موجود ہے۔ اگر کرائمنز برانچ کی تفتیش روکی نہیں جاسکتی تو پروسیجر میں یہ بات شامل کی جائے کہ کرائمنز برانچ کے تفتیشی افسران ٹربیونل میں مع ریکارڈ پیش ہوں اور شہادت دیں۔ اگر کسی کونسل کے علم میں کوئی شہادت یا ایسا ریکارڈ ہو، جس سے ٹربیونل کو اس انکوائری میں مدد ملتی ہو تو ہمیں اس بات کا موقع حاصل رہنا چاہئے کہ جونہی ہمارے علم میں یہ بات آئے، ہم درخواست دے کر ان کو طلب کروا سکیں۔
گواہ نمبر۱....... ملک اقبال حسین ولد محمد حسین لگیج گارڈ (چناب ایکسپریس) قادیانی
میں ۲۹؍ مئی کو چناب ایکسپریس پر بطور لگیج گارڈ سرگودھا سے لائل پور تک تعینات تھا۔ نذیر احمد خان انچارج گارڈ، آفتاب احمد وارثی کنڈیکٹر گارڈ تھے۔ ٹکٹ ایگزامینر چوہدری صدیق احمد تھے۔ میں دوسرے رننگ سٹاف کا نام نہیں جانتا۔ صرف ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر کا نام جانتا ہوں اور کسی کا نام نہیں جانتا ہوں۔ ویسے چہرے سے پہچانتا ہوں۔ اسٹیشن ماسٹر کا نام مرزا مشتاق احمد ہے۔ مرزا مشتاق احمد احمدی ہیں۔ دوسرے مذکورہ حضرات احمدی نہیں۔
میری بریک، انجن کے ساتھ تھی جو ربوہ اسٹیشن پر پلیٹ فارم سے آگے نکل گئی۔ میں نے اتر کر اپنا کام کیا جو سامان رکھنا تھا وہ رکھوایا۔ پھر بریک میں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد پانی والے نے آکر بتایا کہ پیچھے لڑائی ہو رہی ہے میں سمجھا کہ مسافر سیٹ حاصل کرنے کے لئے جھگڑ رہے ہوں گے۔ میں نے اس کو اہمیت نہ دی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اس نے پھر آکر کہا کہ لڑائی بہت شدید ہو رہی ہے۔ آپ جائیں، میں ایس ایم کے دفتر گیا۔ وہاں ایک آدمی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی قمیص پھٹی ہوئی تھی۔ اس کی پیٹھ پر ڈنڈے کا داغ تھا۔ کان سیاہ ہو رہا تھا اور خون بھی بہہ رہا تھا۔ اسٹیشن ماسٹر اور گارڈ موجود تھا۔ اسٹیشن ماسٹر کہہ رہا تھا کہ گارڈ گاڑی چلا دے۔ لیکن گارڈ کہہ رہا تھا کہ بہت سے مسافر زخمی ہوئے ہیں۔ جب تک پولیس کی مدد نہ آ جائے وہ گاڑی نہ چلائے گا۔ مبادا کچھ زخمی مسافر رہ نہ جائیں۔ پانچ دس منٹ تک یہ باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد میں اور گارڈ انچارج زخمی مسافر کو بریک وین میں لائے۔ میں نے فرسٹ ایڈ کرنی چاہی۔ مگر گارڈ انچارج نے کہا آپ نہ کریں۔ گارڈ انچارج کی بریک وین کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ گیارہ بوگیوں کی گاڑی تھی۔ بریک وین کے پیچھے دو اور بوگیاں تھیں۔ میں اپنی بریک وین میں آ گیا، جو محفوظ تھی۔ میں بہت پریشان تھا۔ جب میں نے صورتحال کی شدت کو محسوس کیا تو میں نے چلا کر کہا کہ ربوہ والوں کو یہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ یہ انتہائی سفاکی اور ظلم ہے جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس کے بعد میں اپنی بریک وین کی طرف چلا گیا۔ لوگ مسافروں کو کہہ رہے تھے کہ اپنی گاڑی کی کھڑکیاں بند کر لو۔ گاڑی وہاں ۴۳ منٹ کھڑی ہونے کے بعد چلی۔ جب میں اپنی وین کی طرف جا رہا تھا، بیس پچیس آدمی انجن کی طرف سے پیچھے کی طرف جا رہے تھے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے احمدیت زندہ باد، نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔ میں نے پلیٹ فارم پر اور کوئی زخمی نہ دیکھا۔ اگرچہ پلیٹ فارم پر خون کے دھبے دیکھے۔ میں زخمیوں کو دیکھنے کے لئے بوگیوں میں نہ گیا۔ دو تین لوگ بوگیوں میں پانی پلا رہے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پلیٹ فارم سے نیچے کھڑی ہونے والی آخری دو بوگیوں میں لڑائی ہوئی۔ اس کے بعد اپنے گھر چلا گیا۔
چوہدری نذیر احمد انچارج گارڈ (احمدی)
میں نے واقعہ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ کیونکہ جو کچھ ہوا تھا وہ انسانیت اور شرافت کے خلاف تھا اور میں ڈرتا تھا کہ اس کے ردعمل میں خیریت سے گھر نہیں جاسکوں گا۔ میں نے اصل واقعہ نہیں دیکھا تھا۔ میں جب گاڑی سے اترا تو حملہ آور جاچکے تھے۔ اس لئے میں ان کی تعداد نہیں بتا سکتا۔ جب گاڑی پلیٹ فارم میں داخل ہوئی تو میں نے پلیٹ فارم پر نہیں دیکھا کہ آیا مجمع معمول کے مطابق تھا یا غیر معمولی تھا۔ ربوہ پر گاڑی کا مقررہ سٹاپ دو منٹ ہے۔ اسٹیشن ماسٹر ربوہ احمدی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ زنجیریں کھینچی گئی تھیں۔ جس سے بریکیں لگ گئی تھیں۔ فائر مین ویکم کو ٹھیک کر رہا تھا۔ ربوہ اسٹیشن پر کوئی پولیس والا نہیں دیکھا تھا۔ گاڑی میں تو تین آدمی پولیس کے ہوتے ہیں۔ انچارج گارڈ کی بوگی کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ اس کی بوگی کے پیچھے دو بوگیاں تھیں۔ ایک عام مسافروں کی اور ایک طلباء کی۔ یہ دونوں پلیٹ فارم کے نیچے تھیں۔ ان کے علاوہ اور کسی بوگی کے شیشے نہیں ٹوٹے۔ میں نے آخری دو بوگیوں کے شیشے نہیں دیکھے تھے۔
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں
میں (محمد اقبال حسین لگیج گارڈ) ۱۹۵۷ء سے احمدی ہوا ہوں۔ وقوعہ کے دن سرگودھا سے سوار ہوا تھا۔ جب گاڑی ربوہ پلیٹ فارم پر پہنچی تو میں نے باہر دیکھا۔ مجمع معمول کے مطابق تھا۔ عام طور پر ربوہ اسٹیشن پر اس گاڑی پر سو پچاس آدمی موجود ہوتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے کہ ۲۹؍ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا۔ میں نے گاڑی سے اترتے ہی پلیٹ فارم پر نگاہ نہیں ڈالی۔ میں نے صرف اخبار کا ایک بنڈل لوڈ کیا۔ بنڈل اخبار، اسٹیشن پر پانی والا یا جھاڑو والا لے کر آیا تھا۔ اخبار الفضل کا بنڈل تھا۔ سرکاری طور پر لے جارہا تھا۔ الفضل احمدیہ جماعت کا آرگن ہے۔ اخبار لوڈ کر کے تالا لگانے کے بعد اپنی بریک وین میں جا کر بیٹھ گیا۔ اخبار لوڈ کرنے کے لئے تالا کھولنے، لوڈ کرنے اور تالا لگانے میں تین چار منٹ لگے ہوں گے۔ میرے دوبارہ سوار ہونے تک گاڑی کے ٹھہرنے کا مقررہ وقت پورا ہوچکا تھا۔ میں سمجھا کہ کسی دوسرے گاڑی کا کراس ہوگا۔ اس اثناء میں میں نے باہر نکل کر نہیں دیکھا۔ اخبار لوڈ کرنے کے بعد دس بارہ منٹ بریک وین میں بیٹھا رہا۔ جب مجھے پانی والے نے دوبارہ بتایا تو میں وین سے باہر نکلا اور اسٹیشن ماسٹر کے دفتر گیا جو چار بوگی پیچھے تھا۔ جب میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کی طرف گیا تو اس وقت دس پندرہ آدمی پلیٹ فارم پر تھے۔ یہ سارا واقعہ اس دوران میں ہو گیا جس وقت میں اپنی وین میں پردہ نشین ہوگیا تھا۔ بعد میں، میں نے نو بوگیوں تک پیچھے جا کر دیکھا۔ گارڈ انچارج نے مجھے لڑائی کا بتایا تھا۔ لیکن کتنے آدمی زخمی ہوئے۔ کیا ہتھیار استعمال ہوئے۔ یہ میں نے نہیں دیکھا۔ وقوعہ کے بعد تیس مئی کو پھر ربوہ گیا۔ پولیس انکوائری کے لئے مجھے بلایا گیا تھا۔ مجھے ڈی۔آئی۔بی، سی۔آئی۔اے ریلوے نے بلایا تھا۔ اس کا نام نہیں جانتا۔ وہ چٹ پیش کی جو ڈی۔ایس۔پی نے بھیجی تھی۔ (محمد جمیل سب ڈویژنل پولیس انسپکٹر تفتیشی افسر نے بلایا تھا) محمد جمیل صاحب نے مجھے لائل پور میرے گھر بذریعہ Call Man بلوایا تھا۔ ایک کا نام محبوب تھا۔ وہ ۲۹، ۳۰؍ مئی ۱۹۷۴ء کی شب ۱۲ بجے رات کو میرے گھر پہنچا۔ دوسرے کال مین کی آواز نہیں پہچانی تھی۔ غالباً محمد صدیق لیمپ مین تھا پونے چار بجے اس نے آکر جگایا۔ میں بذریعہ ریل کار ربوہ چلا گیا۔ ساڑھے پانچ، پونے چھ ربوہ پہنچ گیا ہوں گا۔ ان دو لیمپ مین کا میری جماعت سے تعلق نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰ مئی کو ربوہ میں ساڑھے پانچ صبح پولیس آفیسر کو ریلوے پلیٹ فارم پر ملا۔ اس کے سامنے میں نے کوئی بیان نہ دیا۔ البتہ ویٹنگ روم میں نو بجے ساڑھے نو صبح ایک سب انسپکٹر کو میں نے اپنے ہاتھ سے اپنا بیان لکھ کر دیا تھا۔ نذیر احمد خان انچارج گارڈ، رفیق احمد S.T.E، مسٹر وارثی کنڈیکٹر گارڈ اور ڈرائیور نے اکٹھے بیان دیئے تھے۔ ان سب حضرات نے خود لکھ کر بیان دیا۔ میں نے ان کے بیانات نہیں پڑھے۔ ہمارے بیان پولیس آفیسر نے زبانی نہیں لئے تھے۔
میں ساڑھے پانچ بجے صبح سے لے کر نو ساڑھے نو بجے تک ویٹنگ روم میں بیٹھا رہا اور کچھ نہیں کرتا رہا۔ ڈرائیور لاہور سے آیا تھا۔ کنڈیکٹر گارڈ سرگودھا سے آیا تھا۔ اس موقعہ پر میں نے سب سے پوچھا تھا کہ واقعہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اسٹیشن پر ۳۰۰، ۴۰۰ آدمی وقوعہ کے وقت موجود تھے۔ مجھے یہ پتہ نہیں چلا کہ طلباء کی پٹائی میں کیا ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔
ربوہ شہر کی آبادی منتشر ہے جو محلہ اسٹیشن سے قریب ہے۔ وہ ۱۰۰، ۲۰۰ فٹ کے فاصلے پر ہے اس محلہ میں پورے ربوہ شہر میں سارے احمدی ہی رہتے ہیں۔ میں ۳۰ مئی کو تین بجے فارغ ہوا۔ اسی وقت ریل کار کے ذریعے واپس لائل پور آ گیا۔ ۳۰ کے بعد میں نے اس واقعہ کا ذکر اپنی جماعت کے کسی معتبر آدمی (Leader) سے نہیں کیا۔ کیونکہ میں ان سے نہیں ملا۔ جمعہ کے دن ہماری جماعت کا ایک ورکر جس کا نام محمد ایوب ہے، میری عافیت پوچھنے آیا تھا۔ وہ ہر ماہ مجھ سے چندہ لینے آتا ہے۔ اس کا عہدہ ایک کارکن کا ہے۔ میں اپنی تنخواہ کا ایک مخصوص حصہ ہر ماہ چندہ اپنی جماعت کو دیتا ہوں۔ میں نے اس سانحہ کے بارے میں کوئی تحریری بیان اپنی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کو نہیں بھیجا۔
مسٹر ایم. اے رحمن صاحب کی جرح کے جواب میں
سرگودھا اسٹیشن پر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ۲۹ مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے لڑکے پشاور سے ملتان اسی گاڑی پر سفر کر رہے ہیں۔ سرگودھا میں ایک گھنٹہ گاڑی لیٹ پہنچنے کی خبر تھی۔ لیکن کچھ Make up کر کے پہلے آگئی تھی۔ سرگودھا پلیٹ فارم پر میں نے اپنی جماعت کے کچھ لوگوں کو گھومتے پھرتے نہیں دیکھا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ سرگودھا کے کچھ ہماری جماعت کے لوگ گاڑی پر سوار ہوئے۔ یہ درست نہیں کہ میں نے اپنی گاڑی کی کھڑکیاں اس لئے بند کر لی تھیں کہ مجھے پتہ تھا کہ ربوہ میں کچھ ہونا تھا۔ میں نے ربوہ میں صرف ایک زخمی آدمی کو دیکھ کر ربوہ والوں کے ظلم کی بناء پر اس مذہب کو سلام کیا تھا۔ میں نے اس وقت اس Faith سے بیزاری کا اظہار کر لیا تھا۔
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
میں نے سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۷۳ء میں خلیفہ صاحب کی تقریر سنی تھی۔ انہوں نے تبلیغ کے لئے چندہ کی خصوصی اپیل کی تھی۔ انہوں نے سوا سال کے اندر اڑھائی کروڑ روپے جمع کرنے کی اپیل کی تھی اور زیادہ سے زیادہ کارکنوں کے لئے مبلغ بننے کی اپیل کی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے احمدی فرقے سے گھوڑے جمع کرنے کی اپیل کی تھی۔ ذاتی طور پر ریٹائرڈ ایئر مارشل ظفر چوہدری کو نہیں جانتا۔ جب وہ ریٹائرڈ ہوئے تو مجھے پتہ چلا کہ وہ احمدی ہیں۔ مجھے دسمبر ۱۹۷۳ء سے لے کر ۱۳ مئی ۱۹۷۴ء تک کوئی ہدایت نہیں ملی کہ اپنی دوکان انشور کرالوں۔ میں نے اپنا زندگی کا بیمہ نہیں کرایا۔ جب میں احمدی ہوا تو میں نے اپنا بیمہ چھوڑ دیا تھا۔ پولیس بوگی میں جو اس گاڑی کے ساتھ تھی۔ صرف تین آدمی تھے۔ ریلوے پولیس کے کانسٹیبل ریلوے اسٹیشن سے چار، چھ فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ میری موجودگی میں اسٹیشن ماسٹر کے کمرے سے پولیس کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ اسٹیشن ماسٹر کسی آدمی کو پولیس پوسٹ پر اطلاع کے لئے بھیج سکتا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب میں نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں ایک زخمی کو دیکھا تو میں نے خیال کیا کہ اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ میں نے اس لڑکے سے بھی نہیں پوچھا کہ کس کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ کیونکہ گارڈ انچارج نے مجھے اصل واقعہ سے آگاہ کر دیا تھا۔ گارڈ انچارج نے یہ نہیں بتایا کہ وقوعہ کیوں ہوا؟ گارڈ انچارج نے کچھ اس قسم کی بات بتائی تھی کہ تین چار سو لڑکوں نے حملہ کر کے گاڑی میں سوار مسافروں کو زخمی کر دیا۔ مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ پلیٹ فارم پر چلتے ہوئے مسافروں پر حملہ کیا گیا۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلفاء کی تمام تحریروں کو درست تسلیم کرتا ہوں اور ان پر یقین رکھتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ہماری جماعت کی کوئی مجاہد فورس یا رضا کار تنظیم ہے۔ ہمارے رضا کار ہوتے ہیں جو سالانہ جلسہ پر انتظام وغیرہ کرتے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد نہیں جانتا۔ میں نہیں مانتا کہ فرقان فورس کے نام سے کوئی تنظیم ہے۔ ڈیڑھ بجے سماعت ملتوی، کل دوسرے نکتہ پر بحث ہوگی۔ ۵؍ جون کی کارروائی کی خبر جو اخبارات کو بھجوائی، وہ یہ ہے۔
۵؍ جون ۱۹۷۴ء عدالت کا پریس نوٹ
لاہور: مؤرخہ ۶؍ جون (نامہ نگار خصوصی) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل مسٹر جسٹس کے ایم صمدانی کی عدالت میں آج چناب ایکسپریس کے گارڈ محمد اقبال کا بیان مکمل ہو گیا۔ گزشتہ روز گواہ کا جزوی بیان قلمبند کیا گیا تھا۔ ٹربیونل کی طرف سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل سے صبح کے علاوہ دوپہر تین بجے سے پانچ بجے شام تک ٹربیونل کا اجلاس ہوا کرے گا۔ آج صبح نو بجے ٹربیونل کا اجلاس شروع ہوا اور چناب ایکسپریس پر متعین لگیج گارڈ محمد اقبال پر مختلف تنظیموں کے نمائندہ وکلاء نے جرح کی۔ تاہم جب مسٹر رفیق احمد باجوہ کو جو قادیانی محاسبہ کمیٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ گواہ سے ایک سوال پوچھنے کی اجازت نہ دی گئی تو قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ نے جو تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کر رہے ہیں اپنی تنظیم کی ہدایت پر ٹربیونل کی کارروائی میں مزید حصہ نہ لینے کی اجازت چاہی تو اس پر ٹربیونل نے واضح کیا کہ چونکہ کسی ایک تنظیم کو بھی ٹربیونل کی جانب سے فریق نہیں بنایا گیا اور مختلف تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کو ان کے اپنے ایماء پر ٹربیونل کی کارروائی میں حصہ لینے اور ٹربیونل کی مدد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لہٰذا کسی ایک فرد کا ٹربیونل کی کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فاضل عدالت نے اس صورتحال سے قاضی محمد سلیم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹربیونل کی کارروائی سے اظہار لاتعلقی کرنا چاہتے ہیں تو اس سلسلہ میں انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور وہ بخوشی ایسا کر سکتے ہیں۔ اس مرحلہ پر قاضی محمد سلیم کمرہ عدالت سے چلے گئے۔ تاہم دیگر وکلاء نے گواہ محمد اقبال پر جرح جاری رکھی۔ گواہ پر جرح ڈیڑھ بجے دوپہر مکمل ہوئی اور ٹربیونل نے آج کے لئے اپنی کارروائی مکمل کر لی۔ آج بھی کمرہ عدالت مختلف تنظیموں کے نمائندہ وکلاء اور عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
(نوائے وقت مؤرخہ ۶؍ جون ۱۹۷۴ء)
۶؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
ٹربیونل کی کارروائی اخبارات میں شائع کرنے کے بارے میں بحث ہوئی کہ پوری کارروائی لفظ بلفظ شائع ہونی چاہئے۔ اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے فرمایا کہ ان کی حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تاہم وہ مزید ہدایت حاصل کریں گے۔ ٹربیونل نے فرمایا کہ وہ گیارہ بجے تک یا زیادہ ایک بجے تک حکومت کی ہدایت حاصل کر کے عدالت کو بتائیں۔ اس کے بعد عدالت نے نقول کے بارے میں فیصلہ دیا کہ کارروائی کی مصدقہ نقول حاصل کی جاسکتی ہے جو صاحب نقول حاصل کرنا چاہیں وہ درخواست دے دیں۔ جونہی کسی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیان پر عدالت کے دستخط ہو جائیں گے اس کے بعد نقول مل سکیں گی۔ کارروائی کے آغاز میں عدالت نے کہا کہ کل ہم نے یہ طے کیا تھا۔ پہلے Scope of Enquiry کے بارے میں بات کر لیں۔
لطیف رانا صاحب (J.U.P) نے پنجاب اسمبلی کی کارروائی اور بھٹو صاحب کے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کو اقلیت قرار دیا جائے تا کہ ان کو ملک میں تحفظ حاصل ہو سکے۔
رانا عبدالرحیم صاحب (ہائیکورٹ بار): منیر انکوائری رپورٹ پہلے سے موجود ہے۔ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ہم اس مرحلے پر کھڑے ہیں۔ جہاں ہماری تاریخ نیا موڑ لے رہی ہے۔ اس لئے اب ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا چاہئے۔
عدالت: منیر رپورٹ ہمارے لئے نظیر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ان کے ٹرمز آف ریفرنس اس انکوائری کے ٹرمز آف ریفرنس سے مختلف تھے۔
رانا عبدالرحیم صاحب: چھوٹے سے چھوٹے فوج داری مقدمے میں بھی محرک تلاش کیا جاتا ہے۔ اس اہم معاملے میں ہم اگر محرک کو تلاش نہیں کریں گے تو ہم اپنے فرض سے کوتاہی کریں گے۔
عدالت: فوری عوامل اور فوری محرکات کا نوٹس لینا تو ضروری ہے۔ لیکن کسی معاملے کی تاریخ کا تجزیہ کرنا ضروری نہیں۔ اب ہمیں شہادت شروع کرنی چاہئے۔
گواہ نمبر ۱...... (ملک اقبال حسین) رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
زیادہ تر مسافر گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں دوبارہ باہر نکلا تو کچھ لوگ مسافروں میں سے جو باہر تھے کوئی نعرہ نہیں لگا رہے تھے۔ نہ مسافر کسی سے الجھ رہے تھے اور نہ کسی کو بچا رہے تھے۔
مسافروں نے اپنے ڈبوں کی کھڑکیاں بند کر رکھی تھیں۔ کیونکہ کچھ لوگ ان کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ کھڑکیاں بند کر لو۔ گاڑی کے آنے کے دومنٹ بعد میں نے سگنل کو ڈاؤن ہوا نہیں دیکھا۔ میں نے سگنل کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس لئے اس کی پوزیشن نہیں بتا سکتا۔ اگر گاڑی معمول سے زیادہ اسٹیشن پر ٹھہرے تو اس کی وجوہ کا اندراج انچارج گارڈ کے پاس ایک رجسٹر میں ہوتا ہے جو اسی کام کے لئے رکھا جاتا ہے۔ گارڈ اپنے اس رجسٹر میں ایسے واقعات کا اندراج بھی کرتا ہے جو گاڑی میں وقوع پذیر ہوں جو قابل دست اندازی پولیس ہو۔ گارڈ انچارج کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں ایسے واقعات کا اندراج اپنے رجسٹر میں کرے اور اسٹیشن ماسٹر کے ذریعے قریبی ریلوے پولیس کے تھانے میں اطلاع دے۔ میرے پاس لڑکوں کا سامان کوئی نہیں تھا۔ اس گاڑی پر عام طور پر فرسٹ اور سیکنڈ کلاس کے مسافر ہوتے ہیں۔ لیکن میرے علم میں نہیں کہ اس دن کوئی مسافر تھا یا نہیں۔ جس نے فرسٹ یا سیکنڈ کلاس میں کوئی ریزرویشن کرایا تھا یا نہیں۔ اس مرحلے پر جناب ایم انور نے کہا کہ Terms of Reference میں جو کچھ مطلوب ہے اس کے لئے اس طرح کے سوالات کی اجازت ہونی چاہئے کہ آیا ایک عام احمدی حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی اور نبی پر یقین رکھتا ہے یا نہیں۔ ہم سر براہ جماعت احمدیہ کو بھی مناسب وقت پر طلب کریں گے۔ عدالت نے شکریہ ادا کیا۔
قاضی محمد سلیم نے اعلان کیا اگر اس سوال کی اجازت نہیں دی جاتی تو مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علمائے پاکستان واک آؤٹ کرتے ہیں۔ قاضی صاحب چلے گئے اور محمود احمد رضوی صاحب بھی چلے گئے۔ لیکن لطیف رانا صاحب نے کہا کہ وہ اپنے موکل سے مزید ہدایات لینے جا رہے ہیں۔ انہیں رفیق احمد باجوہ صاحب کے بعد جرح کرنی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
میں نے مرزا بشیر الدین محمود یا موجودہ خلیفہ کی کوئی تحریر نہیں پڑھی۔ جس میں یہ کہا گیا ہو کہ پاکستان کا چھٹا صدر قادیانی ہوگا۔ یہ بھی نہیں پڑھا کہ احمدیت کا جلد از جلد پاکستان پر تسلط ہو جائے گا۔ میں نے یہ بھی الفضل وغیرہ میں نہیں پڑھا کہ احمدیوں کا پاکستان میں سیاسی غلبہ ہو جائے گا۔ میں ایک سنی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس وقت سنی کہلاتا تھا۔ جب میں احمدی ہو گیا تو احمدی کہلوانا پسند کرتا ہوں۔ میں مسلمان کہلوانا زیادہ اچھا سمجھتا ہوں۔ میں نے الفضل یا دیگر احمدی لٹریچر میں اکھنڈ بھارت کے متعلق کچھ نہیں پڑھا۔
ساڑھے دس بجے صبح...... وقفہ ...... گیارہ بجے تک
بعد وقفہ: اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بیان دیا کہ حکومت کو ٹربیونل کی کارروائی کی اشاعت پر اعتراض نہیں ہے۔ البتہ پریس کے لئے جو پابندی ہے اسے Violate نہ کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ اخبارات، بیان، گواہان ضرور شائع کریں۔ لیکن یہ احتیاط کریں کہ غلط رپورٹنگ نہ ہو۔
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
یہ بات میرے علم میں ہے کہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی اہلیہ کے مزار پر یہ لکھا ہے کہ انہیں امانتاً دفن کیا گیا ہے اور مناسب وقت پر قادیان میں دفن کیا جائے گا اور کسی کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ خاندان مسیح موعود کے سب لوگوں کو امانتاً ربوہ میں دفن کیا جاتا ہے۔ یہ درست نہیں کہ اس طرح کی عبارتیں دوسری قبروں پر بھی ربوہ کے قبرستان میں درج ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ زرعی یونیورسٹی لائل پور اور دوسرے تعلیمی اداروں کے ہوسٹلوں میں رہنے والے احمدی طالب علموں نے بھی اس وقوعہ کے چند روز قبل ہوسٹل خالی کر دیئے تھے۔
اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں
میں (گواہ اقبال گارڈ) نے کبھی ربوہ اسٹیشن پر کسی کو نعرے لگاتے ہوئے نہیں سنا۔ ربوہ اسٹیشن کے قریب غلہ منڈی ہے۔ بازار بھی ہے۔ چھوٹا بازار آدھ فرلانگ کے فاصلے پر ہوگا۔ غلہ منڈی دو فرلانگ کے فاصلے پر ہوگی۔ اسٹیشن کی عمارت کے سامنے کھلی جگہ ہے۔ نہ دیوار ہے، نہ جنگل۔ میں غیر احمدی رسالوں میں سے جو ریلوے لائبریری میں آتے ہیں، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ، حکایت، لیل ونہار اور چٹان پڑھتا ہوں۔ ان رسالوں میں ہر ایک میں احمدیت کے خلاف مواد شائع ہوتا ہے۔ ان کے لہجے میں، میں تلخی محسوس نہیں کرتا۔ میری اطلاع کے مطابق جو پتھر بعض مسافروں نے ربوہ کے پچھلے اسٹیشنوں سے جمع کئے تھے۔ وہ استعمال نہیں کئے گئے۔ اگر مجھے ربوہ اسٹیشن پر یہ بتا دیا جاتا کہ کچھ مسافروں نے پتھر جمع کئے ہیں تو پھر بھی میں ربوہ والوں کی اس حرکت کی مذمت کرتا۔ میری اطلاع کے مطابق ربوہ کے اس واقعہ کے بعد اس کے نتیجے کے طور پر ۳۰ آدمی مارے گئے۔ مالی اور جائیداد کا نقصان بھی بے حساب ہوا ہے۔ جب یہ گاڑی لائل پور اسٹیشن پر پہنچی تو پلیٹ فارم پر بہت بھیڑ تھی۔ لائل پور اسٹیشن پر فرنچ کٹ داڑھی والا جو شخص پیٹا گیا۔ وہ احمدی تھا۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جرح کے جواب میں
گیارہ بوگی والی چناب ایکسپریس کی لمبائی ربوہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کے برابر ہوگی۔ دونوں بریک وین پلیٹ فارم پر تھیں۔ جو بیان میں نے آج دیا ہے، وہ درست ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ٹرین کی آخری دو بوگیاں پلیٹ فارم کے نیچے اتری ہوئی تھیں۔ جب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ پیچھے سے تیسری بوگی گارڈ انچارج کی بریک وین پلیٹ فارم پر تھی۔ مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر کھڑی ہوئی تھی تو کوئی ویکم بریک کھینچی گئی تھی۔ اگر ایک سے زائد ویکم استعمال کئے جائیں تو گاڑی کو چلانے کے لئے سب کو ٹھیک کرنا پڑے گا اور گاڑی چلانے میں زیادہ وقت لگے گا۔ میں نے سنا تھا کہ دو بوگیوں کے درمیان ویکم پائپ الگ کر دیئے گئے تھے۔ جب کہ گاڑی رکی ہوئی تھی۔ ساری گاڑی کے ویکم پائپ الگ کر دیئے گئے تھے۔ یہ درست ہے کہ جب تک سارے ویکم پائپ جوڑ نہ دیئے جائیں۔ گاڑی نہیں چل سکتی۔ گاڑی کے روانہ ہونے سے ایک منٹ پہلے میں نے سگنل ڈاؤن دیکھا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ پھر اپ کر دیا گیا ہو۔ میرے علم میں نہیں کہ اسٹیشن ماسٹر نے ڈرائیور کو کلیرنس دے دیا تھا یا نہیں۔ جب کہ وہ گارڈ کو کہہ رہا تھا کہ گاڑی چلا دو اور وہ ایسا کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ کیونکہ اسے یہ اطمینان نہ تھا کہ سب مسافر گاڑی پر دوبارہ سوار ہو چکے ہیں۔
کچھ عورتیں ویٹنگ روم میں موجود تھیں۔ لیکن وہ کوئی نعرے نہیں لگا رہی تھیں۔ آل انڈیا ریڈیو نے ایسوسی ایٹڈ پریس امریکہ کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ ربوہ کے واقعہ کے بعد تیس جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس علم کی بناء پر میں نے آج یہ بیان دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے کسی احمدی کو اس دوران مرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اب تک کسی ایک بھی احمدی کی جان ضائع نہ ہوئی ہو۔ میرے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ کسی احمدی نے اپنے گھر پر حملے کے موقع پر فائر کیا ہو اور اس کے نتیجے میں کوئی غیر احمدی حملہ آور زخمی ہوا یا مر گیا ہو۔
گواہ نمبر ۲ ...... آفتاب احمد وارثی
لاہور : مورخہ ۷ / جون (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسٹر کے۔ ایم صمدانی پر مشتمل تحقیقاتی ٹربیونل نے آج واقعہ ربوہ کے سلسلے میں مزید دو گواہوں کنڈیکٹر گارڈ آفتاب احمد وارثی اور گارڈ انچارج نذیر احمد خان کی شہادت قلمبند کی ۔ مسٹر وارثی کی شہادت اور مختلف تنظیموں کے نمائندہ وکلاء کی ان پر جرح آج مکمل ہو گئی۔ جب کہ نذیر احمد خان پر کل جرح کی جائے گی۔ آج ٹربیونل کے دو اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس ۹ بجے شروع ہو کر ساڑھے بارہ بجے دوپہر تک جاری رہا۔ جب کہ دوسرا اجلاس ۳ بجے دوپہر سے ۵ بجے شام تک رہا۔ آج جن دو گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی گئیں۔ ان کا تعلق وقوعہ کے روز ربوہ سے گزرنے والی ایکسپریس ٹرین پر متعین عملے سے ہے۔ آج دوپہر فاضل عدالت نے گواہ نذیر احمد خان کا بیان قلمبند کیا جو چناب ایکسپریس کے گارڈ انچارج ہیں۔ نذیر احمد خان نے فاضل عدالت کے استفسار پر بتایا کہ وہ احمدی فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس نے بتایا کہ وقوعہ کے روز جب وہ چناب ایکسپریس پر متعین تھا۔ اس نے ربوہ پہنچنے سے قبل کسی قابل ذکر بات کا نوٹس نہیں لیا۔ تاہم واقعہ کے بعد جب اس نے ربوہ پہنچنے سے قبل واقعات کا جائزہ لیا تو اسے بعض ایسے غیر معمولی واقعات یاد آئے جو سرگودھا اور ربوہ کے درمیان چناب ایکسپریس پر پیش آئے۔ اس ضمن میں گواہ نے بتایا کہ معمول کے مطابق چیف پارسل کلرک گاڑی پر نہیں آتا۔ لیکن وقوعہ کے روز چیف پارسل کلرک ( سرگودھا ) جو احمدی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے گاڑی پر آیا اور اس نے خاص طور پر اس ڈبے کی طرف دیکھا جس میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء سوار تھے۔ گواہ نے بتایا کہ وہ ہر روز لائل پور سے سرگودھا جانے والی ریل کار جو صبح ۴ بج کر ۱۵ منٹ پر لائل پور سے چل کر ۶ بج کر ۴۵ منٹ پر سرگودھا پہنچتی ہے، پر متعین ہوتا ہے۔ یہ ریل کار نشتر آباد کے ریلوے اسٹیشن پر ۱۹ منٹ رکتی ہے۔ تاکہ ۳۰ ڈاؤن سرگودھا ایکسپریس کو جو نشتر آباد میں نہیں رکتی ، کراس دیا جائے ۔ گواہ نے بتایا کہ جس روز ربوہ کا واقعہ پیش آیا۔ سرگودھا ایکسپریس نشتر آباد کے ریلوے اسٹیشن پر رکی۔ نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر داؤد نے جو کہ قادیانی فرقے سے تعلق
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھتے ہیں۔ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر منظور احمد کو لاہور جانے والی اس گاڑی میں سوار کرایا۔ گواہ نے واضح کیا کہ سرگودھا ایکسپریس سرگودھا سے براستہ ربوہ، چنیوٹ لاہور جاتی ہے۔ اس کے بعد میں اپنی گاڑی لے کر سرگودھا چلا گیا۔ وہاں سے میں نے چناب ایکسپریس پر سوار ہونا تھا جو کہ اس روز ۳۰ منٹ لیٹ آئی اور اس طرح سرگودھا سے ۵۰ منٹ لیٹ روانہ ہوئی۔ جب میں چناب ایکسپریس پر ۹ بج کر ۲۶ منٹ پر نشتر آباد سے گزرا تو اسٹیشن ماسٹر داؤد ڈیوٹی پر تھے۔ مسٹر داؤد پلیٹ فارم پر کھڑے تھے اور وہ سیکنڈ کلاس کے اس ڈبے میں جس میں نشتر کالج کے طلباء سوار تھے، جھانک رہے تھے۔ گواہ نے کہا کہ وہ طرز عمل کا نوٹس نہ لیتا۔ لیکن موقع پر موجود اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر نے مسٹر داؤد سے استفسار کیا کہ وہ کیا چیز تلاش کر رہے ہیں۔ جس پر اسٹیشن ماسٹر نے جواب دیا کہ کوئی خاص چیز نہیں۔ گواہ نے بتایا کہ عام حالات میں اسٹیشن ماسٹر پلیٹ فارم پر نہیں آتے۔
گواہ نے بتایا کہ جب ریل گاڑی ربوہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچی تو کسی نے خطرے کی زنجیر کھینچ دی جس کی بناء پر ریل گاڑی پلیٹ فارم پر اپنی معمول کی جگہ سے کچھ فاصلہ پر رک گئی اور اس طرح آخری دو بوگیاں پلیٹ فارم تک نہ پہنچ سکیں۔ گواہ نے بتایا کہ آخری سے پہلی بوگی میں طلباء سوار تھے۔ اس کا اپنا کمرہ انجن سے آٹھواں تھا۔ گواہ نے کہا جب میں گاڑی سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ آٹھ دس لوگ سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے ایک شخص کو گھسیٹ رہے ہیں اور اسے زدوکوب کر رہے ہیں اور یہ وہی بوگی تھی جہاں سے زنجیر کھینچی گئی تھی اور اسی ڈبے میں نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر مسٹر داؤد نے اندر جھانکا تھا۔ گواہ نے بتایا کہ جب وہ موقع پر گیا تو اتنے لوگ جمع ہو چکے تھے کہ وہ اور کچھ نہ دیکھ سکا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ جس شخص کو زدوکوب کیا جا رہا تھا وہ طالب علم ہے۔ گواہ نے کہا کہ ٹرین کے ایک ڈبے میں موجود ریلوے پولیس سے اس نے رابطہ قائم کیا۔ لیکن وہ موقع پر پہنچنے میں ناکام رہی۔ گواہ نے مزید کہا کہ اسی اثناء میں، میں نے دیکھا کہ ریل گاڑی کے عقب میں لوگوں کی کثیر تعداد اکٹھی ہو چکی تھی اور بعض لوگ طلباء کے ڈبے کی کھڑکیاں توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس موقع پر کافی چیخ و پکار تھی۔ جس سے اسے موقع کی نزاکت کا احساس ہوا۔ نذیر احمد خان نے بتایا کہ اس بناء پر اس نے اسٹیشن ماسٹر ربوہ سے، جو ربوہ میں خاص با اثر سمجھے جاتے ہیں، رابطہ قائم کیا اور انہیں موقعہ کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ اسٹیشن ماسٹر سیکنڈ کلاس کی بوگی تک گئے اور انہوں نے زخمی طالب علم کو دیکھا۔ گواہ نے کہا جب اس نے اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ سیکورٹی فورس اور پولیس یا ایس۔ پی لائل پور اور ایس۔ پی جھنگ کو واقعہ کی اطلاع کی جائے تو انہوں نے ایسا نہ کیا۔ گواہ نے بتایا کہ اسٹیشن ماسٹر کا نام سمیع تھا اور وہ قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ اس کے بعد میں نے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں کنٹرول فون اٹھایا اور کنٹرولر لائل پور کو واقعہ کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ وہ جو کچھ اس واقعہ کے سلسلہ میں کر سکتے ہیں، کریں۔ جس پر کنٹرولر نے یقین دلایا کہ جو کچھ ممکن ہوگا، وہ کریں گے۔ جب میں طلباء کی بوگی تک گیا تو میں نے دیکھا کہ بوگی کی کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں اور کچھ طلباء کو جو بوگی کے اندر اور کچھ کو اندر سے باہر کھینچ کر مارا پیٹا جا رہا ہے۔ اس کے بعد میں بھاگ کر دوبارہ اسٹیشن پر آیا اور کنٹرولر سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد میں اپنی بوگی کی طرف گیا تو میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں نے یہ شک کرتے ہوئے کہ کسی طالب علم نے میری بوگی میں پناہ لی ہے۔ اس کی کھڑکیاں توڑ دیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ میری غیر حاضری میں ایک زخمی طالب علم نے میرے ڈبے میں پناہ لے کر دروازہ بند کر لیا تھا اور بوگی کی کھڑکیاں اس طالب علم کو باہر کھینچنے کے لئے توڑی گئی تھیں۔ گواہ نے اس مرحلہ پر بتایا کہ لگیج گارڈ جو قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے، نے بھی اسٹیشن ماسٹر کی طرح اس سے تعاون کرنے سے معذوری ظاہر کی اور یہ کہہ کر کہ میرا سامان چوری ہو جائے گا۔ اپنی ڈیوٹی پر واپس چلا گیا۔ حالانکہ سامان کو تالا لگا ہوتا ہے اور اس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی چوری کے امکانات نہیں ہوتے۔ گواہ نے بتایا کہ ساڑھے دس بجے جب کہ پلیٹ فارم پر ٹرین کو کھڑے ۲۵ منٹ گزر چکے تھے۔ اسٹیشن ماسٹر نے مجھ سے گاڑی چلانے کو کہا جس پر میں نے کہا کہ ان حالات میں جب کہ گاڑی کا ویکم کھینچا ہوا ہے اور طالب علموں کے پورے ہونے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔ میں گاڑی نہیں چلا سکتا۔ گواہ نے بتایا کہ جب وہ طلباء کی بوگی سے کنٹرول روم کی طرف گیا تو پناہ لینے کے لئے ایک زخمی طالب علم اس کے ساتھ آ گیا۔ اس کے جسم پر بنیان تک نہ تھی اور اس کی شلوار پھٹی ہوئی تھی اور اس کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ گواہ نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دس بجے پھر اسٹیشن ماسٹر نے دوبارہ اصرار کیا کہ گاڑی چلا دی جائے۔ اس سے قبل جب میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں بیٹھا تھا تو دو اشخاص آئے اور انہوں نے اسٹیشن ماسٹر سے بات چیت کی۔ تاہم میں نے گاڑی چلانے سے اس لئے انکار کر دیا کہ واقعہ کے بارے میں موقع پر ہی مقدمہ درج کیا جا سکے۔ لیکن کنٹرولر سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو اس نے کہا کہ گاڑی چلا دی جائے۔ چونکہ ربوہ میں بروقت طبی امداد نہیں دی جاسکتی۔
گواہ نے بتایا کہ جب وہ پلیٹ فارم پر واپس آگیا تو وہاں کوئی شرپسند موجود نہ تھا۔ چونکہ انہیں ربوہ کے بعض بااثر لوگوں نے پرے ہٹا دیا تھا۔ اس کے علاوہ میں نے یہ دیکھا کہ طلباء کا سامان ان کی ٹوٹی ہوئی کراکری اور ان کی دیگر چیزیں پلیٹ فارم پر بکھری پڑی تھیں۔ گواہ نے مزید بتایا کہ وہ زخمی لڑکے اپنے ساتھ لے آیا اور ٹرین کے ویکم کو درست کیا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کے بعد میں نے ٹرین میں موجود طلباء کی صحیح تعداد کے بارے میں استفسار کیا اور ان کے زخموں کے بارے میں معلومات حاصل کیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کتنے طلباء زخمی ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ چھ طلباء انتہائی زخمی حالت میں تھے۔ جن میں سے دو بیہوش تھے۔ طلباء نے اپنی صحیح تعداد بتانے سے معذوری کا اظہار کیا اور کہا کہ پشاور روانگی کے وقت ان کی تعداد ۱۵۰ تھی۔ لیکن واپسی پر بعض طلباء اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے ہر ڈبے میں آواز دی تا کہ کسی ڈبے میں کوئی زخمی ہو تو اسے باہر بلایا جا سکے۔ ایک ڈبے میں سے دو زخمی طلباء باہر آئے جنہیں میں نے اپنے ڈبے میں سوار کیا اور گاڑی چلانے کے لئے سگنل دیا۔ ربوہ سے دو میل دور ایک زیر مرمت پل کے قریب جب گاڑی رکی تو میں نے اپنے ابتدائی طبی امداد کے بکس کی مدد سے طلباء کو ابتدائی طبی امداد دی۔ چنیوٹ پہنچنے پر چنیوٹ کے چیف کنٹرولر کو واقعہ کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ لائل پور میں زخمی طلباء کی مکمل طبی امداد کا انتظام کیا گیا اور وہاں پر ڈاکٹروں کا بھی انتظام کیا گیا۔ گواہ نے بتایا کہ لائل پور پہنچنے پر ان زخمیوں کو جن کی حالت بہت نازک تھی، ان کو آکسیجن دی گئی۔ اسٹیشن پر ڈپٹی کمشنر اور ایس پی بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد بھی موجود تھی جو کہ نعرہ بازی کر رہی تھی۔ ان لوگوں کے پاس لاؤڈ سپیکر بھی تھے۔
(نوائے وقت مورخہ ۸؍ جون ۱۹۷۴ء)
۷؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
کارروائی سے متعلق اجمالی خبر جو اخبارات کو ٹربیونل نے جاری کی
لاہور: مؤرخہ ۷؍ جون لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی پر مشتمل ربوہ کے واقعہ کے تحقیقاتی ٹربیونل کے آج دو اجلاس ہوئے۔ جس میں دوسرے گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔ ٹربیونل تیسرے گواہ کا بیان قلمبند کر رہا تھا کہ سماعت کل پر ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ سماعت کا پہلا دور آج صبح نو بجے شروع ہوا۔ جس میں دوسرے گواہ پر جرح شروع کی گئی۔ صبح کا دور دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ سہ پہر تین بجے دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔ جس کے
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوران دوسرے گواہ پر جرح مکمل ہوگئی اور جزوی طور پر تیسرے گواہ پر جرح کی گئی۔ جس کے بعد سماعت کل سہ پہر پانچ بجے تک کے لئے ملتوی ہوگئی۔ آج کیو۔ایم سلیم ایڈووکیٹ ٹربیونل کے روبرو پیش ہوئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے کارروائی میں شریک ہونے کی درخواست کی، جو منظور کر لی گئی۔ عوام الناس کی جانب سے بعض وکلاء کی درخواست پر اخباری نمائندوں کو بتایا گیا کہ وہ موجودہ قانون کے تحت گواہوں کے بیانات پوری آزادی کے ساتھ شائع کر سکتے ہیں تاہم ٹربیونل اپنے پریس نوٹ جاری کرتا رہے گا۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی گئی کہ وہ ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر زخمی ہونے والے طلباء کے بارے میں طبی رپورٹیں کارروائی میں حصہ لینے والے وکلاء کو مہیا کریں۔ ہمارے اسٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق نشتر میڈیکل کالج کے زخمی طلباء جو اب صحت یاب ہو چکے ہیں۔ تحقیقاتی عدالت کے سامنے بیان دینے کے لئے کل ۸؍جون کو لاہور روانہ ہوں گے۔
(نوائے وقت مورخہ ۸؍جون ۱۹۷۴ء)
مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں
حملہ آور جنہوں نے طلباء کی بوگی پر حملہ کیا تھا۔ طلباء کی تعداد سے دو سے تین گنا تھی۔ اس لئے یہ سینکڑوں میں تھے۔ حملہ آوروں کے علاوہ بہت سے تماشائی بھی اسٹیشن پر تھے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ حملہ آور اور تماشائی تین ہزار کے قریب تھے۔ اسٹیشن پر جو نعرے لگ رہے تھے، ان سے خیال ہے کہ تمام حملہ آور احمدی تھے۔
اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں
جب مجمع احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا میرے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے۔ اس وقت انہوں نے کہا یہ احمدیت کی لڑائی ہے۔ لوگ جو پل پر کھڑے تھے۔ انہوں نے بھی کہا: ”یہ احمدیت کی لڑائی ہے۔“ فسادیوں نے حملے کے بعد بھنگڑا بھی ڈالا جب کہ وہ نعرے لگا رہے تھے۔ کوئی بیس پچیس یا بائیس طلباء پنڈی اسٹیشن پر فرسٹ کلاس کے ڈبے میں بیٹھے تھے۔ میں انہیں خود ان کے چہرے سے طالب علم کے طور پر خیال کر رہا تھا۔ پہلے وہ میرے ساتھ بحث کرتے رہے۔ لیکن میرے زور دینے پر انہوں نے فرسٹ کلاس کا ڈبہ چھوڑ دیا۔
جناب رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
ربوہ کے قریبی اسٹیشن ایک طرف لالیاں اور دوسری طرف چنیوٹ ہیں۔ دونوں ربوہ سے بذریعہ ٹیلی فون منسلک ہیں۔ زیادہ تر حملہ آور ۱۶ سے ۳۵ سال کی عمر تک کے تھے۔ بھنگڑا ڈالنے والوں میں وہ لوگ شامل نہیں تھے جو بعد میں نمودار ہوئے اور انہوں نے مجمع اور ٹرین کو کنٹرول کیا۔ جب میں ایم۔ایم عثمان کی سیٹ بک کر کے فارغ ہوا تو میں نے شور و شغف پلیٹ فارم پر سنا تھا۔ شور اونچی آواز سے ہو رہا تھا۔ جو طلباء مار کھا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے بچاؤ، بچاؤ۔
میں نے لائل پور اسٹیشن پر زیادہ دیر گاڑی کھڑی ہونے کی وجہ نہ پوچھی کیونکہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔ اگر کسی وجہ سے ویکیوم پائپ کٹ جائے تو گاڑی کو جھٹکا لگتا ہے۔ جب گاڑی کو کوئی حادثہ پیش آ جائے۔ گاڑی اسٹیشن سے گزر رہی ہو تو یہ اسٹیشن ماسٹر کی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ وہ حادثے کی اطلاع متعلقہ افسران کو دے۔ میں نے طلباء کا سامان بکھرا ہوا پایا۔ اس لائن پر پانچ سالہ سروس کے دوران میں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں
ربوہ سے پہلے سٹاپ لالیاں تھا۔ لالیاں سے ربوہ پہنچنے میں اندازاً دس منٹ لگتے ہوں گے۔ ریلوے پولیس نے شرپسندوں کو پکڑنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ان کو روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ صرف تین کانسٹیبل تھے۔ یہ وہی تھے جو ٹرین کے ساتھ تھے۔ باہر سے پولیس کی کوئی امداد وقوعہ کے وقت نہیں پہنچی۔ اس مجمع میں سے سبھی کے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ آلہ ضرب تھا۔ جس سے طلباء پیٹے جارہے تھے۔ کسی نے ان کو بچانے کی کوشش نہ کی۔ ساری کارروائی (حملہ) یک طرفہ تھی، طلباء اس دن بالکل خاموشی سے سفر کر رہے تھے، پر امن تھے۔ انہوں نے کسی کو مشتعل نہ کیا بلکہ جب ان پر حملہ ہوا تو انہوں نے مزاحمت نہ کی۔ اس دن وہ بالکل Below Normal تھے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ عام طور پر طلباء کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ شرارتیں کرتے ہیں۔ لیکن اس دن وہ کوئی شرارت نہیں کر رہے تھے۔ گاڑی لالیاں اسٹیشن پر روکی جاسکتی تھی۔ اگر ربوہ اسٹیشن پر کسی گڑبڑ کی اطلاع بروقت لالیاں دی جاتی۔ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ اس کے پیچھے برآمدہ اور خواتین کا ویٹنگ روم بھی لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب گاڑی جارہی تھی تو حملہ آور طنز کر رہے تھے۔
۸؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۳....... نذیر احمد گارڈ انچارج
لاہور: ۸؍ جون (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی پر مشتمل تحقیقاتی ٹربیونل نے آج چناب ایکسپریس کے گارڈ انچارج نذیر احمد خان کا بیان بھی جو کہ گزشتہ روز نامکمل رہ گیا تھا، قلمبند کیا۔ مختلف تنظیموں کے نمائندہ وکلاء نے ان دو گواہوں پر جرح بھی کی، آج بھی ٹربیونل کے دو اجلاس ہوئے۔ گارڈ انچارج نے آج صبح اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ حادثہ سے اگلے روز جب اسے ربوہ طلب کیا گیا تو وہاں ریلوے اسٹیشن پر پولیس انسپکٹر نے اس کے اور دیگر عملہ کے بیانات قلمبند کئے۔
گواہ نے بتایا کہ اس نے وہ موقعہ بھی دیکھا، جہاں پر گزشتہ روز نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو زد و کوب کیا گیا تھا۔ پلیٹ فارم پر شیشے اور ٹوٹی ہوئی کراکری کے بہت چھوٹے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ جب کہ خون کے دھبے مٹا دیئے گئے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ پلیٹ فارم پر موجود تشدد کے نشانات مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم پلیٹ فارم سے کچھ فاصلہ پر ایک مقام پر خون کے دھبے صاف طور پر نظر آ رہے تھے۔ جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ تشدد کے نشانات مٹانے کی کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکیں۔ گواہ نے انکشاف کیا کہ واقعہ کے روز نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر حملہ کرنے والے لوگوں کی تعداد ۵۰۰ کے لگ بھگ تھی۔ لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے افراد جن میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شامل تھی اور جو مسافر نہ تھے، پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ گواہ نے کہا کہ اس کے اندازے کے مطابق پلیٹ فارم پر تین ہزار کے لگ بھگ لوگ موجود تھے۔ گواہ نے کہا کہ اس نے ابتدائی طور پر آٹھ دس افراد کو جو چمڑے کی پیٹیوں، آہنی پائپوں، لاٹھیوں اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ پلیٹ فارم پر ایک طالب علم کو زد و کوب کرتے دیکھا۔ مزید برآں جس ہجوم نے پلیٹ فارم سے پرے کھڑے ہوئے طلباء کی بوگی پر حملہ کیا، وہ مذکورہ چیزوں کے علاوہ سائیکل کے چینوں سے بھی لیس تھا۔
گواہ نے کہا کہ اس نے جن زخمی طلباء کے ناموں کا اندراج کیا، وہ یہ ہیں۔ عبدالرحمٰن، محمد انور، ارباب عالم، رفعت باجوہ، منصور اسلم، عبدالخالق اور خالد اختر ہیں۔ گواہ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ربوہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسٹیشن پر جو ہجوم تھا وہ خلاف معمول تھا اور اس نے اس ریلوے اسٹیشن پر اتنا ہجوم کبھی نہیں دیکھا۔ گواہ نے بتایا کہ پلیٹ فارم پر کثیر تعداد میں خواتین بھی موجود تھیں اور ان میں سے ایک خاتون نے اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر صدیق احمد کو دھکے دیتے ہوئے کہا : ”چلیں احمدیت کا حق ادا کریں ۔“ قبل ازیں فاضل عدالت کے استفسار پر گواہ نے وہ نعرے بتائے جو اس نے ربوہ اسٹیشن پر سنے تھے۔ ان میں احمدیت زندہ باد ، احمدیت کا حق ادا کرو ، کے نعرے شامل ہیں۔ گواہ نے بتایا عورتیں گالیاں بھی دے رہی تھیں ۔
گارڈ انچارج نذیر احمد نے جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ پلیٹ فارم پر بعض لوگ بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ اس نے تسلیم کیا کہ عام طور پر یہ ناچ خوشی کا اظہار کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
گواہ نے مقامی انجمن احمدیہ کے ربوہ کے نمائندہ وکیل مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اسٹیشن ماسٹر ربوہ عبد السمیع دل کا مریض ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس خواہش کے باوجود پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے والے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے مدد حاصل کی جائے ۔ اس نے ربوہ کے پولیس آفس کو فون نہیں کیا اور ٹرین کے ساتھ ریلوے پولیس کے تین آدمیوں کو جو اس کے ماتحت تھے پولیس چوکی سے مدد لانے کے لئے نہیں بھیجا ۔ گواہ نے بتایا کہ اس کے اندازے کے مطابق راولپنڈی اور ملتان کے مابین کم فاصلہ براستہ لائل پور ہے۔
مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے دوران گواہ نے یہ بھی کہا کہ وہ مذہبی کتابیں یا دوسرے رسالے نہیں پڑھتا۔ گواہ نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ لائل پور کی زرعی یونیورسٹی پر طلباء نے اس لئے قبضہ کر لیا تھا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ احمدی طلباء کے لئے علیحدہ میس اور رہائش کا انتظام کیا جائے ۔
گواہ پر جرح مکمل ہونے کے بعد مقامی انجمن احمدیہ ربوہ کے نمائندہ وکیل مسٹر اعجاز حسین بٹالوی نے فاضل عدالت سے درخواست کی کہ چونکہ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد مقید ہیں۔ اس لئے وہ واقعہ ربوہ کے بارے میں مکمل معلومات اور ہدایات حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ فاضل عدالت نے انکشاف کیا کہ مسٹر بٹالوی نے اس ضمن میں تحریری درخواست بھی دی ہے کہ انتظامیہ انہیں ان زیر حراست افراد سے رابطہ قائم کرنے کی اجازت دے۔ تاہم فاضل عدالت نے ، جب تک کہ زیر حراست افراد کے نام اور کوائف ٹربیونل کے سامنے پیش نہیں کئے جاتے ، درخواست پر فیصلہ ملتوی کر دیا ۔
گواہ نمبر ۴ ...... صدیق احمد
چناب ایکسپریس کے عملہ سے تعلق رکھنے والے چوتھے گواہ اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر صدیق احمد نے ٹربیونل کے سامنے اپنی شہادت قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ وہ قادیانی فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ وہ سرگودھا سے لے کر شور کوٹ تک بطور اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر چناب ایکسپریس پر متعین ہے۔ اس نے بتایا کہ واقعہ ربوہ کے روز سرگودھا ریلوے سے جب چناب ایکسپریس روانہ ہونے والی تھی ، اس نے چیف پارسل کلرک عبداللہ جو قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے ، کو گاڑی کے کبھی ایک ڈبے اور پھر دوسرے ڈبے میں جھانکتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس سے جب استفسار کیا گیا کہ وہ کیا ڈھونڈ رہا ہے تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس طرح نشتر آباد ریلوے اسٹیشن پر جب گواہ ٹکٹ چیک کر رہا تھا تو اس نے اسٹیشن ماسٹر جو قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے ، کو خلاف معمول پلیٹ فارم پر گھومتے پھرتے دیکھا۔ گواہ نے کہا جب گاڑی ربوہ پہنچی تو وہ سیکنڈ کلاس کے ایک ڈبے میں ٹکٹیں چیک کر کے جب باہر نکلا تو ریلوے اسٹیشن کی عمارت سے پندرہ مسلح افراد جو ہاکیوں ، پائپوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والی پیٹیوں، ڈنڈوں، ریلوے لائن سے اٹھائے گئے پتھروں اور آہنی پائپوں سے لیس تھے۔ ان میں سے آٹھ افراد بڑے سیکنڈ کلاس ڈبے میں داخل ہوئے۔ وہ ایک طالب علم کو بالوں سے گھسیٹ کر باہر لائے۔ باہر ان پندرہ سولہ افراد نے طالب علم کو زدوکوب کرنا شروع کردیا۔ اس لڑکے نے منت سماجت کرنا شروع کردی۔ میں نے موقعہ پر جاکر سختی سے کہا کہ اس لڑکے کو کیوں زدوکوب کیا جارہا ہے تو ان میں شامل ایک شخص نے مجھے زبردست ٹھوکر مار دی جس کا زخم اب بھی میری بائیں ٹانگ پر موجود ہے۔ گواہ نے فاضل عدالت کو یہ زخم دکھایا جو بائیں ٹانگ کے نچلے حصہ پر موجود تھا۔ گواہ نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لڑکا شور مچارہا تھا ۔ ’’بچاؤ، بچاؤ‘‘ لیکن یہ لوگ اسے سختی سے مار رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ توبہ کر۔ لڑکا بدستور چلاتا رہا اور اس نے پانی مانگا۔ اسی اثناء میں اسٹیشن ماسٹر جو اسٹیشن کی عمارت کی طرف سے آرہا تھا۔ میں نے کہا سمیع صاحب، خدا کا واسطہ ہے۔ اس لڑکے کو انسان سمجھ کر ہی چھڑا دیجئے۔ یہ آپ کی اولاد ہے۔ تاہم اسٹیشن ماسٹر نے معذوری کا اظہار کیا۔ اس اثناء میں نذیر احمد گارڈ انچارج نے بھی اسٹیشن ماسٹر پر زور دیا کہ کوئی قدم اٹھائیں۔ گواہ نے بتایا کہ گارڈ انچارج نے کنٹرول روم سے کنٹرولر کو واقعہ کی اطلاع دی اور ہدایات مانگیں۔ گواہ نے بتایا کہ جب وہ اسٹیشن ماسٹر اور گارڈ انچارج کے ساتھ کمرے سے باہر نکلنے لگے تو اس وقت ایک طالب علم اندر داخل ہوا۔ اس نے صرف شلوار پہن رکھی تھی اور وہ زخمی حالت میں تھا۔ اس نے طبی امداد کی خواہش ظاہر کی۔ اس مرحلہ پر گارڈ انچارج ابتدائی طبی امداد دینے کے لئے اس طالب علم کو ساتھ لے گیا۔ گواہ نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا میں خود اسٹیشن کے برآمدے میں کھڑا رہا۔ جب کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اشتعال دلا رہی تھی۔ جب میں نے پیچھے دیکھا تو ایک بوڑھی عورت مجھے انگلی سے دھکیل رہی تھی اور وہ کچھ کہہ رہی تھی جو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔ اس مرحلہ پر مجھے احساس ہوا کہ میرا کوئی بھی ساتھی اردگرد نہیں ہے اور میرے اردگرد مشتعل ہجوم ہے۔ لہٰذا میں گارڈ انچارج کی وین کی طرف بڑھا۔ میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گاڑی کے آخر میں اچھا خاصا ہجوم اکٹھا ہوچکا ہے اور چیخ و پکار کی آوازیں آرہی ہیں۔ میں اس طرف بڑھا تو دیکھا کہ طلباء کی بوگی بالکل چکنا چور ہوچکی ہے۔ متعدد طلباء زخمی ہیں اور ان کا سامان اور ٹوٹی ہوئی کراکری ڈبے کے سامنے بکھری پڑی ہے اور میں نے دیکھا کہ تین طلباء بیہوش ہیں۔ اس کے بعد میں گارڈ انچارج کی بریک میں چلا گیا۔ اتنے میں دوبارہ شور بلند ہوا۔ جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ دوبارہ حملہ ہونے والا ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو پل کی طرف سے حملہ آور لوگ بھنگڑا ڈالتے ہوئے آرہے تھے۔ جب یہ لوگ ہماری بریک وین کے سامنے سے گزر گئے تو میں نے اور گارڈ نے اسٹیشن ماسٹر سے گاڑی چلانے کو کہا۔ تاہم اس نے کچھ نہ کیا۔ تاہم گارڈ انچارج سے بات کرنے کے بعد لائل پور میں کنٹرولر نے اسٹیشن ماسٹر سے فون پر بات کی اور ہدایات دیں۔ جس کے بعد گاڑی چلائی گئی۔ اس کے بعد گواہ نے بتایا کہ وہ چنیوٹ رکنے کے بعد لائل پور پہنچے۔ جہاں معمول سے زیادہ ہجوم تھا۔
جرح کے دوران اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر صدیق احمد نے بتایا کہ ٹرین میں طلباء کے ڈبہ پر حملہ کے وقت وہ وہاں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں نے طلباء پر حملہ کیا تھا۔ وہ چاقو، لوہے کی سبل سے مسلح تھے۔ ایک کے ہاتھ میں تلوار بھی دیکھی تھی۔ بار ایسوسی ایشن کے وکیل کے ایک سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ حملہ کرنے والوں اور اسٹیشن پر موجود افراد کی تعداد پانچ چھ ہزار کے قریب تھی۔ ایک اور سوال جواب میں انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے ’’احمدیت کی جے‘‘ کے نعرے بھی لگائے تھے۔
سوال: کیا اور نعرے بھی لگائے گئے؟
جواب: جی ہاں! وہ ’’احمدیت زندہ باد‘‘ اور ’’محمدیت مردہ باد‘‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری کی جرح کے دوران گواہ نے بتایا کہ ربوہ اسٹیشن کے پل پر عورتیں اور بچے موجود تھے اور وہ بھی نعرے لگا رہے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ کے وکیل مسٹر کرم الٰہی بھٹی کے سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ ایک طالب علم نے پانی مانگا تھا اور ایک بزرگ نے کہا تھا کہ اس سے یہ سلوک کرو۔ اس کی عمر ۵۰ سال تھی۔ رنگ گورا اور چھوٹی داڑھی تھی۔ اگر سامنے آئے تو شناخت کر سکوں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں گواہ نے کہا کہ عوامی کرتا شلوار پہنے ایک موٹا سا آدمی حملہ آوروں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں گواہ نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں طلباء کی بوگی میں خون گرا تھا اور پلیٹ فارم پر اس کے نیچے دس، پندرہ گز تک بہا ہوا خون میں نے خود دیکھا تھا۔ جماعت احمدیہ کے وکیل مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کے ایک سوال کے جواب میں گواہ نے کہا کہ شرپسند ایک طالب علم کو طلباء کے ڈبے سے نکال کر چار پانچ منٹ تک زدوکوب کرتے رہے۔ گواہ نے کہا کہ وہ پیچھے چلا گیا تھا۔ اس لئے اسے یہ نہیں معلوم کہ چار پانچ منٹ کے بعد حملہ آوروں نے اس کو چھوڑ دیا تھا یا نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ اس نے انسپکٹر پولیس کو زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ مگر اس کا ڈاکٹری معائنہ نہیں کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں گواہ نے کہا یہ سیکنڈ کلاس کا ڈبہ اس سے مختلف تھا۔ جس سے میں نیچے اترا تھا۔ یہ بڑا تھا اور اسٹیشن کی عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ سب حملہ آور ایک طالب علم کو مار رہے تھے۔ وہ بیچارا گر گیا۔ وہ منتیں کر رہا تھا کہ نہ ماریں۔ میں موقع پر پہنچا اور شرپسندوں سے سختی سے پوچھا کہ وہ کیوں مار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ مر جائے گا تو حملہ آوروں میں سے ایک نے مجھے بائیں ٹانگ پر ڈنڈا مارا۔ اس مرحلے پر گواہ نے زخم کا نشان دکھایا۔ زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوا تھا۔ اس زخم سے خون سم رہا تھا۔ لڑکا مدد کے لئے پکار رہا تھا اور حملہ آور اسے کہہ رہے تھے کہ توبہ کرو اور ساتھ مارتے رہے۔ مارنے والوں میں سے ایک نے اسے کہا کہ تم مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہو، لڑکے نے جواب نہ دیا بلکہ مدد کے لئے پکارتا رہا۔ وہ تقریباً بیہوش ہو گیا۔ اس نے پانی مانگا۔ ان حملہ آوروں میں سے ایک معمر شخص نے کہا کہ اس کے منہ میں پیشاب کرو۔ میں نے دیکھا کہ اسٹیشن ماسٹر اسٹیشن کی عمارت سے اس ڈبے کی طرف آ رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو انسان سمجھ کر ہی چھڑا دو۔ اس نے کہا کہ وہ بے بس ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ گارڈ انچارج نذیر احمد خان اسٹیشن ماسٹر کو عمارت کی طرف بلا رہا تھا تاکہ متعلقہ افسروں کو اطلاع دیں۔ میں نے اسٹیشن ماسٹر کو اپنا زخم دکھایا۔ جس پر اس نے اپنا ہاتھ مجھے دکھایا اور کہا وہ بھی مضروب ہے۔ میں نے اس کے ہاتھ پر خون تو دیکھا لیکن کوئی زخم نہ تھا۔ پھر اسٹیشن ماسٹر اور میں دفتر اسٹیشن ماسٹر میں داخل ہوئے۔ پہلے نذیر احمد پھر اسٹیشن ماسٹر کمرے میں داخل ہوئے۔ اسٹیشن ماسٹر نے فون اٹھایا مگر کسی کو نہ ملایا اور فون رکھ دیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد نذیر احمد نے فون اٹھایا اور کنٹرولر لائل پور سے کنٹرول لائن پر بات کی۔ انہوں نے کنٹرولر کو بتایا کہ چار پانچ سو مسلح آدمیوں نے گاڑی پر حملہ کر دیا ہے۔ بے شمار لوگ زخمی پڑے ہیں۔ ہمارے لئے کیا حکم ہے۔ اس کے بعد ہم تینوں واپس آ گئے۔ اس وقت ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔ جس کے جسم پر شلوار کے سوا اور کوئی کپڑا نہ تھا۔ اس کا سارا جسم زخمی تھا۔ اس کے سر اور کان سے خون بہہ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے دانت ٹوٹ چکے تھے۔ منہ پر خون ہی خون تھا۔ وہ ایک سٹول پر بیٹھ گیا اور کہا کہ مجھے فرسٹ ایڈ کریں۔ اس کو چوہدری نذیر احمد باہر لے کر آئے اور بریک کی طرف چلے گئے۔ میں برآمدے میں کھڑا ہو گیا۔ تمام اسٹیشن، ویٹنگ روم اور برآمدے سب عورتوں مردوں سے بھرے ہوئے تھے۔ وہیں میں نے دیکھا کہ ایک عورت لوگوں کو اشتعال دلا رہی تھی کہ بڑھو احمدیت کا حق ادا کرو۔ وہاں احمدیت زندہ باد، محمدیت مردہ باد اور جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے وہ کتوں اور سورنیوں کی اولاد ہیں، کے نعرے سنے۔ تیسرے درجے کے مسافر خانے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں میں نے اپنی پشت پر ایک انگلی لگتے محسوس کی میں نے دیکھا کہ ایک معمر عورت دھکیل رہی تھی جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔ میں یہ محسوس کرتے ہوئے کہ میں تنہا ہوں، گارڈ کی وین کی طرف چل دیا۔
گواہ نمبر ۵....... شریف خان انجن ڈرائیور
انجن ڈرائیور شریف خان نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ۲۹؍ مئی کو لالہ موسیٰ سے لائل پور چناب ایکسپریس پر متعین تھا۔ گاڑی جب ربوہ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی تو پلیٹ فارم پر آدمیوں کا ہجوم تھا اور پلیٹ فارم کے مخالف سمت بھی آدمی تھے۔ گواہ نے کہا کہ پلیٹ فارم کی مخالف سمت پر ۲۰ یا ۲۵ آدمی تھے۔ لیکن پلیٹ فارم پر ۲۵۰-۳۰۰ کے قریب آدمی تھے۔ گواہ نے بتایا کہ جب ٹرین اسٹیشن کی عمارت سے آگے پہنچی تو خطرے کی زنجیر کھینچی گئی۔ جس کی وجہ سے انجن دوسرے بورڈ سے ڈیڑھ بوگی کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔ گواہ نے بتایا کہ گاڑی کھڑی ہونے کے بعد میں نے گارڈ انچارج کی اطلاع کے لئے سیٹی بجائی تاکہ وہ جان سکے اور فائر مین کو زنجیر چیک کرنے کے لئے بھیج دیا۔ گواہ نے بتایا کہ جب میں نے گھوم کر دیکھا تو اسٹیشن کی عمارت سے کچھ لوگ نکل کر بھاگے جا رہے تھے۔ انجن کے آگے کی سمت سے بھی لوگ آ رہے تھے اور دوسری سمت سے آبادی کے لوگ کو بھی بھاگتے ہوئے آتے دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اسٹیشن کی عمارت میں کوئی ہنگامہ ہو گیا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ وہ انجن چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ اس لئے واٹرمین کو فائر مین کو دیکھنے کے لئے بھیجا۔ گواہ نے بتایا کہ فائر مین نے آ کر بتایا کہ کچھ لوگ میڈیکل کالج کے طلباء کو بوگی سے اتار اتار کر مار رہے ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ فائر مین نے کہا کہ گارڈ انچارج نے کہا ہے کہ یہاں جھگڑا ہو گیا ہے۔ جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا گاڑی نہیں چلاؤں گا۔ گواہ نے بتایا کہ پانچ چھ لڑکے انجن کی طرف بھی آئے اور دریافت کیا کہ یہاں طالب علم تو نہیں چھپے ہوئے ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ ۱۰:۴۵ منٹ پر لائن کلیئر ہونے کی اطلاع ملی۔ ۱۰:۴۶ پر میں نے وسل دی اور ۱۰:۴۸ پر سگنل ملا اور میں نے گاڑی چلا دی۔ گواہ نے بتایا کہ اس دوران مجھے بتایا کہ ہنگامہ ہو گیا ہے۔ میں صرف شور سن سکتا تھا۔ گواہ نے بتایا کہ لائل پور اسٹیشن پر ہر جگہ پولیس موجود تھی۔ وہاں دوسرے ڈرائیور نے مجھ سے چارج لیا اور لوکو انسپکٹر مجھے رننگ روم میں لے گیا۔ جہاں اس نے میرا بیان لیا۔ لیکن مجھے نیند آ رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیا بیان دیا۔ اسی دن شام کو میں رچنا ایکسپریس سے لاہور واپس آ گیا۔ جہاں مجھے ربوہ پہنچ کر بیان دینے کی ہدایت کی گئی۔ جماعت اسلامی کے وکیل ایم. انور بار ایٹ لاء کے ایک سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ ربوہ اسٹیشن پر ٹرین آنے کے دو منٹ بعد سگنل گرایا گیا تھا۔ مگر گیٹ کراسنگ پر گیٹ مین نے سگنل اٹھا دیا۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری کے ایک سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ جب پہلی بار سگنل گرا تھا اس کو لائن کلیئر ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ گواہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ فائر مین اور واٹر مین نے مجھے بتایا تھا کہ اسٹیشن پر ہنگامہ ہو گیا ہے کہ لوگ پیٹیوں اور ڈنڈوں سے طلباء کو مار رہے ہیں اور دو تین طلباء زخمی ہو چکے ہیں۔ گواہ پر جرح جاری تھی کہ عدالت کی کارروائی پیر تک کے لئے ملتوی ہو گئی۔ (نوٹ: ۹؍ جون کو چھٹی تھی)
۱۰؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور :مؤرخہ ۱۰؍ جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں مقرر کردہ ٹربیونل نے آج کے گواہوں سمیت کل نو گواہوں کے بیانات مکمل کر لئے۔ آج انجن ڈرائیور شریف خان کا بیان مکمل کیا گیا اور اس پر وکلاء نے جرح کی جب کہ ٹربیونل جج، جسٹس کے. ایم. اے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صمدانی نے تین نئے گواہوں فائر مین غلام مصطفیٰ، لیول کراسنگ کے گیٹ مین شکر دین، جمعدار یونس مسیح اور ریلوے کانسٹیبل کالے خان کے بیانات قلمبند کئے۔ آج سماعت شروع ہوئی تو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے درخواست کی کہ احمدیہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے اخباری بیان جاری کئے ہیں جو اس عدالت کی کارروائی میں مداخلت ڈالنے کے مترادف ہیں۔ مزید برآں یہ بھی کہا گیا کہ ایسا اخباری بیان جاری کر کے اور اسے شائع کر کے مرزا ناصر نے توہین عدالت کا ارتکاب کیا ہے۔ اس پر فاضل جج نے کہا کہ اس مسئلہ پر کسی وقت الگ بحث کی جائے گی۔
مسٹر شباب مفتی، ایم۔اے رحمان، قاضی محمد سلیم، مسٹر لطیف اور دیگر وکلاء نے کہا کہ واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں مقرر کردہ ٹربیونل کی یہاں موجودگی میں بیانات جاری کرنا صحیح نہیں ہے۔ مرزا ناصر احمد کو یہاں طلب کیا جائے۔ اس موقع پر پنجاب دیس محاذ کے مسٹر احسان وائیں نے اس بناء پر پنجاب دیس محاذ کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے کی اجازت چاہی کہ واقعہ ربوہ دراصل پنجاب کے خلاف ایک سازش ہے جو کہ مرکزی حکومت اور مرزا ناصر احمد نے مشترکہ طور پر کی ہے۔
مسٹر رفیق باجوہ نے کہا کہ ہمارا سارا دن اس ٹربیونل میں گزرتا ہے۔ ہم قوم کی خدمت سمجھتے ہوئے یہاں آتے ہیں۔ دوسری عدالت میں جو مقدمات ہوتے ہیں وہ متاثر ہو رہے ہیں۔ آپ ہماری طرف سے چیف جسٹس صاحب سے یہ گزارش کریں کہ جہاں کہیں ہم نئی تاریخ پیشی دوسرے مقدمات میں مانگیں، وہ ہمیں دے دی جائیں۔ فاضل ٹربیونل جج نے اس پر کہا کہ چیف جسٹس صاحب سے اس سلسلہ میں خود ہی رابطہ قائم کریں۔ میں مداخلت مناسب نہیں سمجھتا۔ میرے ذمہ جو کام سونپا گیا ہے وہ میں کروں گا۔ لیکن غیر ضروری عجلت پر ٹربیونل کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کرم الٰہی بھٹی نے اس موقع پر کہا کہ جو گواہ یہاں آ کر بیان دیتے ہیں انہیں انکوائری وغیرہ کے سلسلہ میں ربوہ بلایا جاتا ہے جہاں انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ لہٰذا کوئی ایسی ہدایت جاری کی جائے کہ ان سے جو کچھ پوچھنا ہو، لاہور میں پوچھا جائے اور اگر وہ نہ جانا چاہیں تو انہیں مجبور نہ کیا جائے۔ فاضل جج نے اس پر کہا کہ وہ اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ پولیس انکوائری سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء)
انجن ڈرائیور شریف خان کا بیان (مسٹر اعجاز بٹالوی نے جرح شروع کی)
س...... جب گاڑی کی زنجیر کھینچی جاتی ہے تو کیا ایک دم کھڑی ہو جاتی ہے یا آہستہ آہستہ؟
ج...... اگر گاڑی کی سپیڈ ۵ یا ۶ میل فی گھنٹہ ہو تو فوراً کھڑی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر سپیڈ زیادہ ہو تو وہ پھر آہستہ آہستہ رکتی ہے۔
س...... انجن کو کھڑے کرنے کی کوئی خاص جگہ پلیٹ فارم پر مقرر ہوتی ہے یا نہیں؟
ج...... یہ گاڑی کی لمبائی پر منحصر ہے اگر گاڑی پلیٹ فارم سے لمبی ہو تو صرف انجن پلیٹ فارم سے آگے لے جاتے ہیں بوگی نہیں۔ لیکن اگر لمبائی کم ہو تو پوری گاڑی پلیٹ فارم پر کھڑی کی جاتی ہے۔ پلیٹ فارم پر انجن کو کھڑا کرنے کی کوئی خاص وجہ مقرر نہیں ہے۔
س...... کیا آپ کے مشاہدہ میں یہ بات آئی کہ بعض اوقات اگر زیادہ بوگیاں گاڑی کے ساتھ ہوں تو کیا بوگیاں پلیٹ فارم سے باہر بھی رک سکتی ہیں؟
ج...... جی ہاں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... اس لوکو انسپکٹر کا کیا نام تھا، جسے آپ نے بیان دیا تھا؟
ج ...... فیض محمد ۔ یہ لائل پور میں تعینات ہیں۔ میں نے تحریری بیان نہیں دیا تھا۔ البتہ میں بتاتا گیا وہ لکھتے گئے۔ میں خاصا پریشان تھا۔
س ...... کیا متعلقہ گاڑی نشتر آباد اور شاہین آباد میں رکی تھی؟
ج ...... جی ہاں۔
س ...... آپ کو یاد ہے کہ آپ کو نشتر آباد میں لائن کلیئر کتنے بجے ملا؟
ج ...... میری گاڑی ۹ بج کر ۲۶ منٹ پر آئی اور ایک منٹ بعد لائن کلیئر مل گیا۔ چنانچہ اس کے ایک منٹ بعد یعنی ۹ بج کر ۲۷ منٹ پر میں نے گاڑی چلا دی۔ عموماً جس وقت گاڑی کھڑی ہوتی ہے اس وقت لائن کلیئر مل جاتی ہے ہمارے پاس ایسا کوئی رجسٹر ریکارڈ نہیں ہوتا جس پر ہم لائن کلیئر ملنے یا گاڑی رکنے و چلنے کا لکھیں۔
س ...... کیا سب کچھ آپ حافظے سے بتاتے ہیں؟
ج ...... جی ہاں! میں حافظے سے ہی کہہ رہا ہوں۔ ویسے ٹائم ٹیبل ہمارے سامنے ہوتا ہے۔
س ...... کیا ربوہ اسٹیشن پر کوئی سگنل کیبن ہے یا سگنل کھینچنے کا بندوبست پلیٹ فارم پر ہے؟
ج ...... ربوہ میں کیبن نہیں ہے۔ البتہ سگنلوں کے ساتھ ہی ایسے کانٹے ہیں جن سے سگنل اپ یا ڈاؤن کئے جاتے ہیں۔
کمال مصطفیٰ بخاری کی درخواست پر فاضل جج نے پوچھا کہ ربوہ کا پلیٹ فارم گاڑی کے مقابلہ میں کتنا لمبا ہے۔ ڈرائیور نے جواب دیا کہ ربوہ کا پلیٹ فارم چناب ایکسپریس کی ۱۱ بوگیوں کی لمبائی کے برابر ہے۔
گواہ نمبر ۶...... فائر مین غلام مصطفیٰ کا بیان
س ...... کیا آپ احمدی ہیں؟
ج ...... جی نہیں۔
س ...... آپ کے فرائض کیا ہیں؟
ج ...... میں انجن کا ہر اسٹیشن پر معائنہ کرتا ہوں اور انجن پر رہتا ہوں۔ میری ڈیوٹی لالہ موسیٰ سے لائل پور تک تھی۔ وقوعہ کے روز میری ڈیوٹی چناب ایکسپریس کے انجن پر تھی۔
س ...... جب لالہ موسیٰ سے گاڑی چلی۔ جہاں جہاں ربوہ تک گاڑی رکی ۔ اس دوران کوئی قابل ذکر واقعہ ہوا؟
ج ...... جی نہیں۔ گاڑی صبح ۵ بج کر ۱۰ منٹ پر لالہ موسیٰ سے چلی تھی۔ ربوہ پہنچنے تک راستہ میں ایسی کوئی قابل ذکر بات نہیں ہوئی۔ جسے بیان کیا جائے۔ ربوہ میں جب گاڑی داخل ہو رہی تھی تو میں نے وہاں لوگوں کا ہجوم پلیٹ فارم کی جانب اور پلیٹ فارم کے بالمقابل دیکھا۔ یارڈ کی طرف یعنی پلیٹ فارم کے بالمقابل تقریباً بیس پچیس افراد تھے۔ جب کہ پلیٹ فارم پر چار پانچ صد افراد کا مجمع موجود تھا۔ یارڈ کی طرف جو مجمع تھا اس کی اکثریت طلباء پر مشتمل تھی۔ کیونکہ انہوں نے کتابیں اٹھا رکھی تھیں۔
جب انجن پل کے نیچے پہنچا تو وہ کھڑا ہو گیا۔ کیونکہ اس کی کسی نے زنجیر کھینچ لی تھی۔ زنجیر اس وقت کھینچی گئی تھی۔ جب گاڑی پلیٹ فارم کے دفاتر کی بلڈنگ کے سامنے پہنچی تھی۔ گاڑی کھڑی ہو گئی۔ میں نیچے اترا اور پلیٹ فارم کی طرف سے ڈبوں کو دیکھنے لگا۔ ڈرائیور نے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الارم وسل بجائی۔ گارڈ دوسری جانب سے اتر کر آیا اور دیکھا کہ کس ڈبہ سے زنجیر کھینچی گئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ تین چار ڈبوں کی خطرے کی زنجیر کھینچی گئی ہے۔ اس کے بعد گارڈ صاحب آگئے۔ میں نے اس وقت تک دو ڈبوں کی زنجیر صحیح کی۔ وہاں پولیس کانسٹیبل جس کا تعلق ریلوے پولیس سے تھا۔ اسے بھی میں نے ایک بوگی کی زنجیر ٹھیک کرنے کو کہا جو اس نے کر دی۔ جب میں زنجیر ٹھیک کر کے پلیٹ فارم پر آیا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے آدمی ایک لڑکے کو مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی بہت سے لوگ سیکنڈ کلاس کے ایک ڈبہ میں گھس گئے اور ایک طالب علم کو باہر پلیٹ فارم پر نکال کر مارنا شروع کر دیا۔ میں نے پہلے تو کہا کہ مسافروں کی کوئی آپس کی لڑائی ہو گئی ہے۔ لیکن گارڈ نے مجھے پوچھنے پر بتایا کہ گاڑی کے پیچھے طلباء کی ایک بوگی لگی ہوئی ہے۔ وہاں پر ربوہ کے لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ جو طلباء وہاں سے جانیں بچا کر آگے بھاگ آئے ہیں، انہیں یہ لوگ ڈبوں سے نکال کر مار رہے ہیں۔ مجھے گارڈ نے کہا کہ لڑائی ہو گئی ہے۔ لہٰذا میں کنٹرولر سے رابطہ قائم کر کے پتہ کرتا ہوں کہ گاڑی چلانی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد میں، گارڈ اور ڈرائیور، اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گئے۔ وہاں اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں، میں نے دو زخمی طلباء کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ایک ان میں سے جس کی آنکھ پر زخم آیا تھا، چلا گیا۔ دوسرا جو قمیص کے بغیر صرف خون میں تر سفید شلوار پہنے تھا، وہاں بیٹھا رہا۔ اسٹیشن ماسٹر بھی باہر چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ پر پٹی تھی۔ اس کے بعد گارڈ نے مجھے بتایا کہ کنٹرولر سے بات ہوئی ہے۔ ابھی تک گاڑی چلانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ جب فیصلہ ہوگا تو میں گاڑی چلانے کے بارے میں بتاؤں گا۔ میں اور ٹربل شوٹر (وائر مین) اسٹیشن ماسٹر کے کمرے سے نکل کر ڈرائیور کے پاس گئے اور انہیں جا کر صورتحال بتائی۔ وہاں لوگوں کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے ڈرائیور سے دریافت کیا کہ یہاں سٹوڈنٹس تو نہیں چھپے ہوئے، اس پر ڈرائیور نے بتایا کہ نہیں۔ یہاں تو میرا وائر مین اور فائر مین ہے۔ مجھے بعد میں ڈرائیور نے بتایا کہ کسی نے پیچھے سے ویکیم ضائع کر دیا ہے۔ کیونکہ اس کی سوئی زیرو پر آگئی ہے۔ لہٰذا پیچھے جا کر دیکھو۔ اس پر میں پیچھے گیا تو دیکھا کہ وہاں بوگی نمبر ۱۶۰۵ کو الگ کیا ہوا تھا اور ویکیم کو علیحدہ کیا ہوا تھا۔ اس پر میں نے ویکیم ٹھیک کیا۔ وہاں پر نعرہ بازی ہو رہی تھی اور بڑی گڑ بڑ تھی۔
وہاں محمدیت مردہ باد، احمدیت زندہ باد، پکڑو مارو، پکڑو مارو کے نعرے لگ رہے تھے۔ میں نے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر نہیں سنا۔ اس وقت لوگ پیچھے کی جانب دوڑے جا رہے تھے۔ اس کے بعد جب لائن کلیئر آ گیا تو ڈرائیور نے کہا کہ چلیں لیکن کسی نے پھر زنجیر کھینچ لی۔ جسے میں ٹھیک کر آیا۔ پھر گاڑی چلائی۔ اس کے بعد گاڑی چل دی اور ساڑھے بارہ بجے مزید کسی واقعہ کے بغیر لائل پور پہنچ گئے۔
ربوہ، لائل پور کے مابین گاڑی معمول کے مطابق اسٹیشنوں پر رکتی رہی۔ لائل پور میں، میں گارڈ سے ایل ٹو فارم لینے گیا تو گارڈ نے مجھے بتایا کہ سب لوگ یہاں رہیں۔ کیونکہ ربوہ میں جو جھگڑا ہوا ہے اس کے سلسلہ میں بیانات قلمبند کرنا ہیں۔ ڈرائیور نے لوکو انسپکٹر سے کہا کہ وہ صبح کا چلا ہوا ہے۔ اس لئے کھانا کھائے گا۔ لوکو انسپکٹر نے کہا کہ رننگ روم جاؤ۔ میں وہیں بیان لوں گا۔ لائل پور میں مسافروں کا رش تھا اور وہاں پولیس آئی ہوئی تھی۔ شام کو میں رچنا ایکسپریس سے لاہور آ گیا۔ میرا گھر بھی لاہور میں ہے۔
گواہ نے رانا عبد الرحیم کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طلباء کو جو لوگ مار رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں ہاکیاں، ڈنڈے، کرکٹ کے بیٹ اور لوہے کے پائپ تھے۔
گواہ نمبر ۷....... گواہ شکر دین پھاٹک والا
میرا نام شکر دین ہے۔ میں گیٹ مین ہوں اور ربوہ کے لیول کراسنگ پر کام کرتا ہوں۔ میں احمدی نہیں ہوں۔ میں اس روز ڈیوٹی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر تھا۔ جب متعلقہ چناب ٹرین وہاں آئی۔ میری ڈیوٹی ۸ بجے صبح سے ۸ بجے شام تک تھی۔ میری ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ جب ربوہ سے چنیوٹ کی جانب گاڑی چلے تو اسٹیشن ماسٹر ربوہ مجھے ٹیلیفون کرتا ہے کہ گاڑی آگئی ہے اور چلنے والی ہے۔ لہٰذا گیٹ بند کر کے سگنل ڈاؤن کر دو۔ چنانچہ گیٹ بند کر کے چابی نکال لیتا ہوں اور وہی چابی سگنل ڈاؤن کرنے کے کام آتی ہے۔ اگر گاڑی چنیوٹ سے ربوہ آ رہی ہو تو چنیوٹ کا اسٹیشن ماسٹر گیٹ بند کرنے کے لئے کہتا ہے۔ جب گاڑی گزر جاتی ہے تو خود ہی گیٹ کھول دیتے ہیں۔ جب وقوعہ کے روز چناب ایکسپریس اسٹیشن پر آئی تو مجھے مرزا عبدالسمیع نے ٹیلیفون کیا اور کہا کہ گیٹ بند کر کے سگنل دے دو۔
میں نے گیٹ بند کر کے سگنل ڈاؤن کر دیا۔ دس بارہ منٹ تک گیٹ بند رہا۔ ٹریفک رک گیا۔ کاریں، موٹریں، تانگے جمع ہو گئے اور مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا کہ گیٹ کھولو۔ میں نے مرزا سمیع کو فون کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ پلیٹ فارم پر گڑ بڑ ہے۔ لہٰذا میں سگنل اپ کر دوں اور گیٹ کھول دوں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے اللہ بخش اے ایس ایم کا فون آیا کہ شکر دین گیٹ بند کیوں نہیں کرتے؟ کیا تمہیں کوئی روکتا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں مجھے کوئی نہیں روکتا۔ جو آرڈر آپ دیں گے میں اسی طرح کروں گا۔ چنانچہ میں نے سگنل ڈاؤن کر کے گیٹ بند کر دیا۔ اس پر ٹریفک جمع ہو گئی۔ لوگوں نے مجھے تنگ کیا تو میں نے اسٹیشن ماسٹر سمیع کو دوبارہ فون کیا اور انہیں صورتحال بتائی۔ اس پر اسٹیشن ماسٹر نے غصہ سے مجھے کہا کہ تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ گیٹ کھلا رکھو۔ گاڑی نہیں جا رہی۔ اس پر میں نے سگنل اپ کر دیا اور گیٹ ٹریفک کے لئے پھر کھول دیا۔ دس منٹ تک پھر گیٹ کھلا رہا۔ اس کے بعد مجھے اسٹیشن سے کسی نے فون کیا کہ فوراً گیٹ بند کر کے دو۔ چنانچہ میں نے گیٹ بند کیا اور سگنل پھر ڈاؤن کر دیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے وسل دیا۔ گاڑی چلی اور تھوڑا سا چل کر ٹھہر گئی۔ پھر دو منٹ بعد دوبارہ چلی اور ہمارے گیٹ سے گزر گئی۔ گاڑی آنے سے پہلے طلباء کے گروپ میں نے اسٹیشن کی طرف جاتے دیکھے۔ طلباء کہہ رہے تھے کہ ملتان کی کوئی ٹیم گاڑی میں واپس آ رہی ہے۔ لہٰذا اسے پلیٹ فارم پر مارنا ہے۔ طلباء گروہ در گروہ صبح ۸ بجے سے ہی اسٹیشن پر جانا شروع ہو گئے تھے اور وہ میرے گیٹ پر سے گزر کر ہی جاتے تھے۔ طلباء کا کہنا تھا کہ ملتان والے طلباء چناب ایکسپریس کے ساتھ لگی ہوئی ایک الگ بوگی میں آ رہے ہیں۔ لوگ اتنے زیادہ تھے کہ میں تعداد کا اندازہ نہیں کر سکا۔ انہوں نے پتھر اٹھائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ پتھر ہم ٹیم کے ان لوگوں کو ماریں گے جو چناب ایکسپریس میں آ رہے ہیں۔ تمام لوگوں کا تعلق جو پلیٹ فارم پر جا رہے تھے ربوہ سے ہی تھا۔ جب گاڑی چلی تو میں نے دیکھا تو گاڑی کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے پلیٹ فارم کی لڑائی نہیں دیکھی۔ جب گاڑی چلی گئی تو میں نے تانگہ میں گیٹ سے گزرتے ہوئے چار لڑکوں کو دیکھا جن کی قمیص پھٹی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے کہ آج ہم نے لڑکوں کو ایسا مارا ہے کہ وہ اپنی ماں کو یاد کریں گے۔ ربوہ اسٹیشن پر بعد میں ایک تھانیدار نے میرا بیان بھی لکھا تھا جو لڑکے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے، ہاکیاں اور پتھر تھے۔
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں
س ...... آپ کا گیٹ اسٹیشن سے کتنے فاصلہ پر ہے؟ ج...... تقریباً ایک فرلانگ ۔ س...... کیا ریلوے لائن کے متوازی بھی پھاٹک سے کوئی سڑک اسٹیشن پر جاتی ہے؟ ج...... جی نہیں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... کالج وسکول پھاٹک سے کتنی دور ہے؟ ج...... ہائی سکول نزدیک ہے اور اس کے ساتھ ہی کالج ہے۔ لڑکیوں کا کالج ربوہ اسٹیشن کے سامنے ہے۔ س...... تم ربوہ اسٹیشن کے پھاٹک پر کتنے سال سے کام کر رہے ہو؟ ج...... سات آٹھ سال سے میں کام کر رہا ہوں۔ س...... اس سات آٹھ سال کے عرصہ میں اس سے قبل بھی ربوہ اسٹیشن پر کوئی فرقہ وارانہ فساد دیکھا یا سنا؟ ج...... جی نہیں۔ س...... کسی نے تمہیں پھاٹک بند کرنے سے منع بھی کیا تھا؟ ج...... جی نہیں۔ س...... کیا وہاں سے عورتیں بھی تم نے اسٹیشن پر جاتے دیکھیں؟ ج...... جی نہیں۔
میرے رہنے کا کوارٹر پھاٹک کے نزدیک ہی ہے۔ گاڑی جانے کے بعد پھاٹک کھولنے کے بعد میں اس کوٹھڑی میں بیٹھ جاتا ہوں جہاں پر ٹیلیفون بھی لگا ہے۔
س...... کالج سے اگر کسی نے تانگہ میں ریلوے اسٹیشن جانا ہو یا آنا ہو تو کیا پھاٹک سے گزر کر جاتا ہے؟ ج...... جی نہیں۔ کالج سے سڑک اسٹیشن کو سیدھی ہے۔ س...... آپ سے پولیس چوکی کتنی دور ہے؟ ج...... ڈیڑھ فرلانگ ہے۔ س...... کیا تم نے پولیس کو کوئی اطلاع بھجوائی کہ اس قسم کا واقعہ ہونے والا ہے اور لوگ لڑکوں کو مارنے جا رہے ہیں؟ ج...... جی نہیں۔ میں نے ایسا نہیں کیا۔
میاں آفتاب فرخ کی جرح کے جواب میں
س...... اگر کالج سے لڑکے پیدل اسٹیشن پر جائیں تو نزدیکی راستہ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ہی ہے؟ ج...... جی ہاں۔ س...... جب گاڑی چل جائے تو اپنے کیبن میں بیٹھنا ضروری تو نہیں۔ باہر بھی بیٹھ سکتے ہیں؟ ج...... جی ہاں۔ گواہ نے بتایا کہ ویسے بھی اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کوئی اتنا بڑا وقوعہ ہونے والا ہے۔
کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
س...... جو لوگ تانگہ میں گاڑی جانے کے بعد طلباء کو مارنے کی باتیں کرتے ہوئے گزرے وہ کدھر گئے؟ ج...... وہ پھاٹک سے گزر کر شہر کی طرف گئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... کیا ان چار آدمیوں میں سے جو باتیں کر رہے تھے کسی کو جانتے ہو؟ ج ...... جی ہاں۔ عبدالعزیز دھوبی، الیاس درزی، اختر قصابوں کا لڑکا اسلم، اس کا چھوٹا بھائی۔
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں
س ...... پہلے تو نام نہیں لکھوائے تھے؟ ج ...... پہلے مجھ سے پوچھا نہیں گیا تھا۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ س ...... آپ دھوبی اور درزی کو کب سے جانتے ہیں؟ ج ...... یہ ہمارے ہمسائے میں رہتے ہیں اور اختر اور اسلم کی اس علاقہ میں جہاں ہم رہتے ہیں، گوشت کی دکانیں ہیں۔
گواہ نمبر ۸ ...... کالے خان چک ۴۱۲ لائل پور
میں کانسٹیبل ہوں۔ میں ۲۹ مئی کو چناب ۱۲ ڈاؤن پر لالہ موسیٰ سے لائل پور پر ڈیوٹی پر تھا جب گاڑی ربوہ پہنچی۔ الارم چین کھینچی گئی۔ اس لئے گاڑی پلیٹ فارم پر پوری طرح نہ پہنچ سکی۔ دو بوگیاں پیچھے رہ گئیں۔ پانچ سات سو کے قریب لوگ پلیٹ فارم پر جمع تھے۔ وہ پلیٹ فارم پر بھی تھے اور دوسری طرف بھی تھے۔ شور سنا۔ میں نیچے اترا اور دیکھا کہ وہ لوگ جو پلیٹ فارم پر تھے وہ ہنٹر، سوٹیاں، بیلٹ اور ہاکیوں سے مسلح تھے۔ انہوں نے ملتان کے کالج کے طلباء کو بوگی سے نکال کر مارنا شروع کردیا۔ پندرہ سولہ لڑکے زخمی ہوگئے۔ ان کے سروں پر چوٹیں آئیں۔ اس کے علاوہ بلوائی سیکنڈ کلاس کی بوگی سے دو تین طلباء کو باہر نکال کر مارتے رہے۔ بلوائیوں میں سے، میں رشید احمد کو خاص طور پر جانتا ہوں۔ وہ سوٹی سے ان طلباء کو مار رہا تھا جو سیکنڈ کلاس بوگی سے باہر نکالے گئے ایک شخص مجمع کو لیڈ کر رہا تھا۔ وہ اشتعال دلا رہا تھا۔ وہ گندمی رنگ کا تھا۔ میں اس کا نام نہیں جانتا۔ داڑھی تھی۔ گردن پر برص کا نشان تھا۔ جناح کیپ اور قمیص شلوار پہنے ہوئے تھا۔ وہ درمیانے جثے کا آدمی تھا۔ وہ لمبا معلوم ہوتا تھا۔ میں اس کو شناخت کر سکتا ہوں۔ وہ نعرے لگا رہے تھے۔ ناصر احمد کی جے، غلام احمد کی جے احمدیت زندہ باد اور محمدیت مردہ باد۔ وہ بھنگڑا بھی ڈال رہے تھے۔ میں نے مضروب کو چھڑانے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہوا۔ مجمع بہت زیادہ تھا۔ ہم کنٹرول نہیں کر سکتے تھے۔ بلوائی ایک دوسرے کے نام بھی لے رہے تھے اور ایک دوسرے کو ہمت دلا رہے تھے کہ وہ طلباء پر حملہ کریں۔ دو نام یاد ہیں۔ (نصیر احمد، طاہر احمد) میں ان بلوائیوں کو سامنے آنے پر پہچان سکتا ہوں۔ گاڑی کے روانہ ہونے تک بلوہ ہوتا رہا۔
چالیس، پینتالیس منٹ تک گاڑی کھڑی رہی۔ لائل پور پہنچنے تک کوئی خاص بات نہ ہوئی۔ سوائے اس کے کہ گارڈ نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ لائل پور اسٹیشن پر بہت مجمع تھا۔ ڈاکٹر وغیرہ بھی موجود تھے۔ ربوہ کا اسٹیشن ماسٹر بھی ہجوم کو اشتعال دلا رہا تھا۔ میں نے لائل پور میں اس واقعہ کی اطلاع ایس ایم اور ریلوے پولیس لائل پور کو کردی۔ البتہ ضلع لائل پور کے بڑے افسران بھی موجود تھے۔
جرح کرم الٰہی بھٹی۔ رشید احمد کو میں جانتا ہوں۔ وہ ہجوم کی راہنمائی کر رہا تھا۔ وہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کی مقامی انتظامیہ کا ناظم الامور ہے۔
جرح قاضی محمد سلیم صاحب: کوئی آدمی میرے کہنے پر منع نہ ہوا۔
جرح رفیق احمد باجوہ صاحب: بلوائی بظاہر ایک ٹیم کے طور پر کام کر رہے تھے۔ صرف دو آدمی رشید احمد اور برص کے نشان والا داڑھی والا مولوی سب کو لیڈ کر رہے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جرح مسٹر بخاری: میری کل سروس سات سال ہے۔ اس میں سے ریلوے ڈیوٹی تین چار سال دی ہے۔ اپریل کا مہینہ میں لالہ موسیٰ، لائل پور پر گشت پر ڈیوٹی دیتا رہا۔ مئی میں، میں ۲۹ تاریخ کو ڈیوٹی پر تھا۔ میرے پاس کوئی اسلحہ نہ تھا۔ میرے ساتھ ایک اور کانسٹیبل اور ایک ہیڈ کانسٹیبل تھا۔ سپاہیوں کے پاس صرف ایک ڈنڈا تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل کے پاس ریوالور تھا۔ میں نے بچانے کی کوشش کی۔ لیکن لوگ بہت سے جمع تھے۔ ٹرین کے چلنے تک ۱۵۰۰-۱۶۰۰ آدمی جمع ہوگئے ہوں گے۔
ڈیڑھ بجے عدالت برخاست ہوئی۔
۳ بجے سہ پہر ۔
جناب ایم انور صاحب نے عدالت سے کہا کہ مرزا ناصر، احمدیہ گروہ کے سربراہ کا بیان آج کے اخبارات میں اے. پی. پی کے حوالے سے ان کو ٹربیونل کے سامنے بطور گواہ بلایا جائے۔
گواہ نمبر ۹...... یونس مسیح ولد مینگا مل سوپر ریلوے ربوہ اسٹیشن
۲۹ مئی کو میں ربوہ اسٹیشن پر ڈیوٹی پر تھا۔ جب چناب گاڑی آئی میں ۸-۱۰ سال سے ربوہ اسٹیشن پر کام کر رہا ہوں۔ جب گاڑی اسٹیشن کے اندر آئی تو اسٹیشن ماسٹر نے مجھے لائن کلیئر اور کاشن آرڈر دیا۔ میں وہ لے کر گارڈ کے پاس گیا۔ گارڈ کے دستخط کاشن آرڈر پر کرائے۔ بکنگ کلرک نے کوئٹہ کے لئے بک کیا ۱ اخبار لگیج گارڈ کو دینے کے لئے دیا۔ میں پہلے گارڈ انچارج کے پاس گیا۔ کاشن آرڈر پر دستخط کرائے اور انجن کی طرف چل دیا۔ گاڑی چل کر کھڑی ہو گئی۔ آدھا ڈبہ فاصلے تک چل کر کھڑی ہو گئی۔ میں کتابیں، لگیج بک اور کاشن آرڈر بک اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں لے گیا۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ پچھلی بوگی میں ۱۰۰-۱۵۰ مسافر آپس میں لڑ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ طلباء تھے جو ٹرین سے اترے۔ کچھ باہر سے لڑکے آئے ہوئے تھے اور کچھ بزرگ تھے جو چھڑانے والے تھے۔ تین چار لڑکوں کو چوٹیں آئیں جو بوگی سے باہر آئے تھے۔ اسٹیشن ماسٹر صاحب ان کو اپنے کمرے میں لے گئے۔ گارڈ انچارج بھی ان کے ساتھ تھے۔ ان کی پٹی کی گئی۔ گارڈ صاحب ان بچوں کو گاڑی میں لے گئے اور جب ڈرائیور نے الارم چین جو کھینچے گئے تھے، ٹھیک کر لئے تو گاڑی چلا دی۔ گاڑی وہاں پندرہ بیس منٹ کھڑی رہی۔ اسٹیشن پر کل ۱۰۰-۱۲۵ آدمی پلیٹ فارم پر تھے۔ عام طور پر ۵-۱۰ مسافر ربوہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر موجود ہوتے ہیں۔ اس دن زیادہ تھے۔ جو لڑکے پلیٹ فارم پر تھے وہ بھی زخمی ہوئے۔ ان میں سے دو تین لڑکے زخمی ہوئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔
۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۱۰...... مسٹر اللہ بخش اے.ایس.ایم
لاہور : ۱۱؍ جون (سٹاف رپورٹر ) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی کے روبرو گواہی دیتے ہوئے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر وقوعہ کے روز تعینات اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر مسٹر اللہ بخش نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ربوہ شہر میں غیر قادیانی نہ تو کوئی جائیداد رکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار کر سکتا ہے۔ اسی طرح مستقل طور پر وہاں رہائش بھی اختیار نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر کسی سرکاری ملازم کی جو غیر قادیانی ہو وہاں تعینات ہو جائے تو کرایہ پر مکان لینے کے لئے وہ قادیانی جماعت کے محکمہ امور عامہ سے باضابطہ اجازت حاصل کر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے وہاں رہ سکتا ہے۔ گواہ نے قاضی محمد سلیم کی جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ قادیانی جماعت نے وسیع پیمانہ پر ربوہ میں اپنے دفاتر قائم کر رکھے ہیں اور یہ دفاتر مختلف محکموں میں تقسیم ہیں۔ مثلاً محکمہ انتظامیہ، شعبہ امور عامہ، شعبہ جائیداد، شعبہ بہشتی مقبرہ، دفتر تحریک جدید، دفتر صدر عمومی وغیرہ۔ گواہ نے مسٹر ایم۔اے رحمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ربوہ میں مقیم لوگ اپنے تنازعات کو عدالت میں نہیں لے جاتے بلکہ ہر قسم کے جھگڑوں کا فیصلہ شعبہ امور عامہ کرتا ہے اور اگر وہاں کا رہائشی کوئی شخص امور عامہ کے صدر کا فیصلہ قبول نہ کرے تو اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ گواہ نے یہ بھی بتایا کہ ربوہ شہر کو مختلف محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر محلہ کا ایک انچارج، صدر محلہ مقرر ہے جو محلہ کے نظم و نسق کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کے ماتحت معاون متعدد آدمی اور بھی ہوتے ہیں جو ہر آنے جانے والے پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ رات کو تو کسی غیر قادیانی کے ربوہ میں داخل ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ دن کو بھی چیکنگ ہوتی ہے اور جو غیر قادیانی اجازت لے کر سرکاری ملازمت کی وجہ سے یا تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں، انہیں بھی سودا سلف لینے کے لئے بازار جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ وہ محلوں میں گھوم پھر نہیں سکتے۔ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر ربوہ مسٹر اللہ بخش نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں قادیانی نہیں ہوں۔ میں ۱۵؍ مارچ ۱۹۷۰ء سے ربوہ کے اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہوں۔ ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء کو میری ڈیوٹی اسٹیشن پر آدھی رات سے ۸ بجے صبح تک تھی۔ چناب ایکسپریس جو پشاور کو جاتی ہے ربوہ اسٹیشن سے پروگرام کے مطابق ۶ بج کر ۲۰ منٹ پر شام کو گزری تھی۔ اس لئے جب ۲۲؍ مئی کو گاڑی ربوہ سے گزری تو میری اس وقت ڈیوٹی نہ تھی۔ مسٹر عبدالحمید اختر آر۔ایس۔ایم ڈیوٹی پر تھے۔ وہ اب بھی ربوہ میں ہی تعینات ہیں۔ ۲۹؍ مئی کو بھی میری ڈیوٹی کے اوقات وہی تھے۔ اس لئے صبح ۸ بجے میں نے چارج مرزا عبدالسمیع اسٹیشن ماسٹر کو دے دیا اور اپنے کوارٹر میں جا کر لیٹ گیا۔ لیکن ۱۰ بج کر چند منٹ پر میری لڑکی نے مجھے اطلاع دی کہ چناب ایکسپریس معمول کے مطابق روانہ نہیں ہورہی اور بہت سے لوگ اسٹیشن پر جمع ہورہے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شور ہورہا ہے۔ میں اپنے بستر میں نیم خوابی کے عالم میں تھا۔ میرا کوارٹر اسٹیشن سے کوئی دو سو گز دور ہے۔ جب میں اپنے کوارٹر سے نکلا تو میں نے بہت سے لوگوں کو ریلوے اسٹیشن کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ لڑائی ہوگئی، لڑائی ہوگئی۔ میں نے نعرے بھی سنے جو پلیٹ فارم پر لگ رہے تھے۔ میں مسافر خانہ کی طرف سے اسٹیشن میں داخل ہوا تھا اور اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں گیا۔ لوگ جو نعرے لگا رہے تھے وہ یہ تھے۔ احمدیت زندہ باد، مرزا غلام احمد کی جے، انسانیت زندہ باد۔ اس وقت اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں کوئی موجود نہ تھا۔ جب میں دفتر پہنچا تو ٹیلیفون کی گھنٹی بجی جو میں نے سنی۔ گھنٹی کنٹرول والوں کی تھی۔ جنہوں نے چناب ایکسپریس کی پوزیشن کے بارے میں پوچھا تھا۔ میں نے کنٹرول کو بتایا کہ گاڑی پلیٹ فارم پر ہے۔ لیکن اسٹیشن ماسٹر دفتر میں نہیں۔ لہٰذا میں معلوم کر کے بتاتا ہوں۔ اس کے بعد میں پلیٹ فارم پر مرزا عبدالسمیع کو دیکھنے گیا۔ وہاں بہت سے لوگ تھے۔ میں نے سگنل کی طرف دیکھا۔ وہ ڈاؤن نہیں کیا گیا تھا۔ میں برآمدہ میں آگیا جو پلیٹ فارم سے ذرا اونچا ہے۔ میں نے دیکھا کہ مرزا عبدالسمیع گاڑی کے پچھلے حصے کی جانب تھے اور دفتر کی طرف آرہے تھے۔ میں دفتر میں داخل ہوا تو اسٹیشن ماسٹر بھی آگئے۔ میں نے اسٹیشن کے فون سے لیول کراسنگ کے پھاٹک والے سے بات کی اور اس سے پوچھا کہ تم نے سگنل ڈاؤن کیوں نہیں کیا۔ اس نے میری ہدایت پر سگنل ڈاؤن کر دیا۔ اس کے بعد اسٹیشن ماسٹر آئے تو ان کا ہاتھ زخمی تھا۔ وہ لکھ نہیں سکتے تھے۔ اس عرصہ میں گارڈ انچارج بھی دفتر میں آگیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے واقعہ کے بارے میں تحریری رپورٹ اسٹیشن ماسٹر کو دی اور دستخط کرنے کے لئے کہا۔ اسٹیشن ماسٹر نے بائیں ہاتھ سے دستخط کر دیئے۔ اس وقت ایک زخمی مسافر طالب علم گاڑی سے دفتر میں آگیا۔ اس نے ایک بوشرٹ پہن رکھی تھی جو پھٹی ہوئی تھی۔ اس کی بنیان بھی پھٹی ہوئی تھی اور خون آلود تھی۔ اس نے پانی مانگا۔ اس کا خون بہہ رہا تھا۔ اسے پانی دیا گیا اور وہ گارڈ کے ساتھ گاڑی میں چلا گیا۔ میں نے مرزا سمیع سے پوچھا کہ لائن کلیئر کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لائن کلئر تو دے دیا ہے۔ لیکن ڈرائیور نہیں جاتا۔ میں ڈرائیور کے پاس گیا کہ اتنی دیر ہوگئی ہے آپ کیوں نہیں چلتے۔ ڈرائیور نے کہا کہ میرا ویکم نہیں ہے۔ میں نے فائر مین کو اسے درست کرنے کے لئے بھیجا ہوا ہے۔ میں نے مرزا سمیع کو آ کر بتایا کہ ابھی ویکم بھی نہیں بنا ہے۔ اسی دوران گاڑی نے وسل دیا اور چل دی۔
گاڑی دو تین مرتبہ چل کر رکی۔ کیونکہ ہر مرتبہ اس کا ویکم خراب ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ویکم پھر ٹھیک کرایا گیا اور اس کے بعد گاڑی چل گئی۔ گاڑی اندازاً ۱۰ بج کر ۳۵ یا ۴۰ منٹ پر وہاں سے گئی ہوگی۔ جب میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر گیا تو کنٹرولر نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ گاڑی اتنی دیر کھڑی رہی ہے اور تم لوگوں نے کوئی پیغام نہیں بھیجا۔ میں نے کہا میری ڈیوٹی نہیں ہے بلکہ مرزا سمیع کی ہے۔ وہی اس سلسلہ میں جواب دیں گے۔ جب اسٹیشن ماسٹر گاڑی کی روانگی کے بعد واپس آئے تو ان کے ساتھ پانچ دس اور آدمی بھی تھے۔ ان میں سے چند معروف لوگ تھے۔ مثلاً عبدالغفار ریٹائرڈ اسٹیشن ماسٹر، چوہدری بشیر احمد صدر عمومی ربوہ۔ جب مرزا عبدالسمیع رپورٹ تیار کر رہے تھے تو ان کی مدد عبدالغفار کر رہا تھا۔ جب کہ مسٹر بشیر احمد مقامی ٹیلیفون پر کسی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں اس وقت دوسری آنے والی گاڑی کے کاغذات تیار کرنے لگ گیا۔ میں نے اصل لڑائی نہیں دیکھی۔ البتہ میں نے دیکھا کہ بہت سے جوان لوگوں کے گروپ انجن کی طرف سے پلیٹ فارم پر آ رہے تھے۔ یہ جوان کالج کے طلباء، ہائی سکول کے طلباء اور بازار کے لوگوں پر مشتمل تھے۔ وہ گاڑی کے پچھلے حصے کی طرف چلے گئے۔ وہ ہر بوگی میں کسی نہ کسی کو تلاش کر رہے تھے۔ اس حالت میں وہ گاڑی کے آخری حصے تک چلے گئے۔ پلیٹ فارم پر بھی بہت سے لوگ تھے۔ لیکن میں نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ میں نے متذکرہ زخمی طالب علم کو دیکھا ہے جس نے میرے پوچھنے پر بتایا تھا کہ وہ گورنمنٹ کالج ملتان کا طالب علم ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے ۱۵۰ کے قریب طلباء تھے۔ جن کے ساتھ گاڑی میں لڑائی ہوئی ہے۔ جب چناب ایکسپریس پلیٹ فارم پر کھڑی تھی تو پورا اسٹیشن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ پلیٹ فارم، برآمدہ، پل سبھی جگہ لوگ تھے۔ ایسا پتہ چلتا تھا کہ سارا ربوہ اسٹیشن پر آ گیا ہے۔
مسٹر لطیف کی جرح کے جواب میں گواہ نے کہا کہ میں نے عبدالغفار کو وہاں کئی بار دیکھا۔ میں نے بشیر احمد، رشید احمد کو بھی اسٹیشن پر آتے ہوئے کتنی مرتبہ دیکھا۔ کرم الٰہی بھٹی کے سوالوں کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ لائن کلیئر اسٹیشن ماسٹر، پوائنٹس مین یا دوسرے کسی ماتحت ملازم کے ہاتھوں انجن ڈرائیور تک پہنچاتا ہے۔
جرح: ایم۔اے رحمان
س ...... اسٹیشن ماسٹر نے کیا رپورٹ تیار کی؟
ج ...... مجھے اس کا علم نہیں۔ البتہ وہ چناب ایکسپریس کے وقوعہ کے بارے میں تھی۔
س ...... عبدالغفار اور سمیع کے مابین کیا بات ہوئی؟
ج ...... غفار نے ہمارے اسٹیشن کی پیغام رسانی کی کتاب لے کر اس پر اندراج کئے۔ اس کے بعد عبدالغفار اور عبدالسمیع نے باہمی صلاح
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشورے سے رپورٹ تیار کی اور اسے غفار نے تحریر کیا۔ کیونکہ سمیع کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ میں نے مرزا سمیع سے پوچھا تھا کہ اگر میری ضرورت ہو تو میں مدد کروں اور رپورٹ لکھ دوں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ تم جاؤ۔ تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ غفار کو میں کافی عرصہ سے جانتا ہوں اس سے قبل میں نے انہیں کبھی اسٹیشن ماسٹر کی مدد کرتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے واقعہ کا علم نہیں تھا۔ جب میں گھر سے پلیٹ فارم پر آیا تو بکنگ کلرک اختر نے مجھے بتایا کہ نشتر میڈیکل کالج کے جو لڑکے یہاں سے گزرے تھے آج وہ واپس آئے ہیں تو ان کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے۔ رپورٹ تیار کرتے وقت مسٹر غفار نے اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ جب یہ لڑکے چناب ایکسپریس میں پشاور کی طرف جا رہے تھے تو بہت نعرے لگا رہے تھے۔ لیکن اب جب کہ ہمارے لوگ انہیں مار رہے تھے تو طلباء کچھ بول نہیں رہے تھے بلکہ چوہوں کی طرح گاڑی کے ڈبوں میں گھس رہے تھے۔ مسٹر عبدالغفار اس وقت بہت غصے میں تھا۔ جب گاڑی جارہی تھی تو رشید احمد پلیٹ فارم پر کھڑا تھا اور اس کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا ڈنڈا تھا۔
ربوہ کے مختلف محلے ہیں۔ دارالیمن، دارالبرکات، دارالعلوم، دارالرحمت، دارالصدر۔ اس کے بعد ہر محلہ کو تین حصوں میں شرقی، غربی اور وسطی میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ ہر محلہ میں ایک صدر محلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے کچھ معاون ہوتے ہیں جو اس کے انتظام میں مدد دیتے ہیں اور کچھ ماتحت بھی ہوتے ہیں۔ میں محلہ دارالرحمت کے صدر ملک فتح کو جانتا ہوں۔ وقوعہ کے روز پلیٹ فارم پر ملک فتح محمد کے لڑکوں کو دیکھا جو تعداد میں چار تھے۔ وہ سب کے سب وہاں تھے۔ مولوی عزیز احمد بھانبڑی پولیس وغیرہ کے انچارج ہیں۔ مجھے یہ علم نہیں کہ انہیں کوتوال ربوہ کہتے ہیں۔
س ...... کیا ربوہ میں کوئی غیر احمدی بھی شہری کے طور پر وہاں رہتا ہے؟ ج ...... جی نہیں۔ ربوہ میں کوئی غیر احمدی نہ تو کوئی جائیداد رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی وہاں کاروبار کرتا ہے۔ البتہ کچھ طلباء باہر سے وہاں کے کالجوں میں یا سکولوں مثلاً کنڈر گارڈن میں داخل ہیں جو غیر احمدی ہیں۔ اس کے سوا بعض سرکاری ملازم بھی غیر احمدی وہاں رہتے ہیں۔ میں ایسے دو خاندانوں کو جانتا ہوں جو اپنے بچوں کے لئے جو کنڈر گارڈن میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور غیر احمدی ہیں، ربوہ میں مقیم ہیں۔ ان کے نام عمر حیات لالی اور محمد نواز لالی ہیں۔ دونوں رشتہ دار ہیں۔
س ...... آپ وہاں چار سال سے ہیں۔ وہاں آپ نے نوجوانوں کو ورزش کرتے یا ڈرل کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ ج ...... جامعہ احمدیہ کے طلباء کو کبھی کبھی ورزش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن ایسا صرف دو تین ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ وہ بھاگتے ہوئے اسٹیشن سے گزرتے ہیں اور سنا ہے کہ چار پانچ میل کی دوڑ لگاتے ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں مبلغ تیار کئے جاتے ہیں۔
س ...... کیا ربوہ سے تعلق نہ رکھنے والے غیر احمدی بھی ربوہ میں آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں؟ ج ...... جی نہیں۔ ربوہ سے تعلق نہ رکھنے والے غیر احمدی اجازت کے بغیر شہر میں نہ تو داخل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پھر سکتے ہیں۔ اجازت امور عامہ کا محکمہ دیتا ہے۔ جن خاندانوں کو سرکاری ملازمت یا بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں ربوہ رہنا ہو اور وہ غیر احمدی ہوں تو انہیں بھی وہاں کرایہ کا مکان لینے سے قبل امور عامہ کے محکمہ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ باہر سے آنے والے لوگ البتہ بازار تک جا سکتے ہیں۔ لیکن ربوہ کے محلوں اور دوسرے حصوں میں نہیں جا سکتے۔ انہیں عزیز بھانبڑی کے تحت کام کرنے والے لوگ روک دیتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... آپ چار سال سے وہاں مقیم ہیں۔ کبھی اس عرصہ میں احمدیوں میں کوئی ایسا جھگڑا ہوا ہو جو عدالت تک گیا ہو یا پولیس تک گیا ہو؟ ج...... جی نہیں۔ تمام معاملات و جھگڑے امور عامہ کا محکمہ طے کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کوئی امور عامہ کے محکمہ کا فیصلہ نہ مانے تو اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔ س...... چار سال کے دوران کبھی دیکھا یا سنا ہو کہ ربوہ میں اسلحہ اکٹھا کیا جا رہا ہے؟ ج...... مجھے اس سلسلہ میں کوئی علم نہیں۔ س...... چناب ایکسپریس کے بعد جو ریل کار آئے وہ پہلے کس لائن پر کھڑی کرتے ہیں؟ ج...... پلیٹ فارم پر کھڑی کرتے ہیں۔ لیکن اس روز اسے دوسری لائن پر کھڑا کیا گیا۔ س...... دوسری لائن پر گاڑی کو کھڑی کرنے کا فیصلہ آپ کا تھا یا اسٹیشن ماسٹر کا تھا؟ ج...... اسٹیشن ماسٹر نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اس گاڑی کو پلیٹ فارم پر نہ لو۔
(نوائے وقت مورخہ ۱۲؍جون ۱۹۷۴ء)
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
اسٹیشن ماسٹر کی غلطی میرے نزدیک یہ ہے کہ چناب ایکسپریس کو چلانے کے لئے ریلوے کے قواعد پورے نہیں ہوئے۔ خدام الاحمدیہ تنظیم ۴۰ سال سے زائد عمر کے نوجوانوں، انصار اللہ ۱۵ تا ۴۰ اور خدام الاحمدیہ ۱۵ سال سے کم عمر والے اطفال کی تنظیم میں آتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کے اجتماع ہوتے ہیں۔ میں نے نہ ربوہ کا کوئی آدمی زخمی ہوتے دیکھا نہ کسی سے سنا کہ کوئی زخمی ہوا۔ میں ربوہ کے لوگوں کے ہاتھ میں ڈنڈے دیکھ کر اور اسٹیشن پر ہونے والے واقعات سے بہت پریشان تھا۔ میں نے ربوہ میں پیپلز پارٹی کا کوئی دفتر نہیں دیکھا۔ پیپلز پارٹی کے جھنڈے بہت سے گھروں پر لہراتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ پیپلز پارٹی کے صدر اور سیکرٹری کون ہیں۔ ربوہ کے خلیفہ کا حکم ہی ربوہ میں چلتا ہے۔ مجھے یہ علم ہو گیا تھا کہ ایئر مارشل ریٹائرڈ ظفر چوہدری ایئر فورس کے کمانڈر انچیف تھے۔ ان کو ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ وہ احمدی تھے۔ یہ درست ہے کہ احمدیوں کو قادیان واپس جانے کا بہت شوق ہے۔ یہ درست ہے کہ کچھ میتوں کو بہشتی مقبرہ کے قبرستان میں بطور امانت دفن کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ جب ممکن ہو گا ان کو قادیان لے جایا جائے گا۔
مرزا نصیر احمد کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ احمدی ایک سالانہ جلسہ کرتے ہیں۔ اس میں بہت زیادہ افراد شریک ہوتے ہیں۔ جلسہ تین دن رہتا ہے۔ ان دنوں بہت سے ٹمپریری سٹال لگتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جلسے کے دنوں کئی غیر احمدی وہاں جاتے ہیں۔ ان کے لئے حدود مقرر ہوتے ہیں۔ گول بازار اور رحمت بازار دو بازار ہیں۔ یہ دونوں غیر احمدیوں کے لئے ممنوع نہیں ہیں۔ خدام الاحمدیہ کے ارکان ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ سڑکیں وغیرہ بناتے ہیں اور اس طرح کے دوسرے کام کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ میں نے سنا ہے لیکن کسی کو یہ کام کرتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ احمدی دوسروں کے سامنے تبلیغ کرتے ہیں اور گرویدہ کر کے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جماعت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمدیہ کے تمام کاموں، ہسپتال، لنگر خانے وغیرہ کی غرض اپنے مذہب کی اشاعت ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ دریائے چناب میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے کشتیاں چلاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے ریل کار پلیٹ فارم والی لائن پر اس لئے نہیں لی تھی کہ پلیٹ فارم پر کراکری اور شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔
مسٹر ایم.اے رحمان نے عدالت کو بتایا کہ اس ٹربیونل سے مسٹر مبشر لطیف کی درخواست کے مسترد ہونے کے بعد فاضل ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے اور زیر حراست لوگوں سے ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس لئے زیر حراست لوگوں کو خاص طور پر اسٹیشن ماسٹر ربوہ کو جلد از جلد اس ٹربیونل میں شہادت کے لئے طلب کر لیا جائے۔ پیشتر اس کے کہ ان کے ساتھ باہر سے کوئی آدمی رابطہ قائم کرلے۔ کیونکہ باہر سے لوگوں کی ملاقات کے نتیجے میں گواہ کی شہادت اثر انداز ہوگی۔ مسٹر اعجاز حسین بٹالوی نے اس کی مخالفت کی۔ مسٹر فاروق حسن (ہائیکورٹ بار) نے بھی اس کی مخالفت کی اور کہا کہ گواہ کا حق ہے کہ وہ قانونی مشورہ حاصل کرے۔ مسٹر رفیق احمد باجوہ نے گواہ کے وکیل مقرر کرنے کے بارے میں کہا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن وہ کسی وکیل کو Consult کرسکتا ہے۔ انہوں نے رنیائے کیس کا حوالہ دیا کہ اس میں گواہ کو وکیل مقرر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ٹربیونل نے اس نکتہ پر غور کرنے کے بارے میں فرمایا کہ بعد میں اس نکتے پر فیصلہ کیا جائے گا۔
حافظ محمد طارق صاحب نے مجلس لاہور، جو طلباء کی ایک انجمن ہے، کی طرف سے پیش ہونے کی اجازت چاہی۔ لیکن فاضل ٹربیونل نے فرمایا کہ پہلے مجلس کا دستور وغیرہ پیش کیا جائے اس کے بعد اجازت دی جائے گی۔ ۱۱؍ جون کی کارروائی سے متعلق ایک مختصر اخباری بیان ٹربیونل کی طرف سے دیا گیا جو یہ ہے:
”لاہور: ۱۰؍ جون (ا.پ.پ) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل نے جو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس کے.ایم.اے صمدانی پر مشتمل ہے۔ آج ۵ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ سوائے جماعت احمدیہ کے مفادات کی نمائندگی کرنے والے وکیل کے، تمام تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے درخواست کی کہ آج کے اخبارات میں شائع ہونے والے بیان کی روشنی میں احمدیہ جماعت کے سربراہ کا جس قدر جلد ممکن ہو بیان لیا جائے۔ ٹربیونل نے کہا کہ اس سوال پر مناسب وقت پر غور ہوگا اور فیصلہ کیا جائے گا۔ آج ٹربیونل کے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق اجلاس شروع ہوتے ہی احمدیہ جماعت کے نمائندہ وکیل کے سوا تمام دیگر تنظیموں کے وکلاء نے کہا کہ احمدیہ فرقہ کے سربراہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کے نمائندے کو جو بیان دیا ہے اور جو آج کے اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کی روشنی میں احمدیہ فرقہ کے سربراہ کی شہادت بہت ضروری ہے اور ان کا بیان جس قدر جلد ممکن ہو، لینا چاہئے تاکہ ٹربیونل کو جماعت احمدیہ کے خیالات کا علم اولین موقع پر ہو۔ بعض وکلاء نے مناسب ہونے کے جواز پر بھی اعتراض کیا۔ کیونکہ ایسے موقع پر جب کہ ربوہ کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک ٹربیونل قائم کیا گیا ہے۔ اس لئے ایسا کوئی بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ ان سوالات پر وقت آنے پر غور کیا جائے گا اور اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آج مبشر لطیف ایڈووکیٹ نے درخواست دی کہ واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور کہا گیا کہ وہ اس سلسلہ میں مناسب جگہ درخواست دیں۔ پی.پی.آئی کے مطابق احسان وائیں ایڈووکیٹ نے دیس پنجاب محاذ اور شیر عالم ایڈووکیٹ نے جمعیۃ علمائے احناف کی نمائندگی کی اجازت طلب کی۔ اجازت دے دی گئی۔“
(جنگ کراچی، مؤرخہ ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۱۱.....عبدالصمد سیکشن کنٹرولر لائل پور
میں لائل پور میں بطور سیکشن کنٹرولر تعینات ہوں اور احمدی نہیں ہوں۔ وقوعہ کے روز کنٹرول آفس میں میری ڈیوٹی ۷ بجے صبح سے ایک بجے دوپہر تک تھی۔ میری ڈیوٹی چک جھمرہ بورڈ پر تھی۔ جس پر لائل پور سے وزیر آباد ، چک جھمرہ سے شاہین آباد تک اور سانگلہ ہل سے شیخوپورہ تک گاڑیوں کی آمدورفت کنٹرول کی جاتی ہے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسٹیشن ماسٹر ربوہ نے فون پر مجھ سے بات کی اور چناب ایکسپریس کی پوزیشن پوچھی اور کہا کہ لوگ اس گاڑی کی صحیح پوزیشن کا پتہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ صبح جب میں نے ڈیوٹی سنبھالی تو چناب ایکسپریس ایک گھنٹہ لیٹ آرہی تھی۔ گاڑی اس وقت تک شیڈول ٹائم سے ۴۵ منٹ لیٹ آرہی تھی۔ میرے ذمہ ایک اور گاڑی ۵۱.اپ پسنجر گاڑی کی نگرانی بھی تھی۔ میرے اندازے کے مطابق اس کا ۱۲ ڈاؤن سے برج اسٹیشن پر کراس ہونا چاہئے تھا۔ لہٰذا میں نے اسٹیشن ماسٹر برج کو اس کراسنگ کے لئے تیار کر لیا تھا۔
میں نے چناب ایکسپریس کا پتہ کرنے کے لئے ۱۰ بج کر ۱۰ منٹ پر اسٹیشن ماسٹر ربوہ سے رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی اسٹیشن پر ۱۰ بج کر ۵ منٹ پر پہنچی۔ لیکن اسٹیشن پر ہنگامہ ہے اور بہت سے لوگ لاٹھیوں اور چاقوؤں سے فساد کر رہے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔ انہوں نے پلیٹ فارم پر ہجوم کی تعداد پانچ چھ سو بتائی۔ میں نے ڈپٹی چیف کنٹرولر اور چیف کنٹرولر کو ، جو اس کنٹرول روم میں موجود تھے، اس کی اطلاع دی۔ نثار علی اوپل چیف کنٹرولر نے مجھے کہا کہ کنٹرول فون پر ربوہ اسٹیشن ماسٹر سے میری بات کرائیں۔ میں نے دوبارہ گھنٹی دی اور تین چار گھنٹیوں کے بعد فون اٹھایا اور وہی اطلاع جو مجھے دی تھی ، چیف کنٹرولر کو دی۔ چونکہ سسٹم کھلا تھا۔ اس لئے اسٹیشن ماسٹر اور چیف کنٹرولر کی باہمی بات چیت میں بھی سن رہا تھا۔ چیف کنٹرولر نے اسٹیشن ماسٹر ربوہ کو ہدایت کی کہ وہ مقامی پولیس کی مدد حاصل کریں اور یہ بھی ہدایت کی کہ آپ گاڑی کو چلانے کی کوشش کریں اور تفصیلی اطلاع دیں کہ کیا ہوا؟ اس کے بعد ٹیلیفون بند کر دیا۔ میں نے تقریباً ۱۰ بج کر ۲۰ منٹ پر پھر فون کیا۔ تیسری چوتھی گھنٹی پر اللہ بخش اے.ایس.ایم نے فون اٹھایا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ابھی اپنے کوارٹر سے آیا ہے اور اس نے یہ بھی بتایا کہ اسٹیشن ماسٹر دفتر میں موجود نہیں ہے اور گاڑی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ وہ اسٹیشن ماسٹر کو بلا لائے اور بات کرائے۔ اس کے تین چار منٹ بعد گارڈ انچارج مسٹر نذیر احمد نے کنٹرول فون پر مجھے بتایا کہ پلیٹ فارم پر فساد ہو رہا ہے اور ربوہ کے مقامی باشندے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو ان کے ڈبوں سے اور جہاں کہیں وہ دوسرے ڈبوں میں پائے گئے، وہاں سے نکال کر مار رہے ہیں۔ اس لئے گاڑی کے جلد روانہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ میں نے اسے بھی یہ کہا کہ اسٹیشن ماسٹر کو بلاؤ۔ پھر فون بند کر دیا۔ اس کے دو تین منٹ بعد مرزا سمیع اسٹیشن ماسٹر نے مجھے گھنٹی دی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں گاڑی چلا سکتا ہوں۔ آپ اجازت دیں۔ میں نے اجازت دے دی۔ عام طور پر میری اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اس غیر معمولی واقعہ کی وجہ سے اس نے اجازت مانگی۔ میں نے اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ گاڑی فوراً چلاؤ اور واقعہ کی تفصیلی رپورٹ لکھ کر بھیجو۔ اس کے تین چار منٹ بعد گارڈ انچارج نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہنگامہ کی وجہ سے یہ گمان ہے کہ تمام مسافر طلباء گاڑی پر سوار نہیں ہو سکے۔ اس طرح یہ بھی گمان کیا جا رہا ہے کہ کسی طالب علم کو اغوا نہ کر لیا گیا ہو۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ گاڑی چلائیں اور لائل پور پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ زخمی طلباء کو طبی امداد دی جاسکے۔ اس کے بعد پھر میں فون کرتا رہا۔ تقریباً ۱۰ بج کر ۴۵ منٹ پر اسٹیشن ماسٹر نے مجھے بتایا کہ گاڑی جا چکی ہے۔ اس کی روانگی کا وقت ۱۰ بج کر ۳۵ منٹ لکھوں۔ میں نے حادثہ کی رپورٹ مانگی تو انہوں نے کہا اسے چوٹ آئی ہے۔ اس لئے تھوڑی دیر بعد رپورٹ دے گا۔ اس کے بعد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں سات آٹھ منٹ تک رپورٹ کا پتہ کرتا رہا۔ لیکن اسٹیشن ماسٹر لیت ولعل کرتے رہے۔ اسٹیشن ماسٹر نے فون پر ۱۱ بج کر ۲۰ منٹ پر مجھے رپورٹ لکھوائی۔ چنیوٹ اسٹیشن سے مجھے فون پر ۱۱ بج کر ۵ منٹ پر اطلاع ملی کہ وہاں گاڑی ۱۱ بج کر ۱ منٹ پر پہنچ گئی تھی۔ چنیوٹ اسٹیشن سے گارڈ انچارج نے مجھے فون پر بتایا کہ انہوں نے چند طلباء کی مرہم پٹی کی ہے اور اس کے بعد فرسٹ ایڈ کا سامان ختم ہو گیا ہے۔ میں نے تمام اسٹیشنوں سے جو چنیوٹ سے لائل پور کے درمیان تھے رابطہ رکھا۔ لیکن مجھے کوئی خاص بات نہ بتائی گئی۔ چناب ایکسپریس ۱۲ بج کر ۳۰ منٹ پر لائل پور پہنچی۔ میں ایک بجے چلا گیا۔
کمال مصطفیٰ بخاری کی جرح کے جواب میں
س ...... کیا آپ کی لاگ بک میں ۲۲ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر رونما ہونے والے کسی غیر معمولی واقعہ کی اطلاع ملی؟
ج ...... جی نہیں۔ ہمارے ریکارڈ میں ایسی کوئی بات نہیں۔
میاں شیر عالم کی جرح کے جواب میں
س ...... مرزا عبد السمیع نے چناب ایکسپریس کی پوزیشن کے بارے میں جس بے قراری کا اظہار ۲۹ مئی کو کیا، کیا اس سے قبل بھی کسی گاڑی کے لئے ایسا کیا؟
ج ...... جی نہیں۔ مرزا سمیع اس روز صحیح پوزیشن اور وقت کے بارے میں نہایت بے قراری سے پوچھ رہے تھے۔
گواہ نمبر ۱۲...... سید صفدر حسین، بکنگ کلرک ربوہ
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں ریلوے میں بکنگ کلرک ہوں اور ریلیونگ سٹاف میں ہوں۔ میرا ہیڈ کوارٹر لاہور میں ہے۔ جہاں کہیں ضرورت ہو مجھے بھیج دیا جاتا ہے۔ میں ۲۹ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر ڈیوٹی پر تھا۔ اس لئے پہلے ۲۷ مئی تک میں نشتر آباد اسٹیشن پر تھا۔ ۲۷ مئی کو میں نے ربوہ میں ڈیوٹی لی اور تین دن ڈیوٹی کی اور ۳۰ مئی تک وہاں رہا۔ میری ڈیوٹی کے اوقات صبح ۸ بجے سے ۴ بجے شام تک تھے۔ وہاں کا مستقل بکنگ کلرک اختر، جسے تین دن کی چھٹی دی گئی تھی، میں اس کی جگہ گیا۔ ربوہ میں مستقل طور پر صرف ایک ہی بکنگ کلرک ہوتا ہے۔ ۴ بجے شام کے بعد سے اگلی صبح کو ۸ بجے تک بکنگ کلرک کا کام ڈیوٹی پر متعین اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر یا اسٹیشن ماسٹر کرتے ہیں۔ میں چونکہ عارضی طور پر وہاں تعینات تھا، اس لئے وہاں رہنے کا بندوبست نہیں تھا۔ اس لئے میں اپنے گھر سرگودھا بس کے ذریعہ چلا جاتا تھا اور پھر اگلی صبح آ جاتا تھا۔ میں نے ۲۹ مئی کو ۱۱ بجے اپنا چارج لیا اور بکنگ شروع کر دی۔ میرے پارسل بک کرانے اور چھڑانے کے لئے لوگ آتے تھے۔ اس لئے مجھے فرصت ہی نہیں تھی کہ میں باہر دیکھوں کہ کیا ہو رہا ہے؟ جب گاڑی اسٹیشن پر آ جاتی ہے تو بکنگ کلرک لوڈنگ، ان لوڈنگ کر کے گاڑی کی بریک وین میں جاتا ہے۔ میرے پاس ایک اخبار کا بنڈل تھا۔ چنانچہ ماتحت ملازم بنڈل دینے چلا گیا۔ گاڑی آنے کے وقت بھی میں دفتر میں تھا۔ ماتحت ملازم ۲ منٹ بعد بنڈل گاڑی کے لگیج گارڈ کو دے کر بریک وین میں رکھوا کر آ گیا اور بتایا کہ گاڑی سے اترنے والا مال کوئی نہیں۔ تھوڑی دیر بعد شور مچا اور سنا کہ ہنگامہ ہو گیا۔ وہاں پر اسٹیشن ماسٹر کا کمرہ میرے کمرہ سے ملحق ہے۔ اس لئے میں نے دیکھا کہ وہاں پر اسپیشل ٹکٹ ایگزامینر، گارڈ انچارج، لگیج گارڈ اقبال، ایک آدمی زخمی اور ایک سپاہی وہاں آیا۔ میں نے باہر ان کے کمرے میں دیکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اسٹیشن ماسٹر مرزا سمیع نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے پاس کیش ہے تم باہر نہ آؤ۔ باہر ہنگامہ ہو رہا ہے تم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے کیش کی حفاظت کرو۔ چنانچہ میں اپنی جگہ واپس آگیا اور اپنی میز کے دراز سے کیش نکال کر سیف میں رکھ دیا اور وہیں بیٹھ کر شور اور نعرے سنتا رہا۔ امیر المؤمنین زندہ باد کا نعرہ میں نے ضرور سنا۔ باقی نعرے صاف نہیں سنے۔ میرا خیال ہے کہ ہنگامہ کم از کم نصف گھنٹہ تک جاری رہا۔ میں نے ساتھ والے کمرے سے سنا، گارڈ کہہ رہا تھا کہ جب تک کنٹرول آرڈر نہ دے، میں گاڑی کیسے چلاؤں۔ کہیں کوئی طالب علم رہ نہ جائے۔ ویسے بھی آخری بوگی کا کپلنگ ٹوٹا ہوا ہے۔ اس کے بعد شور غل ختم ہوا اور گاڑی چلی گئی۔ اپنی کھڑکی سے میں نے پلیٹ فارم پر لوگوں کا بڑا مجمع دیکھا۔ اندازاً چار پانچ صد لوگ ہوں گے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے اور جوش و خروش میں تھے۔
شام کا اجلاس
میں نے لوگوں کو ڈنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا۔ میں نے اور کچھ نہیں دیکھا تھا۔ ۶۲ ڈاؤن ریل کار چناب ایکسپریس کے دس، پندرہ منٹ بعد آئی ہوگی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کب چلی۔ ۶۲ ڈاؤن گاڑی کے اسٹیشن سے جانے کے بعد میں نے اپنا دفتر چھوڑ دیا۔ کبھی اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں جاتا ، کبھی پلیٹ فارم پر۔ جب پلیٹ فارم پر آیا تو میں نے دیکھا کہ پلیٹ فارم صاف ہوگیا۔ چار بجے مجھ سے اے، ایس، ایم نے چارج لیا اور میں سرگودھا چلا گیا۔ جب چناب ایکسپریس جارہی تھی تو ہجوم ابھی تک وہیں تھا۔
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں
میرے کمرے کا دروازہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم کی طرف کھلتا ہے۔ لیکن اسے بند رکھنا ہوتا ہے۔ پلیٹ فارم کی طرف ایک کھڑکی بھی ہے۔ بکنگ کی کھڑکی مسافر خانہ میں کھلتی ہے۔ بکنگ پر بیٹھا ہوا آدمی وہاں سے گاڑی کی تقریباً ڈیڑھ بوگیاں صاف دیکھ سکتا ہے۔ البتہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جائے تو تین بوگیاں نظر آسکتی ہیں۔ جب مجھے مسافروں کے ٹکٹ خریدنے کے بعد وقت ملتا ہے، میں پلیٹ فارم کی طرف دیکھ لیتا تھا۔ ۲۸؍مئی کو کوئی پلیٹ فارم ٹکٹ فروخت نہیں ہوا۔ البتہ ۲۹؍مئی کو ۱۵ پلیٹ فارم ٹکٹ فروخت ہوئے۔ ۳۰؍مئی کو شاید ایک پلیٹ فارم ٹکٹ فروخت ہوا۔ ۸ بجے صبح سے چناب ایکسپریس کے آنے تک ۱۵ پلیٹ فارم ٹکٹ فروخت ہوئے۔ میں نے سنا تھا کہ گارڈ کنٹرول کو کہہ رہا تھا کہ نشتر میڈیکل کالج کے لڑکوں کی بوگی پر بہت زیادہ ہجوم نے حملہ کردیا ہے۔ گارڈ یہ کہہ رہا تھا کہ اسے ۲۲؍مئی کے واقعہ کا علم نہیں ہے۔ گارڈ کہہ رہا تھا کہ پتہ نہیں کتنے زخمی مر جائیں گے۔ ایک زخمی کی حالت نازک تھی۔ میں اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں دو منٹ کھڑا رہا۔ جونہی گاڑی آئی، ہنگامہ شروع ہوگیا اور گاڑی روانہ ہونے کے تھوڑے عرصہ قبل تک جاری رہا۔ اسٹیشن ماسٹر گھبرایا ہوا تھا۔ اس لئے میں نے اس واقعہ کے بارے میں نہیں پوچھا۔ اسٹیشن ماسٹر سے فون پر جو کوئی ہنگامہ کی تفصیل پوچھتے تھے، وہ جواب میں یہی کہتے کہ جھگڑا ہوا ہے۔ میں خود ہنگامہ کی صورتحال سے خوفزدہ تھا۔ اس لئے پلیٹ فارم پر نہ گیا۔ گاڑی کے وقت میں نے جس ہجوم کو جاتے دیکھا وہ جوش میں تھا اور طلباء کی بوگی پر حملہ کرنے جا رہا تھا۔ ربوہ کے لوگ اپنے سربراہ کو امیر المؤمنین کہتے ہیں۔
اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں
میں دو ماہ سے Relieving Staff میں ہوں۔ ۲۹؍مئی کو ۱۵ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے علاوہ چناب اور ۶۲ ڈاؤن گاڑیوں کے لئے پچیس تیس ٹکٹ فروخت کئے ہوں گے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے ایک فرسٹ کلاس کا ٹکٹ فروخت کیا تھا۔ ۸ بجے سے لے کر گاڑی کے آنے تک معمول کے مطابق ہجوم اسٹیشن کے ہال میں تھا۔ اڈا لاریاں ، اسٹیشن سے تین فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ اسٹیشن سے اڈے کو جائیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تو شہر سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ ۲۹، ۳۰؍ مئی کو اسٹیشن سے اڈے کو جاتے ہوئے کسی نے مجھے نہ روکا تھا نہ پوچھا تھا۔ ۳۰؍ مئی کو ایک شخص نے قصر خلافت کے قریب مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو، میں نے بتایا کہ سرگودھا سے آیا ہوں۔ میں نے پوچھا تم کیوں پوچھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ میں جھگڑا ہو گیا ہے۔
ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں
جو چار پانچ آدمی میں نے اپنے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھے ان میں سے اکثریت ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ خاتم النبیین سے میں سمجھتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ لیکن احمدی اس کی یہ تعبیر کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ تمام نبیوں کے سردار ہیں۔ خاتم سے ان کی مراد یہ ہے کہ انگوٹھی یا مہر۔ جب میں نے ربوہ میں یہ کتبہ لگا ہوا دیکھا تو میں نے سمجھا کہ احمدیوں نے دین کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء)
گواہ نمبر ۱۳...... مقبول اختر فوڈ گرین سپر وائزر
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں ۱۲؍ مئی سے ربوہ میں متعین ہوں۔ قریباً چار ماہ اسی Capcity میں متعین رہا ہوں۔ میں ۲۹؍ مئی کو اسٹیشن پر تھا۔ کیونکہ میں نے چار سو بوری گندم روانہ کرنا تھی۔ میرا دفتر گول بازار میں ہے۔ میں چنیوٹ میں رہتا ہوں۔ میں ربوہ میں صبح جاتا ہوں اور شام کو واپس چنیوٹ آ جاتا ہوں۔ اس روز میں اسٹیشن پر ۴:۵۰ پر پہنچا۔ اس سے قبل ۴:۴۰ پر میں نے ایک ڈپو کا معائنہ کیا تھا۔ جب میں ڈپو پر تھا تو میں نے دیکھا کہ کئی نوجوان ہاکیاں اور ڈنڈے لئے ہوئے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے۔ ڈپو ہولڈر نے مجھے کہا کہ آج ربوہ سے لاشیں گزریں گی۔ اس نے کہا یہ ہمارے حضرت صاحب کا حکم ہے کہ راولپنڈی سے جو لڑکے آ رہے ہیں ان کی لاشیں بھیجنی ہیں۔ میں نے پوچھا کیوں۔ اس نے جواب دیا کچھ لڑکے ملتان سے راولپنڈی جا رہے تھے۔ انہوں نے ساڑھے چھ بجے شام کے قریب نعرہ بازی کی تھی۔ احمدیت مردہ باد اور مرزا ناصر مردہ باد۔ ڈپو اسٹیشن سے ۱۵۰ گز کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بعد میں اسٹیشن پر آ گیا۔ ڈپو ہولڈر کا نام چوہدری اقبال ہے۔ ڈپو اور اسٹیشن کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ صاف نظر آتا ہے۔ ڈپو محلہ دارالرحمت میں ہے۔
جب میں اسٹیشن پر آیا سگنل ڈاؤن تھا۔ ۱۰:۰۵ پر گاڑی آئی۔ میں نے وقت نوٹ کیا تھا۔ جیسے ہی گاڑی رکی جو لوگ ہاکیوں، سوٹھیوں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے انہوں نے تین بوگیوں پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ ان میں سے ایک بوگی ڈائیننگ کار تھی۔ ایک لگیج کے ساتھ والی تھی اور تیسری پچھلی سے ایک بوگی آگے تھی۔ ٹرین میں کچھ لوگ پہلے سے ہاکیوں سے مسلح تھے۔ انہوں نے گاڑی میں سوار مسافروں کو مارنا شروع کر دیا اور بوگیوں سے نیچے پلیٹ فارم سائیڈ پر اور یارڈ سائیڈ پر پھینکنا شروع کر دیا۔ چند لڑکوں نے بوگیوں کے دروازے بند کر لئے اور اندر سے بند کر لیا۔ ہجوم نے پتھر مار کر شیشے توڑ دیئے۔ پلیٹ فارم پر موجود لوگوں نے گاڑی سے نکالتے ہوئے طلباء کو پیٹنا شروع کر دیا۔ ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ ان کی گھڑیاں گر کر ٹوٹ گئی تھیں۔ پچیس پچیس لڑکے ایک ایک لڑکے کو مار رہے تھے۔
میں اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں گیا۔ ان سے کہا یا چنیوٹ سے پولیس کی مدد منگوائیں یا سرگودھا سے فوج بلائیں۔ انہوں نے کہا میرا دایاں ہاتھ زخمی ہے۔ میں نے دیکھا مسٹر عبدالغفار ریٹائرڈ اسٹیشن ماسٹر بھی وہاں بیٹھا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اپنے زخمی ہاتھ کی رپورٹ لکھیں اور زخمیوں کو مرنے دیں۔ آپ نے ریلوے سے اس زخمی ہاتھ کے لئے کلیم کرنا ہے۔ میں دفتر سے باہر آ گیا تھا۔ تمام بوگیوں کی کھڑکیاں بند تھیں۔ بچے اور عورتیں چلا رہی تھیں۔ لیکن کسی نے مداخلت نہ کی۔ جن لڑکوں کو زخمی کیا گیا تھا ان میں سے اکثریت بیہوش ہو گئی۔ تھوڑی دیر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے بعد چوہدری بشیر احمد صدر عمومی ، عزیز احمد بھانبڑی ناظم امور عامہ اور ایک شخص رشید احمد ہے، خدام کے ساتھ اسٹیشن پر آگئے۔ میں نے رشید احمد کو اس دن پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ اس کا نام اس لئے یاد ہے کہ اسے اس نام سے اسٹیشن ماسٹر یا کوئی اور پکار رہا تھا۔ میں اسے شناخت کر سکتا ہوں ۔ وہ لمبے دبلے ہیں ۔ داڑھی ہے۔ دوسرے دونوں بھی بشیر احمد اور عزیز احمد کو میں پہلے سے جانتا ہوں۔ اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں ٹیلیفون آیا۔ بشیر احمد نے ٹیلیفون پر جواب دیا۔ معمولی قسم کا جھگڑا ہوا ہے۔ بیچ بچاؤ کر لیا گیا ہے۔ پھر بشیر احمد ، رشید احمد اور عزیز احمد بھانبڑی دفتر سے نکل آئے اور ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔ انہوں نے پھر مارنا شروع کر دیا ۔ یہ کھیل چالیس، پینتالیس منٹ جاری رہا۔ عورتیں چیخ و پکار کر رہی تھیں۔ بچے پانی مانگ رہے تھے۔ یہ طلباء سے اگلی بوگی میں تھے۔ اس سے اگلی بوگی فوجیوں کی تھی۔ فوجی سپاہیوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ میں انچارج گارڈ کے پاس گیا اور کہا کہ پانی پلانے کا انتظام کیا جائے۔ اس نے اسٹیشن ماسٹر کو پانی پلانے کے لئے کہا۔ میں اور گارڈ صاحب نے عورتوں، بچوں اور زخمی طلباء کو پانی پلایا۔
۱۳؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مؤرخہ ۱۳؍ جون (سٹاف رپورٹر ) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل کے جج مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی کے روبرو آج ربوہ کے فوڈ گرین سپر وائزر مقبول اختر پر جرح جاری رہی۔ اس نے جرح کے دوران بتایا کہ قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بعض ایسے افراد بھی جو مسلح افواج کی وردیوں میں ہوتے ہیں، شرکت کرتے ہیں۔ گواہ نے رفیق احمد باجوہ کی جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ ۱۹۷۳ء کے سالانہ جلسہ کے موقع پر جب احمدیہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد تقریر کر رہے تھے تو اس وقت فضائیہ کے دو جہاز عین جلسہ گاہ کے اوپر آئے تھے اور انہوں نے غوطہ لگایا تھا۔ گواہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سالانہ اجتماع میں مرزا ناصر احمد نے یہ بھی کہا تھا کہ لوگ اب آئندہ مکہ مدینہ نہیں جائیں گے بلکہ ربوہ آئیں گے اور یوں ربوہ کو پورے اسلام پر تسلط حاصل ہو جائے گا۔ گواہ نے کہا کہ وہ قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں ۱۹۷۳ء میں شریک ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ درست ہے کہ مرزا ناصر احمد کی تقریر کے دوران جلسہ گاہ کے اوپر سے ائیر فورس کے دو جہاز گزرے تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ انہوں نے غوطہ لگایا۔ جہازوں کا غوطہ لگانا مجھے عجیب معلوم نہیں ہوا۔ گواہ نے یہ اقرار کیا کہ اس نے کچھ لوگوں کو فوجی یونیفارم میں بھی جلسہ گاہ میں دیکھا۔ لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ فوجی افسر تھے۔ میں ایسے آدمیوں کا اندازہ نہیں بتا سکتا۔ میں نے مسلح افواج کی تینوں قسموں کی وردیوں میں ملبوس لوگوں کو دیکھا تھا۔ ٹربیونل نے مسٹر مبشر لطیف ایڈووکیٹ سے کہا کہ الفضل اخبار کا وہ پرچہ پیش کریں جس میں سالانہ جلسہ میں مرزا ناصر احمد کی تقریر شائع ہوئی ہے۔
س....... کیا آپ نے مرزا ناصر احمد کی تقریر سے یہ تاثر لیا کہ یہ گروہ دنیا بھر میں اپنا اقتدار حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور تیاری کر رہا ہے؟ ج....... ہاں ! مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ لوگ اب مکہ اور مدینہ نہیں جائیں گے بلکہ ربوہ آئیں گے اور اس طرح ربوہ کو اسلام پر تسلط حاصل ہو جائے گا۔ گواہ نے کہا کہ احمدیوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہو جائے تو وہ آپس میں تصفیہ کر لیتے ہیں اور عام عدالتوں میں نہیں جاتے۔
س....... کیا ربوہ کے ڈپو ہولڈر دوسرے شہروں کی طرح پیپلز پارٹی کے آدمی ہیں؟ ج....... جی نہیں۔ وہ قادیانی ہے اور اس کا نام محمد اقبال ہے۔ وہاں پر ایک شخص شمس الحق کا گھی کا ڈپو ہے لیکن وہ قادیانی ہے اور پیپلز پارٹی سے اس کا تعلق نہیں۔ اس کے پاس راشن ڈپو بھی نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... کیا آپ کو ۲۲؍مئی کے واقعہ کے بارے میں صرف ڈپو ہولڈر محمد اقبال نے ہی بتایا اور دوسرے کسی ذریعہ سے بھی پتہ چلا؟
ج ...... شاہد کلاتھ ہاؤس کے شاہد نے بھی مجھے اس واقعہ کے بارے میں بتایا۔ وہ بھی قادیانی ہے۔ اس نے البتہ یہ نہیں کہا کہ حضرت صاحب نے بھی حکم دیا ہے۔ جب کہ اقبال ڈپو ہولڈر نے کہا تھا کہ یہ جو لڑکے راولپنڈی سے واپس آ رہے ہیں ان کی لاشیں جانی چاہئیں۔ میں نے یہ بات کسی غیر احمدی سے نہیں سنی اور نہ ہی کسی اخبار میں پڑھی۔
س ...... کیا اسٹیشن سٹاف میں سے کسی نے ۲۲؍مئی سے ۲۹؍مئی تک آپ کو کوئی واقعہ بتایا؟
ج ...... جی ہاں! ایک مرتبہ جب میں اپنے کام کے سلسلہ میں گیا تو اسٹیشن ماسٹر مسٹر سمیع نے کہا کہ ملتان کے طالب علموں نے ۲۲؍مئی کو ربوہ اسٹیشن پر بہت خرابی کی اور نعرے لگائے۔ جس پر مقامی طلباء نے جو وہاں قریب ہی کھیل رہے تھے، انہیں یہ کہا کہ اب جب وہ ۲۹؍مئی کو یہاں سے گزریں گے تو ان کا پتہ کیا جائے گا۔
س ...... کیا پولیس کو بھی آپ نے کوئی بیان دیا؟
ج ...... جی ہاں! ۴؍ جون کو بیان ہوا اور میں نے پولیس کو بھی یہی بیان دیا تھا جو عدالت میں دیا ہے۔ یہ بیان ربوہ میں ہوا۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر جھنگ نے بھی بیان لیا۔ وہاں پولیس کے اعلیٰ افسر بھی موجود تھے۔
س ...... کیا آپ کے مرزا سمیع سے خوشگوار مراسم تھے اور اب بھی ہیں؟
ج ...... جی ہاں! اب بھی مراسم خوشگوار ہیں۔
کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
س ...... وقوعہ کے روز جب آپ نے لوگوں کو اسٹیشن پر جاتے دیکھا تو کیا وہ مشتعل تھے؟
ج ...... جی ہاں۔
احسان وائیں کی جرح کے جواب میں
س ...... آپ نے یہ کہا ہے کہ ریل کے ساتھ فوجی بھی تھے۔ ان کی تعداد کیا تھی؟
ج ...... میں نے تو تین چار دیکھے۔ میں نے فوج کے سپاہیوں سے مداخلت کے لئے یا نہتے ہوئے طلباء کو بچانے کے لئے نہیں کہا۔ میں نے ریلوے پولیس کے دو تین آدمی دیکھے۔
س ...... کیا کسی پولیس والے نے زخمی طلباء کی مدد کی؟
ج ...... جی ہاں! ایک سپاہی نے مدد کرنا چاہی۔ لیکن مارنے والوں نے کہا کہ اگر اپنی جان کی سلامتی چاہتا ہے تو یہاں سے چلا جائے اور احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے۔ قادیانیوں نے اس پولیس والے کو آگے دھکیل دیا۔ دوسرے دو تین پولیس والے بھی وہاں نظر نہیں آئے۔ میں نے صرف کانسٹیبل کالے خان کے پاس ایک چھڑی دیکھی تھی۔
س ...... آپ کا تاثر کیا تھا کہ یہ سب کچھ کون کرا رہا ہے؟
ج ...... میرا اپنا تاثر یہ تھا کہ ربوہ والوں کی سازش سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹریبیونل نے مبشر لطیف ایڈووکیٹ کو کہا کہ ۲۴؍مئی اور ۳۱؍مئی کے جمعوں کے خطبے جس پرچے میں شائع ہوئے ہیں، وہ ان کو دیئے جائیں۔ ۱۰:۴۰ پر عدالت کی کارروائی ۲؍بجے تک ملتوی ہوئی۔ ۲؍بجے بعد دوپہر
شیر عالم صاحب ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں
جب مرزا بشیر احمد اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں ٹیلیفون کر رہے تھے، وہ نہایت ادب سے بات کر رہے تھے۔
اعجاز بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں
میں نے گاڑی کے آنے کا وقت اس لئے نوٹ کیا تھا کہ چونکہ فساد ہوگا۔ اس لئے شاید گواہی دینی پڑے۔ میں گاڑی کے آنے پر آخری بوگیوں کے قریب کھڑا تھا۔ یہ بوگی نیچے کھڑی تھی۔ میں پلیٹ فارم سے نیچے اس لئے کھڑا تھا کہ زیادہ لوگ وہاں جمع تھے اور میں وہاں رہنا چاہتا تھا۔ جہاں ایکشن ہونے والا تھا۔ میں اسٹیشن پر گاڑی کے ساتھ ہی پہنچا۔ گاڑی کے آنے کے بعد میں وہاں قریباً دس منٹ بعد تک کھڑا رہا۔ اس دوران میں نے عبدالسمیع، ریلوے گارڈ انچارج اور ایک پولیس والے کو دیکھا۔ ان دس منٹوں کے دوران میں سب طرف دیکھ رہا تھا۔ آخری بوگی کے سامنے قریباً تین چار سو افراد جمع تھے۔ وہ سب میرے اردگرد کھڑے تھے۔ زمین، جہاں میں کھڑا تھا پلیٹ فارم سے ڈیڑھ دو فٹ نیچے ہے۔ یہ تجویز کرنا غلط ہے کہ تین چار فٹ نیچے ہے۔ وہاں کھڑے ہوئے میں باقی پلیٹ فارم بھی دیکھ سکتا تھا۔
عام طور پر ربوہ اسٹیشن پر تانگے موجود ہوتے تھے۔ اس وقت کوئی تانگہ موجود نہ تھا۔ تانگے والے بھی اسٹیشن پر موجود تھے اور ہجوم میں شامل تھے اور مارنے میں مصروف تھے۔ وہ سب تانگہ بان احمدی ہیں۔ اس لئے میں پولیس چوکی تانگہ لے کر نہ گیا۔ میں نے ریلوے اسٹیشن سے چوکی پولیس ٹیلیفون نہ کیا۔ ایک تو مجھے ٹیلیفون کرنے کی اجازت نہ دی۔ دوسرے بشیر احمد گواہ ٹیلیفون کر رہا تھا۔ میں گاڑی کے نیچے سے یارڈ سائیڈ پر دیکھ سکتا تھا۔ اس لئے یہ بتا سکتا ہوں کہ دوسری سائیڈ پر لڑکوں کو گرا کر مارا جا رہا تھا۔ جب میں ڈائیننگ کار کے سامنے کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ گارڈ انچارج کار سے ایک زخمی لڑکے کو لے کر آیا۔ اس زخمی نے بتایا کہ وہ سرگودھا سے آ رہا تھا۔ اسٹیشن ماسٹر نے اسے طبی امداد دی۔ وہ پلیٹ فارم پر ٹھہرا رہا۔ اسے پانی پلایا گیا۔
میں نے رشید احمد کو پہلی مرتبہ بوگی کے پاس دیکھا تھا۔ میں نے اسے سب سے پہلی مرتبہ اس وقت دیکھا جب وہ لائن بنوا کر ہجوم کو کنٹرول کر رہے تھے۔ اس وقت ایک آدمی نے رشید احمد کو ان کا نام لے کر پکارا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ ان کا نام رشید احمد ہے۔ بشیر احمد کا تعارف اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں ہی اسی دن ہوا تھا۔ میں مسٹر بشیر احمد کو غائبانہ جانتا تھا۔ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ صدر عمومی ہیں۔ لیکن پہلی مرتبہ اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں دیکھا تھا۔ کیونکہ ان کو صدر عمومی کہہ کر پکارا جا رہا تھا۔ اس لئے میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہی بشیر احمد ہیں۔ جب میں دوسری مرتبہ پچھلی بوگی کے سامنے گیا تو دو تین منٹ وہاں کھڑا رہا۔ اس کے بعد اسٹیشن کی طرف چلا گیا۔ میں گاڑی کے جانے تک چلتا پھرتا رہا۔ سات، آٹھ طلباء جو زیادہ زخمی تھے میں نے ان کو پلیٹ فارم پر دیکھا تھا۔ وہ وہاں بیہوش پڑے تھے۔ کوئی آدمی ان کو اٹینڈ نہیں کر رہا تھا۔ ریلوے کا کوئی ملازم شاید ان سے بات کر رہا تھا۔ میں نے ایک کے منہ میں پانی ڈالا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس گاڑی میں کچھ لوگ اندر سے حملے کر رہے تھے۔ میں جانتا تھا کہ جن لوگوں نے گاڑی کے اندر ہی طلباء کو مارنا شروع کر دیا تھا۔ وہ طلباء نہیں تھے جو اس گاڑی سے سفر کر رہے تھے۔ بلکہ وہ ربوہ کے لوگ تھے۔ کیونکہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ کچھ لوگ نشتر آباد اور شاہین آباد بھیجے گئے ہیں تا کہ وہ طلباء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ساتھ آئیں اور انہیں گاڑی کے ڈبوں کے اندر مارنا شروع کر دیں اور پلیٹ فارم پر موجود لوگ انہیں باہر سے مارنا شروع کر دیں۔ میں مسافروں اور ربوہ کے لوگوں کو الگ پہچان سکتا تھا۔ کیونکہ ربوہ کے لوگ ہاکیاں اور سوٹیاں اٹھائے ہوئے تھے۔ بلکہ بعض کی مخصوص داڑھیاں بھی تھیں۔ اگرچہ جن کی داڑھیاں نہیں تھیں ان کو دوسرے مسافروں سے پہچاننا مشکل ہے۔ میں چنیوٹ میں ڈیڑھ سال سے رہ رہا ہوں۔ جن دنوں ربوہ میں احمدیوں کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے، انہی دنوں چنیوٹ میں تحفظ ختم نبوت کی تنظیم کا ایک جلسہ چنیوٹ میں ہوتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ احرار بھی اس جلسے میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ میں نے کبھی یہ جلسہ نہیں سنا جو چنیوٹ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ میرا گھر جلسہ گاہ کے قریب ہے۔ ایسے غیر احمدی جن کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کو احمدیوں کا جلسہ سننے کی اجازت ہوتی ہے اور ان کو بھی اندرونی حصے میں نہیں جانے دیا جاتا۔ جہاں حضرت صاحب کی تقریر ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ربوہ کے واقعہ کے بعد چنیوٹ میں کچھ مکانات اور کچھ دکانیں جلائی گئی تھیں۔
گواہ نمبر ۱۴...... مظفر حسین گارڈ انچارج (۱۱؍ اپ، پی. ڈبلیو. آر)
میں احمدی نہیں ہوں۔ ۲۲؍ مئی کو میں ۱۱؍ اپ چناب ایکسپریس پر گارڈ انچارج تھا۔ میری ڈیوٹی لائل پور سے سرگودھا کے درمیان تھی۔ اس دن گاڑی ربوہ اسٹیشن پر ۲۵ منٹ لیٹ، ۷ بجے شام کو پہنچی۔ ربوہ کے اسٹیشن پر میرے علم میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تھی۔ اس دن ربوہ پر یہ گاڑی آٹھ منٹ ٹھہری کیونکہ دوسری گاڑی کا کراس تھا۔ میں جب کراس کی وجہ سے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کے سامنے کھڑا تھا تو پلیٹ فارم کے سرے پر انجن کے قریب (سرگودھا کی طرف) کچھ طلباء کھڑے تھے۔ طلباء کی بوگی جو ملتان سے آ رہی تھی وہ انجن کے ساتھ تھی۔ میری بوگی آٹھویں تھی۔ میں اس لئے نہیں جانتا کہ انجن کے قریب کیا ہوا۔ جب گاڑی ٹھہری تو طلباء اپنی بوگی سے اترے اور پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔ میں نے کوئی نعرہ نہ سنا۔ جس گاڑی سے کراس ہونا تھا۔ وہ آ گئی تو اے. ایس. ایم نے مجھے چناب چلانے کے لئے کہا۔ میں نے ڈرائیور کو اشارہ دیا اور گاڑی چل دی۔ کسی نے میرے سامنے کسی ناخوشگوار بات کی رپورٹ نہیں کی۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن سے چل پڑی تو ربوہ کے دس پندرہ نوجوان جو طلباء معلوم ہوتے تھے، انجن کی طرف دوڑ رہے تھے۔ اس وقت گاڑی پانچ چھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ جیسے ہی گاڑی نے سپیڈ پکڑی وہ پیچھے رہ گئے۔ وہ سب پلیٹ فارم کی سائیڈ پر تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں بھاگ رہے تھے۔
گواہ نمبر ۱۵...... عبد الحمید اختر اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر، ہیڈ کوارٹر لاہور
میں احمدی ہوں۔ میں ربوہ میں ۱۵؍ مئی کو مسٹر غلام مصطفیٰ اے. ایس. ایم کی جگہ تعینات ہوا اور میں کل تک وہاں متعین رہا۔ ۱۵؍ مئی کو میری ربوہ میں تعیناتی میری خواہش پر نہیں بلکہ غلام مصطفیٰ کی جگہ پر اس وجہ سے ہوئی تھی کہ وہ ربوہ سے والٹن سکول ریفریشر کورس کے لئے جا رہا تھا۔ ۲۲؍ مئی کو ربوہ میں نعرے لگنا غیر معمولی تھے۔ یہ اچانک ہوا۔ اس واقعہ سے مجھے تشویش ہوئی۔ میں نے سوچا کہ گاڑی کو جلدی چلا دوں۔ اسٹیشن ماسٹر جو میرا افسر ہے، اس کو میں نے اس واقعہ کی اطلاع دی۔ میں نے کسی دوسرے افسر بالا کو اطلاع نہ دی۔ جس وقت اسٹیشن ماسٹر، اسٹیشن پر موجود نہ ہو اور شہر میں موجود ہو تو اسٹیشن کی تمام تر ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے۔ اگر اس کی غیر حاضری میں کوئی واقعہ ہو تو اے. ایس. ایم کا فرض ہے کہ ایس. ایم کو اطلاع دے اور اس کا فرض ہے کہ وہ کوئی کارروائی کرے۔ البتہ اگر ایس. ایم کام کرنے کے قابل نہ ہو تو پھر اے. ایس. ایم خود کارروائی کرتا ہے۔ مجھے یہ خیال نہ آیا کہ لالیاں میں بھی ایسا ہنگامہ پیش آ سکتا تھا۔ اس لئے میں نے کسی اور افسر کو اطلاع نہ دی۔ میں نے سوا سات بجے شام کے بعد یونس مسیح کے ذریعے اسٹیشن ماسٹر کو یہ اطلاع بھیجی تھی کہ اسٹیشن پر کچھ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نعرے لگے تھے۔ جب چناب ایکسپریس وہاں کھڑی تھی۔ وہ کوئی آٹھ بجے آئے۔ میں نے خاکروب کو ساڑھے سات بجے بھیجا تھا۔ اسٹیشن ماسٹر آ کر اپنے دفتر میں پہنچے۔ وہ اپنے دفتر میں بیٹھے۔ میں نے تمام واقعہ ان کو سنایا۔ انہوں نے سائیکل پکڑا اور آٹھ دس منٹ تک وہاں ٹھہرنے کے بعد چلے گئے۔ میرے سامنے اسٹیشن ماسٹر نے کسی افسر بالا کو کوئی اطلاع اس واقعہ کے بارے میں نہ دی۔ انہوں نے کسی رجسٹر میں اس واقعہ کا اندراج نہیں کیا۔ میں نے اسٹیشن جرنل میں اس واقعہ کا اندراج کیا تھا۔ یہ اب پولیس کے قبضے میں ہے۔
اسٹیشن ماسٹر نے مجھے افسران بالا کو اطلاع دینے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ کسی حادثے کی صورت میں اے ایس ایم آن ڈیوٹی کا فرض ہے کہ کنٹرول فون پر کنٹرولر کو اطلاع دے۔ میں نے ۲۲؍مئی کو کنٹرولر کو اس واقعہ کی اطلاع نہیں دی تھی۔ میں نے ۱۵۰ گز کے فاصلے پر نعرے سنے تھے۔ ربوہ اسٹیشن پر ۲۲؍مئی کو ۱۸۵ روپے کے ٹکٹ فروخت ہوئے تھے۔ ۱۱ یا ۱۲ مسافر اس وقت پلیٹ فارم پر موجود ہوں گے۔ کوئی پلیٹ فارم ٹکٹ فروخت نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت اسٹیشن پر کوئی ہجوم نہیں تھا۔ ربوہ اسٹیشن پر جو نوجوان قریبی گراؤنڈ سے آ گئے تھے، ان کی عمریں ۱۵ سے ۲۰ سال کے قریب ہوں گی۔ وہ ربوہ کے رہنے والے ہیں۔ میں ان کو شکلوں سے پہچانتا ہوں۔ لیکن ان کے نام نہیں جانتا۔ میں نے ان کو کئی مرتبہ دیکھا ہے۔ میرے ربوہ کے لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات نہیں ہیں۔ میں ربوہ کی مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاتا۔ میں گھر پر نماز پڑھ لیتا ہوں۔ جب شام کو میری ڈیوٹی ہوتی ہے تو الفضل روزنامہ پڑھ لیتا ہوں۔ الفضل اسٹیشن والوں کو مفت بھیجا جاتا ہے۔
میں ۲۹؍مئی کو چھٹی پر تھا۔ ۲۹؍مئی کے بعد میری ڈیوٹی ۳۰؍مئی کو شروع ہوئی۔ ۵؍جون تک میری ڈیوٹی کے اوقات یہی رہے۔ مجھے ۳۰؍مئی کو ۲۹؍مئی کے واقعہ سے کوئی دلچسپی پیدا نہ ہوئی۔ ۲۹؍مئی کے بعد میں نے الفضل نہیں پڑھا۔ اس کے بعد میری اسٹیشن ماسٹر سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ پولیس ۳۰؍جون کو آ گئی تھی۔ اس نے تحقیقات شروع کر دی تھی۔
چوہدری عبدالرحیم اے۔ پی۔ او (اسسٹنٹ پرسنل آفیسر) تبدیلیاں وغیرہ کرتے ہیں۔ مرزا عبدالسمیع وہاں پچھلے قریباً ۵ سال سے وہاں ربوہ میں ہیں۔ دو ماہ قبل ان کی دوسرے اعلیٰ گریڈ میں ترقی ہو گئی تھی۔ ان کا تبادلہ بھی ربوہ سے ہو گیا۔ انہوں نے چارج وہاں چھوڑا۔ لاہور آئے اے۔ پی۔ او کو رپورٹ کیا اور پھر ربوہ میں اپنا تقرر کرا لیا۔ اب وہ گریڈ ۲ میں ہیں۔ چوہدری عبدالرحیم اے۔ پی۔ او احمدی ہیں۔ ربوہ ریلوے اسٹیشن گریڈ ۱ کا ہے۔ گریڈ ۲ کا نہیں ہے۔ گریڈ ۱ نیچے درجے کا گریڈ ہوتا ہے اور گریڈ ۲ اونچے درجے کا ہوتا ہے۔
باقی جرح کل۔
۱۴؍جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں
