توہین رسالت کے فتنے · پروفیسر سید عبدالرحمٰن بخاری
Toheen-e-Risalat K Fitny · Prof Syed Abdul Rahman Bukhari
صفحہ 1
آہستہ سانس لو کہ خلاف ادب نہ ہو
بڑھکر ہے کل جہاں سے حرمت رسولؐ کی

توہین رسالت کے فتنے

تاریخ کے آئینے میں

تصنیف

پروفیسر سید عبدالرحمن بخاری مؤسس اُسوہ فاؤنڈیشن (وقف)

ناشر

اُمّہ پبلیکیشنز (اُمہ فاؤنڈیشن وقف) جامعہ مسجد سیدنا ابوالعاص بن ربیعؓ، جوہر ٹاؤن، لاہور

صفحہ 2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط

قرآن حکیم اور تعظیم مصطفیٰ ﷺ کے تقاضے

ا۔ ایمان کا تقاضا ...... تعظیم مصطفیٰ ﷺ میں شدت کا اہتمام

ترین تقاضا یہ سامنے آتا ہے کہ اہل ایمان مشیت الہی کے تتبع میں حضور سید عالم ﷺ کے فضائل و کمالات اور شان اقدس کے بیان میں ہر آن لگے رہیں اور اس میں جتنا بھی زیادہ اہتمام اُن کے لئے ممکن ہو، اس سے کسی طور گریز نہ کریں۔ دیکھئے جب اللہ تعالیٰ اپنی تعریف میں یوں فرماتا ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

(فاتحہ:۱)

”سب تعریفیں اللہ کے لئے جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے سارے جہانوں کا“

تو صاف ظاہر ہے کہ قرآن میں یہ آیت لانے کا مطلب اور منشاء ہی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے، بندے ہر وقت اُس کی تعریف کرتے رہیں۔ اسی طرح جب وہ قرآن میں اپنے رسول ﷺ کی عظمت و فضیلت بیان کرتا ہے تو اُس کا مقصد اور مطالبہ یہی سامنے آتا ہے کہ اہل ایمان قرآن مجید کی پیروی میں رسول کریم ﷺ کی بے پناہ تعظیم و تکریم کا اہتمام کریں اور آپ ﷺ کی عظمت و فضیلت کثرت سے بیان کریں۔

اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں رسول اکرم ﷺ کے فضائل صرف بیان ہی کئے ہوتے اور ہمیں صاف اور دو ٹوک طریقے سے حکم نہ بھی دیا ہوتا کہ میرے رسول ﷺ کے فضائل تم بیان کرو، تب بھی ہر مسلمان پر لازم تھا کہ وہ اُس کے رسول ﷺ کی عظمت و شان

صفحہ 3

کے بیان میں لگا رہے، جبکہ یہاں تو عالم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے محبوب ﷺ کو واضح الفاظ میں حکم دے رہا ہے:

وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ

(ضحیٰ: ۱۱)

”اور اپنے رب ( کریم ) کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کیجئے“

اس سے کھلا کہ خود حضور اقدس ﷺ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ہونے کے ناطے جہاں دنیا والوں تک خدا کا نام ، اُس کی توحید ، اُس کی شان اور اُس کا پیغام پہنچانے کے مکلف ہیں وہیں خود اپنی ذات کی عظمتیں ، فضیلتیں اور کمالات بیان کرنے کے بھی پابند ہیں۔ خود رب ذوالجلال نے یہ ذمہ داری حضور انور ﷺ کو سونپی ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کے منصب نبوت ورسالت کا تقاضا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احادیث طیبہ میں پورے اہتمام سے اپنے خصائص وامتیازات اجاگر فرمائے ہیں۔ پس منشاء الٰہی یہ ٹھہری کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اپنے رسول ﷺ کے فضائل بیان کرنے میں غیر معمولی عنایت اور پورا اہتمام فرمایا ہے ، اسی طرح اب اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ اُن کی عقل ، اُن کا وجدان ، اُن کی سوچ ، اُن کا شعور ، اُن کے جذبے ، اُن کا عشق محبوب خدا ﷺ کی عظمت و کمال کے ادراک اور بیان میں جہاں تک جاسکے اور جو کچھ کہہ سکے سب بیان کر دے کیونکہ عظمت رسول ﷺ کی کوئی حد ہی نہیں۔ صرف ایک ہی بات ہے کہ انہیں خدا نہ کہا جائے اور نہ اُس کا شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے سوا جو بھی عظمت ، جو بھی خوبی ، جو بھی فضیلت اور جو بھی کمال مخلوق کے احاطہ تصور میں آسکے سب اُن کے نام کر دیا جائے کیونکہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے الفاظ میں

ہر رتبہ کہ بود در امکاں بدوست ختم ہر نعمتی کہ داشت خدا شد برو تمام

ان میں ناموس رسالت کے منافی معنی مراد لینا ایمان کی نقیض ہے۔ ان آیات کو ظاہری

صفحہ 4

معانی پر محمول کرنا منشاء الہی کے خلاف ہے۔ خدا کے اسلوب خطاب کا تتبع کرنا اُمتی کے لئے ہرگز روا نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ ان آیات میں برتے گئے اسلوب کے ذریعے اہل ایمان کا امتحان لیتا ہے کہ آیا وہ قرآنی آیات میں فہم و تدبر اور غور و فکر کرتے وقت قرآن کے مجموعی مزاج اور منشاء الہی کے مجموعی تناظر میں رہ کر ان آیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا ہر آیت کو قرآن کے پورے اسلوب منہاج سے کاٹ کر ظاہری اور سطحی مفہوم میں لے کر تنقیص رسالت کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اُمتی کے لئے ایمان کا سب سے پہلا تقاضا بیان فضائل رسول ﷺ ہے۔ ہر اُمتی کا مزاج رسول اللہ ﷺ کی ذات کے حوالے سے تلاش عظمت ہونا چاہیے نہ کہ تلاش نقص۔ یہی وہ فکری ابتلاء ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ڈالا ہے۔

۲۔ قرآن تنقیص رسالت کے لئے نہیں اترا

تنقیص یعنی شان گھٹانے کے لئے نہیں اُتارا۔ بناء بریں ہر اہل ایمان کو چاہیے کہ اس بنیادی اصول کو اپنے ذہن و دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ کے لئے جاگزیں کر لے اور کبھی قرآن پاک کی کسی آیت، کسی لفظ کا کوئی ایسا معنی ہرگز قبول نہ کرے جس سے کسی بھی طور رسول اللہ ﷺ کی تنقیص یا کمی شان کا کوئی بھی پہلو نکلتا ہو۔

اگر کسی آیت کا ایسا مفہوم سمجھ نہ آسکے جس سے حضور انور ﷺ کی عظمت، فضیلت اور خوبی کا پہلو اجاگر ہو رہا ہو تو بھی ایک مسلمان کو چاہیے کہ اُس آیت سے حضور ﷺ کی نفی شان کا معنی قبول کرنے کی بجائے اپنی لاعلمی، کم فہمی اور نقص عقل کا اعتراف کرتے ہوئے جب تک زندگی باقی ہے اور سانس چلتی ہے ہمیشہ بارگاہ الہی میں یہ التجا، آرزو اور تمنا کرتا رہے کہ اُس آیت کا وہ حقیقی معنی اور مراد اللہ تعالیٰ اُسے سمجھا دے جو منشاء الہی کے مطابق ہو اور جس سے حضور سید عالم ﷺ کی عظمت شان اج

اور اپنی توجہ کا رخ ایسا بنا لیں کہ ہر آیت، ہر لفظ جس سے خدائے ذوالجلال کی حقیقی منشاء اور مرا سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ مجرد خدا کا ازلی، ابدی کلام۔ سو ایسا ممکن نہیں کہ بھی لفظ ایسا موجود ہو جس سے خدا کی مراد ا طور تنقیص کا پہلو لئے ہوئے ہے۔ ہر مومن چاہیے تا کہ جب تک سانسوں کا رشتہ جڑا ہوا تک نبضوں کا ارتعاش قائم ہے تب تک قرآن رسالت کا کوئی معنی، کوئی پہلو نکال کر اُس کے

یا بالواسطہ، بہر طور انہیں ایک پیکج (kage اور اثبات کی آیات کو باہم یکجا کر کے ایک نے جو معنی، جو دلالت، جو مفہوم بتانے وہاں مراد نہ لیں تو یہ خدا کے کلام، قدرے جن آیات کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد و مفا ہٹ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کریں اور ان یہ درحقیقت قرآن پاک سے ایک طرح مفاہیم منشاء الہی کا آئینہ ہیں انہی کی جستجو الہی قرآن کی ہر آیت، ہر لفظ سے محبوب

صفحہ 5

جس سے حضور سید عالم ﷺ کی عظمت شان اجاگر ہو رہی ہو۔

اور اپنی توجہ کا رخ ایسا بنالیں کہ ہر آیت، ہر لفظ کا وہی معنی اور مفہوم ہمارا محل ارتکاز بن جائے جس سے خدائے ذوالجلال کی حقیقی منشاء اور مراد اجاگر ہورہی ہو۔ ہر صاحب ایمان کے لئے سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے محبوب ہیں اور قرآن حکیم خدا کا ازلی، ابدی کلام۔ سو ایسا ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کوئی ایک بھی آیت، ایک بھی لفظ ایسا موجود ہو جس سے خدا کی مراد اور منشاء یہ نکل سکے کہ وہ اپنے محبوب ﷺ کی کسی طور تنقیص کا پہلو لئے ہوئے ہے۔ ہر مومن کے دل میں یہ بات اچھی طرح جاگزیں ہو جانی چاہیے تا کہ جب تک سانسوں کا رشتہ جڑا ہوا ہے، جب تک دل میں دھڑکنیں باقی ہیں، جب تک نبضوں کا ارتعاش قائم ہے تب تک قرآن کے کسی لفظ، کسی آیت سے کوئی شخص تنقیص رسالت کا کوئی معنی، کوئی پہلو نکال کر اُس کے سامنے لانے کی جرأت نہ کر سکے۔

یا بالواسطہ، بہرطور انہیں ایک پیکج (Package) کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ جیسے علم غیب کی نفی اور اثبات کی آیات کو باہم یکجا کر کے ایک پیکج کے طور پر سمجھا جائے۔ جس آیت کو اللہ تعالیٰ نے جو معنی، جو دلالت، جو مفہوم بتانے کے لئے اُتارا ہے، اگر ہم اُس آیت سے وہی معنی وہاں مراد نہ لیں تو یہ خدا کے کلام، قدرت، تصرف کی نفی و انکار کے مترادف ہے۔ قرآن کی جن آیات کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد و مفاہیم کے لئے اُتارا ہم اگر اُن مقاصد و مفاہیم سے ہٹ کر انہیں سمجھنے کی کوشش کریں اور ان مفاہیم کے اثبات کے لئے انہیں ناکافی ٹھہرائیں تو یہ درحقیقت قرآن پاک سے ایک طرح کا اعراض اور روگردانی ہے۔ قرآنی آیات کے جو مفاہیم منشاء الٰہی کا آئینہ ہیں انہی کی جستجو اہل ایمان کا فریضہ ہے اور واقعہ یہ ہے کہ منشائے الٰہی قرآن کی ہر آیت، ہر لفظ سے محبوب خدا ﷺ کی عظمت و فضیلت کا اثبات چاہتی ہے۔

صفحہ 6

عظمت سیرت مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کے لئے یہ اسلوب اہل ایمان کو ہمیشہ ذہن نشیں رکھنا چاہیے۔

۳۔ نبی کریم ﷺ کے لئے قرآن کے خطاب تکریم کی پیروی امت پر

لازم ہے

برتے ہیں، ہر اسلوب میں ایک خاص برکت ہے۔ اور ہر برکت اسی طرزِ خطاب کی پیروی کرنے سے میسر آتی ہے جیسے درود پاک، جیسے تعلیم ذکر، جیسے خطاب ندا، گویا اللہ تعالیٰ نے جس انداز سے اپنے رسول ﷺ کو خطاب کیا ہے جب تک ہم اُس انداز سے اُس کے رسول ﷺ کو خطاب نہیں کریں گے، تعظیم و تقدیس میں خدا کے اس اسلوب کی پیروی نہیں کریں گے تب تک اُس اسلوب کی برکتیں ہمیں میسر نہیں آئیں گی۔ ”یا محمدﷺ“ اور ”یا رسول اللہ ﷺ“ میں یا کے اسلوب خطاب کی خاص برکتیں اور اثرات ہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کا فیضِ الوہیت ہے جو ”یا“ کے خطاب ندا سے پکارنے پر ہمیں نصیب ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کثرت سے حضور ﷺ کو ندائے خطاب سے پکارا ہے۔

دراصل اس خطاب ندا میں پکارنے والے کے دل اور روح کو براہِ راست نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں باریابی اور حضور ﷺ کی نسبت، کیفیت اور حالت میسر آتی اور حضور اقدس ﷺ کی عنایات کا خاص فیضان نصیب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا ہر قاری اگر اُس خطاب ندا کو اپنی طرف سے انشاء اپنا کر چلے تو براہ راست بارگاہ رسول ﷺ میں باریابی پاتا ہے اور رب کریم کی مہربانیوں کے حصار میں آ جاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ہر قرآن پڑھنے والے کو حضور اقدس ﷺ کی محفل میں پہنچانے کا اہتمام کر دیا ہے۔ یہ کرم ہے خدا کا اپنے رسول ﷺ کی امت پر۔

عبدیت کے حوالے سے خطاب ہ ہے۔ بندوں کے لئے خدا کے اس ا مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ا جرأتِ نازیبا کا تصور بھی نہیں کر سکتا دہرائے یا بیان کرے جو قرآن حکیم خطاب کرتے ہوئے فرمائے ہیں م کے پاس کچھ علم نہیں تھا اور خدا نے کے لئے روا نہیں کہ وہ خدا کی سطح رسول ﷺ کے ساتھ تعلق کے حوا ہے۔ بندوں کا مقام رسول اللہ ﷺ سطح کا مقام ہے ایک اُمتی کا مقا ادب و احترام کے ساتھ مخاطب کر کہ قرآن حکیم کی ایسی آیات اور میں تلاوت کرنے سے بھی احتیاط کرنے پر حضرت عمرؓ نے ایسا کر

ہیں۔ قرآن کے دو حصے ہیں: خ تعالیٰ کی عظمت اور نبوت کے آیات، اثبات بشریت کی تمام تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کی تع

صفحہ 7

عبدیت کے حوالے سے خطاب ہے۔ خطاب کا مقام اللہ تعالیٰ کی شان کبریائی ہی کے زیبا ہے۔ بندوں کے لئے خدا کے اس اسلوب بیان کا تتبع کسی طور جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے تعلق اور نسبت غلامی کا حقیقی شعور رکھتا ہو تو وہ کبھی ایسی جرأت نازیبا کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کے بارے میں ایسے الفاظ کہے، دہرائے یا بیان کرے جو قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے اپنے رسول ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمائے ہیں، جیسے معاذ اللہ کوئی شخص یوں کہے: ”یا رسول اللہ ﷺ آپ کے پاس کچھ علم نہیں تھا اور خدا نے آپ کو سکھا دیا“۔ دیکھئے بات دراصل یہ ہے کہ کسی بندے کے لئے روا نہیں کہ وہ خدا کی سطح پر جا کر اُس کے رسول ﷺ کو مخاطب کرے۔ خدا کی سطح رسول ﷺ کے ساتھ تعلق کے حوالے سے بالکل جداگانہ ہے اور یہ صرف رب ہی کا مقام ہے۔ بندوں کا مقام رسول اللہ ﷺ کے خطاب کرنے میں خدا کی سطح کا مقام نہیں، غلامی کی سطح کا مقام ہے ایک اُمتی کا مقام؛ اور امتی کو اسی حیثیت سے حضور اقدس ﷺ کو پورے ادب واحترام کے ساتھ مخاطب کرنا ہے۔ صحابہ کرام اس معاملے میں یہاں تک حساس تھے کہ قرآن حکیم کی ایسی آیات اور سورتیں جن میں بظاہر ایسا اسلوب خطاب نمایاں ہے، نماز میں تلاوت کرنے سے بھی احتیاط کیا کرتے تھے۔ چنانچہ سورہ عبس کی آیات نماز میں تلاوت کرنے پر حضرت عمرؓ نے ایسا کرنے والے شخص کو کوڑے مارنے کا ارادہ فرمایا۔

ہیں۔ قرآن کے دو حصے ہیں: ایک حصہ وہ ہے جس کا خطاب کفار ومشرکین سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور نبوت کے مقام ومنصب کو نہ جاننے والوں سے ہے۔ نفی علم غیب کی تمام آیات، اثبات بشریت کی تمام آیات قرآن کے اسی حصے سے متعلق ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کی زبان سے کفار کو خطاب کرایا ہے۔ پورے ذخیرۂ احادیث میں

صفحہ 8

ایک بھی حدیث پاک ایسی نہیں ہے جس میں حضور اقدسﷺ نے اہل عقل و دانش، اعلیٰ ایمان والے صحابہ، ابوبکرؓ و عمرؓ کے سامنے بالاصرار نفی علم غیب کا خطاب کیا ہو کیونکہ یہاں ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پس کھلا کہ نفی علم غیب کی قرآنی آیات کا محل و مصداق اس سے بالکل مختلف تھا جو منکرین شان رسالت نے سمجھا۔ اُس کے مخاطبین اہل کفر تھے۔ اگر آج کے یہ مفکرین شان رسالت خود کو انہیں کفار کی سطح پر رکھنا چاہتے ہیں اور انہیں کے زمرۂ خطاب میں رہنا چاہتے ہیں تو ضرور رہیں؛ ہم انہیں اس سطح سے اوپر اٹھا کر نہیں لا سکتے۔ یہی حال خطرۂ شرک کی آیات کا ہے۔ اُن کا خطاب بھی ایسے لوگوں سے ہے جو ابھی دنیائے شرک میں سانس لے رہے ہیں، نہ کہ صحابہ کرام اور کامل الایمان لوگوں سے ہے۔ اب یہ شرک کے وہم میں مبتلا لوگوں کا اپنا نصیب ہے کہ وہ خود کو کن لوگوں کے ساتھ ملاتے ہیں۔

۴۔ قرآن میں عظمت مصطفیٰﷺ کا صحیح فہم کلیات و جزئیات کے باہم

ارتباط میں ہے

جزئیات۔ مثلاً ایمان ایک کلی ہے اور اس کی شاخیں جزئیات۔ حفاظت دین ایک کلی ہے اور نماز پڑھنا جزئی۔ حفاظت نفس ایک کلی ہے اور قصاص ایک جزئی۔ شرک کی ممانعت ایک کلی ہے اور غیر اللہ کے لئے سجدۂ عبادت اس کی جزئی۔ شہد کا شفا ہونا ایک کلی ہے اور کسی خاص بیماری کے علاج میں شہد استعمال کرنا ایک جزئی۔ نماز اول وقت میں ادا کرنے کا حکم ایک کلی ہے اور نماز عشاء یا گرمیوں میں نماز ظہر کی تاخیر سے ادائیگی کا حکم ایک جزئی۔ حفاظت مال ایک کلی ہے اور اسراف کی ممانعت ایک جزئی۔

قرآن حکیم کو سمجھنے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی لینے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو بھی معاملہ یا مسئلہ پیش نظر ہو اس میں بیک وقت کلی قاعدہ اور جزئی

صفحہ 9

حکم دونوں کا اعتبار کیا جائے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی الگ نہیں ہوتے۔ ہر جزئی اپنے کلی اصول سے جڑی ہوتی ہے اور ہر کلی اپنی جزئیات کے ساتھ مل کر سمجھ میں آتی ہے۔ جہاں اور جس معاملہ میں بھی ان دونوں میں سے کسی ایک کو ترک کر دیا جائے وہاں قرآنی حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

کلیات اور جزئیات کا باہم مربوط و منسلک ہونا قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کو مختلف آیات اور احکام کے سمجھنے میں تعارض اور انحراف سے بچاتا ہے اور گمراہی کا راستہ روکتا ہے۔ وہ جو کہا گیا ہے کہ : بہت سے لوگ قرآن کو سمجھنے میں گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں (بقرہ:۲۶) تو اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ اسی بنیادی اصول سے غفلت برتنا ہے۔ آئیے ایک مثال سے اس کو سمجھیں:

پیغمبر کا بشر ہونا ایک کلی حکم ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اہم ترین جزئی یہ ہے کہ پیغمبر کی بشریت عام انسانوں سے ہر صورت فائق اور بے مثل ہوتی ہے۔ کوئی کسی بھی چیز میں پیغمبر کی مثل نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھئے گستاخان رسول کی سب سے بڑی گمراہی یہی ہے کہ وہ پیغمبر کی بشریت کا کلی حکم تو مانتے ہیں لیکن اس خاص جزئی سے قطع نظر کر لیتے ہیں اور اس بناء پر وہ شدید ترین گستاخی کے مرتکب ہو کر کفر کی دہلیز تک جا پہنچتے ہیں۔ اسی خرابی کا ایک بھیانک روپ ہے توحید کی آڑ میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنا اور ممانعت شرک کی کلی کو تعظیم رسالت کی ان گنت شرعی جزئیات سے کاٹ کر دیکھنا۔

ایسے لوگ یقیناً بدترین گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایسی ہی گمراہی ہے جیسی کمرشل انٹرسٹ میں تجارتی سود کو جائز سمجھنے کی برائی۔ یہاں بھی جواز تجارت کی کلی کو

صفحہ 10

حرمت سود کی جزئی سے کاٹ کر دیکھنا گمراہی کا سبب بنا ہے۔ پس یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ قرآنی آیات کے صحیح فہم کا دروازہ انسان پر کھلتا ہی تب ہے جب وہ ہر کلی کو اس کی جزئیات سے جوڑ کر دیکھے اور ہر جزئی کو اس کی کلی پر منطبق کر کے سمجھے۔

۵۔ حضور ﷺ کی ہر صفت کمال تعظیم اور شان یکتائی لئے ہے

سے منفرد، یکتا، یگانہ اور بے مثل دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر ارشاد باری تعالیٰ دیکھئے:

قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَىَّ

(کہف: ۱۱۰)

’’(اے پیکر رعنائی وزیبائی!) آپ ﷺ فرمائیے کہ میں بشر ہی ہوں تمہاری طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف‘‘

اس آیت کریمہ میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروا رہا ہے کہ میں تم جیسا بشر ہوں، وہیں خود آیت کریمہ کے آخری الفاظ اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مثلیت کا جو ظاہری اور سطحی مفہوم بعض لوگوں کے واہمے میں ابھر سکتا ہے اُسی مثلیت کی نفی کرنے کیلئے، اور اُسے اہل ایمان کے ذہنوں سے ہمیشہ کیلئے خارج کر دینے کی خاطر یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اُتاری ہے۔ یہ گمان بالکل غلط ہے کہ اس آیت کے نزول کا مقصد نبی کریم ﷺ کے عام انسانوں جیسا بشر ہونے کا اثبات ہے کیونکہ اس آیت کے نزول کے وقت اور اُس سے پہلے اور اُس کے بعد بھی روئے زمین پر حضور اقدس ﷺ کے بشر ہونے کا انکار کبھی کسی ایک بھی فرد مخلوق نے نہیں کیا۔ جب ساری دنیا پہلے ہی حضور اقدس ﷺ کی بشریت کا اقرار کر رہی ہے تو بھلا اس آیت میں مجادلہ اور تردید کا اسلوب کس کو منوانے کے لئے اختیار کیا گیا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت کریمہ بشریت کے اثبات کے لئے نہیں بلکہ حضور ﷺ کی بشریت کو عام لوگوں سے ممتاز اور بے مثل ثابت

صفحہ 11

کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔

۶۔ احکام شریعت کی اساس تعظیم رسول ﷺ ہے

سیدہ میمونہؓ کے ہاں قیام پذیر ہوا، اس خیال سے کہ میں نبی کریم ﷺ کی شبینہ نماز کی کیفیت دیکھوں۔ نصف شب کے بعد حضور اکرم ﷺ بیدار ہوئے۔ ذکر و تسبیح اور تلاوت قرآن کے بعد آپ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ پس میں نے بھی وضو کیا اور میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کیا لیکن میں پھر پلٹ کر آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے دوسری اور تیسری بار بھی اسی طرح کیا، لیکن میں ہر بار پلٹ کر آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو جاتا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے فرمایا:

ما منعك يا غلام ان تثبت فى الموضع الذى اوقفتك فيه فقلت: انت رسول الله ﷺ ولا ينبغى لاحد ان يساويك فى الموقف فقال ﷺ: اللهم فقهه فى الدين وعلمه التأويل

(بدائع الصنائع: ۱۵۹/۱)

”یعنی اے بچے تمہیں کس چیز نے وہاں کھڑے ہونے سے روکا جہاں میں نے کھڑا کیا تھا۔ میں نے عرض کی: آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور کسی انسان کے لئے روا نہیں کہ وہ آپ ﷺ کے برابر کھڑا ہو۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے میرے لئے دعا فرمائی: اے اللہ اسے دین کی سمجھ اور تفسیر کا علم عطا فرما“

دیکھئے اس روایت سے صاف آشکار ہے کہ خود حضور اکرم ﷺ نے اپنی تعظیم کو

صفحہ 12

دین کی سمجھ اور قرآن کے فہم سے تعبیر فرمایا۔ پس کھلا کہ تعظیم رسول ﷺ عین اساس تشریع، مدار دین اور تمام عبادات کا مغز و جوہر ہے۔

الحاصل انه يبدأ بما ادرك مع الامام وكان الحكم في الابتداء أن المسبوق يبداء بقضاء ما فاته حتى ان معاذاً جاء يوما وقد سبقه النبى ﷺ ببعض الصلوة فتابعه فيما بقى ثم قضى ما فاته فقال عليه السلام: ما حملك على ما صنعت يا معاذ فقال : وجدتك على حال فكرهت ان اخالفك عليه فقال عليه السلام: سن لكم معاذ سنة حسنة فاستنوا بها

(المبسوط: ۱/۳۵)

”یعنی جو شخص جماعت کھڑی ہونے کے بعد نماز میں شامل ہو وہ امام کے ساتھ جماعت مکمل کرے اور اپنی فوت شدہ رکعتیں بعد میں ادا کرے۔ ابتداء اسلام میں شرعی حکم یہ تھا کہ مسبوق پہلے وہ رکعتیں ادا کرے جو اس سے رہ گئی ہیں پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔ ایک دن حضرت معاذؓ نماز میں دیر سے شامل ہوئے تو انہوں نے پہلے حضور سرور کائنات ﷺ کی اقتداء میں نماز مکمل کی اور جو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں وہ بعد میں ادا کیں۔ حضور اکرم ﷺ نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت معاذؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میں نے آپ ﷺ کو جس حال میں پایا اسی حال میں آپ کی پیروی کرنے کو ترجیح دی اور فوت شدہ رکعتیں پہلے ادا کرنے کو آپ ﷺ کی پیروی کے منافی جانا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”لوگو! معاذؓ نے تمہارے لئے ایک اچھا طریقہ نکالا ہے، پس یہی طریقہ اپناؤ“

صفحہ 13

شریعت مطہرہ کے اس حکم میں یہ بات پوری طرح کھول کر بتا دی کہ محبت رسولﷺ ہی اساس تشریع ہے۔ دیکھئے نماز کے بارے میں شرعی حکم کچھ اور تھا مگر حضرت معاذؓ نے اپنے آقا و مولیٰﷺ کی تعظیم اور پیروی کی نیت سے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا جسے حضور اکرمﷺ نے دین بنا دیا۔ یہ سارا عمل محبت رسولﷺ میں ہوا تھا۔ محبت رسولﷺ میں شروع کیا جانے والا ہر عمل عین شریعت ہے۔ ایسے کسی عمل کو بدعت نہیں کہا جاسکتا۔ تعظیم رسولﷺ اور ادائے حق رسولﷺ شریعت میں جواز و اباحت کی اساس ہیں۔ ایسے عمل کو بدعت قرار دینا غلط ہوگا۔ بناء بریں بدعت کی صحیح تعریف یہ قرار پاتی ہے کہ: ”بدعت دین میں شروع کیا جانے والا ہر وہ نیا کام ہے جو شریعت کے قواعد و مقاصد کے منافی ہو اور جس کی اساس حب رسولﷺ، تعظیم رسولﷺ یا حقوق رسولﷺ پر استوار نہ ہو“۔ ایسا نیا عمل جس کی اساس حقوق رسولﷺ کی تعظیم پر قائم ہو وہ ہرگز بدعت نہیں ہے۔ یہ اصول خود شارعﷺ کا دیا ہوا ہے۔ اسے شریعت کے منہج استنباط، وجوہ اجتہاد، ادلہ احکام اور مصادر شریعت میں باضابطہ شامل ہونا چاہیے۔

الصنائع“ کے مطالعے سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ مصنف محبوب خداﷺ کی بے پناہ تعظیم و توقیر کو اساس ایمان سمجھتے ہوئے انتہائی باریک سے باریک فقہی جزئیے میں بھی اسے پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے حکم کا استنباط کرتا ہے۔ چنانچہ علامہ کاسانی بنو ہاشم کو زکوۃ دینے کی ممانعت کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زکوۃ کا مال چونکہ صاحب صدقہ کا تزکیہ اور تطہیر کرتا ہے اور نتیجۃً کدورت و میل، صدقہ کے مال میں آ جاتی ہے اس لئے ہاشمی خواہ مستحق زکوۃ ہی کیوں نہ ہو، اسے مال زکوۃ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے اور اس کی بنیاد تعظیم رسولﷺ ہے۔ علامہ کاسانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

