جعلی نبی کی اصلی کہانی · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Jaali Nabi ki Asal Kahani · Maulana Manzoor Ahmad Chinioti
PDF 1

جعلی نبی کی اصلی کہانی

ترجمہ

الایضاحات الجلیۃ فی الکشف عن حال القادیانیۃ

تالیف

فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل حفظہ اللہ تعالیٰ

امام و خطیب مسجد الحرام مکہ مکرمہ

مترجم

عبداللطیف محمد اسماعیل المدنی حفظہ اللہ تعالیٰ

مبعوث وزارت مذہبی امور سعودی عرب

مرتب

مولانا منظور احمد چنیوٹی

سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ

ناشر ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ، پاکستان

فون: 0466-332820 فیکس: 0466-331330 ای میل: machinioti@yahoo.com

ارشاد پرنٹنگ پریس اینڈ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر اندرون گلی جامعہ عربیہ چنیوٹ فون نمبر: 0466-334420

صفحہ 1

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب جعلی نبی کی اصلی کہانی اشاعت اول ربیع الاول ۱۴۲۴ھ تعداد ۱۱۰۰ ناشر ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ مطبع ارشاد پرنٹنگ پریس چنیوٹ ٹائیٹل حافظ انجم محمود فیصل آباد کمپوزنگ محمد سلیمان سالک چنیوٹ قیمت ........................

صفحہ 2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ. اما بعد!

زیر نظر رسالہ ’’جعلی نبی کی اصلی کہانی‘‘ دنیائے اسلام کے سب سے بڑے امام، رئیس الحرمین الشریفین الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل خطیب اکبر حرم مکی کے رسالہ ’’الایضاحات الجلیۃ فی الکشف عن حال القادیانیۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ امام صاحب نے سالانہ سیرت النبی کانفرنس اسلام آباد، پاکستان منعقدہ ۱۳۹۶ھ میں یہ وقیع خطبہ پڑھا جو کہ پہلے پاکستان میں عربی زبان میں شائع ہوا جبکہ بعد میں شیخ موصوف نے نظر ثانی فرما کر مکہ مکرمہ سے افادہ عام کیلئے شائع فرمایا۔

دسمبر ۲۰۰۱ء میں حضرت شیخ السبیل کے صاحبزادہ شیخ عمر السبیل الشہید امام حرم مکہ شریف نے یہ خطبہ ہانگ کانگ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء میں تقسیم کیا۔ راقم نے جب اسے پڑھا تو عوام الناس کیلئے بہت مفید پایا چنانچہ میں نے شیخ عمر السبیل سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہمارا ادارہ اس خطبہ کا اردو ترجمہ شائع کرے۔ شیخ مرحوم نے بڑی خوشی سے نہ صرف اجازت مرحمت فرمائی بلکہ اس کی طباعت کا خرچہ ادا کرنے کیلئے بھی کہا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ شیخ موصوف ہانگ کانگ سے واپسی کے بعد حج کے موقع پر طائف کے راستہ میں شدید ایکسیڈنٹ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

بندہ نے ہانگ کانگ سے واپسی پر اپنے ادارہ کے استاذ، شیخ الحدیث، فاضل مدینہ یونیورسٹی، مبعوث سعودیہ، حضرت مولانا عبداللطیف صاحب سے رسالہ

صفحہ 3

کا اردو ترجمہ کرنیکی ذمہ داری سونپی ۔ حضرت مولانا موصوف نے سعادت سمجھتے ہوئے اس خطبہ کا نہایت سلیس، عام فہم اور رواں ترجمہ فرمایا ۔ فجزاہم اللہ احسن الجزا چنانچہ یہ ترجمہ پہلی بار ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت ملتان“ میں قسط وار شائع ہوا۔ لیکن میری خواہش تھی کہ اسے ایک مستقل علیحدہ رسالہ کی شکل میں شائع کیا جائے اور اس کی وسیع پیمانے پر اردوخواں طبقہ میں تقسیم ہو۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ادارہ دعوت وارشاد چنیوٹ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس خطبہ کو ایک مستقل رسالہ کی صورت میں شائع کر دیا۔

حضرت امام صاحب نے اس مختصر رسالہ میں کوزہ میں دریا بند کر دیا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ثبوت ، اسکی اہمیت، ضرورت ، مدعیان نبوت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا عبرتناک انجام ذکر کرنے کے بعد مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی، انگریزی نبی کا جامع تعارف، اسکی غرض وغایت پھر اس کے وجوہ کفر نہایت رواں پیرایہ میں بیان فرمائے ہیں۔ اس کے بعد مرزا قادیانی اور اس کے تمام متبعین (قادیانی / احمدی اور لاہوری ) فرقوں کے کفر پر عالم اسلام کے متفقہ فیصلے ذکر فرما کر ان کے کفر کو واضح فرمایا ہے اور ایسے دشمن اسلام باغی فرقہ سے ہر قسم کے مقاطعہ کرنے اور امت مسلمہ کو اس خطرناک فتنہ کے شر سے خبردار اور محفوظ کرنے پر زور دیا ہے۔

امام صاحب نے انکی تمام عبارتیں قادیانی کتب کے حوالہ جات بقید صفحات ذکر فرمائے ہیں بعض عبارتوں کے جو حوالہ جات رہ گئے تھے وہ ہم نے حاشیہ میں لکھ دیے ہیں۔

قادیانی احباب سے ہمدردانہ گزارش ہے کہ وہ خالی الذہن ہو کر ، ضد اور عناد

صفحہ 4

کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دنیائے اسلام کے سب سے بڑے امام اور مفتی کے فیصلے کو تسلیم کر کے اپنی عاقبت کو سنوار لیں۔ ذرا اس پر بھی غور کریں کہ پوری ملت اسلامیہ ایک طرف اور قادیانی جماعت دوسری طرف ہے۔ پوری امت مسلمہ تو غلطی اور گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی اس سلسلہ میں حضور اکرم ﷺ کا بڑا واضح ارشاد موجود ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ”لا تجتمع امتی علی الضلالۃ“ کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ اگر قادیانی جماعت (جو امت مسلمہ کے بالمقابل بالکل قلیل ہے) اپنے آپ کو حق پر سمجھتی ہے تو پوری امت کو گمراہ اور حق کے خلاف ماننا پڑے گا جو مذکورہ حدیث نبوی ﷺ کے صریح خلاف ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین بن غلام احمد قادیانی نے بڑی صراحت کے ساتھ اپنی کتاب آئینہ صداقت کے ص ۳۵ پر تحریر کیا ہے:

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے ان کا نام بھی نہیں سنا وہ سب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(نعوذ باللہ)

اگر اس افتراء کو سچ تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ مرکزِ اسلام پر (العیاذ باللہ) قبضہ اور تسلط کفار اور دشمنان اسلام کا ہے کیونکہ علماء صلحاء مکہ و مدینہ نہ صرف مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لاتے بلکہ اسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج اور دنیائے اسلام کے لئے عظیم خطرہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ فتح مکہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ قیامت تک کفار کا غلبہ وہاں نہیں ہو سکتا۔ مکہ اور مدینہ میں قیامت تک غلبہ مسلمانوں کا ہی رہے گا حتی کہ قرب قیامت ، جب دجال اکبر ظاہر ہوگا تو وہ پوری دنیا کا چکر لگا لے گا لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دروازے اس پر بند ہوں گے وہاں داخل نہیں ہو سکے گا

صفحہ 5

جیسا کہ آج کل قادیانی جماعت کا حرمین شریفین میں قانوناً داخلہ ممنوع ہے اگر کوئی چوری چھپے ، دھوکہ سے داخل ہو جائے تو معلوم ہونے پر اسے فوراً وہاں سے نکال دیا جاتا ہے ۔ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کذاب پر ایمان لانے کیوجہ سے زیارت حرمین الشریفین اور فریضہ حج کی ادائیگی سے بھی محروم ہے ۔

اس جگہ پر ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ احادیث نبویہ کے مطابق مہدی علیہ السلام کے ظہور اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام مذاہب باطلہ ختم ہو جائیں گے ، کفر مٹ جائے گا ،حتیٰ کہ جزیہ بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ دنیا میں کوئی کافر باقی نہیں بچے گا پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو جائیگا ”حتیٰ تکون الملل ملة واحدة“ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب حضور ﷺ کے خدمت میں پیش کی گئی تو آپ ﷺ نے اس کا نام ”قطبی“ تجویز کیا میں نہایت واضح اور واشگاف الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد تمام دنیا پر اسلام غالب آجائے گا اور کفر کا نام ونشان مٹ جائے گا چنانچہ ملاحظہ ہو مرزا صاحب کی عبارت:

”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضر ت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد

صفحہ 6

ہے اسی طرح دوسرے مقام پر آیت: عسیٰ ربکم .........(الآیہ) کی تفسیر لکھتے ہوئے تحریر کرتا ہے یہ آیت اس مقام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق حق اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گئی ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین کیلئے شدت اور ...... اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح نہایت جلد ہیبت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دیگا۔

اب مرزا قادیانی جو بزعم خود مسیح اور مہدی ہونے کا مدعی ہے اسے گزرے ہوئے ایک صدی ہونے والی ہے یہود ہنود اور نصاریٰ مسلمان تو کیا ہوتے آج دنیا پر وہ کفر امریکہ اور اسرائیل کی صورت میں غالب اور مسلمان مغلوب ہیں شرک کفر کا دور دورہ ہے اسلام کے مدعی جانیں بچاتے پھرتے ہیں جس سے روز روشن سے زیادہ واضح ہو گیا کہ ابھی اصلی مسیح اور مہدی تشریف نہیں لائے بلکہ جو مدعی ہے وہ جعلی اور جھوٹا ہے اس کی آمد کے بعد اسلام تو کیا پھیلتا انکا کفر پھیل رہا ہے امام مہدی اور حضرت مسیح علیہ السلام نے غیر مسلموں کو مسلمان بنانا تھا شرک وکفر کا ختم کرنا تھا منشاء اللہ مرزا قادیانی ایسے مسیح اور مہدی تشریف لائے جو پہلے مسلمان تھے وہ بھی اس پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہو گئے تو اسکے آنے کے بعد اسلام کو نہیں کفر کو ترقی ہوئی ہے اس وقت پوری دنیا میں ڈیڑھ ارب کے قریب حضور ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے

صفحہ 7

مسلمان ہیں جو مرزا قادیانی پر ایمان نہ لانے کیوجہ سے سب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے (العیاذ باللہ ) اور دنیا میں اس وقت مرزا قادیانی کے ماننے والے صرف مسلمان ہیں جنکی تعداد صرف چند لاکھ ہوگی اس سے زیادہ نہیں ۔ قادیانی اپنی تعداد بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغہ اور جھوٹ بولتے ہیں ابھی ان کے چھوٹے سر براہ مرزا طاہر کے مرنے پر جو قادیانیوں نے پوری دنیا میں اپنی تعداد بیان کی ہے وہ 8 کروڑ ہے جو بالکل جھوٹ ہے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ریکارڈ سے یہ تعداد ثابت کریں لیکن میں ان کے قول کے مطابق تسلیم کر لیتا ہوں کہ پوری دنیا میں انکی تعداد آٹھ کروڑ ہے اب قادیانیوں کے نزدیک صرف وہ ہی مسلمان ہیں باقی ایک ایک ارب بیالیس کروڑ مسلمان تھے وہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد سب کے سب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے تو غور فرماویں کہ مرزا قادیانی کی تشریف آوری کے بعد دنیا میں کفار اور باطل مذاہب ختم ہو گئے اور مٹ گئے یا ان میں ڈیڑھ ارب کفار کا اضافہ ہو گیا ( نعوذ باللہ ) ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے !!!