میں نے کئی اسٹیشنوں پر اسٹیشن ماسٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ میری ڈیوٹی کے اوقات میں کبھی طلباء نے نعرے نہیں لگائے۔ اگر کبھی نعرے لگائے جاتے تو میں ان کا اندراج ضرور کرتا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے لائن مین کے گر کر زخمی ہونے اور اسے میڈیکل ایڈ دینے کے واقعہ کا ذکر اسٹیشن ماسٹر سے کیا تھا یا نہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا نعرے گاڑی میں سوار طلباء لگا رہے تھے یا وہ جو ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے اور قریبی کھیل کے میدان سے آ گئے تھے۔ میں نے کنٹرول آفس کو ۲۲؍مئی کو ہونے والے واقعہ کی اطلاع نہیں دی تھی۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں کوئی Mishap نہیں ہوا تھا۔ اسٹیشن جرنل میں ریکارڈ کئے جانے والے ہر جرنل کی اطلاع کنٹرول آفس کو نہیں دی جاتی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ میں نے نعرے بازی کے واقعہ کا ذکر نہ لائن کلیئر بک میں کیا، نہ Enquiry Book میں کیا تھا۔ جب اے . ایس . ایم ڈیوٹی پر ہوتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعہ کا اندراج اسٹیشن جرنل میں کر دے۔ پھر یہ اسٹیشن ماسٹر کا فرض ہے کہ وہ حکام بالا اور ریلوے پولیس کو ہر واقعہ کی اہمیت کے مطابق اطلاع کریں۔ یہ درست ہے کہ میں نے اس واقعہ کا ذکر صرف اسٹیشن ماسٹر سے کیا اور ریلوے پولیس سے نہ کیا۔
مسٹر احسان وائیں کی جرح کے جواب میں
میں نے کسی سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کہ طلباء نے کیا نعرے لگائے تھے؟ مجھے بعد میں بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا نعرے لگے تھے؟ یہ بات میرے علم میں نہیں آئی کہ ربوہ کی آبادی میں ۲۲؍مئی کے نعروں کے واقعہ سے کوئی ناراضگی نہیں پائی جاتی تھی۔ میری ربوہ کے کسی آدمی سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ جب میں وہاں رہا کیونکہ میں بیمار رہا۔ میں نے ۲۸اور۲۹؍مئی کو چھٹی لی تھی۔ دوسرے دن میں اپنی ڈیوٹی دوائی لے کر انجام دیتا رہا۔ مجھے بخار تھا۔
مسٹر رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
اگر کسی واقعہ سے نقص امن کا اندیشہ ہو تو اس کی اطلاع پولیس کو دینی چاہئے۔ ۲۲؍تاریخ کو جو نعرے لگائے گئے تھے اس سے میں نے یہ تاثر نہیں لیا کہ اس سے نقص امن واقع ہو جائے گا۔ میں احمدی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس لئے میں احمدی ہوں۔ ہمارے عقائد کی بنیادی کتابیں یہ ہیں۔ حقیقت الوحی، کشتی نوح، ملفوظات حضرت مسیح موعود ان کی آٹھ دس جلدیں ہیں۔ تفسیر کبیر، صغیر، قرآن مجید بھی ہیں۔ سراج دین کے چار سوالوں کا جواب، ان میں سے کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے تفسیر کبیر میں سے ختم نبوت کا حصہ نہیں پڑھا۔ ٹربیونل: ہم اس یقین کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر احمدی ایک علیحدہ قوم ہیں۔
مسٹر خلیل الرحمٰن کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ احمدیوں کی ایک تعداد قادیان بھارت میں رہتی ہے۔ وہ غالباً ۳۱۳ ہیں۔ لیکن مجھے تعداد کا صحیح پتہ نہیں۔ وہ لوگ پاکستان آتے جاتے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ قادیان اور ربوہ میں لوگوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔
اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جرح کے جواب میں
عورتیں پلیٹ فارم کے اس حصے پر تھیں جہاں لڑکے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ عورتیں وہاں کس لئے آئی تھیں۔ وہ تعداد میں چار پانچ تھیں۔ ان کے ساتھ بچے نہیں تھے۔ ان عورتوں کے ساتھ مرد بھی تھے۔ عورتیں کالے برقعہ میں تھیں۔ جب لڑکے نعرے لگا رہے تھے، میں نے نعرے لگانے کے علاوہ لڑکوں کو کوئی اور حرکت کرتے نہیں دیکھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ عورتیں احمدی تھیں۔ برقعے کے ڈیزائن سے میں نے یہ نتیجہ لگایا کہ وہ احمدی عورتیں ہیں۔ کیونکہ احمدی عورتیں خاص قسم کا برقعہ پہنتی ہیں۔ میں ان آدمیوں کو چہروں سے پہچان سکتا ہوں، جو عورتوں کے ساتھ موجود تھے۔ لیکن میں ان کے نام نہیں جانتا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر لطیف رانا کی جرح کے جواب میں
اگر مجھے جماعت (احمدیہ جماعت) کی طرف سے کوئی ہدایت یا حکم ملے تو میں اس کی تعمیل کرتا ہوں۔
رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
ربوہ میں عورتوں کا ایسا کوئی طبقہ نہیں جن کو حوریں کہا جاتا ہے۔ اگرچہ حور کے ساتھ عفت و پاکیزگی وابستہ ہے۔ لیکن دوسرے لوگ احمدی عورتوں کو طنزاً حور کہتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ لفظ طنز کے طور پر غیر احمدی کے لئے استعمال کرتے نہیں سنا۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ غیر احمدی لوگوں کا حور کہنا احمدیوں پر طنز ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ احمدی، حور کہنے پر کیوں ناراض ہوتے ہیں۔
اسماعیل قریشی صاحب کی جرح کے جواب میں
ربوہ میں دو قبرستان ہیں۔ ایک میں ایسے لوگوں کی میتیں دفن ہوتی ہیں جنہوں نے کوئی خاص چندہ دیا ہو۔ دوسرے میں سب لوگوں کی میتیں دفن ہوتی ہیں۔ ایک کو بہشتی مقبرہ کہتے ہیں۔ قادیان میں بھی ایک بہشتی مقبرہ ہے۔ جنت البقیع کے نام سے کوئی قبرستان نہیں ہے۔ ۲۲؍ مئی کو میں ۸ بجے صبح سے ۴ بجے شام تک ڈیوٹی پر تھا۔ اسی دن میں نے تبادلے کا حکم وصول کیا۔ ۲۲؍ مئی کو میں تبادلے کی وجہ سے ذرا پریشان تھا۔ ۴ بجے شام گھر چلا گیا۔ میں جب ۲۳؍ مئی کو ۸ بجے صبح اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو میں نے اسٹیشن جرنل میں ایک رپورٹ دیکھی۔ جس میں ۲۲؍ مئی کے ایک واقعہ کا ذکر تھا۔ پس میں نے عبدالحمید اختر آر ایس ایم سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھا۔ اس نے مجھے ٹھیک وہی کچھ بتایا جو وہاں درج تھا۔
میں نے ربوہ اسٹیشن پر ۲۶؍ مئی کو ۸ بجے دوبارہ چارج سنبھالا۔ ۲۶ سے ۲۸ تک ربوہ اسٹیشن پر کوئی خاص قابل ذکر واقعہ نہ ہوا۔ میرے ڈیوٹی کے نارمل اوقات ۸ بجے صبح سے ۴ بجے سہ پہر تک ہوتے ہیں اور اتوار کو مکمل چھٹی ہوتی ہے۔ پیر کو میری ڈیوٹی ۸ بجے صبح سے ۸ بجے شام تک ہوتی ہے اور منگل کو ۸ بجے صبح سے ۶ بجے شام تک ہوتی ہے۔ ۲۹؍ مئی کو صبح ۸ بجے میں نے مولوی اللہ بخش سے چارج سنبھالا۔ جب میں نے چارج سنبھالا تو میں نے کنٹرول آفس سے رابطہ قائم کیا تاکہ ۱۲ ڈاؤن کی پوزیشن معلوم کروں۔ کنٹرولر نے بتایا کہ اس کا شاہین آباد سے رابطہ نہیں ہوا۔ اس لئے وہ فوری طور پر ان کی پوزیشن نہیں بتا سکتے۔ میں نے کنٹرول آفس سے اس لئے رابطہ قائم کیا کہ مجھے ٹیلیفون پر اس کے بارے میں پوچھا جاتا تھا۔ اس لئے میں نے اس کی پوزیشن دریافت کی۔ میں نے لالیاں سے رابطہ قائم کر کے اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ وہ شاہین آباد کو ملائے۔ شاہین آباد کے اسٹیشن ماسٹر سے پتہ چلا کہ ۱۲ ڈاؤن چناب ۴۰ منٹ لیٹ ہے۔ یہ اطلاع مجھے پونے نو بجے کے قریب ملی۔ اس کے بعد میں نے کنٹرول سے نہیں پوچھا۔ اسٹیشن پر گاڑی کے آنے سے پہلے کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ سوائے اس کے مجھے صدر عمومی چوہدری بشیر احمد کا ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی ۱۲ ڈاؤن چناب کے ساتھ طلباء کی بوگی ہے۔ میں نے دوبارہ لالیاں فون کر کے چناب کا ڈیپارچر لینے کی کوشش کی۔ مگر مجھے نہ مل سکا۔ ۹:۲۵ پر لالیاں سے روانہ ہوئی ہے۔ تب میں نے اسے کہا کہ نشتر آباد سے ملا دو۔ جو اس نے ملا دیا۔ میں نے نشتر آباد سے معلوم کیا کہ بریکیں اور دوسری بوگیاں کہاں ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ طلباء کی بوگی پیچھے سے دوسری ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک بریک وین آگے ہے اور دوسری پیچھے ہیں۔ نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر کا نام محمد داؤد ہے اور آر ایس ایم لالیاں کا نام مسٹر منظور ہے۔ میں منظور کو جانتا ہوں وہ احمدی نہیں۔ محمد داؤد احمدی ہے۔ ربوہ میں رہتا ہے۔ میں نے نشتر آباد میں داؤد سے بات ختم ہی کی تھی کہ چناب ایکسپریس اسٹیشن میں داخل ہوئی۔ مسٹر محمد نواز اور اس کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھائی ابھی میرے پاس تھے۔ اس کے بعد میں نے بعد میں آنے والی ریل کار کا لائن کلیئر لالیاں اسٹیشن کو دے دیا اور لالیاں کو چناب کی آمد کی اطلاع دی۔ اس کے بعد میں اپنے دفتر سے نکلا تو میرے دفتر کے بالکل سامنے ایک سیکنڈ کلاس بوگی تھی۔ میں نے دیکھا کچھ لڑکے بوگی سے نکلے اور دوسری بوگی میں سیکنڈ کلاس میں داخل ہوئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ بوگی کے اندر کون کس کو مار رہا تھا۔ انہوں نے ایک لڑکے کو کھینچ کر باہر نکالا۔ جو ایک ڈبے سے نکل کر دوسرے میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک لڑکے کو بوگی سے کھینچا تھا اور پلیٹ فارم پر مارنا شروع کر دیا۔ اس اثناء میں کچھ نوجوان بیس، بائیس سال کے آگئے۔ وہ بھی اس مارکٹائی میں شامل ہو گئے۔ پلیٹ فارم پر اس وقت چار پانچ سو نوجوان آگئے تھے جو اس لڑکے کو مار رہے تھے۔ میں نے اس لڑکے کو پکڑا جو زخمی تھا۔ اس کی قمیص بالکل پھٹ گئی تھی۔ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس اثناء میں گارڈ انچارج بھی آ گیا اور میں اور وہ اسے میرے دفتر میں لے گئے۔ فوراً ریلوے پولیس کا ایک حوالدار اور کالے خاں سپاہی اندر آ گیا۔ کالے خان سپاہی نے مجھے کہا کہ میں ربوہ کی انتظامیہ سے کہوں کہ وہ مداخلت کرے اور لوگوں کو فساد کرنے سے روکیں۔ میں نے انہی (کالے خان اور حوالدار) کو کہا کہ جن کو مار پڑ رہی ہے۔ ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ میں نے صدر عمومی کو فون کیا۔ صدر عمومی کا جواب ملا کہ وہ فوراً پہنچ رہے ہیں۔ میں باہر آ گیا ایک اور لڑکے کو اس بوگی کے سامنے پیٹا جا رہا تھا۔ میں نے اس کو بچانے کی کوشش کی۔ میرے ہاتھ پر خون بھی لگا۔ اس لڑکے کا خون تھا۔ مجھے کوئی زخم نہ لگا۔ اس لئے کوئی خون بھی نہ نکلا۔
میں اس لڑکے کو گارڈ کی بریک وین میں لے گیا۔ وہاں اندر بند کر دیا۔ اس کے بعد میں اپنے دفتر میں آیا۔ میں نے پھر گارڈ سے عرض کیا کہ گاڑی چلا دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ویکیوم پائپ کٹ گئے ہیں۔ میں نے دوسرے زخمی لڑکے کو بھی بریک وین میں بھیج دیا۔ جب دوسری مرتبہ اپنے دفتر جا رہا تھا تو صدیق احمد ایس ٹی ایس نے مجھے کہا کہ اس واقعہ کی خبر ، جہاں جہاں پہنچے گی، وہاں احمدیوں کے لئے مشکل پیدا ہو گی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ میں اس میں کیا کر سکتا ہوں۔ میں تو شر پسندوں سے کہہ رہا تھا کہ وہ اس فساد کو بند کریں۔ جب میں گاڑی کے آخر میں پہنچا تو ڈرائیور نے وسل دی اور گاڑی اسٹیشن سے چل پڑی۔ ان کے ساتھ مسٹر عبدالرشید تھے۔ جب گاڑی چلی گئی۔ ہجوم منتشر ہو گیا۔ شروع میں بریک وین کے پاس نعرے لگے تھے۔ احمدیوں کے مخالف نعرے تھے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کیا تھے۔ اس کے مقابلے میں پلیٹ فارم سے احمدیوں نے بھی نعرے لگائے تھے۔ وہ یہ تھے خاتم الانبیاء زندہ باد، احمدیت زندہ باد، انسانیت زندہ باد۔ میں نے پہلے لگائے جانے والے نعرے نہیں سنے تھے۔ پہلے جو نعرے لگائے گئے تھے۔ وہ احمدیوں کے خلاف تھے۔ میرا یہ اندازہ تھا کہ وہ احمدیوں کے خلاف تھے۔ جب گاڑی رکی تو کوئی نعرے نہ لگائے گئے۔ نہ ہی میں نے کسی کو بھنگڑا ڈالتے دیکھا۔ یہ گاڑی (میرے حساب سے) ۱۰:۰۵ پر آئی اور ۱۰:۳۵ پر گئی۔ میں اپنے دفتر میں آیا۔ اس وقت میرا دماغ کوئی کام نہیں کر رہا تھا۔
۵ بجے ٹریبونل کا وقت ختم ہو گیا۔
۱۵؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مورخہ ۱۵؍ جون (سٹاف رپورٹر ) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹریبونل کے روبرو آج ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر مرزا عبدالسمیع پر جرح جاری رہی۔ اس سے قبل مرزا سمیع نے اپنا بیان مکمل کیا۔ ابھی جرح جاری تھی کہ کارروائی کل پر ملتوی ہو گئی۔ آج کی سماعت کے دوران ٹریبونل جج مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس کارروائی پر وزیر اعظم بھٹو کی وہ تقریر اثر انداز نہیں ہوگی ۔ جو انہوں نے اس بارے میں حال ہی میں کی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رفیق باجوہ: جب تک ختم نبوت کے بارے میں قادیانیوں کے مؤقف کا پتہ نہ چلے۔ اس وقت تک ہم اپنا کیس کیسے پیش کر سکتے ہیں؟
فاضل جج: سب سے پہلے تو یہ طے ہونے دیجئے کہ قادیانیوں کی جماعت ایک الگ جماعت ہے اور اس کی بحیثیت الگ جماعت کوئی انفرادیت ہے تو اس کا پتہ چلایا جائے کہ وہ کیا انفرادیت ہے؟ قادیانی جماعت کے وکیل مبشر لطیف نے جواب دیا کہ جس طرح مسلمانوں کے دوسرے فرقے ہیں۔ اسی طرح قادیانیوں کا بھی فرقہ ہے جو اسلامی عقائد کا ہی حامل ہے اور دین اسلام کی چار دیواری کے اندر ہے۔
ایم۔ اے رحمان: جناب والا قادیانیوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ دین اسلام کے اندر رہتے ہوئے وہ الگ جماعت ہیں۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ قادیانی اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ عقائد کے بارے میں فیصلہ کرنا ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں۔
فاضل جج: چونکہ یہ مسئلہ اہم قانونی وضاحتوں کا حامل ہے۔ اس لئے اس سلسلہ میں وکلاء حضرات اپنے اپنے دلائل دیں۔ ایک بات البتہ طے ہو چکی ہے کہ قادیانی الگ فرقہ ضرور ہیں۔
اس مرحلہ پر قادیانیوں کے وکیل بیرسٹر اعجاز بٹالوی نے واضح کیا کہ وہ اس ٹربیونل میں صرف ربوہ کے وقوعہ کے سلسلہ میں قادیانیوں کے کیس کی وکالت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک عقائد کا تعلق ہے وہ اس ضمن میں قادیانیوں کا کیس پلیڈ نہیں کر سکتے۔
رفیق باجوہ: میں نے جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے خلاف توہین عدالت کی جو درخواست دی تھی، اس کی سماعت کی جائے۔
فاضل جج: ابھی اتنی جلدی نہیں ہے۔ کارروائی پوری ہونے کے بعد تمام جزوی معاملات نپٹائے جا سکتے ہیں۔
فاضل جج: مذہب کی خدمت اس طرح ہو سکتی ہے کہ گواہ کسی کی باتوں میں آئے بغیر سچائی سے کام لیں۔ کسی تنظیم کی طرف سے آنے والے گواہ پر بھی لازم ہے کہ اپنی تنظیم کا مؤقف بیان کرنے کی بجائے صرف وقوعہ کی گواہی دے۔ ٹربیونل ماتحت عدالت سے مختلف ہے۔ اس لئے جرح بھی ماتحت عدالت کے سے انداز میں نہیں ہونی چاہئے۔
اعجاز بٹالوی: میں یہ درخواست کروں گا کہ وقوعہ کے روز لائل پور میں جن ڈاکٹروں نے زخمی طلباء کا علاج کیا ہے۔ ان کی رپورٹ اس عدالت میں پیش کی جائے۔ آج کے اخبار میں ایئر مارشل اصغر خان کا ایک بیان بھی شائع ہوا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے قادیانیوں کا مسئلہ خود ہی پیدا کیا ہے اور اس کا مقصد عوام کی توجہ گرانی، مسئلہ کشمیر اور دیگر مسائل سے ہٹانا ہے۔ میری استدعا ہے کہ انہیں ٹربیونل میں طلب کیا جائے تاکہ اگر انہیں اس ضمن میں کوئی خاص علم ہے، تو وہ بتائیں۔
گواہ مرزا عبدالسمیع اسٹیشن ماسٹر ربوہ: مجھے کنٹرول آفس سے فون آیا کہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ لاہور اس واقعہ کی رپورٹ اپنے دفتر میں لکھ رہے ہیں۔ لہٰذا تم رپورٹ دو۔ میں نے فون پر اسے انتظار کرنے کے لئے کہا۔ اس کے دو منٹ بعد پھر مجھے کنٹرول نے فون کیا اور کہا کہ پیغام دو۔ چنانچہ میں نے ابھی پتہ لکھوا کر اصل پیغام شروع ہی کیا تھا کہ ٹیلیفون کٹ گیا۔ کوئی پانچ منٹ بعد پھر میرا رابطہ ہوا تو میں نے پیغام لکھوا دیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سے قبل میں نے وہ پیغام اپنے ہاتھ سے ہی لکھا تھا۔ اس وقت مسٹر اللہ بخش اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر وہاں آگئے تھے۔ میں نے پیغام یعنی رپورٹ ، دفتر کی میسج بک پر درج کی تھی جو اس وقت پولیس کے قبضہ میں ہے۔ میں نے اس روز ریکارڈ ۱۰ بج کر ۴۵ منٹ پر مکمل کر لیا اور ۱۰ بج کر ۵۱ منٹ پر لکھوا دیا۔ میں نے میسج بک کے علاوہ اسٹیشن جنرل کے رجسٹر میں بھی اندراج کیا تھا۔ کنٹرول نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ربوہ کے بعد آنے والے اسٹیشنوں پر پولیس کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے کنٹرول کو جواب دیا کہ وہ خود اس سلسلہ میں بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ پونے بارہ بجے کے قریب ربوہ چوکی کا ایک اے. ایس. آئی جس کے ساتھ تین چار کانسٹیبل بھی تھے ، وہاں آئے۔ اس کے بعد ایک بجے تک لالیاں کا سب انسپکٹر اور ریلوے پولیس کا تفتیشی حوالدار معہ چار کانسٹیبلان وہاں پہنچ گئے۔ انہیں اعلیٰ افسروں نے ربوہ آنے کی ہدایت کی تھی۔ پولیس والے آئی. جی ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام کو اسٹیشن سے ہی فون کرتے رہے۔ ۴ بجے کے قریب ریلوے پولیس کے ایس. ایچ. او بھی آگئے ۔ شام ساڑھے چار بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر جھنگ، ایس. پی جھنگ اور اسسٹنٹ کمشنر جھنگ بھی ربوہ اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے واقعہ کی تفصیل پوچھی اور ریلوے پلیٹ فارم کو دیکھا ۔ وہاں انٹیلی جنس والے بھی آگئے ۔ ڈی. ایس. پی ریلوے بھی وہاں پہنچے۔ میں شام تک وہیں تھا۔ گھر جانے کی اجازت مانگی تو پولیس والوں نے اجازت نہ دی۔ اسٹیشن پر میں نے پولیس کے تمام عملہ کے لئے قادیانیوں کے مہمان خانہ دارالضیافت سے کھانا منگوایا۔ خود بھی پولیس والوں کے ساتھ کھانا کھایا اور گھر اطلاع نہ دی۔ پولیس کے تمام عملہ کو میں نے ۲۹؍ مئی اور ۳۰؍ مئی کو کھانا کھلایا اور ۳۱؍ مئی کو جب انہوں نے مجھے گرفتار کر لیا تو کھانا بند کر دیا اور کہا کہ اب میں زیر حراست ہوں ۔ ۳۰؍ مئی کی صبح کو میں اجازت لئے بغیر سائیکل پر گھر آیا۔ نہایا اور کپڑے بدلے۔ اس کے فوراً بعد انسپکٹر سی. آئی. اے میرے گھر آ گئے اور کہا کہ تمہارے اس طرح آنے سے ڈی. ایس. پی سخت ناراض ہو رہے ہیں۔
میں نے انہیں کہا کہ میں صرف چائے پی لیتا ہوں اور چلتا ہوں۔ چنانچہ سب انسپکٹر وہاں بیٹھ گیا اور مجھے لے گیا۔ اس روز صبح ۸ بجے سے سہ پہر چار بجے تک ڈیوٹی دیتا رہا۔ فون پر بات چیت کرتے رہے۔ وہاں پولیس نے اسٹیشن کا ریکارڈ بھی دیکھا اور وقوعہ کے بارے میں اندراجات بھی دیکھے۔ ۳۱؍ مئی کی صبح میں مسافر خانہ میں ہی تھا کہ سب انسپکٹر آیا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے کھانا کھا لیا ہے۔ میں نے کہا کہ ابھی نہیں، تو اس نے مجھے کہا کہ اچھا اب تم زیر حراست ہو۔ چنانچہ مجھے ہتھکڑی لگا دی گئی اور ۵۱؍ اپ پر بٹھا کر مجھے سرگودھا لے جایا گیا۔ وہاں سے مسٹر داؤد کو جو کہ نشتر آباد کے اسٹیشن ماسٹر ہیں۔ میرے ساتھ ہی گرفتار کیا گیا۔ انہیں انکوائری کے لئے ربوہ اسٹیشن پر نشتر آباد سے بلایا گیا تھا۔ انہیں بھی ہتھکڑی لگائی گئی۔ رات کو سرگودھا میں ہمیں ایک ہی جگہ رکھا گیا۔ وہاں پر رات کو ریلوے پولیس کے تھانہ میں مجھے رکھا گیا۔ اسی رات داؤد بھی میرے ساتھ ہی تھا۔
س ...... کیا آپ پیدائشی قادیانی ہیں؟
ج ...... جی ہاں۔
س ...... اگر کوئی غیر قادیانی احمدیت کو قبول کرنا چاہئے تو کیا کرے؟
ج ...... پہلے وہ ہماری شرائط پڑھے اور ۱۰ شرائط پوری کرے اور خلیفہ کے پاس جا کر بیعت کر لے تو اسے قادیانی بنا لیا جاتا ہے۔ مجھے شرائط کی تفصیل یاد نہیں ۔ البتہ یہ شرائط چھپی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے جس میں لکھا ہے کہ بیعت کنندہ ، اس عاجز سے عقد اخوت کرے گا۔ اس عاجز سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ جنہیں عام طور پر مسیح الموعود کہتے ہیں۔ پیدائشی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو بیعت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کوئی نیا خلیفہ مقرر ہو تو بھی احمدیوں کو ان کی بیعت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شرائط شروع سے ہی آ رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بیعت کرتے وقت شرائط کا پڑھنا ضروری نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب میں نے بیعت کی تو ان شرائط کو نہیں پڑھا۔
س ...... آپ نے مرزا ناصر احمد کی بیعت کے وقت کیا پڑھا ؟
ج ...... کلمہ طیبہ پڑھنا ہوتا ہے اور خلیفہ کی اطاعت کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ بیعت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بک جانا اور جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اس کے احکام کی پابندی کرنا۔ قیام پاکستان سے قبل بیعت کرنے والوں کے نام اخبار الفضل میں چھپتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب اگر کوئی بات شائع بھی ہو جائے تو اس میں صرف بیعت کرنے والوں اور جگہ، شہر یا ملک کا نام لکھا جاتا ہے۔
س ...... نئے قادیانی کا پتہ کیسے چلتا ہے؟
ج ...... جب جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد جائے گا یا ویسے بھی مسجد میں نماز پڑھنے جائے گا۔ ویسے بھی خود جب اس بات کا اعلان کرے گا کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے۔ سب کو پتہ چل جائے گا۔ جو شخص بھی خواہ وہ ہندو، سکھ، عیسائی یا کوئی ہو قادیانی بنے گا تو بیعت کرے گا اور بیعت کا طریق کار وہی ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔
س ...... قادیانی کتنا چندہ دیتے ہیں؟
ج ...... انجمن احمدیہ ہر شخص کی ماہانہ آمدنی کا سولہ فیصد حصہ بطور چندہ احمدیوں سے وصول کرتی ہے۔ اس کی وصولی کا طریق کار منظم ہے اور ہر شہر و ہر قصبہ میں اس کی وصولی کے لئے رضا کار موجود رہتے ہیں۔
س ...... ربوہ کا شہر کب بنایا گیا؟
ج ...... ۱۹۴۹ء میں۔
س ...... اس کی کتنی آبادی ہے؟
ج ...... اندازاً بیس پچیس ہزار نفوس۔
س ...... کیا یہ محلوں میں تقسیم ہے؟
ج ...... جی ہاں! ہر محلہ کے لئے محلہ کا ایک صدر منتخب کیا جاتا ہے۔ صدر محلہ پہرے دار مقرر کرتا ہے۔
س ...... کیا خلیفہ کا مقام اس سے بلند ہے؟
ج ...... جی ہاں! وہ محلہ دارالصدر میں حلقہ عبادت گاہ مبارک کے پاس قصر خلافت میں رہتے ہیں۔
س ...... کیا قصر خلافت کے اردگرد پہرہ بھی ہے؟
ج ...... جی ہاں! میں نے قصر خلافت کے دروازوں پر کبھی مسلح آدمی نہیں دیکھے۔
س ...... قادیانی جماعت کی تنظیم کے باقی عہدے کیا ہیں؟
ج ...... خلیفہ کے بعد صدر انجمن احمدیہ ہیں۔ اس کے بعد تحریک جدید ہے جو باہر کے ملکوں کے لئے ہے۔ انجمن احمدیہ ملکی طور پر انچارج ہے۔ آج کل ہمارے صدر انجمن مولوی محمد دین ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... انجمن کے مختلف شعبے کون کون سے ہیں۔
ج...... نظارت علیہ تمام ماتحت شعبوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ نظارت بیت المال، نظارت دعوت وتبلیغ ،نظارت تعلیم، نظارت امور عامہ، صدر عمومی کا دفتر الگ ہوتا ہے۔
(شام کا اجلاس) ایم. اے رحمن کی جرح کے جواب میں
ایک شخص صدر عمومی بھی ہوتا ہے جو صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ہے۔ صدر عمومی چوہدری بشیر احمد ہے۔ تحریک جدید کے سربراہ مرزا مبارک احمد صاحب ہیں۔ مرزا نعیم احمد تحریک جدید کے انچارج ہیں۔ مسٹر اظہر بھی عہدیدار ہیں۔ موجود خلیفہ مرزا ناصر احمد ہیں۔ ان کے دیگر بھائی مرزا مبارک احمد، منور احمد، مرزا حفیظ احمد، مرزا خلیل احمد، مرزا طاہر احمد، مرزا انوار احمد، مرزا رفیع احمد اور مرزا نعیم احمد ہیں۔ ڈاکٹر منور احمد چیف میڈیکل افسر ، فضل عمر ہسپتال ہیں۔ ربوہ میں کوئی بینک نہیں ہے۔ بیت المال کے تحت چندہ جمع ہوتا ہے اور عہدیداروں کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ تحریک جدید زر مبادلہ کا کام بھی کرتا ہے یا باہر رقمیں بھیجتا ہے یا منگواتا ہے۔ ربوہ میں ایک ٹاؤن کمیٹی بھی ہے اور یہی کمیٹی نقشے منظور کرتی ہے۔ ٹیکس لگاتی اور سڑکیں بنواتی ہے۔ میں نے چوہدری بشیر احمد کو ریلوے اسٹیشن پر ۲۹؍مئی کو امن وامان قائم کرنے کے لئے اس لئے بلایا تھا کہ ان کا تعلق پبلک سے ہوتا ہے۔ اسٹیشن پر امن وامان کی صورت کے لئے ریلوے پولیس سرگودھا کو یا کنٹرولر ریلوے لائل پور کو اطلاع دینی چاہئے۔ میرے کمرے میں پبلک ٹیلیفون ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں پولیس چوکی کو بھی اطلاع کی جاسکتی ہے۔ ۲۹؍مئی کو میں نے وہاں پولیس چوکی کو اطلاع نہ دی۔ کیونکہ میں نے سوچا کہ ریلوے اسٹیشن پولیس چوکی کی حدود میں شامل نہیں۔ میں نے بشیر احمد کو اس لئے اطلاع دی کہ وہ میرے خیال میں فساد ختم کراسکتے تھے۔ یہ درست ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء بشیر احمد کے اثر میں نہ تھے۔ بلکہ جنہوں نے ان طلباء پر حملہ کیا تھا۔ ان کے بارے میں میرا خیال تھا کہ وہ بشیر احمد کے حلقہ اثر میں ہیں۔
۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مورخہ ۱۷؍ جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی کے روبرو آج اسٹیشن ماسٹر ربوہ مرزا عبد السمیع پر جرح جاری رہی۔ جرح کے دوران اسٹیشن ماسٹر نے یہ انکشاف کیا کہ تحریک جدید انجمن احمدیہ کے تحت احمدیہ جماعت کا ایک تبلیغی مشن اسرائیل میں بھی کام کر رہا ہے۔ گواہ نے ایم. اے رحمن ایڈووکیٹ کی جرح کے دوران بتایا کہ یہ مشن تل ابیب میں ہے۔ لیکن بعد میں احمدیہ جماعت کے وکیل مرزا نصیر احمد کی جرح کے دوران اپنے پہلے بیان کی درستگی کی اور کہا کہ مشن حیفہ میں ہے اور اسے مقامی عرب باشندے چلا رہے ہیں۔ گواہ نے ایم. اے رحمن کی جرح پر بتایا کہ ہر احمدی پر دس شرائط بیعت کی پابندی لازمی ہے اور میں مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر شرعی نبی مانتا ہوں۔
س...... کیا احمدیہ جماعت کے مشن بیرونی ممالک میں ہوتے ہیں اور کیا اسرائیل میں بھی ہے؟
ج...... جماعت احمدیہ کے مشن بیرونی ملکوں میں ہیں۔ اسرائیل میں بھی ہے۔ اسرائیل والا مشن تل ابیب میں ہے۔ میں نے میسج بک پر شکایت کا اندراج کیا تھا اور جو رپورٹ کنٹرول کو بھیجی تھی اس کا اندراج بھی اسٹیشن کی میسج بک پر کیا تھا۔ ایس. پی جھنگ اور ایس. پی لائل پور کو جو رپورٹ بھیجی تھی کہ ایک گروہ اور مجمع نے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر ربوہ اسٹیشن پر حملہ کر دیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاضل جج
س...... پلیٹ فارم پر کیا صرف ربوہ کے لوگ تھے؟
ج...... ربوہ کے بھی تھے اور باہر کے بھی تھے۔
س...... کیا پانچ صد افراد میں سے چار پانچ کے نام بتا سکتے ہیں؟
ج...... کچھ طالب علم تعلیم الاسلام کالج کے تھے۔ باقی لوگوں میں سے کون کس محلہ کا تھا یا کس بازار کا تھا۔ اس کے بارے میں، میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ سامنے آنے پر کچھ لوگوں کو شناخت کر سکتا ہوں۔
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
س...... آپ اس گاڑی کے آنے سے پہلے لڑکوں کی بوگی کے بارے میں کیوں پتہ کرنا چاہتے تھے؟
ج...... میں اس لئے طلباء کی بوگی کی صحیح پوزیشن کا پتہ کر رہا تھا کہ یہاں کوئی جھگڑا نہ ہو۔
س...... کیا یہ احتمال تھا کہ کوئی جھگڑا ہوگا؟
ج...... مجھے یہ احتمال نہیں تھا۔
س...... بوگی کی پوزیشن پوچھ کر آپ نے کیا انتظامات کئے؟
ج...... میں نے وہاں پلیٹ فارم پر موجود مسافروں سے کہا کہ وہ پیچھے کی جانب نہ جائیں بلکہ آگے کے ڈبوں میں سوار ہوں۔
س...... اگر آپ چاہتے تو خدام احمدیہ کی یا پولیس کی امداد لے سکتے تھے؟
ج...... جی ہاں! میں خدشہ کی صورت میں پولیس کی مدد لے سکتا تھا۔
س...... کیا آپ کو علم ہے کہ ۲۲ مئی تا ۲۹ مئی کے دوران مرزا ناصر احمد ربوہ میں موجود تھے؟
ج...... مجھے علم نہیں ہے۔
س...... کیا آپ ۲۲ مئی سے ۲۹ مئی کے درمیان جمعہ پڑھنے کسی عبادت گاہ میں گئے؟
ج...... جی نہیں۔
س...... کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی ایک مناظر کی حیثیت سے شروع کی؟
ج...... مجھے علم نہیں۔
س...... کیا آپ کے علم میں ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا؟
ج...... جی ہاں! میرے علم میں ہے۔
س...... مجدد ہونے کے بعد انہوں نے مہدی، پھر مسیح موعود اور پھر نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی حکومت برطانیہ کی اطاعت کی تلقین کی؟
ج...... یہ صحیح ہے۔ یہ کتابوں میں درج ہے۔
س...... کیا انہوں نے لفظ جہاد استعمال کیا اور تلقین کی کہ جہاد کا خیال دل سے نکال دو؟ دل سے نکال دو؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ج...... جی ہاں! جہاد قلمی اور تبلیغی ہے۔ تلوار سے جہاد میں مرزا غلام احمد یقین نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔
س...... جب آپ سے ناظم الامور نے آنے جانے کے متعلق مشورہ کیا تو کیا ایسا ۲۲ مئی کے وقوعہ کو سامنے رکھ کر کیا گیا؟
ج...... مشورہ نہیں کیا بلکہ صدر عمومی بشیر احمد نے یہ کہا کہ انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ طلباء آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی کوئی شے نہیں جس سے میں کہہ سکوں کہ ربوہ میں پیش آمدہ واقعہ حکومت نے کرایا ہے۔ اب تک یہ گتھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ربوہ میں یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔
س...... کیا ۲۹ مئی کے واقعہ کو آپ اچھا سمجھتے ہیں؟
ج...... قطعی نہیں۔ البتہ میں اسے ایک اتفاقی حادثہ سمجھتا ہوں۔
س...... کیا آپ پانچ چھ سو افراد کا اسٹیشن پر پہنچ جانا اتفاقی امر سمجھتے ہیں؟
ج...... جی ہاں! میں اسے اتفاقی امر سمجھتا ہوں۔
فاضل جج
وقوعہ ربوہ کی ہر تفصیل کا تعین ٹربیونل کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اجتماعی یا انفرادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اہم حصہ ذمہ داری کا تعین ہے۔ باقی حصے جزوی ہیں۔ وکلاء سے کہا جاتا ہے کہ وقوعہ کی تفصیلات میں جانے کی بجائے ذمہ داری کے تعین میں معاونت کریں۔
دوسرا اجلاس
احسان وائیں کی جرح کے جواب میں گواہ نے کہا کہ اگر مجھے اس وقوعہ کا پہلے سے علم ہوتا تو میں پولیس کو اطلاع دیتا۔ وقوعہ کے بارے میں میرا ہرگز خیال نہیں تھا کہ اس کے نتائج ملک گیر ثابت ہوں گے۔ میں نے ۱۹۶۵ء ربوہ میں مکان تعمیر کیا۔ میں نے ربوہ کی زمین منیر قریشی سے خریدی اور رجسٹری نہیں کرائی۔ جب کوئی شخص ربوہ میں غیر منقولہ جائیداد خریدے تو وہ رجسٹریشن فیس قادیانی جماعت کے دفتر تعمیر ربوہ میں داخل کرتا ہے۔ خریداری اور فروخت کے وقت ہم سب رجسٹرار کے ہاں پیش نہیں ہوتے۔
محمد دین صاحب کی جرح کے جواب میں
س...... آپ کہتے ہیں کہ لوگ خالی ہاتھ تھے۔ پھر گاڑی کے شیشے کیسے ٹوٹے؟
ج...... مجھے علم نہیں۔
کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
ہنگامہ میں سرکاری آدمی سفید لباس میں نہیں تھے۔ ربوہ اسٹیشن پر نہ تو لاٹھی چارج ہوا اور نہ ہی آنسو گیس استعمال ہوئی۔ انٹیلی جنس افسروں نے مجھ سے واقعہ کے بارے میں پوچھا اور میں نے انہیں بتا دیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... کیا یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ ۲۳،۲۴؍دسمبر ۱۹۷۳ء کو کراچی اسپیشل پر ربوہ میں حملہ کیا گیا تھا؟ ج...... مجھے علم نہیں۔
خاقان بابر کی جرح کے جواب میں گواہ نے کہا کہ میری پیدائش ۱۹۲۰ء میں جیند اسٹیٹ ریلوے ہسپتال مشرقی پنجاب انڈیا میں ہوئی۔ ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۹ء تک تعلیم، تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں حاصل کرتا رہا۔ میرے دادا، والد اور چچا قادیان گئے ہوئے تھے۔ ہمارا ناظم امور عامہ سراغ رسانی کا کام نہیں کرتا۔ شعبہ امور عامہ کی برانچیں ہر شہر وقصبہ میں ہوتی ہیں تاکہ وہاں کے معاملات باہمی طور پر سلجھائے جائیں۔ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ سرظفر اللہ خان نے سقوط ڈھاکہ کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قادیانی معاملات باہمی طور پر سلجھائے جائیں۔ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ جماعت نے الیکشن ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کا ہر طرح سے ساتھ دیا تھا۔ (دامے درمے قدمے سخنے) میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ جب سے آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے سلسلہ میں کوئی قرارداد منظور کی ہے۔ اس وقت سے قادیانی پاکستان حکومت سے ناراض ہیں۔ میں نظامت امور عامہ کا ممبر نہیں ہوں۔ میں صرف قادیانی جماعت کا رکن ہوں۔
عاصم جعفری کی جرح کے جواب میں
س...... کیا ربوہ میں سالانہ اجتماع کے موقع پر خصوصی ریلوے ٹرینیں چلائی جاتی ہیں؟ ج...... جی ہاں! ان پر کچھ بینر لگے ہوتے ہیں اور تمام راستہ نعرے لگاتے آتے ہیں۔ تقریباً ایک سال پہلے سے قادیانیوں کا اخبار ریلوے اسٹیشن ربوہ پر گاڑیوں کے مسافروں میں مفت تقسیم ہوتا تھا۔ لیکن بعض غیر قادیانیوں کی مخالفت کی وجہ سے اب یہ پریکٹس بند کر دی گئی ہے۔
س...... کیا شیخ مبارک احمد پرنسپل آفیسر ریلوے بورڈ اور محمد شفیع اسسٹنٹ ٹرانسپورٹ آفیسر قادیانی ہیں؟ ج...... جی ہاں! میری ایم ایم احمد سے کوئی رشتہ داری نہیں۔
لطیف رانا کی جرح کے جواب میں
یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت قادیانیوں کو ان کے عقیدہ کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتی۔ جب ہم اپنا لٹریچر غیر قادیانیوں میں تقسیم کرتے ہیں تو اکثریت یہ لٹریچر بلا تردد لیتی ہے۔ بعض لوگ لٹریچر نہیں لیتے۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ جو بھارت کے خلاف لڑی گئی۔ اسے میں جہاد سمجھتا ہوں۔ جب کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ کو جہاد نہیں سمجھتا۔ یہ ہمارے باہمی نفاق کا نتیجہ تھی۔ میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام چیف سائنٹفک ایڈوائزر کو جانتا ہوں۔
۱۷؍جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور : ۱۷؍جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل میں آج وقوعہ کے روز چناب ایکسپریس کے ایک مسافر بشیر احمد اور نشتر میڈیکل کالج ملتان سٹوڈنٹس یونین کے صدر مسٹر ارباب عالم کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ اس سے قبل ۱۶ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں۔ بعد از دوپہر کے اجلاس میں ارباب عالم پر جرح جاری رہی اور اجلاس کی کارروائی اگلے روز ملتوی کر دی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۱۷ ...... بشیر احمد سکنہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا
میں احمدی نہیں ہوں ۔ میں ۲۹ تاریخ کو سرگودھا سے کوئٹہ جانے کے لئے چناب ایکسپریس میں سفر کر رہا تھا ۔ ابھی گاڑی ربوہ سے دو فرلانگ دور ہی تھی کہ میں نے پلیٹ فارم پر بہت بڑا ہجوم دیکھا۔ میں سمجھا کہ کوئی تقریب ہو گی ۔ کیونکہ اس سے قبل تو اس اسٹیشن پر عموماً ہجوم نہیں ہوتا۔ میں سیکنڈ کلاس میں تھا۔ گاڑی زنجیر کھینچنے سے کھڑی ہوئی ۔ زنجیر ایک لڑکے نے میرے ڈبے سے کھینچی جب گاڑی کھڑی ہوئی تو پندرہ سولہ لڑکے میرے کمپارٹمنٹ میں آئے اور ایک لڑکے کو مارنا شروع کر دیا ۔ ہم نے بہت منت سماجت کی ۔ لیکن وہ لڑکے کو مارتے رہے ۔ ہم خود خوف کی وجہ سے چپ ہو گئے ۔ حملہ آوروں کے پاس سوٹیاں ، ہاکیاں اور تاروں والے ہنٹر تھے۔ جب مار کھانے والا لڑکا گر گیا تو اسے چھوڑ دیا۔ پھر دوسرے کو پکڑ لیا۔ اسے بھی مارا اور پھر حملہ آور دوسرے ڈبہ میں داخل ہو گئے ۔ اس ڈبہ کے دروازے بند تھے ۔ ہم نے زخمی طالب علم کو سیٹ کے نیچے چھپا لیا اور بعد میں جب لڑکوں کا پتہ کرنے کے لئے حملہ آوروں کا جتھہ آیا تو ہم نے انہیں کہہ دیا کہ یہاں کوئی نہیں ۔ میں نے گاڑی کی دوسری طرف دیکھا تو یارڈ کی طرف کو آخری سے پہلی بوگی میں سے لوگ سامان بستر اور دیگر اشیاء باہر گرا رہے تھے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد گاڑی روانہ ہوگئی ۔
اعجاز حسین بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں
جرح کے جواب میں گواہ نے کہا کہ میں زمیندار ہوں اور میرے دو ٹرک ہیں ۔ میرے ڈبہ میں اٹھارہ بیس افراد بیٹھے تھے ۔ ہمیں پلیٹ فارم پر پتہ چلا تھا کہ ہمارے ڈبہ میں بیٹھے ہوئے وہ لڑکے جنہیں زخمی کر دیا تھا ، طلباء تھے۔ زخمی طلباء نے ہمیں بتایا کہ جب ۲۲ مئی کو ہم یہاں سے گزرے تھے تو نعرے لگائے تھے ۔ اس لئے اب سکیم بنا کر یہاں پر حملہ کیا گیا ہے ۔
میں سرگودھا سے خانیوال اترا اور وہاں سے کوئٹہ گیا۔ جہاں سے ۱۳ / جون کو پولیس نے مجھے یہ اطلاع دی کہ ہفتہ کو ٹربیونل کے روبرو میری شہادت ہے ۔ جب گاڑی چک جھمرہ پہنچی تو لڑکوں نے اعلان کیا کہ جب تک اعلیٰ حکام نہیں پہنچیں گے اور انکوائری نہیں ہو گی ۔ گاڑی لائل پور سے آگے نہیں چلنے دیں گے۔ چنانچہ جب لائل پور پہنچے تو بہت زیادہ ہجوم تھا۔ بہت زیادہ پولیس تھی۔ میں نے وہاں لائل پور اسٹیشن پر لڑکوں کو احمدیت مردہ باد ، مرزا غلام احمد قادیانی مردہ باد کے نعرے لگاتے سنا تھا۔ میں نے ربوہ میں ایسا کوئی نعرہ نہیں سنا تھا۔ میں نے لائل پور اسٹیشن پر کسی کو مار پڑتے نہیں دیکھی ۔
رفیق باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
جب حملہ آور ڈبہ میں طالب علم کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے تھے تو انہوں نے مجھے قسم دلوا کر لڑکے کے متعلق پوچھا تھا ۔
جرح : ایم . اے رحمان
مجھے یہ علم نہیں کہ وہ لڑکا ہمارے ڈبہ میں کس جگہ سے بیٹھا جسے ربوہ میں مار پڑی ۔ ہر شخص ڈبہ میں خوفزدہ تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی منصوبہ بنا کر حملہ کیا گیا ہے اور کوئی لیڈر حملہ کا حکم دے رہا ہے۔ حملہ آور مارتے جاتے اور کہتے تھے کہ آؤ تمہیں حوریں دیں ۔
گواہ نمبر ۱۸ ...... ارباب عالم ، طالب علم
میں احمدی نہیں ہوں ۔ میں نشتر میڈیکل کالج ملتان سٹوڈنٹس یونین کا صدر ہوں ۔ ہم نے سوات کے تفریحی دورہ کا ایک پروگرام
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنایا اور ۲۲ مئی کو ملتان سے سوات کے تفریحی دورہ پر روانہ ہوئے۔ خیبر میل میں ہمیں ایک اضافی بوگی نہ مل سکی۔ لہٰذا ہم نے چناب ایکسپریس میں بوگی لی۔ پروگرام کے مطابق ایک دن ہم نے راولپنڈی مری جانا تھا اور اس کے بعد بس میں نوشہرہ جانا تھا۔ جہاں سے دوسری بس میں سوات جانا تھا۔ ہم نے ملتان سے ۱۲ بجے دوپہر کو سفر شروع کیا۔ بوگی میں کل ۱۵۰ طلباء سوار ہوئے۔ گو ہم نے اپنے اساتذہ کو بھی دعوت دی۔ لیکن مصروفیت کی وجہ سے کوئی استاد ساتھ جانے پر راضی نہ ہوا۔ ۸۸ نشستوں کی بوگی ہمیں ملی۔ ہم سب لڑکے اس میں بیٹھ گئے۔ بوگی III کلاس کی تھی۔ جب ملتان سے گاڑی چلی تو اس میں نہ پنکھا تھا اور نہ بجلی تھی۔ لائل پور ہم نے شکایت کی تو گارڈ نے کہا سرگودھا میں ٹھیک کرا دیں گے۔ جب گاڑی ربوہ کھڑی ہوئی تو پچیس تیس کے قریب لڑکے پلیٹ فارم پر اترے۔ میں گاڑی میں ہی تھا۔ اتنے میں مجھے نعروں کی آواز سنائی دی۔ میں نیچے اترا اور وجہ پوچھی تو لڑکوں نے ایک آدمی کی طرف جو شلوار قمیص میں تھا۔ اشارہ کیا اور کہا کہ یہ آدمی ہمیں زبردستی تبلیغ کر رہا ہے اور ایک اخبار ہم میں تقسیم کر رہا ہے۔ میں نے ایک لڑکے کے ہاتھ میں ایک پھٹا ہوا اخبار بھی دیکھا۔ جس پر روزنامہ الفضل لکھا تھا۔ اس عرصے میں دس بارہ اور آدمی بھی اکٹھے ہو گئے تھے۔ اس آدمی کے ساتھ جب ہمارے لڑکے نعرے لگا رہے تھے۔ اس آدمی نے قریب ہی گراؤنڈ میں والی بال کھیلنے والوں کو اشارہ کرتے ہوئے بلایا۔ وہ ۱۸، ۱۹ کھلاڑی اسٹیشن پر آگئے۔ انہوں نے بازو چڑھائے ہوئے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ جھگڑے پر آمادہ ہیں۔ وہاں ان میں سے ایک بڑا آدمی تھا۔ میں نے کہا کہ وہ اپنے لڑکوں کو سمجھائیں میں اپنے لڑکوں کو سمجھاتا ہوں۔ میں نے اپنے لڑکوں کو گاڑی کے اندر سوار کر لیا۔ جب آخری لڑکا اوپر چڑھ رہا تھا اور میں پلیٹ فارم پر تھا، گاڑی چل پڑی۔ جب میں گاڑی پر چڑھ رہا تھا۔ لوگوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ ایک پتھر مجھے بھی لگا۔ میں نے دروازہ بند کر لیا اور طلباء کو کہا کہ وہ شٹر بند کر دیں۔ گاڑی چل پڑی تھی۔ ہم نے جواب میں کچھ نہ کیا اور نہ کچھ کہا اور گاڑی ربوہ سے چل پڑی۔
چار طلباء کی ایک ایڈوانس پارٹی ٹھہرنے کی جگہ پر انتظام کرنے کے لئے پہنچی تھی۔ وہ چار طلباء ہمیں پنڈی میں مل گئے۔ اس ٹرپ کے دوران ہم مری، نوشہرہ اور پشاور گئے۔ ہم پشاور سے پھر چناب ایکسپریس کے ذریعے ۲۸ مئی کو ملتان کے لئے روانہ ہوئے۔ واپسی کے لئے بوگی ہمارے لئے ریزرو تھی۔ واپسی کی ریزرویشن کے لئے درخواست دی تھی۔ ہم نے یہ گزارش کی تھی کہ واپسی پر ہماری بوگی خیبر سے لگا دی جائے۔ انہوں نے انکار کر دیا تھا اور چناب سے ہی آنے کے لئے بوگی دی۔
واپسی پر بعض طلباء مختلف سٹیشنوں پر اترتے رہے۔ لیکن ہماری پارٹی کے ساتھ مزید اور کوئی شامل نہ ہوا۔ پشاور اسٹیشن پر میں نے ریلوے سٹاف کو شکایت کی تھی کہ ٹرین میں لائٹ نہیں اور پنکھے نہیں چل رہے۔ گارڈ نے مجھے کہا تھا کہ نوشہرہ میں ٹھیک کر دیئے جائیں گے۔ نوشہرہ میں ٹھیک نہ ہوئے۔ گارڈ نے گاڑی چلانے کے لئے جھنڈی دی۔ میں نے گارڈ سے درخواست کی کہ جب تک شکایت دور نہیں ہو جاتی۔ گاڑی نہیں چلنی چاہئے۔ اس کے بعد گارڈ نے شکایت دور کرا دی۔ پنکھے ٹھیک ہو گئے اور گاڑی چل پڑی۔
کیونکہ راستہ میں کچھ طلباء اترتے رہے۔ اس لئے میں واپسی پر ان کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتا۔ راولپنڈی میں کچھ نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم سوئے ہوئے تھے۔ سرگودھا میں گاڑی صبح پہنچ گئی۔ سرگودھا سے جب گاڑی چلی تو ہماری بوگی کے دروازے پر چھ نوجوان سوار ہو گئے۔ انہوں نے کچھ طلباء سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ کچھ طلباء میرے پاس آئے اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ وہ چھ لڑکے غالباً مرزائی ہیں۔ وہ کوئی شرارت نہ کریں۔ میں نے طلباء سے کہا کہ ان سے درخواست کریں کہ بوگی سے چلے جائیں۔ کیونکہ یہ طلباء کے لئے ریزرو ہے۔ دوسرے اسٹیشن پر جو شاہین آباد تھا، وہ لڑکے ہماری بوگی سے اتر گئے۔ ہماری بوگی پیچھے سے دوسری تھی۔ جب گاڑی چلی تو ان لڑکوں نے غور سے ہمیں دیکھا اور آخری بوگی پر سوار ہو گئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب ہم ربوہ پہنچے تو میں کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ٹرین پلیٹ فارم میں داخل ہونے والی تھی تو میں نے کھڑکی سے دیکھا۔ میں نے لوگوں کو گاڑی کے پچھلے حصہ کی طرف پلیٹ فارم سے دوڑ کر آتے ہوئے دیکھا۔ کچھ اور لوگ اسٹیشن کی دیوار پھاند کر ادھر ادھر سے آ رہے تھے۔ میں نے پچھلی بوگی کی طرف دیکھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ شاید آخری بوگی میں سفر کرنے والے کسی مسافر کے استقبال کے لئے آئے تھے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ جو لڑکے ہماری بوگی میں چڑھے تھے، وہ ہاتھ کے اشارے سے ہجوم کو اپنی طرف بلا رہے تھے۔ جب گاڑی کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ پورا پلیٹ فارم لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ جو ہماری بوگی کی طرف آئے وہ سوٹیوں، ہاکیوں، چین، چھوٹی ہتھوڑیاں اور ہنٹر سے مسلح تھے۔ ایک کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ جب گاڑی کھڑی ہوئی انہوں نے کھڑکیوں میں بیٹھے ہوئے طلباء کو اپنے اسلحوں سے مارنا شروع کر دیا۔ جب لڑکوں نے شور مچایا تو میں نے انہیں کہا کہ شٹر اور دروازے بند کر دو اور پریشان نہ ہوں۔ وہ کھڑکیوں کے قریب نہیں ہو سکتے تھے۔ کیونکہ حملہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے کسی نہ کسی طرح کھڑکیاں بند کر دیں۔ ایک کھڑکی درمیان میں پھنس گئی۔ وہاں سے ربوہ کے لوگ لاٹھیاں برسا رہے تھے۔ میں نے کچھ سامان پھنکوا دیا اور اسے بند کر دیا۔ اس اثناء میں پلیٹ فارم پر جو ہجوم تھا انہوں نے پچھلا دروازہ توڑ دیا۔ تب میں نے طلباء کو ہدایت کی کہ بوگی میں پچھلے چھوٹے ڈبے میں گھس جائیں اور اندر سے بند کر لیں۔ طلباء چھوٹے کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت اٹھارہ بیس آدمی ڈبے میں داخل ہوئے۔ دو آدمی بوگی سے سامان پلیٹ فارم کی طرف اور یارڈوں کی طرف پھینکنے لگے۔ باقی میری طرف آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اگر کسی نے کوئی برا سلوک کیا ہے تو مجھے بتائیں۔ اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو میں اس سے پوچھوں گا۔ دس کے قریب آدمی میرے اردگرد جمع ہو گئے۔ ان میں سے دو تین ایک بیمار طالب علم کو برتھ سے نیچے پھینکنے لگے۔ اسے ہتھوڑی سے مارا۔ بیمار آدمی نے مزاحمت کی تو وہ اسے مارتے گئے۔ وہ زخمی ہو گیا تو برتھ سے نیچے گر گیا اور میرے پیچھے پناہ لی اور پچھلے ڈبے کی طرف چلا گیا۔ حملہ آور میرے اردگرد جمع ہو گئے اور پوچھا کہ تمہارا انچارج کون ہے؟ جب میں نے کہا کہ وہ انچارج کو کیوں تلاش کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئے۔ جب میں نے بتایا کہ میں انچارج ہوں تو ایک لنگ وہاں سے اٹھا کر مجھے دے مارا۔
ہماری کراکری آس پاس پڑی تھی۔ مجھے چکر آ گیا۔ میں نے اپنا ہاتھ ایک طرف کی کھڑکی پر رکھا۔ اسی دوران ایک نے پھر میرے سر پر پیچھے سے مارا۔ میں نیم بیہوش ہو گیا اور نیچے گر گیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آ گیا۔ مگر ہل نہیں سکتا تھا۔ میں فرش پر پڑا تھا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ حملہ آور اس چھوٹے ڈبے کا دروازہ کھول رہے تھے۔ جس میں طلباء تھے۔ ان میں سے دو نے پستول نکال لیا اور دھمکی دی۔ اس موقعہ پر تیس سال کا ایک آدمی اندر آ گیا اور اس نے ایک کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اس اثناء میں مسٹر امین جو ہمارے کالج کا طالب علم ہے۔ وہ ہمارے کالج میں اسلامی جمعیت طلباء کا ناظم ہے۔ کمرے میں داخل ہوا اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے کپڑے خون آلود تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں حرکت نہیں کر سکتا۔ وہ آدمی جس نے ریوالور استعمال کرنے سے منع کیا تھا، حملہ آوروں سے کہا کہ دو خدام ڈبے میں ٹھہریں، باقی چلے جائیں۔ دو آدمی کچھ دیر وہاں کھڑے رہے۔ اس کے بعد وہ بھی چلے گئے۔ ابھی وہ دونوں وہیں تھے کہ چھوٹے ڈبے میں جنہوں نے پناہ لی تھی، وہ لڑکے آ گئے اور مجھے برتھ پر ڈال دیا۔ انہوں نے پلیٹ فارم سے زخمی طلباء کو اٹھانا شروع کر دیا اور ڈبے میں لا کر بٹھاتے رہے۔ اس اثناء میں گارڈ اور ایک دو اور ریلوے ملازمین ہمارے ڈبے میں آ گئے۔ انہوں نے پانی پلایا۔ انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ گھبرائیں نہیں کیونکہ ”وہ“ جا چکے ہیں۔ ”وہ“ سے ان کی مراد تھی حملہ آور۔ اس کے باوجود لڑکوں پر خوف طاری تھا۔ انہیں شک تھا کہ شاید انہیں پھر مارا جائے گا۔ جب گاڑی چلنا شروع ہو گئی انہوں نے اپنی وہ کھڑکیاں نیچے کر لیں۔ جو ٹھیک تھیں باقی کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ لڑکے بوگی میں بیٹھ گئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ جب گاڑی ربوہ پہنچی تو تمام طلباء، طلباء کے لئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مخصوص بوگی میں گئے یا نہیں کیونکہ تقریباً ہر اسٹیشن پر طلباء گاڑی سے نیچے اترتے تھے اور چلتی گاڑی پر سوار ہو جاتے تھے۔ اس طرح وہ جس ڈبے میں چڑھ سکتے تھے چڑھ جاتے تھے۔ مجھے پتہ نہیں کہ میرے کالج کے طلباء دوسری بوگیوں میں بھی تھے یا نہیں۔ آخر کار گاڑی چلی جو لڑکا بوگی میں بیمار اور برتھ پر لیٹا تھا اسے بخار تھا۔ وہ رفعت حیات تھا۔ جو طلباء پلیٹ فارم سے اٹھا کر زخمی حالت میں اندر بوگی میں لائے گئے ان کے نام نہیں جانتا۔ کیونکہ میں ایک سائیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ میں انہیں دیکھ نہ سکا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سب لڑکے سوار کر لئے گئے ہیں۔ نعرے جو میں نے ربوہ اسٹیشن پر سنے وہ تھے۔ احمدیت زندہ باد، مرزا غلام احمد کی جے، محمدیت مردہ باد اور نشتر کے مسلے ہائے ہائے۔ جب میں زخمی ہو کر ڈبے کے فرش پر پڑا تھا تو لوگوں کو پلیٹ فارم پر کہتے ہوئے سنا تھا کہ بوگی کو گاڑی سے علیحدہ کر لیا جائے اور کچھ کہہ رہے تھے کہ اس کو آگ لگا دی جائے۔ کچھ یہ بھی تجویز کر رہے تھے کہ وہ طلباء کو لے جائیں اور جب ان کو کوئی لینے آئے تو اس کے لئے انتظار کریں۔ ربوہ پر جب گاڑی رکی تھی۔ ہماری بوگی پلیٹ فارم پر نہیں پہنچی تھی۔
جب ہم لائل پور پہنچے تو ضلعی حکام اسٹیشن پر موجود تھے۔ ہم میں سے تیرہ کو گاڑی سے سٹریچر پر نکالا گیا۔ مجھے بھی سٹریچر پر ڈالا گیا تھا۔ ہمیں بنچوں پر برآمدہ میں لٹایا گیا۔ وہاں ہمیں فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کی گئی۔ پلیٹ فارم پر ڈاکٹر بھی تھے۔ جو ہمیں فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ کیونکہ طلباء نے ایک ڈاکٹر کو پہچان لیا جو نشتر میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر رہ چکے تھے۔ ان کا نام ڈاکٹر ولی ہے۔ وہ مرزائی ہے۔ جو طلباء زخمی نہ تھے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائی سے فرسٹ ایڈ نہیں لیں گے۔ اس پر افسران نے ڈاکٹر ولی کو اسٹیشن سے بھیج دیا۔ جب وہ چلے گئے تو دوسرے جونیئر ڈاکٹروں نے فرسٹ ایڈ دی۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں سٹریچر پر اٹھایا اور ٹرین میں ایئرکنڈیشنڈ کوچ میں ڈال دیا۔ ایک اور ڈاکٹر صاحب جو غالباً آئی سرجن تھے، ہمارے ساتھ لائل پور سے ملتان تک گئے۔ چونکہ سول سرجن جو عام طور پر ہمارے ساتھ جاتے، مرزائی تھے۔ (وہی ڈاکٹر ولی) ہم نے ان سے مدد لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد لائل پور سے چل پڑے۔
میں نے لائل پور اسٹیشن پر کچھ نعرے نہ سنے تھے۔ میں نے کسی آدمی کو وہاں پٹتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ ملتان پہنچنے پر مجھے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ میرا ڈاکٹری معائنہ ہوا تھا۔ ہسپتال میں داخل ہوئے۔ ہسپتال سے مجھے ۱۱؍ جون کو ڈسچارج کیا گیا۔ دو اور طلباء کو بھی اسی ایمبولینس میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ میرے علاوہ بارہ طلباء کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
ایم۔اے رحمن کی جرح کے جواب میں
طلباء کی بوگی تین کمروں پر مشتمل تھی۔ بڑا کمرہ درمیان میں تھا اور دو چھوٹے کمرے سائیڈوں پر تھے۔ ۲۲؍ مئی کو جو نعرے ربوہ اسٹیشن پر لگے تھے وہ یہ تھے۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، اسلام زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، ختم نبوت زندہ باد۔
رفیق احمد باجوہ نے ٹربیونل سے درخواست کی دسمبر ۱۹۷۳ء سے لے کر اب تک کی ڈی بی جھنگ کی Confidential رپورٹس طلب کر لی جائیں۔ ٹربیونل نے بتایا کہ مئی ۱۹۷۴ء کی رپورٹیں تو انہوں نے منگوائی ہیں۔ مسٹر ایم۔اے رحمن صاحب نے جون ۱۹۵۵ء کی Confidential رپورٹ منگوانے کی درخواست کی۔
مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں
جو چھ آدمی ہماری بوگی میں سرگودھا سے سوار ہوئے تھے ان سے میری کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ حملہ آوروں نے مجھ سے جو گفتگو کی وہ میری شناخت معلوم کرنے کے لئے تھی۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے مجھے ہوش و حواس میں دو زخم آئے۔ ایک مگ کے ساتھ اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسری اس چیز کے ساتھ جسے میں دیکھ نہ سکا۔ میرا اندازہ ہے کہ میں مختصر سے عرصے کے لئے بیہوش ہوا تھا۔ اس وقت میں (درمیانی راستہ) میں گرا ہوا تھا۔ حملہ آوروں کو پچھلے ڈبے میں پناہ لینے والے طلباء تک پہنچنے کے لئے درمیانی راستہ سے گزرنا پڑتا تھا۔
۲۹ مئی کو میں اپنے کمپارٹمنٹ سے ربوہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر نہ اترا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ طلباء کا جو سامان نیچے گرا دیا تھا۔ وہ واپس ڈبے میں رکھایا یا نہ۔ میں نے طلباء سے سامان کے بارے میں نہ پوچھا تھا۔ میں وہ وجہ نہیں بتا سکتا کہ دو خدام کو کیوں میرے کمپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ تقریباً چار پانچ منٹ تک ٹھہرے تھے۔ مجھے بعد میں بتایا گیا تھا کہ دو طلباء جنہوں نے چھوٹے ڈبے میں پناہ لی تھی، کو سخت ضربات آئی ہیں کچھ اور طلباء کو بھی چوٹیں آئی تھیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے سر کا زخم معمولی یا شدید تھا۔ یہ صرف وہ ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔ جنہوں نے اس کا معائنہ کیا تھا۔ میرے جسم پر دوسرے زخم معمولی تھے۔
۱۸؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: ۱۹؍ جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل نے اب تک ۲۱؍ گواہوں کے بیانات قلمبند کر لئے ہیں۔ آج نشتر میڈیکل کالج ملتان سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم پر جرح مکمل ہو گئی۔ جب کہ ٹرین ایگزامینر حسین بخش اور دو طالب علموں خالد اور آفتاب محمود کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ آج بعض وکلاء نے اپنی اپنی تنظیموں اور پارٹیوں کی طرف سے ربوہ ٹربیونل کے سلسلہ میں مؤقف پیش کیا۔ مسٹر رفیق باجوہ نے اپنی پارٹی کے مؤقف میں کہا کہ واقعہ ربوہ اس سازش کی کڑی ہے۔ جس کے ذریعہ جماعت احمدیہ ملک میں انتشار پھیلا کر اور مارشل لاء لگوا کر عنان حکومت خود سنبھالنا چاہتی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء قاضی محمد سلیم اور خلیل الرحمٰن نے یہ مؤقف پیش کیا کہ انگریزوں کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرنا تھا۔ وہی مہم آج بھی جاری ہے اور بھارت کے اشارہ پر قادیانی یہاں اکھنڈ بھارت کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔ واقعہ ربوہ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور ۱۹۵۳ء کے مقابلہ میں اب تک قادیانیوں نے خاصی طاقت حاصل کر لی ہے۔ مثلاً فوجی طرز پر ان کی تنظیم قائم ہے۔ ان کا اپنا زرمبادلہ کا ذخیرہ ہے۔ حکومت میں ان کے آدمی تمام کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں اور فوج میں بھی ان کے آدمی موجود ہیں۔
افتخار احمد انصاری ایڈووکیٹ جھنگ
ٹربیونل کے روبرو افتخار احمد انصاری ایڈووکیٹ جھنگ نے ایک درخواست پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ربوہ کی زمین احمدیوں کو ۱۰۳۴۰ روپے میں فروخت کرنے کے کاغذات اور معاہدات کے مسودات عدالت میں طلب کئے جائیں تاکہ عدالت یہ جان سکے کہ ان معاہدات کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے اور مزید برآں اس امر کی وجہ بھی معلوم کی جاسکے کہ آخر ۱۰۳۴؍ ایکڑ ۷؍ کنال ۸؍ مرلے زمین اتنی سستی کیوں دی گئی؟ فاضل جج نے درخواست کو ریکارڈ میں شامل کر لیا اور درخواست کنندہ کو بتایا کہ اگر انہیں بلانے کی ضرورت پڑی تو گواہی کے لئے بلا لیا جائے گا۔ درخواست کنندہ نے لکھا کہ معاہدہ کی رو سے تمام خالی زمین پر ۱۸؍ ماہ کے اندر تعمیر کر لینی چاہئے تھی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ابھی تک خاصی زمین وہاں خالی پڑی ہے۔ اس طرح کالونیز ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور جس مقصد کے لئے ، جن شرائط پر زمین حکومت نے دی، اس کی پروا نہیں کی گئی۔ اسی طرح یہ شرط بھی تھی کہ انجمن احمدیہ اس زمین کو آگے کسی کے ہاتھ فروخت نہیں کرے گی۔ اس شرط کی بھی پروا نہیں کی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں
س ...... کیا آپ نے پستول چلنے کی آواز وقوعہ کے وقت سنی؟ ج ...... جی نہیں۔
س ...... کیا آپ کو یاد ہے کہ جب آپ نشتر میڈیکل کالج میں زیر علاج تھے تو کون کون ملنے آیا؟ ج ...... ایک صادق آباد کے ایم۔ پی۔ اے ملنے آئے۔ ایک وزیر خان صادق ملہی ہیں وہ بھی ملنے آئے۔ ملتان مسلم لیگ کے صدر اور ان کے دیگر ساتھی بھی ملنے آئے۔ ایک دن امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد بھی گئے۔ اس کے علاوہ طلباء کی یونینوں کے صدر اور عہدیدار ملنے کے لئے آتے رہے۔
س ...... کیا نشتر میڈیکل کالج میں احمدی طلباء بھی پڑھتے تھے؟ ج ...... جی ہاں ہیں۔
س ...... کیا یہ درست ہے کہ وقوعہ ربوہ کے بعد نشتر میڈیکل کالج کے ہوسٹل میں مقیم احمدی طلباء کا سامان جلا دیا گیا؟ ج ...... مجھے علم نہیں۔ میں ہسپتال میں زیر علاج تھا۔
س ...... کیا اس وقوعہ کی تفصیلات پڑھتے رہے ہیں؟ ج ...... ۱۱؍ جون سے لاہور میں ہوں اور یہاں پر اخبارات کی سرخیاں پڑھتا رہا ہوں۔ تفصیلات نہیں۔ ہسپتال میں داخل رہنے کے دوران اخبارات کم ملتے تھے۔ میں نے انکوائری کی خبریں اس لئے تفصیلی طور پر نہیں پڑھیں کہ انکوائری میں غلط بیان بھی دیئے جارہے ہیں اور یہ بیان بھی دیئے جارہے تھے کہ ربوہ میں کچھ نہیں ہوا۔ جس سے مجھے کوفت ہوتی تھی۔ لہذا میں نے زیادہ تفصیل سے اخبارات پڑھنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں عدالت میں ۱۲؍ جون کو ۵؍ منٹ کے لئے آیا تھا۔ میں یہ پتہ کرنے کے لئے آیا تھا کہ طلباء کی گواہیاں کب شروع کی جائیں گی؟ میں نے جب دیکھا کہ ابھی تو ریلوے کے ملازمین کی گواہیاں ہورہی ہیں تو میں واپس چلا گیا۔ پرسوں یعنی ۱۷؍ جون کو میں پھر آیا اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سے مل کر انہیں کہا کہ اب تو ریلوے ملازمین کی گواہیاں ختم ہونے والی ہیں۔ لہذا اب پتہ کریں کہ ہماری گواہیاں کب شروع ہوں گی۔ میں نے لاہور میں قیام کے دوران ۱۳؍ جون کو سینٹ ہال میں تقریر بھی کی، وہاں دیگر طالب علم لیڈروں نے بھی تقریریں کیں۔ اخبار میں سینٹ ہال کی میٹنگ کے بارے میں جو کچھ شائع ہوا ہے، وہ صحیح ہے۔ لیکن اس میں شائع شدہ فیصلوں کا تعلق پنجاب سٹوڈنٹس کونسل سے ہے۔
س ...... کیا آپ کے ساتھ بعض دیگر طلباء بھی آئے؟ ج ...... جی ہاں! چھ طلباء میرے ساتھ آئے۔
س ...... خانیوال کے اسٹیشن پر کیا واقعہ ہوا ہے؟ ج ...... ہم نے گارڈ سے کہا کہ ہم نے ناشتہ نہیں کیا ہے۔ ہمیں لڑکوں کو ناشتہ کرا لینے دو۔ گارڈ نے کہا کہ ناشتہ کرلو۔ لیکن جب ہم اسٹیشن کے ریفرشمنٹ میں ناشتہ کرنے گئے تو گاڑی چلا دی گئی۔ اس پر ہم اسٹیشن ماسٹر کے پاس آئے اور اس سے یہ پیغام ساہیوال بھیجنے کے لئے کہا کہ جب تک دوسری گاڑی سے ساہیوال نہیں پہنچتے۔ غزالہ ریل کار کو ساہیوال میں کھڑا رکھا جائے۔ کیونکہ ہمارا تمام سامان گاڑی میں ہی ہے۔ چنانچہ ہم دوسری گاڑی میں ساہیوال پہنچے تو غزالہ ریل کار وہاں کھڑی تھی۔ چنانچہ ہم اس میں سوار ہوگئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاضل جج
س...... آپ کے ساتھ تفریحی دورے میں کوئی احمدی طالب علم بھی گیا؟
ج...... جی نہیں۔ البتہ ایک احمدی طالب علم ہمارے ساتھ گاڑی میں گیا اور جب گاڑی ربوہ سے چلی تو میں نے اس کا پتہ کیا تا کہ لڑکے اس کو تنگ نہ کریں۔ لیکن معلوم ہوا کہ وہ پیچھے اتر گیا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ چنیوٹ میں اترا یا ربوہ میں؟
رفیق باجوہ کی جرح کے جواب میں
س...... اس احمدی لڑکے کا کیا نام ہے جو ملتان سے گاڑی میں آپ کے ساتھ گیا اور پھر ربوہ چنیوٹ میں اتر گیا؟
ج...... اس کا نام ابرار احمد ہے اور سال دوم کا طالب علم ہے۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان میں ۱۴، ۱۵ احمدی طالب علم داخل ہیں۔ ایسا کوئی مطالبہ یا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا کہ احمدی طلباء کو تفریحی دورہ پر ساتھ نہ لے جایا جائے۔ کالج کے تمام احمدی طلباء کا تعلق پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سے ہے۔ سفر کے دوران ابرار احمد کے ساتھ کوئی زیادتی وغیرہ نہیں کی گئی۔
س...... کیا ۲۹ مئی کو طلباء کے علاوہ گاڑی کے کسی مسافر کو بھی مارا گیا؟
ج...... جی نہیں۔ صرف طلباء کو مارا گیا۔ اس سے قبل ۲۲ مئی کو طلباء میں ہی تبلیغ کے لئے الفضل تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
س...... پٹائی کے اس واقعہ کے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟
ج...... جہاں تک میری رائے ہے، میں سمجھتا ہوں کہ فوج کو استعمال کرنے کے لئے مرزائیوں نے یہ راستہ بنایا تھا انہوں نے طلباء کو چنا۔ صاف ظاہر ہے کہ طلباء کی پٹائی ہوگی اور پورے ملک میں شور اٹھے گا۔ بدامنی پھیلے گی اور مرزائیوں کے فوج میں جو جنرل ہیں وہ بھی ہمدردی کریں گے۔ غیر ملکی پریس میں شور اٹھے گا۔ مارشل لاء نافذ کرانے کی کوشش کی جائے گی اور پھر مرزائی فوج کے ذریعہ حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ فاضل جج نے اس سے پوچھا کہ ایسا سوچنے کے لئے اس کے پاس کیا عوامل ہیں یا کیا وجوہات ہیں؟ گواہ نے کہا کہ بعد کے واقعات میری بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
س...... آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ فوج کے آنے سے مرزائی برسر اقتدار آ جائیں گے؟
ج...... فوج میں جنرل ٹکا خان کے بعد باقی کم از کم چار پانچ جنرل مرزائی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض کور کمانڈر بھی مرزائی ہیں۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ فوج کے آنے سے مرزائی برسر اقتدار آ جائیں گے۔ اسی طرح ۲۹ مئی کو جن طلباء کو پیٹا گیا تھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ جب اسے پیٹا جا رہا تھا تو مارنے والوں نے کہا کہ انہیں اقلیت میں سمجھنا غلط ہے، وہ اس ملک پر حکومت کر کے دکھائیں گے۔
رفیق باجوہ کی جرح کے جواب میں
س...... کیا آپ کو علم ہے کہ سابقہ ایئر مارشل ظفر چوہدری کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں؟
ج...... وہ احمدی تھے اور انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔ میرا یقین ہے کہ اس واقعہ سے ایئر مارشل ظفر چوہدری کے ہٹائے جانے کا بھی تعلق ہے۔ کیونکہ احمدی سمجھ رہے تھے کہ اب آہستہ آہستہ حکومت سب اعلیٰ افسروں کو ہٹا دے گی۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ باقیوں کو ہٹائے جانے سے قبل ملک میں بدامنی پیدا کی جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد دین ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں
س ...... یحییٰ کی حکومت میں ۱۹۷۰ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ گلبرگ کی ایک کوٹھی سے وائرلیس سیٹ برآمد ہوا ہے۔ جس شخص کی کوٹھی سے یہ سیٹ برآمد ہوا وہ ایم ایم احمد کا آدمی تھا۔ کیا اس خبر کے بارے میں آپ کو کوئی علم ہے؟
ج ...... جی ہاں! یہ خبر میری نظر سے گزری ہے۔ ٹربیونل نے محمد دین ایڈووکیٹ کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس سلسلہ میں ایک درخواست لکھ کر دیں تا کہ اس سلسلہ میں جو مقدمہ وغیرہ درج ہوا تھا۔ اس کا ریکارڈ منگوایا جاسکے۔
گواہ نمبر ۱۹......حسین بخش، ٹرین ایگزامینر ملتان کینٹ
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں نے ۱۲؍ جون ۱۹۷۴ء کو بوگی نمبر ۴۰۵۵ یو.ٹی وائی کا معائنہ کیا۔ یہ بوگی ۱۲ ڈاؤن چناب ایکسپریس سے ۲۹؍ مئی کو الگ کی گئی تھی۔ یہ رپورٹ اس بوگی کی مرمت کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ پولیس نے چونکہ یہ ہدایت کی ہے کہ بوگی کی ابھی مرمت نہ کی جائے۔ کیونکہ ابھی اس معائنہ کے لئے کھلا رکھنا ہے۔ لہٰذا ابھی تک یہ بند کھڑی ہے۔ میں نے عبدالستار ایس.ایچ.او کی موجودگی میں بوگی کا معائنہ کیا۔ گواہ نے اپنی رپورٹ کی تفصیلات عدالت کو بتائیں اور رپورٹ کی نقل عدالت میں پیش کر دی۔ جب میں نے بوگی کا معائنہ کیا تو اس میں کوئی سامان نہ تھا۔ البتہ ٹوٹے ہوئے پتھر بکھرے پڑے تھے، جو ایس.ایچ.او نے اکٹھے کر لئے۔
گواہ نے عاصم جعفری کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرین ایگزامینر نے بھی میری رپورٹ دیکھی ہے۔ کیونکہ رپورٹ انہیں پیش کی گئی تھی۔ گواہ نے کہا کہ ۳۰؍ مئی کو بھی گاڑی کا معائنہ انہوں نے کیا تھا۔ ۳۰؍ مئی کو جب رپورٹ بنائی تو اس میں گاڑی کی بوگی کی نااہلیت کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن ۱۲؍ جون کو صرف وہ نقصان لکھا جو محض ہنگامے کی وجہ سے ہوا تھا۔
خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
جب گاڑی چلتی ہے تو نئی لگنے والی بوگی کا معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کے صحیح ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب گاڑی اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتی ہے تو وہاں بھی اسے چیک کیا جاتا ہے۔
گواہ نمبر ۲۰......آفتاب محمود طالب علم
میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کا سال چہارم کا طالب علم ہوں اور احمدی نہیں ہوں۔ میرا تعلق گلگت سے ہے اور میں فارن ایریا فرنٹیئر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا سوشل سیکرٹری ہوں۔ میں دیگر طلباء کے ساتھ ۲۲؍ مئی کو چناب ایکسپریس کے ذریعہ سوات کے تفریحی دورے کے لئے روانہ ہوا۔ ربوہ اسٹیشن پر میں اور میرے بعض دیگر ساتھی پلیٹ فارم پر اترے۔ اترنے تک مجھے علم نہیں تھا کہ یہ اسٹیشن ربوہ ہے۔ مجھے دوسرے طلباء نے بتایا کہ یہ ربوہ اسٹیشن ہے۔ پلیٹ فارم پر دس بارہ اور آدمی بھی کھڑے تھے۔ ایک آدمی جس کی عمر تیس پینتیس سال کی تھی، ہمارے پاس آیا۔ اس کے پاس الفضل اخبار کی کاپیاں تھیں۔ اس نے تین چار کاپیاں لڑکوں میں تقسیم کیں۔ مجھے بھی ایک اخبار دیا۔ لیکن میرے دوست نے بتایا کہ یہ اخبار مرزائیوں کا ہے۔ میں نے اس پر اس اخبار کو پھاڑ دیا۔ اس پر وہ آدمی جو وہاں پہلے سے موجود تھے وہاں آئے۔ اس اثناء میں دوسرے لڑکوں نے اخبار پھاڑ دیئے۔ اس سے چونکہ ہمارے جذبات مجروح ہوئے تھے۔ ہم نے وہاں نعرے لگائے۔ جن میں نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، اسلام زندہ باد کے نعرے شامل تھے۔ کچھ اور لوگ بھی جو نزدیک والی بال کھیل رہے تھے وہاں اکٹھے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو گئے اور تیس پینتیس کا مجمع ہو گیا۔ ہماری یونین کا صدر ارباب ابھی تک اندر تھا۔ جب نعرے لگنے شروع ہوئے تو انہوں نے باہر دیکھا اور ہمارے پاس آئے اور کہا تمام لڑکے بوگی میں سوار ہو جائیں۔ چنانچہ سب بوگی میں آگئے اور گاڑی پلیٹ فارم سے چلنا شروع ہوئی۔ ہمارے صدر ارباب اس وقت دوڑتے ہوئے گاڑی میں چڑھے۔ اتنے میں ارباب نے کہا کہ کھڑکیاں بند کر دیں۔ پلیٹ فارم کی طرف سے پتھراؤ ہو رہا ہے۔ ارباب نے مجھے بتایا کہ ایک پتھر انہیں بھی لگا ہے۔
۲۹ مئی کو جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی، میری نشست یارڈ کی طرف تھی۔ باہر بہت بڑا مجمع تھا اور شور بپا ہو رہا تھا۔ اندر ہم سب لوگ سہمے ہوئے تھے۔ میں نے جو دروازہ بند کیا۔ اسے باہر سے کھولنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ چنانچہ کافی زور لگا کر حملہ آوروں نے دروازہ کو کھول لیا اور اندر آ گئے۔ ان کی تعداد ۵۰ کے قریب تھی۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ایک نے مجھے ہاکی ماری۔ اس میں میں پیچھے ہٹا اور ارباب کو بتایا کہ لوگ اندر داخل ہو گئے ہیں۔ ہاکی میری کمر کے بائیں حصہ میں لگی۔ میں ہٹ کر پیچھے آ گیا۔ لوگ اندر آ گئے۔ میں نے سنا کہ کوئی شخص ارباب سے یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ کا انچارج کون ہے؟ وہ آدمی میری طرف بڑھے۔ ایک کے پاس سائیکل کا چین تھا اور ایک کے پاس ڈنڈا تھا۔ انہوں نے باہر کا ایک دروازہ بھی کھول دیا۔ ایک نے سائیکل کی چین ماری جو میرے ہاتھ پر لگی۔ وہاں سے دو تین آدمی اس ڈبے میں چڑھے۔ ان میں سے ایک نوجوان وہی تھا جو سرگودھا سے ہمارے ڈبہ میں سوار ہوا تھا۔ وہ مجھے مارنے لگے۔ مجھے لاٹھیاں بھی ماریں ۔ جو خالی ہاتھ تھا وہ مکے مارتا رہا۔ میری عینک گر گئی۔ میرا سر لیٹرین کے دروازے سے کئی بار ٹکرایا۔ میرا سر چکرانے لگا اور میں گرنے لگا۔ تاہم بمشکل تمام میں نے خود کو سنبھالا۔ اس دوران میری پتلون بھی پھٹ گئی۔ اس کے بعد میرے ان ساتھیوں نے مجھے اپنے کمپارٹمنٹ میں کھینچ لیا جو بوگی کے آخری حصہ میں تھے۔ ہم نے پھر دروازہ بند کر دیا۔ گو باہر سے اسے کھولنے کے لئے خاصا دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ میں نے باہر سے آواز سنی جس میں کوئی کہہ رہا تھا کہ دروازہ کھولو ورنہ میں پستول چلاؤں گا۔ ہم نے دروازہ اس پر بھی نہ کھولا۔ میرے ساتھیوں نے مجھے نیچے کی برتھ پر لٹا دیا۔ کیونکہ میرے بدن میں درد ہو رہا تھا۔ اس وقت میں نے جو نعرے سنے وہ یہ تھے۔ ’’احمدیت زندہ باد، محمدیت مردہ باد، نشتر کالج کے مسلے مردہ باد، مرزا غلام احمد زندہ باد۔‘‘ ایک پولیس والا ہماری بوگی میں چڑھ آیا۔ آخر کار گاڑی ربوہ سے چل پڑی۔ میں بیہوش ہو گیا۔ مجھے ملتان ہسپتال میں جا کر ہوش آیا۔ مجھے ۳۰ مئی کو ہوش آیا۔ میں نے دوسرے طلباء کی خیریت دریافت کی ۔ مجھے ۳۰ مئی کو ہوش میں آنے کے بعد محسوس ہوا کہ میرا سر مونڈا ہوا تھا۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ میرا سر کیوں مونڈا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر مجھے کچھ اور وقت بعد تک ہوش نہ آتا تو وہ میری کھوپڑی کھولتے ۔ یعنی میرا آپریشن کرتے۔
گواہ نمبر ۲۱.......خالد عبداللہ ولد محمد صدیق (ڈیرہ غازی خان) طالب علم فرسٹ ائیر نشتر میڈیکل کالج ملتان
میں احمدی نہیں ہوں ۔ میں طلباء کی یونین کا عہدیدار نہیں رہا۔ ہم ملتان سے ایک ٹرپ پر ۲۲ مئی کو ایک ریزرو بوگی میں سوار ہوئے ۔ ۲۲ مئی کو جب ہماری گاڑی ربوہ پہنچی تو میں اس وقت پلیٹ فارم پر اترا۔ جب میرے ساتھی نعرے لگا رہے تھے میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ طلباء نے مجھے بتایا کہ کچھ لوگ احمدی لٹریچر طلباء میں تقسیم کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ پانچ چھ آدمیوں کا ایک گروپ جو پلیٹ فارم پر کھڑا تھا، مجھے دکھایا گیا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ عام مشہور ہے کہ ربوہ میں جنت ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کس جگہ ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے غصے سے میرا بازو پکڑ لیا اور کھینچنا شروع کر دیا کہ آؤ جنت دکھاتا ہوں ۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑایا کہ میں اپنا کیمرہ لے کر آتا ہوں تا کہ میں فوٹو اتار سکوں ۔ اس بہانے میں جا کر اپنے ڈبے میں بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا وہاں کچھ لوگ اسٹیشن پر جمع
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو رہے تھے۔ کچھ نزدیک ہی کی گراؤنڈ سے آئے اور کچھ دوسری طرف سے آئے۔ سب وہاں پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ تیس پینتیس تھے۔ میں نے کھڑکی میں سے دیکھا ارباب عالم خان ایک بوڑھے آدمی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے وہ گفتگو نہ سنی۔ اس کے بعد مسٹر ارباب عالم خان نے لڑکوں کو بوگی میں داخل ہونے کے لئے کہا۔ لڑکے بوگی میں داخل ہونے شروع ہوئے۔ جب گاڑی چلی، میں اور ارباب عالم اندر داخل ہوئے ہی تھے تو ان لوگوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ جب پتھر آنے شروع ہوئے تو ہم نے کھڑکیاں بند کرلیں۔
ربوہ اسٹیشن پر نعرے لگ رہے تھے۔ ختم نبوت زندہ باد، نعرہ تکبیر اللہ اکبر، مرزائیت مردہ باد۔ ۲۹؍مئی کو ہماری واپسی پر ہم نے پشاور میں دیکھا کہ طلباء کی بوگی میں بجلی نہیں تھی۔ دوسرا میرا ایک دوست جس کا نام نثار احمد ہے، وہ ایک دن پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل بھی رہا۔ پس میں اور بیمار طالب علم دس دوسرے لڑکوں کے ساتھ سیکنڈ کلاس ڈبے میں چلے گئے۔ میں ربوہ تک سیکنڈ کلاس ڈبے میں سفر کرتا رہا۔
پانچ اور لڑکے بھی سیکنڈ کلاس میں سفر کر رہے تھے۔ وہ دروازہ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ غصے سے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ لالیاں اسٹیشن پر میں نے کچھ اور نوجوانوں کو پلیٹ فارم پر ہاکیاں لئے ہوئے دیکھا۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو میں نے بہت سے لوگوں کو پلیٹ فارم پر دیکھا۔ جن میں سے اکثر کے پاس ہاکیاں اور لاٹھیاں تھیں۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچی ہی تھی تو ہمارے ڈبے میں جو لڑکے بیٹھے تھے وہ اشارے کر کے ہماری طرف لوگوں کو بلا رہے تھے۔ میں نے یہ محسوس کر کے کہ وہ پلیٹ فارم پر لوگوں کو ہماری طرف بلا رہے ہیں۔ ہم نے کھڑکیاں بند کرلیں۔ ہماری بوگی درمیان میں تھی۔ جب گاڑی رکی تو پانچ نوجوان ہمیں گالیاں دیتے ہوئے اور ’’ابھی دیکھتے ہیں‘‘ کہتے ہوئے اتر گئے۔ ہم نے جلدی سے دروازہ بند کرلیا۔ پلیٹ فارم پر موجود لوگ دروازہ کھولنے کے لئے لاٹھیاں برسا رہے تھے۔ ہم اسے بند کر رہے تھے۔ جب تھوڑا سا دروازہ کھلا میں نے دیکھا کہ تیس چالیس آدمی دروازے پر تھے۔ ان کے پاس لاٹھیاں، ہاکیاں، ہنٹر اور بیلٹ تھے۔ میرے ساتھ چار پانچ افراد تھے۔ وہ دروازہ چھوڑ کر ٹٹی میں گھس گئے۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور ہجوم نے مجھے ڈبے سے باہر پلیٹ فارم پر گھسیٹ لیا۔ میں اوندھے منہ گر پڑا۔ لیکن اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔ کمر پر ہاکیاں، ڈنڈے لگے۔ چونکہ میرا چہرہ زمین کی طرف تھا اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ کون سے ہتھیار استعمال کئے گئے۔ میرے سر پر چوٹ لگی جو ایک ہتھوڑے سے لگ سکتی تھی۔ میرا خون بہہ رہا تھا۔ میرے کپڑے سرخ ہو گئے۔ اس پر ایک نے کہا۔ وہ ’’پہنچ‘‘ گیا ہے۔ اسے اب چھوڑ دو۔
نوٹ: گواہ اپنے ساتھ اپنی خون آلود شرٹ لایا اور دکھائی۔
ہجوم نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں بیہوش ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں سیکنڈ کلاس والی طلباء کی بوگی میں برتھ پر لیٹا تھا۔ اس وقت گاڑی ابھی ربوہ اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ اس وقت میرے سر پر پٹیاں بندھی جاچکی تھیں۔ تب آخر کار گاڑی ربوہ اسٹیشن پر چلی اور ہم لائل پور پہنچے۔ لائل پور اسٹیشن پر ہمیں اسٹریچروں پر نیچے اتارا گیا اور اسٹیشن پر میڈیکل ایڈ دی گئی۔ مجھے گلوکوز کی بوتل لگائی گئی۔ لائل پور پھر وہاں سے ہمیں اے سی میں بٹھا دیا گیا اور ہم ملتان پہنچ گئے۔ ملتان میں مجھے اسٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ مجھے فوراً آپریشن تھیٹر پہنچایا۔ وہاں میرے سر پر جو زخم تھے، ان کو ٹانکے لگائے گئے۔ میں ہسپتال میں داخل رہا۔ حتیٰ کہ ۱۱؍جون کو مجھے ڈسچارج کر دیا گیا۔
میاں شیر عالم صاحب ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں
جب مجھے ربوہ میں پیٹا جا رہا تھا کسی نے مجھے چھڑانے کی کوشش نہ کی۔ ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر نے کوئی کوشش نہ کی۔ حملہ آوروں کا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گروپ جو سیکنڈ کلاس کے ڈبے کے سامنے تھا، میری عمر سے لے کر بڑی عمر کے بھی تھے۔ میں نے یہ نوٹ نہ کیا کہ اس گروپ کی کون قیادت کر رہا تھا یا نہیں۔ میں اسٹیشن ماسٹر کو نہیں جانتا تھا۔ نہ ہی میں نے اسے وہاں دیکھا۔
مسٹر ایم ۔اے رحمان صاحب کی جرح کے جواب میں
میں قانون شکنی کا قائل نہیں۔ قانون کا پابند طالب علم ہوں۔ میں دوسرے لوگوں کے ان کے عقیدے کے بارے میں جذبات کو مشتعل کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں کسی خاص آدمی کا نام نہیں بتا سکتا جس نے مجھے ربوہ میں جنت کی موجودگی کے بارے میں بتایا۔ لیکن جب کبھی مرزائیوں کی بات میں نے کسی سے سنی تو وہاں جنت کی بات ضرور ہوتی تھی۔ میں بچپن سے مولویوں اور عالموں کی تقریروں میں ربوہ میں جنت کا ذکر سنتا آیا ہوں۔ مجھے یقین آ گیا تھا کہ ربوہ میں جنت ہے۔ سولہ سترہ سال کی عمر میں مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ربوہ میں جنت ہے۔ اب میری عمر ساڑھے اٹھارہ سال ہے۔
۱۹/جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مؤرخہ ۲۰/جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے مزید تین طالب علم گواہوں محمد فاروق، رفعت حیات باجوہ اور محمد امین کے بیانات قلمبند کئے۔ تینوں طلباء کا تعلق نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ہے اور وقوعہ کے روز وہ بھی تفریحی دورہ پر جانے اور آنے والے طلباء میں شامل تھے۔ گواہوں نے بتایا کہ ربوہ میں واپسی پر ان پر کیا جانے والا حملہ اتنا اچانک تھا کہ طلباء کو کچھ سمجھ نہ آیا اور خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگنے اور چھپنے لگے۔ اس دوران جو طلباء حملہ آوروں کے ہاتھ لگے، انہیں خوب تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب کہ کچھ طلباء نے ایک چھوٹے سے کمپارٹمنٹ میں گھس کر جان بچائی۔
گواہ نمبر ۲۲...... محمد فاروق، طالب علم نشتر میڈیکل کالج
میں قادیانی نہیں ہوں۔ نشتر میڈیکل کالج کا طالب علم ہوں۔ میں بھی سوات کے تفریحی دورہ پر گیا تھا۔ ربوہ اسٹیشن پر جب گاڑی ۲۲/مئی کو رکی تو کچھ طلباء بھی اترے۔ وہاں ان میں قادیانیوں کا لٹریچر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لڑکوں نے نعرے لگائے۔ اس پر وہاں کے لوگوں نے ہماری بوگی پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جس پر ہم نے کھڑکیوں کے شیشے بند کر دیئے۔ گاڑی اس وقت چل دی۔ جب ۲۹/مئی کو واپسی آئے تو سرگودھا اسٹیشن پر کچھ لوگ ہماری بوگی میں بیٹھے۔ میں سیکنڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں بیٹھا تھا۔ میرے ساتھ تقریباً دس طالب علم اور بھی تھے۔ جب گاڑی ربوہ پہنچی تو میں نے دیکھا کہ ربوہ میں پلیٹ فارم اور دوسری سائیڈ پر لوگوں کا بے پناہ ہجوم ہے۔ اندازاً تین چار ہزار کا مجمع ہوگا۔ ہماری بوگی تقریباً درمیان میں تھی۔ ان پانچوں آدمیوں نے جو سرگودھا سے چڑھے تھے دوسرے لوگوں کو وہاں بلانا شروع کر دیا۔ اس پر ہمیں خطرہ کا اندازہ ہوا۔ ہم نے دروازے بند کر دیئے۔ اس پر حملہ آور گروہ ہمارے کمپارٹمنٹ کی طرف آ گیا اور زبردستی دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ ایک شٹر خراب تھا۔ چنانچہ اس سے حملہ آور اندر آ گئے اور انہوں نے ڈنڈوں سے سب لڑکوں کو مارنا شروع کر دیا۔ مجھے تقریباً دس پندرہ آدمیوں نے پکڑ لیا اور مارنا شروع کر دیا۔ کچھ طلباء غسل خانے میں گھس گئے۔ مجھے ڈنڈوں، چین، ہنٹر اور مکوں سے مارا گیا۔ مجھے سر پر زخم آئے۔ پھر مارنے والے چلے گئے۔ میں تھرڈ کے ایک ڈبہ میں چھپ گیا تا کہ کہیں مجھے وہ پھر نہ مارنا شروع کر دیں۔ گاڑی چلنے سے قبل وہاں جو نعرے لگائے جا رہے تھے ان میں احمدیت زندہ باد، ختم نبوت مردہ باد، نشتر کے مسلے مردہ باد،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب گاڑی چلی تو تھوڑی دیر بعد پھر کھڑی ہو گئی۔ لیکن اس کے کچھ دیر بعد پھر چل پڑی اور دریا کے پل کے قریب رکی جو ربوہ سے تھوڑی دور ہے۔ مجھے کوئی فرسٹ ایڈ نہیں ملی۔ وہاں میری مدد کے لئے نہ تو کوئی پولیس والا آیا اور نہ ہی کوئی ریلوے والا آیا۔ چنیوٹ میں یہ دیکھنے کے لئے اترا کہ آیا کوئی طالب علم بچا بھی ہے یا نہیں؟ وہاں میں نے بہت سے اپنے طلباء کو دیکھا جو ساتھیوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ مجھے طلباء کی بوگی کی طرف لے گئے۔ چنیوٹ میں میرے زخموں پر لڑکوں نے دوائی لگائی۔ پھر گاڑی لائل پور پہنچی تو وہاں پر ڈاکٹروں نے ہمیں فرسٹ ایڈ دی۔ لائل پور سے ہمیں ایئر کنڈیشنڈ کوچ میں ملتان لے جایا گیا اور پھر نشتر ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ مجھے ۶؍ جون کو ڈسچارج کیا گیا۔ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد میں نے پڑھا کہ ٹربیونل قائم کر دیا گیا ہے۔ میں پانچ چھ روز بعد لاہور آیا اور اپنی گواہی کا پتہ کر کے واپس گھر رینالہ خورد چلا گیا۔ وہاں سے آج صبح لاہور آیا ہوں۔ مجھے ارباب عالم صدر سٹوڈنٹس یونین نے یہاں آنے کے لئے تار بھیجی تھی۔ اس سے قبل پولیس میرے پاس تفتیش کے لئے بھی بیان لینے کے لئے نہیں آئی۔
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں
جب بوگی کے اندر مجھے مارا گیا تو اندازاً دس پندرہ آدمیوں نے مارا ہوگا۔ لیکن جب پلیٹ فارم پر مارا گیا تو زیادہ لوگوں نے مجھے مارا۔ مجھے ہنٹر پشت پر لگے۔ جس سے جسم پر نشان پڑ گئے۔ لیکن ڈاکٹروں نے اسے نوٹ نہیں کیا۔ میں نے اپنے نشانات ڈاکٹر محمد زبیر چوہدری میڈیکل آفیسر نشتر ہسپتال کو دکھائے تھے۔ جب میں تھرڈ کلاس بوگی میں داخل ہوا تو مارنے والے مجھے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے خود ہی کہا تھا کہ اب اسے زیادہ نہ ماریں۔
گواہ نمبر ۲۳...... رفعت حیات باجوہ طالب علم
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں اس تفریحی دورے میں شریک تھا جو ۲۲؍ مئی کو ملتان سے شروع ہوا تھا۔ ۲۲؍ مئی کو چناب ایکسپریس میں ہم روانہ ہوئے۔ جب ہم ربوہ پہنچے تو گاڑی کھڑے ہونے کے تین منٹ بعد شور کی آواز سنی۔ میں نے گیٹ سے دیکھا کہ کچھ لوگ نعرے لگا رہے ہیں اور ہماری یونین کے صدر ارباب عالم طلباء کو پیچھے دھکیل رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ چلو اپنی بوگی میں سوار ہو جاؤ۔ لڑکے جو نعرے لگا رہے تھے وہ یہ تھے۔ احمدیت مردہ باد، ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد۔ اس اثناء میں گاڑی چل پڑی۔ لڑکے بوگی میں سوار ہو گئے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ گاڑی میں پتھر آنا شروع ہو گئے۔ اس وقت ایک لڑکا زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔ واپسی پر مجھے بخار تھا۔ اس لئے اوپر کی برتھ پر لیٹ گیا۔ جب گاڑی سرگودھا آئی تو میں سویا ہوا تھا۔ میں ربوہ میں جاگا تو گاڑی رکی ہوئی تھی۔ کھٹ پٹ کی آوازیں سنیں۔ لڑکوں نے مجھے بتایا کہ گاڑی ربوہ اسٹیشن پر کھڑی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لڑکوں کو میں نے سائیڈ والے کمرے میں بھاگتے دیکھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہو گیا ہے۔ اس پر لڑکوں نے مجھے بتایا کہ مرزائی اندر آ گئے ہیں۔ اتنی دیر میں، میں نے دیکھا کہ پندرہ سے تیس سال کی عمر کے لوگ اندر آنا شروع ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے، ہاکیاں اور سائیکل کے چین تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ارباب عالم کے پاس کھڑے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔ ان میں سے تین چار لڑکے میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ مجھے بخار تھا۔ میں سویا ہوا تھا۔ اس لئے مجھے علم نہیں۔ ایک نے اوپر ہو کر پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے پھر کہا مجھے بخار ہے مجھے کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بخار ہے تو ہمیں کیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ مجھے ہتھوڑیاں ماری گئی اور سائیکل چین بھی لگے۔ اس پر میں وہاں سے بھاگ کر ساتھ والے ڈبہ میں گھس گیا۔ جب میں دوسرے ڈبہ میں جا رہا تھا میں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس سے میں نے دیکھا تو ارباب صاحب گر رہے تھے اور اردگرد مٹی کی کسی شئے کے ٹکڑے بکھر رہے تھے۔ غالباً مٹی کے مگ کے ٹکڑے تھے۔ اندر گھس کر ہم نے دروازہ بند کر دیا۔ حملہ آوروں نے دروازہ کھولنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن ہم نے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ دس منٹ تک یہی صورتحال رہی اور پھر دباؤ ہٹ گیا۔ اس کے بعد دروازہ پر دستک ہوئی۔ ہم نے دروازہ کے سوراخ سے دیکھا تو باہر پولیس کا ایک کانسٹیبل کھڑا تھا۔ ہم نے دروازہ کھول دیا۔ پولیس والا اندر آ گیا۔ ہم باہر دوسرے کمپارٹمنٹ میں آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں طالب علم امین ایک برتھ پر پڑا ہے اور دوسری برتھ پر ارباب عالم پڑے تھے۔ ان کے چہرے خون سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے دونوں سے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ میں اس کے بعد اوپر کی برتھ پر چڑھ کر سو گیا۔ کیونکہ میری حالت بیماری کی وجہ سے خراب تھی۔ اس کے بعد ریلوے کے آدمی آئے جنہوں نے وردی پہنی ہوئی تھی۔ وہ وہاں پوچھنے آئے کہ کتنے یہاں زخمی ہیں؟ اس کے کچھ دیر بعد گاڑی چل دی۔ جب ہم لائل پور پہنچے تو میرے ایک دوست کلاس فیلو حسن امام کے والد وہاں آئے ہوئے تھے۔ وہ ریلوے کے ملازم ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ کا لڑکا حسن امام ٹھیک ہے۔ ہمارے صدر ارباب عالم کو بہت زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔ وہ بھاگے گئے اور سٹریچر پر ڈال کر ارباب کو باہر لے آئے۔ وہاں میرے بھی دوست ملنے آئے ہوئے تھے۔ انہیں میں نے واقعہ بتایا۔ ارباب عالم کو فرسٹ ایڈ دی گئی۔ لیکن مجھے فرسٹ ایڈ نہیں دی گئی۔ جب ارباب عالم نے کہا کہ وہ لائل پور ہسپتال میں داخل نہیں ہوں گے تو میں بھی ان کے ساتھ ملتان آ گیا۔ میں بھی دوسرے زخمیوں کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ مجھے دو تین روز بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں
جب میں اٹھا تو میں نے دیکھا کہ میری بوگی میں پندرہ بیس آدمی داخل ہو چکے تھے اور دوسرے آ رہے ہیں۔ میں تو سب سے پہلے ہی مار کھا کر دوسرے کمپارٹمنٹ میں بھاگ گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ پندرہ بیس حملہ آور کیا کرتے رہے۔ جب میں دوسرے کمپارٹمنٹ میں گیا اور اپنے ایک اور ساتھی آفتاب کو بھی اندر کھینچا تو ایک آدمی کا ہاتھ دروازہ میں آ گیا تھا۔ لیکن اسے کھینچ لیا گیا تھا۔ سات آٹھ آدمی دروازہ کو بند کرنے میں مصروف تھے۔ باہر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
س...... لائل پور میں گاڑی کتنی دیر کھڑی رہی؟
ج...... ایک گھنٹہ سے زائد عرصہ۔ مجھے جو چوٹیں لگیں تھیں وہ چونکہ زیادہ شدید نہیں تھیں۔ اس لئے لائل پور میں میں نے فرسٹ ایڈ کرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ ویسے بھی مجھے زیادہ درد نہیں ہو رہا تھا۔ کیونکہ چوٹیں زیادہ نہ تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ اگر میں بھاگ کر جان نہ بچاتا تو مجھے زیادہ زخم آتے۔ وہاں پر ہمارے لڑکے بھاگ رہے تھے اور کمرے میں شور تھا۔
(روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۷۴ء)
گواہ نمبر ۲۴...... محمد امین، طالب علم نشتر میڈیکل کالج
ان کا اصل بیان انگلش میں تھا۔ بعض اخبارات میں جو جرح یا ترجمہ شائع ہوا وہ یہ ہے۔
(امروز کے رپورٹر سے) لاہور: مؤرخہ ۲۱؍جون۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی پر مشتمل ٹربیونل نے ربوہ کیس کی تحقیقات کے دوران کل ۲۰؍جون کو دوسرا اجلاس شروع ہوتے ہی چوبیسویں گواہ نشتر میڈیکل کالج کے سال چہارم کے طالب علم محمد امین کا بیان قلمبند کیا اور ان پر متعدد وکلاء نے جرح کی۔ محمد امین نے ٹربیونل کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں ۲۲؍مئی کو طلباء کی جماعت کے ہمراہ چناب ایکسپریس سے سفر پر گیا تھا۔ جب گاڑی ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو میں اور ہمارے ساتھ کے پچیس تیس طلباء گاڑی سے اترے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس اثناء میں ایک درمیانی عمر کا شخص پلیٹ فارم پر آیا۔ جس نے اخبار الفضل کی کاپیاں لڑکوں میں تقسیم کرنی شروع کر دیں۔ گواہ نے کہا کہ میں بھی پلیٹ فارم پر کھڑا تھا ایک کاپی مجھے بھی دی گئی۔ اس شخص نے تقریباً تین چار لڑکوں میں الفضل کی کاپیاں تقسیم کی تھیں۔ ہم نے دیکھتے ہی یہ اخبار پھاڑ دیا اور نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ گواہ سے پوچھا گیا کہ کاپیاں پھاڑ کر نعرے لگانے کی کیا وجہ تھی؟ گواہ نے کہا کہ وہ شخص احمدیت کے مؤقف کی تبلیغ کر رہا تھا۔ اس لئے ہم نے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ گواہ نے بتایا کہ یہ نعرے لگائے جا رہے تھے۔ اسلام زندہ باد، نعرۂ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد اور گواہ نے کہا کہ دس بارہ افراد جو پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ وہ بھی ہمارے قریب آگئے۔ ہماری سٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم خان بھی اپنی بوگی سے باہر نکل آئے اور ہم سے پوچھا کیا بات ہے؟ ہم نے انہیں بتایا کہ ایک شخص ہم کو الفضل اخبار کی کاپیاں تقسیم کر رہا تھا۔ اس لئے ہم نے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ گواہ محمد امین نے کہا کہ اس شخص نے جس نے ہم لوگوں کو الفضل کی کاپیاں تقسیم کی تھیں۔ پلیٹ فارم سے کچھ فاصلے پر چند افراد کو جو والی بال کھیل رہے تھے۔ اشارہ کر کے بلا لیا اور اس طرح پلیٹ فارم پر لوگوں کی تعداد بیس کے لگ بھگ ہو گئی۔ گواہ نے کہا کہ یہ تمام لوگ لڑائی کے موڈ میں تھے۔ ارباب عالم نے ان کے ایک لیڈر سے بات کی اور ہمیں اپنی اپنی سیٹوں پر جانے کے لئے کہا۔ چنانچہ ہم لوگ ٹرین میں آ کر بیٹھ گئے۔ گواہ نے کہا کہ جب ٹرین چلنے لگی تو اس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا۔ گواہ نے کہا کہ یہ پتھراؤ مرزائیوں نے شروع کیا تھا جو پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔
ارباب عالم نے لڑکوں سے کہا کہ کھڑکیاں بند کر لو۔ چنانچہ ہم نے کھڑکیاں بند کر لیں اور گاڑی چلتی رہی۔ گواہ نے سرکاری وکیل کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ واپسی کے وقت میں بیمار تھا اور بیچ والی بوگی کی برتھ پر لیٹا ہوا تھا اور جب گاڑی سرگودھا پہنچی تو اس وقت تک میں اوپر لیٹا ہوا تھا۔ سرگودھا سے ربوہ تک کے دوران کسی قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ گواہ نے مزید بتایا کہ ربوہ پہنچتے ہی ایسی آوازیں آنی شروع ہوگئیں۔ جیسے کوئی چیز کھڑکیوں اور دروازوں پر پھینکی جارہی ہے۔ میں نے ایک لڑکے کی آواز سنی کہ وہ آگئے۔ گواہ نے سرکاری وکیل کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ربوہ کے اسٹیشن پر یہی اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ مرزائی ہوں گے۔ میں اپنی برتھ سے نیچے اترا دیکھا کہ چند لڑکے چھوٹے کمپارٹمنٹ میں جاچکے تھے۔ اتنے میں پندرہ بیس لڑکے باہر سے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے جو ہاکیوں، ڈنڈوں، ہنٹر، آئرن پائپ، ہتھوڑوں، سائیکل کی چین سے مسلح تھے۔ ان میں سے کچھ لڑکوں نے ارباب عالم کو گھیرے میں لیا اور کچھ لڑکوں نے مجھے گھیرا۔ میں نے ان لڑکوں کو ارباب عالم سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ تمہارا انچارج کون ہے؟ اس اثناء میں کوئی چیز ٹوٹنے کی آواز آئی اور یہ لوگ مجھ پر برس پڑے۔ ایک شخص نے میرے سر پر ہتھوڑی دے ماری اور میرے سر میں سے خون جاری ہو گیا۔ ایک شخص نے میرے منہ پر آہنی مُکا مارا۔ یہ مکا میرے اوپر والے ہونٹ پر لگا۔ مگر میرے ہونٹ میں سے خون نہیں نکلا۔ بعد ازاں یہ لوگ مجھے مارتے ہوئے کمپارٹمنٹ سے باہر یارڈ کی طرف لے آئے اور وہاں پڑے ہوئے پتھروں پر مجھے دھکا دے دیا۔ ایک معمر شخص نے ان سے کہا کہ اب اسے چھوڑ دو کافی زخمی ہو چکا ہے۔ اس کے کہنے پر لوگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں اٹھ کر بوگی میں آ گیا۔ میں نے دیکھا کہ یارڈ کی طرف لڑکوں کا سامان پڑا ہوا تھا اور چند افراد اسے اٹھا رہے تھے۔ میں نے بوگی میں جا کر دیکھا تو ارباب عالم بھی پڑے ہوئے تھے۔ آٹھ دس افراد وہاں موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ دو خدام کمپارٹمنٹ میں ہی رہیں اور باقی چلے جائیں۔ چنانچہ دو خدام وہاں کھڑے رہے اور باقی چلے گئے۔ میں برتھ کے نیچے والی بڑی سیٹ پر لیٹ گیا۔ جب میں لیٹا ہوا تھا تو میں نے نعروں کی آوازیں سنیں۔ پلیٹ فارم پر لوگ زیادہ اور یارڈ کی طرف کم تھے۔ گواہ نے بتایا کہ میں نے نعروں کی آواز سنی۔ احمدیت زندہ باد، مرزا غلام احمد کی جے، محمدیت مردہ باد، نشتر کے کتے ہائے ہائے۔ گواہ نے بتایا کہ جو خدام کمپارٹمنٹ میں کھڑے کئے گئے تھے۔ وہ بھی چند منٹ بعد واپس چلے گئے۔ کچھ دیر بعد لڑکوں نے بتایا کہ مرزائی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جا چکے ہیں۔ گواہ محمد امین نے کہا کہ گارڈ اور ریلوے کا ایک سپاہی ڈبے میں آیا اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ بعد ازاں زخمی طلباء کو بڑے ڈبے میں لایا گیا۔ ان لڑکوں کو ہمارے دوسرے ساتھی لڑکے لے کر آئے تھے۔ کچھ دیر بعد گاڑی چل پڑی۔ چند منٹ گاڑی چناب کے پل پر رکی پھر چنیوٹ پہنچی۔ گواہ نے کہا کہ لائل پور پہنچ کر ہمیں اسٹریچر پر ڈال کر ایک کمرے میں لا کر طبی امداد دی گئی۔ اس موقع پر گواہ محمد امین نے اپنے کپڑے جن میں ایک شلوار اور قمیص شامل تھی۔ ٹربیونل کو دکھائے اور کہا کہ یہ کپڑے میں نے وقوعہ کے روز پہنے ہوئے تھے۔ ان کپڑوں پر جگہ جگہ خون کے دھبے پڑے تھے۔
گواہ نے بتایا کہ بعد ازاں ہمیں ائیر کنڈیشنڈ کوچ میں منتقل کر دیا گیا اور ملتان پہنچ کر ہمیں ایک ایمبولینس کے ذریعے نشتر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ جہاں میرے پھٹے ہوئے سر پر ٹانکے لگائے گئے اور گلوکوز دی گئی۔ گواہ نے بتایا کہ میں ۱۱؍ جون کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا تھا۔ گواہ نے عدالت کو بتایا کہ مجھے آج ارباب عالم نے بتایا کہ کورٹ جانا ہے۔ اس موقع پر گواہ کی کچھ حالت خراب ہوئی اور سماعت چند منٹ تک رکی رہی۔ کچھ دیر بعد گواہ نے عدالت کو بتایا کہ اسے ملیریا ہو رہا ہے۔ مسٹر اعجاز حسین بٹالوی نے عدالت سے کہا کہ گواہ کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ اس پر جرح کی جائے۔ اسے پھر کسی وقت جرح کے لئے طلب کر لیا جائے۔
گواہ نے کہا کہ وہ جرح کے لئے تیار ہے۔ مسٹر اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے دوران گواہ نے کہا کہ جو لوگ ربوہ اسٹیشن پر اشارہ کر کے بلائے گئے تھے۔ وہ لوگ اسٹیشن کے ساتھ ہی ایک جگہ پر والی بال کھیل رہے تھے۔ گواہ نے کہا کہ جب سے ٹربیونل کی تحقیقات اخبارات میں شائع ہونی شروع ہوئی ہے۔ میں اس کی سرخیاں پڑھ لیتا ہوں۔ مگر پوری تفصیل نہیں پڑھتا۔ گواہ نے مزید بتایا کہ تفصیل اس لئے پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ سارا واقعہ ہمارے سامنے پیش آیا تھا۔ گواہ نے جرح کے دوران مزید بتایا کہ غالباً اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر ربوہ کا بیان حقائق پر مبنی نہیں تھا۔ گواہ نے کہا کہ جب ہم زخمی ہو کر ملتان پہنچے تھے تو دیگر گواہوں نے ہمیں سرسری طور پر بتایا تھا کہ ان پر کیا گزری۔ جرح کے دوران گواہ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ میں ۲۲؍ مئی کو الفضل دیکھ کر اس شخص کو واپس کر سکتا تھا۔ جس نے مجھے دیا تھا۔ مگر اس وقت میں جذباتی ہو گیا تھا۔ اس لئے پھاڑ دیا۔
(روزنامہ امروز، مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۷۴ء)
۲۰؍ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مورخہ ۲۰؍ جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل نے اب تک ۲۵ گواہوں کے بیانات قلمبند کر لئے ہیں۔ آج نشتر میڈیکل کالج کے سال اوّل کے طالب علم محمد حسن محمود کا بیان قلمبند کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ربوہ میں جب حملہ آوروں نے طلباء پر حملہ کر دیا تو مجھے بھی مارا گیا اور جب شدت درد سے بلبلا کر میں نے پانی مانگا تو حملہ آوروں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے منہ میں پیشاب کر دو۔ آج فاضل ٹربیونل کو مزید گواہوں کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے کارروائی جلد ملتوی کرنا پڑی۔ پیر کو مزید دو طالب علموں خالد عزیز اور ابراہیم کے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ لائل پور میں ریلوے کے ان ڈاکٹروں کا بیان بھی قلمبند ہوگا۔ جنہوں نے وقوعہ کے روز لائل پور میں طلباء کی مرہم پٹی کی تھی۔
گواہ نمبر ۲۵...... محمد حسن محمود، طالب علم نشتر میڈیکل کالج
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں بھی تفریحی دورہ میں دیگر طلباء کے ساتھ تھا۔ جاتے ہوئے ربوہ اسٹیشن پر الفضل کا پرچہ تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو لڑکوں نے پرچہ پھاڑ ڈالا اور نعرے لگائے۔ واپسی پر ربوہ میں بے پناہ حملہ آوروں نے لڑکوں کی بوگی پر حملہ کر دیا۔ میں سیکنڈ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کلاس میں تھا۔ لہٰذا وہاں بھی حملہ ہوا اور مجھے بھی مارا گیا۔ میں زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد حملہ آور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور میں تھرڈ کلاس کی ایک بوگی میں چلا گیا اور ایک سیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ حملہ آور جب میرا پتہ کرنے آئے تو مسافروں نے نہ بتایا۔ مجھے مسافروں نے اے پی سی کی گولیاں دیں اور پانی پلایا۔ ایک قمیص میرے سر پر باندھ دی گئی۔ لائل پور میں ہمیں طبی امداد دی گئی اور پھر ہم ملتان پہنچ گئے۔
جرح: مسٹر جعفری
س ...... مار پیٹ کتنی دیر جاری رہی؟ ج ...... تقریباً دس منٹ لگے ہوں گے۔ میں اس وقت سیٹ کے نیچے چھپا رہا۔ جب نعرے لگ رہے تھے تو میں دوسرے لڑکوں کو مار کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
بعد از دوپہر اجلاس
اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں
گواہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گاڑی رک گئی۔ میں نے کھڑکی میں سے پلیٹ فارم پر ایک ہجوم دیکھا جن کے ہاتھوں میں ہاکیاں، ڈنڈے، چمڑے کی پیٹیاں، ہنٹر اور سائیکل کی چین تھی۔ میرے ساتھیوں نے خطرہ محسوس کیا اور اپنی کھڑکیوں کے جو پلیٹ فارم کی طرف تھیں۔ شٹر گرائے، پلیٹ فارم کی طرف ہجوم دروازے کو دھکے دے رہا تھا اور ہم اندر سے زور لگا رہے تھے کہ دروازہ نہ کھل سکے۔ اسی اثناء میں ایک لڑکا کھڑکی کی طرف سے ڈبے میں داخل ہو گیا۔ جس کے پاس ایک ڈنڈا تھا۔ اس نے ہمارے ایک ساتھی نثار احمد کو بلاوجہ مارنا شروع کر دیا۔ لڑکے خوف زدہ ہو گئے۔ ہم صرف چار پانچ لڑکے کمپارٹمنٹ میں رہ گئے۔ ہم لوگ دروازے پر کنٹرول قائم نہیں رکھ سکے اور باہر والے ہجوم نے دھکے دے کر دروازہ کھول دیا۔
گواہ نے عدالت کے سوال کے ایک جواب میں بتایا کہ کمپارٹمنٹ میں میرے علاوہ دو اور لڑکے جن کے نام نعیم احمد اور مرسلین تھے، رہ گئے۔ گواہ نے کہا جو افراد باہر سے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے پاس چمڑے کی پیٹیاں اور ہنٹر تھے۔ گواہ نے کہا کہ اسی اثناء میں ایک شخص جو خاکی قمیص میں تھا اور جس کی چھوٹی سی داڑھی تھی۔ ہمارے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔ اس شخص کے پاس ایک چاقو تھا اور مارنے کے لئے اٹھا رکھا تھا۔ اس شخص کو کسی نے کہا کہ انہیں جان سے نہ مار دینا۔ صرف پٹائی کر دو۔ گواہ نے کہا کہ چاقو خنجر نما تھا جو بند نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ دروازے پر کھڑا ہو گیا اور کمپارٹمنٹ میں آنے والے لوگوں نے ہمیں زد و کوب کرنا شروع کر دیا۔ چاقو والے شخص نے ہمیں چاقو نہیں مارا بلکہ ایک مُکا میرے منہ پر مارا جو آنکھ کے قریب لگا اور میرا خون جاری ہو گیا۔ بعد ازاں یہ لوگ ہمیں پلیٹ فارم پر لے آئے اور تقریباً پندرہ افراد نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ جن لوگوں نے مجھے گھیرے میں لیا تھا، ان کے پاس ہاکیاں، ڈنڈے، پیٹیاں اور سائیکل کی چین تھی۔ انہوں نے ایک ہاکی اور چمڑے کی پیٹی میرے سر پر دے ماری۔ میں نے اپنا سر بچانے کے لئے ہاتھ سر پر رکھ لئے تو میرے ہاتھوں میں چوٹ لگ گئی۔
محمد حسن محمود نے عدالت کو بتایا کہ ان افراد نے مجھ سے کہا کہ توبہ کر لو اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانو۔ لیکن میں خاموش رہا اور کچھ دیر بعد زمین پر گر پڑا۔ چکر آ گئے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ مجھے صرف لوگوں کی آوازیں آ رہی تھی۔ گواہ نے کہا کہ میں نے پانی مانگا تو مجھے آواز آئی کہ اس کے منہ میں پیشاب کر دو۔ یہ لوگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ میں بیہوش ہو گیا ہوں۔ گواہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا کہ کچھ دیر بعد اٹھ کر میں ایک تھرڈ کلاس کے ڈبے میں چلا گیا جو پیچھے کی طرف لگا ہوا تھا۔ میں ڈبے میں جا کر سیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ اس دوران مجھے آواز آئی کہ اس ڈبے میں کوئی طالب علم تو نہیں آیا تو مسافروں نے کہا کہ یہاں کوئی طالب علم نہیں آیا۔ کچھ دیر بعد میں نے مسافروں سے پانی مانگا۔ میں نے کہا کہ میرے سخت درد ہو رہا ہے تو ایک مسافر لڑکے نے مجھے اے۔ پی سی کی گولی دی۔ اس وقت تک مسافروں کے اس ڈبے کی کھڑکیوں کے شٹر نیچے گرے ہوئے تھے۔ میں سیٹ کے نیچے سے نکل کر فرش پر ہی بیٹھ گیا۔
گواہ نے کہا کہ جس شخص نے مجھے درد کے لئے گولی دی تھی۔ اس نے میری پھٹی ہوئی قمیص میرے سر پر باندھ دی۔ مسافروں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا تو اس لڑکے نے جس نے میرے سر پر قمیص باندھی تھی۔ مجھ سے کہا کہ تم نہ بولو۔ کیونکہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں فرش پر ہی بیٹھا رہا اور جب گاڑی چناب کے پل پر پہنچی تو مسافروں نے مجھے بیٹھنے کو جگہ دے دی۔ جب گاڑی چنیوٹ پہنچی تو میں واپس اپنی بوگی میں آگیا۔ گواہ نے کہا کہ جب گاڑی لائل پور کے اسٹیشن پر پہنچی تو وہاں لوگوں کا رش تھا۔ زخمیوں کو اسٹریچر پر لٹا کر فرسٹ ایڈ کے لئے لے جایا گیا۔ فرسٹ ایڈ کے بعد ہمیں ایئر کنڈیشنڈ کوچ میں منتقل کر دیا گیا۔ گواہ نے کہا کہ میں اوپر کی برتھ پر لیٹ گیا۔ جب ہم ملتان پہنچے تو ہمیں ایک ایمبولینس کے ذریعے طبی امداد دینے کی غرض سے نشتر ہسپتال لایا گیا۔ میرے سر پر دو ٹانکے لگائے گئے اور بعد ازاں ہمیں ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ گواہ نے کہا کہ میں ۱۰ / جون کو ہسپتال سے فارغ ہو کر لاہور آگیا اور سیدھا اپنے گھر گیا۔ گواہ نے کہا کہ میں آج پہلی مرتبہ عدالت میں آیا ہوں۔
گواہ نے کہا گزشتہ روز میری غیر موجودگی میں ایک لڑکا میرے گھر آیا۔ جس نے میرے والد سے کہا کہ مجھے یہ پیغام دے دیا جائے کہ مجھے آج ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے۔ گواہ نے عدالت کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرا سامان میرے ساتھیوں نے سنبھال لیا تھا۔ گواہ محمد حسن محمود نے ایف. ای جعفری ایڈووکیٹ کی جرح پر کہا کہ جس وقت میں تھرڈ کلاس کے ڈبے میں چھپا ہوا تھا اس وقت یہ نعرے سنے تھے۔ نشتر کے کتے ہائے ہائے، غلام احمد کی جے۔ یہ نعرے بار بار لگ رہے تھے۔ گواہ نے بتایا کہ پٹائی میں تقریباً دس منٹ لگے ہوں گے۔ میں نے اپنے کسی اور ساتھی کو پٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیونکہ اس وقت میں گھیرے میں تھا اور مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
گواہ نے جرح کے دوران کہا کہ میری پشت پر ہاکیوں کے تقریباً چار نشان پڑے تھے۔ میرے منہ پر الٹے ہاتھ سے مُکا مارا گیا اور میرے سر پر لوہے کا بکل لگا تھا۔ چمڑے کا کوئی حصہ سر پر نہیں لگا۔ میرے ہاتھ پر بھی یہی لوہے کا بکل لگا۔ گواہ نے کہا میں پلیٹ فارم سے اٹھ کر تھرڈ کلاس میں گیا تھا اور یہ ڈبہ اس سیکنڈ کلاس کے ڈبے کے قریب تھا۔ جس میں میں نے پہلے سفر کیا تھا۔
(نوائے وقت مورخہ ۲۲ / جون ۱۹۷۴ء)
۲۳ / جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور: مورخہ ۲۳ / جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی نے آج تین مزید گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ ان میں ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن آفیسر ملتان محمد ایوب بھٹی، ریلوے ہسپتال لائل پور کے ڈسپنسر محمد اصغر اور نشتر میڈیکل ملتان کے طالب علم نعیم شامل ہیں۔ محمد ایوب بھٹی نے بتایا کہ نشتر میڈیکل سٹوڈنٹس نے ۹ / مئی کو انہیں اس امر کی درخواست کی تھی کہ وہ تفریحی دورہ کے لئے الگ بوگی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء نے خیبر میل کے ساتھ اضافی بوگیوں کی استدعا کی تھی۔ لیکن اس ٹرین کے ساتھ چونکہ اضافی بوگیاں لگانا ممکن نہ تھا۔ اس لئے لڑکوں سے کہا گیا کہ وہ دوسری کسی گاڑی کے ساتھ بوگی لگوائیں۔ چنانچہ پھر دوسری درخواست چناب ایکسپریس کے لئے وصول ہوئی۔ گواہ نے عدالت میں متعلقہ ریکارڈ بھی پیش کیا اور کہا کہ وہ ایسی درخواست ملنے پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بذریعہ برقی پیغام اس امر کی اطلاع ہیڈ کوارٹر آفس میں بھجوا دیتے ہیں۔ جہاں سے تمام پروگرام بنایا جاتا ہے اور اسپیشل بوگیوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ ہیڈ کوارٹر والے اگر چاہیں تو درخواست کنندگان کو براہ راست بھی بوگی کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں اطلاع دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج کی یونین کو بھی ہیڈ کوارٹر نے براہ راست اطلاع دی تھی۔
گواہ نمبر ۲۷...... محمد اصغر، ڈسپنسر ریلوے ہسپتال
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں ریلوے ہسپتال لائل پور میں بطور ڈسپنسر کام کرتا ہوں۔ ۲۹؍مئی کو جب چناب ایکسپریس کے زخمی آئے تو ڈاکٹروں کے ساتھ میں نے بھی زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ میں نے جن زخمیوں کی مرہم پٹی کی ان کی فہرست میرے پاس ہے۔ گواہ نے عدالت میں فہرست پیش کی۔ جس میں ۲۳؍افراد کے نام تھے۔ اس نے بتایا کہ زخمیوں کی مرہم پٹی کے کام میں میرا ہاتھ تحسین امجد، عبدالرزاق ڈریسر، دوست محمد نے بھی بٹایا۔ اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ نے مجھے ساری صورتحال سمجھائی۔ گواہ نے کہا کہ بہت سے طلباء زخمی تھے۔ طبی امداد کے لئے پارسل آفس میں انتظام کیا گیا۔ وہاں ڈاکٹر ولی آئے جن کا تعلق لائل پور سول ہسپتال سے ہے۔ جب ڈاکٹر ولی نے پہلے مریض کا معائنہ کیا تو طلباء نے کہا کہ یہ احمدی فرقہ سے ہیں۔ ہم ان سے علاج نہیں کرائیں گے۔ اس کے بعد ڈاکٹر معراج نے مریضوں کو دیکھا اور مجھے ہدایت کی کہ انہیں فلاں فلاں دوائی دے اور ڈاکٹر ولی کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
عاصم جعفری کی جرح کے جواب میں
س...... شدید زخمی کتنے تھے؟ ج...... تقریباً تین طالب علم شدید زخمی تھے۔ ان تینوں کو پیٹھی ڈین لگایا گیا۔ ان میں سے ایک بیہوش تھا۔ دو طلباء کو گلوکوز بھی دیا۔ بعد ازاں انہیں گاڑی میں بھیج دیا گیا۔ اس وقت انہیں گلوکوز بھی لگایا گیا۔
س...... کتنا وقت مرہم پٹی میں لگا؟ ج...... تقریباً ایک گھنٹہ۔ وہاں ریلوے اسٹیشن پر زخمیوں کو سول ہسپتال میں لے جانے کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ لائل پور کے ریلوے ہسپتال میں ایک ہی ڈاکٹر تعینات ہے۔ جن کا نام ڈاکٹر محمد افضل ہے۔ وہ وقوعہ کے روز چھٹی پر گئے تھے۔ ان کے علاوہ دوسرا کوئی ریلوے کا ڈاکٹر وہاں نہیں آیا۔
گواہ نمبر ۲۸...... نعیم احمد طالب علم نشتر میڈیکل کالج ملتان
میں نشتر میڈیکل کالج ملتان میں سال اوّل کا طالب علم ہوں۔ میں احمدی نہیں ہوں۔ میں ۲۲؍مئی کو سوات جانے والے طلباء کے تفریحی دورہ میں شامل تھا۔ جب جاتے ہوئے گاڑی ربوہ اسٹیشن پر رکی تو تھوڑی دیر بعد پلیٹ فارم پر نعرے لگنا شروع ہوگئے۔ میں نیچے اترا اور دیکھا کہ ارباب عالم لڑکوں کو منع کر رہے ہیں۔ میں نے جو نعرے سنے وہ یہ تھے۔ مرزائیت مردہ باد، ختم نبوت زندہ باد، محمدیت زندہ باد۔ جب گاڑی چلی تو ہماری بوگی پر پتھراؤ کیا گیا اور ہمارے چار طالب علم زخمی ہوگئے۔ جن میں نثار احمد ملک اور ارباب عالم شامل ہیں۔ واپسی پر جب گاڑی سرگودھا پہنچی تو اسٹیشن سے باہر میرے بھائی آئے ہوئے تھے۔ لہٰذا میں ان سے مل کر ڈبہ میں آیا۔ اس وقت گاڑی چل پڑی۔ میں پشاور سے سرگودھا تک سیکنڈ کلاس میں آیا۔ جب کہ میرا سامان طلباء کی مخصوص بوگی میں پڑا رہا۔ سرگودھا میں، میں طلباء کی بوگی میں آگیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ ربوہ پہنچنے سے قبل تین لڑکے ہمارے گیٹ میں کھڑے ہوگئے۔ ہمارے لڑکوں نے انہیں کہا کہ یہ ریزرو بوگی ہے تم یہاں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ گاڑی چل رہی ہے۔ اس لئے یہاں آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طالب علم ہیں اور چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے پل پر تفریح کے لئے جارہے ہیں۔ ان طلباء نے بتایا کہ وہ احمدی ہیں۔ ان لڑکوں میں سے ایک کا نام احمد اور دوسرے کا علیم الدین تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ طالب علم نہیں تھے بلکہ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ طالب علم ہیں اور وہ صرف ہمارا پتہ کرنے کے مشن پر تھے۔ اس کے اگلے اسٹیشن پر میں سیکنڈ کلاس کے کمپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ وہاں بھی تین نوجوان دروازہ میں کھڑے تھے۔ جب ربوہ پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دور کھڑے ہوئے چار پانچ سو افراد جن کی عمر چودہ سے سترہ سال کی تھیں۔ پلیٹ فارم کی طرف آ رہے ہیں۔ جب ٹرین رکی تو ہمارے ڈبہ پر زبردست حملہ ہو گیا۔ جس میں زیادہ عمر والے اور نوجوان لڑکے بھی شامل تھے۔ زیادہ لوگ پلیٹ فارم کی پچھلی طرف سے آئے۔ سیکنڈ کلاس کا ڈبہ پلیٹ فارم کے تقریباً سامنے تھا۔ دروازہ پر زور ہوا اور کھڑکی کے راستے ایک آدمی اندر آیا اور میرے ساتھی نثار کو مارنا شروع کر دیا۔ جس کا خون بہہ اٹھا۔ لڑکوں نے جب نثار کا خون بہتے دیکھا تو گھبرا گئے اور بعض غسل خانے میں گھس گئے۔ اتنے میں دس بارہ آدمی اندر آ گئے اور ڈبہ کے اندر ہی ہمارے ساتھیوں اور مجھے مارنا شروع کر دیا۔ مار کھانے والوں میں حسن محمود اور نثار بھی شامل تھے۔ اس کے بعد مجھے پلیٹ فارم پر کھینچا اور مارنا شروع کر دیا۔ وہاں مارنے والوں کی تعداد پندرہ سولہ تھی۔ جب میں نیچے گر گیا تو مجھے بوٹ وغیرہ مارنے لگے۔ وہاں میں نے ریلوے کا ایک ملازم دیکھا جس کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ وہ اسٹیشن ماسٹر ہے۔ میں اس سے لپٹ گیا اور اس سے کہا کہ مجھے بچالو۔ ایک آدھ منٹ تک تو میں ایسا کرنے سے بچا رہا۔ لیکن پھر شاید اس ریلوے ملازم نے اشارہ کیا۔ چنانچہ مجھے حملہ آور پھر مارنے لگے۔ اسی دوران ان میں سے کسی نے کہا کہ اس کی کافی پٹائی ہوچکی ہے۔ کسی دوسرے کو پکڑو۔ پلیٹ فارم پر میری ’’سیکو‘‘ گھڑی بھی اتار لی گئی۔ جب مجھے چھوڑ دیا تو میں پانی والے کے ڈبہ میں آگیا۔ جس نے مجھے چھپا لیا اور شٹر گرا کر خود دروازہ میں بیٹھ گیا اور جب لوگ پوچھنے آتے تو وہ انہیں بتاتا کہ اس میں کوئی نہیں ہے۔ وہاں کچھ دیر بعد پلیٹ فارم سے نعروں کی آواز آئی تو میں لیٹرین میں چھپ گیا۔ وہاں اور بھی لڑکے چھپے تھے اور سانس لینا مشکل تھا۔ وہاں سے کچھ دیر کے بعد واپس ڈبہ میں آ گیا۔ جب میں غسل خانہ میں تھا تو میں نے آواز سنی۔ جیسے کوئی مسافر کہہ رہا ہو کہ کیوں مار رہے ہو؟ اس پر اسے جواب ملا کہ ان کا یہی علاج ہے۔ ہم ملتان میں بھی ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہم اقلیت نہیں بلکہ اکثریت ہیں۔ مجھے یہ علم نہیں کہ ہمیں کیوں مارا گیا۔ کیونکہ ۲۲؍مئی کا واقعہ کوئی اتنا سنگین نہ تھا۔ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں ڈنڈے وغیرہ تھے۔ وہاں جو نعرے لگے وہ یہ تھے۔ مرزا غلام احمد کی جے۔ احمدیت کی جے، نشتر کے مسلے مردہ باد۔ چنیوٹ میں میں اپنے ڈبہ میں چلا گیا۔ لائل پور اسٹیشن پر اپنی مرہم پٹی کرائی اور طلباء کی بوگی میں ملتان پہنچے۔ جہاں ہسپتال میں داخل ہو گیا۔ جہاں سے مجھے یکم؍جون کو ڈسچارج کر دیا گیا۔ یکم؍جون کو میں سرگودھا چلا گیا۔ جہاں سے اتوار ۲۲؍جون کو پہلی مرتبہ لاہور آیا ہوں۔ کیونکہ مجھے پولیس کے ایک کانسٹیبل نے یہ اطلاع دی تھی کہ میرا بیان ۲۴؍جون کو ہائیکورٹ میں قلمبند ہونا ہے۔
۲۵؍جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
لاہور : مورخہ ۲۵؍جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل نے آج ایک اور گواہ نثار احمد کا بیان قلمبند کیا۔ ٹربیونل نے اس طرح نثار احمد سمیت کل ۲۸ گواہوں کے بیانات قلمبند کر لئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اب عینی گواہوں کی شہادت مکمل ہو گئی ہے۔ اب صرف ان افراد کے بیانات قلمبند ہوں گے جو واقعہ ربوہ پر اپنی استدعا کے مطابق روشنی ڈالنا چاہتے ہیں اور جنہوں نے اس سلسلہ میں ٹربیونل جج کو درخواست بھیجی ہیں۔ نثار احمد کے بیان سے قبل طالب علم نعیم پر جرح مکمل کی گئی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایم. ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
س ...... واپسی پر جب ربوہ اسٹیشن سے گاڑی چلی تو پلیٹ فارم پر کتنے لوگ موجود تھے؟
ج ...... گاڑی چلنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اندازاً دو ہزار کا مجمع ہوگا۔
اعجاز بٹالوی کی جرح کے جواب میں
س ...... سرگودھا میں کتنی دیر تک چناب ایکسپریس ٹھہری رہی؟
ج ...... دس سے پندرہ منٹ تک ٹھہری رہی۔
س ...... کیا سرگودھا سے کوئی ایسے آدمی بھی سوار ہوئے جن کو آپ جانتے تھے؟
ج ...... ہاں ! دو شخص ایسے تھے جن کے چہرے شناسا تھے۔ ان میں سے ایک ظہور احمد ہے اور دوسرے کی ٹی. وی شاپ ہے۔ ظہور کا وہاں ڈینٹل کلینک ہے۔
س ...... کیا آپ کو یہ شبہ نہیں ہوا کہ یہ کون ہیں اور ان کے عزائم کیا ہیں؟
ج ...... اگر مجھے ان کے عزائم کا علم ہوتا تو میں گاڑی سے اتر جاتا۔
س ...... کیا بعد میں آپ نے پولیس والوں کو ان کے نام بتائے؟
ج ...... میں نے کسی پولیس والے سے اس کا ذکر نہیں کیا۔
س ...... ان کے نام آپ نے کس سے دریافت کئے؟
ج ...... بازار سے۔
س ...... جب ان کا پتہ کیا تو کیا آپ کو پتہ چلا کہ وہ کہاں ہیں؟
ج ...... ان کی دوکانیں بند تھیں۔ میں نے بازار کے لوگوں سے ڈینٹل کلینک اور ٹی. وی کی دکان والوں کا پتہ کیا۔
س ...... ربوہ میں واپسی پر آپ کو جس آہنی مُکّا سے مارا گیا وہ آپ کو کہاں لگا؟
ج ...... سینہ میں لگے۔
س ...... اندازاً کتنے آہنی مُکّے آپ کو لگے؟
ج ...... میں نہیں بتا سکتا کہ مجھے کتنے آہنی مُکّے لگے ۔ کیونکہ میں نے ان کی گنتی نہیں کی تھی ۔ نہ ہی میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے تین چار لگے یا بیس تیس لگے۔
س ...... آپ کو ہنٹر کتنے پڑے اور جسم کے کس حصے پر پڑے؟
ج ...... مجھے ہنٹر کی ضربیں سینے اور ہاتھوں میں لگیں۔
س ...... ہنٹر کا سائز کتنا تھا؟
ج ...... ہنٹر گز یا ڈیڑھ گز کا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۵۴۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... جب آپ کو ہنٹر مارے جا رہے تھے تو طلباء کے علاوہ کتنے لوگ موجود تھے؟
ج...... مجھے پتہ نہیں کہ اس وقت طلباء کے علاوہ کتنے مسافر موجود تھے۔
س...... کیا آپ ربوہ اسٹیشن پر کھڑے رہے تھے یا آپ کو گرایا گیا؟
ج...... جب مجھے ڈبہ سے نکالا گیا تو مجھے پلیٹ فارم پر منہ کے بل گرایا گیا۔ بعد میں میں خود ہی سیدھا ہو گیا۔
س...... ربوہ کے واقعہ میں آپ کو کس ہتھیار، اسلحہ، ہاکی، ڈنڈا یا کسی اور چیز سے مارا گیا؟
ج...... شاید ڈنڈا یا ہاکی وغیرہ سے بھی مارا گیا۔ میرے سر پر ڈنڈوں، ہاکی وغیرہ کی ضربات تھیں۔ مجھے ٹھڈے بھی مارے گئے۔
س...... جب آپ ڈبے سے بھاگے تو کیسے پتہ چلا کہ سفید لباس میں اسٹیشن ماسٹر ہے؟
ج...... ربوہ اسٹیشن پر میں نے سوچا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس فرنچ کٹ داڑھی والا شخص اسٹیشن ماسٹر ہے۔
س...... کیا وقوعہ کے بعد آپ نے ٹرین میں یا ہسپتال میں طلباء سے اس موضوع پر بات چیت کی؟
ج...... میں نے دوسرے طلباء کے ساتھ ملتان جاتے ہوئے ٹرین میں وقوعہ کے بارے میں بات چیت کی۔ لیکن ہسپتال میں کوئی ایسی بات نہیں کی۔
س...... کیا آپ کو علم ہے کہ ہسپتال میں دوسرے لڑکوں نے اس موضوع پر بات کی تھی؟
ج...... مجھے علم نہیں کہ ہسپتال میں داخل دوسرے لڑکوں نے اس موضوع پر بات چیت کی۔
س...... آپ کو کب علم ہوا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن ماسٹر احمدی ہے؟
ج...... چنیوٹ، لائل پور کے دوران باہمی گفت و شنید کے دوران علم ہوا کہ وہ احمدی ہے۔
س...... اسٹیشن پر مار کھانے کے دوران آپ نے پنجابی کا کون سا فقرہ سنا۔
ج...... ”اینہاں دا ایہوئی علاج اے، اینہاں نے کی مذاق بنایا اے، اسیں اقلیت تھوڑے آں، اساں اکثریت آں، اساں اینہاں نوں ملتان جاکے وی مار سکدے آں۔“
س...... کیا آپ وقوعہ کے بعد اخبارات پڑھتے رہے ہیں؟
ج...... ہاں! میں ٹربیونل کی کارروائی اخبارات میں پڑھتا رہا ہوں۔
س...... کیا آپ نے غیر احمدیوں کا یہ مطالبہ بھی اخبار میں پڑھا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے؟
ج...... میں جانتا ہوں کہ عام مسلمانوں کی طرف سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف ایک دن داخل رہا۔ میں پوری طرح صحت یاب نہیں ہوا تھا کہ واپس روانہ ہونا پڑا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال والوں نے مجھے کہا تھا کہ تم ٹھیک نہیں ہوئے ہو۔ اس لئے ابھی نہ جاؤ۔ ہماری یونین کے صدر نے کہا تم یہیں ٹھہر جاؤ۔ تمہارے ساتھ ایک لڑکے کو تیمارداری کے لئے چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے میرے ساتھی فاروق کو اس ضمن میں میرے ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد جب گاڑی جانے لگی تو اسٹیشن سے مجھے میری یونین کے صدر نے بلا بھیجا کہ آ جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ ہی آگیا۔ میں پشاور سے سرگودھا میں پہلی مرتبہ برتھ سے اترا اور پھر اوپر برتھ پر لیٹ گیا۔ ربوہ اسٹیشن کے آنے سے ایک دو اسٹیشن پہلے میں پھر نیچے آکر بیٹھ گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... جہاں آپ کا سیکنڈ کلاس کا ڈبہ رکا کیا وہاں کوئی ہجوم تھا؟
ج...... جی ہاں! بہت بڑا ہجوم تھا۔ جب مجمع سے ایسی آوازیں سنائی دیں اور انہیں احمدی لڑکوں نے بلایا کہ ادھر آؤ لڑکے یہاں ہیں تو ہمیں خطرے کا احساس ہوا۔ چنانچہ ہم نے اپنے ڈبہ کی کھڑکیاں وغیرہ بند کردیں۔ جب حملہ آوروں نے حملہ کیا تو میری پیٹھ پر تین چار ڈنڈے مارے گئے۔ جب مجھے پلیٹ فارم پر اتارا گیا تو وہاں کچھ لوگوں نے مجھے لاتوں اور گھونسوں سے مارا۔ پلیٹ فارم کے باہر مجھے دو تین منٹ تک ہی مارا گیا۔ میں وہاں سے بچ کے ڈائننگ کار کی طرف بھاگا جو کہ میرے ڈبہ سے ایک ڈبہ ہی دور تھی۔ اس مرحلہ پر گواہ کو اس کی میڈیکل رپورٹ دکھائی گئی۔ جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ اس نے کہا کمر پر ڈنڈوں کی چوٹیں بھی اس نے ڈاکٹر کو دکھائی تھیں۔ لیکن ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ معمولی ہیں۔
گواہ نمبر ۲۹...... نثار احمد طالب علم سال سوئم نشتر میڈیکل کالج ملتان
نثار احمد نے بتایا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلباء پر حملہ آور ہونے والوں کی تعداد کئی سو تھی اور سب ہاکیوں، ڈنڈوں، آہنی مُکوں اور ہنٹروں سے مسلح تھے۔ گواہ نے بتایا کہ جب مسلح ہجوم نے حملہ کیا تو طلباء نے اپنے ڈبہ کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر لئے۔ لیکن مشتعل ہجوم دروازے توڑ کر اندر گھسنے میں کامیاب ہو گیا۔ حملہ آوروں نے طلباء کو گاڑی سے گھسیٹ گھسیٹ کر باہر نکالا اور زد و کوب کیا۔ دو افراد نے مجھے مُکوں سے مارا۔ جب کہ ایک اور شخص نے جس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، میری کمر پر ڈنڈے رسید کئے۔ گواہ نے بتایا کہ مسلح افراد جب ان کے ڈبہ میں داخل ہوئے تو طلباء اپنی جانیں بچانے کی خاطر بیت الخلاء میں گھس گئے۔ تین چار افراد نے مجھے گریبان سے پکڑ کر ڈبہ سے باہر نکالا اور پلیٹ فارم پر نیچے گرا کر ڈنڈے مارے۔ جس سے میری ناک سے خون جاری ہو گیا۔ حملہ آور جب مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میں لڑکھڑاتا ہوا گاڑی کی ڈائننگ کار میں گھس گیا اور سٹور میں جا کر چھپ گیا۔ کچھ دیر بعد وہی لوگ جنہوں نے مجھے مارا تھا ڈائننگ کار میں آئے اور پوچھا کہ یہاں کوئی لڑکا تو نہیں آیا۔ ڈائننگ کار کے بیروں نے انہیں بتایا کہ ڈائننگ کار میں کوئی لڑکا نہیں ہے۔ گواہ نثار احمد نے بتایا کہ میں ڈائننگ کار کے سٹور کی کھڑکیوں سے باہر ہجوم کو نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جن میں احمدیت زندہ باد، مرزا غلام احمد اور مرزا ناصر احمد کی جے کے نعرے بھی شامل تھے۔ گواہ نے بتایا کہ میں یہ سب کچھ ڈائننگ کار کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔ کھڑکی سے میں نے ایک لڑکے کی پٹائی ہوتے بھی دیکھی۔ لائل پور کے ریلوے اسٹیشن پر زخمی طلباء کو طبی امداد بہم پہنچائی گئی اور پھر انہیں ایئر کنڈیشنڈ کمپارٹمنٹ میں لے جایا گیا۔ ملتان پہنچ کر زخمیوں کو نشتر میڈیکل کالج ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ جہاں مجھے انجکشن لگائے گئے۔ ہسپتال سے فارغ ہو کر ۱۳؍ جون کو میں لائل پور اپنے گھر چلا گیا۔ گواہ نے بتایا کہ میں ربوہ پہنچنے سے ایک دو اسٹیشن پہلے اپنے ڈبہ کی اوپر والی برتھ سے نیچے اترا۔ یہ ڈبہ گاڑی کے درمیان میں لگا ہوا تھا۔ گواہ نے بتایا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جب لڑکوں نے بہت بڑا ہجوم دیکھا اور مختلف آوازیں سنیں تو کھڑکیاں اور دروازے بند کر لئے۔ جرح کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ ڈبہ میں مجھے تین چار افراد ڈنڈے مارنے لگے۔ پھر مجھے گریبان سے پکڑ کر کھینچ کر پلیٹ فارم پر لے جایا گیا۔ پلیٹ فارم پر پندرہ بیس افراد نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ جب کہ تین چار افراد مجھے چار پانچ منٹ تک مارتے رہے۔
گواہ نمبر ۳۰...... محمد صالح نور ولد محمد یامین (باغبان پورہ، پنجاب ویجی ٹیبل گھی مل باقرار صالح)
میں احمدی نہیں ہوں لیکن میں ایک احمدی گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ میرے والد احمدی تھے۔ میں ربوہ میں ۱۹۵۶ء میں تحریک جدید میں نائب وکیل التعلیم کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ ان دنوں مجھے اس وقت کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے کچھ ناگفتہ بہ حالات معلوم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے تھے۔ جس کا ذکر میں نے اپنے دوستوں سے کیا تھا۔ جب ان (مرزا صاحب) کو اس کا علم ہوا۔ انہوں نے ۵۰ کے قریب افراد بشمول میرے، سوشل بائیکاٹ کا حکم دیا۔ مجھے جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ مجھے ملازمت سے الگ کر دیا گیا اور ربوہ سے نکال دیا گیا۔ میرے بچوں کو روک دیا گیا۔ خلیفہ صاحب نے میرے سسر کو یہ فتویٰ دیا کہ یہ (میں) مرتد ہو گیا ہے۔ اس لئے اس کی بیوی اس کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ ہم پچاس آدمی ربوہ سے باہر آ گئے۔ میرے تمام رشتہ دار ربوہ میں ہیں۔ ان سب کو بہت تکلیفیں دی گئیں۔ ان کی زندگیاں اجیرن کر دی گئیں۔ اس کے بعد جب کبھی میں ربوہ کسی مرگ، یا دوسرے موقعہ پر جاتا تو مسلح آدمی میرا پیچھا کرتے۔ اس دوران میں ۱۹۵۶ء میں قصور میں میری چار سالہ بچی فوت ہو گئی۔ لیکن احمدیہ گروہ کے لوگوں نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ ربوہ سے نکالے جانے کے ڈیڑھ سال بعد میری بیوی اور دو بچے میرے پاس قصور آ گئے۔ میں نے اپنا مذہب ربوہ سے نکالے جانے کے بعد تبدیل کر لیا۔ اب میں احمدی نہیں ہوں۔ میں دوسرے کئی مظالم کا شکار رہا ہوں جو میرے خلاف احمدیہ گروہ نے کئے۔ میں اکیلا نہیں ہوں جسے ستایا گیا۔ ہر روز کسی نہ کسی شخص کو ایسے مظالم کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
۵۵-۱۹۵۴ء میں لائل پور کے مولوی غلام رسول جنڈیالوی کا لڑکا اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ربوہ گیا۔ انہیں اسٹیشن پر خدام الاحمدیہ اور فرقان فورس کے ارکان نے پکڑ لیا۔ انہیں خدام الاحمدیہ نے جامعہ احمدیہ کے قریب مارا اور امور عامہ کے دفتر کے صحن میں بھی سخت مارا پیٹا گیا۔ حتیٰ کہ ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ جس کے نتیجے میں مولوی غلام رسول کا لڑکا موقع پر مر گیا۔ لیکن پولیس نے اس واقعہ کو دوسرے رنگ میں درج کیا۔ جس میں ان کو پولیس مقابلہ میں زخمی ظاہر کیا گیا۔ ربوہ تھانہ لالیاں کی حدود میں واقع ہے اور اے ایس آئی ربوہ اتنی تنخواہ احمدیہ گروہ سے لیتا ہے۔ جتنی اسے گورنمنٹ سے ملتی ہے۔
۱۹۶۵ء میں میرے والد صاحب بیمار ہو گئے اور میں ربوہ ان کی خدمت اور ان کی تیمارداری کے لئے گیا۔ مرزا ناصر احمد موجودہ سربراہ احمدیہ گروہ نے پیغام بھیجا کہ چونکہ میرے والد پرانے احمدی ہیں اس لئے مرزا صاحب ان کی تیمارداری کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ صالح نور (مریض کا لڑکا) مریض کے پاس موجود نہ ہو۔ اس پر میرے والد صاحب نے جواب دیا کہ میرا بچہ میری خدمت کر رہا ہے۔ مرزا صاحب خود تکلیف نہ کریں۔
ایک دوسرے موقعہ پر میرے والد صاحب نے مرزا صاحب (ناصر احمد) سے درخواست کی کہ میری ہمشیرہ کا نکاح پڑھائیں۔ انہوں نے اس بناء پر نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا اور یہ حکم دیا کہ چونکہ صالح نور مرتد ہے۔ اس لئے جو اس کی ہمشیرہ کا نکاح پڑھائے گا اسے ربوہ سے نکال دیا جائے گا۔
۱۹۶۷ء میں میری والدہ فوت ہو گئیں۔ انہیں میری جدائی کا بہت غم تھا۔ اس غم میں وہ فوت ہو گئیں۔ انہیں اس سے قبل فضل عمر ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ انچارج ڈاکٹر منور احمد جو مرزا ناصر احمد کے بھائی ہیں، نے انہیں دیکھنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ میری ماں تھیں۔ ان کا انتقال ہسپتال میں بغیر علاج معالجہ کے ہوا۔
۱۹۵۸ء یا ۱۹۵۹ء میں، میں ربوہ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر گیا تھا۔ کیونکہ ان دنوں شادیاں وغیرہ بھی ہوتی ہیں اور ربوہ والوں کے تمام رشتہ دار وہاں ان تقریبات کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ مجھے میرے بھانجے نے بتایا کہ امور عامہ کے ملازمین کی طرف سے مجھے اغوا کر لیا جائے گا۔ وہ ایک کار میں کچھ عورتوں کے ساتھ میرا تعاقب کر رہے تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ نہ صرف مجھے ماریں گے۔ مگر میرے خلاف یہ الزام لگائیں گے کہ میں نے ان عورتوں کو چھیڑا ہے۔ پس میں نے ایک ہوٹل میں داخل ہو کر پچھلے راستے سے بھاگ کر ایک دوست کے گھر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۵۵۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں پناہ لی۔ میرے ساتھ تین اور آدمی تھے۔ پروفیسر غلام رسول، مسٹر محمد یوسف ناز، چوہدری نور نبی۔ پروفیسر غلام رسول میرے ساتھ بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر دوسرے دونوں کو پکڑ لیا گیا اور امور عامہ کے دفتر میں لے جایا گیا۔ پروفیسر غلام رسول نے اس اغواء کی تحریری رپورٹ ربوہ چوکی کے اے. ایس. آئی کو دی۔ آدھ گھنٹہ کے بعد میرے دوسرے دونوں ساتھی مسٹر ناز اور چوہدری نور نبی واپس آ گئے اور بتایا کہ عبد العزیز بھانبڑی نے اپنے امور عامہ کے کارکنوں کو جھڑکا کہ انہوں نے ہم چاروں کو کیوں نہ گرفتار کیا اور اس کے بعد ان دونوں کو چھوڑ دیا۔
۱۹۵۶ء سے اب تک ۱۹ سال ہو گئے ہیں۔ میرے سسرال والے مجھ سے نہیں مل سکتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ مجھ سے ملے تو ان کا حشر بھی وہی ہو گا جو میرا حشر ہوا۔ میں ۱۹۴۸ء میں قادیان بھارت سے پاکستان آیا۔ میں نے ۱۹۴۸ء میں احمد نگر میں رہائش اختیار کر لی۔ یہ ربوہ کے نزدیک ہے۔ جب ۱۹۴۹ء میں ربوہ قائم ہوا تو میں وہاں منتقل ہو گیا۔ ۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۶ء تک میں ربوہ میں رہا۔
صدر انجمن احمدیہ ۱۹۰۶ء میں قادیان میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کمیونٹی کو منظم کرے اور ان کی نگرانی وغیرہ کرے۔ ربوہ کے قیام کے بعد انجمن کا مرکز قادیان سے ربوہ منتقل ہو گیا۔ انجمن کے سربراہ کو صدر انجمن احمدیہ کہا جاتا ہے۔ اس کا تقرر خلیفہ کرتا ہے جو کمیونٹی کا سربراہ ہے۔ آج کل مولوی محمد دین موجودہ صدر، صدر انجمن احمدیہ ربوہ ہیں۔ صدر انجمن احمدیہ کے بہت سے شعبے ہیں۔ ان کے تحت ایک بیت المال کا محکمہ ہے جہاں رقوم آتی ہیں۔ ایک امانت کا شعبہ ہے جو احمدیوں کا بینک ہے۔ امور عامہ، تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ، بہشتی مقبرہ اور امور خارجہ بڑے بڑے شعبے ہیں۔ ایک نظارت حفاظت قادیان ہے۔ تحریک جدید اس انجمن سے الگ ہے۔ یہ غیر ملکی مشنوں سے ڈیل کرتی ہے۔ ربوہ میں نظم و نسق کی ذمہ داری امور عامہ کے ذمہ ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کے تحت دارالقضاۃ کا ایک الگ محکمہ ہے جو باہمی جھگڑوں کے فیصلے کرتا ہے۔ دیوانی نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ دارالقضاۃ میں ہوتا ہے۔ جب کہ فوجداری جھگڑوں کا تصفیہ امور عامہ کراتا ہے۔ امور عامہ کے شعبے کے سربراہ کو ناظر امور عامہ اور ان کے نائب کو نائب ناظر کہتے ہیں۔ جب میں ربوہ میں رہتا تھا ان دنوں ان دونوں نظارتوں پر فوج کے ریٹائرڈ افسران فائز تھے۔ میجر ریٹائرڈ عارف زمان ناظر تھے اور کیپٹن خادم حسین نائب ناظر تھے۔ انجمن کی طرف سے ربوہ کے ہر شہری کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع امور عامہ کے شعبے کو فوراً مہیا کریں۔ اس شعبے کی کارکردگی کی ایک مثال یہ ہے کہ ربوہ میں ایک گھر میں رقعے موصول ہوتے تھے جو عورتوں کو لکھے جاتے تھے۔ یہ شک کیا گیا کہ میں یہ رقعہ اپنے بھانجے عبد الجلیل ظفر کے ذریعے بھجواتا ہوں۔ اس شک پر اسے امور عامہ کے دفتر میں لے جایا گیا اور خوب مارا پیٹا گیا۔ بعد میں امور عامہ والوں کو یہ علم ہو گیا کہ اس معاملے میں میرا نہ میرے بھانجے کا کوئی ہاتھ ہے۔ اس زمانے میں میرے بھانجے کی عمر ۱۴، ۱۵ سال تھی۔ میں نے یہ واقعہ اس لئے بتایا کہ جسمانی تشدد کرنا ربوہ والوں کا عام اصول ہے۔
فرقان فورس جس کا میں ممبر رہا ہوں ۱۹۴۸ء میں نوشہرہ محاذ پر کشمیر میں لڑی تھی۔ میں وہاں اس محاذ پر تین ماہ تک لڑا تھا۔ ایک دو سال بعد اس کو جنرل گریسی نے ختم کر دیا تھا۔ اس پر اس فورس کو پاکستانی فوج نے جو اسلحہ دیا تھا وہ ربوہ میں ایک ریلوے ویگن میں میاں غلام محمد اختر پرسنل آفیسر ریلویز کی زیر نگرانی لایا گیا۔ اس اسلحہ کو محمود مسجد کے قریب زیر زمین دفن کر دیا گیا۔ ایک شخص ملک رفیق جو میجر رفیق کہلاتا ہے۔ اس اسلحہ بارود کا انچارج ہے۔ فرقان فورس اب موجود نہیں اب اس کے صرف تین چار آدمی باقی موجود ہیں۔ جو دوسری ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
میں ۲۹؍ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں نہیں جانتا۔ نہ ہی ۲۹؍ مئی کے واقعہ کا کوئی علم رکھتا ہوں۔ کیونکہ میں ان دنوں لاہور میں تھا۔
اسماعیل قریشی صاحب کی جرح کے جواب میں
مولوی غلام رسول جنڈیالوی کے لڑکے کو مارنے والوں میں میرے بہنوئی محمد یحییٰ خاں مرحوم بھی شامل تھے۔ شعبہ امور عامہ پولیس کے فرائض انجام دیتی ہے۔ دارالقضاء عدالتوں کی طرح ایک باقاعدہ ابتدائی عدالت ہے جس کا صدر چھوٹا قاضی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ’’عدالت اپیل‘‘ ہے۔ جس کا صدر بڑا قاضی ہوتا ہے۔ اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل ایک بورڈ کے پاس جاتی ہے اور خلیفہ وقت آخری اتھارٹی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان عدالتوں کے فیصلوں کی نافرمانی کرے تو اس کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف تعزیری کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ جس میں جماعت سے خارج کرنا شامل ہے۔ دراصل پہلا قدم سوشل بائیکاٹ ہے۔ اگر اس سے معاملہ نہ سدھرے تو اسے ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے اور آخری چارہ کار یہ ہے کہ جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ خلیفہ کے خاندان کے لوگ اس کارروائی سے مستثنیٰ ہیں۔
صدر انجمن احمدیہ کو قادیان میں ۱۹۰۶ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے قائم کیا تھا۔ تقسیم ملک کے وقت وہ انجمن وہاں موجود رہی اور ہندوستان میں اپنی تمام جائیداد حاصل کر لی۔ لیکن پاکستان میں صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے نام سے ایک اور انجمن قائم کر لی گئی اور سندھ میں واقع اصل انجمن کی تمام جائیداد قبضہ میں کر لی۔ کیونکہ ان دنوں کسٹوڈین مسٹر عبداللہ خان تھے جو احمدی ہیں اور سر ظفراللہ خان کے بھائی ہیں۔ پاکستان میں انجمن کی جائیداد جو بھارت میں رہ گئی تھی، کے خلاف کوئی کلیم نہ دیا گیا۔ کیونکہ خلیفہ صاحب کا یہی حکم تھا۔ البتہ انہوں نے خود اپنی ذاتی جائیداد جو انہوں نے بھارت میں چھوڑی تھی اس کا کلیم دیا اور جائیداد حاصل کی۔ خلیفہ نے ہر احمدی کو یہ حکم دیا تھا کہ قادیان میں چھوڑی ہوئی ذاتی جائیداد کا کلیم داخل نہ کریں۔ کیونکہ ہم جلدی قادیان واپس چلے جائیں گے۔
امانت کے شعبہ میں جو بینک ہے وہ احمدیوں کے لئے بینک کا کام دیتا ہے۔ خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا بیرون پاکستان۔ ہدایات یہ ہیں کہ احمدی دوسرے بینکوں میں اپنی رقوم جمع نہ کرائیں۔ یہ بینک بیرونی کرنسی کا کام نہیں کرتا۔ بیرونی کرنسی کا کام سٹیٹ بینک کی معرفت کیا جاتا ہے۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
جن لوگوں کو جماعت سے نکالا گیا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں۔ راجہ بشیر احمد رازی میکلوڈ روڈ لاہور، پروفیسر غلام رسول ایم۔اے گورنمنٹ کالج شیخوپورہ، میاں عبدالمنان عمر مالک روزنامہ جمہور، عبدالوہاب عمر اور عبدالسلام عمر کو اپنے خاندانوں کے ساتھ۔ عبدالرحمن خادم مناظر ربوہ کے بھائی ملک عزیز الرحمن وکیل گجرات، پروفیسر فیض الرحمن فیضی، عطاء الرحمن، راحت ملک، چوہدری صلاح الدین خاں ناصر، جماعت کے تین مبلغین مرزا محمد لطیف اکبر، مرزا محمد سلیم اختر، مرزا محمد شفیق انور (یہ تینوں بھائی ہیں) محمد صادق شبنم گوجرانوالہ، عبدالرب خان برہم لائل پور، میں نہیں کہہ سکتا کہ ربوہ کے پاس لائسنس والا اسلحہ ہے یا غیر لائسنس کا اسلحہ۔
مسٹر ایم۔اے رحمن کی جرح کے جواب میں
قادیان اور ربوہ دونوں کا انتظام وقت کے خلیفہ کے حکم کے مطابق امور عامہ کے شعبے کی معرفت کیا جاتا ہے۔ احمدیہ جماعت کو
تحریک ختم نبوت(۳)مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چار طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک حصہ عورتوں پر مشتمل ہے۔ اسے لجنہ اماء اللہ کہتے ہیں۔ دوسرا حصہ انصار اللہ کہلاتا ہے۔ اس میں صرف مرد ہوتے ہیں۔ ان کی عمر چالیس سال یا اس سے اوپر ہوتی ہے۔ تیسرا حصہ خدام الاحمدیہ ہے جو ۱۵ تا ۴۰ سال کے درمیان عمر کے مردوں پر مشتمل ہے۔ چوتھا حصہ اطفال الاحمدیہ کہلاتا ہے۔ اس میں پندرہ سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں۔ ہر علاقہ میں ایک افسر ہوتا ہے جسے زعیم کہتے ہیں جو اپنی آبادی کے رہائشیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے اور ہر قابل ذکر واقعہ کی اطلاع امور عامہ کو دیتا ہے۔ ربوہ میں بھی ایسی ہی تنظیم ہے۔ ہر محلہ کی ایک انتظامیہ ہوتی ہے جو زعیم کے تحت ہوتی ہے۔ ربوہ شہر میں تمام زعیم ایک صدر عمومی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ربوہ میں یہ تنظیمیں اس لئے قائم کی گئی ہیں تا کہ کمیونٹی کو مختلف سرکاری محکموں سے آزاد رکھا جائے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ربوہ میں سوسائٹی اس قدر جدا گانہ ہوگئی ہے کہ باہر کا کوئی آدمی یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اس سوسائٹی کے اندر کیا ہو رہا ہے؟
جب میں نے پولیس انسپکٹر انچارج تھانہ لالیاں حبیب اللہ خان کو یہ اطلاع دی کہ مجھے اور میرے رشتہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے تو اس نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر مجھے قتل بھی کر دیا جائے تو ربوہ میں اسے ایک گواہ بھی شہادت کے لئے نہ ملے گا۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ یا تو ربوہ سے دور ہی رہوں یا پھر جب وہاں جانا ہو تو پولیس کی مدد لے کر جاؤں۔ جب بھی میں نے پولیس کے اعلیٰ حکام اور فوج کے حکام کو مارشل لاء کے دنوں میں درخواستیں دیں تو ان سب کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
کوئی اہم واقعہ ربوہ میں خلیفہ صاحب کے علم واطلاع کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ خلیفہ وقت کے حکم کو احمدی ہر دوسرے حکم پر فوقیت دیتے ہیں۔ خواہ وہ ملک میں کسی سب سے بڑی اتھارٹی ہی کی طرف سے دیا گیا ہو۔ اگر کسی کو ربوہ سے نکلنے کا حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل نہ کرے تو اس کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کا خدام الاحمدیہ کی طرف سے سایہ کی طرح پیچھا کیا جاتا ہے اور خلاف ورزی پر اصرار کرنے والے کو جسمانی سزا بھی دی جاتی ہے۔ یہ سلوک نہ صرف ربوہ چھوڑنے تک کیا جاتا ہے بلکہ موت تک یہ سلوک کیا جاتا ہے۔
قادیانی کمیونٹی کا ہر کمائی کرنے والا فرد اپنی آمدنی کا ۱/۱۶ حصہ کمیونٹی کو چندے کے طور پر دیتا ہے۔ ہر احمدی (کمیونٹی کے ہر ممبر) کا مکمل ریکارڈ ربوہ میں رکھا جاتا ہے۔ دراصل ایسے ریکارڈ صوبائی ، ڈویژنل ، ضلعی ، تحصیلی اور شہری مقامات پر رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے تمام احمدیوں کی ایک فہرست ناظر اعلیٰ کے پاس ہوتی ہے جو صدر ، صدر انجمن احمدیہ ہے۔ بیرون ملک رہنے والے احمدیوں کی فہرست تحریک جدید میں ہوتی ہے۔ یہ فہرست بیت المال کے شعبے میں بھی ہوتی ہے۔ جہاں چندہ جمع کیا جاتا ہے۔
(اس مرحلے پر مسٹر رحمٰن نے درخواست کی کہ ٹربیونل اے سی چنیوٹ کو حکم دیں کہ ناظر اعلیٰ اور بیت المال کے شعبے سے ان فہرستوں کو قبضے میں کر لیں)
انجمن احمدیہ ربوہ اس تمام زمین کی مالک ہے جو ربوہ کی حدود میں واقع ہے۔ اس کے ٹکڑے احمدیوں کو رہائش اور دوسری ضروریات کے لئے پٹے پر دیئے جاتے ہیں۔ ربوہ کی قریباً سو فیصد آبادی احمدیوں پر مشتمل ہے۔ اس لئے وہاں کوئی بینک کھولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ احمدیوں کو اپنے حسابات کسی دوسرے بینک میں جمع کرنے کے بجائے شعبہ امانت میں جمع کرانے پڑتے ہیں۔
مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ صاحب نے یہ کہا تھا کہ خدام الاحمدیہ اسلام کی فوج ہے اور یہ کہ احمدیہ جماعت جلد برسر اقتدار آنے والی ہے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوان احمدیوں کو انجمن احمدیہ کی ہدایات کے تحت سول اور ملٹری کی مختلف سروسز میں بھرتی کیا جاتا ہے۔ اس پالیسی پر پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے سے عمل کیا جاتا ہے اور آج تک عمل ہو رہا ہے۔ ہر احمدی اپنا فرض سمجھتا ہے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ دوسرے احمدی کی ملازمت کے حصول میں یا بزنس مہیا کرنے میں جائز یا ناجائز مدد کرے۔ بیعت میں شامل ہونے سے ہر احمدی اپنے آپ کو ایک برادری کا فرد سمجھتا ہے۔ اس لئے رشتے کی وجہ سے، کسی بھی طریقے سے ایک دوسرے کی مدد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کا فتویٰ ہے کہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے خواہ اس کے بارے میں سنا بھی نہ ہو وہ کافر ہے اور خارج از اسلام ہے۔ اس فتویٰ پر تمام احمدی عمل کرتے ہیں۔ اسی لئے سرظفر اللہ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔
یہ درست ہے کہ احمدیہ کمیونٹی پاکستان کا انتظام سنبھالنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ وہ ایک دن فاتحانہ طور پر قادیان میں داخل ہونے کی امید بھی لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے یہ بات مرزا بشیر الدین اور مرزا ناصر احمد کی تقریروں سے اخذ کی ہے۔ دوران گفتگو رانا محمد یوسف سول ڈیفنس آفیسر بہاول پور جو احمدی ہیں، نے مجھے کہا تھا کہ یہ ملک صرف اسی طرح بچ سکتا ہے۔ اگر اس کا سربراہ نہ صرف سخت گیر ہو بلکہ اس کا تعلق خدا سے ہو۔ اس پر میں نے تجویز کیا کہ پاکستان میں ایسا آدمی تو صرف مرزا ناصر احمد موجودہ سربراہ احمدیہ کمیونٹی ہے تو انہوں نے اس سے اتفاق کیا۔
اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کمیونٹی ربوہ میں تیاریاں کر رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ کوئی غیر احمدی ربوہ میں رہائش نہیں رکھ سکتا۔ کیونکہ ربوہ کی کمیونٹی اپنی سرگرمیوں کو مخفی رکھنا چاہتی ہے۔ خدام الاحمدیہ کے تمام ارکان پورے ملک سے ربوہ میں سال میں ایک مرتبہ تین چار روز کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ وہاں خدام الاحمدیہ کو گھڑ سواری، شوٹنگ اور تنظیمی امور میں تربیت دی جاتی ہے۔ امور عامہ اپنے انتظام کے لئے خدام کو بطور پولیس فورس استعمال کرتا ہے۔