”والمعنی انھا من غسالۃ الناس فیتمکن فیھا الخبث فصان اللہ تعالیٰ بنی ہاشم عن

صفحہ 14

ذلک تشریفا لہم واکراما تعظیما لرسول اللہﷺ،

(بدائع الصنائع:ج۲/۴۹)

’’یعنی بنو ہاشم کو زکوۃ دینے کی ممانعت کا راز یہ ہے کہ مال زکوۃ لوگوں کا میل ہے، سو اس میں ایک طرح کی آلائش پائی جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو اس آلائش سے محفوظ اور منزہ فرما دیا کیونکہ بنو ہاشم حضورﷺ کا خاندان ہے۔ پس یہ حکم حضور اکرمﷺ کی تعظیم و تقدیس اور برگزیدہ حیثیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے‘‘۔

احکام شرعیہ کے استنباط و استخراج کے عمل میں قدم قدم پر اہل ایمان کو اتباع رسولﷺ کی تعلیم دیتے ہیں؛ اور اس سلسلہ میں ہمیشہ قلبی اور وجدانی توجیہات پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ علامہ کاسانی وضو میں کلی کرتے ہوئے تین مرتبہ سے زیادہ منہ اور ناک میں پانی ڈالنے کی ممانعت کی شرعی توجیہہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

واما الزيادة على الثلاث فمن باب الاعتداء على ما قال النبي ﷺ فمن زاد او نقص فقد تعدى و ظلم

(بدائع الصنائع ۹۱/۲)

’’یعنی تین مرتبہ سے زائد پانی منہ میں ڈالنا فرمان مصطفیٰﷺ پر زیادتی اور سرکشی ہے۔ پس جو شخص آپﷺ کے فرمان سے زیادہ یا کم عمل کرے تو وہ اعتداء اور ظلم کا مرتکب ہے‘‘

تصریحات بالا سے ہمیں فقہاء امت کے عشق رسولﷺ اور اتباع سنت کے عمیق دلی جذبات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اتباع رسولﷺ کی کتنی اہمیت ہے۔ فقہاء کرام اتباع رسولﷺ کو ایمان اور پابندی احکام شریعت کی اساس گردانتے ہیں اور ہر

صفحہ 15

ہا رسول اللہ ﷺ ،،

(بدائع الصنائع : ج ۲/ ۴۹)

کی ممانعت کا راز یہ ہے کہ مال زکوۃ لوگوں کا میل کی آلائش پائی جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بنو اور منزہ فرما دیا کیونکہ بنو ہاشم حضور ﷺ کا خاندان ﷺ کی تعظیم و تقدیس اور برگزیدہ حیثیت کے پیش لا ہے‘‘۔

پناہ تعظیم و توقیر کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ فقہاء امت کے عمل میں قدم قدم پر اہل ایمان کو اتباع رسول ﷺ کی ں ہمیشہ قلبی اور وجدانی توجیہات پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ ہوئے تین مرتبہ سے زیادہ منہ اور ناک میں پانی ڈالنے کی تے ہوئے لکھتے ہیں:

ثلاث فمن باب الاعتداء على ما قال النبى ى فقد تعدى و ظلم

(بدائع الصنائع ۹۱/۲)

پانی منہ میں ڈالنا فرمان مصطفیٰ ﷺ پر زیادتی اور پ ﷺ کے فرمان سے زیادہ یا کم عمل کرے تو وہ

ہیں فقہاء امت کے عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت کے ہے کہ ان کے نزدیک اتباع رسول ﷺ کی کتنی اہمیت ہے۔ مان اور پابندی احکام شریعت کی اساس گردانتے ہیں اور ہر

حکم شریعت کی حکمت اتباع مصطفیٰ ﷺ ہی کو قرار دیتے ہیں۔

ابن قدامہ المغنی میں لکھتے ہیں:

والمأخوذ من احكام الذمة ينقسم خمسة اقسام: ...... واما الشعور فانهم لا يفرقون شعورهم لان النبى ﷺ فرق شعره

(المغنی: ۲۴۸/۱۳)

’’یعنی ذمیوں سے متعلق احکام پانچ اقسام کے ہیں: ...... ایک یہ کہ وہ اپنے بالوں میں مانگ نہ نکالیں کیونکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی صفت مبارکہ تھی۔ آپ ﷺ مانگ نکالا کرتے تھے۔

دیکھئے کس قدر اہم اور بنیادی شرعی حقیقت یہاں اجاگر ہو رہی ہے کہ حضور سید عالم ﷺ کا طرز زیست، آپ ﷺ کے اوصاف عالیہ، احوال و کیفیات اور عادات و خصائل سب کے سب شعائر اسلامی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مانگ نکالنا بظاہر ایک عام سا عمل محسوس ہوتا ہے لیکن یہی عمل جب حضور اکرم ﷺ نے اختیار فرمایا تو اب یہ کوئی سرسری عمل نہیں رہا بلکہ دین حق کی پہچان بن گیا۔ اس طرح معلوم ہوا کہ حضور انور ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ اسلام کی شعائر و علامات اور مقدسات دینی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں بالفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شریعت اسلامی کے تمام احکام و آداب اور اخلاق و شعائر درحقیقت نبی اکرم ﷺ کے اوصاف نبوت اور کمالات سیرت ہی کا عکس و پرتو ہیں۔ حاصل یہ کہ سیرت طیبہ سرچشمۂ دین اور اساس تشریع ہے۔ شعائر اسلامی دراصل حضور اکرم ﷺ کی صفات و عادات اور طرز حیات کا نام ہے۔

صفحہ 16

ناموسِ رسول ﷺ اور عہدِ جدید کا چیلنج

۱۔ اسلام کی طاقت عشقِ رسول ﷺ

(۱)۔ اسلام سے پہلے دنیا میں بہت سے مذاہب آئے اور ہر مذہب کسی نہ کسی علاقے اور قوم میں رائج ہو گیا۔ گویا ان سب مذاہب نے دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ اب بعد میں آنے والے کسی مذہب کے لئے اپنی جگہ بنانا بہت مشکل تھا؛ مگر دنیا حیران ہے کہ اسلام سب سے آخر میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی سے زیادہ دنیا پر چھا گیا۔ جس تیز رفتاری کے ساتھ اسلام دنیا میں پھیلا ہے اسکی مثال پوری انسانی تاریخ میں کوئی اور نہیں ملتی۔ جو مذاہب دنیا میں پہلے سے موجود تھے انہیں مجبوراً اسلام کے لئے جگہ خالی کرنا پڑی۔ اور آج بھی امریکہ، یورپ اور باقی دنیا میں جس تیز رفتاری سے اسلام پھیل رہا ہے اس سے دنیا بھر کی اسلام دشمن طاقتیں خوفزدہ ہیں اور اسی لئے یہودی، عیسائی اور ہندو اسلام کو مٹانے کیلئے ایکا کر چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر اسلام کے اندر وہ کون سی ایسی طاقت ہے جس کی بدولت یہ سب سے آخر میں آنے والا مذہب دنیا کے سب پرانے مذاہب پر دیکھتے ہی دیکھتے غالب آ گیا۔ پھر چودہ سو سال میں بے شمار فتنے اسلام کو مٹانے کیلئے ابھرتے رہے۔ مرتدین، سبائی، تاتاری، خارجی، ناصبی، معتزلی، باطنی، صلیبی، بہائی، اکبری اور قادیانی وغیرہ؛ مگر یہ سارے فتنے اسلام سے ٹکراتے اور بالآخر خود ہی دم توڑ دیتے۔ ان میں سے کوئی بھی اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ اس کی وجہ کیا ہے: وہی اسلام کی غیر معمولی طاقت جس کی بدولت یہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا پر چھا گیا اور جس کے بل بوتے پر آج بھی ہر طرف تیزی سے پھیل رہا

صفحہ 17

ہے۔

اپنے بھی اور غیر بھی، سبھی اسلام کی اس غیر معمولی طاقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ آج ہی نہیں، پہلے دن سے آگاہ ہیں۔ ہجرت کے چھٹے سال نبی اکرمﷺ تقریباً پندرہ سو صحابہ کرام کو اپنے سایۂ عاطفت میں لئے کعبۃ اللہ کی زیارت اور عمرہ کیلئے روانہ ہوئے۔ مکہ مکرمہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ کفار مکہ مزاحمت پر اتر آئے۔ پھر انہوں نے یکے بعد دیگرے اپنے کئی نمائندے گفتگو کے لئے حضور اکرمﷺ کے پاس بھیجے؛ پر عالم یہ تھا کہ جو بھی قریش کا نمائندہ بارگہِ رسولﷺ میں آتا وہ آپﷺ کا ترجمان بن کر مکہ لوٹتا۔ اسلام کی یہی غیر معمولی طاقت ہر ایک کو مسحور کر دیتی۔

یہ طاقت کیا تھی اور کیسے ہر آنے والا اس سے مبہوت ہو جاتا۔ قریش کا ایک نمائندہ عروہ بن مسعود ثقفی جو خود طائف کا بڑا سردار تھا، جس نے قیصر و کسریٰ اور دوسرے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار بھی دیکھے ہوئے تھے اور جو یہی غرور و پندار لیکر مکہ سے حدیبیہ آیا تھا کہ مجھے مسلمانوں کی کوئی چیز متاثر نہیں کر سکتی؛ مگر جب وہ حدیبیہ سے واپس مکہ لوٹا تو قریش کو اسلام کی عالمگیر طاقت سے ڈرا رہا تھا۔ عنقریب اسلام کے یقینی غلبہ کی پیشنگوئی کر رہا تھا۔ اور ساتھ ہی قریش کو اسلام کی اس غیر معمولی قوت کے آگے جھک جانے کی تلقین کر رہا تھا۔ لیجئے! اسلام کی اس غیر معمولی ابدی طاقت کا اعلان خود عروہ بن مسعود ثقفی کی زبان سے سنئے:

یاقوم انی وفدت الی الملوک: کسری و قیصر والنجاشی وانی واللہ ما رایت ملکاً قط اطوع فیما بین ظہرانیہ من محمد ﷺ فی اصحابہ، واللہ ان رایت ملکاً قط یعظمہ اصحابہ ما یعظم اصحاب محمد محمداً، ولیس بملک واللہ ما تنخم

صفحہ 18

نخامة الا وقعت في كف رجل منهم فدلک بھا وجهه وجلده، واذا امرهم بامر ابتدروا امره، واذا توضأ كادوا يقتتلون على وضوئه ايهم يظفر منه بشیء، ولا يسقط شیء من شعره الا اخذوه، واذا تكلم خفضوا اصواتهم عنده، وما يحدون النظر اليه تعظيما له، ولا يتكلم رجل منهم حتى يستأذن، فان هو اذن له تكلم، وان لم ياذن له سكت، وقد عرض عليكم خطة رشد فاقبلوها، قد حرزت القوم، واعلموا انكم ان اردتم منهم السيف بذلوه لكم، وقد رايت قوما لايبالون ما يصنع بهم اذا منعتم صاحبهم، والله لقد رايت معه نسا ما كن ليسلمنه ابدا علی حال

(سبل الہدیٰ والرشاد: ۴۵/۵)

”اے اہل مکہ! میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں جا چکا ہوں۔ بخدا میں نے کسی بادشاہ کے ساتھیوں کو اس کی اتنی تعظیم کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد ﷺ کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ محمد ﷺ کے اصحاب تو ان کا لعاب دہن بھی زمین پر نہیں گرنے دیتے بلکہ اپنے چہروں پر مل لیتے ہیں ۔ جب محمد ﷺ کوئی حکم دیتے تو سب تعمیل کے لئے دوڑ پڑتے اور جب وضو کرتے تو ان کے مستعمل پانی کے قطرے چننے کے لئے اس قدر بیتابی سے لپکتے کہ یوں لگتا آپس میں لڑ پڑیں گے۔ جب وہ بولتے تو سب خاموش ہو جاتے اور فرطِ تعظیم سے اپنی نگاہیں جھکائے رکھتے۔ اگر تم لوگ محمد ﷺ کو روکنے کے لئے نکلے تو ان کے عقیدت کیش ساتھی اپنی جانیں ان پر نچھاور کر دیں گے“۔

دیکھیے عروہ کیا کہہ رہا ہے، اسلام کی اصل طاقت کیا ہے جس سے دشمنوں کو ڈرنا

صفحہ 19

چاہیے؛ اور فی الواقع جس سے پوری دنیائے کفر آج تک ڈر رہی ہے۔ جی ہاں! وہ طاقت ہے مسلمانوں کا جذبۂ عشق رسول ﷺ۔ عروہ جتنی دیر حدیبیہ میں رہا، اس دوران وہ صحابۂ کرام کے معمولات کا گہری نظر سے جائزہ لیتا رہا۔ وہ ان کے ایک ایک عمل، ایک ایک ادا اور ایک ایک لمحے کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ وہ ان کا باہمی اتحاد اور یک جہتی دیکھ رہا تھا۔ جذبۂ ایثار و خدمت دیکھ رہا تھا۔ وہ ان کی نمازیں دیکھ رہا تھا۔ تلاوت و عبادت میں اُن کا والہانہ پن اور ذکرِ الٰہی میں جوش و خروش کا عالم دیکھ رہا تھا۔ وہ ان کی آنکھوں میں دیدار کعبہ کے مچلتے ارمان اور خدا کے نام پر قربانی کیلئے ان کی بیتابی دیکھ رہا تھا۔ وہ راہ خدا میں ان کا شوق جہاد اور ولولۂ شہادت دیکھ رہا تھا۔ مگر اسکو کیا کہئے کہ عروہ کی نگاہ ان میں سے کسی چیز پر نہیں ٹکی۔ اسے اگر اسلام کی طاقت کہیں نظر آئی تو وہ صحابہ کا جذبۂ عشق رسول ﷺ تھا۔ اسے اگر عالم کفر کے لئے کوئی خطرہ محسوس ہوا تو اسی جذبۂ عشق کے اندر محسوس ہوا۔ دینِ اسلام کے عالمگیر غلبہ کا یقین اگر اس کے دل میں اترا تو اسی جذبۂ عشق مصطفیٰ ﷺ کی بناء پر۔

ﷺ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مسلمانوں کا سب سے قیمتی عمل یہی ہے۔ نمازیں اگر خدا کو پسند ہیں تو صرف وہی جن میں عشق رسول ﷺ کی حرارت ہو۔ ذکر و فکر اگر اسے چاہیے تو صرف وہی جو تصور مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبا ہو۔ مخلوق کی خدمت اور ہمدردی اگر خدا کے ہاں معتبر ہے تو صرف وہی جو محمد رسول اللہ ﷺ کی شانِ رحمت کا پرتو ہو۔ رب ذوالجلال مسلمانوں کو اگر متحد دیکھنا چاہتا ہے تو صرف ایک ہی نقطہ پر۔ اور وہ نقطہ ہے غلامی مصطفیٰ ﷺ۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں:

دل بہ محبوب حجازی ﷺ بستہ ایم زیں جہت با یک دگر پیوستہ ایم

یعنی ہمارے دل محبوب حجازی ﷺ کی ذاتِ گرامی سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لئے ہم سب ایک ہیں۔

صفحہ 20

یہی اللہ تعالیٰ کا وہ ابدی پیغام ہے جو اس نے قرآن حکیم کے لفظ لفظ میں پرو کر نوع انسانی کے نام اتارا ہے۔ یہی وہ اعلان تھا جو اس نے اہلِ مکہ کے سامنے عروہ بن مسعود ثقفی کی زبان سے ادا کروایا۔ یہی اسلام کی وہ اصل طاقت ہے جس کے بل بوتے پر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام ساری دنیا میں چھا گیا۔ اور مسلمانوں کی یہی وہ لازوال قوت ہے جس سے آج بھی دنیائے کفر لرزہ براندام ہے۔ مسلمانوں کی نمازوں، روزوں، ذکر و فکر اور تسبیح و تلاوت سے کفار نہیں ڈرتے۔ وہ تو خود ایسے گروہوں کی پرورش کرتے ہیں جو مسلمانوں کو عشق رسول ﷺ کے جذبے سے خالی کر کے بس نماز، روزہ کی تلقین کرتے رہیں۔ انہیں تو ایسی اتباع سنت سے بھی کوئی خطرہ نہیں جس میں نری سنتوں کی نقالی تو ہو۔ مگر صاحب سنت محبوب خدا ﷺ کی ذات گرامی سے عشق ومحبت کا زندہ تعلق استوار نہ ہو۔

دنیا بھر کے کافروں کو اگر سچ مچ کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ مسلمانوں کا جذبہ عشق رسول ﷺ ہے۔ انہیں ڈر ہے تو شہیدانِ ناموس رسالت کے لہو کی سرخی سے۔ وہ کانپتے ہیں غازی علم دین شہید کی تڑپ اور عبدالقیوم شہید کے جذبوں سے۔ غازی مرید حسین کی امنگوں اور محمد صدیق شہید کے ولولوں سے۔ وہ گھبراتے ہیں غازی میاں محمد کے جوشِ بے پایاں اور عبداللہ شہید کے عزم جواں سے۔ ان کا بدن لرزتا ہے غازی عبدالرشید کی جرأت اور منظور حسین کی للکار سے۔ وہ جانتے ہیں عالم کفر کی موت جن مسلمانوں کے ہاتھوں لکھی ہے وہ شمع رسالت کے ایسے ہی پروانے ہیں۔

چودہ صدیوں پر پھیلی تاریخ گواہ ہے کہ شمع رسالت کے انہی پروانوں نے شجر اسلام کی آبیاری ہر دور میں اپنے لہو سے کی ہے۔ اسلام انہی کے دم سے ہر عہد میں تابندہ رہا ہے۔ صحابیت اسی جذبہ عشق مصطفیٰ ﷺ اور والہانہ سرفروشی سے دمک رہی ہے۔ اہلبیت کی جاں نثاری نے ریگ زارِ کربلا میں اپنے لہو کی جو سرخی نچوڑی تھی، آج بھی اسلام کے گلشن میں ساری بہار اسی کی ہے۔ اولیاء کا کارواں بستی بستی، کوچہ کوچہ درد کی جو سوغات لئے

صفحہ 21

پھرتا ہے۔ اس درد میں ساری بیقراری عشق مصطفیٰ ﷺ کی ہے۔ جو شخص عاشق رسول ﷺ نہیں۔ وہ ولی تو درکنار، مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ عشق مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ ہی ہے جو ایمان کی کھیتی کو ہرا بھرا رکھتا ہے۔ اس بات کو جتنا کفار جانتے ہیں اتنا شاید مسلمان بھی نہیں جانتے۔ اس لئے دنیا بھر کے کفار سب سے پہلے اور سب سے بڑھکر مسلمانوں کے اس جذبہ عشق رسول ﷺ سے ڈرتے ہیں اور وہ صدیوں سے اپنی ساری توانائیاں اسی ایک نقطے پر مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اہل ایمان کے دل سے جذبہ عشق رسول ﷺ کی تپش مٹادیں۔ یہی ان کا منصوبہ کل بھی تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اور یہی ہے عہد جدید کا سب سے بڑا چیلنج عاشقان رسول ﷺ کے لئے۔

چنانچہ علامہ اقبال نے عہد حاضر کی ابلیسی طاقتوں کے دجل وفریب، مکر و سازش اور فتنہ و آزار کی تمام پرتیں کھول کر دکھا دی ہیں۔ اپنے ایک شعر میں وقت کے اس نباض نے عہد جدید میں امت مسلمہ کے سب سے بڑے اضطراب اور المیہ کو یوں اجاگر کیا ہے ؎

عصر ما، ما را ز ما بیگانہ کرد از جمال مصطفیٰ ﷺ بیگانہ کرد

۲۔ عہد جدید نے ہمیں عشق سے بیگانہ کر دیا

جمال مصطفیٰ ﷺ سے اہل ایمان کو بیگانہ کرنیکی سازش کہاں سے پھوٹی اور کیسے پروان چڑھی، یہ عالم آشکار ہے۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام دشمن قوتیں تاریخ کے مختلف ادوار میں دین حق کو مٹانے کیلئے اپنے سب حربے آزما چکیں، لیکن اسلام مٹنے کی بجائے مزید ابھرتا گیا۔ سکڑنے کی بجائے اور پھیلتا گیا۔ دبنے کی بجائے سب پر حاوی ہوتا گیا۔ دیکھو مدعیان نبوت ابھرے اور دم توڑ گئے۔ مرتدین بھاگے اور مٹ گئے یا لوٹ آئے۔ سبائی، فتنے لیکر اٹھے اور خود بھی فتنوں سمیت معدوم ہو گئے۔ خارجی بگڑے اور لڑلڑ کر

صفحہ 22

ختم ہو گئے۔ یورپ کے صلیبی لشکر طوفان اٹھاتے ہوئے آئے اور صدیوں تک آتے رہے لیکن مجاہدین اسلام کے گھوڑوں کی اڑائی ہوئی گرد میں ڈوب گئے۔ تاتاری صحرائے گوبی سے اٹھے اور آندھی بگولے کی طرح ہر سو چھا گئے، مگر جب وہ اہل اسلام کی کھوپڑیوں کے مینار بنا چکے، تو ایک دم پلٹے اور سب کے سب حلقہ بگوش اسلام ہو کر کعبہ کی دہلیز پر جھک گئے۔ بقول اقبال۔

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

تاریخ کے یہ سب ادوار جب دشمن دیکھ اور بھگت چکا تو اس نے فیصلہ کیا کہ اب اپنے ترکش کا آخری تیر چلا دینا چاہیے تا کہ امت مسلمہ کا سینہ ایسا گھائل ہو کہ پھر یہ زخم مٹ نہ سکے۔ یہ تیر کون سا تھا، اور یہ کس زہر ہلاہل میں بجھا ہوا تھا؟۔ اس کا رمز شناس بھی دانائے عصر علامہ اقبال ہی ہے۔ وہ بیسویں صدی میں استعمار کی حکمرانی کا راز فاش کر رہا ہے اور ابلیس کا اپنے فرزندوں کے نام سب سے بڑا حکم سنا رہا ہے۔ لیجئے سنئے! ابلیس کا سب سے بڑا حکم کیا تھا؟

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

یہ حکم بیسویں صدی کے آغاز میں جاری ہوا اور پھر شیطان کی ذریت اس آخری مشن کی تکمیل میں لگ گئی۔ تاریخ انسانی کا یہ سب سے بھیانک مشن کیوں اور کیسے شروع کیا گیا؟ اس کے محرکات اور اسباب وعوامل کیا تھے؟ اس کے پس پردہ کار فرما قوتیں کون کون سی تھیں؟ کون کون آلہ کار بنے؟ تکمیل کے وسائل و ذرائع کیا تھے؟ اس کے لئے تدابیر کون سی اختیار کی گئیں؟ اس کے زہریلے اثرات کہاں کہاں اور کیوں پھیلے؟ یہ سب سوالات ایسے ہیں جن پر تفصیل سے گفتگو ہونی چاہئے، مگر یہاں ایسا ممکن نہیں۔ تاہم اختصار کے ساتھ بنیادی امور کی نشاندہی کی جائے گی۔

ا۔ صلیبی جنگوں کا تسلسل

یہودیت اور عیسائیت کر کے بڑی تیزی سے آگے بڑھ پوری دنیائے معلوم پر آندھی و طوفان کا آخری پیغام نوع انسانی کے نام رسالت کے جلوے ہر سو پھیل گئے اس کے قدم رک گئے اور تثلیث تھے اور مسیحیت کی فوج ناکارہ و ب کی قوت اندھیروں میں کھوئی ہو ہوئے تھی اور مسیحی کلچر فرسودہ وان ایک ٹھہرے ہوئے پانی کا جوہڑ سب ہتھیار کند ہو چکے تھے۔ ا تھی؟۔

چنانچہ نہ صرف عیس رسوائی کے ساتھ ہزیمت اٹھا سینے میں بھڑک اٹھی جس نے برداشت نہ کر سکے، اور جیسے اسلام پر چڑھ دوڑے۔ کئی س پنجے پھیلائے ہوئے آتے رہے۔ لیکن جیسے ہی یورپ

صفحہ 23

١۔ صلیبی جنگوں کا تسلسل

یہودیت اور عیسائیت اسلام سے پہلے دنیا میں موجود تھیں۔ عیسائیت روم کو فتح کر کے بڑی تیزی سے آگے بڑھتی اور پھیلتی جا رہی تھی؛ اور قریب تھا کہ مشرق و مغرب کی پوری دنیائے معلوم پر آندھی و طوفان کی طرح چھا جاتی کہ اچانک فاران کی چوٹیوں سے خدا کا آخری پیغام نوع انسانی کے نام گونجا اور دیکھتے ہی دیکھتے خاتم النبیین رحمۃ للعالمین ﷺ کی رسالت کے جلوے ہر سو پھیل گئے۔ عیسائیت جو کہ پہلے بے روک ٹوک آگے بڑھ رہی تھی، اس کے قدم رک گئے اور تثلیث کے فرزند ہر محاذ پر پسپا ہونے لگے۔ اسلام کے لشکر تازہ دم تھے اور مسیحیت کی فوج ناکارہ و دم گرفتہ ۔ اسلام کی توانائی نور ازل سے فیضیاب تھی اور کلیسا کی قوت اندھیروں میں کھوئی ہوئی۔ اسلام کی تہذیب ، نشاط و ولولہ اور تازگی و رعنائی لئے ہوئے تھی اور مسیحی کلچر فرسودہ و از کار رفتہ ۔ اسلام ایک عالمگیر رحمت کا دہارا تھا اور عیسائیت ایک ٹھہرے ہوئے پانی کا جوہڑ ۔ اسلام کا اسلحہ جدت اور ندرت کا شاہکار تھا اور مسیحیت کے سب ہتھیار کند ہو چکے تھے۔ ایسے میں بھلا عیسائیت اسلام کے مقابلے میں کہاں ٹھہر سکتی تھی؟۔

چنانچہ نہ صرف عیسائیت کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے بلکہ اسے ذلت اور رسوائی کے ساتھ ہزیمت اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔ اور یہیں سے ایک انتقام کی آگ عیسائیت کے سینے میں بھڑک اٹھی جس نے کلیسا کے ہر فرزند کو شعلہ بنا دیا۔ تثلیث کے فرزند پھر کبھی اسلام کو برداشت نہ کر سکے، اور جیسے ہی انہیں سنبھلنے کا موقع ملا صلیبی انتقام کے پرچم اٹھائے عالم اسلام پر چڑھ دوڑے۔ کئی سو سال تک یورپ کے وحشی سپاہی اسلام کو مٹانے کیلئے اپنے خونی پنجے پھیلائے ہوئے آتے رہے اور زخمی ہو کر اپنا ہی خون چاٹتے ہوئے واپس بھاگتے رہے۔ لیکن جیسے ہی یورپ ذلت و رسوائی کا آخری داغ اٹھا کر لوٹا مسلمانوں کے لشکر بھی زرہ

صفحہ 24

بکتر اتار کر ستانے لگے۔ اور یہی وہ لمحہ غفلت تھا جب مسلمانوں کی آنکھوں سے ان کی منزل اوجھل ہوگئی۔ وہ سمجھے کہ کفر دم توڑ گیا ہے اور اہل ایمان آخری فتح سے ہمکنار ہو چکے ہیں؛ مگر یہی ان کی غلطی تھی۔ کفر کب ہار ماننے والا تھا۔ چنانچہ مسلمان فتح کی آغوش میں سوئے رہے اور تثلیث کے فرزند اپنے پنجے تیز کرتے رہے تا آنکہ بیسویں صدی میں انہوں نے اپنا پینترا بدلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر محاذ پر اہل ایمان کو للکارنے لگے۔

ایک طرف فلسفہ اور سائنس کا محاذ تھا جہاں ڈارون اور اسکے ساتھی نظریہ ارتقاء کی اوٹ سے تہذیب اسلامی کو للکار رہے تھے؛ دوسری طرف نفسیات اور اخلاق کا محاذ تھا جہاں فرائڈ میکڈوگل اور انکے ہمنوا جنس اور جبلت کے عنوان سے اولاد آدم کو ہوس پرستی کی راہ دکھا رہے تھے۔ تیسری طرف معاشیات و عمرانیات کا محاذ تھا جہاں ہیگل اور مارکس جدلیاتی مادیت اور دولت پرستی کو فروغ دے رہے تھے۔ یوں فلسفہ اور سائنس سے لے کر معیشت اور اخلاق کے سب دائروں تک ہر سو مادیت کا بسیرا تھا؛ اور مذہب و روحانیت کے سب پاکیزہ چشمے گدلانے لگے تھے۔ اب چونکہ مذہب و روحانیت کا حقیقی علمبردار اس عہد میں صرف اسلام ہے، اس لئے مادیت (Materialism) کی سب سے پہلی اور براہ راست، سب سے بڑی اور آخری زد صرف اور صرف اسلام ہی پر پڑی۔

عیسائیت کی اسلام پر یلغار علم و فکر کے ان محاذوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سپاہ ولشکر کے تازہ حملے عسکری محاذ پر اس چابکدستی سے پھیلنے لگے کہ یورپی استعمار کے ہراول دستے ہر اسلامی خطے میں آگئے۔ تثلیث کی معاندانہ سرگرمیاں اس قدر گہری اور خفیہ سازشوں پر استوار تھیں کہ ۱۹۱۴ء میں پہلی عالمگیر جنگ کے شعلوں نے عثمانی خلافت کو اپنی آغوش میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جلا کر راکھ کر دیا۔ پھر اس راکھ کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر صلیبی یہ نعرہ لگانے لگے: ”آج ہم نے صلیبی جنگوں میں ناکامی کا انتقام لے لیا“۔ چنانچہ جب فرانسیسی جرنیل غورو ملک شام کو فتح کرتا ہوا دمشق پہنچا تو مجاہد اسلام صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر پر آیا اور

صفحہ 25

اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے چلانے لگا۔

”او صلاح الدین! اٹھ اور دیکھ کہ ہم اپنی شکستوں کا بدلہ لے چکے ہیں اور تیری سرزمین پر بطور فاتح لوٹ آئے ہیں“

(القوميۃ والغزو الفکری، ص ۸۴)

اسی طرح جب برطانوی جرنیل ایلن بی نے بیت المقدس پر حملہ کیا تو یورپ نے اسے آٹھواں صلیبی حملہ قرار دیا اور بیت المقدس کی فتح پر اسے ”صلیبی جنگوں کے فاتح کا لقب دیا“۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کا خاتمہ بیت المقدس کی پاکیزہ فضاؤں میں تثلیث کے نعرے گونجنے پر بھی نہیں ہوا بلکہ یہاں سے ان صلیبی جنگوں نے ایک نیا موڑ لیا۔ وہ نیا موڑ کیا تھا۔ آئیے خود تثلیث کے علمبرداروں ہی سے پوچھتے ہیں:۔

بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں امریکی پالیسیوں کی بنیادی فکر اور اس کا رخ متعین کرتے ہوئے مسٹر آئی یوجین روستو امریکی نائب وزیر خارجہ نے امور خارجہ کے منصوبہ بندی شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ بیان دیا۔

”ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ ہمارے (یورپ و امریکہ ) اور عرب اقوام کے اختلاف محض دو ریاستوں کے اختلافات نہیں ہیں بلکہ یہ صدیوں سے محیط اسلام اور عیسائیت کے مابین پائی جانے والی کشمکش کا نتیجہ ہیں۔ یہ کشمکش ہمیشہ ایک آتش فشاں لاوے کی طرح برقرار رہی ہے، اگرچہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے اسلام یورپی غلبہ کے آگے سرنگوں ہو چکا ہے اور اسلامی تہذیب وثقافت ہمارے مسیحی کلچر کے سامنے اپنا سر جھکا چکی ہے لیکن اس کے باوجود یہ کشمکش ختم نہیں ہوئی، لہٰذا امریکی منصوبہ بندیوں کی اصل بنیاد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمیں مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کو ہر قیمت پر جاری رکھنا چاہیے۔“

(معرکۃ المصیر ص ۸۷۔۹۴)

صفحہ 26

ب ۔ آخر اسلام ہی مغرب کا واحد ہدف کیوں؟

سوال یہ ہے کہ یورپ و امریکہ کی تمام پالیسیوں کا واحد ہدف (Target) اسلام کیوں ہے؟ پہلی جنگ عظیم میں عثمانی خلافت کو مٹا کر اور تمام عالم اسلام کو صلیبی استعمار کے سازشی پنجوں میں جکڑ کر بھی یورپ نے سکون کا سانس کیوں نہیں لیا! اور آج بھی ہر محاذ پر اسلام ہی کے خلاف کیوں اپنی ساری طاغوتی قوتیں صرف کر رہا ہے۔ آخر وہ کون سا خوف ہے جس سے پوری صلیبی دنیا لرزہ براندام ہے۔ لیجئے خود انہی کی زبان سے سنئے۔ ایک شہرۂ آفاق مغربی محقق گارڈنر لکھتا ہے:

”اسلام کے اندر وہ غیر معمولی قوت و طاقت پوشیدہ ہے جو یورپ کیلئے حقیقی اور اصلی خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔“

(التبشیر ، ص ۳۹)

ایک اور عیسائی مبلغ اور یورپی نمائندہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے!