قادیانی حضرات کو پھر غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی احادیث اور مرزا قادیانی کی قرآنی آیات کی رو سے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں جو اس نے مسیح علیہ السلام کے وقت اور غلبہ اسلام اور کفر و شرک کے مٹنے کی تصریح کی ہے اسے دوبارہ غور سے پڑھیں کیا اس کی روشنی میں مرزا قادیانی سچا مسیح اور مہدی ثابت ہوتا ہے یا جھوٹا ، اسلام مٹانے والا اور کفر پھیلانے والا ثابت ہوتا ہے؟؟ کیا واقعی مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے علاوہ اسکے نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور کیا واقعی مرکز اسلام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر کفار کا غلبہ اور تسلط ہے ۔ ان شاء

صفحہ 8

البتہ قادیانی تو کبھی بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر غالب نہیں آئیں گے کیونکہ ان کا وہاں داخلہ ممنوع ہے جب تک وہ مرزا قادیانی پر لعنت بھیجتے ہوئے اس سے برأت اور توبہ کا اعلان نہیں کرتے وہ لندن، انگلینڈ اور بلاد کفار میں در در کی ٹھوکریں اور دھکے کھاتے پھریں گے۔

آخر میں راقم پھر اپنے فاضل استاذ ، عالم باعمل حضرت مولانا عبداللطیف صاحب دامت برکاتہم کا شکر گزار ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام کے عظیم امام کی ختم نبوت کے موضوع پر انتہائی مفید کتاب کا بامحاورہ سلیس اردو میں ترجمہ کر کے اردو دان طبقہ پر احسان کیا ہے اور میری دیرینہ خواہش کو پورا فرمایا ہے۔ ان شاء اللہ یہ رسالہ جمیع مسلمانوں کیلئے اطمینان قلب کا ذریعہ بنے گا اور بھٹکے ہوئے قادیانیوں کیلئے ذریعہ ہدایت بنے گا بشرطیکہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیں اور غور و فکر سے کام لیں۔

اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو شیخ عمر السبیل امام حرم مکی شریف (مرحوم) کی روح کے ایصال ثواب کا ذریعہ بنائے۔ آمین ثم آمین۔

منظور احمد چنیوٹی

صفحہ 9

بسم الله الرحمن الرحیم

كَلِمَةُ مُتَرْجِمْ

الحمدلله وحده والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلی اله و صحبه اجمعین ومن تبعهم باحسان الی یوم الدین.

اما بعد: قرآن کریم اور احادیث متواترہ کی روشنی میں پوری امت اسلامیہ کا کسی ادنیٰ اختلاف کے بغیر قطعی عقیدہ چلا آیا ہے کہ رسول اکرم رحمت عالم ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور آپ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کریگا وہ آپ ﷺ کے ہی فرمان کے مطابق کذاب ودجال ہے۔

نبی آخرالزمان ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری حصہ میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کرتے ہوئے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا اسی اثناء میں آپ ﷺ پر مرض الوفات طاری ہوئی جس میں آپ ﷺ اس عالم رنگ وبو کو چھوڑ کر رفیق اعلیٰ سے جا ملے تھے اس بیماری کے دوران آپ ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ آپ ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں دو کنگن ہیں جس سے آپ ﷺ کو نفرت محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے ان پر پھونک ماری جس سے دونوں کنگن معدوم ہوگئے آپ ﷺ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اس سے مراد یہ دونوں دجال ہیں اور یہ میرے جانثار صحابہ کرام کے ہاتھوں انجام بد کو پہنچیں گے چنانچہ آپ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اسود عنسی ، حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں اور مسیلمہ کذاب حضرت خالد بن ولید کے لشکر کے سپاہی حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جہنم رسید

صفحہ 10

ہوئے ۔ جھوٹے مدعیان نبوت کا جو سلسلہ اس وقت کذاب یمامہ سے شروع ہوا تھا وہ آج کذاب قادیان مرزا غلام احمد قادیانی تک پہنچ گیا ہے اور نابغہ عصر ، نادرۂ روزگار، شیخ العرب والعجم ، امام وخطیب کعبہ مکرمہ فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ بن السبیل حفظہ اللہ ورعاہ جو سعودیہ کبار علماء بورڈ کے رکن رکین ، عالم اسلام کے مایہ ناز سکالر اور عظیم مفکر ہیں اور پوری انسانیت کی خیر خواہی ، صلاح وفلاح کیلئے آپ کے پہلو میں درد مند دل ہے۔ امت اسلامیہ کے ایمان وعقیدے کی حفاظت کیلئے آپ کے حساس، بے تاب دل میں جذبات موجزن ہیں آپ پورے عالم اسلام کو دیکھتے اور اسکی پسماندگیوں ، خرابیوں سے ملول ورنجیدہ ہوتے ہیں۔ آپ دشمنان اسلام کی چالوں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں اور انکے مضر اثرات کو محسوس کر کے بے چین ہو جاتے ہیں خصوصاً فتنہ قادیانیت کی تباہ کاریوں اور ہلاکت آفرینیوں کا آپ کو پورا احساس ہے اس لئے آپ گوناں گوں مصروفیات کے باوجود اس کے دجل وفریب کا پردہ چاک کرنے کیلئے کمر بستہ ہو گئے اور قادیانیت کے عقائد وعزائم کے سیاہ اور مکروہ چہرے کو اپنی اس کتاب کے ذریعہ بے نقاب کر دیا اور فصیح وبلیغ عربی زبان اور نہایت موثر پیرایہ میں امت کو اسکی حقیقت سے آگاہ فرمایا۔

”ایں کار از تو آید ومردان چنیں کنند“ اللہ رب العزت انکی پر خلوص جدوجہد ، کوشش و کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور پوری امت کی طرف سے ان کو بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرماوے۔ آمین۔

اس رب کریم کا شکر کس زبان سے ادا کروں جس نے اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اس ناکارہ کو معذور اور کم علم ہونے کے باوجود شیخ الکل فی الکل امام کعبہ مکرمہ

صفحہ 11

حفظہ اللہ ورعاہ کی اس کتاب کا اردو زبان میں ترجمہ کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی جس کا بڑا محرک یہ ہے کہ ختم نبوت کے محاذ پر ناموس رسالت کے ڈاکوؤں سے جو حضرات نبرد آزما ہوئے ان کی صف میں اس ناچیز کو بھی جگہ مل جائے اور آخرت میں رحمت عالم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔ آمین یارب العالمین۔

چونکہ قادیانی عقائد کی تشریح شیخ الکل امام وخطیب کعبہ حفظہ اللہ ورعاہ نے فرمائی ہے اس لئے ترجمہ کا نام ”انکشافات مکیہ عن حال القادیانیہ“ تجویز ہوا جو بعد میں طباعت سے پہلے ہی ”جعلی نبی کی اصلی کہانی“ سے مشہور ہوگیا۔ اللہ سبحانہ اسے ہدایت کا ذریعہ بنا کر اسکا نفع تام اور عام فرمائے۔ آمین۔

آخر میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سلسلہ میں تعاون فرمایا ہے۔ خصوصاً انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے جنرل سیکرٹری فاتح قادیانیت علامہ منظور احمد چنیوٹی حفظہ اللہ تعالیٰ اور استاذی فی رد القادیانیہ شیخ مشتاق احمد حفظہ اللہ تعالیٰ کا کہ ان حضرات نے طباعت اور مراجع کی تصحیح میں ہر ممکن مدد فرمائی ہے۔

و صلی اللہ تعالیٰ علی صفوۃ البریۃ نبینا محمد و علیٰ آلہ و صحبہ و من تبعہم باحسان الی یوم الدین

ناچیز

عبداللطیف محمد اسماعیل المدنی عفا اللہ عنہ وعافاہ

مبتعث من وزارۃ الشؤن الاسلامیہ السعودیہ

۱۴۲۳/۱۱/۲۵ھ

صفحہ 12

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقدمه

الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبى بعده وآله وصحبه وبعد!