۱۹۵۶ء میں جب میں ربوہ میں رہتا تھا خدام الاحمدیہ کی تعداد ہزار ڈیڑھ ہزار نوجوانوں پر مشتمل تھی جب کہ ربوہ کی تمام آبادی ۵ سے چھ ہزار تک تھی۔ میں آخری مرتبہ تین سال قبل ربوہ گیا تھا۔ اب ربوہ کے واقعہ سے قبل ربوہ کی آبادی ۱۲، ۱۳ ہزار کے قریب ہوگی۔ لیکن واقعہ ربوہ کے بعد بہت سے احمدی ”ہجرت“ کر کے ربوہ پہنچ گئے ہیں اور اب ان کی آبادی پچیس ہزار کے قریب ہوگی۔ ربوہ میں ٹاؤن کمیٹی بھی ہے۔ ربوہ میں جو لوگ پٹے پر زمین حاصل کریں اسے دفتر آبادی ربوہ میں ایک رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے۔ یہ صدر انجمن احمدیہ کی ایک برانچ ہے۔ ربوہ میں زمین کے سودوں کا اندراج گورنمنٹ کے مقرر کردہ رجسٹرار یا سب رجسٹرار کے دفتر میں نہیں ہوتا بلکہ صرف انجمن کے رجسٹر میں ہوتا ہے۔ میرے باپ نے صدر انجمن سے ایک کنال اراضی ۹۹ سالوں کے لئے سو روپے میں حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ اور کوئی رقم نہیں دینی تھی۔ آج کل ایک کنال اراضی کی قیمت ۳۵۰۰۰ روپے ہے۔ یہ ریٹ آج کل مرکزی جگہ پر واقع زمین کا ہے۔ میرے والد نے ۱۹۴۹ء میں یہ اراضی پٹے پر حاصل کی تھی۔
میں وہ وجہ تو نہیں جانتا جس بناء پر مولوی غلام رسول جنڈیالوی کے لڑکے اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔ تاہم ایک سال قبل ایک وکیل سیر کے لئے ربوہ گئے۔ ان کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ اس شک پر کہ وہ جاسوس ہیں۔ مجھے یہ بات ربوہ میں رہنے والے میرے رشتہ داروں نے بتائی تھی۔ ربوہ شہر میں کاروبار میں بھی کوئی غیر احمدی نہیں ہے۔ ایک احمدی کو بزنس میں بھی غیر احمدی پر ترجیح دی جاتی ہے۔
ایف. ای جعفری کی جرح کے جواب میں
میں اپنے والد صاحب کی چھوڑی ہوئی جائیداد کا حصہ نہیں لے سکتا اور وہاں نہیں رہ سکتا۔ ربوہ میں تعلیمی ادارے یہ ہیں۔ تعلیم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الاسلام ہائی سکول، کالج، جامعہ احمدیہ، مدرسہ احمدیہ، جامعہ نصرت گرلز کالج، جامعہ نصرت گرلز سکول۔ یہ سب ادارے اب قومیا لئے گئے ہیں اور حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ صرف کالج میں ۵، ۷ غیر احمدی طالب علم ہیں۔
مسٹر ایم۔ ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
تحریک جدید میں مبلغوں کا تبادلہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہوتا رہتا ہے۔ مسٹر احمد نور کابلی احمدی تھے۔ انہوں نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک اور آدمی جو زندہ ہیں اور لندن میں رہتے ہیں، وہ خواجہ محمد اسماعیل ہیں۔ انہوں نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ احمدی تھے۔
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
میں نے جن افسروں کو احمدیہ کمیونٹی کی طرف سے ہراساں کئے جانے کے بارے میں درخواست دی تھیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ سید سبط الحسن انسپکٹر سی۔آئی۔ڈی ، سید مختار حسن شاہ گروپ انسپکٹر ،سی۔آئی۔ڈی لائل پور ، شیخ ابرار احمد ایس۔پی ،سی۔آئی۔ڈی ، مرزا امجد عباس ایس۔پی ،سی۔آئی۔ڈی اور حبیب اللہ خان انسپکٹر لالیاں ۔ یہ درست ہے کہ کچھ اختلافات کی بناء پر جو مولوی عبد الکریم مباہلہ اور دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کے درمیان ہوئے تھے۔ موخرالذکر نے اوّل الذکر کا گھر جو قادیان میں تھا جلوا دیا تھا اور ان کو قادیان سے نکلوا دیا تھا۔ یہ واقعہ اس زمانے میں ہوا جب میں ایک دو سال کا تھا۔ یہ باتیں میں نے سنی ہیں کہ مولوی عبد الکریم مباہلہ کی جان پر حملے بھی کئے گئے۔ مولوی صاحب اور خلیفہ کے درمیان اختلافات نا گفتہ بہ حالات کی بناء پر پیدا ہوئے تھے۔ مولوی عبد الکریم مباہلہ بھی احمدی تھے۔ چند سال بعد ایک اور احمدی آدمی مسٹر فخر الدین ملتانی نے خلیفہ صاحب کی اہلیت کے بارے میں ان کے کردار کی بناء پر اعتراضات کئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یا مرزا بشیر الدین خلافت چھوڑ دیں یا اپنی اصلاح کریں۔ نتیجہ یہ تھا کہ مرزا بشیر الدین نے فخر الدین ملتانی کو مروا دیا۔ ایسے ہی حالات میں شیخ عبد الرحمن مصری کو قادیان سے نکال دیا گیا۔
رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
میں نہیں کہہ سکتا کہ محمود عبادت گاہ کے قریب دفن کیا جانے والا اسلحہ وہیں موجود ہے یا وہاں سے تبدیل کر لیا گیا۔ یہ خلیفہ صاحب کے حکم سے وہاں دفن کیا گیا ہے۔ وہ اسلحہ جماعت کی ملکیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ نائب وکیل التعلیم کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلباء کے لئے بورڈنگ وغیرہ کا انتظام کرے۔ ان کا خرچ احمدیہ جماعت دیتی ہے۔ جب میں وہاں سروس میں تھا، اس وقت بیس سے پچیس تک غیر ملکی طلباء تھے۔ چین ، برٹش، گیانا، جرمنی ، انڈونیشیاء ، افریقہ وغیرہ ۔ حیفیہ میں جبل الکرمل میں احمدیہ مشن ہے۔ وہ تحریک جدید کے تحت چلتا ہے۔ مرزا مبارک احمد صاحب ان کے چیف ہیں۔ مولوی محمد شریف ان دنوں حیفیہ کے مشن کو چلاتے تھے۔ وہ پاکستانی ہیں جو اصل میں ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے جو پاکستان سے اسرائیل جاتے ہیں۔ وہ ڈبل پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ وہ پہلے کسی افریقی ملک میں پاکستانی پاسپورٹ پر جاتے ہیں۔ وہاں سے کسی دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر اسرائیل جاتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے پاسپورٹ وہ خفیہ رکھتے ہیں۔ بیرون ملک میں جانے والے مبلغوں کو تمام ضروری معلومات احمدیہ جماعت مہیا کرتی ہے۔ بھارت میں مشن قادیان میں ہے۔ اس کے سر براہ مولوی عبدالرحمٰن ہیں جو قادیان کے رہنے والے ہیں۔ ڈبل پاسپورٹ رکھنے کا طریقہ ایسے ممالک کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہ ہوں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۵۶ء میں ۵۰ سے ۱۰۰ تک احمدی فوج میں کمیشنڈ افسر تھے۔ بعض افسروں کو فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ربوہ کی انتظامیہ میں ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔ اگر چہ سب لوگوں کو ملازم نہیں رکھا جاتا۔
ٹریبیونل: یہ نام پریس میں نہ آئیں۔
اسرائیل جانے والے مبلغوں کو صرف عربی زبان سے واقف ہونا چاہئے اور احمدی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہونا چاہئے۔ جہاں تک مجھے علم ہے آج تک کوئی اسرائیلی یہودی احمدی مشن کے ذریعے احمدی نہیں ہوا۔ اسرائیل میں صرف ایک ہی مبلغ ہوتا ہے۔ مقامی احمدی اس کی مدد کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں احمدیہ مشن ہے۔ اس کا تعلق قادیان سے ہے۔ اس طرح آزاد کشمیر میں بھی مشن ہے۔ ۱۹۵۶ء میں آزاد کشمیر میں ۲۰۰ سے ۳۰۰ آدمی احمدی تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ پاکستان آگئے۔ جب آزاد کشمیر اسمبلی میں احمدیوں کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ تقسیم ملک کے وقت مرزا بشیر الدین صاحب اکھنڈ بھارت کے حق میں تھے۔ انہوں نے اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کے لئے تمام ذرائع جو ان کو حاصل تھے، استعمال کئے۔ ان کا اکھنڈ بھارت کا حامی ہونا اس بات پر مبنی تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں تبلیغ قادیانیت کے زیادہ مواقع حاصل ہوں گے اور دوسرے احمدی زیادہ محفوظ ہوں گے۔ قبل از تقسیم ملک بیس پچیس سکھ احمدی ہو گئے تھے۔ جہاں تک مجھے علم ہے کوئی ہندو Convert نہیں ہوا۔
میرے علم کے مطابق انڈونیشیاء اور ملائیشیاء کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تمام اسلامی ممالک میں احمدی مبلغوں کا داخلہ بند ہے۔ داخلہ بند ہونے کی بڑی وجہ احمدیوں اور ان ملک کے رہنے والے لوگوں کے درمیان ختم نبوت کے مسئلہ پر اختلاف ہے۔ احمدیہ گروہ کا ہمیشہ عقیدہ رہا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔ یہ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے بھی تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ مرزا بشیر الدین محمود کی خواہش تھی کہ سیاسی غلبہ جماعت کے لئے حاصل کیا جائے۔ آج کل کا ربوہ انتظامی لحاظ سے ۱۹۴۷ء سے قبل کے قادیان کا نمونہ ہے اور سیاسی برتری حاصل کرنے کے لئے ربوہ کے لوگوں کے عزائم اسی طرح ہیں جس طرح قادیان کے لوگوں کے عزائم تھے۔ احمدیوں نے اقتدار میں شامل ہونے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا تھا۔ (اس مرحلے پر گواہ نے ایک پمفلٹ آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر تبصرہ) ٹریبیونل کی مدد کے لئے پیش کیا۔ اسے ریکارڈ کے لئے رکھا گیا۔ یہ درست ہے کہ ایئر مارشل ظفر چوہدری کی ریٹائرمنٹ سے قادیانیوں کو دھچکا لگا۔ بنگلہ دیش میں بھی احمدی ہیں۔ ابھی تک وہاں ان کی تنظیم ہے۔ وہاں مشن کا سربراہ پاکستانی ہے۔
عزیز احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
میرے والد بک سیلر تھے اور کچھ کتابیں ان کی نگرانی میں قبل از تقسیم و بعد از تقسیم شائع ہوئیں۔ احمدی، مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ جہاں تک کلمہ کا تعلق ہے۔ نائیجیریا میں انہوں نے کلمہ تبدیل کیا ہے۔ میں نائیجیریا خود نہیں گیا۔ جب میں نے نائیجیریا کی قادیانی عبادت گاہ کی تصویر کتاب ”افریقہ سپیکس“ میں دیکھی۔ اس سے قبل مجھے احمدیوں کے کلمہ تبدیل کرنے کا علم نہ تھا۔ جنہیں خلیفہ سے اختلاف ہوتا ہے انہیں جماعت سے نکال دیا جاتا ہے۔ ایسے اختلافات کچھ وقفے کے بعد ہوتے رہتے ہیں۔ اب بھی ربوہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تنظیم ”احمدیہ جماعت“ سے اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ آدھے سے زیادہ ہیں، وہ سب نوجوان ہیں۔
میں ۲۹؍مئی کے بعد مسٹر شورش کاشمیری سے نہیں ملا۔ اس سے قبل میرا ان سے دوستانہ ہے۔ اس لئے ان سے ملتا رہا ہوں۔ میں ان سے ۲۲؍مئی، ۲۹؍مئی کے درمیان بھی نہیں ملا تھا۔ میں نے ان کے اخبار ہفت روزہ چٹان کے لئے کئی دفعہ مضمون لکھا ہے۔ میرے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
مضامین کچھ ایسے تھے جن میں ربوہ کے بارے میں حقائق تھے۔ یہ مضامین اپنے قلمی نام سے لکھے تھے جو میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔ جب تک ٹربیونل مجھے بتانے کی ہدایت نہ کرے ۔ مرزا بشیر الدین محمود اس غرض کے لئے اسلام کی تبلیغ کرتے تھے کہ سیاسی غلبہ حاصل کریں ۔ جب میں نے بٹالین کو چھوڑا تو میں نے اپنا اسلحہ کرنل محمد حیات کے پاس جمع کرایا تھا۔ جب اسلحہ ربوہ میں لا کر دفن کیا گیا تھا تو اس زمانے میں ، میں ربوہ میں تھا۔
مولوی عبدالمنان عمر جو خلیفہ اول نور الدین کے لڑکے ہیں ، کو بھی ربوہ سے نکالا گیا ۔ پچھلے بیس سال میں وہ صرف دو تین مرتبہ ربوہ گئے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اب تک ان کو ربوہ جانے سے روکا نہیں گیا۔ لیکن جب وہ ربوہ جاتے ہیں ، ان کا سائے کی طرح پیچھا کیا جاتا ہے ۔ بشیر الدین نے یہ اعلان کیا تھا کہ کوئی احمدی ان کی طرف اور ان کی بیوی کی طرف نہ دیکھیں ۔ جب وہ اپنی والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آئیں اگر کوئی ان سے مل لے تو وہ اپنا چہرہ پھیر لے اور تھوکے ۔ یہ درست ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی جان پر حملہ ہوا تھا ۔ ان کو گردن پر چاقو لگا تھا ۔ یہ واقعہ ۱۹۵۴ء میں ہوا اور مبینہ حملہ آور ربوہ کا رہنے والا نہیں تھا۔ وہ باہر سے آیا تھا ۔ وہ غیر احمدی تھا ۔ ان کے علاوہ کوئی واقعہ میرے علم میں نہیں جس میں قاتلانہ حملہ کسی لیڈر پر ہوا ہو ۔ یہ درست نہیں ہے کہ بیرونی لوگوں اور اختلاف کرنے والوں کو ہراساں کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کے تحفظ کے لئے ان کا پیچھا کیا جاتا ہے ۔ عبدالمنان صاحب نے مجھے خود بتایا تھا کہ خدام الاحمدیہ نے ان کو اغوا کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔ مگر انہیں اس کا علم ہو گیا اور وہ عقبی دروازے سے نکل گئے ۔ مگر مرزا رشید احمد وہاں سے نکلے ان کو غلطی سے اغواء کر لیا گیا اور امور عامہ کے دفتر میں لے جایا گیا ۔ ان کو وہاں سے چھوڑ دیا گیا ۔ وہ مرزا غلام احمد کا پوتا ہے ، مرزا رشید احمد مرزا سلطان احمد کا لڑکا ہے ۔ یہ ساری کہانی مجھے مولوی عبدالمنان نے خود سنائی تھی ۔ سالانہ جلسہ کے موقع پر احمدی کوشش کرتے ہیں کہ غیر احمدی کو ربوہ میں جلسہ کے موقعہ پر لائیں تاکہ انہیں احمدیت قبول کرنے کی ترغیب دیں ۔ یہ درست ہے کہ عام مسلمانوں میں اس بات کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ احمدی ربوہ اور قادیان کو مکہ اور مدینہ سے زیادہ متبرک سمجھتے ہیں ۔ یہ پروپیگنڈا بے بنیاد نہیں ہے۔ کیونکہ مرزا بشیر الدین نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کے چشمے خشک ہو گئے ہیں اور قادیان اور ربوہ سے نئے چشمے پھوٹے ہیں ۔
یہ درست ہے کہ احمدیوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں ۔ یہ تاثر اس بناء پر قائم کیا گیا ہے کہ اسرائیل میں احمدی مشن ہے ۔ یہ درست ہے کہ امانت کے طور پر بیت المال میں جمع کرائی گئی رقم پر سود نہیں دیا جاتا۔ میں نہیں جانتا کہ زکوٰۃ لی جاتی ہے یا نہیں۔ البتہ خلیفہ کے خاندان کے لوگ لاکھوں روپے اوور ڈرافٹ لیتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ امور عامہ یا کسی اور شعبے کو قانون میں کوئی اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ قابل دست اندازی جرم کا فیصلہ کرے ۔ لیکن امور عامہ کے لوگ ایسے مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ رضامندی حاصل کرنے پر دارالقضاء مقدمے کے فیصلے کرتا ہے اور کوئی فریق رضامندی نہ دے تو اس کا مقدمہ عام عدالت میں جاتا ہے ۔ میں نے مولوی غلام رسول جنڈیالوی کے لڑکے کا قتل نہیں دیکھا تھا۔ مگر میں نے امور عامہ کے دفتر میں اس کے خون کے نشانات دیکھے تھے ۔ میں نے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو نہ دی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ کسی اور نے بھی اطلاع پولیس کو دی یا نہیں ۔ یہ احمدیوں کی خواہش ہے کہ قادیان فتح ہو جائے ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں سر ظفر اللہ کے قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کی یہ وجہ تھی کہ یا انہیں ایک مسلمان حکومت کا غیر مسلم ملازم سمجھا جائے یا ایک غیر مسلم حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیا جائے ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایم۔ انور صاحب کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ احمدیوں نے اپنا الگ کیلنڈر بنایا ہوا ہے۔ اس کے کچھ مہینوں کے نام یہ ہیں۔ نبوت، اخاء، تبلیغ، احسان، ہجرت وغیرہ۔ یہ درست ہے کہ احمدی، غیر احمدی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس لئے وہ عام مسلمانوں کی مسجد میں نہیں جاتے۔ لیکن وہ مسجد کو خانہ خدا سمجھتے ہیں اور وہ غیر احمدی مسجد میں الگ نماز پڑھتے ہیں۔ میرے علم میں ہے کہ بیت اللہ میں بھی احمدی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ قادیان اور ربوہ میں ایک عبادت گاہ اقصیٰ کے نام پر ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جنگ عظیم اوّل کے خاتمے پر جب عثمانیہ خلافت ختم ہوئی تو قادیان میں جشن منایا گیا تھا جب کہ عام مسلمانوں کے اندر صف ماتم بچھ گئی تھی۔ پہلے احمدیہ مشن کچھ عرب ممالک میں تھے۔ مگر جب عربوں کو ختم نبوت کے بارے میں احمدیوں کے عقیدے کا پتہ چلا تو وہ مشن بند کر دیا گیا۔ حیفہ اسرائیل میں احمدی مشن ایک ماہوار پرچہ البشریٰ کے نام سے شائع کرتا ہے۔ اس کے ایڈیٹر مولوی ابوالعطاء اللہ دتہ جالندھری، مولوی محمد شریف اور حافظ بشیر الدین عبید اللہ رہے ہیں۔ یہ تینوں ربوہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں اس وقت ربوہ میں ہی تھا جب مجھے اسرائیل میں مشن کا علم ہوا۔
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
ربوہ میں ایک محکمہ، کار خاص امور عامہ کے محکمے کے ماتحت ہے۔ یہ انٹیلی جنس کرنے والی تنظیم ہے۔ اس شعبہ میں خرچ ہونے والی رقوم کا آڈٹ نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر فضل الٰہی بشیر، آف ربوہ آج کل اسرائیل میں کام کر رہا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اسرائیل کے عرب علاقوں میں قبضہ کے بعد کچھ مزید مشن کھولے گئے ہیں۔ مگر یہ بات جانتا ہوں کہ مقبوضہ عرب علاقوں میں بھی حیفہ کا مشن تبلیغ کا کام کر رہا ہے۔ جامعہ احمدیہ میں مبلغوں کی تربیت کی جاتی ہے۔ میرے اندازے میں اڑھائی، تین لاکھ احمدی پاکستان میں ہوں گے۔
مبشر لطیف احمد کی جرح کے جواب میں
میں نے ربوہ میں اسلحہ کے ڈمپ کے بارے میں حکومت پاکستان کے کسی ادارے یا فرد کو اطلاع نہ دی۔ ۱۹۵۶ء تک میں احمدیہ کمیونٹی کا ذہنی اور جسمانی طور پر غلام تھا۔ اس کے بعد مجھے یقین نہیں کہ ڈمپ کہاں ہے۔ مجھے ربوہ چھوڑنے کے بعد ڈبل پاسپورٹ رکھنے کی تدبیر (اسرائیل جانے کے لئے) کا علم ہوا تھا۔ مجھے حیفہ کے مبلغ کی بیوی سے یہ بات معلوم ہوئی جو میری رشتہ دار ہے۔ میں سوائے مولوی ابوالعطاء کے جو میرے استاد ہیں دوسرے مبلغوں کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ ان کے کوائف تحریک جدید کے ریکارڈ سے جانتا ہوں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ تینوں مبلغ کب اسرائیل گئے تھے۔
کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں
اگر کوئی غیر احمدی ربوہ میں ان کے عقائد کے خلاف کوئی نعرہ وغیرہ لگائے تو امور عامہ کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔ امور عامہ والے کوئی کارروائی کرنے سے پہلے خلیفہ صاحب کی منظوری لیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بطور پالیسی ربوہ والے قوت کا استعمال اپنے مخالفین کے خلاف کرتے ہیں اور اس پالیسی کی منظوری ہمیشہ خلیفہ وقت سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس معاملے میں احمدی یا غیر احمدی میں تمیز نہیں۔ جن کے خلاف تشدد کیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ تشدد کے بہت سے واقعات ربوہ میں ہوئے لیکن وہ مخفی رکھے گئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر ابوالعاصم جعفری کی جرح کے جواب میں
ادارہ اصلاح و ارشاد کو پہلے ادارہ دعوت و تبلیغ کہا جاتا تھا۔ جب ۱۹۵۳ء کے بعد تبلیغ رک گئی تو اس کو ادارہ اصلاح و ارشاد کہا جانے لگا۔ تحریک جدید کے بہت سے شعبے ہیں۔ وکیل المال، وکیل الدیوان، وکیل التبشیر، وکیل التعلیم اور وکیل الزراعت، تبشیر مشنری باہر بھیجتے ہیں۔
مسٹر ایم. ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ غیر مسلم احمدیت کے حق میں لکھتے رہتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو کمزور کریں گے۔
گواہ نمبر ۳۱...... محمد ابراہیم، طالب علم نشتر میڈیکل کالج ملتان
لاہور: مورخہ ۲۷؍ جون (سٹاف رپورٹر) واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل نے آج بعد دوپہر ایک اور چشم دید گواہ طالب علم محمد ابراہیم کا بیان قلمبند کیا۔ نشتر میڈیکل کالج کے سال چہارم کے طالب علم اور مقدمہ کے گواہ نمبر ۳۱ نے عدالت کو بتایا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر اشتعال کی اصل وجہ قادیانیوں کی طرف سے ان کے اخبار الفضل کی تقسیم تھی۔ طالب علم ابراہیم نے عدالت کو بتایا کہ میں احمدی نہیں ہوں۔ میں بھی تفریحی دورہ میں طلباء کے ساتھ تھا۔ ربوہ کے اسٹیشن پر جب ایک شخص نے احمدیوں کا اخبار الفضل تقسیم کرنے کی کوشش کی تو لڑکوں نے احمدیوں کے خلاف نعرے لگائے۔ اس پر ہمارے صدر ارباب عالم نے طلباء سے گاڑی میں سوار ہونے کو کہا۔ چنانچہ ہم گاڑی میں سوار ہو گئے۔ اس اثناء میں پلیٹ فارم سے ہماری بوگی پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ میں کالج میں لبرل گروپ کا صدر بھی ہوں۔ اس گروپ نے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ واپسی پر میں طلباء کی بوگی میں سفر کر رہا تھا۔ ہمارے بعض ایسے ساتھی جنہوں نے لاہور، گوجرانوالہ، گجرات آنا تھا۔ لالہ موسیٰ میں اتر گئے۔ ربوہ سے دو تین اسٹیشن پہلے مجھے لڑکوں نے جگایا اور میں نیچے آ گیا۔ لڑکوں نے بتایا کہ سرگودھا سے یہاں تک انہوں نے مختلف مشکوک لوگوں کو دیکھا ہے جو مختلف بوگیوں میں دیکھ رہے تھے اور جو طلباء کی بوگی میں بھی آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں ہمارے ساتھ گڑبڑ نہ ہو، اس لئے آپ اٹھ کر بیٹھ جائیں۔ میری سیٹ پلیٹ فارم کی طرف کھڑکی کے ساتھ تھی۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر آئی تو ہم نے لوگوں کا وہاں ہجوم دیکھا۔ میں نے گاڑی میں سے مختلف لوگوں کو پلیٹ فارم کی طرف ہاتھ ہلاتے دیکھا۔ ابھی گاڑی رکی ہی تھی کہ پتھراؤ شروع ہو گیا۔ ہماری بوگی پلیٹ فارم کے آخری حصہ میں تھی اور پلیٹ فارم سے پیچھے تھی۔ پتھراؤ پلیٹ فارم کی طرف سے ہو رہا تھا۔ میں فوراً پیچھے ہٹ گیا اور لڑکوں سے کہا کہ وہ شٹر نیچے گرا دیں۔ ہم نے دروازے بند کر دیئے۔ اسی دوران باہر نعروں کی آوازیں سنائی دیں۔ نعرے یہ تھے مرزا غلام احمد کی جے، محمدیت مردہ باد، نشتر کے مسلے ہائے ہائے۔ ہم دروازوں کے ساتھ ہی دروازوں کو پکڑ کر کھڑے ہو گئے تا کہ دروازے کھل نہ سکیں۔ میں بوگی کے انجن کی طرف والے چھوٹے حصہ میں تھا۔ بوگی کے کل تین حصے تھے جو میرے چھوٹے حصہ کے بعد تھے۔ ایک دو منٹ بعد بوگی کے دوسرے حصوں کے طلباء بھی بھاگ کر ہمارے حصہ میں آنا شروع ہو گئے۔ لڑکوں نے بتایا کہ ہجوم ڈبہ میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے اور لڑکوں کو مارا بھی ہے۔ اب لڑکے جانیں بچا کر یہاں آئے ہیں۔ لڑکوں کے آنے کے بعد ہم نے درمیان کا دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے ہمارا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔ ہم نے سوراخ میں سے دیکھا کہ لوگ ریلوے لائن کو اکھاڑ رہے ہیں۔ پھر ہم نے حملہ آوروں کے یہ نعرے سنے کہ بوگی کو علیحدہ کر کے اسے آگ لگا دو۔ یہ ہنگامہ بیس پچیس منٹ تک رہا۔ میں دوسرے ڈبہ میں گیا تو دیکھا کہ آفتاب، ارباب اور امین زخمی پڑے ہیں۔ لڑکوں نے اپنا سامان بھی چیک کیا لیکن پندرہ بیس لڑکوں کا سامان وہاں موجود نہیں تھا۔ میرا سامان پورا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمارے میس کی تمام کراکری چوری ہو گئی تھی۔ چنیوٹ اسٹیشن پر جب گاڑی رکی تو ہم نے دوسرے ساتھیوں کا پتہ کیا اور دوسرے ڈبوں میں سوار زخمی ساتھیوں کو اپنے ڈبہ میں لائے۔ وہاں ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے ۴۰ یا ۵۰ ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔ پھر گاڑی لائل پور آگئی۔ وہاں ہم گاڑی سے اترے تو پولیس پہنچی ہوئی تھی۔ زخمی لڑکوں کو اتار کر وہاں فرسٹ ایڈ دی گئی۔ گاڑی وہاں تقریباً دو گھنٹے رکی رہی۔ پھر زخمی طلباء کو ایک الگ ایئرکنڈیشنڈ کوچ میں ملتان لایا گیا۔ وہاں انہیں ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ٹربیونل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے گواہ نے کہا کہ الیکشن کے دنوں میں مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگتے رہتے تھے۔
گواہ نمبر ۳۲...... جناب رفیق باجوہ چونڈہ ، سیالکوٹ
میں جناح اسلامیہ کالج کا سال چہارم کا طالب علم ہوں۔ میں پیدائشی احمدی ہوں ۔ ۱۲/ دسمبر ۱۹۷۲ء تک میں احمدی رہا ہوں۔ میرے دادا نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ میں نے ربوہ تعلیم الاسلام کالج سے ایف۔ایس۔سی کیا تھا۔ وہیں میں پیدا ہوا۔ میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا صدر اور ربوہ یونائیٹڈ فیڈریشن کا چیئر مین تھا۔ میرے دادا جی ”صحابی“ (مرزا قادیانی کے ساتھی) تھے۔ میرے والد نے اپنی زندگی احمدیت کے لئے وقف کر دی تھی۔ لیکن ۱۲/ دسمبر ۱۹۷۲ء کو انہیں میرے ساتھ نکال دیا گیا۔ میں مجلس اطفال احمدیہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کا پرجوش رکن رہا۔ ان حالات میں مجھے احمدیوں کے بارے میں بہت کچھ معلومات حاصل ہیں۔ میں تحریک طلباء تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کا صدر ہوں۔ یہ نئی تحریک ہے جو پانچ چھ ماہ قبل شروع کی گئی ہے۔ ربوہ شہر ایک مستقل ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔ پولیس اور فورس اپنی ہے۔ مرد احمدی تین حصوں میں منقسم ہیں۔ اطفال احمدیہ ۱۵ سال کی عمر تک، خدام الاحمدیہ ۴۰ سال کی عمر تک، انصار اللہ ۴۰ سال سے اوپر، خدام الاحمدیہ کو میرے تجربہ کے مطابق ہمیشہ غنڈہ گردی کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور یا پھر انہیں الیکشن وغیرہ کے سلسلہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ جب کبھی بڑے گروپ کی ضرورت ہو، اطفال احمدیہ اور انصار اللہ کی بھی مدد لے لی جاتی ہے۔ انصار اللہ سے دو کام لئے جاتے ہیں۔ ایک چندہ کی وصولی اور دوسرا بچوں کے ذہنوں کو خدمت پر آمادہ کرنے کے لئے تیار کرنے کا کام۔ اطفال الاحمدیہ کو اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ ۱۵ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد وہ ہر بات پر لبیک کہنے کو تیار رہتے ہیں۔ جن دنوں میں ربوہ میں تھا مجاہد فورس میں بھرتی لازمی قرار دے دی گئی تھی۔ جامعہ احمدیہ کے طلباء کے لئے مجاہد فورس کی ٹریننگ لازمی تھی اور انہیں ایک سال کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ باہر سے بھی لوگوں کو مجاہد فورس میں زبردستی بھیج دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک فرقان فورس ہے جو تمام ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں عموماً وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے ۱۹۴۸ء میں کشمیر کے محاذ پر جنگ لڑی تھی۔ ان کا انچارج مسٹر رفیق ملک ہے۔ رفیق کو میں نے خاص خاص موقعوں پر خاکی وردی میں ملبوس دیکھا ہے۔ امور عامہ کے نام سے ان کی ایک پرائیویٹ تنظیم ہے۔ گواہ نے بتایا کہ وہ بعض دستاویزی ثبوت بھی ساتھ لایا ہے۔ (کارروائی کل پر ملتوی)
۲۷/ جون ۱۹۷۴ء کی کارروائی
(امروز کے رپورٹر سے) لاہور : مؤرخہ ۲۸ / جون ۔ واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل کے روبرو آج گواہ رفیق باجوہ کا بیان مکمل کر لیا گیا ہے۔ ٹربیونل کے جج مسٹر جسٹس کے . ایم . اے صمدانی نے سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کر دی۔ اس روز گواہ رفیق احمد باجوہ پر جرح ہو گی۔ گواہ رفیق احمد باجوہ نے اپنے طویل بیان کے آخر میں کہا کہ میں سابق تجربہ سے اس نظریے پر پہنچا ہوں کہ ۲۹/مئی کو ربوہ ریلوے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسٹیشن پر جو واقعہ پیش آیا اس میں جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کا ہاتھ ہے۔ مجھے چند احمدی لڑکوں نے بتایا تھا۔ ۲۹؍مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر چھ سات سو کے لگ بھگ ربوہ کے رضا کاروں کے علاوہ دو ہزار سے زائد افراد اور بھی موجود تھے، جنہیں تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ جن لوگوں نے ربوہ اسٹیشن پر حملہ کیا ان کی قیادت یہ لوگ کر رہے تھے۔ مرزا منصور احمد ناظر امور عامہ جو مرزا ناصر احمد کے مشیر خاص بھی ہیں، چوہدری شبیر احمد، عزیز بھانبڑی، مرزا ناصر احمد کا لڑکا مرزا لقمان، عطاء المجید راشد اور ربوہ کے مختلف محلوں کے صدر۔
گواہ نے کہا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ ۲۹؍مئی کو حلقوں کے زعیم کے ذریعے سیکرٹری عمومی کے خاص احکامات جاری کئے گئے تھے۔ عزیز بھانبڑی نے اس روز یہ الفاظ کہے تھے کہ جو کچھ کرنا ہے کر لو۔ گواہ نے کہا جن لوگوں نے مجھے یہ باتیں بتائی ہیں انہیں عدالت میں پیش کر سکتا ہوں مگر خفیہ طور پر۔ اس موقع پر ٹربیونل کے جج نے رفیق احمد باجوہ کو ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے نام اور پتے ایک بند لفافے میں ٹربیونل کو پیش کر دے تا کہ ان گواہوں کے بیانات ایک بند کمرے میں لئے جائیں۔ گواہ نے بتایا کہ وقوعہ کے روز مرزا منصور احمد ربوہ ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر واقع لڑکیوں کے ایک کالج جامع نصرت کے قریب ایک وین میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ایک بندوق سے مسلح شخص بھی تھا۔ یہ کالج اسٹیشن کی عمارت کے بالمقابل ہے۔ رفیق احمد باجوہ نے کہا کہ ربوہ میں رہنے والے ہر شخص کی ایک فائل امور عامہ کے دفتر میں موجود ہوتی ہے۔ اس فائل میں اس شخص کی گھریلو، سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں درج ہوتی ہیں۔ مردوں کے متعلق خاص طور پر ریکارڈ ہوتا ہے۔ میرے متعلق بھی ایک فائل بنائی گئی۔ اس موقع پر گواہ نے امور عامہ میں موجود ریکارڈ کے چند کاغذات کی نقول عدالت میں پیش کیں۔
گواہ نے کہا کہ ربوہ میں ہونے والے متعدد واقعات کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں۔ مگر اس کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہ کی۔ ان خبروں کی نقلیں عدالت میں پیش کی گئی۔ گواہ نے کہا کہ ربوہ بدر کرنے کا حکم مرزا ناصر احمد ہی دیتے ہیں۔ جب مجھے ربوہ بدر کیا گیا تھا، اس وقت ناظر امور عامہ ظہور باجوہ تھا اور عزیز بھانبڑی اس کے ماتحت تھے۔ گواہ نے کہا کہ امور عامہ کے ذمے سی آئی ڈی کا کام ہے اور باہر سے آنے والے غیر احمدیوں پر کڑی نظر رکھنا شامل ہے۔ ایسی سرگرمیاں مثلاً ۲۹؍مئی جیسے واقعات بھی امور عامہ کے کام ہیں۔ گواہ نے کہا کہ امور عامہ سٹیٹ ربوہ کی احمدی تنظیموں کے مختلف کام کرنے کے علاوہ پولیس کے فرائض بھی سرانجام دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص امور عامہ کے خلاف آواز بلند کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ گواہ نے کہا کہ چند لڑکیاں صرف اس لئے رکھی گئی ہیں جو امور عامہ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کراتی ہیں۔ امور عامہ کی مخالفت کرنے والوں کو امور عامہ کے دفتر میں بلا کر مارا پیٹا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص حکومت سے رابطہ کرے تو اس شخص کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کے لئے وہی لڑکیاں کام میں لائی جاتی ہیں۔ لڑکیاں اپنے بارے میں متعلقہ شخص کے خلاف چھیڑ خانی کرنے کی رپورٹ درج کراتی ہیں۔
گواہ نے کہا کہ امور عامہ کی رضامندی کے بغیر پولیس افسر عام لوگوں کی شکایت پر مقدمہ درج نہیں کرتے۔ کیونکہ دونوں کا آپس میں خفیہ سمجھوتہ ہوتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ ربوہ کے نظارت تعلیم کے شعبے کا رابطہ ربوہ کے تعلیمی اداروں سے ہوتا ہے۔ یہ شعبہ باہر کے شہروں کے احمدی تعلیمی اداروں کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ ربوہ میں خدمت خلق کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی ہے جس کا پہلا نام ’’حفاظت مرکز‘‘ تھا۔ اس تنظیم کا کام خلیفہ وقت، مختلف مقامات اور مرکز کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔ بعض شعبہ جات مالی معاونت حاصل کرنے کے لئے کھولے گئے ہیں جن کا کام عوام سے چندہ حاصل کرنا ہے۔ وقف جدید کا کام ربوہ سے باہر کے احمدیوں سے رابطہ قائم رکھنا ہے۔ احمدیوں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اپنی خاص سیاسی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لئے ایسے شعبے قائم کر رکھے ہیں۔ وکیل التبشیر کا کام باہر کے ممالک کے مشنوں سے رابطہ قائم رکھنا ہے۔ شہروں اور ضلعوں کی احمدی تنظیموں سے ربوہ کے سربراہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کا رابطہ قائم رہتا ہے۔ نظارت تعلیم کا کام یہ بھی ہے کہ اگر جماعت کو فوری طور پر رضا کار درکار ہوں تو شعبہ سکولوں اور کالجوں کو بند کر کے وہاں سے طلباء کو رضا کاروں کا کام لینے کے لئے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ ایک دفتر رشتے ناتے کا بھی ہوتا ہے۔ ربوہ میں اس شعبے کا کام قادیانیوں میں رشتے کرانا اور اس بات کی نگرانی کرنا ہے کہ کسی احمدی لڑکی کا غیر احمدی لڑکے سے نکاح نہ ہو جائے۔ اس موقع پر گواہ نے ربوہ کی مجلس مشاورت ۱۹۶۳ء کی ایک مکمل رپورٹ کی کاپی ٹربیونل کے روبرو پیش کی جس میں مختلف واقعات درج ہیں۔ اگر کسی احمدی لڑکی کا نکاح غیر احمدی لڑکے سے کر دیا جائے تو اس لڑکی کو احمدی فرقے سے نکال دیا جاتا ہے۔
گواہ نے بتایا کہ ربوہ کی ٹاؤن کمیٹی کا انتظام امور عامہ کرتا ہے۔ جس وقت میں نے ربوہ چھوڑا تھا اس وقت کمیٹی کے چیئرمین مرزا ناصر احمد کے بھائی مرزا انور احمد تھے۔ کمیٹی کے فیصلوں پر محلے کے صدر کام کرتے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ احمدیہ جماعت کی مجلس مشاورت کا صدر خلیفہ وقت ہوتا ہے اور مجلس کے کئی ممبر ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ واٹر سپلائی سکیم ۱۹۷۲ء میں امور عامہ نے اپنے کنٹرول میں لے لی تھی۔ اس سے قبل سکیم کا انتظام ٹاؤن کمیٹی کے سپرد تھا۔
گواہ نے کہا کہ میرے والد اس دفتر میں سپرنٹنڈنٹ تھے اور اس محکمے کے ذمے ربوہ کی تمام جائیداد کی خرید وفروخت کرنے کا کام ہے۔ کمیٹی یہ خیال بھی رکھتی ہے کہ ربوہ میں کوئی جائیداد کسی غیر احمدی کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ زمین کی خرید وفروخت یا گروی رکھنے کا کام دفتر کمیٹی آبادی کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ گواہ نے کہا کہ ربوہ میں خواتین کی تنظیمیں بھی ہیں جہاں لڑکیوں اور عورتوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے تاکہ ان کی ذہنیت غلامانہ ہو جائے۔ گواہ نے کہا کہ ربوہ کے صدر عمومی چوہدری بشیر احمد کے تحت ہر محلے میں ایک صدر کام کرتا ہے۔ ہر محلے کے خدام کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک زعیم بنایا جاتا ہے۔ اس زعیم کے تحت ایک سیکرٹری عمومی بھی ہوتا ہے۔ سیکرٹری کا کام ضرورت پڑنے پر رضا کاروں کو جمع کرنا ہوتا ہے۔ گواہ نے بتایا کہ بلوہ کرنے اور غنڈہ گردی کرانے کے لئے سیکرٹری انتظام کرتا ہے۔ رضا کاروں میں پندرہ سے ۵۲ سال تک کی عمر کے افراد شامل کئے جاتے ہیں۔ تمام سرگرمیوں کے لئے صدر محلہ جو عمومی کے ماتحت ہوتا ہے، مشورے حاصل کرتا ہے۔ جماعت کے مرکز کا سربراہ خلیفہ وقت ہوتا ہے۔ جب خلیفہ وقت مرکز سے باہر جاتا ہے تو اپنا قائم مقام امیر جماعت ربوہ مقرر کرتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ جن دنوں میں، میں ربوہ میں تھا اس وقت مرزا منصور احمد جو مرزا ناصر احمد کے رشتے دار اور مشیر خاص ہیں۔ ناظر امور عامہ تھے۔ گواہ نے کہا کہ مرزا ناصر احمد کے بھائی مرزا طاہر احمد نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے لئے ربوہ کے احمدیوں کو ہدایت کی تھی۔ ۱۹۷۲ء تک مرزا طاہر احمد وقف جدید کے سربراہ تھے۔ ان کے قانونی مشیروں میں مسٹر ظفر اللہ خاں چوہدری، عزیز احمد باجوہ ریٹائرڈ سیشن جج اور مرزا عبدالحق ہیں۔ گواہ نے کہا کہ ۲۹ مئی کو جب ہنگامہ ہوا تھا اس روز شام کو چوہدری عزیز احمد باجوہ ربوہ گئے اور اگلے روز واپس آ گئے۔ گواہ نے کہا چوہدری عزیز احمد باجوہ میرے خالو چوہدری مسٹر عبداللہ باجوہ کے بڑے بھائی ہیں۔ گواہ نے کہا کہ مرزا ناصر احمد نے چوہدری عزیز احمد باجوہ کو ربوہ بلایا تھا۔ گواہ نے کہا کہ جماعت کے سربراہ کے حکم کے بغیر ربوہ میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ احکام زبانی اور تحریری دیئے جاتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کے احکامات متعلقہ شعبے کو مرزا منصور احمد کے ذریعے بھجوا دیئے جاتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تنظیم رابعہ انقلابیہ
گواہ نے بتایا کہ ۱۹؍ اگست ۱۹۷۴ء کو امور عامہ ربوہ کے ناظر نے ربوہ سے باہر احمدی جماعتوں کو ایک خط لکھا کہ کسی قسم کے بھی حالات پیدا ہو جائیں تم نے اپنے گھروں کو نہیں چھوڑنا اور حالات کا مقابلہ کرنا۔ گواہ نے کہا کہ اس کی نقل لاہور کے امیر جماعت سے مل سکتی ہے۔ اصل کاپی امور عامہ ربوہ کے دفتر میں موجود ہے۔ اس موقعہ پر گواہ نے جاری ہونے والے اس خط کا نمبر بھی عدالت کو بتایا۔ گواہ نے کہا کہ اس خط کی کاپیاں پاکستان میں موجود تمام احمدیوں کے امیر جماعت کو روانہ کی گئی تھیں۔ گواہ نے بتایا کہ ایک خفیہ تنظیم جس کا نام رابعہ انقلابیہ تھا، بنی۔ جس نے کچھ لوگوں کو خط بھیجے کہ انہیں ربوہ کی انتظامیہ کے ظلم وتشدد سے نجات دلائی جائے۔ گواہ نے اس موقع پر خود کو بھیجے ہوئے تنظیم کی طرف سے دو خطوط عدالت میں پیش کئے۔ گواہ نے بتایا کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں غیر احمدی لڑکے بھی پڑھتے ہیں۔ مگر کالج کا عملہ احمدیوں پر مشتمل ہے۔ گواہ نے ٹربیونل کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ احمدیوں کا سلوک اچھا ہے کہ یہ ظاہر نہیں ہونے دیا جاتا کہ لڑکے غیر احمدی ہیں۔ انہیں وظائف وغیرہ بھی دیئے جاتے ہیں۔
گواہ نے بتایا کہ ۱۹۷۲ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں ایک طالب علم جلیل شاہ کو، جو مرزا ناصر احمد کے رشتے دار ہیں، غیر قانونی طور پر یونین کا صدر بنا دیا گیا۔ طلباء نے اس بات کی مخالفت کی اور ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مجھے احمدی اور غیر احمدی لڑکوں کی حمایت حاصل ہوگئی تھی۔ ۵؍ نومبر ۱۹۷۲ء کو ایک جلسہ میں تقریر کے دوران کالج کے سٹاف کے دو افراد نے جن میں مرزا ناصر احمد کے بھتیجے مظفر احمد بھی شامل تھے، مجھے زدوکوب کیا۔ کالج کے پرنسپل نے امور عامہ کو ٹیلیفون کیا۔ امور عامہ کے دفتر سے ایک شخص مجھے لینے کے لئے کالج آیا۔ مگر طلباء کی مزاحمت پر یہ شخص مجھے اپنے ہمراہ لے جانے میں ناکام ہوا۔ گواہ نے کہا کہ اگلے روز یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن (یہ بھی ہماری تنظیم تھی) نے کچھ اشتہار چھپوائے۔ مگر ایک دوست سے یہ پمفلٹ چھین لئے گئے۔ اشتہار کی ایک نقل عدالت میں پیش کی گئی جسے ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا۔ ۵؍ نومبر کو جب امور عامہ کے دفتر سے آنے والا شخص واپس چلا گیا تو میرے والد کالج آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے ناصر احمد نے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ اپنے لڑکے کو کالج سے لے آؤ۔ میرے والد کے ہمراہ چوہدری غلام مرتضیٰ اور چوہدری ناصر الدین بھی تھے۔ میں اپنے والد کے ساتھ گھر چلا گیا۔ اس واقعہ کے پندرہ روز بعد میرے والد نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ فوراً ربوہ چھوڑ دو اور اپنے بیٹے کا کالج تبدیل کرالو۔ میں نے اپنے والد کی حالت دیکھ کر کالج سے تبدیلی کرالی۔ گواہ نے کہا کہ ۶؍ نومبر کو میں نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر عبدالخالق کو تمام واقعات سے آگاہ کیا۔ چند روز بعد طلباء کے ایک وفد کو گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے کالج کے پرنسپل کے نام ایک خط دیا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ طلباء کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ یہ خط لے کر میں اور میرے دوست ظہیر احمد چٹھہ جوائنٹ سیکرٹری یونائیٹڈ سٹوڈنٹس فیڈریشن کالج کے پرنسپل کے پاس ربوہ گئے۔ پرنسپل نے خط پڑھ کر پھاڑ دیا اور کہا کہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں، ربوہ ہمارا علاقہ ہے۔
گواہ رفیق احمد باجوہ نے کہا کہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو میں چنیوٹ سے ربوہ پہنچ گیا۔ میں نے راستے میں دیکھا کہ خدام الاحمدیہ کی جلسہ گاہ، جس کا نام ایوان محمود ہے، کے اردگرد تین سو کے قریب رضا کار ہاکیوں اور ڈنڈوں سے مسلح پھر رہے ہیں۔ اس جگہ مرزا ناصر احمد کا لڑکا مرزا لقمان اور مرزا ناصر کے دو باڈی گارڈ مرزا ناصر کی وین میں بیٹھے تھے۔ میرا گھر بھی اسی جگہ تھا جہاں یہ لوگ موجود تھے۔ میں دوسرے راستے سے اپنے گھر پہنچ گیا۔ اس کے بعد ہی کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر میری والدہ نے دروازہ نہ کھولنے دیا۔ مجھے بتایا کہ تمہارے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۵۶۵ ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
والد کو کسی نے دفتر میں بتایا ہے کہ مرزا ناصر احمد اور مرزا منصور احمد نے فیصلہ کیا ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے۔ کیونکہ تمہارے پاس جماعت کے کئی راز ہیں۔ گواہ نے کہا کہ میرے گھر کے باہر خدام الاحمدیہ کا منتظم سمیع اللہ سیال کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ سات رضا کار تھے۔ یہ لوگ میرے گھر کا دروازہ کھلوانے کی کوشش کرتے رہے۔ سمیع اللہ سیال نے باہر سے کہا کہ ہمیں خلیفہ کا حکم ہے کہ لڑکے کو ہر قیمت پر لے کر آئیں۔ میری بہنوں اور والدہ نے رونا شروع کر دیا۔ والد صاحب گھر پر موجود نہ تھے۔
چند لڑکے جن میں مرزا لقمان اور بشیر قریشی بھی شامل تھے۔ میرے گھر کی دیوار پر چڑھ گئے۔ میری پھوپھی زاد بہن نے جو اس وقت گھر میں موجود تھی، ان افراد پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے جس پر یہ لوگ دیوار سے نیچے اتر گئے۔ محاصرہ جاری تھا۔ محاصرہ کرنے والوں میں کالج کے دو پروفیسر بھی شامل تھے۔ اتنے میں میرے والد پہنچے۔ میرے والد نے گھر آنے سے پہلے لاہور میں مقیم میرے خالو ریٹائرڈ میجر ابوالخیر باجوہ کو ڈاک خانے جاکر فون کیا اور انہیں سارا واقعہ بتایا میرے خالو نے اپنے لڑکے وسیم باجوہ اور ایک رشتہ دار عظیم باجوہ کو مداخلت کرنے کے لئے ربوہ روانہ کر دیا تاکہ یہ لوگ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ہمیں بچا سکیں۔ گواہ نے کہا کہ میرے گھر کا گھیراؤ ساڑھے چار بجے سہ پہر شروع ہوا تھا اور رات ۹ بجے کے قریب ربوہ چوکی کا اے۔ ایس آئی سادہ کپڑوں میں آیا۔ جس نے میرے والد سے کہا کہ میں علاقے میں گڑبڑ ہونے کا ذمہ دار ہوں۔ لہٰذا اپنے لڑکے کو میرے حوالے کر دو۔ میرے والد نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
رفیق احمد باجوہ نے کہا ساڑھے نو بجے ربوہ کے ناظم جائیداد چوہدری صلاح الدین ہمارے گھر آئے اور میرے والد کو مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی وہ یہ کہہ کر چلے گئے کہ میں مرزا منصور احمد سے جا کر بات کرلوں۔ میرے والد نے بتایا کہ مجھے قائم مقام وکیل التبشیر نسیم سیفی نے کہا ہے کہ تمہارا لڑکا جا کر کالج کے پرنسپل سے معافی مانگ لے۔ ورنہ تم ۲۴ گھنٹے کے اندر ربوہ کا علاقہ چھوڑ دو۔ گواہ نے کہا کہ چوہدری صلاح الدین نے آکر میرے والد سے کہا کہ تم فکر نہ کرو۔ اس اثناء میں میرے خالہ زاد بھائی وسیم باجوہ وغیرہ ربوہ پہنچ گئے۔ رات ۷ بجے کے قریب چوہدری صلاح الدین مجھے وسیم باجوہ کی کار میں بس اسٹینڈ لے کر آئے۔ وہ خود بس اسٹینڈ پر اتر کر واپس چلے گئے اور میں چنیوٹ کے قریب واقع گاؤں قاضی والا آ گیا۔ میرے ساتھ وسیم باجوہ اور عظیم باجوہ بھی تھے۔ گواہ نے کہا کہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو میرے والد نے ربوہ چھوڑ دیا اور سامان وغیرہ لے کر چونڈہ آ گئے۔ گواہ نے کہا میرے والد نے اپنے دفتر کے افسر سے کہا کہ مجھے پنشن کی رقم میں سے کچھ رقم دے دی جائے۔ مگر انہوں نے رقم دینے سے انکار کر دیا۔
گواہ نے کہا کہ ربوہ چھوڑنے کے چار ماہ تک میرے والد کو کوئی رقم ادا نہ کی گئی۔ گواہ نے کہا کہ میں ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو ایک اے۔ ایس آئی کے پاس رپورٹ لکھوانے چوکی گیا تھا۔ مگر وہاں امور عامہ کے دفتر کا ایک کلرک رشید احمد آ گیا۔ جس کو دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گیا اور واپس آ گیا۔ گواہ نے کہا کہ میں نے ڈی۔ ایس۔ پی چنیوٹ سے بھی رابطہ قائم کیا تھا۔ مگر انہوں نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ گواہ نے کہا کہ متذکرہ بالا واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے۔ میں احمدی عقیدے سے بددل ہو گیا اور میں نے اپنا عقیدہ بدل لیا۔ گواہ نے بتایا کہ اس کے بعد ۱۹۷۳ء میں امیر جماعت سیالکوٹ چوہدری محمد اسلم کاہلوں نے میرے خلاف ایک خط امور عامہ ربوہ کو لکھا۔ اس موقع پر اس خط کی ایک نقل بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ رفیق احمد باجوہ نے بتایا کہ جاپان کے مشن کے مبلغ ریٹائرڈ میجر عبدالحمید کے لڑکے اسکواڈرن لیڈر (پاک فضائیہ ) راجہ عبدالمالک سے میری بڑی بہن کا نکاح دو سال قبل ہوا تھا۔ مگر مرزا ناصر احمد نے راجہ عبدالمالک کو حکم دیا کہ ہماری اجازت کے بغیر رخصتی نہیں ہوگی۔ چنانچہ دو سال گزر جانے کے باوجود میری بہن اپنے شوہر کے گھر آباد نہیں ہوسکی۔ گواہ نے کہا کہ میرے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والد کے قریبی رشتہ داروں نے ہمارا سوشل بائیکاٹ کر دیا اور اس کوشش میں مصروف رہے کہ ہمیں چونڈہ سے بھی نکال دیا جائے۔ ان کوششوں میں چوہدری نصیر احمد باجوہ پیش پیش تھے۔ گواہ نے بتایا کہ چونڈہ کے احمدیوں نے مجھ پر دو مرتبہ حملہ کیا۔ ایک مرتبہ فائرنگ بھی کی گئی۔ جس کی تحقیقات کا حکم ڈپٹی کمشنر نے دیا اور ایک مجسٹریٹ جنوری ۱۹۷۳ء سے اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ ہمیں مختلف طریقوں سے خوفزدہ کیا گیا تا کہ ہم دوبارہ جماعت احمدیہ سے منسلک ہو جائیں۔ گواہ نے بتایا کہ میرے دادا کو اکسایا گیا کہ وہ میرے والد یعنی اپنے بیٹے کو جائیداد سے محروم کر دیں۔
(امروز مورخہ ۲۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
جمعیتہ العلمائے پاکستان اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے مقامی ایڈووکیٹ سی ایم لطیف رانا نے مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی کے روبرو ایک درخواست پیش کی ہے۔ جس میں ٹربیونل سے استدعا کی گئی ہے کہ سر ظفر اللہ خان کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے۔ کیونکہ ان کا جو بیان ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایسی معلومات اور شواہد ہیں جن سے تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سر ظفر اللہ خان جو اس وقت لندن میں ہیں۔ عنقریب مرزا ناصر احمد کو بعض ہدایات دینے کے لئے ربوہ آ رہے ہیں۔ لہٰذا ٹربیونل سے استدعا ہے کہ انہیں بھی مرزا ناصر احمد کے ذریعے ٹربیونل میں طلب کیا جائے۔ ٹربیونل نے فاضل ایڈووکیٹ کو ہدایت کی ہے کہ سر ظفر اللہ خاں جیسے ہی ربوہ پہنچیں۔ اسی وقت ٹربیونل کو مطلع کیا جائے۔
(امروز مورخہ ۲۹؍ جون ۱۹۷۴ء)
یکم جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
یکم جولائی کو گواہ رفیق احمد باجوہ نے تحفظ دینے کی درخواست کی۔ گواہ نے کہا کہ میرے دادا نے میرے والد کو دھمکی دی ہے۔ ٹربیونل نے کہا کہ جہاں تک گواہ کی سیفٹی کا تعلق ہے، یہ حکومت کا فرض ہے۔ شروع میں ہی گواہ نے ٹربیونل کے علم میں یہ بات لائی کہ نہ صرف اس کا بلکہ محمد صالح گواہ کا بھی مشکوک عناصر کی طرف سے تعاقب کیا جا رہا ہے اور وہ دونوں اپنی جان کو خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
محمد لطیف رانا صاحب کی جرح کے جواب میں
ربوہ میں لوگوں کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے گھروں میں نظر بند بھی کیا جاتا ہے۔ جب مرزا بشیر الدین محمود احمد کی موت کے بعد اس کے جانشین کا انتخاب ہونا تھا تو مرزا رفیع احمد برادر ناصر نے انتخاب لڑا مگر ناکام رہے۔ اس کے بعد موجودہ خلیفہ نے انہیں گھر میں نظر بند کئے رکھا۔ ان کی تقریر پر پابندی لگا دی گئی۔ اس طرح کی ناکہ بندی بھی ربوہ میں عام طور پر کی جاتی ہے۔ جب ۱۹۷۲ء میں رابعہ انقلابیہ تنظیم نے ربوہ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس میٹنگ کو ناکام کرنے کے لئے ناکہ بندی کی گئی تھی۔ ”رابعہ انقلابیہ“ کمیونٹی کے استحصالی نظام جو موجودہ خلیفہ جاری رکھے ہوئے ہیں کے خلاف چلائی جانے والا ایک تحریکی نظام ہے۔ مرزا ناصر احمد موجودہ خلیفہ کے ایک باورچی جس کا نام محمد علی سبزی فروش تھا، کو چند ماہ بعد قتل کر دیا گیا۔ امور عامہ کے کہنے پر کیس درج ہوا تھا۔ مگر اسے ختم کر دیا گیا اور کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ میں اس باورچی کو جانتا تھا۔ ربوہ میں بات مشہور تھی کہ وہ خلیفہ کی گھریلو زندگی پر بازار میں تبصرہ کیا کرتا تھا۔ اس کو خلیفہ صاحب کے گھر سے ہٹا دیا گیا۔ اس نے پھل بیچنا شروع کر دیا۔ کیا مگر وہ باتیں کرتا رہا۔ دو اشخاص لطیف احمد اور بدر دین حادثے میں مر گئے جو گھوڑ دوڑ کے دوران ہوا۔ یہ گھوڑا دوڑ ۱۹۷۴ء میں ربوہ میں ہوئی تھی۔ اس واقعہ کی کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی نہ ہی کوئی آدمی گرفتار ہوا۔ اگر کوئی پیدائشی احمدی اپنے عقیدے سے منحرف ہو جائے اور جماعت سے نکل جائے تو اس کا نہ صرف سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے بلکہ اس پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ مجلس مشاورت کی رپورٹ برائے ۱۹۶۳ء سے یہ بات ظاہر ہے کہ سرکاری ملازمین کو جماعت کے اثر میں لایا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ مختلف کالجوں سے احمدی طلباء لاہور میں آتے ہیں تاکہ غیر احمدیوں کے ساتھ احتجاجی جلوسوں میں شامل ہوں اور وہ ایسے جلوسوں کی قیادت بھی کرتے ہیں جیسے کہ وہ غیر احمدی ہوں اور اس طرح وہ جلوس کو خاتمے تک کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قادیانی مختلف جماعتوں اور تنظیموں بشمول کمیونسٹوں کے اندر Infiltrate کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مسٹر کوثر نیازی چونڈہ سے اپنے انتخاب میں کامیابی کے بعد ربوہ گئے تھے۔
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
مرزا وسیم احمد، مرزا ناصر احمد کے بھائی ہیں۔ وہ امیر جماعت احمدیہ قادیان ہیں اور آج کل بھارت میں مقیم ہیں۔ جماعت احمدیہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ تمام احمدیوں کی تنظیمیں ربوہ کی جماعت کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ مرزا وسیم احمد صاحب نے آل انڈیا ریڈیو سے ۱۶؍جون ۱۹۷۴ء کے بعد اسی نوعیت کی تقریر کی تھی جس نوعیت کی بات سرظفر اللہ خان نے لندن میں پریس کانفرنس میں کی تھی۔ یہ درست ہے کہ قادیان سے ہفتہ وار البدر کے نام سے ایک پرچہ نکلتا ہے جو ربوہ کے الفضل کا متبادل پرچہ ہے۔ میں جب ربوہ میں تھا، تو میں یہ پرچہ خلافت لائبریری میں پڑھتا رہا ہوں۔ اس پرچے کی پالیسی حکومت بھارت سے وفاداری پر مبنی ہے۔ مرزا وسیم احمد ربوہ آتے رہے ہیں۔ میں نے ان کو دو تین مرتبہ دیکھا تھا۔ ربوہ کا رابطہ قادیان سے بذریعہ انگلستان موجود ہے۔ ۱۹۶۵ء میں، میں نے مرزا وسیم احمد کی تقریر آل انڈیا ریڈیو سے سنی تھی، جو جنگ کے متعلق تھی اور ہندوستان کی حمایت میں تھی۔ مرزا وسیم احمد براہ راست خلافت احمدیہ کے وفادار ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر نہ کوئی بیان دے سکتے ہیں نہ تقریر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل میں رہنے والے احمدی اسرائیل کے وفادار ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ اپنی حکومت کے وفادار ہوں جو بات جماعت احمدیہ قادیان سے متعلق ہے، وہ جماعت احمدیہ اسرائیل سے متعلق بھی ہے۔ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ربوہ کی عبادت گاہوں میں شیرینی بانٹی گئی تھی۔ جب یہ معلوم ہوا تھا کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی جنگ عربوں کے خلاف جیت لی ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کی عربوں پر فتح کی خوشی میں قصر خلافت ربوہ میں جشن منایا گیا۔
میں، مرزا عبد السمیع اسٹیشن ماسٹر ربوہ کو جانتا ہوں۔ مرزا عبد السمیع ربوہ میں رہنے والے دوسرے احمدیوں کی طرح نظارت امور عامہ کا رکن ہے۔ تمام احمدی سرکاری ملازم خواہ وہ ربوہ میں رہتے ہوں یا نہ، اور خواہ وہ اہم عہدے پر ہوں یا عام مزدور، وہ سب امور عامہ کے ارکان ہوتے ہیں اور وہ اپنے اپنے محکموں کی رپورٹیں امور عامہ کو بھیجنے کے پابند ہیں۔ لاہور میں ہفتہ روزہ ’لاہور‘ احمدیہ جماعت کا سیاسی ترجمان ہے۔ اس کے ایڈیٹر کا نام محمد صدیق ثاقب زیروی ہے۔ میں اس رسالے کو پڑھتا رہا ہوں۔ یہ پرچہ شاہ فیصل اور کرنل قذافی کے خلاف مضامین شائع کرتا رہا ہے۔ یہ پرچہ ابھی تک بند نہیں کیا گیا۔
میں حکیم ابراہیم مشنری یوگنڈا کو جانتا ہوں کیونکہ ان کا لڑکا میرا دوست ہے۔ یہ پاکستان میں دو تین سال پہلے آئے تھے۔ کوئی بیرونی مشنری، خلافت ربوہ کی مرضی کے خلاف پاکستان میں آکر کوئی بیان اخبارات کو نہیں دے سکتا ہے۔ نہ پریس کانفرنس کر سکتا ہے نہ کوئی تقریر ربوہ کی خلافت کی اجازت کے بغیر کر سکتا ہے۔ حکیم ابراہیم کا ربوہ میں اپنا ایک گھر ہے۔ میں نے وہ انگوٹھی دیکھ لی ہے جو فاضل کونسل نے مجھے دکھائی ہے۔ اس پر قرآنی آیت: ”الیس الله بکاف عبدہ“ درج ہے۔ احمدی سرکاری ملازموں کے لئے اس انگوٹھی کے پہننے کی خاص ہدایت ہے۔ دوسرے احمدی بھی اس انگوٹھی کو پہن سکتے ہیں۔ اسے شناخت کے لئے پہنا جاتا ہے۔ خلافت ربوہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ دنیا بھر کے احمدیوں کے حالات سے واقف رہے اور ان کو اپنے حالات سے واقف رکھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجھے یہ اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ۲۹ مئی کے واقعہ کے فوراً بعد ان افراد کو جنہوں نے طلباء پر حملے میں حصہ لیا تھا۔ قصر خلافت میں جمع کر کے رکھا گیا تھا تاکہ ان کو گرفتار نہ کیا جاسکے اور شناخت نہ کیا جاسکے۔ میری رائے میں یہ کام اس لئے کیا گیا کہ اصل مجرموں اور بااثر لوگوں کو گرفتاری سے بچایا جائے اور اپنی مرضی کے لوگوں کو گرفتار کرایا جائے۔
میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں
انصار اللہ کا کام یہ ہے کہ احمدی بچوں کی برین واشنگ کریں۔ احمدی بچوں کو عام مسلمانوں سے الگ بنایا جاتا ہے اور عامتہ المسلمین کو احمدی کافر سمجھتے ہیں۔ میرے والد اب بھی احمدی ہیں۔ اسی طرح میرے دادا بھی احمدی ہیں۔ میں نے ملک رفیق احمد انچارج فرقان فورس کو خاکی یونیفارم میں دیکھا تھا۔ جب کہ مسلمانوں اور احمدیوں کے درمیان ۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۱ء میں چپقلش چیچہ وطنی ضلع ساہیوال میں تھی۔ کوئی احمدی سرکاری ملازم، خلیفہ کے حکم کو اپنے افسر یا حکومت کے حکم پر فوقیت دے گا۔ خلیفہ صاحب کی ہدایت پر ربوہ کالج کی انتظامیہ نے پراسپکٹس کی خلاف ورزی کی تھی۔ مجھے سیالکوٹ میں ربوہ کی ہدایات کے تحت ہراساں کیا جا رہا ہے۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
احمدیہ جماعت نے خلیفہ صاحب کے حکم سے پچھلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مدد کی تھی۔ ربوہ میں آنے والے اہم پاکستانی مہمان دارالضیافت میں ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ان کا اندراج ایک رجسٹر میں کیا جاتا ہے جو دارالضیافت میں رکھا جاتا ہے۔ یہ احمدی جماعت کی پالیسی ہے کہ غیر احمدیوں پر تشدد کیا جائے۔ اہم مہمانوں کے دارالضیافت میں قیام وطعام کے اخراجات کمیونٹی ادا کرتی ہے۔ مجھے مرزا شفیق احمد (سابق قادیانی) میرے دوست نے بتایا تھا کہ ۲۹ مئی کو لوگوں کو ربوہ کے باہر سے بھی بلایا گیا تھا تاکہ ۲۹ مئی کے فساد میں ربوہ والوں کے ساتھ شامل ہوں۔ ایک قافلہ مجیب درو کی قیادت میں لاہور سے بھی گیا تھا۔ جماعت کی جائیداد خلیفہ کی جائیداد سے الگ ہے۔ خلیفہ کی جائیداد دوسرے ارکان خاندان کی جائیداد سے الگ ہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی جائیداد ہے۔ جماعت کی جائیداد پورے ملک میں ہے۔
مسٹر شباب مفتی صاحب کی جرح کے جواب میں
۲۸ مئی ۱۹۷۴ء کو ایس ایچ او چونڈہ سید سوار علی شاہ جو بہت قابل پولیس آفیسر تھا کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں دس دن تک کوئی ایس ایچ او نہ رہا۔ ۲۹ مئی کو ربوہ کا واقعہ ہوا۔ ۳۰ مئی کو چونڈہ کے تمام احمدی، ایس ایچ او کے تبادلے پر اس قدر جرأت مند ہوئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مسلح کر کے غیر احمدیوں کو چیلنج کیا اور علی الاعلان گالیاں دیں اور یہ کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو۔ وہاں کوئی بات اس لئے نہ ہوئی کہ غیر احمدیوں نے مسلح احمدیوں کے ڈر کے مارے کوئی کارروائی نہ کی۔ مقامی پولیس چونڈہ اس دن خاموش تماشائی بنی رہی۔ احمدی نہ صرف ربوہ میں بلکہ ربوہ سے باہر بھی مؤثر ہیں۔
مسٹر ایم ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
سربراہ کمیونٹی سے ملنے کے لئے اس کے پرائیویٹ سیکرٹری کو انٹرویو دینا پڑتا ہے اور ملاقات سے پہلے ملاقاتی کی تلاشی لی جاتی ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، جماعت نے گورنمنٹ کے ڈیفنس فنڈ میں چندہ نہیں دیا تھا۔ یہ درست ہے کہ غیر احمدی نوجوانوں کو احمدیت کی طرف لانے کے لئے زندگی میں بہتر مواقع اور بہتر شادی کا لالچ دیا جاتا ہے۔ احمدیت قبول کرنے کے لئے تحریری معاہدہ جماعت کو لکھ کر دینا پڑتا ہے۔ مجھے میرے والد صاحب کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ ربوہ کے قبرستان میں کچھ اسلحہ دفن کیا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر احسان وائیں کی جرح کے جواب میں
میں نے ابھی تک پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا لیکن میں ان سے اب متفق نہیں رہا ہوں۔ میں نے اس امید پر پیپلز پارٹی میں شرکت کی تھی کہ وہ میری مدد کرے گی اور احمدیہ جماعت کی غلامی سے نجات دلائے گی۔ مگر پارٹی نے مجھے نا امید کر دیا ہے۔ ۱۹۷۲ء تک تو یہی حالت تھی کہ پارٹی جماعت کے مفاد میں کام کرتی تھی اور جماعت احمدیہ پیپلز پارٹی کے مفاد میں کام کرتی ہے۔ میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ مرزا ناصر احمد نے پیپلز پارٹی کے ایماء پر ۲۹؍مئی کا فساد کرایا۔ میں نہیں جانتا کہ کتنے ایم.پی.اے اور ایم.این.اے احمدی ہیں۔ لیکن کچھ اراکین اسمبلی احمدی ہیں۔ وہ سب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس افسروں نے میری شکایات پر کوئی کارروائی اس لئے نہ کی کہ ان کے کہنے کے مطابق پیپلز پارٹی احمدی جماعت کی پشت پر ہے۔
رفیق احمد باجوہ صاحب کی جرح کے جواب میں
نذر محمد پٹھان ربوہ سے محکمہ جاسوسی کا انچارج ہے جو امور عامہ کے تحت کام کرتا ہے۔ محکمہ جاسوسی کے فرائض یہ ہیں کہ مختلف غیر احمدی تنظیموں کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ وہ مختلف تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومت کی کارروائیوں سے بھی جماعت کو باخبر رکھتی ہے۔ یہ درست ہے ربوہ کی جماعت اور قادیان کی تنظیم دراصل سیاسی نوعیت کی ہیں، لیکن مذہب کی آڑ میں بیرون ملک مشنوں کی سیاسی پالیسی محکمہ وکیل التبشیر متعین کرتا ہے۔ مرزا مبارک احمد برادر مرزا ناصر احمد اس کے انچارج ہیں۔ مرزا مبارک احمد سال میں دو مرتبہ تمام مشنوں کے صدر مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔ احمدیہ جماعت ہمیشہ سیکولر گورنمنٹ کو ایک غیر سیکولر گورنمنٹ پر فوقیت دیتی ہے۔ احمدیہ جماعت پیپلز پارٹی کی حامی اس لئے ہو گئی کہ وہ غیر مذہبی سوشلسٹک منشور رکھتی تھی۔ یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت کے درمیان اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی کا سوشلسٹ عنصر ابھی تک احمدیہ جماعت کا حامی ہے۔ مرزا عبدالسمیع اسٹیشن ماسٹر، ربوہ کا بااثر آدمی ہے اور جماعت کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ احمدیہ جماعت کا یہ ایمان ہے کہ حکومت وقت کی وفادار رہے۔ لیکن یہ اس وقت تک درست ہے جب تک گورنمنٹ احمدیوں کے خلاف نہ ہو جائے۔ (گواہ نے ایک لفافے میں ایک تحریر ٹربیونل کے سامنے پیش کی جس میں غالباً ربوہ کے رہنے والے گواہوں کے نام تھے) ۱۲؍ بجے وقفہ۔
گواہ نمبر ۳۳...... ثناء اللہ، سرگودھا
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں پیدائشی سنی مسلمان ہوں۔ ربوہ سے ڈیڑھ میل دور جانب مغرب گورنمنٹ نے ایک مائننگ لیز، میسرز اتحاد اینڈ کمپنی کو دی ہوئی ہے۔ میں اس فرم کا حصہ دار ہوں۔ لیز ۱۹۶۶ء میں ملی تھی۔ میں پچھلے دو سال سے وہاں پر بطور حصہ دار کام کر رہا ہوں۔ ہم وہاں سے پتھر مختلف مقاصد کے لئے نکالتے ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں موقعہ پر تقریباً روزانہ جانا پڑتا ہے۔ میں سرگودھا میں رہتا ہوں اور ربوہ کبھی ٹرین کے ذریعے جاتا ہوں، کبھی بذریعہ بس۔ ۲۹؍مئی کو میں چناب ایکسپریس کے ذریعے ربوہ پہنچا تھا۔ سرگودھا اسٹیشن پر میں نے چار افراد کو گاڑی پر سوار ہوتے دیکھا۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ظہور احمد، مسعود احمد، منصور احمد اور گلزار احمد۔ میں ان چاروں کو جانتا تھا کیونکہ وہ سرگودھا کے رہنے والے ہیں۔ ظہور احمد اور مسعود احمد کی چوک ملت آباد سرگودھا شہر میں دوکان ہے۔ مسٹر مسعود احمد طالب علم ہے۔ گلزار احمد کوٹ مومن میں دوکاندار ہے۔ منصور احمد میرے پاس آ کر گاڑی میں میرے ہی ڈبے میں لالیاں تک بیٹھا رہا۔ لیکن دوسرے تینوں ہر اسٹیشن پر اتر جاتے اور دوسری بوگیوں میں جھانکتے۔ یہ چاروں اپنے آپ کو مرزائی کہتے ہیں۔ ان کو مرزائی کی حیثیت سے جانا جاتا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ منصور احمد نے اسی ڈبے میں سفر کیا جس میں میں نے کیا تھا۔ دوسروں نے، دوسرے ڈبوں میں سفر کیا۔ منصور احمد بھی لالیاں میں اتر گئے۔ اگلا اسٹیشن ربوہ تھا۔ جب گاڑی بیرونی سگنل پر پہنچی تو میں اپنی سیٹ سے اٹھا تاکہ اسٹیشن آنے پر اتر جاؤں۔ آؤٹر سگنل کے برابر سے میں نے دیکھا کہ اسٹیشن پر پلیٹ فارم کے خاتمے کے قریب غیر معمولی ہجوم تھا۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچی تو کئی لوگوں نے جو گاڑی میں سوار تھے پلیٹ فارم پر موجود ہجوم کو خاص طریقے سے گاڑی کی طرف ہاتھ ہلا کر بلایا۔ جیسے ہی گاڑی آہستہ ہوئی ہجوم گاڑی کے قریب ان مقامات پر ہو گیا جہاں سے اشارہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت ہجوم نے نعرہ لگایا غلام احمد کی جے۔ میرا ڈبہ اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کی اگلی طرف کھڑا ہوا۔ وہاں سے دفتر نظر آتا تھا۔ گاڑی سے اتر کر میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں چلا آیا۔ کیونکہ میں مرزا عبدالسمیع ایس ایم کو جانتا تھا۔ دفتر میں چوہدری بشیر احمد عمومی اور تین چار آدمی بیٹھے تھے۔ چوہدری بشیر احمد ٹیلیفون پر بات کر رہا تھا۔ اسٹیشن ماسٹر اپنے دفتر میں موجود نہ تھا۔ میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں نہ گیا۔ کیونکہ بشیر احمد کو فون پر مصروف دیکھا۔ میں اس کے دفتر کے سامنے کھڑا ہو گیا اور وقوعہ دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ دو لڑکوں کو اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کے سامنے والے ڈبے سے کھینچا گیا اور مارا گیا۔ ان مارنے والوں میں عبدالرشید دوکاندار، چمن عباس اور عبدالغفور سابق کلرک امور عامہ کو دیکھا وہ دونوں ربوہ کے رہنے والے احمدی ہیں۔ مارنے والوں کی تعداد پندرہ بیس سے زائد تھی۔ ان کے پاس ہاکیاں اور ہنٹر بھی تھے۔
چونکہ گاڑی کے آخری حصے پر زیادہ ہنگامہ تھا میں اس طرف چلا گیا اور پلیٹ فارم کے آخری سرے پر کھڑا ہو گیا۔ نعرے لگ رہے تھے۔ احمدیت زندہ باد۔ غلام احمد کی جے اور پکڑو مارو کی آوازیں آ رہی تھیں۔ زیادہ ہجوم پلیٹ فارم کے آخری سرے پر نیچے تھا۔ پلیٹ فارم پر اسٹیشن ماسٹر کے دفتر کے سامنے بھی ہجوم تھا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ آدمی تھے۔ پل پر بھی آدمی تھے، کل ہجوم تین چار ہزار کے قریب تھا۔ پیچھے کی طرف ہنگامہ جس ڈبے پر زیادہ تھا اس کے اندر لوگوں کو مارا جا رہا تھا۔ پلیٹ فارم پر کچھ لوگ دوسروں کو اکسا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ احمدیت کا حق ادا کرو۔ یہ ڈبہ پلیٹ فارم کے پیچھے تھا۔
اکسانے والوں میں ملک عبدالحمید چیمہ، ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار، مولوی برکات احمد تھے۔ یہ سب ربوہ شہر کے رہنے والے احمدی تھے۔ میں نے دو تین لوگوں سے پوچھنے کی کوشش کی۔ یہ ہنگامہ کیوں ہو رہا ہے۔ دو تین آدمیوں نے جلدی سے یہی جواب دیا کہ احمدیت کا حق ادا کرو۔ کچھ دیر ہنگامہ ہوتا رہا۔ اکسانے والوں نے حملہ آوروں کو واپس بلا لیا اور ان کو رکنے کے لئے کہا۔ کیونکہ ان کے خیال میں کافی ہو گیا تھا۔ جب گاڑی چل دی تو میں نے ریلوے لائن کے دونوں طرف بہت سا سامان بکھرا ہوا پایا۔ پلیٹ فارم کے اس سرے سے ۱۰۰ گز کے فاصلے پر سر ظفر اللہ خان کی کوٹھی یارڈ سائیڈ پر ہے۔ میں نے اس کوٹھی کے برآمدہ میں اسٹیشن کی طرف دیکھتے ہوئے چار پانچ آدمیوں کو دیکھا۔ اس ہنگامہ کو دیکھ کر میری طبیعت خراب ہو گئی اور سرگودھا جانے کا فیصلہ کیا۔ میں سڑک کی طرف چلنے لگا جو بس کے اڈے کو جاتی ہے۔ میرے آگے کالج کے لڑکوں کی ایک ٹولی جا رہی تھی جن میں سے ایک کو میں جانتا ہوں۔ اس کا نام شیر باز ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جو کوئی ان کے خلاف بولے گا۔ اس کا یہی حشر ہو گا جو ربوہ اسٹیشن کے وقوعہ کے شکار لوگوں کا ہوا۔ جب میں ظفر اللہ خان کی کوٹھی کے قریب سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ میاں محمد رفیق، مسٹر ظہور احمد باجوہ اور مسٹر راشد اور دو اور آدمی جن کے نام نہیں جانتا، کوٹھی کے برآمدہ میں کھڑے تھے۔ میاں محمد رفیق، خلیفہ کے بھائی ہیں۔ کوٹھی کے گیٹ کے اندر جو باڈی گارڈ تھے، وہ گیٹ پر کھڑے تھے۔ ان کے پاس رائفلیں تھیں جو غالباً جی۔ ۳ رائفلیں تھیں۔ میں وہاں سے بذریعہ بس سرگودھا چلا گیا۔ اگلے دن (۳۰ مئی) میں پھر بذریعہ بس ربوہ گیا۔ جب میں کوائری کی طرف ایک ٹانگہ میں جا رہا تھا تو ایوان محمود کے قریب میاں محمد رفیق، ملک خدا بخش ریٹائرڈ تھانیدار، مسٹر محمد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منور اور کچھ رضا کار تھے۔ جن کے گلے میں رومال باندھے تھے۔ وہ ایوان کے سامنے کھڑے تھے۔ جب مجھے دیکھا تو میاں محمد رفیق نے مجھے کہا: پٹھان تم نے ہمارے خلاف بولنے والوں کا حشر دیکھ لیا ہے۔ میں نے کہا اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ میں وہاں سے کام پر چلا گیا۔ کوائری پر چنیوٹ سے ایک ٹرک پتھر لینے آیا۔ ٹرک ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ چنیوٹ میں ایک جلوس نکلنے والا ہے۔ میں چنیوٹ کی طرف چل پڑا تا کہ دوسرے ٹرک والوں کو روکوں۔ چنیوٹ پہنچ کر میں نے اولڈ بس سٹینڈ حال ٹرک سٹینڈ پر گیا۔ وہاں ہجوم دیکھا۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر شریف دندان ساز مرزائی کے مکان پر ہجوم تھا۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ ایس. پی جھنگ یار محمد خاں بھی تھے۔ وہ ایک لڑکے کو ٹرکوں کے اڈے پر لائے۔ لڑکا زخمی تھا اسے ہسپتال لے جانا تھا۔ ہجوم زیادہ تھا۔ مجھے پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس کے بعد میں سرگودھا چلا آیا۔
جب میں نے ربوہ میں کام شروع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ یا تو ربوہ میں خاندان خلافت کے کسی آدمی کو حصہ دار رکھنا پڑتا ہے یا منافع کا ۱/۴ حصہ جماعت احمدیہ کو دینا پڑتا ہے۔ پیغام لانے والا عبدالمجید بٹ تھا جو انجمن کی طرف سے لایا تھا کہ یا تو کمیونٹی کو ۱/۴ حصہ منافع کا دوں یا کسی ممبر خلافت خاندان کو حصہ دار بناؤں ، میں نے انکار کر دیا۔ مجید بٹ نے مجھے کہا کہ اگر حصہ نہیں دو گے تو جماعت ، ربوہ کی سڑکیں تمہارے لئے بند کر دے گی۔ میری کوائری پر جانے کا اور کوئی راستہ ربوہ شہر میں سے گزرنے کے سوا نہ تھا۔ میں نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر سڑکیں بند کی گئیں تو میں عدالت سے رجوع کروں گا۔ دوسرے دن مجھے میاں منور احمد کا پیغام ملا کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں۔ پہلا پیغام Disregard کر دیں اور بغیر خوف کے اپنا کام کرتے رہیں۔ شیر زمان خان ٹھیکیدار نے یہ پیغام مجھے لا کر دیا۔ شیر زمان مرزائی نہیں ۔ عبادت گاہ اقصیٰ تک پکی سڑک ہے۔ اس کے بعد کچی سڑک ہے جو پہاڑیوں تک جاتی ہے۔ جہاں کوائری ہے۔ میرے ٹرک اس کچے راستے پر چلتے ہیں۔ لیکن ایک مرزائی مبارک احمد کی زمین سے بھی گزرتے ہیں۔ مبارک احمد نے جماعت کے کہنے پر میرے ٹرک اپنی زمین سے گزارنے کی مخالفت کر دی۔ اگر چہ راستہ پچاس ، ساٹھ سالہ پرانا تھا۔ میں نے چنیوٹ کی سول کورٹ میں اپنے حق کے لئے دعویٰ دائر کر دیا۔ سول جج نے مجھے عارضی حکم امتناعی دینے کی درخواست خارج کر دی۔ اس کے بعد احمدیوں نے وہ راستہ مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کے بعد اب میں نے سیدوں کے زمین کے ذریعے متبادل راستہ بنا لیا جو میں اب استعمال کر رہا ہوں۔
نوٹ: گواہ نے کئی مثالیں ربوہ والوں کی لاقانونیت کی دیں جو انہوں نے پچھلے چند سالوں میں کی ہیں۔ ان کے کوائف الگ درج کر لئے گئے ہیں تا کہ ریکارڈ طلب کیا جائے ۔ چار مثالیں عورتوں کے اغواء کی ہیں اور تین قتل کی وارداتوں کی ہیں۔ جن کی اطلاع پولیس کو دی گئی مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔
اعجاز حسین بٹالوی کی جرح کے جواب میں
یہ درست نہیں ہے کہ میں نے واقعہ نہیں دیکھا اور صرف اپنی ذاتی رنجش کی وجہ سے گواہی دینے آ گیا ہوں۔ درحقیقت کمیونٹی یا جماعت کے خلاف مجھے کوئی رنجش نہیں ہے۔
کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں
لاقانونیت ربوہ شہر میں معمول ہے۔ ۲۹ مئی کا واقعہ صرف اس کی ایک مثال ہے۔
ٹربیونل: کل کے لئے رشید مرتضیٰ صاحب گواہ ہیں۔ طیب بخاری صاحب اپنا تحریری بیان دے گئے ہیں۔ ان کو کسی وضاحت کے لئے کل کے لئے بلوایا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲/جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
AAG: آج مسٹر رشید مرتضیٰ گواہ اور مسٹر طیب بخاری گواہ موجود ہیں۔
ٹریبیونل: مسٹر طیب بخاری نے اپنے بیان میں بعض ایسی چیزیں کہی ہیں جن کو پبلک میں لانا مناسب نہیں۔ اس لئے پہلے AAG اس بیان کو پڑھ لیں اس لئے بعد اگر مناسب سمجھا گیا تو مسٹر طیب بخاری پر جرح کی جاسکتی ہے۔
گواہ نمبر ۳۴...... مسٹر رشید مرتضیٰ قریشی، ۵۔سی گلبرگ لاہور
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں ایڈووکیٹ ہوں اور ہائیکورٹ بار کا ممبر ہوں۔ ۷۲۔۱۹۷۱ء یا ۷۴۔۱۹۷۳ء میں سندھ میں لسانی فسادات شروع ہوئے۔ سندھیوں کا مطالبہ یہ تھا کہ سندھی کو بھی اردو کے ساتھ قومی زبان بنایا جائے۔ اس مطالبے کا ردعمل لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں شروع میں یکساں تھا اور اردو کے حق میں تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک ریزولیوشن متفقہ پاس ہوا کہ صرف اردو کو قومی زبان ہونا چاہئے۔ اس کے بعد ایک متبادل ریزولیوشن Move کیا گیا تھا کہ علاقائی زبانوں کو بھی اہمیت دی جائے۔ جنہوں نے دوسرا متبادل ریزولیوشن پیش کیا اور تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان میں کچھ لوگ مرزائی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس متبادل ریزولیوشن کے حق میں پہلی تقریر مسٹر عزیز احمد باجوہ نے کی۔ اس کی حمایت مسٹر مشتاق راج ایڈووکیٹ نے کی جو سوشلسٹ ہیں۔ وہ مرزائی گروہ کے ممبر نہیں ہیں۔
میرا تاثر یہ تھا کہ مرزائی اسرائیل کے ایجنٹ ہیں اور سوشلسٹ روس کے ایجنٹ ہیں۔ بس میں نے اٹھ کر اس موضوع پر تقریر کی اور ان دونوں سے خبردار رہنے کی اپیل کی۔ میری تقریر کے نتیجے میں متبادل ریزولیوشن ناکام ہوگیا۔ اس کے بعد مسٹر بشیر احمد ایڈووکیٹ متوفی نے مجھے خطرناک نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ مسٹر بشیر احمد کا بھی قادیانی گروہ سے تعلق ہے۔
۱۹۷۳ء میں حج ادا کرنے کے بعد تبلیغی جماعت کے چند ارکان کے ساتھ میں لیبیا گیا۔ ہم کل سات افراد تھے۔ جب ہم مصر سے لیبیا جارہے تھے تو ہم غلطی سے ممنوعہ علاقے میں داخل ہوگئے۔ یہ ممنوعہ علاقہ ”مرسی“ مطروح میں واقع ہے۔ پولیس نے ہم سب کو پکڑ لیا اور تفتیش کی۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم بالارادہ اس علاقے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ غلطی سے ہوئے۔ دوران تفتیش پولیس اور فوج والے ہم سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا ہمارا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ ہم نے انکار کیا اور میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ مرزا کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیوں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا جواب یہ تھا کہ وہ مرزائیوں کو اسرائیل کے ایجنٹ اور اس کے لئے جاسوسی کرنے والے سمجھتے ہیں۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ہمارا احمدیہ جماعت سے کوئی تعلق نہیں تو انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ہمیں چھوڑ دیا۔
پچھلی عرب اسرائیل جنگ کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے عربوں کے مفاد کی حمایت میں ایک ریزولیوشن منظور کیا اور امریکہ کی اسرائیل کو امداد کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عربوں کی بھرپور امداد کی جائے۔ میں نے دیکھا کہ بار کے مرزائی ممبران نے اس جلوس کی تائید نہ کی اور جلوس میں شامل ہونے سے احتراز کیا۔
ربوہ کے وقوعہ سے قبل ایگزیکٹو کمیٹی ہائیکورٹ بار نے ایک سیرت کانفرنس ہائیکورٹ کے اندر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کو سیرت کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی۔ لیکن مسٹر محمود احمد قریشی ایڈووکیٹ جو مرزائی ہے، نے بار کے ارکان میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ لاہور کے کسی وکیل کو خطاب کے لئے نہیں بلایا گیا جو بھی اعتراض تھا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میرا تاثر یہ تھا کہ یہ موجودہ سیرت کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ گواہ نے ایک پمفلٹ بھی پیش کیا۔
گواہ نمبر ۳۵...... مسٹر طیب بخاری ولد محمد عبداللہ (۷ / اے ظفر سٹریٹ شاہد کالونی، وحدت روڈ لاہور)
ٹربیونل: مسٹر طیب بخاری نے ٹربیونل کے کہنے پر اپنا تحریری بیان دیا۔ اس میں انہوں نے ایسی بات لکھی ہے جو کھلی عدالت میں بتائی نہیں جاسکتی۔ یہ پیدائشی احمدی تھے۔ ۱۹۶۹ء میں کینیڈا میں ان کے جماعت سے اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد یہ احمدی جماعت سے الگ ہوگئے۔ اس کے بعد ربوہ میں ان کی والدہ کو امور عامہ والوں نے ربوہ سے نکال دیا۔ ان کے بھائی طاہر احمد کینیڈا میں ٹورنٹو کے احمدیہ جماعت کے لیڈر تھے جو بات پبلک میں بتائی نہیں جاسکتی، اس کا میں AAG سے ذکر کروں گا۔
مسٹر ایم۔ اے رحمن صاحب کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ شریعت کی وہ اصطلاحات جو نبی کریم ﷺ کی بیویوں، ساتھیوں اور جانشینوں کے لئے استعمال کی جاتی ہیں وہ اصطلاحات احمدی مرزا غلام احمد کی بیوی، ساتھیوں اور جانشینوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ احمدی وہی القاب استعمال کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو ام المؤمنین کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھیوں کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے اور اس کے جانشینوں کو خلفاء کہا جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ربوہ میں ایک عبادت گاہ ہے جسے ”مسجد اقصیٰ“ کہتے ہیں۔ اسے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلے جانشین (خلیفہ) مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کے نہ تھے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کے لوگوں کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ خلافت کو اپنے خاندان میں ہی رکھیں۔
مرزا بشیر الدین پر حملہ ہوا۔ ان کی گردن زخمی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ وہ خلافت کے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہے۔ مرزا ناصر احمد ان کے لڑکے نے ایک بورڈ بنایا اس کے بعد ان کی وفات پر مرزا ناصر احمد نے یہ مطالبہ کیا کہ بورڈ ہی خلیفہ کا انتخاب کرے۔ اس بورڈ کو مرزا ناصر احمد نے خود ہی نامزد کیا تھا۔ اس بورڈ نے پھر ان کو خلیفہ چن لیا۔ اس سے قبل مرزا ناصر احمد نے اس بورڈ کے ذریعے یہ کوشش کی کہ خلیفہ اوّل نور الدین کے لڑکے میاں عبدالمنان عمر کو جو ربوہ میں خلیفہ اوّل کے صاحبزادے تھے، بہت مقبول تھے۔ اس لئے اس خطرے کو بھانپ کر کہیں ان کو ہی خلیفہ نہ چن لیا جائے انہوں نے بورڈ کے ذریعے عبدالمنان عمر کو مرتد قرار دے کر ربوہ بدر کر دیا۔ اب بھی ربوہ میں مختلف شعبوں کے سربراہ یا تو مرزا ناصر احمد کے بھائی ہیں یا ان کے سالے ہیں۔ اس طرح ربوہ کی پوری انتظامیہ پر ان کے خاندان کا ہی قبضہ ہے۔
موجودہ سربراہ کو نہ صرف تیسرا خلیفہ کہا جاتا ہے بلکہ امیر المومنین بھی کہا جاتا ہے۔ ربوہ کا نظام حکومت قریب قریب انہی خطوط پر چلایا جاتا ہے جیسے پاکستان کی یا کسی صوبہ کی حکومت کے خطوط پر۔
مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں
میں تحریک جدید کے ساتھ اس حد تک متعلق رہا ہوں کہ مجھے ۶۳-۱۹۶۲ء میں کینیڈا میں جماعت کے حسابات کی پڑتال کے لئے چنا گیا تھا۔ میرے بھائی مسٹر طاہر احمد ۱۹۶۴ء سے کینیڈا میں قیام پذیر ہیں۔ وہ ٹورنٹو کینیڈا میں ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۹ء تک امیر جماعت رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ تحریک جدید جماعت کے لئے بطور انٹیلی جنس بیورو کے طور پر کام کرتی ہے۔ خلیفہ صاحب دینی اور دنیاوی امور میں احمدیوں کے لئے آخری سند ہیں۔ خواہ وہ احمدی سرکاری ملازمت میں ہوں یا نہ ہوں۔ میں P.C.S.I.R میں ریسرچ آفیسر ہوں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرکاری ملازمین کو خلیفہ صاحب کی زبانی ہدایات جماعت کے مختلف عہدیداروں کے ذریعے سرکاری کام کے سلسلے میں ملتی رہتی ہیں۔ جب یہ تجویز کیا گیا کہ P.C.S.I.R کو مختلف انسٹیٹیوٹ میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر ایک کا الگ ڈائریکٹر ہو تو P.C.S.I.R کے تمام احمدیوں کو جماعت کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی کہ وہ فارماسیوٹیکل کیمیکل انسٹیٹیوٹ کے لئے آپشن دیں۔ کیونکہ اسی انسٹیٹیوٹ کے مجوزہ ڈائریکٹر ڈاکٹر یوسف احمد تھے جو احمدی ہیں۔ خیال یہ تھا کہ اس انسٹیٹیوٹ میں جس کے سربراہ احمدی ہیں، اس میں سب ملازم احمدی ہونے چاہئیں۔ ایسے احمدی جن کا فارماسیوٹیکل سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہوں نے بھی اس انسٹیٹیوٹ کے لئے آپشن دی۔ ایک صاحب جن کا نام منصور احمد ہے ان کا آئیل فیٹس وغیرہ سے تعلق ہے۔ انہوں نے بھی جماعت کی ہدایات کے مطابق فارماسیوٹیکل کیمیکل کے لئے آپشن دیا تھا۔ یہ منصور احمد آج ٹربیونل میں موجود ہیں۔ تین خطوط کی نقول گواہ نے پیش کیں۔
ایڈیشنل ناظر امور عامہ ربوہ ظہور احمد کا خط
تحریری بیان میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ میں آج ایڈیشنل ناظر امور عامہ کے ایک اور خط کی فوٹوسٹیٹ کاپی پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ربوہ میں سربراہ کمیونٹی کو ہر معمولی واقعہ سے باخبر رکھا جاتا ہے۔ ربوہ چنیوٹ کی دیوانی عدالت میں واقع ہے۔ جب کوئی تنازعہ دارالقضاۃ میں پیش ہوتا ہے تو وہاں فریقین کو وکیل اسی طرح مقرر کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح دیوانی عدالت میں وکیل مقرر کئے جاتے ہیں۔ فوجداری مقدمات کا تصفیہ امور عامہ کرتا ہے اور وہ تمام معاملات کا فیصلہ کرتا ہے۔ ان کے اختیارات غیر محدود ہیں۔ ۱۹۵۵ء میں جب تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ تین چور ایک رات ربوہ آئے۔ وہ باہر سے چوری کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان میں دو کو ربوہ کے گارڈز نے جو ہر وقت ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، پکڑ لیا۔ ان کو نظارت امور عامہ کے حوالے کر دیا گیا۔ تیسرا بھاگ گیا۔ ان دونوں افراد کو، جو پکڑے گئے تھے، صبح ہونے سے پہلے مار دیا گیا۔ ربوہ میں باقاعدہ یہ ہے کہ غیر احمدی چوروں کو پکڑ کر قتل کر دیا جاتا ہے اور احمدی چوروں کا معاملہ امور عامہ اپنے قواعد کے مطابق کرتا ہے۔ ایسی اموات کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ گارڈز کے ساتھ مقابلہ میں مارے گئے۔
مسٹر ایم انور صاحب کی جرح کے جواب میں
احمدیہ سوسائٹی میں جب حضور نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا جاتا ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر بھی ان کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے تاکہ دونوں شخصیتوں کو متوازی رکھا جائے۔ وہ مرزا قادیانی کو وہی رتبہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے دور میں یا ان کے بعد پیش آنے والے واقعات کو وہی رتبہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو واقعات حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اور اسلام کے ابتدائی دور میں پیش آئے۔ ۱۹۴۷ء میں جب احمدی قادیان سے پاکستان میں آئے تو انہوں نے اسے ہجرت کہا اور ۳۱۳؍ افراد کو قادیان میں چھوڑ دیا جو غزوہ بدر کے مجاہدین کی تعداد کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں
احمدی کو مرزائی کہلوانا ناپسند ہوتا ہے اور وہ احمدی کہلواتے ہیں۔ وہ قادیانی کہلوانے کو ناپسند تو نہیں کرتے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح سے اپنے آپ کو محدود سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس فرقہ میں قادیان کے علاقہ کے علاوہ لوگ بھی ہیں۔ میرے خیال میں احمدی مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ احمد سمجھتے ہیں جن کا حوالہ سورۃ صف نمبر ۶۱ (پارہ ۲۸) کی آیت نمبر ۵ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیا ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو احمدی کہلواتے ہیں۔ اگرچہ اس میں جن کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حضور نبی کریم ﷺ ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب ایک احمدی کو جماعت کی طرف سے مرتد کہا جاتا ہے تو عام طور پر اسے اپنے خاندان سمیت ربوہ سے نکل آنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر وہ ربوہ میں رہنا چاہیں تو انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارتداد کا حکم خلیفہ صاحب ہی دیتے ہیں۔ خلیفہ صاحب سے نیچے کسی اور کو مرتد قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر کوئی خلیفہ صاحب کے کسی حکم کی نافرمانی کرے۔ خواہ وہ مذہب کے دائرے میں ہوں یا کسی دوسرے دائرے میں، اس کو مرتد کہا جاتا ہے۔ کسی شخص کو میرے علم کی حد تک اس بناء پر مرتد نہیں قرار دیا گیا کہ اس نے خدا کے یا اس کے نبی آخر الزمان ﷺ کی خلاف ورزی کی ہو۔ صرف خلیفہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی بناء پر مرتد قرار دیا جاتا ہے۔ احمدی ختم نبوت پر ہرگز یقین نہیں رکھتے۔
اگر کوئی احمدی چوری کرتا ہوا یا کوئی اور جرم کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کو کمیونٹی کے اندر اس کے مرتبہ کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کو جسمانی سزا نہیں دی جاتی۔ اس قسم کے فیصلے امور عامہ کا شعبہ سربراہ کمیونٹی کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کی رو سے کرتا ہے۔ چوری کرنے والے کسی شخص کو مرتد قرار نہیں دیا گیا۔ نہ ہی ایسے کسی آدمی کو سزا کے طور پر ربوہ سے نکالا گیا۔ جماعت کا ربوہ کے رہنے والوں سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل اطاعت و فرمانبرداری کی جائے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ربوہ سے نکال دیا جاتا ہے۔
مسٹر خلیل الرحمٰن صاحب کی جرح کے جواب میں
احمدیوں کے درمیان ایسی ایک پیشین گوئی مشہور ہے کہ وہ ایک دن اپنی حکومت قائم کر لیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کمیونٹی کا ہر فرد اپنی پوری کوشش ہر وقت کرتا رہتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت پاکستان ایک غیر مرزائی حکومت ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ احمدیہ فرقہ کے لوگ ایسی حکومت کا تختہ الٹنے سے دریغ نہیں کریں گے جو ان کی مخالفت کرتی ہو۔ میرے آڈٹ کے دوران میں نے یہ پایا کہ ۱۱۰۰ ڈالر مرزا مبارک احمد سربراہ تحریک جدید کو امیر جماعت ٹورنٹو نے دیئے تھے۔ میں نے اس پر یہ اعتراض کیا تھا کہ یہ رقم ربوہ سے ضروری منظور کے بغیر ادا کی گئی ہے۔ یہ وضاحت کی گئی کہ اس رقم کی مرزا مبارک احمد کو شمالی امریکہ کے دورے کے لئے ضرورت ہے۔ مجھے آڈٹ پارٹی سے اس اعتراض کی بناء پر نکال دیا گیا۔ میرے سامنے احمدیہ جماعت انٹاریو صوبہ کا بجٹ تھا۔ یہ پورا بجٹ ۷۵۰۰۰ ڈالر کا تھا۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
احمدیہ جماعت کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ ہر حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ اس کا مقصد یہ رہا ہے کہ کمیونٹی کے ارکان کے لئے حکومت کے ڈھانچے میں زیادہ سہولتیں اور بہتر مراعات حاصل کریں۔ ربوہ کے لوگ جو کرنا چاہیں، کرنے کے لئے اس لئے آزاد ہیں کیونکہ ربوہ میں متعین پولیس کے لوگ ان سے تعرض نہیں کرتے۔
مسٹر ایم۔ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
تحریک جدید کا کام بیرون ملک انٹیلی جنس کرتا ہے اور امور عامہ ملک کے اندر انٹیلی جنس بیورو کا کام کرتا ہے۔ جماعت کا نمائندہ تقریباً ہر محکمے میں ہوتا ہے۔ اس نمائندے کا یہ فرض ہے کہ جماعت کو اس محکمے کی کارکردگی اور اس میں کام کرنے والے احمدی ملازمین کی کارکردگی کے بارے میں وقتاً فوقتاً رپورٹیں بھیجیں۔ اگرچہ میں ربوہ میں دو مختصر اوقات میں رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ غیر ملکی لوگ جو احمدیت قبول کر چکے ہیں یا تحریک کے ہمدرد ہوں، وہ ربوہ آتے ہیں اور وہاں رہتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نمبر ۳۶...... طالب علم محمد اشرف
(امروز کے نمائندہ خصوصی سے) لاہور: مورخہ ۳/ جولائی ۔ واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ٹربیونل نے آج دو گواہوں کے بیانات قلمبند کئے۔ ان میں سے ایک نشتر میڈیکل کالج ملتان کے سال دوم کا ایک طالب علم محمد اشرف ہے جب کہ دوسرے گواہ کا نام امیر الدین ہے جو مرزائی ہے اور لاہور میں موٹر مکینک ہے۔ نشتر میڈیکل کالج کے طالب علم محمد اشرف نے بتایا کہ میں احمدی نہیں اور نہ ہی نشتر کالج کے سٹوڈنٹس یونین کا عہدیدار ہوں۔ ۲۳؍مئی سے ۲۹؍مئی تک میں کالج کے ہوسٹل ہی میں رہا۔ ۱۷؍مئی کو کالج کی انتظامیہ کی جانب سے کالج میں نوٹس لگایا گیا کہ طلباء کا ایک گروپ تفریحی پروگرام پر جا رہا ہے۔ اس لئے اس دوران کلاسیں نہیں لگیں گی۔ اس لئے جو لڑکے اپنے گھروں میں چھٹیاں گزارنا چاہتے تھے۔ وہ ہوسٹل سے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ میں اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ ہوسٹل میں ہی رہا۔ اصل پروگرام کے تحت ۱۸؍مئی کو میں اپنے دوستوں کو الوداع کہنے کے لئے ملتان ریلوے اسٹیشن پر آیا اور وہاں سال دوم کے ایک احمدی طالب علم سے پوچھا کہ کیا آپ بھی جارہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ لائل پور میں اپنے گھر جارہا ہے۔ گواہ نے کہا کہ نشتر کالج کے ہوسٹل کے طارق ہال کے کمرہ نمبر ۱۷ کے ساتھ تین قادیانی لڑکے ابرار احمد جاوید، آغا شاہد اور خالد رہتے ہیں، ابرار احمد جاوید چنیوٹ کا رہنے والا ہے۔ ہم نے تعطیل کے دوران کورس دہرانے کے لئے کلاسوں کا اہتمام کیا۔ ابرار جاوید نے کہا کہ وہ بھی ان کلاسوں میں شریک ہوگا۔ لیکن وہ ۲۲؍مئی کو آیا اور اس نے بتایا کہ وہ چنیوٹ جارہا ہے۔ اس لئے وہ بھی تفریحی پروگرام پر جانے والے طلباء کے ساتھ روانہ ہوگیا اور ۲۲؍مئی شام کو چنیوٹ پہنچ گیا۔ گواہ نے بتایا کہ چنیوٹ میں میرا ایک دوست تنویر احمد فیاض ہے۔ اس نے چنیوٹ میں ابرار کی سرگرمیوں کے بارے میں مجھے بتایا کہ ۲۳؍مئی کی صبح کو ابرار ربوہ گیا اور ۲۴؍مئی واپس چنیوٹ آگیا۔ اسی شام وہ تنویر فیاض سے ملا۔ اس وقت ان کے ساتھ ٹیکسٹائل مل کا منشی بھی تھا۔ ابرار نے تنویر سے کہا کہ مل سے چھٹی لینے کے لئے منشی کو جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ دلوا دو۔ جس پر تنویر نے جواب دیا کہ وہ ربوہ کے کسی ڈاکٹر سے یہ سرٹیفکیٹ لے لے۔ ابرار نے مزید کہا کہ مل کا ویونگ ماسٹر تمہارا چاچا ہے۔ وہ تمہیں ویسے بھی چھٹی دے سکتا ہے۔ گواہ نے کہا کہ تنویر کو ابرار کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ شک گزرا۔ ۲۴؍مئی کی شام کو ابرار دوبارہ ربوہ گیا اور ۲۷؍مئی کو واپس ملتان پہنچ گیا۔ گواہ نے کہا کہ ابرار کے والد چنیوٹ میں صراف ہیں اور جماعت احمدیہ کے سرگرم رکن ہیں۔ ۲۹؍مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے ہوسٹلوں، سینما ہال اور طارق ہال سے تمام احمدی طلباء تقریباً ایک اور ڈیڑھ بجے دن کے درمیان چلے گئے۔ جب کہ ہمیں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعے کا علم شام کو ساڑھے چار بجے ہوا اور ہم تقریباً سات بجے شام اپنے ساتھیوں کو لینے ریلوے اسٹیشن گئے۔ شدید زخمیوں کو ایمبولینس سے ہسپتال پہنچایا گیا اور معمولی زخمی ریلوے اسٹیشن پر ہی رہے۔ ان میں سے سیکنڈ ایئر کے ایک طالب علم غلام رسول نے بتایا کہ جب اسے ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر مارا جا رہا تھا تو میں نے حملہ آوروں سے کہا کہ میں نشتر کالج کا طالب علم نہیں ہوں بلکہ میں تو سرگودھا سے سوار ہوا ہوں۔ لیکن انہوں نے اس پر یقین نہیں کیا اور مجھے پستول دکھا کر کہا کہ بتاؤ سلیم، عبدالرحمن اور طلعت جو نشتر میڈیکل کالج کے طالب علم ہیں۔ اس وقت کہاں ہیں، اس موقع پر گواہ نے ٹربیونل کو بتایا کہ اس واقعہ کے بارے میں اسے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے بارے میں وہ متعلقہ افراد کے حلفی بیان عدالت میں پیش کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں گواہ نے کہا یہ درست ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے اندر احمدی اور غیر احمدی ہونے کا احساس بہت زیادہ ہے تاہم یہ بات غلط ہے کہ ربوہ میں ہنگامے کا پروگرام بنایا تھا۔ گواہ نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان میں طلباء کے اس وقت چار گروپ ہیں۔ ان میں اسلامی جمعیت
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طلباء، لبرل گروپ، پی.ایس.ایف اور این.ایس.ایف شامل ہیں۔
گواہ نے کہا کہ تفریحی پروگرام پر جانے والوں میں کوئی مرزائی طالب علم نہیں تھا۔ گواہ نے کہا کہ احمدی طلباء پی.ایس.ایف اور این.ایس.ایف کے ہم خیال ہیں۔ جمعیت کے طلباء نے ان نعروں کے جواب میں احمدی ٹھا کے نعرے لگائے۔ گواہ نے ایم.ڈی طاہر ایڈووکیٹ کے سوال کے جواب میں بتایا کہ احمدیوں کے سالانہ کنونشن پر ۱۹۷۳ء کے موقع پر چناب ایکسپریس کے ساتھ دو خاص بوگیاں لگائی گئیں۔ جب یہ ٹرین ربوہ پہنچی تو کچھ احمدی طلباء نے گاڑی سے نکل کر احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے۔ بسوں کے ذریعہ چنیوٹ کے راستے ربوہ آنے والے احمدی طلباء نے چنیوٹ سے گزرتے وقت احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ جس کے جواب میں اہل چنیوٹ نے احمدیوں کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ گواہ نے کہا کہ ۱۹۶۹ء، ۱۹۷۰ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی مسجد گڑھا محلہ میں خطیب تھے۔ ان پر غنڈوں نے حملہ کیا اور بعد ازاں انہیں خطابت سے الگ کر دیا گیا۔ گواہ نے کہا یہ بات غلط ہے کہ ربوہ کا واقعہ حکومت کے اشارے پر ہوا گواہ نے کہا مجھے علم ہے کہ جب کبھی باہر سے غیر احمدی طلباء ربوہ آتے ہیں تو انہیں اہل ربوہ زدوکوب کرتے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ قومی تحویل میں لئے جانے کے بعد ربوہ کے اشاعت تعلیم الاسلام کالج میں مسلمان طلباء کی تعداد پچاس سے ۶۰ فیصد ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں گواہ نے کہا کہ اس وقت چنیوٹ میں کوئی مرزائی نہیں۔ تاہم چنیوٹ میں مرزائیوں کے مکانات کے اندر سامان موجود و محفوظ ہے۔ البتہ مرزائیوں کی بعض دکانوں کو نقصان پہنچا۔ گواہ نے کہا یہ درست ہے کہ اس واقعہ کے بعد چنیوٹ کے لوگوں نے پولیس سے کہا تھا کہ مرزائیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے تو چنیوٹ میں قانون شکنی نہیں ہو گی۔ گواہ نے کہا کہ چنیوٹ میں تمام مرزائیوں کے گھروں میں اسلحہ موجود ہے۔ گواہ نے کہا چنیوٹ سے مرزائیوں کے اخراج کا مطالبہ اس لئے ہوا کہ ایک قادیانی ڈاکٹر شریف نے مسلمانوں کے جلوس پر فائرنگ کی جس سے چند افراد زخمی ہو گئے اور ایک جاں بحق ہو گیا۔ گواہ نے کہا کہ چنیوٹ میں بی.ایس.سی تک تعلیم کے لئے کوئی کالج نہیں اور نہ ہی لڑکیوں کا کالج ہے۔ حالانکہ چنیوٹ کی آبادی ۸۰ ہزار ہے۔ چنیوٹ میں سوئی گیس مہیا نہیں جب کہ سوئی گیس کی پائپ لائن چنیوٹ سے گزرتی ہے۔ گواہ نے کہا کہ واٹر سپلائی سکیم پر ایک سال قبل عمل درآمد ہوا ہے۔ چنیوٹ میں ٹیلیفون کی براہ راست ڈائلنگ کی سہولت میسر نہیں۔ جب کہ ربوہ کو براہ راست لاہور اور سرگودھا سے ڈائریکٹ ڈائلنگ سے ملایا گیا ہے۔
(امروز مؤرخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء)
گواہ نمبر ۳۷...... امیر الدین موٹر مکینک
دوسرے گواہ امیر الدین نے ٹربیونل کو بتایا کہ میں احمدی ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرتا ہوں۔ مکینک ہوں اور میرے ٹریکٹر ہیں جنہیں کرائے پر چلاتا ہوں۔ میں نے وزیر اعظم بھٹو کے نام ایک تار بھیجا تھا کہ غریب افراد کو ظلم و تشدد سے بچایا جائے۔ سیمنز بلڈنگ میں رہتا ہوں اور وہاں آس پاس کی تمام عمارتوں میں مرزائی رہتے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ چوہڑکانہ کا ایک شخص جو خدام الاحمدیہ کا رکن ہے۔ ۲۷ مئی کی شام کو میرے پاس آیا اور کہا کہ اسی شام کو میکلوڈ روڈ پر اجلاس ہوگا۔ میں چونکہ انصار اللہ کا رکن ہوں۔ اس لئے میں اجلاس میں شریک نہ ہوا۔ رات ساڑھے آٹھ بجے میں نے دیکھا کہ مجیب الرحمٰن درد نے ایک اسٹیشن ویگن اور کار کے ذریعے کچھ افراد کو ربوہ بھیجا ہے۔ گواہ نے کہا کہ مجیب الرحمٰن درد خدام الاحمدیہ لاہور کا سربراہ ہے۔ گواہ نے کہا کہ جس کار میں ان افراد کو روانہ کیا گیا اس کا نمبر ایل.ای.ای ۶۶۶ ہے۔ تاہم میں ویگن کا نمبر نوٹ نہیں کر سکا۔ گواہ نے کہا کہ ان افراد کو ربوہ میں مار پٹائی کے لئے بھیجا تھا۔ کیونکہ میں احمدی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی حیثیت سے ان کے فرائض کو جانتا ہوں۔ گواہ نے کہا بشیر احمد نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس نے سیالکوٹ گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سے بھی خدام تیار کر کے ربوہ میں بھیجے تھے۔ گواہ نے بتایا کہ بشیر احمد، احمدیہ انٹیلی جنس آرگنائزیشن کا رکن ہے اور چاروں اضلاع سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور لاہور کا انچارج ہے۔ گواہ نے کہا کہ میرا مرزا غلام احمد قادیانی پر پکا ایمان ہے۔ لیکن دوسرے پیروکار بدل گئے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ ہم چندہ اس لئے دیتے ہیں کہ دنیا میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ مگر ہمارا چندہ ان دنوں عیش وعشرت پر خرچ کیا جارہا ہے۔ گواہ نے کہا کہ تمام احمدی ربوہ والوں کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے اور عام لوگوں کو اس بناء پر ظلم وتشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ گواہ نے کہا کہ ۲۹؍ مئی کو جب ربوہ میں مار پیٹ ہوئی تو ۳۰؍ مئی کی شام کو کچھ لوگ ربوہ سے لاہور آئے۔ وہ یہ شکایت کرتے تھے کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتے تھے وہ نہ کر سکے۔ لیکن افواہیں یہ پھیلی ہوئی تھیں کہ طلباء کی زبانیں کاٹ دی گئی تھیں یا اس طرح اور مظالم ہوئے تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے کارنامے سے مطمئن نہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ طلباء کی اچھی طرح پٹائی اپنے دل کی تسلی کے مطابق نہیں کی گئی۔ میں اس کی زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتا کہ یہ واقعہ کیوں ہوا ہے۔ کیونکہ اگر میں ایسا کروں تو میرے رشتہ دار جو ربوہ میں رہتے ہیں ، ان کو وہاں تکلیف اٹھانی پڑے گی۔
۱۲؍ بجے وقفہ۔ ساڑھے بارہ بجے۔
ٹربیونل: آج کے اخبارات میں خبر ہے کہ اخبارات پر سنسر عائد کیا گیا ہے۔ ٹربیونل کی کارروائی پر سنسر کے سلسلے میں ٹربیونل کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اڑھائی بجے۔
امیر الدین گواہ (گواہ نے اپنے مکان واقعہ ربوہ کا نقشہ پیش کیا، اسے ہدایت کی گئی کہ اس کی فوٹوسٹیٹ کاپی داخل کر دیں اور اصل نقشہ لے جائیں ) خلیفہ صاحب کی ایک تقریر کے پیش نظر جو انہوں نے واقعہ ربوہ سے ایک ماہ قبل کی تھی ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پتھر کا جواب اینٹ سے دیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کا واقعہ ربوہ احمدیہ کمیونٹی نے ملک کو تباہ کرنے کے لئے منصوبہ بنایا تھا۔ کیونکہ وہ سب یہ چاہتے ہیں کہ قادیان واپس چلے جائیں۔ جب سے آزاد کشمیر اسمبلی نے ریزولیوشن پاس کیا ہے۔ جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس وقت سے احمدیہ کمیونٹی کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ میرا خیال ہے کہ ربوہ کا واقعہ سیاسی مقاصد کے لئے کیا گیا۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا خیال ہے کہ واقعہ ربوہ میں حصہ لینے والوں کی نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے خلاف کوئی دشمنی نہ تھی بلکہ انہوں نے جماعت کی ہدایت پر عمل کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جماعت کی قوت کا مظاہرہ کیا جائے۔ خلیفہ صاحب کے ایماء کے بغیر یہ واقعہ کبھی نہ ہوتا۔ ۱۹۵۳ء میں ہم مظلوم تھے اور ۱۹۷۴ء میں ہم ظالم ہیں اور اس واقعہ نے مرزا غلام احمد کی تحریک کو تباہ کر دیا۔ ربوہ میں جو انتظامیہ موجود ہے وہ قادیان میں بھی تھی لیکن من مانی کارروائیاں جن کا مظاہرہ ربوہ میں ہو رہا ہے اس کو میرے جیسے پرانے آدمی برداشت نہیں کر سکتے۔ ربوہ کے ایسے فیصلے حکومت پاکستان بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔ ( میں نے حکومت کو یہ اطلاع دی تھی کہ ربوہ میں حکومت کے اندر ایک حکومت ہے )
مسٹر اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں
میرے والد بھی احمدی تھے۔ میں قیام پاکستان سے قبل قادیان میں رہتا تھا۔ میں سلہٹ ، آسام کی جماعت احمدیہ کا سیکرٹری تھا اور چندے وغیرہ جمع کرتا تھا۔ احمدی قادیان کو متبرک جگہ سمجھتے ہیں۔ قادیان میں ایک عبادت گاہ بنام مسجد اقصیٰ ہے اور ایک منارۃ المسیح قادیان میں ہے۔ احمدیہ کمیونٹی سے یہ توقع کرنا قدرتی ہے کہ وہ سیاسی قوت حاصل کریں ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں احمد یہ عقیدے کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطابق جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ احمدیوں کی تنظیم پوری دنیا میں ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور اضلاع میں ہی نہیں، ہر ضلع اور شہر میں تمام شعبوں کی جو ربوہ میں ہیں ، شاخیں موجود ہیں اور وہ ربوہ کے ماتحت ہیں۔
مسٹر شباب مفتی کی جرح کے جواب میں
میں ربوہ کا مستقل شہری نہیں ہوں۔ لیکن وہاں جاتا رہتا ہوں۔ لاہور میں بیس سرکل ہیں اور ہر سرکل میں ربوہ کے تمام شعبوں کی برانچیں ہیں۔ اگر کسی سرکل میں کوئی جھگڑا پیدا ہو تو وہ اس سرکل کے دارالقضاۃ اور امور عامہ کی طرف لے جایا جاتا ہے اور فیصلہ ہوتا ہے اگر کوئی احمدی اپنا جھگڑا تھانے لے جائے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ جماعت کے وقار کو دھچکا لگا۔ اس کے بعد جماعت تک معاملہ لے جایا جاتا ہے۔ میرے ساتھ یہ ہوا کہ میں ایک شکایت دوسرے احمدی کے خلاف پولیس کے پاس لے گیا۔ لیکن جماعت احمدیہ نے وہ کیس خارج کرا دیا اور مجھ سے جواب طلبی کی گئی۔ اس کے ثبوت کے طور پر فوٹوسٹیٹ نقول ان خطوط کی پیش کرتا ہوں جو ربوہ انتظامیہ کی طرف سے مجھے جاری کئے گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ احمدیہ جماعت نے پیپلز پارٹی کی پچھلے انتخابات میں مدد کی تھی۔ مگر اب جماعت اور پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ کیونکہ میں سیاست میں زیادہ نہیں ہوں۔ اس لئے اختلافات کی نوعیت کا علم نہیں۔
میاں شیر عالم صاحب کی جرح کے جواب میں
جو بات ہم بوڑھے آدمی مرزا ناصر احمد کی پالیسی میں سے پسند نہیں کرتے ، وہ ان کا تشدد اور فنڈز کو خورد برد کرنا ہے۔ میری رائے میں مرزا ناصر احمد ، مرزا غلام احمد کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ مرزا غلام احمد کی چلائی ہوئی تحریک مذہبی تھی جب کہ مرزا ناصر احمد کی پالیسی سیاسی ہے۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے مذہبی چولا پہنا ہوا ہے۔ میں نے مرزا ناصر احمد کو صحیح راستے پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ در حقیقت کوئی احمدی اس کی جرات نہیں کر سکتا۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
خدام میں غنڈے بھی ہیں اور شریف آدمی بھی ہیں۔ وہ میٹنگ جو لاہور میں ۲۷ مئی کو ہوئی۔ اس میں خدام الاحمدیہ کے غنڈہ عناصر شریک ہوئے تھے۔ یہ میرا اندازہ ہے کیونکہ میٹنگ ۴ میکلوڈ روڈ پر خفیہ طور پر ہوئی تھی۔ خفیہ میٹنگ میں صرف غنڈے شامل ہوتے ہیں۔ عام طور پر خدام الاحمدیہ کا دفتر اور عام میٹنگیں جو دھل بلڈنگ میں ہوتی ہیں۔ لیکن خفیہ میٹنگ مسٹر مجیب الرحمٰن درد کے مکان واقع نمبر ۶ میکلوڈ روڈ میں ہوئی تھی۔ ۳۰ مئی کو جو لوگ ربوہ سے لاہور آئے تھے انہوں نے میری موجودگی میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ انہوں نے چوہدری نور محمد سے بات کی تھی اور چوہدری نور محمد نے یہ اطلاع مجھے دی تھی۔ وہ جسونت بلڈنگ میں رہتا ہے۔ وہ احمدی نہیں لیکن اس عمارت میں رہنے والے دوسرے تمام خاندان احمدی ہیں۔ میں مسعود کرشن کو جانتا ہوں۔ ڈاکے ڈالنا اس کا کام ہے۔ وہ احمدی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ امیر جماعت کوئٹہ کے ساتھ مرزا طاہر احمد لاہور میں گورنمنٹ ہاؤس کسی ڈاکے کے سلسلہ میں گئے تھے۔
یہ درست ہے کہ جمعہ کے خطبوں میں خلیفہ یہ کہتے رہے ہیں اور میں اپنے بچپن سے یہ سنتا آیا ہوں کہ ایک دن احمدیوں کی حکومت ہوگی اور احمدیوں کو صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرنا چاہئے۔ یہ احمدیوں کا مقصد ہے کہ ملک میں سیاسی مقصد حاصل کریں۔ میرے اندازے میں دس بارہ افراد لاہور سے ربوہ گئے ہوں گے۔ جنہوں نے ربوہ اسٹیشن پر حملہ کیا۔ میں نہیں جانتا کہ خدام اپنا اسلحہ خود خریدتے ہیں۔ جہاں تک میں جانتا ہوں اسلحہ ربوہ کا مرکز مہیا کرتا ہے۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اعجاز حسین بٹالوی صاحب کی جرح کے جواب میں
مسٹر مجیب الرحمن درویشیزان کمپنی کے ملازم ہیں۔ (نوٹ ایک تصویر جو روزنامہ امروز مؤرخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۷۴ء میں شائع ہوئی ہے، وہ گواہ کو دکھائی گئی۔ گواہ نے مجیب الرحمن کی پہچان کی ہے) میں مجیب الرحمن درد کو جانتا ہوں وہ عبدالرحیم درد کے صاحبزادے ہیں۔ میں دہلی دروازے بائی سائیکل پر خود گیا تھا۔ چونکہ مجھے یہ معلوم تھا کہ کچھ لوگوں کو ربوہ بھیجا جانے والا ہے۔ اس لئے میں ۴ میکلوڈ روڈ گیا۔ وہاں ایک پانی بیچنے والے کے پاس کھڑا ہوا۔ میں نے کار نمبر ایل. ای. ای ۶۶۶ گزرتی دیکھی۔ میں نے اس کا پیچھا سائیکل پر کیا۔ میں دہلی دروازہ پہنچا کار کے پہنچنے سے تھوڑی دیر بعد میں وہاں بشیر طاہر صاحب سے نہیں ملا۔ دہلی دروازہ پہنچنے کے بعد میں ان کی کار سے ۵۰۰ فٹ سے نزدیک نہ گیا۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ کون کون اس کار میں تھا۔
میرا ۴ میکلوڈ روڈ پر جانے اور دہلی دروازے جانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھوں کہ کون کون اور کتنے آدمی ربوہ جا رہے ہیں؟ لیکن میں یہ جان نہ سکا۔ میرا خیال نہ تھا کہ کسی شخص سے ان کے بارے میں پوچھوں۔ میں ان کی خود نگرانی کرنا چاہتا تھا۔ اگر میں کار کے پاس اس گلی میں چلا جاتا جہاں وہ کار کھڑی تھی تو میں اس میں سوار لوگوں کی تعداد تو جان لیتا۔ مگر میں نے ایسا نہ کیا۔ البتہ میرا دہلی گیٹ جانے کا مقصد یہ تھا کہ کس گاڑی میں وہ ربوہ جاتے ہیں۔ گاڑی کے پاس نہ جانا میری غلطی تھی۔ اگر میں گاڑی کے زیادہ قریب چلا جاتا تو میں کم از کم ان خدام کو پہچان لیتا جن کو میں جانتا تھا۔ میں نے کار ایل. ای. ای ۶۶۶ پہلے نہیں دیکھی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کار کس کی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کار ماشاء اللہ خاں پسر ان انشاء اللہ خاں کی ہے۔ اگرچہ میں دونوں باپ بیٹا کو جانتا ہوں جو اسی بلڈنگ میں رہتے ہیں۔ جس میں، میں رہتا ہوں۔ البتہ اب میں اس کار کو وہاں کھڑے دیکھتا ہوں۔ میں نہ صرف مذکورہ انشاء اللہ خاں سے دشمنی رکھتا ہوں بلکہ پوری جماعت کے ساتھ عناد رکھتا ہوں۔ کیونکہ ارکان جماعت نے قادیان کی جائیداد کا کلیم داخل کیا۔ اگرچہ قادیان کی جائیداد ابھی تک احمدیہ جماعت کے قبضے میں ہے۔
ساڑھے بارہ بجے وقت عدالت ختم ہوا۔
۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
مسٹر خلیل الرحمن کی جرح کے جواب میں
میں تقسیم ملک کے بعد ۵؍ نومبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان پہنچا۔ لیکن ۶؍ نومبر ۱۹۴۷ء درویشوں کے ایک قافلہ کے ساتھ قادیان کے لئے روانہ ہو گیا۔ پھر میں ڈیڑھ سال قادیان رہا اور اس کے بعد ۱۹۴۹ء میں پاکستان آ گیا۔ میں ایک سکھ کی مدد سے پاکستان آیا تھا۔ میرے پاس کوئی پاسپورٹ نہیں تھا۔ پہلے دو سالوں میں قادیان اور پاکستان میں درویشوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس کے بعد تبادلہ بند ہو گیا۔ قادیان میں درویش اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کی تعداد پہلے ۳۱۳ تھی۔ آج کل وہ بارہ سو کے قریب ہوں گے۔ وہ آج کل ہندوستان کے پاسپورٹ پر پاکستان آتے رہتے ہیں۔
گواہ نمبر ۳۸....... ڈاکٹر محمد زبیر C.M.O نشتر ہسپتال ملتان باقرار صالح
دس بج کر بیس منٹ۔ وقفہ سوا گیارہ بجے تک۔
میں زخمی طلباء کی اصل میڈیکولیگل رپورٹیں لایا ہوں۔ محمد امین ۵۰-سی، محمد حسین محمود ۵۱-سی، ارباب عالم ۵۲-سی، محمد فاروق
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ۵۸۱ ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
۵۳-سی، نعیم احمد ۵۴-سی، سعید ابراہیم باجوہ ۵۵-سی، آفتاب احمد ۵۶-سی، عبدالرحمن ۵۷-سی اور خالد عزیز ۵۸-سی۔ کل نو طلباء کا معائنہ میں نے کیا تھا۔ میں نے اصل کے ساتھ نقول ۵۰-سی تا ۵۸-سی کا مقابلہ کر لیا ہے۔ یہ درست نقول ہیں۔ زخمی طلباء ہسپتال میں پونے سات بجے شام ۲۹ مئی کو لائے گئے اور سیدھے وارڈ میں لے جائے گئے۔ میں نے ان کا وارڈ میں معائنہ کیا۔ میری رائے میں مسٹر آفتاب احمد کی حالت اس وقت کسی حد تک خراب تھی۔ اس لئے خراب تھی کہ اسے سر پر زخم آیا تھا۔ جو مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔ دوسرے آٹھ طلباء کی حالت شدید نہیں تھی۔ ان کے زخم معمولی تھے۔ آفتاب احمد بیہوش تھا۔ جب میں نے اس کا طبی معائنہ کیا۔
گواہ نمبر ۳۹...... ڈاکٹر اقبال احمد ولد چوہدری غلام حسین C.M.O نشتر ہسپتال ملتان باقرار صالح
میں احمدی نہیں ہوں۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر ہسپتال میں، میں نے چار طلباء کا طبی معائنہ کیا تھا۔ ان کے معائنہ کا اصل ریکارڈ لایا ہوں۔ میں نے نقول، خالد عبداللہ ۵۹-ای، ایکس بی، مسرت حسین ۶۰-سی، نثار احمد ۶۱-سی اور رفعت باجوہ ۶۲-ای سی کا مقابلہ اصل ریکارڈ سے کر لیا ہے۔ یہ درست نقول ہیں۔
مسٹر رفعت باجوہ ۲؍ جون کو ہسپتال سے بلا اجازت ڈاکٹر متعلقہ چلے گئے۔ جب کہ ان کے زخم زیر مشاہدہ تھے۔ اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے زخم کس نوعیت کے تھے۔ مسٹر مسرت حسین کی بائیں آنکھ کے نیچے ایک Abrasion تھی۔ اس کے بعد رجسٹرار کے نوٹ کے مطابق مریض کی آنکھ کالی ہو گئی۔ انہیں Fracture of antirior cramial for a clivical کا شک ہوا۔ لیکن ایکسرے کے بعد رپورٹ یہ تھی کہ Bony injury نہیں ہے۔ اس لئے میں اس زخم کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا۔ مسرت حسین کے دوسرے تمام زخم معمولی تھے۔ اسی طرح باقی دو طلباء کے زخم بھی معمولی تھے۔
ٹربیونل: مسٹر ایم. ڈی طاہر کی درخواست والا ریکارڈ طلب کیا جائے۔ ڈی سی جھنگ سے رابطہ پیدا کیا جائے۔
کل مسٹر شریف احمد صدیقی جو ربوہ میں رہتا ہے، کی گواہی ہو گی۔
اگلے ہفتے کے لئے جن گواہان کو طلب کیا جائے گا، ان کا فیصلہ AAG کے ساتھ میٹنگ میں کیا جائے گا۔ کراچی کے ایک ایڈووکیٹ نے لکھا تھا۔ ان کو تحریری بیان کے لئے لکھا گیا اس کے بعد یاد دہانی بھی کرائی گئی۔ لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اڑھائی بجے ختم۔
۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ شریف احمد صدیقی سوا گیارہ بجے تک حاضر عدالت نہ ہوا۔ اس کا انتظار کیا جاتا رہا۔ اس کے انتظار میں کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ بارہ بجے ٹربیونل کا اجلاس پھر شروع ہوا۔
گواہ نمبر ۴۰...... شریف احمد صدیقی ولد ڈاکٹر عبدالسمیع
(عمر ۶۸ سال محلہ دارالیمن غربی ربوہ ضلع جھنگ، ریٹائرڈ کلرک دفتر نیشنل عوامی پارٹی لاہور)
میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرے والد اور دادا بھی احمدی تھے۔ پچھلے چار سالوں میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوں۔ میں آخری دفعہ بحیثیت کلرک نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر میں کام کرتا رہا ہوں۔ میں کسی تنظیم جماعت احمدیہ کا رکن نہیں ہوں۔ لیکن میری عمر کے لوگوں کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خود بخود انصار اللہ کہا جاتا ہے۔
پرسوں دو آدمی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کا ایک خط لے کر ربوہ گئے۔ جس میں مجھے آج نو بجے حاضر عدالت ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ کیونکہ اس وقت آندھی آ رہی تھی اور بارش ہو رہی تھی۔ وہ میرے محلہ کے ایک شخص کے گھر رک گئے اور اس گھر والے کے ذریعے مجھے بلایا۔ میں وہاں گیا اور سمن کی تعمیل کی۔ ۶۳۔ ای، ایکس بی اصل سمن ہے۔ جس پر میرے دستخط ہیں۔ میں نے اس پر تعمیل کرنے کے لئے دستخط کئے تھے۔ میں کل ہی لاہور آ جانا چاہتا تھا۔ مگر اپنی لڑکی کی اچانک بیماری کی وجہ سے میں نے سفر ملتوی کر دیا۔ میں لاہور بر وقت آج صبح اس لئے نہ پہنچ سکا۔ کیونکہ آج کل کوئی بس ربوہ یا اس سے چھ میل کے اندر نہیں ٹھہرتی۔ کیونکہ صوبہ میں احمدیوں کا بائیکاٹ ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے میں سرگودھا لاہور ایکسپریس گاڑی سے لاہور آیا۔ اس لئے تاخیر سے حاضر ہوا۔
میں قریباً چودہ سال سے ربوہ میں رہتا ہوں۔ ربوہ احمدیوں کی کالونی ہے۔ ربوہ کی زمین بالکل بنجر تھی اور رہائش کے قابل بھی نہ تھی۔ اس لئے ۱۹۴۸ء میں صدر انجمن احمدیہ نے یہ زمین گورنمنٹ سے سستے داموں خرید لی۔ جب صدر انجمن احمدیہ نے وہاں آبادی شروع کی تو انہوں نے ضابطہ اخلاق مقرر کیا اور وہاں آباد ہونے والوں کی شرائط مقرر کیں۔ اس ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرانے کے لئے ایک شعبہ قائم کیا گیا جسے امور عامہ کہتے ہیں۔ اس کے سربراہ کو ناظر امور عامہ کہا جاتا ہے اور اس کے نائب کو محتسب کہتے ہیں۔ جس کے ذریعے وہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کراتا ہے جو معاملات پولیس سے تعلق رکھتے ہوں مثلاً کوئی رپورٹ درج کرانا یا پولیس کو کسی وقوعہ کی اطلاع دینا، وہ محتسب کی ذمہ داری تھی۔ اسی طرح محلہ واری تنظیم ربوہ میں ہے۔ ان کے منتخب صدر ہوتے ہیں اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی جو کچھ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کو اراکین کہتے ہیں۔ صدر کی مدد کرتی ہے۔ تمام محلوں کے صدر، ایک جنرل صدر اپنی رہنمائی کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اس کو صدر عمومی کہتے ہیں اس کی وہی حیثیت ربوہ میں ہے جیسے کسی شہر میں کسی پارٹی کے مقامی صدر کی ہوتی ہے۔ صدر عمومی کا کام یہ ہے کہ ربوہ کے رہنے والوں کے تمام معاشرتی مسائل حل کرے۔ وہ ربوہ کی احمدیہ کمیونٹی اور حکومت کے مختلف محکموں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اسی طرح ملک کی حکومت بھی صدر عمومی کی معرفت ربوہ شہر میں کام کراتی ہے۔ مثلاً راشن کارڈ کی چیکنگ وغیرہ۔
میں ربوہ اسٹیشن کے واقعہ کا عینی شاہد نہیں ہوں۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا میں حسب معمول خلافت لائبریری ربوہ میں محو مطالعہ تھا۔ وہ لائبریری اسٹیشن سے بمشکل نصف فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ لائبریری میں اس وقت کافی بوڑھے اور نوجوان موجود تھے۔ لیکن نہ میں نے، نہ کسی اور نے واقعہ کا کوئی اثر محسوس کیا۔ نہ ہم نے کوئی شور سنا نہ ہی کوئی اور علامت اسٹیشن پر ہونے والے واقعہ کی ملی۔ مجھے اس واقعہ کا علم رات کو ہوا۔ جب پولیس ربوہ میں آئی۔ قدرتی طور پر مجھے تجسس ہوا کہ ایسا واقعہ کیوں ہوا۔ مجھے اس واقعہ پر تعجب ہوا۔ مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ اسٹیشن پر ربوہ کے لوگوں اور نشتر میڈیکل کالج کے طلباء جو چناب ایکسپریس کے ذریعے سفر کر رہے تھے، کے درمیان جھگڑا ہوا۔ میری اطلاع کے مطابق ربوہ کے لوگوں نے طلباء پر حملہ کیا تھا۔ اس پر مجھے بہت حیرانگی ہوئی کیونکہ اس سے قبل ۹۰ سالہ تاریخ احمدیت میں نہیں ہوا تھا۔ مجھے لوگوں سے تفصیلات معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ اس واقعہ میں صدر عمومی اور امور عامہ کے ایک کلرک کا ہاتھ ہے۔ صدر عمومی چوہدری بشیر احمد خاں ہے اور کلرک امور عامہ مسٹر رشید احمد ہے۔ مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ طلباء نے حوریں مانگی تھیں۔
یہ بات بھی میرے علم میں آئی کہ صدر عمومی اور امور عامہ کے کلرک نے اس تمام وقوعہ کا انتظام کیا۔ رشید احمد کلرک نے ایسے تمام نوجوانوں کی خدمات حاصل کر لیں۔ جن کا کریکٹر مشتبہ ہوتا ہے۔ چونکہ رشید احمد محتسب کے ماتحت ہے۔ اس لئے اس کا حکم مشکوک کردار کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوجوانوں نے مان لیا۔ میرے دو رشتہ دار جامعہ احمدیہ کے طلباء ہیں اور دو تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتے ہیں۔ ماسوائے بدکردار طلباء کے تعلیم الاسلام کالج یا جامعہ احمدیہ کے کسی طالب علم نے اسٹیشن پر وقوعہ میں حصہ نہیں لیا۔ ایسے سب بدکردار نوجوانوں کو ذاتی طور پر ملایا گیا اور خدام الاحمدیہ کی معرفت اطلاع نہیں دی گئی۔ مسٹر رشید احمد پولیس چوکی ربوہ کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔ لیکن اس چوکی پر متعین پولیس کو ۲۹ مئی کی شام تک اس واقعہ کا علم نہ تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مسٹر رشید احمد نے ان تمام نوجوانوں کا ایک ریکارڈ بھی بنا رکھا ہے اور ایک رجسٹر پر ان کے دستخط بھی کرائے ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ رشید احمد کے دفتر کی بوقت گرفتاری تلاشی نہیں لی گئی۔ میری رائے میں یہ کوتاہی اس لئے ہوئی ہے کہ پولیس رشید احمد کے ساتھ ملی بھگت رکھتی ہے۔ اگر پولیس رشید احمد کے دفتر کی تلاشی لیتی تو وہ ریکارڈ قبضے میں لیا جاسکتا تھا۔ اس کے بعد تھانے میں لے جا کر اس کا بیان ریکارڈ کرنے کے بجائے پولیس نے رشید احمد کو چنیوٹ میں ہجوم کے حوالے کر دیا۔ ہجوم نے اس پر حملہ کر دیا اور وہ زخمی ہو گیا۔ اس پر اسے لائل پور میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مجھے شک ہے کہ اس واقعہ ربوہ کے پیچھے مقاصد سیاسی تھے۔ (اس کے محرکات سیاسی نوعیت کے تھے ) میرے اس شک کی بنیاد یہ واقعہ ہے کہ مسٹر غلام مصطفیٰ کھر کا ایک بیان روزنامہ مغربی پاکستان کے شمارہ مؤرخہ ۳ مئی ۱۹۷۴ء میں تفصیل سے شائع ہوا تھا اور وہ پرچہ ربوہ کے لوگوں میں مفت تقسیم کیا گیا تھا۔ میں بھی ایک پرچہ حاصل کرنا چاہتا تھا مگر سب پرچے تقسیم ہو گئے تھے جن کو وہ پرچہ ملا تھا اور انہوں نے پڑھا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ ربوہ میں کچھ لوگ مسٹر کھر کے حمایتی ہیں اور وہ مسٹر حنیف رامے کو پسند نہیں کرتے ۔ میں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ پرچہ مفت کیوں تقسیم کیا گیا۔ اس پر مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ مسٹر کھر کے حمایتی ربوہ میں تھے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ مسٹر بشیر احمد کھر کے حمایتی ہیں۔ مجھے اس اطلاع پر اس لئے یقین ہے کہ کوئی پرچہ امور عامہ اور صدر عمومی کی اجازت کے بغیر ربوہ میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ چوہدری بشیر احمد مسٹر دوست محمد لالی مقامی ایم. پی. اے کا دوست ہے۔ یہ میرا تاثر ہے کہ مسٹر لالی بھی ربوہ میں وہ پرچہ مفت تقسیم کرانے کے پیچھے ہے۔ یہ میرا خیال ہے۔ اس لئے ضروری نہیں کہ درست ہو۔
پچھلے انتخابات میں جماعت احمدیہ نے پنجاب اور سندھ میں اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مدد کی تھی۔ پیپلز پارٹی کو صرف ووٹوں سے غرض ہے۔ اس لئے اس نے ربوہ میں اپنا کوئی یونٹ قائم نہیں کیا۔ میرے خیال میں احمدیوں کو پیپلز پارٹی سے متنفر کرنے کے لئے بشیر احمد وغیرہ نے یہ کام کیا ہے۔ مسٹر دوست محمد لالی آزاد منتخب ہوا تھا۔ مگر بعد میں اس نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مگر ایک بڑا زمیندار ہونے کی وجہ سے اس کے مفادات پنجاب کے جاگیرداروں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ ۲۹ مئی کا واقعہ چوہدری بشیر احمد خان نے احمدیوں کے درمیان پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے کیا۔ اب تک احمدیہ کمیونٹی نے پیپلز پارٹی کی جائز یا ناجائز مدد کی تھی۔ نہ ہی ربوہ کی عام آبادی نہ ہی چنیوٹ کے رہنے والے احمدیوں کو ربوہ کے واقعہ کا پیشگی علم تھا۔ ربوہ میں رہنے والے کچھ لوگ چنیوٹ میں کاروبار کرتے ہیں۔ میرا چھوٹا بھائی بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس کی کریانہ کی دوکان چنیوٹ میں ہے۔ وہ بھی ۲۹ مئی کے واقعہ سے اسی طرح بے خبر تھا۔ جس طرح کوئی اور ربوہ کا رہنے والا ، وہ چنیوٹ کے شہریوں سے ربوہ کے واقعہ کے کسی ردعمل کی توقع نہ کرتا تھا۔ پس ۳۰ مئی کو دوسرے احمدیوں کی طرح اس نے چنیوٹ میں اپنی دوکان کھول رکھی تھی۔ لیکن اپنے محلے کے لوگوں کی ہدایت پر اس نے اپنی دوکان بند کر دی اور اپنے گھر ربوہ آ گیا۔
میری اطلاع کے مطابق ساٹھ ستر کے قریب لوگوں نے طلباء پر حملہ کیا تھا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کوئی اور آدمی ماسوائے شرارتی لوگوں کے جن کو خاص مقصد کے لئے اسٹیشن پر لے جایا گیا تھا اور کوئی آدمی اسٹیشن پر نہ تھا۔ البتہ اسٹیشن کے قریب واقع محلہ کے کچھ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لوگ تماشائی کے طور پر جمع ہو گئے ہوں تو اس کا مجھے علم نہیں۔ بشیر احمد کو تین چار روز بعد گرفتار کیا گیا۔ مسٹر عبدالعزیز بھانبری ربوہ کا محتسب ہے۔ رشید احمد کو ۳۰ مئی کو گرفتار کیا گیا۔ جب کہ بشیر احمد اور عبدالعزیز بھانبری کو تین چار دن بعد جب کیس کی تفتیش سی آئی اے کو سپرد کی گئی، گرفتار کیا گیا تھا۔
بشیر احمد خان کے خلاف سر براہ کمیونٹی نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی کہ اس نے ان کے حکم کی خلاف ورزی کیوں کی۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس کے خلاف انضباطی کارروائی ضرور ہوگی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں عبدالعزیز بھانبری ۲۹ مئی کو ربوہ میں موجود نہیں تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ عبدالعزیز بھانبری کی منظوری کے بغیر رشید احمد اس قدر بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس لئے میری رائے میں عبدالعزیز بھانبری بھی اس واقعہ میں ملوث ہوگا۔ چوہدری بشیر احمد صدر عمومی براہ راست امام جماعت یعنی مرزا ناصر احمد سر براہ کمیونٹی کے کنٹرول میں ہے۔
۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
اسماعیل قریشی کی جرح کے جواب میں
میں نہیں کہہ سکتا کہ سیاست کو مذہب سے الگ رکھنا احمدیہ عقیدے کا حصہ ہے یا نہیں۔ میں اس مضمون پر اتھارٹی نہیں ہوں۔ میں ذاتی طور پر ملک میں سیکولر حکومت کا قائل ہوں۔ میں اسے درست سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ کیونکہ یہ حکومت صحیح راستے پر نہیں چل رہی ہے۔ میری رائے میں اس مقصد کو قانونی اور آئینی ذرائع سے حاصل کرنا چاہئے۔ میں نہیں جانتا کہ اس سلسلے میں سر براہ کمیونٹی کی پالیسی کیا ہے؟
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
میں ۱۹۵۴ء میں پاکستان آیا تھا۔ پہلے میں نے ڈیڑھ سال تک ریلوے میں مزدور کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے بعد پشاور ضلع میں وارسک میں کینیڈین ہسپتال میں ملازم ہوا۔ اس کے بعد فضل عمر ہسپتال میں ۲ سال تک ملازم رہا۔ میں کینیڈین ہسپتال اور فضل عمر ہسپتال میں بطور نرسنگ بوائے کام کرتا رہا۔ ۱۹۵۴ء میں اپنے بچوں کے ساتھ پاکستان آیا تھا۔ اس وقت میرے پانچ بچے تھے۔ میرا ایک بچہ گوجرانوالہ کی انوار انڈسٹریز میں بطور کلرک کام کرتا ہے۔ ایک لڑکا شاہ نواز لمیٹڈ میں بطور ٹریکٹر میکینک کام کرتا ہے۔ ایک لڑکا فوج میں سگنل آپریٹر ہے۔ شاہنواز کمپنی احمدیوں کی ہے۔ مگر جہاں تک میں جانتا ہوں ۔ انوار انڈسٹریز احمدیوں کی نہیں ہے۔
جرح اڑھائی بجے ملتوی۔ ٹربیونل نے فرمایا کہ طلباء جس بوگی میں سفر کر رہے تھے۔ وہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر آ گئی ہے۔ اس کو پلیٹ فارم نمبر ۱ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ چھ بجے شام اسٹیشن پر ہونا چاہئے۔ چھ بجے سے پونے سات بجے شام بوگی نمبر ۲۰۵۵ کا معائنہ کیا گیا۔
مسٹر شباب مفتی صاحب کی جرح کے جواب میں
میں موجودہ حکومت پاکستان کو اسلامی حکومت نہیں سمجھتا۔ میں عبدالخالق رامے نامی کسی شخص کو نہیں جانتا۔ نہ ہی میں قمر احمد قریشی نامی کسی شخص کو جانتا ہوں۔ میں ثاقب دہلوی اور عبدالقدیر اشک کو بھی نہیں جانتا۔ میں ہفت وار نصرت رسالہ کا باقاعدہ پڑھنے والا نہیں ہوں۔ میں اس کے ایڈیٹر کا نام نہیں جانتا۔ مجھے مکتبہ جدید پریس لاہور کا علم نہیں ہے۔ کافی عرصہ پہلے حنیف رامے صاحب نصرت رسالے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ اس رسالے کا نام مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے نام سے ہے۔ نصرت جہاں مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کا نام ہے۔
گواہ نمبر ۴۱....... بشیر احمد ولد چوہدری رحمت علی، صدر عمومی جماعت احمدیہ ربوہ (مکان ۱/۵۷ دارالصدر شرقی ربوہ) میں احمدی ہوں۔ مجھے نومبر ۱۹۷۲ء میں ربوہ کا صدر عمومی مقرر کیا گیا۔ میری سندھ میں زمین ہے اور ربوہ کے ایک بھٹہ میں بھی میرا حصہ ہے۔ جب سے میں صدر عمومی مقرر کیا گیا میں اپنا فالتو وقت اس منصب کی ضرورت کے لئے دیتا رہا۔ میں صدر عمومی کی حیثیت سے ۱۱؍جون ۵ بجے تک کام کرتا رہا۔ اس دن اور اس وقت مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ مجھے بعد میں بتایا گیا کہ مجھے ربوہ کے واقعہ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ ربوہ کے باہر احمدیوں کی تنظیمیں مختلف قصبات، شہروں اور گاؤں میں ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر بھی لیکن ربوہ کی سول انتظامیہ کی ذمہ داریاں دوسری جماعتوں سے زیادہ ہیں۔ ربوہ کی آبادی پچیس چھبیس ہزار ہے۔ اس کو پندرہ محلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر محلے کا اپنا ایک صدر ہوتا ہے جو تین سالوں کے بعد اس محلہ کے رہنے والوں کی طرف منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ پندرہ صدر براہ راست عمومی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اس انتخاب کی ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ توثیق کرتے ہیں۔ اس صدر عمومی کو President General بھی کہتے ہیں۔ میں نے ۲۵ سال ایئر فورس کی سروس کی۔ وہاں سے ریٹائرڈ ہوکر ربوہ آیا۔ ۱۹۶۸ء میں ریٹائرڈ ہوا تھا۔ (انجینئرنگ شعبے سے) میں آنریری فلائنگ آفیسر ہوں۔ میں ۱۹۴۳ء میں انڈین فورس میں شامل ہوا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۹۶۸ء میں ربوہ میں آیا۔ ۱۹۷۲ء میں صدر عمومی مقرر ہونے سے پہلے میں کوئی عہدہ ربوہ کی انتظامیہ میں نہیں رکھتا تھا۔ مئی ۲۲؍ تاریخ کو چھ بجے شام میرے دفتر میں سپورٹس کمیٹی کی میٹنگ تھی۔ اس میٹنگ کے بعد پروفیسر عبدالرشید غنی کے ساتھ اسٹیشن کی طرف سیر کے لئے چل دیا۔ میری ڈیوٹی بھی ہے کہ اسٹیشن جاؤں کیونکہ وہ پبلک مقام ہے۔ چناب جا چکی تھی۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لڑکوں نے گاڑی پر پتھر پھینکے تھے۔ مجھے اس پر حیرانگی ہوئی۔ کیونکہ ایسے واقعات ربوہ میں عام طور پر نہیں ہوتے۔ میں نے عبدالحمید اختر اسٹیشن ماسٹر سے دریافت کیا۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ میرے پوچھنے پر کہ گاڑی پر کچھ پتھر پھینکے گئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس گاڑی سے سفر کرنے والے نشتر کالج کے لڑکوں کا رویہ قابل اعتراض تھا۔
انہوں نے اس کی تفصیل یہ بتائی کہ لڑکے پلیٹ فارم پر ناچے تھے اور کچھ قابل اعتراض نعرے لگائے۔ وہاں کچھ اور دوست بھی ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان کے لڑکوں نے مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ ایک طالب علم خاص طور پر چلایا۔ مرزائی کتے، لیکن ان میں سے کسی اور نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا۔ کچھ طلباء نے پلیٹ فارم پر موجود لوگوں سے پوچھا کہ جنت اور احمدیوں کا قبرستان کہاں ہے؟ اس پر وہاں موجود بچوں نے طلباء پر پتھر پھینکنے شروع کئے۔ لیکن طلباء نے کہا کہ وہ اس کا انتقام ۲۹؍مئی کو واپسی پر لیں گے۔ اس طرح ۲۲؍مئی کا واقعہ ختم ہوا۔ میں نے اسی رات کو ناظر صاحب امور عامہ کو اس کی اطلاع دی۔ ان کو پہلے ہی اس واقعہ کا علم ہو چکا تھا۔ میں نے ۲۳؍مئی کی صبح کو ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر عبدالسمیع کو یہ درخواست کی کہ وہ اس واقعہ کی رپورٹ ریلوے حکام کو دیں۔ کیونکہ طلباء کی بوگی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ربوہ سے سوار ہونے والا کوئی شخص طلباء کی بوگی کے قریب نہ جائے تاکہ اسٹیشن پر کوئی ممکن تصادم نہ ہو۔
۲۳؍مئی کو میں نے محسوس کیا کہ مختلف ردعمل ربوہ کے لوگوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ طلباء کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے اور کچھ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ہمارے بچوں کو طلباء پر پتھر نہیں مارنے چاہئیں تھے۔ ۲۹؍مئی کی صبح کو میں نے سوا آٹھ، ساڑھے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آٹھ بجے گھر سے مرزا عبدالسمیع کو ٹیلیفون کیا اور وہ ہدایات دہرائیں جو میں نے ان کو ۲۳؍ مئی کو دی تھیں اور ان کی سختی سے پابندی کرنے کے لئے کہا تا کہ جب طلباء واپس آئیں تو تصادم کا کوئی واقعہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرائمری سکول کے بچے پلیٹ فارم پر کھیلنے آ جاتے ہیں اور پل پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی معمر آدمی کو اس کام پر مامور کروں جو ان بچوں کو پلیٹ فارم پر آنے سے روکیں۔ اس کے بعد میں گھر سے دفتر چلا گیا۔ ۹ بجے کے قریب مرزا عبدالسمیع کا ٹیلیفون آیا کہ اگر ممکن ہو کسی آدمی کو اسٹیشن پر بھیج دوں تاکہ ان ہدایات پر عمل ہو، جو میں نے پہلے ان کو دی تھیں۔ میں نے بتایا کہ میرے پاس کوئی ورکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رشید احمد کارکن امور عامہ کو اسٹیشن پر بھیج دیں۔ میں نے مسٹر رشید احمد کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ اسٹیشن پر جا کر اسٹیشن ماسٹر کو ملیں۔ لیکن رشید احمد نہ ملا۔ کوئی دس بج کر پندرہ منٹ پر مجھے ٹیلیفون آیا۔ مرزا عبدالسمیع بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیشن پر لڑائی ہوگئی ہے۔ اس لئے مجھے فوراً اسٹیشن پر آنا چاہئے تاکہ میں ان کی مدد کروں۔ میں فوری طور پر سائیکل پر اسٹیشن پہنچ گیا۔ میں وہاں دس بج کر بیس پچیس منٹ پر پہنچ گیا۔ میں نے سائیکل اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں رکھی۔ اس کے دفتر میں داخل ہوا۔ اسٹیشن ماسٹر اور گارڈ آپس میں بحث کر رہے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ جلد از جلد گاڑی اسٹیشن سے چلا دیں۔ میں نے سو، ڈیڑھ سو آدمی دیکھے جو پلیٹ فارم پر اور زیادہ تر گاڑی کے پچھلے حصے کی طرف تھے۔ افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ پلیٹ فارم پر دوڑ رہے تھے۔ میں نے ہجوم کو پلیٹ فارم سے باہر مغرب کی طرف (لالیاں کی جانب) نکالنے کی کوشش کی۔ میں نے پوری کوشش کی۔ میں چلایا۔ کچھ کو دھکا دیا اور کئی کی ٹانگوں پر چھتری سے مارا جو میں نے کسی سے چھینی تھی۔ دس، پندرہ منٹ بعد لوگوں کو پلیٹ فارم سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ رشید احمد امور عامہ والا، محمود احمد طالب علم ایم۔ اے اور چوہدری انیس محمود جن کی سندھ میں زمین ہے، نے میری خاصی مدد کی۔ اس میں دس، پندرہ منٹ لگ گئے۔ کیونکہ اس وقت بہت گرمی تھی۔ میں نے دس، بیس چھوٹے بچوں کو جو پلیٹ فارم پر موجود تھے کہا کہ بازار سے پانی لائیں۔ چند منٹوں میں پانی لایا گیا اور تمام مسافروں کو پانی پلایا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے نزدیکی آبادی سے مسافروں کے لئے شربت بھی بھیجا تھا۔ ہجوم کو یہ خطرہ تھا کہ ملتان کے طلباء ان پر پتھر پھینکیں گے۔ اس لئے میں نے ان طلباء سے درخواست کی کہ پتھر نیچے گرا دیں۔ انہوں نے چند پتھر نیچے پھینک دیئے۔ اس پر گاڑی چل دی۔ گاڑی کے چلنے سے پہلے میں نے طلباء سے کہا تھا کہ اپنا سامان سنبھال لو کیونکہ میں نے ایک بیگ زمین پر پڑا دیکھا تھا۔ میں نے وہ بیگ بوگی میں رکھوا دیا۔ کسی نے مجھ سے شکایت نہ کی، کوئی چیز ان کی گم ہے۔ گاڑی کے چلتے ہی ہجوم منتشر ہو گیا۔
جب میں پہلے پہل پلیٹ فارم پر آیا تھا میں نے دیکھا کہ ڈبوں کے اندر لڑائی ہو رہی تھی۔ وہ لڑائی بند ہو گئی جب میں نے ہجوم کو نکالنا شروع کیا۔ پلیٹ فارم پر میں نے دیکھا کہ گاڑی کے اندر سے طلباء گالیاں دے رہے تھے۔ پلیٹ فارم پر موجود لوگ ان پر مکوں اور چھڑیوں سے حملہ کر رہے تھے۔ میں نے کسی کو زخمی نہ دیکھا، کیونکہ میں بہت مصروف تھا۔ البتہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ آٹھ، نو طلباء زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لڑکوں میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔ سوائے ایس۔ ایم مرزا عبدالسمیع کے۔ کسی مقامی کی کوئی Injury میرے علم میں نہ لائی گئی۔ میں تھک گیا تھا۔ اس کے علاوہ میں بہت فکرمند تھا ان نتائج کے بارے میں جو ربوہ کے اس واقعہ کے ہو سکتے ہیں۔ میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں گیا اور پانی پیا۔ میں نے ٹیلیفون کال سنی۔ مسٹر ذکاء اللہ قریشی نے میرے دفتر سے فون کیا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ بہت افسوس ناک ہے کہ ایسا واقعہ ربوہ میں ہوا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں۔ پھر میں اپنے دفتر گیا۔ وہاں چائے پی اور اس کے بعد چوہدری ظہور احمد باجوہ ناظر امور عامہ کے دفتر گیا۔ مسٹر رشید احمد بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے ان کو واقعہ بتایا۔‘‘
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبارات میں بشیر احمد صدر عمومی ربوہ کے بیان سے متعلق جو پریس ریلیز جاری ہوا وہ یہ ہے:
لاہور: مورخہ ۱۰؍ جولائی (سٹاف رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ایم۔اے صمدانی نے جو واقعہ ربوہ کے ٹربیونل جج ہیں، کی عدالت میں ربوہ کے امور عامہ کے صدر عمومی بشیر احمد پر جرح جاری رہی اور رکن قومی اسمبلی مولانا غلام غوث ہزاروی کا بیان قلمبند کیا گیا۔ مولانا ہزاروی نے ٹربیونل کے روبرو پیش ہونے کی درخواست پیش کی تھی۔ آج آغا شورش کاشمیری کی طرف سے رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ نے بھی اس امر کی درخواست پیش کی کہ وہ ٹربیونل کے روبرو پیش ہونا چاہتے ہیں۔ آج رفیق باجوہ نے ایک اور درخواست بھی دی جس میں کہا گیا تھا کہ پریس ٹرسٹ کے ان اخبارات کے ایڈیٹروں اور پبلشروں کو عدالت میں طلب کیا جائے۔ جنہوں نے مولانا یوسف بنوری کے بارے میں انجمن فدایان رسول کے اشتہار شائع کئے ہیں۔ کیونکہ ان کا اندازہ ہے کہ یہ اشتہار حکومت نے شائع کرائے ہیں۔ لہٰذا اس سلسلہ میں اخبارات کے ایڈیٹروں کو طلب کر کے ان سے پوچھا جائے۔
ایم انور بار ایٹ لاء نے اس مرحلہ پر کہا کہ نوائے وقت لاہور کے ایڈیٹر مسٹر مجید نظامی کے پاس بھی یوسف بنوری کے اشتہارات شائع کرانے کے لئے کوئی شخص گیا۔ لیکن انہوں نے یہ اشتہار شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ گواہ بشیر صدر عمومی ربوہ نے کہا کہ عبدالعزیز بھانبری اور رشید احمد کو پولیس کی امداد کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ ۳۰ مئی کو پولیس ربوہ پہنچ گئی تھی اور دھڑا دھڑ گرفتاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ گواہ نے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ریلوے اسٹیشن پر جو کچھ ہوا وہ اخلاقی لحاظ سے بھی جرم ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جن لوگوں کو میں نے ہنگامہ سے روکا۔ ان میں سے بعض کے ہاتھوں میں چھوٹی چھتریاں یا لاٹھیاں تھیں۔ جب کہ بعض طلباء کے ہاتھوں میں بیلٹ وغیرہ تھے۔ وہاں کوئی بھنگڑہ نہیں ڈالا گیا۔ البتہ احمدیت زندہ باد، اسلام زندہ باد اور انسانیت زندہ باد کے نعرے ضرور لگائے گئے۔
گواہ نے کہا کہ ۲۲ مئی کے وقوعہ کی اطلاع انہوں نے پولیس کو نہیں دی۔ البتہ اسٹیشن ماسٹر سے کہا کہ وہ اپنے افسروں کو اس کی اطلاع دیں۔ ۲۲ مئی سے ۲۹ مئی تک میری ملاقات عبدالحمید اختر سے نہیں ہوئی۔
س...... کیا آپ کے علم میں ہے کہ الفضل اخبار میں ۲۲ مئی کے وقوعہ کی کوئی خبر شائع ہوئی؟
ج...... میرے علم میں ایسی کوئی خبر نہیں۔ ویسے بھی عموماً الفضل پڑھتا ہوں۔
س...... کیا ربوہ اسٹیشن پر وقوعہ دیکھنے کے بعد آپ نے پولیس کو اس کی اطلاع دی؟
ج...... جی نہیں۔ میں نے رپورٹ نہیں کی۔ البتہ اسٹیشن ماسٹر مرزا سمیع پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کی اطلاع دے چکے تھے۔ ویسے مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسی قابل دست اندازی پولیس واقعات کی اطلاع پولیس کو دے جو اس کے علم میں ہوں۔
س...... کیا نظارت امور عامہ نے پولیس میں کوئی کیس درج کرایا؟
ج...... میرے علم میں نہیں ہے کہ نظارت والوں نے ۲۲ مئی یا ۲۹ مئی کے وقوعہ کی کوئی رپورٹ پولیس میں درج کرائی۔
س...... یہ نظام کب سے رائج ہے کہ ہر اہم وقوعہ حتیٰ کہ فوجداری واقعات کی اطلاع پہلے نظارت کو دی جائے اور پھر پولیس کو۔
ج...... یہ نظام ہماری روایت بن چکا ہے اور عرصہ دراز سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔
س...... ربوہ کے وقوعہ کے بارے میں آپ نے ربوہ کے کن کن لوگوں سے باتیں کیں؟
ج...... کوئی خاص یاد نہیں۔ البتہ باتیں ہوتی رہی ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ نے کہا : مرزا ناصر احمد کے پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کی بابت انہوں نے سنا تھا۔ لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ کس نے مجھے بتایا تھا۔ گواہ نے کہا کہ اس کے علم میں ایسا کوئی شعبہ ربوہ میں نہیں ہے جو معلومات جمع کرے یا انٹیلی جنس کا کام کرے۔
س ...... کیا نظارت امور عامہ نے اپنا کوئی وضاحتی بیان اخبار میں دیا؟
ج ...... جی نہیں۔
س ...... آپ اپنے ہمراہ اسٹیشن پر کچھ لوگوں کو لے گئے؟
ج ...... جی نہیں ۔ میں جلدی میں وہاں گیا۔ میں گاڑی چلے جانے تک پلیٹ فارم پر رکا۔ تاہم میں نے زخمیوں کی طبی امداد کے لئے کچھ نہیں کیا۔ کیونکہ میں نے اس وقت زخمیوں کو نہیں دیکھا۔ بعد میں مجھے زخمیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ بڑی مشکل سے میں نے سو ڈیڑھ سو کے مجمع کو ہٹایا اور انہیں ہنگامہ سے باز کیا۔
س ...... آپ کو ربوہ میں رہتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا؟
ج ...... چھ سال ۔
س ...... حملہ آوروں میں سے کسی کو آپ نے پہچانا یا نہیں؟
ج ...... دس منٹ میں حملہ آوروں کو کیسے پہچان سکتا ہوں۔ البتہ جو مجمع وہاں موجود تھا۔ ان میں سے چند دوکانداروں کو پہچانتا ہوں۔ گواہ نے کہا کہ اس نے جن لوگوں کو لڑائی میں حصہ لیتے دیکھا ان میں ایک نوجوان لطف اللہ بھی تھا۔ اس طرح ایک دوکاندار ضیاء اللہ بھی ان میں شامل تھا۔ گواہ نے کہا نظارت امور عامہ کے ورکر رشید احمد نے تقریباً تیس ایسے آدمیوں کے نام دیئے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ہنگامہ میں شریک تھے۔ یہ فہرست رشید احمد نے مرتب کی تھی اور میں نے بھی دو تین نام بتائے تھے۔ گواہ نے کہا کہ اسے یہ علم نہیں کہ کسی اور نے بھی ملزموں کی فہرست پولیس کو مہیا کی۔
س ...... جب آپ اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں نظارت امور عامہ کا کوئی آدمی تھا؟
ج ...... رشید احمد وہاں موجود تھا۔
س ...... گاڑی کے چلنے کے بعد کیا رشید احمد سے آپ نے کوئی تبادلہ خیال کیا؟
ج ...... وہاں اسٹیشن پر کوئی بات نہ کی ۔ وہ دفتر چلے گئے اور پھر میں رشید احمد کے دفتر نظارت امور عامہ میں ساڑھے گیارہ بجے گیا۔ وہاں جا کر وقوعہ کے بارے میں گفتگو ہوئی اور میں نے اپنی رپورٹ نظارت امور عامہ میں پیش کی ۔ وہاں وقوعہ کے بارے میں گفت و شنید تقریباً بیس منٹ تک ہوتی رہی۔ اس جگہ رشید احمد نے پچیس تیس افراد کی فہرست پیش کی اور نظارت والوں کو دی ۔ یہی فہرست بعد میں پولیس والوں کے سپرد کر دی گئی ۔
س ...... انہوں نے جو نام لکھے کیا آپ کے علم میں آئے؟
ج ...... ہاں ۔ زیادہ تر میرے علم میں نام آئے ۔ ان میں کچھ کو میں جانتا ہوں ۔ کیونکہ رشید احمد مجھ سے پہلے وہاں موجود تھے۔ اس لئے وہ زیادہ صحیح طور پر پہچان کر نام لکھ رہے تھے ۔ اس وقت میں نے بھی ایسے لوگوں کے نام کی تصدیق کی جن میں محمد خان ، احمد خان دوکاندار وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔ دونوں کی عمر تیس بتیس سال ہو گی اور وہ احمدی ہیں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... جو بیس، پچیس کی فہرست تھی اس میں سے آپ نے کتنے نام لکھوائے؟
ج ...... میں نے صرف آٹھ ، دس افراد کے ناموں کی تصدیق کی۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ تاہم اس وقت مجھے نام یاد نہیں۔ وہ سارے کے سارے تقریباً رحمت بازار میں تھے۔
س ...... یہاں ٹربیونل کے روبرو آنے سے قبل آپ سے وکلاء نے ملاقات کی؟
ج ...... مجھ سے چند روز قبل دو وکلاء نے ملاقات کی۔ لیکن انہوں نے انسپکٹر کی موجودگی میں میرے کپڑے مجھے دیئے۔ ان میں سے ایک وکیل کا نام چوہدری نور محمد ہے۔ دوسرے کا نام نہیں جانتا۔ علاوہ ازیں مجھ سے کسی نے ملاقات نہیں کی۔ شہادت کے بارے میں مجھ سے ان وکلاء کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ میری چوہدری نور محمد سے خاص واقفیت نہیں ہے۔ چونکہ ان کے بچے ربوہ میں رہتے ہیں۔ اس لئے میں انہیں جانتا ہوں۔
س ...... کیا آپ کو ٹربیونل کے بارے میں علم تھا؟
ج ...... جی ہاں۔ مجھے علم تھا۔
س ...... ۲۹ مئی سے ۱۱؍ جون تک نظارت امور عامہ کے افسران سے کوئی بات چیت کی؟
ج ...... جی نہیں۔ رپورٹ کے بعد کوئی بات چیت نہیں کی۔
س ...... کیا ربوہ میں احمدیت کے خلاف وہ لوگ بھی نعرے لگاتے ہیں جو وہاں سے گزرتے ہیں؟
ج ...... جی ہاں۔ سال میں دو تین مرتبہ بسوں میں گزرنے والے ایسے نعرے لگاتے ہیں جو احمدیت کے خلاف ہوں۔ میرے علم میں یہ بات نہیں ہے۔
۱۰؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
مسٹر ایم انور کی جرح کے جواب میں
س ...... کیا یہ درست ہے کہ تمہارے عقیدے کے مطابق جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانے اسے آپ کافر سمجھتے ہیں؟
ج ...... میرے عقیدے کے مطابق جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے وہ مرزا غلام احمد کے نزدیک کافر ہیں اور جن کو مرزا غلام احمد کافر سمجھتے ہیں ان کو میں بھی کافر سمجھتا ہوں۔