”مذہب اسلام ہی میں وہ غیر معمولی قوت اور توانائی پوشیدہ ہے جو سد سکندری کے طور پر ایک ناقابل تسخیر دیوار بن کر فروغ عیسائیت کی راہ میں حائل ہے اور یہی وہ قوت ہے جس نے ان بے شمار ممالک کو جو کل تک عیسائی تھے، مسیحیت کی آغوش سے نکال کر اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔“

(جذور البلاء ص ۱۲۰)

ایک یورپی دانشور اشعیا بومان نے ”مجلة العالم الاسلامی التبشیریۃ“ میں اپنے ایک مقالہ میں لکھا:

”یورپ کے لئے واجب ہے کہ وہ اسلام کو اپنے لئے خوف و خطرہ کا حقیقی سبب قرار دے کیونکہ اسلام اپنے آغاز سے لیکر آج تک مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ تمام براعظموں پر پھیلتا جارہا ہے۔“

(لم ھذا الرعب کلہ من الاسلام، ص ۵۵)

صفحہ 27

مغرب کا ایک اور نامور محقق لارنس براؤن اسلام کی اس غیر معمولی طاقت اور اس میں پوشیدہ یورپ کیلئے سب سے بڑے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”ہمارے قائدین عوام کو کئی طرح کے خطرات سے ڈرایا کرتے تھے لیکن جب ہم نے گہرائی میں اتر کر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ سارے خطرات اوہام و وساوس کے سوا کچھ نہ تھے۔ یورپ کیلئے نہ صہیونیت خطرہ ہے نہ جاپانیت اور نہ اشتراکیت بلکہ صرف اور صرف اسلام ہمارے لئے خطرہ ہے۔ ہماری تہذیب وثقافت اور ہمارے استعمار کی راہ میں سب سے بڑی آہنی رکاوٹ اسلام ہی ہے کیونکہ تنہا اس کے اندر آگے بڑھنے، پھیلنے، دوسری تہذیبوں کو اپنے اندر جذب کرنے اور اقوام عالم کے اذہان وقلوب کو اپنے لئے مسخر کرنے کی بدرجہ اتم استعداد وصلاحیت موجود ہے“۔

(التبشیر والاستعمار، ص ۱۴۸)

صرف عیسائیت ہی نہیں، بیسویں صدی کا سب سے بڑا فتنہ کمیونزم بھی اسلام اور تنہا اسلام ہی کو اپنے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانتا ہے۔ ازبکستان کی اشتراکی پارٹی نے اپنے روز نامہ ”کیزیل ازبکستان“ ۲۲ مئی ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں اداریہ لکھا کہ:

”اسلام کو نیست و نابود کئے بغیر کمیونزم کے لئے تنہا ازبکستان ہی میں نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں کہیں بھی جڑیں پکڑنا ناممکنات میں سے ہے ۔“

(الاسلام والتنمية الاقتصادية، ص ۵۶)

اسکی وجہ بھی روس کے ایک سابق وزیراعظم خروشیف نے خود ہی بتادی کہ:

”اسلام انقلابی عوام اور انقلابی اقوام کا دین ہے اور یہ اپنی انقلابیت کا ہمیشہ تحفظ کرتا رہے گا ۔“

(القومية والغزو الفکری، ص ۸۸)

صفحہ 28

ج۔ عالم کفر کا سب سے بڑا منصوبہ

اسلام کی وہ امتیازی خصوصیت کیا ہے جس میں اس کی تمام تر انقلابی قوت کا راز پنہاں ہے اور جس کا وہ ہمیشہ تحفظ کرتا رہے گا، اس کا ادراک خود دورِ حاضر کے مسلمانوں کو ہو یا نہ ہو، بیسویں صدی کا یورپ اور سارا عالم کفر اس سے اچھی طرح آگاہ تھا اور ہے۔ لیجئے ایک امریکی یہودی پروفیسر ہرٹز (Hertz) جو فوجی امور کا بھی ماہر تھا، اس کی زبان سے سن لیجئے:

”مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کے دل رسول عربی ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہیں اور یہی وہ جذبہ ہے جو عالمی صیہونیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جو اسرائیل کی توسیع کے راستہ میں ایک زبردست رکاوٹ ہے؛ لہٰذا یہودیوں کیلئے بہت ضروری ہے کہ وہ محمد عربی ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کے اس جذبۂ محبت کے تمام وسیلوں کو کمزور تر کر دیں۔ تبھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔“

(فلسطین، بیروت: جنوری ۱۹۷۲ء)

چودہ سو سال گزر چکے مگر یہودیوں کے حواس پر آج بھی فاتح خیبر سید عالم ﷺ کا رعب مسلط ہے۔ جبھی تو اسرائیل کا ایک سابق وزیر اعظم بن گوریان یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ:

”میں بڑی شدت سے ایک چیز کا خطرہ محسوس کرتا ہوں اور ہم میں سے کون ہے جو اس چیز کا خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ ایسا نہ ہو کل کلاں کوئی عالم عرب یا عالم اسلام میں نیا محمد ﷺ ظہور پذیر ہو جائے۔“

(جریدہ الکفاح الاسلامی: شمارہ اپریل، دوسرا ہفتہ ۱۹۵۵ء)

دیکھا آپ نے، اسرائیل کے صیہونی لشکر کس طرح نام محمد ﷺ کی مقناطیسی قوت کے خوف سے لرز رہے ہیں۔ یہ خوف چودہ سو سال سے ان کے دلوں پر مسلط ہے؛ اور

صفحہ 29

خیبر و روم سے ہوتا ہوا یہ خوف آج انٹار کٹکا سمیت آٹھوں براعظموں میں پھیلی دنیائے کفر و طاغوت کے ہر گوشے میں سرایت کر چکا ہے۔ یہ ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ کی عظمت و سطوت کا ہلالی پرچم ہے جو الوہی توانائیوں سے بھر پور آفاق کے ہر گوشے میں لہرا رہا ہے؛ اور جس سے آج خدا کا ہر باغی لرزہ براندام ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ فرانس کے ایک مستشرق کیمون کی زہر آلود زبان سخت ترین گالیاں دیتے ہوئے بھی اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکی کہ:

”محمد مصطفیٰ ﷺ کی قبر ایک ایسا پاور اسٹیشن ہے جہاں سے مسلمانوں کے قلوب واذہان میں توانائی کی لہریں ایسی پیدا ہوتی ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، لہذا میرا پختہ اعتقاد ہے کہ یورپ کے مادی و معنوی وجود کو برقرار رکھنے کیلئے ضرورت ہے کہ ہم مسلمانوں کی کل آبادی کا 1/5 حصہ بالکل مٹا دیں، کعبہ کو گرا دیں اور (معاذ اللہ) محمد عربی ﷺ کا وجود (اقدس) قبر سے نکال لیں۔“

(الاتجاہات الوطنیۃ ، ۱/ ۳۲۱ القومیۃ والغزو الفکری ،ص۱۹۲

الفکر الاسلامی الحدیث وصلۃ بالاستعمار الحدیث،ص۵۱)

د۔ ابلیس کے ترکش کا آخری تیر

یہیں سے وہ مخصوص صلیبی ذہنیت برآمد ہوتی ہے جو بیسویں صدی میں تمام مغربی اقوام اور اداروں پر کالی گھٹا کی طرح چھائی ہوئی تھی اور جو یورپ وامریکہ کی تمام پالیسیوں کی بنیاد تھی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ اسلام کے خلاف اس صلیبی ذہنیت کا اظہار کس کس رنگ میں ہوا، یہ داستان بہت طویل بھی ہے اور عجیب بھی؛ مگر میں تو اس روح میں جھانکنا چاہتا ہوں جو اظہار کے ان سب سانچوں میں یکساں طور پر جلوہ گر ہے۔ وہ روح کیا

صفحہ 30

ہے: بیسویں صدی میں یورپ کے مشنری ادارے تمام عالم اسلام کے گلی کوچوں میں حشرات الارض کی طرح پھیل گئے اور ہزار ہا سرطان کی طرح امت مسلمہ کے جسم میں اپنے زہریلے پنجے گاڑھ دیئے۔ ان مشنری اداروں کا مقصد اساسی متعین کرتے ہوئے ایک رپورٹ تیار کی گئی جس کا عنوان تھا:

“Christian Workers in Islamic World”

اس رپورٹ کا مرتب لکھتا ہے:

”ہم مسیحی کارکنوں کا فرض ہے کہ ہم اسلام کے خلاف تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کے دلوں میں سے یقین و اعتماد کو متزلزل کر دیں۔ ایسی کتابیں، لٹریچر اور دیگر چیزیں شائع کرتے رہیں جس سے اللہ کی ذات وصفات، محمد ﷺ کی رسالت، عظمت اور سیرت، نیز قرآن کی محفوظیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں“

(التبشیر والاستعمار، ص ۱۹۱)

یہ تھا بیسویں صدی میں یورپ، امریکہ اور پورے عالم کفر کا سب سے بڑا مشترکہ منصوبہ جس پر اس پوری صدی میں کام ہوتا رہا اور اکیسویں صدی میں بھی جاری رہے گا۔ آئیے ایک برطانوی جاسوس ہمفرے کے اعترافات اس کی اپنی ڈائری میں سے پڑھیں اور صلیبی استعمار کے اس زہریلے منصوبے کی بعض تفصیلات سے آگاہی حاصل کرتے چلیں:

”مدتوں حکومت برطانیہ اپنی نوآبادیوں کے بارے میں فکرمند رہی اور ایسے منصوبے بناتی رہی جن سے ہماری نوآبادیاں مستحکم ہوں اور نئے علاقوں میں ہمارا اثر و رسوخ قائم ہو۔ اس سلسلے میں ایک مربوط جاسوسی نظام تشکیل دیا گیا۔ ہزاروں جاسوس تمام مسلم علاقوں میں بھیجے گئے اور ان کی رہنمائی کیلئے کئی کتابیں اور رپورٹیں تیار کروائی گئیں جن میں سے ایک کتاب کا عنوان تھا:

صفحہ 31

”اسلام کو کیونکر صفحہ ہستی سے مٹایا جائے۔“

اس میں وہ بہترین عملی پروگرام مرتب تھے جن پر برطانوی جاسوسوں کو کام کرنا تھا۔ نو آبادیاتی علاقوں کی وزارت نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں نجد کے محمد بن عبدالوہاب کو ایک نئے دین کے اظہار کی دعوت پر آمادہ کروں کیونکہ وہ ایک قابل بھروسہ اور ہمارے مقاصد کو روبہ عمل لانے کیلئے مناسب ترین آدمی تھا۔ چنانچہ میں شیخ سے ملا اور اسے ہمارے پروگرام کی تکمیل پر آمادہ پا کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ہمارا پروگرام جسے شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے انجام دینا تھا، ان نکات پر مشتمل تھا:

کے بہانے مکہ، مدینہ اور دیگر شہروں میں جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو تاراج کرنا۔

کرنا۔

شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے مجھے یہ اطمینان دلایا کہ وہ نو آبادیاتی علاقوں کی وزارت کے اس پروگرام کو روبہ عمل لانے میں اپنی پوری کوشش کرے گا اور پھر وہ اس کام پر لگ گیا۔

(ہمفرے کے اعترافات، تلخیص)

صفحہ 32

توہین رسالت کے چند فتنے

نجد سے پھوٹنے والا توہین رسالت کا یہ استعماری فتنہ بیسویں صدی میں اپنے نقطہ عروج کو جا پہنچا اور اس کے برگ و بار عالم اسلام کے تمام خطوں میں پھیل گئے۔ کہیں انکار سنت کے آئینے میں۔ کہیں مستشرقین اور مستغربین کی سیرت نگاری کے آہنگ میں۔ کہیں مسلمانوں میں سے چند گستاخان رسول ﷺ کے ذریعہ۔ کہیں ہندو شاتمان رسول ﷺ کی دریدہ دہنی کی صورت اور کہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے روپ میں۔ آئیے: کسی قدر اختصار کے ساتھ توہین رسالت کے ان فتنوں کی جھلک دیکھیں:

۱۔ مستشرقین کی ہرزہ سرائی

صلیبی جنگوں میں ہزیمت کے بعد عیسائی دانشوروں نے فکری و تحریری محاذ پر اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تمام عیسائی فرقے اپنے اختلافات بھلا کر تحریک استشراق کے محاذ پر یکجا ہو گئے اور یہ طے کیا گیا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف علمی زہر اگلنے میں جہاں پہلے صرف راہب پادری قصہ گو اور شاعر وغیرہ ڈٹے ہوئے تھے، اب ان کی جگہ مغربی دنیا کے وہ عقلاء اور فضلاء لیں گے جو کلاہ علمی سے آراستہ ہوں گے۔

چنانچہ مستشرقین خاص کر مسیحی مشنری کے سرگرم حلقے حضور سید عالم ﷺ کی عظمت و مقبولیت کو بزعم خود گھٹانے کے لئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں لگ گئے۔ انہوں نے علمی تحقیق کی آڑ میں حضور اقدس ﷺ کی ذات گرامی پر معاندانہ تنقید کو اپنی تحریر و تقریر کا محور بنالیا؛ اور آپ ﷺ کے خلاف ہر انداز سے زہر اگلنا شروع کر دیا۔ مستشرقین نے سیرت

صفحہ 33

نگاری کی آڑ میں صحیح واقعات سے غلط نتائج نکالنے، من مانی توجیہات کرنے اور افترا پردازی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یورپی مصنفین کی ذہنی پستی ، دشنام طرازی، مبالغہ آمیزی اور فاسد توجیہات کا اندازہ صرف ایک مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد، حضور اکرم ﷺ کے فکر و عمل کو عیسائیت کا چربہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کے اسم گرامی کو بھی ہر ممکن بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ بعض کینہ پرور مصنفین نے آنحضرت ﷺ کے اسم گرامی کو ماہومٹ (Mahomet)، بعض نے موہاؤنڈ (Mohound) اور بعض نے بافومٹ (Baphomet) یا بافوم (Bafum) قرار دیا۔ (العیاذ باللہ )

ان متعصب ہرزہ سراؤں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف اپنے بغض وانتقام کو ہر ممکن طریقے سے ظاہر کیا۔ اگر چہ میں اپنی تحریر کو ان کے گھناؤنے الزامات سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا ، مگر کیا کروں ، چند فاسد اقوال نقل کئے بغیر تحریک استشراق اور تنقیص رسالت کے خدوخال واضح نہیں ہو سکتے ۔ چنانچہ دل پر ہاتھ رکھ کر مستشرقین کی چند ہفوات بطور نقل کفر، کفر نباشد پڑھ لیجئے:

نہ ہوئی تو انتقاماً کلیسا سے اپنا تعلق توڑ لیا اور عیسائیت کے مقابلے میں ایک نیا مذہب ”اسلام“ بنالیا۔

لشکر کشی ، انتقام اور خونریزی کا بازار گرم کر دیا۔

صفحہ 34

ذریعہ۔

بنالیا مگر جب اقتدار حاصل ہو گیا تو ان کے ساتھ دشمنی شروع کردی۔

معاشرتی تبدیلیوں کے پیاسے تھے لہذا ایک سیاسی لیڈر اور معاشرتی مصلح کی طرح اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ (معاذ اللہ)

اجازت دینے والے۔

کئے گئے۔

قارئین کرام : میں نے شدید کرب کے عالم میں یورپی متعصبین کے صرف چند الزامات نقل کئے ہیں؛ اور محض ایسے الزامات جو کسی قدر کم توہین آمیز محسوس ہوئے ، ورنہ ان لوگوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف جو بیہودہ زبان لکھی ، اس کا پڑھنا یا بیان کرنا کسی شریف انسان کے بس میں نہیں ہے۔ بیسویں صدی اس تحریک استشراق کا نقطۂ عروج ثابت ہوئی ہے۔ اس عہد میں تحریک استشراق کو بھر پور فروغ حاصل ہوا۔ کمیت اور کیفیت ہر دو اعتبار سے نت نئے رجحانات ابھرے ۔ مستشرقین کی ایک بہت بڑی تعداد سامنے آئی۔ اس میں ہر قسم کے مستشرقین شامل تھے جو یورپ کے تقریباً تمام علاقوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ چند مستشرقین کے نام یہ ہیں۔ گولڈ زیہر، ولہان ، یوجین یونگ ، موئے ، گاڈ فرے، الفانسو، نالینو، نولڈیکی، ہر گرونج، جوزف ہورووز ، ونسنک ، نکلسن ، اسٹینلے لین پول ، رابرٹ بریفالٹ، جوزف ہیل، تھامس آرنلڈ، گستاؤ لیبان، ایچ جی ویلز، ایچ اے آرگب، ولفریڈ

صفحہ 35

سمتھ، جوزف شاخت وغیرہ۔

ان مستشرقین نے مختلف موضوعات پر تصنیف و تالیف کے ڈھیر لگا دیئے۔ اکثر تصانیف روایتی صلیبی تعصب کا شکار ہیں؛ تاہم چند مستشرقین نے قدرے انصاف پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور یقیناً اچھے لوگ ہر جگہ، ہر قوم و مذہب میں موجود ہوتے ہیں۔ بعض مستشرقین نے تو کمال انصاف و دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضور سید عالمﷺ کی سیرت طیبہ کے فروغ و اشاعت میں غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے ایسے ہی منصف مزاج محققین میں سے کئی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔ بہر آئینہ بیسویں صدی میں عناد پرور مستشرقین نے اپنی سرگرمیوں کو زیادہ منظم کرنے کے لئے متعدد تحقیقی ادارے قائم کئے مثلاً سوسائٹی ایشیاٹک پریس، امریکن اورینٹل سوسائٹی اور رائل ایشیاٹک سوسائٹی وغیرہ۔ استشراقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے بہت سے رسائل و جرائد شروع کئے گئے۔ غرض تحریک استشراق کے تمام شعبوں میں انتہائی تیز رفتار ترقی ہوئی۔ آکسفورڈ، کیمبرج، لندن اور مغرب کی دوسری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسلامی علوم کے لئے خاص نشستیں قائم کی گئیں؛ اور یہ سارا انہماک اور جوش و خروش اپنے روایتی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے تھا۔ حضور اکرمﷺ کی ذات گرامی سے بغض، عداوت اور تعصب کی جو آگ روز اول سے یہود و نصاریٰ کے دلوں میں دہک رہی تھی، ہنوز اسی طرح شعلہ زن ہے۔ ایک اطالوی مصنف فرانسسکو جبریلی نے اپنی کتاب ( Mohammad and the conquest of Islam ) میں برملا یہ کہا ہے کہ:

”مستشرقین کی پرانی دشمنی عہدِ جدید میں بھی جاری ہے“۔

مستشرقین کا رد....... یہ قرض ابھی باقی ہے

بیسویں صدی کے مستشرقین اپنی اسلام دشمنی میں نت نئے محاذ کھولتے رہے اور

صفحہ 36

مسلمان محققین پورے اخلاص، دلسوزی اور دردمندی کے ساتھ ان کی افتراء پردازی، غلط بیانی اور تلبیس و بددیانتی کا پردہ چاک کرنے میں مصروف رہے۔ مستشرقین کے رد میں برصغیر کے اندر مطالعہ سیرت کا علمی محاذ سب سے پہلے سرسید احمد خان نے کھولا؛ اور اس حقیقت کے باوجود کہ سرسید اپنی تجدد پرستی کے باعث دینی حلقوں میں مطعون تھے، انہوں نے جذبہ ایمانی اور جرأت رندانہ سے کام لیکر اپنے ہم عصر مستشرق ولیم میور کی دل آزار تصنیف The life of Mohammad پر خاموش رہنا گوارا نہ کیا اور اہانت رسول ﷺ کا بدلہ لینے کیلئے اپنا تن، من، دھن سب لگا دیا۔ انہوں نے یورپ میں جاکر خالص علمی سطح پر اس گستاخ رسول مستشرق کے اعتراضات کا جواب لکھا۔ یوں سرسید کی کتاب ”الخطبات الاحمدیہ“ سے گویا مستشرقین کے مقابلہ میں ایک جوابی علمی تحریک کا آغاز ہو گیا۔

پٹنہ کی بستی پھلواری کے تاجدار شاہ سلیمان پھلواری کی تحریک و ترغیب پر ایک عاشق رسول محقق قاضی سلیمان منصور پوری نے تین جلدوں میں ایک مایہ ناز کتاب ”رحمۃ للعالمین“ لکھ کر شائع کی جو آج تک اہل علم و دانش اور اہل ذوق و محبت کے ہاں یکساں مقبول ہے۔ اس کتاب میں قاضی صاحب نے بطور خاص غیر مذاہب کے اعتراضات کا جواب اور یہود و نصاریٰ کے باطل افکار کا رد کیا ہے۔ جسٹس سید امیر علی ایک ممتاز قانون دان اور بلند پایہ مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنی کئی کتابوں میں مستشرقین کے اعتراضات کا مفصل رد کیا بالخصوص سیرت طیبہ پر اپنی اہم ترین کتاب A critical Examination of life and teachings of Mohammad (PBUH) میں مستشرقین کی گستاخیوں پر تنقید و محاکمہ کیا ہے۔ پروفیسر سید نواب علی علوم جدیدہ کے ماہر اور مستشرقین کی ہرزہ سرائیوں سے خوب واقف تھے۔ انہوں نے اپنی متعدد تصانیف خاص کر ”سیرت رسول ﷺ“ میں مستشرقین کی ہفوات کا ٹھوس جواب دیا ہے۔

سیرت طیبہ پر اس عہد میں جو سب سے بڑا کام ہوا اور جس کا اصل محرک

صفحہ 37

مستشرقین کی ہرزہ سرائیوں ہی کا رد تھا وہ ”سیرت النبی ﷺ“ ہے جس کا آغاز علامہ شبلی نعمانی نے کیا اور تکمیل کی سعادت سید سلیمان ندوی کو حاصل ہوئی۔ علامہ شبلی نعمانی نے اس کتاب کا جو نقشہ مرتب کیا تھا، اگر ان کی زندگی وفا کرتی اور وہ اس کے مطابق کام کر سکتے تو ”سیرت النبی ﷺ“ مستشرقین کے اعتراضات کا مکمل اور یادگار جواب بن جاتی، لیکن ایسا نہ ہوسکا؛ اور یہ قرض ابھی امت مسلمہ کے ذمہ باقی ہے۔ امید ہے آگے چل کر حضور سید عالم ﷺ کے بہت سے غلام اس قرض کو اتارنے کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے۔

۲۔ فتنہ مرزائیت کا ناسور

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جھوٹی نبوت کا دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی ابھرا اور اپنے پیچھے ایک ایسی نجس تاریخ چھوڑ گیا ہے جس کے تعفن سے ہمیشہ انسانیت کا دم گھٹتا رہے گا۔ فتنہ احمدیت اسلام کے خلاف انگریزوں کی ایسی بدترین سازش ہے جسے انہوں نے محض شروع ہی نہیں کیا بلکہ آج تک اسے پال رہے ہیں اور ایک سو سال سے زیادہ عرصہ پر پھیلی ہوئی اس سازش کی مسلسل لمحہ لمحہ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی تو نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد 7 سال کے اندر اندر مرگیا۔ لیکن اس کے مکر و فریب کا پردہ اسی وقت پوری طرح چاک ہو گیا تھا اور یہ بات اس کے سرپرستوں کیلئے بہت پریشانی کا باعث تھی۔ ان کی سازش پہلے ہی لمحے ناکامی کے خطرے سے دوچار ہوگئی تھی۔ بس یہی وہ مرحلہ تھا جب انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اس لگائے ہوئے پودے کو آخر تک انہیں خود سنبھالنا ہوگا۔ لمحہ لمحہ اس کی نگہداشت کرنی ہوگی۔ اسے ہر موسم کی سختی سے ،ہر باد مخالف کے تھپیڑے سے، ہر خطرے اور ہر اندیشے سے بچانا ہوگا اور داد دیجئے کہ اب تک وہ اپنے اس فریب کو پوری طرح نبھا رہے ہیں اور بڑی کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

صفحہ 38

انگریز اچھی طرح اس بات کو جانتے ہیں کہ آج اگر انہوں نے مرزائیت کی سرپرستی چھوڑ دی تو یہ فتنہ لمحوں میں اپنی موت آپ مر جائے گا۔ انہیں یہ بھی احساس ہے کہ مرزائیت کی موت یہود و نصاریٰ کی ایک اور بدترین صلیبی شکست ہوگی۔ کیونکہ مرزائی امت مسلمہ کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں یہ ان کی اپنی نہیں صلیبیوں کی جنگ ہے۔ کیا بد نصیبی ہے مرزائیوں کی۔ خدا نے انہیں فاران کے چاند سید المرسلین ﷺ کے سایۂ رحمت سے نوازا؛ مگر انہوں نے مہتاب عرب ﷺ کی ٹھنڈی میٹھی، کومل چاندنی کو ٹھکرا کر نصرانیت کی صلیب اٹھا لی اور امت مسلمہ کے خلاف بیسویں صدی کی سب سے مکروہ صلیبی جنگ شروع کر دی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہر پچھلی صلیبی جنگ کی طرح بالیقین اس تازہ صلیبی جنگ میں بھی آخری فتح اسلام ہی کی ہوگی؛ اور تاریخ انسانیت کی بدترین شکست کا داغ بالآخر قادیانیوں کے مکروہ چہرے پر ثبت ہوگا کہ یہی خدا کا اٹل فیصلہ ہے:

جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

(اسراء:۸۱)

حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا بیشک باطل کو نابود ہونا ہی تھا

نیز فرمایا:

هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ

(صف:۹)

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں

ویسے تو آج کوئی مسلمان اس بارے میں ذرا بھی شبہ نہیں رکھتا کہ مرزائیت انگریزوں کا لگایا اور پالا ہوا پودہ ہے کیونکہ اس بات کا اقرار تو خود قادیانی بھی کرتے ہیں۔ خود مرزا غلام احمد سے لے کر آج تک کسی مرزائی نے اس سے انکار نہیں کیا۔ تاہم علمی تحقیق

صفحہ 39

کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بیسویں صدی کی اس بھیانک سازش کا اقرار خود انگریزوں کی زبان سے سنئے:

۱۔ جعلی نبوت کا منصوبہ

۱۸۶۹ء میں انگلستان سے دانشوروں، سیاستدانوں اور پادریوں پر مشتمل ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لئے انڈیا آیا کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کے جوش و خروش کے اسباب کیا تھے؟ اور آئندہ انہیں اس حد تک کمزور کرنے کے لئے کہ پھر وہ کسی تحریک میں حصہ نہ لے سکیں، کیا اقدامات کئے جائیں۔ کس طرح حکومت برطانیہ کے لئے پیدا شدہ خطرات کا سدباب کیا جاسکے؟۔ یہ برطانوی وفد کئی پہلوؤں پر کام کرتا رہا۔ ایک سال بعد ۱۸۷۰ء میں وفد کے اراکین نے لندن میں ایک کانفرنس بلائی جس میں ہندوستان کے نمائندہ مشنریوں نے بھی شرکت کی۔ برطانوی کمیشن اور مشنریوں کی طرف سے ہندوستان میں مذہبی تخریب کاری کے پروگرام کی دو الگ رپورٹس پیش ہوئیں جنہیں یکجا کر کے ایک جامع رپورٹ بنا دیا گیا۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے: "The Arrival of British Empire in India" رپورٹ میں انگریزوں نے اپنی سامراجی ضروریات کی تکمیل کے لئے مسلمانوں میں ایک ایسا جعلی نبی کھڑا کرنے کی ضرورت اجاگر کی ہے جو انگریزوں کی ہدایات پر کام کرے اور امت مسلمہ میں ہمیشہ کے لئے فتنے کا بیج بو دے۔ رپورٹ میں کہا گیا:

"Majority of the population of the country blindly follow their "peers," their spiritual leaders. If at this stage, We succeed in finding out someone who would be ready to

PDF 40

declare himself a "Zilli Nabi"(apostolic prophet) then the large number of people shall rally aroundhim. Such prophethood can flourish under the patronage of the govt.We have already over-powered the native govts mainly pursuing a policy of seeking help from the traitors. That was a different stage, for at that time, the traitors were from the military point of view. But now when we have sway over every nook of the country and there as peace and order everywhere,we ought to undertake measures, which might create internal unrest among the country."

