شاہراہ عشق کے مسافر · محمد طاہر رزاق
Shahrah Ishaq kay Musafir · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

شاہراہ عشق

کے

مسافر

تحقیق و تدوین

محمّد طاہر رزاق

PDF 2

بسم الله الرحمن الرحيم

قال الله تعالى فى القران العزيز الحكيم

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ

الاحزاب

رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

PDF 3

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 9

شاہراہ عشق

کے

مسافر

ترتیب:

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 4

انتساب

اُن کی یاد، اُن کی تمنّا، اُن کا غم
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

جناب جمشید مغل

کے نام

PDF 5

شاہراہ عشق کے مسافر

جب قادیان میں حضرت امیر شریعتؒ نے بیعت لی 19 جب ایک عورت نے اپنا بچہ پھینک دیا 20 تحفظ ختم نبوت 21 صاحبزادہ حضرت فیض الحسن شاہ صاحبؒ کی خطابت 21 قلمی چہرہ 22 ناعاقبت اندیش مرزا 23 جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں قادیانی مقدمہ 25 ربوہ میں اندرونی کشمکش ‘ قادیانیوں کو دعوت اسلام 28 مولانا تاج محمودؒ کا نظام جاسوسی 35 مرزا طاہر کے سیکرٹری کا قبول اسلام 36 دوکانداروں کے معافی نامے 42 قادیانیوں سے کتابت میں بھی تعاون کرنا حرام ہے 43 باپ اور بیٹے کی قربانی 46 مولانا تاج محمودؒ کا ایک دردناک خط 46 اس نے خواب دیکھا کہ اس کا قادیانی دادا آگ میں جل رہا ہے اور چلا رہا ہے 48 صدائے ایمان 50 خواہش 55

PDF 6

مسئلہ ختم نبوت سمجھئے 56 مرزائیت سے متعلق سرسید احمد خان کے دو خط 57 انداز تقریر 59 مولانا تاج محمودؒ کے آخری لمحات کی مختصر سرگزشت 60 تحریک آزادی کے بہادر کارکن شیخ احسان اللہ احرار 64 شہید ختم نبوت مولانا شمس الدین شہیدؒ 69 نائجیریا میں قادیانیوں کے اوچھے ہتھکنڈے 73 قادیان میں مسلمانوں کی حالت 82 پاکستان پر قبضہ کا منصوبہ 82 عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ اور لٹریچر کے اثرات 83 بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا مینار الٹ گیا 94 اسرائیل سے مرزائیل 96 پاگل کہیں کا! 97 تحریک رد مرزائیت کے تین مجاہد 97 خدائی خلافت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویدار 105 قادیانی سربراہ مرزا طاہر امتحان میں فیل ہو گیا مرزا اور بھانو 106 جو نبوت کا غدار ہو اس کو پھانسی دی جائے 107 ہر جگہ نبوت حضورؐ کی ہے 108 آنجہانی مرزا ناصر سے دو سوال 108 خطرے کا الارم 110 قادیانیوں کا اثر و رسوخ 111 مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی 112 آرزو 112 تعارف مرزائیت 113

PDF 7

قادیان میں قادیانیوں کی طاقت 113 خوشاب میں مجاہدین ختم نبوت اٹھے تو قادیانی امپائر کو نکال دیا 114 بھارت میں رد قادیانیت کے مشہور مناظر مولانا اسماعیل کٹکی سے ایک انٹرویو 117 مولانا تاج محمودؒ اور شاہ جیؒ 128 قادیانیت کے خلاف تقریر فرقہ واریت نہیں 130 مدیر احرار ماسٹر تاج الدین انصاریؒ 131 تحریک ختم نبوت میں مولانا مودودی کا کردار 139 انٹرویو بیگم مولانا مودودی 145 مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے مرزائیوں کے ساتھ مناظرات 149 اور ایمان بچ گیا 163 حضرت امیر شریعتؒ کی احرار رضا کاروں سے محبت 166 حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی مرحوم کی گرفتاری اور رہائی 170 علامہ اقبال اور فلسفہ ختم نبوت 171 حاجی مانک کا ایمان افروز واقعہ 172 میری داستان حیات کے چند ورق 180

صفحہ 7

حرفِ سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصۂ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا‘ جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 9

بلبل کا سوال

نمرود کے سپاہی ہزاروں تناور درخت کاٹ کر پھینک چکے ہیں—— ہزاروں جانوروں پر یہ بڑی بڑی لکڑیاں لاد کر ایک مرکزی مقام پر اکٹھی کی جا رہی ہیں—— اب اس مقام پر لکڑیوں کا ایک بہت بڑا پہاڑ بن چکا ہے—— نمرود کے چیلے اس پہاڑ کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے—— پھر ایک گرجدار آواز کے حکم پر لکڑیوں کو آگ لگا دی جاتی ہے—— مہیب اور خوفناک شعلے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں—— یوں محسوس ہوتا ہے—— کہ لکڑیاں نہیں—— بلکہ ایک پہاڑ جل رہا ہے—— ایک شہر جل رہا ہے——

پھر—— نمرودی سپاہی حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اٹھا کر اس ہولناک آگ میں پھینک دیتے ہیں—— سیدنا ابراہیم خلیل اللہ آگ میں گم ہو جاتے ہیں—— اچانک فضا میں ایک بلبل پھڑپھڑاتا ہوا آتا ہے—— اس کی ننھی سی چونچ میں پانی کی ایک بوند ہے—— آگ کے قریب آ کر بلبل—— پانی کی اس بوند کو آگ پر پھینک دیتا ہے—— اور پانی لینے چلا جاتا ہے اور ایک قطرہ آب لا کر آگ پر پھینک دیتا ہے۔

بلبل بڑی پھرتی سے بار بار پانی لینے جاتا ہے—— اور آگ پر پھینکتا جاتا ہے—— یہ صورت حال دیکھ کر کسی نے بلبل سے کہا ”او دیوانے! کیا تیرے ایک قطرہ پانی سے یہ آگ بجھ جائے گی؟ تیری ایک بوند آگ پر گرنے سے پہلے ہی راستے میں پانی کی حدت سے خشک ہو جاتی ہے۔

”مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ میرے ایک قطرہ پانی سے آگ پر کیا اثر ہوتا ہے۔ مجھے تو ”حق وفا“ ادا کرنا ہے“۔ ہانپتے ہوئے بلبل نے کڑک کر جواب دیا۔

مسلمانو! آج قادیانیوں نے یہود و نصاریٰ کے دیئے ہوئے ایندھن سے ایک

صفحہ 10

بہت بڑی آگ جلا رکھی ہے تاکہ اس میں:

باللہ)

آج بلبل ملت اسلامیہ سے سوال کرتا ہے: اے باوفا نبیؐ کے امتیو! تم نے اس آگ کو بجھانے کے لیے کیا ”حق وفا“ ادا کیا؟

اہل وفا کے مبارک ناموں کی — ایک مبارک فہرست — تیار ہو رہی ہے — اور اہل وفا کو مبارک ہو — کہ آسمان سے صدا آ رہی ہے۔

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

غبار راہ طیبہ محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور

صفحہ 11

معیار محبت

اللہ کے پیارے رسول جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دعا سکھائی ہے۔ کہ یا اللہ اگر ہم کسی سے محبت کریں تو صرف اس لئے کہ وہ تجھ سے محبت کرتا ہے اور کسی سے عداوت ہو تو وہ بھی اس لئے کہ وہ تیرا دشمن ہے یہ محبت کا وہ معیار ہے جس پہ پورا اترنا جان جوکھوں کا کام ہے کیونکہ محبوب کے دوستوں سے دوستی کر لینا تو پھر بھی آسان ہے مگر اس کے دشمنوں سے دشمنی کرنا انتہائی کٹھن ہے اس کائنات میں اگر کوئی ہستیاں اس معیار پر پورا اتری ہیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست شاگرد ہیں، جنہیں صحابہ کرام کہا جاتا ہے اور پھر بعد میں آنے والی امت کے درمیان جو جتنا اس معیار کے قریب تر ہوتا گیا اُتنا ہی اُن باصفا ہستیوں کے جوار میں جگہ پاتا گیا۔ برصغیر میں جب قادیانیت کا شجر خبیثہ پھوٹا تو اُسوقت مسلمانوں کے سامنے یہی امتحان درپیش تھا کہ کون ہے جو محبوب کے دشمن سے دشمنی مول لے۔ ایسے میں بھرے ہندوستان میں چند ہی گنتی کے فرزانے تھے جنہیں اللہ نے یہ توفیق عطا فرمائی کیونکہ یہ اپنی نقد جان کو ہتھیلی پہ لے کر پھرنے کے مترادف تھا۔ جوں جوں قادیانیت کی رسی دراز ہوتی چلی گئی امت کی قربانیاں بھی بڑھتی چلی گئیں حتیٰ کہ 1953 میں اُسوقت یہ عہد زریں اپنے عروج پہ پہنچ گیا جب لاہور کی سڑکوں پر دس ہزار

صفحہ 12

مسلمانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔

یہ وہ لوگ تھے جن کی یاد ہر آن ہر گھڑی ہمارے سینوں میں تازہ رہنی چاہئے تھی مگر بڑا ہو غفلت کا کہ یہ لوگ بھی طاق نسیاں میں چلے گئے اور بھلا ہو اب محمد طاہر رزاق کا کہ وہ ایک دفعہ پھر ان صاحبان عشق و وفا کو ماضی کے گم گشتہ اوراق سے ڈھونڈ کر امت کے حضور لائے ہیں تاکہ امت کو یہ امر ہمیشہ یاد رہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اصل کامیابی کا معیار کیا ہے اور وہ یقینا یہی ہے کہ محبوب کے دوستوں سے دوستی اور جب محبوب کے دشمنوں سے دشمنی کا وقت آئے تو پھر قدم پیچھے ہٹا لینا یقیناً پہلی ساری کاوشوں کو ملیا میٹ کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس کتاب سے امت اگر یہ سنہری اصول اخذ کرے تو یقینا محمد طاہر رزاق کو اس کی محنت کا ثمر مل جائے گا۔

خادم تحریک ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ 13

حدیث دل

الحمد للہ وکفیٰ، والصلاہ والسلام علی من لا نبی بعدہ---اما بعد-

قال اللہ تبارک اے ایمان والو! جو شخص تم میں وتعالیٰ: یایہا الذین امنوا اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد من یرتد منکم عن دینہ ایسی قوم پیدا کر دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو فسوف یاتی اللہ بقوم محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت یحبہم ویحبونہ اذلہ علی ہوگی۔۔۔مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز المومنین اعزہ علی ہوں گے کافروں پر۔۔۔جہاد کرتے ہوں گے الکافرین، یجاہدون فی اللہ تعالیٰ کی راہ میں، اور وہ لوگ کسی سبیل اللہ ولا یخافون لومہ ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ لائم، ذلک فضل اللہ یوتیہ کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو من یشاء واللہ واسع علیم۔ چاہے عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت (المائدہ:۵۴) والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔

اس وقت دنیا کے نقشہ پر پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جس کے باشندوں کی غالب اکثریت مسلمان ہے۔ آج سے ۵۲ برس قبل جب اس مملکت کا قیام عمل میں آیا تو برصغیر

صفحہ 14

کے مسلمانوں نے خاص طور پر اور دنیا کے دیگر خطوں میں رہنے والے مسلمانوں نے عام طور پر انتہائی قلبی مسرت کا اظہار کیا۔ اس لیے کہ اس کے وجود میں ”لا الہ الا اللہ “ اور ”محمد الرسول اللہ “ کا نعرہ تھا۔۔۔ اس کے قیام اور وجود کے لیے جن حضرات نے قربانیاں دیں‘ جو لوگ جیلوں کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے‘ جنہوں نے گھر بار کو خیرباد کہا اور زندگی بھر سفر اور تلقین کے کٹھن مراحل سے گزرے۔۔۔ ان کی سوچ اور خواہش تھی کہ پاکستان عالم وجود میں آئے گا تو یہ امت مسلمہ کے لیے ایک ”مرکز“ اور بیس کیمپ (Base Camp) کی حیثیت اختیار کرے گا۔۔۔ ان حضرات نے تحریک آزادی کے دوران جو خواب دیکھا تھا وہ بہت حسین تھا‘ جو پلاننگ اور منصوبہ بندی کی تھی وہ بہت عمدہ تھی۔۔۔ جو قربانی دی تھی وہ اخلاص سے بھرپور تھی۔۔۔ لیکن کیا کیجئے ان حضرات کا حسین خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔۔۔

؎ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

آزادی اور استقلال کے بعد ان حضرات کی سوچ اور تخطیط عملی جامہ نہیں پہن سکی۔ ان کے مجروح جذبات آج ”عالم مثال“ میں ہم سے پوچھ رہے ہیں اور بار بار پوچھ رہے ہیں کہ وہ تو زندگی بھر وفا کے پیکر بنے رہے۔ آج ہم اتنے بے وفا کیوں ہیں؟۔۔۔ آج کا مورخ اور تجزیہ نگار جب اس بیتی ہوئی صدی کے اول و آخر کا تجزیہ کرتا ہے تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ روبہ زوال اور روبہ انحطاط ہے۔ اسے یہ کہنے میں ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ آزادی کے بعد اس خطہ میں جو نسل تیار ہوئی اور ہو رہی ہے وہ اپنی ذات اور ذاتی مفادات تک محدود ہے اسے ملی اور قومی تشخص کے ساتھ نہ کوئی علاقہ ہے‘ نہ دلچسپی ہے اور نہ احساس ہے۔۔۔ اس وقت ہماری صورت حال یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہم اعتماد کھو چکے ہیں۔ پوری دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کے حامل کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کرپشن میں ہم دنیا کی تمام اقوام کو مات دے چکے ہیں اور سب سے بڑا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔۔۔ اس زوال اور انحطاط کی داستان بڑی طویل اور تلخ ہے۔ اس کے بہت سارے عوامل اور ڈھیر سارے اسباب ہیں۔۔۔ لیکن اس کا ایک سبب اور اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو اپنی اصل تاریخ سے بالکل بیگانہ اور لاعلم رکھا ہے۔۔۔ ہماری نئی نسل کو اپنے اسلاف اور محسنین کی خدمات‘ احسانات اور

صفحہ 15

جدوجہد کا کوئی علم نہیں۔۔۔ہم اپنے طلبہ کو بادشاہوں اور حکمرانوں کی تاریخ اور وہ بھی مسخ شدہ تاریخ پڑھانے میں مصروف ہیں۔۔۔یہ ملک جہاں تعلیم کی نام نہاد شرح تیس فیصد ہے ان تیس فیصد میں اگر دیکھا جائے تو ایسے افراد کتنے ہوں گے جو تاریخ کی شدبد رکھتے ہوں گے۔۔۔علاوہ ازیں تو دیکھنا یہ بھی چاہیے کہ یہ لوگ کونسی تاریخ پڑھتے ہیں۔۔۔آج سے غالباً چھ سال پہلے کی بات ہے میں ایک بہت معروف و مشہور سکالر کے دفتر میں ان کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ ان کے ساتھ ارادت اور تعلق کی بنا پر میں ان کی باتیں بڑی توجہ اور انہماک سے سن رہا تھا۔۔۔دوران گفتگو وہ مجھ سے کہنے لگے: چشتی صاحب! آپ جب بھی جمعہ کے دن بیان کرتے ہیں تو شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ، مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔

میں ان حضرات کے نام آپ جیسے لوگوں سے سنتا ضرور ہوں لیکن مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ امت مسلمہ کے لیے انہوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں۔۔۔پھر کہنے لگے: آپ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین، مرزا بشیر الدین محمود اور سر ظفر اللہ خان کو بہت کوستے رہتے ہیں اس کی وجہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔

مجھے ان کے اس سوال پر بڑی حیرت ہوئی لیکن بعد میں میں نے Realise کیا کہ ان کی بات ٹھیک ہے۔۔۔انہیں ان اسلاف اور اکابر کی حیات اور خدمات کے بارے میں آگاہی ہو تو کیسے ہو۔۔۔ہمارے ملک میں ایک عام پڑھے لکھے شخص کی رسائی جس لٹریچر تک ہے اس میں تو علماء کرام کا تذکرہ شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔دو سال پہلے مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ کا انتقال ہوا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی صدمہ ہوا کہ اخبارات میں محض دو سطر کی خبر لگی ہوئی ہے۔۔۔حال ہی میں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ انتقال کر گئے تو ہمارے قومی اخبارات نے اس خبر کو جو کوریج دی وہ ہمارے سامنے ہے۔۔۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے آس پاس سے بے خبر ہیں، اپنی تاریخ سے بے خبر ہیں، اپنے اسلاف سے بے خبر ہیں اور اپنی اقدار سے بے خبر ہیں۔

مستقبل کی تخطیط ماضی کو دیکھ کر کی جاتی ہے لیکن جس قوم کو اپنے ماضی کا شعور نہ ہو وہ مستقبل کی تخطیط کرے گی تو کیا کرے گی۔۔۔۱۹۸۱ء کے اواخر کی بات ہے مجلس تحفظ ختم

صفحہ 16

نبوت کراچی کے اکابرین نے جب راقم الحروف کو ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا ڈیکلیریشن لینے کا Task دیا۔۔۔ تو اس ضمن میں اس وقت انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔ اس وقت کے ڈائریکٹر صاحب کے ساتھ اس حوالہ سے چھیالیس انٹرویوز ہوئے۔۔۔ ہر انٹرویو میں وہ ہمارے اسلاف کے بارے میں جو شکوک و شبہات اور منفی پروپیگنڈہ کیا گیا ہے اس پر بحث کرتا تھا۔۔۔ میرے ساتھ بعض مرتبہ مفتی محمد اسلم صاحب (حال امیر جمعیتہ العلماء برطانیہ) ہوا کرتے تھے۔۔۔ سینتالیسویں دن جب میں انٹرویو کے لیے ان کے دفتر میں داخل ہوا تو اس نے اٹھ کر میرا استقبال کیا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا: آپ آج شام چھ بجے میرے پاس آجائیں دونوں بیٹھ کر مشورہ کریں گے، چائے پئیں گے اور تفصیلاً بات چیت کریں گے۔۔۔ میں نے اس دن مغرب کی نماز مسجد استقلال میں ادا کی اور ٹھیک چھ بجے ان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ ہم نے مل کر چائے پی لی اور گفتگو شروع ہوئی۔ میں دل میں بہت خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب نے کہا: آپ کی فائل جب سے میرے پاس آئی ہے اور آپ سے ملاقاتیں شروع ہوئی ہیں اس وقت سے مجھے آپ کے اکابرین اور اس موضوع سے دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔۔۔ میں نے ان دو مہینوں میں اس موضوع پر اچھا خاصا مطالعہ کیا اور آپ سے زبانی معلومات حاصل کیں۔۔۔ میں اب ریٹائرمنٹ کے قریب ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس نیک کام میں آپ کے ساتھ تعاون کروں۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے جو Summary تیار کی تھی مجھے دکھائی اور کہنے لگے: میں نے آپ لوگوں کے بارے میں بہت ہی اچھی رپورٹ دی ہے ان شاء اللہ آپ کو ڈیکلیریشن مل جائے گا آپ کوئی فکر نہ کریں۔۔۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت ہمارے اکابرین اور اسلاف کی خدمات سے ملک کا خاص اور عام طبقہ بالکل لاعلم ہے صرف وہ حضرات جو دینی مدارس میں پہنچتے ہیں اور وہاں سے استفادہ کرتے ہیں وہ ان کے نام سنتے ہیں۔ ان میں بھی ان افراد کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے جو اپنے اسلاف اور مشائخ کی تاریخ اور خدمات سے واقف ہوتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب مجددیت، مسیحیت اور آخر میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس پورے عرصہ میں مکڑی کی طرح اپنے تئیں مضبوط جال بنا گیا۔۔۔ تو اس کے مقابلہ میں امت مسلمہ کے علماء، خواص اور عوام سب نے اپنی اپنی استعداد اور سطح کے مطابق اپنی

صفحہ 17

صلاحیتوں کو استعمال کیا۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی Back پر استعمار کی قوت تھی۔ اس کو ہر طرف اور ہر نوع کی Projection اور Protection دی جا رہی تھی۔۔۔ مرزا سمجھتا تھا کہ حکومت وقت کی حمایت کے بل بوتے پر وہ اپنی ہر چال میں کامیاب و کامران ہو جائے گا۔۔۔ ظاہری وسائل‘ مناصب اور مفادات کی خاطر کئی لوگ اس کے دام تزویر میں آ گئے۔۔۔ استعمار نے مرزا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ مرزا نے حرص و لالچ کے جال میں پھنسے ہوئے اپنے مریدین کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنایا اور اس طرح جھوٹی نبوت کا مکروہ دھندہ قائم ہو گیا۔۔۔ مرزا قادیانی نے امت مسلمہ کے بنیادی عقائد پر بڑی بے دردی سے وار کیے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام خصوصیات کو اپنے اوپر چسپاں کر دیا۔ اپنے مریدوں کو صحابہ کا درجہ دیا‘ اپنی بیوی کو ام المومنین کا لقب دیا اور اپنے اوہام کو الہام وحی کا درجہ دیا۔۔۔

اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے بہت بڑی قربانی اور عظیم جدوجہد کی ضرورت تھی۔۔۔ علماء امت نے اس کی بیخ کنی کے لیے اپنی زبان‘ اپنا ذہن اور اپنا قلم استعمال کیا اور امت مسلمہ کے افراد نے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی دی۔۔۔ اس پورے عرصہ میں جن جن حضرات نے اس فتنہ کو بیخ و بن سے اکھیڑنے کی تحریک میں حصہ لیا ان کی جدوجہد قابل تقلید اور ان کی مساعی ناقابل فراموش ہیں۔۔۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان مثالی ہستیوں کی تاریخ پوری تفصیل کے ساتھ بہت عمدہ انداز میں مرتب کی جائے تاکہ موجودہ اور آئندہ ادوار کی نسلیں اس سے مستفید و مستنیر ہو سکیں۔۔۔ مقام مسرت ہے کہ محترم جناب محمد طاہر رزاق صاحب نے اس اہم ترین اور مفید کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔۔۔ محمد طاہر رزاق صاحب کو اللہ جل شانہ نے بیک وقت کئی نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔ آپ کی زبان پر تاثیر ہے‘ آپ کا قلم عمدہ ہے‘ فکر صاف ستھری ہے‘ مطالعہ وسیع ہے‘ ذہن رسا ہے‘ مشاہدہ صائب ہے‘ جذبہ میں جولانی اور اخلاص ہے‘ عمل میں للہیت ہے‘ اسلاف کے ساتھ عقیدت اور محبت ہے‘ خوش اخلاق اور ملنسار ہیں‘ تقریر اور تحریر دونوں میدانوں کے شہسوار ہیں‘ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ آپ کا مشن ہے۔۔۔

میں اپنے آپ کو ہرگز اس قابل نہیں سمجھتا کہ آپ کی تالیف پر ”تقریظ“ رقم کروں لیکن ”الامر فوق الادب“ کے تحت ”شاہراہ عشق کے مسافر“ کا مسودہ میں نے

صفحہ 18

بالاستیعاب اس فرض سے مطالعہ کیا۔ مجھے اس مسودہ کے مطالعہ نے بہت متاثر کیا۔۔۔میں نے کئی بار دعا کی کہ اللہ جل شانہ جناب محمد طاہر رزاق صاحب کو اجر جزیل عطا فرمائے کہ آپ کے توسط سے یہ بیش بہا معلومات منظر عام پر آ رہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جناب محمد طاہر رزاق صاحب نے ”تاریخ احمدیت“ کے مقابلہ میں جو سیریز شروع کی ہے اور جس کی ایک کڑی زیر نظر تالیف ”شاہراہ عشق کے مسافر“ بھی ہے۔۔۔ یہ سلسلہ آپ کی دیگر تصنیفات و تالیفات کی طرح قبول عام حاصل کرے گا اور ہمارے لٹریچر میں ایک وقیع، مفید اور خوشگوار اضافہ ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مولف کو توفیق مزید عطا فرمائے اور ہمیں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے مواقع، ہمت اور صلاحیت عنایت فرمائے۔ آمین۔

پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

اسلام آباد

۲۸ جنوری ۲۰۰۰ء

صفحہ 19

جب قادیان میں حضرت امیر شریعتؒ نے بیعت لی

امیر شریعت سر پر عربی طرز کا رومال باندھے‘ ہاتھ میں کلہاڑی سنبھالے جب جمعہ کے خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی عربی شہسوار ہے جو ابھی گھوڑے سے اتر کر فوج سے میدان جنگ میں خطاب کر رہا ہے۔ زبان کی شیرینی کلام کی صورت میں بانٹی جا رہی تھی‘ جس سے لاکھوں انسانوں کے دلوں کی جھولیاں بھر رہی تھیں۔ نظریں تھیں کہ امیر شریعت کو چاٹ رہی تھیں۔ دل تھے کہ بلیوں اچھل رہے تھے اور امیر شریعت تھے کہ لاکھوں انسانوں کے جذبات سے کھیل رہے تھے۔

نماز سے فارغ ہو کر مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے امیر شریعت کے ہاتھ پر بیعت کی تجویز پیش کر دی جسے امیر شریعت نے قبول کر لیا۔ ایک ایک آدمی اگر بیعت کے لیے آتا تو ہفتوں گزر جاتے مگر امیر شریعت نے حکم دیا کہ میرے رومال کے ساتھ ایک پگڑی کو گرہ دے لو اور پھر اس سے تولیے‘ رومال‘ چادریں اور پگڑیاں باندھتے جاؤ۔ جس کا ہاتھ ان کپڑوں سے لگ جائے‘ وہ میری بیعت میں خود کو داخل سمجھے۔ بس پھر کیا تھا‘ لاکھوں انسانوں کے سروں پر پگڑیوں‘ چادروں‘ تولیوں اور رومالوں کا ایک جال تن دیا گیا۔ یہ سلسلہ ختم ہوا تو امیر شریعت نے بیعت ہونے والوں کو شرعی احکام سمجھائے نیز فرمایا کہ کل ہر شخص اپنے اپنے گھر پہنچ کر ایک پوسٹ کارڈ پر اپنا نام اور پتہ درج کر کے مجھے بھیج دے۔

نغمہ عشق سناتا ہوں میں اس شان کے ساتھ
رقص کرتا ہے زمانہ مرے وجدان کے ساتھ

(مولف)

صفحہ 20

جب ایک عورت نے اپنا بچہ پھینک دیا

اسی طرح کا ایک واقعہ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں بھی پیش آیا، جب مولانا تاج محمودؒ جامع مسجد کچہری بازار (لائل پور) میں شمع رسالت کے پروانوں کے ایک بے انتہا مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ قادیانی امت اور اس کے تحفظ کے لیے حکومت وقت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کے خلاف بھرے ہوئے، اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے۔ مولانا تاج محمودؒ کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی سیڑھیوں کے نزدیک کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھی۔ دفعتاً شدت جذبات سے مغلوب ہو کر ساری مسجد میں پھیلے ہوئے مجمع کو چیرتی ہوئی وہ آگے بڑھی اور اپنی گود کے بچہ کو منبر کے نزدیک جاکر (جہاں مولانا کھڑے تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اچھال دیا اور پنجابی میں کہا کہ "مولوی صاحب میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے۔ اسے سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آبرو پر قربان کردو" یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔

اس وقت سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ خود مولانا کی آواز گلو گیر اور رندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا۔ اسے بلاؤ۔ چنانچہ اس خاتون کو بلایا گیا اور مولانا نے کہا کہ بی بی! سب سے پہلے گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے (اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہو جائیں تو اپنے اس بچے کو لے آنا اور اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی عزت پر قربان کر دینا۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔

(ہفت روزہ "لولاک" فیصل آباد، مولانا تاج محمودؒ نمبر، ص ۸۲، از زاہد منیر عامر)

عشق کو دنیا کھیل نہ سمجھے
کام ہے مشکل نام ہے آساں (مولف)
صفحہ 21

تحفظ ختم نبوت

حضرت تھانویؒ نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے شیخ عبدالحقؒ سے یہ کہا کہ مدینے میں رہنا چھوڑ دو اور ہندوستان جاکر میری امت کا دین بچاؤ۔ حضور ﷺ کی روح کام کرتی تھی تو شیخ عبدالحقؒ نے فرمایا کہ مدینے سے چلا جا اور ہندوستان میں جاکر میری امت کا دین بچا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ عبدالحق دین بچانے میں میری امت پر سختی نہ کرنا‘ نرمی کرنا اور پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ سے بھی حضور ﷺ نے یہ فرمایا ‘مولانا محمد علی مونگیریؒ سے بھی یہی فرمایا اور آپ مولانا درخواستی سے پوچھیں‘ وہ زندہ ہیں۔ مولانا درخواستی سے سوال یہ کرو کہ آیا کوئی ایسا وقت تمہارا پاکستان میں آیا ہے کہ تم نے پاکستان چھوڑ کر جانے کا ارادہ کر لیا تھا کہ ہجرت کر کے چلے جانا ہے اور پاکستان میں نہیں رہنا اور کراچی پہنچ گئے تھے؟ اور جب وہ کہیں کہ ہاں ایسا ہوا تھا تو پھر پوچھ لینا کہ پھر واپس کیوں آئے؟ وہ آپ کو بتائیں گے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مرزائی میری امت کو گمراہ کر رہے ہیں اور تم ملک چھوڑ کر جا رہے ہو؟ اللہ جانے کس کی دعا کی برکت ہے‘ اور میرا یقین ہے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے تاج نبوت کی حفاظت کرانی ہے وہ کسی سے بھی کرائے۔ لیکن جس سے وہ کرائے گا‘ وہ بخت والا ہوگا۔

سعدیؒ فرماتے ہیں کہ اے انسان تو یہ فخر نہ کر کہ تو بادشاہ کی خدمت کرتا ہے بادشاہ کے لیے لاکھوں خدمت گزار ہیں‘ تیرا کیا احسان ہے کہ تو بادشاہ کی خدمت کرتا ہے‘ بادشاہ کا تجھ پر احسان ہے کہ کسی اور کو خدمت پر نہیں لگایا‘ تجھے ہی لگا لیا ہے۔

(خطاب ۱ مولانا محمد علی جالندھریؒ)

صاحبزادہ حضرت فیض الحسن شاہ صاحبؒ کی خطابت

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جلسہ میں آپ کی آمد پر تمام علماء و مشائخ سٹیج پر پہنچ جاتے تو صاحبزادہ صاحب کو لایا جاتا۔ نکلتا ہوا قد‘ دمکتا ہوا چہرہ‘ مونچھوں اور داڑھی کا مخصوص

صفحہ 22

سٹائل‘ عینک سے جھانکتی ہوئی آنکھیں‘ خوبصورت جبہ یا شیروانی۔ اولاً کلاہ پر دستار‘ بعد میں قراقلی ٹوپی‘ ہاتھ میں نفیس چھڑی لیے ہوئے پروقار قدم اٹھاتے‘ مستانوں کے ہجوم میں جلوہ گر ہوتے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا۔ نعروں کا سیلاب اٹھتا‘ پورا جلسہ کھڑا ہو جاتا۔ علماء و مشائخ بھی نعرہ زن ہوتے۔ عوام لوٹ لوٹ جاتے اور سٹیج پر سب سے اونچی کرسی یا صوفہ پر آپ تشریف رکھتے۔ پورے اجتماع کی نگاہیں آپ کے چہرے پر گڑی کی گڑی رہ جاتیں۔ جب سٹیج سیکرٹری آپ کو دعوت خطاب دیتا تو ایک مرتبہ پھر نعروں کے چشمے ابلتے۔ اسی پر جوش ماحول میں بڑی تیزی سے آپ نے جوں ہی کہا "الحمد للہ" پس پورا مجمع پتھر بن گیا۔ علماء خطبے کے ذوق میں گم‘ عوام سراپا ادب۔ کوئی آیت شریف پڑھی اور "جناب صدر گرامی قدر" کے الفاظ اس دلربائی اور رعنائی سے ادا کرتے کہ صدر جلسہ بڑی عزت محسوس کرتے۔ اپنے سے پیش رو مقررین کی حوصلہ افزائی کرتے‘ سٹیج پر موجود علماء و مشائخ کے مقام و مرتبہ سے عوام کو آگاہ کرتے‘ خطابت کا نقش جماتے۔ ہم قافیہ الفاظ کی بھرمار کرتے‘ نتیجہ نکالتے اور آخر میں نہایت موزوں شعر چست کرتے تو مجمع پھڑک پھڑک جاتا۔ کئی کئی گھنٹے تک ہر سامع محو حیرت رہتا۔ مجمع کو ہنسانا اور رلانا ان کی خطابت کا ادنیٰ کرشمہ تھا۔

(ماہنامہ "دعوت تنظیم الاسلام" فروری ۱۹۹۹ء‘ از علامہ شبیر احمد ہاشمی)

قلمی چہرہ

دل کے غنی‘ زبان کے دھنی‘ بات نیزے کی انی‘ شاہ جیؒ کے عشق اور افضل حقؒ کے فکر کی تصویر‘ صحیح العقیدہ مسلمان‘ فیصل آباد کے زندہ دلوں کے روح رواں۔ بے عیب اللہ کی ذات ہے لیکن کوئی سی بھی معصیت ان کے خیال کو چھو کر نہیں نکلی۔ ایک اجلا اور صاف ستھرا انسان جو شاید دھوکا کھا سکتا ہے‘ دھوکا دے نہیں سکتا۔ عربی کی مشہور کہاوت ہے کہ حسن وہ ہے جس کا سوتنوں کو بھی اعتراف ہو۔ تاج محمود کے مخالف بھی اس کی گواہی دیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص‘ ہر شخص سے متفق ہو یا ہر انسان کو ہر خیال سے اتفاق

صفحہ 23

ہو۔ مولانا تاج محمود کے خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے اور لوگوں میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ ہی ہوتے ہیں۔

تاج محمودؒ بھی بہرحال ایک انسان ہے۔ اس سے بھی لوگوں کو اختلاف ہے اور رہے گا لیکن یہ شہادت کہ وہ ایماندار ہے، مخلص ہے، صاحب عزم ہے اور ناقابل خرید ہے۔ ایک ایسا اعزاز ہے جو اس دنیا میں معاصرت کے دربار سے شاید ہی کسی کو ملتا ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک ہی دنیا ہے اور وہ حضور سرور کونین ﷺ کے عشق و محبت کی دنیا ہے۔ حضور علیہ السلام کی ذات اقدس سے انہیں بے پناہ محبت ہے۔ اس میں سرمو فرق نہیں۔ اس معاملے میں مسلمان بھی ہیں، مومن بھی۔ قلندر بھی ہیں، مجذوب بھی، سالک بھی ہیں، صوفی بھی۔ مجاہد بھی ہیں اور نمازی بھی۔ حتیٰ کہ اس عشق کی تیغ جگردار کا ہم انہیں شہید بھی کہہ سکتے ہیں۔

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بوالہوسی است

قد دراز، طبیعت گداز، مزاج میں سوز و ساز، شوق میں پرواز، سیرت میں اعجاز، عمر میں جوانی کا ولولہ، رنگ گندمی، ماتھا کھلا، آنکھیں روشن، ستواں ناک، رفتار میں تحمل، گفتگو میں تجمل، دل آئینہ، سادہ فطرت، سادہ سرشت، عیب بین نہ عیب چین، اقبال کے ٹھیٹھ مسلمانوں میں سے ایک۔

(ہفت روز ”لولاک“ فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر از قلم: شورش کاشمیریؒ )

ناعاقبت اندیش مرزا

مرزا کو ایک خیال شاید زندگی بھر نہیں آیا ہو گا، لیکن ہم وہ خیال مرزائیوں کو تو دلا ہی سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے..... کسی کی سمجھ میں وہ بات آ جائے اور وہ جھوٹی نبوت کے چنگل سے نکل آئے۔

بات بالکل صاف اور سیدھی ہے..... بلکہ وہ سامنے کی بھی ہے..... اور اس بات سے کوئی مرزائی انکار بھی نہیں کر سکتا..... اسی کو کہتے ہیں دو+دو=چار

صفحہ 24

اب میں وضاحت کرتا ہوں..... مرنے کے بعد جب آدمی کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور قبر ڈھانک دی جاتی ہے..... عزیز رشتے دار دعا مانگ کر چلے جاتے ہیں تو منکر نکیر قبر میں آتے ہیں..... وہ تین سوال اس سے کرتے ہیں:

پہلا سوال: تیرا رب کون ہے؟

وہ جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔

دوسرا سوال: تیرا دین کیا ہے؟

وہ جواب دیتا ہے..... میرا دین اسلام ہے۔

تیسرا سوال: آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سامنے کر کے پوچھا جاتا ہے تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

وہ جواب دیتا ہے: یہ حضرت محمد ﷺ ہیں..... آخری نبی ہیں..... جو اسلام لے کر دنیا میں آئے‘ ہمارے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے‘ ہم نے ان سب دلیلوں کو سچا جانا‘ جو دین حضور ﷺ لے کر آئے تھے‘ میں ان پر ایمان لایا تھا۔

لیکن جب کوئی مرزائی مرے گا‘ اسے دفن کیا جائے گا تو یہ تین سوال اس سے بھی کیے جائیں گے..... ہمارا مرزائیوں سے سوال ہے..... وہ ان تین سوالات کے کیا جواب قبر میں دیں گے..... ان تین سوالات کے جوابات کے لیے انہیں ابھی سے فکر مند ہو جانا چاہیے..... آخر وہ کیا جواب دیں گے..... صاف ظاہر ہے..... وہ تینوں سوالات کے جوابات میں ایک ہی بات کہیں گے:

میں نہیں جانتا۔

میں نہیں جانتا۔

میں نہیں جانتا۔

اس ”میں نہیں جانتا“ سے بچنے کے لیے تمام مرزائیوں کے لیے صرف اور صرف ایک راستہ ہے۔ یہ کہ مرزائیت سے تائب ہو جائیں..... اور اسلام کا دامن تھام لیں۔ تبھی وہ ان تین سوالات کے جواب دے سکیں گے..... ورنہ پھر فرشتوں کے گرز ان کے لیے تیار ہیں۔

(ماہنامہ ”لولاک“ مئی ۱۹۹۸ء‘ از قلم اشتیاق احمد)

صفحہ 25
زہر قاتل ہے آبگینوں میں
سانپ پلتے ہیں آستینوں میں (مولف)

جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں قادیانی مقدمہ

مولانا ظفر احمد انصاریؒ کی باتیں

دستور کمیشن کے سربراہ اور جنوبی افریقہ کی عدالت عظمیٰ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران کیپ ٹاؤن میں جانے والے دس رکنی وفد کے قائد مولانا ظفر احمد انصاری نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کے غیر مسلم قرار دیے جانے کے مقدمے میں دلچسپی کے لیے وہاں کے مسلمانوں نے صدر مملکت، حکومت پاکستان اور عوام کے لیے گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے کہ صدر ضیاء الحق نے قادیانی فتنے کے استیصال کے اجراء کی صورت میں جو اقدامات کیے ہیں، وہ قابل قدر ہیں اور ان سے جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی خصوصاً اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عموماً حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ وہ ہفتے کے روز اپنی قیام گاہ پر خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وفد کے سربراہ کی حیثیت سے، صدر مملکت اور رابطہ عالم اسلامی کو وفد کے حالیہ دورہ اور اس کی کارکردگی کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ کیونکہ حکومت کی فراہم کردہ سہولتوں اور رابطہ کے مالی تعاون سے اس وفد کو کیپ ٹاؤن بھیجا جاسکا۔ مولانا انصاری نے بتایا کہ کیپ ٹاؤن کی عدالت عظمیٰ کے سنگل بنچ نے قادیانیوں اور مسلمانوں کے وکلاء کی بحث سننے کے بعد اس قانونی نکتے پر فیصلہ جنوری کے لیے محفوظ کرلیا کہ آیا اسے اس مقدمے کے سننے کا قانونی حق بھی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلہ یہ ہوا کہ عدالت کو یہ مقدمہ سننے کا حق اور اختیار نہیں تو مقدمے کو خارج کردیا جائے گا اور اگر فیصلہ سماعت کے حق میں ہوا تو پھر مقدمے کی باقاعدہ کارروائی آئندہ سال اپریل یا مئی میں دوبارہ شروع ہوگی۔ اس صورت میں دوبارہ وفد کیپ ٹاؤن جائے گا اور مسلمانوں کے وکیل اسمعیل کی معاونت کرے گا۔

صفحہ 26

انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے میں قادیانیوں کی جانب سے وہاں پر ایک مشہور یہودی وکیل پیش ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کی تعداد چار سے پانچ لاکھ ہے جبکہ قادیانیوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے لاہوری جماعت کے قادیانیوں نے انجمن اشاعت اسلام لاہور کی شاخ کے طور پر اپنا مرکز قائم کیا تھا۔ اب کچھ عرصہ پہلے ربوہ گروپ نے بھی اپنی ایک شاخ قائم کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھگڑا شروع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ لاہوری قادیانیوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں اپنے مردوں کو دفنانا شروع کیا جس کی مسلمانوں نے سخت مزاحمت کی اور کہا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اس لیے ان کو نہ تو ہماری مساجد استعمال کرنے کا حق ہے اور نہ ہی ہمارے قبرستان میں ان کو دفنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح تقریبا دو سال قبل یہ مقدمہ وہاں کی ایک عدالت میں پیش ہوا اور وہاں پر مسلمان علماء اور احباب نے پاکستان سے تعاون کی درخواست کی۔ چنانچہ ان کی سربراہی میں ایک وفد کیپ ٹاؤن گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مسلمانوں کے حق میں حکم امتناعی جاری کر دیا جس کے خلاف قادیانیوں نے وہاں کے قوانین کے مطابق ایک باقاعدہ مقدمے کی شکل میں یہ مقدمہ دائر کیا۔ جو ابتدائی طور پر انجمن اشاعت اسلام لاہور کی کیپ ٹاؤن برانچ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا اور اس میں مسلم جوڈیشل کونسل اور قبرستان کے متولی حضرات کو فریق بنایا گیا۔ مقدمے کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔ لیکن چھ نومبر کو اس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔ وہاں کے مسلمانوں نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر رابطہ عالم اسلامی کو تعاون کے لیے خطوط لکھے۔ چنانچہ اس پر رابطہ نے وفد بھیجنے کی ذمہ داری قبول کی اور اس امر کی اجازت دی کہ ہم جس کو چاہیں وفد میں شامل کریں۔ چنانچہ دس ارکان پر مشتمل ایک وفد ۲۵ اکتوبر کو ان کی قیادت میں کیپ ٹاؤن روانہ ہوا۔ جنوبی افریقہ کے مسلمانوں کی خواہش پر وفد میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو قادیانیوں سے متعلق گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خیال یہ تھا کہ ابتدائی مرحلے میں کچھ قانونی نکات پر بحث کے بعد چند گواہ مسلمانوں کی جانب سے پیش ہوں گے اور پھر جرح ہو گی اور اس کے جواب میں قادیانی بھی اپنے گواہ پیش کریں گے۔ وفد کے سات ارکان کو مقدمے میں گواہ بنایا گیا۔ ہمارے وکیل کو اس امر کی زیادہ ضرورت تھی کہ مقدمے کے حق میں زیادہ سے زیادہ ایسا مواد فراہم کیا جائے جو

صفحہ 27

قرآن کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہو۔ چنانچہ پہلے کا تیار کردہ مواد اور کچھ قیام کے دوران تیار کر کے وکیل کے حوالے کر دیا گیا اور گواہوں نے بھی اپنے اپنے بیانات تیار کر کے دے دیے۔

سماعت شروع ہوئی تو ابتدائی طور پر کچھ قانونی نکات پر بحث ہوئی اور مدعی نے مقدمے میں یہ تبدیلی کی کہ انجمن اشاعت الاسلام لاہور کا نام درخواست سے نکال لیا اور صرف ایک مقامی باشندے کو جو لاہوری قادیانی تھا‘ مدعی کی حیثیت سے رہنے دیا۔ اس کے نتیجے میں بحث ہوئی۔ ہمارے وکیل نے یہ اعتراض کیا کہ اس طرح حق دعویٰ نہیں بنتا جس پر تین دن تک بحث ہوئی اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ وہ اس نکتے پر جنوری میں فیصلہ دیں گے۔

مولانا انصاری نے کہا کہ ہمارے وکیل نے عدالت میں یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر بات آگے بڑھی اور اس مقدمے کو خارج نہ کیا گیا تو پھر طویل بحث ہو گی اور قرآن و حدیث و فقہ کے جملہ نکات سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد جو بھی فیصلہ ہو‘ چونکہ دنیا کے تمام مسلمان قادیانیوں اور لاہوریوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم کہتے ہیں‘ اس لیے عدالت کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے اور اس امر کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ قادیانیوں کے حق میں فیصلے کی صورت میں اس پر عمل درآمد کرانا کس قدر مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں مقدمے کی سماعت کے دوران بڑا جوش و خروش پایا جاتا تھا اور مسلمانوں کے ہجوم سے بچنے کے لیے عدالت نے پہلے دن اپنا اجلاس ایک دوسری جگہ منعقد کیا‘ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا بہت بڑا ہجوم عدالت میں جمع ہو گیا۔ جبکہ قادیانیوں اور لاہوریوں میں سے وکلاء کے سوا کوئی بھی نہ آیا۔ وکلاء کے سربراہ یہودی وکیل نے قادیانیوں کے حق میں دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر قادیانی جانتے ہیں کہ اس مقدمے میں جان نہیں ہے لیکن پاکستان اور لندن سے ان کی مسلسل اعانت اور حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی افریقی ملک کی عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے لیں اور پھر افریقی ممالک میں اپنا کام پھیلانے میں سہولت ہو۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے اپنے چار پانچ گواہوں میں بعض غیر مسلم بھی رکھے ہیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قادیانیوں کی جانب سے یہودی وکیل رکھنے پر ان کے یہودیوں کے ساتھ گہرے روابط کا پتہ چلتا ہے۔

صفحہ 28

انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے شائع ہونے والی ایک بات فخریہ طور پر بیان کی گئی ہے کہ اسرائیل میں ۶۵۰ پاکستانی قادیانی ایسے موجود ہیں کہ جن کو اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت ہے۔ جو ظاہر ہے مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کی جاتی ہے۔

انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ایک بڑی دشواری یہ تھی کہ ساری گواہیاں اور مواد انگریزی زبان میں ہی پیش ہونا تھا۔ اس لیے یہ کام وفد مسلسل شب و روز وہاں کرتا رہا اور جو اس سلسلے میں پیشگی کام ہو گیا تھا‘ اسے بھی پیش کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوری میں فیصلہ ہو جانے کے بعد اس امر کا امکان ہے کہ اگر مقدمہ خارج ہوا تو سماعت کے لیے اپریل یا مئی کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ اس وقت وفد کے ارکان کی تعداد از سر نو متعین ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ باہر کے ممالک کے ماہرین کو بھی گواہ کے طور پر بلایا جائے اور عدالت میں پیش کیا جائے۔ وفد میں مولانا ظفر احمد انصاری کے علاوہ ریٹائرڈ جج محمد افضل چیمہ‘ سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر خورشید احمد‘ سابق اٹارنی جنرل حاجی غیاث محمد‘ ریاض الحسن گیلانی‘ جسٹس محمد تقی عثمانی‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی‘ مولانا عبد الرحیم اشعر‘ علامہ خالد محمود و ڈاکٹر ظفر الحق انصاری (سعودی عرب) شامل تھے۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ ۳ نومبر ۱۹۸۴ء)

ربوہ میں اندرونی کش مکش

قادیانیوں کو دعوت اسلام

جب سے مرزا ناصر آنجہانی ہوئے اس وقت سے ربوہ سخت ترین اندرونی کشمکش سے دو چار ہے۔ جب آنجہانی مرزا ناصر کی لاش ربوہ لائی گئی تو فوری طور پر جو مسئلہ کھڑا ہوا‘ وہ مرزا ناصر کی جانشینی کا تھا۔ تین افراد کے نام لیے جا رہے تھے:

صفحہ 29

ان تینوں کا تعلق اس سلسلہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان ہی سے تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی گدی پر بیٹھنے والا پہلا شخص بھیرے کا حکیم نور دین تھا۔ اس کے بعد مرزا محمود آیا جو مرزا قادیانی کا بیٹا تھا۔ مرزا محمود کے بعد اس کا بیٹا مرزا ناصر آیا اور اب بھی مرزا محمود ہی کا بیٹا دھونس اور دھاندلی سے جانشین بنا ہے۔

ہمیں اس سے تو بحث نہیں کہ کون بننا چاہیے کون نہیں۔ مرزا طاہر ہو، مرزا رفیع ہو یا مرزا مبارک، یہ سب ایک ہی خاندان ہے۔ ہم اس بحث میں بھی نہیں پڑنا چاہتے کہ مرزا رفیع صاحب کو مرزا طاہر کے تنخواہ دار کارندوں نے گھسیٹا، بے عزتی کی ”مسجد“ میں اگلی صف میں بیٹھنے کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں، اجلاس سے واک آؤٹ پر مجبور کیا اور مرزا رفیع نے بس کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر مرزا طاہر کے خلاف زبردست اور مدلل تقریر کی۔ پھر ان کو اغوا کر کے کار میں ڈال کر لے جانا، گھر میں نظر بند رکھنا، ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنا، مسلح پہریدار مقرر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب مرزائیوں کا اندرونی معاملہ ہے۔ وہاں ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتے ہیں۔ آخر جس شہر میں محمد علی سبزی فروش اور دوسرے متعدد مخالفین کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہو، جہاں ایک نوجوان لڑکی طاہرہ یاسمین کی خود کشی کا واقعہ ہو اور اسے بغیر پوسٹ مارٹم کے دفن کر دیا گیا ہو، وہاں مرزا رفیع کی نظر بندی بھی ہو سکتی ہے اور مخالفین کا بائیکاٹ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں ان واقعات پر حیرت نہیں، حیرت ہے تو اس بات پر کہ پاکستان ایک ملک ہے۔ بہت بڑی اسلامی سلطنت ہے۔ جہاں کا صدر مسلمان، جہاں کے وزیر مسلمان، جہاں ایک قانون موجود ہے۔ اگر حکومت کسی کو نظر بند کرتی ہے تو ظاہر ہے کسی قانون کی خلاف ورزی پر کرتی ہو گی۔ لیکن کسی ایسے شخص کو جو نہ تو حکومت ہے اور نہ حکمران، اسے کیسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی شہری کو محض اس وجہ سے نظر بند کرے کہ وہ جانشینی کے مسئلہ پر اس کا مد مقابل ہے، کیا ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہو چکے ہیں کہ انہیں ایک متوازی سٹیٹ بنانے اور متوازی قانون چلانے کی اجازت دے دی جائے؟

بہر حال یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ ربوہ کے لیے دیانت دار افسروں کی ایک

صفحہ 30

تحقیقاتی ٹیم مقرر کرے جو اس بات کا جائزہ لے کہ:

ربوہ کیا ہے؟

وہاں کیا ہو رہا ہے؟

اور کیوں ہو رہا ہے؟

نیز یہ ذمہ داری بھی حکومت ہی کی ہے کہ ایک اسلامی سلطنت میں متوازی طور پر خلافت و امامت‘ سٹیٹ در سٹیٹ یا حکومت در حکومت کیوں چل رہی ہے اور اس سلسلہ کو بند کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کے ساتھ ساتھ آج ہم مرزائی دوستوں کی خدمت میں بھی چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

پہلی یہ کہ:

ربوہ میں ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء میں جو واقعہ رونما ہوا تھا‘ جس کے نتیجہ میں پورے ملک میں ختم نبوت کے نام سے ایک زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک میں جہاں مسلمانوں کا یہ مطالبہ تھا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے‘ وہاں مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کی مہم بھی بڑے زور و شور سے چلی اور پورے ملک میں بائیکاٹ ہوا۔ اس وقت یہ مرزائی کہا کرتے تھے کہ دیکھو جی! کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مخالفین کا دانہ پانی بند کر دیا جائے۔ آج ربوہ میں خود مرزائی اپنے بھائیوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آنجہانی مرزا ناصر نے مرنے سے چند دن پہلے مبینہ طور پر پروفیسر صوفی بشارت الرحمن اور پروفیسر حبیب اللہ صدر و سیکرٹری مجلس کار پردازان انجمن احمدیہ ربوہ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ:

یہ حکم اس لیے دیا کہ مبینہ طور پر مرزا ناصر نے انہیں یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ان کے والد مرزا محمود اور ان کی والدہ کی قبریں اکھڑوا کر اپنی نگرانی میں ان کی از سر نو مرمت کرائیں۔ قبریں اکھاڑی گئیں‘ مرمت شروع ہوئی۔ ایک دن اچانک مرزا ناصر معائنہ کے لیے گئے تو وہ دونوں غیر حاضر تھے۔ جس پر انہوں نے یہ حکم نامہ جاری کیا۔ مرزائی دوست

صفحہ 31

سوچیں اور بتائیں کہ اگر مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں تو وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو گیا اور وہ خود کسی کا رزق بند کر دیں، باہمی میل ملاپ ختم کر دیں تو وہ اسلام کے عین مطابق ہو گا؟

یہ صرف پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب یا پروفیسر حبیب اللہ صاحب ہی پر موقوف نہیں۔ ربوہ میں متعدد خاندان ایسے موجود ہیں جن کا سوشل بائیکاٹ ہے۔ جو وہاں کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ نکل بھی نہیں سکتے کہ رائل فیملی کے کارندوں کی تلوار ان کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ جائیں تو کہاں جائیں اور نکلیں تو کیسے نکلیں۔

محترم ڈاکٹر فداء الرحمن صاحب اگر نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ ان کی جرات اور بہادری اور مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کی سعی و کاوش ہے۔

اگر وہ وہاں کسی مجبوری یا پابندیوں کی وجہ سے تشریف لانے سے قاصر ہوں تو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ترجمان ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد کے دفتر واقع جامع مسجد ریلوے اسٹیشن فیصل آباد پہنچ جائیں۔ یہاں بھی ان کو ربوہ سے نکالنے کے لیے ہر ممکن سہولت بہم پہنچائی جائے گی۔

دوسری بات یہ کہ:

نام نہاد جماعت احمدیہ کوئی مذہبی تحریک نہیں۔

سوچئے کہ جہاں مرنے کے بعد قبر کے لیے دو گز زمین کا ٹکڑا بھی جائیداد کا ۱۰ فیصد خاندان مرزا قادیانی کے نام وقف کر کے ملتا ہو، جہاں اس بہانے لوٹ کھسوٹ کر خاندان مرزا نے اپنی تجوریاں اربوں روپے سے بھر لی ہوں، کیا وہ کوئی مذہبی تحریک یا ادارہ ہو سکتا ہے؟

مثال کے طور پر ربوہ میں نام نہاد بہشتی مقبرہ بنایا گیا ہے، جو پہلے قادیان میں تھا۔ کہتے ہیں کہ جو اس بہشتی مقبرے میں دفن ہو گیا، تو وہ جنت میں چلا گیا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اپنی جائیداد کا ۱۰ فیصد حصہ مرزا ناصر یا اس کے بعد اب مرزا طاہر کے نام وقف کرنا ہو گا۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو اسے جنت میں جانے کا کوئی سرٹیفکیٹ یا ضمانت نامہ نہیں مل سکتا اور اسے عام مردوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔

صفحہ 32

مرزائی دوستو! سوچو تو سہی کہ آپ لوگ مرزائیت کے دام تزویر یا ارتداد کی دلدل میں اس لیے پھنسے تھے کہ تم لوگوں کو جنت میں جانے کا وعدہ دیا گیا تھا۔ اب جبکہ گمراہی کے عمیق غار میں گر چکے ہو، تو جنت کا وعدہ اس کام کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے کہ اپنی جائیداد کا دس فیصد نام نہاد خلیفہ کے نام وقف کرو۔

نبوت کا دھندا اور خلافت کا چکر‘ یہ سب فراڈ‘ دھوکہ اور لوٹ کھسوٹ کا ایک ذریعہ ہے۔

خدا نے عقل و شعور اس لیے دیا ہے کہ اسے استعمال کر کے سچ اور جھوٹ کو پہچاننے کی کوشش کرو۔۔۔ اب بھی وقت ہے کہ سچ اور جھوٹ کو پہچانو اور اس گمراہی سے نکلو۔ موت آگئی تو کوئی بہانہ قابل قبول نہ ہوگا۔

ان بطش ربک لشدید۔ "بے شک خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے"۔

(ہفت روزہ "لولاک" فیصل آباد‘ جلد ۱۹‘ شمارہ ۱۳ از قلم: محمد حنیف)

ابا جی

(مجاہد ختم نبوت۔۔۔۔ مولانا بہاء الحق قاسمیؒ)

میں حسب عادت کالج سے گھر آتے ہی سیدھا والد ماجد کے کمرے میں انہیں سلام کرنے کے لیے جاتا ہوں مگر ان کا بستر خالی ہوتا ہے۔ ان کی چھڑی اور شیروانی کھونٹی سے لٹکی ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ باتھ روم تک گئے ہیں۔ میں ہر بار بھول جاتا ہوں‘ پچھلے مہینے کی دو تاریخ (۲ فروری ۱۹۸۷ء) کو میں انہیں اپنے ہاتھوں سے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کر آیا ہوں۔

ماڈل ٹاؤن لاہور..... جہاں والد مکرم مولانا بہاء الحق قاسمیؒ نے پچیس برس تک امامت‘ خطابت اور درس قرآن سے لوگوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کی‘ وہ

صفحہ 33

یہاں اپنے استاد مکرم اور جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر چلے آئے تھے۔ ۱۹۵۰ء کے لاہور میں ماڈل ٹاؤن امراء کی واحد بستی تھی اور جامع مسجد اے بلاک اپنے پر شکوہ ڈیزائن کے باعث اس کا جیتا جاگتا ثبوت بھی تھی۔ اس بستی کے ماڈرن اور صاحب ثروت مکینوں نے والد ماجد کی صورت میں غالباً پہلی بار ایک ایسے "مولوی" کو دیکھا جس کی نظروں میں شان سکندری جچتی ہی نہیں تھی۔ ماڈل ٹاؤن کی اس سب سے بڑی مسجد میں جو "مولوی" آیا تھا، اس کی موٹی موٹی غلافی آنکھیں تھیں۔ سرخ سفید چہرے پر ایک عجیب طرح کا جلال و جمال تھا۔ جب وہ دھوبی کے دھلے ہوئے کڑ کڑاتے کپڑوں پر شیروانی پہنے اور سر پر مشہدی باندھے، جمعہ کے روز منبر رسول ﷺ پر آ کر بیٹھتا اور لحن داؤدی میں قرآن پاک کی تلاوت کے بعد اپنی گونج دار آواز اور سحر انگیز خطابت سے بستی کے لوگوں کو جھنجھوڑ کر کہتا کہ اپنے اعمال سے خدا کے عذاب کو دعوت نہ دو تو بستی کے لوگوں کو یہ آواز بہت نامانوس سی لگتی کہ یہ بات اس پیرائے میں انہوں نے اس سے پہلے نہیں سنی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں دولت سے مسخ شدہ کچھ چہرے والد ماجد کے پاس آتے اور کہتے! مولانا آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔ نماز پڑھائیں، ضروری مسئلے مسائل بتائیں۔ ہماری زندگیوں میں آپ کو دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ والد ماجد نے ان کی بات سنی اور کہا میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور ایک رس لیتا ہوں۔ دوپہر کو مولی کے ساتھ روٹی کھاتا ہوں۔ اور رات کو ابلے ہوئے چاول دال کے ساتھ کھاتا ہوں۔ اگر کبھی میری ان ضروریات میں اضافہ ہوا تو پھر میں آپ کے مشوروں پر بھی غور کروں گا۔ فی الحال آپ تشریف لے جائیں! یہ مشورہ دینے والے نہیں جانتے تھے کہ جس شخص سے وہ مخاطب ہیں وہ اٹھارہ برس کی عمر سے اعلائے کلمۃ الحق کے لیے صعوبتیں جھیلتا چلا آیا ہے۔ وہ قیام پاکستان سے قبل بڑی بڑی تحریکوں کے ہراول دستے میں رہا ہے اور وہ ان کے فرنگی آقاؤں کو دیس نکالا دینے کے لیے جیل بھی جاچکا ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی "جب انہیں خط لکھتے تھے تو انہیں "حامی دین مولانا بہاء الحق صاحب قاسمی دام فیضہم" کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں جامع المتفرقین قرار دیا تھا۔ جب پچاس برس قبل جامع مسجد راولپنڈی میں پہلی بار دیوبندی بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے لوگوں نے بیک وقت ان کی امامت میں عید کی نماز ادا

صفحہ 34

کی تھی۔ حضرت مولانا انور شاہ کاشمیریؒ، جنہیں اقبالؒ وضو کرانا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے، نے اپنے دست مبارک سے والد ماجد مولانا بہاء الحق قاسمیؒ کی دستار بندی فرمائی تھی۔ چنانچہ والد ماجدؒ کو مشورہ دینے والے لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ جس شخص کو مشورے دے رہے ہیں، اسے کن بزرگوں کا فیض حاصل ہے لیکن جب وہ جان گئے تو پھر جو باتیں انہیں ناگوار گزرتی تھیں، انہوں نے وہ باتیں بھی صبر سے سننا شروع کردیں اور انہوں نے طوعاً و کرہاً اس ”مولوی“ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ تاہم یہ چند لوگ تھے۔ ماڈل ٹاؤن کے لوگوں کی اکثریت کڑوی کسیلی باتیں شیریں لہجے میں سننے کے لیے والد ماجدؒ کے گرد جمع ہوئی اور ان میں تمام مکاتب فکر کے لوگ تھے۔ والد ماجدؒ کی زندگی کا مشن اتحاد بین المسلمین تھا اور وہ اپنے مشن میں اس درجہ کامیاب ہوئے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے عید کی نماز والد ماجد کی امامت میں ادا کرنی شروع کردی۔

والد ماجدؒ قیام پاکستان کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے لیکن حکمرانوں کے خلاف اسلام اقدامات پر جمعے کے خطبے میں اتنی کڑی تنقید کرتے کہ ان کے ”خیر خواہ“ انہیں نرم روی کا مشورہ دیتے۔ ایوب خان کے مارشل لاء میں جب بڑے بڑے طوطی مقال نقاد زیر پر ہو گئے تھے، والد ماجدؒ وہ سب کچھ کھلے لفظوں میں کہتے، جو کہنے کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی۔ اس سے پہلے ۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو والد ماجدؒ کو مسجد وزیر خان میں تقریر کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبد الستار خان نیازی اور دوسرے زعماء بھی مسجد وزیر خان میں ان کے ہمراہ تھے۔

والد ماجد کو گرفتار کرنے کے بعد شاہی قلعے لے جایا گیا۔ ان پر بغاوت، آتش زنی اور اس نوع کے خدا جانے کیا کیا الزامات تھے۔ ہمیں تین ماہ تک والد ماجدؒ کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں؟ زندہ ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے؟ تین ماہ بعد جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی تو ہمیں ان کی زندگی کی اطلاع ہوئی۔

شاہی قلعے میں والد ماجدؒ کو ایک کرسی پر بٹھا کر ان کے سر پر ایک تیز بلب روشن کر دیا گیا تاکہ وہ ساری رات سو نہ سکیں۔ جب والد ماجدؒ کو اونگھ آتی تو ان کے پیچھے کھڑا سنگین بردار سپاہی سنگین کی نوک انہیں چبھوتا اور کہتا ”مولانا جاگتے رہیں“ یہ لوگ والد ماجدؒ سے امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خلاف بیان لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ والد ماجدؒ

صفحہ 35

سے یہ بیان دینے کے لیے کہا گیا کہ انہوں نے تحریک میں حصہ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے اکسانے پر لیا تھا۔