حمد وصلوٰۃ کے بعد! یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں فرقہ ضالہ (قادیانیہ) کی حقیقت، اس فتنہ سے متنبہ اور چوکس رہنے کا بیان ہے۔ اس کے کفر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ میں نے یہ مقالہ پاکستان میں سیرۃ النبی ﷺ کے سلسلہ میں ربیع الاول ۱۳۹۶ھ کے عظیم الشان اجلاس کیلئے لکھا تھا اور وہ اس وقت پاکستان میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا اب پھر اس کو بعض عمدہ اور مفید اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

اللہ بزرگ و برتر سے یہی درخواست ہے کہ وہ اس کے ذریعہ نفع بخشے اور اپنی کریم ذات کیلئے اس کو خالص اور بہشت بریں میں اسے اپنے خاص قرب کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله و صحبه اجمعين

محمد بن عبداللہ بن سبیل مکہ مکرمہ ۲۰/ ۱/ ۱۴۲۲ھ

صفحہ 13

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانیت کا ظہور و ارتقاء

انیسویں صدی عیسوی میں یورپ (اپنے نو آبادیاتی عزائم کے ساتھ) اسلامی ممالک پر حملہ آور ہوا اور اس نے اپنا اقتدار و تسلط مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ کے اکثر ممالک پر پھیلا دیا اور ان سامراجی طاقتوں میں برطانیہ پیش پیش تھا جو اس سیاسی اور مادی حملہ کا نگران اور ذمہ دار تھا۔ ہندوستان اور مصر وغیرہ ممالک اس کے زیر اقتدار آ گئے اور برصغیر پاک و ہند پر اس نے ایسا کنٹرول کر لیا کہ وہ اس کے ہاتھوں گروی اور محبوس ہو کر رہ گیا۔ یہ بات کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں کہ سامراجیوں کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے روکیں اور اس سے دور رکھیں کیونکہ ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت چھپی ہوئی ہے۔

مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے اور ان کے اتحاد و یگانگت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے برطانوی سامراجیوں کی ایک بڑی کوشش یہ ہے کہ انہوں نے نبو ت کے ایک دعویدار شخص کو کھڑا کر دیا جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہے جو اگر یہ دعویٰ کرتا کہ وہ اللہ کی بجائے برطانیہ کا بنایا ہوا نبی اور رسول ہے اور اس کا بہت بڑا داعی ہے تو بے شک وہ اس بات میں سچا ہوتا کیونکہ وہ اس کی برتری کو مضبوط کرتا ہے اور اس کو سب پر فضیلت دیتا اور اس کیلئے دعائیں کرتا ہے اور اس کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے اور اس کی فوقیت اور اس کے عدل و انصاف کے گن گاتا ہے یہ سب کچھ ان شاء اللہ تفصیل سے عنقریب آپ پر واضح ہو جائے گا۔

صفحہ 14

مرزا قادیانی کی برطانیہ کے ساتھ دوستی اور محبت کا یہ واضح ثبوت ہے کہ وہ اس کے مقرر کردہ پروگرام کو اپناتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ بغض وعداوت رکھتا اور ان کو کافر قرار دیتا ہے اس لئے وہ جہاد جیسے اہم فریضہ کو باطل ممنوع اور منسوخ کہتا ہے (۱) مرزا کے اس دعویٰ کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان دین اسلام کی نصرت و سربلندی کیلئے دشمنان خدا کے ساتھ جہاد کرتے ہیں تو برطانیہ وغیرہ تمام طاغوتی طاقتوں پر مسلمانوں کا خوف طاری ہو جاتا ہے ان پر ہیبت چھا جاتی ہے اور وہ طاقتیں لرزہ براندام ہوجاتی ہیں پس اگر آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کے مطابق جہاد ختم ہوجائے تو کفار مسلمانوں کے اقتدار، ملکی وسعت اور غلبہ سے مامون اور بے خوف ہوجائیں گے۔

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت:

دیگر بہت سے نفس پرست اور دنیا پرست لوگوں کی طرح مرزا قادیانی نے بھی دعویٰ نبوت کیا۔ وہ ۱۸۴۰ء میں ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے علاقہ گورداسپور کے ایک گاؤں ”قادیان“ میں پیدا ہوا نہایت ہی معمولی تعلیم پائی تھی اس نے انگریز کے اشارہ پر انیسویں صدی کے اواخر (۱۸۹۱ء) میں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور اپنی جھوٹی نبوت کے نہ ماننے والوں کو اس نے کافر قرار دیا اور اس نے ایک جماعت کی بنیاد رکھی جو قادیانی اور احمدی کے نام سے مشہور ہے اس نے اپنی جھوٹی نبوت کی نشر واشاعت کیلئے اپنے گاؤں قادیان کو مرکز بنایا اسی کام میں وہ کئی

(۱) ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۴۹ پر مرزا کا یہ مشہور اعلان درج ہے کہ

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دین کیلئے حرام ہے اب جنگ و قتال (ازمترجم)
صفحہ 15

برس مصروف رہا یہاں تک کہ مئی ۱۹۰۸ء میں بمرض ہیضہ انتقال کر گیا۔

قادیانیوں کے عقائد: ذیل میں انکے عقائد کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے:

ﷺ کا خاتم النبیین ہونا قرآن کریم اور سنت متواترہ سے قطعی طور پر ثابت ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین“

ترجمہ : ”حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے (آخری نبی) ہیں“۔ اور علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قرآن کریم کے ایک حرف کا انکار کرے وہ کافر ہے۔

اسلام کے نزدیک ہمیشہ سے مسلم رہا ہے قادیانی اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا باپ تھا۔ نعوذ باللہ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تکذیب لازم آتی ہے: ”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون“۔ ترجمہ: بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت عجیبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کی حالت عجیبہ کے مشابہ ہے کہ ان کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ ہو جا، پس وہ ہو گئے۔ لہٰذا قرآن کریم کی تکذیب اور حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی جس سے اللہ رب العزت نے برأت ظاہر فرما دی ہے اور اس بہتان میں دنیا کی سب سے بڑی مغضوب اور مردود قوم یہود کے ساتھ اشتراک اور

۱) ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۰ روحانی خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸۔ ۲) چشمہ مسیحی ص ۲۶ روحانی خزائن ص ۳۵۵ ، ۳۵۶ ج ۲۰۔

صفحہ 16

اتفاق کی وجہ سے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

پر اٹھا لیا تھا وہ قیامت کے قریب خاتم الانبیاء رسول اکرم ﷺ کے ایک نہایت وفادار جنرل کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لائیں گے مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر نہیں اٹھایا (۴)۔ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تکذیب کر رہے ہیں قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً“ حالانکہ انہوں نے نہ ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہو گیا اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔

متعدد مقامات میں حضرت صالح، موسیٰ، عیسیٰ اور رسول اکرم ﷺ سب کے قصص میں ان کا ذکر موجود ہے۔

مرتبہ اس کا حکم موجود ہے اور علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ جہاد قیامت تک باقی

۳) ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ۳۹ روحانی خزائن ص ۶۶۰ ج ۲۲۔ ۴) چنانچہ اس نے کہا ہے: ”ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم“ ازالہ کلاں ج ۲ ص ۳۱۱ (از مترجم)

صفحہ 17

رہے گا اور وہ امت مسلمہ پر واجب علی الکفایہ ہے اور بعض مقامات وحالات میں فرض عین ہے۔

بات میں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

ساتھ وفاداری جو باطل عقائد کی ترویج واشاعت کیلئے ان پر مال ودولت کی بارش برساتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز کے ہر مفتوحہ علاقہ میں حتیٰ کہ اسرائیل میں اپنے مرکز قائم کر رکھے ہیں جہاں سے ان کو ہر طرح کی تائید اور امداد ملتی رہتی ہے یہاں تک کہ انہوں نے وہاں سے ایک ”بشریٰ“ نامی ماہانہ رسالے کا اجراء کر دیا ہے یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ جو دوران بحث آرہا ہے وہ مسلمانوں کے خلاف ان کے خبیث عزائم کی نشاندہی کرتا ہے اور ان کے ان باطل اصول ومبادی پر دلالت کرتا ہے جو ملت اسلامیہ کے صریح مخالف اور اصول وقواعد دین کے بالکل متناقض ہیں۔

دور حاضر کا متنبی:

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ظہور کے آغاز میں مہدی (۱) ہونے کا دعویٰ کرتا تھا پھر وہ اپنے دعووں میں آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا اور اپنے گمان کے مطابق دعویٰ کیا کہ وہ نبی (۲) ہے پھر دعویٰ کیا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (۳) ہے جو آخر زمانے میں آسمان سے نزول فرمائیں گے پھر اس نے دعویٰ کیا کہ وہ (۴) اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے۔ (اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے بہت بلند وبالا ہے)

(۱) تذکرہ ص ۲۵۷۔ (۲) تذکرہ ص ۳۶۷ طبع ربوہ۔ (۳) اتمام الحجج ص ۳ ، روحانی خزائن ج ۸ ص ۲۷۵۔

(۴) البشریٰ ج ۱ ص ۴۹

صفحہ 18

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ کتاب النبوات ص ۲۲۸ پر مکذبین کے احوال و علامات اور ان کے کذب و بہتان پر دلالت کرنے والے جو نشانات اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : ”بے شک قرآن کریم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ دلائل و براہین ، حجج و بینات کے ذریعہ کذاب کی تائید نہیں فرماتے بلکہ ضرور اس کا جھوٹ اور فریب ظاہر کر کے انتقام کے طور پر اس کو ذلیل ورسوا کرتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين ، فما منكم من احد عنه حاجزين “ (ترجمہ : اگر یہ (پیغمبر ) ہمارے ذمہ کچھ (جھوٹی) باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑتے پھر ہم ان کی رگ دل کاٹ ڈالتے پھر تم میں کوئی ان کو اس سزا سے بچانے والا بھی نہ ہوتا۔ ) اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فلا اقسم بما تبصرون و ما لا تبصرون ،انه لقول رسول كريم، وما هو بقول شاعر قليلا ما تؤمنون ،ولا بقول كاهن قليلا ما تذكرون، تنزيل من رب العالمين “ ترجمہ : پھر میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے کہ یہ قرآن ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے تم بہت کم سمجھتے ہو (بلکہ) رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا (کلام) ہے۔

پھر شیخ الاسلامؒ ص ۲۳۰ پر فرماتے ہیں ”اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ صادق اور کاذب کے درمیان اس طرح مساوات نہیں فرماتے کہ ایسے امور بروئے کار لائیں جن سے صادق کی صداقت نمایاں ہو جائے اور اس کی تائید و حمایت

صفحہ 19

کر کے عزت بخشیں اس کا انجام بہتر قرار دیں اور دنیا جہان میں اس کا ذکر خیر باقی رکھیں اور کاذب کے کذب و فریب کا پردہ فوراً چاک کر کے اسکو ذلیل و رسوا کر دیں اسکا انجام سیاہ و تباہ کر دیں اور دنیا میں ان کیلئے لعنت مذمت رہنے دیں جیسا کہ واقع ہو چکا ۔ انتہی ۔ شیخ الاسلامؒ شاید اُس سے اس امر کی طرف اشارہ فرمانا چاہتے ہیں جو مدعیانِ نبوت کیلئے رونما ہوا کہ شروع میں ان کو اقتدار اور غلبہ حاصل ہوا اور وہ جولانیاں دکھلانے لگے پھر جلد ہی ان کا معاملہ درہم برہم ہوگیا اور وہ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اور دنیا جہان والوں کیلئے عبرت کا نشان بن گئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں دہکتی آگ ان کے حصہ میں آئی جیسے اسود عنسی، مختار بن ابی عبید ثقفی، اور مسیلمہ کذاب وغیرہ۔