(Extract from the printed Report,India office library)

ملک (ہندوستان) کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروں یعنی روحانی رہنماؤں کی پیروی کرتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس بات کے لئے تیار ہو کہ اپنے لئے ظلی نبی (تابع نبی) ہونے کا اعلان کردے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی۔ ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی غداروں کی مدد حاصل کر کے ہندوستانی حکومتوں

کو محکوم بنایا لیکن وہ مختلف م ضرورت تھی۔ لیکن اب جبکہ ہے اور ہر طرف امن وامان ملک میں داخلی بے چینی پی

(اقتباس مطبوعہ رپورٹ انڈیا آف

انگریز کو ہندوستان م درکار تھا وہ بہت جلد اسے مل گیا ۔ دفتر میں منشی کی ملازمت کر رہا تھا فتویٰ تھا جس میں ہندوستان کو الزام میں گرفتار کر لیا۔ دوران م طور پر کام کر سکے۔ یہ خدمت م ایم ۔اے بٹلر جو برطانوی اعلیٰ پ آڑ میں طویل ملاقاتیں کیں اور جب یہ پادری بٹلر لندن واپس چیت ہوئی اور معاملات کو حتمی ”سیرت مسیح موعود“ میں لکھتا ہے ”ریورنڈ بٹلر ایم اے صاحب (مرزا غلام ا ولایت واپس جانے م اور جب ڈپٹی کمشنر صا بٹلر نے کہا کہ صرف

صفحہ 41

کو محکوم بنایا لیکن وہ مختلف مرحلہ تھا۔ اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی ضرورت تھی۔ لیکن اب جبکہ ہم نے ملک کے کونے کونے میں اقتدار جمالیا ہے اور ہر طرف امن وامان ہے، ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہیں جن سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا ہو سکے؟

(اقتباس مطبوعہ رپورٹ انڈیا آفس لائبریری لندن، بحوالہ قادیان سے اسرائیل تک ، ص ۲۴)

انگریز کو ہندوستان میں جعلی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے جس قسم کا مکروہ شخص درکار تھا وہ بہت جلد اسے مل گیا۔ ۱۸۶۸ء کے لگ بھگ مرزا غلام احمد سیالکوٹ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں منشی کی ملازمت کر رہا تھا۔ ایک عرب محمد صالح ہندوستان آئے۔ ان کے پاس ایک فتویٰ تھا جس میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا گیا تھا۔ انگریزوں نے انہیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش ایک ایسے آدمی کی ضرورت پڑی جو عربی کے مترجم کے طور پر کام کر سکے۔ یہ خدمت مرزا غلام احمد نے ادا کی اور اسی عرصہ میں ایک مشہور پادری ایم۔اے بٹلر جو برطانوی انٹیلی جنس کا ایک رکن تھا اور جس کے ساتھ مرزا نے مذہبی بحث کی آڑ میں طویل ملاقاتیں کیں اور انگریزوں کی خدمت و وفاداری کے لئے ہر قسم کا یقین دلایا۔ جب یہ پادری بٹلر لندن واپس جانے لگا تو مرزا کے پاس خصوصی ملاقات کیلئے آیا۔ خفیہ بات چیت ہوئی اور معاملات کو حتمی صورت دی گئی۔ مرزا غلام احمد کا بیٹا مرزا محمود اپنی تصنیف ’’سیرت مسیح موعود‘‘ میں لکھتا ہے۔

’’ریورنڈ بٹلر ایم اے جو سیالکوٹ مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کیلئے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہو تو ریورنڈ بٹلر نے کہا کہ صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے ؛ اور جہاں آپ بیٹھے

صفحہ 42

تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔

(سیرت مسیح موعود،ص ۱۵)

یہی وہ ملاقات تھی جس نے بیسویں صدی کے اس بھیانک فتنے کی راہ ہموار کی ۔ چنانچہ پادری بٹلر سے ملاقات کے بعد اسی سال مرزا غلام احمد بغیر کسی ظاہری معقول وجہ کے اہلمد کی نوکری چھوڑ کر واپس قادیان چلا گیا اور تصنیف و تالیف کے کام میں لگ گیا۔ تصنیف و تالیف سے لے کر جھوٹی نبوت تک مرزا کا سفر کئی مراحل و مدارج پر محیط ہے۔ پہلے مناظر بنا، پھر مصلح کا روپ دھارا، پھر مجدد کا سوانگ بھرا۔ آگے بڑھا تو مہدی اور پھر مسیح موعود کے بہروپ میں سامنے آیا؛ اور آخر کار بیسویں صدی کے آغاز میں جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

ب۔ مرزا قادیانی اور توہین رسالت

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت ہی خود سب سے بڑی توہین رسالت تھی، مگر اس نے تو حضور سید المرسلین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کی حد ہی کر دی۔ چند گستاخیاں بطور نمونہ پیش خدمت ہیں:

خدا نے آج سے بیس برس پہلے میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ،ص۱۰،روحانی خزائن،۲۱۲/۱۸)

اور نہیں پہچانا۔

(خطبہ الہامیہ،۱۷۱،روحانی خزائن،۲۵۸/۱۲)

صفحہ 43

مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث ہوئے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں بہ نسبت پہلے سالوں کے اقویٰ اور اشد اور اکمل ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“

(خطبہ الہامیہ، ص ۱۸۲، روحانی خزائن، ۲۷۲/۱۶)

(تحفہ گولڑویہ، ص ۲۷، روحانی خزائن، ۱۵۳/۱۷)

میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا؟

(اعجاز احمدی، ص ۷۱، روحانی خزائن، ۱۸۴/۱۹)

نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔

(اربعین نمبر ۴، ص ۱۰۳، روحانی خزائن، ۲۴۵/۱۷)

(ازالہ اوہام، ۲/ ۳۶۴)

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ، ص ۱۶۵)

صفحہ 44

(اعجاز احمدی،ص۵۶)

حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔

(مرزا کا ایک مکتوب مندرجہ اخبار الفضل، ۲۲فروری ۱۹۲۴)

مرزا کے لئے قدرت کا تازیانہ ۔ تاجدار گولڑہ

ادھر مرزا غلام احمد نے جعلی نبوت کا دعویٰ رچایا اور شان رسالت میں گستاخیاں کیں، ادھر خدا نے اسکی گرفت کا فیصلہ کر لیا اور حسی ومعنوی سزاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ علمی وفکری محاذ پر مرزا کی گرفت کے لئے خدا نے جس شخصیت کو سب سے پہلے میدان عمل میں اتارا اس کا نام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرالعزیز ہے۔ رب قدوس کی بے پایاں عطاؤں نے آل رسول کے اس چشم و چراغ کو علم ،عمل اور روحانیت ہر دائرے میں نمایاں شرف و امتیاز بخشا اور فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے بطور خاص تیار کیا تھا۔ چنانچہ کئی مکاشفات سے یہ امر آپ پر آشکار ہو چکا تھا کہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے فتنہ کا سدباب آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ ۱۸۹۰ء میں حج کے موقع پر آپ نے حجاز مقدس ہی میں سکونت پذیر ہونے کا ارادہ فرمایا تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے بناء بر کشف آگاہ ہو کر فرمایا تھا کہ: ”عنقریب سر زمین ہند میں ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہونے والا ہے جس کا سد باب آپ سے ہوگا۔“ آپ کے وطن لوٹنے کے بعد اگلے ہی سال مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان کر دیا اور علماء اسلام سے مناظرہ بازی شروع کر دی۔ اس موقع پر آپ کو عالم رؤیا میں حضور سید عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آقائے دو عالم ﷺ نے مرزا کی تردید کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہ شخص میری احادیث کو تاویل کی قینچی سے کتر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو؟“

صفحہ 45

اس حکم کی تعمیل یوں ہوئی کہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ نے ۱۹۰۰ء میں ایک رسالہ ”شمس الہدایت فی اثبات حیات المسیح“ لکھا اور مرزا قادیانی کے باطل نظریات کی تردید کی۔ یہ رسالہ قادیان پہنچا تو مرزا نے طیش میں آ کر پیر صاحب کو مناظرہ کا چیلنج کر دیا کہ ”آؤ میرے ساتھ عربی زبان میں تفسیر نویسی کا مقابلہ کرلو۔“ حضرت پیر مہر علی شاہ قدس سرہ نے فوری طور پر مرزا کا چیلنج قبول کر لیا اور عربی تفسیر نویسی کے ساتھ ساتھ مرزا کے عقائد و نظریات پر زبانی مناظرہ کی دعوت بھی دی اور اس کا اشتہار چھپوا کر ملک بھر میں پھیلا دیا۔ جب مناظرہ کا دن قریب آیا تو ملک کے طول وعرض سے ہزار ہا مسلمان لاہور پہنچ گئے۔ علماء و مشائخ اور عوام و خواص ہر طبقے کے معززین بھی کثیر تعداد میں جمع ہو گئے۔ یہ خدا کی طرف سے اہتمام تھا مرزا غلام احمد کی دائمی رسوائی کا، پھر بھلا وہ کیسے میدان میں نکلتا۔ چنانچہ حضرت پیر صاحبؒ لاکھوں انسانوں کے ہمراہ کئی دن تک بادشاہی مسجد لاہور میں انتظار کرتے رہے، مگر مرزا قادیانی کو نہ آنا تھا اور نہ آیا۔ آخر اہل ایمان کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ایک بہت بڑے جلسۂ سیرت میں بدل گیا۔ علماء و مشائخ اور دانشوروں نے اپنے آقا ومولا حضور سید عالمﷺ کی بارگاہ اقدس میں عقیدت ومحبت کے نذرانے پیش کئے اور برصغیر کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے یہ لاتعداد مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کی رسوائی کا اشتہار بن کر لوٹے۔

اس دوران حضرت پیر سید مہر علی شاہ قدس سرہ کی روحانی عظمت اور بارگاہ نبوی میں مقبولیت کے کئی شواہد سامنے آئے۔ چنانچہ ایک موقع پر قادیانی جماعت کے ایک وفد نے پیر صاحب سے کہا کہ آپ مرزا صاحب سے مباہلہ کیوں نہیں کر لیتے کہ دونوں ایک ایک اندھے اور اپاہج کے حق میں دعا کریں جس کے نتیجہ پر حق و باطل کا فیصلہ ہو۔ اس پر قبلہ پیر صاحبؒ نے فرمایا: ”مرزا سے کہہ دیں اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجائے“۔ تحفظ ناموس رسالت کے لئے پیر صاحب کی یہ رجز خوانی تیرہ سو سال کے اولیاء ومشائخ کی

صفحہ 46

روحانی قوتوں کا فیضان تھا اور نہ جانے کون کون سی ہستیاں آپ کی پشت پناہ تھیں۔ ایک بزرگ حضرت سید چانن شاہ جابہ شریف اس عرصے میں اپنے ایک خواب کی کیفیت بیان کرتے تھے کہ:

”میں نے ایک فوج کو علم لہراتے دریائے جہلم کے پل پر سے لاہور کی طرف جاتے دیکھا جس میں سے ایک صاحب نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ ہم بغداد شریف سے آ رہے ہیں اور پیر صاحب گولڑہ شریف کی نصرت کیلئے مرزا قادیانی کے مقابلے پر لاہور جا رہے ہیں۔“

(مہر منیر، ص ۲۳۵)

ایک اور بات جو اس موقع پر بہت مشہور ہوئی اور مدت تک جس کا چرچا رہا یہ تھی کہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ قدس سرہ نے مرزا کی طرف سے عربی تفسیر نویسی کی تعلی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

”علماء اسلام کا اصل مقصود تحقیق حق اور اعلاء کلمۃ اللہ ہوا کرتا ہے۔ فخر و تعلی مقصد نہیں ہوتا ورنہ جناب نبی کریمﷺ کی امت میں اس وقت بھی ایسے خادم موجود ہیں کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود کاغذ پر تفسیر قرآن لکھ جائے“۔

ظاہر ہے اس سے پیر صاحب کا اشارہ اپنی جانب تھا۔ چنانچہ بعد میں فرمایا کرتے تھے: ”یہ دعویٰ از خود نہیں کیا تھا بلکہ عالم مکاشفہ میں جناب نبی کریمﷺ کے جمال باکمال سے میرا دل اس قدر قوی اور مضبوط ہو گیا تھا کہ مجھے یقین کامل تھا اگر اس سے بھی کوئی بڑا دعویٰ کرتا تو اللہ تعالیٰ ضرور مجھے سچا ثابت کرتے“۔

پیر صاحب کا یہ احساس تائید ربانی سے بہرہ ور تھا کیونکہ تحفظ ختم نبوت کی اس جدوجہد میں شروع ہی سے آپ کو حضور سید المرسلینﷺ کے بے پایاں لطف و کرم کی تجلیاں اپنی آغوش میں لئے ہوئے تھیں۔ چنانچہ اپنا ایک مکاشفہ آپ نے یہ بیان فرمایا:

صفحہ 47

”جن دنوں مرزا کی طرف سے مناظرہ کی دعوت پہنچی۔ میں ایک نعمت عظمیٰ سے بہرہ ور ہوا۔ بحالت بیداری آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا کہ میں نے حضور سید عالمﷺ کو جلوہ فرما دیکھا۔ میں آپﷺ کی خدمت اقدس میں مرید کی طرح باادب بیٹھا ہوں اور مرزا غلام احمد دور آنحضرتﷺ کی طرف پشت کئے بیٹھا ہے۔ اس مکاشفہ کے بعد میں لاہور پہنچا لیکن مرزا اپنے تاکیدی وعدہ سے پھر گیا اور لاہور نہ آیا۔“

پیر مہر علی شاہ صاحب نے مرزا قادیانی کا پیہم محاسبہ جاری رکھا۔ ہر دعویٰ پر اسکی گرفت کی اور ہر موقع پر اس کا بھر پور تعاقب کیا۔ اسکے باطل نظریات کے رد میں ”سیف چشتیائی“ جیسی لازوال تصنیف امت کے لئے یادگار چھوڑی۔

فتنہ قادیانیت کے استیصال میں حکیم مشرق علامہ اقبال، امام احمد رضا بریلوی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے قائدین، کارکنان اور شہداء ،سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور اس وقت کے اراکین قومی اسمبلی کی خدمات لازوال ہیں۔

۳۔ جب ہندوؤں نے شتم رسولﷺ کی تحریک اٹھائی

برطانوی استعمار نے جس دجل وفریب اور شاطرانہ عیاری سے ہندوستان میں اپنے پنجے گاڑھے اسکی مثال دنیا کی کسی اور سامراجی حکومت میں نہیں ملتی۔ ہندوستان میں دو قومیں آباد تھیں: ہندو اور مسلمان۔ انگریز نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی اختیار کی؛ اور ہندو مسلمان دونوں کو آپس میں لڑانا شروع کردیا۔ انگریز کو چونکہ زیادہ خطرہ مسلمان سے تھا، اس لئے وہ خود ہندوؤں کا سرپرست بن گیا اور مسلمان کو ہر لحاظ سے ظلم واستبداد کی چکی میں پیسنے لگا۔ انگریز نے ہندوؤں میں یہ تاثر پھیلایا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے،

صفحہ 48

مسلمان باہر سے آئے ہیں، ان کے لئے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں۔ یوں انگریز نے مسلمانوں کو ہندومت میں ضم کرنے یا ہندوستان سے باہر نکالنے کے لئے کئی تحریکیں شروع کروائیں۔ ان میں شدھی، سنگٹھن، مرزائیت، وحدت ادیان اور شاتمتِ رسول ﷺ جیسی تحریکیں سرفہرست تھیں۔

فرنگی سامراج کو برصغیر میں اپنے اقتدار کے خلاف جو نفرت کا الاؤ دہکتا ہوا نظر آیا اسے ہندو مسلم دشمنی میں بدلنے کے لئے یہ تحریکیں اٹھائی گئیں۔ ہندو بہت جلد انگریزوں کے دام فریب میں پھنس گئے اور مسلمانوں کے آقا و مولا حضور رحمۃ للعلمین ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کرنے لگے۔ ہندؤوں کو اس بڑے پیمانے پر شاتمتِ رسول ﷺ کی تحریک برپا کرنے کی جرأت کبھی نہ ہوتی اگر فرنگی سامراج ان کی پشت پناہی نہ کرتا۔ انگریز تو صدیوں سے حضور محسن انسانیت ﷺ کی ذات گرامی کے خلاف بغض و عناد کی آگ میں جل رہے تھے۔ کئی سو سال پر محیط صلیبی جنگوں، تحریک استشراق، استعماری سازشوں اور تہہ درتہہ معاندانہ سرگرمیوں کے تسلسل میں ہمیشہ اسی بغض و عناد کے شعلے بھڑکتے رہے۔ انگریز جب بھی مسلمانوں کے خلاف کچھ سوچتے، اسی بغض و عناد اور توہین رسالت کے جذبے سے سوچتے۔ جب کبھی کوئی سازش کرتے اسی حوالے سے کرتے۔ فرنگی سازشوں کی تاریخ ورق ورق ہمارے سامنے ہے اور ہر ورق توہین رسالت کی ناپاک سرگرمیوں سے آلودہ ہے۔ یہ لوگ بحیثیت ذمی اگر اسلامی ریاست کی آغوش عاطفت میں پناہ گزیں ہوئے تب بھی توہین رسالت کے جرم سے باز نہیں آئے۔ جبھی تو صدیوں پہلے شیخ ابن تیمیہ جیسا شخص بھی جو خود تنقیص رسالت کے ارتکاب سے آلودہ تھا، ذمیوں کی صریح گستاخانہ حرکتوں کے خلاف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ“ جیسی معرکۃ الآراء کتاب لکھنے پر مجبور ہو گیا۔

ان انگریزوں نے عرب کو تاکا تو ہمفرے جیسے ہزاروں جاسوس بھیجے اور فتنہ نجدیت کو پروان چڑھایا۔ ہندوستان آئے تو کبھی مرزا غلام احمد قادیانی جیسے مدعیان نبوت

صفحہ 49

پیدا کئے۔ کبھی نجد کے پیروکار کلمہ گو مصنفین اٹھائے اور انہیں اپنے آقا و مولا سید المرسلین ﷺ کی تنقیص واہانت کے مشن پر لگا دیا۔ کبھی ہندوؤں کو بھڑکایا اور منشی رام جیسے لوگوں کو سوامی شردھانند کا روپ سجا کر شدھی تحریک کا بانی ٹھہرایا اور پھر اس کے چیلوں کو توہین رسالت کے محاذ پر سرگرم کر دیا۔ ہندوؤں کو اس مذموم سازش میں فعال بنانے کے لئے انگریزوں نے اپنے گماشتے مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی خوب استعمال کیا۔ چنانچہ مرزا نے ہندومت کے خلاف مذہبی بحثوں کی آڑ میں وہ اشتعال انگیز تحریریں لکھیں اور آریوں کو پے در پے ننگی گالیاں دے کر اس قدر منافرت پیدا کر دی کہ ہندو جواباً مسلمانوں سے انتقام لینے پر اتر آئے؛ اور اس انتقام کا ہدف ذات رسالت مآب ﷺ ٹھہری۔ یوں تاریخی نقطہ نظر سے ہندوؤں کی تحریک شتمات رسول بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی شرارت سے ابھری۔ ہندوؤں کے لیڈر مہاتما گاندھی نے اس بارے میں دوٹوک انداز سے کہا تھا:

”توہین رسالت کے اس فتنے کا آغاز مرزائی مولویوں نے کیا ہے جنہوں نے اپنے لٹریچر میں ہندو مذہب کو ہمیشہ نشانہ طنز بنایا۔ سوامی دیانند سرسوتی کو غلیظ سے غلیظ گالیاں دی گئیں اور ہندوانہ رسوم کا سفیہانہ تمسخر کیا۔ اس پر بعض نادان آریہ سماجیوں نے انتقاماً حضرت محمد ﷺ کی توہین شروع کر دی۔

(ینگ انڈیا، ۹ جون ۱۹۲۴ء ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء)

واقعہ یہ ہے کہ ہندو اور قادیانی دونوں ہی فرنگی سامراج کے مہرے تھے اور اسی کی شہ پر ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے رہے تھے۔ چنانچہ ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی خود بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں پے در پے گستاخیاں کر رہا تھا، اور دوسری جانب ہندوؤں کو گالیاں دے کر اور اشتعال دلا کر توہین رسالت کا موقع فراہم کر رہا تھا۔ یوں مرزا قادیانی نے جو کانٹے بوئے ان کی فصل امت مسلمہ کو راج پال، نتھو رام، شردھانند، پالال سنار اور چھیل سنگھ جیسے خاردار اور زہر آلود درختوں کی صورت اٹھانا پڑی۔ آئیے ایک نظر بیسویں

صفحہ 50

صدی کے اس تاریخی معرکۂ تحفظ ناموس رسالت پر ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ عاشقان رسول ﷺ اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی عظمت و ناموس کی حفاظت کے لئے کس طرح دشمنوں سے نبرد آزما ہوئے اور کس والہانہ بیقراری سے پروانہ وار شمع رسالت پہ فدا ہوتے گئے:

٭ - راجپال اور غازی علم الدین شہیدؒ

۱۹۲۹ء برصغیر کی فضاؤں میں ایک عجیب کرب و اضطراب چھایا ہوا ہے۔ اہل ایمان میں ہر طرف دکھ کا بسیرا ہے۔ سچائی کے مقدس وجود سے خون رس رس کر انسانیت کو پکار رہا ہے۔ گستاخ رسول ہندو راجپال نے ایک غلیظ کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کر کے اہل ایمان کے خرمنِ محبت کو آگ لگا دی ہے۔ ہر مسلمان تڑپ رہا ہے۔ انسانیت کی قدریں مضمحل اور تہذیب کا دامن تار تار ہے۔ شرافت کی پلکیں بوجھل ہیں اور وفا کے آنسو بہہ رہے ہیں۔ سوچنے والا ہر ذہن مفلوج ہے اور احساس کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ پھر کیا ہوا؟ دیکھتے ہی دیکھتے یہ چنگاریاں عشق رسول ﷺ کا شعلۂ جوالہ بن گئیں۔ ہر مسلمان کے دل میں ناموس رسالت پہ قربان ہونے کی امنگ بھر گئی؛ اور تقدیر نے غازی خدا بخش، غازی عبدالعزیز اور غازی علم الدین کو اس معرکۂ جان سپاری کے لئے چن لیا۔ غازی خدا بخش اور غازی عبدالعزیز نے یکے بعد دیگرے ملعون راجپال کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی مگر وہ بچ گیا۔ تقدیر نے ان دونوں کو غازی بنا دیا، اور ناموس رسالت پہ جان نچھاور کرنے کا اعزاز علم الدین شہید کے نصیب میں لکھا۔

ان عاشقان رسول ﷺ کا جذبہ دیکھو۔ غازی علم الدین شہید اور اسکے ساتھیوں میں جو سب کے سب راجپال کو قتل کرنے کے لئے تڑپ رہے تھے، اس فریضہ کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے کافی تکرار ہوئی۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ یہ سعادت اسی کو ملے۔ بالآخر قرعہ اندازی کا فیصلہ ہوا اور قرعۂ فال غازی علم الدین کے نام نکلا۔ غازی علم الدین اپنی خوش نصیبی

صفحہ 51

پر ناز کرنے لگا اور اس کے وجود کا رواں رواں عشق رسول ﷺ کا مرقع بنا ہوا تھا۔ ایک جذبۂ جان نثاری کی حرارت تھی جو اس کے تن من سے ابل رہی تھی۔ ۶ اپریل ۱۹۲۹ کا خوشگوار دن اس کے لئے نہ جانے کتنی مسرت لے کر آیا۔ وہ اٹھا اور فیض عالمؒ کے آستانہ پر جا پہنچا۔ نہ جانے برصغیر کے شہنشاہ روحانیت حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ نے غازی علم الدین کے سینے میں کیسی جوت جگائی، اسے روحانیت کے آب حیات میں نہلایا، حیات جاوداں کی نوید سنائی اور آقائے دو جہاں ﷺ کی ناموس اطہر پر نچھاور ہونے کے لئے روانہ کر دیا۔

غازی صاحب گھر آئے اور دوپہر کے کھانے پر جوش مسرت میں اپنی بھاوج سے کہنے لگے:

”بھابھی میں بہت خوش ہوں، آج میری قسمت چمک جائے گی۔ مدینے والے آقا ﷺ نے مجھے اپنی ناموس پاک کی حفاظت کے لئے چن لیا ہے۔ آج میں راجپال کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا“۔

یہ کہا اور غازی گھر سے نکل گیا۔ سیدھا (انارکلی لاہور) راجپال کی دکان پر پہنچا۔ اس ملعون شاتم رسول ﷺ کو للکارا اور آن کی آن میں اسے جہنم رسید کر دیا۔ پھر خوشی خوشی گرفتاری دیدی۔ مقدمہ چلا۔ رشتہ داروں، دوستوں اور دفاع کرنے والوں نے بار بار قتل کا اعتراف کرنے سے روکا، مگر شمع رسالت کا یہ پروانہ شہادت کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا۔ اور قدرت نے اسے شہادت کا اعزاز بھی دیا تو اس قدر مقبولیت، پذیرائی اور محبوبیت کی شان سے کہ رہتی دنیا برصغیر کی فضاؤں میں اس کا نام گونجتا رہے گا اور وفائیں اسکی قبر پر فخر و ناز کی پونجی نثار کرتی رہیں گی:۔

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
صفحہ 52

٭۔ شردھانند اور غازی عبدالرشید شہید

شردھانند رسوائے زمانہ شدھی تحریک کا بانی اور ہندو مسلم فساد کا داعی تھا۔ اس کا اصل نام منشی رام تھا اور وہ مسلمانوں کے خلاف فرنگی سازشوں کا آلہ کار تھا۔ تحریک خلافت کے زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کی جو فضا برسوں کے اندر پیدا ہوئی تھی ،شردھانند اور اسکے چیلوں نے چند مہینوں میں اسے نفرت وانتشار میں بدل دیا۔ یہ لوگ گاؤں گاؤں پھیل گئے اور اسلام پر کیچڑ اچھالنے لگے۔ حد یہ کہ ان لوگوں نے براہ راست ناموس رسالت پر حملے شروع کر دئیے۔ شردھانند کے ایک چیلے نے ”بڑے پیٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں حضور سرور کائنات ﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں بالکل عریاں الفاظ میں کی گئی تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔

توہین رسالت کفر کی آخری حد ہے۔ شردھانند کی لگائی ہوئی آگ ہر طرف بھڑک رہی تھی اور جاں نثاران مصطفیٰ ﷺ کے دل تڑپ رہے تھے۔ مگر اس ضلع بلند شہر (یوپی) سے ایک نوجوان عاشق رسول ﷺ اٹھا اور اس نے رسالت مآب ﷺ پر کیچڑ اچھالنے والے اس گروہ کے سرغنہ کا قصہ پاک کرنے کی ٹھان لی۔ شمع رسالت کا یہ پروانہ غازی عبدالرشید تھا۔ ایک غریب مگر معزز گھرانے کا یہ فرزند جس کی خوش قسمتی پر کائنات ہمیشہ ناز کرے گی، دہلی سے افغانستان روانہ ہوا، اور وہاں سے ایک پستول خرید کر لوٹ آیا۔ اب غازی عبدالرشید تھا اور عشق رسول ﷺ کی بے قراریاں تھیں۔ جذبوں کی حرارت جوں جوں بڑھتی گئی اس عاشق رسول ﷺ کا چہرہ نکھرتا گیا۔ وہ موقع کی تلاش میں تھا اور قدرت نے یہ موقع اسے جلد ہی فراہم کر دیا۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۲۶ء کو شردھانند دہلی میں اپنے مکان پر موجود تھا کہ غازی عبدالرشید ریوالور لے کر دن دہاڑے اسکے آشرم میں جا پہنچا۔ ملت اسلامیہ کے اس غیور فرزند نے دشمن رسول ﷺ شردھانند ملعون کو للکارا اور پستول کی لبلبی دبا دی۔ چھ گولیاں اس ملعون کے سینے میں پیوست ہوگئیں؛ اور یوں بیسویں صدی کے ایک بہت بڑے فتنے کی