والد ماجدؒ نے اس کے جواب میں کہا! مجھے شاہ صاحبؒ نے کیا اکسانا تھا، انہوں نے تو خود ختم نبوت کا درس میرے خاندان سے لیا ہے!“ والد ماجدؒ نے یہ بات یوں کہی کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا مفتی محمد حسنؒ کی طرح میرے دادا مفتی اعظم امرتسر مفتی غلام مصطفیٰ قاسمیؒ کے شاگرد خاص تھے۔ اس پر ڈیوٹی پر متعین فوجی افسر نے جھنجلا کر والد ماجدؒ کو اپنے کمرے میں طلب کیا اور کہا، مولانا! آپ اپنے گھر کا ایڈریس لکھوا دیجئے تاکہ آپ کی میت آپ کے ورثاء کے سپرد کی جاسکے۔ اس پر والد ماجد کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری، جو طلوع سحر سے کم خوبصورت نہ تھی، اور انہوں نے کہا آپ مجھے موت سے ڈراتے ہیں حالانکہ آپ میری زندگی کا ایک لمحہ بھی کم یا زیادہ نہیں کر سکتے!“

(”گنجے فرشتے“ ص ۲۲۰ تا ۲۲۳، از عطاء الحق قاسمی)

بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے (مولف)

مولانا تاج محمودؒ کا نظام جاسوسی

مولانا نے ربوہ تک کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، فیصل آباد کے بعض دوسرے کالجوں اور خود تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے بعض مسلمان طلبہ کی لابی قائم کر رکھی تھی اور جس تدبر اور دانش مندی سے وہ کام لیتے اور کرتے، وہ انہی کا حصہ تھا۔ اس سلسلہ میں ان کے انکشافات بسا اوقات لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتے۔ لیکن چند دن بعد بات سچ ثابت ہوتی۔ آئندہ سالوں میں اس کی ایک مثال میرے سامنے اس وقت آئی جب انہوں نے پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جج مولوی مشتاق حسین کی مرزا ناصر احمد آنجہانی سے ملاقات کا اپنے ہفت روزہ ”لولاک“ میں ذکر کیا۔ وہ دور ایسا تھا کہ حکومتی سطح پر ملک میں جبر کی پالیسی تھی۔ مولوی مشتاق حسین سیاسی ورکروں کی ضمانتوں کے

صفحہ 36

مسئلہ پر بڑے فراخ دل تھے۔ اس وجہ سے حکومت کے مخالف سیاسی رہنما مولوی صاحب کی بڑی قدر کرتے۔ ایسے حضرات جو مسند علم و فقر کے بھی شہ نشین تھے، انہوں نے مولانا تاج محمود کے اس انکشاف پر سخت ناک منہ چڑھایا اور ایک بڑے قد آور سیاست دان نے میرے سامنے اسے جھوٹ تک کہہ دیا لیکن کچھ عرصہ بعد چودھری ظفر اللہ خان نے لاہور کے ایک رسالہ ”آتش فشاں“ میں اپنے طویل انٹرویو کے دوران مرزا ناصر احمد سے مولوی مشتاق حسین کی ملاقات کا ذکر کیا تو میں نے وہ رسالہ انہی سیاست دان بزرگ کو دکھایا تو وہ کھسیانے ہو کر رہ گئے۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ مولانا تاج محمودؒ نمبر‘ ص ۱۷۰-۱۷۱‘ از سعید الرحمٰن علوی)

قلوب آئینہ‘ چہروں پہ نور‘ سادہ مزاج
وہ آدمی تھے خدا کی نشانیاں اے دوست (مولف)

مرزا طاہر کے سیکرٹری کا قبول اسلام

مرزا طاہر احمد کے دور میں قادیانی قیادت کی یہ ذہنی الجھن اپنے عروج کو پہنچ گئی ہے کہ دلائل و براہین اور منطق و استدلال کے تمام مصنوعی حربوں کی مکمل ناکامی کے بعد جھوٹی نبوت کے خاندان کے ساتھ قادیانی افراد کی ذہنی وابستگی کو نفسیاتی چالوں کے ذریعے برقرار رکھنا حقیقت شناسی کے اس دور میں زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہے۔ یہ الجھن خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی درپیش تھی۔ چنانچہ مناظرہ و مباہلہ کے چیلنج، اشتہار بازی اور تعلی و شیخی کے جو مراحل مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جابجا دکھائی دیتے ہیں، وہ اسی ذہنی الجھن کا کرشمہ ہیں۔ لیکن مرزا طاہر احمد تک بات پہنچی ہے تو یہ ذہنی الجھن جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہو گئی ہے اور قادیانی سربراہ کو اپنے پیروکاروں کی وابستگی برقرار رکھنے میں جس شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کا ایک اظہار ”مباہلہ“ کی وہ کھلی دعوت ہے جو مرزا طاہر احمد نے ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کو انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کے نام تحریری چیلنج کی صورت میں جاری کی، لیکن اب اس مباہلہ اور اس کے نتائج کا سامنا

صفحہ 37

کرنا مرزا طاہر احمد کے بس میں نہیں رہا۔

مرزا طاہر احمد کی اس دعوت مباہلہ کو دنیا کے مختلف ممالک کے مسلم رہنماؤں نے قبول کیا اور تحریک ختم نبوت کے متعدد رہنما مباہلہ کے لیے مرزا موصوف کی جائے قیام لندن تک پہنچے لیکن مرزا طاہر احمد نے یہ خود ساختہ تاویل پیش کر کے سامنے آنے سے گریز کیا کہ مباہلہ کے لیے دونوں فریقوں کا آمنے سامنے آنا ضروری نہیں ہے۔

مرزا طاہر احمد کا خیال یہ تھا کہ اس من گھڑت تاویل کے سہارے آمنے سامنے مباہلہ سے بچنا آسان رہے گا اور انتہائی جوش اور تعلی کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کو دی گئی یہ دعوت مباہلہ قادیانی امت کے افراد کو ذہنی طور پر مطمئن رکھنے کے لیے ایک نفسیاتی حربے کا کام دیتی رہے گی، لیکن اللہ رب العزت کا قانون بے نیازی حرکت میں آیا اور ۱۰ جون ۸۸ء کی دعوت مباہلہ میں دی گئی ایک سالہ مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے مرزا طاہر احمد کے ایک دست راست ”حسن محمود عودہ“ نے قادیانیوں کے خود ساختہ اسلام آباد (ٹل فورڈ لندن) میں یہ اعلان کر دیا کہ وہ ”مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا ماننے سے انکار کرتا ہے“۔

خدا کی قدرت کہ ۲۵ نومبر ۸۸ء کو ٹل فورڈ لندن میں جب مرزا طاہر احمد اپنے خطاب کے دوران مولانا منظور احمد چنیوٹی کو موضوع گفتگو بنا کر مباہلہ کے نتیجے میں ۱۵ ستمبر ۸۹ء سے قبل ان کی ہلاکت و رسوائی کا اعلان کر رہا تھا تو جناب حسن محمود عودہ پہلی صف میں بیٹھے مرزا طاہر احمد کی تقریر کی رپورٹنگ کر رہے تھے اور مولانا چنیوٹی جب یکم اکتوبر ۸۹ء کو ویمبلے ہال لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں اپنی زندہ و سلامت موجودگی اور مرزا طاہر احمد کے جھوٹا ثابت ہونے کا اعلان کر رہے تھے تو حسن محمود عودہ ان کے ساتھ سٹیج پر کھڑے اپنے تائب ہونے کو مباہلہ کا نتیجہ قرار دے کر مرزا طاہر احمد کے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کر رہے تھے۔

حسن محمود عودہ فلسطینی نوجوان ہیں۔ جن کا خاندان فلسطین میں سب سے پہلے قادیانیت قبول کرنے والا خاندان ہے۔ فلسطین کے مشہور شہر ”حیفہ“ کے عودہ خاندان میں سب سے پہلے ۱۹۲۴ء میں حسن محمود عودہ کے نانا نے قادیانیت قبول کی۔ پھر ان کے دادا قادیانی ہوئے اور رفتہ رفتہ پورا خاندان قادیانیت کی آغوش میں چلا گیا اور اس خاندان نے

صفحہ 38

قادیانیت کے لیے ایسی خدمات سرانجام دیں کہ آج حیفہ کا قادیانی مرکز پورے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے قادیانی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حسن عودہ کی ولادت ۱۹۵۵ء میں حیفہ میں ہوئی۔ والدین قادیانی تھے۔ اسی ماحول میں پرورش پائی اور تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے۔ والدین کا خیال تھا کہ حسن کو قادیانی مذہب کا بہترین مبلغ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی تعلیم و تربیت کی غرض سے حسن کو ۱۹۷۹ء میں قادیان بھیجا گیا جہاں اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے قیام کیا۔ بیت الضیافت میں چھ ماہ کے قیام کے دوران حسن عودہ کو اردو زبان اور مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کی سبقاً سبقاً تعلیم دی گئی۔ ایک استاذ اردو زبان کے لیے اور ایک استاذ مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھانے پر مامور رہا۔ قادیانیت کا یک طرفہ چہرہ سامنے تھا۔ اسی ماحول میں ذہن و فکر کی تشکیل ہوئی تھی۔ جب قادیان میں نام نہاد مسجد اقصیٰ، مینارۃ المسیح، بہشتی مقبرہ، مسجد مبارک اور دوسرے مقامات دیکھے بلکہ ایک خاص انداز سے دکھائے گئے تو قادیانی مذہب اور خاندان مرزا کے ساتھ عقیدت دو آتشہ ہو گئی۔ حسن عودہ کو سری نگر کشمیر میں وہ قبر دکھائی گئی، جس کے بارے میں قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے لیکن بھارتی پارلیمنٹ اور ایک جرمن تحقیقاتی ٹیم نے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے۔ الغرض جب چھ سات ماہ کا خصوصی کورس مکمل کرنے کے بعد حسن عودہ فلسطین واپس پہنچا تو اس کی جوانی قادیانی مذہب کی تبلیغ و اشاعت اور قادیانیوں کو منظم و فعال بنانے کے جذبہ سے سرشار ہو چکی تھی۔

چنانچہ اسے خدام الاحمدیہ کا سربراہ بنا دیا گیا اور اس حیثیت سے اس نوجوان نے پورے جوش و جذبہ کے ساتھ فلسطین بھر میں سرگرمیوں کا جال پھیلا دیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ قادیان آیا، جہاں اس کی شادی کی گئی اور نکاح مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں پڑھایا گیا۔ حسن عودہ کے جوش و جذبہ اور سرگرمیوں کی اطلاع قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کو ملی تو اسے فلسطین سے لندن طلب کر لیا گیا۔ ۱۹۸۵ء میں حسن عودہ لندن پہنچا جہاں مرزا طاہر احمد نے ٹل فورڈ میں ”اسلام آباد“ کے نام سے اپنا مرکز قائم کر رکھا ہے۔ حسن عودہ کو اس مرکز میں شعبہ عربی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا اور عربوں میں قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کر دی گئیں۔

صفحہ 39

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ فلسطین اور قادیان میں تو فضا یک طرفہ تھی اور ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانیت کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا تھا اسے مانے بغیر کوئی چارہ کار نہیں تھا بلکہ ہمیں اس بات سے ڈرایا جاتا تھا کہ مسلمان علماء قادیانیوں کے بارے میں جو باتیں کرتے ہیں، وہ عناد اور حسد پر مبنی ہیں اور درست نہیں ہیں۔ اس لیے کسی تردد اور شبہ کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ لیکن جب لندن کی کھلی فضا میں آیا اور غیر قادیانی حضرات کی باتیں سننے اور ان سے ملنے کا موقع ملا تو دال میں کچھ کالا کالا محسوس ہونے لگا۔ خاندان مرزا اور قادیانی قیادت کے بارے میں تصورات اور عقیدت کی دنیا بہت حسین تھی۔ لیکن جب عملاً واسطہ پڑا اور قریب سے دیکھا تو عقیدت کا یہ محل لرزنے لگا۔ دل نے گواہی دی کہ جو لوگ دنیا بھر کی دینی اور روحانی قیادت کے دعویدار ہیں ان کی اپنی زندگی اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اس دوران حسن محمود احمد عودہ کو قادیانی مرکز کے عربی جریدہ ”التقویٰ“ کے اجراء اور ادارت کی ذمہ داری سونپی جاچکی تھی اور مرزا طاہر احمد نے نہ صرف حسن کو اپنے عربی ترجمان کی حیثیت دے دی تھی بلکہ سالانہ اجتماعات اور دیگر تقاریب میں مرزا طاہر احمد کی طرف سے حسن عودہ کی خدمات کا تذکرہ کھلم کھلا ہونے لگا تھا۔

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ جہاں قادیانی مرکز میں کام کرنے والے افراد کا عالمی قیادت کے معیار پر پورا نہ اترنے کا احساس میرے جذبات عقیدت کی جڑوں کو کرید رہا تھا۔ وہاں مرزا قادیانی کے بارے میں مسلم علماء کے بیانات سن کر یہ خیال دل و دماغ میں جگہ پکڑنے لگا تھا کہ کوئی بات ایسی ضرور ہے جو اب تک ہم سے مخفی رکھی گئی ہے اور جسے جان بوجھ کر ہم سے چھپایا گیا ہے۔ جب اس پہلو پر تجسس کچھ آگے بڑھا تو بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ مرزا قادیانی کی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ جسے آج تک ہم سے اوجھل رکھا گیا تھا لیکن مسلمان علماء نے اس رخ پر ڈالے گئے تقدس کے نقاب کو کچھ اس طرح نوچ ڈالا کہ تصویر کے اس رخ کو حقیقی اور اصلی رخ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہا اور اس حقیقت نے دل میں گرہ باندھ دی کہ اگر مرزا قادیانی سچا ہوتا تو اس کی تصویر کا یہ رخ ہم سے اس اہتمام کے ساتھ چھپایا نہ جاتا اور اس کے بارے میں حقائق کے اظہار سے خوف نہ محسوس کیا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی شبہ کی ایک اور بنیاد بھی ذہن کی گہرائیوں میں جگہ پکڑنے لگی کہ دنیا بھر کے مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے احکام بجا

صفحہ 40

لاتے ہیں اور ان میں بے شمار لوگ بہت زیادہ اچھی زندگی بسر کرنے والے بھی ہیں تو یہ سب لوگ قادیانیوں کے نزدیک کافر کیوں ہیں؟ اور مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو ساری دنیا کے مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگانے کا کیا حق ہے؟ حقائق کے پے در پے انکشاف نے حسن عودہ کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی لیکن یہ طوفان سمندر کی پرسکون سطح کے پردے میں اندر ہی اندر انگڑائی لے رہا تھا اور اس وقت تک حسن عودہ قادیانی مرکز کے عربی جریدہ ”التقویٰ“ کے رئیس التحریر کی حیثیت سے ۹ شمارے شائع کر چکا تھا۔ جون ۸۹ء کی بات ہے کہ حسن عودہ کے دل کے جذبات و احساسات نے سطح سمندر کے سکوت کو توڑ دیا اور دل کی باتیں دوستوں کے سامنے زبان پر آنے لگیں۔ بات مرزا طاہر تک پہنچی تو خطرہ کی گھنٹی بجنے لگی اور خوف نے دامن پکڑ لیا کہ یہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے کی طرف کیوں چل پڑا ہے۔

حسن عودہ کی طلبی ہوئی اور واللہ خیر الماکرین کی حقیقت کا یہ خوبصورت اظہار ایک بار پھر اہل ایمان کے لیے ایمان کی تازگی کا عنوان بن گیا کہ یہ طلبی ۹ جون ۸۹ء کو ہوئی جو مرزا طاہر احمد کی طرف سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دی گئی دعوت مباہلہ کی ایک سالہ میعاد کا آخری دن تھا۔ حسن محمود عودہ نے مرزا طاہر کے سامنے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جن کا کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا اور بالآخر حسن عودہ نے مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ کو، اس کی طرف سے دی گئی ایک سالہ میعاد کے آخری دن، اس کے سامنے یہ اعلان کر کے منطقی انجام تک پہنچا دیا کہ ”میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہیں مانتا“۔

مرزا طاہر احمد کے لیے یہ اعلان ”ایٹم بم“ کے دھماکے سے کم نہیں تھا مگر یہ ربوہ نہیں تھا کہ کسی تہہ خانے کا دروازہ کھلتا اور پھر عودہ خاندان دنیا بھر میں تلاش کرتا پھرتا کہ اس خاندان کا حسن نامی نوجوان جو مرزا طاہر احمد کے پہلو میں بیٹھا کرتا تھا، اسے کون سی زمین نگل گئی ہے اور کس آسمان نے اچک لیا ہے۔ یہ لندن تھا اور یہاں مرزا طاہر احمد کے بس میں صرف یہی تھا کہ حسن عودہ پر ٹل فورڈ کے قادیانی مرکز کی زمین تنگ کر دی جاتی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسے ۹ جون کی شام سے پہلے مرکز سے نکال دیا گیا اور حکم ملا کہ فوراً برطانیہ چھوڑ دو، ورنہ سپانسر شپ منسوخ کر دی جائے گی۔ حسن عودہ ایمان حقیقی کی لذت سے آشنا

صفحہ 41

ہوچکا تھا اور اب اس کے لیے ان دھمکیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی تھی۔ اس نے مرعوب ہونے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ اسے مسلمان دوستوں نے سنبھال لیا اور وہ ٹل فورڈ سے ۱۷ جولائی کو سلو کے علاقہ میں منتقل ہو گیا۔ حسن عودہ کا کہنا ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اسے سب سے زیادہ اشتیاق مولانا منظور احمد چنیوٹی سے ملاقات کا تھا۔ کیونکہ وہ مولانا چنیوٹی کے بارے میں قادیانی قیادت اور مرزا طاہر احمد کے جذبات سے آگاہ تھا اور خود اس کی ادارت میں شائع ہونے والے عربی ماہنامہ "التقویٰ" میں مولانا چنیوٹی کو "اشد اعداء جماعتنا" (ہماری جماعت کا سخت ترین دشمن) کے خطاب سے نوازا جا چکا تھا۔ چنانچہ اسے اس کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا اور مولانا چنیوٹی سے‘ جو سلمان رشدی کے خلاف انٹرنیشنل اسلامک مشن کے زیر اہتمام ۱۳ اگست کو ویمبلے ہال لندن میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے برطانیہ کے دورے پر گئے ہوئے تھے‘ ۱۵ اگست کو ساؤتھال میں مولانا محمد طیب عباسی کی رہائش گاہ پر ملاقات کا موقع مل گیا۔

اس ملاقات میں مولانا چنیوٹی نے حسن عودہ کو مرزا قادیانی اور قادیانیت کے بہت سے مخفی گوشوں سے آگاہ کیا اور کئی حقائق اس کے سامنے بے نقاب کیے۔

حسن عودہ اس کے بعد سے مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ عام قادیانیوں بالخصوص عرب نوجوانوں کو ان حقائق سے آگاہ کر کے اسلام کے دامن میں لائیں۔ ان کی اہلیہ بھی مسلمان ہو چکی ہیں اور بہت سے عرب نوجوان بھی دامن اسلام میں آچکے ہیں۔ حسن عودہ کا پہلا ہدف عرب قادیانی ہیں اور وہ بڑی تیزی اور شوق و ذوق کے ساتھ اس کام میں مگن ہیں۔ حسن عودہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم اکتوبر ۸۹ء کو ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں منعقد ہونے والی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قادیانیت کے خلاف ملت اسلامیہ اور علماء اسلام کی جدوجہد میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوں گے۔

مدیر "الشریعہ" کے ساتھ حسن محمود احمد عودہ کی ملاقات ۶ اکتوبر کو ساؤتھال لندن میں جناب حاجی محمد اسلم کی رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حاجی محمد اسلم صاحب بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں حسن عودہ نے مذکورہ بالا واقعات اور حقائق کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مدیر "الشریعہ" کے ایک سوال کے جواب میں حسن عودہ نے

صفحہ 42

اسرائیل کے ساتھ قادیانیوں کے تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ قادیانی جماعت کے مرکز ”حیفہ“ کے بہت خوشگوار مراسم ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور رضاکار فورس میں سینکڑوں قادیانی نوجوان کام کرتے ہیں۔ البتہ فوج میں قادیانی نہیں ہیں۔ حیفہ کا قادیانی مرکز اسرائیلی حکومت کا وفادار ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کے ساتھ قادیانیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اسے دشمنوں اور مخالفوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قادیانی مراکز اور عبادت گاہوں کی تعمیر میں اسرائیلی حکومت فنڈز بھی مہیا کرتی ہے اور ہر طرح کا تعاون میسر آتا ہے۔

قارئین سے استدعا ہے کہ حسن عودہ کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو ثابت قدم رکھے اور جس طرح اس کا خاندان فلسطین میں قادیانیت کے فروغ کا ذریعہ بنا تھا، اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو تمام قادیانیوں خصوصاً عرب قادیانیوں کے لیے توبہ اور قبول اسلام کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا الہ العالمین۔

(از قلم مولانا زاہد الراشدی، مطبوعہ ماہنامہ ”الشریعہ“ گوجرانوالہ)

دکان داروں کے معافی نامے

مولانا جہلمی آخری دَم تک تاج و تخت ختم نبوت کے محافظ رہے ہیں۔ چنانچہ ۱۹۹۴ء میں جہلم کے ایک قادیانی دکاندار کی موت پر بطور افسوس بعض سنی کلاتھ مرچنٹ والوں نے بھی اپنی دکانیں بند رکھی تھیں۔ جس سے مولانا مرحوم کو بڑا دکھ ہوا اور ان دکانداروں کے اس منافقانہ فعل کے خلاف سخت تقریر کی۔ آپ کی اس مجاہدانہ تقریر سے وہ دکاندار بہت نادم ہوئے اور اپنے اپنے دستخطوں سے انہوں نے توبہ نامہ لکھ کر مولانا کی خدمت میں پیش کر دیا۔ مولانا جہلمی نے خود مجھے یہ واقعہ سنایا تھا اور اس توبہ نامہ کی ایک فوٹواسٹیٹ کاپی مجھے دی تھی۔ اس توبہ نامہ میں لکھا تھا کہ:

”ہم عہدیداران و اراکین کلاتھ مرچنٹ اپنی اس کوتاہی اور غفلت پر دربار رسالت ماب ﷺ میں سخت نادم اور شرمندہ ہیں کہ ایک قادیانی کی موت پر اپنی دکانیں

صفحہ 43

بند کر دیں۔ ہم قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں"۔ (الخ) "ہم دربار خداوندی میں بھی معافی کے خواستگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے" آمین یا رب العالمین (بتاریخ ۱۲ اپریل ۱۹۹۲ء) ۱ اور اس توبہ نامہ پر ۳۷ دکانداروں کے دستخط ہیں۔

(ماہنامہ "حق چار یار" مولانا جہلمی نمبر، ص ۲۷)

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سے بستی کے یارب رہنے والے ہیں (مولف)

قادیانیوں سے کتابت میں بھی تعاون کرنا حرام ہے

قطب الارشاد شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز، پیر طریقت حضرت اقدس سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی خدمت میں لاہور، گزشتہ دنوں حاضری کی توفیق نصیب ہوئی۔ آپ نے دوران گفتگو ایک واقعہ بیان فرمایا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

حضرت اقدس سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ تقسیم سے تقریباً نصف صدی قبل سیالکوٹ کا غلام قادر فصیح پریس پنجاب بھر میں مشہور تھا۔ ملتان تک کے لوگ اچھی طباعت کے لیے سیالکوٹ آتے تھے۔ ملتان کے پیران میں سے مرید حسین کے خلیفہ اعظم جناب صابر ملتانی بہت معروف آدمی تھے۔ نشر و اشاعت کے شعبہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ سیالکوٹ اسی پریس سے کام کرانے کے لیے آئے۔ پریس میں معروف کاتب سید محمد عالم شاہ صاحب بہت اچھے کاتب تھے۔ ان کو صابر ملتانی اپنے ساتھ ملتان لے گئے۔ اسی طرح ان کے بھائی نیک عالم شاہ صاحب بھی ملتان منتقل ہو گئے۔ حضرت اقدس سید نفیس الحسینی مدظلہ نے فرمایا کہ کچھ عرصہ بعد میرے والد صاحب بھی ملتان تشریف لے گئے اور عرصہ تک ملتان میں کتابت کا کام کرتے رہے۔ جب دادا صاحب کا ۱۹۱۴ء میں انتقال ہوا تو والد صاحب سیالکوٹ واپس تشریف لائے۔

صفحہ 44

صابر ملتانی بہت سکہ بند سچے مسلمان تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ان کا لڑکا فخر الدین ملتانی قادیانی ہو گیا۔ فخر الدین قادیان میں رہنے لگا اور قادیان میں ہی مرزا قادیانی اور دوسرے قادیانیوں کی کتابیں شائع کرنا شروع کیں۔ قادیانی کتب کی نشر و اشاعت کے لیے فخر الدین ملتانی نے ایک ڈپو قائم کیا۔ ملتان قیام کے دوران نیک عالم شاہ صاحب سے فخر الدین ملتانی کی شناسائی تھی۔ اس نے نیک عالم شاہ صاحب سے قرآن مجید بھی کتابت کرایا۔

فخر الدین ملتانی کا قادیان میں اچھا خاصا کاروبار تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود کی بدکاری و عیاشی، رنگین و سنگین وارداتوں پر اسے اطلاع ہوئی تو اس نے مرزا محمود خلیفہ قادیان پر تنقید کی۔ یہ تنقید آگے چل کر سخت مقابلہ بازی کی شکل اختیار کر گئی۔ فخر الدین ملتانی نے قادیان سے نیک عالم شاہ کو خط لکھا جس میں ساری صورت حال گوش گزار کی اور نیک عالم شاہ سے مرزا محمود کے خلاف اشتہار لکھوایا اور شائع کر کے قادیان کے در و دیوار پر چسپاں کر دیا۔ اشتہار لگتے ہی قادیان میں بھونچال آ گیا۔ مرزا محمود نے قدموں سے زمین نکلتی دیکھی تو فخر الدین ملتانی اور نیک عالم شاہ کو قتل کرنے کے لیے قادیانی غنڈوں کی ڈیوٹی لگا دی۔ فخر الدین نے قادیان کی فضا میں کشیدگی محسوس کی تو تھانہ میں رپورٹ درج کرانے کے لیے گئے۔

فخر الدین ملتانی پر قاتلانہ حملہ

فخر الدین ملتانی اور نیک عالم شاہ دونوں قادیان پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کرانے گئے تو قادیانی غنڈوں نے فخر الدین ملتانی کو چھرا گھونپ دیا۔ نیک عالم شاہ بھاگے اور قادیان کے ایک ماچھی کے گھر میں سارا دن چھپے رہے۔ رات کو وہاں سے نکلے اور سیالکوٹ آ گئے۔ محمد عالم اور نیک عالم شاہ صاحب نے صابر ملتانی کو ملتان اطلاع دی کہ آپ کے قادیانی لڑکے فخر الدین ملتانی کو قادیان میں قادیانیوں نے چھرا مار کر زخمی کر دیا ہے۔ صابر ملتانی قادیان گئے۔ فخر الدین کو تلقین کی اور قادیانیت سے تائب ہونے کی ترغیب کی لیکن فخر الدین پر قادیان کی ایسی نحوست سوار تھی کہ وہ مسلمان نہ ہوا۔ وہ بشیر الدین مرزا کے بارے میں تو کہتا تھا کہ وہ غلط ہے لیکن مرزا غلام احمد کو نہ صرف مسیح کہتا بلکہ اس کو نبی بھی تسلیم کرتا۔ غرض قادیانی ہونے کی حالت میں یہ مردود مر گیا، تو صابر ملتانی اپنے قادیانی بیٹے

صفحہ 45

کے جنازہ میں شریک نہ ہوا بلکہ ملتان واپس آ گیا۔ فخرالدین کا بیٹا مظہر ملتانی بھی قادیانی تھا اور باپ کے ساتھ ہی قادیان میں رہتا تھا۔ یہ بھی ساری زندگی مرزا بشیر کے خلاف رہا۔ کمالات محمودیہ‘ تاریخ محمودیہ اور دیگر کتب‘ مرزا محمود کے گھناؤنے کردار کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے شائع کرائیں۔ یہ بھی قادیانی تھا۔ مرزا محمود کو برا کہتا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی کا کردار اس سے اوجھل تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا محمود دونوں باپ بیٹا ایک ہی سکہ کے دو رخ تھے۔

مظہر ملتانی قادیانی

حضرت اقدس سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم نے مزید فرمایا کہ ایک دفعہ مظہر ملتانی قادیانی‘ قادیانیوں کی لاہور میں عبادت گاہ گڑھی شاہو کی پیشانی کے لیے کلمہ طیبہ لکھوانے کے لیے آیا۔ میں نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا کہ تمہیں یہ کہنے کی جرات کس طرح ہوئی کہ میں قادیانیوں کا کام کروں۔ ایک دفعہ ایک پریس والے کا رقعہ لے کر ایک شخص آیا کہ یہ نظم کا کام کرانا چاہتے ہیں۔ نثر کے کام کی نسبت کاتبوں کے لیے نظم کا کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ رقعہ میں تحریر تھا کہ جو آپ ریٹ کہیں گے یہ آپ کو دیں گے۔ یہ بات میرے مزاج کے خلاف تھی۔ تاہم کام کی آسانی اور پریس والوں کی شناسائی کے باعث اس آدمی کو میں نے بٹھا لیا اور مسودہ دیکھا تو وہ مرزا غلام احمد کا کلام تھا۔ نامراد مرزا غلام احمد قادیانی کا کلام دیکھ کر مجھے بہت تعجب ہوا اور صدمہ بھی ہوا۔ پریس والے‘ جس نے رقعہ لکھا تھا‘ اس پر بھی افسوس ہوا۔ سوچا کہ میرے اندر کوئی کمی ہو گی کہ کفر مجھ سے کافرانہ کلام لکھوانے کی امید سے میرے دروازے پر آ گیا۔ استغفار کیا اور اس آدمی کو چلتا کیا۔ فرمایا کہ زندگی بھر کسی قادیانی کا کوئی کام نہیں کیا۔ فرمایا کہ یہ واقعات اس لیے بیان کر دیے ہیں کہ دوسرے خوشنویس حضرات کو نصیحت ہو کہ وہ مسلمان ہو کر قادیانیوں کا کام نہ کریں۔ یہ بھی قادیانیت سے اعانت کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً حرام ہے۔

(ماہنامہ ”لولاک“ جلد ۲‘ شمارہ ۴‘ از قلم مولانا اللہ وسایا)

صفحہ 46

باپ اور بیٹے کی قربانی

قاضی (احسان احمد شجاع آبادی) صاحب کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے تحریک آزادی وطن اور تحریک ختم نبوت کے لیے باپ اور بیٹے دونوں کی قربانی دی۔ جب ان کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو وہ کلکتہ میں تھے۔ بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکے۔ جب ان کے والد قاضی محمد امین کا انتقال ہوا تو وہ ختم نبوت کی تحریک میں نظر بند تھے۔ ان کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے۔ ایک انسان اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے۔ اس کی عزیز ترین متاع اس کی اولاد ہوتی ہے اور اہم ترین پونجی بزرگوں اور والدین کی شفقت۔ قاضی صاحب نے یہ دونوں اسلام اور قوم کے نام پر قربان کردیں۔

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ ص ۴۲۹، ۴۳۰‘ از نور الحق قریشی)

خرد خود اپنی حفاظت کا راستہ سوچے
علاج گردش دوراں جنوں کے پاس تو ہے (مولف)

مولانا تاج محمود کا ایک درد ناک خط

۱۵ ستمبر۔ فیصل آباد۔

میرے عزیز بیٹے زاہد منیر!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔ مزاج گرامی۔ بیٹے تمہارا عالم وارفتگی میں لکھا ہوا خط ملا۔ شاہ جی پر جو کچھ کام تم کر چکے ہو‘ اور شاہ جیؒ کے محاسن و مناقب کی جزئیات تک تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ اب اس کے بعد جب تم ان کی قبر مبارک پر پہلی دفعہ حاضر ہوئے تو یہ کیفیت طاری ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ لیکن تم نے ان لوگوں کو غور سے نہیں دیکھا جو اپنے طبعی بڑھاپے سے پہلے ہی نہ صرف بوڑھے ہو گئے بلکہ لاشوں کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ ساتھی چھوٹ گئے اور آج ہم اپنے گھروں میں غریب الوطنی اور یاس و حسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ زندگی کیا بسر کر رہے ہیں‘ اپنی زندگیوں کے دن

صفحہ 47

پورے کر رہے ہیں۔ تمہارا خط پڑھا تو بے اختیار جی میں آیا کہ زاہد سامنے ہوتا تو اسے اپنے جیسے ایک دکھیا شاعر کا شعر سناتا۔

اے شمع! تو نے رات گزاری ہے جس طرح
ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح

بھائی! اب تو آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہو گئے لوگ ہمیں اکثر ہنستا دیکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری ہنسی، ہنسی نہیں ہے، زہر خند ہے۔.......

بہر حال اچھا ہوا جو تم شاہ جیؒ سے مل آئے۔ وہ آرام فرما رہے ہوں گے۔ انہوں نے تم سے کسی موضوع پر بات نہیں کی ہو گی۔ ممکن ہے صائب اصفہانی کا یہ شعر اس فضا میں آپ نے سن لیا ہو۔۔۔۔۔

اے صبا بر برگ ہائے غنچہ پا آہستہ نہ
پاسباناں اند گلھا صائبا خوابیدہ است

یا پھر میر تقی میر کا اپنے لیے لکھا ہوا یہ شعر شاہ جیؒ کے مزار پر گنگناتے ہوئے سنائی دیے ہوں گے۔

عہد جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے، صبح ہوئی آرام کیا

زاہد بیٹا! چھوڑو اس بحث نے تو ہمیں یہاں تک پہنچا دیا کہ آج نہ زندہ ہیں نہ مردہ۔ بس پھر میر یاد آتے ہیں۔

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
کس لیے آئے تھے ہم، کیا کر چلے

(میر درد)

تمہارے جانے کے بعد ربوہ میں بڑی کامیاب کانفرنس ہوئی۔ ۱۹۳۴ء کی قادیان کانفرنس کا بھی ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ ہم نے کوئی پینتیس چالیس ہزار کی حاضری کا اندازہ لگا کر کھانے کا انتظام کیا تھا لیکن دن کے اجلاسوں میں حاضری ایک لاکھ سے اور رات کے اجلاسوں میں ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز ہو جاتی رہی۔

(مولانا تاج محمود، ص ۶۶ تا ۶۸، از زاہد منیر عامر)

صفحہ 48
تری یاد سے دل فروزاں کریں گے
پھر اس غم کدے میں چراغاں کریں گے (مولف)

اس نے خواب دیکھا کہ اس کا قادیانی دادا

آگ میں جل رہا ہے اور چلا رہا ہے

میں پہلے تو نہیں ۔۔۔۔۔ اب باقاعدہ ختم نبوت کا قاری بن گیا ہوں۔ میری دلی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ادارہ کی کوششوں کو کامیاب فرمائے اور فتنہ قادیانیت کا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے خاتمہ ہو جائے۔ آمین۔ انشاء اللہ ایسا ہو کر رہے گا۔ میں اپنے گاؤں کا ایک واقعہ بھیج رہا ہوں۔ یہاں ایک حافظ قرآن ہیں۔ وہ نابینا ہیں۔ انہوں نے چار سال قبل ہی قادیانیت سے توبہ کی۔

حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے والا، یقینی بات ہے کہ جہنمی ہے۔ لیکن بعض سادہ لوح اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور کسی دوسرے شخص سے اپنا تعلق جوڑ لیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو دنیا میں بھی دکھانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بجز مبشرات کے“۔

مبشرات وہ سچے خواب ہیں جو خود کوئی دیکھے یا اس کے بارے میں کوئی دیکھے۔ ہمارے گاؤں بھوتہ ضلع گجرات کے حافظ صاحب جو اب حافظ قرآن ہو چکے ہیں اور ان کے سب عزیز و اقارب اور ان کا والد اب بھی قادیانی ہے، اس نے خواب دیکھا کہ اس کا دادا آگ میں جل رہا ہے اور خوب چلا رہا ہے اور اپنے پوتے (حافظ صاحب) کو نصیحت کرتا ہے کہ خدا کے واسطے اپنے باپ یعنی میرے بیٹے سے کہو کہ وہ قادیانیت سے توبہ کر لے اور دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے، ورنہ میری طرح اس کا بھی حال ہو گا“۔

یہ خواب اسے تین روز تک مسلسل آتا رہا۔ پھر اس نے ایک دوسرے دوست کو بتایا کہ مجھے مسلسل یہ خواب آ رہا ہے، وہ میری مدد کرے۔ لیکن یہ خواب اس نے جب

صفحہ 49

اپنے والد کو بتایا تو اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور کہا میں اس کی تعبیر پوچھوں گا۔ بالآخر وہ نابینا شخص مسلمان ہو گیا اور اس کے بعد ہی قرآن پاک بھی حفظ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۶‘ شمارہ ۴۱‘ مارچ ۱۹۸۸ء)

(از قلم: جاوید اختر رضوی)

غیبی مدد

شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی اپنی جیل کا واقعہ بیان کرتے ہیں:

”میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیش نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آجائے۔

داروغہ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظ قرآن بھی تھا۔ وہ شام کو ہماری بارک میں آیا۔ میں نے کہا حافظ صاحب صبح میری رہائی ہے یا کوئی نیا حکم آگیا ہے۔ کہنے لگا دو دفعہ لاہور سے ٹیلی فون آیا ہے مگر گڑبڑ بہت ہے۔ کچھ سنا سمجھا نہ گیا‘ کٹ ہوتا رہا۔ خیر صبح ہوئی‘ مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کرکے رہا کر دیا گیا۔ میں جب دوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہوگئے۔ پتہ چلا کہ یہاں کے سی۔ آئی ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کر کے سنٹر سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوا دیا ہے اور فون پر داروغہ جیل میانوالی کو اطلاع دی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے۔ تحریری حکم نامہ بذریعہ ڈاک آ رہا ہے لیکن میں رہا ہو چکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کر کے ہی دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا تھا لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا۔ یوں مرزائی آفیسر فخر الدین کے کیے دھرے پر پانی پھر گیا“۔

جو وہ چاہے سو ہی ہو

(”عجیب و غریب واقعات“ ص ۲۰‘ سید امین گیلانی)

صفحہ 50

صدائے ایمان

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی ایک یادگار تحریر

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی اما بعد، رسول کریم ﷺ کی ذات مبارکہ کچھ ایسی کفر توڑ ہے کہ ہر شخص، جس کے دل میں کفر کی کوئی رگ ہو، آپ سے دشمنی رکھتا ہے اور آپ کی مقدس ذات پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے، کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی ترقی میں اس کا زوال اور آپ ﷺ کی زندگی میں اس کی موت ہے۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو اسلام سے محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں، باوجود اس کے رسول کریم ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور ایسے عقائد و خیالات پھیلاتے ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی شان مبارک کی سخت تنقیص ہوتی ہے اور اس طرح عوام الناس کے دلوں سے آپ کی محبت کم کرکے اپنی محبت و تعظیم کا سکہ بٹھلانا چاہتے ہیں۔ دیکھو قادیان کا متنبی اپنی کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ ص ۴۰ میں سرور کائنات جناب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی کل تعداد تین ہزار بتلاتا ہے لیکن براہین احمدیہ، حصہ پنجم کے ص ۵۶ پر خود اپنے معجزات کی کل تعداد دس لاکھ بیان کی ہے۔ گویا سید الانبیاء ﷺ اپنی عظمت و شان میں اس مفتری سے تین سو تینتیس درجہ کم ہو گئے۔ (العیاذ باللہ)

قرآن کریم میں خداوند قدوس نے ہمارے حضور ﷺ کی نسبت فرمایا ہے انا فتحنا لک فتحا مبینا (الایہ) یہ مفتری اس کو بھی برداشت نہ کر سکا اور سیر ۃ الابدال، ص ۱۹۳ میں صاف لکھ دیا کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر

صفحہ 51

گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (یعنی خود اس مفتری) کا وقت ہو‘ گویا حضور کی فتح اگر مبین تھی تو اس مفتری کی فتح امین ہے اور وہ ظاہر تھی تو یہ اظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی نسبت فرمایا هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کلہ (وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا کہ سب ادیان پر اس کو غالب کردے) یہ مفتری کہتا ہے کہ اس آیت کا مصداق تو میں ہوں اور قرآن میں یہ میری خبر دی گئی ہے۔

غرض اس نے قسم کھائی ہے کہ جو بزرگی اور سیادت ہمارے آقا و مولانا سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے ثابت ہوگی‘ اس کو کسی نہ کسی طرح کم کر کے یا جھوٹ اور غلط ثابت کر کے رہوں گا۔ حق تعالیٰ نے تمام انبیاء اور بذریعہ انبیاء ان کے امتیوں سے عہد لیا تھا کہ جو کوئی ان میں سے خاتم الانبیاء کا زمانہ پائے‘ ان پر ایمان لائے اور ان کی تائید و حمایت کے لیے کمر بستہ رہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ ”اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع سے چارہ نہ تھا۔ لیکن یہ سب باتیں صرف قرآن و حدیث کے ماننے والوں کی عقیدت و بصیرت میں اضافہ کرنے والی تھیں، خداوند کریم کا ارادہ یہ ہوا کہ امام الانبیاء سید المرسلین صلعم کی سیادت و امامت کے عقیدہ کو محض کاغذی دستاویزوں یا زبانی شہادتوں اور خوش عقیدہ مسلمانوں کے حلقوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کا ایک ایسا خارق عادت مظاہرہ کیا جائے جس کے سامنے موافق و مخالف کو طوعاً و کرہاً سر تسلیم جھکالینا پڑے۔ اس کی صورت یہ قرار دی کہ جب دنیا میں اسلام و کفر یا باالفاظ دیگر حق و باطل کی .... فیصلہ کن معرکہ آرائی اور بالکل آخری کشمکش کا وقت آجائے‘ اس وقت انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم‘ حضرت عیسیٰ مسیح علی نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خاتم مطلق و سید برحق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نائب اور امت محمدیہ کا قائد بنا کر نہایت اکرام و اجلال کے ساتھ آسمان سے زمین پر لایا جائے۔ آپ زمین پر نزول فرما کر یہودیت کا استیصال اور نصرانیت کی اصلاح فرمائیں۔ باطل کو محو کریں‘ حق کو پھیلائیں‘ گھر گھر میں اسلام کا غلغلہ بلند کریں اور یہ سب کچھ اپنا نام لے کر نہیں بلکہ اس سید و آقا کے نام سے ہو جس کے آپ نائب بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اس وقت آپ اپنی رسالت کی طرف کوئی خصوصی دعوت نہ دیں

صفحہ 52

گے بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف مخلوق کو بلائیں گے اور بائبل کے دستور و آئین پر نہیں‘ خالص قرآن و سنت کے احکام پر بندوں کو چلائیں گے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا تھا‘ ان کو بتلائیں گے کہ میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں بلکہ اس کے سب سے بڑے بندے اور رسول کا متبع بن کر اور ایک طرح سے ان کی امت میں شامل ہو کر آیا ہوں۔

اس وقت آشکارا ہو گا کہ جو عہد انبیاءؑ سے لیا گیا تھا‘ اس کی نوعیت کیا تھی۔ دنیا دیکھ لے گی کہ ہمارے حضور ﷺ کی اور اس امت محمدیہ مرحومہ کی وہ شان ہے کہ جو مقدس و مکرم وجود‘ اس قدر تعظیم و تکریم سے آسمانِ رفعت پر اٹھایا گیا تھا‘ آج ان کی خاطر آسمان سے اترتا ہے اور خالص ان کی کتاب و سنت کا اتباع کر کے بتلا دیتا ہے کہ بڑے اونچے مقام والے بھی بارگاہ محمدی ﷺ سے انتساب اور آئین محمدی ﷺ کی پیروی کو اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں۔

سبحان اللہ وہ منظر کیسا عجیب اور کیسا قابل فخر ہو گا جب سرور کائنات کی سروری اور انبیاء پر آپ کی فضیلت و سیادت اس خارقِ عادت طریق سے علیٰ رؤس الاشہاد ظاہر ہوگی۔ ایک مومن محمدی کے لیے کون سا موقع اس سے زیادہ مسرت و انبساط کا ہو سکتا ہے۔ شاید اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا کہ كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم (الخ) (تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب ابن مریم تمہارے اندر نزول فرمائیں گے)

شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ آخرت میں بھی مسیح علیہ السلام کا حشر دو مرتبہ ہو گا۔ ایک دفعہ انبیاء و رسل کے زمرہ میں اور ایک مرتبہ امت محمدیہ کے ذیل میں۔ (واللہ اعلم) خیال کرو کہ اس صورت میں ہمارے دین اور ہمارے پیغمبر (فداہ ابی و امی) کا کس قدر اعزاز و اکرام ہے اور وہ وقت نئے اور پرانے عیسائیوں کے لیے کس قدر ذلت و رسوائی کا ہونا چاہیے۔

قادیان والوں کو یہ بھی ناگوار ہوا کہ کسی وقت ان کے سفید فام عیسائی آقاؤں کو خود حضرت مسیحؑ آسمان سے اتر کر اس طرح خفیف و رسوا کریں۔ انہوں نے فوراً قادیان سے ایک ”جھوٹا مسیح“ کھڑا کر دیا تاکہ آسمان سے اس سچے مسیح کو اترنے نہ دیں..... ٹھیک اسی طرح جو تم نے سنا ہو گا کہ ایک ”پودنا“ رات کو اس غرض سے پاؤں اوپر کر کے سوتا تھا کہ اگر کہیں آسمان گرنے لگے تو اس کو اپنے پاؤں پر روک سکے۔ يريدون ان يبدلوا

صفحہ 53

کلام اللہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز سرور کائنات کی اس نمایاں شان امامت و سیادت کا جلوہ دنیا کو دیکھنے نہ دیں گے کہ حضرت مسیح آسمان سے آئیں، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک اعلیٰ ترین نائب اور وفادار جنرل کی حیثیت سے امت محمدیہ میں شامل ہوں اور اپنے نفس کو درمیان سے بالکل الگ کر کے اعلان کریں کہ ”میں سارے جہاں کو محمدی پرچم کے نیچے جمع کرنے اور ان کے دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے آیا ہوں“۔

کہا جاتا ہے کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے نبی کو آسمان پر نہ اٹھایا تو حضرت مسیح کی عزت ان سے بڑھ کر کیوں نہ کی جائے۔ کہ وہ بجائے قبر میں دفن کیے جانے کے آسمان پر ہیں اور اتنے زمانہ تک نہ مریں۔ لیکن ان کور باطنوں کو یہ معلوم نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ایک آسمان پر نہیں تمام آسمانوں سے بھی اوپر لے گیا اور حضرت مسیح کو آسمان پر لے جا کر صحیح و سالم رکھنا بھی ان ہی محمد ﷺ کے طفیل میں ہوا تاکہ وقت موعود پر ان کی نیابت کا فرض ادا کرنے کے لیے اس عزت کے ساتھ اتارے جائیں جس عزت کے ساتھ چڑھائے گئے تھے۔

پس فی الحقیقت ان کا آسمان پر لے جایا جانا دوبارہ زمین پر لانے کے لیے تھا۔ اگر دنیا پر محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت و سیادت اور اس امت کے خیرالامم ہونے کا مظاہرہ مدنظر نہ ہوتا تو نہ حضرت مسیح کو آسمان پر (جو موطن کون و فساد نہیں ہے) لے جانے کی ضرورت تھی اور نہ اتنے طویل زمانے تک زندہ رکھنے کی۔

مسلمان جانتے ہیں کہ تمام آسمان فرشتوں سے آباد ہیں اور کتنی طویل مدت سے سارے ایک حالت پر الان کما کان موجود ہیں لیکن صرف اتنی بات سے انبیاء و رسل پر ان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ چاند، سورج، ستارے آج تک یکساں حالت پر زمین سے کس قدر بلند مقام پر ہیں کیا ان ستاروں کو انبیاء علیہم السلام سے، جو اسی زمین پر پیدا ہوئے، جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں طے کیں اور آخر اسی زمین کے نیچے دفن کیے گئے، افضل کہا جائے گا؟ اس پر بھی اگر کوئی جاہل عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اٹھانے دو، اس کی حماقتوں اور ہماری مصلحت بینیوں سے حقائق واقعیہ بدلے نہیں جاسکتے، اور نہ کسی کو اس بات کا موقع دیا جاسکتا ہے کہ مسیح کی موت سے فائدہ اٹھا کر خود مسیح بن بیٹھے۔

صفحہ 54

مرزا محمود نے بہت رو رو کر بیان کیا ہے کہ ”آنحضرت ﷺ نے مکہ میں ایسی ایسی سختیاں اٹھائیں اور صحابہؓ نے ایسی ایسی قربانیاں پیش کیں جن کا عشر عشیر بھی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں سے ظاہر نہیں ہوا۔ (گو قادیانی مسیح جو تمام شانوں میں اپنے کو اصل مسیح سے بڑھ کر بتلاتا ہے اس کا عشر عشیر بھی نہ دکھلا سکا) پھر کیوں کر مان لیا جائے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو آسمان پر نہ اٹھائے جائیں اور حضرت مسیح اٹھا لیے جائیں۔

خدا کو کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو آسمان پر اٹھا لیتا۔ وہ اسی زمین میں ہی ان کی حفاظت کر سکتا اور اس کے دشمنوں کو تباہ کر سکتا تھا۔

بلاشبہ ہمارے آقا و سید محمد رسول اللہ ﷺ نے نہایت طویل مدت تک جو سختیاں اٹھائیں، ان سے آپ کا مرتبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ کما قال صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث۔ نحن معاشر الانبیاء اشد بلاء ثم الامثل......فالامثل اور جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں اور حضورؐ کے اسی علو مرتبت کے آثار و ثمرات میں سے ایک اثر اور ثمرہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دوبارہ آپ کی امت کے زمرہ میں شریک کرنے کے لیے آسمان پر محفوظ رکھا گیا۔ پس مسیح کا آسمان پر اٹھانا اگر کوئی عزت و فضیلت کی چیز ہے (اور بے شک ہے) اور وہ عزت و فضیلت بھی نتیجہ اور غرض و غایت کے اعتبار سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ ہی کی ہوئی۔

رہا یہ کہنا کہ آسمان پر لے جانے کی ضرورت ہی کیا تھی، کیا زمین پر خدا حفاظت نہ کر سکتا تھا؟ تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ محمد ﷺ کو مکہ سے مدینہ اور ابراہیم علیہ السلام کو عراق سے شام لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اللہ اس پر قادر نہیں تھا کہ ان کو اپنے وطن عزیز ہی میں رہنے دیتا اور اس سرزمین مکہ سے جس کی نسبت حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ”خدا کی قسم تو سب شہروں سے زیادہ مجھ کو محبوب ہے“ الگ نہ کرتا اور سب دشمنوں کو وہیں رہتے ہوئے زیر کر دیتا اور دوستوں کو وہیں کھینچ لاتا؟ اس طرح کے سوال ہزاروں ہو سکتے ہیں جن سب کا جواب حافظ شیرازی نے دیا ہے۔

حدیث از مطرب و مے گو و راز دہر کمتر جو
کہ کس نکشود و نکشاید بحکمت ایں معما را

پس تمام سچے ایمانداروں پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ان عظیم

صفحہ 55

انسان فتنوں کی شب دیجور میں قرآن و سنت کی روشنی سے علیحدہ نہ ہوں۔ بہت سے لٹیرے‘ ڈاکو‘ چور اچکے گھات میں لگے ہوئے ہیں کہ تم سے دولت ایمان چھین لیں اور بظاہر نبی کریم ﷺ کی محبت و عظمت کا دم بھرتے ہوئے بہت ہوشیاری سے اندر ہی اندر تمہارے دلوں سے ان چیزوں کو نکالنے اور اپنی عظمت و محبت کا سکہ بٹھلانے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن اولاً اللہ کی توفیق اور ثانیاً مومنین کی فراست سے امید ہے کہ وہ رہبر و رہزن میں فرق کریں گے اور ان عیاروں کو اپنے ملعون مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں گے۔

مسلمانو! ہوشیار و بیدار رہو۔ ان دجالوں کے مغالطات میں مت آؤ‘ قرآن و سنت کی حبل متین کو مضبوط تھامے رکھو اور اپنے سید و آقا محمد ﷺ کے نائب اعظم حضرت مسیح کو آسمان سے آنے دو کہ ان کا آنا عیسائیت‘ یہودیت اور ہر قسم کے کفر کا جانا ہے۔ ان کی زندگی دجالوں کے لیے پیام موت ہے۔ اسی لیے یہ دجال صفت ہمیشہ ان کی آمد کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹاتے رہے ہیں۔ تم ان کی آمد پر یقین رکھو کیونکہ یہ چیز قرآن کریم‘ احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہو چکی ہے۔

ہاں ان کی آمد سے پہلے اپنی سرتوڑ کوششوں اور مجاہدانہ قربانیوں سے ثابت کر دو کہ ہم آخرین منہم لما یلحقوا بہم بھی اسی سچے مسیح کے ہراول ہیں۔ جو سارے جہاں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک جرنیل اعظم کی حیثیت سے دنیا کو علم اسلام کے نیچے جمع کرنے والا ہے۔ واللہ الموفق والمعین وصلی الله تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ واصحابہ اجمعین۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۵‘ شمارہ ۴۸)

خواہش

جس طرح مرزائی استاد‘ مرزائی استانی‘ مرزائی دھوبی‘ مرزائی پٹواری‘ مرزائی موچی‘ مرزائی تھانیدار‘ مرزائی ایس پی‘ مرزائی ڈی آئی جی‘ مرزائی آئی جی یہ سب کے

صفحہ 56

سب مرزائیت کی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں، اسی طرح آپ کا کام یہ ہے کہ جہاں جو مسلمان افسر ہے، مرزائیت کے خلاف تبلیغ میں لگ جائے۔

(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ”)

طبع ہو جن کی سادہ، باتیں سیدھی ہوں
نقش انہی کا دل پہ گہرا ہوتا ہے

(مولف)

مسئلہ ختم نبوت سمجھئے!

مسلمانو! ختم نبوت کے عقیدہ کو یوں سمجھو جیسے یہ ایک مرکز دائرہ ہے جس کے چاروں طرف توحید، رسالت، قیامت، ملائکہ کا وجود، صحف سماوی کی صداقت، قرآن کریم کی حقانیت و ابدیت، عالم قبر و برزخ، یوم النشور، یوم الحساب گردش کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دین نہیں بچے گا، بات سمجھ آئی؟ مزید سمجھئے، جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں، اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور رسالت پناہ ﷺ کے وجود مسعود پر ختم ہو جاتا ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت وہ مہر درخشاں ہے جس کے طلوع کے بعد اب کسی روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی۔ سب روشنیاں اسی نور اعظم ﷺ میں مدغم ہو گئی ہیں۔ جبھی تو مخبر صادق ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر آج بھی موسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں ہوتے تو انہیں بھی بجز میری اتباع کے چارہ کار نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابو بکر و عمر (رضی اللہ عنہما) کی طرح امتی اور خلیفہ کی حیثیت سے۔

(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ”)

اسے بجھا نہ سکے گی ہوا زمانے کی
جلا چلے ہیں لہو سے جو ہم چراغ سحر

(مولف)

صفحہ 57

مرزائیت سے متعلق سرسید احمد خاں کے دو خط

سرسید احمد خان کے پوتے سید راس مسعود نے خطوط سرسید شائع کیے ہیں جن میں سے دو خط مرزائیت سے متعلق ہم شائع کر رہے ہیں۔ نمبر ۱ خط علامہ اقبال مرحوم کے استاد مولانا سید میر حسن کے نام ہے۔

مولانا سید میر حسن صاحب کے نام ۱

مخدومی و مکرمی!

آپ کے نوازش نامہ کا نہایت شکر ہے پانچ روپیہ چندہ بھی پہنچے۔ اس کا بھی شکر ہے۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ تفسیر لکھنے میں حرج پڑ جاتا ہے مگر جب موقع ملتا ہے، لکھتا ہوں۔ تفسیر سورۃ یوسف بھی تمام ہو گئی اور چھپ رہی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے کیوں لوگ پیچھے پڑے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک ان کو الہام ہوتا ہے، بہتر، ہمیں اس سے کیا فائدہ؟ نہ ہمارے دین کے کام کا ہے نہ دنیا کے۔ ان کا الہام ان کو مبارک ہے۔

اگر نہیں ہوتا اور صرف ان کے توہمات اور خلل دماغ کا نتیجہ ہے تو ہم کو اس سے کیا نقصان ہے۔ وہ جو ہوں سو ہوں۔ اپنے لیے ہیں۔ میں سنتا ہوں کہ آدمی نیک بخت اور نمازی پرہیزگار ہیں۔ یہی امر ان کی بزرگداشت کو کافی ہے۔

جھگڑا اور تکرار کس بات کا ہے۔ ان کی تصانیف میں نے دیکھیں۔ وہ اسی قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام یعنی نہ دین کے کام کی نہ دنیا کے کام کی۔

حکیم نور الدین کی کوئی تحریر میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ دینیات میں کسی کا الہام جب تک اس کو شارع نہ تسلیم کر لیا جائے، کسی کام کا نہیں۔

تقدیر، علم الہی کا دوسرا نام ہے۔ ماکان اور مایکون علم الہی میں موجود ہیں۔ پس کسی الہام سے علم الہی میں یا یوں کہو تقدیر میں کچھ تغیر و تبدل نہیں ہو سکتے۔ پس دنیا میں جو بھی ہونے والا ہے، وہ ہو گا۔ پس کسی کے الہام سے کسی کو دنیا میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

پس ایسی بے سود کہ بالفرض اگر سچ بھی ہو تو بھی کچھ فائدے کی نہیں اور اگر جھوٹ

صفحہ 58

بھی ہو تو بھی ہمارے نقصان کی نہیں۔ اس پر متوجہ ہونا اور اوقات ضائع کرنا ایک لغو کام ہے۔ والسلام۔

خاکسار، سید احمد علی گڑھ، ۹ دسمبر ۱۸۹۱ء

خط نمبر ۲، یہ منشی سراج الدین کے نام ہے۔ یہ خط کن حالات میں لکھا گیا، اس کے متعلق جناب مرتب سید راس مسعود نے لکھا ہے:

سرمور گزٹ میں کسی صاحب نے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد تھے، ایک مضمون لکھا تھا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور مرزائے قادیانی موصوف کے ساتھ مشابہتیں ثابت کی تھیں۔ وہ مشابہتیں زیادہ تر خیالی تھیں اور مضمون کا انداز بیان اس قسم کا تھا جس سے ہر دو انبیاء علیہم السلام کی اہانت ہوتی تھی۔ اس مضمون کو دیکھ کر سرسید مرحوم نے یہ خط تحریر کیا۔

اس سے پہلے کہ آپ وہ خط ملاحظہ فرمائیں، امت مرزائیہ کی اس عادت کو بھی جان لیں کہ وہ صرف مرزا غلام احمد کو ہی نبی نہیں کہتے، بلکہ اس کے ساتھ ساری اسلامی اصطلاحات کو بلا دریغ استعمال کرتے تھے۔ مرزا کے نام کے ساتھ ”علیہ السلام“ لکھتے تھے۔ اس کے ساتھیوں کو صحابہ کہتے تھے اور ان کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ عنہم وغیرہ کے الفاظ لکھتے تھے۔ حکیم نور الدین کو خلیفہ اول اور مرزا بشیر الدین محمود کو خلیفہ ثانی کہتے تھے۔ مرزا کی گھر والی کو ”ام المومنین“ کہتے تھے۔ مرزا کو نہ صرف دوسرے انبیاء علیہم السلام سے تشبیہ دیتے ہیں بلکہ ان سے افضل مانتے ہیں۔ اور اسی پر ہی اکتفا نہیں کرتے، بلکہ حضور ختمی مرتبت ﷺ سے اس کی مشابہتیں ثابت کرتے ہیں۔ ان گستاخیوں سے بھی جب جی نہیں بھرتا تو پھر یہاں تک بھی بک جاتے ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
وہ پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں (قاضی اکمل)

اب سنئے ایسے لوگوں کے متعلق سرسید مرحوم کیا فرماتے ہیں۔

مخدومی مکرمی منشی سراج الدین احمد صاحب ایڈیٹر سرمور گزٹ ناہن! آپ کا اخبار مورخہ ۲۱ مارچ ۱۸۹۲ء کے دیکھنے سے جس میں ”نیرنگی زمانہ کے تماشائی“ کی تحریر چھپی ہے،

صفحہ 59

نہایت رنج ہوا ہے۔ کیا اخباروں کی اب یہ نوبت پہنچی ہے کہ ہم عصر انسانوں کے تمسخر کرتے کرتے انبیاء علیہم السلام کا تمسخر اختیار کریں۔ کیا آپ کے نزدیک وہ تحریر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک گستاخی اور ٹھٹھہ کی نہیں ہے۔ افسوس صد افسوس کہ آپ کے اخبار میں ایسے مضمون چھاپہ ہوئے جو متانت اور انبیاء علیہم السلام کے ادب کے بالکل خلاف یا نامناسب ہیں کہ ایسا مضمون لکھنے کی ضرورت آئندہ بتائی جائے گی۔ کوئی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر ایسے مضمون کے لکھنے کی جس کے طرز تحریر پر ایک مسلمان افسوس کرے گا، کوئی ضرورت نہیں ہو سکتی۔ امید ہے کہ آپ میرے اس خط کو اخبار میں چھاپ دیں گے۔ وانا بری مما تقولون والسلام۔

خاکسار سید احمد

علی گڑھ، ۲۴ مارچ ۱۸۹۲ء (خطوط سرسید، ص ۱۵۶)

انداز تقریر

قاضی صاحب (احسان احمد شجاع آبادی) مرحوم ہمیشہ مختصر خطبہ پڑھتے تھے۔ ایک مختصر آیت قرآن تلاوت کرتے اور اس کے بعد مرزا مظہر جان جاناںؒ کے یہ اشعار پڑھتے:

خدا در انتظار حمد ما نیست
محمد چشم بر راہ ثنا نیست
محمد از تو می خواہم خدا را
خدا از عشق مصطفیٰ را
خدا مدح آفرین مصطفیٰ بس
محمد حامد حمد خدا بس

دوران تقریر یا پرائیویٹ مجلس میں، جب بھی حضور سرور کائنات ﷺ کا ذکر مقدس زبان پر آتا، آنکھ سے آنسو رواں ہو جاتے۔ جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی، آواز بھرا جاتی، زبان لڑکھڑانے لگتی اور قلب پر رقت طاری ہو جاتی۔ سامعین وجد میں آ جاتے۔ مجھے

صفحہ 60

دس سالہ عرصہ میں قاضی صاحب کی بے شمار نجی مجالس میں بیٹھنے اور سننے کا اتفاق ہوا۔ حضور علیہ السلام کا ذکر مقدس آتے ہی ان کی کیفیت عجیب ہو جاتی تھی۔ بارہا ایسا ہوا کہ تقریر یا نجی مجلس میں قہقہے بلند ہو رہے ہیں۔ مزاح اور لطیفہ گوئی زوروں پر ہے۔ اچانک ذکر رسول ﷺ زبان پر آتے ہی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے، آواز بھر جاتی ہے، استغفار پڑھتے ہیں اور زبان پر درود پاک کا ورد شروع ہو جاتا ہے۔ مجلس فوراً سنجیدہ ہو جاتی۔ قاضی صاحب حد درجہ رقیق القلب تھے۔ زبان پر ذکر رسول ﷺ آتے ہی چند سیکنڈوں میں آنسوؤں کی لڑی بندھ جاتی۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے الفاظ کے ساتھ آنسو بھی ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ آپ جب بھی درود شریف تلاوت فرماتے، آخری الفاظ عموماً یہ ہوا کرتے تھے بعدد کل ذرہ الف الف مرہ

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی، ص ۸۵-۸۴، از نور الحق قریشی)

متاع زیست گر چہ قیمتی ہے
رہ حق میں لٹانا چاہتا ہوں

(مولف)

مولانا تاج محمود کے آخری لمحات کی مختصر سرگزشت

سحری کی وقت ہمشیرہ کی گھبرائی ہوئی آواز نے مجھے نیند سے بیدار کیا اور کہا کہ ابا جان کی طبیعت خراب ہے۔ جلدی سے اٹھو۔ جب میں ان کے کمرہ میں آیا تو مولانا سامنے تکیہ پر پیشانی رکھے سجدہ کی حالت میں تھے۔ ان کی سانس پر گہرا اثر تھا۔ وہ برابر بے چینی اور اضطراب محسوس کر رہے تھے۔ چونکہ دو برس قبل ہم ان کی شدید مایوس کن بیماری دیکھ چکے تھے، اس لیے ہمارے لیے تشویش کی ایسی کوئی بات نہ تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب حضرت بلالؓ کے وارثوں کی آوازیں خدا تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کر رہی تھیں اور شہر کی فضا میں ہر طرف سے اذانوں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں لیکن آج معلوم نہ تھا کہ ان گونجنے والی اذانوں کے بعد کون سی نماز کا اعلان ہونے والا ہے۔

ان کے مزاج اور طبیعت کے شناسا ہونے کے ناطے سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ

صفحہ 61

کے کسی دوست کو بلا لوں، لیکن انہوں نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اس وقت کسی کو بلانا مناسب نہیں۔۔۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر اجازت دیں تو میں آپ کے معالج پروفیسر سعادت علی زیدی کو بلا لوں، لیکن انہوں نے برجستہ کہا ”آج کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں“ ان کا یہ فقرہ میرے دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گیا اور میری سوچ کے دائرے ان کے اسی جوابی فقرہ میں سمٹ کر رہ گئے۔

جب سحر چھٹکی اور دن کا اجالا اپنی مسکراہٹیں اور نیک تمنائیں لیے نمودار ہوا تو میں نے ہمت کر کے حضرت مولاناؒ کی بیٹھک سے چوری، ڈاکٹر سعادت علی زیدی کو ان کی ناسازی طبع کی اطلاع دی۔ انہوں نے کمال شفقت سے دس منٹ کے اندر اندر آنے کا وعدہ کیا۔ اسی دوران میری انگلی ٹیلیفون کے ڈائل کے ساتھ گھومی اور نمبر ۴۱۲۹۵ مل گیا۔ دوسری جانب سے والد محترم کے دیوانہ وار عقیدت مند رانا فضل کی بھاری آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میں نے انہیں بتایا کہ حضرتؒ کی طبیعت کچھ ...... صرف اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ انہوں نے میرا جملہ کاٹتے ہوئے کہا میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔

میں فون کرنے کے بعد والد محترم کے کمرے میں آیا تو انہیں میری اس جسارت کا علم ہو چکا تھا ” زیدی صاحب کو فون کیا ہو گا؟“ میری یہ عادت رہی ہے کہ میں نے ان کے سامنے ساری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ویسے بھی انہیں جھوٹ سے انتہائی نفرت تھی۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا ”اچھا تو چارہ کر کے دیکھ لے“۔

ان کا یہ دوسرا معنی خیز فقرہ تھا۔ جس نے میرے جگر میں آگ لگا دی۔ میں نے ضبط کا ساتھ اور صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے حکم دیا کہ بیٹا ”مجھے سیب کی قاشیں کھانے کو دو۔ میں نے سیب کاٹا۔ جلدی سے چند قاشیں بنائیں اور پلیٹ میں رکھ کر ان کی خدمت میں پیش کر دیں۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میری آخری خدمت ...... ہو گی۔ انہوں نے دو ٹکڑے لیے اور منہ میں ڈال لیے۔ پھر انہوں نے خدمت و سعادت میں سب کو مات کرنے والی اپنی پیاری اور لاڈلی بیٹی کو آخری خدمت کا موقع دیتے ہوئے آب زمزم پلانے کو کہا۔ اس نے ایک کپ میں اپنی جان سے عزیز باپ کو آب شفا پیش کیا۔ والد محترم نے نہایت اطمینان، سکون اور صبر کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے تین گھونٹ پیئے۔

صفحہ 62

اتنے میں ڈاکٹر سعادت علی زیدی تشریف لے آئے تو مولانا نے انہیں دیکھتے ہی کہا میں تو آپ کو بے وقت تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن طارق نے آپ کو خواہ مخواہ زحمت دی۔ ڈاکٹر صاحب نے مولانا کی حالت کے پیش نظر حکم دیا کہ انہیں میری ہی گاڑی میں بٹھائیں تاکہ آپ کو ہسپتال لے چلیں۔ ڈاکٹر سعادت علی زیدی ہسپتال میں اپنے وارڈ میں فون کرنے کے لیے مولانا کی بیٹھک میں واپس آگئے۔ اتنے میں رانا فضل بھی تشریف لے آئے۔

والد گرامی اب قدرے سکون میں تھے۔ بے چینی و اضطراب اور گھبراہٹ کے آثار بھی یکسر غائب ہو چکے تھے۔ وہ خود چارپائی سے اتر کر کرسی پر بیٹھے۔ پا بہ رکاب تھے لیکن آج وہ ایسے سفر پر جانے کی تیاری میں تھے جس میں نہ میر کارواں کی ضرورت ہوتی ہے، نہ قافلے کی.......