اسود عنسی : اس کا نام عھلہ بن کعب بن غوث ہے اور یہ یمن کے شہر کہف حنان کا رہنے والا تھا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور سات سو جنگجوؤں کا لشکر لیکر نکلا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے عمال کو لکھا : ”اے ہم پر مسلط ہونے والو! جن زمینوں پر تم قابض ہو چکے ہو وہ ہمیں واپس کر دو اور جو مال وغیرہ تم نے جمع کیا ہے وہ ہمیں فراہم کر دو ہم اس کے زیادہ لائق ہیں اور تم اپنے حال پر رہو۔“ ذرا مدعی نبوت کی اس تحریر کو دیکھو اس کے اور اللہ رب العزت کے سچے رسول حضرت محمد ﷺ کے مکتوب گرامی کے درمیان موازنہ کرو۔ مکتوب گرامی ملاحظہ ہو : سلامٌ علیٰ منِ اتّبع الھدیٰ، قل یٰا اھل الکتٰب تعالوْا الیٰ کلمۃٍ سوآءٍ بیننا و بینکم ان لا نعبد الاّ اللّٰہ و لا نشرک بہ شیئاً ولا یتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّٰہ، فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون۔ (الآیۃ)

صفحہ 20

ترجمہ : سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ آپ فرما دیجئے، اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے ہم کسی اور کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو رب نہ قرار دے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ، پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں تو تم لوگ کہہ دو کہ تم اس کے گواہ رہو کہ ہم تو ماننے والے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اسکے دین ، اس یکتا و یگانہ اللہ کی عبادت کی دعوت پر مشتمل ہے۔ رہا اسود عنسی تو وہ صرف زمین اور مال کا مطالبہ کرتا ہے پھر اس کے باطل کو کچھ قوت اور غلبہ حاصل ہوا اور نجران اور صنعاء پر تین ماہ قابض رہا لیکن جیسا کہ مشہور ہے ”للباطل جولة“ یعنی باطل کی ایک جولانی ہوتی ہے۔ پھر وہ انحطاط پذیر ہو جاتا ہے۔ اسود عنسی بری طرح ہلاک ہوا وہ اپنے محل میں اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور پہرے دار اس کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے تھے لیکن وہ دفاع نہ کر سکے۔ جب فیروز نامی شخص اسے قتل کرنے لگا تو اسود اس طرح خر خر کرنے لگا جیسے کوئی بیل ڈکارتا ہو ۔ محل کے پہریدار یہ آواز سن کر دوڑتے ہوئے آئے اور اسود کی بیوی سے پوچھنے لگے کہ ہمارے آقا کا کیا حال ہے؟ تو اس نے انہیں خاموش کہہ کر روک دیا اور کہنے لگی تمہارے نبی پر وحی کا نزول ہو رہا ہے حالانکہ وہ دم توڑ رہا تھا۔ رسول اکرم ﷺ کو اس کے قتل ہو جانے کا واقعہ اسی وقت بذریعہ وحی معلوم ہو گیا جبکہ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے اور اسود عنسی یمن کے شہر صنعاء میں قتل ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے صبح کے وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ آج رات اسود عنسی مارا گیا اس کو ایک با برکت خاندان کے ایک مسلمان شخص

صفحہ 21

نے قتل کیا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اسکا نام کیا ہے؟ فرمایا: ”فیروز، فیروز “۔

مسیلمہ کذاب :

اسی طرح مسیلمہ کذاب نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے ساتھ وہ رسول اکرم ﷺ کی نبوت کا بھی اقرار کرتا تھا لیکن وہ کہتا تھا کہ میں آپ ﷺ کی نبوت میں شریک ہوں اور مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور اس کی مزعومہ وحی میں سے ایک یہ ہے : ” لقد انعم الله على الحبلى اخرج منها نسمة تسعى من بين صفاق و حشا “ ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ حاملہ عورتوں پر رحم کرتا ہے ان سے چلتے پھرتے جاندار نکالتا ہے جو نکلتے وقت پردوں اور جھلیوں کے درمیان لپٹے رہتے ہیں۔ پھر اس نے اپنی قوم کیلئے زنا کو جائز قرار دیا اور شراب حلال کر دی اور ان سے نماز معاف کر دی اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے نام ایک خط لکھا جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا:’ من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله : فانى اُشرکت فی الامر معک و ان لنا نصف الامر ولقریش نصف الامر، ولیس قریش قوماً یعدلون. ترجمہ: اللہ کے رسول مسیلمہ کی طرف سے اللہ کے رسول محمد (ﷺ) کے نام : واضح ہو کہ میں امر نبوت میں آپ کا شریک کار ہوں عرب کی سرزمین نصف ہماری ہے اور نصف قریش کی لیکن قوم قریش زیادتی اور نا انصافی کر رہی ہے ۔ اس کا قاصد خط لیکر رسول اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے جواب لکھا:

بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب :

صفحہ 22

السلام على من اتبع الهدى : اما بعد فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده والعاقبة للمتقين “ ترجمہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم منجانب محمد رسول اللہ (ﷺ) بنام مسیلمہ کذاب: سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد معلوم ہو کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کو وارث و مالک بنا دیتا ہے اور عاقبت کی کامیابی پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

مسیلمہ کا گمان تھا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ اپنی وحی سورہ کوثر کے مقابلہ میں پیش کرتا تھا چنانچہ اس نے اپنی وحی ذکر کی : يا وبر يا وبر، انما انت اذنان و صدر، و سائرك حقر نقر “ ترجمہ : اے وبر اے وبر (وبر ایک جانور کا نام ہے) بس تیرے دو کان اور ایک سینہ ہے اور تو پورا حقیر اور رذیل ہے۔“ آپ دونوں تحریروں کے درمیان فرق ملاحظہ کریں دونوں کے درمیان اتنا بُعد ہے جتنا ساتویں آسمان اور سب سے نچلی زمین کے درمیان ہے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک

مختار بن ابی عبید ثقفی : اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کے بعد مختار بن ابی عبید ثقفی نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کے باپ ابو عبید ان حضرات میں سے ہیں جو آپ ﷺ کی زندگی میں مشرف بہ اسلام ہوئے لیکن انہیں شرف صحابیت نصیب نہ ہوا اور وہ شہید ہو گئے یہ مختار بڑا جھوٹا شخص تھا کہتا تھا میرے پاس جبرائیل کے ہاتھ وحی آتی ہے امام احمدؒ نے رفاعۃ بن شدادؒ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں مختار کے پاس آیا تو اس نے میری طرف تکیہ کر دیا اور کہا ”اگر میرا بھائی جبرائیل یہاں سے اٹھ کر نہ گئے ہوتے تو میں یہ بھی آپ کو پیش کر دیتا۔ حضرت رفاعہ نے فرمایا میرا ارادہ ہوا

صفحہ 23

کہ اس کی گردن اڑا دوں لیکن مجھے رسول کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد آ گیا : ” ایما مومن أمن مومناً على دمه فقتله فانا من القاتل برئ “ ترجمہ : جو مومن کسی مومن سے اپنے خون پر بے خوف ہو پھر وہ اس کو قتل کر ڈالے تو میں قاتل سے بے زار ہوں “۔

حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے عرض کی گئی کہ مختار کہتا ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے انہوں نے فرمایا کہ سچ کہتا ہے ۔ ایسی وحی کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیت میں فرمائی ہے : ” وان الشياطين ليوحون الى اولياء هم “ ترجمہ : شیاطین اپنے مددگاروں پر وحی نازل کیا کرتے ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ نے مختار بن ابی عبید کے خروج ، اس کے جھوٹ اور حجاج کے متعلق اطلاع فرمائی ہے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” قبیلہ بنو ثقیف میں ایک کذاب اور ایک مُبیر یعنی ہلاک کرنیوالا ہوگا“ علماء کرام نے کذاب کی تفسیر مختار بن ابی عبید سے اور مُبیر کی حجاج سے فرمائی ہے اور وہ دونوں قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت اکثر زمانوں میں ہوتے رہے ہیں خصوصاً خلافت بنی عباس کے دور میں ان کے متعلق خبروں کی کثرت ہوئی ہے مگر حکومت کے استحکام کی وجہ سے عوام الناس کے سامنے ان کا شر و فساد ظاہر ہونے سے پہلے ہی ان کا خاتمہ کر دیا جاتا تھا۔ منجملہ اس کے روایت ہے کہ ایک شخص نے خالد بن عبداللہ قسری کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور قرآن کریم کے مقابل اپنا الہامی کلام پیش کیا۔ اسے خالد قسری کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ تو کیا کہتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” انا اعطیناک الکوثر ، فصل لربک وانحر ، ان شانئک

صفحہ 24

هو الابتر“ میں نے اس کے مقابل الہامی کلام پیش کیا ہے جو بہت عمدہ ہے اور وہ یہ ہے ”انا اعطیناک الجماھر، فصل لربک و جاھر، ولا تُطع کلِ ساحر و کافر“

خالد نے برہم ہو کر حکم دیا کہ اسے سولی پر چڑھا دیا جائے چنانچہ اسے لکڑی کی سولی پر لٹکا دیا گیا اتفاق سے خلف بن خلیفہ شاعر کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے اسے لٹکتے ہوئے دیکھ کر کہا:

”انا اعطیناک العمود، فصل لربک علی عود، وانا ضامن عنک الا تعود“ ۔

ایک شخص کی ابن عیاش سے ملاقات ہوئی وہ شراب کا دلدادہ تھا تو کہنے لگا آپ کو معلوم ہے ایک نبی مبعوث ہوا ہے جو شراب کو حلال قرار دیتا ہے اس نے کہا اس کی بات قبول نہ ہوگی جب تک وہ مادر زاد نابینا اور کوڑھی کو تندرست نہ کر دے اسے کوفہ کے گورنر کے سامنے لایا گیا اسے توبہ کرنے کو کہا، اس نے توبہ اور رجوع کرنے سے انکار کر دیا اس کی والدہ روتی ہوئی آئی اور گورنر کے سامنے اسے نرمی سے سمجھانے لگی تو اس نے کہا ایک طرف ہو جا اللہ تعالیٰ تیرے دل کو قوت بخشے اور صبر عطا کرے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل کو قوت عطا فرمائی اور اُس کا والد اس کے پاس آیا اور اس نے دعویٰ نبوت سے رجوع کرنے کو کہا تو اس نے جواب دیا: اے آزر! ایک طرف ہو جا۔ آخر گورنر کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔

اور انیسویں صدی کے اواخر میں اس مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور ہوا، اس نے نبی ہونے کا اور پھر عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا جو آخر زمانہ میں آسمان سے نزول فرمائیں گے وغیرہ۔ اس لئے وہ اس کا حقدار ہے کہ اسے کذاب کا لقب دیا جائے

صفحہ 25

جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے زمانے کے مدعی نبوت مسیلمہ کو کذاب کا لقب دیا تھا اسے بھی غلام احمد کذاب کے لقب سے ذکر کرنا چاہیے اور یہ لوگ جنہوں نے اس کی دعوت قبول کر لی اور کسی برہان اور واضح دلیل کے بغیر اس کی تصدیق کر بیٹھے نہ جانے ان کی عقلوں کو کیا ہو گیا کہ محض اس کی آواز پر لبیک کہہ دیا اور بلا سوچے سمجھے بات کی تحقیق اور دعووں کی جانچ پڑتال کے بغیر اس کی بات مان لی اگر انہیں احکام اسلام، آیات قرآنیہ اور انبیاء ورسل علیہم السلام کے بینات ومعجزات کا کچھ علم ہوتا تو اس کذاب کی دعوت ، اس کا کذب وبہتان ہرگز قبول نہ کرتے اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کو اللہ رب العزت لازماً ایسے خوارق ومعجزات سے نوازتے تھے جن کی مثل لانے سے تمام انسانیت عاجز ہوتی ہے اور وہ ان کی تصدیق کا باعث ہوتے ہیں۔

دیکھئے! یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا عصا زمین پر ڈالتے ہیں تو وہ ایک دوڑتا ہوا اژدہا بن جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جو بھڑکتی ہوئی بہت بڑی آگ میں ڈال دیے گئے تو وہ ان کیلئے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گئی اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو مادر زاد نابینا اور کوڑھی کو تندرست اور مردوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کر دیتے تھے اور ہمارے پیغمبر نبی آخر الزمان رسول اکرم ﷺ ہیں جن کے قلب اطہر پر قرآن کریم نازل ہوا جس نے تمام عرب پہلوں اور پچھلوں سب کو چیلنج کیا کہ وہ اس جیسا کلام بنالائیں یا اس جیسی دس سورتیں یا کم از کم ایک سورت ہی بنالائیں تو وہ سب عاجز رہے اور نہ بناسکے اور قیامت تک نہ بناسکیں گے اور آپ ﷺ کی انگلی مبارک کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے فوارے پھوٹ نکلے حتی کہ تمام لشکر جو

صفحہ 26

ڈیڑھ ہزار یا اس سے کچھ زیادہ تھا سیراب ہو گیا اور آپ ﷺ نے درخت کو آواز دی وہ آپ کے پاس حاضر ہو گیا اور پھر اسے واپسی کا حکم دیا تو وہ اپنی جگہ واپس ہو گیا اور گوہ نے آپ سے کلام کیا اور کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور آپ اسی جسم سمیت، بحالت بیداری معراج کیلئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اسی طرح کھجور کا تنا جس پر آپ نے کھڑے ہونا چھوڑ دیا تھا اس کے رونے کا واقعہ رونما ہوا اور آپ ﷺ نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ جو ان کے رخسار پر گر پڑی تھی اس کو اس کی جگہ پر درست واپس فرما دیا اور ان کے بعد ان کا صاحبزادہ اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے سامنے اپنے مشہور اشعار کے ذریعہ فخر کرتا ہے:

انا ابن الذی سالت علی الخد عینہ
فردت بکف المصطفی ایما رد
فعادت کما کانت لاحسن حالھا
فیا حسن ما عین و یا حسن ما رد

ترجمہ: میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس کی آنکھ رخسار پر بہہ گئی تھی پھر رسول اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھ سے واپس ہوگئی اور وہ پہلے سے بہترین حالت پر واپس ہوئی وہ آنکھ بھی کیا خوب تھی اور اس کی واپسی بھی کیا عمدہ تھی۔

اسی طرح سفر ہجرت میں ام معبدؓ کی بکری کا واقعہ ہے کہ جس کے تھن لاغری کی وجہ سے خشک ہو گئے تھے اور وہ چراگاہ تک نہیں جاسکتی تھی آپ ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو وہ فوراً دودھ دینے لگی جسے سب نے نوش فرمایا اور پھر پیالہ

صفحہ 27

بھر کر امّ معبدؓ کے پاس رکھ دیا اور اس کے علاوہ سینکڑوں وہ معجزات ہیں جو علماء کرام نے صحاح ستہ، مسانید اور سنن وغیرہ کتب میں ذکر فرمائے ہیں طوالت کے خوف سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔

پس ان قادیانیوں نے اپنے مزعوم نبی سے اس جیسے کسی معجزے کا مطالبہ کیوں نہ کیا جو اس مرزا قادیانی کی صداقت پر دلیل قرار پاتا؟ بلکہ اس نے اپنے مکر و فریب سے اس خوف کی بنا پر کہ کہیں اس سے کسی معجزے کا مطالبہ نہ کیا جا سکے انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا ہی انکار کر دیا اس کے پیروکار کتنے بے وقوف اور جاہل ثابت ہوئے جو کہ بغیر کسی برہان اور دلیل کے پیچھے ہولئے بلکہ اس کی بات کے باطل اور جھوٹ ہونے پر روزِ روشن کی طرح دلائل وشواہد قائم ہو گئے بے شک اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ”وما تغنی الآیات والنذر عن قوم لا یؤمنون“ ترجمہ: اور نشانیاں اور ڈرانے والے ایمان نہ لانے والوں کے کچھ کام نہیں آتے۔

ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

کذاب قادیان کے اقوال:

اب ہم قادیانیوں کے قائد کے بہت سے اقوال پیش کرتے ہیں جس سے اس کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور ایک مسلمان کیلئے اس گمراہ فرقہ اور اس کے کفریہ مبادی و اصول کی حقیقت پر بلند اور روشن دلیل ہے اس سلسلہ میں مرزا کذاب کے اقوال درج ذیل ہیں:

بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا

صفحہ 28

ہے اور اس نے میرے دعویٰ کی صداقت پر بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جن کی تعداد تین لاکھ ہے۔

( تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۶۸ ، روحانی خزائن ص ۵۰۳ ج ۲۲)

کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کیلئے نشان ہے...... سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء ص ۱۰ ، روحانی خزائن ص ۲۳۰ ۔ ۲۳۱ ج ۱۸)

خدا کی قدرت ستر برس تو بڑی بات ہے خود اس کذاب کی زندگی میں ہی طاعون نے قادیان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ خود اس کا اپنا گھر بھی اس خوفناک تباہی سے نہ بچ سکا جبکہ ملک کے دوسرے حصے اس وبا سے محفوظ رہے۔

(مکتوبات احمدیہ ج ۵ ص ۱۱۵)۔

مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا آخر کئی مہینوں کے بعد جو (مدت حمل) دس مہینوں سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔

(کشتی نوح ص ۴۷، روحانی خزائن ص ۵۰ ج ۱۹)

ہوئی ہیں اور سورۃ تحریم میں اس فرمان باری کا میں ہی مصداق ہوں ” و مریم ابنۃ عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا “ (ترجمہ: اور عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا پس ہم نے ان کے چاکِ گریبان میں اپنی روح پھونک دی ۔ ) اسلئے کہ مریم ہونے کا دعویٰ اور اس بات

صفحہ 29

کا کہ عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی میں نے ہی کیا میرے علاوہ کسی اور نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا۔ (حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ۳۳۷) اور اسی بنا پر قادیانی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”مرزا غلام احمد قادیانی اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے بلکہ عین اللہ تعالیٰ ہی ہے“۔

ظہور ہے۔“ (تذکرہ ص ۶۵۰)

درمیان واسطہ ہوں۔ (کتاب البریہ ص ۷۵، روحانی خزائن ص ۱۰۲ ج ۱۳)

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، روحانی خزائن ص ۵۶۴ ج ۵)

ان کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ مجھے بذریعہ وحی ان القاب سے نوازا گیا ہے مثلاً مندرجہ ذیل آیات قرآنی:

اسی طرح بہت سی آیات جو رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوئی ہیں وہ انہیں

صفحہ 30

اپنی ذات پر نازل قرار دیتا ہے اور اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ ان سے وہی مراد ہے۔

خاص رسول اکرم ﷺ کا امتیاز بتانے کیلئے نازل ہوئی۔

منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ جو آیات اس واقعہ اسراء میں نازل ہوئی ہیں ان میں وہی مراد ہے۔

مذکورہ بالا عبارات میں آپ اس کو دیکھ رہے ہیں کہ کبھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور کبھی الوہیت کا اس سے وہ خود ہی اپنی حماقت ، جہالت اور بے عقلی کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔

وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا ہے پھر کیسے دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا کی جانب سے رسول ہے اور کبھی وہ عیسیٰ بن مریم ہے اور کبھی وہ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویدار ہے وہ کہتا ہے کہ ” قرآن کریم کی آیت کریمہ ” ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد “ ترجمہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے رسول اکرم ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں ایک رسول کی خوشخبری دینے کیلئے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا یہ اس کا دعویٰ ہے کہ احمد سے مراد میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام نے اس کے آنے کی بشارت سنائی ہے اور اس جیسی جو دوسری باتیں ہیں وہی اس کے خلل دماغ اور نفسیاتی اضطراب پر مہر ثبت کررہی ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا باعث ہیں چہ جائیکہ صریح کتاب سنت اور اجماع امت کی مخالفت ۔ الامان والحفیظ