س ...... کافر سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
ج ...... میرے نزدیک ہر کوئی شخص جو کسی نبی کو نہ مانے، وہ کافر ہے۔
میں پندرہ صدر محلہ کا اجلاس وقتاً فوقتاً بلاتا رہتا ہوں۔ کوئی مقررہ وقت اجلاس کا نہیں ہوتا۔ ضرورت پڑنے پر اجلاس بلاتا ہوں۔ اس بات کے پیش نظر کہ خلیفہ وقت نے اپنے ۲۴ مئی کے خطبے میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لئے میں نے صدر محلہ کا اجلاس بلانے کی ضرورت نہ سمجھی۔ بسلسلہ واقعہ ۲۹ مئی میں نے ۲۳ مئی ایسی میٹنگ بلانے کی ضرورت نہ سمجھی تھی۔ کیونکہ ہماری تاریخ میں خلیفہ وقت کے احکام کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ یہ درست ہے کہ مسٹر رشید احمد اور مسٹر بھانپڑی نے سوسائٹی کے نچلے طبقے کے لوگوں کو گرفتار کروایا اور معزز خاندانوں کے ارکان کو گرفتاری سے بچالیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر ایم ۔ اے رحمٰن کی جرح کے جواب میں
جب سے میں نے ۱۹۲۴ء سے کمانا شروع کیا میں جماعت کو چندہ دیتا رہا ہوں ۔ اب تک میں نے دس ہزار کے قریب چندہ جماعت کو دیا ہو گا ۔ اس باقاعدہ چندہ کے علاوہ جب زائد چندہ طلب کیا جائے تو میں زائد چندے بھی دیتا رہا ہوں ۔ یہ درست ہے کہ جب بھی جماعت نے مجھے کسی خدمت کے لئے طلب کیا، میں نے بخوشی وہ خدمات انجام دی ۔ میرے والد بھی بہت وفادار احمدی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ہم اپنے اوپر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ جماعت اور اس کے امام کے احکام کی تعمیل کریں ۔ یہ درست ہے کہ میں خلیفہ صاحب کی اطاعت اور خوشنودی کو اپنی دینی و دنیاوی بھلائی اور نجات کے لئے ضروری سمجھتا ہوں ۔
س ...... اگر آپ کی جماعت یا خلیفہ صاحب کے مفاد کا سچائی کے ساتھ تصادم ہو تو آپ کس کو اختیار کریں گے؟
ج ...... ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔
اگر ہمیں خلیفہ سے ایسی کوئی ہدایت ملے جو شریعت کے خلاف ہو یا حکومت سے وفاداری کے خلاف ہو تو میں اپنا فیصلہ خود اختیار کرتا ہوں ۔ میں خلیفہ صاحب کو غلطی سے پاک نہیں سمجھتا ۔ (اس موقع پر گواہ نے کہا کہ غلطی تو نبیوں سے بھی ہو سکتی ہے )
گواہ نمبر ۴۴...... مولانا غلام غوث ہزاروی (ایم . این . اے) ولد مولوی سید گل مرحوم ، اسلام آباد
میری رائے یہ ہے کہ مرزائی کوئی اہم چیز بغیر اجازت یا حکم مرزا ناصر قادیانی ، قادیانی سربراہ کمیونٹی نہیں کرتے ۔ اگر حکومت پاکستان کے حکم اور مرزا قادیانی کے حکم میں اختلاف ہو تو مرزائی مؤخر الذکر کی تعمیل کریں گے ۔ اوّل الذکر کی نسبت ۔ جب ائیر مارشل ریٹائرڈ نور خاں گورنر مغربی پاکستان تھے ۔ میں ان سے لاہور میں ملا ۔ میں نے ان سے کہا تھا ۔ یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں ربوہ کے لوگ رات کو روشنی نہیں بجھاتے تھے اور یہ کہ اس وقت کے گورنر ملک امیر محمد خان نے اس واقعہ کی تحقیق کرائی تھی اور یکے بعد دیگرے تین کمیشن قائم کئے گئے تھے ۔ پہلے دو نے الزام کی تردید کی ۔ مگر میری اطلاع کے مطابق تیسرے کے مطابق تصدیق ہو گئی تھی کہ جنگ کے دنوں میں ربوہ کی روشنیاں گل نہیں کی جاتی تھیں ۔ میں نے نور خاں صاحب کو یہ بھی کہا تھا کہ تیسری رپورٹ پر ربوہ کو بجلی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی ۔ البتہ مسٹر نور خاں نے اس پر یقین نہ کیا اور اگرچہ یہ کہا کہ احمدی اپنے خلیفہ کے حکم کو حکومت پاکستان کے حکم پر مقدم سمجھتے ہیں ۔ مسٹر نور خاں نے کوئی کارروائی میری درخواست پر نہ کی ۔ کیونکہ میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ مرزائیوں کی باقاعدہ تحقیقات کرائی جائے اور ربوہ میں دوسری شکایات کی بھی تحقیقات کرائی جائے ۔ میں نے یہ الزامات ختم نبوت کانفرنس منعقدہ چنیوٹ میں دسمبر ۱۹۷۳ء میں بھی اپنی تقریر میں لگائے تھے اور مجمع کے لوگوں نے جو چنیوٹ کے تھے ، اس کی تصدیق کی تھی ۔ لیکن کوئی تردید احمدیہ کمیونٹی کی طرف آج تک نہیں ہوئی ۔
جب فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم صدر پاکستان تھے وہ لندن گئے تھے اور مسٹر عبد الجبار قائم مقام صدر تھے۔ میں کچھ دوسرے حضرات کے ساتھ مثلاً مفتی محمود صاحب ، مولانا عبید اللہ انور صاحب اور مولوی محمد اکرم صاحب ساتھ ان کی غیر حاضری میں ان کے قائم مقام عبدالجبار خاں کو راولپنڈی میں ملے۔ ہم نے ان کو اطلاع دی تھی کہ ربوہ کے کچھ مبلغوں نے مری جا کر وہاں کے امام مسجدوں سے یہ کہا تھا کہ دو سالوں کے اندر احمدی ملک کے حاکم ہوں گے ۔ اس لئے انہیں (اماموں کو ) اس سے پہلے ہی صحیح وقت پر ان کا ( مرزائیوں ) کا عقیدہ اختیار کرلینا چاہئے ۔ یہ بات ان اماموں نے ہمیں بتائی تھی ۔ مسٹر عبد الجبار خان نے یہ شکایت نوٹ کر لی تھی ۔ مگر اس کا نتیجہ ہمیں معلوم نہیں ہوا ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میری رائے میں مرزائی یہ چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان کی لونڈی بنی رہے یا کم از کم اس قدر کمزور ہو جائے کہ وہ ان کے خلاف غیر مؤثر ہو جائے۔ میرے تجزیہ کے مطابق ربوہ کا واقعہ مرزائیوں نے ملک میں فساد برپا کرنے کے لئے کیا تھا اور بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کے لئے کیا تھا۔ اس خیال کو مسٹر ظفر اللہ خان اور مرزا ناصر کے بیانات سے تقویت ملتی ہے جو حال ہی میں پریس کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ میری تقریر ریڈیو پاکستان سے غلط نشر ہوئی اور ربوہ کے واقعہ کے متعلق خبر بھی غلط رنگ سے پیش کی گئی۔ یہ سب کچھ میرے خیال میں مسٹر نسیم احمد سیکرٹری اطلاعات حکومت پاکستان کی وجہ سے ہوا ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں وہ مرزائی ہے اور مسٹر شمیم احمد جو اس کا بھائی ہے وہ کراچی کے مرزائیوں کا امیر ہے۔
تقسیم ملک سے قبل مرزائیوں نے باؤنڈری کمیشن کے روبرو یہ بیان دیا کہ وہ مسلمانوں سے الگ قوم ہیں۔ انہوں نے البتہ یہ کہا کہ ضلع گورداسپور کو پاکستان سے ملحق کیا جائے۔ کیونکہ ان کے الگ قوم ہونے کے بیان سے گورداسپور کی قسمت کا فیصلہ ہمارے خلاف کرا دیا۔ میری رائے میں سر ظفر اللہ خان نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی تھی۔ گورداسپور سے جانے کی وجہ سے کشمیر کا خلاف مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا، جو آج تک چل رہا ہے۔
میری رائے میں ۱۹۴۸ء میں کشمیر کی جنگ، فرقان بٹالین اور میجر جنرل نذیر احمد کی برٹش لوگوں کے ساتھ سازش کی وجہ سے ہاری تھی۔ مرزائی اپنے افراد کو ملک کی مختلف حکومتوں کے اندر کلیدی آسامیاں حاصل کراتے رہے۔ یہ اس حد تک ہوتا رہا کہ اب اس کو قابو کرنا مشکل ہے۔ ربوہ کے واقعہ کے بعد کچھ مرزائیوں نے کچھ پر امن جلوسوں پر فائرنگ کی جو ربوہ کے واقعہ پر احتجاج کے لئے نکالے گئے اس سے ان کے مقاصد کا پتہ چلتا ہے۔ وہ ملک میں فساد انگیزی کرنا چاہتے تھے۔ مرتد کی سزا قتل ہے۔ مگر یہ سزا دینا بھی حکومت کا کام ہے۔ مجھے کسی لیڈر کے بیان کا علم نہیں جس میں انہوں نے ایسی مذمت کا بیان دیا ہو۔ میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ کیونکہ پہلے کسی نے مجھے اس طرف توجہ نہ دلائی۔ دوسرے میں نے یہ بیان اس لئے نہ دیا کہ میرے سیاسی مخالفین اسے میرے خلاف استعمال کرتے۔ مخالفین ہمارے ساتھ ایسے بیانات منسوب کرتے رہے ہیں جو ہم نہیں کہتے رہے۔
۱۱/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
مسٹر رفیق احمد باجوہ نے کہا کہ مسٹر بھٹو کو بلاتاخیر گواہ کی حیثیت سے بلایا جائے۔ کیونکہ آج ان کا پھر ایک انٹرویو شائع ہوا ہے۔ پہلے بھی انہوں نے اس مسئلے پر اظہار رائے کیا تھا اور درخواست دی گئی تھی کہ ان کو گواہ کے طور پر بلایا جائے۔ دوسرے مرزا ناصر احمد صاحب کو جلد بحیثیت گواہ طلب کیا جائے۔ انہوں نے بھی حال ہی میں ایک اور انٹرویو دیا ہے۔ ٹربیونل نے مبشر لطیف سے کہا کہ وہ اپنے موکلان سے پوچھ کر بتائیں کہ کوئی تازہ انٹرویو بھی انہوں نے دیا ہے۔ مسٹر باجوہ نے یہ بھی کہا کہ جون، جولائی ۱۹۴۶ء کے الفضل میں مرزا بشیر الدین محمود کا ایک بیان شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے آپ کو اقلیت لکھا تھا۔ وہ پرچہ طلب کیا جائے۔ مرزا نصیر احمد کو نوٹ کروایا گیا کہ وہ یہ پرچہ پیش کریں۔
ٹربیونل: ۱۲/ بجے کے بعد فل کورٹ کی میٹنگ ہے۔ اس لئے آج ان کا بیان مکمل کر لیا جائے۔ کل کے لئے ظہور احمد باجوہ ناظر امور عامہ کو بلایا جائے گا۔ مبشر لطیف نے کہا کہ وہ ان سے رابطہ قائم کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۲/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
شباب مفتی نے ٹربیونل سے درخواست کی کہ میاں طفیل محمد صاحب کا بیان ۲۹/ جون کے نوائے وقت میں شائع ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں صاحب کو اس سلسلے میں کسی سازش کا علم ہے۔ اس لئے میاں صاحب کو بحیثیت گواہ طلب کیا جائے۔ ٹربیونل نے مسٹر ایم۔ اے رحمٰن کو ہدایت کی کہ وہ میاں طفیل محمد صاحب سے معلوم کر لیں۔ اگر کوئی چیز ان کے ذاتی علم میں ہے تو ان کو بحیثیت گواہ طلب کیا جاسکتا ہے۔ مسٹر شباب مفتی نے یہ بھی درخواست کی کہ میاں طفیل محمد صاحب کو ایک خط موصول ہوا ہے۔ جس میں ملک کی سالمیت کے خلاف کی تفصیلات تک دی ہیں۔ وہ خط بھی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔ مسٹر ایم۔ اے رحمٰن نے فرمایا کہ ابھی مجھے پتہ چلا ہے کہ کوئی گمنام خط میاں صاحب کو ملا ہے۔ جس میں میاں صاحب کو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ ٹربیونل: اگر میاں صاحب بحیثیت گواہ آئیں گے تو خط بھی ساتھ لیتے آئیں گے۔
مسٹر رفیق احمد باجوہ نے آغا شورش کاشمیری سے ملاقات کر کے ہدایات لینے کی اجازت کے لئے درخواست دی تھی۔ ٹربیونل نے AAG سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی حکومت پبلک کے مفاد میں مسٹر رفیق احمد باجوہ کے آغا شورش کاشمیری سے ملاقات کی ضرورت نہیں سمجھتی۔
مسٹر رفیق احمد باجوہ نے مصطفیٰ کھر ، جنرل اعظم خاں اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو ٹربیونل میں طلب کرنے کے لئے کہا۔
گواہ نمبر ۴۱ ، بشیر احمد صدر امور عامہ پر دوبارہ جرح شروع ہوئی۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی صاحب کی جرح کے جواب میں
یہ درست ہے کہ نومبر ۱۹۷۱ء میں ربوہ میں محمد علی سبزی فروش قتل ہوا تھا۔ اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ ابھی تک تفتیش ہورہی ہے۔ ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ میں اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔ پولیس نے مجھے اس قتل کی تفتیش میں شامل تفتیش نہیں کیا۔ میں ربوہ میں ہونے والے فوجداری مقدمات کا ریکارڈ نہیں رکھتا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کبھی خلیفہ کا ذاتی ملازم رہا ہے۔ میں نے محمد علی کو دو، تین سال قبل از موت سبزی فروخت کرتے دیکھا تھا۔ ربوہ میں کسی نظارت کے پاس ہاکیاں ، ڈنڈے، آہنی مکے، ہنٹر وغیرہ نہ تھے۔ میں نے ۲۹/ مئی کو پلیٹ فارم ٹکٹ ربوہ اسٹیشن سے نہیں خریدا تھا۔ میں نے ریلوے حکام کو فسادیوں کے خلاف ایکشن لینے کے لئے خط نہیں لکھا تھا جو لسٹ ہم نے پچیس ، تیس افراد کی بعد از وقوعہ بنائی تھی۔ ان میں سے تین ، چار طلباء ہوں گے۔ باقی دوکاندار ہوں گے۔ ایک ان میں سے تانگہ بان تھا۔ مسٹر شفیق احمد طاہر مہتمم خدام الاحمدیہ ربوہ ہیں۔
۱۵/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۴۳...... ظہور احمد باجوہ، ناظر امور عامہ
میرے فرائض بطور ناظر امور عامہ جماعت کے اندرونی معاملات سے متعلق ہیں۔ میرا فرض یہ ہے کہ دیکھوں کہ جماعت اپنے اصولوں اور ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہے۔ ضابطہ اخلاق کسی کتابی شکل میں مدون نہیں ہے۔ ہمیں وقتاً فوقتاً ہدایات ملتی رہتی ہیں اور میرا یہ فرض ہے کہ ان ہدایات پر عمل کراؤں۔ یہ ہدایات تحریری نہیں ہوتیں۔ کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ جس میں تقاریر اور خطبے درج ہوں جن کے اندر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخلاقی ضابطہ سے متعلق ہدایات درج ہوں۔ ضابطہ اخلاق کے موٹے موٹے اصول یہ ہیں۔
- ۱...... سگریٹ نوشی پبلک مقامات پر منع ہے۔
- ۲...... آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں۔ دوسروں سے بھی نہ لڑیں۔
ان کے علاوہ میرے فرائض یہ بھی ہیں۔ ناقابل دست اندازی پولیس، قابل راضی نامہ جرائم میں تصفیہ کرانا اور احمدی لوگوں کو تلاش معاش میں مدد دینا۔ اگر کوئی ربوہ میں کاروبار کرنا چاہے تو نظارت امور عامہ سے اجازت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح نظارت امور عامہ کی اجازت کے بغیر کوئی آدمی ربوہ میں رہائش نہیں رکھ سکتا۔
ان فرائض کی ادائیگی کے لئے مجھے ضروری سٹاف ملا ہوتا ہے۔ نظارت امور عامہ کا کنٹرول پاکستان میں موجود تمام جماعتوں پر ہے اور اس میں سب احمدی شامل ہیں۔ البتہ لاہوری احمدیوں پر میرا کنٹرول نہیں ہے۔ مرکزی دفتر امور عامہ میں سات، آٹھ کلرک ہیں۔ ربوہ کے باہر میرا کوئی سٹاف نہیں ہے۔ لیکن ہر احمدیہ جماعت میں ایک سیکرٹری امور عامہ بھی ہوتا ہے۔ ان سات، آٹھ کلرکوں کے علاوہ اور کوئی عملہ میرے پاس نہیں ہوتا۔ یہی کلرک فیلڈ میں بھی کام کرتے ہیں۔ نظارت امور عامہ کا دیگر نظارتوں پر کوئی کنٹرول یا تعلق نہیں ہے۔ میں براہ راست سربراہ کمیونٹی کو جوابدہ ہوں۔ اگرچہ صدر انجمن احمدیہ اور ناظر اعلیٰ بھی موجود ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کا تنظیمی ڈھانچے میں کیا تعلق ہے۔ صدر انجمن احمدیہ صرف اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں اور ناظر اعلیٰ مختلف نظارتوں کا سالانہ معائنہ کرتے ہیں۔ صدر عمومی ربوہ، پاکستان میں دوسرے جماعتوں کے صدر کی طرح ہوتے ہیں۔ اس لئے میں ان کے کام کی نگرانی کرتا ہوں۔ ہر نظارت کا ایک تحریری ضابطہ مقرر ہے۔ کیونکہ ضابطہ واضح ہے۔ اس لئے مجھے کسی اور ذریعہ سے رہنمائی حاصل نہیں کرنی ہوتی۔ نہ ہی مجھے مقررہ مدت کے بعد رپورٹ خلیفہ صاحب یا کسی اور کو دینی پڑتی ہے۔ سوائے ایک سالانہ رپورٹ کے جو ہمیں صدر انجمن احمدیہ کو دینی ہوتی ہے۔ اس سالانہ رپورٹ کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ سالانہ مشاورت میں پیش ہوتی ہے اور شائع بھی کی جاتی ہے۔
ہر جماعت کے سائز پر منحصر ہے کہ اس کے سربراہ کو امیر یا صدر کہا جائے۔ امیر بڑی جماعت کے صدر کو کہتے ہیں۔ اگر کسی جماعت میں غالباً چالیس سے زائد چندہ دہندگان ہوں تو اس کے صدر کو امیر کہتے ہیں۔ اس سے چھوٹی جماعت کا سربراہ صدر کہلاتا ہے۔ صدر عمومی ایک خاص عہدہ ہے جو صرف ربوہ کی مقامی انجمن احمدیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ میں ربوہ میں ہونے والے واقعات مؤرخہ ۲۲؍مئی یا ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کا چشم دید گواہ نہیں ہوں۔ مجھے ۲۲؍مئی کے واقعہ کا علم میرے محلہ دارالصدر کی مسجد میں ہوا۔ مغرب کی نماز کے وقت گھر واپس آنے پر مجھے بشیر احمد صدر عمومی کا فون آیا۔ میں نے کہا کہ مجھے پہلے علم ہو گیا ہے۔ اگلے دن میں نے دفتر میں اپنے کلرک کو اس کی تحقیق کرنے کے لئے کہا، اس نے تحقیق کر کے بتایا کہ ۲۲؍مئی کو ربوہ اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے کچھ طلباء نے نعرے لگائے تھے اور یہ کہ انہوں نے حوروں، جنت اور دوزخ کی باتیں کی تھیں۔ کلرک کے مطابق نعروں سے قریبی علاقہ کے لوگ اور بچے جمع ہو گئے اور ربوہ کے لوگوں اور طلباء نے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے۔ اس واقعہ سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا۔ نہ جائیداد کا نقصان نہ شخصی نقصان ہوا۔ کیونکہ گاڑی چل دی۔ میرے کارکن نے یہ بھی مجھے بتایا کہ طالب علم واپس ۲۹؍مئی کو آئیں گے۔ میں نے کارکن کو بتایا کہ یہ معمولی واقعہ اور معاملہ ہے جو ختم ہو گیا ہے۔ تاہم ۲۹؍مئی کو کچھ نہیں ہوگا۔ ربوہ کا کوئی آدمی اس دن اسٹیشن پر نہ جائے۔ میں نے ۲۲؍مئی کے واقعہ کا ذکر ناظر اعلیٰ یا صدر انجمن یا کسی اور سے نہ کیا۔ جہاں تک میرا علم ہے ربوہ میں میرے سامنے اس کا ذکر تک نہیں ہوا ہے۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ خلیفہ صاحب نے ۲۴؍مئی کے خطبہ میں اس واقعہ کا حوالہ دیا تھا۔ میں اس دن جمعہ کے خطبہ میں موجود نہ تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجھے ۲۹ مئی کے واقعہ کا علم گاڑی روانہ ہونے سے ایک دو منٹ پہلے ہوا۔ مجھے ایک غیر معلوم شخص کا ٹیلیفون آیا تھا۔ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اسٹیشن پر جھگڑا ہو گیا ہے۔ اس پر فون بند ہو گیا۔ میں نے اسٹیشن پر فون کرنے کی کوشش کی۔ مگر کسی نے فون نہ اٹھایا۔ میں نے ایک آدمی دوڑایا کہ وہ اسٹیشن پر جا کر پتہ کر کے آئے۔ وہ راستے سے واپس آ گیا اور مجھے آ کر بتایا کہ گاڑی جا چکی ہے۔ چند منٹوں (دس بارہ منٹ) بعد میری نظارت کے کارکن رشید احمد اور چوہدری بشیر احمد یکے بعد دیگرے آگئے اور مجھے واقعہ کی زبانی رپورٹ دی۔ پہلے رشید نے مجھے رپورٹ دی جس میں اس نے بتایا کہ وہ منڈی سبزی خریدنے گیا تھا۔ اس نے شور سنا۔ لوگ بازار سے بھاگ کر جا رہے تھے۔ وہ بھی بھاگ کر پلیٹ فارم پر گیا۔ اس نے بتایا کہ جس بوگی میں لڑائی ہو رہی تھی۔ وہ اس کی طرف پیٹھ کر کے لڑائی کرنے والوں کو حملہ کرنے سے روکنے لگا۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھڑانے کے دوران اسے بھی کچھ مکے وغیرہ لگے تھے۔ اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے مجھے بتایا کہ لڑائی کرنے والوں نے صرف چھڑیاں (Sticks) استعمال کی تھیں۔ اس کے کہنے کے مطابق لڑائی نشتر کالج کے طلباء اور ربوہ کے لوگوں کے درمیان ہوئی تھی۔ ربوہ کے لوگ کچھ دوکانداروں اور کچھ طلباء کے علاوہ کچھ لوگ ربوہ سے باہر کے آدمی تھے۔ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ کچھ لوگ جنہوں نے لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ ربوہ کے نہیں تھے لیکن وہ یقینی نہیں کہہ سکتا کہ آیا وہ سب نشتر کالج کے طلباء تھے یا نہیں۔ لیکن وہ بھی گاڑی کے چلنے پر گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اس اثناء میں بشیر احمد بھی آگئے۔ میرے پوچھنے پر رشید نے یہ بھی بتایا کہ نشتر کالج کے کچھ لڑکے زخمی (معمولی) ہوئے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ربوہ کا کوئی آدمی زخمی ہوا تھا یا نہیں۔ (گواہ نے کچھ دیر رک کر اور سوچ کر یہ بتایا) آج تک میرے علم میں یہ بات نہیں آئی کہ ربوہ کا کوئی آدمی زخمی ہوا تھا یا نہیں۔ چوہدری بشیر احمد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کسی کو زخمی (خون بہتے ہوئے) نہیں دیکھا۔ میں نے رشید احمد کو کہا کہ چونکہ یہ پولیس کیس ہے۔ اس لئے پولیس کو اطلاع کر دو۔ اس نے مجھے بتایا کہ پولیس کو اسٹیشن پر اطلاع ہو چکی ہے۔
جب یہ کیس پولیس کے حوالے کیا گیا تو میں نے مزید تحقیق کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ اس لئے میں نے یہ معلوم نہ کیا کہ آیا یہ بائے چانس واقعہ ہے یا منظم واقعہ ہے۔ میری رائے میں اگر یہ واقعہ ملک کے کسی اور حصے میں ہوتا تو اس کو وہ اہمیت نہ ملتی جو اب اس واقعہ کو مل گئی۔ پولیس افسروں نے مجھے بتایا تھا کہ انہیں اوپر سے ہدایات ہیں کہ تعلیم الاسلام کالج کے ۱۰۰ طالب علم گرفتار کر لوں اور اس کے بعد یہ نشتر کالج اور تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کی لڑائی بن جائے گی۔ یہ حکام کی سوچ تھی۔ احمدی نوجوان بھی پچھلے دو سالوں سے ناخوشگوار رجحانات جو عام نوجوانوں میں پائے جاتے ہیں، سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ اب وہ ہمارے کنٹرول میں اس حد تک نہیں رہے۔ جس حد تک پہلے تھے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے جو احمدی نوجوانوں میں پیدا ہو گئی ہے، سے ربوہ کا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔
نوجوانوں میں اب اخلاقی زوال شروع ہو چکا ہے۔ آج کل تعلیم الاسلام کالج میں اکثریت غیر احمدی ہیں، جو لوگ ربوہ کے واقعہ کے نتیجے میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔ وہ اب احمدیہ ضابطہ اخلاق کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بے گناہ ان کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور بعض کو بغیر جرم کئے جیل جانا پڑ رہا ہے تو وہ دوسرے کو لوٹ لیتے اور دوسروں کا نقصان کر کے اپنا نقصان کرواتے ۔ احمدیوں کی پہلے پالیسی یہ تھی کہ مقابلہ نہ کیا جائے۔ لیکن اب نوجوان احمدی اس پالیسی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مقابلہ کرنا ہی ان کے مستقبل کے لئے اچھا ہوگا۔ میں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کہ آیا حملہ آوروں نے ۲۹ مئی کو خود ہی یہ کام کیا یا ان کی راہنمائی کسی اور نے کی۔ لیکن میرا ذاتی رجحان یہ ہے کہ ان کی ربوہ کے باہر سے راہنمائی کی گئی۔ جماعت احمدیہ کا اس واقعہ میں کوئی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہاتھ نہیں ہے۔ جنہوں نے فساد میں حصہ لیا ہے۔ وہ دوسروں کے ہاتھ میں آلہ کار بنے ہیں۔ جنہوں نے اس کی پلاننگ کی۔ میرے یہ کہنے کی وجوہات کہ مختلف غیر احمدی تنظیمیں اس واقعہ کی ذمہ دار ہیں۔ یہ واقعات ہیں جن سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔
- ۱...... ربوہ کے واقعہ کے چند دن پہلے چٹان کے شمارہ میں (نصیر احمد ایڈووکیٹ نے یہ پرچہ پیش کرنے کا ذمہ لیا) یہ لکھا گیا کہ قادیان
شکن اور ربوہ سوز منصوبہ بنایا جائے گا۔
- ۲...... صدر آزاد کشمیر نے چنیوٹ میں چند ماہ قبل یہ کہا تھا کہ قادیانیوں کا مرکز ربوہ عنقریب نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
- ۳...... آج سے دو ماہ قبل (واقعہ سے پہلے) لولاک کے ایک پرچے میں آغا شورش کاشمیری کا یہ بیان شائع ہوا۔ جس میں یہ کہا گیا ہے
کہ ربوہ کو اسی طرح تباہ کر دیا جائے گا۔ جس طرح بابل اور نینوا تباہ کئے گئے تھے۔
- ۴...... انہی دنوں شورش کاشمیری نے یہ بھی کہا تھا جو اخبارات میں شائع ہوا کہ احمدیوں کی لاشوں پر کبڈی کھیلی جائے گی۔
- ۵...... صدر آزاد کشمیر نے کسی اور موقعہ پر یہ بھی کہا تھا کہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا اس طرح سکھا دیا جائے کہ یہ ایندھن بن جائے گا۔
ان بیانات کی روشنی میں، میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ مشکل نہیں کہ ربوہ میں جو واقعہ ہوا۔ ایسے کسی واقعہ کا پلان باہر سے نہ بنایا جاسکتا تھا تا کہ فسادات کرائے جائیں۔ احمدی تو ہمیشہ تشدد کا آسان شکار رہے ہیں۔ اب تو خیر ربوہ کا واقعہ ہو گیا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہم سے ربوہ کے واقعہ کے بارے میں غلطی ہو گئی ہے۔ ۱۹۵۳ء کے واقعات کا تو ہماری کسی غلطی سے تعلق نہ تھا۔ اس وقت کراچی احمدیوں نے سیرت کانفرنس منعقد کی تھی، اس پر اس قدر ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔
(مسٹر رفیق احمد باجوہ نے کہا کہ Illustrated Weekly مصنف شہاب احمد کے ایک مضمون کو ۱۱؍ جولائی ۱۹۷۴ء کے فارن پریس ڈائجسٹ External Publicity میں شامل کیا گیا۔ اس میں مرزا ناصر احمد کو Holy Prophet of Islam کہا گیا۔ یہ رپورٹ طلب کی جائے اور اس ڈائجسٹ کے ایڈیٹر کو بلایا جائے کہ انہوں نے کس بناء پر اس مضمون کو پبلسٹی دی)
اس واقعہ میں ملوث افراد کی کوئی فہرست نہ میں نے بنائی نہ میرے دفتر میں بنائی گئی۔ میں پرنسپل ٹی آئی کالج کے دفتر میں ساڑھے نو بجے یا ۱۰؍ بجے رات ۲۹؍ مئی کو بلایا گیا تھا۔ وہاں ایس پی جھنگ، اے سی چنیوٹ اور پرنسپل موجود تھے۔ ایس پی نے مجھے بتایا کہ وہ ۱۰۰ طلباء کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پرنسپل نہیں مان رہے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ ۷۰ آدمی سپلائی کر دیں تاکہ ملک میں لوگوں کو ٹھنڈا کیا جائے۔ میں نے اصولی طور پر اس بات سے انکار کر دیا۔ اس پر مجھے ایس پی نے بتایا کہ رشید احمد نے انہیں ۲۵ نام لکھوائے ہیں۔ آپ باقی لوگوں کے نام بھی بتا دیں۔ (اس واقعہ پر فاضل A A G نے گواہ کو ۲۶؍ افراد کی ایک فہرست دکھائی جس پر کسی کے دستخط نہیں۔ لیکن اس کو دیکھ کر گواہ نے کہا کہ اس فہرست میں درج افراد کے نام وہی ہیں جو مسٹر رشید احمد نے اپنی فہرست میں شامل کئے تھے)
ٹریبیونل نے A A G کو ہدایت کی کہ وہ پولیس افسروں سے معلوم کریں کہ ان میں سے طالب علم کون ہیں اور کون کس پتے سے تعلق رکھتا ہے اور ان میں کوئی سمجھدار آدمی ہے، جس کو طلب کیا جاسکے۔ گواہ نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس فہرست میں کون طالب علم ہیں اور کون نہیں ہیں۔ میں ان میں سے کوئی نہیں جانتا۔
مسٹر رفیق احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
مہاجر جو آج کل ربوہ میں ان فسادات کے نتیجے میں آرہے ہیں جو واقعہ ربوہ کے بعد ہوئے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ سوسائٹی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
Ingeneral کے رویے کے پیش نظر ان کے رویئے میں تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔ میں نے کسی ایسے شخص سے بات نہیں کی جس نے واقعہ ربوہ میں حصہ لیا۔ یہ بات میرے علم میں نہیں آئی کہ بعض مقامات پر احمدیوں نے خود دوسروں کو مشتعل کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی احمدی نے کسی جگہ کسی کو مشتعل نہیں کیا۔ یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ چنیوٹ میں ایک احمدی نے ۳۰؍ مئی کو فائرنگ کی تھی۔ جس کے نتیجے میں ایک آدمی بعد میں مر گیا تھا۔ لیکن اس کے فائر کھولنے سے قبل اس کی لاکھوں روپے کی جائیداد جلا دی گئی تھی۔ لیکن اس ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پہلے اس نے ہوائی فائر کئے۔ پھر انہوں نے ہجوم پر فائر کئے۔ میری رائے میں یہ اشتعال انگیزی نہیں تھی۔ جہلم میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس میں جماعت احمدیہ کا تعلق ہو۔ مجھے یہ بات امیر جماعت جہلم سے موصول ہونے والی رپورٹ سے معلوم ہوئی کہ وہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ لیکن فائر کرنے والا شخص احمدی نہیں۔ میں امیر جماعت کا نام نہیں جانتا۔ وہ رپورٹ تحریری ہے۔ میرے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں البتہ ایک احمدی کو گولی مار دی گئی۔ میں وہ رپورٹ پیش کر سکتا ہوں۔ (گواہ کو ہدایت کی گئی کہ متعلقہ رپورٹ وہ کل پیش کریں) یہ درست ہے کہ مختلف اضلاع کی احمدیہ تنظیموں سے مرکز (ربوہ) میں رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ ربوہ میں چوہدری حمید اللہ یہ رپورٹیں حاصل کرتے ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن ہم ربوہ سے اس جگہ آدمی بھیجتے ہیں جہاں ہنگامہ ہوتا ہے تا کہ وہ وہاں سے رپورٹ لے کر آئے۔ جہاں ہنگامہ ہوتا ہے وہاں سے ہمیں ٹیلیفون پر اطلاع دی جاتی ہے۔ جن لوگوں کو ربوہ سے بھیجا جاتا ہے وہ رضا کار ہوتے ہیں۔ میں ان کے نام نہیں جانتا۔ چوہدری حمید اللہ کے پاس آج تک پہنچنے والی رپورٹیں موجود ہوں گی۔ جو ہدایات آج کل بھیجی جاتی ہیں ان کا ریکارڈ حمید اللہ کے پاس ہوتا ہوگا۔
تحریری ضابطے کے علاوہ مجھے صدر انجمن احمدیہ سے یہ ہدایات ملتی ہیں۔ اگر ہدایات تحریری آئیں تو ان کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ زبانی ہدایات بھی موصول ہوتی ہیں۔ میں نے صدر انجمن احمدیہ کو ۲۹؍ مئی کے واقعہ کے بارے میں کوئی رپورٹ نہ دی۔ کیونکہ میں نے اس واقعہ کو اہم واقعہ نہ سمجھا۔ ایسے ہنگامے روز ہوتے رہتے ہیں۔ دوسری وجہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ کو نہ بھیجنے کی یہ بھی تھی کہ ہر کوئی اس واقعہ سے واقف تھا۔ صدر انجمن نے مجھ سے کوئی رپورٹ طلب نہ کی۔ میں نہیں جانتا کہ چوہدری حمید اللہ ریٹائرڈ ایس. پی ہیں۔ وہ ٹی. آئی کالج میں ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جماعت کو اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔ ان کے سپرد دوسرے کام بھی کئے جاتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ چوہدری حمید اللہ کے علاوہ کسی اور سرکاری ملازم کے سپرد کوئی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ چوہدری حمید اللہ ۱۹۷۲ء میں کالجوں کے قومیانے کے بعد سرکاری ملازم بنے تھے۔ کوئی سرکاری ملازم وقف زندگی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی وقف زندگی کی خدمات کی ضرورت جماعت کو ہو تو وہ اپنے سرکاری عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہے۔ حمید اللہ نے ابھی تک سرکاری ملازمت سے استعفیٰ نہیں دیا۔
میں نے کہیں سے کوئی ہدایات دستور ۱۹۷۳ء کے نفاذ کے بعد حاصل نہ کیں۔ مجھے یاد نہیں کہ خلیفہ صاحب نے اپنے کسی خطبہ جمعہ میں دستور میں درج صدر اور وزیر اعظم کے حلف کا حوالہ دیا ہو۔ میں دستور میں ان حلفوں کے اندراج کے بارے میں کسی ردعمل کا علم نہیں رکھتا۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
پاکستان میں احمدیوں کی ایک ہزار کے قریب شاخیں ہیں لیکن میں احمدیوں کی تعداد نہیں بتا سکتا۔ رسالوں کی تعداد سات ہے۔ الفرقان، مصباح، خالد، تحریک جدید، تشحیذ الاذہان، انصار اللہ ان کے علاوہ صرف ایک روزنامہ اخبار الفضل ہے۔ پندرہ کے قریب رسالے ملک سے باہر شائع ہوتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ بھارت میں جماعت کی کتنی شاخیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ میری اجازت کے بغیر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ میں کوئی شخص نہ کاروبار کر سکتا ہے اور نہ رہائش رکھ سکتا ہے۔ اس کا اطلاق نئے آنے والوں پر ہوتا ہے۔ ملک کا کوئی قانون ایسا نہیں ہے۔ جس کے ذریعے انجمن احمدیہ کو یہ اختیار ہو کہ ربوہ میں بلا اجازت امور عامہ آباد ہونے سے منع کردے۔ لیکن اراضی ربوہ کی انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے اور وہ اسی غرض سے خریدی گئی تھی۔ اس لئے انجمن نے قواعد بنائے ہیں۔ میں نے گورنمنٹ کی وہ تحریر نہیں پڑھی جس کی رو سے گورنمنٹ نے انجمن کو زمین عطاء کی۔ میں چنیوٹ کے ایک سبزی فروش کو جانتا ہوں جو ۲۹ مئی کے واقعہ سے قبل تک ربوہ میں سبزی بیچتا تھا۔ وہ غیر احمدی ہے۔ کاروبار کی اجازت صدر عمومی دیتا ہے۔ وہ اجازت کا ریکارڈ رکھتا ہوگا۔ میں اس کا نام نہیں جانتا۔ اس سے سبزی خریدتا رہا ہوں۔ اجازت برائے کاروبار میری منظوری کے بعد دی جاتی ہے۔ لیکن اس کا ریکارڈ صدر عمومی کے دفتر میں رہتا ہے۔ اس لئے میں جانتا ہوں کہ کس کو اجازت دی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شخص بلا اجازت کاروبار شروع کردے تو ہم اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔ البتہ اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم کسی کو جی ٹی روڈ کے دونوں طرف ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کی زمین پر بھی کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ہائی وے کی زمین پر دوکان قائم کرے۔ تاہم آج تک میں نے اس علاقے میں کوئی دوکان غیر احمدی کی نہیں دیکھی۔ ہم قواعد کی رو سے ایسے شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے جو ربوہ میں کام کرتا ہو اور مرزا غلام احمد کی نبوت سے انکار کر دے۔ میں ربوہ کے کسی آدمی کو نہیں جانتا جس نے مرزا غلام احمد کو نبی ماننے سے انکار کیا ہو۔
میرے علم میں نہیں کہ محمد صالح نور کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ کیونکہ وہ اب مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ نہ ہی انجمن نے کوئی کارروائی مسٹر رفیق احمد باجوہ ۳۲-سی۔ڈبلیو کے خلاف کی۔ یہ درست نہیں کہ مسٹر رفیق احمد باجوہ کو ربوہ سے نکالا گیا۔ دراصل اس کے رشتہ دار اس کو وہاں سے لے گئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ربوہ سے نکالنے کے بعد وہ احمدیت سے منحرف ہوگئے ہیں۔ جب مسٹر باجوہ یہاں سے چلا گیا۔ اس کا والد بھی ربوہ سے خود ہی چلا گیا تھا۔
مسٹر طیب بخاری گواہ نمبر ۳۵ کی ماں بھی ربوہ میں رہتی تھی۔ اس کا خاندان متنازعہ تھا۔ اس کی ثالثی ہوئی تھی۔ امور عامہ میں جھگڑا نہ لایا گیا۔ مجھے تفصیلات کا علم نہیں۔ خود اپنا مکان فروخت کر کے ربوہ سے آگئی۔ مجھے بطور ناظر امور عامہ کوئی اعتراض نہیں کہ اگر ان میں سے کوئی آدمی ربوہ آجائے اور وہاں رہائش دوبارہ رکھے۔ یہ درست ہے کہ ہم کسی کو لٹریچر تقسیم کرنے یا اشتہار لگانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم ربوہ کو اپنی پرائیویٹ جائیداد سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہاں کے قانون وضع کر سکتے ہیں۔ ربوہ میں ٹاؤن کمیٹی ہے۔ گلیاں اور بازار Public Streets ہیں۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کسی پبلک سٹریٹ یا پبلک مارکیٹ کے بارے میں کوئی قانون ہماری انجمن نہیں بنا سکتی۔ مجھے کسی ملکی قانون کا علم نہیں، جس کے تحت ہم کسی کو لٹریچر کی تقسیم سے روکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم لٹریچر کی تقسیم روک دیتے ہیں۔ جس کو ہم اخلاقی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔ میں اب اس بات پر غور کروں گا کہ آئندہ ہمیں سابقہ پریکٹس کو جاری رکھنا چاہئے یا نہیں۔ ہمارا پیپلز پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ صدر انجمن احمدیہ مذہبی جماعت اور پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے۔
گواہ کو نوائے وقت مورخہ ۱۰؍ جون کا تراشا دکھایا گیا جس میں مرزا ناصر احمد کا بیان APP شائع ہوا ہے۔ گواہ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اس سے اتفاق کرتا ہے کہ ربوہ کا واقعہ پیپلز پارٹی نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے کرایا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں کوئی رائے قائم نہیں کی۔ اس طرح میں نے کسی جماعت کے بارے میں بھی کوئی رائے اس سلسلے میں قائم نہیں کی۔ مجھے مرزا ناصر احمد کی تقریر یا بیان کا علم نہیں جس میں انہوں نے کہا ہو کہ آئندہ ۲۵ سالوں میں مختلف ملکوں میں احمدیوں کی حکومت قائم ہوگی۔ ہم صدر انجمن احمدیہ کو بھیجی جانے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والی سالانہ رپورٹوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور انجمن احمدیہ کی اجازت سے وہ ریکارڈ پیش کرسکتا ہوں۔ (ٹربیونل نے ہدایت کی ۱۹۶۹ء سے آگے کی مشاورت کمیٹی کی رپورٹیں مہیا کی جائیں اور ۹؍ جون کے بعد کے الفضل کے پرچے بھی دیئے جائیں)
ہم ربوہ میں سوشل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ اس کا مقصد بائیکاٹ کرنے والے کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس بائیکاٹ میں ضروریات زندگی سے محروم نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اب ملک میں احمدیوں کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی شخص کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم صرف اس سے مجلسی تعلقات ختم کرتے ہیں۔ یہ سزا بہت کم دی جاتی ہے۔ اس کا اخلاقی دباؤ متعلقہ شخص پر پڑتا ہے اور عام طور پر وہ اصلاح پذیر ہو جاتا ہے۔ میں ربوہ میں کسی آدمی کو نہیں جانتا جو اس اخلاقی دباؤ کو قبول نہ کرتا ہو اور ربوہ میں رہتا ہو۔ میں نہیں جانتا کہ ۱۹۷۰ء کے بعد مرزا ناصر احمد کتنی مرتبہ مسٹر بھٹو کو ملے۔ یہ درست ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جماعت کے فیصلے کے مطابق احمدیوں نے عام طور پر پیپلز پارٹی کی مدد کی۔ اس مدد کے پیش نظر دو باتیں تھیں۔ ایک تو ملک کا استحکام، دوسرے باقی سب جماعت کے منشور میں یہ درج تھا کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے گا۔ ہمارے خیال میں صرف پیپلز پارٹی ہی تنہا مضبوط حکومت بنا سکتی تھی اور پیپلز پارٹی کے منشور میں احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا نہیں لکھا تھا۔ اب تک پیپلز پارٹی نے میرے خیال میں اپنے منشور کی خلاف ورزی نہیں کی۔
۲۹؍مئی کے واقعہ کے بعد تین سے ساڑھے تین ہزار احمدی ربوہ میں پناہ لینے آئے۔ ہمارے ہاں کوئی محکمہ غیر سیاسی نہیں ہے۔ ہمارے بیرونی احمدیہ مشن تحریک جدید کے تحت ہیں۔ وہ اس کو رپورٹ بھیجتے ہیں۔ ان کا صدر انجمن احمدیہ سے متعلق نہیں ہے۔
میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں
مجھے یہ خیال نہ آیا کہ ۲۲؍مئی کے واقعہ کے نتیجے میں ۲۹؍مئی کو کوئی Serious واقعہ پیش آسکتا ہے۔ اگر یہ خیال آتا تو میں ضرور پولیس کو اطلاع دیتا۔ میں نے ۲۹؍مئی کو فون پر اطلاع ملنے پر جھگڑے کی اطلاع پولیس چوکی ربوہ کو نہ دی تھی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کیس ہمارے پاس آتا ہے اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ پولیس کو اس کی اطلاع دینی چاہئے یا نہیں۔ دراصل قابل دست اندازی پولیس کیس کی اطلاع براہ راست پولیس کو جاتی ہے۔ ہمارے پاس بھی ایسے بعض کیسز (Cases) کی اطلاع آجاتی ہے اور اس کی اطلاع ہم پولیس کو دے دیتے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ہر کیس کی اطلاع پہلے ہمیں دی جاتی ہے۔ جب ایس . پی نے ۱۰۰ طلباء کو گرفتاری کے لئے طلب کیا تو وہ بلا تمیز گنہگار یا بے گناہ ان کو گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ پولیس نے ۲۹ اور ۳۰؍مئی کو ستر، اکہتر افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان ۷۱ افراد میں مسٹر رشید احمد کی دی ہوئی فہرست میں سے دس بارہ آدمی گرفتار ہو گئے ہیں۔ مسٹر رشید احمد ۳۰؍مئی کو گرفتار ہوا۔ جب کہ بشیر احمد اور عزیز احمد بھانبڑی آٹھ دس دن بعد گرفتار ہوئے تھے۔ پچھلے پانچ سالوں میں ملک کے طلباء میں سے برے عناصر کے اثرات ربوہ کے احمدی طلباء پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ جس سے پبلک میں عام طور پر سگریٹ پینے کے واقعات زیادہ ہورہے ہیں۔ ۱۹۷۱ء کی جنگ کے زمانہ میں چار پانچ طلباء کے ایک گروہ نے مختلف دوکانوں میں بلیک آؤٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری کی وارداتیں کی تھیں۔ پہرے داروں نے جن کو جماعت نے مقرر کیا تھا، ان کو پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ میں ان کے نام نہیں جانتا۔ کیس درج ہوا تھا۔ دو یا دو سے زائد طلباء کے جھگڑے کا کوئی کیس میرے علم میں نہیں آیا۔ ہم نے نوجوانوں کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کو چیک کرنے کے لئے کوئی خاص اقدام نہ کئے۔ ماسوائے سمجھانے بجھانے کے، ہم نے کسی نوجوان کو پبلک مقامات پر سگریٹ پینے اور سینما جانے پر کوئی سزا نہ دی۔ ۲۹؍مئی کا واقعہ ڈسپلن کی قدروں کے زوال کا نتیجہ نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک محمد قاسم صاحب کی جرح کے جواب میں
جب میں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے صرف پیپلز پارٹی کو ہی اس پوزیشن میں پایا کہ وہ مضبوط حکومت بنا سکتی ہے۔ ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا اور پیپلز پارٹی باقی ماندہ ملک میں اکثریتی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں کوئی نمائندہ کھڑا نہیں کیا تھا۔ ہم خلیفہ صاحب کی ہر ہدایت کو اہم سمجھتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی بھی منفی Sense میں اہم ہے اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے ۔ یہ بات کہ احمدی طالب علم دوسرے طلباء سے زوال ، نظم وضبط کا جو برا اثر لے رہے ہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ یہ درست نہیں ہے کہ میں نے ۲۲ مئی کا واقعہ صوبائی حکومت کی نظم ونسق کی اتھارٹیز کو رپورٹ نہیں کیا۔
مسٹر ایم. ڈی طاہر کی جرح کے جواب میں
میں اپنے گاؤں ۲۱ اور ۲۸ مئی کو گیا تھا۔ مگر میں نے انہیں یہ نہیں کہا تھا کہ ۲۹ مئی کو ربوہ آئیں ۔ مسٹر بشیر احمد رفیق امام لندن مسجد سر ظفر اللہ خان کے ساتھ جنوری ۱۹۷۴ء میں بھارت گئے تھے۔ میں دوسرے لوگوں کے نام نہیں جانتا جو ان کے ساتھ گئے تھے۔ اس ٹیم میں کچھ غیر ملکی بھی گئے تھے۔ جب مجھے ٹیلیفون پر یہ معلوم ہوا کہ اسٹیشن پر فساد ہو گیا تو میں نے سوچا کہ نشتر کالج کے طلباء اس میں ملوث ہوں گے۔ یہ درست نہیں ہے کہ جب کوئی غیر احمدی ربوہ میں داخل ہو تو دو آدمی اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ ہم ہر سال باقاعدہ بجٹ بناتے ہیں۔ ہم اپنے حسابات کا آڈٹ پروفیشنل آڈیٹرز سے کراتے ہیں۔ بیت المال کی رقم بینکوں میں رکھی جاتی ہے۔ اس بیت المال سے کوئی روپیہ بیرون ملک مشن قائم کرنے کے لئے پاکستان سے باہر نہیں بھیجا جاتا۔ احمدی سرمایہ باہر موجود ہوتا ہے۔ اس کو مشن قائم کرنے کے لئے باہر استعمال کیا جاتا ہے۔ جماعت جو گارڈ مقرر کرتی ہے اس کا اپنا اسلحہ ہوتا ہے۔ جس کا لائسنس ان کے پاس ہوتا ہے۔ اسلحہ کا کوئی ذخیرہ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ جہاں سے کوئی اسلحہ سپلائی کیا جاتا ہے دس بارہ گارڈ قصر خلافت میں ہوں گے اور تین چار بہشتی مقبرہ میں ہوتے ہیں ۔ مؤخر الذکر قبریں بھی کھودتے ہیں اور گارڈ کا کام بھی کرتے ہیں ۔ ان کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا۔ ربوہ میں کوئی زرعی زمین نہیں ہے۔ احمد نگر میں الگ جماعت ہے۔
ہم مسلمانوں کی جنازہ کی نماز نہیں پڑھتے۔ اگر مرنے والا مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر سمجھتا ہو ۔ لیکن اگر وہ کافر نہ سمجھتا ہو تو ہم اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ خواہ وہ نبی نہ مانتا ہو ۔ بشرطیکہ مرزا قادیانی کا مکفر نہ ہو ۔ مسٹر رفیق جو کبھی فرقان فورس میں رہے ہیں۔ اب مرزا ناصر احمد کے باڈی گارڈ میں شامل ہیں ۔ میرا دفتر قصر خلافت سے فرلانگ ، ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ہوگا۔ تحریک جدید کا دفتر میرے دفتر سے سڑک کے پار ہے۔ احمدی مشنری بیرون ملک احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور وہ سب مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں ۔
مسٹر کرم الہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
مسٹر نذر محمد خاں نظارت امور عامہ میں ورکر ہے۔ اس کی ڈیوٹی دارالقضاء کے فیصلوں کی تنفیذ ہے۔ ربوہ میں کارخاص کے نام سے کوئی محکمہ نہیں۔ یہ درست نہیں ہے کہ نذر محمد خاں اس کے انچارج ہیں۔ خلیفہ صاحب نے مجھ سے واقعہ ربوہ کے بارے میں کوئی رپورٹ طلب نہیں کی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ کوئی عبد الجلیل جو کہ صالح نور گواہ کے بھانجے ہیں ، کو ننگا کر کے امور عامہ کے دفتر میں مارا پیٹا گیا ۔ ہمارے دفتر میں جرائم کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ یہ درست ہے کہ محمد علی سبزی فروش ۱۹۷۲ء میں قتل ہو گیا تھا۔ چونکہ یہ پولیس کیس ہے۔ اس لئے میں نے اس کی تحقیقات نہیں کی تھی۔ میں مرزا ناصر احمد صاحب کو عام طور پر ہر ماہ ایک مرتبہ ملتا ہوں ۔ لیکن اگر ضروری ہو تو جلدی بھی مل سکتا ہوں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۶/جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
مسٹر ابوالعاصم جعفری کی جرح کے جواب میں
ہفت روزہ لاہور جماعت احمدیہ کا پرچہ نہیں ہے۔ البتہ اس کا ایڈیٹر مسٹر ثاقب زیروی احمدی ہے۔ مجھے واقعہ ربوہ کے پیچھے کارفرما مقاصد کا علم نہیں ہے۔ اب تک کوئی قدم اس سلسلے میں نہیں اٹھایا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی کی جرح کے جواب میں
میرے دور بطور ناظر امور عامہ میں آٹھ ، دس چور ربوہ میں پکڑے گئے تھے۔ یہ سب ربوہ سے باہر کے تھے۔ سوائے ان تین چار لڑکوں کے جن کا ذکر میں نے کل کے بیان میں کیا تھا۔ ان تین چار لڑکوں کے سوا ہم نے کوئی چور نہیں پکڑے تھے۔ بلکہ دوسرے سب چور پولیس نے پکڑے تھے۔ یہ درست نہیں ہے کہ جب ہم چور پکڑتے ہیں ہم اسے مار دیتے ہیں اور پھر یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ مقابلہ میں ہلاک ہو گیا۔ اغواء کا کوئی واقعہ میرے ناظر امور عامہ بننے کے بعد نہیں ہوا۔ اگر زنا کی کوئی واردات ہمارے علم میں آ کر ثابت ہو جائے تو اسے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ لیکن اب تک ایسا کوئی واقعہ ربوہ میں نہیں ہوا۔ یہ جماعتی پالیسی نہیں ہے کہ جرم کی اطلاع امور عامہ کو دی جاتی ہے۔ اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے۔ یہ غلط ہے کہ ربوہ میں جانے والے ہر شخص کا تعاقب امور عامہ کے کارکنوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔
ہم سوشل بائیکاٹ بطور سزا کرتے ہیں۔ یہ سزا اصلاح کے لئے دی جاتی ہے۔ دوسری سزا جماعت کی طرف سے اخراج از نظام جماعت کی دی جاسکتی ہے۔ ہم نے میاں عبدالمنان عمر کو ربوہ سے نہیں نکالا تھا۔ پولیس نے امور عامہ کے دفتر کی تلاشی ۲۹ مئی کے بعد نہیں لی تھی۔ یہ غلط ہے کہ رشید احمد نے فساد میں حصہ لینے والے افراد کے نام ایک فائل میں لکھے تھے۔ جو لوگ اب تک گرفتار ہوئے ہیں ان میں سے کچھ بے گناہ بھی ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ہم نے بے گناہ لوگوں کو اس لئے گرفتار کرا دیا تا کہ بااثر حقیقی ملزموں کو گرفتاری سے بچاسکیں۔ میں نے کرائمز برانچ پولیس کو یہ اطلاع دی تھی کہ ۲۹ مئی کو مجھے واقعہ کا علم ٹیلیفون کال کے ذریعہ ہوا تھا۔ میں ربوہ کے واقعہ کے بارے میں مرزا ناصر احمد کے کسی بیان کو نہیں جانتا۔ سوائے خطبہ جمعہ کے، میرے فرائض ان فرائض کے علاوہ کچھ نہیں ہیں جو قواعد وضوابط میں درج ہیں یا خلیفہ صاحب میرے سپرد کردیں۔ میں نے پچھلے سال کا جلسہ سالانہ اٹینڈ کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے۔ مرزا ناصر احمد قادیانی نے یہ کہا تھا کہ غلبہ اسلام کا دن قریب ہے۔ اس لئے انہیں فنڈز کی ضرورت ہے۔ مجھے ایئر مارشل ظفر چوہدری کی علیحدگی کی وجوہات کا علم نہیں۔
مسٹر محمد لطیف رانا کی جرح کے جواب میں
پچھلے تین چار سال میں ، میں نے مسٹر شریف جنجوعہ آف اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو ایک شخص کے لئے ملازمت کی سفارش کی تھی۔ پچھلے سال کچھ احمدیوں کو سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ سعودی عرب میں کوئی احمدی مبلغ نہیں، نہ ہی افغانستان میں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
مرزا ناصر احمد خلیفہ ہیں۔ مرزا مبارک احمد انچارج تحریک جدید وکیل اعلیٰ ہیں۔ مرزا منور احمد چیف میڈیکل آفیسر فضل عمر ہسپتال ہیں۔ مرزا انور احمد انچارج دارالضیافت ہیں۔ مرزا طاہر احمد ناظم ارشاد وقف جدید ہیں۔ اظہر احمد افسر خزانہ صدر انجمن احمدیہ صیغہ امانت ہیں۔ مرزا رفیع احمد پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ ہیں۔ مرزا نعیم احمد افسر امانت تحریک جدید ہیں۔ یہ درست ہے کہ مرزا خلیل احمد انچارج حفاظت درویشاں ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مرزا حفیظ احمد صاحب جماعت کی سندھ میں زمینوں کے انچارج ہیں۔ مرزا حنیف احمد، احمد نگر کی اراضی کے منیجر ہیں۔
- ......۱ مرزا بشیر الدین کے ۱۳ لڑکے ہیں اور ۹ داماد ہیں۔ مرزا منصور احمد ناظر اعلیٰ ہیں۔
- ......۲ مرزا حمید احمد ناصر ولد بشیر احمد انچارج بہشتی مقبرہ ہیں۔
- ......۳ مسعود مبارک سیکرٹری بہشتی مقبرہ ہیں۔ یہ مرزا بشیر الدین محمود کے داماد نہیں ہیں۔ منصور احمد اور حمید احمد داماد ہیں۔ میر داؤد احمد
بھی داماد تھے اور جامعہ احمدیہ میں پرنسپل تھے۔ میر محمود احمد ناصر داماد پروفیسر جامعہ احمدیہ ہیں۔ عبدالرحیم وکیل تحریک جدید اور مسٹر ایم. ایم احمد بھی ان کے داماد ہیں۔
ناصر احمد سیال ولد فتح محمد سیال ایڈووکیٹ، پیر معین الدین برادر پیر صلاح الدین بھی داماد مرزا بشیر الدین محمود ہیں۔ داؤد مظفر بھی مرزا قادیانی کے نویں داماد ہیں۔ یہ درست ہے کہ زیادہ بیٹے اور کچھ داماد مرزا بشیر الدین کے ربوہ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
ایک شخص غلام رسول کلرک امور عامہ کے دفتر میں تھا۔ اس کو ۱۹۶۸ء میں ربوہ بدر کرنے کی سزا دی گئی تھی۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ اسے یہ سزا کیوں دی گئی تھی۔ البتہ میں نہیں جانتا کہ لال دین درویش ہندوستان سے بلاجواز ضروری کارروائی کے بغیر پاکستان آیا اور ابھی تک ربوہ میں رہ رہا ہے۔ نہ ہی میں یہ جانتا ہوں کہ غلام رسول کو ربوہ سے اس لئے نکالا گیا کہ اس نے لال دین مذکور کی شکایت ڈی سی جھنگ کو کی تھی۔ یہ درست ہے کہ مذکورہ غلام رسول چوری چھپے ربوہ میں آتا رہتا تھا۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ اس بناء پر اس کی بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کو ربوہ سے نکال دیا گیا۔ البتہ یہ بات قابل فہم ہے کہ اگر کوئی واضح ہدایات کے باوجود ربوہ آئے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ غلام رسول کو اب معافی دے دی گئی ہے۔ لیکن مجھے شرائط معافی کا علم نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ ربوہ میں نکاح کے موقعہ پر دو فارم پر کئے جاتے ہیں۔ ایک سرکاری فارم نکاح جو مسلم فیملی لاء آرڈیننس کے تحت مقرر ہے۔ دوسرا جماعت کی نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے مقرر ہے۔ صرف جماعت کے مقرر کردہ فارم پر نکاح نہیں ہوتا۔ مجھے یاد نہیں کہ مذکورہ لال دین کو ربوہ میں رہائش رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ کہ دفتر آبادی کسی شخص کو زمین الاٹ نہیں کرتا جب تک امور عامہ کی توثیق حاصل نہ کر لی جائے۔ ہم کلیئرنس دینے سے پہلے امیدوار کے کوائف چیک کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ذاتی علم نہ ہو تو ہم اس جماعت کے امیر سے رپورٹ حاصل کرتے ہیں جہاں سے وہ شخص آیا ہو، ہم یہ تسلی کرتے ہیں کہ نیا آنے والا غیر احمدی نہ ہو۔ ربوہ میں قریباً سو گھروں میں ٹیلی ویژن ہیں۔ قصر خلافت میں بھی ٹیلی ویژن ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مرزا ناصر کے بھائیوں میں سے مرزا اظہر احمد اور حنیف احمد سگریٹ پیتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں نہیں جانتا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(چوہدری عبداللہ خان چک ۸۸ سرگودھا، ۵۸، ۱۹۵۹ء میں ربوہ چوکی میں اے. ایس. آئی رہے ہیں) ربوہ میں کچھ غیر ملکی طالب علم موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ کوئی شخص ربوہ میں آباد نہیں ہوسکتا۔ جب تک ناظر امور عامہ اجازت نہ دے۔ البتہ ناظر امور عامہ کی نامنظوری کی صورت میں متعلقہ شخص خلیفہ سے اپیل کر کے اجازت حاصل کرسکتا ہے۔ ناظر امور عامہ کے تمام فیصلے قابل اپیل ہیں۔ اپیل خلیفہ صاحب کے پاس کی جاتی ہے۔ میں وہ اختیارات استعمال کرتا ہوں جو خلیفہ صاحب مجھے تفویض کریں۔ میں جانتا ہوں کہ ۱۶؍ فروری ۱۹۷۴ء کو گھوڑ دوڑ کے دوران دو آدمی اچانک حادثے میں مر گئے تھے۔ میں ان کے نام نہیں جانتا۔ میں نہیں جانتا کہ ان کے نام لطیف احمد اور بدرالدین تھے۔ مجھے علم ہے کہ اس واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ موجودہ خلیفہ کبوتر بازی میں ملوث ہوتے ہیں۔ جماعت کا ایک اصطبل گھوڑوں کا ہے۔ ان گھوڑوں کو نیزہ بازی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف گھوڑ دوڑیں ہوتی ہیں۔ جماعت کے اصطبل کے گھوڑوں نے بھی ۱۶؍ فروری ۱۹۷۴ء کو دوڑ میں حصہ لیا تھا۔ میں خلیفہ صاحب کا معتمد ہوں۔ اس لئے مجھے ناظر امور عامہ مقرر کیا گیا۔ میں اور میرا خاندان اپنے آپ کو مخلص احمدی سمجھتے ہیں اور خلیفہ صاحب کے وفادار ہیں۔ میرے گیارہ کے گیارہ بھائی میری طرح احمدی ہیں۔ ان کے نام:
- ۱...... نذیر احمد ہیڈ ماسٹر چک ۳۴، ایس. پی جنوبی ہائی سکول سرگودھا۔
- ۲...... محمد صفدر، طفیل روڈ لاہور، ریٹائرڈ میجر آرمی۔
- ۳...... بشیر اصغر، شاہنواز کی فرم میں ملازم ہیں۔ اپنا کاروبار نہیں کرتے۔
- ۴...... مشتاق احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر، لوکل گورنمنٹ جھنگ۔
- ۵...... محمد احمد سکواڈرن لیڈر پی. اے. ایف۔ آج کل ابوظہبی میں ہے۔
- ۶...... محمد اسلم ایڈووکیٹ سرگودھا۔
- ۷...... محمد سلیم، لاہور میں چھاؤنی والا محلہ میں رہتے ہیں۔
- ۸...... مسعود احمد زمیندارہ کرتے ہیں۔ چک ۳۳ جنوبی ایس. بی سرگودھا۔
- ۹...... کیپٹن مبشر احمد کوئٹہ۔
- ۱۰...... مبارک احمد کیپٹن آرمی۔
- ۱۱...... منور احمد گاؤں میں زمیندارہ کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد جس کی رو سے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ ہمارا رد عمل یہ تھا کہ اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسمبلی ایسا کرنے کی مجاز ہے۔ اس قرارداد سے احمدی مشتعل نہیں ہوئے تھے۔ مجھے ربوہ کے باہر کے کسی آدمی کا علم نہیں جس نے اس قرارداد پر اضطراب کا اظہار کیا ہو۔ ربوہ میں اس پر کوئی احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوا۔ نہ ہی احمدیوں کا کوئی وفد خلیفہ صاحب کے پاس اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے گیا تھا۔ ہم کسی کے خلاف خفیہ تحقیقات نہیں کراتے۔ جس کے گمراہ ہونے کی شکایت ہمیں ملتی ہیں۔ ہم اوپن تحقیقات کرتے ہیں۔ ان تحقیقات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہم کسی کو کلیرنس بسلسلہ رہائش ربوہ دینے کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے۔ یہ درست ہے کہ کسی کو ربوہ سے خلیفہ کی منظوری کے بغیر نہیں نکالا جاتا۔ مہاجرین جو ربوہ میں ان دنوں آئے ہوئے ہیں کے لئے کھانا دارالضیافت سے دیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاتا ہے۔ ان کے لئے پہلے منظوری امور عامہ سے حاصل کرنی پڑتی ہے۔ کسی کو ربوہ میں جلسہ کرنے یا جلوس نکالنے کی اجازت امور عامہ سے حاصل کرنی پڑتی ہے لیکن چمن عباس کے شیعہ حضرات محرم کا جلوس نکالتے ہیں۔ ان کا جلوس ربوہ سے گزرتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ چمن عباس کے لوگوں کے پاس حکومت کی طرف سے لائسنس جلوس نکالنے کا موجود ہے یا نہیں۔ آج تک ربوہ میں احمدیوں کے علاوہ کسی اور سیاسی یا مذہبی جماعت کا جلسہ منعقد نہیں ہوا۔
یہ درست نہیں ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے کبھی ربوہ کی انتظامیہ کو جلسہ کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی درخواست دی۔ نہ یہ درست ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے غیر احمدیوں کو جلسہ کی اجازت حاصل کرنے کی درخواست دی گئی یا اجازت دی گئی۔ ربوہ کے وقوعہ کے بعد فسادات کے دوران کسی احمدی جماعت کا کوئی امیر نہ مارا گیا نہ ان پر حملہ ہوا۔ قریباً ۲۵ احمدی فسادات میں مارے گئے۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کوئی کسی احمدیہ تنظیم کا عہدیدار ہے۔ یہ درست ہے کہ کچھ غیر احمدی بھی مارے گئے تھے۔ مگر میں ان کی صحیح تعداد نہیں جانتا۔ مجھے علم نہیں کہ کوئی احمدی سرکاری ملازم یا نیم سرکاری ملازم مارا گیا۔ میں میر محمد بخش ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت احمدیہ ربوہ کو جانتا ہوں۔ وہ گوجرانوالہ میں محفوظ ہیں۔ ان کی جائیداد اور افراد خاندان بھی محفوظ ہیں۔ یہ درست ہے کہ تمام شریف اور پرامن جہاں بھی تھے محفوظ ہیں، کیونکہ جو مارے گئے ان میں بھی شریف لوگ تھے۔ یہ درست نہیں ہے کہ پچھلے ہفتے ایک احمدی نے کھاریاں کے نزدیک فائر کر کے دو آدمیوں کو مار دیا۔ یہ درست ہے کہ سندھ میں جماعت احمدیہ قادیان کی زمین کا قبضہ صدر انجمن احمدیہ نے حاصل کر لیا اور اس کا مفاد حاصل کرتی ہے۔ صدر انجمن احمدیہ قادیان نے برطانوی حکومت سے بہت سے قطعات اراضی حاصل کئے تھے۔ برطانوی حکومت نے اپنے قواعد کی رو سے یہ اراضی دی تھی۔ یہ غلط ہے کہ اس کی قیمت برائے نام تھی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں سندھ والی جائیداد کو ’’دشمن کی جائیداد‘‘ قرار نہیں دیا گیا۔ انجمن احمدیہ قادیان کی جائیداد ہندوستان میں ہے اور اس انجمن کے قبضے میں ہے یہ درست ہے کہ ۱۹۴۴ء میں مرزا بشیر الدین محمود نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ہی مصلح موعود ہیں۔ یہ اعلان انہوں نے ۱۳ ٹمپل روڈ لاہور میں کیا تھا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں احمدیہ جماعت نے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو ووٹ دیئے تھے۔
میں نہیں جانتا کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے کسی احمدی کو ۱۹۷۱ء کے فسادات میں کوئی نقصان پہنچا ہو۔ اس موقعہ پر ٹربیونل نے کہا کہ اب آئندہ گواہان سے وہ خود سوالات پوچھا کریں گے۔ وکلاء جرح نہیں کریں گے۔ گواہ نمبر ۴۳ کو فارغ کر دیا گیا۔
گواہ نمبر ۴۴...... محمد صادق ولد محمد شریف ، کلرک بیت المال ربوہ محلہ دارالرحمٰن غربی مکان ربوہ
مجھے ۲۸؍ جون ۱۹۷۴ء کو امور عامہ کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہاں کرائمز برانچ پولیس امور عامہ کے دفتر میں پہلے سے موجود تھی، جب میں وہاں گرفتار ہوا تھا۔ میں ۲۰؍ جون کو گرفتاری کے ڈر سے بھاگ گیا تھا۔ ۲۹؍ مئی سے ۲۰؍ جون تک میں ربوہ میں ہی رہا، اپنے گھر میں۔ اس عرصے میں پولیس میرے پاس نہ پہنچی۔ ۲۸؍ مئی کو میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک تنور اپنے گھر میں بنانے میں رات دیر تک مصروف رہا۔ اس لئے میں اگلی صبح وقت پر بیدار نہ ہو سکا اور ۷ بجے دفتر نہ پہنچ سکا۔ پس میں نے چند گھنٹوں کی رخصت حاصل کر لی اور دس بجے دفتر پہنچ گیا۔ میں ۲۹؍ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر نہیں گیا تھا۔ میرا ربوہ کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دس بجے دفتر پہنچ کر میں نے کام کیا۔ دفتر میں شیخ محبوب عالم خالد میرے افسر اور دوسرے کلرک تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میری برانچ کے تمام کارکن اور میرے افسر دفتر میں موجود تھے۔ مجھے ساڑھے گیارہ بجے قبل دوپہر یا دوپہر کے وقت دفتر میں ہر شخص کو اس واقعہ کا علم ہو گیا تھا۔ شہر میں یہ افواہ تھی کہ لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ مجھے یہ علم نہ تھا کہ پولیس کن کو اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کر رہی تھی۔ ۲۰ / جون سے پہلے بھی میں چھپتا رہا۔ البتہ میں ان دنوں دفتر جاتا رہا۔ لیکن میں خبردار رہا۔ جب مجھے پتہ چلتا کہ پولیس آئی ہے میں دوڑ جاتا۔ ۲۰/ جون کو میں ربوہ سے چلا گیا۔ کیونکہ اس دن میں نے سمجھا کہ اگر میں نہ بھاگوں تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔
میں مسٹر رشید احمد صاحب کو جانتا ہوں ۔ وہ امور عامہ کے دفتر میں کلرک ہیں۔ ان کی میرے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے بطور مجرم رشید احمد نے اس فہرست میں شامل کیا تھا جو مجرموں کی تیار کی گئی تھی۔ یہ فہرست ۲۹؍ مئی کو بنائی گئی تھی۔ مجھے منڈی میں ایک جگہ بلایا گیا تھا۔ وہاں سات ، آٹھ آدمی اور تھے۔ وہاں مولوی عبدالعزیز بھانبڑی بھی تھا۔ ایک اور کلرک امور عامہ جس کا نام بھی رشید احمد ہے اور مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ ۔ کوئی اور عہدیدار وہاں موجود نہ تھے۔ مسٹر رشید احمد ان کا نام لکھ لیتے تھے جو وہاں ان کے سامنے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ امور عامہ میں بلایا جائے گا۔ میں نے نام لکھے جانے کی ضرورت نہ پوچھی۔ میرا خیال تھا کہ قصر خلافت میں پہرے کی ڈیوٹی ہوگی۔ نام لکھوانے کے بعد میں امور عامہ کے دفتر گیا۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ مجھے اور دوسروں کو پولیس کو پکڑوا دیں گے۔ اس پر میں وہاں سے بھاگ گیا۔ درحقیقت مجھے امور عامہ کے دفتر کو جاتے ہوئے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ مجھ سے امور عامہ کے دفتر میں پوچھ گچھ کی جائے گی اور وہاں مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں موقع کی تلاش میں تھا۔ جب میں امور عامہ کے دفتر کے گیٹ میں داخل ہوا تو اس کے بعد مجھے موقع مل گیا اور میں بھاگ گیا۔ میں نے اپنے افسر شیخ محبوب عالم خالد بیت المال والے کی امداد حاصل نہ کی۔ کیونکہ مجھے خیال تھا کہ جن ملزموں کا تعلق ربوہ کے واقعہ سے ہے، ان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ میں اس لئے ربوہ سے بھاگ گیا تھا کہ مجھے خدشہ تھا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے اس لئے پیش کیا کیونکہ میری ماں نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب میں ۲۹؍ مئی کو گھر سے دفتر جارہا تھا تو میں ربوہ اسٹیشن کی عمارت کے قریب سے گزرا۔ میں نے اسٹیشن پر تیس چالیس افراد کو جو پلیٹ فارم پر بیٹھے تھے میں ان کو دیکھ کر یہ سمجھا کہ وہ کسی مبلغ وغیرہ کو لینے کے لئے جمع ہو گئے ہیں۔ پلیٹ فارم پر موجود لوگ ربوہ کے تھے۔ لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ کون کون تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ ملک نصیر احمد طالب علم تعلیم الاسلام کالج بھی فسادیوں میں شامل تھا۔ ان کے علاوہ میں کسی اور شخص کا نام نہیں بتا سکتا جو واقعہ میں ملوث ہو۔ لیکن عام افواہ یہی تھی کہ طلباء کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔
میں ان میں شامل تھا جو ۲۲؍ مئی کو اسٹیشن کے قریب کھیل کے میدان میں والی بال کھیل رہے تھے۔ جب چناب شام کو ربوہ آئی تو کھیل کے میدان کے بالمقابل کھڑی ہونے والی بوگی طلباء کی تھی۔ اسٹیشن پر پہنچ کر طلباء نے اسلام زندہ باد، احمدیت ٹُھاہ، مرزائی ٹُھاہ اور حوریں چاہئیں ، کے نعرے لگائے۔ میں اندر پلیٹ فارم پر گیا۔ کیونکہ میں نے گیم کھیلنا بند کر دیا تھا۔ جب نعرے سن کر اسٹیشن پر گیا۔ باقی لوگ والی بال کھیلتے رہے۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر میں ان طلباء کے ساتھ شامل ہو گیا۔ پلیٹ فارم پر اس دن کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا تھا۔ طلباء صرف نعرے لگاتے رہے۔ جب گاڑی چلنے لگی تو ان میں سے ایک لڑکے نے ان کو گاڑی پر سوار ہونے کے لئے کہا۔ جب گاڑی چلی تو دو، تین پتھر گاڑی سے اسٹیشن پر پھینکے گئے۔ کوئی زخمی نہ ہوا اور گاڑی چل دی۔ مجھے یہ علم نہیں کہ کوئی فیصلہ ربوہ والوں نے کیا یا کوئی منصوبہ اس توہین کا بدلہ لینے کے لئے بنایا جو مسافر طلباء نے ۲۲ مئی کو کی تھی۔ میں کوئی اور معلومات اس ٹربیونل کو نہیں دے سکتا کہ ربوہ کا واقعہ کیسے ہوا۔ ٹربیونل : کل مسٹر رشید احمد ، ادریس اور نصیر احمد کو طلب کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۴۵....... رشید احمد کلرک امور عامہ ربوہ باقرار صالح (ہتھکڑی کھولی گئی)
میں دفتر امور عامہ میں کلرک ہوں۔ اس دفتر میں سات، آٹھ کلرک ہیں، جن کے ذمہ مختلف فرائض ہیں۔ میں ناظر امور عامہ کے فرائض کی ادائیگی میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ مجھے ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء کو آٹھ اور نو بجے صبح کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔ میں نے ۲۲؍مئی کا واقعہ خود نہیں دیکھا تھا۔ مگر ۲۳؍مئی کو مجھے معلوم ہوا کہ ربوہ سے گزرتے ہوئے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء نے نعرے لگائے۔ مگر صورتحال اس سے زیادہ خراب نہ ہوئی۔ چونکہ یہ خلاف معمول نہ تھا۔ اس لئے ہم نے اس کا زیادہ نوٹس نہ لیا۔ شرارتی لوگ اینٹی احمدیہ نعرے لگاتے رہتے ہیں۔ جب کبھی ربوہ سے گزرتے ہیں۔ ۲۴؍مئی کو میں لاہور آیا ہوا تھا۔ ۲۲؍مئی سے ۲۹؍مئی تک کوئی اہم بات نہ ہوئی۔ ۲۹؍مئی کو ساڑھے نو بجے یا پونے دس بجے میں رحمت بازار میں خرید وفروخت کر رہا تھا۔ جب چناب ایکسپریس ربوہ اسٹیشن پر آئی تو میں نے بہت سا شور اسٹیشن کی طرف سے سنا۔ میں نے نعرے سنے جو احمدیت کے حق میں اور اس کے خلاف لگ رہے تھے۔ ایک طرف سے احمدیت مردہ باد اور مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگتے تھے۔ دوسری طرف احمدیت زندہ باد، انسانیت زندہ باد کے نعرے تھے۔ یہ نعرے سن کر بازار کے لوگ اسٹیشن پر آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ آیا۔ ہم مغربی جانب یعنی گاڑی کے پیچھے کی طرف سے آئے۔ میں نے دیکھا کہ پلیٹ فارم کے درمیان میں لڑائی ہو رہی ہے۔ پس میں نے بازار سے آنے والے لوگوں کو پلیٹ فارم پر جانے سے روکا۔ پلیٹ فارم پر اس وقت ڈیڑھ سو آدمی موجود تھے۔ جن میں مسافر بھی شامل تھے جو گاڑی سے اتر گئے تھے۔ جب تک گاڑی نہ چلی میں نے ہجوم کو جو بازار سے آیا تھا، پلیٹ فارم پر جانے سے روکے رکھا۔ جس جگہ میں کھڑا تھا وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہوا۔ پلیٹ فارم سے پرے دو بوگیاں تھیں۔ آخر سے دوسری بوگی کے دروازے اور کھڑکیاں سب بند تھے۔ میں نہیں جانتا کہ میرے آنے سے پہلے کیا واقعہ ہوا؟ میری موجودگی میں کم از کم اس بوگی پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ میں تو بوگی کی طرف پشت کر کے کھڑا رہا۔ کیونکہ میں ہجوم کو پیچھے ہٹا رہا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے آنے سے قبل بوگی کا کوئی نقصان ہوا یا نہیں۔ پلیٹ فارم پر جو کچھ میں نے دیکھا وہ صرف یہ تھا کہ کسی قسم کی لڑائی ہو رہی تھی۔ کیونکہ میں پلیٹ فارم پر خود نہیں گیا اور وہاں بہت ہجوم تھا۔ اس لئے مجھے اس کی تفصیلات کا علم نہیں۔ اسٹیشن پر میرے آنے کے دس پندرہ منٹ بعد گاڑی چلی گئی۔ اس کے بعد میں اپنے دفتر چلا گیا اور ہجوم منتشر ہو گیا۔ گاڑی کے چلے جانے کے بعد ہجوم کے منتشر ہونے سے پہلے میں نے پلیٹ فارم پر تیس چالیس آدمی اور بچے دیکھے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہاں کوئی عورت بھی تھی۔ اس تعداد میں بازار سے آنے والا ہجوم شامل نہیں جس کو میں نے پلیٹ فارم کے باہر روک رکھا تھا۔ جب میں اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا جو اسٹیشن سے شمال مشرق کی طرف ہے۔ میں نے دو نوجوانوں کو اسٹیشن سے اسی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے ایک زخمی تھا اور دوسرے کی قمیص پھٹی ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کوئی بات نہ کی۔ رحمت بازار اسٹیشن سے ۲۰۰، ۳۰۰ گز دور ہے۔ میرا دفتر اسٹیشن سے ایک دو فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ میں نے ہجوم میں سے کچھ لوگوں کو پہچان لیا تھا۔ مگر اب کافی عرصہ گزر جانے کے بعد اور مجھے زخم آنے کی وجہ سے میں ان کے نام اب بتا نہیں سکتا۔ البتہ میں نے وہ نام پولیس کو ۲۹؍مئی کی رات کو دس بجے کے قریب بتا دیئے تھے۔ چونکہ اس وقت واقعہ اور نام میرے ذہن میں تازہ تھے۔ میں نے اپنی گرفتاری کے بعد پولیس کو جو بیان دیا تھا اس میں پولیس کو پہلے سے دیئے گئے ناموں کی تصدیق کی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے دفتر پہنچ کر ۲۹ مئی کو میں نے ناظر امور عامہ مسٹر ظہور احمد باجوہ کو وقوعہ کے بارے میں بتایا تھا۔ اسٹیشن کو چھوڑنے سے پہلے میں اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں گیا تھا۔ مگر وہ مصروف تھے۔ وہ تاریں دے رہے تھے۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ میں نے ان میں سے کسی سے بات نہ کی۔
میں نے چوہدری بشیر احمد کو پلیٹ فارم پر دیکھا تھا۔ وہ پلیٹ فارم پر موجود لوگوں کو ہنگامہ کرنے سے روک رہے تھے۔ وہ پلیٹ فارم کے وسط میں لوگوں کو روک رہے تھے۔ جب گاڑی چلی گئی اور لوگ منتشر ہو گئے تو میں نے مسٹر بشیر احمد کو پلیٹ فارم پر نہ دیکھا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں تھے یا نہیں۔ جب میں اسٹیشن سے امور عامہ کے دفتر میں گیا اور اپنی رپورٹ ناظر کو دے رہا تھا۔ مسٹر بشیر احمد صدر عمومی بھی وہاں آ گئے ہم اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ واقعہ کیوں اور کیسے ہو گیا۔ ہم سب کی یہ رائے تھی کہ یہ واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ یہ ہماری روایات کے خلاف ہے۔ البتہ ہم نے یہ غور نہ کیا کہ آیا کوئی تحقیقات ہونی چاہئے اور کن لوگوں نے اس واقعہ میں حصہ لیا۔ ناظر کو واقعہ بتانے کے بعد میں اپنے کمرے میں آ گیا اور ایک بجے بعد دوپہر گھر چلا گیا۔ جونہی میں اسٹیشن سے اپنے دفتر میں آیا تھا میں نے اے ۔ ایس ۔ آئی ربوہ کا فون سنا۔ وہ واقعہ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی اسٹیشن پر تھا۔ جب وہاں ہنگامہ ہوا لیکن میں نے انہیں بتایا کہ وہ اسٹیشن پر جا کر اسٹیشن ماسٹر سے حالات معلوم کریں۔ ہم نے پولیس کو اس لئے معاملہ رپورٹ نہ کیا کیونکہ ان کو اس کا پہلے سے علم تھا۔ شام کو اے ۔ ایس ۔ آئی چوکی ربوہ مجھے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب دفتر امور عامہ میں بلانے آیا۔ میں اس وقت گھر پر تھا۔ مجھے گھر سے دفتر بلایا گیا۔ جب میں وہاں گیا تو ایک ایس ۔ آئی اور میرے دفتر کے دو چپڑاسی موجود تھے۔ میں اے ۔ ایس ۔ آئی کے ساتھ چوکی گیا۔ وہاں اے ۔ سی چنیوٹ اور ایس ۔ پی جھنگ پہلے سے چوکی میں موجود تھے۔ میرے بعد مسٹر عبد العزیز بھانبڑی اور رشید جونیئر بھی وہاں پہنچ گئے۔ ربوہ کا اور کوئی آدمی وہاں نہ آیا۔ ایس ۔ پی نے کہا کہ ۱۰۰ آدمی گرفتار کرا دو۔ ہم نے کہا کہ صرف مجرموں کو گرفتار کریں۔ ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ بے گناہ لوگوں کو پکڑوا دیں۔ ایس ۔ پی جھنگ، اے ۔ سی چنیوٹ، ڈی ۔ ایس ۔ پی چنیوٹ اور ایس ۔ ایچ ۔ او لالیاں ہم تینوں کو ٹی ۔ آئی کالج لے گئے۔ کالج پہنچ کر انہوں نے ہوسٹل کا محاصرہ کیا۔ ایس ۔ پی جھنگ، اے ۔ سی چنیوٹ اور مسٹر عبد العزیز بھانبڑی پرنسپل کے گھر گئے جو کالج کے احاطہ میں ہی رہتے ہیں۔ انہوں نے پرنسپل سے کہا کہ ۱۰۰ طلباء کو گرفتار کرائیں۔ ان کے انکار پر وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ اپنی یادداشت کے مطابق مجرموں کے نام بتائیں۔ اس وقت میں نے انہیں بیس، پچیس افراد کے نام بتائے۔ ان کو میں نے اسٹیشن پر موجود پایا تھا اور دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان آدمیوں کو مہیا کر دیں۔ ہم پوری رات ان کو Round Up کرنے کی کوشش کرتے رہے جو مل گئے ان کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ چونکہ یہ گرفتاریاں پولیس کی توقع سے کم تھیں۔ اس لئے پولیس نے بلا تمیز بہت سے دوسرے لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے کل ساٹھ، ستر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ ۳۰ مئی کو صبح آٹھ بجے کے قریب مجھے بھی گرفتار کر لیا اور میری موجودگی میں پہلے سے گرفتار شدہ دوسرے لوگوں کو پولیس سرگودھا لے گئی اور مجھے چنیوٹ لے گئی۔
میں نے ایک دو لڑکوں کے ہاتھ میں چھوٹی سی چھڑیاں (Small Sticks) دیکھی تھیں۔ میں نے کسی مسافر لڑکے کو زخمی حالت میں اسٹیشن پر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے ہجوم کو پلیٹ فارم سے پرے رکھا تا کہ ان کی وہاں موجودگی صورتحال کو مزید پیچیدہ نہ بنا دے اور لڑائی کو مزید شدید نہ بنا دے۔ ہمیں ۲۹ مئی سے پہلے ایسے کسی واقعہ کے ہونے کا گمان نہ تھا۔ اگر ہمیں ایسا شک بھی ہوتا تو ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرتے۔ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ ٹربیونل کو بتاؤں کہ ربوہ کے کس طرح کے عناصر اس شرارت کے ذمہ دار ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶ افراد کی لسٹ ۶۸۔ای، ایکس بی گواہ کو پڑھ کر سنائی گئی۔ وہ ان افراد کے نام پولیس کو دینے کی بات مانتا ہے۔
- ۱...... حسن علی نلکوں کا کاروبار۔
- ۲...... سعید احمد پھل کا دوکاندار۔
- ۳...... احمد خاں۔
- ۴...... عبد المنان۔
- ۵...... محمد خاں۔
- ۶...... محمد صادق ملازم بیت المال۔
- ۷...... داؤد احمد ولد عبداللہ پٹھان (طالب علم)
- ۸...... ملک نصیر احمد (طالب علم تعلیم الاسلام کالج)
- ۹...... مظفر احمد (طالب علم)
- ۱۰...... محمد شریف۔
- ۱۱...... محمد ارشد ولد مبارک انور محلہ دارالصدر (زخمی)
- ۱۲...... محمد امین۔
- ۱۳...... ادریس احمد۔
- ۱۴...... پسر عبدالخالق۔
- ۱۵...... محمد رفیق۔
- ۱۶...... بشارت احمد۔
- ۱۷...... مظفر احمد۔
- ۱۸...... ضیاء اللہ۔
- ۱۹...... عبدالعزیز دوکاندار ولد عبدالکریم۔
- ۲۰...... لطف اللہ (طالب علم)
- ۲۱...... منور احمد۔
- ۲۲...... مظفر احمد۔
- ۲۳...... شمیم احمد۔
- ۲۴...... فہیم احمد۔
- ۲۵...... سعید احمد۔
- ۲۶...... طاہر احمد۔
میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ یہ لوگ وقوعہ کے وقت اسٹیشن پر موجود تھے۔ مگر فسادی نہ تھے۔ میں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان مجرموں کو بلا کر پوچھ گچھ کرے کہ ان میں سے کون مجرم تھا۔ ٹربیونل نے گواہ کا ایک مختصر بیان اور بیان مورخہ ۵؍ جون ۱۹۷۴ء جو پولیس نے قلمبند کیا تھا، گواہ کو پڑھ کر سنایا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے مسٹر محمد صادق گواہ نمبر ۴۴ ہجوم میں موجود تھا۔ جن کو میں گاڑی سے پرے روک رہا تھا۔ (جب گواہ کی توجہ مسٹر محمد صادق کے کل کے بیان کی طرف دلائی گئی تو گواہ نے کہا کہ مسٹر محمد صادق اس وقت اسٹیشن کے قریب سے گزر رہے تھے۔ جب پھر گواہ کو بتایا گیا کہ محمد صادق نے کہا تھا کہ وہ اسٹیشن کے قریب سے اس وقت گزرا جب ابھی گاڑی نہیں آئی تھی اور یہ کہ اس نے وقوعہ نہیں دیکھا اور یہ کہ وہ وقوعہ کے قریب اپنے دفتر میں تھا تو گواہ اس کی وضاحت نہ کر سکا۔ گواہ نے یہ بھی نہ کہا کہ محمد صادق گواہ نے جھوٹ بولا۔ ۲۹ مئی کو دس بجے رات کے بعد جب پولیس نے ان ۲۶ لوگوں کو پیش کرنے کے لئے کہا جن کے نام ان کو دیئے تھے تو ہم جن لوگوں کو بلا سکتے تھے، بلایا۔ رحمت بازار (منڈی میں) ۱۵؍ لوگوں کو بلایا گیا۔ وہاں سے ان لوگوں کو امور عامہ کے دفتر میں لے جایا گیا، جہاں سے پولیس ان کو گرفتار کر کے لے گئی۔ (اس موقعہ پر گواہ کو محمد صادق گواہ نمبر ۴۴ کے اس بیان کے ساتھ Confront کیا گیا)
یہ درست نہیں ہے کہ ہم نے مغرب سے قبل لوگوں کو منڈی میں جمع کیا اور یہ کہ محمد صادق ان میں شامل تھا۔ ہم نے تو صرف دس بجے رات کے بعد لوگوں کو اکٹھا کیا۔ میرے ساتھ دو اور آدمی یعنی مسٹر عبدالعزیز بھانبڑی اور مسٹر رشید جونیئر بھی لوگوں کو جمع کر رہے تھے اور ہم سب، جمع شدہ لوگوں کو منڈی میں لا رہے تھے۔ جب میں منڈی آیا تو عبدالعزیز بھانبڑی وہاں موجود تھے اور جمع شدہ لوگوں کو امور عامہ کے دفتر میں رشید جونیئر لے گیا تھا۔ مسٹر محمد صادق گواہ ان کے ساتھ شامل ہوگا۔ مگر یہ سب کچھ دس بجے رات ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹریبیونل نے گواہ کو توجہ دلائی کہ ربوہ کے رہنے والے ایک گواہ شریف احمد صدیقی گواہ نمبر ۴۰ نے رشید احمد گواہ کے خلاف یہ بیان ٹریبیونل کو دیا تھا کہ آپ (رشید احمد ) نے دوسرے لوگوں مثلاً بشیر احمد صدر عمومی اور ظہور احمد باجوہ ناظر عمومی کے ساتھ مل کر کچھ بد کردار لوگوں کی ایک فہرست ۲۸؍ مئی کو بنائی اور ان لوگوں کو ۲۹؍ مئی کے ہنگامہ میں استعمال کیا۔ یہ بات انہوں نے اپنی تحقیقات کی بناء پر اس عدالت کو بتائی ۔ مجھے علم نہیں ہے کہ چوہدری بشیر احمد صدر عمومی کی مسٹر دوست محمد لالی ایم ۔ پی ۔ اے کے ساتھ کوئی دوستی ہے یا نہیں ۔ یہ درست ہے کہ سابقہ انتخابات میں زیادہ تر مقامات پر احمدیہ جماعت نے پیپلز پارٹی کی مدد کی تھی ۔ مگر میں نہیں جانتا کہ یہ مدد جماعت کی ہدایت پر کی تھی ۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ ربوہ کے کوئی رہنے والے کون پیپلز پارٹی کے حمایتی ہیں اور کون حمایتی نہیں ۔ مجھے معلوم نہیں کہ ربوہ کے لوگوں کا کھر کی علیحدگی پر کیا ردعمل تھا۔
ربوہ کے لوگ کبھی نعرے سن کر اسٹیشن پر نہیں جاتے ۔ مگر ۲۹؍ مئی کو انہوں نے اس پر مختلف طریقے سے ردعمل ظاہر کیا ۔ کیونکہ گاڑی معمول سے زیادہ ٹھہری اور یہ خلاف معمول ہے ۔ میں نے شریف احمد صدیقی گواہ نمبر ۴۰ کے خلاف ربوہ کی انتظامیہ کے کسی اونچے افسر کو ان کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں کی تھی۔ سوائے عبدالعزیز بھانبڑی کے جن کو میں نے زبانی اطلاع دی تھی۔
وقفہ سوا گیارہ بجے سے پونے بارہ بجے تک ۔ ٹریبیونل نے فرمایا کہ کل ڈی سی جھنگ، ہوم سیکرٹری پنجاب، مسٹر مجید نظامی یا مسٹر مسکین احسن کلیم میں سے کچھ گواہان کے بیانات بند عدالت میں ہوں گے ۔ اس لئے پبلک کے افراد کل تشریف لانے کی زحمت نہ کریں۔
گواہ نمبر ۴۶....... ملک نصیر احمد ولد ملک منور احمد ( محلہ دارالوسطیٰ ربوہ )
میں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہوں ۔ میں تھرڈ ایئر ٹی آئی کالج ربوہ کا طالب علم ہوں ۔ میں ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوا ۔ اگرچہ میں ربوہ میں پیدا نہیں ہوا ۔ لیکن میں نے اپنی پوری تعلیم ربوہ میں حاصل کی ۔ اس لئے پچھلے تیرہ سالوں سے ربوہ میں رہ رہا ہوں ۔ میں خدام الاحمدیہ کا رکن ہوں ۔ کیونکہ ۱۵ سے ۴۰ سال کا ہر احمدی اس تنظیم کا حصہ ہوتا ہے ۔ بطور خادم مجھے خدمت خلق کا کام اپنے زعیم کے تحت کرنا پڑتا ہے ۔ اس سلسلے میں ہمیں زعیم سے حکم ملتا ہے ۔ تعلیم الاسلام کالج میں طلباء کی یونین ہے لیکن طلباء کی کوئی پارٹی وہاں نہیں ہے ۔ یونین کا صدر منتخب کیا جاتا ہے ۔ میں مسٹر رفیق احمد باجوہ گواہ کو جانتا ہوں جو اسی کالج کا طالب علم تھا اور میرا کلاس فیلو رہا ہے۔
میں ۲۲؍ مئی کو ربوہ میں نہیں تھا ۔ میں لائل پور گیا تھا مگر مجھے معلوم ہوا کہ نشتر کالج کے طلباء نے ۲۲؍ مئی کو ریلوے اسٹیشن پر ربوہ سے گزرتے ہوئے نعرے لگائے تھے اور پلیٹ فارم پر مسافروں کو پتھر مارے تھے ۔ مجھے اس کی تفصیلات کا علم نہیں ۔ میں نے اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہیں کیا ۔ البتہ میں نے یہ خیال کیا کہ طلباء نے جو کچھ کیا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ میں ۲۹؍ مئی کو ربوہ کے اسٹیشن پر موجود نہ تھا۔ اس لئے میں عینی شہادت نہیں دے سکتا ۔ اس دن فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر کلاسز کا نتیجہ نکلنا تھا۔ نوٹس جو کالج میں لگایا گیا تھا اس کے مطابق نتیجہ ساڑھے نو بجے نکلنا تھا۔ کیمسٹری تھیٹر میں تمام متعلقہ طلباء جمع ہو گئے ۔ جہاں نتیجہ کا اعلان ہونا تھا میں ان میں شامل تھا۔ کیونکہ میں نے تھرڈ ایئر کا امتحان دیا تھا۔
ساڑھے نو بجے پرنسپل صاحب نے طلباء کو خطاب کیا ۔ اس کے بعد چوہدری حمید اللہ صاحب پروفیسر ریاضی ، عتیق احمد پروفیسر انگلش نے خطاب کیا ۔ ان کے بعد مبارک انصاری صاحب جو کیمسٹری کے لیکچرار ہیں اور امتحانات کے رجسٹرار ہیں، نے نتیجہ کا اعلان کیا۔ یہ ساری کارروائی گیارہ بجے ختم ہوئی ۔ اس وقت ہم منتشر ہوئے اور میں کالج سے سیدھا گھر چلا گیا۔ میری والدہ دل کی مریضہ ہیں۔ ان کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کینسر کی بیماری بھی ہے۔ چونکہ ان کی طبیعت اس دن زیادہ خراب تھی۔ اس لئے میں بازار میں ان کے لئے دوائی لینے چلا گیا۔ گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی بازار میں کچھ دوستوں نے جن کے نام مجھے یاد نہیں مجھے ہوٹل میں چائے کے لئے بلایا۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ وہاں لوگ باتیں کر رہے تھے کہ مسافر طلباء نے کچھ نعرے لگائے۔ گالیاں دیں جن کے نتیجے میں ان کے اور دوسرے مسافروں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہاں میں ہوٹل میں دس منٹ تک بیٹھا اور گھر آ گیا۔ ۳۰؍ مئی کو میں مسجد سے نکلا تو ایک جیپ وہاں آئی اور ایک پولیس آفیسر نے مجھے بلایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایس. پی جھنگ ہیں اور وہ مجھے پولیس چوکی لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ چار سپاہی تھے۔ لیکن ربوہ کا کوئی آدمی ان کے ساتھ نہ تھا۔ مجھے چوکی پولیس لے گئے۔ میں نے ایس. پی سے یہ معلوم کرنا چاہا کہ میرا کیا قصور ہے اور مجھے کیوں بٹھا رکھا ہے۔ میں اپنے والدین کو اطلاع دینا چاہتا تھا۔ مگر ایس. پی نے مجھے نہ تو گرفتاری کی وجوہ بتائیں اور نہ ہی کسی سے رابطہ قائم کرنے دیا۔ جب میں چوکی پہنچا تو میں نے ربوہ کے اور آدمیوں کو وہاں موجود پایا۔ کچھ لوگوں کو میرے بعد وہاں لایا گیا۔ دس بجے کے قریب خواجہ عبدالمجید احمد ہوٹل والے ہمارے لئے ناشتہ لائے۔ مگر پولیس نے ان کو بھی گرفتار کر لیا۔ دس بجے کے قریب ہمیں سب کو سرگودھا ڈسٹرکٹ جیل لے جایا گیا۔ اس وقت سے میں وہیں ہوں۔ اس عرصے میں دو مرتبہ میرے والد صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ دوسری مرتبہ وہ مجھے کل ملے اور کوئی آدمی جیل میں مجھ سے ملنے نہ آیا۔
میں نے مسٹر رشید احمد کلرک دفتر امور عامہ کا نام سنا ہوا ہے۔ اسے چہرے سے پہچان سکتا ہوں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان کی میرے ساتھ کوئی دشمنی ہو۔ لیکن تین چار سال قبل انہوں نے مجھے ایک چوری کے مقدمہ میں گواہ بنانا چاہا۔ میں نے وہ واقعہ نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے میں نے گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ اگر اس بناء پر ان کو میرے خلاف کوئی رنج ہو تو میں کہہ نہیں سکتا۔ وہ مقدمہ امور عامہ کے شعبے میں چل رہا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ امور عامہ میں کوئی ایسے مقدمات سنتا ہے۔ اگر میں اس مقدمہ میں گواہ کی حیثیت سے پیش ہوتا تو مجھے پتہ چل جاتا۔ میں وضاحت نہیں کر سکتا کہ میرا نام ان ۲۶؍ افراد کی فہرست میں کیوں شامل کیا گیا جو مسٹر رشید احمد نے پولیس کو دی تھی کہ میں اس دن اسٹیشن پر ہنگامہ کرنے والوں میں شامل ہوں پولیس نے گرفتاری کے بعد مجھ سے بالکل کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ نہ ہی ربوہ کے واقعہ کے بارے میں کوئی سوال پوچھا۔
گواہ نمبر ۴۷...... ادریس احمد ولد شریف احمد (پرائیویٹ طالب علم، ایف. اے، دارالرحمت غربی ربوہ)
میں احمدی ہوں۔ میں ۷۱ء تک کالج میں پڑھتا تھا۔ میں نے اس سال ایف. اے کا امتحان دیا تھا اور فیل ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کالج چھوڑ دیا۔ اس کے بعد دو مرتبہ پرائیویٹ امتحان دیا۔ مگر انگلش میں پاس نہ ہو سکا۔ میں کالج نہیں جاتا۔ میں آٹھ سال سے ربوہ میں رہتا ہوں۔ میں کوئی خاص کام نہیں کرتا۔ زیادہ تر وقت امتحان کی تیاری میں گزارتا ہوں۔ میں فٹ بال ہر شام کو باقاعدگی سے کھیلتا ہوں۔ میں اپنے محلے کی گراؤنڈ میں فٹ بال کھیلتا ہوں۔ یہ اسٹیشن سے فرلانگ ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ ۲۲؍ مئی کو میں شام کو رحمت بازار سے اپنی والدہ کے لئے دوائی لینے گیا تھا۔ بازار میں، میں نے اسٹیشن پر شور سنا۔ میں سمجھا کہ کوئی مبلغ واپس آیا ہے اور لوگ اس کا استقبال کرنے گئے ہیں۔ میں بھی اسٹیشن کی طرف چلا۔ جب میں لالیاں کی طرف والے پلیٹ فارم کے سرے سے دس گز کے فاصلے پر تھا تو میرے سر میں ایک روڑا لگا۔ میں زخمی ہو گیا اور چکرا گیا۔ وہاں سے واپس رحمت بازار آ گیا۔ میں پلیٹ فارم کی بیرونی دیوار کے پار تھا۔ اس لئے پلیٹ فارم پر ہونے والے واقعہ کو دیکھ نہ سکا۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ پتھر کہاں سے آیا تھا۔ زخم زیادہ شدید نہیں تھا۔ وہ خود ہی ٹھیک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو گیا۔ میں نے ۲۲؍ مئی کے واقعہ کی تفصیلات جاننے کی کوشش نہ کی جو کچھ مجھے معلوم ہوا وہ یہ ہے کہ کچھ طلباء اس دن ربوہ سے گزر رہے تھے۔ میں زخم کی وجہ سے اور اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے زیادہ وقت گھر پر گزارتا تھا۔ اس لئے وقوعہ کی تفصیلات کا علم نہ ہو سکا۔ ۲۴؍ مئی کو میں ربوہ میں نہیں تھا۔ اس دن میں اپنے سسرال کو ملنے شیخوپورہ گیا تھا۔ میری شادی اس سال اپریل میں ہوئی تھی۔ میں واپس ربوہ اپنی بیوی کے ساتھ ۲۹؍ مئی کو پہنچا۔ ۲۳؍ مئی کو میں اپنے گھر سے نہ نکلا۔ ۲۹، ۳۰؍ مئی کی درمیانی شب محلہ دارالرحمت غربی میں میری پہرے پر ڈیوٹی تھی۔ میں ساڑھے تین بجے صبح چکر لگا کر نکلا۔ پولیس کی ایک جیپ آئی جن میں ایک افسر اور دو سپاہی تھے۔ انہوں نے پوچھا مرزائی ہو۔ جب میں نے جواب دیا کہ میں احمدی ہوں تو مجھے پولیس چوکی لے جایا گیا۔ وہاں پندرہ بیس آدمی پہلے سے چوکی میں بیٹھے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور وہاں ان کے ساتھ ۹ بجے صبح تک بیٹھا رہا۔ میرے چوکی پہنچنے کے بعد پولیس وہاں دوسرے آدمیوں کو بھی لاتی رہی۔ مجھے یاد نہیں کہ مسٹر نصیر احمد گواہ نمبر ۴۶ کو میرے پہلے یا میرے بعد چوکی لایا گیا۔ جن لوگوں کو پولیس چوکی میں بٹھایا گیا تھا۔ ان کو ۳۰ تاریخ کو سرگودھا لے جایا گیا۔ چوکی میں خواجہ مجید ہمیں چائے پلانے کے لئے لایا اسے بھی گرفتار کر لیا گیا اور سرگودھا لے جایا گیا۔
جہاں تک میں جانتا ہوں مجھے امورِ عامہ کی طرف سے زیرنگرانی نہیں رکھا گیا۔ میں نے ربوہ والوں کے مقرر کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔ میں رشید احمد کو جانتا ہوں وہ امورِ عامہ میں کلرک ہیں۔ میں ان سے آج صبح عدالت کے باہر ملا تھا۔ صرف علیک سلیک ہوئی تھی میری ان کے ساتھ کوئی دشمنی وغیرہ نہیں ہے۔ میں نے انہیں کبھی شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔ میں وضاحت نہیں کر سکتا کہ میرا نام ان افراد کی فہرست میں کیوں شامل ہے جو بوقت وقوعہ اسٹیشن پر موجود تھے اور جن کا نام مسٹر رشید احمد نے پولیس کو بتایا تھا۔
ٹریبیونل: میری اس انکوائری سے پہلے احمدیوں کے بارے میں رائے مختلف تھی۔ اب مجھے وہ رائے تبدیل کرنی پڑے گی۔
۱۸؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
۹،۱۰ بجے جناب جسٹس کے. ایم. اے صمدانی مسٹر جسٹس محمد اکرم کے چیمبر میں تشریف لائے۔ سوا نو بجے مرزا ناصر احمد کو بلایا گیا۔
گواہ نمبر ۴۸...... مرزا ناصر احمد، امام جماعت احمدیہ
س...... کیا آپ مرزا غلام احمد کو ایک نبی مانتے ہیں؟ ج...... نہیں، لیکن میں انہیں ایک امتی نبی مانتا ہوں۔ س...... مرزا غلام احمد آپ کے کیا رشتہ دار ہیں؟ ج...... میں ان کا پوتا ہوں۔ س...... کیا وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد پہلے امتی نبی تھے؟ ج...... میرے اعتقاد کے مطابق امتِ احمدیہ میں وہ پہلے امتی نبی تھے۔ س...... کیا اور بھی ایسے نبی آسکتے ہیں؟ ج...... آ تو سکتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے نہ آئیں۔ س...... کیوں نہیں؟ ج...... میرے عقیدہ کے مطابق کسی اور امتی نبی کی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے بشارت نہیں دی۔ تھیوری کے طور پر حضور ﷺ کی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امت کے اندر اور بھی امتی نبی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کی پیشین گوئی کے مطابق میرا یقین ہے کہ اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تاہم امت کے کئی لوگ دوسرے انبیاء کی صفات کے حامل ہو سکتے ہیں۔
س ...... کیا آپ ایسی کسی بشارت کا حوالہ دے سکتے ہیں؟
ج ...... مسلم کی ایک حدیث میں آنے والے کو چار مرتبہ نبی کہا گیا۔ میں اس حدیث کا حوالہ تو ابھی نہیں دے سکتا۔ لیکن میں ٹربیونل کو بعد میں بھیج سکتا ہوں۔ وہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ اس عقیدے کے لئے قرآن میں سے مدد ملتی ہے۔
(ٹربیونل نے ہدایت کی کہ حدیث کے حوالے کے ساتھ قرآن کی آیات کا بھی حوالہ ٹربیونل کو فراہم کیا جائے)
ہمارے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود اور مہدی موعود بھی تھے۔
س ...... مصلح موعود سے کیا مراد ہے اور وہ کون تھے؟
ج ...... مصلح موعود ایک صفاتی اظہار میرے والد مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ہے جو مرزا غلام احمد صاحب کے ایک لڑکے تھے اور احمدیت کے سلسلہ میں دوسرے خلیفہ تھے۔ مصلح موعود کوئی عہدہ نہیں ہے۔ موعود کا مطلب ہے Promised۔ مرزا غلام احمد کو اللہ نے یہ الہام کیا کہ ایک مصلح آئے گا جو ان کے بچوں میں سے ایک ہوگا۔
ایم۔ اے رحمن کی تجویز پر
س ...... یہ کیسے پتہ چلا کہ مرزا بشیر الدین ہی مصلح موعود ہیں؟
ج ...... شروع میں کمیونٹی کے کچھ بڑوں نے مصلح موعود کی صفات مرزا بشیر الدین محمود احمد کی شخصیت میں نوٹ کیں۔ لیکن انہوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے خود نہیں بتائے گا۔ اس کا اظہار نہیں کروں گا۔ ۱۹۴۴ء میں گرمی کے موسم میں ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ وہ مصلح موعود ہیں۔ اس کے مطابق انہوں نے اس کا اعلان کر دیا۔
س ...... آپ کا مرزا غلام احمد کے متبعین کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
ج ...... میں اس سوال پر بہت خوش ہوں۔ (لمبی وضاحت) میرے مرزا صاحب کے متبعین کے ساتھ تعلق کے دو رخ ہیں۔ ایک خالصتاً انتظامی ہے۔ بطور سربراہ کمیونٹی میں جماعت کا انتظامی سربراہ بھی ہوں۔ دوسرا رخ کمیونٹی کے ارکان کے روحانی اور اخلاقی حوالے سے تعلق رکھتا ہے۔
س ...... آپ کا لاہوری گروپ (احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
ج ...... اس گروپ کا میرے ساتھ نہ کوئی انتظامی ، نہ روحانی اور نہ اخلاقی تعلق ہے۔
س ...... آپ کی خلافت کا کیا تصور ہے؟ خلیفہ کی کیا ضرورت ہے؟
ج ...... خلافت کا تصور مرزا غلام احمد کی بعثت کے بعد، حضور نبی کریم ﷺ کے بعد آنے والی خلافت سے مختلف ہے۔ کیونکہ ان دنوں حضور ﷺ کے روحانی جانشین کو وقت کی ضرورت کے تحت حکومتی جانشینی بھی اختیار کرنی پڑی۔ جب کہ مرزا غلام احمد کے خلیفے صرف ان کے روحانی جانشین ہیں۔
س ...... کیا ”ذکر“ کا آپ کے سلسلے میں کوئی مقام ہے؟ (ذکر کی جو اصطلاح صوفیاء کرام استعمال کرتے ہیں؟)
ج ...... ہمارے ہاں ”ذکر“ کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ صوفیوں کا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے قرآن پاک ہی کافی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... کیا آپ بیعت کے تصور کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
ج ...... بیعت سے ہماری مراد یہ ہے کہ امام کے ساتھ بیعت کرنے والا اپنے آپ کو صرف اخلاقی اور روحانی تربیت کے لئے مکمل طور پر خلیفہ یا امام کے کنٹرول میں دے دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ بیعت کرنے والا جماعت یا اس کے امام کے ہاتھ بک جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کی ذات یا جائیداد اسلام کے مقاصد کے لئے وقف ہے۔ ہمارے تصور میں امام اور جماعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ بیعت کرنے والا امام کی صرف ایسی ہدایات کا پابند ہے جو معروف ہوں۔ اختلاف کی صورت میں معاملہ مجلس افتاء اور اس کے بعد مجلس شوریٰ کو بھیجا جاتا ہے۔ امام کی کونسل کا فیصلہ آخری (Final) ہوتا ہے۔ اگر کوئی فرد امام کے آخری فیصلے سے اختلاف کرنا پسند کرے تو وہ ایسا کر سکتا ہے اور احمدی اور جماعت کا ممبر رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا اختلاف اس قدر بنیادی ہو کہ ہم اس کے ممبر رہنے کو اس مشن کے خلاف سمجھیں تو ہم اسے کہیں گے کہ وہ جماعت کا رکن نہیں رہا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میری خلافت میں ایسا کوئی موقع پیش نہیں آیا۔
میاں شیر عالم کی تجویز پر
س ...... کیا احمدیت میں بیعت لازم ہے؟ اگر ہاں تو کیوں؟
ج ...... احمدی ہونے کے لئے تو امام کی بیعت کرنا ضروری نہیں۔ لیکن جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کے لئے یہ ضروری ہے۔ اس لئے جماعت احمدیہ کو جماعت مبائعین کہا جاتا ہے۔ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو اس Sense میں احمدی ہوا ہو کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی تو مانتا ہو لیکن وہ بیعت کرنے سے انکار کرتا ہو۔ (ایم۔اے رحمان صاحب کے سوال کے جواب میں) البتہ مجھے چند یوگوسلاوی خاندانوں کا علم ہے جو احمدی تو ہو گئے مگر انہوں نے خلیفہ وقت کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ مجھے ایسے کچھ لوگوں کا بھی علم ہے جو ہر لحاظ سے احمدی تھے مگر وہ خلافت سے منحرف ہو گئے۔ اگر چہ وہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے قائل رہے۔ ایک غیر مبائع احمدی جماعت کے ڈسپلن کے تابع نہیں جب کہ ایک مبائع احمدی تابع ہے۔
س ...... خلافت کے منصب پر جانشین کا کیا طریقہ ہے؟
ج ...... میں اس مسئلے پر شائع شدہ لٹریچر ٹربیونل کو عنقریب مہیا کروں گا۔ جس میں اس انتخابی ادارے کے آئین کا ذکر ہے جس نے پہلے خلیفہ کی وفات کے وقت خلیفہ کا انتخاب کیا تھا۔ موجودہ خلیفہ کی ذہنی یا جسمانی معذوری کی صورت میں جانشینی ضروری نہیں۔ یہ ہمارا جزو ایمان ہے کہ خلیفہ کا تقرر آسمانی مداخلت سے ہوتا ہے۔ اس لئے کسی کے لئے آئندہ کبھی یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی خلیفہ احمدیت سے منحرف ہو جائے۔
گیارہ بج کر پچیس منٹ پر وقفہ ۔ بارہ بجے پھر کارروائی ہوگی ۔ دوپہر کے بارہ بج کر تین منٹ ۔
س ...... بحیثیت سربراہ کمیونٹی ( انتظامی سربراہ ) آپ کے فرائض کیا ہیں؟
ج ...... ایک تو میں تنازعات کے تصفیے کے سلسلے میں نہ صرف افراد کے بلکہ مختلف تنظیموں کے درمیان آخری عدالت ہوں۔ دوسرے جو اخراجات بجٹ میں مہیا نہ کئے گئے ہوں ان کی منظوری دینا اور مجلس شوریٰ کی صدارت کرنا، جب بجٹ پاس کرتی ہے۔ تیسرے میں قواعد جماعت اور شوریٰ کے فیصلوں کی انتظامیہ کی طرف سے پابندی کی نگرانی کرتا ہوں۔ میں پوری انتظامیہ کی نگرانی کرتا ہوں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہر فرد اور ہر تنظیم قواعد وضوابط کی سختی سے پابندی کرے۔ مجھے جماعت کی تیار کردہ مختلف سکیموں کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منظوری یا عدم منظوری کے لئے جائزہ لینا ہوتا ہے۔ بعض امور میرے پاس بغرض اطلاع بھیجے جاتے ہیں۔ لیکن میں ایسے بعض معاملات میں مداخلت کرتا ہوں۔ سینکڑوں ایسے معاملات بھی ہوتے ہیں جو میرے پاس نہ اطلاع کے لئے اور نہ منظوری کے لئے آتے ہیں۔ میں مختلف محکموں پر موثر نگرانی کر سکتا ہوں۔ کیونکہ مجھے تقریباً ہر چھوٹی بڑی بے قاعدگی جو کسی تنظیم کی طرف سے کی جائے، کی اطلاع مل جاتی ہے۔ ہماری ایک زندہ جماعت ہے۔ ہر چھوٹی چیز اچھی بری جس کا جماعت کی تنظیم سے تعلق ہوتا ہے۔ میرے علم میں آجاتی ہے۔
س ...... بطور روحانی سربراہ کمیونٹی آپ کے فرائض کیا ہیں؟
ج ...... میرا سب سے اہم فرض روحانی دائرے میں یہ ہے کہ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر پوری جماعت اور اس کی ذیلی تنظیموں کے لئے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں، دعا کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی اپنی پریشانی میرے سامنے پیش کرے تو میں اس کی صحیح راہنمائی کر کے اس کی پریشانی دور کرتا ہوں اور اس غلط راستے سے ہٹا کر اس کی مدد کرتا ہوں، جس غلط راستہ پر چل کر اسے پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔
س ...... کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کی وفاداری کسی حالت میں سٹیٹ کی وفاداری سے متصادم ہو؟
ج ...... یہ ناممکن ہے۔ ہمارا جزو ایمان ہے کہ ملکی قوانین کی پابندی کی جائے۔ البتہ اگر کسی ملک کا قانون، شریعت کے مطابق نہ ہو تو اس ملک میں رہنے والے احمدی ہجرت کر جائیں گے۔
س ...... پاکستان میں اور دنیا میں احمدیوں کی تعداد کیا ہے؟
ج ...... میرا رف اندازہ یہ ہے کہ پینتیس، چالیس لاکھ کے درمیان مبالغ احمدی پاکستان میں ہیں اور دنیا بھر میں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے۔ اس تعداد میں لاہوری برانچ کے ارکان شامل نہیں ہیں۔
س ...... کیا آپ کو ہر اہم واقعہ کا علم ہونا ضروری ہے جو آپ کی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہو۔ چاہے وہ پاکستان میں ہو یا دنیا کے کسی حصے میں ہو؟
ج ...... یہ عملاً ممکن نہیں ہے۔ نہ دنیا کے کسی واقعہ کے لئے اور نہ پاکستان کے کسی واقعہ کے لئے۔ یہ ربوہ کے لئے بھی ممکن نہیں۔
س ...... جماعت کے مختلف عہدیدار کہاں سے اپنی اتھارٹی حاصل کرتے ہیں؟
ج ...... جماعت کے مقرر کردہ قواعد وضوابط سے وہ اتھارٹی حاصل کرتے ہیں اور وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲۰ کے تحت اتھارٹی حاصل کرتے ہیں۔
س ...... کیا آپ جانتے ہیں کہ ۲۲ مئی کو ربوہ اسٹیشن پر کیا واقعہ پیش آیا۔ اگر جانتے ہیں تو کیا؟
ج ...... میں اس واقعہ کا چشم دید گواہ نہیں۔ میری اطلاع سنی سنائی ہے جو کچھ میں نے مختلف افراد سے اکٹھا کیا۔ جو اطلاعات میرے پاس آئیں وہ یہ ہیں کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء نے دوسرے طلباء کے ساتھ ربوہ سے گزرتے ہوئے کچھ نعرے اسٹیشن پر لگائے جس کے نتیجے میں ان کے اور ربوہ کے کچھ نوجوانوں کے درمیان جو اس وقت ریلوے اسٹیشن پر تھے اور ان میں سے کچھ ربوہ سے تعلق رکھتے تھے، جھگڑا ہوا۔ مجھے وہ اطلاع وقوعہ کے دو گھنٹے بعد ملی تھی۔ تاہم کسی تنظیم یا جماعت نے یہ اطلاع وقوعہ کے بارے میں نہ دی تھی۔ سوا ایک بجے سے دو بجے تک وقفہ برائے طعام و نماز ظہر۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... آپ کو ۲۹ مئی کے واقعہ کا علم کب ہوا اور آپ کی اطلاعات اس سلسلے میں کیا ہیں؟
ج ...... ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو صبح ہی میں ربوہ سے اپنے بچوں کی زمین پر گیا جو ربوہ سے بارہ، تیرہ میل دور ہے۔ کچھ احباب کے ساتھ میں وہاں سستانے کے لئے گیا تھا۔ وہ زمین میرے لڑکے اور داماد نے پٹے پر لے رکھی ہے۔ وہاں ہمارا ایک ڈیرہ ہے۔ میں وہاں سے دس، ساڑھے دس بجے صبح واپس آیا۔ اس کے بعد میں نے غسل کیا۔ صبح گیارہ بجے اور بارہ بجے کے درمیان کسی نے مجھے اطلاع دی کہ پھر اس دن کی طرح ربوہ ریلوے اسٹیشن پر تخریب ہو گئی ہے۔ اس سے میں نے یہ تاثر لیا کہ ۲۹ تاریخ کا واقعہ ۲۲ سے زیادہ شدید ہے۔ چونکہ اطلاع دینے والا بھی چشم دید گواہ نہ تھا۔ اس لئے وہ مجھے تفصیلات نہ بتا سکا۔ البتہ ربوہ انتظامیہ کے کسی محکمے نے مجھے یہ اطلاع واقعہ کے بارے میں نہ دی تھی۔ صرف شام کو پولیس کے آنے پر مجھے محسوس ہوا کہ کچھ اہم بات ہو گئی ہے۔
س ...... کیا آپ نے ربوہ کے واقعہ کے بارے میں کوئی تحقیقات کی، آپ کو یقین ہو گیا کہ یہ اہم معاملہ ہے؟
ج ...... نہیں۔ پہلے تو میں نے اس کو اہمیت نہ دی۔ کیونکہ ایسے واقعات عام طور پر ملک میں ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرے پولیس آگئی تھی اور اس نے کارروائی شروع کر دی تھی۔ میں نے خود کوئی اطلاع فراہم نہ کی وقوعہ کے بارے میں، لیکن مجھے ایسی اطلاعات ملتی رہیں، ان اطلاعات کی بنیاد پر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ احمدیہ جماعت کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ اس واقعہ میں پلاننگ متحدہ حزب اختلاف کے کسی حصے نے کی ہے یا دوسرے نمبر پر حکومت کی انتظامیہ کے کسی حصے نے پلاننگ کی ہے۔
س ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ربوہ کے کچھ لوگوں نے فساد میں حصہ لیا۔ اگر ہاں، تو کس کے کہنے پر؟
ج ...... میں سمجھتا ہوں کہ ربوہ کے کچھ لوگ بھی ملوث ہوئے تھے۔ لیکن انہوں نے فرد یا تنظیم کے کہنے پر فساد میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے خود مشتعل ہو کر یہ کام کیا۔ میری اطلاع کے مطابق گاڑی کے کچھ مسافر جن کو شناخت نہیں کیا جا سکا، بھی فساد میں شریک تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق وہ سات، آٹھ کی تعداد میں تھے۔ دوسری اطلاع کے مطابق وہ دس، بارہ تھے۔
س ...... ۳۱ مئی کے خطبہ جمعہ میں آپ نے ایک پلان کا ذکر کیا ہے۔ جس کا شکار ربوہ کے کچھ لوگ ہو گئے تھے۔ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
ج ...... میں نے خطبہ میں ذکر کیا تھا۔ میں نے یہ ذکر ان واقعات کی بناء پر کیا تھا جو ربوہ کے واقعہ کے فوراً بعد وقوع پذیر ہوئے۔ اس گاڑی کے لائل پور پہنچنے سے پہلے ایک بڑا ہجوم زخمی طلباء کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ علماء بھی لاؤڈ سپیکر سمیت تقریریں کرنے کے لئے پہنچ گئے تھے۔ فسادات لائل پور میں اسی دن چند گھنٹے کے اندر شروع ہو گئے اور ۳۱ مئی جمعہ سے قبل قریباً ۸۰ دکانیں اور مکانات احمدیوں کے لائل پور میں جلائے گئے تھے اور بعض احمدیوں کو اسی دن ۲۹ مئی کو زخمی کیا گیا تھا۔ ان واقعات سے مجھے یہ احساس ہوا کہ کسی کا ناپاک منصوبہ اب چاک ہو رہا ہے۔ یہ سب واقعات اسی منصوبے کا حصہ تھے۔ جس کا حصہ ربوہ کا واقعہ ہے۔
س ...... اگر تمام واقعہ احمدیوں کی تنظیم کے علاوہ کسی کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا تو احمدی کیوں اس میں شامل ہو گئے؟ جب کہ آپ کے مطابق احمدیوں کی فطرت میں اس طرح کا عمل کرنا نہیں، جس طرح انہوں نے ۲۹ مئی کو کیا؟
ج ...... میرے خیال میں جن چند احمدیوں نے فساد میں حصہ لیا۔ وہ پلان کا حصہ نہ تھے۔ وہ حصہ ہو نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے محض اشتعال میں کام کیا۔ اگر ان لوگوں کی Identity معلوم ہو سکے تو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کس نے براہ راست یا بالواسطہ حصہ لیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... کیا آپ نے یا احمدیہ جماعت کے کسی شعبے نے ایسے مجرموں کا پتہ چلانے کی کوشش کی جن کا ربوہ سے تعلق ہے؟
ج ...... ہم نے ایسا نہیں کیا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اگر ہم صحیح مجرموں کا پتہ کر لیتے اور پولیس کو ان کی اطلاع دے دیتے تو اس کا الٹا ہو سکتا تھا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اگر ہم اپنی انکوائری خود کرتے تو یہ پولیس کو مدد اور اس کے لئے رکاوٹ بھی ثابت ہو سکتی تھی۔ جب یہ کیس ختم ہوگا تو ہم اپنی انکوائری کریں گے۔
س ...... کیا آپ نے ناظر امور عامہ یا صدر عمومی یا کسی اور عہدیدار احمدیہ تنظیم ربوہ کا جواب طلب کیا کہ ان کا ڈسپلن کیوں ختم ہو گیا؟
ج ...... نہیں۔ ان واقعات کے پیش نظر جو ربوہ کے واقعہ کے بعد پیش آئے۔ میں کسی وضاحت طلبی کا جواز محسوس نہیں کرتا جب تک ملک میں نارمل حالات بحال نہ ہو جائیں۔
س ...... کیا آپ نے یا احمدیہ جماعت کی انتظامیہ نے کوئی انتظام کیا کہ بے گناہ احمدیوں کی صفائی کی شہادت دوران تفتیش پیش کی جائے۔
ج ...... میں نہیں جانتا۔ میں متعلق وکلاء بشمول مسٹر عبدالحق ایڈووکیٹ امیر جماعت ضلع سرگودھا سے چیک کرلوں گا۔ میری اطلاع کے مطابق ربوہ کے کچھ غیر احمدی رہنے والوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
س ...... کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی بیرون طاقت بھی اس میں Involve ہے۔
ج ...... میرے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ ایسی خبر مجھے مل سکے۔ میں نہیں جانتا کہ اس میں کوئی بیرونی قوت کا ہاتھ ہے۔ میری کوئی اطلاع ذاتی ذرائع سے نہیں ہے۔
نوٹ: گواہ کو APP کے نمائندہ کے ساتھ انٹرویو کا Transcript پڑھنے کے لئے دیا گیا۔
س ...... کیا آپ کا انٹرویو 69-EXC میں صحیح طور پر رپورٹ کیا گیا۔ انٹرویو جو APP کے نمائندہ نے لیا تھا وہ 69-EXC ہے۔ گواہ کو دکھایا گیا۔
ج ...... نہیں۔ رپورٹنگ عام طور پر غلط ہے۔ مگر اس کے بعض حصے مثلاً C-69-A ، C-69-B اور اس کی Appreciation کے مطابق درست ہیں۔ دوسرے پیرا گراف جو 69-C کے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ خاص طور پر یہ غلط رپورٹ کیا گیا ہے کہ ربوہ کے وقوعہ کے بعد ۳۵ لوگ مرچکے ہیں۔ (یہ بیان ۹؍ جون کو دیا گیا) 69-C میرے انٹرویو کا حصہ نہیں ہے اور یہ غلط رپورٹ کیا گیا ہے کہ گورنمنٹ کو ایسے Nonsensical Declarations جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ رپورٹر مجھے دوبارہ نہیں ملا۔
س ...... کیا یہ درست ہے کہ پی۔اے۔ایف کے دو جہازوں نے پچھلے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر آپ کو سلامی دینے کے لئے غوطہ لگایا۔
ج ...... نہیں یہ درست نہیں ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ پی۔اے۔ایف کے جہاز کیسے سلامی دیتے ہیں۔
س ...... کیا یہ درست ہے کہ آپ وائرلیس ٹرانسمیٹر جو ۲۵۰۰-۳۰۰۰ میل تک جا سکتا تھا۔ خریدنا چاہتے تھے۔
ج ...... یہ درست نہیں ہے۔ البتہ ہم نائیجیریا میں اپنا براڈ کاسٹنگ اسٹیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جن کو پاکستان سے باہر کے ملکوں کے احمدی شہری کنٹرول کریں گے۔ اس سلسلے میں، میں نے کچھ انکوائری کی تھیں۔ اگرچہ ایک کینیڈین احمدی نے میری طرف سے کینیڈا سے ٹرانسمیٹر کے بارے میں انکوائری کرنا چاہی۔ لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میں کینیڈا سے نہیں خریدنا چاہتا۔ میں جاپان سے انکوائری کر رہا ہوں۔
س ...... کیا آپ کے گھر میں محمد علی نام کا کوئی باورچی رہا ہے؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ج....... میرا کوئی ذاتی ملازم محمد علی نام کا نہیں تھا۔ البتہ محمد علی تعلیم الاسلام کالج کا ملازم تھا۔ جب میں وہاں پرنسپل تھا۔ اس وقت بھی اور اس کے بعد بھی۔ یہ شخص محمد علی چند ماہ قبل قتل ہو گیا تھا۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ قاتل معلوم ہوا یا نہیں۔
س....... آپ کو یہ علم کیسے ہوا کہ گرفتار شدگان میں سے کچھ بے گناہ ہیں؟
ج....... جو وکیل ملزموں سے جیل میں ملنے گئے تھے، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ کچھ ملزمان بے گناہ تھے۔ ان کا ذریعہ معلومات وہی ملزمان ہی تھے۔
س....... کیا آپ ۲۹؍مئی سے قبل یہ جانتے تھے کہ ۲۲؍مئی کو گزرنے والا گروپ ۲۹؍مئی کو ربوہ واپس آئے گا؟
ج....... ہاں۔ جس آدمی نے مجھے ۲۲؍مئی کا واقعہ بتایا تھا، انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ طلباء نے یہ کہا تھا کہ وہ ۲۹؍مئی کو واپس آئیں گے۔ مگر میں نے اس کو اہم نہ سمجھا۔
س....... ۲؍جون کے الفضل میں واقعہ ربوہ کی جو رپورٹ شائع ہوئی EXC-66 گواہ کو پڑھ کر سنائی گئی۔ کیا آپ کو واقعہ کا یہ ورژن (Version) کسی سے ملا تھا؟
ج....... مجھے یہ پورے کا پورا Version کسی ذریعے سے معلوم نہ ہوا۔ لیکن میں نے اس ٹربیونل کو وہ سب اطلاع بتا دی ہے جو مجھ کو اس واقعہ ۲۹؍مئی کے بارے میں ملی تھی۔
وکلاء صاحبان اپنے سوالات مرتب کر کے اگلے ہفتے میں ٹربیونل کو دے دیں۔ اس کے بعد ٹربیونل فیصلہ کرے گا کہ گواہ کو دوبارہ بلایا جائے یا نہیں۔ چار بج کر پچاس منٹ سہ پہر، کارروائی ختم ہوئی۔
۱۹؍جولائی ۱۹۷۴ء کو جناب مجید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت اور مسٹر مسکین احسن کلیم ایڈیٹر روزنامہ مشرق کی شہادت جناب جسٹس کے. ایم. اے صمدانی صاحب کے چیمبر میں قلمبند ہوگی۔
۱۹؍جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۴۹....... مسٹر مسکین احسن کلیم ولد محمد امین احسن (ایڈیٹر روزنامہ مشرق لاہور)
ہم اشتہار یا تو براہ راست اشتہار دینے والے سے لیتے ہیں یا ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی معرفت لیتے ہیں۔ اشتہار EXC-70 جو روزنامہ مشرق لاہور کے پرچے مورخہ ۶؍جولائی ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا ہے، ہمیں اشتہار ایجنسی جس کا نام اورینٹ ایڈورٹائزنگ کمپنی کی معرفت موصول ہوا تھا۔ یہ ایک کل پاکستان ایڈورٹائزنگ کمپنی ہے جس کے دفاتر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہیں۔ میں اپنے شعبہ اشتہارات سے معلوم کر کے بتا سکتا ہوں کہ یہ اشتہار ہمیں اس کمپنی کے لاہور آفس سے موصول ہوا یا کسی اور دفتر سے، لاہور کا دفتر اس کمپنی کا تھارنٹن روڈ پر واقع ہے جہاں تک میں جانتا ہوں۔ میں اس دفتر کے منیجر کا نام نہیں جانتا۔
یہ اشتہار ہمیں تین دن شائع کرنے کے لئے ملا تھا۔ مگر ہم نے دو دن ہی چھاپا تھا کہ ہمیں اپنے ایجنٹوں اور نمائندوں سے یہ معلوم ہوا کہ اخبار کے قارئین اس اشتہار کی اشاعت پر بہت احتجاج کر رہے ہیں اور اس کا بائیکاٹ کرنے اور اخبار جلانے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ اس لئے ہم نے دو دن شائع کرنے کے بعد تیسرے دن اشتہار شائع نہ کیا۔ دراصل اشتہار ہر دن کے لئے نیا ہوتا ہے۔ پہلے دن کے اشتہار کا عنوان تھا۔ ”مولانا محمد یوسف بنوری صدر مجلس عمل سے چند سوالات“ دوسرے دن کے اشتہار کا عنوان تھا۔ ”مولانا یوسف بنوری صدر مجلس عمل سے چند مزید سوالات“ تیسرے دن کے عنوان کا مجھے علم نہیں۔ میں ٹربیونل کو اس اشتہار کے اخراجات نہیں بتا سکتا۔ ہمارے اخبار کا بلنگ سیکشن
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بتا سکتا ہے کہ انہوں نے کتنے روپے کا بل بنایا تھا۔ میں اس اشتہار کا بل آرڈر اور بل اس ٹربیونل کے ریکارڈ کے لئے پیش کر سکتا ہوں۔ (گواہ کو ہدایت کی گئی کہ بل آرڈر اور بل بھی پیش کر دیں) میں اپنے ساتھ اورینٹ ایڈورٹائزنگ کمپنی کا آرڈر لایا ہوں، پیش کرتا ہوں۔ ہم ایسے اشتہارات کو سنسر نہیں کراتے۔ کیونکہ ہم نے اس میں کوئی خاص بات محسوس نہ کی۔ اس لئے ہم نے اسے سنسر نہ کرایا۔ اب تک حکومت کے کسی محکمے نے ان اشتہارات کے سلسلے میں ہمیں پوچھا نہیں ہم نے اشتہاری ایجنسی سے یہ معلوم نہیں کیا کہ ان اشتہارات کا مصنف کون تھا۔ گواہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے بل برانچ کے آفیسر کو متعلقہ کاغذات سمیت آج حاضر ہونے کی ہدایت کریں۔
گواہ نمبر ۵۰...... مسٹر مجید نظامی (ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت لاہور)
ایک دن میں نے اپنے راولپنڈی آفس سے ٹیلیفون سنا۔ مسٹر صدیقی برانچ منیجر بات کر رہے تھے۔ وہ اورینٹ ایڈورٹائزنگ کے اشتہار شائع کرنے کے لئے مجھ سے ہدایات طلب کر رہے تھے۔ انہوں نے اشتہار پڑھ کر سنایا۔ میں نے ان کو کہا کہ ہم اشتہار اس وقت تک نہیں شائع کرتے جب تک یہ سنسر کی طرف سے کلیئر نہ ہو جائے۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ ایڈورٹائزنگ کمپنی سے کہیں کہ پہلے اشتہار سنسر کروا لیں۔ لیکن کمپنی نے سنسر کرانے سے انکار کر دیا۔ اس پر ہم نے اشتہار شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ دراصل میں نے مسٹر صدیقی کو یہ کہا کہ کمپنی پہلے سنسر کرائے اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا کہ اشتہار شائع کرنا ہے یا نہیں۔
میرے نزدیک ایک تو اشتہار میں قابل اعتراض مواد تھا۔ دوسرے میرا خیال تھا کہ اس اشتہار کے جواب میں اگر کوئی اور اشتہار آ جائے تو میرا اخلاقی فرض ہوتا کہ اس کو بھی شائع کرتا۔ لیکن جوابی اشتہار کو شائع کرنے کی اجازت سنسر کی طرف سے نہ دی جاتی۔ اورینٹ ایڈورٹائزنگ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر مسٹر ہاشمی ہیں۔ جن کا پورا نام میں نہیں جانتا۔ کمپنی ایک خاندان کی شراکت ہے اور پرانی کمپنی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے سے یہ کمپنی گورنمنٹ کے اشتہارات چھپوانے کا کام کرتی ہے۔
میں نے اشتہار 70-EXC دیکھا ہے جو مشرق لاہور کے ۶ / جولائی کے پرچے میں شائع ہوا ہے۔ اگر میں اپنے اخبار میں یہ شائع کرتا تو میں ایک مرتبہ شائع کرنے پر ۴۰۰۰ روپے وصول کرتا۔ میں ۲۴ سال سے صحافی ہوں۔ میں نے کبھی انجمن فدایان رسول، لاہور کے نام کی کسی انجمن کا نام نہیں سنا۔ مشتہرین ہمیشہ اپنا پورا پتہ اشتہار پر شائع نہیں کراتے۔ ہم ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ پورا پتہ اور دوسرے کوائف مشتہرین کے، معلوم کریں۔ اس کیس میں اشتہاری کمپنی کے پاس مشتہر کے کوائف موجود ہونے چاہئیں۔
جب ہم نے انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کے اشتہارات اور اس کے جواب میں اشتہارات شائع کئے تھے تو اس وقت سنسر کی پابندی عائد نہ تھی۔ اس لئے ہم نے ان کو سنسر نہیں کرایا تھا۔ میں انجمن نصرت الاسلام راولپنڈی کے نام سے واقف نہیں ہوں۔ مسٹر ایم ۔ اے رحمان نے درخواست پیش کی کہ تین افسروں کو غلطی سے احمدی لکھا گیا تھا۔ ان کے نام حذف کر دیئے جائیں۔
گواہ نمبر ۵۱...... ظفر حسین ولد محمد حسین (منیجر اشتہارات روزنامہ مشرق لاہور)
میں وہ بل لایا ہوں جو اورینٹ ایڈورٹائزنگ کمپنی اسلام آباد کو بھیجا گیا تھا۔ بسلسلہ اشتہار 70-EXC جو روزنامہ مشرق میں دو دن شائع ہوا۔ ہر دن کا بل ۲۷۲۰ ہے۔ کل رقم ۵۴۴۰ ہے۔ ہم نے بل اورینٹ ایڈورٹائزنگ کمپنی کے اسلام آباد دفتر کو بھیجا تھا۔ جیسا کہ کمپنی نے چاہا تھا۔ مسٹر عارف جن کے دستخط 72-EXC پر ہیں۔ وہ اورینٹ ایڈورٹائزرز کمپنی لاہور کے منیجر ہیں۔ اخبارات کے نرخ اشتہارات یکساں نہیں ہیں۔ ہمارے اشتہارات کے نرخ نوائے وقت سے زیادہ ہیں۔ نرخ اخبارات کی Category کے مطابق گورنمنٹ مقرر کرتی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹربیونل: آغا شورش کاشمیری صاحب نے خط لکھا ہے کہ انہیں فوری طور پر بلا لیا جائے۔ کیا ان کو پیر کو بلا لیا جائے؟
APP: وہ بیمار ہیں۔ ان کو اگلے ہفتے کے بعد بلایا جائے۔
گواہ نمبر ۴۹، مسٹر مسکین احسن کلیم میں اصل خط بنام منیجر اشتہارات جو اورینٹ کمپنی نے ۷؍مارچ کو لکھا تھا لایا ہوں۔ اس کی فوٹو نقل EXC-78 ہے۔
تیسرا اشتہار غلطی سے ڈاک ایڈیشن ۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء میں شائع ہو گیا تھا جو میں لے آیا ہوں۔ EXC-77 ہے لیکن یہ اشتہار لوکل ایڈیشن میں شائع نہ کیا گیا۔ یہ لوکل ایڈیشن ہے۔ اشتہار زیر سوال مشرق کی چاروں اشاعتوں جو لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ سے شائع ہوتی ہیں، میں شائع ہوا تھا۔ اس لئے توثیق شدہ بل پورے اخراجات کا دیا گیا تھا۔ روزنامہ مشرق پریس ٹرسٹ کا اخبار ہے۔ لیکن اس وجہ سے سرکاری اشتہارات کے سلسلے میں ہمیں کوئی ترجیح حاصل نہیں ہے۔ روزنامہ مشرق کی دوسری سب سے بڑی اشاعت ہے۔ سب سے زیادہ اشاعت روزنامہ جنگ کی ہے۔ مشرق کا ہیڈ آفس لاہور میں ہے۔
گواہ نمبر ۵۲...... مسٹر جہاں زیب برکی (ایس.ایس.پی، لائل پور)
میں احمدی نہیں ہوں۔ ۲۹؍مئی کو ۱۲ بج کر پانچ منٹ پر مجھے ڈی سی صاحب سے اطلاع ملی کہ پشاور سے آنے والی چناب ایکسپریس جب ربوہ سے گزری تو وہاں ایک بڑے ہجوم نے ان پر گاڑی میں حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے طلباء زخمی ہو گئے ہیں۔ مجھے یہ کہا گیا کہ زخمی طلباء چناب ایکسپریس کے ذریعے لائل پور پہنچ رہے ہیں۔
مجھے یہ ہدایت بھی ڈی سی صاحب نے دی کہ میں لائل پور اسٹیشن پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کروں۔ فوراً بعد میں نے ڈی.ایس.پی کو ہدایت کی کہ وہ جتنی فورس ان کو مل سکتی ہے، لے کر جلد از جلد اسٹیشن پر پہنچے۔ مجھے خدشہ تھا کہ چونکہ طلباء Involve ہوئے ہیں تو گاڑی آنے پر لائل پور اسٹیشن پر نظم و نسق کا مسئلہ نہ پیدا ہو جائے۔ اس کے ۲۵ منٹ بعد ڈی.ایس.پی نے مجھے لائل پور اسٹیشن سے فون کیا۔ اس وقت پونے ایک بجے کا وقت ہوگا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ حالات اسٹیشن پر کنٹرول میں نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا، لائل پور شہر کے کچھ شہری جن میں زیادہ طلباء شامل ہیں، اسٹیشن پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فکر مندی کی ضرورت نہیں۔ وہ کنٹرول کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی جلدی پہنچنے والا ہوں۔ میں نے ڈی.ایس.پی سے کہا کہ زخمی لڑکے کتنے ہیں اور کیا ان کو فرسٹ ایڈ مل گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پندرہ سے بیس لڑکے زخمی ہیں۔ جن میں سے ایک یا دو شدید زخمی معلوم ہوتے ہیں اور فرسٹ ایڈ دی جا رہی ہے۔ پونے ایک بجے کے قریب میں ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ میں نے وہاں کسی کو لاؤڈ سپیکر پر تقریر کرتے ہوئے سنا۔ فوراً پلیٹ فارم پر گیا۔ وہاں طلباء کے جھنڈ کے جھنڈ تھے۔ ڈی.ایس.پی مجھے ملا۔ میں نے اسے کہا کہ لاؤڈ سپیکر کیوں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کچھ طلباء اس کمرے میں داخل ہو گئے ۔ جہاں سے اسٹیشن پر اعلان کیا جاتا ہے اور وہاں سے وہ تقریریں کر رہے ہیں ۔ پندرہ ، بیس طلباء میرے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کیا معاملہ ہے ۔ وہ بہت جوش میں اور ڈرے ہوئے معلوم ہو رہے تھے اور گاڑی سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جا رہے تھے ۔ وہ نعرے بھی لگا رہے تھے ۔ جب میں وہاں پہنچا تو نعرے لگانے بند کر دیئے اور میرے گرد جمع ہو گئے ۔ میں نے انہیں خاموش ہونے کے لئے کہا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اسی دن وہ پشاور سے آ رہے تھے ۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر آئی تو ایک بڑے ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔ میں نے ہجوم کی تعداد معلوم کرنا چاہی مگر مختلف بیان کی گئی ۔ کچھ نے کہا کہ پانچ ہزار کا ہجوم ہوگا ، کچھ نے کہا ساڑھے تین ہزار ہو گا ۔ کچھ نے کہا کہ پندرہ سو کے قریب ہو گا ۔ انہوں نے کہا ہجوم کے پاس لوہے کے بار، چھڑیاں ، ہاکیاں تھیں ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعض کے پاس تلواریں اور چھرے بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہجوم نے ان پر پتھر بھی پھینکے۔ میں نے کہا کہ وہ ہجوم میں سے کسی کو پہچانتے ہیں ۔ وہاں انہوں نے اسٹیشن ماسٹر ربوہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مطالبہ کرنا شروع کیا کہ مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ۔ اسٹیشن ماسٹر کو معطل کیا جائے اور ہائیکورٹ کے ایک جج انکوائری کریں۔ میں نے بتایا کہ ربوہ میری حدود کے باہر ہے۔ کیونکہ وہ ضلع جھنگ میں ہے۔ لیکن میں نے انہیں یقین دلایا کہ فوری کارروائی کی جارہی ہے۔ کیونکہ اعلیٰ افسران کے علم میں معاملہ آچکا ہے اور مجرموں کو گرفتار کیا جائے گا۔ جب ہم باتیں کر رہے تھے۔ ڈی سی صاحب وہاں پہنچ گئے ۔ طلباء ان کے گرد جمع ہو گئے۔ انہوں نے طلباء سے کہانی پوچھی ۔ طلباء نے وہی کہانی سنائی ۔ اس کے بعد ہم دونوں زخمی طلباء کی طرف گئے جو پلیٹ فارم کے قریب برآمدہ میں پڑے تھے۔ چار پانچ زخمی وہاں پڑے تھے۔ ایک نیم بیہوش تھا۔ اس کو کوئی ظاہری زخم نہ تھا۔ کچھ طلباء کے کپڑے خون آلود تھے۔ کچھ طلباء نے سروں پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ جب میں اسٹیشن پر پہنچا تو مقامی علماء بھی وہاں موجود تھے۔ مولانا تاج محمود، صفدر علی رضوی اور مولوی فقیر محمد پلیٹ فارم پر موجود تھے ۔ وہ طلباء کے ساتھ ہمدردی کر رہے تھے ۔ وہ ہمارے ساتھ مل کر طلباء کو ٹھنڈا کرنے لگے ۔ مولانا تاج محمود نے مختصر تقریر کی اور طلباء کو یقین دلایا کہ مجرموں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔
زخمی طلباء کو دیکھنے کے بعد ہم نے زیادہ زخمی طلباء کو مقامی ہسپتال منتقل کرنا چاہا۔ لیکن طلباء نے کہا کہ وہ اپنے زخمی ساتھیوں کو ملتان لے جائیں گے ۔ ہم نے مشورہ دیا کہ یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سفر لمبا ہے اور کچھ طلباء کی حالت نازک ہو جائے گی ۔ طلباء نے اصرار کیا اور کہا کہ وہ اپنے زخمیوں کی خود راستے میں دیکھ بھال کر لیں گے۔ اس پر ڈی سی نے ریلوے والوں کو کہا کہ زخمی طلباء کو ایک ACC میں منتقل کر دیا جائے ۔ ایک ڈاکٹر کا انتظام کیا گیا کہ زخمی طلباء کے ساتھ ملتان جائیں ۔ ہم نے پشاور سے آنے والے طلباء سے درخواست کی کہ وہ گاڑی پر سوار ہو جائیں تا کہ گاڑی چل پڑے ۔ میرے خیال میں دو بجے تک تمام طلباء سوار ہو گئے مگر گاڑی نہ چلی ۔ میں نے دیر کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ انجن کا ویکیوم ضائع ہو گیا ہے اور کوشش ہو رہی ہے کہ ویکیوم بحال کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے کہا کہ جلدی کریں تا کہ گاڑی زیادہ دیر کھڑی نہ ہو ۔ کیونکہ اس وقت تک کچھ مقامی طلباء بھی اسٹیشن پر آنا شروع ہو گئے ۔ یہ طلباء زیادہ تر میڈیکل کالج اور کچھ گورنمنٹ کالج اور کچھ زرعی یونیورسٹی سے تعلق رکھتے تھے ۔ سوا دو بجے یا دو بج کر بیس منٹ پر گاڑی لائل پور سے چلی ۔ جب گاڑی چلی گئی تو ہم نے دیکھا کہ چار پانچ مذکورہ بالا علماء کے علاوہ چالیس پچاس افراد وہاں کھڑے تھے جو زیادہ تر طلباء تھے ۔ ڈی سی اور میں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ ریلوے اسٹیشن سے گروپ کی صورت میں نہ جائیں ۔ کیونکہ ضلع میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ہے ۔ علماء نے بھی یہی مشورہ دیا اور طلباء نے اس پر عمل کیا اور پلیٹ فارم سے تین چار کی ٹولی میں چلے گئے ۔ میں اور ڈی سی صاحب دو بج کر چالیس منٹ پر پلیٹ فارم سے گئے ۔
جب میں پلیٹ فارم پر پہنچا تو وہاں قریباً ۱۲۰۰ افراد کا ہجوم تھا۔ مسافروں اور طلباء سمیت جو لڑکے زخمی نہ تھے وہ زیادہ تر ڈرے ہوئے تھے ۔ جب گاڑی چلی تو ہجوم کی تعداد چالیس، پچاس کے قریب تھی ۔ گاڑی ساڑھے بارہ بجے کے قریب لائل پور پہنچی تھی اور سوا دو بجے چلی تھی ۔ گاڑی اسٹیشن پر قریباً دو گھنٹے ٹھہری رہی ۔ اس کی مختلف وجوہات تھیں ۔ کچھ وقت زخمی طلباء کی طبی امداد میں لگا۔ کچھ وقت ویکیوم بحال کرنے میں لگا۔ طلباء بھی گاڑی کو نہیں چلنے دیتے تھے ۔ وہ ٹریک پر لیٹ گئے تھے ۔ طلباء اس لئے گاڑی کو نہیں چلنے دیتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اعلیٰ افسران کی طرف سے انہیں یقین دہانی کرائی جائے کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے گا ۔ میرے اور ڈی سی کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے طلباء ٹریک پر لیٹ گئے تھے۔ ہمارے پہنچنے کے بعد نہیں لیٹے تھے ۔
مولانا تاج محمود ریلوے مسجد کے خطیب ہیں اور وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی رہتے ہیں ۔ انہیں شاید سب سے پہلے زخمی طلباء
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے پہنچنے کی اطلاع کا علم مسافروں اور ریلوے کے حکام سے ہوا ہوگا۔ انہوں نے دوسرے علماء کو اطلاع دی ہوگی ۔ لائل پور کے طلباء کو اطلاع خود ملتان کے طلباء نے دی تھی ۔ کیونکہ وہ گاڑی کے ٹھہرتے ہی مختلف کالجوں کی طرف چلے گئے اور وہاں کے طلباء کو اطلاع دی ۔ ان کی اطلاع پر طلباء اسٹیشن پر آ گئے۔ یہ واقعہ ہمارے لئے بالکل حیرانگی کا موجب تھا۔ ہمیں ۲۹ مئی سے قبل اس کی نہ کوئی اطلاع تھی اور نہ کوئی توقع تھی۔ ڈی ایس پی سٹی تیس، چالیس افراد پنجاب ریزرو پولیس کو لے کر اسٹیشن پر گیا تھا۔ PRP پہلے سے لائل پور میں کوہ نور مل میں ہنگامے کی وجہ سے موجود تھی۔
لاؤڈ سپیکر میرے آنے پر طلباء نے دو تین منٹ تک استعمال کیا ہوگا ۔ میرے کہنے پر انہوں نے اس کو بند کر دیا۔ مولانا تاج محمود نے اپنی تقریر کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال نہ کیا جو علماء اسٹیشن پر آئے تھے انہوں نے ضلعی حکام کے ساتھ تعاون کیا اور انہوں نے پہلے سے مشتعل صورتحال کو شدید نہ کیا ۔ انہوں نے طلباء کو تحمل کی تلقین کی۔ میں ان حضرات کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس نازک موقع پر مجھ سے تعاون کیا۔ ڈی ایس پی اسٹیشن پر گاڑی کے پہنچتے ہی پہنچ گیا تھا۔ میں نے ان سے کوئی بات نہ پوچھی تھی کہ ان کے آنے پر ہجوم پلیٹ فارم پر کتنا تھا ؟ لائل پور پولیس نے کوئی فہرست زخمی طلباء کی نہ بنائی تھی ۔ کیونکہ وقوعہ ضلع جھنگ میں ہوا تھا۔ گاڑی کے جانے کے بعد لائل پور میں ۲۹؍ مئی کوئی واقعہ نہ ہوا ۔ البتہ اس دن علماء نے ۳۰؍ مئی کی ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اسی شام ڈی سی اور میں نے علماء کی میٹنگ بلائی تھی اور امن قائم رکھنے اور دفعہ ۱۴۴ کا احترام کرنے کی اپیل کی تھی۔ ۲۹؍ مئی کی شام کو ڈی سی اور میں نے علماء کا اجلاس بلایا اور ان سے کہا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ ، امن کے قیام کے سلسلے میں استعمال کریں اور ۱۴۴ کی خلاف ورزی نہ ہونے دیں ۔ دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ واقعہ ربوہ سے بہت پہلے ہو چکا تھا۔ علماء اس سے متفق ہو گئے اور صرف مسجدوں میں لوگوں کو واقعہ سے آگاہ کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام جلسے نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ۳۰؍ مئی کی ہڑتال کو نہیں روک سکیں گے۔
ہم نے اس دن پہلے طلباء لیڈروں سے ملنے کی کوشش کی اور جن سے ملے ، ان سے یہی گزارش کی۔ مجھے خطرہ تھا کہ احتجاج زیادہ تر تعلیمی اداروں سے شروع ہوگا ۔ طلباء کے کچھ لیڈروں نے تو امن قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر بعض نے یہ کہا تھا کہ چونکہ طلباء مشتعل ہیں ۔ اس لئے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے اس لئے ہم نے تعلیمی اداروں کے پاس پولیس کو متعین کیا۔ ۳۰؍ مئی کو ۶ بجے پولیس نے زرعی یونیورسٹی کے دونوں دروازوں پر پوزیشن سنبھال لی تھی ۔ ایک مجسٹریٹ کی ڈیوٹی بھی وہاں لگائی گئی تھی۔ اسی طرح گورنمنٹ کالج لائل پور کے پاس بھی اور میونسپل ڈگری کالج ، اسلامیہ کالج اور پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ سمن آباد کے قریب بھی پولیس ریزرو متعین کی گئی۔ ۳۰؍ مئی کو گیارہ بج کر دس منٹ کے درمیان ہمیں طلباء کی طرف سے تعلیمی اداروں سے باہر نکلنے کی کوشش کی اطلاع ملنا شروع ہوئی۔ گورنمنٹ کالج کے طلباء نے باہر سڑک پر آنے کی کوشش کی ۔ لیکن ان کو باہر نہ نکلنے دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامیہ کالج کے طلباء نے سڑک پر باہر آنے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ گھنٹہ گھر کے قریب کچھ لوگوں نے دکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کی ۔ میں حیران تھا کہ طلباء پر پہرہ کے باوجود یہ کیسے ہو گیا ؟ میں نے ڈی ایس پی کو موقع پر جانے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ آگ لگانے کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ کیونکہ مختلف محلوں کے لوگ باہر آ گئے ہیں اور احمدیوں کی دکانیں توڑ کر سامان کو بازار میں نکال کر آگ لگائی جا رہی ہے اور اس طرح کے واقعات مختلف محلوں میں ہو رہے تھے۔ کوئی ایک جلوس ہی نہیں تھا جو سارے کام کر رہا تھا بلکہ مقامی لوگ ہر محلے میں یہ کام کر رہے تھے۔ جب ایسی اطلاع پولیس کو ملتی تو پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سامان جلایا جا چکا ہوتا ۔ ایک دو بازاروں میں یہ واقعہ ہوا ۔ مگر مالکان قریب نہ تھے۔ اسی لئے وہ ہمیں اطلاع بروقت نہ دے سکے۔ کیونکہ فضا احمدیوں کے خلاف تھی ۔ اس لئے ان کے ہمسائے بھی اطلاع نہ دیتے تھے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چونکہ ہم نے بہت سی پولیس تعلیمی اداروں پر لگا دی تھی۔ اس لئے ہم بازاروں میں پولیس کو متعین نہ کر سکے۔ ہمارے پاس صرف ایک ریزرو دستہ موجود تھا۔ وہ دستہ ہر اس مقام پر پہنچتا جہاں ہمیں احمدیوں کی دکانوں کو جلائے جانے کی اطلاع ملتی۔ یہ کام اچانک اور بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا۔ اس لئے میں اس کو روک نہ سکا۔ مجھے تو صرف طلباء سے خدشہ تھا اس لئے میں نے زیادہ پولیس تعلیمی اداروں پر لگا دی تھی۔ آج تک میرے خیال میں کوئی احمدی واقعہ ربوہ کے ردعمل کے سلسلے میں لائل پور ضلع میں نہ مارا گیا۔ ۶ جولائی سے پہلے کوئی احمدی زخمی بھی نہ ہوا۔ لیکن دو غیر احمدیوں کو احمدیوں نے مار دیا۔
اور ایک غیر احمدی پولیس کی طرف آنسو گیس کا شیل پھینکے جانے سے مر گیا۔ یہ شیل ایک ہجوم پر پھینکا گیا تھا جو لوٹ مار کر رہا تھا۔
ایک احمدی کے گھر میں دو آدمی احمدیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ ۴ جون تک ہوا۔
اندازاً پچیس دکانیں ضلع لائل پور میں جلائی گئیں۔ جن میں سے پندرہ، سولہ لائل پور شہر کی تھیں۔ یہ جلائی گئیں۔ صرف دو کی بلڈنگیں Gut ہوئیں۔ ان میں سے زیادہ واقعات میں مکانوں کا سامان باہر نکال کر سڑک پر رکھا گیا اور جلایا گیا۔ گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں کو آگ لگائی گئی۔ جس پر کنٹرول کر لیا گیا۔ صرف دو جگہ آگ سے زیادہ نقصان ہوا۔ سعید مارکیٹ لائل پور میں سپیئر پارٹس کی دکانیں ہیں۔ ایک احمدی کی دکانیں جل گئیں۔ دوسرا واقعہ سفینہ پرنٹنگ ملز میں ہوا جہاں زیادہ نقصان ہوا۔ سٹور کو زیادہ نقصان ہوا جہاں Printed اور Non Printed کپڑا رکھا تھا۔ ملز میں آگ زیادہ تر مزدوروں نے لگائی تھی۔ اس مل کے مزدوروں کا پہلے ہی مالکوں سے جھگڑا تھا۔ گوجرہ میں احمدیوں کی ایک عبادت گاہ بھی جلائی گئی تھی۔
میں نے ڈی۔ ایس۔ پی سٹی کو کہا کہ احمدیوں کی دکانیں اور مکانوں کی فہرست لائل پور کے امیر جماعت احمدیہ سے حاصل کر لیں تا کہ ان کی حفاظت کی جائے۔ مگر وہ لسٹ آج تک ہمیں نہیں دی گئی۔ یہ درست نہیں ہے کہ ایک فہرست ڈی۔ ایس۔ پی کو ۲۹ مئی کی شام کو دی گئی تھی اور اس فہرست میں دی گئی جائیداد کو اگلے دن جلا دیا گیا۔ میں نے ڈی۔ ایس۔ پی سے اگلے دن پوچھا تھا انہوں نے جواب دیا تھا کہ ان کو فہرست ہی نہ دی گئی۔ ہم نے وقوعہ ربوہ سے قبل احمدی جماعت یا اس کے امیر کی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھی۔ وقوعہ کے بعد ہم نے لائل پور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر پولیس کو متعین کیا تا کہ گوجرہ کی طرح واقعہ نہ ہو۔ ہم نے ان مسجدوں میں دیا جانے والا خطبہ جمعہ کی رپورٹ حاصل کی۔ اس کے علاوہ ہم نے احمدیوں کی کوئی نگرانی نہ کی۔ (ٹربیونل نے ہدایت کی کہ ان خطبات جمعہ کی رپورٹ کی نقل ٹربیونل کو بھیج دیں اور ربوہ کے واقعہ کے بعد ہونے والے واقعات کی رپورٹوں کی نقول بھی ٹربیونل کو بھیج دیں)
ضلعی انتظامیہ کے کہنے پر فیڈرل سیکورٹی فورس بھی ۳۰ مئی کی شام کو بلائی گئی تھی۔ ان کو زیادہ تر گشت کے لئے استعمال کیا گیا۔ کچھ لوگوں کی جائیداد کی حفاظت کے لئے بھی ان کو متعین کیا گیا تھا۔
گواہ نمبر ۵۳...... سعید الدین احمد ڈپٹی کمشنر لائل پور
میں احمدی نہیں ہوں۔
س ...... آپ نے مسٹر جہاں زیب برکی ایس۔ ایس۔ پی لائل پور کی شہادت سنی ہے۔ کیا آپ اس میں کوئی اضافہ کرنا چاہتے ہیں؟
ج ...... ۲۹ مئی کو گیارہ بج کر پینتالیس منٹ پر قبل دو پہر مجھے ڈپٹی کنٹرولر ریلوے نے اطلاع دی کہ ربوہ اسٹیشن پر واقعہ ہوا ہے اور انہوں نے بتایا کہ بہت سے زخمی طلباء لائل پور میں پہنچ رہے ہیں۔ میں نے فوراً سول سرجن ہسپتال کو اطلاع دی کہ زخمی طلباء کی فرسٹ ایڈ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا انتظام اسٹیشن پر کریں۔ ایس پی کو اطلاع دی کہ وہ اسٹیشن پر پولیس کا ضروری انتظام کریں اور ایک مجسٹریٹ کو ہدایت کی کہ وہ ریلوے اسٹیشن جائیں۔ مجھے بارہ بج کر پچاس منٹ پر مجسٹریٹ نے اسٹیشن سے بتایا کہ زخمی طلباء کو فرسٹ ایڈ دی جاچکی ہے۔ مگر طلباء اصرار کررہے ہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے ڈی سی انہیں یقین دلائیں کہ اس واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ جب تک ڈی سی یہ یقین نہ دلائیں وہ گاڑی کو نہ چلنے دیں گے۔ میں فوراً اسٹیشن پر پہنچا۔ ایس پی وہاں موجود تھے۔ ریلوے اسٹیشن پر کوئی ہجوم نہ تھا۔ نشتر کالج کے لڑکے ڈرے ڈرے لگتے تھے اور متفکر تھے۔ میں نے سات آٹھ افراد لائل پور کے دیکھے۔ ان میں سے تین علماء تھے اور باقی طلباء تھے۔ نشتر کے طلباء کے علاوہ پلیٹ فارم پر باقی سب مسافر تھے۔
جب میں اسٹیشن پر طلباء اور مسافروں کو گاڑی پر سوار ہونے کے لئے کہہ رہا تھا۔ پندرہ، بیس مقامی طلباء لائل پور کے اسٹیشن پر آگئے۔ میری موجودگی میں اینٹی احمدیہ نعرے لگائے گئے۔ میں نے مقامی طلباء اور علماء کو بہت پریشان پایا۔ جونہی زخمی طلباء کے لئے AAC کا انتظام ہو گیا وہ فوراً گاڑی پر سوار ہو گئے۔ مجھے یاد ہے کہ دو بجے گاڑی روانہ ہو سکتی تھی۔ مگر ویکیوم نہ ہونے کی وجہ سے روانہ نہ ہوسکی۔ اسی شام میں نے علماء کے ساتھ میٹنگ کی۔ انہوں نے جلوس نہ نکالنے کی یقین دہانی کرائی اور کسی جائیداد کا نقصان نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
س...... کیا ربوہ کا واقعہ آپ کے لئے اچنبھہ تھا؟
ج...... ہاں ! یہ مکمل طور پر Surprise تھا۔
مجھے سپرنٹنڈنٹ پولیس سے اتفاق ہے کہ جائیداد کا نقصان پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ مقامی لوگوں نے فوراً مشتعل ہو کر نقصان کیا۔ ہر محلہ کے مقامی لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے نقصان کیا۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ فیڈرل سیکورٹی فورس اور پولیس نے یا تو خود لوٹ مار کی یا لوٹ مار کے لئے لوگوں کو اکسایا یا خاموش تماشائی بنی رہی۔ دراصل ایسی شکایات غلط ہیں۔ اس کے برخلاف یہ الزام لگایا گیا کہ قادیانیوں نے خود اپنی جائیدادوں کو آگ لگائی۔ مجھے یہ اطلاع ملی تھی کہ ۲۹؍ مئی کو شام کے وقت ایک احمدی طالب علم کا سامان زرعی یونیورسٹی میں جو پنجاب میڈیکل کالج کا طالب علم تھا، جلایا گیا تھا۔
س...... دفعہ ۱۴۴ کے تحت آپ نے کیا احکام جاری کئے تھے؟
ج...... میں نے دفعہ ۱۴۴ کے تحت دو احکام جاری کئے تھے۔ اس واقعہ ربوہ سے کچھ عرصہ پہلے ایک حکم کے ذریعے میں نے پبلک جلسے اور جلوس کی ممانعت کی تھی۔ دوسرے حکم کے ذریعے جلسہ عام کے اعلان کے لئے اور کمرشل ایڈورٹائزمنٹ کے لئے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی۔
س...... کیا آپ کو امیر جماعت احمدیہ لائل پور نے تار دیا تھا کہ کمیونٹی کے لئے حفاظت کا انتظام کیا جائے؟
ج...... میں نے تار موصول کیا تھا اور میں نے جیپوں اور موٹرسائیکلوں پر پولیس اور مجسٹریٹوں کی گشت کا انتظام کیا تھا۔
ہماری زیادہ توجہ مؤرخہ ۳۰؍مئی کو طلباء پر تھی کہ ان کو سڑکوں پر نہ نکلنے دیا جائے۔ اس دن زیادہ پولیس فورس جلوس کو روکنے کے لئے استعمال کی گئی۔ اس دن محلوں میں ایسے واقعات ہوئے۔
احمدیوں کی جائیداد کو ۳۱؍ مئی کو معمولی نقصان ہوا۔
س...... علماء نے کس قسم کی یقین دہانی آپ کو ۲۹؍مئی کی میٹنگ میں کرائی تھی؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ج...... انہوں نے کہا تھا کہ کوئی جلوس نہ نکلے گا۔ کوئی نقصان کسی جائیداد کو نہ پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے قادیانیوں کے خلاف تقریریں نہ کرنے کی یقین دہانی نہ کرائی۔ دراصل انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ ختم نبوت کے بارے میں تقریریں کریں گے۔ البتہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ لوگوں کو قانون توڑنے پر نہیں اکسائیں گے۔ علماء نے صرف ختم نبوت پر تقریریں کیں اور لوگوں کو قانون توڑنے پر نہ اکسایا۔
س...... کیا یہ درست ہے آٹھ احمدیوں کے وفد نے شیخ محمد احمد کی قیادت میں آپ سے ۳۱؍مئی کو کہا کہ آپ کرفیو نافذ کر دیں؟
ج...... ایک وفد مجھے ملا تھا۔ مگر ان کی تعداد یاد نہیں یہ غلط ہے کہ انہوں نے کرفیو کی تجویز کی تھی۔ بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میں نے کرفیو لگانا ضروری نہ سمجھا۔ اس لئے گورنمنٹ سے کسی Clearance کی ضرورت ہی نہ تھی۔
۲۰؍جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
صمدانی ٹربیونل کا دورہ ربوہ
۲۰؍جولائی کو جناب جسٹس کے۔ایم۔اے صمدانی صاحب نے ربوہ کا دورہ کیا۔ اس دورہ کا اخبارات میں اعلان نہ کیا گیا۔ تاہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما حضرت مولانا تاج محمود کو عالمی مجلس کے وکلاء کی طرف سے قبل از وقت اطلاع ہو گئی۔ آپ نے بھی اس کی کسی اطلاع کئے بغیر یہ انتظام کیا کہ اپنے معتمد خصوصی جناب میاں محمد عالم بٹالوی مرحوم کو اس ڈیوٹی پر لگایا کہ وہ ساتھ جائیں۔ میاں محمد عالم بٹالوی کہنہ مشق بزرگ اور کارکن تھے۔ تقسیم سے قبل مولانا محمد حیات فاتح قادیان اور ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کے ساتھ بٹالہ کے گردونواح میں رد قادیانیت کے لئے ان حضرات کے ساتھ والہانہ اور مخلصانہ کام کا تجربہ رکھتے تھے۔ قادیان، بٹالہ کی تحصیل میں واقع تھا۔ اس لئے میاں صاحب مرزائیوں کے ہتھکنڈوں سے بھی باخبر تھے۔ انہوں نے کچھ ساتھی ساتھ لئے، دریاں، ٹھنڈے پانی کے کولر، کھانا وافر مقدار میں ہمراہ لیا اور خاموش سایہ کی طرح ٹربیونل کے ساتھ ہو گئے۔ گرمی کا موسم، ربوہ کی جہنمی گرمی۔ جب مرزائیوں نے کھانا پانی کی فرمائش وفد سے کی تو میاں عالم فوراً ٹربیونل کے سامنے پیش ہو کر عرض پیرا ہوئے کہ اگر آپ ربوہ میں مسلمانوں کا کھانا پینا پسند کریں تو انتظام ہے۔ وہ بہت حیران ہوئے اور درختوں کے سائے سڑک کے کنارے سب نے کھانا کھایا۔ فقیر ان سطور کی تحریر کے وقت ۳۱؍مارچ ۱۹۹۲ء ربوہ جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے مہمان خانہ میں ہے۔ سحری کا وقت ہونے کو ہے۔ کھانا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدرسہ کے لنگر سے آنے والا ہے۔ فقیر جمعۃ الوداع پڑھانے کے لئے یہاں قدم پذیر ہے۔ اس موقعہ پر بے ساختہ اپنے مربی و محسن مولانا تاج محمود اور میاں بٹالوی کی اداؤں پر قربان ہونے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ۲۰؍جولائی ۱۹۷۴ء کو مسلمانوں (ٹربیونل) کے لئے مسلم کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ ٹربیونل کے دورہ کی رپورٹ فیصل آباد اور چنیوٹ کے نامہ نگار کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ مؤرخہ ۲۱؍جولائی ۱۹۷۴ء کو نوائے وقت لاہور میں شائع ہوئی۔ دونوں خبریں ملاحظہ فرمائیں۔
لائل پور مؤرخہ ۲۰؍جولائی (نمائندہ خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے۔ایم۔اے صمدانی نے آج ربوہ ریلوے اسٹیشن اور ربوہ کے ان تمام مقامات کا معائنہ کیا جن کا حوالہ تحقیقاتی ٹربیونل کے روبرو سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات میں دیا گیا۔ فاضل تحقیقاتی جج کے ہمراہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری اور دوسرے وکلاء مسٹر اعجاز بٹالوی، مسٹر ایم۔اے رحمٰن، مسٹر عاصم جعفری، مسٹر خاقان بابر، مسٹر فرخ امین، مسٹر خواجہ محمد احمد صمدانی نے صبح سات بج کر پچپن منٹ پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے کے فوراً بعد اسٹیشن کی جنوب مشرقی سمت میں پلیٹ فارم کے اس مقام کا معائنہ کیا۔ جہاں دارالرحمت کی جانب سے حملہ آوروں نے نشتر میڈیکل کالج
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے طلباء کی بوگی پر حملہ کیا تھا۔ جو پلیٹ فارم سے کم وبیش پچاس گز پیچھے روک لی گئی تھی۔ بعدازاں تحقیقاتی جج نے ریلوے اسٹیشن سے قریباً ڈیڑھ فرلانگ دور چوہدری ظفر اللہ خان کی کوٹھی کے بارے میں عدالت عالیہ میں بعض گواہوں نے بیان کیا تھا کہ اس کوٹھی میں موجود بعض افراد نے حملہ کی ترغیب دی تھی۔ بعدازاں ٹربیونل نے جامع نصرت ڈگری کالج کے ریلوے اسٹیشن کی جانب کھلنے والے گیٹ کا معائنہ کیا۔ جس کے بارے میں سماعت کے دوران عدالت عالیہ کو بتایا گیا تھا کہ اس گیٹ کے قریب مرزا منصور جیپ میں کھڑے حملہ آوروں کو نشتر کالج کے طلباء پر حملہ کے لئے اشتعال دلا رہے تھے۔ فاضل تحقیقاتی جج نے غیر ملکی بے خانماں احمدیوں کے لئے مخصوص دارالضیافت، انجمن احمدیہ کے صدر دفاتر، نظامت بیت المال، نظامت امور عامہ، دارالقضاء کا معائنہ کیا۔ دارالقضاء میں دیوانی اور لین دین کے معاملات نمٹائے جاتے ہیں اور نظامت امور عامہ فوجداری مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے۔ فاضل جج نے یہاں چند شکنجوں کا معائنہ بھی کیا۔ بعدازاں عدالت نے تعلیم بالغاں کے مرکز میں اس فرقے کے خاص جھنڈے کو ملاحظہ کیا۔ جسٹس صمدانی نے تحریک جدید کے ناظم الامور مرزا مبارک احمد سے بھی ملاقات کی۔ عدالت نے مختلف امور کی وضاحت طلب کی۔ یہ شعبہ بیرونی مشنوں کے معاملات سے عہدہ براہ ہوتا ہے۔ فاضل ٹربیونل کو بتایا گیا کہ اس سال ربوہ سے کوئی مبلغ بیرونی ممالک نہیں بھیجا گیا تاہم اس سے پیشتر ۷۰ مشنری مختلف ممالک کو روانہ کئے جاسکے ہیں۔ مبلغوں کو مختلف اوقات میں تبدیل بھی کیا جاتا ہے۔ مسٹر کے.ایم.اے صمدانی نے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے اور ملحقہ بکنگ آفس کا بھی معائنہ کیا اور انٹرلاکنگ سسٹم اور فون کے ذریعے اگلے اسٹیشنوں کو گاڑیوں کی روانگی کی اطلاع دینے اور سگنل کے نظام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ بعدازاں مسجد اقصیٰ اور تعلیم الاسلام کالج کا معائنہ کیا اور کالج کی شکستہ اونچی دیوار کو بھی دیکھا جو ریلوے لائن کی جانب ہے اور اس دیوار سے بیرونی سگنل بھی دکھائی دیتا ہے۔ فاضل عدالت نے مبارک مسجد اور قصر خلافت کا بھی معائنہ کیا۔ قصر خلافت میں خلیفہ سے ملنے والوں کے طریق کار سے آگاہی حاصل کی۔ بعدازاں تحقیقاتی عدالت نے بہشتی مقبرے کا معائنہ کیا۔ فاضل عدالت نے آخر میں پولیس چوکی ربوہ کا معائنہ کیا۔ جہاں واقعہ ربوہ کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔
۲۰؍جولائی (نمائندہ خصوصی) آج واقعہ ربوہ کے تحقیقاتی ٹربیونل مسٹر جسٹس کے.ایم.اے صمدانی نے قادیانی فرقہ کے صدر مقام ربوہ کا تحقیقاتی دورہ کیا اور ربوہ میں تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے قیام کے دوران ربوہ ریلوے اسٹیشن، صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹریٹ، بہشتی مقبرہ، قصر خلافت کی حدود میں واقع مبارک نامی عبادت گاہ، خلیفہ ناصر احمد کے سیکرٹری کے دفاتر، تعلیم الاسلام کالج، عبادت گاہ اقصیٰ، پولیس چوکی ربوہ، دارالضیافت، مہمان خانہ اور دفتر تحریک جدید وغیرہ کا معائنہ کیا۔ فاضل ٹربیونل نے یہ دورہ تحقیقاتی ٹربیونل کے روبرو پیش ہونے والے گواہوں کے بیانات کی روشنی میں کیا اور ربوہ کے تمام انتظامی اور مشنری شعبوں کی ریکارڈ کی چھان بین کی اور مختلف شعبوں کے متعلقہ عہدیداروں سے سوالات کے ذریعہ ضروری معلومات حاصل کیں۔
فاضل ٹربیونل مسٹر جسٹس کے.ایم.اے صمدانی آٹھ بجے صبح پتھریلی چٹانوں کے درمیان واقع اس شہر کے ریلوے اسٹیشن ربوہ پہنچے۔ جہاں انہوں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کا معائنہ کیا۔ جہاں سے وہ تقریباً ایک ڈیڑھ فرلانگ پر واقع عالمی عدالت کے سابق جج سر ظفر اللہ خان کے بنگلہ میں پہنچے۔ بنگلہ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور ریلوے اسٹیشن کے رخ پر واقع بالکونی پر بھی گئے۔ بعدازاں فاضل ٹربیونل نے کرنل داؤد کی کوٹھی کا معائنہ کیا جو سر ظفر اللہ خان کے بنگلہ کے ساتھ اور ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔
فاضل ٹربیونل نے بعدازاں جامعہ نصرت برائے خواتین، دارالضیافت اور مہمان خانہ کا معائنہ کیا اور گول بازار کے قریب صدر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجمن احمدیہ کے سیکرٹریٹ میں گئے ۔ جہاں انہوں نے دفتر امانت خزانہ، نظارت اصلاح و ارشاد و نظارت بیت المال، دارالقضاء، دفتر صدر انجمن احمدیہ، امور عامہ کے دفاتر، دفتر ناظر اور دفتر نصرت جہاں ریزرو فنڈ کا معائنہ کیا۔ فاضل ٹریبونل نے دفتر امور عامہ کے ریکارڈ کی چھان بین کرنے کے علاوہ جماعت احمدیہ کا پرچم ”لوائے احمدیت“ بھی دیکھا۔ جس پر قادیان کے مینارۃ المسیح اور چاند تارہ کندہ ہے۔ پرچم میں دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند کا نشان بنا ہوا تھا۔ پرچم کا رنگ سیاہ تھا۔ فاضل ٹریبونل کے سوال پر ناظر اعلیٰ نے بتایا کہ جس ملک میں جماعت احمدیہ کے مشنری کام کرتے ہیں ان کے دفاتر پر ان کے ملکی پرچم کے ساتھ ساتھ یہ پرچم بھی لہرایا جاتا ہے۔ فاضل ٹریبونل نے نظارت امور عامہ میں قادیانی فرقہ کے خلیفہ کے رجسٹر ہدایات کا بھی معائنہ کیا اور بعض دوسری فائلوں کا مطالعہ کیا۔ صدر انجمن احمدیہ کے تمام دفاتر کھلے تھے۔ لیکن نظارت خزانہ کا ریکارڈ روم مقفل تھا، فاضل ٹریبونل نے ناظر امور عامہ ربوہ چوہدری ظہور احمد باجوہ پر سوالات بھی کئے اور معلومات حاصل کیں۔
فاضل ٹریبونل نے صدر انجمن احمدیہ کے بعد تحریک جدید کے دفتر کا معائنہ کیا اور تحریک جدید کے وکیل اعلیٰ مرزا مبارک احمد سے تحریک جدید کی کارکردگی کے بارے میں چند سوالات کئے۔ جس پر مرزا مبارک احمد نے بتایا کہ بیرونی ملکوں کو بھیجے جانے والے مبلغین کی تربیت ربوہ کے مشنری ٹریننگ کالج میں ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً ۷۰ مبلغین مختلف ملکوں میں تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ ہمارے مبلغین ہر سال بیرونی ملکوں کو بھیجے جاتے تھے۔ مگر اس سال حکومت پاکستان نے مبلغین کو بیرون ملک بھیجنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس لئے سال رواں کے دوران کوئی مبلغ بیرون ملک نہیں بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف ملکوں میں متعین مبلغین کے تبادلے کرتے رہتے ہیں۔ تاہم جو مبلغین افریقی زبان جانتے ہیں۔ ان کو افریقی ملکوں میں ہی رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک جدید کا اپنا کوئی جھنڈا نہیں ہے۔
اس کے بعد فاضل جج عبادت گاہ مہدی گول بازار سے گزرنے کے بعد ایوان بلدیہ ربوہ پہنچے۔ جہاں پر انہوں نے شہر کا نقشہ دیکھا اور ضروری فائلوں کا معائنہ کیا۔ ایوان بلدیہ میں جماعت احمدیہ کے کارکنوں نے فاضل جج کو خدام الاحمدیہ کا جھنڈا بھی دکھایا۔ جس کا رنگ سیاہ تھا اور نشانات کے اعتبار سے صدر انجمن احمدیہ کے پرچم سے قدرے مختلف تھا۔ کارکنوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر جماعت احمدیہ کے پانچ مختلف پرچم ہیں جو سالانہ اجلاس کے موقعہ پر لہرائے جاتے ہیں۔
ایوان بلدیہ ربوہ کا معائنہ کرنے کے بعد فاضل ٹریبونل دوبارہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے اور اسٹیشن ماسٹر ربوہ کے دفتر کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں فاضل ٹریبونل نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کے دوسرے حصہ دارالرحمت کا معائنہ کیا۔ اس حصہ میں انہوں نے عبادت گاہ اقصیٰ، قصر خلافت کی حدود میں واقع عبادت گاہ مبارک، خلیفہ کے سیکرٹری کے دفاتر، بہشتی مقبرہ، تعلیم الاسلام کالج اور پولیس چوکی ربوہ کا معائنہ کیا۔ فاضل ٹریبونل نے بہشتی مقبرہ میں قبریں دیکھیں۔ قبروں پر جو کتبے کندہ تھے ان پر قبر میں دفن افراد کی یوم ولادت، یوم وفات، تاریخ بیعت، تاریخ وصیت اور وصیت نمبر درج تھے۔ فاضل ٹریبونل مسٹر جسٹس کے. ایم. اے صمدانی مرزا بشیر الدین محمود کی قبر پر بھی گئے اور ان کے مزار اور چار دیواری میں واقع نصب شدہ تختیوں پر کندہ تحریروں کا غور سے مطالعہ کیا۔ فاضل ٹریبونل نے آخر میں ربوہ پولیس چوکی کا معائنہ کیا۔ جہاں مسٹر خاقان بابر ایڈووکیٹ کے سوالات کے جواب میں ایس. ایچ. او لالیاں راجہ عنایت اللہ نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ہم ربوہ میں گشت نہیں کرتے۔ کیونکہ گشت کرنے کی صورت میں ہم پر خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ایس. ایچ. او لالیاں نے مزید کہا کہ ہم یہاں نظامت امور عامہ کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی وقوعہ ہو جائے تو ہم امور عامہ کے تعاون کے بغیر نہ تو تفتیش کر سکتے ہیں اور نہ گواہ طلب کر سکتے ہیں اور نہ مستغیث سے بات کر سکتے ہیں۔ ہمیں عام طور پر تمام اطلاعات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امور عامہ کی طرف سے موصول ہوتی ہیں۔ ہمیں براہ راست کوئی اطلاع نہیں ملتی۔ اس لئے ہم بے بس ہیں۔ راجہ عنایت اللہ نے بتایا کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ۲۲؍ مئی اور ۲۹؍ مئی کو جو واقعات رونما ہوئے تھے، ان کے بارے میں پولیس کو کوئی رپورٹ نہیں دی گئی۔ البتہ بعد ازاں تعلیم الاسلام کالج کے ایک طالب علم کی طرف سے ایک رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اس لڑکے پر ہاکی سے حملہ ہوا تھا۔ رپورٹ درج کرانے والے طالب علم نے استدعا کی تھی کہ اس واقعہ کے بارے میں پولیس براہ راست تفتیش کرے اور امور عامہ سے بات نہ کی جائے۔
فاضل ٹربیونل کے تحقیقاتی دورہ کے موقع پر ربوہ میں ڈی سی جھنگ مسٹر اسحاق، اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ مسٹر منظور حسین، ڈی ایس پی چنیوٹ کے علاوہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر مصطفیٰ کمال بخاری اور مسٹر ایم اے رحمان ایڈووکیٹ، مسٹر خاقان بابر ایڈووکیٹ، مسٹر اعجاز بٹالوی، مسٹر فرح امین ایڈووکیٹ، مسٹر نصیر ایڈووکیٹ، مسٹر مبشر لطیف ایڈووکیٹ، مسٹر ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ، مسٹر عاصم جعفری ایڈووکیٹ اور چوہدری عزیز احمد بھی موجود تھے۔
۲۳؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
مسٹر رفیق احمد باجوہ نے استدعا کی کہ کارروائی پبلک کے لئے کھلی ہونی چاہئے۔
گواہ نمبر ۵۴...... حسن علی ولد محمد علی (نلکا مرمت کرنا، گول بازار دارالصدر جنوبی ربوہ)
میں اللہ کے فضل سے پیدائشی احمدی ہوں۔ میں احمدی گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔ ۲۳؍ مئی ۱۹۷۴ء کی شام کو یا ۲۴؍ مئی کی صبح کو میں نے بازار سے سنا کہ کچھ مسافروں نے جو چناب ایکسپریس پر سوار تھے اور پشاور جا رہے تھے۔ ربوہ سے گزرتے ہوئے ربوہ اسٹیشن پر Misbehave کیا۔ جس کے نتیجے میں پلیٹ فارم پر ایک آدمی زخمی ہوگیا۔ اس کے بعد گاڑی چلی گئی۔ میں نے ۲۴؍ مئی کو جمعہ کی نماز نہ پڑھی تھی۔ کیونکہ میری اس وقت ڈیوٹی تھی۔ میری ڈیوٹی گول بازار چوک پر تھی۔ مرزا ناصر احمد صاحب نے مسجد اقصیٰ کو قصر خلافت سے جاتے ہوئے اس راستے سے گزرنا تھا۔ میری ڈیوٹی حفاظت کے لئے تھی۔ میں گول بازار کے پاس دوسروں کے ساتھ حفاظت کے لئے کھڑا رہا۔ عام طور پر جب خلیفہ صاحب گزر جاتے ہیں تو ہم لوگ بعد میں مسجد پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اس دن میں مسجد نہ گیا بلکہ وہاں کھڑا رہا۔ میں نے بعد میں یہ نہیں پوچھا تھا کہ جمعہ کا خطبہ کس بارے میں تھا۔ میں نے ۲۲ کے واقعہ کا ذکر ۲۹؍ مئی تک کسی سے نہ کیا۔ ۲۹؍ مئی کو صبح ساڑھے آٹھ بجے یا نو بجے کے قریب میں نے گول بازار کے چھ سات احباب کو جمع کیا۔ ان کی وہاں اس بازار میں دوکانیں ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ جو طلباء ۲۲؍ مئی کو گزرے تھے وہ اس دن واپس آ رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ اسٹیشن پر آئیں اور ان طلباء کا رویہ دیکھیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اگر انہوں نے Misbehave نہ کیا تو ہم چپ رہیں گے اور اگر انہوں نے اپنے رویے پر اصرار کیا تو ہم ان کو پیٹیں گے۔ چنانچہ ہم سب وہیں سے سیدھے اسٹیشن کی طرف چلے گئے اور اسٹیشن کی دیوار کے پیچھے سگنل لیور کے قریب کھڑے ہوگئے۔ جب گاڑی اسٹیشن کے اندر آ رہی تھی تو ہم نے اینٹی احمدیہ نعرے سنے۔ طلباء کہہ رہے تھے مرزائیت مردہ باد اور بانی سلسلہ احمدیہ کے حق میں گندی زبان استعمال کر رہے تھے۔ یہ سن کر ہم دیوار کے اوپر سے کود کر گاڑی کے پاس پہنچ گئے۔ ہم پلیٹ فارم پر گاڑی کے درمیانی حصے کے سامنے تھے۔ ہم سات آٹھ تھے۔ جب کہ طالب علم دس بارہ تھے۔ ہم نے اپنے مکوں سے ان کو پلیٹ فارم پر مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ ہم خالی ہاتھ تھے۔ اس عرصے میں رحمت بازار کے کچھ آدمی اسٹیشن پر آگئے۔ جب انہوں نے پلیٹ فارم پر جھگڑا ہوتے دیکھا تو وہ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے اور طلباء کو پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چار پانچ تھے۔ دس بارہ طلباء گاڑی کی مختلف بوگیوں سے آئے تھے۔ دس پندرہ منٹ بعد صدر عمومی بشیر احمد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہاں آ گئے۔ اس کے فوراً بعد رشید احمد کارکن امور عامہ آ گئے جو کچھ ہوا تھا میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے ہمیں رکنے کے لئے حکم دیا۔ ہم رک گئے اور انہوں نے مسافروں کے لئے پانی منگوایا۔ مسافروں کو پانی پلایا۔ اس کے بعد گاڑی چل دی۔ میں بشیر احمد اور مسٹر رشید احمد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ وہ بھی مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ میں نے پلیٹ فارم سے پرے گاڑی کے پیچھے کی طرف ستر، پچھتر آدمیوں کو کھڑے دیکھا۔ وہ محض تماشائی تھے۔ ان میں سے کچھ مسافر ہوں گے۔ میں نے ان میں سے کسی کو گاڑی پر حملہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں پلیٹ فارم کی اس طرف نہ گیا تھا۔ کیونکہ مجھے صدر عمومی اور رشید احمد نے یہ حکم دیا تھا کہ جہاں میں کہوں وہیں کھڑا رہوں۔ وہاں سے نہ ہلوں۔
صدر عمومی گاڑی کے پیچھے کی طرف چلے گئے جب کہ رشید احمد ہمارے پاس کھڑے رہے۔ جب ہم لوگ طلباء کو مار رہے تھے وہ بھی ہمیں جواباً مارتے تھے۔ اس سے طلباء میں سے چھ سات معمولی زخمی ہوئے تھے۔ مگر ہماری طرف سے کوئی زخمی نہ ہوا۔ طلباء میں سے کوئی بیہوش نہ ہوا۔ ہم میں سے کسی نے گاڑی کی کسی بوگی کے اندر گھس کر طلباء کو نہ مارا۔ اسٹیشن پر سو سے ڈیڑھ سو لوگ موجود تھے۔ ان میں وہ ستر، پچھتر آدمی بھی شامل تھے جو پلیٹ فارم سے پرے گاڑی کے آخری سرے پر کھڑے تھے۔ ہم نے بھی نعرے لگائے تھے۔ ”انسانیت زندہ باد“ اور ”اسلام زندہ باد“۔ مختلف سزائیں مجرموں کو ربوہ میں دی جاتی ہے۔ جرم کی شدت پر سزا کا انحصار ہوتا ہے۔ کبھی مجرم کو کوڑے مارے جاتے ہیں۔ کبھی عارضی طور پر بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور کبھی ربوہ سے چند دنوں کے لئے نکال دیا جاتا ہے۔ اس پر ہم لوگ چلے گئے۔ میرے ساتھ فہیم احمد، عبدالعزیز، عبدالمنان، محمد رفیق، سعید احمد، ارشد فاروقی چھ آدمی تھے جو گول بازار سے ۲۹ مئی کو اسٹیشن پر گئے تھے۔ جو لوگ رحمت بازار سے آ کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ مبارک احمد طاہر، رفیق، ضیاء اللہ، احمد خاں، محمد سلطان تھے۔ ان کے علاوہ چند اور بھی تھے جن کے نام نہیں جانتا۔ لیکن ان کو چہرے سے پہچانتا ہوں۔ مجھے ۳۰ مئی کو ساڑھے چار بجے صبح ابراہیم کارکن امور عامہ بلانے آیا۔ اس نے بتایا کہ ہم امور عامہ کے دفتر میں بسلسلہ واقعہ ۲۹ مئی مطلوب ہیں۔ پس ہم ساتوں امور عامہ کے دفتر گئے۔ وہاں ہمیں بتایا گیا کہ پولیس کو ہماری ضرورت ہے۔ اس پر مسٹر رشید جونیئر کارکن امور عامہ ہمیں چوکی لے گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایس۔ پی جھنگ چوکی میں موجود تھے۔ ان کے حکم سے ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ ہم چوکی میں ۹ بجے صبح تک رہے۔ اس عرصے میں پولیس کی جیپ نے ۷۰ کے قریب لوگوں کو جمع کر دیا۔ وہ چھ چھ سات سات کی ٹولیوں میں لائے جاتے رہے۔ وہ سب ربوہ کے رہنے والے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کو مسجد سے نکلتے ہوئے یا بازار سے سودا خریدنے کے لئے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سب کو ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ ۷۱ واں آدمی جو چوکی آیا۔ وہ خواجہ مجید تھا۔ وہ ہمارے لئے ناشتہ لایا۔ ایس۔ پی ریلوے، جن کو آغا صاحب کہتے تھے، اپنے لئے چائے چاہتے تھے۔ مگر جب خواجہ مجید نے ان کو چائے نہ دی تو انہوں نے ایس۔ پی جھنگ کے پاس شکایت کی۔ انہوں نے اسے بھی گرفتار کر لیا۔ ۷۱ افراد کو ایک ٹرک میں سرگودھا لے جایا گیا۔ اس وقت سے اب تک ہم لوگ سرگودھا جیل میں ہیں۔ ہم نے خواجہ مجید کو اپنا امیر جیل میں منتخب کیا ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ خواجہ سرفراز احمد ہمارے وکیل ہیں۔ لیکن میں ان کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ جیل میں صرف میرا بھائی مجھ سے ملنے آیا۔ وہ صرف ایک دفعہ مجھے ملنے آیا۔ وہ مجھے پچھلے منگل کو ملا تھا۔ جیل میں ہم سب لوگ اکٹھے رہتے ہیں اور جب چاہیں مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے باتیں کر سکتے ہیں۔
میں نے کسی کو ان لوگوں کے سوا جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں طلباء کو مارتے نہ دیکھا۔ نہ ہی ایسا کوئی آدمی گاڑی پر سوار ہو گیا اور روانہ ہو گیا۔ کوئی مسافر بھی طلباء کو مارنے پیٹنے میں شامل نہ ہوا۔ سوائے ایک آدمی کے جو اپنی بہن کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ وہ دونوں ربوہ اترے۔ اس نے اپنی بہن کو ربوہ شہر بھیج دیا اور خود طلباء کو مارنے لگ گیا۔ وہ آدمی احمدی ہے اور قادیان کا سابقہ رہنے والا ہے۔ اس آدمی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(ڈاکٹر) کے علاوہ کوئی اور مسافر مار پیٹ میں شامل نہ ہوا۔ اس ڈاکٹر کی بہن سید نصیر احمد میجر چنیوٹ کے ساتھ شادی شدہ ہے۔ میں نے گاڑی کا کوئی نقصان نہ دیکھا۔ میں نے چھ سات طلباء کے منہ یا ناک سے خون نکلتے دیکھا۔
گواہ نمبر ۵۵...... فہیم احمد ولد سلطان احمد (دوکاندار سگریٹ پان، محلہ دارالنصر غربی ربوہ)
میں پیدائشی احمدی ہوں اور احمدیوں کی تیسری نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں ربوہ میں رہتا ہوں۔ مجھے غالباً ۲۳ یا ۲۴ مئی کو بازار میں لوگوں سے یہ معلوم ہوا تھا کہ نشتر کالج کے طلباء نے ربوہ سے گزرتے ہوئے چناب ایکسپریس پر سفر کرتے ہوئے ۲۲ مئی کو احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے۔ میں نے یہ بھی سنا تھا کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ۲۹ مئی کو پھر واپس آئیں گے۔ میں نے ۲۴ مئی کو جمعہ کی نماز نہ پڑھی تھی۔ میرے علم میں ان کا ۲۴ مئی کا خطبہ جمعہ نہ آیا تھا۔ نہ ہی یہ پتہ چلا کہ خلیفہ صاحب نے ارکان جماعت کو کیا نصیحت خطبہ جمعہ میں کی تھی۔ میرے کچھ دوستوں نے ۲۲ مئی کے واقعہ کا ذکر مجھ سے ۲۴ یا ۲۵ مئی کو کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد واقعہ کا کوئی ذکر نہ ہوا۔ ۲۹ مئی کو ساڑھے آٹھ یا نو بجے صبح گول بازار کے کچھ دوست جمع ہوئے۔ میری دوکان بھی اسی بازار میں ہے۔ ہم نے اسٹیشن پر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ نشتر کالج کے طلباء کو پشاور سے واپسی پر دیکھیں۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ اگر وہ دوبارہ پلیٹ فارم پر Misbehave کریں تو ان کو سمجھائیں۔ چنانچہ ہم سات آدمیوں کی ایک پارٹی اسٹیشن پر گئی۔ ہم نے اسٹیشن کی دیوار کے پیچھے رحمت بازار کی طرف اپنی پوزیشن سنبھال لی۔
جونہی گاڑی اندر داخل ہوئی طلباء نے اینٹی احمدیہ نعرے لگانے شروع کئے۔ مرزائیت مردہ باد، غلام احمد قادیانی مردہ باد۔ جب گاڑی کھڑی ہوئی آٹھ سے ۱۰ طلباء گاڑی سے اترے۔ ان میں سے زیادہ تر جس ڈبے سے اترے تھے وہ ڈبہ گاڑی کے درمیان میں تھا۔ شاید دوسرے کسی ڈبے سے کوئی اترا ہو۔ یہ دیکھ کر ہم دیوار پھلانگ کر پلیٹ فارم پر آگئے اور ان لڑکوں سے باتیں کرنا شروع کیں اور کہا کہ آپ لوگ مستقبل میں ڈاکٹر بننے والے ہیں۔ اس لئے تمیز سے رہیں۔ لیکن ہماری نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ حالانکہ ۲۲ مئی اس میں سے ایک لڑکے نے ہم میں سے ایک کو مکا مارا۔ غالباً اس کا نام رفیق احمد ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس پر ہم نے بھی ان کو مارنا شروع کر دیا۔ اس طرح لڑائی شروع ہوگئی۔ ہم نے مارنا شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں کچھ اور دوست بشمول رحمت بازار کے لوگ بھی آ گئے۔ سلطان احمد، ضیاء اللہ اور احمد خاں رحمت بازار سے آنے والوں میں شامل تھے۔ رحمت بازار سے آنے والے ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ کچھ مسافر بھی گاڑی سے اترے اور مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ جہاں تک میں نے دیکھا نشتر کالج کے آٹھ دس طلباء لڑائی میں ملوث تھے اور بھی ہوں گے جن کا میں نے نوٹس نہ لیا۔ ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ سعید احمد کے پاس چھتری تھی۔ باقی سب نے مکوں سے مارا۔ میں نے ایک طالب علم سے بیلٹ چھین لی اور استعمال کی۔ پندرہ بیس منٹ بعد صدر عمومی اور رشید احمد کارکن امور عامہ آ گئے۔ میں بشیر احمد صدر عمومی اور رشید احمد کلرک کو جانتا ہوں۔ وہ مجھے جانتے ہیں۔ مسافروں کو پانی پلایا گیا۔ اس کے بعد پلیٹ فارم سے واپس چلے گئے۔ چند منٹ بعد گاڑی چلی گئی۔ میں نے کسی طالب علم کے جسم پر کوئی زخم نہ دیکھا۔ نہ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھے۔ اسی طرح ہم میں سے کسی کو کوئی زخم نہ آیا۔ میں نے گاڑی کے پچھلے حصہ میں کسی کو نہ دیکھا نہ کوئی ہجوم وہاں دیکھا نہ وہاں کوئی لڑائی ہوتے دیکھی۔ پلیٹ فارم پر اندازاً سو، سوا سو آدمی ہوں گے جو اسٹیشن پر تھے۔ گاڑی کے چلے جانے کے بعد ہم منتشر ہو گئے اور گول بازار اپنی دوکان پر آ گئے۔
اگلے دن صبح پانچ ، ساڑھے پانچ بجے مجھے دفتر امور عامہ بلایا گیا۔ میں اکیلا وہاں اپنے گھر سے گیا۔ میرے کچھ ساتھی پہلے وہاں تھے اور کچھ بعد میں آئے۔ دفتر میں ہم چوہدری بشیر احمد صدر عمومی اور مسٹر رشید احمد (رشید جونیئر سے نہیں) ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں کل
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ہنگامہ کی وجہ سے چوکی پولیس جانا چاہئے۔ انہوں نے ہمیں چوکی پولیس بھیج دیا۔ بعد میں رحمت بازار کے وہ لوگ چوکی میں پہنچ گئے جنہوں نے ہنگامہ میں حصہ لیا تھا۔ ہم چھ بجے صبح کے قریب چوکی پہنچ گئے۔ جیپ گرفتار شدہ کو لاتی رہی۔ ہمیں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ نو، ساڑھے نو بجے تک پولیس گرفتاریاں کرتی رہی۔ دس بجے ہمیں پولیس کی گاڑی میں دوسرے دوستوں کو ٹرک میں سرگودھا جیل لے جایا گیا۔ میرا پولیس کے روبرو یا کسی عدالت میں بیان نہ لکھا گیا۔
میرے ساتھ جو لوگ اسٹیشن پر ۲۹؍ مئی کو گئے تھے وہ حسن علی، رفیق احمد، سعید احمد، عبدالعزیز، عبدالمنان، رشید احمد فاروقی تھے۔ یہ سب دوکاندار ہیں۔ میں آٹھ نو جماعت تک پڑھا ہوا ہوں۔ رفیق نام کے دو اشخاص ہیں۔ ایک رحمت بازار کا اور دوسرا گول بازار کا ہے۔ گاڑی کے مسافروں نے نہ ہمیں مارا نہ طلباء کو مارا۔ طلباء کے علاوہ کسی نے ہنگامے میں حصہ نہ لیا۔ میں نے کسی حملہ آور کو اسی گاڑی میں بیٹھ کر ربوہ سے جاتے ہوئے نہ دیکھا۔ ماسوائے طلباء نشتر کالج کے، میں نے آخری بوگی اور ایک اور بوگی کا نقصان دیکھا تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ گاڑی کو نقصان کیسے پہنچا۔
گواہ نمبر ۵۶ ...... عبدالمنان ولد عبدالسلام (گول بازار، مکان ۵/۱۶، محلہ دارالصدر مشرقی ربوہ)
میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں۔ میرے والد اور دادا بھی احمدی تھے۔ مجھے ۲۳؍ مئی کو پتہ چلا تھا کہ ۲۲؍ مئی کو نشتر کالج کے طلباء نے ربوہ سے گزرتے ہوئے لوگوں پر پتھر پھینکے۔ انہوں نے ربوہ والوں کو مشتعل کیا اور جاتے ہوئے چیلنج دے کر گئے کہ وہ ۲۹؍ مئی کو واپس آئیں گے۔ یہ بات پورے شہر میں عام مشہور تھی۔ ۲۳؍ تاریخ کو یہ بات عام پھیل گئی تھی۔ ۲۴ کو میں سانگلہ ہل گیا تھا۔ ۲۹؍ مئی تک ہم ایک دوسرے سے ۲۲؍ مئی کے واقعہ کے بارے میں عمومی طور پر ذکر کرتے رہے۔ ۲۹؍ مئی کو صبح سات آٹھ بجے گول بازار کے سات دوکانداروں نے (میرے سمیت) اسٹیشن پر جانے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ہمیں علم تھا کہ وہ طلباء اس دن واپس آئیں گے۔ کیونکہ پشاور جاتے ہوئے انہوں نے چیلنج کیا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ ان کو سمجھائیں گے۔ ورنہ ہم ان کو مار پیٹ کر سبق سکھانا چاہتے تھے۔ ہم چند آدمی محمد ارشد، فہیم احمد، حسن علی، رفیق احمد، سعید احمد اور عبدالعزیز اسٹیشن پر نو بجے کے قریب پہنچ گئے۔ ہم اسٹیشن پر پہنچ کر گاڑی کے انتظار میں اسٹیشن کی دیوار کے پیچھے لالیاں سائیڈ پر کھڑے رہے۔ ہمارے ایک گھنٹہ بعد گاڑی قریباً ایک گھنٹہ لیٹ، دس بجے کے قریب آئی۔ طلباء نعرے لگا رہے تھے، مرزائیت مردہ باد، مرزا غلام احمد مردہ باد۔ گاڑی کھڑی ہوگئی۔ آٹھ، دس طلباء ہمارے سامنے اسٹیشن بلڈنگ کے ذرا پیچھے ائیر کنڈیشنڈ کوچ کے پچھلے ڈبے سے اترے۔ وہ بوگی پلیٹ فارم کے درمیان میں نہ تھی بلکہ ذرا لالیاں سائیڈ پر تھی۔ تقریباً ہمارے سامنے جہاں ہم دیوار کے پیچھے کھڑے تھے ہم دیوار پھاند کر پلیٹ فارم پر آگئے۔ ہم نے انہیں پیٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے بھی ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ لڑائی شروع ہوگئی۔ کچھ آدمی رحمت بازار سے شور سن کر آگئے۔ میں ان میں سے کچھ کے نام جانتا ہوں۔ وہ مبارک احمد طاہر، ضیاء اللہ، محمد سلطان اور احمد خاں تھے۔ دوسروں کے نام نہیں جانتا۔ مگر انہیں پہچانتا ہوں۔ رحمت بازار سے ساٹھ ستر آدمی آئے تھے۔ ان میں سے بیس ہمارے ساتھ ہو گئے۔ اس اثناء میں کچھ اور طلباء لڑائی میں شامل ہو گئے۔ اس طرح طلباء پندرہ بیس ہوگئے تھے۔
دس بارہ منٹ لڑائی ہوتی رہی۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ کئی لوگوں کے پاس پیٹیاں تھیں۔ (ربوہ والوں کے پاس) لیکن میں نے کسی کے پاس ہاکی یا چھڑی نہ دیکھی۔ نشتر کالج کے طلباء خالی ہاتھ تھے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ شاید کسی کے پاس پیٹی ہو یا نہ ہو۔ میں نے کسی کو زخمی نہ دیکھا نہ کسی کا خون بہتے دیکھا۔ لڑائی دس پندرہ منٹ ہوتی رہی۔ چوہدری بشیر احمد اور رشید احمد موقعہ پر آگئے۔ میں چوہدری بشیر کو بطور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدر عمومی اور رشید احمد کو بطور کلرک امور عامہ جانتا ہوں۔ وہ بھی مجھے بطور دوکاندار جانتے ہیں۔ چوہدری بشیر احمد میرے محلہ میں رہتے ہیں۔ ان کے کہنے پر ہم اسٹیشن سے آگئے۔ ابھی گاڑی وہاں کھڑی تھی۔ ہمارے اسٹیشن پر پہنچنے پر گاڑی کے آنے سے پہلے میں نے پلیٹ فارم پر پندرہ سے بیس تک آدمی دیکھے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ جب ہم نے لڑائی بند کی تو اسٹیشن پر ڈیڑھ سو سے دوسو کے قریب آدمی بشمول سواریوں کے تھے۔ ربوہ کے ساٹھ ستر آدمی جو لڑائی میں شامل ہوگئے تھے صدر عمومی کے آنے پر پلیٹ فارم سے ہٹ گئے اور گاڑی کے آخری حصے کی طرف چلے گئے۔ اس وقت صدر عمومی بھی طلباء کی بوگی کی طرف چلے گئے۔ اس کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ میں نے ایک بوگی جس سے آٹھ سے دس طلباء اترے تھے کہ شیشے ٹوٹے دیکھے تھے۔ میں نہیں کہ سکتا کہ یہ نقصان کس نے کیا تھا۔ میں طلباء کی بوگی کی طرف نہ گیا تھا۔ اس لئے میں نے اس بوگی کا کوئی نقصان نہ دیکھا تھا۔
اگلے دن تین، ساڑھے تین بجے علی الصبح مسٹر رشید جونیئر میرے پاس آیا اور امور عامہ کے دفتر آنے کے لئے کہا۔ میرے دوسرے چھ ساتھی بھی وہاں جمع ہوگئے تھے۔ وہاں دفتر کے باہر چوہدری بشیر احمد صدر عمومی، صدر انجمن احمدیہ کے گیٹ کے اندر ملے۔ انہوں نے ہمیں چوکی جانے کے لئے کہا۔ کیونکہ ہمیں وہاں ۲۹؍ مئی کے واقعہ کے لئے طلب کیا جارہا ہے۔ ہم ساتوں خود ہی چوکی چلے گئے۔ وہاں ہمیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ پولیس نو، دس بجے دن تک گرفتاریاں کرتی رہی۔ اس کے بعد دس بجے ہمیں ربوہ سے ایک پرائیویٹ ٹرک ایک پولیس کی گاڑی اور ایک جیپ میں سرگودھا لے جایا گیا۔ سرگودھا جیل میں رکھا گیا۔
گاڑی کا کوئی مسافر ۲۹؍مئی کے فساد میں شامل نہ ہوا۔ نہ انہوں نے کسی طالب علم کو مارا۔ انہوں نے چھڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ربوہ کے لوگوں نے کوئی بھی کوشش نہ کی۔ میں اس دن چناب کے ذریعے ربوہ سے نہ گیا تھا۔ میرے خلاف جماعت نے کوئی انضباطی کارروائی نہ کی۔ میں نے مرزا عبدالسمیع کو نہ دیکھا تھا۔
۲۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۵۷...... انور اے دہامی برانچ منیجر نیشنل سیکورٹی انشورنس کمپنی لائل پور
میں احمدی نہیں ہوں۔ چیئرمین نیشنل سیکورٹی انشورنس کمپنی میاں نصیر اے شیخ ہیں اور جنرل منیجر مفتی امین ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان میں کوئی بھی احمدی نہیں۔ بڑے حصہ دار کمپنی کے میسرز قیصر محمود، اے آر دولتانہ اور مغیث اے شیخ ہیں۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ان میں سے کوئی بھی احمدی نہیں۔ ہمارے اسسٹنٹ منیجر شیخ عبدالقدیر ہیں۔ وہ احمدی ہیں۔
سفینہ پرنٹنگ اینڈ ڈائنگ ورکس لائل پور نے چار انشورنس پالیسیاں ہماری کمپنی کی لے رکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کی میعاد یکم جون ۱۹۷۴ء کو ختم ہوگئی۔ باقی کی میعاد ۲؍مئی ۱۹۷۴ء کو ختم ہوگئی۔ ان تین میں سے جن کی میعاد ۲؍مئی ۱۹۷۴ء کو ختم ہوگئی ایک ۲۴؍مئی ۱۹۷۴ء کو دوبارہ جاری ہوئی۔ دو کی تجدید ۲۸؍مئی ۱۹۷۴ء سے ہوئی۔ اگرچہ یہ تینوں نئی پالیسیاں ۲۸؍مئی ۱۹۷۴ء کو جاری ہوئیں۔ یہ تین پالیسیاں ۲۸؍مئی ۱۹۷۴ء سے Risk کور کرتی ہیں۔
چونکہ میں ۲۸؍مئی ۱۹۷۴ء کو ڈویلپمنٹ کے سلسلے میں دفتر سے باہر تھا۔ شیخ عبدالقدیر نے اپنے دستخطوں سے یہ پالیسیاں جاری کر دیں۔ وہ اس کے مجاز تھے۔ اس میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہوئی۔ چوتھی پالیسی بھی ۲۸؍مئی ۱۹۷۴ء کو تجدید ہوئی۔ لیکن اس کی میعاد یکم؍ جون ۱۹۷۴ء سے شروع ہونی تھیں۔ یہ چاروں پالیسیاں فساد، آگ، سٹرائیک اور نقصان کے خلاف احتیاطی تدابیر کے لئے حاصل کی گئی ہیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان چاروں پالیسیوں کی کل قیمت چودہ لاکھ ہے۔ مختلف پالیسیاں مختلف جائیداد ملکیتی، سفینہ پرنٹنگ اینڈ ڈائنگ ورکس کو Cover کرتی ہیں۔ میں اس کے ان مالکوں کے نام جانتا ہوں جو اس فرم کی طرف سے ہمارے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ مثلاً حاجی حمید اللہ مینجنگ پارٹنر ہیں۔ وہ میرے علم کے مطابق احمدی نہیں۔ ان کے بھائی مسٹر سمیع اللہ بھی سفینہ کی طرف سے معاملہ طے کرتے ہیں۔ مجھے یہ علم نہیں کہ وہ حصہ دار ہیں یا نہیں۔ تیسرے شخص مسٹر شریف احمد ہیں۔ وہ بھی احمدی ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ ان کا کتنا حصہ ہے۔ مختصراً سفینہ پرنٹنگ اینڈ ڈائنگ ورکس احمدیوں کی ہے۔
ایک پالیسی میسرز مجید اینڈ کمپنی لائل پور ۳۰ مئی ۱۹۷۴ء کو شیخ عبدالقدیر اسسٹنٹ منیجر جاری کر رہے تھے کہ میرے علم میں آ گئی۔ میں نے اس پالیسی کا اجراء منظور نہ کیا۔ کیونکہ لائل پور میں فسادات شروع ہو چکے تھے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں یہ نئی پالیسی کے اجراء کا کیس تھا اور محض تجدید کا نہ تھا۔ میں نہیں جانتا کہ اس پالیسی کے لئے درخواست ۳۰ مئی ۱۹۷۴ء سے قبل دی گئی تھی۔
میں کریم کلاتھ ہاؤس کارخانہ بازار کا ریکارڈ بھی لایا ہوں۔ انہوں نے پالیسی حاصل کی۔ یہ بھی شیخ عبدالقدیر نے جاری کی۔ میرے علم میں آئی تو میں نے اسی دن فوراً منسوخ کر دی۔ پالیسی کے ڈسپیچ کرنے سے قبل میں نے کریم کلاتھ ہاؤس کی پالیسی بھی اسی وجہ سے کینسل کی جس وجہ سے مجید اینڈ کمپنی کی پالیسی کینسل کی تھی۔
گواہ نمبر ۵۸...... عبدالرحیم ولد محمد اکبر سب انسپکٹر تھانہ ریلوے پولیس سرگودھا (ایس۔ ایچ۔ او)
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں مئی ۱۹۷۴ء میں ایس۔ ایچ۔ او ریلوے تھانہ سرگودھا تھا۔ ربوہ اسٹیشن اس تھانے کی حدود میں ہے۔ ۲۹ مئی کو قریباً دوپہر کو مجھے ربوہ کے واقعہ کی اطلاع ریلوے حکام کے ذریعے ملی۔ جب کہ میں خوشاب ریلوے اسٹیشن پر تھا۔ اس اطلاع ملنے پر میں بذریعہ بس فوراً ربوہ کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں ۴ بجے شام ربوہ پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ خدا بخش سی۔ ایچ پہلے ہی چند کانسٹیبلان کے ہمراہ ربوہ پہنچ چکا تھا۔ اس نے پہلے موقعہ دیکھا اس نے مجھے بھی دکھایا۔ ٹوٹے ہوئے شیشے پلیٹ فارم پر اور پلیٹ فارم سے باہر لالیاں کی طرف پڑے تھے۔ خدا بخش کے کہنے کے مطابق طلباء کی بوگی پلیٹ فارم سے باہر تھی۔ اس لئے اس بوگی کی جگہ کے سامنے ٹوٹے ہوئے شیشے پڑے تھے۔ دوسری جگہ جہاں شیشے کے ٹکڑے پڑے تھے وہاں سیکنڈ کلاس کی بوگی تھی۔ البتہ خدا بخش چشم دید گواہ نہ تھا۔ وہ ایک بجے بعد دوپہر اسٹیشن پر پہنچا تھا۔ میں نے پلیٹ فارم پر خون کے دھبے بھی دیکھے تھے۔ یہ دھبے شیشے کے ٹکڑوں کے قریب ہی دیکھے تھے۔ مجھے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ پلیٹ فارم پہلے دھلا ہوا تھا۔ اس کے بعد میں نے تفتیش شروع کر دی۔ میں نے ریلوے سٹاف کے ارکان سے پوچھ گچھ کی۔ اس عرصے میں ڈی۔ ایس۔ پی، سی۔ آئی۔ اے آ گئے۔ میں نے تمام اطلاع ان کو دے دی۔ ڈی۔ ایس۔ پی نے مجھے چوکی پولیس ربوہ بھیج دیا۔ جہاں ایس۔ پی جھنگ پہنچ چکے تھے۔ مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ کو بلایا گیا اور شامل تفتیش کیا گیا۔ اس کے بعد ایس۔ پی مجھے اور رشید احمد کو تعلیم الاسلام کالج لے گئے۔ کالج میں مسٹر رشید احمد نے عبدالعزیز محتسب کا نام دیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کے نام دیئے جن کو وہ مجرم سمجھتے تھے۔ اس اثناء میں ایس۔ پی اور پرنسپل اور مسٹر باجوہ جو امور عامہ کے عہدیدار ہیں، بھی آئے۔ ان کے علاوہ ڈی۔ ایس۔ پی چنیوٹ اور ڈی۔ ایس۔ پی، سی۔ آئی۔ اے اور ڈی۔ ایس۔ پی جھنگ بھی تھے۔ ان افسروں نے مسٹر رشید احمد اور مسٹر عبدالعزیز سے کہا کہ مجرموں کو چوکی میں پیش کر دیں۔ اس کے بعد ہم پولیس چوکی آ گئے۔ رات کے گیارہ بجے کے بعد مسٹر رشید احمد نے ۲۲ آدمیوں کو پولیس چوکی پیش کیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کے بعد ہم نے رشید احمد سے کہا کہ ان کو لے جائیں تو واقعہ میں ملوث تمام ملزموں کے ہمراہ ان کو اگلی صبح پیش
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کریں ۔ انہوں نے اس کا وعدہ کیا اور بائیس آدمیوں کو جانے دیا ۔ اگلی صبح ۴ بجے کے قریب رشید احمد نے ۳۲ افراد پیش کئے ۔ ہم نے ان سے پوچھ گچھ کی ۔ اس کے بعد ہمیں خفیہ اطلاع ملی کہ کچھ مجرم بذریعہ بس بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ پس ہم شہر میں چلے گئے اور ۱۲؍ افراد کو فضل عمر ہسپتال کے پاس گرفتار کر لیا ۔ ان گرفتار شدگان میں ایک شخص مبشر احمد ولد ڈاکٹر رشید احمد تھا ۔ اس نے ہمیں مزید ۲۳ آدمیوں کے نام دیئے ۔ ان ۲۳ کو چوکی بلایا گیا ۔ چوکی آنے پر ان کو شامل تفتیش کیا گیا ۔ چنیوٹ کے اعجاز گواہ کو مقامی پولیس چوکی نے میرے روبرو پیش کیا ۔ چار مزید افراد کو بلایا گیا اور گرفتار کر لیا گیا ۔ ان ۷۱؍ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ہم نے امور عامہ کے رشید احمد کو بھی گرفتار کر لیا ۔ چونکہ اے سی چنیوٹ ربوہ میں موجود تھے ۔ اس لئے ۷۱؍ افراد کا ریمانڈ جوڈیشل لاک اپ کے لئے ربوہ میں ہی حاصل کیا گیا اور مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ کا تین دنوں کے لئے ریمانڈ جسمانی حاصل کیا گیا ۔ اسے ایس ۔ ایچ ۔ او لالیاں کے حوالے کیا گیا ۔ میں ۷۱؍ افراد کو سرگودھا لے گیا اور جوڈیشل حوالات میں رکھا گیا ۔ ایس ۔ ایچ ۔ او لالیاں ، رشید احمد کو چنیوٹ لے گیا ۔
مسٹر خاقان بابر کی جرح کے جواب میں
میں اسٹیشن ماسٹر عبد السمیع سے اسٹیشن پر ملا تھا ۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ زخمی ہوا تھا ۔ میں نے ان کے زخم کا طبی معائنہ کرانا چاہا تو انہوں نے کہا کہ گٹ نکل گیا تھا ۔ اب چڑھ گیا ہے ۔ ہم نے ان ۲۲؍ افراد کو اس لئے نہیں واپس کر دیا تھا کہ وہ وقوعہ کے بارے میں نہ جانتے تھے ۔ بلکہ رات بہت ہو گئی ۔ ہم ان کو رات کو وہاں نہ رکھنا چاہتے تھے ۔ ہم نے ۷۱؍ افراد کا ریمانڈ جسمانی اس لئے نہ لیا تھا اور سیدھا جوڈیشل لاک اپ میں اس لئے بھیج دیا تھا کہ ان کی شناخت پریڈ کرانی تھی ۔ ۲۲ مئی کو جو پولیس والے ٹرین پر ڈیوٹی پر تھے ، ان کے بیانات ڈی ۔ ایس ۔ پی نے لکھے تھے ۔
ٹربیونل : (جمعہ کے دن کے لئے اورینٹ ایڈورٹائزر کے لاہور اور اسلام آباد کے منیجروں کو بلایا جائے) ساڑھے دس بجے وقفہ ۔
گواہ نمبر ۵۷ ، انور اے دھامی پر دوبارہ جرح شروع ہوئی ۔
ملک محمد قاسم صاحب کی جرح کے جواب میں
سفینہ ڈائنگ اینڈ پرنٹنگ ورکس نے ۱۹۷۱ء میں تین پالیسیاں سات لاکھ ، ۱۹۷۲ء میں تین پالیسیاں نو لاکھ ، ۱۹۷۳ء میں چار پالیسیاں ساڑھے بارہ لاکھ ، ۱۹۷۴ء میں چار پالیسیاں چودہ لاکھ کی خریدی تھیں ۔ سفینہ ڈائنگ اینڈ پرنٹنگ ورکس نے ۱۹۷۱ء سے پالیسیاں لے رکھی ہیں ۔ شروع میں تین پالیسیاں تھیں جن کی مالیت مجموعی طور پر سات لاکھ روپے تھی ۔ ۱۹۷۲ء میں انہوں نے یہ پالیسیاں نو لاکھ کی کرالیں ۔ ۱۹۷۳ء میں چار پالیسیاں تھیں ۔ مالیت بارہ لاکھ پچیس ہزار روپے تھی اور ۲۸ مئی ۱۹۷۴ء کو انہوں نے چار پالیسیوں کی تجدید کرائی جن کی مالیت مجموعی طور پر چار لاکھ روپے تھی ۔ پہلے بھی اس پارٹی کے کیس میں اختتام معیاد پہلی پالیسی اور نئی پالیسی کے اجراء میں Gaps ہوتے رہے ہیں ۔ سفینہ ورکس جیسے ادارے کا قانونی طور پر انشور کرانا ضروری ہیں ۔ سفینہ ورکس نے جو پالیسیاں خریدی ہیں ۱۹۷۱ء سے لے کر اب تک فائر ، فساد ، نقصان ، سٹرائیک کے Against کور کرتی ہیں ۔ ۱۹۷۲ء میں صرف ایک پالیسی صرف آگ کے لئے تھی ۔ ۳۰ یا ۳۱ مئی کو سفینہ ورکس کا نقصان ہوا ۔ انہوں نے کلیم داخل کیا جس کی ادائیگی کر دی گئی ۔ یہ چاروں پالیسیاں جو سفینہ ورکس نے ۲۸ مئی کو خریدی تھیں ۔ وہ شیخ عبد القدیر اسسٹنٹ منیجر کی کوشش سے خریدی گئیں ۔ اسی کی معرفت احمدیوں کا بزنس ہماری انشورنس کمپنی کے لئے حاصل کیا جاتا ہے ۔ وہ مقامی احمدیوں کا زعیم بھی ہے اور مقامی جماعت کا چندہ جمع کرتا ہے ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۳/ اپریل ۱۹۷۴ء سے لے کر ۳۰/ مئی ۱۹۷۴ء تک مذکورہ بالا تین اداروں کے علاوہ کسی احمدی نے ہم سے کوئی پالیسی نہ خریدی۔ البتہ آدم جی انشورنس کمپنی نے کچھ احمدیوں کے اداروں کو Insure کیا تھا۔ ہم نے ان پالیسیوں میں قریباً دس فیصد کی حد تک Underwrite کیا ہے یا اس سے کم وبیش بعض کیسوں میں اس طرح ہمارا بارہ فیصد حصہ کوئینز لینڈ انشورنس کمپنی میں ہے۔ اس کمپنی نے یونائیٹڈ ٹیکسٹائل ملز ملتان کا رسک ۲۳، ۲۴/ اپریل ۱۹۷۴ء کو عبدالقدیر کے ذریعے Cover کیا تھا۔ یونائیٹڈ ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ ہے۔ لیکن احمدیوں کی مل ہے۔ کور نوٹ شیخ عبدالقدیر نے پر کیا۔ مجھے اس کے احمدی ادارہ ہونے کا پتہ ہے۔ کیونکہ عبدالقدیر کے کچھ رشتے داروں کے حصے اس مل میں ہیں۔ آدم جی انشورنس کمپنی کے ذریعے مندرجہ ذیل احمدی اداروں نے انشورنس کرایا جس میں ہمارا حصہ ہے۔ یہ انشورنس ۱۳/ اپریل سے ۳۰/ مئی ۱۹۷۴ء کے عرصے میں ہوا۔
کاٹن مل:
- ۱...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۵/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پانچ لاکھ۔ ہمارا حصہ پچاس ہزار۔
- ۲...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت دس لاکھ۔ ہمارا حصہ ایک لاکھ۔
- ۳...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پانچ لاکھ۔
- ۴...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان ۔ تاریخ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پانچ لاکھ۔
- ۵...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان ۔ تاریخ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پانچ لاکھ۔
- ۶...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۱۸/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پندرہ لاکھ۔
- ۷...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۲۷/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پندرہ لاکھ۔
- ۸...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۲۷/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت دس لاکھ۔
- ۹...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان ۔ تاریخ ۲۷/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت دس لاکھ۔
- ۱۰...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۲۷/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پچاس ہزار۔
- ۱۱...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان ۔ تاریخ ۳۰/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت پچاس ہزار۔
- ۱۲...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان ۔ تاریخ ۳۰/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت تیس ہزار۔
- ۱۳...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۳۰/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت تیس ہزار۔
- ۱۴...... شیخ مولا بخش مبارک احمد آئل اینڈ فیکٹری۔ تاریخ ۳۰/ اپریل ۱۹۷۴ء، مالیت دس ہزار۔
- ۱۵...... شیخ مولا بخش مبارک احمد آئل اینڈ فیکٹری۔ تاریخ ۷/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت سات لاکھ۔
- ۱۶...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۳/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت دولاکھ۔
- ۱۷...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۳/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت تین لاکھ۔
- ۱۸...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۳/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت ایک لاکھ۔
- ۱۹...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۳/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت بیس ہزار۔
- ۲۰...... احمد برادرز لائل پور۔ تاریخ ۱۳/ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت پینتیس ہزار۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲۱...... ریاض کاٹن کمپنی شجاع آباد۔ تاریخ ۲۴ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت ایک لاکھ دس ہزار۔
- ۲۲...... گیلے والا کاٹن کمپنی گیلے والا ضلع ملتان۔ تاریخ ۲۴ مئی ۱۹۷۴ء، مالیت ایک لاکھ دس ہزار۔
ان سب پالیسیوں میں چار پارٹیاں شامل ہیں۔ یہ سب احمدی ادارے ہیں۔ کاٹن کی پالیسیاں چھ ماہ یا اس سے کم عرصے کے لئے ہیں۔ ان میں سے کچھ پالیسیاں بذریعہ بنک خریدی گئیں اور کچھ اپنے طور پر بنک مرتہن ہوتا ہے۔ اس لئے بنک رہن کے لئے انشورنس کرانا ضروری سمجھتا ہے۔
میسرز مجید اینڈ کمپنی لائل پور اور کریم کلاتھ ہاؤس لائل پور کی پالیسیاں نئی تھیں۔ ان کا پہلے کوئی بزنس نہ تھا۔ یہ پالیسیاں جاری ہوئی تھیں۔ پھر بعد میں ان کو کینسل کر دیا گیا۔
گواہ نمبر ۵۹...... عبد الرشید چوہدری ولد میاں عبد الرحمن (آفس سپرنٹنڈنٹ پاکستان جنرل انشورنس کمپنی لاہور)
میں احمدی نہیں ہوں۔ ۳۰ مئی ۱۹۷۴ء کو شفاء میڈیکوز لاہور کے مسٹر اعظم ہمارے دفتر دس بجے صبح آئے اور ہمیں کہا کہ Conver Note انشورنس پالیسی کے سلسلے میں اپنے دفاتر دکان اور گودام شفاء میڈیکوز لاہور اور لائل پور کے شاہ میڈیکوز کو انشور کروانا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ شاہ میڈیکوز قادیانیوں کی ہے یا نہیں۔ شفاء میڈیکوز تو مرزائیوں کی ہے۔ ہمیں اس کام میں ایک بج گیا۔ منیجر علاؤ الدین نے برانچ منیجر مسٹر بٹ سے لائل پور ٹیلیفون کر کے وہاں کے حالات معلوم کرنا چاہے۔ مسٹر بٹ سے، میری موجودگی میں فون پر بات ہوئی تھی۔ مسٹر بٹ نے بتایا کہ لائل پور میں شاہ میڈیکوز کو آگ لگائی جا چکی ہے۔ اس لئے ہم نے کور نوٹ Cancel کر دیا اور انشورنس پالیسی جاری نہ کی۔ کینسل کرنے سے پہلے اس کی کوئی رقم ابھی تک ہمیں نہ ملی تھی۔ ہماری کمپنی کے جنرل منیجر سعید احمد خاں قادیانی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کو کمپنی نے تین ماہ کی تنخواہ دے کر (تین ماہ کے نوٹس کی جگہ) فارغ کر دیا گیا ہے۔ مجھے پتہ نہیں کہ ان کی علیحدگی اور ۳۰ مئی کے واقعات کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ البتہ ہمارے دفتر میں ایک اور قادیانی ہیں، جن کا نام شمیم انصاری ہے۔ ان کو ملازمت سے نہیں نکالا گیا۔ اسی طرح مسٹر محمد اسلم بھی احمدی ہیں اور ہمارے برانچ آفس لائل پور میں ملازم ہیں۔ سعید احمد خاں قادیانی کو چیئرمین امیر عبد اللہ روکڑی ایم۔ پی۔ اے نے نکالا تھا۔ وہ مسلم لیگی ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ مسلم لیگ کے کس گروپ سے ان کا تعلق ہے۔
شفاء میڈیکوز کی انشورنس کی کل قیمت کا علم نہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ شفاء میڈیکوز کی دوکان کے کچھ شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ پالیسی جاری ہونے کے بعد مجھے تفصیلات کا علم نہیں۔ مجھے علم نہیں کہ کلیم فائل کیا گیا ہے یا نہیں۔ کیونکہ میں کلیم برانچ سے تعلق نہیں رکھتا۔
۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۶۰...... مبشر احمد ولد ڈاکٹر رشید احمد (طالب علم، ساکن محلہ دار الصدر غربی الف ربوہ)
میں پیدائشی احمدی ہوں اور احمدیوں کی تیسری نسل سے ہوں۔ میرا ایف۔ اے کا امتحان ۲۰ مئی ۱۹۷۴ء کو ختم ہوا۔ میں نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی طرف سے بطور ریگولر امیدوار امتحان دیا تھا۔ ۲۹ مئی کو میں بیمار تھا۔ گھر پر تھا۔ شام کو میں گول بازار گیا اور فہیم احمد پان سگریٹ والے کی دکان سے سگریٹ خریدے۔ فہیم احمد میرے ساتھ ربوہ کے واقعہ کے سلسلے میں گرفتار ہے۔ فہیم احمد نے اس وقت مجھے بتایا تھا کہ اسی دن صبح کو وہ ریلوے اسٹیشن پر گیا تھا اور اس نے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو مارتے پیٹتے دیکھا تھا۔ جنہوں نے احمدیت مردہ باد کے نعرے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگائے تھے۔ اگلے دن مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ وہاں سے مجھے پولیس چوکی لے جایا گیا۔ وہاں ساٹھ آدمی پہلے سے چوکی میں موجود تھے۔ وہاں سے ایک سول ٹرک پر بٹھا کر سرگودھا لے جایا گیا اور جیل میں رکھا گیا۔
مجھے ۲۹ مئی کے واقعہ کا علم ۲۹ مئی کی شام کو ہوا تھا۔ جب فہیم احمد نے مجھے اسٹیشن پر ہونے والا واقعہ بتایا۔ سرگودھا جیل میں اکہتر، بہتر آدمی ربوہ کے گرفتار ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ بے گناہ ہیں۔ میں نے اکہتر میں سے کسی سے جیل میں واقعہ کے بارے میں نہیں پوچھا۔ ان میں کسی نے مجھے جیل میں یہ نہیں بتایا کہ وہ واقعہ میں ملوث تھا۔ البتہ بہت سے بے گناہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اب تک جتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر مزدور ہیں۔ کچھ دوکاندار ہیں اور کچھ طلباء ہیں۔ طلباء کی تعداد دس، پندرہ ہے۔ طالب علموں میں سے ملک نصیر احمد، مسٹر منیر احمد اور میں تعلیم الاسلام کالج کے ہیں۔ دوسرے جامعہ احمدیہ کے طلباء ہیں۔ اس جامعہ میں مبلغ تیار کئے جاتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے کہ میں نے کچھ لوگوں کے نام پولیس افسر کو بعد از گرفتاری ربوہ میں دیئے تھے جو ربوہ کے واقعہ میں ملوث تھے۔ میں رشید احمد کارکن امور عامہ چوہدری بشیر احمد صدر عمومی کو بحیثیت عہدیدار جانتا ہوں۔ وہ مجھے نہیں جانتے۔ میں مسٹر عبدالعزیز بھانپڑی کو جانتا ہوں۔ لیکن ان کا عہدہ نہیں جانتا۔ البتہ ظہور احمد باجوہ ناظر امور عامہ کو نہیں جانتا۔ میرے خلاف کبھی احمدیہ انتظامیہ یا پولیس میں کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ میں خدام الاحمدیہ میں شامل ہوں۔ میں کوئی عہدیدار نہیں ہوں۔ لیکن دو تین ماہ وقار عمل سکیم کے تحت کام کیا تھا۔ اس زمانے میں زعیم محلہ میری ڈیوٹی لگاتے تھے۔
جیل میں اب تک میرے بھائی سعید احمد کے سوا کوئی مجھے نہ ملا۔ سعید احمد تین مرتبہ مجھے جیل میں ملا۔ میرا ایک بہنوئی بھی ایک مرتبہ ملا تھا۔ میرا بھائی اور بہنوئی دونوں خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ خواجہ سرفراز احمد ایڈووکیٹ کو ہمارے کیس کے دفاع کے لئے وکیل مقرر کیا گیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس کو کس نے مقرر کیا ہے۔ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس وکیل کو جماعت نے مقرر کیا ہے۔ مسٹر رشید احمد امور عامہ کی میرے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔ مجھے فہیم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کتنے آدمی ربوہ اسٹیشن پر ۲۹ مئی کو لے کر گئے تھے۔
میں کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا تھا۔ میں نے صرف کوڈو پائرین کی گولی کھالی تھی۔ اسٹیشن سے میرا گھر اڑھائی تین فرلانگ دور ہے۔ جب فہیم احمد نے مجھے کہانی سنائی تھی تو اس کے تاثرات ملے جلے تھے جماعت کے نقطۂ نظر سے اس نے غلطی کی تھی اور اس کے اپنے خیال میں اس نے ٹھیک کیا تھا۔
گواہ نمبر ۶۱...... آغا عبدالکریم شورش کاشمیری ولد میاں نظام الدین احمد (۲۴- دی مال روڈ لاہور )
۲۵؍ جولائی کو جسٹس صمدانی کی عدالت میں قادیانی امت کے بارے میں شورش کاشمیری نے شہادت دی۔ موصوف پولیس کی حراست میں بیماری کے باوجود پیش ہوئے اور تمام رازہائے سربستہ کا انکشاف کیا۔ جن کے مطابق قادیانی امت اپنے سیاسی اقتدار کے لئے عالمی اور قومی سطح پر عمل کر رہی ہے۔ یہ شہادت پانچ گھنٹے جاری رہی۔ عجیب و غریب انکشاف ہوئے۔ حکومت نے اخبارات پر سنسر عائد کر رکھا تھا۔ اس لئے اس کی تفصیل اخبارات میں نہ آسکی۔ البتہ ۲۵؍ جولائی کی شہادت کا ٹربیونل کی طرف سے اخبارات کے لئے یکم ؍ اگست ۱۹۷۴ء کو پریس ریلیز جاری کیا گیا جو یہ ہے۔ ’’واقعہ ربوہ کے ٹربیونل کے سامنے ہفت روزہ چٹان کے مدیر آغا شورش کاشمیری نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب مسٹر بھٹو کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تھی تو قادیانیوں نے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں لیکن وہ برسر اقتدار آئے تو انہوں نے بعض صورتوں میں ان کو مایوس کیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو ان کے اشارے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے ۱۹۷۳ء کے دوران ربوہ میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ جس کی صدارت جماعت احمدیہ کے سربراہ نے کی۔ اس اجلاس میں جماعت کے گیارہ ممتاز احمدیوں نے شرکت کی اور فیصلہ کیا کہ مسٹر بھٹو کو قتل کر دیا جائے ۔ میں نے اس اجلاس کی رپورٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ یہ رپورٹ انٹیلی جنس کے ایک آفیسر نے تیار کی تھی ۔ جب ریٹائرڈ ائیر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی) کو پاک فضائیہ کے کمانڈر انچیف کے عہدے سے ریٹائرڈ کیا گیا تو انہوں نے مسٹر ذوالفقار کی حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ انہوں نے واقعہ ربوہ ایک آزمائشی واقعہ کے طور پر رونما کیا تا کہ وہ اپنے بارے میں حکومت کی رائے اور عام مسلمانوں کا ردعمل معلوم کر سکیں ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ واقعہ ربوہ سے جو افراتفری پیدا ہوگی ۔ اس کے نتیجے میں وہ حکومت کا تختہ الٹ دینے کے قابل ہو جائیں گے ۔ اس سلسلے میں آغا شورش کاشمیری نے ٹربیونل کو اپنی طرف سے شائع کردہ تین پمفلٹ پیش کئے۔ حکیم الامت علامہ اقبال کے اس پمفلٹ کی جانب بھی فاضل ٹربیونل کی توجہ مبذول کرائی جو علامہ اقبال نے غداران اسلام کے عنوان کے تحت شائع کرایا تھا ۔ آغا صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ درست نہیں ہے کہ ان کے ساتھ روسی سفارت خانے کے کسی افسر نے کبھی ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے ساتھ اے. جی عابد نام کے کسی شخص نے کبھی ملاقات کی تھی جو لوگ مجھ سے ملاقات کے لئے آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا نام یاد نہیں ۔ میرے کسی اشتراکی ملک کے کسی سفیر کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں اور فاضل ٹربیونل نے جس بات چیت کا ذکر کیا ہے وہ میرے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان نہیں ہوئی ۔ یہ غلط ہے کہ میں ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان گیا تھا ۔
آغا شورش کاشمیری نے بتایا کہ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو وزیر اعظم کے سیکرٹری مسٹر افضل سعید نے ٹیلیفون پر مجھ سے بات چیت کی تھی اور مجھے وزیر اعظم کا ایک پیغام دیا تھا کہ بعض بیرونی طاقتیں پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ہم سب کو چاہئے کہ ہم داخلی طور پر امن برقرار رکھیں ۔ وزیر اعظم کے سیکرٹری نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ میں ملک کے اندر نظم وضبط برقرار رکھنے میں ان سے تعاون کروں ۔ اس پر جب وزیر اعظم لاہور تشریف لائے تو میں نے ۱۲؍ جون ۱۹۷۴ء کو ان سے ملاقات کی ۔ اس موقعہ پر وزیر اعظم نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نظم وضبط برقرار رکھنے کے لئے اپنا اثر استعمال کروں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میں اپنے حقوق کے لئے آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کروں اور یہ کہ ملک کے نظم وضبط کی صورتحال کو خراب نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا یہ درست ہے کہ ۱۹۷۱ء میں مسٹر ایم ایم احمد قادیانی کے ایک رشتہ دار کے پاس سے وائرلیس ٹرانسمیٹر برآمد ہوا تھا ۔ یہ برآمدگی گلبرگ میں واقع ایک مکان سے ہوئی تھی ۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب میں احمدیوں کے داخلہ پر پابندی عائد ہے ۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲؍اگست ۱۹۷۴ء)
۲۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر ۶۲ ...... محمد عنایت اللہ ولد راجہ لال خاں (ایس. ایچ. او لالیاں)
چوکی پولیس ربوہ میں کل ۱۳؍ افراد متعین ہوتے ہیں ۔ ایک اے. ایس. آئی ، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور گیارہ سپاہی ۔ اگر پولیس ربوہ شہر میں اپنے طور پر گشت کرے تو امور عامہ والے اسے اپنے لئے ہتک سمجھتے ہیں ۔ اس لئے وہ اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ جب ربوہ والے گشت کرتے ہیں تو ان کے پاس ڈنڈے اور ہاکیاں ہوتی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ پولیس آفیسر کسی سمن کی تعمیل بھی ربوہ کے شہریوں پر براہ راست نہیں کراسکتے بلکہ امور عامہ کی معرفت تعمیل کرانی پڑتی ہے ۔ ربوہ والے اس قدر منظم ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مؤثر طور پر عدم تعاون کر سکتے ہیں ۔ ماضی قریب تک یہ کبھی نہیں ہوا کہ ربوہ کا کوئی آدمی چوکی ربوہ یا لالیاں میں براہ راست کوئی شکایت درج کرانے آیا ہو ۔ ربوہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
کے رہائشی صرف امور عامہ کی معرفت رپورٹ درج کراتے ہیں۔ اگر کوئی براہ راست آ جائے تو ربوہ والے اس کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ البتہ مورخہ ۹؍ جون ۱۹۷۴ء کو ایک شخص سردار احمد طالب علم جو محلہ دارالصدر شرقی میں رہتا ہے۔ پولیس چوکی میں آیا اور کسی واقعہ کی رپورٹ درج کرائی۔ چونکہ واقعہ ایسے جرم سے تعلق رکھتا تھا جو نا قابل دست اندازی پولیس تھا۔ اس لئے میں نے کیس درج نہیں کیا بلکہ صرف رپورٹ درج کر دی۔ یہ رپورٹ جو مستغیث نے براہ راست امور عامہ کی مداخلت کے بغیر درج کرائی۔ اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ تھی۔ شکایت ایک شخص مبشر احمد کے خلاف تھی۔ اس کے بعد امور عامہ نے مداخلت کی اور فریقین کی صلح کرا دی۔
مقامی پولیس بغیر اجازت امور عامہ کے کسی فریق تنازعہ یا کسی گواہ سے رابطہ نہیں کر سکتی۔ میرے عرصہ ملازمت بطور ایس ایچ او لالیاں کے دوران مجھے کسی کیس کی ربوہ میں تفتیش کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ البتہ میرے علم کے مطابق جب کبھی میرے کوئی پیش رو براہ راست تفتیش کرنے ربوہ جاتے تو امور عامہ والے حائل ہو جاتے اور تفتیش نہ ہونے دیتے۔ میں نے ۲۸؍ مئی ۱۹۷۴ء کو لالیاں تھانے کا چارج لیا تھا۔ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد میں مسلسل ربوہ میں رہا۔ پچھلے پندرہ دنوں سے میں ربوہ سے واپس لالیاں گیا۔ یہ درست ہے کہ چوکی پولیس ربوہ کی سرگرمیوں کی نگرانی امور عامہ کے سٹاف کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس طرح گویا وہ پولیس کو زیر نگرانی رکھتے ہیں۔ ربوہ شہر میں کسی گورنمنٹ کے محکمے کا ریسٹ ہاؤس نہیں ہے۔ ہماری اپنی انٹیلی جنس ربوہ کے لئے ہے۔ محمد علی سبزی و پھل فروش کے قتل کی رپورٹ پہلے ہی علاقہ مجسٹریٹ کو بھیجی جا چکی ہے۔
مبشر لطیف کی جرح کے جواب میں
مجھے علم نہیں کہ کبھی یہ شکایت پولیس کے حکام بالا کو کی گئی یا نہیں کہ امور عامہ والے پولیس کو ربوہ میں گشت نہیں کرنے دیتے۔ دراصل اگر ہم ربوہ کے رہنے والوں کے فائدے کے لئے Good Faith کوئی انتظام کریں تو ربوہ کی انتظامیہ والے اسے پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے وقار اور رعب میں کمی آجاتی ہے۔ مثلاً ربوہ کے واقعہ کے بعد میں نے ٹیوب ویل پر اس خدشے کے پیش نظر گارد متعین کر دی کہ کہیں کوئی شرارتی آدمی واٹر سپلائی کے نظام کو خراب نہ کر دے۔ اس کا بھی ربوہ کی انتظامیہ نے برا منایا اور عزیز بھانبڑی نے جھوٹی شکایت کی کہ ربوہ والوں کو پانی نہیں مل رہا۔ میں نے واٹر سپلائی والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پانی حسب سابق سپلائی ہو رہا ہے۔ اسی طرح جب ربوہ کے واقعہ کے بعد آس پاس کے دیہات والوں نے دودھ ربوہ میں لانا بند کر دیا تو عزیز بھانبڑی نے مجھ سے کہا کہ تمہارے سپاہیوں نے ہمارا دودھ بند کرا دیا ہے۔ ربوہ کی احمدیہ تنظیم ہر نئے پولیس افسر کو جو ربوہ میں متعین ہوتا ہے۔ ہراساں کرنے کی کوشش کرتی ہے تا کہ وہ مرعوب ہو کر رہیں۔
اگرچہ ربوہ کی پوری آبادی احمدیوں پر مشتمل ہے۔ پھر بھی تمام ربوہ والے احمدیہ انتظامیہ کے تمام افسروں کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن وہ سب ان سے ڈرتے ہیں۔ میں نے اپنی ڈائریوں میں جو میں SP کو بھیجتا ہوں لکھا کہ احمدیہ انتظامیہ پولیس والوں کی ڈیوٹی میں مداخلت کرتی ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ربوہ میں کوئی ہسٹری شیٹ ہے یا نہیں۔
چوہدری عزیز احمد باجوہ کی جرح کے جواب میں
اے ایس آئی ربوہ مجھ سے قریباً دو ماہ قبل تعینات ہوا تھا۔ میں لالیاں آنے سے پہلے لائل پور میں متعین رہا ہوں۔ مسٹر حبیب اللہ خان نائب تحصیل دار لالیاں نے مجھے بتایا تھا کہ غیر احمدیوں کو ربوہ کے بعض مقامات پر جانے نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشکل سے انہیں اس جگہ جانے دیا گیا۔ جہاں ہر سال احمدی اپنا سالانہ جلسہ کرتے ہیں۔
گواہ نمبر ۶۳...... شکیل اختر ہاشمی ولد اکرام الحق ہاشمی (منیجر اورینٹ ایڈورٹائزرز لمیٹڈ تھارلنٹن روڈ لاہور )
میں احمدی نہیں ہوں۔ ہمارا دفتر کراچی میں ہے۔ یہ لمیٹڈ ادارہ ہے۔ مسٹر حسین ہاشمی اس کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ بھی احمدی نہیں ۔ اسلام آباد میں بھی ہماری ایک برانچ ہے۔ مسٹر اے. ایچ علوی اس کے منیجر ہیں۔ وہ بھی غیر احمدی ہیں۔ یہ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے۔ حسین ہاشمی اور ان کے بھائی اس کے مالک ہیں۔ وہ کراچی کے مستقلاً رہنے والے ہیں۔ میں نے اشتہارات EXC-70-78 دیکھے ہیں ۔ جو مشرق میں شائع ہوئے ہیں۔ ہم نے ان کا متن ٹیلیفون کے ذریعے اسلام آباد سے حاصل کیا تھا۔ چونکہ ہم نے اسلام آباد برانچ کے لئے یہ اشتہار چھپوایا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ پارٹی اشتہار چھپوانے والی کون ہے۔ مجھے انجمن فدایان رسول لاہور کا ذاتی علم نہیں ہے۔
میں نے ون نقل EXE-72 دیکھ لی ہے۔ جس کے ذریعے ہم نے اخبار کو ہدایت کی تھی کہ اورینٹ ایڈورٹائزر کا نام اشتہار میں نہ شائع کریں۔ کیونکہ اشتہار ہمیں اسلام آباد سے ملا تھا اور ہمیں اسلام آباد سے کوئی ہدایات نہ تھیں کہ کمپنی کا نام شائع ہونا چاہئے یا نہیں۔ بعض کیسز میں ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا نام اخبارات میں شائع ہو جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس کا شائع ہونا ہمارے مفاد کے خلاف ہے۔ ہم بعض اوقات Rival اداروں کا کام کرتے ہیں اور بعض پارٹیاں نہیں چاہتیں کہ ہم ان کے مخالفین کا کام بھی کریں۔ اسی طرح جب کسی اشتہار میں کوئی شخصیت ملوث ہوتی ہے ہم کمپنی کا نام نہیں شائع ہونے دیتے۔ تاکہ وہ شخصیت ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ اس اشتہار کے بل کی ادائیگی اسلام آباد برانچ نے کی تھی۔ لاہور برانچ نے صرف اشتہار اخبارات کو شائع کے لئے دیا تھا۔
گواہ نمبر ۶۴...... صابر حسن علوی ولد محمد احسن علوی (منیجر اسلام آباد برانچ ، اورینٹ ایڈورٹائزرز لمیٹڈ )
میں احمدی نہیں ہوں۔ میں نے اشتہارات EXE-70-80 کے مختلف اخبارات میں شائع کرنے کے آرڈر دیئے تھے۔ مقامی اخبارات راولپنڈی کو میں نے خود آرڈر دیا تھا۔ دوسرے اخبارات کے لئے میں نے ہیڈ آفس کراچی اور دوسری برانچوں کو ٹیلیفون پر رابطہ قائم کر کے کہا تھا کہ مختلف اخبارات میں اشتہارات بھجوا دیں۔ یہ اشتہار بک کرانے کے لئے پانچ حضرات میرے پاس آئے۔ انہوں نے کچھ رعایت کرانا چاہی۔ اشتہارات ایک لاکھ روپے کے تھے۔ میں نے پانچ فیصد رعایت پوری قیمت پر دی۔ میں نہیں جانتا کہ کوئی انجمن در اصل انجمن فدایان رسول کے نام سے موجود ہے یا نہیں۔ چونکہ اس کیس میں موکل پرائیویٹ پارٹی تھی۔ اس لئے میں نے نقد ادائیگی کرانی چاہی۔ اس لئے انہوں نے مجھے نقد ادائیگی کی۔ میرے آٹھ سالہ تجربے بطور منیجر کے سب سے بڑی نقد ادائیگی جو اس سے پہلے مجھے ملی وہ ستر ہزار روپے تھی۔ پہلی قسط مجھے ۳؍ جولائی کو ادا ہوئی تھی۔ دوسری ۵؍ جولائی کو۔ دونوں قسطیں حاجی غلام رسول پراپیگنڈا سیکرٹری نے ادا کی تھیں۔ پارٹی نے مجھے جو ہدایات تحریری طور پر دی تھیں وہ حاجی غلام رسول پراپیگنڈا سیکرٹری کے ہاتھ کی ہیں اور اس کے دستخط ثبت ہیں۔ حاجی غلام رسول پھر مجھے ۷؍ جولائی کو ملے تا کہ حساب صاف کر دیں۔ اس کے بعد وہ نہیں ملے۔ وہ آخری ملاقات تھی۔ میں ان کو سامنے آنے پر پہچان سکتا ہوں۔ ان کی تصویر اگر مجھے دکھائی جائے تو میں پہچان سکتا ہوں۔ (دس بج کر بیس منٹ پر وقفہ ...... ۱۱ بجے )
گواہ نمبر ۶۵....... عطاء الحق ولد چوہدری محمد عبداللہ (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ، ۴ مزنگ روڈ لاہور)
میں احمدی نہیں ہوں ۔ ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو میں لائل پور ریلوے اسٹیشن پر تھا تا کہ چناب ایکسپریس کے ذریعے لائل پور سے ٹوبہ ٹیک سنگھ جاؤں ۔ اس گاڑی کا معمول کے مطابق لائل پور سے روانگی کا وقت سوا گیارہ بجے قبل دوپہر ہے۔ مگر وہ گاڑی سوا بارہ سے ساڑھے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بارہ بجے کے درمیان آئی۔ پلیٹ فارم پر مسافروں کی تعداد اس دن کم تھی۔ عام معمول کے مطابق مسافروں کی تعداد سے کم۔ غالباً اس لئے کہ گاڑی لیٹ تھی اور کچھ مسافر بذریعہ بس چلے گئے۔ گاڑی کے آنے پر میں سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں سوار ہوا۔ کیونکہ میرے پاس سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ وہاں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی۔ جب میں نے پلیٹ فارم پر شور سنا تو میں نیچے اتر آیا۔ میں نے دیکھا کہ پلیٹ فارم پر بیس، پچیس نوجوان طلباء زخمی حالت میں تھے۔ ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ان کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر بری طرح پیٹا گیا تھا اور کسی نے انہیں نہ چھڑایا۔ ایک لڑکے نے اپنی پھٹی ہوئی قمیص اٹھا کر اپنے جسم پر زخموں کے نشانات دکھائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسے Stick یا لوہے کی سلاخوں سے مارا گیا تھا۔ جب مجھے ایئرکنڈیشنڈ کوچ سے دو مسافر باہر نکلتے نظر آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ ربوہ میں کیا ہوا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کے ساتھ متعلقہ طلباء بوگی پر ربوہ میں حملہ ہوا تھا اور انہیں بری طرح پیٹا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چند طلباء کو انہوں نے اپنے ڈبے میں چھپا لیا اور حملہ آوروں سے قسمیں کھا کر کہا کہ وہاں کوئی طالب علم نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے طلباء کو لیٹرین میں چھپا لیا تھا۔
میرے پوچھنے پر دو طلباء نے حملے کی تفصیلات بتائیں اور اس سے قبل کے وقعہ کے بارے میں کچھ طلباء نے اسٹیشن کے پبلک ایڈریس سسٹم والا مائیکروفون استعمال کیا اور واقعہ بتایا۔ آدھ گھنٹہ بعد مقامی طلباء اسٹیشن پر آ گئے اور پولیس بھی پندرہ بیس منٹ بعد از آمد ٹرین آ گئی تھی۔ نشتر کالج کے زخمی طلباء نے لاؤڈسپیکر پر اعلان کیا کہ ہم گاڑی نہیں چلنے دیں گے۔ جب تک ہماری شکایات کی تلافی نہ کی جائے۔ گاڑی لائل پور سے سوا دو بجے یا اڑھائی بجے چلی تھی۔ میں اس گاڑی کے ذریعے لائل پور سے ٹوبہ ٹیک سنگھ گیا تھا۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر تھی تو شہر سے کوئی آدمی ماسوائے بیس، پچیس مقامی طلباء اور پولیس کے پلیٹ فارم پر نہ آئے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ڈی سی اور ایس۔پی لائل پور بھی اسٹیشن پر آ گئے تھے۔ میں نے خود کسی مولوی یا مولانا صاحب کو اسٹیشن پر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے ایسے کسی صاحب کو تقریر کرتے نہ سنا۔ میں نے کسی فرسٹ کلاس کے مسافر کو پیٹے جاتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ نشتر کالج کے لڑکے بہت خوفزدہ اور دہشت زدہ تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے بعض ابھی تک گاڑی میں سوار ہیں۔ جب میں گاڑی کے آنے سے پہلے ریفریشمنٹ روم میں تھا تو میں نے کئی نوجوانوں کو وہاں بیٹھے دیکھا۔ گاڑی کے آنے پر انہوں نے زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی۔
میں ۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۳ء تک لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کا لیگل ایڈوائزر تھا۔ میں سابق فوجی ہوں۔ مجھے کنٹونمنٹ بورڈ کا مشیر قانونی ڈسٹرکٹ آرمڈ سروسز بورڈ لاہور کی سفارش پر رکھا گیا۔ پہلے سال بطور آزمائش مجھے ۱۵۰ روپے ماہوار پر بطور جزوقتی مشیر قانون مقرر کیا گیا اور ۱۹۷۳ء میں بشمول فیس منشی ۳۸۰ روپے ماہوار لیتا تھا۔ بورڈ کے ساتھ میرا معاہدہ ۱۹۶۹ء میں ختم ہونے والا تھا۔ اس کے بعد اشتہار دیا گیا۔ اس اشتہار کے جواب میں ایک شخص محمد رشید احمد نے بھی درخواست دی تھی۔ زبانی انٹرویو کے بعد مجھے منتخب کر لیا گیا اور محمد رشید احمد کو دوسرے کئی امیدواروں کے ساتھ مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد بورڈ نے چار سال کے لئے مجھے مشیر قانونی مقرر کیا یہ میعاد ۲۲؍ مارچ ۱۹۷۳ء کو ختم ہو گئی۔ اس سے قبل آفس نوٹ Put Up کیا گیا کہ لیگل ایڈوائزر کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔ اس لئے میعاد کی تجدید کی جائے۔ پریذیڈنٹ کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس میرے کیس پیش ہونے سے پہلے مسٹر محمد رشید احمد ایڈووکیٹ کی درخواست بریگیڈئیر محمد شریف نے دلا دی۔ دونوں مرزائی ہیں۔ مسٹر محمد سعید احمد جو رشید احمد کے بھائی ہیں۔ ان دنوں ایم۔ای۔ایس لاہور میں پراجیکٹ انجینئر تھے۔ کرنل مسعود قمر جو بورڈ کے صدر ہیں ان دنوں بھی وہ صدر تھے۔ کرنل مسعود احمدی نہیں ہیں۔ البتہ بریگیڈئیر محمد شریف جو لاگ ایریا کمانڈر تھے، کے اثر کی وجہ سے کرنل قمر نے محمد رشید احمد کو لیگل ایڈوائزر مقرر کیا۔ اگر ان کا کوئی انٹرویو لیا گیا تو وہ اسٹیشن ہیڈ کوارٹر میں لیا گیا۔ ان کی درخواست پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر میں غور نہ ہوا۔ اس لئے یہ بات واضح ہے کہ ایک سینئر آرمی آفیسر کے لیگل ایڈوائزر کے تقرر کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا گیا۔ کیونکہ وہ دونوں احمدی ہیں۔
مجھ سے پہلے شیخ محمد لطیف لیگل ایڈوائزر تھے۔ وہ بھی احمدی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس کی بطور وکیل سٹینڈنگ تین سال سے زائد تھی۔ مجھے ان کی جگہ آرمڈ سروسز بورڈ کی سفارش پر مقرر کیا گیا تھا۔ میں سابق صوبیدار ہوں۔ مسٹر رشید احمد کے تقرر کے ایک ماہ کے اندر میں نے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالمجید سے انٹرویو مانگا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ احمدی ہیں۔ انہوں نے بطور سابقہ فوجی مجھے انٹرویو نہ دیا۔ اس تقرر کے سلسلے میں میرے معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ انہوں نے مداخلت نہ کی۔ اس لئے میں انہیں احمدی سمجھتا ہوں۔ اگرچہ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ احمدی نہیں ہیں۔
نوٹ: لیگل ایڈوائزر کے تقرر کے متعلق فائل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر رشید احمد انٹرویو کے لئے صدر کنٹونمنٹ بورڈ کے سامنے پیش نہ ہوئے جب کہ انہیں پیش ہونا چاہئے تھا۔ یعنی ۱۰ بجے۔ لیکن ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسٹیشن ہیڈکوارٹر میں ۸ بجے صبح کی بجائے ساڑھے دس بجے پیش ہوئے۔ اسٹیشن کمانڈر صدر کنٹونمنٹ بورڈ بلحاظ عہدہ ہوتا ہے۔ آخری فیصلہ کرنے سے قبل صدر پہلے مشیر قانونی یعنی میاں عطاء الحق ایڈووکیٹ کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس رپورٹ کو دیکھ کر مسٹر عطاء الحق کی مدت میں توسیع نہ کی گئی۔ ان کی جگہ رشید احمد کو مقرر کیا گیا۔ اس کے لئے کوئی خاص وجہ ظاہر نہ کی گئی۔ میری ملازمت کے ختم ہونے کے بعد مجھے احمدیہ لٹریچر ملنا شروع ہوا۔ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے اس لٹریچر کے موصول ہونے سے میرا خیال ہے کہ اگر میں احمدیت قبول کرلوں تو مجھے لیگل ایڈوائزر مقرر کر دیا جائے گا۔
۲۹ / جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
شیخ ادریس احمد صاحب ایڈووکیٹ نے سید ابوذر بخاری امیر مجلس احرار اسلام کی طرف سے وکالت نامہ پیش کیا۔
گواہ نمبر ۶۶...... مقصود احمد ولد محمد، قوم گوڑھ (سبزی فروش ساکن رحمت بازار ربوہ)
میں احمدی ہوں۔ مجھے ۲۲/ مئی کے واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے۔ ۲۹/ مئی کو صبح کے وقت میں اپنی دوکان واقع رحمت بازار میں سبزی فروخت کر رہا تھا کہ اس وقت پشاور سے آنے والی چناب ایکسپریس ربوہ اسٹیشن پر پہنچی۔ ریلوے لائن اور اسٹیشن رحمت بازار کے بہت قریب ہے۔ جب گاڑی اسٹیشن پر پہنچی تو ہم نے بہت شور سنا۔ اس وقت کچھ گاہک میری دوکان سے سبزی خرید رہے تھے۔ وہ شور سن کر اسٹیشن کی طرف دوڑے۔ میں بھی ان کے پیچھے ڈنڈے لے کر بھاگا۔ ڈنڈا ایک چھڑی اور اس کے سرے پر بندھے ہوئے کپڑے پر مشتمل تھا۔ میں ریلوے لائن پر اسٹیشن کے مغربی جانب پہنچا جو بوگی پیچھے سے تیسری تھی۔ پلیٹ فارم سے نیچے تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو سات، آٹھ طلباء نیچے اترے اور حوریں طلب کیں۔ انہوں نے گالیاں دینی شروع کر دیں۔ اس پر میں ان کے ساتھ جھگڑ پڑا۔ ایک طالب علم نے مجھے منہ پر مکا مارا۔ اس پر میں نے لڑکوں کو اس ڈنڈے سے مارنا شروع کیا جو میرے پاس تھا۔ اس پر چند طلباء بوگی سے آگئے اور اس لڑکے کو چھڑایا جس کو میں مار رہا تھا۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں سوار ہو گئے اور مجھے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے کہاں سے یہ پتھر جمع کر لئے تھے۔ اس کے جواب میں، میں نے بھی پتھر گاڑی پر مارے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ اس وقت ہم وہاں دس افراد تھے۔ وہ زیادہ تر ربوہ کے دوکاندار اور گاہک تھے۔ چوہدری بشیر احمد نے ہمیں وہاں سے ہٹایا اور بوگی سے پیچھے دھکیل دیا تاکہ طلباء کو بچائیں۔ ان کے کہنے پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم نے لڑائی بند کردی۔ اس کے بعد انہوں نے عورتوں اور بچوں کے لئے پانی منگوایا جو دوسری بوگی میں تھے۔ طلباء نے ہم پر کراکری کا کچھ سامان پھینکا۔ ہم میں سے کوئی بھی زخمی نہ ہوا۔ لیکن کراکری ٹوٹ گئی۔ ہم نے ٹوٹے ہوئے برتن اٹھائے اور پلیٹ فارم پر رکھ دیئے۔
اس پر میں واپس اپنی دوکان پر آ گیا اور گاڑی چل دی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ پلیٹ فارم پر کتنے لوگ تھے۔ میں پلیٹ فارم پر نہ دیکھ سکا۔ کیونکہ اسٹیشن کی دیوار میرے اور پلیٹ فارم پر موجود لوگوں کے درمیان حائل تھی۔ میرے ساتھ جو اور دوکاندار اسٹیشن پر گئے تھے وہ بشارت اور محمد خان ہیں۔ میں دوسرے گاہکوں کا نام نہیں جانتا جو اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ یہ درست نہیں کہ مجھے کسی نے کہا تھا کہ اس دن اسٹیشن پر جاؤں اور جماعت کی توہین کا بدلہ لوں جو نشتر کالج والوں نے کی تھی۔ مجھے ۳۰؍مئی کو ساڑھے پانچ بجے صبح گرفتار کیا گیا تھا۔ جب میں دوکان کھولنے والا تھا مجھے صدر عمومی نے امور عامہ کے دفتر میں پہلی رات عشاء کے وقت بلایا تھا۔ مگر میں وہاں نہ گیا۔ ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء کو پانچ بجے شام مجھے جوڈیشل حوالات سرگودھا جیل میں رکھا گیا۔ اس وقت سے مجھے کوئی آدمی ملنے نہ آیا۔ سوائے خواجہ سرفراز احمد ایڈووکیٹ کے جو چار دن پہلے آئے۔ وہ ان کے نام جاننا چاہتے تھے جنہوں نے طلباء کی بوگی کے سامنے ربوہ اسٹیشن پر لڑائی کی تھی۔ میں ان میں سے ایک تھا جنہوں نے ایڈووکیٹ کے کہنے پر اپنا نام لکھوایا۔ چوہدری بشیر احمد صدر عمومی مجھے چہرے سے جانتے ہوں گے۔ البتہ میں ان کو جانتا ہوں۔ میں نے اسٹیشن پر امور عامہ کے شعبے کا اور کوئی آدمی ریلوے اسٹیشن پر نہ دیکھا سوائے صدر عمومی کے۔ میں خدام الاحمدیہ کا رکن ہوں۔ میری کبھی کبھی اپنے محلے میں پہرے کے سلسلے میں ڈیوٹی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ میری کوئی اور ڈیوٹی نہیں لگی۔ البتہ کبھی کبھی مجھے بسلسلہ وقار عمل سکیم سوشل ورک کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔ میں جھاڑن، اسٹیشن پر کسی خاص مقصد کے لئے نہیں لے کر گیا تھا۔ جب میں اسٹیشن پر گیا اس وقت چھاڑن میرے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے میں اسے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا۔ بشارت کے ہاتھ میں ایک جھاڑن تھا۔ محمد خاں خالی ہاتھ تھا۔ وہ معذور انسان ہے۔ کیونکہ ایک ٹانگ سے لنگڑا ہے۔ میں نے دوسرے دس آدمیوں میں سے کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں دیکھا تھا۔ میں لڑائی میں اس قدر ملوث تھا کہ میں نے دوسری طرف نہ دیکھا۔ رحمت بازار میں سبزی کی چار دوکانیں ہیں۔ ایک میری، ایک بشارت کی اور دو دوسری دوکانیں ہیں۔ میں نے مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ کو رحمت بازار میں گاڑی کے آنے سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔
ایم۔اے طاہر کی جرح کے جواب میں
میں پیدائشی احمدی ہوں اور احمدیوں کی تیسری نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔ صدر عمومی کے پاس ایک بہت چھوٹی سی چھڑی تھی جب وہ وہاں آئے تھے۔ میں سات آٹھ منٹ تک طلباء سے لڑتا رہا۔ پہرے کی ڈیوٹی پر ہم کوئی اسلحہ اپنے پاس نہیں رکھتے۔ البتہ مستقل گارڈ جن کو ماہوار تنخواہ ملتی ہے۔ ان کے پاس کلہاڑی ہوتی ہے۔ چونکہ ہمارا مذہب ایک ہے اور اس لئے ہم ربوہ انتظامیہ کے ڈسپلن کے تابع ہیں اور صدر عمومی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ میں نے صرف ایک طالب علم کو زخمی کیا۔ میری چھڑی اس کے سر پر پڑی۔ میں نے سات پتھر گاڑی پر مارے تھے۔ جن سے ایک شیشہ کھڑکی کا اور ایک شٹر ٹوٹا۔ صدر عمومی نے طلباء سے پتھر گاڑی سے باہر پھنکوائے تھے۔ اس وقت صدر عمومی بوگی کی سیڑھیوں پر چڑھے تھے۔ ربوہ کا کوئی آدمی زخمی نہ ہوا تھا۔ ایک لڑکے کے سر پر ۲۲ یا ۲۹؍مئی کو چوٹ لگی تھی۔ اس کا نام ادریس ہے۔
گواہ نمبر ۲۷...... بشارت احمد ولد عبداللہ خان (زیر حراست) دوکاندار سبزی فروش رحمت بازار ربوہ باقرار صالح
(وضاحت کی گئی کہ بیان گواہ کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا)
میں احمدی ہوں۔ (گواہ کا بیان گیارہ بجے لکھا جائے گا)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹریبیونل: مرزا ناصر پر جرح کے سوالات بنائے گئے ہیں۔ ایک سوال نامہ آج مسٹر خاقان بابر نے دیا ہے؟ ان کو سرسری دیکھا ہے۔ بعد میں دقت نظر سے مطالعہ کیا جائے گا۔ کسی سوال نامہ کے بغیر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان کو دوبارہ طلب کیا جائے۔ مرزا ناصر احمد کا بیان Director Public Relation کو AAG کے ذریعے دیا گیا ہے۔ وہ چاہیں تو پورا بیان شائع کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے گواہوں کے بیانات بھی شائع کئے جاسکتے ہیں۔ جن کے بیان بند کمرے میں ہوئے تھے۔ مسٹر کرم الٰہی بھٹی نے سوال نامہ دیا۔
ساڑھے دس بجے وقفہ ...... گیارہ بجے تک۔
بشارت احمد باقرار صالح۔ میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرا باپ اور دادا بھی احمدی ہیں۔ ۲۵، ۲۶؍مئی کو مجھے ۲۲؍مئی کو ربوہ اسٹیشن پر ہونے والے واقعہ کا علم ہوا۔ میرا ذریعہ علم کچھ بچے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء نے ربوہ اسٹیشن پر گزرتے ہوئے نعرے لگائے۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کیا۔ نہ ہی کسی نے اس کے بارے میں مجھے کچھ کہا۔
۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو میں اپنی دوکان واقع رحمت بازار پر تھا۔ جب چناب ایکسپریس سگنل پر آئی تو میں نے ٹرین سے اینٹی احمدیہ نعرے سنے۔ نعرے سن کر میری دوکان کے گاہک اسٹیشن پر چلے گئے۔ میں بھی ان کے پیچھے گیا۔ میں اپنے ساتھ ایک چھڑی لے گیا جس کو جھاڑن کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ جب گاڑی ٹھہری تو طلباء کی بوگی گاڑی کے آخر میں پلیٹ فارم سے پرے تھی۔ کچھ طلباء نیچے اترے۔ ہم طلباء کی بوگی کے سامنے زمین پر تین آدمی ہی کھڑے تھے اور کوئی نہ تھا۔ وہ طلباء جو بوگی سے آئے تھے وہ تعداد میں سات آٹھ تھے۔ جو طلباء گاڑی کے اندر تھے انہوں نے پتھر پھینکے۔ ہم نے ان کو جھاڑن سے مارا۔ ہم نے دو، تین ضربات پہنچائیں۔ سات، آٹھ منٹ بعد چوہدری بشیر احمد صدر عمومی آگئے۔ میرے ساتھ جو دو آدمی اور تھے وہ مقصود اور محمد خان تھے۔ گاڑی پہلے چل چکی تھی۔ جب ہم اپنی دوکانوں پر آئے مجھے کوئی قابل ذکر چوٹ نہ آئی۔ میں نے کسی طالب علم کو کوئی چوٹ لگی ہوئی نہ دیکھی۔ ہم میں سے کوئی بوگی کے اندر نہ گیا۔ در حقیقت کوئی شخص گاڑی کے باہر سے طلباء کی بوگی کے اندر نہ گیا۔ کچھ بچے جو قریب سے گزر رہے تھے وہاں آگئے اور طلباء کی بوگی پر پتھر پھینکے۔ جس کے نتیجے میں کچھ شیشے اور Shutter ٹوٹ گئے۔ بچے دس بارہ کی تعداد میں تھے اور ۹ ، ۱۰ سال کی عمر کے تھے۔ میں چوہدری بشیر احمد صدر عمومی کو چہرے سے پہچان سکتا ہوں۔ لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھے پہچانتے ہیں یا جانتے ہیں۔
مجھے واقعہ کے بعد کسی نے کسی جگہ نہ بلایا۔ میں ۳۰؍مئی کو صبح ۵ بجے اپنی دوکان کھولتے ہوئے گرفتار ہوا۔ میں ۲۹؍مئی کو مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ کو رحمت بازار میں گاڑی کے اسٹیشن پر آنے سے پہلے نہ دیکھا تھا۔ میں خدام الاحمدیہ کا رکن ہوں۔ میری کبھی کوئی ڈیوٹی بطور رکن خدام الاحمدیہ نہیں لگی۔ چوہدری بشیر احمد، شاید ہمارے پہنچنے سے پہلے اسٹیشن پر موجود تھے۔ مگر وہ اس وقت پلیٹ فارم پر تھے۔ وہ ہماری گاڑی پہنچنے کے بعد آئے تھے۔ میں نے اس دن مسٹر رشید احمد کارکن امور عامہ کو اسٹیشن پر نہ دیکھا تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ رشید احمد میرے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔ میری شکایت کبھی امور عامہ یا پولیس میں نہیں ہوئی۔ میرا ریکارڈ صاف ہے۔ میں مسٹر رشید احمد جونیئر کو جانتا ہوں۔ پلیٹ فارم پر اس وقت چالیس پچاس آدمی ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ مسٹر بشیر احمد نے بوگی کے اندر طلباء کو کہا ہو کہ پتھر پھینک دو جو ان کے پاس بوگی کے اندر تھے۔ میں نے مسٹر بشیر احمد کو یہ ہدایت کرتے ہوئے نہ دیکھا۔
میں نے پلیٹ فارم پر ملک نصیر احمد طالب علم ٹی آئی کالج اور ہائی سکول کے ایک ماسٹر صاحب کو بھی دیکھا تھا۔ پلیٹ فارم پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موجود کسی آدمی کے ہاتھ میں کوئی چیز نہ تھی۔ وہ سب خالی ہاتھ تھے۔ میں نے گاڑی کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ نہ ہی مسٹر مقصود احمد گواہ نے کوئی نقصان پہنچایا۔ دو تین ماہ میں میری دو تین رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔ میں کسی وکیل صاحب سے نہیں ملا ہوں۔ ٹریبونل نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو یہ ہدایت کی کہ تفتیشی افسر اور جیل کے سپرنٹنڈنٹ انفرادی طور پر کوشش کریں کہ سرگودھا جیل میں اگر کوئی ملزم آزادانہ شہادت دینا چاہیں تو شہادت کے لئے آئیں۔
گواہ نمبر ۶۸...... خان لطیف غزنوی ولد نیک محمد خان غزنوی
(انٹرنیشنل ہاکی امپائر، محلہ دارالرحمٰن وسطیٰ غزنوی ہاؤس ربوہ، عمر ۳۷ سال، باقرار صالح) میرے والدین احمدی ہوئے تھے۔ میں پیدائشی احمدی ہوں۔ میرے دادا احمدی نہ تھے اور میرے والد کے کوئی اور رشتہ دار احمدی نہیں۔ میرے ننھیال کے کچھ رشتہ دار احمدی ہیں۔ میرے والد غالباً ۱۹۰۸ء میں احمدی ہوئے تھے۔ انہوں نے احمدیت پہلے خلیفہ حکیم نورالدین کے ہاتھ پر قبول کی تھی۔ میں ضلع ہاکی ایسوسی ایشن جھنگ کا سیکرٹری اور سرگودھا ڈویژنل (زونل) ہاکی ایسوسی ایشن کا اسسٹنٹ سیکرٹری ہوں۔ جس کا دفتر لائل پور میں ہے۔ ۲۰ سے ۲۵ مئی ۱۹۷۴ء تک میں جھنگ میں ضلعی ہاکی چمپئن شپ کراتا رہا۔ ۲۶ مئی کو ربوہ آیا۔ حسابات تیار کئے اور ۲۹ مئی کو اپنے ایک کزن منظور خان کے ہمراہ جھنگ بس کے ذریعے پہنچ گیا۔ ہم سات، آٹھ بجے صبح ربوہ سے چلے تھے۔ ساڑھے گیارہ بجے جھنگ پہنچ گئے۔ ہم نے وہ دن جھنگ میں گزارا۔ ہم اس دن جھنگ کے ڈسٹرکٹ سپورٹس آرگنائزر ملک فیاض کو دفتر میں نہ مل سکے۔ البتہ ہم ایک دوست چوہدری مختار احمد مقامی زمیندار (احمدی) کو ملے۔ ہم نے دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ کھایا تھا۔ (چوہدری مختار احمد کے ساتھ) ربوہ واپس آنے پر مجھے پتہ چلا کہ اسٹیشن پر میڈیکل کالج کے طلباء سے کوئی جھگڑا ہوا تھا۔ میں شام کو ہاکی لے کر گورنمنٹ تعلیم الاسلام سکول کی طرف چلا، جہاں میں طلباء کو ہاکی کھیلنا سکھاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا کہ جھنگ کے ڈی سی اسٹیشن پر موجود ہیں۔ میں ان ڈی سی کو ملنا چاہتا تھا مگر مل نہ سکا۔ اس کے بعد میں سکول کی گراؤنڈ میں چلا گیا۔ وہاں سے شام کو اپنے گھر چلا گیا۔ اس کے بعد میں ۱۸ جون تک ربوہ میں رہا۔ اس کے بعد ایبٹ آباد میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کیمپ میں چلا گیا۔ ۲۸ جون تک ایبٹ آباد میں رہا۔ مجھے وہیں پتہ چلا کہ میں پولیس کو ربوہ کے وقوعہ کے سلسلے میں مطلوب ہوں۔ میرے معلوم کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ میرا نام امور عامہ کے دفتر سے پولیس کو دیا گیا۔ مجھے شک ہے کہ میرا نام عبدالعزیز محتسب یا ان کے کسی ساتھی نے دیا۔
میں نے ۲۴ جولائی کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دی۔ ۲۵ جولائی کو میری ضمانت عبوری ہو گئی۔ میرے دادا امیر احمد خان، غزنی کے سابق گورنر رہے ہیں۔ ہمارے خاندانی نسب کی وجہ سے امام احمدیہ، میرے والد اور پورے خاندان کی بہت عزت کرتے تھے۔ اس وجہ سے مسٹر عبدالعزیز بھانبڑی اور ان کے ساتھی میرے والد سے حسد کرتے تھے۔ مگر ان کی زندگی میں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ ان کی وفات کے بعد وہ سازشیں کرتے رہے۔ میرا یقین ہے کہ میرا نام مسٹر بھانبڑی یا ان کے ساتھیوں نے دیا۔ مسٹر عبدالعزیز امور عامہ میں محتسب ہیں اور وہ شعبہ امور عامہ میں تمام پولیس Cases کو Deal کرتے ہیں اور پولیس ان کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اسی طرح میرے بھائی شمیم غزنوی بھی ۲۹ مئی کو ربوہ سے باہر تھے۔ وہ ۲۶ مئی کو ربوہ سے کاکول گئے تھے اور ہمارے بہنوئی میجر نصیر احمد کے پاس ٹھہرے تھے جو وہاں PMA میں رہ چکے ہیں۔ وہ ربوہ نہ گئے۔ ۲۵ جولائی تک میرے ساتھ ان کی ضمانت عبوری ہوئی۔ میرے بہنوئی نصیر احمد ہیں۔ میرے بھائی کا نام بھی مجرموں میں مسٹر عبدالعزیز بھانبڑی یا ان کے ساتھیوں نے غلط طور پر دیا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مارچ ۱۹۷۲ء میں میں نے سرگودھا انٹر ڈسٹرکٹ ہاکی چیمپئن شپ کا انتظام ربوہ میں کیا۔ اس سے قبل میں نے سرگودھا زون کے سیکرٹری چوہدری ایم ارشد سے اجازت لی تھی۔ میں نے ڈی سی جھنگ سے بھی اجازت لی تھی۔ جنہوں نے زونل ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر اخراجات دینے ہوتے ہیں۔ میں نے ربوہ کالج کے پرنسپل سے گراؤنڈ استعمال کرنے کی اجازت حاصل کر لی تھی۔ مگر ایک دن قبل میں نے دیکھا کہ گراؤنڈ میں پانی لگا دیا گیا۔ اسی شام مجھے عبدالعزیز بھانبڑی نے بلایا جس نے بہت ترشی سے مجھ سے بات کی اور مجھے کہا کہ پہلے امور عامہ کی اجازت حاصل کروں پھر ٹورنامنٹ کراؤں۔ میں ناظر امور عامہ ظہور احمد باجوہ سے ملا۔ وہ بہت ناراض معلوم ہوتے تھے کہ میں نے ان کی اجازت کیوں نہ پہلے حاصل کر لی اور ربوہ میں پوسٹر کیوں لگوائے۔ انہوں نے مجھے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں مجھے ٹورنامنٹ کینسل کرنا پڑا اور بڑی ندامت کے ساتھ سب لوگوں کو اطلاع دی۔ چوہدری محمد ارشد زونل سیکرٹری نے خلیفہ صاحب سے اس مقصد کے لئے فون پر رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر پرائیویٹ سیکرٹری نے ٹال دیا اور خلیفہ صاحب سے بات نہ کرنے دی۔ چوہدری ایم ارشد احمدی نہیں ہیں۔ میں دسمبر ۱۹۷۱ء تک ٹرانسپورٹر رہا ہوں اس کے بعد میرا اپنا کوئی کاروبار نہیں ہے۔ لیکن میں انٹرنیشنل ہاکی امپائر ہوں۔
۱۹۷۱ء میں امور عامہ کے افسروں نے میرے ہمسائے ملک فتح محمد سے میرے خلاف پولیس کو جھوٹی درخواست دلائی جس میں الزام یہ تھا کہ جب انہوں نے مجھے بلیک آؤٹ کی وجہ سے بتی بند کرنے کے لئے کہا تو میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ملک فتح محمد سے جھگڑا کیا۔ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ اس لئے پولیس نے میرے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ ملک فتح محمد کی میرے ساتھ کوئی دشمنی نہ تھی۔ اس لئے امور عامہ نے پورا کیس میرے خلاف دشمنی کی وجہ سے بنوایا۔ میں ۲۵؍ جولائی کو ضمانت دے کر ربوہ چلا گیا تھا۔ آج میں وہاں سے آیا ہوں۔ اس عرصے میں کسی نے مجھے ربوہ میں تنگ نہ کیا۔ اس عدالت کا سمن ایک کانسٹیبل جو چوکی ربوہ کا ہے، لایا تھا۔ ہر کیس میں خواہ وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو امور عامہ کے افسر اپنی تحقیقات خود کرتے ہیں۔ وہ ایسے اشخاص پولیس کے حوالے کرتے ہیں جن کو وہ تحفظ نہیں دینا چاہتے۔ جن کو وہ تحفظ دینا چاہتے ہوں وہ پولیس کے حوالے نہیں کرتے۔ امور عامہ کے بغیر پولیس کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔
امور عامہ کے افسر احمدیہ تنظیم میں اپنے عہدوں کا ناجائز مفاد اٹھاتے ہیں اور وہ اپنی پوزیشن کا غلط استعمال اپنے ذاتی عناد کے لئے افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ایسا کرنے میں جماعت کی ہدایات ان کو حاصل نہیں ہوتیں۔ ۱۹۷۲ء میں جب میں نے انٹر ڈسٹرکٹ چیمپئن شپ کی تنسیخ کے خلاف احتجاج کیا تھا تو خلیفہ صاحب نے صدر عمومی کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ انہوں نے کامیابی کے ساتھ اس کا انتظام نہ کیا۔ انہوں نے صرف محلہ دار ٹیموں کی ایک ٹورنامنٹ کرائی تھی۔ خلیفہ صاحب خود Sports Man رہے ہیں۔ اس لئے وہ کھیلوں میں بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔ مگر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ احمدیہ تنظیم کے افسر جو سپورٹس سے متعلق نہیں اور امور عامہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ ان کو سپورٹس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنے دیتے۔ وہاں دو آل پاکستان ٹورنامنٹ کبڈی اور باسکٹ بال کے ربوہ میں ہوئے ہیں۔ لیکن ہاکی جو نیشنل گیم ہے، اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ میرے علاوہ عالمی شہرت کا ایک اور سپورٹس مین مسٹر نیاز احمد باسکٹ بال کا کھلاڑی ہے، وہ سپورٹس کمیٹی کا بھی رکن ہے۔ میں نے خلیفہ صاحب کو اپنے اور اپنے بھائی کو غلط طور پر ربوہ کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کے خلاف کوئی شکایت نہ کی۔ کیونکہ میں براہ راست شکایت نہیں کر سکتا۔ تمام شکایات صرف امور عامہ اور پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعے کی جاتی ہیں۔
گواہ نمبر ۶۹ ...... محمد انور لودھی ولد محمد افضل خان لودھی، ریلوے گارڈ لائل پور ہیڈ کوارٹر، ۲۶۱- ریلوے کالونی لائل پور
میں احمدی نہیں ہوں۔ میری ۱۶ سال کی سروس ہے۔ ۳۱؍ مئی ۱۹۵۹ء سے لائل پور ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہوں۔ جب ایک نیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گارڈ ربوہ اسٹیشن میں مقرر ہوتا ہے تو ایک ہدایت اسے انچارج گارڈ کی طرف سے یہ دی جاتی ہے کہ جب ربوہ آجائے تو اپنے وین کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھے۔ ۵۷-۱۹۵۶ء میں ایک تحقیقات ایک گارڈ کے خلاف ہوئی تھی۔ کیونکہ اہل ربوہ نے اعلیٰ افسران کو شکایت کی تھی کہ وہ ربوہ کی عورتوں کو چھیڑتا ہے۔ اس لئے احتیاطی تدبیر کے طور پر گارڈ اپنی وین کی کھڑکیاں ربوہ آنے سے قبل اور چھوڑنے کے بعد تک بند رکھتے ہیں تا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔
ربوہ اسٹیشن پر ہم کسی بے قاعدگی کو چیک نہیں کر سکتے ۔ جو مقامی لوگ اسٹیشن پر کریں، مثلاً ۲/۲ آدمی روزنامہ الفضل مسافروں میں تقسیم کرتے تھے۔ میں نے مرزا عبد السمیع ایس. ایم سے شکایت کی تھی کہ یہ تقسیم غیر قانونی ہے۔ کیونکہ بعض لوگ الفضل کی تقسیم سے مشتعل ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اسٹیشن پر امن کو خطرہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مرزا عبد السمیع نے کوئی کارروائی نہ کی اور میری طرف سے میمو لینے سے انکار کیا جو میں انہیں دینا چاہتا تھا۔ اس طرح ایک موقع پر تیرہ لڑکے ۱۱. اپ چناب پر سوار ہونا چاہتے تھے۔ عام طور پر تین منٹ تک گاڑی ٹھہرتی ہے۔ ہم دو تین منٹ زائد دے دیتے ہیں۔ اس دن گاڑی چلنے لگی تو طلباء نے زنجیر کھینچی اور گاڑی کھڑی ہو گئی ۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے تمام ساتھی جب تک سوار نہ ہو جائیں گاڑی کو چلنے نہ دیا جائے۔ اس طرح انہوں نے مزید ۱۵/ منٹ گاڑی کھڑی کی۔ میں نے ایس. ایم کو میمو دینا چاہا۔ لیکن وہ انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ لالیاں میں ، میں نے گاڑی پر متعین ریلوے پولیس کو وہ میمو دے دی۔ ریلوے پولیس بھی ربوہ اسٹیشن پر شکایت وصول کرنے سے انکار کر دیتی ہے تا کہ ربوہ کے لوگ وہاں ہنگامہ نہ کر دیں۔ عام طور پر ربوہ جیسے اسٹیشن پر تین افسر ہوتے ہیں ۔ ایک ایس. ایم اور دو اے. ایس. ایم ان میں سے ایک افسر دس سے زائد دن کی رخصت نہ لے تو اس کی جگہ نیا تقرر نہیں کیا جاتا بلکہ باقی دو افسر زیادہ ڈیوٹی دے کر تیسرے کی کمی پوری کرتے ہیں ۔ جب مرزا عبد السمیع ۲۵/ مئی کو دوبارہ ربوہ پوسٹ ہوئے تو وہاں دو اے. ایس. ایم اور ایک آر. ایس. ایم پہلے سے موجود تھے۔ اس لئے مرزا عبد السمیع کو ربوہ پوسٹ Join نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جب تک کہ ربوہ میں موجود تین میں سے ایک افسر Releive کرنے کے لئے درخواست نہ کرتا۔ مرزا عبد السمیع کو ربوہ سے ایسی کسی درخواست کے بغیر ہی ربوہ پوسٹ کر دیا گیا اور آر. ایس. ایم کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ کچھ اسٹیشنوں پر ایس. ایم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو پلیٹ فارم ٹکٹ خریدے بغیر پلیٹ فارم پر آنے کی اجازت دیں ۔ ربوہ ایسا اسٹیشن نہیں ہے۔ وہاں کسی کو پلیٹ فارم ٹکٹ کے بغیر پلیٹ فارم پر جانے کی اجازت نہیں۔ ہم عام طور پر ربوہ والوں کو پلیٹ فارم پر اس ڈر سے چیک نہیں کرتے کہ ہمارے خلاف جھوٹی شکایت نہ ہو جائے جس سے ہمارا تبادلہ ہو جائے یا کوئی اور سزا ہو۔ اسٹیشن ماسٹر کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ گاڑی کو بیرونی سگنل پر کھڑا کر دے۔ اگر اسے یہ خطرہ ہو کہ اسٹیشن پر گاڑی کا کوئی خطرہ ہے۔ جن اسٹیشنوں پر دو ہائی لیول پلیٹ فارم ہوں ۔ وہاں Overhead Bridge ہوتی ہے۔ لیکن ربوہ واحد مثال ہے۔ جہاں صرف ایک ہائی لیول پلیٹ فارم ہے۔ اس کے باوجود وہاں Overhead Bridge موجود ہے۔
میں محمد اقبال گواہ نمبر ۱ کو جانتا ہوں جو میرے ساتھی گارڈ ہیں اور احمدی ہیں اور امور عامہ کے دفتر میں کارکن ہیں ۔ انہوں نے خود اس بات کو مانا ہے۔
میں نہیں جانتا محمد اقبال کا عہدہ امور عامہ میں کیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے مجھے کبھی نہیں بتایا۔ میں نے الفضل کی غیر قانونی تقسیم کے معاملے میں ایس. ایم کے خلاف کوئی شکایت افسران بالا کو نہ کی۔ ۱۸/ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو طلباء نے ربوہ میں گاڑی ۱۸/ منٹ کھڑی کی تھی ۔ وہ گارڈ جس کے خلاف سلام کرنے کے بارے میں انکوائری ہوئی تھی ابھی تک سروس میں ہے ۔ اس کا نام شاید ایس. ایم نظام الدین ہے۔ یہ بات ہیڈ کوارٹر آفس سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ ہم اپنی وین کی کھڑکیاں صرف ربوہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھولتے ہیں اور اسٹیشن پر آتے اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاتے وقت بند کر لیتے ہیں۔ یہ سب گارڈوں کی پریکٹس ہے۔
میں جنرل سیکرٹری ریلوے مزدور یونین ہوں۔ اس حیثیت سے مجھے معلوم ہوا کہ ربوہ والوں نے فضل عمر ہسپتال میں ایک الیکٹرک قلی بشیر احمد کو داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا جو ۵۲- ڈاؤن سے نشتر آباد، شاہین آباد کے درمیان گر پڑا تھا۔ اگرچہ اس کی حالت نازک تھی۔ اسے وہاں سے چنیوٹ اور پھر وہاں سے لائل پور لے جانا پڑا۔ چونکہ یہ اسے فوری طبی امداد نہ دی گئی۔ اس لئے وہ بالآخر فوت ہو گیا۔ لائل پور اور نشتر آباد کے درمیان اسٹیشنوں کا پچاس فیصد سے زیادہ اسٹاف احمدی ہے۔
۳۰/ جولائی ۱۹۷۴ء کی کارروائی
گواہ نمبر۷۰...... محمد طارق ملک ولد ملک جمال دین، طالب علم تھرڈ ائیر Engineering لاہور، باقرار صالح
میں احمدی نہیں ہوں۔ پچھلے سال دسمبر میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے کچھ طلباء لاہور سے انڈسٹریل ٹور پر روانہ ہوئے۔ میں ان میں سے ایک تھا۔ ہمیں پشاور جانا تھا لیکن راستے میں ہم نے راولپنڈی میں Break Journey کیا تاکہ راولپنڈی کا مقامی دورہ کریں۔ ہم نے دن رات کے لئے تین چار بوگیاں پورے سفر کے لئے ریزرو کرا رکھی تھیں۔ راولپنڈی میں ہماری بوگیوں کو یارڈ میں کھڑا کیا گیا اور جب تک ہم راولپنڈی میں ٹھہرے ہم اپنی بوگیوں میں رہتے تھے۔ ایک شام کو مغرب کی نماز کے وقت میں شہر سے اپنے ایک دوست قیصر سلیم کے ہمراہ اسٹیشن پر آیا تو ایک سپیشل ٹرین اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ جس میں احمدی، ربوہ کی طرف اپنے سالانہ جلسہ کے لئے جا رہے تھے۔ دسمبر کا آخری ہفتہ تھا۔ گاڑی پلیٹ فارم کے ایک طرف تھی جب کہ ہماری ریزرو بوگی اسی پلیٹ فارم کے دوسری طرف تھی۔ میں نے دیکھا کہ درمیانی پلیٹ فارم پر لوگ جمع ہو رہے تھے۔ میں بھی وہاں پہنچا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا معاملہ ہے؟ کچھ احمدیوں نے بتایا کہ ان کی عورتوں نے شکایت کی ہے کہ کچھ لڑکے ان کو دیکھ رہے تھے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ لڑکوں نے کوئی قابل اعتراض حرکت نہ کی تھی۔ اس پر میں نے انہیں بتایا کہ اگر طلباء کوئی حرکت کریں تو انہیں پکڑ لیں اور پھر مجھے شکایت کریں یا ہمارے کسی ٹیچر کے پاس شکایت کریں۔ اس وقت ہمارے صرف تیس، چالیس طلباء پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ کیونکہ بہت سے دوسرے طلباء شہر گئے ہوئے تھے۔ احمدیوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ کسی طالب علم نے Misbehave نہیں کیا۔ تھوڑی دیر بعد سپیشل ٹرین چلنے لگی تو احمدیوں نے نعرے لگائے۔
ان کے جواب میں ہمارے طلباء نے بھی کچھ نعرے لگائے۔ جب گاڑی کی پچھلی دو یا تین بوگیاں پلیٹ فارم پر کھڑے طلباء کے سامنے آگئیں تو گاڑی کھڑی ہو گئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زنجیر کھینچ دی گئی۔ جونہی گاڑی ٹھہری دس، بیس نوجوان سپیشل ٹرین سے کودے اور ہمارے طلباء کی طرف دوڑ کر آئے۔ ان کے پاس کھلے چاقو، پستول، ڈنڈے تھے۔ میں اس وقت واٹر کولر کے پاس کھڑا تھا جو اسٹیشن پر نصب ہے۔ جب طلباء نے مسلح لوگوں کو ان کی طرف حملہ کرتے دیکھا تو وہ دوڑ گئے۔ البتہ میں چونکہ کچھ فاصلے پر اکیلا کھڑا تھا۔ اس لئے میں کھڑا رہا اور دیکھتا رہا۔ بہت سے دوسرے مسافر بھی سپیشل ٹرین سے پلیٹ فارم پر ان مسلح نوجوانوں کے پیچھے آگئے جب کہ طلبہ منتشر ہو گئے اور بھاگ گئے۔ میں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ میں کیا کروں؟ اس عرصے میں دو نوجوان میری طرف آئے۔ ان کے پاس ظاہری طور پر کوئی اسلحہ نہ تھا۔ میری طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا ادھر ایک مولوی ہے (گواہ مولوی لگتا ہے) جب میں نے یہ دیکھا تو میں بھی یارڈ کی طرف دوڑ گیا اور اندھیرے میں پناہ لی۔ مجھے بعد میں دوسرے طلباء نے بتایا کہ مسلح احمدی جو طلباء کا تعاقب کر رہے تھے۔ ہماری ریزرو بوگیوں میں بھی ہمارے طلباء کے تعاقب میں داخل ہوئے۔ چند منٹوں کے بعد کچھ معمر احمدیوں نے نوجوانوں کو واپس گاڑی میں بلا لیا۔ وہ سب سوار ہو گئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور گاڑی چل دی۔ جب میں کولر کے کونے کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے ایک طالب علم جس نے کمبل اوڑھ رکھا تھا، کو احمدیوں نے پکڑ لیا اور چونکہ وہ کمبل لپیٹے ہونے کی وجہ سے نہ بھاگ سکتا تھا۔ نہ اپنا دفاع کر سکتا تھا اس کو انہوں نے پانچ منٹ تک دھکے دیئے اور ٹھڈے مارے۔ وہ بیچارہ گر پڑا اور اس کے بعد کوشش کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔ اٹھنے پر احمدیوں نے پھر اسے دھکا دیا۔ گاڑی کے چلے جانے کے بعد مجھے بتایا گیا کہ ایک کمبل جو اس لڑکے نے اوڑھ رکھا تھا وہ کمبل احمدی لے گئے ۔ اس کے بعد کچھ پولیس افسر ہمارے پاس آئے اور رپورٹ لینی چاہی۔ ان طلباء سے جن کو مارا گیا یا جن کا سامان گم ہوا۔ لیکن ہم نے پولیس کو رپورٹ درج کرانے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ وہاں ہمارے کوئی ٹیچر موجود نہ تھے اور مزید ہم نے سوچا کہ پولیس سپیشل ٹرین سے اتری ہے۔ اس لئے وہ احمدیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ہمارے خلاف ہی جھوٹا مقدمہ نہ بنادیں۔ پس ہم نے پولیس سے تعاون نہ کیا۔ جہاں تک میرا خیال ہے۔ پولیس کی طرف سے اس طالب علم کو جسے مارا گیا اور جس کا کمبل اٹھایا گیا، گرفتاری کے لئے طلب کیا جارہا تھا۔ اس لئے دوسرے طلباء نے اسے چھپا لیا۔ لاہور واپس آنے پر ہم نے یونیورسٹی کے احمدی طلباء کے خلاف راولپنڈی اسٹیشن کے واقعہ کی بناء پر کوئی کارروائی نہ کی۔ البتہ میں نے اپنے ایک احمدی طالب علم سے تمام تعلقات منقطع کر لئے۔
میں نے کمبل والے لڑکے کو اس وقت دیکھا جب احمدیوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ میں اس کا نام نہیں جانتا۔ مگر مجھے علم ہے کہ وہ الیکٹریکل انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ وہ ابھی تک یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ جب گاڑی چلنے لگی تو ہمارے کسی طالب علم نے کچھ حرکت نہ کی۔ جس سے احمدی مشتعل ہو سکتے ہیں۔ احمدیوں کا یہ متشددانہ ردعمل معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جوابی نعروں سے ناراضگی کی وجہ سے تھا۔ نعرے پہلے احمدیوں نے لگائے تو جب انہوں نے نعرہ احمدیت لگایا اور ہم نے جواب میں نعرہ رسالت لگایا۔ اس کے بعد جب کہ احمدی، احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ ہم نے ربوہ ٹھاہ کا نعرہ لگایا۔
مجھے یہ بتایا گیا کہ ربوہ کے واقعہ کے بعد احمدی طلباء اور ٹیچر کی جائیداد انجینئرنگ یونیورسٹی کیمپس میں جلائی گئی۔ میں نے یہ دیکھا نہ تھا کیونکہ میں Day Scholer ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ راولپنڈی اسٹیشن پر ربوہ ٹھاہ کا نعرہ سنا تھا۔ ہماری بوگی ایک پسنجر ٹرین کے ساتھ لگی تھی جو لاہور سے دس بجے رات چلی تھی۔ میٹلرجیکل انجینئرنگ کا کوئی طالب علم زخمی نہ ہوا تھا۔ مجھے علم نہیں کسی دوسری برانچ آف انجینئرنگ کا کوئی لڑکا زخمی ہوا تھا۔ سوائے ایک کے جو الیکٹریکل انجینئرنگ کا ہے۔ جب ہمارے ٹیچر اسٹیشن پر آئے تھے تو ہم نے ان کو اس واقعہ کی شکایت کی تھی۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ٹیچر نے ہمارے وائس چانسلر صاحب کو رپورٹ کی بھی یا نہیں۔
ٹربیونل: ہفتے کو ۹ بجے مسٹر کرم الٰہی بھٹی زبانی بحث کریں گے۔ احمدیہ کمیونٹی کے وکلاء بھی تحریری بحث ہفتے کو دیں گے۔
اس کے بعد دو تین روز ٹربیونل کی کارروائی جاری رہی۔ بعض وکلاء نے تحریری اور بعض نے زبانی بحث کی۔ اخبارات کے لئے ٹربیونل کی طرف سے جو پریس ریلیز جاری کئے گئے وہ یہ ہیں۔
لاہور: ۳۰؍اگست (سٹاف رپورٹر) وقوعہ ربوہ کے ٹربیونل جج مسٹر جسٹس کے۔ ایم۔ اے صمدانی نے آج کارروائی مکمل کر کے اس کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ اختتامی نوٹ ٹربیونل کی معاونت کرنے والے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری نے پیش کیا۔ اس سے قبل مجلس عمل کے وکلاء نے اپنے تحریری اور زبانی دلائل پیش کئے جن وکلاء نے اپنے دلائل پیش کئے۔ ان میں مسٹر عزیز باجوہ، کرم الٰہی بھٹی، شباب مفتی اور ایم۔ ڈی طاہر شامل ہیں۔ باقی وکلاء نے ٹربیونل کا بائیکاٹ کیا۔ خیال ہے کہ ٹربیونل جج شہادتوں اور دلائل کی روشنی میں تقریباً تین ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کریں گے اور اسے حکومت پنجاب کو پیش کر دیا جائے گا۔ مسٹر کمال مصطفیٰ بخاری کی معاونت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سید نیاز علی شاہ ایڈووکیٹ نے کی۔
آج کی کارروائی کے دوران مسٹر کرم الٰہی بھٹی نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس ٹریبونل کے دائرہ کار کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جس میں پہلا حصہ وقوعہ، دوسرا حصہ دوسرے معاملات جن کا تعلق وقوعہ سے ہوا اور تیسرا سفارشات کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۲ مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء ملتان سے چلے تو اسٹیشن پر کالج کی جماعت احمدیہ کا طالب علم لیڈر ابرار احمد بھی موجود تھا۔ جب گاڑی ربوہ اسٹیشن پر پہنچی تو وہاں جوان لڑکیاں لڑکوں کی بوگی کے پاس کھڑی کی گئیں اور الفضل اخبار بھی جان بوجھ کر لڑکوں میں ہی تقسیم کیا گیا۔ حالانکہ گاڑی میں دیگر بھی بے پناہ مسافر تھے۔ الفضل اخبار تقسیم کرنے والے اور ان کے ساتھی لڑنے کے موڈ میں تھے۔ تاہم لڑکوں کی احتیاط کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ چنانچہ گاڑی ربوہ سے پنڈی کی جانب روانہ ہوئی تو کچھ نعرے لگائے اور اس کے ساتھ ہی طلباء پر پتھراؤ کیا۔ اس طرح ۲۲ مئی کو ہنگامہ کرنے کی سازش وہاں کامیاب نہ ہوئی۔ چنانچہ ۲۹ مئی کو جب طلباء کی بوگی واپس آنے والی تھی تو ربوہ پر انہیں مارنے کا منصوبہ زیادہ توجہ سے تیار کیا گیا۔ جب گاڑی سرگودھا پہنچی تو وہاں سے کچھ مشکوک طلباء گاڑی میں سوار ہوئے۔ لڑکوں نے ان پر شک کیا اور انہیں طلباء کی بوگی سے اتار دیا جس پر وہ دوسرے ڈبہ میں سوار ہو گئے۔ جب ربوہ اسٹیشن آیا تو ان مشکوک لڑکوں نے ربوہ اسٹیشن پر جمع مجمع کو اشارے کئے اور انہیں طلباء کی بوگی کے بارے میں بتایا اور اس سے قبل گاڑی کو کھڑا کرنے کے لئے زنجیریں بھی کھینچیں۔
مسٹر کرم الٰہی بھٹی نے کہا کہ ریلوے پھاٹک والے شکر دین کے بیان کے مطابق صبح سے ہی سکول اور کالج کے لڑکے یہ کہتے ہوئے اسٹیشن کی جانب جا رہے تھے کہ انہوں نے نشتر میڈیکل کالج کے لڑکوں سے بدلہ لینا ہے جو کہ چناب ایکسپریس کے ذریعے ربوہ سے گزریں گے۔ مسٹر کرم الٰہی بھٹی نے کہا کہ شکر دین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان لڑکوں کے ہاتھوں میں چھتریاں، ہاکیاں اور ڈنڈے تھے، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو مارنے کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار تھا۔ اسی طرح فوڈ انسپکٹر مقبول اختر شیخ نے بھی اپنی شہادت میں کہا تھا کہ اسے ایک اقبال نامی ڈپو ہولڈر نے بتایا تھا کہ ہمارے آدمی پہلے ہی جا چکے ہیں اور اب ان کی لاشیں ہی جائیں گی۔
دلائل دیتے ہوئے مسٹر بھٹی نے کہا کہ اسٹیشن ماسٹر ربوہ مرزا عبدالسمیع کو صدر عمومی کا ٹیلیفون آیا کہ لڑکے آ رہے ہیں۔ پلیٹ فارم پر پیچھے والے حصہ میں کسی کو نہ جانے دو اور وہاں سے عورتوں کو ہٹا دو۔ یہ حیرانگی کی بات ہے کہ صدر عمومی کو گاڑی کے آنے کے اصل وقت کا علم ہے اور طلباء کی بوگی کے بارے میں بھی اسے صحیح علم ہے جب کہ جرح کے دوران اسٹیشن ماسٹر نے بتایا کہ اسے علم نہیں تھا۔ اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صدر عمومی اور ان کی پوری جماعت اس سازش میں شریک ہے اور انہیں طلباء کی گاڑی کے پشاور سے روانہ ہونے کے بعد اس کے ایک ایک منٹ کے بارے میں علم تھا۔ کرم الٰہی بھٹی نے کہا کہ طلباء پر دو جگہ حملہ ہوا۔ ایک سیکنڈ کلاس میں بیٹھے ہوئے طلباء پر حملہ ہوا اور دوسرا بوگی پر۔ اس وقت صدر عمومی اور جماعت کے مقامی مقتدر لیڈر بھی پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ایک زخمی لڑکے نے پانی مانگا تو شقی القلب حملہ آوروں میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ اس کے منہ میں پیشاب کرو۔
مسٹر بھٹی نے کہا کہ صدر عمومی کا یہ کہنا غلط ہے کہ وہ مارنے والوں کو سمجھانے اور لڑکوں کو ان کے چنگل سے چھڑانے کے لئے آئے انہوں نے کہا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد پندرہ بیس تھی، کیونکہ یہ بات عملی طور پر ممکن ہی نہیں کہ پندرہ بیس آدمی ڈیڑھ صد طلباء کی پٹائی کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل وہاں تین چار ہزار آدمی موجود تھے اور پروگرام یہ بنایا گیا تھا کہ اگر حملہ آوروں کی راہ میں گاڑی کے دوسرے مسافر رکاوٹ بنیں یا طلباء کی مدد کریں تو پھر ان مخصوص کردہ لوگوں سے بھی حملہ آوروں کا کام لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ سوچی سمجھی سکیم اور سازش کے تحت ہوا اور یہ فعل کسی ایک آدمی یا گروہ یا چند آدمیوں کی انفرادی سازش
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرزا ناصر احمد نے ۲۴ مئی کے خطبہ میں ۲۲ مئی کے وقوعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم غالب آنے والے ہیں تم صبر کرو۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سازش کا منبع خود مرزا ناصر احمد ہیں جنہوں نے پہلے ہی اس امر کی علامت اپنے خطبہ میں ظاہر کر دی تھی ۔ کرم الٰہی بھٹی نے کہا کہ گواہ امیر الدین نے بھی بتایا کہ خدام کے گروہ لاہور ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں سے ربوہ بھیجے گئے تھے ۔ یہ بات بھی پہلے سے طے شدہ سازش کے مؤقف کو تقویت پہنچاتی ہے ۔
انہوں نے کہا سیاسی طور پر مسٹر بھٹو کا ساتھ احمدیوں نے ۱۹۷۰ء میں پہلی مرتبہ دیا اور اس کا ثمر یہ لیا کہ تمام اسمبلیوں میں بیس فیصد نشستیں ان کے آدمیوں کی ہیں ، اسی طرح ان کے عقیدے کے لوگ اعلیٰ اور کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گو قادیانیوں کی آبادی ملک کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ۔ لیکن کلیدی آسامیوں کی اکثریت پر قادیانیوں کا قبضہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں کی مدد سے پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی اور مسٹر بھٹو نے اس فرقہ کو پہلی مرتبہ سیاسی طور پر بھی روشناس کرایا اور سیاسی زندگی دی ۔ لیکن جب دستور میں حلف کی شق میں ختم نبوت پر ایمان لازم قرار دیا اور آزاد کشمیر اسمبلی نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی اور ظفر چوہدری کو نکالا گیا تو مرزائی پیپلز پارٹی کے خلاف ہو گئے ۔ دلائل میں انہوں نے کہا کہ ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے طلباء پر اس قدر تشدد کیا لیکن اس کے باوجود جماعت کے سربراہ نے قصور وار لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ وقوعہ کی سازش کو کامیاب بنانے کے لئے مرزا عبدالسمیع اسٹیشن ماسٹر کا تبادلہ بھی رکوا دیا گیا ۔ کیونکہ جماعت احمدیہ کو مرزا سمیع پر پورا اعتماد تھا کہ یہ جماعت کا خاص آدمی ہے ۔ لہٰذا یہ حکم بجا لائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹربیونل نے حکومت کو جو سفارشات پیش کرنا ہیں ۔ ان میں کہا جائے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور اس پر صرف ملکی قوانین ہی کا اطلاق ہو ۔ وہاں عوام کے شہری حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔ مرزائیوں کی تمام تر ایسی جائیداد کو وقف قرار دیا جائے جو ان کی جماعت کی اجتماعی ملکیت ہے ۔ اسی طرح مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی بھی سفارش کی جائے ۔ مزید برآں جہاں کہیں ان کی فیکٹری یا کارخانے ہیں ، انہیں قومی تحویل میں لے لیا جائے اور کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں کو الگ کر دیا جائے ۔ کیونکہ ان کا وجود ملکی سالمیت اور استحکام کے لئے ہر لمحہ خطرہ ہے ۔ اسی طرح یہ بھی لکھا جائے کہ اس وقوعہ کی پہلی اور آخری ذمہ داری مرزا ناصر احمد پر عائد ہوتی ہے ۔ مسٹر ایم ۔ ڈی طاہر نے ۴۴ صفحات پر مبنی اپنے تحریری دلائل پیش کئے ۔ مسٹر شباب مفتی نے ایک کتاب پیش کی جو ۱۸۹۵ء میں شائع ہوئی تھی ۔
احمدیوں کے وکیل مسٹر عزیز باجوہ ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ حضرت مرزا صاحب کیا تھے یا کیا نہیں تھے؟ یہ پتہ کرنا اس ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام جج بھی کسی کو نبی قرار دینے یا نہ دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ مذہب کے متعلق کثرت رائے سے فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ اگر اس طرح ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جانے والا اکیلا آدمی زندہ نہ رہ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام گواہیاں بیکار ہیں ۔ ہمیں ملک کا دستور یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم مذہب کے اعتبار سے آزاد ہیں ۔ اس لئے ہم پر کسی قسم کی کوئی مذہبی پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا ہم قائد اعظم کی خلاف ورزی نہیں کر رہے بلکہ دوسرے لوگ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ قائد اعظم نے ہمیں پاکستان آنے پر کہا تھا کہ ہمیں مذہبی آزادی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سر ظفر اللہ میں کوئی خصوصیت دیکھ کر ہی قائد اعظم نے انہیں وزیر خارجہ لگایا تھا ۔ لیکن اب لوگ اس کے خلاف خواہ مخواہ باتیں کرتے ہیں ۔
(نوائے وقت مؤرخہ ۴ اگست ۱۹۷۴ء)
ٹربیونل نے سماعت مکمل کر لی
لاہور: مؤرخہ ۳ اگست (ا ۔ پ ۔ پ ) ربوہ کے سانحہ کی تحقیقات کرنے والا ٹربیونل اپنی رپورٹ ۱۵ سے ۲۰ اگست تک حکومت کو
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیش کردے گا۔ یہ اعلان مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی نے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے یہ اعلان اس وقت کیا۔ جب آج انہوں نے حادثہ ربوہ کے بارے میں سماعت مکمل کر لی۔ خیال ہے کہ مسٹر صمدانی آج کسی وقت مری روانہ ہو جائیں گے۔ جہاں وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کریں گے۔ آج مسٹر جسٹس صمدانی نے ”اے۔ پی“ کو ایک خصوصی ملاقات کے دوران بتایا کہ انہیں تحقیقات کے نازک اور مشکل کام میں نہ صرف فریقین نے مفید مدد دی۔ بلکہ عوام اور تمام وکلاء نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ ان لوگوں نے بڑی محنت سے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس کام میں ان وکلاء نے پوری پوری مدد دی جو سماعت کی تکمیل کے آخری مرحلے میں اپنے موکلوں کی ہدایت پر الگ ہو گئے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے بعض گواہوں کے بیانات بند کمرے میں کن وجوہ کی بناء پر قلمبند کرنا بہتر جانا۔ حالانکہ اس سے پہلے کی تمام کارروائی کھلے اجلاس میں قلمبند کی گئی۔ مسٹر جسٹس صمدانی نے جواب دیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لئے کیا تھا کیونکہ ممکن تھا کہ شہادت کے دوران ایسے واقعات سامنے آتے جن کا تعلق ملک کی سلامتی سے ہوتا۔ بعد ازاں انہوں نے جب یہ محسوس کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں تو انہوں نے ان بیانات کی اشاعت کی اجازت دے دی، جو بند کمرے میں قلمبند کئے گئے تھے۔
جناب جسٹس صمدانی کے مطابق ٹربیونل نے ستر احمدیوں اور غیر احمدیوں کی شہادتیں قلمبند کیں۔ مزید برآں بعض اصحاب نے بذریعہ ڈاک اپنے تحریری بیان ارسال کئے۔ کثرت کار کے باعث وہ ان اصحاب کو الگ الگ خط نہ لکھ سکے۔ تاہم جب بھی ممکن ہوا انہوں نے ان اصحاب کو خط لکھا۔ مسٹر جسٹس صمدانی نے ان حضرات کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جنہیں وہ مصروفیت کی بناء پر جواب نہیں دے سکے اور جنہوں نے اپنی مخلصانہ کوشش کے ذریعہ اس مسئلہ پر راہنمائی کی جس کی تحقیقات کے لئے ٹربیونل قائم کیا گیا تھا۔
ٹربیونل کے آخری اجلاس میں آج بعض وکیلوں نے تحریری دلائل پیش کئے۔ ان میں عزیز احمد باجوہ، مسٹر کرم الٰہی بھٹی ایڈووکیٹ اور مسٹر ایم۔ ڈی طاہر، ایڈووکیٹ کا نام شامل ہے۔ وکلاء نے اپنے تحریری دلائل کے بعد بعض حصے کی زبانی وضاحت بھی کی۔ آج مسٹر اے۔ آر شباب مفتی ایڈووکیٹ نے ٹربیونل کے سامنے ایک تحریری بیان پیش کیا جس میں انہوں نے بٹالہ شریف کے سید ظہور الحسن قادری فاضلی کی فارسی کتاب ”ارشاد المستر شدین“ مطبوعہ مورخہ ۳۰؍ اکتوبر ۱۸۹۵ء سے کچھ اقتباسات بھی پیش کئے ہیں جو مرزا غلام احمد کی ذہنی کیفیت کے بارے میں ہیں۔ غیر احمدی وکلاء کے ایک بہت بڑے حصے نے جس نے ٹربیونل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا، کوئی تحریری بیان داخل نہیں کیا۔ ان میں تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمل، آل پاکستان شیعہ بورڈ کے وکلاء شامل ہیں۔ ان وکلاء نے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد کو جرح کے لئے دوبارہ طلب کرنے کا موقف تسلیم نہ ہونے پر ٹربیونل کی کارروائی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۴؍ اگست ۱۹۷۴ء)
پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کر دی گئی
۲۰؍ اگست (پ۔ پ۔ ا، اے۔ پی) واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے لاہور، ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس کے۔ ایم صمدانی پر مشتمل ٹربیونل نے آج اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے کو پیش کر دی ہے۔ مسٹر جسٹس صمدانی نے سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور انہیں رپورٹ کی تین کاپیاں دستخط شدہ پیش کیں جو ۱۱۲ صفحات پر مشتمل تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے مسٹر جسٹس صمدانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے گواہوں کے بیانات مکمل ہونے پر مختصر مدت میں جس محنت سے رپورٹ تیار کی ہے وہ قابل قدر ہے۔ پنجاب کی حکومت اس رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور بعد میں اسے قومی اسمبلی کے حوالے کیا جائے گا جو پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی حیثیت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے احمدیہ مسئلہ پر غور کر رہی ہے۔ یہ ٹربیونل ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے ۲۹؍مئی کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے حکومت پنجاب نے قائم کیا تھا۔ اس واقعہ میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر حملہ کیا گیا تھا اور ان میں سے ۱۲ طلباء زخمی ہوئے تھے۔ ٹربیونل نے ۵؍جون کو تحقیقات کا آغاز کیا۔ ٹربیونل نے ستر گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جن میں احمدیہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد ربوہ کے اسٹیشن ماسٹر مرزا عبدالسمیع احمد نشتر میڈیکل کالج کے متعدد طلباء اور ربوہ کے بعض احمدی بھی شامل ہیں۔
(روزنامہ جنگ کراچی مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۷۴ء)
واقعہ ربوہ کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی
پنجاب حکومت نے اپنی سفارشات کے ساتھ واقعہ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم بھٹو کو پیش کر دی ہے۔ مسٹر حنیف رامے نے کہا کہ پنجاب کی حکومت ٹربیونل کی سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ٹربیونل کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ مسٹر حنیف رامے راولپنڈی میں دو روز قیام کے بعد آج (۲۳؍اگست) لاہور ائیرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ راولپنڈی قیام کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جو وزیراعظم بھٹو کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ مسٹر رامے نے کہا کہ انہوں نے ربوہ ٹربیونل کی رپورٹ کے ساتھ اس سلسلہ سے متعلق خود اپنی سفارشات بھی وزیراعظم کو پیش کی ہیں۔ مسٹر رامے نے کہا کہ چونکہ وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی ٹربیونل کی رپورٹ سے فائدہ اٹھائے گی۔ اس لئے وزیراعظم بالآخر یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ مسٹر حنیف رامے نے کہا کہ صوبائی حکومت ٹربیونل کی سفارشات پر پوری طرح عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ٹربیونل کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ مسٹر حنیف رامے راولپنڈی میں دو روزہ قیام کے بعد آج (۲۳؍اگست) لاہور ائیرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ راولپنڈی قیام کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جو وزیراعظم بھٹو کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا۔ مسٹر رامے نے کہا کہ انہوں نے ربوہ ٹربیونل کی رپورٹ کے ساتھ اس سلسلہ سے متعلق خود اپنی سفارشات بھی وزیراعظم کو پیش کی ہیں۔ مسٹر رامے نے کہا کہ چونکہ خود وزیراعظم نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی ٹربیونل کی رپورٹ سے فائدہ اٹھائے گی۔ اس لئے وزیراعظم بالآخر یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ مسٹر حنیف رامے نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ٹربیونل کی سفارشات پر عمل درآمد کرے گی۔ چونکہ امن عامہ کا قیام صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لئے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ ان سفارشات پر پوری طرح سے عمل درآمد کرے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ مسئلہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی زیر بحث آیا جس میں تمام صوبوں کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر اب بھی کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو اس سلسلہ کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہوں تو حکومت ان سے سختی سے نمٹے گی۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۵؍اگست ۱۹۷۴ء)
وفاقی کابینہ میں رپورٹ پر غور
کوئٹہ (مورخہ ۲۱؍اگست) وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس راولپنڈی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جو صبح دس بجے سے اڑھائی بجے دوپہر تک جاری رہا۔ اجلاس میں وزیر قانون و پارلیمانی امور اور صوبائی رابطہ مسٹر عبدالحفیظ پیرزادہ، مسٹر خورشید حسن میر، مولانا کوثر نیازی، مسٹر رفیع رضا، ڈاکٹر مبشر حسن اور ان کے علاوہ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین طاہر محمد خاں نے شرکت کی۔ راولپنڈی کے باخبر ذرائع کے مطابق کابینہ کے خصوصی اجلاس میں سانحہ ربوہ کے بارے میں جسٹس صمدانی کی تحقیقات رپورٹ پر غور کیا گیا اور قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی اب تک کی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات کا پتہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں چلا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلے چند روز میں وفاقی کابینہ کا پھر اجلاس ہوگا۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۳؍اگست ۱۹۷۴ء)
قارئین کرام! تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ ان سطور کے تحریر کرتے وقت تک راقم کی معلومات یہ ہیں کہ اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ تاہم ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے سلسلے میں بعض اقدامات ضرور ہوئے۔ ربوہ کی حدود کمیٹی میں توسیع کی گئی۔ ربوہ کی پولیس چوکی کو تھانہ بنادیا گیا۔ ربوہ کو سب تحصیل قرار دے دیا گیا۔ ربوہ میں حکومتی اداروں میں مرزائی افسران نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ربوہ میں مسلم کالونی کی بنیاد رکھی گئی۔ جن کی تفصیلات اس کتاب کا موضوع نہیں۔ اللہ رب العزت کا فضل و کرم اور قارئین کی دعائیں شامل رہیں تو اس کی تفصیل کسی دوسری کتاب میں پیش ہوں گی۔ ربوہ کی سب تحصیل کو ایک بار ختم کر کے لالیاں کو سب تحصیل بنوانے کے لئے مرزائیوں نے سازش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بروقت نوٹس لے کر اس سازش کو نامراد کیا۔ اس کی بھی تفصیل اس کتاب کا موضوع نہیں۔
اس باب کو ختم کرنے سے قبل راقم الحروف قارئین کرام سے التماس گزار ہے کہ اس باب کا پھر ابتدائیہ پڑھیں اور وزیر اعظم پاکستان کے وعدہ پر غور کریں کہ ”ٹربیونل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوگی“ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ہو گئے۔ جناب محمد خاں جونیجو آ کر لڑھک گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ باپ کی کرسی پر آ کر فارغ بھی ہو گئیں۔ جناب غلام مصطفیٰ جتوئی آئے بھی نہ تھے کہ نکالے بھی گئے۔ اب جناب میاں محمد نواز شریف صاحب اس کرسی پر براجمان ہیں۔ یکے بعد دیگرے پانچ وزراء اعظم تشریف لائے۔ لیکن رپورٹ کی اشاعت کا وعدہ ایفا نہیں ہوا۔ اسے کہتے ہیں حکومت کی نیرنگیاں۔ اب میں اس باب کو آغا شورش کے ایک ادارتی نوٹ کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔ یہ ادارتی نوٹ انہوں نے رپورٹ مرتب ہونے کے وقت تحریر فرمایا تھا۔ ان کے خدشات کس طرح درست ثابت ہوئے، پڑھیے اور ختم نبوت کے مجاہدین کی بالغ نظری کی داد دیجئے۔
جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے
”لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی نے حسب اعلان ۲۰؍اگست کو ربوہ کیس کے متعلق اپنی رپورٹ صوبائی وزیر اعلیٰ مسٹر حنیف رامے کے حوالے کر دی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مذکورہ رپورٹ ۱۱۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ خبر میں درج ہے کہ صوبائی حکومت اس رپورٹ پر غور کرنے کے بعد جلد ہی وفاقی حکومت کو پیش کر دے گی۔ تاکہ قومی اسمبلی کے روبرو پیش ہو سکے۔ ہمیں ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی رپورٹوں کے متعلق تلخ تجربہ ہے کہ جب ان کے مندرجات حکومتی مصلحتوں کے منافی ہوتے ہیں تو انہیں شائع نہیں کیا جاتا۔ یہ حوصلہ صرف انگریز ہی میں تھا کہ جب وہ کسی مسئلہ سے متعلق تحقیقاتی کمیشن قائم کرتا تو اس کی رپورٹ ضرور شائع کی جاتی۔ ہماری قومی حکومتوں نے شروع سے اب تک اس بارے میں عمدہ روایت قائم نہیں کی۔ واقعہ ربوہ سے ظاہر ہے کہ اس میں حکومت ملوث نہیں۔ الف اور ب کی تکرار ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس رپورٹ کو من و عن شائع کر دے تاکہ لوگ جان سکیں کہ جس واقعہ نے سارے ملک میں اس عظیم مسئلہ کو اٹھا دیا ہے۔ اس کی روداد کیا ہے؟ چونکہ ہائیکورٹ کے فاضل جج پر ہر جماعت کو اعتماد ہے۔ اس لئے سبھی حلقے اپنے متعلق اس سانحہ کی کتھا سننے کے لئے تیار ہیں۔ امید ہے کہ ہماری درخواست قبول کی جائے گی۔“
(ہفت روزہ چٹان لاہور، مورخہ ۲۶؍اگست ۱۹۷۴ء)
درخواست قبول ہوئی یا نہیں....... بہر حال وزرائے اعظم از ذوالفقار علی بھٹو تا الحاج میاں نواز شریف، زندہ باد۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باب سوم
متفرق رپورٹیں، روایات، انٹرویو، شخصیات
روایات حضرت مولانا تاج محمود
میرے مربی و محسن حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے ۱۶؍ اپریل ۱۹۸۰ء بروز ہفتہ بعد از ظہر اپنے مکان پر چائے کی محفل میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے حالات و واقعات بیان فرمائے، ذیل میں دیئے جاتے ہیں۔ اس مجلس میں فقیر کے علاوہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ صاحب ہمدانی جھنگوی مدظلہ بھی موجود تھے، وہ واقعات یہ ہیں:
قادیانی اور کھر
ملک غلام مصطفیٰ کھر پنجاب کا مقتدر اعلیٰ تھا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم سے ان کے اختلافات پیدا ہوگئے۔ کھر صاحب ایک شادی کے سلسلہ میں فیصل آباد آ رہے تھے تو چوہدری نذیر فیصل آبادی کی کوہستان بس نے ان کی کار کو دانستہ طور پر سائیڈ ماری۔ مگر کھر صاحب بال بال بچ گئے۔ جب کھر صاحب شیخوپورہ روڈ پر واقع نشاط آباد ریلوے کراسنگ پر (جہاں آج کل پل ہے) پہنچے تو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق موجود لوگوں کے ہجوم نے ان پر ٹماٹر ، آلو ، گندے انڈے، پرانے جوتے پھینکے اور ان کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرہ کیا، مگر کھر صاحب اس ہلڑ بازی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پیپلز کالونی میں شادی والے مکان پر پہنچ گئے۔ مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ مجھے شہر کے ایک صاحب نے فون کیا اور بتایا کہ کھر صاحب کے ساتھ یہ تمام ہنگامہ قادیانی سازش کا نتیجہ ہے۔ رات سفینہ ملز فیصل آباد میں (جو قادیانی ملز ہے) قادیانیوں کا اجتماع ہوا۔ اس میں کھر صاحب کے خلاف ہنگامہ کرنے کی پلاننگ ہوئی۔ ربوہ ، سرگودھا، جھنگ ، فیصل آباد سے قادیانی طالب علم جمع تھے۔ رات ان کا اس ملز میں رہائش و خوراک کا انتظام تھا۔ آج انہوں نے اس پلاننگ کے تحت کھر صاحب کی بے عزتی کی اور ہنگامہ کیا۔ اس میں پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ بھی شامل تھے۔ مگر تمام تر بدتمیزی قادیانی نوجوانوں کا شاخسانہ ہے۔ حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ مجھے پہلے اس ہنگامہ کا اور کھر صاحب کے فیصل آباد آنے کا علم بھی نہیں تھا۔ یہ فون سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا کہ قادیانی گروہ بھٹو صاحب اور کھر صاحب کے اختلافات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان کو لڑا کر وہ ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فون سنتے ہی پیپلز کالونی شادی والی کوٹھی پر چلے گئے۔ نہ دعوت، نہ پروگرام، نہ اطلاع۔ مگر ایک جذبہ ایمانی تھا کہ قادیانی شاطر قیادت دو مسلمان لیڈروں کو لڑا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا بروقت تدارک ضروری تھا۔ مولانا کو فیصل آباد کا کون شخص تھا جو نہ جانتا ہو۔ آپ اس کوٹھی پر پہنچے۔ مالکان نے خیر مقدم کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے کھر صاحب سے ضروری ملنا ہے۔ معلوم ہوا کہ ملک احمد سعید اعوان (آج کل لاہور ہائیکورٹ کے ایڈہاک کے جج) کے ہمراہ کھر صاحب کھانا کھا رہے ہیں۔ صاحب دعوت نے مولانا سے کھانے کی درخواست کی آپ نے عذر کر دیا۔ اطلاع کرائی گئی۔ تھوڑی دیر بعد کھر صاحب ملک احمد سعید اعوان کے ہمراہ باہر تشریف لائے۔ ملک سعید صاحب نے حضرت مولانا کا کھر صاحب سے تعارف کرایا۔ مولانا نے کھر صاحب سے دو منٹ تنہائی میں ملاقات کے لئے فرمایا۔ چنانچہ یہ تینوں حضرات کوٹھی کے عقب میں چلے گئے۔ مولانا نے تمام تفصیلات کھر صاحب کے گوش گزار کیں۔ کھر صاحب نے واقعہ سن کر لمبا سانس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیا۔ آسمان کی طرف دیکھا۔ پیشانی پر پسینہ آ گیا اور پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد مولانا سے عرض کیا کہ آپ مجھے ملیں۔ اس عنوان پر میں آپ سے تفصیل سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد قادیانی حماقت و سازش سے ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کے واقعہ کے خلاف تحریک ختم نبوت چل نکلی تو قادیانیوں نے ملک میں جج صاحبان، افسران، سیکرٹری صاحبان، بھٹو صاحب اور ان کی کیبنٹ کے ارکان میں ایک تصویر تقسیم کی۔ جس میں کھر صاحب، ملک سعید اعوان اور مولانا تاج محمود کو ایک ساتھ محو گفتگو دیکھا گیا۔ اس تصویر کے ذریعے بھٹو صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ تمام سازش ملک غلام مصطفیٰ کھر ، ملک احمد سعید اعوان اور مولانا تاج محمود صاحب نے آپ کے خلاف تیار کی ہے۔ لیجئے! یہ صاحبان اکٹھے کھڑے گفتگو کر رہے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد سانحہ ربوہ ہوا۔ یہ سب کچھ کھر صاحب نے آپ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لئے کیا ہے۔
مولانا فرماتے ہیں کہ میں حیران تھا یہ تصویر کس طرح تیار ہوئی۔ کس نے تصویر بنائی، کس طرح تقسیم ہوئی۔ اس دن تو ہمارے تین کے علاوہ کوئی شخص اس ملاقات میں موجود نہ تھا۔ گفتگو کیسے ہوئی۔ نتیجہ کیا نکالا گیا۔ دشمن کی عیاری کہ وہ اس سازش کو دوسرا رنگ دے رہا ہے۔ میں نے کھر صاحب کو قادیانی ہنگامے سے باخبر کیا۔ ان کی سازش سے باخبر کیا، الٹا قادیانیوں نے اس ملاقات کو افسانہ بنا دیا ہے۔ کئی سالوں بعد جب بھٹو صاحب فوت ہوگئے، مولانا فرماتے ہیں کہ ایک تقریب میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے فوٹوگرافر صابری نے مجھے ایک تصویر پیش کی۔ یہ تصویر وہی تھی جو قادیانیوں نے تقسیم کی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا صابری صاحب یہ کیا؟ اس نے کہا کہ یہ تصویر میں نے اس کوٹھی والی ملاقات کی بنائی تھی۔ میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے متعین تھا۔ آپ کھر صاحب کو لے کر کوٹھی کے عقب میں گئے۔ میں فوراً سیڑھیوں سے چھت پر گیا اور تصویر لے لی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں آٹھ صد کاپیاں اس تصویر کی مجھ سے تیار کرائی گئیں۔ فی کاپی چھ روپے چارجز میں نے وصول کئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ تصویر کس ایجنسی نے مجھ سے بنوائیں اور کس مقصد میں لائی گئیں۔ مولانا نے مسکرا کر فرمایا کہ اگلی تفصیلات مجھ سے سن لیں کہ یہ تصویریں آنجناب سے قادیانیوں نے حاصل کیں اور بھٹو گورنمنٹ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ تحریک کھر کی پیدا کردہ ہے اور اسی تصویر کا افسانہ بنایا۔ حالانکہ وہ تحریک خود قادیانی حماقت سے چلی تھی۔ ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں نے طالب علموں کو پٹوایا اور نتیجہ میں خود قادیانیت پٹ گئی۔
کھر اور تحریک ختم نبوت
مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں ایک دفعہ ملک غلام مصطفیٰ کھر کا لاہور میں مجھے پیغام ملا کہ آپ مجھے ملیں۔ مولانا نے حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری، سربراہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل سے اس پیغام کا ذکر کیا اور اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو ملاقات کر لی جائے۔ حضرت بنوری مرحوم مردم شناس تھے۔ فوراً فرمایا کہ ضروری ملیں۔ ’’ھذا بینی و بینک‘‘ کہ یہ آپ کے اور میرے درمیان رہے۔ کسی سے تذکرہ نہ کریں لیکن ملاقات فوری کریں۔
حضرت مولانا تاج محمود چل پڑے۔ ٹیکسی والے نے گلبرگ کھر صاحب کی کوٹھی سے ایک فرلانگ پہلے اتار دیا۔ مولانا کے پوچھنے پر ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ کھر صاحب بھٹو صاحب کے معتوب ہیں۔ ان کی کوٹھی پر سی آئی ڈی والوں کا پہرہ ہے۔ ہر آنے جانے والے کو وہ واچ کرتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا ٹیکسی نمبر نوٹ ہو اور پھر میں جرمانے و چالان بھگتتا پھروں۔ مولانا کو اس بات سے حالات کا اندازہ ہو گیا۔ مولانا ٹیکسی سے اتر کر ہی فوراً کوٹھی کے آگے سے دور تک سڑک پر چلے گئے ۔ جاتے جاتے محل وقوع کا جائزہ لے لیا۔ آگے جا کر کوٹھی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے عقب میں مسجد تھی۔ اس میں جا کر نماز پڑھی۔ مسجد کے صحن سے کوٹھی کی صحیح پوزیشن کو سمجھا۔ آپ مسجد میں رہے۔ تھوڑی دیر بعد سی۔آئی۔ڈی والوں نے گیٹ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کا چکر لگانا شروع کردیا۔ مولانا نے گیٹ کو خالی دیکھا۔ فوری طور پر جوتا سنبھالا اور کوٹھی میں پہنچ گئے۔ گن مین سے ملاقات ہوئی مولانا نے فرمایا کہ کھر صاحب کو ملنا ہے۔ اس نے انکار کردیا کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ مولانا نے اسے بتایا کہ میں ان کے بلانے پر آیا ہوں۔ آپ جاکر بتائیں کہ فیصل آباد سے مولانا تاج محمود تشریف لائے ہیں۔ پیغام پہنچا تو گن مین کو کھر صاحب نے کہا کہ کوٹھی کی پچھلی جانب لے آئیں۔ مولانا وہاں تشریف لے گئے تو کھر صاحب اپنی بھینسوں کا دودھ نکال رہے تھے۔ چادر اور بنیان پہن رکھی تھی۔ ایک چار پائی پر مولانا کو بٹھا دیا تو کھر صاحب نے کہا حضرت میں گورنمنٹ ہاؤس میں بھی اپنی بھینسوں کا خود دودھ نکالتا تھا۔ یہ ہماری خاندانی روایت ہے جس کی میں پابندی کرتا ہوں۔ اب کھر صاحب نے گفتگو کا آغاز کیا۔ ”بحیثیت مسلمان کے میں نے آپ کو بلایا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ آپ نے مجھے فیصل آباد میں قادیانیوں کی سازش سے آگاہ کیا مگر میں نہ سنبھل سکا۔ دشمن نے مجھے اور بھٹو صاحب کو لڑا دیا ہے۔ آپ کی تحریک دشمن خراب کرنا چاہتا ہے۔ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں۔ اس پر آپ سوچ لیں۔ میرے سر پر مرزا ناصر کا لڑکا مسلط ہے۔ وہ یہاں یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ ہر روز آ کر الٹی سیدھی مجھے پڑھاتا رہتا ہے۔ اسی طرح مرزا طاہر احمد جو مرزا ناصر کا بھائی ہے، وہ بھٹو صاحب پر مسلط ہے۔ مرزا ناصر اپنے بیٹے کے ذریعے مجھے اور طاہر کے ذریعہ بھٹو صاحب کو الگ الگ شیشے میں اتارتے رہے ہیں۔ دراصل رامے صاحب ان کا منظور نظر ہے۔ یہ سب لابنگ اس کے لئے ہو رہی تھی۔ آپ مجھ سے عبرت حاصل کریں۔ چار باتوں کا خیال رکھیں۔ آپ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھی ہیں۔ میرے والد مرحوم، شاہ جی اور حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوری کو اپنے ہاں گھر پر سیرت کے جلسوں پر بلواتے تھے۔ فیصل آباد کی ملاقات اور اس دینی تعلق کی بنیاد پر میں نے آپ کو تکلیف دی ہے۔ آپ چار چیزوں کا خیال رکھیں۔
- ۱...... قادیانی سوشل بائیکاٹ سے سخت خوفزدہ ہیں۔ کبھی بھی کسی بھی سٹیج پر تاوقتیکہ تحریک کامیاب نہ ہو، سوشل بائیکاٹ کو ترک نہ کریں۔
- ۲...... دشمن تشدد کے منصوبے بنارہا ہے۔ آپ احتیاط رکھیں۔
- ۳...... جناب بھٹو صاحب کو قادیانیوں کے گھیرے سے نکالیں۔ اس سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ تحریک چلتی رہے۔ جناب بھٹو صاحب کی
سمجھ میں آگیا تو وہ یہ کام کر جائیں گے۔ وہ جب کام کرنے پر آجاتا ہے تو فوری فیصلہ کرتا ہے۔ قوت فیصلہ سے بے پناہ طور پر قدرت نے اس کو نوازا ہے۔
- ۴...... فلاں صاحب جو دن رات گلے پھاڑ پھاڑ کر آپ کی مجلس عمل کے سٹیج سے تقریریں کرتا ہے، وہ رات بھٹو صاحب سے ملا ہے۔
(حضرت مولانا نے اس شخص کا نام بھی لیا۔ فقیر کو یاد ہے مگر وہ فوت ہوگیا ہے۔ اب کیا ذکر کرنا ہے) وہ سخت قسم کا جاسوس ہے۔ آپ کا ہر راز بھٹو صاحب تک پہنچاتا ہے۔ آپ اس سے باخبر رہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں میں نے آکر حضرت شیخ بنوری سے عرض کیں تو حضرت بنوری نے چھ رکنی کمیٹی بنادی۔ حضرت بنوری، حضرت مفتی محمود صاحب، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان، آغا شورش کاشمیری پر مشتمل چھ حضرات بھی میٹنگ سے قبل باہمی مشورہ کرکے جو طے کرتے تھے، میٹنگ میں فیصلہ اسی کے مطابق کرواتے تھے۔ ان تمام اراکین نے باہمی طے کر لیا تھا کہ اس سب کمیٹی کا کسی کو علم نہ ہوگا اور نہ ہی اس کے فیصلوں کا کسی کو پتہ چلے گا تا آنکہ تحریک کامیاب نہ ہوجائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۵...... مولانا نے فرمایا کہ کلیم اختر کاشمیری کی سر ظفر اللہ خان قادیانی سے ملاقات ہوئی تو ظفر اللہ خان نے کہا کہ مرزا ناصر اپنے باپ
مرزا محمود احمد کی گرد راہ کو نہیں پاسکتا۔ مرزا محمود نے علماء سے، احرار سے، کانگریس سے چومکھی لڑائی لڑی۔ مگر مار نہیں کھائی۔ مرزا ناصر احمد کی ایک دفعہ جناب بھٹو صاحب سے ملاقات ہو گئی تو غلط فہمی کا شکار ہو کر طالب علموں کو ربوہ اسٹیشن پر پٹوا کر خود پٹ گئے۔
ایبٹ آباد
جناب ساجد اعوان
چونکہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع ہزارہ ۱۹۷۴ء میں قائم ہو چکی تھی اور ہزارہ کے مسلمان ذہناً مرزائیت کی خباثتوں سے آشنا ہو چکے تھے۔ سانحہ ربوہ کے بعد علماء ہزارہ، وکلاء، طلباء اور دیگر معتبر شخصیات ایک بار پھر جمع ہوئیں اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی تجدید اور تشکیل نو کی گئی۔ متفقہ طور پر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ہزارہ کے امیر کے لئے مولانا عبداللطیف، خطیب ہزارہ اور ناظم اعلیٰ کے لئے مولانا شفیق الرحمٰن کو منتخب کیا گیا۔ جب کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع ہزارہ کے دیگر ممبران درج ذیل تھے:
- ۱...... مولانا محمد ایوب ہاشمی (دھمتوڑ)
- ۲...... مولانا قاضی محمد نواز خان (نواں شہر)
- ۳...... مولانا عبدالواحد (شیخ البانڈی)
- ۴...... مولانا عبدالحنان (سلھڈ)
- ۵...... مولانا عبدالغنی (بگنوتر)
- ۶...... مولانا قاضی فضل حق (دھمتوڑ)
- ۷...... مولانا عبدالحق (شہزادہ مسجد ایبٹ آباد)
- ۸...... مولانا ولی الرحمٰن (کاکول)
- ۹...... مولانا محمد ضمیر (بگنوتر)
- ۱۰...... عجب خان (بگنوتر)
- ۱۱...... زین خان (بگنوتر)
- ۱۲...... منصف خان شیخ (دھمتوڑ)
- ۱۳...... اللہ داد خان (دھمتوڑ)
- ۱۴...... سلیمان خان (دھمتوڑ)
- ۱۵...... قلندر خان (شیخ البانڈی)
- ۱۶...... حاجی میر داد خان (شیخ البانڈی)
- ۱۷...... حاجی رحمت خان (سلھڈ)
- ۱۸...... مولانا عبدالغنی (سلھڈ)
- ۱۹...... سکندر خان (سلھڈ)
- ۲۰...... خواجہ محمد صراف (ایبٹ آباد)
- ۲۱...... بابو کرم الٰہی (ایبٹ آباد)
- ۲۲...... قاضی امیر محمد (ایبٹ آباد)
- ۲۳...... چشتی عبدالعزیز (ایبٹ آباد)
- ۲۴...... مولوی محمد ابراہیم (کنج)
- ۲۵...... مولوی مشتاق حسین (کریم پورہ ایبٹ آباد)
- ۲۶...... مولوی محمد یوسف (دیسال)
- ۲۷...... مولوی نور حسین (موہار)
- ۲۸...... مولوی محمد ایوب (موہار)
- ۲۹...... مولوی مسلم (نواں شہر)
- ۳۰...... قلندر خان چشتی (نواں شہر)
- ۳۱...... ڈاکٹر فضل الرحمٰن (نواں شہر)
- ۳۲...... مولوی احمد عثمان (نواں شہر)
- ۳۳...... مولوی محمد کریم (نواں شہر)
- ۳۴...... حاجی منصف خان (نواں شہر)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۵...... حاجی لعل خان (نواں شہر) ۳۶...... مولوی عبدالرؤف (گھاس منڈی ایبٹ آباد) ۳۷...... حاجی عبدالرشید (کیہال ایبٹ آباد) ۳۸...... عیسیٰ خان (ایبٹ آباد) ۳۹...... مولوی محمد جان خان (نواں شہر) ۴۰...... مولانا محمد اسماعیل ذبیح (نواں شہر) ۴۱...... مولانا عبدالحق (لوتر ملک پورہ) ۴۲...... مولانا عبدالرحمٰن (کاکول) ۴۳...... مولوی عزیز الرحمٰن کوہاٹی (ایبٹ آباد) ۴۴...... جاندار خان (کاکول) ۴۵...... مسعود الرحمٰن (کاکول) ۴۶...... مولوی عبدالقیوم (میرا مندر وچھ) ۴۷...... عبداللہ خان (میرا مندر وچھ) ۴۸...... عبدالجبار خان (کاکول) ۴۹...... مولانا عزیز الرحمٰن (ملک پورہ) ۵۰...... شیخ عاشق حسین (سبزی منڈی ایبٹ آباد) ۵۱...... شیخ محمد عبداللطیف (ایبٹ آباد) ۵۲...... خان محمد امین جان (ایبٹ آباد) ۵۳...... مولانا عزیز الرحمٰن (سی. ایم. ایچ سپلائی)
اسی روز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع ہزارہ نے ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کو ایک زبردست احتجاجی ختم نبوت کانفرنس جناح باغ ایبٹ آباد میں منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد اور کامیابی کے لئے بھر پور تیاری شروع ہوئی۔ گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ جا کر ختم نبوت کا پیغام سنایا گیا۔ ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کو غیور مسلمانانِ ہزارہ کے قافلے در قافلے ’اذا جاء نصر الله والفتح ورایت الناس يدخلون فی دین الله افواجا‘ کا عملی نمونہ تھے۔ باغ جناح کھچا کھچ بھر گیا۔ تاحد نگاہ مجمع، ضلع بھر کے علماء سٹیج پر رونق افروز تھے۔ امیر مجلس عمل مولانا عبداللطیف کی صدارت میں کانفرنس کا آغاز ہوا۔ مضافات سے قافلے مسلسل آ رہے تھے۔ لوگ باغ سے باہر سڑکوں تک پھیلتے چلے گئے۔ امت مسلمہ کی اس بیداری سے مرزائی ذریت کی روح زخمی ہو رہی تھی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا مؤقف بڑا واضح اور آئینی راہ اختیار کئے ہوئے تھا کہ:
- ۱...... مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ۲...... ربوہ (چنیوٹ) کی بقیہ اراضی میں مسلمانوں کو آباد کیا جائے اور وہاں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- ۳...... مرزائیوں کو فوج سمیت تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ وغیرہ!