معاً انہوں نے مجھ سے بڑی ہمشیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بلند آواز میں اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ سنایا، پھر نہ کبھی پلٹ کر دیکھنے والی محبت بھری حسرت آمیز نگاہوں کو دونوں بہنوں کے چہروں پر مجتمع کرتے ہوئے فرمایا! اچھا بیٹیو! خدا حافظ

یہ تھے ان کے آخری الفاظ جو انہوں نے گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے کہے تھے۔ سوا سات بجے ہم ڈسٹرکٹ ہسپتال کے علی وارڈ پہنچے تو تمام ڈاکٹروں اور عملہ کو سراپا انتظار پایا۔ پروفیسر سعادت علی زیدی کی معاونت ڈاکٹر اکمل، ڈاکٹر مشتاق، ڈاکٹر سلطان کر رہے تھے۔ عملہ نے نہایت مستعدی اور خلوص سے مولانا کے علاج کا آغاز کیا۔ پہلے آکسیجن لگائی گئی، پھر ڈرپ لگانے کا مرحلہ آیا تو تمام رگیں (Veins) بے وفا ہو گئیں۔ آخر بہت تگ و دو کے بعد مولانا کے پاؤں سے ایک رگ (Vein) ملی، جہاں ڈرپ لگائی گئی۔ مختلف انجکشن لگائے گئے تاکہ مریض دل کو کسی طرح قرار آجائے۔ یہ سبھی کچھ ایمر جنسی میں ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہمیں کمرہ نمبر ۴ میں منتقل کر دیا گیا۔ دوران علاج ڈاکٹر سعادت علی نے مولانا سے طبیعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب میں کہا ”کچھ بہتر ہوں“ اور ساتھ ہی دعا دیتے ہوئے فرمایا ” آپ کو بے وقت تکلیف دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں“۔

صفحہ 63

اسی اثناء میں بھائی محمد اقبال (ایم اے) اور صوفی محمد اشرف (میرے بہنوئی) بھی کمرہ میں آ پہنچے۔ مولانا نے قدرے سکون محسوس کیا اور آنکھ لگ گئی۔ "نیند آگئی اب سوئیں گے کنج مزار میں" مولانا چونکہ بستر پر ٹیک لگائے نیم دراز تھے۔ رانا فضل صاحب مولانا کے دائیں اور اقبال صاحب بائیں جانب تھے۔ جبکہ میں ان کے قدموں میں کھڑا تھا۔ تقریباً ۲۰ منٹ کے بعد مولانا نے آنکھیں کھولیں۔ میری جانب سے ہٹ کر دائیں طرف قبلہ رخ نہایت غور اور احترام بھری قدرے جھکی نگاہوں سے دیکھا۔ چند ساعت بعد دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا ”ہٹو ہٹو وہ آرہے ہیں" اس جملہ کی ادائیگی کچھ اس انداز سے کی، جس میں احترام، عجز و انکساری، عقیدت اور خلوص شامل تھا لیکن آواز میں آہستگی، ادب اور نقاہت بدرجہ اتم موجود تھی۔ یہ وہ لمحات تھے جن کو ہم اس وقت محسوس نہ کر سکے۔ ہمارا خیال کچھ اور تھا کہ شاید مولانا نیچے اترنے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن ہم جان نہ سکے کہ اس وقت ختم نبوت کا عظیم مجاہد کس کی آمد پر خیر مقدم کر رہا تھا؟

آپ بستر سے اٹھ بیٹھے۔ چند ساعت بعد پیچھے ہٹے۔ ان کے لبوں میں جنبش آئی۔ ان کی قبلہ رخ دیکھتی ہوئی مودب نگاہیں اپنے سامنے کھڑے اکلوتے بیٹے کو دیکھنے کی بجائے اسی حسین منظر کی دلکشی میں ڈوب گئیں۔۔۔۔۔ ان کی گردن قبلہ رخ جھکی تو رانا فضل اور محمد اقبال کی زبان سے بے ساختہ نکلا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ-

یہ کلمہ وہ تھا جو تھوڑی دیر قبل مولانا اپنی پیاری بیٹیوں کو سنا کر آئے تھے۔ میں سکتہ میں آگیا۔ میری سوچنے سمجھنے اور دیکھنے کی تمام صلاحیتیں سلب ہو چکی تھیں۔ تاہم میری نظریں اپنے مشفق باپ کے مطمئن چہرے پر مرکوز تھیں۔

ڈاکٹر حضرات لپکے اور تمام انسانی کوششیں صرف کر دیں تاکہ مولانا کو موت کی وادی سے کھینچ لیں۔ لیکن وہ تو ہماری نظروں سے اوجھل آنے والوں کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہو چکے تھے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ اس وقت گھڑی ساڑھے دس بجا رہی تھی۔ ان کی نبضیں ڈوب چکی تھیں اور ۶۶ برس تک دھڑکنے والا درد بھرا دل آج جواب دے چکا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

(ہفت روزہ "لولاک" فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر، ص ۱۲۳-۱۲۴ از قلم: صاحبزادہ

صفحہ 64

طارق محمود)

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

(مولف)

تحریک آزادی کے بہادر کارکن شیخ احسان اللہ احرار

محترم شیخ احسان اللہ احرار تحریک آزادی کے بہادر کارکن ہیں اور ان دنوں وزیر آباد میں زندگی کے باقی ایام جوانمردی کے ساتھ گزار رہے ہیں۔ پیرانہ سالی کے باوجود آواز میں وہی کڑک اور لہجہ میں کھنک باقی ہے۔ جو ان کے عہد شباب کی جولانیوں کا پتہ دیتی ہے۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد میں قید وبند کی صعوبتوں سے دو چار ہوئے مگر استقامت کے ساتھ مصائب کو برداشت کیا۔ ایک وفادار انسان کہ جو نصف صدی قبل تحریک آزادی کشمیر کے دوران احرار رضاکار بھرتی ہوا مگر تا ایں دم مجلس احرار ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ سیاسی لیل و نہار اور نشیب و فراز انہیں احرار سے جدا نہ کر سکے۔

شیخ احسان اللہ ...... دسمبر ۱۹۱۸ء میں حاجی شیخ عنایت اللہ کے ہاں وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ حضرت مولانا محمد رمضان خطیب جامع مسجد حنفیہ بازار والی (وزیر آباد) سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی مگر جدوجہد آزادی میں بھرپور شمولیت کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ بعد میں علم طب سے تعلق پیدا کیا۔ باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور وزیر آباد میں حبیبیہ دواخانہ قائم کیا۔ تمام عمر رزق حلال کمایا اور حاجت مندوں کی خدمت کرتے رہے۔ وہ اپنی اجتماعی زندگی میں مجلس احرار اسلام سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور اصلاحی تنظیموں سے بھی منسلک رہے اور بے لوث خدمات سر انجام دیتے رہے۔ کمپنی کمانڈر‘ قومی رضاکار تنظیم وزیر آباد‘ میونسپل کمشنر‘ پی ڈی ممبر‘ بلدیہ وزیر آباد‘ سیکرٹری وارڈن شہری دفاع وزیر آباد‘ متولی انجمن نصرت الحق‘ جامع مسجد حنفیہ بازار والی‘ وزیر آباد وغیرہ وغیرہ۔ شیخ صاحب ایک طویل عرصہ تک مجلس احرار اسلام

صفحہ 65

وزیر آباد کے صدر بھی رہے۔

ان کے والد ماجد جناب حاجی شیخ عنایت اللہ مرحوم ۱۹۱۹ء میں جلیانوالہ باغ (امرتسر) فوج کی فائرنگ کا ظلم برداشت نہ کر سکے اور وزیر آباد میں انگریزوں کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ نتیجتاً گرفتار ہو گئے۔ جلیانوالہ اور ڈسکہ پر جب انگریزوں نے حملہ کیا تو ان کے آباء و اجداد ہجرت کر کے وزیر آباد آگئے۔ اس شہر کو انگریز کے خلاف جدوجہد کا مرکز بنایا۔ تحریک سول نافرمانی کے دوران انگریزی حکومت کا ظالم نظام درہم برہم کر دیا۔ ٹیلی فون کے تار کاٹ دیئے۔ ریلوے سگنل توڑ ڈالے اور اسٹیشن کو آگ لگادی۔ بعد میں گرفتار ہوئے تو پھانسی کی سزا سنا دی گئی مگر عدم ثبوت کی بناء پر سزا ۹ ماہ کر دی گئی اور گورنمنٹ پرنٹنگ پریس میں مشقت کرتے رہے۔

شیخ احسان اللہ احرار کی زندگی ایک جہد مسلسل اور وفا و ایثار کی تابندہ مثال ہے۔ ایسے ہزاروں کارکن ہیں جو گمنامی میں چلے گئے ہیں مگر ان کے کارہائے نمایاں سے نئی نسل اپنے ان محسنوں سے قطعی بے خبر ہے۔

۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام قائم ہوئی اور ۱۹۳۰ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف مجلس احرار نے تحریک آزادی کشمیر کا آغاز کیا۔ یہ تحریک اپنے نتائج کے اعتبار سے تاریخ ساز اور عہد ساز ثابت ہوئی۔ اسی موقع پر شیخ احسان اللہ مجلس احرار اسلام میں شامل ہوئے اور تحریک کشمیر میں بھر پور حصہ لیا۔ بعد ازاں مجلس احرار اسلام کی برپا کی ہوئی تمام تحریکوں میں دیوانہ وار شریک ہوئے۔ خصوصاً تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں تو انہوں نے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔ آج ۱۹۹۷ء ہے اور شیخ صاحب کی وفا و استقامت کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ چونسٹھ برس سے احرار سے ہی وابستہ ہیں۔ انہوں نے تحریک آزادی کے مقتدر رہنماؤں کو دیکھا اور سنا اور ان کے افکار و عمل سے متاثر ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر ۸۷ برس ہے۔ مگر اس عمر میں وہ پر عزم اور حوصلہ مند دکھائی دیتے ہیں۔ شیخ صاحب کی زندگی کی ایک واقعاتی جھلک ملاحظہ فرمائیں۔

۱۹۵۱-۵۲ء کا واقعہ ہے کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے گکھڑ منڈی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ شیخ صاحب ان دنوں پولیس قومی رضاکار کے کمپنی کمانڈر تھے اور مجلس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے حضرت شاہ جی کو عسکری

صفحہ 66

سلامی دینے کا پروگرام بنایا۔ شیخ احسان اللہ صاحب کا کہنا ہے۔۔۔۔۔”میں نے سوچا کہ حضرت شاہ جی کو پورے اعزاز کے ساتھ جلسہ گاہ میں لایا جائے اور انہیں عسکری سلامی پیش کی جائے۔ مارچ پاسٹ اور معائنہ پریڈ کرائی جائے۔ اس کے لیے میں گھکھڑ منڈی گیا اور جماعتی ساتھیوں سے اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت نہ دی مگر میں مایوس نہ ہوا۔ واپس آکر پولیس قومی رضا کاروں کو تیار کیا اور پوری کمپنی کو ساتھ لے کر جلسہ گاہ میں سب سے پہلے پہنچ گیا۔ جلسہ نماز عشاء کے بعد ہونا تھا۔ میں نے پنڈال میں پہنچ کر ساتھیوں (قومی رضا کاروں) کو ہوشیار کیا اور ہم شاہ جی کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ چند لمحوں میں شاہ جی سٹیج پر تشریف لائے۔ میں پریڈ کرتا ہوا سٹیج کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ چونکہ میں قومی رضا کاروں کی وردی میں تھا، محترم شاہ جی سٹیج پر کھڑے ہو گئے اور کچھ دیر بعد شاہ جی نے مجھے پہچان لیا۔ اور فرمایا تم احسان اللہ ہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں!

پھر شاہ جی نے وزیر آباد کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھا (جن میں لالہ ابراہیم‘ بابو غلام رسول بی ڈی ممبر‘ حبیب اللہ سالار شامل تھے) اس کے بعد شاہ جی نے پوچھا ”تم کیا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا! آپ جانتے ہی ہیں کہ میں پولیس قومی رضا کار کا کمپنی کمانڈر ہوں اور میں آپ کو سلامی دینا چاہتا ہوں۔ مگر مقامی ساتھی اجازت نہیں دے رہے۔ شاہ جی نے فرمایا تو بھائی بتاؤ میرے لائق کیا خدمت ہے؟ میں نے قبلہ شاہ جی کو پریڈ کے بارے میں بتایا تو شاہ جی میرے اس جذبے سے بے حد متاثر ہوئے اور سٹیج پر نیچے پاؤں لٹکائے بیٹھ گئے اور فرمایا جب تک میرا یہ بیٹا راضی نہیں ہوتا‘ میں تقریر نہیں کروں گا۔ صدر جلسہ اور منتظمین جلسہ میرے اس بیٹے کو راضی کر لیں۔ اجازت ملنے پر میں نے اپنی کمپنی کو بآواز بلند ہوشیار کیا۔ چند ہی لمحوں میں رائفلوں کے دستوں پر جوانوں کے ہاتھوں کی آواز فضا میں گونج اٹھی اور ساتھ ہی بینڈ نے سلامی کی دھن بجائی۔ ہماری کمپنی کے جوانوں کے آگے بینڈ کا دستہ تھا۔ اس کے پیچھے میں اپنی کمپنی کی کمان کرتا ہوا سٹیج کے سامنے سے گزرا۔ آپ نے پہلے بینڈ کے کمانڈر کے عسکری سلام کا اور بعد میں میرے عسکری سلام کا جواب دیا۔ ہم پریڈ کرتے ہوئے جس جگہ سے چلے‘ وہاں واپس جا کر قطاروں میں کھڑے ہو گئے۔ پھر میں شاہ جی کے پاس دوبارہ سٹیج کے قریب گیا اور آپ سے درخواست کی کہ کمپنی برائے معائنہ تیار

صفحہ 67

ہے۔ آپ میرے پیچھے چلتے ہوئے جوانوں کے قریب آئے اور جوانوں کو دیکھتے ہوئے قطاروں کے آگے سے گزرے۔ اس معائنہ کے بعد میں شاہ جی کو عسکری انداز میں پورے اعزاز کے ساتھ سٹیج پر لے آیا۔ آپ سٹیج پر تشریف فرما ہوئے اور میں واپس اپنے کمپنی جوانوں کے پاس چلا گیا۔ جلسہ کی کارروائی ہماری اس محبت بھری کارروائی کے بعد شروع ہوئی۔

ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ

تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دوران ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں، میں اور میرے ساتھ مولانا محمد چراغ، قاضی نور محمد، پیر بشیر شاہ آف سوہدرہ وغیرہ پر مشتمل تقریباً ۶۵ افراد تھے۔ مولانا محمد چراغ مرحوم مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہم لوگ ساڑھے تین ماہ جیل میں رہے۔ جیل میں مولانا کے ایک شاگرد مولوی عبد المالک اور جماعت اسلامی کے چودھری محمد اسلم بھی تھے۔ ایک دن دسترخوان پر بیٹھے بیٹھے چودھری محمد اسلم نے حضرت امیر شریعت کے متعلق نازیبا الفاظ کہے۔ میں لب ولہجہ برداشت نہ کر سکا۔ سالن سے بھرا ہوا پیالہ اس کے منہ پر دے مارا اور خوب بے نقط سنائیں۔ مولانا محمد چراغ مرحوم نے اسے خوب ڈانٹا اور فرمایا کہ ”میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ تم حضرت شاہ جی کے متعلق معقول لب ولہجہ اختیار کیا کرو۔ مگر تم باز نہیں آتے پھر تم نے ان کے عقیدت مند کے سامنے یہ حرکت کر کے بہت برا کیا۔

اتنے میں سپرنٹنڈنٹ جیل سید دولت علی شاہ آگئے اور ہنستے ہنستے کہنے لگے کیا ہوا آپ لوگ جیل میں بھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ آپ کو بی کلاس ملی ہوئی ہے۔ گوشت بھی ملتا ہے، ان لوگوں سے پوچھئے جنہیں سی کلاس ملی ہوئی ہے۔ میں نے کہا جناب مجھے چکی میں بند کر دیں۔ میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ بالآخر اس نے مجھے ہسپتال بھجوا دیا۔

ایک دن مولانا محمد چراغ مرحوم نے مجھے کہا کہ وہ بزرگ جو چار پائی پر تشریف فرما ہیں، ان سے جاکر پوچھو کہ چھ دن تو ہمیں گوشت ملتا ہے، ہم کھا کر الحمدللہ پڑھتے ہیں۔ ساتویں دن دال ملتی تو اس کے کھا لینے کے بعد ”الحمدللہ“ ہی کہہ دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ میرا یہ کہنا تھا کہ وہ حضرت موصوف جوتا اٹھا کر دوڑے۔ وہ میرے پیچھے پیچھے اور میں پوری

صفحہ 68

جیل میں آگے آگے۔ ہم دونوں ہانپ گئے تو مولانا محمد چراغ پھر آگے بڑھے اور بیچ بچاؤ کرایا اور کہنے لگے حضرت یہ نوجوان ہنس مکھ اور بامذاق آدمی ہے۔ اس کی باتوں کا برا نہ منائیں۔

یہ بزرگ قلعہ دیدار سنگھ کے حضرت قاضی نور محمد تھے۔ ان کی موٹی آنکھیں، سرخ انگارہ معلوم ہوتی تھیں۔ چہرہ بارعب، جلالی بزرگ تھے۔ میں ان کے مزاج سے واقف نہ تھا مگر مولانا محمد چراغ صاحب انہیں خوب جانتے تھے۔

مرزائیوں کے جلسے درہم برہم

آزادی سے قبل کا واقعہ ہے کہ حافظ آباد میں قادیانیوں کا جلسہ ہونا تھا۔ ادھر وزیر آباد میں مجلس احرار کے کارکنوں کو بھی اس بات کا علم ہو گیا اور طے پایا کہ قادیانیوں کا جلسہ کہیں بھی کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔ اگر جلسہ ہو تو درہم برہم کر دیا جائے۔ چنانچہ ساتھی حافظ آباد مرزائیوں کا جلسہ ناکام کرنے کا مشن لے کر گئے۔ ہر رضا کار کی الگ الگ ڈیوٹی لگا دی گئی۔ ایک رضا کار نے شامیانے کی رسیاں کاٹنی تھیں۔ دوسرے کے ذمہ گیس کا بجھانا اور تیسرے نے بروقت سب کو آگاہ کرنا تھا۔ میری ڈیوٹی سب سے الگ تھی۔ اور وہ یہ تھی کہ جب شامیانے گرنے لگیں تو مجھے مٹی کے چھوٹے چھوٹے پانچ چھ مرتبان سٹیج پر پھینکنے تھے۔ اس مشن پر جب روانہ ہونے لگے تو وزیر آباد میں ہمارے ایک نیک سیرت بزرگ، جماعت کے سرگرم رکن اور ہمدرد ساتھی نے مجھے کہا کہ بیٹا جانے سے پیشتر مجھ سے مل کر جانا۔ وہ بزرگ بتاشوں کا کام کرتے تھے۔ اس زمانے میں شام چھ بجے گاڑی حافظ آباد جایا کرتی تھی۔ میں اپنے بزرگ ساتھی جو ”دارا کبوتراں“ کے مقابل بتاشے بناتے تھے، ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے تھیلے میں پانچ چھ مٹی کے چھوٹے چھوٹے مرتبان جن کے منہ موٹے کاغذ سے بند تھے، مجھے دیے۔ اور فرمایا پنڈال میں کسی کونے میں بیٹھے رہنا اور جب شامیانے گرنے کے لیے حرکت میں آئیں، ایک ایک کر کے مرتبان سٹیج پر پھینکتے جانا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ مرتبانوں میں کیا ہے اور میں نے پروگرام کے مطابق ایسا ہی کیا۔ مرتبانوں کا سٹیج پر گرنا ہی تھا کہ اس میں سے کالی بھڑیں آناً فاناً نکلیں اور چھڑ گئیں۔ انہوں نے سٹیج پر موجود قادیانیوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔ کسی کی ناک پر، کسی کے ہونٹ اور آنکھ،

صفحہ 69

کسی کے کان اور گال پر‘ یہ عجیب منظر تھا۔ ادھر سائبانوں کے گرنے کی وجہ سے بھگدڑ مچی ہوئی تھی تو ادھر سٹیج پر بھڑوں نے اپنا پروگرام شروع کیا ہوا تھا۔ دوسرے روز قادیانی جب بازار سے گزرے تو ان کی حالت قابل دید تھی۔ کیونکہ بھڑوں نے ان کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔

اسی طرح بازار وزیر آباد میں مرزائیوں نے اپنے مرزواڑے (عبادت گاہ) کے سامنے ایک جلسہ کرنا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ چونکہ جلسے عموماً رات ہی کو ہوا کرتے تھے۔ رات کے وقت ہوا چلنی شروع ہوئی۔ ہم نے پھر پروگرام ترتیب دیا۔ اس مرتبہ انداز پہلے سے جدا تھا۔ گیس لیمپ اور سائبانوں کی ڈیوٹیاں تو حسب سابق ہی تھیں مگر سٹیج کا نشانہ علیحدہ تھا۔ ہم چند ساتھی سامنے کے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے۔ ہمارے ہاتھوں میں لوہے کی بڑی بڑی پچکاریاں تھیں جن میں سیاہی بھری ہوئی تھی۔ جب جلسہ شروع ہوا‘ پہلے گیس لیمپ توڑے گئے۔ جس سے اندھیرا ہو گیا۔ چونکہ ہم سٹیج کی مخالف سمت میں تھے‘ ہم نے پچکاریاں چلانا شروع کر دیں۔ ان میں موجود گاڑھی سیاہی نے سٹیج پر موجود تمام قادیانیوں کے چہروں کو سیاہ کر دیا۔ کافی روز گزرنے کے بعد بھی ان کے مکروہ اور ”ڈب کھڑبے“ چہروں سے سیاہی نہ اتر سکی۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ فروری ۱۹۹۸ء از قلم: شیخ نجم الہدیٰ)

میں مسلماں ہوں‘ مری جنگ ہے افکار کی جنگ
ہم کبھی لڑتے نہیں درہم و دینار کی جنگ
کفر سے رہتی ہے اسلام کے احرار کی جنگ
جبر کے دور میں بھی جرات اظہار کی جنگ (مولف)

شہید ختم نبوت! مولانا شمس الدین شہیدؒ

شمس الدینؒ مر گیا---- نہیں نہیں----- میرا آئیڈیل مر نہیں سکتا---- یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی----- کل ہی تو میں اس شیر دل سے ملا ہوں‘ اس کا حسین نورانی متشرع چہرہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے----- وہ کیسے مر سکتا ہے----- اس کی تلخ

صفحہ 70

شیریں آواز میرے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔۔۔۔۔ اگر اعتبار نہیں آتا، تو وہ دیکھو! شمس الدین تقریر کر رہا ہے۔۔۔۔۔ آواز سنائی نہیں دیتی تو میرے کانوں سے سنو! میری بصارت تمہارے لیے حاضر ہے، خود دیکھ لو۔۔۔۔۔ کیسے دھڑلے سے بول رہا ہے، موتی رول رہا ہے۔ اخبار والے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔۔۔ ریڈیو نے کب سچ کہا ہے۔۔۔۔۔ ٹیلی ویژن کو سرکاری Views کی عکس بندی سے فرصت ملے تو سرکار مخالف News ہی نشر کر دے۔۔۔۔۔ حزب مخالف کی خبروں نے وہاں کب بار پایا ہے۔۔۔۔۔ یہ سرکاری ناقوس ہیں۔۔۔۔۔ یہ ڈھنڈورچی تو ہر دور میں ”سرکار عالی مقام“ کے ”آستانہ عالیہ“ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نظر آئے ہیں۔۔۔۔۔ اور وہ مرد بے گلیم تو سرکار سے بر سر پیکار نظر آتا ہے۔۔۔۔۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے۔۔۔۔۔ بلا جھجک، بلا خوف جب بڑے بڑے پارسا کرسی اقتدار کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو گئے تب یہ اس کے خلاف برہنہ شمشیر ہو گیا۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ یہ آج پر رونق بازار ابونواس کے اجڑے گلستان کی داستان کیوں دہرا رہے ہیں۔۔۔۔۔ بلوچستان کے خاموش در و دیوار اپنے سینہ پر سیاہ جھنڈیاں کاہے کو سجائے ہوئے ہیں؟ عوام سراپا احتجاج کیوں بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ پربت کی شہزادیوں۔۔۔۔۔ اور شہزادگان سنگ میل پر کس کے لیے سکتہ طاری ہے۔۔۔۔۔؟

بتاؤ بتاؤ جمعیتہ طلباء اسلام کے کارکنو! تمہارا جانثار و جانباز ساتھی، تمہارا سابق صدر جمعیتہ بلوچستان کہاں گیا؟۔۔۔۔۔ کیا سابق ہونے کے بعد تم نے اس سے سابقہ ہی ختم کر لیا۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں سے تو آنسوؤں کا سیل رواں بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر کیوں؟۔۔۔۔۔ پر عزم ساتھیو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ کس کی نظر بد نے تمہیں آن دبوچا ہے۔۔۔۔۔ کس بلائے ناگہانی نے تمہارے کھنکتے قہقہوں کے فلک بوس تاج محل کو زمیں بوس کر دیا۔۔۔۔۔ کون ہے جس نے تم سے متاع خوشی کو چھین لیا ہے۔۔۔۔۔ کچھ تو بتاؤ۔۔۔۔۔

اچھا جمعیتہ علماء اسلام والو، تم ہی بتا دو، تمہاری جماعت کے نوجوان بلوچستانی امیر کا کیا ہوا؟ ہیں! تم بھی تسبیح اشک پھیرنے میں مگن ہو۔۔۔۔۔ کہیں قیمتی ہیرا گنوا تو نہیں بیٹھے۔۔۔۔۔ بولو! بولو! شمس الدین کہاں گیا۔۔۔۔۔ ڈھونڈو! ڈھونڈو! وہ کہاں کھو گیا۔۔۔۔۔ آسمان کی بلندیوں میں، زمین کی وسعتوں میں۔۔۔۔۔ وقت کو اس کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ ہمیں اس کی چاہت ہے۔۔۔۔۔ آج تمہاری زبانیں گنگ کیوں ہیں۔۔۔۔۔ تم نے لب کب سے

صفحہ 71

سی لیے۔۔۔۔۔فصاحت و بلاغت تو تمہاری جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے۔۔۔۔۔لسان تمہارے گھر کی لونڈی ہے۔۔۔۔۔الفاظ تمہارے ذہن کے دربان ہیں۔۔۔۔۔گفتار و کردار میں کوئی تمہارا ثانی نہیں۔ ۔۔۔۔۔تمہاری ماؤں ایسے کسی نے نڈر اور سحر انگیز و شب خیز خطیب نہیں جنے ۔۔۔۔۔آج روزِ محشر بھی تو نہیں کہ تمہارے در لب پہ قفل سکوت پڑا ہو اور چلمن چشم کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے اشک خلاف عادت بول رہے ہوں ۔۔۔۔۔آخر تمہیں، تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ بولتے کیوں نہیں۔ ۔۔۔۔۔بولو! ۔۔۔۔۔بتاؤ 'شیر بلوچستان' کہاں ہے۔۔۔۔۔فورٹ سنڈیمان سے مرزا غلام احمد کی امت کو دیس نکالا دینے والا بہادر کس طرف گیا۔ ۔۔۔۔۔امت مرزائیہ کے اعضاء و جوارح کو بلوچستان سے چھٹی دلوانے والا خادم خاتم المرسلین ﷺ کدھر گیا۔ ۔۔۔۔۔

اوہ! میرے اللہ! یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔بزمِ یار سے ہر ایک پیامبر، دستور کے خلاف ایک ہی خبر کیوں لا رہا ہے۔۔۔۔۔ شمس الدین شہید ہو گیا۔ ۔۔۔۔۔نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن رک گئی۔ ۔۔۔۔۔ایک شمعِ حریت بجھ گئی۔ ۔۔۔۔۔ایک قندیلِ راہِ حق گل ہوئی۔ ۔۔۔۔۔اک پھول خزاں کی آگ نے جلا ڈالا، ایک دیوارِ عزم کو اقتدار کے یاجوج ماجوج نے چاٹ لیا ۔۔۔۔۔کیا ذرائع ابلاغ عامہ نے سچ بولنا سیکھ لیا ۔۔۔۔۔جھوٹ کی عادت ترک کر دی ۔۔۔۔۔نہیں، نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔عادت کہیں اتنی جلد چھوٹ جائے، توبہ کیجئے ۔۔۔۔۔لیکن یہ میرے دل کی دھڑکنوں کو کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔یہ کیوں تیزی سے بھاگنے لگیں۔ ۔۔۔۔۔کہیں آج اخبارات نے سدا سچ تو نہیں بولا، نیوز ریڈر نشے میں تو نہ تھا کہ بہک کے سچی بات کہہ گیا ۔۔۔۔۔میں شاید پاگل ہو گیا ہوں ۔۔۔۔۔میں نادان بھی عجیب کیفیت میں گرفتار ہو گیا ۔۔۔۔۔ انجانے وسوسوں ۔۔۔۔۔شیطانی وسوسوں کے گرداب میں کھو گیا ہوں ۔۔۔۔۔لیکن یہ ۔۔۔۔۔یہ وسوسے تو جانے پہچانے اور شناسا محسوس ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ہائے! میری آنکھوں سے یہ آنسو کیسے۔ ۔۔۔۔۔ان کو کس نے بلایا ۔۔۔۔۔یہ بلا اجازت کیوں چلے آئے۔ ۔۔۔۔۔یہ تو بڑے ظالم تھے، میں نے کئی مرتبہ انہیں بلانا چاہا لیکن یہ سنگدل ہاتھ نہ آئے اور پہلو بچا کر نکل بھاگے۔ ۔۔۔۔۔مگر آج بے اختیار چلے آتے ہیں، رکنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔۔۔۔۔صبر کا ایک بند تھا، جو ٹوٹ گیا۔ ۔۔۔۔۔آنسوؤں کی یہ "غریب نوازی" بلاوجہ نہیں ۔۔۔۔۔آہ! میرا دم کیوں گھٹنے لگا ۔۔۔۔۔نبض کیوں سبک گام ہو گئی۔ ۔۔۔۔۔شاید کچھ ہونے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔کچھ ہونے.....

صفحہ 72

اللہ نہ کرے ....... اللہ نہ کرے ۔۔۔۔۔ لو ! جام عمر بھرے جانے سے قبل ہی کف دست ساقی چھلک پڑا، شمس الدینؒ نے حسب عادت اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ۔۔۔۔۔ سید زادے نے فرزند رسول ﷺ ہونے کی لاج نبھادی ۔۔۔۔۔ مالک تاج و تخت ختم نبوت ﷺ کے روحانی سپوت نے متاع زیست، عظیم مشن کے لیے قربان کر دی ۔۔۔۔۔ نظام شریعت کا علمبردار ، سرکاری ترکش کے زہر یلے بے رحم تیر کا شکار ہو گیا ۔۔۔۔۔ ربوہ کے در و دیوار لرزہ براندام کرنے والا عمل کا پیکر، چل بسا ۔۔۔۔۔ عالم جاوداں کی طرف کوچ کر گیا ۔۔۔۔۔ راہی ملک بقا ہوا ۔۔۔۔۔ شمس الدینؒ رتبہ شہادت سے مشرف ہو گیا اور سیاہ رو حریفوں کی ابدی ذلت و بد بختی اور رسوا کن مستقبل پر مہر تصدیق ثبت کر گیا ۔۔۔۔۔

یاد رکھو! وہ حیات جاوداں کا امین ہے ۔۔۔۔۔ اس کے جیالے حریت پسند ساتھی ۔۔۔۔۔ جمعیتہ طلباء اسلام کے کار کن ۔۔۔۔۔ زندہ ہیں ۔۔۔۔۔ وہ مرا نہیں ۔۔۔۔۔ میرا آئیڈیل ابدی و لازوال ہے ۔۔۔۔۔ وہ کبھی نہیں مرسکتا ۔۔۔۔۔ وہ شہید ہے ۔۔۔۔۔ وہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا ۔۔۔۔۔ اس کی تصویر میرے دل کے ڈرائنگ روم کو زینت بخش رہی ہے ۔۔۔۔۔ اس کی فوٹو ابھی تک میری دیوار پر جوں کی توں آویزاں ہے ۔۔۔۔۔ وہ! وہ دیکھو! وہ مسکرا رہا ہے ۔۔۔۔۔ کیسی ابدی مسکراہٹ ہے اس کے ہونٹوں پر ۔۔۔۔۔ لازوال، مسکراہٹ ۔۔۔۔۔ جس پر کئی دلر با جانیں قربان کی جاسکتی ہیں۔

شمس الدینؒ فکر نہ کر ! تیرا عزم زندہ ہے۔ تیرے بھائی تیری قیادت میں کفن بردوش ہیں۔

انقلاب مصطفیٰ برپا کرنے کے لیے
خلافت الہیہ کے اجراء کے لیے
پھر میں محبت کے صحیفوں میں ملوں گا
ڈھونڈیں جو کبھی مجھ کو میرے چاہنے والے

(مؤلف)

(ہفت روزہ "ترجمان اسلام" از قلم: اشفاق احمد بھٹہ)

صفحہ 73

نائیجیریا میں قادیانیوں کے اوچھے ہتھکنڈے

ابھی چند سال قبل تک نائیجیریا مندرجہ ذیل چار علاقوں میں تقسیم تھا: (۱) شمالی نائیجیریا (۲) مغربی نائیجیریا (۳) مغربی وسطی نائیجیریا (۴) مشرقی نائیجیریا۔

شمالی نائیجیریا کے رہنے والے ۹۸ فیصد لوگ ہاوسا یا فلانی قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو مسلمان ہیں اور مالکی مذہب کے پیرو ہیں۔ دو فیصد لوگوں میں بت پرست، جنگلی اور عیسائی شامل ہیں۔ یہاں ہاوسا اور فلانی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن ہاوسا کو وہاں وہی حیثیت حاصل ہے جو پاکستان میں اردو کو حاصل ہے۔ ہاوسا زبان کا رسم الخط عربی تھا لیکن انگریزوں کے دور حکومت میں شمال کے گورنر لارڈ لوگرد نے بدل کر رومن کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نسل کے لیے عربی پڑھنا مشکل ہو گیا۔

مغربی نائیجیریا میں یوروبا قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں کی زبان یوروبا ہے۔ لیگاس اور ابادان جیسے بڑے شہر اسی علاقے میں ہیں۔ یہاں کے ۵۵ فیصدی لوگ مسلمان ہیں اور مالکی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۴۵ فیصد لوگوں میں عیسائی اور بت پرست شامل ہیں۔

وسطی مغربی اور مشرقی نائیجیریا میں ای بو (Ebo) قبیلے کے لوگوں کی اکثریت ہے اور دوسرے چھوٹے چھوٹے بہت سے قبائل پائے جاتے ہیں۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے یہ علاقہ بت پرستوں، مردہ پرستوں، آباء پرستوں، توہم پرستوں اور مردم خوروں کا علاقہ تھا۔ انگریزوں نے اس علاقے میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا کر ایک بہت بڑی اکثریت کو عیسائی بنالیا۔

شمالی نائیجیریا کے مسلمانوں کے عقائد بہت پختہ ہیں اور یہ پختگی ان علماء اور مجاہدین کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو وقتاً فوقتاً ان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگاتے رہے۔ عثمان دان فودیو جیسے مصلح اور مجاہدین اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ برخلاف اس کے مغربی نائیجیریا کے مسلمانوں کے ایمان اور عقائد میں وہ پختگی کبھی نہ آسکی جو شمال کے مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد عیسائی مشنریوں نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو آسانی سے عیسائی بنالیا۔ یہ دیکھ کر مغربی نائیجیریا کے چند

صفحہ ۷۴

دردمند انگریزی دان مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ عیسائی مشنریاں اپنے دین کے پرچار کے لیے جو طریقہ اختیار کرتی ہیں‘ اگر وہی طریقہ کار وہ بھی اختیار کریں تو ان کے بچے عیسائیت کے سیلاب سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر اسماعیل بولوگن کا تذکرہ اور ان کا بیان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل بولوگن مغربی نائجیریا کے ایک قادیانی خاندان میں پیدا ہوئے۔ پینتالیس سال کی عمر تک وہ قادیانی رہے۔ اسلامیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ ابادان یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں لیکچرار ہو گئے۔ انہوں نے قادیانیت کا بہت گہرا مطالعہ کیا اور دوران مطالعہ ان پر قادیانیوں کی فریب کاریوں کا راز کھلا۔ انہوں نے وہاں کے ایک ہفتہ وار "سنڈے ٹائمز" میں رد قادیانیت پر ایک مضمون لکھا۔ قادیانیوں نے اس کا جواب لکھا۔ پھر ڈاکٹر اسماعیل بولوگن نے ان کا جواب دیا۔ اس تحریری مناظرے کا اثر یہ ہوا کہ بہت سے قادیانی دین مبین کی طرف لوٹ آئے۔ یہ مضامین ایک کتاب کی صورت میں شیخ اشرف‘ لاہور نے طبع کیے ہیں اور کتاب کا نام Islam Versus Ahmadiyya In Nigeria ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ لیگاس کے سب سے پہلے شخص جنہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے ہوئے لیگاس میں مشن کھولنے کی دعوت دی‘ وہ الحاج آغستو تھے اور پہلا مشن ۱۹۱۶ء میں کھولا گیا۔ الحاج آغستو مشن کھولنے کے چند روز بعد لندن گئے اور وہاں پر ان کی ملاقات چند مسلمان علماء سے ہوئی جنہوں نے قادیانیوں کے عقائد کا پردہ چاک کیا۔ الحاج آغستو جب نائجیریا واپس آئے تو انہوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور اس بات کا باقاعدہ اعلان کیا۔

میری ملاقات مغربی نائجیریا کے چند معمر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں سے ہوئی۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ الحاج آغستو نے حکومت برطانیہ سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی مسلم ملک سے مسلم مشنری بلانے کی اجازت دی جائے۔ جس کے جواب میں حکومت برطانیہ نے اپنے اخراجات پر ایک قادیانی مشنری عبدالرحیم نیر کو بلایا اور لیگاس میں مشن کھولنے کے لیے عمارت فراہم کی۔

جناب شیلو صاحب (جو ابادان یونیورسٹی کے شعبہ عربی اور اسلامیات میں لیکچرار ہیں‘ لکھتے ہیں کہ عبدالرحیم نیر پہلے قادیانی مشنری تھے‘ جنہوں نے ۱۹۱۶ء کے اوائل میں

صفحہ 75

لیگاس میں قادیانی مشن کھولا اور آتے ہی برطانیہ کے قصیدے پڑھنا شروع کر دیے ۔ ۱۰ اپریل ۱۹۲۱ء کو انہوں نے شیٹا بے مسجد لیگاس میں ایک طویل لیکچر دیا جس کا عنوان تھا ”اسلام اور تاج برطانیہ سے وفاداری کے فوائد“ (العلم‘ نمبر ۱‘ مطبوعہ مسلم اسٹوڈنٹس سوسائٹی آف نائیجیریا ‘ ۱۹۷۴ء)

قادیانی مشن نے مرزا غلام احمد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ فریب اور دھوکے سے کام لیا۔ مرزا کو بجائے نبی کہنے کے مصلح کی حیثیت سے پیش کیا۔ اور اپنی جماعت کو ”احمدیہ مسلم“ کہلایا۔ وہاں کے مسلمانوں کو یہ تاثر دیا کہ احمدیت کوئی نیا دین نہیں بلکہ یہ ایک اصلاحی تحریک ہے۔ ۱۹۲۱ء میں چند نائیجیرین قادیانی برطانیہ گئے اور وہاں ہندوستان کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور ان پر قادیانیوں کے مکر و فریب کا راز کھلا۔ ۱۹۲۲ء میں وہ لوگ نائیجیریا واپس آئے اور انہوں نے قادیانی مشن سے علیحدگی اختیار کی۔ بعد میں اپنی ایک انجمن بنائی جس کا نام احمدیہ اسلامی تحریک (نائیجیریا) رکھا۔ قادیانی مشن کا نام ”صدر انجمن احمدیہ مشن“ ہو گیا۔

جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں‘ مغربی نائیجیریا کے مسلمانوں میں اسلام سے وابستگی کا جذبہ تو موجود ہے لیکن عقائد میں وہ پختگی نہیں جو شمالی نائیجیریا کے مسلمانوں میں ہے۔ چنانچہ قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مغربی نائیجیریا کے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی بہت کوشش کرتے رہے۔ بیس بائیس سال کے عرصے میں چھوٹے دیہاتوں اور ہر بڑے شہر میں انہوں نے اپنے اسکول‘ ہسپتال اور معابد تعمیر کر لیے۔ ان کے حوصلے اتنے بڑھ گئے کہ مغربی نائیجیریا کے ایک شہر ابی بو اوڈے (EjiboOde) کی ایک عبادت گاہ کی دیوار پر احمد رسول اللہ تک لکھ دیا (نعوذ باللہ)

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں نے کسی عیسائی یا بت پرست کو قادیانی نہیں بنایا بلکہ ان کے ارتداد کا نشانہ ہمیشہ بھولے بھالے مسلمان ہی رہے۔

میں فروری ۱۹۶۲ء میں جب بسلسلہ ملازمت نائیجیریا پہنچا تو وہاں قادیانی تحریک اپنے چھیالیس سال پورے کر چکی تھی۔ ربوہ سے ڈاکٹر ضیاء الدین کو شمالی نائیجیریا کے شہر کانو میں اپنا پرائیویٹ ہسپتال کھولنے کا حکم ملا اور میری معلومات کے مطابق انہوں نے یہ ہسپتال ۱۹۵۹ء میں ایک مکان کرائے پر لے کر کھولا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نائیجیریا میں ڈاکٹروں کی بے

صفحہ 76

حد کی تھی۔ خصوصیت سے پرائیویٹ علاج کرنے والوں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین کو مختلف پرائیویٹ کمپنیوں نے اپنا ڈاکٹر منتخب کر لیا۔ بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں انگریزوں، لبنانیوں اور ہندوستانی ہندوؤں کی تھیں۔ اس لیے ڈاکٹر ضیاء الدین کو بہت سے سرپرست مل گئے اور ان کی شروع ہی میں ایک معقول آمدنی ہو گئی۔ دوسرے مریضوں سے انہیں جو ملتا تھا، وہ اس کے علاوہ تھا۔

کانو شمالی نائجیریا کا ایک بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے۔ یہ علم و دانش کا مرکز ہے، خصوصیت سے دینی علوم کا۔ اس شہر نے بڑے بڑے علماء پیدا کیے ہیں۔ بدقسمتی سے چند علماء کے علاوہ سبھی نے چشم پوشی کی پالیسی اختیار کی اور ڈاکٹر ضیاء الدین نے بہت مختصر عرصے میں اتنی رقم جمع کرلی کہ کانو کے ایک مرکزی مقام پر اپنے ہسپتال کے لیے انہوں نے ایک بہت بڑا پلاٹ خرید لیا۔ جو بعد میں (غالباً ۱۹۷۵ء میں) ایک بہت بڑا ہسپتال بن گیا۔ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی مسلمان انجینئروں نے جو وہاں سرکاری ملازم تھے، پلاٹ کے حصول میں، ہسپتال کا نقشہ تیار کرنے میں اور اس کی تعمیر میں ان کی بڑی مدد کی۔ باوجود اس کے کہ میں نے اور میرے چند ساتھیوں نے ان کو قادیانیت کے فتنے سے اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا۔

یہاں پر شمالی نائجیریا کی دو مقتدر اور قابل احترام ہستیوں کا تذکرہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے جنہوں نے قادیانیت کو دبا کر روکنے کی کوشش کی اور یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اتنا عرصہ تبلیغ کرنے کے باوجود اب بھی شمالی نائجیریا میں دس سے زیادہ قادیانی نہیں ملیں گے۔

پہلا نام الحاج احمد بیلو کا آتا ہے جو ایک سچے، مخلص اور باعمل مسلمان تھے اور اپنی شہادت کے وقت شمالی نائجیریا کے وزیر اعلیٰ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی اسلام دوستی ہی ان کی شہادت کا سبب بنی جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ الحاج احمد بیلو مرحوم شروع شروع میں قادیانیوں کے عقائد سے ناواقفیت کی بنا پر ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو اچھی نظر سے دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ عیسائیت کے طوفان کو روکنے کے لیے یہ ایک بڑی فعال اور کار آمد جماعت ہے۔ اسی زمانے میں انہوں نے قادیانیت کی تعریف میں چند بیانات دے ڈالے۔ جنہیں قادیانی آج بھی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ

صفحہ 77

عرصہ بعد جب ان پر قادیانیت کی حقیقت آشکارا ہوئی تو انہوں نے ایک خفیہ سرکلر جاری کیا کہ جو لوگ ہندوستان اور پاکستان سے ڈاکٹر، انجینئر اور اساتذہ بھرتی کرنے جائیں وہ قادیانیوں کو کسی قیمت پر بھرتی نہ کریں۔

دوسری قابل احترام ہستی جناب الحاج ابو بکر گومی صاحب کی ہے جنہیں انگریزی حکومت کے خلاف تقریریں کرنے کے جرم میں ملک بدر کر دیا گیا تھا اور آزادی کے بعد ان کو اپنے ملک آنے کا موقع ملا۔ الحاج ابو بکر گومی ایک بہت بڑے عالم دین‘ ایک حق گو اور سرفروش مسلمان ہیں۔ الحاج احمد وبلو کے دور میں یہ قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز رہے۔ نائجیریا کے سارے علماء ان کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ الحاج ابو بکر گومی پہلے شخص ہیں جنہوں نے قادیانیت کے فتنہ کو سمجھا اور اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے اس کو بے نقاب کیا اور کھلم کھلا قادیانیوں کو کافر قرار دیا۔ الحاج ابو بکر گومی آج بھی زندہ ہیں اور بہت معمر ہونے کے باوجود قادیانیوں اور بدعتیوں کے خلاف اپنی تحریک ”ازالہ“ چلا رہے ہیں۔ چونکہ یہ احمد وبلو مرحوم کے مشیر خاص تھے اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی ان کو قادیانیت کا اصل روپ دکھایا۔

١٩٦٦ء کے فوجی انقلاب میں نائجیریا کے وزیر اعظم الحاج ابو بکر اور شمالی نائجیریا کے وزیر اعلیٰ الحاج احمد وبلو شہید کر دیے گئے اور ان کی شہادت کے ساتھ ہی جمہوریت اس ملک سے رخصت ہو گئی۔ یہ انقلاب عیسائیوں اور یہودیوں کی سازش کا نتیجہ تھا۔ ڈیوڈ مفٹ (David Muffet) نے اپنی کتاب "Let Truth Be Told" میں ثابت کیا ہے کہ اوجوکو (Ojoko) کو جو پہلے فوجی انقلاب کا لیڈر تھا‘ اسرائیل نے اسلحہ خریدنے کے لیے بیس لاکھ پاؤنڈ دیے تھے۔ اس میں شک و شبہ نہیں کہ اس انقلاب سے قادیانیوں کو خاطر خواہ فوائد پہنچے۔ انقلاب کے فورا بعد شمالی نائجیریا میں قادیانیوں کے کئی تبلیغی مراکز اسکول اور ہسپتال نظر آنے لگے۔ گو اوجوکو (Ojoko) اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس کے بعد کئی انقلابات آئے اور حکومت فوج ہی کے ہاتھ میں رہی۔ نائجیریا تیرہ ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر ریاست کے سربراہ گورنر مقرر کر دیے گئے اور یہ گورنر فوج ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ قادیانیوں نے اس صورت حال سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ گورنروں کو تحائف دے کر اپنا کام نکالنا ان کا معمول بن گیا۔ یہ پالیسی انہوں

صفحہ 78

نے ہر ریاست میں اختیار کی لیکن طوالت کے خوف سے میں صرف کانو کی ریاست کی مثال تک اس تذکرے کو محدود رکھوں گا۔

کانو کے گورنر الحاج اوڈو باکو (Alhaji Audo Bako) کی عیسائی بیوی کو پاکستان کے بنے ہوئے سونے کے زیورات تحفے کے طور پر پیش کیے گئے۔ معلوم نہیں کتنی بار ایسے تحائف پیش کیے گئے ہوں گے لیکن ایک موقع پر ایک ہندوستانی مسلمان جو گورنر کے مشیر خاص تھے‘ وہاں موجود تھے جن سے اس بات کا علم ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی مشنری اور گورنر کی بیگم کے درمیان جو گفتگو ہوئی‘ اس سے ان کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ اس قسم کے تحائف پہلے بھی دیے گئے تھے۔ غرض کہ گورنر کی چہیتی بیگم کو تحائف دے کر گورنر کو قابو میں کیا گیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اوڈو باکو قادیانی ہو گیا تھا لیکن یہ بات بلاشبہ کہی جاسکتی ہے کہ اس کے دل میں قادیانیوں کے لیے اس حد تک گنجائش پیدا ہو گئی تھی کہ اس نے کانو کے مسلمان علماء کو قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کی دعوت دی اور ایک تاریخ مقرر کر دی۔

الحاج ابو بکر حسن گوار زو جو اس زمانے میں بایارو یونیورسٹی کانو کے شعبہ دینیات میں پروفیسر تھے (اب ریاست کانو کے قاضی القضاۃ ہیں) اور الحاج نبی والی جو جج ہیں‘ میرے پاس آئے اور مجھ سے رد قادیانیت پر عربی یا انگریزی میں لٹریچر مانگا۔ افسوس کہ سوائے مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب کی کتاب کے‘ میرے پاس نہ عربی میں کوئی کتاب تھی نہ انگریزی میں۔ مجلس ختم نبوت‘ ملتان کے بھیجے ہوئے کتابچے‘ مولانا انور شاہ کشمیری‘ مولانا پٹیالوی‘ مولانا مفتی شفیع صاحب اور ایسے ہی دوسرے علماء کی کتابیں اردو میں موجود تھیں۔ جن کے مختلف حصوں کا زبانی ترجمہ ان کو سنایا۔ چونکہ غیر ملکیوں کو اس مناظرے میں شرکت کی اجازت نہیں تھی اس لیے میں شریک نہ ہو سکا۔ دوسری طرف سے شمالی نائجیریا کا واحد قادیانی ابراہیم بیچی (Ibrahim Bichi) تھا۔ الحاج ابو بکر گوار زو نے صرف ایک سوال پوچھا ”کیا تم ہم لوگوں کو مسلمان سمجھتے ہو؟“ جس کا جواب دینے میں ابراہیم نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ اس سوال کا جواب نہ دینے پر گورنر صاحب نے مناظرہ ختم کروا دیا۔ گورنر صاحب نے اس مناظرے کے بعد قادیانیوں اور مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا‘ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ قادیانی ہو گیا تھا۔ اس مناظرے کے بعد اس نے قادیانیوں کو اسکول کھولنے کے لیے زمین اور ایک بہت بڑی رقم دی لیکن جب کانو کے

صفحہ 79

مسلمانوں نے الحاج ابوبکر گومی کو قادیانیت کے خلاف تقریر کرنے کے لیے کانو بلایا تو عین وقت پر اس نے ان کو زبردستی تقریر کرنے سے روک دیا۔

دوسری ریاستوں میں جس رفتار سے قادیانی اسکول اور مراکز کھلے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں بھی ان کا رشوت کا حربہ کارگر رہا۔ اس کے باوجود بھی شمالی نائیجریا کی مسلمانوں نے اللہ کے دین کو چھوڑ کر قادیانیت کو قبول نہیں کیا لیکن مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے قادیانی جھوٹ، مکر اور فریب کو مرزا صاحب کے وقت سے جائز سمجھتے ہیں اور کیوں نہ سمجھیں جب ان کے دین کی بنیاد ہی مکر و فریب پر ہے۔ نائیجریا کے مسلمانوں پر ایک حربہ جو وہ استعمال کرتے ہیں، اس کا ذکر کر دینا بھی ضروری ہے۔

نائیجریا کے مسلمان مالکی ہیں اور ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں۔ جبکہ دنیا کے اور مسلمان ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ دین سے ناواقف، دیہاتوں میں رہنے والے نائیجرین جب حج یا عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جاتے ہیں تو وہ وہاں اکثریت ایسے مسلمانوں کی پاتے ہیں جو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ جب وہ وہاں سے واپس آتے ہیں تو قادیانی ان کو بہکانے کے لیے سوال کرتے ہیں "کیا ساری دنیا کے مسلمان غلط راہ پر ہیں اور تم صحیح راہ پر ہو ؟" وہ بھولے بھالے مسلمان قادیانی تو نہیں ہو پاتے لیکن ان کے دلوں میں شکوک و شبہات ضرور پیدا ہو جاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی قادیانیوں کی گہری سازشوں سے ناواقف ہے اور دھوکہ کھا جاتا ہے جس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

جماعت نصر الاسلام ایک پرانی انجمن ہے جس کا مقصد دین کی تبلیغ ہے۔ جب تک میں نائیجریا میں رہا، اس کا ممبر رہا۔ تقریباً آٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ میں نے اس کی ایک میٹنگ میں شرکت کی۔ اس زمانے میں قادیانی حضرات کانو کے قادیانی تبلیغی مراکز کے زیر اہتمام ایک نمائش قرآن مجید کی کرنے والے تھے۔ میں نے تجویز پیش کی ان کو اس کام سے روکا جائے۔ جس پر بابارو یونیورسٹی، کانو کے وائس چانسلر جناب ابراہیم صاحب نے فرمایا "قرآن مجید کی نمائش تو کوئی بری بات نہیں پھر اس کو کیوں روکا جائے" مجھے شرکاء مجلس کو یہ سمجھانے میں کافی وقت صرف کرنا پڑا کہ قرآن مجید کی نمائش قادیانی اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ نائیجریا کے مسلمانوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ "ہمارے اور تمہارے دین میں

صفحہ 80

کوئی فرق نہیں ہے" اور ایک بار مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی تو قادیانیوں کو مار آستین بننے میں کوئی دقت پیش نہ آئے گی۔

قادیانیت کے خلاف جہاد کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ چند حضرات جو قادیانیت کے خلاف جہاد میں شریک ہیں، ان کے نام لکھ رہا ہوں تاکہ اگر کوئی صاحب قادیانیت کے خلاف کام کرنے جائیں تو ان لوگوں سے کافی مدد مل سکتی ہے۔ مغربی نائجیریا میں ڈاکٹر اسماعیل بولوگن جو الورین یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور دوسرے صاحب جناب جبریل ہیں جن کا پتہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ شمالی نائجیریا میں الحاج ابو بکر گومی، الحاج امین الدین، الحاج ابو بکر حسن گوارزو، الحاج نبی والی ہیں جن کے پتے میں دے سکتا ہوں۔

نائجیریا میں ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب انگریزی جاننا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رد قادیانیت پر آسان انگریزی میں کتابیں لکھی جائیں اور وہاں بھیجی جائیں۔ اب تک اس موضوع پر انگریزی زبان میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، تقریباً سب ہی میری نظر سے گزری ہیں اور سب بہت مفید ہیں۔ لیکن دو باتیں ان سب کتابوں میں مشترک ہیں جو نائجیرین قاری کے لیے ان کی افادیت کم کر دیتی ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کتابوں میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، اس کا معیار اتنا بلند ہے کہ معمولی انگریزی دان ان کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ کتابیں نائجیریا یا مغربی افریقہ کے دوسرے ممالک کے لوگوں کی نفسیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں لکھی گئی ہیں۔

ان باتوں کے پیش نظر میرے چند احباب (جن میں نائجیرین، ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی بھی شامل تھے) نے مجھ پر یہ زور دیا کہ میں اس موضوع پر ایک کتاب لکھوں جس میں زبان کو اتنا آسان بنادوں تاکہ وہاں کے ثانوی مدارس کے اونچے درجوں کے طلباء بھی سمجھ سکیں۔ میں نے چونکہ کئی سال تک ثانوی مدارس میں انگریزی زبان پڑھائی ہے اس لیے زبان کا معیار مقرر کرنا مشکل نہ تھا۔ چنانچہ ۱۹۸۲ء کے شروع میں، میں نے یہ سلسلہ شروع کیا اور اللہ کے فضل سے ایک سال کی محنت کے بعد کتاب مکمل کر لی۔ ۱۹۸۳ء کے اکتوبر میں مستقل طور پر پاکستان چلا آیا۔ کتاب کے مسودہ کی نقول مختلف اداروں کو بھیجیں لیکن کسی نے اسے طبع کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ میں نے یہ کتاب کسی دنیوی فائدے

صفحہ 81

کے لیے نہیں لکھی ہے۔ مجھے اس کا اجر صرف اللہ سے حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ کوئی بھی ادارہ اسے طبع کرا دے اور مغربی افریقہ کے ممالک میں تقسیم کرا دے۔ اللہ اس کو بھی ثواب دے گا۔

اس کتاب سے نہ صرف نائجیریا کے مسلمانوں کو قادیانیت کے فریب سے آگاہی ہو گی بلکہ مغربی افریقہ کے دوسرے ممالک کے مسلمان بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ گھانا، ڈھومی سیرالیون میں بھی قادیانیت کے کچھ جراثیم ہیں۔ گھانا کے ایک عالم جناب صلاح الدین صاحب کی کتاب "Emergence Of Ahmadiyya In West Africa" سے اس ملک میں قادیانیت کے خطرے کا پتہ چلتا ہے۔

مجھے امید ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد کچھ حضرات اس کتاب کو چھپوا کر اور تقسیم کرا کے اللہ کے سامنے سرخرو ہونے کی سعادت حاصل کریں گے۔

(ہفت روز "ختم نبوت" جلد ۶، شمارہ ۱۰، اگست ۱۹۸۷ء از قلم : عبد الحق تمنا)

حضرت رائے پوریؒ اور شاہ جیؒ

مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یوں ہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید میاں حالات و کیفیات کیا چیز ہے اصل تو یقین ہی ہے، اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرما دے۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت کے سامنے بخاری صاحب کے لڑکوں کا تذکرہ آیا۔ فرمایا کہ شاہ صاحب کے لڑکے ہیں، میں تو ان کا نوکر ہوں۔

("سوانح حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ" ص ۲۹۴ از مولانا سید ابوالحسن ندوی)

درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے (مؤلف)
صفحہ 82

قادیان میں مسلمانوں کی حالت

قادیان کا کوئی مسلمان بتا سکتا ہے کہ وہاں اس نے کسی مسلمان کی دکان سے گوشت خرید کر کھایا ہو کسی مسلمان دکاندار سے دودھ دہی لیا ہو، مسلمان تو وہاں دودھ دہی کی دکان تک نہ کھول سکا۔ مسلمان مجبور تھا کہ اگر وہ خوردونوش کے سلسلہ میں کوئی چیز لے کر کھانا چاہے تو مرزائی کے ہاتھ سے اور مرزائی کی دکان سے خرید کر کھا سکتا تھا۔ لیکن ایسا کوئی نہیں تھا جو مسلمان کی دکان سے کوئی سودا خرید کرتا ہو۔ تجارتی معاملات میں مسلمانوں کے ساتھ مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ تھا۔