کہانی اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گئی۔ شردھانند کے قتل سے ہندوؤں خوشی کا اظہار کیا۔ غازی عبدالرشید نے ا کرلیا۔ دہلی، یوپی اور پنجاب کے مسلمانو عدالت میں غازی عبدالرشید سے محبت کا ساری روداد خود مولانا محمد علی جوہر نے شائ دی اور ملت اسلامیہ نے اپنے اس قابل فخ خطاب سے نوازا

بنا کردند خوش رسمے
خدا رح

٭۔ نتھو رام اور غازی عبدالقیو

آریہ سماج حیدرآباد سندھ ایک کتاب شائع کی جس میں سرکار دو کیا۔ مسلمانوں میں سخت اضطراب پ کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر ک جرمانہ کے ساتھ ایک سال کی سزا سن اور اسکی ضمانت منظور ہو گئی۔ مسلمانو فرزند عبدالقیوم نے نتھو رام کی خرا ازل سے عبدالقیوم کے نصیب میں مقدمہ کی تفصیل جا

صفحہ 53

کہانی اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گئی۔

شردہا نند کے قتل سے ہندوؤں میں صف ماتم بچھ گئی جبکہ مسلمانوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا۔ غازی عبدالرشید نے ابتدائی کارروائی کے دوران ہی قتل کا اعتراف کرلیا۔ دہلی، یوپی اور پنجاب کے مسلمانوں نے مقدمے میں گہری دلچسپی لی۔ ہر پیشی پر عدالت میں غازی عبدالرشید سے محبت کرنے والوں کا بے پناہ ہجوم امڈ آتا۔ مقدمے کی ساری روداد خود مولانا محمد علی جوہر نے شائع کی۔ عدالت نے غازی عبدالرشید کو پھانسی کی سزا دی اور ملت اسلامیہ نے اپنے اس قابل فخر سپوت کو ”شہید اسلام“ اور عاشق رسول ﷺ کے خطاب سے نوازا۔

بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

٭ ۔ نتھورام اور غازی عبدالقیوم شہیدؒ

آریہ سماج حیدرآباد سندھ کے سیکرٹری نتھورام نے ”تاریخ اسلام“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں سرکار دوعالم ﷺ کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔ مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ جلسے جلوس اور شدید احتجاج کے علاوہ نتھورام کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا گیا۔ نتھورام پر مقدمہ چلا۔ کتاب ضبط ہوئی اور معمولی جرمانے کے ساتھ ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ اس نے جوڈیشیل کمشنر کی عدالت میں اپیل کی اور اسکی ضمانت منظور ہو گئی۔ مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ ہزارہ کے ایک غریب خاندان کے فرزند عبدالقیوم نے نتھورام کی خرافات کا ذکر سنا تو اسکی غیرت ایمانی بھڑک اٹھی۔ خدا نے ازل سے عبدالقیوم کے نصیب میں غازی اور شہید کا اعزاز لکھا ہوا تھا۔

مقدمہ کی تفصیل جاننے کے لئے غازی عبدالقیوم نے پوچھا: سندھ میں اتنے

صفحہ 54

مسلمان ہیں مگر اس بد زبان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی تجھے کس طرح جرات ہوئی؟ کیا ہم اس قدر بے غیرت ہو چکے ہیں۔ پھر کیا تھا، اس شہباز محبت نے اپنے آقا ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک تیز دھار چاقو خریدا اور اپنی رفیقہ حیات سے کہا:

”دعا کرو اللہ مجھے اس مردود سے عدالت ہی میں ملوائے اور میں اسے بتادوں کہ میرے رسول ﷺ کی عظمت و تقدیس میں یاوہ گوئی کا فیصلہ انگریز کی عدالت سے نہیں، کسی غیرت مند مسلمان کے خنجر کی نوک ہی سے ممکن ہے۔“

یہ مارچ ۱۹۳۴ء کی بات ہے۔ نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کارروائی سننے آئے۔ غازی عبدالقیوم شہید عدالت میں داخل ہوا تو نتھو رام کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد شمع رسالت کا یہ پروانہ اٹھا اور نتھو رام کے پیٹ میں اپنا خنجر گھونپ دیا۔ گستاخ رسول ﷺ کی آنتیں باہر نکل آئیں اور وہ تڑپنے لگا۔ غازی عبدالقیوم نے بڑے اطمینان سے جج کو مخاطب کر کے کہا ! ”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا و مولا ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اسکو سزا مل گئی“۔ یہ کہا اور بڑے اطمینان سے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ پولیس نے آکر گرفتار کیا۔

مقدمہ چلا اور مسلمان وکیلوں نے مقدمے کی مفت پیروی کی پیشکش کی تو غازی عبدالقیوم شہید نے ایک جرات مندانہ فقرہ کہا: ”آپ جو چاہیں کریں مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبہ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی“۔ یوں غازی عبدالقیوم شہید پھانسی چڑھ کر ہمیشہ کی زندگی پا گیا۔ اور قیامت تک آنے والی نسلوں کو عشق رسول ﷺ کی حرارت اور تحفظ ناموس رسالت کے لازوال جذبوں کی تابناکیاں دے گیا۔ آج بھی فضائے عالم میں اس غازی شہید کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔ اور تا ابد گونجتے رہیں گے:

”میری زندگی کا سب سے خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے گستاخ رسول ﷺ

صفحہ 55

کو موت کے گھاٹ اتارا اور میں اسی جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر اپنی زندگی شہنشاہ مدینہ ﷺ کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں۔‘‘

غازی عبدالقیوم شہید جیسے غیور نوجوان امت مسلمہ کی آبرو اور تاریخ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ؎

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ ! اللہ ! موت کو کس نے مسیحا کر دیا

☆۔ پالامل سنار اور غازی محمد صدیق شہید

پالامل ایک ہندو سنار تھا جو ہندو ساہوکاروں کی پشت پناہی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہتا تھا۔ ۱۶ مارچ ۱۹۳۴ء کو اس نے حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات کہے۔ توہین رسالت کی اس قبیح حرکت پر سارے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پالامل کے خلاف استغاثہ دائر ہوا اور عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مجرم نے سیشن جج کی عدالت میں اپیل کر دی اور ضمانت پر رہا ہو گیا۔ ادھر یہ ہوا اور ادھر شمع رسالت کے ایک پروانے غازی محمد صدیق کا مقدر جاگ اٹھا۔ خواب میں سرور کائنات ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ملا۔

’’قصور میں ایک ہندو ہماری شان میں گستاخیاں کر رہا ہے۔ جاؤ اور اس کی زبان بند کرو۔‘‘

آقائے دو جہاں ﷺ کا یہ جانباز سپاہی کئی دن تک شدت غم سے نڈھال رہا۔ اس کے سینے میں غیظ و غضب کے شعلے ابل رہے تھے۔ دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ جلد از جلد اسے جہنم رسید کروں۔ چنانچہ غازی محمد صدیق نے مجرم سے نپٹنے کی تیاری کی اور چلتے وقت اپنی والدہ سے کہا: ’’ماں دعا کرو میں اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں اور

صفحہ 56

بارگاہ سرور کونینﷺ میں میری قربانی منظور ہو‘‘۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کو یہ عظیم مجاہد دربار بابا بلھے شاہ کے پاس ایک درخت سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور اپنے شکار کا انتظار کرنے لگا۔ جیسے ہی مجرم سامنے آیا اسے پہچان کر للکارا اور کہا: ’’میں تاجدار دو عالمﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے پلید گستاخ رسولﷺ! آج تو کسی بھی طرح ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا‘‘۔ یہ کہا اور نعرہ تکبیر لگا کر اس گستاخ رسولﷺ کو ڈھیر کر دیا۔

موقع پر موجود افراد کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو آسانی سے ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنا فرض ادا کر کے نماز شکرانہ ادا کی اور اطمینان سے مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ ہندوؤں کے چہرے اترے ہوئے تھے اور غازی صاحب خوشی سے مسکرا رہے تھے۔ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ تفتیش کے دوران غازی محمد صدیق شہید نے یہ تاریخی بیان دیا:

’’پالامل گستاخ رسولﷺ کو میں نے قتل کیا ہے اور میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں۔ عدالت مجھے جو چاہے سزا دے۔ یہ تو ایک جان ہے۔ میں اپنے آقا و مولاﷺ کی خاک قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کردوں تو میرا عقیدہ اور ایمان ہے کہ ابھی حق غلامی ادا نہیں ہو سکا۔‘‘

اور یوں غازی محمد صدیق نے آقائے دو عالمﷺ کی حرمت و ناموس کی حفاظت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دے کر امت مسلمہ کو تا ابد سرخرو کر دیا۔ تختہ دار پر اس پروانہ شمع رسالت کے آخری الفاظ یہ تھے:

’’میرے اللہ! تیرا ہزار شکر کہ تو نے اپنے حبیب پاکﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لئے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا۔‘‘

☆۔ رام گوپال اور غازی مرید حسین شہید

۱۹۳۶ء میں روزنامہ زمیندار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ پلول ضلع گوڑگاؤں کے

صفحہ 57

ڈاکٹر رام گوپال نے ایک گدھے کا نام معاذ اللہ حضور اکرم ﷺ کے نام نامی پر رکھا ہوا تھا۔ خبر چھپتے ہی ہر مسلمان کا خون کھول اٹھا اور شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھلہ ضلع چکوال کے ایک غیرت مند جوان غازی مرید حسین کے جوش وجذبے کا کچھ اور ہی حال تھا۔ اس عاشق رسول ﷺ کے تن بدن میں شعلے بھڑک اٹھے اور اس نے رام گوپال کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مجرم بارے معلومات حاصل کیں اور قتل کی پوری منصوبہ بندی کی۔ بالآخر ۷ اگست ۱۹۳۲ء کو آفتاب نبوت ﷺ کا یہ شیدائی اس ملعون کے ٹھکانے پر پہنچا۔ ہسپتال کے قریب ایک محفوظ جگہ کھڑا ہو گیا اور اپنے شکار کی راہ دیکھنے لگا۔ بالآخر ڈاکٹر سامنے آیا اور یہ نحیف ونزار مجاہد ناموس رسالت اس پر ٹوٹ پڑا؛ اور یہ کہتے ہوئے کہ: ”او موذی! اٹھ آج محمد ﷺ دا پروانہ آگیا ای۔“ چھوٹے سے خنجر سے ایک ہی وار سے گستاخ رسول ہندو کو واصل جہنم کر دیا۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے مرید حسین کو غازی مرید حسین شہید بنا کر رہتی دنیا امر کر دیا۔

رام گوپال کو جہنم رسید کرنے کے بعد غازی مرید حسین نے خود ہی گرفتاری پیش کر دی اور دوران تفتیش اس سوال پر کہ مقتول کا حلیہ کہاں سے معلوم ہوا، اس شہباز محبت نے انکشاف کیا کہ:

”جس عظیم ذات نے مجھے اسکی شناخت کروائی ان کے حضور تم تو کیا تمہارے خیال کا بھی گزر نہیں ہو سکتا۔ رام گوپال نے میرے آقا ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور میرے آقا ﷺ نے کرم فرمایا کہ اسے کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے مجھے چن لیا۔ میری قسمت جاگ اٹھی اور خواب میں آقا ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ ﷺ نے اس گستاخ کی صورت مجھے دکھائی اور میں نے جاگ کر اس کا حلیہ نوٹ کر لیا۔“ اب میں اسے ختم کر چکا ہوں۔ یہ میرے ہنسنے اور ہندوؤں کے رونے کا وقت ہے۔“

صفحہ 58

سچ کہا غازی مرید حسین نے۔ واقعی یہ اس کے ہنسنے کا وقت تھا۔ چنانچہ جب پھانسی کا وقت آیا تو محبوب خدا ﷺ کا یہ غلام تختہ دار کی طرف اس شان سے چلا کہ ہونٹوں پر تبسم تھا اور زبان پر نعت رسول ﷺ کے زمزمے۔ اور اب تاقیامت اس شہید عشق نبی کا مزار مسکراہٹوں میں ڈوبا رہے گا۔

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

☆۔ چرن سنگھ اور غازی میاں محمد شہید

۱۶ مئی ۱۹۳۴ء کی شام ایک فوجی چھاؤنی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدیدار خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے کوئی نعت بآواز بلند ترنم سے پڑھنی شروع کر دی۔ لہجے میں مٹھاس اور عقیدت کا رنگ نمایاں تھا۔ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ پاس ہی ایک دوسرا ہندو سپاہی بیٹھا تھا۔ وہ اپنے ڈوگرہ ساتھی کے منہ سے حضور رحمت عالم ﷺ کا اسم گرامی سنتے ہی جل بھن کر رہ گیا۔ اس نے غلیظ الفاظ میں حضور اکرم ﷺ کی توہین کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا کہ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا یہ پاپ ہرگز معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عاشق رسول ﷺ غازی میاں محمد یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔ اس نے گستاخ ڈوگرے سپاہی سے کہا: ”وہ خوش قسمت ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نعت پاک پڑھ رہا ہے۔ اگر تجھے پسند نہیں تو خاموش رہ یا باہر نکل جا۔ خبردار! آئندہ ایسی بکواس مت کرنا‘ وہ بولا : ”میں ایسا ہی کہوں گا۔ تجھے کیا، میں جو چاہوں کہتا پھروں۔“

یہ جواب سن کر غازی میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور فیصلہ کن انداز میں کہا: ”اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جرأت ہرگز نہ کرنا۔ یہ بدتمیزی تجھے اذیتناک موت سے دوچار کر دے گی“۔ بدقسمت

صفحہ 59

ڈوگرے نے دوبارہ وہی جواب دیا اور یہ وہ لمحہ تھا جب میاں محمد نے اپنے آقا ﷺ کی ناموس پر قربان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی بیرک میں گیا، نماز عشاء ادا کی اور بارگاہ الٰہی میں تڑپ کر التجا کی:

”میرے اللہ ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے والے کا کام تمام کر دوں۔ تو مجھے حوصلہ اور استحکام عطا فرما۔ حضور سید کائنات ﷺ کی عزت و ناموس پہ مجھے اپنی جان نچھاور کرنے کی توفیق دے اور میری یہ قربانی منظور کرلے۔“

یہ دعا مانگ کر غازی اٹھا، اپنی رائفل نکالی اور شاتم رسول ﷺ ہندو سپاہی کو للکار کر کہا: ”ارے کم بخت ! اب بتا کہ میرے نبی کی شان میں گستاخی پر میں تجھ سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں یا نہیں ۔“ اور اس کے ساتھ ہی ناموس رسالت کے شیدائی کی گولی ہندو ڈوگرے کو ڈھیر کر چکی تھی۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور عشق مصطفیٰ ﷺ کا یہ پیکر اپنے آقا ومولا ﷺ کی ناموس اطہر پر قربان ہو گیا۔

٭۔ چنچل سنگھ اور غازی محمد عبداللہ شہید

۱۹۲۴ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہے۔ چنچل سنگھ جو پہلے مسلمان تھا، ایک سکھ عورت کے عشق میں مرتد ہو گیا اور جنڈیالہ شیر خان کے قریب اس عورت کے گاؤں میں جا بسا۔ یہ نامراد حق سے کیا پھرا، انتہائی خبیث حرکتوں پر اتر آیا۔ سکھوں کے اکسانے پر جگہ جگہ حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کرنے لگا۔ مسلمانوں کی سخت دلآزاری ہوئی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا۔ چنچل سنگھ کے گاؤں سے کوسوں دور رہنے والے عبداللہ انصاری کو ایک رات خواب میں حضور پرنور سید عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عبداللہ! یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے۔ اسکی زبان بند کرو“ صوفی

صفحہ 60

عبداللہ کی آنکھ کھلی تو اپنے اندر ایک عجیب ایمانی قوت اور جوش و ولولہ محسوس کر رہا تھا۔ تقدیر نے اس کیلئے غازی اور شہید کے اعزاز لکھ دیئے تھے۔ وہ اٹھا اور یہ کہہ کر سکھ کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا:

”اس مرتد نے شہنشاہ کونین ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اسے دنیا ہی میں سزا ملنی چاہیے اور یہ سزا میں دوں گا“۔

اس عاشق رسول ﷺ کا حوصلہ اور امنگ دیکھو کہ تن تنہا سکھوں کے گاؤں جا رہا تھا جو اپنی سفاکی، خونریزی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ضلع بھر میں بدنام تھے۔ اور جن کے سامنے آس پاس کے سارے مسلمان خود کو بے بس اور مجبور پا رہے تھے۔ چپل سنگھ کنویں پر بیٹھا تھا اور پاس ہی کئی سکھ گپیں لگا رہے تھے۔ غازی عبداللہ نے ان سے پوچھا: ” مجھے چپل سنگھ سے ملنا ہے۔“ ایک سکھ نے اس مردود کی طرف اشارہ کیا۔ غازی عبداللہ نے بڑھ کر اسے دبوچ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا اسے لٹا کر گلے پر چھری پھیر دی۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ غازی عبداللہ نے چھری زمین پر رکھ کر بارگاہ الہی میں سجدہ شکر ادا کیا پھر نہایت سکون واطمینان کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا۔ چہرے پر خوشی کی لہریں مچل رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سکھوں کا اژدھام ہو گیا مگر کسی میں غازی کے قریب آنے کی ہمت نہ تھی۔ پولیس کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گئے اور حیران ہو کر سکھوں سے پوچھا: یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے، مگر اس کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔ گرفتاری کے وقت غازی عبداللہ اتنا خوش اور ہشاش بشاش تھا جیسے شادی میں آیا ہو۔ قریباً ایک برس مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر سزائے موت سنائی گئی۔ یہ دیوانہ تو بارگاہ سرور کونین ﷺ میں حاضری کے لئے پہلے ہی بیتاب تھا۔ شہادت سے سرفراز کئے جانے کی خوشخبری سن کر چہرہ بشاشت سے مزید چمک اٹھا۔

صفحہ 61

☆ کھیم چند اور غازی منظور حسین شہید

۱۹۴۱ء کی بات ہے۔ تھانہ ڈوہمن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چوہدری کھیم چند ایس ڈی او چکوال مقیم تھا۔ اس بدطینت کو مہاشہ راجپال کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ بارگاہ سرورِ کونین ﷺ میں گستاخی اور زبان درازی اس کا وطیرہ تھا۔ اسے توہین رسالت کا مزہ چکھانے کے لئے غازی منظور حسین اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبدالعزیز کے ہمراہ ڈاک بنگلہ گیا اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کیا۔ ازاں بعد ماسٹر صاحب نے برچھیاں ماریں اور گستاخ رسول ﷺ کھیم چند اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ مقتول کے نزدیک اس کی بیوی سوئی ہوئی تھی۔ وہ بے گناہ تھی لہٰذا اسے چھوڑ دیا اور یہ کہہ کر وہاں سے چلے گئے:

”ہم نے توہین رسالت کا بدلہ لے لیا ہے۔ مسلمان ابھی اتنے بے غیرت نہیں ہوئے کہ تاجدارِ مدینہ ﷺ کی بے عزتی پر چپ چاپ بیٹھے رہیں۔ دشمنوں سے نمٹنے کے لئے ابھی عاشقان رسول ﷺ زندہ ہیں۔“

گستاخ رسول ﷺ کو جہنم واصل کرنے کے بعد یہ سرفروش جہادی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ ان کے عزائم بہت بلند تھے۔ اور وہ جہاد آزادی کشمیر کے لئے کام کرنا چاہتے تھے۔ سرفروش غازیوں کی یہ قلیل جماعت لکی مروت کے قریب ایک جگہ ٹھہری ہوئی تھی کہ پولیس کو خبر ہوگئی۔ پہاڑ کا طویل سفر طے کرنے کی وجہ سے مجاہدین پر تکان غالب تھی۔ وہ ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں گہری نیند سو گئے تھے۔ پولیس نے ان کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ یوں ان مجاہدوں کی سعید روحیں عالمِ بالا کو پرواز کرگئیں اور شہادت کا بلند مقام انہیں نصیب ہوا۔ یہ جولائی ۱۹۴۴ء کا واقعہ ہے۔

صفحہ 62

☆۔ تحفظ ناموس رسالت کی چند اور کڑیاں

شان اقدس میں نازیبا اور اشتعال انگیز الفاظ کہے۔ ایک غیرت مند نوجوان غازی محمد حنیف نے اس بدزبان عورت کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود تھانے میں حاضر ہو کر قتل کا اعتراف کر لیا۔ مقدمہ چلا اور سزائے موت پا کر یہ عاشق رسول ﷺ شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوا۔

ملازم تھا۔ جذبہ عشق رسول ﷺ سے سرشار ہو کر ایک موقع پر تحفظ ناموس رسالت کے لئے آگے بڑھا اور شاتم رسول ﷺ ہندو کو واصل جہنم کر دیا۔ مقدمہ چلا اور سزائے موت نے اس عاشق رسول ﷺ کو حیات جاودانی سے ہمکنار کر دیا۔

منا رہے تھے۔ عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس جہلم شہر کی سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی۔ ایک بدباطن سکھ نوجوان آوازے کسنے لگا۔ اس نے زہر میں بجھے ہوئے چند فقرے کہے اور سرور کونین ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ پاس ہی ایک غیرت مند مسلمان غازی غلام محمد کھڑا تھا۔ اس نے سکھ کو للکار کر کہا: ”بے غیرت کتے اپنی زبان قابو میں رکھ ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دوں گا۔“ سکھ باز نہ آیا اور پھر گستاخانہ الفاظ کہے۔ غازی غلام محمد نے اپنا چاقو اسکے سینے میں گھونپ دیا اور پے در پے وار کر کے شاتم رسول ﷺ کو جہنم رسید کر دیا۔ غلام محمد کی قربانی بارگاہ رسالت میں قبول ہوئی اور وہ منصب شہادت پر فائز ہو کر امر ہو گیا۔

اڑانے اور شان رسالت میں گستاخی کرنے پر ایک غیور مسلمان فوجی بابو معراج الدین نے

صفحہ 63

کی چند اور کڑیاں

سکول کی انگریز ہیڈ مسٹریس نے حضور سید کائنات ﷺ کی انگیز الفاظ کہے۔ ایک غیرت مند نوجوان غازی محمد حنیف ے تک پہنچایا اور خود تھانے میں حاضر ہو کر قتل کا اعتراف تھا پاکر یہ عاشق رسول ﷺ شہادت کے بلند مقام پر فائز

تی پنجاب) کے ایک وٹرنری ہسپتال میں غازی محمد منیر سرشار ہو کر ایک موقع پر تحفظ ناموس رسالت کے لئے کو واصل جہنم کر دیا۔ مقدمہ چلا اور سزائے موت نے اس سے ہمکنار کر دیا۔

دن تھا۔ مسلمان اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کے ظہور قدسی کا جشن تھا کا جلوس جہلم شہر کی سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ قریب ہی ملعن سکھ نوجوان آوازے کسنے لگا۔ اس نے زہر میں بجھے لمین ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ پاس ہی ایک غیرت مند اس نے سکھ کو للکار کر کہا: ”بے غیرت کتے اپنی زبان قابو میں دوں گا“، سکھ باز نہ آیا اور پھر گستاخانہ الفاظ کہے۔ غازی میں گھونپ دیا اور پے در پے وار کر کے شاتم رسول ﷺ کو جہنم و رسالت میں قبول ہوئی اور وہ منصب شہادت پہ فائز ہو کر

نی میں ایک سکھ میجر ہر دیال سنگھ کو شعائر اسلامی کا مذاق ا گستاخی کرنے پر ایک غیور مسلمان فوجی بابو معراج الدین نے

قتل کر دیا۔

نے جہنم رسید کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ غازی محمد اعظم بقید حیات ہے۔

جن سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس جلسہ میں ہندوؤں کے ایک گرو نیوں مہاراج نے شان رسالت میں گستاخانہ باتیں کیں۔ خبر پھیلی تو مسلمان تڑپ اٹھے۔ پچیس نوجوان حرمت رسول ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کا جذبہ لئے جلسہ گاہ پر حملہ آور ہوئے اور بے تحاشا لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں۔ جلسہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران نیوں مہاراج ایک شمع رسالت کے پروانے عبدالخالق قریشی کے سامنے آ گیا جس نے بے غیرت ملیچھ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔ گستاخ رسول ﷺ نیوں مہاراج تڑپ تڑپ کر جہنم رسید ہو گیا۔ اور جن سنگھی ہندو بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

شدھی، سنگٹھن اور آریہ سماجی تحریک کے اس بیس سالہ عرصہ میں شتامت رسول ﷺ کا یہ سیاہ دور حقیقت میں انگریزوں کی جلائی ہوئی آگ کا وہ الاؤ تھا جس میں ہندو شاتمان رسول ﷺ جلتے اور دوزخ کا ایندھن بنتے رہے۔ دوسری طرف شمع رسالت کے پروانے اس آگ میں والہانہ کودتے رہے اور شہادت سے ہمکنار ہو کر حیات جاوداں پاتے رہے۔

۴۔ چند کلمہ گو مصنفین کی یاوہ گوئی

بیسویں صدی کے ہندو ہی نہیں کچھ کلمہ گو مصنفین بھی ایسے تھے جو بارگاہ سرور کونین ﷺ میں شدید گستاخیاں کرتے رہے۔ انگریز نے ان دونوں طبقوں کو الگ الگ محاذ پر، الگ الگ انداز میں ایک ہی کام پر لگا دیا۔ محبوب خدا ﷺ کی توہین کے کام پر۔ نجد

صفحہ 64

کے قرن الشیطان نے انگریز کی شہ پر جو کانٹے بوئے تھے، اس سے تھوڑے ہی عرصہ میں کیکر اور تھوہر کی گھنی فصل اگئی ہے۔ اُدھر جزیرہ نما عرب میں بھی اور ادھر ہندوستان میں بھی۔ اور جہاں جہاں یہ فصل اگی ہے وہاں وہاں فضا میں ہر سو زہر پھیل گیا ہے۔ محبوب خدا سرور کونین ﷺ کی توہین کا زہر۔ اگر اس زہریلی فصل کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو بیسویں صدی کے چند گستاخ مولویوں کی کتابیں اٹھاؤ۔ ورق پلٹو اور دیکھو کہ ان میں کیسی کیسی دریدہ دہنی کی گئی ہے۔

معاذ اللہ نقل کفر، کفر نباشد، کوئی خدا کے محبوب ﷺ کو اپنے جیسا بتا رہا ہے حالانکہ خود محبوب خدا ﷺ نے فرمایا: ﴿اَیُّکُمْ مِثْلِی﴾۔ کون ہے تم میں مجھ جیسا۔ کوئی کہتا ہے معاذ اللہ! آپ ﷺ مر کر مٹی میں مل گئے۔ حالانکہ آپ ﷺ خود فرماتے ہیں: ﴿اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ﴾۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مٹی پر انبیاء کرام کے جسموں کو نقصان پہنچانا حرام کر دیا ہے۔ کوئی بولتا ہے تو رسول اکرم ﷺ کے علم کو معاذ اللہ جانوروں کے علم ایسا ٹھہراتا ہے؛ حالانکہ خود رب ذوالجلال اپنے محبوب ﷺ کے علم ناپیدا کنار کی وسعت یوں آشکار کرتا ہے۔:

عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖ اَحَدًا ...... اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ

(جن: ۲۶۔۲۷)

”یعنی خدا کے پاس علم غیب ہے اور وہ اپنے غیب کا علم کسی کو تفویض نہیں کرتا سوائے اپنے اس برگزیدہ رسول ﷺ کے جس کی رضا وہ چاہتا ہے۔“

کوئی اور گستاخ آگے بڑھتا ہے تو دین میں رسول خدا ﷺ کے اختیار کی نفی کرتا ہے۔ حالانکہ خدا کا اپنا کلام ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہا ہے۔

وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ

(اعراف: ۱۵۷)

صفحہ 65

یعنی رسول ﷺ ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کرتے اور خبیث چیزیں حرام کرتے ہیں۔

وَمَا اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا

(حشر: ۷)

"یعنی جو کچھ تمہیں رسول ﷺ دے دیں اسے لے لو اور جس سے وہ روک دیں اس سے رک جاؤ"۔

کیا دین اس کے علاوہ کسی اور چیز کا نام ہے؟ ہرگز نہیں۔؎

میں تو بس دین کا مفہوم یہی سمجھا ہوں
اپنے ہر کام میں آقا ﷺ کی رضا کو دیکھو

۵۔ کاروان عشق کا سالار۔ احمد رضا

یہ ابلیسی ترکش کے وہ چند تیر تھے جو کلمہ گو مولویوں کی گستاخ زبان سے چلائے گئے اور جن کا ہدف ناموس رسالت تھی۔ لیکن جس طرح ہندو شاتمان رسول ﷺ کو لگام دینے کیلئے خدا نے غازی علم الدین، عبدالرشید اور مرید حسین جیسے جان نثار مجاہد آن کی آن میں کھڑے کر دیئے، اسی طرح ان گستاخ رسول ﷺ مولویوں سے نمٹنے کے لئے مشیت الٰہی نے ایک ایسی یگانہ روزگار ہستی کو ابھارا جو علم و فکر کے ہر میدان میں یکتا ہے اور بیان و اظہار کے ہر اسلوب پر حاوی۔ جو فہم و ادراک کے ہر گوشے میں اپنے معاصرین پر فائق ہے اور جذبہ و احساس کی ہر منزل میں سب سے آگے۔ جس کا وجود ہمارے لئے عزم و ہمت کا استعارہ ہے اور جس کی شخصیت ہمارے لئے رہنمائی کا خزانہ۔ جس کا باطن عشق رسول ﷺ سے معمور ہے اور جس کا ظاہر اسوۂ رسول ﷺ سے پرنور۔