صفحہ 31

کتاب (موقف الامة الاسلامية من القاديانية، لجماعة من علماء باكستان) ص ۷۵ پر قادیانیوں کے متعلق علماء کرام رقمطراز ہیں ”وقد بلغ ......الخ“ یہ ناپاک، جگر سوز ، اشتعال انگیز اور شرم ناک جسارت اس حد تک بڑھی کہ ایک قادیانی مبلغ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ نے ”اسمہ احمد“ کے عنوان سے ۱۹۳۴م کے قادیان کے سالانہ جلسہ میں ایک مفصل تقریر کی جو الگ شائع ہو چکی ہے اس میں اس نے صرف یہی دعویٰ نہیں کیا کہ مذکورہ آیت میں احمد سے مراد رسول اکرم ﷺ کی بجائے مرزا غلام احمد قادیانی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سورہ صف میں صحابہ کرام کو فتح و نصرت کی جتنی بشارتیں دی گئی ہیں وہ صحابہ کرام کیلئے نہیں قادیانی جماعت کیلئے تھیں چنانچہ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے:

پس یہ آخری آیت قرآنی ”وأخرى تحبونها نصر من الله وفتح قريب“ کتنی بے بہا نعمت ہے جسکی صحابہ تمنا کرتے رہے مگر وہ اسے حاصل نہ کر سکے اور آپ کو مل رہی ہے۔ (اسمہ احمد ص ۷۴ مطبوعہ قادیان ۱۹۳۴م) غور کیجئے کہ سرکار دو عالم رحمت مجسم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کی یہ توہین اور قرآن کریم کی آیات کے ساتھ یہ گھناؤنا مذاق مسلمانوں کے ناموں کی آڑ لیتے ہوئے کیا ہے۔ انتھی۔ اسی طرح انہیں یہودیوں کے ساتھ بڑی مشابہت ہے کیونکہ یہ ان کی مانند آیات میں تحریف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو جھوٹا یقین کرنے کے باوجود دوسروں کے فضائل اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازیاں

اور اللہ رب العزت پر جھوٹ اور افتراء پردازیوں میں سے اُس کی یہ بات ہے

صفحہ 32

”تو (مرزا) مجھ (خدا) سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید پس اب وقت آ گیا ہے کہ تیری مدد کی جائے اور تو لوگوں کے درمیان معروف اور مشہور ہو جائے“ ”تو مجھ سے میرے عرش جیسا ہے“ ”تو (اے مرزا) مجھ سے میری اولاد جیسا ہے“ ”تو مجھ سے ایسے مرتبہ میں ہے کہ مخلوق کو اس کا علم نہیں“ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے پاک اور بہت بلند و بالا ہے! دیکھئے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا اور قرآن کریم کی تکذیب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق کہتا ہے کہ وہ اس (مرزا) سے فرماتا ہے کہ تو مجھ سے میری اولاد جیسا ہے۔ یہ قرآن کریم کی صراحۃً تکذیب ہے کہ رحمٰن کی طرف اولاد منسوب کرتا ہے جب کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ”وقالوا اتخذ الرحمن ولداً لقد جئتم شيئاً اِدّاً، تكاد السمٰوات يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدّاً، ان دعوا للرحمن ولدا، وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا، ان كل من فى السمٰوات والارض الا آتى الرحمن عبداً“ ترجمہ: اور (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کر رکھی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم نے ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے ہو جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں نیز ارشاد خداوندی ہے: قل ھو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ کفواً احد۔ ترجمہ: آپ فرما دیجئے کہ وہ یعنی اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنا یعنی نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی ہمسر

صفحہ 33

اس کے برابر کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا سراسر کفر ہے کیونکہ یہ قرآن کریم کی تکذیب اور جناب باری تعالیٰ کی تنقیص ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کی باتوں سے پاک اور بہت بلند و بالا ہے۔

حرمین شریفین اور قادیان: مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر اپنی بستی قادیان کی

تفضیل و تعظیم اور مکہ مکرمہ کی بجائے قادیان کے حج کے مطالبہ کے سلسلہ میں اقوال:

مدینہ منورہ اور قادیان ۔

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ۳۴، روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج ۳)

بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا ہے کہ نہیں۔

(حقیقۃ الرؤیاء ص ۱۴۶ از مرزا محمود)

انتخاب فرمایا ہے اور جیسا کہ حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے ایسے ہی اس جلسہ میں بھی منع ہے۔ (۱)

(برکات الخلافۃ لابن القادیانی ص ۴، ۵، ۷)

(۱) مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:

زمیں قادیاں اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص ۵۲) از مترجم

صفحہ 34

انگریزی حکومت کی تائید و حمایت:

انگریز کی مدح سرائی اور ان کی طرف سے دفاع کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال:

عمر کا اکثر حصہ انگریزی سلطنت کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے مخالفت جہاد اور انگریز حکمرانوں کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ (تریاق القلوب ص ۱۵، روحانی خزائن ص ۱۵۵ ج ۱۵)

ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت، خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔

ساتھ انجام دے۔

ہے؟

صفحہ 35

(تریاق القلوب ص ۱۵، روحانی خزائن ص ۱۵۵، ۱۵۶ ج ۱۵ نیز دیکھیں تحفہ قیصریہ)

نوٹ ﴿ مرزا قادیانی انگریزی حکومت کی ایسے کھلے لفظوں میں تعریف وتوصیف کرتا ہے جس کیلئے ایک صاحب ضمیر انسان تیار نہیں ہوسکتا۔

ہم نے نہایت اختصار سے مرزا قادیانی کی چند عبارتیں اور اقتباسات پیش کئے ہیں جس سے اس بات پر دلالت مقصود ہے کہ وہ برطانیہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نبی مرسل ہے۔ ذیل میں اس کی ایک عبارت بھی اسی بات کی وضاحت کرتی ہے:

’’ہر ایک اسلامی حکومت تمہیں قتل کرنے کیلئے دانت پیس رہی ہے کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو لہٰذا تم اس نعمت الٰہیہ گورنمنٹ برطانیہ کے وجود کی نعمت کی قدر پہچانو۔‘‘

ہمارے سابقہ بیان سے آپ نے جان لیا ہوگا کہ مرزا قادیانی خود اقرار کرتا ہے کہ اسلامی حکومتیں اس کے اور اس کی دعوت کے بالمقابل ہیں کیونکہ اسے پورا یقین ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہے اور اس دعوت کے اہتمام کی وجہ سے جو اسلام کی ضد ہے وہ دین اسلام سے پھر گیا ہے۔ یہ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پیش خدمت ہے اگر تفصیلی بیان کا ارادہ کرلیں تو کلام طویل ہو جائے گا:

’’ترسم کہ دل آزردہ شوی وگرنہ سخن بسیار است‘‘

لیکن یاد رہے کہ یہ کفریات، مغالطے اور فریب ان سادہ لوح نادانوں پر ہی چلتے ہیں جو دین اسلام اور حضور خاتم النبیین ﷺ سے کچھ واقفیت نہیں رکھتے۔

صفحہ 36

قادیانیوں کے متعلق فیصلہ : اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین “۔ ترجمہ: حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں)۔

یہ آیت کریمہ صراحۃً دلالت کرتی ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں اور خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی احادیث بھی اس سلسلہ میں متواتر ہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوگا

شیخ ابن عطیہؒ اپنی تفسیر میں کلمہ ”خاتَم“ بفتح التاء پر رقمطراز ہیں کہ : ” یہ لفظ تاء کے زبر کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ پر انبیاء علیہم السلام ختم کر دیے گئے یعنی آپ ﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی اب کسی کو نبوت نہیں دی جائیگی بس جن کو ملنی تھی مل چکی اور جمہور کی قراءت (خاتِم) تاء کی زیر کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تمام انبیاء علیہم السلام کو ختم کر دیا یعنی سب نبیوں کے آخر میں آئے ہیں۔ پھر شیخؒ نے فرمایا کہ: یہ الفاظ علماء سلف وخلف کی ایک جماعت کے نزدیک بالعموم اس بات کے صراحۃً متقاضی ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوگا۔

رئیس المفسرین حافظ ابن کثیرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ: یہ آیت اس بات میں نص ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا اور جب آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوا تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا کیونکہ رسالت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے خاص ہے لہٰذا ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں اور

صفحہ 37

ختم نبوت کی احادیث متواتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے ان کی روایت کرنے والی صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت ہے اس کے بعد حافظ ابن کثیرؒ نے ختم نبوت ورسالت پر بہت سی احادیث ذکر فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

﴾ختم نبوت پر متواتر احادیث﴿

فرمایا: میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا مگر اسکے ایک گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) آپ ﷺ نے فرمایا: میں وہی اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ یہ بخاریؒ کے لفظ ہیں۔

نے فرمایا کہ: مجھے تمام انبیاء علیہم السلام پر 6 باتوں میں فضیلت دی گئی ہے:

کر دیتا ہے)

کیلئے حلال نہ تھا بلکہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی تھی جو تمام مال غنیمت کو جلا کر خاکستر کر دیتی تھی اور یہی جہاد کی مقبولیت کی علامت سمجھی جاتی تھی)

صفحہ 38

کے کہ ان کی نماز صرف مسجدوں میں ہی ہو سکتی تھی) اور زمین کی مٹی میرے لئے پاک کرنیوالی بنادی گئی (یعنی ضرورت کے وقت تیمم جائز کر دیا گیا جو کہ پہلی امتوں کیلئے جائز نہ تھا)

السلام کے کہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف کسی خاص علاقہ میں ایک محدود زمانے تک کیلئے مبعوث ہوتے تھے)

نے فرمایا: ”میرے بہت سے نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں یعنی میرے بعد ہی حشر برپا ہوگا اور قیامت آجائے گی (یعنی کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں“ یہ مسلم کے لفظ ہیں اور عاقب اسے کہا جاتا ہے جس کے بعد کوئی اور نبی نہ ہو۔ یہ ثابت، صحیح اور صریح احادیث اور ان کے علاوہ وہ احادیث جو حدّ تواتر تک پہنچ چکی ہیں قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ اس سلسلہ کی احادیث بہت ہیں پس اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر شکر کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے بڑے رسول کو ہماری طرف بھیجا اور ختم المرسلین اور خاتم النبیین بنایا اور یکسوئی والا ، آسان سچا اور سہل دین آپ کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔ رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور

صفحہ 39

رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دے دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونیوالا نہیں تا کہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ ہر وہ شخص جو آپ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا ، افتراء پرداز ، دجال ، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے گو وہ ہزار شعبدے دکھائے اور قسم قسم کی جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کردینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی نیرنگیاں دکھائے کیونکہ عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب، دھوکہ اور مکاری ہے۔ یمن کے مدعی نبوت اسود عنسی کو اور یمامہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور اللہ تعالیٰ نے انکے ہاتھ پر ایسے احوال فاسدہ ظاہر کئے جن سے ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہوگئی اور ہر عقل وفہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے ) یہی حال ہوگا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی یہاں تک کہ سب سے آخری دجال ، مسیح دجال آئے گا وہ سب مدعی نبوت ، مسیح دجال پر ختم کر دیے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مومن اس کے جھوٹا ہونے کی شہادت دیں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر انتہائی لطف و کرم ہوگا کہ ایسے جھوٹے دعویداروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے حکم دیں اور برائی سے روکیں ہاں اتفاقی طور پر یا جن احکام میں ان کا اپنا مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زور دیتے ہیں اور ان کے اقوال وافعال انتہائی افتراء اور فجور والے ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”هل انبئكم على من تنزل الشياطين ،تنزل على كل افاك اثيم .......الآية .