(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )

پاکستان پر قبضہ کا منصوبہ

مرزائی آہستہ آہستہ ملک پر قبضہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کشمیر اور مشرقی پنجاب کے ہزاروں مہاجرین در بدر دھکے کھا رہے ہیں۔ وہ نان جویں کو ترس رہے ہیں۔ وہ اس ملک میں فاقہ کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ادھر مرزائیوں کا حال دیکھئے۔ دکانوں، کارخانوں اور بڑی بڑی فیکٹریوں پر قبضہ ہے۔ ہزارہا مربع زمین الاٹ ہے۔ ربوہ کی اسٹیٹ، محمود آباد، ظفر اسٹیٹ انہوں نے اس انگریز کے سہارے کیا کچھ نہیں حاصل کر رکھا؟ یہ سارا پاکستان جسے ہزار ہا سید زادیوں، حافظ قرآن بیٹیوں، خدا اور رسولؐ کا نام لینے والی عورتوں کی قربانی دے کر حاصل کیا ہے، اگر اب اسے مرزا بشیر خلیفہ قادیان کے سپرد کر دینا ہے تو ہماری اور تمہاری جنگ ہے۔ یہ سب فعل فرنگی کرا رہا ہے۔ انگریز نے سلطان ٹیپو اور بہادر شاہ ظفر کی لاشوں پر بہت سی ریاستوں کی بنیاد ڈالی تھی۔ آج بھی لیاقت اور افتخار اور شیر خاں کی لاش پر مرزائی اسٹیٹ کے منصوبے باندھے جا رہے ہیں۔ مرزائیوں کے یہ ۸۰ فیصدی فوج میں کلیدی عہدے، دس ہزار فرقان بٹالین کی مسلح فوج اور ربوہ جاتا ہوا سکہ پکڑا

صفحہ 83

جائے! آخر یہ سب کس لیے؟

(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں (مولف)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغ اور

لٹریچر کے اثرات

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جو اپنی نوعیت کا منفرد تبلیغی نظام ہے۔ مجلس نے مبلغین کی ایک ایسی جماعت تیار کی جو ہر علاقے میں بلا معاوضہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتی ہے۔ عالمی مجلس کے قائد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ ہمیشہ اپنی تقریروں میں یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ: ”اگر کسی علاقے میں قادیانی اپنے ارتداد اور گمراہ کن نظریات کی تبلیغ کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کرتے ہوں تو عالمی مجلس کے دفتر کو تین پیسے کا ایک کارڈ لکھ دیں۔ جماعت کا مبلغ جماعت کے خرچہ پر وہاں پہنچ جائے گا“۔

چنانچہ جب بھی کہیں سے خط آتا تو فوراً تبلیغ کے لیے وہاں مبلغ پہنچ جاتا تھا اور جب تک قادیانی مبلغ وہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ نہیں جاتا تھا‘ عالمی مجلس کا مبلغ اسی علاقے میں بستی بستی‘ قریہ قریہ گھوم پھر کر تبلیغ کرتا رہتا تھا۔ اس زمانے میں لٹریچر سے زیادہ تقریر اور جلسے کی اہمیت تھی۔ اس لیے عالمی مجلس کی طرف سے مختلف علاقوں میں تبلیغی دورے رکھے جاتے اور مبلغین کرام اپنے سروں پر کتابوں کے صندوق‘ لاؤڈ سپیکر اور بیٹری اٹھا کر پیدل سفر کر کے دیہاتوں میں پہنچ کر جلسے کیا کرتے تھے۔ نہ صرف مبلغین بلکہ خود قائد مجلس حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ بھی مبلغین کے ساتھ پیدل سفر کرتے تھے۔ حضرت مولانا جالندھریؒ کی یہ حالت تھی کہ تھوڑا سا وقت بھی ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کا واقعہ یہ ہے کہ:

صفحہ 84

کسی سفر میں اسٹیشن پر ایسے وقت پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا۔ غور کیا اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے۔ آپ چائے کے سٹال پر گئے۔ چائے نوش کی، پیسے ادا کیے اور چائے والے سے کہا، میرا نام محمد علی جالندھری ہے۔ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا نمائندہ ہوں۔ میرا پتہ یہ ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے تین پیسے کا کارڈ لکھ دینا۔ چنانچہ سات سال بعد اس شخص کا خط آیا کہ ہمارے علاقے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک خاندان کو مرتد کر لیا ہے۔ یہ خط ملتے ہی مولانا وہاں پہنچ گئے۔ قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے۔ نو مرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔

(مجلس تحفظ ختم نبوت' ایک عالمی تحریک' ص ۱۲)

حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اور ایمان افروز واقعہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، جلد نمبر ۴، شمارہ نمبر ۲۱، یکم تا ۷ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں شائع ہوا ہے۔ اس واقعہ سے جہاں مولانا کی تبلیغ سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے، وہاں اس سے ان کی جرات و بہادری کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ واقعہ یہ ہے:

مشہور عالم دین مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک غریب نوجوان میرے پاس آیا اور کہا مولانا ہمارے گاؤں کا بڑا زمیندار قادیانی ہے۔ بڑا فرعون مزاج اور منہ پھٹ ہے۔ سرعام ہمارے علماء کو گالیاں دیتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ یہ مولوی لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ کوئی میرے سامنے آ کر بات کرے۔ چونکہ وہ زور آور ہے اس لیے کوئی اس کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کرتا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ وہاں آکر وعظ کریں اور حیات مسیح ثابت کریں۔ مولانا نے فرمایا، میں نے اسے ایک تاریخ دے دی اور کہا میں از خود تمہارے گاؤں میں تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔ تم ایک دن پہلے گاؤں میں منادی کرا دینا کہ کل دوپہر کو مولوی محمد علی جالندھری تقریر کرے گا۔ پھر میں دی ہوئی تاریخ پر دوپہر سے قبل اس کے پاس پہنچ گیا مگر مجھے دیکھتے ہی وہ نوجوان ہراساں ہو گیا اور کہنے لگا، مولوی صاحب! کام بہت خراب ہو گیا ہے۔ میں منادی کر رہا تھا کہ اس زمیندار نے مجھے بلا بھیجا اور دھمکی دی کہ اگر تمہارے

صفحہ 85

مولوی نے یہاں تقریر کی تو تمہارا اور تمہارے مولوی دونوں کا مار مار کر کچومر نکال دیں گے۔

مولوی صاحب میں غریب مزارعہ ہوں اور اکیلا ہوں۔ اس فرعون سے ڈرتے ہوئے میرا کوئی ساتھ نہ دے گا۔ اس لیے آپ کی تقریر مناسب نہیں۔ مولانا فرماتے ہیں یہ سن کر میں ایک اندرونی کرب میں مبتلا ہو گیا اور اس کی کوٹھڑی میں بیٹھ کر یہی سوچتا رہا کہ اس مشکل کو کیسے حل کیا جائے۔ یونہی شام ہو گئی۔ میں نے اپنے جی میں طے کیا کہ صبح خاموشی سے واپس ہو جاؤں اور پھر کسی دن ملتان سے اپنے رضا کاروں کی فورس ساتھ لاکر یہاں جلسہ کروں۔ پھر جب رات کو سو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص سیدھا آسمان سے اتر کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میں نے احادیث کے مطابق اس کی نشانیاں دیکھ کر پوچھا حضرت! آپ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے فرمایا! ہاں۔ میں نے عرض کیا آپ میرے پاس کیسے تشریف لائے۔ فرمایا میں اس لیے خود آگیا کہ تم میری حیات ثابت نہیں کرتے۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو ایک سو ایک دلائل سے آپ کی حیات ثابت کرتا ہوں مگر اس غریب نوجوان کا خیال آتا ہے۔ اس پر آفت نہ آجائے۔ فرمانے لگے تم میری حیات ثابت کرو‘ انشاء اللہ کچھ نہ ہوگا۔ مولانا نے فرمایا جب میری آنکھ کھلی تو میرا سینہ عزم و طمانیت سے بھرپور تھا۔ میں نے صبح اٹھ کر اس نوجوان سے کہا! اب کے بعد میں تمہارا مہمان نہیں‘ تم میرے میزبان نہیں۔ مگر ایک مسافر سمجھ کر مجھ پر ایک احسان کر دو۔ مجھے ایک ٹین اور بجانے کے لیے ایک لکڑی لا کر دے دو۔ میں خود گاؤں میں منادی کروں گا اور خود ظہر کے وقت تقریر کروں گا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے کو اب کوئی بدل نہیں سکتا۔

میری یہ باتیں سن کر اس نوجوان کا چہرہ مسرت و یقین سے دمک اٹھا۔ کہنے لگا مولوی صاحب میں بے غیرت نہیں۔ آپ کو اکیلا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر وہ گیا اور گاؤں میں منادی کر دی۔ اب اسے کسی نے نہ روکا۔ دوپہر ہوئی تو میں اور وہ دونوں مقررہ جگہ پر پہنچے تو وہاں سینکڑوں آدمیوں کا مجمع تھا۔ مرزائی زمیندار اور اس کے حواری بھی مسلح موجود تھے۔ مولانا نے فرمایا! میں سب حالات کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں کھڑے ہو کر مجھے تقریر کرنی تھی۔ جب میں خطبہ پڑھنے لگا تو وہ زمیندار بلند آواز سے کہنے لگا مولوی صاحب آپ ہمیں نیکی کی باتیں سنائیں‘ نماز روزے کی تلقین کریں‘ ہم شوق سے سنیں

صفحہ 86

گے۔ اگر آپ نے احمدیوں کے متعلق کچھ کہا یا حیات مسیح کا مسئلہ چھیڑا تو (مسلح آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے) پھر آپ یہ دیکھ رہے ہیں۔ خیر نہیں گزرے گی۔ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوا ہی تھا کہ مولانا نے فرمایا میرے سامنے بڑ کا ایک درخت تھا۔ اس کے تنے کے قریب سے ایک قد آور نوجوان اٹھا اور للکار کر مجھ سے مخاطب ہوا مولانا آپ کو خدا کی قسم، جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، کھل کر کہیں۔ یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا دیا اور زبان سے اتنا کہا بہت اچھا ”شکریہ“ پھر میں نے تقریر شروع کر دی۔ ڈیڑھ دو گھنٹے تقریر کرتا رہا۔ جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا، کہا۔ از روئے قرآن و حدیث حضرت مسیح کی حیات ثابت کی۔ کسی دشمن کو جرات نہ ہوئی کہ وہ مجھے روکے۔ مجمع پر ایک سحر طاری تھا۔ جب میں نے تقریر ختم کی تو مجمع عقیدت کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے امڈ پڑا۔ مصافحہ کے لیے ہر ہاتھ بڑھ رہا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا بھئی وہ نوجوان کہاں ہے جس نے زمیندار کے جواب میں مجھے حوصلہ دیا تھا۔ وہ سب کہنے لگے ہم نے تو اسے اس گاؤں میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہم تو یہ سمجھے وہ آپ کا ہی ساتھی ہے ”مگر ہے بڑا دلیر“۔ میں نے کہا ”وہ میرا ساتھی تو نہیں تھا۔ پھر ہم سب خدا کی اس قدرت پر حیرت زدہ رہ گئے“۔

حضرت مولانا جالندھریؒ نے جس انداز سے تبلیغ کا مربوط نظام قائم کیا الحمد للہ، آج بھی عالمی مجلس اس پر کاربند ہے۔ آج بھی اگر کوئی شخص عالمی مجلس کے کسی دفتر کو اطلاع دیتا یا خط لکھتا ہے تو فوراً وہاں کسی نہ کسی مبلغ کو بھیج دیا جاتا ہے اور اس کے نتائج بھی حوصلہ افزا برآمد ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔

آج سے چند سال پہلے مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ صاحب کے پاس شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ سے ایک وفد آیا۔ اس وفد نے مولانا کو بتایا کہ شاہ کوٹ کے نزدیک چک بہوڑو میں ایک ٹھیکیدار قادیانی ہو گیا۔ وہ چونکہ با اثر تھا اس کی وجہ سے ۳۰ کے قریب خاندان بھی مرتد ہو چکے ہیں۔ خطرہ ہے کہ اگر وہاں کوئی جلسہ نہ کیا گیا اور انہیں قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ نہ کیا گیا تو وہ سارا چک ہی مرتد ہو جائے گا۔ مولانا یہ صورت حال سن کر پریشان ہو گئے۔ پریشانی کا یہ عالم تھا کہ کافی دیر تک نیچے گردن کیے پھرتے رہے اور پھر لاہور فون کر کے مولانا اللہ وسایا صاحب کو بلوایا اور ان سے کہا کہ فوراً شاہ کوٹ پہنچو اور وہاں کے دوستوں کو لے کر چک بہوڑو جاکر جلسہ کرو شاید تمہارے وہاں پہنچنے سے وہ لوگ جہنم کا

صفحہ 87

ایندھن بننے سے بچ جائیں اور اگر وہ لوگ واپس اسلام میں داخل نہ ہوئے تو کم از کم چک کے دوسرے مسلمانوں کا ایمان تو محفوظ ہو جائے گا۔ مولانا اللہ وسایا ہدایت ملتے ہی فورا شاہ کوٹ گئے اور وہاں سے دوستوں کے ہمراہ چک مذکورہ پہنچے۔ رات کو جلسہ ہوا۔ تین گھنٹہ تک مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم بھی کیا۔ الحمد للہ اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ تیس کے قریب خاندان جو قادیانیت کے چنگل میں پھنس گئے تھے، اور انہوں نے ربوہ جا کر ”بیعت“ بھی کر لی تھی، دوبارہ مسلمان ہو گئے۔ چند دنوں بعد ٹھیکیدار نے بھی اسلام قبول کر لیا“۔

یہ واقعات بطور نمونہ درج کیے گئے جن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی مجلس کے قائدین اطلاع ملتے ہی مبلغین کو فورا تبلیغ کے لیے روانہ کر دیتے اور جس کے نتائج بھی حوصلہ افزا برآمد ہوتے۔

لٹریچر اور اشاعتی کام کی طرف توجہ

یوں تو لٹریچر کی اشاعت کا سلسلہ پہلے بھی جاری تھا لیکن اس دور میں تبلیغ اور تقریر کو زیادہ اہمیت تھی۔ چونکہ تقریر کے ذریعے تبلیغ، نچلے اور متوسط طبقے کے لیے مفید تھی۔ اونچی سوسائٹی یا سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے قادیانی اس سے محروم تھے۔ اس لیے عالمی مجلس نے تبلیغ کے ساتھ لٹریچر کی طرف بھرپور توجہ دینا شروع کی۔ پرانے دور میں شائع ہونے والے رسائل اور کتابچوں کو دوبارہ نئے اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا۔ نئے کتابچے ترتیب دیے گئے۔ ہفت روزہ ختم نبوت کے نام سے کراچی سے ایک ہفتہ وار رسالے کا اجراء کیا گیا جو ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے اور عوام و خواص، ملازم یا غیر ملازم، افسر غیر افسر، ملک و بیرون ملک سب جگہ یکساں مقبول ہے۔ عالمی مجلس کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے مرزائیوں کی طرف سے ”کلمہ طیبہ کی توہین“ کے نام سے ایک کتابچہ مرتب فرمایا جو ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کر کے اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا گیا۔ اس کتابچے کے علاوہ اور بھی بہت سے کتابچے جن کی فہرست دوسرے مقام پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے) شائع کر کے تقسیم کیے گئے۔ ہفت روزہ ختم نبوت اور تقسیم لٹریچر کے کیا اثرات برآمد ہوئے، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں شائع ہونے والی خبروں سے ان کا

صفحہ 88

اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ خبریں رسالہ ختم نبوت کی ڈیڑھ سالہ فائل سے لی گئی ہیں۔ ڈیڑھ سال پہلے جو خبریں شائع ہو چکی ہیں‘ وہ ان کے علاوہ ہیں۔

بدوملہی سیالکوٹ کے نواحی گاؤں کوٹلی نتھو کے چھ گھرانوں کے ۳۷ افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ ان گھرانوں کے سربراہوں کے نام یہ ہیں: چودھری محمد شریف سندھو‘ محمد مجید سندھو‘ محمد اسلم سندھو‘ محمد امین‘ محمد اکبر اور محمد یوسف۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی‘ جلد نمبر ۵‘ شمارہ ۲۶

لاہور میں ایک قادیانی لڑکی راشدہ خانم نے مرزائیت سے لاتعلقی کا اعلان کر کے اسلام قبول کیا۔

(شمارہ نمبر ۳۰)

چکوال کے ۴۶ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اخباری رپورٹ

(شمارہ نمبر ۳۱)

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں مقیم قادیانی واپڈا دفتر میں ملازم ایک قادیانی ظہیر احمد اور ان کی اہلیہ نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۳۴)

شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں تین قادیانی گھرانوں جن کے سربراہوں کے نام عبدالغفار جٹ وینس موضع پہوڑو چک ۱۸ گ ب‘ عبداللطیف جٹ‘ اٹھواں چک ۱۸‘ اور اللہ رکھا گھمن ہیں‘ نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۳۴)

بھابڑہ ضلع سرگودھا کے ایک نوجوان اکبر علی ولد اصغر علی نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۳۶)

محمود آباد کنری کی دو قادیانی لڑکیوں عابدہ پروین اور ساجدہ پروین دختران محمد شریف قادیانیت سے تائب ہو گئیں۔

مسماۃ ملیحہ احمد دختر سعید احمد اسلام آباد نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۳۷)

کراچی اسٹیل ٹاؤن میں نسیم اختر دختر غلام قادر صاعقہ‘ مبین احمد اور سلیم احمد نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۴۰)

شاہ کوٹ میں ایک قادیانی نوجوان محمد اختر جو نواحی گاؤں پہوڑاں کا رہنے والا ہے‘ نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۴۱)

رسالہ ختم نبوت پڑھنے سے میرے دل کی دنیا بدل گئی۔ ایک قادیانی کے تاثرات

(شمارہ نمبر ۴۱)

صفحہ 89

فیصل آباد کے نواحی چک ۶۹ رب ٹھیٹ پورہ کلاں میں چالیس افراد نے قادیانیت سے توبہ کر لی۔ جن خاندانوں نے توبہ کی‘ ان کے سربراہوں کے نام یہ ہیں۔ عبدالحمید‘ نذیر احمد‘ بشیر احمد‘ رشید احمد‘ عبداللطیف‘ معراج دین‘ محمد اکرم‘ محمد اسلم۔ (شمارہ نمبر ۴۷)

شادن لنڈ میں حیدرانی قوم کے چالیس افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ ان میں چند مشہور نام یہ ہیں: غلام حیدر خان حیدرانی‘ حاجی عبدالغفور خان حیدرانی‘ محمد شریف خان‘ محمد یسین خان سپرنٹنڈنٹ واپڈا‘ ڈاکٹر نیاز احمد خان۔ (ختم نبوت‘ ۱۸جون ۱۹۸۷ء)

پشاور میں کیپٹن ڈاکٹر جمیل الرحمن جو ایک بہت بڑے قادیانی کا نواسہ‘ دوسرے کا بھانجہ اور تیسرے کا فرزند ہے۔ عالمی مجلس کے جلسہ کے دوران حلفیہ بیان میں قادیانیت سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ (۲۵جون شمارہ ۳)

قصبہ روڈہ ضلع خوشاب میں ایک نوجوان غلام محمد قوم بوڑانہ نے عید کے اجتماع میں قادیانیت سے توبہ کی۔ (۲۳ جولائی‘ شمارہ نمبر ۱۶)

کراچی اسٹیل مل میں ایک نوجوان نعیم نصراللہ نے اسلام قبول کیا۔ (۳۰ جولائی‘ شمارہ نمبر ۱۷)

اسی جگہ ایک اور نوجوان نے بھی اسلام قبول کیا۔ (شمارہ نمبر ۱۶)

باغ و بہار تحصیل خان پور میں ایک شخص مبشر احمد اور ایک دوسرا شخص محمد رمضان قادیانیت سے توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ (شمارہ نمبر ۱۷)

ٹھیٹ پورہ ضلع فیصل آباد میں عبدالمجید‘ اس کی اہلیہ اور نصیر احمد مسلمان ہو گئے۔ (شمارہ نمبر ۱۷)

چک نمبر ۱۲-۶ آر نزد فقیر والی ضلع بہاولنگر میں فیض احمد ولد حسن‘ محمد منیر احمد ولد فیض محمد اور رشید احمد ولد فیض محمد نے اسلام قبول کر لیا۔ (شمارہ نمبر ۱۷)

نانگی ضلع تھرپارکر سندھ کے نزدیکی گوٹھ محمد آباد کے عبدالرشید ولد میاں شمشیر نے قادیانیت سے توبہ کی۔ (شمارہ نمبر ۱۷)

مردان کے مشہور قادیانی خاندان جس کی سربراہ مشہور لیڈی ڈاکٹر اقبال انور صاحبہ ہیں‘ بمعہ اپنے تین بیٹوں قاضی افسر انور‘ قاضی مظفر انور‘ قاضی منتظر انور کے مسلمان ہو گئیں۔ (شمارہ نمبر ۲۰)

صفحہ 90

قادیانی جماعت صوبہ پنجاب کے سربراہ مرزا عبدالحق کے ڈرائیور اور فرار کے وقت مرزا طاہر کے محافظ دستے کے ڈرائیور اختر حسین رانا ساہیوال ضلع سرگودھا نے اسلام قبول کیا۔ جن کا انٹرویو بھی شائع ہوا۔ (شمارہ نمبر ۲۱)

کراچی میں ایک نوجوان ریحان عالم ولد محمد اسمعیل ساکن کھوکھرا پار ملیر کالونی نے دفتر ختم نبوت میں اسلام قبول کیا۔ (شمارہ نمبر ۲۳)

منڈی یزمان بہاولپور میں ایک قادیانی محمد اقبال نے قادیانیت سے بمعہ اہل و عیال توبہ کرلی۔ (شمارہ نمبر ۲۴)

کوٹری ضلع دادو میں جناب محمد اکرم صاحب سائٹ ایریا نے بمعہ گھر کے آٹھ افراد کے اسلام قبول کیا۔ (شمارہ نمبر ۲۴)

اکوڑہ خٹک میں ایک قادیانی جناب عبدالباسط موضع بار خیل پشاور‘ جن کا وہاں کے مشہور قادیانی خاندان سے تعلق ہے‘ نے اسلام قبول کر لیا۔ (شمارہ نمبر ۲۴)

سنجر چانگ تحصیل ٹنڈو اللہ یار سندھ میں جناب طفیل محمد ولد دین محمد نے مع اپنی اہلیہ‘ تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے اسلام قبول کیا۔ (شمارہ نمبر ۲۱)

ایک قادیانی خاتون مسماۃ حمیدہ بیگم دختر چودھری سلطان علی قوم ورک‘ مغل پورہ لاہور نے دفتر ختم نبوت پہنچ کر اسلام قبول کیا۔

مردان میں مشہور قاضی خاندان کے جناب قاضی نثار احمد صاحب‘ ان کی اہلیہ اور صاحبزادے نے علی الاعلان اسلام قبول کر لیا۔ (شمارہ نمبر ۳۳)

رسالہ ختم نبوت کی برکت سے مظفر آباد آزاد کشمیر میں قادیانی جماعت کے امیر جناب نجیب اللہ علی نے اسلام قبول کر لیا۔ (شمارہ نمبر ۳۷)

چک ۲۰ مگلوال میں ۳۰ قادیانی مسلمان ہو گئے۔ خاندان کے سرکردہ افراد کے نام یہ ہیں: کیپٹن شاہ نواز سلہری‘ صو بیدار محمد عظیم‘ محمد عزیز‘ محمد فاروق۔ (شمارہ نمبر ۴۰)

باغ و بہار تحصیل خان پور میں عبدالحمید نے بمعہ ۱۵ افراد خانہ کے اسلام قبول کر لیا۔ (شمارہ نمبر ۴۰)

فیصل آباد کے چک ۸۴ ج ب سرشمیر روڈ میں ایک قادیانی خاندان کے آٹھ افراد زہرہ بی بی زوجہ غلام محمد‘ محمد اصغر‘ محمد اشرف‘ محمد اکرم‘ محمد عرفان‘ عشرت پروین‘ نصرت

صفحہ 91

پروین‘ مسرت پروین نے قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۴۰)

باغ و بہار میں ایک طالب علم رفاقت نامی نے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۴۵)

ضلع اٹک کے موضع کسراں کے معروف قادیانی اسلم کی بیوی اور چار بچوں نے قادیانیت سے توبہ کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔

(شمارہ نمبر ۴۵)

ان شائع شدہ خبروں کے علاوہ بھی بہت سے قادیانی مسلمان ہوئے جن کی اطلاعات قومی اخبارات میں شائع ہوئیں یا کسی وجہ سے شائع نہیں ہو سکیں۔ جیسے ملتان مرکزی دفتر میں واپڈا کے ایک افسر جناب نصیر احمد صاحب نے بمعہ خاندان اسلام قبول کیا۔ اب وہ اسلام اور ختم نبوت کے سپاہی ہیں۔ الغرض یہ عالمی مجلس کی تبلیغی خدمات‘ ہفت روزہ ختم نبوت اور لٹریچر کے اثرات ہیں جو اندرون ملک ظاہر ہوئے۔ اب بیرون ملک اثرات کی مختصر جھلک ملاحظہ فرمائیے:

بنگلہ دیش

بنگلہ دیش جب مشرقی پاکستان تھا اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کا تبلیغی کام انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتا رہا۔ متعدد مقامات پر دفاتر قائم ہوئے۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری، حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر نے بڑے بڑے شہروں کے دورے کر کے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت سے آگاہ کیا۔ بڑی بڑی کانفرنسوں سے خطابات اور تربیتی کنونشن کے علاوہ جماعت کے نظم و نسق کی طرف بھر پور توجہ دی گئی۔ وہاں پر جماعت کے باضابطہ مبلغین کا تقرر کیا جنہوں نے بھرپور کام کیا۔ جن میں مولانا محمد ہارون اسلام آباد جو آج کل ابو ظہبی میں رہائش پذیر ہیں، خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے ایڈیٹر جناب مولانا عبدالرحمن یعقوب باوا مشرقی پاکستان میں جماعت کے روح رواں تھے۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۱ مارچ ۱۹۸۰ء کو وہاں دوبارہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حضرت مولانا قاضی معتصم باللہ امیر، جناب مولانا نور حسین صاحب، ناظم اعلیٰ اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خلیفہ مجاز حافظ جی حضورؒ سرپرست قرار پائے۔ مختصر عرصہ میں ۵۰ کانفرنسیں...... ۵ مساجد میں درس قرآن ہوئے۔ دس ہزار ہینڈ بل اور پانچ ہزار پوسٹر

صفحہ 92

تقسیم کیے گئے۔ (ختم نبوت، جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۱)

جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے ہر شعبان میں رد قادیانیت کورس ہوتا ہے۔ عالمی مجلس کے مشہور راہنما اور مناظر حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب مدظلہ اس کورس میں رد قادیانیت پر لیکچر دیتے ہیں۔ چنانچہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے جامعہ مذکور کے فضلا کرام جو حال ہی میں پاکستان سے دینی تعلیم کی تکمیل اور رد قادیانیت کے کورس کے بعد وطن واپس گئے تو انہوں نے وہاں جا کر قادیانیت کے خلاف زبردست جہاد شروع کر دیا۔ وہاں سے آمدہ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی بھارت سے ملحقہ مشرقی سرحد ”اگر تلا“ سے تین کلومیٹر کے فاصلہ پر ”اکھاڑو“ میں قادیانی مراکز مسلمانوں کے قبضہ میں آ گئے۔ وہاں چھ قادیانی مراکز پر مسلمانوں نے قبضہ کیا، جن میں بھادو گر، گھاڑو، موڑا ٹیل، کلیشر، کاندی پارہ، برہمن باڑیہ شامل ہیں۔ ۳۸ قادیانی مسلمان ہوئے جبکہ ۲۰ جون ۷۸ء سے ۱۰ اگست ۷۸ء تک دو ماہ کے قلیل عرصہ میں قادیانیت سے تائب ہونے والوں کی تعداد ۱۷۷ ہو گئی ہے۔ ان تمام مقامات پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخیں قائم ہیں۔ ہفتہ وار انٹرنیشنل ختم نبوت کراچی سے مسلسل پہنچ رہا ہے اور دفتر مرکزیہ ملتان سے لٹریچر بھجوایا جا رہا ہے۔ وہاں پر طلباء کی جماعتیں بھی بن گئی ہیں اور کام کی رفتار روز بروز ترقی پر ہے۔

ضلع سنام گنج سے آمدہ رپورٹ کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالحق صاحب دامت برکاتہم کی سربراہی میں کام شروع ہے اور لوگ قادیانیت سے تائب ہو رہے ہیں۔

چاٹگام، رئیس الجامعہ الاسلامیہ نے اپنے مکتوب کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ انشاء اللہ بنگلہ دیش میں قادیانیت جلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ قادیانیت کا برما میں جنازہ نکل گیا ہے۔ ۵۰۰ قادیانیوں نے مفتی اعظم برما مولانا مفتی محمود کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس سے بقیہ قادیانی شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ جمعیتہ علماء برما شب و روز قادیانیت کے خلاف مصروف عمل ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر بھرپور طور پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ رنگون

صفحہ 93

قادیانیت سے بالکل پاک ہو گیا ہے۔ خدا کی مہربانی سے یہاں کے علماء کرام بہرطور رد قادیانیت کے سلسلہ میں بے باک واقع ہوئے ہیں۔

بنن افریقہ

یہاں سے قادیانیوں کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ عوامی جمہوریہ بنن کی وزارت داخلہ نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قرارداد منظور کی اور تمام محکموں کو اس پر عمل در آمد کا حکم دیا ہے۔ حکومت کی اس کارروائی سے تمام قادیانی مراکز بند ہو گئے ہیں۔ بنن کے شہر پونو نو میں قادیانی مرکز بند ہونے پر مسلمانوں نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔ اس فیصلہ کے پیچھے بنن کے مسلمانوں اور علماء کی کوششوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر جو یہاں پر پہنچا اس نے قادیانیت کو سمجھنے میں بہت بڑی راہنمائی کی۔ اس سے قادیانیت کی حقیقت آشکارہ ہو گئی۔

ریڈیو، ٹی وی پر قادیانیت کی تردید کا کام ہوا اور یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس فتنہ سے ہمیں نجات دلائی۔

مالدیپ

اخبار المسلمون لندن کی رپورٹ کے مطابق مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم کو جب علم ہوا کہ ایک قادیانی مبلغ مسلمانوں میں اپنے مذموم عقائد کا زہر گھول رہا ہے تو انہوں نے فوری طور پر اس قادیانی مبلغ کو مالدیپ سے نکال دینے کا حکم دے دیا۔

سوری نام

امریکہ کی ریاست سوری نام میں مجاہد ختم نبوت محمد جیاد کی شبانہ روز مخلصانہ جدوجہد سے آٹھ صد قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ محمد جیاد سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مسلسل رابطہ اور لٹریچر کی ترسیل و تقسیم سے قدرت نے یہ فضل و کرم فرمایا کہ قادیانیت کے دام تزویر سے وہاں کے لوگ بچ گئے۔ اس سلسلہ میں مجاہد ختم نبوت جناب محمد جیاد کا مکتوب ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 94

آپ کی ارسال کردہ کتب ملیں ۔ پڑھ کر مرزائیت کی حقیقت سے آگاہی ہوئی۔ ان کتابوں کی بدولت میں نے ریڈیو پر اپنا پروگرام پیش کیا جو ہفتے میں دو دن ہوتا ہے اور آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ تقریباً آٹھ سو افراد جو مرزائی تھے‘ اب مرزائیت سے تائب ہو گئے ہیں۔ کل کی بات ہے کہ مزید تین افراد قادیانیت سے تائب ہو کر ہماری تنظیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتابوں اور لٹریچر کو سوری نام کے یہودیوں‘ عیسائیوں اور قادیانیوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ آپ کے مرسلہ قرآن مجید کے نسخے بھی مل گئے ہیں۔

(ختم نبوت‘ جلد نمبر ۵‘ شمارہ نمبر ۱‘ از قلم: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری)

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا مینارہ الٹ گیا

یہ رپورٹ بنگلہ دیش سے ہمیں کافی دیر سے موصول ہوئی ہے۔ چونکہ رپورٹ بہت اہم ہے اس لیے ہم اسے شائع کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مرزا طاہر بنگلہ دیش کے مسئلہ پر بہت پریشان ہے۔ اور اس نے اپنی تقریر میں اس پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ دنوں ہفت روزہ ختم نبوت میں برہمن باڑیہ بنگلہ دیش میں ایک قادیانی قلعہ کی فتح اور سینکڑوں افراد کے قبول اسلام کی رپورٹ چھپی ہے۔ اب کچھ اور قلعے بھی فتح ہو چکے ہیں اور سینکڑوں خاندان قادیانیت چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں۔ پہلے قلعے کی فتح کے بعد نوجوانان تحفظ ختم نبوت نے تحریک ختم نبوت کو مزید تیز کر دیا جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کا دوسرا قلعہ جو کالیٹما میں واقع ہے‘ وہ بھی فتح ہو چکا ہے اور اب وہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ الحمد للہ جبکہ وہاں سات خاندان بھی اسلام قبول کر کے قادیانیت پر لعنت بھیج چکے ہیں۔ قادیانیوں کا ایک اور قلعہ ”کرم پور“ میں واقع تھا۔ اس قلعہ کو بھی ختم نبوت کے جیالے اور عشق رسالت کے دیوانے نوجوانوں نے مقامی مسلمانوں کے تعاون سے اپنے قبضے میں لے لیا‘ جسے ”مسجد بیت النور“ کا نام دے دیا گیا۔ اس کی حفاظت کے لیے ایک ختم نبوت کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کرم پور میں ۶۵ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا

صفحہ 95

ہے۔ اس کے قریب ”دیب گرام“ میں بھی ان کا قلعہ تھا۔ اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ وہاں ۳۰ خاندان مرزائیت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

قرار دینے کی تحریک بھی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلہ میں دستخطی مہم چلائی گئی جو وزارت داخلہ کو بھیجی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک وفد ڈھاکہ کے بڑے بڑے علماء و مشائخ کو لے کر وزیر مذہبی امور کو مل چکا ہے۔ قادیانیوں نے لندن اور پاکستان سے پمفلٹ بھیجے ہیں تاکہ اس تحریک کو ناکام بنایا جائے لیکن اب قادیانیوں کے مقدر میں ذلت لکھی جا چکی ہے۔

مقابلہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی۔ جس میں راقم ابو القاسم صدر، مولانا حسین احمد نائب صدر، جناب شبیر احمد ایل ایل بی ناظم اعلیٰ نے ایمان افروز اور قادیانیت شکن خطاب کیا۔ اس جلسہ میں ۱۹ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد نو مسلموں اور مسلمانوں نے مل کر قادیانی عبادت گاہ پر قبضہ کر لیا۔ اب وہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں باقاعدہ جماعت کی نماز شروع ہو گئی۔ تعلیم اور درس کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ اب تک ۷۶ خاندان قادیانیت چھوڑ چکے ہیں۔ صرف چھ خاندان باقی ہیں جو مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے شہر چھوڑ گئے ہیں۔

کے لیے آیا۔ اس میں حضرت مولانا نور حسن صاحب، حضرت مولانا عبد الجبار، حضرت مولانا نور الاسلام، حضرت مولانا عبد العلیم، حضرت مولانا منیر الزمان وغیرہ شامل ہیں۔ ان حضرات نے وہاں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا اور نوجوانوں کو مبارک باد دی۔ تحریک جاری ہے اور جاری رہے گی۔ نوجوانوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے قادیانیت ختم کر کے دم لیں گے۔

آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے پر زور درخواست ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا پروگرام بنائیں اور ان قلعوں کا معائنہ کریں اور اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔ ہم رسالہ ختم نبوت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں

صفحہ 96

بیداری کی زبردست لہر اٹھی ہوئی ہے۔ پرچہ جاری رہنا چاہیے۔ شکریہ۔

مرزا طاہر کا اعتراف

کراچی ’ہفت روزہ ختم نبوت میں گزشتہ دنوں برہمن باڑیہ میں سینکڑوں قادیانیوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔ قادیانی عموماً ایسی خبروں کو ”مولویوں کا جھوٹ“ کہہ کر تردید کر دیا کرتے تھے لیکن بنگلہ دیش کے علاقہ برہمن باڑیہ میں قادیانیوں کے خلاف انقلاب اور بیداری کی جو لہر اٹھی ہے اور جس طرح وہاں سینکڑوں قادیانی خاندان مسلمان ہوئے ہیں۔ قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا کو اس کی تردید کی جرات نہ ہوسکی۔ ۱۸ ستمبر کو جمعہ کے دن لندن میں جو لیکچر جھاڑا‘ اس میں اس نے دکھی دل کے ساتھ بنگلہ دیش میں برہمن باڑیہ اور اس کے ماحول میں قادیانیت چھوڑنے والوں کو مرتد قرار دیا اور اسے مولویوں کے شدید مظالم سے تعبیر کیا اور اپنی جماعت کو ہدایت کی ہے کہ جہاں جہاں بھی ارتداد ہوا ہے‘ یا کمزوریاں دکھائی گئی ہیں‘ وہاں کی انتظامیہ کو بحیثیت ملک سارے ملک کی انتظامیہ کو آئندہ کے لیے جماعتی حفاظت میں بہتر سامان پیدا کرنے ہوں گے۔ (از ختم نبوت‘ شمارہ نمبر ۲۰)

(ضمیمہ ماہنامہ تحریک جدید ربوہ‘ ستمبر ۱۹۸۷ء‘ رپورٹ: مولانا ابو القاسم ۔ بنگلہ دیش)

اسرائیل سے مرزائیل

صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے میں نے ملاقات میں عرض کیا تھا کہ جناب دس ہزار روپے کا ایکڑ پچاس ہزار روپے میں قادیانی خرید رہے ہیں۔ اپنے شہر کی حدود کو وسیع کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ جا کر پڑھو کہ اسرائیل کے یہودیوں نے اسرائیل اسی طرح بنایا تھا۔ انہوں نے بھی فلسطینیوں کی زمین خریدی تھی اور پھیلتے چلے گئے تھے۔ پھر آخر سازشوں کے ذریعے بیرونی طاقتوں کی مدد سے اسرائیل بن گیا۔

(خطاب مولانا تاج محمودؒ)

صفحہ 97
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جلا دے شعلہ آواز سے

(مولف)

پاگل کہیں کا

دیکھو! مرزا صاحب نے صاف کہہ دیا جو مجھے نہ مانے، اس کی ماں کنجری! یہ نہیں کہا کہ جو نماز نہ پڑھے اس کی ماں کنجری! یہ نہیں کہا کہ جو جھوٹ بولے، اس کی ماں کنجری، جو شراب پیئے اس کی ماں کنجری! سبحان اللہ کیسی پاک صاف شریف زبان ہے۔ معلوم ہوتا ہے آب زم زم کے ساتھ دھولی ہوئی ہے اور کہا جو مجھے نہیں مانتے، جنگل کے سور اور عورتیں ان کی کتیاں ہیں۔ یہ سوروں اور کتیوں کا میل کیا ہے؟ اگر یہ کہتا کہ جو نہیں مانتے وہ سور اور عورتیں سورنیاں ہیں، تب تو جوڑ بنتا تھا۔ یہ سور اور کتیوں کا کیا جوڑ؟

(خطاب مولانا محمد علی جالندھری)

تحریک رد مرزائیت کے تین مجاہد

تیرہویں صدی کے آخر اور چودھویں کے شروع میں پنجاب کے قصبہ ”قادیان“ سے ایک کذاب انسان جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھ کر رونما ہوا۔ جس نے اپنے متبعین کے علاوہ تمام مسلمانان عالم کو کافر کہنا اپنے لیے طرۂ امتیاز سمجھا اور آخر دم تک اس کا یہی محبوب مشغلہ رہا۔

برطانوی سامراج کے مامور کردہ اس کذاب نے اپنی ولایت، مجددیت، محدثیت، مہدویت، مسیحیت اور نبوت کا ڈھونگ رچایا۔ آیات قرآنی اور احادیث رسول حقانی کی تحریف کو اپنے لیے ڈھال بنایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء والمرسلین، حبیب کبریا رسول مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی شان

صفحہ 98

میں توہین و تنقیص کے حملے کیے۔ فضائل و مراتب اور معجزات کا انکار کیا۔ بالخصوص سید عالم خاتم النبین ﷺ کے معجزۂ شق القمر کے انکار کے علاوہ لا تعداد معجزات کو صرف تین ہزار تک محدود گردانا اور اپنے نام نہاد طلسمات کی تعداد دس لاکھ سے زائد بیان کر کے معجزات کی حیثیت سے ان کا ڈھنڈورا پیٹ کر افضلیت کے دعوے الاپے۔ حتیٰ کہ عین خدا ہونے کا دعویٰ تک کر دیا۔

مرزا قادیانی کے ان دعوؤں سے عالم اسلام کے قلوب مجروح ہوئے۔ عاشقان رسول انام تڑپ اٹھے۔ شمع نبوت کے پروانوں نے اپنا اپنا محاذ سنبھال لیا اور اس کے استیصال کے لیے شب و روز وقف کر دیے۔ بریلی، دہلی، لاہور، امرتسر، راولپنڈی، آگرہ، بمبئی، مراد آباد، پنجاب، یو۔پی، سندھ غرض پاک و ہند کے علمائے ربانی کے علاوہ مصر و شام اور حرمین شریفین (زادھما اللہ شرفاً و تعظیماً) کے علمائے حقانی نے اپنا اولین فرض سمجھتے ہوئے مرزا پر فتوائے کفر و ارتداد صادر فرمایا اور اس کی امت کے ساتھ میل جول، مناکحت اور ان کے ذبیحہ کو حرام قرار دیا۔

انگریزوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں پے در پے شکست کھانے کے بعد انتقامی جذبے سے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا پروگرام بنایا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے میدان کارزار میں نمٹنا ان کے بس کی بات نہیں، اس لیے انہوں نے مختلف سازشوں کے ذریعہ جذبۂ عشق رسول اور جذبۂ جہاد ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے انگریزوں نے جن لوگوں کو استعمال کیا، ان میں سرفہرست مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریز کے ایماء پر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور جہاد کو حرام قرار دیا۔ مرزا کے اس جھوٹے دعوے کے بعد فوراً ہی علمائے حق نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے دعویٰ کی قلعی کھول دی۔ اس فتنہ ارتداد اور متنبئ قادیان کے استیصال کے لیے جن اکابر علماء نے اہم کردار ادا کیا، ان کی خدمات کا مختصر خاکہ پیش کرنے سے پہلے ایک عظیم انکشاف ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ جو رد مرزائیت میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

عظیم انکشاف

بٹالہ کے علماء و مشائخ کرام سے مرزا غلام احمد قادیانی کے آباء و اجداد کو بے پناہ

صفحہ 99

عقیدت و ارادت تھی۔ گاہے گاہے مرزا غلام مرتضیٰ (پدر مرزا غلام احمد) بھی بٹالہ حاضر ہوتا رہتا تھا۔ ان دنوں مولانا پیر سید حسین شاہ صاحب قادری ابن سید محی الدین قادری فاضل بٹالوی زیب سجادہ تھے۔ سید ظہور حسن قادری‘ بٹالوی اپنے فرزند مولانا عبدالقادر بٹالوی کے نام اپنے ایک مکتوب میں اپنے والد ماجد (مولانا پیر حسن شاہ صاحب قادری) کے اس عظیم انکشاف کا اظہار فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:

مرزا غلام احمد قادیانی ایک روز مولانا پیر حسن شاہ صاحب قادری کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدۂ اہل سنت و جماعت پر ثابت قدم رہنا اور خواہشات نفسانیہ اور ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جانا۔ جب یہ کلام حافظ عبدالوہاب صاحب (جو حضرت کے شاگرد اور مرید اور یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے) نے سنا‘ تو عرض کیا حضور! آپ نے جس طرح ہدایت فرمائی ہے‘ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا کہ کچھ مدت بعد اس شخص (غلام احمد) کا دماغ خراب ہو جائے گا اور یہ نبوت کا دعویٰ کر دے گا۔ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی عطا سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان سے قرن شیطان کا ظہور ہو گا اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ (ارشاد المسترشدین‘ صفحہ ۱۶۱)

اس پیش گوئی کے ۳۶ سال بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحیت و نبوت کا دعویٰ اگل دیا۔ مرزا کے دعویٰ نبوت کے بعد جن علماء کرام نے اسوۂ صدیقی پر عمل پیرا ہو کر اس کا مقابلہ کیا‘ ان میں سے تین نامور مجاہدین کا ذکر قارئین کی خدمت میں پیش ہے:

قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی

حضرت مولانا قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی (کورٹ انسپکٹر پولیس ، سشنز لدھیانہ) اہل سنت کی وہ عظیم المرتبت شخصیت اور مقتدر ہستی ہیں جنہوں نے زبان و قلم سے فرقہ باطلہ کے خلاف ڈٹ کر جہاد کیا اور وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ جب قاضی صاحب کی شہرۂ آفاق تصنیف ”انوار آفتاب صداقت“ کا ظہور ہوا تو ملت اسلامیہ کے اکابر علماء و مشائخ نے زبردست خراج تحسین سے نوازا اور تقاریظ سے اس لاجواب تصنیف کو مزین فرماتے ہوئے آپ کے علم و فضل پر بھی مہر تصدیق ثبت فرمائی جن میں مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلویؒ کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔

صفحہ ۱۰۰

ناموس رسالت پر جب حملہ ہوا تو قاضی صاحب کا راہوار قلم رد مرزائیت میں خوب چلا۔ ۱۸۹۸ء مطابق ۱۳۱۶ھ میں آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام کے رد میں ”کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام احمد قادیانی“ تصنیف فرمائی جو علمائے کرام کی تصدیق و تقاریظ کے ساتھ ۱۸۹۸ء میں لاہور سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد بھی قادیانی کذاب کے رد میں آپ برابر لکھتے رہے اور درج ذیل کتابیں آپ کے رشحات قلم کی یادگار ہیں:

۱۳۳۳ھ، لاہور۔

مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین دبیر

مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب دبیر (م ۱۳۶۵ھ) پنجاب کے ان نامور علماء میں سے ہیں جنہوں نے رد مرزائیت میں نمایاں کردار انجام دیا۔ ضلع جہلم کی ایک غیر معروف بستی موضع بھیں آپ کے مولد و مسکن کے باعث دور دور تک مشہور ہوئی۔ جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے وقت آپ کی عمر چار پانچ سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر لاہور اور امرتسر کے مختلف مدارس سے علوم و فنون کی تکمیل کر کے اپنے گاؤں میں درس و تدریس کا سلسلہ قائم کیا۔ سیال شریف میں حضرت خواجہ محمد الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حاصل تھا۔ نہایت ذکی، سلیم الطبع، وجیہہ، بلند قامت، مضبوط جسامت، وسیع القلب اور حاضر جواب تھے۔

مرزا قادیانی نے جب اپنے باطل دعاوی کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدان عمل میں کود پڑے۔ آپ کے دست راست مولانا فقیر محمد صاحب جہلمی رحمتہ اللہ علیہ نے ان دنوں جہلم سے ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ جاری کر رکھا تھا۔

صفحہ 101

انہوں نے سراج الاخبار کو رد قادیانیت کے لیے وقف فرماتے ہوئے مولانا محمد کرم الدین صاحب کو اس کا ایڈیٹر مقرر کر دیا اور قادیانی کذاب کا نہایت مدلل اور ٹھوس مضامین سے تعاقب شروع فرمایا۔ جس کی تاب نہ لاتے ہوئے مرزا اور اس کے حواری اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور خفت مٹانے کے لیے اپنی پشت پناہ گورنمنٹ برطانیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

آپ کی لاجواب تحریرات کو بہانہ بنا کر مقدمات کی ابتداء کر دی۔ پہلا مقدمہ مرزا کے حواری حکیم فضل دین بھیروی کی طرف سے ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ء کو زیر دفعہ ۴۱۷ تعزیرات ہند‘ گورداسپور میں دائر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مولانا ابوالفضل کو اس مقدمہ میں باعزت طور پر بری فرمایا۔ حالانکہ اس مقدمہ کی نسبت مرزا قادیانی نے اپنی فتح کے الہامات تواتر سے شائع کیے تھے۔

دوسرا مقدمہ بھی حکیم فضل دین بھیروی ہی نے ۲۹ جون ۱۹۰۳ء کو مولانا کے خلاف گورداسپور میں دائر کیا۔ اس میں بھی آپ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور مرزائیوں کی خوب گت بنی اور مقدمہ خارج ہو گیا۔ پھر تیسرا مقدمہ شیخ یعقوب علی تراب ایڈیٹر اخبار الحکم قادیان کی طرف سے مولانا ابوالفضل اور مولانا فقیر محمد صاحب جہلمی کے خلاف دائر ہوا جس میں ہر دو مستغاثہ علیہما پر ۵۴ روپے جرمانہ ہوا جو ادا کر دیا گیا۔ اس لیے کہ حقیر سی رقم کی خاطر اپیل کرنا غیر مناسب تھا۔ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء کو جہلم میں مرزا کی مطبوعہ کتاب مواہب الرحمٰن تقسیم کی گئی جس میں مولانا ابوالفضل کے خلاف سخت توہین آمیز کلمات استعمال کیے گئے تھے۔ چونکہ مقدمات کی ابتداء مرزائیوں کی طرف سے ہو چکی تھی اس لیے مولانا ابوالفضل نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم فضل دین بھیروی کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا اور یہ مقدمہ حق و باطل کے درمیان عظیم الشان معرکہ کی صورت اختیار کر گیا۔ اہل حق کی طرف سے شہادت میں بڑے بڑے فضلائے کرام پیش ہو رہے تھے اور فریق مخالف کی طرف سے حکیم نورالدین بھیروی‘ خواجہ کمال الدین لاہوری اور اس کے حواری ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے۔ روپیہ پانی کی طرح بہایا‘ الہامات کے ذریعے اپنے حواریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی مگر یہ سب حربے مٹی کے گھروندے ثابت ہوئے اور مقدمہ مرزا کے لیے سوہان روح بن گیا۔ مولانا ابوالفضل نہایت استقلال اور ثابت قدمی

صفحہ 102

سے مقابلہ کرتے رہے۔ عدالت میں جرح کے دوران کئی کئی گھنٹے اتنی زبردست تقریریں کیں کہ مخالفین تلملا اٹھے۔ خواجہ کمال الدین وکیل مرزا بے ساختہ پکار اٹھا کہ مولانا محمد کرم الدین کے دلائل کا جواب نہیں۔ مقابلہ میں مرزا صاحب کو عدالت میں دو لفظ بولنے کی بھی جرات نہ ہو سکی، بلکہ چھ چھ گھنٹے مرزا غلام احمد کو مجرموں کے کٹہرے میں دست بستہ کھڑا ہونا پڑا۔ اس مقدمہ کا پر لطف پہلو یہ بھی ہے کہ مرزا اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اتنا مرعوب ہوا کہ عدالت میں جب پیشی کی تاریخ ہوتی تو بیماری کا سرٹیفکیٹ بھیج دیا کرتا۔ تقریباً دو سال تک یہ تاریخی مقدمہ چلتا رہا۔ آخر ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو گورداسپور کی عدالت سے مرزا کو پانچ صد روپے جرمانہ، عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید محض کی سزا ہوئی۔ جبکہ اس کے حواری حکیم فضل دین کو دو صد روپے جرمانہ یا پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو عبرت ناک شکست اور سخت ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ نیز اس مقدمہ کے بارے میں بھی الہام مرزا کی خوب مٹی پلید ہوئی اور مولانا ابو الفضل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے خوب خوب نوازا۔

ان مقدمات کے علاوہ آپ نے مرزائیت کے خلاف مناظرے فرمائے۔ فن مناظرہ میں آپ نے خاصی شہرت پائی۔ مرزا قادیانی کے بعد مولوی اللہ دتہ وغیرہ مرزائی مناظرین سے مناظرے ہوئے۔ ہر مرتبہ شکست فاش دی اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ خود مرزا غلام احمد جو اس مشن کا بانی تھا، اسے آپ نے پے در پے شکستوں سے دو چار کر دیا تھا۔ اس کے متبعین کی کیا مجال تھی کہ آپ سے بازی لے جاتے۔ الغرض مرزائیوں کو ہر میدان میں آپ سے ذلت کا سامنا نصیب ہوا۔ رد مرزائیت کے سلسلہ میں آپ کی تصانیف میں سے ”مرزائیت کا جال“ اور ”تازیانہ عبرت“ قابل دید ہیں۔

علامہ محمد حسن صاحب فیضی

مولانا علامہ ابوالفیض محمد حسن صاحب فیضی (م ۱۹۰۱ء) مولانا ابو الفضل محمد کرم الدین صاحب دبیر کے چچا زاد بھائی تھے۔ عربی ادب کے ماہر، نظم میں ممتاز، بے نقط عربی قصائد لکھنے میں انہوں نے شہرت دوام حاصل کی۔ مدرسہ انجمن نعمانیہ لاہور میں کئی سال تک مسند درس و تدریس پر جلوہ گر رہے۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب سے بیعت کا

صفحہ 103

شرف حاصل تھا۔ مولانا غلام احمد صاحب پرنسپل مدرسہ نعمانیہ کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے فتنہ کے استیصال میں آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔

۱۴ فروری ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے کہ علامہ فیضی صاحب ایک غیر منقوط عربی قصیدہ لکھ کر مرزا قادیانی کے پاس سیالکوٹ پہنچے۔ مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا اپنے ممتاز حواریوں کے جلو میں بیٹھا ڈینگیں مار رہا تھا کہ یہ شیر نر دھاڑتا ہوا جا پہنچا اور للکار کر فرمایا تمہیں الہام کا دعویٰ ہے تو مجھے تصدیق الہام کے لیے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنا دیں۔ مرزا صاحب اس قصیدہ کو ہکے بکے دیکھتے رہے۔ لیکن اس کی عبارت بھی نہ سمجھ سکے۔ حالانکہ نہایت خوشخط عربی رسم الخط میں تھا۔ پھر اپنے ایک حواری کو دیا۔ اس نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ہم کو تو اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ علامہ صاحب نے اپنا قصیدہ واپس لے لیا اور زبانی گفتگو شروع فرمادی۔ مرزا پر ایسا رعب طاری ہوا کہ

نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن

آخر پکار اٹھا: ”میں نبی نہیں نہ رسول ہوں۔ نہ میں نے دعویٰ کیا۔ فرشتوں کو‘ لیلتہ القدر کو‘ معراج کو‘ احادیث اور قرآن کریم کو مانتا ہوں۔ مزید ازاں عقائد اسلام کا اقرار کرتا ہوں“۔

دوسرے روز یعنی ۱۴ فروری ۱۸۹۹ء کو علامہ فیضی صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی نسبت دلیل مانگی تو متنبی قادیان کی ساری عربی دانی کی ہوا نکل گئی۔ اس گفتگو کے بعد آپ نے مولانا فقیر محمد صاحب جہلمی کے ہفتہ وار پرچہ ”سراج الاخبار“ میں ۹ مئی ۱۸۹۹ء کو بے نقط قصیدہ کے بارے میں جو مرزا غلام احمد قادیانی سے بات چیت ہوئی تھی‘ مشتہر کرائی اور ساتھ ہی مرزا صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیتے ہوئے اعلان فرمایا:

”میں مرزا صاحب کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عقیدہ میں سچے ہوں تو آئیں۔ صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں۔ میں حاضر ہوں۔ تحریری کریں یا تقریری‘ اگر تحریر میں ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں۔ عربی ہو یا فارسی یا اردو۔ آئیے‘ سنئے اور سنائیے۔ سراج الاخبار میں مذکورہ اشتہار سے پہلے آپ نے وہ بے نقط قصیدہ عربی فروری

صفحہ 104

۱۸۹۹ء میں ہی رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور میں بھی مشتہر کرایا اور آخر میں نوٹ لکھا:

اب بھی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب اس قصیدہ کا جواب اس صنف کے عربی قصیدہ کے ذریعے ایک ماہ تک لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ہر دو قصائد کا موازنہ پبلک خود کر لے گی۔ لیکن تہذیب و متانت سے جواب دیا جائے۔

اور جب مرزا قادیانی نے ۲۰ اور ۲۲ جولائی ۱۹۰۰ء کے مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی علیہ الرحمہ اور دیگر علماء کو دعوت دی کہ لاہور آکر میرے ساتھ پابندی شرائط مخصوصہ فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورہ کی تفسیر لکھیں، فریقین کو سات گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے اور ہر دو تحریرات ۲۰ اوراق سے کم نہ ہوں اور ان تحریرات کو تین غیر جانبدار علماء ملاحظہ کر کے حلفاً فیصلہ کریں۔ جس کی تحریر فصیح و بلیغ ہو گی، وہ سچا اور دوسرا جھوٹا۔ الخ ......