یہ ہے بیسویں صدی کا وہ سب سے پاکیزہ وجود جسے دنیا امام اہلسنت اعلیٰ

صفحہ 66

حضرت امام احمد رضا بریلوی کے نام سے پہچانتی ہے۔ احمد رضا کا خمیر عشق مصطفیٰ ﷺ میں گندھا ہے۔ اس کا پیکر اسی سانچے میں ڈھلا ہے۔ اس کے وجود کا محور یہی ہے۔ وہ خود کہتا ہے: ”میرا دل چیر کے دیکھو اس میں نام محمد ﷺ لکھا ہے“۔ احمد رضا کے خون میں عشق نبی کی حدت ہے۔ اس کی نبضوں میں ارتعاش اسی سے ہے اور جذبوں کا ارتکاز اسی پہ۔ اس کے علم وفکر کا حاصل، اس کا دین ایمان یہی ہے۔ احمد رضا کا دل دھڑکے تو یہی نام ابھرتا ہے، پلکیں اٹھیں تو یہی جلوہ ڈھونڈتی ہیں اور لب ہلیں تو یہی پکار گونجتی ہے؎

کروں تیرے نام پہ جاں فدا، نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

احمد رضا کا وجود بیسویں صدی میں امت مسلمہ کے لئے خدا کا خاص تحفہ ہے۔ ادھر ابلیس نے اپنے ترکش کا آخری تیر چلایا...... ناموس رسالت کی بے حرمتی کا تیر...... اور ادھر مشیت الٰہی نے احمد رضا کو عشق رسول ﷺ کا پیکر بنا کر سامنے کھڑا کر دیا۔ وہ دیکھو احمد رضا بریلوی توہین رسالت کے مجرموں کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اور بدزبان مولویوں کو للکار کر کہہ رہے ہیں:

”خدارا میرے آقا ﷺ کی توہین کرنا چھوڑ دو اور ان کی جگہ مجھے گالیاں دیتے رہو“۔

احمد رضا تیری خوش نصیبی پر زمانہ ناز کرے گا۔ خدا نے جس کام کے لئے تجھے چنا ہے اس سے بڑا کوئی کام اس دھرتی کے سینے پر کسی امتی سے ممکن نہیں ہو سکا۔ تو گستاخان رسول ﷺ کے سروں پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ تو عشق مصطفیٰ ﷺ کا نقیب ہے اور ناموس رسالت کا پاسباں۔ تو اٹھا تو امت مسلمہ کو نئی اٹھان ملی۔ تو چلا تو سارا زمانہ تیری راہ پر چلا۔ تو نے وفا کا درس دیا۔ اپنے آقا ﷺ کی وفا کا درس۔ تو نے شعور دیں بانٹا۔ تیرا شعور دیں یہ ہے۔؎

صفحہ 67
بخدا خدا کا یہی ہے در ، نہیں اور کوئی مفر، مقر
جو وہاں سے ہو، یہیں آکے ہو، جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں

یہ شعور یوں پھیلا تو گستاخان رسول ﷺ جان ہارنے لگے۔ کہیں علم الدین شہید غازی بن کر اٹھا، کہیں مرید حسین اور عبدالقیوم۔ کہیں محمد صدیق مجاہد بن کر ابھرا، کہیں عبدالرشید اور میاں محمد۔ یوں توہین رسالت کی وہ تحریک جو کلمہ گو مولویوں کی جسارت سے کفار میں پھیل رہی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے دم توڑ گئی۔ امام احمد رضا بریلوی کا پیغام عشق برصغیر کی پوری فضا میں گونج رہا تھا اور شمع رسالت کے پروانوں کو گرما رہا تھا۔ اس حرارت ایمانی کے فیض سے جگہ جگہ سے پروانے اپنے آقا ﷺ کی ناموس پر جان نچھاور کر رہے تھے۔ ایک طرف جاں نثاری کے یہ حسین منظر ہیں اور دوسری جانب علم وعرفان کی وادیوں میں عشق مصطفی ﷺ کے گلزار مہکنے لگے ہیں۔ احمد رضا کے سینے میں گداز عشق کی بجلیاں بھری ہیں، اور وہ ان بجلیوں کی حرارت ہرسو بانٹ رہا ہے۔ کبھی ”کنز الایمان“ کی صورت، کبھی ”الدولۃ المکیۃ“ کے روپ میں۔ کبھی ”فتاویٰ رضویہ“ کے رنگ میں اور کبھی ”حدائق بخشش“ کے آہنگ میں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں جہاں بھی کوئی اپنے آقا ﷺ کو یاد کرتا ہے، احمد رضا کے لہجے سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ احمد رضا نے اپنے آقا ﷺ کے حضور کچھ ایسے جذبوں کا نذرانہ پیش کیا ہے کہ آج بحرو بر دشت و جبل میں ہر سو اس کی گونج سنائی دے رہی ہے؎

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں۔ اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لئے اپنے ”رسول ﷺ کا معجزہ“ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے ”آیت الٰہی“ دیکھتا ہوں۔ لوگ اسے فقیہ وعالم ٹھہراتے ہیں۔ اور میں اسے ”فہم دین

صفحہ 68

میں حجت‘ گردانتا ہوں۔ اور صرف اس لئے گردانتا ہوں کہ امام احمد رضا بریلوی نے فہم دین کی اساس عشق مصطفیٰ ﷺ پہ اٹھائی اور تعمیر شریعت کا محور نسبت مصطفیٰ ﷺ کو بنایا ہے؛ اور یہی خدا کا منشا ہے۔ سارے قرآن کا جوہر یہی ہے اور علم و عرفان کا حاصل یہی۔

٦۔ روشن خیالی کے تازہ فتنے

انگریز برصغیر میں اکیلا نہیں آیا، اپنی تہذیب و ثقافت کے سب فتنے ہمراہ لایا تھا۔ مغربی تہذیب بنیادی طور پر مادیت، اباحیت اور سیکولرازم کے عناصر سے مرکب ہے۔ دین، روحانیت اور لطافت سے یکسر عاری۔ خدا، آخرت اور نبوت سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔ جب یہ مادی تہذیب ہندوستان پر حملہ آور ہوئی تو یہاں کے غلامانہ ماحول میں بہت تیزی سے اپنے لئے جگہ بناتی گئی۔ یہ مسلمانوں کے زوال و انحطاط کا دور تھا۔ امت مسلمہ اپنے اصل مقام و منصب سے محروم ہو چکی تھی۔ عالم اسلام کے ہر افق پر نکبت و ادبار کے منحوس سائے پھیلے ہوئے تھے۔ برصغیر مکمل طور پر برطانوی سامراج کے تسلط میں جا چکا تھا اور مسلمانوں کے دینی، علمی اور تہذیبی چراغ کی لو مدھم ہو چکی تھی۔

اس ہمہ گیر یاس و قنوط کے عالم میں برصغیر کے مسلمان بالخصوص اور پورا عالم اسلام بالعموم مغرب کی تازہ دم تہذیب کے آگے جھکنے پر مجبور تھا۔ مغربی تہذیب جہاں بھی گئی روشن خیالی کا فتنہ ساتھ لے کر گئی۔ چنانچہ مسلمان بھی اس فتنے کا شکار ہوئے اور عالم اسلام میں ہر طرف روشن خیالی کا اندھیرا چھا گیا۔ اور جب روشن خیالی کا اندھیرا پھیلتا ہے تو انسان کے اندر سے محبت، لطافت اور روحانیت کے اجالے رخصت ہو جاتے ہیں۔ جذبوں کی حرارت راکھ ہو جاتی ہے اور وفا کی خوشبو میں زہر گھل جاتا ہے۔ اور یہی کچھ بیسویں صدی میں ہوا۔ چنانچہ روشن خیالی کا فتنہ پھیلتا گیا اور جدید تعلیم و تہذیب کے حلقے سے عشق رسول ﷺ کے لطیف جذبے رخصت ہونے لگے۔ بزعم خود مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کو محبت

صفحہ 69

رسول ﷺ کی باتیں عجیب، فرسودہ اور دقیانوسی نظر آنے لگیں۔ کالج یونیورسٹی کی دنیا مہذب، روشن خیال اور جدت پسند دنیا بن گئی۔ اس دنیا میں پلنے والے اپنے ماضی سے کٹ گئے۔ بلال حبشیؓ اور اویس قرنیؒ انہیں اجنبی نظر آنے لگے۔ وہ اسلام کو بس ایک نظام، تمدن اور کلچر کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔ اسلام کی روحانیت، لطافت اور جذبوں کی روایت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔

یہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لوگ تو خیر انگریز کے براہ راست تربیت یافتہ تھے؛ انہیں کیا کہیں، لیکن ستم کی انتہا یہ ہے کہ مدرسوں کے مولوی اور خانقاہوں کے پیر بھی نئے نئے نعرے ایجاد کرنے لگے۔ ایک سب سے خطرناک اور بھیانک نعرہ یہ لگایا گیا کہ: ”حضور اکرم ﷺ کے ساتھ हमारा تعلق صرف عقلی اور تعلیماتی ہونا چاہیے“۔ بالاکوٹ سے لیکر تھانہ بھون تک ایک شور مچا ہوا ہے کہ ”حضور ﷺ کے ساتھ عقلی محبت ہونی چاہیے، طبعی محبت نہیں“۔ طبعی محبت کیا ہے؟ قلبی، روحانی، جذباتی اور نفسیاتی محبت۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ امت کا روحانی، قلبی، اور جذباتی رشتہ توڑنا چاہتے ہیں اور صرف عقلی تعلق تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ عقلی تعلق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا محبوب ہونا شریعت کا حکم اور مطالبہ سمجھ کر مجبوراً مانا جائے، لیکن یہ محبت روح و دل کی گہرائیوں میں نہ اترنے پائے اور جذبوں میں نہ ڈھلنے پائے۔ حضور اقدس ﷺ کو محبوب مانا جائے، محبوب بنایا نہ جائے۔

محبوب ماننے اور محبوب بنانے میں گہرا فرق اور بہت فاصلہ ہے؛ اور یہ فرق بیسویں صدی کے ان روشن خیال لوگوں نے پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ اطاعتِ رسول ﷺ پر بہت زور دیتے ہیں اور محبت سے گریز کرتے ہیں جبکہ محبت پہلی شرط ہے اور اطاعت تو صرف وہی مقبول ہے جو محبت سے پیدا ہو۔ محبت کے بغیر اطاعت تو محض کافرانہ نقالی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ خدا کو اپنے رسول ﷺ کے اعمال وافعال کی مجرد نقل نہیں چاہیے، کہ یہ نقل تو غیر مسلموں کے ہاں بھی کافی حد تک موجود ہے۔ اصل مقصود ان اعمال کی انجام دہی میں

صفحہ 70

رسول اللہ ﷺ کی طرف توجہ، دھیان اور آپ ﷺ کے تصور کی حرارت ہے۔ عشق رسول ﷺ کی اسی حرارت کا نام ایمان ہے۔

زندگی کچھ نہیں، تیری اطاعت کے بغیر
اور بے روح اطاعت ہے، محبت کے بغیر

۷۔ محبت رسول ﷺ سے عاری دین کی تعبیر

بیسویں صدی کی روشن خیالی نے یہ بہت بڑا فتنہ پیدا کیا کہ دین کی وہ تعبیر اختیار کی جس میں سرے سے محبت رسول ﷺ کا تصور ہی موجود نہ تھا۔ ان کی نظر میں دین حضور اکرم ﷺ کے لائے ہوئے احکام اور تعلیمات کا مجموعہ ہے اور بس۔ جب دین احکام و تعلیمات تک محدود ہو گیا تو ذات رسول ﷺ سے ہمارا تعلق اور رشتہ ٹوٹ گیا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ گویا ہمیں کسی دیوار پہ لکھے ہوئے چند احکام اور ہدایات مل جائیں اور ہم ان پر عمل کرنے لگ جائیں۔ دیوار سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو۔ ان لوگوں نے دین کی تبلیغ ،نشر و اشاعت، تعلیم و تربیت اور تصنیف و تالیف کو بہت اہمیت دی مگر ذکرِ رسول ﷺ، تصورِ رسول ﷺ ، درود پاک، نعت رسول ﷺ اور محبت رسول ﷺ سے گریز کا رویہ اپنایا۔ محفلِ میلاد کی مخالفت کرنا، حضور انور ﷺ کے ذکر سے بے لطف ہونا، درود پاک بس مجبوراً ہی پڑھنا، تعظیم رسول کو شرک ٹھہرانا، نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنے سے نماز کو باطل قرار دینا اور نعت رسول ﷺ سے رغبت نہ رکھنا، یہ سب علامات ہیں اس ذہنیت کی۔

بیسویں صدی میں روشن خیالی کا یہ فتنہ بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ روشن خیالی محبت کی لطافتوں سے بھاگتی ہے اور طبیعت کو ذات رسول ﷺ سے دور کرتی ہے۔ روشن خیالی حضور اقدس ﷺ سے عقلی تعلق کی بات کرتی ہے اور اطاعت رسول ﷺ کو محض کافرانہ نقالی میں بدل دیتی ہے۔ یہ بالیقین ایک بہت بڑا اور بھیانک فتنہ ہے۔ یہ فتنہ ابھی تک

صفحہ 71

مضبوط ہے اور دن بدن پھیل رہا ہے۔ یہ فتنہ ایک خاموش تحریک ہے۔ خوبصورت باتوں اور حسین نعروں کے فریب میں الجھا کر سادہ لوگوں کو ایمان سے محروم کر دینے والی تحریک۔ عبادت اور اطاعت کے نام پر محبت سے عاری کر دینے والی تحریک۔ توحید کی دعوت مگر شان رسالت کو گھٹا کر۔ نیکی کی تربیت مگر نجات کا سامان لوٹ کر۔ ظاہر کی تعمیر مگر باطن کی تخریب۔ سنت رسول ﷺ کی پیروی مگر ذات رسول ﷺ سے دوری۔ دین کے فضائل مگر صاحب دین کے بغیر۔

حیرت ہے، تبلیغ اسلام کی کیسی تحریک ہے جو خدا کا نام تو لیتی ہے مگر اُس کے محبوب ﷺ سے بغض رکھتی ہے۔ جو ایک مصنف کی کتاب ”فضائل اعمال“ کو اپنا نصاب بناتی ہے، مگر اس میں سے ”فضائل درود پاک“ نکال دیتی ہے۔ جو سنتوں پر عمل کرتی ہے۔ مگر اس طرح جیسے محض ایک کافرانہ نقالی ہو۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے اپنے رسول ﷺ کی سنتوں پر عمل کا حکم کس لئے دیا ہے۔ کیا صرف اس لئے کہ سنتوں کی محض کافرانہ نقالی ہوتی رہے؛ یا اس لئے کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت پھیلے۔ یقیناً مشیت الٰہی نے اتباع سنت کا حکم اس لئے دیا ہے تا کہ اہل ایمان کے دلوں میں حضور سید عالم ﷺ کی شدید محبت جاگزیں ہو جائے۔ تو قارئین محترم ذرا سوچئے کہ جب اتباع سنت میں پنہاں منشائے الٰہی کا حقیقی راز یہ ہے تو پھر بھلا دورِ جدید کا تبلیغی مشن اس قدر بھیانک سازش میں کیوں ملوث ہے جسکے تحت محبوب خدا ﷺ کی سنت کی روح نکالی جا رہی ہے اور اسکی عظمت مٹائی جا رہی ہے۔

بناء بریں ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے جن کو اپنے رسول ﷺ کی تعظیم و توقیر اور حسنِ ادب کی توفیق سے نوازتا ہے وہ یقیناً بہت ہی خوش قسمت اور بلند مرتبہ مومن ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہیں گمراہی کی پستیوں میں گرے ہوئے وہ لوگ جنہیں خدا نے اپنے محبوب ﷺ کی تعظیم و توقیر کا حق پہچاننے کی سعادت سے محروم رکھا۔

صفحہ 72

اب چاہے یہ لوگ توحید کی حفاظت کے نام پر ہی تنقیص رسالت کا شیوہ اپنائے بیٹھے ہوں، بہر حال ان کے ماتھے پر سجی ہے بدنصیبی کی ایسی کالک جو خود انہیں تو نظر نہیں آتی لیکن جسے خدا کی اس بھری کائنات کا ذرہ ذرہ دیکھ رہا ہے۔ ایسی کالک جو زندگی بھر انہیں کبھی خدا کی چاہتوں کے دروازے پر جھکنے نہیں دے گی۔ جو حسن ازلی کے دائمی پیار سے انہیں ہر آن نبرد آزما ہی رکھے گی۔ جو ان کے تن بدن میں ہمیشہ محبوب خدا ﷺ کے خلاف بغض کی نئی خساست انڈیلتی رہے گی۔ جو ان کے دل ، دماغ اور روح پر سدا گہن برساتی رہے گی۔ اے پڑھنے والو! یاد رکھنا۔ جس شخص کے مزاج میں تنقیص رسالت کے اندھیرے بھر جائیں، پھر اس کی روح کے کسی ایک بھی دریچے میں ہدایت کا کوئی چراغ کبھی روشن نہیں ہوتا۔ اس کے مقدر کی یہ سیاہی حشر میں بھی دُھل نہ پائے گی کیونکہ ایسے شخص کو یہ بات کبھی سمجھ نہیں آتی کہ۔

”اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب ﷺ سے کتنا بے بہا پیار ہے اور وہ کس طرح اس پیار کے بیکراں سمندر میں اپنی ساری مخلوق کو ڈبو دینا چاہتا ہے۔ ہر ایک کو سراپا عشق و تعظیم مصطفیٰ ﷺ کے پیکر میں ڈھال کر“۔

یہ حقیقت اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جا بجا پوری صراحت اور توضیح کے ساتھ کھول کر دکھا دی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے بعض ایسے مفسرین بھی ہیں جو تنقیص رسالت کے ماحول میں پروان چڑھے، اس لئے وہ تعظیم رسول ﷺ کی آیات کے مفاہیم میں اترنے کی ضرورت محسوس کیے بغیر یونہی سرسری طور پر ایسی ہر آیت کے پاس سے گزر جاتے ہیں بلکہ زیادہ واضح لفظوں میں بائی پاس (Bye Pass) کر جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۱۰۴ دیکھئے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

(بقرہ:۱۰۴)

صفحہ 73

اے ایمان والو اپنے رسول ﷺ کو راعنا نہ کہو اور انظرنا کہو اور خوب سن لو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے

چنانچہ ایسے مفسرین جو تنقیص رسالت کا شیوہ رکھتے ہیں، وہ اس آیت کریمہ کا تعلق بس گزری ہوئی تاریخ کے ایک واقعہ سے جوڑ کر گزر جاتے ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس آیت کے اندر اللہ تعالیٰ نے تعظیم رسول ﷺ کا جو حکم دیا ہے اس کا ہم سے کوئی واسطہ ہی نہیں ؛ وہ تو بس عہد رسالت میں موجود صحابہ اور یہود کے ایک خاص لفظ بولنے سے متعلق ہے اور بس۔ ان کے نزدیک تو یہ آیت گویا ایسی ہے جیسے گزرے ہوئے زمانے کی ایک کہانی ہو جو کتاب میں آگئی ہے۔

جبھی تو دنیا نے اس طرح کے بعض مفسرین کو خود اپنے قلم سے بارگہ رسالت میں شدید تنقیص بھرے الفاظ لکھ گزرتے اور پھر ان پر اپنے وجود کی پوری تندی اور تلخی کے ساتھ اکڑ کر جمے رہتے دیکھا ہے؛ اور سچ یہ ہے کہ بڑی حیرت، بڑی نفرت سے دیکھا ہے۔

برصغیر کے جن چند لکھاریوں نے توہین رسالت کے الفاظ بر ملا لکھے اور پھر ان پر اصرار کے ساتھ جمے رہے، خود وہ اپنے بارے میں اور اپنے بزرگوں کے بارے میں اس قدر حساس تھے کہ کبھی کسی شخص کی زبان یا عمل سے ذرہ برابر بے ادبی کا واہمہ بھی برداشت نہ کرتے مگر وائے بد نصیبی کہ اللہ کے محبوب اور دو جہاں کے آقا حضور سید المرسلین ﷺ کی شان اقدس میں انتہائی تنقیص بھرے کلمات لکھتے، بولنے سے انہیں کبھی شرم نہ آئی۔

شاید وہ لوگ خود کو قرآن کی ان آیات مقدسہ کا مخاطب ہی نہ سمجھتے ہوں جن میں تعظیم رسول ﷺ کا حکم اترا ہے۔ پھر میں کیوں نہ یقین کرلوں کہ وہ زندگی کی سب سے گھٹیا سطح پر جی رہے تھے۔ کیونکہ اعلیٰ سطح پر جینے والوں میں اہل ایمان، اولیاء کرام اور صحابہ عظام ایسے بلند پایہ نفوس ہمیشہ خود کو تعظیم رسول ﷺ کی آیات کا مخاطب سمجھتے رہے اور تنقیص کے ہر شائبے سے بچ کر جیتے رہے۔

صفحہ 74

دیکھئے زندگی کی بہت سی سطحیں ہیں اور ہر سطح پر لوگ جیتے ہیں۔ کوئی پست سطح پر گھٹیا ماحول میں جیتا ہے، کوئی اعلیٰ سطح پر برتر ماحول میں جیتا ہے۔ ایک کا سینہ ذکر رسول ﷺ سے جلتا ہے اور ایک کا سینہ ذکر رسول ﷺ میں پگھلتا ہے۔ ایک تعظیم مصطفیٰ ﷺ کی آیات سے بھڑکتا ہے اور ایک ان آیات پہ مچلتا ہے۔ پھر ان دو کے بیچ میں جیون کی ہزاروں سطحیں اور ہیں۔ اسی طرح محبت رسول اللہ ﷺ اور تعظیم مصطفیٰ ﷺ کی مختلف سطحیں ہیں۔ ہر سطح پر کچھ لوگ جیتے ہیں۔ اب یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے کہ کون ادنیٰ سطح پر جیتا ہے اور کون اعلیٰ سطح پر۔ خدا نے اپنے محبوب ﷺ کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے؛ اور اس تعظیم کا حق ادا کرنے کے باریک سے باریک گوشے سکھائے ہیں۔ وہ چاہتا ہے لوگ اس کے رسول ﷺ کی محبت ، اتباع اور تعظیم کی بلند تر سطح پر جئیں اور اس سطح پر پہنچنے کے لئے انہیں راستے دکھاتا ہے، آداب بتاتا ہے، اور غلطیوں سے بچنے کی احتیاط سکھاتا ہے۔ اب یہ سوچنا ہمارا کام ہے کہ آیا ہم خدا کے اس حکم کی تعمیل میں آگے بڑھیں اور اس کی خوشنودی کا راستہ ڈھونڈیں یا تنقیص کا شیوہ اپنا کر خدا کو ناراض کرلیں اور یوں اپنی عاقبت برباد کر بیٹھیں ۔ ایک ایمان کا جو تعظیم رسول ﷺ کی منزلوں سے ہوکر نجات اخروی کی سمت بڑھتا ہے اور دوسرا کفر کا جو تنقیص رسالت کی وادیوں میں بھٹکتے آدمی کو بالآخر دائمی عذاب کی رسوائیوں میں جھونک دیتا ہے۔

صفحہ 75

توہین رسالت

اُمت مسلمہ کے جذبوں کا امتحان

١۔ مسلمانوں کے جذبہ عشق کا امتحان

بیسوی صدی میں اسلام اور سیرت طیبہ کے خلاف ابھرنے والے فتنے دراصل سب کے سب اہل ایمان کے جذبہ عشق رسول ﷺ کا امتحان بن گئے۔ اسی بنا پر میں کہتا ہوں:

”بیسوی صدی امتحان عشق رسول ﷺ کی صدی تھی“

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ کس چیز کا امتحان: سچائی اور کھرے پن کا۔ ایمان کی سچائی۔ عمل کی سچائی۔ جذبوں کی سچائی۔ ارادوں کی سچائی۔ محبت کی سچائی۔ اور وفاؤں کی سچائی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا دوٹوک اعلان ہے:

الم ...... اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا امَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ

(عنکبوت: ١۔٢)

کیا گمان کر لیا ان لوگوں نے جو برائیاں کرتے ہیں کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے کیا ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں

پس خدا نے ہر انسان، ہر صاحب ایمان کو آزمایا ہے۔ ہر فرد، ہر قوم کو آزمایا ہے۔ ہر میدان، ہر محاذ پر آزمایا ہے۔ ہر رنگ، ہر آہنگ میں آزمایا ہے۔ ہر انداز، ہر معیار پر آزمایا ہے۔ ہر راہ، ہر منزل پر آزمایا ہے۔ ہر سوچ، ہر عمل میں آزمایا ہے۔ ہر کیف و کم میں

صفحہ 76

آزمایا ہے۔ ہر زماں، ہر مکاں میں آزمایا ہے۔ ہاں کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا آزمایا ہے۔ اور جس کو جتنا آزمایا ہے، اسے اتنا ہی نوازا ہے بشرطیکہ وہ امتحان میں پورا اترا ہو۔ امتحان تو دنیا میں بے شمار ہیں۔ پر سب سے بڑا امتحان، عشق کا امتحان ہے۔ سب سے انوکھا اور سب سے کڑا امتحان بھی یہی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ سب سے اعلیٰ مقام بھی تو عشق ہی کا ہے۔ جتنا اونچا مقام ہے، اتنا ہی کڑا امتحان بھی ہے۔ پھر سچا عشق تو ایک ہی ہے۔ کون سا؟ آپ کہیں گے خدا کا عشق۔ لیکن سنئے۔ خود اللہ تعالیٰ کیا کہتا ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ

(آل عمران، ۳۱)

اے مرے محبوب ﷺ دنیا والوں سے کہہ دو! اگر خدا سے محبت کرتے ہو تو محمد ﷺ کے پیار میں ڈوب جاؤ ”خدا کی محبت اسی عشق مصطفیٰ ﷺ میں ملے گی۔

معلوم ہوا خدا کی نظر میں خود اسکی ذات قدسی صفات کا عشق بھی تب ہی سچا ہے جب اس کے محبوب پاک ﷺ کے ساتھ سچا عشق موجود ہو۔ جس کے سینے میں عشق مصطفیٰ ﷺ نہیں ہے اگر وہ خدا کے عشق کا دعویٰ کرے تو اس سے بڑا جھوٹا اور کوئی نہیں ہے۔ یہ میرا، آپ کا نہیں، خود رب کائنات کا فیصلہ ہے۔ جب یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ سچا عشق صرف محبوب خدا ﷺ کا عشق ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کھل گیا کہ سب سے بڑا امتحان بھی عشق مصطفیٰ ﷺ کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو سب سے پہلے عشق مصطفیٰ ﷺ کا امتحان لیا۔ آدم سے بھی، فرشتوں سے بھی اور ابلیس سے بھی۔ آدم اور فرشتے سرخرو نکلے۔ ابلیس ناکام ہوا اور تا ابد راندۂ درگاہ ٹھہرا۔ پھر یہ امتحان ہر نبی اور اسکی امت سے لیا جاتا رہا۔ ہر نبی اپنی امت کو اس امتحان سے آگاہ کرتا رہا تا آنکہ بطحا میں بنی اسماعیل اور یثرب میں بنی اسرائیل سے یہ امتحان لیا گیا۔ اس اعلان کے ساتھ کہ:

”جو میرے محبوب ﷺ کے حلقہ غلامی میں آئے گا بس وہی نجات پائے گا“

صفحہ 77

خدا کا یہ اعلان اس کی آخری کتاب قرآن مجید میں صفحہ صفحہ، سطر سطر چمک رہا ہے ۔ میں اس وقت کم از کم چھ سو آیات اس اعلان پر مشتمل آپ کو سنا سکتا ہوں، لیکن بس حرف آخر یہ ہے کہ ﴿وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ..... نور : ۵۴﴾ ”اگر اس (رسول) کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے“ اور ﴿وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ ..... آل عمران : ۸۵﴾ ”جو شریعت مصطفیٰ ﷺ سے ہٹ کر کسی اور دین کو اپنائے گا تو اس کی طرف سے کوئی چیز قابل قبول نہیں ہوگی“۔

پھر جو محبوب خدا ﷺ کے حلقہ غلامی میں آگئے ان کے عشق کا امتحان شروع ہو گیا۔ ابوبکرؓ کو واقعہ معراج سنا کر ۔ عمرؓ کے آگے تورات رکھ کر ۔ عثمانؓ کو طواف کعبہ کے لئے بلا کر۔ علیؓ کو نماز عصر چھڑا کر ۔ سلمانؓ کو بستی بستی گھما کر ۔ زیدؓ کو ماں باپ کی کشش دکھا کر ۔ بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹا کر ۔ آل یاسرؓ کو تڑپا تڑپا کر ۔ خبیبؓ کو سولی پر چڑھا کر۔ غرض یہ کہ خدا نے ہر صحابی، ہر مومن کو آزمایا۔ اور جسے عشق رسول میں جتنا آگے پایا، اسے اتنا ہی اونچا مقام عطا فرمایا ۔ اسلام کی پوری تاریخ ، اسی عشق رسول ﷺ کے امتحان کی تاریخ ہے۔ امت مسلمہ چودہ صدیوں سے امتحان گاہ عشق میں ہے۔ اور قیامت تک اسی امتحان گاہ میں رہے گی ۔ پھر کیوں نہ میں کہوں کہ:

۲۔ بیسویں صدی امتحان عشق رسول ﷺ کی صدی ہے

ذرا بیسویں صدی کی تاریخ پڑھئے ۔ واقعات کا تسلسل دیکھئے ۔ حالات کے نشیب و فراز میں جھانکئے ۔ زندگی کی پاتال میں اتریئے ۔ افراد کو جانچئے ۔ ملت کو پرکھئے۔ قدم قدم اسی امتحان عشق کا سفر طے ہوتا نظر آئے گا ۔ لمحہ لمحہ اسی آزمائش میں گزرتا محسوس ہوگا۔ اور نفس نفس اسی ابتلاء کا گداز ہوگا۔ دیکھئے بیسویں صدی کا سورج چمکتے ہی خدا نے قادیان کے مرزا غلام احمد کو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے سامنے امتحان بنا کر کھڑا کر دیا۔ ۱۹۰۱ء تک مرزا خود کو مہدی اور مسیح موعود کہتا رہا۔ ۱۹۰۱ء میں بر ملا اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ

صفحہ 78

کر دیا۔ اور یہ دعویٰ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو ماننے والے ہر مسلمان کے جذبۂ عشق کا امتحان تھا۔ مرزا کے خبیث ذہن کی سازش، اسکے وجود کی ہر حرکت اور اسکی زبان کی ہر جنبش اہل محبت مسلمانوں کا امتحان بن گئی۔ وہ جب تک زندہ رہا اسکی ہر سانس محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیوانوں کا امتحان تھی۔ اور جب وہ مرگیا تو اسکی ہر یادگار ہمارے جذبۂ عشق رسول ﷺ کیلئے سراپا چیلنج بن گئی۔ اور جب تک اس دھرتی کے سینے پر ایک بھی مرزائی سانس لیتا رہے گا اہل محبت کا امتحان باقی رہے گا۔

ہندوستان میں انگریز آئے تو اپنے ساتھ توہین رسالت کا بہت سامان لیکر آئے۔ سلطنت روما کی شکست کا انتقام، قرون وسطیٰ کا تعصب، صلیبی جنگوں کا بغض و عناد، مستشرقین اور ان کی علمی خیانت، مستقرمین اور ان کی ہفوات، عیسائی مشنری اور ان کی سازشیں، استعماری اسکیمیں اور فرنگی جاسوس، سامراجی ایجنٹ اور بدیسی نظام، مغربی ادارے اور کلچر۔ انگریزوں کے پاس جو کچھ تھا، اس سب کا ہدف ...... اور واحد ہدف Target....... بس ناموس رسالت ہی تھی۔ وہ یہاں آئے ہی اس لئے تھے کہ اس خطے میں بسنے والے غلامان مصطفیٰ ﷺ کو ان کے آقا سے دور کردیں۔ گنبد خضرا کو ان کی نگاہوں سے اوجھل کردیں۔ مصطفیٰ کریم ﷺ کی سیرت و سنت سے ان کا رشتہ توڑ دیں۔ ان کے سینوں سے روح محمد ﷺ نکال دیں۔ پھر انہوں نے جو کچھ بھی کیا اسی مقصد کے تحت کیا۔ انہوں نے کتابیں لکھیں تو ولیم میور کی ”Life of Muhammad“ سے لیکر سلمان رشدی کی ”Satanic Verses“ تک حرف حرف عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے جگر چھلنی کر گیا۔

مستشرقین اور ان کے گماشتوں کا لکھا ہوا ہر لفظ اہل محبت کا امتحان ہے۔ خدا نے انگریزوں کو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کا امتحان بنا کر کھڑا کردیا، اور یہ امتحان بہت ہی کڑا تھا۔ بڑے بڑے مسلمان دانشور انگریزوں کے ہاتھ بک گئے، اور توہین مصطفیٰ ﷺ کے غلیظ مشن پر لگ گئے۔ ہر وہ شخص جس نے قلم اٹھایا اور سیرت مصطفیٰ ﷺ میں کمی یا کجی کے

صفحہ 79

پہلو ڈھونڈے، بالیقین وہ انگریزوں کا ایجنٹ اور عاشقان رسول ﷺ کا امتحان تھا، چاہے وہ کسی مدرسہ کا مہتمم، کسی مسجد کا امام، کسی مجلس کا واعظ یا کسی خانقاہ کا مرشد تھا۔ بہر حال تنقیص رسالت میں جس نے بھی زبان یا قلم چلایا وہ ملعون اس امت بیضا کی تاریخ کو داغدار کر گیا اور عاشقان رسول ﷺ کیلئے رہتی دنیا امتحان بن گیا۔

انگریز برصغیر میں اترا تو اسے یہاں دو قومیں نظر آئیں: ایک ہندو اور دوسری مسلمان۔ انگریز نے فیصلہ کیا وہ ان دونوں قوموں کو باہم لڑاتا اور خود ان پر حکومت کرتا رہے گا۔ بس پھر کیا تھا۔ انگریز نے ہندو مسلم لڑائی شروع کروا دی۔ مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑی لڑائی ان کے آقا و مولیٰ ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ ہے، اور انگریز نے ایسے ہندو ڈھونڈ لئے جو سرور کائنات محسن انسانیت ﷺ کی ناموس اطہر پر حملے کرنے لگے۔ کہیں راجپال سامنے آیا اور کہیں نتھو رام۔ کہیں چرن داس اٹھا اور کہیں پالا ستا۔ کہیں چھیل سنگھ بڑھا اور کہیں رام گوپال۔ کہیں ننیوں مہاراج ابھرا اور کہیں لیکھرام۔ غرض یہ کہ شردھا نند اور اسکے چیلے میرے آقا و مولیٰ رحمت دو جہاں ﷺ کی توہین کرتے رہے۔ اور اہل عشق و محبت کیلئے امتحان گاہ سجاتے رہے۔

ایک طرف یہ ہندو شاتمان رسول ﷺ تھے؛ اور دوسری طرف خود مسلمانوں کے اندر سے غدار نکلتے رہے۔ ایسے غدار جن کے سینوں میں خدا کے محبوب حضرت محمد ﷺ کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ یہ لوگ حقیقت میں مسلمان نہیں، بس کہلواتے ہیں۔ اور بیسویں صدی میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی۔ یہ نام نہاد مسلمان جن میں مولوی بھی تھے اور دانشور بھی، عاشقان رسول ﷺ کیلئے امتحان بنے رہے۔ ذرا تصور کیجئے اس شخص کا جس نے منبر رسول ﷺ پر بیٹھ کر یہ نعرہ لگایا کہ ”اس زمانے میں قومیں مذہب سے نہیں وطن سے بنتی ہیں، اس لئے ہندوستان میں بسنے والے ہندو مسلم سب ایک قوم ہیں“۔ علامہ اقبال نے اس شخص کو محمد عربی ﷺ کا باغی اور گستاخ کہا؛ اسے برملا چیلنج کیا اور اسے اور اسکے چیلوں کو تہہ تیغ

صفحہ 80

”کے بھیانک انجام سے ڈراتے ہوئے پوری امت کو یہ پیغام دیا:۔

بمصطفیٰ ﷺ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نرسیدی تمام بولہبی است

بیسویں صدی عاشقان رسول ﷺ کیلئے صرف یہی امتحان لے کر نہیں آئی، اور بھی عشق رسول ﷺ کے بہت سے امتحان تھے۔ انکار سنّت کا فتنہ، مرزائیت کے بعد اس عہد کا ایک اور بھیانک فتنہ تھا۔ اسی طرح ذکر رسول ﷺ سے بیزاری، تنقیص رسالت کا شیوہ، مطالعہ سیرت سے گریز، نعت رسول ﷺ سے انحراف، عشق مصطفیٰ ﷺ کی تحقیر، محفل میلاد کو بدعت کہنا، درود پاک کی فضیلت گھٹانا، محبت کے بغیر اطاعت کی تحریک چلانا، یہ سب بیسویں صدی کے ابلیسی فتنے ہیں؛ اور انہیں توہین رسالت کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ توہین رسالت کے یہ سارے فتنے عاشقان مصطفیٰ ﷺ کا امتحان تھے۔ اور یہ امتحان ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔

۳۔ امتحان عشق میں امت سرخرو ٹھہری

خدا کا شکر ہے امت اس امتحان عشق رسول ﷺ میں سرخرو ٹھہری۔ اور خاص طور پر برصغیر کے مسلمان۔ بیسویں صدی کے ہر طلوع ہوتے سورج کی پہلی کرن، ہر ڈھلتی شام کی آخری لو، ہر شب چاند کی سندر گول چاندنی، ہر فصل بہار کی شادابی، ہر کھلتے پھول کی رعنائی، ہر بہتے دریا کی روانی، ہر چہچہاتے طائر کی نغمہ خوانی، ہر چہرہ جمال کی تابانی، ہر خاموش روح کی ترنگ اور ہر دھڑکتے دل کی امنگ اس بات کی شہادت دے گی کہ رحمت کائنات سرور دو جہاں ﷺ کے غلاموں نے عشق کے ہر امتحان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وفا کی لاج نبھائی ہے۔ سو دیکھئے! ۱۹۰۱ میں ادھر مرزا نے دعوائے نبوت کیا اور ادھر مصطفیٰ ﷺ کے غلام سید مہر علی شاہؒ نے اسکو دبوچ لیا۔ ادھر گستاخ مولویوں نے محبوب خدا ﷺ کی ذات

صفحہ 81

گرامی پر تنقیص واہانت کے تیر چلانا شروع کئے اور ادھر محبوب خدا ﷺ کا دیوانہ احمد رضا بریلویؒ سینہ تان کر ان کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ: ”جو کچھ کہنا ہے مجھے کہہ لو، میرے آقا ﷺ کی توہین نہ کرو“۔

ادھر راجپال، چرن داس، نتھو رام، پالامل، چھبیل سنگھ، رام گوپال، نینوں مہاراج، لیکھ رام اور شرد ہانند نے سر اٹھایا اور ادھر شمع رسالت کے پروانے علم الدین، عبدالرشید، مرید حسین، عبدالعزیز، میاں محمد، عبدالقیوم، محمد صدیق، خدا بخش، عبداللہ اور منظور حسین یکے بعد دیگرے اٹھے اور ان گستاخوں کے سر کچل کر خود پروانہ وار اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی ناموس اطہر پر قربان ہو گئے۔ کیا امتحان عشق میں اس سے بڑھ کر سرخروئی کی اور کوئی ادا ہوگی۔ ان شہیدوں نے اپنے خون سے محبت اور وفا کی وہ انمول داستان لکھی ہے جس پر زمین کے سب ذرے اور آسمان کے سب تارے ہمیشہ ناز کرتے رہیں گے۔

اُدھر مغرب نے اپنی تہذیب وثقافت اور فکر ودانش کے ہتھیاروں سے کملی والے آقا ﷺ کی سیرت، سنت اور حکمت ومعرفت کے خلاف یلغار کی، اور اِدھر حکیم مشرق علامہ اقبالؒ اپنی آنکھوں میں خاکِ مدینہ کا سرمہ لگائے، اپنے سینے میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے دیپ جلائے، میدانِ جہاد میں نکل آیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مغرب کی تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرنے لگی۔ مغرب کی دانشگاہوں میں پڑھا ہوا اور اہلِ مغرب سے انہی کے لہجے اور انہی کے آہنگ میں بات کرنے والا محمد اقبالؒ جب عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوب کر یورپ کو للکارنے لگا تو اہلِ مغرب سہم کر لرز کر رہ گئے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے عشق کی قوت سے امتِ مسلمہ کو بالا کر دیا اور دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کر دیا۔

ادھر مستشرقین گروہ در گروہ صلیبی انتقام کے زہر میں بجھے ہوئے تیر ونشتر لیکر دوڑے اور ادھر سرسید احمد خان، سید سلیمان منصور پوری، سید امیر علی، شبلی نعمانی، سید نواب علی اور نہ جانے کون کون علم اور محبت کے سارے اثاثے لے کر دفاعِ مصطفیٰ ﷺ کے محاذ پر جم

صفحہ 82

گئے تا آنکہ یورپ کے علمی درندے اپنا لہو چاٹنے پسپا ہونے لگے۔ ادھر روشن خیالی کے دعوے داروں نے محبت رسول ﷺ ، ذکر میلاد اور نعت نبی ﷺ کے خلاف بغض و عناد کا محاذ کھولا اور ادھر لاکھوں دیوانگانِ عشق سینے میں حضور ﷺ کا پیار لئے ، آنکھوں میں وفا کے پھول کھلائے ، ہونٹوں پر ظہورِ قدسی کے ترانے سجائے ، نعت کہتے ہوئے ، نعت پڑھتے ہوئے ، نعت سنتے ہوئے قریہ قریہ جشن میلاد بپا کرنے لگے۔ یہاں تک کہ زمین کا چپہ چپہ ذکر مصطفیٰ ﷺ کی تابانیوں سے جگمگا اٹھا۔

انکارِ سنت کا فتنہ پھوٹا تو ساتھ ہی اس کا قلع قمع کرنے کیلئے سنتِ خیرالانام ، حجیت حدیث اور اختیارِ مصطفیٰ ﷺ کے ہر نقطے پر لٹریچر کا انبار لگ گیا۔ برصغیر کے گوشے گوشے سے علم اور دانائی، فکر اور گویائی، جذبوں کی توانائی سب سمٹ کر آئے اور حدیث مصطفیٰ ﷺ کی خدمت میں لگ گئے۔ یوں انکارِ حدیث کا فتنہ رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگا اور ان شاء اللہ اکیسویں صدی میں یہ فتنہ دم توڑ دے گا۔

تحفظ ناموسِ رسالت کی تحریک دن بہ دن زیادہ تازگی ، فعالیت اور شادابی کے ساتھ اپنے مقصد کی اُور (ہندی لفظ بمعنی طرف) بڑھ رہی ہے۔ میرا یقین سے لبریز احساس یہ ہے کہ رب ذوالجلال کے فضل و کرم سے اکیسویں صدی میں تحریک فروغ سیرت اور تحریک تحفظِ ناموسِ رسالت کی ساری کڑیاں باہم مل کر ایک نئی انقلابی قوت کا روپ دھار لیں گی۔ عشق رسول ﷺ اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کے خلاف سرگرم عمل سب فتنے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے اور کائناتِ ہستی کے ہر افق پر محبوب خدا ﷺ کی عظمت شان، رفعت ذکر اور تقدیس حرمت کا الوہی پرچم ہر آنکھ کو لہراتا دکھائی دے گا۔

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات بھر کی سیماب پا ہو جائے گی
صفحہ 83

پاکستان ...... تحفظ ناموس رسالت کا فیضان

۱۔ تحریک پاکستان ....... تحفظ ناموس رسالت کا البیلا کاروان

(۱)۔ بیسویں صدی کا نصف اول خلافت راشدہ کے بعد اسلام کی چودہ صدیوں کا سب سے روشن دور ہے۔ عشق رسول ﷺ کے جتنے بڑے بڑے امتحان اس عہد میں امت مسلمہ سے لئے گئے اس سے پہلے کسی دور میں نہیں لئے گئے۔ اور شمع رسالت کے پروانے جس والہانہ پن سے ان فتنوں کے مقابلے میں نکلے، جس بیکراں جوش و ولولے کے ساتھ ان فتنوں سے ٹکرائے اور جس ادائے دلبری کے ساتھ اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی عزت و ناموس پر جان نچھاور کرتے رہے، اس کی مثال ان چودہ صدیوں میں عہد صحابہ کے بعد اور کہیں نہیں ملتی۔ کہاں ہے تاجدار گولڑہ پیر سید مہر علی شاہ قدس سرہ جیسا فرزانہ جس کا دل تڑپتا ہے کہ ساری عمر گنبد خضراء کے سائے میں گزار دے، مگر جو ایک اشارے پر ہندوستان چلا آتا ہے کہ یہاں ختم نبوت کی حفاظت میں اپنی زندگی لٹا دے۔ کہاں ہے امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ جیسا پروانہ جس کے وجود کا ایک ایک ذرہ، جس کے خون کا ایک ایک قطرہ، جس کے دل کی ایک ایک دھڑکن اور جس کے سانسوں کی ایک ایک موج اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی عزت و ناموس کے دفاع میں گزرتی ہے۔

کہاں ہے حکیم مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ جیسا دیوانہ جس نے یورپ کی فضاؤں میں، الحاد کی ہواؤں میں اور اباحیت کی اداؤں میں علم سیکھا، شعور پایا مگر عشق رسول ﷺ میں جس کی دیوانگی کا عالم یہ ہے کہ ادھر نام محمد ﷺ کی حلاوت سانسوں میں اتری اور اُدھر آنکھوں سے محبت رم جھم برس پڑی۔ جو اگر چاہتا تو اپنے علم و دانش، فکر و بصیرت اور شعر

صفحہ 84

وکالت کی راہ سے پوری مغربی دنیا کا ہر دلعزیز رہبر بن جاتا؛ مگر اس نے اپنا علم، اپنی عقل اور اپنے جذبے سب کچھ نبی کریم ﷺ کے پیار میں بسا دیا۔ جس کے سینے میں عشق مصطفیٰ ﷺ کا ایسا بیکراں سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے کہ چودہ سو سال کے سب عاشقان رسول ﷺ کے جذبے اس بحرِ بیکراں کی موجوں میں سمائے ہیں۔ جس کے شعور کی ابتدا یہ ہے کہ

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اور جس کے عشق کی انتہا یہ ہے۔

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

ہے کوئی غازی علم الدینؒ اور اس قبیلے کے دوسرے شہیدوں کی مثال۔ ہے کوئی بدل خون کے ان قطروں کا جو عشق مصطفیٰ ﷺ کی پیاسی زمین میں جذب ہوئے اور ناموس رسالت کے شجرۂ طوبیٰ کو سیراب کر گئے۔ برستی ہیں خدا کی رحمتیں ان پاکبازوں پر۔ اور ہے کوئی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ جیسا یگانہ جس نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں دین کی شاید خبر ہی نہ ہو، مگر جس کے نحیف ونزار پیکر میں عشق احمد مختارﷺ کی مہک رچی بسی تھی۔ جس کی فطرت میں نام مصطفیٰ ﷺ اتنا گہرا اترا ہوا تھا کہ جب انگریز کی کسی درسگاہ میں تعلیم کیلئے داخلہ لینا چاہا تو بڑے بڑے اداروں کی شہرت اور معیار کو ٹھکرا کر صرف اس ادارے کو چنا جسکی پیشانی پر نام محمدﷺ جگمگا رہا تھا۔ اور میرا وجدان گواہی دیتا ہے کہ یہی وہ لمحہ تھا جب خدا نے اپنے محبوب پاک ﷺ کے اس امتی محمد علی جناح کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ”پاکستان“ کے بانی ہونے کا اعزاز بخشنے کیلئے چن لیا۔

محمد علی جناح وہ یگانہ عاشق رسول ﷺ تھا جس کے وجود میں عشق نے ایک نیا آہنگ پایا: ”کمالِ شخصیت اور حسنِ کردار کا آہنگ“۔ یہاں عشق رسول ﷺ کردار میں ڈھل

صفحہ 85

گیا تھا۔ وہ ایسا عاشق رسول ﷺ تھا جس کی زبان سے کبھی سچ کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ جس نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ جس نے کبھی کوئی اصول نہیں توڑا۔ جسے کبھی کوئی راہ حق سے نہیں ہٹا سکا اور جس کا سر دہلیز مصطفیٰ ﷺ کے سوا کہیں اور نہیں جھکا۔ اور ہے کوئی نواب بہادر یار جنگ ایسا شعلہ نوا خطیب جس کی عمر تھوڑی ہے مگر عشق مصطفیٰ ﷺ کے آب حیات میں گندھی ہوئی۔ جو سوچتا ہے تو بجز نام مصطفیٰ ﷺ اُسے اور کچھ نہیں سوجھتا اور جو بولتا ہے تو چار سو عشق مصطفیٰ ﷺ کا ایک کیف برستا ہے۔

(۲)۔ یہ ہے بیسویں صدی میں کاروان عشق رسول ﷺ کا ہر اول دستہ ۔ یہ کارواں بہت طویل ہے۔ ایک قطار جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی؛ اور جس میں ہر آن اضافہ ہو رہا ہے، پر خدا نے اس ہر اول دستے کو امتحان عشق کی بھٹی میں ڈالا اور جب یہ گروہ عشق کندن بن کر نکلا تو رب نے اپنی عطاؤں کی برسات کر دی۔ یہ عطائیں بے حساب ہیں اور بے پایاں؛ مگر مجھے تو یہاں صرف ایک عطا کی بات کرنی ہے۔ اس لازوال عطا کی بات جو بیسویں صدی میں عشق رسول ﷺ کا سب سے بڑا فیضان ہے۔ امت مسلمہ کیلئے کملی والے آقا ﷺ کی محبت کا سب سے بڑا تحفہ۔ دور حاضر کے مسلمانوں کیلئے مدینہ منورہ کا سب سے بڑا ارمغان: ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“۔ میں نے جب بھی پاکستان کا نام لیا، میری آنکھوں میں ایک ستارہ چمکا اور اس ستارے میں نور مصطفیٰ ﷺ کی کرن جگمگائی ہے۔ میں نے جب بھی اس پاک دھرتی کا تصور باندھا، میرے سینے میں ایک مہک اتری ہے اور یہ مہک طیبہ کی گلی سے آئی ہے۔ میں نے جب بھی تحریک پاکستان کی داستان پڑھی، میرے شعور میں ایک رعنائی بھر گئی اور یہ رعنائی شہداء ناموس رسالت کے خون سے پھوٹی ہے۔

یہ محض اتفاق تو نہیں تھا کہ 1924ء سے لیکر 1944ء تک مسلسل اس دھرتی کو شہدائے ناموس رسالت کا خون سیراب کرتا رہا۔ غازی عبدالرشید 1924ء سے لیکر غازی منظور حسین شہید 1944ء تک شہدا کی طویل قطار ہے۔ یہ تو خدا کا حسن اہتمام تھا۔ وہ اپنے

صفحہ 86

محبوب ﷺ کے نام پر جو نیا اسلامی ملک امت مسلمہ کو دے رہا تھا، اس ملک کی دھرتی کو شہدائے ناموس رسالت کے پوتر لہو سے سیراب کر کے اسے ہمیشہ کیلئے پاکیزگی، رعنائی اور بقاء دوام سے سرفراز کرنا چاہتا تھا۔ میرا احساس ہی نہیں، یقین بھی کہتا ہے کہ یہ ملک خدا نے عاشقان رسول ﷺ کو دیا ہے۔ اس کا خواب ایک عاشق رسول ﷺ محمد اقبالؒ نے دیکھا۔ اس خواب کو عملی تعبیر ایک عاشق رسول ﷺ محمد علی جناح نے بخشی۔ اس دو قومی نظریہ کو پروان چڑھانے میں ایک عاشق رسول ﷺ احمد رضا بریلوی کا کردار سب سے بڑھ کر ہے۔

جب پورا ہندوستان تحریک خلافت کی چھتری تلے ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعروں سے گونج رہا تھا اور مسلم لیگ کے سب لیڈر اسی برسات میں بھیگے ہوئے تھے، ایسے میں تنہا امام احمد رضاؒ کی ذات تھی جس نے ”ہندو مسلم الگ الگ قومیں“ کا نعرہ لگایا اور اپنی عزت، اپنا وقار سب کچھ اسی نعرے کی حفاظت میں کھپا دیا تاآنکہ سب کی آنکھیں کھل گئیں اور سب عاشق رسول ﷺ احمد رضاؒ کی پکار کے سانچے میں ڈھل گئے۔ اس خواب کی تعبیر کیلئے شب و روز دعائیں مانگی گئیں؛ اور ان دعائیں مانگنے والوں میں امیر ملت پیر جماعت علی شاہؒ، پیر صاحب مانکی شریف، پیر صاحب زکوڑی شریف، پیر صاحب سیال شریف، پیر صاحب کچھوچھہ شریف اور پیر صاحب گولڑہ شریف کی ذوات قدسیہ بہت نمایاں ہیں۔ ایک واقعہ دیکھئے۔ ظفر علی خان جب تحریک خلافت کا نمائندہ بن کر دربار مہریہ میں آیا تو بے ساختہ پکار اٹھا: ”میں تو اس دربار میں ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے سلطنت مانگنے آیا ہوں۔“ پیر سید مہر علی شاہ قدس سرہ نے فرمایا: ”میں دعا کرتا ہوں، آپ بھی میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں۔“ اور خاص توجہ سے دعا کی۔ پھر نہ جانے اس دعا کی قبولیت کا اشارہ ہوا، یا چشم بصیرت نے حالات کو دیکھ لیا اور قیام پاکستان کی پیش گوئی کرتے ہوئے فرمایا: ”عنقریب اس ملک میں سب مسلمان ہوں گے“۔

یوں کھلا کہ پاکستان جذبۂ عشق رسول ﷺ کی دین ہے۔ یہ شہدائے ناموس

صفحہ 87

رسالت کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ امتحانِ عشق میں امت کی سرخروئی کا حاصل ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں برصغیر کی امت مسلمہ نے اپنے آقا و مولیٰﷺ کے حضور ایمان، اخلاصِ محبت اور وفا کے سچے جذبوں کا نذرانہ ہر میدانِ جہاد میں پیش کیا اور آقاﷺ نے خوش ہوکر اس ملت کو پاکستان عطا فرمایا۔ وہ خطۂ ارض جو اسلام کی عملی تجربہ گاہ کہلایا۔ جو اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کی سب برکتیں اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے۔ جو مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی دنیا کی سب سے منفرد ریاست ہے۔

۲۔ پاکستان...... ہجرت نبوی کا عکس بعید

اسلام کے تہذیبی سفر کا منظر نامہ دیکھئے تو کاروانِ اسلام مدینہ منورہ سے چلا اور کرۂ ارض کے بہت سے خطوں پر اپنی حکمرانی کا سکہ بٹھانے کے بعد برصغیر پاک و ہند میں آیا۔ سب سے آخر میں یہاں پہنچا ہے۔ ایران، وسطی ایشاء، افریقہ اور اندلس میں پہلے گیا اور بعد میں یہاں آیا۔ مگر ایک بات دیکھئے کہ برصغیر کے اندر اور اور برصغیر سے باہر پورے عالم اسلام، پورے کرۂ ارض پر جہاں جہاں اسلام گیا ہے، سارے خطے، سارے علاقے بلکہ یوں کہیئے پورے عالمِ اسلام میں اتنے اولیاء کرام یکجا نہیں ہیں، جتنے برصغیر پاک و ہند کے چھوٹے سے خطے میں ہیں۔ پاکستان کا قیام نہ صرف اسلام کی تاریخ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا سب سے منفرد واقعہ ہے۔ اگر اس واقعہ کی کوئی مثال روئے زمین پر ملتی ہے تو وہ اس کا اصل اور مبدأ (Origin)، اس کا منبع اور سرچشمہ یعنی ریاست مدینہ ہے۔ اسلام کی سب سے پہلی ریاست مدینہ منورہ میں قائم ہوئی؛ اور اُس کے بعد اب چودھویں صدی ہجری میں اسلام کے نام پر ایک نیا ملک پاکستان بنا ہے۔ اس اعتبار سے چودہ سو سال کے بعد قیام پاکستان ہجرتِ نبوی اور ریاست مدینہ کا ایک عکس و پرتو ہے۔ یہ بات ایک غیر مسلم دانشور کینتھ کریگ کو سوجھی ہے۔ خود اہل پاکستان شاید اس حقیقت کو اب تک نہیں سمجھ سکے۔ چنانچہ معروف دانشور کینتھ کریگ کہتے ہیں۔

صفحہ 88

’’پاکستان بطور تصور، پالیسی اور امر واقعی دور حاضر میں اسلام کے متعلق مسلمانوں کے نقطہ نظر کا یقینی مظہر ہے۔ پاکستان نے اسلام کو واضح اور متعین کرنے میں وہی کام کیا ہے جو ساتویں صدی میں ہجرت نبوی نے کیا تھا۔‘‘

بناء بریں یہ امر حقیقت کی بلند تر سطح پر اور یقین کی آخری حد تک ثابت شدہ ہے کہ پاکستان کا قیام محض اتفاقی حادثہ، معاشی تصادم یا سیاسی کشمکش کے ایک وقتی حل کے طور پر نہیں، بلکہ اسلام کی عملی تجربہ گاہ کی حیثیت سے عمل میں آیا۔ امت مسلمہ کی چودہ سو سال پر محیط درخشاں تاریخ کا ایک سرا ہجرت نبوی ﷺ سے ملتا ہے اور دوسرا قیام پاکستان کہلاتا ہے۔ پاکستان کی جدوجہد دنیا میں آزادی کی سب سے منفرد جدوجہد ہے۔ روئے زمین پر اور کوئی ملک ایسا نہیں جو صرف مذہب کے نام پر کسی براعظم سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوا ہو۔ پاکستان کا قیام تاریخ عالم کا ایک سنہرا باب ہی نہیں بلکہ سب سے انوکھا منظر بھی ہے۔ اس منظر میں خوشیوں کی دھنک بھی ہے اور ماتم کے نوحے بھی۔ اس میں قائدین کے عزم و فراست کی مہکار بھی ہے اور عوام کے ایثار و قربانی کی امنگ بھی۔ اس میں جذبوں کی آبشار بھی ہے اور احساس کے مترنم جھرنے بھی۔ خوابوں کی سنہری قبا اوڑھے مہاجروں کے قافلے بھی ہیں اور مچلتے ارمانوں کے طوفان سینوں میں لئے لٹتی جوانیاں بھی۔ اس میں سسکتے لوگ، بچھڑتے رشتے اور اجڑتے گھر بھی ہیں اور شہیدوں کے خون کی شفق رنگ لالی بھی۔ اور آج جبکہ پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ قریب آرہی ہے، احساس کے آئینے میں یہ سارے مناظر جھلملا رہے ہیں۔ آزادی کی راہ میں بکھرے ہوئے لہو کے چھینٹے ہنوز لو دے رہے ہیں، فضا میں جذبوں کا ارتعاش تاحال قائم ہے اور سانسوں کے ساتھ اس ارتعاش کی لہریں تن من میں اتر رہی ہیں۔