صفحہ 40

ترجمہ: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گناہ گار کے پاس آتے ہیں ......الخ۔

سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے، ہدایت والے، استقامت والے قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے ، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزوں اور خارق عادت چیزوں سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس قدر واضح اور روشن دلائل و براہین ان کی نبوت پر ہوتے ہیں کہ قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے سب سچے نبیوں پر مسلسل ، قیامت تک رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرماتا رہے۔ (ابن کثیر کا کلام ختم ہوا)۔

اور ان قادیانیوں کے عقائد و نظریات میں جب غور و فکر کرو گے تو پوری معرفت اور کامل یقین ہو جائیگا کہ ان کے بعض عقائد، کفر و ارتداد، عداوت اور نفرت کا باعث ہیں اور جو شخص ان کے دعویٰ کو پہچان لینے کے بعد ان کے کفر میں شک اور تردد کرے تو وہ کافر ہے۔ چنانچہ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ جو شخص رسول اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین “ کی تکذیب و انکار کر رہا ہے۔

قادیانیوں کی تکفیر کی وجوہ:

ان قادیانیوں کی تکفیر ایک طریق سے نہیں بلکہ متعدد طرق سے واضح ہے اس لئے کہ (۱) نبوت کا دعویٰ کرنا کفر کا ارتکاب ہے (۲) جو شخص یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ 41

السلام کا کوئی باپ تھا اور وہ بغیر باپ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا نہیں ہوئے وہ کافر ہے (۳) جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا منکر ہو وہ خارج از اسلام ہے (۴) حضرات انبیاء کرام کے وہ معجزات جن کا ذکر قرآن کریم یا احادیث متواترہ میں ہے ان کا منکر بھی کافر ہے۔

قادیانیوں سے دوستی عظیم جرم ہے :

جو شخص مسلمانوں پر کفار کی فضیلت کا قائل ہو وہ خارج از اسلام ہے اسی طرح جو مسلمانوں کی بجائے کافروں کے ساتھ محبت اور دوستی رکھے وہ کافر ہے اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ”ومن یتولھم منکم فانہ منھم“ اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ انہی میں سے ہوگا۔ ان قادیانیوں میں یہ سب امور کفر جمع ہیں لہذا ان کی تکفیر میں نہ کوئی جھگڑا اور نہ کوئی ادنیٰ شک و شبہ بلکہ وہ قطعاً کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دینی ، مذہبی کوئی بھی تعلق نہیں ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین پر یہ آیت کریمہ پوری طرح منطبق ہورہی ہے: ” وقال الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعدکم وعدالحق ووعدتکم فاخلفتکم و ما کان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم ما انا بمصرخکم وما انتم بمصرخی.“

ترجمہ: اور جب (قیامت میں ) تمام مقدمات فیصل ہوچکیں گے تو شیطان جواب میں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے سچے وعدے کئے تھے اور میں نے بھی کچھ وعدے کئے تھے سو میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر اور تو کچھ زور نہ چلتا تھا بجز

صفحہ 42

اسکے کہ میں نے تم کو بلایا تھا سو تم نے (بااختیار خود) میرا کہنا مان لیا تو تم مجھ پر (ساری ) ملامت مت کرو اور (زیادہ) ملامت اپنے آپ کو کرو ، نہ میں تمہارا مددگار (ہوسکتا) ہوں اور نہ تم میرے مددگار (ہوسکتے) ہو۔

قادیانیت کے کفر کے متعلق شریعت بورڈوں کے فیصلے:

متعدد فقہی اکیڈیمیوں اور علمی اسلامی بورڈوں کی طرف سے اس مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے (قادیانی یا احمدی) کے کفر و ضلال سے متعلق متعدد فیصلے صادر ہو چکے ہیں ، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

رابطہ عالم اسلامی کی قرار داد:

مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام ربیع الاول ۱۳۹۴ھ مطابق اپریل ۱۹۷۴ء کو پورے عالم اسلام کی اسلامی تنظیموں اور اداروں کا ایک بہت بڑا کنونشن منعقد ہوا جس میں صرف اسلامی ممالک کے نہیں بلکہ پوری دنیا کی ۱۴۴ مسلم تنظیموں اور انجمنوں کے نمائندے شریک ہوئے اور مغرب سے لیکر انڈونیشیا تک کے مسلمانوں نے اس کنونشن کی نمائندگی کی اور قادیانیوں کے کفر و وضلال کا متفقہ فیصلہ صادر فرمایا۔ قرارداد کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

قادیانیت ایک باطل فرقہ ہے جو اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کیلئے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بنیادوں کو اکھاڑنا چاہتا ہے ۔ اسلام سے اس کی مخالفت درج ذیل باتوں سے واضح ہے۔

صفحہ 43

قادیانیت کی داغ بیل برطانوی سامراج نے رکھی اور اسی نے اسے پروان چڑھایا وہ سامراج کی سرپرستی میں سرگرم عمل ہے اور امت اسلامیہ کے مسائل میں خیانت کرتا ہے اور اسلام دشمن قوتوں کا ساتھ دیکر مسلمانوں کے مفادات سے غداری کرتا ہے اور ان طاقتوں کی مدد سے اسلام کے بنیادی عقائد میں تغیر وتحریف اور بیخ کنی کیلئے کئی ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے جیسے:

اڈے قائم کرنا۔

تعاون سے ان ہی کے مقاصد کی تکمیل۔

ان خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے کنونشن میں طے کیا گیا کہ:

اسلام دشمن سرگرمیوں کی ان کے معابد، مراکز، یتیم خانوں وغیرہ کی کڑی نگرانی کریں اور ان کے تمام در پردہ سیاسی سرگرمیوں کا محاسبہ کریں اور اس کے بعد ان کے پھیلائے ہوئے جال، منصوبوں، سازشوں سے بچنے کیلئے عالم اسلام کے سامنے انہیں پوری طرح بے نقاب کیا جائے نیز اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا

صفحہ 44

اعلان کیا جائے اور اس وجہ سے انہیں مقامات مقدسہ حرمین وغیرہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

اجتماعی، عائلی وغیرہ ہر میدان میں ان کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔

پر پابندی لگائیں ان کے تمام وسائل اور ذرائع کو ضبط کیا جائے اور کسی قادیانی کو کسی اسلامی ملک میں کسی قسم کا بھی ذمہ دارانہ عہدہ نہ دیا جائے۔

تمام تراجم قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج و اشاعت کی روک تھام کی جائے۔

مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:

نیز ان فیصلوں میں فقہ اکیڈمی کا فیصلہ ہے جس کا انعقاد ۱۰ شعبان ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۵ جولائی ۱۹۷۸ء مکہ مکرمہ میں ہوا۔ قادیانی مذہب جس کی دعوت کا علمبردار اسکا بانی مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۷۶ء) ہے کونسل نے باضابطہ اس کا مطالعہ کیا اور پھر مندرجہ ذیل فیصلہ صادر فرمایا:

”حمد وصلوٰۃ کے بعد! فقہ اکیڈمی نے موضوع فرقہ قادیانیہ کا جائزہ لیا جو گزشتہ صدی (انیسویں صدی عیسوی) ہندوستان میں ظاہر ہوا۔ احمدیہ بھی اس کا نام ہے اس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۷۶ء) جس کی دعوت کا علمبردار ہے وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ

صفحہ 45

نبی ہے اس کی طرف وحی آتی ہے اور وہ مسیح موعود ہے اور نبوت ہمارے سردار حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ پر ختم نہیں ہوئی (جیسا کہ کتاب وسنت کی تصریحات کے مطابق ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے) اور اس کا گمان ہے کہ دس ہزار سے زائد آیات کا اس پر نزول وحی کے ذریعے ہوا اور جو اس کی تکذیب کرے وہ کافر ہے اور مسلمانوں پر قادیان کا حج کرنا واجب ہے اس لئے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مانند مقدس شہر ہے اور وہی ہے جس کا نام قرآن کریم میں مسجد اقصیٰ ہے یہ سب باتیں اس کی کتاب ”براہین احمدیہ“ اور اسکے رسالہ ”التبلیغ“ میں باصراحت موجود ہیں نیز اس کونسل نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور اس کے خلیفہ مرزا بشیر الدین کے اقوال واعلانات کا جائزہ لیا جیسا کہ وہ اپنی کتاب ”آئینہ صداقت (ص ۳۵)“ پر رقمطراز ہے:

”ہر وہ مسلمان جو مسیح موعود (اس کے والد مرزا غلام قادیانی) کی بیعت میں داخل نہیں ہوا خواہ اس نے ان کا نام سنا ہو یا نہ سنا ہو وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے“۔

اور انکے قادیانی اخبار ”الفضل“ میں اس کا وہ قول بھی موجود ہے جو بعینہ اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی سے نقل کرتا ہے کہ اس نے کہا: ”بے شک ہم مسلمانوں کے ہر چیز میں مخالف ہیں ، اللہ میں ، رسول میں ، قرآن میں، نماز میں، روزہ میں ، حج میں، زکوٰۃ میں اور ہمارے اور ان کے درمیان ، ان سب چیزوں میں بنیادی اختلاف ہے ۔

(الفضل ۳۰ تموز جولائی ۱۹۳۱ء)

پھر اسی طرح انکی کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ ”مرزا بعینہ محمد ہی ہے یہ خیال کرتے ہوئے کہ قرآن کریم میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول ”ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ ہے اس کا مصداق مرزا ہی ہے۔

(کتاب انوار الخلافہ ص ۲۱)

صفحہ 46

نیز کونسل نے ان مضامین کا جائزہ لیا جو علماء کرام اور قابل اعتماد مسلمان مضمون نگاروں نے فرقہ قادیانیہ احمدیہ کے دائرہ اسلام سے کلی طور پر خارج ہونے کے متعلق تحریر فرمائے ہیں اور اس کی بنا پر پاکستان کے شمالی سرحدی صوبہ کی صوبائی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں ایک متفقہ فیصلہ کیا جس میں فرقہ قادیانیہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا پھر پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی بالاتفاق وہ ایمان افروز فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ قادیانیوں کے اس عقیدہ کے ساتھ ساتھ وہ بات بھی ہے جو خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کی صریح عبارتوں اور ہندوستان میں انگریزی حکومت کو روانہ کئے گئے رسائل سے ثابت ہوچکی ہے جن کے ذریعہ وہ انگریزی حکومت کی محبت اور دائمی عنایت کا خواستگار ہے اور وہ جہاد کے حرام ہونے کا اعلان ہے وہ جہاد کا انکار اس لئے کرتا ہے تا کہ مسلمانوں کو بھارت کی انگریزی سامراجی حکومت کا مخلص وفادار بنادے کیونکہ نظریہ جہاد ہی بعض جاہل مسلمانوں کیلئے انگریز کے ساتھ اخلاص سے مانع ہوتا ہے اور وہ اس سلسلہ میں اپنی کتاب ”شہادۃ القرآن“ ایڈیشن ۶ ص ۱۷ کے ضمیمہ میں لکھتا ہے: ”میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ میرے پیروکار جب زیادہ ہو جائیں گے تو جہاد پر یقین رکھنے والے کم ہو جائیں گے کیونکہ میرے مسیح یا مہدی ہونے کا یقین کرنے سے جہاد کا انکار لازم آتا ہے۔“

اب استاذ ندویؒ کا وہ پیغام ملاحظہ فرمائیں جو ”رابطہ“ نے ص ۲۵ پر نشر کیا ہے : ”فقہ اکیڈمی نے ان مستندات کو اور اس کے علاوہ بہت سے دستاویزات جو عقیدہ قادیانیہ ان کی نشوونما، ارتقاء اور صحیح اسلامی عقیدہ کو ختم کرنے اور مسلمانوں کو اس سے ورغلانے اور گمراہ کرنے کی وضاحت کرتی ہیں زیر بحث لانے کے بعد کونسل نے

صفحہ 47

متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ عقیدہ قادیانیہ جو احمدیہ کے نام سے بھی معروف ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اس کو اختیار کرنے والے کافر اور دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہیں اور ان کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا سراسر گمراہی ، دھوکہ اور فریب ہے اور کونسل کا یہ اعلان ہے کہ تمام مسلمان ، حکومتیں ، علماء ، مضمون نگار، مفکرین اور مبلغین وغیرہ سب پر واجب ہے کہ وہ اس باطل مذہب اور اس کے اپنانے والوں کا دنیا کے ہر خطہ میں مقابلہ کریں اور اس جدوجہد میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ وباللہ التوفیق ۔

بحوث علمیہ وافتاء کی مستقل کمیٹی کا فتویٰ :

سعودی عرب میں البحوث العلمیہ والافتاء کی مستقل کمیٹی سے فرقہ قادیانیہ کے اسلام کا حکم دریافت کیا گیا تو انہوں نے فتویٰ دیا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس فرقہ کے کافر ہونے اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے اسی طرح بعینہ یہی حکم رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی طرف سے اور اسلامی تنظیموں کا کنونشن جو رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ۱۳۹۴ھ میں منعقد ہوا کی طرف سے صادر ہوا ہے۔

پھر اس مستقل کمیٹی نے اس فرقہ کا فیصلہ اپنے الفاظ میں صادر فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فرقہ دعویٰ کرتا ہے : مرزا غلام احمد ہندی نبی ہے جس پر وحی نازل ہوتی تھی اور کسی شخص کا اسلام اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک اس پر ایمان نہ لائے اور یہ تیرہویں صدی ہجری کی پیداوار ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب کریم میں یہ بتلا دیا ہے کہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ ہی آخری نبی ہیں اور علماء اسلام کا اس پر

صفحہ 48

اجماع ہے لہٰذا جو شخص دعویٰ کرے کہ آپ ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی ہو سکتا ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہو تو وہ کافر ہے اس لئے کہ وہ قرآن کریم کی تکذیب کر رہا ہے اور حضور اقدس ﷺ کی احادیث صحیحہ جو آپ کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کو جھٹلا رہا ہے اور اجماع امت کا مخالف ہے (فتویٰ نمبر ۱۶۱۵) اور فتویٰ نمبر ۴۳۱۷ میں ہے کہ مستقل کمیٹی سے بھی قادیانیہ اور ان کے مزعوم نبی کے متعلق سوال ہوا تو اس کا حسب ذیل جواب دیا گیا ہے اور حمد وصلوٰۃ کے بعد، نبوت ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر ختم ہے آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ کتاب وسنت سے یہی ثابت ہے لہٰذا جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور انہی میں سے مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو اس کا دعویٰ نبوت اپنے لئے سراسر جھوٹ اور قادیانیوں نے جو اس کی نبوت کا نظریہ قائم کر رکھا ہے وہ زعم کاذب ہے اور سعودیہ کے علماء بورڈ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ قادیانی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

(نیز پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کے پیروکار، خواہ وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں قرار دیتے ہوں، کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ از مترجم)

وباللہ التوفیق وصلی اللہ علی نبینا محمد والہ و صحبہ وسلم

صفحہ 49

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے بتاریخ ۱۲ اگست ۱۹۸۴ء فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ قادیانی یقیناً ایک کافر فرقہ ہے پورے عالم اسلام میں بڑے بڑے علماء کے انفرادی فتاویٰ صادر ہوچکے ہیں جو اس فرقہ کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کررہے ہیں۔

اللہم لا تکلنا الی انفسنا طرفۃ عین ولا اقل من ذالک۔ اللہم یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی طاعتک۔ اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ وصلی اللہ وسلم وبارک علی سیدنا محمد خاتم انبیائک ورسلک و علی آلہ واصحابہ والتابعین لہم باحسان الی یوم الدین۔

مترجم

ناچیز عبداللطیف محمد اسماعیل المدنی عفا اللہ عنہ وعافاہ مبتعث من وزارۃ الشئون الاسلامیہ (السعودیہ)

صفحہ 50

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانیوں کی خدمت میں

ایک دردمندانہ گزارش

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے جس کے زائل ہونے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کے سارے اعمال ضائع اور برباد ہو جاتے ہیں چنانچہ دنیائے اسلام کی عظیم شخصیت ، کعبہ مکرمہ کے امام و خطیب اعظم ، شیخ العرب والعجم ، عزت مآب محمد بن عبداللہ بن سبیل حفظہ اللہ و رعاہ نے اپنے مختصر رسالہ جس کا اردو ترجمہ (جعلی نبی کی اصلی کہانی ) آپ کے ہاتھوں میں ہے میں نہایت اخلاص کے ساتھ کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں اس عظیم عقیدہ ختم نبوت کا مدلل ثبوت ، ضرورت واہمیت کو اجاگر فرمایا جھوٹے مدعیان نبوت مسیلمہ کذاب ، اسود عنسی وغیرہ کا عبرتناک انجام ، کذاب قادیان آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی انگریزی نبی کا تعارف ، اسکے متضاد دعوے ، اللہ سبحانہ تعالیٰ اور اسکے مقدس و پاکیزہ انبیاء علیہم السلام پر افتراء پردازیاں ، انکی توہین وتذلیل ، حرمین شریفین کی توہین ، مرزا قادیانی اور اس کے تمام متبعین کے وجوہ کفر ، قادیانیہ کے کفر پر عالم اسلام کے متفقہ فیصلے ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ ، یہ سب کچھ نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرمایا گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔

صفحہ 51

یہ بالکل درست ہے کہ ہر شخص کو اپنی قبر میں جانا ہے اور اپنے ہی اعمال و کردار کا جواب دہ ہونا ہے ”لها ما كسبت ولكم ما كسبتم ولا تسئلون عما كانوا يعملون“ لیکن دل میں ایک چھبن اور درد ہوتا ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کو زر، زمین، زن کا لالچ دے کر کس طرح انکے دلوں سے ایمان کھرچا جارہا ہے اور وہ دنیا کی عارضی زیب و زینت کیوجہ سے ہمیشہ کی راحتوں اور مسرتوں سے محروم ہورہے ہیں۔ خدا کیلئے اپنی جانوں اور ایمانوں پر رحم کریں اور یہ مختصر رسالہ تعصب و خود غرضی سے علیحدہ ہو کر پڑھیں پھر دامن جھنجھوڑ کر اپنے ضمیر سے فیصلہ لیں کہ اسلامی روایات سے کسی طرح کی نبوت ، مستقل و غیر مستقل ، ظلی و بروزی وغیرہ کا وجود نکلتا ہے یا نصوص ظاہرہ ، دلائل واضحہ ، براہین قاطعہ سے ہر طرح کی نبوت کا انقطاع و اختتام آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو رہا ہے ، ماننا نہ ماننا آپ کے اختیار میں ہے یہ دنیا یہیں دھری رہ جائیگی ، موت کے بعد والی نہ ختم ہونیوالی زندگی کی فکر کریں اور آخرت کے عذاب شدید و عذاب الیم سے اپنی پیاری جانوں کو بچائیں بس یہ دردمند دل کی ایک مخلصانہ گزارش ہے۔

وبالله التوفيق وما الهداية الا من الله . اللهم انا نعوذ بك من الفتن ما ظهر منها و ما بطن وصلى الله تعالى على خاتم الانبياء والمرسلين سيدنا محمد وعلى آله وصحبه اجمعين .

ناچیز

عبداللطیف محمد اسماعیل مدنی عفا اللہ عنہ و عافاہ

۱۴۲۳/۱۱/۲۵ھ

صفحہ 52

حکومت وقت سے مسلمانوں کے مطالبات

منجانب خادم ختم نبوت (مولانا) منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