آپ نے اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی ۱۳ اگست ۱۹۰۰ء کو سراج الاخبار ص ۶ پر اشتہار دیتے ہوئے مرزا صاحب کو چیلنج کیا:

اگر تمہیں عربی لکھنے کی طاقت ہے تو جہاں مجھے بلائیں مقابلہ کے لیے حاضر ہوں۔ آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم و نثر لکھنے کو تیار ہوں۔ تاریخ کا تقرر کر دیجئے اور مجھے اطلاع کر دیجئے کہ میں اپنے آپ کو حاضر کروں مگر یاد رہے کہ کسی طرح بھی عربی نویسی کو مجددیت یا نبوت کا معیار تسلیم نہیں کیا گیا۔

اس چیلنج کا جواب بھی مرزا کی طرف سے فیضی مرحوم کی زندگی میں ہرگز نہ ملا نہ مرزا کو طاقت مقابلہ ہوئی۔

مولانا فیض احمد گولڑوی ”مہر منیر“ میں رقم طراز ہیں کہ ”جب مرزا صاحب نے حضرت قبلہ عالم کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا تو مولوی فیضی نے ان کی علمیت سے واقفیت کے باعث ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ مرزا صاحب کو جواباً چیلنج کیا کہ حضرت پیر صاحب کی ذات گرامی تو بہت بلند ہے۔ پہلے آپ میرے ساتھ ہی اپنی تمام شرائط پر تفسیر نویسی کا مقابلہ کر لیجئے۔ اس اشتہار میں انہوں نے بعض باتیں بہت پتے کی لکھیں“۔

حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحبؒ مرزا کا چیلنج قبول فرماتے ہوئے سینکڑوں علماء، فقراء‘ ہزاروں مریدوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ ۲۴ اگست ۱۹۰۰ء کو لاہور جلوہ افروز

صفحہ 105

ہوئے۔ مرزا کی طرف سے مقابلہ کا وعدہ ۲۵ اگست ۱۹۰۰ء تھا مگر اس نے نہ آنا تھا اور نہ آیا۔ آخر ۲۷ اگست ۱۹۰۰ء کو شاہی مسجد لاہور میں حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی صدارت میں تاریخی جلسہ منعقد ہوا۔ سب سے پہلے حضرت مولانا ابوالفیض محمد حسن علی صاحب فیضی نے غرض انعقاد جلسہ اور کارروائی مباحثہ، ایک تحریر پڑھی اور آخر ایک معرکہ آرا تقریر میں فرمایا کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں مرزا جیسے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت سے جھوٹے نبی، مسیح، مہدی بننے کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہو کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ مرزا کا بھی یہی حشر ہو گا۔

القصہ اس شیر دل فاضل شعلہ نوا خطیب، بے نظیر ادیب، عدیم المثال مناظر اسلام نے اپنی زندگی کو رد مرزائیت کے لیے وقف کر دیا۔ مرزا کو مقابلہ کے لیے چیلنج پر چیلنج دیے اور اس کی ناک میں دم کر دیا۔ مرزا کو زندگی میں مقابلہ کی جرات تک نہ ہوئی۔ آخر یہ بے باک اور نڈر سپاہی جوانی کے عالم میں ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۱ء کو اس دار فانی سے راہ گزار عالم جاودانی ہوا۔ مرزا نے حسب عادت مرحوم کی وفات کو بھی اپنی صداقت کا ایک نشان بنالیا۔ مگر مرزا کی یہی پیش گوئیاں اس کے گلے کا ہار بن گئیں اور مولانا محمد کرم الدین صاحب دبیر کے مقدمہ میں مجسٹریٹ کے سامنے ان سے صاف انکار کر دیا۔

(ماہنامہ "ضیائے حرم" ختم نبوت نمبر ۱۹۷۴ء، از قلم: محمد منشا تابش قصوری)

خدائی خلافت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویدار

قادیانی سربراہ مرزا طاہر امتحان میں فیل ہو گیا

جریدہ "ایشیا ویک" نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی ٹولے کے سربراہ مرزا طاہر احمد لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز کے امتحان میں فیل ہو گئے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرزا طاہر احمد کو اس امتحان میں شریک ہونے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیونکہ وہ ایک "گروہ" کے مذہبی رہنما ہیں اور ان کے پیرو کار اس سے زیادہ سخت

صفحہ 106

امتحان پاس کر چکے ہیں۔ ہمارا تو خیال تھا کہ ”خلافت“ کے بعد کسی اور سند کی ضرورت نہیں رہتی لیکن مرزا طاہر احمد نے امتحان میں شریک ہو کر اغیار کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ ان کی خلافت کی سند جعلی ہے۔ اس لیے وہ کوئی اصلی سند حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن لندن یونیورسٹی والے بڑے کٹھور نکلے۔ انہوں نے مرزا صاحب کے مقام و مرتبہ کی ذرہ پروا نہ کی اور ان کے پرچے بھی اسی طرح جانچنے شروع کر دیے جس طرح دوسرے طلبہ کے پرچے جانچتے ہیں۔ اس لیے مرزا صاحب امتحان میں کامیاب نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ مرزا طاہر کا دادا مرزا قادیانی بھی امتحان میں فیل ہو گیا تھا حالانکہ وہ نبوت کا دعویدار تھا۔۔۔ (ادارہ)

(نوائے وقت‘ ۲۷ مئی ۱۹۹۰ء)

مرزا اور بھانو

ایک دفعہ شیخوپورہ میں تقریر ہوئی۔ میں نے اپنی ماؤں اور بہنوں سے اپیل کی کہ اگر مرزائی عورتیں جھوٹے مسیح کی تبلیغ کرتی ہیں تو تم سرور کائنات کی ختم نبوت کی تبلیغ کیوں نہیں کرتیں اور میں نے ان کو ایک سبق پڑھایا کہ سیرت المہدی میں لکھا ہے کہ ایک عورت بھانو نامی مرزا صاحب کو خلوت میں دباتی تھی۔ جو شخص کسی غیر محرم عورت سے خلوت میں دبوالے‘ وہ شریف آدمی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ نبی ہو۔ چھوٹی چھوٹی سکول کی لڑکیوں نے بھانو بھانو‘ یاد کر لیا۔ حسن اتفاق کہ وہاں کی سکول مسٹرس مرزائی عورت تھی دوسرے دن جب کمرہ میں استانی آئی تو ایک لڑکی نے کہا:

استانی صاحبہ! آپ کا مرزا بھانو سے دبواتا کیوں تھا۔ اس نے اس لڑکی کو ڈانٹا ہی تھا کہ دوسری بولی نہیں جی! استانی صاحبہ ہمیں ضرور بتاؤ کہ وہ بھانو کون تھی جو آپ کے مرزا صاحب کو دباتی تھی۔ استانی اسے خاموش کرا رہی تھی کہ تیسری بولی ہم سبق نہیں پڑھیں گی جب تک ہمیں آپ اپنے مرزا صاحب کی بھانو کا حال نہ سنائیں۔ استانی تنگ آکر سکول کو خیرباد کہتی ہے اور اپنے والد کو جا کر کہا کہ یا میرا تبادلہ کرو یا میں مرزائیت چھوڑتی ہوں۔

صفحہ 107

چھ ماہ کے بعد میرا وہاں جانا ہوا۔ دوستوں نے یہ قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو بجلیاں شروع ہوئی ہیں‘ ہم نے تو تمام مسلمانوں کو تیار کرنا ہے پھر دیکھنا کہ کیا مزے آتے ہیں۔

(خطاب مولانا محمد علی جالندھری)

جو نبوت کا غدار ہو اس کو پھانسی دی جائے

میں آپ پر ناراض ہوں۔ مرزائیوں نے اعداد و شمار دیئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں پانچ لاکھ مرزائی ہیں۔ یعنی پانچ لاکھ‘ پاکستان میں محمدؐ کے غدار موجود ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ حکومت کے غدار کی سزا کیا ہے؟ جو کہے مارشل لاء نہ ہو‘ فوج غلط ہے‘ ضیاء غلط ہے‘ ضیاء وفادار نہیں‘ ضیاء ظالم ہے‘ جو حکومت کا غدار ہو‘ اس کی سزا کیا ہے؟ پھانسی۔ اور جو نبوت کا غدار ہو اس کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ (پھانسی) یہ مرزائی نبوت کے غدار ہیں یا نہیں؟ (ہیں) میں لاکھوں ضیاء----- محمد ﷺ کی جوتی کے ذروں پر قربان کردوں۔

صدر صاحب ! تم بھی سوچو‘ تمہاری بھی ذمہ داری ہے۔ جب پاکستان میں ایک نقلی پانچ پیسے‘ ایک آدمی جعلی فوجی لباس پہن کر نہیں آسکتا تو یہاں جعلی نبی بھی نہیں چل سکتا۔

بے شک (نعرے----- مرزائیت مردہ باد‘ انشاء اللہ مردہ باد ہیں)

جب اس پاکستان میں دو صدر برداشت نہیں۔ آج اگر کوئی اعلان کرے کہ میں بھی صدر ہوں تو صدر صاحب اس کو اسی وقت گولی مروا دیں گے۔ جب پاکستان میں دوسرا صدر برداشت نہیں تو غیور مسلمانوں کے لیے دوسرا پیغمبر بھی برداشت نہیں۔ (بے شک) یہاں ربوبیت خدا کی رہے گی۔ نبوت مصطفیٰ ﷺ کی رہے گی۔

(خطاب: مولانا عبدالشکور دین پوریؒ)

صفحہ 108

ہر جگہ نبوت حضور ﷺ کی ہے

مولانا قاسم نانوتویؒ لکھتے ہیں کہ اگر چاند میں‘ ستاروں میں‘ اگر کسی جزیرے میں‘ زحل میں‘ مشتری میں‘ عطارد میں‘ مریخ میں اگر کہیں کوئی مخلوق رہتی ہے تو وہ بھی محمد کی امت ہے۔ اسلام اس کو بھی محمدؐ کا دیا ہوا قبول کرنا پڑے گا۔ (سبحان اللہ) عرش اور فرش میں نبوت صرف محمدؐ کی ہے۔

اس لیے اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے لیے معراج کی رات آپؐ کو امام بنایا کہ محبوب! تمام انبیاء کی شریعت منسوخ ہو چکی ہے‘ اب شریعت صرف آپؐ کی ہے۔ اس لیے اللہ نے محمدؐ کو عرش پر پھرایا کہ جہاں تک میری خدائی ہو گی وہاں تک تیری مصطفائی ہو گی۔ (سبحان اللہ)

(خطاب مولانا عبدالشکور دین پوریؒ)

آنجہانی مرزا ناصر سے دو سوال

پنجاب یونیورسٹی لاہور نے بی اے کے امتحانات کے سلسلے میں مجھے تعلیم الاسلام کالج صدیق آباد میں ناظم امتحان مقرر کیا۔ ایک اتوار کو چھٹی کے دن میں نے مرزا ناصر قادیانی سے ملاقات کا پروگرام بنایا۔ دفتر میں گیا اور ملاقاتیوں کی فہرست میں اپنا نام درج کروایا۔ پہلے نمبر پر ڈاکٹر عبدالسلام تھا۔ ملاقات شروع ہوئی تو ڈاکٹر عبدالسلام تقریباً نصف گھنٹہ تک محو گفتگو رہے۔ ڈاکٹر سلام کے بعد میری باری آئی۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر آگے بڑھا۔ مرزا ناصر سے ملاقات ہوئی۔ مرزا ناصر نے کہا مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے ہندو دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں آپ درست فرماتے ہیں۔ رب العزت نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اور میں نے خواب میں محمد عربی ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ہے۔

صفحہ 109

مرزا ناصر نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا واقعی آپ بڑے خوش قسمت ہیں۔ بلکہ میں کہوں گا کہ آپ تو اسلام کی صداقت کی دلیل ہیں۔ پھر مرزا ناصر میرے قبول اسلام کی تفصیلات دریافت کرتا رہا۔ میں جواب دیتا رہا۔

تقریبا نصف گھنٹہ اسی گفتگو میں گزر گیا۔ میں نے کہا جناب کافی وقت ہو چکا ہے۔ گستاخی نہ سمجھیں تو ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک سوال دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا ناصر قادیانی نے خوشی سے اجازت دے دی۔

سوال: جیسا کہ جناب کو معلوم ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے مجھے مشرف بہ اسلام فرمایا ہے اور حدیث میں ہے کہ جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے میری ذات ہی کو دیکھا۔ میرا ایمان ہے کہ میں نے جناب رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی ہی سے دین اسلام لیا ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ جو عقیدہ اور مسلک میں نے اپنایا ہے ، وہ آنحضور ﷺ کی رضائے عالیہ سے اپنایا ہے۔ آپ حضرات کا نبوت کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درست ہوتا تو نبی کریم ﷺ مجھے اسلام سے مشرف فرمانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ اب تکمیل دین کے لیے قادیانی بن جاؤ مگر حضور اکرم ﷺ نے آنجہانی مرزا قادیانی کی نبوت کو قطعاً نظر انداز فرما دیا جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ مرزا غلام کا سلسلہ نبوت عند اللہ و عند الرسول درست نہیں بلکہ نبوت کاذبہ کے زمرے میں آتا ہے۔

مرزا ناصر قادیانی نے سوال سن کر کہا کہ یہ سوال میری زندگی میں پہلی بار پیش کیا گیا ہے۔ آپ کے سوال کی معقولیت میں شک نہیں مگر ملاقاتی کافی بیٹھے ہیں پھر کسی ملاقات میں اس کا جواب دوں گا۔ یعنی وہ لاجواب ہو گیا۔

میں نے عرض کیا مجھے ایک بات اور دریافت کرنا ہے۔ میں نے مرزا قادیانی کی تحریر پڑھی ہے۔ بقول اس کے کہ ”میں اور میری جماعت کے افراد فقہی مسلک میں امام ابو حنیفہ ؒ کے پیروکار ہیں“ مرزا ناصر نے کہا کہ میں بھی حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔

میں نے عرض کیا کہ مرزا قادیانی تو آپ کے خیال میں منصب نبوت پر سرفراز تھے۔ کیا یہ امر منصب نبوت کے شایان شان ہے کہ ایک خدا کا نبی ایک امتی کے فقہی مسلک کا پیروکار اور مقلد ہو۔ کیا یہ مقام نبوت کی توہین نہیں؟ ناصر قادیانی نے کہا کہ اس سوال کا جواب بھی کسی دوسری محفل میں تفصیل سے دوں گا۔ میں مرزا ناصر سے اجازت طلب کر

صفحہ 110

کے رخصت ہوا۔ تمام مرزائی جواب دیں کہ مرزا نبی تھا یا امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کا پیروکار۔ جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے مسلک میں آپ کے بعد مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرنے والا بھی کافر بن جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے مجدد‘ مہدی‘ عیسیٰ‘ نبی اور محمد عربیؐ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ (نعوذ باللہ) یہ تو خدا اور رسول دونوں کی توہین ہے۔ ہم حنفی ہیں اس لیے امام ابو حنیفہؒ کے ہر حکم کو مانتے ہیں۔ اگر مرزائی حضرات بقول مرزا غلام قادیانی واقعتاً حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں تو امام ابو حنیفہؒ کا حکم ہے کہ آپؐ کے بعد کسی مدعی نبوت سے جو معجزہ طلب کرے گا‘ وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ اس لیے اپنے تئیں تمام مرزائی خود کافر ہو گئے ہیں۔ کیونکہ سب اس کو نبی مانتے ہیں۔ اگر مرزائی اپنے آپ کو کافر کہنا برداشت نہیں کرتے تو پھر ابو حنیفہؒ کے قول پر عمل کریں۔ قادیان پر دو حرف بھیج کر دامن مصطفویؐ میں پناہ لیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۷‘ شمارہ ۲۹ از قلم: پروفیسر غازی احمد)

خطرے کا الارم

اسلام آباد میں وفاقی وزیر محنت غلام دستگیر خاں کے ذریعے میری صدر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات ہو گئی تو میں نے ان کو بتایا کہ جناب قادیانیوں نے ۴۰ ہزار مسلح گوریلا تیار کر کے اپنی ملیشیا بنائی ہے۔ لبنان کی بربادی میں سنتے رہے ہو کہ دروز ملیشیا‘ دروز ملیشیا۔ فلنجس عیسائی ملیشیا اور لبنانی ملیشیا تیار ہوئی تھیں جنہوں نے لبنان کا خانہ خراب کیا‘ اسے تباہ و برباد کیا۔ اس قسم کی یہاں بھی ملیشیا تیار ہو رہی ہے۔ میں اس جلسہ کے اندر جہاں حکومت کے کارپرداز آئے ہوئے ہیں‘ ان سے ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ میری اطلاع مصدقہ اور ذمہ دارانہ ہے۔ صدر مملکت کو بھی کہہ کر آیا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ قادیانی جماعت نے ۴۰ ہزار مسلح گوریلے خدام الاحمدیہ کے نام پر تیار کیے ہیں۔ ان کی جماعت کا سالانہ بجٹ ۳۴ کروڑ روپیہ ہے۔ ان کے بچوں کی تنظیم اطفال الاحمدیہ کا بجٹ ۱۴ لاکھ روپیہ ہے۔ ۲۵ سال سے اوپر کے لوگوں کی تنظیم انصار اللہ کا بجٹ ۳۸ لاکھ ہے۔ نوجوانوں کی

صفحہ 111

تنظیم خدام الاحمدیہ نیشنل گارڈز فوجی کمانڈوز کی جماعت کا بجٹ الگ ہے۔ عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ کا بجٹ بھی الگ ہے۔ تحریک جدید بیرون ملک کام کرنے والی تنظیم کا بجٹ بھی الگ ہے۔ میں نے صدر صاحب سے کہا ’اسی نوے کروڑ روپے کا بجٹ جماعتوں کا نہیں ریاستوں اور سلطنتوں کا ہوا کرتا ہے۔ یہ سلطنت در سلطنت بن رہی ہے۔

(خطاب مولانا تاج محمودؒ )”

لے گئے ساتھ وہ ہر خوشی کیا کروں
تو بتا تجھ کو اے زندگی کیا کروں (مولف)

قادیانیوں کا اثر و رسوخ

انگریزی حکومت کی سب سے زیادہ حمایت قادیانی کی جماعت کو حاصل تھی۔ یہ تائید اتنی زیادہ تھی کہ اکثر سرکاری محکموں میں وہ بہت اثر و رسوخ کے مالک ہو گئے۔ بعض جگہ تو سارے کا سارا ضلع ان کے اثر و رسوخ میں آگیا۔ لوگ حکومت کی تائید حاصل کرنے کے لیے قادیانی کی تائید حاصل کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ محکمہ سی آئی ڈی تو الگ رہا، قادیانی مرزائی حکومت کو تفصیلی خبریں پہنچاتے تھے۔ حکومت وقت کے خلاف آزادی کی ہر آواز کو دبانے کے لیے اس جماعت کے افراد سب سے پیش پیش تھے۔ اسی لیے لوگ قادیانی آواز کو حکومت کی آواز کی صدائے بازگشت سمجھتے تھے اور بے حد خائف تھے۔ یہ لوگ معمولی آئینی ایجی ٹیشن کو بڑھا چڑھا کر سرکار کے دربار میں بیان کرتے تھے۔ انتخابات میں حال یہ تھا کہ ہر امیدوار قادیان کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ جسے یہ تائید حاصل ہو گئی، اسے گویا سرکاری تائید حاصل ہو گئی۔ پس قادیانی تحریک کی مخالفت سیاسی اور مذہبی دونوں وجوہات کی بناء پر تھی۔ جس اسلامی جماعت نے مسلمانوں کو آزاد اور توانا قوم دیکھنے کا ارادہ کیا ہو، اسے سب سے پہلے اس جماعت سے ٹکرانا ناگزیر تھا۔ اس جماعت کے اثر و رسوخ کو کم کیے بغیر آزادی کا تصور کرنا ممکن نہ تھا۔

(تاریخ احرار، ص ۱۷۸-۱۷۹، از چودھری افضل حقؒ )

صفحہ 112

مرزا قادیانی کی ایک پیشگوئی

منظور محمد (لدھیانوی) مرزا کا ایک مرید تھا۔ مرزا نے پیشگوئی کی کہ مرزا منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہو گا جس کے نو نام ہوں گے۔ ہمارے ہاں تو عموماً ایک نام ہوتا ہے کبھی دو نام ہوتے ہیں۔ ایک دادھیال والوں نے رکھ دیا اور ایک ننھیال والوں نے رکھ دیا۔ پھر یہ نو نام کیوں رکھے؟ محمدی بیگم منظور محمد کی بیوی تھی۔ یہ وہ محمدی بیگم نہیں جس کے پیچھے مرزا پھرا کرتا تھا۔ تو وہ نو نام کون سے تھے؟ وہ تھے کلمۃ العزیز‘ کلمۃ اللہ خاں‘ شادی خاں‘ دولت خاں‘ ورڈ‘ عالم کباب‘ فاتح الدین‘ ناصر الدین اور ھذا یوم مبارکہ۔ یہ سارے کا سارا بچے کا نام ہے۔ ”ھذا یوم مبارک“ یہ ایک نام ہے۔ آپ خود فرمائیں کہ کیا یہ کوئی نام ہے؟ مرزا نے خود کہا ہے کہ میری پیشگوئی سے بڑھ کر میرے پرکھنے کی کوئی چیز نہیں۔ اس نے دو پیشگوئیاں کیں۔ ایک یہ کہ مدینے میں مروں گا یا مکے میں مروں گا۔ دوسری پیشگوئی یہ کی کہ منظور محمد کے گھر لڑکا پیدا ہو گا جس کے نو نام ہوں گے۔ لیکن جب منظور محمد کے گھر بیٹا یا بیٹی کے پیدا ہونے کا وقت آیا تو بیٹی پیدا ہوئی۔ جب تین ماہ گزرے تو وہ لڑکی مر گئی۔ جب چھ ماہ گزرے تو لڑکی کی ماں (محمدی بیگم) مر گئی پھر منظور محمد کو فالج ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی مر گیا۔ اور وہ نو ناموں والا لڑکا آج تک پیدا نہیں ہوا۔ بات سمجھ میں آئی۔ پیشگوئی سچی نکلی کہ جھوٹی؟ جھوٹی‘ جس کی پیش گوئی جھوٹی ہو‘ وہ نبی نہیں اور جو نبی ہو اس کی پیشگوئی جھوٹی نہیں ہوتی۔

(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ)

آرزو

ظفر اللہ خاں جہاں جہاں جاتا تھا اپنے مرزائی بھائیوں کے پتے پوچھتا جاتا تھا۔ ربوہ

صفحہ 113

کے دفتر سے ان کے پتے لے کر جاتا تھا۔ ان کی خیریت پوچھتا اور مرزائیت کی تشہیر کے بارے میں ان کی کوششوں کا جائزہ لیتا۔ ان کو خاطر خواہ سہولتیں فراہم کرتا۔ کاش میرا افسر بھائی بھی دورے پر جائے اور پوچھے کہ ختم نبوت کا دفتر کہاں ہے؟ کاش ایسا ہوتا۔

(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ)

تعارف مرزائیت

پس ہم نے دیکھا کہ مرزائی لوگ:

ذریعوں سے انہیں مرعوب کرنا‘ ان کا دھندا ہے۔

ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ دے گی۔

(تاریخ احرار‘ ص ۱۸۰‘ چودھری افضل حق)

قادیان میں قادیانیوں کی طاقت

قادیان میں مسلمانوں پر مظالم کی دل خراش داستان متواتر ہمارے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ مرزائی لوگ باہر سے آکر دھڑا دھڑ وہاں آباد ہو رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ پر ایمان رکھنے اور غریب ہونے کے باعث مسلمانوں پر باہر سے آئے ہوئے سرمایہ دار مرزائی عرصہ حیات تنگ کر رہے تھے۔ یہ سب کچھ قادیانی خلیفہ کی ایما پر ہو رہا تھا۔ تمام ہندوستان کے علماء فتویٰ بازی تو کرتے تھے مگر مقابلے کی جان نہ تھی۔ بٹالہ ضلع گورداسپور میں درد دل

صفحہ 114

رکھنے والے مسلمانوں نے ”شبان المسلمین“ نام کی ایک جماعت بنائی۔ علماء کو اکٹھا کرتے رہے۔ سالانہ اجلاس کے اختتام پر قادیان بھی ایک دن گئے۔ ان علماء کا قادیان جانا سرکاری نبوت کے حاملوں کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ دوسرے سال انہوں نے مار پیٹ کی پوری تیاری کر لی۔ چنانچہ مرزائی نوجوان بوڑھے علماء پر ٹوٹ پڑے۔ لاٹھیوں کا مینہ برسایا۔ ان کا بند بند توڑا۔ کس کی رپٹ، کہاں کی رپورٹ؟ تھانہ مرزائیوں کا ایجنٹ تھا۔ داد رسی کی کیا توقع تھی؟ یہ بیچارے جوں توں کر کے بٹالہ پہنچے۔ جو قیامت ان پر گزری تھی، اس کی داستان درد لوگوں کو سنائی۔ پھر کئی سال کسی کا حوصلہ نہ ہوا کہ کوئی عالم دین قادیان مارچ کرے۔

(تاریخ احرار، ص ۱۸۱، چودھری افضل حق)

خوشاب میں مجاہدین ختم نبوت اٹھے تو!

قادیانی امپائر کو نکال دیا

۲۸ جنوری (خوشاب) ۱۸ واں آل پاکستان ہاکی ٹورنامنٹ خوشاب میں پاکستان ٹیلی ویژن اور جناح ہاکی کلب خوشاب (المعروف شبان ختم نبوت ہاکی کلب) کے درمیان مقابلہ ہوا۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ایک ”ظفر“ نامی قادیانی امپائر کو میچ کی امپائرنگ کے لیے مقرر کیا گیا لیکن شبان ختم نبوت کلب نے جس کی رہنمائی خان عبد الستار خان بلوچ کر رہے تھے، قادیانی امپائر کے زیر سایہ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے چیف آرگنائزنگ سیکرٹری نے مجبور ہو کر امپائر کی تبدیلی کے آرڈر دے دیے اور قادیانی امپائر فوری طور پر منہ لٹکائے ہوئے گراؤنڈ سے باہر نکل گیا۔

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

ارشد کمال قادیانی کی شادی میں بھگدڑ مچ گئی

وقوعہ کے مطابق ارشد کمال کے شادی کارڈ پر (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورۂ نمل

صفحہ 115

کی آیت لکھی گئی تھی۔ شبان ختم نبوت خوشاب نے کارڈ کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور ارشد کمال کے خلاف رپورٹ درج کرنے کا پروگرام بنایا۔ سیکرٹری جنرل شبان ختم نبوت حافظ امتیاز الحسن (ایم۔اے‘ بی ایڈ) اور ایس ایچ او کے درمیان اس سلسلہ میں طویل مذاکرات ہوئے۔ ایس ایچ او تھانہ اس جواز کے تحت پرچہ درج کرنے سے ہچکچاتے رہے کہ ”بسم اللہ“ آیات قرآنی میں شامل نہیں ہے۔ بالآخر حافظ امتیاز الحسن نے قرآن مجید کھول کر ایس ایچ او کی تسلی کروادی جس پر ارشد کمال کے خلاف پرچہ درج ہو گیا۔ ایس ایچ او نے رپٹ کی درخواست شبان ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں خود آکر وصول کی اور فوری طور پر دولہا کو گرفتار کرنے کے احکامات صادر کردیئے۔ پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دولہا بارات چھوڑ کر بھاگ گیا اور شہر ہی سے فرار ہو گیا۔

مسلمانوں سے خوفزدہ قادیانی

ضلع کچہری جوہر آباد میں آئے دن ”قادیانی“ اور ”شبان ختم نبوت کے رضا کار“ ایک دوسرے کے روبرو ہوتے رہتے ہیں۔ سولہ جنوری کو ایک کیس کی تاریخ کے سلسلے میں بیسیوں رضا کاروں کے ایک قافلہ کا قادیانیوں سے سامنا ہوا۔ شبان ختم نبوت کے قافلہ کی رہنمائی ڈویژنل صدر قاری سعید احمد اسد کر رہے تھے۔ آج کل قادیانیوں کے خلاف شبان کے رضا کاروں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خوشاب کے قادیانی‘ شبان ختم نبوت سے از حد خوفزدہ ہیں کیونکہ ۱۶ جنوری کو شبان کے سابقہ صدر ارشد ضیغم کو قادیانی لیڈر عطاء اللہ پٹواری نے درخواست پیش کی کہ وہ خوشاب کی ختم نبوت کے سرپرست جناب قاری سعید احمد اسد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور قادیانی مذہب پر تفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں کے لیڈر نے کہا کہ ان کو جان کا تحفظ دیا جائے تو وہ کسی بھی مقام پر قاری سعید احمد اسد سے مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مولانا قاری سعید احمد نے مناظرہ اور مباحثہ کا چیلنج فوراً قبول کر لیا اور قادیانیوں کے لیڈر کو جواباً مباہلہ کا چیلنج بھی کر دیا۔ علاوہ ازیں قاری صاحب نے ایک بیان میں بتایا کہ اب قادیانی جماعت خوشاب میں بہت کمزور ہو چکی ہے۔ اور وہ مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔

صفحہ 116

مرزائی رقاصائیں

محلہ بوبانوالہ خوشاب میں ایک مرزائی نواز کی ”رسم مہندی“ میں تین قادیانی رقاصاؤں کو بلایا گیا جو مسلسل دو گھنٹوں سے رقص کر رہی تھیں کہ شبان ختم نبوت کے رضاکاروں کو اطلاع مل گئی اور انہوں نے مرزائی نواز کے گھر کے دروازے پر جا کر ”مرزائی نواز مردہ باد“ اور ”مرزائی کتے ہائے ہائے“ کے نعرے لگائے۔ نعروں کی آواز سنتے ہی تینوں قادیانی رقاصائیں مکان کی عقبی کھڑکی سے فرار ہو گئیں۔ واضح رہے کہ یہاں خوشاب کی قادیانی عورتیں رقص کے سلسلہ میں ضلع بھر میں مشہور ہیں اور لوگ انہیں اپنی تقریبات میں رقص کے لیے مدعو کرتے رہتے ہیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۷، شمارہ ۳۹ از قلم: ادریس احمد آزاد)

ہار نہیں ہتھکڑیاں لاؤ

صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب دوسرے دن تقریر کے لیے سٹیج پر تشریف لائے تو ایک رضاکار نے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیا۔ صاحبزادہ نے ہار کو توڑا اور سٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی جانب پھینک کر فرمایا میرے عزیزو یہ وقت ہار پہننے کا نہیں۔ سرور کونین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کو خطرہ درپیش ہو اور میں ہار پہنوں، ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لاؤ، ہمیں پابہ زنجیر کر کے دیکھو کہ ہمارے ماتھے پر شکن بھی آتا ہے۔ اس کے بعد اپنے مخصوص انداز میں صاحبزادہ نے موتی بکھیرنے شروع کیے۔ جلسے پر ایک سکوت طاری تھا اور صاحبزادہ صاحب حسب عادت ساون بھادوں کی طرح برس رہے تھے۔ صاحبزادہ کی تقریر نے مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو اس طرح ابھارا کہ بسا اوقات لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس طرح رات کے ۳ بجے تک جلسہ ہوتا رہا۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۱۷۹ از مولانا اللہ وسایا)

گلوں نے آ کے مستی میں گریباں چاک کر ڈالے
چمن میں ہم نے کچھ غزل خواں یوں بھی دیکھے ہیں
صفحہ 117

بھارت میں رد قادیانیت کے مشہور مناظر

مولانا اسماعیل کٹکی سے ایک انٹرویو

س: آپ کا سن ولادت کیا ہے؟

ج: ہمارے ہاں تاریخ لکھنے کا دستور نہ تھا۔ والدین سے سنا ہے کہ میری پیدائش ۱۹۱۴ء کی ہے۔

س: مقام پیدائش کیا ہے؟

ج: صوبہ اڑیسہ ۔ سیدوں کا قصبہ جس کو مونگڑہ کہا جاتا ہے ہمیشہ دینی سیادت و قیادت اسی قصبہ سے ہوئی۔ میں بھی الحمد للہ سید ہوں اور اسی قصبہ کا رہنے والا ہوں۔

س: کہاں کہاں تعلیم حاصل کی؟

ج: پہلے شاہی مدرسہ مراد آباد پڑھتا رہا۔ پھر میں نے دارالعلوم دیوبند داخلہ لے کر تعلیم حاصل کی۔

س: دیوبند سے کب فارغ ہوئے؟

ج: ۱۹۳۴ء میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی قدس سرہ سے دورہ پڑھا۔ سب سے پہلے اڑیسہ کے صوبہ میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے والا میں ہی ہوں۔

س: کون سے درجہ سے دیوبند میں پڑھنا شروع کیا؟

ج: جب میں شاہی مدرسہ میں پڑھتا تھا تو حضرت مدنی قدس سرہ سے مجھے والہانہ محبت و عقیدت تھی۔ اسی عقیدت و محبت کی بنا پر میں دیوبند چلا آیا اور درجہ ہدایہ میں داخلہ لیا۔

س: آپ نے اس درجہ کی کتب کن کن اساتذہ سے پڑھیں؟

ج: ہدایہ اولین مولانا قاری محمد طیب صاحب پڑھاتے تھے۔ مختصر معانی مولانا مفتی عبدالسمیع صاحب، ملا حسن، مولانا نبی حسن اور مقامات حریری مولانا مفتی محمد شفیع سے پڑھی۔

صفحہ 118

س: آپ کو میدان مناظرہ میں آنے کا شوق کیسے ہوا؟ ج: دارالعلوم دیوبند میں مشکوٰۃ کے سال حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری رحمتہ اللہ علیہ سے مناظرہ پڑھا۔ آپ قادیانی، آریہ سماج وغیرہ کے خلاف ان دنوں مناظرہ پڑھاتے تھے۔ مناظرے کا کورس جب مکمل ہوا تو مجھے اس میدان میں آگے بڑھنے کا شوق ہوا۔

س: طالب علمی کے دور میں کچھ مناظرے اگر ہوئے ہوں تو ان کی روداد؟ ج: اسی سال دیوبند شہر کی ایک شوگر مل کے منیجر رافضی سے بات چیت ہوئی۔ بالاخر اس سے جب جواب نہ بن پڑا تو دارالعلوم دیوبند آکر اہل سنت و جماعت مسلک میں داخل ہو گیا۔ دیوبند شہر میں دیوی کنڈ مقام پر آریہ سماج ہمیشہ جلسہ کیا کرتے تھے۔ ان کے بڑے بڑے مناظر وہاں آتے رہتے تھے۔ آریہ سماج کے دو پنڈت کالی چرن اور رام چندر بہت مشہور تھے۔ رام چندر تو آدھے قرآن کا حافظ تھا اور کالی چرن عربی پر مکمل عبور رکھتا تھا۔ رام چندر دہلی اور کالی چرن آگرے کا رہنے والا تھا۔ کالی چرن نے ایک کتاب لکھی تھی جو یہاں سے شروع ہوتی تھی۔

یاتنا الکالی چرن ویدک دھرم۔

انہی دنوں آریہ سماج کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا جس میں کالی چرن نے تقریر کی۔ ہم طلبہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس نے ہمیں دیکھ کر اسلام کے خلاف تقریر شروع کر دی اور تناسخ کا مسئلہ چھیڑ گیا کہ روح خدا اور مادہ تینوں قدیم ہیں۔ یہ بھی عیسائیوں کی طرح ایک مستقل تثلیث کے قائل ہیں۔ میں نے کہا جب تینوں خدا اور تینوں قدیم ہیں اور ان کو برابر کی طاقت حاصل ہے تو خدا کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ باقی پر حکومت کرے۔ کوئی وجہ توجیہ بیان کرو۔ مجبور ہو کر کالی چرن نے کہا کہ جیسے انگریز ہم سب پر حکومت کر رہا ہے۔ میں نے کہا ہندو بھائیو! انصاف کرو کہ گاندھی جی تو کہہ رہے ہیں کہ انگریز ظالم ہے۔ مگر کالی چرن ان کو حکومت کا حق دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کے نزدیک ظالم خدا ہو سکتا ہے اور خدا ظالم ہے۔ جو ظالم ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا اور جو خدا ہو وہ ظالم نہیں ہو سکتا۔

کالی چرن ان باتوں کا جواب نہ دے سکے اور میدان مناظرہ سے بھاگ کر مندر میں جا گھسا۔ ادھر مجمع میں شور مچ گیا کہ دارالعلوم دیوبند کے طلبہ نے کالی چرن کو لاجواب کر دیا

صفحہ 119

اور نعرے بلند ہوئے۔ اسلام زندہ باد، اسماعیل زندہ باد۔

آہستہ آہستہ مجمع چھٹنے لگا اور طلبہ دارالعلوم پہنچے۔ یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ تمام اساتذہ کو پتہ چلا۔ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن نے مجھے خوب دعائیں دیں۔ دوسرے دن سنا کہ آریہ سماج اپنی اس خفت کو مٹانے کے لیے پنڈت رام چند کو بلا رہے ہیں۔ دو چار دن کے بعد وہ دیوبند پہنچ گیا۔ جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا، میں چند طلبہ کے ساتھ پہنچ گیا۔ میں نے رام چندر پنڈت سے کہا کہ پنڈت کالی چرن نے ہمارے سوال کا جواب نہیں دیا۔ اگر آپ ہوتے تو جواب دیتے۔ اس نے کہا کہ تم اپنے استاد کو لاؤ۔ اس سے بات ہو گی۔ میں نے کہا کہ آپ پہلے مجھے مطمئن کریں پھر آگے بات چلے گی مگر وہ بھی جواب نہ دے سکا۔ اس سے اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ دوسرے دن جلسہ ہی نہ کر سکا۔

س: دوران تعلیم دیوبند میں کوئی عجیب واقعہ پیش آیا ہو؟

ج: میں نے اساتذہ کرام کو دیکھا کہ اگر کوئی کتابی مقام سمجھ نہ آتا تو وہ شروع سے یا حضرت مدنیؒ کے پاس جا کر اس کو حل کر لیتے تھے مگر وہ مولانا نبی حسن کا معاملہ جداگانہ تھا۔ میں ٹوہ میں رہا کہ حضرت نہ کتاب کی شرح دیکھتے، نہ ہی حضرت سے پوچھتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔ ایک دفعہ میں پیچھے پیچھے چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مولانا نبی حسن قبرستان جا کر حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی قبر پر چادر سر پر ڈال کر مراقبہ کر رہے ہیں تو میں سمجھ گیا۔

جب بھی کوئی مشکل مقام آتا تو آپ حضرتؒ کی قبر پر مراقب ہو جاتے۔ واپس آ کر کہتے طلبہ کرام نظر ہٹائیے۔ میں ابھی شرح صدر کیے دیتا ہوں۔

س: آپ خصوصیت کے ساتھ رد قادیانیت کی طرف کیسے متوجہ ہوئے؟

ج: دوران تعلیم ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ چھتے کی مسجد کی جانب جہاں دارالعلوم کی حد ختم ہو جاتی ہے، دوسری طرف مکانات ہیں جہاں کمہار لوگ رہتے ہیں۔ میں چند طلبہ کے ساتھ دارالعلوم سے نکل کر اسی طرف سیر کو جا رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مرزا قادیانی وہاں اوندھے منہ لیٹا ہوا ہے۔ سر اس نے اٹھایا ہوا ہے۔ پاؤں قبلے کی طرف ہیں۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر ہر جانے والے کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دور سے سنا تو معلوم ہوا کہ وہ بڑی چکنی چپڑی باتیں کر رہا ہے۔ جب میں بالکل قریب پہنچا تو کہنے لگا میں ”مسیح موعود ہوں“۔ میں نے کہا تو بکواس کرتا ہے۔

صفحہ 120

جب میں نے اس کی شکل غور سے دیکھی تو کالا بھجنگ‘ منہ پر چیچک کے بڑے بڑے گڑھے‘ آنکھوں سے اندھا‘ پتلیاں غائب‘ دونوں ہاتھوں سے ٹٹول کر مجھے پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں نے اس کے منہ پر تھوکا۔ اتنا تھوکا کہ سارا منہ بھر گیا۔ پھر میں نے خواب ہی میں دیکھا کہ میں اس کو روندتا اور پامال کرتا ہوا چلا گیا۔

میں اس خواب کی تعبیر کے لیے حضرت تھانوی قدس سرہ کی خدمت میں پہنچا۔ حضرت والا نے تسلی بخش جواب دیا۔ پھر حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کو بتلایا۔ حضرت قاری صاحب نے آٹھ صفحے کا تعبیر نامہ لکھا۔ کچھ جملے اس طرح سے یاد پڑتے ہیں:

ہو گا۔

اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

اسی طرح وہ عوام کو گمراہ کرنے کا طریقہ اختیار کرے گا۔

وہ اسلام کے راستے کو تاویلات باطلہ کے ذریعہ بند کرنے کی کوشش کرے گا۔

یعنی ظاہری بصارت کے ساتھ اس کی باطنی بصیرت بھی ختم ہو گئی ہے۔

اس خواب کے دیکھنے کے بعد رد قادیانیت کا زیادہ شوق ہوا۔ سب سے پہلے میں نے نکاح آسمانی‘ حصہ اول دوم کا مطالعہ کیا۔ پھر مرزا قادیانی کی تصنیفات کی ٹوہ میں لگ گیا۔

س: دورے کے سال کے کچھ واقعات بتلائیں؟

ج: ۱۹۳۳ء میرے دورے کا سال تھا۔ اسی سال شعبان میں احرار کانفرنس قادیان میں ہوئی۔ مجھے حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ سے بہت محبت تھی۔ ویسے بھی ہمارا اور حضرت بخاری کا ننھیال ایک ہے۔ میں چاہتا تھا کہ کسی طرح قادیان پہنچ کر حضرت بخاری رحمہ اللہ علیہ اور دیگر اکابر کے رد قادیانیت پر بیانات سنوں اور قادیانیوں سے قادیانی

صفحہ 121

کتابیں بھی لے آؤں۔ جوں جوں تاریخ قریب آرہی تھی، شوق برابر بڑھ رہا تھا۔ تا آنکہ کانفرنس سے دو دن پہلے میں مولانا عوض محمد کو ساتھ لے کر قادیان روانہ ہو گیا۔ ہم دونوں پہلے امرتسر پہنچے۔ وہاں مولانا ثناء اللہ سے ملاقات ہوئی۔ وہاں سے بٹالہ پہنچے۔ حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔ جب ہم قادیان کے قریب پہنچے تو پولیس ہی پولیس نظر آئی، معلوم ہوا کہ قادیان میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے۔ کوئی شخص اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ قادیان کے گیٹ پر موٹے موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا ”قادیان دارالامان من دخل کان امنا“ قادیان کے متصل ہائی سکول کے سامنے گراؤنڈ میں کانفرنس تھی۔ انتظامات مکمل ہو چکے تھے۔ مہمانوں کے لیے اسکول کی بلڈنگ کے کمرے مختص کیے گئے تھے۔ ہم کسی نہ کسی طرح قادیان میں داخل ہونا چاہتے تھے۔

قادیانی مینارے کو دیکھ کر ہم نے ایک بوڑھے سکھ سے پوچھا کہ یہ مینارہ کس کا ہے۔ اس نے کہا کہ یہاں مرزا کی قبر ہے۔ ہم نے کہا کہ کوئی خفیہ راستہ بتلائیں۔ ہم وہاں پہنچنا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس نالے کے ساتھ ساتھ کھیتوں کی اوٹ سے آپ چلے جائیں، سیدھے مینارے کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ہم اس طرح چھپتے چھپاتے پہنچ گئے۔ وہاں ایک کتب خانے میں جانا ہوا۔ ازالہ اوہام، ضرورۃ الامام اور دیگر چار پانچ کتب نئے ایڈیشن کی مل گئیں۔ وہیں ایک نوجوان نے قادیان گھمایا۔ اسی دوران ہمیں مرزا قادیانی آنجہانی کے مین گھر کے سامنے ایک سرمہ فروش کی دکان نظر آئی۔ اس پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر ”لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ“ لکھا ہوا تھا۔ بڑی حیرانی ہوئی۔ اندر داخل ہوئے، دیکھا کہ ایک نک کٹا شخص سرمہ گھوٹ رہا ہے۔ میں نے پوچھا آپ کیا ہیں؟ کہا میں پیغمبر ہوں (نعوذ باللہ) میں نے پوچھا کیا آپ پر ”وحی“ بھی اترتی ہے؟ کہنے لگا ہاں! (نعوذ باللہ) میں نے پوچھا کہ کوئی کتاب آپ پر اتری ہے؟ کہنے لگا ہاں! میں نے ایک کتاب لکھی ہے اور جلدی سے اس نے ایک ٹریکٹ پکڑا دیا جس کا عنوان تھا ”لکل امۃ اجل“ اس کو پڑھنا شروع کیا تو کہا ”اے احمد نور اگر تجھے میں پیدا نہ کرتا تو نہ آسمان پیدا کرتا نہ زمین“ وغیرہ۔ ذلک من الخرافات۔ میں نے کہا کہ مرزا قادیانی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کہنے لگا انہی کا تو شاگرد ہوں اور انہی کی پیروی میں مجھے نبوت ملی ہے۔ میں نے کہا اچھا تو پھر آپ نے اپنا سائن بورڈ علیحدہ کیوں لگایا ہوا ہے تو کہنے لگا ”ذالک فضل اللہ یوتیہ من

صفحہ 122

یشاء مجھے بڑی ہنسی آئی۔ بالاخر ہم اس کی بے تکی باتیں سن کر باہر نکل آئے اور اسی راستے سے واپس جلسہ گاہ پہنچ گئے۔

س: کانفرنس کی کچھ خاص باتیں آپ کو یاد ہوں؟ ج: ایک عظیم الشان کانفرنس تھی۔ حضرت مدنی‘ امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی‘ مولانا ظفر علی خان کے علاوہ بہت سے اکابر تشریف لائے ہوئے تھے۔ جلسے کے دوسرے دن ہم بھی اسٹیج پر پہنچ گئے۔ اسی دوران محمدی بیگم کا ڈولہ منگوایا گیا تاکہ مرزا قادیانی کی محمدی بیگم والی پیشگوئی کا جھوٹ سب کے سامنے آشکار ہو جائے۔

دوسرے دن شام کو ہم وقت نکال کر پھر اسی خفیہ راستے سے قادیان پہنچ گئے۔ قادیانی مینارے پر چڑھ گئے۔ اس کی کل ۵۲ سیڑھیاں ہیں۔ جونہی ہم نیچے اترے‘ میرے ساتھی مولانا عوض محمد نے نعرہ لگایا ”ہے کوئی ہم سے مناظرہ کرنے والا؟“ اور میں نے رد قادیانیت پر تقریر شروع کردی۔ قادیانی بڑے حیران ہو گئے کہ یہ دو آدمی کہاں سے اندر پہنچ گئے۔ اتنے میں قادیانیوں کا نام نہاد مفتی صادق آ پہنچا۔ میں نے اس سے بات چیت شروع کردی۔ وہ جواب نہ دے سکا تو سرور شاہ کو قادیانی بلا لائے۔ اس سے مناظرہ جاری تھا آخر کار پولیس منگوائی گئی۔ ہم دونوں کو قادیان سے نکال دیا گیا۔

س: اس دوران قادیان میں مسلمان کتنے رہتے تھے اور ان کی مالی حالت کیسی تھی؟ ج: مسلمانوں کی اس وقت وہاں ۴-۵ مساجد تھیں۔ مسلمان بھی کافی تھے مگر سب کمزور اور غریب تھے۔ قادیان میں ایک بوڑھے مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ میں نے مرزا قادیانی کو دیکھا ہے۔ وہ بدمعاش تھا مگر محمود اس سے بڑا بدمعاش ہے۔

س: دوبارہ آپ کتنی مرتبہ قادیان گئے؟ ج: ایک مرتبہ جب مولانا محمد حیات قادیان میں تھے۔ دوسری مرتبہ برصغیر کی تقسیم کے بعد جانا ہوا۔ قادیانی تھوڑے رہ گئے ہیں۔ چھوٹا سا ایک محلہ احمدیہ ہے۔ باقی ان کی بڑی بڑی تمام کوٹھیاں اور مکانات سکھوں کے قبضے میں ہیں۔

س: آپ نے باقی قادیانی کتب کہاں سے حاصل کیں؟ ج: کانفرنس سے فراغت کے بعد جب ہم امرتسر پہنچے وہاں فرید چوک میں ایک شخص

صفحہ 123

پرانی کتابوں کا بیوپاری تھا۔ وہیں خطبہ الہامیہ پر نظر پڑی۔ میں نے کہا یہ کتنے کی ہے۔ اس نے موٹی گالی دے کر کہا کہ یہ مردود قادیانی کی ہے۔ اس کو لے کر کیا کرو گے۔ میں نے مقصد بتلایا تو اس نے پورا سیٹ ۳۵ روپے میں دے دیا۔ یہ وہی روپے تھے جو حضرت مدنیؒ نے کانفرنس کے دوران مجھے دیے تھے۔ حضرت نے جیب میں ہاتھ ڈالا تھا۔ جتنے نکلے، بغیر گنے مجھے دے دیے تھے۔ یہ حضرت کی کرامت تھی۔ پھر مولانا ثناء اللہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کتابیں دیکھیں تو حیران رہ گئے۔ حضرت نے ایک کتاب جو آپ کے لیے ضروری تھی، وہ رکھ لی اور اپنی کتابوں کا پورا سیٹ مجھے دیا۔ میں حضرت سے رخصت ہو کر دیوبند روانہ ہو گیا۔ دوسرے دن بخاری کے درس میں حضرت مدنی نے فرمایا، اسماعیل! آج شام عصر کے بعد تمام اساتذہ اور طلباء میں کانفرنس کی کارگزاری سنائیں گے۔ چنانچہ میں نے تفصیلات کے ساتھ عصر کے بعد کانفرنس کے حالات سنائے۔

س: آپ کے صوبے میں قادیانیوں کی تبلیغ کے سلسلے میں روک تھام کب کی گئی؟

ج: ابتداء ہی سے مولانا رحمتہ اللہ مونگیریؒ نے صوبہ بہار اور اڑیسہ میں قادیانیت کی روک تھام کے لیے بھرپور کام کیا۔ آپ نے اس سلسلے میں سو کے قریب کتابیں لکھیں۔ اگر مولانا مونگیریؒ نہ ہوتے تو اڑیسہ، آسام، بنگال، بہار میں ایک بھی مسلمان نہ ہوتا۔

س: فارغ التحصیل ہونے کے بعد تبلیغی اور سیاسی خدمات؟

ج: جب فارغ ہوا تو سوچا کہ اگر کوئی شخص ۵ روپے ماہانہ کا ذمہ لے لے تو میں دینی تبلیغی کام مفت انجام دوں گا مگر کوئی سبیل نہیں نکلی۔ ایک اور خیال آیا کہ سکول میں تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کر دوں۔ آخر کار سیکنڈ مولوی کا عارضی پوسٹ مل گیا۔ یہ ایک سرکاری نوکری ہوتی ہے۔ یہ ۱۹۳۶ء میں ملی۔ اسی سال یکم اپریل کو اڑیسہ مستقل صوبہ بھی بنا۔

س: سلسلہ ازدواجی میں کب منسلک ہوئے؟

ج: میرا پہلا نکاح سارہ دبل کے ضمن میں ہوا مگر دورے والے سال میری اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ دوسرا نکاح یکم جنوری ۱۹۳۸ء کو ہوا۔ جب جمعیت علماء ہند کا اجلاس سونگڑے میں منعقد ہوا۔ یہ پہلا اجلاس تھا جو انتہائی مہتم بالشان طریقے سے منعقد ہوا۔ اس میں حضرت شیخ العرب والعجم مولانا مدنی کے علاوہ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی سبحان الہند مولانا

صفحہ 124

احمد سعید کے علاوہ دیگر اکابر تشریف لائے۔ حضرت مدنیؒ نے اسی اجلاس میں میرا رشتہ طے کرا کے نکاح کرا دیا۔ نکاح دوسرے عالم نے پڑھایا خود نہ پڑھایا۔ اس لیے کہ میرے نکاح کا مہر تین ہزار روپے تھا جبکہ حضرت مدنی مہر فاطمی والا نکاح پڑھاتے تھے۔ نیز سفید کھدر کے کفن کے بغیر جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔ نیز کسی داڑھی منڈے کی دعوت قبول نہیں کرتے تھے اور عام جلسوں میں داڑھی رکھنے کی بیعت لیتے تھے۔

س: رد قادیانیت کے سلسلے میں پھر آپ نے کام کب شروع کیا؟ ج: ۱۹۴۶ء میں حضرت مدنی قدس سرہ نے مجھے استعفیٰ دلایا۔ آپ نے فرمایا کیا تجھے اسی لیے پڑھایا تھا کہ تو اسکول میں نوکری کرے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام کو کرنے کے لیے مجھے سب کچھ چھوڑنا پڑے گا۔ حضرت نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔ انجمن تبلیغ الاسلام سونگڑھ میں قائم کی اور کام شروع کرایا گیا۔ ۱۹۴۷ء انتہائی ابتلاء کا دور تھا۔ اس کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیاں زیر زمین چلی گئیں۔

س: قادیانیوں سے اگر مناظرے ہوئے تو ان کی اجمالی رپورٹ؟ ج: فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۱۹۳۵ء میں ایک قادیانی مبلغ محمد حنیف کشمیری نامی ہمارے ضلع میں تبلیغ کر رہا تھا۔ جب وہ سونگڑھ سے دس میل دور بستی السی پہنچا تو ہمیں پتہ چلا۔ ہم وہاں پہنچے۔ مناظرہ ہوا۔ ہم نے عوام سے کہا کہ دیگ کے ایک چاول سے چاولوں کی حالت معلوم ہو جاتی ہے۔ ہم قادیانی سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی دلیل پیش کرے۔ ہم اس سے صرف ایک ہی سوال کریں گے۔ قادیانی نے اپنی نوٹ بک سے لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین والی دلیل پڑھی۔ ہم نے عوام سے کہا کہ وہ اس سے سند پیش کرنے کا مطالبہ کریں۔ چنانچہ عوام نے جب مطالبہ کیا تو وہ میدان مناظرہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔

ایک مناظرہ موضع بھدرک ضلع بالیہ اڑیسہ میں غلام احمد مجاہد سے ۱۹۴۴ء میں ہوا تھا۔ جسے مرزا محمود نے بھیجا تھا۔ مرزا محمود نے مجھے رجسٹری جواب دیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ میں اپنے نمائندے کو بھیج رہا ہوں۔ اس کی فتح میری فتح اور اس کی شکست میری شکست ہو گی۔ چنانچہ مناظرہ ہوا۔ غلام احمد مجاہد کو عبرت ناک شکست ہوئی اور وہ ۲۲ دن تک بے ہوش رہا۔

ایک معرکۃ الاراء یادگار اور تاریخی مناظرہ نومبر ۱۹۶۳ء میں قصبہ یاد گیر ضلع

صفحہ 125

گلبرگہ (میسور) میں ہوا۔ جس میں کافی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی تھی۔ قادیانیوں کی طرف سے محمد سلیم مناظر تھا۔ یہ مناظرہ تحریری تھا۔ جو تین دن تک جاری رہا۔ مناظرہ کی تشہیر کے سلسلے میں نہ صرف انڈیا کے اخبارات و رسائل نے حصہ لیا بلکہ بیرون ہند کے رسائل و اخبارات نے بھی اس مناظرہ کی مشہوری کی۔ اس مناظرہ میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی۔ مناظرہ کے صدر جناب بشوناتھ ریڈی ہندو تھے۔ انہوں نے کمال دیانت داری اور غیر جانبداری سے اس فرض کو انجام دیا۔

اس مناظرہ کے فوراً بعد پانچ افراد نے مع خاندان کے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد ٦ اشخاص یکے بعد دیگرے مرزائیت سے تائب ہوئے۔ ان میں خصوصیت سے مولوی عبدالقادر جو عرصہ سے مرزائی مبلغ تھے اور باقاعدہ تنخواہ پاتے تھے۔ انہوں نے مرزائیت کی دنیا کو لات مار دی اور مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر دامن مصطفویٰ میں پناہ لی۔

اس مناظرے کا ایک اثر یہ ہوا کہ قادیانیوں کا سولہ رکنی وفد ١٩٦٥ء میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ جس کے سلسلے میں علماء اسلام نے کلکتہ سے ایک یادداشت عربی میں شاہ فیصل کو روانہ کی تھی۔ چنانچہ اس بنا پر بمبئی سعودی ویزا آفس نے اس قادیانی وفد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔

حال ہی میں ایک مناظرہ کوکنور ضلع کھمم آندھرا پردیش میں ہوا۔ اس مناظرے کے سلسلے میں ٣٠ جون ١٩٨٨ء کو ایک ایگریمنٹ ٥ روپے کے اسٹامپ فارم پر ہوا تھا۔ اس میں رفیق احمد طارق اور غلام احمد قادر قادیانیوں کی طرف سے جبکہ عبدالجبار اور عنایت اللہ مسلمانوں کی طرف سے فریق بنے اور یکم اگست ١٩٨٨ء کو مناظرے کے بارے میں معاہدہ ہوا جس کا متن حسب ذیل ہے:

فریق نمبرا: ہم رفیق احمد طارق و غلام احمد قادر بتاریخ ٨٨-٠٦-٣٠ یہ عہد کر رہے ہیں کہ ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو کچھ اپنی کتب میں لکھا ہے ’مثال کے طور پر میں مسیح موعود اور مہدی موعود اور مثیل محمد جو کچھ بھی انہوں نے دعویٰ کیے ہیں‘ انہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح ثابت کریں گے اور اس کے لیے ہم پیر کے روز یکم اگست ١٩٨٨ء کو معہ اپنے علماء کے بمقام کوکنور ضلع کھمم میں حاضر ہو جائیں گے۔ اگر ہم ثابت نہ کر سکیں تو ان کے دعاوی کو چھوڑ دیں گے۔ دستخط خاکساران رفیق احمد طارق و غلام احمد

صفحہ 126

قادر ۔۸۸-۶-۳۰

۴۔ ہم یعنی عبدالجبار اور عنایت اللہ رشیدی خطیب جامع مسجد ملیندو ماسٹر محمد زبیر صاحب جنہوں نے کہ آج احمدی خادمان سے بحث و مباحثہ کیا‘ اس روز بھی معہ اپنے علماء‘ بحث و مباحثہ کے لیے ضرور حاضر ہوں گے۔ دستخط عبدالجبار ‘عنایت اللہ‘ محمد زبیر۔

۳۰-۶-۸۸

چنانچہ اس معاہدے کے تحت میں معہ مولانا مفتی غیاث الدین (جو حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب کٹکی کے سفر لندن میں بھی شریک سفر ہیں۔ ناقل) قصبہ کوکنور پہنچے۔ سیلاب کی وجہ سے کافی دقت پیش آئی۔ مگر بایں ہمہ ہم یکم اگست مغرب کے قریب پہنچ ہی گئے۔ قادیانی حضرات کسی طرح سے بھی مناظرے کے لیے تیار نہ تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ ایگریمنٹ زبردستی لکھوایا گیا ہے۔ مگر چونکہ گاؤں کے سرپنچ ایک ہندو کے سامنے یہ معاہدہ ہوا تھا‘ اس نے اے ایس آئی کے سامنے گواہی دی کہ یہ معاہدہ خود میرے گھر میں طرفین کی رضا منظوری سے ہوا۔ اس وقت کسی پر زبردستی نہیں کی گئی تھی۔ لہٰذا ان کا شور مچانا‘ ڈرا دھمکا کر یا زبردستی لکھوایا گیا ہے‘ سراسر غلط ہے۔ چنانچہ چار و ناچار قادیانی مناظرے پر مجبور کیے گئے۔

۲ اگست کو کھلا مناظرہ ہوا۔ میں (مولانا محمد اسماعیل کٹکی) نے عوام کے سامنے (جس میں ہندو بھی تھے) یہ ایگریمنٹ پڑھ کر سنایا اور قادیانیوں کی کتاب تذکرہ جس کو وہ وحی مقدس سمجھتے تھے‘ ہاتھ میں لے کر مجمع کو دکھایا اور کہا کہ یہ ان کی کتاب ہے جس کو یہ قرآن کا درجہ دیتے ہیں اور قرآنی نام تذکرہ اس کا نام رکھا ہے۔ اس میں مرزا لکھتا ہے کہ میں خدا ہوں‘ میں خدا کا باپ ہوں۔ قرآن مجید‘ اللہ کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ ان تمام الہامات مرزا کو قرآن وحدیث سے ثابت کیجئے۔

قادیانی مناظر کی جب باری آئی تو وہ بوکھلایا ہوا تھا۔ کہنے لگا کہ ہم پر یہ سراسر الزام ہے کہ ہم اسے قرآن سمجھتے ہیں۔ اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا اگر تم اس کو قرآن نہیں سمجھتے تو مجھے لکھ دو کہ ہم اسے قرآن نہیں سمجھتے مگر باوجود اصرار کے انہوں نے لکھ کر نہ دیا جس کا مجمع پر اور غیر مسلم حضرات پر بڑا اثر ہوا۔ میں نے کہا‘ اچھا اگر تم لکھ کر نہیں دیتے تو کم از کم اتنا لکھ کر دے دو کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی کتابوں میں لکھا ہے‘ ہم اسے صحیح

صفحہ 127

سمجھتے ہیں۔ قادیانی مناظر اور دیگر قادیانیوں نے اس امر کا زبانی اقرار تو کیا مگر جب لکھنے کے لیے کہا گیا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم کہتے تو ہیں مگر لکھ کر نہیں دیں گے۔ جس پر پورا مجمع بے ساختہ ہنس پڑا۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے اور انہیں منہ سے کہے ہوئے الفاظ لکھنے کی جرات نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں اور ان میں حقانیت بالکل نہیں ہے۔ اس پر اے ایس آئی نے فوراً کہا کہ ایسا مناظرہ اگر دس دن بھی ہو تب بھی فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ قادیانی لوگ عجیب ہیں۔ میں خود حیران ہوں کہ زبان سے تو کہتے ہیں مگر لکھ کر نہیں دیتے۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ ان سے مناظرہ کرنا بالکل بے کار ہے۔ اسی اثناء میں نوجوانوں نے قادیانیت کے خلاف نعرے بلند کیے کہ قادیانیت جھوٹ کا نام ہے‘ وغیرہ۔ اے ایس آئی نے قادیانیوں سے کہا کہ چلو یہاں سے نکلو اور مناظرہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور قادیانیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال کر لے گیا۔ سارے مسلمان اور ہندو بیٹھے رہے۔ میں نے پھر قادیانیت کے رد میں بھر پور تقریر کی جس کا مقامی تلگو زبان میں ترجمہ ہو رہا تھا۔ آخر میں لوگوں نے وعدہ کیا کہ ہم قادیانیوں کو اپنی بستی میں گھسنے نہیں دیں گے۔

س: اب تک آپ کے قادیانیوں سے کتنے مناظرے ہو چکے ہیں؟

ج: کوئی ۷۰۔۷۲ کے قریب ہو چکے ہیں۔

س: کتنے قادیانی آپ کے ہاتھ پر آج تک اسلام قبول کر چکے ہیں؟

ج: تقریباً (۸) آٹھ ہزار۔

س: کیا مولانا لعل حسین اختر جو ہماری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے چوتھے امیر رہے ہیں‘ ان سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے؟

ج: جی ہاں وہ میرے گہرے دوست تھے۔ وہ قصبہ سونگڑہ میں تشریف لائے تھے اور میرے پاس پندرہ دن رہے۔ ہم دونوں نے کلکتہ میں حاجی گلزار صاحب کی دعوت پر قادیانیوں کے خلاف کام کیا ہے۔ آخری خط انہوں نے مجھے فجی آئی لینڈ سے بھیجا تھا۔ ان کی ایک چادر میرے پاس آج تک محفوظ ہے۔

س: فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب کے ساتھ آپ کا تعارف تھا؟

ج: جی ہاں مولانا بھی میرے دوست تھے۔ میرے پاس سونگڑہ تشریف لائے تھے۔ میں

صفحہ 128

قادیان میں ان کے پاس ایک ماہ ٹھہرا تھا۔ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

س: کیا سر ظفر اللہ قادیانی کے بارے میں کوئی واقعہ آپ کو یاد ہے کہ وہ ہندوستان کبھی آیا ہو؟

ج: جی ہاں! جناب فخر الدین احمد صدر جمہوریہ بھارت سے ایک مرتبہ میں نے سنا اور مولانا اسعد مدنی نے بھی مجھے یہ واقعہ سنایا کہ اندرا گاندھی کے دور میں سر ظفر اللہ نے ایک مرتبہ بھارت کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ اندرا گاندھی سے اس نے ملاقات کی تھی۔ اس نے اندرا گاندھی کو کہا تھا کہ آپ ہمیں قادیان یا انڈیا میں ایسی جگہ دے دیں جہاں صرف ہمارا نظام چلے اور اندرونی خود مختاری ہمیں حاصل ہو تو مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں جو مسودہ پیش کیا گیا تھا‘ اس سے دست بردار ہو جاؤں گا۔ کیونکہ وہ میں نے پیش کیا تھا۔ معلوم نہیں اندرا گاندھی نے اس وقت کیا جواب دیا۔ صدر جمہوریہ بھارت جناب فخر الدین علی احمد سے جب اس سلسلے میں مشورہ لیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ آپ ہرگز ہرگز یہ غلطی نہ کریں۔ ورنہ مشرق وسطیٰ سے آپ کا تعلق کٹ جائے گا اور انڈیا کے مسلمان بغاوت کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ معلوم نہیں اندرا نے ظفر اللہ کو کیا کہا۔ مگر سر ظفر اللہ آنجہانی کی یہ اسکیم ختم ہو گئی۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۷‘ شمارہ ۲۱)

مولانا تاج محمودؒ اور شاہ جیؒ

ختم نبوت کی دونوں تحریکوں میں مولانا کا رول انتہائی اہم اور قابل قدر رہا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں وہ ایک گمنام کارکن کی حیثیت سے اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سر بکف مجاہد کی صورت لوگوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ انہوں نے تحریک کو اس اعتماد اور تدبر سے چلایا کہ لاہور کے بعد لائل پور تحریک کا مرکز بن گیا۔ لائل پور کے چوہدری سیاست دان اور مقامی انتظامیہ ان کی شہرت و مقبولیت سے خاصے بوکھلا گئے تھے۔ چنانچہ مولانا کی گرفتاری کے بعد انتہائی منظم طریقے سے ان کی کردار کشی کی مہم اسی انداز میں

صفحہ 129

چلائی گئی جس طرح لاہور میں مولانا عبد الستار نیازی کے خلاف چلائی گئی تھی۔ شاہی قلعے کے ایام اسیری بھی مولانا نے ایک ایسی کوٹھڑی میں گزارے جس کے قریب ہی کہیں مولانا نیازی بھی نظر بند تھے۔ مولانا نیازی کی شجاعت اور جگر داری کا ذکر کرتے ہوئے وہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ قلعہ کی اسیری کی ابتدائی راتیں بڑی ہولناک ہوتی ہیں مگر خوش قسمتی سے پہلی ہی رات قلعہ کی وحشت کافور ہو گئی اور وہ اس طرح کہ پہلی ہی رات میری کوٹھڑی کی سنگین دیواروں سے ایک گرجدار آواز ٹکرائی۔ کوئی صاحب مولانا روم کا یہ شعر پڑھ رہا تھا

شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما

ایک سال بعد شاہی قلعہ کی صعوبتوں سے گزر کر مولانا تاج محمود گھر پہنچے تو ضعیف والدین بیٹے کے غم میں گھل گھل کر جاں بلب تھے۔ گھر کا تمام اثاثہ غرق ہو چکا تھا۔ سکول کی ملازمت چھن چکی تھی۔ قادیانی سرکاری اور سرکار نواز حلقوں کے زہریلے پراپیگنڈے نے دوستوں تک کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے۔ حرمان و یاس کے اس گھپ اندھیرے میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا دست شفقت مولانا کے لیے ید بیضا ثابت ہوا۔ مولانا کی شخصیت کی تشکیل و تمکنت میں اگر چہ شاہ جی کی محبت کو شروع سے بڑا دخل تھا۔ تاہم 1953ء کی تحریک کے بعد شاہ جی کے خصوصی التفات ہی نے مولانا کے قلب حزیں کو سہارا دیا۔ انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ شاہ جی مولانا کے گھر قیام پذیر تھے۔ شہر کے چند احباب شاہ جی کے گرد جمع تھے۔ مولانا تحریک کے ایام میں اپنے اور لائل پور شہر پر بیتی ہوئی گھڑیوں کی روئیداد شاہ جیؒ کو سنا رہے تھے۔ دوران گفتگو جب مولانا اپنی روپوشی اور گرفتاری کے قصے تک پہنچے تو اپنے خلاف پراپیگنڈے کا ذکر کرتے ہوئے گلو گیر ہو گئے۔ یہ دیکھ کر شاہ جی کا دریائے محبت جوش میں آیا۔ فرمانے لگے ”تاج محمود۔۔۔۔۔ تجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ بخاری کا دل اللہ تعالیٰ نے جام جہاں نما بنایا ہے۔ تحریک کے کسی مرحلے پر اگر تیرے پاؤں کبھی ڈگمگائے ہوتے تو آج بخاری کا قدم تیرے گھر کی دہلیز پر نہ پڑتا“۔