صفحہ 89

۳۔ پاکستان ...... رسالت محمدی ﷺ کا فیضان

ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذہب کی حقیقت کیا ہے؟ کیا محض توحید، آخرت، نماز، روزہ ہی مذہب ہے۔ نہیں۔ اسلام کی رو سے مذہب کی اصل حقیقت اور امتیازی تشخص نسبت محمدی علیٰ صاحبہا التحیۃ میں مضمر ہے۔ مذہب کے تمام عقائد، توحید، مجرد رسالت، آخرت اور جملہ اعمال نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ اسی نسبت محمدی کی بدولت اسلام میں ڈھلتے ہیں۔ اگر نسبت محمدی ہے تو یہ سب عقائد و اعمال دین اسلام کے اجزاء ہیں ورنہ نہیں۔ نسبت محمدی سے عاری توحید، یہودیت یا عیسائیت تو ہو سکتی ہے، اسلام نہیں۔ اور آج خدا کے ہاں صرف وہی توحید معتبر ہے جو نسبت محمدی پر مبنی ہو، نہ کہ یہودیت اور عیسائیت کی توحید۔

بناء بریں یہ واضح ہے کہ پاکستان کی اساس قومیت مسلم کا امتیاز ہے۔ یعنی رسالت محمدی کے اقرار پر مبنی قومیت۔ دو قومی نظریہ کیا تھا: یہی کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پیروکار دنیا کی سب قوموں سے الگ اور جدا گانہ قوم ہیں۔ پاکستان اسی جدا گانہ قومیت کا مطالبہ تھا۔ برصغیر میں بسنے والے غلامان مصطفیٰ ﷺ کا مطالبہ۔ توحید کے ماننے والے عیسائی اور سکھ بھی یہاں موجود تھے، مگر وہ اس مطالبہ کرنے والی قوم سے خارج تھے۔ سو پاکستان اگر بنا ہے تو نسبت محمدی کی اساس پر بنا ہے۔ اس کا وجود مسلمانوں کے جذبۂ عشق رسول ﷺ سے پھوٹا ہے۔ اس مملکت خداداد نے جنم لیا ہے تو مسلمانوں کے شعور مصطفوی کی کوکھ سے۔ عہد جدید میں دنیا کی یہ سب سے بڑی مسلم ریاست اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کے دیوانوں کو بخشی ہے۔ توحید کے فرزانے تو اور بھی تھے مگر انہیں کفار کے زمرے میں رکھا اور پاکستان کو رسالت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیۃ کا فیضان بنا دیا۔

پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ صرف اور صرف عشق رسول ﷺ اور نسبت محمدی کے تقاضے کے طور پر۔ اگر پاکستان وجود میں نہ آتا تو برصغیر میں نسبت محمدی کا جدا گانہ تشخص

صفحہ 90

خطرے میں پڑ جاتا۔ یوں پاکستان ہمارے ایمان کی شناخت اور تحفظ کا عنوان بن گیا۔ دراصل ہندوستان میں نماز ، روزے ، ذکر وفکر ، مسجد ، زکوٰۃ وحج وغیرہ اعمالِ اسلام کے لئے خطرہ نہیں تھا؛ اور آج بھی جب یہ چیزیں میسر ہیں تو کیا اس سے منشاء ایمان و اسلام پورا ہو جاتا ہے۔ بالکل نہیں۔ پھر اگر ان اعمال کی ہندوستان میں ضمانت مل جاتی تو کیا ہم پاکستان کا مطالبہ چھوڑ دیتے۔ ہرگز نہیں۔

بناء بریں یہ بات آشکار ہے کہ پاکستان کسی غیر معمولی مقصد کے لئے وجود میں آیا ہے۔ مجرد اعمالِ شریعت کی اکائیوں (units) کا تحفظ مطالبۂ پاکستان کی اساس نہ تھا بلکہ ایک کلی ، عمومی اور اجمالی حقیقت اسکی اساس بنی۔ اور یہ کلی و عمومی حقیقت ہے: ”نسبتِ محمدی علیٰ صاحبہا التحیۃ کا استحکام“۔ سو مانئے کہ پاکستان کا مطالبہ نسبتِ محمدی کے تقاضوں پر آزادانہ عمل اور اس کی نشوونما اور اظہار و ابلاغ کے لئے کیا گیا۔ ”برصغیر کے مسلمان چاہتے تھے کہ وہ اپنے نظام، قانون، معیشت، سیاست اور ثقافت ہر چیز میں اپنے محمدی ہونے کا اظہار آزادانہ کر سکیں۔ محمد رسول اللہﷺ سے اپنی نسبتِ غلامی کو برملا آشکار کر سکیں اور دنیا کے سامنے اس نسبت کی دعوت و اشاعت کے لئے ایک آزاد خطۂ ریاست کو مرکز (Base Camp) بنا سکیں“۔ یہ ہے مطالبۂ پاکستان کا محرک ، تشکیلِ پاکستان کی غایت اور استحکامِ پاکستان کی اساس۔

(۲)۔ پاکستان محض جغرافیہ کا نام نہیں ہے۔ پاکستان ایک بصیرت ، ایک احساس ، ایک کائناتی Event کا نام ہے۔ بلا تمثیل ، بلا شبیہہ جس طرح حضور اکرمﷺ کا ظہورِ قدسی ایک منفرد کائناتی واقعہ ہے، نزولِ قرآن یومِ بدر اور فتحِ مکہ بے مثل آفاقی مظاہر ہیں، اسی طرح فتحِ باب الاسلام سندھ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ اور پھر چودھویں صدی ہجری میں آ کر اسلام کے نام پر ایک عظیم مملکت ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کا قیام ایک یگانہ تاریخی مظہر ہے۔ ایک آفاقی ، تہذیبی مظہر اور ایک لازوال کائناتی واقعہ (Cosmic Event)؛ یعنی

صفحہ 91

ایسا واقعہ جو بظاہر انسانوں کے ذریعہ رونما ہوتا ہے لیکن جسے حقیقت میں رب ذوالجلال خود اپنی حکمت کے تحت ظاہر فرماتا ہے۔ چنانچہ دیکھئے لیلۃ القدر نزول قرآن کی رات ہے۔ قرآن پاک جس رات نازل ہوا وہ ہزار مہینوں پر بھاری ہے۔ یوں نزول قرآن کے اس ایک Event نے ہزار مہینوں پر بھاری رات ہمیں عطا کردی۔

نزول قرآن ایسا واقعہ ہے جس کا تعلق کسی مخلوق سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو جس لمحے اتارا، یہ انتخاب براہ راست اس کی اپنی مشیت کا فیصلہ تھا۔ جو رات نزول قرآن سے ہمیں عطا ہوئی قیامت تک نسل انسانی کے ہر فرد کے لئے عبادت، بندگی اور قبولیت کے لحاظ سے ہزار مہینوں پر بھاری ہے۔ ایک ہزار مہینے مسلسل چوبیس گھنٹے ہم بارگاہ الٰہی میں ہاتھ پھیلا کر خشوع و خضوع سے دعائیں مانگتے رہیں، تو ہزار مہینوں کی مسلسل دعائیں ہمیں وہ کچھ نہیں دے سکتیں جو شب قدر کے تنہا ایک لمحے کی دعا ہمیں دے سکتی ہے۔ نزول قرآن ایک Event تھا جس نے یہ تحفہ عطا کیا ہے۔ اس کی یاد اللہ تعالیٰ قیامت تک باقی رکھنا چاہتا ہے۔ قرآن حکیم ایک لازوال کتاب ہے جو ہمیشہ رہنے کے لئے آئی ہے؛ سو جس لمحے قرآن حکیم اترا وہ ساری کائنات کے لئے، کل نسل انسانی کے لئے ابد تک ہزار مہینوں سے بھاری رات بن گئی۔

اسی طرح مملکت خداداد پاکستان کا قیام بظاہر ایک عام انسانی واقعہ محسوس ہوتا ہے مگر اپنی دینی اساس، تاریخی معنویت اور تہذیبی مضمرات کے لحاظ سے یہ صدیوں اور نسلوں پر حاوی ہے۔ اب قیامت تک کے لئے یہ مملکت خداداد اسلام کا حصار، اسلام کی عزت اور درخشندگی کی علامت بنی رہے گی۔ پاکستان کا قیام جس رات عمل میں آیا وہ قمری تقویم کے لحاظ سے رمضان شریف کی ۲۷ویں شب یعنی ممکنہ طور پر لیلۃ القدر تھی۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شب قدر سے جوڑ دیا۔ یہ مشیت الٰہی کا بہت بڑا راز تھا: قدرت کا حسن اہتمام۔ اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کے ساتھ پاکستان کو جوڑا اور چودہ اگست ۱۹۴۷ء ہمارے

صفحہ 92

ذہن میں بٹھا دیا تا کہ ہمیں یہ بات باور کرادے کہ اس نے چودہ اگست کو بھی لیلۃ القدر کی برکت کا حصہ دے دیا ہے۔ اس میں بھی لیلۃ القدر کی برکات کا فیض جاری ہو گیا ہے۔ شب قدر کی برکتیں چودہ اگست میں بھی منعکس ہو رہی ہیں۔

پس اے اہل پاکستان! چودہ اگست کی رات یا ۲۷ رمضان کی شب جب بھی تم قیام پاکستان کے اس لمحے رب ذوالجلال کی بارگاہ میں دعا مانگو وہ قبول ہوگی۔ ہاں مگر یہ دعا انفرادی نہیں، اجتماعی ہونی چاہیے۔ جس طرح بعض مواقع افراد کے لئے قبولیت دعا کے ہوتے ہیں، اسی طرح بعض مواقع افراد کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم، پورے معاشرے کے لئے اجتماعی قبولیت کے ہوتے ہیں۔ چونکہ پاکستان اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو دیا تھا اس لئے پوری قوم مل کر قیام پاکستان کے لمحے جو بھی دعا مانگے گی، اس دعا کی قبولیت یقینی محسوس ہوتی ہے۔ ہاں ایک بات اور ہے کہ پوری قوم مل کر پاکستان کے لئے دعا مانگنے سے اپنے اپنے دلوں کے اندر وہی شدت کی تڑپ، پیاس اور سوز و گداز لئے ہوئے ہو جو مصور پاکستان حکیم مشرق علامہ محمد اقبالؒ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے دل میں تھی۔

البتہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ ایک ایسی شخصیت تھے جو بانی پاکستان ہونے کے ناطے اگر تنہا ہی دعا کرتے تو بھی وہ قبول ہوتی۔ پھر ان کے بعد اگر یہ حیثیت اور مقام پاکستان میں تنہا کسی ایک شخص کو نصیب ہے تو وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے محسن ملت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت ہے۔ تنہا یہی ایک شخصیت ہے جو علامہ اقبال اور قائد اعظم کے بعد پورے ملک اور پوری قوم پر بھاری نظر آتی ہے۔

۴۔ پاکستان کا مستقبل تحفظ ناموس رسالت سے وابستہ ہے

زندہ قومیں اپنی آزادی کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہیں اور اپنے جذبوں کی لو کبھی مدھم نہیں پڑنے دیتیں۔ وطن کے بام و در پر گداز روح کا موسم بہار کھلائے رکھتا ہے۔ ان کی

صفحہ 93

سوچ، زبان، لباس اور نظام ہر چیز پر اپنے وطن کی چھاپ اور اپنی زمین کی باس ہوتی ہے۔ ملت کا طرز احساس اجتماعی نظام حیات میں ڈھل جاتا ہے اور نئی نسل اسی طرز حیات کو اپنا کر آگے بڑھتی ہے۔ اس طرح آزاد قومیں وطن کی محبت اپنی نئی نسل میں منتقل کرتی ہیں۔ ہمارے وطن کا تشخص اسلام ہے اور یہی ہماری پہچان، ہماری عظمتوں اور سرخروئی کا ضامن ہے۔ اس تشخص کو فراموش کر کے جہاں ہم اپنا مستقبل کھوٹا کریں گے وہیں اپنے وجود اور بقا کا جواز بھی کھو دیں گے۔

یہ سچ ہے کہ پاکستان نے واقعی اسلام کو اجاگر کرنے میں وہ کام کیا ہے جو روئے زمین پر اور کہیں نہیں ہو سکا۔ اسی ملک کے باشندوں نے دو بار تحفظ ختم نبوت کی تحریک چلائی اور قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اسی ملک کی قومی اسمبلی نے سب سے پہلے قادیانیوں کو بالاتفاق کافر قرار دیا اور نوے سالہ پرانے اس ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر دور پھینک دیا۔ یہ فیصلہ اہل پاکستان کے جذبہ عشق رسول ﷺ کا زندہ مظہر ہے؛ اور اس اعزاز میں ہر وہ شخص حصہ دار ہے جس نے ان نوے سالوں میں قادیانیت کے خلاف کسی طور جدوجہد کی۔ 1953ء اور 1974ء کی دونوں تحریکوں کے کارکنان اور قائدین سب خراج تحسین کے حقدار ہیں۔ قومی اسمبلی کے سب ارکان اور اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ہر ایک کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔

پھر آگے بڑھئے تو ناموس رسالت کے تحفظ کا قانون ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی اہل پاکستان کے ایمان، محبت اور وفا کا نقش تابندہ ہے۔ اس وقت کے صدر ضیاء الحق، وفاقی شرعی عدالت، قومی اسمبلی اور ہر وہ شخص جس نے اس کیلئے جدوجہد کی، تاریخ محبت میں اس کا نام جاوداں ہے۔ یہ قانون کیا ہے؟۔ شہدائے ناموس رسالت کے لہو کا چراغ۔ چودہ سو سال کی پوری اسلامی تاریخ کی پہچان ۔ قرآن مقدس کے پیغام کا حرف آخر، اور خدا کی مشیت کا یقینی مظہر۔ میں اس قانون کو پاکستان کے وجود کا جواز سمجھتا

صفحہ 94

ہوں۔ میں اسے دو قومی نظریہ کا حاصل کہتا ہوں؛ اور اہلِ پاکستان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ صلیبی جنگوں کے وارث ہمارے قومی وجود کو مٹانے کیلئے ہمیشہ اس قانون کے درپے رہیں گے؛ مگر یاد رکھنا! جس دن یہ قانون باقی نہ رہا ہم بھی اپنے وجود اور بقاء کا جواز کھو دیں گے۔ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ختم ہو گیا تو پاکستان کا جواز ختم ہو جائے گا۔ پاکستان نے شہداء ناموس رسالت کے لہو کی سرخی سے جنم لیا تھا اور جب تک اس لہو کی حرارت باقی رہے گی، پاکستان بھی دنیا کے نقشے پر قائم رہے گا۔ لیکن اگر ہم نے شہداء ناموس رسالت کے خون سے غداری کی تو خدا کے ہاں غداری کی سزا موت ہے: اجتماعی موت اور بڑی درد ناک موت۔

پس قارئین محترم! یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھئے کہ پاکستان نسبت محمدی کی اساس پر وجود میں آیا اور اس نسبت محمدی کے تحفظ، فروغ اور استحکام کی جدوجہد ہی اس مملکت خداداد کا مقصد تاسیس ہے۔ چنانچہ پاکستان کو اب دنیا بھر میں سیرت مصطفیٰ ﷺ کی خدمت، دعوت اور اشاعت کا سب سے بڑا مرکز بننا ہے۔ یہ پاکستانی قوم کی اولیں ذمہ داری ہے۔ یہ اس کے ذمہ قرض ہے: مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا قرض۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا قرض۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہر مجاہد، ہر غازی کا قرض۔ اس دیس کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے والے کروڑوں مہاجرین کا قرض۔ وطن کی حرمت پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اَن گنت شہیدوں کا قرض۔ ملت اسلامیہ کے ایک ایک فرد کا قرض۔ نام محمد ﷺ پر دھڑکنے والے ہر ہر دل کا قرض۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود ذات مصطفیٰ ﷺ کا قرض اور مصطفیٰ ﷺ کے ربّ خدائے ذوالجلال کا قرض۔

اُٹھیے اور تھام لیجئے تحفظ ناموس رسالت کا البیلا پرچم

قارئین کرام! عالمی سطح پر اس وقت اغیار کی دسیسہ کاریوں نے جو سب سے بڑی گھمبیر سازش اسلام کے خلاف بُنی ہے وہ ناموس رسالت ﷺ کے خلاف طرح طرح کے ان تازہ حملوں میں جھلک رہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ اہل ایمان کی غیرت دینی کے شعلے

صفحہ 95

بجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، علامہ اقبال کے الفاظ میں:

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں ، راکھ کا ڈھیر ہے

آج دنیا میں ایک سو پچیس کروڑ مسلمان سانس لے رہے ہیں ۔ اور ہر سانس میں دکھ کی آگ بھری ہے ۔ ہر مسلمان کا سینہ چھلنی ہے ۔ ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ یا اللہ ! یہ دن بھی آنا تھا کہ۔ ہم جی رہے ہیں اور ہمارے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے ۔

اے غیرت ایمانی جاگ ذرا
میرے آقا ﷺ کی توہین ہوئی ہے

کچھ عرصہ پیشتر ڈنمارک کے ایک اخبار نے کارٹون چھاپا۔ پھر یورپ کے دوسرے اخباروں نے پھیلایا۔ صلیبی سازشوں کا نیا دور ہمارے ایمان کے لئے چیلنج بن کر آیا ہے ۔ خدا کی دھرتی پر خدا کے محبوب ﷺ کی توہین ہو تو آسمان کانپتا ہے ۔ زمین لرزتی ہے۔ اور کونین کا ذرہ ذرہ تڑپ اٹھتا ہے ۔ دیکھو آج بادلوں میں کرب ہے ۔ فضاؤں میں اداسی ہے ۔ پرندے دکھ سے سہمے ہیں ۔ کلیاں سب مرجھائی ہیں ۔ ہر چیز پہ خوف کا پہرہ ہے۔ نہ جانے کب خدا کا عذاب اترے ۔ کیا پتہ کس قدر بھیانک ہو۔ اور کس کس کو آ دبوچے ۔ اٹھو مسلمانو! اس عذاب سے بچنے کی سبیل کرو ۔ یاد رکھنا ! خدا اپنے محبوب ﷺ کی توہین کا بدلہ لے سکتا ہے ۔ پر اس نے تمہیں آزمایا ہے ۔ تمہارے ایمان ، تمہاری غیرت کا امتحان ہے یہ۔ تم نمازیں پڑھتے ہو اور مسجدیں بساتے ہو ۔ دشمن نے تمہاری نمازوں کو للکارا ہے ۔ تمہارے آقا ﷺ کی توہین ہو ۔ اور تم سجدوں میں پڑے رہو ۔ یہ تمہارے رب کو گوارا نہیں مسلمانو! اٹھو ، جاگو ۔ نکل آؤ میدان میں ۔ اہل کفر کو بتا دو کہ ہم مسلمان زندہ ہیں ۔ ہمارا ایمان ، ہماری غیرت زندہ ہے ۔ جو سانس ہمارے آقا ﷺ کی توہین کرے، وہ اکھڑے گی ۔ جس دھرتی پر یہ جرم ہو، اسے اس کا حساب تو دینا ہوگا ۔ جو قدم اس مجرم کا ساتھ نبھائے ، اسے ریزہ ریزہ

صفحہ 96

بکھرنا ہوگا۔ ہم مسلمان کمزور نہیں۔ پس ذرا ایک ہو جائیں۔ اور اپنی معاشی طاقت ہی جگا لیں تو کفر کی ساری دنیا لرزہ براندام ہو جائے۔ ڈرو مت اے مسلمانو! تم تنہا نہیں ہو، خدا کی قدرتوں کا سائبان تم پر تنا ہے۔ اسکی نصرت ہر قدم تمہارے ساتھ ہے۔ تم اس کے محبوب ﷺ کی ناموس کا پرچم تھام کر نکلو، وہ تمہاری عظمتوں کے ڈنکے عالم میں بجا دے گا۔ تمہارا خوف اہل کفر کے سینے میں بھر دے گا۔

اے دین حق کے متوالو!۔۔۔ شمع رسالت کے پروانو!۔۔۔ کیا ہمارا ضمیر اب کبھی جاگ نہ پائے گا۔۔ کیا رب کی دھرتی پر اب کبھی ناموس رسالت کے تحفظ کی شمعیں نہیں جلیں گی۔۔ کیا اب ہمارے ایمان کی کھیتی سدا بنجر ہی رہے گی۔۔ کیا حرمت رسول ﷺ پر جان نچھاور کرنے کے جذبے صرف ایک بھولی بسری تاریخ بن کر رہ جائیں گے۔۔ ’حرمتِ رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے‘ کے نعرے صرف دیواروں پر ہی سجے رہیں گے۔۔ کیا ہمارے لہو کی بوندوں میں اب کبھی عشق رسول ﷺ کی بجلیاں رقص نہیں کریں گی۔۔ کیا ہماری پلکوں میں اب کبھی یاد مصطفی ﷺ کی نمی نہیں اترے گی۔۔ کیا ہم خود کو شفاعت مصطفی ﷺ کی آرزو سے ہمیشہ محروم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔۔؟

کیا کہا۔۔! نہیں!۔۔ تو پھر۔۔ قارئین کرام۔۔ نکلئے اپنے گھروں سے باہر۔۔ تھام لیجئے تحفظ ناموس رسالت کا البیلا پرچم۔۔ تا آنکہ چند کرنیں عشق مصطفی ﷺ کی ہمارے وجود کی پہنائیوں میں تھرتھرانے لگیں۔۔ اور ہمارے ایمان کو ایک بار پھر سہارا مل جائے۔۔

نسبت رسول ﷺ کی بہاروں کا۔۔۔

صفحہ ب

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں

سلسلہ مطبوعات امہ نمبر ۲۴ کتاب: توہین رسالت کے فتنے تاریخ کے آئینے میں مصنف: پروفیسر سید عبدالرحمن بخاری حفظ قرآن، درس نظامی، تخصص ایم اے، ایل ایل، ایم (گولڈ میڈلسٹ) طبع اول: مئی ۲۰۰۸ طبع دوم: جولائی ۲۰۰۹ ناشر: امہ فاؤنڈیشن (وقف) اہتمام: امہ پبلی کیشنز ہدیہ: دعائے خیر بحق معاونین مفت ملنے کا پتہ:

فون: 051-4546150 -- 051-4546151

موسس امہ فاؤنڈیشن (وقف) فون نمبر 0346-5449981

فون 042-5750805

ہمیشہ جار قارئین محترم! آپ جانتے ہیں، کچھ کبھی ختم نہیں ہوتیں...... ہمیشہ باقی پھولتی رہتی ہیں...... ایسی ہی ایک نی ”مخلوق خدا کی اخروی تبلیغ کا ...... اور تبلیغ کا کتابیں فی سبیل اللہ پہنچانا۔“ یہ کتنی بڑی نیکی ہے...... شا پر سوچا ہی نہ ہو...... یاد رکھیے ! ا گوشے میں پھیلتی ہے...... اور یو حدیث پاک میں ہے...... ﴿ا کرنے والوں کا ثواب بھی ملتا ہے ذرا سوچئے میرے بھائی ! ہیں...... اور وہ دنیا بھر میں پھیلتی سنوریں گی...... اور سب کا ثواب

صفحہ ط

انتساب

شہدائے ناموس رسالت

کے لہو کی بوند بوند میں رقصاں گداز عشق رسول ﷺ کی ان سندر، کومل، اجلی کرنوں کے نام !

جو

دھرتی سے آفاق تلک ہر سو اجالے بانٹتی، شادابیاں بکھیرتی اور زندگی نکھارتی ابد تک یونہی کارواں در کارواں نسل آدم کے لیے ہدایت کی رہگزر سجائے رکھیں گی۔

خاک راہ شہیدان وفا سید عبدالرحمن بخاری

صفحہ ك

عکس

قرآن حکیم اور تعظیم مصطفیٰ ﷺ کے تقاضے

پیروی امت پر لازم ہے۔

و جزئیات کے باہم ارتباط میں ہے

لیے ہوئے ہے

صفحہ ل

ناموس رسول ﷺ اور عہد جدید کا چیلنج

توہین رسالت کے چند فتنے

صفحہ م

توہین رسالت ۔ امت مسلمہ کے جذبوں کا امتحان

صفحہ ن

پاکستان --- تحفظ ناموس رسالت کا فیضان

☆ ☆ ☆

PDF 103

سجدۂ حضوری

الحمد لله حمداً یوافی نعمہ و یکافئ مزیدہ، لا أحصی ثناء علیک، أنت کما أثنیت علی نفسک

ازل سے ابد تک سب تعریفیں بس ”اُسی“ کو زیبا ہیں ...... ”وہ“ ...... کہ جس کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ...... جس نے سب کو بنایا اور سب کا پالنہار ہے ...... جو سب کو سب کچھ، ہر پل بخشے ...... ہر بے جان کا روپ نکھارے، ہر جیون کا نقش اجالے ...... ”وہ“ جس کی شان یکتا اور یگانہ ہے ...... اور جس کی عطا انمول اور بے پایاں ...... ہم ذرہ مانگیں، وہ سورج دیتا ہے ...... اور قطرہ مانگیں تو سمندر برساتا ہے ...... ”وہ“ کہ جس کی قدرتوں کا اک افق ہے کہکشاں ...... اور جس کی وسعتوں کا اک کنارہ لامکاں ...... ”وہ“ کہ جس کی عظمتیں ہیں ماورائے ہر گماں ...... اور جس کے نور کا پرتو ہیں سب کون و مکاں ...... ”وہ“ کہ جس کی تسبیح ہر شے کا وظیفہ ہے ...... اور جس کا چہرہ کونین کے ہر منظر میں جھلکتا ہے ...... آبشاروں کے ترنم میں، کلیوں کے تبسم میں ...... سورج کی روپہلی کرنوں میں، چاند ستاروں کی جھلمل میں ...... بادِ صبا کے جھونکوں میں اور ابرِ بہار کی رم جھم میں اس کی تجلی روشن ہے ...... ”وہ“ کہ جس کے نام پر سب دل دھڑکتے ہیں ...... اور جس کے پیار میں ہر سانس مچلتی ہے ......

آنکھ اٹھے تیرے لیے، کھلتے ہیں لب تیرے لیے میرا جینا، میرا مرنا، میرے رب تیرے لیے
دائرہ تیری رضا، پرکار میری زندگی ہر تمنا، ہر ارادہ، ہر طلب تیرے لیے
صفحہ ع

تمنائے باریابی

مـــولای صـــل وســـلـــم دائمــــا ابــــدا
عـــلـــیٰ حبیبک خیـــر الـــخـــلـــق کـــلـــهـــم

ہر دل سے امنڈتے جذبے، ساز ازل کے نغمے اور درود و سلام کی سوغاتیں بس ایک ہی ہستی کی نذر...... ”وہ“...... جس کا نام لب پر آتے ہی روح مسکراتی...... اور زندگی بہاروں میں ڈوب ڈوب جاتی ہے...... ”وہ“ جس کا وجود خدا کے حسن تخلیق کا شاہکار...... اور فطرت کی سب رعنائیوں کا حاصل ہے...... ”وہ“ جس کا نور تخلیق کائنات کا سرچشمہ ...... اور جس کا فیض کونین میں ہر سو پھیلا ہے...... ”وہ“ جس کی خاطر خدا نے سب کچھ بنایا...... اور جس کا پیار دل فطرت میں انڈیلا ہے...... ”وہ“ جس کے نور سے مطلع صبح ازل روشن...... اور جس کے جلوؤں سے چہرۂ شام ابد تاباں ہے...... ”وہ“ جس کے آنے سے بہار اتری زمیں پر...... افق سے تا افق قوس قزح کا رنگ بکھرا...... ”وہ“ جس کو پیار سے رب نے پکارا جس طرح چاہا...... وہ مزمل، وہ مدثر، وہ یٰسیں، وہ طٰہ...... جو بہر مومناں بن کر رؤف آیا، رحیم آیا...... خطا پوش و عطا پاش و خلیق آیا، کریم آیا...... ”وہ“ جس کا نام خدا نے عرش اعظم پر سجا رکھا ہے...... اور جس کا ذکر کائنات میں ہر وقت، ہر سو ہورہا ہے...... بحر و بر میں، شجر و حجر میں...... ارض و سما میں، شمس و قمر میں...... ہر ذرے میں، ہر قطرے میں...... ہر ساعت میں، ہر لمحے میں...... جب بھی، جہاں بھی رب کا ذکر ہے...... ساتھ ہی اس کے حبیب ﷺ کا ذکر ہے ۔

مصطفیٰ ﷺ کا نام ہے نام خدا کے ساتھ ساتھ
مصطفیٰ ﷺ کی یاد ہے شامل خدا کی یاد میں

یا ربِّ بالمصطـ واغفر لَنـا مـ مولای صلِّ على حبيبك

PDF 105

يَا رَبِّ بِالمُصطَفَى ﷺ بَلِّغ مَقَاصِدَنَا

وَاغفِر لَنَا مَا مَضَى يَا وَاسِعَ الكَرَمِ

مَولَايَ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا اَبَدًا

عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الخَلقِ كُلِّهِمِ

PDF 106

توہین رسالت

کے فتنے

تاریخ کے آئینے میں

پروفیسر سید عبدالرحمن بخاری

اُمّہ پبلیکیشنز (اُمّہ فاؤنڈیشن وقف)

جامع مسجد عکس گنبد خضراء، نہر پل، شارع قائد اعظم، لاہور