ان دنوں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈر عبداللہ سعید قادیانی تھے۔ انہوں نے کانفرنس کو کچلنے کے لئے پاکستانی فوج کو، فوجی گاڑیوں، فوجی وردیوں اور فوجی اسلحہ کے ساتھ بھیجنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ ملک بھر سے با اثر قادیانی تحریک کے دوران بھاگ کر انہی عبداللہ سعید قادیانی کے پاس پی. ایم. اے میں پناہ گزیں تھے اور وہ بڑے طمطراق سے انہیں تحفظ دیئے ہوئے تھے۔ مرزا ناصر جب بھی ایبٹ آباد آتے تھے تو سعید ہاؤس نامی ایک کوٹھی میں رہا کرتے تھے۔ یہ ڈاکٹر سعید احمد انہی عبداللہ سعید کے والد تھے۔
پی. ایم. اے میں مرزائیوں نے باہم مشورہ سے سرزمین ہزارہ پر تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی یاد تازہ کرنے کا پروگرام بنایا اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے لئے فوج کو بھیجا۔ جناح باغ سے دو یا تین فرلانگ کے فاصلے پر سی. ایم. ایچ ہسپتال کے گیٹ پر مقامی انتظامیہ نے فوجی کانوائے کو روک لیا۔ کافی بحث مباحثہ کے بعد فوج کو ضلعی انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رکھا گیا اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوں سرسبز و شاداب سرزمین ہزارہ مرزائیوں کے منصوبہ کشت وخون سے محفوظ ہوئی۔ شاید مرزائی ۱۹۷۴ء کی رسوائی اور پسپائی کا انتقام لینا چاہتے تھے ( قادیانی ملٹری اکیڈمی کاکول ایبٹ آباد کی جگہ اپنا ہیڈ کوارٹر بنانا چاہتے تھے، مگر مسلمانوں نے نہ بننے دیا تھا۔ بعد میں وہ جگہ بھی قادیانیوں سے واپس لے لی گئی تھی۔ مرتب ) اور شاید اسلام دشمنی اور دہشت گردی کے اپنے بنیادی فارمولے پر عمل پیرا تھے۔ کچھ بھی ہو یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مرزائی ذریت کو جب بھی مالی یا جانی طور پر نقصان پہنچا۔ اس شرارت کی ابتداء انہی کی طرف سے ہوئی۔ ختم نبوت کانفرنس میں شریک لوگوں کو جب اس شرارت کا علم ہوا تو لوگوں کا رخ ڈاکٹر سعید احمد قادیانی کے کلینک کی طرف ہو گیا جو جیل کے سامنے ملک پورہ میں واقع تھا۔
لوگ جلوس کی صورت میں نعرہ بازی کرتے ہوئے کلینک کے قریب پہنچے تو ڈاکٹر سعید احمد کے داماد جو فوج میں کیپٹن تھے، ایک خود کار گن لئے نکلے اور جلوس پر فائر کھول دیا۔ موقع پر تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اب جلوس کلینک کے اندر چلا گیا۔ چونکہ ان کا کلینک اور کوٹھی ساتھ ساتھ ہی تھے اور کافی وسیع رقبہ گھیرے ہوئے تھے، وہ اندر چلے گئے اور مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔ مسلمانوں نے ان کے کلینک کو آگ لگا دی۔ مولانا سعید الرحمٰن قریشی اور پروفیسر مولانا طاہر الہاشمی سمیت کئی افراد کلینک کے اندر اور پھر چھت پر چڑھ گئے اور پتھراؤ جاری رہا۔ گولی کا جواب پتھر سے دینا جہاں اپنے اندر ایک جذبہ لئے ہوئے تھا، وہاں اسے ارباب نظر نے ذاتی نقصان سے تعبیر کیا۔ فائرنگ دونوں جانب سے شروع تھی۔ ڈاکٹر سعید احمد قادیانی کے قادیانی داماد بھی زخمی ہوئے۔ آگ کے شعلے چھت تک پہنچ چکے تھے اور چھت پر موجود مسلمانوں کی جانیں بچانا مشکل معلوم ہونے لگا تھا۔ اندر موجود تمام قادیانی اسی شش و پنج میں عقبی دروازے سے جھاڑیوں اور کھائیوں سے ہوتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ایک دوسری روایت کے مطابق کوٹھی میں موجود تہہ خانے میں چھپ گئے تھے۔ پہلے قادیانی کمانڈر کے فوج بھیج کر کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے ارادے کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات بپھرے اور اب تو تین سے زائد ساتھیوں کے خون کی سرخی نے ان جذبات پر جلتی کا کام کیا۔ جیسے تیسے ساتھیوں کو جلوس نے چھت سے اتارا۔
جلوس ملک پورہ سے واپس بازار کی طرف لوٹا تو ایبٹ آباد شہر کے تمام بازاروں میں انسان کے ہجوم کا لامتناہی سلسلہ دیکھنے کو ملا۔ ہر طرف اس قدر خلقت خدا تھی کہ گویا ہر ذرہ اٹھ کر شاہ دو جہاں ﷺ کی ختم نبوت کا محافظ بن گیا ہو۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ختم نبوت کانفرنس باغ جناح میں اسی تزک واحتشام سے جاری تھی۔ جناح باغ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور جلوس اپنی مثال آپ تھا۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ اس سے بڑا جلوس کبھی سرزمین ہزارہ پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ حتیٰ کہ تحریک آزادی کے دوران بھی نہیں اور نہ پھر آج تک وہ جذبہ عشق رسالت ﷺ دیکھنے کو ملا۔
جلوس فردوس کیفے بالمقابل گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۳ کے پاس پہنچا تو اس بلڈنگ میں ایک قادیانی کی میڈیکل کی دوکان تھی۔ جلوس میں طلباء ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک طالب علم جو اس وقت بینگنی رنگ کے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھا، قادیانی کی دوکان کو پہلی تیلی لگائی۔ پھر کیا تھا، ہر مسلمان اسے سعادت سمجھ کر کرنے لگا۔ پروفیسر افتخار ظفر کے مطابق آگ لگی ہوئی تھی کہ ایک بوڑھا شخص لاٹھی کے سہارے اندر قادیانی کی دوکان میں بیٹھا لوہے کی الماری کو تیلی لگا رہا تھا۔ میں نے کہا بابا لوہا ہے۔ یہ نہیں جلتا، بابا نے مجاہدانہ انداز میں کہا (بچہ پکڑ لیسی او) بیٹا آگ پکڑ لے گا۔ چند ہی لمحوں میں آگ نے پوری بلڈنگ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ ایک روایت کے مطابق ایف سی کے جوان بھی آگ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگانے میں ہاتھ بٹا رہے تھے۔ جلوس آگے بڑھ کر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ پولیس پہلی تیلی لگانے والے بینگنی کپڑوں والے کی گرفتاری کے لئے سرگرداں ہوگئی۔ یہاں اس بات کی وضاحت ازحد ضروری ہے کہ علماء کرام اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اس جلوس کے حق میں تھے، نہ قیادت کر رہے تھے۔ مولانا سعید الرحمٰن قریشی کہتے ہیں، میں باغ جناح میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہا تھا کہ جلوس میں شریک کالج کے طلباء نے مجھے پکڑ لیا اور کہا: ”مولوی صاحب! باقی مولوی تو ہیں نہیں، تجھے ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔“ دور طالب علمی کا تھا، میں ان کے ساتھ ہوگیا۔
جلوس کا ایک حصہ لنک روڈ سے ہوتا ہوا۔ سربن چوک اور گورنمنٹ کالج کی طرف جا رہا تھا جب کہ دوسرا جلوس جی. پی. او لیڈی گارڈن سے ہوتا ہوا شاہراہ ریشم کی طرف جا رہا تھا۔ شاہراہ ریشم کی بالکل نکر اور لیڈی گارڈن اور دوسری طرف سے عزیز پیٹرول پمپ کے سامنے کنٹونمنٹ کے کوارٹر ہیں۔ آخری کوارٹر میں بھی ایک بھٹی نامی قادیانی رہتا تھا جو کنٹونمنٹ بورڈ میں کلرک تھا۔ جلوس کو ادھر سے گزرتا دیکھ کر اس نے بندوق سے فائرنگ شروع کردی۔ جلوس کے شرکاء کے پاس جوابی کارروائی کے لئے سوائے زمین پر پڑے پتھروں کے اور کیا تھا۔ تاہم لوگ اس کے کوارٹر کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ اخ شیر نامی ایک کوہستانی پالشی تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر جس کمرے سے بھٹی قادیانی فائرنگ کر رہا تھا، اس سے بندوق چھیننا چاہتا تھا۔ اخ شیر آگے بڑھا۔ دروازے کے کواڑ توڑنا شروع کر دیئے۔ کیونکہ اندر سے اس نے کنڈی لگا رکھی تھی۔ اخ شیر کواڑوں کو توڑنے کی کوشش میں مصروف تھا کہ اندر سے بھٹی مرتد نے گولی چلائی۔ مولانا سعید الرحمٰن فرماتے ہیں کہ میرے سامنے گولی اس کی دائیں آنکھ کے اوپر کنپٹی پر لگی۔ خون پھوٹ پڑا لیکن دونوں ہاتھ جو وہ دروازے کے کواڑوں کو ڈال چکا تھا۔ اسی شدت سے ڈالے رکھے۔ حتیٰ کہ کواڑ اکھاڑے اور اس مرتد پر دے مارے۔ پھر کیا تھا، لوگ اندر کمرے میں داخل ہوگئے اور مرزائی کا کام تمام کر دیا۔ کچھ نے اخ شیر کو اٹھایا اور سول ہسپتال لے گئے۔ اب یہ جلوس شاہراہ ریشم پار کر کے گورنمنٹ کالج کی عقبی جانب واقع گلستان کالونی کا رخ کئے ہوئے تھے۔ وہاں عبدالرحیم نامی ایک مخبوط الحواس قادیانی رہتا تھا۔ جب جلوس اس کے گھر کے سامنے پہنچا تو اندر سے ایک باشرع نوجوان نکلا جس کا نام شاہد بتایا جاتا ہے۔ یہ لڑکا عبدالرحیم قادیانی کا بیٹا تھا۔ اس نے جلوس کے شرکاء سے کہا میرا باپ قادیانی ہے۔ اسے بھی قتل کر دو اور اس کے گھر کو آگ بھی لگا دو۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ معمولی پتھراؤ کے بعد جلوس آگے بڑھ گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب تک مرزائی شرارت نہ کریں، مسلمان اپنی حدود میں ہی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید احمد قادیانی کے داماد نے فائرنگ کی تو ردعمل ہوا۔ بھٹی قادیانی نے فائرنگ کی تو جواب دیا گیا۔ یہاں شرارت نہیں ہوئی تو کچھ نہ ہوا۔
یہی شاہد رحیم جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، آج کل ایف. آئی. اے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور ان کے دوسرے بھائی اعجاز رحیم اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ برانچ میں سیکرٹری اور ہزارہ ڈویژن کے کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔ آج صوبہ سرحد کے چیف سیکرٹری ہیں۔ سینیٹر بریگیڈیئر عبدالقیوم ان ہر دو حضرات کے بہنوئی تھے۔ اسی وجہ سے انہیں قادیانی کہا جاتا رہا۔ اس سلسلے میں راقم کی ان سے ملاقات ہوئی۔ نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں ان کے ذہن میں شکوک تھے۔ کہنے لگے آج سائنس کا دور ہے۔ ہر چیز کو عقل پر اور سائنسی تحقیق پر پرکھا جاتا ہے۔ چونکہ یہ عقیدہ تو قادیانیوں کی بنیاد ہے، میں نے ان سے فوراً کہہ دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ کے ص۵۷۵ پر لکھا ہے کہ: ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئی لکھی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔“
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ٦٦٠ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بریگیڈیئر صاحب کہنے لگے: ”مرزا قادیانی بھی الو کا پٹھہ تھا۔“ پھر وہ خود بات کھول کر کہنے لگے کہ تم لوگوں کے کچھ مولوی میرے پاس آئے تھے اور کہنے لگے کہ لکھ کر دیں کہ مرزائیت سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ میں صحیح مسلمان آدمی ہوں۔ وہ مرزا غلام محمد تھا کہ غلام احمد تھا، اس خبیث کو میں جانتا تک نہیں۔ میں کچھ لکھ کر نہیں دیتا۔ پھر مولانا شفیق الرحمن میرے پاس آئے اور کہا مرکز سے دباؤ ہے آپ کو لکھ کر دینا ہوگا۔ میں نے انہیں لکھ کر دے دیا اور پھر میں خود ملتان آپ لوگوں کے مرکز گیا۔ وہاں بھی میں نے لکھ کر دیا کہ میرا مرزائیت سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یار آپ نبوت کو ختم کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نبوت کو جاری کرو اور پھر جاتے ہوئے ہاتھ ملاتے وقت کہہ رہے تھے: ”اچھا بیٹا آپ ختم نبوت کو سنبھال کر رکھیں۔“ الحمدللہ ! ہم ختم نبوت کو سنبھالے ہوئے ہیں اور بریگیڈیئر سینیٹر عبدالقیوم کا معاملہ اب محمد ﷺ کے خدا کے ساتھ ہے۔ بات چلتی تھی عبدالرحیم قادیانی سے، تو سینیٹر صاحب نے بھی اس کی تائید کی تھی کہ میرا سسر قادیانی تھا۔ کبھی لاہور جماعت میں چلا جاتا تھا، کبھی قادیانی ہو جاتا اور کبھی بہائی مذہب اختیار کر لیتا تھا۔ اعجاز رحیم جب ہزارہ ڈویژن کے کمشنر تھے علماء اور تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کا ایک وفد پروفیسر قادیانی کے کیس کے سلسلے میں ان سے ملا۔ مولانا الطاف الرحمن نے کمشنر سے پوچھا آپ کے والد کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ قادیانی تھے۔ آپ اپنے بارے میں وضاحت کیجئے۔ اعجاز رحیم نے کہا کہ اگر میرا باپ قادیانی ہوتا تو میں کبھی ان کے لئے دعائے مغفرت نہ کرتا۔ وہ بھی مسلمان تھے اور میں بھی مسلمان ہوں۔ مولانا نے اس وقت کہا تھا کہ اس سے تو ہمیں آپ پر بھی شک ہونے لگا ہے۔
اعجاز رحیم نے دور کمشنری میں نواں شہر کے قریب ”الرحیم ٹاؤن شپ سکیم“ کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ۲۸؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں ”الرحیم ٹاؤن شپ سکیم“ کی بھر پور مخالفت کی گئی۔ اس کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی جب کہ مقررین میں مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا عبداللہ اسلام آباد، مولانا سید چراغ الدین شاہ اور دیگر مقررین شامل تھے۔ اس روز سے الرحیم ٹاؤن شپ کا منصوبہ بھی تہہ خاک چلا گیا۔ بہر حال کسی کے دل کو چیر کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ دلوں کے بھید کو خالق اکبر ہی جانتا ہے۔ لیکن دھواں وہیں سے اٹھتا ہے، جہاں چنگاری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ خیر ؎
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
میں عرض کر رہا تھا: ایک جلوس تو شاہراہ ریشم سے ہوتا ہوا گلستان کالونی پہنچا۔ دوسرا جلوس کریم پورہ میں واقع ایک مرزواڑے پہنچا اور اس سے مسجد ضرار والا معاملہ کیا گیا۔ وہاں سے مرزائیوں کی کئی کتابیں جن میں تذکرہ، حقیقت الوحی، تاریخ احمدیت، مرزا بشیر الدین محمود کا کیا ہوا قرآن کا ترجمہ، شامل تھیں، محفوظ کر لی گئیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد کے علماء کو جب شہر کی صورتحال کا علم ہوا کہ مرزائیوں کے ہاتھوں ہمارے کئی ساتھی زخمی ہو چکے ہیں۔ شہر میں آگیں لگ رہی ہیں تو وہاں سے جلوس کو کنٹرول کرنے کے لئے رضا کار بھیجے گئے۔ لیکن کانفرنس جاری رہی۔ کئی قادیانیوں نے باغ جناح میں آ کر اسلام قبول کیا۔ پولیس بینگنی رنگ کے کپڑوں والے طالب علم کی تلاش میں ناکام تھی۔ پولیس کے آلہ کار ہر طرف سے پوچھ رہے تھے کہ بینگنی کپڑوں والا کدھر گیا۔ اپنوں میں بھی چہ مگوئیاں تھیں کہ یہ بینگنی کپڑوں والا چھلاوا کون تھا؟ بیگانے بھی اس چھلاوے کی تلاش میں تھے۔ اب جب راقم تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے حوالے سے تحقیق میں مصروف تھا تو مولانا شفیق الرحمن صاحب
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے مجھے وہ کتابیں دکھائیں جو کریم پورہ میں واقع مرزاوڑے سے حاصل ہوئی تھیں۔ تذکرہ کی جلد اور چند اوراق جلے ہوئے تھے۔ حقیقت الوحی کی ورق گردانی کر رہا تھا تو اس میں سے روزنامہ مشرق پشاور کا ایک تراشہ ملا جس پر نائیجیریا میں واقع قادیانی عبادت گاہ کی تصویر دی گئی ہے اور اس عبادت گاہ پر مرزائیوں کا کلمہ ”لا اله الا الله احمد رسول الله“ لکھا ہوا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی اخبارات مرزائیوں کے کفر پر سرکاری دستخط ہونے سے قبل بھی مسلم امہ سے ان کی علیحدگی آشکار کرتے رہے۔ (اللہ انہیں جزائے خیر دے۔آمین!)
اب یہ ہر دو جلوس سول ہسپتال کے قریب پاپولر میڈیکل سٹور کے سامنے تھے۔ یہ پاپولر میڈیکل سٹور والا بھی قادیانی تھا۔ لیکن خوش قسمتی اس کی یہ تھی کہ جس لمحے جلوس وہاں پہنچے، اس سے تھوڑی دیر پہلے وہ جناح باغ میں مسلمان ہونے کا شرف حاصل کر چکا تھا۔ (آفرین ہے، پنجاب کی ایک کہاوت ہے: ”دس بہادری یانس بہادری“ یہ اس کا عمومی مظاہرہ تھا) اب جلوس کا رخ کنج میں واقع ایک اور قادیانی عبادت گاہ کی طرف تھا وہاں مرزائیوں کا ایک مربی بمعہ اہل خانہ کے رہائش پذیر تھا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ جلوس آ رہا ہے تو بیہوش ہو گیا۔ جلوس جب وہاں پہنچا تو اسے بیہوش پایا۔ اسے ہوش آئی۔ جلوس دیکھا تو پھر بیہوش ہو گیا۔ بوڑھا تھا۔ اس کی نوجوان بچیاں آہ وزاری میں مصروف تھیں۔ چند شتر بے مہاروں نے آگے بڑھ کر ان کے دوپٹے چھیننے کی کوشش کی۔ لیکن مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رضا کار وہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے انہیں منع کیا۔ باقی جلوس نے تائید کی۔ مولانا سعید الرحمن قریشی کی مختصر تقریر ہوئی اور فرمایا: لوگو! ہم اس نبی ﷺ کے نام لیوا ہیں۔ جن کے دربار میں حاتم طائی کی بیٹی قیدی بنا کر لائی گئی تو آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک اسے اوڑھنے کو دی۔ صحابہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کافر کی بیٹی ہے۔ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”صحابہ بیٹی، بیٹی ہوتی ہے۔ مومن کی ہو یا کافر کی۔ اس کا احترام یکساں واجب ہوتا ہے۔“
لوگوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور حق کی آواز پر لبیک کہی۔
قادیانیوں کو عبادت گاہ سے نکلنے کے لئے چند منٹ دیئے گئے۔ وہ اپنا قیمتی سامان لے کر نکلے تو جلوس کے شرکاء نے وہاں سے قادیانی لٹریچر نکال کر نذر آتش کیا۔ اس کے بعد وہاں محلہ کے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اگلے رمضان میں تراویح میں قرآن مجید پروفیسر حافظ عبد الغفور نے سنایا اور ختم قرآن کے موقع پر دوست محمد خان منگلوری نے ایمان افروز خطاب کیا۔ موضع شیخ البانڈی میں بھی اس روز مرزائیوں کے گھروں سے لٹریچر نکال کر نذر آتش کیا گیا۔
۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کا دن ایبٹ آباد شہر میں، نواں شہر، دھموڑ، ہرنو، بگنوتر دیال، شیخ البانڈی، نریاں، کاکول، میر پور، جھنگی، حویلیاں، رجوعیہ، بانڈہ جات اور دیگر مضافات سے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی عشق رسول ﷺ کے لبادے اوڑھے مثل سیلاب امڈ آئے تھے اور اکثر مضافات میں اس روز مساجد میں اذان پڑھنے کے لئے کوئی بالغ مرد موجود نہیں تھا۔ اسی روز رات گیارہ بجے زخمی اخ شیر سول ہسپتال ایبٹ آباد میں دم توڑ گیا۔ دوسرے روز اخ شیر کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ شمع ختم نبوت کے پروانوں کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ سول ہسپتال کے گیٹ سے جڑتا چلا گیا۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے شہید کی میت گزارنے کے لئے روٹ دیا گیا۔ کلمہ شہادت کی گونج میں جنازہ اٹھا تو انتظامیہ کا دیا ہوا روٹ لوگوں کے قدموں میں روندتا نظر آیا۔ سربن چوک کے قریب اخ شیر شہید کی میت رکھی گئی۔ کسی نے آواز لگا دی کہ میت کوہستان پہنچانی ہے۔ چندہ اکٹھا کریں۔ چند ہی لمحوں میں نوٹوں کی تہیں چارپائی سے اوپر چڑھنے لگیں۔ لوگ کہتے ہیں جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا، اخ شیر شہید کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھلتا چلا جا رہا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بچے بوڑھے جن کے پاس جو تھا، چندہ کے ڈھیر میں ڈال کر اخ شیر شہید کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے اور بعض بچے اور بوڑھے ایسے بھی دیکھے گئے کہ واپسی پر چار چار اور پانچ پانچ میل کا سفر پیدل کر کے گھروں کو لوٹے کہ واپسی کے کرایے کے پیسے بھی شہید پر نچھاور کر دیئے۔ شہید کی میت اٹھی ۔ شہر بھر کا چکر لگایا گیا۔ نواں شہر کے حاجی گل حسن نے کہا اخ شیر شہید کو نواں شہر میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ میت نواں شہر لائی گئی ۔ نواں شہر گراؤنڈ میں نماز جنازہ مولانا قاضی محمد نواز خان نے پڑھائی ۔
قبر میں مولانا محمد ایوب الہاشمی نے اتارا۔ مولانا محمد ایوب الہاشمی بتاتے ہیں اس وقت اس کا چہرہ تازہ گلاب کی طرح مہک رہا تھا اور اس کی ناک اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہورہے تھے اور یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی تھی۔ ”لا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون“ تدفین کے وقت پسینے کے قطرے نمودار ہونا واقعی زندگی کی نشانی تھی۔
آج اخ شیر شہید کی قبر کے بالکل سامنے تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کا دفتر قائم ہے۔ جہاں ہر روز تقریباً ایک سو پچاس بچے قرآن سیکھنے کی دولت سے مالا مال ہورہے ہیں ۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ اخ شیر شہید کے خون کی برکت کا ثمر ہے۔ دوسرے روز یعنی ۱۳/ جون کو شہید کے والدین کوہستان سے پہنچے۔ بیٹے کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔ لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے باوجود ہشاش بشاش اور مطمئن تھے۔ ۱۳/ جون کو ضلع بھر میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی۔
۱۴/ جون ۱۹۷۴ء کو مرکزی عید گاہ ایبٹ آباد میں مشترکہ جمعہ پڑھنے کا اعلان کر دیا گیا۔ مولانا عبداللطیف نے جمعہ پڑھایا۔ نماز جمعہ کے بعد جلوس کا پروگرام تھا۔ ۱۱/ جون کے جلوس اور ہنگامہ آرائی کی خبر مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو ہو چکی تھی۔ اس لئے مرکز سے حکم آیا کہ آج جلوس وغیرہ نہ نکالا جائے ۔ لیکن لوگوں کے جذبات مختلف تھے۔ مولانا شفیق الرحمن نے نماز جمعہ کے بعد خطاب کرنا تھا۔ آپ فرماتے ہیں میرے لئے وہ لمحات بڑے مشکل تھے۔ تاحد نگاہ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر میرے سامنے تھا۔ اخ شیر کی شہادت اور دوسرے ساتھیوں کے زخمی ہونے کا دکھ ان کے سینوں میں دہک رہا تھا۔ ایسے میں جلوس نہ نکالنے کا اعلان واقعی بڑا دشوار مرحلہ تھا۔ بہر حال بڑی تمہید کے بعد میں نے اعلان کر دیا کہ آج جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ جلوس تو تو نکلنا ہی تھا لیکن اس اعلان کا نقصان یہ ہوا کہ پولیس کو ہاتھ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عید گاہ سے دفعہ ۱۴۴ کو توڑتا ہوا شاہراہ ریشم پر نکلا ۔ پولیس کی بھاری جمعیت موجود تھی۔ اس روز پولیس کا ایسا لاٹھی چارج ہوا اور آنسو گیس پھینکی گئی کہ ایبٹ آباد کی سڑکیں اور بازار میدان کربلا کا نقشہ پیش کرنے لگیں ۔ گھروں میں خواتین اور معصوم بچے بھی آنسو گیس کی زہریلی شدت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ۱۴/ جون کے جلوس کے شرکاء میں کم ہی ایسے ہوں گے جن کے بدن پر پولیس کی لاٹھیوں کے نشانات نہ پڑے ہوں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جن کے بدن پر آج بھی ان زخموں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں اور کئی وہ تمغے بدن پر سجا کے خالق حقیقی سے مل چکے ہوں گے۔
ہنگامہ آرائی، جلوس، پتھراؤ، آتش زنی اور فقط نعرہ بازی مجلس عمل کا انداز نہ تھا بلکہ مجلس عمل نے علماء کرام، طلباء اور مقررین کو ہدایات دیں، تیار کیا۔ مجلس عمل کا مؤقف، پالیسی اور کام کرنے کا اندازہ سمجھایا۔ اب ہر روز، ہر مسجد میں ہر نماز کے بعد ختم نبوت کا جلسہ ہونے لگا اور لوگوں کی بڑی بڑی حاضریں ہونے لگیں ۔ دور دراز کے مضافات تک مجلس عمل کے رضا کار اس سلسلے میں جانے لگے اور رد مرزائیت اور عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت پر تقاریر ہونے لگیں ۔ ۲۱/ جون کو سرائے صالح میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ ۲۴/ جون کو بعد از نماز عشاء نواں شہر محلہ خلیل زئی کی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسجد کٹر بریلوی حضرات کی مسند ارشاد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھی لیکن خوش آئند بات یہ ہوئی کہ دیوبندی حضرات نے وہاں پہلی بار خطابات کئے جن میں مولانا شفیق الرحمن اور مولانا سعید الرحمن شامل ہیں ۔ جب کہ اس جلسہ کی صدارت مولانا قاضی محمد نواز خان ، فاضل دیوبند نے کی تھی اور یہ سب عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی برکت تھی۔
۲۶/ جون کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع ہزارہ کے ۱۶/ اراکین کا ایک وفد ، جن میں ایبٹ آباد سے مولانا عبد اللطیف ، مولانا شفیق الرحمن ، مولانا قاضی محمد نواز خان ، مولانا ایوب الہاشمی اور شیخ عاشق حسین کے علاوہ مانسہرہ سے اور کچھ ہری پور کے علماء بھی شامل تھے۔ اسلام آباد ممبران قومی اسمبلی سے ملنے گئے۔ وفد نے اس روز جن ممبران قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں ، ان میں مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا شاہ احمد نورانی ، نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ولی خان اور مانسہرہ سے منتخب قومی اسمبلی حنیف خان شامل تھے ۔ وفد کے اراکین کے مطابق ولی خان نے سب سے زیادہ مثبت اور تقویت دینے والا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو علماء کے پیچھے نمازیں پڑھنے والے ہیں۔ علماء جو کہیں گے ، ہم ان کی اقتداء اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
۱۶/ جولائی کو مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ایک زبردست ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس سے مولانا مفتی محمود ، مولانا سید محمد یوسف بنوری اور ارباب سعید خان نے خطابات کئے۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری جو اس وقت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر تھے اور ملک بھر میں تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ بڑے میٹھے اور دھیمے انداز میں خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر طلباء نے ان سے پوچھا حضرت جب کہ پورے ملک میں تحریک جوبن پر ہے، ہر ہر مسلمان آپ کی ایک پکار پر جانوں کے نذرانے لئے کھڑا ہے۔ آپ کے ایک حکم پر کچھ سے کچھ ہوسکتا ہے، ایسی صورتحال میں آپ اتنا ضعیف انداز کیوں اپنائے ہوئے ہیں۔
مولانا مسکرائے اور فرمایا: ”ملک ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ مرزائی فرقہ شروع سے ہی یہ چاہتا ہے کہ ملک سلامت نہ رہے جب کہ ہمیں بہر حال اسے سلامت اور پرامن رکھنا ہے۔ جہاں تک ہمارے مطالبات کا تعلق ہے، اس سلسلے میں ہم پر امید ہیں ۔“
۱۹/ جولائی کو بکوٹر میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ مولانا سعید الرحمن اور قاری عبد العزیز نے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس جمعہ سے پہلے اور بعد تک جاری رہی۔ ۲/ اگست کو مولانا عبداللہ درخواستی ایبٹ آباد تشریف لائے۔ نماز جمعہ کے دوران رد مرزائیت پر بیانات ہوئے۔ حضرت شیخ نے نماز جمعہ پڑھائی ۔ ۶/ اگست کو مولانا عبداللہ درخواستی بٹ گرام پہنچے وہاں بھی عقیدہ ختم نبوت پر تقاریر ہوئیں۔ ۷/ اگست کو مولانا درخواستی کوئٹہ تشریف لے گئے ۔ ضلع ہزارہ میں تحریک ختم نبوت پر امن طور پر جاری تھی اور جاری رہی۔ لیکن اب تک ۱۱/ جون کو مرزائیوں کی پراپرٹی نذر آتش کرنے والے بیگنی کپڑوں والے طالب علم کا سراغ نہ لگایا جا سکا۔ آج سے چند روز پیشتر جب راقم مولانا شفیق الرحمن کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا۔ میں نے مولانا سے پوچھا تو مولانا سمیت چند اور احباب بھی میرے اسی سوال پر مسکرا دیئے۔ میں سمجھا نہ تھا۔ میری سوالیہ نگاہوں کو بھانپ کر مولانا بولے ۔ ” ابھی کل ہی وہ یہاں تمہارے والی جگہ پر بیٹھے تھے۔“ مجھے مزید تجسس ہوا۔
کہنے لگے: ” ڈاکٹر طاہر غیاث ! اس وقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں پڑھتے تھے۔ آج کل سرحد سے باہر کے کسی علاقے میں ڈاکٹر کی حیثیت سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔“
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔ ” واہ سبحان اللہ !“
جس نے کل ایک میڈیکل کی دوکان کو صرف اس لئے نذر آتش کیا تھا کہ اس کا مالک محسن انسانیت کا دشمن اور خود روح کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرطان میں مبتلا بد بخت قادیانی ہے، اس کی یہ ادا رب تعالیٰ کو اتنی محبوب ہوئی کہ رحمت عالم ﷺ کی امت کی خدمت پر مامور کر دیا اور خدمت خلق کا یہ حق جس کا تھا، اسی کو عطاء کر دیا گیا۔ (الحمد للہ)
حق ہے کہ تیرے سنگ اب رقص کیا جائے
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کا دن سرزمین پاکستان پر ہزاروں مجاہدین ختم نبوت کے مقدس خون کے مہکنے کا دن تھا۔ شاخوں پر کلیوں کے کھلنے کا دن تھا۔ کانٹوں میں کلیاں چٹکنے کا دن تھا۔ سرزمین ہزارہ سے آج پھر ایک وفد قومی اسمبلی کی عمارت کے باہر کھڑا تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی کی سفید گاڑی کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کی گاڑی کھڑی تھی۔ مولانا مرحوم سے پہلے بھٹو صاحب تشریف لائے۔ شیخ عاشق حسین صاحب آگے بڑھے اور بھٹو صاحب سے کہا جناب ہزارہ سے علماء کا وفد ہے۔
بھٹو نے کہا: ’’مولانا آپ کا مطالبہ چپل کباب تو نہیں کہ میں نکال کر آپ کو دے دوں۔ کہا ہے ہو جائے گا تو بس ہو جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر بھٹو کار میں بیٹھے اور کار فراٹے بھرتے ہوئے یہ گئی اور وہ گئی۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے ختم ہونے کے بعد کسی نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے طنزاً پوچھا: ’’شاہ جی تحریک کا کیا بنا؟‘‘ شاہ جی نے پروقار لہجے میں کہا تھا: ’’میں نے مسلمانوں کے سینوں میں وہ ٹائم بم فٹ کر دیا ہے جو وقت آنے پر پھٹے گا۔ اس روز مرزائیت اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔‘‘
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء آج اس اسلامی بم کے پھٹنے کی گھڑی قریب سے قریب تر ہو رہی تھی۔ دلوں کی دھڑکنیں اپنی روش بھولی ہوئی تھی۔ رات ۷ بج کر ۵۹ منٹ پر ہر کان ریڈیو پاکستان سے خبر سننے کے لئے ساکت تھے۔ ۸ بجے....... خبریں شروع ہوئیں۔ شاہ جی کا فٹ کردہ بم پھٹا۔ مرزائیوں کے چہرے لڑھک گئے۔ اہل اسلام کو فتح نصیب ہوئی۔ ۱۰۲ دن کی تحریک نے مرزائیوں کے کفر پر سرکاری دستخط ثبت کر دیئے۔ اس روز ہر دل شادمان تھا۔ ہر آنکھ خوشی کے آنسوؤں کا نذرانہ لئے ہوئے تھی۔
ہر ذہن میں یہ ترنگ تھی ؎
اس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے
زخموں سے جسم گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
رپورٹ: خاک پائے مجاہدین ختم نبوت ایچ ساجد اعوان، نواں شہر، ضلع ایبٹ آباد، مورخہ یکم جولائی ۱۹۹۲ء
مجلس عمل سرگودھا کی رپورٹ
ہفت روزہ عقاب سرگودھا نے ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۴ء کو تحریک تحفظ ختم نبوت نمبر شائع کیا۔ ذیل میں ضلع سرگودھا کی رپورٹ اس سے ماخوذ ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل تحریک ختم نبوت ضلع سرگودھا، ۳۰؍ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء
۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مسلمان طلباء کے ساتھ ربوہ کے مرزائی مرتدوں نے جو ظالمانہ سلوک کیا اس کی اطلاع دوسرے روز صبح کو سرگودھا شہر میں پہنچی اور آن واحد میں مسلمانوں نے بطور احتجاج تمام کاروبار بند کر دیا اور مجلس عمل کی تشکیل کی گئی جس میں تمام سیاسی اور سماجی انجمنوں کو نمائندگی دی گئی۔
مجلس عمل کے عہدیداران
مجلس عمل تحریک ختم نبوت ضلع سرگودھا کے لئے حسب ذیل عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ صدر قاری عبدالسمیع صاحب، نائب صدر چوہدری محمد اکبر چیمہ صاحب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، جنرل سیکرٹری راؤ عبدالمنان خان صاحب، خازن الحاج قاضی محمد مقصود انور صاحب، سیکرٹری نشر و اشاعت، شیخ مجید افضل پراچہ نیز جنرل کونسل کے علاوہ پچیس حضرات پر مشتمل مجلس عمل بنائی گئی۔
شہری مضافاتی مجالس عمل
ضلعی مجلس عمل نے ضلع سرگودھا کے بڑے بڑے شہروں، قصبات اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز اور دیہات میں مجلس عمل قائم کی جنہوں نے شب و رات محنت اور شوق سے کام کیا۔ جلسے منعقد کئے۔ لٹریچر اور خط و کتابت کے ذریعہ عوام کی رہنمائی کی۔ مجالس عمل کی تفصیل یہ ہے۔ تحصیل مجالس عمل ۴، شہری مجالس عمل ۱۳، قصباتی مجالس عمل ۱۸۰، مضافاتی مجالس عمل ۱۵۰۔
خدام مجلس عمل
ضلعی مجلس عمل نے ضلع بھر میں جلسوں کے انتظامات اور اپنی تحریک کو پرامن رکھنے کے لئے خدام مجلس عمل کے نام سے تنظیم قائم کی جس نے باضابطہ طور پر حلف نامے پر کئے اور مجلس عمل کی ہدایات پر عملدرآمد کرنے کا اقرار کیا۔
سب کمیٹیاں
ضلع مجلس عمل نے ضلعی سطح پر حسب ذیل کمیٹیاں قائم کیں۔ فنانس کمیٹی، نشر و اشاعت کمیٹی، ڈیفنس کمیٹی، خصوصی کمیٹی۔
نشر و اشاعت
ضلعی مجلس عمل نے اس وقت تک مختلف قسم کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ اشتہارات، پمفلٹ اور ہینڈ بل چھپوا کر تقسیم کر چکی ہے۔ ضلع کی دیگر مجالس عمل اور مختلف انجمنوں، یونینوں اور شہریوں نے انفرادی طور پر جو لٹریچر شائع کیا وہ اس کے علاوہ ہے۔
بیرونی رابطہ
ضلعی مجلس عمل کی جانب سے مرکزی و صوبائی حکومت، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سیاسی لیڈران اور اخبارات کو اب تک ۱۲۰۰ یادداشتیں۔ ایک ہزار تاریں اور پچاس ہزار خطوط ارسال کئے گئے۔ ضلعی مجلس عمل کا ایک وفد اسلام آباد بھیجا گیا جس نے ضلع سرگودھا کے ممبران اسمبلی سے حلف اور دستخط کرائے۔ دوسرا وفد لاہور بھیجا جس نے صوبائی اسمبلی کے ممبران سے ملاقاتیں کی اور ان کا تعاون حاصل کیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جلسے
ضلعی مجلس عمل کے تحت اس عرصہ میں ۵۳۲ جلسے منعقد کئے گئے جس سے مقامی حضرات کے علاوہ بیرونی اضلاع کے عہدیداران، علماء کرام، مشائخ حضرات، مرکزی مجلس عمل کے رہنماؤں اور طالب علم رہنماؤں نے خطاب کیا۔
ضلع سرگودھا میں گرفتاریاں
انتظامیہ نے ”امن عامہ“ کے نام پر ضلع سرگودھا سے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونس دیا جن کی کئی کئی روز تک ضمانت نہ ہوسکی۔ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری راؤ عبدالمنان خان، حضرت مولانا احمد سعید ہاشمی، ڈاکٹر عبدالرحمن شاہ، سیکرٹری نشر واشاعت مجلس عمل شیخ مجید افضل پراچہ، مجلس عمل بھیرہ کے ناظم اعلیٰ مولانا جلال الدین، مجلس عمل بھیرہ کے رکن مولانا عبدالرحیم، میانی کے طالب علم رہنما مفتی ضیاء اللہ اور قاری محمد حسین کے علاوہ سلانوالی کے سید خالد مسعود کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ راؤ عبدالمنان خان اور شیخ مجید افضل پراچہ کے خلاف دفعہ ۱۶ مینٹیننس پبلک آرڈیننس کے تحت متعدد مقدمات درج کئے گئے۔ سرگودھا ریلوے اسٹیشن فائرنگ کیس میں راؤ عبدالمنان، قاضی مقصود انور خازن مجلس عمل اور شیخ مجید افضل پراچہ کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرالی۔ دیگر گرفتاریوں کی تفصیل یہ ہے:
- ۱...... ارشاد احمد وغیرہ سرگودھا۔ سات افراد زیر دفعہ ۱۶۔
- ۲...... بابو نعمت وغیرہ ۔ ۳۲؍ افراد زیر دفعہ ۸۸ ت۔پ۔
- ۳...... بشیر وغیرہ سرگودھا۔ ۴۲؍ افراد زیر دفعہ ۸۸ ت۔پ۔
- ۴...... مہر امانت علی وغیرہ سرگودھا۔ ۱۳؍ افراد زیر دفعہ ۳۷۰ ت۔پ۔
- ۵...... اہلیان تخت ہزارہ ۷۲؍ افراد، زیر دفعہ ۱۶ ایم۔ پی۔
- ۶...... جاوید وغیرہ شاہ پور شہر چھ افراد زیر دفعہ ۸۸ ت۔پ، ۱۶؍ ایم۔ پی۔ او۔
- ۷...... متفرق چالیس افراد زیر دفعہ ۱۶؍ ایم۔ پی۔ او۔
ان گرفتار ہونے والوں میں بہت سے ملزم ایسے بھی تھے جن کی عمر ۱۶ سال سے کم تھی۔
سوشل بائیکاٹ
ضلع سرگودھا کے عوام کو اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سب سے پہلے شرعی احکام کے تحت مرزائیوں اور مرزائی نوازوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جو آج تک نہایت کامیابی سے جاری ہے۔
تاریخی ہڑتال
ضلعی مجلس عمل کی ہدایت پر اوّلاً ۳۰؍ مئی کو اور پھر ۲؍ جون کو ضلع بھر میں مکمل ہڑتالیں کی گئیں۔ ۱۴؍ جون کو ضلع سرگودھا میں مرکزی مجلس عمل کی ہدایت پر جو ہڑتال کی گئی اس کی مثال سرگودھا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اتنی مکمل اور کامیاب ہڑتال تھی کہ کسی شخص کو بازاروں سے پینے کا پانی تک میسر نہ آسکا۔ ازاں بعد ۴؍ اگست کو ضلعی انتظامیہ کے رویہ کے خلاف ہڑتال کی گئی جو ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائیوں کی اشتعال انگیزیاں
ضلع سرگودھا کے مرزائیوں نے سرگودھا کے پرامن عوام کو مشتعل کر کے حکومت سے ٹکراؤ کرانے کے لئے متعدد حربے استعمال کئے ۔ دھماکہ خیز آتش بازی استعمال کی ۔ اکا دُکا مسلمان کو زدوکوب کیا اور مسلمان پر فائرنگ کی ۔ لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور اتنی زیادتیوں کے باوجود مسلمان پرامن رہے ۔
تاریخی استقبال
حضرت مولانا شاہ احمد نورانی اور حضرت مولانا مفتی محمود صاحب شب ۳۱؍اگست اور آٹھ کو سرگودھا تشریف لائے تو خوشاب سے سرگودھا تک ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔ اسی طرح مجلس عمل پاکستان کے صدر حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری کی آمد پر بھی پل نہر گیارہ سے سرگودھا تک بے مثال استقبال ہوا۔ جن لوگوں کو یہ نظارہ دیکھنا نصیب ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسے استقبالوں کی مثال پاکستان بننے کے بعد سرگودھا کی تاریخ میں نہیں ملتی اور نہ ہی اس سے قبل عوام میں اتنا جوش وخروش دیکھا گیا ہے۔
تاریخی قافلہ یکم؍ستمبر لاہور کے لئے
یکم؍ستمبر کو لاہور میں منعقد ہونے والی کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے سرگودھا سے یک صد بسوں کا قافلہ گیا۔ اس قافلہ میں ضلع سرگودھا کی تمام سیاسی سماجی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ مختلف تجارت پیشہ انجمنیں اور یونینیں شامل تھیں۔ مجلس عمل کی جانب سے اس قافلہ کو رات کا کھانا دیا گیا۔ اس قافلہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہ قافلہ سرگودھا سے لاہور اور لاہور سے سرگودھا تک نہایت ہی پرامن رہا اور نظم وضبط اور اطاعت امیر کی مثال قائم کردی ۔
میانی ضلع سرگودھا
میانی ضلع سرگودھا کے مسلمانوں نے حادثہ ربوہ پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور فوری طور پر ایک اجتماع میں مجلس عمل کی تشکیل کر کے صدارت کی ذمہ داریاں حضرت مفتی محمد سعید صاحب کے کندھوں پر ڈال دی گئیں ۔ قاضی ضیاء اللہ صاحب نائب صدر اور قاری محمد حسین صاحب کو سیکرٹری چنا گیا۔
مجلس عمل کے زیر اہتمام یکم؍جون کو دفتر کمیٹی کے سامنے سے ایک عظیم الشان جلوس شروع ہوا جو بازاروں سے ہوتا ہوا موضع گھگھیاٹ تک گیا جو کہ مرزائیوں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ گھگھیاٹ میں اکابرین مجلس عمل نے تقریریں کیں اور عوام کو حالات سے آگاہ کیا اور مرزائیوں کے بائیکاٹ کو کامیاب بنانے کے لئے پوری تگ ودو کی۔ مجلس عمل کے زیر اہتمام مختلف مقامات پر ستر جلسے منعقد کئے گئے جن سے ان علاقوں کے ہزاروں مسلمان فیضیاب ہوئے ۔ مرزائیوں کی دھمکیوں کے باوجود گھگھیاٹ میں نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں سینکڑوں مسلمان شریک ہوئے ۔ ان جلسوں میں کئی مرزائی ، صدر مجلس عمل میانی کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ مخالفین نے مجلس عمل کو ناکام بنانے کے لئے کئی حربے استعمال کئے لیکن خدا کے فضل وکرم سے وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور تحریک انتہائی پرامن رہی ۔
۳؍اگست کی رات کو پولیس نے مجلس عمل کے سیکرٹری قاری محمد حسین کو ان کے گھر سے گرفتار کیا اور شاہ پور جیل بھیج دیا جہاں سے انہیں ۱۲؍اگست کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ۱۱؍اگست کی صبح کو مجلس عمل کے نائب صدر قاضی ضیاء اللہ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جہاں سے انہیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹؍ اگست کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ رہائی پر ہر دو اصحاب کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مجلس عمل نے مرزائیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔
مجلس عمل کوٹ مومن
تحصیل بھلوال میں کوٹ مومن ہی وہ قصبہ ہے جہاں کے مسلمانوں نے مرزائیوں کے اسلام اور ملک دشمن رویے کے خلاف اتحاد و اتفاق کا ایسا ثبوت پیش کیا کہ اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔ کوٹ مومن کی مجلس عمل نے رانا عبدالحمید صدر، شیخ محمد بشیر نائب صدر، محمد سعد اللہ گوندل سیکرٹری اور عمر حیات طاہر جوائنٹ سیکرٹری کی قیادت میں میدان عمل میں وہ کارنامے دکھائے کہ ان کی یاد برسوں قائم رہے گی۔ مجلس عمل نے اپنے ملحقہ دیہات میں تقریباً چالیس جلسے منعقد کئے۔ کوٹ مؤمن کے مرکزی جلسوں سے ضلعی قائدین راؤ عبدالمنان خان، شیخ مجید، افضل پراچہ، چوہدری محمد سلیم، مولانا ضیاء الحق اور مہر امانت علی نے خطاب کیا۔ مرزائیوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم سو فیصد کامیاب رہی۔ کئی ہزار اشتہار چھپوا کر تقسیم کئے گئے۔ پچیس مرزائی مسلمان ہوئے۔
الفتح کے رضا کاروں نے تحریک کو پرامن رکھنے کے لئے شب و روز محنت کی جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے مسلمانان کوٹ مومن کی جانب سے سینکڑوں تاریں اور خطوط وزیر اعظم بھٹو اور ممبران قومی اسمبلی کو ارسال کئے گئے۔ مقامی پولیس نے مجلس عمل کے نڈر اور بے باک عالم دین سید عباس شاہ کو ڈرا دھمکا کر تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کو اس میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی بلکہ پولیس کے اس رویہ سے اتحاد اور مضبوط ہو گیا۔
بھیرہ
۲۹؍ مئی کے واقعہ نے ضلع سرگودھا میں سب سے زیادہ اثر اسی شہر پر کیا اور ۳۱؍ مئی کو نماز جمعہ کے بعد محلہ پراچگان سے حضرت مولانا جلال الدین صاحب کی قیادت میں ایک تاریخی جلوس نکلا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی کارکنان شریک ہوئے۔ جلوس نے تمام شہر میں گشت کی اور پھر گنج منڈی میں جلسہ ہوا۔ جس سے تمام اکابرین نے خطاب کیا۔ یکم جون کی رات کو پولیس نے مدرسہ عربیہ تعلیم الدین کے آٹھ طلباء اور علماء کرام کو حراست میں لے لیا۔ دوسرے روز شہر میں ایسی احتجاجی ہڑتال کی گئی کہ اس کی نظیر بھیرہ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ تمام شہر تھانہ کے سامنے گرفتاریاں دینے کے لئے موجود تھا۔ آخر ڈپٹی کمشنر صاحب ایس. پی سرگودھا کی مداخلت پر انہیں رہا کر دیا گیا۔ مرزائیوں نے جلوس پر خشت باری کی تھی جس پر جلوس میں شامل افراد نے جوابی کارروائی کی اور توڑ پھوڑ ہوئی۔ جس پر بارہ مسلمان گرفتار کر کے چالان کر دیئے گئے۔
بھیرہ میں ایک اور جلسہ ۱۴؍ جون کو ہوا۔ اس روز تاریخی ہڑتال تھی اور فوج شہر میں گشت کر رہی تھی۔ مدنی مسجد کے اس جلسہ میں مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ فاضل نوجوان حکیم برکات احمد صاحب بگوی کو صدر، مجاہد ملت مولانا جلال الدین صاحب کو ناظم اعلیٰ بھائی عبدالرشید صاحب کو سیکرٹری اور حضرت صاحبزادہ پیر محمد کرم شاہ صاحب کے فرزند ارجمند پیر امین الحسنات کو ناظم اور تنظیم الفتح کا صدر چنا گیا۔ حضرت مولانا حاجی عبدالرشید صاحب، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب، حافظ محمد یامین صاحب، ذاکر ریاض حسین صاحب، مولانا سراج دین صاحب، مولانا غلام اللہ صاحب اور دیگر حضرات کو مجلس عمل کارکن چنا گیا۔ جب کہ حاجی ریشم بخش صاحب کو خزانچی چنا گیا۔
مجلس عمل بھیرہ کے اکابرین نے جس تیزی سے کام شروع کیا اور جس طرح عوام نے ان کا ساتھ دیا وہ اپنی مثال آپ تھا اور اس تحریک کی کامیابی نے چند پیشہ ور ’’سیاسی رہنماؤں‘‘ کو بوکھلا دیا۔ انہیں خدشہ پیدا ہو گیا کہ اگر عوام مجلس عمل کے اکابرین کو اسی طرح چاہتے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہے اور عوام کا اتحاد اس طرح قائم رہا تو ان کی لیڈری کی دوکان کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ لہٰذا اس گروہ نے مجلس عمل کی راہ میں قدم قدم پر روڑے اٹکائے۔ عوام میں تفرقہ ڈالنے اور تحریک کو تشدد کی راہ پر چلانے کی کوشش کی۔
مجلس عمل بھیرہ کے زیر اہتمام تقریباً ساٹھ جلسے بھیرہ اور گردونواح کے مقامات میں ہوئے۔ موضع ہجکہ بھی مرزائیوں کا گڑھ تھا۔ مجلس عمل کی یلغار نے اس سومنات کو پاش پاش کر دیا اور کئی مرزائی تائب ہو کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ ہجکہ کے خود سر عناصر نے مسلمانوں پر حملہ کر کے شدید ضربات پہنچائیں جس پر سرکاری مشینری حرکت میں آئی اور نو مرزائیوں کو انصاف کے حوالہ کیا گیا۔ اسی طرح چند مرزائیوں نے رات کی تاریکی میں الفتح کے صدر پیر امین الحسنات صاحب پر گولیاں چلائیں جس پر تمام علاقہ میں غم کی لہر دوڑ گئی اور لوگ انتقام لینے پر تل گئے۔ پیر کرم شاہ صاحب کے سینکڑوں مرید دور دراز سے بھیرہ پہنچ گئے۔ حالات بڑے خراب تھے جس پر ضلعی مجلس عمل اور ضلعی حکام میں گفت وشنید ہوئی اور مشترکہ طور پر ضلعی مجلس عمل کے سیکرٹری شیخ مجید افضل پراجہ صاحب کو بھیرہ بھی بھیجا گیا جنہوں نے بھیرہ میں دو دن ٹھہر کر مجلس عمل بھیرہ کے اکابرین کے تعاون سے قابو پا لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کوئی تصادم نہ ہوا۔ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں چار مرزائیوں کو گرفتار کر لیا۔
۱۸؍ اگست کو الفتح تنظیم بھیرہ نے جو کنونشن منعقد کی اور جلسہ عام کرایا اس جلسہ کی یاد آج تک اہلیان سرگودھا کے دلوں سے محو نہ ہو سکے گی۔ یہ جلسہ اور کنونشن دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں حضرت پیر کرم شاہ صاحب کی صدارت میں ہوئے تھے اور اس میں ضلعی مجلس عمل کے چوٹی کے اکابرین نے شرکت کی تھی۔ مقامی پولیس کا رویہ شروع سے آخر تک غیر جانبدارانہ رہا اور سیاسی دوکانداروں کی روزمرہ کی انگیخت اور مخبریوں کے باوجود کوئی غیر قانونی حرکت نہ کی گئی۔ ۷؍ ستمبر کو جب باری تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارلیمنٹ کے مسلمان مجاہدین نے فتنہ ارتداد کو جڑ سے اکھیڑنے کا فیصلہ سنایا تو بھیرہ شہر میں عید کا سماں پیدا ہو گیا۔ عوام نے جی بھر کر خوشیاں منائیں، نوافل پڑھے اور قرآن ختم کئے۔
ضلع اٹک کی رپورٹ ...... ’’جناب عابد حسین صدیقی‘‘
پاکستان کے دوسرے تمام شہروں کی طرح کیمبل پور میں بھی مرزائیت کے خلاف تحریک چل پڑی۔ البتہ کیمبل پور کو یہ فضیلت ضرور حاصل رہی کہ پاکستان بھر میں باقاعدہ تحریک چلنے سے قبل ہی حتیٰ کہ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے باقاعدہ قیام سے بھی پہلے کیمبل پور میں جلسے اور جلوس کا پروگرام مرتب کر لیا گیا۔ چنانچہ ۳۱؍ مئی کو کیمبل پور شہر کے مرکزی چوک میں صبح ساڑھے سات بجے ایک تاریخی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ سے کیمبل پور میں موجود تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔ اس عظیم الشان اتحاد کو دیکھ کر دل میں خود بخود یہ یقین پیدا ہو گیا تھا کہ اب کی بار ہماری جیت ہو گی۔ اس دن کیمبل پور شہر میں پہلی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دوسرے دن کیمبل پور کے شہر میں عارضی طور پر مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کیمبل پور میں مستقل مجلس عمل، مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہدایات کے بعد ۷؍ جولائی کو قائم کی گئی۔ علاوہ ازیں رضا کاروں کی تنظیم بھی قائم کی گئی۔
یوں تو پاکستان بھر میں ہر مسلمان نے حتی المقدور تحریک ختم نبوت میں حصہ لیا۔ لیکن بعض شہر اپنے جیالے نوجوانوں کی بدولت دوسرے شہروں پر فضیلت حاصل کر گئے۔ بعض دوسرے شہروں کی طرح کیمبل پور کو بھی بعض امتیازی خصوصیت حاصل ہیں۔ جن پر تازیست ہمیں فخر رہے گا۔ ہماری زندگی کا یہی کچھ سرمایہ ہے جو قیامت کے دن نبی آخر الزمان کے حضور پیش کریں گے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... کیمبل پور مجلس کو یہ فخر حاصل ہے کہ ناموس مصطفیٰ کے تحفظ کے جرم میں کیمبل پور مجلس کے رضا کاروں کو پاکستان بھر میں سب سے پہلے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
- ۲...... پاکستان بھر میں سب سے پہلے کیمبل پور مجلس نے مرزائیوں سے بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کیا۔ اس فتویٰ پر ضلع بھر کے ہر مکتب فکر کے جید علماء کرام کے دستخط موجود ہیں۔ اس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ جو کوئی مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلقات رکھے گا اس سے بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا نہ جنازہ پڑھا جائے گا۔ یہ فتویٰ کئی ہزار کی تعداد میں شائع کر کے ملک بھر میں تقسیم کیا گیا۔ علاوہ ازیں کیمبل پور شہر کے ہر دوکاندار نے اپنی دوکان پر مرزائیوں کا داخلہ بند ہے‘ کے بڑے بڑے اشتہار چسپاں کئے۔
- ۳...... پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح کیمبل پور مجلس نے بھی باقاعدہ جلسہ ہائے عام کا پروگرام منعقد کیا۔ یہ پروگرام اس قدر مربوط تھا کہ پوری تحریک ختم نبوت کے دوران ہر روز جلسے منعقد ہوئے۔
یہ جلسے صرف کیمبل پور تک ہی محدود نہ تھے بلکہ ضلع بھر میں ضلعی مجلس عمل کے عہدیدار اور علماء کرام تشریف لے جاتے اور جلسے منعقد ہوتے۔ ہر جلسہ میں کیمبل پور شہر کے سینکڑوں رضا کار اپنی سپیشل بسیں بک کرا کے لے جاتے۔ تمام جلسے نہایت بھر پور تھے۔
پنجند اور کسراں
ضلع کیمبل پور میں کسراں اور پنجند مرزائیوں کے مضبوط مرکز تھے۔ یہ کیمبل پور شہر سے بالترتیب تیس میل اور تقریباً سوا سو میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ کیمبل پور مجلس نے ہر دو مقامات پر جلسہ ہائے عام کے پروگرام منعقد کئے۔ چنانچہ ۳۰؍جون کو پنڈ سلطانی مجلس کے مولانا فیض عالم صاحب، مولانا نور محمد صاحب اور راقم الحروف کسراں کے مقام پر جلسہ کرنے کی غرض سے پہنچے۔ وہاں مرزائیوں کا اس قدر اثر رسوخ تھا کہ ہمیں کسی بھی مسجد میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ بالآخر گاؤں کے چند بااثر لوگوں سے بات چیت ہوئی تو ایک بڑی مسجد میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ کسراں میں پہلی دفعہ مرزائیت کے خلاف آواز بلند ہوئی۔ کسراں کے مسلمانوں نے مرزائیوں کے عقائد سنے تو انہوں نے مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کر دیا۔ اسی دن وہاں باقاعدہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں وہاں مزید جلسے بھی منعقد ہوئے۔
پنجند کے مقام پر مرزائیوں نے اپنی قوت خوب بڑھا لی تھی۔ چنانچہ وہاں جلسہ عام کا پروگرام مرتب کرنے کے لئے راقم الحروف دو دفعہ گیا تو وہاں جلسہ کرنے کی کوئی صورت ہی نظر نہ آئی تھی۔ بالآخر نہایت سوچ بچار کے بعد وہاں جلسہ کرنے کے لئے ۹؍ اگست کی تاریخ مقرر کی۔ لیکن ۱۲؍اگست کی رات کو مرزائیوں کے حملہ سے سجاد صدیقی اچانک شہید ہو گئے۔ لہٰذا کیمبل پور شہر سے باہر کے تمام پروگرام منسوخ کرنے پڑے۔ چنانچہ وہاں مجلس عمل تلہ گنگ کے احباب نے مقرر تاریخ کو جلسہ عام کیا۔ وہ جلسے جن میں مجلس عمل کے ضلع کیمبل پور کے علماء کرام اور عہدیداروں نے خطاب کیا۔ ان کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ کیمبل پور تحصیل کے ہر شہر میں جلسہ کیا گیا۔ تحصیل پنڈی گھیپ کے بھی تمام بڑے شہروں میں جلسے منعقد ہوئے۔ علاوہ ازیں فتح جنگ تحصیل میں بھی جلسہ ہائے عام کے پروگرام منعقد ہوئے۔
- ۴...... دارالمطالعہ
مجلس تحفظ ختم نبوت کیمبل پور نے جولائی ۱۹۷۴ء کے پہلے ہفتہ میں کیمبل پور شہر میں ایک دارالمطالعہ بھی قائم کیا۔ جس سے عوام
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کی سرگرمیوں سے باخبر رہتے۔
۵....... جلوس و ہڑتالیں
دوران تحریک کیمبل پور شہر میں جو جلوس نکالے گئے اور ہڑتالیں کی گئیں، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
- ......۱ ۳۱؍مئی حادثہ ربوہ کے بعد مکمل ہڑتال ہوئی۔
- ......۲ ۲؍جون صبح دس بجے تک مکمل ہڑتال ہوئی۔
- ......۳ ۲؍جون صبح ساڑھے سات بجے عظیم الشان جلوس نکالا گیا۔
- ......۴ ۷؍جولائی صبح دس بجے جلوس نکالا گیا علامہ یوسف بنوری کے خلاف اشتہار شائع کرنے کی وجہ سے اخبارات کو نذرِ آتش کیا گیا۔
- ......۵ ۱۲؍اگست سجاد صدیقی کے المناک قتل کے خلاف فوراً رات کو جلوس نکالا گیا۔
- ......۶ ۱۳؍اگست سجاد صدیقی شہید کے قتل پر مکمل ہڑتال کی گئی۔
- ......۷ ۱۶؍اگست مرکزی مجلس عمل کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی۔
- ......۸ ۶؍ستمبر مولانا قاری خلیل احمد صاحب امیر مجلس ضلع کیمبل پور کی گرفتاری پر احتجاجاً ہڑتال کی گئی۔
نوٹ: کیمبل پور شہر میں جو جلوس نکالے گئے اور ہڑتالیں کی گئیں ان کی یہ رپورٹ ہے۔ علاقہ چھچھ ، حسن ابدال ، فتح جنگ ، تلہ گنگ اور پنڈی گھیپ میں بھی جلوس نکالے گئے اور ہڑتالیں کی گئیں۔ وہ ان کے علاوہ ہیں۔
۶....... گرفتاریاں
جن خوش نصیب افراد کا قیمتی وقت تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے دوران ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے جرم میں جیل میں گزرا ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
- ......۱ حضرت مولانا قاری خلیل احمد ،گرفتاری: ۵؍ستمبر ، رہائی: ۱۸؍ستمبر ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۲ مرزا عبدالعزیز صاحب ، گرفتاری: ۱۴؍ستمبر ، رہائی: ۱۸؍ستمبر ، واپسی مقدمہ: ۲۸؍مئی ۱۹۷۵ء۔
- ......۳ شیخ عابد حسین صدیقی ،گرفتاری: یکم؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۴ محمد عبدالحفیظ ،گرفتاری: یکم؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۵ محمد نیّر اقبال ،گرفتاری: یکم؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۰؍مارچ ۱۹۷۵ء۔
- ......۶ شوکت صدیقی ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۱۹؍اپریل ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۷ شیخ محمد اقبال ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۸ شیخ جمیل مسعود ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۹ شیخ زاہد احمد ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۱۰ محمد سلیم طارق ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ......۱۱ صوفی محمد جاوید ،گرفتاری: ۲؍جون ، رہائی: ۸؍جون ، واپسی مقدمہ: ۱۹؍اپریل ۱۹۷۵ء۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۲...... محبوب الہی، گرفتاری: ۲/ جون، رہائی: ۸/ جون، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۳...... غلام نبی (حضرو)، گرفتاری: ۲/ جون، رہائی: ۸/ جون، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۴...... عبدالقیوم (حضرو)، گرفتاری: ۲/ جون، رہائی: ۸/ جون، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۵...... فضل الہی (حضرو)، گرفتاری: ۲/ جون، رہائی: ۸/ جون، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۶...... ضیاءالاسلام، گرفتاری: ۲/ جون، رہائی: ۸/ جون، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۷...... محمد ادریس، گرفتاری: ۲/ جولائی، رہائی: ۹/ جولائی، واپسی مقدمہ: ۲۱/ جنوری ۱۹۷۵ء۔
- ۱۸...... حافظ عبدالحمید، گرفتاری: ۷/ جولائی، رہائی: ۱۵/ جولائی، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۱۹...... محمد لیاقت، گرفتاری: ۷/ جولائی، رہائی: ۱۵/ جولائی، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۲۰...... عبدالحفیظ، گرفتاری: ۸/ جولائی، رہائی: ۱۵/ جولائی، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۲۱...... شیخ عابد حسین صدیقی، گرفتاری: ۸/ جولائی، رہائی: ۱۵/ جولائی، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
- ۲۲...... عبدالحمید، گرفتاری: ۳/ اگست، رہائی: ۶/ اگست۔
- ۲۳...... محمد رمضان، گرفتاری: ۳/ ستمبر، رہائی: ۱۴/ ستمبر، واپسی مقدمہ: ۱۹/ اپریل ۱۹۷۵ء۔
علاوہ ازیں مرزا عبدالعزیز صاحب سالار اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اکتوبر تا دسمبر ۱۹۷۴ء زبان بندی رہی۔ (درج بالا اعداد شمار صرف کیمبل پور تحصیل کے ہیں)
سجاد شہید
تحریک ختم نبوت کے دوران کیمبل پور کے بچے بچے نے تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اس نیکی کا اجر عظیم دے گا۔ لیکن ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لئے شیخ سجاد حسین صدیقی نے جام شہادت نوش کر کے تمام پر فضیلت حاصل کر لی۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
مقدمات
حضرت خاتم النبیین ﷺ کی شان ختم نبوت کے تحفظ کے جرم میں شیدائیاں مصطفیٰ پر مقدمات بنائے گئے۔
- ۱...... مفسر قرآن حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب مدظلہ
- ۲...... عالم باعمل حضرت مولانا قاری خلیل احمد صاحب مدظلہ
- ۳...... مرزا عبدالعزیز صاحب
- ۴...... حافظ عبدالحمید صاحب
- ۵...... مولانا عبدالرشید صاحب
- ۶...... صوفی شوکت صدیقی صاحب
- ۷...... محمد لیاقت صاحب
- ۸...... محمد رمضان صاحب
- ۹...... محمد ادریس صاحب
- ۱۰...... محمد سلیم طارق صاحب
- ۱۱...... محبوب الہی صاحب
- ۱۲...... محمد عبدالحفیظ صاحب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۳....... محمد نیر اقبال صاحب
- ۱۴....... شیخ زاہد محمود صاحب
- ۱۵....... شیخ محمد اقبال صاحب
- ۱۶....... شیخ جمیل مسعود صاحب
- ۱۷....... صوفی محمد جاوید صاحب
- ۱۸....... شیخ عابد حسین صدیقی صاحب
قبول اسلام
کیمبل پور مجلس کی کوششوں سے، جن خوش نصیب مرزائیوں کی قسمت میں ہدایت لکھی تھی انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ صرف کیمبل پور شہر سے چھ گھرانوں کے مرزائیوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
- ۱....... عبدالملک صاحب بمعہ اہل وعیال
- ۲....... نصیر احمد اور عنایت الٰہی
- ۳....... مولوی لعل خان موذن
- ۴....... خورشید احمد و محمد اکرم قریشی
- ۵....... پروفیسر محمد نیر صاحب بمعہ اہل وعیال
- ۶....... پروفیسر جناب محمد اقبال صاحب
مرزائیوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں جناب محمد اسماعیل صاحب پرنسپل گورنمنٹ کالج کیمبل پور اور جناب ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
کیمبل پور جلسوں کے مقررین
مضمون کے آخر میں کیمبل پور مجلس عمل کے ان مقررین کا معمولی سا تعارف کرانا چاہتا ہوں جنہوں نے تحریک کے دوران تقریباً تمام جلسہ ہائے عام میں تقاریر کی تھیں۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خلیفہ مجاز مفسر قرآن حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب مدظلہ، ریٹائرڈ پروفیسر اور جامعہ مدنیہ کے خطیب ہیں۔ کیمبل پور سے ماہنامہ ”الارشاد“ ان ہی کی زیر ادارت نکلتا ہے۔ علاوہ ازیں کئی اہم کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں۔ عرصہ دراز سے کیمبل پور مجلس کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں۔ کیمبل پور کے روزانہ درس قرآن وحدیث کے علاوہ ہر ماہ واہ فیکٹری اور پشاور میں بھی باقاعدگی سے درس دیتے ہیں۔ ان کی ہمت کو دیکھ کر دل میں اسلام کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
ضلع کیمبل پور کی ہر دلعزیز شخصیت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا قاری خلیل احمد صاحب مرکزی جامع مسجد کیمبل پور کے خطیب ہیں۔ آپ نے دوران تحریک تقریباً ہر جلسہ میں بنفس نفیس شرکت کی۔ آپ مجلس تحفظ ختم نبوت کیمبل پور کے امیر بھی ہیں۔ آپ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے بڑی خدمات سرانجام دی ہیں اور اب بھی تحریک کو چلا رہے ہیں۔ راقم الحروف یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کیمبل پور میں تحریک ختم نبوت کی کامیابی کا سہرا ان ہی کے سر ہے۔ (اب سکھر میں مجلس کے روح رواں ہیں)
ضلع کیمبل پور کے قابل فخر ادارے ”انجمن اسلامیہ“ کے نائب سیکرٹری اور مجلس تحفظ ختم نبوت کیمبل پور کے رضا کاروں کے سالارِ اعلیٰ مرزا عبدالعزیز صاحب نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے دوران نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ۱۹۵۳ء کی تحریک کے دوران بھی جیل خانے کی سعادت حاصل کی تھی لیکن اس دفعہ مجلس کے سٹیج سے انہوں نے ایسی تقاریر کیں کہ ان کی پاداش میں نہ صرف انہیں جیل جانا پڑا بلکہ تین ماہ تک زبان بندی بھی برداشت کی ان ہی کے دم سے ضلع کیمبل پور کا مشہور یتیم خانہ بھی چل رہا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کیمبل پور کے ناظم نشر واشاعت حضرت مولانا محمد رفیق صاحب نہایت مخلص اور مجلس کے پرجوش رفیق ہیں۔ ان کے جذبات کو دیکھ کر دینی جذبات میں تقویت پیدا ہوتی ہے۔ آپ جامعہ اشاعت الاسلام کیمبل پور کے خطیب ہیں۔ آپ نے تحریک
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کے دوران نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
انجمن جانثاران حسین کیمبل پور کے ذاکر اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کیمبل پور کی شوریٰ کے رکن سید حبیب الحسن شاہ نقوی نے بھی تحریک ختم نبوت کے دوران نہایت دلچسپی سے جلسوں اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیا اور مسئلہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر اہم تقاریر کیں۔ انہوں نے دوران تحریک اتحاد اسلامی کے لئے قابل فخر کام کیا۔
درج بالا علماء کرام کے علاوہ قاری محمد سلیمان صاحب، مولانا حاجی غلام حسین صاحب تبسم، مولانا حافظ یعقوب صاحب، قاضی محمد ارشد الحسینی صاحب، پروفیسر محمد اسماعیل صاحب پرنسپل گورنمنٹ کالج کیمبل پور، پروفیسر عبداللطیف صاحب، مولانا عبدالرزاق صاحب، مولانا عبدالستار صدیقی، مولانا محمد آفاق صاحب، شیخ محمود حسین صاحب صدیقی اور صاحبزادہ نثار مصطفیٰ صاحب نے بھی تحریک کے دوران اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ راقم الحروف (محمد عابد حسین صدیقی) کو بھی بزرگ علماء کے ساتھ تقاریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ بحیثیت ناظم اعلیٰ زیادہ تر سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری ادا کی ہے۔
مرزائیوں کو دعوت اسلام دینے کے سلسلہ میں گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پرنسپل جناب محمد اسماعیل صاحب نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت تحریک کے دوران اخلاص سے حصہ لینے والے ہر فرد کو اس کی نیکی کا پورا پورا اجر دے۔ (آمین)
راولپنڈی اور شیخ القرآن
چنانچہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر شیخ القرآن نے شہر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس ۳۰؍ مئی ۱۹۷۴ء کو دارالعلوم تعلیم القرآن میں طلب کیا۔ جس میں طے پایا کہ سانحہ ربوہ کے خلاف ۳۱؍ مئی کو تمام مساجد میں جمعہ کے اجتماعات میں صدائے احتجاج بلند کی جائے اور اس واقعہ کے خلاف غم وغصہ کے اظہار کے لئے نماز جمعہ کے بعد جلوس نکالا جائے۔ جس کی ترکیب اس طرح ہو کہ تمام بڑی مساجد سے لوگ جلوس کی صورت میں راجہ بازار پہنچیں اور پھر ایک بڑے جلوس کی شکل میں حسب پروگرام روانہ ہو جائیں۔ چنانچہ ساڑھے تین بجے دارالعلوم تعلیم القرآن سے شیخ القرآن کی قیادت میں جلوس برآمد ہوا۔ ایک جلوس جامعہ فرقانیہ کوہاٹی بازار سے برآمد ہوا۔ جس کی قیادت مولانا عبدالحکیم کر رہے تھے۔ جب کہ مرکزی جامع مسجد سے برآمد ہونے والے جلوس کی قیادت طالب علم لیڈر شیخ رشید احمد اور مولانا فیض عالم فیضی کر رہے تھے۔ اس طرح دوسری مساجد سے بھی جلوس نکل کر راجہ بازار میں بڑے جلوس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ جلوس مختلف بازاروں سے گزرتا ہوا لیاقت باغ کے وسیع میدان میں پہنچ کر عظیم الشان جلسہ کی صورت اختیار کر گیا جس سے ہر مکتب فکر کے علماء نے خطاب کیا۔
۱۴؍ جون کو مجلس عمل کی اپیل پر ملک میں درۂ خیبر سے کراچی اور کوئٹہ سے لاہور تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی اور نماز جمعہ کے بعد ہر شہر کی بڑی بڑی مساجد میں جلسے بھی ہوئے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن میں نماز جمعہ کے بعد بہت بڑا اجتماع ہوا۔ جس میں شہر کے تمام مسالک کے علماء اور طالب علم لیڈروں نے خطاب کیا۔ اگرچہ جلسہ دارالعلوم کی مسجد کے اندر تھا۔ لیکن ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ راجہ بازار میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی تھی۔ دارالعلوم کے باہر راجہ بازار اور گردونواح کی عمارتوں کی تین منزلہ چھتوں پر پولیس پوزیشن لئے تیار کھڑی تھی۔ گویا کہ ان کی جنگ مرزائیوں سے نہیں مسلمانوں سے ہے۔ انتظامیہ جلتی پر تیل ڈالنے کی مذموم کوشش میں مصروف رہی۔ مجمع کو مشتعل کرنے کے لئے بار بار لاٹھی چارج کرتی رہی۔ لیکن شیخ القرآن اور دیگر علماء کرام کے مدبرانہ اور دانشمندانہ رہنمائی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے عوام نے جذبات قابو میں رکھے۔ شیخ القرآن نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت مرزائیوں کے متعلق نرم گوشہ رکھتی ہے۔ لیکن اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اگر پیپلز پارٹی نے اسمبلی میں اکثریت کے بل بوتے پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی مخالفت کی اور انہیں مسلمان قرار دینے کا فیصلہ کیا تو ہم ان کے ایسے فیصلہ کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کیا جائے۔ ورنہ اس راہ میں حائل ہونے والی ”چٹان“ کو پاش پاش کر دیں گے اور اعلان کیا کہ احتجاج مؤثر طریقہ سے جاری رکھتے ہوئے ۳۰؍ جون تک شہر کی ہر بڑی مسجد میں جلسے منعقد ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ شیخ نے بڑی مستعدی اور جوش و ولولہ کے ساتھ دیگر علماء کی ہم رکابی میں تمام جلسوں میں شرکت کی اور اپنے پہلے سے طے شدہ تبلیغی پروگرام منسوخ کر دیئے۔
۱۶؍ جون ۱۹۷۴ء کو فیصل آباد میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے مندوبین نے اتفاق رائے سے علامہ سید محمد یوسف بنوری کو مجلس عمل کی صدارت کا منصب تفویض کیا گیا۔ شیخ القرآن کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ اس سے قبل پولیس نے علماء کے گھروں میں آدھی رات کو گھس کر راولپنڈی کے چودہ علماء اور بہت سے طالب علم لیڈر گرفتار کر لئے تھے۔ ان کے ساتھ جیل میں توہین آمیز سلوک روا رکھا گیا اور انہیں اخلاقی مجرموں کی طرح پابند سلاسل کر دیا گیا۔ جس کے باعث علماء نے احتجاجاً کھانے کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ لیکن عوام کے زبردست ردعمل اور احتجاج سے مرعوب ہو کر وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے کی ہدایت پر ۱۷؍ جون کو شیخ القرآن سمیت دیگر چودہ علماء کرام کو رہا کر دیا گیا۔ ۱۸؍ جون شیخ القرآن نے رہائی کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
۲۸؍ جون مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں مجلس عمل کا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں امیر مجلس عمل علامہ سید محمد یوسف بنوری، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، علامہ تاج محمود وغیرہ نے خطاب کیا۔
۲۹؍ جون دارالعلوم تعلیم القرآن میں مجلس عمل کی میٹنگ میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت پر زور دیا گیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل منظور ہونے تک قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جائے۔ اسی روز نماز عشاء کے بعد دارالعلوم تعلیم القرآن میں جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جس میں علامہ بنوری، مفتی محمود، شیخ القرآن، علامہ مظفر علی شمسی، ثناء اللہ بھٹہ اور دیگر علماء نے خطاب کیا اور سندھ اور پنجاب اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا۔
۳۰؍ جون دارالعلوم تعلیم القرآن میں مجلس عمل کا اجلاس زیر صدارت علامہ محمد یوسف بنوری منعقد ہوا۔ جس میں تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ : ”قادیانیوں کی عسکری ونیم عسکری تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور ان کے تمام فنڈز منجمد کئے جائیں۔“
۲۱؍ جولائی دارالعلوم تعلیم القرآن میں مجلس عمل کے اجلاس میں عوام کو صبر وتحمل کے ساتھ مطالبات منظور ہونے تک تحریک جاری رکھنے اور مرزائیوں کے ساتھ سوشل بائیکاٹ قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔ اسی روز شیخ القرآن نے ایک اخباری بیان کے ذریعہ سوشل بائیکاٹ کے متعلق مجلس عمل کے فیصلہ پر عمل پیرا ہونے کی عوام کو تاکید مزید کی۔
۱۴؍ اگست دارالعلوم تعلیم القرآن میں مجلس عمل کا اجلاس ہوا۔ جس میں علماء کرام اور طلباء کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی شرانگیز کارروائی قرار دیا۔
اسلام آباد دارالحکومت میں تاریخی جلوس
مجلس عمل کے ایک اجلاس میں طے پایا کہ راولپنڈی و اسلام آباد کے تمام خطباء آمدہ جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد اسلام آباد
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں جمع ہوں اور جلوس کی شکل میں گورنمنٹ ہاسٹل سے گزرتے ہوئے قومی اسمبلی ہال پہنچ کر وزیراعظم بھٹو کو ایک یادداشت پیش کریں۔ حسب پروگرام نماز جمعہ کے بعد بہت بڑی تعداد میں علماء کرام مرکزی جامع مسجد اسلام آباد پہنچ گئے۔ جہاں عظیم الشان جلسہ کرنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں علماء، وکلاء، سیاسی لیڈر، طالب علم اور عوام کا جلوس شیخ القرآن کی قیادت میں روانہ ہوا۔ گرمی کی شدت کے باعث پسینہ میں شرابور، عارضہ قلب میں مبتلا، ستر سالہ بوڑھا، عشق نبوی سے معمور، شیخ القرآن خراماں خراماں ہاسٹل کی طرف رواں دواں ہیں۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور حکومت کی سردمہری کے خلاف جلوس کے شرکاء زبردست غم وغصہ کا اظہار کررہے تھے۔
گورنمنٹ ہاسٹل کو جانے والی سڑک پولیس نے بلاک کر رکھی تھی۔ مسلح پولیس کی بہت بڑی تعداد دیکھ کر جلوس کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور پولیس کا گھیرا توڑ کر برابر آگے بڑھتے گئے۔ ہاسٹل کے پاس پولیس نے پھر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ اتنے میں مفتی محمود اور دوسرے معزز اراکین اسمبلی تشریف لے آئے اور مفتی صاحب نے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کو سراہا اور انہیں یقین دلایا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے تک ہم بھی تمہارے شانہ بشانہ شریک کار رہیں گے۔ جلوس کے شرکاء اسمبلی ہال تک جانے پر مصر تھے۔ مفتی صاحب کا بیان ختم ہوتے ہی جلوس نے پیش قدمی شروع کردی۔ اسمبلی ہال کے قریب پہنچنے پر پولیس نے زبردست لاٹھی چارج کیا اور نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائیں۔ مظاہرین عوام نے پتھراؤ شروع کر دیا اور کئی گھنٹے یہ سلسلہ جاری رہا۔
جلوس کے قائدین نے ایک مرتبہ پھر ہاسٹل کے باہر جلوس کو منظم کیا اور پولیس افسران سے گفت وشنید ہونے لگی کہ ہم پر امن طور پر اسمبلی ہال پہنچ کر یادداشت پیش کر کے منتشر ہو جائیں گے۔ اسی اثناء میں ایک ایس، ایچ، او نے ایسی شاطرانہ چال چلی کہ سب اس کے دام فریب میں آ گئے۔ اس نے ہاسٹل کی دیوار پر کھڑے ہو کر خطبہ مسنونہ کے بعد "ما کان محمد ابا احد من رجالکم...... الخ" پڑھی اور ختم نبوت کے موضوع پر دھواں دھار تقریر شروع کر دی۔ لوگ پوری یکجہتی اور انہماک سے تقریر سن رہے اور محظوظ ہو رہے تھے کہ ایس، ایچ، او نے پولیس کو کارروائی کرنے کا اشارہ کر دیا۔ پھر پولیس نے جس بربریت اور درندگی کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی قابل مذمت اور باعث صد نفرین تھا۔ انتہائی بے رحمی سے لاٹھیاں برسائیں اور ایسی زہریلی آنسو گیس کے گولے پھینکے کہ خدا کی پناہ۔ بہت سے علماء، وکلاء اور طلباء شدید زخمی ہوئے۔ اشک ریز گیس سے ہاسٹل میں مقیم ممبران اسمبلی اور ان کے اہل خانہ بھی بری طرح متأثر ہوئے۔ گیس اس قدر مہلک تھی کہ بہت سے لوگوں کو خون کی قے ہونے لگی۔ بہت سے علماء اور طلباء کو گرفتار کر لیا گیا۔ جن میں شیخ القرآن کے صاحبزادے مولانا حسین علی بھی شامل تھے اور زخمی ہونے والوں میں شیخ کے بڑے صاحبزادے مولانا احسان الحق بھی شریک تھے۔ لیکن شیخ القرآن نے جس بے مثال صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی قابل رشک اور عبرت انگیز تھا۔ شدید علالت کے باوجود سکون وطمانیت اور پامردی کے ساتھ پیش آمدہ مظالم کا مقابلہ کیا۔ گیس کی شدت سے سانس لینا دشوار ہوگیا۔ دیر تک سکتہ طاری رہا۔ لیکن معنی خیز خاموشی کے ساتھ سب کچھ برداشت کر گئے۔ بالآخر غروب آفتاب کے بعد لوگ گھروں کو واپس لوٹ گئے اور شام کو اسیران ختم نبوت رہا کر دیئے گئے۔
۲۳؍ اگست ۱۹۷۴ء کو راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ جلوس نماز جمعہ کے بعد نکالنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن حکومت نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کرنے کے علاوہ رعب اور دھونس کے ذریعہ حضرت شیخ اور مجلس عمل کے دوسرے عہدیداروں کو جلوس نکالنے سے روکنے کی بھر پور کوشش کی۔ اس موقعہ پر خطبہ جمعہ میں حضرت شیخ نے زبردست تقریر کی تھی۔
اسیران ختم نبوت کا لاٹھیوں اور شیلنگ سے استقبال
علماء کرام کی طرح بہت سے طلباء اور ان کے لیڈروں کے ساتھ بھی جیل حکام نے حیاسوز سلوک روا رکھا۔ طلباء کو پیٹا گیا اور انہیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اذیت ناک سزائیں دی گئیں۔ آخر کار ۱۶؍اگست ۱۹۷۴ء کو بیس طالب علم لیڈروں کو میانوالی جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جب یہ خوش آئندہ خبر شیخ القرآن کو معلوم ہوئی تو موصوف نے شمع رسالت کے پروانوں اور اسیران ختم نبوت کا ریلوے اسٹیشن راولپنڈی پر استقبال کرنے اور ٹھنڈے مشروبات سے ان کی ضیافت کا پروگرام بنایا۔ اگرچہ طلباء کی تعداد صرف بیس تھی لیکن حضرت شیخ نے کم از کم ایک سو آدمیوں کو مشروبات پلانے کی خدمت پر رفقاء کو مامور فرمایا۔ مدینہ مارکیٹ کے چوکیدار ولایت کو ساتھ لیا اور گاڑی آنے سے پہلے اسٹیشن پر جا کر انتظام کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ کی قیادت میں سینکڑوں علماء اور کثیر تعداد میں دینی مدارس، اسکولوں اور کالجوں کے طلباء کا جلوس ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم اور باہر کے حصہ میں لوگ کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ ادھر پولیس کی مسلح بھاری جمعیت بھی طلباء کا ”استقبال کرنے کے لئے دیر سے چشم براہ تھی۔ ساڑھے بارہ بجے دن گاڑی پہنچنے پر علماء اور طلباء نے رہا ہونے والے طالب علم لیڈروں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ استقبالی طلباء کی خواہش تھی کہ جلوس کی شکل میں اپنے ساتھی طلباء کو دارالعلوم القرآن لے جایا جائے۔ جیل کی جاں گداز صعوبتوں سے رہائی پانے والے طلباء ابھی پانی کا گھونٹ بھی نہ پینے پائے تھے کہ پولیس نے بڑی سنگ دلی کے ساتھ لاٹھیاں برسانا شروع کر دی اور اشک آور گیس پھینکنے لگی۔ جس سے علماء وطلباء اور اسٹیشن پر موجود مسافر بری طرح متاثر ہوئے اور بیس طلباء کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس افراتفری اور بھگدڑ میں شیخ القرآن پولیس کے ظلم وتشدد اور بربریت کے خلاف سراپا احتجاج بنے، پلیٹ فارم پر تنہا کھڑے تھے۔ اشک آور گیس سے آنکھوں میں سوزش اور آنسو رواں تھے۔ دوست یہ کیفیت دیکھ کر فوراً کپڑا پانی سے بھگو کر لائے۔ آنکھوں پر پھیرنے سے شیخ کو راحت پہنچی اور چند لمحوں کے لئے ایک طرف بٹھایا۔ پھر طلباء کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا۔ تھوڑی سی دیر میں تمام طلباء جمع ہوگئے۔ شیخ انہیں ہمراہ لے کر اسٹیشن سے باہر آئے۔ یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جو ویگنیں، ٹیکسیاں اور کاریں طلباء کو لے جانے کے لئے پارک کی تھیں، پولیس نے سب غائب کر دیں۔ جس کی وجہ سے پیدل دارالعلوم تعلیم القرآن کو روانہ ہونا پڑا۔ دارالعلوم پہنچ کر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ القرآن نے طلباء کی تحریک ختم نبوت کے لئے جدوجہد اور قربانیوں پر انہیں مبارک باد پیش کی اور ان کے عزم وحوصلہ کو سراہا اور انہیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں اور ظلم وتشدد کی پرزور مذمت کی۔ جن دنوں تحریک پورے عروج پر تھی اور جوش وخروش کے ساتھ منزل مراد کی طرف رواں دواں تھی تو وزیراعظم بھٹو نے شیخ القرآن سے ایک ملاقات کے دوران درشت لہجہ میں کہا تھا ۔ ”مولانا آپ کا یہ دارالعلوم ہے یا تحریکوں کا ہیڈ کوارٹر۔“
شیخ نے برجستہ جواب دیا۔ وزیر اعظم صاحب مدرسہ کا نام ہے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن اور قرآن کی تعلیم یہ ہے۔ ”مـــــاكـــــان
محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“
وزیراعظم کے دو بدو ایک مرد قلندر کا اس بے باکی کے ساتھ اظہار حق کرنا، اسے کب گوارہ ہو سکتا تھا۔ پہلے ہی سے شیخ کی سرفروشانہ سرگرمیوں اور حکومت اور قادیانیوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں نے اس کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ گلشن رسالت میں چہکتی ہوئی اس خوش نوا ”عندلیب“ کو راستہ سے ہٹانے کی سازشیں ہونے لگیں اور بالآخر خفیہ ایک اہم اجلاس میں شیخ القرآن کے قتل کا قطعی فیصلہ کر لیا گیا۔ جس طرح فرعون کے محلات میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا فیصلہ ہوتے ہی اندر ہی کے ایک مرد مومن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خفیہ راز سے آگاہ کر دیا تھا۔ اسی طرح نشہ اقتدار میں بدمست وزیراعظم کے انتہائی رازداری کے ساتھ ایک مرد حق آگاہ کے قتل کے فیصلہ کو افشاء کرنے کے لئے قدرت نے سی۔آئی۔اے کے ایک اعلیٰ افسر کو ”فرشتہ رحمت“ بنا کر بھیج دیا۔ جس نے آدھی رات کے وقت شیخ کے ایک قابل اعتماد شاگرد کو ویرانے میں لے جا کر آگاہ کر دیا اور تاکید کی کہ اسی وقت شیخ کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ چنانچہ حفظ ماتقدم کے طور پر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احتیاطی تدابیر بنائی گئی اور اللہ کریم نے حکومت کے شر سے محفوظ فرمایا۔
قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مرحلہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ لیکن وزیر اعظم کا کردار مشکوک نظر آتا تھا۔ پولیس اور انٹیلی جنس کو چوکنا کر دیا گیا اور بڑے شہروں میں فوج بلا لی گئی۔ جب کہ سات کروڑ مسلمان قادیانیوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے تھے۔ اس سے ٹکرانا بھی آسان نہ تھا۔ ادھر مجلس عمل نے الٹی میٹم دے دیا کہ اگر ۷؍ ستمبر تک مسلمانوں کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ۸؍ ستمبر کا سورج تحریک کا علم لئے طلوع ہوگا۔
۷؍ ستمبر کی ابتداء ہی سے مجلس عمل کے مرکزی قائدین ، دیگر علماء کرام اور سیاسی لیڈروں نے دارالعلوم تعلیم القرآن میں مستقل قیام اختیار کر لیا تھا۔ رات دن میٹنگیں، مشورے اور جلسے جاری رہے اور آخری جلسہ ۷؍ ستمبر کو دارالعلوم ہی میں رکھا گیا۔ جس میں مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں کسی انتہائی اقدام کا اعلان متوقع تھا۔ لیکن آخر کار شہیدوں کا خون رنگ لایا۔ علماء کرام اور عوام کی بے پناہ قربانیاں بار آور ثابت ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کر دیا۔ اگرچہ اس موقع پر شیخ القرآن موجود نہیں تھے۔ لیکن ان کی مخلصانہ جدوجہد اور کوشش کامیابی سے ہمکنار ہونے پر ہر آدمی بزبان حال انہیں ہدیہ تبریک پیش کر رہا تھا۔
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں ہری پور کا کردار
- ۱...... تحریک جب شروع ہوئی تو ہری پور میں بھی تحریک نے زور پکڑا۔ تحریک کے دورانیہ میں عوام کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ہری پور کے زیر اہتمام چمن پارک میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تحریک ختم نبوت کے ممتاز رہنما حکیم عبدالسلام ہزاروی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شمع ختم نبوت کے پروانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ جلسہ گاہ کو خوبصورت بینروں سے سجایا گیا تھا۔ اس عظیم الشان کانفرنس سے مقامی حضرات علماء کرام کے علاوہ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا محمد اجمل خان لاہوری، مولانا محمد انور شاہ (بریلوی)، مولانا عبدالحئی عابد اور مولانا سید عبدالمجید ندیم نے خطاب فرمایا۔
- ۲...... اس عظیم الشان کانفرنس کے چند روز بعد مرکزی جامع مسجد ہری پور میں ایک فقید المثال جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ ساری مسجد مسلمانان ہری پور سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور کہیں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اس جلسہ سے تحریک ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری اور مولانا محمد ایوب الہاشمی نے خطاب فرمایا اور رات گئے یہ جلسہ حکیم عبدالسلام کی پرسوز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
- ۳...... تحریک ختم نبوت کے دورانیہ میں روزانہ ترتیب وار شہر اور گردو نواح کی مساجد میں احتجاجی جلسے منعقد کئے گئے اور جلسوں کے بعد ہر مسجد سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔
ان احتجاجی پروگراموں سے حضرت مولانا حکیم عبدالسلام ہزاروی، مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا سعید الرحمن (شیرگڑھ)، شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمن، مولانا قاضی شمس الدین، مولانا عبدالقیوم، مولانا احمد اللہ (اہل حدیث)، مولانا قاضی ضیاء الدین اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ تحریک کے دورانیہ میں حالات پر امن رہے اور کہیں بھی کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
(مولانا حکیم عبدالرشید صاحب )
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام آباد
(مولانا محمد عبداللہ) واقعہ ربوہ اسٹیشن کے بعد تحریک جب پورے ملک میں چلنے لگی تو اسلام آباد میں بھی بلا اختلاف باری باری مساجد میں جلسے روزانہ شروع ہو گئے۔ آج میری مسجد میں جلسہ تو کل کسی بریلوی کی مسجد میں جلسہ۔ پھر کبھی مسجد اہل حدیث میں جلسہ۔ اس طرح ہم نے اس مسئلہ کو خوب چلایا۔ اکابرین بھی پنڈی، اسلام آباد میں آکر ٹھہرے رہے۔ کیونکہ اسمبلی میں بحث جاری تھی۔ دلائل، تیاری و پالیسی وحکمت عملی سب اکابرین نے طے کرنا تھیں۔ ایک بڑا جلسہ جس میں علامہ سید محمد یوسف بنوری امیر مجلس نے تقریر کی۔ وہ میری مسجد میں ہوا۔ (الحمد للہ )
ہم اوقاف کے خطباء نے سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ (الحمد للہ ) میں نے کل پانچ دفعہ جیل کاٹی۔ پہلی دفعہ جیل میں حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور پنڈی کے شیخ رشید و دیگر زعماء ہم سب اکٹھے رہے۔ بعض عجیب واقعات بھی پیش آئے۔ جس میں سے چند ایک درج ہیں۔ ایک دفعہ ہم جیل میں تھے۔ پیچھے حکومت نے ہماری ملازمتیں ختم کردیں۔ لوگوں نے چندہ کر کے تمام خطباء کے گھر معاونت کے لئے کچھ رقوم دیں۔ میری اہلیہ نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مولانا صاحب جب تک جیل میں ہیں، ہم جس طرح بھی ہوگا، گزارہ کرلیں گے۔ جذبہ اور شوق کی وجہ سے تنگی پر گزر کو ترجیح دی۔ (الحمد للہ )
ایک واقعہ بہت عجیب ہوا۔ یہ کہ جیل میں برطرفی ملازمت کے پروانے ہم کو دے دیئے گئے۔ مگر ہماری جگہ باوجود کوشش کے کسی اور خطیب کو مقرر نہ کرسکے۔ ( بوجہ برکت تحریک ) اور جیل سے میں جب واپس آیا تو جمعہ پڑھا کر دعا سے پہلے لوگوں سے ایک سوال پوچھا کہ سرکاری افسر چھوٹا یا بڑا کوئی ملازم اگر برطرف کردیا جائے تو کیا وہ چند لمحے کے لئے پہلے والے فرائض سرانجام دے سکتا ہے؟ کیا ڈیوٹی کرسکتا ہے؟ سب مل کر مجھے جواب دیں۔ سب نے با آواز بلند جواب دیا کہ برطرفی کے بعد فرض منصبی یا ڈیوٹی قطعاً نہیں کرسکتا۔ میرا دوسرا سوال: میں برطرف خطیب نے جو جمعہ پڑھایا یہ ٹھیک ہے یا دوبارہ پڑھو گے؟ سب نے مل کر جواب دیا کہ نماز ٹھیک ہے۔ پھر میں نے کہا: وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی صاحب سن لو، اچھی طرح سن لو۔ تمہاری برطرفی بیکار ہے۔ میں فی سبیل اللہ بھی یہاں کام کروں گا۔ تمہارا یہ حکم واپس پڑا ہے۔ ( کاغذ آرڈر کا پھینک ) کر یہ کہا: ایک ہفتہ بعد حکومت نے اپنا یہ حکم خود ہی واپس لے لیا۔ پنڈی کے علاوہ جہلم، فیصل آباد کی جیلیں میں نے کاٹیں۔ جہلم جیل میں جگہ کی قلت تھی۔ اس لئے پھانسی کوٹھی میں چار چار افراد کو رکھا گیا۔ رات کو ہم اس میں اس طرح رہتے تھے کہ کھانا، نمازیں اور پیشاب بھی آپس میں پردہ کر کے کرتے تھے۔ دن کو باہر بیت الخلاء میں جانے کا موقعہ ملتا تھا اور بس۔ فیصل آباد سنٹرل جیل میں ہم دس افراد تھے۔ سوائے دو ایک کے باقی سب دیوبندی تھے۔ یہ دو ساتھی بریلوی تھے۔ یہ حضرات تفریح طبع کے لئے قوالی کی مجلس لگاتے۔ گھڑا بجا بجا کر قوالی کرتے تھے۔ بریلوی مولوی بشیر صاحب کو بیچ میں بٹھادیتے۔ آخری مصرعہ پڑھتے ۔ بزرگوں کی صحبت بڑی بات ہے۔ بھئی بڑی بات ہے، بڑی بات ہے۔ آخری بار میری گرفتاری ستمبر کی پہلی دو تین تاریخ کو ہوئی۔ ادھر ۷؍ ستمبر کو مسئلہ حل ہوگیا۔ مگر مجھے اس کے بعد کافی دن جیل میں رکھا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اس سال تراویح میں قرآن بھی نہ سنا سکا تھا۔ اس دفعہ پنڈی جیل میں علماء سے اکیلا مجھے رکھا گیا تھا اور ایک بہت ہی دلچسپ اور مضحکہ خیز بات بھی پیش آئی۔ وہ یہ کہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے آخری مرتبہ جیل میں دو صفحات پر مشتمل حکم وجوہ نظر بندی تا حکم ثانی کے لکھ کر بھیجے۔ اس میں میری مختلف مساجد میں مختلف تقاریر کے چند ایک اقتباسات درج تھے۔ جب پڑھا تو حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ بعض تقریریں تو واقعی میری تھیں۔ مگر نصف سے زیادہ تقاریر
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا مجھے علم ہی نہیں بلکہ جن جن تاریخوں کے جلسوں کا ذکر اور پھر میری تقریر کے اقتباسات جو تحریر تھے، ان تمام تاریخوں میں میں پنڈی، جہلم، فیصل آباد میں اسی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر کے حکم سے جیلوں میں موجود تھا۔ میں جیلوں سے رات کو کیسے آکر اسلام آباد تقریر کر کے چلا جاتا تھا۔ یہ گتھی بہت زمانہ بعد حل ہوئی کہ خفیہ رپورٹر جلسوں میں جانے کے بجائے گھر بیٹھ کر رپورٹیں مرتب کرتا تھا۔ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر کے دفتر والوں نے پوری فائل مذکورہ رپورٹوں پر تیار کی۔ مگر دوسری فائل جس میں میری نظر بندی تاحکم ثانی، پھر جیلوں میں منتقلی کی فائل، بیچاری کہیں کسی کونے میں سو گئی۔ اس کی لمبی نیند کی وجہ سے صاحب بہادر نے اس طرف دھیان نہ کیا اور یوں مضحکہ خیز تحریر اپنے دستخط سے مجھے جیل بھجوادی اور اس طرح بارہا احکامات صاحب بہادر کے دفاتر سے جاری ہوتے رہتے ہیں اور خود مجھے بھی کئی دفعہ ملے ہیں۔ یہ ایک لمبی کہانی اور داستان ہے۔ (مولانا محمد عبداللہ صاحب)
مولانا محمد ابراہیم مسجد انارکلی لاہور کے چند واقعات
جون ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران مجلس عمل کے زیراہتمام مسجد وزیر خان لاہور میں ختم نبوت کے موضوع پر جلسہ تھا۔ جلسے سے پہلے ہی تمام مکاتیب فکر کے علماء کو مسجد کے باہر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا ابراہیم صاحب نے اس میں خود بھی نعرے لگائے اور مسجد میں انتہائی دلیری اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف تقریر کی۔ حالانکہ آپ کے سامنے ہی علماء کی گرفتاری جاری تھی لیکن آپ بالکل گھبرائے نہیں اور تقریر جاری رکھی۔
ایسے ہی جامع مسجد نیلا گنبد میں بھی تحریک ختم نبوت کا جلسہ تھا۔ مولانا نے وہاں بھی تقریر کی اور جلسے کے اختتام پر طلباء اور دیگر لوگوں نے نعرے لگائے جن میں رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ (ہائیکورٹ) اور جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکن بھی شامل تھے۔ پولیس نے ان لوگوں کو پکڑ لیا تو مولانا نے کہا کہ ان کو چھوڑ دو۔ کیونکہ جو جرم ان لڑکوں کا ہے، وہی میرا بھی ہے۔ اس پر مولانا نے بھی نعرے لگائے اور پولیس نے لڑکوں کے ساتھ مولانا کو بھی گرفتار کر لیا۔
نوٹ: نیلا گنبد کی مسجد میں ہونے والا جلسہ کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی حضرت مولانا محمد ابراہیم نے سرانجام دیئے۔ اس جلسے کی صدارت حضرت بنوری نے فرمائی۔ مقررین میں حضرت مولانا اجمل خان، علامہ محمود احمد رضوی و دیگر قائدین مجلس عمل ختم نبوت ہزاروں کا اجتماع مسجد میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ اندر باہر آدم ہی آدم۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ ختم نبوت کے پروانوں کے جذبات قابل رشک اور دیدنی تھے۔
تحریک کے دوران میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نے علماء کا اجلاس بلایا۔ جمعہ کا دن تھا۔ غالباً صبح نو بجے کا وقت تھا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ حنیف رامے تھے۔ علماء کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ اکابر علماء کو اس لئے تکلیف دی ہے تاکہ آپ ہمیں بہتر سے بہتر راستہ بتائیں۔ اس دوران بلاخوف وخطر پروانہ ختم نبوت مولانا ابراہیم فوراً کھڑے ہوئے کہ پہلے ہمیں یہ جواب دیجئے کہ آپ کی بغل میں بیٹھے ہوئے آپ کے مشیر جن کے مرزائی ہونے میں کوئی شک نہیں، یہ کیا ہے؟ پہلے اس بات کا جواب دیں، پھر کوئی بات سنیں گے۔ اس موقع پر سرکار کی طرف سے ایک مشہور شخصیت، حکومت کی طرف سے صفائی پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔
مولانا ابراہیم نے فوراً فرمایا کہ آپ مداخلت مت کریں۔ رامے صاحب اپنی صفائی خود پیش کریں۔ آپ کو وکیل بننے کی ضرورت نہیں۔ اس پر وہ شخص برہم ہوئے اور حضرت مولانا ابراہیم سے الجھنے کی کوشش کی۔ اس پر علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم، علامہ اختر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کاشمیری اور دیگر حضرات نے مولانا ابراہیم کی پرزور تائید کرتے ہوئے رائے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بعد میں بہت سے علماء نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ تحریک میں جن مساجد کا مرکزی کردار رہا، جلسے جلوس اور مظاہرے جاری رہے۔
- ۱...... جامع مسجد مولانا احمد علی شیرانوالہ گیٹ۔
- ۲...... مسجد وزیر خان۔
- ۳...... مسلم مسجد انارکلی۔
- ۴...... مکی مسجد انارکلی۔
- ۵...... مرکزی جامع مسجد انارکلی المعروف تلوار والی۔
- ۶...... جامع مسجد نیلا گنبد۔
- ۷...... جامع مسجد شہداء شارع قائد اعظم ۔
- ۸...... جامع مسجد نور نسبت روڈ ۔
- ۹...... جامع مسجد رحمانیہ قلعہ گجر سنگھ۔
- ۱۰...... جامع مسجد آسٹریلیا اسٹیشن ۔
ان کے علاوہ لاہور کی ہر گلی اور کوچے میں ہر بوڑھے، جوان، ہر ماں بہن اور بیٹی نے تحریک میں حصہ لے کر اپنے عقیدے اور اپنے ایمان اور ختم نبوت سے تعلق کا ثبوت دیا۔
ایک اہم واقعہ
حضرت مولانا محمد ابراہیم کو اللہ نے لمبی عمر عطا فرمائی اور عمر کے لحاظ سے تمام بزرگوں میں بڑے محسوس ہوئے۔ اس کے باوجود مولانا عبید اللہ انور اور حضرت لاہوری کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھتے اور اپنے آپ کو کبھی بڑا نہ سمجھتے ۔ ہر کسی سے کہتے کہ میں تو آپ کا ادنیٰ خادم ہوں ۔ جلوس سے پہلے متعلقہ پولیس آفیسر کو بتایا کہ یہ چند مرزائی ہیں ، جنہیں گورنمنٹ کی طرف سے تحفظ ملا ہوا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ تم ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ ۔ انارکلی بند ہونا شروع ہوگئی اور مولانا ابراہیم دہلی مسلم ہوٹل کی طرف چلے اور وہاں رک کر ایک تقریر کی اور کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پولیس مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے ۔ مختلف دوکانداروں کی طرف نشاندہی کرتے جاتے کہ یہ مرزائی ہے ۔ نیلے گنبد پہنچ کر مولانا ابراہیم اور ان کے چھ سات آدمیوں کو پولیس افسر نے پکڑ لیا اور حضرت کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور جیپ میں بٹھا کر لے گئے ۔ نہ جانے کہاں لے جارہے تھے ۔ ایسا ضرور محسوس ہوا کہ دریا پر سے گزر ہوا ہو ۔ اس کے بعد بہت دور جا کر رات کو ہمیں جیپ سے نیچے اتار دیا ۔ اندھیری رات تھی ۔ میلوں تک کچھ دکھائی نہ دیتا تھا ۔ بہت تکالیف اٹھانے کے بعد سب لوگ لاہور پہنچے۔
(از : مولوی عبد الستار گتے والے، گنپت روڈ ، انارکلی)
اوباڑہ وضلع سکھر
۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران راقم الحروف (عبدالکریم رحمانی ) مدرسہ عربیہ دارالفیوض حمادیہ کراچی روڈ شہر اوباڑہ ضلع سکھر میں درس وتدریس اور مدرسہ کے اہتمام کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔ ۳؍جون کو مدرسہ مذکور میں تحریک میں شامل تمام جماعتوں کا اجلاس بلایا ۔ تمام جماعتوں نے شرکت کی ۔ بفضلہ تعالیٰ شہر اوباڑہ کی تمام مساجد سے ۷؍جون ۱۹۷۴ء بعد نماز جمعہ جلوس نکلے جو کہ اوباڑہ کے بس سٹاپ پر جمع ہوئے جو پانچ ہزار افراد پر مشتمل تھا ۔ جلوس کی قیادت راقم الحروف اور مولانا محمد طیب صاحب لغاری مرحوم نے کی ۔ جلوس کو ناکام بنانے کے لئے ایک ٹرک فوج کا اور جیکب آباد ، شکار پور تک پولیس کو بلایا گیا ۔ بفضلہ تعالیٰ جلوس تمام بازاروں سے ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگاتا ہوا گزرا جب جلوس تھانہ سے آگے گزرنے لگا تو فوج اور پولیس نے مزاحمت کرتے ہوئے جلوس کو روکنے کی کوشش کی ، لیکن جلوس کو نہ روک سکے ۔ بالآخر پولیس نے ہوائی فائر شروع کر دیئے اور لاٹھی چارج کی ۔ جس میں راقم الحروف اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد طیب صاحب شدید زخمی ہوئے۔ مولانا محمد طیب صاحب کے کپڑے خون آلود ہوئے۔ بعد ازاں پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ ۶۵ مجاہدین نے گرفتاریاں دیں۔ ان سب پر سنگین جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ دس بارہ دن جیل میں رہنے کے بعد سب کی رہائی ہوئی۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ جیل میں اکثر مجاہدین کو خواب میں سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی زیارت نصیب ہوئی۔ الحمد للہ! جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک بہت بڑا اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام مقدمات کی پیشیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ کوئی بھی پیشی پر حاضر نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے بائیکاٹ کرنے سے تمام مقدمات ختم ہو گئے۔ (الحمد للہ )
داستان تو بہت لمبی ہے لیکن راقم الحروف نے اختصار سے کام لیا ہے۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد مرزائیوں نے شب جمعہ کو تقریباً ایک بجے رات کو راقم الحروف پر سوتے میں لاٹھیوں سے حملہ کیا اور حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ صبح جب شہر میں شور پڑ گیا تو حملہ آور نذیر احمد نے گلے میں رسہ ڈال کر دن کے بارہ بجے خودکشی کر لی جس سے پورے ضلع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بحمد اللہ! اس وقت اوباڑہ شہر مرزائیت سے پاک ہو چکا ہے۔ (الحمد للہ ) مولانا عبد الکریم رحمانی، صادق آباد
کوٹ عبدالمالک ضلع شیخوپورہ
چند اوراق والد گرامی مجاہد فی سبیل اللہ حضرت مولانا محمد صابر نور اللہ مرقدہ، خلیفہ مجاز و خادم خاص حضرت اقدس شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہ حاضر خدمت ہیں۔ حضرت موصوف نے ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت کے لئے حضرت لاہوری کے ہمراہ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں اور آپ کو اسی قید میں سیمنٹ کی ملاوٹ شدہ روٹیاں بھی کھلائی گئیں۔ چونکہ حضرت موصوف قبلہ حضرت لاہوری کے انتہائی چہیتے خادم تھے۔ ۲۵ سال حضرت کی صحبت میں گزارے اور خاص طور پر ۱۵ سال تو سفر و حضر میں ساتھ ساتھ رہے۔ حضرت کی وفات کے بعد کوٹ عبدالمالک میں توحید وسنت کا مرکز بنایا۔ نیز ہر سال ختم نبوت چنیوٹ کے اجتماع میں حاضری دینا فرض سمجھتے۔ صحت و بیماری میں یکساں تشریف لے جاتے۔ ایک مرتبہ بھی ناغہ نہ کیا۔ تا زندگی حضرت مولانا موصوف کا یہ معمول رہا۔ اپنے شیخ اور مربی کی طرح بلا ناغہ درس قرآن کا سلسلہ بھی جاری وساری رکھا جو کہ بالاستیعاب ہوتا۔ تحریک ختم نبوت ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء سے چند دن پہلے کی بات ہے۔ سورۃ یوسف کا درس چل رہا تھا۔ جس میں سچی اور جھوٹی نبوت کا موازنہ کے عنوان سے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں پر شدید تنقیدی تبصرہ کیا جاتا اور مرزا کے کرتوت اور پول کھولے جاتے۔ دریں اثناء حضرت موصوف ایک مرتبہ سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ رات کا کافی وقت تھا۔ راستے میں چند مرزائیوں نے گھیر لیا اور کہا: ”مولوی صاحب آپ ہمارے خلاف بولنا بند کر دیں۔ ورنہ اس کی سزا آپ کو بھگتنا ہوگی ۔“ حضرت گرامی قدر نے فرمایا: ” بھئی جو چاہتے ہو کر گزرو۔ تمہاری دھمکیاں مجھے اپنے مشن سے باز نہ کرسکیں گی۔ میں تو شہادت کا منتظر ہوں۔“
چند دن بعد صبح درس کے وقت ایک شخص قرآن بغل میں دبائے مسجد میں داخل ہوا اور پوچھنے لگا کہ وہ مولوی صاحب جو درس روزانہ دیا کرتے تھے، وہ کہاں ہیں؟ چونکہ وہ ہمارے بارے میں گوہر افشانی کیا کرتے تھے۔ اس لئے میں انہیں ملنے آیا ہوں۔ اتفاق سے حضرت اس دن سفر پر گئے ہوئے تھے۔ یہ بات سننے کے بعد حضرت کے شاگردوں نے اسے ایک کمرے میں بٹھا لیا اور دروازے بند کر دیئے۔ گفتگو شروع ہو گئی۔ جب ہر طرح سے ناکام ہو گیا تو پھر خنجر نکال کر اس نے حملہ کیا۔ لڑکے زیادہ تھے۔ اس لئے اس کو پکڑ کر گرا لیا۔ ایک شاگرد کو معمولی سا زخم لگا۔ بس پھر وہ گت بنائی کہ رہے رب کا نام۔ جب اچھی طرح سے تسلی ہوگئی، پھر اسے باہر نکال کر لوگوں کو اکٹھا کر لیا کہ دیکھو یہ ہے مرزائیوں کا پوپ۔ ہر شخص نے طعن وملامت کی اور منہ پر تھوکا اور ساتھ ہی تھانے میں اطلاع کر دی کہ ایک شخص قتل کے ارادے سے آیا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھا، جس کو پکڑ لیا گیا ہے۔ چنانچہ تھانیدار بھی حضرت کا عقیدت مند تھا۔ وہ خود آیا اور پکڑ کر لے گیا۔ مرزائیوں نے چھڑانے کا پورا پورا زور لگایا لیکن ان کی ایک نہ چلی۔ رات کو حضرت سفر سے واپس تشریف لائے تو ساری رپورٹ پیش کر دی گئی۔ آپ نے اس وقت دوستوں کو جمع کیا اور مشورہ کیا کہ ان مرتدوں، مرزائیوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ اگر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا، ان کی سرکوبی نہ کی گئی تو یہ لوگ بدستور تیز ہوتے چلے جائیں گے۔ چنانچہ طے پایا کہ آئندہ جمعہ کی شب کو جلسہ عام اور جلوس ہوگا۔ حضرت نے اس میٹنگ کے بعد ایک بڑی رقت آمیز دعا فرمائی جس سے ہر فرد وجد میں آگیا۔ دوسرے ہی روز ربوہ کے اسٹیشن پر طلباء پر قاتلانہ حملہ کا واقعہ رونما ہوا اور تحریک کا آغاز ہوگیا۔ پھر تو مرزائیوں کی شامت آگئی۔ چند ہی روز میں کوٹ عبدالمالک ان مرتدوں سے پاک ہوگیا۔
(محمد عبدالرحمن عابد)
ایک بچے کے جذبات
مولانا سعید احمد جلال پوری (ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان)
۱۹۷۴ء میں راقم الحروف (مولانا سعید احمد جلال پوری) خان پور سے چند میل دور شمال مشرق میں واقع قصبہ ظاہر پیر کے مدرسہ احیاء العلوم میں پڑھتا تھا۔ وہاں کے مہتمم اور شہر کی معزز و مقبول اور ہر دل عزیز شخصیت حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے۔ وہاں بریلوی حضرات کا بھی ایک مدرسہ اور حلقہ ہے۔ بریلوی علماء کے نمائندوں میں مولانا خورشید احمد علاقہ کے معروف عالم ہیں۔ وہ مولانا منظور احمد صاحب سے خاصے الرجک رہتے تھے۔ البتہ مجھے وہ منظر کبھی نہیں بھولے گا کہ موصوف اپنے تمام تر اختلاف بھلا کر مولانا منظور احمد صاحب کی قیادت اور ہمراہی میں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر جلوس کی قیادت کرتے تھے۔ ان دنوں مشکل سے میری عمر ۱۴، ۱۵برس کی ہوگی۔ میں ہدایہ اولین وغیرہ کے اسباق میں تھا۔ چھوٹا سا قد، معمولی سی جان، مگر ہر وقت حضرت مولانا موصوف کی تقاریر اور جوش و جذبہ نے (جو حضرت مولانا کا خصوصی وصف ہے) مجھ جیسے بے جان میں بھی ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بس مجھ سے دوگنا بلکہ اگر کوئی بڑے سے بڑا مرزائی بھی میرے ہتھے چڑھ جائے تو وہ بچ کر نہیں جاسکے گا۔
اس جذبہ میں مزید پختگی یوں پیدا ہوئی کہ وہاں کپاس کے ایک کارخانہ کے ایک ملازم کے بارہ میں اطلاع ملی کہ وہ قادیانی ہے۔ ادھر ربوہ اسٹیشن کا واقعہ بھی لوگوں کے سامنے تھا۔ بس پھر کیا تھا کہ حضرت مولانا نعمانی صاحب نے اعلان کر دیا کہ کارخانہ والے اس کو نکال دیں۔ ورنہ پھر نتائج کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔ کارخانہ دار چونکہ ایک دنیا دار قسم کا آدمی تھا، اس نے سمجھا یہ بس یوں ہی مولویوں کی دھمکی ہے۔ ان سے ہونا ہوانا کچھ نہیں۔ لہٰذا اس نے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہی گوارا نہ کیا۔ جب اس نے کچھ نہ کیا تو مولانا نعمانی صاحب نے ایک دن جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں کارخانہ میں ایک قادیانی ملازمت کرتا ہے۔ آج ہمیں کارخانہ کی املاک کا تحفظ کرتے ہوئے اس مردود سے کارخانہ کو پاک کرنا ہے۔ یہ کہنا تھا کہ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کارخانہ میں داخل ہو کر اس کے ایک ایک شعبہ کی تلاشی میں لگ گیا۔ کارخانہ کی انتظامیہ ہڑبڑا گئی۔ کبھی ادھر بھاگیں اور کبھی ادھر کہ کہیں عوام کا یہ ریلا کارخانہ کو تباہ نہ کر ڈالے۔ مگر مولانا نعمانی نے انہیں پہلے ہی سب کچھ بتلا دیا تھا کہ سوائے اس قادیانی مردود کی گرفتاری کے ہمارا اور کوئی مقصد نہیں۔
اب ایک طرف عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر کارخانہ میں تھا اور دوسری طرف انتظامیہ۔ حضرت مولانا نعمانی کے قدموں میں خوشامد اور چاپلوسی کے انبار لگا رہی تھی۔ حضرت مولانا نے فرمایا کہ میں نے آپ لوگوں کو شرافت سے کہا تھا مگر معلوم ہوتا ہے تم لوگ شرافت کی زبان نہیں جانتے۔ اتفاق کہ اس دن وہ قادیانی وہاں موجود نہیں تھا۔ بہرحال بعد از خرابی بسیار کارخانہ دار کو اعلان کرنا پڑا کہ آئندہ کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے ہم اس قادیانی کو نکال دیں گے اور اسے یہاں نہیں رکھیں گے اور ہم ہر اعتبار سے آپ کے ساتھ ہیں۔ جلوس کی واپسی پر پولیس نے شرارت کی اور ہمارے پرامن جلوس کے شرکاء میں سے ایک طالب علم ، مدرسہ کے سفیر اور ایک دوسرے مقامی ساتھی کو گرفتار کر لیا۔ اس سے عوام میں اشتعال پیدا ہو گیا اور عوام نے تھانہ پر ہلہ بول دیا۔ بہرحال حضرت مہتمم صاحب کی فہمائش پر عوام نے تھانہ کا گھیراؤ چھوڑ دیا۔ مگر پولیس ہمارے ان رفقاء کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئی بلکہ ان کا چالان کر کے رحیم یارخان سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ مولانا موصوف کی ہمت اور دانشمندی نے کام دکھایا کہ پولیس سے ٹکراؤ بھی نہ ہوا اور تیسرے روز ہمارے تمام ساتھی نہایت فاتحانہ انداز سے باعزت بری ہو کر آگئے۔ حضرت مولانا نعمانی مدظلہ پرانے احراری ہیں اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے چکے ہیں اور اس سلسلہ میں سال بھر کی جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کر چکے ہیں۔ اس لئے وہ ان تمام پیچیدگیوں کو حل کرنے میں بطور خاص مہارت رکھتے ہیں۔
چونکہ جیل سے رہا ہو کر آنے والے رفقاء کا بہت ہی والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا۔ اس لئے کارکنوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور ہمتیں بڑھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ اور جذبہ مسابقت پیدا ہو گیا۔ ایک دن ہمیں خیال آیا کہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت اس پر موقوف ہے کہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کا کام کیا جائے۔ چنانچہ امام العصر، حضرت مولانا انور شاہ کاشمیریؒ کا یہ ارشاد بھی اپنی جگہ اثر کر گیا کہ : ”جسے آنحضرت ﷺ کی شفاعت کی ضرورت ہو ، وہ ختم نبوت کا کام کرے“۔ مگر ہم نے ابھی تک کوئی قابل ذکر خدمت سرانجام نہیں دی۔ اسی کشمکش میں ایک دن اطلاع ملی کہ ظاہر پیر ریلوے اسٹیشن کا ماسٹر قادیانی ہے۔ بس یہ سننا تھا کہ خون کھولنے لگا کہ ہمارے بالکل قریب میں ایک مردود رہائش پذیر ہو اور ہم اس گستاخ رسول سے تعرض نہ کریں۔ بس پھر کچھ تو ہماری رگ حمیت پھڑک اٹھی اور ہم اکیلے ہی اس کی ٹھکائی کی کوششیں کرنے لگے اور اس کی منصوبہ بندی ہونے لگی۔ کئی ایک دن کی سوچ و بچار کے بعد جب کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا اور ہوتا بھی کیسے کہ بے عقلی ، بے ہمتی اور کمزوری کے علاوہ اپنے پاس تو کچھ نہیں تھا۔ مگر ایک لگن ، کڑھن اور جذبہ ضرور تھا۔ بہرحال ایک دن اپنے ایک ہم جماعت عبدالرحمن راجن پوری کو اپنا راز دار بناتے ہوئے اپنی پریشانی ، کرب اور بے چینی سے آگاہ کیا تو ماشاء اللہ انہوں نے میری ہمنوائی کا دم بھرتے ہوئے میری ہر طرح کی نصرت اور مدد کا وعدہ کیا۔ اب ماشاء اللہ ایک کے بجائے دو ذہنوں نے مل کر سوچنا شروع کر دیا۔ ایک اکیلا دو گیارہ کے مصداق ہم گیارہ ہو گئے تھے۔
چنانچہ ہماری دو رکنی کمیٹی اور کابینہ یا مجلس شوریٰ نے ایک دن یہ مسئلہ حل کر ہی لیا اور طے یہ پایا کہ رات کو جب عشاء کی نماز ہو جائے اور تمام طلباء مطالعہ میں بیٹھ جائیں اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں تو مدرسہ کے مطبخ کے تنور سے ایک ایک لکڑی اٹھائیں گے اور اسی سے اس مردود کی ٹھکائی کریں گے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم نے ایک ایک لکڑی اٹھائی اور رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مہم پر روانہ ہو گئے ۔ اسٹیشن مدرسہ سے کچھ دور نہیں ۔ چنانچہ مدرسہ اور اسٹیشن کے درمیان مشکل سے کوئی ڈیڑھ سو گز کا فاصلہ ہوگا۔ پھر طے یہ ہوا کہ راقم الحروف چونکہ چھوٹا ہے۔ اس لئے اسٹیشن ماسٹر کے گھر کی گھنٹی بجائے گا اور دوسرا ہمراہی چھپ کر کھڑا رہے گا اور جیسے ہی وہ برآمد ہو، اس کے سر پر لکڑی مار دیں گے اور پھر بھاگ جائیں گے۔
حسب پروگرام ہم تیار ہو کر چلے اور راقم الحروف نے اسٹیشن ماسٹر کے گھر کی گھنٹی بجائی اور دروازہ پر دستک دی مگر وہ غالباً اس دن وہاں نہ تھا یا باہر نہ نکلا۔ اس پر ہم دل ہی دل میں خوش ہو گئے کہ وہ ڈر گیا ہے اور اب دوسرے دروازہ سے نکلے گا تو وہ ہمارے نشانہ سے بچ کر نہیں جاسکے گا۔ اس سوچ سے ہماری ہمت اور حوصلے مزید بڑھ گئے اور اب ہماری جرأت دیدنی تھی۔ چنانچہ مست ہاتھی کی طرح آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گھر کے دوسری طرف سے دروازہ پر گئے کہ یہاں سے ہمارا شکار ضرور ہاتھ آئے گا۔ مگر ہمیں یہاں سے بھی مایوسی کا سامنا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوا۔ بس یہ سوچ کر واپس آگئے کہ شاید یہ خدمت ہمارے مقدر میں نہیں یا ہمارے اخلاص میں کمی ہے کہ ہم اس سعادت سے محروم رہے۔ اس واقعہ کو سولہ سال ہوگئے مگر اب بھی یاد کرتا ہوں تو اس جذبہ پر تعجب اور اپنی کم عقلی پر ہنسی آتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کا احساس بھی ہوتا ہے کہ یہ سارا کچھ اکابر، زعماء اور قائدین کا جذبہ صادقہ تھا کہ بڑوں سے لے کر چھوٹے اور بچوں تک ہر ایک ناموس رسالت کے تحفظ کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنی سعادت سمجھتا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک قائدین عوام کے اندر ایسی روح نہ پھونکیں اور لوگوں میں ایسا جذبہ نہ پیدا ہو جائے، کوئی تحریک مشکل سے ہی کامیاب ہوتی ہے۔ قائدین کے اسی اخلاص، خلوص، تقویٰ، طہارت، تدین اور تدبر اور محنت و کوشش ہی کا ثمرہ تھا کہ ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ حل ہو گیا اور امت مسلمہ انگریز کے خود کاشتہ پودے اور یہود و ہنود کی حمایت یافتہ طبقہ کے شجرۂ خبیثہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہوگئی۔
(مولانا سعید احمد جلال پوری)
جلوس و جلسہ چن کوٹ، آزاد کشمیر
غیور مسلمانوں میں سخت غم وغصہ کی لہر دوڑی۔ بازار میں ایک جلسہ شروع ہوا۔ تمام بازار بند ہوگیا۔ عین اسی وقت تمام سکول بند ہونے کا اعلان ہو گیا تو فیصلہ ہوا کہ یہ جلوس پیدل دھیرکوٹ جائے گا۔ جلوس زیر قیادت قاری محمد سلیمان عباسی، خطیب جامع مسجد چن کوٹ روانہ ہوا۔ موصوف نے یہ فیصلہ طے کر لیا کہ راستہ میں جو بھی گاڑی آئے، اس کو کھڑا کر کے ان سے مرزا قادیانی کافر، اس کے ماننے والے کافر کا نعرہ لگا کر چھوڑا جائے تو راستہ میں ایک فوجی ایم. پی کرنل صاحب کی گاڑی آئی جو اتفاقاً مرزائی تھا۔ اس نے کافر کہنے سے بچنے کی کوشش کی، لیت ولعل کیا مگر شرکاء جلوس کے مشتعل ہونے پر بالآخر اس کو کافر کہنا پڑا۔ مگر کوہالہ چیک پوسٹ پر جا کر اس نے غصہ نکالا کہ مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں گن ساتھ رکھتا۔ ان سب کو ختم کر دیتا۔ اس کا ڈرائیور مسلمان چن کوٹ کا ہی باشندہ تھا۔ یہ واقعہ اس نے بعد میں بتایا۔ بہرحال ہمارا جلوس جب دھیرکوٹ بازار پہنچا تو بازار کے دوکانداروں نے ہمارا استقبال کیا۔ بازار بند کر دیا اور جلوس کے ساتھ ہوگئے۔ تھانہ دھیرکوٹ کے قریب یہ جلسہ کی شکل اختیار کر گیا۔ علاقہ کے معززین نے خطاب کیا جن میں سردار معروف اختر عباس صاحب اور سردار یونس خان صاحب، سردار صیاد خان صاحب، سردار خلیل خان۔ آخر میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے قاری محمد سلیمان عباسی نے تھانہ دھیرکوٹ کے نمائندوں سے کہا کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ یہ بوڑھے، نوجوان بچے ختم نبوت کے مجاہد پانچ میل پیدل جلوس لے کر تم کو بتانے آئے ہیں کہ تم حکومت پاکستان کو بتا دو ہم سروں پر کفن باندھ کر آئے ہیں کہ یا اس سرزمین پر قادیانی زندہ رہیں گے یا ہم۔ یہ ملک تاجدار ختم نبوت کے صدقہ سے حاصل ہوا ہے۔ ہم کسی جعلی نبوت کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم چن کوٹ جو باب پونچھ ہے، قادیانیوں کے لئے بند کر دیں گے۔ مولانا روشن دین صاحب کی دعا پر جلسہ ختم ہوا۔
(قاری محمد سلیمان)
بلہگ بالا ضلع مانسہرہ
۱۹۷۴ء میں ختم نبوت کانفرنس بلہگ بالا میں حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کا خطاب تھا۔ تحریک ختم نبوت عروج پر تھی کہ ہم نے بلہگ بالا میں تحریک ختم نبوت کا اہتمام کیا اور اس دن مانسہرہ میں بہت بڑا جلوس تھا۔ بازار بند تھا۔ ایف سی کے جوان پولیس لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، پتھراؤ اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جا رہے تھے کہ میں بطل حریت مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی کو گاڑی پر لے کر بازار سے گزر رہا تھا کہ ہماری گاڑی بھی پتھراؤ اور آنسو گیس کے گولوں کی زد میں آگئی۔ میں نے ڈرائیور سے کہا کہ ہوشیاری سے جلدی نکلو تو حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ موت شہادت ہے جس کا میں بچپن سے متمنی تھا۔ اب میں بوڑھا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو گیا ہوں۔ اگر خدا قبول کرے تو میری خوش نصیبی ہوگی۔ رات کو بلبگ بالا میں کانفرنس شروع ہوئی۔ صدارت حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب درویش نے کی۔ مقامی علماء کے بعد حضرت مولانا سید نواب حسین شاہ صاحب نے خطاب فرمایا۔ آخر میں خادم اسلام حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی نے ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے نوجوان حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ نوجوانو! تحریک ختم نبوت کو سنبھالو۔ میں نے جوانی سے آج تک اسلام کے حق میں اٹھنے والی ہر تحریک کے لئے مسلسل جدوجہد کی ہے۔ اب میری آخری عمر ہے۔ اب تمہارا فرض ہے کہ اس عظیم کام کے لئے جہاد کرو۔ آپ نے فرمایا کہ میری زندگی کی آخری خواہش ہے کہ یا تو مسئلہ مرزائیت حل ہو جائے، یا میں اس ہی راستہ میں قبول ہو جاؤں۔ اتفاقاً رات کو حضرت مولانا کو عارضہ دل کی تکلیف ہوئی تو صبح راقم سے فرمانے لگے کہ ختم نبوت کانفرنس میں دو جملوں سے تو بال بال بچ گیا ہوں۔ شاید خدائے پاک مرزائیوں کو کافر قرار دلوا کر میری دلی خواہش پوری فرمادیں۔ ہمارے اکثر اکابر یہ تمنا دل میں لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خدا جانے کون خوش نصیب لوگ یہ فیصلہ سنیں گے۔ آپ نے نوجوانوں کو ہدایت فرمائی کہ تحریک ختم نبوت کو ٹھنڈی نہ ہونے دیں۔ عملی جہاد جاری رکھیں۔
(قاری محمد سلیمان)
ژوب بلوچستان (صوفی محمد علی)
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے مسلمان طلباء کو مارا جس کے نتیجہ میں تحریک چل پڑی۔ ۱۴ جولائی ۱۹۷۴ء کو بھٹو ژوب تشریف لائے۔ چلڈرن پارک میں انہوں نے جلسہ عام کرنا تھا۔ ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے ختم نبوت کے مطالبات پر مبنی پوسٹر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے اور کوئٹہ سے منگوائے اور تمام پارٹیوں کے ان مطالبات پر بالاتفاق دستخط کرائے اور ان پوسٹرز کو نائب امیر محمد عمر عبداللہ زئی کے حوالہ کر دیا۔ بھٹو کے ژوب میں آنے پر سب لوگوں میں یہ بینرز بانٹ دیئے گئے۔ جلسہ کے وقت بطور حفاظت ملیشیا کے ۶۰ گھوڑے تعینات کئے گئے۔ ملٹری بھی تھی۔ بھٹو صاحب جب سٹیج پر تشریف لائے تو ختم نبوت کے اراکین نے ان سے صاف صاف کہہ دیا کہ بھٹو صاحب آپ مرزائیوں کے ایجنٹ ہیں۔ آپ ہی مولوی شمس الدین کے قاتل ہیں۔ اب آپ پھر ژوب آئے ہیں اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں۔ بھٹو صاحب چلا چلا کر کہنے لگے۔ بیٹھو بھائی! سنو بھائی! جب دیکھا کہ وہ قادیانی مسئلہ پر کچھ نہیں بولتے تو اسٹیج پر ٹماٹروں، پیازوں اور انڈوں کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں یہ جلسہ منتشر ہوا۔ جام غلام قادر کٹورئی ایک طرف بھاگ رہے تھے۔ نواب تیمور شاہ اور پولیٹیکل ایجنٹ نے بھٹو صاحب سے گولی چلانے کو کہا۔ مگر بھٹو صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سب نے بھاگنا شروع کر دیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ محبت خان ایک طرف کو بھاگ رہے تھے تو باقی لوگ دوسری جانب کو بھاگ رہے تھے۔ یوں بھٹو صاحب جلسہ نہ کر سکے۔ تمام وزراء کسی نہ کسی طرح جان چھڑا کر چلے گئے۔ جب جلسہ ختم ہوا تو نائب امیر ختم نبوت محمد عمر کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھٹو صاحب نے رات وہیں ژوب میں بسر کی۔ اس رات بھٹو صاحب نے غصہ میں تمام وزراء، پولیٹیکل ایجنٹ، پیپلز پارٹی کے اہلکاروں سے کہا کہ تم لوگوں نے مجھے اس بے عزتی کے لئے بلایا تھا۔ جب صبح ہوئی تو بھٹو صاحب جہاز میں بیٹھ کر ژوب سے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے شغالہ گئے۔ اس کے بعد قمر الدین وہاں ہی سے پھر بھٹو صاحب مسلم باغ گئے۔ مگر وہ حالات سے اس حد تک پریشان تھے کہ کوئٹہ کے جلسہ میں جاکر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی مرزائیوں کے فیصلہ کے لئے تاریخ مقرر کر دی۔ ورنہ وہ تاریخ مقرر نہ کر رہے تھے۔
یوں بحمدہ تعالیٰ اہالیان ژوب نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان حالات میں ۲۵ جولائی ۱۹۷۴ء کو ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے کوئٹہ اور ملتان ختم نبوت کے تمام علماء کو تار دیا۔ (جو کانفرنس کرنے کے لئے ژوب آنے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والے تھے ) ان حالات میں کانفرنس ملتوی کر دی گئی ۔ کیونکہ منتظمین کا کوئی اعتبار نہیں تھا ۔ کسی بھی وقت وہ گرفتار ہو سکتے تھے ۔ حاجی محمد یسین مندوخیل کو بھی گرفتار کیا ۔ وہ چونکہ بیمار تھا اس لئے اٹھائیس دن تک ہسپتال میں رکھا ۔ اسی دوران امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے صوفی محمد علی سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دے دوں گا تا کہ پولیس آپ کو گرفتار نہ کر سکے مگر صوفی محمد علی نے پناہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ حاجی صاحب مجھے انہوں نے چھوڑنا نہیں ہے ۔ کیونکہ میں نے جلسہ خراب کیا ہے ۔ اس لئے میں چھپنا نہیں چاہتا ۔
گرفتاریاں
۲۵؍جولائی ۱۹۷۴ء ہی کو صوفی محمد علی حاجی احمد کی دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس شیخ عبدالمجید تھانیدار آیا ۔ انہیں گرفتار کر کے تھانے میں الگ کمرے میں بند کر دیا ۔ ان کے علاوہ جتنے بھی علماء کرام نظر آئے ، ان سب کو گرفتار کر لیا گیا ۔ مسجد میں نماز پڑھانے والا کوئی نہ رہا ۔ ملا خائول تین دن تک چھپا ہوا تھا ۔ تیسرے دن جب مسجد آیا تو مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ مولوی نور محمد کو منی بازار لیویز بھیج کر بلایا گیا ۔ مولانا شمس الدین کے چچا زاد بھائی مولوی احمد شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ مولانا میرک شاہ صاحب ، حافظ علیم الدین ، موسیٰ خیل ، ملا اسحاق اور جمعیۃ علماء اسلام کے اراکین کی بڑی تعداد کی گرفتاری عمل میں آئی ۔ صوفی محمد علی کو الگ کمرہ میں رکھا گیا ۔ انہیں سونے کے لئے بستر تک نہیں دیا ۔ طالب نامی پولیس مین جو کہ لورالائی کا رہنے والا تھا ، نے قیدیوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ تم سب لوگ بے ایمان ہو ۔ قیدیوں نے گیارہ دن تھانے میں گزارے ۔ اس کے بعد انہیں سب جیل منتقل کر دیا گیا ۔ جب یہ قیدی جیل چلے گئے تو طالب پولیس والا بیمار پڑ گیا ۔ اس کی نکسیر پھوٹ گئی اور مرغا کبزئی ژوب سے ۵۵ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں میں مر گیا ۔ پھر انہیں گھر پہنچا دیا گیا ۔
تحریک تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان
محمد فاروق قریشی
جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان نے کسی وقت بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ تحریک مقدس ختم نبوت کے سلسلے میں جمعیۃ طلباء اسلام نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے کارکن قائد طلباء جناب محمد اسلوب صاحب قریشی کی ہدایت پر سرگرم عمل ہو گئے اور کراچی سے خیبر تک ملک کے گوشہ گوشہ میں آوازۂ حق بلند کیا ۔ تحریک کے سلسلے میں جمعیۃ کی کارکردگی آئینہ تحریر میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے ۔
کراچی
تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جمعیۃ طلباء اسلام کراچی نے جو کچھ کیا ، اس سے اہل کراچی بے خبر نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کراچی کے جمود کو توڑنے کا سہرا جمعیۃ طلباء اسلام کے سر ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ تحریک کے سلسلہ کا سب سے پہلا جلسہ عام آرام باغ میں منعقد ہوا ۔ اگرچہ اس جلسہ میں مختلف جماعتیں مدعو تھیں اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اس کی داعی تھی لیکن اس کے انتظام وانصرام میں جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکن ہی پیش پیش تھے ۔ گو بعض تنظیموں نے اس اجتماعی مسئلہ کے موقع پر بھی اپنی انفرادی اور علیحدگی پسندی کا مظاہرہ ضروری سمجھا لیکن بحمد اللہ جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکن ہر اس پروگرام کو کامیاب بنانا ضروری سمجھتے ہیں جس کا تعلق اسلام کے بنیادی مسائل سے ہو ۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی جمعیتہ کے نائب صدر اور نیشنل کالج کے طالب علم رہنما جناب عطاء اللہ شہباز نے تعلیمی اداروں میں سب سے پہلے نیشنل کالج میں ہڑتال کرائی اور طلباء کو منظم کر کے کراچی کا سب سے پہلا جلوس نکالا۔ بعد میں وہ اس جرم کی پاداش میں پابہ زنجیر کر دیئے گئے۔ جمعیتہ طلباء اسلام حلقہ سوسائٹی کے کارکنوں نے بھی ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں کراچی جمعیتہ کے صدر جناب محمد فاروق قریشی، معاون صدر ایم. اے نجمی، ناظم نشریات ایس. آر اعوان نے شرکت کی۔ جلوس کے اختتام پر چار کارکنوں کو قادیانی معبد کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ کراچی جمعیتہ کے سیکرٹری جنرل جناب محمد عبد البر سکھر گاہی اور محمد جمیل خان (حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید مراد ہیں۔ مرتب) نے دوسری طلباء تنظیموں سے اتحاد کے لئے مذاکرات کئے۔ بالآخر کراچی کی سطح پر ایک مشترکہ تنظیم ”طلباء ایکشن کمیٹی“ تشکیل دی گئی۔ جس کے تحت مختلف مقامات پر جلسے اور جلوس نکالے گئے۔
کراچی جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنوں کی سرگرمیوں سے مقامی انتظامیہ بوکھلا اٹھی اور ڈویژنل نائب صدر عطاء اللہ شہباز اور کراچی کے طالب علم رہنما محمد جمیل خاں سمیت پندرہ کارکنوں کو زینت زنداں بنا دیا گیا۔ کراچی جمعیتہ نے مرکزی لٹریچر کے علاوہ قادیانی بائیکاٹ کے سلسلے میں تقریباً ۲۵ ہزار اشتہارات شائع کئے۔ کراچی جمعیتہ کے شعبہ نشریات کی اطلاع کے مطابق سٹنسل کٹوا کر تقریباً تیرہ ہزار دیواروں پر نعرے اور مجلس عمل کے مطالبات لکھے گئے۔ ۴۱ جلسہ ہائے عام اور کارنر میٹنگیں منعقد کی گئیں۔ ۱۰۰۰۰ بیجز لگائے گئے۔ صوبہ سندھ کے ناظم عمومی جناب محمد اقبال شیخ، کراچی کے جناب محمد عبد البر سکھر گاہی اور محمد جمیل خان نے سجاول، پپری، میمن گوٹھ، پیر جو گوٹھ، ٹھٹھہ، بدین، جام شورو اور دادو میں مختلف مقامات پر جلسہ ہائے عام سے خطاب کیا۔ ہر جگہ عوام نے طلباء کے جذبات کو سراہا اور ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مطالبات تسلیم ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا عزم کیا۔
حیدر آباد
جمعیتہ طلباء اسلام حیدر آباد نے تحریک کے سلسلہ میں انتھک کام کیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جلسہ عام منعقد کئے جن سے جناب بشیر احمد قریشی، جناب لیاقت علی صاحب، جناب اکمل ندیم، عبد الجبار اور عبد المتین قریشی خطاب کرتے رہے۔ انتظامیہ مختلف ہتھکنڈوں سے طلباء کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن جمعیتہ طلباء اسلام کے جیالے کارکن شبانہ روز کام کرتے رہے۔ میانی روڈ کی جامع مسجد کے عظیم الشان جلوسوں سے مولانا محمد لقمان علی پوری، جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے ناظم نشریات جناب محمد فاروق قریشی، جمعیتہ پنجاب کے صدر جناب رانا شمشاد علی صاحب اور کراچی جمعیتہ کے ناظم عمومی جناب عبد البر سکھر گاہی نے خطاب کیا۔ تحریک کے سلسلے میں مقامی جماعت انجمن خدام الاسلام کے ساتھیوں نے حتی المقدور تعاون کیا۔ سانگھڑ، میر پور خاص اور ضلع تھر پارکر میں حیدر آباد ڈویژن کے کنوینر جناب محمد اسلم شیخ اور طالب علم رہنما جناب اکمل ندیم، جناب بشیر احمد قریشی نے قریہ قریہ عوام کو حالات سے آگاہ کیا۔ ہر جگہ قادیانی دجل وفریب کا پوسٹ مارٹم کیا۔
ٹنڈو الہ یار
جمعیتہ طلباء اسلام ٹنڈو الہ یار نے تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں بے مثال قربانیاں دیں۔ شہر کے گردونواح کا دور دراز سفر کر کے مختلف اجتماعات و جلسہ ہائے عام منعقد کئے اور مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی اور حکومت کو مسئلہ نہ حل کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
خیر پور
خیر پور جمیعۃ طلباء اسلام کے کنوینر جناب سید اصغر علی شاہ اور سر پرست جناب محمد خان نے تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں شہر میں جلوس نکالا۔ مکمل ہڑتال کرائی۔ دیواروں پر مجلس عمل کے مطالبات لکھے اور متعدد جلسے منعقد کئے۔ جناب محمد خاں صاحب کو اشتہارات لگانے اور تحریک کو منظم کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں شہر میں احتجاجی ہڑتال ہوئی اور مقامی انتظامیہ کو ان کو رہا کرنا پڑا۔ تحریک کے مجاہدین کے ایک اہم اجتماع سے جناب رانا شمشاد علی خان اور محمد فاروق قریشی نے بھی خطاب کیا۔ ٹھیڑی پریالو اور پیر گوٹھ میں بھی اراکین جمیعۃ بالخصوص جناب کلیم اللہ شاہ نے خاصی سرگرمی سے تحریک کو جاری رکھا۔
سکھر
جمیعۃ طلباء اسلام صوبہ سندھ کے رہنماؤں نے جگہ جگہ جلسہ عام منعقد کئے اور عوام کو پیش آئندہ خطرات سے آگاہ کیا۔ عوام نے طلباء قائدین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کی پیشکش کی۔ جامع مسجد بندر روڈ کے ایک عظیم جلسہ عام سے صوبائی مجلس عمل کے رہنماؤں کے ساتھ جمیعۃ طلباء اسلام پنجاب کے صدر رانا شمشاد علی خان نے ولولہ انگیز تقریر کی اور جمیعۃ طلباء اسلام پاکستان کے ناظم نشریات نے قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کا مفصل تذکرہ کیا۔
نواب شاہ
جمیعۃ طلباء اسلام پاکستان کے صوبائی رہنما جناب محمد سلیم شاہد، جناب سردار علی اور جناب زین العابدین نے محراب پور، باندی اور نواب شاہ کے گردونواح میں تحریک کے لئے حالات کو سازگار کیا اور مسلمان عوام کو قادیانی سازشوں سے آگاہ کیا۔ اس علاقے میں تقریباً ۷۵ جلسہ عام منعقد کئے گئے۔
شکار پور
جمیعۃ طلباء اسلام شکار پور کے کارکنوں نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہاں کے مقامی طالب علم رہنما جناب حزب اللہ اور دیگر ساتھیوں کے علاوہ ضلعی سرپرست جناب مولا نا غلام قادر صاحب کو پس دیوار زنداں ہونا پڑا۔ جمیعۃ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی قائدین جناب محمد فاروق قریشی اور رانا شمشاد علی خان اپنے دورہ سندھ کے دوران یہاں تشریف لائے تو ایک عظیم جلسہ عام کا انعقاد ہوا جس میں لا تعداد لوگوں نے شرکت کی اور انہوں نے ختم نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطابات کئے۔
جیکب آباد
جمیعۃ طلباء اسلام ضلع جیکب آباد کے رہنما جناب شیر محمد دایو، صوبائی رہنما جناب شمس الدین پٹھان اور دیگر ساتھیوں نے واقعہ ربوہ کے فوراً بعد ہی اپنے علاقے کے لوگوں کو امت مرزائیہ کے خلاف بیدار کرنا شروع کر دیا تھا اور علاقے میں مختلف مقامات پر جلسہ عام اور جلوس کے پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کی عام ہڑتال کے لئے ہمارے کارکن عوام کو تیار کر رہے تھے اور منظّم ہڑتال کا منصوبہ تیار کر چکے تھے۔ لیکن ہڑتال سے قبل ہی ان کو حوالہ زنداں کر دیا گیا۔ جناب عبد الغفور صاحب لہڑی نائب صدر جمیعۃ جیکب آباد، جناب حفیظ اللہ صاحب ناظم عمومی اور دیگر چار ساتھیوں کی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کندھ کوٹ میں احتجاجی ہڑتال کا پروگرام تشکیل دیا گیا لیکن عین جلوس کے موقع پر جناب عبید اللہ کھوسہ (صدر جمعیۃ کندھ کوٹ) سمیت پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود کارکنان جمعیۃ طلباء اسلام نے ہمت نہ ہاری بلکہ ہر مشکل ان کے عزائم میں پختگی کا سبب بنتی گئی اور اس وقت تک جب کہ تمام مطالبات تسلیم نہ کرالئے اپنی تحریک جاری رکھی۔
لاڑکانہ
لاڑکانہ گو جناب ذوالفقار علی بھٹو کا شہر ہے، لیکن ناموس رسالت ﷺ کے مسئلہ پر یہاں کے عوام بھی مجلس عمل کے قائدین کے ہم نوا تھے۔ جمعیۃ طلباء اسلام صوبہ سندھ کے صدر جناب سید عبدالغفور شاہ صاحب نے لاڑکانہ، خیر پور اور تمام ملحقہ علاقوں کا بالتفصیل دورہ کیا اور ہر جگہ عوام کو خطاب کیا اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مطالبات سے روشناس کرایا اور حکومت پر واضح کیا کہ اگر معینہ وقت تک اسلامیان پاکستان کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو تمام حالات کی ذمہ داری خود حکومت پر ہوگی۔ لاڑکانہ کے جناب خالد محمود صاحب (جناب علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید مراد ہیں ۔ مرتب) نے پورے شہر میں تحریک کو زندہ رکھا۔
رحیم یار خان
قائد محترم جناب محمد اسلوب قریشی کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ طلباء اسلام رحیم یار خان نے تحریک کو پرامن اور منظم جاری رکھا۔ قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کے لئے کارکنان جمعیۃ نے ان کی دوکانوں اور اداروں پر باقاعدہ ڈیوٹی دی۔ پورے ضلع میں قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔ شہر میں کئی جلوس نکالے گئے اور منظم ہڑتالیں کی گئیں۔ عظیم جلسہ ہائے عام منعقد کئے گئے جس میں جمعیۃ کے مرکزی اور صوبائی قائدین جناب محمد اسلوب قریشی، محمد فاروق قریشی، عبدالمتین چوہدری، رانا شمشاد علی خان، عشرت علی زیدی نے شرکت کی۔ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے صدر جناب محمد اسلوب قریشی اور ناظم جناب عبدالمتین چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ جس میں حکومتی عذر ہائے لنگ کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔ ضلع کے صدر جناب رانا انوارالحق باری صاحب کو متعدد بار جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ تاہم کارکن دل برداشتہ نہ ہوئے۔
ظاہر پیر، صادق آباد، خان پور اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بھی تحریک کا کام بڑے زور شور سے ہوا۔ مقامی رہنماؤں جناب عبدالرشید صاحب، رشید احمد درخواستی اور دیگر ساتھیوں نے شبانہ روز جانفشانی سے تحریک کو کسی بھی لمحہ سرد مہری کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا۔ وقتاً فوقتاً مرکزی اور صوبائی قائدین بھی دورہ کرتے رہے۔
بہاول پور
واقعہ ربوہ کے دوسرے روز ہی پنجاب جمعیۃ کے صدر رانا شمشاد علی نے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرانے کے بعد ایک عظیم جلوس نکالا۔ عوام نے بھی طلباء کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دوکانیں بند کر دیں۔ چند ہی لمحے بعد تمام کوچہ و بازار ویران و سنسان تھے۔ جمعیۃ کے صوبائی رہنماؤں جناب رانا شمشاد علی خان، حافظ محمد طاہر ندیم، اقبال اعوان کے علاوہ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ اور رشید یزدانی نے مختلف مقامات پر جلسہ عام سے خطاب کیا اور خیر پور ٹامیوالی، حاصل پور، قائم پور، سمہ سٹہ، احمد پور شرقیہ، اوچ شریف، نور پور نورنگا کا دورہ کیا اور ہر جگہ جلسہ عام منعقد کئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول نگر
بہاول نگر میں بھی جمعیتہ کے ساتھیوں نے کالج سے جلوس نکالا اور پورے شہر میں ہڑتال کرائی۔ بینرز لکھوا کر شہر کے اہم مقامات پر آویزاں کئے۔ قادیانیوں کی دوکانوں پر باقاعدہ ڈیوٹی دی گئی۔ صرف جمعیتہ طلباء اسلام کی طرف سے شہر میں دس جلسے منعقد ہوئے۔ جب کہ جمعیتہ کے رہنماؤں نے مجلس عمل کے ستر جلسوں سے بھی خطاب کیا۔ کارکنوں پر جلوس نکالنے کی وجہ سے لاٹھی چارج اور فائرنگ بھی ہوئی۔ منچن آباد ۳۰ مئی کو پورے شہر میں ہڑتال کرائی گئی اور مختلف مقامات پر جلسہ عام سے جمعیتہ کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ منچن آباد کے علاوہ ہارون آباد، فقیر والی، چشتیاں، منڈی صادق گنج، گنج میکلوڈ، محمد پور، سعید پور میں جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنوں نے پرجوش کام کیا۔ تمام علاقوں میں مکمل ہڑتال کرائی۔ پولیس نے حسب روایت یہاں بھی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا۔