صفحہ 130

شاہ جی اور آغا شورش سے مولانا کی ہمدمی

شاہ جی اور آغا شورش سے مولانا کی ہمدمی و دمسازی کی داستانیں بھی لذت اور دلچسپی کے اعتبار سے مستقل مضمون کی متقاضی ہیں۔ شاہ جی کے آخری ایام میں مولانا کا معمول تھا کہ ہفتہ میں ایک دن ملتان کا چکر لگا آتے اور باقی چھ دن اس محفل کیف و مستی اور انجمن عرفان کے تذکروں میں گزار دیتے۔ ادھر آغا شورش سے تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ آغا صاحب لاہور سے ہر شام جب تک مولانا کے ساتھ فون پر بات نہ کر لیتے، انہیں چین نہ آتا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی بنیادی حکمت عملی دراصل آغا شورش اور مولانا تاج محمود ہی کی متعین کردہ تھی۔ اس تحریک کی کامیابی کے اسباب تو فی الواقعہ رب العزت نے اپنے حبیبؐ کی ناموس کی حفاظت کے لیے خود ہی فراہم کیے تھے اور بقول مولانا ضیاء القاسمی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس تحریک کی قیادت سرور دوعالمؐ بنفس نفیس فرمارہے ہوں۔ تاہم مولانا نے ستمبر ۱۹۷۴ء کے قادیانی فیصلے سے کئی ماہ قبل احباب کو پورے یقین سے یہ کہہ دیا تھا کہ اس دفعہ تحریک کامیاب ہوجائے گی۔ اس سلسلہ میں وہ کئی ایک واقعات بیان کرتے تھے جن کا تعلق روحانی احوال و مشاہدات سے تھا اور جن سے تاثر یہ ملتا تھا کہ قدرت کا تکوینی عمل اب قادیانیوں کی سرکوبی کے درپے ہے۔ وہ کہتے تھے کہ مولانا بنوری جیسے ولی کامل کا قائد تحریک ہونا اور مولانا منظور احمد سندھی جیسے قطب وقت کا ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کے لیے خاص طور پر مدینہ منورہ سے تشریف لانا ہی اس بات کے ثبوت ہیں کہ اس مرتبہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، مولانا تاج محمودؒ نمبر، ص ۹۰-۹۱، از اقبال فیروز)

قادیانیت کے خلاف تقریر فرقہ واریت نہیں

ایک بات سنو! ایک نبی کے ماننے والے، ان میں کتنا ہی اختلاف ہو جائے، وہ ایک ہی مذہب کے فرقے ہوتے ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو نبی ماننے والے وہ سب اسلام

صفحہ 131

کے فرقے ہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ کے دین کا نام ہے اسلام! دیو بندی ہوں، وہ اسلام کا ایک فرقہ ہیں چاہے بریلوی ان سے کتنے ناراض ہوں، بریلوی بھی اسلام کا ایک فرقہ ہیں چاہے دیوبندی ان سے کتنے ہی ناراض ہوں، اہل حدیث بھی اسلام کا فرقہ ہیں چاہے مقلد ان سے کتنے غصہ میں ہوں۔ مسئلے کا جھگڑا ہو، کتنا اختلاف ہو، وہ سب اسلام ہی کے فرقے ہوں گے۔ کیونکہ ایک نبی ﷺ کو مانتے ہیں۔ میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ قادیانی اور لاہوری مرزائی اسلام کا فرقہ نہیں، کیونکہ انہوں نے مذہب جدا بنالیا، نبی جدا بنالیا۔ جب عورت کو طلاق ہو گئی وہ کسی اور کے پاس چلی گئی تو اب اس سے اس کا کیا تعلق۔ حضور ﷺ کو ماننے والے، وہ اسلام کے فرقے ہیں اور مرزائی اسلام کا فرقہ نہیں۔ اس مسئلے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس مسئلے کی ضرورت یوں پڑی کہ ہماری گورنمنٹ کبھی تو یہ کہہ دیتی ہے کہ جلسے کی تو اجازت ہے، یا اعلان کر دیتی ہے کہ فرقہ وارانہ تقریر کی اجازت نہیں تو فرقہ وارانہ تقریر وہ ہوگی جو دیو بندی، بریلوی کے خلاف کرے، بریلوی، دیو بندی کے خلاف کرے دیوبندی اور بریلوی اہل حدیثوں کے خلاف کریں، مسلمان اگر مرزائی کے خلاف تقریر کریں تو وہ فرقہ وارانہ تقریر نہیں ہوگی۔

(خطاب مولانا محمد علی جالندھریؒ)

مشعل ختم نبوت کو بجھا سکتا ہے کون
پھونک گر مارو گے تو بڑھ جائے گی مشعل کی لو (مولف)

مدبر احرار ماسٹر تاج الدین انصاریؒ

ماسٹر تاج الدین انصاری، جن کا وصال یکم مئی ۱۹۷۰ء کو لاہور میں ہوا، برصغیر پاک و ہند کے تاریخی و صنعتی شہر لدھیانہ میں ۱۸۹۱ء کو پیدا ہوئے۔ جب ہوش سنبھالا تو اس وقت تحریک آزادی کٹھن مراحل سے گزر رہی تھی۔ غیر ملکی سامراج نے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور عوام پر اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنے کے لیے ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔

صفحہ 132

جلیانوالہ باغ کا سانحہ جس میں نہتے عوام پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی تھی، اس جور و ستم کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ اس دلخراش اور ظلم و سفاکی سے پر واقعہ نے برصغیر کے عوام میں انگریز حکومت کے خلاف شدید نفرت پیدا کر دی تھی اور ان میں غیر ملکی حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کی خواہش اور وطن عزیز کی آزادی کی تڑپ پہلے سے زیادہ ہو گئی تھی۔ ماسٹر صاحب مرحوم بھی اس سانحہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور تحریک آزادی کے متوالوں میں شامل ہو گئے۔ یوں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ ماسٹر صاحب گفتار کے ہی نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ عملی جدوجہد کو کامیابی کا زینہ قرار دیا۔ چنانچہ انہوں نے نوجوانوں کا ایک گروہ ساتھ لیا اور انبالہ جیل پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے سیاسی قیدی چھڑا لائے۔ تحریک خلافت میں بھرپور حصہ لیا۔ بعد میں مجلس احرار اسلام قائم ہوئی تو اس سے وابستہ ہو گئے اور تادم حیات اس جماعت کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں رہے۔ مجلس احرار اسلام نے قیام پاکستان سے قبل کئی تحریکیں چلائیں۔ ان تحریکوں میں تحریک کشمیر، تحریک کپور تھلا، تحریک مسجد شہید گنج اور تحریک بہاولپور وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان تحریکوں میں ماسٹر صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان بننے کے بعد تحریک تحفظ ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں ماسٹر صاحب نے بھرپور کردار ادا کیا۔

اللہ تعالیٰ نے ماسٹر تاج الدین انصاریؒ کو بے پناہ انتظامی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ چنانچہ انہی اوصاف کی بناء پر کئی مشکل ترین معاملات کی عقدہ کشائی انہیں سونپی گئی اور انہوں نے بارہا ایسے مواقع پر بہترین انتظامی اہلیت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ماسٹر صاحب اپنی سوانح حیات میں جو سرگزشت کے نام سے فیصل آباد کے ماہنامہ لولاک میں قسط وار شائع کی جاتی رہی ہے، ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ جمعیت علماء ہند کے زیر اہتمام ایک کانفرنس لاہور میں ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا۔ حکومت پنجاب اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق لاہور کے ایک آنریری مجسٹریٹ کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ کانفرنس میں بلا ٹکٹ شریک ہوں اور ٹکٹ پوچھنے پر تکرار کی جائے اور اس طرح وجہ فساد پیدا ہو جائے اور کانفرنس نہ ہو سکے۔ چنانچہ اس پروگرام پر عمل کیا گیا۔ جب رضا کار ٹکٹوں کو

صفحہ 133

چیک کرتے ہوئے آنریری مجسٹریٹ صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے سرکاری عہدہ کا رعب دیا اور تکرار شروع کر دی۔ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد خطاب فرما رہے تھے۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے مولانا سے مائیکروفون لیا اور اعلان کیا کہ کیپٹن تاج (تاج الدین انصاری) پنڈال میں جہاں کہیں بھی ہوں، فوراً سٹیج پر تشریف لائیں۔ چنانچہ اعلان ہوتے ہی ماسٹر صاحب جو سالار کی وردی میں ملبوس تھے، سٹیج پر آئے اور سلیوٹ کیا۔ مولانا نے اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ معاملہ کو نپٹایا جائے۔ ماسٹر صاحب حکم ملتے ہی موقع پر پہنچے اور آنریری مجسٹریٹ صاحب سے یوں مخاطب ہوئے ”محترم اس پنڈال کا سارا انتظام میرے ذمہ ہے۔ میں آپ کو صرف پانچ منٹ دیتا ہوں۔ آپ یا تو ٹکٹ شو کرائیں یا تشریف لے جائیں۔ ورنہ پانچ منٹ بعد جو ہو گا، اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے اور اس کی ذمہ داری بھی آپ پر ہو گی“۔ یہ جملہ مکمل ہوتے ہی ماسٹر صاحب نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھنی شروع کر دی۔ ابھی تین منٹ ہی گزرے تھے کہ آنریری مجسٹریٹ صاحب پنڈال سے چپ چاپ نکل گئے۔ مولانا آزاد اس کارکردگی سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوں نے ماسٹر صاحب کو میڈل سے نوازا اور فرمایا کہ اس قسم کی انتظامی صلاحیتوں کے حامل نوجوان اگر ہمیں مل جائیں تو ہم بہت جلد وطن عزیز کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروا سکتے ہیں۔

آغا شورش کاشمیری مدیر چٹان نے ماسٹر جی کی وفات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریر کیا کہ وہ انتہائی زیرک اور تیور شناس انسان تھے۔ انسان کو پہلی نظر میں تاڑ لیتے کہ اس کا بل بوتا کیا ہے اور اس سے کس سطح پر کس نہج سے معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ دور کی باتیں چھوڑئیے، تحریک تحفظ ختم نبوت میں جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ تاج الدین انصاری صوبہ میں پولیس کے سربراہ انور علی اور وزارت کے سرخیل ممتاز دولتانہ کو شیشہ میں اس طرح اتارتے رہے کہ آخر وقت تک وہ اندازہ نہ کر سکے کہ ان کے ہاتھوں کھلونا بن رہے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی جماعت کو نازک مرحلوں میں بچاتے رہے۔ رئیس الاحرار چودھری افضل حق مرحوم نے تاریخ احرار صفحہ ۱۳۰ تا ۱۳۵ میں ماسٹر جی کو ان لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ”ماسٹر تاج الدین ہماری جماعت میں بڑے جوڑ توڑ کے آدمی ہیں۔ وہ سوکھی مٹی سے محل تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں نے انہیں کام کے لحاظ سے محنتی چیونٹی اور تدبر کے اعتبار سے دشمن کو تاروں میں الجھا کر مارنے والی

صفحہ 134

تگڑا پایا ہے۔"۔ مجلس احرار نے ماسٹر صاحب کی انہی خوبیوں کی بناء پر انہیں قادیانیت کے مرکز قادیان میں اپنے وقت کا انچارج مقرر کیا تھا تاکہ مرزا کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا جائے۔ جانباز مرزا نے اپنی کتاب کاروان احرار‘ جلد دوم کے صفحہ ۳۰۹ تا ۳۱۲ پر قادیان میں ماسٹر صاحب کی سرگرمیوں کو قلم بند کیا ہے۔ جو درج ذیل ہیں:

ان دنوں ماسٹر تاج الدین انصاری قادیان میں دفتر احرار کے انچارج تھے۔ ملمع سازی کی اس دکان کو اجاڑنے اور پتیل کو سونے کے بھاؤ بیچنے والے ان سلی بازوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ماسٹر جی نے ایک منصوبہ بنایا۔ جس کے تحت قادیان کے ایک نوجوان محمد حنیف کو جو بھیک منگوں کا لڑکا تھا‘ تیار کیا۔ اس کے ذمہ یہ لگایا کہ وہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے بھائی شریف احمد کو‘ جب وہ بازار میں نکلے تو سرعام پیٹ ڈالے اور موقع واردات سے فرار ہو جائے۔ باقی دیکھا جائے گا۔ چنانچہ اس سکیم پر عمل کرتے ہوئے محمد حنیف نے وقت کا جائزہ لیا کہ مذکورہ آدمی کب بازار میں نکلتا ہے۔ جب اسے گرد و پیش کا اندازہ ہو گیا تو ایک دن حنیف ہاکی سے مسلح‘ مرزائیوں کی مسجد اقصیٰ کے قریب کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں ”شریف احمد“ سیاہ اچکن پہنے‘ سنہری کلاہ پر سفید پگڑی باندھے‘ سفید شلوار‘ پیٹنٹ کی سیاہ گرگابی اور ہاتھ میں چھڑی لے کر قادیان کے مین بازار میں تفریح کے لیے نکلا۔ ابھی وہ اپنی شاہی رفتار سنبھال ہی رہا تھا کہ ڈیوٹی پر کھڑے محمد حنیف نے ہاکی شریف احمد کی دونوں ٹانگوں کے درمیان اڑا کر اسے ایسی پٹخنی دی کہ وہ منہ کے بل گرا اور پھر اوپر سے تین چار ہاکیاں رسید کر دیں اور بھاگ نکلا۔

یہ سارا کچھ اس قدر آناً فاناً ہوا کہ بازار کے لوگ اس انہونی کارروائی پر ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ آن کی آن میں یہ خبر قصر خلافت سے ہو کر قادیان میں پھیل گئی کہ احرار نے ”شعائر اللہ کی توہین کر دی“ (نعوذ باللہ) سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ مرزائیوں کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ قریباً ایک صدی کا دام فریب‘ جس کی طنابیں ابلیس نے تھام رکھی تھیں‘ تار تار ہو کر بکھر گیا۔ عزت و احترام کا کاغذی پھول پاؤں تلے مسل دیا گیا۔ جھوٹی نبوت کے قصر خلافت کو ایک فقیر نے ایسا پتھر مارا کہ لات و ہبل کی بنیادیں ہل گئیں۔

اب ملزم کی تلاش شروع ہوئی۔ پولیس نے دفتر احرار کو اپنی تفتیش کا مرکز بنا کر ماسٹر

صفحہ 135

جن کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر ملزم کو ڈھونڈنا چاہا مگر یہ تو بحر قلزم تھا۔ یہاں ان چھوٹی موٹی چیزوں کا اتہ پتہ کہاں مل سکتا تھا۔ قادیان سے باہر جانے والے تمام راستے مسدود کر دیے گئے لیکن ہوائیں بھی ملزم کی بو سونگھنے میں ناکام رہیں۔ مرزائیوں کی اپنی سی آئی ڈی اور ضلعی انتظامیہ مسلسل تلاش کے بعد جب مایوس ہو چکیں تو رات کے پچھلے پہر محمد حنیف کو قادیان سے نکال کر صبح ہونے تک پٹھان کوٹ پہنچا دیا گیا اور عدالت سے اس کی ضمانت کرا لی۔

اب محمد حنیف قانون کے حصار میں تھا۔ مرزائی اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔ مگر دل ہی دل میں زہر کے گھونٹ پی رہے تھے۔ قادیان پہنچ کر کچھ رقم دی گئی جس سے وہ منڈی سے آموں کا ٹوکرا خرید کر لاتا اور مرزائی محلے میں فروخت کرتا۔ مرزائی عورتیں آم خریدنے کے بہانے حنیف کو دیکھتیں اور اس طرح آدھ گھنٹے میں ٹوکرا فروخت کر کے دوسرا لے آتا۔ تمام دن یہی شغل رہتا۔ پہلے حنیف دن بھر بھیک مانگ کر مشکل سے پیٹ پالتا تھا مگر اب وہ اچھا خاصا خوانچہ فروش بن گیا اور مزے سے روزی کمانے لگا۔ کچھ دنوں تو یہ سلسلہ رہا، آخر جمعہ کے روز بشیر الدین محمود نے اپنی تقریر میں کہا:

مرزائیو تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم لوگ اس آدمی سے سودا خریدتے ہو جس نے کل سرعام شعائر اللہ کی توہین کی تھی۔ اس پر مرزائی عورتیں حنیف سے آم تو نہ خریدتیں مگر چپکے سے دروازے کی اوٹ سے حنیف کو تاک لیتی تھیں۔ آخر دو ماہ مقدمہ چلنے کے بعد محمد حنیف کو چھ ماہ قید کی سزا ہو گئی۔ اس دوران مقامی جماعت احرار، اس کے اہل خانہ کی مالی امداد کرتی رہی۔

عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت میں قادیانی حصار کو توڑنا تبلیغ اسلام کا بنیادی حصہ تھا۔ کفر کا یہ قلعہ برطانوی پناہ میں تھا۔ اس میں دراڑ ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ احرار نے ہر رخ سے اس پر یلغار اور حملہ مناسب سمجھا تاکہ یہ بت ٹوٹ جائے اور اس کی پرستش سے لوگوں کے ایمانوں کی حفاظت ہو سکے۔

سال رواں کے دم توڑنے والے دنوں کی بات ہے کہ مسٹر تاج الدین انصاری کی تجویز پر دینا نگر (ضلع گورداسپور) سے شیعہ رہنما مظفر علی شمسی کو قادیان بلوایا گیا تاکہ محرم کے دنوں میں مرزائیوں کو چڑانے کے لیے قادیان میں گھوڑا نکالنے کا اہتمام کیا جاسکے۔

صفحہ 136

چنانچہ اندرون خانہ اس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ اس کے لیے آسمان کے کس کس کونے سے تارے توڑنے پڑے، سمندر کی کن گہرائیوں سے موتی نکالنے پڑے اور پہاڑوں کا سینہ چیر کر کیونکر راستہ ہموار کیا گیا، یہ راز سربستہ ہے۔ لیکن دسویں محرم کو قادیان کی تاریخ میں پہلا دن تھا جب اس کے بازاروں سے گھوڑے کا جلوس گزر رہا تھا۔ اس کی رہنمائی مظفر علی شمسی کر رہے تھے۔

ماتم گساروں کے گرد پولیس کا حفاظتی حصار تھا۔ شہر کے ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے محلوں میں پانی کی سبیلیں لگائیں۔ قادیان کے مسلمانوں نے اہل جلوس کی تواضع مٹھائی اور ٹھنڈے پانی سے کی۔ دن بھر شہر میں گھوم پھر کر گھوڑے کا جلوس نماز مغرب کے قریب امن اور سکون سے ختم ہو گیا۔ آغا شورش کاشمیری نے ماسٹر تاج الدین انصاری کے اس تدبر کو یوں خراج تحسین پیش کیا:

”پاکستان بنا تو ماسٹر جی آل پاکستان مجلس احرار اسلام کے مرکزی صدر ہو گئے۔ یہ ایک نازک وقت تھا۔ ان جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا آدمی ہی مجلس کو طوفانوں کی زد سے بچا سکتا تھا اور یہی ہوا۔ ان کی بدولت مجلس احرار اسلام ایک ققنس کی طرح پھر اپنے خاکستر سے زندہ ہو گئی“۔

ماسٹر تاج الدین انصاری نے اپنی عمر کا بہت بڑا حصہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، چودھری افضل حق، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی اور دوسرے احرار زعماء کے ساتھ بسر کیا۔ وہ مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، مفتی کفایت اللہ اور اس عہد کے دوسرے نامور لیڈروں کے ساتھ رہے۔

پچاس سالہ سیاسی زندگی میں فقر و استغناء کی تصویر بنے رہے۔ ان کے خیالات سے لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ وہ نظریات کے ایک خاص سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے لیکن اختلاف کی اس دنیا میں جو چیز ان کے لیے طرۂ امتیاز رہی، وہ ان کی درویشی، حلم، فقر، راست بازی، سادگی اور مجلسی خدمت کا بے لوث سرمایہ ہے۔

ماسٹر جی کا انداز خطابت

احرار نے بڑے بڑے آتش نفس اور آتش بیان مقرر پیدا کیے لیکن ماسٹر صاحب کا

صفحہ 137

خطابت میں اپنا جداگانہ رنگ تھا۔ ان کا بیان اور لہجہ دھیما ہوتا مگر بات نہایت کٹیلی کرتے۔ دلیل اور منطق کے سہارے بات کو آگے بڑھاتے اور یوں سامعین کو اکائی میں بدل دیتے۔ آغا شورش کاشمیری تحریر کرتے ہیں کہ ان کی زبان میں آزار نہ تھا لیکن قومی معاملوں میں کسی سے رو رعایت کے عادی نہ تھے۔ ان لوگوں کو اڑنگے پر لا کر پٹخنی دینا ان کا بائیں ہاتھ کا کرتب تھا جو ملک وملت کے لیے ناسور تھے۔ خطابت کا آغاز آپ نے لدھیانہ کے ایک جلسہ میں کیا تھا جس میں انہیں ایک قرارداد کی تائید کرنا تھی۔ آپ نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا اور قرارداد کی پرزور تائید فرمائی۔

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

تصنیف و تالیف

مفکر احرار چودھری افضل حق لکھتے ہیں ”وہ اہل تدبیر ہی نہیں بلکہ اہل قلم بھی ہیں“۔ مجلس احرار نے اپنا پہلا اخبار روزنامہ ”مجاہد“ اگست ۱۹۳۴ء میں جاری کیا۔ ماسٹر تاج الدین انصاری اس کے چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ ان کے زیر ادارت مجاہد کی اشاعت دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد آپ روزنامہ ”آزاد“ اور ہفت روزہ ”میرت“ کے ایڈیٹر رہے۔ ماسٹر جی نے سیاسی اور معاشرتی کاموں کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ انہوں نے سرخ لکیر‘ تاریخ کپور تھلا‘ فسادات فرخ نگر‘ بیان صادق اور تحریک کشمیر جیسی شہرہ آفاق کتب بھی قلم بند کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مجلس احرار اور دیگر سیاسی و معاشرتی مسائل پر بھی کتابچے اور پمفلٹ تحریر کیے جو اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔

قومی خدمت

ماسٹر تاج الدین انصاری کو قدرت نے بڑا دردمند دل عطا کیا تھا۔ جب بھی عوام پر کوئی مصیبت پڑی‘ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے دیوانہ وار پہنچے۔ زلزلہ کوئٹہ‘ قحط بنگال اور برصغیر کی تقسیم کے موقع پر انہوں نے مہاجروں کو بحفاظت پاکستان

صفحہ 138

پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ”سرخ لکیر“ میں تقسیم کے موقع پر مہاجرین کو درپیش مصائب کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ماسٹر صاحب ۱۹۴۷ء میں آخری قافلے کے ساتھ پاکستان آئے اور مجلس احرار کے دفتر بیرون دہلی دروازہ کی بالائی منزل پر رہائش پذیر ہوئے اور یہیں یکم مئی ۱۹۷۰ء کو ان کا انتقال ہوا۔

قید و بند

ماسٹر تاج الدین انصاری نے تحریک آزادی وطن اور تحریک تحفظ ختم نبوت میں اندازاً ۱۰ سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن ان کے پائے استقلال میں کبھی بھی لغزش نہ آئی اور اس ابتلا کے دور میں عزم و ہمت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ان کے حالات زندگی کا مطالعہ ہمیں عملی جدوجہد، راست بازی اور ملک و ملت کی بے لوث خدمت کا درس دیتا ہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ماسٹر صاحب کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:

مجلس احرار خوش نصیب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایک اعلیٰ درجہ کا مدبر، میدان سیاست کا شہسوار، شطرنج سیاست کا بہترین کھلاڑی، باطل پرستوں کی مکاریوں اور فریب کاریوں سے پورا آگاہ ماسٹر تاج الدین انصاری جیسا راہنما عطا فرمایا ہے۔ (بحوالہ ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، امیر شریعت نمبر، صفحہ ۳۱۲)

ماسٹر جی کی باتیں

اللہ تعالیٰ نے ماسٹر تاج الدین انصاریؒ کو ذہن رسا، عقل سلیم اور بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپ ہر معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر اس پر اپنی رائے دیتے اور یہ رائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ہمہ گیری اور جامعیت کو اجاگر کرتی چلی جاتی۔ ۱۹۵۸ء میں راقم الحروف نے بی۔ اے کیا تو والد گرامی نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں ملکی سیاست میں حصہ لوں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے محترم ماسٹر جی قبلہ سے رائے لی تو آپ نے فرمایا میرے بھائی میں پچاس سال سے زائد عرصہ سے ملکی سیاست میں ہوں۔ میری دور رس نگاہیں اور سیاسی بصیرت آئندہ کی ملکی سیاست کو جس طرح دیکھ رہی ہیں، وہ

صفحہ 139

موجودہ سیاست سے بہت مختلف ہو گی۔ اس وقت قومی لیڈر اپنی گرہ سے خرچ کر کے قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن آئندہ ایسا نہ ہو گا۔ سیاست نفع بخش صنعت کا درجہ لے گی‘ قومی خزانے کا بے دریغ استعمال اپنے ذاتی مفاد کے لیے ہو گا۔ قوم کا مال کھا کر بھی قوم کی خدمت نہ ہو گی‘ بلکہ اپنا مفاد پیش نظر ہو گا۔ آج جب ہم ملکی حالات اور لیڈران قوم کو دیکھتے ہیں تو ماسٹر جی کی رائے سو فیصد صحیح ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔ موجودہ دور میں جو شخص حلال کما کر اپنی اور اپنی اولاد کی پرورش کرے گا‘ وہ واقعی قابل ستائش اور قابل تقلید ہو گا۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ جون ۱۹۹۹ء‘ از قلم امین الدین انصاری)

تحریک ختم نبوت میں مولانا مودودی کا کردار

میاں طفیل محمد سے ایک انٹرویو

سوال: ۱۹۵۳ء میں جماعت اسلامی سے متعلق افراد کی گرفتاریوں کے واقعہ کے بارے میں بیان فرمائیے؟

جواب: تحریکی زندگی کا ایک واقعہ جو کبھی یاد سے محو نہیں ہو گا‘ وہ ۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو لاہور سنٹرل جیل کے اندر ہی قائم شدہ فوجی عدالت سے امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کو سزائے موت دینے کا اعلان ہے۔ ۲۸ مارچ ۵۳ء کو مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی اور میرے سمیت لاہور میں جماعت کے کئی دوسرے لوگوں کو مارشل لا کے تحت گرفتار کر کے سنٹرل جیل لاہور میں ”سی“ کلاس میں بند کر دیا گیا اور پنجاب کے دوسرے اضلاع سے بھی جماعت کے متعدد کارکنوں کو پنجاب سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ اس طرح جماعت کے گرفتار ہونے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی کل تعداد پچاس سے زائد تھی۔

صفحہ 140

لاہور جیل میں ہم سب کو کئی روز تک ایک دوسرے سے بالکل الگ اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ لاہور سے گرفتار ہونے والے‘ میرے سوا تمام حضرات کو بدنام زمانہ شاہی قلعہ لاہور میں لے جا کر کئی کئی روز تک پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ مولانا مودودیؒ‘ مولانا امین احسن اصلاحیؒ‘ شیخ فقیر حسینؒ منیجر ترجمان القرآن جناب چراغ دینؒ‘ چودھری محمد اکبرؒ سیالکوٹی‘ عبدالوحید خان‘ ملک نصراللہ خان عزیزؒ اور سید صدیق الحسن گیلانیؒ‘ سب کو قلعہ میں لے جایا گیا۔ اواخر اپریل میں مولانا مودودی کو ”قادیانی مسئلہ“ تصنیف کرنے اور حکومت کی ظالمانہ روش پر ایک تنقیدی بیان جاری کرنے اور سید نقی علی پر قادیانی مسئلہ طبع کرانے اور ملک نصراللہ خان عزیز پر مولانا محترم کا مذکورہ بالا بیان اپنے اخبار ”تسنیم“ میں شائع کرنے کے جرم میں جیل کے اندر ہی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

لاہور قلعہ میں پوچھ گچھ کے بعد مولانا مودودیؒ‘ مولانا امین احسن اصلاحیؒ‘ سید نقی علی‘ ملک نصراللہ خان عزیزؒ‘ چودھری محمد اکبر صاحب اور مجھے لاہور سنٹرل جیل (جو موجودہ شادمان کالونی کی جگہ تین ہزار قیدیوں کی نہایت وسیع و عریض جیل تھی) کے دیوانی گھر وارڈ میں جمع کر دیا گیا۔ فوجی عدالت میں مقدمہ کے دوران تینوں ”ملزمان“ یہیں سے جیل کے عدالت گھر میں جاتے رہے۔ تین یا چار روز تک تین فوجی افسروں پر مشتمل فوجی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوتی رہی۔

سوال: جب مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ کو سزائے موت سنائی گئی‘ ان لمحوں کی یادداشت بیان فرمائیے؟

جواب: ۱۱ مئی ۱۹۵۳ء‘ بعد غروب آفتاب کا ذکر ہے‘ سنٹرل جیل لاہور کے دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ‘ چودھری محمد اکبرؒ‘ ملک نصراللہ خان عزیزؒ‘ سید نقی علیؒ اور میں۔۔۔۔۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی اقتداء میں نماز مغرب ادا کر رہے تھے کہ دیوانی گھر کا بیرونی دروازہ کھٹ سے کھلا۔ پندرہ بیس افسر اور وارڈر صحن میں داخل ہوئے اور جہاں ہم نماز پڑھ رہے تھے‘ اس کے قریب آکر رک گئے۔ ہم غالباً دوسری یا تیسری رکعت میں تھے۔ سلام پھیرنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ ان میں دو تین فوجی افسر اور باقی سپرنٹنڈنٹ جیل‘ دوسرے افسر اور ان کے ماتحت عملہ کے لوگ شامل ہیں۔ دعا کے بعد ہم نے ان سے کہا کہ ہم سنتوں سے فارغ ہولیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہاں بالکل

صفحہ 141

ٹھیک ہے، آپ نماز سے فارغ ہو جائیں۔

نماز کے بعد ہم ان کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک فوجی افسر نے، جس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی، آگے بڑھ کر پوچھا کہ ملک نصر اللہ خان عزیز کون ہیں؟ ملک صاحب نے جواب دیا کہ میں ہوں۔۔۔۔۔ اس افسر نے انہیں علماء کی گرفتاریوں کے متعلق مولانا مودودی کا بیان، مورخہ ۵ مارچ ۱۹۵۳ء روزنامہ ”تسنیم“ میں چھاپنے کے الزام میں تین سال قید بامشقت کا حکم سنایا۔

اس کے بعد اس افسر نے پوچھا ”سید نقی علی کون ہیں؟“ سید نقی علی صاحب نے جواب دیا کہ ”میں ہوں“ انہیں اس افسر نے مولانا مودودی صاحب کے مرتب کردہ پمفلٹ ”قادیانی مسئلہ“ شائع کرنے کی پاداش میں نو سال قید سخت کی سزا کا حکم دیا۔

اس کے بعد یہ افسر مولانا مودودی کی طرف متوجہ ہوا اور ان کے چہرے پر آنکھیں گاڑتے ہوئے ان سے کہا:

”آپ کو قادیانی مسئلہ کا پمفلٹ لکھنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے اور علماء کی گرفتاریوں پر بیان جاری کرنے کے جرم میں سات سال قید بامشقت سزا دی گئی ہے۔ مارشل لاء کے تحت سزاؤں کے خلاف اپیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو اپنی موت کی سزا کے خلاف سات دن کے اندر مسلح افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں“۔

یہ سنتے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کا چہرہ بلا مبالغہ انگارے کی مانند تمتما اٹھا اور آپ نے نہایت باوقار لہجے میں جواب دیا:

”مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی“۔

کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر افسروں نے ان تینوں حضرات سے کہا ”آپ لوگ جلدی تیار ہو جائیں، ملک نصر اللہ خان عزیز اور سید نقی علی سزا یافتہ قیدیوں کی بارک میں جائیں گے۔۔۔۔۔ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پھانسی گھر میں“۔

صفحہ 142

سوال: سزائے موت کی خبر سنتے ہی آپ کا فوری تاثر کیا تھا؟ اور دیگر زندانی رفقاء کے احساسات کس نوعیت کے تھے؟ جواب: اپنے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان پر اس خبر کا فوری اثر کیا ہوا اور انہوں نے کیا سوچا لیکن واقعہ یہ ہے کہ جیسے تیز بلیڈ سے جسم کٹ جائے تو آدمی کو تھوڑی دیر تک بالکل پتہ ہی نہیں چلتا کہ جسم کٹ گیا ہے اور نہ درد محسوس ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی اس ساری کارروائی کا نہ مجھ پر فوری طور پر کوئی اثر ہوا اور نہ فوری طور پر کوئی خاص خیال ذہن میں آیا۔ میں خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔

اس کے بعد چند منٹ کے اندر مولانا مودودی صاحب کو ہم سے الگ کر کے نماز عشاء سے پہلے پہلے ”پھانسی کی کوٹھڑی“ میں لے جا کر بند کر دیا گیا اور سید نقی علی اور ملک نصر اللہ خان عزیز کو لے جا کر عام جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ ایک بیرک میں بند کر دیا گیا۔

مولانا مودودی نے وہاں سے رخصت ہوتے وقت افسران جیل سے دریافت کیا کہ وہ اپنا بستر اور کتب وغیرہ ساتھ لے لیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بس ایک قرآن مجید چاہیں تو لے لیں اور کچھ نہ لیں، بستر اور کپڑے آپ کو وہاں مل جائیں گے۔ ۔۔۔۔ چنانچہ مولانا نے چپل کے بجائے اپنا جوتا، اور کپڑے کی ٹوپی کی بجائے اپنی قراقلی کی ٹوپی پہنی اور ہم لوگوں سے گلے مل کر اس طرح سے روانہ ہو گئے کہ گویا کوئی بات ہی نہیں، بس معمولاً ایک احاطہ سے دوسرے احاطے کی طرف جا رہے ہیں۔

تھوڑی دیر کے بعد ایک وارڈر آیا اور وہ مولانا کی ٹوپی، قمیص، پاجامہ اور جوتا سب کپڑے واپس دے گیا۔ اس نے بتایا کہ انہیں جیل کے قاعدے کے مطابق کھدر کا کرتہ اور ازار بند کے بغیر کھدر کا پاجامہ دے دیا گیا ہے۔ وہاں وہ اپنے کپڑے اور ازار بند والا پاجامہ نہیں رکھ سکتے۔

اس وقت سزائے موت کے اس فیصلے سے پوری جیل پر ایک عمیق خاموشی طاری تھی۔ رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ دیوانی گھر وارڈ میں اب مولانا امین احسن اصلاحی، چودھری محمد اکبر اور میں، بس تین آدمی رہ گئے تھے۔ مولانا مودودی کے ان پارچہ جات کا واپس آنا تھا کہ ان کو دیکھتے ہی مولانا اصلاحی صاحب پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ ان پارچہ جات کو کبھی آنکھوں سے لگاتے اور کبھی سینے سے اور کبھی سر پر رکھتے۔ وہ زار و

صفحہ 143

قطار روتے ہوئے کہہ رہے تھے ”مودودی کو میں بہت بڑا آدمی سمجھتا تھا لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ خدا کے ہاں اس کا اس قدر بلند مرتبہ ہے“ چودھری محمد اکبر صاحب بھی زار و قطار رو رہے تھے اور پھر معاً مجھے بھی یہ احساس ہوا کہ پھانسی کے حکم کے کسی عدالت کے روبرو قابل اپیل نہ ہونے اور مولانا کی طرف سے رحم کی اپیل کی پیشکش کو صاف صاف لفظوں میں مسترد کر دینے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ یہ احساس ہوتے ہی میں بارک سے نکل کر صحن کے ایک کونے میں چلا گیا اور پھر۔۔۔۔۔ ہچکی بندھ گئی۔ کبھی دل میں خیال آتا کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ مولانا مودودی جیسے شخص کو ایسے ظالم لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔ لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال آتا کہ اللہ تعالیٰ کا کون سا کام کسی خاص بندے سے اٹکا ہوا ہے۔ خدا کی اسی زمین پر نہایت ناہنجار لوگوں کے ہاتھوں اس کے نبیوں اور رسولوں کے سر قلم ہوتے رہے۔ خدا کے نیک بندے آروں سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیئے گئے۔ لوہے کی کنگھیوں سے ان کی بوٹیاں نوچ دی گئیں۔ حضرت عثمانؓ کو مظلومانہ طور پر شہید کیا گیا اور امام حسینؓ جیسی ہستی کو تپتی ریت پر ذبح کر دیا گیا۔ میں نے سوچا جس خدا کی زمین پر نت لاکھوں کروڑوں انتہائی حسین پھول‘ روز جنگلوں میں کھلتے اور مٹی میں مل جاتے ہیں اور کسی کو خبر نہیں ہوتی‘ وہاں ایک مودودی اور اس کے ہم جیسے گنہگار ساتھیوں کے بغیر کون سا کام رک جائے گا۔

رات کا بیشتر حصہ اسی حالت میں کٹ گیا۔

سوال: اور پھانسی کوٹھڑی میں مولانا مودودی کی کیفیت کے بارے میں آپ کو کیا معلوم ہوا؟

جواب: اگلے روز وارڈروں وغیرہ کی زبانی مولانا مودودی کی رات بھر کی کیفیت معلوم ہوئی کہ وہ پھانسی گھر گئے۔ پھانسی کے مجرموں والے کپڑے انہوں نے زیب تن کیے‘ کوٹھڑی کے جنگلے سے باہر رکھے ہوئے پانی کے گھڑے سے وضو کیا‘ عشاء کی نماز پڑھی اور زمین پر بچھے ہوئے دو فٹ اور ساڑھے پانچ فٹ کے ٹاٹ کے بستر پر پڑ کر ایسے سوئے کہ رات بھر ان کے پہرے دار حیرت میں ڈوبے دیکھتے رہے کہ یا اللہ یہ عجیب شخص ہے جو پھانسی کا حکم پا کر ایسا مدہوش سویا ہے‘ گویا اس کے سارے فکر اور تردد دور ہو گئے ہیں۔ گویا اسے من کی مراد مل گئی ہے۔

صفحہ 144

لیکن ہم نے جس کرب سے وہ رات گزاری‘ اسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ اب ہمارا زیادہ وقت نماز‘ ملاقات اور دعاؤں میں گزرتا۔ جیل کی چار دیواری میں تقریباً ہر شخص کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ تھیں۔ باہر مولانا مودودی کی سزائے موت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں‘ ہڑتالوں اور سزا کی منسوخی کے مطالبات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ دوسرے مسلم ممالک سے ہی نہیں‘ بہت سے غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کی طرف سے بھی گورنر جنرل اور وزیر اعظم پاکستان کے نام ٹیلی گرام بارش کی طرح برس رہے تھے۔ رد عمل انتہائی وسیع اور ہمہ گیر تھا۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۳ مئی کو یہ اعلان کر دیا گیا ”حکومت نے مولانا مودودی کی سزائے موت کو عمر قید بامشقت میں بدل دیا ہے“۔۔۔۔۔ چنانچہ مولانا کو ”پھانسی گھر“ سے جیل کے ”بی کلاس“ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا اور ہمیں بھی بطور خاص ”بی کلاس“ وارڈ میں جاکر ان سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔۔۔۔۔۔

ہم فوراً وہاں پہنچے اور پیاسی آنکھوں کے ساتھ صاحب تفہیم القرآن کو دیکھا۔۔۔۔۔ مولانا کھدر کے کرتے اور پاجامے میں ملبوس تھے اور جسم پسینے کی وجہ سے گرمی دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ مولانا کا کپڑوں کا بکس اور دوسرا سارا سامان گھر بھیجا جا چکا تھا۔ میں اپنے کپڑوں میں سے ململ کا کرتہ‘ لٹھے کا پاجامہ اور بنیان اور دو دھلی ہوئی بستر کی چادریں ساتھ لے گیا تھا۔ مولانا مودودی موٹے کھدر کے کرتے اور پاجامے میں سچی بات ہے اور بھی بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ ان کا سرخ و سفید چہرہ فی الواقع جگمگا رہا تھا۔۔۔۔اور انہیں اگر افسوس تھا تو اس بات کا کہ انہیں اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے کی سعادت نہ ملی۔

سوال: لاہور میں مارشل لاء تو جلد اٹھ گیا تھا لیکن مولانا کی عمر قید فوراً کیوں نہ ختم ہوئی؟

جواب: مولانا مودودیؒ کی سزائے موت و عمر قید پر لاہور کے مارشل لاء کے اٹھ جانے سے کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ کیونکہ ہر مارشل لاء کے اٹھنے سے پہلے اس کے تمام کاموں اور فیصلوں کے بارے میں انڈیمنٹی کا قانون بنا دیا جاتا ہے۔ مولانا مرحوم کی موت کی سزا گورنر جنرل نے عالمی رائے عامہ کے دباؤ کے نتیجے میں عمر قید میں تبدیل کی تھی‘ اور یہ سزا کے تیسرے روز تبدیل ہو گئی تھی۔

جہاں تک عمر قید سے رہا ہونے کا معاملہ ہے‘ وہ جب ملک غلام محمد گورنر جنرل نے

صفحہ 145

اکتوبر ۱۹۵۴ء میں مجلس دستور ساز کو توڑ دیا اور اس کے اس حکم کو عدالت نے جائز قرار دے کر یہ فیصلہ دیا کہ ”پارلیمنٹ کا پاس کردہ کوئی قانون‘ خواہ وہ اس نے قانون ساز اسمبلی کی حیثیت سے بنایا ہو‘ یا مجلس دستور ساز کی حیثیت سے‘ گورنر جنرل کی منظوری کے بعد قانونی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا اور مجلس دستور ساز کی حیثیت سے اس کے بنائے ہوئے تمام قوانین جن پر گورنر جنرل کی منظوری نہیں لی جاتی رہی تھی‘ بے اثر ہو گئے“ تو انڈیمنٹی کا قانون بھی اسی زمانے کا قانون ہونے کی بنا پر بے اثر اور فوجی عدالت کا فیصلہ ساقط ہو گیا۔ اس بنیاد پر میاں منظور قادر ایڈووکیٹ کے ذریعے ہم نے مولانا کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی اور اس کے نتیجے میں مولانا ۲۸ مئی ۱۹۵۵ء کو ملتان ڈسٹرکٹ جیل سے رہا ہو گئے۔

(تذکرہ سید مودودی‘ جلد ۳‘ صفحہ ۵۱ تا ۵۵۔ انٹرویو: میاں طفیل محمد‘ سابق امیر

جماعت اسلامی پاکستان)

انٹرویو: بیگم مولانا مودودی

سوال: ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران مولانا صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ کیا آپ کو اندیشہ تھا کہ مولانا صاحب کو سزائے موت سنائی جائے گی؟

جواب: مجھے سزائے موت کا قطعا کوئی اندیشہ نہ تھا‘ اس لیے کہ ان کا کوئی گناہ نہیں تھا۔ تفہیم القرآن میں ختم نبوت سے متعلق مولانا صاحب نے جو تشریح کی تھی‘ اسی کو بہ انداز دگر انہوں نے الگ پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا تھا اور تفہیم القرآن بہت پہلے شائع ہو چکی تھی۔ مگر تب تو اعتراض نہ ہوا۔ وہی مضامین پمفلٹ کی شکل میں چھپے تو سزائے موت کے مستحق ٹھہرائے گئے۔ چنانچہ خیال یہی تھا کہ جب جنرل اعظم خان تحقیقات کریں گے تو صحیح صورت حال سامنے آجائے گی اور مولانا صاحب باعزت بری ہو جائیں گے۔

سوال: سزائے موت سننے پر آپ کا رد عمل کیا تھا؟

جواب: میں بچوں کو صبح اسکول بھیجنے کے لیے ناشتہ کروا رہی تھی۔ میرا بیٹا عمر فاروق جو

صفحہ 146

اس وقت آٹھ برس کا تھا، باہر سے اخبار دیکھ کر اندر آیا اور میرے کان میں کہا کہ ”اماں! ابا کو سزائے موت سنادی ہے حکومت نے“ میں نے کہا ”چپ کرو“ اور بچوں کو تیار کر کے سکول بھیج دیا۔ پھر عمر سے کہا کہ تم بھی اسکول جاؤ مگر وہ کہنے لگا میں آج نہیں جاؤں گا۔ اس طرح اس خبر پر صرف ایک بیٹے نے اسکول سے چھٹی کی۔

بچوں کو اسکول بھیج کر سب سے چھوٹے بیٹے کو نہلانے دھلانے لگی۔ اسی دوران عورتیں گھر آنا شروع ہو گئیں۔ پھر ان کے ساتھ باتوں میں لگ گئی بلکہ میں نے ان کی ڈھارس بندھائی۔ میں بڑی پرسکون تھی۔ میں نے انہیں کہا تھا کہ ایسے فیصلے آسمان پر ہوتے ہیں، زمین پر نہیں۔

کچھ مصری عورتیں بھی آئی تھیں۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم تو سخت حیران ہیں کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ اگر مصر میں یہ واقعہ ہو جاتا تو کم از کم اس محلے میں ضرور چیخ و پکار ہو جاتی۔۔۔۔ جماعت کے جو دوسرے لوگ مولانا صاحب کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے، ان کی بیویاں ملنے آتیں تو آنسو بھر لاتیں۔ میں ان سے کہا کرتی کہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں ایسے سخت مقامات آیا ہی کرتے ہیں اور اس کا مقابلہ حوصلہ اور صبر سے ہی ممکن ہے۔ وہ مجھے پرسکون دیکھتیں تو انہیں بھی حوصلہ ملتا۔

سوال: مولانا کی والدہ محترمہ کے کیا جذبات تھے؟

جواب: وہ یہاں تھیں نہیں۔ وہ میرے جیٹھ کے ہاں رحمان پورہ میں تھیں۔ البتہ بعد میں انہیں علم ہو گیا تھا مگر وہ بڑی صابر و شاکر خاتون تھیں۔ منہ سے کچھ نہیں کہا کرتی تھیں، لیکن اس کے بعد وہ مرجھا گئی تھیں۔

سوال: مولانا کے بڑے بھائی ابوالخیر مودودی صاحب کا کیا ردعمل تھا؟

جواب: وہ بہت رو رہے تھے۔ ان کے آنسوؤں کی جھڑی لگی تھی۔ بعد میں وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں حیران تھا آپ کو دیکھ کر، کہ یہ عورت ہے اور اتنا صبر اور حوصلہ اور ایک میں ہوں کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ میرے یہ جیٹھ عمر فاروق کو لے کر پھانسی کی کوٹھڑی میں مولانا صاحب سے ملنے گئے۔ جہاں مودودی صاحب نے عمر بیٹے سے کہا:

”بیٹے اگر خدا کو یہی منظور ہے تو پھر شہادت کی موت سے اچھی موت اور کون سی ہے اور اگر اللہ ہی کو منظور نہیں تو پھر خواہ یہ خود الٹے لٹک جائیں، مگر مجھے نہیں لٹکا سکتے“۔

صفحہ 147

عبدالستار خان نیازی بھی ان کے ساتھ والی پھانسی کی کوٹھڑی میں تھے۔ نیازی صاحب نے کہا ”میاں مولانا صاحب تو بڑی چیز ہیں۔ یہ کم بخت تو مجھے بھی پھانسی پر نہیں لٹکا سکتے“۔

سوال: آپ کے بچوں نے اس خبر کو کس طرح سنا؟

جواب: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ سوائے عمر کے دوسرے بچے معمول کے مطابق اسکول چلے گئے تھے۔ حمیرا اور اسماء کہتی ہیں کہ جب ہم اسکول گئے تو استانیاں حیرت سے ہمارا منہ دیکھ رہی تھیں کہ ہائے ان کے بچے اسکول آئے ہیں اور والد پر کیسا بڑا سانحہ گزر گیا۔ اسی طرح ان کی سہیلیاں بھی تعجب سے پوچھتیں کہ حمیرا تم روئی تک نہیں‘ تو میری بیٹیاں کہتیں کہ ہم تو اپنی اماں کو دیکھتے ہیں۔ وہ نہیں روتیں تو ہم کیوں روئیں۔ البتہ عمر فاروق نے اس واقعہ کا کافی اثر لیا۔ اس کی صحت کافی متاثر ہوئی۔

سوال: پچاس اور ساٹھ کے عشرے میں مولانا کی دو طویل گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اس دوران آپ کی گھریلو معاشی زندگی کس طور گزری؟

جواب: بس ہم نے بہت سادہ زندگی اختیار کر لی تھی۔ تمام اخراجات گھٹا دیے تھے۔ میں نے جو خرچ چلایا‘ وہ اپنے زیورات بیچ کر چلایا۔ میری والدہ نے مجھے کافی اور بڑے بھاری بھاری زیورات شادی پر دیے تھے۔ بس انہی میں سے فروخت کر کے زکوٰۃ بھی دیتی رہی اور گھریلو اخراجات بھی پورے کرتی رہی۔ میں نے جماعت پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا۔

تحریک ختم نبوت میں بہت سے لوگ گولیاں کھا کھا کر حرمت رسولؐ پر نثار ہو رہے تھے۔ اس وقت میرے دل میں ایک خلش سی ہوتی تھی کہ اللہ کے عاشق تو جا جا کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور ہم گھروں میں آرام سے بیٹھے ہیں۔ جب مولانا صاحب گرفتار ہوئے تو مجھے ایک طرح سے خوشی بھی ہوئی۔ اس دور ابتلا میں میری ایک شاگرد منور سلطانہ بڑی حیران ہو کر مجھ سے پوچھا کرتی کہ آپا جان آپ اتنی خوش کیوں ہیں؟ تو آخر ایک روز میں نے اسے بتایا کہ گرفتاری کے بعد اب ہم بھی ان عاشقان رسول ﷺ میں شامل ہو گئے ہیں۔ بس اسی بات کی مجھے طمانیت اور مسرت ہے۔ سو گرفتاریوں کا یہ زمانہ نہایت صبر‘ شکر اور سکون سے گزارا۔

سوال: جیل میں اسیر مولانا کا ان معاشی الجھنوں پر کیا رد عمل تھا؟

صفحہ 148

جواب: نہ میں نے ان سے کبھی ذکر کیا اور نہ انہوں نے مجھ سے ہی پوچھا کہ تم کیسے یہ سارا نظام چلا رہی ہو۔ دراصل میں نے شروع ہی سے یہ اصول بنا رکھا تھا‘ چونکہ وہ پہلے ہی اتنے مصروف اور کام کے دباؤ میں ہوتے ہیں‘ لہٰذا انہیں گھریلو معاملات میں قطعاً پریشان نہیں کرنا۔ کوئی مسئلہ خود سے انہیں معلوم ہو جائے تو ہو جائے‘ مگر میں نے کبھی ان کے آگے گھریلو مسائل کی کتھا نہیں چھیڑی۔

سوال: جیل سے رہائی کے بعد مولانا صاحب کی مصروفیات کیا رہیں؟

جواب: جیل سے آئے تو بہت بیمار تھے۔ پیچش اور السر‘ یہ دو بیماریاں وہ جیل سے لے کر آئے تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ جیل میں جو روٹی کھانے کو ملا کرتی تھی‘ اس میں آٹے سے زیادہ ریت اور پتھر ہوا کرتے تھے۔ جس کے نتیجے میں پیچش اور السر ہو گئی۔ میں انہیں پرہیزی کھانا کھلاتی رہی مگر مستقل آرام نہ آسکا بلکہ انہی دو بیماریوں سے بالآخر ان کی جان چلی گئی۔ پیچش سے آنتیں پھٹ گئی تھیں۔ پینفلو میں جب ڈاکٹر نے پیٹ کھولا تو ڈیڑھ فٹ لمبی آنت نکلی جو جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی اور السر سے معدے کا منہ بند ہو گیا تھا اور یہی دو بیماریاں وہ جیل سے لائے تھے۔ ورنہ ان کی صحت تو قابلِ رشک ہوا کرتی تھی۔ کبھی بخار‘ سر درد تک نہ ہوتا تھا۔ رہائی کے بعد تقریباً ایک مہینہ تک رات کو بھی آرام سے سو نہیں سکے تھے۔

(تذکرہ سید مودودی‘ جلد ۳‘ ص ۱۹۳ تا ۱۹۵۔ انٹرویو: بیگم مولانا مودودی)

ہتھکڑیاں توڑ دیں

حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحب گیلانی‘ امیر جمعیت علماء اسلام پنجاب اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ آپ کی جوانی کا عالم تھا۔ آلِ رسولؐ‘ مجاہد فی سبیل اللہ اور عالمِ دین تھے۔ ان کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ جلال میں آکر ختمِ نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا‘ بازوؤں کو جھٹکا دیا تو ہتھکڑی ٹوٹ گئی۔ ہتھکڑی بدلی تو پھر اسی طرح ہوا۔ بالآخر پولیس والے قدموں میں گر گئے اور بغیر ہتھکڑی کے آپ کو گرفتار کر لیا۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء“ ص ۷ از مولانا اللہ وسایا)

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

(مؤلف)

صفحہ 149

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے

مرزائیوں کے ساتھ مناظرات

ذیل میں آپ کی ذکاوت طبع اور حاضر جوابی کے دو چار نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔

مناظرہ - ۱

ایک دفعہ دو آریہ سماجی اور مرزائی آپس میں جھگڑ پڑے۔ سماجی نے مرزائی کی توہین کی جس سے بات طول پکڑ گئی۔ حضرت مولانا نے دونوں کی باتیں سنیں تو آپ نے سماجی سے فرمایا توبہ کرو اور مرزائیوں سے نہ جھگڑو کیونکہ یہ تمہارے فرماں روا ہیں۔ جب سماجی اور مرزائی دونوں نے حیرت کا اظہار کیا تو مولانا نے کہا بھئی تعجب کیوں کرتے ہو۔ مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”البشریٰ“ جلد اول، ص ۵۶ پر اپنے رتبہ و درجہ کے متعلق لکھا ہے ”آریوں کا بادشاہ“ یہ سن کر سماجی تو مسکرا دیا اور مرزائی بہت خفیف ہوا۔

مناظرہ - ۲

ایک بار مرزائیوں نے کہا کہ مولانا! یا تو آپ ہمیں ”مرزائی“ کہہ کر نہ پکاریں یا ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی مسلمانوں کو وہابی، سنی، خارجی وغیرہ کے نام سے پکاریں۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ مرزائی دوستو! آپ مرزائی کے نام سے خواہ مخواہ چڑتے اور غصہ کھاتے ہیں، حالانکہ مرزائی کہلانا آپ کے لیے عزت و فخر کا باعث ہے اور ہمارے پاس اس کا ثبوت موجود ہے کہ خود مرزائیوں نے اپنے ہم مذہبوں کو مرزائی کہا ہے۔ جب قادیانیوں نے دلیل اور سند طلب کی تو مولانا نے فرمایا مرزائی صاحبان! سنئے اور بگوش ہوش

صفحہ 150

سنئے۔ آپ کے پیغمبر کی زندگی میں ایک بار جماعت مرزائیہ کا سالانہ جلسہ قادیان میں ہوا۔ اس میں سینکڑوں اشخاص کے روبرو میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر اخبار ”فاروق“ قادیان نے مرزا صاحب اور ان کے خاص خاص مریدوں کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا اور مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوریہ کی یوں تعریف کی۔

کیا ہے راز طشت از بام جس نے عیسویت کا
یہی وہ ہیں یہی وہ ہیں یہی ہیں پکے مرزائی

دوستو! جسے شبہ ہو وہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۸ء کا اخبار ”بدر“ دیکھ لے۔ جس میں یہ قصیدہ درج ہے۔

مناظرہ - ۳

ایک جلسے میں مولانا نے مرزائیت کی تردید میں تقریر فرمائی اور کہا کہ مرزا اور ان کی جماعت چونکہ عقائد باطلہ کی حامل ہے اور اصول اسلام سے منحرف ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور دین محمد ﷺ سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس پر چند مرزائی برافروختہ ہو کر اٹھے اور مولانا سے کہنے لگے مولوی صاحب کسی کو کافر کہنا بھی گالی ہے۔ ہم گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ حضرت صاحب فرماتے ہیں۔

گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار

نیز حضرت نے کشتی نوح میں لکھا ہے کہ کسی کو گالی مت دو، گو وہ گالی دیتا ہو۔ پس ہم آپ کی گالیوں کا جواب اللہ تعالیٰ سے مانگتے اور اسی سے بدلہ چاہتے ہیں۔

مولانا ابوالوفا رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا قادیانی دوستو! کافر کہنا گالی نہیں۔ ایک فتویٰ ہے جو ہر خارج از اسلام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آپ (مرزائی) بھی تو ہمیں کافر کہتے اور اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ پھر یہ تکفیر اگر الٹ کر آپ پر پڑ جائے تو غصہ کیوں اور غضب کس لیے۔ سنئے اور ٹھنڈے دل سے سنئے۔

آپ کے قادیانی پیغمبر نے مسلمانوں کو عموماً اور علماء کو خصوصاً وہ غلیظ اور ناپاک گالیاں دی ہیں کہ شیطان بھی سنے تو کانوں میں روئی ٹھونس لے۔ چنانچہ مرزا صاحب

صفحہ 151

فرماتے ہیں:

ص۵۷۲)

”یعنی جو میری دعوت قبول کر کے مرزائی نہیں ہوتا‘ وہ حرام زادہ ہے اور فاحشہ رنڈیوں کا بچہ ہے“

هن الاكلب (نجم الہدیٰ‘ ص۱۰) ”یعنی میرے مخالف جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں“

الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ (انوار الاسلام‘ ص ۳۰)

ابھی مولانا کچھ اور ثبوت مرزا صاحب کے حسن خلق اور شیریں زبانی کا دینا چاہتے تھے کہ مرزائی لاجواب ہو کر اٹھے اور سر کھجاتے چلے گئے۔

مناظرہ-۴

اسی قسم کے ایک اور جلسے میں مولانا مغفور نے مرزائیت کی تردید کے سلسلہ میں فرمایا کہ مرزا صاحب کی تحریر و تقریر میں بے حد تناقض و اختلاف پایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ انبیاء کی شان کے خلاف ہے۔ اس جلسے میں چند مرزائی بھی بیٹھے تھے۔ وہ مولانا کے اس بیان سے سخت برہم ہوئے۔ ان بدبختوں نے اسلام ہی پر اعتراض نہ کیے بلکہ حضور ختم رسالت ﷺ کی ذات بابرکات پر بھی حملے کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اکثر مرسلین کرام علیہم السلام بلکہ حضور اقدس فداہ ابی و امی‘ روحی و قلبی ﷺ کے کلام میں بھی تناقض پایا جاتا ہے۔ اور اس سے (نعوذ باللہ) نقل کفر کفر نباشد‘ قرآن حکیم بھی مبرا نہیں۔ حضرت فاتح قادیان نے ٹھنڈے دل سے اعتراضات سنے۔ پھر مہذبانہ طریق سے ان کا دندان شکن جواب دیا اور فرمایا کہ قادیانی دوستو! اگرچہ غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کا ایک لفظ سن کر بھی دریدہ دہنوں کو

صفحہ 152

ایسی سزادیں کہ پھر انہیں سر ابھارنے کی جرات نہ ہو مگر جس ذات والا صفات پر تم نے حملے کیے ہیں، ہم اسی کے اخلاق حسنہ پر عمل کرتے ہوئے تہذیب و شرافت سے اس کا جواب دیتے ہیں۔

مرزا قادیان کے تناقضات

تم نے مرزا صاحب کی نسبت یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی تحریر و تقریر میں کوئی تناقض و اختلاف نہیں۔ سو وقت اگرچہ تنگ ہے مگر چند حوالے تم اپنے نبی کی کتابوں سے سن لو۔ پھر جو جی میں آئے، کہو۔ سنو۔

اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہو گیا۔ یہاں انہوں نے مسیح علیہ السلام کو گلیل میں مارا اور وہیں اس کی قبر بنائی ہے مگر وفات مسیح کا مضمون جب کشتی نوح میں تحریر کرنے لگے تو فوراً لکھ دیا کہ مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا۔ (ص ۵۳) فرماؤ مرزا جیو ! ہم اس کے سوا کیا کہیں کہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔

علیہ السلام کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھیں۔ یہی مضمون جب ازالہ اوہام کے ص ۳۰۷ پر تحریر فرمایا تو لکھا کہ ”یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا“۔

شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں ۔“ (ڈائری کلام مرزا، ص ۴‘ بابت ۱۹۰۱ء) لیکن دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں ”ہمارے ہاں جو آتا ہے‘ اسے پہلے ایک حنفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اسلام کے واسطے چار

دیواری۔ (ڈائری مذکور، ص ۴۷)

حضرت فاتح قادیان مرزائے قادیان کی تناقضات و اختلافات ثابت کرنے میں مصروف تھے کہ ناگاہ ان کی نظر اس مقام پر پڑی جہاں مرزائی بیٹھے تھے تو ان کی حیرت کی کوئی

صفحہ 153

انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ جگہ خالی پڑی ہے اور مرزائی ڈرامائی طور پر کہیں فرار ہو گئے ہیں۔

مناظرہ-۵

یوں تو فاتح قادیان نے اپنی مشہور لاجواب تصنیف ”الہامات مرزا“ میں پیغمبر قادیانی کے الہاموں اور پیشگوئیوں کی خوب قلعی کھولی ہے مگر جموں کے ایک اسلامی جلسے میں جب حضرت نے ”مرزائیت“ کے اصول کا پول ظاہر کیا تو چند قادیانی مقابلے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے نبی کے الہامات اور پیشگوئیوں کو سچا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔ حضرت مولانا نے درج ذیل ”الہامات مرزا“ کا جواب مانگا اور کہا کہ ان کے معانی و مطالب بھی وضاحت کے ساتھ سمجھائے جائیں۔

الہامات مرزا

یہ سات الہامات مولانا نے کاغذ پر لکھ کر مرزائیوں کے حوالے کیے اور جلسہ میں ان کا جواب لینا چاہا۔ قادیانیوں نے جب یہ الہامات ملاحظہ کیے تو پسینہ پسینہ ہو گئے اور یہ کہہ کر ان کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ ہم مرکز (قادیان) کی اجازت کے بغیر ان کی تشریح و معانی نہیں بتا سکتے۔ مولانا ابوالوفا نے یہ کورا جواب سنا تو حسب عادت مسکرائے اور پھر فرمانے لگے:

مرزائی دوستو! صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ
صفحہ 154
زبان شوخ من ترکی و من ترکی نمیدانم

مناظرہ - ۶

ایک مجلس میں مرزائیت کا ذکر ہو رہا تھا۔ جب مرزا صاحب کی الوہیت کی نسبت بات چھڑی تو حضرت فاتح قادیان نے فرمایا کہ مرزائے قادیان خود ہی خدا نہیں بلکہ ان کے صاحبزادے بھی خدا ہیں جو آسمان سے اتر کر زمین پر سکونت پذیر ہیں۔ حاضرین نے حوالہ طلب کیا تو فرمایا کہ مرزا صاحب اپنی تصنیف ”البشریٰ“ کے ص ۱۴۲ پر اپنے پیدا ہونے والے لڑکے کی نسبت لکھتے ہیں:

فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء مطلب یہ ہے کہ میرا ہونے والا بیٹا صرف گرامی و ارجمند ہی نہ ہو گا وہ اول و آخر کا مظہر ہو گا۔ اس سے حق اور غلبہ پائے گا۔ گویا کہ خود اللہ تعالیٰ آسمان سے اترے گا۔

مناظرہ - ۷

ایک اجلاس میں حضرت فاتح قادیان، پیغمبر قادیان کے دعاوی پر تقریر فرما رہے تھے۔ جب آپ نے کہا کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے تو ایک بار ارشاد فرمایا تھا کہ مجھے موسیٰ و عیسیٰ پر فضیلت نہ دو میں بھی پہلے نبیوں کی طرح ایک نبی ہوں لیکن مرزا صاحب نے خود کو تمام مرسلین سے افضل سمجھ رکھا ہے اور کل انبیاء کے کمالات اپنے اندر جمع کر لیے ہیں۔ یہاں تک گستاخی کی ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے محاسن و فضائل کا اپنے کو مظہر ظاہر کیا ہے۔ اس اجلاس میں چند مرزائی بھی موجود تھے۔ جو غالباً جماعت لاہوریہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہوں نے انکار کیا کہ مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا اور نہ کبھی ایسے الفاظ لکھے ہیں وہ تو حضرت رسول کریم ﷺ کے غلام تھے۔ حضرت فاتح قادیان نے لاہوری مرزائیوں کا انکار سنتے ہی پہلے تو مرزا قادیان کے یہ دو شعر پڑھے

آدم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
صفحہ 155
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(در ثمین فارسی)

مرزائے قادیان تمام انبیاء کے مظہر ہیں

پھر فرمایا مرزائی دوستو! مرزا صاحب اپنی مشہور کتاب ”حقیقۃ الوحی“ کے حاشیہ ص ۷۲ پر لکھتے ہیں:

”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد و احمد ہوں۔“

پھر اسی کتاب کے تتمہ ص ۸۲ پر تحریر کرتے ہیں:

”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہ دیا گیا ہو۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے، میں آدم ہوں، نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں۔ میں محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرائے میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعے ظہور ہو۔“

اسی طرح مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص ۹۰ پر لکھا ہے ”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر راست باز اور مقدس نبی گزرے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔ حضرت فاتح قادیان کی ابھی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ لاہوری مرزائی کچھ جواب دیے بغیر اٹھ کر چلے گئے اور ثابت کر گئے کہ واقعی مولانا فاتح قادیان ہیں۔

صفحہ 156

مناظرہ-۸

ایک بار عجیب واقعہ ہوا۔ لاہور میں مرزائیوں کا جلسہ ہو رہا تھا اور آپ بھی کسی تقریب پر لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ مرزائیوں کو خدا جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے مولانا کی خدمت میں دعوت نامہ بدیں مضمون بھیج دیا کہ ”ہمارے جلسہ میں تشریف لاکر رونق بڑھائیں اور حضرت صاحب کے اخلاق و عادات پر تقریر فرمائیں“ مولانا نے رقعہ پڑھا تو اسی وقت اٹھے اور احباب سے پوچھے گچھے اور علیک سلیک کیے بغیر تیز تیز قدم بڑھاتے ”احمدیہ بلڈنگ“ پہنچ گئے۔ مرزائیوں نے انہیں دیکھا تو بڑی مسرت کا اظہار کیا۔ اصل میں بزعم خود مولانا کو وہ پھانسنے میں کامیاب ہو چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم نے ان کو جلسہ میں لاکر بڑا تیر مارا ہے۔ جب مولانا ان کی سٹیج پر تشریف لے گئے تو مرزائیوں نے احمدیت پائندہ باد کے پرجوش نعرے بھی لگائے۔

اخلاق مرزا

آخر صدر جلسہ نے مجمع عام میں مولانا سے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ آپ ”حضرت مرزا صاحب“ کے اخلاق، عادات، خصائل وغیرہ سے متعلق کچھ افکار بیان فرمائیں۔ چونکہ آپ مرزا صاحب سے ہمیشہ ملتے رہے ہیں، ان کو دیکھتے رہے ہیں اور ان کے اخلاق وغیرہ سے بخوبی واقف ہیں اس لیے آپ سے زیادہ ان کے خصائل سے کون واقف ہوگا۔ اختلافات کو تو رہنے دیجئے ایک طرف، آپ ان کے اخلاقی پہلو کو ضرور نمایاں کریں۔ مولانا نے تبسم فرماتے ہوئے ان کی گزارش کو قبول کیا اور کھڑے ہوتے ہی فرمایا کہ احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل کیا بیان کروں، جہاں تک مجھے یاد ہے اور جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے، ان کے اخلاق کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں۔

میرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں

مولانا نے اس مصرعہ کو چند بار دو انگلیاں اٹھا کر دہرایا۔ جب مرزائی سامعین دوسرے مصرعے کے لیے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا:

میرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں
صفحہ 157
زبان پر گالیاں مجنوں سی باتیں

یہ شعر سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں پھٹ گئیں مگر آپ ان کی جلسہ گاہ سے واپس اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے پھر آپ کو کبھی دعوت نہ دی۔

مناظرہ - ۹

ایک دفعہ مرزائیوں سے مناظرہ تھا اور مبحث متعین نہ ہونے پاتا تھا۔ مرزائی چاہتے تھے کہ مسئلہ حیات ممات پر گفتگو ہو اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ ”مرزاجی کا آسمانی نکاح محمدی بیگم“ زیر بحث آئے۔

محمدی بیگم کا نکاح

چنانچہ مولانا ثناء اللہ صاحب نے بدلائل فرمایا کہ پہلے اسی موضوع پر بحث ہونی چاہیے۔ مرزائی مناظر اٹھا اور اس نے طنزاً کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے جو اسے اس کی اتنی حمایت مقصود ہے۔ مولانا ثناء اللہ صاحب اٹھے اور فرمایا عزیز من! محمدی بیگم سے ہمارا رشتہ اگر زیادہ سے زیادہ کہو تو کل مومن اخوہ کے تحت یہی کہو گے کہ ہماری اسلامی بہن ہے۔ مگر ہم تو اس کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ تمہاری ماں ہے کیونکہ نبی کی بیوی امت کی ماں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر تم غیور ہو تو اپنی ماں کو گھر لا کر بٹھاؤ۔ وہ دوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے۔ بس آپ کا یہ کہنا تھا کہ مرزائیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

مناظرہ - ۱۰

ایک دفعہ کسی مجلس میں ایک قادیانی نے پوچھا کہ مولانا! یہ جو بعض مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اگر حضرت رسول کریم ﷺ پیدا نہ ہوتے تو خدا زمین و آسمان ہی کو نہ بناتا‘ کہاں تک صحیح ہے۔

کل کائنات مرزائے قادیان کے لیے پیدا کی

حضرت فاتح قادیان نے فرمایا قادیانی صاحب اگرچہ یہ کوئی بنیادی عقیدہ نہیں مگر

صفحہ 158

مسلمان غلطی پر ہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے اصل میں مرزا صاحب کے لیے آسمان پیدا کیے ہیں اور دنیا میں جو کچھ ہے‘ وہ انہی کے لیے بنایا ہے۔ اس جواب سے قادیانی حیرت زدہ ہوا اور تعجب سے مولانا کی طرف دیکھنے لگا۔ حضرت نے فرمایا حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ مرزا صاحب کا الہام ہے لولاک لما خلقت الافلاک (البشریٰ‘ جلد دوم‘ ص ۱۱۲) اسی طرح آپ کو الہام ہوا کل لک ولامرک (البشریٰ‘ جلد دوم‘ ص ۱۲۷) یعنی دنیا میں جو کچھ ہے‘ تیرے لیے ہے اور تیرے حکم کے لیے ہے۔ مرزائی نے یہ حوالے سنے تو گھٹنوں میں سر دبائے بت بنا بیٹھا رہا۔

مناظرہ - ۱۱

ایک بار محفل علم گرم تھی۔ شیعہ‘ سنی‘ حنفی‘ اہل حدیث‘ اہل قرآن کئی مختلف الخیال اصحاب وعلماء جمع تھے۔ اور ان میں دو تین قادیانی بھی بیٹھے تھے۔

مرزائے قادیان کا حضرت امام حسینؓ سے دعویٰ افضلیت

ایک شیعہ صاحب حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب بیان کرنے لگے تو حضرت فاتح قادیان نے فرمایا چھوڑو بھی یار اس پرانے قصے کو۔ اب تو پنجاب میں ایک ایسا شخص پیدا ہو چکا ہے جو امام حسینؓ سے بھی افضل ہے۔ شیعوں کو چاہیے کہ اب اس کا ذکر کیا کریں اور اس کی فضیلت مان لیں۔ کسی نے پوچھا وہ کون شخص ہے؟ فرمایا مرزائے قادیان! اس پر مرزائی صاحب بولے‘ کہاں لکھا ہے حضرت صاحب نے کہ میں حسین ہوں اور حسین سے بھی افضل ہوں؟ آپ نے فرمایا میں ابھی بتاتا ہوں۔ سنو! مرزا صاحب ”دافع البلاء“ کے ص ۱۳ پر لکھتے ہیں:

”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسین سے بڑھ کر ہے‘ پھر اپنے مجموعہ کلام معروف بہ ”درِ ثمین“ میں فرماتے ہیں:

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
صفحہ 159

مناظرہ۔۱۲

جن دنوں حضرت فاتح قادیان زیارت بیت اللہ شریف سے مشرف ہونے کے لیے حج پر جارہے تھے ان دنوں ایک روز عرشہ جہاز پر علم و عرفان کی مجلس منعقد ہوئی۔ اصحاب اہل علم شریک محفل تھے اور آپ حج کے مسائل و فضائل بیان فرمارہے تھے۔

قادیان مثل مکہ مکرمہ ہے

اسی اثناء میں معلوم ہوا کہ ایک قادیانی صاحب بھی حج پر جارہے ہیں۔ مولانا نے مخاطب ہو کر قادیانی صاحب سے فرمایا کہ آپ کہاں جارہے ہیں۔ اس نے کہا مکہ معظمہ حج کے لیے جارہا ہوں۔ فرمایا ! واہ صاحب ! آپ نے ناحق تکلیف اٹھائی۔ روپیہ الگ خرچ کیا اور سفر کی صعوبت الگ برداشت کی۔ بھلا آپ کو حج کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ آپ کے پیغمبر کا مرتبہ سنگ اسود کے برابر اور قادیان کا درجہ مکہ کے برابر ہے۔ مرزائی یہ سن کر خشمگین ہوا تو آپ نے فرمایا مرزا صاحب البشریٰ ‘ جلد اول ‘ ص ۴۸ پر لکھتے ہیں کہ شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سنگ اسود منم یعنی ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما تو میں نے کہا کہ میں ہی سنگ اسود ہوں۔ پھر مرزا صاحب در ثمین ‘ ص ۵۲ میں فرماتے ہیں:

زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

قادیان کے سالانہ جلسہ میں آنا نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں محرومی کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔

(آئینہ کمالات اسلام ‘ ص ۳۵۲)

عرب نازاں ہے گر ارض حرم پر
تو ارض قادیان فخر عجم ہے

(الفضل ‘ ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء)

مناظرہ۔۱۳

ایک بار گورداسپور میں سکھوں کا جلسہ ہوا۔ ان دنوں پنجاب میں سکھ مسلم فساد

صفحہ 160

رونما تھا۔ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے حضرت فاتح قادیان کو بھی شریک جلسہ ہونے کی دعوت دی اور گزارش کی گئی کہ ملکی اتحاد اور اتفاق پر تقریر فرمائیں تاکہ فساد نہ ہو۔ آپ تشریف لے گئے اور بلیغ و پر تاثیر تقریر فرمائی۔

مرزا صاحب کا سکھوں سے تعلق

دوران تقریر آپ نے مرزائیت کا ذکر چھیڑا اور سکھوں سے کہا کہ وہ ہزہائی نس مہاراجہ صاحب قادیان کا احترام کریں اور ان کی امت کے ساتھ ادب سے پیش آئیں۔ کیونکہ پیغمبر قادیان بھی کچھ نہ کچھ سکھوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جلسے میں چونکہ رنگارنگ کی مخلوق تھی۔ ہندو، سکھ، عیسائی، مسلمان اور مرزائی وغیرہ سبھی آئے ہوئے تھے۔ جب مولانا نے یہ الفاظ کہے تو چند قادیانیوں کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے شور مچا دیا۔ مولوی صاحب! اپنے الفاظ واپس لو اور تحریری معافی مانگو ورنہ دعویٰ کیا جائے گا۔ حضرت فاتح قادیان مسکرائے اور فرمایا، قادیانی دوستو! اگر میں نے مرزا صاحب کو مہاراجہ اور سکھوں سے قریبی تعلق رکھنے والا کہا ہے تو بے جا نہیں کہا۔ ان کے اس ”الہامی نام“ کی مناسبت سے کہا ہے جو ان کے خدا نے بذریعہ وحی ان کو بتلایا تھا۔ چنانچہ سن لیجئے کہ حضرت مرزا صاحب کا اسم شریف ”امین الملک جے سنگھ بہادر“ رکھا گیا ہے۔ باور نہ ہو تو البشریٰ کی جلد دوم، ص ۱۱۸ دیکھئے اور اطمینان فرمائیے۔

مناظرہ - ۱۴

لاہوری مرزائی قادیانیوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نبوت مرزا سے دیدہ دانستہ انکار کر کے مرزا صاحب کے دعاوی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ یہ خطرناک پارٹی عامتہ المسلمین میں ظاہر کرتی ہے کہ منکرین مرزا کافر نہیں ہیں اور اہل تکفیر (قادیانی) گمراہ ہیں۔ اس لیے بعض کم علم اور سادہ مسلمان اسی بات پر ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ چنانچہ کسی ایک اجلاس میں لاہوری مرزائیوں اور حضرت فاتح قادیان کے درمیان اسی موضوع پر بات چھڑ گئی اور لاہوریوں کا دعویٰ تھا کہ مرزا صاحب نے اپنے منکرین کو کافر نہیں کہا یہ سب خلیفہ قادیان اور ان کی جماعت کے گھڑے ہوئے

صفحہ 161

مسائل ہیں۔ مولانا مغفور نے فرمایا کہ لاہوری دوستو! میں آپ کے نئے خلیفہ اور پرانے نبی کی کتابوں سے چند حوالے پیش کرتا ہوں۔ غور سے سنئے!

مرزائے قادیان معیار ایمان ہیں

مفتری قرار دے کر کافر ٹھہراتا ہے اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے ۔

مرزا صاحب کا انکار کفر ہے

آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا مانتا ہے جس کے سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔ اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کا منکر ہے، کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔

(حقیقۃ الوحی، ص ۱۷۹)

فقالوا ان التفسیر لیس بشئ اس الہام میں خداوند تعالیٰ نے کفار مولویوں کا مقولہ بیان فرمایا ہے۔

(البشریٰ، جلد دوم، ص ۲۷)

مرزا صاحب کی فوتیدگی کے بعد اخبار ”الحکم“ قادیان بابت ۷ اگست ۱۹۰۸ء میں چھپی تھی جس کے دو شعر یہ ہیں:

اسم اور اسم مبارک ابن مریم مے نھند
آن غلام احمد است و میرزائے قادیان
ہر کسے آرد شکے اندر شان آں کافر است
جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گمان

الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب

صفحہ 162

ہے ما دعاء الکافرین الا فی ضلال (دافع البلاء‘ ص ۱۱)

کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں
ہم نے سو سو طرح سے سمجھایا

حضرت فاتح قادیان کا جواب سن کر لاہوریوں نے راہ فرار اختیار کی۔

ناظرین با تمکین ! یہ ان محفلوں، مجلسوں اور اجتماعوں کا مختصر تذکرہ ہے۔ جن میں حضرت فاتح قادیان نے مرزائیت کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ باقاعدہ مناظروں میں آپ قادیانیت کے خلاف وہ رموز و نکات بیان فرماتے کہ سامعین حیران رہ جاتے۔

لطف یہ کہ حضرت مولانا ثناء اللہ رحمتہ اللہ علیہ کو اپنی خداداد ذہانت و فطانت کے طفیل مرزا صاحب کی کتابوں اور قادیانی لٹریچر پر اتنا عبور تھا کہ جب مخالف کوئی دلیل پیش کرتا تو آپ کتب مرزا ہی سے اس کی تردید فرما دیتے۔ حافظہ اتنا تیز تھا کہ ہزار ہا کتابوں، رسالوں، اخباروں، ٹریکٹوں اور پمفلٹوں کے حوالے ازبر یاد تھے۔ سالم کی سالم عبارتیں دماغ میں محفوظ تھیں اور ضرورت کے وقت نہ صرف کتاب کا نام بلکہ صفحہ تک زبانی یاد تھے۔

حضرت فاتح قادیان کی مناظرانہ خصوصیات

آپ کے مناظروں میں جو خصوصیات تھیں، وہ بہت کم دوسرے مناظرین میں پائی گئیں۔

آتے۔

میں رنگینی پیدا کرنے کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔

آیا۔ آپ کے انتقال پر ملال پر مدیر ”زمیندار“ نے جو شذرہ لکھا تو اس میں یہ الفاظ بھی رقم

صفحہ 163

فرمائے کہ ”مولانا کی وفات حسرت آیات کے ساتھ ہی دنیا سے حاضر جوابی ختم ہو گئی“۔

نہایت طمانیت اور وقار سے کیا کرتے تھے۔

نہیں فرمایا۔

آتے تھے۔

مناظرہ بھی اصول پر کیا کرتے۔

سے ناجائز شرط کو قبول کیا تاکہ وہ کہیں اس بہانہ سے راہ فرار نہ اختیار کرے۔

بلکہ جو بات کی ہمیشہ دلائل ہی سے کی۔

(مرزائے قادیان اور علماء اہل حدیث، ص ۶۲ تا ۷۸‘ از قلم محمد حنیف یزدانی)

اور ایمان بچ گیا

جب سے مسئلہ ختم نبوت کو اچھی طرح سے سمجھا اور سارقین ختم نبوت کے طریقہ واردات پر غور کیا تو بندہ نے اپنے حلقہ اثر میں ایک لائحہ عمل واضح کر کے اس کے مطابق کام کیا۔ محراب و منبر علماء کرام کے لیے رہنے دیا۔ حتی الامکان ان سے الجھنے سے بچا۔ حالانکہ کچھ سادہ لوح مولویوں کے ارد گرد ایسے چاپلوس لوگوں کا گھیرا ہوتا ہے۔ جو کہ درپردہ مرزائیوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ اس سادہ لوح مولوی کو غلط گائیڈ کیے رکھتے ہیں۔ یہاں بھکر میں بھی میری آمد سے پہلے مرزائیوں نے چائے کی پیالی پر کچھ ضمیر فروشوں کو خرید رکھا تھا اور وہ بھکر کے مولویوں کو دوسرے مسائل میں الجھا کر رکھتے اور قادیانیت کے سدباب

صفحہ 164

کے لیے ان کے ہاں کوئی لائحہ عمل نہیں تھا۔ سال میں ایک آدھ تقریر ختم نبوت کے موضوع پر کرا کر سمجھتے تھے کہ ہم نے تحفظ ختم نبوت کا حق ادا کر دیا۔ مرزائی دندناتے تھے۔ کئی کاروبار پر چھائے ہوئے تھے۔

۱۹۶۸ء کے بعد بندہ نے اپنے طریق کار کے مطابق کام شروع کیا۔ جہاں جہاں مرزائیوں سے جھڑپیں ہوئیں، جس طرح وہ اپنے کاروبار کو سمیٹ کر بھاگے، وہ داستانیں پھر بیان ہوں گی۔ اس وقت میں ایک سب انجینئر ریلوے کا واقعہ من و عن بیان کر رہا ہوں۔ بھکر ریلوے کے سب انجینئر سے ختم نبوت کے سلسلہ میں تعلق بڑھا۔ موصوف ختم نبوت کے معاملے میں پوری معلومات رکھتا تھا۔ قادیانیت کے بارے میں ایسے انکشاف کرتا کہ بعض دفعہ میں حیران ہو کر رہ جاتا۔

بھکر ریلوے کے احاطہ میں محکمہ کی جانب سے اسے کوٹھی الاٹ تھی۔ بعض دفعہ بعد نماز جمعہ اس کی کوٹھی کے لان میں ہم اکٹھے ہو جاتے۔ کوٹھی میں تقریباً کافی اقسام کے پھل دار درخت تھے۔ ایک دفعہ آم کے موسم میں ہم کوٹھی کے لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ آم کے پھل لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھ لیا کہ اس پھل پر آپ کا حق ہے یا کہ محکمہ کا۔ انجینئر صاحب نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا میں قادیانیت کے خلاف اس قدر کیوں ہوں؟ میں اپنی زندگی کا گزرا ہوا واقعہ بتاتا ہوں۔ میں ملتان تعینات تھا۔ میرا افسر اعلیٰ قادیانی تھا۔ ظاہری اخلاق اور برتاؤ بہت اچھا تھا۔ میں اس کے اخلاق سے بہت متاثر ہوتا گیا۔ میں نے اپنے آفیسر کے ساتھ ربوہ بھی کئی چکر لگائے۔ میرا آفیسر مجھے قادیانیت کی تبلیغ اور مسلمانوں کی تفرقہ بازی پر اکثر لیکچر دیتا رہتا تھا۔ اس کی تبلیغ سے میں قادیانیت کو سچا مذہب تسلیم کرنے لگا اور مسلمانوں کی تفرقہ بازی سے سخت متنفر ہو کر اسلام سے دور ہونے لگا۔ میرا آفیسر مجھ سے بہت خوش تھا۔ میری ہر طرح امداد کرتا رہتا تھا۔ خوب آؤ بھگت ہوتی تھی۔ ان کو ملنے بہت اہم قادیانی آتے تھے۔ ان سے میرا تعارف ان الفاظ میں کرواتا کہ اسے اپنا ہی سمجھو۔ اس پر قادیانی میری بڑی عزت کرتے اور بڑے اخلاق سے ملتے۔ باتوں باتوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کی سچائی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تفرقہ بازی پر ضرور رائے زنی کرتے۔ میرے چاروں طرف قادیانیوں کا گھیرا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی رہنمائی کے لیے کسی مسلمان عالم سے رابطہ تک نہ کیا۔

صفحہ 165

قادیانیوں کی مسلسل تبلیغ سے قریب تھا کہ میں مرزا طاہر کی بیعت کر لیتا اور بیعت فارم پر کر دیتا کیونکہ اب میرے اوپر بیعت فارم پر کرنے کے لیے قادیانیوں نے مسلسل گھیرا کر لیا تھا۔ مگر اللہ جب ایمان بچائے تو وہ معمولی ٹھوکر سے بھی بچا سکتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ میں نے دیکھا کہ شجر کاری کے موسم میں میرا آفیسر اعلیٰ آم کا پودا ریلوے حدود کے میدان میں لگا کر پانی دے رہا ہے۔ میں نے جب پھلدار پودا لگاتے دیکھا تو بڑی عقیدت ہوئی۔ آگے بڑھ کر سلام کیا اور احتراماً کہنے لگا سر آپ تو بڑا بھلائی کا کام کر رہے ہیں۔ پھلدار پودا لگا رہے ہو۔ کہنے لگا کہ ہاں‘ یہ بھی سلسلہ (قادیانیت) کی بھلائی کا کام ہے۔ یہ پودا جب پھل دینے لگے گا تو یہ سرکاری مسلمان اس کے پھل حاصل کرنے کے سلسلے میں دست و گریبان ہوں گے۔ محکمہ کا ہر آدمی اس میدان میں لگے ہوئے پھل پر اپنا حق جتائے گا۔ اس حق کو حاصل کرنے اور دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ان سرکاری مسلمانوں میں سر پھٹول ہو گی۔ اور ہم احمدیوں کو سکون کا سانس آئے گا۔ مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ ہماری بقا اس میں ہے کہ ہم ان سرکاری مسلمانوں میں انتشار پیدا کرتے رہیں۔

انجینئر صاحب کہنے لگے کہ خدا نے مجھے بچانا تھا۔ مجھے ایک شاک لگا اور میں مسلمانوں کے موجودہ انتشار کی تہہ میں پہنچ گیا۔ نامعلوم خدا نے مجھے کہاں سے جرات عطا کی۔ اب تک میں اپنے آفیسر اعلیٰ کا جی حضوری بنا ہوا تھا اور انتہائی عقیدت مند تھا مگر اس کا یہ کردار سامنے آتے ہی میں نے آگے بڑھ کر آم کا وہ پودا اکھاڑ کر پھینک دیا اور انتہائی سختی سے کہا کہ اب میں تمہارا پول تمام عملہ کے سامنے کھولتا ہوں کہ تم بھیڑ کے لباس میں کیسے بھیڑیے ہو اور قادیانیت کی ترقی کے لیے مسلمانوں میں کیسے انتشار پیدا کر رہے ہو۔ میرا آفیسر مجھے جوش میں دیکھ کر موقع سے فرار ہو گیا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس واقعہ کو میرے ایمان بچانے کا سبب بنا لیا۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ فروری ۱۹۹۸ء ۔ از قلم : ڈاکٹر دین محمد فریدی)

صفحہ 166

حضرت امیر شریعت کی احرار رضا کاروں سے محبت

ایثار و وفا سے بھر پور ایک تاریخی واقعہ

قیام پاکستان کے بعد لائل پور (اب فیصل آباد) میں ایک دینی مدرسہ (اشرف المدارس" کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ جو دینی حلقوں میں خاصا نامور مدرسہ تھا۔ (یہ مدرسہ اب بھی موجود ہے اور معلوم نہیں کس حال میں ہے؟)

مدرسہ ھذا کے سالانہ اجلاس بڑے ٹھاٹھ سے ہوتے تھے۔ ملک کے نامور علماء کرام تشریف لاتے جن میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا احتشام الحق تھانوی وغیر ھم تین دن تک لائل پور میں علم و عرفان کے موتی لٹاتے رہتے۔

سن یاد نہیں ایک دفعہ حسب معمول اشرف المدارس کا سالانہ جلسہ تھا جس میں دیگر علماء کرام کے علاوہ آخری روز حضرت امیر شریعت کا بیان ہونا تھا (احرار کارکن حضرت امیر شریعت کو شاہ جی کہہ کر پکارتے)

شاہ جی ایک روز پیشتر تشریف لے آئے۔ گو مجلس احرار کا اس جلسہ سے کوئی رسمی تعلق بھی نہ تھا تاہم کارکن شاہ جی کو ملنے کے لیے محلہ گورو نانک پورہ جہاں مدرسہ ھذا کی طرف سے شاہ جی کے آرام و قیام کا انتظام تھا‘ پہنچ رہے تھے۔ دوسرے روز بہت سے رضا کار جلسہ گاہ میں پہنچ گئے اور سالار شبر امان اللہ (مرحوم) کے زیر ہدایت جلسہ کے انتظام و انصرام میں مصروف ہو گئے۔ یہ صرف شاہ جی کے ساتھ عقیدت و محبت کی وجہ سے تھا ورنہ جلسہ کی انتظامیہ یا مدرسہ ھذا کی طرف سے کوئی ذمہ داری ان پر نہ تھی۔ بہر حال جلسہ گاہ سے اینٹ پتھر ہٹانے اور دریاں بچھانے میں مصروف تھے کہ اشرف المدارس کی انتظامیہ کے ایک معزز رکن تشریف لے آئے اور آتے ہی سالار امان اللہ مرحوم کے ساتھ تحقیر آمیز لہجہ میں گفتگو شروع کر دی!

"اک تے ایہہ احراری شاہ جی نوں ویکھدیاں ای پتہ نہیں کتھوں ٹپک پیندے

صفحہ 167

نہیں۔ نہ کسی نے بلایا پوچھا" وغیرہ وغیرا

(ایک تو احرار والے شاہ جی کو دیکھتے ہی پتہ نہیں کہاں سے ٹپک پڑتے ہیں نہ ہم نے بلایا نہ پوچھا) وغیرہ وغیرہ۔

ایسی ہی اور دو چار سخت سست باتیں کہیں۔ سالار صاحب نے وسل دیا اور تمام رضا کار اکٹھے ہو گئے۔ سالار صاحب نے حکم دیا کہ تمام رضا کار جلسہ سے نکل جائیں۔ تمام رضا کار فوراً جلسہ گاہ سے نکل کر اپنے اپنے کام پر روانہ ہو گئے۔

یہ تمام ماجرا پروفیسر (اس وقت طالب علم) عبدالرحمٰن شاکر دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی رضا کاروں کا ہاتھ بٹانے کو کھڑے ہو گئے تھے۔ شاکر صاحب کا خاندان جالندھر سے ہجرت کر کے لائل پور رہائش پذیر ہوا۔ پورا خاندان احرار اسلام کا گرویدہ ہے۔ شاہ جی کا جب بھی لائل پور (فیصل آباد) آنا ہوا عبدالرحمٰن شاکر اکثر خدمت میں حاضر رہتا اور شاہ جی بھی بہت شفقت فرماتے!

سالار امان اللہ اور رضا کار جاچکے تو عبدالرحمٰن شاکر سیدھا شاہ جی کے پاس پہنچ گیا اور جاتے ہی تمام واقعہ من و عن کہہ سنایا۔ سنتے ہی شاہ جی کے ماتھے پر شکن آگئی اور پوچھا

عبدالرحمٰن یہ جو تو نے واقعہ سنایا ہے، یہ ایسے ہی ہوا ہے۔ اس نے کہا شاہ جی میں وہیں موجود تھا میرے سامنے ایسا ہی ہوا ہے۔

شاہ جی نے فرمایا میرا بستر باندھو اور تانگہ لاؤ، دفتر چلتے ہیں۔

چنانچہ شاکر صاحب نے بستر باندھا اور تانگہ لے آئے۔ شاہ جی سوار ہوئے اور دفتر مجلس احرار اسلام میں جا کر مقیم ہو گئے۔ آناً فاناً یہ خبر مدرسہ اشرف المدارس پہنچ گئی کہ شاہ جی ناراض ہو کر چلے گئے ہیں۔ اب تو بھگدڑ مچ گئی۔ جلسہ کے انعقاد کا اعلان بذریعہ اشتہار کئی روز پہلے ہو چکا تھا۔ مقامی پریس میں بھی خبر آچکی تھی۔ منادی بھی دو روز سے ہو رہی تھی کہ حضرت امیر شریعت بعد نماز عشاء خطاب فرمائیں گے۔

عصر کے بعد یہ واقعہ ہوا مدرسہ ھذا کی انتظامیہ کے کرتا دھرتا لوگ دفتر مجلس احرار اسلام پہنچ گئے اور شاہ جی کی منت سماجت کرنے لگے کہ شاہ جی ایک آدمی کی غلطی کی سزا سب کو نہ دیں اور معاف فرمادیں۔

شاہ جی نے فرمایا بھائی میں مجلس احرار اسلام کا ادنیٰ رضا کار ہوں اس سے زیادہ

صفحہ 168

جماعت میں اپنی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا اور جہاں جاتا ہوں مقامی جماعت کے ماتحت ہوتا ہوں اور اپنے سالار کا حکم بردار' تم نے میرے آفیسر کی بے عزتی کی میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔

امان اللہ سالار نے حکم دیا کہ تمام رضا کار جلسہ گاہ سے نکل جائیں تو میں بھی اپنے آپ کو اس حکم کا پابند سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اب سالار صاحب ہی حکم دیں گے تو تقریر ہوگی ورنہ نہیں!"

یہ سنتے ہی مدرسہ کی انتظامیہ والے شہر میں سالار امان اللہ کو تلاش کرنے لگے جہاں جہاں ان کے ملنے کے امکانات تھے' ڈھونڈا گیا لیکن وہ نہ ملے!

جیسے جیسے وقت گزرتا رہا' پریشانی بڑھتی گئی۔ آخر کار کسی نے کہا کہ سالار صاحب کے بہنوئی حافظ عبدالخالق صاحب (جو کہ جامع مسجد کچہری بازار کے امام بھی تھے اور کچہری بازار میں ہی جنرل سٹور کھول رکھا تھا) سے دریافت کرتے ہیں شاید ان کے ہاں چلے گئے ہوں۔

چنانچہ سب مل کر ان کے پاس گئے اور امان اللہ صاحب کا دریافت کیا تو حافظ صاحب نے کہا کہ امان اللہ صاحب کبھی کبھار آتے ہیں۔ دو چار منٹ رکتے ہیں' خیریت دریافت کی اور چلے گئے۔ آج بھی عصر کے وقت آئے تو تھے شاید ابھی گھر میں ہوں یا چلے گئے ہوں۔ پتہ کر لیتے ہیں۔ ویسے خیریت تو ہے آپ لوگ باجماعت امان اللہ کی تلاش میں ہو؟

انہوں نے واقعہ کہہ سنایا اور خوشامدانہ لہجے میں التجا کی کہ آپ امان اللہ سے ہماری سفارش کر دیں اور وہ شاہ جی سے ہمیں معافی دلا دیں یہ آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا۔ اگر شاہ جی نے تقریر نہ کی تو شہر میں ہم نکو بن جائیں گے اور مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والوں کی سبکی الگ ہوگی۔

خدارا کچھ کریں۔ حافظ صاحب سن کر بہت ہنسے اور کہنے لگے آپ کو پتہ نہیں یہ احراری بڑے غیرت مند لوگ ہیں۔ یہ عزت نفس کے معاملہ میں یا اصول کی خاطر نفع نقصان کی پرواہ نہیں کرتے۔ چھوٹے سے چھوٹا کارکن بھی بڑے سے بڑے آدمی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ بہرحال چلیں گھر میں پتہ کرتے ہیں۔ گھر گئے تو امان اللہ صاحب تشریف رکھتے تھے۔ بیٹھک میں بیٹھ کر بات ہوئی تو امان اللہ صاحب نے پٹھے پر ہاتھ ہی نہ رکھنے دیا

صفحہ 169

اور کہا کہ میاں ہم تو ٹکے ٹکے کے رضا کار ہیں اور آپ سرمایہ دار اور عزت دار لوگ ہیں۔ غریب خانے پر کیسے چلے آئے! انہوں نے ہاتھ باندھ کر کہا امان اللہ صاحب ہماری غلطی معاف کر دیں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ شاہ جی دفتر احرار میں آگئے ہیں اور تقریر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اب آپ ہی شاہ جی کو تقریر پر راضی کر سکتے ہیں۔ جب تک آپ نہ کہیں گے، شاہ جی تقریر نہیں کریں گے اور جلسہ نہیں ہوگا۔ اس سے مکتب دیو بند کا مسلک رکھنے والوں کی سبکی ہوگی اور مخلوق خدا فیض بخاری سے بھی محروم رہے گی۔ خدا کے لیے اب مان جائیں۔ حافظ عبدالخالق صاحب نے بھی زور دیا اور کہا کہ اب بہت ہو گئی ہے۔ ان کو اچھا سبق مل گیا ہے۔ آئندہ محتاط رہیں گے۔ احرار اتنے تھپیڑے کھانے کے باوجود منظم اور جماعتی طور پر زندہ کیوں ہیں؟

شاہ جی جن کی ایک جھلک دیکھنے یا مصافحہ کرنے کے لیے لوگ سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، وہ ایک معمولی رضا کار کی عزت نفس کو مجروح ہوتے برداشت نہیں کرتے۔ یہی وہ یگانگت اور مساوات کی روح ہے جو انہیں ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے اور یہی ان کی جماعتی زندگی کا سبب ہے! بہر حال امان اللہ صاحب آپ ان کے ساتھ شاہ جی کے پاس جائیں اور شاہ جی کو تقریر کے لیے راضی کریں۔ وقت کافی ہو گیا ہے لوگ تو جلسہ گاہ میں آنا شروع ہو گئے ہوں گے۔ چلئے میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔

جب دفتر احرار میں پہنچے تو شاہ جی اپنے پروانوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ امان اللہ نے سلام عرض کیا تو شاہ جی نے اٹھ کر معانقہ کیا، پاس بٹھایا اور پوچھا کیا واقعہ ہوا تھا؟

ابھی امان اللہ کچھ کہنے ہی والے تھے کہ مستری عبدالرشید نے اٹھ کر کہا شاہ جی! میرا ہی دماغ خراب ہو گیا تھا۔ میں پھر معذرت خواہ ہوںا

اب اس معاملہ کو یہیں ختم کریں۔

(واضح ہو کہ مستری عبدالرشید ہی وہ رکن انتظامیہ مدرسہ مذکورہ تھے جن سے تلخ کلامی ہوئی)

شاہ جی نے فرمایا!

”آپ لوگ ان کو کیا سمجھتے ہیں؟ یہ رضا کار تو قوم کی آبرو ہیں۔ انہیں دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ان کا جذبہ جہادی تو مجھے لیے پھرتا ہے۔ مجھے تو زاد راہ بھی ملتا ہے‘

صفحہ 170

خدمت بھی ہوتی ہے لیکن رضا کار تو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے تن من دھن نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں"۔

کاش پوری قوم کے نوجوانوں میں یہی جذبہ جہاد پیدا ہو جائے تو پاکستان پوری دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے!

اور پھر یہ واقعہ جلسہ عام میں بھی کہہ سنایا اس سے نہ صرف ہم رضا کاروں کے حوصلے بڑھے بلکہ بہت سے نوجوان احرار کے رضا کارانہ نظام میں شامل ہو کر جماعتی تقویت کا باعث بنے۔

اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

(از قلم شیخ عبدالمجید احرار امرتسری، ماہنامہ "نقیب ختم نبوت" ستمبر ۱۹۹۵)

حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی مرحوم کی

گرفتاری اور رہائی

رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی مرحوم کے چھوٹے بھائی مولانا محمد یحییٰ صاحب لدھیانوی تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب مرحوم مہتمم دارالعلوم دیوبند کے ہم سبق ساتھی تھے۔ ۱۸۹۴ء میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ لدھیانہ میں ہی تحصیل علم کے علاوہ ساری زندگی گزاری۔ تحریک احرار و ختم نبوت میں حصہ لیا۔ جیل بھی گئے۔ آزادی ہند کے بعد پاکستان تشریف لے آئے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ مسکن تھا۔ ۱۹۵۳ء میں جب تحریک ختم نبوت چلی تو مارچ کے مہینہ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لائل پور (فیصل آباد) گرفتاری دینے کے لیے جب گھر سے چلے تو ایک بہت بڑے جلوس نے انہیں گھر سے ریلوے اسٹیشن تک رخصت کیا۔ فیصل آباد میں تشریف لائے۔ یہاں پر جلوس کی قیادت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے جلوس کے آگے لائن لگا دی کہ اگر اس سے آگے گزرے تو گولی چلا دی جائے گی۔ مولانا محمد یحییٰ صاحب نے جان کی

صفحہ 171

پرواہ نہ کرتے ہوئے لائن کراس کر لی۔ مولانا کی اس بہادری اور جانفشانی کو دیکھ کر موقع پر موجود مجسٹریٹ نے جس کا نام قاضی سعید تھا، استعفا دے دیا۔ اس نے کہا کہ ختم نبوت کی حفاظت کے لیے علماء جان دے رہے ہیں اور ہم ان کو قتل کر دیں، یہ میرے جذبہ ایمانی کے خلاف ہے۔ مولانا محمد یحییٰ کو گرفتار کر لیا گیا۔ تقریباً چھ ماہ نظربند رہے۔

(مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتویٰ تکفیر، از مولانا حبیب الرحمٰن

لدھیانوی)

علامہ اقبال اور فلسفہ ختم نبوت

قرآن مجید دل کے راستے سے شعور میں داخل ہوتا ہے۔ یہ حقیقت یوں سمجھ میں آئے گی کہ کالج میں میری تعلیم کا ابتدائی زمانہ تھا۔ میرا معمول تھا کہ ہر روز نماز فجر کے بعد قرآن مجید تلاوت کرتا۔ اس دوران والد ماجد بھی مسجد سے تشریف لے آتے اور مجھے تلاوت کرتا دیکھ کر اپنے کمرے میں چلے جاتے۔ میں کبھی ایک منزل ختم کر چکا ہوتا کبھی کم۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ والد صاحب حسب معمول مسجد سے واپس آئے، میں تلاوت میں مصروف تھا مگر وہ جیسے کسی خیال سے میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں تلاوت کرتے کرتے رک گیا اور منتظر تھا کہ مجھ سے کیا ارشاد فرماتے ہیں۔

کہنے لگے ”تم کیا پڑھا کرتے ہو؟“ مجھے ان کے اس سوال پر نہایت تعجب ہوا بلکہ ملال بھی۔ انہیں معلوم تھا کہ میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہوں۔ بہرحال میں نے مودبانہ عرض کیا ”قرآن پاک“ کہنے لگے ”تم جو کچھ پڑھتے ہو سمجھتے بھی ہو؟“ میں نے کہا ”کیوں نہیں؟ تھوڑی بہت عربی جانتا ہوں، کچھ نہ کچھ سمجھ لیتا ہوں“ انہوں نے میرا جواب خاموشی سے سنا اور اٹھ کر چلے گئے۔ میں حیران تھا آخر اس سوال سے ان کا کیا مطلب ہے؟

کچھ دن گزر گئے اور یہ بات جیسے آئی گئی ہو گئی۔ لیکن اس واقعہ کو چھٹا روز تھا کہ صبح سویرے میں حسب معمول قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا، والد ماجد مسجد سے واپس آئے اور میں نے تلاوت ختم کی تو انہوں نے مجھے بلایا اور اپنے پاس بٹھا کر بڑی نرمی سے کہنے لگے

صفحہ 172

”بیٹا قرآن مجید وہی سمجھ سکتا ہے جس پر اس کا نزول ہو“ مجھے تعجب ہے کہ حضور رسالت مآب ﷺ کے بعد قرآن پاک کیسے کسی پر نازل ہو سکتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے وہ میرے دل کی بات سمجھ گئے ہوں گے، کہنے لگے ”تمہیں کیسے یہ خیال گزرا کہ اب قرآن مجید کسی پر نازل نہیں ہوگا۔ کیوں نہ تم اس کی تلاوت اس طرح کرو جیسے تم پر یہ نازل ہو رہا ہے، ایسا کرو گے تو یہ تمہاری رگ و پے میں سرایت کر جائے گا“ میں ہمہ تن گوش والد ماجد کی بات سنتا رہا بلکہ اپنے آپ کو تیار کر رہا تھا کہ قرآن مجید کی ایسے ہی تلاوت کروں جیسے ان کا ارشاد ہے کہ انہوں نے کہا ”سنو! اللہ تعالیٰ کا ارادہ عالم انسانیت کو جس معراج تک پہنچانے کا تھا، اس کا آخری اور کامل و مکمل نمونہ ہمارے نبی اکرم محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات ستودہ صفات میں ہمارے سامنے پیش کر دیا۔ لہٰذا ہم کہیں گے کہ آدم علیہ السلام سے حضور رسالت مآب ﷺ تک کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں، جتنے بھی نبی مبعوث ہوئے، ان میں سے ہر ایک کا گزر مدارج محمدیہ ہی سے ہو رہا تھا۔ وہ گویا ایک سلسلہ تھا جس کا خاتمہ ذات محمدیہ کی تشکیل پر ہوا“۔

حضرت علامہ کہنے لگے ”والد ماجد نے پھر خود ہی اپنے اس ارشاد کی تصحیح کی، انہوں نے کہا ”شعور انسانی کی تکمیل کے ساتھ بالآخر جب وہ مرحلہ بھی آگیا کہ زندگی اپنے مقصود کو پالے تو وہ ذات محمدیہ حضور رسالت مآب ﷺ تشریف لائے، باب نبوت بند ہوا، انسانیت اپنے معراج کمال کو پہنچی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسوہ حسنہ و کاملہ ہی ہر اعتبار سے ہمارے لیے حجت، مثال اور نمونہ ٹھہرا۔ اب جتنا بھی کوئی اس رنگ میں رنگتا چلا جائے گا، اتنا ہی قرآن مجید اس پر نازل ہوتا رہے گا۔ یہ مطلب تھا میرے اس کہنے کا کہ قرآن مجید اس کی سمجھ میں آسکتا ہے جس پر اس کا نزول ہو“۔

(اقبال کے حضور میں۔۔۔۔ از سید نذیر نیازی)

حاجی مانک کا ایمان افروز واقعہ

حاجی مانک کا واقعہ سن لو۔ بڑا ایمان تازہ ہو گا۔ انشاء اللہ۔ خدا نے ختم نبوت پر

صفحہ 173

مناظرے کرنے والے بھی یہیں دیئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کی قبر دین پور میں ہے۔ مولانا لال حسین اخترؒ دین پور کا مرید تھا اور وصیت کی تھی کہ میری موت جہاں بھی آئے، مجھے دین پور میں دفن کیا جائے۔

مولانا احمد علی لاہوریؒ نے دین پور کے قبرستان کو دیکھ کر فرمایا کہ کہیں پاکستان میں اتنی رحمت کی بارش نہیں برس رہی جتنی مولانا غلام محمد دین پوریؒ کی قبر پر رحمت برس رہی ہے۔

حضرت لاہوریؒ کی خواہش اور مولانا لال حسینؒ کا عمل

شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے کہا مجھے مدینہ میں پہنچائیں گے ورنہ میرا دل چاہتا ہے کہ میری قبر میرے مرشد کے قدموں میں بن جائے۔ مجھے یقین ہے کہ میری نجات ہو جائے گی۔ (سبحان اللہ)

یہ بات مولانا لال حسین اختر نے سن لی۔ انہوں نے کہا کہ جب میری وفات ہو میری موت آئے تو میرا جنازہ دین پور لے جانا تاکہ مولانا احمد علی لاہوریؒ کے قول کے مطابق میں بھی رحمت سے محروم نہ رہوں۔ آج مولانا لال حسین اخترؒ کی قبر حضرت دین پوریؒ کے قدموں میں ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی وہاں سو رہا ہے۔ میرا دادا عبد القادر بھی وہاں سو رہا ہے۔ میاں جی خیر محمد بھی وہاں سو رہے ہیں۔ ایک محدث عبد الرزاق بھی وہاں سو رہا ہے۔ لال حسین اختر بھی وہاں سو رہا ہے۔

کرونڈی ضلع نواب شاہ، تحصیل پڑعیدن سے پندرہ میل دور ایک بستی کا نام ہے۔ کرونڈی، وہاں مرزائیوں نے چیلنج کیا کہ ہم مناظرہ کریں گے۔ مولانا لال حسین اختر وہاں پہنچے پوری جماعت وہاں پہنچی۔ سندھ کے تمام علماء بڑے چیئرمین وہاں پہنچے۔ ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔ مولانا لال حسین اختر نے اپنی پہلی ٹرم میں کھڑے ہو کر کہا کہ میں آج ثابت کروں گا کہ مرزا جھوٹا تھا، کذاب تھا۔ اس کا دعویٰ بھی جھوٹا تھا، الہام بھی جھوٹے تھے، وحی بھی جھوٹی تھی۔ پیشین گوئیاں بھی جھوٹی تھیں۔ وہ بھی جھوٹا تھا، اس کی تمام کتابیں جھوٹی تھیں۔

صفحہ 174

مرزائیوں کے مناظر نے حضورؐ کی توہین کر دی

جو مرزائی مقابلہ میں تھا اس کا نام عبدالحق تھا۔ اس بدبخت کو‘ اس لعین کو پتہ نہیں کیا خیال آیا۔ وہاں پر چونکہ اس کی زمین تھی‘ بہت سارے اس کے مزارعے تھے۔ مرزائیوں کی ایک بستی تھی بندوقوں کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے کھڑے ہو کر کہا میں بھی ثابت کروں گا کہ محمد بھی ایسا تھا۔ (نعوذ باللہ)

اس نے کہا کہ میں بھی ثابت کروں گا کہ تمہارا نبی ایسا تھا۔ شور پڑ گیا۔ اس نے جو لفظ کہے مسلمان جذبات میں کھڑے ہو گئے۔ دوسری طرف بندوقیں تھیں۔ کچھ حالات ایسے تھے پولیس بھی تھی۔ بات ٹل گئی لڑائی نہ ہوئی۔ مسلمان بڑے پریشان ہوئے۔ مرزائی چلے گئے۔ مناظرہ یہاں پر ختم ہوا کہ یہ جملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ وہ معافی مانگے۔ یہ اس نے ہمارے سینے پر مونگ دلے ہیں۔ ہمیں اس نے چھری سے ذبح کر دیا ہے۔ مسلمان بے غیرت نہیں ہیں۔ یہ جملے اتنے سنگین ہیں کہ ہمیں موت آ جاتی۔ یہ جملے ہمیں برداشت نہ کرنے پڑتے۔ مسلمان روتے ہوئے گئے۔ مانک کہتا ہے کہ میں اپنے گھر گیا۔ یہ ہماری قوم کا شہر تھا۔ بلوچوں کی پانچ سو لڑیاں ہیں۔ میں بھی بلوچ ہوں۔ بلوچوں میں جو سردار ہیں میری لڑی ان میں سے ہے۔

جھنگ سے حضرت دین پوریؒ حج پر گئے۔ واپس آ کر دین پور میں ڈیرہ لگایا۔ اصل ہم بھی ضلع جھنگ کے ہیں۔ ہم آپ کے رشتہ دار ہیں۔ حضرت دین پوریؒ یہاں کے تھے۔ یہاں کے بلوچ تھے۔ یہاں سے جا کر دین پور کو آباد کیا۔

حاجی مانک کہتا ہے کہ جب میں نے یہ بات سنی تو سر پکڑ لیا۔ میں روتا رہا۔ یہ بات ساری بستی میں پھیل گئی کہ عبدالحق نے اتنی گستاخی اور اتنی زبان درازی کی ہے‘ اتنی بے ادبی کی ہے‘ اتنی بکواس کی ہے۔ ہر آدمی کی زبان پر یہی بات تھی۔ حاجی مانک کہتا ہے کہ میں گھر آیا تو میرا گھر بدلا ہوا تھا۔ میری بچیاں رو رہی تھیں۔ میری بیوی کا رخ ایک طرف تھا۔ میں نے پانی مانگا‘ بیوی نے نہ دیا۔ میں نے بیوی سے کہا پانی دو۔ وہ بات ہی نہ کرے۔

صفحہ 175

مانک کی غیرت کو گھر کی عورتوں نے جگا دیا

اندر سے کنڈی مار کر کہنے لگی مانک تیری سفید داڑھی‘ اسی سال تو حج کر کے آیا ہے۔ گنبد خضریٰ پر تو روتا تھا مجھے بھی ساتھ لے گیا تھا۔ تو نے اپنے محبوب کریم کے متعلق یہ جملہ سنا بے غیرت زندہ واپس آگیا تو بھی محمد کا امتی ہے؟ میں تیری بیوی نہیں ہوں۔ مجھے اجازت دے دے میں میکے جا رہی ہوں۔ یہ بیٹیاں‘ تیری بیٹیاں نہیں ہیں۔ میں اس بے غیرت کو اپنا خاوند نہیں بناتی‘ میری بیٹیاں تجھے ابا نہیں کہیں گی۔ اتنی بڑی تو نے داڑھی رکھی ہے اور مصطفیٰؐ کے خلاف یہ بات سن کر تو زندہ لوٹ آیا۔ مر نہیں گیا۔ حاجی مانک کہتا ہے کہ اس جملے نے میرے اندر محمدؐ کی محبت کی سپرٹ بھر دی۔ مجھے کرنٹ سا لگا۔ حضور ﷺ کی زندگی کا سارا نقشہ میرے سامنے آگیا۔ آقا کی محبت نے جوش مارا۔ میں پھر بے خود ہو گیا۔ میں نے کلہاڑی اٹھائی اور اس مرزائی عبدالحق کی طرف چل پڑا۔ یہ واقعہ سنا کر آپ کا ایمان تازہ کر رہا ہوں۔ اس کی عمر پچاس برس تھی۔ چہرہ حسین‘ سرخ‘ منہ پر نور ٹپکتا ہے۔ میں کرونڈی کی طرف جب تقریر کے لیے جاتا ہوں تو وہ صدارت کرتا ہے۔ میں اس کا ماتھا چومتا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ بیسیوں دفعہ مجھے حضور ﷺ کی زیارت ہو چکی ہے۔ (سبحان اللہ)

مانکؒ نے عبدالحق مرزائی کو قتل کر دیا

کلہاڑی ہاتھ میں لی اور تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ پستول‘ ریوالور وغیرہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دل میں فیصلہ کر لیا کہ یا مصطفیٰؐ یا گستاخ‘ کتا بھونکنے والا زندہ رہے گا یا محمد ﷺ کا عاشق جان دے دے گا۔ سیدھا گیا۔ عبدالحق پھر رہا تھا۔ اس کو خیال بھی نہ آیا کہ یہ بوڑھا مجھے کچھ کہے گا۔ پچاس سال حاجی مانک کی عمر تھی۔ سفید داڑھی تھی۔ کہتا ہے کہ میں ویسے تو بوڑھا تھا مگر دل جوان تھا۔ خون میرا جوان تھا رگوں میں جو خون تھا‘ وہ جوان تھا۔ میں نے عبدالحق کو قریب جاکر کہا او گستاخ! او مرزائی کتے! او مرتد! آج تیرا آخری دن ہے تو بچ کر نہیں جائے گا۔ تگڑا ہو جا۔ محمد کا عاشق تیرے پاس پہنچ چکا ہے۔ اس نے میرے ہاتھ میں کلہاڑی دیکھی تو دوڑنے لگا۔ پاؤں میں ڈھیلا اٹکا تو منہ کے بل گرا۔ ڈھیلا نہیں اٹکا

صفحہ 176

تھا قدرت نے دکھا دیا۔ میں پاس پہنچ گیا۔ میں نے کلہاڑی کے وار کرنے شروع کر دیے۔ میں نے اس کو جوتے سے سیدھا کیا۔ میں نے اس کے سینے پر کلہاڑیاں ماریں۔ میں زور سے وہاں کہتا رہا کہ اس سینے میں نبی کا کینہ ہے۔ پھر میں نے دماغ پر کلہاڑی ماری۔ میں نے کہا تیرا دماغ خراب تھا۔ پھر میں نے زبان کو پکڑ کر کلہاڑی سے کاٹا‘ میں نے کہا یہ بھونکتی تھی۔ پھر میں نے انگلی کو لکڑی پر رکھ کر کاٹا میں نے کہا جب تو نے گستاخی کی تھی‘ انگلی مدینے کی طرف اٹھائی۔ میں اس کتے کی انگلی کو کاٹ دوں گا جو محمد ﷺ کی گستاخی کرے گا۔ علاج یہی تھا۔ یہ وہاں سے بھاگا نہیں چھپا نہیں ۔ بندوقوں والے کانپتے رہے۔ کفر بزدل ہوتا ہے۔

مسلمان نکلے تو غازی ہے۔ لڑے تو مجاہد ہے‘ آئے تو فاتح ہے۔ گر جائے تو شہید ہے۔ جو نبی کی عزت پر اپنی جان دے‘ وہ کون ہے؟ (شہید)

غازی علم الدین شہید کا جنازہ اٹھا تو تین لاکھ آدمی جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے ہار تھے جس کی کوئی حد نہیں۔ بوڑھے بوڑھے کہہ رہے تھے ہمیں عینک دو ایک دفعہ تو اس عاشق رسول کا جنازہ دیکھ لیں۔ جس نے اپنی جوانی محمدؐ پر قربان کر دی۔ (سبحان اللہ)

مانک کو حضور ﷺ کی زیارت

حاجی مانک کہتا ہے کہ جب میں حیدر آباد جیل گیا تو حضور ﷺ کی زیارت ہو گئی۔ آپؐ نے کہا بیٹے! گھبرا نہیں تو پھانسی کے تختے پر چڑھا تو تیری شہادت کی موت ہو گی۔

حاجی مانک تھانے میں

حاجی مانک کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ختم کیا۔ میرے کپڑے اس کے خون سے خون آلود ہو گئے۔ پلید خون سے‘ مرتد کے خون سے نفرت آ رہی تھی‘ بدبو آ رہی تھی۔ میں سیدھا تھانے چلا گیا۔ قریب تھانہ تھا۔ تھانے دار نے مجھے دیکھا کہ میرے سر پر پگڑی نہیں‘ ہاتھ میں کلہاڑی ہے۔ کپڑے خون سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ تھانیدار مجھے جانتا تھا۔ میں شریف آدمیوں میں شمار ہوتا تھا۔ میں کبھی کبھی مسجد میں اذان بھی دیتا تھا۔ تھانیدار نے کہا مانک خیر ہے؟ کیا ہوا۔ میں نے کہا کل جس کتے نے‘ جس مرتد نے‘ جس لعین نے‘ جس

صفحہ 177

گستاخ نے کل گستاخی کی تھی‘ الحمد للہ آج وہ زبان خاموش ہو چکی ہے۔ اس کے خون کو کتے چاٹ رہے ہیں۔ مجھے ہتھ کڑی لگاؤ‘ مجھے گرفتار کرو۔ تھانیدار خود کانپنے لگا‘ رونے لگا۔ اپنی ٹوپی اتار کر میرے پاؤں میں ڈال دی۔ کہنے لگا تجھے گرفتار کر کے محمد کی شفاعت سے محروم ہو جاؤں؟ (نعرے۔۔۔۔۔)

پولیس والے دوڑ دوڑ کر حاجی مانک کے لیے دودھ لا رہے ہیں‘ رو رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہم سے وہ کارنامہ نہ ہو سکا جو ایک بوڑھے نے کر دیا ہے۔ حاجی مانک! ہم تجھے مجرم کہیں یا محمد کا عاشق کہیں۔ ہم تجھے ہتھکڑی لگا کر کل محمدؐ کے سامنے شرمندہ ہو جائیں؟ میں حکومت کو پیٹی اتار کر دے دوں گا مگر میں تجھے گرفتار کر کے محمدؐ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گا۔ میں اوپر اطلاع دیتا ہوں۔ مانک تو میرا مہمان ہے۔ تو قاتل نہیں تو محمد کا عاشق ہے۔ (سبحان اللہ)

سکھر پولیس کو اطلاع

حاجی مانک کہتا ہے انہوں نے میری بڑی خدمت کی۔ سکھر پولیس کو اطلاع دی‘ وہ بھی آئے۔ میرے قریب کوئی نہ آیا۔ مجھے کہا کار میں بیٹھ جاؤ۔ وہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ کہنے لگے ہم عورتوں کو پکڑتے ہیں‘ آج تک ہم نے ڈاکو پکڑے‘ آج تک ہم نے چور پکڑے ہیں۔ آج اس کو لے جا رہے ہیں جس کے دل میں محمد ﷺ کی محبت ہے۔ وہ بھی تبصرہ کر رہے ہیں۔

مانک کہتا ہے کہ میں سکھر جیل میں گیا تو تمام ڈاکو اکٹھے ہو گئے۔ دیکھ کر رونے لگ پڑے۔ کوئی کہنے لگا میں نے ماں کو قتل کیا‘ دوسرے نے کہا میں نے بہن کو قتل کیا۔ ایک نے کہا میں نے باپ کو قتل کیا۔ مانک! تیری قسمت کا کیا کہنا۔ تو محمد ﷺ کے دشمن کو قتل کر کے آیا ہے۔ رونے لگے۔ کہنے لگے جیل تو یہ ہے کہ جس سے خدا بھی راضی ہے‘ مصطفیٰؐ بھی راضی ہے۔ (سبحان اللہ) کوئی دودھ لا رہا ہے کوئی فروٹ لا رہا ہے۔

بزرگ مانک کی زیارت کو

پتہ چلا تو مولانا محمد علی جالندھریؒ وہاں پہنچے۔ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ وہاں پہنچے۔ قاضی صاحب روتے رہے۔ فرمایا ہم تیری زیارت کے لیے آئے ہیں۔ میں خود

صفحہ 178

وہاں پہنچا۔ مولانا وہاں پہنچے۔ مولانا امروٹی وہاں پہنچے، کراچی سے لے کر لاہور تک اس کو لوگ دیکھنے آئے۔ جس نے اپنے بڑھاپے میں جوانی دکھائی تھی۔

مانک کہتے ہیں کہ رات کو جیل میں مجھے حضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ میں اس کو لاتا نہیں ہوں، حکومت نے مجھے روک دیا ہے۔ میں نے ایک جگہ اعلان کیا تھا کہ میں مانک کو ساتھ لاؤں گا۔ میرے پاس حکومت کے آرڈر آگئے کہ آپ اس کو نہ لانا۔ کہیں لوگ کھڑے نہ ہو جائیں۔ کہیں دیکھنے والوں میں قتل عام شروع نہ ہو جائے۔ روک دیا گیا ورنہ میں اس کو لاتا۔ وہ بھی آنے کے لیے تیار تھا۔

مانک کہتا ہے کہ رات کو میں کوٹھڑی میں سویا۔ مصطفیٰ ﷺ کی مسکراتے ہوئے زیارت ہوئی۔

حاجی مانک! تیری غیرت محمد ﷺ کو پسند آگئی۔ میں تمہیں مبارک دیتا ہوں۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تیری پیشانی میں چوم لوں۔ تو نے اپنی زندگی میں جو کارنامہ کیا ہے، فرشتے بھی اس پر رشک کر رہے ہیں۔

مقدمہ ہوا۔ مرزائی تو اس کام میں بڑے تیز ہیں۔ لندن تک سے ان کے وکیل آئے۔ پورا ربوہ جھونک دیا گیا۔ پیسوں کے انبار لگ گئے۔ یہ سارے جمع ہوئے، ادھر وکالت محمد ﷺ نے کی۔ (سبحان اللہ)

وکیلوں نے کہا مانک بیان بدل دے

بیانات ہوئے۔ وکیلوں نے کہا کہ آپ یہ بیان دے دیں کہ میں نے یہ کام نہیں کیا۔ مانک نے کھڑے ہو کر کہا میں نے یہ کام کیا ہے۔ یہ کلہاڑی اب بھی موجود ہے۔ جو بھی میرے مصطفیٰ کی گستاخی کرے گا۔ اس پر میں یہی کارروائی کروں گا۔ (سبحان اللہ)

تین سال مقدمہ چلا۔ جج نے جو فیصلہ لکھا ہے، وہ سن لو! جج نے جب حالات سنے، اس نے فیصلہ لکھا کہ محمدؐ کا غلام، نبیؐ کا عاشق، پیغمبرؐ کا امتی، محمد عربیؐ کا دیوانہ سب کچھ برداشت کر سکتا ہے۔ اپنے نبی محمدؐ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ (بے شک)

جب عبدالحق نے نبی کی گستاخی کی حاجی مانک دیوانہ بن گیا۔ حاجی مانک کی عقل ٹھکانے نہ رہی۔ حاجی مانک آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے اس وقت قتل کیا جب اس کی

صفحہ 179

عقل ٹھکانے نہیں تھی۔ جس کی عقل ٹھکانے نہ ہو اس پر قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہ نبی کا دیوانہ ہے۔ میں دیوانے پر کوئی قانون لاگو نہیں کرتا۔ اس نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے اور مرتد کی سزا بھی قتل ہے۔ (سبحان اللہ) خدا کی قسم مانک زندہ رہا۔ ان میں پھرتا رہا۔ محمد نے اتنی نگاہ ڈال دی ہے کہ آج تک بندوقوں والے اس کا بال بیکا نہیں کر سکے۔ محمد کی ختم نبوت کی غلامی آج بھی حفاظت کر رہی ہے۔ (سبحان اللہ)

حاجی مانک ستر اسی سال کا اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ابھی حوض کوثر سے نہا کر آیا ہے۔ یہ سندھ کا واقعہ ہے۔ میں جب بھی اس علاقے میں جاتا ہوں ' اس کو بلاتا ہوں۔ دیکھتا رہتا ہوں ' روتا رہتا ہوں۔ مجھے کہتا ہے دین پوری میری طرف کیوں دیکھتے ہو؟ میں نے کہا میں ان آنکھوں کو دیکھتا ہوں جنہوں نے محمد کو دیکھا ہے۔ (سبحان اللہ)

کرونڈی سے جا کر تصدیق کریں۔ بات غلط ہو تو مجھے منبر سے اتار دینا۔ یہ کرونڈی پڈعیدن سے پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ مانک وہاں رہتا ہے۔۔۔۔۔ اس کو دور سے دیکھ کر آپ سمجھ جائیں گے۔ اس بستی میں کوئی اتنا حسین نہیں جس پر محمد کی نگاہ پڑچکی ہے۔ خدا کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خون ٹپکتا ہے۔ ستر سال کی عمر ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی حوض کوثر سے پانی پی کر نکلا ہے۔ (سبحان اللہ)

آٹھویں دن حضور ﷺ کی زیارت

کہتا ہے کہ آٹھ دفعہ جیل میں مجھے حضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ ہر آٹھویں دن آپؐ کی زیارت ہو جاتی تھی۔ آپؐ تسلی دیتے تھے کہ مانک نہ گھبرانا۔ محمد ﷺ تیری وکالت کر رہا ہے۔ (سبحان اللہ)

(خطاب : مولانا عبدالشکور دین پوری )

صفحہ 180

میری داستان حیات کے چند ورق

از مولانا محمد شریف احرار مدظلہ

محترم عزیز جناب محمد طاہر رزاق صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘ خیریت جانبین مطلوب من اللہ تعالیٰ میری درخواست پر آپ نے اپنی تصنیف تاریخ و تحریک ختم نبوت کا مکمل سیٹ میرے نام اور پتہ پر جو رجسٹرڈ بذریعہ ڈاک روانہ کیا ہے‘ مجھے وصول ہو گیا ہے۔ اس پر جس قدر آپ کا شکریہ ادا کروں‘ کم ہے۔ آپ کا یہ عظیم احسان میرے لئے باعث سعادت ہے۔ تاریخ ختم نبوت‘ مختلف عنوان پر جو آپ نے قلم بند کی ہے اور نئی نسل کے لئے جدید انداز میں جو معلومات فراہم کی ہیں‘ بے شک آپ کی یہ عرق ریزی نیز کوشش و کاوش‘ حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق و محبت کا زندہ جاگتا ثبوت ہے۔ اللہ رب العزت اپنے دربار عالیہ میں قبول و منظور فرما کر بخشش و مغفرت کا وسیلہ فرمائے۔ آمین!