ایک قادیانی کی گستاخی پر جب جمعیتہ کے کارکنوں نے ردعمل کا اظہار کیا تو ان پر تشدد کیا گیا جس پر پورے علاقے میں احتجاجی جلوسوں اور جلسوں کی بھرمار ہو گئی۔ ۳۶ کارکن گرفتار کر لئے گئے۔ صوبائی صدر جناب رانا شمشاد علی خان، جناب ندیم اقبال اعوان، جناب اقبال محسن، رانا محمد اشرف اور محمد قاسم نے پورے ضلع کا دورہ کیا۔ جمعیتہ طلباء اسلام صوبہ پنجاب کے نائب صدر گورنمنٹ کالج چشتیاں کے صدر جناب ندیم اقبال اور گورنمنٹ کالج ہارون آباد کے رہنما اقبال محسن اور عبدالرؤف سمیت کئی ساتھی گرفتار کر لئے گئے۔
ملتان
جمعیتہ طلباء اسلام ملتان نے تحریک کو منظم طریق پر جاری رکھنے کے لئے پورے علاقے کا وسیع پروگرام ترتیب دیا۔ دیواروں اور اشتہاروں کی صورت میں مجلس عمل کے مطالبات کی شہرت کی اور عوام کو سارقین نبوت کی ریشہ دوانیوں سے آگاہی کے لئے مختلف مقامات پر جلسہ ہائے عام منعقد کئے۔ جمعیتہ کے مرکزی اور صوبائی رہنما جناب جاوید ابراہیم پراچہ، محمد فاروق قریشی، رانا شمشاد علی خان، حافظ محمد طاہر، اقبال شروانی، ضیاء الرحمن فاروقی نے مختلف مقامات پر عوام کے عظیم اجتماعات سے خطاب کیا۔ ضلعی رہنما جناب عاطف شیخ، محمد احمد محمودی، طارق مسعود ایم اے، زرعی یونیورسٹی لائل پور کے رہنما جناب محمد اشفاق بھٹہ نے پورے علاقے کا دورہ کیا اور ہر جگہ ولولہ انگیز خطاب کئے۔ خانیوال، عبدالحکیم، کبیروالہ، کہروڑ پکا، تلمبہ، میاں چنوں، مخدوم پور، ونجاری، کچا کھوہ، میلسی، وہاڑی، لودھراں، جہانیاں اور دنیا پور میں بھی کارکنان جمعیتہ تحریک کے سلسلہ میں بڑے سرگرم رہے اور مختلف قسم کے اشتہارات شائع کئے۔ ہینڈ بل تقسیم کئے۔ سینکڑوں جلسہ عام منعقد کئے اور متعدد بار ہڑتالیں کرائیں۔
کبیروالہ میں تحریک کے سلسلہ کا پہلا جلسہ عام جمعیتہ طلباء اسلام نے منعقد کیا جس سے مرکزی صدر جناب محمد اسلوب قریشی، جناب ضیاء الرحمن فاروقی اور حافظ محمد طاہر نے خطاب کیا۔ دوران جلسہ مقامی پولیس نے جامع مسجد کو گھیر لیا اور سپیکر کے استعمال کو منع کیا۔ لیکن جمعیتہ کے جانباز مجاہد رضا مند نہ ہوئے اور سپیکر استعمال کیا۔ جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنماؤں کو تو مقامی پولیس گرفتار نہ کر سکی لیکن جلسہ کے بعد مقامی ایس ایچ او جوتوں سمیت مسجد میں گھس آیا اور مسجد کا سپیکر قبضے میں لے لیا اور متعدد کارکنوں کو صدر جلسہ سمیت گرفتار کر لیا۔ تھانہ میں اے سی کی موجودگی میں اس ننگ انسانیت ایس ایچ او نے کارکنوں کو ننگا کر کے انسانیت سوز مظالم ڈھائے لیکن جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنوں نے دل نہیں چھوڑا بلکہ اس ظلم و تشدد کے خلاف پورے شہر میں ہڑتال کرائی اور پھر احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانیوال میں یوں تو متعدد جلسہ عام ہوئے مگر جمعیتہ کا ۲۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ہونے والا عظیم جلسہ ایک یادگار حیثیت اختیار کر گیا۔ صبح کو قائد طلباء جناب محمد اسلوب قریشی نے بار ایسوسی ایشن سے مدلل خطاب فرمایا۔ شام کو جلسہ عام ہونا تھا۔ جس میں مرکزی و صوبائی رہنما جناب محمد اسلوب قریشی، جناب عبدالمتین چوہدری، ضیاءالرحمن فاروقی، حافظ محمد طاہر، عبدالرؤف ربانی اور راؤ منور احمد نے خطاب کرنا تھا، لیکن سرشام ہی ایف. ایس. ایف اور مقامی پولیس نے جامع مسجد غلہ منڈی کا محاصرہ کر لیا۔ محسوس یوں ہو رہا تھا کہ گویا آج جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنما یا تو مسجد میں داخل نہیں ہو سکیں گے یا پھر ان کو صحیح سلامت واپس نہیں جانے دیا جائے گا۔ پولیس کے سینکڑوں افراد سادہ وردی میں ملبوس جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جلسہ کے شروع میں جمعیتہ کہروڑ پکا کے رہنما جناب عبدالرؤف ربانی (مولانا عبدالرؤف ربانی رحیم یار خان ان دنوں باب العلوم کہروڑ پکا میں پڑھتے تھے، وہ مراد ہیں۔ مرتب) کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس کے بعد کارکنان جمعیتہ مزید چوکنا ہو گئے اور پولیس کی تمام تدابیر خاک میں مل گئیں۔ تمام رہنما بخیر و عافیت منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ عبدالرؤف کی گرفتاری پر بطور احتجاج دوسرے روز شہر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ دوسرے جلسہ میں جناب اشفاق بھٹہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
مظفرگڑھ
جمعیتہ کے کارکنوں نے تحریک کا آغاز کالج سے کیا۔ یہاں ایک قادیانی پروفیسر کا تبادلہ کرایا اور شہر میں مختلف مقامات پر جلسے کئے۔ صوبائی اور ضلعی رہنماؤں نے بھی دورے کئے اور مختلف اجتماعات سے خطابات کئے جن میں عبدالمتین چوہدری، ضیاءالرحمن فاروقی، حافظ محمد طاہر، محمد احمد محمودی اور طارق مسعود کے نام قابل ذکر ہیں۔ مظفر گڑھ کے علاوہ بصیرہ، کوٹ ادو، کروڑ لعل عیسن، فتح پور، گجرات، خان گڑھ، چوک منڈا، روہیلاں والی، لیہ، شہر سلطان اور علی پور میں بھی جلسہ عام منعقد کئے۔ روہیلاں والی میں ضیاءالرحمن فاروقی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر لئے گئے۔
ڈیرہ غازی خان
جمعیتہ کے مقامی رہنماؤں محمد جمیل، نذر محمد، عبدالغفار اور ریاض علی خان وغیرہ نے راجن پور اور تونسہ میں کافی جلسے کئے۔ جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے ناظم جناب عبدالمتین نے ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کیا۔
ساہیوال
واقعہ ربوہ کے فوراً بعد مشہور طالب علم رہنما جناب عبدالمتین چوہدری نے ایک زبردست احتجاجی جلوس نکالا اور شہر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ اس جرم میں چوہدری صاحب کو دس دن حوالات میں رہنا پڑا لیکن بحمداللہ تحریک جاری رہی اور جمعیتہ کے ضلعی رہنماؤں جناب صفدر چوہدری، قاری نذیر احمد، قاری خالد صدیق، افتخار شاہد، عالی مردان، عبدالقیوم اور امجد علی شاکر نے پورے ضلع میں تحریک کو جواں رکھا۔ چیچہ وطنی، اوکاڑہ، دیپال پور، پاکپتن اور بصیر پور میں مختلف مقامات پر وقتاً فوقتاً جلسہ عام منعقد کئے۔ جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی وصوبائی رہنما جناب محمد اسلوب قریشی، جناب عبدالمتین چوہدری، صفدر چوہدری، حافظ محمد طاہر، ضیاءالرحمن فاروقی، شمس الفاروق چوہدری اور سلمان گیلانی نے اوکاڑہ، قبولہ، عارف والہ، چیچہ وطنی اور ساہیوال میں عظیم الشان جلسہ ہائے عام سے خطاب کیا۔ چیچہ وطنی، اوکاڑہ، عارف والہ اور ساہیوال میں پولیس افسران نے جمعیتہ کے قائدین کو گرفتار کرنے کے لئے علاقے کی ناکہ بندی کی۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور ہر جگہ سے قائدین جمعیتہ بفضلہ تعالیٰ بخیر و خوبی اپنے دوسرے پروگرام تک پہنچتے رہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرگودھا
عقابوں کے نشیمن سرگودھا میں جمعیۃ طلباء اسلام کی کارکردگی کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنا ناممکن تو نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب اس علاقے میں کوئی جلسہ نہ ہوا ہو۔ ہڑتالیں اس قدر ہوئیں کہ صحیح تعداد یاد نہیں رہی۔ جمعیۃ طلباء اسلام سرگودھا کے جناب شیخ محمد طارق کئی مرتبہ جیل گئے اور آئے لیکن کیا مجال جو ان کے پایہ استقلال میں اضمحلال پیدا ہو۔ تحریک کے سلسلے میں خاص طور پر گول چوک کی جامع مسجد جلسوں کا مرکز بنی رہی۔ روزانہ جلسوں کے باوجود سرگودھا کے مسلمان پرجوش انداز میں جوق در جوق شرکت کرتے۔ یہاں پر مرکزی مجلس عمل کے قائدین کے علاوہ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی اور صوبائی رہنما جناب محمد اسلوب قریشی، جاوید ابراہیم پراچہ، عبدالمتین چوہدری، رانا شمشاد علی خان، حافظ محمد طاہر، ضیاء الرحمن فاروقی، حفیظ الدین جھنگوی، اقبال شروانی اور سلمان گیلانی نے متعدد بار خطاب کیا۔ مقامی رہنماؤں نے جھاوریاں، خوشاب، شاہ پور، بھیرہ اور سلانوالی میں بھی مختلف مقامات پر جلسہ عام منعقد کئے۔
لائل پور
تحریک تحفظ ختم نبوت جس انداز سے لائل پور کے عوام نے چلائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حسب روایت جمعیۃ طلباء اسلام نے یہاں بھی مہتم بالشان طریق سے کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ قادیانیوں کا مکمل معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا۔ کارکنان جمعیۃ نے اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کیا ہوا تھا۔ روزانہ مختلف مقامات پر جلسے منعقد کئے۔ ضلعی رہنماؤں جناب مقصود احمد، جناب اشفاق بھٹہ، محمد احمد، محمد اجمل، ظہور الحسن، علاؤ الدین اور جناب صلاح الدین نے تقریباً ایک سو جلسوں کا اہتمام کیا۔ جس میں مقامی رہنماؤں کے علاوہ جناب عبدالمتین چوہدری، رانا شمشاد علی، حافظ عبدالعزیز، اقبال شروانی، حفیظ الدین جھنگوی، رشید اختر اور ضیاء الرحمن فاروقی نے ولولہ انگیز اور ایمان پرور خطاب کیا۔ جناب مقصود احمد، محمد اشفاق بھٹہ سمیت پانچ کارکن گرفتار کر لئے گئے۔ گوجرہ میں آٹھ اور دوسرے علاقوں مثلاً سمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ، کھرڑیانوالہ میں ۴۱ جلسہ ہائے عام منعقد کئے گئے۔ جن میں عبدالمتین چوہدری کے علاوہ جناب مقصود احمد، محمد اشفاق بھٹہ، محمد اکرم شاہد، امیر احمد، محمد رفیق جامی (مولانا محمد رفیق جامی مراد ہیں۔ مرتب)، محمد احمد، اے ڈی مفطر، حافظ محمد اسلام اور جناب قاری عطاء الرحمن (شہباز سمندری) نے تقاریر کیں۔
جھنگ
تحریک مقدس ختم نبوت کے سلسلے میں جھنگ بھی کسی دوسرے علاقے سے کم نہیں۔ یہاں بھی اسلامیان جھنگ نے جوش انداز میں قائدین ملت کی آواز پر لبیک کہا۔ جمعیۃ طلباء اسلام کے رہنماؤں جناب حفیظ الدین جھنگوی، محمد اقبال شروانی، حافظ عبدالعزیز، رشید اختر، شیخ محمد طارق نے ۳۲ جلسہ ہائے عام سے خطاب کیا۔ مختلف قسم کا لٹریچر تقسیم کیا اور مجلس عمل کے مطالبات سے دیواروں اور اشتہارات کے ذریعہ عوام الناس کو روشناس کرایا۔ واقعہ گجرات، کبیروالہ، اوکاڑہ کے خلاف احتجاجی ہڑتالیں کرائیں۔ بارہ جلسہ ہائے عام چنیوٹ اور شورکوٹ کے گردونواح میں منعقد کئے عبدالمتین چوہدری کے علاوہ محمد یوسف حسرت، ملک خلیل احمد، محمد اشرف ندیم، شیخ شکیل احمد، عبداللطیف عثمانی اور عقیل احمد نے بیشتر مقامات پر خطاب کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میانوالی
جمعیۃ طلباء اسلام میانوالی نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ۶۲ جلسہ ہائے عام منعقد کئے۔ جلسہ عام میانوالی کے علاوہ بھکر، کلور کوٹ، دریا خان، بہل، پیلاں، عیسیٰ خیل، داؤد خیل اور کندیاں شریف میں انعقاد پذیر ہوئے۔ جن میں رانا شمشاد علی، عبدالمتین چوہدری، حافظ محمد طاہر، ضیاء الرحمن فاروقی، عبدالرؤف ربانی، حفیظ الدین جھنگوی، حافظ عبدالعزیز، اقبال شروانی، مسعود الحسن، محمد یوسف، راؤ عقیل احمد، محمد شریف اور محمد منیر اقبال نے مختلف مقامات پر متعدد جلسوں سے خطاب کیا۔
بھکر، مرکزی احکامات کے مطابق مقامی جمعیۃ کے صدر جناب قاضی جمشید عالم نے ۳۱؍مئی کو مدرسہ دارالہدیٰ میں جلسہ عام منعقد کیا اور مختلف مقامات پر جلسہ ہائے عام کئے۔ دریا خان میں پی۔پی۔پی کے کارکنوں نے جلسہ میں ہنگامہ کی کوشش کی، مگر کارکنان جمعیۃ نے ناکام بنا دیا۔ مقامی کالج میں ایک قادیانی پروفیسر کے تبادلے کے لئے جمعیۃ طلباء کے ایک وفد نے پرنسپل سے ملاقات کی اور پروفیسر کا تبادلہ کرا دیا۔ قاضی جمشید عالم نے دوسری طلباء تنظیموں سے مذاکرات کے بعد ایک متحدہ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جس کے صدر جناب قاضی جمشید عالم بنے اور پھر تحریک کے کام کو تیز تر کر دیا گیا۔ قاضی جمشید عالم، راؤ محمد طاہر اقبال، عبدالمجید، ملک محبوب احمد، شیخ محمد یوسف، رانا خان محمد، کفایت اللہ (مولانا کفایت اللہ مہتمم جامعہ قادریہ مراد ہیں۔ مرتب)، محمد شریف اور راؤ محمد اشفاق نے بھکر کے گردونواح میں شبانہ روز محنت کر کے تحریک کو سرگرم رکھا۔
لاہور
جمعیۃ طلباء اسلام لاہور نے تحریک کے سلسلہ میں جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ لاہور کے شب و روز گواہ ہیں کہ جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکنوں نے قریہ قریہ جا کر اعلاء کلمۃ الحق بلند کیا۔ پولیس تشدد اور جیل کی تنگ وتاریک فضاء بھی ان کے عزائم کی راہ نہ روک سکی۔ لاہور کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں پر جمعیۃ طلباء اسلام نے جلسہ نہ کیا ہو۔ روزانہ بلا ناغہ تین چار جلسوں کا ہونا معمول بن گیا تھا۔ لاہور میں ۱۴۵ جلسے صرف جمعیۃ طلباء اسلام نے منعقد کئے۔ ۱۰۰۰۰؍ اشتہارات اور قادیانی سوشل بائیکاٹ کارڈ لگائے۔ جب کہ ۱۳۰۰۰؍ ختم نبوت کے بیجز تقسیم کئے۔ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی اور صوبائی قائدین صبح و شام عوام سے مخاطب ہوئے۔
قائد طلباء جناب محمد اسلوب قریشی، عبدالمتین چوہدری، حافظ محمد طاہر، رانا شمشاد علی خاں، ضیاء الرحمن فاروقی، رشید اختر، حفیظ الدین جھنگوی، حافظ عبدالعزیز، اقبال شروانی، فقیر محمد، حسین احمد کمال، فیاض احمد، نذیر احمد، واجد علی خان، حسیب چوہدری، تفضیل احمد، نصیر احمد سیال، انیس الرحمن، حافظ عبدالواحد، سید انیس الحسن زیدی (حضرت سید نفیس الحسینی مرحوم کے اکلوتے صاحبزادے، نامور کاتب جو اب وفات پا چکے ہیں، مراد ہیں۔ مرتب)، محمد ادریس اور حبیب لاہوری نے لاہور کے چپہ چپہ کو نعرہ ختم نبوت سے آشنا کیا۔ جمعیۃ طلباء اسلام کی کارکردگی سے مقامی انتظامیہ بوکھلا گئی۔ مرکزی دفتر واقع ۵۶ میکلوڈ روڈ پر دن رات پولیس کا پہرہ اور چھاپے مارنا معمول بن گیا تھا۔
۲۷؍جون کو لاہور میں چار جلسوں سے خطاب کرنے کے بعد صدر جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان جناب محمد اسلوب قریشی اور عبدالمتین چوہدری دفتر آ رہے تھے کہ پولیس کی بھاری جمعیت نے جو کہ دفتر کو محصور کئے ہوئے تھے، دونوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ دفتر کی تلاشی لی اور ناظم دفتر قاضی محمد اشرف کو گرفتار کر کے تھانہ نولکھا اور پھر سول لائنز لے گئے جہاں پندرہ دن کی نظر بندی کے آرڈر کرا کے کوٹ لکھپت جیل کی زینت بنا دیئے گئے۔ جناب قریشی صاحب اور قاضی محمد اشرف کو ۱۱؍ جولائی کی شام کو رہا کر دیا گیا۔ جب کہ عبدالمتین چوہدری کی نظر بندی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ ۲۳؍ جولائی کو چوہدری صاحب کو بھی ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا اور یہ حضرات اپنی لگن میں مگن ہوگئے۔ جمعیتہ طلباء اسلام کے صوبائی رہنماؤں نے حافظ مسعود الحسن، حافظ عبدالقادر اور دیگر مقامی احباب کے ساتھ پتوکی، چونیاں اور قصور میں بھی ۵۴؍ جلسہ ہائے عام سے خطاب کیا۔
شیخوپورہ
جمعیتہ طلباء اسلام شیخوپورہ نے شاہ کوٹ، چوہڑکانہ، واربرٹن، ننکانہ اور منڈی مریدکے سمیت ۴۲ جلسہ عام منعقد کئے جن میں مشہور طالب علم رہنما جناب جاوید ابراہیم پراچہ، عبدالمتین چوہدری، رشید اختر، حافظ عبدالعزیز، عبدالحکیم، نصیر احمد، حسان گیلانی اور اقبال شروانی کے علاوہ سلمان گیلانی نے خطاب کیا۔ جلسہ عام میں قادیانی سوشل بائیکاٹ سے متعلق حکومت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیا گیا اور عوام میں جذبہ جہاد کی روح پھونکی گئی۔
گوجرانوالہ
گوجرانوالہ میں جمعیتہ طلباء اسلام نے مقامی صدر جناب قاری عبدالقدوس (مولانا عبدالقدوس قارن مراد ہیں۔ مرتب) کی سرکردگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قاری عبدالقدوس نے دوسری طلباء تنظیموں سے مل کر طلباء متحدہ محاذ بنایا جس کے تحت مختلف علاقوں میں جلسے ہوئے۔ لیکن مصلحت بین اور مفاد پرست عناصر کی وجہ سے یہ اتحاد برقرار نہ رہ سکا۔ لہٰذا اس کام کو کرنے کا جمعیتہ طلباء اسلام نے تنہا بیڑہ اٹھایا۔ روزانہ مختلف مقامات پر جلسے منعقد کر کے تحریک کو زندہ رکھا۔ جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے صدر محمد اسلوب قریشی، جناب جاوید پراچہ، عبدالمتین چوہدری، رانا شمشاد علی خان، حافظ محمد طاہر، اقبال شروانی، حافظ عبدالعزیز، رشید اختر، ظہیر میر، طاہر عباس، محبوب الرحمٰن اور حفیظ الرحمٰن جھنگوی نے متعدد بار خطاب کیا۔ صرف گوجرانوالہ میں ۵۶ عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوئے۔ جب کہ وزیر آباد، حافظ آباد، کامونکے، گکھڑ، پنڈی بھٹیاں اور سکھیکی منڈی کے جلسوں کی تعداد ۴۸ بنتی ہے،۔ جگہ جگہ اشتہارات لگائے گئے اور قادیانیوں کی دوکانوں پر رضا کاروں کو متعین کیا گیا۔
حافظ آباد
جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنماؤں جناب عبدالحمید عاصم، محمد اشرف صابر، محمد اشرف بھٹی اور رشید اختر نے تحصیل سے متعلقہ علاقوں میں متعدد جلسہ عام سے خطاب کیا اور عوام کو صورتحال کی نزاکت کا احساس دلایا۔
سیالکوٹ
جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنوں نے تحریک کو سیالکوٹ میں بھی سرد نہیں ہونے دیا بلکہ جگہ جگہ جلسہ عام اور مظاہرے کر کے تحریک میں مزید جان ڈال دی۔ صوبائی سطح پر ایک وفد باقاعدہ دورہ پر بھیجا گیا اور طلباء رہنماؤں نے مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کیا۔ سیالکوٹ میں ۲۴ جلسوں کا انعقاد ہوا جب کہ بدوملہی، ڈسکہ، پسرور، شکر گڑھ، چونڈہ اور نارووال میں مجموعی طور پر ۲۸ جلسے منعقد کئے۔ سیالکوٹ اور ڈسکہ کے عظیم الشان جلسوں سے قائد طلباء جناب محمد اسلوب قریشی، عبدالمتین چوہدری، اقبال فاروقی، عارف محمود، ریاض احمد اور جاوید اقبال نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت (۴) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گجرات
جمعیۃ طلباء اسلام گجرات نے سب سے پہلے ضلعی اجلاس بلایا اور اس میں تحریک کے پروگرام کو ضلعی سطح پر ترتیب دیا گیا۔ کھاریاں لالہ موسیٰ، سرائے عالمگیر اور پنجن کسانہ سمیت ضلع گجرات میں صرف جمعیۃ طلباء اسلام کے ۱۹ جلسہ عام منعقد ہوئے۔ ننگ انسانیت پولیس آفیسر شریف چیمہ یہیں متعین تھا۔ اس نے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر فائرنگ کی جس سے دو مجاہد شہید ہوئے۔ جمعیۃ طلباء اسلام نے احتجاجی جلسہ اور ہڑتال کا پروگرام بنایا۔ مقامی پولیس نے جمعیۃ کارکنوں کو دھمکانے کی بہت کوشش کی مگر جناب محمد اشرف شاہد ، محمد اشرف بٹ ، محمد اخلاق مجاہد، احسان الرحمٰن اور خان بہادر نے ان کی تمام چالیں ناکام بنا دیں اور تحریک کو منظم طریق پر پورے ضلع میں جاری رکھا۔
جہلم
جمعیۃ طلباء اسلام جہلم کے سرگرم کارکنوں جناب امجد نواز کھوکھر ، عبد الحمید، حافظ بدر اسلام، ملک عبد السلام نے قادیانیوں کے معاشرتی بائیکاٹ کے سلسلہ میں شاندار کام کیا۔ عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں بیشتر جلسہ عام منعقد ہوئے۔ جن سے جناب عبد المتین چوہدری، اقبال شروانی، حافظ عبد العزیز ، رشید اختر اور حفظ الدین جھنگوی نے خطاب کیا۔ مقامی جمعیۃ رہنماؤں نے چکوال، دینہ اور پنڈ دادن خان میں مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کیا۔
کیمبل پور
جمعیۃ طلباء اسلام کے صوبائی رہنماؤں جناب رانا شمشاد علی، ضیاء الرحمٰن فاروقی، عبد الرؤف ربانی، حافظ عبد العزیز ، سید عشرت علی زیدی، قاری ارشد، محمد طارق اور اقبال شروانی نے پورے ضلع کیمبل پور کا دورہ کیا۔ طلباء قائدین نے حضرو، لارنس پور ، حسن ابدال، بہبودی، پنڈی گھیپ اور تلہ گنگ میں عظیم الشان جلسوں سے خطاب کیا۔ کیمبل پور کے جلسہ عام میں ایک کارکن عابد حسین صدیقی کے بھائی کو بم مار کر شہید کر دیا گیا۔ جس کی نماز جنازہ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صاحب نے پڑھائی۔
راولپنڈی
راولپنڈی میں جمعیۃ طلباء اسلام نے یوں تو بہت جلسے منعقد کئے مگر ۴؍ ستمبر کو ہونے والی تحفظ ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی۔ جس میں ہزاروں طلباء نے شرکت کی۔ جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی اور صوبائی قائدین، طلباء، رہنماؤں نے عظیم عوامی اجتماع سے ولولہ انگیز خطاب کیا اور حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ۷؍ ستمبر تک مسلمانوں کے اجتماعی مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو طلباء قادیانی امت کے لئے پاکستان کو تنگ کر دیں گے۔ اس سے قبل جناب رانا شمشاد علی خان، عبد المتین چوہدری، عشرت علی زیدی، عبد الرؤف ربانی، جاوید پراچہ، جناب افضال احمد، طاہر عباس، عبید اللہ چوہدری، محمد طفیل اور دیگر ساتھیوں نے ٹیکسلا، اسلام آباد، مری، واہ، کہوٹہ اور گوجر خان کا تفصیلی دورہ کیا۔ ہر جگہ مختلف جلسہ عام سے خطاب کیا اور تحریک کا جائزہ لے کر مزید کام کرنے کی ہدایات دیں۔
پشاور
جمعیۃ طلباء اسلام صوبہ سرحد کے رہنماؤں جناب فقیر محمد ہزاروی، قبلہ ایاز (اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ۔مرتب)، عبد الرحمٰن، عبد المالک شاہ، نور الٰہی اور عطاء اللہ شاہ چترالی نے پورے صوبے میں تحریک کے پروگرام ترتیب دے کر ذیلی شاخوں کو ہدایات
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاری کیں اور خود متعدد مقامات پر مختلف جلسہ عام سے خطاب کیا۔ جمعیۃ طلباء اسلام کے مرکزی رہنما جناب جاوید ابراہیم پراچہ کی زیر قیادت پشاور کے ہزاروں طلباء نے جلوس نکالا اور عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا۔ اراکین اسمبلی کو مجبور کیا کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیں۔ رہنمایان جمعیۃ طلباء اسلام نے پشاور کے علاوہ چارسدہ، نوشہرہ، اکوڑہ خٹک، جہانگیرہ اور رسالپور میں مختلف مقامات پر جلسے کئے۔
مردان
جمعیۃ طلباء اسلام مردان کے رہنما جناب بشیر احمد کمال نے مردان، صوابی، ٹوپی، سخاکوٹ، درگئی میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں ۱۹؍ جلسے عام منعقد کئے۔ مرکز سے شائع شدہ اشتہارات چسپاں کئے اور مجلس عمل کے مطالبات ہینڈ بل کی صورت میں تقسیم کئے۔ ضلع مردان کے علاوہ سوات، دیر، منگورہ، چترال اور مستوچ میں بھی مقامی رہنماؤں نے آٹھ جلسہ عام منعقد کئے اور ہر جگہ عوام کو مجلس کے مطالبات سے آگاہ کیا۔
بنوں
بنوں میں جمعیۃ طلباء اسلام کے رہنما جناب عبدالعلی خان، سعید احمد اور لکی مروت کے جناب رشید احمد نے مرکزی رہنما جناب پراچہ صاحب کی قیادت میں پورے ضلع کا دورہ کیا اور بنوں کے علاوہ لکی مروت، کوہاٹ، کرک، ٹل، ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، مانسہرہ اور ہری پور میں ۳۵ جلسوں سے خطاب کیا اور کئی مقامات پر مظاہرے کئے۔ صوبہ سرحد کی کارکردگی کی رپورٹ بڑی طویل ہے۔ صوبائی طور پر مختلف علاقوں میں کارکنوں کو جلسہ عام کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ مختصر طور پر کچھ علاقوں اور طلباء مقررین کے نام درج ذیل ہیں: ڈرگ، اسماعیل خیل، خیر آباد، آدم زئی، وزیرگڑھی، مانکی، نوشہرہ کلاں، بابڑہ، جہانگیرہ، مسلم آباد، چشمی، رسال پور، اماں کوٹ، نظام پور کنڈ، چونتری، پینڈ کنڈ، جلوزئی، اماز وگڑھی، لاہور، شاہ منصور، شیدو، اوچ، گجرات (ضلع مردان) اور علی گڑھ میں میاں عبدالودود، حافظ رشید احمد، شمس الحق، فضل احسان، حافظ غلام الرحمن، خلیل الرحمن ہزاروی، قاسم شاہ، عبداللہ گوہر شاہ صاحب، محمد ضیاء افغانی، عزیز اللہ، محمد اعظم، مجتہد باللہ، سمیع اللہ، عبدالحکیم اکبری (پروفیسر ڈاکٹر مولانا عبدالحکیم اکبری مراد ہیں۔ مرتب)، محمد متبسم، سید عطاء اللہ شاہ، مطیع الرحمن ہزاروی، محمد ابراہیم کوٹی، مصباح اللہ ہزاروی، عبداللطیف، سعد اللہ ڈیروی، عبدالمتین بنوری، شمس الحق مردانی، عبدالغنی، قاضی عبدالصمد، محمد قاسم شاہ بلوچستانی اور حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادے جناب فضل الرحمن (قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم امیر مرکز جمعیۃ علماء اسلام پاکستان مراد ہیں۔ مرتب) نے تقاریر کیں۔ صوبہ سرحد جمعیۃ طلباء اسلام کے شعبہ نشریات کی رپورٹ کے مطابق پورے صوبہ سرحد میں بانوے جلسے ہوئے۔
کوئٹہ
پاکستان کے دوسرے علاقوں سے بہت پہلے تحریک ختم نبوت بلوچستان میں شروع ہوچکی تھی۔ کیونکہ قادیانیوں کا منصوبہ یہ تھا کہ بلوچستان جو کہ رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ لیکن آبادی کے اعتبار سے اسی قدر چھوٹا ہے، اس لئے بلوچستان میں قادیانی منصوبہ کے مطابق مرزائیت کی تبلیغ آسان ہوگی۔ اس لئے انہوں نے اس صوبہ کو اپنے قادیانی سٹیٹ کے ناپاک منصوبہ کا ہدف (Target) بنایا اور اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر قرآن حکیم میں تحریف کرکے بلوچستان کے غیور مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا امتحان لیا۔ لیکن جمعیۃ طلباء اسلام بلوچستان کے سابق صدر، جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما بلوچستان کی غیرت وحمیت اور اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جسے عوام مولانا شمس الدین شہید کے نام سے آج بھی جانتے ہیں، زندہ تھے۔ لہٰذا انہوں نے قادیانی منصوبہ کو خاک میں ملا دیا اور اپنے علاقے میں ایک بھی قادیانی کے وجود کو برداشت نہ کیا۔ تحریف شدہ قرآن اکٹھے کئے گئے اور شہید اسلام کی قیادت میں صوبہ بھر میں غم وغصہ کے اظہار کے لئے مظاہرے شروع ہو گئے۔
لہٰذا ۲۹؍ مئی سے تحریک ختم نبوت جب پنجاب سے شروع ہوئی تو یہ یقینی امر تھا کہ بلوچستان اس میں پیش پیش ہوتا۔ جمعیۃ طلباء اسلام صوبہ بلوچستان کے رہنماؤں جناب سکندر خان عیسیٰ خیل، عبد الرحیم مندوخیل، عبد الاحد قریشی، حافظ حسین احمد (مولانا حافظ حسین احمد سابق سینیٹر مراد ہیں۔ مرتب) اور عبد اللہ صاحب نے کوئٹہ، مچھ اور اس کے نواحی علاقوں میں مسلسل جلسوں کا پروگرام ترتیب دیا۔ جمعیۃ طلباء اسلام نے صرف کوئٹہ کے علاقے میں گیارہ جلسے منعقد کئے۔
قلات
صوبہ کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی مقامی جمعیۃ کے رہنماؤں جناب عبد اللطیف شاہ، جناب عبد اللہ اور محمد اسماعیل نے قلات اور مستونگ کے مختلف مقامات پر عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مختلف مقامات پر بیشتر جلسہ عام منعقد کئے۔ خضدار اور لورالائی میں جمعیۃ طلباء اسلام نے سات جلسے منعقد کئے جن میں جناب قاضی حسین احمد، غلام قادر صاحب، جناب عبد الغنی صاحب اور عطاء اللہ مینگل نے خطاب کیا۔
ژوب
ژوب بلوچستان کی آن، سید شمس الدین کا ضلع ہے۔ صوبے کے دوسرے علاقوں کی نسبت تحریک سے متعلق سب سے پر جوش کام اسی ضلع میں ہوا۔ جمعیۃ طلباء اسلام فورٹ سنڈیمن کے رہنماؤں جناب محبوب شاہ، عبد الرزاق، عبد الحکیم نے ژوب، فورٹ سنڈیمن، قلعہ سیف اللہ وغیرہ میں صرف جمعیۃ طلباء اسلام کی طرف سے ۱۶ جلسہ عام منعقد کئے اور متعدد بار مظاہرے اور ہڑتالیں ہوئیں۔ سبی اور چاغی وغیرہ میں بھی اسی طرح کا جوش وخروش تھا۔ مندرجہ بالا سطور جمعیۃ طلباء اسلام کی علاقہ وائز کارکردگی کی آئینہ دار ہیں۔ اب آپ کے سامنے مرکزی سطح پر کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
شعبہ نشریات
جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کی طرف سے وقتاً فوقتاً مختلف النوع اشتہارات، ہینڈبل اور پمفلٹ شائع کئے گئے جن کی تعداد ایک لاکھ اڑتیس ہزار بنتی ہے، جو اشتہارات، پمفلٹ اور ہینڈبل شائع ہوئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں:
- (۱) خاتم النبیین، سید المرسلین: حکومت اور عوامی نمائندوں کو عوام اور طلباء کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لئے بوقلموں،
خوبصورت پوسٹر۔
- (۲) مرزائیوں کو اقلیت قرار دو: رکشاؤں، ٹیکسیوں اور چھوٹی جگہوں اور دکانوں پر لگانے کے لئے ہینڈبل۔
- (۳) مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرو:
- (۴) قادیانیوں کے ناپاک عقائد: قادیانی کذاب کے ناپاک عقائد سے عوام کو روشناس کرانے کے لئے پوسٹر۔
- (۵) ہم خبردار کرتے ہیں: تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کے داخلے پر تنبیہ کا اشتہار۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیتہ طلباء اسلام کا شائع شدہ اشتہار جو ’’خبردار‘‘ کے عنوان سے تھا، مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی میں وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کو پیش کیا کہ مفتی صاحب کے متبعین تعلیمی اداروں کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اس جماعت پر پابندی لگائی جائے۔
- (۶) قادیانیت اور پاکستان: (پمفلٹ) جس میں پاکستان کے ساتھ قادیانیوں کی دشمنی اور اس کو دوبارہ اکھنڈ بھارت
بنانے کے ناپاک منصوبے کا مدلل تجزیہ کیا گیا ہے۔
- (۷) شوشل بائیکاٹ: (بیج) جیبوں اور سینوں پر لگانے کے لئے خوبصورت دورنگے کارڈ بیج۔
- (۸) قادیانی سوشل بائیکاٹ: (کارڈ) دوکانوں پر آویزاں کرنے کے لئے۔
- (۹) اور مسلمان جیت گئے: (پوسٹر) اسلامیان پاکستان کی عظیم فتح پر پیام مبارک باد۔
- ۲...... مختلف پروگراموں کے اعلان کے لئے اخبارات میں اشتہار تقریباً چھ مرتبہ دیئے گئے۔
- ۳...... عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ملک بھر میں تقریباً دو ہزار سے زائد جلسہ ہائے عام منعقد کئے۔
- ۴...... تحفظ ناموس رسالت کے جرم کی پاداش میں مرکزی اور صوبائی قائدین سمیت ۱۴۷ کارکن پس دیوار زنداں کئے گئے جب کہ
سینکڑوں کارکنوں کے وارنٹ جاری ہوئے۔
- ۵...... مرکزی مجلس عمل کے صدر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری مدظلہ کے اعزاز میں لاہور میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں
سینکڑوں طلباء، سیاسی قائدین اور علماء نے شرکت کی۔ صدر جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان جناب محمد اسلوب قریشی نے مرکزی مجلس عمل کے صدر حضرت علامہ بنوری کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا بعد میں حضرت علامہ نے استقبالیہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ’’میں نوجوان طلباء کی کارکردگی سے مطمئن ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر ازحد خوشی محسوس ہوئی کہ آج کے دور میں جب کہ اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ نوجوان طلباء اسلامی نظام کا عزم لے کر میدان میں نکلے ہیں۔‘‘
- ۶...... ۲۶؍اگست کو چار رکنی وفد نے جس میں محمد اسلوب قریشی، عبدالمتین چوہدری، سید مطلوب علی زیدی اور چوہدری محمد طفیل شامل
تھے۔ اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ سے ملاقات کی۔ قوم کے نمائندوں کو قومی جذبات سے آگاہ کیا اور تمام اراکین پارلیمنٹ کو یادداشت پیش کی۔
- ۷...... ۴؍ستمبر کو راولپنڈی میں عظیم الشان تاریخی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جس میں جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی اور صوبائی
قائدین کے علاوہ ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی اور حکومت کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا۔
- ۸...... ۴؍ستمبر سے تا فیصلہ ۷؍ستمبر تک جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے سینکڑوں کارکن اسلام آباد میں موجود رہے۔ فیصلہ ہونے کے فوری
بعد جمعیتہ طلباء اسلام پاکستان کے قائدین سب سے پہلے مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صاحب کے کمرے میں مبارک باد کے لئے حاضر ہوئے۔ چند ہی لمحوں بعد اکثر اراکین پارلیمنٹ حضرات مفتی محمود صاحب کو مبارک باد دینے کے لئے پہنچنا شروع ہوگئے۔ سماں کچھ اس قدر عجیب تھا کہ الفاظ اس کا احاطہ کرنے سے معذور نظر آتے ہیں۔ بہر حال جناب محمد اسلوب قریشی، میاں محمد عارف اور سید عشرت علی زیدی نے حضرت مفتی صاحب کی دعائیں لینے کے بعد تمام اراکین پارلیمنٹ (بشمول قومی اسمبلی و سینٹ) اور مجلس عمل کے اکابرین کی خدمت میں (جو اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی میں موجود تھے) اس خوشی اور کامیابی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے موقع پر جمعیۃ طلباء اسلام کی طرف سے مٹھائی پیش کی۔ اراکین پارلیمنٹ اس قدر خوش تھے کہ کائنات مسکراتی نظر آ رہی تھی۔
(عزم نو، ٹریکٹ نمبر ۴)
ضلع بہاول نگر کی رپورٹ
عرصہ ہوا محترم بھائی صابر علی مجاہد نے بہاول نگر مجلس عمل کا رجسٹر اور چند کاغذات دیئے تھے۔ ان سے مختصر منتخب رپورٹ پیش خدمت ہے۔ مجلس عمل ضلعی صدر: مولانا سید سردار علی شاہ، نائب صدر: حاجی محمد یوسف (ہارون آباد)، مولانا خلیل اشرف (ڈونگہ)، حاجی عبدالرزاق (بہاول نگر)، خان محمد اسحاق (فورٹ عباس)، میاں عبدالمجید ایڈووکیٹ (چشتیاں)، صوفی عبدالمجید (منچن آباد)، سید مسعود حیدر بخاری (بہاول نگر)، ضلعی جنرل سیکرٹری: حافظ رفیع الدین، جوائنٹ سیکرٹری: محمد امین دولتانہ، سیکرٹری نشر و اشاعت: چوہدری بشیر احمد شاد، خازن: مولانا علی احمد۔ منچن آباد، میکلوڈ گنج، صادق گنج، مولانا محمد یوسف، مولانا بشیر احمد شاد، مولانا خلیل احمد نے ہارون آباد، فقیر والی چک نمبر ۹۳، مولانا علی احمد، حافظ رفیع الدین، مولانا احمد دین، ہارون آبادی، مولانا فیض احمد (بہاول نگر)، مولانا عبدالرؤف، فورٹ عباس چک نمبر ۲۷۸ مروٹ قاری عبدالغفور، مولانا عبدالحفیظ، مولانا سید بشیر حسین بخاری، مولانا عبدالقدوس، مولانا محمد محسن چشتیاں، بخشن خان (ڈیرانوالہ)، مولانا عبدالحق، مولانا غلام رسول، مولانا غلام مہر علی، مولانا عبدالحفیظ، ڈاکٹر عبدالرؤف لودھی نے کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ ہر جگہ مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا اور ضلع بھر میں قادیانیوں کے بائیکاٹ کی تحریک کو کامیابی سے چلایا گیا۔ تحریک کو کامیابی سے چلانے کے لئے جناب صابر علی کے نام مولانا محمد شریف جالندھری نے ذیل کا والا نامہ تحریر فرمایا۔
برادرم میاں صابر علی سلمہ سلام مسنون مزاج گرامی! معلوم ہوا ہے کہ مولانا خدا بخش بہاول نگر تشریف لائے ہیں۔ ضلع بھر میں سوشل بائیکاٹ کی تحریک کا دور دورہ ضروری ہے۔ مولانا عبدالرحیم اور مولانا محمد حیات صاحب اسلام آباد ہیں۔ مولانا بنوری نے بلایا ہے۔ بندہ بھی آج رات جا رہا ہے۔ اس وقت سوشل بائیکاٹ جتنا کامیاب ہوگا، اتنا ہی مطالبات کی منظوری قریب سے قریب تر ہوتی جائے گی۔ مولانا اللہ وسایا (مبلغ لائل پور)، مولانا سید محمد اشرف ہمدانی ۲۰؍ جولائی ۷۴ء دن ہفتہ بہاول نگر تشریف لائیں گے۔ مولانا سید فیض الحسن صاحب تنویر کو فقیر والی سے آپ خود بلا لیں تاکہ مجلس عمل کی صورت پیدا ہو جائے۔ مرکزی رہنما مصروف ہیں۔ ہفتہ عشرہ تک ان کا پروگرام بھی بہاول نگر دیں گے۔ ہر دو صاحب لائل پوری ۲۰، ۲۱، ۲۲ قیام فرمائیں گے۔ ۲۰ شام بعد نماز عشاء بہاول نگر، ۲۱، ۲۲ جہاں مناسب ہو، اہل حدیث اور شیعہ صاحبان کو بھی نمائندگی دیں۔ سواد اعظم کی نمائندگی حضرت پیر تنویر شاہ صاحب سے ہو جائے گی۔ پروگرام ادھر سے آنے والوں کا پختہ ہے۔ انتظام مکمل کرلیں۔ شام تک پہنچ جائیں گے۔
فقط والدعا: طالب دعا محمد شریف جالندھری دفتر ختم نبوت لاہور مورخہ ۱۷؍ جولائی ۷۴ء
۲۰؍ اگست ۷۴ء کو جامع العلوم میں مرکزی مجلس عمل کے رہنما تشریف لائے اور عظیم الشان کانفرنس سے نوابزادہ نصر اللہ خان، ملک محمد قاسم، علامہ محمود احمد رضوی، علامہ احسان الہی ظہیر، عبدالرشید قریشی نے خطاب کیا۔ صدارت حاجی محمد یوسف نے کی۔ مولانا نیاز محمد صاحب حنفی سرپرست اعلیٰ تھے۔ حضرت مولانا محمد شریف منچن آبادی ضلع بھر کے کام کی نگرانی فرماتے رہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصلہ جمعیۃ القریش بہاول نگر بابت قربانی قادیانی
جمعیۃ القریش اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ چونکہ مرزائی از روئے شریعت کافر اور مرتد ہیں، اس لئے اہل قریش کا کوئی فرد بھی مرزائیوں کی قربانی ذبح کرنے اور ان کا گوشت بنانے کے لئے نہیں جائے گا۔ فضل الہی حیدر جمعیۃ القریش، بہاول نگر
جناب ڈاکٹر عبدالرؤف لودھی نے بہاول نگر کی ایک رپورٹ ارسال کی وہ ملاحظہ فرمائیں:
نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ ربوہ اسٹیشن کے واقعہ کے چند روز بعد صابر علی مجاہد جنرل سیکرٹری مجلس ختم نبوت بہاول نگر نے تمام پارٹیوں کا عشاء کی نماز کے بعد اجلاس بلایا۔ اسی رات مجھے بس کے ذریعے کلینک کے سامان کے سلسلے میں لاہور جانا تھا۔ صرف ایک دن کے لئے سو، میں اس رات میٹنگ میں شامل نہ ہوسکا۔ صبح لاہور پہنچا۔ وہاں مال روڈ پر بہاول نگر کے ایک مجسٹریٹ اور پبلک پراسیکیوٹر سے ملاقات ہوئی ان کے ساتھ ایک ہوٹل میں چائے پی، میں سامان خرید کر رات کی بس سے سوار ہو کر دوسرے دن صبح واپس بہاول نگر پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری عدم موجودگی میں اجلاس میں احتجاجی جلوس اور جلسے کا پروگرام بنایا گیا۔ جلوس نکلا، لوگ مشتعل تھے۔ پرچہ درج ہوا جس میں میرا نام بھی شامل کیا گیا۔ حالانکہ مجسٹریٹ نے انتظامیہ کو میری لاہور میں موجودگی کا بھی بتایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈپٹی کمشنر ملک محمد سعید نے ایک ورائٹی شو کی بہاول نگر میں اجازت دی تھی۔ میں نے بھٹو صاحب اور کھر صاحب کو دو تار بھیجے کہ اس فحاشی کے پروگرام کو منسوخ کیا جائے۔ دو دن بعد ایس ایچ او تھانہ میرے گھر آیا اور کہا کہ ڈی سی صاحب ورائٹی شو منسوخ کر رہے ہیں۔ تم تار واپس لے لو جو کہ ابھی تک روک کر رکھے ہوئے تھے۔ بھیجے نہیں گئے تھے۔ اس یقین دہانی پر میں نے تار واپس لے لئے۔ مگر وعدہ خلافی کرتے ہوئے کچھ دنوں بعد پھر اجازت دے دی۔ یہ واقعہ بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہماری بیوروکریسی کیسے من مانی کرتی ہے۔
بہاول نگر میں ہر روز جلوس نکلتا۔ احتجاجی جلسے ہوتے، گرفتاریاں ہوتیں، مرزا ثناء اللہ مرحوم، مولوی محمد یوسف، قاری عبدالغفور، قاری محمد شریف، مجھے اور بہت سے دوکانداروں اور ریڑھی والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دن شام کو چھوڑ دیا گیا۔ سارا شہر کھانے پینے کی چیزیں لے کر تھانے میں امنڈ پڑا۔ تحریک ختم نبوت کے تقدس اور اہمیت کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے صاحب ایمان افراد بھی ہمارے ساتھ مل گئے۔ چوہدری مظفر حسین صاحب ایڈووکیٹ ضلعی صدر پیپلز پارٹی اور شیخ عزیز الرحمن صاحب قابل ذکر ہیں۔ طالب علم عبدالقادر شاہین نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ اسی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں مظفر حسین صاحب کو اپنے عہدہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ ایک میٹنگ چوہدری مظفر صاحب کے ڈیرے میں ہو رہی تھی۔ ساری پارٹیوں کے نمائندے اور راہنما موجود تھے۔ ۱۰ بجے رات پتہ چلا کہ باہر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس خواجہ محمد طفیل صاحب بمعہ پولیس فورس کے آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پیغام بھجوایا کہ گرفتاریاں ہونی ہیں۔ باہر نکلیں، کچھ اس حق میں تھے کہ اندر بیٹھے رہیں گرفتاریاں نہ دیں مگر کئی میرے ہمنوا تھے کہ ہمیں خود باہر نکل کر گرفتاری دینے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ چوہدری مظفر حسین، شیخ عزیز الرحمن، مرزا ثناء اللہ، مولوی محمد یوسف، قاری عبدالغفور، قاری محمد شریف، شیخ محمد صدیق مجھے اور بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کر کے رات تھانے ہی میں رکھ کر صبح جیل بھیج دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی منظور موہل نے بڑی کوشش کی۔ مظفر صاحب، شیخ عزیز صاحب، قادر شاہین باہر آنے پر تیار نہ تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ باہر آنے کو ترجیح دی۔ ہم کسی قسم کی معافی مانگنے کو تیار نہ تھے۔ شہریوں نے کھانے پینے اور ضرورت کی چیزیں بھیجنا شروع کر دیں۔ ان کا جوش و خروش اور ہمارے لئے احساس قابل دید تھا۔ ایک بیٹا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شادی شدہ نوجوان جیل میں جذبہ حب رسول ﷺ سے ہمارے ساتھ گرفتار ہوا۔ فروٹ چاٹ بیچتا تھا۔ دو دن بعد ہمیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ عبدالرؤف انجم طالب علم نے ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کر دیا۔ بہر حال ہمارے سمجھانے پر دو دن بعد رہا ہو گیا۔ اجلاس میں مجھے جماعت اسلامی کی نمائندگی دیتے ہوئے تحریک ختم نبوت کا ضلعی جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ میں نے مقدور بھر اپنے فرائض سرانجام دینے کی کوشش کی۔ ایک دن ایک دیہاتی سا بھولا بھالا بھی تقریباً ۳۵-۴۰ سال عمر چھوٹے قد کا آدمی بہاول نگر پہنچا۔ وہ اپنے آپ کو نبی کا پروانہ کہتا تھا۔ وہ بتاتا تھا کہ اوکاڑہ کا رہنے والا ہے۔ وہ ریلوے بازار میں ایک قادیانی کی دوکان پر پہنچا۔ انہیں اسلام لانے کی دعوت دی۔ اس قادیانی نے جو جواب دیا وہ لوگوں کے اشتعال کا باعث بنا۔ ہڑتال ہو گئی۔ دوکانیں بند ہونا شروع ہوگئیں۔ سارا شہر اکٹھا ہو کر قادیانی کی دوکان کے آگے جمع ہونا شروع ہو گیا۔ قادیانی نے بھی ڈر کے مارے دوکان اندر سے بند کر لی۔ حالات کی نزاکت کا اندازہ لگاتے ہوئے پولیس نے اس کی دوکان کے آگے بہت سی نفری متعین کر دی تا کہ دوکان کی حفاظت اور قادیانی کی جان بچائی جاسکے۔ اس کی دوکان کے آگے جلسہ شروع ہوا۔ مرزا ثناء اللہ، مولوی محمد یوسف، عبدالقادر شاہین، عبدالرؤف انجم دستی نے تقریریں کیں۔ لوگ اشتعال میں بیٹھے ہوئے تھے اور پولیس کا گھیرا توڑ کر قادیانی کو سزا دینا چاہتے تھے۔ حالات کو دیکھ کر پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم ہوا۔ آنسو گیس کے بہت تیز گولے پھینکے گئے۔ لوگوں کا جوش ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ کہاں کہاں سے روڑے اور اینٹیں پکڑ پکڑ کر پولیس پر پھینک رہے تھے۔ آنکھوں میں چبھن اور آنسوؤں کے باوجود پولیس کا مقابلہ کرتے رہے۔ سٹی مجسٹریٹ رانا محمد افضل صاحب نے ہوائی فائر کا حکم دیا۔ جس سے لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود وقفہ وقفہ سے سامنے آ کر اینٹیں پولیس پر برساتے۔ اتنی دیر میں ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس آ گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے ورائٹی شو کا غصہ نکالنا شروع کیا۔
دیر بعد جب ہجوم منتشر ہو گیا، فائرنگ بند ہو گئی تو ڈی سی نے پولیس کو حکم دیا کہ رؤف انجم کو مارو، پانچ سات ڈنڈا بردار سپاہی پل پڑے۔ اس نے بڑے صبر سے ڈنڈے کھائے۔ میں کچھ بھی نہ کر سکا۔ مجھے اب تک افسوس ہے کہ گالیوں کے ساتھ مجھے ڈنڈے بھی کھانے چاہئے تھے۔ مجھے اور عبدالرؤف انجم کو ڈی سی اور ایس. پی نے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور تھانے چھوڑ کر چلے گئے اور ہم دونوں تھانے کی حوالات میں باقی ساتھیوں کے استقبال کے لئے پہلے پہنچا دیئے گئے۔ ایک ایک کر کے باقی ساتھی بھی آنا شروع ہو گئے۔ مولوی محمد یوسف، مرزا ثناء اللہ، قاری عبدالغفور، مولوی محمد حنیف، شیخ محمد صدیق، قاری محمد شریف، بشیر شاد، عبدالقادر شاہین کے علاوہ ہم اتنے ہو گئے کہ حوالات بھر گئی۔ حوالات کی ایک نکر میں چھوٹی سی دیوار کی اوٹ میں رفع حاجت کے لئے جگہ بنائی گئی تھی۔ کافی بد بو تھی عمر کے لحاظ سے حافظہ کافی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے نام ذہن سے اتر گئے ہیں۔ جو ہماری تحریک کے ساتھی تھے جنہوں نے ہم سے زیادہ قربانیاں دیں۔ ہمارے جیل اور حوالات کے ساتھی رہے۔ نام بھول جانے کی معذرت ہے۔ خدا کے ہاں ان کا اجر محفوظ۔ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ پوری تحریک کے دوران وکلاء حضرات کا کردار مثالی رہا۔ ہماری قانونی امداد کے لئے بلا امتیاز پارٹی سب اپنی جیب سے خرچ کرتے رہے۔ کسی سے بھی ایک پیسہ نہ لیا۔
رہا ہونے کے بعد آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ اس فائرنگ کا جواز پیدا کرنے کے لئے قادیانیوں سے بحث کر کے اتنا بڑا ہنگامہ کرانے والا نبی کا پروانہ کہاں چلا گیا۔ بہر حال وہ خوب کام کر گیا۔ کس کا بھیجا ہوا تھا یہ آج تک راز ہے؟ عبدالقادر شاہین گو پیپلز پارٹی کا شیدائی اور فدائی تھا مگر اس نے تحریک ختم نبوت میں دل کھول کر حصہ لیا۔ خوب جوشیلی تقریریں کیں۔ ہمارے ساتھ قید میں رہا۔ بعد میں اکیلا
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی گرفتار ہوا۔تھانہ تخت محل میں تشدد کا شکار کیا گیا۔جلسے جلوس چلتے رہے ہم سب نے مل کر ہارون آباد،فورٹ عباس،ڈونگہ بونگہ،چشتیاں، منڈی صادق گنج،منچن آباد جلسے کئے۔لوگوں کا جوش ہر جگہ قابل دیدنی ہوتا تھا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ دہراتے رہے۔ چاہے کرسی کی خاطر ہی سہی یہ صرف سندھی ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا۔جس نے قوم کی امنگوں کے مطابق قومی اسمبلی سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔
(ڈاکٹر عبدالرؤف لودھی)
گوجرانوالہ
۲۹؍مئی کو ربوہ کا وقوعہ ہوا۔۳۰؍مئی کو مولانا زاہد الراشدی نے ذیل کا دعوت نامہ جاری کیا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔
مکرمی جناب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! گزارش ہے کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مسلم طلباء پر ربوہ کے ہزاروں بلوائیوں کے مسلح حملہ کے بارے میں غور وخوض کے لئے آج ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء بروز جمعرات بعد نماز عصر پانچ بج کر پچاس منٹ پر جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ از راہ کرم وقت مقررہ پر تشریف لا کر کارروائی میں شرکت فرمائیں۔ زاہد الراشدی
- ......۱ حضرت مولانا محمد صادق صاحب زینت المساجد جمعیتہ علماء پاکستان
- ......۲ حضرت مولانا عبداللہ صاحب چوک نیائیں جمعیتہ اہل حدیث
- ......۳ حضرت مولانا خالد حسن صاحب مجددی کھوکھر کی جمعیتہ علماء پاکستان
- ......۴ ملک محمد رفیق صاحب ایکسپریس پریس جمعیتہ علماء پاکستان
- ......۵ مولانا حکیم محمود صاحب حافظ آباد روڈ جمعیتہ اہل حدیث
- ......۶ مولانا عبدالرحمن واصل صاحب حافظ آباد روڈ جمعیتہ اہل حدیث
- ......۷ مولانا حکیم عبدالرحمن صاحب چاہ شاہاں مجلس تحفظ ختم نبوت
- ......۸ حافظ محمد ثاقب صاحب ستووالی مسجد مجلس تحفظ ختم نبوت
- ......۹ مولانا ضیاء الدین آزاد بازار تھانیوالہ مجلس تحفظ ختم نبوت
- ......۱۰ غلام نبی صاحب بازار تھانیوالہ مجلس تحفظ ختم نبوت
- ......۱۱ ماسٹر محمد اشرف صاحب گلی اریانوالی مجلس احرار اسلام
- ......۱۲ حکیم عبدالجبار صاحب گلی اریانوالی مجلس احرار اسلام
- ......۱۳ شیخ محمد سلیم صاحب لاہوری دروازہ مجلس احرار اسلام
- ......۱۴ خلیفہ امام الدین بقا لاہوری دروازہ تحریک استقلال
- ......۱۵ بابو محمد اسلم صاحب بیرون کھیالی گیٹ تحریک خاکسار
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۶...... چوہدری اکرم اللہ راٹھور ایڈووکیٹ صدر سٹی مسلم لیگ
- ۱۷...... چوہدری فقیر اللہ صاحب ایڈووکیٹ کچہری مسلم لیگ
- ۱۸...... خواجہ محمد انور صاحب مسلم لیگ
- ۱۹...... چوہدری جلیل احمد خان ایڈووکیٹ کچہری نیشنل عوامی پارٹی
- ۲۰...... حافظ نقی الدین صاحب کچہری نیشنل عوامی پارٹی
- ۲۱...... ثناء اللہ بھٹہ صاحب کچہری نیشنل عوامی پارٹی
- ۲۲...... چوہدری محمد اسلم صاحب کچہری جماعت اسلامی
- ۲۳...... قاضی محمد فاضل صاحب کچہری جماعت اسلامی
- ۲۴...... علامہ محمد احمد صاحب لدھیانوی کچہری جمعیۃ علماء اسلام
- ۲۵...... علامہ قاری محمد یوسف صاحب کچہری جمعیۃ علماء اسلام
- ۲۶...... مولانا سجاد حسین بخاری صاحب اشاعت التوحید مسجد لال خان
- ۲۷...... حافظ محمد ایوب اشاعت التوحید تکیہ معصوم شاہ
- ۲۸...... مرزا منیر حسین مسلم کانفرنس
- ۲۹...... قریش نعیم لبریشن لیگ
- ۳۰...... ظہیر میر صاحب جمعیۃ طلباء اسلام
- ۳۱...... نسیم سحر صاحب
- ۳۲...... ندیم صاحب اسلامی جمعیۃ طلباء
- ۳۳...... حافظ محمد اسحاق صاحب دفتر جماعت اسلامی یوتھ فورس
- ۳۴...... جناب فاضل رشیدی صاحب پیپلز پارٹی
- ۳۵...... جناب محمد اسماعیل پیپلز پارٹی
- ۳۶...... جناب کوثر صدیقی صاحب پیپلز پارٹی
یکم؍ جون ۱۹۷۴ء کا جلسہ
آل پارٹیز ختم نبوت ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام آج صبح شیرانوالہ باغ میں احتجاجی جلسہ شروع ہوا۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام مولانا رحمت اللہ نوری، مولانا محمد عبداللہ، مولانا حکیم عبدالرحمن، علامہ محمد احمد، نوید احمد اور دیگر علماء کرام نے جلسہ سے خطاب کیا۔ مطالبہ کیا کہ جلسہ ختم کر کے جلوس نکالا جائے۔ عوام کے بے پناہ اصرار اور مشتعل جذبات کے پیش نظر ایکشن کمیٹی نے جلوس کا پروگرام بنالیا اور مولانا حکیم عبدالرحمن ( جمعیۃ اہل حدیث )، مولانا زاہد الراشدی ( جمعیۃ علماء اسلام )، مولانا ضیاء الدین ( مجلس تحفظ ختم نبوت )، مولانا علامہ محمد احمد ( متحدہ جمہوری محاذ )، چوہدری محمد اسلم ( جماعت اسلامی ) اور نوید احمد (طالب علم رہنما) کی قیادت میں یہ جلوس جی ٹی روڈ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے ہوتا ہوا ضلع کچہری پہنچا۔ راستہ میں مختلف مقامات میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا حکیم عبدالرحمن، طالب علم رہنما نوید احمد اور دیگر زعماء نے شرکاء جلوس سے خطاب کیا اور مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنے، ضلع جھنگ کی انتظامیہ کو برطرف کرنے، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور کلیدی آسامیوں سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ قادیانیوں نے جان بوجھ کر عوام کے جذبات کو چیلنج کیا ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے۔
جلوس کے اختتام پر ضلع کچہری میں قائدین نے حکومت پر زور دیا کہ مسلمانوں کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دو ورنہ مسلمانوں کے مشتعل جذبات کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ مقررین نے گزشتہ روز کے پرامن جلوس پر قادیانیوں کے حملہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شہر میں بدامنی پھیلانے کی ذمہ داری قادیانی گروہ پر عائد ہوتی ہے۔ ایک مہینہ تک ضلع بھر میں خوب محنت کر کے مجالس عمل کی تشکیل دی گئی۔
تتلے عالی میں مجلس عمل کا قیام
صدر: دین محمد نمبردار نائب صدر: ملک رحمت علی، چوہدری محمد خان جنرل سیکرٹری: مولانا علی احمد صاحب جامی، ڈاکٹر محمد یونس صاحب خزانچی: ڈاکٹر محمد صدیق صاحب
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سکھیکی منڈی تحصیل حافظ آباد
صدر: مولانا نذیر احمد صاحب خطیب مسجد نور سکھیکی منڈی نائب صدر: شیخ محمد یسین صاحب دھلوی کریانہ مرچنٹ سکھیکی منڈی نائب صدر: مستری محمد اسماعیل صاحب کلاتھ مرچنٹ سکھیکی منڈی جنرل سیکرٹری: حکیم حسین احمد جوائنٹ سیکرٹری: میاں علی شیر صاحب بزاز پراپیگنڈہ سیکرٹری: ملک کرم الدین صاحب آڑھتی غلہ منڈی سیکرٹری اطلاعات: شیخ محمد صغیر صاحب سگریٹ مرچنٹ نام نمائندگان برائے ضلعی مجلس عمل:
- ۱...... ملک کرم الدین صاحب آڑھتی غلہ منڈی سکھیکی
- ۲...... حکیم حسین احمد صاحب
نوشہرہ ورکاں مجلس عمل
صدر: شیخ محمد صادق صاحب نائب صدر: حاجی محمد اشفاق صاحب جنرل سیکرٹری: مولانا سید الطاف حسین شاہ صاحب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نائب سیکرٹری: مولانا محمد یوسف صاحب خازن: ٹھیکیدار عبدالرشید صاحب پراپیگنڈہ سیکرٹری: شیخ محمد سعید شبانی ناظم نشر و اشاعت: مولانا شہاب الدین خان
منڈی کامونکی
صدر: حافظ عبدالشکور صاحب نائب صدر (اوّل): حبیب الرحمن رحمانی نائب صدر (دوم): حافظ محمد صادق چیمہ سیکرٹری جنرل: مولانا عبداللطیف صاحب چشتی ناظم نشر و اشاعت: مولوی عطاء الرحمن صاحب خازن: مولوی محمد شفیع صاحب
مجلس عمل فیروز والہ
صدر: حضرت علامہ مولانا محمد بشیر صاحب نائب صدر: حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب سیکرٹری: حضرت قاری سعید الرحمن صاحب خزانچی: قاری عبدالرحمن صاحب
قلعہ دیدار سنگھ
سیکرٹری: امان اللہ بٹ صاحب نائب سیکرٹری: سید حسین عابد زیدی
آج مورخہ ۷؍ جولائی ۱۹۷۴ء بروز جمعتہ المبارک زیر صدارت حضرت مولانا محمد بشیر صاحب خطیب مسجد سنی رضویہ محلہ رمضان پورہ کلر آبادی نزد چونگی حافظ آباد روڈ گوجرانوالہ ایک اہم اجلاس ہوا۔ جس میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے عہدیداران مندرجہ ذیل متفقہ طور پر منتخب ہوئے۔
صدر: حضرت مولانا محمد بشیر صاحب (خطیب جامعہ رضویہ) نائب صدر: جناب مولوی عبدالعزیز صاحب (مسجد محمدی) جنرل سیکرٹری: جناب صوفی محمد افضل صاحب (شاہی مسجد) نائب سیکرٹری: محمد صادق بیت المکرم ناظم: جناب مولانا محمد حسین صاحب
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا خزانچی: جناب حضرت مولانا یوسف صاحب (جامع مسجد حنفیہ اہل سنت والجماعت)
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت علاقہ نوشہرہ ورکاں
صدر: مولانا ابو محمد حنیف صاحب نوشہرہ ورکاں نائب صدر: مولوی دین محمد و مولوی مقصود احمد چشتی (گرمولا ورکاں) جنرل سیکرٹری: محمد شریف حق (کڑیال کلاں) سیکرٹری: مولانا شہاب الدین صاحب خازن: مولانا محمد اسحاق صاحب سیکرٹری اطلاعات: مولوی محمد ابراہیم (ترکھانانوالہ)، مولوی عنایت اللہ کھرکے پراپیگنڈہ سیکرٹری: اکمل حسین
مجلس عمل ختم نبوت کے دو وفود نے گزشتہ روز کاروباری مراکز کا دورہ کر کے سوشل بائیکاٹ کی چیکنگ کی اور اس سلسلہ میں موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا۔ پہلے وفد کی قیادت مولانا حکیم عبدالرحمن نے کی۔ اس میں شیخ انور، ڈاکٹر غلام محمد، مولانا محمد حسین صدیقی، ماسٹر اشرف، یوسف احرار اور کم و بیش ۵۰ افراد شامل تھے۔
دوسرے وفد کی قیادت علامہ محمد احمد نے کی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اکرم ہزاروی، مولانا محمد اسحاق خان اور دیگر حضرات شامل تھے۔ کاروباری ایسوسی ایشنوں کے عہدہ داروں اور تاجروں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ مجلس عمل کے فیصلہ کی پوری طرح پابندی کرتے ہوئے دوسری ہدایت تک بائیکاٹ جاری رکھیں گے اور مجلس عمل کے ساتھ تعاون کریں گے۔
تجارتی ایسوسی ایشنوں نے اپنے نمائندوں پر مشتمل ایک محاسبہ کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو بائیکاٹ کی نگرانی کریں گے۔
کنونشن
دعوت نامہ یہ تھا از: دفتر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ
مکرمی جناب .................................................. سلام مسنون
گزارش ہے کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام مؤرخہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء، بروز پیر ۲:۳۰ بجے دن، جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں عظیم الشان ضلعی کنونشن منعقد ہوگا جس میں:
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری (صدر: مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان) حضرت مولانا محمود احمد رضوی (جنرل سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان)
اور دیگر مرکزی قائدین شرکت فرمائیں گے اور ضلع میں تحریک کی صورتحال پر غور و خوض کیا جائے گا۔ از راہ کرم وقت مقررہ پر شرکت فرما کر اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔
فقط: والسلام جنرل سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنونشن
آج مورخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۷۴ء بروز سوموار دس بجے صبح ضلع بھر کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا نمائندہ کنونشن منعقد ہوا۔ حاضرین کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں:
- ۱...... ابوالزاہد محمد سرفراز بقلم خود
- ۲...... معراج دین قلعہ دیدار سنگھ
- ۳...... محمد یوسف ضیاء
- ۴...... بشیر حسین خطیب جامع اہل حدیث ۱۰ کرشن نگر
- ۵...... محمد حمید اختر خطیب جامع مسجد حضرت پیر عبداللہ شاکر گکھڑ
- ۶...... محمد اسلم جماعت اسلامی ضلع گوجرانوالہ
- ۷...... شیخ محمد انور جنرل سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وزیر آباد
- ۸...... محمد طلحہ قدوسی
- ۹...... عطاء الٰہی
- ۱۰...... محمد عظیم خان
- ۱۱...... حافظ محمد الیاس
- ۱۲...... غلام نبی
- ۱۳...... ابو منصور نوری
- ۱۴...... مہر اعظم
- ۱۵...... بشیر انصاری
- ۱۶...... محمد عبدالشکور ہزاروی وزیر آباد
- ۱۷...... احمد سعید ہزاروی گوجرانوالہ
- ۱۸...... محمد فاروق اعظم نائب صدر سٹوڈنٹس ختم نبوت ایکشن کمیٹی
- ۱۹...... حبیب الرحمٰن ناظم جمعیۃ اہل حدیث گوجرانوالہ اور دیگر سینکڑوں افراد
مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
- ۱...... ۲۹؍مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعہ کی خبر ملتے ہی ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء بروز جمعرات ساڑھے پانچ بجے دن جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں زاہد الراشدی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اسلام شہر گوجرانوالہ کی دعوت پر تمام پارٹیوں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ’’آل پارٹیز ختم نبوت ایکشن کمیٹی‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور ہفتہ کے روز شہر گوجرانوالہ میں ہڑتال کا پروگرام بنایا گیا۔
- ۲...... ۳۱؍مئی کو نماز جمعہ کے بعد شیرانوالہ باغ میں ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جلسہ عام منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے خطاب فرمایا۔ جلسہ کے بعد نوجوانوں کا ایک گروپ جب حافظ آباد روڈ سے گزر رہا تھا تو قادیانیوں نے مکانوں کی چھتوں سے ان پر پتھراؤ کر کے فضا کو مشتعل کرنے کی کوشش کی اور اس طرح شہر میں کشمکش کا آغاز ہو گیا۔
- ۳...... یکم جون کو شہر میں ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔ صبح ۸؍ بجے شیرانوالہ باغ میں جلسہ عام کا آغاز ہوا۔ دو تین مقررین نے ہی خطاب کیا تھا کہ عوام کے بے پناہ مطالبہ پر جلسہ ختم کر کے جلوس کا پروگرام طے کر لیا۔ مولانا عبدالرحمٰن ڈکٹیٹر زاہد الراشدی، جناب چوہدری محمد اسلم، علامہ محمد احمد لدھیانوی اور دیگر حضرات کی قیادت میں یہ جلوس جی ٹی روڈ اور گوجرانوالہ چوک کے پھاٹک سے ہوتا ہوا ضلع کچہری پہنچا۔ راستہ میں پولیس کے بھاری اجتماع اور ایک مجسٹریٹ سے جلوس کے قائدین نے کچھ حراست میں لئے ہوئے نوجوان چھڑوا کے راستہ میں مختلف مقامات پر علماء نے جلوس سے خطاب کیا اور کچہری میں ڈی سی آفس کے سامنے خطاب کے بعد جلوس منتشر کر دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... جلوس کے اختتام کے بعد مشتعل نوجوانوں کی ٹولیاں مختلف بازاروں میں گھومتی رہیں۔ کچھ نوجوان گل روڈ سے نعرے لگاتے
ہوئے گزر رہے تھے کہ قادیانیوں نے مکانات کی چھتوں سے ان پر فائرنگ کی جس سے تصادم ہو گیا اور نتیجتاً کچھ قادیانی اپنی اشتعال انگیزی کا شکار ہو کر جہنم رسید ہو گئے اور کچھ مسلم نوجوان زخمی ہو گئے۔ شہر میں ہر طرف اضطراب اور ہیجان کی کیفیت تھی۔ قادیانی افراد اشتعال انگیز کارروائیاں کر کے صورتحال کو مزید خراب کر رہے تھے۔ جس کے نتیجہ میں کچھ قادیانی جہنم رسید ہوئے۔ ان کے بیشتر مکانات اور دوکانوں کو آگ لگادی گئی۔ حتیٰ کہ حکومت کو ۱۲؍ بجے کے بعد کرفیو کا اعلان کرنا پڑا۔ مگر بعد میں اس کرفیو کی پابندی نہ کی گئی۔
- ۵...... ضلعی حکام اور صوبائی وزیر مال رانا اقبال احمد خان کی اپیل پر ایکشن کمیٹی کے ارکان نے شہر میں امن کو برقرار رکھنے اور مارشل
لاء کا راستہ روکنے کے لئے تعاون کی پالیسی اختیار کی اور اس طرح شہر کے حالات دو چار روز میں معمول پر آگئے۔
- ۶...... حالات معمول پر آنے کے بعد پولیس نے شہر میں اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیں۔ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان پر
مقدمات قائم کئے گئے۔ ان پر تشدد کیا گیا اور بعض مقامات پر پولیس حکام نے خواہ مخواہ لوگوں کو پکڑ کر پیسے بٹورنے کا دھندا شروع کر دیا۔ جس پر ایکشن کمیٹی کو ضلعی حکام سے رابطہ قائم کرنا پڑا اور اس کے بعد مختلف مراحل میں شہر اور گردونواح کے کم و بیش ۳۰۰؍ افراد کو رہا کرالیا گیا جب کہ کچھ افراد بھی جیل میں ہیں جن کی ضمانتیں ہونا باقی ہیں۔
- ۷...... مرکزی مجلس عمل کے قیام کے بعد ۹؍ جون کو گوجرانوالہ میں بھی ”آل پارٹیز ختم نبوت ایکشن کمیٹی“ کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
پاکستان کی ایک شاخ کی حیثیت دے کر اس کا باقاعدہ انتخاب کر لیا گیا۔ جس میں مندرجہ ذیل عہدیدار منتخب ہو گئے۔
صدر: حضرت مولانا ابوداؤد محمد صادق (جمعیتہ العلماء پاکستان)
نائب صدر: مولانا عبدالقیوم صاحب (جمعیتہ علماء اسلام)
نائب صدر: مولانا عبداللہ صاحب (جمعیت اہل حدیث)
نائب صدر: چوہدری محمد اسلم (جماعت اسلامی)
جنرل سیکرٹری: مولانا حکیم عبدالرحمن ڈکٹیٹر (مجلس تحفظ ختم نبوت)
سیکرٹری: مولانا زاہد الراشدی (جمعیتہ علماء اسلام)
مجلس عمل کے قیام کے بعد اس کے سامنے تین بڑے مقاصد تھے:
- ۱...... گرفتار شدگان کی رہائی کی جدوجہد
- ۲...... سوشل بائیکاٹ کی مہم
- ۳...... ضلع اور شہر میں رابطہ عوام کی مہم
گرفتار شدگان کی رہائی اور مقدمات کے سلسلہ میں علامہ محمد احمد صاحب، مولانا عبدالعزیز چشتی، حکیم محمود صاحب اور حکیم عبدالجبار صاحب نے نمایاں خدمات سرانجام دیں اور مجلس عمل کے پروگرام کے مطابق ہر فرض سرانجام دیا۔ سوشل بائیکاٹ کے سلسلہ میں خطباء کرام نے مجلس عمل کی ہدایت کے مطابق شہر اور ضلع میں عوام کو پوری طرح بیدار و خبردار کیا اور مجلس عمل نے بائیکاٹ کے کتبے اور مختلف
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطالبات کے پیپرز کم و بیش ۱۵۰۰۰ کی تعداد میں چھپوا کر شہر و ضلع میں تقسیم کئے۔ رابطہ عوام کے لئے شہر میں طالب علم تنظیموں کی مشترکہ ”تنظیم سٹوڈنٹس ختم نبوت ایکشن کمیٹی“ قائم کی گئی جس نے محلہ وار جلسے منعقد کئے۔ اس تنظیم کے تحت شہر کے مختلف محلوں میں پچاس سے زائد جلسے منعقد ہو چکے ہیں۔ ضلع میں مجلس عمل نے مختلف اہم مقامات پر جلسوں کا پروگرام بنایا اور اس کے تحت بھی ضلع میں پچاس کے قریب چھوٹے بڑے جلسے منعقد ہوئے۔
مرکزی قائدین کی آمد پر مدرسہ نصرت العلوم اور آغا شورش کاشمیری کی گرفتاری پر مدرسہ اشرف العلوم میں مجلس کی طرف سے جلسے کئے گئے۔ ضلع کے مختلف مقامات پر قائم ہونے والی مجالس عمل کے تحت ہونے والے جلسے اور پروگرام اس کے علاوہ ہیں۔ اب مجلس عمل نے یہ محسوس کر کے کہ پورے ضلع میں مجالس عمل کے درمیان رابطہ کو مستحکم کرنے اور تحریک کو منظم اور مربوط بنانے کے لئے ضلعی سطح پر علماء کرام اور کارکنوں کا ایک کنونشن طلب کیا جائے جس میں آئندہ لائحہ عمل طے کر کے ضلع بھر میں منظم طور پر تحریک کو آگے بڑھایا جائے یہ کنونشن اسی لئے طلب کیا گیا ہے اور آپ حضرات کو اس عظیم مقصد کے لئے تکلیف دی گئی ہے۔ میں آپ حضرات کی تشریف آوری پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ آپ اس مختصر وقت میں تحریک کو منظم اور مستحکم کرنے کے لئے اپنی قیمتی آراء اور تجربات سے ہمیں مستفید فرمائیں گے، تاکہ ہم مل جل کر باہمی اتحاد و تعاون کے ساتھ اس عظیم مشن کی خاطر جدوجہد کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کامیابی عطا فرمائیں۔ آمین یا اله العالمین!
- ۱...... تجویز: مولانا نورانی صاحب گوجرانوالہ مجلس عمل متبادل قیادت: تحریری کمیٹی دستی مطبوعات پورے ضلع میں بھجوائی جائیں اور رابطہ
قائم کیا جائے۔
- ۲...... تجویز: ایمن آباد، مولانا قاری شاکر حسین رضوی جمعیۃ علماء پاکستان: لٹریچر تمام شاخوں کو بھجوایا جائے۔ اجتماعی شکل میں لٹریچر بھیجا
جائے اور وقت پر بھیجا جائے۔
- ۳...... حکیم محمود احمد صاحب ظفر سیکرٹری مجلس عمل: تجویز (الف): ہر جمعہ کے بعد اور دوسرے دنوں میں بازاروں اور دوکانوں میں محضر
ناموں پر دستخط کرائے جائیں۔ تجویز (ب): دفعہ ۱۴۴ اور ضلعی حکام کی پابندی کی مذمت کرتے ہیں۔ تجویز (ج): آج کے بعد ہم لاؤڈ سپیکر کی پابندیاں توڑیں گے۔
- ۴...... شیخ محمد انور صاحب جماعت اسلامی: تجویز: ضلع اور تحصیل کی سطح پر مجلس عمل کی تنظیم مکمل کریں۔ تجویز: مرکزی رہنما تحصیل کے
مختلف مقامات کے دورے کریں۔ تجویز: ضلع اور تحصیل کی سطح پر مقرروں کی فہرست تیار کر کے جلسوں میں بروقت اسے مرکزی رہنماؤں کی خدمت میں پیش کریں۔ تجویز: بنوری صاحب کی قیادت میں قافلہ تحریک ختم نبوت گاڑی پر سفر کریں اور ملک کا دورہ کریں۔
- ۵...... مولانا احمد سعید صاحب: ہم وکلاء کے فیصلہ کی تائید کرتے ہیں اور حکومت سے احتجاج کرتے ہیں کہ وکلاء کے مطالبات منظور
کئے جاسکیں۔
- ۶...... مولانا عبدالسمیع صاحب: حج پر احتجاجاً نہ جائیں۔
- ۷...... صوفی حسین احمد: حافظ آباد کے دیہات میں کام نہیں ہوا۔ ہمیں ہر تحصیل میں خطباء کا اجلاس بلایا جائے اور اہم مسائل نمٹائے
جائیں۔ گاؤں میں دورے کر کے تبلیغی جماعتیں لوگوں کو سمجھائیں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸...... چشتی صاحب: قوت فراہم کریں اپنی بات منوانے کے لئے اگر قانون توڑنا پڑے تو ہم توڑ دیں۔ تحریک کو تمام طبقات میں وسیع
کیا جائے اور علماء تک محدود نہ رکھا جائے اور سرکاری ملازمین میں بھی تحریک چلائی جائے۔ علماء کو مزید منظم ہونا چاہئے۔
- ۹...... یوسف احرار صاحب: مجلس عمل کے ارکان وقتاً فوقتاً بائیکاٹ کی چیکنگ کیا کریں۔
- ۱۰...... مولانا علی احمد صابر صاحب، مرکزی رہنماؤں کی خدمت میں:
- (۱) مرزائی بین الاقوامی سطح پر دوسرے ممالک میں رابطہ قائم کر کے جنہوں نے ان کی آبیاری کی ہے، پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش
کر رہے ہیں۔ ہمارے رہنما بھی اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ قائم کر کے ان کی راہ میں توڑ پیدا کرنا چاہئے۔
- (۲) اندرونی منافقت : باہم اختلافات کو ہوا دینے والے حضرات کا محاسبہ کیا جائے۔
- ۱۱...... مولانا محمد عمر صاحب: عملی طور پر تجویز کو پورا کرنے کے لئے کام کیا جائے۔ تحصیل وار مضبوط تنظیم قائم کیا جائے۔
صاحب صدر تحصیلوں کے مجالس عمل کے نمائندے لے کر اور ضلعی مجلس عمل کی تشکیل علاقہ وار گروپ وار تشکیل کریں۔ مرکزی رہنما گاؤں گاؤں نہیں جاسکتے۔ ان کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔
ضلع کی رپورٹیں
مولانا شیر الرحمن (گوجرانوالہ)
تقریباً ہر محلہ میں ایک یا دو جلسے ہو چکے ہیں۔ بیداری کا عالم خاصا ہے۔ بائیکاٹ مؤثر ہے۔ مارکیٹوں کے الگ اجلاس ہوئے ہیں۔ خاکوانی مارکیٹ اور دوسری مارکیٹوں کے اجلاس ہوئے اور مجلس عمل کے فیصلے کے پابند ہیں۔ ایک دو ناخوشگوار واقعات ہوئے ان پر مکمل کنٹرول کیا گیا۔ مجلس عمل کی کارروائی پورے شہر میں بڑی مؤثر ہے۔
حافظ حمید اختر صاحب (گکھڑ)
یکم جون سٹوڈنٹس یونین کی طرف سے عظیم الشان جلسہ وجلوس ہوا۔ طلباء کے جلوس میں علماء نے شرکت کی اور مرزائیوں سے عبادت گاہ واگزار کرائی گئی۔ آئندہ بے حرمتی نہیں کرنے دی۔ گرفتاری ہوئی۔ مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ چوکی میں پولیس، مرزائی نوازوں کی اور مرزائیوں کی جھڑپیں ہوئیں۔ ایس. ایچ. او کے سوالوں کا جواب، عبادت گاہوں کو ہدف قرار دو اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دو۔ ہم مرزائی نوازوں کو بھی خطرناک سمجھتے ہیں۔ رہائی کے بعد منظم طریقے سے تمام جماعتوں مذہبی اور سیاسی نے مل کر کام کیا۔ سیاسی سطح اور مذہبی سطح پر بھی کام منظم ہے۔ بائیکاٹ نہایت مؤثر ہے۔ بائیکاٹ سے خوفزدہ اس کے چیئر مین محمد اسلم صاحب نے برف لے کر دی۔ پھر عوامی ردعمل پر انہیں معافی طلب کرنا پڑی۔ ایک آدمی نے مرزائی کا حقہ پینے کے بعد معافی مانگی۔ گندم کی پسوائی ہوئی۔ ان کا بائیکاٹ کرایا گیا۔ دوسرے جلسہ میں مشین والوں نے معذرت کی۔ مرزائیوں کے گڑھ میں تین جلسہ عام ہوئے۔ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور پولیس نے مداخلت کی۔ لیکن ہم نے ہر رکاوٹ کا مقابلہ اور جلسہ منعقد ہوا اور لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگائی گئی۔ ہم نے سپیکر چلایا اور مرزائیوں کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ اس پر پولیس نے معذرت کی اور ہمیں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ گوجرانوالہ کے ایس. ایچ. او اور ایس. پی صاحب پہنچے اور ہمیں مجبوراً تعاون کا یقین دلایا۔ پولیس کے سامنے تمام کتابیں پیش کیں اور وہ اس سے متاثر ہوئے۔ تقریباً سات جلسے ہوئے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالشکور وزیر آبادی
یکم جون کو ہڑتال ہوئی ۔ جی ٹی روڈ کے تمام پیٹرول پمپوں نے ہڑتال کی ، جلوس کا پروگرام ہوا، جلسہ ہوا، مطالبات پیش کئے۔ مرزائیوں کی املاک طلباء نے تباہ کر دیں۔ مرزائیوں نے مرکزی مجلس کے ارکان اور دیگر طلباء کی گرفتاریاں کروائیں اور سات آدمیوں کی ضمانتیں کروائیں اور گکھڑ کے اسیران کی ضمانتیں کروائیں۔ مسلسل جلسے ہورہے ہیں کل تیرہ جلسے ہوئے۔ بائیکاٹ موثر ہے۔ وزیرآباد کی تمام ایسوسی ایشن فروٹ ، غلہ ، باربروں اور دوسری تمام تنظیموں نے بائیکاٹ کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ باربروں نے دوکانوں پہ لکھ کر لگا دیا کہ یہاں مرزائیوں کی حجامت جوتوں سے کی جائے گی۔ بہت سی تاریں اور تیرہ ہزار خطوط بھجوائے گئے ہیں۔ تین مرزائی خاندان مسلمان ہوچکے ہیں اور مساجد میں اعلان کیا گیا ہے۔ ایک لاہوری مرزائی ابھی مسلمان نہیں ہوا۔ کوشش کی جارہی ہے۔ ڈیفنس کمیٹی بنائی گئی اور وکلاء ایس، ایچ، او کو معطل کرو۔
قلعہ دیدار سنگھ
جلسے تمام ہوئے۔ مجلس عمل بعد میں تشکیل دی گئی۔ صاحبزادہ فیض الحسن کے دورے کے بعد مفتی محمد شفیع ان کے ساتھ مل گئے اور بعد میں انہوں نے جلسہ منعقد کیا گیا اور صاحبزادہ نے مجلس عمل پر تنقید کی گئی۔ طلباء کے جلسے ہوئے۔ مجلس عمل کے بننے سے پہلے جلسہ ہوا اس میں گرفتاریاں ہوئیں۔ ابھی تک ان کی ضمانتیں نہیں ہو سکیں۔ مجلس عمل کے نوٹس میں لائی گئی مجلس عمل کے بعد دو جلسے ہوئے۔ پولیس مسجد میں آئی ۔ لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگائی گئی ۔ ہم نے مصلحت کے پیش نظر لاؤڈ سپیکر بند کر دیا۔ ہمارا جلسہ کامیاب ہوا اور ایک صرف مرزائی تھا وہ مسلمان ہوا۔ قلعہ اس لحاظ سے مرزائیوں سے پاک ہے۔ تحریک اور خطوط کا سلسلہ جاری ہے۔
حبیب اللہ (سکھیکی)
۳۰ مئی ۱۹۷۴ء سانحہ ربوہ کی اطلاع سکھیکی پہنچی تو جامعہ مسجد نور میں مسلمانان قصبہ کی میٹنگ بلائی اور اس میں یہ طے پایا کہ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء کو مکمل ہڑتال کی جائے اور بعد از نماز جمعہ مسجد میں جلسہ کیا جائے۔ ۳۱ مئی ۱۹۷۴ء کو ہڑتال ہوئی اور جلوس نکلا۔ ایک مرزائی جمیل نامی کے میڈیکل سٹور کے پاس سے جلوس گزرا تو جمیل نے جلوس والوں پر آوازے کسے ۔ جس پر مشتعل ہو کر اس کے میڈیکل سٹور کو آگ لگادی گئی ۔ نماز جمعہ کے بعد جلسہ شروع ہوا تو تھانہ سے ایک کانسٹیبل آیا اور اس نے کہا کہ حکیم حسین احمد کو اے سی صاحب حافظ آباد اور ڈی ایس پی صاحب تھانہ میں بلا رہے ہیں ۔ جلسہ شروع کروا کر میں تھانہ پہنچا تو مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ مجھ سے پہلے محمد اشرف نامی ایک نوجوان کو جو میرا عزیز ہے پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا تھا ۔ پھر ولی محمد کو وہ میرا عزیز ہے ۔ شام کے وقت گرفتار کر لیا گیا ۔ دوسرے روز پولیس ہمیں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہوئی ۔ راستہ میں سے پھر واپس لے گئے کہ گوجرانوالہ میں حالات خراب ہیں ۔ اس لئے دوسرے روز ہمیں حافظ آباد میں اے سی کے پیش کرنے کے لئے لے گئے ۔ اس روز اتوار کا دن تھا ۔ اے سی صاحب تھانہ میں بیٹھے تھے ، ہمیں وہاں لے جایا گیا تو بہت سے نوجوان جمع ہو گئے ۔ اس پر ڈی۔ایس۔پی حافظ آباد تھانہ سے باہر نکلے اور تھانیدار حافظ آباد کو حکم دیا کہ لاٹھی چارج کیا جائے ۔ اس نے گارڈ بلا کر لاٹھی چارج کروایا۔ جس میں ایک نوعمر بچہ غلام رسول نامی شدید زخمی ہوا۔ اس پر عوام اشتعال میں آگئے اور اس کے بعد حافظ آباد میں مرزائیوں کی دوکانیں اور مکان نذر آتش ہوگئے ۔ ہماری اے سی صاحب نے ضمانت لے لی اور ہمیں رہا کر دیا اسی روز بعد از نماز عشاء ، مسجد نور میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا ۔ جس میں مولانا نذیر احمد خطیب مسجد نور ،
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حافظ غلام حسین صاحب خطیب نئی منڈی سکھیکی اور میں نے تقریریں کیں۔ میری تقریر کے دوران محمد جمیل مرزائی مسجد میں آیا اور معہ اپنے تمام خاندان کے مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ پھر ضلع کی طرف سے مجلس عمل کے قیام کا حکم پہنچا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت منڈی سکھیکی کا انتخاب اور قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کے صدر مولانا نذیر صاحب خطیب جامعہ مسجد نور، جنرل سیکرٹری راقم الحروف حسین احمد اور خزانچی سید کاظم شاہ صاحب، پروپیگنڈہ سیکرٹری ملک کرم الدین صاحب، نائب صدر، محمد یسین صاحب، ڈاکٹر عطاء محمد چیمہ صاحب منتخب ہوئے۔ اس کے بعد مسجد نور میں جلسہ کیا گیا۔ اس کے بعد ۷؍ جون ۱۹۷۴ء کو سکھیکی میں مجلس عمل کے تحت ایک جلسہ کرایا گیا اور نئی منڈی سکھیکی میں مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پھر موضع ڈھاباں سنگھ ضلع شیخوپورہ کے کچھ لوگ آئے کہ ہم جلسہ کروانا چاہتے ہیں۔ ہمیں مقررین کا بندوبست کر دیا جائے۔ میں جمعیتہ طلباء کے طلباء کو ساتھ لے کر ۱۴؍ جون کو ڈھاباں سنگھ میں جلسہ کیا۔ جس میں طلباء نے بھی تقریریں کیں اور آخر میں راقم الحروف نے تقریر کی اور پھر وہاں پر بھی مجلس عمل منڈی ڈھاباں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد ۱۹؍ جون ۱۹۷۴ء کو بعد از نماز عشاء جمعیتہ طلباء اسلام کے طلباء اور جمعیتہ طلباء کے نوجوان آئے اور ان کا خطاب کرایا گیا اور اس کے بعد ۲۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ضلعی مجلس عمل کے لیڈر تشریف لائے اور انہوں نے بعد از نماز عشاء مسجد نور میں عوام سے خطاب فرمایا۔ اب تک قصبہ اور گردونواح میں مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ جاری ہے۔ اس کے علاوہ ایک تجویز پر عمل کی کوشش جاری ہے۔ علاقہ کے تمام ائمہ مساجد کو ایک اجلاس بلا کر انہیں مکمل پروگرام سے آگاہ کیا جائے اور پھر ہر گاؤں میں جلسہ کا پروگرام بنایا جائے۔ ان شاء اللہ! جلد اس پر عمل کی کوشش کی جائے گی۔
حبیب اللہ (جنرل سیکرٹری مجلس عمل منڈی سکھیکی) مورخہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۷۴ء
فیروز والہ
فیروز والہ میں جلسہ ہوا۔ کل مرزائیوں کی شادی ہوئی۔ ایک راہوالی اور دوسری کسی اور جگہ ہوئی۔ ہم سب نے مکمل بائیکاٹ کیا۔ صرف پانچ آدمی اس میں شریک ہوئے۔ غلام حیدر، بشیر موچی، خادم، ظفر۔
ایمن آباد موڑ
پہلی مکمل کامیاب ہڑتال ہوئی۔ تمام ساتھیوں نے مل کر ہڑتال کا پروگرام بنایا۔ مگر بعض نے ہمارے پروگرام میں شرکت نہ کی۔ اس کے باوجود مکمل ہڑتال ہوئی۔ ۱۴؍ جون کی ہڑتال کے مسئلہ میں بھی انہوں نے وہی کردار ادا کیا۔ ہم نے دوبارہ مکمل ہڑتال کرائی۔ ایک مرزائی تھا، وہ فرار ہو گیا۔ بعد میں آیا اور مسلمان ہوا۔ بائیکاٹ مؤثر ہے۔
محمد اسحاق (علی پور)
چار پانچ جلسے مشترکہ ہوئے، مکمل بائیکاٹ ہے۔ مجلس عمل باضابطہ نہیں ہے۔ تمام مکاتب فکر نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
کلاسکے، کولو والا، مولوی امیر حسین
ہفتہ کے دن ہڑتال ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے قادیانیوں کی پشت پناہی کی۔ بعد میں مرزائی اصل مکانات سے نکل گئے اور چیئرمین کے ہاں پناہ لے لی۔ رات کے وقت مرزائیوں نے بچے کو قتل کر دیا اور شہر میں پھینک دیا۔ رائفل چیئرمین کی استعمال ہوئی۔ صبح پولیس گئی
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رانا اقبال گیا۔ چھ آدمی گرفتار ہو گئے۔ ایک لڑکے نے اقرار کیا۔ میرے تھانے میں بیان لئے گئے اور مجھے مجرم قرار دیا گیا۔ میں نے اس واقع سے بالکل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ چار آدمیوں کی ضمانت ہو گئی اور بھی گرفتار ہیں۔ مجلس عمل کا جلسہ ہوا، جلسہ کامیاب رہا اور بائیکاٹ اب مؤثر ہے۔
حکیم عبدالرحمٰن (گوجرانوالہ)
۲۹ مئی کو حادثہ ہوا۔ ۳۰ مئی کو جلوس نکلے۔ ایکشن کمیٹی بن گئی اور ہفتہ کے دن مکمل ہڑتال ہوئی۔ ۸؍ بجے شیرانوالہ باغ میں جلسہ ہوا۔ ہجوم کی وجہ سے تقاریر نہ ہوسکی اور جلوس زبردست نکلا۔ تاریخی جلوس تھا، اسٹیشن پر موجود پولیس سے گفتگو ہوئی اور کچھ اسیران کی رہائی کے سلسلہ میں ان سے بات چیت ہوئی اور انہیں رہا کرا دیا۔ جگہ جگہ تقاریر ہوئیں۔ کچہری موڑ کی طرف چلنے سے لوگوں کے جذبات بالکل بے ضبط ہو چکے تھے۔ ڈی سی صاحب سے بات چیت ہوئی۔ صورتحال پر کنٹرول کرنے کے باوجود مرزائیوں نے تمام محلوں میں فائرنگ شروع کر دی اور مسلمانوں نے ردّعمل کے طور پر مرزائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ رات تک گیارہ مرزائی مارے گئے۔ اطلاع کے مطابق مسلمانوں نے پہل نہ کی۔ جو کچھ ہوا مرزائیوں کی کارروائی کا ردّعمل تھا، کرفیو لگایا۔ تین بجے ڈپٹی کمشنر نے تمام علماء اور شرفاء کی میٹنگ بلائی۔ ہم نے ڈی سی سے کہہ دیا کہ امن کی ذمہ داری ہم پر نہیں وہ مرزائیوں پر ہے۔ اس کے لئے مطالبہ کیا گیا۔ آپ ناصر کو گرفتار کر لیں۔ ہم شہر میں امن کروا دیں گے۔ آبادی میں قتل شدہ مرزائیوں کے رشتہ داروں میں میجر اور دوسرے افسران نے شہر کا کنٹرول مانگا۔ قریب تھا کہ شہر فوج کے کنٹرول میں چلا جاتا۔ ہم نے کوشش کی اور ڈپٹی کمشنر کے تعاون سے شہر فوج کے کنٹرول سے بچ گیا۔
شہر میں امن مجلس عمل نے قائم کر دیا۔ پولیس نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور شام تک اڑھائی سو گرفتاریاں ہوئیں۔ ڈی سی صاحب سے رہائی کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی۔ رانا اقبال صاحب کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا۔ جن پر مقدمات نہیں وہ اس وقت رہا کر دیے گئے۔ باقی حضرات کی ضمانت کرا لیں۔ جن پر ۳۰۲ کے مقدمات ہیں۔ ذرا تاخیر سے ان کی ضمانت ہو جائے گی۔ ڈیفنس کمیٹی بنی مریضوں کی دیکھ بھال ہوئی۔ اسیران سے رابطہ رہا۔ گیارہ آدمیوں کی ضمانتیں ہوئیں۔ پچیس تیس آدمی ابھی تک حراست میں ہیں۔ ضلع میں پچاس جلسے ہوئے، شہر میں سٹوڈنٹس ختم نبوت ایکشن کمیٹی نے پورے شہر میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور پورے شہر میں طلباء نے طوفانی دورے کئے اور پچھتّر کے قریب جلسے ہوئے۔ بائیکاٹ اور دوسرے معاملات میں طلباء نے شہر میں ایک اضطراب پیدا کر دیا۔ طلباء کے تمام جلسے بغیر اجازت کے ہوئے۔ طلباء نے ایک فورس کمیٹی قائم کی ہے جو مجلس عمل کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایکشن کمیٹی میں تمام دینی مدارس اور دوسری تمام تنظیمیں شامل ہیں۔ چند مقامات پر بائیکاٹ کے سلسلہ میں ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے۔ طلباء نے مجلس عمل کے تعاون سے بروقت کنٹرول کر لیا۔ ترگڑ میں رکاوٹوں کے باوجود جلسہ احتجاجاً منعقد ہوا۔ فیروز والہ میں جلسہ کرنے سے ڈپٹی کمشنر نے بار بار منع کیا، ہم وہاں پہنچے، عظیم الشان استقبال ہوا۔ جلسہ میں مرزائیت کی ملک دشمنی کے عزائم بے نقاب کئے گئے۔ لاؤڈ سپیکر کے بغیر جلسہ ہوا۔ حافظ آباد میں کامیاب جلسہ ہوا۔ ایم۔ پی۔ اے فدا حسین سے چپقلش ہو گئی۔ چند مرزائی لاہور سے مسلمان ہو کر آئے جس کا حافظ آبادیوں نے اعتبار نہ کیا۔ ہر جلسہ فدا حسین کے خلاف ہوا۔ باہمی اختلافات ختم کرانے کی کوشش کی گئی۔ ایک عظیم الشان جلسہ مدرسہ نصرت العلوم نزد چوک گھنٹہ میں جلسہ ہوا۔ جس میں مرکزی قائدین نے شرکت کی۔ شورش، مظفر علی شمسی، احسان الٰہی ظہیر، سید محمود احمد رضوی، میاں فضل حق، ایم۔ اے حمزہ اور دیگر مقررین نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اسحاق (نوشہرہ ورکاں)
مجلس عمل میں تمام سیاسی اور مذہبی لوگ جمع ہیں ۔ ہفتہ کو تمام علماء اکٹھے ہوئے تھے۔ پروگرام ہفتہ وار کر دیا گیا ہے ۔ شہری سطح پر جلسہ ہوا۔
قراردادیں
- مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلامیان گوجرانوالہ کا یہ عظیم الشان اجتماع مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پر مکمل اعتماد کا
اظہار کرتے ہوئے اس کے قائدین کو یقین دلاتا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لئے اسلامیان گوجرانوالہ ان کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
- یہ اجتماع مرکزی مجلس عمل کے تمام مطالبات کی مکمل تائید کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مجلس عمل کے مطالبات کو فی الفور
تسلیم کرتے ہوئے، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں تمام کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
- یہ عظیم اجتماع حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ یہ مطالبات اسلامیان پاکستان کے متفقہ مطالبات ہیں۔ اس لئے ان کو تسلیم
کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔ ورنہ حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
- یہ عظیم اجتماع ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مسلم طلباء پر قادیانی غنڈوں کے حملہ کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے سوچی سمجھی سازش قرار
دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مرزائی امت کے سربراہ مرزا ناصر اور دیگر ذمہ دار افراد کو فی الفور گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ نیز یہ اجلاس ظفر اللہ خان چوہدری اور مرزا ناصر کی طرف سے عالمی رائے عامہ کو غلط بیانی کے ذریعہ دھوکہ میں رکھنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں پر پاکستان کے ساتھ غداری کے الزام میں فی الفور مقدمہ چلایا جائے۔
- یہ عظیم اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر مسلمانوں کو وہاں بسنے کا حق دیا جائے اور مرزائی جماعت
کے تمام اوقاف کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے کر اس وطن دشمن گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک کو فی الفور ختم کیا جائے۔
- یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ گوجرانوالہ اور دیگر شہروں سے ربوہ کے اشتعال انگیز واقعہ کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے
والے واقعات کے ضمن میں گرفتار کئے جانے والے پر امن شہریوں کو بلا تاخیر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں۔ نیز مختلف علاقوں میں قادیانیوں کی اشتعال انگیز حرکات کی مذمت کرتے ہوئے یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ان حرکات کا سدباب کر کے شہر کی پرامن فضاء کو مکدر ہونے سے بچایا جائے۔
- یہ عظیم اجتماع پنجاب اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کے سلسلہ میں سپیکر
اسمبلی کے رویہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقریر پر شدید احتجاج کرتا ہے اور اسے غیور اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور سپیکر اس امر کا تدارک کریں اور پنجاب اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد فوری طور پر بالاتفاق منظور کرا کے قوم کو مطمئن کریں۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رپورٹ کارکردگی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وزیر آباد
مؤرخہ ۳۰؍مئی ۱۹۷۴ء ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مرزائیوں کی طرف سے کی گئی غنڈہ گردی کی خبر چھپتے ہی وزیر آباد میں تمام دینی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی اور ساتھ ہی یکم مئی ۱۹۷۴ء کو عام ہڑتال کا فیصلہ ہوا۔ عرصہ زیر رپورٹ میں دو بار مکمل ہڑتال ہوئی۔ یکم؍ جون ۱۹۷۴ء کو مقامی مجلس عمل کی اپیل پر جب کہ ۱۴؍ جون ۱۹۷۴ء کو مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے حکم پر، دونوں بار ہڑتال خاصی کامیاب رہی۔ یکم؍ جون کی ہڑتال کے دن وزیر آباد کے تمام مرزائیوں کی دکانیں اور دیگر کاروباری ادارے مکمل طور پر بند ہوئے۔ نتیجہ کے طور پر ایک مرزائی نے ۱۹؍ افراد کے خلاف زیر دفعہ ۳۰۷، ۴۳۶، ۳۸۰، ۱۴۹، ۱۸۸ کیس رجسٹرڈ کروایا۔ حالانکہ پرچہ میں نامزد حضرات اس قسم کی کسی کارروائی میں شامل نہ تھے۔ تاحال ۷؍ افراد گرفتار ہوئے جن کی ضمانتیں کروائی جا چکی ہیں اور اسی طرح گکھڑ تحصیل وزیر آباد میں ۵؍ احباب گرفتار ہوئے جن کی مکمل طور پر قانونی امداد کی گئی۔ عرصہ زیر رپورٹ میں صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، سپیکر قومی اسمبلی اور پارلیمانی پارٹیوں کے لیڈر حضرات کو تقریباً ۶۰؍ تاریں دی گئیں۔ جب کہ صوبائی حکومت کے ذمہ دار حضرات کو ۲۰؍ تاریں یعنی کل ۷۰ کے قریب تاریں دی گئیں اور اسی طرح حلقہ وزیر آباد کے ایم این اے کو تقریباً ۳۰۰۰ خطوط ارسال کئے گئے جن میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مرکزی مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق وزیر آباد میں مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کے لئے شہریوں سے اپیل کی گئی جو کہ خاصی کامیاب رہی۔ گو اکا دُکا خلاف ورزی ہو جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بائیکاٹ کی مہم کامیابی سے جاری ہے۔ وزیر آباد میں عرصہ زیر رپورٹ میں کل چھ جلسہ عام ہوئے۔ جب کہ قریبی دیہات اور قصبات میں اب تک ۷ جلسے ختم نبوت کے سلسلہ میں ہو چکے ہیں۔ جلسوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ وزیر آباد کی تمام کاروباری تنظیمیں ہمارے ساتھ پورا پورا تعاون کر رہی ہیں۔ مجموعی حالات تحریک کے حق میں ماشاء اللہ کافی اچھے ہیں۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے علماء حضرات خوب اتحاد سے بڑھ چڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ مقامی ایس ایچ او کو مرزائیت نوازی کا ثبوت دینے کے جرم میں مقامی مجلس عمل کی کوشش سے وزیر آباد سے تبدیل کروایا جا چکا ہے۔
شیخ محمد انور (جنرل سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وزیر آباد)
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کی شام تاریخ کے نازک لمحات کا منظر
۷؍ ستمبر کی شام کو پون صدی پر پھیلی ہوئی جدوجہد تاریخ ساز لمحوں میں سمٹ آئی۔ ان یادگار لمحات کا منظر جب وقت تاریخ کے سانچے میں ڈھل رہا تھا۔ ایسا نا قابل فراموش ہے جسے ان اشخاص میں سے کوئی بھی نہ بھلا سکے گا جو کسی نہ کسی حیثیت سے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان میں موجود تھے۔ ساڑھے چار بجے سے آٹھ بجے کے درمیان اوپر تلے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں نے آئین میں دو اہم ترامیم کے ذریعے منکرین ختم نبوت مرزائیوں کے دونوں گروہوں قادیانی اور لاہوری کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر تاریخ کے صفحات پر ایسے نقوش ثبت کر دیئے جن پر ہمیشہ فخر و اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ ان تاریخی لمحات کا آغاز قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد سے ہوا جب تلاوت کلام پاک کے بعد چار بج کر چالیس منٹ پر مرکزی وزیر قانون جناب عبدالحفیظ پیرزادہ نے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے اسمبلی کے بعض قواعد کو معطل کرنے کی دو تحریکیں پیش کیں تاکہ ان ترامیم کو تیزی کے ساتھ مختلف مرحلوں سے گزارا جا سکے۔ ان دستوری ضروریات کو پورا کرنے، ترمیمی بل پڑھنے اور اسے ایوان کے سامنے پیش کرنے میں صرف تیرہ منٹ صرف ہوئے اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چار بج کر ترپن منٹ پر بل پہلے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ ان تیرہ منٹوں میں ان متواتر اور مسلسل تالیوں کا وقت بھی شامل ہے جو بل پیش کرنے کے دوران بار بار بلند ہوتی رہیں۔ قومی اسمبلی کے تمام ارکان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے متفقہ طور پر جو بل پیش کیا تھا اس کے مطابق دستور کی دفعہ ۱۰۶ میں دی گئی۔ اقلیتوں کی فہرست میں قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کو شامل کر دیا گیا اور دفعہ ۲۶۰ میں ایک نئی شق کا اضافہ کر دیا گیا۔ جس کے ذریعے ایسے ہر فرد کو جو حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہو وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں ہے۔ اس بل کو جب وزیر قانون پیش کر رہے تھے تو فقرے فقرے پر اور بعض دفعہ تو لفظ لفظ پر قومی اسمبلی کے اکثر ارکان جذبات سے بے قابو ہو کر ڈیسک اور کرسیاں بجا رہے تھے۔ جیسا کہ بعد میں جناب وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ درحقیقت ہم سب جذبات کے طوفان سے معرکہ آزما تھے۔
اگلے تین منٹوں میں بل دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور جناب پیرزادہ آئین میں ترمیم کے بل کو ”فی الفور زیر غور“ لانے کی تحریک پیش کر چکے تھے۔ گھڑی کی سوئیاں چار بج کر چھپن منٹ پر تھیں۔ جناب پیرزادہ سے سپیکر نے کہا وہ بل پر تقریر کریں۔ جناب پیرزادہ اٹھے اور گویا ہوئے کہ وہ اس پر ایک لفظ کا بھی اضافہ نہیں کریں گے۔ کیونکہ یہ بل پوری اسمبلی پر مشتمل کمیٹی کا متفق علیہ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے چند فقرے کہے۔ جناب پیرزادہ بمشکل بیٹھے ہی تھے کہ تحریک استقلال کے صاحبزادہ احمد رضا قصوری اٹھے اور بل میں ترمیم پیش کرنا چاہی۔ ”صرف قادیانی اور لاہوری گروہوں کا نام کافی نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا نام باقاعدہ طور پر دستور میں درج کر دیا جائے۔“ جواب میں وزیر قانون اٹھے۔ لیکن قائد ایوان جناب بھٹو نے احمد رضا قصوری کی بات کا خود جواب دینا مناسب جانا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا تو اس وقت یہ ترمیم پیش نہ کی گئی، اس وقت یہ فضول ہے اور ترمیمی بل میں بے مصرف اضافہ ہو گا وہ ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت لا سکتے ہیں، تو لے آئیں۔ اس پر ایوان میں نہیں نہیں کی آوازیں، سپیکر صاحبزادہ احمد رضا کو ان کی ترمیم کے خلاف ایوان کی رائے بتا رہے تھے کہ احمد رضا قصوری بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔ ان سے کچھ دیر بعد ان کے پیچھے پیچھے حیرانی کے ساتھ میاں محمود علی قصوری بھی اپنے کاغذات سنبھالتے باہر چلے آئے۔ انہیں جونیئر قصوری کا علم نہ تھا اور وہ لاہور سے سیدھے ایوان میں چلے آئے تھے۔ احمد رضا قصوری کے اس واک آؤٹ پر ان کی ذات اور تحریک استقلال کو کیا فائدہ پہنچا ہے۔ ابھی عرصہ تک موضوع بحث رہے گا اور جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کچھ اور نہیں تو موضوع بحث بننے کا فائدہ تو احمد رضا قصوری کو بہرحال حاصل رہے گا۔
اب مولانا مفتی محمود اٹھے اور انہوں نے حزب اختلاف کی طرف سے آئین میں زیر بحث بل کی تائید کا اعلان کیا۔ پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کے اجلاس میں بھی مولانا مفتی محمود نے حزب اختلاف کی ترجمانی کی تھی۔ اس سلسلے میں مولانا غلام غوث ہزاروی بھی شریک مشورہ رہے ہیں۔ انہیں مفتی محمود کے بعد ایوان کی کارروائی میں رونمائی کا موقع بھی دے دیا۔ بہرحال قصوری کے واک آؤٹ سے جناب مولانا ہزاروی کے ”ودھائیاں“ دینے تک وقت مزید نو منٹ لگے۔ چنانچہ سپیکر صاحبزادہ فاروق علی نے جب قائد ایوان جناب بھٹو کو اظہار خیال کی دعوت دی تو گھڑیاں پانچ بج کر پانچ منٹ کا وقت بتا رہی تھیں۔
جناب وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بل کا تیسرا مرحلہ (خواندگی) شروع ہوا اور وزیر قانون نے بل منظوری کے لئے ایوان کے سامنے پیش کر دیا۔ اس موقع پر ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی کہ آئین میں ترمیم کے لئے صرف باآواز بلند ”ہاں“ یا اسمبلی ہال کے اندر ارکان کی گنتی نہیں۔ (رائے شماری) کا طریقہ کار اختیار کیا گیا کہ ارکان ”YES“ (ہاں) اور ”NO“ (نہیں) کے مقرر دروازوں سے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گزریں۔ حزب اختلاف کے ارکان کے لئے حزب اقتدار کے (ہاں) والے دروازے سے گزرنا ایک عجیب وغریب تجربہ تھا۔ بہرحال حزب اختلاف کے ارکان حزب اقتدار کے دروازے کی طرف بڑھے۔ کچھ ارکان کو وزراء اور حزب اقتدار کے نمایاں ارکان نے اپنے ساتھ لے لیا۔ حزب اختلاف کے ارکان بھی حزب اقتدار کی اس ”دستوری شرارت“ سے بہت محظوظ ہوئے اور ان کے بلند قہقہوں کے درمیان پریس گیلری میں ہی ہلچل ہوئی اور بہت سے اخبار نویس ”NOES“ کو ”AYES“ کے دروازے سے گزرنے کے لئے گیلری کے اگلے حصے اور چھجے میں آگئے اور نیچے جھانکنے لگے تا کہ اس منظر کو اپنی نگاہوں کے ذریعے حافظوں میں محفوظ کرلیں۔ جب حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے ارکان ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر ایک ہی دروازے سے ووٹ دینے کے لئے گزرے تھے۔ تحفظ ناموس رسالت کی خاطر اس عظیم شخصیت ﷺ کا یہ اعجاز اس روز بہت سی آنکھوں نے دیکھا اور دلوں نے محسوس کیا۔
اس دوران کئی لطیفے بھی رونما ہوئے ”AYES“ کا دروازہ پریس گیلری کے بالکل نیچے ہے۔ اخبار نویس چھجے پر جھکے کھڑے تھے۔ چھجے اور ہال کے فرش کا فاصلہ گیارہ بارہ فٹ سے زائد نہ ہوگا ولی خان اور پیرزادہ دروازے کی طرف چھجے تک اکٹھے آئے۔ پیر زادہ ادھر کسی رکن اسمبلی سے مصروف گفتگو تھے تو ولی خان نے اوپر کو جھانکتے ہوئے اخبار نویسوں سے کہا:
“You have come to look down at us.”
(آپ ہم پر نیچی نگاہ ڈالنے آئے ہیں)
قہقہوں کی آبشار کے درمیان صحافیوں کی طرف سے جواب آیا:
“Just to look down, not to look down upon you, Sir.”
(صرف نیچے نگاہ ڈالنے کے لئے، آپ پر نیچی نگاہ ڈالنے کے لئے نہیں، جناب!)
پروفیسر غفور، وزیر داخلہ قیوم خان کو گھیرے کھڑے تھے کہ ان طلباء، شہریوں اور علماء کو فوری طور پر رہا کر دیجئے، جن کا مطالبہ آپ مان رہے ہیں اور جن کے بارے میں بھٹو صاحب بھی اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ تحریک کے دوران گرفتار ہونے والوں کے معاملے پر نظر ثانی کی جائے گی اور انہیں رہا بھی کر دیا جائے گا اور قیوم خان دروازے کی طرف اشارہ کرتے بڑھنے کے لئے کہہ رہے تھے۔ ادھر ذرا فاصلے پر سندھ مسلم لیگ کے رکن اسمبلی اور پیر صاحب پگاڑا کے معتمد رفیق رئیس عطاء محمد مری، وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی کے ساتھ کھڑے تھے، کون کسے گھیرے کھڑا تھا، اس کا کچھ اندازہ نہ ہوتا تھا، کیونکہ آواز نہیں آرہی تھی۔ البتہ شرارت پر آمادہ بعض اخبار نویسوں نے اچھا یہ بات ہے، کے انداز میں گردن ہلائی تو جناب رئیس مری نے دوبارہ آنکھ کے اشارے سے یہ ظاہر کیا کہ مولانا کوثر نیازی کو گھیرے کھڑے ہیں، ایسے ماحول میں قہقہوں کا پھوٹنا غیر معمولی بات نہ تھی۔ سپیکر نے ایک بار ارکان کو یاد دلایا کہ ابھی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ لیکن وہاں یہ سننے کی کسے ہوش تھی۔
اس رائے شماری کے بعد ارکان اسمبلی لابی سے پھر اسمبلی ہال میں آئے۔ سپیکر صاحبزادہ فاروق علی نے ڈیسک بجانے کی فلک شگاف گونج میں اعلان کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی آئینی ترامیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے ہیں جب کہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا۔ اس وقت پانچ بج کر باون منٹ ہوئے تھے۔ لیکن ابھی آخری دستوری مرحلہ باقی تھا۔ جس کے لئے اسی روز شام ساڑھے سات بجے سینٹ کا اجلاس بلایا گیا تھا۔ جہاں ان آئینی ترامیم کو صوبوں کے ایوان یعنی سینٹ کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا جانا تھا۔ جس کے بعد ان ترامیم نے دستور کا حصہ بن جانا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سینٹ کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور اس کے لئے موقع کے اعتبار سے انتہائی مناسب آیات کا چناؤ کیا گیا تھا جن کا لب لباب تھا کہ اگر تم درست کام کرتے ہو تو گھمنڈ دل میں نہ لاؤ۔ ہمیشہ ڈرنے والے رہو۔ اگر تم نافرمانی پر اتر آؤ گے تو اللہ تمہاری جگہ تم سے بہتر قوم اٹھا سکتا ہے جو اللہ کا حکم ماننے والی ہو۔ تلاوت اور ترجمے کے بعد سات بج کر پینتالیس منٹ پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ سرحد کے شہزاد گل پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوئے کہ سینٹ نے ابھی یہ ترمیمی بل منظور نہیں کیا۔ لیکن ریڈیو پاکستان نے اپنی خبروں میں اسے قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد نافذ العمل قرار دے دیا ہے۔ یہ چیز سینٹ کے اختیارات میں مداخلت ہے۔ جناب پیرزادہ نے جو مرکزی وزیر ہونے کے ناطے سے سینٹ میں بیٹھ سکتے ہیں۔ اس پر فوراً معذرت کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھال لیا۔ جناب پیرزادہ نے قادیانی مسئلے پر بحران کے دوران رواداری سے معاملات کو درست رکھنے کے جو تجربے کئے اس کے پیش نظر جناب پیرزادہ کا یہ رویہ اب نیا نہیں رہا۔ سینٹ کے چیئرمین جناب حبیب اللہ خان نے حسب معمول ریمارکس دیئے۔ جس کے بعد سات بج کر پچاس منٹ پر جناب پیرزادہ نے قومی اسمبلی کا منظور شدہ بل ملک کے ایوان بالا سینٹ میں پیش کر دیا۔ اس پر سرحد کے سینیٹر بیرسٹر ظہور الحق نے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ ترمیمی بل کی فوری منظوری کی اہمیت کے پیش نظر بعض قواعد کو معطل کرنا پڑے گا۔ اس پر قواعد کی جانچ پڑتال کے بعد جناب پیرزادہ نے کہا کہ چیئرمین سینٹ اپنے اختیارات سے کام لے کر ان قواعد کو معطل کر سکتے ہیں۔ ترمیمی بل پر منظوری کے لئے دستوری ضروریات سے گزرتے ہوئے پہلے دو مرحلوں پر دوبارہ ایوان کے اندر رائے شماری ہوئی اور پھر حزب اختلاف کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کی طرح ”AYES“ کے دروازے سے گزرنا پڑا۔ یہاں بھی گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے اکٹھے جانے کے وہی مناظر دیکھنے میں آئے۔ اس سے پیشتر سینٹ میں حزب اختلاف کے قائد جناب ہاشم غلزئی (نیپ بلوچستان) دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی حمایت کا اعلان کر چکے تھے۔ چنانچہ رائے شماری کے اس مرحلے کے بعد سینٹ کے ارکان ایوان میں اپنی نشستوں پر بیٹھے تو سینٹ کے چیئرمین جناب حبیب اللہ خان نے آٹھ بج کر چار منٹ پر آئین میں ترمیم کا اعلان کر کے اکیس ووٹوں سے بہ اتفاق رائے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت ہونے کا دستوری عمل مکمل کر دیا۔
۷؍ ستمبر کی صبح سورج کی کرنوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس، فیڈرل سیکورٹی فورس ڈیرہ غازی خان کی پہاڑی پولیس، بلوچ لیویز اور فوج کے دستوں کا گشت اور پہرہ دیکھا۔ ملک کے دوسرے شہروں سے بھی فون پر ایسی اطلاعات آ رہی تھیں۔ فضا میں خوف وہراس ہر طرف ٹپکتا نظر آتا تھا۔ ان آٹھ افراد اور وزیر اعظم بھٹو، جناب پیرزادہ، مفتی محمود، پروفیسر غفور، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا نورانی، جناب عظیم فاروق اور سردار مولا بخش سومرو کے سوا شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ کیا ہونے والا ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان کی رہائش گاہ ”گورنمنٹ ہوسٹل“ اور قومی اسمبلی کی طرف جانے والی سڑکوں کی مکمل ناکہ بندی ہو چکی تھی۔ شناخت کے ثبوت کے باوجود اس طرف جانے والی سڑکوں پر پیدل یا سواری پر آمد و رفت کی اجازت نہ تھی۔ پوری فضا سے ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے ارکان اسمبلی عملاً گرفتار ہیں۔ یہ صورتحال ۵؍ ستمبر کی صبح سے جاری تھی لیکن ۷؍ ستمبر کو تو اس کی انتہاء رہی۔ ان رہنماؤں میں سے جو ہوسٹل میں مقیم تھے۔ ان تک پہنچنے کے بعد بار بار کی چیکنگ سے جھنجھلایا ہوا۔ خوف زدہ ملاقاتی جب ان کے پر اطمینان چہرہ دیکھتا تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ اطمینان کامیابی کی علامت ہے یا ہر چہ بادا باد کے مصداق میدان میں اترنے کی نشانی۔ اڑھائی بجے پورے ایوان پر مشتمل قومی اسمبلی کی کمیٹی کا خفیہ اجلاس ہوا۔ جس میں گزشتہ شب کی متفقہ کاوش اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ ارکان قومی اسمبلی کی عمارت میں رہے حتیٰ کہ ساڑھے چار بجے قومی اسمبلی کا کھلا اجلاس شروع ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عجیب اتفاق ہے ۶ اور ۷ ستمبر کی انہی تاریخوں بلکہ اوقات کو پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ نو برس پیشتر اسی ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کی رات ٹھیک رات کے گیارہ بجے ہی بھارتی حملہ کو پسپا کرنے کے بعد لاہور سیکٹر میں پاکستان نے کامیاب جوابی حملہ کیا تھا اور ۷ ستمبر کی شام انہی اوقات میں پاکستان نے بھارتی پنجاب اور گجرات کاٹھیاوار میں واقع دشمن کے ہوائی اڈہ تباہ کر کے بھارت پر فضائی برتری حاصل کر لی تھی۔ اس لئے اس وقت سے ۶ ستمبر کو یوم دفاع پاکستان اور ۷ ستمبر کو یوم فضائیہ منایا گیا۔
مرزائی مسئلے کے اس متفقہ حل نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی اس شام عید کا سماں پیدا کر دیا تھا۔ اس احساس کا اظہار بہت سے لوگوں کو ہوا۔ اس سرشاری میں وہ کئی باتیں پھوٹ کر بہہ نکلیں جن کا علم بہت کم لوگوں کو تھا۔ جذبات کی فراوانی میں دل کی عجیب سی کیفیت ہو جاتی تھی۔ سپیکر صاحبزادہ فاروق علی اخبار نویسوں کے گھیرے میں آئے تو ان سے اسمبلی کے اس تاریخی کمرے کا اتہ پتہ پوچھا گیا۔ جہاں سب کمیٹی نے خفیہ مذاکرات کئے۔ انہوں نے آسانی سے بتا دیا کہ وہ ان کا چیمبر ہے۔ (جناب پیرزادہ کا دفتر ہے نہ کوئی کمیٹی روم ہے بلکہ لاء سیکرٹری کا دفتر ہے جس کی طرف کسی کا ذہن ہی نہیں جاتا۔ یہ وہی کمرہ ہے جس میں متحدہ پاکستان ہائے! ہائے!!) کے نائب صدر جناب نورالامین کا دفتر ہوا کرتا تھا۔
آئیے! اب اس تاریخی فیصلے پر قوم کے رہنماؤں کا تبصرہ ملاحظہ کیجئے اور سب سے پہلے ان صاحب کا جو اس مسئلے میں اسمبلی کو ”STEER“ کرتے رہے۔ یعنی قومی اسمبلی کے سپیکر۔
صاحبزادہ فاروق علی سپیکر قومی اسمبلی
”یہ جمہوریت اور جمہوری تجربے کی فتح ہے جس سے جمہوری اداروں اور جمہوری طریقوں میں لوگوں کا ایمان پختہ تر ہوگا اور عوام کو جمہوریت ان کے مسئلے حل کرتی نظر آئے گی۔“
مولانا ظفر احمد انصاری
”مرزائیوں نے اٹھائیس برس پیشتر ۱۹۴۶ء میں بدھوں، پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح حقوق دیئے جانے کا مطالبہ انگریزوں سے کیا تھا۔ اسے آج ہم نے منظور کر لیا ہے جس پر یقیناً انہیں ہمارا شکر گزار ہونا چاہئے۔“
صاحبزادہ صفی اللہ خان (جماعت اسلامی دیر)
”یہ ایک عظیم کامیابی ہے جس کا کریڈٹ صرف عوام کو جاتا ہے۔“
مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک)
”ہمیں اس پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ مرزائیت کے سدباب کے لئے پورے عالم اسلام میں سرگرم عمل ہو جانا چاہئے۔“
مولانا مفتی محمود
”اس فیصلے پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام میں اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ میرا خیال ہے مرزائیوں کو بھی اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کر لینا چاہئے۔ کیونکہ اب انہیں غیر مسلم اقلیت کے جائز حقوق ملیں گے۔ جہاں تک کریڈٹ کا سوال ہے یہ مسئلہ قومی بنیادوں پر تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کیا گیا ہے۔ اس مسئلے کے حل میں ارکان قومی اسمبلی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور سینٹ نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ مجلس عمل نے پروقار جدوجہد جاری رکھی۔ حالانکہ فائرنگ ہوئی۔ لوگ شہید ہوئے۔ لاٹھی چارج گرفتاریوں اور تشدد کے تمام واقعات کے باوجود جو ردعمل کا شکار ہو کر تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا۔ سیاسی طور پر تو میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ الجھے ہوئے مسائل کا حل بندوق کی گولی میں نہیں مذاکرات میں ہے۔‘‘
پروفیسر غفور احمد
’’مسلم عوام کے بے پایاں قوت ایمانی ہی نے یہ قدیم اور سنگین مسئلہ جو ملکی سلامتی اور معاشرے کے لئے خطرہ بن چکا تھا، حل کیا ہے۔ میری رائے میں یہ دستور کے بالاتفاق منظور کرنے سے کہیں بڑی فتح ہے اور ایک حقیقی کامیابی، مجھے یقین ہے حکمران جماعت نے محسوس کر لیا ہوگا کہ کارڈیل (CORDIAL) رویہ معاملات کو کتنا آسان بنا دیتا ہے۔ کیونکہ افہام و تفہیم اور مسائل کی سمجھ بوجھ کے لئے ایسے ہی رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
مولانا شاہ احمد نورانی
’’میرا خیال ہے ماحول ہی ایسا بن گیا تھا کسی کو مرزائیوں کی حمایت کی جرات نہیں ہو سکتی تھی۔ باہر کے جلسے، جلوسوں اور منظم جدوجہد نے اندر فضا کو ٹھیک اور معاملات کو درست رخ پر رکھا۔ پھر اندر مرزا ناصر نے اپنے کیس کو جو پہلے ہی بہت خراب تھا، مزید خراب کیا۔ میں اس امکان کو بھی بالکل رد نہیں کرتا کہ مرزائیوں کی بڑھتی قوت سے خود پیپلز پارٹی کی قیادت خائف ہو چکی تھی۔‘‘
سردار مولا بخش سومرو
’’یہ عوام کی جیت ہے اس کا کریڈٹ عوام کو جاتا ہے جنہوں نے حضور ﷺ کی خاطر حمیت کا ثبوت دیا۔ پورے ملک کی بات تو آپ کے سامنے ہے۔ میں آپ کو سندھ کے متعلق بتاتا ہوں کہ وہاں یہ کیفیت پیدا ہو گئی تھی کہ بچہ بچہ ختم نبوت پر اپنا سر قربان کرنے کے لئے تیار تھا۔ میں سمجھتا ہوں صورتحال دیکھ کر مخالف خود ہی راہ سے ہٹ گئے اور اگر فیصلہ نہ ہوتا تو میں آپ کو یقین سے بتا سکتا ہوں کہ ایسی شورش اٹھتی کہ اس کے سامنے تاریخ میں عوام کی بڑی بڑی بغاوتیں اور انقلاب گرد رہ جاتے۔‘‘
۷ ستمبر رات گئے تک راولپنڈی اور اسلام آباد میں مبارک بادوں اور مٹھائی کی تقسیم کا سلسلہ چلتا رہا۔ ادھر پنڈی کے راجہ بازار میں مولانا غلام اللہ خان کے مدرسہ میں مجلس عمل کا اجلاس ہو رہا تھا۔ جس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ اس عظیم کامیابی کے بعد اس مجلس عمل کی ضرورت باقی رہتی ہے یا نہیں۔ اس اجلاس سے پیشتر بعض لوگوں کی رائے تھی کہ مجلس عمل مختلف الخیال تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہے۔ بڑی کامیابی کے بعد اسے ہنسی خوشی تحلیل کر دینا چاہئے تا کہ ایک طرف تو اس کا انجام کسی بدمزگی پر اور دوسرے پھر کسی ایسے ہی قومی اہمیت کے مسئلے پر دوبارہ اتحاد کا امکان رہے۔ لیکن مجلس عمل کے اس اجلاس کی فضاء ایسی تھی کہ مجلس عمل کو باقی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے کا کام کروایا جاسکے۔ اس اجلاس میں ۱۳ ستمبر کو یوم تشکر منانے کا اعلان بھی ہوا۔ ۸ ستمبر قبل از دو پہر گورنمنٹ ہوسٹل کے کیفے ٹیریا میں مجلس عمل نے پریس کانفرنس منعقد کی۔ مولانا یوسف بنوری امیر مجلس تھے اور مفتی محمود مجلس عمل کے ترجمان۔ مجلس عمل کی طرف سے ان رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ حکومت نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے، مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور ان کی فوجی اور نیم فوجی تنظیموں یعنی فرقان فورس اور خدام الاحمدیہ پر پابندی لگانے کے مطالبات اصولی طور پر مان لئے ہیں۔ ان مطالبات کو اسمبلی میں منظور کی گئی۔ آئینی ترامیمات کو عملی صورت دینے تک مجلس عمل قائم رہے گی۔ مجلس عمل کی طرف سے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک طویل قرارداد مولانا مفتی محمود نے پڑھ کر سنائی جس میں اسلامیان پاکستان اور ارکان اسمبلی کو مبارک باد دیتے ہوئے ۱۹۵۳ء کے شہداء اور آج تک ختم نبوت پر جانیں نثار کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں طلباء ، وکلاء ، تاجروں ، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو خراج تحسین سے نوازا گیا تھا۔ اسی قرارداد میں صحافیوں کو پابندیوں کے باوجود ختم نبوت کے حق میں آواز بلند کرنے ، بعض کے حوالہ زنداں ہونے اور ان کے اخبارات بند ہونے کی قربانیوں کے باوجود سر بلند رہنے پر مبارک باد پیش کی گئی تھی۔
نوٹ : مجھے بڑی ندامت سے عرض کرنا ہے کہ ۱۹۹۵ء میں اس کتاب کی ترتیب قائم کی ، تب پہلا ایڈیشن شائع ہوا تھا۔ اب نظر ثانی کے بعد ۲۰۱۹ء میں شائع کرنا پڑا تو معلوم ہوا کہ اس پر حوالہ درج نہیں کہ یہ مضمون کہاں سے لیا۔ اب دوبارہ کون چیک کرے۔ اس غلطی کے اعتراف کے ساتھ اسے یوں ہی چلتا کر دیا۔ (مرتب)
جناب یحییٰ بختیار کا انٹرویو
محترم جناب یحییٰ بختیار صاحب ۱۹۷۴ء میں اٹارنی جنرل تھے۔ قومی اسمبلی میں قادیانی گروپ کے صدر مرزا ناصر ولاہوری گروپ کے صدر صدر الدین وغیرہ پر جرح انہوں نے کی تھی۔ ان سے منیر احمد منیر نے آتش فشاں لاہور کے لئے انٹرویو لیا جو مئی ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا۔ اس میں آئین کی تدوین اور ترمیم سے متعلق انٹرویو کا متعلقہ حصہ پیش خدمت ہے۔
س ...... بھٹو صاحب کو پھانسی لگوانے میں مرزائی جرنیلوں کا بھی کوئی رول تھا؟
ج ...... کہہ نہیں سکتا۔
س ...... چوہدری ظفر اللہ خان نے ’’آتش فشاں‘‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’’بھٹو صاحب نے ۱۹۷۳ء کے آئین کا مسودہ یحییٰ بختیار کے ہاتھ مجھے نظر ثانی کے لئے لندن بھیجا۔‘‘ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ’’سیاسی اتار چڑھاؤ‘‘)
ج ...... میں خود گیا تھا۔ چوہدری صاحب سے میرے اچھے مراسم تھے۔ میں انٹرنیشنل کورٹ جاتا تھا کیس کرنے کے لئے پاکستان کی طرف سے پہلے ہمارا انڈیا سے جھگڑا تھا۔ ہمارے جہاز ایسٹ پاکستان جارہے تھے۔ اور فلائٹس ، انڈین علاقے میں نہیں جاسکتے تھے۔ ان کا جھگڑا تھا۔ بھٹو صاحب نے مجھے بھیجا۔ حالانکہ لاء سیکرٹری وغیرہ چاہتے تھے کہ کوئی اور وکیل جائے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اٹارنی جنرل جائے گا ، ہم گئے انٹرنیشنل کورٹ میں ، ہمارے حق میں فیصلہ ہوا۔
س ...... چوہدری صاحب نے ۱۹۷۳ء کے آئین پر نظر ثانی کی تھی؟
ج ...... حفیظ پیرزادہ لاء منسٹر تھے اور بحیثیت لاء منسٹر وہ کانسٹیٹیوشن ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ میں اس کمیٹی کا ممبر تھا۔ شاہ احمد نورانی تھے اور بھی تھے۔ میں کیسز وغیرہ میں لگا رہتا تھا۔ کبھی انٹرنیشنل کورٹ میں ایک کیس کرو کبھی دوسرا کیس کرو۔ کبھی ہائیکورٹ میں ، کبھی سپریم کورٹ میں تو میں باقاعدگی کے ساتھ ڈرافٹنگ کمیٹی میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ مسودہ تیار ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی زبان میں کچھ تشنگی ہے۔ ہمارے پاس کوئی ڈرافٹس مین نہیں تھا۔ پہلے کانسٹیٹیوشن بنا تھا ، ۱۹۵۶ء میں ۔ اس سے پہلے ڈریٹن (Drayton) کو رکھا تھا۔ ایکسپرٹ ، بڑا مشہور تھا۔ ڈرافٹس مین تھا۔ آسٹریلیاء کا تھا یا کہاں کا تھا ، وہ مشورہ دیتا تھا ، پھر جینکن بڑے مشہور تھے۔ انہوں نے سری لنکا کا بھی آئین بنایا تھا ، پھر وہ ایڈوائزر بنے ، وہ زبان کو پالش کرتے تھے۔
س ...... ان دونوں کی خدمات ۱۹۵۶ء کے آئین کے لئے حاصل کی گئیں؟
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ج...... خواجہ صاحب (خواجہ ناظم الدین) کا ۱۹۵۴ء کا آئین جو بن نہیں سکا تھا۔
س...... نافذ نہیں ہوسکا تھا؟
ج...... تب ڈرافٹمین تھے، جینکن ایڈوائزر تھے۔ ۱۹۵۶ء میں جہاں تک مجھے یاد ہے۔
س...... آپ نے دیکھا کہ ۱۹۷۳ء کے آئینی مسودے کی زبان میں کچھ تشنگی ہے؟
ج...... میں نے کہا کہ اس میں زبان کو پالش کرنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں، کیا کریں۔ میں نے (بھٹو صاحب سے) کہا ظفر اللہ خان اچھے ایکسپرٹ ہیں۔ ان کی زبان اچھی ہے۔ ان کا تجربہ بھی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں جاکے انہیں دکھا دیتا ہوں کہ وہ ٹھیک کریں، تبدیل کریں یا مشورہ دیں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ وہ اس وقت انٹرنیشنل کورٹ چھوڑ چکے تھے۔ میں گیا، میں ان سے ملا۔ انہوں نے دیکھا اس کو، پھر ہم اکٹھے بیٹھے ایک دن، تین نشستیں کیں ہم نے، انہوں نے کچھ تجویزیں بھی دیں وہ ٹھیک تھیں۔ ٹھیک ہے میں ان کے پاس (لندن) گیا تھا۔
س...... آئین میں کسی خاص تبدیلی کے لئے نہیں؟
ج...... پالیسی کی بات نہیں تھی۔ صرف زبان کی درستگی کے لئے۔
س...... تاکہ زبان کانسٹیٹیوشنل ہو جائے؟
ج...... زبان کانسٹیٹیوشن ہو جائے۔
س...... ان کی تجاویز کیا تھیں؟
ج...... تجاویز نہیں تھی لکھا ہوا تھا: غیرمسلم ۔ قادیانی ہیڈ آف دی سٹیٹ نہیں بن سکتا۔ پرائم منسٹر نہیں بن سکتا۔ یہ ہم نے شامل کیا تھا اس میں ۔ یہ میری تجویز تھی ، ڈرافٹنگ کمیٹی کی میٹنگ تھی ، بھٹو صاحب پریزائیڈ کر رہے تھے۔ کہنے لگے، گڑ بڑ ہو گئی ہے ۔ یہ فیصلہ تو ہو چکا تھا کہ پریذیڈنٹ مسلمان ہوگا۔ اس وقت پریذیڈنٹ کی بات ہو رہی تھی۔ کیونکہ اس وقت صدارتی تھا، وہ کہہ رہے تھے، نورانی صاحب ، مفتی صاحب کہ مسلمان کی تعریف بھی تو کروانا۔ کل کو کوئی قادیانی بیٹھ جائے گا۔ ہیڈ آف دی سٹیٹ ہو جائے گا تو اس میں گڑ بڑ ہو گئی کہ کیا تعریف ہو؟ قیوم خان مخالفت کر رہے تھے ۔ جے ۔ اے رحیم مخالفت کر رہے تھے ۔ بھٹو صاحب مجھے کہنے لگے کہ پھنسے ہوئے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ میں نے کہا: ایک آدمی ہے جس کا سارا مسئلہ ہے۔ آپ کانسٹیٹیوشن میں ڈیکلریشن ڈال رہے ہیں۔ اس کے بجائے اس کی قسم میں ڈال دیں۔ وہ جو حلف اٹھاتا ہے اس میں ڈال دیں کہ میں مسلمان ہوں۔ وغیرہ ! سب ایگری کر گئے کہ ٹھیک ہے ۔ یہ میں نے تجویز دی تھی ۔ اس کے بعد یہ کر دیا گیا کہ (صدر) مسلمان ہوگا۔ ختم نبوت پر اس کا عقیدہ ہوگا یہ اور وہ ، پرائم منسٹر کا رکھ دیا بعد میں ۔
س...... چوہدری صاحب نے اس پر کیا کہا؟
ج...... چوہدری صاحب نے دیکھا اس کو ۔ کہتے ہیں یار تم کیا باتیں کرتے ہو۔ میں اس کے باوجود قسم لے سکتا ہوں ، مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں قسم کے لئے تیار ہوں ۔ ہم تو نہیں کہتے کہ آنحضرت (ﷺ) خاتم النبیین نہیں تھے ، ہم تو مانتے ہیں۔ وہ (مرزائی) تو اور ”Twist“ (معنی) دیتے ہیں نا اس کو ۔
س...... کوئی خاص تجاویز نہیں دیں؟
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ج...... زبان کی بات تھی، ٹیکنیکل بات تھی، تیار ہو چکا تھا، صرف اس کو پالش کرنا تھا۔
س...... مشہور ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دلوانے میں شاہ فیصل کا بھی دباؤ تھا؟
ج...... مجھے نہیں پتہ۔
س...... اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں بھٹو صاحب کے حوالے سے چوہدری صاحب راوی ہیں۔ ’’...... یوں تو انہوں نے حضرت صاحب کو ایک دفعہ ملاقات کے لئے بلایا اور باتوں کے دوران ادھر ادھر دیکھا اور کہا کہ یہاں قرآن کریم نہیں ورنہ میں قرآن کریم ہاتھ میں لے کر قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں آپ کو مسلمان ہی سمجھتا ہوں۔‘‘ (بحوالہ: ’’سیاسی اتار چڑھاؤ‘‘)
ج...... ویسے بھٹو صاحب نہیں چاہتے تھے۔
س...... بھٹو صاحب مرزائیوں کو اقلیت قرار دینا نہیں چاہتے تھے؟
ج...... نہیں۔
س...... پھر کیوں اقلیت قرار دے دیا؟
ج...... انہوں (قادیانیوں) نے کہا تھا کہ پہلے ہماری بات سنیں، ہمیں موقع دیں، پھر یہ ہوا کہ مولوی سوال پوچھیں گے تو بے عزتی کریں گے۔ جے ۔ اے رحیم نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے ذریعے سوال پوچھیں، یہ فیصلہ ہوا۔ میں نے مرزا ناصر احمد پر جرح کی۔ جرح ختم ہوئی، میں اسمبلی میں اختتامی تقریر کر رہا تھا جو کچھ ہوا تھا اس کا خلاصہ بتا رہا تھا ہاؤس کو کہ کس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ صاحبزادہ فاروق علی خان سپیکر تھے، دو دفعہ میرے پاس چٹ آئی کہ پرائم منسٹر بلا رہے ہیں۔ وہ راولپنڈی میں تھے، میں اسلام آباد میں تھا۔ بھاگا وہاں گیا، کوثر نیازی بیٹھا تھا، مصطفیٰ صادق بیٹھا تھا، بیگم بھٹو بیٹھی تھیں، بیگم بھٹو نے کہا کہ آج آپ انہیں اقلیت قرار دے رہے ہیں۔ کل آپ شیعہ کو بھی بنائیں گے، یہ تو پھر سلسلہ چلتا ہی رہے گا، یہ کیا ہو رہا ہے، بھٹو صاحب کہتے ہیں، میری بیوی ناراض ہے، انہیں (مرزائیوں کو) چھوڑ دیں۔ میں نے کہا: میں کیسے چھوڑوں۔ آپ نے مجھے پھنسایا۔ میں تو نہیں بنانا چاہتا ان کو مینارٹی۔ آپ ہی نے میرے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ آپ ہی ان سے سوال پوچھیں۔ اب پوزیشن یہ ہے کہ کوئی بھی ہو ان کو اقلیت قرار دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ مرزا صاحب (مرزا ناصر احمد) نے بات ہی ایسی کہہ دی ہے۔ بھٹو صاحب کہنے لگے مرزا صاحب کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کیا بات ہوئی۔ مرزا (ناصر) صاحب نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا: کیا غلطی ہوئی آپ سے؟ کہنے لگے: میں کوئی بات کہہ چکا ہوں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں اسے (اٹارنی جنرل کو) کہہ دیتا ہوں کہ پھر پوچھ لے، کہنے لگے نہیں میں نہیں کر سکتا۔ میں نے پوچھا: کیوں نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں: میرے عقیدے کی بات ہے۔
س...... کیا غلطی ہو گئی ان سے؟
ج...... انہوں نے خطبے میں کہا تھا کہ اگر میں کہوں کہ میں مسلمان ہوں تو مولانا مودودی، مفتی محمود یا بھٹو کو یہ حق نہیں پہنچتا کہیں کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ انہوں نے اس کی کاپیاں انگریزی میں ٹرانسلیٹ کر کے دی تھیں آگے، میں نے کہا: آپ نے یہ بات کہی ہے۔ کہتے ہیں: ہاں! میں نے یہ بات کہی ہے۔ غلط کہی ہے؟ میں نے کہا نہیں بالکل ٹھیک کہتے ہیں آپ۔ اگر آپ کہیں کہ بھٹو صاحب، مفتی محمود اور مولانا مودودی مسلمان نہیں ہیں تو ان کو بھی حق ہے کہ کہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ کہتے ہیں ہاں! میں نے کہا: میں آپ کی بات کر رہا ہوں۔ سوچ میں پڑ گئے۔ کہنے لگے: ہاں! میں نے کہا: سوری (Sorry) یہ بات آپ نے کہی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ مرزا بشیر احمد جو کہ آپ کے، مرزا ناصر احمد کے چچا ہیں اور مرزا بشیر الدین محمود جو تھے نا، آپ کے چھوٹے بھائی، ایم۔ ایم احمد کے والد، انہوں نے یہ کتاب لکھی ہے کہ: ”جو موسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے وہ محمد (ﷺ) کو نہیں مانتا۔ جو محمد (ﷺ) کو مانتا ہے، مسیح موعود کو نہیں مانتا جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ کافر ہے، پکا کافر ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص۱۱۰)
میں نے کہا: آپ اس کو تسلیم کرتے ہیں؟ کہتے ہیں: ہاں! میں نے کہا: میں نہیں مانتا۔ مفتی محمود نہیں مانتے کہ نبی ہیں مرزا صاحب۔ مولانا مودودی، مفتی محمود اور بھٹو آپ کے پوائنٹ آف ویو سے سب کافر ہو گئے۔ اگر وہ کافر ہیں تو آپ انہیں کافر کہتے ہیں یا مسلمان کہیں گے۔ پھنس گئے، کہنے لگے، ہاں! میں نے کہا: دائرہ اسلام ہے۔ اس سے باہر کون ہے؟ اندر کون ہے؟ حقیقی مسلمان کی انہوں نے تعریف کی تھی۔ گیارہ بارہ صفحات کی کہ کیا ہے حقیقی مسلمان۔ میں نے کہا: حقیقی مسلمان آپ کے نزدیک یہ ہے۔ آج کل حقیقی مسلمان نہیں ہے آپ کے زمانے میں؟ آنحضرت ﷺ کے بعد کتنے گزرے؟ کہنے لگے بہت، بہت ہیں۔ میں نے کہا: کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، دس ہیں، سو ہیں، ہزار ہیں، لاکھ ہیں، کہتے ہیں لاکھوں ہیں۔ میں نے پوچھا آج کل بھی ہیں؟ کہا: آج کل بھی ہیں۔ میں نے پوچھا غیر احمدی بھی ہیں، کہتے ہیں، نہیں۔ حقیقی مسلمان میں غیر احمدی نہیں ہو سکتا۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے بھٹو صاحب سے کہا تھا کہ غلطی ہو گئی۔ میں نے کہا غلطی ہوئی پھر یہ نہ کہیں کہ ہم مسلمان نہیں ہیں، بات ختم کریں۔ جب آپ چاہتے ہیں کہ میں مسلمان نہیں ہوں، غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں بن سکتا تو پھر یہ کیسے توقع رکھتے ہیں۔ عزیز احمد جیسے بلکہ شیخ رشید جیسے بیٹھے تھے، وہ چاہتے تھے کہ انہیں غیر مسلم نہ بنایا جائے۔ کہنے لگے: یہ تو خود ہی اس طرف چلے گئے۔ بھٹو صاحب نہیں چاہتے تھے، میں نہیں چاہتا تھا، کوئی نہیں چاہتا تھا، لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہو سکتا، وہ تو انہوں نے بین کر دی ورنہ آپ ساری کارروائی پڑھ لیں۔ بڑی دلچسپ ہے۔ گیارہ دن میں نے ان پر جرح کی ہے۔
س...... اسمبلی میں؟
ج...... اسمبلی میں، ساری اسمبلی کی کمیٹی بنادی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں، ماریں گے، کچھ کریں گے، میں نے ان پر سوالات کئے تھے گیارہ دن۔
س...... چوہدری ظفر اللہ خان نے مجھے بتایا تھا کہ انہیں صاحبزادہ فاروق علی خان نے کہا کہ اگر وہ کارروائی شائع کر دی جائے تو آدھا پاکستان احمدی ہو جائے؟
ج...... سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جی، ماریں گے لوگ انہیں۔
س...... اچھا؟
ج...... ہاں۔
س...... پھر صاحبزادہ صاحب نے یونہی کہہ دیا ہوگا، یا پھر چوہدری صاحب کو بات سمجھنے میں غلطی لگی ہوگی؟
ج...... چھاپ لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے، اگر ان کی رضا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
س...... وہ رپورٹ ان کے خلاف جاتی ہے؟
ج...... ان کے خلاف جاتی ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... مرزائیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد آپ کی چوہدری ظفر اللہ خان سے ملاقات ہوئی؟
ج...... چوہدری صاحب مجھ سے اکثر ملتے تھے۔ میں ان سے ملتا تھا، مہربان تھے اور اچھی بات چیت ہوتی تھی، لیکن اس کے بعد وہ کچھ کھچے کھچے سے رہے۔ جاوید اقبال نے ایک دن لنچ دیا تھا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال، وہ اس وقت جج تھے ہائیکورٹ میں یا چیف جسٹس تھے، مجھے یاد نہیں، چوہدری صاحب کو ہمیشہ دعوت دیتے تھے۔ پہلے بھی ایک دو دفعہ میں گیا تھا۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد جب گیا تو چوہدری صاحب کھچے کھچے سے تھے، حالانکہ وہ مجھ سے بات کرتے تو میں ان کو بتاتا کہ قصور آپ کے مرزا صاحب کا ہے۔ میرا کیا ہے، میں ان کو صاف صاف بتاتا کہ صاحبزادہ فاروق علی سے کیا بات کی، مجھ سے کیا بات ہوئی۔
س...... اس کے بعد چوہدری صاحب کے ساتھ تعلقات میں پہلے والی گرم جوشی رہی؟
ج...... بعد میں پھر مجھ سے ملے تھے۔ ٹھیک تھے ویسے، وہ پہلے والی دوستی تھی نا ہماری وہ نہیں رہی۔
(آتش فشاں، مئی ۱۹۹۴ء)
نوٹ: وہ قومی اسمبلی کی کارروائی حکومت نے سرکاری طرف سے شائع کر دی ہے، جسے مجلس تحفظ ختم نبوت نے ری پرنٹ کر کے بار ہا دفعہ شائع کیا۔ اب بھی وہ مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان سے ملتی ہے۔ پانچ جلدوں میں ہے۔ (مرتب)
بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو کیسے غیر مسلم قرار دیا
جناب مصطفیٰ صادق ایڈیٹر روزنامہ وفاق
تحریک ختم نبوت، ایسی عظیم الشان کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کی مثال تحریک پاکستان اور تحریک نظام مصطفیٰ کے سوا ماضی کی تاریخ میں مشکل ہی سے ملے گی۔ اس تحریک میں نمایاں کردار بلاشبہ عام مسلمانوں اور مختلف مذہبی فرقوں کے نمائندہ اور سرکردہ علماء ہی کا تھا، لیکن دینی مزاج رکھنے والے ایسے سیاسی زعماء بھی اس تحریک کے ہراول دستے میں شامل تھے، جن کی فہم و فراست، سیاسی بصیرت اور مسئلہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت ان کے امتیازی وصف کی حیثیت رکھتی تھی۔
علماء اور نوابزادہ نصر اللہ خان
علماء کرام کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان میں سے چیدہ چیدہ شخصیات کا ذکر بھی کیا جائے تو ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچے گی، البتہ سیاسی زعماء میں نوابزادہ نصر اللہ خان کا نام کسی تکلف کے بغیر سرفہرست شمار کیا جاسکتا ہے، بالخصوص اس وجہ سے کہ اس تحریک میں انہوں نے پوری تندہی اور گرم جوشی سے حصہ لیا۔ عام سیاستدانوں کی علماء سے اس نوعیت کی ذہنی مناسبت بھی نہیں رہی، جس کا مظاہرہ نوابزادہ صاحب کے کردار میں ...... مسلسل دیکھنے میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی اس رائے کے اظہار میں بھی کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ تحریک ختم نبوت بلاشبہ مذہبی تحریک تھی، لیکن اس کی کامیابی سے چونکہ اس وقت کی حکمران پارٹی ...... جو فی الحقیقت مسٹر بھٹو کا ہی دوسرا نام تھا ...... کی شکست کے نتیجے میں مسٹر بھٹو کا سیاسی زوال بھی مقدر سمجھا جاتا تھا، اس لئے اس ذہنی پس منظر کے باعث نوابزادہ نصر اللہ خان اور ان کے ہم مسلک دوسرے سیاسی رہنما تحریک ختم نبوت کی کامیابی سے اور بھی زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اس سے بھی زیادہ اہمیت اس امر کو دی جا رہی تھی کہ تحریک ختم نبوت کی ناکامی بھٹو کی آمریت کو اور بھی زیادہ مستحکم بنانے کا سبب بن سکتی تھی۔ اس اندیشے نے دینی اور سیاسی رہنماؤں کو نہ صرف پوری طرح متحد رکھا تھا، بلکہ حصول مقصد کے لئے ہمہ تن مستعد بھی رکھتا تھا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جوں جوں طول پکڑتی جاتی تھی، اس کی اثر انگیزی اور اس کی شدت وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی تھی لیکن اس کے باوجود قائدین تحریک، تحریک کی طوالت کے باعث بالعموم اس اندیشے کا اظہار کیا کرتے تھے کہ تحریک تشدد کی ایسی حدود میں داخل نہ ہو جائے کہ امن عامہ درہم برہم ہو کر رہ جائے اور دوسرے یہ کہ عامۃ المسلمین روزمرہ معمولات کے تعطل اور کاروباری بحران کے باعث ایسے مسائل و مصائب سے دوچار ہو کر مایوس اور بد دل نہ ہو جائیں، جس کے نتیجے میں تحریک کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑے اور مسٹر بھٹو کی آمریت، کامیابی کے زعم میں، بدترین فاشزم کا روپ نہ دھار لے۔ ادھر مسٹر بھٹو نے تاخیری حربے کے طور پر یا یوں سمجھئے کہ ختم نبوت کے عوامی مطالبے کو جلسوں اور جلوسوں کی شکل میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے قومی اسمبلی میں ایک مباحثے کا آغاز کرا رکھا تھا، جس میں قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا۔
بائیکاٹ کی مہم
تحریک ہر لحاظ سے شدومد کے ساتھ جاری تھی۔ اسی دوران میں قائدین تحریک نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ اس مہم کے باعث فی الواقع تحریک تحفظ ختم نبوت کا مہینوں کا سفر دنوں میں طے ہونے لگا اور مخالفین کے چھکے چھڑا دیئے اور ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، تاہم علماء اور زعماء بائیکاٹ کی مہم کو بھی پرامن رکھنے کے لئے بھر پور جدوجہد کرتے رہے، بعض مقامات سے معمولی نوعیت کے جھگڑوں کی اِکا دُکا وارداتوں کی اطلاعات تو ضرور ملتی رہیں، لیکن بحیثیت مجموعی بائیکاٹ کی مہم بھی پرامن ہی رہی۔ اس مہم نے ایک تو مسٹر بھٹو کو سرکاری سطح پر جوابی کارروائی کے لئے مجبور کر دیا اور دوسرے وہ ذاتی طور پر اس حد تک آتش زیر پا ہوئے کہ بات بات پر بگڑتے اور بے قابو ہو جاتے۔
وزارت اطلاعات کی جوابی مہم
غیظ و غضب کے اسی عالم میں وزارت اطلاعات کو قادیانیوں کے بائیکاٹ کے خلاف جوابی مہم چلانے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ چنانچہ چند دنوں کے لئے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ایسے بیانات اور مذاکرے نشر اور ٹیلی کاسٹ کئے گئے، جن سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بائیکاٹ کی یہ مہم اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اسی طرح اخبارات میں گھڑے گھڑائے بیانات شائع کرانے کا اہتمام بھی کیا گیا اور بعض مذہبی شخصیتوں کو نیشنل سنٹروں میں تقریروں اور خطبات جمعہ کے ذریعے بائیکاٹ کی اس مہم کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان تمام کوششوں کے اثرات تحریک ہی کے حق میں مفید ثابت ہوئے اور نہ صرف حکمران پارٹی کی ذلت و رسوائی میں اضافہ ہوا، بلکہ جس کسی نے بائیکاٹ کی اس مہم کے خلاف ریڈیو، ٹی وی، اخباری بیان کسی جلسے میں تقریر یا خطبہ جمعہ کے ذریعے بائیکاٹ کی اس مہم کے خلاف لب کشائی کی، اسے یا تو اپنے مؤقف سے دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا اور یا پھر اس کے لئے عام مسلمانوں سے معذرت خواہی کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ تحریک کے رہنماؤں اور ہمنواؤں کا پلہ چونکہ بہت بھاری تھا اور اپنے مؤقف کی صداقت پر یقین بھی ان کا انتہائی اہم سرمایہ تھا۔ اس لئے نہ تو ان کے عزائم میں کسی فوری کمزوری کا اندیشہ تھا اور نہ ان کی بصیرت عدم توازن اور بے اعتدالی کی زد میں آ سکتی تھی، لیکن مخالفین تحریک ہر مرحلے پر اس بری طرح پسپائی کا شکار ہو رہے تھے کہ ان کے قویٰ مضمحل اور جذبات مشتعل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر حکمران پارٹی کے وابستگان ایسے نفرت انگیز اور حقارت آمیز بیانات پر اتر آئے جن سے عوام میں بے چینی اور بے قراری تیزی سے بڑھنے لگی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نازک ترین لمحات
یہی وہ وقت تھا، جو قائدین تحریک اور اس کے مخالفین کے درمیان اعصابی جنگ کے نازک ترین لمحات کی حیثیت رکھتا تھا، چنانچہ نوابزادہ نصر اللہ خان نے یہ منصوبہ پیش کیا کہ قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری فیصلے کے اعلان کے لئے کسی تاریخ کا تعین کر لیا جائے تاکہ ایک تو تحریک ختم نبوت کی شدت و وسعت بحال رکھی جا سکے اور دوسرے تاریخ کے اعلان کے بعد مسٹر بھٹو کسی نہ کسی فیصلے کے اعلان پر مجبور ہو جائیں گے، جو نوابزادہ نصر اللہ خان کے نزدیک عوامی مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا اور یہ کہ اس طرح مسٹر بھٹو کے لئے فرار کا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا۔ نوابزادہ صاحب کے اس منصوبے کے پس منظر میں عوامی مطالبے کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کی شدید خواہش کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی شامل تھی کہ امن و امان کو گزند نہ پہنچنے پائے جن دنوں نوابزادہ صاحب کا یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچنے کے لئے غور و فکر کیا جا رہا تھا۔ مسٹر بھٹو سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں کوئٹہ میں مقیم تھے۔
کوئٹہ میں بھٹو سے ملاقات
کوئٹہ کے لئے روانگی سے قبل ٹیلی فون پر ملٹری سیکرٹری کے ذریعے، میں مسٹر بھٹو سے ملاقات کی منظوری حاصل کر چکا تھا۔ کوئٹہ پہنچتے ہی ملٹری سیکرٹری سے رابطہ قائم کر لیا گیا جس کے بعد مجھے مسٹر بھٹو سے ملاقات کے لئے گورنر ہاؤس بلا لیا گیا۔ یہ ملاقات مقررہ وقت سے، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کم و بیش ڈیڑھ دو گھنٹے تاخیر سے ہوئی۔
اعتماد کا ووٹ
میں نے اپنی گفتگو کا آغاز مسٹر بھٹو سے اپنی ذات اور اپنی رائے پر اعتماد کا ووٹ طلب کرنے سے کیا۔ مسٹر بھٹو اگرچہ بے حد سنجیدہ اور غور و فکر کی عمیق گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے، انہیں اس وقت بلوچستان کے مسائل نے پریشان کر رکھا تھا، لیکن انہوں نے بڑے ہی شگفتہ انداز میں اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”مجھے آپ پر سو فیصدی اعتماد ہے، اعتماد کہتے ہی اس کو ہیں، جو سو فیصد ہو، اس میں ایک فیصد بھی کمی آ جائے تو اسے اعتماد نہیں کہا جا سکتا۔“ آخری جملہ انہوں نے انگریزی میں ان الفاظ میں کہا:
"If it is one percent less its is no confidence."