آپ نے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں میرے کوائف و حالات جو طلب کئے ہیں‘ کاش کہ میں آپ کے سامنے ہوتا۔ آپ سوالات کرتے جاتے اور میں اپنی شکستہ یادوں کی گرہیں کھولتا جاتا۔ خط میں تو محض میاں مٹھو بننے والی بات ہے جو مجھ کو درست معلوم نہیں ہوتی‘ بہرحال بالکل اختصار سے گزارش کروں گا‘ آپ اسے دہلی کے ایک مجذوب کے قول کی روشنی میں اپنے انداز میں قلم بند کر لیں ۔

صفحہ 181
وسعت دل بہت ہے وسعت صحرا کم ہے
اس لئے مجھ کو تڑپنے کی تمنا کم ہے

میری پیدائش ۱۸ اپریل ۱۹۱۸ء، ضلع گجرات تحصیل کھاریاں‘ گاؤں سہنہ میں چوہدری فتح الدین مرحوم کے گھر میں ہوئی جو اس وقت برطانوی سامراج کی پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھے۔ پیدائش کے تین دن بعد میری والدہ فوت ہوگئیں۔ بہرحال میں اس پتے کی طرح بے سہارا رہ گیا جو شاخ سے ٹوٹ کر زمین کی گردش میں پاؤں کے نیچے روندا جا رہا ہو۔ کچھ عرصہ کے بعد سوتیلی ماں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن گیا۔

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ لالہ موسیٰ کے پاس ایک گاؤں میں برائے خطاب تشریف لائے۔ سکول سے بھاگ کر لوگوں کے ہمراہ شاہ جی کی تقریر سننے کے لئے چلا گیا۔ دس بجے دن سے لے کر شاہ جیؒ نے ظہر کی نماز تک خطاب کیا۔ اس سے میرے دل و دماغ پر وہ اثر پڑا کہ میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو چکا تھا۔ حالانکہ خطاب کے مفہوم سے میں بے خبر ہی رہا۔ فقط شاہ جی کی شیر کی طرح گرجدار آواز کا اثر غالب آ چکا تھا۔ لیکن شاہ جی کے خطاب میں برطانوی سلطنت اور اس کی ناپاک نسل کے خلاف حضرت امیر شریعت کے الفاظ سمجھنے پر میں مجبور ہو رہا تھا اور یہ عزم کر چکا تھا کہ اس مرد حق کے جوتوں میں اگر مجھے جگہ مل جائے تو سمجھوں گا کہ کائنات کی دولت اپنی جھولی میں سمیٹ لی‘ جس کی ایک للکار نے برطانوی تخت و تاج میں دراڑ ڈال کر رکھ دی۔

شاہ جی کا یہ پروگرام ضلع گجرات کے مختلف قصبات میں ایک ہفتہ کا تھا۔ اس سفر میں مولانا شیخ محمد عبداللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ ملکہ ضلع گجرات والے‘ حضرت شاہ جیؒ کے ہمراہ تھے۔ حضرت شیخ محمد عبداللہ صاحب شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن رحمتہ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ایک گاؤں ڈوگہ تہال میں حضرت امیر شریعت نے خطاب کے بعد حضرت مولانا سے پوچھا کہ اس بچے سے دریافت کرو کہ یہ کس گاؤں کا ہے کیونکہ جہاں میری تقریر ہوتی ہے‘ یہ میرے سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کی ماں سوتیلی ہے یا یہ گھر سے بھاگا ہوا ہے۔

حضرت مولانا نے مجھ سے دریافت کیا۔ میں نے وہ تمام تاثرات جو حضرت

صفحہ 182

شاہ جیؒ کی خطابت اور محبت کے جو میرے دل پر نقش ہو چکے تھے، بیان کر دیئے۔ شاہ جی نے کمال محبت و شفقت سے مجھ کو اپنے پاس بٹھایا۔ میرے سر کو چوما اور حضرت مولانا سے فرمایا کہ اس بچے کو اپنی پناہ میں لے لو۔ یہ میری امانت آپ کے پاس محفوظ رہنی چاہئے۔ اس دوران گھر والوں کے ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہوئے میں نے صرف و نحو، کتب فقہ یہیں مکمل کیں۔ بڑی منطق و فلسفہ کی کتب حمد اللہ سدرہ وغیرہ امی شریف تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں حضرت مولانا غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ سے مکمل کیں جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید اور خلیفہ تھے۔ اس دوران مجلس احرار اسلام کا میں باضابطہ رکن بن چکا تھا۔

۱۹۳۵ء مہینہ یاد نہیں رہا، مجلس احرار اسلام کے ایک بہت بڑے جلسہ عام میں جو کھاریاں کی مویشی منڈی کے میدان میں ہوا، صدر جلسہ اور صدر مجلس احرار اسلام ضلع گجرات مولانا محمد امان اللہ خان صاحب مرحوم کی اجازت سے انگریز فوج میں بھرتی ہونے کے خلاف احراری زبان میں بھرپور جذبات میں ۲۰ منٹ تقریر کی۔ اس جرم کی پاداش میں تیسرے دن امی شریف تحصیل پھالیہ سے مجھ کو گرفتار کر لیا گیا، تھانہ کھاریاں کی حوالات میں رکھا۔ مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت سے میرا جسمانی ریمانڈ ایک ہفتہ کا لیا گیا۔ ایک ہفتہ کے بعد سربلند خان مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ گجرات کی عدالت میں دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر پیش کیا۔ مجسٹریٹ سربلند خان بڑے مزے کے آدمی تھے۔ فیصلہ سناتے وقت پہلے نوافل ادا کرتے تھے۔ اگر انہوں نے دو نفل ادا کئے تو سمجھ لیجئے کہ ملزم کو ایک برس کی سزا ہو گئی۔ بہرحال عدالت میں جب مجھ کو پیش کیا گیا تو سربلند خان نے دو رکعت نفل ادا کئے۔ میں نے اندازہ لگا لیا کہ سال سے کم سزا نہیں ہو گی۔ عدالت میں مجلس احرار اسلام گجرات کے صدر، بڑی تعداد میں کارکن اور رضا کار موجود تھے۔ بہرحال ایک برس کی سزا بامشقت سنا دی گئی۔ میں نعرے لگاتا ہوا عدالت سے جب باہر نکلا تو ہجوم نے میرے نعروں کا پرجوش انداز میں جواب دیا۔ میری عمر اس وقت غالباً ۱۷ برس ہو گی۔

یہ سزا میں نے جہلم ڈسٹرکٹ جیل میں کاٹی۔ جیل میں میری غیرت و حمیت کی وجوہات پر جو تشدد کیا جاتا رہا، وہ ایک الگ المیہ ہے۔ یہ بالکل مختصر قلم بند کر رہا

صفحہ 183

ہوں۔ ایک برس کی سزا کاٹ چکنے کے بعد جب مرکزی گیٹ گویا جیل کے دروازے پر پہنچا تو مجلس احرار اسلام کے مرکزی رہنما ماسٹر تاج الدین انصاری رحمتہ اللہ علیہ، ڈاکٹر نذر محمد مجلس احرار اسلام جہلم کے صدر اور کافی تعداد میں مجلس احرار کے کارکنوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ جیل سے رہائی کے بعد کھاریاں ہائی سکول کے سائنس ماسٹر عبدالغنی قادیانی سے میرا مناظرہ بھی ہوا۔ اجرائے نبوت اور حیات مسیح علیہ السلام پر میرا پہلا کامیاب مناظرہ تھا حالانکہ یہ دور میرا طالب علمی کا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمراہ ہو جاتی ہے۔ سچائی کے دلائل و براہین دل و دماغ میں رچے اور بسے ہوئے ہوں تو مومن کسی بھی محاذ پر شکست نہیں کھا سکتا۔ انشاء اللہ!

۱۹۳۹ء گولیانہ ضلع گجرات کے ایک قصبہ میں ایک نہایت ہی گستاخ قادیانی مبلغ سے مناظرہ ہوا۔ دوران مناظرہ حضور رحمت دو عالمؐ کی ذات اقدس پر اس کے گستاخانہ الفاظ کا جواب میں نے غیرت و حمیت کے انداز میں ایسا دیا کہ ایک نوجوان نے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بے قابو ہو کر اس کو قتل کر دیا۔ اس نوجوان کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ آٹھ ماہ کے بعد سیشن جج گجرات کی عدالت سے خان نوازش علی سیشن جج نے مجھ کو باعزت بری کر دیا اور قتل کرنے والے نوجوان کو سات برس کی قید سنا دی۔ ۱۹۴۰ء میں لاہور انجمن نعمانیہ میں علم میراث کی کتابوں کے لئے داخلہ لیا تو حضرت مولانا محب النبی صاحب کی خدمت میں چند ماہ رہ کر دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا۔ شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک برس گزار کر دورہ حدیث کی تکمیل کی۔

۱۹۴۲ء میں مولانا گل شیر رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فوجی آفیسر رشتہ دار کی شاہ جی کی خدمت میں اس رپورٹ پر کہ ۲/۷ پنجاب رجمنٹ میں فلاں فلاں قادیانی افسروں نے ان پڑھ فوجیوں کو مرزائی بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے، اس سلسلہ میں آپ سوچ لیں۔ حضرت شاہ جیؒ نے فوراً گھبراہٹ میں ڈاکٹر عبدالقادر ڈینٹل سرجن کے گھر میں ایک خصوصی میٹنگ میں احرار اسلام کے پانچ زعماء کو طلب کر لیا، احرار کے قانونی مشیر خواجہ غلام حسین وکیل لائل پور (فیصل آباد) کو بلا لیا۔ غور و فکر کے بعد طے پایا کہ اسی رجمنٹ میں کسی احراری مولوی کو جس کو قادیانیت پر عبور ہو،

صفحہ 184

بحیثیت امام و خطیب بھرتی کرا دیا جائے اور قادیانیوں کی اس ناپاک سازش کا قلع قمع کر دیا جائے۔ بہرحال اس مقصد اور خطرناک مہم پر بھیجنے کے لئے صدر مجلس احرار اسلام ضلع گجرات نے میرا نام امیر شریعتؒ کے سامنے پیش کر دیا۔ زعماء احرار نے منظوری دے دی۔ حضرت مولانا گل شیر مرحوم کے قریبی عزیز کیپٹن محمد نواز خان کی سفارش اور کوشش سے مجھے حضرت شاہ جیؒ نے حلف لے کر اس سفر پر روانہ کر دیا۔ جہاں میرے لئے یہ سفر اور منکرین ختم نبوت کے خلاف مہم ناقابل تصور آزمائش کا مرحلہ تھا‘ وہاں قدم قدم پر اللہ کی نصرت اور اس کا فضل و کرم اور رحمت میرے شامل حال تھی۔ بہت مختصر کرتے ہوئے قلم بند کر رہا ہوں کہ کہیں خط بے رنگ نہ ہو جائے۔

میرے عزیز محمد طاہر صاحب! آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں میرے ساتھ بیتے ہوئے واقعات سے متعارف ہونے کے لئے اور نئی نسل کو روشناس کرانے کے لئے میرے جیسے خانہ بدوش کے کوائف و حالات کو تاریخ کے حوالہ کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ یہ کام مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہونا چاہئے تھا۔ مولوی اللہ وسایا یا دیگر حضرات کا یہ کام تھا۔ مگر یہ بات شبہ سے بالا تر ہے کہ آج تک جتنے لوگوں کی زندگی کے حالات مرتب کئے گئے ہیں‘ ان کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ برسر اقتدار حکومت سے ٹکرا کر پہلے باغی کہلائے اور بعد میں فاتح۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے ہمیشہ دولت اور اقتدار کے سائے میں پرورش پائی ہے۔۔۔۔۔۔ اول الذکر کی سوانح حیات کو اس کے اپنے خون کے چھینٹوں نے رنگین کیا اور خوبصورت بنا دیا۔ اور موخر الذکر کو ان کی دولت کتاب کی صورت میں مارکیٹ میں لے آئی۔ بہرحال کچھ بھی کیوں نہ ہو‘ تاریخ ماضی کی یہ گاڑی انہی دو پہیوں پر چل رہی ہے لیکن میرا شمار نہ پہلوں میں ہے نہ پچھلوں میں۔ یہ درست ہے کہ میں کئی برس تک انگریزی حکومت کا باغی رہا۔ پاکستان بن چکنے کے بعد بھی آنے والی حکومتوں کے ظالمانہ سلوک کا حامل رہا مگر فاتح نہ کہلا سکا اور پھر میں تو ان بنیادی پتھروں میں شمار ہوتا رہا اور اب بھی ہوں جس پر دنیا کی نظریں کبھی نہیں پڑیں۔

تو ہاں جی‘ گزارش یہ کر رہا تھا امیر شریعت کی تحریک پر میں فوج میں چلا گیا۔ مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹیں آتی رہیں۔ بہرحال پندرہ نوجوان خفیہ طور پر ایسے تیار کر

صفحہ 185

لئے جو حضور پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کے منکرین اور سازشیوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے میرے اشارے کا انتظار کر رہے تھے۔ ۲/۷ پنجاب رجمنٹ کو ۷ ڈویژن کے ساتھ اٹیچ کر کے برما کے محاذ پر بھیج دیا اور مجھ کو بھی رجمنٹ کے ساتھ جانے کا حکم دے دیا۔ ہمارا وہ ڈویژن اکیاب کے مورچہ پر جاپانی فوج کے گھیرے میں آگیا۔ یہ الگ داستان ہے۔ میں پہلے مقصد کی بات لکھوں گا۔

۲۲ یوم کے بعد گھر لوٹا اور فوجی ڈسپلن اور قواعد کے مطابق مزید تیاری کے لئے رجمنٹ کو بہت لمبے چوڑے جنگل میں سکیم پر کچھ دنوں کے لئے روانہ کر دیا گیا جہاں ان پندرہ جوانوں نے فوجی حکمت عملی کے پیش نظر نشانہ بازی کی ٹریننگ کرتے ہوئے سکیم کے دوران ان تینوں قادیانی افسروں کو ہلاک کر دیا۔ جن میں ایک میجر اور دو کیپٹن کے منصب پر فائز تھے۔ جس طرح کماد کی فصل کو سور لتاڑ رہے ہوں‘ اسی طرح ختم نبوت کے قزاق‘ نوجوان فوجیوں کو مرتد بنانے کی سازش کے تحت مہم چلا رہے تھے۔ جب رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر انگریز کو معلوم ہوا کہ سکیم میں نشانہ بازی کے دوران فلاں فلاں آفیسر ہلاک ہو گئے ہیں تو اس کی انکوائری شروع ہو گئی۔ لیکن جن کے نشانہ سے وہ ہلاک ہوئے‘ ان کا پتہ لگانے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ میں چونکہ پیچھے ہیڈ کوارٹر میں تھا۔ بہرحال ان کی لاشیں ہیڈ کوارٹر میں آئیں۔ کفن دفن کے مکمل انتظام کے بعد جنازہ پڑھانے کے لئے مجھ کو حکم دیا گیا۔ اب یہ مرحلہ میرے لئے جہاں نہایت کٹھن تھا وہاں میرے ایمان اور عقیدہ ختم نبوت کی زبردست آزمائش بھی تھی۔ میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ ہلاک ہونے والے‘ مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے مطابق مسلمان نہیں اور یہ حضور سرور کائنات محمد رسول اللہؐ کی ختم نبوت کے منکر ہیں‘ لہٰذا ان کی نماز جنازہ پڑھنا یا پڑھانا جائز نہیں۔ رجمنٹ کے افسروں نے میرے انکار پر شک کیا۔ ہو سکتا ہے کہ اسی نے ان کو ہلاک کر دیا ہو۔ انکوائری شروع ہو گئی۔ پہلے نرمی سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ پھر سختی آگئی پھر بات آگے بڑھی۔ حراست میں لے کر ناقابل تصور تشدد کیا گیا۔ آخرکار مجھے گورکھا فوجی سپاہیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ ظلم کی آخری کڑی تک میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا‘ اس کو میں ہی جانتا ہوں یا رب کی ذات دیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ رب کی عطا

صفحہ 186

کردہ استقامت اور اس کی مدد سے میں برداشت کر رہا تھا۔ وہ ان نوجوانوں کے مجھ سے نام پوچھتے تھے‘ جنہوں نے ان کو فی النار کیا تھا۔ میں نے اپنی جان کو داؤ پر لگا دیا تھا اور حلف اٹھا لیا تھا کہ میرے جسم کے پرخچے بھی اگر اڑتے پھریں مگر ان بہادر نوجوانوں کے نام نہیں بتاؤں گا۔

یہاں مختصر کرتے ہوئے یہ لکھنے پر مجبور ہوں‘ آخر کار میرا کورٹ مارشل کیا گیا۔ میں پرامید تھا کہ مجھ کو شہادت کا اعزاز نصیب ہوگا لیکن میری بدقسمتی کہ ایسا نہ ہو سکا۔ مجھ کو دو سال قید کی سزا دے کر بذریعہ ہوائی جہاز انڈیا کی مشہور ظالمانہ جیل‘ جبل پور میں بھیج دیا گیا۔ اس جیل میں جو تشدد آمیز سلوک میرے ساتھ کیا وہ گدھوں اور خچروں سے بھی نہیں کیا گیا ہوگا۔ دو سال کی سزا کاٹ کر جب میں غالباً ۱۹۴۴ء کے آخر میں یا ۱۹۴۵ء کے اوائل میں لاہور دفتر مجلس احرار اسلام میں پہنچا تو حضرت شاہ جیؒ اور مولانا عبدالمنان مرحوم ہزاروی اور حاجی دین محمد صاحب بادامی باغ والے اور مولانا عبدالرحمن میانوی بیٹھے ہوئے تھے۔ میری بھت نما شکل کو دیکھ کر جو اس وقت بنی ہوئی تھی‘ کسی نے نہیں پہچانا۔ میں نے حضرت شاہ جیؒ کو خدا کا واسطہ دے کر باہر بلایا۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ فقیر ہے۔ میں نے کہا کہ مانگنے والا نہیں ہوں‘ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ شاہ جیؒ فوراً بھاگ کر باہر آئے۔ میں نے آہستہ سے کہا‘ میں شریف ہوں۔ شاہ جیؒ نے مجھ کو گلے لگا لیا اور روتے ہوئے احباب سے کہا یہ میرا بیٹا ہے۔ کہاں سے آیا ہے؟ یہ ایک راز ہے‘ آپ کو ابھی نہیں بتاؤں گا۔

حمام میں غسل کرایا گیا۔ حجامت بنوائی گئی۔ نئے کپڑے سلائے گئے۔ پھر میں دوستوں کی پہچان میں آیا۔ شاہ جیؒ کا حکم تھا کہ ابھی اس راز کو راز ہی رکھنا ہوگا۔ شاہ جی کی رحلت کے ۳۱ برس کے بعد ۱۹۹۲ء میں مرزا غلام نبی جانباز مرحوم نے اپنی کتاب ”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ میں اس راز کو کھول دیا۔ تفصیل سے اس کو قلم بند کر دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد ۱۹۴۹ء کے اوائل میں حضرت امیر شریعتؒ نے مجھ کو سندھ میں مرزائیت کی اسٹیٹ میں بھیج دیا۔ آخری اسٹیشن ٹانڈلی‘ قادیانیت کے گڑھ میں مرزائیت کا تعاقب کیا۔ معاشی حالت یہ تھی کہ سرخ مرچ پسی ہوئی میں نمک اور پانی ملا کر روٹی وہ بھی باسی تباسی‘ جو بھی میسر ہوتی‘ کے ساتھ پیٹ

صفحہ 187

میں ڈالتا رہا۔ یہ سلسلہ چھ ماہ تک رہا۔

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت، ضلع تھرپارکر سندھ ٹانلی میں، میں نے ہی متحرک کی تھی کئی دفعہ قادیانیوں نے حملے کئے اور مقدمات چلتے رہے۔

۱۹۷۰ء میں دنیا پور میں قیام کے دوران، دنیا پور کے قادیانیوں کی چودھراہٹ کے نیچے سنی مسلمان دبے ہوئے تھے۔ کاروبار میں بھی مسلمان ان کے سامنے پسے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ خانقاہ والی مسجد میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریر کے دوران کھڑے ہو کر مرزائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے قیام کے دوران ان کے نام نہاد وقار کو جب تک خاک میں نہیں ملا دیا، آرام نہیں کیا۔ ہمارے ایک باہمت معمر بزرگ کو انہوں نے مارا، ناک کی ہڈی کریک ہو گئی۔ رات کو عبادت میں مشغول ان کے مندر میں، بہادر نوجوانوں سے جو میں نے ان کی پٹائی کرائی ،ان کے ناپاک جسموں کی ہڈیوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ پھر ان کا ملتان کی سپیشل پولیس کا ڈی ایس پی ان کی قیادت میں مجھ کو گرفتار کرنے کے لئے آیا۔ ہزاروں نوجوانوں کا دنیا پور کے تھانے کا محاصرہ کرنا، جماعت والوں کا بھی گھبرا جانا لیکن اللہ کی مدد پر میرا ڈٹ جانا۔ یہ سب کچھ دنیا پور کے ختم نبوت کے مبلغ صوفی عنایت صاحب سے ایک خط ڈال کر آپ دریافت کرلیں۔

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کو کراچی اور سندھ میں متحرک کرنا اور تمام جماعتوں کا کنونشن آرام باغ کراچی میں منعقد کرنا، اللہ کے فضل و کرم سے یہ سعادت مجھ کو حاصل رہی۔ مفتی اعظم ولی حسن صاحب مرحوم بنوری ٹاؤن کراچی کی ایک تحریر آپ کو روانہ کر رہا ہوں اور ایک خط مولانا محمد شریف جالندھری مرحوم کا بھی روانہ ہے۔ بہرحال ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد مجھ کو کراچی سے ربوہ بھیجنے کا پس منظر مولانا محمد شریف جالندھری کے خط سے آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ ربوہ میں قادیانیوں کا میرے اوپر حملہ اور سرگودھا ڈویژن کے کمشنر کا مجھ کو بذریعہ منیر عالم خان لغاری مجسٹریٹ کا نوٹس اور اس نوٹس کو پاؤں کے نیچے روندنا اور مرزا کی بکواس کا جواب دینا، یہ ایک الگ داستان ہے۔ لغاری مجسٹریٹ کا پس منظر میں جانتا ہوں، وہ کیسی شخصیت کا حامل تھا۔

صفحہ 188

محترم عزیز القدر جناب محمد طاہر رزاق صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! امید ہے آپ بعافیت ہوں گے۔ اس گنہگار کی دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو سلامت رکھے۔ آمین!

میرے عزیز! جس سفر کا آپ آغاز کر چکے ہیں، اللہ اس میں آسانی فرمائے اور اسی پر ایمان و یقین کو جمائے ہوئے منزل مقصود تک پہنچ جائیں اور حضور رحمت دو عالمؐ کی ختم نبوت کی تاریخی ورق گردانی و جدوجہد آپ کی بخشش و کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔ آمین!

یہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کی بات ہے کہ عروسِ آزادی کو پنجۂ افرنگ سے نجات دلانے میں جس جماعت نے دن کا آرام اور رات کی نیند حرام کی تھی، اس جماعت کا نام احرار اسلام ہند تھا جو چوہدری افضل حق، سیدی عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، شیخ حسام الدینؒ اور ماسٹر تاج الدین انصاریؒ سے عبارت تھی اور جس کی بنیاد میں مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا پسینہ ٹپکتا رہا۔ اس کے رضاکاروں اور فداکاروں کے لئے سر چھپانے کے لئے بھی جگہ نہیں۔ اللہ رے نتیجۂ انقلاب؎

جو لوگ آشنائے وقارِ بشر نہ تھے
منزل انہیں ملی جو رفیقِ سفر نہ تھے

افسوس! مجلس احرار اسلام کی یاد ایک خوشگوار عہد کی خوشگوار یاد بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے مجاہدانہ کارنامے پرانے اخبارات کی فائلوں میں دفن ہو کر محو ہوگئے ہیں اور اس کے بانی سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ملتان کے ایک گمنام روڈ کے پہلو میں خاک پنہاں ہیں، آہ!

آپ کہتے ہیں ہمیں غیروں نے برباد کیا
بندہ پرور یہ کہیں اپنوں کا ہی کام نہ ہو
صفحہ 189

۱۹۳۵ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک میرا قیام ایسے جید علماء و اہل حق کی خدمت میں رہا‘ جن کا مقابلہ علم منطق و فلسفہ میں کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہی زمانہ میری سیاسی پیدائش کا ہے۔ غیر ملکی حکمران اپنی رعایا سے متصادم تھے‘ ہر سانس سے بغاوت کی بو آ رہی تھی۔ جیل خانوں سے پھانسی کے تختے تک جذبات صف آرا تھے۔ لوہے کی زنجیریں‘ بندوق کی سنگین سے ہم آہنگ تھیں۔ اس آگ کے جلاؤ میں جنم لینے والے انسان جس کے پہلو میں دل زندہ بھی ہو اور حساس بھی‘ غلامی کے مروجہ دور سے کیونکر انحراف نہیں کرے گا۔

برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کے اس دور میں‘ میں نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی خطابت کا آغاز کیا اور عمر کے ساتھ ساتھ یہ فن جوان ہوتا چلا گیا۔ اس یقین کے باوجود کہ میں اتنی اہمیت کا حامل خطیب نہ تھا اور نہ آج ہوں مگر صفحہ قرطاس پر بغاوت کے ایسے کانٹے بکھیرے کہ ہر اجنبی قدم زخمی ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہاں تک کہ میں نے اس بغاوت کو اپنا پیشہ قرار دے لیا اور اسی جرم کی پاداش میں ۳ سال جیل کی تاریک کوٹھریوں میں گزار دیئے۔

میرے نقطہ نظر سے خطابت‘ سپہ گری سے کہیں زیادہ سنگلاخ وادی ہے۔ سپاہی جنگ میں ایک دفعہ مرتا ہے‘ خطیب ہر میدان میں مرغ بسمل کی طرح تڑپتا ہے۔ الحمدللہ ان روایتی خطیبوں سے میں نے ہمیشہ انحراف کیا ہے۔ نہ تو ان جیسا طرز تکلم اپنا سکا اور نہ ہی ان کی زندگی میری رہنما بن سکی۔ میں نے اقتدار سے الجھنے کو زندگی کا زادراہ قرار نہیں دیا اور نہ ہی ہنگامی دور سے گزر کر مجھے سکون ملتا ہے لیکن اقتدار کی غلط روش خواہ دین حق کے خلاف ہو یا کسی مظلوم کی عزت و ناموس کے خلاف ہو‘ میرے سکون کو موت کا پیغام دیتی ہے کہ میں بے قرار ہو کر اٹھتا ہوں‘ پھر اس مضراب کی ضرب سے جو نغمے نکلتے ہیں‘ وہی میری خطابت ہے اور مجھے اس تخلیق پر ہمیشہ ناز رہا۔ میرے لئے وہ زبان‘ وہ دماغ پتھر کی سل‘ برف کے تودے یا گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا‘ جسے مصلحت وقت نے ایمان کی قوت سے محروم کر دیا ہو۔ میری خطابت تن آسانوں کے لئے نہیں بلکہ موت سے برسر پیکار جوانوں کے لئے دعوت حیات ہے‘ جو موت سے ہم آغوش ہو کر قضاء و قدر کے فیصلے بدل

صفحہ 190

دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے میری اس روش کو رسم زمانہ کھلی بغاوت سے تعبیر کرے۔

نکل جاتی ہے سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہ مصلحت سے ہے وہ رند بادہ خوار اچھا

جن دنوں میں اٹی تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں حضرت مولانا غلام رسول صاحبؒ ”حضرت مولانا ولی اللہ صاحب“ سے بڑی منطق کی کتابیں پڑھتا تھا، حضرت شاہ جیؒ کو تحصیل پھالیہ کے قصبہ مانگٹ میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ اس سفر میں حضرت امیر شریعتؒ کے ہمراہ لاہور سے براستہ لالہ موسیٰ جب ہم بذریعہ ٹرین منڈی بہاؤ الدین اسٹیشن پر اترے تو دعوت دینے والا پلیٹ فارم پر کھڑا تھا اور بڑا پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ حضرت شاہ جیؒ نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا’ شاہ جی کچھ مولویوں نے مشہور کر دیا ہے کہ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بہت بڑا وہابی ہے اگر وہ آگیا تو سب کو وہابی بنا جائے گا۔ مانگٹ کے حالات بہت خراب ہیں۔ شاہ جیؒ نے فرمایا چونکہ اب ہم لاہور سے مانگٹ کے لئے روانہ ہو چکے ہیں، ہم انشاء اللہ ہر قیمت پر وہاں جائیں گے۔ منڈی بہاؤ الدین کے لئے ہم نے سالم تانگہ لیا۔ جب ہم مانگٹ کے قریب پہنچے تو مخالفین لاٹھیوں سے مسلح ہو کر شاہ جی پر حملہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ شاہ جیؒ نے بھانپ لیا کہ یہ حملہ کریں گے۔ حضرت امیر شریعتؒ نے ایسی زوردار آواز میں ان کو السلام علیکم کہا کہ ان کے ہاتھوں سے لاٹھیاں گر گئیں۔ گھبراہٹ میں سر نیچے کئے ہوئے خاموش بیٹھے رہے۔ شاہ جیؒ نے تانگے والے سے کہا کہ تانگہ کو گوردوارہ کے دروازہ پر کھڑا کرنا۔ جب تانگہ سکھوں کے گوردوارہ پر کھڑا ہوا تو گوردوارے میں مشغول عبادت سکھ باہر آگئے۔ انہوں نے حضرت شاہ جیؒ کو خوش آمدید کہا۔ شاہ جی نے سکھوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا! کیا تم اپنے گوردوارہ میں مجھ کو اللہ کا قرآن پڑھنے کی اجازت دو گے؟ انہوں نے برجستہ کہا ’ ہاں شاہ جی! آؤ اور ہم کو قرآن سناؤ۔

شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ نے گوردوارہ میں داخل ہو کر جب قرآن پاک کی سورت طہ کی تلاوت اپنے مخصوص لہجہ اور حجازی ترنم میں شروع کی تو سکھ پھڑکنے اور تڑپنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ سکھ بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے مسلمان ہو گئے۔ ان کا گرنتھی گویا ان کا رہنما ہاتھ باندھ کر حضرت شاہ جیؒ کے سامنے کھڑا

صفحہ 191

ہوگیا۔ کہنے لگا کہ اب شاہ جی بس کرو‘ ایسا نہ ہو کہ یہ سارے سکھ مسلمان ہی ہو جائیں۔ محمد طاہر رزاق صاحب یہ حقیقت ہے کہ جب امیر شریعتؒ قرآن پڑھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ آسمانوں کی بلندیوں سے قرآن اتر رہا ہے۔

دہلی دروازے کے باہر ایک بہت بڑا جلسہ تھا۔ شاہ جیؒ ہی صدر اور مقرر تھے۔ دس بجے شب کے بعد تشریف لائے۔ بیٹھ کر تقریر شروع کر دی۔ جوں جوں رات بھیگتی گئی‘ آواز میں بلندی‘ کلام میں نرمی اور مخاطب میں روانی برابر بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ رات کے پچھلے پہر زمین و آسمان میں سناٹا تھا اور ایک شیر تھا جو گرج رہا تھا کچھار میں۔

میں نے مولانا محمد علی جوہر کو بھی سنا ہے‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی خطابت سے بھی فیض یاب ہوا ہوں لیکن سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے زورِ بیان اور نیرنگی گفتار کا ایک اپنا مقام تھا کہ آج تک جس کی مثال نایاب ہے اللہ تعالیٰ ان کی تربت کو عنبریں فرمائے اور اپنے دامانِ رحمت میں جگہ دے‘ آمین!

سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد۔ انتقال پرملال سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ۱۳۸۱ ہجری المقدس۔

—— O ——

ایک لطیفہ

خطیب اسلام سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نور اللہ مرقدہ نے ۱۹۴۶ء میں گجرات تحصیل کھاریاں گاؤں ہتھل میں خطاب کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بیان فرمایا کہ جنت میں اہل جنت جو مانگیں گے‘ وہ ملے گا۔ جو چاہیں گے‘ حاضر کر دیا جائے گا۔ تو ایک سیدھے سادے دیہاتی نے سوال کر دیا‘ شاہ جی! آپ فرماتے ہیں جنت میں میری ہر چاہت پوری کر دی جائے گی تو میں حقے کا عادی ہوں‘ میرا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا تو اگر میرے دل میں حقے کا کش لگانے کی خواہش پیدا ہوئی تو کیا مجھے حقہ دیا جائے گا؟

شاہ جی نے جواب دیا‘ کیوں نہیں بابا جی! آپ کو حقہ ضرور دیا جائے گا مگر

صفحہ 192

اس کے لئے آگ آپ کو جہنم سے جا کر لانی پڑے گی۔ اس جواب پر پورا مجمع کشت زعفران بن گیا۔

—— ◯ ——

شاہ جی کی باتیں

ہمارے خون سے رنگین کائنات رہی
ہماری بات سے اہل زبان کی بات رہی

شاہ جی فرمایا کرتے تھے۔ میری دوستی اور دشمنی ایک دفعہ ہوتی ہے۔ اگر ایک مرتبہ دوست سے گزند پہنچ جائے یا کوئی دوست بن کر مکاریوں اور فریب کاریوں کا ہدف بنائے تو عمر بھر اس پر کبھی اعتماد نہیں کیا۔ الحمد للہ کہ میں نے آج تک نہ کسی کے متعلق برا سوچا اور نہ برا کیا ہے، انگریز اور مرزائی کے سوا۔ جہاں تک بس چلا ان کے متعلق برا سوچا بھی اور کیا بھی، عمر بھر کبھی اعتماد نہیں کیا۔

راقم نے شاہ جی کو چھیڑنے کی غرض سے کہا کہ کمال ضد ہے۔ تو فرمایا، ارے جاہل ضد نہیں یہ ایمان ہے۔ حدیث میں کیا پڑھا ہے؟ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈنگ نہیں کھاتا۔ فرمایا کرتے تھے، شریف کبھی بزدل نہیں ہوتا، کمینہ کبھی بہادر نہیں ہوتا۔ فرمایا کرتے تھے، دنیا میں چار چیزیں قیمتی ہیں۔ مال، جان، آبرو، ایمان۔ جب جان پر کوئی مصیبت آئے تو مال قربان کرنا چاہئے۔ اور آبرو پر کوئی آفت آئے تو مال و جان دونوں کو قربان کرنا چاہئے۔ اور اگر ایمان پر کوئی مصیبت آئے تو مال، جان، آبرو سب کو قربان کرنے سے ایمان محفوظ رہتا ہے تو یہ سودا سستا ہے۔

—— ◯ ——

آگ کا دریا

۱۹۵۹ء فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے مارشل لاء کا دور تھا۔ تمام اختیارات ایوب خان کے ہاتھ میں، ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا تھا۔

صفحہ 193

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل بختیار رانا تھا۔ ملک کا سیکرٹریٹ اور دارالخلافہ کراچی میں تھا۔ عائلی قوانین اور خاندانی منصوبہ بندی کا بل پاس کیا جا رہا تھا۔ ایوب خان کا پرسنل سیکرٹری این اے فاروقی قادیانی تھا۔ اخبارات میں ایوب خان کا بیان بھی شائع کیا گیا کہ احمدی جب کہ کلمہ پڑھتے ہیں، ان کو کیوں نہ مسلمان کہا جائے۔ مسجد خضرا میں جو چیف کورٹ سے بالکل متصل ہے، ان دنوں اس مسجد میں ایک مولانا جو مولانا احتشام الحق صاحب مرحوم کے رشتے میں بھانجے تھے، وہ خطیب تھے۔ مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ مسجد خضرا میں دو تین جمعہ پڑھائیں، حکومت کے غیر اسلامی نظریات اور احکامات پر روشنی ڈالیں۔ مسجد خضرا میں تمام محکموں کے ذمہ دار اور افسران حتی کہ چیف سیکرٹری تک نماز جمعہ میں شریک ہوتے تھے۔ میں نے پہلی مرتبہ نماز جمعہ سے قبل خاندانی منصوبہ بندی اور عائلی قوانین کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا۔ خاندانی منصوبہ بندی کو قرآنی دلائل کے پیش نظر اور احادیث کی روشنی میں فرعون کا ضابطہ اور قانون ثابت کیا۔ میری اس تقریر سے حکومتی اداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ دوسرے جمعہ کے موقع پر ختم نبوت کے موضوع پر اور قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے پر احراری زبان میں خطاب کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر جو میں کہہ سکتا تھا، کہہ گیا۔

مرکزی جماعت اور حضرت امیر شریعتؒ سے اجازت لئے بغیر، سب کچھ کرتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو آگ کے سمندر میں پھینک دیا۔ نماز جمعہ کے بعد کنری، تھرپارکر ڈویژن میں ایک جلسہ میں پہنچ گیا۔ رات کو تقریر کے بعد ۲ بجے شب مجھ کو مارشل لاء ریگولیشن نمبر ۲۶، ۳۲، ۳۶ بغاوت کا جرم گویا ایکٹ لگا کر گرفتار کر لیا گیا اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل بختیار رانا کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ اس نے جب مجھ کو گالیاں دیں تو میں نے بھی احراری زبان میں اسی طرح واپس گالیاں دیں، مجھ کو تین برس کی سزا اور ۳۰ کوڑے کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا۔ گویا کراچی جیل میں ۳ برس کی سخت سزا کے دوران مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم اور نہ ہی کسی اور نے میری خبر لی۔ کچھ دنوں کے بعد مجھ کو دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا کر پاؤں اور ٹانگوں میں ڈنڈا بیڑی اور آڑے بیڑی لگا کر حیدر آباد سنٹرل جیل بھیج دیا۔ میرے گھر والوں نے

صفحہ 194

اور خاندان کے لوگوں نے میری مظلوم اہلیہ اور میری معصوم بیٹیوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا کہ ہماری نوکریاں اور پنشنیں ضبط ہو جائیں گی۔ آخر کار ایک سید صاحب نے اپنا ایک مکان خالی کر کے میری مظلوم بیوی اور مسافر بچوں کو پناہ دی۔ میری داستان اتنی طویل ہے کہ ۵۰۰ صفحات پر مشتمل ایک تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔ وہ بھی مختصراً۔ میری اس لرزہ خیز داستان پر امیر شریعتؒ تڑپتے رہے۔ آخر شاہ جیؒ نے سردار عبدالرب نشتر مرحوم سے رابطہ قائم کر کے کچھ میرے بارے میں کہا، جس سے کوڑوں کی سزا معاف ہو گئی۔ چھ ماہ کے بعد مجھ کو مارشل لاء حکومت میں اپیل کا حق دیا گیا تو ملک کے بہت بڑے اور نامور وکیل مسٹر اے کے بروہی مرحوم نے حضرت شاہ جیؒ سے رابطہ کرتے ہوئے میری وکالت کا ارادہ ظاہر کیا اور پھر وہ حیدر آباد سنٹرل جیل میں میرے واقعات و کوائف معلوم کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے۔ ان کی قانونی جدوجہد اور کوششوں سے مجھ کو بی کلاس دی گئی۔

ـــــ ◯ ـــــ

حاجی قائم الدین صاحب فیصل آباد والے کپڑے کے بڑے تاجر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دین و دنیا دونوں بڑی فیاضی سے عطا کی تھیں۔ شاہ جی کے مخلص دوستوں میں سے تھے۔ میرے سننے میں آیا ہے کہ فوت ہو گئے ہیں، پرانے احراریوں سے خاص طور پر ازحد حسن سلوک کرتے تھے۔ میرے جیسے خانہ بدوش کو دو جوڑے موسم گرما اور دو جوڑے موسم سرما میں بطور عطیہ دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ پاکستان میں ایک عرصہ تک رہا۔ ملک کی تقسیم سے پہلے ایسا ہی کپڑے کا کاروبار آگرہ انڈیا میں تھا۔ ان کی اپنی بہت بڑی مارکیٹ تھی۔ مارکیٹ کی چھت پر منعقدہ جلسہ میں حضرت شاہ جیؒ خطاب کر رہے تھے۔ حجازی لے میں قرآن مجید کی آیات پڑھیں تو ایک نوجوان تڑپ کر چھت کے کنارے کی دیوار سے چھت پر آن گرا۔ مرنے سے تو بچ گیا لیکن وجد اور جذب کی حالت میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ لوگوں نے اٹھایا تو اس کے پاس سے چھرا برآمد ہوا۔ اسے شاہ جی کے پاس لایا گیا۔ شاہ جی نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال کر کچھ پڑھا اور پھونک ماری۔ محبت سے پاس بٹھایا۔

صفحہ 195

جب اسے ہوش آیا تو اس نے انکشاف کیا کہ مجھ کو تو شاہ جیؒ کے قتل کے لئے بھیجا گیا تھا لیکن شاہ جیؒ کا خطبہ اور تلاوت قرآن مجید سن کر میں بے تاب اور بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر اس کے بعد کا مجھے کچھ ہوش نہیں۔

─── ◯ ───

حضرت مولانا نصیر الدین المعروف شیخ الحدیثؒ غور غشتی صوبہ سرحد علاقہ چھچھ میں مشہور قصبہ ہے۔ حضرت مولانا نصیر الدین غور غشتی رحمۃ اللہ علیہ مجاہد کبیر شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے۔ موصوف علم التفسیر، علم حدیث اصول حدیث گویا درس نظامی کے اساتذہ کرام میں ایک منفرد شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ اپنی اولاد سے زیادہ طلباء سے محبت کرنے والے اساتذہ کرام میں نے کم دیکھے ہیں۔

─── ◯ ───

غور غشتی قیام کے دوران

۱۹۳۱ء کی آخری ششماہی میں حضرت غور غشتیؒ کے حلقہ درس میں، میں داخل ہو گیا۔ تفسیر جلالین، تاریخ ارض القرآن، تفسیر بیضاوی، مشکوۃ شریف، آثار سنن — حضرت شیخ الحدیثؒ سے مندرجہ بالا کتب سے استفادہ کیا۔ طلباء کی خوراک مکئی کی روٹی کے ساتھ ساگ یا چنے کی دال۔ دن کو لسی پینے کے لئے ملتی تھی۔ مگر اس خوراک کی لذت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلامبالغہ آج بھی محسوس ہو رہی ہے۔

۱۹۳۹ء کے وسط میں مرکزی جامع مسجد راولپنڈی میں مجلس احرار کا ایک عظیم الشان جلسہ، فوج میں بھرتی کے خلاف منعقد ہوا۔ اسی عظیم اجتماع میں دیگر زعماء احرار کے علاوہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا بھی خطاب تھا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض میں نے انجام دیئے۔ یاد رہے یہ دور وہ تھا جب یورپ میں دوسری بڑی لڑائی کے بادل اس تیزی سے برس رہے تھے کہ توپوں کے دہانوں سے نکلتی ہوئی آگ تہذیب یورپ پر مسکرا رہی تھی۔ میں نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتے

صفحہ 196

ہوئے غیر ملکی قانون کے محافظ سرسکندر حیات پر کڑی تنقید کی۔ متحدہ ہندوستان میں ڈیفنس رولز آف انڈیا جیسے ہنگامی قوانین کا نفاذ ہوچکا تھا، محب وطن جیل خانوں میں مقفل کر دیئے گئے تھے۔

امیر شریعت" نے اس عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے رضاکاروں اور زعمائے احرار کو برطانوی سامراج کی فوج میں بھرتی کے خلاف ابھارنے کا حکم دیا۔ حضرت شاہ جی" نے اپنے خطاب میں زور دار الفاظ میں مسلم لیگ کے لیڈروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا! جب کہ میں برطانوی سامراج کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہوں اور ادھر مسلم لیگی جان و مال، عزت و آبرو، مذہب سب کچھ برطانیہ پر نثار کر دینے کو اپنا فرض سمجھ رہے ہیں۔ نیز آرمی بل کو دیکھئے جو پاس کیا گیا ہے، جس میں فوجی بھرتی میں رکاوٹ ڈالنے والے کو ایک سال کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے جس کی تائید میں لیگی رہنماؤں کے خطاب ڈان اور منشور کے روزانہ آرٹیکلوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

(۲۵ فروری ۱۹۴۱ء صفحہ ۸ کالم ۴ ڈان)

بہر حال سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے اور وزیر اعظم سرسکندر حیات خان پر تنقید کرنے کے جرم میں جہاں حضرت امیر شریعت اور دیگر احرار رہنماؤں کو مختلف مقامات سے گرفتار کر لیا گیا، وہاں مجھ کو غور غشی سے تعزیرات ہند ۲۰ الف کے تحت گرفتار کر کے کیمبل پور ڈسٹرکٹ جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ تین روز کے بعد جیل سے نکال کر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پہلی پیشی پر ہی فرد جرم لگا کر ڈیڑھ برس قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔ کیمبل پور جیل میں ان دنوں بڑے ہنگامے تھے۔ شاید اسی وجہ سے مجھے کیمبل پور جیل سے لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔

یہ میری ۱۹۳۵ء کے بعد دوسری مرتبہ جیل یاترا تھی۔ سنٹرل جیل لاہور۔ یہاں مجلس احرار اسلام کے رضاکار عبدالرشید اور کانگرس کے مسٹر روشن لال سے ملاقات ہوئی۔ چکیوں سے ملحق پھانسی کی کوٹھڑیوں میں لاہور سازش کیس کے بعض ملزمان کنول ناتھ مسٹر راج گورو، سکھ دیو، بھگت سنگھ لاہور سنٹرل جیل میں تھے۔ ان کا

صفحہ 197

مقدمہ بھی زیر سماعت تھا۔ ان نوجوانوں نے بم بنانے کے لئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی لیبارٹری پر ڈاکہ ڈالا۔ ایک تاریک رات میں یہ نوجوان پستولوں سے مسلح ہو کر ایک ہوسٹل متصل کالج کی دیوار پھاند کر احاطہ میں داخل ہوئے۔

مختصر یہ کہ چند دنوں میں یہ نوجوان گرفتار کر لئے گئے۔ مجھے بارک نمبر 1 کی منزل کی ساتویں کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل ریاض الدین نے مجھے ہدایت کر دی کہ میں اپنی بارک کے باہر دوسری بارکوں میں جانے کی کوشش نہ کروں۔ اگر ایسا کیا گیا تو سخت سزا دی جائے گی۔ لیکن ایک ماہ مسلسل قید تنہائی میں رہتے ہوئے اکتا گیا۔ بارک سے نیچے اترا، ٹہلتے ٹہلتے احاطہ نمبر 3 میں پہنچ گیا۔ روشن لال اور تاج الدین بغل گیر ہوئے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے ہدایات اور حکم نہ ماننے پر سزا دی جائے گی، یہ باتیں ان کے گوش گزار کر دیں۔ میں جب اپنی بارک میں واپس آیا تو میرے نگران قیدی نمبردار نے بڑی عاجزی سے کہا کہ آپ نے غلطی کی ہے، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ آپ کے ساتھ مجھے بھی سزا ملے گی اور معافی کاٹ لی جائے گی۔ مجھے اس پر بڑا رحم آیا۔ میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔ شام گنتی سے تھوڑی دیر پہلے مسٹر ریاض الدین آئے اور مجھ کو کہا کہ آپ کے متعلق یہ ہدایت ہے کہ آپ کو دوسرے قیدیوں سے قطعاً نہ ملنے دیا جائے اور کوٹھڑی میں بند رکھا جائے۔ پولیس اور سی آئی ڈی والے آپ کے سخت خلاف ہیں۔ آپ نے راولپنڈی، مجلس احرار اسلام کے جلسہ میں احرار رضاکاروں سے کہا کہ اگر کوئی سی۔ آئی۔ ڈی والا یا پولیس کا سپاہی زبردستی جلسہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اسے سختی سے کچل دیا جائے۔ بہرحال میرے اور جیل حکام کے درمیان اختلاف روز بروز بڑھتے گئے کہ ماہ رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا۔ مسلمان سیاسی قیدیوں نے کوٹھڑیوں میں بند ہونے سے انکار کر دیا۔ اسی اثناء میں مسلمان قیدیوں نے سکھوں کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا کہ وہ ہمارے اس مطالبہ میں ہمارا ساتھ دیں کہ ہم تراویح نماز پڑھے بغیر کوٹھڑیوں میں بند نہیں ہوں گے۔ چنانچہ ہم بارکوں کے سامنے خالی جگہ پر صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور آپ حیران ہوں گے کہ سکھوں نے بھی ہمارے عقب میں صفیں باندھ لیں۔ ادھر جیل کے حکام پہنچ گئے۔ ان

صفحہ 198

کے ہمراہ وارڈروں کے علاوہ قیدی نمبرداروں کی بھی اچھی خاصی نفری تھی۔ خان صاحب خیر الدین نے مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو بلا کر ہنگامہ آرائی اور حکام جیل کے حکم کی خلاف ورزی سے باز رہنے کی تلقین کی۔ لیکن جب ہم نے اپنے مطالبات دہرائے تو وہ دھمکیوں پر اتر آئے، ہم واپس آگئے۔ احاطہ کے سب قیدیوں نے مجھ کو امامت کے لئے آگے کھڑا کر دیا۔ ہم نے نماز کی نیت باندھ لی۔ جس طرح ہم نے رکوع و سجود و قیام کئے، سکھوں نے بھی اسی طرح ہماری تقلید کی۔ اسی دوران دارا خان ہیڈ وارڈن نے بلند آواز سے کہا کہ آپ لوگ فوراً اپنی کوٹھڑیوں میں چلے جائیں لیکن ہم نے گویا سنی ان سنی کا محاورہ استعمال کیا۔ نماز تراویح ادا کرنے میں مصروف رہے۔ جب ہم تراویح نماز ادا کر چکے اور دعا مانگ رہے تھے۔ سنٹرل جیل کے سینئر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خان صاحب خیر الدین کے اشارے پر وارڈروں اور قیدی نمبرداروں نے چمڑے کی بیلٹوں سے ہم پر ہلہ بول دیا اور وہ پٹائی پریڈ ہوئی کہ توبہ ہی بھلی۔ بہت سے قیدی زخمی ہو گئے۔ کئی بے ہوش، کئی ایک کے سر پھٹ گئے اور خون کے دھارے میرے جسم سے بھی بہہ نکلے۔ چونکہ جیل حکام نے رنگ لیڈر مجھے ہی سمجھ رکھا تھا۔ بہرحال قیدی بھاگ کر اپنی کوٹھڑیوں میں داخل ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد جواب میں قیدیوں نے پیشاب کے برتن لوہے کی بالٹیاں مارنا شروع کر دیں۔ خطرہ کا الارم بج گیا۔ پولیس کے مسلح دستے پہنچ گئے۔ صورت حال انتہائی نازک ہو گئی۔ گولی چلنے کا خطرہ تھا۔ واچ ٹاور کے احاطہ میں بہت سے سیاسی قیدی مقید تھے۔ جن میں ڈاکٹر محمد عالم، ڈاکٹر ستیہ پال گوپی چند اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو بھی تھے چنانچہ سپرنٹنڈنٹ جیل مسٹر برکی کے پہنچنے کے فوراً بعد ڈپٹی خیر الدین واچ ٹاور میں سیاسی لیڈر قیدیوں کے پاس گئے اور انہیں سارے واقعے سے آگاہ کیا۔

ان کی درخواست پر ڈاکٹر محمد عالم ستیہ پال آئے۔ یاد رہے یہ لیڈر کانگریس کی ہائی کمان میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے سب کو ٹھنڈا کیا۔ ہمارے مطالبات سنے اور سپرنٹنڈنٹ جیل مسٹر برکی اور خیر الدین خان سے بات چیت کی۔ جیل حکام نے ہمارا ایک مطالبہ تسلیم کر لیا کہ نماز تراویح بغیر اذان کے کوٹھڑیوں کے باہر میدان میں باجماعت پڑھ سکتے ہیں لیکن سحری کے وقت کوٹھڑیوں سے باہر نکل کر روٹی لینے اور

صفحہ 199

کھانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ہم نے اسے ہی فتح سمجھ لیا اور خاموش کوٹھڑیوں میں بند ہو گئے۔ جیل کے حکام ہم دس سیاسی قیدیوں سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے۔ ایک روز مجھے اور گوربچن سنگھ، لالہ چرن لال کو سنٹرل جیل لاہور سے فیروز پور جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمارے دوسرے ساتھیوں کو قصور جیل اور ایک کو کیمبل پور جیل بھیج دیا گیا۔ جب ہم سات کو حکام جیل تبدیل کر چکے اور کہیں ایجی ٹیشن کا خطرہ نہ رہا تو حکام جیل نے سکھوں اور مسلمانوں، دونوں سے آزادانہ عبادت کرنے کی تمام مراعات واپس لے لیں اور جیل میں پھر وہی نمرود کی خدائی قائم ہو گئی۔

—— 〇 ——

جیل کے اس سفر میں

اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی میں نئے نئے تجربے ہوتے ہیں اور یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ جیل خانہ دنیا میں جہاں پیغمبر اسلام کی سنت اور سنت یوسف علیہ السلام ہے، وہاں حق کی پاداش میں جیل جانا اہل حق کی روایت چلی آ رہی ہے۔ جیل کا ایک رخ وہ بھی ہے، جس میں باپ اور بیٹا دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، یہی وہ مقام ہے जहां فطرت بے نقاب ہوتی ہے۔ آدمی آدمی کو پہچانتا ہے۔ یہاں پہنچ کر محبت و اخوت کے تمام رشتے میں نے منقطع ہوتے بھی دیکھے ہیں۔

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے انسانیت کی جانچ دو مقام پر کی ہے ایک جیل میں اور ایک دسترخوان پر۔ ایک برس اور تین ماہ اسیر فرنگ رہ کر فیروز پور جیل سے رہا ہوا۔ مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام لاہور پہنچا۔ ایک رات قیام کے بعد اپنے گاؤں سہنہ پہنچا، بزرگوں اور عزیزوں سے ملا۔ گھر میں سوتیلی ماں تھی۔ دس دن کا یہ قیام میں نے اپنی حقیقی ہمشیرہ کے ہاں ہی کیا۔ دل و دماغ جب باہم متصادم ہوں تو آدمی فکر و غم کے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے اور جنون اپنا دامن شوق وا کئے ہر موڑ پر آدمی کا استقبال کرتا ہے۔

صفحہ 200

میرے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! ایسے موقع پر آوارہ ذہن آدمی کا مقصد حیات سے بھٹک جانا‘ کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن میں نے جس سفر کا آغاز ۱۹۳۵ء سے کر دیا تھا اور اپنے لئے جن صعوبتوں کو دعوت دے دی تھی‘ ان سے وابستگی کی تمام کڑیوں کو اپنے ہاتھوں سے گرہ دیتا رہا۔ بہرحال کئی دن کے قیام کے بعد اپنی بہن کی دعائیں لیتا ہوا بزرگوں اور عزیزوں سے الوداع ہو کر وقت کا مسافر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

انہی ایام میں حضرت امیر شریعت رحمتہ اللہ علیہ‘ لدھا رام کے مشہور مقدمے سے بری ہوئے۔ اس مقدمے کی ایشیا میں اتنی اہمیت بڑھ گئی تھی کہ جیسے ہی حضرت شاہ جیؒ بری ہوئے دوسرے دن برلن ریڈیو کے اناؤنسر نے خبروں میں کہا کہ برطانوی سلطنت کے سب سے بڑے باغی مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو صوبے کی سب سے بڑی عدالت نے بری کر دیا۔

—— 〇 ——

قادیانی مبلغ سے مناظرہ

غالباً نومبر کی کوئی تاریخ تھی اور ۱۹۳۵ء کا سن تھا۔ شیخ غلام رسول صاحب علی پور چٹھہ ضلع گوجرانوالہ‘ مجلس احرار اسلام کے دفتر لاہور میں آئے۔ قادیانی مشہور مبلغ کی طرف سے اجرائے نبوت اور وفات مسیح علیہ السلام کے موضوع پر کئے گئے چیلنج پر حضرت امیر شریعت سے احرار مبلغ اپنے ہمراہ لے جانے کے لئے کہا۔ یہ وہ دور تھا کہ چاروں طرف سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ مبلغین احرار میں سے دفتر احرار میں اس وقت کوئی میرے سوا موجود نہیں تھا۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زمین سے زندہ اٹھا لئے گئے ہیں‘ جب کہ قادیانیوں کا باطل عقیدہ اس کے برعکس ہے۔

دوسری بات اس دور میں احرار کے مبلغ کے لئے ضروری تھا کہ وہ مستند عالم دین ہو اور فن مناظرہ پر دسترس رکھتا ہو۔ حضرت شاہ جیؒ نے مجھے حکم دیا کہ تم جاؤ۔

صفحہ 201

میں نے مناظرے سے متعلقہ کتب لیں اور شیخ غلام رسول صاحب کے ہمراہ علی پور چٹھہ کے لئے روانہ ہوگیا۔ بہرحال رات کو عشاء کی نماز کے بعد محلہ شیخاں میں شیخ غلام رسول کی حویلی میں قاضی نذیر احمد مرزائی مبلغ سے میرا مناظرہ شروع ہوا۔ شرائط مناظرہ طے کرنے کے لئے میری طرف سے مولانا محمد عالم صاحب مرحوم‘ ملک لال خان۔ مولانا مرحوم جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب تھے۔ بریلوی مکتب فکر کے ایک معتدل عالم دین تھے۔ ضلع گجرات کے مشہور قصبہ جوکالیاں کے رہنے والے تھے۔ قادیانیوں کی طرف سے میجر چوہدری افتخار احمد تھے۔ تقریر و دلائل کے لئے بیس بیس منٹ مقرر کئے گئے تھے۔

میں نے اپنی تقریر میں حضور نبی آخرالزماںؐ کی ختم نبوت پر قرآن مقدس کی آیات اور احادیث متواترہ کی عبارت کی روشنی میں نیز دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کیا کہ ایسے دلائل براہین کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے‘ چاہے وہ دعویٰ ظلی ہونے کا ہو یا بروزی ہونے کا ہو‘ ایسے شخص کے کافر و مرتد ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو ایسے ملعون کے کفر میں ذرہ برابر شک کرے‘ وہ بھی کافر ہے‘ میں نے مرزا قادیانی کی کتابوں سے بھی دلائل دیئے۔ مرزا قادیانی کا خود یہ دعویٰ ہے کہ محمد رسول اللہؐ کی بعثت کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا اور کذاب ہے۔ میرے مد مقابل قادیانی مناظر نے میرے دعویٰ کو جھٹلاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایسی کوئی کتاب احمدیوں کی نہیں‘ جس میں ایسی عبارت موجود ہو۔ قادیانی مناظر کے بیس منٹ ختم ہونے کے بعد میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب سرمہ چشمہ آریہ‘ انوار الحق‘ نور الحق‘ ازالہ اوہام‘ آئینہ کمالات اسلام‘ نیز دیگر کتب سامنے کر دیں۔ قادیانیوں کا مناظر انگریزی کا بی۔ اے سکتے میں آگیا۔ میرے بیس منٹ ختم ہونے کے بعد بوکھلاہٹ میں جواب میں کہنے لگا کہ یہ کتابیں پہلے ایام کی ہیں‘ جس وقت مرزا صاحب پر کوئی الہام نازل نہیں ہوا تھا۔ اس بوگس دلیل پر قادیانیوں کی طرف سے ثالث میجر چوہدری افتخار احمد مرزائی کھڑے ہوگئے۔ کہنے لگے‘ بس! مناظرہ ختم کرو اور مرزائی مناظر قاضی نذیر احمد کی شکست کا میں اعلان کرتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد اپنے باطل دعوؤں کے پیش نظر جھوٹا اور کذاب

صفحہ 202

ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ آج کے بعد قادیانیوں کو چاہے وہ لاہوری ہوں، چاہے قادیانی ہوں، دونوں کو بے ایمان سمجھ چکا ہوں۔ میجر صاحب کے مسلمان ہونے کے بعد دو قادیانی نوجوان بھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے، یہ میرا دوسرا کامیاب مناظرہ تھا۔ فقط میرے اللہ کی مدد میرے شامل حال تھی۔ ۱۹۴۵ء نومبر کی کوئی تاریخ تھی۔

میرے کامیاب مناظرہ کے بعد جس خوشی و مسرت کا اظہار مسلمانوں نے کیا، وہ الگ ایک عجیب سماں محسوس ہو رہا تھا۔ علی پور چٹھہ شہر میں بڑا جلوس نکالا گیا۔ جس میں تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد۔ مجلس احرار، زندہ باد۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ میجر چوہدری افتخار احمد جنہوں نے قادیانیت سے توبہ کرتے ہوئے حق و صداقت کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا اس نے اور اس کی اہلیہ نے ۵۰۰ روپیہ عطیہ کے طور پر دیا، جس کی میں نے مرکزی دفتر احرار اسلام کی رسید کاٹ کر دے دی۔

۱۹۴۵ء کے ۵۰۰ آج کے پچاس ہزار کے قریب بن جاتے ہیں۔ میرے کامیاب مناظرے کے بعد جب شیخ غلام رسول صاحب مرحوم سے شاہ جی نے میرے دلائل مناظرہ سنے تو والہانہ میری پیشانی کو بوسہ دیا۔ اپنی گرہ سے دس روپیہ مجھ کو انعام دیا۔ میرے حق میں دعائیں مانگیں۔ جب میں اس مضمون کے آخری الفاظ لکھ رہا ہوں تو اس دور کا شاہ جی کا تصور اور ان کی محبت و شفقت سے محرومی پر میری آنکھوں سے آنسوؤں کی قطار بندھی ہوئی ہے اور میں اپنے آپ کو بے یارو مددگار اور یتیم سمجھ رہا ہوں۔ میرے پیارے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! اگر اسلام میں خودکشی جائز ہوتی تو واللہ میں کر گزرتا۔ کاش! کوئی میرے دل و جگر کو کاٹ کر دیکھتا کہ میرے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے عشق کے بعد سید بخاریؒ کی محبت و عشق کہاں تک پنہاں ہے۔

تا عمر زندگی سے گریزاں رہے ہیں ہم
یعنی قضاء سے دست و گریباں رہے ہیں ہم
گرچہ بجھے رہے ہیں تمناؤں کے چراغ
صفحہ 203
لیکن عدو کے گھر میں فروزاں رہے ہیں ہم
فکر معاش ہم کو پریشاں نہ کر سکی
لیکن غم جہاں میں پریشاں رہے ہیں ہم
دار و رسن سے پوچھئے زنداں سے پوچھئے
کس کس طرح سے وقت کا عنواں رہے ہیں ہم
لات و منات در پہ ہمارے جھکے رہے
پوچھو صنم کدوں سے کہ یزداں رہے ہیں ہم
کرتے رہے بلند ہم توحید کا علم
اور ختم المرسلیںؐ کے نگہباں رہے ہیں ہم
احرار اپنی قوت ایماں تو دیکھئے
اس کفر کے جہاں میں مسلماں رہے ہیں ہم

میرے عزیز محمد طاہر رزاق صاحب! میں اپنی زندگی کی شکستہ یادیں جو آپ کے حکم پر تحریر کرتے ہوئے بذریعہ ڈاک آپ کو بھیج رہا ہوں‘ آپ کو رقت قلبی نیز فکر و دانش سے میری ٹوٹی پھوٹی تحریر کو سمجھنا ہوگا۔ چونکہ میرا خط تحریری طور پر کشش نہیں رکھتا۔ میں تو سکول کی تیسری کلاس مکمل کرنے سے پہلے ہی آباؤ اجداد کے وطن سے دور اپنے پیدائشی گھر سے جلاوطن اور مہاجر بنا دیا گیا تھا۔ اس لئے مجھ کو حضرت شاہ جیؒ کہا کرتے تھے یہ میرا خانہ بدوش بیٹا ہے‘ اس کا خیال رکھنا۔