اہم واقعات (رندھاوا، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا محمد بخش مسلم، راولپنڈی کے عالم دین)
اب میں نے صورتحال کی سنگینی واضح کرنے کے لئے پہلے تو یہ کہا: صورتحال اس تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے کہ میں نے لاہور میں انتظار کئے بغیر ہنگامی طور پر اس حقیقت کے باوجود کوئٹہ میں اس ملاقات کی ضرورت محسوس کی ہے تا کہ حالات کے غلط رخ اختیار کر جانے سے قبل ہی اہم اور ضروری اقدامات کئے جاسکیں۔ اس کے بعد چند اہم واقعات کا ذکر کیا۔ ایک کا تعلق قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے فیصل آباد سے ایک رکن مسٹر رندھاوا کے بیان سے تھا، جو اخبارات میں شائع ہو چکا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اخبارات میں مجھ سے منسوب ایک بیان شائع کیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ میں نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مخالفت کی ہے، میں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر رندھاوا نے اپنے ہاتھ میں ایک تار پکڑ کر فضا میں لہرایا اور کہا کہ مجھ سے منسوب اس غلط بیان کے شائع ہونے پر میرے والد گرامی نے اس تار کے ذریعے میری سرزنش کی ہے کہ یہ تم نے کیا بیان دے دیا۔ اس طرح مسٹر رندھاوا نے اسمبلی کے بھرے اجلاس میں اس بیان سے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ دوسرا واقعہ صاحبزادہ فیض الحسن کی تقریر سے متعلق تھا۔ جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بائیکاٹ کے بارے میں کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا، جو حاضرین جلسہ کو سخت ناگوار گزرے۔ جس کے سبب صاحبزادہ صاحب کو تقریر ختم کرنا پڑی اور بڑی مشکل سے صفائی پیش کر کے حاضرین جلسہ کے گھیراؤ سے نجات حاصل کی۔ تیسرا واقعہ لاہور کے نیشنل سنٹر میں مولانا محمد بخش مسلم کی تقریر سے متعلق تھا۔ اس تقریر کے بارے میں بھی خود مولانا مسلم صاحب ہی نے اگلے دن اخبارات کے ذریعے اس امر کی تردید کی۔ انہوں نے بائیکاٹ کے خلاف مؤقف اختیار کیا تھا ، چوتھا واقعہ بھی اسی نوعیت کا حامل تھا جو راولپنڈی کے ایک عالم دین کے ساتھ پیش آیا۔
بھٹو کا ردعمل
ان چاروں واقعات سے متعلق اخبارات میں شائع شدہ مواد سند اور ثبوت کے طور پر، میں اپنے ہمراہ لے گیا تھا اور مسٹر بھٹو سے ملاقات کے دوران میں یہ اخبارات میرے ہاتھ میں تھے، جن کا میں نے ذکر بھی کیا، لیکن مسٹر بھٹو نے ان اخبارات کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسی طرح ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے وزارت اطلاعات کی ”بھر پور“ مساعی کے نتیجے میں انتہائی غیر مؤثر کوششوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ بائیکاٹ کی مہم آپ کے یا بعض دوسرے لوگوں کے نزدیک کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو، اس وقت عوام میں قادیانیوں کے خلاف غصے کا جو طوفان اٹھ چکا ہے، اس کے نتیجے میں آپ کی یہ مہم صرف یہی تاثر دے رہی ہے کہ آپ قادیانیوں سے ہمدردی اور ہمنوائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مسٹر بھٹو نے بائیکاٹ کے اس مسئلے پر شدید خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی ہی نہیں ، غیر انسانی بھی قرار دیا اور کہا کہ یہ سراسر ایک انتظامی مسئلہ ہے اور یہ کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔ مسٹر بھٹو نے بعض ایسے واقعات کا ذکر انتہائی غضب آلود لہجے میں کیا۔ مسٹر بھٹو نے کہا کہ یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔
میں نے مسٹر بھٹو کے بیان کردہ ان واقعات کی صحت و عدم صحت پر بحث کرنے کے بجائے ان پر صرف یہی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی کہ غیر یقینی کی اس کیفیت میں عام لوگوں کی بے چینی اور بیزاری بڑھ تو سکتی ہے، کم نہیں ہوسکتی اور یہ ٹی.وی، ریڈیو، اخباری بیانات اور مختلف لوگوں کی تقریروں کے ذریعے قادیانیوں کے بائیکاٹ کی مہم کو ناکام بنانے یا ختم کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے وہ جلتی پر تیل کا کام دے رہی ہے۔ قادیانیوں ہی کے نہیں، تحریک کے مخالفین کے خلاف بھی عوامی نفرت کا طوفان آخری حدود کو چھو رہا ہے۔ اسے حدود میں رکھنے کے لئے اور صورتحال بے قابو ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ جلد از جلد کسی ایسی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے جو آپ کی طرف سے اس مسئلے پر آخری فیصلے کے اعلان کی تاریخ ہو۔ صرف اسی طرح صورتحال قابو میں رکھی جاسکتی ہے۔ میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بائیکاٹ کے خلاف سرکاری اہتمام میں، جس جس محاذ سے جو جو کوشش بھی کی جارہی ہے اسے فوری طور پر ختم کر دیا جائے۔ مولانا انصاری اور بعض دوسرے ارکان اسمبلی سے اپنی گفتگو اور صلاح مشورے کی روشنی میں، میں نے مسٹر بھٹو کو یہ بھی بتایا کہ مرزا ناصر قومی اسمبلی میں اپنے مؤقف کی وضاحت اور ارکان اسمبلی کے سوالوں کے جوابات ۳۱؍ اگست تک ختم کرلیں گے۔ اس کے چند روز بعد آپ آسانی کے ساتھ آخری فیصلہ کر سکتے ہیں۔
کامیابی کی علامت
بعض دوسرے مسائل بھی اس ملاقات میں زیر غور آئے، جن پر گفتگو کے لئے مسٹر بھٹو نے اے ڈی سی کے ذریعے اپنے سیکرٹری مسٹر افضل سعید خان کو طلب کر لیا اور مجھ سے بھی کہا کہ مسٹر افضل سعید خان ریسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس جائیں اور یہ باتیں
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہیں بھی بتائیں اور یہ تو ان سے ابھی کہہ دیں کہ یہ ریڈیو، ٹی.وی پر جو کچھ ہو رہا ہے اسے فوراً ختم کرا دیں۔ مسٹر افضل سعید خان کے نام مسٹر بھٹو کے پیغام کو میں اپنی مہم کی کامیابی کی ایک واضح علامت سمجھتا تھا۔ مسٹر بھٹو کا پیغام لے کر مسٹر افضل سعید خان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری اور وزیر اعظم کی باہمی گفتگو کے بعض نکات ان کے علم میں لائے جاچکے ہیں۔ مسٹر افضل سعید خان کے کمرے میں داخل ہوا تو ان کا اردلی مسٹر دین محمد دوپہر کا کھانا لگانے میں مصروف تھا۔ مسٹر افضل سعید خان نے مجھے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا اور حیرت و استعجاب کے عالم میں پوچھا۔ ’’کیا کر آئے ہو؟‘‘ آج ان لمحات کی یاد تازہ کرتا ہوں اور اس فضاء کے نقوش ابھر کر ذہن میں آتے ہیں تو سوچتا ہوں کہ کتنا ہولناک اور خطرات سے لبریز سماں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حقیقت بیانی اور صاف گوئی کی دولت بے پایاں سے اس حد تک نوازا کہ کسی بھی خوف اور خدشے سے بے نیاز ہو کر ہر وہ بات اس دور کی ہمہ مقتدر شخصیت ...... مسٹر بھٹو ...... تک پہنچا دی جو بلاشبہ ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفاد میں تھی، جو تقاضائے ایمان کی آئینہ دار تھی اور جو امن عامہ کے تحفظ کی ضمانت ثابت ہو سکتی تھی اور یہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے لئے بھی خیر کا پہلو انہی مشوروں پر عمل درآمد میں تھا۔
واپسی کا سفر
مسٹر افضل سعید خان کے ساتھ طعام و کلام سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آیا تو اپنے رفیق سفر مسٹر الطاف حسین قریشی کو انتہائی شدید قسم کی تکلیف میں مبتلا پایا۔ ان پر ضعف اور نقاہت کا شدید غلبہ تھا، چلنا پھرنا تو درکنار گفتگو تک کی سکت سے بھی محروم دکھائی دے رہے تھے۔ ایک طرف اپنی مہم کی کامیابی کی بے پناہ خوشی اور دوسری طرف یہ بے کیفی اور پردیس کا معاملہ بھی شاق گزر رہا تھا۔ ہوائی جہاز کے پہلے سفر کا خوف بھی مسلط تھا اور اس پر الطاف حسین قریشی کی علالت، چنانچہ بذریعہ ریل واپسی کا فیصلہ ہوا۔ الطاف صاحب کو اسہال کی شدید تکلیف تھی۔ لاہور پہنچنے سے پہلے ہی ریڈیو کے ذریعے یہ خبر ہم سن چکے تھے کہ وزیر اعظم مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے پر آخری فیصلے کے لئے تاریخ مقرر کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ لاہور پہنچنے کے ایک دن بعد ۷؍ ستمبر کی تاریخ کا تاریخی اعلان بھی سننے کی سعادت حاصل ہو گئی۔ تاریخ کے اس تعین سے قادیانی مسئلے کے حل کی منزل قریب آنے کا یقین پہلے سے بھی پختہ ہو گیا۔ جسے بعد کے مراحل میں نصرت الٰہی نے سچ کر دکھایا۔ فالحمد للہ علی ذالک!
عجیب و غریب اتفاق
اسے عجیب و غریب اتفاق ہی تصور کرنا چاہئے کہ میں ۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو گورنمنٹ ہاسٹل (جسے ایم. این. اے ہاسٹل بھی کہا جاتا ہے) کے ایک کمرے میں مقیم تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا۔ دوسری طرف جانی پہچانی آواز مذہبی امور کے سابق وزیر جناب کوثر نیازی کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر شہزاد کی تھی۔ مسٹر شہزاد نے پوچھا: مولانا صاحب ہیں؟ میں نے جواباً معلوم کیا، کون سے مولانا صاحب کی تلاش ہے؟ مسٹر شہزاد نے میری آواز پہچان لی اور رسمی سلام دعا کے بعد کہا: ’’سر! مولانا یوسف بنوری صاحب کا آج رات مولانا صاحب (کوثر نیازی صاحب) کے یہاں کھانا ہے اور کل (۶؍ ستمبر کو) وزیر اعظم صاحب نے مولانا بنوری صاحب کو ملاقات کے لئے وقت دیا ہے۔‘‘ میں نے مسٹر شہزاد سے تو صرف اتنا کہا کہ میں مولانا بنوری صاحب کو تلاش کر کے ان تک آپ کا پیغام پہنچا دوں گا، لیکن میرے لئے یہ معلومات اس اعتبار سے پریشانی کا موجب تھیں کہ اس مرحلے پر مولانا یوسف بنوری صاحب سے اعلیٰ سرکاری سطح پر رابطہ تحریک کے مقاصد کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ اس لئے کہ مسٹر بھٹو ۷؍ ستمبر کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں سے متعلق اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والے تھے اور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ٧٣١ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہی دنوں مولانا یوسف بنوری کے خلاف بے سروپا اور بے بنیاد الزامات پر مبنی اشتہارات بھی بعض اخبارات میں شائع کرائے گئے تھے، جو اگرچہ کسی نام نہاد انجمن کی طرف سے جاری کئے گئے تھے، لیکن عام احساس یہی تھا کہ یہ کھیل سرکاری اہتمام میں کھیلا جا رہا ہے۔ بعد میں یہ امر پایہ ثبوت کو بھی پہنچ گیا تھا۔
معلومات کا بوجھ
خیر تو میں نے معلومات کا ”بوجھ“ اٹھایا۔ مولانا مفتی محمود سے رابطہ قائم کیا، جو اسی گورنمنٹ ہاسٹل کے کمرہ نمبر ۴ میں اقامت پذیر تھے۔ اپنی معلومات انہیں منتقل کیں۔ انہوں نے مولانا یوسف بنوری کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے علماء کرام سے بھی رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن فوری طور پر صرف مولانا مفتی زین العابدین اور مولانا عبدالرحیم اشرف ہی دستیاب ہو سکے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولانا یوسف بنوری بھی تشریف لے آئے۔
ٹیپ کے انتظامات
ان چاروں بزرگوں کا اجتماع مولانا مفتی محمود کے کمرے میں نماز عصر کے بعد شروع ہونے والا تھا۔ باہمی مشورے کے بعد کمرے سے باہر ...... بلکہ کمرے کے عقب میں ...... نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس لئے کہ اس دور میں یہ احساس یا اندیشہ بہت عام تھا کہ ہر کمرے میں بلکہ ہر کمرے کے اندر، ہر ٹیلی فون کے ساتھ ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں، جو ہر گفتگو ٹیپ کرنے کے کام آتے ہیں۔ یہ اندیشے صرف گورنمنٹ ہاسٹل تک ہی محدود نہیں تھے، اس قسم کے ”انتظامات“ کا ذکر بعض وفاقی وزراء بھی اکثر کرتے رہتے تھے اور برسبیل تذکرہ یہ بھی عرض کردوں کہ وفاقی وزیر اطلاعات جناب کوثر نیازی عام گفتگو کے دوران ہمیشہ اہتمام کے ساتھ ریڈیو ”آن“ (ON) رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اسے بند کرنے کے لئے اصرار کیا گیا تو ہنستے ہوئے بولے۔ ریڈیو کے تمام پروگراموں سے باخبر رہنا چونکہ میری منصبی ذمہ داری ہے۔ اس لئے اس کا ”آن“ رہنا ہی ضروری ہے۔ لیکن جب بند کرنے کے لئے اصرار کیا گیا تو نیازی صاحب نے ”سرکاری“ راز فاش کر ہی دیا اور بولے: ”بھئی آپ کو معلوم نہیں، ہماری گفتگو اسی طرح محفوظ رہ سکتی ہے کہ اسے ریڈیو کی آواز کے ساتھ خلط ملط کر دیا جائے۔ اس لئے کہ ”سرکار“ نے ہر کمرے میں، ہر طرح کی گفتگو سے باخبر رہنے کا اہتمام کر رکھا ہے اور بڑے جدید آلات BUGGING کے لئے جگہ جگہ نصب کر رکھے ہیں“۔ خیر یہ بات تو ضمناً نوک قلم پر آگئی۔ مفتی صاحب کے کمرے کے عقب میں مختصر سی نشست میں ...... جس میں مولانا یوسف بنوری صاحب نے اس امر کی تصدیق کردی کہ رات کے کھانے پر انہیں کوثر نیازی صاحب نے مدعو کر رکھا ہے اور کل وزیر اعظم سے ملاقات کی ابھی کوئی توثیق نہیں ہوئی۔
اس مجلس میں میری حیثیت تو صرف ایک راوی کی تھی کہ میں نے دعوت اور ملاقات سے متعلق سنی سنائی بات ان حضرات تک پہنچا دی اور مجلس کے دوران میں خاموشی کے ساتھ گفتگو سنتا رہا۔ لیکن دل ہی دل میں، میں نے فیصلہ کر لیا کہ کل (۶؍ ستمبر کو) مسٹر بھٹو سے مولانا بنوری کی ملاقات منسوخ کرانے کی کوئی صورت نکالنا چاہئے۔ اپنی اس سوچ کا ذکر میں نے مولانا عبدالرحیم اشرف سے کر دیا۔ جنہوں نے میری تائید کی۔ چنانچہ میں نے رات ہی مسٹر بھٹو سے ان کے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ جس کے لئے اگلے دن (۶؍ ستمبر) ساڑھے نو بجے صبح کا وقت طے ہو گیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، مسٹر بھٹو سے میری جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے کوئی بھی ملاقات گیارہ بجے سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ پہلی ملاقات تھی، جو ساڑھے نو بجے ہونے والی تھی۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بے چینی کی رات، بے قراری کے لمحات
رات بھر طبیعت شدید بے چین رہی۔ قومی اسمبلی کے ارکان ہی نہیں، پوری قوم منتظر تھی کہ ۷؍ ستمبر کو قادیانیوں کے بارے میں کیا اعلان ہونے والا ہے۔ ملک بھر میں مسلح فوجی دستے گشت دے رہے تھے۔ فوج کا یہ گشت اتنا منظم اور اتنا وسیع تھا کہ ایام جنگ کے سوا اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت قیام پاکستان سے لے کر آج تک دیکھنے میں نہیں آئی۔ چنانچہ عام شاہراہوں پر ہی نہیں، تمام اہم قومی تنصیبات اور دور دراز قصبات تک فوجی افسر اور جوان تعینات کئے جاچکے تھے۔ سرکاری سطح پر اس قسم کے انتظامات کے باعث یہ اندیشہ بار بار سامنے آتا تھا کہ مسٹر بھٹو جس فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں، وہ عام مسلمانوں کے مطالبے سے مختلف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو امن عامہ بگڑنے کا خوف لاحق ہے، جس کے لئے فوج کو نہ صرف یہ کہ تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ ہر قسم کی صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لئے بھر پور قسم کی تیاریاں کی جاچکی ہیں۔
میرا قیام مری روڈ پر دوسرے درجے کے ایک ہوٹل میں تھا۔ الطاف حسن قریشی بھی میرے ساتھ مقیم تھے اور مشوروں میں بھی شریک تھے۔ صبح اٹھتے ہی وزیر اعظم کے اے. ڈی. سی کا فون آیا۔ ملاقات کا وقت کنفرم کیا۔ چنانچہ میں ٹھیک ساڑھے نو بجے مسنون دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے لئے مخصوص کمرے میں پہنچ گیا۔ ایک آدھ منٹ بعد ہی اے. ڈی. سی نے کمرے کے دروازے پر اپنے مخصوص فوجی انداز میں ”جناب وزیر اعظم“ کے الفاظ کہے، جو ملاقاتی کو مؤدب انداز میں وزیر اعظم کا استقبال کرنے کے لئے کہے جاتے ہیں۔
ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں
مسٹر بھٹو سے مصافحہ کرتے ہی کچھ یوں لگا جیسے بے چینی ہی نہیں، مزاج کی برہمی بھی عروج پر ہے۔ سخت غصے کے عالم میں ہیں۔ میری طرف دیکھنے کے بجائے صوفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا اور بولے: ”اچھا ہوا، آپ آگئے ہیں، ابھی کچھ اور لوگ بھی آنے والے ہیں اور سب سے پہلے ہماری بیگم سے ملاقات ہوگی۔ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں۔“
میں مسلسل دو سال کی ملاقاتوں میں مسٹر بھٹو کے مزاج سے کچھ نہ کچھ واقف ضرور ہوگیا تھا، لیکن یہ بات ایک تو میرے لئے یکسر خلاف توقع تھی اور یوں بھی اچانک اس قسم کے فیصلے کی اطلاع کوئی معمولی بات نہ تھی، اس لئے فوری طور پر نہ تو یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن تھا کہ جو کچھ میں سن رہا ہوں، اس میں حقیقی جذبات کو کس حد تک دخل ہے اور بناوٹ یا تصنع کا کتنا حصہ ہے اور نہ ہی جواباً کچھ کہنے کی پوزیشن میں تھا۔ البتہ کچھ وقت لینے کے لئے میں نے یہ بات کہی کہ دوسرے لوگوں کے آنے سے پہلے مجھے چند منٹ تنہائی میں ضرور دیں۔ میں بھی آپ سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ اتنے میں مسز بھٹو دروازے پر نمودار ہوئیں۔ مسٹر بھٹو نے دروازے کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے انگریزی میں Please Wait (ذرا ٹھہریئے) کے الفاظ خاصے درشت لہجے میں کہے۔ بیگم بھٹو بھی وزیر اعظم کی طرح سخت مغلوب الغضب معلوم ہوتی تھیں۔ وہ ایک لمحہ کا توقف کئے بغیر آئیں، الٹے پاؤں واپس چلی گئیں۔ اس کا احساس شاید مسٹر بھٹو کو بھی ہوگیا...... بعد میں اس کا ثبوت بھی کچھ کچھ مل گیا کہ بیگم بھٹو پہلے ہی سے سخت ذہنی کرب میں مبتلا تھیں اور مسٹر بھٹو دونوں کے لئے اعصابی کشیدگی اور ذہنی تلخی وقتی نہیں تھی بلکہ گزشتہ چند دنوں سے وہ اسی کیفیت میں مبتلا رہے ہوں گے۔ تاہم مسٹر بھٹو نے، مسز بھٹو کی خفگی دور کرنے کے لئے اے۔ڈی۔سی کو فون پر حکم دیا کہ وہ بیگم صاحبہ کے پاس جائیں اور انہیں کہیں کہ میں ابھی چند منٹ میں انہیں بلا رہا ہوں۔ ادھر میری طرف دیکھتے ہوئے مسٹر بھٹو نے کہا: ”ہاں بتائیے“ میں نے ذرا دھیمے لہجے میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا: ”جو بھی فیصلہ کرنا ہو، سوچ سمجھ کر ذرا اعتدال سے کام لیتے ہوئے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کریں۔ آپ مجھے سخت رنجیدہ خاطر معلوم ہوتے ہیں۔ میں مسئلے کی نزاکت سے بھی آگاہ ہوں اور آپ کی پوزیشن بھی سمجھتا ہوں۔ لیکن پیشتر اس کے کہ اصل مسئلے پر گفتگو کی جائے۔ میں آپ سے یہی عرض کروں گا کہ اس ISSUE کے کھڑا ہونے سے لے کر اس ضمن میں اب تک جو واقعات رونما ہوچکے ہیں اور آپ کی طرف سے جو بیانات دیئے جاچکے ہیں، وہ یکسر نظر انداز کر کے جو بھی فیصلہ کیا گیا، وہ نہ تو ملک اور قوم کے لئے مفید ہوگا اور نہ آپ کے سیاسی مستقبل کے لئے۔‘‘
باتوں باتوں میں، میں نے ان سے یہ بھی کہہ دیا کہ اس مرحلے پر آپ علماء میں سے کسی بھی عالم دین سے انفرادی طور پر ملاقات ہرگز نہ کریں۔ مسٹر بھٹو خاموشی سے میری بات سن رہے تھے۔ لیکن ان کی پیشانی کے شکن کھلنے کے بجائے بڑھتے ہی جاتے تھے۔ وہ عام طور پر پیچ دار گفتگو سننے کے عادی نہیں تھے۔ چنانچہ مجھے کھل کر بات کرنے کو کہا۔ جس پر میں نے دل کی بات بڑی صفائی سے کہہ ڈالی۔ میں نے کہا: ’’آپ نے آج مولانا یوسف بنوری کو ملاقات کے لئے بلایا ہے۔ یہ ملاقات کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوگی۔‘‘ مسٹر بھٹو اس وقت اگرچہ اس قسم کی کوئی بات سننے کے موڈ میں نہیں تھے۔ اس لئے کہ وہ بنیادی مسئلے ہی کے بارے میں غیر معمولی تذبذب اور تردد کا شکار تھے اور سخت قسم کے ذہنی عذاب میں مبتلا تھے۔ میری یہ بات ان کے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ضرور ہوگئی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ چند گھنٹوں پر مشتمل گرما گرم گفتگوؤں اور انتہائی تلخ بحثوں کے بعد (جن کا ذکر آگے آتا ہے) اپنے ایک وزیر کی طرف گھورتے ہوئے دیکھا اور کہا: ’’مولانا یوسف بنوری کی ملاقات کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ اور بس۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم مولانا یوسف بنوری کو تو قائل نہیں کرسکے تھے کہ اس مرحلے پر مسٹر بھٹو سے ان کی ملاقات مصلحت کے خلاف ہوگی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مولانا بنوری کو اپنی بصیرت پر اعتماد تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ مؤمن نہ کسی کو دھوکہ دیتا ہے اور نہ کسی کے دھوکے میں آتا ہے، لیکن ہمیں صرف یہ اندیشہ تھا کہ اس آخری مرحلے پر حالات کوئی ایسا رخ اختیار نہ کرلیں کہ خدانخواستہ مولانا یوسف بنوری جیسی عظیم دینی شخصیت کو، جنہیں اس تحریک میں مرکزی کردار کا مقام حاصل ہوچکا تھا، بلاوجہ کسی تہمت کا نشانہ بننا پڑے۔ خیر! تو اس راستے سے نہ سہی، یہ ضرورت اس طرح پوری ہوگئی کہ مسٹر بھٹو نے خود ہی یہ ملاقات منسوخ کردی۔
مسز بھٹو کو بلاوا
میں جب مسٹر بھٹو کو اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے چکا اور مولانا یوسف بنوری سے مجوزہ ملاقات کا تذکرہ بھی ہوچکا تو مجھ سے استفسار کے بعد مسٹر بھٹو نے اے ڈی سی کے ذریعے مسز بھٹو کو ملاقات کے کمرے میں بلا بھیجا۔ میں اور بھٹو آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ مسز بھٹو میرے دائیں ہاتھ دوسرے صوفے پر بیٹھ گئیں اور منتظر تھیں کہ گفتگو کا آغاز ہو۔ مسٹر بھٹو اس سے پہلے بھی اگرچہ بعض مواقع پر میرا تعارف کراچکے تھے۔ لیکن آج پھر انہوں نے اپنے انتہائی مخلص دوست کی حیثیت سے ایک دو جملوں میں میرے تعارف کی تجدید کی اور اس کے معاً بعد انتہائی تند و تیز لب و لہجے میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مسز بھٹو کو بتایا۔ ’’میں نے مصطفیٰ صادق کو بتا دیا ہے کہ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں، ہم کسی کو کافر قرار نہیں دے سکتے۔ ایسے فیصلے کرنے سے بہتر ہے کہ ہم حکومت چھوڑ دیں۔ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں۔‘‘ مسز بھٹو بولیں: ’’ایسی حکومت کا کیا مطلب، جس میں دوسروں کی مرضی پر چلنا ہو، دوسروں کے فیصلے ماننے ہوں، یہ ملّا کی جیت ہوگی۔ ہم کسی کو کافر کیوں قرار دیں؟ مودودی کہتا ہے تو کہئے ملّا کہتا ہے تو کہئے۔‘‘
غیر معمولی صورتحال
اب میں کچھ کچھ محسوس کر رہا تھا کہ صورتحال فی الواقع بگڑی ہوئی ہے اور معاملات الجھ بھی سکتے ہیں، لیکن باہر پوری قوم علماء کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تمام طبقوں کے نمائندوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، جس طرح اس مطالبے کے حق میں یک جان و یک قالب ہو چکی تھی اور خود اس مطالبے کی حقانیت کے باعث میں پوری طرح ڈانواں ڈول تو نہیں ہوا تھا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اندر ہی اندر کچھ گھبرا سا گیا تھا۔ یہ لمحات بڑے ہی نازک اور انتہائی خطرناک تھے۔ اسی قسم کے جملے ردو بدل کے ساتھ مسز اور مسٹر بھٹو نے ایک بار پھر دہرائے اور میں نے اعتدال پسندی سے کام لینے کی بات کا اعادہ کیا۔ اتنے میں سات آٹھ منٹ گزر چکے تھے۔ ماحول کی تلخی بری طرح ڈس رہی تھی۔
کیا خوب سوجھی
غصے اور غضب سے آلودہ اس ماحول کو کچھ تبدیل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے خوب بات سجھائی۔ میں نے مسٹر بھٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”کیا آج اس غصے کی وجہ سے ہم چائے سے بھی محروم رہیں گے، ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا۔“ ابھی میں جملہ پورا نہیں کر پایا تھا کہ مسز بھٹو نے ایک دو تین بار مسلسل گھنٹی بجائی اور بیرے پر غصہ نکالتے ہوئے اسے خوب ڈانٹا اور چائے مع ضروری لوازمات کا آرڈر دیا۔ بس یوں سمجھئے کہ بیرے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بعد مسز بھٹو کے غصے کا طوفان اگر بالکل ختم نہیں گیا تو اس کی رفتار چوتھے گیئر سے تیسرے گیئر میں ضرور آ گئی۔ ادھر مسٹر بھٹو نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ”باہر پیرزادہ اور اٹارنی جنرل بھی آئے بیٹھے ہیں۔“ (پیرزادہ کا نام انہوں نے کچھ ایسے الفاظ میں لیا، جن کا ذکر مناسب معلوم نہیں ہوتا) میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کیا کہہ سکتا تھا۔ اگرچہ غنیمت ہے کہ انہوں نے اپنی تائید میں کچھ کہلوانے کی کوشش نہیں کی ورنہ بعض اوقات وہ یہ بھی کیا کرتے تھے کہ کسی شخص کو اپنے پسندیدہ نام سے پکارتے اور مخاطب سے بھی پوچھتے کہ میں نے اس کا نام ٹھیک رکھا ہے نا؟ لیکن اچھے موڈ اور اچھے ماحول میں ایسی بات کہا کرتے تھے، آج تو موڈ ہی کچھ اور تھا۔ موڈ ہی کیا سارا رنگ ڈھنگ ہی بدلا ہوا تھا۔ لیکن خدا بھلا کرے یحییٰ بختیار کا کہ انہوں نے آتے ہی فضا کا رنگ اور مسٹر بھٹو کی سوچ کا ڈھنگ اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک تبدیل کر کے رکھ دیا۔ کیا خوفناک ماحول تھا اور کتنا عجیب و غریب منظر تھا۔
مسٹر حفیظ پیرزادہ وزیر قانون اور مسٹر یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل) اسی مختصر سے کمرہ ملاقات میں داخل ہوئے تو مسٹر بھٹو نے سب سے پہلے مسٹر پیرزادہ سے ذرا تلخ لہجے میں کہا: ”کل ۷؍ ستمبر ہے۔ کیا کرنے والے ہو؟ کہاں گیا ہمارا سوشلزم؟“ مسٹر پیرزادہ صورتحال کی سنگینی سے یکسر بے خبر معلوم ہوتے تھے۔ بے ساختہ بولے: ”سوشلزم ہماری معیشت ہے…… اسلام ہمارا دین ہے۔“
دھونس اور دبدبے سے دلیل اور اپیل تک
مسٹر بھٹو گرجدار آواز میں بولے: ”تمہارا اسلام یہی ہے کہ دوسروں کو کافر قرار دو۔ ہم ایسے فیصلے نہیں کر سکتے۔ ہم ایسی حکومت نہیں کر سکتے۔ ہم نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“ مسٹر بھٹو بولتے جا رہے تھے۔ ”کدھر ہے تمہارا……؟“ ایک دو منٹ کے اندر اندر یا اس سے کم وقفے میں کوثر نیازی بھی شریک مجلس ہو چکے تھے۔ پیرزادہ کی طبیعت اب پہلے کی سی چہک مہک سے محروم ہو چکی تھی۔ دبے لفظوں میں بولے: ”ہمارے لاء سیکرٹری بھی باہر آئے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی بلا لیں تو اچھا ہے۔“ بھٹو نے صرف سر ہلا کر اس کی منظوری دی اور جسٹس محمد افضل چیمہ بھی کمرے میں آ داخل ہوئے اور گفتگو دھونس اور دبدبے کے بجائے دلیل اور اپیل کا رخ اختیار کر گئی۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر آ چکا ہے۔ اس تبدیلی کا سہرا یحییٰ بختیار کے سر ہے۔
یحییٰ بختیار…… مرد جری
سچی بات یہ ہے کہ یحییٰ بختیار کا یہ کارنامہ اتنا عظیم اور اتنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ مسٹر بھٹو کی پارٹی میں کوئی ایسا مرد جری بھی شامل ہے جو بلاخوف وخطر اپنا مؤقف نہ صرف یہ کہ شدومد کے ساتھ بیان کرے، بلکہ استدلال کی قوت سے مسٹر بھٹو جیسے حکمران کو ...... عین اس مرحلے پر جب کہ وہ بے یقینی اور مایوسی کی دلدل میں گھٹنے گھٹنے پھنسا ہوا ہو اور غیظ وغضب کے عالم میں سارے پینترے بھول چکا ہو...... زور استدلال سے صورتحال کا رخ تبدیل کر دے۔ چنانچہ جونہی یکے بعد دیگرے مسٹر بھٹو اور مسز بھٹو نے اپنی رٹی پٹی باتیں دہرائیں اور کہا: ”یہ ملّا کی جیت ہے۔ لوگ کہیں گے مودودی جیت گیا ہے۔ ہم کون ہیں، کسی کو کافر قرار دینے والے۔ ایسا اعلان کرنے سے بہتر ہے حکومت چھوڑ دی جائے۔ ہم نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم مستعفی ہو رہے ہیں“، یحییٰ بختیار کی ایمان افروز گفتگو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ انتہائی مؤثر اور پرمغز گفتگو: ”آپ حکومت چھوڑ رہے ہیں یا آپ سیاست سے بھی دست بردار ہو رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کس ایشو (ISSUE) پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ کیا آپ پبلک کے سامنے اپنے استعفیٰ کا جواز ثابت کر سکیں گے؟“ کاش میں اسمبلی کی اس کارروائی کا خلاصہ (یحییٰ بختیار نے SUMMARY کے الفاظ استعمال کئے تھے) اپنے ہمراہ لے آتا اور آپ کو بتاتا کہ مرزا ناصر احمد نے کیا کچھ کہا ہے۔ کیا مؤقف اختیار کیا ہے؟ یہ کون کہتا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے سے ملّا جیت جائے گا؟ آپ کو معلوم ہے کہ احمدیت کے بارے میں علامہ اقبال کا کیا مؤقف ہے؟ ہم اسی مؤقف کے قائل ہیں۔ اگر کسی کے خیال میں قادیانیوں کو کافر قرار دینا صحیح نہیں ہے تو پھر انہیں قادیانیوں کا یہ نقطۂ نظر درست تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم اور آپ غیر مسلم ہیں۔“
حفیظ پیرزادہ بھی بولے
یحییٰ بختیار کی اس ولولہ انگیز گفتگو کے بعد دوسرے شرکاء مجلس کو بھی زبان کھولنے کا حوصلہ ہوا۔ حفیظ پیرزادہ بولے: ”جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا ہے، اس کے بعد تو اسی فیصلے کا اعلان کرنا پڑے گا لیکن آپ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں اور اس فیصلے کو آئینی شکل دینے کے حق میں نہیں ہیں تو اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر میں آپ کے ساتھ ہوں۔“
بیٹی (بے نظیر بھٹو) کا خط
میں نے بھی یحییٰ بختیار کی گفتگو کے بعد مداخلت کی کچھ گنجائش محسوس کی اور مسٹر بھٹو کو ان کی بیٹی کا ایک خط یاد دلایا جو خود مسٹر بھٹو نے چند دن پہلے سنایا تھا اور جس میں اسمبلی کی کارروائی کے حوالے سے یہ رائے ظاہر کی گئی تھی کہ اس کارروائی سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ: ”یا قادیانی غیر مسلم ہیں یا ہم“، مسٹر بھٹو نے اس خط کی تفصیلات کی تصدیق کی۔ لیکن مسز بھٹو خاموش رہیں اور کچھ یوں دم بخود سی ہوگئیں، جیسے لاجواب ہوگئی ہوں۔ شاید اس لئے کہ ان کے سامنے ان کی بیٹی کا مؤقف بیان کر دیا گیا تھا اور بیٹی بھی وہ جو انہیں بے حد عزیز تھی اور جس کی رائے ان کے نزدیک اہمیت اور وقعت کے اعتبار سے آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کی جا سکتی تھی۔
ماحول میں آسودگی
ماحول میں تلخی اور کشیدگی کی بجائے سکون اور آسودگی محسوس کرتے ہوئے میں نے سلسلہ واقعات (Chain Events) کا ذکر کیا۔ خصوصیت کے ساتھ مسٹر بھٹو کے مثبت اور واضح بیان، جن سے عام مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کی تائید کا پہلو نکلتا تھا اور دوسرے یہ کہ ۷؍ ستمبر کو اس مسئلے کے بارے میں فیصلے کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس کا منطقی تقاضا یہی ہے کہ اپنے عقیدہ و ایمان کی تائید میں صحیح فیصلے کا اعلان کر دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک اہم گزارش
ایک گزارش میں نے یہ بھی کی کہ وزیر اعظم خواہ مخواہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی عقیدے کی رو سے قادیانی مسلمہ طور پر طے شدہ حقیقت کے طور پر پہلے سے غیر مسلم ہیں۔ اس طے شدہ اور تسلیم شدہ حقیقت کو صرف اور صرف آئینی شکل دینے کی ذمہ داری ...... جو ایک اہم سعادت کی حیثیت بھی رکھتی ہے ...... قومی اسمبلی قبول کر رہی ہے جس کا اعلان قائد ایوان کی حیثیت سے وزیر اعظم کرنے والے ہیں۔ آئینی دفعہ کے اضافے کا یہ فیصلہ قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ ہے۔ پوری قوم کا متفقہ فیصلہ ہے۔ عالم اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے۔ اس لئے یہ غلط فہمی بلا وجہ پیدا ہورہی ہے کہ مسٹر بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے ہیں۔ ہاں ! البتہ ان کی زندگی میں اگر یہ اعلان ہونے والا ہے اور اسے آئین کا حصہ بنایا جانے والا ہے تو اس سے حکومت کی اور پوری قوم کی ذمہ داری میں ایک اہم اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کے طور پر تحفظ کا یقین دلائیں۔ یہ ذمہ داری ایک مقدس مذہبی فریضے کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور یہ فیصلہ خود قادیانیوں کے لئے بھی مضر ہونے کے بجائے مفید ثابت ہوگا۔ آخر میں، میں نے یہ بھی عرض کر دیا کہ خدانخواستہ کل آپ اس فیصلے کا اعلان نہیں کرتے تو نظم و نسق بحال رکھنے کے تمام تر انتظامات کے باوجود صورت حال آپ کے قابو میں نہیں رہے گی اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس ملک کا حشر کیا ہوگا ؟
یحییٰ بختیار کی تائید
جناب یحییٰ بختیار اگرچہ اپنی بات، وضاحت اور صراحت سے کہہ چکے تھے لیکن میری تائید میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور مسٹر بھٹو پر زور دیا کہ وہ بلاوجہ نہ تو کسی غلط فہمی کا شکار ہوں اور نہ اس بناء پر کسی کمزوری کا مظاہرہ کریں کہ اس فیصلے سے کسی دوسرے گروہ کو تقویت حاصل ہو جائے گی۔ کوثر نیازی اور جسٹس چیمہ نے بھی یحییٰ بختیار کے مؤقف کی تائید کی۔ لیکن شاید اس لئے کہ دلائل کا اعادہ غیر ضروری تھا۔ ان کی گفتگو بہت مختصر تھی۔ جسٹس چیمہ نے خاص طور پر اس پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اس فیصلے کے اعلان کے بعد امن عامہ کے تحفظ کا بطور خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
وفد سے ملاقات
اس وقت تک گفتگو شروع ہوئے تقریباً اڑھائی گھنٹے گزر چکے تھے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا ایک وفد بھی ملاقات کے لئے منتظر تھا۔ چنانچہ مجھے اسی کمرے میں چھوڑ کر مسٹر بھٹو اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس کے ایک بڑے کمرے میں چلے گئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اپوزیشن کے اس وفد میں مفتی محمود، پروفیسر غفور، مولانا نورانی اور جناب مولا بخش سومرو شامل تھے۔ کم و بیش ایک گھنٹہ یہ ملاقات جاری رہی۔ موضوع گفتگو یہی مسئلہ تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن کا وفد واپس چلا گیا اور مجھے بھی دوسرے کمرے میں بلا لیا گیا۔
معنی خیز گفتگو
مسز بھٹو اپوزیشن کا وفد آنے سے پہلے ہی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں، لیکن ان کے کمرہ چھوڑنے سے قبل مسٹر بھٹو نے حفیظ پیرزادہ سے انتہائی معنی خیز انداز میں پہلے تو یہ پوچھا کہ اگر یہی فیصلہ ہونے والا ہے تو طاہر کو کیا جواب دو گے ۔ پیرزادہ نے مسٹر بھٹو کو اطمینان دلایا کہ آپ یہ بات مجھ پر چھوڑ دیں۔ اس کے بعد کوئی دوسرا نام لئے بغیر مسٹر بھٹو نے یہی سوال پھر دہرایا اور دو دفعہ اور ...... اور ...... کے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الفاظ زبان سے ادا کئے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ مسٹر حفیظ پیرزادہ اپنے قائد کا مدعا سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا بس آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ مسٹر بھٹو اگرچہ اس جواب سے پوری طرح مطمئن تو نہ تھے، لیکن وہ کچھ اور کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔ انہوں نے بالآخر کھل کر کہہ دیا: ”کیا کیا وعدے لوگوں سے کر رکھے تھے۔ وہ روزانہ یہاں چکر لگاتے ہیں ۔“ حفیظ پیرزادہ یہی بات کہے جا رہے تھے: ”آپ ان کی فکر نہ کیجئے ۔ آپ مجھ پر چھوڑ دیجئے ۔“
اف یہ بے بسی
عجیب بے بسی کی کیفیت تھی۔ فیصلہ جس کا اعلان کرنا مقدر ہو چکا تھا، اس پر نہ دل مطمئن تھا نہ یہ ضمیر کی آواز کے مطابق تھا اور بظاہر عقیدہ و ایمان کے نقطۂ نظر سے ان کے نزدیک اس کی کچھ ایسی حیثیت بھی نہ تھی۔ پس ایک سیاسی ضرورت، ایک سیاسی مصلحت، حالات کی مجبوری کے سوا اور کوئی وجہ نہ تھی جو اس فیصلے کا موجب بن رہی تھی۔ خیر تو اس فیصلے کے اعلان سے پہلے ابھی خطرہ ہی خطرہ تھا۔ اندیشے ہی اندیشے اور وسوسے ہی وسوسے تھے۔ تاہم اپوزیشن سے گفتگو کے بعد جب مجھے بڑے کمرے میں بلایا گیا تو اب برہمی اور غصے کی کیفیت میں نہیں بلکہ افسردہ اور پژمردہ حالت میں دھیمی دھیمی آواز میں بس اتنا کہا: ”اچھا مصطفیٰ! لاء سیکرٹری جسٹس چیمہ نے ایک مسودہ تیار کر رکھا ہے۔ آپ اسے پڑھ لیں۔ کل اسے آئین کا ایک حصہ بنا دیا جائے گا۔ آپ کے مشوروں کا شکریہ ۔“ اس وقت کم و بیش ڈیڑھ پونے دو کا وقت تھا۔ جمعہ کا دن تھا۔ مسودے کی چٹ میرے ہاتھ میں تھمانے کے بعد مسٹر بھٹو نے مولانا یوسف بنوری کا ذکر کیا کہ اب انہیں ملنے کی کیا ضرورت ہے اور ساتھ ہی میری طرف دیکھنے کے بعد کوثر نیازی کی طرف دیکھا۔ ہم دونوں خاموش رہے۔ اس لئے کہ میں تو پہلے ہی اپنی رائے دے چکا تھا اور اس وقت مولانا کا ذکر کرنے کا مقصد صرف کوثر نیازی کو اطلاع دینا تھا۔
اتنے اہم فیصلے کے بارے میں آخری نتیجے پر پہنچنے کے بعد ایک نیا مسئلہ چھیڑ دیا کہ بالغ رائے دہی کے اصول کے مطابق رائے دہندوں کی عمر کم کیوں نہ کر دی جائے تاکہ طلباء کو خوش کیا جاسکے۔ جس کے لئے کل ہی آئین میں ترمیم پر غور کرنا چاہئے ۔ یہ بات مسٹر بھٹو نے ممکن ہے پہلے سے سوچ رکھی ہو لیکن اس موقع پر بالکل ہی بے محل معلوم ہوئی تھی۔ کہاں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ اور کہاں ووٹروں کی عمر کم کرنے کا معاملہ ۔ خیر تو یہ بات کسی بحث کے بغیر ان سنی ہو گئی ۔ (جناب مصطفیٰ صادق کے بعد حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی سربراہی میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی ایک ملاقات ہوئی۔ یہ ۵؍ ستمبر کی بات ہے۔ پھر اگلے دن شام کو ۶، ۷؍ ستمبر کی درمیانی شب میں فیصلہ کن مذاکرات ہوئے اور مسودہ پر اتفاق ہو گیا۔ اس طرح محترمہ نصرت بھٹو کی بھٹو صاحب نے اپنی موجودگی میں ایک ملاقات مولانا غلام غوث ہزاروی سے کرائی ۔ مولانا نے مرزائیت کے عقائد دوبارہ اہل بیت واہل اسلام کے متعلق حوالہ جات سنائے تو محترمہ نہ صرف مطمئن ہو گئیں بلکہ بھٹو صاحب کو اصرار سے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دو۔ مزید وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے ۔ مرتب!)
توشۂ آخرت
میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مژدہ لئے وزیر اعظم ہاؤس سے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے اس یقین کے ساتھ نکلا کہ مجھ ایسے حقیر کو اس انتہائی اہم اور مقدس کام میں جو بھی حصہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ میرے لئے توشۂ آخرت ثابت ہوگا۔ واپس ہوٹل میں آیا اور الطاف قریشی کو دن بھر کی روئیداد کا خلاصہ سنایا۔
(تحریر: جناب مصطفیٰ صادق صاحب)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاریخی اشتہارات، نظمیں
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
بہر حال مسلم لیگ، ٹوٹی یا پھوٹی، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ کل کا جلسہ عام چوہدری خلیق الزماں صاحب کی تشریف آوری پر، مسلم لیگ کے زیر اہتمام منعقد ہوا، لیکن اس میں کوئی بڑی خبر نہ تھی۔ اخبارات نے لکھا کہ اس جلسہ سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ معلوم ہو گیا ہے کہ عوام کی نظر میں ان کے کیا جذبات ہیں۔ اپنی خواہشات کا اظہار پیش کرنے میں درحقیقت یہ ہے، کہ مغربی پاکستان کے پبلک میں رہنماء، قادیانیت کا مسئلہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ اور ان کے لوگ جمہوریت کے ساتھ، شامل ہونے کی اس طرح کوشش کر رہے ہیں، جب تک ختم نبوت کے مسئلے میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے، اس وقت تک ملک میں ترقی پسند طبقہ، حکومتی پالیسیوں کا اعلان کرنے پر اس وقت کے سیاستدانوں نے منظور گوجرانوالہ میں بات کر دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں جو بھی تقریب منعقد ہو، اس میں یہ ثابت کرنے کی ہمیشہ کوشش کی گئی کہ قادیانی، کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان کی حد تک نہیں ہے، بلکہ دنیا کے تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ قادیانی، اسلام سے خارج ہیں اور جو ان کو مسلمان سمجھے، وہ بھی اسلام سے خارج ہے۔ ان کی کتابوں میں ایسی باتیں لکھی ہیں جو اسلام کے بنیادی عقائد کے منافی ہیں۔ مزید برآں قادیانیوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ اور ہمیشہ تحریک پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیاں ملک کے لئے خطرہ ہیں۔ ان کی ان ہی ملک دشمن سرگرمیوں کے پیش نظر، تمام مسلمانان پاکستان کا یہ ہی متفقہ مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
باقی جواب میں کی حد ہے کہ یہ لوگ علامہ اقبال کے نام سے طائف قسم کی روایتیں بیان کرتے ہیں۔ اور جن کی زبان انہیں ترجمان معلوم ہوتے ہیں انہیں لکھتی ہے وہ علامہ نور اللہ مرقدہ سے فرضی خطوط اور خانہ ساز بیان منسوب کرتے ہوئے بزم خوش بڑے کفر کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جن چیزوں کو معترف علامہ کے اصل مخزن نے اسلام اور تفلس اسلام کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ ان سے نہ صرف معترضہ اقبال کے ترجمان چشم پوشی کرتے ہیں ان کی کوشش یہی ہے کہ معترضہ اقبال کی ان تحریروں اور افکار ہی کو ختم کر دیا جائے اور اقبال کی ایسی تعبیر کی جائے کہ مطلب کا اصل چہرہ مسخ ہو جائے۔ علامہ اقبالؒ نے ۱۰؍جون ۱۹۳۵ء کے اسٹیٹمین میں کہا تھا کہ
ملت اسلامیہ کو جس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے، کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا، کہ حکومت اس فتنے خبیثہ کی پشت پناہی میں برابر
شہدائے ختم نبوت
کانفرنس
کے بعد منعقد ہو رہی ہے
کر رہی ہے۔ افسوس کہ جس قوم نے مرزائی کے نام پر پاکستان معرض وجود میں آیا ، اور ان قادیانیوں کی ... کا سوال تو شدت سے موجود ہے۔ لیکن جواب انگریزوں کی حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ نے اس مسئلہ پر چپ ہی نہی کی، وہ لوگ جو انگریزوں کے وقت میں سول سروس کے شوق تھے۔ ملک کی آزادی کے بعد وہی ... سے بلکہ پرانی بنیاد اور عادت ہو گئے۔ ان بہروپیوں انہوں نے قادیانی مسئلہ کو دفتر برد کر دیا۔ بلکہ اس مسئلہ کے نام لیواؤں کو جوش سے لے کر خدا کے باغیوں کا محافظ کہا، حالانکہ وہ ان عقائد کو جوہر سے بھی آشنا نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک یہ وہ بات حق ہے۔ جو انگریزی حکومت کے نزدیک حق رہی ہے۔ ان بہروپیوں کے باطل ہے جسے وہ باطل کہہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان رسول عربی (فداہ امی وابی) کے ننگ و ناموس کی حفاظت کے معاملہ میں فدائی ہے اور جن کی وہ علامت ہے جو موقف یا نصب العین کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ اس سے عشق و نصب کی دولت ہاتھ آتی ہے۔ وہ باطلہ کا لفظ تو جب اس کا استعمال انگریز کی عبد کے بنوں کو پہنچتا ۔ تو اس وقت تاریخ کی شرافت کا چہرہ داغدار ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اس خطبہ کافریہ کو شائع کیا ہے۔ جو ربوہ کے بعض بڑے آدمیوں نے ان کے نام وقتاً فوقتاً لکھے ہیں۔ اس میں اور جون ۱۹۳۶ء کا ایک خط ہے۔ اس میں حضرت علامہ لکھتے ہیں۔ "قادیانی مذہب کے خلاف میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ اپنی ذہنی و قلبی اور ہمیشہ تڑپنے والے دل کی وجہ سے لکھا تھا۔ میں اس باب میں کوئی کتاب و رسالہ اپنے دل میں نہیں رکھتا۔ کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں" کسی مزید ثبوت کی ضرورت ہے کہ خود حضرت علامہ کے قریبی دوستوں نے یہ شائع کیا، تاہم اقبال کے الفاظ ہیں "یہ حکایت دراز، ایک طاقت ور قلم کی منتظر ہے"
(چٹان ۱۱ مئی ۱۹۷۴ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنا مسلمانوں کا فرض ہے:
ناظم نشر و اشاعت:۔ مجلس تحفظ ختم نبوت، لاہور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام
عظیم الشان
شہدائے ختم نبوت کانفرنس
لاہور
مورخہ ۴ مارچ بروز پیر
بمقام : باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور
جس میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا
اسماء گرامی مقررین
- حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ
- حضرت مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری
- مولانا محمد علی جالندھری
- مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی
- مولانا مظہر علی اظہر
- مولانا عبدالستار خان نیازی
- آغا شورش کاشمیری
- مولانا محمد داؤد غزنوی
- مولانا غلام غوث ہزاروی
- ماسٹر تاج الدین انصاری
- مولانا تاج محمود لائلپوری
- سید مظفر علی شمسی
- مولانا لال حسین اختر
- مجاہد الحسینی امیر پختونستان
- سید امین گیلانی
- سائیں محمد حیات پسروری
پروگرام : پہلا اجلاس ۲ بجے بعد نماز ظہر دوسرا اجلاس ۸ بجے بعد نماز عشاء
محمد شریف جالندھری ناظم دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
پنجاب لیتھو آرٹ پریس لاہور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تو لوٹ آئے ترے نامہ بر کیا کرتے
تحریک ختم نبوت کے بعد لاہور میں پہلی مرتبہ
تحفظ ختم نبوت کانفرنس
زیر اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۲۵، ۲۶ فروری ۱۹۵۶ء بروز ہفتہ اتوار • باغ دہلی دروازہ لاہور
امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی
مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری
اور دوسرے زعمائے تحفظ ختم نبوت اجتماع عام سے خطاب کریں گے۔ —— • —— نوٹ: براہ کرم وقت پر تشریف لا کر ثواب حاصل کریں
ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت لاھور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
برسر دعویٰ است آں کذاب لعین نہ نبیست بلکہ زندیق بلاشک
بسم اللہ الرحمن الرحیم اَنَاخَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
ایمان راست بین مخلصین عاشقین اسلام اہل بیت آل محمد است
بتاریخ ۲۷، ۲۸، ۲۹ دسمبر ۱۹۷۴ء بمطابق ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ ۱۳۹۴ھ بروز جمعرات، جمعتہ المبارک، ہفتہ
عظیم الشان تبلیغی کانفرنس چنیوٹ
زیر اہتمام :- مجلس تحفظ ختم نبوت جس میں جلیل القدر علمائے امت، زعمائے ملت اور شعرائے اسلام ایمان افروز جہاد آموز اور حقائق آشنا وعظ و خطاب فرمائیں گے
:- عنوانات :-
- توحید و رسالت
- صداقت اسلام
- تبلیغ دین
- ختم نبوت
- خلافت راشدہ
- مناقب صحابہ
- فضائل اہل بیت
- جہاد فی الاسلام
- اصلاح عقائد و اعمال
- اخلاق و معاشرت
- اتحاد بین المسلمین
- استحکام پاکستان
:- مقررین :-
- مولانا خواجہ خان محمد صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان،
- مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی
- مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی ممبر قومی اسمبلی پاکستان
- صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب صدر جمیعت علماء پاکستان
- مولانا عبدالخالق صاحب خطیب جامع مسجد ماڈل ٹاؤن لاہور
- مولانا مفتی محمد شفیع صاحب خطیب جامع مسجد سرگودھا
- مولانا لال حسین صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- علامہ خالد محمود صاحب ایم اے پروفیسر ہیلی کالج لاہور
- مولانا قاضی زین العابدین صاحب خطیب جامع مسجد لائل پور
- صاحبزادہ سید افتخار الحسن صاحب خطیب جامع مسجد علی پور
- مولانا تاج محمود صاحب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت لائل پور
- مولانا قاضی صبغتہ اللہ صاحب مہتمم مدرسہ اشرفیہ شکار پور سندھ
- مولانا قاضی عبداللطیف صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- مولانا محمد عثمان صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- مولانا مجاہد الحسینی ایڈیٹر لولاک، لاہور،
- مولانا حافظ محمد حسین صاحب خطیب شاہی مسجد چنیوٹ،
- مولانا منظور احمد صاحب صدر مدرس جامعہ عربیہ چنیوٹ
- مولانا ابوالحسن قاسمی ناظم مکتبہ صداقت چنیوٹ
- جناب سید امین گیلانی صاحب شیخوپورہ
- جناب محمد ابراہیم صاحب خادم منڈی تاندلہ،
- ملک محمد نواز صاحب بھٹہ خشت چنیوٹ
- جناب سائیں محمد حیات صاحب پشاوری
یہ جلسہ روزانہ بعد نماز عشاء گراؤنڈ پرانی عید گاہ میں ہوگا۔ نوٹ : خواتین کے لیے پردہ کا انتظام ہے۔
المرتب : (حاجی) محمد حنیف قریشی • صدر مجلس تحفظ ختم نبوت • چنیوٹ ضلع جھنگ
منظور آرٹ پریس لائل پور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کل پاکستان
تحفظ ختم نبوت کانفرنس
کمپنی باغ سرگودھا شہر
۹، ۱۰ نومبر ۱۹۵۷ء بروز ہفتہ، اتوار
صدارت ۔۔۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری مدظلہ
اجتماعات
- برسوں کے بعد عام کارکنوں کا اجتماع
- مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس
- اکثر مبلغین جماعت کی تشریف آوری
غور و فکر
- مطالبہ اقلیت کی جدوجہد
- روح اسلام کے خلاف عیسائیت کی خوفناک یلغار
- مذہبی فرقوں میں یگانگت
تقاریر
- توحید و رسالت
- ختم نبوت
- مدح صحابہؓ
اسماء گرامی علماء کرام
- شیخ الجامعہ حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوری
- سید العلماء حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنوی صاحب
- مجاہد اعظم حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری
- خطیب ملت حضرت مولانا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی
- فخر سادات حضرت مولانا سید محمود مصطفیٰ صاحب
- خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی
- علامہ حضرت مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوری
- مناظر اسلام حضرت مولانا عبد الستار صاحب تونسوی
- حضرت مولانا تاج محمود صاحب لائلپوری
- حضرت مولانا محمد حیات صاحب
- حضرت مولانا محمد شریف صاحب
- حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر
مبلغ تحفظ ختم نبوت
- حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی
- حضرت مولانا سید ابوالحسن صاحب
- حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب
- حضرت مولانا محمد یوسف صاحب ہزاروی
- حضرت مولانا محمد یار صاحب
- حضرت مولانا نور محمد صاحب
- حضرت مولانا محمد عمر صاحب
- حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب
- حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب
- حضرت مولانا سلطان محمود صاحب
- حضرت مولانا دین محمد خان صاحب
- حضرت مولانا محمد حسین صاحب
- حضرت مولانا عبد اللہ صاحب بہاولپوری
- حضرت مولانا محمد زمان صاحب حسینی
- حضرت مولانا محمد احمد صاحب
- حضرت مولانا عبد اللہ صاحب
- حضرت مولانا محمد صدیق صاحب
- حضرت مولانا غلام فرید صاحب
- شاعر ختم نبوت جناب محمد حیات صاحب
- شاعر ختم نبوت حضرت سید...
- نعت خوان ختم نبوت جناب غلام محمد صاحب
خادمین کے قیام و طعام کا انتظام ہوگا۔ لاؤڈ سپیکر اور مستورات کیلئے پردے کا انتظام ہوگا۔
ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا
از مکتبہ تحریک ختم نبوت
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعوت دین کی اشاعت شہر اور مضافات میں
بے بنیاد و بے مقصد ہے ادعائے نبوت کاذبہ
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
تاریخی عظیم الشان اجتماع
۲۷، ۲۸، ۲۹ دسمبر ۵۷ء ۔ جمعہ ، ہفتہ ، اتوار ۔۔۔
تبلیغی کانفرنس
سالانہ چنیوٹ زیر اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ
جس میں نامور علمائے امت ، زعمائے ملت اور مشائخ اسلام ایمان افروز جہاد آفریں اور حقائق افروز خطاب فرمائیں گے۔
عنوانات
- توحید و رسالت
- ختم نبوت
- خلافت راشدہ
- مناقب صحابہؓ
- فضائل اہلبیتؓ
- اصلاح معاشرہ
- اتحاد بین المسلمین
- استحکام پاکستان
مقررین
- مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- الحاج قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی
- مولانا غلام غوث ہزاروی
- مولانا عاشق الٰہی صاحب خطیب جامع مسجد لائل پور
- مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوری
- مولانا مفتی محمود صاحب
- مولانا لال حسین صاحب اختر صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- مفتی عبد اللطیف صاحب
- صاحبزادہ سید فیض الحسن صاحب آلو مہار شریف
- قاضی محمد نذیر صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- فدائے امت مولانا سید ...
شعرائے اسلام
- الحاج سید امین گیلانی ، شیخوپورہ
- جناب سید محمد حیات صاحب پسروی
- صوفی محمد حسین صاحب
اطلاعات
- آنے والے احباب بستر وغیرہ ہمراہ لائیں
- خواتین کے لئے پردہ کا معقول انتظام ہوگا
- مجلس کی طرف سے قیام و طعام کا انتظام ...
المشتہر حاجی محمد حنیف قریشی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت
- چوہدری عبد الصمد ظفر معتمد مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اِنّی خَاتَمُ النَّبِیِّینَ لَا نَبِیَّ بَعْدِی (الحدیث) متصل دفتر تعلیم القرآن بالمقابل شفاخانہ حیوانات بیرون لوہاری گیٹ میں
عظیم الشان
اجتماع تبلیغی
۱۹۷۱ء ۱۵ - ۱۶ - ۱۷ اپریل ، ہفتہ ، اتوار ، پیر ۸ بجے شب
پروگرام
۱۵ اپریل خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاعبادی حضرت مولانا لعل حسین صاحب اختر لاہوری حضرت مولانا غلام مصطفےٰ صاحب بہاولپوری پیر حضرت مولانا عبد اللہ صاحب تونسوی
۱۶ اپریل صاحبزادہ شیر بیشہ سنت حضرت مولانا عطاء المنعم صاحب ملتان حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب شجاعبادی حضرت مولانا محمد لقمان صاحب علی پوری حضرت مولانا سلطان محمود صاحب مظفر گڑھی
۱۷ اپریل حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی حضرت مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوری حضرت مولانا عبد الرحمٰن صاحب میانوی شاعر اسلام سید محمد امین صاحب گیلانی
نوٹ : ۔ لاؤڈ سپیکر کا انتظام ہوگا۔ اور مستورات کے لئے پردہ کا بھی انتظام ہوگا ÷ ÷ ÷
داعی الی الخیر ناظم مدرسہ محمد شریف جالندھریؒ ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي (الحديث)
دوروزہ ختم نبوت کانفرنس
بتاریخ ۷، ۸ اپریل ۱۹۶۳ء مطابق ۱۱، ۱۲ ذی قعد ۱۳۸۲ھ بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار بعد نماز عشاء
بمقام میونسپل مسافر خانہ گھنٹہ گھر سکھر
عنوانات: توحید و سنت، ختم نبوت، مناقب صحابہ و اہل بیت، ضرورت نظام تبلیغ، استحکام پاکستان
● اسماء مدعوین حضرات ●
- ① عارف باللہ حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم امیر جمعیت علمائے اسلام مغربی پاکستان۔
- ② خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی مدظلہ صدر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ③ مفکر ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری مدظلہ ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ④ رئیس المتکلمین حضرت مولانا نذیر حسین صاحب مدظلہ رکن شوریٰ مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ⑤ حضرت مولانا محمد لقمان صاحب علی پوری مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ⑥ حضرت مولانا قاضی عبداللطیف صاحب اختر مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ⑦ حضرت قاری ابوالحسن صاحب مدظلہ مدرس مدرسہ اشرفیہ سکھر۔
- ⑧ شاعر ختم نبوت حضرت سید امین گیلانی شیخوپورہ۔
نوٹ ۔ لاؤڈ اسپیکر، روشنی اور خواتین کے پردہ کا خاطر خواہ انتظام ہوگا۔
ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر (پاکستان)
سعید پریس سکھر مکتبہ محمودیہ سکھر
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
بسلسلہ
سنگِ بنیاد
عظیم الشان تبلیغی و اصلاحی اجتماع (دو روزہ)
مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوۃ پاکستان ملتان
تاریخ ۲۶ ۔ ۲۷ ذوالحجہ ۱۳۸۴ھ مطابق ۲۹ ۔ ۳۰ اپریل ۱۹۶۵ء
بمقام قاسم باغ قلعہ کہنہ
پہلا اجلاس — جمعرات — بعد نماز عشاء دوسرا اجلاس — جمعہ — بعد نماز عشاء
- آپ حضرات اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ مذہب اسلام کے خلاف لادینی و دیگر فتنوں کا سیلاب اُمڈ پڑا ہے۔ مذاہب باطلہ کے سرپرست اندرونِ ملک و بیرونِ ملک اپنے بے بہا
سرمایہ کو اسلام اور مبلغین اسلام کے خلاف پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ مذاہب باطلہ کی تردید کیلئے مسلمانوں کا متفقہ و مستند تنظیمی ادارہ مجلس تحفظ ختم نبوت رات دن اپنے تبلیغی مشن میں مشغول ہے۔
- اندرونِ ملک بیسیوں مبلغین کی جماعت قلیل سے معاوضہ پر تدریس و تبلیغ میں مصروف ہے۔ اندرونِ ملک و بیرونی ممالک میں عربی، انگریزی، اردو لٹریچر جماعت کے خرچ پر بھیجا جا رہا ہے۔
- ہر سال دارالمبلغین چنیوٹ ضلع جھنگ میں فارغ شدہ طلباء کو صداقتِ اسلام اور فرقہ ہائے باطلہ خصوصاً مرزائیت، عیسائیت، پرویزیت اور بہائیت کے موضوع پر زیر سرکردگی محترم
حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر، دلائل و براہین نیز مناظرانہ تربیت دی جاتی ہے۔ طلباء کی رہائش و خوراک اور وظائف کا معقول انتظام ہوتا ہے۔
- جماعت کا مرکزی دفتر ملک کی تقسیم سے پہلے قادیان میں تھا۔ تقسیم کے بعد کرایہ کے مکان میں گزارہ ہو رہا ہے۔ اب الحمد للہ ملتان شہر نزد گھنٹہ گھر، تغلق روڈ،
ڈیڑھ فرلانگ پر برسر سڑک دفتر کے لئے جگہ خرید کر لی گئی ہے۔
- دفتر کا سنگِ بنیاد پروانۂ شمع رسالت، عاشقِ رسول، حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی مدظلہ ۲۷ ذوالحجہ بروز جمعۃ المبارک اپنے دستِ مبارک سے رکھیں گے۔
- اس نادر موقع پر دو اجلاس عظیم الشان منعقد کئے گئے ہیں جس میں ملک کے مشاہیر مشائخ عظام، علماء کرام توحید باریتعالیٰ، ختم نبوت، شانِ رسالت، محاسبہ مخالفین ختم نبوۃ و شمع رسالت
کے پروانوں کے ایثار جیسے اہم عنوانات پر تقاریر فرما کر مستفیض کریں گے۔ لہٰذا تمام محبانِ اسلام سے استدعا ہے کہ ہر دو اجلاس میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔
مشائخ عظام و علماء کرام
- جامع شریعت و طریقت حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی مدظلہ
- بطل حریت خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی صدر مجلس تحفظ ختم نبوۃ پاکستان
- محافظ ختم نبوۃ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوۃ پاکستان
- مناظر اسلام، صدر المبلغین حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر ۔
- سیف بے نیام حضرت مولانا عبدالرحمٰن صاحب میانوالی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- واعظ خوش بیان حضرت مولانا محمد شریف صاحب ۔ مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- فخر المناظرین حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ۔ مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- بلبل پاکستان حضرت مولانا محمد لقمان صاحب ۔ مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت
- فخر الشعراء ، شاعر ختم نبوت سید محمد امین شاہ صاحب گیلانی ، شیخوپورہ
- (نوٹ:۔ لاؤڈ سپیکر کا اور مستورات کے لئے پردہ کا خاص انتظام ہوگا۔)
باہر سے آنے والے حضرات اپنے ہمراہ بستر ضرور لائیں۔ یہ اشتہار پڑھ کر دوسروں تک پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں۔
ماسٹر اختر حسین ، چودھری نواب علی ، محمد شاد ، محمد بخش ۔ خدام مجلس تحفظ ختم نبوت ، ملتان ۔ فون نمبر ۳۳۴۱
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور کے زیر انتظام
ختم نبوت کانفرنس
شکار پور
مورخہ ۲۔۳ جمادی الاولی ۱۳۸۶ھ ۱۹۔۲۰ اگست ۱۹۶۶ء بروز جمعہ و ہفتہ
-: زیر صدارت :-
بمقام لیاقت باغ لکھی در بعد نماز عشاء
- شیخ طریقت الحاج حضرت مولانا احمد الدین صاحب دامت برکاتہم خلیفہ اکبر حضرت ہالیجوی قدس سرہ
- حضرت مولانا صاحبزادہ حافظ محمود اسعد صاحب مدظلہم العالی خلف الرشید حضرت ہالیجوی سجادہ نشین درگاہ قادریہ راشدیہ ہالیجی شریف
اسماء مدعوین
- مفکر اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب صدر المبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- خوش الحان شیرین بیان شیر پاکستان حضرت مولانا محمد لقمان صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- فخر اقطاب رئیس المتکلمین حضرت مولانا نذیر حسین صاحب رکن شوریٰ مرکز مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل
- مبلغ اسلام حضرت مولانا بشیر احمد صاحب مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر
- جذبہ اسلام حضرت مولانا جمال اللہ صاحب نوجوان مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور
- استاذ القراء قاری محمد علی صاحب مدنی مدرس مدرسہ شرعیہ شکار پور
نوٹ۔ جمعیتہ العلماء اسلام خیر پور ڈویژن کے علماء کرام کی خصوصی میٹنگ ہفتہ کو ۹ بجے صبح مدرسہ اشرفیہ میں ہوگی۔ لہٰذا تمام علماء کرام شرکت فرمائیں
اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور
جنیجو پرنٹنگ پریس سکھر
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷۴۹
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
داد ما را آخرین جامے کہ داشت
پردۂ ناموسِ دِیْنِ مُصْطَفٰیؐ اَسْت
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
زیرِ اِہتمام: مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت بہاولپور
بِتَارِیْخ ۲۷-۲۸ ذیقعدہ ۱۳۸۶ھ مطابق ۹-۱۰ مارچ ۱۹۶۷ء بروز جمعرات، جمعہ
آل پاکستان
تحفّظِ ختمِ نبوّت
اسمائِ گرامی عُلماءِ کرام
- حافظ الحدیث استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
- استاذ المحدثین شمس العلماء سیدی و مرشدی حضرت اقدس مولانا سید احمد شاہ صاحب بخاری شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ بہاولپور
- مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نائب امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
- مجاہدِ ملت فخرِ اسلام حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری رحمۃ اللہ علیہ ناظم اعلیٰ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- مناظرِ اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر رحمۃ اللہ علیہ مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- مقررِ شعلہ بیان حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھری مرکزی ناظم نشر و اشاعت مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- فخرِ نوجوانان حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- مجاہدِ جلیل حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- جادو بیان فاضلِ نوجوان حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- فدائیِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا محمد حیات صاحب فاتحِ قادیان مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- فصیح اللسان فخر الواعظین حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- مقررِ بے بدل حضرت مولانا انور شاہ صاحب مبلغ مجلس تحفّظِ ختمِ نبوّت پاکستان
- مبلغِ اسلام دیوانۂ ختمِ نبوّت حضرت مولانا غلام محمد صاحب مبلغ بہاولپور
شُعراءِ کرام
- حسّانِ وقت حضرت مولانا حافظ شفیق الرحمن صاحب مبلغ تحفّظِ ختمِ نبوّت سکھر
- فخر المبلّغین حضرت مولانا سید بشیر احمد صاحب مبلغ تحفّظِ ختمِ نبوّت لاہور
- فخر الشعراء جناب منشی غلام نبی صاحب جانگداز، لاہور
- شاہدِ ختمِ نبوّت سید محمد امین صاحب گیلانی، شیخوپورہ
- ثناء خواںِ خاتمِ نبوّت جناب ارشاد احمد صاحب مبلغ ختمِ نبوّت
مشائخ عظام
- ہادیِ سُبُل قدوۃ الاخیار
حضرت خواجہ عبد الہادی حُسینی مدّظلہ سجادہ نشین درگاہِ چورہ شریف
- پیرِ طریقت، مجاہدِ ملت
حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ سجادہ نشین خانقاہِ سراجیہ، کندیاں، میانوالی
عید گاہ بہاولپور
نوٹ جمع کی جائے گی
نوٹ:- پہلا اجلاس بروز خمیس بعد نماز عشاء (بجمعرات جمعہ کی درمیانی شب) شروع ہوگا۔
ناظم: مجلسِ تحفّظِ ختمِ نبوّت بہاولپور
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۷۵۰ تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ
یا سیدی یا رسول اللہ
ختم نبوت زندہ باد
عظیم الشان دو روزہ ختم نبوۃ کانفرنس
بمقام ڈیرہ اسماعیل خان شہر
تاریخ ۱ / ۲ ذی الحجہ ۱۳۸۶ھ / ۱۳ / ۱۴ مارچ ۱۹۶۷ء
دن پیر ۔ منگل
عنوانات: توحید ۔ رسالت ۔ ختم نبوت ۔ مدح صحابہ ۔ دفاع و استحکام پاکستان = شرکاء =
- حضرت حافظ الحدیث والقرآن مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی،
- حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا مفتی محمود صاحب قائد جمعیتہ علماء اسلام پاکستان
- حضرت مولانا لال حسین اختر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا عبدالرحمان صاحب میانوالی مبلغ مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر مبلغ مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا محمد عثمان صاحب مبلغ مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان،
- حضرت مولانا علاء الدین صاحب ۔ دارالعلوم نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان،
- حضرت مولانا سراج الدین صاحب دارالعلوم نعمانیہ ڈیرہ اسماعیل خان،
- حضرت مولانا قاضی عبدالکریم صاحب ۔ کلاچی ۔ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
- حضرت مولانا قاضی عطاء اللہ صاحب خٹک ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
- حضرت مولانا عبدالرحمان صاحب ٹانک ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
- شاعر حریت جناب جانباز مرزا ۔
- شاعر ختم نبوت جناب سید محمد امین گیلانی ۔ شیخوپورہ
- جناب واصف نعت خواں مخدوم پور اڈی
نوٹ :۔ (۱) لاؤڈاسپیکر کا انتظام ہوگا۔ (۲) مستورات کے لئے پردہ کا انتظام ہوگا۔
العبد
حافظ عبد الکریم ناظم مجلس تحفظ ختم نبوة ڈیرہ اسماعیل خان (پاکستان)
باہتمام قومی پریس ڈیرہ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جو آئے عدو نبوت سے دور
اپنی بلندیوں کا سامان عظمت
مدینہ کا مسافر اس خطے سے لے کر
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
آل پاکستان
سالانہ
کانفرنس
تحفظ ختم نبوت
زیر اھتمام مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ پبلک پارک میں ھوگا
مورخہ ۲۷، ۲۸، ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء ہفتہ اتوار پیر
جس میں جید علمائے امت، زعماء ملت اور شعراء اسلام ایمان افروز، وجد آفرین، حقائق افروز خطاب فرمائیں گے !
عنوانات
- شان توحید
- مقام رسالت
- مسئلہ ختم نبوت
- حجیت حدیث
- خلافت راشدہ
- مناقب اہلبیت
- اصلاح معاشرہ
- اتحاد بین المسلمین
- مسئلہ جہاد
- استحکام پاکستان
مقررین حضرات
مشہور و معروف خطیب حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا محمد حیات، حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی، حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا عبیداللہ انور، حضرت مولانا سید ابوذر بخاری، حضرت مولانا سید عطاء المحسن بخاری، حضرت مولانا محمد عبداللہ، حضرت مولانا محمد اسلم، اور دیگر علمائے کرام خطاب فرمائیں گے۔
اطلاع
کانفرنس کے اجلاس پنڈال میں ہوں گے۔ خواتین کے لیے پردہ کا انتظام ہوگا۔ مہمانان کرام موسم کے مطابق اپنے بستر ہمراہ لائیں۔ وقت کی پابندی ملحوظ رکھیں۔
منجانب : مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ چنیوٹ (جھنگ)
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
مقام:- قاسم باغ، ملتان شہر تاریخ:- ۲۴ محرم ۱۳۹۵ھ مطابق ۷ فروری ۱۹۷۵ء دن:- جمعۃ المبارک ! وقت:- بعد جمعہ و بعد نماز عشاء
خاتم النبیین قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی
موضوع:- ملکی دستور اور مسئلہ ختم نبوت
مجلس تحفظ ختم نبوت
یک روزہ
کانفرنس
عظیم الشان
شرکاء مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان مولانا حافظ محمد عبداللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا صاحبزادہ سید افتخار الحسن صاحب خطیب لال مسجد مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب خطیب جامعہ قاسمیہ لائل پور ! مولانا خواجہ عبدالرشید صاحب صدیقی جنرل سیکرٹری جمعیت اہلحدیث، ضلع ملتان ! شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی شیخوپورہ
نوٹ :- نماز جمعہ حضرت شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال جلسہ گاہ میں پڑھائیں گے۔ لاؤڈ سپیکر و مستورات کیلئے پردہ کا انتظام ہوگا
عزیز الرحمٰن ــــ ناظم نشر و اشاعت ــــ تحفظ ختم نبوت ملتان
شاہد خوشنویس ۔ شاہین مارکیٹ ملتان پاک الیکٹرک پریس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زیر اہتمام : مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
جلسہ
بمقام قاسم باغ قلعہ کہنہ
صدارت
فاتح مقدمہ حبیب آباد عزت مآب جناب محمد عثمان ایم اے ایل ایل بی ۔ علیگ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مغربی پاکستان
تاریخ ۴ شعبان ۱۳۹۶ھ مطابق ۶ اکتوبر ۱۹۷۶ء ہ دن منگل ہ وقت بعد نماز عشاء
چودہ سو سال سے عالم اسلام مدعی نبوت کے کفر پر متفق ہے۔ اسی کی صدائے بازگشت جناب محمد عثمان صاحب ایڈوکیٹ کی مساعی جمیلہ سے حبیب آباد سندھ کی فیملی کورٹ میں سنی گئی۔ اور فاضل عدالت نے اُمت کے اس متفقہ فیصلہ کی تائید کی۔ ایمان افروز حالات سننے کے لیے جوق در جوق تشریف لائیے
أسماء گرامی علماء کرام استاذ العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب بانی خیر المدارس مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب شیخ الحدیث قاسم العلوم ۔ ملتان مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب ایڈیٹر لولاک ۔ لائلپور
الداعی الی الخیر : عزیز الرحمن ناظم دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)
طابع حمیدیہ پریس لاہوری گیٹ ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زیراہتمام: مجلس تحفظ ختم نبوت لائلپور
تحفظ ختم نبوت لائلپور
کانفرنس
عنوانات
ملکی دستور اور مسئلہ ختم نبوت سقوط مشرقی پاکستان اور مرزائی
۳۔ ۴ جمادی الاول ۱۳۹۲ھ ۱۵۔۱۶ جون ۱۹۷۲ء بروز جمعرات۔ جمعہ بعد از نماز عشاء بمقام اقبال پارک دھوبی گھاٹ
اسمائے گرامی علماء کرام
- مداح آلِ رسول سید مظفر علی شمسی لاہور
- مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر
- شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی
- مولانا صاحبزادہ سید افتخار الحسن لائل پور
- مولانا تاج محمود صاحب لائل پور
- مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب لائلپور
- مولانا محمد شریف جالندھری ملتان
- مولانا محمد صدیق صاحب لائل پور
- مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان
- مولانا مجاہد الحسینی صاحب لائلپور
- مولانا حبیب اللہ ساہیوال
- مولانا محمد رفیق صاحب لائلپور
- مولانا اللہ وسایا مبلغ لائلپور
- مولانا منظور احمد شاہ حمیدی ملتان
- مولانا قاضی اللہ یار مبلغ مرکزیہ ملتان
- مولانا ارشاد احمد مبلغ ملتان
- مولانا خدا بخش مبلغ بہاول نگر
- مولانا خلیل الرحمٰن مبلغ چنیوٹ
- مولانا صاحبزادہ امداد الحسن تاندلیانوالہ
- مولانا غلام مصطفیٰ شاہ جھنگ
- مولانا عبدالعلیم جالندھری لائل پور
- قاضی محمد ادریس چنیوٹ
- مولانا ممتاز الحسن مبلغ کھڑیانوالہ
- مولانا محمد علی جانباز مبلغ سمندری
- جناب احمد بخش چشتی جھنگ
- مولانا ضیاء الدین آزاد مبلغ لاہور
- مولانا عبداللطیف ۔ شاہکوٹ
الداعی الی الخیر: حاجی منظور الحق حاجی عبدالوحید حاجی کریم بخش • اراکین مجلس استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس لائل پور
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
سولھویں
کانفرنس تحفظ ختم نبوة
بمقام
جابہ
ضلع سرگودھا
۸-۹ شعبان المعظم ۱۳۹۲ھ بتاریخ ۱۷-۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء بروز اتوار ۔ پیر
عنوانات
توحید باری تعالیٰ ٭ مسئلہ ختم نبوۃ ٭ ملکی سالمیت کے تقاضے ٭ اہمیت جہاد ٭ منکرین جہاد کی نشاندہی
- مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- مجاہد اسلام، پیر طریقت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب چکوال خلیفہ مجاز شیخ الاسلام مدنیؒ
- حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- استاذ العلماء حضرت مولانا فضل احمد صاحب جامعہ عثمانیہ تلہ گنگ
- حضرت مولانا قاضی عبدالمالک صاحب جاہویاں ضلع سرگودھا
- حضرت مولانا محمد رمضان صاحب امیر جمعیۃ علماء اسلام ضلع میانوالی
- حضرت مولانا عبدالکریم صاحب خطیب جامع مسجد مہاجرین شاہ پور صدر
- حضرت مولانا صاحبزادہ قاضی محمد رضا صاحب بانی و مہتمم مدرسہ عربیہ بنی
- حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب خلف الرشید حضرت مولانا عبدالرحمن بھوکوی
- حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب خطیب جامع مسجد بگڑوالی خوشاب
- حضرت مولانا قاری محمد دین صاحب خطیب جامع مسجد مدروال
- حضرت مولانا قاری محمد سعید صاحب خلف الرشید حضرت مولانا فضل احمد صاحب
- حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ بخاری مبلغ مرکزی ختم نبوت
- حضرت مولانا ارشاد احمد صاحب مبلغ مرکزی ختم نبوت
- حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب مبلغ ختم نبوت چنیوٹ
- حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مبلغ ختم نبوت لائلپور
- حافظ عبدالحمید صاحب نعت خوان ۔ تلہ گنگ
- حضرت مولانا حافظ عزیز الرحمن خورشید مبلغ ختم نبوت سرگودھا
نوٹ : جابہ ۔ تلہ گنگ ۔ سرگودھا ، شاہ پور وادی سون میں مرکزی مقام ہے ۔ مرزائیوں نے اس قصبہ میں اپنا محاذ قائم کیا تھا ، انجمن احمدیہ قادیان کی مرکزیت قائم کر کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی تھی
تب علاقہ کو مرزائی ارتداد سے محفوظ رکھنے کے لیے مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جماعت نے جابہ میں ایک مبلغ کا کام شروع کیا ۔ ۔ ۔ آج الحمد للہ ، یہاں سے بیسیوں مرزائیوں نے رہائش ترک کر دی ہے ۔ مرزائی خلیفہ دجال کے جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں ۔ ۔ ۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ و دیگر مبلغین کی محنت و خلوص کے باعث، یہاں کی مسجد جامع ختم نبوت کے نام سے مجاہدین کا مرکز بن چکی ہے
باطل کی سرکوبی اور حق کی سربلندی کا مستانہ ترانہ سننے کے لیے جوق در جوق تشریف لائیے :
الداعی الی الخیر خادم الاسلام حافظ نجیب الدین صدر مجلس تحفظ ختم نبوت جابہ مبلغ سرگودھا
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِيْ (الحديث)
۲۱ ویں کل پاکستان تحفظ ختم نبوۃ کانفرنس چنیوٹ پبلک پارک
۳۰ ذیقعدہ ۱-۲ ذی الحجہ ۱۳۹۳ھ مطابق ۲۶-۲۷-۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء بروز بدھ ۔ جمعرات ۔ جمعہ
- اُمّتِ مسلمہ کا عظیم اجتماع
- جشنِ صد سالہ دارالعلوم دیوبند کے رُوح پرور نظارے
- عقیدۂ ختم نبوۃ کی حفاظت کیلئے تمام مسلمان فرقوں کے اتحاد کا بے نظیر منظر
- مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت
- ملکی سالمیت کی عظمت کیلئے فرضیتِ جہاد
- یہودی مرزائی گٹھ جوڑ
- یہودیوں ، مرزائیوں اور عیسائیوں کے ہتھکنڈوں کی مذمت
- مرزائیوں کی اہلِ اسلام سے غداریاں
اَسماءِ گرامی عُلمائے کرام و زُعماءِ عُظّام
- مجاہدِ ملّت جناب سردار عبد القیوم خاں صاحب صدر حکومتِ آزاد کشمیر
- فدائے ختم نبوت جناب کرم شاہ صاحب کاشمیری
- جناب منظور حسین صاحب سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی
- سردار محمد ایوب صاحب رُکن آزاد کشمیر اسمبلی
- جناب گلزار احمد صاحب ممبر آزاد کشمیر اسمبلی
- مولانا قاری محمد مسعود صاحب رکن مجلسِ شوریٰ تحفظِ ختم نبوت پاکستان
- شاعرِ اسلام ابو الاثر حفیظ جالندھری
- شاعرِ ملت جناب احسان دانش لاہور
- شاعرِ ختم نبوت جناب سید محمد امین گیلانی
- شاعرِ قوم جناب سائیں محمد حیات صاحب
- فاضلِ نوجوان جناب حنیف رضا لائل پور
- چوہدری محمد رفیق باجوہ آف چنیوٹ
- قاضی محمد ادریس صاحب صدر سٹوڈنٹ یونین گورنمنٹ کالج چنیوٹ
- حضرت علامہ سید محمود احمد رضوی صاحب صدر جمعیت علماء پاکستان لاہور
- مجاہدِ ختم نبوت نواب زادہ نصر اللہ خاں صاحب ممبر قومی اسمبلی پاکستان
- مولانا سید محمد علی رضوی صاحب ایم۔ این۔ اے
- مولانا ظفر احمد انصاری صاحب ایم۔ این۔ اے ممبر قومی اسمبلی
- مولانا شاہ احمد نورانی صاحب ایم۔ این۔ اے
- علامہ عبد المصطفیٰ الازہری ایم۔ این۔ اے نائب صدر جمعیت علماء پاکستان
- حضرت پیر سید نفیس الحسینی مدظلہ سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت
- حضرت مولانا سید محمد متین ہاشمی صاحب رکن مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت
- حضرت مولانا عبد الشکور صاحب دین پوری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت
- حضرت مولانا نذیر احمد خاں صاحب گجرات
- حافظ عبد الاحد صاحب صدر سٹوڈنٹ یونین زرعی یونیورسٹی لائل پور
- جناب سردار پیر بخش خاں لغاری مجاہدِ اسلام چنیوٹ
- شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری جامعہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی
- محافظِ قرآن و حدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان
- قائدِ جمعیت مولانا مفتی محمود صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام ایم۔ این۔ اے
- شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک ایم۔ این۔ اے
- حضرت مولانا عبید اللہ صاحب انور ایم۔ این۔ اے
- فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا غلام اللہ خاں صاحب راولپنڈی
- حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سجادہ نشین بیربل شریف (سندھ)
- حضرت مولانا سید محمد شاہ صاحب سجادہ نشین امروٹ شریف (سندھ)
- حضرت مولانا شمس الدین صاحب ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی
- حضرت مولانا نور الحق صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت (سرحد)
- حضرت الحاج مولانا اسماعیل صاحب بابوجی جامعہ اسلامیہ نیوٹاؤن کراچی
وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب ، صدر آزاد کشمیر، صوبائی وزراء، اسلامی ممالک کے سفراء سے شرکت کی درخواست کی گئی ہے جن کی شرکت متوقع ہے
لائل پور ، سرگودھا ، چنیوٹ، جھنگ کے علماء خطباء مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین یقیناً شریک ہوں گے : مزید معلومات کے لئے دفتر استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس مسلم بازار چنیوٹ سے رابطہ قائم کریں
اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
يَا حَبِيبِي يَا مُحَمَّد يَا خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ يَا رَسُولَ الله يَا مَدَنِي يَا مُصْطَفَى
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي (الحديث)
مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے زیر اھتمام
دو روزہ عظیم الشان کانفرنس
ختم نبوت
اطلاع
یہاں واضح ہو کہ ۱۴ جولائی کے اجلاس کی صدارت مخدوم العلماء حضور خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین کندیاں شریف فرمائیں گے
مورخہ ۱۴ ، ۱۵ جولائی ۱۹۷۴ء مطابق ۲۳ ، ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۹۴ھ بروز ہفتہ اتوار کچہری بازار سرگودھا منعقد ہو رہی ہے جس میں مندرجہ ذیل علماء کرام و مشائخ عظام شرکت فرما رہے ہیں،
زیر صدارت
مخدوم العلماء راھبر شریعت و طریقت حضرت الحاج مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف
اسماء گرامی علمائے کرام
- حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب ایم۔ این۔ اے راولپنڈی۔۔
- حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم اعلیٰ مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان
- حضرت مفتی احمد سعید صاحب خطیب جامع مسجد سرگودھا۔
- مولانا عبدالرحمن صاحب ڈکٹیٹر گوجرانوالہ صدر مجلس عمل اہلحدیث پاکستان
- فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب ملتان۔
- مولانا صاحبزادہ سید محمود شاہ صاحب گجرات۔
- مداح آل رسول مولانا محمد حسین صاحب سرگودھا۔
- مولانا تاج محمود صاحب لائلپور
- مولانا حافظ سعید الرحمن صاحب خطیب جامع مسجد چنیوٹ
- مولانا محمد مکی صاحب جلالپوری ناظم نشر و اشاعت مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان
- جناب شیخ محمد اقبال صاحب ایم۔ پی۔ اے، پنجاب (جھنگ)
- مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیتہ علماء اسلام پنجاب
قُرَّاء:
- مولانا قاری شمس الدین صاحب سرگودھا
شُعَرَاء:
- قاری عبدالحمید صاحب سرگودھا
- الحاج سید امین گیلانی شیخوپورہ
- جناب اسلم عرشوی صاحب
الدَّاعِي اِلَى الْخَيْرِ: حَافِظُ عَزِيزِ الرَّحْمٰن خُرشيد مبلغ تحفظ ختم نبوت ضلع سرگودھا
قریشی پریس
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
زیر صدارت مولانا محمد یوسف بنوری صدر مرکزی مجلس عمل
بادشاہی
مسجد
لاہور
میں
یکم
ستمبر
اتوار
۸½ بجے شب
حسب ذیل رہنمائے ملت خطاب فرمائیں گے حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی صاحبزادہ غلام معین الدین گولڑہ شریف حضرت مولانا عبداللہ درخواستی
جانثارانِ ختم نبوت کا ایمان افروز اور باطل سوز
عظیم الشان تاریخی
جلسہ عام
پیر صاحب پگاڑا شریف پروفیسر غفور احمد سید محمد علی محمود اعظم فاروقی مولانا صدر الشہید محمد زمان خان اچکزئی میاں فضل حق حاجی سرفراز
مولانا جان محمد عباسی نوابزادہ نصر اللہ خاں چوہدری ظہور الٰہی مولانا عبد الستار نیازی مفتی ظفر علی نعمانی مولانا عطاء المنعم مولانا اظہر حسن زیدی مظفر علی شمسی
مولانا عبد المصطفیٰ الازہری مولانا عبید اللہ انور مولانا خان محمد کنڈیاں خواجہ محمد صفدر مولانا عبد القادر روپڑی چودھری ثناء اللہ بھٹہ جناب حمزہ بشیر احمد صدیقی رانا نذر اللہ
مولانا شاہ احمد نورانی مولانا مفتی محمود علامہ سید محمود احمد رضوی میاں جمیل احمد شرقپوری ملک محمد قاسم چودھری غلام جیلانی علامہ احسان الٰہی ظہیر مولانا غلام علی اوکاڑوی
ان کے علاوہ جلسہ عام میں پنجاب بھر سے شمع رسالت کے پروانے شرکت کر رہے ہیں
الداعیان: صاحبزادہ فیض الحسن قادری ۔ بارک اللہ خان ۔ صدر و سیکرٹری جنرل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ۔ ۹۔ شارع فاطمہ جناح لاہور فون: ۵۴۹۶۴ تعداد ۵۰۰۰۰ 30 - 8 - 74
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام
لاہور میں
عظیم الشان تاریخی
ختم نبوت
کنونشن
یکم ستمبر ۷۴ء
بروز اتوار
حضور سید المرسلین خاتم النبیین محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی ناموس کی حفاظت کیلئے پاکستان کے جلیل القدر علماء، مشائخ اور قائدین ملت کا ایمان افروز اور
باطل سوز اجتماع
مولانا شاہ احمد نورانی ایم این اے مولانا عبید اللہ انور جناب مخدوم زادہ حسن محمود سینیٹر، کوئٹہ حضرت پیر محمد ایوب جانہ (شریعت) مفتی محمد حسین ایم پی اے مولانا حافظ محمد ندوی جناب مفتی غلام قادر گجرات جناب رانا نذر اللہ مولانا محمد شریف افغان مولانا حبیب الرحمٰن ہزاروی، پشاور مولانا محمد سلیمان طاہر مولانا مفتی دائم الدین مولانا محمد صدیق قاری محمد شریف، لاہور مولانا محمد اسمعیل، گوجرہ
مولانا امان اللہ عباسی مولانا عبدالحق ایم این اے مولانا مفتی محمد شفیع، کوئٹہ حضرت پیر غلام محی الدین قاصد جناب عبدالمحسن ایم پی اے حضرت عمر علی شاہ چترالی جناب حاجی محمد حسین سیالکوٹ علامہ احسان الٰہی ظہیر ملک محمد اکبر خان ساقی، سرگودھا سید مسعود علی شاہ، چشتیاں مولانا محمد رمضان، مردان مولانا یٰسین جان بکھری جناب حمزہ ایم این اے سردار احمد علی خاں ایم پی اے، لاہور مولانا حامد میاں
حضرت پیر نظام الدین تونسوی (شریعت) پروفیسر غفور احمد ایم این اے مولانا سید محمد ایم این اے حضرت پیر محمد امین شاہ گیلانی، پیرمحل مولانا محمد اسحاق ایم پی اے حضرت پیر محمد حسین گجراتی (شریعت) مولانا صوفی محمد نیاز درگائی مولانا محمد شفیع اوکاڑوی مولانا منظور احمد چنیوٹی مولانا غلام علی شاہ، چشتیاں مولانا عبدالمجید خاں، کوئٹہ مولانا سلیم اللہ، لاہور جناب نجم الدین ولیتی، لاہور شاہ دین ایم پی اے، جہلم مولانا بشیر احمد پاشا، راولپنڈی
مولانا خان محمد کندیاں شریف پیر محی الدین گیلانی مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری ایم این اے مولانا عبدالحکیم ایم پی اے مفتی زین العابدین (لائلپور) جناب سینیٹر خواجہ محمد شیخ فضل الرحمٰن ایم این اے (لائلپور) حافظ عبدالقادر روپڑی مولانا گلزار احمد مظاہری چوہدری صفدر علی، لائلپور جناب حاجی سرفراز، خان گڑھ مولانا محمد شریف جالندھری ایڈووکیٹ محمد شفیع، ہالیجین مولانا محمد حنیف، ساہیوال مولانا علی غضنفر کراروی
مولانا حافظ عبداللہ درخواستی مولانا محمد علی رضوی ایم پی اے مولانا عبد القدوس قاسمی ایم این اے صاحبزادہ محمد فضل رسول حیدرآبادی پیر محمد کرم شاہ، بھیرہ جناب ملک محمد قاسم جناب نواب زادہ نصر اللہ خاں مولانا عبد القادر (رحیم یار خان) مولانا تاج محمد، لائلپور مولانا معین الدین، لائلپوری صاحبزادہ محمد فضل رسول حیدرآبادی مولانا عطاء الحسن بخاری رابعہ شیر زمان، ملتان حافظ عبدالرحیم ایم پی اے مولانا احمد علی قصوری مولانا عبداللہ صاحب، لاہور
حضرت پیر سید محی الدین شاہ، راولپنڈی مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی مولانا مفتی محمود احمد ایم این اے چوہدری ظہور الٰہی ایم این اے جناب خواجہ محمد صفدر سینیٹر جناب نوابزادہ نصر اللہ خاں جناب امیر زادہ خان ایم پی اے مولانا سید محمد شاہ گجراتی مولانا عبد الکریم شہداء، لائلپور جناب سلیم سندھی چوہدری ظہور الٰہی، ملتان مولانا محمد عبداللہ، گوجراں مولانا حبیب اللہ احرار مولانا حبیب الرحمٰن ہزاروی قاری محمد اسمعیل، گوجرہ مولانا سیف اللہ
مولانا محمد یوسف بنوری علامہ سید محمود احمد رضوی مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے مولانا نور الحق ایم این اے (سندھ) صاحبزادہ صفی الدین ایم پی اے علامہ سید محمد شاہ بازی مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک جناب عبد الشکور ایم پی اے جناب چوہدری ظہور الٰہی صوفی عبدالمجید ایم پی اے مولانا فضل الرحمٰن ایم پی اے مولانا منظور الحق، ساہیوال صاحبزادہ محمد یوسف نقشبندی مولانا عبد اللہ صاحب احرار مولانا معین الدین، ڈوگر
پروگرام
پہلا اجلاس - صبح ۹ بجے تا ۱ بجے کنونشن شیزان ہوٹل گلبرگ لاہور۔ دوسرا اجلاس - ۳ بجے تا ۵ بجے خصوصی اجلاس اراکین مجلس عمل
تیسرا اجلاس عام بعد نماز عشاء شاہی مسجد لاہور
المعلن : شعبہ نشر و اشاعت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لاہور
رابطہ کے لیے
فون نمبر ۶۳۰۲۷
۶۰۲۵۹
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد!
منجانب خادم نبوت حیدرآباد
ختم نبوت زندہ باد! قادیانیت مردہ باد
قائدِ اعظمؒ کا ارشاد
اور ناخلف بیٹے کا کردار
(ظفر اللہ) نالائق بیٹے کا قائدِ اعظمؒ کی نمازِ جنازہ سے فرار
قادیانی ٹولہ آج کل ایک اشتہار جگہ جگہ لگاتے پھرتے ہیں جس میں لکھا ہوا ہے کہ قائدِ اعظمؒ مرزائیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور جناب قائدِ اعظمؒ صاحب نے چوہدری ظفر اللہ (مرتد) کی اپنے بیٹے کی طرح تعریف کی تھی۔ قادیانیو۔ مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کے پرستارو۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے فرض کرلیتے ہیں کہ قائدِ اعظمؒ صاحب تمہیں مسلمان سمجھتے تھے۔ اب تم بتاؤ کہ تم قائدِ اعظمؒ کو کیا سمجھتے ہو۔ جب قائدِ اعظمؒ کی نمازِ جنازہ ہورہی تھی تو اُس میں۔ شیعہ، سُنی، اہلحدیث، دیوبندی، بریلوی ہر مکتبِ فکر کے لوگ شامل تھے لیکن ایک تم باغیانِ شریعتِ محمدیؐ ہی تھے کہ نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ قائدِ اعظمؒ صاحب کا منہ بولا بیٹا (بقول تمہارے) پرے ہٹ کر غیر مسلموں کافروں کی صف میں کھڑے ہو کر اپنے نوشتۂ تقدیر پر دستخط کررہا تھا تمہارے مسلمان اور غیر مسلمان ہونے کا فیصلہ تو اُسی دِن ہوگیا تھا جب تم نے اپنے آپکو مسلمان سمجھتے ہوئے قائدِ اعظمؒ کی نمازِ جنازہ نہ پڑھ کر اپنے زعم میں یہ ثابت کیا تھا کہ قائدِ اعظمؒ کافر ہے۔ یہ بھی آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب ہزاروی نے ظفر اللہ خان (مرتد) کو للکارا کہ نمازِ جنازہ میں کیوں شریک نہیں ہوتے تو وہ جواب بھی آپ کو معلوم ہوگا۔ وضاحت کی ضرورت نہیں۔
مرزا غلام احمد کا الہام تھا کہ انگریز ہمارے اوپر ابر رحمت ہے جو امن ہمیں انگریز حکومت میں مل سکتا ہے وہ ہمیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نہیں مل سکتا۔ دوسرا الہام یہ تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملک ایک ہی رہیں گے، لیکن قائدِ اعظمؒ صاحب نے ان دونوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ انگریز کو بھی ملک سے نکالا اور تقسیم ملک کا مسئلہ بھی صاف کیا تو معلوم ہوا کہ وہ تمہارے ہر فریب کا پردہ چاک کرنیوالا تھا نہ کہ تمہیں مسلمان سمجھنے والا تھا۔ قائدِ اعظمؒ صاحب کوئی مفتی یا مولوی نہیں تھے جسکا فتویٰ دین میں حجت ہو۔ وہ ایک سیاسی لیڈر ضرور تھے، انہوں نے اچھے کام کیئے تھے، مذہب کے معاملے میں انکی بات کوئی حجت نہیں۔
مرزائیو! اب یہ کالی بھیڑوں کا کردار ادا کرنا بند کردو ورنہ مجلس تحفظِ ختمِ نبوت
تمہارا قبر تک پیچھا کریگی تمہارے ہر فریب کو ننگا کرے گی۔
ناشر: مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کنری پاک ضلع تھرپارکر سندھ
کتبہ محمد حسن بن سالم علی عفی عنہ حیدر آباد سندھ ۱۹۷۵ء
پاسبان پرنٹنگ پریس حیدر آباد (سندھ)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائیت
سے
توبہ توبہ ــــــــــــــــ توبہ
میں ایک عرصہ ہوا مرزا غلام احمد قادیانی کے دامن سے وابستہ ہو گیا تھا اور ہمہ تن اس کوشش میں مصروف رہتا تھا کہ دوسرے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے دامن سے وابستہ کر دوں اور اپنی دوکان پر میں مرزائیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا، لیکن دیگر مسلمانوں کو میں اس لئے مرزائی بنانے میں ناکام رہا کہ علاقہ بھر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسے ہوتے رہتے تھے
میں نے مسلمانان باڑہ قلعہ کو مناظرہ کے چیلنج دیئے میرا چیلنج مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ پشاور نے منظور کر کے میرے ساتھ مناظرہ کا تحریری معاہدہ کر لیا۔ عین مناظرہ کے روز جب مولینا لال حسین صاحب اختر مبلغ تحفظ ختم نبوت مناظرہ کیلئے تشریف لائے تو میں اور جماعت مرزائیہ کے مناظر چراغ دین مناظرہ کے میدان سے بھاگ نکلے مناظرہ سے فرار ہونے کے بعد میں نے اپنا کاروبار باڑہ قلعہ کی بجائے موضع سفید ڈھیری میں شروع کر دیا مگر معلوم نہیں کہ کس طرح مجلس تحفظ ختم نبوت کو موضع سفید ڈھیری میں میرے آنے کا علم ہوا چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے جلسے موضع سفید ڈھیری میں منعقد ہوئے جس میں مفتی سرحد مولانا عبدالقیوم صاحب پوپلزئی۔ مولانا حمد اللہ جان صاحب۔ مولانا فضل حق صاحب، مولانا نور الحق صاحب نور، مولانا سید امام شاہ صاحب اور مولانا محمد سلطان صاحب نے تقریریں کیں، اور مرزائی کتابوں کے حوالے نوٹ کروائے میں نے ان جلسوں کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکی جماعت کی کتابوں کا بغور مطالعہ کیا، اور میں آج بخوشی یہ اعلان کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکی ٹولی نے اللہ تعالیٰ، محمدؐ عربی، صحابہ کرامؓ اہل بیت اور دیگر اکابرین مذہب کی توہین و تذلیل کی ہے اسلئے مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکار کافر اور مرتد ہیں نیز مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت انگریزوں کی جاسوس ہے۔ ــــــــــــــــــــ میں مرزائیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان کرتا ہوں، میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا بھی بصد دل شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے رہنماؤں کی کوششوں سے میں دوزخ کی آگ سے بچ گیا !
دستخط (اردو و انگریزی) ڈاکٹر سرور خان
شناختی کارڈ نمبر ................. دستخط .................
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اَعْدَاءُ المُسْلِمِيْنَ فِي العَالَمِ
- ١- الصّهيونيّة ومن اعانها
- ٢- القَادِيَانِيَّة [وهم اتباع مرزا غلام احمد القادياني المتنبئ فى الهند والباكستان]
- ٣- الإشتراكيّة (الشيوعيّة)
- ٤- الحاد الغَرب (أوربا)
مجلس تحفظ ختم النبوّة كينيا
أسّسها الخطيب الأكبر السّيّد عطاء الله شَاه رَحِمَهُ الله تَعَالٰی
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائی مسلمانوں کے کسی ادارہ میں نمائندہ نہیں ہو سکتے !!
برادرانِ اسلام !
امتِ اسلامیہ چودہ سو سال سے نئے مدعی نبوت اور اس کے ماننے والوں کو قرآن وسنت کی روشنی میں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے
عالم اسلام، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کو نبی یا مجدد ماننے والوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر متفق ہے۔ اسی طرح مرزائی تمام عالم اسلام کو کافر کہتے ہیں چنانچہ ظفر اللہ خاں اور دوسرے مرزائیوں نے، قائد اعظم ، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر اور دوسرے اکابرین کا جنازہ تک نہیں پڑھا ۔ نیز مرزائی عقیدہ نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں چنانچہ مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ”ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں مسلمان، ہندو ، جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے۔“ - الفضل ۵ اپریل ۱۹۴۷ء
اس نظریہ اور عقیدہ کے ساتھ مرزائی براستہ پیپلز پارٹی آگے آئے ہیں مرزائی اپنے عقائد اور نظریات کے لحاظ سے الگ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں اس لیے مرزائی کسی بھی ادارہ میں مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے
حضرت مولانا عبید اللہ انور نائب امیر جمعیتہ علما اسلام پاکستان حضرت مولانا سید کاظم علی شاہ صدر انجمن امامیہ گوجرانوالہ حضرت مولانا مفتی بشیر حسین قادری خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی خطیب جامع مسجد لائلپور حضرت مولانا محمد علی جالندھری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان حضرت مولانا سید خلیل احمد قادری نائب صدر جمعیتہ العلما حضرت مولانا حافظ عبد القادر روپڑی جماعت اہلحدیث حضرت مولانا حکیم عبد الرحمٰن تنویر جماعت اہل حدیث گوجرانوالہ
شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائی اور مسلمان
علامہ اقبالؒ نے ۱۹۳۶ء میں مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے
بیان مرزا غلام احمد قادیانی:
کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر تو یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دُوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجُود اتمامِ حُجّت کے جُھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کُتُب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دُونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں
حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۷۹، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا بشیر احمد قادیانی:
(ابن غلام احمد قادیانی)
ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا یا محمدؐ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ پکا کافر
کلمۃ الفصل صفحہ ۱۱۰ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی (والد ایم ایم احمد)
ایم ایم احمد صدر پاکستان:
میرا دادا مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے اسی بناء پر مَیں نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا
ایم ایم احمد کا فوجی عدالت میں بیان مندرجہ ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک رمضان ۹۴ء
پس مرزائیوں کی نظر میں،
بلاشبہ حضرت جی مولانا احمد علی لاہوریؒ، پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، قائد اعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ، لیاقت علی خاں مرحوم اور پاکستان کے تمام طُول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں کی تمام مقتدر ہستیاں سب کافر اور تمام دنیائے اسلام کافر ہیں۔ نعوذ باللہ
مرزائی: صرف عہدوں اور ملازمتوں کی خاطر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ورنہ ان کی نمازیں، شادی، غمی حتیٰ کہ قبرستان عام مسلمانوں سے بالکل علیحدہ ہیں
—— عوامی حکومت سے عوام کا پُرزور مطالبہ ——
- پاکستان میں دعویٰ نبوت قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جائے
- مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق کا تعین کیا جائے
- تمام مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے
شعبہ نشر و اشاعت
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
کاتب: سید انوار علی رقم
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دُستور ساز اسمبلی سے مطالبہ!
٭ مرزائیوں کو غیر مُسلم اقلیت قرار دیا جائے
٭ مخلوط انتخاب کا چور دروازہ مرزائیوں کیلئے نہ کھولا جائے
- (۱) اس وقت تمام ملکی مسائل میں سرفہرست دستور سازی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کی جداگانہ نظریہ پر ہے۔ اسلئے اب اُس بنیاد کے اعتبار
سے پاکستان کا دستور اور اُس کی ہر گونہ تعمیر و ترقی کتاب و سُنّت کی روشنی میں ہونی چاہئے پاکستان کی سالمیت اور اسلام کے بقاء و ارتقاء کیلئے جداگانہ طریق انتخاب تجویز کیا جائے۔ اور مخلوط انتخاب کا چور دروازہ مرزائیوں کے لئے نہ کھولا جائے۔
- (۲) مرزائی تمام عالم اسلام کے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ ملت پاکستان کے عوام، اخبارات، لیڈرز، علماء اور مشائخ کا بالاتفاق مطالبہ ہے کہ پاکستان کے
دستور اساسی میں انہیں اقلیت قرار دیا جائے ۔ اسلامیان پاکستان ہوش و جوش ہر طرح سے اس مطالبہ کی تائید کر چکے ہیں ۔
- (۳) سابقہ دستور ساز اسمبلی نے دستور کا جو مسودہ بی۔ پی۔ سی رپورٹ کی صورت میں پیش کیا تھا اسمیں مرزائیوں کو اقلیت قرار نہیں دیا گیا تھا جسکی وجہ سے ردّعمل کے
طور پر ۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت (جس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی) پیش آئی۔ لاکھوں رضا کاروں نے اپنے آپکو گرفتاری کیلئے پیش کیا۔ ہزار ہا علماء و مشائخ نظر بند کرلئے گئے۔ سینکڑوں شمع رسالت کے پروانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ بالآخر خواجہ ناظم الدین کی وزارت ختم ہوئی۔ اس وقت کی صوبائی وزارتیں ختم ہوئیں۔ بی۔ پی۔ سی رپورٹ ختم ہوئی۔ حتیٰ کہ وہ دستور ساز اسمبلی بھی ختم ہوئی جس نے مرزائیوں کو اقلیت نہ قرار دے کر ملک کو فتنہ عظیم میں مبتلا کر دیا تھا۔
- (۴) تحریک تحفظ ختم نبوت کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کے دو فاضل ججوں پرمشتمل ایک عدالتی کمیٹی قائم کی گئی جس نے ایک طویل مدّت صرف کر کے تحریک
تحفظ ختم نبوت کے متعلق ایک ضخیم "تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ" لکھی، جو شائع ہوچکی ہے۔ مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیت کے متعلق اس رپورٹ میں اربابِ اقتدار اور دستور ساز اسمبلی کے اراکین کیلئے عبرت آمیز اور سبق آموز مواد موجود ہے۔ (فاعتبروا یا اولی الابصار )
- (۵) گذشتہ سال ایک مرزائی عورت اور مسلمان مرد کے مقدمہ میں راولپنڈی کے سیشن جج نے مفصل اور مدلل فیصلہ لکھ کر مرزائیوں کو غیر مسلم ثابت کیا ۔
لہٰذا ہم موجودہ دستور ساز اسمبلی اور بَرسرِاقتدار پارٹی لیڈروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں ۔ کہ : ـــــــ
- ٭ پاکستان کا دستور اساسی مکمل طور پر مبنی بر کتاب وسنّت تیار کیا جائے ۔
- ٭ مرزائیوں کو غیر مُسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
- ٭ مخلوط انتخاب کا چور دروازہ مرزائیوں کے لئے نہ کھولا جائے ۔
- ٭ پاکستان میں غیر اسلامی تبلیغی سرگرمیاں بند کی جائیں ۔
نیز ہم واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ جس دستور میں مرزائیوں کو اقلیت نہ قرار دیا گیا اُسے ہرگز ہرگز اسلامی دستور نہیں سمجھا جائیگا۔
الداعیان
- (۱) مولانا مفتی زین العابدین خطیب جامع مسجد عید گاہ لائل پور
- (۲) مولانا محمد شفیع صدر جمعیۃ علماء اسلام لائل پور
- (۳) مولانا تاج محمود ناظم جمعیۃ تحفظ ختم نبوت و کنوینر مجلس عمل لائل پور
- (۴) صاحبزادہ سید محمود الرشید ہاشمی امیر جمعیۃ علماء پاکستان ضلع لائل پور
- (۵) مولانا عبد الرحمن ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اسلام ورکن مجلس عمل لائل پور
- (۶) مولانا محمد صدیق خطیب جامع مسجد اہلحدیث و نائب امیر جمعیۃ اہلحدیث لائل پور
- (۷) صاحبزادہ افتخار الحسن رکن مجلس عمل لائل پور
- (۸) مولانا محمد سعید غازی رکن مجلس عمل لائل پور
- (۹) مولانا حافظ عبدالمجید مہتمم مدرسہ اشاعت العلوم ورکن مجلس عمل لائل پور
المشتہر : مجلس عمل تحفظ ختم نبوت لائل پور چھاپنے والے : دارالاسلام پرنٹنگ پریس سمن آباد لائل پور
یہ بھی اخبار کی کٹنگ ہے
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حوالہ نمبر ۴۵
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
موجودہ بحران کا ذمہ دار کون؟
آئندہ مرزائیوں پر اعتماد نہ کیا جائے
- مرزائی ۔ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں اور اپنے سوا تمام دنیائے اسلام کو کافر کہتے ہیں
(ایم۔ ایم۔ احمد کا فوجی عدالت میں بیان)
- مرزائی ۔ قادیان کو مرزا غلام احمد کا مولد و مدفن ہونے کے باعث تمام مراکز اسلام سے مقدس سمجھتے ہیں۔
- مرزائی ۔ اپنے فرقہ کی لاشوں کو پاکستان کی مقدس زمین میں امانتاً دفن کرتے ہیں
- مرزائی ۔ جہاد کو حرام قرار دیتے ہیں۔
- مرزائی ۔ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ملک کی تقسیم عارضی ہے ۔ اسے دوبارہ اکھنڈ بھارت بنایا جائے گا۔
- مرزائی ۔ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں خلیفہ ربوہ کے ماتحت ہیں اور انکی بھارتی شاخ نے قیام بنگلہ دیش کی حمایت کی ہے
اسی لئے مرزائیوں کے لیڈر ظفراللہ خاں نے قائداعظم کا جنازہ نہ پڑھا۔ مرزا غلام احمد نے کہا کہ "مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے"
- جناب جسٹس محمد منیر رقم طراز ہیں :-
"ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم ملک کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ اگر ملک تقسیم بھی ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے"
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت)
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں
- مرزائی قادیان کے حصول کیلئے غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ ظفراللہ خاں نے اپنی رَوش سے کشمیر کے مسئلہ کو الجھایا۔ افغانستان کیساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کی۔
- ایوب خاں کے دَور میں مرزائیوں نے لندن کنونشن میں اپنا حکومتی پلان وضع کیا جو ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کے باعث شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔
- یحییٰ خاں نے ایم ایم احمد کو مشیر رکھا اور اسکے غلط مشوروں سے نہ صرف وطن عزیز بلکہ تمام دنیائے اسلام سقوط مشرقی پاکستان کے المناک قومی حادثہ سے دوچار ہوئی
ان حقائق کے پیش نظر
- آنے والی حکومت مرزائیوں پر اعتماد نہ کرے اور انھیں کسی کلیدی آسامی پر متعین نہ کرے، مرکزی اور صوبائی وزارتوں کے دروازے مرزائیوں پر بند رکھے۔
- یحییٰ خان کی عبرتناک ذلت سے سبق حاصل کیجئے اور مرزائیوں کی وجہ سے ملک کو مزید مشکلات سے محفوظ رکھئے۔
ارشاد احمد خاں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
شائع کردہ شعبہ نشریات ۷۴ء شاہین مارکیٹ ملتان
(صدائے الیکٹرک پریس ملتان)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان اور مرزائی !
پاکستانیو یاد رکھو!
یہ امر نہایت قابل غور ہے کہ مرزائی نہ صرف دین اسلام بلکہ مملکت اسلامیہ کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں جس کی انگریز پرستی کے صدقہ میں آزادی وطن کی تمام تحریکات کی سر توڑ مخالفت ان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اپنے نبی مرزا غلام احمد کے الہام کے پیش نظر پاکستان کی مخالفت ان کا مذہبی عقیدہ ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل مرزائی حوالہ جات سے ظاہر ہے۔
پاکستان کی مخالفت کا قادیانی الہام :
۱۔ ”ایک صاحب نے پاکستان کے متعلق سوال کیا کہ اس بارہ میں حضور (مرزا محمود قادیانی خلیفہ) کا کیا خیال ہے ۔ حضور (مرزا محمود) نے فرمایا، میں اصولی طور پر اس کا قائل نہیں۔ میں سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو ہندوستان میں اس لئے پیدا کیا تھا کہ سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے کے نیچے آجائے اور وہ احمدیت کی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد کا کام دے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ایک الہام ہے ”آریوں کا بادشاہ“ ترجمہ : ”میں آریوں کو اکٹھا کروں اور مسلمانوں کو الگ۔ تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا یہ الہام کس طرح پورا ہو سکتا ہے پس ضروری ہے کہ ہندوستان کے سب لوگ متحد رہیں۔ اگر ہندوستان نے الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہونا تھا تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پاکستان کے بادشاہ کہلاتے۔ آریوں کے بادشاہ نہ کہلاتے۔ پس بے شک مسلمان زور لگاتے رہیں جس مادی قسم کا پاکستان وہ چاہتے ہیں ، وہ کبھی نہیں بن سکتا۔“
(روزنامہ ”الفضل“ قادیان مورخہ ۲۷ فروری ۱۹۴۴ء)
پاکستان دشمنی کے سلسلہ میں قادیانی خلیفہ کا بیان
۲۔ ” میں (مرزا محمود) قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن قوموں کی غیر معمولی منافرت کیوجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑا تو یہ اور بات ہے۔ بسا اوقات عضو ماؤف کو ڈاکٹر کاٹ دینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ لیکن یہ خوشی سے نہیں ہوتا بلکہ مجبوری اور معذوری کے عالم میں اور صرف اس وقت جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو اور اگرچہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس ماؤف عضو کی جگہ نیا لگ سکتا ہے تو کون جاہل انسان اس کے لئے کوشش نہیں کرے گا ۔ اس طرح ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے۔ اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائے ۔“
(روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۴۷ء)
پاکستان کے خلاف مرزائیوں کا عملی اقدام
پاکستان کے خلاف مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام سچا ثابت کرنے کیلئے مرزائیوں نے جو حربے استعمال کئے ان میں سے ایک کا ذکر پاکستان کے سابق چیف جسٹس محمد منیر نے قادیانیوں کی پاکستان دشمنی کو جس خوبصورتی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ اس کو پڑھ کر مسلمانوں اور ارباب حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔ صاحب موصوف ریڈ کلف ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے ضلع گورداسپور کے متعلق انکشاف فرماتے ہیں :- ”گورداسپور کے سلسلے میں میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ یہ بات کبھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر احمدیوں نے ایک علیحدہ یادداشت کیوں پیش کی ۔ اس علیحدہ نمائندگی کی ضرورت صرف اس وجہ سے پیدا ہو سکتی تھی کہ احمدی حضرات مسلم لیگ کے موقف سے متفق نہ تھے اور یہ بات خود اپنی جگہ بڑی افسوسناک تھی۔ ممکن ہے ان کی نیت یہ ہو کہ مسلم لیگ کا مقدمہ مضبوط کیا جائے۔ لیکن انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے بارے میں جو اعداد و شمار پیش کئے، ان سے اُلٹا یہ ثابت ہو گیا کہ دریائے بین اور دریائے بسنتر کے درمیانی علاقے میں غیر مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ دلیل فراہم کر دی کہ اگر دریائے اوجھ اور دریائے بسنتر کا وہ علاقہ جو بھارت کو دے دیا جائے تو بین بسنتر اور اُوجھ اپنے آپ بھارت کا حصہ بن جائے۔ بہر کیف یہ علاقہ ہمارے پاس رہا۔ مگر احمدیوں نے جو موقف اختیار کیا وہ گورداسپور کے معاملے میں ہمارے لئے کافی پریشانی کا موجب بن گیا۔“
(روزنامہ پاکستان ٹائمز ۲۴ جون ۱۹۶۴ء)
مسلمانانِ عالم مرزائیوں کی نگاہ میں !
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرزائیوں کی پاکستان دشمنی کی وجہ ان کا مسلمانانِ عالم کو کافر اور دوزخی قرار دینا ہے جیسا کہ مرزائیوں کی مندرجہ ذیل تحریرات سے ظاہر ہے : ۱۔ ”مجھے خدا کا الہام ہے ۔ جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا۔ اور تیرا مخالف ہوگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنیوالا جہنمی ہے ۔“
(اشتہار معیار الاخیار ص ۸ از مرزا غلام احمد قادیانی)
۲۔ ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں یہ میرے عقائد ہیں ۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵ از مرزا محمود خلیفہ قادیانی )
۳۔ ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے ۔“
(انوار خلافت ص ۹۰ از محمود خلیفہ قادیانی )
۴۔ ”دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام کر دئیے گئے “
(کلمۃ الفصل ص ۱۶۹ مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر غلام احمد قادیانی )
توہینِ قرآن مجید، انبیاء علیہم السلام اور بزرگانِ اُمت
مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں توہین قرآن مجید، انبیاء علیہم السلام اور بزرگانِ دین سے بھری پڑی ہیں۔ ناظرین کی خدمت میں نمونہ مشتے از خروارے چند حوالہ جات پیش ہیں
توہین قرآن مجید
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا الہام بیان کیا ۔ ” میں تو بس قرآن کی ہی طرح ہوں۔ اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ قرآن سے ظاہر ہوا۔“
(تذکرہ ص ۴۲۶)
”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(تذکرہ ص ۳۹۵)
توہین انبیاء علیہم السلام
”زندہ شد ہر نبی بآمدنم ۔ ہر رسولِ نہاں بپیر اہنم“ ترجمہ : ۔ میرے آنے سے سب رسول زندہ ہو گئے۔ تمام رسول میرے پیرہن میں چھپے ہوئے ہیں۔
(درِ ثمین فارسی ص ۱۶)
توہین حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
”کربلائیست سیر ہردم من ۔ صد حسین است در گریبانم“ ترجمہ : ۔ میں ہر وقت کربلا کے میدان میں ہوں ۔ سو حسین میرے گریبان میں چھپا ہوا ہے۔
(نزول المسیح ص ۹۹)
صحابہؓ اور بزرگانِ اُمت کو یہودیوں سے تشبیہ
”ہمارے مخالف (مسلمان) سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں ۔ کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ، ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی ۔ “
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم از غلام احمد قادیانی ص ۱۶۳)
عبدالغفار شاد خوشنویس ملتان
شائع کردہ : شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
صدیقیہ پرنٹنگ پریس بیرون بوہڑ گیٹ ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام
چنیوٹ میں دارالمبلغین کا قیام
مناظر اعظم ● علامہ مذاہب ● فخر الاماثل ● صدر المبلغین
حضرت مولینا لال حسین صاحب اختر مدظلہ
پڑھائیں گے
- صداقت اسلام اور فرقہ ہائے باطلہ مثلاً عیسائیت، مرزائیت، پرویزیت، بہائیت، شیعیت کے دفاع پر
زبردست دلائل پڑھائے جائینگے۔
- اس دُور پرفتن میں علمائے کرام اور فارغ التحصیل طلبائے کرام کے لیے سنہری موقعہ ہے۔
- سال رواں میں عید قربان کے بعد مستقل کام شروع کر دیا جائے گا۔
- قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوگا اور معقول وظیفہ بھی دیا جائے گا۔
- مجلس کے معیار پر کامیاب حضرات کو مجلس کی طرف سے باقاعدہ مبلغ رکھا جائے گا۔
- ملک کے نامور اور قابل ترین دیگر علمائے کرام بھی وقتاً فوقتاً دارالمبلغین کی کلاس کو پڑھانے کیلئے تشریف فرما ہونگے۔
- شائقین حضرات جلد از جلد دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت چنیوٹ ضلع جھنگ میں تشریف لائیں۔
شائع کردہ: شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)
فون : ۳۳۴۱
صدیقی پریس ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
عوام کی حکومت عوام کا مطالبہ
مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے
”پاکستان میں پچیس برس بعد پہلی دفعہ عوام کی حکومت قائم ہوئی ہے“: چیئرمین بھٹو صدر مملکت پاکستان
- چودہ سو سال سے امت مسلمہ کے عوام متفق ہیں
- دنیائے اسلام کے ۸۰ کروڑ عوام متفق ہیں
- پاکستان کے ۱۲ کروڑ عوام متفق ہیں
رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت کافر ہے
ماضی قریب میں اسی سوال پر ۱۰ ہزار مسلمانان پاکستان نے جام شہادت نوش کیا تھا۔
لہٰذا
پاکستان کی عوامی حکومت سے پاکستان کے عوام کا زبردست مطالبہ ہے کہ
- پاکستان میں دعوائے نبوت قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
- مرزا غلام احمد مدعی نبوت کے پیروکاروں کو علیحدہ اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق کا تعین کیا جائے۔
- مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کو تمام کلیدی اسامیوں سے برطرف کیا جائے۔
چیئرمین بھٹو صدر مملکت پاکستان! امت محمدیہ کے اس متفقہ مطالبہ کو مان کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کریں، عام و خاص اہل اسلام پر اس مجرمانہ بے حسی اور غفلت کو، جو مملکت سے مطالبہ کے برحق اور فرض ہونے کے باوجود طاری ہے۔
ارشاد احمد خاں ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائی اسرائیلی فوج میں
مسلمانِ پاکستان اور حکومت توجہ کرے
مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا کہ وہ انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے اس لئے اس نے اور اس کی جماعت نے اندرون اور بیرون ملک ہمیشہ امریکی اور برطانوی سامراج کے مفاد میں کام کیا۔ چنانچہ آج مرزائیوں کے تعلقات اہل اسلام کے روحانی و علمی مرکز مکہ معظمہ ، مدینہ طیبہ ، بغداد اور قاہرہ کی بجائے واشنگٹن، لندن اور تل ابیب سے ہیں اور بین الاقوامی صیہونی سامراج کے حواری اور ہر اسلامی بیداری کے دشمن یہودی و نصاریٰ کے کیمپوں میں خیمہ زن ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جو اتحاد اسلامی کی علمبردار اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے سرگرم عمل ہے، کی کوششوں سے تمام عالم اسلام مرزائی تحریک سے خبردار ہو کر اسے دائرہ اسلام سے خارج کر چکا ہے ۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری امیر مجلس تحفظ ختم نبوت اور ان کے زیر سایہ مبلغین تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی وفود نے مرزا غلام احمد کا نبوت ، مسیحیت ، مہدویت کا لباس اتار کر اسے بحیثیت برطانوی / امریکی سامراج کے گماشتے کے یورپ ، افریقہ اور عرب ممالک میں ننگا کر دیا ہے ۔ ذیل میں ایک اہم ، خطرناک، اقتباس کا مطالعہ فرمائیے :-
مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے کا اہم انکشاف
س :۔ اسرائیلی فوج میں ”احمدیوں“ کی موجودگی ایک خوفناک انکشاف ہے یہودیوں اور ”احمدیوں“ میں اس تعاون کی کیا تفصیل ہے ۔۔۔۔۔ اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں ؟
ج :۔ پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم مملکت کو نیست و نابود کرنے کا عہد کر چکے ہیں وہ اس کے لئے ہر ذریعے اور ہتھکنڈے کو استعمال میں لا رہے ہیں اور ان کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی صہیونیت کا ہتھیار ہے جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ۱۹۶۷ء تک اسرائیل میں موجود ”احمدیوں“ کی تعداد چھ سو تھی جن پر اسرائیلی فوج میں شمولیت کے دروازے کھول دیئے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی ۔ ٹی نعمانی کی کتاب ”اسرائیل ۔ اے پروفائل“ (ISRAEL A PROFILE) کے صفحہ نمبر ۷۵ پر موجود ہے۔ یہ کتاب پال مال لندن سے ۱۹۷۲ء میں چھپی ہے ۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۵۷ پر واضح طور پر بتایا گیا ہے ، کہ عربوں پر یہ پابندی اب بھی ہے کہ وہ کسی سرحدی گاؤں میں نہیں رہ سکتے اور اسرائیلی فوج میں بھرتی بھی نہیں ہو سکتے ۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۷۵ پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ ”احمدی“ پاکستان سے ہیں ایک مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان کے لئے یہ بات یوں بھی انتہائی اضطراب کا موجب ہے کہ ان ”احمدیوں“ کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے میں بھی تحریک التواء کے ذریعہ اسے پاکستان کے موقر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں
س :۔ آپ اس تحریک التواء میں حکومت کی توجہ کن پہلوؤں پر مبذول کرانا چاہتے ہیں ؟
ج :۔ میں قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرات اقتدار سے بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جبکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ ”احمدی“ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو اپنے ”خلیفہ“ کے حکم پر کام کرتا ہے اس ”خلیفہ“ کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کے قصبے ربوہ میں ہے۔ اگر اسرائیل میں بسنے والے ”احمدیوں“ کو ربوہ سے یہ ہدایت ہے کہ عرب ممالک پر قبضے اور انہیں تاراج کرنے میں اسرائیل کی بدترین اور جارحانہ جنگ ۶۷ء کے زمانے کے اخبارات میں آیا کہ اسرائیل پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے خلاف جس دشمنی اور نفرت کا اظہار بابائے اسرائیل بن گوریان نے کیا تھا اس کے پیش نظر یہ اندیشہ صحیح نہ ہو گا کہ اسرائیل جب ”احمدیوں“ کو عربوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے انہیں پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کر یگا جبکہ احمدیوں کے خلیفے کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں ہے۔ یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ چھ سو ”احمدی“ پاکستان سے اسرائیل کس راستے سے اور کب پہنچے ؟ کیا اب یہ ”احمدی“ پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں ان کے پاس دوہری شہریت تو نہیں ان میں سے کتنے پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہیں۔ کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ پر تھے اور پھر اسرائیل بھاگ گئے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ہماری وزارت خارجہ اور پاسپورٹ جاری کرنے والی وزارت داخلہ کو کیا علم ہے اور کیا علم نہیں ہے۔ کیا ان ”احمدیوں“ کے وہاں فرار کی روک تھام کی جا رہی ہے نیز کیا ان کے پاکستانی ہونے کے دعووں سے ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لئے حکومت پاکستان کو اس صورتحال کی CLARIFICATION صفائی کرنی چاہئے
س :۔ اسرائیل کے عربوں کے خلاف عزائم ہیں تو ایسے ہی ناپاک عزائم ہمارے بارے میں بھی ہیں ؟
ج :۔ جی ہاں ۔۔۔۔۔ یہی ایک بڑی، گہری، تلخ اور چبھتی ہوئی بات ہے جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد پاکستان میں جو ردعمل پیدا ہوا تھا اس نے یہودیوں کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا چنانچہ بابائے اسرائیل ڈیوڈ بن گوریان نے جون ۱۹۶۷ء کے صہیونی رسالے ”جیوش کرانیکل“ میں چھپنے والے ایک مضمون میں بابائے اسرائیل نے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا ”عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے اور اب پاکستان کو اپنا پہلا نشانہ بنانا چاہئے کیونکہ یہ نظریاتی مملکت ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے یہ پاک و ہند یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے محبت کرتے ہیں، عربوں کیلئے یہ محبت ہمارے لئے خود عربوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ اس لئے عالمی صیہونی تحریک کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان کے خلاف فوری اقدام کرے۔ جہاں تک ہندوستانی ہندوؤں کے جذبات کا تعلق ہے وہ ہندو ذہنیت کی پوری تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں لہٰذا ہندوستان ہمارے لئے پاکستان کے خلاف کام کریگا اہم ترین مرکز (فوجی اصطلاح Base استعمال کی گئی ہے) یہ ضروری ہے کہ ہم اس مرکز کو پورا استعمال کریں اور تمام ہتھکنڈوں اور خفیہ منصوبوں کے ذریعہ یہودیوں کے دشمن پاکستانیوں پر ضرب لگائیں اور انہیں کچل دیں (مولانا ظفر احمد انصاری نے یہ اقتباس ایک کتاب سے انگلش میں پڑھ کر سنایا پھر سلسلہ کلام جاری رکھا) شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو گا کہ اس کے قریباً چار سال بعد دسمبر ۱۹۷۱ء میں اندرونی سازش اور بیرونی جارحیت کے ذریعے ڈھاکہ میں داخل ہونیوالی ہندو افواج کا میجر جنرل جیکب ایک یہودی تھا۔ (بشکریہ ہفت روزہ طاہر لاہور مورخہ ۲۳ تا ۳۰ دسمبر ۱۹۷۲ء)
اہم : پاکستان اور عالم اسلام کی حفاظت کے لئے حکومت پاکستان کا اولین فرض ہے کہ
- مرزائیوں کو فوراً کلیدی اسامیوں سے علیحدہ کیا جائے۔
- افواج پاکستان میں مرزائیوں کی بھرتی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔
- مرزائیوں کے بیرون ملک جانے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔
- ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے تمام افتادہ اراضی اہل اسلام میں تقسیم کی جائے
- سینیٹ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں سے ان کے نمائندے نکالے جائیں۔
- مرزائیوں کی گنتی ہو کر تناسب آبادی کے لحاظ سے اسمبلیوں میں ان کی نشستیں مختص کی جائیں
مسلمانانِ پاکستان کا فرض ہے کہ مذکورہ بالا مطالبات کو منوانے کے لئے فوری طور پر پرامن احتجاج کریں
شعبہ اشاعت مجلس تحفظ ختمِ نبوت پاکستان (ملتان) فون نمبر ۳۳۴۱
طبع : ادارہ تحفظ ختم نبوت مرکز ، چوک دالگراں ، لاہور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ١٩٧٤ء تا ستمبر ١٩٧٤ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ثابت ہو چکا ہے
کہ قادیانی مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ۔ انگریزوں کے پٹھو،
ہندوؤں کے ایجنٹ، یہودیوں کے جاسوس، پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن ہیں
لہٰذا ان سے
سوشل بائیکاٹ جاری رہے گا ۔
جب تک کہ قوم کے ان متفقہ مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا
- قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں کلیدی آسامیوں سے فی الفور برطرف کیا جائے ۔
- قادیانیوں کے اخلاق سوز اور دشمن اسلام لٹریچر کو ضبط کر کے پاکستان بھر میں
مرزائیت کی تبلیغ و اشاعت پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔
- ربوہ کی ریاست اندر ریاست کو ختم کر کے وہاں بہاری مسلمانوں کو آباد کیا جائے
اور اس کا نام تبدیل کر کے محمد پور رکھا جائے ۔
حق و انصاف پر مبنی یہ مطالبات، قوم کے بچے بچے کی آواز ہے ۔
اے حکمرانو ! اسے گوش ہوش سے سنو اور تسلیم کرو، ورنہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کو عوامی احتساب کی زد سے نہیں بچا سکے گی !
انجمن طلباء اسلام پاکستان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
فتنہ قادیانیت
مجلس تحفظ ختم نبوت
مجلس تحفظ ختم نبوۃ تمام اہل اسلام کا مشترک ادارہ ہے ملک میں یہی ایک پلیٹ فارم ہے جس میں شیعہ سنی دیوبندی بریلوی اہل حدیث مل کر حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے دربار میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور عقیدہ تحفظ ختم نبوت کا فرض ادا کرتے ہیں مجلس کی بنیاد تمام مسلمان فرقوں میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرنا ہے کیونکہ وطن عزیز کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے۔
اس کے برعکس
قادیانی جماعت
تمام ان لوگوں کو جو مرزا غلام احمد صاحب کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتے دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور ان کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرتی ہے
- ۱۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہو اور اس نے مجھ
کو قبول نہیں کیا مسلمان نہیں۔
ـــــ مرزا غلام احمد قادیانی ۔ حقیقت الوحی ص ۱۶۳
- ب۔ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام
بھی نہیں سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔
ـــــ مرزا محمود خلیفہ قادیان آئینہ صداقت ص ۳۵
- ج۔ مرزا غلام احمد صاحب کے ایک شعر
(نجم الہدی ص ۱۵ مصنفہ مرزا غلام احمد)
ترجمہ : دشمن ہمارے جنگل کے سور ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔
قادیانی جماعت
اہل اسلام کی عبادات میں شریک نہیں ہوتی۔ مسلمان مرد کے ساتھ قادیانی عورت کا نکاح حرام سمجھتی ہے مسلمانوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھتی دینی اور سماجی ہر لحاظ سے مسلمانوں سے الگ تھلگ ہے
- ٭ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام
قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر سکتے ہیں دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے۔ اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔
مرزا بشیر احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی کلمۃ الفصل ص ۱۶۹
مکتبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسیلمہ کے جانشینوں کو کتوں سے کم نہیں کتے کے پلے گئے پیمبری کے کام سے
صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ
خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنَ
جمعیتہ الطلباء اسلام کے غیور نوجوانوں کا
آخری انتباہ
جناب بھٹو سے
اگر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار نہ دیا گیا تو وطن کے سپوت ملت اسلامیہ و وطن کی سلامتی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
ممبران سینیٹ، قومی و صوبائی
اسمبلیوں سے
اگر آپ نے مجلس عمل کی قراردادوں کو بل کی شکل دے کر پاس نہ کئے تو آپ عوامی احتساب سے نہ بچ سکو گے۔
عوام سے
مجلس عمل کے مطالبات تسلیم ہونے تک
قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھ کر غیرت ایمانی کا ثبوت دیں
جمعیۃ طلباء اسلام ○ پاکستان
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
۷۸۶
ایک ہی علاج
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
منجانب: اسلامی جمعیت طلبہ شیخوپورہ
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ
ریلوے پرنٹنگ پریس لاہور
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا
زندہ باد حکومتِ آزاد کشمیر
ہزاروں شہدائے ختم نبوت کی قربانیاں رنگ لائیں
آزاد کشمیر کی اسمبلی کے معزز اراکین تمام مسلمانان عالم کی طرف سے قابل مبارک باد ہیں جنہوں نے جناب میجر محمد ایوب خان کی تحریک پر بالاتفاق
- مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا
- مرزائیت کی تبلیغ خلاف قانون ٹہرا دی ۔
- حکم دیدیا کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت کے طور پر اپنے نام رجسٹر کرائیں ۔
علامہ اقبال مرحوم نے ۱۹۳۶ء میں مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے
پاکستان کی عوامی حکومت سے
پاکستان کے عوام کا متفقہ مطالبہ
- ہر قسم کا دعویٰ نبوت قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے
- مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے
- مرزائیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے فوراً علیحدہ کیا جائے
سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا ۔
شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۱ جولائی ۱۹۷۴ء
القاديانية هجوم على الاسلام وعلى وحدة هذا الدين والامبراطورية القاديانية
تصدر عن مؤسسة مكة للطباعة والاعلام بمكة المكرمة
الندوة
الاربعاء ١٢ رجب ١٣٩٤ هـ - ٣١ يوليو ١٩٧٤ م العدد ٤٨١٢ - السنة السادسة عشرة ٨ صفحات - الثمن ١٠ قروش
سفارة سعودية ببيروت تلغى تأشيرة دخول
وزير قادياني سابق الى الاراضي العربية السعودية
الوزير هو : محمد ظفر الله خان
نشر النبأ في جريدة بيروت في عددها الصادر في ٣٠ يوليو ١٩٧٤ م - اقرأ التفاصيل ص ٣
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جادو وہ جو سر چڑھ بولے
A TABSHIR BOOK
MIRZA MUBARAK AHMAD
OUR FOREIGN MISSIONS A brief Account of the Ahmadiyya Work to push Islam in various parts of the World
ISRAEL MISSION The Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal. We have a mosque there, a Mission House, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al-Bushra which is sent out to thirty different countries accessible through the medium of Arabic. Many works of the Promised Messiah have been translated into Arabic through this mission.
In many ways this Ahmadiyya Mission has been deeply affected by the Partition of what formerly was called Palestine. The small number of Muslims left in Israel derive a great deal of strength from the presence of our mission which never misses a chance of being of service to them. Some time ago, our missionary had an interview with the Mayor of Haifa, when during the discussion on many points, he offered to build for us a school at Kababeer, a village near Haifa, where we have a strong and well-established Ahmadiyya community of Palestinian Arabs. He also promised that he would come to see our missionary at Kababeer, which he did later, accompanied by four notables from Haifa. He was duly received by members of the community, and by the students of our school, a meeting having been held to welcome the guests. Before his return he entered his impressions in the Visitors' Book.
Another small incident, which would give readers some idea of the position our mission in Israel occupies, is that in 1956 when our missionary, Choudhry Muhammad Sharif, returned to the Headquarters of the Movement in Pakistan, the President of Israel sent word that he (our missionary) should see him before embarking on the journey back. Choudhry Muhammad Sharif utilized the opportunity to present a copy of the German translation of the Holy Quran to the President, which he gladly accepted. This interview and what transpired at it was widely reported in the Israeli Press, and a brief account was also broadcast on the radio.
اسرائیل میں احمدیہ مشن
عربوں کے قلب میں ناسور
میاں عبدالحق نے ۴ جون کو نیشنل اسمبلی میں یہ سوال کیا کہ اس امر میں کہاں تک صداقت ہے کہ اسرائیل میں کوئی احمدیہ مشن قائم ہے جواب اثبات میں ہے تو اس مشن کے مالی وسائل کیا ہیں؟ وزیر خارجہ نے تحریری جواب میں کہا کہ حکومت کو نام نہاد مملکت اسرائیل میں احمدیہ مشن کے قیام کا قطعاً علم نہیں۔ کسی شخص یا کسی گوشے نے ایسی کوئی اطلاع حکومت کو مہیا نہیں کی۔ اگر اس کے متعلق ٹھوس معلومات حکومت کو مہیا کی جائیں تو وہ خوش ہوگی۔ تعجب ہے کہ حکومت پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو اسرائیل میں احمدیہ مشن کے وجود کا علم نہیں؟ کیا حکومت کی معلومات کے ذرائع ناقص ہیں یا اس نے جواب دینے میں مصلحت اختیار کی ہے یا حکومت کے نزدیک قادیانی جماعت کا وجود اتنا غیر اہم ہے کہ وہ اس
کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا ضروری نہیں سمجھتی؟ حکومت بالخصوص وزارتِ خارجہ کی اطلاع کے لئے ہم مرزا مبارک احمد کی تالیف ”ہمارے بیرونی مشن“ کا سرورق اور ساتھ ہی صفحہ ۷۹ کا انگریزی متن بمعہ اسرائیل مشن معہ ترجمہ اسی صفحہ پر تصویری عکس کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ اس شہادت کے بعد کسی دوسری شہادت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ زیرِ نظر کتاب ۱۰۵ صفحات اور بہت سی تصویروں پر مشتمل ہے۔ پانچواں ایڈیشن جو ہمارے پیشِ نظر ہے نصرت آرٹ پریس ربوہ میں چھپا ہے۔ ناشر ہے احمدیہ مسلم فارن مشن ربوہ، تعداد ہے پانچ ہزار۔ فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے تقریباً ۴۱ مشن مختلف عالمی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ بالخصوص ان ملکوں میں جہاں انگریزوں کی عملداری رہی ہے یا مغربی طاقتوں کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ :
- ۱۔ اسرائیل میں احمدیہ مشن کی اجازت کیسے ہوئی؟
- ۲۔ متن سے ظاہر ہے کہ یہ مشن ربوہ کے
انگریزی متن کا ترجمہ
اسرائیل میں احمدیہ مشن حیفہ کے ماؤنٹ کرمل پر واقع ہے۔ ہماری وہاں ایک مسجد ہے ایک مشن ہاؤس ایک لائبریری ایک بکڈپو اور ایک سکول بھی ہے۔ ہمارا مشن ”البشریٰ“ نامی ایک ماہنامہ بھی شائع کرتا ہے جو عربی بولنے والے تیس مختلف ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کے بہت سے فرمودات کا عربی زبان میں ترجمہ بھی اسی مشن کی وساطت سے ہوا ہے۔
احمدیہ مشن سابق فلسطین کی تقسیم سے کئی طرح متاثر ہوا۔ اسرائیل میں رہ گئے چند ایک مسلمان ہمارے مشن سے خاصی تقویت حاصل کرتے ہیں اور ہمارا مشن ان کی خدمت کا کوئی موقع بھی ضائع نہیں کرتا۔ کچھ عرصہ ہوا ہمارے مشنری نے حیفہ کے میئر سے ملاقات کی جس کے دوران کئی ایک مسائل زیرِ بحث آئے۔ اور اس نے ہمیں حیفہ کے قریب کبابیر میں ایک سکول بنا کر دینے کی پیشکش کی۔ جہاں ہمارے فرقہ کے فلسطینی عرب خاصی تعداد میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبابیر میں آ کر ہمارے مشنری سے ملاقات کا وعدہ بھی کیا۔ اور بعد میں حیفہ کی چار قابلِ ذکر شخصیتوں کے ساتھ تشریف بھی لائے۔ ہمارے فرقہ کے لوگوں اور سکول کے طلباء نے ان کا استقبال کیا اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے ایک مجلس بھی منعقد کی۔ واپسی سے پہلے VISITORS BOOK میں انہوں نے اپنے تاثرات کا اندراج بھی کیا۔
ایک اور معمولی نوعیت کے واقعہ سے قارئین بخوبی اندازہ کر سکیں گے کہ ہمارے مشن کو اسرائیل میں کیا حیثیت حاصل ہے۔ وہ یہ کہ ۱۹۵۶ء میں جب ہمارے مشنری چوہدری محمد شریف تحریک احمدیہ کے ہیڈ کوارٹر واقع پاکستان واپس آنے لگے تو اسرائیل کے صدر نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ (چوہدری صاحب) واپس جانے سے پہلے انہیں (صدر) ضرور مل لیں چوہدری صاحب نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا کہ صدر کو قرآن مجید کے جرمن ترجمہ کی ایک جلد پیش کی۔ جو انہوں نے بخوشی قبول فرمالی۔ یہ ملاقات اور اس کے دوران جو کچھ ہوا وہ اسرائیل پریس میں وسیع پیمانے پر رپورٹ کیا گیا اور اس کا مختصر تذکرہ ریڈیو سے بھی براڈ کاسٹ ہوا۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اکھنڈ بھارت
یہ تصویر ربوہ میں نصرت جہان بیگم (مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی) اور مرزا بشیر الدین محمود (قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ) کی بیوی کی قبروں کی ہیں جن پر مرزا بشیر الدین محمود کے حسب ذیل فرمان کا بورڈ آویزاں ہے۔
”جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے حضرت ام المومنین اور دوسرے اہل بیت کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان (بھارت) میں لے جا کر دفن کریں۔ چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیش گوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے“۔
تحریک ختم نبوت (۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ارمغان قادیان
تحریر: جانباز مرزا
کہ اس سن میں غلام احمد کی امت پر زوال آیا
کہ جب کشمیر کی اسمبلی میں یہ سوال آیا
بڑھا ابلیس کا حلقہ تو فطرت کو جلال آیا
خبر سنتے ہی اولاد فرنگی کو ملال آیا
بتاؤ کس طرح یورپ کے دلالوں کو زوال آیا
غرض چندے سے تھی ان کو حرام آیا حلال آیا
مگر اس دور کا کذاب آیا بے مثال آیا
شہیدان نبوت کے لہو کو جب جلال آیا
حکومت خود کہے گی جب حکومت کو خیال آیا
کہ جب بنگال کے جانباز چھٹنے کا سوال آیا
تحریک ختم نبوت(۳) مئی ۱۹۷۴ء تا ستمبر ۱۹۷۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائی مسلمانوں سے الگ اقلیت ہیں
آزاد کشمیر اسمبلی کا فیصلہ
شورش کاشمیری
جداگانہ اقلیت ہیں مرزائی بحمداللہ
بہشتی مقبرے پر برق لہرائی بحمداللہ
مراد اسلام کے بیٹوں کی بر آئی بحمداللہ
مسلماں لے رہے ہیں پھر سے انگڑائی بحمداللہ
اکٹھے ہوئے اک صف میں بطحائی بحمداللہ
یہی ہے ملت بیضا کی گیرائی بحمداللہ
نتیجہ کیا ہے؟ اس ٹولے کا پسپائی بحمداللہ
غلامان پیمبرؐ کی توانائی بحمداللہ
خدا کے دشمنوں کی ہو گی رسوائی بحمداللہ
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خدا داد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۸۹۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت وحمیت کی ایسی پر سوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہو گی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور