شیطانی آیات کی تحریک · امجد حیات ملک
Shaetani Aayat ki Tehreek · Amjad Hayat Malik
PDF 1

'نیو ورلڈ آرڈر'

'شیطانی آیات' کی تحریک اور ماضی کے آئینے میں

امجد حیات ملک

بی۔ ایس۔ سی (پنجاب) ایم۔ بی۔ اے (کراچی) آئی۔ سی۔ ایم۔ اے (فائنلسٹ - لندن)

--- ملنے کا پتہ ---

۲۴۳ ، ۲۴۴ - بی ، نیو چوبرجی پارک - چوبرجی لاہور فون نمبر : ۷۴۱۸۸۰۳ ، ۷۴۱۸۹۴۶

PDF 2

(جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ)

مصنف، ناشر : امجد حیات ملک طبع : احمد پرنٹنگ پریس ۵۰ - لوئر مال لاہور طبع اول (نامکمل خاکہ) : ایک ہزار طبع دوم (تکمیلی صورت) : ۱۹۹۶ء گیارہ سو قیمت : Rs 150

Rs 150 . 00

افضل الجہاد، کلمہ (ظالم حاکم کے سامنے)

ان تمام فرزندان توحید اپنی توانائیاں، حتیٰ کہ خدائے وحدہ لاشریک ک نظام قائم کرنے کے رب کے

صفحہ ۳

افضل الجهاد، كلمة الحق عند السلطان الجائر (ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا ہی بہترین جہاد ہے)

انتساب

ان تمام فرزندانِ توحید کے نام جنہوں نے اپنے مال، اپنی توانائیاں، حتی کہ اپنی جانیں اس دنیا میں خدائے وحدہ لاشریک کی بندگی پر مبنی ازلی و ابدی عادلانہ نظام قائم کرنے کے لئے کھپا دیں اور خود کو اپنے رب کے حضور سرخرو کر لیا۔

صفحہ ۴

چند

(”نیو ورلڈ آرڈر“ کے عنوان سے اب شائع

آفسٹ کاغذ پر طبع یہ کتاب عالمی سیاست و کے مصنف امجد حیات ملک بنیادی طور پر ایک م معیشت کی باریکیوں سے بخوبی واقف ہیں۔

امجد حیات ملک کی زیر نظر کتاب اسی گوہر ن وسیع مطالعہ اور دور بیں نگاہ رکھتے ہیں، نئے حقائق سے پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں اور خفیہ کارروائی 89ء میں بھی سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت پ بیرون ملک خیر مقدم ہوا اور ان کی اس خدمت ک واضح اشارات موجود تھے کہ فتنہ عالم اسلام ک پذیر ہونے والی ہیں۔

یہ کتاب تاریخی واقعات کا ایک انکشافی د اس کا مطالعہ لازم ہے جو کہ مغربی قوموں کی ی

اس کتاب میں جو حوالے دیئے گئے ہیں و ہے ..... مصنف اس کامیاب تصنیف پر مبار سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب مفی

اس کتاب سے ملک صاحب کے گہر قطع نظر یہ کتاب ہر صاحب علم سے خراج ت خانے کی زینت بننا چاہئے۔ اسلام کے خ کما حقہ آگاہ ہونے کے لئے اس کتاب کا م سے طبع کی گئی ہے اور مضبوط جلد اور خوب

صفحہ ۵

چند تبصرے

("نیو ورلڈ آرڈر" کے عنوان سے اب شائع ہونے والی کتاب کے سابقہ شائع شدہ خاکے پر)

آفسٹ کاغذ پر طبع یہ کتاب عالمی سیاست اور تاریخ پر مستند اور جامع تحقیق کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب کے مصنف امجد حیات ملک بنیادی طور پر ایک ماہر کاروباری نظامت (MBA) ہیں اور اس حوالے سے معیشت کی باریکیوں سے بخوبی واقف ہیں۔

لاہور چیمبر سرکلر مورخہ 21 دسمبر 1991ء

امجد حیات ملک کی زیر نظر کتاب اسی گوہر مقصود کو پانے کی ایک کاوش ہے۔ امجد حیات کہ تاریخ کا وسیع مطالعہ اور دور بیں نگاہ رکھتے ہیں، نئے حقائق کی گرہ کشائی کچھ اس طرح سے کی ہے کہ قاری کی نگاہ سے پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں اور خفیہ کاروں کی خفیہ کاریاں بے نقاب ہوتی چلی جاتی ہیں۔ مصنف نے 89ء میں بھی سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت پر اس نوعیت کا ایک کتابچہ تحریر کیا تھا جس کا اندرون اور بیرون ملک خیر مقدم ہوا اور ان کی اس خدمت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ متذکرہ کتابچے میں اس امر کے واضح اشارات موجود تھے کہ خفتہ عالم اسلام کے خفیہ دشمن کی خفیہ کاریاں، ایک "نظام نو" میں صورت پذیر ہونے والی ہیں۔

ہفت روزہ "زندگی" لاہور 11 تا 17 جنوری 1992ء

یہ کتاب تاریخی واقعات کا ایک انکشافی تجزیہ ہے اور تمام طلباء، سیاستدان اور ان لوگوں کے لئے اس کا مطالعہ لازم ہے جو کہ مغربی قوموں کی مسلمانوں کے لئے "امداد" سے متاثر ہیں۔

دی نیشن - 24 جنوری 1992ء

اس کتاب میں جو حوالے دیئے گئے ہیں وہ مستند ہیں اور اس میں تاریخ کی ریسرچ کا پورا نچوڑ موجود ہے۔۔۔۔۔ مصنف اس کامیاب تصنیف پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تاریخ اسلام اور موجودہ عالمی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب مفید اور کار آمد ہے۔

ماہنامہ حکایت مئی 1993ء

اس کتاب سے ملک صاحب کے گہرے تاریخی مطالعے کا ثبوت ملتا ہے۔۔۔۔۔ ان فروگزاشتوں سے قطع نظر یہ کتاب ہر صاحب علم سے خراج تحسین حاصل کرے گی۔ اسے لازماً ہر لائبریری اور ہر کتب خانے کی زینت بننا چاہئے۔ اسلام کے خلاف اہل مغرب کی وحشیانہ وارداتوں اور گھناؤنی سازشوں سے کماحقہ آگاہ ہونے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ اشد ضروری ہے۔ کتاب عمدہ سفید کاغذ پر کمپیوٹر کمپوزنگ سے طبع کی گئی ہے اور مضبوط جلد اور خوبصورت گرد پوش سے آراستہ ہے۔

ماہنامہ اردو ڈائجسٹ فروری 1992ء

صفحہ ۶

یہ صرف الزامات پر مبنی کسی مسلمان مصنف کا جذباتی بیان نہیں بلکہ امجد حیات ملک نے قدیم دور سے لے کر آج کے معروضی حالات کا ایک زیرک مورخ کے طور پر گہرا مطالعہ کرنے کے بعد مصدقہ واقعات، عیسائی زعماء، مذہبی پیشواؤں اور حکمرانوں کے کردار و شخصیت کے حوالہ سے ٹھوس نتائج مرتب کئے ہیں..... چنانچہ مصنف نے نہایت دردمندی سے اہل اسلام سے بالعموم اور پاکستان کے اہل اقتدار سے بالخصوص ہوشمندی سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے افواج پاکستان کے تمام تربیتی اداروں اور تعلیمی اداروں میں بطور امدادی نصاب پڑھایا جانا چاہئے۔

روزنامہ پاکستان 27 دسمبر 1991ء

اس دعویٰ کے حق میں دیئے گئے تاریخی شواہد مصنف کے وسیع مطالعے اور خاصی حد تک حسن انتخاب کی عکاسی کرتے ہیں ...... مغربی تہذیب کی تمدنی چکاچوند اور مغربی قوموں کی امداد سے متاثر مسلمانوں کی مرعوبیت ختم کرنے کے لئے جس کام کی ضرورت ہے اس کے لئے یہ کتاب ایک عمدہ بنیاد مہیا کر سکتی ہے۔

ترجمان القرآن: جنوری 1995ء

امجد حیات ملک نے اپنا یہ نظریہ کافی وضاحت اور استدلال کے ساتھ موثر انداز میں پیش کیا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت مورخہ 28 نومبر 1991ء

اگرچہ مسلمانوں اور پاکستان کے عوام کے لئے یہ سب کچھ جاننا انتہائی اہم ہے لیکن وہ ان سے بنیادی طور پر بے خبر ہیں۔ زیر نظر کتاب میں تاریخ کے کئی نہایت اہم خفیہ گوشوں پر سے پردہ ہٹا کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مشرق میگزین مورخہ 20 دسمبر 1991ء

امجد حیات ملک نے اس منکشف کرنے والی تحریر سے صیہونیوں کے اصلی منصوبوں کا پردہ چاک کیا ہے۔

انگریزی روزنامہ ”مسلم“ 28 جون 1992ء

آخر میں مصنف کو اتنی جامع اور معلوماتی کتاب تحریر کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

مون ڈائجسٹ 8 فروری 1993ء

فہرست

نمبر شمار باب

تبصرے

پیش لفظ

”خدا کے

تاریخ عالم

روشن تر

المنصور

شتربان یا

ایک بوڑھا

صفحہ ۷

میں بلکہ امجد حیات ملک نے قدیم دور و ر پر گہرا مطالعہ کرنے کے بعد صدق و بصیرت کے حوالہ سے ٹھوس نتائج مرتب ے بالعموم اور پاکستان کے اہل اقتدار سے یل ہے کہ اسے افواج پاکستان کے تمام چاہیئے۔ روزنامہ پاکستان 27 دسمبر 1991ء

وسیع مطالعے اور خاصی حد تک حسن اور مغربی قوموں کی امداد سے متاثر وں کے لئے یہ کتاب ایک عمدہ بنیاد مہیا ترجمان القرآن: جنوری 1995ء

موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ نوائے وقت مورخہ 28 نومبر 1991ء

انتہائی اہم ہے لیکن وہ ان سے بنیادی دلیل پر سے پردہ ہٹا کر اس معاملے کی ق میگزین مورخہ 20 دسمبر 1991ء

کے اصلی منصوبوں کا پردہ چاک کیا روزنامہ ”مسلم“ 28 جون 1992ء

ب پیش کرتا ہوں۔ مون ٹائمز 17 فروری 1993ء

فہرست مضامین

نمبر شمار باب عنوان صفحہ

تبصرے ۱ پیش لفظ ۹ ۲ اول شیطانی آیات کی تحریک اور نیو ورلڈ آرڈر ۱۱ ۳ دوم یکتا صلیبی ترحم و تثلیث اور نیو ورلڈ آرڈر ۲۲ ۴ سوم منگول، مسیحی اور حقیقی عالمی نظام ۳۱ ۵ چہارم تاریخ عالم کا عظیم ترین المیہ ۴۸ ”خدا کے قاتل“ ۴۹ تاریخ عالم کا عظیم ترین سانحہ ۵۴ روشن ترین جلوۂ عالم ۶۰ المنصور ۶۶ شتربان یا خنزیروں کا رکھوالا ۶۸ ایک بوڑھے کی آپ بیتی ۷۴

صفحہ ٩

غرناطہ میں ”مسلمان کی آخری سسکی“ ۸۰ اندلس میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نفاذ ۸۳ طور قماطہ اور ”عمل ایمانی“ یعنی مسلمانوں کو صلیب پر جلانے کی تقریب ۱۰۷

پیش

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر تما

”ایک اچھی کتاب ایک صا ہوتی ہے، جو ایک ایسے مقصد کے لئے وقف ک ہے۔“

راقم آثم کوئی صاحب کمال ن مصنف کے مندرجہ بالا قول کے باقی دو نکات یعنی روح کتاب پر منطبق کرنے میں کسی قسم کا کوئی تام زہر ہمارے ملک میں سرایت کر رہا ہے اس کتاب کا ناتمام خاکہ اسی عنوان سے شائع کر دی ہے۔ جس میں حقائق کی روشنی میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کو بے نقاب کرنے کی ایک حقیر سی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں مختلف حلقوں کے تبصرے بھی شامل کر لئے گئے ہیں۔

۱۹۸۹ء میں سلمان رشدی نے انگریزی میں ایک کتابچہ شائع کیا تھا جس کی ر روداد تصنیف کوئی انفرادی یا اتفاقیہ چیز نہیں بلک لحاظ سے یہ کسی بڑی گھناؤنی سکیم کا پیش خیمہ تھا۔ (۲) جونہی روسی افواج افغانستان سے نکلیں، فوراً بنیادی تبدیلی آ جائے گی۔ جس عالمی بالادستی کے چنگل میں پھنسانا ہو گا۔ اس کتاب

صفحہ ۹

پیش لفظ

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

علامہ اقبالؒ

”ایک اچھی کتاب ایک صاحب کمال ہستی کی روح کے قیمتی خون کا حصہ ہوتی ہے، جو ایک ایسے مقصد کے لئے وقف کیا جاتا ہے جو زندگی کے بعد بھی زندگی رکھتا ہے۔“

راقم آثم کوئی صاحب کمال ہستی نہیں۔ تاہم اس بارے میں راقم کو ملٹن کے مندرجہ بالا قول کے باقی دو نکات یعنی روح کے خون کا حصہ اور مقصد تصنیف کو اپنی اس کتاب پر منطبق کرنے میں کسی قسم کا کوئی تامل و تردد نہیں۔ جس سرعت سے ”نیو ورلڈ آرڈر“ ہمارے ملک میں سرایت کر رہا ہے اس کے پیش نظر راقم نے کچھ عرصہ قبل اس کتاب کا ناتمام خاکہ اسی عنوان سے شائع کر دیا تھا۔ اب اس کی تکمیلی صورت پیش خدمت ہے۔ جس میں حقائق کی روشنی میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نقوش بالاستیعاب اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں مختلف حلقوں کے وہ تبصرے بھی نذر قارئین ہیں جو انہوں نے سابقہ شائع شدہ ناتمام خاکے پر کئے تھے۔

۱۹۸۹ء میں سلمان رشدی کا فتنہ پیدا ہوا تو اس کے فوراً بعد راقم نے انگریزی میں ایک کتابچہ شائع کیا تھا جس کے دو بنیادی نکات تھے: (۱) سلمان رشدی کی دل آزار تصنیف کوئی انفرادی یا اتفاقیہ چیز نہیں بلکہ ایک بہت بڑے منصوبے کا حصہ ہے اور اس لحاظ سے یہ کسی بڑی گھناؤنی سکیم کا پیش خیمہ ہے۔ اس کتابچے میں ایک شیطانی نظام کا بھی ذکر تھا۔ (۲) جونہی روسی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی اس خطے میں امریکہ کی حکمت عملی میں فوراً بنیادی تبدیلی آجائے گی۔ جس کا ایک ہدف پاکستان کو بھارت کی علاقائی بالادستی کے چنگل میں پھنسانا ہو گا۔ اس کتابچے کا اردو ترجمہ اسی عنوان سے شائع ہونے

صفحہ ١٠

والے سابقہ خاکے میں پہلے باب کے طور پر شامل کر لیا گیا تھا۔ ”تعرف الاشیاء باضدادها“ کے مصداق اس کتاب میں جہاں ایک طرف ”نیو ورلڈ آرڈر“ کو مدلل و مسلم حقائق کی روشنی میں عیاں کیا گیا ہے‘ وہاں حقیقی عالمی نظام کے متعلق بھی احقاق حق کی کوشش کی گئی ہے۔ قارئین کو اس کتاب کے مطالعہ کے دوران یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ یہ کتاب مندرجہ ذیل تلخ حقائق کے تناظر میں لکھی گئی ہے:۔

اور حفاظت پر نہ صرف خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں بلکہ اس قماش کے لوگوں پر ان کی طرف سے اعزازات اور نوازشات کی بارش بھی ہو رہی ہے۔

سے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو اس صدی کے آخر تک عیسائی بنانے کا کام بڑے منظم طریقے سے ہو رہا ہے اور اس کام کی نگرانی سابق امریکی صدر جمی کارٹر خود سال کا بیشتر حصہ انڈونیشیا میں گزار کر رہا ہے۔

اس صدی کے آخر تک عیسائی بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں وہاں کی حکومت سے یہ احکامات جاری کرا دیئے گئے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جو مشنری تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں کوئی شخص ان کی کاروائیوں پر کسی قسم کی تنقید نہیں کر سکتا۔

اپنی نشریات کا آغاز کر دیا ہے۔

ہے‘ اپنی تصانیف اور بیانات میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق انتہائی معاندانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔

صفحہ 11

باب اول

شیطانی آیات کی تحریک

اور

نیو ورلڈ آرڈر

قَالَ رَبِّ اَرِنِيْ اَنْظُرْ اِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِيْ

(سورۃ اعراف ۔ ۱۴۳)

تو انہوں (موسیٰ علیہ السلام) نے کہا : ”اے میرے رب آپ مجھے اپنا جمال دکھا دیجئے‘ تاکہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا۔“

History is perambulations of the God in the World. (Hegel)

تاریخ دنیا میں خدا کی گشت ہے۔

جب سے سابق امریکی صدر جارج بش نے خلیج کی جنگ میں امریکی کٹھ پتلی صدام حسین اور اس کے ملک کو تباہ کرنے کے بعد ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نعرہ لگایا ہے‘ اس عنوان پر کئی کتابیں اور اخبارات و رسائل میں مضامین وغیرہ آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی سرکاری اداروں اور عمائدین کے بیانات وغیرہ بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔ جہاں تک ان سرکاری وضاحتوں اور بیانات وغیرہ کا تعلق ہے ان کے مطابق امریکی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے تین بنیادی ستون ہیں۔ (۱) جمہوریت (۲) انسانی حقوق (۳) آزاد معیشت

جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ضمن میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نعرے سے پہلے اور بعد میں امریکہ کا جو عملی کردار اور ریکارڈ رہا ہے اس کے متعلق بھی اخبارات اور رسائل میں کافی کچھ لکھا جاتا رہا ہے اور یہاں اس کا اعادہ ضروری اور

صفحہ ۱۳

مناسب نہیں۔ گریناڈا‘ پانامہ‘ نکاراگوا‘ بوسنیا‘ الجزائر‘ کشمیر‘ فلسطین وغیرہ کے متعلق مغربی ممالک امریکہ کی سرکردگی میں ظاہری طور پر اور خفیہ طور پر جو کچھ کرتے رہے ہیں اس سے ” نیو ورلڈ آرڈر“ میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی اہمیت کی قلعی کھل جاتی ہے۔ مزید برآں گزشتہ تقریباً ربع صدی میں سلامتی کونسل میں استعمال ہونے والے حق استرداد یعنی ویٹو کا تقریباً دو تہائی امریکہ نے استعمال کئے۔ اگر اس میں امریکہ کے قریب ترین اتحادی برطانیہ کے ویٹو بھی شامل کر لئے جائیں تو یہ تناسب اسی فیصد سے بھی اوپر چلا جاتا ہے اور یہ تمام ویٹو استعماری مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال ہوئے۔ باقی رہا آزاد معیشت کا نظریہ تو اس ضمن میں ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی معاشی لحاظ سے ترقی یافتہ ملک ایسا نہیں جہاں ترقی اور نشوونما کے ابتدائی مراحل میں قومی نجی شعبے کو حکومت کی طرف سے نگرانی‘ رہنمائی اور تحفظ حاصل نہ رہا ہو۔ خود امریکہ میں بے پناہ قدرتی وسائل کی موجودگی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود پچھلی صدی کے آخر تک مقامی صنعتوں کو تحفظات حاصل تھے۔ جاپان جو قدرتی وسائل کے بغیر ہی اقتصادی لحاظ سے سپر پاور بن گیا ہے وہاں بین الاقوامی تجارت و صنعت کی وزارت (MITI) ملکی صنعت و معیشت کی بھرپور انداز میں رہنمائی کرتی ہے۔ فرانس کی تاریخ میں کولبرٹ اور جرمنی کی تاریخ میں فریڈرک کی اقتصادی حکمت عملیوں سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ چنانچہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی آزاد معیشت کے بارے میں حکمت عملی مغربی ممالک کی ایسی پالیسی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں‘ یہ کہ جو کچھ چند ایک ممالک حاصل کر چکے ہیں دوسرے ممالک کے لئے اس کے حصول کے راستے مسدود کر دیئے جائیں۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں وہ ممالک جو ابھی معاشی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں نہ صرف ان کے لئے مزید ترقی محال ہو جائے گی بلکہ جو صنعتیں ان ممالک میں کچھ فروغ حاصل کر چکی ہیں ہو سکتا ہے وہ بھی ختم ہونا شروع ہو جائیں اور حتمی طور پر یہ ممالک ترقی یافتہ ملکوں کی مصنوعات کی منڈی اور کم اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ جائیں۔ دوم ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اس حکمت عملی کے تحت ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے ادارے ورلڈ بنک اور آئی۔ ایم۔ ایف تیسری دنیا کے ممالک کی حکومتوں کو ڈنڈے کے زور اس بات پر تو مجبور کر رہے ہیں کہ بنیادی ضروریات مثلاً بجلی‘ گیس‘ گندم

وغیرہ کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر لائیں لیکن وہ اجرتوں کو بھی بین الاقوامی سطح یا کم از کم ترقی یافتہ ممالک کی سطح پر لانے کے متعلق کچھ نہیں کہتے۔

چنانچہ اگر مندرجہ بالا بنیادی نکات ہمیں نام نہاد امریکی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اصلیت سے آگاہ نہیں کرتے تو پھر اس ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی حقیقت اور کنہ تک ہم کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ اگلے صفحات پر دی گئی تفصیلات سے یہ بات واضح ہو گی کہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کوئی نئی چیز نہیں۔ صرف اس کا واضح اعلان نیا ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ کسی فرد یا گروہ کے متعلق یہ جانچنے کے لئے کہ آئندہ وہ کیا کرنے والا ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں، ایک مسلمہ طریقہ ہے کہ اس کے ماضی کے کردار اور طرز عمل کا بغور مطالعہ کیا جائے۔ اسی اصول کے تحت اگر ہم دنیا کی تاریخ کے کچھ بڑے اہم واقعات پر غور و خوض کریں تو اس نام نہاد نیو ورلڈ آرڈر کے خدو نقوش آشکارا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور ان کے پس پردہ کارفرما عوامل کی ذرا سی چھان بین اور تمحیص سے اس کی ماہیت ہویدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ تاریخی عمل کے اس تجزیے سے پہلے جو کہ ایک مشکل اور قابل اعتماد طریقہ کار سے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے خدوخال واضح کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہم آغاز کے طور پر ہمارے پاس تین بڑے اہم اشارے موجود ہیں، جن پر غور کرنا ضروری ہے:

تحریک برپا ہوئی اور نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے بعد مغربی قائدین کے تواتر کے ساتھ ایسے بیانات آئے جن کے مطابق نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کی راہ میں کمیونزم کے زوال کے بعد اب فنڈا مینٹلسٹ (بنیاد پرست) اسلام واحد رکاوٹ ہے جسے (نعوذ باللہ) ختم کرنا ضروری ہے۔

ورلڈ آرڈر“ کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان آیا تھا کہ ”نیو ورلڈ آرڈر تو پہلے ہی وجود میں آچکا ہے۔“

سو سال بعد سینٹ یعنی ”ولی اللہ“ قرار دینے کی تحریک کا آغاز جس میں ملکہ اسابیلا کا نام سرفہرست ہے۔ اگرچہ اسے فی الحال کوئی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ پاکستان نیو ورلڈ آرڈر کے علمبرداروں کے لئے کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پاکستان کے خلاف اس وقت

صفحہ ۱۳

وغیرہ کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر لائیں لیکن وہ ان حکومتوں کو کارکنوں کی اجرتوں کو بھی مغربی ممالک کی سطح پر لانے کے متعلق کچھ نہیں کہتے۔

چنانچہ اگر مندرجہ بالا بنیادی نکات اور ان کے متعلق تمامتر پراپیگنڈا ہمیں ” امریکی نیو ورلڈ آرڈر“ کی اصلیت سے آگاہ نہیں کرتے، جیسا کہ وہ واقعی نہیں کرتے، تو اس کی کنہہ تک ہم کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ اگلے صفحات پر دیئے گئے حقائق سے ظاہر ہے کہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کوئی نئی چیز نہیں۔ صرف اس کا واضح اعلان اور نعرہ ہی نئی چیز ہے۔ جیسے کسی بھی شخص یا گروہ کے متعلق یہ جانچنے کے لئے کہ آئندہ وہ کیا کرے گا یا کر سکے گا، صدیوں سے یہ مروجہ و مسلمہ طریقہ ہے کہ اس کے ماضی کے کردار اور کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب ہم دنیا کی تاریخ کے کچھ بڑے اہم واقعات پر غور و خوض کرتے ہیں تو نیو ورلڈ آرڈر کے بنیادی نقوش آشکارا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور انسانی تاریخ کے کچھ خفیہ گوشوں میں تفحص و تمحیص سے اس کی ماہیت ہویدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ اگلے صفحات میں ہم انہیں مبنی بر حقائق اور قابل اعتماد طریقہ کار سے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی کنہہ تک پہنچیں گے۔ اس کے لئے نقطہ آغاز کے طور پر ہمارے پاس تین بڑے اہم اشارے ہیں :۔

تحریک برپا ہوئی اور نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے بعد امریکی زعماء کی طرف سے کئی بیانات آئے جن کے مطابق نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کی راہ میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نظریاتی سطح پر اسلام واحد رکاوٹ ہے جسے (نعوذ باللہ) ختم کرنا ضروری ہے۔

ورلڈ آرڈر“ کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ”عظیم تر اسرائیل وجود میں آچکا ہے۔“

سو سال بعد سینٹ یعنی ”ولی اللہ“ قرار دینے کی تحریک اٹھی، اگرچہ بعد میں کسی مصلحت کی بناء پر فی الحال اسے عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ اشارہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے :۔

صفحہ ۱۵

(۱) ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارت کی حکومت نے محققین کی ایک جماعت مسٹر ڈی۔ پی۔ دھر کی قیادت میں سپین بھیجی جس نے وہاں کی درسگاہوں اور دوسرے اداروں میں عمیق و عریض تحقیق کے بعد سپین میں مسلمانوں کے استہلاک اور اسلام کے استیصال پر ایک جامع رپورٹ تیار کی، جس کی بنیاد پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ (Research and Analysis Wing) تشکیل دی گئی۔ اس ایجنسی کے آگے سب سے بڑا ہدف پاکستان کو ختم کر کے ہندوستان میں ہندومت کا نفاذ ہے۔ اس ایجنسی کی کاروائیوں اور مغربی ممالک کی اس بارے میں اشیر باد اور تعاون سے اندرا گاندھی چھ سال کے قلیل عرصے میں پاکستان کو دو لخت کر کے یہ اعلان کرنے کے قابل ہو گئی کہ ”ہم نے دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔“

(۲) ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نقوش کی تلاش میں سپین کی تاریخ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہیں سے کولمبس نے ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ کے ساتھ اپنی مہم پر روانہ ہو کر اس سرزمین کو دریافت کیا جہاں کولمبس کی ریت (Columbian Legacy) کی بنیاد پر قائم ملک سے پانچ صدی بعد ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نعرہ بلند ہوا۔

(۳) تاریخ اندلس اس چیز کو سمجھنے کے لئے بھی ایک بہترین ذریعہ ہے کہ کس طرح حقیقی عالمی نظام مسلمان حکمرانوں کے تقدیم الدنیا علی الدین اور فسق و فجور کی وجہ سے صلیبی و صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کے آگے وہاں پسپا ہو گیا اور اس کے نتائج و عواقب کیا نکلے۔

(۴) تاریخ اندلس کے حقائق کی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے ناطے سے اہمیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب کے عروج کے دونوں بنیادی ستونوں یعنی سائنسی ترقی اور جمہوریت کی جڑوں کا سلسلہ سپین میں مسلم دور اقتدار، صلیبی جنگوں اور سسلی میں مسلمانوں کے عہد حکومت سے پیوستہ ہے۔

دیگر وجوہات کے علاوہ اس ضمن میں اندلس کی تاریخ میں ایک مزید قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ وہاں بھی ایک مرحلہ پر صلیب پرستوں نے رحمتہ للعالمینؐ کے خلاف سب و شتم کی ایک بہت بڑی مہم چلائی تھی۔ دانتے (Dante) جو نہ صرف مغربی نظریہ حیات و

کائنات (Weltanschuung) کے اظہار و ایضا اخلاقیات کا موسس اعلیٰ بھی ہے، وہ اپنے شاہکار للعالمینؐ کے متعلق انتہائی کریہہ قسم کی باتیں تحریر کر حیران و پریشان ہوتا ہے کہ عقائد و مسالک کے نے اپنی صلیبی خباثت سے مجبور ہو کر یہ سب کچھ اگلے کا یہ سلسلہ گبن، والٹیر اور مارگولیتھ جیسے م آرنلڈ ٹوائنبی تک پہنچتا ہے تو وہ اپنے شاہکار A S عمومی مجرمانہ انداز میں جو کچھ لکھتا ہے وہ نیو ورلڈ آ قابل ہے۔ اس کے اقتباس کا ترجمہ مندرجہ ذیل

”فاتح عالم خانہ بدوش منگولو نسطوری فرقہ کی عیسائی دنیا مغربی صلیبی حملہ آو ہو گئی۔ نسطوری فرقہ کے ایغور عیسائی معتقد و جنہوں نے بجلی کی سی سرعت سے حاصل شدہ شدہ محروموں کے کام کی ضرورت کو پورا کر کے تھا۔ جبکہ دوسری جانب مسلمان جن کو منگولو بعد تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنا مطیع تھے۔ کیونکہ ان کے ضابطے شرعی احکام سے عیسائی اور مشرق بعید کے عیسائی اپنی باہم کونسلو ناقابل تسخیر نئے عیسائیوں کی مدد سے مسلما سے مسلمانوں کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے م چکے تھے، نسل کشی کے لئے درکار قصد و ا دونوں بری اور بحری محاذوں سے بے رحم م صفایا یقینی تھا۔ جس سنجیدگی کے ساتھ مغرب قراقرم کے شہر میں منگول خاقان کے دربا

صفحہ ۱۵

کائنات (Weltanschuung) کے اظہار و ایضاح کے لئے شیکسپیر کا واحد ہم پلہ بلکہ عیسائی اخلاقیات کا موسس اعلیٰ بھی ہے‘ وہ اپنے شاہکار (The Divine Comedy) میں رحمتہ للعالمینؐ کے متعلق انتہائی کریہہ قسم کی باتیں تحریر کرتا ہے تو ایک ژرف بین قاری اسے پڑھ کر حیران و پریشان ہوتا ہے کہ عقائد و مسالک کے پیدا کردہ کن قابل رشک حالات میں دانتے نے اپنی صلیبی خباثت سے مجبور ہو کر یہ سب کچھ لکھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف زہر اگلنے کا یہ سلسلہ گبن‘ والٹیر اور مارگولیتھ جیسے مغربی دانشوروں سے ہوتا ہوا عہد حاضر کے آرنلڈ ٹوائنبی تک پہنچتا ہے تو وہ اپنے شاہکار A Study of History میں ایک جگہ اپنے عمومی متبحرانہ انداز میں جو کچھ لکھتا ہے وہ نیو ورلڈ آرڈر کے ضمن میں خصوصی توجہ اور غور کے قابل ہے۔ اس کے اقتباس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:۔

”فاتح عالم خانہ بدوش منگولوں کے عقب میں مشرق بعید کی بھولی بسری نسطوری فرقہ کی عیسائی دنیا مغربی صلیبی حملہ آوروں کے مشرقی افق پر ڈرامائی انداز میں اجاگر ہو گئی۔ نسطوری فرقہ کے ایغور عیسائی معتمدوں کی حیثیت سے منگولوں کی ملازمت میں تھے جنہوں نے بجلی کی سی سرعت سے حاصل شدہ منگولوں کی عالمگیر مملکت میں ناگہانی طور پر پیدا شدہ محرروں کے کام کی ضرورت کو پورا کر کے اپنے آقاؤں کی نیازمندی اور اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ جبکہ دوسری جانب مسلمان جن کو منگول ۱۲۲۰ء میں خوارزم شاہ کی سلطنت پر حملہ کے بعد تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنا مطیع بنا رہے تھے‘ اپنے کافر حکمرانوں سے الجھ رہے تھے۔ کیونکہ ان کے ضابطے شرعی احکام سے ٹکراتے تھے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ مغربی عیسائی اور مشرق بعید کے عیسائی اپنی باہم کوششوں سے منگولوں کو عیسائی بنا لیں؟ اور پھر ان نا قابل تسخیر نئے عیسائیوں کی مدد سے مسلمانوں کے خلاف ایسی صلیبی جنگ لڑی جائے جس سے مسلمانوں کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے؟ منگول‘ جیسا کہ وہ پہلے ہی مظاہرہ کر چکے تھے‘ نسل کشی کے لئے درکار قصد و قوت کے مالک تھے۔ تو پھر اگر مسلمان ایک ساتھ دونوں بری اور بحری محاذوں سے بے رحم عیسائی حملہ آوروں کے درمیان گھر جاتے تو ان کا صفایا یقینی تھا۔ جس سنجیدگی کے ساتھ مغربی عیسائی دنیا میں یہ آس باندھی گئی اس کا اظہار قراقرم کے شہر میں منگول خاقان کے دربار میں پہلے ۱۲۴۶ء میں پوپ انوسینٹ چہارم (IV

صفحہ ١٦

(Pope Innocent) کی طرف سے جیووانی ڈی پیانو کارپینی (De Piano Carpini Geovanni) کے مشن کی روانگی اور اس کے بعد ۱۲۵۳ء میں فرانس کے شاہ لوئی جو کہ ولی اللہ کہلاتا تھا (King Saint Louis) کی طرف سے ولیم روبرک (William Rubruck) کے مشن کی روانگی سے ہوتا ہے۔ تاہم اسلام کا قلع قمع کرنے کے لئے یہ عظیم عیسائی منصوبہ ہوائی قلعہ ثابت ہوا۔ ۱۲۵۸ء سے ۱۲۶۲ء تک کا عرصہ وہ بحرانی سال تھے جب اس چیز کا موقع آیا اور نکل گیا۔ ۱۲۵۸ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی فتح و تباہی اور عباسی خلافت کے خاتمہ سے اسلام کو شدید دھچکا لگا۔ ۱۲۶۰ء میں منگول عیسائی کمانڈر (کت بوعا) کے تحت دریائے فرات عبور کر کے دمشق پر قابض ہو گئے۔ اور اس طرح مغربی صلیبی حملہ آوروں کے باقی ماندہ عکہ کے ساحلی مورچہ سے تقریباً سو میل سے کم فاصلے پر پہنچ گئے۔ اس لمحے مرکوز ہوتی ہوئی عیسائی فوجیں باہم ملنے کو ہی تھیں لیکن یہ سنگم کبھی نہ ہو سکا۔ حالانکہ منگول فوجوں نے ۱۲۸۱ء میں ایک دفعہ پھر دریائے فرات عبور کیا قبل اس کے کہ عکہ کا مغربی ساحلی مورچہ صلاح الدین ایوبی کے مملوک جانشینوں نے ۱۲۹۱ء میں مٹا دیا"۔

(A Study of History, Vol. VIII, Page 354-355)

"نیو ورلڈ آرڈر کے ضمن میں سابق امریکی صدر نکسن کے ایک مضمون کا مندرجہ ذیل اقتباس بھی قابلِ غور ہے :۔

"میں امریکہ ' روس ' یورپ ' جاپان ' چین اور بھارت کو پر زور طریقے سے کہتا ہوں کہ ان کا فائدہ اس میں ہے کہ وہ مسلم بنیاد پرستی کی بڑھتی ہوئی طاقت کے خلاف اپنی طاقتیں یکجا اور مرکوز کریں۔ مسلم ملکوں کی فوجی حکمت عملی ' ان سب کی جغرافیائی پوزیشنیں ' معدنی ' آبی ' زرعی اور صنعتی وسائل کی فراوانی ' ان کی وسیع منڈیاں اور ان کی حالیہ ٹیکنالوجی میں کامیابیاں ایک نہ ایک دن عالم اسلام کی قوت بن سکتی ہیں ' جو (غیر مسلم) دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ بن جائیں گی"۔

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْيَهُوْدَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ

صفحہ ۱۷

بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ط وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهُ مِنْهُمْ ط اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِينَ ه

”اے ایمان والو تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا تو وہ یقیناً انہیں میں سے ہو گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔

(سورہ مائدہ:۵۱)

اگر نطشے (Nietzsche) جس کے آباؤ اجداد میں سے کئی پادری تھے، مندرجہ بالا قرآنی آیت سے پوری لاعلمی کے باوجود عیسائیوں اور یہودیوں کو ہم جنس سمجھتا ہے تو یہ بغیر کسی وجہ کے نہیں۔

حقیقی عالمی نظام

قبل اس کے کہ ہم ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نقوش کی تلاش میں مزید آگے بڑھیں، دینِ حق کی چند بنیادی باتیں تحریر کرنی ضروری ہیں کیونکہ انہیں ذہن میں رکھے بغیر نیو ورلڈ آرڈر کے نقوش ہماری نظروں میں پوری طرح اجاگر نہیں ہو سکیں گے۔

تنزیلی اعتبار سے قرآن مجید کی اولین آیات سورہ علق کی پہلی پانچ آیات ہیں یعنی ”اقرا باسم ربک الذی۔۔۔۔۔۔“ یہاں سب سے پہلے پروردگار کی ربوبیت کا ذکر ہوا ہے۔ رب کے معنی وہ ذات ہے جو اپنی مخلوق کو بتدریج ایک حالت سے دوسری حالت میں تکمیل کی جانب لے جائے۔ رب ”مالک مصلح“ کو کہتے ہیں یعنی وہ ہستی جو کسی چیز کی مالک بھی ہو اور اس کی اصلاح و تربیت بھی کرتی ہے۔ اس کے بعد پروردگار کی ربوبیت کو ثابت کرنے کے لئے عالمِ ہستی کی خلقت و آفرینش کا ذکر ہوا ہے کیونکہ اس کی ربوبیت کی بہترین دلیل اس کی خالقیت ہے اور عالم کی تدبیر وہی کر سکتا ہے جس نے اس کو خلق کیا ہو۔ یہود و نصاریٰ اپنی سائنسی ترقی کے بل بوتے پر کئی قسم کی مشینیں ایجاد کر رہے ہیں اور بنا رہے ہیں۔ ان میں سے ہر مشین کے لئے Maintenance Manual بھی تیار کرتے ہیں۔ اگر ان Maintenance Manuals میں دی گئی ہدایات کے خلاف کسی مشین سے کام لیا جائے تو ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے کہ مسائل پیدا ہوں گے۔ لیکن یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار یہ تسلیم کرنے کو

صفحہ ۱۸

تیار نہیں کہ یہ دنیا جس میں بے شمار جمادات، نباتات، حیوانات اور ان سب سے اوپر انسان ہے، ان سب کو پیدا کرنے والے نے کوئی نظام اور کوئی Manual ضرور دیا ہو گا، جس کی اطاعت و امتثال لازمی ہو۔ نازل ہونے والی ان اولین پانچ آیات کا مقصد دوسرے مضمنات کے علاوہ حصول علم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ چنانچہ خالق ارض و سماء کے وضع کردہ اس حقیقی عالمی نظام کے مطابق دین حق کے علم کا حصول انسان کے لئے فرض عین ہے اور دنیاوی علوم کا حصول فرض کفایہ۔ کبھی ان آیات میں لفظ علق کو ”صاحب علاقہ“ وجود کے معنی میں لیا جاتا ہے جو انسانوں کی اجتماعی روح اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کی طرف اشارہ ہے اور یہ حقیقت میں تکامل بشر اور تمدنوں کی پیش رفت کا پایہ اصلی ہے۔

مصحف کے اعتبار سے سات آیات پر مشتمل پہلی سورہ فاتحہ ہے جو کہ ”ام الکتاب“ ہے، کیونکہ اس میں قرآن کے تمام مضامین کا لب لباب دیا گیا ہے۔ اس سورہ کی پہلی دو آیات ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین“ شروع اللہ کے پاک نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے۔ رحمانیت سے مراد اس کی لامتناہی نعمتیں ہیں جو دنیا یعنی دارالعمل میں ہر خاص و عام، اس کے باغیوں اور مومنین و قانعین کے لئے فراہم کر دی گئی ہیں۔ جبکہ رحیمیت سے مراد اس کی وہ نعمتیں ہیں جو حیات بعد از موت میں اس کے اپنے ان بندوں کے لئے مخصوص ہوں گی جنہوں نے اس دنیا میں اس خالق ارض و سماء کے وضع کردہ نظام کے مطابق زندگی گزاری۔ اس سے متعلقہ بنیادی نقطہ جو باقی کتاب کے مطالعہ کے دوران مدنظر رکھنے کے قابل ہے یہ ہے کہ دین حق کی رو سے قوموں کے ساتھ اجتماعی سطح پر انصاف اسی دنیا میں ہوتا ہے جب کہ افراد کے ساتھ انفرادی سطح پر مکمل انصاف اس روز ہو گا جسے مسلمان اسی سورہ کے الفاظ ”یوم الدین“ سے اپنی نمازوں میں دہراتے رہتے ہیں۔

اس سورہ کی دوسری آیت کا مفہوم ہے تمام تعریفیں مخصوص ہیں اللہ کے لئے کیونکہ ہر کمال، ہر نعمت اور ہر بخشش جو عالم میں وجود رکھتی ہے اس کا مالک و صاحب اور پروردگار وہی ہے اور مخلوق کی ہر خوبی و کمال خالق کے جمال و کمال کا محض ایک پرتو ہوتی ہے۔ یہاں بھی لفظ رب استعمال ہوا، یعنی وہ ذات وحدہ لا شریک جو اپنی مخلوق کو ایک حالت سے دوسری حالت میں بتدریج تکمیل کی جانب لے جاتی ہے۔

اسی سورہ فاتحہ کی آخری ہمیں ان لوگوں (یہودیوں) کی راہ نہ دکھا جن جو گمراہ ہوئے۔ رب العالمین کا فرمان ہے (الذریت۔۵۶) ”اور میں نے جنوں اور انس اور عبادت کریں“ اور اس طرح سے ارتقاء ایک ناقص وجود کا ایک لامتناہی وجود کی طرف فاحببت ان اعرف و خلقت الخلق لکی اعر پہچانا جاؤں، تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ کردہ اس حقیقی عالمی نظام میں نماز کو کلیدی ا پر اپنے خالق و رب سے رشتہ قائم رہے سنت رسول اللہ کی وضع کردہ شریعت کے نظام ہے۔ باقی سب نظام مع یہود و نصاریٰ تحریر کردہ ناقابل تردید تاریخی حقائق و شوا استحصالی اور تباہ کن ہیں۔

یہ تو نیو ورلڈ آرڈر“ کے جہاں تک اخروی زندگی کا تعلق ہے تو اس

ان حقائق و شواہد پر رب العالمین اور مالک مطلق اس دنیا آرڈر“ جیسی طاغوتی طاقتوں کی موجود طرف لے جا رہا ہے جو اس کے اپنے بنیاد پر قائم ہے۔

طلوع اسلام کے ایک مغربی عالم جے۔ ایچ۔ ڈینی سن

صفحہ ۱۹

اسی سورہ فاتحہ کی آخری آیت ”غیر المغضوب علیہم ولا الضالین“ ہے یعنی ہمیں ان لوگوں (یہودیوں) کی راہ نہ دکھا جن پر تیرا قہر نازل ہوا اور نہ ان لوگوں (عیسائیوں) کی جو گمراہ ہوئے۔ رب العالمین کا فرمان ہے ”وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون“ (الذریت-۵۶) ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری بندگی اور عبادت کریں“ اور اس طرح سے ارتقاء و تکامل حاصل کریں اور مجھ سے نزدیک ہوں‘ یعنی ایک ناقص وجود کا ایک لامتناہی وجود کی طرف سیر تکامل۔ ایک حدیث ہے ”کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق لکی اعرف“ یعنی میں ایک مخفی خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں‘ تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میں پہچانا جاؤں۔ چنانچہ خالق ارض و سماء کے وضع کردہ اس حقیقی عالمی نظام میں نماز کو کلیدی اہمیت حاصل ہے تاکہ بندوں کا انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنے خالق و رب سے رشتہ قائم رہے۔ توحید کی حقیقت کلی و نشان منزل اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی وضع کردہ شریعت کے سواء السبیل پر مبنی کامل نظام ہی ایک عادلانہ و حقیقی نظام ہے۔ باقی سب نظام مع یہود و نصاریٰ کے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے‘ جیسا کہ اس کتاب میں تحریر کردہ ناقابل تردید تاریخی حقائق و شواہد سے اظہر من الشمس ہے‘ سراب آسا‘ ظالمانہ‘ استحصالی اور تباہ کن ہیں۔

یہ تو نیو ورلڈ آرڈر‘ کے دنیاوی زندگی کے ناطے سے نتائج و عواقب ہیں۔ جہاں تک اخروی زندگی کا تعلق ہے تو اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: عذاب مبین.......عذاب الیم.......عذاب مقیم.......

ان حقائق و شواہد پر تفکر و تدبر سے ہمیں یہ شعور بھی حاصل ہوتا ہے کہ رب العالمین اور مالک مطلق اس دنیا میں تمام تر کفر و شرک اور صلیبی و صہیونی ”نیو ورلڈ آرڈر“ جیسی طاغوتی طاقتوں کی موجودگی کے علی الرغم کیسے انسانیت کو بتدریج اس نظام کی طرف لے جا رہا ہے جو اس کے اپنے محفوظ و مطہر کلام اور اس کے آخری رسول کی سنت کی بنیاد پر قائم ہے۔

طلوع اسلام کے وقت دنیا (نہ صرف جزیرہ نما عرب) کی کیفیت کے متعلق ایک مغربی عالم جے۔ایچ۔ڈینی سن کے الفاظ جن کا ترجمہ نیچے دیا جا رہا ہے بڑے قابل غور

صفحہ ۲۰

”ایسا لگتا تھا کہ وہ عظیم تمدن جس کی تعمیر میں چار ہزار برس صرف ہوئے تھے انتشار اور تباہی کے کنارے آ لگا ہے۔ اور انسان پھر وحشت و بربریت کی اس زندگی کا شکار ہونے والا تھا جس میں ہر قبیلہ اور ہر فرقہ دوسرے قبیلے اور دوسرے فرقے کے درپے آزار ہو۔ اور جس میں کہیں قانون کا تصور تھا نہ نظم و نسق کا۔ قدیم قبائلی عصبیات بے اثر ہو چکی تھیں۔ حکمرانی کے پرانے طریقے اب کام نہیں دے رہے تھے۔ عیسائیت نے جن نئی عصبیات کو جنم دیا وہ نظم و اتحاد کی بجائے افتراق‘ ہلاکت اور تباہی پھیلا رہی تھیں۔ یہ زمانہ بڑا پر آشوب اور المناک تھا۔ تہذیب و تمدن کا شجر عظیم جس کے برگ و بار اطراف و اکناف عالم میں پھیل گئے تھے اور جس کی شاخوں میں کبھی علم و فن اور ادب کے ثمرہائے زرین لگتے تھے بوسیدہ اور متزلزل ہو چکا تھا۔ اس کے تنے میں عقیدت و احترام کا حیات بخش رس ہی باقی نہیں رہا تھا کہ اس کی زندگی برقرار رہتی۔ برعکس اس کے جنگ و جدل کی آندھیوں نے جو آئے دن اٹھتی رہتیں اس کو جڑوں تک بوسیدہ اور کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس کا وجود قائم تھا تو صرف عہد قدیم کے رسم و رواج اور قوانین کی بدولت جو معلوم نہیں کب ختم ہو جاتا۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا تھا کہ زمانے میں کیا کوئی ایسی ثقافت بھی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد محض احساسات پر ہو‘ جو نوع انسان کو پھر یکجا کر دے اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کرے۔ یہ ثقافت نئی طرز کی ہی ہو سکتی تھی۔ کیونکہ قدیم عصبیات و رسومات مردہ ہو چکی تھیں اور ان کے بدلے اسی طرز کی دوسری عصبیات اور رسومات کو وجود میں لانے کے لئے صدیوں کا کام درکار ہوتا“۔

”یہاں ایک معجزاتی قسم کی اصلاح تھی۔ محمدؐ نے ایک ایسا مذہب تخلیق کیا جس پر قدیم مسالک (Cults) کے کوئی رنگ روپ نہیں تھے۔ نہ کوئی پادری اور نہ ہی کوئی رسوم جن کی بنیاد ظاہرداری پر ہو۔ بلکہ جس کی بنیاد ایک ان دیکھے اللہ کے ساتھ روحانی رشتے پر تھی۔ یہ کسی خاص گروہ کی تکریم کے لئے ترتیب نہیں دیا گیا تھا۔ بلکہ تمام نسلوں کے ان انسانوں کی ایک آفاقی اخوت کے لئے جو اس خدا کا اقرار کریں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کا وعدہ کریں۔“

(Civilization' pp. 267, 268, 274)

اور مصور پاکستان علامہ اقبال اپنی تصنیف Thought in Islam میں یوں رقم طراز ہیں: ”قرآن مجید کا حقیقی ایک اعلیٰ اور برتر شعور پیدا کرے جو قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے قوت“ اسلام پر من حیث الکل تبصرہ تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔ ہمارا کوئی فلاسفر نہیں بڑھ سکتا“۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ النَّاسَ عَلَيْهَا ط لَا تَبْدِ وَلٰكِنَّ اَكْثَ

”پس (اے نبی اور نبی کے پیروؤ) یکسو ہوکر پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللّٰہ دین ہے“۔

صفحہ ۲۱

اطاعت کا وعدہ کریں۔"

(J.H-Denison, 'Emotions as the Basis of Civilization' pp. 267, 268, 274)

اور مصور پاکستان علامہ اقبال اپنی تصنیف ۔ Reconstruction of Religious Thought in Islam میں یوں رقم طراز ہیں:

"قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گوناگوں روابط کا ایک اعلیٰ اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور خدا اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔ قرآنی تعلیمات کا یہی وہ بنیادی پہلو ہے جس کے پیش نظر گوئٹے نے بہ اعتبار ایک "تعلیمی قوت" اسلام پر من حیث الکل تبصرہ کرتے ہوئے ایکرمین سے کہا تھا کہ تم نے دیکھا اس تعلیم میں کوئی خامی نہیں۔ ہمارا کوئی نظام اور ہمیں پر کیا موقوف کوئی انسان بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا"۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ط فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ط لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللهِ ط ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ه

"پس (اے نبی اور نبی کے پیروؤ) یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت جما دو۔ قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی۔ یہی راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں"۔

(۳۰ : ۳۰)

صفحہ ۲۲

باب دوم

یکتا صلیبی ترحم و تلطف

اور

نیو ورلڈ آرڈر

پھونک ڈالیں نہ تجلیاں تیری نگاہ خام کو
ذروں پہ مشق دید کر ان کی طرف ابھی نہ دیکھ

مسلمانوں کے فلسطین فتح کرنے کے بعد جب انہوں نے یروشلم کا محاصرہ کیا تو ۶۳۸ء میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق یروشلم کے عیسائیوں کے ساتھ گفت و شنید کے لئے خود وہاں پہنچے۔ اس وقت ان کا غلام اونٹ پر بیٹھا تھا اور اپنی باری کے مطابق امیر المومنین اونٹ کی مہار تھامے آگے چل رہے تھے۔ چونکہ عیسائی مذہبی علماء کے پاس اس بات کی پیشین گوئی موجود تھی اس لئے انہوں نے بغیر کسی مزید لڑائی کے شہر معاہدہ کے بعد مسلمانوں کے سپرد کر دیا۔ لیکن ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے اگلے حربے کے طور پر شہر کا تمام نسوانی حسن عریاں حالت میں ان راستوں پر آراستہ کر دیا جن سے مسلمان فوج نے شہر میں داخل ہونا تھا۔ مسلمان فوج میں سے جو صحابہ کرام پر مشتمل تھی‘ کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی اس طرف نہ دیکھا اور خون کا ایک قطرہ بہے بغیر اور کسی کو ذرا برابر بھی نقصان پہنچے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔

اس موقع پر حضرت عمر فاروق نے بیت المقدس کے عیسائیوں سے مندرجہ ذیل معاہدہ پر دستخط کئے۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ ضمانت ہے جو عمر‘ بندہ خدا‘ امیر المومنین‘ ایلیا کے لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ وہ سب عبادت گاہوں‘ ان کی صلیبوں اور ہر اس دیتا ہے۔ ان کے کلیساؤں کو رہائش گاہ نہ نہ ہی ان کے سازوسامان نہ ہی شہروں جائے گی۔ نہ ہی ان پر عقیدے کے بارے قسم کا ضرر پہنچایا جائے گا۔“

عیسائیوں کا اسقف

المومنین بیت المقدس تشریف لے گئے مانند معجزہ معاہدہ کیا‘ ”شہد کی مانند شیر لباس میں تھے اور بڑے اونی کام بھی خ احاطہ سے غلاظت ہٹانا‘ اس پر سوفرونی ویرانے کا رجز دیکھو جس کا ذکر دانیال نبی solation, spoken of by

گزشتہ رومیوں او یہودیوں نے چونکہ یروشلم کی ایرانط کی وجہ سے عیسائیوں نے یروشلم کی انہیں وہاں سے نکال دیا تھا۔ امیر الم اور زیارت کرنے کی اجازت دے د

عیسائی فلسطین ب گزار رہے تھے اس کی ایک جھل ہے۔

”وہ (عیسائی) ک

صفحہ ۲۳

ایلیا کے لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ وہ سب، توانا و ناتواں، کو ان کی جان، ان کے مال، ان کی عبادت گاہوں، ان کی صلیبوں اور ہر اس شے کی جس کا تعلق ان کے مذہب سے ہو، ضمانت دیتا ہے۔ ان کے کلیساؤں کو رہائش گاہ میں نہیں بدلا جائے گا اور نہ ہی یہ تباہ کئے جائیں گے، نہ ہی ان کے سازوسامان نہ ہی شہریوں کی صلیبوں یا ان کے مقبوضات میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی۔ نہ ہی ان پر عقیدے کے بارے میں کسی قسم کا جبر کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا ضرر پہنچایا جائے گا۔"

عیسائیوں کا اسقف سوفرونیس Sophronius، جس کی دعوت پر امیر المومنین بیت المقدس تشریف لے گئے اور جس کے ساتھ آپ نے زمانے کے لحاظ سے یہ مانند معجزہ معاہدہ کیا، "شہد کی مانند شیریں زبان" مشہور تھا۔ چونکہ امیر المومنین نہایت ادنیٰ لباس میں تھے اور بڑے ادنیٰ کام بھی خود کر رہے تھے، مثلاً "ہیکل سلیمانی کے کھنڈرات کے احاطہ سے غلاظت ہٹانا، اس پر سوفرونیس نے امیر المومنین پر اپنی زبان میں یہ پھبتی کس دی" ویرانے کا رجز دیکھو جس کا ذکر دانیال نبی نے کیا" "Behold the abomination of the desolation, spoken of by Daniel the prophet."

گزشتہ رومیوں اور ایرانیوں کی جنگوں کے دوران بیت المقدس کے یہودیوں نے چونکہ یروشلم کی ایرانیوں کے ہاتھوں فتح کے دوران ایرانیوں کا ساتھ دیا تھا جس کی وجہ سے عیسائیوں نے یروشلم کی دوبارہ تسخیر کے بعد یہودیوں کے جوابی قتل عام کے بعد انہیں وہاں سے نکال دیا تھا۔ امیر المومنین نے یہودیوں کو بھی دوبارہ یروشلم میں آباد ہونے اور زیارت کرنے کی اجازت دے دی۔

☆☆☆

عیسائی فلسطین میں اس معاہدے کے تحت صدیوں سے جس طرح کی زندگی گزار رہے تھے اس کی ایک جھلک سٹیون رنسمین کے مندرجہ ذیل اقتباسات سے ہوتی ہے۔

"وہ (عیسائی) ایک قلیل عرصے کے لئے ہی (مسلمانوں کے تحت فلسطین

صفحہ ۲۴

میں) ابتلاء میں رہے جب (فاطمی) خلیفہ حاکم نے جو ایک عیسائی عورت کا بیٹا تھا اور جس کی پرورش زیادہ تر عیسائیوں کے ہاتھوں ہوئی تھی اپنے اوپر ابتدائی اثرات کے خلاف ردعمل ظاہر کیا۔ ۱۰۰۴ء سے ۱۰۱۴ء تک دس سال کے لئے شہنشاہ (روم) کے اپنانے کے باوجود اس نے عیسائیوں کے خلاف احکامات جاری کئے۔ اس نے عیسائیوں کی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردیں۔ اس نے صلیبوں کو جلانا اور کلیساؤں کی چھتوں پر چھوٹی چھوٹی مساجد تعمیر کروانی شروع کردیں۔ اور آخر کار کلیساؤں کو بھی جلانا شروع کر دیا۔ ۱۰۰۹ء میں اس نے کلیسائے مزار اقدس کے بھی جلانے کا حکم اس بناء پر جاری کر دیا کہ وہاں ہر سال ایسٹر کے موقع پر مقدس آگ کا جو معجزہ منعقد کیا جاتا ہے وہ یقیناً ”ایک فاسقانہ جعل سازی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ لیکن یہ بات زیر نظر رہنی چاہئے کہ مسلمان بھی اپنے دین کے سربراہ کے ہاتھوں جابرانہ عقوبت کا شکار ہو رہے تھے، جبکہ اس تمام عرصے کے دوران وہ عیسائی وزراء سے کام لیتا رہا۔“

(A History of Crusades by Steven Runciman p. 35)

یہاں قارئین کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ اس ایک عیسائی عورت کے بیٹے اور دوسری عیسائی عورت کے خاوند انتہائی فاسق و فاجر اور عیاش خلیفہ حاکم، جو تاریخ کی کتابوں میں ”پاگل“ کے لقب سے مشہور ہے، نے بعد میں خدائی کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھی مجروح کیا۔ (لبنان کے دروزی اسی کے پیروکار اور اس کے دوبارہ منظر پر آنے کے منتظر ہیں۔) جب اس خلیفہ حاکم نے اپنے عیسائی وزراء کی وساطت سے عیسائیوں کی مقدس ترین زیارت گاہ یعنی کلیسائے مزار اقدس کو نذرِ آتش کرا دیا تو پوری عیسائی دنیا میں کسی بھی عیسائی کے کانوں پر صلیبی جنگ کے جذبے کی کوئی ننھی سی جوں بھی نہ رینگی۔ یہی مصنف اسی کتاب میں لکھتا ہے: ”گیارھویں صدی کے وسط میں فلسطین کے عیسائی جتنے خوشحال تھے پہلے کبھی نہ تھے۔ مسلمان حکام نرم مزاج تھے۔ اور شہنشاہ (روم) ان کے مفادات کا نگہبان تھا۔ سمندر پار عیسائی ممالک کے ساتھ تجارت فروغ پا رہی تھی اور نفع بخش تھی، اور یروشلم کو اس سے پہلے مغرب سے آنے والے زائرین سے اس سے زائد دولت اور ہمدردی کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔“

ciman; p. 21)

دراصل عیسائی دنیا شہنشاہ روم کے تحت جس کا مرکز قسطنط مرکز پوپ کا پایہ تخت روم تھا۔ مغربی سے جن کی چند جھلکیاں اگلے صفحات پ پر مزید ان پاپائے اعظم کی یورپی حکمرانو اس صدی میں انتہائی سنجیدہ صورتحا انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مندرجہ ذیل اقتب ”۱۰۷۵ء میں پوپ حاکموں کے ذریعہ تقرر کی ممانعت کر دی اس کے وفادار اسقفوں کے ایک گروہ دے دیا۔ گریگوری نے ہنری کو عیسائ کرنے کا ارادہ کر لیا، جسے ہنری کے بہانے کے طور پر لیا۔ ہنری نے اپنے میں اٹلی کے مقام کینوسا پر گریگوری دروازے کے باہر تین دن تک ننگے پ رہا حتیٰ کہ پوپ نے اسے بری الذمہ معزول کرنے کے ارادے کے بعد و اور ایک انٹی پوپ مقرر کر دیا، جس سال بعد اقتدار سے خارج ہونے کی چنانچہ گیارھویں اختیارات کی کشمکش اور دوسری طر (جن کے متعلق چند ایک حقائق ا پوپ کا وقار خاک میں مل رہا تھا

صفحہ ۲۵

("A History of Crusades by Steven Runciman; p. 21)

دراصل عیسائی دنیا عرصے سے دو حصوں میں منقسم تھی۔ مشرقی عیسائیت شہنشاہ روم کے تحت جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا اور مغربی عیسائیت پاپائے روم کے تحت جس کا مرکز پوپ کا پایہ تخت روم تھا۔ مغربی عیسائیت میں پوپ اور اکابر کلیسا کی ان کرتوتوں کی وجہ سے جن کی چند جھلکیاں اگلے صفحات میں دی گئی ہیں ان کا وقار خاک میں مل رہا تھا، اور اس پر مزید ان پاپائے اعظم کی یورپی حکمرانوں کے ساتھ اقتدار و اختیارات کی چپقلش تھی جس نے اس صدی میں انتہائی سنجیدہ صورت اختیار کر لی تھی۔ اس صورت حال کی ایک جھلک انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہوتی ہے۔

”۱۰۷۵ء میں پوپ گریگوری ہفتم نے کلیسا کے عہدوں پر کلیسا سے باہر کے حاکموں کے ذریعہ تقرر کی ممانعت کر دی۔ اگلے سال مقدس رومن شہنشاہ ہنری ششم اور اس کے وفادار اسقفوں کے ایک گروہ نے گریگوری کا اپنا بحیثیت پوپ انتخاب کالعدم قرار دے دیا۔ گریگوری نے ہنری کو عیسائیت سے خارج کر دیا اور اسے شاہی تخت سے برطرف کرنے کا ارادہ کر لیا، جسے ہنری کے دنیاوی حریفوں نے اسے تخت سے اتارنے کے حقیقی بہانے کے طور پر لیا۔ ہنری نے اپنے تخت کے ہاتھ سے نکل جانے کے خوف سے ۱۰۷۷ء میں اٹلی کے مقام کینوسا پر گریگوری کی اطاعت قبول کر لی۔ پشیمان و تائب (ہنری) پوپ کے دروازے کے باہر تین دن تک ننگے پاؤں اور موٹے ٹاٹ کے ماتمی لباس میں ملبوس انتظار کرتا رہا حتیٰ کہ پوپ نے اسے بری الذمہ کر دیا۔ ۱۰۸۰ء میں (پوپ نے ہنری کو) دوبارہ تخت سے معزول کرنے کے ارادے کے بعد ہنری ایک فوج کے ساتھ اٹلی لوٹا۔ اس نے روم پر قبضہ کیا اور ایک انٹی پوپ مقرر کر دیا، جس نے ہنری کی شاہی اسناد کو بحال کر دیا۔ گریگوری ایک سال بعد اقتدار سے خارج ہونے کی حالت میں مر گیا۔“

چنانچہ گیارھویں صدی عیسوی کے آخر میں ایک طرف اس اقتدار و اختیارات کی کشمکش اور دوسری طرف پاپائے اعظم و عمائدین کلیسا کی ان کرتوتوں کی وجہ سے (جن کے متعلق چند ایک حقائق تاریخ اندلس کے متعلق باب کے آخر میں دیئے گئے ہیں) پوپ کا وقار خاک میں مل رہا تھا جبکہ مشرقی عیسائیت کو ایشیائے کوچک میں ابھرتی ہوئی سلجوق

صفحہ ۲۶

طاقت سے خطرہ لاحق تھا۔ ان حالات میں پوپ اربن دوم نے پوپ کے عہدے کے گرتے ہوئے وقار کو سہارا دینے کے لئے فرانس کے شہر کلیرمونٹ (Clarmont) میں ۱۸ تا ۲۸ نومبر ۱۰۹۵ء کو کلیسا کا عمومی اجتماع منعقد کیا۔ اور اس میں ۲۷ نومبر کو انسانی تاریخ کی مبینہ طور پر سب سے زیادہ ”اثر انگیز“ (زیادہ صحیح الفاظ میں سب سے زیادہ شرانگیز) تقریر کی۔ یہاں پوپ کی ملاقات ریمانڈ آف سینٹ گائلز سے بھی ہوئی جو اس سے پہلے اندلس کی صلیبی جنگوں میں شریک رہ چکا تھا اور جہاں پر ۱۰۸۵ء میں اندلس کے مرکزی تاریخی شہر طلیطلہ کے عیسائیوں کے ہاتھوں میں چلے جانے سے ان کے حوصلے بڑھ چکے تھے۔ کلیرمونٹ کے اجتماع کے اس موقع پر چونکہ حاضرین میں صلیبیں تقسیم کی گئیں اس لئے اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگیں ”صلیبی جنگیں“ کہلائیں۔ پوپ اربن دوم کی اس تقریر کے بعد اسقف پیٹر راہب (Bishop Peter the Hermit) ننگے پاؤں گدھے پر سوار یورپ کے شہر شہر قریہ قریہ اپنی شعلہ نوا تقریروں سے لوگوں کو ابھارنے کے لئے پھرتا رہا: ”یہ سرزمین جس کے تم باشندے ہو اور جسے تمام اطراف سے سمندر نے گھیرا ہوا ہے اور جس کی ہر سمت پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں تمہاری کثیر آبادی کے لئے بہت تنگ ہے۔ نہ تو اس میں دولت کی فراوانی ہے۔ اور یہ تو ہمارے کاشتکاروں کے لئے بھی کافی خوراک بہم نہیں پہنچاتی۔ کلیسائے مزارِ اقدس (Holy Sepulchre) کی راہ پر نکل پڑو۔ اس سرزمین کو نسلِ بد سے چھین لو اور اسے اپنے تصرف میں لے آؤ۔ وہ سرزمین جس میں بائیبل کے الفاظ کے مطابق دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، خدائے لازوال نے آلِ اسرائیل (Children of Israel) کے قبضہ قدرت میں دی تھی۔ یروشلم دنیا کی ناف ہے۔ وہ سرزمین بہ نسبت دوسروں کے نعمتوں کی جنت کی مانند زیادہ بار آور ہے۔“

ان تقریروں کے نتیجے میں پورا یورپ Deus Vult یعنی ”صلیبی جنگ رضائے الٰہی ہے۔“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پوپ اربن دوم نے صلیبی جنگ میں حصہ لینے والوں کے لئے تمام گناہوں سے عام معافی کا فرمان کلیسا (of Plenary Indulgence Bull) جاری کر دیا۔ امراء نے اپنی جائدادیں بیچ کر اور غرباء نے اپنی پونجی صرف کر کے جنگ کی تیاریاں کیں۔

صفحہ ۲۷

۱۰۹۶ء میں تقریباً تین لاکھ کا ایک لشکر اور ۱۰۹۷ء میں تقریباً چھ لاکھ کا روانہ ہوا۔ یہ تعداد ان لوگوں کے افراد خانہ اور دوسرے غیر لڑاکا افراد جو شامل تھے اس کے علاوہ تھی۔ دوسرے چند شہر فتح کرنے اور وہاں قتل عام کرنے کے بعد جولائی ۱۰۹۹ء میں بیت المقدس کا محاصرہ ہوا۔ اس زمانے میں بغداد میں سنی عباسی خلافت اور مصر میں اس کی حریف فاطمی شیعہ خلافت دونوں زوال پذیر ہو چکی تھیں اور بیت المقدس کے دفاع کے لئے کسی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچی اور ۱۵ جولائی ۱۰۹۹ء کو بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مسیحی جنگجوؤں کی اس فتح کے جو نقشے مورخین نے کھینچے ہیں، ان کی چند جھلکیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

"جب شہر، اس کی فصیل اور میناروں پر ہمارے لوگوں کا قبضہ ہو گیا تو کچھ حیرت انگیز باتیں دیکھنے میں آئیں۔ دشمن (مسلمانوں) میں سے کچھ کے تو سر قلم کر دیئے گئے اور کئی ایک کو تیروں سے چھلنی کر کے میناروں سے کودنے پر مجبور کیا گیا۔ باقی کو دیر تک اذیتیں دینے کے بعد آگ میں جلا دیا گیا۔ اور یہ سب کچھ ایک معمولی بات کی طرح ہوا۔ تمام سڑکوں اور چوراہوں پر بریدہ سروں، ہاتھوں اور پاؤں کے انبار لگے ہوئے تھے اور سب سڑکوں پر پیادہ اور گھوڑ سوار لاشوں کے اوپر سے اپنا راستہ بنا رہے تھے۔ گلیوں میں خون ندیوں کی مانند بہہ رہا تھا اور ہر سو نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں اور بچوں کی لاشوں کے ڈھیر لگے تھے۔ کم سے کم اندازہ کے مطابق ستر ہزار مسلمان قتل ہوئے۔ جب پیرز (عیسائی سردار) اور کمانڈر (جن میں پیٹر راہب سر فہرست تھا) اس قتل عام سے نڈھال ہو گئے تو انہیں یکا یک ایک دوسرے مذہبی فریضہ کا خیال آیا اور وہ ایک جلوس کی شکل میں اکٹھے ہو کر آہیں بھرتے اور آنسو بہاتے اٹی ہوئی لاشوں اور بہتے خون میں سے گزرتے ہوئے حضرت عیسیٰ کے مقبرہ کے کلیسا Holy Sepulchre کی طرف چل دیئے۔ اور عین اس وقت جب یہ لوگ اپنے مقدس باپوں کے ساتھ اپنے اس مقدس ترین کلیسا میں عود کی خوشبو اور موم بتیوں کی روشنی میں عقیدت کے آنسوؤں کے ساتھ مذہبی رسوم ادا کر رہے تھے یہاں سے کوئی دو سو گز کے فاصلے پر خونریزی کا بازار گرم تھا اور صلیبی جنگجو بائبل کی مناجات (Psalms) سے فیضان روحانی حاصل کرتے ہوئے معصوم مسلمان بچوں کو پاؤں سے پکڑ کر ان کے سر دیواروں

صفحہ ۲۸

سے پنپ رہے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بھی تو قدیم ”بابل کے ننھے منے بچے“ ہی تو تھے۔

(۲)

اس کے بعد ان صلیبی جنگوں کا سلسلہ جاری رہا اور تقریباً اٹھاسی سال بعد تیسری جنگ کے دوران ۱۱۸۷ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمانوں نے یروشلم دوبارہ فتح کر لیا۔ اس فتح کے متعلق حقائق خود مغربی مورخین کے تسلیم شدہ ان کے اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح سے ہیں۔

”سلطان صلاح الدین ایوبی نے تمام عیسائی جو رہنا چاہتے تھے انہیں اس شرط پر رہنے کی اجازت دے دی کہ وہ جزیہ ادا کریں گے۔ اکثر عیسائی چلے گئے .......... یہ ایک یقینی بات ہے کہ اس ساری مہم میں جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے پھر فلسطین کو فتح کر لیا‘ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہمیشہ اپنے مفتوح دشمنوں کے ساتھ بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور سوائے مسیحی جنگجو جوگیوں (Monks) کے قتل کے کہیں بھی ذرا بھر سختی نہیں کی۔ فتح کے نشے میں مخمور ہونے کی بجائے اس کی شاندار فتوحات نے اس کے اندر ان ذمہ داریوں کا احساس بڑھا دیا جو کہ اس پر ان علاقوں کے اسلام کے پرچم تلے آنے سے عائد ہوتی تھیں۔ مفتوح لوگوں کی داستانوں میں اپنے فاتح کے لئے تعریف کے لفظوں کی ایسی اچھی مثال شاید ہی کہیں اور ملے‘ یعنی شاہدوں کی بے لوث تعریف جنہیں اپنی صاف گوئی کے متعلق کسی قسم کے انتقام کا کوئی کھٹکا نہ تھا۔ شاید ہی کبھی کسی اور جرنیل نے جسے تمام محاذوں پر اتنی زبردست کامیابی نصیب ہوئی ہو اپنے پچھلے دشمنوں کے لئے ایسی خوش خلقی‘ التفات بلکہ ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہو‘ خصوصاً جبکہ حریف اس کے مذہب کے بھی دشمن ہوں۔ تاریخ میں کسی اور بڑے فاتح کی ایسی مثال شاید ہی ملے کہ جس نے اپنی فتح اور طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے اتنی احتیاط برتی ہو۔

”سلطان نے نہ صرف فرنگی امراء کی خواتین سے فتوت اور تواضع کے سلوک میں اپنے آپ کو ممتاز کیا‘ نہ صرف بردباری کے ساتھ انتہائی رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی التجا پر ان کے قیدی خاوندوں اور باپوں کو رہا کیا‘ بلکہ اس نے اس معاملے میں بھی ذاتی دلچسپی لی کہ وہ لوگ جو جا رہے ہیں بحفاظت عیسائی علاقوں میں پہنچ جائیں اور اس

صفحہ ۲۹

مقصد کے لئے اپنی جیب سے خرچ ادا کیا اور شہر کے دروازوں پر متعین افسروں کو ان کے سفر کے انتظامات کی تاکید کی اور جہاں تک ہو سکا اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ اس کی فتح سے جن لوگوں کو تکلیف یا نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسے کم سے کم کیا جائے۔

”تارکین وطن جو کہ بیت المقدس اور اس کے نواح کی اکثر و بیشتر فرنگی آبادی پر مشتمل تھے، سلطان کے اس فراخدلانہ رویہ کا موازنہ اپنے ہم مذہبوں کی طرف سے کی گئی سختیوں سے کرنے پر مجبور تھے۔ جونہی یہ لوگ ٹرپولی (Tripoli) کے عیسائی علاقے میں پہنچے تو وہاں کے عیسائی طبقہ امراء نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کے پاس جو کچھ مال و اسباب تھا وہ چھین لیا۔ اسکندریہ کی بندرگاہ میں عیسائی جہاز رانوں نے اپنے ہم مذہبوں کے لئے کسی ہمدردی کا مظاہرہ نہ کیا اور بغیر کرایہ وصول کئے کسی کو لے جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ قاضی شہر کو ان بدنصیبوں کی مدد کے لئے جبر اور دھمکیوں سے کام لینا پڑا۔

”سلطان صلاح الدین ایوبی کے وہ فوجی جو بدرقہ کے طور پر مہاجرین کے ساتھ بھیجے گئے تھے، انہوں نے سفر کے دوران ان کے ساتھ بہترین سلوک کا مظاہرہ کیا۔ وہ سفر سے تھکے ماندوں اور بیماروں کی تیمارداری کرتے، بچوں کو خود اٹھاتے اور اپنے گھوڑے عورتوں اور بوڑھوں کو دے دیتے۔

”اور عین اس وقت جبکہ یہ سارا کچھ ہو رہا تھا، یروشلم کے بطریق ہرا قلیس (Heraclius) نے نہ صرف اپنی ذاتی ڈھیروں دولت سمیٹی بلکہ یروشلم کے تمام گرجاؤں کی دولت بھی اکٹھی کی اور بحفاظت یورپ جانے کے لئے جہاز میں سوار ہو گیا۔ روم پہنچ کر اس نے سیاہ ماتمی لباس پہنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ایسی شبیہ بنوائی جسے خون میں لت پت دکھایا گیا تھا اور اس کے ساتھ ایک مسلمان کی تصویر جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارتے دکھایا گیا تھا اور پھر وہ یورپ کے شہر شہر قریہ قریہ اس شبیہ کو اٹھائے گریہ و زاری کرتے گھومتا پھرا کہ حضرت محمدؐ حضرت عیسیٰ کو (نعوذ باللہ) مار رہے ہیں“۔

فلپ کے ہٹی اپنی کتاب A History of the Arabs میں دوسری صلیبی جنگ کے انہی واقعات کے متعلق یوں رقمطراز ہے:

”(فرانس کا) شاہ گائی، جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی ناموس پر

صفحہ ۳۰

حلفیہ یہ اقرار کرنے کے بعد رہا کیا تھا کہ وہ دوبارہ سلطان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے گا، وہ (شاہ گائی عکہ کے محاصرے کے دوران) حملے کی قیادت کر رہا تھا۔" (صفحہ ۶۵۰)

" (عکہ کے صلیبی حملہ آوروں کے آگے) ہتھیار ڈالنے کی دو شرائط یہ تھیں کہ شہر کا دفاع کرنے والوں کو دو لاکھ طلائی سکوں کے تاوان کے عوض رہا کر دیا جائے گا اور مقدس صلیب واپس کر دی جائے گی۔ جب ایک مہینے کے اختتام پر تاوان ادا نہ ہوا تو شاہ رچرڈ نے ستائیس (۲۷) سو قیدیوں کے قتل کا حکم دے دیا، ایک ایسا قدم جو سلطان صلاح الدین کے یروشلم کی فتح کے بعد قیدیوں سے سلوک کے بڑے واضح طور پر برعکس ہے۔ اس نے بھی تاوان کی شرط لگائی تھی اور کئی ہزار غریب قیدی اپنی رہائی کے لئے تاوان دینے کے قابل نہ تھے۔ اپنے بھائی کی درخواست پر سلطان صلاح الدین نے ان غریب قیدیوں میں سے ایک ہزار کو رہا کر دیا تھا۔ لاٹ پادری کی استدعا پر ایک اور گروہ کو رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہ سوچ کر کہ اس کے بھائی اور اسقف نے اپنی اپنی خیرات کر دی ہے اور اب اس کی باری ہے، سلطان صلاح الدین نے باقی قیدیوں میں سے کثیر تعداد (جن میں سے عورتیں اور بچے بھی شامل تھے) کو بغیر تاوان کے رہا کر دیا ۔" (صفحہ ۶۵۱)

صلیبی یکتائے ترحم و شفقت کی وجہ سے پوپ کے لشکروں کے ہاتھوں راستے میں یہودی بستیوں پر کیا بیتی؟ اس کی کچھ جھلکیاں اگلے صفحات میں دی گئی ہیں۔

۱۰۹۹ء میں عیسائیوں کے ہاتھوں یروشلم کی فتح کی خبر پہنچنے سے چند روز قبل ہی پوپ اربن دوم جہنم واصل ہو گیا۔ اس نے انسانی تاریخ کی اپنی انتہائی شر انگیز تقریر اور مدبرانہ چال سے اپنا وقار تو بحال کر لیا، لیکن اصحاب بصیرت کے لئے اس بنیادی عیسائی عقیدے کے متعلق بے شمار واضح تاریخی شواہد میں کچھ اور اضافہ کر گیا کہ "عیسائی مذہب دنیا کا یکتائے ترحم و شفقت ہے۔" (Christianity is the only benevolent religion of the World)

"جو مومن ہیں وہ تو اللہ کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں۔ سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا وار بودا ہوتا ہے۔ (القرآن ۷۶-۴)

صفحہ ٣١

باب سوم

منگول، مسیحی اور حقیقی عالمی نظام

وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّٰهُ ط وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔

(۳ آل عمران : ۵۴)

"آدمی کی خوشی دشمن کو روندنے میں ہے۔ اسے جڑ سے اکھاڑنے، اس کے پاس جو کچھ بھی ہے سب کچھ چھین لینے ...... اور اس کی بیویوں کے پیٹ اور ناف پر اپنا بستر کرنے میں ہے"۔ دنیا جب اس کے خونیں اور سنگدل لشکر کی یلغار کو دیکھ رہی تھی تو اسے یہ کہتے سنا۔ مورخ جوینی پکار اٹھا ”نرا قصائی"۔ سارے وسط ایشیا میں اس کی قصابت سے گیدڑ اور پہاڑی کوے پل کر موٹے ہو رہے تھے اور فضا میں موت کی آغوش میں جاتے ہوئے لوگوں کی چیخیں اور سوگوار پسماندگان کی آہ و زاری گونج رہی تھی۔ پوری بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور شہر ایسے غائب ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ اور جابجا ہڈیوں کے سفید انبار ایسے پڑے تھے جیسے مفتوح قوموں کے مزار۔

سقوط بخارا کے بعد چنگیز خاں نے شہر کی آبادی کو نماز جمعہ کے لئے مخصوص میدان میں اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ وہ بہت بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔ ”اگر تم لوگ مجھ سے پوچھو کہ میرے پاس یہ کہنے کے لئے کیا ثبوت ہے؟" اس نے کہا ”تو میں خود عذاب الٰہی ہوں!“ جب وہ انہیں اس طرح خوب جھاڑ پلا چکا تو پھر اس نے ان کے مختلف گروہ بنا کر ہر گروپ کے لئے ٹیکس کلکٹر مقرر کر دیئے۔ ”تمہاری جان یا تمہارا مال!“ اور اس

صفحہ ۳۲

طرح سے فتح کی کڑی سودے بازی شروع ہوئی۔ نساء میں ستر ہزار قیدیوں نے جب منگولوں کے حکم کی تعمیل میں اپنے آپ کو رسوں سے باہم باندھ لیا تو جہاں وہ جکڑے کھڑے تھے وہیں چیختے چلاتے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ مرو میں ان حملہ آوروں نے آتش و آہن و آب کی تباہ کاریوں سے دس لاکھ سے زائد انسانوں کو لقمہ اجل بنایا۔ نیشاپور میں چنگیز خاں کی بیٹی بے حسی سے دیکھتی رہی جبکہ وہاں اس کے حکم سے ہر ذی روح حتیٰ کہ معصوم بچوں سے لے کر چوہوں تک کو کاٹا جا رہا تھا۔ وہ بس دیکھتی رہی جبکہ ہر ایک کا سر کاٹ کر ایک ایسے تیزی سے بڑھتے ہوئے انبار پر چنا جا رہا تھا جو ایران کی چلچلاتی دھوپ میں گل سڑ کر کھوپڑیوں کا ایک ہیبت ناک مینار بن گیا۔ اور پھر اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور چلی گئی۔ اس کا خاوند اسی شہر کی فصیل کے باہر مارا گیا تھا۔ خراسان میں کسی نے ایک پناہ گزین سے پوچھا کہ بخارا میں کیا ہوا تو اس نے کمال اختصار سے جواب دیا ”وہ آئے، انہوں نے سرنگیں لگائیں، آتشزنی کی، قتل کیا، لوٹا اور چلے گئے“۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پوری قوم کا دل چیر کر نکال لیا ہو۔ اس کی دولت و ثروت کی جگہ جو منگول سمیٹ کر لے گئے تھے، ایک عام ویرانی اور بربادی نے لے لی۔ آج تک خونریزی اور ہلاکت میں چنگیز خاں کا ذاتی ریکارڈ قائم ہے۔ آٹھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان علاقوں میں کہیں وہ رونق اور خوشحالی دیکھنے میں نہ آئی جو کہ منگولوں کے حملے سے پہلے تھی۔ مادی اشیاء تو پھر دوبارہ اکٹھی ہو جاتی ہیں لیکن مسلمانوں کے علمی اور تہذیبی خزانے جو ان عظیم مراکز میں صدیوں میں اکٹھے ہوئے تھے، ان کی تلافی نہ ہو سکتی تھی اور نہ ہو سکی۔

سلطان محمد شاہ خوارزم کے جانباز بیٹے جلال الدین نے منگولوں کا کافی مقابلہ کیا اور کئی جگہ چنگیز خاں کے جرنیلوں کو مات بھی دی۔ لیکن اس طوفان کے آگے اس کا بھی بس نہ چلا اور آخر جب اپنے آپ کو تعاقب کرتے منگولوں کی گرفت سے بچاتا دریائے سندھ کے کنارے پہنچا تو مختلف روایات کے مطابق بیس فٹ، پچاس فٹ یا ستر فٹ کی بلندی سے دریا میں گھوڑے سمیت چھلانگ لگا دی اور تیر کر دریا عبور کر گیا۔ پیچھے چنگیز خاں نے دریا کے کنارے پہنچ کر دیکھتے ہوئے کہا ”کس باپ کا کیسا بیٹا!“ اور مزید تعاقب چھوڑ دیا۔ خود سلطان محمد شاہ خوارزم کا اپنے پایہ تخت سے ایک دفعہ پاؤں اکھڑنے کے بعد کچھ ایسا حال تھا جیسے کوئی شخص زمین کی کسی گہری دراڑ میں قدموں کے پیچھے لگا تار اندر کو دھنستا رہ پاؤں جمانے کی کوشش کی لیکن چنگیز خاں کر کے اسے اس کا موقع نہیں دیا۔ آخ جب بحیرہ قزوین کے ایک چھوٹے سے ج اور بھوک سے نڈھال تھا۔ یہیں پر چل

عیسائیوں میں یہ Saint Thomas عیسائی مذہب ساحل مالابار میں کہیں مدفون ہیں Prestor John کی آس لگائے بیٹھے ایک زبردست پادری حکمران کی شکل تعلیمات کا خاتمہ کر کے ساری دنیا پر ع سلطنت غالباً مسلمانوں کی سب سے بڑی نے فلسطین میں حملہ آور صلیبی فوجوں اس کی سلطنت کی تباہی و بربادی اور امو سے دوسرے کونے تک فضا Jah elu عرصہ تک یہی سمجھا گیا کہ جس پریسٹر جان قبل ۱۱۶۵ء میں ایک مراسلہ جو بظاہر اعظم، بازنطینی شہنشاہ مینوئل اول قو اور دوسرے یورپی حکمرانوں کو خطاب تعارف اور اپنے صلیبی عزائم کے ح ہونے کی تلقین کی تھی۔ اور اس کے میگوئیوں اور افواہوں کا سلسلہ جاری ر

اسی دوران افریقہ

صفحہ ۳۳

جیسے کوئی شخص زمین کی کسی گہری دراڑ سے پرے بھاگ رہا ہو اور زمین تیزی سے اس کے قدموں کے پیچھے لگاتار اندر کو دھنس رہی ہو۔ اس نے اپنی وسیع سلطنت کے کئی شہروں میں پاؤں جمانے کی کوشش کی لیکن چنگیز خاں نے اپنی عام حکمت عملی کے مطابق تیزی سے پیچھا کر کے اسے اس کا موقع نہیں دیا۔ آخر تیزی سے تعاقب کرتی منگول فوجوں سے جان بچاتا جب بحیرہ قزوین کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر اترا تو اس کے جسم پر ایک چادر بھی نہ تھی اور بھوک سے نڈھال تھا۔ یہیں پر محل کی بجائے قبر اس کی جائے پناہ بنی۔

عیسائیوں میں یہ تو مشہور تھا کہ ان کے ایک سینٹ تھامس Saint Thomas عیسائی مذہب کی تبلیغ کے لئے ہندوستان تک پہنچے تھے اور یہیں ساحل مالابار میں کہیں مدفون ہیں۔ عیسائی دنیا بڑی مدت سے کسی پریسٹ جان Prestor John کی آس لگائے بیٹھی تھی جس کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ایشیا میں کہیں ایک زبردست پادری حکمران کی شکل میں نمودار ہو کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات کا خاتمہ کر کے ساری دنیا پر عیسائیت کا غلبہ کر دے گا۔ اس زمانے میں خوارزمی سلطنت غالباً مسلمانوں کی سب سے بڑی اور مضبوط سلطنت تھی۔ اور سلطان محمد شاہ خوارزم نے فلسطین میں حملہ آور صلیبی فوجوں کو جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہوئی تھی۔ چنانچہ جب اس کی سلطنت کی تباہی و بربادی اور اس کی موت کی خبر اڑتے اڑتے یورپ پہنچی تو ایک کونے سے دوسرے کونے تک فضا Hallelujah کے پر مسرت نعروں سے گونج اٹھی۔ اور کچھ عرصہ تک یہی سمجھا گیا کہ جس پریسٹ جان کا مدتوں سے انتظار تھا آخر وہ نمودار ہو گیا۔ اس سے قبل ۱۱۶۵ء میں ایک مراسلہ جو بظاہر پریسٹ جان نے ہی لکھا تھا اور جس میں اس نے پاپائے اعظم، بازنطینی شہنشاہ مینوئل اول کومنینس، مقدس رومن شہنشاہ فریڈرک اول باربروسا اور دوسرے یورپی حکمرانوں کو خطاب کیا تھا، گشت کرنے لگا۔ اس میں پریسٹ جان نے اپنا تعارف اور اپنے صلیبی عزائم کے متعلق لکھ کر عیسائی حکمرانوں کو مسلمانوں کے خلاف متحد ہونے کی تلقین کی تھی۔ اور اس کے بعد سے عیسائی دنیا میں اس قسم کے خطوط، رپورٹوں، چہ میگوئیوں اور افواہوں کا سلسلہ جاری تھا۔

اسی دوران افریقہ اور اندلس میں موحدین کے زوال کے بعد ابن ہود جو

صفحہ ۳۴

کہ عیسائیوں کے خلاف اندلس میں مسلمانوں کے لئے کسی حد تک ڈھال بنا ہوا تھا، ایک عیسائی حسینہ کے عشق میں گرفتار ہو کر اسی کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ اور ۱۲۳۹ء میں قسطلہ کے شاہ سینٹ فرڈینینڈ سوم نے صلیبی یلغار کے ساتھ قرطبہ مسلمانوں سے چھین لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی شان و سطوت سے صدیوں سے قائم مسلمانوں کی اندلسی سلطنت جزیرہ نما سپین کے جنوبی چھوٹے سے کونے غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

اسی زمانے میں جرمنی کا شاہ فریڈرک دوم مصر سے جو اپنے اندرونی خطرات سے دوچار تھا بمع بیت المقدس فلسطین کے کچھ علاقے ہتھیا چکا تھا، لیکن جولائی ۱۲۴۹ء میں جلال الدین کے خوارزمی ترک سپاہیوں نے بیت المقدس پھر فتح کر کے غزہ کے علاقے میں صلیبیوں کا خاتمہ کر دیا۔

جب چنگیز خاں کے پوتے باتو خان نے مشرقی یورپ کو اپنے دادا کے ایشیا میں کارناموں کا اعادہ کرتے ہوئے روند ڈالا تو عیسائی لوگ پکار اٹھے Tartarus (بہ معنی جہنمی) جس سے غالباً لفظ تاتار نکلا۔ فرانس کے شاہ چارلس نہم جس کو اپنے عم زاد اور ہم عصر شاہ قسطلہ فرڈینینڈ سوم (جس کا اوپر ذکر ہوا ہے) کی طرح سینٹ یعنی ولی اللہ کا خطاب ملا ہوا تھا اور اپنے حلف کی تعمیل میں مدت سے اپنی صلیبی مہم میں مصروف افریقہ میں مسلمانوں سے برسرپیکار تھا، اس نے فرانس میں اپنی والدہ کو خط میں لکھا کہ ”یا تو ہم ان منگولوں کو جہنم میں داخل کردیں گے یا پھر یہ ہم سب کو بہشت میں پہنچا دیں گے“۔ عین ممکن تھا کہ منگول سارا یورپ ہی روند ڈالتے کہ یکایک ۱۲۴۱ء میں وہاں چنگیز خاں کے بیٹے اور جانشین اوگدائی Ogadi کی موت کی خبر پہنچ گئی اور جس طرح کچھ عرصہ پہلے ایشیا میں چنگیز خاں کی اپنی موت پر منگولوں کی یلغار رک گئی تھی، اسی طرح وہ اب پھر اپنی مہم سمیٹ کر جانشینی کا معاملہ طے کرنے اپنے دارالحکومت قراقرم (منگولیا) کی طرف پلٹے۔

تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں دو نئی تحریکوں نے جنم لیا۔ یہ دونوں تحریکیں عیسائی دریوزہ گر راہبوں کے دو حلقے تھے۔ ان میں سے پہلے کا نام فرانسسکن مائنورائٹس (Franciscan Minorites) تھا جس کی بنیاد سینٹ فرانسس آف اسیسی (۱۱۸۲-۱۲۲۶ء) St. Francis of Assissi نے رکھی اور دوسرا حلقہ ڈومنکن پریچرز

Dominican Preachers) (۱۱۷۰-۱۲۲۱ء) تھا۔ عیسائی درویشوں افریقہ کے بہت سے علاقوں میں پھیل لئے وہ بڑے سرگرم اور مستعد رہتے

پہنچانا۔

اس تمام پس من کا اسلام کے خاتمہ کے بعد اس کے یورپ میں کلیسا کا بڑھتا ہوا سیاسی کردا پوپ گریگوری نہم چہارم (Innocent IV) کا انتخا کلیسا کی تیرہویں عالمی کونسل (cil بڑے مقاصد مندرجہ ذیل تھے۔

منگولوں کے حملے کا سدباب۔ قبل ا کے اسقف پیٹر سے منگولوں کے حت منگول سرکاری سفیروں کی حفاظت او کے راہب تیرہویں صدی کے اوا معلومات اکٹھی کرنے کے کام میں میں انہی دو سلسلہ ہائے درویشان ترتیب دیئے۔ اور انہیں منگول قو راستوں سے روانہ کیا۔ ان مختلف

صفحہ ۳۵

(Domincan Preachers) جس کا بانی سینٹ ڈومینک (St. Dominic) (۱۱۷۰-۱۲۲۱ء) تھا۔ عیسائی درویشوں کے یہ حلقے تھوڑے ہی عرصہ میں تمام یورپ، ایشیا اور افریقہ کے بہت سے علاقوں میں پھیل گئے۔ ان کے سپرد مندرجہ ذیل کام ہوتے تھے جن کے لئے وہ بڑے سرگرم اور مستعد رہتے تھے۔

پہنچانا۔

اس تمام بے مثل مشنری سرگرمی کے پیچھے نہ صرف صلیبی جذبہ اور پوپ کا اسلام کے خاتمہ کے بعد اس کے زیر اطاعت متحدہ عیسائی دنیا کا تخیل موجزن تھا، بلکہ یورپ میں کلیسا کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار بھی کار فرما تھا۔

پوپ گریگوری نہم (Gregory IX) کے بعد ۱۲۴۳ء میں پوپ انوسنٹ چہارم (Innocent IV) کا انتخاب ہوا جس نے جون ۱۲۴۵ء میں لیون (Lyon) شہر میں کلیسا کی تیرہویں عالمی کونسل (Ecumenical Council) منعقد کرائی جس کے دو بڑے مقاصد مندرجہ ذیل تھے۔

منگولوں کے حملے کا سدباب۔ قبل ازیں پوپ نے ہنگری کے اسقف اعظم برتھالڈ اور روس کے اسقف پیٹر سے منگولوں کے متعلق تمام ممکنہ معلومات حاصل کیں، جس میں یہ بھی تھا کہ منگول سرکاری سفیروں کی حفاظت اصولاً کرتے ہیں۔ چونکہ فرانسسکن اور ڈومنکن سلسلوں کے راہب تیرہویں صدی کے اوائل سے ہی عیسائیت کی تبلیغ اور اکابرین کلیسا کے لئے معلومات اکٹھی کرنے کے کام میں بڑے سرگرم عمل تھے، اس لئے پاپائے اعظم نے ۱۲۴۵ء میں انہی دو سلسلہ ہائے درویشان میں سے لوگوں کو چن کر چار مختلف سفارتی و تبلیغی مشن ترتیب دیئے۔ اور انہیں منگول قوم اور ان کے حکمران کے نام مختلف خطوط دے کر مختلف راستوں سے روانہ کیا۔ ان مختلف سفارتی و تبلیغی وفود کے لیڈروں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

صفحہ ۳۶

فرانسسکن۔

ان چاروں مشن کے سپرد مندرجہ ذیل مقاصد کی تکمیل تھی۔

یہ مشن خصوصاً جان آف پیانو ڈی کارپائن اور اینڈریو لانگ جیومیو پہلے دو مقاصد کی تکمیل میں انتہائی کامیاب رہے۔ ان لوگوں نے واپس آکر جو رپورٹیں دیں وہ فوجی معلومات کا شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی رپورٹوں کا لب لباب عیسائی قوموں کا اتحاد ہے۔ جان لکھتا ہے ”اگر عیسائی اپنے آپ کو، اپنے ملک اور عیسائیت کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کے بادشاہوں، شہزادوں، نوابوں اور فرمانرواؤں کو باہم اکٹھا ہو کر منگولوں کے مقابلہ کے لئے فوجیں بھیجنی چاہئیں قبل اس کے کہ وہ ان کے علاقوں میں آکر پھیل جائیں“۔ انہوں نے عیسائی لوگوں اور حکمرانوں کو یہ نصیحت کی کہ وہ اپنے خزانے محفوظ مقامات پر ٹھکانے لگا کر منگولوں کے مقابلے کے لئے متحد ہو جائیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے منگولوں کی وسیع سلطنت میں آباد نسطوری فرقہ کے عیسائیوں اور ان کے گرجوں کا رابطہ پاپائے روم سے استوار کیا۔ یہاں یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ باب اول میں ٹوائنبی (Toynbee) کے اپنے الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے، یہ نسطوری فرقہ کے عیسائی پہلے ہی منگولوں کے دربار میں کافی اثر و رسوخ حاصل کر چکے تھے۔

جہاں تک منگول حکمرانوں اور قوم کو عیسائی بنانے کا تعلق ہے تو اس بارے میں صورت حال اس مرحلہ پر کچھ یوں تھی۔ چنگیز خاں، اس کے بیٹوں اور جانشینوں کا

صفحہ ۳۷

یہ پکا عقیدہ تھا کہ مقام طلوع آفتاب سے لے کر مقام غروب آفتاب تک کی ساری دنیا کے لوگ اور ان کے حکمران حکم ایزدی کی رو سے منگولوں کے مطیع اور باجگزار ہیں اور جو کوئی اس بات سے منحرف ہوتا ہے وہ مکمل تباہی اور بربادی کے لائق ہے۔ ان کے خیال میں منگولوں کی یلغار کے آگے تمام قوموں کی شکست آخر اس بات کا خدائی ثبوت ہی تو تھی۔ ادھر پوپ کے نظریہ اور عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق کسی بھی شخص کی دنیاوی اور اخروی نجات صلیب تھام کر پوپ اور اس کے نائبین کی اطاعت کئے بغیر ممکن نہیں اور چونکہ ان دونوں نظریات اور عقیدوں میں لچک کی گنجائش نہ تھی، اس لئے ان تمام سفارتی، جاسوسی اور تبلیغی وفود کو اس بارے میں کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ بلکہ جب ڈومینکن راہب ایسی لینس نے آرمینیا کے منگول حاکم (گورنر) بیجو کے دربار میں پیش ہو کر پوپ کے دو فرمان (Bull) دیئے اور اسے پوپ کی طرف سے عیسائی بننے کی دعوت دی تو منگول حاکم بیجو کے مصاحبوں میں سے ایک گرج پڑا ”کیا تم ہمیں عیسائی یعنی اپنی طرح کتے بننے کی دعوت دیتے ہو؟ کیا تمہارا پوپ ایک کتا نہیں ہے؟ اور کیا تم تمام عیسائی کتے نہیں ہو؟“ اس کے بعد منگول حاکم بیجو نے اس سفیر کو قتل کر کے اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر پوپ کو واپس بھیجنے کا حکم دے دیا۔ لیکن اس کی بیوی کی مداخلت اور جو منگول افسر اس سفیر کو دربار میں لے کر آئے تھے ان کے اس قانون کی دہائی دینے پر جس کے مطابق منگول سفیروں کو قتل نہیں کرتے تھے، اس حکم پر عملدرآمد روک دیا گیا اور سفیر حاکم بیجو اور خاقان (منگول شہنشاہ) گیوگ کی طرف سے پوپ کے لئے مندرجہ بالا زبانی جواب کے مطابق تفصیلی تحریری جواب لے کر واپس آگئے۔ ان سفیروں نے معلومات تو بھرپور اکٹھی کیں لیکن جہاں تک ان سفارتوں سے وابستہ پوپ کے مذہبی اور سیاسی خواب تھے، جن کے تحت منگولوں کے ذریعے مسلمانوں کا خاتمہ کرا کے دنیا میں عیسائی مذہب کا غلبہ کرانا تھا تو اس مرحلہ پر یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتے دکھائی نہ دیئے۔ لیکن جیسا کہ بعد کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے پوپ کی پٹاری میں کچھ اور بھی ہتھکنڈے تھے۔

اینڈریو لانگ جیومیو کا دوسرا مشن :

لیون شہر میں کلیسا کی عالمی کونسل (Ecumenical Council of Lyon) میں دوسرا اہم فیصلہ مسلمانوں کے خلاف

صفحہ ۳۸

ایک نئی صلیبی جنگ شروع کرنے کا تھا۔ فرانس کے نو عمر شاہ لوئی نہم نے جس نے بعد میں سینٹ یعنی ولی اللہ کا خطاب پایا‘ پہلے ہی اس کے لئے قسم اٹھا رکھی تھی۔ اس لئے اس کی سرکردگی میں ایک مہم مصر پر حملہ کرنے کے لئے جزیرہ قبرص پر اتری۔ یہاں اینڈریو لانگ جیومیو بھی شاہ لوئی کے ہمراہ موجود تھا۔ اور یہیں ۲۰؍ دسمبر ۱۲۴۸ء کو شاہ لوئی کے پاس دو عیسائی جن کے نام ڈیوڈ (David) اور مارک (Mark) تھے‘ منگولوں کے سفیر کی حیثیت سے منگولوں کے سالار ایلجگیدی (Elgigidie) کے خطوط اور زبانی پیغامات لے کر پہنچے۔ ان خطوط میں ایلجگیدی نے خدا سے صلیبی جنگ کی کامیابی کی دعا کے بعد لکھا تھا کہ ہر فرقے کے صلیب پرست خدا اور منگول خاقان (شہنشاہ) کی نظروں میں برابر ہیں۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ منگول خاقان نے اسے عیسائیوں کا خاص خیال رکھنے اور تمام گرجے از سر نو تعمیر کرانے کے لئے مغربی ایشیا میں بھیجا ہے۔ اس کے بعد خط میں لکھا تھا کہ سفیر جو زبانی پیغامات لا رہے ہیں‘ شاہ لوئی ان کی طرف خاص توجہ دے۔ ان پیغامات میں شاہ لوئی کو بتایا گیا تھا کہ ایلجگیدی کو منگول خاقان گیوک نے مغربی ایشیا میں منگول فوجوں کا سالار اعظم مقرر کیا ہے تاکہ اگلے موسم بہار میں بغداد پر حملہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں شاہ لوئی سے یہ کہا گیا تھا کہ اسی وقت مصر پر حملہ آور ہو جائے تاکہ عباسی خلیفہ بغداد کو مصر کی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچ سکے۔ ان عیسائی سفیروں نے شاہ لوئی کو یہ بھی بتایا کہ خاقان گیوک کی ماں عیسائیوں کے پریسٹر جان کی بیٹی ہے اور دونوں خاقان گیوک اور اس کا سالار ایلجگیدی عیسائی ہو گئے ہیں۔

شاہ سینٹ لوئی نہم نے اس سفارت کے متعلق فوراً پوپ انوسنٹ چہارم (Innocent IV) کو پیغام بھیجا اور پھر تو جیسے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اینڈریو لانگ جیومیو جو قبرص میں شاہ لوئی کے پاس ہی تھا اور اس کام کا پہلے ہی تجربہ رکھتا تھا‘ اس کی قیادت میں نو ارکان پر مشتمل ایک مضبوط سفارتی مشن تشکیل دیا گیا۔ اصلی صلیب کا ایک ٹکڑا اور قیمتی کپڑے کا ایک سفری گرجا (Chapel) تحفہ کے طور پر جوابی خطوط اور پیغامات کے ساتھ منگولوں کے دونوں عیسائی سفیروں مارک اور ڈیوڈ کے ہمراہ ایلجگیدی اور خاقان گیوک کے درباروں کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جب تک یہ سفارتی مشن تبریز کے نزدیک ایلجگیدی کے کیمپ میں پہنچا‘ وہاں خاقان گیوک کے مرنے کی خبر پہنچ چکی تھی۔

صفحہ ۳۹

اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ اوغل قامش (Ogul Qalmaish) اور چنگیز خاں کے دوسرے بیٹے اوگدائی کی نسل کے درمیان قراقرم کے دربار میں جانشینی کی کشمکش شروع ہو چکی تھی۔ چنانچہ جب یہ مشن قراقرم کے منگول دربار میں پہنچا تو اوغل قامش نے جو قائم مقام حکمران کے طور پر کام کر رہی تھی‘ جانشینی کی سیاست میں اپنے بیٹے کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لئے شاہ سینٹ (ولی اللہ) لوئی کے نام جواب میں اسے حکم دیا کہ وہ فوراً خراج ادا کرنے کے لئے باجگزار کی حیثیت سے منگول دربار میں حاضر ہو۔ قبل اس کے کہ یہ سفیر قراقرم سے طویل اور دشوار گزار سفر طے کر کے واپس شاہ سینٹ لوئی کے پاس پہنچتا، شاہ سینٹ لوئی صلیبی جوش کی تاب نہ لا کر قاہرہ پر ہلہ بول چکا تھا۔ لیکن منصورہ کے مقام پر شکست کھا کر بمع اپنے لشکر کے ترکوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ اور بھاری تاوان دے کر رہا ہونے کے بعد فلسطین کے ساحل پر آگیا۔ جہاں نئے سرے سے صلیبی فوجوں کی ترتیب میں لگ گیا۔ یہیں پر قیصریہ (Ceasarea) کے مقام پر اینڈریو لانگ جیومیو اس کے پاس منگول دربار کا جواب لے کر پہنچا۔

ادھر منگولوں کے دارالحکومت قراقرم میں چنگیز خاں کے ایک اور بیٹے طولی خاں کی عیسائی بیوہ دوقز خاتون (Doquz Khatoon) کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔ اس نے اپنے بڑے بیٹے منگو خاں کو جانشینی کے لئے نامزد کیا۔ اس بارے میں اسے نہ صرف چنگیز خاں کے بیٹے اوگدائی کے پسماندگان کی بلکہ چنگیز خاں کے پوتے باتو کی بھی حمایت حاصل تھی۔ دربار میں بہت سے منگول جرنیل بھی اس کی حمایت کر رہے تھے۔ چنانچہ طولی خاں کی یہ عیسائی بیوہ دوقز خاتون اپنے بیٹے منگو خاں کو خاقان (شہنشاہ) بنانے میں کامیاب رہی۔ اس کے تین اور بیٹے بھی تھے‘ جن کے نام قبلائی خان‘ ہلاکو خان اور ارک بخے تھا۔ قبلائی خاں کو دوقز خاتون نے چین اور مشرق بعید کا وائسرائے مقرر کیا۔ ہلاکو خان اور اس کی آئندہ نسل کے حصے مسلمانوں کے مفتوح اور آئندہ فتح ہونے والے علاقے آئے۔ مسلمانوں کے خاتمہ کی مہم بھی اسی کے ذمے لگی۔ اس لئے طولی خاں کی عیسائی بیوہ دوقز خاتون نے شادی بھی اپنے اس بیٹے ہلاکو خان سے کر لی۔ اب ایشیا کے اکثر و بیشتر علاقے اپنے بیٹوں اور خاوند کی وساطت سے اس عیسائی عورت کے زیر تسلط تھے۔ وہ بڑی کٹر عیسائی تھی۔ اس کے خیمے کے

صفحہ ۴۰

باہر ہمیشہ سفری گرجا (Chapel) ہوتا تھا‘ جہاں Mass کی عیسائی دعا یا رسم بڑی باقاعدگی سے ادا کی جاتی تھی۔ اس کے متعلق تمام مورخ دو باتیں خصوصاً تحریر کرتے ہیں ایک تو یہ کہ اس کا دل اور پرس ہمیشہ اپنے ہم مذہبوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ چونکہ مسلمان ریاستوں میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لئے بڑی آزادیوں اور رواداری کے باوجود عیسائیوں کے گھنٹے بجانے پر کچھ پابندی لگی رہی ہے‘ اس لئے اس کے حکم سے مسلمانوں کے تمام مفتوح علاقوں میں پرانے گرجوں کی بحالی اور نئے گرجوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گھنٹے بجانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا۔

۵۵-۱۲۵۳ء میں ایک اور مشن شاہ سینٹ لوئی نہم کی طرف سے ولیم روبرک (William Rubrick) کی رہنمائی میں منگول خاقان کے دربار میں گیا۔ اس وقت چونکہ منگول خاقان منگو خان کا بھائی ہلاکو خان مسلمانوں کے خلاف اپنی مہم شروع کرچکا تھا اور خاقان کو یہ معلوم تھا کہ اس بارے میں اسے عیسائیوں کی مدد درکار ہوگی‘ اس لئے اس دفعہ خاقان نے پہلے گیوگ اور اوغل قائمش کی طرف سے جو سخت جواب بھیجے گئے تھے‘ ان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نسبتاً نرم جواب بھیجا۔ اس میں شاہ لوئی سے خراج کا مطالبہ تو نہیں کیا گیا تھا لیکن منگولوں کو پھر بھی تمام دنیا پر حکومت کرنے کا حقدار ظاہر کیا گیا تھا۔ سابقہ مشنوں کی طرح اس دفعہ پھر منگول خاقان نے اپنا جوابی سفارتی مشن یورپ روانہ کرنے کی خواہش ظاہر کی‘ لیکن ولیم روبرک کو اپنے پیشروؤں کی طرح چونکہ علم تھا کہ جیسے اس کا ایک بڑا مقصد معلومات اکٹھی کرنا بھی ہے‘ اسی طرح منگول سفارتی مشن بھی یورپ جاکر معلومات اکٹھی کر سکتا ہے۔ اس لئے اس نے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح مختلف حیلوں بہانوں سے منگول خاقان کا یہ ارادہ بدل دیا۔

منگو خاں کے خاقان چنے جانے کے فوراً بعد اس کے بھائی ہلاکو خان نے مسلمانوں کے خلاف اپنی مہم شروع کردی کیونکہ یہ طے پاچکا تھا کہ مسلمانوں کے جتنے علاقے فتح ہو چکے ہیں یا آئندہ فتح ہوں گے‘ وہ ہلاکو خاں اور اس کی نسل کی مملکت ہوں گے۔ ہلاکو خان نے آرمینیا کے عیسائی حکمران ہیتھم سے معاہدہ کیا جس کے مطابق خاقان منگو خاں نے وعدہ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے بعد ایشیائے کوچک کے عیسائیوں کے خاص حقوق

صفحہ ۴۱

ہوں گے اور مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کے تمام مقدس مقامات ان کے کنٹرول میں دے دیئے جائیں گے۔ اس کے بدلے ہیتھم اپنی سولہ ہزار افواج کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوا۔ اس کا داماد بوہیمنڈ (Bohemand) چہارم جو کہ انطاکیہ کا حکمران تھا، وہ بھی اس میں اپنی افواج کے ساتھ شریک ہوا۔ مصر کی مملوک حکومت اور خلافت عباسیہ کے علاوہ اس وقت اسلامی دنیا چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں میں بٹی ہوئی تھی۔ افغانستان اور ایران کے اکثر علاقے فتح کرنے کے بعد ۱۲۵۸ء میں ہلاکو خان نے بغداد کا محاصرہ کیا۔ اور ۲۰ فروری کو شہر فتح ہو گیا۔ مورخین نے ہارون الرشید کے ہزار داستان کی شہرت والے اس شہر کی تباہی اور بربادی کے جو مناظر پیش کئے ہیں، انہیں پڑھ کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مختصراً چھ دن بغداد کے گلی کوچے خون کی ندیاں بنے تو دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا۔ اور اس کے بعد شہر کو آگ لگائی گئی تو دریا کا پانی کالا ہو گیا۔ جن پر کبھی کسی غیر محرم کی نظر تک نہ پڑی تھی، وہ محلات اور گھروں سے مویشیوں کی مانند کھینچی گئیں تاکہ کئی کئی منگول یا مسیحی درندوں کی ہوس کا نشانہ بنیں۔ جس شہر کے حسن اور رعنائیوں کے قصے ساری دنیا میں مشہور تھے، کچھ عرصہ ایسے لگا جیسے وہ شہر دنیا میں ہے ہی نہیں۔

روایت ہے کہ عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کو کئی دن قید میں بھوکا رکھنے کے بعد عباسی سلطنت کے پانچ سو سالہ دور میں اکٹھی کی گئی کثیر دولت کے انبار کے ساتھ پابجولاں ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا تو ہلاکو خان نے سونے کے کچھ ڈلے اٹھا کر خلیفہ کو دیئے اور کہا کہ یہ کھاؤ۔ خلیفہ نے کہا ”میں یہ کیسے کھا سکتا ہوں؟“ اس پر ہلاکو خاں نے جواب دیا کہ اگر تم یہ کھا نہیں سکتے تو یہ ساری دولت اپنے دفاع کے لئے استعمال کر لیتے تاکہ تمہیں آج کا دن نہ دیکھنا پڑتا“۔ اس کے بعد ہلاکو خاں نے خلیفہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جو منگول مفتوح بادشاہوں کے ساتھ کرتے تھے۔

مورخین لکھتے ہیں کہ جس دوران شہر میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا، تو بغداد کی عیسائی آبادی شہر کے بڑے گرجے میں محفوظ رہی اور ان میں سے کسی کے جسم پر خراش تک نہ آئی۔ ان میں کئی ایک نے قتل عام میں حصہ لے کر دل کی صلیبی بھڑاس بھی نکالی۔ اور جب بغداد کے سقوط اور اس کی تباہی و بربادی کی خبر عیسائی دنیا میں پہنچی تو ہر سو خوشی کے

صفحہ ۴۲

شادیا نے بجنے لگے۔ ہلاکو خاں اپنی عیسائی بیوی ڈوقز خاتون کے حاوی ہونے کے ناطے سے زیر اثر تو تھا ہی، اس وقت یہ بھی مشہور ہو گیا کہ وہ خود بھی عیسائی ہو گیا ہے۔ بغداد سے وہ جھیل ارمیہ کے کنارے تبریز کے علاقے میں چلا گیا۔ وہاں اس نے بغداد میں سمیٹی ہوئی دولت محفوظ کی اور اپنی فوجوں کو تازہ دم اور از سر نو مرتب کر کے اسلام کے خاتمے کے لئے اپنے عیسائی جرنیل کت بوقا کے ہمراہ آخری ضرب کاری لگانے کی خاطر اور مصر کی مملوک سلطنت کی تسخیر کے لئے پیش قدمی کی۔ سقوط بغداد کے بعد ایران اور ترکی کے درمیان کے علاقے اب منگولوں کے تسلط میں تھے۔ اس کے شمال اور شمال مغرب میں چنگیز خاں کے پوتے باتو کی نسل کی حکومت تھی، جس سے منگولوں کا عقب محفوظ تھا۔ سو اب جو حشر پہلے اسلامی دنیا کے باقی حصوں کا منگولوں اور مسیحیوں کے اشتراک سے ہوا تھا، وہی اب شمالی عراق اور شام کا ہونے لگا۔ جزیرہ کے امیر کامل محمد کو اس طرح ختم کیا گیا کہ اس کے جسم سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر اس کے منہ میں ٹھونسے جاتے تھے اور اس کے بعد اس کا سر کاٹ کر شام میں جگہ جگہ گھمایا گیا تو اکثر علاقے کے لوگوں نے ہیبت سے لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیئے۔ الپو Aleppo کے لوگوں نے مدافعت کی تو اس شہر کا حشر بھی بغداد جیسا ہوا۔ دمشق کے لوگوں نے بغداد اور الپو کے حشر کی داستان سن کر مقابلہ نہیں کیا اور جب ہلاکو خان کا عیسائی کمانڈر کت بوقا اور اس کے عیسائی اتحادی ہیثلم اور بوہیمنڈ چہارم دمشق کی جامعہ مسجد کو گرجا میں تبدیل کرنے کی رسم کے بعد دمشق کی سڑکوں پر جلوس کی شکل میں گزر رہے تھے تو مسلمانوں کو صلیب کے آگے جھکنا پڑتا تھا۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے پریسٹر جان (Prestor John) کے ایشیا میں نمودار ہو کر اسلام کا خاتمہ کر کے ساری عمر جسم کے کسی بھی حصہ کی صفائی کو کافرانہ فعل شمار کرنے والے صلیب پرستوں کے مذہب کا غلبہ کرنے کی جو پیشین گوئیاں ہو رہی تھیں، وہ اب پوری ہوا چاہتی ہیں۔

اس زمانے کے مسلمان مصنفین نے خود اسلام کے مستقبل کے متعلق دبی زبان میں مایوسی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران منگول خاقان کا انتقال ہو گیا۔ چنانچہ ہلاکو خان کو اپنی مہم ادھوری چھوڑ کر دارالحکومت قراقرم (منگولیا) جانا پڑا۔ لیکن اس کے صلیبی اتحادی اور جرنیل کت بوقا یہ کام کیسے چھوڑ سکتے تھے۔ اسی مقام ”عین جالوت“ پر ہوا جہاں تقریباً سے عظیم الجثہ کافر جالوت کا خاتمہ کیا تھا۔ صلیبی جرنیل کت بوقا شکست کھا کر گرفتا مسلمانوں کے کلہ مینار بنانے والے اس کافر ان کا ناقابل تسخیر ہونے کا طلسم ٹوٹ گیا۔

تیرہویں صدی عیسوی مستقیم سے بھٹک چکے تھے اور ان میں دین ک میں الجھے ہوئے تھے اور ان میں اجتہاد کی ص بہت تھے لیکن قرآن و سنت کے پیروکار م ہوچکی تھیں۔ لوگوں میں فرقہ پرستی کا دور منطق کی آمیزش ہو چکی تھی۔ معتزلہ عقل ک بالادستی کے۔ وہ قرآن و حدیث کے ظواہر کی کوشش کرتے اور یہ ظواہر کی من مان دینے کی سعی کرتے۔ کہیں فلسفہ کی موشگاف وحدت ادیان کی گمراہیاں۔ اسلامی تاریخ موحدین کے دربار کے زعماء میں سے تھا ج ۱۲۰۹ء میں انگلینڈ کے شاہ جان کی طرف سلطنت کے خلیفہ ابو عبداللہ محمد الناصر ک توہین آمیز انداز میں لوٹا دیا گیا (صفحہ العقاب (Navas de Tolosa) کی شکست کی وجہ سے اندلس میں مسلمانوں میں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ ،جس کی خلا ایک پتھر مانند مجسمہ سرد پڑا ہوتا تھا اور قتا

صفحہ ۴۳

جرنیل کتبوغا یہ کام کیسے چھوڑ سکتے تھے۔ مصر کے مملوک سپہ سالار بیبرس سے ان کا مقابلہ اسی مقام ”عین جالوت“ پر ہوا جہاں تقریباً بتیس (۳۲) صدی قبل حضرت داؤدؑ نے اپنی غلیل سے عظیم الجثہ کافر جالوت کا خاتمہ کیا تھا۔ (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی)۔ صلیبی جرنیل کتبوغا شکست کھا کر گرفتار ہوا اور اس طرح بلخ بخارا سے لیکر بغداد تک مسلمانوں کے کلہ مینار بنانے والے اس کافر کے مجاہد بیبرس کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے سے ان کا ناقابل تسخیر ہونے کا طلسم ٹوٹ گیا۔

تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز تک مسلمان اکثر و بیشتر دین حق کے صراط مستقیم سے بھٹک چکے تھے اور ان میں دین کا جذبہ بہت کمزور ہو چکا تھا۔ علماء و فقہا فروعی مسائل میں الجھے ہوئے تھے اور ان میں اجتہاد کی اہلیت مفقود ہو چکی تھی۔ حنفی، شافعی، حنبلی اور مالکی تو بہت تھے لیکن قرآن و سنت کے پیرو کار مسلمان کم تھے۔ عوام میں مشرکانہ رسوم و بدعات عام ہو چکی تھیں۔ لوگوں میں فرقہ پرستی کا دور دورہ تھا۔ اسلامی علوم میں یونانی فلسفہ اور کلام و منطق کی آمیزش ہو چکی تھی۔ معتزلہ عقل کی بالادستی کے قائل تھے اور صوفیہ کشف و الہام کی بالادستی کے۔ وہ قرآن و حدیث کے ظواہر کی عقلی تاویلیں کر کے عقل و نقل میں تطبیق دینے کی کوشش کرتے اور یہ ظواہر کی من مانی تاویلیں کر کے ان کو اپنے کشف و الہام سے تطبیق دینے کی سعی کرتے۔ کہیں فلسفہ کی موشگافیاں اور کہیں وحدت الوجود کی فتنہ سامانیاں اور کہیں وحدت ادیان کی گمراہیاں۔ اسلامی تاریخ کا انتہائی مشہور فلسفی ابن رشد، جو اندلس میں موحدین کے دربار کے زعماء میں سے تھا، اسلام کے ایک بنیادی ستون ”معاد“ کا ہی منکر تھا۔ ۱۲۰۹ء میں انگلینڈ کے شاہ جان کی طرف سے قبول اسلام کے لئے شمالی افریقہ کی موحدین سلطنت کے خلیفہ ابو عبداللہ محمد الناصر کے دربار میں سفارت پہنچی تو اسے بڑے بھونڈے اور توہین آمیز انداز میں لوٹا دیا گیا (صفحہ ) جس کے بعد ۱۲۱۲ء میں اسی خلیفہ کے اندلس کی العقاب (Navas de Tolosa) کی جنگ میں عیسائیوں کے ہاتھوں شرمناک و تباہ کن شکست کی وجہ سے اندلس میں مسلمانوں کے اقتدار کا چراغ گل ہو گیا۔ دوسری طرف بغداد میں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ، جس کی خلافت برائے نام تھی، کا یہ حال تھا کہ اس کے آستانے پر ایک پتھر مانند حجر اسود پڑا ہوتا تھا اور تمام خاص و عام کو اس پتھر کو بوسہ دینے کے بعد شرف

صفحہ ۴۴

باریابی حاصل ہو تاکہ اسی زمانے میں حشیشین کا گروہ اور ان کی وارداتیں اپنے عروج پر تھیں۔ بغداد میں شیعہ سنی کشمکش زوروں پر تھی۔ ان دونوں فرقوں کے درمیان آئے دن جھگڑے فساد ہوتے رہتے تھے۔ جب ۶۵۵ھ میں مستعصم باللہ نے سنیوں کی حمایت میں بغداد کے محلہ کرخ کو‘ جہاں زیادہ تر شیعہ آباد تھے‘ لٹوا دیا‘ تو خلیفہ کے شیعہ وزیر نے ہلاکو خاں کو بغداد آنے کی دعوت دی اور اس طرح محرم ۶۵۶ھ میں بغداد کی پانچسو سالہ عباسی خلافت کا خاتمہ ہوا۔ الغرض صورت حال مندرجہ ذیل حدیث کے عین مطابق تھی۔

لتاتن على امتى كما اتى على بنى اسرائيل حذو النعل بالنعل .... (ترمذی)

(میری امت پر بھی وہ تمام احوال وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر ہوئے‘ بالکل ایسے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے سے مشابہ ہوتا ہے)

جیسے بنی اسرائیل پر پہلا عذاب عظیم صاحب شریعت رسول حضرت موسیٰؑ کی بعثت کے تقریباً چھ سات صدی بعد بخت نصر کے ہاتھوں نازل ہوا۔ کچھ اسی طرح امت محمدیؐ پر پہلا بڑا عذاب رحمتہ العالمینؐ کی بعثت کے تقریباً چھ صدی بعد امت کے دین سے اعراض و انحراف کی وجہ سے چنگیز خاں اور پاپائے اعظم کے نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے نازل ہوا۔

اس انتہائی تاریک دور میں جہاں ایک طرف رکن الدین بیبرس نے تاتاریوں کے ناقابل شکست ہونے کا طلسم توڑا وہاں کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے‘ جن کے اجتہاد و جہاد کی بناء پر ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ ”خلقتے بود کہ بر قامت او دوختہ بود“ احیائے دین کا کارنامہ سرانجام دیا۔ بو علی سینا‘ امام غزالی‘ امام رازی اور دیگر مشہور فلسفیوں اور متکلموں نے یونانی علوم و معقولات کو اتنا اچھالا تھا اور قرآن و حدیث اور عقائد و فقہ میں ان کی اتنی آمیزش کر دی تھی کہ قرآن وحدیث اور فقہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے اور ان پر غور و فکر کرنے کی عام علماء میں سکت ہی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ان کے دماغوں پر فلسفہ اور کلام و منطق کے خیالات پوری طرح چھا گئے تھے۔ امام ابن تیمیہؒ نے سب سے پہلے اس حقیقت کو آشکارا کیا کہ کتاب و سنت سے باہر جو کچھ بھی ہے وہ گمراہی ہے۔ انہوں نے تمام علماء کو قرآن وحدیث کے صاف و شفاف اصولوں کی طرف اور معقولات سے زیادہ سیرت نبوی پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ فلسفہ و کلام و تصوف کے ہر مسئلے کی

صفحہ ۴۵

کتاب و سنت کی روشنی میں جانچ پڑتال کر کے بتایا کہ ان علوم میں حق و باطل کی کتنی آمیزش ہے ۔ انہوں نے اپنے زمانے کی بدعت کے خلاف بھی زور و شور سے آواز اٹھائی اور ہر ایک باطل خیال اور مسئلے پر نقد و جرح کی۔ مختلف باطنیہ و رافضیہ فرقوں کے خلاف جہاد کیا۔ ان کے خاندان میں کئی نسلوں سے ایک سے ایک عالم دین تو پیدا ہو رہے تھے لیکن اصحاب سیف کوئی نہ تھے۔ جب ۷۰۳ھ میں دمشق پر ایک دفعہ پھر تاتاریوں کا حملہ ہوا تو شیخ الاسلام میدان جنگ میں ہاتھ میں تلوار لئے لوگوں سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ موت کدھر ہے؟ اور جب کسی نے میدان جنگ کی اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں تاتاریوں نے خونریزی کا بازار گرم کیا ہوا تھا تو اسی طرف چل دیئے۔ اس حملے میں امام ابن تیمیہ نے مسلمانوں کے لئے فتح کی پیشین گوئی کی ہوئی تھی اور واقعی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ رسول کریم کی ایک دوسری حدیث کے مطابق:

لايزال طائفة من امتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خالفهم ولا من خذلهم حتى تقوم الساعة"

(میری امت کی ایک جماعت حق پر ہونے کی وجہ سے ہمیشہ غالب رہے گی۔ مخالفت کرنے والوں کی مخالفت اور رسوا کرنے والوں کی رسوائی سے اسے کوئی نقصان نہ ہو گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے)

امام ابن تیمیہ کی زندگی میں ہی اس چیز کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے کہ عرب کعبے کی پاسبانی سے معزول ہو گئے ہیں اور حملہ آور تاتاریوں کی نسل کے ترک اس عظیم فریضہ پر فائز ہو رہے ہیں۔

ان تتولوا يستبدل قوماً غيركم

(اور پھر ہم تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم (امامت دین) کے لئے کھڑی کر دیں گے۔)

اس باب کے عنوان اور اس میں جو تاریخی حقائق دیئے گئے ہیں ان کا یہ مطلب نہیں کہ منگول اور صلیب پرست ہر لحاظ سے ایک جیسی قومیں ہیں اور نہ ہی حقیقت میں ایسا ہے۔ جہاں کافر اور ظالم ہونے کے لحاظ سے یہ دونوں قومیں یکساں ہیں وہاں ان میں کچھ قدریں بالکل مختلف بھی ہیں۔

ہے۔ ان میں سے کسی میں بھی ایسی مثال کا ذکر موجود نہیں کہ منگولوں نے کسی سے

صفحہ ۴۶

معاہدہ کر کے عہد شکنی کی ہو۔ اس کے برعکس صلیبی نیو ورلڈ اپنے پیروکاروں کو صرف دو صورتوں میں دوسری قوموں کے ساتھ ایفائے عہد کی اجازت دیتا ہے۔

آتے ہوں۔ ان دو صورتوں کے علاوہ جس کسی نے صلیب پرستوں سے ایفائے عہد کی امید رکھی اس نے اپنی تباہی کو دعوت دی، جیسا کہ اگلے صفحات پر تاریخی مثالوں سے اظہر من الشمس ہے۔

نہیں چھوڑ سکے جہاں انہوں نے اس باب کے آغاز میں دیئے گئے چنگیز خاں کے الفاظ کے مطابق کسی قوم کا مکمل صفایا کر دیا ہو۔ کیونکہ قبل اس کے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے وہ حلقہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ لیکن جہاں تک صلیب پرستوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کے مندرجہ ذیل بنیادی اصول پر کئی صدیوں سے کار بند ہیں۔

”اور جب خداوند تمہارا خدا انہیں تمہارے قبضہ قدرت میں دے دے گا تو تم انہیں ضرب لگاؤ گے اور انہیں کلی طور پر تباہ کرو گے۔ تم ہرگز ان کے ساتھ معاہدہ نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کھانا“۔۔۔۔۔ استثناء ۷:۲

صلیب پرست اس مقصد میں دوسری قوموں خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں، اس سلسلے میں کچھ تاریخی حقائق اگلے صفحات پر۔ یہاں پر صرف اس حقیقت کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ تاتاری یلغار سے پیشتر مسلمان سعودی عرب کو چھوڑ کر باقی تمام دارالاسلام میں دوسرے مذاہب کے پیروکاروں مثلاً عیسائی، یہودی، آتش پرست وغیرہ کی نسبت بحیثیت مجموعی تعداد میں کم تھے۔ (اس حقیقت کا ذکر ٹوائنبی بھی اپنے شاہکار میں کرتا ہے) کیونکہ مسلمان حکمران جزیہ سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے اکثر و بیشتر تبلیغی کاموں کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ لیکن بعد میں صورت حال بدل گئی۔

ان الحكم الا للہ القيم ولكن اكثر الناس لا يعلمون حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

صفحہ ۴۷

ان الحکم الا للہ امر الا تعبدوا الا ایاہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔

حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے۔ اس نے فرما دیا کہ نہ کرو بندگی سوائے میرے کسی کی۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(سورہ یوسف۔ ۴۰)

صفحہ ۴۸

باب چہارم

تاریخ عالم

کا

عظیم ترین المیہ

گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ

☆ ☆ ☆ ☆ ☆

نوٹ:۔ اختصار کے لئے یہاں تاریخ اندلس کی صرف جھلکیاں دی جارہی ہیں۔ جو قارئین اس چیز کا مطالعہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں کہ اندلس میں مسلم اقتدار کن مختلف مراحل سے گزر کر کیسے اور کیونکر ختم ہوا‘ ان کے لئے مکمل کتاب ”تاریخ عالم کا عظیم ترین سانحہ“ کے عنوان سے زیر نظر کتاب کے تتمہ کے طور پر شائع ہو چکی ہے۔

سپین ۲۰۱ ق م میں ر بعد سے سلطنت رومہ کا ایک صوبہ تھا شاعر پروڈشیس (Prudentius) ک عالم سینٹ اسیڈور (St. Isidore اوائل میں جب قیصر روم کونسٹائن ب تب سے سپین میں بھی اس مذہب ک سلطنت پر جرمن (Teutonic) قبا کے قبائل ونڈالز‘ ایلانز اور سیوونز و غی کے سپین پر حملہ آور ہوئے۔ اس (Visigoths) حملہ آور ہوئے ا ہوئے۔

عقیدے کے لحا کے ایرین (Arian) فرقہ سے تعل شخص نے رکھی۔ یہ فرقہ حضر (Consubstantiality) کے

صفحہ ۴۹

خدا کے قاتل

(نقل کفر، کفر نہ باشد)

سپین ۲۰۱ ق م میں دوسری پیونک جنگ (Punic War) کے اختتام کے بعد سے سلطنت رومہ کا ایک صوبہ تھا۔ سلطنت رومہ کے مشہور ادیب مارشل (Martial) شاعر پروڈنشیس (Prudentius) کٹر عیسائی شہنشاہ تھیوڈورک (Theodoric) اور مذہبی عالم سینٹ اسیڈور (St. Isidore) کا تعلق سپین سے ہی تھا۔ چوتھی صدی عیسوی کے اوائل میں جب قیصر روم کونسٹنٹائن نے عیسائی مذہب اختیار کر کے اس کی سرپرستی شروع کی تب سے سپین میں بھی اس مذہب کا نفوذ شروع ہوا۔ پانچویں صدی کے شروع میں رومی سلطنت پر جرمن (Teutonic) یلغار شروع ہوئی تو ۴۰۷ اور ۴۰۹ء کے درمیان میں ان کے قبائل ونڈالز، ایلانز اور سیوونز وغیرہ پائرینز (Pyrennes) کے سلسلہ ہائے کوہ عبور کر کے سپین پر حملہ آور ہوئے۔ اس کے بعد ۴۱۴ء میں جرمن قبائل ویزیگوتھس (Visigoths) حملہ آور ہوئے اور یہ دوسرے قبائل کے مقابلے میں سپین پر غالب ہوئے۔

عقیدے کے لحاظ سے ویزیگوتھس (Visigoths) کا تعلق عیسائیوں کے ایرین (Ariun) فرقہ سے تھا۔ اس فرقہ کی بنیاد اسکندریہ کے ایریس (Arius) نامی شخص نے رکھی۔ یہ فرقہ حضرت عیسیٰؑ کو خدا تو مانتا تھا لیکن واحد فی الثلث (Consubstantiality) کے مسلک پر یقین نہیں رکھتا تھا یعنی کیتھولک فرقہ جس کی

صفحہ ۵۰

بنیاد تقریباً اسی زمانے میں اتھانیسیس (Athanasius) نامی شخص نے رکھی‘ کی طرح تین (خدا) برابر ایک اور ایک (خدا) برابر تین کے فارمولے پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ ۳۲۵ء میں نیقیہ میں کلیسا کی کونسل (Council of Niceae) نے ایریس کے مسلک کو رد کر کے اتھانیسیس (Athanasius) کے فارمولا کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس کے بعد ایرین فرقے کو ہرطقی قرار دے کر اس کے خلاف کشمکش شروع ہوئی جس میں چند صدیوں کے بعد کیتھولک فرقہ غالب رہا۔

سپین میں یہودیوں کی بھی ایک بہت بڑی اقلیت آباد تھی۔ سب سے پہلے ۳۰۴ء۔۳۰۵ء میں الویرا میں کلیسا کی کونسل جس میں سپین کے ان تمام بڑے شہروں کے اسقف شریک تھے جہاں یہودی کافی تعداد میں تھے‘ کے فیصلہ کے مطابق عیسائیوں پر یہودیوں کے ساتھ میل ملاپ پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ ۵۸۶ء میں سپین کے شاہ رکاریڈ (Recared) نے سیاسی وجوہات کی بناء پر کیتھولک عقیدہ قبول کرلیا۔ اور ۵۸۹ء میں طلیطلہ میں کلیسا کی تیسری کونسل (Third Council of Toledo) منعقد کر کے اسے سپین کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ اس کے بعد یہ حالت ہو گئی کہ شاہ سپین‘ اس کے مشیر اور مقربین و امراء‘ عمائدین کلیسا کے سامنے دوزانو مجسمہ عقیدت ہو کر بیٹھتے اور ان سے تربیت حاصل کرتے۔ ملک کے تمام اہم فیصلے اور حکمت عملیاں طلیطلہ میں وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والی کلیسا کی کونسل میں ترتیب پاتیں۔ کلیسا کی ان کونسلوں میں حکمران مع اپنے مشیروں‘ درباریوں‘ امراء‘ اسقف کلیسا اور اس کے گماشتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ اسقف اور دوسرے اکابرین کلیسا سے دست بستہ استدعا کرتے کہ وہ خدا سے ان کی شفاعت کریں اور ملک کو اچھے قوانین دیں۔ اس کے بعد جب اسقف اور دوسرے اکابرین کلیسا حکمرانوں کو اس عقیدہ سے سرشار کرتے کہ پارسائی ان کی یعنی حکمرانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ہونی چاہئے تو حکمرانوں پر یہ بات بالکل واضح ہوتی تھی کہ پارسائی سے مطلب اسقف اعظم اور اسقف وغیرہ کی اطاعت اور فرمانبرداری اور انہیں بڑے بڑے عطیات و تحائف دینا ہے۔ چنانچہ ان حکمرانوں میں نہایت عیاش قسم کے لوگ بھی امور سلطنت کلیسا کی رہنمائی کے مطابق انجام دیتے۔ طلیطلہ کی اسی کونسل میں فیصلہ کیا گیا کہ

یہودی کسی سرکاری عہدہ پر مقرر نہیں ہو کوئی عیسائی غلام نہیں رکھ سکتے۔ سپین کا معاشرہ اس ق حکمران‘ امراء اور کلیسا کے افسران تھے۔ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی تھیں اور ان لوگوں دوسرے درجہ پر عام انہیں کے اوپر تھا اور ٹیکسوں کے بوجھ اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت نہیں ک چھوڑ کر جنگلوں میں رہزنوں (gauds درجے پر مزارعین (Serfs) تھے۔ یہ لو تھے لیکن زمین کے غلام تصور کئے جاتے غلام تھے جن کے بالکل کوئی حقوق نہ ہو اور ان کے مالک ان کے ساتھ کسی بھی ق کہ کسی غلام نے مالک کو پانی دینے میں مزارع اور غلام اپنے آقا کی مرضی کے غلام اور کنیز کی شادی ہوتی تو ان کی او غلاموں کی مختلف نسلوں کے ذمے مخ سے طے ہوتا کہ ان کی پہلی نسل اپنے تیسری نسل مچھیرے وغیرہ اور اسی ح اپنے مالکوں کو چھوڑ کر بھاگنے والے غ ایک مغربی مور میں جب کبھی لوگوں نے یہ سوال اس دنیا میں جس جنت کا تصور (یا لکو ہوا؟ تو عمائدین کلیسا جنہیں ان ا

صفحہ ۵۱

یہودی کسی سرکاری عہدہ پر مقرر نہیں ہو سکتے‘ کسی عیسائی عورت کے قریب نہیں جا سکتے اور کوئی عیسائی غلام نہیں رکھ سکتے۔

سپین کا معاشرہ اس زمانے میں چار طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ سب سے اوپر حکمران‘ امراء اور کلیسا کے افسران تھے۔ ان کی بڑی بڑی جاگیریں ہوتی تھیں جو کہ ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی تھیں اور ان لوگوں کی زندگیاں عیش و عشرت میں گزرتی تھیں۔

دوسرے درجہ پر عام متوسط شہری تھے۔ معیشت میں ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ انہیں کے اوپر تھا اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے خستہ حال ہونے کے باوجود یہ لوگ قانونی طور پر اپنی زمینیں اور جائیدادیں فروخت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے اکثر اوقات یہ لوگ اپنی زمینیں چھوڑ کر جنگلوں میں رہزنوں (Bagauds) کے گروہوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ تیسرے درجے پر مزارعین (Serfs) تھے۔ یہ لوگ اگرچہ کسی خاص شخص کے غلام تو نہیں ہوتے تھے لیکن زمین کے غلام تصور کئے جاتے تھے۔ ان کے حقوق برائے نام تھے۔ چوتھے درجے پر غلام تھے جن کے بالکل کوئی حقوق نہ ہوتے تھے اور جو بھیڑ بکری کی طرح فروخت ہوتے تھے۔ اور ان کے مالک ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا سلوک کر سکتے تھے۔ ایسی بھی مثالیں موجود تھیں کہ کسی غلام نے مالک کو پانی دینے میں ذرا دیر کر دی تو اس کی سزا اسے تین سو درے لگے۔ مزارع اور غلام اپنے آقا کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر دو مختلف آقاؤں کے غلام اور کنیز کی شادی ہوتی تو ان کی اولاد دونوں مالک آپس میں تقسیم کرتے۔ مزارعین اور غلاموں کی مختلف نسلوں کے ذمے مختلف قسم کی خدمات پہلے سے لگی ہوتی تھیں‘ مثلاً یہ پہلے سے طے ہوتا کہ ان کی پہلی نسل اپنے مالکوں کے لئے لوہار پیدا کرے گی‘ دوسری نسل بڑھئی‘ تیسری نسل مچھیرے وغیرہ اور اسی حیثیت سے اپنے آقاؤں کی ضروریات پوری کرے گی۔ اپنے مالکوں کو چھوڑ کر بھاگنے والے غلاموں کے خلاف انتہائی گھناؤنی سزائیں مقرر تھیں۔

ایک مغربی مورخ نے انہیں حالات کے متعلق لکھا ہے کہ ”ازمنہ وسطیٰ میں جب کبھی لوگوں نے یہ سوال کرنے کی کوشش کی کہ یہ کیسے ہوا کہ کلیسا کے تسلط میں اس دنیا میں جس جنت کا تصور (بائیبل میں) پیش کیا گیا تھا‘ وہ ایک جہنم کی شکل میں ظہور پذیر ہوا؟ تو عمائدین کلیسا جنہیں ان اعتراضات کا پورا احساس تھا‘ جھٹ سے انہیں ان اعلانات

صفحہ ۵۴

سے دبا دیتے کہ ”یہ خدا کا قہر ہے‘ یہ سب کچھ قوم یہود کے جرائم کی وجہ سے ہے‘ کیونکہ خدا کے قاتلوں کو ابھی تک کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا“۔ اور اس کے ساتھ ہی قوم یہود کی ایذا رسانی کا بندوبست کیا جاتا۔

چونکہ ایرین فرقہ کے لوگ بھی کیتھولک فرقہ کے کسی حد تک زیر عتاب تھے اور دوسرے چونکہ یہودی ہمیشہ ایک بڑی مربوط قوم رہے ہیں‘ اس لئے ایرین فرقہ کے لوگوں کی اعانت سے مندرجہ بالا یہودیوں کے خلاف احکامات کلیسا پر پوری طرح عملدرآمد نہ ہوسکا۔ یہودیوں کی باقاعدہ ایذا رسانی ۶۱۲ء میں شاہ سائزبٹ (Sisebut) کے عہد حکومت میں شروع ہوئی جبکہ اس نے کلیسا اور شہنشاہ ہرقل کے دباؤ کے تحت یہ فرمان جاری کیا کہ سال ختم ہونے سے پہلے تمام یہودی اصطباغ لے کر عیسائی مذہب قبول کر لیں اور جو ایسا نہیں کریں گے‘ ان کی تمام املاک ضبط کر کے انہیں سو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور اس کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس سزا کے خوف سے تقریباً نوے ہزار یہودیوں نے اصطباغ لیا اور بہت سے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس کے بعد ۶۳۳ء میں شاہ سونٹلا (Suintala) کے عہد حکومت میں دارالحکومت طلیطلہ میں منعقد ہونے والی کلیسا کی چوتھی کونسل میں (Fourth Toledan Council) میں یہ فرمان جاری ہوا کہ آئندہ یہودیوں کے بچے ان سے چھین کر عیسائیوں یا صومعات کے سپرد کر دیئے جائیں تاکہ وہ ان کی تربیت عیسائیوں کی طرح کریں۔ اس کے علاوہ یہ حکم جاری ہوا کہ جو یہودی پہلے بپتسمہ لے چکے ہیں اور پھر بھی ظاہراً یا خفیہ طور پر اپنے یہودی مذہب کی رسومات پر کاربند ہیں‘ انہیں غلاموں کی حیثیت سے فروخت کر دیا جائے۔ چند مجبوریوں کی بنا پر ان تمام احکامات پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہوسکا۔ جب افسران کلیسا نے یہ دیکھا کہ قوم یہود کے ساتھ ضرورت سے زیادہ رواداری کا سلوک کیا جا رہا ہے‘ تو شاہ چنٹلا (Chintila) کے عہد میں طلیطلہ کی چھٹی کونسل کلیسا میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کوئی حکمران اس وقت تک تخت نشین نہیں ہو سکے گا جب تک کہ وہ اس بات کا حلف نہ اٹھائے کہ کلیسا کی سابقہ تمام کونسلوں میں کئے گئے یہودیوں کے متعلق فیصلوں پر پوری طرح عملدرآمد کرائے گا۔ چنانچہ جب ۶۵۳ء میں شاہ رقسوند (Receswind) نے فرمان جاری کیا کہ جو یہودی اپنے مذہب کی رسومات پر کاربند ہیں‘ ان

صفحہ ۵۳

کا سر قلم کر دیا جائے یا انہیں سنگسار کر دیا جائے یا جلا دیا جائے، تو طلیطلہ کے یہودیوں نے یہ وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کلیسا کے تمام قوانین کی پابندی کریں گے مع خنزیر کا گوشت کھانے اور شراب پینے کے۔ تقریباً ایک صدی تک یہودی ان انتہائی کڑے قوانین کی چکی میں پستے رہے اور اصطباغ لینے کے باوجود اکثر خفیہ طور پر اپنے مذہب پر کاربند رہے۔ اور اس کے بعد انہوں نے انتقام لینے کی ٹھانی۔ سپین پر مسلمانوں کے حملے سے تقریباً سترہ سال قبل ۶۹۴ء کے لگ بھگ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ آبنائے کے پار شمالی افریقہ میں وہاں کے بربر قبائل کے یہودی اور وہ یہودی جو سپین سے ان قوانین کی وجہ سے فرار ہو کر وہاں گئے تھے، حملہ کریں گے اور عین اس وقت سپین کے اندر موجود یہودی بغاوت کر کے ان کے ساتھ مل کر حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ لیکن منصوبے کا راز قبل از وقت افشاء ہو گیا۔ شاہ ایجیکا (Egica) نے فوراً طلیطلہ میں کلیسا کی کونسل بلائی جس میں اکابرین کلیسا نے غیظ و غضب سے تھر تھراتے ہوئے یہ فرمان کلیسا جاری کیا کہ تمام یہودی اپنی آزادی اور اپنی تمام ملکیت سے محروم کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ تمام یہودیوں کو غلاموں کی حیثیت سے عیسائیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ جن عیسائیوں کے سپرد ان یہودیوں کو غلاموں کی حیثیت سے کیا گیا، ان میں سے بہت سے اس سے قبل خود انہی یہودیوں کے غلام تھے۔ ان یہودیوں کے عیسائی مالکوں کو حکم دیا گیا کہ وہ انہیں یہودی مذہب کی رسومات ادا کرنے کی اجازت ہرگز نہ دیں۔ سات سال کی عمر میں ان کے بچے ان سے چھین کر ان کی تربیت عیسائیوں کی حیثیت سے کرائیں اور کسی یہودی مرد کو کسی عیسائی کنیز اور کسی یہودی عورت کو کسی عیسائی غلام کے علاوہ کسی اور سے شادی کی اجازت نہ دیں۔

اس سے پہلے جاری کردہ کلیسا کے فرمانوں پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا اور بہت سے یہودی کسی نہ کسی طرح ان کی زد میں آنے سے بچتے رہے تھے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس دفعہ جو احکامات کلیسا جاری ہوئے، ان کی پوری سختی سے تعمیل کی گئی۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے سپین پر حملہ کیا تو انبیاء کی قاتل، حضرت موسیٰؑ سے رحمت للعالمینؐ تک تمام انبیاء و رسل سے لعنت یافتہ ایک ظالم اور مکروہ قوم اپنے ہی جیسی ایک دوسری کافر اور ظالم قوم کے ہاتھوں اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر بڑی بے بسی اور بے کسی کے عالم

صفحہ ۵۴

میں کسی نجات دہندہ کے لئے چشم براہ تھی۔

تاریخ عالم کا عظیم ترین سانحہ

حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں وقت کی دو سپر پاورز مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کے آگے ریت کی دیوار کی مانند گر چکی تھیں اور قیصر و کسریٰ کی وسیع سلطنتوں کے بہترین علاقے اسلام کے پرچم تلے آچکے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں جب انؓ کے رضاعی بھائی عبداللہؓ والی مصر تھے تو مسلمانوں نے شمالی افریقہ میں مزید فتوحات کے لئے پیش قدمی جاری رکھی۔ لیکن بعد میں کچھ اندرونی خلفشار اور کچھ شمال مغربی افریقہ کے اطلس سلسلہ ہائے کوہ میں بسنے والے جنگجو اور جری بربر قبائل کی مزاحمت کی وجہ سے یہ پیش قدمی پہلے کی نسبت کافی سست رہی۔ تا آنکہ عقبہ بن نافع نے جو کہ ایک مانے ہوئے جرنیل تھے کمان سنبھالی اور تمام بربر قبائل اور شمالی افریقہ کو فتح کرتے ہوئے بحر اوقیانوس تک پہنچ گئے۔ ساحل سمندر پر پہنچ کر انہوں نے اپنا گھوڑا زِین تک سمندر کی لہروں میں ڈال دیا اور پکار کر کہا ”اے اللہ! گواہ رہنا، اگر یہ گہرا سمندر میرے راستے میں حائل نہ ہوتا تو میں تیرے دین کو مزید آگے لے جاتا“۔ واپسی پر یہ عظیم غازی ایک بربر سردار کے ہاتھوں خفیہ طور پر شہید ہوگئے۔

جب طارق بن زیاد کی ادنیٰ ہتھیاروں سے مسلح بارہ ہزار مجاہدین کی فوج نے جولائی ۷۱۱ء میں رزریق کی کیل کانٹے سے لیس ایک لاکھ کی فوج کو وادی بکا کے کنارے شکست دے دی تو اس کے بعد رزریق کے رشتہ داروں اور جرنیلوں میں سے تدمیر واحد شخص تھا جس نے مرسیا (جہاں کا وہ مقامی گورنر تھا) کے پہاڑی دروں میں مسلمانوں کا جرات و استقامت سے مقابلہ کیا۔ لیکن آخر ایک جنگ میں مسلمانوں نے اس کی عیسائی فوجوں کا بالکل صفایا کر دیا۔ اور تدمیر صرف ایک خدمت گار کے ساتھ اوری ہیولا

(Orihuela) کے شہر میں قلعہ بند ہو کے ساتھ ایک نرالی چال چلی۔ چونکہ اس نے شہر کی عورتوں کو مردانہ لباس کے گرد ایسے بندھوا دیئے کہ یہ داڑھی ڈنڈے تھما کر انہیں شہر کی فصیل پر مسلمان فوج شہر کے نزدیک پہنچی تو تدمیر نے اپنے خدمت گار کو نقیب شہر سے ہتھیار ڈالنے کے لئے نکلے کہ عیسائی نواب تدمیر کو نہیں پہچا ”میں حاکم شہر کی جانب سے ایسی ش اور اس کی عزت نفس کے شایان طویل محاصرہ برداشت کر سکتا ہے، عہد کریں کہ شہر کے باشندوں کو ام شہر بغیر کسی لڑائی کے کل صبح آپ آدمی تک لڑنے کے لئے تیار ہیں مسلمان جرنیل نے اس پر اپنی م ”آپ اس وقت اپنے سامنے حاکم

صبح سویرے سے بھاری فوج کب نکلتی ہے، حال زار بکتر میں دیکھا جس کے چ جو کل شام ہم دیکھ رہے تھے ہیں، جہاں تک میرے محافظ عورتوں کو ہی کل شام میں نے نقیب، میرا محافظ اور خدمت گا

صفحہ ۵۵

(Orihuela) کے شہر میں قلعہ بند ہونے میں کامیاب ہوا۔ وہاں اس نے اپنا تعاقب کرنے والوں کے ساتھ ایک نرالی چال چلی۔ چونکہ سارے مرد میدان جنگ میں کام آچکے تھے، اس لئے اس نے شہر کی عورتوں کو مردانہ لباس پہنائے، ان کے سروں پر خود پہنا کر ان کے بال چہروں کے گرد ایسے بندھوا دیئے کہ یہ داڑھیاں معلوم ہوں، اور ان کے ہاتھوں میں نیزوں کی مانند ڈنڈے تھما کر انہیں شہر کی فصیل پر بٹھا دیا۔ شام کے جھٹ پٹے میں جب تعاقب کرتی ہوئی مسلمان فوج شہر کے نزدیک پہنچی تو شہر کی فصیل پر اتنی فوج دیکھ کر وہ قدرے مایوس ہوئے۔

تدمیر نے اپنے خدمت گار کو نقیب کی زرہ بکتر پہنوائی اور صلح کا جھنڈا ہاتھ میں تھام کر دونوں شہر سے ہتھیار ڈالنے کے لئے نکلے۔ مسلمان جرنیل موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز نے جو کہ عیسائی نواب تدمیر کو نہیں پہچانتا تھا، بڑی التفات سے ان کا استقبال کیا۔ تدمیر نے کہا ”میں حاکم شہر کی جانب سے ایسی شرائط طے کرنے کے لئے آیا ہوں جو کہ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور اس کی عزت نفس کے شایان شان ہوں۔ آپ نے یہ تو محسوس کر لیا ہو گا کہ شہر ایک طویل محاصرہ برداشت کر سکتا ہے، لیکن حاکم اپنے فوجیوں کی جانیں بچانا چاہتا ہے۔ اگر آپ یہ عہد کریں کہ شہر کے باشندوں کو اپنے مال کے ساتھ بغیر کسی گزند کے جانے کی اجازت ہوگی تو شہر بغیر کسی لڑائی کے کل صبح آپ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ دوسری صورت میں ہم آخری آدمی تک لڑنے کے لئے تیار ہیں“۔ اس کے بعد ہتھیار ڈالنے کا عہد نامہ تیار ہوا اور جب مسلمان جرنیل نے اس پر اپنی مہر ثبت کر دی تو تدمیر نے اپنے دستخط کرنے کے بعد کہا کہ ”آپ اس وقت اپنے سامنے حاکم شہر کو ہی دیکھ رہے ہیں“۔

صبح سویرے جب شہر کے دروازے کھلے تو مسلمان دیکھ رہے تھے کہ شہر سے بھاری فوج کب نکلتی ہے۔ لیکن جب انہوں نے تدمیر اور اس کے خدمت گار کو شکستہ حال زرہ بکتر میں دیکھا جس کے پیچھے پیچھے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا ہجوم تھا تو پوچھا ”وہ فوجی جو کل شام ہم دیکھ رہے تھے وہ کہاں ہیں“ تدمیر نے کہا ”فوجی تو میرے پاس کوئی بھی نہیں ہیں، جہاں تک میرے محافظ دستے کا تعلق ہے تو اسے آپ اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ ان عورتوں کو ہی کل شام میں نے شہر پناہ پر پہرے پر لگایا تھا۔ اور میرا یہ خدمت گار ہی میرا نقیب، میرا محافظ اور خدمت گار ہے“۔ مسلمان جرنیل کے ساتھ جو انتہائی زیرک اور بے

صفحہ ۵۶

پاک چال چلی گئی تھی، وہ اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے تدمیر کو پورے مرسیا کے صوبے کا گورنر مقرر کر دیا۔ اور یہ علاقہ اس کے بعد ”ارض تدمیر“ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ایک عیسائی مصنف اس بارے میں رقمطراز ہے کہ ”لوٹ کھسوٹ کی ممانعت تھی اور صرف لڑنے والوں پر حملہ کیا جاتا تھا۔ یہ اولین مسلمان فاتحین دنیا کے سب سے زیادہ رحم دل حملہ آور تھے اور اگرچہ ان کے نام کی ہی بڑی دہشت تھی، تاہم بحیثیت آقاؤں کے وہ بہت ہی مہربان اور فراخدل پائے گئے“۔

مسلمانوں نے یہودیوں پر کلیسا کی طرف سے جتنی بھی پابندیاں لگی ہوئی تھیں، سب ہٹا کر ان پر سالانہ ایک طلائی دینار فی کس کے حساب سے جزیہ عائد کیا جو کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے عوض تھا۔ مسلمانوں کی رواداری اور رحم دلانہ سلوک کے ثبوت میں خود مغربی مورخین لکھتے ہیں کہ پوری آٹھویں صدی عیسوی میں سپین بھر میں ایک بھی مذہبی فرقہ وارانہ فساد نہ ہوا۔ حالانکہ اس دوران مسلمانوں کے درمیان آپس میں ذاتی اور قبائلی عداوتوں اور اقتدار کی کشمکش میں وہاں کئی موقعوں پر خونریزی ہوئی۔

.............................................اور اس کے بعد ۷۱۳ء میں ماردا (Merida) پر حملہ کیا جہاں رزریق کی بیوہ اس کی باقی ماندہ فوج کے ساتھ مقیم تھی۔ یہ شہر بھی فتح ہوا اور موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز نے رزریق کی بیوہ سے اس شرط پر شادی کی کہ وہ اس کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کریں گے۔

ادھر عبدالعزیز بن موسیٰ کے قتل کے بعد یہ حالت تھی کہ ابھی سپین کا ایک امیر (گورنر) وہاں پہنچ نہیں پاتا تھا کہ دوسرا امیر افریقہ کے دارالحکومت قیروان یا دمشق سے آ جاتا تھا۔ داخلی بغاوتوں، بد نظمی اور خانہ جنگی کے باوجود اس دوران مسلمانوں نے پائرنیز سلسلہ ہائے کوہ کے اس پار فرانس میں چند ایک مہمیں بھیجیں۔ پہلی مہم عبدالعزیز کے جانشین سمح بن مالک خولانی کی ۷۲۱ء میں تھی جس نے اربونہ (Norbonne) پر قبضہ کیا۔ چار سال بعد دوسری مہم نے دریائے رہون Rhone کی وادی میں برگنڈی پر قبضہ کیا۔ اس سرحدی پہاڑی درے کے ایک مسلمان امیر عثمان ابی نسعہ نے جنوب مشرقی فرانسیسی ریاست ایکوئین (Aquitane) کے حکمران یوڈیز Eudes کی بیٹی لیمپیجیا (Lampegia) سے شادی کر لی تھی اور یوڈیز کے ساتھ اس کی دوستی تھی۔ تو ۷۳۲ء کے موسم سرما میں امیر عبدالرحمٰن (Roncesvalle) کے راستے پار گئی Eudes کو شکست دینے کے بعد بورڈیو لوئر Loir کی وادی میں واقع شہر ٹورز urs مرکز تھا۔ یوڈیز نے فوراً فرنگیوں کے (Charles Martel) کو مطلع کیا۔ ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کی کوشش چارلس مارٹل میروو کے میئر (Mayor) پیپن (Pippin) کا سلطنت کا بانی تھا جسے بعد میں ۲۵ دسمبر چارلس مارٹل کے پوتے شار لیمین کے (Holy Roman Empire) کا نام اس نے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے چاہتا تھا کہ جزیرہ نما سپین کی تاریخ باقی یو تمام تنازعات اور عداوتیں ایک طرف مارٹل ایک مضبوط لشکر کی سرکردگی میں (Poitiers) کے مقام پر ہوا۔ یہ مقام کیونکہ یہاں بعد اس جنگ کے تاریخ کی جب اس مقام پر پہنچی تو وہ پہلے ہی مال الغافقی چاہتا تھا کہ مسلمان اتنا سارا مال فوج میں بددلی پھیلنے کے ڈر سے اس نے ہوا تو تقریباً ایک ہفتہ جھڑپیں ہوتی رہیں خبر پھیل گئی کہ ان کے عقب میں ان کے

صفحہ ۵۷

تھی اور یوڈیز کے ساتھ اس کی دوستی تھی۔ عثمان ابی نسعہ نے یوڈیز کے ساتھ مل کر بغاوت کی تو ۷۳۲ء کے موسم سرما میں امیر عبدالرحمن الغافقی کی سرکردگی میں تیسری مہم درہ رونسزویل (Roncesvalle) کے راستے پار گئی درایکوٹین (Aquitane) کے حکمران یوڈیز Eudes کو شکست دینے کے بعد بورڈیو Bordeaux کے علاقے کو فتح کرتی ہوئی پیش قدمی لوئر Loir کی وادی میں واقع شہر ٹورز Tours کی طرف بڑھی جو کہ عیسائیوں کا مشہور مذہبی مرکز تھا۔ یوڈیز نے فوراً فرنگیوں کے طاقتور اور جفاکش لیڈر چارلس مارٹل (Charles Martel) کو مطلع کیا۔ چارلس مارٹل کئی سالوں سے فرنگیوں کو متحد کر کے ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

چارلس مارٹل میروو نجین (Merovingian) شاہی خاندان کے محل کے میئر (Mayor) پیپن (Pippin) کا ولد الزنا بیٹا تھا۔ چارلس مارٹل یورپ کی اس عظیم سلطنت کا بانی تھا جسے بعد میں ۲۵ دسمبر ۸۰۰ء کو پوپ لیو سوم (Leo III) نے چارلس مارٹل کے پوتے شار لیمین کے سر پر تاج رکھ کر ”مقدس رومن سلطنت“ (Holy Roman Empire) کا نام دیا۔ چنانچہ جب چارلس مارٹل کو اطلاع ہوئی تو اس نے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے تمام عیسائی قوتوں کو مدد کے لئے پکارا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جزیرہ نما سپین کی تاریخ باقی یورپ میں بھی دہرائی جائے۔ تمام عیسائی قوتیں اپنے تمام تنازعات اور عداوتیں ایک طرف رکھ کر اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئیں۔ چارلس مارٹل ایک مضبوط لشکر کی سرکردگی میں مقابلہ کے لئے آیا اور دونوں فوجوں کا سامنا پوئیٹرز (Poitiers) کے مقام پر ہوا۔ یہ مقام مغربی یورپ کے پانی پت کے میدان کی مانند رہا ہے کیونکہ یہاں بمعہ اس جنگ کے تاریخ کی تین بڑی فیصلہ کن جنگیں لڑی گئیں۔ مسلمان فوج جب اس مقام پر پہنچی تو وہ پہلے ہی مال غنیمت سے بری طرح لدی ہوئی تھی۔ عبدالرحمن الغافقی چاہتا تھا کہ مسلمان اتنا سارا مال غنیمت نہ اٹھائے پھریں اور اسے پھینک دیں۔ لیکن فوج میں بددلی پھیلنے کے ڈر سے اس نے اس بارے میں سختی نہ کی۔ چنانچہ جب فوجوں کا سامنا ہوا تو تقریباً ایک ہفتہ جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ایک دن جنگ کے دوران اچانک مسلمانوں میں یہ خبر پھیل گئی کہ ان کے عقب میں ان کے کیمپ پر جس میں ان کا تمام مال غنیمت تھا، دشمن کا

صفحہ ۵۸

حملہ ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کی فوج کا ایک حصہ یکا یک پلٹ کر کیمپ کی حفاظت کے لئے بھاگا۔ باقی فوج نے سمجھا شاید یہ پسپا ہو رہے ہیں، اس لئے وہ بھی پیچھے کی طرف بھاگے۔ عبدالرحمن انہیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران وہ دشمنوں کی زد میں آکر شہید ہو گئے۔ اس دن مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا اور جو باقی بچے وہ میدان جنگ کو رات کے وقت چھوڑ کر واپس آگئے۔ یہ مسلمانوں کا پائرینز (Pyrennes) کے اس پار آخری حملہ تھا۔ مغربی تاریخ دان اس پوئیٹرز کی جنگ (Battle of Poitiers) کو دنیا کی تاریخ کی پندرہ انتہائی فیصلہ کن جنگوں میں شمار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ جنگ صرف مغربی دنیا کی پندرہ انتہائی فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک ہے کیونکہ مغربی مورخین کے مطابق جنگ بدر ، جنگ قادسیہ، جنگ اجنادین اور جنگ یرموک وغیرہ کا دنیا کی تاریخ پر کوئی بڑا اثر نہیں ہے۔ مشہور انگریز مورخ گبن (Gibbon) اس بارے میں لکھتا ہے ”وہ واقعات جنہوں نے ہمارے برطانوی آباؤ اجداد اور ہمارے یورپی ہمسایوں کو قرآن کے سماجی اور مذہبی طوق سے بچا لیا ۔۔۔۔۔ شاید آج آکسفورڈ کی درسگاہوں میں قرآن کی تفسیر پڑھائی جا رہی ہوتی اور اس کی عبادت گاہوں میں مختون لوگوں کے سامنے محمدؐ کے انکشافات کے تقدس اور حقانیت کی توضیح و تشریح کی جا رہی ہوتی ۔۔۔۔۔“ گبن (Gibbon) نے اپنی طرف سے تو یہ الفاظ استہزاء کے طور پر لکھے، لیکن یہ جس المیے کو بیان کر رہے ہیں اسے کوئی چشم بینا اپنی حق پرستی کے بل بوتے پر ہی دیکھ سکتی ہے۔ اس موقع پر ایک اور مورخ لین پول Lanepoole جو کہ عمومی مسیحی تعصب سے بالاتر نہیں کے الفاظ کا ترجمہ پیش کرنا بے محل نہ ہوگا: ”جزیرہ نما کا وہ دو تہائی حصہ جو فطری طور پر مسلمانوں کے رہنے سہنے کے لئے مخصوص ہوا اور جسے وہ اندلس کے نام سے پکارتے اور جسے ہم پورے جزیرہ نما سے ممیز کرنے کے لئے ”اندلیسیہ“ کہیں گے، اس میں مسلمانوں نے قرطبہ کی وہ سلطنت قائم کی جو ازمنہ وسطیٰ کا ایک معجزہ تھی اور جس نے خاص اس وقت جبکہ پورے کا پورا یورپ وحشیانہ جہالت اور جنگ و جدل میں ڈوبا ہوا تھا، علم و تہذیب کی شمع کو روشن و درخشاں مغربی دنیا کے سامنے بلند رکھا۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اپنے سے قبل کے (عیسائی) حملہ آوروں کی طرح مسلمان بھی اپنے ساتھ بربادی اور ظلم لائے۔ اس کے برعکس اندلس میں مسلمانوں جیسی رحمدل، انصاف پسند اور عاقلانہ

صفحہ ۵۹

کا ایک پلٹ کر کیمپ کی حفاظت کے لئے بھاگا۔ لئے وہ بھی پیچھے کی طرف بھاگے۔ عبدالرحمن دوران وہ دشمنوں کی زد میں آکر شہید ہو گئے۔ جو باقی بچے وہ میدان جنگ کو رات کے وقت (Pyrennes) کے اس پار آخری حملہ تھا۔ Battle of Poi) کو دنیا کی تاریخ کی پندرہ حقیقت میں یہ جنگ صرف مغربی دنیا کی پندرہ بلکہ مغربی مورخین کے مطابق جنگ بدر ، وغیرہ کا دنیا کی تاریخ پر کوئی بڑا اثر نہیں ہے۔ بارے میں لکھتا ہے ”وہ واقعات جنہوں نے عیسائیوں کو قرآن کے سماجی اور مذہبی طوق سے میں قرآن کی تفسیر پڑھائی جا رہی ہوتی اور اس کی کے انکشافات کے تقدس اور حقانیت کی توضیح و ) نے اپنی طرف سے تو یہ الفاظ استہزاء کے ہیں اسے کوئی چشم بینا اپنی حق پرستی کے بل

یہ مورخ لین پول Lanepoole جو کہ عمومی اسے پیش کرنا بے محل نہ ہو گا: ”جزیرہ نما کا وہ دو حصے کے لئے مخصوص ہوا اور جسے وہ اندلس دنیا سے ممیز کرنے کے لئے ”اندلیسیہ“ کہیں قائم کی جو ازمنہ وسطیٰ کا ایک معجزہ تھی اور وحشیانہ جہالت اور جنگ و جدل میں ڈوبا ہوا دنیا کے سامنے بلند رکھا۔ یہ خیال نہیں کرنا رہنما کی طرح مسلمان بھی اپنے ساتھ بربادی محض اجنبی رحمدل، انصاف پسند اور عاقلانہ

حکومت کبھی بھی نہیں ہوئی۔ انہیں حکومت کرنے کا یہ سلیقہ کہاں سے نصیب ہوا‘ یہ سمجھنا مشکل ہے۔ کیونکہ وہ سیدھے عرب کے صحراؤں سے نکل کر آئے تھے اور فتوحات کے تیز سیلاب نے انہیں غیر قوموں پر حکومت کرنے کا فن حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔ ان کے کچھ مشیر یونانی اور سپینی بھی تھے۔ لیکن اس سے یہ راز نہیں کھلتا کیونکہ ایسے ہی مشیر اسی طرح کے نتائج دوسری (غیر اسلامی) جگہوں پر حاصل نہیں کرسکے تھے۔ اور سپین میں موجود نظم و نسق کا تمام جوہر گوتھ (عیسائی) اقتدار کو عوام کے لئے قابل برداشت نہیں بنا سکا تھا۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ماتحت عوام مجموعی طور پر مطمئن تھے۔ اس قدر مطمئن کہ کوئی بھی قوم جس کے حکمران مختلف نسل اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں‘ اس سے زیادہ مطمئن نہیں ہو سکتی۔ اور اس سے تو کہیں زیادہ خوش جتنے وہ اسی مذہب کے فرمانرواؤں کے تحت تھے‘ جس کے وہ خود پیروکار تھے......

”جہاں تک مفتوح لوگوں کا تعلق ہے‘ ہم نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں اندلس کی فتح ان کے لئے مجموعی طور پر فائدہ مند رہی۔ اس نے امراء اور کلیسا کی حد سے بڑھی ہوئی جائیدادیں ختم کر دیں اور انہیں چھوٹی املاک میں تبدیل کر دیا۔ اس نے متوسط طبقہ کے اوپر سے بھاری بوجھ ہٹا کر غیر مسلموں پر لگائے گئے جزیہ اور مسلمانوں اور غیر مسلموں پر مساویانہ لگائے گئے لگان تک محدود کر دیا۔ اور اس نے غلام کی عام آزادی کی ترغیب دی۔ اور غیر آزاد کی حالت میں بنیادی اصلاح کی جو کہ اب اپنے غیر زراعت پیشہ مسلمان آقاؤں کی ملازمت میں خود مختار کسان بن گئے تھے۔

”جہاں تک مذہبی رواداری کا تعلق ہے‘ سپین کو اس بارے میں افسوس کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان پر کسی قسم کی سختی کرنے اور انہیں بالجبر مذہب تبدیل کرنے کی بجائے جیسا کہ گوتھ (عیسائی) لوگ اپنے زمانہ میں یہودیوں کے ساتھ کرتے آئے تھے‘ مسلمانوں نے انہیں مذہب کی پوری آزادی دے دی۔ بلکہ جزیہ سے حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی‘ اس کی وجہ سے مسلمان حکمران بجائے تبلیغی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے‘ اکثر و بیشتر حوصلہ شکنی ہی کرتے رہے۔ مذہبی رواداری کا یہی ثبوت کافی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں پورے سپین میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہ ہوا“۔

صفحہ ۶۰

جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک مغربی مورخ رقمطراز ہے کہ ”یہودی ہمیشہ مسلمان کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے پیچھے ہوتا تھا۔ مسلمان لڑتا تھا اور یہودی اپنا کاروبار چمکاتا تھا“۔ خود یہودی عالم لکھتے ہیں کہ اندلس دنیا کے دوسرے علاقوں کے یہودیوں کے لئے جائے پناہ تھی۔

ویسے تو مختلف دانشوروں، مورخین اور مصنفین کے اس قسم کے بہت سے حوالے دیئے جاسکتے ہیں، لیکن ہم یہاں مشہور فرانسیسی دانشور اور ادیب ایناتول فرانس (Anatole France) کے ان الفاظ پر اکتفا کرتے ہیں جو کہ وہ ۷۳۲ء کی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پوئیٹرز کی تاریخ ساز لڑائی (Battle of Poitiers) کے متعلق اپنی کتاب "La Vie en Fleur" میں اپنے ایک کردار کے منہ سے کہلواتا ہے۔ ”تاریخ عالم کا عظیم ترین سانحہ یہ پوئیٹرز (Poitiers) کی لڑائی ہے، جبکہ عربوں (مسلمانوں) کا علم و فن اور تہذیب فرنگیوں (عیسائیوں) کی بربریت کے سامنے شکست کھا گئے“۔

روشن ترین جلوہ عالم

امیر عبدالرحمن کو دارالحکومت قرطبہ کے لئے قاضی کی ضرورت پڑی تو اس کے وزیر نے ایک نیک اور متقی بزرگ آدمی مصعب کا نام تجویز کیا، چنانچہ عبدالرحمن نے اسے بلا کر قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا۔ مصعب نے یہ محسوس کر کے کہ ایک ایسے شخص کے ماتحت جو اپنے اقتدار کو شریعت سے بالاتر رکھتا ہے، وہ استبداد کا آلہ کار بن جائے گا، انکار کر دیا باوجود اس کے کہ امیر نے بہت اصرار کیا۔ عبدالرحمن نے جو کہ کبھی بھی انکار یا تردید برداشت نہیں کرتا تھا، جھنجھلا کر مونچھوں کو تاؤ دینا شروع کر دیا جو ہمیشہ اس بات کا پیش خیمہ ہوتا تھا کہ اس کے غیظ و غضب کا لاوا پھوٹنے والا ہے۔ لیکن عین اس وقت اس بزرگ آدمی کے وقار نے اس کے دل میں کچھ ایسا خیال پیدا کیا کہ وہ صرف یہ کہہ پایا

صفحہ ۶۱

”جائیے‘ ان لوگوں پر خدا کی لعنت جو آپ کو یہاں لائے“۔

خود طلسم قیصر و کسریٰ شکست خود سر تخت ملوکیت نشست
تا نہال سلطنت قوت گرفت دین او نقش از ملوکیت گرفت
از ملوکیت نگہ گردد دگر! عقل و ہوش و رسم و رہ گردد دگر

. . . . . . . . . . .

قرطبہ کے عیسائیوں نے ایک شخص یولوجیس (Eulogius) کی سرکردگی میں رحمت للعالمین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں سرعام اور قاضی کے سامنے جاکر انتہائی اہانت آمیز اور کافرانہ کلمات کہنے کی تحریک چلائی۔ اس تحریک کی تفاصیل پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ غالباً یہی تھی کہ ان لوگوں کو احساس تھا کہ تخت پر ایسا شخص بیٹھا ہے جو سختی کرنے سے متنفر ہو چکا ہے۔ اور اگر اس تحریک کے سرغنہ یولوجیس (Eulogius) کو بجائے طویل عرصہ ڈھیل دینے اور بعد از خرابی بسیار عبدالرحمٰنؒ کے جانشین محمد کے عہد حکومت میں پھانسی دینے کے فوراً ہی پکڑ کر شہر کے چوراہے پر ٹانگ دیا جاتا تو یہ فتنہ تاریخ کا حصہ نہ بنتا۔ عبدالرحمٰن کے عہد میں طلیطلہ میں پھر بغاوت ہوئی جسے ایک طویل محاصرے کے بعد دبا دیا گیا۔

. . . . . . . . . . .

دسویں صدی کا عرصہ یعنی خلیفہ عبدالرحمٰن سوم اور اس کے بعد المنصور کا عہد حکومت سپین میں مسلمانوں کا نقطہ عروج تھا۔ نہ صرف مسلمان بلکہ مغربی مورخین نے اس بارے میں جو اعداد و شمار دیئے ہیں اور جو تعریف و توصیف کے گیت گائے ہیں، چونکہ اس مختصر سے تاریخی خاکہ میں ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں، اس لئے ہم یہاں صرف چند اقتباسات دیتے ہیں۔

”قرطبہ کبھی اتنا مالدار اور خوشحال نہ تھا جتنا کہ اس کے دور حکومت میں ۔ اندلس میں کبھی اتنی بھرپور کاشتکاری نہ ہوئی اور نہ ہی کبھی تحائف قدرت کی اس قدر فراوانی ہوئی جن کی انسانی ہنر و مشقت نے اس قدر تکمیل کی ہو۔ مملکت کبھی بد نظمی پر اس قدر غالب نہ ہوئی اور نہ ہی کبھی قانون کا ہاتھ اتنا طاقتور اور مضبوط تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

PDF 62

*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شمال میں اس نے لیون، قسطلہ اور نیرو کی عیسائی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے آگے بند باندھ کر انہیں اپنی برتری کا ایسا قائل کیا کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کا فیصلہ کرانے اور اپنے حقوق کی بحالی کے لئے بھی اسی سے رجوع کرتے تھے۔

"قرطبہ خلیفہ اعظم (عبدالرحمٰن سوم) کے عہد حکومت میں ایک ایسا دارالخلافہ تھا جس پر بجا طور پر فخر کیا جائے۔ اور سوائے شاید بازنطینہ (استنبول) کے یورپ کے کسی بھی شہر کا عمارات کے حسن، زندگی کی رعنائیوں اور نفاستوں اور وہاں کے باسیوں کے علم و کمال میں اس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اگر ہم یہ یاد رکھیں کہ قرطبہ کی عظمتوں کے متعلق جو خاکہ ہم عرب مصنفین کے ریکارڈ سے اخذ کرنے والے ہیں، اس کا تعلق دسویں صدی عیسوی سے ہے جبکہ ہمارے سیکسن (Saxon) آباؤ اجداد لکڑی کے جھونپڑوں میں رہتے تھے اور گندی گھاس پھوس پر چلا کرتے تھے، جب ہماری زبان نے کوئی واضح شکل اختیار نہ کی تھی اور جہاں تک پڑھنے لکھنے جیسے کمال کا تعلق ہے تو یہ اکا دکا راہبوں تک محدود تھا، تو پھر ہم مسلمانوں کی غیر معمولی تہذیب کو کسی حد تک سمجھ سکتے ہیں اور جب مزید یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ اس وقت کا یورپ وحشیانہ جہالت اور سفاکانہ اطوار میں ڈوبا ہوا تھا اور سوائے ان چند جگہوں یعنی قسطنطنیہ اور اٹلی کے چند حصوں کے جہاں سلطنت رومہ نے تہذیب کے کچھ آثار قائم رکھے ہوئے تھے، جہاں کچھ تھوڑی سی شائستگی تھی، تب ہم اندلس کے دارالخلافہ کے حیرت انگیز اور بین امتیاز کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

"ایک عینی شاہد کے مطابق قرطبہ ایک قلعہ بند شہر ہے جس کے گردا گرد ایک انتہائی بلند اور بڑی مضبوط پتھر کی فصیل ہے۔ اس کی سڑکیں خوشنما ہیں، یہاں کے باسی اپنے مہذبانہ اور نفیس طور طریقوں، اپنی اعلیٰ ذہانت، عمدہ ذوق اور اپنے کھانوں، لباس اور گھروں کی آن بان کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہاں آپ کو علم کے ماہر اپنی آب و تاب، امراء اپنی خوبیوں اور فراخدلی میں ممتاز، مجاہد کفار علاقوں میں اپنی مہموں کی شہرت اور سالار ہر قسم کے جنگی تجربہ کے ساتھ نظر آئیں گے۔ دنیا کے ہر حصے سے طالب علم شاعری کا ذوق حاصل کرنے، مختلف علوم کا مطالعہ کرنے یا دینیات اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قرطبہ کا رخ کرتے ہیں حتیٰ کہ یہ ہر قسم کے مشاہیر کے ملنے کی جگہ، عالموں کی اقامت گاہ اور طالب علموں کا گہوارہ بن گیا ہے۔ اندر بھرا رہتا ہے۔ یہاں کے ادیب اور سپاہ رہتے ہیں۔ اس کے نواح ہمیشہ ممتاز لو مستقر، نیک اور سچے لوگوں کا مخزن ہے جسم کے لئے"۔

(لین پول)

عبدالرحمٰن سوم کا دو ابن شپروٹ تھا، جس کے زیر سایہ وہ زمانے میں اندلس تالمود کے مطالعہ کا تھا۔

"دریائے الکبی باغات سے درخشاں ہیں جن میں دیگر م اگائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں نے مصنو کی نظیر ہسپانوی لوگ نہ تو اس سے پہلے اور

"مورخ خلیفہ کے کے دروازے دریا یا باغات کی طرف ک پر جو ان کو جامع مسجد کے دروازے سدھارتا تھا۔ ان محلات کے نام بھی نام اموی خلیفوں نے دمشق کی یاد میں چھتیں سنگ مرمر کے ستونوں پر ٹھہری اس محل کے حسن کے متعلق کہا جات کیونکہ اس میں نہ صرف انتہائی لذیذ روشیں، شفاف بہتا پانی، معطر اوس ح پر مہک ہوتی ہیں جبکہ گل صبح ہمیشہ عنبر او

"قرطبہ کے کچھ باغات کے ہم

صفحہ ۶۳

طالب علموں کا گہوارہ بن گیا ہے۔ اندرون شہر ہمیشہ دیس دیس کے ممتاز اور معزز لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔ یہاں کے ادیب اور سپاہی ہمیشہ ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے نواح ہمیشہ ممتاز لوگوں کا میدانِ عمل، شائقین علم کی جولان گاہ، شرفا کا مستقر، نیک اور سچے لوگوں کا مخزن ہے۔ قرطبہ اندلس کے لئے وہی حیثیت رکھتا تھا جو کہ سر جسم کے لئے“۔

(لین پول)

عبدالرحمٰن سوم کا درباری طبیب اور وزیر ایک یہودی حسدائی بن آیزک ابن شپروٹ تھا، جس کے زیر سایہ دربار میں کئی دوسرے یہودی شاعر اور عالم تھے۔ اس زمانے میں اندلس تالمود کے مطالعہ کا مرکز اور قرطبہ یہودی عالموں کی باہم ملاقاتوں کا مقام تھا۔

”دریائے الکبیر کے کنارے سنگِ مرمر کے مکانوں، مسجدوں اور ایسے باغات سے درخشاں ہیں جن میں دیگر ممالک کے نایاب قسم کے پھل اور پھول بڑی محنت سے اگائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں نے مصنوعی آبپاشی کا سپین میں اپنا ایسا نظام متعارف کرایا جس کی نظیر یمینی لوگ نہ تو اس سے پہلے اور نہ بعد میں کبھی پیش کر سکے۔“

”مورخ خلیفہ کے محلات کے متعلق عجیب و غریب باتیں بتاتے ہیں، جن کے دروازے دریا یا باغات کی طرف کھلتے تھے۔ یا پھر قیمتی قالینوں سے ڈھکی ہوئی ان روشوں پر جو ان کو جامع مسجد کے دروازے سے ملاتی تھیں اور جن پر چل کر خلیفہ ہر جمعہ ادھر کو سدھارتا تھا۔ ان محلات کے نام بھی بڑے رومانوی اور مسحور کن تھے۔ ان میں سے ایک کا نام اموی خلیفوں نے دمشق کی یاد میں ”دمشق“ رکھا تھا۔ اس کے متعلق کہتے ہیں، اس کی چھتیں سنگِ مرمر کے ستونوں پر ٹھہری ہوئی تھیں اور اس کے فرشوں پر پچی کاری کا کام تھا۔ اس محل کے حسن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ دنیا کے دیگر تمام محل اس کے آگے ہیچ ہیں۔ کیونکہ اس میں نہ صرف انتہائی لذیذ پھل اور مسحور کن خوشبودار پھولوں کے باغات، خوشنما روشیں، شفاف بہتا پانی، معطر اوس کے بادل اور عالیشان عمارات ہیں بلکہ اس کی راتیں ہمیشہ پُرنور ہوتی ہیں جبکہ صبح ہمیشہ عنبر بیز ملتی ہے اور اس کی رات مشک۔“

”قرطبہ کے کچھ باغات کے نام بڑے دلربا تھے۔ جن میں ایک شخص پانی کے قریب محو

صفحہ ۶۴

استراحت ہو کر پھلوں پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے کی طرف مائل ہوتا۔ مثلاً ”پن چرخی والے باغ“ سے پانی کو پمپ کر کے باغ کی کیاریوں میں پہنچانے والے راہٹ کی یک سری چرچر اہٹ میں کاہلانہ استراحت کا خیال آتا تھا۔ ”مرغزار زمزم“ (یعنی سرگوشیاں کرتے پانی والا باغ) قرطبہ کے لوگوں کے لئے گرمیوں میں یقیناً ایک دلفریب مقام ہو گا“۔

(لین پول)

قرطبہ اپنی پانچ لاکھ کی آبادی، تین ہزار مساجد، عالیشان محلات، ایک لاکھ تیرہ ہزار مکانات، تین ہزار حماموں (جہاں آنے والوں کو مفت عطر گلاب مہیا کیا جاتا) اور اٹھائیس مضافات کے ساتھ حجم اور ثروت کے اعتبار سے صرف بغداد سے پیچھے تھا۔ واقعی ایک ایسا شہر جس سے اس کے باشندے عموماً موازنہ کرتے۔ قرطبہ کی شہرت جرمنی جیسے دور دراز ملک تک بھی پہنچی اور دسویں صدی میں اپنی نظموں کے لئے مشہور راہبہ حوسو-تھا Heroswitha نے اسے ”دنیا کا جوہر“ کہا۔ اس کے بالمقابل شہر ”مدینہ الزہرا“ جو کہ عبدالرحمن نے تعمیر کرایا وہ بھی کم تعریف کے لائق نہ تھا..........

”قرطبہ کے فن تعمیر کے حسن کی عظیم مثالوں میں جامع قرطبہ کو پہلا مقام حاصل تھا۔ اس کی تعمیر و توسیع کے لئے عبدالرحمن اول سے لے کر کئی سلاطین نے نہ صرف کثیر دولت صرف کی بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے کام بھی کیا۔ اس سے اگر زیادہ حسین نہیں تو زیادہ حیرت انگیز قرطبہ کا وہ مضافاتی شہر ”الزہرا“ تھا جسے خلیفہ عبدالرحمن سوم نے اپنی ایک محبوب ملکہ کی خواہش پر اسی کے نام پر تعمیر کرایا۔ ہم یہاں ایک مصنف کے الفاظ کا ترجمہ دیتے ہیں ”یوں تو اگر ”مدینہ الزہرا“ کی تمام قدرتی اور مصنوعی رعنائیوں کا ذکر کیا جائے تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، بہتی ندیاں، شفاف پانی، گھنے اور پر نمو باغات، شاہی محل کے محافظوں کے لئے شاندار عمارات، حکومت کے اعلیٰ عمال کے لئے پرشکوہ محلات، اس کی کشادہ سڑکوں پر رواں دواں ہر قوم اور ہر مذہب کے ریشم اور کمخواب کا پر تکلف لباس زیب تن کئے خدمتگاروں اور غلاموں کا انبوہ، شاندار ہالوں اور وسیع ایوانوں میں بڑی تمکنت سے چلتے ہوئے قاضیوں، علماء دین اور شعراء کی بھیڑ۔ اس محل میں مردانہ خدمت گاروں کی تعداد

صفحہ ۶۵

تیرہ ہزار سات سو پچاس تھی‘ جن کا روزانہ گوشت کا راشن تیرہ ہزار پاؤنڈ تھا اور مچھلی‘ مرغ‘ تیتر وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔۔۔۔۔۔۔“۔

مورخین کے مندرجہ بالا اقتباسات میں راقم ایک چھوٹے سے نوٹ کا اضافہ ضروری سمجھتا ہے کہ ”مدینۃ الزہرا کے صدر دروازے پر نصب ملکہ زہرا کا ایک مجسمہ خدا کی ان تمام ان گنت نعمتوں کا منہ چڑا رہا تھا“۔

عرب خود را بہ نور مصطفےٰؐ سوخت چراغ مردہ مشرق بر افروخت
ولیکن آں خلافت راہ گم کرد کہ اول مومناں را شاہی آموخت

آخری عمر میں خلیفہ شان و شوکت چھوڑ کر ایک درویش ابو ایوب کے مرید ہو گئے تھے۔ سلطنت کا سارا کاروبار ولی عہد الحکم کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ اسی بزرگ درویش کی حضوری میں امیر المومنین اپنا بیشتر وقت نماز‘ روزے اور داد و دہش میں صرف کرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے کاغذوں میں سے ایک بیاض نکلی‘ جس میں وہ اپنے ذاتی حالات اور خیالات لکھا کرتے تھے۔ اس میں مندرجہ ذیل عبارت بڑی خیال افروز ہے۔

”میں نے نہایت امن اور کامیابی کے ساتھ پچاس برس حکمرانی کی‘ میری رعایا مجھ پر فدا تھی‘ میرے دشمن مجھ سے لرزاں تھے۔ میرے حلیف اور دوست مجھ سے خوش تھے۔ دنیا بھر کے بادشاہ میری دوستی کے طلبگار تھے۔ کوئی ایسی چیز نہ تھی کہ جس کی انسان کے دل میں خواہش ہو اور مجھے میسر نہ ہو۔ شہرت‘ قوت‘ عیش سب کچھ مجھے حاصل تھا۔ اس طویل زندگی میں میں نے ان دنوں کو گنا ہے‘ جن میں میں بے فکر رہا اور مجھے حقیقی خوشی نصیب ہوئی ہے۔ وہ شمار میں صرف چودہ تھے“۔

الغرض کسی مورخ کے الفاظ میں ”مسلمانوں کا شہر قرطبہ علوم و فنون‘ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے ”دنیا کا روشن ترین جلوہ تھا“۔

صفحہ ۶۶

المنصور

سانتیاگو ڈی کمپوسٹلہ کی تباہی کی گونج ساری عیسائی دنیا میں سنائی دی تو اگلے سال عیسائی متحدہ فوجیں قسطلہ کے گارشیا فرنینڈز کی قیادت میں مسلمانوں پر حملہ کے لئے اکٹھی ہوئیں۔ المنصور نے بذات خود مسلمانوں کی قیادت کی اور دریائے ڈورو کے کنارے دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ عیسائی فوجوں نے چٹان کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن المنصور کی جنگی تدبیروں اور مسلمان فوجوں کے جذبہ جہاد سے یکایک عیسائی فوجیں مسلمان فوج کے گھیرے میں محصور ہو گئیں۔ قریب تھا کہ میدان جنگ کے ماحول سے تپی ہوئی مسلمان فوج عیسائی فوجوں پر ٹوٹ پڑتی اور تھوڑی دیر میں گھری ہوئی فوج کا صفایا کر دیتی۔ المنصور کے کچھ مشیروں نے بھی اسے یہی مشورہ دیا لیکن المنصور کے حکم پر اس کی فوج (جو نظم و ضبط کی اتنی پابند تھی کہ مورخین لکھتے ہیں کہ المنصور کے سامنے پریڈ کے وقت سپاہیوں کے گھوڑے بھی کبھی نہ ہنہناتے تھے) وہیں کی وہیں محاصرے کی حالت میں رک گئی۔ (سورہ انفال آیت ۶۰: اور تیار کرو ان کی لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کر سکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ اس سے دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور دوسروں پر ان کے سوا جن کو تم نہیں جانتے اللہ ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ پورا ملے گا تم کو تمہارا حق رہ نہ جائے گا۔) المنصور نے ہتھیار ڈالنے کی بڑی فراخدلانہ شرائط کے ساتھ اپنے قاصدوں کو گارشیا فرنینڈز کے کیمپ کی طرف روانہ کیا لیکن اسی دوران فرنینڈز، جو شدید زخمی ہو چکا تھا، دم توڑ گیا اور عیسائیوں کے مقدس باپ جو عموماً میدان جنگ میں فوجوں کا جذبہ بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ ہوتے تھے، اس کی آخری رسوم میں مصروف ہو گئے۔ المنصور کو جب علم ہوا تو اس کے حکم پر مسلمان فوج نے، جو ابھی تک عیسائی لشکر کو گھیرے ہوئے تھی، ایک طرف سے راستہ چھوڑ دیا اور عیسائی جند مجند اپنے

کمانڈر کی میت اٹھائے تمام سازوسامان المنصور کی آخری م سے گٹھیا کا مریض تھا۔ جب وہ اس م کہ وہ چلنے اور گھوڑے پر سوار ہو مدینہ سیدونہ کے مقام پر انتقال کر گیا ستاون جہاد کی مہموں میں سے جب ک اس نے اپنی آبائی زمینوں کی آمدن میں سے سیا تھا اور جب بھی وہ مہم سے ڈبے میں ڈال لیتا جو ہمیشہ اس کے س ہوتا تھا۔ اس کی قبر پر مندرجہ ذیل کتبہ ل "اگر آپ کی آنکھ ہوئی ہے۔ خدا کی قسم! زمانہ اس کی ساحلوں کا محافظ"۔ شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی ق

القمری کے بیان ک عظیم صلیبی حکمران الفانسو ششم ک سفارت آئی تو الفانسو نے ملاقات تھا۔

صفحہ ۶۷

کمانڈر کی میت اٹھائے تمام سازو سامان اور ہتھیاروں سمیت رخصت ہو گئے۔

. . . . . . . . . . . . . . . . . . .

المنصور کی آخری مہم ۱۰۰۲ء میں قسطلہ کے خلاف تھی لیکن وہ کافی مدت سے گٹھیا کا مریض تھا۔ جب وہ اس مہم سے کامیاب لوٹ رہا تھا تو مرض کا غلبہ اتنا زیادہ ہو گیا کہ وہ چلنے اور گھوڑے پر سوار ہونے سے بھی معذور ہو گیا۔ اسی واپسی سفر کے دوران وہ مدینۃ سیدونہ کے مقام پر* انتقال کر گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ المنصور اپنی زندگی میں ستاون جہاد کی مہموں میں سے جب بھی کسی پر گیا اپنے ساتھ اپنا کفن ساتھ لے کر گیا جو کہ اس نے اپنی آبائی زمینوں کی آمدن میں سے خریدا تھا اور جسے اس کی بیٹیوں نے اپنے ہاتھ سے سیا تھا اور جب بھی وہ مہم سے لوٹتا تو اپنے کپڑوں اور جسم سے مٹی جھاڑ کر ایک ڈبے میں ڈال لیتا جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا اور وصیت کے مطابق اس کے ساتھ ہی دفن ہونا تھا۔ اس کی قبر پر مندرجہ ذیل کتبہ تھا:

* ۲۷ رمضان المبارک ۳۹۲ھ کو

”اگر آپ کی آنکھیں اسے پڑھ سکیں تو اس کی تاریخ روئے زمین پر لکھی ہوئی ہے۔ خدا کی قسم! زمانہ اس کی نظیر کبھی پیدا نہ کرے گا اور نہ اس جیسا ہمارے ساحلوں کا محافظ“۔

شوکت سنجر و سلیم ترے جلال کی نمود فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب

المقری کے بیان کے مطابق اس کے تقریباً ایک صدی بعد جب قسطلہ کے عظیم صلیبی حکمران الفانسو ششم کے پاس سرقسطہ کے مسلمان حکمران کی طرف سے ایک سفارت آئی تو الفانسو نے ملاقات کے موقع پر اپنا تخت المنصور کی قبر کے بالکل اوپر لگایا ہوا تھا۔

صفحہ ۶۸

شتربان یا خنزیروں کا رکھوالا

"مسلم سپین کی تمام تاریخ میں کوئی بھی عہد اتنا فساد زدہ اور افسوسناک نہیں تھا۔ قرطبہ میں بغاوت کا جھنڈا بلند ہوا۔ جلد ہی خانہ جنگی پھیل کر صوبوں اور دور دراز کے سرحدی علاقوں تک پہنچ گئی۔ حریف فرقوں کے اشاروں پر حکمران آتے جاتے تھے اور ان کا عہد حکومت سالوں کی بجائے مہینوں تک رہتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان عارضی حاکموں میں کچھ سایوں کی طرح غائب ہونے کے بعد پھر نمودار ہو جاتے۔ مختصراً یہ وہ انتشار تھا جس نے (اموی) خاندان کے عظیم سلاطین کے صبر آزما کام کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دیا اور جس سیاسی اتحاد کے لئے انہوں نے بہت سی کوششیں کی تھیں اسے ختم کر دیا"۔

بربر نسل کے لوگ، محل کے محافظ دستہ کے صقالبہ (Slavs) اور قرطبہ کے عوام اس سیاسی کشمکش میں تین بڑے پریشر گروپ تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک گروہ شمالی عیسائی ریاستوں کے حکمرانوں میں سے کسی کی مدد حاصل کرنے کے لئے سو قلعوں سے دستبردار ہونے کا سودا کرتا تو حریف گروہ فوراً دو سو قلعوں کی بولی بول دیتا۔ اور ایک دفعہ یہ سلسلہ شروع ہوا تو عیسائیوں نے اسے ریت بنا لیا۔ ۱۰۳۱ء میں وزراء کی ایک کونسل نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کے قرطبہ کے ضلع کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ یہ فیصلہ حقیقی صورت حال کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ اندلس بکھر کر تقریباً بتیس ملوک الطوائف کے تحت چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ چکا تھا۔ پروفیسر منٹگمری واٹ اپنی کتاب History of Islamic Spain میں اس زوال کی وجہ مسلمان حکمرانوں کی اسلامی افکار و اقدار پر عمل در آمد میں ناکامی قرار دیتا ہے۔ طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کی فوج میں بربر نسل کے لوگ، عرب، شامی، یمنی وغیرہ سب شامل تھے۔ لیکن وہ سب مسلمان اور مومن پہلے تھے پھر کچھ اور تھے۔ لیکن اب صرف عرب، یمنی، شامی، بربر اور صقالبہ وغیرہ ہی رہ گئے تھے اور

صفحہ ۶۹

ہر گروہ دوسرے گروہوں کے جان و مال کے درپے تھا۔ عیش و عشرت کی زندگی کی وجہ سے امیر مال مست اور غریب حال مست ہو گئے تھے۔ جہاد کا جذبہ مفقود ہو چکا تھا اور کرائے کے فوجیوں سے گزارہ ہوتا تھا۔ جبکہ ان کے ازلی دشمن صلیبی جنگ کے جذبہ سے سرشار تھے بلکہ ڈومینکن (Dominican) ، فرانسسکن (Franciscan) اور کلونی (Cluny) جیسے کئی جنگجو درویشوں کے سلسلے قائم کر رہے تھے۔ چنانچہ دیکھتے دیکھتے چند سالوں میں یہ حالت ہو گئی کہ جو عیسائی حکمران المنصور جیسے مجاہد کے نام سے تھر تھر کانپتے تھے اور اس کے باجگزار تھے وہ مسلمانوں سے بھاری سے بھاری رقم تاوان اور خراج کی وصول کر رہے تھے لیکن اس انتشار کی حالت میں بھی علم و ادب میں جس طرح ان مختلف مسلمان ملوک الطوائف کے درباروں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مقابلہ رہتا تھا اس کی وجہ سے ایک عیسائی مورخ نے طوائف الملوکی کی اس حالت کو ایک ٹوٹے ہوئے ہار سے تشبیہ دی ہے، جس کے ہیرے اور جواہرات بکھر کر چمک رہے ہوں۔

جیسے Chanson de Roland ایک ایسی مشہور رزمیہ طویل نظم ہے جس کا ترجمہ یورپ کی تقریباً ہر زبان میں ہوا اور تمام یورپ کے لوگ صدیوں مسلمانوں کے خلاف یہ گیت گاتے رہے اور آخر پتہ چلا کہ اس کی تاریخی بنیاد بہت کم ہے، کچھ اسی طرح (Poema del Cid) کی حالت ہے۔ روڈریگو ڈیاز (Roderigo Diaz) جو کہ Cid (السید ' Lord) کے لقب سے مشہور ہوا، گیارہویں صدی عیسوی میں سپین کا ایک مشہور مہم جو، غارت گر اور قشتالیہ کے شاہ الفانسو ششم کا بلند حوصلہ اور وفاشعار بندہ تھا۔ اس مشہور رزمیہ طویل نظم میں اس سورما کی زندگی کے جو واقعات درج ہیں ان میں زیادہ قابل ذکر یہ ہیں کہ کیسے نوعمری میں ہی سڈ نے اپنے بوڑھے باپ کی توہین کا انتقام لینے کے لئے اپنے بڑے بھائیوں کے ہوتے ہوئے ایک نواب کا سر کاٹ کر اپنے باپ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اور پھر اسی نواب کی بیٹی اس پر عاشق ہو گئی اور اسی جمینا سے اس کی شادی ہوئی۔ چونکہ یہ الفانسو کے بھائی کی فوج کا سپہ سالار تھا اور الفانسو سے حلف بھی اسی نے لیا تھا، الفانسو کے ساتھ انتہائی وفاشعاری کے باوجود الفانسو اس سے خوش نہ تھا اور اس نے اس کو تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد اپنی ریاست سے نکل جانے کا حکم دیا جس پر سڈ اپنی بیوی

صفحہ ۷۰

اور دو بچوں کو کسی گرجا میں پادری کے پاس چھوڑ کر ریاست سے نکل گیا۔ لیکن جانے سے پہلے اس نے چمڑے کے دو عمدہ صندوق، جن میں سنہری کیلیں لگی ہوئی تھیں، تیار کئے اور ان میں ریت بھر کر دو یہودیوں راقویل (Raquel) اور وداس (Vidas) کے پاس گروی رکھے اور ان سے بڑی رقم ان کے بدلے حاصل کی۔ پھر کیسے اس کی دونوں بیٹیوں کی شادی سپین کے عیسائی نوابوں سے ہوئی لیکن ان دونوں نے اس کی بیٹیوں کو شادی کے بعد گھر لے جانے کے بہانے راستے میں جنگل میں برہنہ کر کے انہیں زدو کوب کیا اور ان کی تذلیل کر کے چھوڑ گئے اور سڈ نے کیسے ان سے انتقام لیا۔ بلنسیہ فتح کرنے کے بعد وہ وہاں دربار مسلمان حکمرانوں کی طرح لگاتا تھا۔ اور مسلمان حکمرانوں کا لباس پہن کر بیٹھتا اور مسلب جیسے مسلمان فوجی کمانڈروں کے کارناموں کی داستانیں سن کر خوش ہوتا۔ رزریق المشہور سڈ اکثر کہا کرتا تھا کہ ایک رزریق نے سپین مسلمانوں کے ہاتھ کھو دیا لیکن دوسرا رزریق (یعنی وہ خود) اسے دوبارہ فتح کرے گا۔ اگرچہ الفانسو کی ذلاقہ کے مقام پر شکست فاش کے بعد مرابطین کے خلاف عیسائیوں کی مزاحمت کی سرکردگی رزریق سڈ کے ہاتھ میں آگئی۔ لیکن اس کی یہ حسرت پوری نہ ہوئی۔ بلکہ بلنسیہ، جس پر وہ اس سے پہلے قبضہ کر چکا تھا، وہ بھی اس کی موت کے بعد عیسائیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔

. . . . . . . . . . . .

اعتماد اور معتمد کے ناز برداریوں کے قصے لوگوں میں عام ہونے لگے تو فقیہوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا۔ ان کے خیال میں معتمد کو عیش کی زندگی میں غرق رکھنے کی ذمہ داری اعتماد کے سر تھی۔ اور اگر جمعہ کے روز مسجدیں ویران رہتی تھیں تو اس کی ذمہ دار بھی وہ تھی۔ لیکن اعتماد ان کے واویلا کو ہنس کر ٹال دیتی۔

. . . . . . . . . . . .

اشبیلیہ کے حاکم معتمد کا ایک سفیر جب الفانسو کے پاس پہنچا تو وہ چلایا ”میں ان کٹھ پتلیوں کو امن سے کیوں رہنے دوں؟ یہ تمام مشرق کے اونچے بول والے خلیفے ہیں۔ ایک اپنے آپ کو المعتمد کہلاتا ہے تو دوسرا المتوکل، تیسرا المستعین اور چوتھا الامین ......... لیکن ان میں سے کسی میں بھی اتنی غیرت نہیں کہ اپنے دفاع میں نیام سے تلوار نکال

صفحہ ۷۱

سکیں"۔ سپین کا اس وقت یہ حال تھا کہ ایک طرف الفانسو بھاری سے بھاری خراج کے ذریعے تمام مسلمان حکمرانوں کی دولت سمیٹ رہا تھا اور دوسری طرف اس کے فوجی سارے اندلس میں لوٹ مار کرتے دندناتے پھر رہے تھے۔ اندلس کے مسلمانوں کا جذبہ جہاد اور شجاعت اس نہج کو پہنچ چکی تھی کہ ایک مقام پر المیریا کے چار سو فوجیوں کا دستہ قسطلہ کے ۸۰ فوجیوں پر حملہ کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ میں ؎

اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

اسی دوران شمالی افریقہ میں "المرابطین" کی تحریک اسلامی جذبہ کے ساتھ شروع ہو چکی تھی اور یوسف بن تاشفین کی سرکردگی میں شمالی افریقہ کا اکثر علاقہ ان کے تسلط میں آ چکا تھا۔ اندلس کے کئی مسلمان حکمران یوسف بن تاشفین کی مدد حاصل کرنے کے متعلق سوچ رہے تھے لیکن اس امکان سے ڈر رہے تھے کہ اگر یوسف بن تاشفین اپنی فوجوں کے ساتھ ان کی مدد کو آئے گا تو عین ممکن ہے انہیں ان کی مالدار ریاستوں سے محروم کر کے خود ان پر قابض ہو جائے۔ اس بارے میں ان حکمرانوں پر علمائے دین کی طرف سے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا اور اب تو انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا تھا کہ اگر انہوں نے اس بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تو وہ ازخود یوسف بن تاشفین کے پاس جائیں گے۔ چنانچہ جب الفانسو نے اشبیلیہ کے المعتمد سے قرطبہ اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو آخر معتمد یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ "میں یہ نہیں چاہتا کہ مسلمان تمام مساجد میں ہمیشہ مجھ پر لعنت بھیجتے رہیں۔ اور اگر مجھے انتخاب پر مجبور کیا گیا تو میں اس چیز کو ترجیح دوں گا کہ میں مرابطین کا شتربان بن جاؤں بجائے اس کے کہ عیسائیوں کے درمیان خنزیروں کا رکھوالا بن کر رہوں"۔ چنانچہ اندلس کے مسلمان حکمرانوں کی طرف سے علمائے دین کا ایک گروہ امداد کی درخواست کے ساتھ یوسف بن تاشفین کے پاس گیا۔ یوسف بن تاشفین کوئی بھی بڑا فیصلہ اپنے علمائے دین کے فتوے کے بغیر نہیں کرتا تھا۔ اس بارے میں علمائے دین نے جہاد کے حق میں فتویٰ دے دیا۔ عین آخری موقع پر معتمد نے عہد کے مطابق الجزیرہ کی بندرگاہ فوج اتارنے کے لئے یوسف بن تاشفین کو دینے میں لیت و لعل سے کام لینا شروع کر دیا۔ یوسف بن تاشفین کو فقیہوں نے بتایا کہ معتمد یقیناً الفانسو کے ساتھ خراج کم کرنے کی بات چیت میں لگا ہوا ہے

صفحہ ۷۲

ورنہ اس کی اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یوسف بن تاشفین نے ان کے کہنے پر پانچ سو سواروں کا ہر اول دستہ بھیج کر الجزیرہ کے شہر پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد اپنی فوج کے ساتھ جب جہازوں پر سوار ہوا تو خدا سے دعا کی ”اے خدایا! اگر میرے اس سمندر پار کرنے سے اسلام کی مدد ہوتی ہے تو میرے لئے یہ آسان کر دے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو سمندر میں طوفان اٹھا دے۔ تاکہ میں واپسی پر مجبور ہو جاؤں“۔ ہوا موافق تھی چنانچہ یوسف بن تاشفین نے ۳۰ر جون ۱۰۸۶ء کو سپین کی سر زمین پر قدم رکھا۔

اشبیلیہ کا حکمران معتمد‘ غرناطہ کا عبداللہ اور بداجوز کا متوکل بھی اپنی مختصر فوجوں کے ساتھ یوسف بن تاشفین سے مل گئے اور بداجوز کے نزدیک زلاقہ کے مقام پر الفانسو کے لشکر سے آمنا سامنا ہوا۔ الفانسو کی فوج میں چالیس ہزار یہودی فوجیوں کا بھی ایک دستہ تھا جو کالے اور پیلے رنگ کی پگڑیاں پہنے ہوئے تھا۔ تین دن تک فوجیں ایک چھوٹی سی ندی کے کناروں پر آمنے سامنے ایک دوسرے سے تین میل کے فاصلے پر مورچہ ڈالے رہیں اور ان کے درمیان ایلچیوں کا آنا جانا ہوتا رہا۔ زمانے کی رسم کے مطابق جنگ کا دن متعین کرنا تھا۔ جمعرات مورخہ ۲۲ر اکتوبر ۱۰۸۶ء کو الفانسو نے کہلا بھیجا کہ ”کل مسلمانوں کی عبادت کا دن ہے‘ ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار ہمارا‘ اس لئے سوموار کا دن مقرر کیا جائے“۔ مسلمان اس پر راضی ہو گئے۔ مسلمانوں کی فوج میں معتمد اپنے دستے اور دوسرے اندلسی فوجیوں کے ساتھ آگے تھا اور یوسف بن تاشفین اپنی فوج کے ساتھ عقب میں پہاڑیوں کے پیچھے۔ چونکہ معتمد کے حرم میں عیسائی عورتیں غالباً مسلمان عورتوں سے زیادہ تھیں اور اس کی رعایا میں بھی عیسائی تھے‘ اس لئے وہ صلیبی وعدہ کی وقعت سے واقف تھا چنانچہ اس نے اپنے پہرہ داروں کو چوکنا رکھا۔ اور واقعی جمعہ کے دن عین فجر کے وقت اس کے پہرہ داروں نے خبر دی کہ عیسائیوں کا لشکر دھول اڑاتا حملہ کے لئے بڑھ رہا ہے۔ معتمد کا مختصر سا دستہ اس کثیر لشکر کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ معتمد اور اس کے اپنے فوجیوں نے بڑی جانبازی سے مقابلہ کیا اور معتمد اس میں زخمی بھی ہوا۔ جبکہ دوسرے اندلسی دستے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ صورت حال اس کے لئے کافی نازک تھی‘ اس نے پیچھے یوسف بن تاشفین سے بھاری کمک بھیجنے کے لئے پیغامات بھیجے۔ یوسف بن تاشفین نے صرف مختصر سی کمک بھیجی جو دشمن کو کچھ وقت مصروف پیکار رکھ سکے ہوا اور اس کے کیمپ پر قبضہ کر لیا۔ دیکھا کہ وہ دونوں طرف سے حملہ آور سواروں کے ساتھ بھاگ نکلا۔

......

چنانچہ جون ۱۰۸۹ء مسلمان حکمران بھی اپنے فوجی دستوں تک محاصرہ جاری رہا، لیکن اس دوران الطوائف کی باہمی ریشہ دوانیوں اور دستہ جس کے پاس تمام قلعہ شکن سامان کھسک گیا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری جو شعراء اور شاعری کے دلدادہ و رباب اور حسینوں کے حرم تھے اور ا سپاہی غیر مہذب گنوار تھے۔ جبکہ ہما گزارہ صرف جو کی روٹی اور اونٹنی کے غیر اسلامی ٹیکس نہیں لگایا ہوا تھا وہ اپنے خون چوس کر اپنی عیاشی کا سامان کر پر نہ صرف افریقہ کے بلکہ اندلس کے نہ صرف سپین کے عیسائی حکمرانوں کرے۔ عوام بھی ان مسلمان حکمران غمازی غرناطہ کے اس زمانے کے ایک کچھ اس طرح سے ہے ”اے حکمران تم اسلام کو اس کے دشمنوں کے اٹھاتے۔ تمہارے خلاف بغاوت میں

صفحہ ۷۳

دشمن کو کچھ وقت مصروف پیکار رکھ سکتی تھی اور خود چکر لگا کر دشمن کے عقب سے حملہ آور ہوا اور اس کے کیمپ پر قبضہ کر لیا۔ کافی دیر بڑی سخت جنگ ہوتی رہی۔ الفانسو نے جب دیکھا کہ وہ دونوں طرف سے حملہ آور فوجوں کے درمیان پھنس رہا ہے تو اپنے پانچ سو باقی ماندہ سواروں کے ساتھ بھاگ نکلا۔

........................

چنانچہ جون ۱۰۸۹ء میں یوسف اپنی فوج کے ساتھ سپین پہنچا اور سپین کے مسلمان حکمران بھی اپنے فوجی دستوں کے ساتھ الیڈو کے محاصرہ میں اس سے مل گئے۔ چار ماہ تک محاصرہ جاری رہا، لیکن اس دوران محاصرہ کرنے والی فوج کا کیمپ سپین کے مسلمان ملوک الطوائف کی باہمی ریشہ دوانیوں اور جھگڑوں کا اکھاڑا بنا رہا، جس کے نتیجہ میں مرسیہ کا فوجی دستہ جس کے پاس تمام قلعہ شکن سازوسامان تھا مع اس سازوسامان کے میدان جنگ سے کھسک گیا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ معتمد اور دوسرے ملوک الطوائف جو خود شاعر اور شاعری کے دلدادہ تھے، ان کے نزدیک تہذیب کا پیمانہ شعر و شاعری، شراب و رباب اور حسینوں کے حرم تھے اور اس معیار کے مطابق یوسف بن تاشفین اور اس کے بربر سپاہی غیر مہذب گنوار تھے۔ جبکہ یوسف بن تاشفین بحیثیت ایک ایسے مومن کے جس کا گزارہ صرف جو کی روٹی اور اونٹنی کے دودھ پر تھا اور جس نے اپنی حکومت میں عوام پر کوئی غیر اسلامی ٹیکس نہیں لگایا ہوا تھا وہ ان تمام اندلسی حکمرانوں کو ایسی جونکیں سمجھتا تھا جو عوام کا خون چوس کر اپنی عیاشی کا سامان کر رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ بھی نہ کر سکتے تھے۔ اس پر نہ صرف افریقہ کے بلکہ اندلس کے علمائے دین کا بھی دباؤ تھا کہ وہ اسلام کے دفاع کے لئے نہ صرف سپین کے عیسائی حکمرانوں بلکہ ان مسلمان ملوک الطوائف کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ عوام بھی ان مسلمان حکمرانوں کی عیاشی کے بوجھ سے تنگ آئے ہوئے تھے جس کی غمازی غرناطہ کے اس زمانے کے ایک شاعر سمیہ کے ان اشعار سے ہوتی ہے جن کا مطلب کچھ اس طرح سے ہے ”اے حکمرانو! وہ کونسی چیز ہے جس کے کرنے کی تم میں ہمت باقی ہے؟ تم اسلام کو اس کے دشمنوں کے سپرد کر دیتے ہو۔ اور اس کے دفاع میں ہاتھ بھی نہیں اٹھاتے۔ تمہارے خلاف بغاوت عین فرض ہے کیونکہ تم نے عیسائیوں سے ایکا کیا ہوا ہے۔

صفحہ ۷۴

ہمارے لئے تمہاری حکمرانی سے نجات حاصل کرنا کوئی جرم نہ ہو گا کیونکہ تم نے خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اقتدار کا جوا گلے سے اتار پھینکا ہے"۔ اور پھر ایک دوسری جگہ یہی شاعر لکھتا ہے ”پھر بھی ہم اے حکمرانو! تمہارے اوپر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن تم نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ہم تمہاری جانب نجات کے لئے دیکھتے رہے مگر بے سود۔ صبر! وقت بڑے انقلاب لاتا ہے۔ عقلمند کے لئے ایک لفظ ہی کافی ہے"۔

ایک بوڑھے کی آپ بیتی

بہر حال موحدین کو الارقو (Alarco) کی شاندار فتح سے اندلس کے کئی ایک علاقے تو حاصل ہو گئے اور ان کی دھاک عیسائیوں پر بیٹھ گئی۔ لیکن انہوں نے اس فتح سے مزید فوائد حاصل نہ کئے۔ یعقوب کو بعد میں اپنی موت تک عیسائی جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کے فیصلہ پر پشیمان ہونا پڑا۔ کیونکہ عیسائیوں نے اس شکست سے عبرت حاصل کر کے بھر پور تیاریاں شروع کر دیں۔ پوپ انوسینٹ سوم (Pope Innocent III) نے ۱۲۱۱ء میں سپین میں صلیبی جنگ کے لئے فرمان کلیسا کی رو سے اس جنگ میں حصہ لینے والوں کے لئے جملہ گناہوں کا معافی نامہ جاری کر دیا۔ اور طلیطلہ کے آرچ بشپ نے یورپ کے تمام درباروں کا مدد حاصل کرنے کے لئے دورہ کیا اور ملک ملک سے صلیبی جنگ جو اکٹھے کئے۔ مسلمانوں کے خلاف یورپ سے صلیبی لشکروں کی آمد سے یہودیوں کو بڑی مسرت ہوئی لیکن جب ان صلیبی فوجوں نے یہودی آبادیوں پر حملے کر کے انہیں لوٹنا اور قتل کرنا شروع کر دیا تو ان کا مزہ کرکرا ہو گیا۔

ادھر افریقہ میں ۱۱۹۹ء میں یعقوب المنصور کی وفات پر اس کا بیٹا ابو عبداللہ محمد اس کا جانشین ہوا۔ وہ مسلمانوں کی تاریخ کے ان حکمرانوں میں سے تھا جن کی پرورش وسیع حرم کے عیش عشرت کے ماحول میں ہوئی اور وہ نااہل اور جابر حکمرانوں کی حیثیت

سے ان کی بد قسمتی کا باعث بنے۔ اس کا تھا جس سے لوگ نفرت کرتے تھے۔

یہاں اسی حکمران نہایت اہم واقعہ کا ذکر ضروری ہے۔ ا تین اشخاص رابرٹ ڈی لندن (Thomas Hardington) مشتمل سفارت ایک مراسلہ کے سا ترک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہونا چا ریاست کا باجگزار بنا دے گا۔ شاہ جا ہے جس کا واسطہ صلیبی جنگوں کے خدا سے پڑا تھا۔ شاہ جان نے یہ قدم تنگ آکر اٹھایا تھا۔ تاریخ کی کتابوں م اور محافظوں کی باڑ میں سے گزرنے اور شاہ جان کا خط پیش ہونے پر اس اور طاقت کے متعلق استفسار کیا۔ ا تھا، تخلیئے میں بات کی۔ امیر المومنین جواب تھا کہ : بادشاہ کے بارے میں نہ پڑھا ہے او رعایا کا حاکم ہونے کے باوجود رضا ملک کو کسی دوسرے کا باجگزار بنا ہو اور کسی کو بغیر کوئی صعوبت اٹھ مردانگی کی تعریف کرتے ہوئے ا کرنے کی دعوت مسترد کر دی کہ اتحادی بننے کا اہل نہیں۔ محمد الم

صفحہ ۷۵

سے ان کی بدبختی کا باعث بنے۔ اس کا وزیر ابو سعید عمیس بھی بڑا تند خو اور دغا باز قسم کا آدمی تھا جس سے لوگ نفرت کرتے تھے۔

یہاں اسی حکمران یعنی ابو عبداللہ محمد الناصر امیر المومنین کے متعلق ایک نہایت اہم واقعہ کا ذکر ضروری ہے۔ اس کے عہد میں انگلینڈ کے شاہ جان آکلینڈ نے ۱۲۰۹ء میں تین اشخاص رابرٹ ڈی لنڈن (Robert de Londen)، تھامس ہارڈنگٹن (Thomas Hardington) اور رالف فٹز نکولاس (Ralph Fitz Nicolas) پر مشتمل سفارت ایک مراسلہ کے ساتھ بھیجی جس میں درخواست کی گئی تھی کہ وہ عیسائیت کو ترک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہونا چاہتا ہے اور اپنی ملکیت سے دست بردار ہو کر اسے اسلامی ریاست کا باجگزار بنا دے گا۔ شاہ جان شاہ رچرڈ کا چھوٹا بھائی اور جانشین تھا اور شاہ رچرڈ وہی ہے جس کا واسطہ صلیبی جنگوں کے سلسلے میں فلسطین میں سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے مرد خدا سے پڑا تھا۔ شاہ جان نے یہ قدم کلیسا کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں سے تنگ آکر اٹھایا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان سفیروں کی باریابی کمروں کے ایک سلسلے اور محافظوں کی باڑ میں سے گزرنے کے بعد ہوئی۔ انہوں نے امیر کو مطالعے میں مصروف پایا۔ اور شاہ جان کا خط پیش ہونے پر اس نے شاہ جان کے جسم و کردار اور اس کی مملکت کی آبادی اور طاقت کے متعلق استفسار کیا۔ اس کے بعد اس نے رابرٹ کے ساتھ جو یہ مراسلہ لیکر گیا تھا، تخلیئے میں بات کی۔ امیر المومنین محمد الناصر نے یہ پیشکش بڑی نخوت سے ٹھکرادی۔ اس کا جواب تھا کہ : "میں نے آج تک کسی ایسے بادشاہ کے بارے میں نہ پڑھا ہے اور نہ ہی سنا ہے جو زرخیز اور شاداب سرزمین اور فرمانبردار رعایا کا حاکم ہونے کے باوجود رضا کارانہ طور اپنے اقتدار کی بربادی کا خواہاں ہو۔ اور اپنے ملک کو کسی دوسرے کا باجگزار بنانا چاہتا ہو۔ اپنی خوشی اور آزادی کے بدلے مصائب کا متمنی ہو اور کسی کو بغیر کوئی صعوبت اٹھائے اپنا ملک فتح کرنے کی دعوت دے رہا ہو۔" شاہ جان کی مردانگی کی تعریف کرتے ہوئے امیر نے اس تبصرے کے ساتھ اس کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی دعوت مسترد کر دی کہ وہ ایک بے مایہ، بے مغز اور بوڑھا بادشاہ ہے۔ اور اس کا اتحادی بننے کا اہل نہیں۔ محمد الناصر نے سفارتی نمائندوں کو یہ کہہ کر دربار سے نکال دیا کہ وہ

صفحہ ۷۶

دوبارہ آنے کی جسارت نہ کریں۔ جب شاہ جان کا مشن بے نیل مرام انگلستان لوٹا تو شاہ جان اپنے مقصد میں ناکامی پر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ غالباً وہ سمجھتا تھا کہ اس کے مصاحبوں نے اسے دھوکہ دیا ہے ایسی قسم کا ایک اور واقعہ یعنی سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید کے پاس جاپان کے شاہ میجی کی سفارت (صفحہ ) پر بیان کیا گیا ہے۔

1 - Mathew of Paris, Hist, PP. 205, 206, Ann Wariest

P. 176, Lives of the Abbot of St. Albans p.1044

2 - Rohrbacher, Vol. XVII, P. 333, See also Langard, Hist. d,

Angleterre, Paris 1834, Vol. iii, P.37; and Godard, P.338.

الغرض جب اندلس میں تمام یورپ سے صلیبی فوجیں اکٹھی ہونی شروع ہو گئیں تو ۱۲۱۳ء میں ابو عبداللہ محمد الناصر نے ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ سمندر پار کیا۔ جس کی تعداد مختلف تاریخ دانوں کے مطابق ساڑھے چار لاکھ سے چھ لاکھ تک تھی۔ ابو عبداللہ نے سمندر پار کرنے اور اس کے بعد اندلس میں مختلف قلعوں کا محاصرہ کرنے میں بہت سا وقت ضائع کر دیا جس سے عیسائیوں کو تیاری کا مزید وقت مل گیا۔ جولائی ۱۲۱۲ء میں عیسائی فوجیں اس طرح اس کے مقابلے میں آئیں کہ نبرہ کا بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ میمنہ اور اراگون کا بادشاہ فوج کے ساتھ میسرہ میں تھا۔ جبکہ قسطلہ کے شاہ الفانسو کی فوج ہراول اور مرکزی پوزیشن میں تھی۔ اس کے علاوہ یورپ کے مختلف ممالک کے دستے تھے۔ العقب یعنی (Navas de Tolosa) کے مقام پر آمنا سامنا ہوا۔ ابو عبداللہ نے اپنے اندلسی افسروں کے مشورے قبول نہ کئے۔ یہ لوگ عیسائیوں سے جنگ کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور علاقے سے بھی واقف تھے۔ اس طرح ابو عبداللہ نے نہ صرف ان لوگوں کو بد دل کیا بلکہ غلط فیصلے بھی کئے۔ اس میں سب سے زیادہ غلط فیصلہ جنگ کے موقع پر اپنی فوجوں کے لئے مقام کا انتخاب تھا۔ ۱۶۔ جولائی کو جب جنگ ہوئی تو تمام دن دونوں طرف کی فوجوں میں بڑا سخت مقابلہ ہوا اور ایک مرحلہ پر عیسائی فوجوں کے پاؤں اکھڑنے لگے تھے لیکن پھر جنگ کا پانسہ پلٹا۔ مسلمان فوج کی جنگی حکمت عملی اس زمین کے لئے موزوں نہیں تھی جس جگہ وہ لڑ رہے تھے۔ چنانچہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ ان کے ایک طرف پہاڑیاں تھیں تو دوسری طرف جنگلات۔ اس لئے اس پسپائی میں تقریباً تمام فوج کا صفایا ہو گیا اور

صفحہ ۷۷

صرف ایک ہزار ہی ان میں سے جان بچا کر بھاگ سکے۔ ابو عبداللہ جس نے اپنی حفاظت کے لئے شروع سے ہی اپنے چاروں طرف افریقی فوجیوں کا زنجیروں کے ساتھ ایک حصار قائم کیا ہوا تھا، میدان جنگ سے گھوڑے پر سوار ہو کر سرپٹ بھاگا اور کشتی پر سمندر پار کر کے افریقہ جا کر دم لیا، جہاں وہ ۱۲۱۳ء میں مر گیا۔ جس طرح الارقو (Alarco) کی جنگ میں سترہ سال قبل مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت لگا تھا اسی طرح اس جنگ میں عیسائیوں کو بہت سازو سامان ملا اور تقریباً تمام یورپ میں اس فتح کے جشن منائے گئے۔ الفانسو جب فاتح کی حیثیت سے طلیطلہ شہر پہنچا تو شہر سے باہر یہودیوں نے جلوس کی شکل میں اس کا استقبال کیا۔ لیکن اب جب عیسائیوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کا زور ٹوٹ چکا ہے تو الفانسو کے جانشین فرڈنینڈ دی سینٹ اور شاہ اراگون جیمز نے یہودیوں پر فوراً ذلت کا لباس پہننے کی پابندی عائد کر دی۔ یہودیوں نے بہت کوشش کی کہ یہ پابندی ختم ہو جائے لیکن بے سود کیونکہ پوپ انوسینٹ چہارم نے ان تمام حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ یہودیوں پر پابندیاں سختی سے نافذ کریں۔

جس طرح ۷۱۱ء میں وادی برباط کی جنگ نے سپین میں مسلمانوں کے اقتدار کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا، کچھ اسی طرح تقریباً پانچ سو سال بعد العقاب (de Tolosa Navas) کی جنگ نے اندلس میں مسلمانوں کے اقتدار کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا۔ اس لئے مغربی مورخین اسے دنیا کی تاریخ کی پندرہ اہم ترین جنگوں میں شمار کرتے ہیں۔ اس جنگ میں جس طرح لاکھوں مسلمان ہلاک ہوئے اس سے شمالی افریقہ کے قصبے اور دیہات ویران ہو گئے۔ اور مریض اندلس کو بعض موقعوں پر یہاں سے جو تازہ خون ملتا رہتا تھا اس کا امکان تقریباً ختم ہو گیا۔ بلکہ شمالی افریقہ خود روبہ تنزل ہو گیا اور موحدین کی سلطنت انتشار کا شکار ہو گئی۔

تاریخی واقعات کے اس مختصر خاکے کے سلسلے کو آگے لے جانے سے پہلے یہاں اس مرحلہ پر یورپ کے عیسائیوں میں اٹھنے والی دو اہم تحریکوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک تو مترجموں کی تحریک تھی۔ جنہوں نے مسلمانوں کے علوم کو یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجموں کے ذریعے منتقل کرنا شروع کیا۔ یوں تو یہ تحریک پورے

صفحہ ۷۸

یورپ میں پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن سپین کا تاریخی اور مرکزی شہر طلیطلہ اس کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اور اس شہر کا مطران ریمانڈ (Archbishop Raymond) اس کا لیڈر تھا۔ جو اس عہدہ پر ۱۱۳۶ء تا ۱۱۵۶ء فائز رہا۔ جزیرہ صقلیہ (سسلی) ۱۰۷۲ء میں دو نارمن بھائی روبرٹ اور روجر گسکارڈ (Robert and Roger Guiscard) مسلمانوں سے فتح کر چکے تھے جبکہ اندلس کا مرکزی شہر طلیطلہ ۱۰۸۵ء میں مسلمانوں سے قسطلہ کے شاہ الفانسو ششم نے فتح کیا۔ اور انہی دو مقامات سے یورپ کو علم و ادب کی منتقلی کی ابتدا ہوئی۔ اس تحریک میں یہودیوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا کیونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی نسبت اس قوم میں ایسے لوگ زیادہ تھے جو بیک وقت عربی اور یورپی زبانوں کے ماہر تھے۔ ۱۲۰۰ء میں پیرس یونیورسٹی قائم ہوئی جس کے بعد پیسا (Pisa) آکسفورڈ، پیڈوا (Padua) کیمبرج وغیرہ تمام یورپ میں قرطبہ، قاہرہ، بغداد اور دمشق وغیرہ کی یونیورسٹیوں کے نقش قدم پر قائم ہونا شروع ہوئیں۔ ۱۱۴۳ء میں قرآن مجید کا ترجمہ یورپ کی درباری زبان لاطینی میں کیا گیا جو کہ غالباً کسی مغربی زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ تھا۔ اور اگلی صدی میں الفانسو دہم المعروف عاقل (Alfonso the Wise) نے کیسٹلی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرایا۔ ابن رشد، ابن سینا، الغزالی، الخوارزمی، ابو اسحاق، ابن الہیثم جیسے بے شمار دوسرے مسلمان عالموں کی تصانیف کے ترجمے کئے گئے جن سے نہ صرف مسلمانوں کے اپنے علوم بلکہ قدیم یونانی فلسفہ اور دوسرے علوم بھی یورپ میں پھیلنے لگے۔ دو یہودی عالم موسیٰ ابن میمون اور سلیمان بن گبیرول ان ترجمے کے کاموں میں خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ قسطلہ کے شاہ الفانسو دہم ملقب دانا (Alfonso the Wise) نے ۱۲۵۲ء تا ۱۲۸۴ء حکومت کی۔ اس کی یہ بڑی خواہش تھی کہ قسطلہ بھی مسلمانوں کے اندلس کی طرح علم و ادب کے مرکز کی حیثیت سے مشہور ہو۔ اور اس نے اس بارے میں حتی الوسع کوششیں بھی کیں۔ اسی زمانے کے مشہور عیسائی عالم ٹامس ایکوناس (Thomas Aquinas)، روجر بیکن (Rojer Bacon)، البرٹس میگنس (Albertus Magnus) اور ابیلارڈ (Abelard) نے اسلامی علم و افکار کی عیسائی دنیا میں منتقلی میں ہراول دستے کا کام کیا۔ - - - - - - - - - - - - - -

صفحہ ۷۹

اور پھر مسلمان اشکبار آنکھوں کے ساتھ تہی دامن اس شہر سے نکلے جہاں عبدالرحمن سوم اور المنصور جیسے حکمرانوں نے لمن الملک الیوم کے ترانے گائے تھے۔ جہاں ان کے سرسبز و شاداب کھیت تھے۔ جہاں قدم قدم پر نہریں اور ہر سو گھنے باغات تھے۔ جہاں دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیاں تھیں۔ جہاں دمشق، الزہرا جیسے محلات تھے۔ یہاں ان کی کئی خوبصورت مساجد تھیں اور جہاں سب سے بڑھ کر مسجد قرطبہ تھی۔ ایک طرف سے مسلمان نکلے اور دوسری طرف سے عیسائی فاتح کی حیثیت سے مذہبی گیت گاتے ہوئے پادریوں کی صفوں کے پیچھے داخل ہوئے۔ مسجد قرطبہ میں چوکیداروں اور خادموں کے رونے کی آواز گھوڑوں کے ہنہنانے کے شور میں دب گئی۔ اور کچھ دیر بعد صلیبیوں کے ان مقدس باپوں کا ایک گروہ جو کہ فخر سے اعلان کرتے تھے کہ انہوں نے زندگی بھر جسم کے کسی حصے کو صاف کرنے کی کافرانہ حرکت نہیں کی، آگے بڑھا اور صلیب کو مسجد کی محراب پر رکھ کر اسے بپتسمہ دیا اور بزعم خویش پاک کر کے گرجا میں تبدیل کیا۔

اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف وصوت معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود!

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

کعبہ ارباب فن، سطوت دین مبین تجھ سے حرم مرتبت اندلسوں کی زمین
ہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیر قلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیں!

. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

ادھر فرڈیننڈ نے جبل الطارق پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں سے تمام مسلمانوں کو نکل جانے کا حکم دے دیا۔ ایک بوڑھا جو کہ پہلے ہی اس طرح تین دفعہ گھر سے نکالا جا چکا تھا اور جس نے شاید تدمیر کی چال جیسے واقعات پڑھ اور سن تو رکھے ہوں لیکن جو ساری عمر صلیبیوں کے درمیان گزارنے کے باوجود بھی صلیبی سرشت نہ سمجھ سکا تھا، سڑک پر کھڑا شاہ فرڈیننڈ چہارم کے سامنے ماتم کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ”ہائے میری قسمت! میں اس بڑھاپے میں پھر دیس بدر ہو گیا۔ آپ کے پردادا فرڈیننڈ دوم دی سینٹ نے مجھے اشبیلیہ سے

صفحہ ۸۰

باہر دھکیل دیا اور میں بھاگ کر سریش چلا گیا۔ آپ کے دادا الفانسو نے مجھے وہاں سے نکالا اور میں طریفہ چلا گیا۔ پھر آپ کا باپ سانچو آیا اور میں نے اپنے کنبے کے ساتھ بھاگ کر اس انتہائی دور دراز مقام پر پناہ لی۔ لیکن آپ نے مجھے یہاں بھی آلیا۔ اس بڑھاپے میں میں اب کہاں گھر تلاش کروں”۔ شاہ فرڈینینڈ چہارم کا صلیبی تمکنت کے ساتھ صرف یہی جواب تھا: ”سمندر پار کرو”۔

غرناطہ میں

مسلمان کی آخری سسکی

غرناطہ کا الحمراء ”پریوں کے گھر” کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے حسن کے گیت گوئٹے (Goethe) شیٹو برانڈ (Chateau Brand) وکٹر ہیوگو (Victor Hugo) لارڈ بائرن (Lord Byron) لیمرٹائن (Lamartine) واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) گارشیا لورقا (Garcia Lorca) اور انٹونیو مشادا (Antonio Mashada) جیسے مصنفین نے گائے۔

الحمراء اپنے میناروں کی سنہری برجیوں اور دھوپ میں نہلائی ہوئی فصیل کے ساتھ برفانی سلسلہ ہائے کوہ کی آغوش میں ایسا لگتا ہے جیسے زمین اور آسمان کے درمیان ایک ایسا فانوس معلق ہے جسے روشنی حاصل کر کے منعطف کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہو۔ اس کے اوپر نزدیک ترین شاخ کوہ کی بھوری برہنہ چٹانیں ایک لامتناہی ہیبت ناک سیلاب کی لہروں کی مانند دور تک چلی گئی ہیں اور اس کے نیچے صنوبر کے درخت اپنے بلجی بازو قلعہء پہاڑوں حتی کہ آسمان کی طرف پھیلائے ہوئے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کانسی کی شمعیں جن پر دھوپ نے سبز شعلے روشن کر دیئے ہوں۔

. . . . . . . . . . . . .

صفحہ ۸۱

چنانچہ ملکہ ازابیلہ اور شاہ فرڈنینڈ نے بڑے مدبرانہ انداز میں بوڑھے ابوالحسن اور اس کے ناعاقبت اندیش بیٹے ابو عبداللہ کی غرناطہ کے تخت کے لئے آویزش اور غرناطہ شہر اور البیازین کی آبادیوں کی باہمی خونریزی کے ذریعے اس ریاست کے تمام دوسرے شہر یکے بعد دیگرے انار (غرناطہ=Pomgarnate) کو دانہ دانہ نگلنے کی پالیسی کے تحت فتح کرلئے اور اس کے بعد اپریل ۱۴۹۱ء میں غرناطہ شہر کا محاصرہ کرلیا۔ شہر کی آبادی نے پہلے تو بڑی پامردی سے مقابلہ جاری رکھا۔ لیکن جب سردی کے موسم میں برفباری سے راستے مسدود ہو جانے کی وجہ سے خوراک کی رسد بالکل بند ہو گئی اور نوبت فاقوں پر پہنچی تو ۲۵؍ نومبر ۱۴۹۱ء کو طویل گفت و شنید کے بعد ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ ہوا۔

۲؍ جنوری ۱۴۹۲ء کا دن تھا جب غرناطہ شہر کا دروازہ کھلا اور بودبل گھوڑے پر سوار پچاس سواروں کے محافظ دستے اور اپنی حرم کی خواتین کے ہمراہ وہاں سے برآمد ہوا۔ سامنے شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلہ اپنے لشکر اور درباریوں کے ساتھ منتظر تھے۔ بودبل نے شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلہ کے سامنے جاکر کہا "اعلیٰ اور قوی حاکم! ہم آپ کے ہیں۔ ہم یہ شہر اور مملکت آپ کے سپرد کرتے ہیں کیونکہ خدا کی رضا یہی ہے۔ خدا کرے آپ رحم دل واقع ہوں"۔ اس کے بعد بودبل نے فرڈنینڈ کے اس ہاتھ پر بوسہ دیا جو اس نے اپنے صلیبی عقیدے کے مطابق شاید ساری عمر صاف نہ کیا ہو اور شہر کی چابیاں اس میں تھما دیں فرڈنینڈ نے مسکرا کر یہ چابیاں ازابیلہ کو پکڑا دیں۔

اور اس کے بعد بودبل اپنے قافلے کے ساتھ دور پہاڑی راستوں کی طرف چل دیا۔ ذرا دور جاکر ایک پہاڑی مقام جس کا نام پیڈول (Padul) تھا‘ رکا اور مڑ کر الحمراء

نوٹ : ان کٹر عیسائی حکمرانوں کے متعلق اس بارے میں راقم نے لفظ "شاید" اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ راقم کے پاس یہ لکھنے کے لئے کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں ہے۔ لیکن Kirkpatric Sale اپنی کتاب The Conquest of Paradise میں صفحہ ۳۰۳ پر انگلینڈ کے شاہ جیمز (۱۶۲۵۔۱۵۶۶) کے متعلق لکھتا ہے کہ اس نے اپنے صلیبی عقیدے کے مطابق زندگی بھر ہاتھ صاف نہیں کئے تھے۔

صفحہ ۸۲

کی طرف دیکھا اور اس کی ہچکی بندھ گئی۔ اس پر قریب کھڑی اس کی ماں ملکہ عائشہ نے کہا ”جس کا تم مردوں کی مانند دفاع نہیں کر سکے اس کے لئے عورتوں کی مانند رونا تمہیں زیب دیتا ہے۔“

اس پر بوبدل نے کہا ”اگر تم نے یہ بات مجھے غرناطہ میں کہی ہوتی تو میں بجائے ہتھیار ڈالنے کے اس کے ملبے تلے دبا ہوتا“۔

جیسے ۷۱۱ء میں تدمیر کی چال کے بعد اس کے سارے علاقہ کا نام ”ارض دمیر“ پڑ گیا تھا، کچھ اسی طرح ہی اس مقام کا نام آج تک ”مسلمان کی آخری سسکی“ (Ultimo sospiro dul Moro) ہے۔

صفحہ ۸۳

اندلس میں

مسلمانوں پر ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نفاذ

بودل تو اپنے تیس ہزار طلائی سکے جو کہ معاہدہ کے مطابق اسے اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی لے کر افریقہ چلا گیا۔ ایک تاریخ دان لکھتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد جب اس نے وہاں بودل کے متعلق تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس کی نسل کے لوگ گداگری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔

ادھر بودل کے جانے کے بعد ۲ جنوری ۱۴۹۲ء کو شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلہ غرناطہ میں داخل ہوئے۔ وہ شہر کی سڑکوں پر اپنے درباریوں کے جلوس کے ساتھ چلے جا رہے تھے اور ان کی نگاہیں شہر کے پار ”پریوں کے گھر“ یعنی الحمرا کی برجیوں پر جمی ہوئی تھیں۔ گھروں میں سے لوگوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں اور کوئی مسلمان ان کے استقبال کے لئے گھر سے نہیں نکلا تھا۔

ہتھیار ڈالنے کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کی تقریباً پچاس شقیں تھیں۔ ان میں یہ بھی تھیں کہ مسلمانوں کی املاک اور ان کے کرایوں کا احترام کیا جائے گا۔ جو مسلمان ملک چھوڑ کر جانا چاہے گا اپنی املاک بیچ سکے گا۔ جو مسلمان جانا چاہیں گے انہیں ترک وطن کی آزادی کی ضمانت تھی اور شاہ فرڈنینڈ اس مقصد کے لئے جہاز فراہم کرنے کا پابند تھا۔ اس بات کا عہد کیا گیا تھا کہ مسلمانوں پر مزید ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے۔ کوئی عیسائی مسلمانوں کے گھر میں زبردستی داخل نہ ہو گا اور اگر ایسا کرے گا تو سزا کے قابل ہو گا۔ مسلمانوں کو مذہبی اور سماجی آزادی ہو گی اور ان کے فیصلے خود ان کے اپنے قاضی کریں گے۔ ان کے اوپر جو حاکم مقرر کئے جائیں گے وہ اچھے کردار کے لوگ ہوں گے۔ اس معاہدہ پر شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلہ کے دستخط تھے۔

قبل اس کے کہ ہم اندلسی مسلمانوں کی بعد کی تاریخ کے واقعات بیان

صفحہ ۸۴

کریں، یہاں ۱۴۹۲ء میں سقوط غرناطہ کے علاوہ تاریخ کے دو اور انتہائی اہم واقعات کا ذکر ضروری ہے۔

عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ تو ابھی تازہ معاہدہ کیا تھا چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کرنا تھا اس میں کچھ دیر تو لگنی ہی تھی۔ شاہ فرڈنینڈ نے یہودیوں کے ساتھ ۱۱ر فروری ۱۴۹۰ء کو عہد کیا کہ اگر وہ غرناطہ فتح کرنے میں اس کی مدد کریں گے تو غرناطہ میں مسلم حکمرانوں کے تحت انہیں جو مساویانہ حقوق ملے ہوئے ہیں وہ برقرار رکھے جائیں گے۔ یہ عہد اس سے پہلے بھی کئی بار غرناطہ کو فتح کرنے کی مہم کے دوران ہو چکا تھا۔ ۱۴۸۰ء سے لے کر ۱۴۹۲ء تک تقریباً بارہ سال میں شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلا نے غرناطہ کی تقریباً پچہتر کلومیٹر چوڑی اور ۱۸۰ کلومیٹر لمبی مسلم ریاست کو فتح کرنے کے لئے اتنی بڑی مہم چلائی جس کے لئے اکثر و بیشتر سرمایہ یہودیوں نے فراہم کیا۔ ان میں دو بڑے یہودی سرمایہ دار ابراہام سینئر (Abraham Senior) اور آئزک ابراوانل (Isaac Abravanal) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس سرمایہ سے چلنے والی مہم کے نتیجے میں اس ریاست کے باقی شہروں کے بعد ۲ر جنوری ۱۴۹۲ء کو غرناطہ شہر بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور ۳۱ر مارچ ۱۴۹۲ء کو یعنی شہر پر قبضہ ہونے کے تین مہینے کے اندر اور یہودیوں سے کئے گئے آخری عہد کے تقریباً دو سال بعد شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلا نے فرمان جاری کیا جس کی رو سے سپین کے یہودیوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔ بلکہ شاہ فرڈنینڈ کے دباؤ کی وجہ سے ۱۴۹۷ء میں پرتگال کے شاہ مینوئل نے بھی انہیں پرتگال سے نکال دیا اور انہیں کے دباؤ کی وجہ سے انگلینڈ کے شاہ ہنری ہفتم نے انگلینڈ کے دروازے ان پر پناہ کے لئے بند کر دیئے۔

یہودیوں کو اپنی تمام ملکیت ساتھ لے جانے کی اجازت تھی بشرطیکہ یہ سونا، چاندی یا کرنسی کی شکل میں نہ ہو (یعنی وہ اپنے برتن، بستر وغیرہ جتنے اٹھا سکتے تھے ساتھ لے جا سکتے تھے)۔ جیسا کہ اگلے صفحات میں ذکر کیا گیا ہے ۱۴۹۲ء تک یورپ کا شاید ہی کوئی عیسائی ملک ہو جہاں سے یہودی نکالے جانے کا شرف حاصل نہ کر چکے ہوں۔ لیکن ان کا سپین سے نکلا جانا ایک لحاظ سے خصوصاً ”قابل ذکر ہے۔ انسان کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر وطن سے نکلا جانا ہر حال میں بڑی کٹھن اور تکلیف دہ بات ہوتی ہے لیکن جیسا کہ کلیسا کی طرف سے ان پر

صفحہ ۸۵

لگائی گئی پابندیوں اور قوانین سے ظاہر ہے‘ یورپ کے تمام عیسائی ملکوں میں ان سے کتوں سے بھی بدتر سلوک ہوتا رہا ہے۔ اس کے برعکس اندلس میں انہوں نے مسلمانوں کے تحت جس طرح تقریباً آٹھ سو سال کا اپنی تاریخ کا سنہری دور گزارا تھا (The Golden Period in Spain Universal Jewish Encyclopedia : p.398 ) اور جس طرح وہاں ان کی دولت کے حیران کن واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں اور جس طرح یہ وہاں مسلمان حکمرانوں کے درباروں میں وزیر حتی کہ وزیر اعظم کے عہدوں پر فائز رہتے رہے تو ان تمام چیزوں کے بعد سپین سے ان کا نکالا جانا کچھ اور ہی بات ہوگی اور وہ بھی اپنا تقریباً سب کچھ چھوڑ کر۔ سپین میں مسلمانوں کے اقتدار کے خاتمے اور ان کے ناپید ہونے میں یہودیوں کا ایک خاص کردار تھا۔ لیکن یہ کیا کردار تھا؟ اس راز کا علم یا تو خدا کو ہے یا شاید کسی حد تک یہودیوں کے اپنے عالموں کو۔ ہم یہاں اس بارے میں یقین کے ساتھ صرف کچھ تاریخی شواہد کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ سپین میں مسلمان حکمرانوں اور امراء کے محلات میں بہم پہنچائی جانے والی کنیزوں‘ خواجہ سراؤں اور غلاموں کی تجارت پر یہودیوں کا تقریباً کلی کنٹرول تھا۔ اس کے علاوہ ان کا ریشم اور قیمتی جواہرات کی تجارت پر بھی کافی کنٹرول تھا۔ الغرض اپنی چار ہزار سالہ مخصوص تاریخ میں سپین کے آٹھ سو سالہ سنہری دور کو گزار کر جب یہ قوم فرڈیننڈ اور ازابیلا کے حکم سے ۱۴۹۲ء میں وہاں سے نکالی گئی تو ان تمام حقائق کی بنا پر جو شان و شوکت اس کے سپین سے نکلنے میں ہوگی وہ یورپ کے کسی دوسرے ملک سے نکلنے میں تو نہیں ہوگی۔ دوسری اہم بات اس بارے میں یہ ہے کہ یورپ کے باقی تمام ملکوں سے نکلنے کے ایک دو صدی بعد یہ لوگ وہاں پھر گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن سپین میں ان کو دوبارہ داخلہ کی اجازت ۱۸۳۴ء تک نہ ملی۔ بلکہ وہاں غالباً ”ابھی تک ان پر مذہبی یا اور کسی قسم کا اجتماع کرنے کی پابندی ہے۔ اس آٹھ سو سال کے سنہری دور کے بغیر جس کا اعتراف یہودیوں کے اپنے مورخین کرتے ہیں یہ قوم آج ساری دنیا میں سازشوں کا جال بچھانے کے قابل ہونا تو درکنار شاید صفحہ ہستی سے ہی مٹ چکی ہوتی۔

اولئک الذین لعنہم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجد لہ نصیرا

ان لوگوں پر اللہ کی طرف سے لعنت کی پھٹکار ہے۔ اور جس پر خدا نے لعنت کر دی اس کا کوئی مددگار تم نہ پاؤ گے۔ (سورہ نساء - ۵۲)

صفحہ ۸۶

۱۴۹۲ء کا دوسرا اہم واقعہ ملکہ ازابیلہ اور شاہ فرڈنینڈ کی زیر سرپرستی ترتیب دی گئی مہم پر کولمبس کا ہندوستان کے لئے مغربی سمندری راستہ تلاش کرنے کے لئے روانہ ہونا اور اس دوران نئی دنیا کی دریافت ہے۔

بہر حال اس انتہائی مختصر تاریخی خاکے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہم واپس اندلس کے مسلمانوں کی طرف آتے ہیں۔ ۱۴۹۲ء میں سقوطِ غرناطہ کے وقت ملکہ ازابیلہ اور شاہ فرڈنینڈ کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا صلیب پرستوں نے جیسے تیسے اپنی جبلت پر جبر کر کے پانچ سال اس معاہدے کی پابندی کرتے گزارے۔ اس دوران مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شمالی افریقہ ہجرت کر گئی۔

۱۴۹۵ء میں ملکہ ازابیلہ کا ذاتی ”معترف کلیسا“ (Confessor Personal) خمنیش ڈی سنروز (Ximenez de Cisneros) طلیطلہ کا اسقفِ اعظم (Archbishop) مقرر ہوا اور اس طرح وہ سپین میں پوپ الیگزنڈر ششم کا نمائندہ اور کلیسا کا اعلیٰ ترین عہدہ دار بنا۔ قبل اس کے کہ ہم سپین کے مسلمانوں کی تاریخ کے باقی خونچکاں واقعات قلمبند کریں‘ یہاں پوپ الیگزنڈر ششم اور ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے متعلق چند بنیادی اور تعارفی باتیں لکھنا ضروری ہے۔

پوپ الیگزنڈر ششم یکم جنوری ۱۴۳۱ء کو سپین کے مشہور شہر بلنسیہ میں پیدا ہوا۔ ۱۴۵۹ء میں وہ کارڈینل (Cardinal) اور ۱۴۸۰ء میں ویٹیکن (Vatican) میں وائس چانسلر یعنی پوپ کے بعد کلیسا کا اعلیٰ ترین عہدہ دار بنا اور ۱۴۹۲ء میں پوپ چُنا گیا۔

۱۴۹۸ء میں ایک روز پوپ الیگزنڈر ششم نے اپنے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے مطابق ابدی شہر (Eternal City) یعنی ویٹیکن میں جنسی خرمستیوں کی ایک محفل بڑی دھوم دھام سے منعقد کی۔ جنسی خرمستیوں کی اس محفل میں دوسرے عمائد و اکابر کلیسا کے علاوہ پوپ کا چہیتا ولدالزنا بیٹا سیزر (Cesare) اور چہیتی ولدالزنا بیٹی لکریشیا (Lucretia) بھی شریک تھی۔ جنسی خرمستیوں کی اس محفل کے نتیجے میں پوپ کی بیٹی لکریشیا نے ایک ولدالزنا بچے کو جنم دیا۔ ۱۵۰۱ء میں پوپ الیگزنڈر ششم نے فرمانِ کلیسا (Bull) جاری کیا جس کے مطابق اس ولدالزنا بچے کا والد لکریشیا کا بھائی کارڈینل سیزر (Cardinal Cesare) تھا لیکن

صفحہ ۸۷

اس کے کچھ عرصہ کے بعد پوپ الیگزینڈر ششم نے دوسرا فرمانِ کلیسا (Bull) جاری کیا جس کے مطابق اس نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے اس ولدالزنا نواسے کا باپ خود ہے (Britannica Encyclopedia)۔ پوپ الیگزینڈر ششم کی اپنے "نیو ورلڈ آرڈر" کے مطابق چار تو تسلیم شدہ ناجائز اولادیں تھیں جن میں سے دو کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ پوپ کی غیر تسلیم شدہ کتنی ناجائز اولادیں تھیں؟ اس کا علم صرف خدا کو ہی تھا۔ پوپ الیگزینڈر ششم نے اس کے بعد اپنے "نیو ورلڈ آرڈر" کے مطابق اپنی بیٹی لکریشیا کا مزید استعمال اس طرح کیا کہ یورپ کے جس شاہی دربار میں بھی اسے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی اس نے لکریشیا کی شادی اس شاہی دربار کے کسی اہم شخص سے کر دی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد اگر پوپ کو کسی دوسرے ملک کے شاہی دربار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے پہلی شادی منسوخ کر کے اس کی شادی اس دوسرے دربار کے کسی اہم شخص سے کر دی۔ پوپ الیگزینڈر ششم کا ولدالزنا بیٹا کارڈینل سیزر (Cardinal Cesare) اپنی چالوں، ریشہ دوانیوں اور خفیہ وارداتِ قتل کی بنا پر وہی شخص ہے جس کو مغرب کے مشہور مفکر اور مدبر میکاولی (Macchiavelli) نے ماڈل بنا کر اپنا شاہکار "دی پرنس" (Prince The) نامی کتاب لکھی جو "نیو ورلڈ آرڈر" کے بنیادی ستون کی حیثیت سے نہ صرف مغربی رہنماؤں اور سیاستدانوں کا عملی صحیفہ ہے بلکہ ہمارے "نیو ورلڈ آرڈر" کے حامی لیڈروں اور سیاستدانوں کے لئے بھی قرآن اور حدیث کی بجائے مشعلِ راہ ہے، جس کی وجہ سے ملک ایک بار ٹوٹنے کے بعد پھر دہشت گردی اور قتل و غارت کی دنیا میں سر فہرست آ گیا ہے۔ مزید عراق میں "نیو ورلڈ آرڈر" کا عظیم عالمی ناٹک ابھی ختم نہیں ہوا اور ایک طرف اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بڑا پُر اعتماد بیان دے دیا کہ "عظیم تر اسرائیل" وجود میں آ چکا ہے۔ اور دوسری طرف ملکہ ازابیلا کو سینٹ (ولی اللہ) بنانے کی تحریک شروع ہو گئی ہے کیونکہ اسی ملکہ نے سپین میں اسلام کی بیخ کنی کر کے وہاں پوپ الیگزینڈر ششم کا "نیو ورلڈ آرڈر" نافذ کیا تھا۔ اور اب اس "نیو ورلڈ آرڈر" کے دنیا پر نافذ کرنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ میکاولی کی کتاب (Prince The) کا مطالعہ کرنے والوں میں وزیروں، بادشاہوں، سیاستدانوں اور حکمرانوں کی ایک لمبی قطار ہے جو اقتدار حاصل کرنا یا بڑھانا چاہتے تھے۔ ان مختلف لوگوں میں فرانس کا رشلو، سویڈن

صفحہ ۸۸

کی کرسٹینا‘ جرمن کے فریڈرک‘ بسمارک اور کلیمینچو وغیرہ سرفہرست ہیں بیسویں صدی میں مسولینی نے اس کی کتاب کو اپنی ڈاکٹریٹ کے (Thesis) کا موضوع بنایا۔ ہٹلر بھی اس کتاب کو مطالعہ کیلئے اکثر اپنے سرہانے رکھتا تھا۔ میکس لرنر کے مطابق لینن اور سٹالن بھی میکاولی کے شاگردوں میں سے تھے۔ اس بارے میں ایک قابل ذکر اور قابل غور بات یہ ہے کہ جس طرح سپین میں پوپ الیگزنڈر ششم کا ”نیو ورلڈ آرڈر“ مسلمان ملوک الطوائف کے نادانستہ تعاون سے نافذ ہوا تھا اسی طرح آج بھی دنیا میں یہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ اکثر و بیشتر مسلمان حکمرانوں کے تعاون سے نافذ ہو رہا ہے جیسا کہ ایران عراق جنگ اور اس کے بعد خصوصاً عراق پر حملے کے واقعات سے ظاہر ہے۔

متعلق اس واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ سلطان التمش کے پیرو مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے وصال کے موقع پر نماز جنازہ کے وقت جب ان کی اس وصیت کا اعلان ہوا کہ ان کی نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے جس نے کبھی زنا نہ کیا ہو‘ جس کی کبھی تکبیر اولیٰ نہ فوت ہوئی ہو اور جس نے نماز عصر کی سنتیں کبھی نہ چھوڑی ہوں تو مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا۔ جب تک کہ قدرے تامل اور انتظار کے بعد نماز جنازہ کی امامت کے لئے بادشاہ وقت سلطان التمش مجمع میں سے خود آگے نہ بڑھا۔

جس طرح دین حق کے انتہائی پرانے نظام کے کچھ بنیادی ستون ہیں مثلاً توحید‘ رسالت۔ اسی طرح ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے بھی کچھ بنیادی ستون ہیں۔ اس میں اولین پوپ کا ”منزہ عن الخطاء“ اور مطاع ہونا ہے۔ یعنی پوپ ہمیشہ غلطی سے بالاتر ہوتا ہے۔ اس لئے ہر صلیب پرست کا یہ اولین فریضہ ہوتا ہے کہ وہ پوپ‘ اس کے نائبین اور تمام عہدہ داران کلیسا کی بلا چون و چرا اطاعت و تقلید کرے‘ چاہے پوپ کا تعلق عصمت فروشی کرنے والے کرسنٹی (Crescenti) خاندان سے ہو‘ چاہے پوپ کلیمینٹ ہفتم (VII Clement) کی طرح خود ولدالزنا ہو یا وہ پوپ الیگزنڈر ششم کی طرح اپنے ہی جاری کردہ فرمان کلیسا (Bull) کے مطابق خود اپنے نواسے کا حقیقی باپ ہو‘ چاہے پوپ نے جعلی تمسکات کے ذریعہ سارے یورپ کو اپنی جاگیر قرار دے دیا ہو‘ جیسا Constantine of

Donation کے مشہور کاغذات کی اختیارات و فوائد حاصل کر رکھے ہ دستاویزات جو مختلف پوپ اپنے اپن آرڈر" کے مطابق انتہائی جلیل القد بانڈ) مرتکب ہونے کی وجہ سے ق منسوب ہیں‘ لیکن پوپ اور اس ک باپ ہوتے ہیں مثلاً (نقل کفر‘ کفر نب

کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد اسرائیل کے انبیاء کے طویل سلس کے۔ (پیدائش ۱۹: ۳۳ تا ۳۸)

اولاد ہونا۔

قتل کرانا‘ اس کے نتیجے میں خدا ک میں بنی اسرائیل کے سامنے اپن

بیٹے کا اپنی بہو سے زنا اور اس ک بلکہ دوسرے بیٹے کو مرتے وقت

(۴۹:۸ : ۴)

کفر و شرک جنسی ملاپ‘ زنا‘ قتل ناحق‘ جھوٹ چوری‘ رہزنی کے ساتھ یہود و نص (حضرت ہوسیعؑ) کو ایک بدکار

صفحہ ۸۹

Donation کے مشہور کاغذات کی رو سے ہے یا جعلی دستاویزات کے ذریعہ اور بہت سے اختیارات و فوائد حاصل کر رکھے ہوں جیسا کہ مندرجہ بالا دستاویز اور دوسری بہت سی دستاویزات جو مختلف پوپ اپنے اپنے دور میں جعل سازی سے تیار کرتے رہے۔ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے مطابق انتہائی جلیل القدر انبیاء و رسل تو ان تمام انتہائی قبیح و شنیع کاموں کے (نعوذ باللہ) مرتکب ہونے کی وجہ سے تو معصوم نہیں ہیں جو ان سے بائبل میں بیسیوں مقامات پر منسوب ہیں‘ لیکن پوپ اور اس کے گماشتے مندرجہ بالا کارناموں کے باوجود معصوم اور مقدس باپ ہوتے ہیں مثلاً (نقل کفر کفر نہ باشد)

کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد موآب‘ عمون وغیرہ جو بعد میں مبعوث ہونے والے بنی اسرائیل کے انبیاء کے طویل سلسلے کے دادے‘ دادیاں‘ نانے‘ نانیاں بنے مع حضرت عیسیٰ کے۔ (پیدائش ۱۹: ۳۳ تا ۳۶)

اولاد ہونا۔

قتل کرانا‘ اس کے نتیجے میں خدا کی طرف سے حضرت داؤدؑ کو یہ سزا کہ ان کا بیٹا دن کی روشنی میں بنی اسرائیل کے سامنے اپنے باپ کی بیویوں سے زنا کرتا تھا۔ (۲سیموئیل : ۱۱)

بیٹے کا اپنی بہو سے زنا اور اس کے باوجود اس عظیم نبی کا اپنے ان دونوں بیٹوں کو کوئی سزا نہ دینا۔ بلکہ دوسرے بیٹے کو مرتے وقت برکتوں والی دعا سے نوازنا۔ (پیدائش ۳۵ : ۲۲‘ ۳۸ : ۱۸ تا ۴۹ : ۴)

کفر و شرک‘ محارم اور ذوی القربیٰ کے ساتھ زنا‘ ہم جنسی‘ بہائم کے ساتھ جنسی ملاپ‘ زنا‘ قتل ناحق‘ جھوٹ‘ دھوکہ‘ فریب وغیرہ وہ اعمال شنیعہ ہیں جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر نبی کے ساتھ یہود و نصاریٰ کی مقدس کتابوں میں منسوب ہے۔ اور تو اور خدا خود نبی (حضرت ہوسیعؑ) کو ایک بدکار عورت سے زنا کا حکم دیتا ہے۔ (ہوسیع ۱: ۲-۹)۔ دراصل یہ

صفحہ ۹۰

مکروہ افعال چونکہ یہود و نصاریٰ خصوصاً ان کے عمائد میں عام رہے ہیں‘ چنانچہ انہوں نے انہیں جائز قرار دینے کیلئے مقدس صحیفوں میں تحریف کر کے انہیں انبیاء سے منسوب کر دیا ہے۔ جب انسانوں کو ہدایت دینے کیلئے اس دنیا میں بھیجے گئے انسان ہی ایسے گھناؤنے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ خدا خود (نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق) انہیں ان کا حکم دیتا ہے تو پھر اخلاقی قوانین‘ فرد اور معاشرے کے فضائل کی کیا قیمت باقی رہ جاتی ہے۔ صرف اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقیدہ‘ شریعت‘ سلوک اور ادب کے لحاظ سے ہر عیب لگانے والی چیز سے پاک اور بالاتر ہے۔ دیگر مذاہب اس دین حق کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ یہ دین حق اللہ کی وحدانیت‘ اس کے کمال مطلق‘ ایمان بالرسل اور ان کے انسانی کمال اور گناہوں سے منزہ ہونے‘ کتب سماویہ‘ تقدیر خیر و شر‘ بعثت بعد الموت‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیادوں پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات و صفات اور اقوال و اعمال میں یکتا مانتا ہے۔ اس کے سوا کسی ہستی میں الوہیت کو تسلیم نہیں کرتا اور دیگر مصنوعی خداؤں کا انکار کرتا ہے۔

"Nothing in the world should escape the attention and control of sovereign Pontiff" said Pope Innocent III "The vicar of Christ, less than God but more than man".

پوپ معصوم سوم کا مشہور قول ہے کہ ”اس دنیا میں کوئی بھی شے پوپ مہاراج کی توجہ اور کنٹرول سے باہر نہیں ہونی چاہئے۔ یسوع مسیح کا خلیفہ خدا سے کمتر لیکن انسان سے بالاتر ہے۔“

بشپ فاروس بیلاجیوس (Bishop Pilage Belageus) جو ۱۳۰۰ء میں پرتگال کے علاقے کا بشپ رہا ہے یوں رقمطراز ہے ”کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلیسا والے پاک دامنی کی منت نہ مانتے۔ بالخصوص سپین کے اہل کلیسا اس قسم کی پابندی عائد نہ کرتے۔ اس لئے کہ رعیت کی اولاد اس علاقے میں راہبوں اور پادریوں کی اولاد سے شمار میں کچھ ہی زیادہ ہے“۔ اور پندرہویں صدی کا اسقف جان سالٹز بورگ (John Saltz Bourg) کہتا ہے کہ میں نے بہت تھوڑے راہب اور پادری پائے ہیں جو عورتوں کے ساتھ حرامکاری کے عادی نہ ہوں۔ اور راہباؤں کی خانقاہیں رنڈیوں کے چکلوں کی طرح حرامکاری کے اڈے بنی

ہوئی ہیں۔ تقریباً اسی زمانے کی ایک نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں جس کی سوائے اپنی انگلیوں کے سروں کے۔ اور یہ ایک مشہور روایت ب کے متعلق اکثر کہا کرتی تھی کہ اس کی ملکہ کیتھرائن اعظم کے متعلق کی وجہ سے جس روزہ جان جلی مطابق ایک نیا جوان اس کی خو (Rasputin) کیسانووا (nova ہیں۔ (آخر کئی کیلی (Kelly ”مائی فیوڈل لارڈ“ جیسی کتابوں کرشمہ سازیوں میں کتنا فرق ہ سکتا ہے؟

آیئے اب اپنا ”نیو ورلڈ آرڈر“ کیسے نافذ شکل کا آئندہ کیسے نفاذ ہو گا۔

پوپ الیگز میں کلیسا کے افسر اعلیٰ شمینش کے رجسز خبیث کو دنیا میں پھ حماموں کے استعمال کی ممانعت کر کی۔ شمینش خود اپنے ج ایک عام طریقہ یہ تھا کہ وہ ورلڈ آرڈر“ کے مقدس م سے کوئی اثر نہیں ہوتا

صفحہ ۹۱

ہوئی ہیں۔ تقریباً اسی زمانے کی ایک پادری عورت اکثر بڑے فخر سے یہ اعلان کرتی تھی کہ اس نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں جسم کے کسی بھی حصہ کو صاف کرنے کی ”کافرانہ“ حرکت نہیں کی سوائے اپنی انگلیوں کے سروں کو رسم عشاء ربانی (Eucharist) کے موقع پر صاف کرنے کے۔ اور یہ ایک مشہور روایت ہے کہ فرانس کے شاہ لوئی کی ایک منہ پھٹ قسم کی داشتہ اس کے متعلق اکثر کہا کرتی تھی کہ اس کے جسم سے گلی سڑی لاش جیسی بدبو آتی ہے۔ اور روس کی ملکہ کیتھرائن اعظم کے متعلق روایت ہے کہ تقریباً ۶۷ سال کی عمر میں دماغ کی شریان پھٹنے کی وجہ سے جس روز وہ جان جان آفرین کے سپرد کر رہی تھی اس روز بھی اس کے معمول کے مطابق ایک نیا جوان اس کی خدمت میں حاضر تھا۔ اور ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے راسپوٹین (Rasputin) کیسانووا (Casanova) اور ساڈ (Sade) وغیرہ جیسی شخصیتیں اس کے علاوہ ہیں۔ (آخر کٹی کیلی (Kitty Kelly) کی سابق امریکی صدر ریگن کی اہلیہ کی سوانح عمری اور ”مائی فیوڈل لارڈ“ جیسی کتابوں میں درج پاکستان کے حکمران طبقہ میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی کرشمہ سازیوں میں کتنا فرق ہے؟۔ ملکہ ازابیلہ کو سینٹ بنانے کا اس سے بڑا جواز اور کیا ہو سکتا ہے؟

آئیے اب دیکھیں ملکہ ازابیلہ نے سپین میں دین حق کی بیخ کنی کر کے وہاں اپنا ”نیو ورلڈ آرڈر“ کیسے نافذ کیا تاکہ ہمیں کچھ اندازہ ہو سکے اس ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی جدید شکل کا آئندہ کیسے نفاذ ہو گا۔

پوپ الیگزینڈر ششم جس کا ذکر خیر اوپر ہو چکا ہے کے نمائندے اور سپین میں کلیسا کے افسر اعلیٰ خمینیش (Ximenez) نے پوپ الیگزینڈر ششم کے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے رجس و خبث کو دنیا میں پھیلانے کی مہم کی ابتدا مسلمانوں کے لئے غرناطہ میں ان کے عوامی حماموں کے استعمال کی ممانعت کے متعلق شاہ فرڈینینڈ اور ملکہ ازابیلہ کا شاہی فرمان جاری کروا کر کی۔ خمینیش خود اپنے جسم کی صفائی جیسے ”کافرانہ“ فعل کا کبھی مرتکب نہیں ہوا تھا۔ اس کا ایک عام طریقہ یہ تھا کہ وہ بنیاد پرستوں کے علمائے دین کو اکٹھا کر کے انہیں سمجھاتا تھا کہ وہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے مقدس رجس و خبث کو اختیار کر کے اسے اپنے حلقہ اثر میں پھیلائیں۔ اگر اس سے کوئی اثر نہیں ہوتا تھا تو اس نے اپنے آدمی مقرر کئے ہوئے تھے۔ جوان ڈی ویلیجو

صفحہ ۹۲

(Juan de Vallejo) اپنی تصنیف ”میموریل“ (Memorial) میں لکھتا ہے کہ اگر یہ حربہ کامیاب نہیں ہوتا تھا تو پھر وہ کیا کرتا تھا۔ ”انہیں (علمائے دین کو) پکڑ کر تبلیغ کرنے اور ان سے ہمارا مقدس کیتھولک مذہب اختیار کرانے کے لئے اس نے کچھ لوگوں کو نامزد کیا، خصوصاً اپنے ایک پادری جس کا نام Leon (یعنی ببر شیر) تھا اور جو کہ واقعی اسم با مسمی تھا۔ جو لوگ اس کے ہتھے چڑھ جاتے تھے چاہے وہ اپنے عقیدے کے کتنے ہی پکے اور کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، چار پانچ روز اس کے رحم و کرم پر گزار کر وہ خود ہی پکارتے ہوئے برآمد ہوتے تھے کہ ہم عیسائی ہونا چاہتے ہیں۔“

ادھر شاہ فرڈنینڈ کے ذاتی ”معترف کلیسا“ (Confessor) طور قماطہ (Torquemata) کو پوپ نے ۱۴۸۳ء سے اپنے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے نفاذ کے لئے سپین میں کلیسا کی عدالتوں کا روحانی محتسب اعلیٰ Grand Inquisitor مقرر کیا ہوا تھا۔ اس نے سپین میں جابجا کلیسا کی یہ روحانی عدالتیں Inquisitions قائم کر دیں۔ کلیسا کی ان روحانی عدالتوں کے متعلق چند بنیادی باتیں مختصراً اگلے باب میں تحریر کی گئی ہیں، یہاں صرف یہ بتانا ضروری ہے کہ حکومت کے سپاہی اور کلیسا کی ان عدالتوں کے گماشتے اکثر مسلمانوں کے گھروں میں گھس جاتے اور نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ان کی دولت، عزت و آبرو پر حملے ہونے لگے۔ اندلس کے مشہور شہر بلنسیہ (جو پوپ الیگزنڈر ششم کا جائے پیدائش تھا) کے نزدیک ایک قصبہ کی مسلمان آبادی کی یہ فریاد اور شکایت خود عیسائی سوانح نگار تحریر کرتے ہیں کہ وہاں کے پادری کو وہاں سے ہٹایا جائے کیونکہ اس کے اس قصبہ میں تقرر کے بعد وہاں تمام بچے اس پادری کی طرح نیلی آنکھوں والے پیدا ہو رہے تھے۔ خیمنیش اور طور قماطہ کے آدمی مسلمانوں کو پکڑ کر تکواروں کی نوکوں سے ریوڑوں کی طرح ہنکاتے کلیسا لے جاتے اور انہیں زبردستی گھٹنوں کے بل جھکا کر اصطباغ دیتے۔ اس کے بعد صلیبی مذہب کی خلاف ورزیوں اور رسومات میں فروگزاشتوں پر انہیں پکڑ کر شہر کے چوراہوں میں لے جایا جاتا جہاں ان کے منہ پر تھوک کر انہیں کنکر مار کر اور دوسرے کئی طریقوں سے ان کی تذلیل کی جاتی، اور انہیں اذیت دی جاتی۔ معمولی لغزشوں پر جائیداد کی ضبطی، عمر قید بلکہ سولی پر لٹکا کر جلانے تک کی سزائیں دی جاتیں۔ جس شہر اوری ہیولا Orihuela کی فصیل پر تقریباً آٹھ سو سال قبل مشہور عیسائی

کمانڈر تدمیر (Theudmir) شہر نصیر کے ساتھ ایک عجیب چال کی، کے پادری نے مسلمان آبادی کو حکم انہیں پوپ الیگزنڈر ششم کے ” سہولت ہو۔

اسی اسقف خیمـ مسلم دور کے علوم و فنون اور فلسفـ کی (Alcala de Henares) آتش کر دیا گیا۔ اور اس کے ساتھ کے جذبات مشتعل ہونا لازمی بات نے خمینیش کے ایک گماشتے سالیـ لئے یہ ایسے تھا جیسے بلی کے بھاگوں کا اچھا بہانہ سمجھا۔ چنانچہ اب مسلمـ اطاعت یا پھر صلیب پر لٹکا کر جلا جانے لگے جس سے بغاوت اور سیرن (Count of Sirin) حفاظت کے لئے اپنی خواتین اور بـ مشہور شہر بلنسیہ میں سخت بغاوت کیا۔ ان میں سے دو ہزار شہید ہو

شاہ فرڈنینڈ جـ مسلمانوں کو اپریل کے آخر تک اـ آرڈر“ کا رجز و خبث اختیار کـ در حقیقت مسلمانوں کو صرف اـ بھی انہیں ملک چھوڑ کر جانـ

صفحہ ۹۳

کمانڈر تدمیر (Theudmir) شہر کی عورتوں کو بٹھا کر مسلمان کمانڈر عبدالعزیز بن موسیٰ بن نصیر کے ساتھ ایک عجیب چال کی بنا پر مسلمانوں کے رحم و کرم سے فیض یاب ہوا تھا، اسی شہر کے پادری نے مسلمان آبادی کو حکم دیا کہ وہ عربی کو چھوڑ کر قشتلی زبان سیکھیں تاکہ پادریوں کو انہیں پوپ الیگزینڈر ششم کے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے ”مقدس“ رجز و خبث کا درس دینے میں سہولت ہو۔

اسی اسقف شمنیش نے ایک فرمان جاری کیا جس کی رو سے اندلس کے مسلم دور کے علوم و فنون اور فلسفہ کی تمام کتابیں اس اسقف کی اپنی قائم کردہ القلعہ ڈی ہنیرز (Alcala de Henares) کی یونیورسٹی کو منتقل کر دی گئیں۔ اور تمام مذہبی کتابوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اور اس کے ساتھ مسجدوں کو گرجوں میں بدل دیا گیا۔ اس پر بنیاد پرست لوگوں کے جذبات مشتعل ہونا لازمی بات تھی۔ چنانچہ البیاضین کے قصبہ میں بغاوت ہوئی اور لوگوں نے شمنیش کے ایک گماشتے سالسیڈو (Salcido) کو قتل کر دیا۔ شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلہ کے لئے یہ ایسے تھا جیسے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ انہوں نے اسے معاہدہ کی شقوں کو موقوف کرنے کا اچھا بہانہ سمجھا۔ چنانچہ اب مسلمانوں کے آگے صلیب تھام کر پوپ اور اس کے گماشتوں کی اطاعت یا پھر صلیب پر لٹکا کر جلائے جانے میں سے کسی ایک کے انتخاب کے پروانے رکھے جانے لگے جس سے بغاوت اور بھی پھیل گئی۔ ایک جگہ عیسائی فوج کے کمانڈر کاؤنٹ آف سیرن (Count of Sirin) نے ایک مسجد کو، جس میں پورے ضلع کے مسلمانوں نے حفاظت کے لئے اپنی خواتین اور بچوں کو جمع کر دیا تھا بارود سے اڑا دیا۔ پوپ کے جائے پیدائش مشہور شہر بلنسیہ میں سخت بغاوت ہوئی۔ چار ہزار مسلمانوں نے پچاس ہزار عیسائی فوج کا مقابلہ کیا۔ ان میں سے دو ہزار شہید ہوئے اور باقی زخمی۔

شاہ فرڈنینڈ نے ۱۱ فروری ۱۵۰۲ء کو شاہی فرمان جاری کیا۔ اس کی رو سے مسلمانوں کو اپریل کے آخر تک اس چیز کی مہلت دی گئی کہ یا تو وہ دین حق کو چھوڑ کر ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا رجز و خبث اختیار کریں یا پھر ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ مورخین کے مطابق در حقیقت مسلمانوں کو صرف ایک انتخاب دیا گیا تھا کیونکہ بڑی بھاری رقمیں ادا کرنے کے بعد بھی انہیں ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ نتیجتاً اکثر مسلمانوں کو زبردستی

صفحہ ۹۴

اصطباغ دیا گیا۔ شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی پوپ الیگزینڈر ششم کے نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کے لئے ان تمام خدمات اور کارناموں کی بنا پر پوپ نے انہیں ”کیتھولک فرمانروا“ (Rey Catolico) کے خطاب سے نوازا اور وہ تاریخ کی کتابوں میں آج تک اسی لقب سے یاد کئے جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ چند ہفتے پیشتر کی خبروں کے مطابق ملکہ ازابیلا کو اب یعنی اس کی موت کے تقریباً پانچ سو سال بعد ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے تحت پوپ کی طرف سے ”ولی اللہ“ (Saint) بنانے کی تحریک ہوئی تھی۔

جب مسلمانوں کو پوپ الیگزینڈر ششم کے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے تحت زبردستی اصطباغ دیا جاتا تو ان میں سے وہ جن کے باطن سے کانونٹ یا کیتھڈرل سکولوں جیسی تعلیم یا اور کسی وجہ سے ”اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی“ کے نقش مٹ نہیں چکے ہوتے تھے ان کی طبیعت فطری طور پر پوپ الیگزینڈر ششم، اس کے نائبوں اور گماشتوں کی اطاعت و تقلید میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے رجس و خبث کو اپنانے سے اباء کرتی۔ چنانچہ یہ توحید پرست اور بنیاد پرست گھر آتے ہی غسل کر کے اپنے اوپر سے یہ نجاست دور کرتے۔ انہیں شادی وغیرہ کی رسومات گرجوں میں عیسائی مذہب کے مطابق ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا تو گھر آکر چھپ کر دوبارہ یہ رسومات اسلامی طریقے سے ادا کرتے۔ چھپ چھپ کر اسلامی وضو اور طہارت بھی کرتے اور رو رو کر نماز اور قرآن بھی پڑھ لیتے۔ لیکن کلیسا کی روحانی عدالت کے قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص ظاہری یا خفیہ طور پر ان کی مخبری ان عدالتوں (Inquisition) سے کر سکتا تھا۔ اس لئے جب بھی کسی شخص کے متعلق پتہ چلتا کہ وہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے رجس و خبث کو دلی طور پر اپنانے کی بجائے شراب اور خنزیر کے گوشت سے پرہیز کر رہا ہے یا اسلامی وضو و طہارت پر اب بھی کاربند ہے تو اس کی خبر جلد یا بدیر کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) کو پہنچ جاتی اور پھر یہ روحانی عدالتیں جو کارروائی کرتیں، اس کے متعلق بنیادی باتیں اگلے باب میں تحریر کی گئی ہیں۔

لیکن اس مرحلے پر ”نیو ورلڈ آرڈر“ والوں کا مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے زوال کے باوجود انتہائی اچھے اور محنتی ہنرمند، کاریگر، اور کاشتکار تھے۔ چنانچہ جب ان قوانین کے تحت کلیسا کی روحانی عدالتوں میں طورقماط، اس کے گماشتوں اور جانشینوں کے ہاتھوں ان

صفحہ ۹۵

کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو کارخانے بند ہونے شروع ہو گئے اور زمینیں بنجر اور ویران۔ لامحالہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ والوں کے لئے انہیں وقتی طور پر کچھ ڈھیل دینا ناگزیر ہو گیا۔

یہ قوانین شاہ فرڈنینڈ اور ملکہ ازابیلا کے نواسے اور جانشین شاہ چارلس پنجم کے عہد میں مزید سخت کر دیئے گئے۔ ۱۵۲۶ء میں Pragmatica کے نام سے نئے قوانین جاری ہوئے۔ یہ ایک سول ضابطہ تھا جس کا مقصد مسلمانوں کی نجی اور اجتماعی زندگی میں مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنا تھا۔ ان کی رو سے اصطباغ یافتہ مسلمانوں (Moriscoes) کی خواتین پردے کی مجاز نہ تھیں اور انہیں کھلے منہ گھر سے باہر نکلنا پڑتا۔ اسی طرح عربی زبان اور اسلامی لباس بھی غیر قانونی قرار دے دیئے گئے۔ عیسائی مرد اب بلا اجازت ان کے گھر میں داخل ہو سکتے تھے۔ مسلمان (Moriscoes) ان قوانین کی رو سے کلیسا کی روحانی عدالتوں (Inquisitions) کی چکی میں پس رہے تھے کہ ۱۵۲۶ء میں شاہ فلپ دوم نے مزید نئے احکامات جاری کئے۔ ان کی رو سے سابقہ پابندیوں کے علاوہ عربی کی تمام کتب حکومت کے حوالے کرنا، عربی میں تمام قانونی کاغذات کا کالعدم قرار دیا جانا، عورتوں کے لئے نقاب کی ممانعت، مسلمانوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے جمعہ، ہفتہ اور شادی بیاہ کے موقعوں پر کھلا رکھنے کی پابندی اور حماموں کو بند کرنا۔ مسلمانوں، ان کی عورتوں اور بچوں کے لئے عیسائی مذہبی رسومات میں شرکت کا لازمی قرار دیا جانا، عربی زبان چھوڑ کر ہسپانوی زبان سیکھنا، عربی نام ترک کر کے عیسائی نام اور اسلامی لباس چھوڑ کر سپینی لباس اختیار کرنا شامل تھے۔ ان قوانین پر پہلے سے بھی زیادہ سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔ شاہ فلپ دوم نے یہ واضح کرنے کے لئے کہ کلیسا اور اس کی حکومت ”مقدس رعب و ہیبت“ عائد کرنے میں کتنی سنجیدہ ہے، اپنی اس ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی مہم کا افتتاح الحمراء کے عوامی خوبصورت حماموں کو خود مسمار کر کے کیا۔

اس دفعہ ان قوانین پر زیادہ سختی سے عملدرآمد ہوا۔ جہاں کہیں اصطباغ یافتہ مسلمان شراب یا خنزیر کے گوشت سے پرہیز کرتے یا اسلامی طہارت پر عمل پیرا یا اس طرح کا کوئی اور اسلامی کام کرتے ہوئے یا اس کے شک میں پکڑے جاتے تو انہیں ارتداد کے جرم میں کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) شہر یا آبادی کے بڑے چوراہے میں مجمع کے سامنے سولی پر لٹکا کر جلانے کی سزا دیتی۔ اور اگر ان کے معافی مانگنے اور آئندہ کے لئے ایسے گناہ

صفحہ ٩٦

سے باز رہنے کا حلف اٹھانے کے عوض ان سے کلیسا کا خاص رحمدلانہ سلوک کرنا ہوتا تو پھر ان کی جائیدادیں ضبط کر کے انہیں قید میں ڈال دیا جاتا۔ نتیجتاً ”شہر شہر اور قریہ قریہ الاؤ جلانے کی کلیسا کی شاندار تقریبات منعقد ہونے لگیں۔ ان تقریبات کو جن میں مسلمانوں کو سولی پر لٹکا کر جلایا جاتا تھا 'Auto de Fe' یعنی ”عمل ایمانی“ کہا جاتا تھا اور ان کی بڑی مخصوص رسومات ہوتی تھیں جن کا ایک لازمی جزو ”مجرموں“ کی دین مسیحیت نہ اپنانے کے ”جرم“ میں بھرپور تذلیل تھی یعنی آگ لگنے سے پہلے صلیبی مجمعے کا ان پر تھوکنا اور آگ کے شعلے ان کے جسموں سے بلند ہوتے ہی صلیبی مجمعے کا قہقہے لگانا۔ اور اگر کوئی مجرم یہ عذر پیش کرتا کہ ہمیں اصطباغ زبردستی دیا گیا تھا تو اس کا جواب مادر کلیسا کی طرف سے یہ ہوتا تھا کہ جب موت کی سزا اور اصطباغ دونوں میں سے ایک دفعہ اصطباغ کا انتخاب کر لیا تو پھر زبردستی کیسی؟۔

اس پکڑ دھکڑ کے نتیجے میں غرناطہ کے جنوب مشرق میں پہاڑی علاقہ البجارہ کے مسلمانوں نے بغاوت کر دی اور ان کے گھروں میں جو عیسائی فوجی بٹھائے گئے تھے، ان میں سے کئی ایک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ شاہ فلپ دوم نے کئی مہمیں اپنے سرکردہ جرنیلوں کے تحت بھیجیں۔ لیکن البجارہ کے مسلمان چونکہ مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے چنانچہ یہ سب ناکام ہوئیں۔ آخر اس نے اپنی وسیع سلطنت میں سے آسٹریا کے ڈان جوان (Don Juan) کو بلا کر اس کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا۔ وہاں مسلمانوں کے لیڈر ہرنانڈو ڈی ویلور (Harnando de Valor) نے جن کا اسلامی نام مولوی عبداللہ محمد ابن امیہ تھا اس دولاکھ سے بھی زائد عیسائی لشکر کا اپنے چند ہزار ساتھیوں کی مدد سے ان پہاڑی علاقوں میں بہت دیر مقابلہ کیا۔ لیکن پھر کسی ذاتی نزاع کے باعث قتل ہو گئے۔ اس کی جگہ اس کے چچا زاد ابن ابو نے لی جو کہ انتہائی شریف اور پاکباز شخص تھا۔ اس کے پاس صرف تین ہزار باقاعدہ تربیت یافتہ فوجی اور پانچ ہزار رضاکار تھے اور وہ ایک بڑے لشکر اور بھاری توپ خانے کے نرغے میں تھے۔ پھر بھی اس نے کئی مقامات پر ان کو شکست دی۔ شاہ فلپ دوم کے سوتیلے بھائی ڈان جوان نے اس مقولے کے ساتھ کہ ”کوئی رحم نہیں کیا جائے گا“ (No quarters) کارروائی شروع کی۔ پانچ ماہ تک البجارہ میں جگہ جگہ خون کی ندیاں بہتی رہیں اور ہر گاؤں مقتل بن گیا۔ لوگ جنگ بندی پر راضی ہو رہے تھے لیکن ابن ابو اس میں شریک نہ ہوا اور آخر اسے قتل کروا دیا

صفحہ ۹۷

اپنا خاص رحمدلانہ سلوک کرنا ہو تا تو پھر ان نتیجہ قصبہ قصبہ شہر شہر اور قریہ قریہ الاؤ جلانے کی تقریبات کو جن میں مسلمانوں کو سولی پر لٹکا کر منایا جاتا تھا اور ان کی بڑی مخصوص رسومات مذہب نہ اپنانے کے ”جرم“ میں بھرپور ان پر تھوکنا اور آگ کے شعلے ان کے اور اگر کوئی مجرم یہ عذر پیش کرتا کہ ہمیں طرف سے یہ ہوتا تھا کہ جب موت کی سزا قبول کر لیا تو پھر زبردستی کیسی؟۔ کے جنوب مشرق میں پہاڑی علاقہ البجارہ میں جو عیسائی فوجی بٹھائے گئے تھے، ان میں دوم نے کئی مہمیں اپنے سرکردہ جرنیلوں نے مارنے پڑتے ہوئے تھے چنانچہ یہ سب نے آسٹریا کے ڈان جوان (Don Juan) مسلمانوں کے لیڈر ہرنانڈو ڈی ویلور مولوی عبداللہ محمد ابن امیہ تھا اس دو لاکھ نے ان پہاڑی علاقوں میں بہت دیر گئے۔ اس کی جگہ اس کے چچا زاد ابن ابو پاس صرف تین ہزار باقاعدہ تربیت یافتہ بھاری توپ خانے کے نرغے میں تھے۔ ب دوم کے سوتیلے بھائی ڈان جوان نے (No quarters) کارروائی شروع ماریں اور ہر گاؤں مقتل بن گیا۔ لوگ ترک نہ ہوا اور آخر اسے قتل کر دیا گیا اور اس کا سر تیس سال تک غرناطہ کے برج کے دروازے پر لٹکا رہا۔ اس کے بعد مسیحیوں کے سالار اعلیٰ نے قتل عام، غارت گری اور آتش زنی کی ایک منظم مہم شروع کی۔ جو لوگ مزاحمت کر رہے تھے چونکہ وہ پہاڑوں کی غاروں میں چلے گئے تھے لہٰذا ان غاروں میں بھی آگ لگا دی گئی۔ ۵ نومبر ۱۵۷۰ء کو مسیحیوں کا All Saints Day کا تہوار مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ منایا گیا۔ جن لوگوں نے بغاوت کی تھی انہیں غلام بنا لیا گیا اور باقی کو افریقہ کی طرف دھکیل دیا گیا۔ ان میں سے اکثر سفر کی تکالیف سے راستے میں ہی ختم ہو گئے۔ جو وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان میں سے اکثر نے وہاں بھیک مانگ کر زندگی گزاری۔ البجارہ کی یہ دوسری بغاوت ۱۵۶۸ء سے ۱۵۷۱ء تک جاری رہی۔ اس بغاوت کو دبانے کے بعد مسلمانوں کو غرناطہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا اور ہر خاندان کے افراد کو علیحدہ علیحدہ کر کے سپین کے مختلف علاقوں میں منتشر کر دیا گیا۔ اس زمانے میں سپین یورپ کے بڑے وسیع علاقوں کے علاوہ نئی دنیا میں دریافت شدہ بہت سے علاقوں پر مشتمل ایک سپر پاور بن چکا تھا۔ اس زمانے کی دوسری سپر پاور ترکوں کی سلطنت عثمانیہ تھی جو شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ پر محیط تھی اور اپنے طاقتور بحری بیڑے کی بنا پر بحیرہ روم (Mediterranian Sea) پر تسلط کی وجہ سے اس سمندر کو سلطنت عثمانیہ کی جھیل تصور کیا جاتا تھا لیکن ۱۵۷۱ء میں عیسائیوں نے ترک بیڑے کو لپانٹو (Lepanto) کے مقام پر شکست دے کر اس تسلط کا طلسم توڑ دیا۔

۱۵۸۲ء میں شاہ فلپ دوم نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ اس کے پیشروؤں اور اس کی اپنی تمامتر کوششیں جو کہ اصطباغ یافتہ مسلمانوں Moriscos کو منتشر اور جذب کرنے کے لئے کی گئی ہیں وہ بیکار گئی ہیں۔ لہٰذا اس نے انہیں ملک سے نکالنے کے متعلق سوچنا شروع کر دیا۔ چنانچہ ۱۶۰۹ء اور ۱۶۱۴ء میں انہیں ملک سے نکالنے کے احکامات جاری ہوئے۔ ان کی تعداد کے متعلق بڑے مختلف اندازے ہیں۔ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ لاکھوں مسلمان تھے جو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ایک سوانح نگار کا اندازہ ہے کہ ان میں سے دو تہائی سے تین چوتھائی سفر کی تکلیفوں سے جان بحق ہو گئے۔ یہی سوانح نگار لکھتا ہے:

”جو امیر تھے انہیں غریبوں کے لئے (تاوان وغیرہ) ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

صفحہ ۹۸

اور حکومت کے گماشتے اخذ زر کے معاملے میں بڑے سنگدل تھے۔ وہ ان سے ندیوں کے پانی اور گرمی کے موسم میں طویل سفر کے دوران درختوں کی چھاؤں کے عوض بھی پیسے وصول کرتے اور اس کے علاوہ اپنا معاوضہ بھی مقررہ حد سے بہت زیادہ لیتے۔ تارکین وطن کا ایک بہت بڑا ریلا فرانس کی طرف چلا گیا........ چودہ سو افراد پر مشتمل ایک جتھہ جب پائرنیز کے سلسلہ ہائے کوہ میں سپین کی سرحد پر واقع پہاڑی راستوں میں آخری سرحدی مقام پر پہنچا تو انہیں فرانس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ لوگ فرانس جانے کی (حکومت سپین سے) اجازت حاصل کرنے کے لئے چالیس ہزار طلائی سکے ادا کر چکے تھے۔ اور انہوں نے اپنے مال و اسباب پر جو بڑی بھاری برآمدی ڈیوٹی اور ان کے اوپر انچارج حکومت کے گماشتوں کو جو معاوضہ ادا کیا تھا اس کے علاوہ تھے۔ جب انہیں الفاقس کے طویل راستے پر واپس مڑنے پر مجبور کر دیا گیا تو گرمیوں کے طویل سفر میں ان میں سے اتنے بیمار ہو کر مر گئے کہ یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں جہازوں میں وبا نہ پھیل جائے۔ قصہ مختصر یہ کہ اراگون سے خروج کی کہانی ایک سنگدلانہ حرص اور انسانیت سوز بے حسی کی داستان ہے"۔

اکثر مسلمان جو بچے انہیں شمالی افریقہ میں پناہ ملی۔ عیسائی مورخین اس مقام تک تو پہنچ گئے ہیں جہاں ان واقعات کو قلمبند کرنے کے قابل ہوں۔ لیکن جب ان واقعات کی توجیہ و توضیح کرنا شروع کرتے ہیں تو کبھی تو کہتے ہیں کہ یہ تمام پوپ اور دوسرے اکابرین کلیسا جنہوں نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یا جن کی شہ پر یہ سب کچھ ہوا، وہ تمام غیر مذہبی لوگ تھے یا پھر یہ کہیں گے کہ انسان ابھی اتنی ترقی نہیں کر پایا تھا کہ ان کی سنگینی کا اندازہ کر سکے۔ یہ لوگ اپنی قوم کے رہنما ہونے کے باوجود ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے جہاں وہ صرف چند لفظوں میں یہ کہنے کی اخلاقی اور ذہنی دیانتداری کا مظاہرہ کر سکیں کہ ۷۱۱ء سے لے کر جب مسلمانوں نے سپین فتح کیا اگر مرابطین اور موحدین کے دور تک نہیں تو یقیناً ۱۰۰۲ء تک جب المنصور کا تنزل ہوا اس دوران اگر اندلس کے مسلمان کسی بھی وقت یہ قصد کر لیتے کہ جزیرہ نمائے سپین میں کوئی بھی عیسائی یا یہودی باقی نہ رہے تو پھر جو کارنامہ صلیبیوں نے اپنی خباثت کے بل بوتے صدیوں میں انجام دیا وہ کارنامہ مسلمان ان کے ساتھ اگر چند مہینوں میں نہیں تو چند سالوں میں ضرور انجام دے سکتے تھے۔ لیکن وہ صلیبی رجس و خبث ہی کیا جو ایک دفعہ ذرا سا انسان کے

صفحہ ۹۹

تھے سنگدل تھے۔ وہ ان سے ندیوں کے پانی درختوں کی چھاؤں کے عوض بھی پیسے وصول اندازے سے بہت زیادہ لیتے۔ تارکین وطن کا ایک سو افراد پر مشتمل ایک جتھہ جب پائرنیز کے برفانی راستوں میں آخری سرحدی مقام پر پہنچا تو دے دی گئی۔ یہ لوگ فرانس جانے کی حکومت دس ہزار طلائی سکے ادا کر چکے تھے۔ اور انہوں تک کی ڈیوٹی اور ان کے اوپر انچارج حکومت کے تھے۔ جب انہیں الفاقس کے طویل راستے پر ان سفر میں ان میں سے اتنے بیمار ہو کر مر گئے کہ ہو جائے ۔ قصہ مختصر یہ کہ اراگون سے خروج کی قسمی کی داستان ہے"۔

شمالی افریقہ میں پناہ لی۔ عیسائی مورخین اس مقام جانے کے قائل ہوں۔ لیکن جب ان واقعات کی ہیں کہ یہ تمام پوپ اور دوسرے اکابرین کلیسا شہ پر یہ سب کچھ ہوا‘ وہ تمام غیرمذہبی لوگ کر پایا تھا کہ ان کی سنگینی کا اندازہ کر سکے۔ یہ مقام پر نہیں پہنچے جہاں وہ صرف چند لفظوں سکیں کہ ۷۱۱ء سے لے کر جب مسلمانوں ت نہیں تو یقیناً ۱۰۰۲ء تک جب المنصور کا اس وقت یہ قصد کر لیتے کہ جزیرہ نمائے سپین یہ صلیبیوں نے اپنی خباثت کے بل بوتے تھے اگر چند مہینوں میں نہیں تو چند سالوں خبیث ہی کیا جو ایک دفعہ ذرا سا انسان کے

دل و دماغ میں اتر جائے اور پھر بھی انسان کو اس طرح سوچنے کے قابل چھوڑے۔ اندلس کی ہر مسلمان حکومت میں ہمیشہ وزیر کے عہدے کا ایک عظیم المقام ہوتا تھا جس کی ذمہ داری غیر مسلموں کے جان و مال‘ عزت و آبرو‘ عقیدہ و مذہب اور عبادت گاہوں کی حفاظت ہوتی تھی۔

چنانچہ ۱۶۲۵ء میں سپین میں سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ وہاں کوئی مسلمان باقی نہیں بچا۔

ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈنینڈ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی وسطی یورپ کی اس زمانے کی ایک بڑی سلطنت ہیپسبرگ امپائر (Hapsburg Empire) کے فرمانروا میکسمیلین (Maxmilian) کی بیٹی اور بیٹے سے کر دی تھی۔ ان کے بیٹے کی موت ان کی زندگی میں ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی جوانا (Juana) جو کہ دماغی مریض تھی وہ اپنے خاوند کے ساتھ ان کی جانشین ہوئی اور اس کے بعد جب ان کا نواسہ چارلس پنجم تخت نشین ہوا تو وہ ایک بڑی وسیع سلطنت کا وارث بنا جس میں پرتگال کے سوا تمام جزیرہ نما سپین‘ وسطی یورپ میں ہیپسبرگ (Hapsburg) مملکت کے علاقے‘ اٹلی کے کافی سارے علاقے‘ ہالینڈ‘ بیلجیم اور نئی دنیا یعنی شمالی اور جنوبی امریکہ کے وہ علاقے جو ۱۴۹۲ء میں کولمبس کی دریافت کے بعد یکے بعد دیگرے بہت سے مختلف سپینی مہم جوؤں نے سپین کے زیر تسلط کر لئے تھے‘ شامل تھے۔

ان مہم جوؤں میں فرانسسکو پزارو (Francisco Pizzaro) جس نے جنوبی امریکہ کی انکا سلطنت (Inca Empire) کو فتح کر کے وہاں قدیم تہذیب کا خاتمہ کیا‘ اور ہرنان کورٹیز (Hernan Cortez) جس نے میکسیکو اور اس کے گردونواح میں واقع ازٹق (Aztec) سلطنت کو فتح کیا‘ قابل ذکر ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر نامناسب نہ ہو گا کہ جس طرح مسلمانوں کے ابتدائی فاتحین مثلاً خالد بن ولیدؓ، عمرو بن العاصؓ، عقبہ، موسیٰ بن نصیر‘ طارق بن زیاد‘ محمد بن قاسم میں اپنے اپنے انفرادی اوصاف کے ساتھ ساتھ کچھ قدریں بالکل مشترک ہیں۔ مثلاً فراخدلی اور رواداری‘ مغلوب اور کمزور کے ساتھ رحمدلی‘ وعدے کی پاسداری وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح نیو ورلڈ آرڈر کے ان سب ابتدائی فاتحین میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔ مثلاً فرانسسکو پزارو (Pizzaro) اگر بذات خود ولد الزنا تھا تو ہرنان کورٹیز Cortez ایک ولد الزنا شخص کی اولاد اور

صفحہ ١٠٠

جنسی عوارض کا مریض تھا۔ جب انکا (Inca) مملکت کے حکمران اتاہوالپا (Atahualpa) نے پزارو کے اس کو بائبل دینے اور مسیحی مذہب قبول کرنے کی دعوت دینے کے بعد اس سے انکار کر دیا تو پزارو نے اس حکمران کو اپنی حراست میں لے کر اس کی فوج پر جو تیر کمانوں اور چھوٹے چھوٹے ڈنڈوں سے مسلح تھی اپنی توپوں کے دھانے کھول دیئے۔ اور اس کے بعد اتاہوالپا نے شرائط کے مطابق اپنی رہائی کے لئے جس کمرے میں وہ قید تھا اسے سونے سے بھروا دیا تو پزارو نے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے بنیادی اصولوں کے مطابق اسے قتل کروا کے سونے پر قبضہ کر لیا۔ سمندر پار راستوں اور نئے ممالک کی دریافت کی ابتدا تو پرتگالیوں نے کی تھی‘ لیکن ملکہ ازابیلہ اور شاہ فرڈنینڈ کی سرپرستی میں کولمبس کی نئی دنیا کی دریافت اور ان سپینی مہم جوؤں (Conquistadors) کی مہموں کی وجہ سے سپین آگے نکل گیا‘ جس کی وجہ سے پرتگال اور سپین میں تنازع پیدا ہونے لگا تو پوپ الیگزینڈر ششم نے اپنے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی خاطر ١٤٩٣ء میں دنیا کے نقشے پر بحر اوقیانوس کے درمیان اپنی انگلی سے لکیر کھینچ کر ان دو ہمسایہ صلیبی طاقتوں کے درمیان معاہدہ ٹوڈسلہ Todsilla کرا دیا جس کے مطابق اس لائن کے مغرب میں تمام ممالک اور علاقے سپین کے استحصال اور مشرق میں تمام علاقے پرتگال کے لئے مختص کر دیئے گئے۔ اس کے بعد نئی دنیا میں صلیبی مہم جوؤں اور نو آباد کاروں کا سلسلہ جو شروع ہوا تو نہ صرف انکا Inca ‘ ازتک Aztec اور میکسیکو Mexico کی شاندار تہذیبیں اپنے چند عالیشان نشانات چھوڑ کر ناپید ہو گئیں بلکہ دو وسیع براعظموں یعنی شمالی اور جنوبی امریکہ میں کولمبس کی دریافت کے وقت امریکی ریڈ انڈینز کی کم از کم ساڑھے سات کروڑ کی آبادی پر مشتمل ایک نسل انسانی (جو کہ اس وقت کی ہندوستان کی آبادی سے یقیناً کم نہ ہوگی) تقریباً دو صدی کے عرصہ میں صلیبیوں کی توپوں اور بندوقوں کے آگے ناپید ہو گئی۔ اور ان کے کچھ باقی ماندہ نفوس نشانی کے طور پر مختلف ریزرویشنوں (Reservations) میں محصور ہو کر رہ گئے۔ اور یہ سب کچھ اس حقیقت کے علی الرغم ہوا کہ ان ریڈ انڈینز کے تین روحانی پیشواؤں کی تعلیمات حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے بڑی مشابہ تھیں۔ جبکہ دنیا کے ایک دوسرے خطے میں آباد منو کے ضابطہ قوانین کی پیروکار ایک دوسری انڈین قوم توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں (جن میں چنگیز خان اور ہلاکو خان کی نسل کے مغل بھی شامل تھے) کے زیر تسلط تقریباً سات صدیاں

گزارنے کے بعد بھی نہ صرف ابھری۔

اسی طرح ”نیو ساتھ افریقہ کے براعظم میں پچھ بہت سے مسلمان تھے) یورپ و گئی صدیوں پر محیط مہموں کے جہازوں کے گوداموں میں ٹھون نسلوں کی جانوروں کی طرح خر ہے (نیو ورلڈ آرڈر کے اس پہل ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا رجز و تر (Aparthied) یعنی نسلی امتیا کی میز پر بیٹھ کر اپنے صلیب پر تک کالے انسان کا تعلق ہے Blond) کیلئے صرف سونے او بلوط بیسٹ (Blond Beast میں بھی نہیں جا سکتا۔ بلوط بی کا جزولاینفک ہے۔ اس کے ع Blond) دنیا کے باقی انسانو نافذ کردہ نسلی امتیاز کا بدترین مقامی لوگ صدیوں اس سکی مرنے پر آمادہ ہو گئے۔

دنیا کی تا رجز و خبط کے ایک بے پن طرح ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی

صفحہ ١٠١

کے حکمران اتاہوالپا (Atahualpa) ی کرنے کی دعوت دینے کے بعد اس سے ں لے کر اس کی فوج پر جو تیر کمانوں اور ے دھانے کھول دیئے۔ اور اس کے بعد س کمرے میں وہ قید تھا اسے سونے سے وں کے مطابق اسے قتل کروا کے سونے دریافت کی ابتدا تو پرتگالیوں نے کی تھی، یں کی نئی دنیا کی دریافت اور ان سپینی مہم ے سپین آگے نکل گیا، جس کی وجہ سے لیگزنڈر ششم نے اپنے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی درمیان اپنی انگلی سے لکیر کھینچ کر ان دو ہمسایہ تقسیم کر دیا جس کے مطابق اس لائن کے میں اور مشرق میں تمام علاقے پرتگال کے یہی مہم جوؤں اور نو آباد کاروں کا سلسلہ جو اور میکسیکو Mexico کی شاندار تہذیبیں ر وسیع براعظموں یعنی شمالی اور جنوبی امریکہ کی کم از کم ساڑھے سات کروڑ کی آبادی پر ان کی آبادی سے یقیناً کم نہ ہوگی) تقریباً دو کے آگے ناپید ہو گئی۔ اور ان کے کچھ باقی (Reservati میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ریڈ انڈینز کے تین روحانی پیشواؤں کی ائے۔ جبکہ دنیا کے ایک دوسرے خطے میں ے قوم توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں (جن تے تھے) کے زیر تسلط تقریباً سات صدیاں

گزارنے کے بعد بھی نہ صرف بحیثیت قوم برقرار رہی بلکہ دنیا کی دوسری کثیر التعداد قوم بن کر ابھری۔

اسی طرح ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا رجز و خبث جب صلیب پرست مہم جوؤں کے ساتھ افریقہ کے براعظم میں پہنچا تو ایک طرف تو دس کروڑ سے زائد انسانوں کو (جن میں سے بہت سے مسلمان تھے) یورپ کی کٹر عیسائی حکومتوں کی زیر سرپرستی اور زیر نگرانی ترتیب دی گئی صدیوں پر محیط مہموں کے ذریعہ جانوروں کی طرح شکار کر کے انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہازوں کے گوداموں میں ٹھونس کر امریکہ لے جایا گیا جہاں صدیوں تک ان کی اور ان کی نسلوں کی جانوروں کی طرح خرید و فروخت اور استحصال ہوتا رہا اور کسی حد تک اب بھی ہو رہا ہے (نیو ورلڈ آرڈر کے اس پہلو کی ایک جھلک باب ششم میں دی گئی ہے) جبکہ دوسری جانب ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا رجز و خبث افریقہ کے جن حصوں پر مسلط ہوا وہاں اپارتھائیڈ (Aparthied) یعنی نسلی امتیاز کے صلیبی اصول کے تحت ایک کالا کتا تو اپنے مالک کی کھانے کی میز پر بیٹھ کر اپنے صلیب پرست مالک اور اس کے بچوں کا منہ بھی چاٹ سکتا ہے لیکن جہاں تک کالے انسان کا تعلق ہے تو وہ صلیب تھامنے کے باوجود بھی بلونڈ بیسٹ (Beast Blond) کیلئے صرف سونے اور ہیروں کی کانوں میں پرخطر اور جاں گسل کام تو کر سکتا ہے لیکن بلونڈ بیسٹ (Blond Beast) کے ہوٹل، اس کے گھر، اس کے باغات حتیٰ کہ اس کی آبادی میں بھی نہیں جا سکتا۔ بلونڈ بیسٹ (Blond Beast) کا نظریہ صلیبی و صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کا جزو لاینفک ہے۔ اس کے مطابق شمالی سرد خطوں کے بھورے بالوں والے انسان (Beast Blond) دنیا کے باقی انسانوں سے ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین۔ جنوبی افریقہ میں ہالینڈ کے کلیسا کا نافذ کردہ نسلی امتیاز کا بدترین نظام (Aparthied) حال ہی میں ٹوٹ گیا ہے جب وہاں کے مقامی لوگ صدیوں اس کے تحت صلیب تھام کر جینے کے بعد اپنے انسانی حقوق کیلئے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے۔

دنیا کی تاریخ میں سپین کی مسلم ریاست کی حیثیت ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے رجز و خبث کے ایک بے پناہ طوفان کے آگے ایک بند کی مانند تھی۔ جب یہ بند ٹوٹ گیا تو جس طرح ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی نجاست و خباثت نے امریکہ اور افریقہ میں مندرجہ بالا کارنامے انجام

صفحہ ۱۰۲

جیسے اسی طرح پرانی دنیا میں بھی کچھ معجزے دکھائے۔ جس زمانے میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے اولین فارمولے ”پہلے مشنری‘ پھر سوداگر اور پھر فوجی“ (First missionary, then merchant and then the soldier) کی مدد سے دنیا کی اکثر قومیں مقاصد صلیبی و صہیونی چنگل میں پھنس رہی تھیں تو صرف جاپانی ایک قوم تھی جن کے لیڈروں نے بروقت ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی حقیقت کو پہچان لیا اور اپنے ملک میں صلیب پرستی اور صلیبیوں کا پوری طرح قلع قمع کرنے کے بعد آئندہ ان کے لئے ملک میں داخلہ بند کردیا۔ جس کے نتیجے میں ان کے ملک اور قوم کو نہ صرف ”ڈھائی سو سال کا عہد امن و استحکام“ نصیب ہوا جو کہ تاریخ عالم میں کسی بھی ملک کو نصیب ہونے والا غالباً طویل ترین دور امن و استحکام تھا۔ بلکہ اس کے بعد جب اکثر اقوام عالم ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے اگلے فارمولے ”تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو“ (Divide and Rule) کے تحت خاک و خون میں غلطاں تھیں تو صرف جاپانی ہی ایک ایسی قوم تھی جو کہ صلیبیوں اور صہیونیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتی تھی۔ کیونکہ انہوں نے ان کی پہلی چال کو سمجھ کر اس کا بروقت تدارک کر لیا تھا۔

جس طرح شیطان کی اس دنیا میں کامیابی و کامرانی کا راز یہی ہے کہ بنی آدم یا تو اس کی چال کو سمجھتا ہی نہیں یا اگر سمجھتا بھی ہے تو وقت گزرنے کے بعد جب تباہی اور بربادی ہر سو پھیل چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح صلیبی اور صہیونی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی خباثت اور شیطنت کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ اکثر قومیں خصوصاً ”مسلمان یا تو ان کی چالیں سمجھتے ہی نہیں ہیں یا پھر اگر سمجھتے بھی ہیں تو اس وقت جب وہ اس چال کو استعمال کر کے کوئی اگلی چال چل رہے ہوتے ہیں۔ کلیسا کی روحانی عدالت کے محتسب اعلیٰ طامس ٹارکویماڈا‘ اس کے گماشتے اور جانشین سپین میں اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے قہقہے لگاتے ہوئے صلیب پرستوں کے مجمع کے سامنے مسلمانوں کو لکڑی کی جن صلیبوں پر لٹکا کر جلاتے تھے وہ تو نظر آنے والی چیزیں تھیں۔ لیکن اب سی۔ آئی۔ اے (C.I.A)‘ موساد اور ان کی الحاقی اور ذیلی ہزاروں تنظیموں نے سپر کمپیوٹروں‘ سیاروں‘ لیزر بیم وغیرہ کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے‘ نفسیاتی‘ معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی ہتھکنڈوں پر مشتمل‘ توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں کے لئے جو غیر مرئی صلیبیں تیار کی ہیں‘ ان کی آگ ایسی ہے کہ دوسروں کو تو کیا خود بھسم ہونے والے توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ ان پھنسی ہوئی قوموں پر ان کی پچھلی چال کے مندرجہ ذیل اقتباس میں ملتا ہے

”اگر کسی وجہ سے مشرق میں واقع تمام یورپی اڈے تباہ ایشیا کو کچھ بھی محسوس نہ ہوتا۔ کیو اور اٹھارویں صدی کے وسط میں ع ہندوستانی تھے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں سے کسی ایک وقت میں صرف ایشیا پیداوار اور خوشحالی کے جس مع تھا۔ ۱۷۵۲ء میں پرتگیزی شاعر لوئی ”بے پناہ دولت کا ملک“ تھا۔ ۱۸۹ (Giovanni) کے بقول ”ایسی کوئی والی‘ زیادہ دولت مند اور ہر طرح ا مشنریوں کے لئے جو سینٹ زیوئیر ( ”دیوتاؤں کی دھرتی۔ اور غالباً جنت کا

”یہ تمام تعریفیں اقتصادی پیداوار کی پیمائش کرنا بظا جاتے تھے تاہم معلومات کا جو بھی و میں کاروباری مہم اور منافع کی انج مراحل میں ایشیا نہ کہ یورپ دنیا مملکتوں کا بھی محل وقوع تھا۔ اس وق وہم اور (روس کا) پیٹر اعظم نہ (۱۷۲۵-۱۶۸۲) اور مغل اعظم اور

صفحہ ۱۰۳

پرستوں کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ صلیبی و صہیونی غاصب چنگل میں پھنسی ہوئی قوموں پر ان کی پچھلی چالوں کے اثرات کے متعلق ایک لطیف سا اشارہ کسی مورخ کے مندرجہ ذیل اقتباس میں ملتا ہے۔

”اگر کسی وجہ سے ۱۴۵۰ء میں راس امید (Cape of Good Hope) کے مشرق میں واقع تمام یورپی اڈے بند کر دئے جاتے اور (ان کی یورپی) آبادی واپس بلالی جاتی تو ایشیا کو کچھ بھی محسوس نہ ہوتا۔ کیونکہ سب سے بڑا براعظم دنیا کی ستر فی صد آبادی کا مسکن تھا۔ اور اٹھارویں صدی کے وسط میں چینیوں کی تعداد تقریباً پندرہ کروڑ تھی اور تقریباً اتنے ہی ہندوستانی تھے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں تمام یورپین کی تعداد آٹھ کروڑ سے زیادہ نہ تھی جن میں سے کسی ایک وقت میں صرف بیس ہزار جنوبی ایشیا کے ساحلوں کے گرد پھیلے ہوئے تھے۔ ایشیا پیداوار اور خوشحالی کے جس معیار کا دعویٰ کر سکتا تھا وہ یورپی قوموں کے لئے باعث حیرت تھا۔ ۱۵۷۲ء میں پرتگیزی شاعر لوئی ڈی کیموس (Luis de Camoes) کے لئے ہندوستان ”بے پناہ دولت کا ملک“ تھا۔ ۱۵۸۹ء میں اطالوی سیاسی مصنف گیووینی بوترو (Botero Giovanni) کے بقول ”ایسی کوئی مملکت نہیں جو چین سے زیادہ بڑی، اس سے زیادہ آبادی والی، زیادہ دولت مند اور ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال ہو ۔“ اور ان جسوئٹ (Jesuit) مشنریوں کے لئے جو سینٹ زیویئر (St. Xavier) کے نقش قدم پر مشرق بعید میں گئے جاپان ”دیوتاؤں کی دھرتی ۔ اور غالباً جنت کا محل وقوع“ تھا۔

”یہ تمام تعریف بے جا نہ تھی۔ اگرچہ جدید ایشیا کے ابتدائی مراحل کی اقتصادی پیداوار کی پیمائش کرنا بڑا مشکل ہے کیونکہ قابل اعتماد اعداد و شمار بہت کم ہی رکھے جاتے تھے تاہم معلومات کا جو بھی ریزہ نظروں کے سامنے آتا ہے۔ وہ مغرب کی نسبت مشرق میں کاروباری حجم اور منافع کی انتہائی اعلیٰ سطح کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔۔۔ جدید دور کے ابتدائی مراحل میں ایشیا نہ کہ یورپ دنیا میں صنعت و حرفت کا مرکز تھا۔ اسی طرح یہ سب سے بڑی مملکتوں کا بھی محل وقوع تھا۔ اس زمانے کے سب سے زیادہ طاقتور فرمانروا (فرانس کا) لوئی چہار دہم اور (روس کا) پیٹر اعظم نہ تھے بلکہ (چین کا) مانچو شہنشاہ کیانگ سی (K'ang - hsi) (۱۶۶۲-۱۷۲۲ء) اور مغل اعظم اورنگ زیب (۱۶۵۸-۱۷۰۷ء) تھے۔“

صفحہ ۱۰۳

(An Illustrated History edited by Geoffrey Parker : p. 315)

سیاق و سباق کی اس مختصر تشریح و توضیح کے بعد اپنے اصل مضمون اندلس کی تاریخ کی طرف واپس آتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ شاہی خاندانوں میں تاریخی اہمیت کی شادیوں اور نئی دنیا کی دریافت اور وہاں نو آبادیوں کے قیام کی بنا پر سولہویں صدی میں سپین ایک بڑی وسیع اور عظیم سلطنت بن کر ابھرا اور اس کے ساتھ ہی نئی دنیا سے سونے چاندی اور دوسرے قیمتی مال سے بھرے جہاز دھڑا دھڑ اس کی بندرگاہوں میں پہنچنے شروع ہو گئے۔ جس سے سپین کے خزانے تو بھر پور ہونے ہی تھے اس کے ساتھ انگلینڈ جس کے بحری قزاق بعض اوقات ان جہازوں کو راستے میں اچک لیتے تھے اُس کے بھی خزانے بھرنے لگے۔ یہ سب کچھ تو ہوا لیکن سپین میں مسلمانوں کے اس حشر کا انجام جو ہوا اس کے لئے ہم عیسائی مورخ لین پول (Lane Poole) کے اپنے الفاظ کا ترجمہ نیچے دیتے ہیں۔

"گمراہ سپینی لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ملک سے نکال کر وہ خوش تھے۔ لیکن اس سے زیادہ دلاویز اور روحانی شے زمانے میں نہیں تھی۔ سپینی شاعر لوپ ڈی ویگا (Lope de Vega) نے اس بات کے گیت گائے کہ شاہ فلپ دوم نے غیر مہذب لوگوں کے خزانوں کو ٹھکرا کر مسلمانوں کو افریقہ کی طرف دھکیل دیا۔ مصور ولاز قویز (Velazquez) نے اس کارنامہ کی ایک یادگار زمانہ تصویر بنائی۔ حتیٰ کہ بردبار سپینی ادیب سرونٹیز (Cervantes) نے بھی اس کو حق بجانب کہہ ہی دیا۔ انہیں اس بات کی سمجھ نہیں تھی۔ کہ انہوں نے اپنے سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو مار دیا ہے۔ صدیوں سے سپین تہذیب کا مرکز، علوم و فنون کا گہوارہ، فضیلت و بصیرت اور شائستگی کا مقام چلا آ رہا تھا۔ یورپ کا کوئی دوسرا ملک ابھی تک مسلمانوں کی تہذیب یافتہ سلطنت کے سائے کو بھی نہ پا سکا تھا۔ ملکہ ازابیلہ اور شاہ فرڈیننڈ کی وقتی آب و تاب اور چارلس پنجم کی سلطنت اس قسم کے کسی دیرپا عروج کی طرح نہ ڈال سکے۔ مسلمانوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ تو سپین چاند کی مانند مستعار روشنی سے چمکتا رہا۔ اور اس کے بعد تاریکی تھی۔ سپین تب سے اس ظلمت میں رینگ رہا ہے۔ مسلمانوں کی اصل یادگار وہ ویران خطے ہیں جو انتہائی بنجر پڑے ہیں، اور جہاں مسلمان کبھی گھنی انگور کی بیلیں، زیتون کے درخت اور مکئی کی پیلی بالیاں اگاتے تھے۔ یا پھر ان

صفحہ ۱۰۵

کی یادگار اس جاہل اور احمق آبادی میں ہے جس کی جگہ کبھی علم و فراست کا دور دورہ تھا۔ یا پھر اس قوم کے عمومی تنزل اور جمود میں دیکھی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے قوموں میں اس کا سر لاچار نیچا ہے اور جس کی وجہ سے اسے قرار واقعی ذلت اٹھانی پڑی ہے"۔

ہسپانیہ تو خون مسلمان کا امیں ہے مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشان ہیں خاموش اذانیں ہیں تیری باد سحر میں
روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں
پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حنا کی؟ باقی ہے ابھی رنگ میرے خون جگر میں!
کیونکر خس و خاشاک سے دب جائے مسلمان مانا وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر میں!

فاعتبروا یا اولی الابصار

صفحہ ١٠٦

مُسلمان عورتوں کو بپتسمہ دینے کی رسم

(ایک سپینی نقش و نگار سے ۱۵۲۰ء)

صفحہ ۱۰۷

کلیسا کا روحانی محتسب اعظم

طور قماطہ

اور

”عمل ایمانی“ یعنی مسلمانوں کو صلیب پر جلانے کی تقریب

اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ط (بے شک شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے)

”سولی پر گرے ہوئے غیر عیسائیوں کے خون اور پسینے کے قطرے بنجر کھیت میں خدا کی بہترین شبنم کی مانند ہیں“۔ انیسویں صدی کے برطانیہ کے مشہور ملک الشعراء ٹینی سن (Tennyson) کے الفاظ (جن کا یہ ترجمہ ہیں) جس سوچ اور عقیدے کی عکاسی کرتے ہیں‘ وہ عیسائی مذہب کا حقیقی جزو لاینفک ہیں۔ یوں تو (Inquisition) یعنی روحانی عدالتوں کی تاریخ کافی وسیع اور طویل ہے لیکن جو شہرت کلیسا کے روحانی محتسب اعظم طور قماطہ

صفحہ ١٠٨

(Torquemata the Great Inquisitor) کو حاصل ہے وہ اور کسی کو نہیں۔ طور قاطہ ۱۴۲۰ء میں قسطلہ کے قصبہ ولادولد (Valladolid) میں پیدا ہوا۔ ۱۴۵۲ء میں وہ عیسائی راہبوں کے ڈومینکن (Dominican) حلقے میں شامل ہوا اور ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈیننڈ کا مذہبی مشیر بن گیا۔ ۱۴۸۳ء میں پوپ نے اسے ازابیلا اور فرڈیننڈ کے مشورہ سے کلیسا کی روحانی عدالت کا محتسب اعظم (Great Inquisitor) مقرر کیا۔ اس کے بعد اس نے سپین کے شہر شہر اور قریہ قریہ کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) کے گماشتے مقرر کئے اور ان کی رہنمائی کے لئے کیتھولک کلیسا کی اٹھائیس شقیں (Twenty-eight Articles of Inquisition) ترتیب دیں۔ جس کسی نے طور قاطہ کی یہ اٹھائیس شقیں نہیں پڑھیں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عیسائی عقائد اور صلیبیوں کی جبلت سے واقف ہے۔

یوں تو کلیسا کی روحانی عدالت نے تعذیب و تعزیر کے ایسے ایسے مہیب طریقے نکالے کہ انہیں پڑھ کر کسی شقی القلب آدمی کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ چونکہ ان سب کا اس مختصر مضمون میں احاطہ نہیں ہو سکتا اس لئے چند ایک کا سرسری جائزہ پیش کرتے ہیں۔

کلیسا کی روحانی عدالت کے ایذا رسانی کے طریقے

اس کی تفصیل دینے کی ضرورت نہیں۔

تھا اور یہ عقوبت خانے کی چھت سے لگی ہوئی ایک چرخی میں سے گزارے ہوئے رسے پر مشتمل تھا۔ توحید پرست کی دونوں کلائیاں اس کی پیٹھ پیچھے اس رسے کے ایک سرے سے جکڑ دی جاتی تھیں۔ اس کے بعد اذیت دینے والے رسے کے دوسرے سرے کو کھینچنا شروع کر دیتے جس سے ”مجرم“ کے بازو اس کے پیچھے بتدریج اوپر کو اٹھنا شروع ہو جاتے تھے حتیٰ کہ وہ زمین سے اٹھ جاتا اور اس کا پورا وزن اس کے پشت پر کھنچے ہوئے بازوؤں پر پڑ جاتا۔ اس موقع پر اس سے سوال کئے جا تو اسے اسی طرح اوپر چھت تک کھ جس سے اس کے بازو کندھوں کے میں اسے اسی طرح مزید جھٹکے دے تک اعتراف جرم نہ ہوتا تو ان ع باندھ کر یہی عمل دہرایا جاتا اور ا سے وہ اپنی برداشت کی آخری حد چند دن کی مہلت دے کر پھر یہی ع تمام تفاصیل مثلاً ملزم کو کتنے جھ سوالات اور ان کے جواب وغیرہ ر

ظالمانہ اور کلیسا (oly Office

یہ ایک زینہ نما لٹایا جائے تو اس کا سر پاؤں کی نس سے زینے کے ساتھ جکڑ دیا جاتا۔ پ کے دونوں طرف اس طرح جکڑا جا کے گوشت میں دھنس جائے۔ پھ اس طرح کہ چمڑی کو مروڑنے س مروڑنے سے پہلے تو سخت تکلیف چیرتی ہوئی گوشت کے اندر دھنس

توحید پرست کھلا رکھا جاتا۔ اس کے نتھنے کسی اس کے جبڑوں کے آر پار ڈال دی کافی اندر تک اتر جاتی۔ اس پٹی

صفحہ ١٠٩

اس موقع پر اس سے سوال کئے جاتے اور اقرار جرم کے لئے کہا جاتا۔ اگر وہ اعتراف نہ کرتا تو اسے اسی طرح اوپر چھت تک کھینچ لیا جاتا۔ اور پھر چند فٹ ڈھیلا چھوڑ کر جھٹک دیا جاتا۔ جس سے اس کے بازو کندھوں کے جوڑ سے تقریباً نکل جاتے۔ اعتراف نہ ہونے کی صورت میں اسے اسی طرح مزید جھٹکے دے کر بتدریج نیچے لایا جاتا حتیٰ کہ وہ زمین تک آجاتا۔ اگر ابھی تک اعتراف جرم نہ ہوتا تو اذیت کی سختی کو بڑھانے کے لئے مریض کے پاؤں کے ساتھ وزن باندھ کر یہی عمل دہرایا جاتا اور اسے چھت سے لٹکتا چھوڑ دیا جاتا حتیٰ کہ مخلوع بازوؤں کی وجہ سے وہ اپنی برداشت کی آخری حد کو پہنچ جاتا۔ اس صورت میں ملزم کی بحالی صحت کے لئے چند دن کی مہلت دے کر پھر یہی عمل دہرایا جاتا۔ اس تمام کارروائی کے دوران کلیسا کا نوٹری تمام تفاصیل مثلاً ملزم کو کتنے جھٹکے دیئے گئے، اس کے پاؤں سے کتنے وزن باندھے گئے، سوالات اور ان کے جواب وغیرہ تحریر کرتا۔

ظالمانہ اور کلیسا (Holy Office) کا مرغوب طریقہ تھا۔

یہ ایک زینہ نما چیز تھی جسے اس طرح ترچھا رکھا جاتا کہ جب ملزم کو اس پر لٹایا جائے تو اس کا سر پاؤں کی نسبت قدرے نیچے ہو۔ مسلمان کا سر دھات یا چمڑے کی پٹی سے زینے کے ساتھ جکڑ دیا جاتا۔ اور اس کی ٹانگوں اور بازوؤں کو چمڑے کی ڈوری سے زینے کے دونوں طرف اس طرح جکڑا جاتا کہ اس کی ذرا سی جنبش سے بھی یہ ڈوری اس کے جسم کے گوشت میں دھنس جائے۔ یعنی ان پر ڈوری باندھ کر ان میں سے چھڑیاں گزاری جاتیں اس طرح کہ چھڑی کو مروڑنے سے شریان بند (Torniquet) بن جائے۔ ان چھڑیوں کو مروڑنے سے پہلے تو سخت تکلیف ہوتی اور اگر مزید گھمایا جاتا تو رسیاں اعصاب اور نسوں کو چیرتی ہوئی گوشت کے اندر دھنس کر ہڈی تک اتر جاتیں۔

توحید پرست کے منہ میں لوہے کا ایک چمٹا (bostezo) ٹھونس کر اسے کھلا رکھا جاتا۔ اس کے نتھنے کسی چیز سے بند کر دیئے جاتے اور لنن کے کپڑے کی ایک لمبی پٹی اس کے جبڑوں کے آرپار ڈال دی جاتی۔ جب اس پٹی پر پانی ڈالا جاتا تو یہ پٹی اس کے حلق کے کافی اندر تک اتر جاتی۔ اس پٹی (toca) پر آہستہ آہستہ پانی ڈالا جاتا۔ جب پانی کپڑے سے

صفحہ ۱۱۰

رہتا تو اس سے ملزم کا دم گھٹنے سے اسے بہت اذیت پہنچتی۔ وہ لگاتار پانی نگلنے کی کوشش کرتا، اس کوشش میں کہ اس سے اس کے سانس لینے کی راہ کھل جائے کیونکہ اسے اپنے پھیپھڑے پھٹتے ہوئے محسوس ہوتے۔ اس کوشش میں تھوڑا سا پانی تو اس کے حلق میں اتر جاتا لیکن صرف اتنا کہ اسے باہوش اور زندہ رکھ سکے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی دم گھٹنے کی بھیانک اذیت میں کوئی کمی آئے، کیونکہ کپڑے پر پانی لگا تار ڈالا جاتا۔

وقتاً فوقتاً پٹی کو باہر نکالا جاتا اور مسلمان مرد یا عورت (چونکہ کلیسا عورتوں کو ان چیزوں سے مبرا نہیں سمجھتا تھا) کو اعتراف کرنے کی دعوت دی جاتی۔ اس کی ڈھٹائی کا مقابلہ کرنے اور اسے ہوش میں رکھنے کے لئے شریان بند (Garrotes) کو اذیت ناک چکر بھی دیئے جاتے۔

چونکہ روحانی عدالت کلیسا چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی پورا خیال رکھتی تھی، اس لئے ہر قسم کی ایذا رسانی اور خصوصاً عقوبت آب کے دوران قے کے امکان کو دور کرنے کے لئے مسلمان کو اس سے آٹھ گھنٹے پیشتر کوئی چیز کھانے کو نہ دی جاتی۔

یہاں یہ چیز مد نظر رکھنی چاہئے کہ یہ صرف تفتیش کا مرحلہ تھا۔ اور ”مجرم“ کی سزا کا مرحلہ اس کے اعتراف کے بعد شروع ہوتا۔

کلیسائی روحانی عدالت (Inquisition) کی طرف سے سزا کے نتیجے میں ملزم اور اس کے اہل خانہ نہ صرف حکومت کی نوکری کے نااہل ہو جاتے بلکہ ان کی جائیداد بھی ضبط ہو جاتی۔

روحانی عدالت کلیسا کی طرف سے سب سے کڑی اور حتمی سزا سولی پر جلائے جانے کی تھی ہسپانیہ میں یہ کہا جاتا تھا کہ ”یہ تو ہو سکتا ہے کہ آدمی بغیر جلائے جانے کے عدالت کلیسا سے نکل آئے لیکن وہ بغیر جھلسے کبھی باہر نہیں آسکتا“۔

اصطباغ یافتہ مسلمانوں کو سولی پر جلانے کی تقریب یعنی

”عمل ایمانی“ (Auto de Fe)

چونکہ بنیاد پرست لوگ زبردستی گھٹنوں کے بل جھکا کر بپتسمہ دینے

صفحہ ۱۱۱

نئے عیسائیوں کا صلیبی طرز حیات اپنانے کے بجائے غسل و طہارت اور شراب اور خنزیر کے گوشت سے پرہیز جیسے اسلامی شعائر سے باز نہیں آتے تھے اور چھپ چھپ کر نماز اور قرآن بھی پڑھ لیتے تھے اس لئے اردگرد سے کوئی دیکھنے والا یا ہمسایہ عیسائی ان کی مخبری چپکے سے کر دیتا تو یہ کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) کے شکنجے میں آجاتے تھے اور پھر اکثر انہیں سولی پر لٹکا کر جلانے کی سزا ملتی۔ کیرینا (Carina) جو کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) کا ہی ایک گماشتہ تھا اس بارے میں یہ منطق پیش کرتا ہے کہ ”چونکہ آگ میں جلنے کی موت سب سے ہولناک ہے، اس لئے یہی طریقہ اپنانا پڑا۔ اگر کوئی اور سزا اس سے بھی زیادہ ہولناک اور اذیت ناک ہوتی تو یقیناً وہی تجویز کی جاتی“۔ اس بارے میں ایک بہت قابل غور لطیف نقطہ یہ ہے کہ مقدس ادارہ کلیسا (Holy Office) نے خود کبھی بھی کسی کو موت کی سزا نہیں دی۔ مادر کلیسا (Mother Church) تو اپنی بے پناہ محبت اور رحم کی وجہ سے کسی انتہائی منحرف شخص کی بھی جان نہیں لے سکتی تھی۔ چنانچہ جب کوئی اصطباغ یافتہ مسلمان کلیسا کے ان تعذیبی ہتھکنڈوں، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، بے بس ہو کر کسی اسلامی کام مثلاً شراب اور خنزیر کے گوشت سے پرہیز یا غسل طہارت وغیرہ کا اعتراف کر لیتا یا اس کے اعتراف نہ کرنے کے باوجود مادر کلیسا (Mother Church) کو اس کا یقین ہوتا کہ وہ ان جرائم کا مرتکب ہوا ہے تو مادر کلیسا اس شخص کو ”اپنے دنیاوی بازو (یعنی حکومت وقت) کے لئے ڈھیلا چھوڑ دینے“ (Relaxation to the Secular Arm) کا فیصلہ کرتی۔ نہ صرف یہ بلکہ دنیاوی بازو کے لئے ڈھیلا چھوڑ دینے کا فیصلہ دیتے وقت مادر کلیسا دنیاوی بازو (حکومت وقت) سے یہ درخواست بھی کرتی کہ ”مجرم“ سے ”حلیمانہ سلوک“ کیا جائے۔ اب یہ ایک الگ بات ہے کہ ہر ایک کو یہ پتہ ہوتا تھا کہ اس ”حلیمانہ سلوک“ کے فارمولا سے کیا مراد ہے۔ جہاں ایسے اشخاص کے لئے جو اپنی پرانی ”لغزشوں“ سے توبہ کر کے صدق دل سے عیسائی ہو جاتے جائیداد کی ضبطی اور عمر قید کی سزا ہوتی تھی، وہاں توبہ نہ کرنے والے کے لئے اس سے کمتر سزا اتنی ہی مضحکہ خیز بات ہوتی جتنی کہ غیر منصفانہ۔ چنانچہ دنیاوی بازو (حکومت وقت) کے لئے ڈھیلا چھوڑ دینے (Relaxation to the Secular Arm) کا مطلب ہی ”سولی

صفحہ ۱۱۲

پر جلایا جانا" ہوتا۔ اور روحانی عدالت کلیسا یہ حکم سناتے وقت اس سے بخوبی آگاہ ہوتی۔ اور اس بارے میں کسی رعایت کی گنجائش نہ تھی۔ حکومت کے ارباب اختیار جس فیصلے کے لئے ”ڈھیلا چھوڑ دینا“ ایک تلمیح کے طور پر استعمال ہوتا، اسے قبول کر کے اس کی تعمیل کا بندوبست کرتے۔ نہ صرف یہ بلکہ سولی پر جلانے (Burning at the stake) کے وقت مادر کلیسا کا ایک نمائندہ باقاعدہ اس بات کی تصدیق کے لئے موجود ہوتا کہ جس سزا کی تجویز اوپر دیئے گئے ”حلیمانہ سلوک“ کے فارمولا الفاظ سے مراد تھی وہ واقعی دی جا چکی ہے۔ چنانچہ جب کلیسا کی روحانی عدالت (Inquisition) ”مجرم“ کو دنیاوی بازو کے لئے ڈھیلا چھوڑتے وقت یہ استدعا کرتی کہ ہرطوقی کے ساتھ ”حلیمانہ سلوک“ کیا جائے تو تمام متعلقہ لوگوں کو پتہ ہوتا تھا کہ ”حلیمانہ سلوک“ ایک لایعنی فارمولا ہے اور اگر اس کو سنجیدگی سے لیا گیا تو اس فارمولے کو استعمال کرنے والے صالحانہ طور پر غضب ناک ہوں گے کیونکہ روحانی محتسب کلیسا کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ توبہ نہ کرنے والے بنیاد پرست کو زندہ چھوڑ دینے سے بڑا شرمناک واقعہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کی بنیاد انجیل میں مذکور حضرت عیسیٰؑ سے منسوب یہ الفاظ ہیں ”اگر کوئی شخص میرے اوپر ایمان نہیں لاتا تو وہ ایک ٹہنی کی مانند پھینکا جاتا ہے جو کہ مرجھا گئی ہے۔ لوگ اسے اکٹھا کر لیتے ہیں، آگ میں پھینک دیتے ہیں اور وہ جل جاتی ہے“۔

ڈھیلا چھوڑنے کا فیصلہ پانچ قسم کے مجرموں کے لئے مخصوص تھا۔ پہلی قسم ان سرکش بنیاد پرستوں کی تھی جو اپنے غیر مسیحی اعتقادات کا اعتراف کرتے تھے اور آخر تک ان سے تائب نہ ہوتے۔ دوسری قسم ان کی تھی جو کہ مستقل اس بات سے انکار کرتے تھے کہ ان کے کوئی غلط (غیر عیسائی) عقائد ہیں جبکہ عدالت کلیسا کو خفیہ مخبری کی بناء پر یا کسی اور وجہ سے اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ ایسا ہے۔ تیسری قسم ان ”مجرموں“ کی تھی جن کا اقبال جرم ناکافی ہوتا یعنی وہ اس بات کا اعتراف تو کرتے کہ ان پر جن افعال کا الزام ہے وہ سرزد ہوتے ہیں لیکن یہ نہ مانتے کہ یہ غیر عیسائی افعال کفر کے برابر ہیں۔ ”دنیوی بازو (حکومت) کے لئے ڈھیلا چھوڑے“ جانے والے مجرموں میں سے اکثر ”عودِ ارتداد“ کے مرتکب ہوتے تھے یعنی چوتھی قسم کے وہ جنہوں نے ایک دفعہ توبہ کرنے کے بعد دوبارہ کسی

اسلامی شعائر مثلاً خنزیر کے گ ارتکاب کیا ہوتا۔ اس چوتھی بعد کفارہ کے احکامات کی پوری

پانچویں او جاتے لیکن اندلس کی عدال ازمنہ وسطیٰ میں باقی یورپ م جاتا وہ موت کی سزا سے بچ (Simancas) کا یہ نظر توبہ کیوں نہ کرے وہ ایک یہی نقطہ نظر تھا اس لئے ا دیں۔ ویسے بھی سپین کی م روادار نہ تھی۔ کیونکہ یہ محرک موت کا خوف ہے ایسے ”مجرموں“ کے ساتھ ایسے لوگوں کے لئے اتنی جہاں عمائدین کلیسا اسے فیصلہ سنائے جانے سے ق تخفیف کر کے ابدی قید م کوئی بنیاد پرست فیصلہ پڑ مقدس مادر کلیسا کے رحم لئے سولی پر باندھنے سے

صفحہ ۱۱۳

اسلامی شعائر مثلاً خنزیر کے گوشت یا شراب سے پرہیز یا غسل و طہارت‘ نماز‘ روزہ وغیرہ کا ارتکاب کیا ہوتا۔ اس چوتھی قسم میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے حلفیہ توبہ کرنے کے بعد کفارہ کے احکامات کی پوری تعمیل نہ کی ہوتی۔

پانچویں اور آخری قسم کے لوگ وہ تھے جو ازمنہ وسطیٰ میں تو بری کر دیئے جاتے لیکن اندلس کی عدالت کلیسا انہیں ہمیشہ ”دنیاوی بازو کے لئے ڈھیلا چھوڑتی“ تھی۔ ازمنہ وسطیٰ میں باقی یورپ میں جو کوئی حلفیہ طور پر غیر عیسائی عقائد سے پوری طرح تائب ہو جاتا وہ موت کی سزا سے بچ جاتا (عمر قید وغیرہ کی دوسری کوئی سزا چاہے ہو)۔ سپین کے سیمانقاز (Simancas) کا یہ نظریہ تھا کہ جو کوئی غیر عیسائی عقائد پھیلاتا ہے وہ بعد میں چاہے کتنی ہی توبہ کیوں نہ کرے وہ ایک ناقابل معافی گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔ چونکہ پوپ پال چہارم کا بھی یہی نقطہ نظر تھا اس لئے اس نے اندلس کے محتسب اعلیٰ کلیسا کو اس کے مطابق ہدایات دیں۔ ویسے بھی سپین کی روحانی عدالت کلیسا آخری مرحلے پر کی گئی توبہ کو قبول کرنے کی روادار نہ تھی۔ کیونکہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر عیسائی عقائد سے کی گئی حلفیہ دست برداری کا محرک موت کا خوف ہے نہ کہ انفعال و تاسف۔ اس لئے اندلس کے کلیسا کے ضابطوں میں ایسے ”مجرموں“ کے ساتھ مادر کلیسا کی مصالحت نہ ہو سکتی تھی۔ البتہ مقدس مادر کلیسا نے ایسے لوگوں کے لئے اتنی رعایت کا بندوبست ضرور کیا ہوا تھا کہ مچان کے نیچے ایک کمرہ بنا ہوتا جہاں عمائدین کلیسا اسے عیسائی مذہب کی ترغیب و تلقین کرتے رہتے۔ جو کوئی آخری بار فیصلہ سنائے جانے سے قبل توبہ کر لیتا اسے ”دنیاوی بازو کے لئے ڈھیلا چھوڑنے“ کی سزا میں تخفیف کر کے ابدی قید بمع ضبطی جائیداد‘ جرمانہ وغیرہ قسم کی سزاؤں میں بدل دیا جاتا۔ اور اگر کوئی بنیاد پرست فیصلہ پڑھے جانے کے بعد بھی توبہ کر لیتا تو اس قسم کا بنیاد پرست ”مجرم“ بھی مقدس مادر کلیسا کے رحم بیکراں سے محروم نہ رہتا۔ ایسی صورت میں اسے جلائے جانے کے لئے سولی پر باندھنے سے قبل اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا۔

صفحہ ۱۱۴

”عمل ایمانی“

(Auto de Fe)

”عمل ایمانی“ (Auto de Fe) کلیسا کی روحانی عدالت Inquisition کی طرف سے جن لوگوں کو ٹربیونل ”مجرم“ قرار دے دیتا تھا ان کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کی باضابطہ اور سنجیدہ مذہبی رسم تھی۔ ”عمل ایمانی“ کا تعلق کلیسا کی ان دونوں مذہبی رسموں سے تھا، ایک جب باقاعدہ فیصلہ سنایا جاتا تھا اور دوم جب اس کے بعد کسی عام چوراہے میں ”مجرم“ کو سولی سے باندھ کر نذر آتش کر کے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا جاتا تھا۔

فرانس کا مشہور مفکر والٹیر (Voltaire) لکھتا ہے کہ اگر کوئی باہر کا شخص کسی ایسے موقع پر سپین کے کسی شہر میں وارد ہوتا جبکہ وہاں مسلمانوں کو سولی سے باندھ کر جلانے کا اہتمام کیا جاتا تو وہ یہی سمجھتا کہ یہ کوئی مذہبی یا قومی تہوار کا موقع ہے۔ صلیبی جوش، تجسس اور ایسے موقع پر پوپ کے چالیس یومیہ عفو گناہ (Bull of Indulgence) کی وجہ سے لوگوں کا بڑا ہجوم ہوتا۔

ملزم کو قید کرنے، ایذا رسانی سے اقبال جرم حاصل کرنے اور مقدمے کی سماعت میں جو رازداری اور رذالت برتی جاتی تھی، اس کے برعکس عمل ایمانی Auto de Fe کی بنیاد نمود و نمائش اور نشر و اشاعت پر تھی۔ اس کی غرض و غایت کلیسا کے منکروں کے دل میں خوف طاری کرنا اور اس کے وفاداروں کے دلوں کو سکون و راحت پہنچانا تھا۔ چنانچہ یہ ایک ایسے ڈرامائی تماشے یا سوانگ کی طرح سٹیج کیا جاتا تھا جو کہ بڑا رنگا رنگ مگر ہیبت ناک ہو اور جس میں سپینی تہوار کا تمام تر طمطراق اور ازمنہ وسطیٰ کے کلیسا کی متاثر کن تمکنت ہوتی تھی۔

عمل ایمانی کے انعقاد سے ہفتوں قبل ارد گرد کے تمام کلیساؤں کے ممبروں سے باقاعدہ اس رسم کے منانے کا اعلان ہوتا تھا اور لوگوں کو حاضری کے لئے طلب کر کے کلیسا کے چالیس دن کے لئے گناہوں کا معافی نامہ

ce of Forty days) دن جو کہ ہمیشہ اتوار ہوتا ایک زرق برق لباس پہنے اور ہاتھ رحم“ کے الفاظ نقش ہوتے اور بد قسمت ”مجرم“ ننگے پا (Sanbenito) پہنے جس ہوتی تھیں، شامل ہوتے۔ ان کا دوسرا سرا ان کی گردن سے قرار دیا جاتا ان کے پتلے اور جلوس میں لے جائی جاتیں یہ لوگوں کا سٹیج بنائی جاتی جس پر نائب کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا اور کے منصف اعلیٰ eral) نمائندے کے لئے۔ کلیسا کی کے لئے اطاعت کا حلف ادارہ ”(کلیسا) کے کام میں ب اس کے اعتبار سے آگے لائے جا ”مجرم“ کو تاسف و پشیمانی پڑھ کر سنائی جاتی اور وہ ان ہوتی تھیں۔ مقدمے کی ”ملزم“ کو ایک گیلری کے ذ ایک بہت بڑی صلیب جو

صفحہ ۱۱۵

(Indulgence of Forty days) حاصل کرنے کا حکم دیا جاتا۔ رسم منانے کے دن جو کہ ہمیشہ اتوار ہوتا ایک باضابطہ اور سنجیدہ جلوس بنایا جاتا، جس میں کلیسا کے اہل کار زرق برق لباس پہنے اور ہاتھوں میں صلیبیں اور کلیسا کے وہ علم تھامے جن پر ”انصاف اور رحم“ کے الفاظ نقش ہوتے تھے‘ اکابرین و امراء سیاہ لباس پہنے اور جھنڈے اور پرچم اٹھائے‘ اور بدقسمت ”مجرم“ ننگے پاؤں غیر روشن سبز موم بتی ہاتھ میں لئے اور بڑا گھناؤنا لباس (Sanbenito) پہنے جس پر سرخ صلیب‘ آگ کے شعلے اور شیطانی شکلوں کی تصویریں بنی ہوتی تھیں‘ شامل ہوتے۔ ان مجرموں کے ہاتھ رسی کے ایک سرے سے بندھے ہوتے جس کا دوسرا سرا ان کی گردن کے گرد باندھ دیا جاتا۔ جن لوگوں کی غیر حاضری میں انہیں ”مجرم“ قرار دیا جاتا ان کے پتلے اور ان لوگوں کی ہڈیاں جو مرنے کے بعد ”مجرم“ پائے جاتے وہ اس جلوس میں لے جائی جاتیں۔

لوگوں کا ایک جم غفیر اس جلوس کے ہمراہ کلیسا جاتا۔ وہاں مرکز میں ایک سٹیج بنائی جاتی جس پر تائب ہونے والے مجرموں کو کھڑا کیا جاتا۔ کلیسا کا مذبح (Altar) سیاہ کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا اور اس پر دو مسندیں بچھی ہوتی تھیں‘ ایک کلیسا کی روحانی عدالت کے منصف اعلیٰ (Inquisitor-general) کے لئے اور دوسری بادشاہ یا اس کے نمائندے کے لئے۔ کلیسا کی روحانی عدالت کے منصف کا وعظ۔ حکومت کے افسران کی کلیسا کے لئے اطاعت کا حلف اور ان لوگوں کے خلاف لعنت اور بددعا اور قدغن جو ”مقدس ادارہ“ (کلیسا) کے کام میں خلل ڈالیں، نئے ”عمل ایمانی“ کی ابتدا ہوتی تھی۔

اس کے بعد پشیمان و تائب ”مجرم“ ایک ایک کر کے فیصلے کی سنگینی کے اعتبار سے آگے لائے جاتے۔ وثیقہ نویس (Notary) ان کا ”اقبال جرم“ پڑھتا اور ”مجرم“ کو تاسف و پشیمانی کے اظہار کے لئے کہا جاتا۔ ”پشیمان ملزم“ کو حلفی توبہ کی عبارت پڑھ کر سنائی جاتی اور وہ اسے ایک ایسی میز کے قریب دہراتا جس پر کئی ایک کھلی فائلیں پڑی ہوتی تھیں۔ مقدمے کی پوری کارروائی کی رپورٹ پڑھی جاتی اور اس کے ساتھ ہی ”پشیمان ملزم“ کو ایک گیلری کے درمیان لے جایا جاتا اور اس کے متعلق فیصلے کا اعلان کر دیا جاتا۔ ایک بہت بڑی صلیب جو اس موقع کے لئے خصوصی طور پر نصب ہوتی تھی اس کا سیدھا رخ

صفحہ ۱۱۶

ان کی طرف پھیر دیا جاتا جنہیں چھوڑنا ہوتا تھا اور اگر اس کا الٹا رخ دکھایا جاتا تو اس کا مطلب سزائے موت ہوتا تھا۔

جو فیصلے سنائے جاتے وہ کفارے کی سزاؤں سے لے کر عمرقید اور سزائے موت تک ہوتے۔ جنہیں سزائے موت ہوتی انہیں دنیاوی بازو (حکومت) کے سپرد کردیا جاتا کیونکہ کلیسا نظریاتی طور پر اس اصول کی بنا پر کسی گناہ گار کی موت کا خواہش مند نہ ہوتا تھا کہ ”کلیسا خون کا پیاسا نہیں ہے“۔ کلیسا کی روحانی عدالت ان نظریاتی لطافتوں کے متعلق اتنی محتاط تھی کہ جنہیں ”ڈھیلا چھوڑ“ کر ”دنیاوی بازو“ کے لئے ترک کرنا ہوتا تھا ان کا فیصلہ آخر میں سنایا جاتا۔ اور ان کے لئے یہ رسم کسی عام بڑے چوراہے کے لئے ملتوی کردی جاتی جہاں اس مقصد کے لئے خاص طور پر ایک پلیٹ فارم بنایا ہوتا۔ موت کا اعلان وہاں کیا جاتا اور اس طرح کلیسا کو موت کے فیصلے میں ملوث ہونے سے بچالیا جاتا۔ درحقیقت سزائے موت کا فیصلہ ہمیشہ اس فارمولے کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا۔ ”ہم تمہیں مرتد قرار دیتے ہیں۔ تمہیں کلیسا کے فورم سے خارج کیا جاتا ہے اور ہم تمہیں دنیاوی عدل و انصاف کے سپرد کرتے ہیں۔ تاہم ہم ان سے پرزور استدعا کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ اس حد تک معتدل کردیں کہ تمہارے بارے میں نہ تو کوئی خونریزی ہو اور نہ ہی موت کا خطرہ“۔

کلیسا کی روحانی عدالت کا سزائے موت کا پسندیدہ طریقہ نذر آتش کرنے کا تھا جو کہ یوحنا کی انجیل کے باب پندرہ آیت نمبر ۶ کے مطابق ہے یعنی ”اگر کوئی آدمی میرے مطابق زندگی نہیں گزارتا تو پھر وہ ایک ٹہنی کی مانند پھینکا جاتا ہے جو کہ مرجھا جاتی ہے۔ اور لوگ اسے اکٹھا کرلیتے ہیں‘ آگ میں ڈالتے ہیں اور وہ جل جاتے ہیں“۔

سزائے موت پر عملدرآمد کسی مذہبی تہوار کے دن نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اسی دن جب فیصلہ کا اعلان ہوتا‘ یہ عموماً اس سے اگلے دن ہوتا تاکہ ”مجرم“ کو تبدیلی مذہب کا مناسب موقع مل جائے۔ پوپ معصوم چہارم (Pope Innocent IV) نے درمیانی وقفہ کی زیادہ سے زیادہ حد پانچ دن مقرر کردی۔ ”عمل ایمانی کی تقریب“ کا انعقاد عموماً ایسے کیا جاتا کہ یہ کسی تہوار کے دن ہو اور اس طرح اس سے عوام کے لئے نہ صرف ہلا گلا کا سامان ہو بلکہ افادہ روحانی کا بھی۔ اس چیز کا بہت خیال رکھا جاتا تھا کہ شکار لوگوں کو مخاطب نہ

کرنے پائے اور اس طرح اپنی بے چیز کی (کلیسا کی طرف سے) سفارش کے منہ میں کچھ ٹھونس دیا جائے۔

جس دھوم دھام اسی طرح اس پر عملدرآمد کے لئے گدھوں پر بٹھا کر Quemadro ساتھ ہوتے جو کہ ”مرتد انہیں جاتے۔ کلیسا اور حکومت کے اعلیٰ آتے۔

پادریوں کے ط روحانی عدالت کلیسا (isition ہاتھوں توحید پرست اور بنیاد پرست اس کے نذر آتش ہونے پر صلیب کی تقریب Auto de Fe تفاصیل میں جانے کی ضرورت ن حقائق کا روح رواں جو جذبہ اور وغیرہ کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خفیہ پر ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے لئے کار ف سی آئی اے جو شخص یہ ب اسے نہ تو (CIA) اور موساد کے کا کوئی علم ہے اور نہ ہی (ایک ا پاک کے وقت صلیبی لارڈ ماؤنٹ ایڈوینا (Edwina) انتقال ان جانیں بچاسکتے تھے اور کتنی ص

صفحہ ۱۱۷

کرنے پائے اور اس طرح اپنی بے گناہی کا دعویٰ کر کے ان میں ہمدردی نہ پیدا کر دے۔ اس چیز کی (کلیسا کی طرف سے) سفارش کی جاتی تھی کہ یا تو ان کی زبان باندھ دی جائے یا پھر ان کے منہ میں کچھ ٹھونس دیا جائے۔

جس دھوم دھام کے جلوس کا اہتمام فیصلے کے اعلان کے لئے کیا جاتا بالکل اسی طرح اس پر عملدرآمد کے لئے کیا جاتا۔ فوجی بدرقہ کے ساتھ سزائے موت پانے والوں کو گدھوں پر بٹھا کر Quemadro میں لے جایا جاتا جہاں ایک مچان بنی ہوتی۔ پادری ان کے ساتھ ہوتے جو کہ "آخر تک انہیں کلیسا کے سامنے "سر تسلیم خم کرنے" کی تلقین کرتے جاتے۔ کلیسا اور حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے دار عمل ایمانی کی تقریب کی تکمیل دیکھنے آتے۔

پادریوں کے مخصوص لباس اور ان کی اس موقع کے لئے خاص رسومات، روحانی عدالت کلیسا (Inquisition) کی رسمی کارروائیاں۔ صلیب پرست ہجوم کے ہاتھوں توحید پرست اور بنیاد پرست "مجرم" کی تذلیل (مثلاً اس پر تھوکنا اور کنکر پھینکنا) اور اس کے نذر آتش ہونے پر صلیب پرست ہجوم کے قہقہے، یہ تمام چیزیں جو کہ اس عمل ایمانی کی تقریب Auto de Fe کا لازمی جزو تھیں چونکہ قصہ پارینہ بن چکی ہیں اس لئے ان تفاصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ یہاں یہ کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام حقائق کا روح رواں جو جذبہ اور سوچ تھی وہ اس زمانے میں سپر کمپیوٹروں، لیزر بیم، سیاروں وغیرہ کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مخفی، غیر مرئی، پر فریب اور عیارانہ ہتھکنڈوں کے ساتھ عالمی سطح پر "نیو ورلڈ آرڈر" کے لئے کار فرما ہے۔

جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ایسی چیزیں اس زمانے میں انہونی سی چیزیں ہیں تو اسے نہ تو سی آئی اے (CIA) اور موساد کے سٹنگ آپریشن (Sting Operation) جیسے ہتھکنڈوں کا کوئی علم ہے اور نہ ہی (ایک مثال کے طور پر) اس چیز کا کوئی ادراک کہ تقسیم برصغیر ہندو پاک کے وقت صلیبی لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور پنڈت جواہر لال نہرو پر عاشق اس کی یہودی بیوی ایڈوینا (Edwina) انتقال اقتدار کا کام ذرا احتیاط سے سر انجام دے کر کتنے مسلمانوں کی جانیں بچا سکتے تھے اور کتنی عصمتیں لٹنے سے محفوظ کر سکتے تھے۔ اور کشمیر کا ناسور جو پہلے

صفحہ ۱۱۸

ہی تین جنگوں کا باعث بن چکا ہے‘ وہ اس کے علاوہ پوپ الیگزینڈر ششم اور طور قاطہ کی روحیں واقعی لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور اس کی صیہونی بیوی پر اس وقت بہت رشک کر رہی ہوں گی۔ یہ صلیبی و صیہونی گٹھ جوڑ کے ”عمل ایمانی“ کی ایک جدید شکل تھی جس کے آگے قائد اعظم جیسے رہنما بھی اس وجہ سے بے بس تھے کہ انہیں احساس تھا کہ اگر دشمنانِ اسلام کو اس راز کا علم ہو گیا کہ وہ (قائد اعظم) ٹی بی کے آخری مرحلے کے مریض ہیں تو انہیں اپنی قوم کے لئے ان سے جو کچھ مل رہا ہے وہ بھی ملنا ناممکن ہو جائے گا۔

صفحہ 119

باب پنجم

نیو ورلڈ آرڈر اور سرخ فام

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ط بے شک شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے

"کیا یہ سب کچھ محض ایک خواب ہے؟" جنگ آزمودہ ہسپینی مہم جوؤں (Conquistadores) نے حیرت سے معبدوں، پلوں اور شاندار شہروں پر ٹکٹکی جمائے ہوئے کہا۔ سپین کے بہت سے نواب جو کارٹیز (Cortes) کی سرکردگی میں ۱۵۱۹ء میں میکسیکو کے ساحل پر پہنچے انہیں یہی توقع تھی کہ انہیں وہاں پسماندگی کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہوئے برہنہ وحشی ملیں گے۔ ان کا استعجاب تصور کریں جب انہوں نے وہاں ایک ایسی تہذیب کو نشوونما پاتے دیکھا جس کی آب و تاب ان کی اپنی تہذیب سے زیادہ تھی۔ سونے، چاندی اور زبرجد کے فن پاروں سے بھرے محلات دیکھ کر ان کے سر چکرانے لگے۔ ٹینو چٹلان (Tenochtitlan) یعنی میکسیکو میں ریڈ انڈینز کی سلطنت کے دارالحکومت کی آبی شاہراہیں ونیس کو ماند کر رہی تھیں۔ چولولا (Cholula) کے عظیم اہرام حجم کے اعتبار سے دریائے نیل کے کنارے کھڑے اہرام سے بڑھ کر تھے۔

"برنال ڈیاز ڈلکا سٹیلو (Bernal Diaz del Castello) کارٹیز کی نیو سپین (New Spain) کی تسخیر کی مہم میں بحیثیت ایک فوجی اور سوانح نگار کے شامل تھا۔ اس کا قلم لکھتے لکھتے رک گیا کیونکہ اسے یہ نہیں سوجھتا تھا کہ وہ ان چیزوں کو کیسے بیان کرے جو ان کے سننے، دیکھنے میں تو کیا کبھی تصور میں بھی نہیں آئی تھیں۔

"پیرو Peru میں بھی ان فاتحین کا سامنا اتنے ہی متحیر کن عجائب سے ہوا۔

صفحہ ۱۲۰

چن چن Chan Chan ریڈ انڈینز کا دارالحکومت چمو Chimu اشوریوں کے نینوا‘ کلدانیوں کے ار (Ur)‘ بابل‘ حتی کہ زبردست کار تھج پر بھی سبقت لیجا رہا تھا۔ انکاز (Incas) انڈینز کی عظیم شاہراہ جو تین ہزار میل تک اینڈیز (Andes) کے برف پوش پہاڑوں کو چیرتی‘ آباد چٹانوں میں سے سرنگوں کے ذریعے گزرتی‘ دریا کی ایسی گہری گھاٹیوں کو عبور کرتی جن کے اوپر انسان کا سر چکرانے لگے اور میلوں تک تپتے صحراؤں کو پاٹتی جاتی تھی‘ اس کے مقابلے میں سلطنت روما کی مشہور اپین وے (Appian Way) محض باغ کی روش معلوم ہوتی تھی۔ اور جب ہسپانیوں نے انتہائی بلندی میں بادلوں میں معلق آبپاشی کے نظام کو دیکھا تو حیرت سے ان کی آنکھیں باہر آنے لگیں۔

”بیسویں صدی کا انسان بھی اپنی سائنسی ترقی کے شعور کے تفاخر کے علی الرغم قدیم پیرو کی دیواروں پر حیرت زدہ ہوتا ہے۔ بیس ٹن کے تراشیدہ پتھر بغیر چونے‘ سیمنٹ کے ایسے ٹکائے گئے ہیں کہ بے شمار زلزلوں کے بعد بھی جوڑوں میں کاغذ کا پرزہ نہیں سرکایا جاسکتا۔ فلک بوس عمارتوں (Skyscrapers) والے شہر نیویارک کے منظر پر ظہور پذیر ہونے سے صدیوں قبل شمالی امریکہ کے (Pueblo) علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارتوں والے شہر موجود تھے۔ جس زمانے میں پرانی دنیا کے طبیب Unicorn (یعنی ایک خیالی ایک سینگ والا مینڈھا) کے سینگ کا کشتہ اور شیرنی کا دودھ تجویز کر رہے تھے اس زمانے میں اینڈیز کے انڈینز دماغ کے انتہائی نازک آپریشن کرتے تھے جن پر آج کے جراح بھی ششدر ہیں۔ درحقیقت امریکہ کے قدیم باشندوں کا تقویم‘ فلکیات اور ریاضی کا علم ازمنہ وسطی کے یورپ کے عالموں کے لئے باعث ندامت تھا۔ مے آ (Maya) انڈینز کے اسلاف نے صفر کا استعمال مسلمانوں سے بھی ایک ہزار سال قبل شروع کر دیا تھا.......

”آلو آدھی دنیا کی غذا ہے۔ کروڑوں افراد کا گزارہ مکئی‘ Manioc اور مچھلی پر ہے اور یہ سب خوراکیں امریکہ کے قدیم باشندوں نے سب سے پہلے کاشت کیں۔ فیل مرغ (Turkey) جو امریکہ میں تہواروں کا روایتی طعام ہے‘ ریڈ انڈینز ہی کا متعارف کردہ ہے۔ شاید ہی کوئی امریکی کھانے ہوں جو اس طرح ریڈ انڈینز کے مرہون منت نہ ہوں۔“

(Indians of the Americas by Mathew W.Sterling, P. 13)

صفحہ ۱۲۱

عام استعمال کی تقریباً انسٹھ ادویات کی دریافت کا سہرا امریکہ کے قدیم باشندوں کے سر ہے۔ ان میں کوکا (جو کوکین‘ نوووکین وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے) کیوریہ (Curare) (جو پٹھوں کے لئے آرام دہ ہے) سنکونا درخت کا چھلکا جس میں سے کونین نکلتی ہے ۔ Cascara Sagrades جو قبض کشا ہے۔ دیتورا Datura جو درد کم کرتا ہے اور Ephedra وغیرہ مشہور ہیں۔

جس گزری ہوئی نوع انسانی کو ہم ایمرینڈینز (Amerindians) یا ریڈ انڈینز کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ کوئی ایک قوم نہیں تھی بلکہ دو وسیع براعظموں شمالی و جنوبی امریکہ اور ان کے قریبی جزائر پر آباد کئی قوموں کا مجموعہ تھا۔ ان میں وہ بھی تھے جو برہنہ یا نیم برہنہ حالت میں جانوروں کی کھالوں کے خیموں (Tepees) یا مٹی گارے کے کچے جھونپڑوں (Wigwam) میں رہتے تھے۔ اور جن کی گزر اوقات جنگلی پھلوں‘ جانوروں یا مچھلی کے شکار پر تھی۔ ان میں انکا (Inca) ازتک (Aztec) اور مےآ (Maya) جیسی وہ اقوام بھی تھیں جن کی حیرت انگیز طور پر ترقی یافتہ تہذیبوں کی ایک جھلک مندرجہ بالا اقتباس میں ہے۔ ان میں جنگجو قبائل بھی تھے جن کا اپنے ہمسایہ قبائل سے جنگ وجدل کا سلسلہ رہتا تھا اور ان میں بڑی امن پسند اقوام بھی تھیں جو جنگ کو دیوانگی تصور کرتی تھیں۔ ان کی تقریباً بائیس سو مختلف زبانیں اور بہت سی بولیاں تھیں۔ صلیب پرستوں کے ان کی سرزمین پر وارد ہونے کے وقت ان کی مجموعی آبادی کے مختلف اندازے دو کروڑ سے ساڑھے سات کروڑ کے دیئے جاتے ہیں۔ (راقم الحروف کے خیال میں موخر الذکر اندازہ زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔) ان میں جو قومیں اپنی نسبتاً سادہ تہذیب کے ساتھ شمالی امریکہ کے جنگلات میں آباد تھیں ان میں اگرچہ یورپی معاشرے کی مانند حاکمیت کے لوازمات مثلاً قوانین و ضابطے‘ کوتوال و سپاہی‘ جج و جیوری‘ عدالتیں اور جیلیں وغیرہ تو موجود نہ تھے‘ تاہم جائز و ناجائز‘ روا و ناروا کا ایک واضح شعور موجود تھا۔ اگرچہ فرد کافی حد تک خود مختار ہوتا تھا پھر بھی ان اصولوں کا نفاذ ان کے قبائلی نظام میں لازمی طور پر ہوتا تھا۔ کولمبس کی آمد کے وقت شمالی اور جنوبی امریکہ کے کئی علاقے یورپ کی نسبت زیادہ گنجان آباد‘ وہاں کی ثقافت زیادہ متنوع‘ معیشت و معاشرت کافی حد تک مبنی بر مساوات‘ مرد و زن اور فرد و معاشرے کے نہ صرف باہم روابط بلکہ ماحول و فطرت کے ساتھ

صفحہ ۱۲۲

بھی بڑے ہم آہنگ و متوازن تھے۔ ان تمام قوموں کے بنیادی عقیدے کے مطابق تمام حیوانات، نباتات اور انسان ایک عظیم مشترکہ آفاقی روح کا حصہ تھے اور غذا اور دوسری ضروریات کے لئے جانوروں کا شکار اور نباتات کا استعمال ایسی رسوم اور پابندیوں کے تحت ہوتا تھا جو ماحول اور فطرت کے تحفظ و توازن میں بڑی مددگار ہوتی تھیں۔ چنانچہ سفید فام صلیب پرستوں نے ان کی سرزمین میں پہنچ کر ان قوموں کا صفایا کرنے کے ساتھ جن جنگلات اور کئی انواع کے حیوانات کو بھی قلیل عرصے میں ختم کیا وہ کئی ہزار سال سے برقرار تھے۔ ان سب سے بڑھ کر ان میں تین روحانی پیشوا ایسے بھی گزر چکے تھے جن کی تعلیمات حضرت عیسیٰ کی تعلیمات سے بڑی مشابہ تھیں۔ چنانچہ جب ان میں سے ایک قبیلے کے سردار کو صلیب پرستوں کے ان کی سرزمین میں وارد ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کہا: ”میرا بھائی آیا!“ اسے کیا خبر تھی کہ اس کا بھائی اپنے صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کے ساتھ اس کی تمام نسل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے آیا ہے۔

سانولے رنگ کے برہنہ اراواک (Arawak) مرد اور عورتیں حیرت زدہ ہو کر اپنے دیہاتوں سے نکلے اور اپنے جزیرے کے ساحل پر سمندر میں تیرتے ہوئے عجیب قسم کی بہت بڑی کشتیوں کو نزدیک سے دیکھنے کے لئے آگئے۔ جب کولمبس اور اس کے ملاح اپنی تلواریں تھامے ناقابل فہم زبان بولتے ساحل پر آئے تو اراواک لوگ بھاگتے ہوئے ان کے استقبال کو پہنچے اور انہیں کھانا، پانی اور تحائف پیش کئے۔ کولمبس نے بعد میں اپنے روزنامچہ میں لکھا۔ ”وہ ہمارے لئے طوطے، روئی کے گولے، نیزے اور بہت سی دیگر اشیاء لائے جس کا انہوں نے شیشے کے منکوں اور (شکروں کے گلے یا پنجوں میں باندھنے والی) گھنٹیوں سے تبادلہ کیا۔ ان کے پاس جو کچھ بھی تھا اس کا انہوں نے بڑی رغبت سے لین دین کیا....... وہ مضبوط ڈیل ڈول اور اچھی وضع قطع والے تھے...... ان کے پاس ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس سے آشنا ہیں۔ کیونکہ میں نے جب انہیں ایک تلوار دکھائی تو انہوں نے اسے اس کی دھار سے پکڑ کر لاعلمی میں خود کو زخمی کر لیا۔ ان کے پاس لوہا نہیں ہے۔ ان کے نیزے بانس کے بنے ہوئے ہیں...... وہ اچھے ملازم ثابت ہوں گے اور ہم صرف پچاس آدمیوں کے ذریعے ان پر غلبہ پا کر ان سے کوئی بھی کام لے سکتے ہیں۔“

لا کاساس انہی لوگوں شعار اور ہر قسم کے دھوکہ فریب سے ہوں۔“

کولمبس ۲۴ دسمبر بہتر اور زیادہ حلیم الطبع لوگ نہیں ہوں آنے کے بعد پہلے ہی جزیرے میں وہ وہ (چینی زبان) سیکھ کر ان علاقوں پہنچائیں۔“

کولمبس کو سب ملکہ اور شاہ سپین کو اس مہم کے اخ دولت، بحر اوقیانوس کے دوسری جانب وغیرہ کی صورت میں۔ یہ ایک عام جات، کیونکہ صدیوں قبل مارکو پولو لائے تھے۔ لیکن اب ترکوں کا دوسرے راستے کی ضرورت تھی کولمبس کے ری کی حد تک ہوتا ہے۔ سونا غلام ب اختیار کرنے پر مجبور کرنا اور ام Columbian Legacy یعنی بنیادی ستون بنے۔

کولمبس کے کی کوئی خاطر خواہ مقدار نہ ملی نائب بیڑے کے تین جہازوں کی تلاش میں نکل گیا۔ جس پر

صفحہ ۱۲۳

وں کے بنیادی عقیدے کے مطابق تمام خالق روح کا حصہ تھے اور غذا اور دوسری استعمال ایسی رسوم اور پابندیوں کے تحت ہوتا مددگار ہوتی تھیں۔ چنانچہ سفید فام صلیب کا صفایا کرنے کے ساتھ جن جنگلات اور کئی علاقہ کئی ہزار سال سے برقرار تھے۔ ان سب کر چکے تھے جن کی تعلیمات حضرت عیسیٰؑ کی ان میں سے ایک قبیلے کے سردار کو صلیب دی گئی تو اس نے کہا: ”میرا بھائی آیا!“ اسے کیا کے ساتھ اس کی تمام نسل کو بیخ و بن سے اکھاڑ

واک (Arawak) مرد اور عورتیں حیرت زدہ کے ساحل پر سمندر میں تیرتے ہوئے عجیب قسم دیکھنے آ گئے۔ جب کولمبس اور اس کے ملاح اپنی پر آئے تو اراواک لوگ بھاگتے ہوئے ان کے پیش کئے۔ کولمبس نے بعد میں اپنے روزنامچہ طوطے‘ نیزے اور بہت سی دیگر اشیاء لائے جس کا کانچوں میں باندھنے والی) گھنٹیوں سے تبادلہ سے بخوشی رغبت سے لین دین کیا۔۔۔۔۔۔ وہ مضبوط ان کے پاس ہتھیار نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس ایک تلوار دکھائی تو انہوں نے اسے اس کی دھار سے اور زخمی ہو گئے۔ ان کے نیزے بانس کے بنے ہم صرف پچاس آدمیوں کے ذریعے ان پر

لا کاساس انہی لوگوں کے متعلق لکھتا ہے: ”انتہائی شریف لوگ‘ مہربان‘ وفا شعار اور ہر قسم کے دھوکہ فریب سے بالاتر‘ اور اس قسم کے جو سنہری طور طریقوں سے رہتے ہوں۔“

کولمبس ۲۴ دسمبر کو اپنے روزنامچہ میں لکھتا ہے کہ ”ساری دنیا میں ان سے بہتر اور زیادہ حلیم الطبع لوگ نہیں ہو سکتے۔“ وہ مزید لکھتا ہے ”میں نے ان جزائر غرب الہند میں آنے کے بعد پہلے ہی جزیرے میں وہاں کے اصلی باشندوں میں سے کچھ کو زبردستی پکڑ لیا تاکہ وہ (ہسپانوی زبان) سیکھ کر ان علاقوں میں جو کچھ بھی ہے اس کے متعلق مجھے معلومات بہم پہنچائیں۔“

کولمبس کو سب سے زیادہ جس چیز کی معلومات درکار تھیں وہ سونا تھا۔ کیونکہ ملکہ اور شاہ سپین کو اس مہم کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے اس امید پر آمادہ کیا گیا تھا کہ دولت بحر اوقیاس کے دوسری جانب ہندوستان اور ایشیاء میں ہے‘ سونے اور گرم مصالحہ جات وغیرہ کی صورت میں۔ یہ ایک عام خیال تھا کہ ایشیاء میں سونا ہے‘ اور یقیناً ریشم اور مصالحہ جات‘ کیونکہ صدیوں قبل مارکو پولو بری راستوں سے اپنی مہم کی واپسی پر حیرت انگیز اشیاء ساتھ لائے تھے۔ لیکن اب ترکوں کا قسطنطنیہ پر اور مشرقی بحیرہ روم پر تسلط ہو جانے سے کسی دوسرے راستے کی ضرورت تھی۔

کولمبس کے روزنامچے میں تحریروں سے مندرجہ ذیل مقاصد کا اظہار جنون کی حد تک ہوتا ہے۔ سونا‘ غلام‘ فتوحات‘ نو آبادیوں کا قیام اور دوسری قوموں کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنا اور اس کے بعد ان کا استحصال۔ اور یہی مقاصد تھے جو بعد میں Columbian Legacy یعنی ”کولمبس کے ورثہ“ کی شکل میں یورپی اور امریکی استعمار کے بنیادی ستون بنے۔

کولمبس کے کیوبا پہنچنے کے بعد دو ماہ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود اسے سونے کی کوئی خاطر خواہ مقدار نہ ملی اور نہ ہی کسی سونے کی کان کا سراغ۔ اس دوران اس کا ایک نائب بیڑے کے تین جہازوں میں سے ایک جہاز پنٹا کو لے کر بغیر کولمبس کی اجازت کے سونے کی تلاش میں نکل گیا۔ جس پر کولمبس کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں اس کا نائب سونے کا سراغ لگا کر

صفحہ ۱۲۴

واپس سپین نہ چلا جائے اور اس طرح مہم کی کامیابی کا سہرا اس کے سر رہے۔ اسی دوران اسے یکایک خبر ملی کہ جزیرے کے ایک سردار گواکاناگری کے پاس سونے کی خاصی مقدار ہے اور اس سردار کا پیغام بھی کہ اگر کولمبس اس کے پاس آئے گا تو وہ اسے سونا دے گا۔ چنانچہ کولمبس فوراً جزیرے کے ساحل کے ساتھ ساتھ اپنے باقی دو جہازوں میں گواکاناگری کے قصبے کی طرف روانہ ہو گیا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ کرسمس کے موقع پر عین نصف شب کو قیادت کا جہاز ”سینٹ مریم“ جس میں کولمبس خود سوار تھا بحر احمر کی چٹان پر چڑھ گیا۔ کولمبس کا عملہ تو اپنی جانیں بچانے کے لئے بغیر امیر البحر بحرین کی اجازت کے ڈوبتے جہاز سے سمندر میں چھلانگیں لگا کر دوسرے جہاز میں چلا گیا۔ لیکن کولمبس نے صحیح طور پر اندازہ لگایا کہ وہ گواکاناگری کے قصبے سے زیادہ دور نہیں ہوں گے۔ چنانچہ اس نے فوراً ایک قاصد کو بھگا کر اسے اپنی مصیبت سے آگاہ کیا۔ گواکاناگری کو جب اپنی سرزمین پر صلیبی نوواردوں کی مصیبت کی خبر ہوئی تو اس کے آنسو جاری ہو گئے۔ اس نے فوراً رات کے وقت اپنے رشتہ داروں اور رعایا کو کشتیوں سے جہاز پر بھیجا۔ اس کے رشتہ دار بھی زار و قطار رو رہے تھے۔ انہوں نے تھوڑی ہی دیر میں جہاز کا سارا سامان اتار کر ساحل پر رکھ دیا اور اس پر پہرا لگایا کہ سوئی برابر چیز بھی ادھر ادھر نہ ہوئی۔ جہاں تک جہاز کا تعلق تھا وہ تو امیر البحر بحرین (Admiral of the Ocean Seas) کے کمال سے چٹان پر چڑھ کر پھٹ چکا تھا اور اسے بچانے کی کوئی امید نہیں تھی۔ صبح ہوتے ہی سردار گواکاناگری نے اپنے کچھ مکان خالی کروا کر سارا سامان ان میں محفوظ کروا دیا۔ گواکاناگری نے کولمبس کو تسلی دی کہ اسے کسی غم اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس (گواکاناگری) کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب کچھ اسے دے دے گا۔ اس کے بعد گواکاناگری کی انتہائی معصومانہ اور فیاضانہ مہمانوازی کی چند ایک جھلکیاں کولمبس کے اپنے روزنامچے سے:

۲۶ دسمبر: سردار نے امیر البحر کے سر، چہرے اور گردن میں سونے کے بہت سے زیورات ڈال دیئے۔

۲۸ دسمبر: سونے کی ایک بہت بڑی پلیٹ اس نے امیر البحر کی گردن میں ڈال دی۔

۲۹ دسمبر: سونے کا ایک بڑا نقاب۔

صفحہ ۱۲۵

امیر البحر کی قامت کے برابر اس کا سونے کا مجسمہ اسے دے گا۔

کولمبس نے کرسمس کے موقع اور حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی مناسبت سے Navidad کے نام سے اسی مقام پر اپنا پہلا شہر بسانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ نئی دنیا میں اب تک جن لوگوں سے اس کا واسطہ پڑا تھا وہ جنگ و جدل اور ہتھیاروں سے نا آشنا تھے۔ لیکن کولمبس نے اپنی اس پہلی نو آبادی میں ایک قلعہ مع دیدبان بھی تعمیر کرایا اور اس تمام کام میں گواکاناگری کی رعایا نے اس کی بھرپور مدد کی۔

چنانچہ جب کولمبس اپنی دوسری مہم پر سترہ جہازوں اور چار سو صلیب پرستوں کے ساتھ جزائر غرب الہند میں لوٹا تو اس کا مطمح نظر بالکل واضح تھا۔ سونا اور غلام۔ لہٰذا انہوں نے ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے میں دندناتے ہوئے لوگوں کو قیدی بنانا شروع کر دیا۔ لیکن جب یہ خبر پھیل گئی تو انہیں آگے اکثر دیہات ویران پڑے ملے۔ ہیٹی کے قلعہ میں جو ملاح پیچھے چھوڑے تھے وہ مقامی باشندوں کے ساتھ ایک لڑائی میں مارے گئے، کیونکہ جب وہ جتھوں کی شکل میں سونے کی تلاش میں سرگرداں تھے تو انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مشقت اور جنسی مقاصد کے لئے غلام بنانا شروع کر دیا تھا۔

کولمبس نے اپنے اڈے سے ہر سو ایک کے بعد دوسری مہم سونے کی تلاش میں روانہ کی۔ انہیں سونے کی کوئی کان تو نہ ملی لیکن انہیں اپنی اور پیچھے سپین میں اپنے سر پرستوں کی ہوس زر کا کچھ تو بندوبست کرنا ہی تھا۔ چنانچہ ۱۴۹۵ء میں انہوں نے غلاموں کے لئے ایک بڑا حملہ کرکے پندرہ سو اراواک مردوں، عورتوں اور بچوں کو پکڑ کر محافظوں اور کتوں کی نگرانی میں باڑ میں محصور کر دیا اور اس کے بعد ان میں سے جسمانی لحاظ سے پانچ سو بہترین کو جہاز میں لاد دیا۔ ان پانچ سو میں سے دو سو سفر کے دوران ہلاک ہو گئے۔ باقی جب سپین پہنچے تو شہر کے لاٹ پادری (Archdeacon) نے انہیں فروخت کے لئے پیش کر دیا۔ بعد میں کولمبس نے لکھا۔ ”ہمیں چاہیے کہ ہم مقدس تثلیث کے نام پر جتنے بھی غلام بیچے جاسکتے ہیں بھیجتے رہیں۔“

صفحہ ۱۲۶

لیکن جب اسیری کے دوران کچھ زیادہ ہی غلام مرنے لگے تو کولمبس کو حصول منافع کے لئے دوسرے طریقے تلاش کرنے پڑے۔ چنانچہ ہیٹی (Haiti) کے ایک علاقے میں، جہاں کولمبس اور اس کے ساتھیوں کے خیال میں سونا موجود تھا، انہوں نے چودہ سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو حکم دیا کہ ہر تین ماہ میں وہ سونے کی ایک خاص مقدار تلاش کر کے انہیں مہیا کریں۔ جب وہ مطلوبہ مقدار تلاش کر کے لے آتے تو انہیں تانبے کا ایک خاص ٹوکن گلے میں لٹکانے کے لئے دے دیا جاتا۔ جو باشندہ بھی اپنے گلے میں بغیر ٹوکن کے ملتا اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے حتیٰ کہ وہ جریان خون سے ہلاک ہو جاتا۔ وہاں سونے کی کوئی کان نہ تھی۔ صرف ندیوں کی تہوں میں کچھ سونا ذرات کی صورت میں موجود تھا جو وہ چھان کر لے آتے تھے۔ چنانچہ جب مقامی باشندوں نے سونا نہ ملنے کی وجہ سے فرار ہونا شروع کر دیا تو ان کا کتوں کے ذریعے تعاقب کر کے انہیں قتل کیا گیا۔ جب نہتے باشندوں نے مل کر مزاحمت کی کوشش کی تو ان کا مقابلہ ایسے صلیب پرستوں سے تھا جو تلواروں، بندوقوں، ڈھالوں اور گھوڑوں سے لیس تھے۔ چنانچہ مقامی باشندوں میں کساوا (Cassava) زہر سے اجتماعی خود کشی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کم سن بچوں کو وہ اس لئے ہلاک کر دیتے تاکہ وہ صلیب پرستوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ مقامی لوگوں کے لئے صلیب پرستوں کے گھوڑے اور توپیں ہی ایسی ان دیکھی بلائیں تھیں کہ جنہیں دیکھتے ہی وہ اپنی آبادیوں سے بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ جاتے۔

جب یہ بالکل واضح ہو گیا کہ وہاں کوئی سونا نہیں ہے تو ریڈ انڈینز کا وسیع جاگیروں میں غلاموں کی حیثیت سے استحصال ہوا۔ سوانح نگار لاکاساس Le Casas لکھتا ہے کہ ”ہسپانیوں کے لئے یہ معمولی بات تھی کہ دس بیس ریڈ انڈینز کو خنجر زنی سے ہلاک کر دیں یا اپنے چاقو یا تلوار کی تیز دھار کو آزمانے کے لئے ان میں سے کسی کے جسم سے گوشت کے پارچے اتار دیں.... اس طرح خاوند کانوں میں مر رہے تھے جبکہ ان کی بیویاں دوسری جگہوں پر کام کی زیادتی سے مر رہی تھیں اور بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہو رہے تھے۔ کچھ مائیں حالات سے تنگ آ کر اپنے بچوں کو ڈبو کر مار دیتی تھیں۔ جب میں کیوبا میں تھا تو تین ماہ میں سات ہزار بچے ہلاک ہوئے۔“

کولمبس کی مہمات کا وقائع نگار لاکاساس ایسے بے شمار واقعات تحریر کرتا ہے

جن کا وہ عینی شاہد تھا اور جن میں ہے۔

”ہسپانیوں نے انڈین) کا سر قلم کرتا ہے، اس ہے۔ انہوں نے ننھے بچوں کو چٹانوں پر پٹخ دیئے۔ دوسرے شی پر پرو دیا مع ان کی ماؤں کے اور

”ذرا زیادہ ٹولیوں میں چنتے، ہمارے نجات میں انہیں صلیب سے باندھ کر ان کے نیچے لکڑیاں ڈال دیتے فوجیوں کے ایک دستے کے سات دیہات کے چوراہے کے گرد میں سان پر اپنی تلواریں تیز ک کے ہاتھ آگیا۔ ایک ہسپانی جو اپنی تلواریں نکال لیں اور قتل کرنے لگے۔ مرد، عورت اور ہسپانیوں اور ان کی گھوڑ نہیں بچا تھا۔ ہسپانی ایک نزدی اور تلواروں کی کاٹ اور کچھ دیا۔ حتی کہ خون کی ایک ندی مردہ اور قریب المرگ لوگوں ڈراونا منظر پیش کر رہے تھے

bus & Columbia-n

صفحہ ۱۴۷

جن کا وہ عینی شاہد تھا اور جن میں ہر ایک یکتا صلیبی ترحم و تلطف کا منہ بولتا شاہکار ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

"سپینوں نے یہ شرطیں لگائیں کہ کون ایک ہی وار میں کسی آدمی (ریڈ انڈین) کا سر قلم کرتا ہے‘ اس کے جسم کے دو ٹکڑے کرتا ہے یا اس کی انتڑیاں نکال باہر کرتا ہے۔ انہوں نے ننھے بچوں کو پاؤں سے پکڑ کر ماؤں کی چھاتیوں سے نوچ لیا اور ان کے سر چٹانوں پر پٹخ دیئے۔ دوسرے شیر خوار بچوں کے جسموں کو انہوں نے تکے کی مانند اپنی تلواروں پر پرو دیا مع ان کی ماؤں کے اور جو کوئی بھی ان کے سامنے آیا۔......

”ذرا زیادہ باضابطہ معاوضے کے طور پر وہ ٹائنو (ریڈ انڈینز) کو تیرہ تیرہ کی ٹولیوں میں چنتے، ہمارے نجات دہندہ (حضرت عیسیٰؑ) اور ان کے بارہ حواریوں کی توقیر و تکریم میں انہیں صلیب سے باندھ کر اس طرح لٹکا دیتے کہ ان کے پاؤں زمین کے نزدیک ہوں۔ وہ ان کے نیچے لکڑیاں ڈال دیتے اور آگ لگا کر انہیں زندہ جلاتے۔“ ایک دفعہ لاکاساس سپینی فوجیوں کے ایک دستے کے ساتھ جا رہا تھا۔ وہ مقامی لوگ ٹائنو کے ایک گروہ کے پاس پہنچے جو دیہات کے چوراہے کے گرد بیٹھے تھے۔ چونکہ انہوں (سپینوں) نے اسی صبح دریا کی گذرگاہ میں سان پر اپنی تلواریں تیز کی تھیں اس لئے یہ فوجی انہیں آزمانا چاہتے تھے اور یہ موقع ان کے ہاتھ آ گیا۔ ایک سپینی جو مجسمہ شیطان تھا اس نے یکایک اپنی تلوار کھینچی۔ پھر سو کے سو نے اپنی تلواریں نکال لیں اور بھیڑ کے بچوں کی مانند ان لوگوں کے پیٹ چیرنے، انہیں کاٹنے اور قتل کرنے لگے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے جو تمام بے خبر بیٹھے ہوئے تھے اور سہمے ہوئے تھے اور سپینوں اور ان کی گھوڑیوں کو دیکھ رہے تھے، چند لمحوں میں ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ سپینی ایک نزدیکی گھر میں گھس گئے جس کے دروازے پر ہی یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور تلواروں کی کاٹ اور کچوکوں سے وہاں جتنے بھی لوگ موجود تھے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ خون کی ایک ندی رواں ہو گئی جیسے گائے کی ایک بڑی تعداد کو وہاں کاٹا گیا ہو....... مردہ اور قریب المرگ لوگوں کے جسم جن زخموں سے ڈھکے ہوئے تھے وہ ایک ہیبتناک اور ڈراونا منظر پیش کر رہے تھے۔"

(The Conquest of Paradise, Christopher Columbus & Columbian

صفحہ ۱۲۸

Legacy, P. 137)

یہی سوانح نگار لاسکاس اپنی تصنیف Brief Relation of the Destruction of the Indies میں رقمطراز ہے۔ ”وہ (سپینی) اپنے شہسواروں کے ساتھ تلواروں اور نیزوں سے مسلح ہو کر آئے اور انہوں نے بڑے سنگدلانہ انداز میں قتل و غارت کی..... شہروں اور دیہاتوں کو تاراج کرتے ہوئے انہوں نے عورتوں کو چھوڑا اور نہ ہی بوڑھوں کو۔ ان کی سفاکی سے حاملہ عورتیں بھی نہ بچ سکیں جن کے وہ پیٹ چیر دیتے اور بچوں کو نکال کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔.... وہ جن پر رحم کھا کر انہیں بخشنا چاہتے انہیں وہ اس حالت میں چھوڑ دیتے کہ ان کے نیم بریدہ ہاتھ جلد کے سہارے لٹک رہے ہوتے۔“

ایک دوسرا سردار ہیتھوے صلیب پرستوں سے جان بچا کر کیوبا چلا گیا اور وہاں اپنے ہم نسلوں کو بتایا کہ صلیب پرست سونے کی پرستش کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کی تجویز پر ریڈ انڈینز نے سونے کا ایک صندوق رکھ کر اس دیوتا سے دعا کی کہ وہ انہیں صلیب پرستوں کے عذاب سے نجات دلائے۔ لیکن ۱۵۱۱ء میں صلیب پرستوں نے وہاں بھی پہنچ کر اسے گرفتار کر کے حسب معمول صلیب پر زندہ جلا دیا۔ جب وہ سردار صلیب پر جل رہا تھا تو ایک راہب نے اسے عیسائی کرنے کے لئے اپنی جنت کی عظمتوں کے متعلق بتانا شروع کیا۔ جس پر اس سردار نے جواب دیا ۔ ”مجھے جہنم میں جانے دو تاکہ میں اس جگہ نہ جاؤں جہاں وہ (صلیب پرست) ہوں۔“

(The Indian Heritage of America by Alvin M. Josephy, p. 287)

”پیش قدمی کے احکامات سنگدلانہ معمول پر مشتمل تھے: مقامی باشندوں کو پکڑ کر اکٹھا کرو‘ ان کے مذہب کی ممانعت کر دو‘ انہیں غلام بناؤ‘ تمام سونا سمیٹو اور پھر آگے بڑھو جہاں مزید سونا‘ چاندی اور موتی ہوں۔ ایک سوانح نگار نے لکھا: خط استوا پر دولت ہی دولت ہے۔“

(America: New Found Land)

جس طرح ان صلیب پرستوں پر اپنی تلواروں کی دھار آزمانے کے لئے یکتا

صفحہ ۱۴۹

صلیبی ترحم و تلطف کا دورہ پڑا تھا کچھ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر صلیبی و صیہونی ایٹم بم آزمانے کے لئے صدر ٹرومین پر بھی اسی یکتا صلیبی ترحم و تلطف کا دورہ پڑا تھا کیونکہ یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اگست ۱۹۴۵ء تک جب یہ بم ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے، جاپانی اپنی شکست تسلیم کر کے ہتھیار ڈالنے پر اپنی آمادگی ظاہر کر چکے تھے۔ لیکن چونکہ مین ہٹن پراجیکٹ پر دو بلین ڈالر خرچ ہو چکے تھے جس سے دو بم تیار ہوئے تھے، اس لئے صلیبی و صیہونی دہشت بٹھانے کے لئے ان کا تجربہ ضروری سمجھا گیا۔ اور کچھ اسی طرح صدر بش پر بھی نیو ورلڈ آرڈر کی کٹھ پتلی صدام حسین کے ذریعے بغداد اور بصرہ پر اپنی "سٹار وار" ٹیکنالوجی آزمانے کے لئے یکتا صلیبی ترحم و تلطف کا دورہ پڑا تھا۔ صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کی دو ہزار سال کی تاریخ میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ یکتا صلیبی ترحم و تلطف کو اپنے جلوے دکھانے کا موقع ملا ہو اور یہ جلوہ رونما نہ ہوا ہو۔ گواکاناگری، جس کی انتہائی معصومانہ مہمان نوازی کی کچھ جھلکیاں اوپر دی گئی ہیں "وہ صلیب پرستوں کے مظالم اور خونریزیوں سے مجبور ہو کر بھاگ گیا اور پہاڑوں میں خاک چھانتا ہوا، تباہ حال اور اپنی ریاست سے محروم مرگیا۔"

(۱۵۹)

ہارورڈ یونیورسٹی کا مورخ سیموئیل ایلیٹ موریسن کولمبس کا مشہور ترین سوانح نگار ہے، جس نے ۱۹۴۲ء میں کولمبس کے متعلق کئی جلدوں پر مشتمل اس کی تاریخ لکھی۔ اس تصنیف کا ایک اقتباس جس کا اردو ترجمہ نیچے دیا جا رہا ہے صلیبی و صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کو سمجھنے کے لئے قارئین کے گہرے غور و خوض کے لائق ہے۔

"ظالمانہ طرزِ عمل جس کی ابتدا کولمبس نے کی اور جس پر اس کے بعد میں آنے والے کاربند رہے حتیٰ نسل کشی (Genocide) پر منتج ہوا۔" اس کے بعد وہ اس پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ "اس (کولمبس) میں خامیاں اور نقائص تھے۔ لیکن یہ ان صفات کے نقائص تھے جو کہ اسے عظیم بناتی ہیں۔ یعنی اس کی ناقابلِ تسخیر قوتِ ارادی، اس کا خدا میں اعلیٰ و ارفع ایمان اور اس کا اپنے سمندر پار سر زمینوں میں یسوع مسیح کو لیجانے (Christ Bearer) کے مشن میں انتہائی ایقان، غربت، حوصلہ شکنی اور بے اعتنائی کے علی الرغم اس کی استقامت و مزاولت۔"

صفحہ ۱۳۰

جو کچھ کولمبس نے بہاما کے اراواک ریڈ انڈینز کے ساتھ کیا وہی کچھ کورٹیز (Cortes) نے میکسیکو کے از تک انڈینز کے ساتھ، پزارو (Pizzaro) نے پیرو کے انکا (Inca) انڈینز، ورجینیا اور میساچوسٹس کے انگریز آباد کاروں نے وہاں کے پوهاتن (Powhatan) اور پیکوٹس (Pequotes) کے ساتھ کیا۔

میکسیکو کی از تک (Aztec) تہذیب اپنی پیشرو مایا (Maya) زاپو تک (Zapotec) اور ٹولٹک (Toltec) ثقافتوں کی وارث تھی۔ اس کا طرہٴ امتیاز انسانی مشقت اور پتھروں کے آلات سے تعمیر شدہ انتہائی عظیم الشان عمارات، تحریر کا وضع شدہ ایک قاعدہ اور پروہتوں کا نظام تھا۔ ان میں اگرچہ دیوتاؤں کے لئے انسانی قربانی کی ظالمانہ رسم عام تھی لیکن یہ ان کی ایک خاص معصومیت پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ (یہ رسم ہنود و یہود میں بھی ماضی قریب تک رائج تھی اگرچہ ہنود و یہود پرائے بچوں کی قربانی دیتے رہے ہیں) چنانچہ جب سپینی جہازوں کا ایک عظیم بیڑا ویراکروز (Vera Cruz) کی بندرگاہ پر نمودار ہوا اور اس میں سے ایک سفید فام باریش آدمی نکلا جو آہنی لباس (زرہ بکتر) میں ملبوس ایک عجیب و غریب جانور (گھوڑے) پر سوار تھا تو وہاں کے ریڈ انڈینز نے اسے اپنا پراسرار دیوتا کیوٹزلکوٹل (Quetzalcoatl) ہی سمجھا جو روایت کے مطابق تین صدی قبل انتقال کرتے وقت یہ وعدہ کر گیا تھا کہ وہ دوبارہ نمودار ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس سفید فام آدمی کا بڑی فراخدلانہ مہمان نوازی سے استقبال کیا۔

یہ سفید فام سپینی مہم جو ہرنینڈو کورٹیز (Hernando Cortez) تھا جو سپین سے اکابرین کلیسا کی دعاؤں کے ساتھ سونے کی تلاش میں روانہ ہوا تھا۔ از تک ریڈ انڈینز کے حکمران مونٹی زیوما (Montezuma) کے ذہن میں اس بارے میں شبہ پیدا ہوا کہ کورٹیز واقعی ان کا مرحوم دیوتا کیوٹزلکوٹل ہے۔ لہٰذا اس نے سو قاصدوں کے ہاتھوں سونے چاندی کی ڈھلی ہوئی عجیب و غریب اشیاء پر مشتمل ایک بھاری خزانہ اس کو بھیج دیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس سے استدعا کی کہ وہ واپس چلا جائے۔ مگر کورٹیز نے شہر پر شرمناک غارتگری کی مارچ شروع کر دی جس کے دوران اس نے بڑے غدارانہ ہتھکنڈوں سے نہ صرف از تک ریڈ انڈینز کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے لڑا دیا بلکہ خود بھی ایسے منظم طریقے سے

صفحہ ۱۳۱

خونریزی کی جو ایک بڑی سٹریٹجک سوچ کا ہی حصہ ہو سکتا ہے۔ ان کے شہر چولولو (Cholulo) میں اس نے ان کے تمام سرداروں کو شہر کے بڑے چوراہے میں مدعو کیا۔ جب وہ سردار اپنے ہزاروں نہتے خدمتگاروں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے تو کورٹیز کی مختصر مگر جرار فوج نے جو اس چوک کے گرد فلاخنوں اور توپوں کے ساتھ مورچے سنبھالے ہوئے تھی، ان کا آخری آدمی تک صفایا کر دیا۔ دوسروں پر سکتہ اور ہیبت طاری کرنے کے لئے اس طرح کے ناگہانی ہلاکت خیز اقدام کورٹیز کے اس کارنامہ سے لیکر ہیروشیما ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے اور بصرہ و بغداد پر لیزر بموں اور میزائیلوں کی بارش تک صلیبی و صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کا ایک خصوصی حربہ ہے جیسا کہ بعد کے صفحات سے مزید واضح ہوگا۔

کورٹیز اور اس کے ساتھیوں نے اس کے بعد شہر کو لوٹا اور اسی طرح کی مزید کارروائیوں کے لئے آگے بڑھ گئے۔ جب ان کی غارتگری اور ہلاکت کا سلسلہ اپنے انجام کو پہنچا تو وہ میکسیکو شہر میں تھے۔ حکمران مونٹی زیوما مر چکا تھا اور عظیم ازتک تہذیب کا شیرازہ صلیب پرستوں کے ہاتھوں بکھر چکا تھا۔ جو کچھ کورٹیز نے میکسیکو میں کیا وہی کچھ دوسرے صلیبی فاتح پزارو نے انہی ہتھکنڈوں سے انہی مقاصد کے لئے پیرو کی انکا عظیم تہذیب کے ساتھ انہی نتائج کے ساتھ کیا۔

۱۵۸۵ء میں شمالی امریکہ کی ریاست ورجینیا کے ساحل پر جب انگریز نو آباد کار رچرڈ گرینول (Richard Grenvil) اپنے سات جہازوں کے ساتھ پہنچا تو مقامی ریڈ انڈینز بڑی مہمان نوازی سے پیش آئے۔ لیکن جب ان میں سے ایک نے ان انگریزوں کا چاندی کا ایک پیالہ چرالیا تو گرینول نے پورے دیہات کو لوٹ کر اسے نذر آتش کر دیا۔

جیسے یہودی ارض فلسطین پر قابض ہونے کے لئے چار ہزار سال پرانا خدا کی طرف سے عطا کردہ حق ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں کچھ اسی طرح سے صلیب پرست ریڈ انڈینز کی زمین بالجبر یا دھوکہ دہی سے ہتھیانے کے لئے انجیل کی سفر رومنز باب ۱۳ آیت ۲ کا حوالہ دیتے تھے یعنی ”اس لئے جو کوئی سرکاری طاقت کی مزاحمت کرتا ہے وہ خدا کے فرمان کی مزاحمت کرتا ہے اور جو مزاحمت کریں گے وہ سزا پائیں گے۔“ سات سالہ جنگ (۱۷۵۶-۶۳ء) انگلینڈ اور فرانس کے درمیان نو آبادیوں

صفحہ ۱۳۲

خصوصاً امریکی نو آبادیوں کے لئے لڑی گئی۔ اس کے دوران ریڈ انڈینز فرنگیوں کی جن عورتوں اور بچوں کو جنگی قیدی کی حیثیت سے پکڑ کر لے گئے انہوں نے جنگ کے بعد اپنے والدین اور خاندان والوں کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا اور ریڈ انڈینز کے ساتھ ہی رچ بس گئے جبکہ کوئی بھی ریڈ انڈین باوجود بہت سی کوششوں کے کبھی بھی فرنگیوں میں مدغم نہیں ہوا اور موقع ملتے ہی اپنے قبیلے میں واپس چلا گیا۔ ایک فرانسیسی ہیکٹر سینٹ جین کریو کار جو اس زمانے میں تقریباً بیس سال امریکہ میں رہا اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے ”ان لوگوں کے معاشرتی بندھنوں میں کوئی چیز منفرد طور پر موہ لینے والی ہے اور ایسی کسی بھی چیز سے بہت اعلیٰ تر جس کی کہ ہم شیخی ماریں۔ کیونکہ ہزاروں فرنگی انڈین بن گئے ہیں لیکن ہمارے درمیان ان قدیم باشندوں کی کوئی بھی مثال نہیں ہے کہ وہ اپنی خوشی سے فرنگی بن گیا ہو۔“

اسی زمانے میں جب انگریزوں نے دریائے اوہائیو (Ohio) کی وادی میں یلغار شروع کر دی تو ۱۷۶۳ء میں ریڈ انڈینز نے ڈیٹرائٹ اور اس کے آس پاس انگریزوں کے بہت سے قلعوں پر جوابی حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انگریز کمانڈر ایمہرسٹ اور اس کے ساتھیوں نے جو کچھ کیا اس کے متعلق American Indians by W.T.Hagan کے صفحہ ۱۵ پر اقتباس کا ترجمہ ہے ”فورٹ پٹ میں تعینات افسروں نے یقیناً ڈیلاویر (Delaware) انڈینز کے درمیان اس قلعے کے چیچک کے ہسپتال کے کم از کم دو رومال اور دو کمبل تقسیم کئے۔ آیا یہ آج سے بہت پیشتر جراثیمی جنگ (Bacteriological War-Fare) کی وجہ ہے یا نہیں لیکن یہ بات بڑی یقینی ہے کہ اس کے فوراً بعد Delaware انڈینز میں چیچک کی وبا بڑے زوروں سے پھوٹ پڑی۔“ چنانچہ جس طرح اب تک نوع انسانی پر گرائے جانے والے دو ایٹم بموں کو صلیبی و صیہونی بم ہونے کا شرف حاصل ہے اسی طرح صلیب پرستوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے جراثیمی ہتھیار (Bacteriological Weapons) استعمال کئے اور وہ بھی ایک ایسی نسل انسانی کے خلاف جن کے تین روحانی پیشواؤں کی تعلیمات حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے بڑی مشابہ تھیں۔

۱۸۱۴ء سے ۱۸۲۴ء تک صلیب پرستوں نے معاہدوں کے ذریعے ریڈ انڈینز سے تین چوتھائی ریاست الاباما اور فلوریڈا، ایک تہائی ٹینیسی، جارجیا اور مسس پی

کا پانچواں حصہ، میسی سپی اور شمالی کیرول کلیدی کردار ادا کیا۔ ۱۸۲۸ء میں چیر کو دفع کرنے کا مسودہ قانون Bill عظیم کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ مشی خیال کیا جاتا تھا اور ۱۸۳۶ء میں جب زوروں پر تھی تو ہارورڈ یونیورسٹی وہ جریدہ merican Review ریڈ انڈینز کے اپنی قوم کے ہاتھوں بارے میں متاسف نہیں ہونا چاہیے بل بوتے پر ہم نے اس نصف کرہ ارض کا غلبہ پھیل رہا ہے..... کاش یہ سیلا اپنی حالت میں اس ناگزیر تبدیلی کے ہے۔ ایک وحشی قوم جس کی بود و با اشیاء پر ہو وہ ایک مہذب قوم کے پہل رچرڈ ڈرنن (on inning the West; 1969.) میں انہیں واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئ اقوام چیروکی (Cherokee) سیمی نو فلپائن اور ویتنام کے دیہاتوں کو نذر آ

جس زمانے میں ریڈ زوروں پر تھی اس زمانے میں امر مزاحیہ انداز میں لکھا ہے کہ امریکیوں ہیں اور انہیں آباؤ اجداد کی سرزمین طور پر سہل و پرسکون قانونی اور انسا

صفحہ ۱۳۳

کا پانچواں حصہ، کینٹکی اور شمالی کیرولینا کے بڑے حصے حاصل کئے۔ جیکسن نے ان معاہدوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ۱۸۲۸ء میں جب جیکسن امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا تو کانگریس نے انڈینز کو دفع کرنے کا مسودہ قانون Indians Removal Bill پاس کیا جو جیکسن کی انتظامیہ کا ایک عظیم کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ مشی گن ریاست کے گورنر Cass کو انڈینز کے معاملات کا ماہر خیال کیا جاتا تھا اور ۱۸۳۶ء میں جب ”انڈینز ہٹاؤ“ Removal of Indians تحریک بڑی زوروں پر تھی تو ہارورڈ یونیورسٹی نے اسے ڈاکٹر آف لاء کی اعزازی ڈگری دی۔ ۱۸۳۰ء میں وہ جریدہ North American Review میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ریڈ انڈینز کے اپنی قوم کے ہاتھوں استیصال کے بارے میں یوں رقمطراز ہے۔ ”ہمیں اس بارے میں متاسف نہیں ہونا چاہیے۔ تہذیب کی ترقی و اصلاح، صنعت و فن کی فتح، جن کے بل بوتے پر ہم نے اس نصف کرہ ارض کو حاصل کیا ہے اور جس پر حریت، مذہب اور سائنس کا غلبہ پھیل رہا ہے۔۔۔۔ کاش یہ سب کچھ نسبتاً کم قربانی سے ہو جاتا اور یہاں کی قدیم آبادی اپنی حالت میں اس ناگزیر تبدیلی کے لئے خود گنجائش پیدا کرتی۔۔۔۔ لیکن ایسی خواہش بے سود ہے۔ ایک وحشی قوم جس کی بود و باش کا انحصار شکار سے حاصل ہونے والی قلیل و غیر یقینی اشیاء پر ہو وہ ایک مہذب قوم کے پہلو بہ پہلو کیسے رہ سکتی ہے۔“

رچرڈ ڈرنن (Richard Drinon) اپنی کتاب (Violence in American Experience, Winning the West; 1969.) میں انہیں واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ ”یہی وجوہات تھیں جن کی بناء پر ریڈ انڈین اقوام چیرو کی (Cherokee) سیمی نول (Seminole) شے ان (Cheyenne) اور بعد ازاں فلپائن اور ویتنام کے دیہاتوں کو نذر آتش کر کے آبادی کا استہلاک کیا گیا۔“

جس زمانے میں ریڈ انڈینز کو دریائے مسس پی کے پار منتقل کرنے کی پالیسی زوروں پر تھی اس زمانے میں امریکہ جانے والے ایک فرانسیسی مبصر نے اس کے متعلق مزاحیہ انداز میں لکھا ہے کہ امریکن کیسے ”مشفقانہ طریقے سے ریڈ انڈینز کو ہاتھ سے پکڑتے ہیں اور انہیں آباؤ اجداد کی سرزمین سے دور قبر میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک منفرد طور پر سہل و پرسکون قانونی اور انسان دوستی کے انداز میں کیا جاتا ہے۔“ اس کے بعد اس نے

صفحہ ۱۳۴

مزید اس بات کی بالکل صحیح پیشگوئی کی کہ ریڈ انڈین دریائے مسس پی کے اس پار بھی اپنے مسکن میں صرف اس وقت تک چین سے رہ سکے گا جب تک زمین کے حریص سفید فام دوسرے امکانات صرف نہ کرچکیں۔ اس کے بعد کرۂ ارض پر سب سے زیادہ چھینا جھپٹی کرنے والی قوم کے حملوں کی وجہ سے ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف دھکیلے جائیں گے حتیٰ کہ قبر ان کی جائے پناہ بن جائے۔" (ہفت سالہ جنگ کے نتیجے میں فرانسیسی اپنی امریکی نو آبادیاں انگریزوں کے ہاتھوں ہار چکے تھے)

پچھلی صدی میں صلیب پرستوں نے جہاں ایک طرف ان اقوام کے خلاف "انڈین ہٹاؤ" (Indians Removal) کی تحریک چلائی وہاں دوسری طرف انہیں "مہذب بنانے" (Acculturation) کی مہم شروع کی۔ اس مہم کی تفصیلات تو اس انتہائی مختصر خاکے میں نہیں سما سکتیں لیکن یہاں صرف یہ تحریر کرنا ضروری ہے کہ اس مہم کے حتمی نتیجے کے طور پر ریڈ انڈینز کی حالت ایسی ہو گئی تھی جیسے درخت سے جھڑے ہوئے پتے۔ ریڈ انڈینز اپنے نظام (وہ جیسا بھی تھا) میں ہزاروں سال سے ایک خاص طرز زندگی بسر کر رہے تھے۔ لیکن جب صلیب پرست ان پر اپنی (اپنے نواسوں کے حقیقی باپ ہونے کا فرمان کلیسا جاری کرنے والے مقدس باپوں والی) تہذیب ٹھونستے تھے تو ریڈ انڈینز کے اپنے نظام کا تو شیرازہ بکھر جاتا تھا لیکن ان کے نظام میں وہ ایسے ہوتے تھے جیسے درخت سے جھڑے ہوئے پتے جن کی موت اسی وقت یقینی ہو جاتی ہے جب وہ درخت سے جھڑ جاتے ہیں۔ شروع میں تو ہو سکتا ہے صلیب پرستوں کو اس حقیقت کا علم نہ ہو لیکن بعد میں وہ دانستہ طور پر ایسا کرتے تھے۔ انڈینز کے ایک قبیلے کے سردار جوزف نے عیسائی مشنریوں کو یہ کہہ کر اپنے قبیلے میں کام کرنے سے روک دیا۔ "وہ ہمیں خدا کے متعلق جھگڑنا سکھائیں گے جیسے کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ ہماری ریزرویشن میں کرتے ہیں۔۔۔ ہم آدمیوں کے ساتھ زمین پر موجود چیزوں کے متعلق تو بعض اوقات جھگڑتے ہیں لیکن ہم خدا کے متعلق کبھی نہیں جھگڑتے۔ ہم یہ نہیں سیکھنا چاہتے۔"

اسی طرح جب ایک بشپ وہپلز نے شراب نوشی اور زنا کے خلاف ایک قبیلے میں فرمان جاری کیا تو ایک ریڈ انڈین نے اسے کہا۔ "مقدس باپ یہ تو آپ لوگ ہیں جو کہ روح اعظم کی طرف سے اتاری گئی کتاب کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو آنکھیں آپ

صفحہ ۱۳۵

(Fire Water = شراب) مہیا کرتے ہیں اور یہ آپ کے سفید فام لوگ ہیں جو ہماری بیٹیوں کو بدکردار کرتے ہیں۔ آپ جائیں اور پہلے انہیں صحیح کردار کے متعلق تعلیم دیں پھر ہمارے پاس آئیں اور ہم آپ پر یقین کرلیں گے۔"

اسی طرح کے ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دفعہ (انڈینز میں تعینات) ایک ایجنٹ نے بڑے لطیف انداز میں یہ تجویز پیش کر دی کہ اگر ریڈ انڈینز قبائل کے لئے ہم پورے پورے راشن کی پالیسی پر عمل پیرا ہو جائیں تو اس سے ہم فوج پر اس سے دس گنا زیادہ خرچ کرنے سے بہتر نتائج حاصل کر لیں گے۔ اور عظیم امریکی سائنسدان، مفکر و مدبر (جو امریکہ کے Founding Fathers میں سے ایک ہے) بنجمن فرینکلن (Benjamin Franklin) نے اسی طرح کے ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ”ان وحشیوں کی بیخ کنی کے لئے رم (ایک گھٹیا قسم کی شراب) ایک خدائی ایجنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاکہ زمین کے کاشتکاروں کے لئے جگہ خالی ہوسکے۔" اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے رم کا استعمال اکثر و بیشتر ہوتا رہا۔

جہاں صلیب پرستوں نے ریڈ انڈینز کی بیخ کنی کے لئے کئی ایک نرالے ہتھکنڈے استعمال کئے وہاں ان کے جواز کے لئے مختلف نظریات کا بھی اختراع کیا۔ ان میں سب سے اہم اور قابل ذکر عیاں مقدر (Manifest Destiny) کا نظریہ تھا جس کا لب لباب یہ نکلتا ہے۔ ”صلیب پرستوں کے خدا نے سولی پر جان دیتے (نعوذ باللہ) وقت یہ ان کے مقدر میں لکھ دیا تھا کہ وہ اپنے مکروہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کے ساتھ جیسا رذیلانہ سلوک چاہے کر لیں اور موقع ملے تو ان کا صفایا بھی کر دیں۔"

۱۸۹۰ء میں جاڑے کے موسم میں ایک دن امریکی فوجیوں نے حملہ کر کے ریاست ساؤتھ ڈکوٹا South Dakota کے مقام Wounded Knee پر جن ریڈ انڈینز نے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا ان کے تین سو مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر ڈالا۔ یہ اس خونریزی کا نقطۂ انتہا تھا جس کی ابتداء تقریباً چار صدی قبل کولمبس نے کی تھی اور اس واقع نے حتمی طور پر ثابت کر دیا کہ براعظم امریکہ سفید فام صلیب پرستوں کا ہے۔ اس کے بعد امریکہ کے صیغہ مردم شماری Bureau of Census نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ ”اندرونی محاذ"

PDF 136

(Internal Frontier) ختم ہو چکا ہے۔ ریڈ انڈین قوم موہاک (Mohawk) کے نیویارک سٹیٹ میں Akwesane کے مقام پر ریزرویشن میں بچے کھچے افراد نے اپنا ایک اخبار Akwesane Notes نکالا۔ اس میں (ریڈ انڈین خاتون) Vine Deloria یوں رقمطراز ہے۔

”اکثر اوقات میں کسی غیر انڈین کے خیالات سے متاثر ہوتی ہوں۔ پچھلے سال میں Cleveland میں تھی۔ وہاں میری ایک غیر انڈین سے امریکہ کی تاریخ کے متعلق بات ہوئی۔ اس نے کہا کہ انڈ-ینز پر جو کچھ بیت گئی اسے اس کے متعلق افسوس ہے۔ تاہم اس کا ایک اچھا جواز تھا۔ براعظم کو ترقی یافتہ بنانا ضروری تھا اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ ریڈ انڈین اس راستے میں حائل تھا۔ چنانچہ اس کا ہٹایا جانا لازمی تھا۔ اس نے کہا کہ جب یہ سرزمین تمہاری تھی تو تم نے اس کا کیا کیا؟ میں اس کی بات سمجھ نہ سکی جب تک کہ بعد میں مجھے اس چیز کا علم نہ ہو گیا کہ قویاہوگا دریا جو کلیولینڈ شہر کے بیچ میں بہتا ہے، آتش گیر ہو گیا ہے۔ اس دریا میں اتنی آتش گیر آلودگیاں پھینکی جاتی ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں شہر کے باسیوں کو خصوصی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں تاکہ دریا میں آگ نہ لگ جائے۔ اپنے غیر انڈین دوست کے مباحثہ پر نظر ثانی کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ غالباً وہ درست تھا۔ سفید فام لوگوں نے زمین کا بہتر استعمال کیا ہے۔ کتنے انڈین یہ سوچنے کے قابل ہوتے کہ ایک دریا کو آتش گیر بنا دیا جائے۔“

ایک انڈین لیڈر جسے واشنگٹن سٹیٹ میں نسقوالی Nesqually دریا میں مچھلیاں پکڑنے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا اس کا یہ بیان ہے: ”میں ایک Yakima اور Cherokee انڈین ہوں۔ میں نے امریکہ کی فوج میں دو سال چار ماہ خدمات انجام دی ہیں اور ویتنام میں لڑتا رہا حتیٰ کہ شدید مجروح ہو گیا..... میں اب امریکی فوجی خدمات اور فرائض سے تائب ہو رہا ہوں۔۔۔ دلچسپی کی بات یہ ہے مغربی نصف کرہ ارض میں دریافت ہونے والے قدیم ترین انسانی ڈھانچے کے باقیات دریائے کولمبیا کے کنارے انڈین ماہی گیروں کے تھے۔ وہ کس قسم کی حکومت اور معاشرہ ہو گا جو ہماری نسل کی ہزاروں سال پرانی ہڈیوں کی تلاش، ان

کی حفاظت اور اس نسل کے طرز زند نسل کے زندہ انسانوں کا گوشت نوچنے امریکہ کے شہر ڈائٹر ter Soldiers Investigations) اپنے تجربات کے متعلق حقائق بیان کر ہاروے اپنے تجربات کے متعلق بتاتا ہے عام کئے جاتے تھے۔ جراثیمی ہتھیاروں ریڈ انڈ-ینز کے کمبلوں میں چیچک کے ج آشنائی حاصل کی اور مجھے پتہ لگا کہ وہ بھی ہیں وہ خود کو اور دنیا کو تباہ کرنے کے ج گزری ہے۔ میں جب بچہ تھا تو ٹیلی ویژ دوران میں امریکی گھوڑ سوار فوج کے لئے کے اس قدر نزدیک...... اگرچہ جس و ریڈ انڈین تھے۔ لیکن سکول میں ٹیلی ویژ تھا۔ وہاں انڈ-ینز کی تاریخ کے متعلق کوئی مجھے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی خرابی ہے۔ می کیا۔ میں نے دیکھا کہ ریڈ انڈ-ینز اس وقت حقوق کے تحفظ کے لئے الکاٹراز یا واشنگٹن ہیں۔“

ان چار صدیوں میں ا معصومانہ مہمان نوازی سے استقبال کرنے کیا، اس دوران صلیب پرستوں نے ان م معاہدے کئے۔ لیکن یکتا صلیبی ترحم و ت عملدرآمد نہیں کیا۔

صفحہ ۱۳۷

(Mohawk) کے نیویارک سٹیٹ میں میں بچے کھچے افراد نے اپنا ایک اخبار انڈین خاتون) Veni Delorea یوں رقمطراز

انڈین کے خیالات سے متاثر ہوتی ہوں۔ پچھلے یا ایک غیر انڈین سے امریکہ کی تاریخ کے متعلق بہت کہی اسے اس کے متعلق افسوس ہے۔ تاہم پتہ چلنا ضروری تھا اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ملنا جلنا لازمی تھا۔ اس نے کہا کہ جب یہ میں اس کی بات سمجھ نہ سکی جب تک کہ بعد کلیولینڈ شہر کے بیچ میں بہتا ہے، آتش گیر ہو گیا لگی جاتی ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں شہر کے تاکہ دریا میں آگ نہ لگ جائے۔ اپنے غیر انڈین میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ غالباً وہ درست تھا۔ کتنے انڈین یہ سوچنے کے قابل ہوتے کہ ایک

سٹیٹ میں نسقوالی Nesqually دریا میں ں کا یہ بیان ہے: ”میں ایک Yekima اور فوج میں دو سال چار ماہ خدمات انجام دی ہیں میں اب امریکی فوجی خدمات اور فرائض سے نصف کرۂ ارض میں دریافت ہونے والے دریا کے کنارے انڈین ماہی گیروں کے تھے۔ وہ ں کی ہزاروں سال پرانی ہڈیوں کی تلاش، ان

کی حفاظت اور اس نسل کے طرز زندگی کے مطالعہ پر کروڑوں ڈالر خرچ کرے، لیکن ہماری نسل کے زندہ انسانوں کا گوشت نوچے۔“

امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ (Detroit) میں جہاں (Winter Soldiers Investigations) میں ویتنام کی جنگ سے واپس آنے والے فوجی اپنے تجربات کے متعلق حقائق بیان کر رہے تھے، اوکلاہوما ریاست کا ایک ریڈ انڈین ایوان ہاروے اپنے تجربات کے متعلق بتاتا ہے: ”ریڈ انڈینز کے بھی سو سال قبل تک اسی طرح قتل عام کئے جاتے تھے۔ جراثیمی ہتھیاروں کی جنگ تب بھی ہوتی تھی۔ وہ (صلیب پرست) ریڈ انڈینز کے کمبلوں میں چیچک کے جراثیم ڈال دیتے تھے۔۔۔۔۔ میں نے ویتنامی لوگوں سے آشنائی حاصل کی اور مجھے پتہ لگا کہ وہ بھی ہماری ہی طرح کے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ خود کو اور دنیا کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ میری تمام عمر نسل پرستی کے ماحول میں گزری ہے۔ میں جب بچہ تھا تو ٹیلی ویژن پر Cowboys اور ریڈ انڈینز کی فلمیں دیکھنے کے دوران میں امریکی گھوڑ سوار فوج کے لئے واہ واہ کرتا تھا۔ میں اتنا خراب ہو چکا تھا اور اپنی تباہی کے اس قدر نزدیک۔۔۔۔۔ اگرچہ جس دیہاتی سکول میں میں پڑھتا تھا وہاں پچاس فیصد بچے ریڈ انڈین تھے۔ لیکن سکول میں ٹیلی ویژن یا ریڈیو پر انڈینز کے متعلق کچھ بھی نہ پڑھایا جاتا تھا۔ وہاں انڈینز کی تاریخ کے متعلق کوئی کتابیں نہ تھیں حتیٰ کہ لائبریری میں بھی نہیں۔۔۔۔۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ کوئی خرابی ہے۔ میں نے اپنی تہذیب کے متعلق پڑھنا اور سیکھنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ریڈ انڈینز اس وقت انتہائی خوش ہوتے ہیں جب وہ اپنے ماہی گیری کے حقوق کے تحفظ کے لئے الکا تراز یا واشنگٹن جاتے ہیں۔ تب وہ واقعی خود کو انسان محسوس کرتے ہیں۔“

ان چار صدیوں میں جب صلیب پرستوں نے اپنی سرزمین پر ان کی بڑی معصومانہ مہمان نوازی سے استقبال کرنے والی ان تمام قوموں کا بڑے منظم طریقے سے صفایا کیا، اس دوران صلیب پرستوں نے ان مختلف قوموں سے مختلف موقعوں پر چار سو سے زائد معاہدے کئے۔ لیکن یکتا صلیبی ترحم و تعصب سے مجبور ہو کر ان میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں کیا۔

صفحہ ۱۳۸

(Peoples' History of the United States by Howard Zinn ; P.515) جس زمانے میں یہ ریڈ انڈین قومیں، جن کے تین روحانی پیشواؤں کی تعلیمات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کی مانند تھیں، صلیب پرستوں کے ہاتھوں نابود ہو رہی تھیں، اُس زمانے میں منوسمرتی کی پیروکار ایک دوسری انڈین قوم چنگیز خان کی نسل کے مغل توحید پرستوں، بنیاد پرستوں کے زیر تسلط تھی اور اس انڈین قوم کو مسلمانوں کے تحت آٹھ صدیاں گزار کر دنیا کی دوسری کثیر التعداد قوم کی حیثیت سے ابھرنا تھا۔ اور اسی دوران جاپانیوں نے اپنے ملک میں صلیب پرستی اور صلیب پرستوں کا مکمل صفایا کر کے ”قومی عزلت“ (Sokoku) کی حکمت عملی اختیار کر رکھی تھی جس کے تحت اول تو وہ صلیب پرستوں کے جہاز اپنے ملک کے ساحل کے نزدیک آنے ہی نہ دیتے تھے اور اگر کبھی اتفاقیہ طور پر کوئی جہاز ان کے ساحل تک پہنچ بھی جاتا اور اس میں سے پادری گلے میں علامتی صلیبیں لٹکائے برآمد ہوتے تو انہیں یہ صلیبیں اتار کر پاؤں کے نیچے روندنی پڑتی تھیں۔ جاپانی قوم جتنا عرصہ اس حکمت عملی پر کار بند رہی یہ اس کا ”ڈھائی سو سالہ دور امن و استحکام“ تھا جو دنیا کی تاریخ میں غالباً کسی بھی قوم کو نصیب ہونے والا طویل ترین دور امن و استحکام ہے۔ ہیگل کے الفاظ میں ”تاریخ دنیا میں خدا کی گشت ہے۔“

باب ششم

نیو ورلڈ

خدا نے یہودیوں کو تمام قوموں کی املاک ا

سولہویں صدی کے

متاثر ہوتے تھے، جو اس وقت منظم جدید اقوام کی شکل اختیار کرنی شرو وینس کے حکمرانوں کا معتمد تھا اٹلی کے مالی کے حکمرانوں سے کاروبار کریں اسباب کے ساتھ مناسب استقبال عنایات کی جائیں گی جن کی وہ خواہا

مغربی افریقہ کی

رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”جب آ عظیم کشادہ شاہراہ پر چلتے ہیں جو م سے سات یا آٹھ گنا چوڑی ہے ہ طرح ہالینڈ کے مکانات۔“ کئی کو ”بہت شائستہ اور خوش خلق لوگ وہ انہیں بڑے مہذبانہ انداز میں

پرتگال کے

بحری راستوں کی دریافت‘ نوآبا

صفحہ ۱۳۹

باب ششم

نیو ورلڈ آرڈر اور سیاہ فام

خدا نے یہودیوں کو تمام قوموں کی املاک اور خون پر حق تصرف دیا ہے۔ تلمود۔ سیف ۹۲۔۱

سولہویں صدی کے یورپی مسافر افریقہ میں ٹمبکٹو اور مالی کی مملکتوں سے متاثر ہوتے تھے، جو اس وقت منظم اور مستحکم ہو چکی تھیں جب کہ یورپی ریاستوں نے ابھی جدید اقوام کی شکل اختیار کرنی شروع ہی کی تھی۔ ۱۵۱۳ء میں ریموسیو (Remussio) جو وینس کے حکمرانوں کا معتمد تھا اٹلی کے تاجروں کو لکھتا ہے ”انہیں چاہئے کہ وہ جاکر ٹمبکٹو اور مالی کے حکمرانوں سے کاروبار کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ان کا وہاں ان کے مال و اسباب کے ساتھ مناسب استقبال ہو گا اور ان سے اچھا سلوک کیا جائے گا اور ان پر وہ تمام عنایات کی جائیں گی جن کی وہ خواہشمند ہوں گے۔“

مغربی افریقہ کی مملکت بینین Benine کے متعلق ۱۶۰۲ء کی ایک ولندیزی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”جب آپ شہر میں داخل ہوں تو یہ بہت ہی بڑا لگتا ہے۔ آپ ایک عظیم کشادہ شاہراہ پر چلتے ہیں جو پکی نہیں ہے۔ یہ ایمسٹرڈیم کی وارموز Warmose سٹریٹ سے سات یا آٹھ گنا چوڑی ہے۔....... شہر کے مکانات ایک اچھی ترتیب میں ایستادہ ہیں جس طرح ہالینڈ کے مکانات۔“ گنی کوسٹ کے باشندوں کے متعلق ۱۴۸۰ء میں ایک مسافر لکھتا ہے ”بہت شائستہ اور خوش خلق لوگ‘ جو برتاؤ میں بڑے سہل اور یورپین ان سے جو چاہتے ہیں وہ انہیں بڑے مہذبانہ انداز میں اس سے نوازتے ہیں۔“

پرتگال کے حکمران ہنری دی نیویگیٹر (Henry the Navigator) نے بحری راستوں کی دریافت‘ نو آبادیوں کے قیام اور غلاموں کی تجارت کی ابتداء کی۔ وہ ۱۴۴۲ء

صفحہ ۱۴۰

میں افریقہ کے مغربی ساحل سے دس سیاہ فام افراد کو پکڑ کر پرتگال لے گیا اور وہاں انہیں فروخت کر دیا۔ سرجان ہاکنز نے اس تجارت کو انگلینڈ میں متعارف کرایا۔ اور وہاں سے ولندیزی، فرانسیسی اور سپینی بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس تجارت کے عروج کے زمانے صرف برطانیہ کے ۱۹۲ جہاز اس تجارت کے لئے مخصوص تھے جو ہر چکر میں ۴۷۰۰۰ (سینتالیس ہزار) غلام لے جاتے تھے۔ صلیب پرستوں کی یہ تجارت بھی روحانی پہلوؤں سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ جب ان غلاموں کو پابند سلاسل ساحل سمندر کی طرف ہانکا جا رہا ہوتا تو ان کے پادری انہیں اس دوران بپتسمہ دیتے تاکہ بحری سفر کے دوران ان کی اغلب موت کی صورت میں ان کی روح کے لئے ایصال ثواب کا باعث بنے۔ اس روحانی خدمت کی فیس ان قیدیوں سے تین سو سکے فی کس کے حساب سے وصول کی جاتی۔ تاہم شیر خوار بچوں کو کلیسا اپنے یکتا ترحم و تلطف کی وجہ سے یہ فیس معاف کر دیتا۔

سیاہ فام افریقیوں کا پکڑا جانا اور فروخت ہونا ان کے لئے ایک برتر قوت کے ہاتھوں ان کی بے بسی کی ایک ایسی علامت ہوتی جو انہیں اندرونی طور پر چکنا چور کر دیتی۔ گلے میں زنجیروں کے حلقوں سے بندھے، چابک اور بندوق بردار محافظوں کی نگرانی میں ان کا ساحل سمندر کی جانب مارچ جو بعض اوقات ایک ہزار میل کی مسافت کا ہوتا تھا، ایک موت کا مارچ ہوتا تھا، جس میں اوسطاً ”ہر پانچ میں سے دو حبشی لقمہ اجل ہو جاتے۔ ساحل سمندر پر انہیں اس وقت تک پنجروں میں رکھا جاتا جب تک کوئی چن کر انہیں خرید نہ لیتا۔ ایک شخص جان باربٹ John Barbot سترھویں صدی کے اختتام میں ان پنجروں کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے : ”جب غلام اندرون ملک سے فدا Fida لائے جاتے ہیں تو انہیں ساحل سمندر کے نزدیک کھوکھوں یا قید خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ اور جب یورپین انہیں وصول کرنے آتے ہیں تو انہیں ایک بڑے میدان میں لایا جاتا ہے۔ جہاں جہاز کا سرجن ان میں سے ہر ایک مرد و زن کے جسم کے ایک ایک حصے کا بالکل برہنہ حالت میں انتہائی باریک بینی سے معائنہ کرتا ہے۔ جو بالکل تندرست اور ٹھیک حالت میں ہوتے ہیں انہیں ایک طرف علیحدہ کر کے ان کے سینوں پر دھکتے ہوئے لوہے سے فرانسیسی۔ انگریزی یا ولندیزی کمپنی کا مخصوص نشان داغ دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ داغے ہوئے غلاموں کو اس کے بعد اپنے سابقہ کھوکھوں

صفحہ ۱۴۱

افراد کو پکڑ کر پرتگال لے گیا اور وہاں انہیں انگلینڈ میں متعارف کرایا۔ اور وہاں سے ہو گئے۔ اس تجارت کے عروج کے زمانے مخصوص تھے جو ہر چکر میں ۴۷۰۰۰ (سینتالیس یہ تجارت بھی روحانی پہلوؤں سے خالی نہیں دل سمندر کی طرف ہانکا جا رہا ہوتا تو ان کے بحری سفر کے دوران ان کی اغلب موت کی باعث بنے۔ اس روحانی خدمت کی فیس ان وصول کی جاتی۔ تاہم شیر خوار بچوں کو کلیسا کر دیتا۔

ور فروخت ہونا ان کے لئے ایک برتر قوت ہوتی جو انہیں اندرونی طور پر چکنا چور کر دیتی۔ اور بندوق بردار محافظوں کی نگرانی میں ان کا ہزار میل کی مسافت کا ہوتا تھا‘ ایک موت حبشی لقمہ اجل ہو جاتے۔ ساحل سمندر پر کوئی چن کر انہیں خرید نہ لیتا۔ ایک شخص اختتام میں ان پنجروں کو مندرجہ ذیل الفاظ Fida لائے جاتے ہیں تو انہیں ساحل لایا جاتا ہے۔ اور جب یورپین انہیں وصول جایا جاتا ہے۔ جہاں جہاز کا سرجن ان میں بالکل برہنہ حالت میں انتہائی باریک بینی حالت میں ہوتے ہیں انہیں ایک طرف نے فرانسیسی۔ انگریزی یا ولندیزی کمپنی کا ہوں کو اس کے بعد اپنے سابقہ کھوکھوں میں بند کر دیا جاتا جہاں وہ اس وقت تک رہتے ہیں جب تک انہیں جہاز میں لاد نہیں دیا جاتا‘ جس میں بعض اوقات دس سے پندرہ روز لگ جاتے ہیں۔

”اس کے بعد انہیں جہازوں کے تہہ خانوں (holds) میں اس طرح ٹھونس دیا جاتا ہے کہ ان میں ہر ایک کے لئے کفن کے صندوقوں سے زیادہ گنجائش نہیں ہوتی‘ جہاں وہ تاریکی‘ نمی اور کیچڑ میں زنجیروں سے بندھے ہوتے ہیں اور جہاں اپنے ہی بول براز کے تعفن اور گھٹن کی وجہ سے ان کا دم گھٹتا رہتا ہے۔ اس زمانے کی دستاویزات ان حالات کو اس طرح بیان کرتی ہیں۔ بعض اوقات عرشوں کی درمیانی اونچائی صرف اٹھارہ انچ ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ بدقسمت انسان اس اونچائی کے ان کے کندھوں کی درمیانی چوڑائی سے کم ہونے کی وجہ سے اکثر اپنے پہلو پر کروٹ بھی نہیں بدل سکتے اور یہاں وہ ٹانگوں اور گردنوں سے زنجیروں میں بندھے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں تکلیف اور گھٹن کا احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ حبشی اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔“

ایک دفعہ جہاز کے تہہ خانوں میں سے جہاں حبشی زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے بہت شور و غل سنائی دینے کی وجہ سے جب جہاز کے ملاحوں نے روشندان کھولے تو انہوں نے دیکھا کہ ان میں سے بہت سے دم گھٹنے کی وجہ سے مردہ یا نیم مردہ حالت میں پڑے ہیں کیونکہ دوسروں نے سانس لینے کی کوشش میں ان کے گلے گھونٹ دیئے تھے۔ اکثر اوقات یہ غلام اس طرح اذیت میں زندہ رہنے کی بجائے سمندر میں کود کر خود کو غرق کر لیتے تھے۔

ایک عینی شاہد کے الفاظ میں جہاز کا غلاموں کے لئے مخصوص عرشہ ”خون اور پیپ سے ایسے لتھڑا تھا جیسے یہ قصاب خانہ ہو“

سیاہ فام مرد غلاموں کی امریکہ کو نقل و حمل میں جو گھناؤنا پن تھا‘ اس سے کئی گنا زیادہ سیاہ فام عورتوں کے لئے تھا۔ غلاموں کے تاجر لکھتے ہیں: ”میں نے حاملہ عورتوں کو اس حالت میں بچوں کو جنم دیتے دیکھا ہے جب کہ وہ زنجیروں سے ارد گرد پڑی ان لاشوں کے ساتھ بندھی ہوتی تھیں جنہیں شراب کے نشے میں چور داروغوں نے وہاں سے ہٹایا نہیں تھا۔۔۔۔ جہاز کے انسانی لداؤ (Human Cargo) سے خارج ہونے والے جھلستے پسینے کے درمیان بچوں کو جنم دیتی تھیں“

صفحہ ۱۴۲

۱۶۱۰ء میں امریکہ کے ایک کیتھولک پادری نے جس کا نام مقدس باپ سینڈووال Father Sandoval تھا یورپ میں کلیسا کے افسران سے یہ پوچھنے کے لئے خط لکھا کہ کیا افریقہ کے حبشیوں کا شکار، ان کی نقل و حمل اور اسیری کلیسا کے عقیدے کے مطابق ایک جائز چیز ہے۔ اس کے مذہبی بھائی برانڈون کی طرف سے اس بارے میں مورخہ ۲ مارچ ۱۶۱۰ء کا جواب درج ذیل ہے: "ذی عزت جناب والا نے مجھ سے یہ استفسار فرمانے کے لئے لکھا ہے کہ آیا جو حبشی آپ کے علاقوں میں بھیجے جاتے ہیں ان کا پکڑنا قانون کلیسا کے تحت جائز ہے۔ اس کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ میرے خیال میں اس بارے میں جناب گرامی قدر کو کسی قسم کی ضمیر کی خلش محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر لزبن میں ضمیر کے معاملات کے بورڈ Board of Conscience میں استقصاء و اکتناہ ہوئی ہے۔ اس بورڈ کے تمام ممبر عالم فاضل اور ایماندار لوگ ہیں۔ نہ ہی ان تمام اسقفوں (Bishops) کو اس بارے میں کوئی اعتراض تھا جو ساو توم، کیپ ورڈیا یا لوانڈو میں اکٹھے ہوئے اور یہ تمام اصحاب علم و دانش اور پرہیزگار لوگ تھے۔ ہم خود یہاں چالیس سال سے ہیں اور ہمارے درمیان انتہائی دانشور مقدس باپ بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی اس تجارت کو کبھی ناجائز نہیں سمجھا۔ چنانچہ بیسم اور برازیل میں اکابرین کلیسا اپنی خدمت کے لئے بھی یہ غلام بغیر ضمیر کی کسی خلش کے خریدتے ہیں"

اس صورت حال کی وجہ سے سمندر پار بھیجے جانے والے ہر تین غلاموں میں سے ایک سمندر کے سفر میں مر جاتا تھا۔ لیکن یہ کاروبار اس کے باوجود اتنا منافع بخش تھا (تقریباً ایک سفر میں اصل سرمایہ سے دوگنا منافع) کہ بردہ فروشوں کے لئے یہ پھر بھی قابل عمل ہوتا۔ چنانچہ ان سیاہ فاموں کو جہاز میں مچھلیوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا۔ پہلے ولندیزی اور پھر انگریز غلاموں کی تجارت پر چھا گئے۔ ۱۷۹۵ء تک انگلینڈ کی بندرگاہ لیورپول کے غلاموں کی تجارت کے لئے سو سے زائد جہاز تھے اور اس کا تمام یورپ کی غلاموں کی تجارت میں نصف حصہ تھا۔

ایک سابقہ غلام جان لٹل Little امریکی جاگیروں Plantations پر اپنی زندگی کے متعلق یوں رقمطراز ہے: "وہ کہتے ہیں غلام خوش ہیں کیونکہ وہ ہنستے ہیں اور زندہ دلی

صفحہ ۱۴۳

کا اظہار کرتے ہیں۔ میں نے خود اور میرے ساتھ تین یا چار دوسروں نے دن میں دو سو ہنٹر کھائے ہیں اور ہمارے پاؤں بیڑیوں میں بندھے ہوتے تھے۔ پھر رات کے وقت ہم ناچتے گاتے تھے۔ اور ایک دوسرے کو اپنے پاؤں کی زنجیروں کے کھنکنے سے ہنساتے تھے۔ یقیناً ہم خوش و خرم لوگ ہوں گے۔ ہم یہ اپنی تکلیف کم کرنے کے لئے کرتے تھے تاکہ ہمارے دل بالکل ہی نہ ٹوٹ جائیں۔ یہ اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کہ اناجیل۔ آپ ذرا یہ دیکھیں تو سہی۔ کیا ہم واقعی بہت خوش نہ ہوں گے؟ مگر میں نے خود یہ کیا ہے۔ میں خود پا بجولاں پھدکیاں لگاتا رہا ہوں۔"

ایک اجنبی سرزمین میں اجنبی زبان بولنے والوں کے درمیان ان لوگوں کا یہی حال ہوتا تھا کہ ”نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن“ کیونکہ مختلف سیاہ فام بھی اکثر مختلف زبانیں بولنے والے ہوتے تھے۔ تاہم جیسا کہ کہتے ہیں ”آزادی کا کوئی بدل نہیں“ بغاوت اور فرار کی کوششیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس بارے میں یوجین جینوویو Genoveve Eugene نے اپنی کتاب Roll, Jordan, Roll میں مفرور غلاموں کا تعاقب کرنے کے لئے جو کتے رکھے جاتے تھے ان کے متعلق لکھا ہے کہ ”وہ کاٹتے تھے۔ چیرتے پھاڑتے تھے۔ مسخ کر دیتے تھے۔ اور اگر انہیں بروقت علیحدہ نہ کیا جاتا تو اپنے شکار کو ہلاک کر دیتے تھے۔"

تھامس جیفرس امریکہ کے Founding Fathers اور سابق صدور میں سے ایک انتہائی قد آور شخصیت ہے۔ اس نے امریکہ کے ”اعلانِ آزادی“ میں ایک پیرا لکھا جس میں شاہ انگلستان پر افریقہ سے امریکی نو آبادیوں میں غلاموں کی نقل و حمل کا الزام لگاتے ہوئے کہا ”وہ (شاہ انگلینڈ) اس مکروہ دھندے کے امتناع و تحدید کے لئے قانون سازی کی ہر کوشش کو دبانے کا مرتکب ہوا ہے۔“ یہ اس چیز کے علی الرغم کہ جیفرسن زندگی کے آخری روز تک (امریکہ کے کئی دوسرے Founding Fathers کی طرح) سینکڑوں غلاموں کا مالک تھا۔

امریکی مصنف Hinton R.Helpern اپنی کتاب The Impending Crisis of the South: How To Meet It مطبوعہ ۱۸۶۰ء میں رقمطراز ہے ”یہ کیسے ہوا کہ شمالی ریاستیں ہماری حکمت عملیوں کے بالکل برعکس کے عمل

PDF 144

سے ہم سے ہر اس چیز میں سبقت لے گئی ہیں جو کہ اچھا اور عظیم ہے۔۔۔۔۔ ہم استعمال اور زیبائش کی تقریباً" ہر شے کے لئے شمالی ریاستوں کے پاس جانے پر مجبور ہیں۔۔۔۔۔ ہماری کوئی بیرونی تجارت نہیں اور نہ ہی کوئی تاجر، اور نہ کوئی ذی وقار فنکار۔ چنانچہ آزاد ریاستوں (وہ شمالی ریاستیں جہاں غلامی کی لعنت عام نہیں تھی) کے مقابلے میں ہمارا ادب، فنون لطیفہ اور زمانے کی ایجادات میں کوئی حصہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور ہماری آبادی کا کثیر حصہ مغرب کی جانب نقل مکانی کر جاتا ہے جب کہ آزاد ریاستیں نہ صرف جو لوگ وہاں پیدا ہوتے ہیں انہیں اپنے ہاں رکھنے میں کامیاب ہوتی ہیں بلکہ ہر سال لاکھوں اجنبیوں کو اپنے ہاں آباد ہونے اور ٹھہرنے پر مرغوب کرتی ہیں۔۔۔ ہمارے خیال میں۔۔۔۔۔ جن اسباب نے جنوبی ریاستوں کی ترقی اور خوشحالی میں مزاحمت کی ہے ان تمام کا سراغ ایک ہی منبع تک ہے اور وہاں ایک ہی گھناؤنا اور ہیبتناک لفظ ہے جو کبھی بھی انسانی معیشت کی لغت میں مستعمل ہوا یعنی غلامی۔" جنوبی ریاستوں کو عرف عام میں "سونٹے کی سرزمین" Land of the Lash پکارا جاتا تھا۔

ابراہم لنکن امریکی تاریخ کی عظیم ترین شخصیت ہے اور اس کے متعلق عام تاثر یہ ہے کہ وہ امریکہ کے سیاہ فام باشندوں کا نجات دہندہ تھا۔ ۱۸۵۴ء میں اس نے مندرجہ ذیل بیان دیا۔ "میں یقیناً" انہیں (جنوبی ریاستوں کو) اس بات کے لئے مورد الزام نہیں ٹھہراؤں گا کہ وہ وہ کچھ نہیں کر رہیں جو کہ مجھے خود نہیں پتہ کہ کیسے کیا جائے۔ اگر دنیا کی تمام طاقت مجھے دے دی جائے تو بھی میں یہ نہیں سمجھ پاؤں گا کہ موجودہ ادارت (یعنی غلامی) کا کیا کیا جائے۔" ۱۸۵۸ء میں الی نائے ریاست کے شہر چارلسٹن میں تقریر کرتے ہوئے ابراہم لنکن نے کہا: "میں کہوں گا کہ میں نہ اس چیز کے حق میں ہوں اور نہ ہی کبھی تھا کہ سفید اور کالی نسل کو برابر کر دیا جائے ( تحسین و تالیاں )، اور یہ کہ میں نہ تو اس بات کے حق میں ہوں اور نہ ہی کبھی تھا کہ حبشیوں کو رائے دہندہ (voter) یا جیورر (Juror) بنایا جائے۔ اور نہ ہی انہیں کسی اسامی کے اہل قرار دینے کا اور نہ ہی کسی سفید فام سے شادی کرنے کے قابل"

امریکی کانگریس نے ۱۸۶۱ء کی گرمیوں میں تقریباً" متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس کا متن کچھ اس طرح تھا "یہ جنگ (امریکہ کی خانہ جنگی) کسی ایسے مقصد کے لئے نہیں لڑی جا رہی۔۔۔۔۔ جو کہ ان ریاستوں میں قائم ادارتوں (یعنی غلامی) کے حق کو ختم کرنا یا

ان میں دخل اندازی کرنا ہو ستمبر ۱۸۶۲ء tion Proclammation تھا "یکم جنوری ۱۸۶۳ء کو وہ حصہ میں غلام کی حیثیت میں خلاف اس وقت بغاوت کر گے۔۔۔۔" اس طرح کم جنور of Emancipation) ریاستوں اور علاقوں کے جیسا کہ مندرجہ بالا حوالوں امریکہ کی خانہ جنگی (۶۳ کے تحت عمل مکافات (۱۸۵۸-۶۳ء) دنیا کی تار ہلاکت خیزی کرنے والے جو تقریباً" تین کروڑ تھی معذور ہوئے۔ یعنی کل شرح ہے۔ تاہم جے پ اور جیمز آرم جیسے لوگو سے نیو ورلڈ آرڈر کے کسی دوسرے شخص کا سروس Draft پر بھیج دنیا میں فطرت کے اس ی قیمت پر حبشیوں کو تھا مس ہال امریکہ کے

صفحہ ۱۴۵

ان میں دخل اندازی کرنا ہو، لیکن..... یونین کی حفاظت ہے۔“

ستمبر ۱۸۶۲ء میں جب ابراہام لنکن نے اپنا ابتدائی مخلصی کا سرکاری اعلان Emancipation Proclamation کیا تو یہ ایک جنگی چال تھی۔ اس کا متن کچھ ایسے تھا ”یکم جنوری ۱۸۶۳ء کو وہ تمام اشخاص جو کسی ایسی ریاست میں یا کسی ایسی ریاست کے نامزدہ حصہ میں غلام کی حیثیت میں حراست میں ہوں جس کی آبادی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے خلاف اس وقت بغاوت کر رہے ہوں وہ اس وقت، اس کے بعد اور ہمیشہ کے لئے آزاد ہوں گے۔۔۔۔۔“ اس طرح یکم جنوری ۱۸۶۳ء کو جو حتمی سرکاری اعلان مخلصی (Proclamation of Emancipation) جاری ہوا تو اس کی رو سے صرف ان ریاستوں اور علاقوں کے حبشی غلاموں کو آزادی ملی جو وفاقی یونین کے مخالف برسرپیکار تھے۔

جیسا کہ مندرجہ بالا حوالوں سے ظاہر ہے نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق سیاہ فام غلاموں کی آزادی امریکہ کی خانہ جنگی (۶۵-۱۸۶۱ء) کے مقاصد میں سے ہرگز نہیں تھی لیکن حقیقی ورلڈ آرڈر کے تحت عمل مکافات سے یہ اس کے ناگزیر نتائج میں سے ضرور تھی۔ امریکہ کی یہ سول وار (۶۵-۱۸۶۱ء) دنیا کی تاریخ میں جدید جنگوں میں اولین جنگ تھی جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکت خیزی کرنے والے ہتھیار استعمال ہوئے۔ اس جنگ میں امریکہ کی کل آبادی میں سے جو تقریباً تین کروڑ تھی، دونوں طرف کل ۶۲۰۰۰۰ اموات ہوئیں اور ۱۰۰۰۰۰۰ افراد مجروح و معذور ہوئے۔ یعنی کل اتلافات آبادی کا تقریباً ساڑھے تین فیصد تھا جو ایک بڑی اونچی شرح ہے۔ تاہم جے پی مارگن، جان ڈی راک فیلر، اینڈریو کارنیگی، فلپ آرمر، جے گولڈ اور جیمز آر مرمی جیسے لوگوں نے، جو امریکی بنکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکوں کی حیثیت سے نیو ورلڈ آرڈر کے اصل روح رواں تھے ایک قانون پاس کرایا جس کی رو سے کوئی امریکی کسی دوسرے شخص کو تین سو ڈالر دے کر اسے اپنی جگہ جنگ کے دوران فوج کی لازمی سروس Draft پر بھیج سکتا تھا۔ اس طرح ان لوگوں نے خود کو اور اپنے خاندان والوں کو اس دنیا میں فطرت کے اس عمل مکافات سے بچا لیا۔ اگلی دنیا کا حال خدا جانے۔ چنانچہ اس چھوٹی سی قیمت پر حبشیوں کو حقیقی آزادی تو نہ مل سکی لیکن قانونی سطح پر آزادی مل گئی۔ سابقہ غلام تھامس ہال امریکہ کے فیڈرل رائٹرز پراجیکٹ کو دیئے گئے بیان میں کہتا ہے ”لنکن نے ہمیں

صفحہ ۱۴۶

آزادی تو دی لیکن بغیر کسی ایسے امکان کے کہ ہم اپنے طور پر زندہ رہ سکیں اور ہم تب بھی کام، غذا اور لباس کے لئے جنوبی سفید فام لوگوں کے محتاج تھے اور وہ ہمیں احتیاج و ضروریات زندگی کی بناء پر چاکری کی ایسی حالت میں رکھتا تھا جو کہ غلامی سے چنداں بہتر نہ تھی۔" جہاں تک ان لوگوں کی حقیقی آزادی کا تعلق ہے تو وہ ایک انتہائی نسل پرست معاشرے میں نسلی امتیاز Discrimination نسلی علیحدگی Segregation اور Lynching جیسی لعنتوں کے خلاف صدیوں کی طویل جدوجہد کے بعد بھی محض ایک خواب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جن لوگوں نے عینی مشاہدہ کیا ہے یا ان کے متعلق کتابوں کا مطالعہ کیا ہے انہیں اس چیز کا علم ہے کہ اب یہ حبشی اپنے اس خواب کے لئے لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پہلی عالمی جنگ کی بنیادی وجہ نو آبادیوں، خصوصاً "قدرتی وسائل سے مالامال افریقہ کی نو آبادیوں کا بٹوارہ تھی۔ جنوبی افریقہ کا سونا اور ہیرے، انگولا اور نائیجیریا کا کوکو، کانگو کا ربڑ اور ہاتھی دانت اور مغربی ساحل کا ناریل کا تیل وغیرہ۔ جیسے دوسری عالمی جنگ سے پہلے نو آبادیوں میں اپنا حصہ لینے کے لئے ہٹلر نے Lebensraum کا نعرہ لگایا تھا اسی طرح پہلی عالمی جنگ سے پہلے جرمنوں کا مطالبہ the Sun in Living space تھا۔ اس جنگ میں نیو ورلڈ آرڈر کے عمل مکافات سے پونے چار کروڑ اتلافات اور ۳۳۸ ارب ڈالر (اس زمانے کے ڈالر) کا مالی نقصان ہوا۔ اس زمانے کے امریکہ کے صدر ولسن کے الفاظ میں یہ جنگ تمام جنگوں کے خاتمہ کے لئے اور دنیا کو جمہوریت کے لئے محفوظ بنانے کے لئے تھی۔ لیکن درحقیقت یہ جنگ استعماری طاقتوں خصوصاً "امریکہ کے معاشی اور معاشرتی مسائل، جو اندرونی طبقاتی کشمکش کی وجہ سے تھے، کے لئے لڑی گئی اور اس کے نتیجے میں نیو ورلڈ آرڈر کے روح رواں ان لوگوں نے جن میں سے کچھ کے نام اوپر دیئے گئے ہیں، اپنے خزانے مزید بھرے۔ لیکن حقیقی ورلڈ آرڈر کی بدولت اس جنگ کے نتیجے میں نہ صرف افریقہ بلکہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی آزادی کی تحریکیں تقویت پکڑ گئیں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچنا شروع ہو گئیں۔

صفحہ ۱۴۷

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مغربی حلیفوں کو ہٹلر کے اعلیٰ نسل کے نظریہ سے کوئی خاص پرخاش نہیں تھی کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کوئی معاشرہ اتنا نسل پرست نہیں رہا جتنا کہ امریکی معاشرہ۔ ۱۹۴۵ء میں سیاہ فام فوجیوں کو امریکہ سے بذریعہ بحری جہاز ”کوئین میری“ یورپی محاذ پر بھیجنے کے لئے انہیں سفید فام فوجیوں سے الگ کر کے جہاز کے تہہ خانوں (Holds) میں کچھ اسی طرح ٹھونس دیا گیا جیسے ان کے آباؤ اجداد کا افریقہ میں شکار کرنے کے بعد امریکہ لے جانے کے لئے ٹھونس دیا جاتا تھا۔ اسی دوران امریکی ریڈ کراس نے حکومت کی رضامندی سے سیاہ فام اور سفید فام لوگوں کے خون کے عطیات کو الگ الگ رکھا۔ جنوری ۱۹۴۳ء میں سیاہ فام لوگوں کے ایک اخبار میں ایک نظم چھپی جس کا سادہ نثر میں مفہوم کچھ ایسے ہے۔

پیارے خدا! آج میں جنگ کے لئے جا رہا ہوں
لڑنے کے لئے، مرنے کے لئے مجھے بتا یہ کس لئے؟
پیارے خدایا! میں لڑوں گا میں ڈرتا نہیں ہوں
جرمنوں سے یا جاپانیوں سے لیکن میرے خدشات تو یہاں ہیں
امریکہ میں !

۱۹۶۴ء میں سیدنا بلال حبشی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ہم نسل لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے مسلمان رہنما میلکم ایکس نے مسس پی سے سیاہ فام طلبا کے ایک گروہ کو جو نیویارک میں سیاہ فام لوگوں کے مخصوص گھناؤنے علاقے ہارلم آیا ہوا تھا، خطاب کرتے ہوئے کہا ”آپ اپنی آزادی تب حاصل کریں گے جب آپ اپنے دشمن کو یہ احساس دلا دیں گے کہ آپ آزادی حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تب آپ کو آزادی حاصل ہو گی۔ اسے حاصل کرنے کا یہ واحد طریقہ ہے۔ جب آپ یہ انداز اپنالیں گے تو وہ آپ پر ”خبطی حبشی“ کا ٹھپہ لگائیں گے۔ بلکہ وہ آپ کو "Crazy Nigger" کہیں گے کیونکہ وہ حبشی کے لئے "Nigger" کا تحقیر آمیز لفظ ہی استعمال کرتے ہیں۔ یا پھر وہ آپ کو انتہا پسند، سازشی، سرخ (کمیونسٹ) یا بنیاد پرست کہیں گے۔ لیکن اگر آپ کافی دیر تک بنیاد پرست رہیں گے اور کالی لوگوں کو بنیاد پرست بنالیں گے تو پھر آپ کو اپنی آزادی

صفحہ ۱۴۸

حاصل ہو جائے گی۔“ میلکم ایکس کو فروری ۱۹۶۵ء میں پر اسرار حالات میں قتل کر دیا گیا۔ ایک دوسرا لیڈر مارٹن لوتھر کنگ امریکی خفیہ ایجنسی FBI کے حربوں کا نشانہ بنا رہا۔ اس کے ٹیلی فون ٹیپ کئے گئے۔ اسے مختلف قسم کے دھمکی آمیز یا پریشان کن گمنام خطوط بھیجے گئے اور وہ بھی پر اسرار طور پر قتل کر دیا گیا۔

* * * * * * * * *

۱۷۵۰ء میں مغربی افریقہ میں دریائے گیمبیا کے کنارے آباد گاؤں جوفیور کے مینڈنکا نامی مسلمان قبیلے میں عمرو کنٹے اور بنٹا کے گھر بیٹا ہوا تو قبائلی رسوم کے مطابق عمرو کنٹے نے آٹھ دن کمرے میں تنہائی میں گزارنے کے بعد باہر آکر قبیلے کے لوگوں کے سامنے اپنے بچے کو دونوں ہاتھوں میں سر سے اونچا اٹھا کر اعلان کیا کہ اس نے اپنے بیٹے کا نام کنتا کنٹے رکھا ہے۔

کنتا کنٹے اپنے مسلمان گھرانے اور قبیلے میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے درمیان پل بڑھ کر جوان ہو رہا تھا کہ ۱۷۶۷ء میں ۱۷ سال کی عمر میں ایک دن اپنے لئے ڈھول بنانے کے لئے لکڑی کاٹنے کی غرض سے گاؤں کے قریب جنگل میں نکل گیا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ صلیب پرست شاہ (انگلینڈ) نے اپنے صلیب پرست بردہ فروشوں کی ایک مہم افریقہ کے اس علاقہ میں بھیجی ہوئی ہے اور اس مہم کے بردہ فروش اس علاقے میں اپنے انسانی شکاروں کی تلاش میں ہیں۔ چنانچہ جنگل میں گھات میں بیٹھے ان صلیب پرست بردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے اسے بیڑیوں میں جکڑ کر ساحل پر کھڑے اپنے جہاز لارڈ لیگونیئر (Lord Ligonier) جس کا کپتان ٹامس ای سمتھ (Thomas E Smith) تھا کے خن (تہہ خانہ) میں باندھ دیا۔

یہ جہاز ۵ جولائی ۱۷۶۷ء کو جب مغربی افریقہ میں گیمبیا کے ساحل سے امریکہ کے لئے روانہ ہوا تو اس کے خن میں کنتا کنٹے جیسے ۱۳۹ دوسرے انسانی شکار زنجیروں

صفحہ ۱۴۹

میں جکڑے بندھے ہوئے تھے جن کے جسموں پر صرف ستر ڈھانکنے کے لئے معمولی چیتھڑے تھے، نہ تو جہاز کے خن میں صفائی کا کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ ہی زنجیروں سے بندھے یہ انسانی شکار اپنی جگہ سے ہل جل سکتے تھے۔ یہ سمندری سفر عام بول چال میں درمیانی سفر Middle Passage کہلاتا تھا۔ ڈھیروں غلاظت، ناقابل برداشت تعفن، بھوک پیاس، سردی گرمی اور بیماری میں چیختے چلاتے، بڑبڑاتے، کراہتے، دعائیں مانگتے اور ان میں سے کئی اپنی جان کی بازی ہارتے ہوئے ان ۱۴۰ انسانی شکاروں کے اس دلخراش اور جان لیوا ”درمیانی سفر“ (Middle Passage) کی روئیداد کی تفصیلات اس خلاصے میں نہیں سما سکتیں۔

بہر حال ستاسی (۸۷) دن کے اس جاں گسل ”درمیانی سفر“ (Middle Passage) کے بعد شاہ انگلینڈ کا جہاز امریکہ کے مشرقی ساحل پر واقعہ اناپولیس (Annapolis) کی بندرگاہ پر پہنچا تو کنٹا کنٹے کے جسم میں دوسرے باقی ماندہ انسانی شکاروں کی طرح جان کی رمق باقی تھی۔ یہاں پر منڈی میں ایک شخص جان والر (John Waller) اسے خرید کر امریکہ کی ریاست ورجینیا کے قصبہ سپاٹسلوانیا (Spotsylvania) میں اپنے تمباکو کے وسیع کھیتوں (Plantation) پر کام کرنے کے لئے لے آیا۔ کنٹا کنٹے کے مالک جان والر نے اس کا نام ٹوبی Toby رکھا۔ لیکن کنٹا کنٹے ان لوگوں میں سے تھا جو کہ اپنی انا کے بہت پکے اور جنہیں اپنی خودی اور آزادی بہت عزیز ہوتی ہے اور وہ حالات کے ساتھ آسانی سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ چنانچہ اسے جب بھی نئے نام ٹوبی Toby سے پکارا جاتا وہ بھڑک پڑتا اور اس بات پر مصر رہتا کہ اسے کنٹے کے نام سے پکارا جائے۔ اسے اپنی آزادی بھی بہت عزیز تھی۔ اس لئے وہ بار بار غلامی کی زنجیروں کے بندھن توڑ کر بھاگتا لیکن تعاقب کر کے غلاموں کو پکڑنے والے پیشہ ور لوگوں کے ہاتھوں یہ بازی ہار جاتا۔ چوتھی مرتبہ جب وہ بھاگا اور یہ پیشہ ور تعاقب کر کے اسے واپس اس کے مالک جان والر کے پاس لے آئے تو جان والر نے کنٹا کنٹے کو آختہ ہونے یا اپنا پاؤں کٹوانے میں سے کسی ایک سزا کا انتخاب کرنے کی آزادی دی۔

کنٹا کنٹے نے آختہ ہونے کی بجائے اپنا ایک پاؤں کٹوانے کی سزا کو ترجیح دی چنانچہ اس کا ایک پاؤں صلیب پرست مالک کے حکم سے کاٹ دیا گیا۔ اگرچہ کنٹا کنٹے کے ارد گرد سفید فام آقاؤں کی سفید فام اور سیاہ فام عورتوں سے حرام کاری ایک معمول کی بات

صفحہ ۱۵۰

تھی لیکن کنٹا کٹے پندرہ سال تک اسلامی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اس میں اپنے آپ کو ملوث نہ کرنے پر ڈٹا رہا۔ ۳۹ سال کی عمر میں یعنی ۱۷۸۹ء میں اس کی شادی ”بڑے گھر“ کی باورچن بیل Bell سے ہو گئی اور اگلے سال یعنی ۱۷۹۰ء میں اس کے گھر ایک بچی ہوئی جس کا نام کزی Kizzy رکھا گیا۔ اگرچہ بہت سے سیاہ فام انسانی شکاروں نے ”نگر“ nigger کے تشخص کو قبول کر کے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن کنٹا کٹے نے پاؤں کے کٹنے کے بعد بھاگنے کی مزید کوششیں تو چھوڑ دی تھیں لیکن اسے اب بھی یہ آس تھی کہ اگر وہ نہیں تو اس کی نسل کے لوگ ضرور کبھی نہ کبھی سمندر پار اس کے آبائی وطن میں آزادی کے ماحول میں لوٹنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس لئے جو نہی کزی چار پانچ سال کی عمر کو پہنچی تو کنٹا کٹے اسے گود میں بٹھا کر اسے اپنا اصل نام، اپنی بردہ فروشوں کے ہاتھوں پکڑے جانے اور امریکہ لائے جانے کی داستان، اپنی مادری زبان کے الفاظ اور اپنے وطن کی باتیں بار بار سناتا اور دہراتا رہتا حتیٰ کہ یہ سب کچھ اس کے ذہن میں ان مٹ نقوش بن گئے۔ اس طرح کزی جب سولہ سال کی عمر کو پہنچی تو ایک دن اس پر یہ الزام لگا کہ اس نے ایک بھاگے ہوئے غلام کی مدد کی ہے۔ چنانچہ ان کے مالک جان والر نے سزا کے طور پر کزی کو بیچنے کا فیصلہ کیا اور اس کا خریدار ماسٹر مرے Master Murray کزی کو خریدنے کے بعد کنٹا کٹے سے چھین کر اسے امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا (North Carolina) کے قصبہ ایلامینس Alamance میں اپنی Plantation پر لے آیا۔ یہاں کزی کے ہاں اگلے سال یعنی ۱۸۰۶ء میں ماسٹر مرے کا ناجائز بچہ ہوا جس کا نام جارج رکھا گیا۔ جارج بڑا خوش باش قسم کا آدمی اور مرغ لڑانے کا شوقین تھا اور مرے نے اسے مرغے لڑوانے کی تربیت بھی دلوائی تھی۔ اس لئے اس کا نام بھی چکن جارج (Chicken George) پڑ گیا۔

بہر حال اس کی ماں کزی نے اس کے نانا کا نام اس کی داستان اور آبائی وطن کے حقائق اس کے بھی ذہن پر نقش کر دیئے تھے۔ چکن جارج کی شادی ۱۸۲۷ء میں میٹلڈا (Matilda) سے ہوئی اور ۱۸۳۳ء میں ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ٹام مرے رکھا گیا۔ ٹام مرے جب جوان ہوا تو اسے ایلامینس نارتھ کیرولائنا میں ایک Plantation

صفحہ ۱۵۱

کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ ٹام مرے کی شادی ۱۸۵۹ء میں ایک ریڈ انڈین نسل کی لڑکی آئرین سے ہوئی اور ان کے ہاں ۱۸۷۱ء میں ایک لڑکی ہوئی جس کا نام سنتھیا رکھا گیا۔ یہ تمام لوگ اپنی اگلی نسل کو اپنے ”افریکن“ جد اعلیٰ کنتا کُنٹے کا نام اس کی داستان اور دوسرے حقائق بڑی احتیاط سے ذہن نشین کرا کے منتقل کراتے رہے۔ سنتھیا کی شادی ۱۸۹۳ء میں ول پامر (Will Palmer) سے ہوئی جس نے ۱۸۹۴ء میں امریکہ کی ریاست ٹینسی Tennessee کے قصبے ہیننگ (Henning) میں امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کا لکڑی کا سب سے پہلا کاروبار قائم کیا۔ سنتھیا اور ول پامر کے گھر ۱۸۹۵ء میں برتھا پیدا ہوئی اور برتھا کی شادی ۱۹۲۱ء میں سائمن ہیلے سے ہوئی اور اسی سال ان کے ہاں ایلیکس ہیلے Alex Haley ریاست نیویارک کے شہر اتھاکا میں پیدا ہوا۔ ایلیکس ہیلے اٹھارہ سال تک امریکہ کے کوسٹ گارڈ میں سروس کرنے کے بعد ۱۹۵۸ء میں ریٹائر ہوا تو صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ خاندانی ریت کے مطابق اس کی ماں سنتھیا نے اس کے جد اعلیٰ کنتا کُنٹے کے متعلق حقائق اسے بھی اچھی طرح ذہن نشین کرائے ہوئے تھے۔ چنانچہ جب ایلیکس ہیلے امریکہ کے سیاہ فام مسلمان لیڈر میلکم ایکس Malcolm X (جسے بعد میں قتل کر دیا گیا) کی سوانح عمری لکھنے سے فارغ ہوا تو ۱۹۶۴ء میں کسی معمولی سے واقعہ سے متاثر ہو کر اپنے سات پشت پیچھے جد اعلیٰ کنتا کُنٹے کے متعلق جس کے بارے میں اسے ذہن نشین کرا دیا گیا تھا کہ اسے غلاموں کے تاجر افریقہ سے پکڑ کر لائے تھے کھوج میں پڑ گیا۔

بارہ سال کی بڑی کٹھن کاوشوں اور تحقیق سے مندرجہ بالا حقائق کے علاوہ دوسری بہت سی باتیں دریافت کرنے کے بعد ان پر مبنی یکم اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی مشہور کتاب The Roots شائع کی۔ اس کتاب کا تقریباً نصف حصہ ایلیکس ہیلے کے مسلمان جد اعلیٰ کی افریقہ کی زندگی کے نقشہ اور حالات، اس کے بردہ فروشوں کے ہاتھوں پکڑے جانے، امریکہ کے سفر اور وہاں کی غلامی کی زندگی کے حالات پر مبنی ہے اور باقی تقریباً آدھی کتاب میں بعد کی سات نسلوں کے حالات و حقائق زندگی خود ایلیکس ہیلے تک ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ان دس کروڑ سے زیادہ انسانوں اور ان کی بعد کی نسلوں کی داستان ہے جنہیں یورپ کی کٹر عیسائی حکومتوں کی زیر نگرانی اور زیر سرپرستی ترتیب دی گئی صدیوں پر محیط مہموں کے ذریعے

صفحہ ۱۵۲

جانوروں کی طرح شکار کر کے زنجیروں میں جہازوں کے خن (تہہ خانے) میں باندھ کر امریکہ لے جایا جاتا رہا۔ اور وہاں ان کی اور ان کی نسل کے لوگوں کی جانوروں کی طرح خرید و فروخت باقاعدہ منڈیوں میں ہوتی رہی۔ ان کروڑوں بدقسمت انسانوں کی نسل کے کروڑوں سیاہ فام امریکیوں میں سے ابھی تک صرف بارہ ایسے ہیں جو اپنے شکار ہونے والے اور فروخت ہونے والے اجداد اعلیٰ کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان بارہ میں سے مسٹر ایلیکس ہیلے نے اسے کتاب کی شکل دی ہے۔ اس بارے میں ایلیکس ہیلے کی اس خوش قسمتی کی مندرجہ ذیل خصوصی وجوہات ہیں۔

مضبوط انا اور عزم مصمم جس کی بنا پر جب بار بار بھاگنے کی کوشش کے نتیجے میں پاؤں کٹنے کے بعد وہ خود بھاگنے سے مایوس بھی ہو گیا تب بھی اس نے اپنے متعلق تمام حقائق آئندہ نسلوں کو منتقل کرنے کا بڑا پکا بندوبست کیا۔

کزی کو اس سے چھین کر فروخت کرنے کے اس کی نسل کے لوگ اس کے بعد یکجا رہے۔ اور کزی بھی جب فروخت ہو کر باپ سے علیحدہ ہوئی تو وہ سن بلوغت کو پہنچ چکی تھی اور تمام حقائق اس کے ذہن نشین ہو چکے تھے جو اس نے آئندہ نسلوں کو منتقل کئے۔ ورنہ ان لوگوں کی اکثر یہی حالت ہوتی تھی کہ باپ کو پتہ نہیں بیٹی کا خریدار اسے کہاں لے گیا اور بھائی کو پتہ نہیں کہ بہن کا خریدار اسے کہاں لے گیا۔

حقائق اور ایک معمولی واقعہ سے متاثر ہو کر بارہ سال کی کاوشیں اور تحقیق۔

ایلیکس ہیلے نے سات پشت پیچھے اپنے مسلمان جد اعلیٰ کنٹا کنٹے جسے صلیب پرست اپنے "نیو ورلڈ آرڈر" کے تحت حیوانوں کی طرح شکار کر کے سات سمندر پار امریکہ لے آئے اور اس مغربی افریقہ میں دریائے گیمبیا کے کنارے آبائی گاؤں کے اس وقت کے ماحول اور معاشرے کا بڑی تحقیق کے بعد جو حقائق پر مبنی نقشہ کھینچا ہے، اس کے مطابق یہ لوگ یقیناً سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے صلیب پرستوں کی نسبت پسماندہ تھے لیکن ان

صفحہ ۱۵۳

کا اپنا ایک بڑا سادہ معاشی اور معاشرتی نظام تھا۔ بحیثیت توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں، ان میں ظاہری اور باطنی طہارت کا بھی خاطر خواہ شعور تھا چنانچہ ان کے گھر اور برتن وغیرہ اگرچہ بہت ادنیٰ ہوتے لیکن ان میں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ چونکہ ان پر ابھی ”نیو ورلڈ آرڈر“ نافذ نہیں ہوا تھا اس لئے ان کے نہ تو کوئی ایسے مقدس باپ ہوتے تھے جو کہ بڑے فخریہ اعلان کرتے کہ انہوں نے زندگی بھر جسم کے کسی حصے کی صفائی کرنے کی کافرانہ حرکت نہیں کی اور نہ ہی پوپ الیگزینڈر ششم کی طرح ”منزہ عن الخطاء“ و مطاع قسم کے پاپائے اعظم جو اپنے ولد الزنا نواسے کے خود ہی باپ ہوں اور نہ ہی عصمت فروشی کے پیشے سے تعلق رکھنے والے کریسنٹی (Crescenti) قسم کے پاپائے اعظم۔ وہ چونکہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے صلیب پرستوں سے پیچھے تھے، اس لئے صلیب پرست اپنے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے تحت ان میں سے دس کروڑ سے زیادہ کا تو حیوانوں کی طرح شکار کر کے انہیں امریکہ لے گئے اور باقی کے اوپر اپارتھائیڈ (Apartheid) عائد کر دیا۔ ع ”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“۔

اس ضمن میں اس بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کا بردہ فروشی کے دھندے میں ملوث ہونا تو کم و بیش ہر ملک اور معاشرے کا ہمیشہ مسئلہ رہا ہے لیکن حکومتوں کا کئی صدیوں تک منظم مہموں کے ذریعے کروڑوں انسانوں کا جانوروں کی طرح شکار کر کے ان کی بالکل جانوروں کی طرح تجارت اور استحصال صرف صلیبی و صہیونی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا ہی طرہ امتیاز ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں اس کے نزدیک ترین جو چیز آتی ہے وہ سلطنت عثمانیہ کا ”دوشرمے“ (Devshirme) یعنی ”بچہ خراج“ کا نظام ہے۔ یہ نظام جب اپنی اصلی اور ابتدائی صورت میں تقریباً دو صدی تک قائم رہا تو اس کا ایک غیر انسانی اور غیر اسلامی پہلو یہ تھا کہ خلیفہ کے اہلکار جن لڑکوں کو ان کے والدین سے خرید کر لاتے تھے تو ان کا رابطہ انکے رشتہ داروں سے بالکل کاٹ دیا جاتا تھا تاکہ وہ یکسو ہو کر خلیفہ کے فرمانبردار ہو جائیں۔ لیکن اس کے باوجود صورت حال یہ ہوتی تھی کہ جب خلیفہ کے آدمی مشرقی یورپ کے علاقوں میں آٹھ سے اٹھارہ سال کی عمر کے لڑکوں کی خرید کے لئے جاتے تھے تو مائیں اپنے بیٹوں کو لئے راہ میں اس چیز کی متمنی کھڑی ہوتی تھیں کہ خلیفہ کے آدمیوں کی نظر انتخاب ان

صفحہ ۱۵۴

کے بیٹوں پر پڑ جائے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا تھا کہ چند سال خلیفہ کے محل میں بڑی منظم اور اعلیٰ پائے کی تعلیم و تربیت پانے کے بعد چاہے یہ خلیفہ کی ذاتی فوج ”ینی چری“ (Janissary) میں شامل ہوں یا ان کا تقرر خلیفہ کے محل یا دربار میں ہو، جو مراعات ان لوگوں کو حاصل ہوں گی، وہ تین براعظموں میں پھیلی ہوئی اور کئی قوموں پر مشتمل سلطنت عثمانیہ کے کسی اور طبقے کو حاصل نہ ہوں گی۔ اور یہی لوگ مستقبل میں خلیفہ کے مقرب و مشیر بنیں گے۔

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

باب ہفتم

نیوور .

اِنَّ البَ بیشک ب

۱۸۹۰ء میں امر ہاتھوں ریڈ انڈینز کے چار سو سالہ انڈین مردوں عورتوں اور بچو Bureau of Census (Internal Frontier) ختم ہو نے اپنے ایک قریبی دوست کو لکھ ہے۔۔۔کہ میں کسی بھی جنگ کا ح ضرورت ہے۔“

دراصل کئی س بحران کا شکار تھی جس کا اظہار بڑ توجہ اور توانائیوں کا رخ موڑنے ک منڈیوں اور قدرتی وسائل کا حصو چھیڑ چھاڑ کر کے اس کے آدھے میکسیکو وغیرہ ہیں، ہتھیا لئے گئے فوجی اڈے اور اقتصادی مفادات

صفحہ ۱۵۵

باب ہفتم

نیو ورلڈ آرڈر اور زروفام

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ه
بیشک شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے

۱۸۹۰ء میں امریکہ کے مقام Wounded Knee پر صلیب پرستوں کے ہاتھوں ریڈ انڈینز کے چار سو سالہ نسل کشی کے سلسلے کی آخری کڑی کے طور پر تین سو ریڈ انڈین مردوں عورتوں اور بچوں کے قتل عام کے بعد امریکہ کے شعبہ مردم شماری Bureau of Census نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ اندرونی محاذ (Internal Frontier) ختم ہوچکا ہے۔ ۱۸۹۷ء میں امریکہ کے صدر تھیوڈور روزویلٹ نے اپنے ایک قریبی دوست کو لکھا۔ ”میرے اور آپ کے درمیان یہ انتہائی رازدارانہ طور پر ہے۔۔۔کہ میں کسی بھی جنگ کا خیر مقدم کروں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کو اس کی ضرورت ہے۔“

دراصل کئی سال سے امریکی معاشرہ طبقاتی آویزش اور امریکی معیشت بحران کا شکار تھی۔ جس کا اظہار ہڑتالوں وغیرہ کی شکل میں ہو رہا تھا۔ چنانچہ نہ صرف لوگوں کی توجہ اور توانائیوں کا رخ موڑنے کے لئے بلکہ معیشت کے ان مسائل سے نکلنے کے لئے بیرونی منڈیوں اور قدرتی وسائل کا حصول ضروری سمجھا گیا۔ سب سے پہلے ہمسایہ ملک میکسیکو سے چھیڑ چھاڑ کر کے اس کے آدھے علاقے جہاں آج کل امریکی ریاستیں فلوریڈا، ٹیکساس، نیو میکسیکو وغیرہ ہیں ہتھیا لئے گئے۔ کیوبا کو سپین سے آزادی کی جنگ میں مدد کے بہانے وہاں اپنے فوجی اڈے اور اقتصادی مفادات قائم کئے گئے اور آئندہ کے لئے مداخلت کا حق حاصل کیا گیا۔

صفحہ ۱۵۶

ہوائی، پرٹوریکو اور گوام جیسے اہم جزیروں پر قبضہ کیا۔ کولمبیا میں ریشہ دوانیوں سے انقلاب برپا کیا اور پانامہ کی علیحدہ ریاست بنائی تاکہ وہاں اپنے کنٹرول میں جہاز رانی کے لئے نہر تعمیر کر سکے۔ ۱۹۲۶ء میں نکاراگوا میں انقلاب روکنے کے لئے وہاں پانچ ہزار میرین بھیجے اور انہیں سات سال تک وہاں رکھا۔ ۱۹۱۶ء میں ڈومینکن ریپبلک میں چوتھی مرتبہ فوجی مداخلت کی اور وہاں آٹھ سال تک فوج رکھی۔ ۱۹۱۵ء میں ہیٹی میں دوسری مرتبہ فوجی مداخلت کی اور وہاں انیس سال تک فوجی رکھے۔ نکاراگوا میں دو مرتبہ، پانامہ میں چھ مرتبہ، گوئٹے مالا میں ایک مرتبہ اور ہونڈوراز میں سات مرتبہ مداخلت کی۔ ۱۹۲۴ء تک جنوبی امریکہ کے بیس ممالک میں سے تقریباً نصف کی اقتصادیات امریکہ کے کلی کنٹرول میں تھیں۔ ۱۹۳۵ء تک امریکہ کی فولاد اور روئی کی پیداوار کا نصف جنوبی امریکہ کی ریاستوں کو فروخت ہو رہا تھا۔

اس تمام عرصے میں امریکہ اپنے منرو نظریہ Munroe Doctrine کے تحت اس بات پر مصر تھا کہ جنوبی اور وسطی امریکہ کے ممالک کے اندرونی معاملات میں صرف اور صرف اسے مداخلت کا حق حاصل ہے اور ان ممالک کے دروازے باقی دنیا پر بند رہنے چاہیں۔ ۳۱ مارچ ۱۸۵۴ء کو امریکی کمانڈر اور مہم جو میتھیو پیری نے سات جنگی جہازوں کی مہم کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ کر کے جاپان سے سفارتی اور تجارتی حقوق حاصل کئے، جس کے لئے برتان میلول نے ”دوہری کنڈی لگی سرزمین“ (Double - Bolted Land) کے الفاظ استعمال کئے تھے۔ میتھیو پیری کا یہ عقیدہ تھا کہ ”اس کی قوم کو بھی توسیع سلطنت کی مسابقت میں فطری طور پر حصہ لینا چاہئے ۔“

اس سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کا چین میں افیون کا کاروبار زوروں پر تھا۔ جب چین کی حکومت نے اس پر قدغن عائد کرنے کی کوشش کی تو وہاں پہلے ۱۸۳۹ء تا ۱۸۴۲ء پہلی جنگ افیون First Opium War اور اس کے بعد ۶۰-۱۸۵۶ء دوسری جنگ افیون Second Opium War چھڑ گئی۔ جس میں امریکہ نے دوسری استعماری طاقتوں برطانیہ اور فرانس کا ساتھ دیا۔ چین کی حکومت چونکہ اس زمانے میں تنزل کا شکار تھی اس لئے اسے شکست ہوئی اور اسے مغربی استعماری طاقتوں کو بہت سی مراعات مع افیون کی آزادانہ تجارت کے دینی پڑیں۔ نتیجتاً دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی اور تین ہزار سالہ مسلسل تہذیب کی

صفحہ ۱۵۷

حامل قوم اندھی ہو کر رہ گئی۔

امریکی صدر ولیم میکنلے (William McKinley) (۱۹۰۱ء-۱۸۹۷ء) نے کچھ مہمانوں کو بتایا : ”میں نے وائٹ ہاؤس کے فرش پر گہری سوچ میں کئی راتیں ٹہلتے گزاریں۔ اور حضرات مجھے آپ کو یہ بتانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی کہ میں نے دو زانو ہو کر قادر مطلق سے ایک سے زائد بار روشنی اور رہنمائی کی دعا کی۔ اور ایک دفعہ کافی رات گئے مجھے یہ رہنمائی اس طرح ملی...... کہ ہم اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان سب کو اپنے تسلط میں لے لیں اور فلپائنیوں کی تربیت کریں اور ان کی تہذیب و ارتقاء کے لئے انہیں عیسائی بنائیں۔“ جب امریکی صدر اپنے مہمانوں کو پچھلی صدی کے اواخر میں خدا کی طرف سے اس الہامی رہنمائی کے متعلق بتا رہا تھا تو اس کو یہ علم نہیں تھا کہ جس تہذیب کو فلپائنی لوگوں پر مسلط کرنے کے لئے اسے یہ رہنمائی حاصل ہوئی ہے اور جس کی کچھ جھلکیاں پچھلے ابواب میں دی گئی ہیں وہ تہذیب فلپائن پر امریکہ کی پیشرو استعماری طاقت سپین کے ذریعے صدیوں پیشتر مسلط ہو چکی ہے۔ جاپان، کوریا، تائیوان، ملائیشیا، سنگاپور، اور ہانگ کانگ سب مختلف مراحل میں برطانوی یا امریکی استعمار کے زیر اثر رہ چکے ہیں۔ لیکن ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان سب نے اس استعمار کے اثرات سے چھٹکارا حاصل کر کے جاپان کی تقلید میں معاشی ترقی کے اپنے اپنے ماڈل کی مدد سے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جہاں مغربی ممالک بھی ان کے بارے میں حیران ہیں۔ جبکہ ان کے درمیان میں قدرتی وسائل سے نسبتاً زیادہ مالا مال ملک فلپائن، امریکہ اور اس سے پہلے سپین کے زیر سایہ کچھ زیادہ ہی عرصہ رہا ہے۔ نتیجتاً جس تہذیب کو فلپائن میں نافذ کرنے کا عزم اوپر سابق امریکی صدر میکنلے نے ظاہر کیا تھا اس کے اثرات وہاں اتنی گہرائی تک چلے گئے ہیں کہ ان سے آسانی سے چھٹکارا نظر نہیں آتا۔ اس تہذیب کے فلپائن میں بہت سے اثرات اور باقیات ہیں جن کے متعلق لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں صرف ایک ہی کے لکھنے کی گنجائش ہے، یعنی ایک طرف قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف کچھ خاندانوں پر مشتمل سیاسی وڈیروں کا ٹولہ اور دوسری طرف غلاظت کے ڈھیروں میں سے روزی تلاش کرتے ہوئے عوام۔

۹ جنوری ۱۹۰۰ء کو امریکی سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے البرٹ بیورج نے

صفحہ ۱۵۸

کہا۔ ”صاحب صدر! ہمیں اس وقت صداقت سے بات کرنی چاہیے۔ فلپائن ہمیشہ سے ہمارا ہے اور فلپائن سے تھوڑا ہی آگے چین اپنی لامحدود منڈیوں کے ساتھ موجود ہے۔ ہم ان میں سے کسی سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ..... ہم اپنی نسل کے مشن یعنی خدا کی جانب سے دنیا کی تہذیب کے امین کی حیثیت سے اپنے حصے سے کبھی دست بردار نہیں ہوں گے ..... بحرالکاہل ہمارا سمندر ہے ..... ہم اپنی فاضل پیداوار کے گاہکوں کے لئے کہاں جائیں؟ جغرافیہ ہمیں اس کا جواب دیتا ہے۔ چین ہمارا گاہک ہے۔ فلپائن ہمارے لئے تمام مشرق کے دروازے پر ایک اڈا ہے۔ امریکہ میں کوئی بھی زمین زرخیزی کے لحاظ لوزون (Luzon) کے میدانوں اور وادیوں سے بڑھ کر نہیں۔ چاول، کافی، چینی، ناریل، پٹ سن، تمباکو ..... فلپائن کی لکڑی تمام دنیا کو ایک صدی تک فرنیچر مہیا کر سکتی ہے۔ ایک انتہائی باخبر شخص نے مجھے اسی جزیرے میں بتایا کہ سیو (Cebu) کے چالیس میل طویل سلسلہ ہائے کوہ عملی طور پر کوئلے کے پہاڑ ہیں۔ میرے پاس خالص سونے کا ایک نگینہ ہے جو اسی شکل میں فلپائن کی ایک ندی کے کنارے سے ملا تھا۔

”میرا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ ان (فلپائنی) لوگوں میں ایک سو آدمی بھی ایسے نہیں ہیں جو یہ سمجھ سکیں کہ اینگلو سیکسن سیلف گورنمنٹ کے کیا معنی ہیں اور وہاں پچاس لاکھ لوگ ہیں جن پر حکومت کرنی ہے۔

”یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے جنگ ظالمانہ طریقے سے کی ہے۔ سینیٹر صاحبان! بات اس کے بالکل برعکس ہے ..... سینیٹر صاحبان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا واسطہ امریکیوں یا یورپیوں سے نہیں بلکہ مشرقی لوگوں سے ہے۔“

اس کے بعد فلپائن میں لڑنے والے امریکی فوجیوں کے خطوط سے اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔ ایک امریکی کپتان لکھتا ہے۔ ”کیلوکان (فلپائنی جزیرہ) کی آبادی کا اندازہ ستر ہزار تھا۔ بیس کنساس رجمنٹ نے اس پر یلغار کی۔ اور اب کیلوکان میں ایک بھی اصلی باشندہ باقی نہیں ۔“ اسی یونٹ کا ایک فوجی اپنے خط میں لکھتا ہے کہ کیلوکان کی فتح کے بعد میں نے خود اپنے ہاتھوں سے فلپائنیوں کے پچاس سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا۔ ہماری لگائی ہوئی آگ سے عورتیں اور بچے زخمی ہوئے۔ واشنگٹن سٹیٹ کا ایک فوجی لکھتا

صفحہ ۱۵۹

ہے۔ ”ہمارا خون لڑائی کے لئے کھول رہا تھا اور ہم سب نگرز (Niggers) کو مارنا چاہتے تھے۔۔۔۔ انسانوں کی شوٹنگ کے مقابلے میں خرگوشوں کی شوٹنگ بالکل ہیچ ہے۔“

ایک امریکی میجر والر پر جب گیارہ نہتے فلپائینوں کو گولی مارنے پر مقدمہ چلایا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کے جرنیل سمتھ (Smith) نے اسے قتل کرنے اور جلانے کی ہدایات دی تھیں۔ اور اس سے کہا تھا کہ جتنا ہی وہ زیادہ قتل و غارت اور آتش زنی کرے گا اتنا ہی وہ اس سے خوش ہو گا اور یہ کہ یہ جنگی قیدی بنانے کا کوئی وقت نہیں ہے اور وہ بٹانگا Batanga کو ایک ہیبتناک ویرانے میں بدل دے۔ جب میجر والر نے جنرل سمتھ سے وہ حد عمر مقرر کرنے کے لئے کہا جس سے اوپر اسے قتل کرنا چاہیے تو جنرل سمتھ نے کہا کہ ”دس سال سے زائد ہر شخص“ فلپائن کے صوبہ بٹنگاس میں اس صوبے کے سیکرٹری کے اندازے کے مطابق وہاں کی تین لاکھ کی آبادی میں سے اس دوران ایک تہائی جنگ، قحط اور امراض کی وجہ سے ہلاک ہو گئی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی صدر ٹرومین نے کہا ”دنیا یہ ملاحظہ کرے گی کہ پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر گرایا گیا جو ایک فوجی اڈہ ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم اس حملے میں یہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو شہری آبادی کو ہلاکت سے بچایا جائے۔“ یہ ایک بڑا ہی مہمل بیان تھا کیونکہ ہیرو شیما پر ایٹم بم کے حملہ میں ہلاک ہونے والے ایک لاکھ سے زائد نفوس تقریباً تمام شہری تھے۔

امریکہ کے سٹریٹجک بمباری سروے کے Bombing Survey U.S. Strategic جو اس کے محکمہ جنگ نے جاپان پر ہوائی حملے کے نتائج جانچنے کے لئے کیا، اس نے جاپانیوں کے ہتھیار ڈالنے کے بعد وہاں کے سینکڑوں سول اور ملٹری لیڈروں کے انٹرویو لینے کے بعد رپورٹ دی کہ ”تمام حقائق کی تفصیلی تفتیش کی بناء پر اور جنگ کے بعد زندہ رہنے والے متعلقہ جاپانی رہنماؤں کی شہادت کی تصدیق سے اس سروے کی یہ رائے ہے کہ یقیناً ۳۱ دسمبر ۱۹۴۵ء سے پہلے اور غالباً یکم نومبر ۱۹۴۵ء سے بھی پہلے جاپان ہتھیار ڈال دیتا اگر اس پر ایٹم بم نہ بھی گرائے جاتے اور اگر روس بھی اس کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوتا اور اگر اس کے خلاف کسی حملے کا منصوبہ یا خیال بھی نہ کیا جاتا۔“ اس سروے نے اپنی سرکاری

صفحہ ۱۶۰

رپورٹ میں مزید لکھا کہ ”ہیروشیما اور ناگاساکی کا نشانے کے طور پر انتخاب وہاں پر آبادی اور کارروائیوں کی کثرت کی وجہ سے کیا گیا۔“

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی لیڈروں کو اگست ۱۹۴۵ء میں ایٹم بم گرانے سے پہلے ان حقائق کا علم تھا۔ اس کا جواب ہے کہ یقیناً انہیں علم تھا۔ جاپان کا پیغام رسانی کا خفیہ کوڈ امریکہ توڑ چکا تھا اور جاپانی پیغامات ترسیل کے دوران پکڑے جا رہے تھے۔ امریکی رہنماؤں کو اس چیز کا علم تھا کہ جاپان نے ماسکو میں اپنے سفیر کو ہدایات دی تھیں کہ حلیفی طاقتوں کے ساتھ امن کی بات چیت کے لئے کام شروع کیا جائے۔ جاپانی رہنماؤں نے اس سے ایک سال قبل ہی ہتھیار ڈالنے کی بات شروع کر دی تھی اور شہنشاہ جاپان نے ۱۹۴۵ء میں خود یہ تجویز دینی شروع کر دی تھی کہ آخری دم تک لڑنے کے متبادل تلاش کئے جائیں۔ ۱۳ جولائی کو وزیر خارجہ شگی نورو ٹوگو نے ماسکو میں اپنے سفیر کو وائرلیس پر پیغام بھیجا ”امن کے راستے میں صرف غیر مشروط سپر اندازی ایک رکاوٹ ہے۔“ مارٹن شرون متعلقہ تاریخی دستاویزات کے دقیق و عمیق مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ جاپانیوں کے پیغام رسانی کے خفیہ کوڈ کو جنگ سے پہلے ہی توڑ لینے کے بعد امریکی انٹیلیجنس اس قابل تھی اور اس نے یہ پیغام امریکی صدر کو واقعی بھجوایا تھا۔ لیکن اس کا جنگ کو اپنے انجام تک پہنچانے کی کوششوں پر بالکل کوئی اثر نہ ہوا۔

ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرانے کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا اور اس امر کی کوئی بھی کبھی وضاحت نہیں کر سکا کہ دوسرا ایٹم بم گرانے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا یہ صرف اس لئے تھا کہ دوسرا گرایا جانے والا ایٹم بم پلوٹونیم کا بنا ہوا تھا جبکہ پہلا یورینیم کا تھا؟ کیا ان شہروں میں ہلاک ہونے والے لاکھوں انسان ایک ایٹمی تجربہ کا شکار ہوئے؟ کیا جاپان کے شہنشاہ کو برقرار رکھنے کی علامتی معمولی شرط (جو کہ آخر کار برقرار رہا) لاکھوں انسانوں کی ہولناک ہلاکت اور لاکھوں کی اذیت ناک زندگی کے مقابلے میں نیو ورلڈ آرڈر کی تہذیب اور ذہنیت کے نزدیک واقعی بھاری ہے؟ ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ واقعی ایسا ہے۔

اس خطے میں امریکہ کی اگلی جنگ کوریا میں ”طاقت کی حکمرانی“ کے خلاف تھی جس کے دوران امریکہ نے دونوں شمالی اور جنوبی کوریا کو بمباری اور گولہ باری سے برباد و

صفحہ ۱۴۱

ویران کر دیا۔ اس جنگ میں امریکہ نے نیپام بم بھی استعمال کئے۔ اور اس کے نتائج کی ایک جھلک بی بی سی کے نمائندے کی زبانی: ”ہمارے سامنے ایک عجیب و غریب جسم کھڑا تھا جو قدرے دبکا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں چھدی ہوئیں اور بازو پہلوؤں سے باہر پھیلے ہوئے تھے۔ اس کی کوئی آنکھیں نہ تھیں۔ یہ تمام کا تمام جسم جو پورا جلے ہوئے چیتھڑوں کی دھجیوں میں سے نظر آرہا تھا، ایک سخت کالی چھال سے لپٹا ہوا تھا جس پر زرد رنگ کے پیپ کے دھبے تھے۔... وہ کھڑا رہنے پر مجبور تھا کیونکہ یہ جسم اب جلد میں لپٹا ہوا نہیں تھا بلکہ اس کے بدلے چھال کی مانند ایک کڑکڑے چھلکے میں جو کہ آسانی سے جھڑ جاتا تھا۔... میں نے ان جیسے سینکڑوں دیہاتوں کا تصور کیا جو (نیپام بموں سے) جلا کر راکھ کا ڈھیر کر دیئے گئے تھے اور جنہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا اور مجھے ان ہلاکتوں کی نوعیت و تعداد کا ادراک ہوا جو کوریا کے محاذ پر کثرت سے ہو رہی تھیں۔“

کوریا کی جنگ میں تقریباً بیس لاکھ کوریائی باشندے ہلاک ہوئے اور تمام کے تمام ”طاقت کی حکمرانی“ کی مخالفت میں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی قبضے میں جانے سے پہلے ویتنام ایک فرانسیسی نو آبادی تھی۔ ۱۹۴۵ء میں ویتنام کے انقلابیوں نے جاپانیوں کو مار بھگانے کے بعد ہنوئے Hanoi میں ایک لاکھ کے مجمع میں ”اعلان آزادی“ جاری کیا جس میں فرانسیسی تسلط کے دوران کئے جانے والے مظالم کا تذکرہ ان الفاظ میں تھا: ”انہوں (فرانسیسیوں) نے غیر انسانی قوانین نافذ کئے۔... انہوں نے قید خانے زیادہ اور سکول کم تعمیر کئے۔ انہوں نے ہمارے محبان وطن کو بے رحمی سے قتل کیا اور تحریکوں کو خون کے دریاؤں میں ڈبو دیا۔ انہوں نے رائے عامہ پر بندشیں عائد کیں۔... انہوں نے ہمیں ہمارے چاول کے کھیتوں، ہماری کانوں، ہمارے جنگلات اور ہمارے مادی وسائل سے محروم کیا۔ انہوں نے بے شمار ناجائز محصولات ایجاد کئے اور ہمارے لوگوں خصوصاً ہمارے کسانوں کو مفلسی کی انتہا تک پہنچا دیا... پچھلے سال کے اواخر سے لیکر اس سال کے آغاز تک ہمارے بیس لاکھ سے زائد ہم وطن بھوک سے موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

”پوری ویتنامی قوم ایک ہی مقصد سے سرشار ہو کر فرانسیسی استعمار کی اس

صفحہ ۴۴

ملک پر دوبارہ قبضے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے آخری دم تک لڑنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔“

ویتنام کے راہنما ہوچی منہ نے ان حقائق کی طرف امریکی صدر ٹرومین کی توجہ دو خطوط کے ذریعے مبذول کروائی۔ لیکن امریکہ چونکہ ایک عرصہ سے مختلف استعماری طاقتوں مثلاً سپین، فرانس، ہالینڈ، انگلینڈ وغیرہ کے سر سے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا سہرا اتار کر اپنے سر پر سجا رہا تھا اس لئے ہوچی منہ کو ان خطوط کا کوئی جواب نہ ملا۔ بلکہ ۱۹۵۴ء کے بعد فرانسیسی فوجوں کی ویتنام کی جنگ آزادی کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے لئے درکار اکثر و بیشتر ہتھیار اور مادی وسائل امریکہ نے مہیا کئے۔ اس بارے میں مختلف امریکی صدر اور دوسرے سرکاری نمائندوں کے ہند چینی میں ”آزادی اور جمہوریت“ کے نفاذ کے متعلق اکثر بیانات کے علی الرغم ۱۹۶۳ء میں صدر کینڈی کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ یوا لیکس جانسن نے امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ کی اکنامک کلب میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”جنوب مشرقی ایشیاء کی کیا کشش ہے جو یہ صدیوں سے اردگرد کی بڑی طاقتوں پر اثر انداز ہوتی رہی ہے؟ یہ کیوں مطلوب اور اہم ہے؟ اولاً اس کی آب و ہوا بڑی بار آور، زمین زرخیز اور یہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کے اکثر علاقوں میں آبادی نسبتاً کم گنجان ہے اور وہاں توسیع کی گنجائش ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک برآمد کے قابل وافر فاضل مقدار میں چاول، ربڑ، لکڑی، مکئی، ٹین، مصالحہ جات، تیل اور دیگر اشیاء پیدا کرتے ہیں۔“ انہی حقائق کا ذکر ۱۹۵۲ء میں امریکہ کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ایک خفیہ میمو میں کرنے کے بعد اس علاقے کی سٹریٹیجک اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۵۴ء میں جب فرانسیسی افواج ویتنام میں مزید ”نیو ورلڈ آرڈر“ نافذ کرنے میں ناکام رہیں تو جنیوا معاہدے کے تحت ویتنام میں دو سال کے اندر انتخابات کے عہد کے ساتھ امریکی افواج نے فرانسیسی افواج کی جگہ لے لی۔ اس معاہدے کے تحت انتخابات تو کیا ہونے تھے امریکہ کی ریاست نیوجرسی میں مقیم ویتنامی عیسائی ڈین ڈیم Dinh Diem کو کٹھ پتلی کے طور پر مسلط کر دیا گیا، جبکہ ویتنام کی آبادی کی اکثریت کا تعلق بدھ مت سے تھا۔ ڈین ڈیم جب اپنے تمامتر مظالم کے باوجود ویتنام کی تحریک کو کچلنے میں ناکام رہا تو صدر کینڈی کے علم اور رضامندی سے سی آئی اے کے ذریعے برپا کئے گئے جرنیلوں کے انقلاب میں اس کا خاتمہ

کر دیا گیا۔ اسکے تین ہفتہ بعد صدر ویتنام کی جنگ جنگ میں گرائے جانے والے بم لئے اوسطاً ۵۰۰ پاؤنڈ بم فی کس مطابق اس ملک میں بموں سے کیمیائی مادوں کے چھڑکاؤ سے پیدا والے بچے پیدائشی نقائص کا شکا فوجیوں نے ۲۵۰ سے ۵۰۰ نہتے طور پر تشہیر پانے والی مثال تھی ج شائع ہوا درج ذیل ہے۔

پیاری امی اور آج ہم ایک کوئی فخر نہیں ہے۔ ہم نے تما سلسلہ تھا اور لوگ بے انتہا غریب لوٹ لیا۔ میں آپ کو اس صورت ہال کے جھو میں ہر ایک کے اندر مٹی کا ٹینک لئے ہوتے ہیں یعنی ایک قسم کی پ یہ خیال پسند فرمایا کہ یہ بنکر حملہ بھی بنکر ہوں اسے نذر آتش کر جھونپڑوں کے درمیان زمین پر سکتے ہی ہم گولیاں چلا رہے چلائیں۔ اس کے بعد ہم نے ان رہا ہے اور منتیں کر رہا ہے کہ

صفحہ ۱۶۳

کر دیا گیا۔ اسکے تین ہفتہ بعد صدر کینڈی خود قتل ہو گئے۔ ویتنام کی جنگ کے دوران وہاں ستر لاکھ ٹن بم گرائے گئے جو دوسری عالمی جنگ میں گرائے جانے والے کل بموں سے دوگنی مقدار ہے۔ اس طرح ویتنام کی آبادی کے لئے اوسطاً ۵۰۰ پاؤنڈ بم فی کس بنتی ہے۔ ان میں نیپام بم بھی شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس ملک میں بموں سے پیدا شدہ دو کروڑ گڑھے تھے۔ اس کے علاوہ وسیع رقبوں پر کیمیائی مادوں کے چھڑکاؤ سے جنگلات و نباتات کو ختم کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں وہاں پیدا ہونے والے بچے پیدائشی نقائص کا شکار ہوئے۔ مائی لائے My Lai کے قتل عام میں امریکی فوجیوں نے ۴۵۰ سے ۵۰۰ نہتے دیہاتی بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کا صفایا کیا۔ یہ ایک اتفاقیہ طور پر تشہیر پانے والی مثال تھی۔ ایک امریکی فوجی کا اپنے والدین کو خط کا متن جو ایک اخبار میں شائع ہوا درج ذیل ہے۔

پیاری امی اور ابو!

آج ہم ایک مشن پر گئے اور مجھے اپنے اوپر‘ اپنے دوستوں اور اپنے ملک پر کوئی فخر نہیں ہے۔ ہم نے تاحد نگاہ تمام جھونپڑے جلا ڈالے۔ یہ دیہاتوں کا ایک چھوٹا سا سلسلہ تھا اور لوگ بے انتہا غریب۔ میری یونٹ نے ان کی حقیر سی پونجی کو نذر آتش کیا اور لوٹ لیا۔ میں آپ کو اس صورت حال کی وضاحت کی کوشش کرتا ہوں۔

یہاں کے جھونپڑے گارے اور ناریل کے پتوں سے بنے ہوتے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے اندر مٹی کا بنکر Bunker ہوتا ہے۔ یہ بنکر ان خاندانوں کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں یعنی ایک قسم کی ہوائی حملے سے پناہ گاہ۔۔۔۔۔ تاہم میری یونٹ کے کمانڈروں نے یہ خیال پسند فرمایا کہ یہ بنکر حملوں کے لئے ہیں۔ چنانچہ ہمیں حکم ہے کہ جس جھونپڑے میں بھی بنکر ہوں اسے نذر آتش کر کے زمین بوس کر دیا جائے۔ آج صبح جب دس ہیلی کاپٹر ان جھونپڑوں کے درمیان زمین پر اترے اور ہر ہیلی کاپٹر میں سے چھ آدمی کودے تو زمین پر پاؤں ٹکتے ہی ہم گولیاں چلا رہے تھے۔ ہم نے ان تمام جھونپڑوں میں جہاں تک ہو سکا گولیاں چلائیں۔ اس کے بعد ہم نے ان جھونپڑوں کو جلا ڈالا۔۔۔۔۔۔ ہر شخص رو رہا ہے اور ہم سے التجا کر رہا ہے اور منتیں کر رہا ہے کہ ہم انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ نہ کریں اور ان کے خاوندوں‘

صفحہ ۱۶۴

باپوں، دادوں اور بیٹوں کو نہ لے جائیں۔ عورتیں بین کر رہی ہیں اور کراہ رہی ہیں اور اس کے بعد خوف و ہراس کے عالم میں تک رہی ہیں جب ہم ان کے گھروں، مکان اور خوراک کو نذر آتش کر رہے ہیں۔ ہاں ہم نے تمام کا تمام چاول جلا ڈالا اور تمام مویشیوں کو گولی کا نشانہ بنا دیا۔"

لاؤس اور کمبوڈیا کے متعلق بھی اس جنگ کے حقائق اسی قسم کے ہیں۔ قصہ مختصر ۱۹۶۴ء سے ۱۹۷۲ء تک دنیا کی امیر ترین اور سب سے طاقتور قوم نے ایک چھوٹے سے پسماندہ زرعی ملک کی قومی تحریک کو کچلنے کے لئے پوری فوجی طاقت استعمال کی اور ایٹم بم کے سوا تمام ہتھیار آزمائے، لیکن پھر بھی اپنے مقصد میں ناکام رہی۔ کیونکہ ویتنامی قوم امریکہ کے ریڈ انڈینز کی طرح ۲۲۰۰ سے زائد مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف تہذیبوں والے قبائل کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ثقافت، ایک زبان اور سب سے بڑھ کر متحدہ، پرعزم اور مخلص قیادت کے ساتھ ایک قوم تھی۔ جہاں ایک طرف یہ سپر پاور ایک چھوٹے سے پسماندہ ملک سے شکست کھا گئی وہاں دوسری سپر پاور ایک دوسرے انتہائی غریب اور پسماندہ ملک افغانستان پر اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کے باوجود اپنا ورلڈ آرڈر نافذ نہ کر سکی جبکہ اس صورت میں اس دوسری سپر پاور کو طویل فاصلے اور افغانستان میں متحدہ قیادت سے مقابلے جیسے مسائل بھی درپیش نہیں تھے اور اس شکست کے نتیجے میں یہ سپر پاور ٹوٹ کر اس حیثیت سے دنیا کے نقشے سے مٹ گئی۔

باب ہشتم

”نیو ورلڈ

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِيْ اِلٰى يَوْمِ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ O مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ O قَالَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ

ابلیس نے کہا: ” دن مردے قبروں سے اٹھائے جائیں وقت کے دن تک۔" ابلیس نے کہا آدم میں سے وہ بندے محفوظ رہیں اور ہمیشہ حق ہی کہا کرتا ہوں کہ میں سے دوزخ بھر دوں گا۔"

اگلے صفحے کی تصویر الیومینیٹی ۱۹۳۳ء میں امریکہ کے صدر امریکی حکومت اسے ۲۰ جون ۱۹۳

صفحہ ۴۵

میں بین کر رہی ہیں اور کراہ رہی ہیں اور اس کے جب ہم ان کے گھروں، سامان اور خوراک کو نذر دھول جلا ڈالا اور تمام مویشیوں کو گولی کا نشانہ بنا

آج بھی اس جنگ کے حقائق اسی قسم کے ہیں۔ قصہ اور سب سے طاقتور قوم نے ایک چھوٹے سے لئے پوری فوجی طاقت استعمال کی اور ایٹم بم کے مقصد میں ناکام رہی۔ کیونکہ ویتنامی قوم امریکہ کے ے، پرامن، بولنے والے اور مختلف تہذیبوں والے ان اور سب سے بڑھ کر متحدہ، پرعزم اور مخلص طرف یہ سپر پاور ایک چھوٹے سے پسماندہ ملک دوسرے انتہائی غریب اور پسماندہ ملک افغانستان نیو ورلڈ آرڈر نافذ نہ کر سکی جبکہ اس صورت میں ستان میں متحدہ قیادت سے مقابلے جیسے مسائل بھی دیکھنا یہ سپر پاور ٹوٹ کر اس حیثیت سے دنیا کے نقشے

باب ہشتم

”نیو ورلڈ آرڈر“ کی عملی جھلکیاں

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ◯ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ◯ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ◯ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ ◯ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ◯ قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ ◯ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ ◯

(ص: ۷۹۔۸۵)۔

ابلیس نے کہا: ”اے میرے پروردگار! مجھے اس دن تک کے لئے مہلت دے دے جس دن مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ”بلاشبہ تجھ کو مہلت دی گئی اس مقررہ وقت کے دن تک۔“ ابلیس نے کہا: ”تیری عزت کی قسم میں تمام اولاد آدم کو گمراہ کر دوں گا۔ مگر ہاں اولاد آدم میں سے وہ بندے محفوظ رہیں گے جو چیدہ اور مخلص ہوں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں حق ہوں اور ہمیشہ حق ہی کہا کرتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور جو لوگ بنی آدم میں سے تیری پیروی کریں گے ان سب سے دوزخ بھردوں گا۔“

اگلے صفحے کی تصویر الیومینیٹی کے امتیازی نشان Insignia Of Illuminati کی ہے۔ جو ۱۹۳۳ء میں امریکہ کے صدر فرینکلن روزویلٹ نے ایک ڈالر کے نوٹ پر ثبت کروائی۔ امریکی حکومت اسے ۱۰ جون ۱۷۸۲ء سے اپنی سرکاری مہر کے طور پر اختیار کرچکی تھی۔

صفحہ ۱۶۶

ANNUIT COEPTIS MDCCLXXVI NOVUS ORDO SECLORUM

E PLURIBUS UNUM

یہ امتیازی نشان ڈاکٹر ایڈم ویشاپٹ Dr. Adam Weishaupt نے یکم مئی ۱۷۷۶ء کو آرڈر آف الیومیناتی Order Of Illuminati کی تاسیس کے وقت اختیار کیا۔ چونکہ اتفاقاً ۱۷۷۶ء امریکہ کا اعلان آزادی کا سال بھی ہے اس لئے بعض لوگ اس نشان کی نسبت اس سے بھی کرتے ہیں۔ اس تمثیل میں اہرام کی نچلی سطح پر رومی رسم الخط

میں MDCCLXXVI اسی سال "نیوو NOVUS ORDO Annuit Coeptis (تیرہ حروف) کی چوٹی پر "ہر شے کی تاک میں" علامتی تجسیم عقاب تھی) کی ہے تھا۔ اس نشان میں پراسرار عدد " کے دائیں پنجے میں تیرہ پتوں اور مصر کے ۷۲ پتھر بھی اوپر تلے تیرہ ۱۷۸۲ء میں ا فری میسن کے باہم ادغام کے بعد Illuminati لفظ Lucifer سے "پر نور" کے ہیں۔ ان پراسرار چوٹی کے عہدے داروں کو اس World Revolutionary پرستش پر ہے۔ یہاں اس بات کے لئے نور" (the nations ایک یہودی امیشل میں Pale of Settlement فرینکفرٹ کی Judenstrasse شروع کیا۔ دروازے پر چونکہ تھی، اس لئے خاندان نے یہی میں، جبکہ وہ تیس سال کا تھا، اجتماع کیا اور ان کے سامنے و منصوبہ اپنے بنیادی نکات کے

صفحہ ۱۶۷

میں MDCCLXXVI اسی سال ۱۷۷۶ء کے لئے ہے۔ اس کے نیچے SECULORUM NOVUS ORDO ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے ہم معنی لاطینی الفاظ ہیں۔ سب سے اوپر Annuit Coeptis (تیرہ حروف) کا مطلب ”ہماری مہم (سازش) کامیاب ہے“ اہرامِ مصر کی چوٹی پر ’ہر شے کی تاک میں‘ آنکھ قدیم مصری دیو مالا میں حوروس Horus دیوتا (جس کی علامتی تجسیم عقاب تھی) کی ہے۔ مثلث کے اندر جس دیوتا کی یہ آنکھ ہے وہ Isis دیوی کا بیٹا تھا۔ اس نشان میں پراسرار عدد ۱۳ سٹار آف ڈیوڈ Star Of David کے تیرہ ستاروں، عقاب کے دائیں پنجے میں تیرہ پتوں اور تیرہ بیروں اور بائیں پنجے میں تیرہ تیروں سے ظاہر ہے۔ اہرام مصر کے ۷۲ پتھر بھی اوپر تلے تیرہ تہوں میں ہیں۔

۱۷۸۲ء میں Wilhelmsbad کی کانگرس میں آرڈر آف الیومینٹی اور فری میسن کے باہم ادغام کے بعد اس امتیازی نشان کی نسبت فری میسن سے بھی ہو گئی۔ لفظ Illuminati لفظ Lucifer سے مشتق ہے۔ جس کے ایک معنی ابلیس ہیں اور دوسرے معنی ”پُرنور“ کے ہیں۔ ان پراسرار تنظیموں اور ان سے ملحقہ بہت سی دوسری تنظیموں کے صرف چوٹی کے عہدے داروں کو اس راز کا علم ہوتا ہے کہ عالمی انقلابی تحریک Movement World Revolutionary کے مقصد کے لئے قائم شدہ ان تنظیموں کی بنیاد ابلیس کی پرستش پر ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یہودی قوم خود کو ”قوموں کے لئے نور“ (Light unto the nations) کہتی ہے۔

ایک یہودی ایمشیل موسس باؤر اٹھارویں صدی عیسوی میں مشرقی یورپ کی Pale of Settlement میں گھوم پھر کر سنار کا کام کرتا تھا۔ بعد میں اس نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کی Judenstrasse (یہودی باڑہ) میں سکونت اختیار کر کے سودی لین دین کا کاروبار شروع کیا۔ دروازے پر چونکہ قدیم یہودی تحریک کا نشان سرخ شیلڈ Rothschild آویزاں تھی، اس لئے خاندان نے یہی نام اختیار کیا۔ یہیں پر اس کے بیٹے مائر روتھ شیلڈ نے ۱۷۷۳ء میں، جبکہ وہ تیس سال کا تھا، فری میسن سے تعلق رکھنے والے بارہ مالدار اور بارسوخ آدمیوں کا اجتماع کیا اور ان کے سامنے عالمی تسخیر کا ایک منصوبہ پیش کر کے انہیں اپنا شریک کار بنایا۔ یہ منصوبہ اپنے بنیادی نکات کے لحاظ سے صیہونی دانشوروں کے پروٹوکولز کا ابتدائی خاکہ لگتا ہے۔

صفحہ ۴۸

اس اجتماع میں مائر روتھ شیلڈ نے اپنے مہمانوں کو انگلینڈ میں ۱۶۴۰ء میں الیور کرامویل کی قیادت میں لڑی جانے والی خانہ جنگی سے لے کر ۱۶۸۹ء میں ولندیزی جرنیل ولیم پرنس آف اورنج کے ”سنہرے انقلاب“ کے ذریعے برطانیہ میں تخت نشین ہونے تک تمام کاروائیوں کی کامیابیوں، مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔ ان تمام کاروائیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر ۱۶۹۴ء میں شاہ انگلینڈ ولیم پرنس آف اورنج نے ایک کلیسا میں طے پائے گئے خفیہ معاہدہ کے تحت ان بین الاقوامی بنکاروں سے ساڑھے بارہ لاکھ پاؤنڈ کے قرضے کے عوض انہیں بنک آف انگلینڈ کے قیام کا منشور Charter دے کر ملک کی کرنسی جاری اور کنٹرول کرنے کا اختیار دے دیا۔ اس اجتماع کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر ایڈم ویشاپٹ کو عالمی حکومت کے قیام کے لئے اس منصوبے کی نظر ثانی اور تجدید کا کام تفویض ہوا، جس میں انقلاب فرانس کو اولین ترجیح حاصل تھی۔ کیونکہ اس زمانے میں انگلینڈ اور فرانس یورپ کی سب سے بڑی طاقتیں تھیں۔ ڈاکٹر ایڈم ویشاپٹ Ingolstadt یونیورسٹی میں قوانین کلیسا Canon Law کا پروفیسر اور ایک سابق پادری تھا۔ الیومیناٹی اور فری میسن کے ادغام کے بعد ان تنظیموں کے لئے جو منصوبہ اس نے تشکیل دیا اس کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل تھے۔

اپنی ایک مطلق العنان عالمی حکومت کا قیام۔

ان مقاصد کے حصول کے لئے جو لائحہ عمل وضع کیا گیا اس کا بنیادی جزو لوگوں کو نسلی، مذہبی، سیاسی، معاشی و معاشرتی بنیادوں پر باہم متقابل و متصادم زیادہ سے زیادہ گروہوں میں تقسیم کرنا اور اس کے بعد ان گروہوں کو مسلح کر کے انہیں کوئی ایسا موقع فراہم کرنا جس سے وہ باہم دست و گریبان ہو کر ایک دوسرے کو کمزور یا ختم ہی کر دیں۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل اہم ہتھکنڈے تجویز کئے گئے۔

پھانس کر ان کو بلیک میل کرنا۔

سفارش پر اعلیٰ ذہنیت کے مالک طلباء کو

برسراقتدار لوگوں کے ساتھ ماہرین یا منصوبے پر عمل درآمد کرانا۔

الیومیناٹی اور فری اپنے سے اعلیٰ درجے کے اراکین کے کے لیڈروں کو ان خفیہ تنظیموں کو وجود والی دوسری تنظیموں کے اصل اغراض رفاہ عامہ یا تعلیم و تحقیق کا لبادہ اوڑھا

۱۷۸۵ء میں جب سرپٹ دوڑاتے ہوئے atisbon ریاست کی مقامی پولیس کو اس کے منصوبوں کے متعلق تفصیلات پر مبنی میسن کے ان منصوبوں کے متعلق ان کے علاوہ عمائد کلیسا کو بھی آگاہ کر دیا جانب خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ جس کی

راقم الحروف کا تبصرہ اگلے صفحات پر سرمایہ داروں نے پہلے فرانس کے ا کو دولت اور عورت کی فتنہ سامانیوں انقلاب برپا کرنے کے بعد روس (Reign of Terror) سے ا کرنے کے لئے ایک آزمودہ لائحہ

صفحہ ۴۹

توں کو انگلینڈ میں ۱۶۳۰ء میں آلیور کرامویل کی مدد لے کر ۱۶۸۹ء میں ولندیزی جرنیل ولیم پرنس آف برطانیہ میں تخت نشین ہونے تک تمام کاروائیوں کی ہے۔ ان تمام کاروائیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر نے ایک کلیسا میں طے پائے گئے خفیہ معاہدہ کے ۱۲ لاکھ پاؤنڈ کے قرضے کے عوض انہیں بنک آف لینڈ کی کرنسی جاری اور کنٹرول کرنے کا اختیار دے دم ویشلپٹ کو عالمی حکومت کے قیام کے لئے اس تھا، جس میں انقلاب فرانس کو اولین ترجیح حاصل میں یورپ کی سب سے بڑی طاقتیں تھیں۔ ڈاکٹر قوانین کلیسا Canon Law کا پروفیسر اور ایک اقدام کے بعد ان تنظیموں کے لئے جو منصوبہ اس میں تھے۔

کے لئے جو لائحہ عمل وضع کیا گیا اس کا بنیادی جزو بنیادوں پر باہم مختلف و متصادم زیادہ سے زیادہ گروہوں کو مسلح کر کے انہیں کوئی ایسا موقع فراہم ایک دوسرے کو کمزور یا ختم ہی کردیں۔ اس کے

پھانس کر ان کو بلیک میل کرنا۔

سفارش پر اعلیٰ ذہنیت کے مالک طلبہ کو چن کر ان کی تربیت اپنے مقاصد کے مطابق کرنا۔

برسراقتدار لوگوں کے ساتھ ماہرین کی حیثیت سے منسلک کر کے پس پردہ ان کے ذریعے اس منصوبے پر عمل درآمد کرانا۔

الیومیناٹی اور فری میسن کے تمام اراکین کو حلفیہ طور پر دائمی رازداری اور اپنے سے اعلیٰ درجے کے اراکین کے لئے غیر متزلزل اطاعت کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ صرف چوٹی کے لیڈروں کو ان خفیہ تنظیموں اور ان سے منسلک اور ان کے لئے فرنٹ کے طور پر کام کرنے والی دوسری تنظیموں کے اصل اغراض و مقاصد کا علم ہوتا ہے، ورنہ ان فرنٹ تنظیموں نے اکثر رفاہ عامہ یا تعلیم و تحقیق کا لبادہ اوڑھا ہوتا ہے۔

۱۷۸۵ء میں جب ایک قاصد فرینکفرٹ سے پیرس کی جانب اپنے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے Ratisbon کے مقام پر آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہو گیا تو بیویریا کی ریاست کی مقامی پولیس کو اس کے قبضے سے عالمی انقلابی تحریک اور فرانس میں انقلاب کے منصوبوں کے متعلق تفصیلات پر مبنی دستاویزات ملیں۔ چنانچہ اس ریاست کی حکومت نے فری میسن کے ان منصوبوں کے متعلق انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، پولینڈ اور روس کی حکومتوں کے علاوہ عمائد کلیسا کو بھی آگاہ کر دیا۔ لیکن (مغربی مصنفین کے مطابق) ان حکومتوں نے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ جس کی وجہ سے یہ منصوبے کامیاب ہوتے چلے گئے (اس پہلو پر راقم الحروف کا تبصرہ اگلے صفحات پر)۔ نتیجتاً ”موسس مینڈلسوہن اور روتھ شیلڈ جیسے یہودی سرمایہ داروں نے پہلے فرانس کے حکمران طبقے کے مارکوئس مرابیو اور ڈک ڈی اور لینز جیسے افراد کو دولت اور عورت کی فتنہ سامانیوں سے الہ کار بنا کر انقلاب کے لئے زمین ہموار کی اور انقلاب برپا کرنے کے بعد روبسپری، ڈانٹن اور مارات کی وساطت سے دہشت کے دور (Reign of Terror) سے اپنی گرفت مضبوط کی۔ اس طرح آئندہ کے لئے انقلاب برپا کرنے کے لئے ایک آزمودہ لائحہ عمل بھی وضع ہو گیا، جسے کیپٹن اے۔ ایچ۔ ایم۔ ریمسے نے

صفحہ ۱۷۰

اپنی کتاب ”بے نام جنگ“ (Nameless War) میں مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:” انقلاب ایک ایسی ضرب ہے جو کہ مفلوج کو لگائی جاتی ہے۔ جب قرضے کی گرفت مضبوطی سے قائم ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ابلاغ عامہ اور سیاسی عمل پر کنٹرول ہوتا ہے۔ جس کے بعد صنعت (انتظامیہ اور لیبر دونوں) پر گرفت ہو جاتی ہے۔ پھر انقلابی ضرب کے لئے سٹیج تیار ہو جاتی ہے۔ مالیات کی دائیں ہاتھ کی گرفت فالج قائم کرتی ہے۔ جب کہ انقلابی بائیں ہاتھ میں خنجر ہوتا ہے جو کہ مہلک وار کرتا ہے۔ اخلاقی خرابی اس تمام عمل کو سہل بناتی ہے“

دو صدی قبل مائر امشل روتھ شیلڈ نے کہا ”مجھے کسی قوم کی معاشیات پر کنٹرول دے دیں تو مجھے اسکی کوئی پرواہ نہیں ہو گی کہ اس کے قوانین کون وضع کر رہا ہے۔“ (حوالہ ایچ۔ ایس۔ کینن کی تصنیف فیڈرل ریزرو بنک) اور ۱۸۸۱ء میں امریکہ کے صدر جیمز گارفیلڈ نے کہا کہ جس کے کنٹرول میں کسی قوم کی اقتصادیات ہو گی اس کے کنٹرول میں وہ قوم ہو گی۔

نوٹ:۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایک سیاستدان اور ایک معروف مذہبی عالم جو ایک سابقہ حکومت کے مذہبی امور کے مشیر بھی رہ چکے ہیں کا اسلامی نظام کے متعلق باہم مکالمہ پاکستان کے سب سے زیادہ اشاعت والے اخبار میں چھپا تھا۔ اس مکالمے کے دوران سیاستدان نے بڑے فاتحانہ انداز میں جیب سے سو روپے کا نوٹ نکال کر مذہبی عالم سے پوچھا کہ ”رسول کریمؐ کی حدیث ہے کہ ”سکے میں سونا یکساں رکھیں۔“ آپ بتائیں پاکستان کی اس کرنسی میں کوئی سونا ہے؟“ جس پر مذہبی عالم کا جواب فقط یہ تھا کہ اس معاملے پر تحقیق ہو رہی ہے اور تاحال اس بارے میں ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ پاکستان کے کم تعلیم یافتہ اور سادہ لوح عوام کے لئے یہ مکالمہ اسلامی نظام کے ناطے سے کافی گمراہ کن تھا۔ اس عاصی و خاطی کی ناقص رائے میں اس بارے میں کسی خاص تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ مذہبی عالم اگرچہ علم اقتصادیات کے ماہر نہیں لیکن وہ کم از کم اتنا تو ضرور کر سکتے تھے کہ سیاستدان سے اس کرنسی نوٹ پر گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان کے دستخط اور اس کے اوپر چھپی ہوئی تحریر کے مضمرات کی وضاحت ہی طلب کر لیتے تو اس جواب کی نسبت بہت سے قارئین گمراہی اور التباس و اشتباہ سے بچ جاتے۔

اس معاملے پر سیر حاصل بحث کے لئے تو ایک علیحدہ رسالے کی ضرورت ہے۔ یہاں عام فہم زبان میں مختصراً یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ پہلے کرنسی زیادہ تر سکوں کی شکل میں ہوتی تھی اور ان کی

صفحہ ۱۷۱

قدر ان میں قیمتی دھات (سونا چاندی) کے مطابق ہوتی تھی۔ حکمران اپنی ساکھ اور اعتبار قائم رکھنے کے لئے ان سکوں میں قیمتی دھات کی مقدار مقررہ حد پر برقرار رکھتے تھے۔ اس کے بعد زمانے کی ترقی اور تقاضوں کی وجہ سے کاغذ کے کرنسی نوٹ جاری ہونا شروع ہوئے۔ حکومت کے خزانچی کے دستخطوں کے ساتھ ان پر چھپے ہوئے وعدے کی رو سے ان کی بنیادی حیثیت حکومت کی درشنی ہنڈی جیسی ہے۔ اس لئے اصولاً حکومتیں اپنے پاس موجود قیمتی دھاتوں (سونے) کے ذخائر کے مطابق ہی نوٹ چھاپ کر جاری کرتی ہیں۔ اسے اقتصادیات کی اصطلاح میں Fiduciary Money کہتے ہیں۔ اس سے اشیاء کی قیمتوں میں استحکام اور اعتدال رہتا ہے اور حکومت کی ساکھ بھی برقرار رہتی ہے۔ لیکن اب حکومتیں کئی دفعہ بغیر سونے چاندی کے ذخائر اور دوسرے اثاثہ جات کی موجودگی کے اپنے اختیار و اقتدار کے بیجا استعمال سے نوٹ چھاپ دیتی ہیں۔ اسے اقتصادیات کی اصطلاح میں Fiat Money کہتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ قدر زر میں کمی یعنی دوسرے الفاظ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ Fiat Money نہ صرف ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اختراع ہے بلکہ سودی کاروبار اور یہ Fiat Money نیو ورلڈ آرڈر کی دو ٹانگیں ہیں جن پر یہ قائم ہے اور پیش قدمی بھی کرتا ہے۔

رسول کریمؐ نے جب خاتم الانبیاء کی حیثیت سے ارشاد فرمایا کہ سکے میں سونے کی مقدار یکساں رکھیں (اس زمانے میں اکثر سونے اور چاندی کے سکے ہی ہوتے تھے) تو یہ جدید اقتصادیات کی اصطلاح میں Fiat Money کے اجراء کی ممانعت کا حکم ہے۔ کیونکہ اس کرنسی کا اجراء حکومت کی طرف سے عوام کو دھوکہ دے کر انہیں ان کی املاک سے محروم کرنے کے مترادف ہے جس کی زد میں عموماً متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ آتے ہیں۔ جب کسی معاشرے کے افراد ایک دوسرے کو دھوکہ دینا شروع کرتے ہیں تو یہ ظلم ہوتا ہے۔ لیکن جب حکومت ہی عوام کو دھوکہ دے کر ان کے حقوق غصب کرنا شروع کر دے اور وہ بھی زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کے تو یہ ظلم عظیم ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کا بھی ضمناً ذکر کرنا نامناسب نہ ہو گا کہ ارسطو سے لے کر تمام بڑے مفکرین نے سودی نظام کی مخالفت کی ہے بلکہ شریعت موسوی میں بھی اس کی ممانعت تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی عمومی تعلیمات محبت، حلم اور بردباری کی تھیں انہوں نے بھی ہیکل سلیمانی میں سودی کاروبار کرنے والوں کی دوکانیں الٹ کر ہنگامہ کیا اور بڑے سخت الفاظ استعمال کئے۔

ایمشل مائر روتھ شیلڈ کے پانچ بیٹے تھے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔

صفحہ ۱۷۲

سودی کاروبار کے غلغلے تو ہزاروں سال سے نسل در نسل وراثت میں آرہے تھے‘ پانچوں بیٹے اوائل عمر میں ہی اپنے باپ سے تمام کرتب سیکھ کر اس میں ماہر ہو گئے۔ ایک بیٹا اس کے پاس فرینکفرٹ (جرمنی) میں رہا۔ دوسرے بیٹے ناتھن روتھ شیلڈ نے بیس ہزار پونڈ سے لندن (انگلینڈ) میں جاکر کاروبار شروع کیا۔ تیسرے بیٹے جیمز نے پیرس (فرانس) میں‘ چوتھے بیٹے نے وی آنا (آسٹریا) اور پانچویں نے روم (اٹلی) میں کاروبار سنبھال لیا۔

۱۹ جون ۱۸۱۵ء کو بعد دوپہر جب واٹرلو کے میدان میں نپولین کی گرینڈ آرمی اور ڈیوک آف ولنگٹن کی برطانوی افواج کے درمیان یورپ کی قسمت کا فیصلہ ہونے کو تھا تو ناتھن روتھ شیلڈ کچھ فاصلے پر ایک ٹیلے پر سے میدان جنگ کا نظارہ کر رہا تھا اور اس کے کارندے اسے مسلسل صورت حال کی خبریں پہنچا رہے تھے۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ جنگ کا پانسہ یقینی طور پر پلٹ چکا ہے تو وہ گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا ساحل سمندر پر پہنچا جہاں ایک کشتی اس کے انتظار میں تیار کھڑی تھی۔ رودبار انگلستان کو عبور کر کے انگلینڈ کی بندرگاہ Folkston کے راستے جب وہ لندن سٹاک ایکسچینج میں ستون کے پاس اپنے مخصوص اڈے پر جا کر بیٹھا تو اس کے چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات نہیں تھے۔ لیکن وہ بڑے غیر مرئی طریقے سے اپنے کارندوں کو سگنل دے رہا تھا‘ جنہوں نے برطانوی کونسل Counsel بیچنے شروع کر دیئے۔ لوگوں میں چونکہ یہ مشہور تھا کہ روتھ شیلڈ بڑے باخبر اور رازداں لوگ ہیں‘ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ برطانیہ کو شکست ہو گئی ہو گی اپنے کونسل دھڑا دھڑ بیچنے شروع کر دیئے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی قیمت گر کر کوڑیوں کے برابر ہو گئی۔ اس مرحلہ پر ناتھن کے اشارے پر اس کے کارندوں نے خفیہ طور پر کونسل خریدنے شروع کر دیئے۔ کچھ دیر بعد جب سرکاری طور پر واٹرلو میں برطانوی افواج کی فتح کی خبر پہنچی تو کونسل کی قیمتیں پھر ایک دم آسمان کو چڑھ گئیں۔ لیکن تب تک ناتھن روتھ شیلڈ کے کارندے اکثر و بیشتر کونسل خرید کر اس کی دولت کو بیس گنا بڑھا چکے تھے اور اس کے ساتھ ہی روتھ شیلڈ کی بنک آف انگلینڈ اور برطانوی اقتصادیات پر گرفت مزید مضبوط ہو چکی تھی۔

امریکہ کے ایک سابق صدر جان ایڈم (۱۸۲۶۔ ۱۷۳۵) نے ایک دوسرے سابق صدر تھامس جیفرسن کو ۱۸۱۷ء میں لکھا ”تمام الجھنیں‘ بگاڑ اور مصائب دستور کی خامیوں

صفحہ ۱۷۳

سے نہیں پیدا ہوئے‘ نہ ہی بھلائی و شرافت کی کمی کی وجہ سے‘ جتنا کہ کرنسی‘ سکوں اور قرضوں کی گردش کے متعلق قطعی لاعلمی کی وجہ سے۔" تھامس جیفرسن نے کہا "میرا یقین ہے کہ بینکنگ ادارے ہماری آزادی کے لئے مستقل فوجوں (Standing Armies) کی نسبت زیادہ خطرناک ہیں۔" مندرجہ بالا حوالوں کے باوجود بعض مغربی مصنفین ان دونوں سابقہ صدور کو الیو میناٹی اور فری میسن کے ارکان قرار دیتے ہیں۔ انہیں مغربی مصنفین کے مطابق ۱۵ اگست ۱۸۷۱ء کو امریکہ کے ولیم پایک نے‘ جو فری میسن کا گرینڈ کمانڈر تھا‘ اٹلی میں اس تنظیم کے عالمی ڈائرکٹر گیوسپ میزنی کو خط لکھا جس میں پہلی عالمی جنگ اور اس کے نتیجے میں زار روس کی سلطنت کا انقلاب کے ذریعے خاتمہ‘ اس کے بعد دوسری جنگ عظیم اور اس کے نتیجے میں صہیونی ریاست کا قیام اور اس کے بعد تیسری جنگ جس کے نتیجے میں نیو ورلڈ آرڈر کی عالمی مطلق العنان حکومت قائم ہونے کا خاکہ دیا ہوا تھا۔

ان مغربی مصنفین کے مطابق کارل مارکس اور فریڈرک اینگل بھی الیو میناٹی اور ان بین الاقوامی بنکاروں کے الہ کار تھے۔ ۱۸۶۴ء میں کارل مارکس نے لندن میں "فرسٹ سوشلسٹ انٹرنیشنل" قائم کی اور آٹھ سال بعد اس تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز کو نیویارک منتقل کر دیا گیا۔ ۱۸۷۲ء میں میزینی کے انتقال پر ایڈریانو لیمی اس کا الیو میناٹی کے عالمی سربراہ کی حیثیت سے جانشین ہوا اور اس کے بعد لنن اور ٹراٹسکی۔ یہاں کارل مارکس کے "فرسٹ سوشلسٹ انٹرنیشنل" میں شریک کار بخارین (Bukharin)‘ جو ایک نراجی (Anarchist) اور شیطان پرست تھا‘ کا یہ بیان نقل کرنا ضروری ہے: "شیطان دنیا کا پہلا آزاد خیال اور نجات دہندہ ہے۔ وہ آدم کو آزاد کرتا ہے اور اسے نافرمانبردار بنا کر اس کی پیشانی پر انسانیت اور آزادی کی مہر ثبت کرتا ہے۔"

الیو میناٹی اور فری میسن سے ملحقہ تنظیموں میں سے ایک "راونڈ ٹیبل" ہے جو ۱۸۹۱ء میں برطانیہ کے سرمایہ دار سیسل روڈز Cecil Rhodes نے قائم کی۔ یہ وہی شخص ہے جس کی جنوبی افریقہ میں سونے اور ہیروں کی کانوں کی اجارہ داری تھی اور جس کے نام پر وہاں کا ملک روڈیشیا تھا جو اب آزاد ہو کر زیمبابوے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اسی شخص کی وصیت کے مطابق اس کی چھوڑی ہوئی دولت میں سے ان تنظیموں کے مقاصد کے

صفحہ ۱۷۴

لئے "روڈز سکالر شپ" دیئے جاتے ہیں۔ سیسل روڈ کا ایک اور قریبی ساتھی لارڈ الفریڈ ملنر (Milner) تھا جو بڑا متمول انگریز اور جنوبی افریقہ کی برطانوی نو آبادی کا گورنر جنرل تھا۔ برطانیہ کا Royal Institute of International Affairs اور امریکہ کی Council for Foriegn Relations انہی لوگوں کی قائم کردہ اہم "فرنٹ" تنظیمیں ہیں۔ نیویارک میں Wall Street کے قریب فرسٹ نیشنل سٹی بنک۔ چیز مین ہٹن۔ ٹائم میگزین اور ان سب سے بڑھ کر عالمی حکومت کی اہم ترین تنظیم ادارہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کی فلک بوس عمارتیں پہلو بہ پہلو واقع ہیں۔

مختلف حکومتوں کو دیئے گئے قرضوں کے لئے دو حقیقی ضمانتیں ہوتی ہیں۔ اول اس حکومت کی نیو ورلڈ آرڈر کے حق میں اپنی خود مختاری کے ایک خاص حصے سے بتدریج دست برداری۔ دوم اس حکومت کے دشمن (اگر بفرض محال کوئی دشمن نہ بھی ہوں تو نیو ورلڈ آرڈر والے جانتے ہیں کہ کیسے پیدا کئے جائیں)

یہودی خاندان Warburg کا ہیمبرگ (جرمنی) میں بنک ایم۔ این۔ واربرگ اینڈ کمپنی کے نام سے تین بھائیوں کی ملکیت تھا۔ ان میں سے ایک بھائی میکس (Max) یہ کمپنی چلانے کے لئے جرمنی میں رہا۔ دوسرے دو بھائی پال واربرگ اور فیلکس واربرگ ۱۹۰۲ء میں امریکہ نقل مکانی کر گئے۔ جہاں پال کی شادی سولمون لب کی بیٹی نینا سے ہو گئی اور فیلکس کی شادی جیکب شیف Jacob Schiff کی بیٹی فریدہ سے۔ جو کہ دونوں .Co & Kuhn - Leob کے حصہ دار اور کرتا دھرتا تھے۔ بعد میں ان سب نے مل کر چیز مین ہٹن بنک قائم کیا۔ پال اور فیلکس کو روتھ شیلڈ کا مالی تعاون حاصل تھا۔

ولیم راک فیلر، جو امریکہ میں گھوم پھر کر اصلی نقلی دوائیاں فروخت کرتا تھا، اس بات پر فخر کرتا تھا کہ اس نے اپنے بیٹوں کی تربیت نیو ورلڈ آرڈر کے حربوں کے مطابق کی ہے۔ ان بیٹوں میں سے جان ڈی راک فیلر سب سے تیز نکلا، جس نے پہلے سٹینڈرڈ آئل کمپنی کے ذریعے پٹرول کے کاروبار پر اپنی اجارہ داری قائم کی اور اس کے بعد چیز مین ہٹن بنک کے اکثریتی حصص خرید لئے۔ اس کے بھائی ولیم کی شادی امریکہ کے دوسرے نمبر پر آنے

والے بنک یعنی فرسٹ نیشنل سٹی ب کنٹرول وہاں بھی ہو گیا۔ اس کے بع کاروباری اداروں میں کنٹرولنگ حصہ یونین کاربائیڈ ، موبل ، ایکسان وغیرہ ویسٹنگ ہاوس ، بوئنگ ، زیروکس ، ویسٹ ایرویز (ہوائی کمپنیاں) پن سنٹر جان ڈی راک فیلر اپنا کاروبار بالکل ای حریفوں کو اکثر یہ معلوم ہونے پر دھچکا ہیں اور اس کے ملازمین کو کئی دفعہ یہ کے ساتھ وہ مسابقت میں سرگرداں ہ نیلسن راک فیلر چار بار ریاست نیویار اس خاندان کے دنیا کے کئی حصوں می طور ، اسی کے نزدیک مین ہٹن ٹاور ف پوکانٹیکو کے پہاڑی مقام میں چار ہزا زمین ریکارڈ روم ہیں جہاں سے اس خ ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں کام رکاب رہتے ہیں۔ چنانچہ نیو ورلڈ آر عیسائی خاندان کو منتقل ہو گئی ہے۔

نومبر ۱۹۱۰ء میں س اقتصادیات اور امریکی محکمہ خزانہ کا ال آف نیویارک) اور راک فیلر کے گارنٹی اینڈ کمپنی کا سینئر پارٹنر چارلس یارک) پال واربرگ (کون لیب اینڈ (Jeckyll Island) جارجیا میں ایک

صفحہ ۱۷۵

والے بنک یعنی فرسٹ نیشنل سٹی بنک کے مالکان کے ہاں ہو گئی۔ اس لئے اس خاندان کا کنٹرول وہاں بھی ہو گیا۔ اس کے بعد اس خاندان نے رفتہ رفتہ امریکہ کے چوٹی کے سینکڑوں کاروباری اداروں میں کنٹرولنگ حصص حاصل کر لئے۔ جن میں میراتھان آئل‘ شیل‘ گلف‘ یونین کانٹینینٹل‘ موبل‘ ایکسان وغیرہ تیل کی کمپنیاں۔ آئی۔ بی۔ ایم‘ الائیڈ سٹیل‘ ایوون‘ ویسٹنگ ہاؤس‘ بوئنگ‘ زیروکس‘ نیشنل سٹیل‘ ٹی ڈبلیو اے‘ ڈیلٹا‘ یونائیٹڈ‘ ایسٹرن‘ نارتھ ویسٹ ایرویز (ہوائی کمپنیاں) پن سنٹرل ریلویز‘ سیف ویز‘ جنرل فوڈ‘ اناکونڈا وغیرہ شامل ہیں۔ جان ڈی راک فیلر اپنا کاروبار بالکل امریکی سی۔ آئی۔ اے کی طرز پر چلاتا تھا۔ چنانچہ اس کے حریفوں کو اکثر یہ معلوم ہونے پر دھچکا لگتا تھا کہ ان کے انتہائی قریبی معتمد راک فیلر کے ایجنٹ ہیں اور اس کے ملازمین کو کئی دفعہ یہ معلوم ہونے پر بڑی حیرت ہوتی کہ جن کاروباری اداروں کے ساتھ وہ مسابقت میں سرگرداں رہے ہیں وہ بھی راک فیلر ہی کی ملکیت ہے۔ اس کا بیٹا نیلسن راک فیلر چار بار ریاست نیویارک کا گورنر اور ۱۹۷۴ء امریکہ کا نائب صدر منتخب ہوا۔ اس خاندان کے دنیا کے کئی حصوں میں محلات و دفاتر کے علاوہ نیویارک شہر میں راک فیلر ٹاور‘ اسی کے نزدیک مین ہیٹن ٹاورز میں بیس کمروں کا فلیٹ اور ریاست نیویارک میں ہی پوکانٹیکو کے پہاڑی مقام میں چار ہزار ایکڑ کے رقبہ میں پھیلے ہوئے کثیر تعداد میں محلات مع زیر زمین ریکارڈ روم ہیں جہاں سے اس خاندان کے افراد ہمہ وقت اپنے ذاتی ہوائی جہازوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں کاروباری امور کی انجام دہی اور عیش و عشرت کے لئے پابہ رکاب رہتے ہیں۔ چنانچہ نیو ورلڈ آرڈر کی قیادت و سیادت روتھ شیلڈ یہودی خاندان سے اس عیسائی خاندان کو منتقل ہو گئی ہے۔

نومبر ۱۹۱۰ء میں سینیٹر آلڈرچ‘ مینٹل ہاؤس‘ ایلیٹ اینڈریوز (ماہر اقتصادیات اور امریکی محکمہ خزانہ کا افسر) فرینک وینڈرلوپ (پریذیڈنٹ فرسٹ نیشنل سٹی بنک آف نیویارک) اور راک فیلر کے کاروباری اداروں کا نمائندہ ایچ۔ پی۔ ڈیویسن‘ مارگن گارنٹی اینڈ کمپنی کا سینیئر پارٹنر چارلس۔ ڈی۔ نارٹن (پریذیڈنٹ فرسٹ نیشنل بنک آف نیو یارک) پال واربرگ (کمن لیب اینڈ کمپنی) اور بنجمن سٹرانگ کے درمیان جیکل آئی لینڈ (Jeckyl Island) جارجیا میں ایک خفیہ اجتماع ہوا جس میں امریکہ کے فیڈرل ریزرو بنک کا

صفحہ ۱۷۶

منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے سینیٹر آلڈرچ اور پال واربرگ کی سرکردگی میں ۱۹۱۳ء میں امریکی کانگرس سے ریزرو سسٹم کا قانون پاس کروا لیا۔ عام تاثر کے برعکس فیڈرل ریزرو بنک امریکہ کا سرکاری ادارہ نہیں ہے بلکہ اس میں صرف چار نمائندے امریکی صدر کے نامزد ہوتے ہیں۔ جب کہ باقی تمام کنٹرول ان بین الاقوامی بنکوں کا ہے۔ امریکی قوانین کے تحت کوئی بھی بنک صرف اس ایک ریاست میں شاخیں قائم کرسکتا ہے جہاں وہ رجسٹرڈ ہو۔ اس طرح امریکی بنک جو بین الاقوامی طور پر بہت بڑے ہیں امریکہ کی باون ریاستوں میں سے صرف ایک ریاست میں شاخیں قائم کرنے کی پابندی کی وجہ سے اندرونی طور پر زیادہ نہیں پھیل سکتے۔ لیکن اپنے باہمی اشتراک عمل اور اس ریزرو سسٹم کی وجہ سے ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے امریکی اقتصادیات پر اپنی گرفت کافی مضبوط کر لی ہے۔

اپنی عالمی حکومت کے قیام کے لئے کوشاں الیومینیٹی، راؤنڈ ٹیبل اور فری میسن جیسی خفیہ تنظیمیں کچھ فرنٹ اداروں کے ذریعے اپنے مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں۔ ان فرنٹ اداروں میں جہاں تعلیمی ادارے اور رفاہ عامہ کے بھیس میں بین الاقوامی ”کلبیں“ (Clubs) شامل ہیں وہاں سرفہرست انگلینڈ کا رائل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (Royal Institute of International Affairs) اور امریکہ کی کونسل فار فورن افیئرز (Council for Foriegn Affairs) ہے۔ امریکہ کی CFR کی بنیاد ۱۹۲۱ء میں امریکی حکومت کے جوڑ توڑ کے لئے پس پردہ کام کرنے والی شخصیت کرنل مینڈل ہاؤس نے جے۔ پی۔ مارگن، پال واربرگ، جیکب شف اور جان۔ ڈی راک فیلر کے تعاون سے رکھی اور یہ تنظیم راک فیلر فاؤنڈیشن، فورڈ فاؤنڈیشن، کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے مالی وسائل سے چلتی ہے۔ تمام اراکین اس کی کاروائیوں کے متعلق مکمل اخفاء کے پابند ہوتے ہیں۔ ان ملکوں میں حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو اس کے بہت سے کلیدی اراکین انہیں دو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ مثلاً امریکی شخصیات آئزن ہاور، ایڈلائی سٹیونسن، جان کینیڈی، جانسن، ہیوبرٹ ہمفری، نکسن، مک گورن، جمی کارٹر ہنری کسنجر وغیرہ وغیرہ تمام CFR کے ممبر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ابلاغ عامہ کے عالمی شہرت کے ادارے مثلاً نیشنل براڈ کاسٹنگ سسٹم کولمبیا براڈ کاسٹنگ سسٹم، ٹائم، لائف، فارچون، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، لاس اینجلز

صفحہ ۱۷۷

ٹائمز‘ نیویارک پوسٹ‘ بزنس ویک وغیرہ کے اکثر ڈائریکٹر‘ ایڈیٹر اور قلمکار اسی تنظیم کے رکن ہوتے ہیں اور وہ سب اسی عالمی حکومت کے مقصد کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ۱۹۴۵ء میں دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں اقوام متحدہ کی تاسیس کے لئے جو کانفرنس ہوئی اس میں امریکی مندوب میں شامل نیلسن راک فیلر کے علاوہ CFR کے ۷۴ دوسرے ممبر چھائے ہوئے تھے۔ (راک فیلر فائلز) ۱۹۷۳ء میں ڈیوڈ راک فیلر نے دو سو چوٹی کے بنکاروں‘ سرمایہ داروں‘ سیاسی شخصیات اور مزدور لیڈروں پر مشتمل ایک (Trilateral Commission) سہ سطحی کمیشن تشکیل دیا۔ جس کا ڈائریکٹر زبگنیو برزنسکی اور ممبر جمی کارٹر تھے۔

جے ۔ پی۔ مارگن پچھلی صدی میں امریکہ کی سول وار کے دوران حکومت کو ناکارہ رائفلیں فروخت کر کے کافی دولت کما چکا تھا اور اس نے جے پی مارگن اینڈ کمپنی آف نیویارک قائم کی۔ وہ امریکہ میں روتھ شیلڈ کے مفادات کا نمائندہ مقرر ہو چکا تھا۔ ۱۸۹۹ء میں لندن میں انٹرنیشنل بینکرز کنونشن کے نتیجے میں جے پی مارگن اینڈ کمپنی آف نیویارک‘ ڈریکسل اینڈ کمپنی آف فلاڈلفیا۔ گرینفل اینڈ کمپنی آف لندن۔ مارگن ہارجز اینڈ کمپنی آف پیرس۔ ایم۔ ایم واربرگ آف جرمنی اینڈ ایمسٹرڈیم اور ہاؤس آف روتھ شیلڈ کا اشتراک عمل کا معاہدہ ہوا۔ جب یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے لندن کے ایک محلے میں اجتماع کے دوران اس گٹھ جوڑ کی تفصیلات طے کر رہے تھے تو ایک دوسرے محلے میں عالمی انقلابی لیڈر اپنے منصوبے بنا رہے تھے۔

روس تاریخی طور پر ایک بڑی کٹر عیسائی سلطنت رہی ہے۔ روس کے معاشرے کا دوسرا خاص پہلو وہاں صدیوں سے رائج انتہائی ظالمانہ جاگیرداری نظام تھا جس میں مزارعین کی حیثیت بالکل غلاموں جیسی تھی۔ روس میں صدیوں سے یہودیوں کی بھی ایک کثیر تعداد آباد تھی۔ روسی حکمران اس انتہائی ظالمانہ نظام کے خلاف عوام الناس کے جذبات کا رخ موڑنے کے لئے اکثر و بیشتر یہودیوں کے خلاف قتل عام کی پشت پناہی کرتے رہتے تھے۔ اس قتل عام کو روسی اصطلاح میں پوگرام (Pogroms) کہتے ہیں۔ روس کے پہلے زار آئیوان چہارم نے سولہویں صدی عیسوی میں مشہور فرمان جاری کیا کہ ”جو یہودی بپتسمہ لینے پر

صفحہ ۱۷۸

رضامند ہیں انہیں بپتسمہ دے دیا جائے اور باقی کو غرق کر دیا جائے۔" روس کی ملکہ الزبتھ نے ۱۷۴۲ء میں یہودیوں کو روس سے نکل جانے کا حکم دیا۔ اکثر یہودی بھاگ کر پولینڈ چلے گئے۔ لیکن اس صدی کے آخر تک پولینڈ کے روسی سلطنت میں ادغام کی وجہ سے یہ یہودی پھر روسی حکومت کے تحت آگئے۔ ۱۷۷۲ء میں زارینہ روس کیتھرائن اعظم نے یہودیوں پر Pale of Settlement کے تحت سکونت، نقل و حمل اور پیشے کے اعتبار سے بڑی کڑی قسم کی پابندیاں عائد کر دیں۔

۱۸۱۲ء میں نپولین کے روس پر حملے نے روس کے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس کے بعد زار الیگزینڈر اول نے اصلاحات نافذ کرنا شروع کیں۔ اس کے تحت یہودیوں کو معاشرے میں مدغم کرنے کے لئے یہودی بچوں کے لئے تعلیم لازمی قرار دے دی گئی اور یہودیوں پر سے سکونت اور پیشہ کے متعلق عائد پابندیاں اٹھالی گئیں۔ زار روس الیگزینڈر دوم ۱۸۶۱ء میں تخت نشین ہوا۔ اس کے متعلق برطانوی یہودی وزیر اعظم ڈزرائیلی کے الفاظ ہیں۔ ”روس پر حکومت کرنے والا انتہائی فیاض حکمران“ کیونکہ اس نے دو کروڑ تیس لاکھ مزارعین کو انسانی حقوق دیئے۔ یہودیوں کو جو آزادیاں ملیں ان کے نتیجے میں انہوں نے مبینہ طور پر روسی معاشرے پر اپنی گرفت قائم کرنی شروع کر دی۔ ۱۸۸۱ء میں روس میں یہودیوں کا قتل عام ہوا۔ ۱۸۸۴ء میں پھر یہودیوں کے اکثریت کے علاقوں میں ۲۲۴ قتل عام Pogroms ہوئے۔ پہلے ۱۸۶۶ء اور پھر ۱۸۷۹ء میں زار پر دوسری مرتبہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بچ گیا۔ لیکن ۱۸۸۱ء میں ایک یہودی عورت حیسیا حلفمین Hesia Helfman کے گھر میں تیار کی گئی سازش کے نتیجے میں وہ قتل ہو گیا اور اس کے ردعمل کے طور پر روس میں یہودیوں کے خلاف قتل و غارت کی ایک لہر اٹھی۔ حکومت روس نے اسی سال May Laws کے تحت یہودیوں پر تعلیمی اور پیشہ وارانہ پابندیاں عائد کر دیں۔ یہودیوں کے ایک بہت بڑے گڑھ خارقو Kharkov یونیورسٹی کے پچیس طلبہ نے چندہ اکٹھا کر کے ”محبان صہیون“ کے نام سے ایک تنظیم بنائی اور پانچ سو یہودیوں کو نقل مکانی پر آمادہ کر کے فلسطین میں ”اولین صہیون“ کے نام سے ان کی بستی بنادی۔

اس کے بعد یہودیوں نے کارل مارکس کے نظریات پر مبنی انقلاب برپا کرنے

صفحہ ۱۷۹

کے لئے مختلف یورپی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین اور روس میں تخریبی اور دہشت گردی کی کاروائیاں مزید تیز کر دیں۔ جرمنی کے علم جغرافیہ کے ماہر کارل رٹر Carl Ritter نے نازی ازم کے نظریہ کی داغ بیل ڈالی۔ روس میں Social Revolutionary Party اشتراکی انقلابی پارٹی کی تشکیل کے بعد اس کے دہشت گردوں نے زار روس الیگزینڈر سوم کے قتل کی کوشش کی جو ناکام رہی اور اس کے نتیجے میں لینن کے بھائی کو موت کی سزا ملی اور بعد میں اس نے خود بھی ان تخریبی کارروائیوں کی پاداش میں پہلے قید اور پھر سائبیریا میں جلاوطنی کی سزا کاٹی جہاں اس کی یہودی بیوی اور ساس اس کے ساتھ تھیں۔ ۱۹۰۰ء میں اس سزا کے خاتمے پر اسے سوئٹزرلینڈ جانے کی اجازت مل گئی جہاں دوسرے مفرور و جلاوطن انقلابی لیڈروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے Commintern کے نام سے انقلابی تنظیم تشکیل دی اور انقلابی تحریک کو منظم اور تیز کرنے کے لئے Iskra (چنگاری) کے نام سے جریدہ شائع کیا۔ ان مالیاتی اداروں میں نیویارک کی Kuhn-Loeb & Co سر فہرست تھی۔ نیویارک میں اس کمپنی کا یہودی سربراہ جیکب شف لندن کے سر ارنسٹ کاسل اور جرمنی کے میکس وار برگ کے تعاون سے روس میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کی مالی طور پر سرپرستی کر رہا تھا اور نیویارک میں یہودی اہلکاروں کی اکثریت کا علاقہ ایسٹ سائڈ ان کارروائیوں کے لئے بھرتی اور تربیت کا بڑا اڈہ تھا۔ لینن کا قول ہے کہ کسی بنک کو لوٹنا، تھانے کو دھماکے سے اڑانا یا کسی مخبر یا غدار کا خفیہ قتل ہر انقلابی کارکن کی تربیت کا لازمی جزو ہونا چاہئے۔ اور اس کا ایک دوسرا قول بھی ہے کہ ”بہترین انقلابی تمام اخلاقیات سے تہی دست جوان ہوتا ہے۔“ دہشت گردی کی کارروائیوں کے اس سلسلے میں روسی حکومت کے وزراء اور اعلیٰ حکام قتل ہونا شروع ہو گئے۔ ۱۹۰۴ء میں روس اور جاپان کی جنگ میں روس کو اس چھوٹے سے ملک کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست ہوئی۔ مغربی مصنفین کے مطابق یہ جنگ اور شکست بھی ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ریشہ دوانیوں سے ہوئی۔ روتھ شیلڈ نے جاپان کو اور کوہن لب اینڈ کمپنی نے روس کو مالی امداد کی پیشکش کے ساتھ اس جنگ کے لئے اکسایا۔ لیکن بعد میں موخر الذکر کمپنی کے سربراہ جیکب شف نے عین موقع پر روسی حکومت کی مالی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس کی وجہ سے روس کو شکست ہوئی۔ لیکن رقبہ کے لحاظ سے

صفحہ ۱۸۰

دنیا کے سب سے بڑے ملک کو ایک چھوٹے سے ملک کے مقابلہ میں کسی مالیاتی ادارے سے امداد نہ ملنا شکست کی ایک ثانوی اور جزوی وجہ ہی ہو سکتی ہے۔ بہرحال اس شکست کی خبر نے روس میں جلتی پر تیل کا کام کیا اور ۲۲؍ جنوری ۱۹۰۵ء بروز ”خونیں اتوار“ کو جب زار روس کے محافظ دستہ نے سینٹ پیٹرز برگ میں گولیوں کی بوچھاڑ سے ایک جلوس کو خون میں نہلا دیا تو روسی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے منشویک Menshivik اکثریتی دھڑے نے اسے انقلاب برپا کرنے کا غنیمت موقع سمجھا۔ لیکن زار روس کی حکومت نے اس شورش کو دبا دیا اور ٹراٹسکی کو مع تین سو دوسرے انقلابی لیڈروں کے گرفتار کر لیا گیا۔ ۱۹۰۵ء میں روس میں یہودیوں کے خلاف ۶۹۰ قتلِ عام Pogroms کی وارداتیں ہوئیں۔ اس کے بعد روس کی حکومت نے وزیر اعظم سٹوپی پن کی قیادت میں اصلاحات نافذ کرنا شروع کیں اور ۱۹۰۷ء تک روس کے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ مزارع خاندانوں میں سے باسٹھ لاکھ ان اصلاحات سے مستفید ہو چکے تھے۔ لیکن راسپوتین کے زارینہ کے ساتھ تعلقات اور اس کے گرد حکمران طبقہ کی رنگ رلیاں عوام پر اپنا اثر کر رہی تھیں۔ اس حلقے کی کارروائیاں اور انقلاب فرانس سے پہلے وہاں کے حکمرانوں کے گرد اسی قسم کے حلقے کی کارروائیوں میں کافی مماثلت ہے۔

۲۸؍ جون ۱۹۱۴ء کو آسٹریا کے ولی عہد اور اس کی بیوی کے قتل کے بعد پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ اس قتل کے مقدمہ کے ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ قاتلوں کا تعلق فری میسن سے تھا اور وہ ”عالمی انقلابی تحریک“ کے ایماء پر کام کر رہے تھے۔ اس جنگ میں روس کو پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور جنوری ۱۹۱۷ء تک روس کے تقریباً تیس لاکھ فوجی ہلاک ہو گئے تو عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا تھا۔ عالمی غیر مرئی قوتوں کو اسی موقع کا انتظار تھا۔ لینن اور مارٹوف اس وقت سوئٹزرلینڈ میں تھے جو روایتی طور پر بین الاقوامی سازشوں کے لئے ایک مشترکہ سرزمین رہی ہے۔ ٹراٹسکی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں روسی تارکین وطن کی اسی موقع کے لئے بھرتی اور تربیت کر رہا تھا۔ ادھر روس کے اندر مینشویک پارٹی ایک طرف ملک کے اندر بد نظمی اور افراتفری پھیلا رہی تھی تو دوسری طرف فوج میں اس کے ایجنٹ محاذِ جنگ پر الٹے سیدھے پیغامات Signals بھجوا کر فوج کی شکست اور ہلاکت کا باعث بن رہے تھے۔ پس پردہ خفیہ ہاتھوں کے پیدا کردہ بلووں، بغاوتوں، بد نظمی اور فسادات کے نتیجے میں فروری

صفحہ ۱۸۱

۱۹۱۷ء میں منشوک انقلاب آیا اور ۱۵ مارچ کو زار تخت سے دست بردار ہو گیا۔ اسی مہینے میں روسی پارلیمنٹ Duma کو برخاست کر کے کرنسکی کی قیادت میں عبوری حکومت تشکیل دی گئی۔ اس حکومت نے فوراً ”انقلابی سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کی عام معافی Amnesty کا حکمنامہ جاری کر کے اپنی موت کے پروانے پر دستخط ثبت کر دیئے۔ اس سال کے موسم گرما میں جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ منصوبے کے مطابق روس میں بالشویک انقلاب برپا کر کے لینن کو برسر اقتدار لانے کے لئے مالی وسائل کیسے مہیا کئے جائیں تو ایک غیر متحارب ملک سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہالم میں باہم متحارب ملکوں جرمنی، برطانیہ، فرانس، روس اور امریکہ کے بین الاقوامی بنکوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔ اس میں روس کا وزیر داخلہ Protopopoff Mr. بھی تھا اور ہیمبرگ (جرمنی) سے میکس واربرگ آیا جو نیویارک کے پال واربرگ کا بھائی، جرمنی میں واربرگ اینڈ کمپنی کا سربراہ اور جرمنی کے سراغ رسانی کے محکمہ کا اعلیٰ افسر تھا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پال واربرگ کی کہن لب اینڈ کمپنی (نیویارک) سٹاک ہالم میں لینن اور ٹراٹسکی کے کھاتے میں پانچ کروڑ ڈالر اس مقصد کے لئے جمع کرائے۔ چنانچہ جب سنگدل دہشت گردوں پر مشتمل ٹراٹسکی کی ذاتی فوج، جس کا تربیتی اڈہ نیویارک کے نزدیک ریاست نیو جرسی میں راک فیلر کی ملکیت سٹینڈرڈ آئل کمپنی کے احاطہ میں قائم تھا، اپنی انتشار و افتراق اور دہشت گردی کی پوری تربیت حاصل کر چکی تو بحری جہاز ایس ایس کرسٹین فیورڈ پر روس کے لئے روانہ ہوئی۔ جہاز پر دو کروڑ ڈالر کا سونا بھی تھا جو جیکب شف نے مہیا کیا تھا۔ یہ خطیر رقم اس بڑی کٹھن مہم کے متفرق اخراجات کے لئے تھی۔ جب ۷ اپریل ۱۹۱۷ء کو اس جہاز کو (جو جیکب شف نے ہی چارٹر کیا تھا) کینیڈا کی حکومت نے ہیلی فیکس کی بندرگاہ میں حراست میں لے لیا تو کچھ دیر کے لئے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ ساری مہم ناکام ہو گئی۔ لیکن ان بین الاقوامی بنکاروں کے اثر و رسوخ سے چند گھنٹوں میں یہ ٹولہ پھر اپنے سفر پر روانہ ہو کر بآسانی برطانوی بحری ناکہ بندی عبور کرتا ہوا سوئٹزرلینڈ پہنچا جہاں ٹراٹسکی نے لینن، سٹالن، کیگونووچ اور لیٹوینف کے ساتھ مل کر منصوبے کو حتمی شکل دی (نیویارک جرنل امریکن۔ مورخہ ۳ فروری ۱۹۴۹ء)

روس میں عبوری حکومت جرمنی کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کی پالیسی پر

صفحہ ۱۸۲

عمل پیرا تھی۔ سوئٹزرلینڈ سے لینن نے جرمن حکام کے ساتھ گفت و شنید سے یہ طے کیا کہ اگر اسے روس میں اقتدار سنبھالنے میں مدد دی گئی تو وہ جنگ ختم کر دے گا۔ نیو یارک کے پال وار برگ اور جرمنی کی خفیہ ایجنسی میں متعین اس کے بھائی میکس وار برگ کی وساطت سے روسی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ ملیوکوف Milioukoff کے ساتھ طے پائے گئے معاہدے کے تحت جرمن حکام نے لینن کو مع تیس دوسرے لیڈروں کے ریل کے ایک مہر بند ڈبے میں جرمن روس سرحد کے پار سمگل کر دیا۔ اس طرح اکتوبر ۱۹۱۷ء میں روس میں بالشویک انقلاب کے بعد جو حکومت تشکیل دی گئی اس میں ہنری فورڈ (مشہور امریکی صنعتکار) کے الفاظ میں ”امریکہ کا شاید ہی کوئی شہر ہو جس کی نمائندگی نہ ہوتی ہو۔“ ۲۴ اگست ۱۹۱۷ء کو نیو یارک ٹائمز نے Friends of Russian Freedom تنظیم کے روسی انقلاب میں کردار کے متعلق مسٹر کینان (Kennan) کا مندرجہ ذیل بیان شائع کیا:

”روس جاپان جنگ کے دوران میں ٹوکیو میں تھا اور مجھے جاپان کے پاس بارہ ہزار روسی جنگی قیدیوں کو ملنے کی اجازت تھی۔ میرے ذہن میں جاپانی زعماء کے ایماء سے روسی فوج کے درمیان انقلابی پراپیگنڈہ پہنچانے کی ترکیب سوجھی۔ چنانچہ میں نے امریکہ سے تمام ممکنہ لٹریچر مانگا۔ یہ تمام کارروائی نیو یارک کے ایک ایسے بنکار (جیک شف) کے سرمایہ سے ہو رہی تھی جسے آپ سب جانتے اور عزیز سمجھتے ہیں۔ اور جلد ہی ڈیڑھ ٹن انقلابی لٹریچر وصول ہو گیا۔ اس جنگ کے اختتام پر پچاس ہزار فوجی اور افسر پرجوش انقلابیوں کی حیثیت سے اپنے ملک واپس گئے۔ روسی آزادی کے دوست نامی تنظیم روسی فوج کی رجمنٹوں میں آزادی کے پچاس ہزار بیج بو چکی تھی۔ مجھے اس چیز کا علم نہیں کہ ان فوجیوں اور افسروں میں سے کتنے پچھلے ہفتے پیٹروگراڈ کے قلعہ میں تھے۔ تاہم ہمیں اس چیز کا بخوبی علم ہے کہ فوج نے انقلاب میں کیا کردار ادا کیا۔

(The Jews, p. 125)

جارج آرمسٹرانگ نے اپنی تصنیف Rothschild Money Trust میں یہ ظاہر کیا ہے کہ جب روسی یہودی (کمیونسٹ) انقلاب ۱۹۱۷ء میں آیا تب وہ (روسی) جرمنی کے خلاف پہلی عالمی جنگ لڑ رہے تھے اور اس وقت جرمنی میں ایک ایسی کابینہ تھی جس پر

صفحہ ۱۸۳

ایسے کلیدی وزراء چھائے ہوئے تھے جو زیادہ تر یہودی تھے۔ بیتھمین ہولوگ (چانسلر اور ترجمان) روتھ شیلڈ کی اولاد میں سے تھا۔ والٹر راتھینو (خزانچی) اور فیلکس واربرگ (سراغ رسانی کے نظام کا افسر اعلیٰ) نیز قیصر جرمنی کی کابینہ کے پانچ دوسرے وزراء بھی یہودی تھے۔ (صفحہ ۵۹-۶۰)۔ اور اسی انقلاب میں یہودیوں کے کردار کے متعلق ونسٹن چرچل یوں رقمطراز ہے۔ ”مزید براں اکثر جذبہ اور قوت محرکہ یہودی رہنماؤں سے حاصل ہے۔ چنانچہ چیچرن جو اصل روسی النسل ہے اپنے معمولی ماتحت لٹوینف کے آگے ہیچ دکھائی دیتا ہے اور بخارن اور لونا چارسکی جیسے روسیوں کا اثر و رسوخ ٹراٹسکی یا زینوویو (جو پیٹرو گراڈ کا ڈائریکٹر ہے) یا کراس یا ریڈک (تمام یہودی) کی طاقت سے مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ سوویٹ اداروں میں یہودیوں کا غلبہ اور بھی حیران کن ہے اور اس کے نظامِ دہشت گردی، جو غیر معمولی Revolution - Commissar for Counter نے پھیلائی ہے، کا نمایاں حصہ، اگرچہ اکثر و بیشتر نہیں، یہودیوں اور بعض موقعوں میں یہودنیوں کا ہے۔ یہودیوں نے یہی مکروہ امتیاز اس مختصر دورِ دہشت میں حاصل کیا جبکہ بیلہ کن Bella Kuhn کی ہنگری میں حکومت تھی۔ (اور جب ۱۳۳ دن کے دور حکومت میں بیلہ کن نے ساٹھ لاکھ افراد کو قتل کیا) ایسا ہی منظر (یہودی عورت روزا لکسمبرگ کے دورِ اقتدار میں) اس مختصر عرصہ میں ظہور پذیر ہوا جبکہ جرمن قوم سرنگوں ہونے کی وجہ سے اس قسم کی دیوانگی کا شکار ہوئی۔ اگرچہ ان تمام ملکوں میں بہت سے غیر یہودی بھی اتنے ہی ملوث تھے جتنے کہ بدترین یہودی انقلابی، تاہم یہودیوں نے اپنی آبادی کے تناسب کے مدنظر جو کردار ادا کیا وہ حیران کن ہے۔ یہ حقیقت کہ بہت سے مواقع پر یہودی مفادات اور یہودی عبادت گاہیں بالشویکیوں کی عمومی دشمنی سے محفوظ و مصئون رہیں روس میں ہونے والی بد اعمالیوں کو یہودی نسل کے ساتھ مختص کرتی ہے۔“

الغرض انقلاب کے بعد روس میں جو حکومت بنی اس کی چوٹی کی قیادت اکثر و بیشتر یہودی تھی اور اس میں چوٹی پر پہلے پچیس ارکان یہودی تھے جو سب اپنے اصلی ناموں سے مختلف ناموں سے کام کر رہے تھے۔ انقلاب فرانس کے بعد جو ”دہشت کا دور“ شروع ہوا تھا وہ چند ماہ جاری رہا اور اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن اس دفعہ روس میں قتل و غارت، آتشزنی، عقوبت و زنا بالجبر وغیرہ سے بھرپور ”دہشت کا دور“ Reign of Terror

صفحہ ۱۸۴

شروع ہوا تو وہ سالوں پر محیط تھا جس میں سرخ فوج اور خفیہ پولیس چیکا کے ذریعے تقریباً "تین کروڑ افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے اور دوسری طرف ٹراٹسکی، زینوویو، کامینیو، مارٹینوف، زلیوچ، ڈبوش، پاروس، ایکسلراڈ، راڈیک، پورزکی، سورڈلوف، ڈین اور مارٹوف جیسے مہرے یکے بعد دیگرے منظر سے غائب ہو گئے۔ سٹالن جو انقلاب سے پہلے مفلس Tiflis میں ایک بنک کو دھماکے سے اڑانے کے بعد اس میں ڈاکہ ڈال کر خود کو انقلاب کی قیادت کا اہل ثابت کر چکا تھا، ڈرامائی انداز میں چوٹی پر آگیا۔ جرمن جاسوس 'شلوپنف' جسے مذکورہ بالا لینن اور جرمن حکومت کے درمیان معاہدہ کے حصے کے طور پر برطانوی حکومت نے رہا کر دیا تھا اور جس نے بعد میں لینن کی بڑی اعانت کی تھی، سٹالن کا امور خارجہ کا Commissar مقرر ہوا۔ بعد میں مخبری، چوری، ڈاکہ زنی، غنڈہ گردی اور خفیہ قتل سے بھرپور زندگی کے لئے خراج عقیدت کے طور پر اسے "نیو ورلڈ آرڈر" کے اعلیٰ ترین کلیدی ادارے یعنی اقوام متحدہ UNO کا صدر چن لیا گیا۔ "ادارہ اقوام متحدہ صیہونیت ہے۔ یہ وہی سپر گورنمنٹ ہے۔ جس کا صیہونی ارباب دانش کے پروٹوکولز میں کئی بار ذکر ہے جو ۱۸۹۷ء اور ۱۹۰۵ء کے درمیان شائع ہوئے۔"

(Zions Rule the World" by Henry Klain, a well-known

Jew lawyer of New York, 1948.)

اپنی زرعی اصلاحات کے بارہ سال بعد ۱۹۳۵ء میں سٹالن نے چرچل کو بتایا کہ اس کی اشتمالی زرعی تشکیل نو میں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

(Tragedy and Hope" by Prof. Quigly p.398.)

اس کے دوران بے شمار مویشی اور جانور تلف ہو گئے، شہریوں کی کثیر تعداد نے سائبیریا میں عقوبت کی زندگی بسر کی۔ سٹالن میکاولی کی کتاب "دی پرنس" (جس کا ذکر پچھلے صفحات میں ہے) کا بڑی باقاعدگی سے مطالعہ کرتا تھا۔

اس صدی کی تیس کی دہائی میں جب کمیونسٹ روس بڑی غیر یقینی صورت حال سے دوچار تھا تو امریکہ نے اسے تسلیم کر کے سہارا دیا۔

برطانیہ کا مشہور یہودی سابق وزیر اعظم ڈزرائیلی اپنے ناول کاننگزبی

صفحہ ۱۸۵

Connigsby (جو ۱۸۴۴ء میں کارل مارکس کے اشتراکی منشور Manifesto Communist سے کچھ پہلے شائع ہوا) میں یوں رقمطراز ہے۔ ”چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا پر جن شخصیات کی حکمرانی ہے وہ ان سے بالکل مختلف ہیں جن کا تصور کہ وہ لوگ کرتے ہیں جو پس پردہ نہیں ہوتے۔“ یورپ میں روتھ شیلڈ خاندان، برطانیہ میں اسرائیل سیف (مشہور ڈیپارٹمنٹ سٹور مارکس اینڈ سپنسر کا ڈائریکٹر) اور امریکہ میں انتہائی متمول اور با رسوخ یہودی برنارڈ بروج Bernard Barouch کی قیادت میں پال واربرگ، جیکب شف اور اوٹوکُہن Otto Kahn وہ پس پردہ شخصیات تھیں جو اپنے مہروں کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کر رہی تھیں۔ ۲۱ نومبر ۱۹۱۷ء کو برطانیہ کے وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے لئے لارڈ روتھ شیلڈ کے نام خط کی شکل میں اعلان بالفور جاری کیا جس کا مسودہ خود لارڈ روتھ شیلڈ نے دیا تھا۔ جرمنی میں یہودی عورت روزا لکسمبرگ کی زیر قیادت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے شہری اور فوجی حلقوں میں انتشار و خلفشار پیدا کر کے جرمنی کو شکست سے دوچار کر دیا تو پس پردہ کام کرنے والی مندرجہ بالا شخصیات کی زیر نگرانی تاریخ کا ایک انتہائی غیر منصفانہ اور جابرانہ معاہدہ ورسائی طے پایا جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم ایک ناگزیر حقیقت تھی۔ جیسے پہلی عالمی جنگ کے آغاز کے بعد برطانیہ میں ۱۹۱۶ء میں اسکوئتھ کی وزارت کو جنسی سکینڈل اور پراپیگنڈہ کے ذریعے ختم کر کے لائیڈ جارج، ونسٹن چرچل اور آرتھر جیمز بالفور جیسے صیہونیوں کی حکومت بنوائی گئی، اس طرح دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد چیمبرلین کی وزارت کو پراپیگنڈا کے ذریعے چلتا کر کے Blood, toil, tears and sweat کا نعرہ لگانے والے ونسٹن چرچل کی قیادت میں حکومت بنی جس کے اپنے الفاظ کے مطابق اس کے صیہونیوں سے تعلقات ”ایک اسرار کے اندر ایک پہیلی ہے جو کہ سب کچھ ایک معمہ میں لپٹا ہوا ہے۔“

(A riddle inside a mystery wrapped in an enigma)

آئزن ہاور‘ جو خود اپنے الفاظ کے مطابق ”معمولی اہلیت کا ایک لفٹینٹ کرنل تھا، برنارڈ بروج کے سایہ عاطفت میں چند سالوں میں اتحادی فوجوں کا سپریم کمانڈر بن گیا۔ مغربی دنیا سے کئی تصانیف کا ایک سلسلہ جاری ہے جو نیو ورلڈ آرڈر کے

صفحہ ۱۸۶

disinformation کا حصہ ہے جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پچھلی تقریباً " دو ڈھائی صدیوں کے یہ تمام انقلابات اور جنگیں الیومینیٹی کے چوٹی کے تقریباً " تین سو بارسوخ اور مالدار افراد کی قیادت میں ایک مختصر گروہ نے برپا کئے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں وہ بہت سے باہم متضاد و منافی شواہد کے سرسری حوالہ جات دیتے ہیں جن کا اگر بنگاہِ امعان مطالعہ کیا جائے تو ان کا بدیہی البطلان ہونا واضح ہے۔ چونکہ طوالت اور کتاب کے بنیادی عنوان سے دور جانے کے احتمال سے اس کا تفصیلی تجزیہ نہیں دیا جاسکتا اس لئے دو تین مثالوں پر اکتفا کرنی پڑ رہی ہے۔ مثلاً " جب یہ مصنف لکھتے ہیں کہ ۱۷۸۴ء میں فرینکفرٹ سے پیرس جاتے ہوئے قاصد پر آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے یہ تمام منصوبے پولیس کے ہاتھ لگ گئے جن کے متعلق یورپ کی اکثر حکومتوں کو آگاہ کردیا گیا لیکن کسی نے بھی اس طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ اگر یہ یقین بھی کر لیا جائے کہ انقلاب فرانس سے پہلے کسی حکومت نے اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا (جو کہ ایک امر محال ہے) تب بھی اس انقلاب کے بعد جب یورپ کی تمام بادشاہتیں لرزہ براندام اور اپنے تحفظ و بقاء کے لئے سرگرداں تھیں ان کا کوئی انسدادی اقدام نہ کرنا بڑا عجیب لگتا ہے۔ اس کے بعد مصنفین کے طویل سلسلے نے عوام و خواص کو ان منصوبوں سے آگاہ کرنے کی کوششیں کیں مثلاً امریکی صنعتکار ہنری فورڈ نے اس صدی کے اوائل میں ایک بھرپور تحریک چلائی۔ اور ہمارے لئے یہ یقین کرنا محال ہے کہ مغربی جمہوری ادارے اتنے ہی بے اثر ہیں۔ وہ ایک صدر (نکسن) کو جس کی اپنے ملک کے لئے عظیم خدمات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ایک لغزش کی بناء پر تو معزول کر سکتے ہیں لیکن ان خفیہ تنظیموں اور ان کے زعماء کا وجود ان ہولناک واقعات کا علم ہو جانے کے بعد بھی اپنے درمیان برداشت کرتے ہیں۔ کسی مغربی دانشور کا یہ قول ہے کہ کچھ لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور تمام لوگوں کو بعض اوقات بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ "Throne of Anti-Christ" اور Pawns in the Game جیسی مذکورہ بالا تصانیف کا دعویٰ یہ ہے کہ مغرب کے باشعور عوام اپنے تمام تر جمہوری اداروں کے باوجود پچھلی ڈھائی تین صدیوں سے اس ایک ٹولے کے ہاتھوں بے وقوف بن رہے ہیں۔ اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان انقلابات اور جنگوں میں ان لوگوں اور خفیہ تنظیموں نے حیرت

صفحہ ۱۸۷

انگیز طور پر بہت بڑا کردار ادا کیا۔ لیکن ان واقعات کے کچھ اور بھی گہرے اور بنیادی عوامل تھے۔ ایک یہودی ذہن سینٹ پال کے عظیم شاہکار صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کی صدیوں کی چیرہ دستیوں اور ریشہ دوانیوں سے جو سازگار ماحول پیدا ہو چکا تھا، اس میں صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کی دسیسہ کاریوں سے یہ واقعات رونما ہوئے، جن سے ایک طرف یہودیوں کے عقیدے ”قوموں کے لئے نور“ کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو دوسری طرف یکتا صلیبی ترحم و تلطف (Chiristianity is the only Benevolent Religion) کا بھانڈا پھوٹتا ہے۔ لیکن نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ابھی تیسری دنیا کے اربوں عوام کا خون چوسنے کے لئے یہ دونوں بھرم قائم رکھنا ضروری ہے اور مذکورہ بالا تصانیف کا سلسلہ یہی بھرم قائم رکھنے کی کوششیں ہیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت اور اس کے مقاصد کے لئے برپا کی گئی دو عالمی جنگوں میں اتلاف کے متعلق مختلف ذرائع میں دیئے گئے اعداد و شمار میں جو لاکھوں کا فرق ہے اس سے صلیبی و صیہونی نیو ورلڈ آرڈر میں انسانی جانوں کی قدر و قیمت کے متعلق اگر کوئی شک و شبہ رہ جاتا ہے تو وہ اس قسم کے تاریخی شواہد سے دور ہو جاتا ہے جن کے مطابق صیہونی رہنماؤں نے صیہونی ریاست کے قیام کے لئے اپنی ہی قوم کے لاکھوں افراد کو برضا و رغبت نازی بیگار کیمپوں کی بھینٹ چڑھایا، یا پھر دوسری عالمی جنگ کے اواخر میں جرمنی پر بغیر جنگی جواز کے مسلسل وسیع و ہولناک آتشیں بمباری یا پھر بغیر جنگی جواز کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر صلیبی و صیہونی ایٹم بموں کا گرایا جانا۔ ان دو عالمی جنگوں میں تقریباً ”آٹھ کروڑ انسان ہلاک ہوئے (زخمی اور اپاہج ہونے والے اس کے علاوہ ہیں) اور تقریباً ایک ہزار چار سو چھتیس (۱۴۳۶) ارب ڈالر (اس زمانے کے کرنٹ ڈالر) کا مالی نقصان ہوا۔

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ ؕ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ◯

(القلم: ۳۳)

یوں ہی عذاب آیا کرتا ہے اور آخرت کا عذاب یقیناً دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ کافر سمجھتے ہوتے۔

صفحہ ۱۸۸

باب نہم

صیہونی ارباب دانش کے پروٹوکولز

وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّا اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَاءَ اِلٰی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ كُلَّمَا اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ ہ

”اور یہود کہتے ہیں خدا کا ہاتھ بند ہو گیا۔ ہاتھ تو انہی کے بند ہوں گے اور ملعون بنائے گئے اپنے اس قول کے سبب۔ اللہ کے ہاتھ تو بہت کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اور اے محمد ! تم پر تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ اتارا گیا ہے‘ وہ یہود میں اکثر کے کفر اور شرارت کے بڑھ جانے کا سبب ہو جائے گا۔ اور ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کے لئے ڈال دیا ہے۔ جب یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور زمین میں فساد پھیلانے کے لئے یہود ہر جگہ کوشاں رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ فساد کرنے والوں کو بالکل پسند نہیں کرتا“۔

(۵ سورہ المائدہ - ۶۴)

”سرمایہ ۔ اتحاد ۔ تنظیم“ -- پروپیگنڈا

قوم یہود نے انبیاء کرام کے ساتھ وہ سلوک کرنے کے بعد جس کا مختصر ذکر باب ہفتم میں کیا گیا ہے اور ان کی تعلیمات سے منہ موڑ کر صہیونیت کو اپنا دین و ایمان بنایا ہے۔ صہیونیت کے متعلق یوں تو بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے اور مزید بہت کچھ لکھا اور کہا جاسکتا ہے لیکن اگر چند الفاظ میں ا کی بڑی گہرائی اور گیرائی والی بین الا حاصل کرنا ہے اور جس کی بنا پر وہ ص نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے اپنا ایک منصفانہ اور صالحانہ نظام اول تو قائم ن کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ان ک ہے۔

جس طرح ہر مذموم طرح صہیونیت کی بنیاد بھی ”صیہونی ارب med Elders of the Zion) متفقہ لائحہ عمل یا بلیو پرنٹ ہے جو ۱ ۸۹۷-۹۸ء میں سوئیٹزرلینڈ کے شہر با پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے ل جامہ پہنانے میں مصروف ہیں۔ یہ کل یہاں اس بات کا ذکر بیجا نہ ہو گا کہ یہود رکھنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے است اعلانات‘ اس کی نشر و اشاعت میں بھ مارکیٹ سے خرید کر اس کی تلفی وغیرہ ہیں لیکن ایک حتمی ثبوت دنیا میں بہت اپنے بہت سے مقاصد کے حصول میں کا

اس کتاب کا سب س وساطت سے ہوا‘ جبکہ اس کی ایک کاپی خفیہ تنظیم فری میسنز کی رکن ایک با میں اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا اور ے

صفحہ ۱۸۹

جا سکتا ہے لیکن اگر چند الفاظ میں اس کی توضیح کرنی ہو تو یہ کہا جائے گا کہ صہیونیت یہودیوں کی بڑی گہرائی اور گیرائی والی بین الاقوامی سازش ہے جس سے ان کا مقصد پوری دنیا پر تسلط حاصل کرنا ہے اور جس کی بنا پر وہ کسی اچھائی، نیکی، منصفانہ اور صالحانہ نظام کو دنیا میں پنپتا نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے اپنا ایک ایسا عالمگیر نظام وضع کیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی منصفانہ اور صالحانہ نظام اول تو قائم ہونا ہی مشکل ہے اور اگر ہو بھی جائے تو وہ فوراً اسے تباہ کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ان کی قدیم اور حالیہ تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

جس طرح ہر مذہب اور نظام کا سرچشمہ کوئی صحیفہ یا کتاب ہوتی ہے، اسی طرح صہیونیت کی بنیاد بھی ”صہیونی ارباب دانش کے وثیقے“ (The Protocol of the Learned Elders of the Zion) ہے۔ یہ ایک متفقہ لائحہ عمل یا بلیو پرنٹ ہے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی یہودی قوم کے نمائندوں نے ۱۸۹۷ء میں سوئیٹزرلینڈ کے شہر باسل میں منعقد ہونے والی کانگرس میں اتفاق رائے سے پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے اختیار کیا اور جس کو وہ بڑے خفیہ طریقے سے عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہیں۔ یہ کل چوبیس (۲۴) پروٹوکولز یعنی ابواب پر مشتمل ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بیجا نہ ہو گا کہ یہودی قوم نے دنیا بھر میں غیر اقوام کو اس چیز سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے یعنی اس کی تردید اور اس کے جعلی ہونے کے اعلانات، اس کی نشر و اشاعت میں بھرپور رکاوٹیں حتیٰ کہ پورے کے پورے ایڈیشن کو مارکیٹ سے خرید کر اس کی تلفی وغیرہ۔ اس کتاب کے اصلی ہونے کے یوں تو بہت سے ثبوت ہیں لیکن ایک حتمی ثبوت دنیا میں بہت سے ایسے واقعات کا وقوع پذیر ہونا اور یہودی قوم کا اپنے بہت سے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہونا ہے، جن کی اس میں نشاندہی کی گئی ہے۔

اس کتاب کا سب سے پہلے علم ایک روسی پادری سرگی۔اے۔نالٹس کی وساطت سے ہوا، جبکہ اس کی ایک کاپی ایک عورت نے یہودیوں کی اس زمانے کی بدنام زمانہ خفیہ تنظیم فری میسنری کی رکن ایک بااثر عورت کے گھر سے چرا لی۔ ۱۹۰۵ء میں روسی زبان میں اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا اور ۱۹۰۷ء میں دوسرا۔ روسی انقلاب جس میں یہودیوں کا

صفحہ ۱۹۰

بہت ہاتھ تھا' نائلس بالشویکوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا اور کرنسکی کے حکم سے اس کے تمام نسخے تلف کر دیے گئے۔ نائلس کا قید میں انتقال ہوا اور یہ کتاب ۱۹۱۹ء میں ولادی واسٹک کے راستے امریکہ پہنچی جہاں اس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔ نائلس کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کا ایک نسخہ برٹش میوزیم میں پڑا ہے جس پر ۲۸ ستمبر ۱۹۰۵ء کی ماسکو سنسر کی مہر لگی ہوئی ہے۔ انگلینڈ میں اس کی اشاعت وکٹر۔ ای۔ مارسٹن نے کی جو روس میں مارننگ پوسٹ کے نمائندہ کی حیثیت سے طویل عرصہ تک قیام کر چکا تھا اور ایک روسی عورت سے شادی کر لی تھی۔

چونکہ ”صہیونی ارباب دانش کے وثیقے“ نیو ورلڈ آرڈر کا اہم سرچشمہ ہیں' اس لئے قارئین کی معلومات کے لئے اس کے اہم اقتباسات کا ترجمہ اس کتاب میں شامل کرنا ضروری ہے۔

پروٹوکول ————— ۱

قانون درحقیقت قوت و جبروت کا ہی ایک خوشنما لبادہ ہے مگر پوشیدہ۔ لہٰذا قانون فطرت یہی ہے کہ حق طاقت میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی آزادی ایک تصور محض ہے اور اس دور میں مطلق العنان حاکموں کی جگہ جس نئی قوت نے لی ہے وہ سونا ہے۔ سونے اور سرمائے پر ہم اور صرف ہم ہی قابض ہیں۔ ایک ریاست چاہے اپنے داخلی بحران کا شکار ہو کر کمزور ہو جائے یا اس کا داخلی خلفشار بیرونی دشمنوں کو اس پر مسلط کر دے' یہ دونوں صورتوں میں ختم ہو جائے گی اور یہ ہم ہی ہیں جو اسے اس نہج تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کہلاتا ہے سرمائے کا جابرانہ اور مطلق العنان استبداد۔ سیاسیات اور اخلاقیات میں قطعی کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ ایک ایسا حکمران جو حکومت کرنے میں اخلاقی ضابطوں کو مدنظر رکھتا ہے ہرگز ہوشمند سیاستدان قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس کی حکومت ایک مستحکم حکومت نہیں ہو گی۔ اس کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ مکاری اور دھوکہ بازی سے کام لے۔ اعلیٰ کردار اور اخلاقی اقدار پر ایمان رکھنے والا حکمران جو صاف دل' راست گو' راستباز' بے لاگ اور مخلص ہو' سلطنت میں کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ درحقیقت یہ چیزیں سیاست میں سم قاتل کی مانند ہیں۔ یہ

سب عیوب ہیں اور ان کو اپنا قطعی ایسی تباہی جو کسی انتہائی سفاک دشمن اوصاف دراصل گوئم (غیر یہود = m تک ہمارا تعلق ہے' تو ان کا ہلکا سا پرتو

لبرل ازم کی بنا پر جو بھی مملکت میں حقوق کا یہ سیلاب لبرل ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ہماری طاقت اور اختیار کہیں زیادہ ناقابل جبروت لوگوں کی نظروں سے بالکل اوجھ میں رہیں گے جب تک ہم اس قدر زور کوشش ہمارا بال بیکا نہ کر سکے اور ہماری جائے۔

گوئم (غیر یہود) کی نو ان کے مخصوص نقطہ نظر کی اندھی تقلید اور بے وقوف بنانے میں بچپن ہی سے ان نے ان کو اس جانب اپنے خاص گماشتو خاص ایجنٹوں سے مطلب ان کے وہ آتا ہے۔ ان کے خدمت گار' گھریلو خادم' ان کی صحبت میں رہنے والے' ان کے ا ہماری عورتیں جو بدقماشی کے ان اڈوں اس میں وہ نام نہاد ”سوسائٹی لیڈیز“ بھ اور آوارگی کا سامان مہیا کرتے ہوئے لو

ہمیں چاہئے کہ ہم کریں۔ اور جنگ کی ہولناکی کے بجائ

صفحہ 191

سب عیوب ہیں اور ان کو اپنانا قطعی طور پر کامل تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ایک ایسی تباہی جو کسی انتہائی سفاک دشمن کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے سے بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ اوصاف دراصل گوئم (غیر یہود = Goyim) سلطنتوں میں ہی پروان چڑھنے چاہئیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، تو ان کا ہلکا سا پرتو بھی نہیں پڑنا چاہئے۔

لبرل ازم کی بنا پر جب لوگ مختلف قسم کے حقوق کی باتیں کرتے ہیں تو کسی بھی مملکت میں حقوق کا یہ سیلاب لبرل ازم کی وجہ سے تند و تیز ہو کر حکومت کی تنظیم کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اختیارات کی تمام متزلزل صورتوں کے مقابلے میں ہماری طاقت اور اختیار کہیں زیادہ ناقابل تسخیر ہوں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوت و جبروت لوگوں کی نظروں سے بالکل اوجھل ہے۔ ہم اور ہماری طاقت اس وقت تک پردہ راز میں رہیں گے جب تک ہم اس قدر زور آور نہ ہو جائیں کہ دنیا کی کوئی چال، کوئی سازش، کوئی کوشش ہمارا بال بیکا نہ کر سکے اور ہماری بے پناہ قوت کے آگے ساری دنیا جھکنے پر مجبور نہ ہو جائے۔

گوئم (غیر یہود) کی نوخیز نسل کو یونانی اور لاطینی علم و ادب، فکر و فلسفہ اور ان کے مخصوص نقطہ نظر کی اندھی تقلید نے بے وقوف بنا دیا ہے۔ مزید براں یہ کہ ان کو الو اور بے وقوف بنانے میں بچپن ہی سے ان کی آوارہ مزاجی اور بد قماشی کو بڑا دخل ہے۔ اور ہم نے ان کو اس جانب اپنے خاص گماشتوں کے ذریعے مائل کرنے کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ ان خاص ایجنٹوں سے مطلب ان کے وہ اتالیق ہیں جن کے سپرد ان کی ساری تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ ان کے خدمت گار، گھریلو خادم، ان کے نگران اور ولی، عام طور پر کسی بھی حیثیت میں ان کی صحبت میں رہنے والے، ان کے اہل دولت و ثروت کے ہاں استانیاں اور معلمائیں اور ہماری عورتیں جو بد قماشی کے ان اڈوں پر موجود ہوتی ہیں جہاں یہ گوئم جانا پسند کرتے ہیں۔ اس میں وہ نام نہاد ”سوسائٹی لیڈیز“ بھی آتی ہیں جو دوسروں کی نقالی میں ازخود عیاشی، فحاشی اور آوارگی کا سامان مہیا کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے دام تزویر میں پھانستی ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ ہم پرامن رہتے ہوئے فتوحات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اور جنگ کی ہولناکی کے بجائے خفیہ ذرائع اور وسائل سے طاقت کی باگیں اپنے ہاتھ

صفحہ ۱۹۲

میں لے لیں۔ اور اپنے راستے میں حائل عناصر کے خلاف سزائے موت کے احکامات جاری کروا دیں تاکہ دہشت اور خوف کی فضا قائم ہو۔ دہشت اور خوف کی فضا سرکشوں کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے اور انہیں مطیع بنائے رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ ہمیں نہ صرف فتح حاصل کرنے کے لئے بلکہ اپنے جملہ فرائض منصبی کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے بہترین مفادات کے تحفظ کی خاطر دھوکہ اور تشدد کے پروگرام پر بہر صورت کاربند رہنا چاہئے۔ ہم صرف ذرائع اور وسائل کی فراوانی پر ہی تکیہ نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریہ تشدد اور بربریت سے ہم فتح و نصرت کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ اور ہم تمام حکومتوں کو حکومت اعلیٰ (سپر گورنمنٹ) کے تحت لے آئیں گے۔ گو ہم پر واضح ہونا چاہئے کہ ہم ہر گستاخی‘ بے ادبی کا سر کچلنے کے لئے سخت بے رحم ہیں۔۔۔۔ ہماری فتح اس لئے اور بھی آسان ہے۔ ہم نے اپنے رشتے اور باہمی تعلقات کی بنیاد انسانی نفسیات پر رکھی ہے۔ ہر ایک میں اگر ہم انسانی کمزوری کو مد نظر رکھیں تو ہمارا طریق کار ان کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے لئے کافی ہے۔

پروٹوکول ــــــــــــــــ ۲

ہمارے مفادات کے لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جنگیں علاقائی فتوحات پر منتج نہ ہوں۔ اس طرح جنگوں کی نوعیت حقیقتاً اقتصادی ہو جائے گی۔ اور متحارب قومیں ہماری امداد کی محتاج ہوں گی۔ چنانچہ وہ ہمارے بین الاقوامی ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہوں گی‘ جو واقعات عالم کو گہری نظر سے دیکھتے رہتے ہیں اور جن پر کہیں بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس طرح ہمارے بین الاقوامی حقوق در حقیقت مقامی قومی حقوق کی جگہ لے لیں گے۔ مزید براں وہ قوموں پر بالکل اس طرح لاگو ہوں گے جس طرح کسی مملکت کا دیوانی قانون حکومت اور رعایا کے تعلقات پر لاگو ہوتا ہے۔ ہمارے منتخب حکام‘ جن کو ہم عوام ہی میں سے اوپر لائیں گے‘ ان کی اہم ترین خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ ہمارے تابع فرمان ہوں گے۔ وہ ایسے لوگ بہرحال نہیں ہوں گے جن کو نظم و نسق کی تربیت حاصل ہو۔ اس لئے وہ آسانی سے ہمارے آلہ کار بن جائیں گے کیونکہ وہ ہمارے مشیروں‘ اور ماہروں کے محتاج ہوں گے۔

صفحہ 193

عناصر کے خلاف سزائے موت کے احکامات جاری م ہو۔ دہشت اور خوف کی فضا سرکشوں کو جھکنے پر کرنے میں مدد گار ہوتی ہے۔ ہمیں نہ صرف فتح حاصل اس کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے بہترین مفادات پروگرام پر بہر صورت کاربند رہنا چاہئے۔ ہم صرف حکومت کرتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نظریہ تشدد اور رہیں گے۔ اور ہم تمام حکومتوں کو حکومت اعلیٰ (سپر ہم پر واضح ہونا چاہئے کہ ہم ہر گستاخی‘ بے ادبی کا سر کی فتح اس لئے اور بھی آسان ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھ پر رکھی ہے۔ ہر ایک میں اگر ہم انسانی کمزوری صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے لئے کافی ہے۔

۲ ـــــــ

لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جنگیں کوں کی نوعیت حقیقتاً اقتصادی ہو جائے گی۔ اور چنانچہ وہ ہمارے بین الاقوامی ایجنٹوں کے رحم و رے دیکھتے رہتے ہیں اور جن پر کہیں بھی کوئی قوامی حقوق در حقیقت مقامی قومی حقوق کی جگہ اس طرح لاگو ہوں گے جس طرح کسی مملکت کا لاگو ہوتا ہے۔ ہمارے منتخب حکام‘ جن کو ہم ین خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ ہمارے تابع فرمان کے جن کو نظم و نسق کی تربیت حاصل ہو۔ اس گے کیونکہ وہ ہمارے مشیروں‘ اور ماہروں کے

آج کے دور میں دنیا کی حکومتوں کے ہاتھ میں ایک ایسی قوت ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں خیالات کی تحریک کرتی ہے۔ یہ قوت پریس کی طاقت ہے جس کو ہم نام نہاد ”بڑی طاقتوں“ کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔ لیکن غیر یہود ریاستوں کو اس قوت کے استعمال کا سلیقہ نہیں آتا۔ اس لئے اب یہ قوت ہمارے ہاتھ آگئی ہے۔ پریس معدودے چند مستثنیات کے‘ جنہیں قابل اعتناء نہ سمجھنا چاہئے‘ وہ پہلے ہی تمام کا تمام ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ پریس کے ذریعہ ہم پس پردہ رہ کر غیر یہود عوام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پریس ہی کے ذریعہ ہم سونے پر قابض ہوئے ہیں۔

پروٹوکول ـــــــ ۳

ہماری منزل ہم سے صرف چند قدم دور ہے۔ جس راہ پر ہم گامزن ہیں‘ اب اس کا بہت تھوڑا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ اور ہمارے اس علامتی سانپ کا حلقہ مکمل ہونے والا ہے‘ جس سے ہم اپنے ہم قوموں کی تعبیر کرتے ہیں۔

اقتدار کے بھوکوں میں طاقت اور اقتدار کے غلط استعمال کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے ہم نے تمام متحارب قوتوں کو جمع کر دیا ہے۔ ہماری طاقت خوراک کی شدید قلت اور مزدوروں کی جسمانی کمزوری میں پوشیدہ ہے کیونکہ اسی کے سہارے ہم ان کو

۱؎ صیہونی ارباب دانش کے پروٹوکولوں کے سرورق پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا ہے جس پر ایک علامتی سانپ دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیانی علاقہ جس میں موجودہ اسرائیل‘ لبنان‘ اردن‘ عراق‘ شام‘ ترکی کے جنوبی علاقے اور سعودی عرب کے شمالی علاقے شامل ہیں‘ حلقہ بنائے بیٹھا ہے۔ یہ وہ عظیم تر اسرائیل ہے جسے یہودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جہاں سے وہ ساری دنیا کو کنٹرول کریں گے۔ نیز اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ عیار اور شاطر یہودیوں نے دنیا کو سانپ کی سی چالاکی اور مکاری سے کام لیتے ہوئے اپنے زیر تسلط لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس سانپ کا سر ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جنہیں یہودی تنظیم کے خفیہ منصوبوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے‘ جبکہ اس کے دھڑ سے یہودی قوم مراد ہے....... اس سانپ نے جن قوموں میں نفوذ کیا ان کی تمام قوتوں کو کمزور کر کے ہڑپ کر گیا ہے۔

صفحہ ۱۹۴

اپنی مرضی کا غلام بنا سکتے ہیں۔ اس طرح اس کے قبضہ قدرت میں کوئی ایسی قوت مختارانہ حیثیت حاصل نہ کرے گی جو ہماری مرضی کے خلاف عمل پیرا ہو۔ یاد رکھئے کہ بھوک ہی مزدور پر سرمایہ کی بالادستی اور حکمرانی کے قیام کا سبب ہوتی ہے۔ یہ بالادستی اور حکمرانی اس ملوکیت کے نظام سے بھی شدید ہوتی ہے جو شاہوں کے قانونی اختیار کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔ احتیاجات‘ ضروریات‘ نفرت‘ دشمنی کے جذبات و احساسات کے سہارے ہم عوام کو اس راہ پر گامزن کریں گے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے ان تمام دشواریوں اور مشکلات کو ختم کر دیں گے جو ہماری فتح کی راہ میں حائل ہیں۔

پروٹوکول ———— ۴

موجودہ دور میں مطلق العنانی کو نہ تو قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی وہ سرعام ظاہر ہے لیکن یہ مطلق العنانی درپردہ اور خفیہ رہتی ہے۔ اس پر عوام کی نظریں نہیں پڑتیں۔ یہ ہمہ وقت کسی خفیہ جماعت یا خفیہ ہاتھوں میں کھیلتی ہے جس کی سرگرمیاں پراسرار اور تخریبی ہوتی ہیں اور جو اپنے ایجنٹوں کے سہارے ہمیشہ سرگرم عمل رہتی ہیں۔ ان میں کسی قسم کی تبدیلی اس نظام کو متاثر نہیں کرتی بلکہ درپردہ اس کے استحکام اور استقامت کا سبب بنتی ہے۔ آخر کس کی طاقت ہے کہ اس غیر مرئی قوت کا تختہ الٹ سکے۔ یہی وہ قوت ہے جو ہماری قوت ہے۔ ملحدانہ صیہونیت دراصل ہمارے لئے ایک پردہ کا کام دیتی ہے۔ یہ ہمارے عزائم کی پردہ پوشی کرتی ہے اور ہماری قوت کے منصوبہ عمل تمام لوگوں سے پوشیدہ رہتے ہیں اور ان کے اسرار کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ تمام گوئم (غیر یہود) کے اذہان سے خدا اور روح کے تصور کا استیصال کر کے اس کی جگہ مادی ضروریات اور حسابی اعداد و شمار کے تصور کو مستحکم کریں۔۔۔۔۔۔ اعلیٰ حیثیت اور درجہ حاصل کرنے کے لئے گہری جدوجہد اور معاشی زندگی پر پڑنے والی ضربوں کی بنا پر ایک بے ضمیر‘ بے رحم اور بے حس معاشرہ نہ صرف جنم لے گا بلکہ جنم لے چکا ہے۔

صفحہ ۱۹۵

ر قبضہ قدرت میں کوئی ایسی قوت مختارانہ ف عمل پیرا ہو۔ یاد رکھئے کہ بھوک ہی ب ہوتی ہے۔ یہ بالادستی اور حکمرانی اس ن کے قانونی اختیار کے نتیجے میں پیدا ہوئی ت و احساسات کے سہارے ہم عوام کو ے ان تمام دشواریوں اور مشکلات کو ختم کر

۴ ـــــ

تو قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی وہ رہتی ہے۔ اس پر عوام کی نظریں نہیں ں کھیلتی ہے جس کی سرگرمیاں پر اسرار ہمیشہ سرگرم عمل رہتی ہیں۔ ان میں پردہ اس کے استحکام اور استقامت کا ت کا تختہ الٹ سکے۔ یہی وہ قوت ہے ے لئے ایک پردہ کا کام دیتی ہے۔ یہ ے منصوبہ عمل تمام لوگوں سے پوشیدہ ہو چکا ہے کہ ہمارے لئے ضروری ہوگیا ح کے تصور کا استعمال کر کے اس کی مستحکم کریں ۔۔۔۔۔ اعلیٰ حیثیت اور درجہ پڑنے والی ضربوں کی بنا پر ایک بے جنم لے چکا ہے۔

S. NILUS. FÖRLÅTEN FALLER 4:de upplagan BLINKFYRENS FÖRLAG

16. Cover of a Swedish edition. Hangö, 1924

صفحہ ۱۹۶

پروٹوکول ـــــــ ۵

ہماری سلطنت کا طرز امتیاز حیرت انگیز تناسب کی ایک ایسی مطلق العنانی ہوگی کہ جو ہر جگہ ‘ ہر لمحہ ‘ ہر اس غیر یہود قوت کا استیصال کرنے پر قادر ہو گی جو ہماری راہ یا فکر میں حائل ہونے کی کوشش کرے گی۔۔۔۔۔۔ ہماری جماعت در پردہ ہمیشہ سے مصروف کار ہے۔ بہر حال دنیا کو تو ایک حاکم اعلیٰ کی ضرورت ہے اور یہ ہمارے ہی لئے ہے جو خدا کے منتخب بندے ۱ ہیں۔ یہ معاملہ اختیاری نہیں متفقہ ہے۔۔۔۔۔۔ ہمیں تمام غیر یہود اقوام کی تعلیم کو اس انداز میں مرتب کرنا ہے کہ جب کبھی ان کو کسی معاملے میں اپنے طور پر کوئی قدم اٹھانا ہو تو کسی قطعی فیصلہ پر نہ پہنچ سکیں۔ ہم ان تمام طریقوں سے غیر یہود کو اتنا زچ کر دیں گے کہ وہ ہم کو ایسا بین الاقوامی اقتدار پیش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور اس طرح ایک اعلیٰ حکومت کی بنیاد پڑ جائے گی۔ آج کے حکمرانوں کی جگہ ہم ایک ایسے ادارے کی تشکیل کریں گے جو اعلیٰ حکومت کی نظامت کہلائے گا۔ اس کے ہاتھ ہر چہار سمت پھیلے ہوں گے اور اس کا دخل دنیا کے ہر گوشے میں ہو گا۔

پروٹوکول ـــــــ ۶

ہم جلد ہی بڑی بڑی اجارہ داریوں کا قیام کریں گے اور اس طرح دولت اور زر کے بڑے ذخیرے قائم ہو جائیں گے۔ یہ وہ مراکز ہوں گے جن پر غیر یہود کی قسمتوں کا اس حد تک انحصار ہو گا کہ سیاسی تباہی کے اگلے ہی دن وہ تمام ملکی قرضوں سمیت ڈوب جائیں گے۔۔۔۔۔۔ غیر یہود کی صنعت کی تباہی کی تکمیل کے لئے ہم سٹہ بازی کی مدد سے معیشات کو فروغ دیں گے۔ معیشات جس کے لئے ہم پہلے ہی غیر یہود میں رجحان پیدا کر چکے ہیں۔ ہم مزدوروں کی اجرتوں کی شرح کو بڑھائیں گے جو بہر حال مزدوروں اور کارکنوں کے لئے سودمند

۱ تقریباً چار ہزار سالہ کتوں سے بدتر اور انتہائی ذلت آمیز تاریخ کے ‘ یہ سیہ کار قوم اس دعوے پر مصر ہے کہ خدا نے اسے عبرت کے لئے نہیں بلکہ دنیا پر حکومت کے لئے منتخب کیا ہے۔

صفحہ ۱۹۷

۵

حیرت انگیز تناسب کی ایک ایسی مطلق العنان ستعمال کرنے پر قادر ہوگی جو ہماری راہ یا فکر جماعت در پردہ ہمیشہ سے مصروف کار ہے۔ اور یہ ہمارے ہی لئے ہے جو خدا کے منتخب ۔۔۔ ہمیں تمام غیر یہود اقوام کی تعلیم کو اس معاملے میں اپنے طور پر کوئی قدم اٹھانا ہو تو نوں سے غیر یہود کو اتنا زچ کر دیں گے کہ وہ جائیں گے اور اس طرح ایک اعلیٰ حکومت ایک ایسے ادارے کی تشکیل کریں گے جو ہر چہار سمت پھیلے ہوں گے اور اس کا دخل

۶

ں کا قیام کریں گے اور اس طرح دولت راکز ہوں گے جن پر غیر یہود کی قسمتوں کا ا دن وہ تمام ملکی قرضوں سمیت ڈوب کے لئے ہم سٹہ بازی کی مدد سے معیشت غیر یہود میں رجحان پیدا کر چکے ہیں۔ ہم مزدوروں اور کارکنوں کے لئے سودمند

لعنت آمیز تاریخ کے‘ یہ سیہ کار قوم اس یں بلکہ دنیا پر حکومت کے لئے منتخب کیا

LE

PÉRIL JUIF

Texte intégral des Protocoles des Sages d'Israël

Dépôt : D. P. N. 5, R. Cardinal-Mercier PARIS 19

Prix : 10 francs

14. Cover of another popular French edition, c. 1934

صفحہ 198

ثابت نہ ہو گا کیونکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم زندگی کی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیں گے۔ اور ساتھ ہی وہ تمام اقدام کریں گے کہ روئے زمین سے غیر یہود کی تمام تعلیمی قدروں کا استیصال ممکن ہو۔

اس امر کے لئے کہ غیر یہود پر وقت سے پہلے ان حالات و واقعات کے صحیح رخ کا اظہار نہ ہو سکے اور وہ ان کے باطنی معنوں کو نہ سمجھ سکیں، ہمیں ان کو چھپانا ہے۔ ان پر مزدور طبقہ کی بہی خواہی کا پردہ ڈالنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی معیشت کے ان عظیم اصولوں کو بھی راز ہی میں رکھنا ہے جس کے لئے ہمارے معاشی نظریات بڑے شدومد سے پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔

پروٹوکول ــــــــــــــــ ۷

ہم جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام مملکتوں میں ہمارے علاوہ صرف مزدوروں اور محنت کشوں کی آبادی ہو۔ ان کے علاوہ معدودے چند کروڑ پتی ہوں اور وہ بھی ہمارے کارکن ہوں۔۔۔۔۔۔ دنیا کی تمام غیر یہود حکومتوں کا دارو مدار پریس کی طاقت پر ہے جس کو ہم نام نہاد ”بڑی طاقتوں“ کے ذریعہ پھیلا رہے ہیں۔ پریس معدودے چند مستثنیات کے جن کو قابل اعتناء نہ سمجھنا چاہئے، وہ پہلے ہی تمام کا تمام ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

پروٹوکول ــــــــــــــــ ۸

ہمیں ایسے تمام اسلحہ جات سے لیس ہونا ہے جو ہمارے دشمن ہمارے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ ہمیں اظہار و بیان کے نہایت نازک سایوں تلے، قانون و انصاف کی لغت کے پر پیچ نکات کے ذریعے آگے بڑھنا ہے، جس کے لئے ہمیں ایسے فیصلے صادر کرانے ہوں گے جو نہایت ہی غیر منصفانہ اور غیر معقول ہوں گے۔ اس نقطہ کی اہمیت دراصل یہ ہے کہ یہ فیصلے اور قرار دادیں جو اخلاقی اقدار کو کھوکھلا کر دیں گی، قانونی شکل

صفحہ 199

اختیار کرلیں گے۔

ہماری انتظامیہ کو تہذیب کی ایسی تمام قوتوں پر محیط ہونا پڑے گا‘ جن کے درمیان رہ کر اسے کام کرنا ہے۔ اس کے گرد مشتہرین‘ عملی قانون دان‘ منتظمین اور ڈپلومیٹ شامل ہوں گے‘ اس میں وہ افراد بھی ہوں گے جو ہماری خاص درسگاہوں میں اعلیٰ تربیت حاصل کر چکے ہوں۔ یہ افراد سماجی ڈھانچے کے تمام اسرار و رموز سے واقف ہوں گے۔ یہ لوگ ان تمام زبانوں سے واقف ہوں گے جو سیاسی ابجد اور الفاظ سے متشکل ہوتی ہیں۔ ان لوگوں کو انسانی فطرت و نفسیات کی تمام گتھیوں سے واقف کرایا جائے گا۔ انسانی نفسیات کے تاروں کو چھیڑ کر وہ نغمہ سرائی کریں گے۔ انسانی کمزوریاں ان کا سب سے بڑا حربہ ہوں گی۔ یہ سر اور یہ تار غیر یہود کے دماغ ہیں‘ ان کے رجحانات میں ان کی کمزوریاں‘ ان کی خرابیاں اور ان کی اچھائیاں ہیں اور ساتھ ہی ساتھ طبقات اور حالات کی تحقیقات ہیں۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ اختیار اعلیٰ کے یہ باصلاحیت معاونین غیر یہود سے منتخب نہیں کئے جائیں گے۔ اس وقت تک جب تک ہماری مملکتوں میں اہم عہدوں کو ہمارے یہودی بھائیوں کو سونپنے میں کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ ہم اپنے یہود بھائیوں کو ایسے افراد کے درمیان چھوڑ دیں گے جن کا ماضی اور جن کی ساکھ ایسی ہو کہ لوگ ان کے سامنے محض اندھیرے‘ تاریکی‘ جہالت اور مایوسی میں بھٹکتے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے کہ اگر انہوں نے ہماری ہدایات کے خلاف کام کیا تو یا تو ان پر مجرمانہ الزامات لگائے جائیں گے یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ یہ طریق کار ایک سبق ہوگا بقیہ افراد کے لئے تاکہ وہ آخری سانس تک ہمارے مفاد میں کام کرتے رہیں۔

پروٹوکول ـــــــ 9

ایک خاص اور موزوں وقت پر‘ ہم جو کہ مقنن ہیں‘ فیصلے صادر کریں گے۔ ہم قتل کریں گے اور قتل عام میں کسی کو نہ بخشیں گے کیونکہ ہمارے ہاتھوں میں اس جماعت کی تمام زمامیں موجود ہیں جو کبھی بہت طاقتور تھی‘ لیکن جس کو اب ہم نیست و نابود کر

صفحہ ۲۰۰

9. From a brochure advertising the Protocols, dated 1925. The U. Bodung publishing house belonged to Colonel Fleischhauer of the Welt-Dienst.

Der jüdische Messias-Gedanke

U. Bodung-Verlag, Erfurt

چکے ہیں۔ اب ہمارے ہاتھوں میں جو ہتھیا جذبات ہیں۔ جلتی ہوئی شعلہ فشاں حرماں ن اور غیظ و غضب ہے۔

ہم ہی دراصل وہ سو ہماری غلامی میں ہر طبقہ فکر ہر نظریہ کے تاج و تخت سر براہان مملکت اور خواب و تمام کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے تیار بھرے گا کہ دیہات کے سکولوں میں کیا پڑھ تک نہ چھڑنا چاہئے جب تک کہ ہم اس م مکمل طور پر تباہ کر دیں اور اس طرح ان ک لیں۔ یہ سوتے جو بڑے منظم اور مضبوط ط سے خشک کرنے کی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ ی ہو چکا ہے۔ انتخابات میں پریس میں اور فلم میں ہم کو دخل حاصل ہے لیکن ہمارا خاص ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پروٹوکول

ہمارے لئے تمام چیزوں ک مسخ کریں اور اپنی صفوں میں مکمل بے جگری پیدا کریں کیونکہ اپنے سرگرم کارکنوں ہی کی دور کر سکتے ہیں جو ہماری راہ میں حائل ہوں گ

پروٹوکول

غیر یہود بھیڑوں کا ایک گل

صفحہ ۲۰۱

چکے ہیں۔ اب ہمارے ہاتھوں میں جو ہتھیار ہیں، وہ دراصل بے پایاں اور لامحدود امنگیں اور جذبات ہیں۔ جلتی ہوئی شعلہ فشاں حرص ہے۔ بے رحم اور شقی القلب انتقام ہے، نفرت ہے اور غیظ و غضب ہے۔

ہم ہی دراصل وہ سوتا ہیں، جہاں سے دہشت اور بربریت پھوٹتی ہے۔ ہماری غلامی میں ہر طبقہ فکر، ہر نظریہ کے افراد شامل ہیں۔ ان میں سوشلسٹ، کمیونسٹ، بے تاج و تخت سربراہان مملکت اور خواب دیکھنے والے ہر قسم کے افراد شامل ہیں۔ ہم نے ان تمام کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے تیار کیا ہے۔ آخر کون ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا پھرے گا کہ دیہات کے سکولوں میں کیا پڑھایا جاتا ہے؟ غیر یہود کے اداروں کو ہمیں اس وقت تک نہ چھیڑنا چاہئے جب تک کہ ہم اس قابل نہ ہو جائیں کہ حسن تدبیر اور سلیقے سے ان کو مکمل طور پر تباہ کر دیں اور اس طرح ان کی زندگی کے نظام کے سوتوں پر پوری طرح قابو نہ پا لیں۔ یہ سوتے جو بڑے منظم اور منضبط ہوتے ہیں، ہم نے ان کو پہلے ہی آزادی کے تصور سے خشک کرنے کی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ عدلیہ کے نظم و نسق میں ہمیں پہلے ہی دخل حاصل ہو چکا ہے۔ انتخابات میں، پریس میں اور شخصی آزادیوں میں، الغرض زندگی کے ہر اہم شعبہ میں ہم کو دخل حاصل ہے لیکن ہمارا خاص دخل تعلیم و تربیت میں ہے جو آزاد زندگی میں ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پروٹوکول —————— ۱۰

ہمارے لئے تمام چیزوں سے زیادہ اس بات کو اہمیت ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلح کریں اور اپنی صفوں میں مکمل بے جگری، قطعیت اور جوش و جذبہ کی ناقابل تسخیر قوت پیدا کریں کیونکہ اپنے سرگرم کارکنوں ہی کی وجہ سے، ان کی مدد سے ہی ہم ان تمام رکاوٹوں کو دور کر سکتے ہیں جو ہماری راہ میں حائل ہوں گی۔

پروٹوکول —————— ۱۱

غیر یہود بھیڑوں کا ایک گلہ ہیں اور ہم ان کے بھیڑیے۔ اور جب بھیڑیے

صفحہ ۲۰۲

بھیڑیوں کے گلے میں گھس جائیں تو جو کچھ ہوتا ہے اسے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

پروٹوکول ————— ۱۲

ہمارے اخبارات تمام ممکن صورتوں کا احاطہ کریں گے۔ ان میں حکومت اور امراء کے حامی، جمہوریت کے پرستار، انقلاب پسند، انارکسٹ، غرض ہر قسم کے اخبارات ہوں گے۔ بشرطیکہ ان سے ہمارے آئین کا وجود خطرے میں نہ پڑنے پائے۔ ہندو دیوتا وشنو کی طرح ان کے بھی سو ہاتھ ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک ہماری مرضی کے مطابق رائے عامہ کی ایک ایک دکھتی رگ پر انگلی رکھے گا۔ جب بھی لوگوں میں کسی قسم کا ہیجان پیدا ہو گا تو یہ ہاتھ رائے عامہ کی رہنمائی ہمارے مقاصد کی تکمیل کی سمت میں کریں گے۔ کیونکہ ایک ہیجان زدہ مریض ہر قسم کی قوت فیصلہ کھو بیٹھتا ہے اور آسانی سے دوسروں کے بھرے میں آ سکتا ہے۔ وہ احمق جو یہ سمجھیں گے کہ وہ اپنے ہی کیمپ کے کسی اخبار کا نقطہ نظر دہرا رہے ہیں، دراصل ہمارے ہی نقطہ نظر کی تکرار کر رہے ہوں گے یا ایسے نقطہ نظر کی تائید کر رہے ہوں گے جو ہمیں پسند ہو۔ بزعم خویش وہ اپنی پارٹی کے اخبار کی رائے پر چل رہے ہوں گے لیکن در حقیقت وہ اسی جھنڈے کے پیچھے چل رہے ہوں گے جو ہم نے ان کے لئے لہرایا ہو گا۔

ان دنوں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے خیالات کو اخذ کر کے ان کو ایسے معنی پہنائیں جو صریحاً "ہمارے حق میں ہوں۔ ضرورت اس بات کی نہیں کہ ان خیالات کو رد کر دیں یا جھٹلائیں۔ ہماری نظامت کا مرکزی مطمح نظر اسی میں مضمر ہے کہ ہم تنقید کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو یہاں تک بے بنیاد کر دیں کہ ان کے نتائج و اندازہ اخذ کرنے کی صلاحیت تک نہ رہے، جس کی بنیاد پر وہ کبھی ہمارے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں۔

مزید براں ان کے ذہن کی قوت کو بے راہ کر کے نعرے بازی کی جنگ میں جھونک دیں۔

اس طرح کے تنظیمی طریقے، جن کو عوامی آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی اور جن کا اثر بالکل یقینی ہوتا ہے، حکومت پر عوامی اعتماد پیدا کرنے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کا

بہترین ذریعہ ہیں۔ ان طریقوں کی کے بارے میں انتشار کا شکار بنا سکے الجھن میں ڈالنے کے لئے بھی یہ حاصل ہو گی کیونکہ ان کے پاس اب مکمل اور حتمی طور پر بیان کر سکیں

پروٹوک

عوام فطرتاً سرگر وہ کنارہ کش ہی رہنا چاہتے ہیں۔ حکومتوں کا مقابلہ کرنے میں وہ ہما نظر کہ مبادا لوگ اس بات کا اندا تماشے، تفریحات، بے لگام جذبات پریس کے ذریعہ آرٹ اور کھیلوں ہمیشہ کے لئے ان کی تو جہات کو ان ہوں گے۔ جب لوگ سوچنے سمجھ بات کرنا شروع کر دیں گے (یعنی وہ فکر کی نئی راہیں سمجھائیں گے۔ شک و شبہ سے بالا تر ہو۔

پروٹ

ہم اس وقت تک جو ہم غیر یہود حکومتوں کے ریاستی رہے ہیں، لوگوں کو اتنا تھکا ہوا اور

صفحہ ۲۰۳

جو کچھ ہوتا ہے اسے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

ول --------- ۱۲

تمام ممکن صورتوں کا احاطہ کریں گے۔ ان میں حکومت متاز، انقلاب پسند، انارکسٹ، غرض ہر قسم کے اخبارات تھیں کا وجود خطرے میں نہ پڑنے پائے۔ ہندو دیوتا وشنو اور ان میں سے ہر ایک ہماری مرضی کے مطابق رائے کے گا۔ جب بھی لوگوں میں کسی قسم کا ہیجان پیدا ہو گا تو مقاصد کی تکمیل کی سمت میں کریں گے۔ کیونکہ ایک کو پیٹتا ہے اور آسانی سے دوسروں کے بھرے میں آ کہ وہ اپنے ہی کیمپ کے کسی اخبار کا نقطہ نظر دہرا رہے یار کر رہے ہوں گے یا ایسے نقطہ نظر کی تائید کر رہے وہ اپنی پارٹی کے اخبار کی رائے پر چل رہے ہوں گے چھے چل رہے ہوں گے جو ہم نے ان کے لئے لہرایا

اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے خیالات کو اخذ کر ہمارے حق میں ہوں۔ ضرورت اس بات کی نہیں کہ اری نظامت کا مرکزی مطمح نظر اسی میں مضمر ہے کہ ہم ں تک بے بنیاد کر دیں کہ ان کے نتائج و اندازہ اخذ ی بنیاد پر وہ کبھی ہمارے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں۔ کر کے نعرے بازی کی جنگ میں جھونک دیں۔ طریقے، جن کو عوامی آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی اور جن امی اعتماد پیدا کرنے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کا

بہترین ذریعہ ہیں۔ ان طریقوں کی بدولت ضرورت پڑنے پر ہم عوامی ذہن کو سیاسی مسائل کے بارے میں انتشار کا شکار بنا سکیں گے اور مطمئن بھی کر سکیں گے اور کسی چیز پر ابھارنے یا الجھن میں ڈالنے کے لئے بھی یہ طریقے کام آئیں گے ...... ہمیں اپنے مخالفین پر یقینی فتح حاصل ہو گی کیونکہ ان کے پاس ایسے اخبارات نہیں ہوں گے جن میں وہ اپنے نظریات کو مکمل اور حتمی طور پر بیان کر سکیں۔

پروٹوکول --------- ۱۳

عوام فطرتاً سرگرم کار ہونا پسند نہیں کرتے۔ خصوصاً سیاسی سرگرمیوں سے وہ کنارہ کش ہی رہنا چاہتے ہیں۔ (اس چیز کی ہم نے خود انہیں تربیت دی ہے تاکہ غیر یہود حکومتوں کا مقابلہ کرنے میں وہ ہمارے ایک ذریعہ کا کام دے سکیں)۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ مبادا لوگ اس بات کا اندازہ کر لیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ہم ان کی توجہات کھیل، تماشے، تفریحات، بے لگام جذبات اور عوامی مجلات کی طرف پھیر دیں گے۔ پھر جلد ہی ہم پریس کے ذریعہ آرٹ اور کھیلوں کے مقابلہ کی تجویز پیش کریں گے۔ اس قسم کی دلچسپیاں ہمیشہ کے لئے ان کی توجہات کو ان مسائل سے ہٹا دیں گی، جن کی مخالفت کرنے پر ہم مجبور ہوں گے۔ جب لوگ سوچنے سمجھنے کی عادت سے عاری ہو جائیں گے تو ہماری ہی زبان میں بات کرنا شروع کر دیں گے (یعنی وہ وہی کہیں گے جو ہم چاہیں گے) کیونکہ صرف ہم ہی انہیں فکر کی نئی راہیں سمجھائیں گے۔ ظاہر ہے یہ کام ایسے افراد کے ذریعے ہو گا جن کی وفاداری شک و شبہ سے بالا تر ہو۔

پروٹوکول --------- ۱۴

ہم اس وقت تک مطمئن نہیں ہو سکتے جب تک نظام حکومت کی تبدیلیاں جو ہم غیر یہود حکومتوں کے ریاستی ڈھانچہ کو تباہ کرنے کے دوران انہیں مجبور کر کے لاتے رہے ہیں، لوگوں کو اتنا تھکا ہوا اور بیزار نہ بنا دیں کہ وہ ہمارے ماتحت رہ کر ہر مصیبت کو غیر

صفحہ ۲۰۴

P O L S K A

Wzór okładki do broszury "W szponach komunizmu".

Po Rosji i Hiszpanji - kolej na Polskę! Trzeba ją skąpać we krwi! Zostawić po niej ruiny i zgliszcza! Żyd już wiedzie kostuchę na żniwo do Polski! Baczmy na ten pochód i czuwajmy, bo gorze nam! Gorze!!!...

Nakl. "Samoobrona Narodu" Poznan Drukarnia Centralna Poznan

15. Frontispiece to a Polish edition. Poznan. 1937. The caption reads 'After Russia and Spain-it is Poland's turn! She must have a blood bath! Only ruins and cinders should remain! Already the Jew leads Death to her harvest in Poland! Let us watch this marching column and let us be awake, for woe to us! Woe!!!...'

یہود حکومت کے تحت برداشت کی ہو فلسفی اور مفکر غیر یہود کے مختلف مقا بھی ہمارے عقیدے کو اس کے صحیح اس کا صحیح اور مکمل علم ہمارے سوا کسی کبھی جرات نہیں کریں گے۔ جو ممالک نے ایک بے معنی گندہ، نفرت انگیز اور کچھ عرصہ ہم اس کے وجود کو باقی رکھیں میں ایک طرح کا سکون مہیا کرے جو ہما ذہین آدمی، جنہیں غیر یہود کے رہنما بن منصوبے، یادداشتیں اور مضامین تیار کریں لئے استعمال کریں گے، تاکہ وہ ہماری حاصل کریں جو ہمیں پسند ہو۔

پروٹوکول -

ہمارے قدیم فاضل رہنما انہوں نے کہا کہ ایک سنجیدہ مقصد حاصل ک کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ اور اس لئے کتنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں۔ اگرچہ سلسلے میں غیر یہود مویشیوں کی جتنی جانیں کام بھی ضرورت نہیں سمجھی اور اس کے عوض ہ ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس اس طرح ہماری قوم مکمل تباہی سے محفوظ و م

صفحہ ۲۰۵

یہود حکومت کے تحت برداشت کی ہوئی تکالیف اور بدامنی پر ترجیح نہ دینے لگیں۔ ہمارے فلسفی اور مفکر غیر یہود کے مختلف عقائد و افکار کی خامیوں پر بحث کریں گے لیکن کوئی شخص بھی ہمارے عقیدے کو اس کے صحیح نقطہ نظر اور پس منظر میں زیر بحث نہیں لائے گا کیونکہ اس کا صحیح اور مکمل علم ہمارے سوا کسی کو نہیں ہوگا۔ اور ہم اس کے اسرار کو ظاہر کرنے کی کبھی جرات نہیں کریں گے۔ جو ممالک ترقی یافتہ اور روشن خیال سمجھے جاتے ہیں، ان میں ہم نے ایک بے معنی، گندہ، نفرت انگیز اور فحش لٹریچر پیدا کر دیا ہے۔ برسر اقتدار آنے کے بعد کچھ عرصہ ہم اس کے وجود کو باقی رکھیں گے تاکہ وہ ان تقاریر اور پارٹی پروگرام کے مقابلے میں ایک طرح کا سکون مہیا کرے جو ہمارے بلند و بالا ایوانوں سے جاری کیا جائے گا۔ ہمارے ذہین آدمی، جنہیں غیر یہود کے رہنما بننے کی خصوصی تربیت دی جائے گی، ایسی تقریریں، منصوبے، یادداشتیں اور مضامین تیار کریں گے جنہیں ہم غیر یہود کے اذہان کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کریں گے، تاکہ وہ ہماری متعین کردہ فکری راہوں پر چلیں اور صرف ایسا علم حاصل کریں جو ہمیں پسند ہو۔

پروٹوکول ——— ۱۵

ہمارے قدیم فاضل رہنماؤں نے اس وقت کتنی دور بینی کا ثبوت دیا جب انہوں نے کہا کہ ایک سنجیدہ مقصد حاصل کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے ذرائع استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ اور اس بات کی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہ اس کے لئے کتنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں۔ اگرچہ ہم نے خود بھی بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن اس سلسلے میں غیر یہود مویشیوں کی جتنی جانیں کام آئی ہیں، ہم نے ان کی تعداد کا حساب کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور اس کے عوض ہم نے دنیا میں اپنے شہیدوں کو وہ پوزیشن دلا دی ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس جدوجہد میں ہمارا نقصان نسبتاً کم ہوا ہے لیکن اس طرح ہماری قوم مکمل تباہی سے محفوظ و مصون رہی ہے۔

صفحہ ۲۰۶

پروٹوکول — ۴

ہمیں غیر یہود کے نظام تعلیم میں ان تمام اصولوں کو متعارف کرانا چاہئے، جنہوں نے بڑی کامیابی سے ان کے نظم و نسق کے پرزے ڈھیلے کر دیئے۔ لیکن جس وقت ہم خود اقتدار پر قابض ہو جائیں گے، اس وقت ہم نصاب تعلیم سے اس قسم کے ہر مضمون کو خارج کر دیں گے اور نوجوانوں کو اقتدار کے ایسے مطیع اور فرماں بردار بچے بنا دیں گے جو حکمران سے امن و سلامتی کا محافظ اور اپنی امیدوں کا مرکز سمجھ کر محبت کریں۔

— — —

صفحہ ۲۰۷

شاعر مشرق علامہ اقبال کی نظم سے کچھ اشعار

ابلیس کی مجلس شوریٰ

(ابلیس کے مشیر)

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبع مشرق کے لئے موزوں یہی افیون تھی ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید؟ ہے جہاد اس دور میں مرد مسلمان پہ حرام!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو ہے وہ سلطان غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر!

(ابلیس اپنے مشیروں سے)

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ کرتے ہیں اشک سحرگاہی سے جو ظالم وضو!
جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ایام ہے مزدکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے!
جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآن نہیں ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں
الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لئے نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشین
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امین
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب بادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمین!
چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئین تو خوب یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں
صفحہ ۲۰۸

باب دہم

جدید صیہونیت اور یہودی ریاست

”خون اور آگ میں یہودیہ کا خاتمہ ہوا اور خون اور آگ میں ہی اس کا دوبارہ قیام ہو گا۔“ (یہودی نعرہ)

”قومیتیں معدوم ہونی چاہیں۔ مذہب دبایا جانا چاہیے۔ لیکن اسرائیل کو معدوم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک چھوٹی سی قوم خدا کی برگزیدہ ہے۔“

(Archives Israelites, November 21, 1861.)

شہر یروشلم دو متوازی پہاڑیوں اور ان کی درمیانی وادی پر آباد ہے۔ ان میں سے مغربی پہاڑی کا نام صیون ہے جس پر حضرت داؤدؑ کا مزار ہے۔

ایک کٹر عیسائی مملکت کی حیثیت سے روس میں یہودیوں کی ایذاء رسانی کو ہمیشہ سے سرکاری سرپرستی حاصل رہی تھی جیسا کہ زار ایواں چہارم کے ۱۵۷۷ء کے اس مشہور فرمان سے ظاہر ہے جس کے مطابق ”جو یہودی بپتسمہ لینے پر رضامند ہوں انہیں بپتسمہ دے دیا جائے اور باقی کو غرق کر دیا جائے۔“ تب سے وہاں وقتاً فوقتاً یہودیوں کے قتل عام (Pogroms) کے واقعات ہوتے رہتے تھے۔ اکثر نعرہ لگتا تھا ”Zid Idyot“ (خبردار! یہودی حرکت میں ہے) اور اس کے ساتھ ہی یہودیوں کے قتل عام Pogroms کی لہر اٹھتی تھی۔

نپولین بوناپارٹ عیسائی دنیا کا پہلا حکمران تھا جس نے اپنے آئین کے تحت یہودیوں کو باضابطہ طور پر انسانی حقوق دیئے اور ۱۵ فروری ۱۷۹۸ء کو اس نے پوپ کی نگری اٹلی

صفحہ ۲۰۹

میں یہودیوں کو ”ذلت کا لباس“ اتار پھینکنے کا حکم دیا جو وہ ۱۲۱۵ء میں کلیسا کی لیٹرن کونسل کے بعد سے پہن رہے تھے۔ اس بات کا بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ نپولین ۱۷۹۸ء میں مسلمان ہو گیا تھا اور اس کا اسلامی نام علی نپولین بوناپارٹ تھا۔ Bonaparte et l' Islam میں اس کے مندرجہ ذیل الفاظ سے اس کے اسلام کے متعلق گہرے شعور اور جذبات کا اظہار ہوتا ہے :”مجھے امید ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمام ممالک کے تعلیم یافتہ اور دانا لوگوں کو متحد کرنے کے قابل ہوں گا اور قرآن کے ان اصولوں پر مبنی ایک یکساں نظام حکومت قائم کروں گا جو واحد حقیقی اصول ہیں اور صرف وہی انسان کو فلاح کی طرف لیجاسکتے ہیں ...... عیسائیت صرف غلامی اور چاکری کا درس دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔“

اس کے بعد ۳۰ اپریل ۱۸۰۶ء کو کونسل آف سٹیٹ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے اس نے یہودیوں کے سودی نظام کے بارے میں کہا: ”چونکہ عوام کی بہبود خطرے میں ہے اس لیے ہر جگہ قانون سازی ہونی چاہیے۔ جس طرح ایک مکروہ قوم فرانس کے تمام صوبوں پر قابض ہو رہی ہے اس سے حکومت لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ یہودیوں کے ساتھ ایک خصوصی قوم کی حیثیت سے ہی برتاؤ ہو سکتا ہے۔ وہ حکومت کے اندر ایک حکومت ہیں۔ یہودی عہد حاضر کے ڈاکوؤں کے استاد ہیں اور مردار خور پرندے ہیں۔ ان کے ساتھ سیاسی انصاف ہونا چاہیے نہ کہ شہری انصاف۔ وہ حقیقی شہری نہیں ہیں۔“

پچھلی صدی کے وسط میں عیسائی دنیا میں یورپ کے ”مرد بیمار“ یعنی سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشیں اور صہیونی تحریک ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ ۱۷ اگست ۱۹۴۰ء کو لندن کے اخبار The Times میں ایک اداریہ چھپا جس میں اس منصوبے کی سفارش کی گئی تھی کہ ”یہودیوں کو ان کے آباؤ اجداد کی سرزمین میں آباد کر دیا جائے“

(To plant the Jewish people in the land of their fathers)

لارڈ ہنری پامرسٹون‘ لارڈ انتھونی ایشلے‘ لارڈ بیکنزفیلڈ‘ فلسطین میں امریکی کونسل میجر فن اور وہاں برطانوی کونسل لارڈ اولیفنٹ اس منصوبے کے بڑے حمایتی تھے۔ مغربی سیاستدانوں کو اس منصوبے میں اپنے کئی قسم کے مفادات نظر آتے تھے مثلاً ”نہر سویز پر برطانوی قبضے کا دفاع‘ ایشیائی نو آبادیوں خصوصاً ”ہندوستان کیلئے زمینی راستہ اور ان کا دفاع وغیرہ۔

صفحہ ۲۱۰

۱۸۶۲ء میں جرمنی کے ایک یہودی موسیٰ ہس Moses Hess نے صیہونیت کے متعلق اپنی ہیجان خیز کتاب بعنوان Rome and Jerusalem لکھ کر جدید صیہونیت کی اساس ڈالی۔ برطانوی مشہور ناول نگار خاتون جارج ایلیٹ نے جس کا اصلی نام میریان ایوانز تھا اپنے ناول Daniel Doronda میں صیہونیت کا پرچار کیا۔

۱۸۸۱ء میں زار روس الیگزینڈر دوم کے یہودیوں کے ہاتھوں خفیہ قتل کے بعد روس میں یہودیوں کی نسل کشی (Pograms) کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا اور دو سال کے دوران ۲۲۴ ایسے واقعات ہوئے۔ ۱۸۸۲ء میں روس کے جنوبی شہر اوڈیسہ (جہاں یہودیوں کی کثیر تعداد آباد تھی) کے یہودی لیڈر لیو پنسکر Leo Pinsker نے یہودیوں کی فلسطین میں آباد کاری اور وطن کے قیام کیلئے اپنا مشہور کتابچہ Auto-Emancipation شائع کیا۔

خار قوف (Kharkov) یونیورسٹی یہودیوں کا ایک بہت بڑا گڑھ تھی۔ اس کے پچیس یہودی طلبہ نے ”محبان صیون“ کے نام سے ایک تنظیم بنائی اور تقریباً پانچ سو یہودیوں کو روس سے نقل مکانی پر آمادہ کر کے ۱۸۸۲ء میں جافہ (فلسطین) میں ”اولین صیون“ کے نام سے ان کی بستی بنادی۔

۱۸۹۵ء میں فرانس میں مشہور ”واقعہ ڈریفس“ (Dreyfus Affair) ہوا جس میں فرانس کی فوج کے ایک یہودی کیپٹن الفریڈ ڈریفس (Alfred Dreyfus) پر جرمنوں کو خفیہ کاغذات مہیا کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا۔ اس واقعہ سے متاثر ہو کر ویانا کے ایک یہودی صحافی تھیوڈور ہرزل (Theodor Herzl) نے ۱۸۹۶ء میں اپنی مشہور کتاب ”یہودی ریاست“ (Der Judenstaat) جرمن زبان میں شائع کی جس کا فوری طور پر انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں ترجمہ شائع ہوا، جس سے صیہونیت کے پہلے مرحلے یعنی ”سیاسی صیہونیت“ کی چارٹر پالیسی کی بنیاد پر ابتدا ہوئی۔ اپنی اس تصنیف میں ہرزل نے اپنی قوم کی چار ہزار سالہ خدا اور اس کے انبیاء کی لعنتوں سے بھرپور تاریخ کے شایان شان الفاظ میں صیہونی ریاست کے مقصد کے متعلق لکھا: ”بربریت کے درمیان تہذیب کی ایک بیرونی چوکی (اسرائیل) قائم کرنا“

(Cited in 'The Gun and Olive Branch' by Herst, p.15)

صفحہ ۲۱۱

سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں ۲۷ تا ۲۹ اگست ۱۸۹۷ء کو ”پہلی صہیونی کانگرس“ ڈاکٹر ہرزل کی سرکردگی میں منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر سے یہودیوں کے ۲۰۴ مندوب شریک ہوئے۔ اس کانگرس کا مقصد فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک وطن کا قیام تھا اور اس کے لئے اس نے مندرجہ ذیل لائحہ عمل کا اعلان کیا۔

مختلف ممالک کے قوانین کو مد نظر رکھ کر مقامی اور بین الاقوامی حیثیتوں میں از سر نو منظم کرنا۔

چنانچہ ”یہودی ریاست“ کے ”بابائے قوم“ تھیوڈور ہرزل نے ۳ ستمبر ۱۸۹۷ء کو اپنی ڈائری میں لکھا ”باسل میں میں نے یہودی ریاست کی بنیاد رکھی“۔ اس پہلی خفیہ صہیونی کانگرس کی کارروائی کا جو خلاصہ کرسٹوفر سائکس نے اپنی Roads to Israel Cross کے صفحہ ۱۵ پر دیا ہے وہ صہیونی ارباب دانش کے پروٹوکولز کے عین مطابق ہے۔

۱۹۰۳ء میں روس کے طول و عرض میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل و غارت کی ایک اور لہر اٹھی اور اسی دوران کشی نوف (Kishinev) کے شہر میں ستالیس یہودی قتل ہوئے اور تقریباً چھ سو زخمی۔ یوں تو جو کچھ ہوا وہ صدیوں سے روزمرہ کا صلیبی و صہیونی معمول تھا جس کے متعلق ایک مغربی مورخ نے لکھا ہے کہ عیسائی دنیا میں یہودی باڑے ”اکثر و بیشتر مذہب‘ دولت اور عورت کی وجہ سے ارد گرد کے عیسائیوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔“ لیکن یہودی شاعر بیالک (H.N. Bialik) نے اسے اپنی ”شہر قصابت میں“ (In the City of Slaughter) کے عنوان سے شعلہ بیان نظم سے دائمی شہرت بخشی۔ اس نظم میں یہودی شاعر کمال شاعرانہ منظر نگاری سے کام لیتے ہوئے بتاتا ہے کہ کس طرح جب صلیب پرست گدھوں کی طرح یہودی عورتوں کے اوپر کود رہے تھے تو ان یہودی عورتوں کے بھائی‘ باپ اور خاوند کتوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور چوہوں کی طرح بستروں کے نیچے اور ڈرموں وغیرہ کے پیچھے سے چھپ کر دیکھ رہے تھے۔

صفحہ ۲۱۲

اکتوبر ۱۹۰۵ء میں روس میں پھر یہودیوں کے ۶۹۰ قتل عام Pogroms ہوئے

ہرزل نے برطانوی سیاستدانوں کی وساطت سے ترتیب دی گئی سلطان عبدالحمید سے ملاقات میں پہلے خود اور اس کے بعد سلطان کے دوست جرمنی کے قیصر ولیم دوم کے ذریعے سلطان کو اس بات پر راضی کرنے کی بہت کوششیں کیں کہ وہ یہودیوں کیلئے فلسطین میں وطن کے قیام کی اجازت دیدے، جس کے بدلے سلطان کو کئی قسم کی فنی و اقتصادی ترغیبات بھی دی گئیں۔ لیکن سلطان عبدالحمید نے اس بارے میں ہمیشہ سختی سے انکار کر دیا۔ اسی دوران مغربی استعماری طاقتوں میں ”یورپ کے مرد بیمار“ یعنی سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے اس کے بٹوارے کے متعلق کئی خفیہ معاہدے بھی ہوئے جن میں سب سے اہم Sykes-Picot Agreement (۱۶ مئی ۱۹۱۶ء) ہے، جسے انقلاب روس کے بعد اشتراکیوں نے افشاء کیا۔ اس معاہدے کے تحت فرانس کو شام و لبنان، برطانیہ کو عراق، فلسطین، کویت وغیرہ اور روس کو مشرقی ترکی کے کافی سارے علاقے ملنے تھے۔ یہ معاہدہ پچھلی صدی سے جاری سلطنت عثمانیہ کے خلاف مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کی حتمی شکل اور بین الاقوامی سطح پر منافقت اور دوغلے پن کا شاہکار ہے۔

انیسویں صدی کے دوران جہاں ایک طرف فرانس سلطنت عثمانیہ کے شمالی افریقہ میں مراکش، تیونس اور الجزائر پر مشتمل علاقوں پر قابض ہو چکا تھا تو دوسری طرف برطانیہ نے سلطنت عثمانیہ کہ خود مختار صوبہ مصر کے خدیو کی مالی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہر سویز پر اپنا قبضہ جما لیا تھا اور مصر کو اپنی عملداری میں شامل کر لیا تھا۔

سلطنت عثمانیہ میں یہودیوں کی بڑی تعداد اس زمانے سے آکر آباد تھی جب عیسائی دنیا میں ان کے لئے کتوں جیسی زندگی بھی محال تھی۔ غالباً انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ سلطنت عثمانیہ اب اندر سے کھوکھلی عمارت ہے اور شاید وہ اسے کھوکھلا کرنے میں اپنا کردار ادا بھی کر چکے تھے۔ بہرحال یہودیوں نے دونمہ اور فری میسن (Free Masons) وغیرہ جیسی تنظیموں کے ذریعے اپنی سازشیں تیز تر کر دیں۔ ترک نوجوانوں کی ”انجمن اتحاد و ترقی“ میں نقب لگائی اور ۱۹۰۸ء میں انقلاب کے ذریعے سلطان عبدالحمید کی حکومت کا تختہ الٹنے میں

صفحہ ۲۱۳

کامیاب ہو گئے۔ حاخام قرہ صو آفندی ان تین آدمیوں میں سے ایک تھا جو سلطان کے پاس اس کی معزولی کا پروانہ لے کر پہنچے۔ اس انقلاب کے بعد ترکی میں جو کابینہ بنی‘ اس کے تین انتہائی اہم وزیر یہودی تھے۔ (۱) بصاریہ آفندی وزیر تعمیرات (جو کہ رومانیہ کا یہودی اور ایک صیہونی اخبار کا ایڈیٹر تھا)۔ (۲) جاوید بے وزیر خزانہ اور (۳) نسیم مزلک وزیر تجارت۔ انہوں نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور یہودیوں کو بہترین اور انتہائی زرخیز سرکاری زمین سستے داموں فروخت کی۔

سر جیرارڈ لاوتھر کے خفیہ مراسلہ مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۱۰ء بنام سر چارلس ہارڈنگ سے اقتباسات: ”جیسا کہ آپ کو خبر ہے پیرس کی Young Turks تحریک (اسی نام کی) سیلونیکا کی تحریک سے کافی مختلف اور اس کی اندرونی کارروائیوں سے لاعلمی میں تھی۔ موخرالذکر (یعنی سلطنت عثمانیہ کا بلقان کے علاقے کا شہر سیلونیکا) کی آبادی ایک لاکھ چالیس ہزار ہے جس میں سے اسی ہزار ہسپانوی یہودی ہیں اور بیس ہزار سبطائی زیوی فرقہ کے یعنی یعنی مخفی یہودی جو ظاہراً اسلام کے پیروکار ہیں۔ اول الذکر میں سے کثیر تعداد نے اطالوی قومیت اختیار کر لی ہے اور اطالوی لاجز (Lodges) سے منسلک فری میسنز (Free masons) ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سیلونیکا کی تحریک کے روح رواں یہودی ہیں (اتاترک کا تعلق بھی سیلونیکا سے تھا) جبکہ ”حریت“ ”مساوات“ اور ”اخوت“ کے الفاظ جو Young Turks کا نعرہ تھا‘ اٹلی کے فری میسنز کی اختراع ہیں۔۔۔۔۔۔ جولائی ۱۹۰۸ء میں انقلاب کے فوراً بعد جب استنبول میں کمیٹی کا قیام ہوا تو جلد ہی پتہ چل گیا کہ اس کے کئی سرکردہ ارکان فری میسنز ہیں۔۔۔۔۔ یہ دیکھا گیا کہ ہر رنگ کے یہودی‘ ملکی و غیر ملکی‘ نئے بندوبست کے بڑے سرگرم حمایتی تھے۔ حتیٰ کہ‘ جیسے ایک ترک نے کہا‘ ہر یہودی خفیہ بلقان کمیٹی کا ممکنہ جاسوس بن گیا۔ اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تحریک ایک یہودی نہ کہ ترک انقلاب تھا۔۔۔۔۔“

”The Young Turk Movement کی ابتدا سیلونیکا کی میسنز لاجز Masonic Lodges میں اٹلی کی گرینڈ اورینٹ کے زیر نگرانی ہوئی جو بعد میں مصطفےٰ کمال کی کامیابی میں معاون ہوئی“

(Secret Societies and Subversive Movements by

صفحہ ۲۱۴

Nesta H.Webster, London 1928 : p.284)

ایک اور مصنف لارڈ کنروس (Kinross) اپنی کتاب

ATATURK, The Rebirth of a Nation, London 1965, p.45

میں انکشاف کرتا ہے : ”بچپن سے ہی اپنی ماں کے عقائد اور عبادات سے رد عمل سے وہ لاشعوری طور پر ایک خدا کے وجود سے تشکیک میں مبتلا ہو رہا تھا۔ اب اس کا (تشکیک کا) عقیدہ شعوری اور جنگجویانہ تھا۔ اور اس میں فتحی (Fethi) اس کا شریک تھا، جو اس کا شروع سے ساتھی تھا اور جس کی تشکیک پر فری میسن سے منسلک ہونے کی وجہ سے مہر ثبت تھی۔ لیکن دونوں نے اس کا اعتراف کبھی نہ کیا، سوائے آپس میں ایک دوسرے سے۔“

استنبول میں مسیح دجال کے اس انقلاب کی پیشین گوئی صحیح مسلم میں دی گئی ایک حدیث میں ہے، جبکہ اس کے چھ سال بعد جنگ عظیم کی پیشین گوئی مشکوٰۃ مصابیح کی دوسری حدیث میں ہے۔

ادھر ۱۹۰۴ء میں تھیوڈور ہرزل کی موت کے بعد ہائم ویزمین (Wiezmann Chaim) کی قیادت میں ”سیاسی صہیونیت“ کی بجائے ”عملی صہیونیت“ کی پالیسی شروع کی جس کا مطلب تھا چارٹر یعنی مختلف فرمانرواؤں کے منشور کا انتظار کئے بغیر فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری۔ اسی دوران یہودی، جرمنی اور برطانیہ سے سودے بازی میں مصروف تھے اور ترکی کو تباہ کرنے کے لئے عرب علاقوں میں برطانیہ اور ان کی ریشہ دوانیاں جاری تھیں۔ ایک طرف سلطنت عثمانیہ میں آباد یہودیوں نے ”انجمن اتحاد و ترقی“ اور اس طرح کی دوسری تنظیمیں قائم کراکے ان میں اپنے اثر و رسوخ سے ترکوں کو یہ سبق پڑھایا کہ خلافت عثمانیہ کی بنیاد اسلام نہیں بلکہ ”ترک قومیت“ ہے جبکہ وسیع سلطنت عثمانیہ میں صرف ترک ہی نہیں بلکہ کرد، عرب اور کئی دوسری قومیں شامل تھیں۔ دوسری طرف عربوں کو عرب علاقوں میں آباد عیسائیوں کے ذریعہ عرب قومیت کا سبق پڑھایا اور انہیں اس بات پر اکسایا کہ خلافت عثمانیہ کے تحت ترکوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کریں۔ اس فتنے کا مرکز بیروت کی امریکن یونیورسٹی تھی۔ بہرحال دشمن کا کام تو چال چلنا ہوتا ہے لیکن اس کی چال اسی صورت میں کارگر ہوتی ہے، جب اپنے اندر کمزوری آگئی ہو۔ قومیت کے اس فتنے کے متعلق

صفحہ ۲۱۵

اقبال کہہ گئے ہیں۔ع

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن ہے اس کا وہ مذہب کا کفن ہے

ترکی کے نوجوانوں کی یہ ”انجمن اتحاد و ترقی“ یہودیوں کی پر اسرار اور بدنام زمانہ تنظیم ”فری میسن لاج“ کے خطوط پر قائم تھی اور مصطفیٰ کمال بھی اس کے ممبر تھے، جنہوں نے بعد میں ترکی کا اتاترک اور مختار کل بن کر وہاں کی درسگاہوں میں قرآن کی تعلیم کی ممانعت کی۔ عربی کی بجائے رومی رسم الخط رائج کیا۔ روایتی ترکی لباس کی ممانعت کر کے یورپی لباس لازمی قرار دیا اور اس طرح کی دوسری بہت سی ”اصلاحات“ کر کے اپنے ملک کا اس کے ماضی کے شاندار اسلامی ورثے سے رشتہ یکسر کاٹ دیا۔ نتیجہ ترکی کئی سالوں سے یورپ کی مشترکہ منڈی (European Common Market) میں داخلے کے لئے کوشاں ہے اور تاحال برابر دھتکارا جا رہا ہے۔ع

نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اس کی کہ روح مشرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

اسی زمانے میں عرب دنیا میں ایڈورڈ ٹامس لارنس (لارنس آف عریبیہ) نمودار ہوا جس نے عربی زبان اور عربوں کی وضع قطع اختیار کر کے انہیں بے وقوف بنایا۔ اس نے انہیں عربی قومیت کا درس دے کر عربوں اور ترکوں کے درمیان نفرت کی ایک خلیج حائل کر دی اور 8 جون 1916ء کو فلسطین سے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت ہو گئی جس کے باعث دو سال میں ترکی کو عرب علاقوں سے دست بردار ہونا پڑا۔ یہ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ اتحادی فوجوں کا ایک اعلیٰ فوجی مبصر کپتان ارل ہارٹ اس بارے میں لکھتا ہے: ”چوتھی ترک فوج کو جو اس وقت بھی دشمن کو تباہ کرنے اور ہماری فتح کی راہ روکنے میں موثر حیثیت رکھتی تھی، عربوں ہی نے ناکارہ بنایا“۔

دوسری طرف یہودیوں نے جرمنی سے سودا کرنے کی کوشش کی جہاں وہ اس زمانے میں اتنے ہی موثر تھے جتنے آج کل امریکہ میں۔ لیکن چونکہ جرمنی پہلی جنگ عظیم میں ترکی کا حلیف تھا اس لئے قیصر ولیم دوم فلسطین میں یہودیوں کا وطن قائم کرنے کی یقین دہانی نہ کرا سکا، جس پر صیہونی تحریک کے صدر ڈاکٹر ہائم ویزمین نے جو اس زمانے میں مانچسٹر یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر تھا، برطانیہ کو مصنوعی Acetone، جو بارود بنانے میں استعمال

صفحہ ۲۱۶

ہوتا ہے، کے متعلق کیمیائی راز مہیا کرنے کے بدلے برطانیہ سے یہ یقین دہانی حاصل کر لی۔ برطانیہ کو ان کیمیائی رازوں کی وجہ سے پہلی جنگ عظیم میں اپنے اخراجات تقریباً ۲۵ فیصد کم کرنے اور برتری حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی۔

۲۱ نومبر ۱۹۱۷ء کو برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے مشہور یہودی سرمایہ دار اور بینکار لارڈ روتھ شیلڈ کے نام خط کی شکل میں ”اعلان بالفور“ جاری کیا، جس میں سلطنت برطانیہ کی طرف سے فلسطین میں یہودی وطن قائم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۷ء کو لوئس مارشل، امریکی یہودی بنک کھن لب اینڈ کمپنی کے قانونی نمائندے، نے ایک دوسرے مشہور صہیونی لیڈر میکس سینٹر کو یوں لکھا ”برٹش لیگ آف جیوز کے میجر لیونل ڈی روتھ شیلڈ نے مجھے مطلع کیا ہے کہ ”اس کی تنظیم اور امریکن جیوش کمیٹی باہم رضامند ہیں۔ اعلان بالفور طاقتوں سے قبولیت کی وجہ سے انتہائی اونچے درجے کی ڈپلومیسی کا کام ہے۔ صیہونیت تو ایک انتہائی دور رس منصوبے کا محض ایک ضمنی واقعہ ہے۔ یہ تو صرف ایک کیل سی کھونٹی ہے جس پر ایک طاقتور ہتھیار لٹکایا جاتا ہے۔“

جس طویل المیعاد منصوبے کا یہاں ذکر ہے یہ وہ منصوبہ ہے جس کے تحت بین الاقوامی سرمایہ کار تمام دنیا کی دولت، قدرتی وسائل اور افرادی قوت پر بلا شرکت غیرے کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی جرنیل ارل ایلنبی اپنی فتح کے بعد ۱۱؍ دسمبر ۱۹۱۷ء کو اپنی فوجی وردی میں برہنہ پا و برہنہ سر بیت المقدس میں داخل ہوا اور اعلان کیا: ”اے خدایا، اے مقدس مسیح صلیبی جنگوں کا خاتمہ تمہاری تکریم سے ہو گیا ہے۔“ اور اس کے ساتھ ہی حضرت عیسیٰؑ کی زندگی اور انتقال سے منسوب شہر اور سرزمین مسلمانوں سے چھین کر اس قوم کے سپرد کرنے کا عمل شروع ہو گیا جس کی مقدس ترین کتاب (تلمود) حضرت عیسیٰؑ اور ان کی عظیم والدہ مطہرہ کے متعلق ایسے غلیظ الفاظ سے بھری پڑی ہے جو ایک مسلمان کیلئے نقل کرنے بھی محال ہیں۔ جس وقت ایک کافر مندرجہ بالا اعلان کر رہا تھا تو اس پر ساری عیسائی دنیا میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے تھے کہ ہم نے مسلمانوں سے ارض مقدس ۸۳۰ سال بعد دوبارہ حاصل کر لیا۔ جس کافر نے مندرجہ بالا اعلان کیا وہ تو جہنم کا ایندھن بن چکا اور جس سلطنت کے

نمائندے کی حیثیت سے اس نے ہوتا تھا، جبکہ اب اس سلطنت پر جنگوں کے خاتمے کا تعلق ہے اس کائنات میں سورج ایک ذرے ۔ ایک دن کے برابر نہیں، اس بارے چاہے پچاس سال بعد دے۔ لیکن فیصلہ آنا اٹل بات ہے۔

جنگ عظیم

میں آباد تھے لیکن اعلان بالفور ۔ یہودی فلسطین میں پہنچ کر آباد ہو دوسری جنگ عظیم کے درمیانی گزینی کا پروگرام (Aliyah) عرب آبادی زمینوں اور منڈیوں مجلس اقوام (e of Nations) ہوئے بڑی ڈھٹائی سے یہ ہدایت بنانے کے لئے ہر طرح سہولتیں میں شریک کرے۔ اور اس کے پہنائے۔ اس کے ساتھ وہاں کے کے مذہبی اور شہری حقوق کا تحفظ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ برطانوی ہربرٹ سیموئیل فلسطین پہنچا تو کار لانے کے لئے میں آیا ہوں جب وہ گھڑی آپہنچے۔ خواہ کچھ آبادی) کا غلبہ خود فلسطین میں

صفحہ ۲۱۷

نمائندے کی حیثیت سے اس نے یہ اعلان کیا کہ اس پر اس زمانے میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، جبکہ اب اس سلطنت پر سورج طلوع ہی کبھی کبھار ہوتا ہے۔ اور جہاں تک صلیبی جنگوں کے خاتمے کا تعلق ہے اس بارے میں اس ہستی کا فیصلہ کب آتا ہے جس کی خلقت و کائنات میں سورج ایک ذرے کے برابر نہیں اور جس کی تقویم میں ہمارے ایک ہزار سال ایک دن کے برابر نہیں، اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ چاہے اپنا فیصلہ کل دیدے چاہے پچاس سال بعد دے۔ لیکن اس بارے میں صرف کفار کو ہی شک ہو سکتا ہے کہ اس کا فیصلہ آنا اٹل بات ہے۔

جنگ عظیم اول کے دوران ۵۶۰۰۰ یہودی فلسطین میں چند منتشر دیہات میں آباد تھے لیکن اعلان بالفور کے ساتھ ہی ایک سیلاب امڈ آیا اور دنیا کے کونے کونے سے یہودی فلسطین میں پہنچ کر آباد ہونا شروع ہو گئے۔ ”عملی صہیونیت“ کی پالیسی کے تحت پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصہ میں تیسری، چوتھی اور پانچویں ”عالیہ“ (یہودی وطن گزینی کا پروگرام Aliyah) کے مطابق تقریباً دو لاکھ یہودی فلسطین میں لا کر آباد کئے گئے۔ عرب آبادی زمینوں اور منڈیوں سے دھڑا دھڑ بے دخل کی جانے لگی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد مجلس اقوام (League of Nations) نے برطانیہ کو ان علاقوں پر انتداب کا پروانہ دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے یہ ہدایت کی کہ اس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ فلسطین کو یہود کا قومی وطن بنانے کے لئے ہر طرح سہولتیں بہم پہنچائے۔ صہیونی تنظیم کو باقاعدہ تسلیم کر کے نظم و نسق میں شریک کرے۔ اور اس کے مشورے اور تعاون سے یہودی قومی وطن کی تجویز کو عملی جامہ پہنائے۔ اس کے ساتھ وہاں کے قدیم اور اصلی باشندوں کی اشک شوئی کے لئے یہ کہا گیا کہ ان کے مذہبی اور شہری حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ مسلمانوں کو بعد میں پتہ چلا کہ اس میں سیاسی حقوق کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ برطانوی انتداب کے تحت جب یہودی النسل برطانوی ہائی کمشنر سر ہربرٹ سیموئیل فلسطین پہنچا تو اس نے واضح اعلان کیا کہ ”شاہ برطانیہ کی جس پالیسی کو بروئے کار لانے کے لئے میں آیا ہوں، وہ یہودیوں کی در آمد کی اس وقت تک حوصلہ افزائی کرتی ہے جب وہ گھڑی آ پہنچے۔ خواہ پچاس سال میں آئے یا سو سال میں کہ جب ان کے مفاد (اور آبادی) کا غلبہ خود فلسطین میں یہودی حکومت کے قیام کا مطالبہ کردے“۔

صفحہ ۲۱۸

اس مقصد کے لئے ایک طرف یہودی آباد کاروں کو قرضوں اور دوسری سہولتوں سے نوازا گیا اور دوسری طرف صدیوں سے آباد عربوں پر بھاری ٹیکس عائد کئے گئے اور ٹیکسوں کے بقایا جات کی آڑ میں ان کی زمینیں ضبط کر کے یہودی نو آباد کاروں کو کہیں مفت اور کہیں برائے نام پٹے پر دی جانے لگیں۔ بعض مقامات پر کسی بہانے سے پورے عرب دیہات صاف کر کے وہاں یہودی بستیاں بسائی گئیں۔

اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے اپنی ”عملی صہیونیت“ کی پالیسی کو ”جنگجویانہ صہیونیت“ (Militant Zionism) میں تبدیل کر کے کئی ایک مسلح دہشت گرد تنظیمیں تشکیل دیں جن میں ہگانہ (Haganah یعنی دفاع)‘ ارگون (قومی فوجی تنظیم) اور سٹرن (اسرائیل کے مجاہدین آزادی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انگریزی اور یہودی پریس نے عرب مزاحمت کی تحریک کے رہنماؤں کے خلاف سخت حملے شروع کر دیئے۔ مسلم اوقاف اور عدالتوں کے محکمہ کو ختم کر دیا گیا۔ تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور جلاوطنی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دو سال کے عرصہ میں چھ ہزار عرب شہید اور اس سے دوگنی تعداد میں مجروح ہوئے۔ پچاس ہزار عربوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں جوان‘ بوڑھے‘ علمائے دین‘ سبھی شامل تھے۔ ایک سو اسی عربوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ برطانیہ نے نئے ووڈ ہیڈ کمیشن کے ذریعے عربوں کو طفل تسلیاں دیں۔ اسی دوران دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی تو برطانیہ نے ع ”خود خنجر کے دل میں ہو پیدا ذوق خنجری“ کے لئے قرطاس ابیض جاری کیا جس کے تحت یہودیوں کی مزید درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی اور عربوں نے برطانیہ سے تعاون پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے برعکس یہودیوں کے نئے ابھرتے ہوئے لیڈر بن گوریان نے اپنی قوم کو یہ فارمولا دیا کہ ”ہمیں برطانیہ کی اس جنگ میں اس طرح مدد کرنی چاہئے جیسے کوئی قرطاس ابیض نہیں ہے اور ہمیں قرطاس ابیض کے خلاف اس طرح لڑنا چاہئے جیسے کوئی (عالمی) جنگ نہیں ہو رہی“۔ مئی ۱۹۴۲ء میں نیویارک کے بلٹمور ہوٹل میں منعقد ہونے والی امریکی صہیونیوں کی کانفرنس میں دہشت گردوں کا ”بلٹمور پروگرام“ (Programme Biltmore) بن گوریان کی سرکردگی میں طے کیا گیا۔

ایک موقع پر صہیونیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ

صفحہ ۲۱۹

صہیونسٹ کانگرس کے صدر ناہم گولڈمین نے کہا کہ ”یہود دشمنی کا بتدریج مفقود ہونا عمومی یہودی نصب العین کیلئے ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔“ اسی بات کا اظہار سابقہ اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے ان الفاظ میں کیا ”میں ایسے جواں یہودیوں کو منتخب کروں گا جنہوں نے خود کو صہیونی مقاصد کے لئے وقف کر دیا ہو۔ انہیں حکم دوں گا کہ غیر یہود کا بھیس اختیار کر کے گھٹیا یہود دشمن طریقوں سے یہودیوں کی ایذاء رسانی کریں ...... کیونکہ (اسکے) نتیجے میں اسرائیل کو نقل مکانی دس ہزار گنا زیادہ ہو گی بہ نسبت اس کے جو کہ ہمارے ایلچیوں کے بہرے کانوں میں وعظوں سے ہوئی۔“ اسی چیز کی بیشمار عملی صورتوں میں سے ایک اس کے احکام پر بغداد میں یہودیوں کے عبادت خانے کو بارود سے اڑانا تھا جس کے بعد یہودی پراپیگنڈہ مشینری نے یہ مشہور کیا کہ یہ ”عربوں کی بھیانک یہود دشمنی ہے۔“

پہلی عالمی جنگ کے زمانے سے فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کیلئے یہود و نصاریٰ کی دسیسہ کاریاں اور ریشہ دوانیاں، مختلف ”عالیہ“ سکیموں کے تحت وہاں یہودیوں کی در آمد اور آباد کاری، یہودی دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کے ذریعے عربوں کو ان علاقوں سے بھگانا، عربوں کی مزاحمتی تحریکیں، اس دوران مشرق کے مسئلے کے حل کیلئے مختلف کمیشن وغیرہ کا قیام اور ان کی کارروائیاں، ان تمام کے متعلق تفاصیل اس کتاب میں نہیں سما سکتیں۔ قارئین ان کا مطالعہ تاریخ کی کتابوں میں کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کتاب کے عنوان کے ناطے سے یہ تحریر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام تفاصیل کا مطالعہ کرنے کے بعد صرف ایک ہی نتیجہ بجاطور پر اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ پر صدیوں سے طاری جہالت، یہود و نصاریٰ کے متعلق قرآنی احکامات سے لاعلمی اور زندگی کے متعلق قرآنی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں یہ ایک عذاب الٰہی ہے جو کہ ان پر نازل ہوا ہے جس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ان اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کیا جائے۔

یہودیوں کی دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں سے دیر یاسین کے قتل عام کی مثال قابل ذکر ہے۔ دیریاسین یروشلم کی ایک پرامن نواحی بستی تھی۔ ۹۔ اپریل ۱۹۴۸ء کو علی الصبح یہودی دہشت گرد تنظیم Irgun کے ایک دستے نے اس بستی پر قبضہ کر کے بغیر کسی اشتعال کے اس دیہات کے دو سو پچاس باشندوں کا قتل عام کیا جن میں بچے، بوڑھے اور

صفحہ ۲۲۰

عورتیں شامل تھیں۔ اس قتل عام کے بعد یہودیوں نے جواں عرب لڑکیوں کو برہنہ کر کے ان کا جلوس نکالا جس میں یہودی لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کر رہے تھے۔ ”اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک ہو تو یہاں سے نکل جاؤ۔ دیر یاسین کو یاد رکھنا۔“

ادھر اقوام متحدہ میں امریکہ کے صدر ٹرومین نے ذاتی کوششوں سے تقسیم فلسطین کی قرارداد کے لئے اقوام متحدہ میں جو دو تہائی ووٹوں کی ضرورت تھی‘ وہ جوڑ توڑ سے پوری کرا دی اور ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ء کو یہ قرارداد پاس ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد جبکہ ابھی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ زیر بحث تھی جس میں تقسیم فلسطین کے متعلق قرارداد کو ناقابل عمل قرار دیا گیا تھا‘ ۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو برطانیہ نے ”واشنگٹن ٹائم“ کے مطابق رات چھ بجے فلسطین سے دستکش ہونے کا اعلان کر دیا۔ چھ بج کر ایک منٹ پر تل ابیب میں یہودیوں نے اسرائیلی مملکت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ دس منٹ بعد امریکہ اور پندرہ منٹ بعد روس نے اسے تسلیم کر لیا۔ باوجود اس کے کہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا مجاز نہ کیا تھا۔ اس اعلان کے وقت تک چھ لاکھ سے زائد عرب بے گھر ہو چکے تھے اور یہودی اقوام متحدہ کی قرارداد کے برخلاف آدھے سے زیادہ بیت المقدس پر بھی قابض ہو چکے تھے۔ ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو عربوں پر یہودی حملوں میں اضافہ ہو گیا تو ارد گرد کی عرب ریاستوں نے بے سہارا اور نہتی آبادی کو قتل و غارت گری سے بچانے کے لئے اپنی فوجیں فلسطین میں داخل کر دیں۔ باوجود اس بات کے کہ یہودی جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے‘ عرب بیت المقدس کے قدیم حصہ سمیت فلسطین کے کئی شہروں اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر کے تل ابیب تک پہنچ گئے۔ جس پر بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے چار ہفتوں کے لئے عارضی صلح کی چال چلی جو مسلمانوں نے عالمی رائے عامہ کے احترام میں ۱۱ جون کو منظور کر لی۔ یہ صلح عربوں کے لئے بڑی مہلک تھی جس نے اس فتح کو شکست میں بدل دیا کیونکہ ان چار ہفتوں میں ڈھیروں اسلحہ چیکوسلواکیہ سے اور بمبار اور لڑاکا طیارے برطانیہ اور امریکہ سے یہودیوں کو پہنچ گئے اور جب عارضی صلح کا وقت ختم ہو گیا تو اسرائیل کے پاس ایک مختصر لیکن موثر فضائیہ اور بحریہ تھی۔ اسرائیلیوں نے ۱۷ اکتوبر کو اقوام متحدہ کے ثالثی نمائندہ کو قتل کر دیا اور ۱۸ اکتوبر کو بیت المقدس پر شدید بمباری کی‘ لیکن جب یہود کو پھر مار پڑنے

لگی تو مغربی طاقتوں نے مارچ ۱۹۴۹ء فیصد علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا اور صی اسرائیل نے اپنے ”میراث“ کے الفاظ کندہ کئے: حدودک بالسر سرحد ی سابقہ اسرائیلی و نہیں ہے کہ فلسطین میں کوئی فلسطینی وطن ان سے چھین لیا۔ ایسی کسی ق ۱۹۶۹ء)۔ ایک دفعہ ایک اخبار نویس نے عرب مسئلہ کو کس تناظر میں دیکھتا ہے سوراخ کے درمیان سے۔“ اسرائیلی بیکلوہن نے ۱۹۶۷ء میں برطانوی پارلیما ہیں بلکہ عرب ہیں۔“ چوٹی کے اسرائی ہیں جس میں فلسطینیوں اور عربوں کے خوف سے یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ ج کے ذہن میں سیکولرزم سما چکا ہے اپنے ان کی قوم کا وجود نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسلا رب کے دین کے نام پر اپنی جانوں کا نذر سے انکار نہیں کہ دنیا کو تو کیا اسرائیلی لیڈ یہ تو ان شہیدوں کی شہادت کے اس دنیا سورہ آل عمران آیات ۱۶۹ تک ۱۷۱ میں اس

”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں رزق پا رہے ہیں‘ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور

صفحہ ۲۲۱

نوجوان عرب لڑکیوں کو برہنہ کر کے ان کر رہے تھے۔ ”اگر تم نہیں چاہتے کہ سورہ یاسین کو یاد رکھنا۔“ صدر ٹرومین نے ذاتی کاوشوں سے تقسیم ووٹوں کی ضرورت تھی، وہ جوڑ توڑ سے لی۔ لیکن اس کے بعد جبکہ ابھی سلامتی زیر بحث تھی جس میں تقسیم فلسطین کے ۱۹۴۸ء کو برطانیہ نے ”واشنگٹن ٹائم“ کے ع کر دیا۔ چھ بج کر ایک منٹ پر تل ابیب یت دس منٹ بعد امریکہ اور پندرہ منٹ نا وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو اس اعلان کے وقت تک چھ لاکھ سے کی قرارداد کے برخلاف آدھے سے زیادہ ۱۹۴۸ء کو عربوں پر یہودی حملوں میں اضافہ کی آبادی کو قتل و غارت گری سے بچانے میں قلت تھی کہ یہودی جدید ترین اسلحہ تی فلسطین کے کئی شہروں اور غزہ کی پٹی یل نے اقوام متحدہ کے ذریعے چار ہفتوں رائے عامہ کے احترام میں ۱۱ر جون کو یل نے اس فتح کو شکست میں بدل دیا طور بمبار اور لڑاکا طیارے برطانیہ اور وقت ختم ہو گیا تو اسرائیل کے پاس ایک ۱۷ر اکتوبر کو اقوام متحدہ کے ثالثی نمائندہ دی گئی، لیکن جب یہود کو پھر مار پڑنے لگی تو مغربی طاقتوں نے مارچ ۱۹۴۹ء میں پھر جنگ بندی کرا دی۔ تب تک اسرائیل نے ۷۷/۵ فیصد علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا اور صیہونی منصوبہ اگلے مرحلہ میں داخل ہو چکا تھا۔ ۱۹۵۱ء میں اسرائیل نے اپنے ”میراث“ کے ملک کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ کی پیشانی پر یہ الفاظ کندہ کئے: حدودک یا اسرائیل من الفرات الی النیل ”اے اسرائیل، تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں“

سابقہ اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مائر نے ایک موقعہ پر یہ بیان دیا: ”یہ ایسا نہیں ہے کہ فلسطین میں کوئی فلسطینی قوم آباد تھی اور ہم نے آ کر اسے نکال باہر پھینکا اور ان کا وطن ان سے چھین لیا۔ ایسی کسی قوم کا وجود ہی نہیں تھا۔“ (سنڈے ٹائمز لندن۔ جون ۱۹۶۹ء)۔ ایک دفعہ ایک اخبار نویس نے سابقہ اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان سے پوچھا کہ وہ عرب مسئلہ کو کس تناظر میں دیکھتا ہے تو اس کا جواب تھا ”ایک رائفل کے نشانہ باندھنے والے سوراخ کے درمیان سے۔“ اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مسٹر ہیکلوہن نے ۱۹۷۷ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایک مندوب کے سامنے کہا: ”یہ انسان نہیں ہیں بلکہ عرب ہیں۔“ چوٹی کے اسرائیلی اور صیہونی لیڈروں کے اس قسم کے بہت سے بیانات ہیں جس میں فلسطینیوں اور عربوں کے وجود کا ہی انکار کیا گیا ہے۔ لیکن انہیں طوالت کے خوف سے یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ جناب یاسر عرفات ان اکثر مسلمان رہنماؤں کے مانند جن کے ذہن میں سیکولرزم سما چکا ہے اپنے ہزاروں لوگ مروا رہے تھے لیکن اس کے باوجود دنیا کو ان کی قوم کا وجود نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے کچھ کفن پوشوں نے اپنے رب کے دین کے نام پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم از کم اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دنیا کو تو کیا اسرائیلی لیڈروں کو بھی فلسطینی قوم کے وجود کا احساس ہو گیا ہے۔ یہ تو ان شہیدوں کی شہادت کے اس دنیا میں اثرات ہیں۔ باقی جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو سورہ آل عمران آیات ۱۶۹ تک ۱۷۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اس پر خوش و خرم ہیں اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا

صفحہ ۲۲۲

موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔

۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ کی تیاری اسرائیل نے مغربی طاقتوں کے زیر سرپرستی روز اول سے شروع کر دی تھی جس کے نتیجے میں وہ بیت المقدس سمیت بہت سے مزید علاقوں پر بھی قابض ہو گیا۔ اس موقع پر تمام مغربی اخباروں نے بڑی خوشی سے یہ سرخی جمائی کہ اس مقدس شہر پر ۸۸۰ سال بعد ان کا دوبارہ قبضہ ہوا ہے جس سے صاف ظاہر ہے یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں۔ لیکن ۱۹۷۳ء کی جنگ میں اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا طلسم ٹوٹ گیا اور اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مائر جس نے ۱۵ جون ۱۹۶۹ء کو بیان دیا تھا کہ "فلسطینی (عرب) نام کی کسی شے کا وجود نہیں ہے" خودکشی کرنے پر آمادہ ہو چکی تھی کہ امریکہ نے انسانی تاریخ کی اسلحہ اور جنگی رسد کی عظیم ترین ہوائی مہم اور امریکی پائلٹوں اور فوجیوں کو یہودیوں کے شانہ بشانہ جنگ میں جھونک کر مصری صدر انور سادات کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ "میں ایک سپر پاور سے نہیں لڑ سکتا"۔ جسکے بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے ذریعے سب سے اہم عرب ملک کو باقی عرب ملکوں سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس معاہدے کی ایک شق کے مطابق مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے ان تمام قرآنی آیات کی نشر و اشاعت ممنوع ہے جن میں یہود و نصاریٰ کے کفر و شرک کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مصری صدر حسنی مبارک اسلامی دنیا میں صلیبی صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کے ایک بہت بڑے آلہ کار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

خلیج کی جنگ

اور میں مصریوں کو مصریوں سے بھڑا دونگا اور ان میں سے ہر ایک اپنے بھائی سے لڑ پڑے گا اور اپنے ہمسائے سے لڑے گا۔ ایک شہر دوسرے شہر سے اور ایک مملکت دوسری مملکت سے اور مصری روح ان کے بیچ میں گر پڑے گی۔

یسعیاہ ---- ۲, ۳

اور اجنبی کھڑے ہوں گے اور تمہارے ریوڑ چرائیں گے اور غیروں کے بیٹے تمہارے مزارع اور تمہاری انگوروں کی بیلیں سینچنے والے ہوں گے۔ لیکن تم خدا کے پادری نامزد ہو گے۔ لوگ تمہیں اپنے خدا کے پروہت کہہ کر پکاریں گے۔ تم غیر یہود کی دولت کھاؤ گے اور ان کی جانب سے تعظیم و

تکریم پر فخر کرو گے۔

کویت اور طاقتوں نے خلافت عثمانیہ کا ریاستوں میں بانٹ دیا۔ کویت رکھنا اور بحری شاہراہ پر کنٹرول کی بعث پارٹی عراق میں بقول ایوانوں تک پہنچی تھی۔ ایرانی اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کر میں زندہ ہے اور نو آزاد اور ذرائع سے کرتا ہے یا پھر عدم ا اپنی کٹھ پتلیوں اور ایجنٹوں سے مداخلت بھی کرتا ہے۔ اس جس میں مقامی کٹھ پتلیوں نے اہداف و مقاصد پورے کئے

کی واپسی کا مطالبہ

عالمی قیمتوں میں کمی۔ عراق مطالبہ۔ عراق کو تیل کی آمد

عراق کے سرحدی تیل کے حسین کو مغربی طاقتوں کے

صفحہ ۲۲۳

تکریم پر فخر کرو گے۔ یسعیاہ ۔ ٦١

کویت اور عراق دونوں برطانوی دور کی باقیات ہیں جب صلیبی و صہیونی طاقتوں نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے اس سلطنت کو اپنے مفادات کے تابع چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا۔ کویت کی Enclave بنانے کا مقصد برصغیر ہند و پاک پر اپنا تسلط قائم رکھنا اور بحری شاہراہ پر کنٹرول برقرار رکھنا تھا۔ عیسائی عالموں کے ذہن کی اختراع عراق و شام کی بعث پارٹی عراق میں بقول شخصے امریکی سی۔ آئی۔ اے کی ٹرین پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی تھی۔ ایران کے ساتھ آٹھ سالہ طویل و تباہ کن جنگ چھیڑ کر صدام حسین اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کر چکا تھا۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ استعمار دنیا میں زندہ ہے اور نو آزاد اور ترقی پذیر ملکوں پر جبر استعمال کرتا ہے۔ یہ ایسا معاشی و ٹیکنالوجیکل ذرائع سے کرتا ہے یا پھر عدم استحکام پیدا کر کے کرتا ہے۔ یہ تیسری دنیا میں اپنے مقاصد عموماً اپنی کٹھ پتلیوں اور ایجنٹوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ اور آخری حربے کے طور پر مسلح مداخلت بھی کرتا ہے۔ اس ضمن میں خلیج کی جنگ انسانی تاریخ کا غالباً عظیم ترین ناٹک تھا جس میں مقامی کٹھ پتلیوں نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بڑے کماحقہ طور پر نیو ورلڈ آرڈر کے اہداف و مقاصد پورے کئے۔ صدام حسین کے کویت پر حملے کی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں۔

کی واپسی کا مطالبہ

عالمی قیمتوں میں کمی۔ عراق کا اوپیک سے تیل کی پیداوار کم کرنے اور قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ ۔ عراق کو تیل کی آمدنی میں کمی کی وجہ سے سنجیدہ مالی مشکلات کا سامنا۔

عراق کے سرحدی تیل کے ذخائر سے پچھلے کئی سالوں سے تیل کی چوری جس کی خبر صدام حسین کو مغربی طاقتوں کے مفادات کے عین مطابق ایک خاص موقع پر ہی ہوئی۔

صفحہ ۲۲۴

امریکہ اور برطانیہ کی پولیس ایکشن پر پرخاش اور صدام حسین کی انتقاماً تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش۔

بارے میں اظہار لاتعلقی

یہ تو صدام حسین کے کویت پر حملہ کی وجوہات تھیں، جس سے صدام حسین اور اس کا ملک ہی تباہ حال ہو گئے۔

اس تمام عظیم ناٹک میں مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کے مندرجہ ذیل مقاصد تھے جو بدرجہ اتم حاصل ہوئے۔

تیل کے ذخائر کا دو تہائی مشرق وسطیٰ میں ہے۔

کنٹرول۔ یہ دو طاقتیں تاریخی طور پر برطانیہ اور اس کی جانشین استعماری طاقت امریکہ کی مد مقابل رہی ہیں۔ جرمنی اپنی تیل کی ضروریات کا ۳۵ فیصد اور جاپان ۶۰ فیصد مشرق وسطیٰ سے پورا کرتا ہے۔

مسائل کے لئے استعمال۔ امریکہ کا بجٹ اور تجارت میں پچھلے کئی سالوں سے متواتر بھاری خسارہ۔ اندرونی معاشی و معاشرتی مسائل مثلاً بے روزگاری، بنکوں اور مالیاتی اداروں کے دیوالئے وغیرہ جن کے حل کے لئے امریکہ نے عالمی مافیا کا کردار ادا کیا۔

ضرورت۔

پیدا شدہ خطرے کا خاتمہ۔ عراق کا کچومر نکال کر معاہدے کے تحت پسپا ہوتی ہوئی عراقی فوجوں پر امریکی فضائی حملوں سے ایک اور ڈیڑھ لاکھ کے درمیان فوجیوں کی ہلاکت۔ عراق کی نہ

صفحہ ۲۲۵

صرف ایٹمی، کیمیائی اور بائیولوجیکل تنصیبات کا خاتمہ بلکہ صنعتی ڈھانچے اور شہری سہولتوں کی بھی تباہی۔ عراقی فوجی طاقت کے متعلق یہودیوں کے زیر اثر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مہیا کردہ اعداد و شمار مبالغہ آمیز تھے۔ مغربی طاقتوں کو اس چیز کا بخوبی علم تھا کہ عراق کو مہیا کئے گئے اکثر و بیشتر ہتھیار و اسلحہ ناقص و فرسودہ ہے۔

کمی کے معاہدے کی وجہ سے سوویت یونین کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی۔ خلیج کی جنگ میں بھیجے جانے والے 540,000 امریکی فوجیوں میں آدھے سے زائد وسطی یورپ کی انہیں افواج میں سے لائے گئے، جہاں جرمنی کے اتحاد اور مندرجہ بالا معاہدہ کے بعد اب ان کی ضرورت نہیں تھی۔ خلیج کی جنگ میں صف آراء ہونے والے برطانوی اور فرانسیسی دستوں کے بشمول یہ نیٹو افواج کا بہترین حصہ تھے جنہیں روسی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ ان افواج کو یورپی تھیٹر سے ہٹانے سے قبل ان سے ایک تاریخی مقصد حاصل کیا گیا۔

Rescue of Military Keynesianism تھا۔ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ کی وسیع جنگی صنعت کی افادیت ختم ہوتی معلوم ہوتی تھی۔ اس صنعت کے اکثر و بیشتر ڈائرکٹر مختلف سابقہ امریکی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیدار ہوتے ہیں۔ ان کے مفادات امریکی حکمت عملی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

فائدے کے لئے تیل کی قیمتیں کم سے کم ہونی چاہیں جب کہ تیل کی صنعت و تجارت کو کنٹرول کرنے والی امریکی کمپنیوں کا فائدہ زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر کرنے میں ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں کا تعین ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر بڑے پیچیدہ فارمولوں سے کیا جاتا ہے۔ تیل کی موجودہ عالمی قیمتیں افراط زر یعنی کرنسی کی قدر میں کمی کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقریباً وہی ہیں جو کہ ۱۹۷۳ء میں مغرب کو تیل کی بندش اور ان قیمتوں میں بھاری اضافہ سے قبل تھیں۔

صفحہ ۲۲۶

اس لحاظ سے عالمی سطح پر امریکہ کا طرز عمل وہی تھا جو امریکی مافیا کا نچلی سطح پر ہوتا ہے۔

اعتبار سے کم تر نہیں، وجہ وہ تھی جس کی وضاحت کے لئے مغربی ممالک خصوصاً ”امریکہ میں شہری املاک کے Wreckers اور Developers کی مثال سے ممکن ہے۔ امریکہ میں شہروں کے پسماندہ حصوں (Slums) وغیرہ کی املاک اکثر ٹھیکے دار انتہائی کم قیمتوں پر خرید لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان ٹھیکے داروں کے Wreckers وہاں پر موجود پرانی اور بوسیدہ تعمیرات کو بارود وغیرہ سے جدید طریقوں سے منہدم کرکے اس کا ملبہ صاف کرتے ہیں اور پھر وہاں جدید شہری سہولتوں کا انتظام کرکے یہ ٹھیکے دار وہاں جدید طرز کی تعمیرات کرکے ان کی خاطر خواہ بھاری قیمتیں وصول کرتے ہیں۔ خلیج کے ”عظیم ٹانک“ میں جب صدام حسین نے مغربی ممالک کے انتہائی غیر مرئی اور لطیف اشاروں پر کویت میں اپنی فوجیں داخل کرکے وہاں شہری اور تیل کی تنصیبات تباہ کیں تو وہ امریکہ کے لئے بین الاقوامی سطح پر Wreckers کا کام سرانجام دے رہا تھا۔ جس کے بعد اس کے اپنے ملک عراق کے لئے یہ کام امریکہ کی سرکردگی میں مختلف ممالک کی متحدہ افواج نے سرانجام دیا۔ کویت کی تباہ شدہ شہری اور تیل کی تنصیبات کی از سر نو تعمیر کے لئے اربوں ڈالر کے ٹھیکے امریکی کمپنیوں کو مل گئے اور ہڈی کی طرح کچھ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کو بھی۔ اپریشن ڈیزرٹ سٹارم کی اربوں ڈالر فیس ان ممالک سے وصول کرنے کے بعد ان اربوں ڈالر کے ٹھیکوں نے جہاں ایک طرف ان عرب ممالک کے پچھلے چند سالوں کے دوران جمع شدہ مالی ذخائر پر جھاڑو پھیر دی ہے وہاں دوسری طرف مغربی ممالک خصوصاً ”امریکہ کے سنجیدہ قسم کے مالی مسائل کے حل کے لئے بڑے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ یہ تو ہے نیو ورلڈ آرڈر کے اس حربے کا اقتصادی پہلو۔ مستقبل کے لئے ان از سر نو تعمیر شدہ تنصیبات و عمارات میں ایسے آلات نصب ہوں گے جو صلیبی و صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کے لئے کار آمد ہوں گے۔ مثلاً ”کویت کے حکمران طبقے کے لئے جو محلات و دفاتر وغیرہ تعمیر ہوں گے وہاں ایسے خفیہ آلات نصب ہوں گے جن سے کچھ عرصہ میں نیو ورلڈ آرڈر کے کمپیوٹروں میں ایسا مواد جمع ہو جائے گا جسے جدید نفسیات و دیگر علوم کی مدد سے استعمال کرکے حکمران طبقے کے افراد کو گوشت پوست اور دل و دماغ والے انسانوں

سے تبدیل کرکے ”کٹھ پتلی ہوں گے غالباً ”عراق کے حالا اس بارے حسین کی افواج کویت پر چڑھ صورت حال ہوتی؟ اس صور عمل بھی یقیناً شدید تر ہوتا۔ لگا ہے اس کے پیش نظر یہ کہ صورت حال کا سامنا ہوتا۔ خلی سے تیار کرکے ان کو کنٹرول متعلق پر اعتماد ہونے کا جواز مو ایک دوسر اتنا بڑا اور اپنے مقاصد کے لحا ہے کہ امریکہ کو اتنے سازگار تمام مقاصد بھی حاصل کرلے جرمنی نے اس جنگ میں رقو امریکہ کو ایسے سازگار حالات ہوتی ہوئی نیٹو کی بھاری افواج ط

صفحہ 227

سے تبدیل کر کے ”کٹھ پتلی“ بنانے میں مدد ملے گی اور جب تک کویت کے ٹھیکے اختتام پذیر ہوں گے غالباً عراق کے حالات بدل کر وہاں کے ٹھیکوں کا بندوبست کر لیا جائے۔

اس بارے میں کچھ اہم ضمنی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر صدام حسین کی افواج کویت پر چڑھائی کرنے کی بجائے اسرائیل کی طرف پیش قدمی کر دیتیں تو کیا صورت حال ہوتی؟ اس صورت میں اسرائیل بھی یقیناً جوابی کارروائی کرتا اور امریکہ کا رد عمل بھی یقیناً شدید تر ہوتا۔ لیکن اسرائیل پر پھینکے گئے چند میزائلوں سے جو نفسیاتی صدمہ لگا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اس سے نسبتاً بہتر صورت حال کا سامنا ہوتا۔ لیکن بحیثیت ان کٹھ پتلیوں کے جنہیں برسہا برس کی انتھک کاوشوں سے تیار کر کے ان کو کنٹرول کیا جاتا ہے‘ امریکہ اور اسرائیل کے لئے صدام حسین کے متعلق پر اعتماد ہونے کا جواز موجود تھا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔

ایک دوسرا اہم سوال اس بارے میں یہ ہے کہ کیا نیو ورلڈ آرڈر کے لئے اتنا بڑا اور اپنے مقاصد کے لحاظ سے اتنا کامیاب ناٹک دوبارہ کھیلا جا سکتا ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ امریکہ کو اتنے سازگار حالات دوبارہ میسر آنے کا امکان بہت ہی کم ہے کہ جہاں یہ اپنے تمام مقاصد بھی حاصل کر لے اور بھاری رقوم بھی دوسروں سے وصول کرے۔ جاپان اور جرمنی نے اس جنگ میں رقوم بڑے تردد اور دباؤ کے بعد دیں اور کئی دیگر لحاظ سے بھی امریکہ کو ایسے سازگار حالات ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ مثلاً یورپ سے فارغ ہوتی ہوئی نیٹو کی بھاری افواج وغیرہ۔

صفحہ ۲۲۸

باب یازدہم

”قوموں کے لئے نور“

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰی يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ (سورہ اعراف۔ آیت ۱۶۷)

”اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے۔“

نیچے ہم ہٹلر کی تصنیف ”میری جدوجہد“ (Mein Kamph) میں سے کچھ اقتباسات کا ترجمہ دے رہے ہیں جو کہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے بارے میں قابل توجہ ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہٹلر پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج میں ایک فوجی (Corporal) کی حیثیت سے شامل تھا اور اس نے اس کے بعد اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ابتدائی زندگی اور خیالات کے متعلق ”میری جدوجہد“ (Mein Kamph) ۱۹۲۴ء میں تقریباً دس ماہ قید کے دوران لکھی۔ ہٹلر نے اپنا اعلیٰ نسل (Superior Race) کا نظریہ دو پادریوں کے نظریات سے اخذ کیا جن میں سے ایک کا نام لبن فیلز (Liebenfels) تھا۔

تاریخی حقائق و شواہد کی بناء پر یہ چیز ثابت ہو چکی ہے کہ نازی اور صیہونی لیڈروں کے درمیان گہری افہام و تفہیم اور اشتراک عمل تھا۔ جب نازیوں نے جرمنی میں اقتدار پر قبضہ کیا تو صیہونی لیڈروں کے لئے یہ انتہائی خوشی کا موقع تھا۔ مغربی جرمنی کے موقر جریدے Der Speigel کی ۱۹؍ دسمبر ۱۹۶۶ء کی اشاعت کے مطابق : ”انہیں (صیہونی لیڈروں کو) اس میں مغربی یورپ کے روشن خیال یہودیوں کی شکست نظر آئی جو صیہونیت کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور دوسری قوموں کے درمیان رہ کر

صفحہ ۲۲۹

ترقی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ نازی خفیہ ایجنسی میں یہودی معاملات کے محکمہ کا افسر اعلیٰ مسٹر وان ملڈنسٹائن Van Mildenstien صیہونی تنظیموں کی کاروائیوں کے فروغ کے لئے ایسے کیمپ قائم کر رہا تھا جہاں جواں یہودی مردوں اور عورتوں کو فلسطین میں کام کرنے کے لئے تربیت دی جاتی تھی۔“ اس جریدے نے اس چیز پر سے بھی پردہ اٹھایا کہ فلسطین میں جرمن صیغہ اطلاعات کا خفیہ ایجنٹ اپنے اعلیٰ افسروں کی ہدایات کے مطابق خفیہ صیہونی ایجنسیوں کے لیڈروں کے ساتھ گہرا رابطہ رکھے ہوئے تھا۔ مثلاً ”مشہور صیہونی لیڈر Pollen جو یہودیوں کے تحفظ کا ذمہ دار تھا، مشرق وسطیٰ کے لئے نازی خفیہ ایجنسی کا مقامی ایجنٹ تھا۔

ویسے تو اس حقیقت کے بہت سے ثبوت دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن اختصار کی خاطر ہم صرف چند مزید مثالیں نیچے درج کر رہے ہیں۔

”یہودی ایلچی نازی جرمنی میں جرمن یہودیوں کو بچانے نہیں آئے تھے۔ بلکہ وہ ان جواں لڑکے اور لڑکیوں کی تلاش میں تھے جو فلسطین جانا چاہتے تھے۔“

تحمل و سکون سے مشاہدہ کیا۔ فلسطین کے متعلق رائل کمیشن کے سوال پر کہ ”مغربی یورپ کے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنے کا کیا امکان ہے؟“ اس نے جواب دیا ”نہیں، بوڑھے لوگ ختم ہو جائیں گے۔۔۔ وہ خاک ہیں۔ اس دنیا کی اخلاقی و معاشی خاک۔۔۔۔۔ صرف شاخ باقی رہے گی۔“

Salvation مقرر کی تھی جو ہنگری میں کام کر رہی تھی۔ اس کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر روڈولف کیسنر Dr. Rudolf Kastner کے نازی لیڈر ایخمین Eichmann کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ ان دونوں کا آپس میں معاہدہ تھا کہ ایخمین چند ہزار یہودیوں کو غیر قانونی طور پر فلسطین روانہ ہونے کی اجازت دے دے گا جن کی ٹرینوں کی نگرانی جرمن پولیس کر رہی تھی۔ اور اس کے بدلے روڈولف کیسنر ہنگری کے ان بیگار کیمپوں میں نظم و ضبط کے لئے تعاون کرے گا جہاں سے لاکھوں یہودیوں کو Auschwitz ارسال کیا گیا۔

وہ سرکردہ یہودی اور Zionist Youth Organization کے ممبران جنہیں اس

صفحہ ۲۳۰

معاہدے کے تحت بچا لیا گیا وہ آئخمین کے الفاظ میں ”بہترین حیاتیاتی مواد تھا“ (The best biological material) ڈاکٹر کیسنر نے آئخمین کے خیال میں اپنے ہم قوموں کو اپنے نظریہ پر قربان کر دیا۔ ("Eichmann in Jerusalem' By Hannah Arendt, pp. 37")

ایک سلسلہ شائع ہوا جس میں دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی صہیونی اشتراک عمل کا پردہ چاک کیا گیا تھا۔

آئخمین فلسطین میں صہیونیوں کے معزز مہمان کے طور پر آیا تھا۔ خون اور زمین دونوں نازی اور اشکنازی (یورپی یہودی = Ashkenazi) کے نظریات کا خاصہ تھا۔

امریکہ کے سیاہ فام مسلمان لیڈر لوئیس فراخان نے جون ۱۹۸۲ء میں ایک تقریر کے دوران مندرجہ ذیل ہیجان خیز الفاظ کہے: ”میں یہودیوں کے خلاف نہیں ہوں۔ میں حق پرست ہوں۔ لیکن اس نازک وقت میں حق بات کہی جانی چاہئے۔ ...... صہیونیوں کو یقین تھا کہ انہیں یہودیوں کے لئے وطن ملنا چاہئے اور انہیں یہ وطن قائم رکھنا چاہئے۔ لیکن وہ اس خواب کی تعبیر بغیر پیشگی شرائط پوری کرنے کے چاہتے تھے۔ چنانچہ صہیونیوں نے رڈولف ہٹلر کے ساتھ ایک سودا کیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو میری اسلئے زجر و توبیخ کرتے ہیں کیونکہ میں کہتا ہوں کہ ہٹلر ایک عظیم آدمی تھا لیکن ایک برا آدمی ..... چنانچہ جب میں کہتا ہوں کہ ہٹلر ایک عظیم آدمی تھا تو میں کوئی غلطی نہیں کرتا۔ وہ عظیم تھا لیکن بدی کے لحاظ سے عظیم اور صہیونیوں نے ہٹلر کے ساتھ سودا کیا جیسا کہ یہودیوں کے ہم قوم ایڈون بلیک کی کتاب ”معاہدہ منتقلی“ (Transfer Deed) میں واضح ہے۔

اس معاہدہ منتقلی کی رو سے ساٹھ ہزار یہود اپنی دس کروڑ ڈالر دولت کے ساتھ فلسطین چلے گئے جہاں انہوں نے فلسطینی لوگوں سے زمین ہتھیانا شروع کی اور آہستہ آہستہ انہوں نے طاقت اور قوت حاصل کی اور دوسری قوموں کی حمایت سے دعویٰ کیا کہ یہ سرزمین ان کی ہے اور اس کا نام اسرائیل رکھا۔ میں یہودی قوم کو اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کو کہتا ہوں کہ اسرائیل کی موجودہ مملکت ایک مجرمانہ فعل ہے ...... چنانچہ اس قوم کو جسے اسرائیل کہتے ہیں کبھی امن نصیب نہیں ہوا ...... اور نہ ہی اسے کبھی کوئی امن نصیب ہو گا، کیونکہ امن کبھی بھی ناانصافی، چوری، جھوٹ اور فریب

صفحہ ۲۳۱

سے قائم نہیں ہو سکتا اور نہ خدا کے مقدس نام کو ان کے (یہودیوں کے) بدرو جیسے مذہب (Religion Gutter) کو تحفظ دینے کے لئے استعمال کرنے سے ....... یہ امریکہ کے سیاہ فام لوگ ہیں جو خدا کے منتخب لوگ ہیں۔“

The Throne of Anti-Christ کا مصنف اپنی اس کتاب کے صفحہ ۳۳۷ پر لکھتا ہے کہ ہٹلر اور پاپائے اعظم کے درمیان کچھ معاہدے ہوئے تھے اور صفحہ ۲۴۱ پر لکھتا ہے کہ ہٹلر نے یہودیوں کو بار بار جرمنی سے نکل جانے کا حکم دیا اور انہیں اس کا موقع بھی دیا۔ لیکن جو چھ کروڑ روسی یہودی کمیونسٹ انقلاب میں ہلاک ہوئے اور جو پانچ کروڑ بیس لاکھ چینی یہودی کمیونسٹ انقلاب میں ہلاک ہوئے‘ ان کے لئے فرار کا کوئی موقع یا ذرائع نہیں تھے۔

دراصل نازی اور صہیونی اشتراک عمل کا مقصد یورپ کے یہودیوں کو وہاں سے نقل مکانی کر کے فلسطین جانے پر مجبور کرنا تھا تاکہ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی میں اضافے سے صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ ہو سکتا ہے صہیونی لیڈروں نے جتنے یہودیوں کے مارے جانے کا اندازہ لگایا ہو نازیوں نے اس سے زیادہ یہودی ختم کر دیئے ہوں۔ لیکن اب کچھ ایسی تصانیف بھی منظر پر آ چکی ہیں جن میں نازیوں کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودیوں کے خاتمے کو مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔ بہرحال ان نازی کیمپوں میں صہیونی لیڈروں کی رضامندی سے چھ لاکھ یہودی قتل ہوئے یا زیادہ‘ یہودی قوم کے اس کمال کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ پچھلے پچاس سال سے وہ مسلسل Holocaust کا نعرہ لگا کر ساٹھ لاکھ یہودیوں کے خاتمے کی بنیاد پر سود در سود کے حساب سے سیاسی و معاشی فوائد حاصل کر رہے ہیں اور خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نازی کیمپوں کی فیکٹریاں جن میں ایک طرف یہودی ڈالے جاتے تھے اور دوسری طرف سے سیاہ سیال مادہ نکلتا تھا وہ جہاں ایک طرف یہودیوں کے اپنے متعلق ”قوموں کے لئے نور“ قوم کے عقیدے کا منہ بولتا ثبوت تھیں تو دوسری طرف صلیبی یگانہ ترحم و تلطف کے بے شمار تاریخی شاہکاروں میں ایک مزید شاہکار تھیں۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

اس مسئلے (سوشل ڈیموکریسی) کی نظری تکذیب اور لغو پن کا اس کے بیرونی ظہور سے مقابلہ کرنے کے دوران مجھے بتدریج اس کے مقاصد کا اندازہ ہو گیا۔ ان لمحات میں میرا ماتھا ٹھنکا اور مجھے کسی مضمر شے کا اندیشہ ہوا۔ میرے سامنے انانیت اور عداوت سے اٹی ہوئی ایسی تعلیم تھی جس کی فتح عین یقینی تھی۔ لیکن اس کی جیت انسانیت کے لئے

صفحہ ۲۳۲

ضرب کاری ہوتی۔

اس دوران مجھے ان تباہ کن تعلیمات اور ایک قوم کے مخصوص کردار کے درمیان جو رشتہ ہے، اس کا بھی علم ہو گیا، جس سے اس وقت میں بے خبر تھا۔ یہودیوں کے متعلق معلومات وہ واحد کنجی ہے، جس سے کوئی شخص سوشل ڈیموکرسی کی اندرونی ماہیت اور اصل مقاصد سمجھ سکتا ہے۔

جس شخص نے اس نسل کو جان لیا ہے وہ اپنی آنکھوں سے وہ پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا جس میں سے وہ اس پارٹی (سوشل ڈیموکریٹک) کے اغراض و مقاصد کو ایک باطل روشنی میں دیکھتا رہا ہے۔ اور پھر معاشرتی محاوروں کی دھند اور اندھیرے میں سے مارکسزم کا بھونڈا چہرہ ابھرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جس چیز نے جلد ہی مجھے سنجیدگی سے غور کرنے کا سبب مہیا کیا، وہ زندگی کے کچھ پہلوؤں میں یہودیوں کی سرگرمیاں تھیں، جن کے اسرار و رموز میں میں آہستہ آہستہ اترا۔ کیا ایسی کوئی بھی مشتبہ قسم کی سرگرمی یا کسی بھی قسم کی خرابی، خصوصاً ثقافتی زندگی میں تھی جس میں کم از کم ایک یہودی شامل نہ ہو؟ اس قسم کے ناسور پر احتیاط سے تفتیش کا نشتر رکھتے ہی گلے سڑے جسم کے اندر کیڑے کی مانند جو کہ یکایک روشنی ملنے سے چندھیا جاتا ہے، ایک چھوٹا سا یہودی ملتا۔

میری نظروں میں یہودیت کے خلاف الزام اس لمحے انتہائی سنجیدہ ہو گیا، جب مجھے یہودیوں کی پریس، آرٹ، ادب اور تھیٹر میں کارروائیوں کا علم ہوا۔ اب تمام چرب زباں احتجاجات بے سود تھے۔ کسی شخص کو ”یہودی مسئلہ“ پر ہمیشہ کے لئے پتھر کی مانند ہونے کے لئے صرف ان پوسٹروں پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت تھی جو کہ سینما اور تھیٹر کی گھناؤنی تخلیقات کا اعلان کرتے تھے یا جن مصنفوں کی ان میں بہت زیادہ تعریف کی جاتی تھی، ان کے نام پڑھنے کی ضرورت تھی۔ یہاں ایک وبا تھی، ایک اخلاقی وباء جس کا عوام شکار ہو رہے تھے۔ یہ ماضی بعید کی ”کالی طاعون“ (Black Plague) سے بھی بدتر تھی اور یہ زہر کتنی بھاری مقدار میں بنا کر تقسیم کیا جا رہا تھا؟ فطری طور پر اس قسم کے فن پاروں کے خالق کا اخلاقی اور ذہنی معیار جتنا گھٹیا ہو گا، اتنا ہی وہ زیادہ بار آور ہو گا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ

صفحہ ۲۳۳

اس طرح کا کوئی شخص گندی بدرو کے پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے دوسرے انسانوں پر براہ راست کیچڑ اچھالتا۔ اس بارے میں ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے لوگوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ فطرت جہاں ایک گوئٹے (Goethe) پیدا کرتی ہے‘ وہاں اس قسم کے دس ہزار غارت گر بھی پیدا کرتی ہے جو نوع انسانی کی روحوں کو زہر آلود کرنے کے لئے مہلک ترین قسم کے جراثیم پھیلاتے ہیں۔ یہ خیال کہ فطرت نے اکثر یہودیوں کی قسمت میں اس قسم کے شرمناک کرتوت لکھ دیئے ہیں‘ اگرچہ بھیانک ہے لیکن اس سے پیچھا چھڑانا ناممکن۔

اور کیا یہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر وہ برگزیدہ نسل کہلاتے ہیں؟

................

عصمت فروشی اور خصوصاً سفید فام بردہ فروشی کے معاشرتی مظہر میں جو کردار یہودی کا تھا‘ اس کا یہاں مغربی یورپ کے کسی بھی دوسرے شہر ماسوائے ممکنہ طور پر جنوبی فرانس کی کچھ بندرگاہوں کے بہتر طور پر مطالعہ کیا جاسکتا تھا۔ رات کے وقت لیوپولڈ سٹاٹ (Leopoldstat) کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ہر موڑ پر چاہئے یا نہ چاہنے کے قطع نظر کوئی شخص ایسی چیزیں دیکھتا جن کا جرمنوں کو اس وقت تک علم نہ تھا جب تک کہ جنگ نے فوجیوں کے لئے ایسی چیز مشرقی محاذ پر نہ صرف ممکن بلکہ ناگزیر بنادی۔

میرے جسم میں تب ایک کپکپی سی طاری ہوگئی جب میں نے پہلی مرتبہ اس بات کا ایقان کیا کہ یہ وہی بے درد‘ بے حس اور بے شرم قسم کا یہودی ہی ہے جو کہ بڑے شہر کی تلچھٹ کے استحصال میں کمال ہنرمندی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تب میں غصے سے آگ بگولہ ہوگیا۔

................

حکومت کے اعلیٰ افسران کو ان معاملات میں پراپیگنڈا کے استعمال کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔ صرف یہودی کو اس چیز کا علم تھا کہ پراپیگنڈا کے مستقل اور قابلانہ استعمال سے لوگوں کے سامنے جنت کو بھی اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے‘ جیسے یہ جہنم ہو۔ اور اس کے برعکس انتہائی مصیبت زدہ زندگی کو جنت کی مانند پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہودی کو یہ پتہ تھا اور اس نے اس کے مطابق عمل کیا لیکن جرمن بلکہ اس کی حکومت کو بھی اس کا ذرا بھر

صفحہ ۲۳۴

گمان نہ گزرا۔ جنگ کے دوران اس کی بہت بھاری سزا بھگتنی پڑی ............. یہودی طفیلی کی جو زندگی دوسری قوموں اور ملکوں کے مال پر پھلتے پھولتے گزارتا ہے‘ اس کے نتیجے میں وہ خاص کردار بن گیا ہے جسے شاپنہاور (Schapinhauer) نے اس وقت بیان کیا جب اس نے یہودی کو ”جھوٹوں کا استاد“ کہا۔ یہودی جس قسم کی زندگی گزارتا ہے‘ اس کی وجہ سے اسی طرح منظم دروغ گوئی پر مجبور ہے جس طرح شمالی خطوں کے لوگ گرم لباس پہننے پر مجبور ہیں ..............

اس قوم کی تمام تر زندگی کس قدر ایک جھوٹ پر مبنی ہے‘ وہ ”صیہونی دانشور اکابرین کے پروٹوکول“ سے بے مثال طریقے سے ثابت ہوتا ہے۔ جس سے یہودی اس قدر شدومد سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ بڑی آہ و زاری کے ساتھ Frankfurt Zietung (فرینکفرٹ کا ایک مشہور اخبار) بار بار دہراتا ہے کہ یہ جعل سازی ہے۔ صرف یہی اس کے مستند ہونے کی کافی شہادت ہے۔ اکثر یہودی جو کچھ کرنا چاہتے ہیں‘ وہ اس میں واضح کر دیا گیا ہے۔ اس بات کے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس یہودی دماغ سے یہ انکشافات ابھرے۔ لیکن جو چیز انتہائی دلچسپی کی حامل ہے‘ وہ یہ کہ یہ یہودی ذہنیت اور ان کے مخصوص ہتھکنڈوں کا افشاء کرتے ہیں اور یہ تحریریں ان حتمی مقاصد‘ جن کے لئے یہودی تگ و دو کر رہے ہیں‘ کی بڑی ہمہ جہتی تشریح کرتے ہیں۔ تاہم حقیقی واقعات کا مطالعہ ہی ان دستاویزات کی سند کو پرکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگر پچھلی چند صدیوں میں رونما ہونے والے تاریخی واقعات کا اس کتاب کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ سمجھ آ جائے گا کہ یہودی پریس لگا تار اس کی مذمت اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کیوں کرتا ہے۔ کیونکہ یہودی خطرہ اس لمحے مٹ جائے گا جب یہ کتاب عوام الناس کے ہاتھ آ جائے گی اور وہ اسے سمجھ بھی لیں گے ....................

سب سے بڑھ کر یہ یہی پریس ہے جو کہ بہتان کی متعصبانہ مہم چلاتا ہے۔ ہر اس چیز کی دھجیاں اڑاتا ہے‘ جس پر قومی استقلال کا دارو مدار سمجھا جا سکتا ہے۔ اور تمام ثقافتی قدروں کی توڑ پھوڑ اور قومی معاشی نظام کی خود مختاری تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

صفحہ ۲۳۵

یہ ایسے باکردار آدمیوں کو خصوصاً حملے کا نشانہ بناتا ہے جو کہ ریاست پر یہود کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے ہم آہنگ ہونے سے منکر ہوتے ہیں۔ یا جو اپنی اعلیٰ ذہانت کی وجہ سے یہودیوں کو خطرناک لگتے ہیں کیونکہ یہودی کی دشمنی مول لینے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ان سے کھلے طور عناد ظاہر کیا جائے۔ صرف یہی کافی ہے کہ کسی کو اس قابل سمجھا جاتا ہے کہ مستقبل میں وہ یہودی کی مخالفت کر سکتا ہے یا اپنی اہلیت کے استعمال سے کسی ایسی قوم کی حالت اور قوت کو بڑھا سکتا ہے، جسے یہودی اپنا دشمن پاتا ہے۔

یہود کی جبلت جو کہ جہاں بھی ان مسائل سے واسطہ پڑتا ہے، کبھی ناکام نہیں ہوتی، بڑی مستعدی سے ان لوگوں کی اصل ذہنیت کا پتہ لگالیتی ہے جنہیں یہودی روزمرہ کی زندگی میں ملتا ہے۔ اور وہ جو ان کی سرشت کے موافق نہیں ہیں، یقیناً دشمن شمار ہوں گے۔ کیونکہ یہودی جارحیت کا شکار نہیں ہے بلکہ خود جارح ہے۔ وہ نہ صرف ان کو دشمن سمجھتا ہے جو کہ اس پر حملہ کرتے ہیں بلکہ انہیں بھی جو کہ اس کی راہ میں حائل ہونے کے قابل ہوں۔ ایسے لوگ جو شائستہ اور راست باز ظاہر ہوتے ہیں، ان کی قوت توڑنے کے لئے وہ جو ذرائع استعمال کرتے ہیں وہ کوئی ایسے واضح ذرائع نہیں ہیں جو کہ عام طور پر باوقار تصادم میں استعمال ہوں بلکہ جھوٹ اور بہتان ہیں۔

وہ کہیں بھی نہیں رکے گا۔ اس کا انتہائی گھٹیا کردار اس قدر گھناؤنا ہے کہ کوئی شخص اس بات پر حیران نہیں ہو سکتا کہ ہمارے لوگوں کے تصور میں یہودی کی تصویر مجسمہ شیطان اور بدی کے نشان کے طور پر کھینچی جائے۔ عام لوگوں کی یہودی کے باطنی کردار سے لاعلمی اور ہمارا بالائی طبقہ بصیرت اور آگاہی کے جس فقدان کا مظاہرہ کرتا ہے، ان وجوہ میں سے ہیں جو اس چیز کی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح اتنے لوگ دروغ گوئی کی اس منظم مہم کا شکار ہوتے ہیں جو کہ یہودی چلاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔ فلسطین میں یہودی ریاست کی تعمیر تاکہ وہ اس میں رہ سکیں، اس قسم کا تو ان کا ذرا بھر بھی ارادہ نہیں ہے۔ حقیقت میں ان کا مقصد اپنی بین الاقوامی خرد برد اور دغابازی کے لئے صرف ایک مرکزی تنظیم کا قیام ہے۔ ایک مقتدر اعلیٰ ریاست کی حیثیت سے اس پر کسی اور ریاست کا کنٹرول نہیں ہوگا۔ اس لئے

صفحہ ۲۳۶

اس سے ان دغابازوں کے لئے جن کا پتہ لگ جائے، جائے پناہ کا کام لیا جاسکتا ہے اور دوسرے دغابازوں کی ٹریننگ کے لئے ایک ہائی سکول کا۔

جو ریاستیں اس کے اندرونی حملوں کے خلاف خود کو کافی مضبوط ثابت کر دیتی ہیں‘ وہ بین الاقوامی اثرات کی مدد سے ان کے گردا گرد دشمنوں کا ایک حلقہ بنا دیتا ہے۔ وہ انہیں جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے‘ اور پھر اگر یہ اس کے منصوبوں کے لئے ضروری ہو تو وہ عین اس وقت جبکہ فوجیں سرحدوں پر لڑ رہی ہوں گی تو بغاوت کے جھنڈے لہرا دے گا۔

معاشی طور پر وہ اجتماعی منصوبوں کی منظم توڑ پھوڑ سے ریاست کی تباہی کا سامان کرتا ہے حتیٰ کہ یہ اتنے گراں خرچ ہو جاتے ہیں کہ ریاست کے مقدور سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر یہودی مالیاتی کنٹرول کی نذر کر دیئے جاتے ہیں۔ سیاسی طور پر وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ جن ذرائع پر ریاست کا دارومدار ہے‘ وہ کھینچ لئے جائیں۔ اس لئے وہ قومی دفاع اور مدافعت کی جڑیں کھوکھلی کرتا ہے۔ حکومت میں لوگوں کا اعتماد ختم کرتا ہے‘ قوم کے ماضی اور اس کی تاریخ کی تذلیل کرتا ہے اور ہر قومی شے کو گندی نالی میں پھینکنے کی سعی کرتا ہے۔

ثقافتی طور پر اس کا دائرہ کار فن‘ ادب اور تھیٹر میں فحش نگاری تک محدود ہے۔ قومی جذبات کے اظہار کا استہزاء‘ حسین‘ معزز‘ اعلیٰ و ارفع تصورات کا انہدام اور پھر لوگوں کو اپنی پست ذہنی سطح پر لے آنا۔

مذہب کا وہ مضحکہ اڑاتا ہے۔ اخلاق اور شائستگی کو فرسودہ تعصبات کہہ کر قومی زندگی کی رہی سہی ان بنیادوں کو کھوکھلا کیا جاتا ہے جن پر قومی زندگی کی بقاء کا دارومدار ہوتا ہے۔ .........

اگر یہودی اپنے مارکسی عقیدے کی مدد سے اقوام عالم کو فتح کر لیتا ہے تو انسانیت کی میت پر ڈالے گئے پھولوں سے اس کا تاج بنے گا اور یہ کرہ ارضی‘ لاکھوں سال قبل کی طرح‘ آکاش میں بغیر نوع انسان کے لڑھکتا ہو گا۔ لایزال فطرت اپنے قوانین کی خلاف ورزی کا بڑی بے رحمی سے انتقام لیتی ہے۔ اس لئے مجھے آج یقین ہے کہ میں خالق قادر مطلق کی رضا کے مطابق کام کر رہا ہوں۔ یہودی کے خلاف اپنا دفاع کر کے میں رضائے الٰہی کے لئے لڑ رہا ہوں۔

صفحہ ۲۳۷

باب دوازدہم

”نیو ورلڈ آرڈر“ کے متعلق مزید اہم حقائق

”ہماری طاقت دوسری تمام طاقتوں کی موجودہ متزلزل صورت حال میں کسی دوسری کی نسبت ناقابل تسخیر ہو گی کیونکہ یہ اس وقت تک نظروں سے اوجھل رہے گی جس وقت تک یہ اتنی قوت حاصل نہ کر لے کہ کسی بھی قسم کی مکاری اس کی بیخ کنی نہ کر سکے۔“ پروٹوکولز

اس ہیر پھیر سے ہم اس کی انتڑیوں کے اندر تک گھس جائیں گے اور اس بات کا یقین رکھیں کہ ہم دوبارہ تب تک وہاں سے نہیں نکلیں گے جب تک کہ ہم اس جگہ کی تمام تر طاقت کو نوچ نوچ کر ختم نہ کر ڈالیں۔

پروٹوکول نمبر ۱۵ پیرا ۳

ایک یہودی میکس نورڈاؤ Max Nordau نے اگست ۱۹۰۳ء میں باسل کی صیہونی کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل حیرت انگیز پیشین گوئی کی: ”مجھے ان الفاظ میں آپ کو بتانے کی اجازت دیجئے جیسے کہ میں آپ کو ایک ایسا زینہ دکھا رہا ہوں جس کے یہ پائے اوپر کی طرف جا رہے ہیں۔ صیہونی کانگریس‘ انگلش یوگنڈا سکیم‘ آئندہ عالمی جنگ‘ امن کانفرنس جہاں انگلینڈ کے تعاون سے ایک آزاد یہودی فلسطین عالم وجود میں آئے گا“

جیسا کہ پچھلے صفحات میں تحریر کیا گیا ہے‘ پہلی عالمی جنگ کی بنیادی وجہ استعماری طاقتوں میں نو آبادیوں کے متعلق چپقلش تھی اور یہ صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کی صدیوں کی ریشہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں کے بعد صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کی دسیسہ کاریوں سے وقوع پذیر ہوئی۔ جب کہ دوسری عالمی جنگ صیہونی طاقتوں کی نگرانی میں ترتیب دیئے گئے معاہدہ ورسائی کی وجہ سے پہلی عالمی جنگ کا تسلسل ہی تھی جیسا کہ مندرجہ بالا پیشین گوئی کے الفاظ بھی غمازی کرتے ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں جہاں روس کے رومانوف (Romanov)

صفحہ ۲۳۸

جرمنی کے ہوہن زولرن Hohenzollern اور آسٹریا۔ہنگری کے ہیپسبرگ Hapsburg قدیم شاہی خاندانوں کے تخت الٹ گئے، وہاں ترکی کی سلطنت عثمانیہ بھی ختم ہو گئی۔ ان تمام سلطنتوں میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ یہودیوں کی اکثریت کئی صدیوں سے انہی چار سلطنتوں میں آباد تھی۔

ایک ترک یہودی سلیمان منصور اپنے ایک خفیہ مراسلے میں یوں رقمطراز ہے: ”ہم نے سلطان عبدالحمید کو چند لاکھ طلائی سکے ترکی میں ایک قطعہ زمین لینے کے لئے رشوت کے طور پر پیش کئے تھے۔ لیکن اس نے انکار کر دیا اور ہمارے آدمیوں کو ذلیل کر کے باہر نکال دیا۔ مگر آپ یقین رکھیں ہم وقت آنے پر اس مغرور حکومت کو زمین بوس کر دیں گے اور ترکوں کی ایسی درگت بنائیں گے کہ ان کی حالت زار امریکہ کے ریڈ انڈینز سے بھی بدتر ہو گی۔“

ایک اور صہیونی الیگزینڈر بٹلمین (Alexander Bittleman) اپنی تصنیف (The Jewish People Face the Post-War World) میں لکھتا ہے ”اگر (روسی) سرخ فوج نہ ہوتی تو آج یورپ میں کوئی یہودی نہ ہوتا، نہ فلسطین میں اور نہ ہی افریقہ میں اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہماری بقاء کے دن گنے جاچکے ہوتے۔ سوویت یونین نے یہودی قوم کو بچا لیا۔ اس لئے امریکی یہودی عوام کو یہودی قوم کے نجات دہندہ یعنی سوویت یونین کا اس کی طرف تاریخی قرض کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔“

۱۴۹۲ء میں جب سپین کے شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلہ نے یہودیوں کو سپین سے نکال دیا اور اکثر عیسائی ملکوں نے انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا تو سلطنت عثمانیہ نے بڑی گرمجوشی سے ان پر اپنے دروازے کھول دیئے اور یہودیوں کی ایک بڑی تعداد تب سے اس تاریخی قرض کے طور پر سلطنت عثمانیہ میں آباد تھی اور ان کے کئی افراد اعلیٰ عہدوں اور وزارتوں تک پہنچ جاتے تھے۔ چونکہ سلطان عبدالحمید نے ۱۸۹۲ء میں جاپان کے شاہ میجی کی قبول اسلام کے لئے سفارت کو بڑی سرد مہری سے لوٹا کر اپنے خلاف اتمام حجت کیا تھا اس لئے رب ذوالجلال نے سلطنت عثمانیہ کا یہودیوں کے ذمے یہ تاریخی قرض اپنے دشمنوں کے ہاتھوں ہی بیباک کروایا۔ اور جہاں تک سوویت یونین کے یہودیوں کے ذمے مذکورہ بالا تاریخی

صفحہ ۲۳۹

قرض کا تعلق ہے وہ قادر مطلق نے ایک چھوٹے سے انتہائی پسماندہ اسلامی ملک افغانستان کے مجاہدین کے ذریعے اتروا دیا ہے۔

The Throne of Anti-Christ کا مصنف اپنی اس تصنیف کے صفحہ ۱۱۹ پر رقمطراز ہے: کئی سال سے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاسی صیہونیوں کا یروشلم کو واحد عالمی حکومت کا انتظامی دارالحکومت بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس عظیم (لیکن محض دنیاوی) تمنا کی اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے ۱۹۶۲ء میں جریدہ "Look" کے لئے لکھی گئی ایک تحریر میں بڑے دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کی۔ اس (ڈیوڈ بن گورین) نے اگلی ربعہ صدی میں (اس کے خیال کے مطابق) عالمی منظر پر ہونے والے واقعات کی پیشین گوئی یوں کی: ”سرد جنگ ماضی کا قصہ بن چکی ہو گی۔ روس میں اہل رائے لوگوں کے مزید آزادی کے لئے مسلسل بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ اور عوام الناس کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے دباؤ کی وجہ سے سوویت یونین میں جمہوریت مزید فروغ پائے گی۔ دوسری طرف کارکنوں اور کاشتکاروں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور اہل علم لوگوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ایک فلاحی مملکت بنا سکتی ہے، جس کی معیشت منصوبہ بندی کی پابند ہو۔ مغربی اور مشرقی یورپ خود مختار ریاستوں کا ایک ایسا وفاق بن جائے گا جس کا نظام حکومت جمہوری و اشتراکی ہو۔ ایشیائی و یورپی وفاقی ریاست سویت یونین کے سوا باقی تمام براعظم ایک عالمی اتحاد میں اکٹھے ہو جائیں گے جس کے اختیار میں ایک بین الاقوامی پولیس فورس ہو گی۔ تمام فوجیں کالعدم ہو چکی ہوں گی اور مزید کوئی جنگیں نہیں ہوں گی۔ یروشلم میں اقوام متحدہ (ایک حقیقی اقوام متحدہ) انبیاء کی درگاہ تعمیر کرے گی جو براعظموں کے وفاقی یونین کے تابع ہو گی۔ یہ نوع انسان کی عدالت عظمیٰ کا جائے مقام ہو گا، جہاں وفاقی براعظموں کے درمیان مناقشات فیصل ہوں گے۔“

صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کے ایک اہم لیڈر اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین کی مندرجہ بالا پیشین گوئی کی تعبیر کے لئے ربعہ صدی کا عرصہ ۱۹۸۷ء میں پورا ہو چکا ہے۔ اس کے دوران تو نہیں لیکن اس کے بعد روس میں جمہوری عمل شروع ہو چکا ہے۔ لیکن یہ چیز فی الحال خارج از امکان نہیں کہ کل وہاں کاؤنٹر ریولوشن آجائے۔ پیشین گوئی کے مطابق امریکہ کا اشتراکی فلاحی ریاست بننا ناممکن تو نہیں لیکن فی الحال تو امریکی حکومت کی پالیسیاں اس کے

صفحہ ۲۴۰

برعکس رخ پر ہی جاری ہیں۔ انسانی تاریخ میں کئی ایک اشتراکی معاشروں کے تجربات کا ذکر ہے، مثلاً قدیم یونانی ریاست سپارٹا (Sparta) بحیثیت ایک اشتراکی معاشرہ کے صدیوں قائم رہی۔ لیکن سوویت یونین جیسی وسیع و عظیم اشتراکی اور لادین ریاست دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں بنی اور یہ صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کا ایک عظیم کارنامہ تھا جو قوم یہود کی طویل عرصہ کی انتھک محنت اور قربانیوں کا ثمر تھا۔ لندن کے Jewish Chronicle نے ۴ اپریل ۱۹۱۹ء کی اشاعت میں لکھا ”خود بولشیوِزم کی ماہیت میں بہت کچھ ایسا ہے اور اس حقیقت میں بھی کہ بہت سے یہودی بولشوک ہیں اور اس حقیقت میں کہ بولشیوِزم کے تصورات اور نصب العین کئی لحاظ سے یہودی مذہب کے تصورات سے ہم آہنگ ہیں۔ یہودیوں کا تمام مغربی ممالک اور خصوصاً امریکہ میں بہت اثر و رسوخ ہے جس کی بناء پر یہ وہاں کی حکومتوں کی حکمت عملیوں میں اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جس طرح یہ کمیونسٹ انقلاب کے فوراً بعد سوویت یونین پر چھائے تھے شاید تاریخ میں کسی سلطنت پر اس طرح نہیں چھائے۔ بعد میں اگرچہ یہ اثر و رسوخ کسی حد تک کم ہو گیا۔ یہ عظیم اشتراکی لادین سلطنت ایک انتہائی پسماندہ اسلامی ملک افغانستان سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کے ٹوٹنے کا مندرجہ بالا پیشین گوئی میں کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کے الفاظ اور دیگر شواہد سے یہ ظاہر ہے کہ اس لادین سلطنت نے صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کے خوابوں کی تعبیر میں بڑا اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اس کے ٹوٹنے سے صیہونی نیو ورلڈ آرڈر کو دھچکا لگا ہے اور صلیبی نیو ورلڈ آرڈر کو فی الحال تقویت پہنچی ہے، کیونکہ مسلمان سیاسی رہنماؤں کی نا عاقبت اندیشی اور خود غرضی افغانستان جہاد میں عوام کی دی گئی قربانیوں کے مقصد کے حصول میں حائل ہے۔

نیو ورلڈ آرڈر کی ایک نمایاں شخصیت سیسل روڈ (Cecil Rhode) کے نام پر قائم ہونے والی افریقی نو آبادی روڈیشیا دو آزاد ریاستوں زیمبیا اور زمبابوے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جنوبی افریقہ کے عوام ولندیزی کلیسا کے ترتیب دیئے گئے انسانی تاریخ کے بدترین نسلی امتیاز کے نظام اپارتھائیڈ (Aparthied) میں صلیب تھام کر طویل عرصہ تک نیو ورلڈ آرڈر والوں کے لئے سونا اور ہیرے پیدا کرنے کے بعد آخر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو کر بنیادی حقوق حاصل کر چکے ہیں۔

صفحہ ۲۴۱

۱۹۰۰ء میں چوتھی صہیونی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ہرزل نے کہا: ”برطانیہ -- عظیم اور خود مختار برطانیہ --- جس کی سمندروں پر حکمرانی ہے‘ اسے ہماری امنگوں اور اہمیت کو سمجھنا ہو گا۔ دنیا میں اس وقت ایک کروڑ یہودی ہیں۔ برطانیہ ان کی امنگوں کا احترام کر کے بیک وقت ایک کروڑ راز حاصل کر سکتا ہے۔ برطانیہ کو ایک کروڑ جاسوس مل جائیں گے جو اس کی استیلاء اور عظمت کے لئے کام کریں گے۔“

بعد کے تاریخی حقائق و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ نے یہودی امنگوں کا احترام کر کے ایک کروڑ راز اور ایک کروڑ جاسوس حاصل کئے جن کی مدد سے اسے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں فتح حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی۔ عظیم برطانیہ جس کی اس زمانے میں سمندروں پر حکمرانی تھی اور جس کی قلمرو پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جب تک عظیم برطانیہ ان امنگوں کی تعبیر کے لئے جسد اسلام میں اسرائیل کا خنجر پیوست کر چکا تھا تب تک ان دو عالمی جنگوں کے نتیجے میں سورج اس سلطنت پر ایسا غروب ہو چکا تھا کہ اب طلوع ہی کم ہوتا ہے۔

امریکہ جس برطانوی سلطنت کا استعماری جانشین بنا اس کے متعلق پال کینڈی اپنی بیسٹ سیلر کتاب (The Rise and Fall of the Great Empires) کے صفحہ ۱۹۴ پر پچھلی صدی کے ایک برطانوی ماہر اقتصادیات کا برطانوی سلطنت کے عروج کے زمانے کے متعلق مندرجہ ذیل حوالہ دیتا ہے:

”شمالی امریکہ اور روس کے میدان ہمارے مکئی کے کھیت ہیں‘ شکاگو اور اوڈیسہ ہمارے کھلیان‘ کینیڈا اور بحیرہ بالٹک کے ممالک ہمارے لکڑی کے جنگلات‘ براعظم آسٹریلیا ہمارے بھیڑوں کے فارم اور ارجنٹینا اور شمالی امریکہ کے مغربی پریریز میں ہمارے بیلوں کے ریوڑ پلتے ہیں۔ پیرو اپنی چاندی بھیجتا ہے تو جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے سونے کا بہاؤ لندن کی طرف ہے۔ ہندو اور چینی ہمارے لئے چائے اگاتے ہیں اور ہماری کافی‘ شکر اور مصالحہ جات کے مزارعات تمام انڈیز میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سپین اور فرانس ہمارے تاکستان ہیں اور بحیرہ روم کے علاقے ہمارے پھلوں کے باغات‘ ہماری روئی کے کھیت جو طویل عرصہ تک جنوبی ریاستہائے متحدہ امریکہ پر مشتمل تھے اب کرہ ارض کے تمام گرم خطوں میں پھیل رہے

صفحہ ۲۴۲

ہیں۔“ پچھلی صدی کے آخر میں انگریزوں کے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ صورت حال کتنی تیزی سے بدل جائے گی اور ان کا ملک اپنے اصلی مقام کی طرف آنا شروع ہو جائے گا۔

پال کینیڈی اپنی مذکورہ بالا بیسٹ سیلر کتاب کے صفحہ ۲۶۴ پر سوویت یونین کے مستقبل کے متعلق اپنی بحث سمیٹتے ہوئے بڑے دوٹوک الفاظ میں لکھتا ہے کہ : ”اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سویت یونین انہدام کے قریب ہے۔“ لیکن اس کی بیسٹ سیلر کے مارکیٹ میں پہنچنے تک اس کی یہ بات غلط ثابت ہو چکی تھی۔

پندرہویں صدی عیسوی سے رونما ہونے والے یورپی معجزے‘ جس سے یورپی اقوام کا پوری دنیا پر تسلط قائم ہوا‘ کا نقطہ انتہا بڑی تباہ کن اور ہولناک دو عالمی جنگیں تھیں۔ پال کینیڈی کے مطابق اس یورپی معجزے کے تین ابتدائی محرک اور عوامل تھے۔ اول یورپ میں سیاسی اور فوجی قوت کے متعدد مراکز‘ دوم آزاد منڈی کی اقتصادیات اور سوئم ذہنی آزادی جس سے سائنسی اور فنی ترقی نے جنم لیا خصوصاً ” جہاز رانی اور ہتھیاروں کی ترقی۔ پال کینیڈی یورپی معجزے کے محرکات کی اس تثلیث کی بنیاد یورپ کے طبعی جغرافیہ کے کٹے پھٹے اور متفرق خدوخال قرار دیتا ہے۔ پال کینیڈی کے دعویٰ کی بنیاد کے متعلق اس عالمانہ اور بظاہر محکم بحث میں ایک ژرف بین قاری کے لئے ایک بڑا جواب طلب پہلو یہ ہے کہ کیا چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں جب قیصر روم قسطنطین نے عیسائی مذہب اختیار کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دے دیا‘ جس کے بعد عظیم سلطنت رومہ کے زوال اور انہدام سے لے کر پندرہویں صدی تک جب کہ تمام عیسائی یورپ ازمنہ مظلمہ میں ڈوبا رہا‘ اس دوران یورپ کے طبعی جغرافیہ کے خدوخال یہی تھے یا پندرہویں صدی میں جب اس یورپی معجزے کا آغاز ہوا کسی کائناتی حادثے کی وجہ سے یورپ نے یکایک یہ خدوخال اختیار کر لئے تھے؟ یقیناً ” ان تمام قرون مظلمہ کے دوران بھی عیسائی یورپ کے جغرافیائی خدوخال وہی تھے‘ تو پھر ان طویل صدیوں کے دوران یہ یورپی معجزہ کیوں نہ رونما ہوا۔ ہو سکتا جس طرح عیسائی ”تین خدا برابر ایک اور ایک خدا برابر تین“ کی تثلیث کے عقیدے کی بنیاد ایک اسرار (Mystery) قرار

صفحہ ۲۴۳

دیتے ہیں اسی طرح وہ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اس دنیاوی تثلیث کی بنیاد بھی ایک اسرار قرار دیں۔ لیکن در حقیقت ایسے کسی اسرار کا وجود نہیں ہے۔ یورپ کے جغرافیائی خدوخال ہمیشہ سے یہی رہے ہیں۔ صرف پندرھویں صدی تک اندلس کے آٹھ سو سالہ اسلامی عہد حکومت، صلیبی جنگوں اور سسلی میں مسلمانوں کے دور حکومت کی وجہ سے مسلمانوں کے دنیاوی علوم اور اس کے بنیادی محرکات و عوامل تو عیسائی دنیا تک پہنچ کر اسے ظلمتوں سے نکال رہے تھے لیکن اسلام کا روحانی اثاثہ کلیسا کی مزاحمت اور مسلمان حکمرانوں کی دنیا پرستی اور فسق وفجور کی وجہ سے وہاں تک نہیں پہنچ سکا تھا۔

یہاں قارئین کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا ضروری ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی امریکہ کے پیٹ میں ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا مروڑ اٹھا تھا۔ خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے بعد جب ایک طرف یورپی استعماری طاقتیں جنگ کی وجہ سے تباہ حال تھیں اور دوسری طرف تیسری دنیا کے ممالک تھے جن کا خون یہ استعماری طاقتیں پچھلی دو تین صدیوں کے دوران چوس چکی تھیں اور امریکہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر صلیبی و صہیونی دہشت پھیلا چکا تھا (جو ان بموں کے گرانے کا بنیادی مقصد تھا) اور دنیا کی کل پیداوار کا ۴۶ فیصد امریکہ میں ہوتا تھا، تب امریکہ اپنا نیو ورلڈ آرڈر نافذ کرنے کے لئے نسبتاً بہت بہتر حالت میں تھا۔ اب امریکہ کا دنیا کی کل پیداوار میں تناسب ۲۱-۲۲ فیصد ہے اور یہ گر رہا ہے۔ اسی کی ایک دہائی کے اندر ہی امریکہ دنیا کے سب سے بڑے قرضدار کی حیثیت سے بدل کر دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے اور اب جاپان دنیا کا سب سے بڑا بنکار اور قرضدار ہے۔ پچھلے بیس سال میں امریکی ڈالر کی قیمت جاپانی ین اور جرمن مارک کے مقابلے میں دو تہائی کم ہو گئی ہے۔ امریکہ کا بیرونی تجارت کا خسارہ ڈیڑھ سو ارب ڈالر کو پہنچ رہا ہے اور اس کا قرض ۳۳۵۱ ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ جاپان دنیا کا سب سے زیادہ کاریں اور فولاد پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہ ریاستہائے متحدہ امریکہ سے مشین ٹولز، بجلی کی اشیاء، کمپیوٹر کی chips Memory کی پیداوار میں بھی آگے نکل گیا ہے۔ جہاں ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ریکارڈ تجارتی اور بجٹ خساروں کا سامنا ہے وہاں جاپان ریکارڈ فاضل آمدنی ظاہر کر رہا ہے۔ امریکہ کی پیداواری صلاحیت گر رہی ہے جب کہ جاپان کی صنعت دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جاپان

صفحہ ۲۴۴

ایشیائی ترقیاتی بنک کو سب سے زیادہ سرمایہ فراہم کرنے والا ملک ہے اور ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف میں امریکہ کا برابر کا حصہ دار ہے۔ یہ اقوام متحدہ کو رقوم فراہم کرنے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپان اب بیرونی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگلی صدی میں جن اقسام کی ٹیکنالوجی انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی جاپان ان پر سب سے زیادہ تحقیق وغیرہ کر رہا ہے مثلاً انڈسٹریل سیرامکس، بائیو ٹیکنالوجی، سپر کنڈکٹیویٹی، ہائپر سونک جٹ ائر کرافٹ، انڈرسی کنسٹرکشن وغیرہ۔ امریکہ کو مشرقی ایشیاء کے "NIC's" یعنی کوریا، تائیوان، ملائشیا، سنگاپور، انڈونیشیا وغیرہ سے تجارت و صنعت میں جس مسابقت کا سامنا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ میں جہاں بڑی جنسی آزادی ہے، اس کے اپنے ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کے اعدادوشمار کے مطابق جرائم کی صورت حال کچھ ایسے ہے۔ ہر دو سیکنڈ میں ایک جرم جس کا پولیس ریکارڈ میں اندراج ہوتا ہے۔ ہر سولہ سیکنڈ میں ایک پرتشدد جرم، ہر تین سیکنڈ میں پراپرٹی یا ملکیت کے خلاف جرم، ہر چار سیکنڈ میں ایک چوری، اڑتالیس سیکنڈ میں ایک ڈاکہ، گیارہ سیکنڈ میں ایک نقب زنی اور ہر پانچ منٹ میں زنا بالجبر جو پولیس کو رپورٹ ہوتا ہے۔ ہر اکیس منٹ بعد قتل کی ایک واردات اور ہر منٹ میں تین کاریں چوری ہوتی ہیں۔ ایک سروے میں رائے دہندگان نے رائے ظاہر کی کہ جرائم کی افتاد بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی آدھی ریاستوں میں جتنے بھی بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں پچاس فیصد بیس سال سے کم عمر لڑکیوں کی ناجائز اولاد ہوتے ہیں۔ ریاست نیو جرسی میں یہ شرح ۷۱ فیصد ہے اور دارالحکومت واشنگٹن (ڈسٹرکٹ آف کولمبیا) میں ۸۸ فیصد۔ امریکہ کے National Commission on Excellence in Education نے ۱۹۸۳ء میں اپنی رپورٹ میں لکھا: "امریکیوں کی ہر نسل اپنے والدین سے تعلیم، خواندگی اور معاشی استعداد میں آگے نکلتی رہی ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ ہماری نسل تعلیمی جوہر میں اپنے والدین سے برتر نہیں، ان کے برابر نہیں بلکہ ان کے قریب بھی نہ پہنچ پائے گی۔"

انہیں حقائق کے مدنظر کسی ماہر امریکی نے رائے دی کہ "اگر خاندانی نظام

صفحہ ۲۴۵

سے‘ جو معاشرے کے بچوں کی بہبود و احساسات کو تحفظ فراہم کرتا ہے‘ وہ استحکام حاصل ہوتا ہے جو مشرقی ایشیا کی مسابقت میں برتری کی کنجی ہے تو امریکہ کو نہ صرف تجارت اور بجٹ کے خساروں‘ پیداوار کی کوالٹی اور تعلیمی معیار‘ بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی کی فکر کرنی ہوگی۔ اسے اپنی بقاء کے لئے ہی فکر مند ہونا پڑے گا۔“

اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّيْطٰنِ ط اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔

(المجادلہ۔۱۹)

ان پر شیطان نے پوری طرح غلبہ پا لیا ہے۔ سو اس نے ان کو خدا کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ جماعت شیطان کا لشکر ہے۔ خوب سن لو شیطان کا لشکر ہی تباہ ہونے والا ہے۔

صفحہ ۲۴۶

باب سیزدہم

افعی کے بچے اور حقیقی عالمی نظام

مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ط فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ O ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیْرٌ O

(الملک: ۳-۴)

”دیکھنے والے تو رحمان کی صنعت میں کوئی بے ضابطگی پاتا ہے؟ پھر نگاہ ڈال کر دیکھ۔ کیا تو کوئی شگاف دیکھتا ہے؟ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ۔ تیری نگاہ ذلیل ہو کر اور تھک کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔“

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں بر سر اقتدار آ کر اپنے گھر والوں کو وہاں آباد کیا تو اس وقت مصر میں Hyksos یعنی چرواہے بادشاہوں کی حکومت تھی، جنہوں نے مغربی ایشیا سے جا کر مصر کی سلطنت پر قبضہ کیا تھا۔ اور اس وقت مصر کے اپنے فراعنہ نہ تھے، اس لئے قرآن چرواہے بادشاہوں کے لئے لفظ فرعون کی بجائے ملک استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ مغربی تاریخ دانوں کو اس حقیقت کا علم صدیوں بعد ہوا۔

مرور زمانہ کے ساتھ قوم یہود یعنی بنی اسرائیل شریعت ابراہیمی سے ہٹ گئی اور اس نے زرد گائے (Hathore) اور دوسرے مصری دیوتاؤں کو پوجنا شروع کر دیا۔ اسی دوران مصر کے اپنے فراعنہ نے بیرونی حملہ آور چرواہے بادشاہوں (Hyksos) کو نکال باہر کیا اور خود دوبارہ سلطنت پر قابض ہو گئے۔ اس کے بعد قوم یہود پر خدا کا عذاب فراعنہ کے مظالم کی صورت میں نازل ہوا۔ فراعنہ کو چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ یہ قوم بیرونی دشمنوں سے کر دشمنوں مل کر

صفحہ ۲۴۷

ان کی سلطنت کے لئے خطرہ پیدا کر سکتی ہے، اس لئے وہ ان سے سخت بیگار لیتے اور ان کی نسل کو بڑھنے سے روکنے کے لئے اگر ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو اسے چھوڑ دیا جاتا لیکن اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اسے پیدا ہوتے ہی فرعون کے حکم سے مار دیا جاتا۔ بالآخر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قوم کو فرعون مصر سے نجات دلائی۔

حضرت موسیٰؑ کے عظیم معجزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد جن میں سمندر کو چیر کر ان کی نجات کے لئے راہ بنانا، ان کی آنکھوں کے سامنے ان پر شدید مظالم ڈھانے اور ان کا تعاقب کرنے والے فرعون کا غرق ہونا اور ان کے لئے صحرائے سینا میں من و سلویٰ اور پانی کے بارہ چشمے جاری کرنا بھی تھا، اس قوم کو جب نجات دلانے والے عظیم المرتبت رسول نے فلسطین میں کفار کی ایک آبادی پر حملہ کرنے کا حکم دیا، مع بشارت کے کہ اگر یہ حملہ کریں گے تو فتح یاب ہوں گے، تو اس قوم کا جواب تھا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا خدا ان لوگوں سے جا کر جنگ کرو، ہم تو یہاں سے نہیں ہلنے کے۔ جس پر خدا کی طرف سے حکم نازل ہوا کہ یہ قوم چالیس سال تک ارض موعود کے قریب ہی صحرا میں بھٹکتی رہے گی۔ جس دن خدا کی طرف سے یہ حکم اس کے رسول کی وساطت سے بنی اسرائیل کو ملا اس دن اس قوم کی تقویم کے مطابق اب کے مہینے کی نو تاریخ تھی۔ اس اب کے مہینے کی نو تاریخ نے ”قوموں کے لیے نور“ قوم کی تاریخ میں حقیقی عالمی نظام کے ناطے انتہائی معنی خیز اہمیت حاصل کرنی تھی، اور اس قوم نے اگلے ہزاروں سال تک اس دن کو بڑے سوگوار اور ماتمی انداز میں منانا تھا لیکن بغیر اس کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے۔

چنانچہ اس قوم کو حکم خداوندی سے چالیس سال صحرائے سینا میں ہی رکنا پڑا حتیٰ کہ ایک بالکل نئی نسل تیار ہوئی۔ اور پھر یہ قوم مدین کے صحرائی اور پہاڑی علاقے کی طرف بڑھی۔ بائیبل کے مطابق مدین کے صرف ایک کیمپ میں انہوں نے حملہ کر کے پونے سات لاکھ بھیڑیں، بہتر ہزار بیل، اکسٹھ ہزار گدھے اور بتیس ہزار کنواری لڑکیوں پر قبضہ کیا۔ تمام مرد، تمام شادی شدہ عورتیں، تمام لڑکے اور بچے قتل کر دیئے۔ لڑکیاں اور مال غنیمت بانٹ لیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اریحا (Jericho) شہر پر قبضہ کیا اور وہاں سوائے ایک فاحشہ عورت کے جس نے ان کے لئے مخبری کی تھی، ساری آبادی کو بمع کنواری لڑکیوں کے تہہ تیغ

صفحہ ۲۳۸

کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے ان پر قسمیہ لعنت بھیجی ہوئی تھی۔

یہاں یہ سوال اٹھانا بیجا نہ ہوگا کہ آیا یہودی انسانی قربانی دیتے رہے ہیں یا نہیں، جیسا کہ ان پر الزام تھا۔ چونکہ بائبل کے سفر لاویاں کے باب ۲۷ کی آیت ۲۹ کے علاوہ دوسری کئی آیات اور تاریخی شواہد بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایسا کرتے رہے ہوں گے۔ اریحا شہر پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد ہی ان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس کے دوران ان کے بن یامین قبیلے میں سوائے چھ سو مردوں کے باقی تمام بچے بوڑھے عورت مرد فنا ہو گئے۔ چونکہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بارہ قبیلوں میں سے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے چلے آ رہے تھے، کوئی بھی ختم ہو جائے، انہوں نے مناسا قبیلے کے ایک شہر میں مار دھاڑ کا منصوبہ بنایا اور وہاں کے تمام مرد، شادی شدہ عورتیں، بیوائیں، بچے، بوڑھے قتل کر دیئے سوائے چھ سو کنواری لڑکیوں کے جو انہوں نے بن یامین قبیلے کے باقی ماندہ چھ سو مردوں کے سپرد کر دیں تاکہ وہ ان سے اپنی نسل آگے بڑھا سکیں اور اس طرح ان کے بارہ قبیلے مکمل رہیں۔

اسی دوران فلسطینی قوم جو کہ طاقتور لوگ تھے اور فلسطین میں قدیم زمانے سے ساحل سمندر پر آباد تھے، ان نو واردوں کی لوٹ مار اور مظالم سے چوکنے ہو گئے اور ان کی خوب آؤ بھگت کی۔ گرد و نواح کے حکمرانوں نے یہود کے خلاف ایکا کیا اور یہ قوم سات مرتبہ مجموعی طور پر دو سو سال سے زیادہ عرصہ کے لئے ان کی غلامی میں گئی۔ بالآخر انہوں نے قرعہ اندازی سے اپنے لئے ایک بادشاہ چنا تاکہ وہ انہیں اس غلامی سے نجات دلائے۔ شروع میں تو انہیں اپنے فلسطینی آقاؤں کے خلاف کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی لیکن آخر حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ کام ان کے لئے کر دیا اور یروشلم فتح کر کے ان کے لئے ایک آزاد مملکت قائم کر دی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے دور حکومت کے تقریباً چالیس سال (۱۰۱۰ ق م تا ۹۷۰ ق م) اور اس کے بعد ان کے بیٹے اور جانشین حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد حکومت کے تقریباً چالیس سال (۹۷۰ سے ۹۳۰ ق م) کو یہ قوم اپنی چار ہزار سالہ انوکھی تاریخ کا سنہری زمانہ کہتی ہے (اس کے بعد سپین میں مسلمانوں کا تقریباً آٹھ سو سالہ عہد حکومت ان کے لئے ایک دوسرا سنہری دور تھا)۔ اس وقت تک یہ بیچاری قوم اپنے لئے کوئی عبادت گاہ بھی تعمیر نہ کر سکی

تھی حالانکہ ارد گرد کی تمام بت پرست قوم آخر حضرت سلیمان نے ان کے لئے انجام دی حضرت سلیمان کی وفات سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ڈھائی قبیل ساڑھے نو قبیلوں پر مشتمل دوسری حکوم دونوں حکومتوں کے خدا اور مذاہب مختل پرستش کرتے تھے جبکہ یہودیہ کے یہودی یہو دھڑوں کے اپنے علیحدہ علیحدہ خدا، معبد، مجا پیدا ہو گئی اور خونریز جنگ چھڑ گئی۔ اس زما ابھری جو مغربی ایشیا کے اکثر علاقوں پر چھا گئی، تھیں تو آشوریہ کے حکمران ان پر ایسے لپکے ۷۲۲ ق م میں آشوری حکمران سارگون (Sargon) جو نسبتاً زیادہ زرخیز تھی، وہاں کے ساڑھے نو گئے۔ آقا ان غلاموں کو کہاں لے گئے؟ یہ معما میں اس کے بعد ان کا سراغ لگانا ناممکن ہے باہر سے دوسرے لوگ لا کر آباد کر دیئے جو یہ کم زرخیز یہودی ریاست یہودیہ کے ذم (Hazael) اور ریزین (Razin) کے بار ب لہٰذا اس زمانے میں بھی ی شرک اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی تھیں ب رہے، جنہوں نے اس قوم کو راہ راست پ یرمیاہ اور حزقی ایل خصوصاً قابل ذکر ہیں ک صدی (ق۔م) کے اواخر اور چھٹی صدی ا کے لئے اسے بہت جھنجھوڑا اور اس کی سی

صفحہ ۲۴۹

تھی حالانکہ ارد گرد کی تمام بت پرست قوموں نے اپنے اپنے معبد تعمیر کئے ہوئے تھے۔ یہ کام آخر حضرت سلیمانؑ نے ان کے لئے انجام دیا۔

حضرت سلیمانؑ کی وفات پر اس قوم کے بارہ قبیلے پھر تقسیم ہو گئے اور سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ڈھائی قبیلوں پر مشتمل ایک حکومت کا نام یہودیہ تھا اور ساڑھے نو قبیلوں پر مشتمل دوسری حکومت کا نام اسرائیل (سامریہ)۔ وقت کے ساتھ ان دونوں حکومتوں کے خدا اور مذاہب مختلف ہو گئے۔ سامریہ کے لوگ سیڈونی دیوتا بعل کی پرستش کرتے تھے جبکہ یہودیہ کے یہودی یروشلم میں ایڈونائی کو پوجتے تھے۔ چونکہ ان دونوں دھڑوں کے اپنے علیحدہ علیحدہ خدا، معبد، عبادات اور حکمران تھے، چنانچہ ان میں سخت عداوت پیدا ہو گئی اور خونریز جنگ چھڑ گئی۔ اس زمانے میں آشوریہ (Assyria) کی طاقتور سلطنت ابھری جو مغربی ایشیا کے اکثر علاقوں پر چھا گئی۔ جب یہودیوں کی دو ریاستیں آپس میں برسر پیکار تھیں تو آشوریہ کے حکمران ان پر ایسے لپکے جیسے دو لڑتی ہوئی چھپکلیوں پر عقاب لپکتا ہے۔ اور ۷۲۲ ق م میں آشوری حکمران سارگون (Sargon) کی سرکردگی میں سامریہ کی ریاست سے جو نسبتاً زیادہ زرخیز تھی، وہاں کے ساڑھے نو یہودی قبائل کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر لے گئے۔ آقا ان غلاموں کو کہاں لے گئے؟ یہ ساڑھے نو یہودی قبائل ایسے منتشر ہوئے کہ تاریخ میں اس کے بعد ان کا سراغ لگانا ناممکن ہے۔ آشوری حکمرانوں نے ان کی زرخیز ریاست میں باہر سے دوسرے لوگ لاکر آباد کر دیئے جو سیمارٹن (Samaritan) کہلائے۔ باقی بچے نسبتاً کم زرخیز یہودی ریاست یہودیہ کے ڈھائی قبیلے، سو وہ بھی آشوری حکمرانوں ہیزیل (Hazael) اور ریزین (Razin) کے باجگزار رہے۔

لہٰذا اس زمانے میں بھی جب یہودیہ اور سامریہ کی دو یہودی ریاستیں کفر و شرک اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی تھیں، اس قوم میں لگاتار بہت سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے، جنہوں نے اس قوم کو راہ راست پر لانے کی پوری کوشش کی۔ ان میں سے یسعیاہؑ، یرمیاہؑ اور حزقی ایلؑ خصوصاً قابل ذکر ہیں کیونکہ انہوں نے پہلے فساد عظیم سے پیشتر ساتویں صدی (ق۔م) کے اواخر اور چھٹی صدی (ق۔م) کے آغاز میں اس قوم کو تباہی سے بچانے کے لئے اسے بہت جھنجھوڑا اور اس کی سیہ کاریوں کا رونا رویا۔ مشتے از خروارے کے طور پر

صفحہ ۲۵۰

یہاں ہم ان انبیاء کے صحیفوں میں سے چند آیات دیتے ہیں۔

مکار اولاد‘ جنہوں نے خدا کو ترک کر دیا‘ اسرائیل کے قدوس کو حقیر جانا اور گمراہ و برگشتہ ہو گئے‘ تم کیوں زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے؟“

(۔سعیاہ۔ باب ۱۔ آیت ۴۔۵)

انکار کرتے ہیں ...... پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم و ضلالت پر بھروسہ کرتے ہو اور اسی پر قائم ہو‘ اس لئے یہ بدکرداری تمہارے لئے یوں ہوگی جیسے پھٹی ہوئی اونچی دیوار جو گرا چاہتی ہے۔ وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا۔ اسے بے دریغ چکنا چور کرے گا۔ اس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی ایسا نہ ملے گا جس پر چولہے سے آگ یا حوض میں سے پانی لیا جاسکے“۔

(۔سعیاہ‘ باب ۳۰‘ آیت ۹۔۱۴)

حضرت یسعیاہؑ کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں آرے سے دو حصوں میں کاٹ کر شہید کر دیا۔ اس کے بعد آخری لمحے پر حضرت یرمیاہؑ اور حضرت حزقی ایلؑ نے قوم کو بچانے کی کوشش کی۔ حضرت یرمیاہؑ کا چونکہ یہ معمول تھا کہ وہ یروشلم کے گلی کوچوں میں اپنی قوم کے کفر و شرک اور فسق و فجور کا ماتم کرتے اور آنے والے عذاب کی دہائی دیتے پھرتے رہتے تھے‘ اس لئے ان کے نام کے معنی ہی (مغربی زبانوں میں) ماتم اور بین کرنے کے ہو گئے۔ اس کے بدلے ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں زود کوب کیا‘ انہیں کئی دفعہ قید میں رکھا اور غلاظت کے گڑھے میں پھینک دیا۔

چڑھا لاؤں گا۔ خداوند فرماتا ہے وہ ثابت قدم قوم ہے اور وہ ایک قدیم قوم ہے۔ ایسی قوم جس کی زبان تم نہیں جانتے اور نہ ہی اس کی بات کو سمجھ سکتا ہے۔ ان کے ترکش کھلی قبریں ہیں‘ وہ تمام زور آور مرد ہیں۔ وہ تیری فصل کا اناج اور تیری روٹی جو تیرے بیٹوں‘ بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے۔ تیرے گائے بیل اور تیری بکریاں چٹ کر جائیں گے۔ تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے۔ تیرے قلعہ بند شہر جن پر تجھے بھروسہ ہے تلوار سے ویران کر دیں گے“۔

صفحہ ۲۵۱

(یرمیاہ‘ باب ۵‘ آیت ۱۵۔۱۷)

قحط اور وباء‘ اور انہیں ایسی نابکار انجیر کی مانند کردوں گا جو کھائی نہیں جاسکتی کیونکہ یہ اس قدر بدکار ہیں۔ اور میں انہیں تلوار‘ قحط اور وباء سے اذیت دونگا‘ اور انہیں روئے ارض کے تمام ممالک میں بکھیر دونگا تاکہ وہ ان تمام قوموں میں جن کے درمیان میں انہیں ہانک دونگا وہ ایک لعنت‘ ایک اچنبھا‘ (سانپ کی) ایک سرسراہٹ اور ایک طعنہ ہونگے کیونکہ انہوں نے میرے کلام کی طرف توجہ نہیں دی۔ (یرمیاہ: باب ۲۹‘ آیت ۱۷۔۱۹)

اپنے لئے بت بناتا ہے تاکہ تجھے ناپاک کریں...... دیکھ اسرائیل کے امراء سب کے سب جو تجھ میں ہیں مقدور بھر خونریزی پر آمادہ ہیں...... تیرے اندر انہوں نے پردیسیوں کو ان کے مال سے جبراً محروم کیا۔ یتیموں اور بیواؤں پر ستم کیا۔ تو نے میری پاک چیزوں سے نفرت کی اور میرے سبتوں کی بے حرمتی کی۔ تیرے اندر وہ ہیں جو چغل خوری کر کے خون کرواتے ہیں۔ تیرے اندر وہ ہیں جو بتوں کی قربانی سے کھاتے ہیں۔ تیرے اندر وہ ہیں جو فسق و فجور کرتے ہیں۔ تیرے اندر وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے باپ کی حرم شکنی کی۔ تجھ میں انہوں نے اس عورت سے جو ناپاک حالت میں تھی مباشرت کی۔ کسی نے دوسرے کی بیوی سے بدکاری کی‘ کسی نے اپنی بہو سے بدذاتی کی‘ اور کسی نے اپنی بہن‘ اپنے باپ کی بیٹی کو تیرے اندر بے آبرو کیا۔ تیرے اندر انہوں نے خونریزی کے لئے رشوت خوری کی۔ تو نے بیاج اور سود لیا۔ اور ظلم کر کے اپنے پڑوسی کو لوٹا۔ اور مجھے فراموش کیا...... کیا تیرے ہاتھ میں زور ہو گا جب میں تیرا معاملہ فیصل کروں گا...... ہاں میں تجھ کو قوموں میں تتر بتر کروں گا۔ اور تیری گندگی تجھ میں سے نابود کر دوں گا۔ اور تو قوموں کے سامنے اپنے آپ میں ناپاک ٹھہرے گا۔ اور تجھے معلوم ہو گا کہ میں خداوند ہوں“۔ (حزقی ایل‘ باب ۲۲‘ آیت ۳۔۱۶)

نینوا کی آشوری سلطنت کے زوال اور ۶۱۲ ق۔م میں خاتمہ کے بعد اس کی وارث بابل کی حکومت اور مصری سلطنت کے درمیان فلسطین کے علاقہ کے متعلق کشمکش شروع ہو گئی جس کے دوران یہودیہ کی حکومت کبھی مصری سلطنت کی محکومی میں چلی جاتی تو

صفحہ ۲۵۲

کبھی بابل کی سلطنت کی۔ ۶۰۵ ق م میں بابلیوں نے مصریوں کو قارقمش Carchmish کی مشہور جنگ میں فیصلہ کن شکست دی۔ حضرت یرمیاہؑ نے اپنی قوم اور اس کے حکمرانوں کو بابل کی اطاعت کی نصیحت کی کیونکہ یہ خدا کا حکم تھا اور پیشین گوئی کی کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کی مملکت اور یروشلم تباہ ہو جائے گا۔ لیکن جب قوم نے ان کی بات سنی ان سنی کردی تو بابل کے مشہور حکمران بخت نصر (Nabuchadnezzar) نے فوج بھیج کر یروشلم کا محاصرہ کرلیا۔ اور ۱۶ مارچ ۵۹۷ ق م کو سقوط یروشلم کے بعد یہودی حکمران یہویاچن Jehoiachin کو مع بہت سے دوسرے یہودیوں کے قید کرکے بابل لے جایا گیا۔ اور ایک یہودی صدقیاہ Zadekiah کو گورنر مقرر کیا۔ حضرت یرمیاہؑ مسلسل بخت نصر کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی نصیحت و تلقین کرتے رہے لیکن صدقیاہ اور دوسرے یہودیوں نے ان کی تلقین کو نظر انداز کرتے ہوئے مصری فرعون حوفرا Hophra کے ساتھ ساز باز کر کے بغاوت کر دی‘ جس پر بخت نصر نے دوبارہ فوج بھیج کر یروشلم کا محاصرہ کیا۔ اس دوران چونکہ حضرت یرمیاہ برابر بغاوت نہ کرنے کی تلقین کر رہے تھے‘ اس لئے یہودیوں نے انہیں کئی مرتبہ قید میں ڈال دیا اور ایک دفعہ غلاظت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ اگست ۵۸۶ ق م میں بخت نصر نے یروشلم فتح کرکے بہت سے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہیکل سلیمانی اور یروشلم بالکل تہس نہس کر دیئے گئے۔ صدقیاہ کے تینوں بیٹوں کو اس کے سامنے قتل کرکے اس کی آنکھیں نکلوا دیں گئی۔ فلسطین کا ہر قابل ذکر شہر تباہ ہو گیا۔ صرف کسانوں کو اس سرزمین میں چھوڑا گیا۔ صدقیاہ کو مع کم از کم پچاس ہزار دوسرے یہودیوں کے پابند سلاسل بابل کی طرف ہانک دیا گیا۔ جہاں انہوں نے اپنے بربط درختوں کی شاخوں سے لٹکا دیئے اور اس کے بعد صرف ایک ہی گیت گاتے رہے

اے یروشلم! اگر میں تجھے بھول جاؤں تو میرا دایاں ہاتھ اپنی مکاری بھول جائے۔
اگر میں تجھے یاد نہ رکھوں تو میری زبان تالو سے چپک جائے۔
اے صہیون! جب تو ہمیں یاد آتا تو ہم بابل کے پانیوں کے قریب بیٹھے رویا کئے۔

(Psalm:137)

ویسے تو اس قوم کی تاریخ‘ سوائے دو وقفوں کے‘ ایک مسلسل عذاب کی

صفحہ ۲۵۳

نے مصریوں کو کار چمش Carchmish کی پر یرمیاہ نے اپنی قوم اور اس کے حکمرانوں کو یا اور پیشین گوئی کی کہ اگر انہوں نے ایسا نہ تی جب قوم نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی (Nabuc نے فوج بھیج کر یروشلم کا محاصرہ ا بعد یہودی حکمران جیویا چن Jehoiachin بابل لے جایا گیا۔ اور ایک یہودی صدقیاہ لسل بخت نصر کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی وے یہودیوں نے ان کی تلقین کو نظر انداز ساتھ ساز باز کر کے بغاوت کر دی‘ جس پر ایا۔ اس دوران چونکہ حضرت یرمیاہ برابر ہودیوں نے انہیں کئی مرتبہ قید میں ڈال دیا سنہ ۵۸۶ ق م میں بخت نصر نے یروشلم فتح کر دیا۔ ہیکل سلیمانی اور یروشلم بالکل تہس کے سامنے قتل کر کے اس کی آنکھیں نکلوا ف کسانوں کو اس سرزمین میں چھوڑا گیا۔ کے پابند سلاسل بابل کی طرف ہانک دیا گیا۔ مٹا دیئے اور اس کے بعد صرف ایک ہی

یرا دایاں ہاتھ اپنی مکاری بھول جائے۔
و سے چپک جائے۔
کے پانیوں کے قریب بیٹھے رویا کئے۔

(Psalm:۱۳۷)

ودیوں کے‘ ایک مسلسل عذاب کی

کہانی ہے۔ لیکن یہ اس قوم پر نازل ہونے والا پہلا عذاب عظیم تھا جس میں ان کی باقی ماندہ مملکت بھی ختم ہو گئی اور بحیثیت قوم ان کا شیرازہ بکھر گیا۔ جس دن ہیکل سلیمانی بابل کی فوجوں کے ہاتھوں تباہ ہوا اس دن بھی بنی اسرائیل کی تقویم کے مطابق آب کے مہینے کی نو تاریخ تھی جو حقیقی عالمی نظام کی اصطلاح ”ایام اللہ“ کی نسبت سے برگزیدہ قوم کی تاریخ میں بڑی معنی خیز اہمیت کی حامل ہے اور جسے یہ قوم ہزاروں سال سے بڑے ماتمی انداز میں منا رہی ہے۔

اس سے پہلے کچھ دیر محاصرہ عارضی طور پر اٹھنے کے دوران ان کی قوم کے کچھ سرکردہ آدمی حضرت یرمیاہ کو زبردستی اغوا کر کے صحرائے سینا لے گئے کیونکہ وہ مسلسل بغاوت نہ کرنے کی تلقین کر رہے تھے اور شہر کی تباہی کی پیشین گوئیاں دے رہے تھے۔ ۵۷۰ ق م میں ان لوگوں نے وہاں حضرت یرمیاہ کو سنگسار کر دیا۔ حضرت یرمیاہ نے بابل میں اسیر اپنی قوم کو بتا دیا کہ وہ فوری رہائی کی توقع نہ رکھیں کیونکہ اس میں خدا کی مرضی سے ایک عرصہ لگے گا۔ اس اسیری کے زمانے میں نبی حزقی ایل اور کچھ دوسرے انبیاء نے اس قوم کو برقرار رہنے میں مدد دی۔ یہ اسیری کا زمانہ اتنا زیادہ سخت نہ تھا اور یہودیوں کو اپنے مذہبی پیشواؤں کے تحت اپنے داخلی معاملات خود طے کرنے کی اجازت تھی۔ اس قوم نے اس اسیری کے زمانے میں سود‘ دلالی اور پرانے کپڑوں کے کاروبار میں مہارت حاصل کی۔

۵۳۸ ق م میں وسیع اور عظیم ایرانی ہخامنشی سلطنت (Empire Achaemenian) کے بانی کوروش (Cyrus) نے بابل کی حکومت کو شکست دے کر اسے فتح کر لیا۔ وہ چونکہ ایک خدا ترس اور وسیع النظر حکمران تھا‘ اس لئے اس نے یہودیوں کو بابل کی غلامی کے چنگل سے چھڑا کر یروشلم میں ایک ماتحت ریاست قائم کرنے اور اپنا معبد دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ جو یہودی بابل کی ریاست میں پیسہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے‘ انہوں نے دجلہ اور فرات کے سرسبز و شاداب دوآبہ کو چھوڑ کر واپس آنا گوارا نہ کیا۔ اور قوم کے بدحال اور نچلے طبقے کے لوگ زیرو بابل (Zerubbabel) کی سرکردگی میں تقریباً ۷۰ سال کی غلامی گزار کر واپس فلسطین پلٹے۔ باقی نے یروشلم میں ہیکل کی تعمیر کے لئے صرف مالی امداد دینے پر اکتفا کیا۔ اور وہ بھی ایسڈراز (Esdras) کے مطابق ستر ہزار طلائی سکوں سے زیادہ نہ تھی باوجود اس امر کے کہ یہ ان کا دنیا میں واحد عبادت خانہ تھا۔

صفحہ ۲۵۴

ایرانیوں کی غلامی میں ابھی تقریبا دو صدی کا زمانہ گزرا تھا کہ سکندر اعظم یونانی نے داراسوم کو ۳۳۱ ق م میں اربیلہ کی تاریخی جنگ میں شکست دے کر اس کی وسیع سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اور یوں یہ برگزیدہ قوم ایرانیوں کی غلامی سے نکل کر یونانیوں کی غلامی میں آگئی۔ سکندر اعظم نے دریائے نیل کے ڈیلٹا کے نزدیک عالمی مرکز کے طور پر اسکندریہ کا شہر بسایا تو اس قوم کے بہت سے لوگ دلالی اور سودی کاروبار کے لئے وہاں جمع ہو گئے۔ سکندر اعظم کی جانشین دو سلطنتوں یعنی مصری اور شامی میں اکثر جنگ رہتی تھی اور اس جنگ میں یہودی آبادی کا بھی وہی حال ہوتا جو باقی آبادی کا اور یہ فاتح حکومت کی ملکیت تصور کی جاتی۔ شامی سلطنت کے یونانی حکمران انٹیوکس چہارم ایپی فینیز (IV Epiphanes Antiochus) (۱۷۵ تا ۱۶۴ ق م) نے جب یروشلم کو لوٹا اور شہر میں یونانی فوج تعینات کر کے یہودیوں پر کڑی پابندیاں لگا دیں تو انہوں نے یہودا میکابیس (Judas Maccabees) کی سرکردگی میں ایک مذہبی تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں ان کی خود مختار Hasmonian مملکت قائم ہوئی جو تقریبا سو سال برقرار رہی۔

جب رومی مغربی ایشیا کے یونانی حکمرانوں کے لئے خطرہ بن کر ابھرنے لگے تو یہودیوں نے تحائف اور اپنی اطاعت سے رومی سینٹ (Senate) کو رام کیا۔ اس زمانہ میں ارد گرد کی قوموں کے درمیان جنگ و جدل کی وجہ سے یہودیوں کو کچھ سکون ملا۔ لیکن یروشلم کو جو نئی کچھ برائے نام آزادی حاصل ہوئی، وہاں خانہ جنگی چھڑ گئی جس سے اس کی حالت بیرونی حکمرانوں کے تحت محکومی کے طویل سلسلے کے گزشتہ زمانے سے بھی بدتر ہو گئی۔ جس طرح دیگر اقوام اس زمانے میں رومیوں کو اپنا منصف ٹھہرا رہی تھیں، یہودیوں نے بھی ان کو اپنا ثالث اور آقا بنالیا۔

اسی زمانے کا ایک واقعہ ٹوائنبی اور گبن دونوں اپنے اپنے شاہکاروں میں تحریر کرتے ہیں جسکے مطابق:۔

"قیروان میں انہوں نے ۲۲۰۰۰۰ یونانیوں کا قتل عام کیا۔ قبرص میں ۲۴۰۰۰۰ اور اسی طرح مصر میں بھی ایک کثیر تعداد کا۔ ان میں بہت سے بد نصیبوں کو داؤد کی

قائم کردہ مثال کے مطابق انہوں نے گوشت نگل گئے۔ اور ان کی انتڑیاں بات کا تعلق ہے کہ اس مثال کی نسب تو یہ کس حد تک مبنی بر حقیقت ہو سکتی سکتا ہے۔

oman Empire, Vol. II. Ch. 16)

اسی زمانے میں یہود یہودی خاندان تھا لیکن ان کا سلسلہ نسب چونکہ یہودی ہمیشہ عیسو کی نسل کو نیچ ذلی اس خاندان کے لوگوں کو یہودیوں کے (Pompey) جب شام میں چھوٹے چھو کے یہودی حکمران ارسٹابولس نے اسے ر فساد کرنے والے تمام ربیوں اور دوسرے دیا۔ اس دوران چونکہ ہیروڈ کے باپ انٹی کی اس لئے وہ یہودیہ (Judea) کا حاکم من جانشین ہوا۔ ہیروڈ اعظم رومیوں کے تحت گیا۔ اس نے یروشلم شہر جو کہ پچھلی شور فصیل کی دوبارہ تعمیر کروائی۔ اس نے ہیکل کارکنوں کی کمی کے باعث اسے مکمل نہ کر ہیکل سلیمانی سے بڑی عقیدت ہے لیکن (Herod the Great) ہے جس کے ح پر بیت اللحم میں چودہ ہزار بچوں کو قتل کیا گ اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہونے والا ہے۔

صفحہ ۲۵۵

قائم کردہ مثال کے مطابق انہوں نے آرے سے دو حصوں میں کاٹا۔ ان کا خون چاٹ لیا اور گوشت نگل گئے۔ اور ان کی انتڑیاں پٹکے کی مانند اپنے جسم پر لپیٹ لیں"۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس مثال کی نسبت حضرت داؤدؑ سے ان کی سیہ کار قوم نے جو باندھی ہے تو یہ کس حد تک مبنی بر حقیقت ہو سکتی ہے تو اس کا اندازہ ہر سلیم العقل انسان آسانی سے لگا سکتا ہے۔

(Decline and Fall of Roman Empire, Vol. II. Ch. 16)

اسی زمانے میں یہودیوں میں ہیروڈ (Herod) خاندان ابھرا۔ یوں تو یہ یہودی خاندان تھا لیکن ان کا سلسلہ نسب حضرت یعقوبؑ کے بھائی عیسو (Essau) سے ملتا تھا۔ چونکہ یہودی ہمیشہ عیسو کی نسل کو نیچ ذات سمجھتے تھے، اس لئے رومیوں نے غالبا اسی وجہ سے اس خاندان کے لوگوں کو یہودیوں کے اوپر حاکم مقرر کرنا شروع کر دیا۔ قیصر روم پومپے (Pompey) جب شام میں چھوٹے چھوٹے حکمرانوں کی سرکوبی کے لئے آیا تو چونکہ یروشلم کے یہودی حکمران ارسٹابولس نے اسے دھوکہ دیا تھا، اس لئے اس نے شہر پر قبضہ کر کے فتنہ و فساد کرنے والے تمام ربیوں اور دوسرے یہودیوں کو سولی پر ٹانگ دیا اور ارسٹابولس کو قتل کرا دیا۔ اس دوران چونکہ ہیروڈ کے باپ انٹی پیٹر دوم (Anti-Pater II) نے پومپے کی کافی مدد کی اس لئے وہ یہودیہ (Judea) کا حاکم مقرر کر دیا گیا۔ ہیروڈ اپنے باپ انٹی پیٹر کے بعد اس کا جانشین ہوا۔ ہیروڈ اعظم رومیوں کے تحت فلسطین اور شام کے علاقوں کا کافی طاقتور حکمران بن گیا۔ اس نے یروشلم شہر جو کہ پچھلی شورشوں میں کافی تباہ ہو چکا تھا اس کو بحال کیا اور اس کی فصیل کی دوبارہ تعمیر کروائی۔ اس نے ہیکل سلیمانی کی بھی از سر نو تعمیر شروع کی لیکن پیسوں اور کارکنوں کی کمی کے باعث اسے مکمل نہ کر سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں کو اگرچہ ہیکل سلیمانی سے بڑی عقیدت ہے لیکن پیسوں سے اس سے بھی زیادہ۔ یہ وہی ہیروڈ اعظم (Herod the Great) ہے جس کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر بیت اللحم میں چودہ ہزار بچوں کو قتل کیا گیا کیونکہ یہ پیشین گوئی ہو چکی تھی کہ اس شہر میں اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہونے والا ہے۔

صفحہ ۲۵۶

چونکہ یہودی قوم کی تاریخ غلامی‘ سازش اور بغاوت سے ہی عبارت ہے‘ اس لئے رومی سلطنت کے فرمانرواؤں کو بار بار ان کے خلاف فوج کشی کرنی پڑی۔ کرسس (Crassus) اور کیسیس (Cassius) نے ان کی سرکوبی کی اور میٹلس شیپو (Scipio Metellus) نے ارسٹابولس کے بیٹے کو جو اس تمام شرارت کا سرغنہ تھا‘ سولی پر لٹکا دیا۔ اور تیس ہزار یہودی غلاموں کی حیثیت سے فروخت کر دیئے گئے۔ تاریخی طور پر مشہور سیزر (Ceasar) کے زمانے میں یہ پرسکون رہے۔

ہیروڈ اعظم کی موت کے بعد اس کے بیٹے اس کے جانشین بنے۔ اس کا ایک بیٹا ہیروڈ انٹی پاز (Herod Antipas) تھا جو رومیوں کے تحت گیلیلی (Galilee) کے علاقے کا حاکم بنا۔ یہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ تھا۔ جب ہیروڈ انٹی پاز نے اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ کر ہیروڈیاس (Herodias) جو اس کے بھائی کی بیوی اور رشتے میں بھتیجی بھی تھی‘ شادی کر لی تو حضرت یحییٰ نے شریعت موسوی کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے اس حرکت سے روکا اور اسے لعن طعن کی جس سے دونوں میاں بیوی حضرت یحییٰ کے خلاف ہو گئے اور انہیں قید میں ڈال دیا۔ ایک دفعہ جب ہیروڈ انٹی پاز کی سالگرہ کی تقریب میں ہیروڈیاس کی پہلے خاوند سے بیٹی سلومی نے بڑا عمدہ رقص پیش کیا تو ہیروڈ نے خوش ہو کر اسے منہ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ اس موقع پر سلومی نے اپنی ماں ہیروڈیاس کے کہنے پر اس سے طشتری میں رکھا ہوا حضرت یحییٰ کا سر مانگا‘ چنانچہ ہیروڈ کے حکم سے حضرت یحییٰ کو شہید کر کے ان کا سر طشتری میں رکھ کر ہیروڈیاس کو پیش کر دیا گیا۔

یہود و نصاریٰ

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ٥ كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ٥

(۵ - المائدہ - ۷۸ : ۷۹)

صفحہ ۲۵۷

”بنی اسرائیل میں جو لوگ کفر کی راہ پر چل پڑے تھے، ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی پھٹکار برسائی گئی۔ کیونکہ یہ لوگ برابر نافرمانیاں کرتے رہے۔ اور حدِ اعتدال سے نکل بھاگے تھے۔ اور نہ صرف برائی سے منع کرنا چھوڑ دیا تھا بلکہ خود ان ہی برائیوں کے مرتکب تھے“۔

حضرت عیسیٰؑ اس قوم میں مبعوث ہونے والے آخری جلیل القدر پیغمبر تھے۔ اس قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور رومی حکمرانوں سے ان کے لئے سولی کی سزا عائد کروانے میں کیا کردار ادا کیا، اس کی تفصیلات یہاں دہرانا ضروری معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت عیسیٰؑ نے اس قوم پر آنے والے عذاب کے متعلق جو پیشین گوئیاں کیں اور اس پر لعنت بھیجی، اس میں سے ایک مثال درج ذیل ہے:

”اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راست بازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانے میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔ اس طرح تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔ غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو۔ اے سانپو! اے افعی کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے۔ اس لئے دیکھو! میں نبیوں اور داناؤں اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔ ان میں سے بعض کو تم قتل اور مصلوب کرو گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور شہر در شہر ستاتے پھرو گے تاکہ راست بازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے۔ راست باز ہابیل کے خون سے لے کر برخیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانے کے لوگوں پر آئے گا“۔

(متی باب ۲۳ آیت ۲۹ تا ۳۶)

ہیروڈ اگرپا اول کے بیٹے اور جانشین ہیروڈ اگرپا دوم کے عہد میں یہودیوں کا ایک گروہ Zealots کے نام سے ابھرا جنہوں نے کافی شورش برپا کی۔ ہیروڈ اگرپا دوم کی بہن برنیس (Berenice) کے تین شادیوں کی ناکامی کے بعد اپنے بھائی ہیروڈ اگرپا دوم سے جنسی تعلقات تھے۔ اس کے علاوہ وہ قیصر روم وسپیشین (Vespasian) کی داشتہ تھی۔ اس کا

صفحہ ۲۵۸

وسپیشین کے بیٹے اور ولی عہد ٹائٹس سے بھی معاشقہ تھا۔ جب برنیس کا یروشلم کے دوسرے یہودیوں سے کسی بات پر جھگڑا ہوا اور یہودیوں نے بغاوت کر دی تو ٹائٹس نے فوج کشی کر کے یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔ طویل محاصرے کے بعد ۷۰ء میں شہر پر رومی فوجوں کا قبضہ ہو گیا۔ رومی فوجوں نے ہیکل سلیمانی کے اندر گھس کر پہلے لوٹ مار کی اور پھر اسے نذر آتش کر دیا۔ آگ کے شعلے اتنے شدید اور اس کی حرارت اتنی تیز تھی کہ جس پہاڑ پر ہیکل سلیمانی واقع تھا وہ اپنی بنیادوں تک آگ کا انگارہ معلوم ہوتا تھا۔ یروشلم تباہ ہو گیا اور ہیکل سلیمانی کی بیرونی چار دیواری کا صرف ایک حصہ بچا جسے آجکل دیوار گریہ (Wailing Wall) کہتے ہیں۔ اس تمام تقریباً چار سالہ مزاحمت میں دس لاکھ سے زائد یہودی ہلاک ہوئے اور اس ”برگزیدہ قوم“ کے جو افراد باقی بچے وہ وسیع سلطنت رومہ کے طول و عرض میں لیجا کر اس جانور کے بھاؤ فروخت ہوئے جس کا نام لینے سے احتراز کیا جاتا ہے۔ ویسے تو ”قوموں کیلئے نور“ قوم میں بہت سی قباحتیں اور شناعتیں تھیں جن میں سے چند ایک کی جھلکیاں پچھلے صفحات پر دی جا چکی ہیں۔ لیکن ان سب کی بنیاد دو عظیم گناہ تھے۔ اول عبادات میں خدائے وحدہ لاشریک کی بندگی کو چھوڑ کر سورج دیوتا، بعل کی پرستش اور دوم معاملات اور معاشیات میں سود خوری۔ اگرچہ ”برگزیدہ قوم“ کی چار ہزار سالہ تاریخ فتنہ فساد اور اس کی سزا سے بھرپور ہے لیکن ۵۸۶ ق۔م کے پہلے فساد عظیم کے بعد یہ دوسرا بڑا فساد تھا جس سے اس قوم کو پھر ارض مقدس سے نکال دیا گیا ان دو بڑے عذابوں کی نشاندہی قرآن کی سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۴ میں ہے : ”اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی۔“ چنانچہ جس دن رومی فوجوں نے سخت مزاحمت کے باوجود ہیکل سلیمانی کے اندر گھس کر اسے نذر آتش کیا تو اس روز بھی یہودی تقویم کے مطابق اب کے مہینے کی نو تاریخ تھی۔ یعنی وہی تاریخ جب ۶۵۶ سال قبل پہلا ہیکل سلیمانی بخت نصر کی فوجوں کے ہاتھوں مسمار ہوا تھا۔ اور وہی تاریخ جب حضرت موسیٰ کی وساطت سے اس قوم کو جہاد کے حکم کی خلاف ورزی کی پاداش میں چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کا حکم موصول ہوا اور حقیقی عالمی نظام کی اصطلاح میں ان ”ایام اللہ“ کو یہ قوم ہمیشہ اس تاریخ کو بڑے ماتمی اور سوگوار انداز میں مناتی رہی ہے۔

اس اعتبار لگائی۔ قیصر روم ایڈیرین ( (Simeon Barcochibas) سے یہودیوں نے اس کے جھنڈے حکومت کے خلاف پھر ۱۳۲ء میں گھاٹ اتار دیئے گئے۔ اور نوسو مورچہ بیطار (جس کا موجودہ نام آخری دم تک بڑی سخت مزاحمت قیصر روم ایڈیرین (جس پر یہودی اپن سے نکال دیا۔ اور اس شہر میں داخلہ مقرر کر دی۔ اس نے یروشلم کا نام سلیمانی کی جگہ رومی دیوتاؤں کا معبد قتل نہ رہی اور جس سرزمین پر یہ ق وہاں سے ایسی نکلی کہ تقریباً انیس صد مرکزی مضبوط پہاڑی طور پر بطحا کا م کی نو تاریخ تھی جو اس قوم کی مخصوص ہے۔

شروع شروع میں لیکن چوتھی صدی کے اوائل میں روم اس کی ماں ہلینا (Helina) بھی بڑی پک لگے۔ سب سے پہلے ۳۲۴ء میں سپین می اس کے بعد ۳۲۵ء میں مشہور نیقیا (N جاری ہوئے جس میں یہودیوں پر بڑی ک تبلیغ اور کسی عیسائی کو یہودی کرنے یا ک

صفحہ ۲۵۹

اس انتشار اور بے بسی کے عالم میں انہوں نے پھر کسی نجات دہندہ کی آس لگائی۔ قیصر روم ایڈرین (Hadrian) کے دور میں ان کا لیڈر سیمون بارکوکباز (Simeon Barcochibas) ابھرا جو اپنے آپ کو موسیٰ ثانی اور نجات دہندہ کہتا تھا۔ بہت سے یہودیوں نے اس کے جھنڈے کو مقدس سمجھتے ہوئے اس کے سائے تلے جمع ہو کر رومی حکومت کے خلاف پھر ۱۳۲ء میں بغاوت کر دی۔ تقریباً پانچ لاکھ اسی ہزار یہودی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ اور نو سو پچاس دیہات تباہ ہو گئے۔ اس تحریک کا مرکز مضبوط پہاڑی مورچہ بیطار (جس کا موجودہ نام بطر (Bitter) ہے) تھا۔ جہاں تحریک کے قائد بار کوکبا نے آخری دم تک بڑی سخت مزاحمت کی۔ لیکن ۱۳۵ء میں یہ مورچہ رومی فوجوں نے فتح کر لیا۔ قیصر روم ایڈرین (جس پر یہودی اپنی عبادات میں ہمیشہ لعنت بھیجتے ہیں) نے یہودیوں کو یروشلم سے نکال دیا۔ اور اس شہر میں داخلہ تو کجا دور سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کی بھی سزا موت مقرر کر دی۔ اس نے یروشلم کا نام ایلیا کیپی ٹولینا (Aelia Capitolina) رکھ دیا اور ہیکل سلیمانی کی جگہ رومی دیوتاؤں کا معبد بنا دیا۔ اس کے بعد کئی صدیوں تک یہ قوم سر اٹھانے کے قابل نہ رہی اور جس سرزمین پر یہ قوم خدا کی طرف سے عطا کردہ حق ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے، وہاں سے ایسی نکلی کہ تقریباً انیس صدیوں تک ادھر کا رخ نہ کر سکی۔ ۱۳۵ء میں جس دن اس مرکزی مضبوط پہاڑی مورچے بطر کا سقوط ہوا تو تب بھی یہودی تقویم کے مطابق اب کے مہینے کی نو تاریخ تھی جو اس قوم کی مخصوص قسم کی تاریخ کے ”ایام اللہ“ میں سے ایک بڑا اہم دن ہے۔

شروع شروع میں عیسائیوں پر رومی سلطنت میں بہت مظالم ڈھائے گئے لیکن چوتھی صدی کے اوائل میں رومی فرمانروا قسطنطین (Constantine) عیسائی ہو گیا اور اس کی ماں ہلینا (Helina) بھی بڑی پکی عیسائی تھی۔ اس کے بعد عیسائیوں کے حالات بدلنے لگے۔ سب سے پہلے ۳۱۳ء میں سپین میں الویرا کی کونسل کلیسا (Council of Elvira) اور اس کے بعد ۳۲۵ء میں مشہور نیقیا (Nicaea) کی کونسل میں یہودیوں کے خلاف احکام کلیسا جاری ہوئے جس میں یہودیوں پر بڑی کڑی قسم کی پابندیاں لگائی گئیں۔ مثلاً یہودی مذہب کی تبلیغ اور کسی عیسائی کو یہودی کرنے یا کسی عیسائی سے شادی کرنے کی سزا موت، یروشلم میں

صفحہ ۲۶۰

داخل ہونے کی بھی سزا موت وغیرہ۔ اس کے بعد ۱۲۱۵ء میں کلیسا کی چوتھی لیٹرن کونسل منعقد ہوئی جس میں پھر یہودیوں کے متعلق نئے احکامات کلیسا جاری ہوئے۔ ان احکامات کے مطابق یہودیوں پر جائیداد خریدنے اور سرکاری ملازمت کی ممانعت، یہودیوں پر عیسائی آبادیوں سے الگ مخصوص ”یہودی باڑوں“ میں رہنے اور ان یہودی باڑوں سے باہر نکلتے وقت ذلت کا مخصوص لباس (جس پر خاص نشان ہوتے تھے اور سر پر مخروطی ٹوپی) پہننے کی پابندی وغیرہ شامل تھے۔ بعض مقامات پر انہیں ہاتھ میں گھنٹی بھی رکھنی پڑتی تاکہ گھنٹی کی آواز سے عیسائی اپنے آپ کو ان کی چھوت سے بچاسکیں۔

جیسا کہ سپین کی تاریخ کے باب میں ذکر ہو چکا ہے، ساتویں صدی کے آخر اور آٹھویں صدی عیسوی کے شروع میں سپین میں کلیسا اور عیسائی حکومت کی طرف سے یہ احکامات جاری ہوچکے تھے کہ یہودیوں کے بچے اور ان کی املاک ان سے چھین کر انہیں سو سو کوڑے لگا کر ملک سے نکال دیا جائے اور ان احکامات پر عمل درآمد بھی ہونا شروع ہوگیا تھا کہ اسی دوران مسلمانوں نے بڑی سرعت سے سپین کو فتح کرلیا۔

جرمنی عہدِ حاضر تک شہری ریاستوں پر مشتمل رہا ہے۔ وہاں بھی یہودیوں کی آؤ بھگت عیسائیوں کے ہاتھوں اسی طرح ہوتی رہی اور انہیں اکثر شہری ریاستیں نکال باہر کرتی تھیں مثلاً ۱۰۱۲ء میں مینز (Mainz) کے شہر والوں نے انہیں نکال دیا۔ گیارہویں صدی عیسوی کے آخر میں صلیبی جنگوں کے سلسلے کے شروع ہونے کے بعد جب صلیبی جنگجوؤں کے ٹڈی دل لشکر یورپ سے ارضِ فلسطین کی طرف امنڈنا شروع ہوئے تو راستے میں خصوصاً وادی رائن (Rhineland) اور گردونواح کے علاقوں میں یہودی بستیاں قتل و غارت اور لوٹ مار کا نشانہ بنتی تھیں۔ پوپ کے صلیبی فوجیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل و غارت کے ان واقعات کی تفاصیل کیلئے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے لیکن یہاں صرف یہ تحریر کیا جانا ضروری ہے کہ ان میں ہر واقع زبانِ حال و لسانِ قال سے ٹپکتا صلیبی ترحم و تلطف کے عقیدے (Christianity is the only benevolent religion of the World) کی پر زور گواہی دے رہا ہے۔ مثلاً جرمنی کے شہر نیوس (Neuss) میں صلیبیوں کا آپس میں مقابلہ کہ بلبلاتے یہودی بچوں کو کون دریا میں زیادہ دور تک پھینکتا ہے۔

صلیبی جنگو رنڈفلیش (Rindfliesch) عام کیا گیا جس کے دوران ان اس کے بعد پھر ۱۳۳۶ء میں جم سو یہودی بستیوں کو تباہ کر دیا بستیوں کا بالکل صفایا کر دیا گیا۔ ۱۶۴۸ - ۴۹ Bogdan) کی سرکردگی میں یہودی قتل ہوئے اور ان کی ۴۴ صلیبی ترحم و تلطف کا شاہکار ہے فرانس کے شہر میں اکتیس (۳۱) یہودی مرد، عور آئے دن کا معمول تھا کہ کسی عیس (Ghetto) پر حملہ کر کے اسے ل کو نذرِ آتش کر دیتے۔ یہودیوں کے موقع پر، جو کہ وہ فراعنہ کی خاص قسم کی روٹی پکاتے ہیں اس ان پر دوسرا الزام یہ تھا کہ عشاء کس حد تک درست تھے اور آیا ہوتا تھا یا عیسائی خود بہانہ بنانے کے دونوں میں سے کوئی بھی عذر نہیں میں جو کردار ادا کیا تھا اس کی بنا کارروائی کر لیتے تھے۔ لہٰذا گیارہو یہودیوں کی قتل و غارت ہوتی رہی

صفحہ ٢٦١

صلیبی جنگوں کے دوران ان واقعات کے بعد ۱۲۹۸ء میں جرمن نائٹ رنڈفلیش (Rindfliesch) کی سرکردگی میں جرمنی کی ۱۴۶ بستیوں میں یہودیوں کا منظم قتل عام کیا گیا جس کے دوران ان میں کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو بھی زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد پھر ۱۳۳۶ء میں جرمنی میں مسلح دستوں نے صلیبی یگانہ ترحم و تلطف کے ساتھ دو سو یہودی بستیوں کو تباہ کر دیا۔ بارہ سال بعد طاعون کی عالمی وباء کے دوران یہودیوں کی ۲۱۰ بستیوں کا بالکل صفایا کر دیا گیا۔

۴۹۔ ۱۶۴۸ء میں یوکرائن کے علاقہ میں بوگڈان شملنکی (Chimlinki Bogdan) کی سرکردگی میں حملوں کے دوران یہودیوں کے اپنے ذرائع کے مطابق ایک لاکھ یہودی قتل ہوئے اور ان کی ۷۴۴ بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ ان میں سے ہر واقعہ یگانہ صلیبی ترحم و تلطف کا شاہکار ہے۔

فرانس کے شہر بلوئے (Blois) میں ۱۱۷۱ء میں عیسائی بچے کی قربانی کے الزام میں اکتیس (۳۱) یہودی مرد، عورتیں اور بچے زندہ جلا دیئے گئے۔ دراصل عیسائی دنیا میں یہ آئے دن کا معمول تھا کہ کسی عیسائی بچے کی لاش ملتی اور اس کے بعد عیسائی پہلے تو یہودی باڑہ (Ghetto) پر حملہ کر کے اسے لوٹتے، یہودی عورتوں کی آبرو ریزی کرتے اور پھر یہودی باڑہ کو نذر آتش کر دیتے۔ یہودیوں پر ایک الزام تو یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے Passover کے تہوار کے موقع پر، جو کہ وہ فراعنہ کی غلامی سے رہائی اور مصر سے نکلنے کی خوشی میں مناتے ہیں، جو خاص قسم کی روٹی پکاتے ہیں اس میں عیسائی بچے کی قربانی کرکے اس کا خون شامل کرتے ہیں۔ ان پر دوسرا الزام یہ تھا کہ عشاء ربانی (Eucharist) کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ یہ دونوں الزام کس حد تک درست تھے اور آیا جس عیسائی بچے کی لاش ملتی تھی، وہ واقعی یہودیوں نے ذبح کیا ہوتا تھا یا عیسائی خود بہانہ بنانے کے لئے کر دیتے تھے، یہ خدا ہی جانتا ہے۔ اگر عیسائیوں کو ان دونوں میں سے کوئی بھی عذر نہیں ملتا تھا تو بہر حال یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی کی سزا ملنے میں جو کردار ادا کیا تھا اس کی بناء پر وہ جب چاہتے ”قاتلان خدا“ کا نعرہ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کر لیتے تھے۔ لہٰذا گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں فرانس میں اکثر یہودیوں کی قتل و غارت ہوتی رہی۔

صفحہ ۲۶۴

الغرض یورپ کے ”یہودی باڑے“ جہاں یہودی پرانے کپڑوں، دلالی اور سودی کاروبار کے بل بوتے پر کلیسا کی عائد کردہ پابندیوں کے تحت انتہائی ذلت آمیز زندگی گزارتے تھے، خود ایک مغربی مصنف کے الفاظ میں ”دولت، عورت اور مذہب“ کی بنا پر اکثر و بیشتر ارد گرد کے عیسائیوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے تھے۔ یہ تو عیسائی عوام کا یہودیوں کے ساتھ طرز عمل تھا۔ جہاں تک عیسائی حکمرانوں کا یہودیوں کے ساتھ رویہ کا تعلق ہے تو وہ جب اپنے عوام کی جیب پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے تھے تو پھر یہودیوں کو پکڑ کر ان کی کھال کھینچتے تھے۔ اس قسم کی ایک مثال سے صورت حال کسی حد تک واضح ہو جائے گی۔ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے شاہ جون کو جب پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے اپنے ملک کے یہودیوں کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیا۔ ان میں سے ایک یہودی سے پیسے نکلوانے کی خاطر جب یکے بعد دیگرے اس کے سات دانت توڑے جا چکے تھے اور آٹھواں دانت توڑا جا رہا تھا تو اس نے شاہ جون کو ایک ہزار چاندی کے سکے دے دیئے۔ انگلینڈ کے شاہ ہنری سوم کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے اپنے ملک کے یہودیوں کو اپنے بھائی کاؤنٹ رچرڈ کے ہاتھ ایک سال کے لئے فروخت کر دیا تاکہ جن یہودیوں کی ”کھال وہ خود ادھیڑ چکا ہے اس کا بھائی ان کی انتڑیاں نکال لے“۔

کونسٹنٹائن Constantine سے لے کر ہٹلر تک عیسائی دنیا میں یہودیوں کی تاریخ واقعی اس قابل ہے کہ اسے سنہری حروف میں لکھ کر یہ دونوں قومیں اپنی نسلی برتری، اعلیٰ و ارفع عقائد اور اپنی صالح سرشت کے ثبوت کے طور اس پر جتنا بھی فخر کریں وہ کم ہے۔ ایک طرف تو ایک ایسی قوم جو اپنے آپ کو ”خدا کے بچے“ (Children of God) کہلانے پر مصر ہے اور جس کے عقیدے کے مطابق باقی تمام نوع انسان کو ان کے تصرف اور استعمال کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور دوسری طرف ایک ایسی قوم جس کے عقیدے کے مطابق اس کا خدا سولی پر چڑھ کر اس لئے (نعوذ باللہ) مرچکا ہو تاکہ وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر عاقبت سے بے فکر ہو کر جیسا بھی ظالمانہ اور رذیلانہ سلوک چاہے کرلے تو نتائج ظاہر ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو انہیں اگر قرآن کی سورۃ والتین کے الفاظ اسفل سافلین کی مثال دیکھنی ہو تو ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے انہی تاریخی حقائق میں ملے گی۔

۲۹ء میں حضرت عیسیٰ ہی ایک یہودی سینٹ پال نے عقائد وا کے شاہکاروں میں سے عظیم ترین شاہک اس کے اوپر کفارے کا عقیدہ۔ جو کفر ا Ishtar) بابل کی سلطنت میں استار آئسس۔ اوسائرس (Isis- Osiris) (Dionysis-Demeter) شام میں ( کے مجسمے سے ہزاروں سال سے چھایا ہو ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حض ۴۔ ۱۹۰۳ء میں قدیم آشوری سلطنت ک حاصل شدہ مخروطی رسم الخط میں تحریر ۱۹۲۲ء کے ”Quest“ کے ایڈیشن میں ایک متعلق دیومالائی واقعات، عقائد و رسوم ا پیدائش، تصلیب اور Passion Play موازنہ دیا تھا جس کے مطابق ان میں سوا مجسمے کے کوئی بھی قابل ذکر فرق نہیں ا و۔ مسٹک اروئنگ کے کردار ریوان کٹل ( کوئی شخص قدیم بابل کی سلطنت سے ع تہواروں اور مذہبی رسومات میں شریک ہو مریم کے ناموں کے مجسمے کے کوئی بھی چیز اپنے نمرود معبود کی وجہ سے یہ سمجھنے سے ق کی ایک کثیر تعداد جن کے افکار سے بائبل کھپاتے رہے اور ان میں سے ایک کثیر ت لئے پیش کیا۔ رحمن و رحیم نے برگزیدہ قو

صفحہ ۲۶۳

۲۹ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس دنیا سے اٹھنے کے چند سال بعد ہی ایک یہودی سینٹ پال نے عقائد و رسوم کے ایک ایسے مجموعہ کو تشکیل کیا جو یہودی ذہن کے شاہکاروں میں سے عظیم ترین شاہکار ہے۔ ایک کریلا دوسرے نیم چڑھا یعنی ایک کفر اور اس کے اوپر کفارے کا عقیدہ۔ جو کفر قدیم آشوری سلطنت میں اشٹار۔ تیموز (Tammuz -Ishtar) بابل کی سلطنت میں استارت۔ بعل (Astart- Baal) مصری سلطنت میں آئس۔ اوسائرس (Isis- Osiris) ایرانی سلطنت میں متھرا (Mithra)‘ یونان میں (Dionysis-Demeter) شام میں (Adonis-Cybele) دیوتاؤں اور دیویوں کے ناموں کے ٹھپے سے ہزاروں سال سے چھاپا ہوا تھا بالکل وہی کفر سینٹ پال کے وضع کردہ مذہب کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ناموں کے ٹھپے کے ساتھ رائج کر دیا گیا۔

حاصل شدہ مخروطی رسم الخط میں تختیوں کی بنیاد پر ایک جرمن ماہر آثار قدیمہ نے جنوری ۱۹۲۲ء کے "Quest" کے ایڈیشن میں ایک جدول کی صورت میں قدیم دیوتا، بعل کی زندگی کے متعلق دیومالائی واقعات‘ عقائد و رسوم اور Passion Play اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش‘ تصلیب اور Passion Play وغیرہ کے متعلق عیسائی عقائد‘ رسوم و تہوار وغیرہ کا موازنہ دیا تھا جس کے مطابق ان میں سوائے بعل اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ناموں کے ٹھپے کے کوئی بھی قابل ذکر فرق نہیں اور اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر امریکی ادیب واشنگٹن ارونگ کے کردار رپ وان ونکل (Rip Van Winkle) کی مانند مفروضے کے طور پر کوئی شخص قدیم بابل کی سلطنت سے پچیس تیس صدیوں کی نیند سے بیدار ہو کر عیسائی تہواروں اور مذہبی رسومات میں شریک ہو تو اسے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ناموں کے ٹھپے کے کوئی بھی چیز غیر مانوس اور اجنبی نہیں لگے گی۔ لیکن دشمنان خدا اپنے تمرد و جمود کی وجہ سے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر دنیا پر یہی کفر مسلط کرنا تھا تو پھر انبیاء کی ایک کثیر تعداد جن کے اذکار سے بائبل بھری ہوئی ہے اپنی زندگیاں کس مقصد کے لئے کھپاتے رہے اور ان میں سے ایک کثیر تعداد نے اپنی جانوں کا نذرانہ کس عظیم مقصد کے لئے پیش کیا۔ رحمٰن و رحیم نے برگزیدہ قوم پر طرح طرح کی نعماء و آلاء نازل کیں اور سب

صفحہ ۲۶۴

سے بڑھ کر حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر بنی اسرائیل میں مبعوث ہونے والے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اس قوم میں تقریباً "چار ہزار نبی بھیجے" یعنی اوسطاً "فی نسل تقریباً "نوے انبیاء بھیجے گئے۔ لیکن اس قوم میں ان انبیاء کا امتثال و انقیاد کرنے والے قلیل قانتین و مسلمین افراد کے سوا اس قوم نے ہمیشہ ان انبیاء کی تکذیب و تعذیب کی۔ ان انبیاء میں سے بہت سے تو اپنی قوم کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ایک کثیر تعداد نے اپنی قوم کے ظلم و ستم اور کفر و شرک سے دل برداشتہ ہو کر پہاڑوں کی کھوہوں اور جنگلوں میں جا کر زندگی بسر کی۔ ایک حدیث کے مطابق اسی قسم کے ایک واقعہ میں بنی اسرائیل نے ایک دن میں تینتالیس انبیاء اور ایک سو ستر صالحین کو قتل کیا۔ دوسری طرف اس قوم نے خدا کی بندگی پر مبنی نظام کو چھوڑ کر گرد و نواح کی جن قوموں کا کفر و شرک اختیار کیا انہی قوموں کے ہاتھوں یہ قوم مقہور و مخذول ہوتی رہی، حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے اپنے اس طرز عمل سے اس قوم میں مبعوث ہونے والے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کے بعد یہ قوم اپنے عظیم مقام سے معزول ہو کر "مغضوب علیہم" ٹھہری۔ چنانچہ اس مخصوص تاریخ میں سب سے شدید اور طویل عذاب جس کفر و شرک کی بناء پر اس قوم پر نازل ہوتا رہا ہے وہ ایک یہودی سینٹ پال کے دماغ کی اختراع ہے۔ یہودی ذہن کا یہ عظیم شاہکار دنیا کے ان بہت سے خطوں میں ہزاروں سال تک مسلط رہنے والے کفر و شرک کا ملغوبہ ہے جہاں قوم یہود قبل مسیح کے زمانے کے مختلف ادوار میں ذلیل و خوار ہوتی رہی ہے۔ اس کفر کے پیروکاروں کے ہاتھوں قوم یہود پر پچھلے دو ہزار سال سے جو شدید ترین عذاب نازل ہوتا رہا ہے اس کی چند جھلکیاں اس کتاب کے مختلف حصوں میں دی گئی ہیں۔ جب کہ اس کفر کی بناء پر اندلس کے مسلمانوں اور اس کے بعد ایمرنڈین قوموں کے استہلاک و استیصال کا بھی کچھ ذکر ہے۔ صلیب پر شخصیت کے آخری الفاظ "ایلی۔ ایلی۔ لما سبقتنی" (اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں تنہا چھوڑ دیا) نے اس کفر کے بدیہی البطلان ہونے میں اگر کوئی کسر چھوڑی تھی تو وہ دوسرے بہت سے حقائق و شواہد سے پوری ہو جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عہد نامہ عتیق اور عہد نامہ جدید میں صدیوں کی قطع برید اور تحریفات کے باوجود وہاں توحید کے ثبوت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشریت کی تصدیق اور ان کی الوہیت کی تردید میں بڑی واضح آیات موجود

ہیں۔

نیچے ہم مذکورہ کے (Quest) کے ایڈیشن میں چھ کے کفر کے متعلق عقائد و رسوم پر دو اقتباسات بھی قابل توجہ ہیں۔ "اور انہوں ( پگھلا کر اپنے بت بنائے‘ وہ بچھڑے عجل کی ڈنڈوت کی" (بائبل صفر "اکثر اوقات پرستش کو آپس میں گڈمڈ بھی کر

قدیم بابل میں ۹۰۰ ق م Passion Play

کہ بڑے پادری کی عدا میں مقدمہ چلایا جاتا ہے

ہے۔

جاتا ہے۔

صفحہ ۲۶۵

ہیں۔

نیچے ہم مذکورہ بالا اس جدول کا اردو ترجمہ دے رہے ہیں جو جنوری ۱۹۲۲ کے (Quest) کے ایڈیشن میں عیسائی عقائد و رسوم اور قدیم سورج دیوتا بعل کی پرستش کے کفر کے متعلق عقائد و رسوم کے موازنہ کے لئے دی گئی تھی۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل دو اقتباسات بھی قابل توجہ ہیں۔

”اور انہوں (یہود) نے خداوند اپنے خدا کے تمام احکامات کو چھوڑ دیا اور پگھلا کر اپنے بت بنائے، دو بچھڑے بھی، اور فوج فلک تمام آسمانی دیوتاؤں کی پرستش کی اور بعل کی ڈنڈوت کی“ (بائبل صفر شاہاں ۲ باب ۱۷ آیت ۱۶-۱۶)

”اکثر اوقات بنی اسرائیل YHWH (اللہ) کی پرستش اور بعل کی پرستش کو آپس میں گڈ مڈ بھی کرتے تھے۔“

(Jewish Encyclopedia, Vol. VIII.p 659)

قدیم بابل میں ۹۰۰ ق م کا Passion Play

کہ بڑے پادری کی عدالت ہے) میں مقدمہ چلایا جاتا ہے۔

ہے۔

جاتا ہے۔

عیسائی Passion Story ۱۹۹۵ء

کے مکان اور عدالت میں مقدمہ چلتا ہے۔

جاتے ہیں۔

کیلوری پہاڑی کی طرف لے جایا جاتا ہے۔

صفحہ ۲۶۶

لے جا کر سزا دی جاتی ہے۔ ایک دوسرا مجرم رہا کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح اسے بعل کے ساتھ نہیں لے جایا جاتا۔

ہے تو شہر میں بلوہ ہو جاتا ہے اور لڑائی ہوتی ہے۔

ہیں۔

کو کھینچ کر نکالنے سے بہنے والا خون ایک عورت صاف کرتی ہے۔

روشنی سے دور چلا جاتا ہے اور وہاں قید خانے کی طرح بند رکھا جاتا ہے۔

کو لے جاکر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ایک اور مجرم (براباس) کو رہا کر کے لوگوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور اس طرح وہ سزائے موت سے بچ جاتا ہے۔

پردہ پھٹ جاتا ہے۔ زمین لرزتی ہے چٹانیں شق ہو جاتی ہیں۔ قبریں کھل جاتی ہیں اور مردے شہر مقدس میں آ جاتے ہیں۔ (متی)

میں بانٹ لیتے ہیں۔ (یوحنا)

کے وار سے پانی اور خون نکلتا ہے۔ (یوحنا) میری مگدلین اور دو دوسری عورتیں ان کے جسم کو دھونے اور مشک کافور وغیرہ لگانے میں مصروف ہیں۔

(مرقس۔ لوقا)

سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ نیچے مردوں کی دنیا میں اتر جاتے ہیں۔

بعل کی قید کی حالت میں کرتے ہیں۔

ہے اور اس کی تیمارداری ہے۔

وہاں ڈھونڈتے ہیں۔ عورت خصوصاً اسے مرقد "(te of Burial)" تلاش کرتی ہے۔ جب بعل پایا جاتا ہے تو یہی عورت ہے۔ "ہائے میرا بھائی میرا بھائی"

ملتی ہے اور (بحیثیت کے سورج کے) وہ دور سے باہر نکل آتا ہے۔

صفحہ ۲۶۷
صفحہ ۲۶۸

سال کا تہوار مارچ کے مہینے میں دن رات کے نقطہ اعتدال (Equinox) کے موقع پر سب سے بڑی عید کے طور پر اس کی ظلمت کی طاقتوں پر فتح کے لئے منایا جاتا تھا۔

کے تقریباً اسی حصہ میں ان کی ظلمت کی قوتوں پر فتح کے طور پر منایا جاتا ہے۔

جب رسول کریم ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ میں آباد تین یہودی قبائل قینقاع، قریضہ اور بنی نضیر سے مشہور ”میثاق مدینہ“ کیا جس کی ایک شق کے تحت یہودیوں نے آنحضورؐ کو اپنا ثالث تسلیم کر لیا۔ لیکن بعد میں اسلام کے تیز فروغ سے حسد اور اس فروغ کے نتیجے میں یہودیوں کے اہل کتاب ہونے کے ناطے معاشرتی اور سودی کاروبار پر مبنی معاشی تسلط پر پڑنے والی زد کی وجہ سے انہوں نے مسلسل عہد شکنی شروع کر دی۔ شان رسالت کی توہین، رسول کریم کے خفیہ قتل اور مسلمانوں کے لئے نقص امن کی سازشوں نیز مسلمانوں سے متحارب کفار و مشرکین کو اشتعال انگیزی و اعانت کی وجہ سے ان میں سے دو یہودی قبائل کو یکے بعد دیگرے مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اور تیسرا قبیلہ جنگ احزاب کے بعد اپنے ہی منتخب کردہ ثالث سے عہد شکنی کی بائبل کے مطابق سزا پا کر ختم ہو گیا۔ جب مدینہ کے شمال میں ان کا بڑا مرکز خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے وہاں مسلمانوں کے مزارعین کی حیثیت سے رہنا قبول کر لیا۔ لیکن حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں پھر فساد کرنے کی وجہ سے انہیں وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔ اس طرح ارض مقدس ان سے خالی ہو گئی۔ لیکن اپنے قدیم معمول کے مطابق اس کے بعد انہوں نے Trojan Horses کے روپ میں دین حق کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھیں، جن کی وجہ سے شہادت حضرت عمر فاروقؓ، شہادت حضرت عثمانؓ اور فتنہ سباء جیسے سانحات کا سلسلہ رونما ہوا جن کی تفصیلات اسلامی

صفحہ ۲۶۹

تاریخ کی کتب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

مشہور مسلمان جرنیل عقبہ بن نافع شمال مغربی افریقہ کے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے بحر اوقیانوس کے ساحل پر پہنچا تو اس نے اپنا گھوڑا زین تک سمندر کی لہروں میں بڑھا دیا اور پکار کر کہا ”اے اللہ! گواہ رہنا اگر یہ گہرا سمندر میرے راستے میں حائل نہ ہوتا تو تیرے دین کو مزید آگے لے جاتا۔“ بعثت محمدیؐ کے تقریباً ایک صدی بعد جب مسلمان مجاہدین ایک طرف وادی سندھ میں کفر کی ظلمتوں میں دین حق کی شمعیں روشن کر رہے تھے تو دوسری طرف کاشغر اور فرغانہ کی وادیاں ان کے نعروں سے گونج رہی تھیں۔ انبیاء کی یہ خاک پا آندھی و طوفان کی مانند شمالی افریقہ کو فتح کرنے کے بعد ۹۲ھ بمطابق ۷۱۱ء میں اندلس کے ساحل پر اتری تو ”جیسا کہ تاریخ اندلس کے متعلق باب ۴ کے آغاز میں قدرے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے“ انبیاء کی قاتل ملعون قوم اس ملک جسے وہ اپنی زبان میں (Sephard) یعنی ” انتہائی پرلی سرزمین“ کہتی تھی، اپنی ایک ہم جنس قوم کے ہاتھوں صدیوں تعذیب و عقوبت کی چکی میں پس کر بڑی بے بسی و بیکسی کے عالم میں کسی نجات دہندہ کے لئے چشم براہ تھی۔ اندلس میں مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ عہد حکومت میں روز اول سے لے کر آخر تک ہر حکومت میں وزیر کے رتبے کا ایک ”خطیب الذمام“ ہوتا تھا جس کی ذمہ داری غیر مسلموں کی جان، مال، عزت، آبرو، عقیدے وغیرہ ہر قسم کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوتا تھا۔ چنانچہ عیسائیوں کی طرح قوم یہود بھی ان آزادیوں اور حقوق سے کماحقہ طور پر مستفید ہوتی رہی اور جہاں ایک طرف مختلف قسم کے کاروبار میں اپنی اجارہ داریاں قائم کیں وہاں دوسری طرف یہ لوگ اکثر وزیر اور وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچتے تھے۔ ان میں خلیفہ عبدالرحمن سوم کا وزیر اعظم حسدائی ابن شپروٹ اور غرناطہ کا سیموئیل نغزلہ حانگد اپنے وسیع اختیارات کی وجہ سے خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے وسیع اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اندلس کے یہودیوں کو مستفید کیا بلکہ دنیا بھر میں اپنے ہم مذہبوں کی حتی الوسع مدد و اعانت کی، جس کا ذکر یہودیوں کی اپنی تصانیف میں مل جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس دور میں یہودیوں کے درمیان غرناطہ ”غرناطہ الیہود“ کے نام سے مشہور تھا۔ اسی دور میں اندلس میں یہودیوں کی علم و ادب کے میدان میں کئی عہد ساز شخصیتیں مثلاً ”موسیٰ میمون، یہودا حالیوی،

صفحہ ۲۷۰

سلیمان ابن گیرول، ابن عزرا وغیرہ پیدا ہوئیں۔

جب حضرت جبرئیلؑ حضرت ابراہیمؑ کے پاس انہیں حضرت اسماعیلؑ کی ولادت کی بشارت دینے آئے تو قرآن مجید کے مطابق لفظ ”غلامٌ حلیم“ (الصافت ۔ ۱۰۱) استعمال کئے۔ اس کے بعد جب حضرت سارہ کے بطن سے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کی ولادت کی خوشخبری دینے آئے تو لفظ ”غلامٌ علیم“ (الذریت ۔ ۲۸) استعمال ہوئے۔ انتہائی قدیم زمانے میں جب دوسری قوموں کے حکمرانوں کو بھی علم نہیں ہوتا تھا کہ اس دنیا میں کتاب نام کی کوئی شے ہے تو برگزیدہ قوم کے گھر گھر میں کتاب (عہد نامہ عتیق) پڑھی جاتی تھی۔ جس کے نتیجے میں آج نوبل پرائز اور اسطرح کے دوسرے علمی اور تحقیقی اعزازات حاصل کرنے میں کوئی دوسری قوم آبادی کے تناسب سے اس قوم سے میلوں پیچھے تک نظر نہیں آتی۔ مزید برآں پچھلی تقریباً چھبیس صدیوں سے یہ قوم اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے یہی گیت گا رہی ہے ”اے یروشلم، اگر میں تجھے بھلا دوں تو میرا دایاں ہاتھ اپنی مکاری بھول جائے......“ Psalm ۱۳۷۔ اور یقیناً حسد و ریا کاری میں اس قوم کا کوئی ثانی نہیں۔

برگزیدہ قوم کے متعلق قرآن میں بار بار آتا ہے ”اے بنی اسرائیل، یاد کرو ہم نے تم پر کیسی کیسی نعماء و آلاء نازل کیں۔“ ان تمام حقائق کے علی الرغم اس قوم کو جو خود کو ”قوموں کے لئے نور“ (Light unto the nations) کہتی ہے، اپنی انتہائی مخصوص قسم کی بڑی پر آشوب اور المناک تاریخ میں پہلا اسی سالہ سنہری دور حضرت داؤدؑ اور ان کے فرزند و جانشین حضرت سلیمانؑ کے عہد حکومت میں نصیب ہوا، جب حکومت اور نبوت کے یکجا ہو جانے سے توحید کا پرچم اقتدار کے ایوانوں پر پوری آب و تاب سے لہرا رہا تھا اور امور سلطنت خالق ارض و سماء کے وضع کردہ حقیقی عالمی نظام کے مطابق طے کئے جا رہے تھے۔ ” قوموں کے لئے نور“ قوم کو اپنی مخصوص تاریخ کا دوسرا آٹھ سو سالہ طویل سنہری دور اندلس میں مسلمانوں کے عہد حکومت میں اسی حقیقی عالمی نظام کے طفیل ہی نصیب ہوا جب توحید کا پرچم اقتدار کے ایوانوں میں سربلند تھا۔ اس دوسرے سنہری دور کا ذکر راقم کو مسلمانوں کی تصانیف میں کہیں نہیں ملا، تاہم مغربی مورخین کی اکثر متعلقہ مستند تصانیف میں ملتا ہے ۱؎

1)The New Book of Knowledge, entry Jews and Judaism.

صفحہ ۲۷۱

2)The Jewish People-A Pictorial History, by Leon Amiel- p.61

یوں تو ”برگزیدہ قوم“ پہلے ہی حق جل و علاء کی طرف سے ”مغضوب علیہم“ قرار پا چکی تھی۔ لیکن مالک ازمنہ و امکنہ ہستی نے چونکہ ڈھائی ہزار سال قبل تورات میں اعلان کر دیا تھا کہ میں ان کے بھائیوں میں سے ایک عظیم نبی پیدا کروں گا تو رحمان کی رحمانیت سے اس راندی ہوئی قوم کو کچھ تو مزید مواقع ملنے ہی تھے تاکہ وہ اس ذات کے اپنے وضع کردہ حقیقی عالمی نظام کو اختیار کر کے دنیا پر نافذ کرے۔ چنانچہ بارھویں صدی عیسوی میں دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد تقریباً پندرہ لاکھ تھی۔ جس میں سے تقریباً چودہ لاکھ یعنی کل آبادی کا ۹۳ء۹۳ فیصد مسلم ممالک میں آباد تھے (Americana - entry Jews Encyclopedia)۔ لیکن نہ تو نئی امت مسلمہ اپنے حکمرانوں کے تقدیم الدنیا علی الدین اور فسق و فجور کی وجہ سے اس آزمائش میں پوری اتری اور نہ ہی معزول شدہ امت مسلمہ نے اس موقع کی قدر کو پہچانا۔ دونوں امتوں کی حالت کا ذکر باب ۳ اور ۴ میں مختصراً دیا گیا ہے۔ قوم یہود کے وہی قدیم طور طریقے تھے جن کا ذکر مشہور برطانوی مورخ گبن اپنی تصنیف Decline and Fall of Roman Empire میں کیا ہے مثلاً ”کم سن لڑکے لڑکیوں کا بطور خواجہ سرا اور کنیزوں کے کاروبار وغیرہ۔ دوسری طرف اسی زمانے میں جب کہ ایک مغربی مورخ کے الفاظ میں عیسائی دنیا میں یہودی باڑے ”اکثر مذہب، دولت اور عورت کی وجہ سے ارد گرد کے عیسائیوں کے حملوں کا نشانہ بنے رہتے تھے“ اور یہودی اکثر لٹے پٹے مسلم ممالک میں آکر پناہ ڈھونڈتے تھے، وہ واقعہ پیش آیا جس کے مطابق دو یہودیوں نے درویشوں کے روپ میں مدینہ میں سکونت اختیار کرنے کے بعد ایک سرنگ لگا کر رسول کریمؐ کا جسد مبارک لحد سے غائب کر کے وہاں کسی جانور کی لاش رکھنے کی مکروہ کوشش کی، لیکن عین آخری مرحلہ میں عظیم مجاہد نور الدین زنگی کو خواب میں رسول کریمؐ کی طرف سے اطلاع ہونے سے یہ سازش ناکام ہو گئی جس کے بعد نور الدین زنگی نے مسجد نبوی کے چاروں طرف زمین میں پانی کی سطح تک سیسہ بھروادیا۔

(یہ سب کچھ شیکسپئیر کے ڈرامے The Tempest کے عجیب و غریب کردار Caliban کی مانند تھا جو کہ نیم انسان اور نیم حیوان ہے اور جو اپنے محسن سے یوں مخاطب ہے۔

صفحہ ۲۷۲

Thou taught me language And my profit on it is I know how to curse

عیسائیوں نے ”سپین کی بازیابی“ کی ہمہ گیر تحریک تو روز اول سے شروع کی ہوئی تھی۔ سپین میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ان جنگوں میں اب یہودی اکثر و بیشتر عیسائیوں کے شانہ بشانہ مسلمانوں سے لڑ رہے تھے جیسا کہ ۱۰۸۶ء میں یوسف بن تاشفین کی زلاقہ کے مقام پر جنگ میں عیسائیوں کی فوجوں کے ساتھ چالیس ہزار یہودیوں کے دستے سے ظاہر ہے۔

بغداد اور قرطبہ صدیوں سے دارالاسلام کے دو عظیم مراکز چلے آ رہے تھے۔ تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں جہاں ایک طرف فلسطین میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے جہاد سے صلیبی جنگوں کا زور ٹوٹ چکا تھا وہاں دوسری طرف صدیوں سے جاری ”سپین کی بازیابی“ کی عیسائیوں کی مہم یوسف بن تاشفین اور اس کے بعد موحدین کی جوابی کاروائیوں کے آگے ناکام ہو رہی تھی۔ ان حالات میں ۱۲۰۹ء میں انگلینڈ کے شاہ جان آکلینڈ کی طرف سے قبول اسلام اور خلیفہ کا باجگزار بننے کے لئے سفارت خلیفہ ابو عبداللہ محمد الناصر کے دربار میں پہنچی جسے اس فاسق و فاجر حکمران نے بڑے بھونڈے انداز میں مایوس لوٹا دیا۔ جس کی وجہ سے ایک قوم جس نے اگلی چند صدیوں میں دنیا کی تاریخ میں انتہائی اہم کردار ادا کرنا تھا، حلقہ بگوش اسلام نہ ہو سکی۔ اس زمانے میں مسلمانوں میں جو عقائد فاسدہ اور اعمال فاسدہ سرایت کر گئے تھے ان کے پیش نظر یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ غالباً یہ قادر مطلق کی طرف سے اتمام حجت تھی۔ یہاں ضمناً اس حقیقت کا ذکر بھی بیجا نہ ہو گا کہ شاہ جان آکلینڈ شاہ رچرڈ کا چھوٹا بھائی اور جانشین تھا اور یہ شاہ رچرڈ وہی تھا جس کا واسطہ صلیبی جنگوں کے دوران فلسطین میں سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے مرد خدا سے پڑا تھا۔ نیز شاہ جان وہی برطانوی حکمران ہے جس نے ۱۲۱۵ء میں میگنا کارٹا (Magna Carta) جیسی تاریخی دستاویز کی منظوری دے کر وہ بنیاد رکھی جس پر بعد کی صدیوں میں شرعی حدود اللہ سے بے نیاز اور بے مہار و خلیع العذار جمہوریت کی عمارت تعمیر ہونی تھی، وہی جمہوریت جس کی چنگیزوں

صفحہ ۲۷۳

کی کچھ جھلکیاں پچھلے صفحات میں دی جا چکی ہیں اور جس جمہوریت پر سارا مغرب نازاں و فرحاں ہے۔ شاہ جان کے جن نوابوں اور مبارزین (Knights) نے اس سے شخصی و سیاسی حقوق کی اس تاریخی دستاویز پر دستخط لئے ان میں سے یقینا" کچھ نے شاہ رچرڈ کے ہمراہ فلسطین میں زندگی کے کچھ ایام گزار کر دارالاسلام میں مسلمان حکمرانوں کے دین سے اعراض و انحراف کے باوجود شوریٰ، اجماع، حقوق العباد وغیرہ جیسے اسلامی نظریات کے باقیماندہ جمہوری اثرات کا مشاہدہ و مطالعہ کیا ہو گا ورنہ یورپ کو اس سے پہلے اپنے یونانی و رومی ثقافتی ورثے میں بھی جمہوری روایات کا کوئی شعور نہیں تھا۔ قصہ مختصر کلیسا کی کھڑی کی ہوئی تعصب و تمرد کی دیواروں اور مسلمان حکمرانوں کے دین حق سے اعراض و انحراف کی وجہ سے مغربی دنیا کو اسلامی جمہوری نظریات بغیر اسلامی روحانی عقائد کے منتقل ہوئے۔

الغرض ۱۲۰۹ء میں خلیفہ ابو عبداللہ محمد الناصر نے شاہ جون کی قبول اسلام کی پیشکش ٹھکرا کر اپنے خلاف اتمام حجت کیا۔ ۱۲۱۲ء میں اس نااہل خلیفہ کے تقریبا" چھ لاکھ کے لشکر اور عیسائی جنود مجندہ کے درمیان العقاب Navas de Tolosa کے مقام پر جنگ میں خلیفہ کو اپنی کوتاہ اندیشی، ہٹ دھرمی اور بزدلی کی وجہ سے تباہ کن شکست ہوئی جس میں سوائے ایک ہزار افراد کے ساری مسلمان فوج کا صفایا ہو گیا اور اس شکست نے اندلس میں مسلم اقتدار کی قسمت پر مہر ثبت کر دی۔ ۱۲۳۶ء میں سقوط قرطبہ اور ۱۲۳۸ء میں سقوط اشبیلیہ کے بعد مسلم حکومت چھوٹی سی جنوبی ساحلی ریاست غرناطہ تک محدود ہو کر رہ گئی جس کا عیسائیوں کی مسلسل مہم کے مقابلے میں ختم ہونا وقت کی بات تھی۔ دوسری طرف ۱۲۲۰ء میں چنگیز خان کی تاتاری یلغار سے ایشیاء میں مسلمانوں پر جو تباہی و بربادی آئی اس کی کچھ جھلکیاں باب ۳ میں دی گئیں ہیں اور جن کی پیشیں گوئی وہاں تحریر حدیث میں ہو چکی تھی۔ اس انتہائی تاریک دور میں جہاں ایک طرف ایک مجاہد بیبرس نے نصرت خداوندی سے منگولوں اور مسیحیوں کی متحدہ فوج کو اسی مقام یعنی عین جالوت پر شکست دے کر ان کے ناقابل تسخیر ہونے کا طلسم توڑا جہاں تقریبا" تیئس (۲۳) صدی قبل حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک عظیم الجثہ کافر کا اپنی غلیل سے خاتمہ کیا تھا (و ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمی) تو دوسری طرف امام ابن تیمیہ جیسے مرد خدا اور مجتہد نے مسلمانوں میں سرایت کرنے والے

صفحہ ۲۷۴

باطل و کافرانہ عقائد کے استیصال اور فروغ پانے والے مشرکانہ رسوم کے اذہاب کے بعد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر مبنی دین حق کے احیاء کا فریضہ کماحقہ طور پر ادا کیا۔ اس عظیم ہستی کی زندگی میں ہی اس حقیقت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے کہ عرب کعبے کی پاسبانی سے معزول ہو چکے ہیں اور اس عظیم منصب پر منگول حملہ آوروں کی نسل کے ترک مامور ہو رہے ہیں۔ ان تتولو يستبدل قوما غير كم اور پھر ہم تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم کھڑی کردیں گے۔

پچھلے صفحات پر تحریر یہود و نصاریٰ کی خدا کے دین اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور خود مسلمانوں کے دین حق سے اعراض و انحراف کی وجہ سے تیرھویں صدی عیسوی میں مسلمانوں میں ہلاکت و تباہی تو بہت ہوئی۔ لیکن جہاں تک دین حق کا تعلق ہے مسلمان تاتاری یلغار سے پہلے دارالاسلام میں غیر مسلموں سے بحیثیت مجموعی کم تعداد میں تھے لیکن بعد میں صورت حال بدل گئی۔

اندلس میں آٹھ سو سالہ مسلم عہد حکومت کے صرف ابتدائی دور میں جب یہ کچھ عرصے کے لئے سخت بدامنی کا شکار ہوا تھا ایک قحط کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اس آٹھ سو سالہ دور میں راقم کو اندلس کے متعلق تاریخ کی کتابوں میں نہ تو کسی قحط کا ذکر ملا ہے اور نہ ہی کسی وباء کا جو اس قدیم زمانے میں جب کہ سائنس اور ذرائع نقل و حمل نے اتنی ترقی نہیں کی تھی ایک بڑی غیر معمولی بلکہ معجزاتی بات ہے اور یہ باوجود اس حقیقت کے کہ ان آٹھ صدیوں میں شمالی عیسائی ریاستوں کے مسلسل حملوں کے علاوہ اندلس بدامنی، طوائف الملوکی اور خانہ جنگی وغیرہ کے کئی مختلف ادوار سے گزرا۔ اس کے برعکس اس دوران عیسائی یورپ کی اس بارے میں جو حالت تھی اس کے متعلق اختصار کی خاطر صرف چند جھلکیاں درج ذیل ہیں:

وبائیں: ۱۳۴۸-۱۳۵۴ء کی عالمی کالی وباء (طاعون) نے ایک اندازے کے مطابق یورپ کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کو لقمہ اجل کر دیا۔ اگرچہ اس کالی وباء کا زور پندرھویں صدی تک کافی کم ہو چکا تھا تاہم اس کا سخت جان وائرس یورپ کے مختلف علاقوں میں اگلی تین صدیوں تک سر اٹھاتا رہا اور یہ کہنا مبنی بر حقیقت ہو گا کہ کوئی بھی خاندان متاثر

صفحہ ۲۷۵

ہوئے بغیر نہ رہا تھا۔ مثلاً پیروگیا (Perugia) پندھویں صدی کے دوران آٹھ مرتبہ اس کے حملے کا شکار ہوا۔ ہیمبرگ‘ نیورنبرگ اور کولون میں سے ہر ایک میں کم از کم دس مرتبہ یہ وبا اس صدی کے دوران پھیلی۔ کیٹالونیا (شمال مشرقی سپین) جہاں چودھویں صدی میں طاعون چار مرتبہ پھیلی وہاں پندرھویں صدی میں اس کا پھر چھ مرتبہ حملہ ہوا اور اس کی آبادی جو ۱۳۶۵ء میں تقریباً چار لاکھ تیس ہزار تھی کم ہو کر ۱۴۹۷ء میں صرف دولاکھ اٹھتر ہزار رہ گئی۔ یہ تو تھی صرف طاعون کی تباہ کاریاں۔ دوسری بیماریاں مثلاً ہیضہ‘ جذام‘ ٹی بی‘ انفلونزا وغیرہ اس کے علاوہ تھیں۔

قحط :۔ فرنانڈ براؤل (Fernand Braudal) اپنی یورپی معاشرے کے متعلق مستند تاریخ کے آغاز میں رقمطراز ہے کہ ”قحط پڑنا براعظم میں ایک مستقل چیز تھی جس سے تباہی پھیلتی اور جانیں تلف ہوتیں۔“ فرانس جیسا زرعی لحاظ سے نسبتاً زیادہ بہرہ مند ملک پندرھویں صدی میں چار بار ملک گیر اور بہت سے مقامی قحطوں کا شکار ہوا۔ قسطلہ بھی چار انتہائی شدید قسم کے قحط سے دوچار ہوا جس کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے۔ جنوبی سپین میں تو یہ بار بار پڑتا تھا۔ مثلاً ۱۳۰۰ء‘ ۱۳۳۰ء‘ ۱۳۳۱ء‘ ۱۳۳۳ء‘ ۱۳۳۸ء‘ ۱۳۴۴ء‘ ۱۳۴۷ء‘ ۱۳۴۹ء‘ ۱۳۵۴ء‘ ۱۳۵۸ء‘ ۱۳۶۱ء-۱۳۶۸ء اور ۱۳۷۵ء یعنی اس صدی میں کل پینتیس سال کے لئے۔ انہیں حالات کی وجہ سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی تھی کہ ”اگر ایک چنڈول (پرندہ) قسطلہ کے اوپر سے اڑے گا تو اسے اپنی جو کی خوراک اپنے ساتھ لے جانی ہوگی“

تشدد :۔ جس چیز کے لئے ہویزنگا (Huizinga) اپنی مستند تصنیف Waning of Middle Ages میں ”تشددانہ طرز زندگی“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے وہ پندرھویں صدی کی یورپی دنیا میں ہر سو اور ہر سطح پر اس قدر سرایت کرچکا تھا کہ یہ موجودہ بڑے پیمانے پر ہلاکت خیزی کے دور کے مقابلے میں بھی حیرت انگیز محسوس ہوتا ہے۔ سب سے نچلی سطح پر روزمرہ زندگی کا تشدد تھا جسے مورخ لوسیومیریٹو سیکیولو (L.M Seculo) ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ”سپین کے بہت سے شہروں کا انتہائی سنگدل چوروں‘ قاتلوں‘ زانیوں اور ہر قسم کے مجرموں کی دست برد اور لامتناہی وارداتوں سے ستیاناس ہو گیا ہے۔ ان میں

صفحہ ۲۷۶

سے کچھ انسانی اور خدائی قوانین کی تحقیر سے انصاف کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ کچھ اور بسیار خوری یا تساہل کی روش سے محصنات و باکرہ و رہباؤں کی بڑی بے حیائی سے آبروریزی کرتے ہیں ۔۔۔ دوسرے بڑے ظالمانہ طور پر تاجروں‘ مسافروں اور میلوں پہ جاتے ہوئے لوگوں پر حملے کر کے انہیں لوٹتے ہیں۔ کچھ اور جن میں زیادہ طاقت اور حماقت ہے‘ شاہی قلعوں اور زمینوں پر قابض ہو گئے اور وہاں سے متشددانہ حملوں سے ہمسایوں کے کھیت لوٹے۔“ ایک دوسری سطح پر جسے ہیوئزنگا نے ”عدالتی ظلم“ کہا ہے وہ مقامی حکام کا تشدد تھا۔ ہر شہر اور قریہ کے چوراہوں میں دارورسن کا چبوترہ تھا۔ وہ لکھتا ہے ”اذیت رسانی اور سزائے موت سے تماشائی اس طرح لطف اندوز ہوتے جیسے کسی میلے کی تفریح۔ مونز (فرانس کا شہر) کے شہریوں نے ایک راہزن کو بڑی بھاری قیمت پر خریدا تاکہ اس کے جسم کے ٹکڑے کرنے سے اپنے لئے سامان تفنن کر سکیں اور ایسے موقعوں پر لوگ اتنی مسرت کا اظہار کرتے جتنا کہ کسی مقدس ہستی کے عالم ارواح سے نمودار ہونے پر بھی نہ کرتے۔ بروجز کے لوگ ۱۴۸۸ء میں صدر بازار کے درمیان میں اونچی مچان پر غدار حاکموں کی ایذا رسانی کے نظارے سے سیر نہیں ہو پاتے تھے۔ بدقسمت (مجرم) جس حتمی مہلک وار کے لئے منت سماجت کرتے ہیں انہیں اس سے اس لئے محروم رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی اذیت سے لوگوں کی بھرپور ضیافت ہو سکے۔“ اس سے اوپر کی سطح پر مختلف ریاستوں کی جنگیں تھیں جیسے انگلینڈ کی گلاب کے پھولوں کی جنگ (War of Roses)‘ تیس سالہ جنگ اور صد سالہ جنگ (جو تقریباً ایک سو تیس سال جاری رہی)

اور ان تمام سے اوپر کی سطح پر کلیسا کا تشدد تھا۔ جس کی بنا پر شہر شہر قریہ قریہ لوگوں کو چوراہوں میں تصلیب کے بعد زندہ جلانے کی وجہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے رہتے تھے۔ اس ”عمل ایمانی“ کی تقریب کی کچھ جھلکیاں پچھلے صفحات میں دی گئی ہیں۔ کچھ اس ضمن میں بوڑھی عورتوں (اور بعض اوقات جوان عورتوں یا ضعیف مردوں کو بھی) چڑیل ہونے کے الزام میں تصلیب کے بعد نذر آتش کرنے کے عام واقعات تھے۔

ان حالات کی عکاسی یورپ کے اس زمانے کے فن مصوری‘ ادب‘ ڈرامہ اور دیگر فنون لطیفہ کی ہر شکل میں بھرپور انداز میں ہوتی ہے جس میں مردے بوسیدگی کے

صفحہ ۲۷۷

مختلف مراحل میں رقص وغیرہ کرتے دکھائے جاتے ہیں۔ اس قسم کا ایک مشہور شاہکار نیور نبرگ کے مشہور فنکار ڈیورر (Albreckt Durer) کا موت کا رقص (of Death Dance) کے عنوان سے فن پارہ ہے اور کچھ انہیں حالات کی عکاسی کے لئے پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں فرانس کے ایک مشہور شاعر نے مندرجہ ذیل اشعار کہے۔

War we suffer, famine too, and death;
Cold, heat, day, night, sap our breadth,
Fleas, scabmites, and vermins show their wrath
Upon us daily. In short, have mercy, Lord
Upon us wicked persons, whose life is short.

اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر یہاں اس حقیقت کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے کی تشدد اور دہشت گردی کی عظیم ترین علامت اور تنظیم مافیا نے پوپ کی نگری اٹلی میں جنم لیا، ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے دیس امریکہ میں پروان چڑھی اور وہاں سے ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے تتمہ اور تکملہ کے طور پر اس کی ذریت ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ لیکن چونکہ صلیبی و صہیونی طاغوتی طاقتوں نے اپنی سائنسی ترقی کے بل بوتے پر تشدد، اذیت اور دہشت گردی کے انتہائی ترقی یافتہ 'Sophisticated' اور غیر مرئی ہتھیار اور ہتھکنڈے دریافت کر لئے ہیں اس لئے انہوں نے اب تشدد و دہشت گردی کے ان دقیانوسی طریقوں کے خلاف واویلا مچانا شروع کر دیا ہے جو انہوں نے خود ہی دنیا میں متعارف کرائے اور جو وہ کچھ عرصہ قبل تک خود ہی استعمال کر رہے تھے۔

اس مرحلے پر ہو سکتا ہے کچھ قارئین یہ نکتہ اٹھائیں کہ یہ تو صدیوں پرانی باتیں ہیں۔ زیادہ اہم تو موجودہ صورت حال ہے جب کہ مسلم اقوام جہالت و غربت کی پستیوں میں ڈوبی ہوئی ہیں اور مغربی اقوام اپنی سائنسی ترقی کی بدولت عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ اس بارے میں عرض ہے کہ اس کتاب کا عنوان اور مقصد اقوام کی حالتوں کا موجودہ یا گذشتہ ادوار میں موازنہ و مقابلہ نہیں ہے۔ جب مسلمانوں نے اپنے جذبہ ایمانی اور علم و ہنر میں ترقی کے بل بوتے پر غلبہ حاصل کیا تو دوسری قوموں کو معاشی و معاشرتی لحاظ سے تباہ کرنے

صفحہ ۲۷۸

یا ان کے مذاہب کی بیخ کنی کے لئے کسی منصوبے پر عمل تو کیا اس کا خیال بھی کبھی نہ کیا۔ مسلمان حکمرانوں میں بہترین سے لے کر بدترین قسم کے حکمران بھی ہوتے تھے۔ ان حکمرانوں کے تحت جو حال مسلم عوام کا ہوتا تھا تقریباً وہی غیر مسلموں کا سوائے اس کے کہ بحیثیت ذمیوں کے اکثر عقد الذمام کے تحت ان کے حقوق کی حفاظت کا خصوصی بندوبست ہوتا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے عروج کے دور میں یورپ میں علم و فن کی ایسی شمعیں روشن کی جن کی بدولت مغربی دنیا ازمنہ مظلمہ سے نکل کر ترقی کی موجودہ اوج پر پہنچی اور اس حقیقت کا اعتراف غیر متعصب مغربی مصنفین کرتے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے کوتاہی کی تو اپنے افضل ترین فریضہ یعنی دین حق کی تبلیغ و ترویج میں کی۔ لیکن جب مختلف وجوہ کی بنا پر مسلم اقوام انحطاط و تنزل کا شکار ہوئیں اور صلیبی و صیہونی قوتیں ان پر غالب آگئیں تو انہوں نے مسلمانوں کو معاشی و معاشرتی لحاظ سے تباہ کرنے، انہیں غربت و جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے اور بالخصوص دین حق کی بیخ کنی کے لئے جو ہولناک منصوبے ترتیب دیئے اس کی کچھ جھلکیاں "ہمفرے کے اعترافات" کے عنوان سے شائع ہونے والی تصنیف میں دی گئی ہیں۔ یہ مبینہ طور پر اٹھارہویں صدی عیسوی کے ایک برطانوی خفیہ ایجنٹ ہمفرے کے اسلامی ممالک میں اپنے کارناموں اور برطانوی دفتر خارجہ اور وزارت نو آبادیات کے مسلمانوں اور خصوصاً اسلام کے خلاف منصوبوں کی کچھ جھلکیاں ہیں۔ یہ تصنیف کتنی مستند ہے؟ راقم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن جن منصوبوں کا ذکر ہمفرے کے اعترافات میں ہے ان کی ابتدا صلیبی جنگوں کی ناکامی کے فوراً بعد تیرھویں صدی عیسوی میں کی گئی تھی اور فلپ کے ہٹی Phillip K.Hitti اپنی تصنیف A History of the Arabs میں اس کا اجمالاً ذکر کرتا ہے۔ ان تفاصیل سے ایک باریک بین قاری لامحالہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آج سے صدیوں قبل جب صلیبی و صیہونی قوتوں نے سائنس میں اتنی ترقی نہیں کی تھی تب ان کے اسلام کے خلاف منصوبوں کا یہ حال تھا تو آج جب علمی و مادی لحاظ سے مسلمانوں سے اس قدر آگے ہیں اور انہوں نے اسلام کی بیخ کنی کے لئے واضح اع اعلانات بھی کر دیئے ہیں تو ان کے منصوبے کس قدر ہولناک ہوں گے۔ مسلمانوں کی موجودہ پسماندگی اور انتشار و خلفشار کی بنیادی وجہ تو ان کا دین حق سے اعراض و انحراف ہے جس کی نشاندہی

صفحہ ۲۷۹

ہنفرے کے اعترافات“ میں بھی کی گئی ہے۔ لیکن اس کی وجہ دشمنان خدا کے پچھلی تقریباً پانچ چھ صدیوں کے دوران اس قسم کے بہت سے منصوبے بھی ہیں۔ انہیں منصوبوں کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوتے دیکھ کر جرمن مستشرق آگسٹ ڈلمین (Dillman August) نے ۱۸۷۶ء میں اسلامی دنیا کے لئے مندرجہ ذیل الفاظ تعریفی تقریر کے طور پر کہے ”تمام اطراف سے یورپی ثقافت سے محصور اور اپنے اندر اس ثقافت کے انجذاب پر مجبور‘ وہ ایک ایسا زہر جذب کر رہے ہیں جو ان کے وجود کو انتہائی اندر تک ہڑپ کر لے گا۔“

پچھلی صدی کے دوران ایک جرمن مستشرق مسٹر برکھارٹ اور ایک انگریز مستشرق مسٹر برٹن رائل جیوگرافک سوسائٹی کی زیر سرپرستی اسلامی نام اور اسلامی بھیس میں مکہ اور مدینہ گئے اور وہاں کافی عرصہ قیام کیا۔ دشمنان خدا کے دین حق کی بیخ کنی کے ان منصوبوں کی تکمیل کے طور پر برکھارٹ لکھتا ہے ”وہ زمانہ بیت گیا اور غالباً ہمیشہ کے لئے‘ جب حاجی مسلم دنیا کے تمام خطوں سے انبوہ در انبوہ آتے تھے تاکہ ارض حجاز کے مقدس مقامات کی عقیدت سے زیارت کر سکیں۔“ اس کے خیال میں اس کی وجہ مذہب سے بڑھتی ہوئی بے اعتنائی اور سفر کے اخراجات میں اضافہ تھا۔ مسٹر برٹن اس بارے میں یوں رائے زنی کرتا ہے ”اس دن کی پیش بینی کے لئے کسی نبی کی بصیرت کی ضرورت نہیں جب سیاسی حاجت‘ جو سب سے کڑی حاجت ہوتی ہے‘ ہمیں الاسلام کے منبع پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے پر مجبور کردے“

(Mecca by Desmond Stewart: p. 105)

جہاں تک سابقہ امت مسلمہ کا تعلق ہے‘ ۳۱۲ء میں الویرا اور ۳۲۵ء میں نیقیہ کی کونسل کلیسا نے یہودیوں پر جو کڑی پابندیاں عائد کی تھیں انہیں کے نتیجے میں بارھویں صدی عیسوی تک یہودیوں کی اکثریت مسلم ممالک میں آباد ہو چکی تھی۔ اگرچہ یہودیوں نے سپین کی بازیابی کی مہم (Reconquesta) میں عیسائیوں کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا‘ تاہم جونہی سپین میں مسلم اقتدار حالت نزاع کو پہنچا عیسائیوں نے ۱۲۱۵ء میں کلیسا کی چوتھی لیٹرن کونسل منعقد کی جس میں یہودیوں پر نئے سرے سے بڑی سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ پوپ انوسنٹ چہارم نے اپریل ۱۲۵۰ء میں مندرجہ ذیل فرمان کلیسا (Bull) جاری

صفحہ ۲۸۰

کیا۔

۱) یہودی بغیر خصوصی اجازت اپنا عبادت خانہ (Synagogue) تعمیر نہیں کر سکتے۔

۲) اگر وہ کسی غیر یہودی کو یہودی بنانے کی کوشش کریں تو اس کی سزا موت اور ضبطی جائیداد۔

۳) وہ کسی عیسائی کے ساتھ میل ملاپ نہیں کر سکتے۔ ان کے ساتھ ایک ہی چھت تلے نہیں رہ سکتے اور نہ ہی کسی عیسائی کو ملازم یا نرس رکھ سکتے ہیں۔

۴) کوئی عیسائی یہودی کی تیار کردہ دوائی یا شراب استعمال نہیں کر سکتا۔

۵) ہر یہودی ذلت کا نشان (Badge) لگا کر باہر آئے اور اس حکم کی خلاف ورزی کی سزا دس طلائی سکے جرمانہ اور دس کوڑے۔

۶) یہودی عیسائیوں کے تہوار (Good Friday) کو باہر نہیں آسکتے۔

ایک طرف تیرھویں صدی عیسوی میں اندلس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا جہاں یہودی اپنی مخصوص تاریخ کا ایک طویل سنہری دور گزار رہے تھے تو اسی صدی میں قوم یہود کی تاریخ کے ان واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جسے ”عظیم راندگی“ (Expulsion Great) کہا جاتا ہے یعنی مختلف عیسائی ممالک سے ان کا نکالا جانا اور جس کی مختصر فہرست درج ذیل ہے۔

فرانس کے صوبہ برٹنی سے ۱۲۴۰ء میں فرانس کے صوبہ گیسکنی اور انجاؤ سے ۱۲۸۹ء میں انگلینڈ سے ۱۲۹۰ء میں فرانس سے ۱۳۰۶ء میں سیکسنی سے ۱۳۴۹ء میں ہنگری سے ۱۳۶۰ء میں بیلجیم سے ۱۳۷۰ء میں چیکوسلواکیہ سے ۱۳۸۰ء میں

آسٹریا سے ہالینڈ سے سپین سے لیتھونیا سے پرتگال سے روس اور پرشیا سے اٹلی کی ریاست نیپلز سے جرمنی کی ریاست بویریا سے آسٹرو ہنگری مملکت سے

ان واقعات میں سے آرڈر کے ناطے سے کچھ بڑے اہم اور کرنے سے پہلے اس زمانے کے کچھ الغرض مسلمانوں کی سپین میں مسلم اقتدار تقریباً ”ختم ہو گیا عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا قتل عام کے اشتعال انگیز وعظوں سے پھر عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ لاشیں سڑکوں پر جابجا بکھری پڑی یہودیوں نے بپتسمہ لے کر اپنی جانیں کہ نہ تو اس کے مرتکب افراد کو سرغنہ آرچ ڈیکن مارٹنیز کی موت رہے۔ اس قتل عام کے نتیجے میں ریاست غرناطہ کے شہروں مالقہ، المیہ اس صدی کے

صفحہ ۲۸۱

آسٹریا سے ۱۳۲۰ء میں ہالینڈ سے ۱۴۴۴ء میں سپین سے ۱۴۹۲ء میں لیتھونیا سے ۱۴۹۵ء میں پرتگال سے ۱۴۹۸ء میں روس اور پرشیا سے ۱۵۱۰ء میں اٹلی کی ریاست نیپلز سے ۱۵۴۰ء میں جرمنی کی ریاست بیویریا سے ۱۵۵۱ء میں آسٹرو ہنگری مملکت سے ۱۵۷۴ء میں

ان واقعات میں سے ۱۴۹۲ء میں یہودیوں کا سپین سے دیس نکالا نیو ورلڈ آرڈر کے ناطے سے کچھ بڑے اہم اور معنی خیز حقائق کا حامل ہے۔ لیکن ان حقائق کا ذکر کرنے سے پہلے اس زمانے کے کچھ ضمنی حالات و واقعات کا بیان ضروری ہے۔

الغرض مسلمانوں کی اپنی شامت اعمال سے تیرھویں صدی کے دوران سپین میں مسلم اقتدار تقریباً ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ۱۳۶۶ء میں سپین کے کئی شہروں میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا قتل عام ہوا۔ ۱۳۹۱ء میں اشبیلہ کے آرچ ڈیکن فیرانڈ مارٹینیز کے اشتعال انگیز وعظوں سے پھر سپین کے مختلف شہروں میں تقریباً پچاس ہزار یہودی عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ صرف قرطبہ کے یہودی باڑے میں دو ہزار یہودیوں کی لاشیں سڑکوں پر جابجا بکھری پڑی تھیں جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ تقریباً ایک لاکھ یہودیوں نے بپتسمہ لے کر اپنی جانیں بچائیں۔ اس قتل عام کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ نہ تو اس کے مرتکب افراد کو حکومت نے کوئی سزا دی بلکہ ۱۴۰۴ء میں اس واقعہ کے سرغنہ آرچ ڈیکن مارٹینیز کی موت تک عیسائی اس کی سینٹ کی حیثیت سے تعظیم کرتے رہے۔ اس قتل عام کے نتیجے میں بہت سے یہودی نقل مکانی کر کے سپین میں ہی باقی ماندہ مسلم ریاست غرناطہ کے شہروں مالقہ، المیریا اور غرناطہ میں آباد ہو گئے۔

اس صدی کے دوران جرمنی میں رنڈ فلش کی سرکردگی میں یہودیوں کے

صفحہ ۲۸۲

قتل عام کی تحریک چلی اور اس کے بعد سترھویں صدی کے وسط میں پولینڈ میں ان کا قتل عام ہوا۔ جیسا کہ تاریخ اندلس کے متعلق باب کے آخر میں لکھا گیا ہے پندرھویں صدی کے آخر میں شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا نے اندلس کی باقیماندہ مسلم ریاست غرناطہ کو فتح کرنے کے لئے دوسری صلیبی طاقتوں کی مدد سے زبردست مہم چلائی تو اس کے لئے اکثر سرمایہ یہودیوں نے فراہم کیا‘ جن میں دو یہودی ابراہام سینیئر اور آئزک ابراوانال خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اس مقصد کے لئے عیسائیوں کے ساتھ یہودیوں کا آخری معاہدہ ۱۱ر فروری ۱۴۹۰ء کو ہوا تھا جس کے تحت یہودیوں کو سپین میں وہی حقوق حاصل رہنے تھے جو انہیں مسلمانوں کے تحت تھے۔ ۲ر جنوری ۱۴۹۲ء کو سقوط غرناطہ ہوا اور ۳۱ر مارچ ۱۴۹۲ء کو شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا نے ان تمام معاہدوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے فرمان جاری کیا جس کے مطابق یہودیوں کو ۲ر اگست ۱۴۹۲ء سے پہلے پہلے یا تو بپتسمہ لے کر عیسائی ہونا تھا یا پھر سپین سے نکل جانا تھا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ یکم اگست ۱۴۹۲ء کو جب کولمبس سپین کی بندرگاہ پیلوس میں اپنی مہم پر روانگی کے لئے تیاری کے آخری مراحل میں تھا تو وہ سپین کی دوسری بندرگاہوں کی طرح پیلوس میں بھی جو ایک اژدہام و کہرام سا تھا اس کا نظارہ کر رہا تھا کیونکہ جن یہودیوں نے اصطباغ نہیں لیا تھا انہیں ۲ر اگست سے پہلے سپین چھوڑنا تھا۔

۲ر اگست ۱۴۹۲ء کو کولمبس اپنی اس مہم پر روانہ ہو گیا جس میں اسے اتفاقیہ طور پر وہ سرزمین دریافت کرنی تھی جہاں وہ ایمرنڈین Amerindian قومیں آباد تھیں جن کے تین روحانی پیشواؤں کی تعلیمات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات سے بڑی مشابہ تھیں اور جن میں نہ صرف تشدد بہت ہی کم تھا بلکہ جن کا طرز معاشرت اپنے ماحول اور فطرت کے ساتھ نہایت ہم آہنگ اور سازگار تھا‘ جن ایمرنڈین قوموں نے متواتر یکے بعد دیگرے اپنی سرزمین میں صلیبی نوواردوں کا جس معصومانہ اور مخلصانہ مہمان نوازی سے استقبال کیا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں ناممکن نہیں تو بڑی محال ضرور ہو گی‘ اور جن قوموں کے ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ کے تحت استہلاک و استیصال کے صدیوں پر محیط عمل کے دوران صلیب پرستوں نے ان سے کل چار سو سے زائد معاہدے کئے‘ لیکن یکتا صلیبی ترحم و تلطّف (Benevolence of Christianity) سے مجبور ہو کر کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہ کیا بلکہ

صفحہ ۲۸۳

ان قوموں کا صفایا کرنے کی اس منظم مہم کے دوران صلیبی جراثیمی ہتھیاروں (Bacteriological Weapons) کے استعمال میں پہل کر کے یکتا صلیبی ترحم و تلطف کے بیشمار تاریخی شاہکاروں میں کچھ اور کا اضافہ کیا، کچھ اسی طرح جیسے ایک عرصے کے بعد نوع انسان کے خلاف سب سے پہلے صلیبی ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے کرنا تھا (اور وہ بھی بغیر جنگی جواز کے)۔ ”آدمی کی خوشی دشمن کو روندنے میں ہے۔ اسے جڑ سے اکھاڑنے، اس کے پاس جو کچھ بھی ہے سب کچھ چھین لینے....... اور اس کی بیویوں کے پیٹ اور ناف پر اپنا بستر کرنے میں ہے۔“ چنگیز خاں کی نسل کے لوگ اپنی تمامتر خونخواری اور ہلاکت خیزی کے باوجود اس کے مندرجہ بالا الفاظ کی تاریخ عالم میں کوئی مکمل تعبیر و تکمیل رقم نہ کر سکے۔ قبل اس کے کہ وہ کسی قوم کو پوری طرح جڑ سے اکھاڑ ڈالتے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ لیکن ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ کے یکتا ترحم و تلطف سے اندلس کے مسلمانوں کے صلیب پر زندہ جلائے جانے کے ”عمل ایمانی“ کے ذریعے استیصال کے بعد ان امرینڈین قوموں کو بھی یکے بعد دیگرے جڑ سے اکھاڑ دیا گیا اور یوں بائبل کے سفر استثناء باب ہفتم آیت ۲ کے مندرجہ ذیل الفاظ پر پوری طرح عملدرآمد ہوا: ”اور جب خداوند تمہارا خدا انہیں تمہارے آگے لا ڈالے گا تو تم ان کو ضرب لگاؤ گے اور انہیں کلی طور تباہ کرو گے۔ تم ہرگز ان کے ساتھ معاہدہ نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کھانا۔“

کولمبس ساری زندگی اسی غلط فہمی میں رہا کہ جو سرزمین اس نے دریافت کی ہے وہ ہندوستان کا حصہ ہے اور ریڈ انڈینز، جزائر غرب الہند کے نام بھی اس نسبت سے مستعمل ہوئے۔ لیکن جس زمانے میں ریڈ انڈینز کا یکتا صلیبی ترحم و تلطف سے صفایا کیا جا رہا تھا اس زمانے میں منوسمرتی کی پیرو کار دوسری انڈین قوم چنگیز خان کی نسل کے مغل توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں کے زیر تسلط تھی اور اس انڈین قوم کو توحید پرستوں اور بنیاد پرستوں کے زیر تسلط آٹھ صدیاں گزار کر دنیا کی دوسری کثیر التعداد قوم کی حیثیت سے ابھرنا تھا۔

جس زمانے میں شہنشاہ اکبر اور جہانگیر دین حق کے وارث ہونے کے باوجود ”دین الٰہی“ کی جھک مار رہے تھے، اس زمانے میں ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ اپنے اولین فارمولے یعنی ”پہلے مشنری، پھر سوداگر اور پھر فوجی“

صفحہ ۲۸۴

(First missionary, then the merchant and then the soldier.) کے تحت دنیا کے کئی دوسرے علاقوں کی طرح جاپان میں بھی کافی اچھی طرح قدم جما چکا تھا۔ لیکن جاپانی دنیا کی واحد قوم تھی جس نے بروقت ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی اصلیت کا ادراک کیا۔ چنانچہ جاپانی حکمرانوں ہائیڈیٹاڈو (Hidetadu) اور آئمسٹو (Iemlisto) نے جاپان میں صلیب پرستی اور صلیب پرستوں کا مکمل صفایا کرنے کے بعد ”قومی عزلت“ (Sokoku) کی پالیسی اختیار کر لی‘ جس کے تحت صلیب پرستوں کا داخلہ اس ملک میں بند کر دیا گیا۔ چنانچہ اگلی تقریباً ڈھائی صدیوں تک جاپانی صلیب پرستوں کے جہاز اپنے ملک کے ساحل کے نزدیک ہی نہ لگنے دیتے تھے اور اگر کبھی کوئی جہاز اتفاقیہ طور پر جاپان کے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہو جاتا اور اس میں سے مشنری گلے میں علامتی صلیبیں ڈالے برآمد ہوتے تو جاپان میں ٹھہرنے کی اجازت کی شرط کے طور پر انہیں یہ صلیبیں گلے سے اتار کر پاؤں تلے روندنا پڑتا (ٹوائنبی بھی اس بات کا ذکر اپنے شاہکار میں کرتا ہے)۔ اگرچہ اس قسم کی ”قومی عزلت“ موجودہ زمانے میں ناقابل تصور ہے تاہم اگر کسی قوم کی سیاسی قیادت بصیرت والی اور اپنی قوم سے مخلص ہو تو اس کے لئے اپنی قوم کو ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے یکتا ترحم و تلطف سے بچانا ناممکن نہیں ہے۔ جاپانی قوم جتنا عرصہ اپنی مذکورہ بالا حکمت عملی پر کاربند رہی وہ اس قوم کی تاریخ کا ”ڈھائی سو سالہ دور امن و استحکام“ تھا جو انسان کی تاریخ میں بارگاہ احدیت سے کسی قوم کو عطا ہونے والا غالباً طویل ترین دور امن و استحکام ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تاریخ کے اگلے مرحلے میں جب دنیا کی اکثر اقوام صلیبی و صہیونی نیو ورلڈ آرڈر کے دوسرے فارمولے ”تفرقہ ڈالو اور حکمرانی کرو“ (Divide and Rule) کے تحت خاک و خون میں غلطاں تھیں اور مصاص صلیبی و صہیونی چنگل میں ان کا خون چوسا جا رہا تھا‘ افریقہ کے باشندوں کا جانوروں کی مانند شکار کر کے امریکہ میں ان کی نیلامی ہوتی تھی اور جنوبی افریقہ میں ہالینڈ کے کلیسا کا وضع کردہ نسلی امتیاز کا بدترین نظام اپارتھائڈ Aparthied نافذ تھا تو جاپانی واحد قوم تھی جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی تھی‘ اور اب اپنے ملک میں قدرتی وسائل کی نایابی کے باوجود دنیا کا اعلیٰ ترین معیار زندگی حاصل کر چکی ہے۔ چنانچہ جب ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا نعرہ لگانے والا سابق امریکی صدر جارج بش جاپانی لیڈروں سے اقتصادی

صفحہ ۲۸۵

معاملات پر بات چیت کے لئے وہاں گیا تو کانفرنس میں بے ہوش ہو کر گر پڑا اور سرعام ہی اس کی پتلون گندی ہو گئی۔

(ایک روایت کے مطابق اورنگ زیب عالمگیر ایک دفعہ انگریزوں کے نام کاتب کو خط لکھوا رہا تھا۔ کاتب نے اس بارے میں کوئی ناموافق رائے زنی کی۔ اورنگ زیب نے برافروختہ ہو کر کاتب سے کہا ”میرے بعد اگر اس ملک پر کوئی حکومت کرے گا تو وہ یہی قوم ہو گی اور اس کے بعد غصے میں کاتب کو یہ کہہ کر معزول کر دیا کہ ”اگر تم میں اتنی عقل نہیں ہے تو تم میرے کاتب ہونے کے لائق نہیں۔“ اور یہ اس حقیقت کے باوجود کہ اورنگ زیب کے زمانے میں انگریز قوم دوسری فرنگی اقوام مثلاً ”فرانسیسی‘ ولندیزی‘ سپینی وغیرہ سے نو آبادیوں کی مسابقت میں کافی پیچھے تھی اور اورنگ زیب اور چین کا شہنشاہ کیانگ سی اس زمانے میں دنیا کے انتہائی طاقتور حکمران تھے ۔) مشہور جرمن فلسفی ہیگل کے مطابق ”تاریخ دنیا میں خدا کی گشت ہے (History is perambulations of the God in the World)

قرطاس دہر پر یہ تمام آیات کونیہ اور کتاب اللہ میں آیات تنزیلیہ باہم خالق ارض و سماء اور مالک ازمنہ و امکنہ کے اپنے وضع کردہ اس معبود وحدہ لا شریک کی بندگی پر مبنی جس ازلی و ابدی عادلانہ نظام کے لئے براہین نیرہ و دلائل قطعیہ ہیں وہ اس کتاب کے باب اول میں دی گئی سورہ مائدہ کی آیت ۵۱ کے عین مطابق افعی کے بچوں کی سمجھ سے بالا تر ہے‘ کیونکہ قادر مطلق کے جس محفوظ و مطہر کلام میں تفکر و تدبر سے اس نظام کی سمجھ بوجھ حاصل ہو سکتی ہے انہوں نے اس کلام کے اور اپنے درمیان تعصب و تمرد کی دیواریں حائل کر رکھی ہیں۔ مسیح دجال نے اپنی سائنسی ترقی کی ایک آنکھ سے کائنات کے اسرار و رموز پر کافی دسترس حاصل کر کے چاند پر اپنا جھنڈا نصب کر دیا ہے اور مریخ پر گاڑنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ لیکن جس ہستی کی تخلیقات و صناعی میں چاند اور مریخ ذرہ برابر بھی نہیں ہیں مسیح دجال اس عزوجل ہستی کے وجدان و عرفان اور اس کے وضع کردہ حقیقی عالمی نظام کے ادراک سے بے بہرہ ہے کیونکہ اس ہستی کی جن آیات تنزیلیہ میں غور و تفحص سے یہ سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے وہ انہی آیات کے خلاف عناد و جحود پر کمر بستہ ہے۔

صفحہ ۲۸۶

۳ اگست ۱۴۹۲ء کو اس تاریخی عمل کی ابتداء کے طور پر جب کولمبس پیلوس کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تو سپین میں بہت سے مسلمان باقی تھے (اگرچہ انکا بھی اگلی تقریباً ایک صدی کے دوران ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ کے ذریعے خاتمہ ہو جانا تھا) لیکن کوئی یہودی بحیثیت یہودی کے باقی نہیں تھا۔ شاہی دربار کے جس افسر کے دستخطوں سے جاری شدہ سرپرستی کے فرمان کے ساتھ کولمبس اپنی تیاری کے بعد اتفاقیہ طور پر ۳ اگست کو اپنی مہم پر روانہ ہوا تو اسی افسر کے دستخطوں سے جاری شدہ فرمان کے مطابق یہودیوں کو اس تاریخ سے پہلے یا تو اصطباغ لے کر عیسائی ہونا تھا یا پھر سپین سے نکل جانا تھا۔ چنانچہ اس تاریخ کو سپین میں صرف وہ یہودی باقی رہ گئے تھے جو بپتسمہ لے کر عیسائی ہو گئے تھے اور جن کے لئے بپتسمہ دینے والوں نے Marrano (خنزیر) کی اصطلاح مختص کی تھی۔ بپتسمہ لے کر بپتسمہ دینے والوں کے بقول خنزیر بننے والوں میں اسی سالہ یہودی ابراہم سینئر بھی شامل تھا جس کے سرمایہ سے عیسائیوں نے باقی ماندہ چھوٹی سی مسلم ریاست غرناطہ فتح کی تھی۔ المائدہ۔۶۰ : تم کہو کیا میں تمہیں ان لوگوں کا نشان بتا دوں جن پر اللہ نے لعنت کی پھٹکار برسائی اور خدا کا غضب ان پر ٹوٹ پڑا اور وہ بندر اور سور تک بنا دیئے گئے۔ جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی تھی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بہت بدتر ہیں اور وہ راہ راست سے بہت دور ہیں۔

تاریخ نام ہے قوموں کے ابھرنے‘ بگڑنے اور مٹنے کی داستانوں کا۔ لیکن ان بیشمار داستانوں میں غالباً ایسی داستان تو کوئی بھی نہ ہو گی کہ کسی قوم نے اپنی چار ہزار سالہ انتہائی پر آشوب اور المناک تاریخ میں آٹھ سو سالہ طویل سنہری دور کسی دوسری قوم کے زیر تسلط گزارا ہو۔ یہ معجزہ ”قوموں کے لئے نور“ قوم کے ساتھ اندلس میں قادر مطلق کے اپنے حقیقی عالمی نظام کی بدولت ہوا۔ قوموں کے مٹنے کی ان بے شمار داستانوں میں غالباً ایسی داستان بھی کوئی نہ ہو گی کہ کسی ملک میں کئی صدیوں سے آباد ایک قوم کا وجود اس ملک میں کسی خاص روز تک تو بر قرار رہے اور اس سے اگلے روز یک لخت اس کا وجود ہی اس ملک میں ختم ہو جائے۔ یہ معجزہ بھی اسی برگزیدہ قوم کے ساتھ ۳ اگست ۱۴۹۲ء کو ”صلیبی نیو ورلڈ آرڈر“ کے ذریعے ہوا۔

جو یہودی اپنی مخصوص قسم کی تاریخ میں اس آٹھ سو سالہ طویل سنہری دور

صفحہ ۲۸۷

کے خاتمے پر سپین سے اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل گئے ان کے متعلق مختلف تصانیف میں مختلف اعداد و شمار دیئے گئے ہیں۔ کم از کم ایک لاکھ پینسٹھ ہزار یہودی نقل مکانی کر گئے۔ ان میں سے اکثر شمالی افریقہ کے مسلم ممالک اور سلطنت عثمانیہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ جہاں صدیوں بعد سلطان عبدالحمید کے ۱۸۹۱ء میں جاپان کے شاہ میجی کی قبول اسلام کے لئے سفارت کو مایوس لوٹانے کے بعد قادر مطلق ہستی نے سلطان عبدالحمید کی سلطنت کا اپنے انہیں دشمنوں کے ہاتھوں وہی حشر کرایا جو سات صدی قبل انگلینڈ کے شاہ جان کی قبول اسلام کے لئے سفارت کو ناکام لوٹانے کے بعد خلیفہ ابو عبداللہ محمد الناصر کی سلطنت کا دشمنان خدا کے ہاتھوں ہوا تھا۔ اس انتہائی معنی خیز تاریخ یعنی ۲ اگست ۱۴۹۲ء کو یہودی تقویم کے مطابق اب کے مہینے کی نو تاریخ تھی۔ ”ایام اللہ“ والی وہی اب کے مہینے کی نو تاریخ جب برگزیدہ قوم کو فرعون مصر کے ظلم و ستم سے اپنے عظیم معجزوں کی بدولت نجات دلانے والے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ”جہاد فی سبیل اللہ“ کے حکم کی خلاف ورزی کی پاداش میں اس رسول کی وساطت سے اس قوم کو ارض موعود کے کنارے چالیس سال کے لئے صحرانوردی کی سزا کا حکم خداوندی موصول ہوا۔ ”ایام اللہ“ والی اب کے مہینے کی وہی نو تاریخ جب اپنی قوم کے کفر و شرک اور اثم و عدوان پر ماتم کرنے والے نبی یرمیا (علیہ السلام) کی تذلیل و تعذیب و تکذیب کی وجہ سے ۵۸۶ ق م میں بخت نصر کی فوجوں کے ہاتھوں برگزیدہ قوم پر پہلے عذاب عظیم کے دوران یہودیوں کی کثیر تعداد میں ہلاکت کے بعد ہیکل سلیمانی تباہ ہو گیا۔ ” ایام اللہ“ والی وہی اب کے مہینے کی نو تاریخ جب ۷۰ء میں قیصر روم ٹائٹس کی فوجوں کے ذریعے دوسرے عذاب عظیم کے دوران تقریباً پچاس ہزار یہودیوں کے تہہ تیغ ہونے کے بعد دوسرا ہیکل سلیمانی نذر آتش ہوا اور اس کے بعد یہ قوم دین حق کی امامت کے عظیم منصب سے معزول ہو کر تاقیامت ”مغضوب علیھم“ قرار دی گئی۔ ایام اللہ والی اب کے مہینے کی وہی نو تاریخ جب بڑی طویل و شدید مزاحمت اور تقریباً پانچ لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کے بعد ۱۳۵ء میں قیصر روم ایڈرین کی فوجوں کے آگے مرکزی مضبوط پہاڑی مورچہ بیتار سرنگوں ہوا اور جس کے بعد ”قوموں کے لئے نور“ قوم کے کسی فرد کے لئے یروشلم کی ایک جھلک دیکھنے کی سزا بھی موت مقرر ہوئی۔ اور ”ایام اللہ والی“ اسی اب کے مہینے کی نو تاریخ کو

صفحہ ۲۸۸

۱۴۹۲ء میں خدا سے لعنت یافتہ قوم اپنی اصطلاح کے مطابق ”انتہائی پرلی سرزمین“ (Sephard) میں خالق ارض سماء کے اپنے وضع کردہ حقیقی عالمی نظام کے طفیل عطا شدہ اپنی مخصوص تاریخ کا آٹھ سو سالہ طویل سنہری دور ختم کر کے یکدم اپنا وجود ہی کھو چکی تھی۔ اس قوم کی اپنی مقدس کتاب تورات کی ایک آیت کے مطابق ”اللہ طور سینا سے آیا، ساعیر (بیت المقدس کا پہاڑ) سے چمکا اور فاران (مکہ کا پہاڑ) سے بلند ہو کر پھیلا۔“

لَمْ یَکُنْ لَّہُ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ

اور حکومت میں اس (اللہ) کا کوئی شریک نہیں

صفحہ ۲۸۹

باب چہار دہم :

تقریظ

وَلَنْ تَرْضٰی عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰی وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ٥

”تم سے یہودی کبھی راضی نہ ہوں گے اور نہ ہی نصاریٰ۔ اس وقت تک جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ اختیار کرلو۔ صاف کہہ دو ہدایت کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ اور اگر اے نبیؐ تم علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کا اتباع کرو گے تو خدا کی گرفت کے مقابلے میں تمہارا کوئی مددگار نہ ہو گا“۔

(۲- البقرہ- ۱۲۰)

”تاریخ کے کسی بھی انقلاب نے، اگر ہم اناجیل کے مذہب کے لائے ہوئے انقلاب کو بھی تسلیم کر لیں، مہذب دنیا میں اتنی بڑی تبدیلیاں رونما نہیں کیں جتنی کہ مذہب اسلام کے طلوع، ترقی اور دوام نے“ --- رورنڈ جارج بش

”اندلس اسلام کی تہذیب و تمدن کو فروغ دینے کی قوت کی ایک تابناک مثال مہیا کرتا ہے۔ ویز یگوتھ (عیسائی) کے اجڑے ہوئے ویرانے میں سے، جس میں نفرت اور ظلم و تعدی کا دور دورہ تھا، مسلمانوں نے خوشحالی اور امن کی دھرتی کی تشکیل کی۔ جہاں انہوں نے مساوات، انصاف اور رواداری کو غلبہ دلایا۔ اور اندلس کی خوبصورت سرزمین میں تہذیب کی وہ شمع روشن کی جس نے سارے براعظم (یورپ) کو منور کر دیا۔ جب ان کی

صفحہ ۲۹۰

سیاسی عمارت مختلف سمتوں سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے منہدم ہو گئی تو یہ شمع اور بھی تیز روشنی سے جلنے لگی، جس کے آگے اندرونی خلفشار اور بد نظمی کے سائے ماند پڑ گئے۔ اور جب عیسائیوں کے ہاتھوں (اندلس کی) دوبارہ تسخیر کی مہم پایہ تکمیل کو پہنچی اور صرف اندلس کے فن تعمیر کی عظمتوں کے کچھ نشان باقی رہ گئے تو پھر تعصب، تنگ نظری اور کلیسا کے ایذا رسانی کے اداروں کا غلبہ تھا۔ فتح سے سرشار عیسائی فاتحین سونے اور دولت کی تلاش میں بحری جہازوں میں بحر اوقیانوس کے پار گئے۔ (وہاں) قدیم تہذیبوں کو تباہ و برباد کیا، مملکت قائم کی اور دولت سمیٹی۔ لیکن سپین پھر کبھی ان بلندیوں کو نہ چھو سکا جہاں یہ مسلمانوں کے عہد حکومت میں پہنچا تھا۔ بعد کی صدیوں میں اس کے انحطاط میں ایک بڑا اچھا سبق مضمر ہے۔ ................ اور اندلس کی یہ انتہائی ترقی یافتہ یونیورسٹیاں عیسائی دنیا میں بعد میں قائم ہونے والی بڑی یونیورسٹیوں مثلاً پیرس، آکسفورڈ، پیسا، بولونا، کیمبرج وغیرہ کے لئے نمونہ ثابت ہوئیں۔ حتیٰ کہ وہ عیسائی حکمران بھی جو کہ سپین کی دوبارہ تسخیر کے لئے جدوجہد کر رہے تھے، وہ اسلامی تہذیب کی قدر کرتے تھے"۔۔۔ ایچ۔ ایم بیلوژی (H.M. Balyuzi) اپنی کتاب (Muhammad and the Course of Islam) میں

"یہ ایک عام حقیقت ہے کہ سپین کے مسلمان مغربی یورپ میں نئے علوم کا اصل سرچشمہ تھے" ۔۔۔ سی۔ ایچ۔ ہیسکنز (C.H. Haskins) اپنی کتاب (Studies in the History of Medieval Science) میں

"حتیٰ کہ مغربی دنیا کا ایک انتہائی متعصب لیکن دیانتدار سائنس دان بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرے گا کہ وہ نور جو پہلے غار حرا میں محمدؐ پر اترا (۶۱۰ : ۱-۵) اور پھر مدینہ میں اس کی تکمیل ہوئی (۲ : ۱۵۰ اور ۵ : ۳) اس نے بغداد، قرطبہ، غرناطہ، اشبیلیہ اور مصر کی یونیورسٹیوں کو علم و ادب سے منور کیا، جن سے یورپ کو روشنی کی وہ اولین کرنیں پہنچیں جن کے باعث یہ جہالت اور تاریکی کے دور سے نکل کر روشنی اور سائنس کے دور میں داخل ہوا۔ فرنگیوں نے علم کے ان مراکز سے انسان کی ساختہ حدود و قیود سے انسان کی آزادی، حق اور انصاف کے وہ سبق چرائے جو کہ محمدؐ نے اپنے صحابہ کو مدینے میں دیئے۔ اور پھر انہوں (فرنگیوں) نے یہ سبق اپنے اپنے علاقوں میں اپنے لوگوں کے درمیان پھیلا دیئے۔

صفحہ ۲۹۱

”یورپ کی صدیوں پرانی اخلاقی اور علمی ویرانی کے دور میں اسلام نے ترقی کے ہراول دستے کی قیادت کی۔ عیسائیت نے اپنے آپ کو قیصر روم کے تخت پر تو متمکن کر لیا تھا‘ لیکن اقوام عالم کی ہدایت اور اصلاح میں ناکام رہی تھی۔ چوتھی صدی سے بارہویں صدی عیسوی تک یورپ پر چھائے ہوئے ظلمتوں کے پردے دبیز سے دبیز تر ہوتے چلے گئے۔ خونیں تعصب کے اس زمانے میں کلیسا نے وہ تمام راہیں جن سے علم‘ انسانیت اور تہذیب کا نور وارد ہو سکے مسدود کر دیں۔ اگرچہ تعصب کی اس دھرتی کے گرد حسد نے دیواریں حائل کر دیں لیکن پھر بھی وقت کے ساتھ اسلام کے بابرکت اثرات عیسائی دنیا میں پہنچ کر محسوس ہونے لگے۔ سیلرنو‘ بغداد‘ دمشق‘ قرطبہ‘ غرناطہ اور مالقہ کے تعلیمی مراکز سے مسلمانوں نے دنیا کو فلسفہ اور دوسرے مشکل علوم کی عملی تعلیمات کے مہذبانہ سبق دیئے۔

”جب عیسائی یورپ نے علم پر ایذا رسانی کی قدغن لگائی ہوئی تھی‘ جب خلیفہ مسیح (پوپ) آزادی فکر کی کمسنی کی تلملاہٹ کا دم گھونٹنے کی مثال قائم کرتا تھا‘ اور جب پادری بے ضرر لوگوں کو معمولی لغزش اور انحراف کی بنا پر نذر آتش کرنے میں پیش پیش تھے اور جب عیسائی یورپ آسیب اتارنے اور ہڈیوں اور چیتھڑوں کی پرستش کے عمل سے گزر رہا تھا‘ تب مسلمان حکمرانوں کے زیر سایہ علم کو فروغ حاصل ہو رہا تھا اور اس کی تعظیم و توقیر کی جاتی تھی۔ محمدؐ کے خلفاء تہذیب کے نصب العین کے حلیف بنے اور انہوں نے آزادی فکر اور آزادی تحقیق کی ترقی میں مدد دی‘ جس کی محمدؐ نے نہ صرف ابتدا کی تھی بلکہ جسے تقدس بھی دیا تھا۔ عقیدے کی وجہ سے عقوبت ایک انجانی چیز تھی۔ اور قطع نظر حکمرانوں کے سیاسی کردار کے‘ دنیا میں ان کی غیر جانبداری اور ہر عقیدے اور مذہب کے ساتھ مکمل رواداری کی مثال اس سے بہتر نہیں ملتی۔ طبعی علوم کا نشوونما جو کہ کسی قوم کی ذہنی آزادی کا معیار ہے‘ مسلمانوں میں ایک پسندیدہ شغل تھا۔

”اسلام نے آزادی کے دور کا آغاز کیا۔ یہ واقعی ایک قابل ذکر بات ہے کہ جب تک اسلام اپنے اصلی روپ میں برقرار رہا‘ یہ علم اور تہذیب کا موسس و محرک رہا

صفحہ ۲۹۲

اور ذہنی آزادی کا ایک پرجوش حلیف۔ جو نئی خارجی عناصر اس میں شامل ہو گئے ترقی کی دوڑ میں یہ پیچھے رہ گیا“۔ جسٹس امیر علی اپنی کتاب The Spirit of Islam)

”آج تک یورپ نے دیانتداری اور تہہ دل سے اس عظیم اور دائمی قرض کو تسلیم نہیں کیا جو کہ اس پر اسلامی تہذیب و ثقافت کی طرف سے ہے۔ اس نے صرف نیم دلانہ اور سرسری طور پر اعتراف کیا ہے کہ قرونِ تاریک کے دوران جبکہ اس کے لوگ جاگیرداری نظام اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے عربوں کے تحت مسلم تہذیب، معاشرتی اور علمی عظمتوں کی انتہائی رفعتوں کو پہنچی ہوئی تھی، جس نے یورپی معاشرہ کے ٹمٹماتے اجزاء کو کلی انحطاط سے بچالیا۔

”کیا ہم، جو کہ اب اپنے آپ کو تہذیب و تمدن کی انتہائی اوج پر سمجھتے ہیں، یہ تسلیم نہیں کرتے کہ بغیر مسلمانوں کی اعلیٰ تہذیب، ثقافت، علمی اور معاشرتی عظمتوں اور ان کے مستحکم نظام کے یورپ آج تک جہالت اور ظلمت میں ڈوبا ہوتا؟..........

”مسلم کشادہ نظری یورپ کی اس زمانے کی متعصبانہ صورت حال کے تقابل میں بڑی نمایاں ہے۔ کیا مسلمانوں کی عالیشان شجاعت، جس کا روح رواں عقیدہ توحید تھا، اور جو اتنی ہی اعلیٰ و ارفع تھی جتنی کہ پاکیزہ، ہمیں دلکش نہیں لگتی؟ کیا نوع انسان کو حیات نو بخشنے کے اس تند و تیز اور بھڑکتے جوش کے باوجود جو انہیں مزید فتوحات پر اکساتا رہتا تھا، ان کا مفتوحین کے ساتھ نسبتاً معتدلانہ اور رواداری کا سلوک ہمیں بھلا نہیں معلوم ہوتا؟ کیا یہ ہمیں مزید دلکش نہیں لگتا جب ہم اس کا مقابلہ عیسائی فرقوں کی باہم تلخی اور دشمنی سے کرتے ہیں؟ خصوصاً جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ عیسائی دنیا میں، جیسی کہ اس کی اس زمانے میں صورت حال تھی، استحصال بالجبر، ظلم و تعدی اور استعماری مرکزیت نے کلیسا کے استبداد اور ایذا رسانی کے اداروں کے ساتھ مل کر عملی طور پر حب الوطنی کے جذبہ کو نابود کر کے اس کی جگہ افتراقی اور فاسد مذہب کو دے دی تھی.......... میجر آرتھر گلین لیونارڈ (Major Arthur Glyn Leonard) اپنی کتاب ”اسلام، اس کی اخلاقی و روحانی اقدار“ (Islam, Her Moral and Spiritual Values) میں۔

”در حقیقت آج کا کوئی بھی آدمی اس بات کا پتہ نہیں لگا سکتا کہ مسلمانوں

نے کس حد تک تہذیب کے اکثر و بیشتر شواہد مٹ گئے stave Diercks) پر و ذیل میں اس کے چند ا ”عرب نیزے کی ضرب لگا آیا اور اس نے عورتوں عورتوں کو حق ملکیت دیا بعد یعنی ۱۸۸۱ء میں اسلام کا قانون Act عورتیں مردوں کا شئی ہیں ان کے حقوق کے مطابق تھ مصنف ”جہاں تک یہ معاملات آ بڑے اہم اصول وضع کر لکھتا ہے ”اسلام افراد و کی تعمیر ہے جو کہ تہذیب اختیاری نظام سخاوت یعنی ہے مثلاً اجارہ داری (ح حصول، کسی چیز کا سارا ذ کسی چیز کی مصنوعی قلت ”

صفحہ ۲۹۳

نے کس حد تک تہذیب و تمدن میں ترقی کی کیونکہ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کے کمالات کے اکثر و بیشتر شواہد منگولوں، عیسائیوں اور علم دشمن مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں۔

-(Gustave Diercks)

پروفیسر راما کرشنا راؤ نے حضرت محمدؐ کی ایک مختصر سی سوانح عمری لکھی ہے، ذیل میں اس کے چند اقتباسات دیتے ہیں۔ امید ہے قارئین اسے مفید ذہنی غذا پائیں گے۔

”عربوں کی یہ بڑی پکی روایت تھی کہ صرف وہی شخص وارث بن سکتا ہے جو نیزے کی ضرب لگا سکتا ہو اور تلوار کا دھنی ہو، لیکن اسلام صنف نازک کا محافظ بن کر آیا اور اس نے عورتوں کو اپنے والدین کی وراثت کا حقدار ٹھہرایا۔ اس نے صدیوں قبل عورتوں کو حق ملکیت دیا۔ تاہم انگلینڈ نے جو کہ جمہوریت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے بارہ صدی بعد یعنی ۱۸۸۱ء میں اسلام کے اُس دستور کو اپنایا اور ”شادی شدہ Married Woman Act کا قانون“ پاس کیا۔ لیکن صدیوں قبل رسولِ اسلامؐ نے اعلان کیا تھا کہ عورتیں مردوں کا مثنیٰ ہیں۔ عورتوں کے حقوق مقدس ہیں۔ یہ لازم ہے کہ عورتوں کی کفالت ان کے حقوق کے مطابق ہو“۔

مصنف اسلام کے معاشی اور سیاسی نظام پر تبصرہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے

”جہاں تک یہ معاملات آدمی کے رویہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اسلام یقیناً معاشی زندگی کے بڑے اہم اصول وضع کرتا ہے“۔ پروفیسر میسی نون (Massegnon) کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتا ہے ”اسلام افراط و تفریط کے درمیان توازن قائم کرتا ہے اور اس کے مد نظر ہمیشہ کردار کی تعمیر ہے جو کہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کی ضمانت وہ اپنے قوانین وراثت، ایک منظم نہ کہ اختیاری نظام سخاوت یعنی زکوٰۃ اور ان تمام سماج دشمن کاموں کو خلاف قانون قرار دے کر دیتا ہے مثلاً اجارہ داری (حق تجارت بلا شرکت غیرے) ربا، پہلے سے طے شدہ ناجائز آمدن کا حصول، کسی چیز کا سارا ذخیرہ جو منڈی میں موجود ہو خرید لینا تاکہ من مانی قیمت پر بیچا جاسکے اور کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنا تاکہ قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

”محمدؐ کی شخصیت! اس کی پوری حقیقت کو پالینا ایک انتہائی مشکل چیز ہے۔ ایک انتہائی مشکل چیز ہے۔

صفحہ ۲۹۴

میں اس کی صرف ایک جھلک کو پا سکتا ہوں۔ کتنے ہی دلکش مناظر کا ایک ڈرامائی سلسلہ ہے! محمدؐ ایک پیغمبر کی حیثیت سے، محمدؐ ایک جرنیل کی حیثیت سے، محمدؐ ایک بادشاہ کی حیثیت میں، محمدؐ ایک مجاہد، محمدؐ ایک تاجر، محمدؐ ایک مبلغ، محمدؐ ایک فلسفی، محمدؐ ایک مدبر و سیاستدان، محمدؐ ایک خطیب، محمدؐ ایک مصلح، محمدؐ یتیموں کا ملجا و ماویٰ، محمدؐ غلاموں کا محافظ، محمدؐ عورتوں کا نجات دہندہ، محمدؐ منصف، محمدؐ ولی اللہ، اور ان تمام شاندار حیثیتوں میں، ان تمام انسانی حلقہ ہائے عمل میں وہ یکساں عظیم شخصیت ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔

"یتیم لڑکے سے لے کر، اذیت یافتہ مہاجر سے بلکہ ایک پوری قوم کا نہ صرف روحانی بلکہ دنیاوی حاکم اعلیٰ بھی جس کے ہاتھ میں اس کی قسمت کے فیصلے ہوں اور جو ان تمام آزمائشوں اور تحریصوں کے، زمانے کی ان تمام گردشوں اور تغیرات، ان تمام اندھیروں اجالوں، ان تمام نشیب و فراز، ان تمام خطرات اور عظمتوں میں سے ایسے گزرے کہ ان پر ذرا برابر بھی حرف نہ آئے اور وہ زندگی کے ہر پہلو اور گوشے میں ایک کامل نمونہ ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔

"ایک مثال کے طور پر، عظمت اگر کسی قوم کی تطہیر میں ہے جو بربریت میں ڈوبی ہو اور انتہائی اخلاقی ظلمتوں میں غرق ہو تو پھر اس روحانی شخصیت کا اس پر پورا حق ہے جس نے عربوں جیسی قوم کی جو انتہائی پستی میں تھی، کی کایا پلٹ کر اسے جلا بخشی اور پوری قوم کو اس بلندی پر لے گئے جہاں وہ علم و تہذیب کی مشعل بردار بن گئی۔ اگر بڑائی معاشرہ کے نزاعی عناصر کو اخوت و سخاوت کے رشتوں میں باندھنے کا نام ہے تو پھر رسول صحرائی کو اس امتیاز کا بھرپور حق ہے۔ اگر عظمت ان لوگوں کی اصلاح میں ہے جو ذلت آمیز توہمات اور مضر و مہلک رواجوں میں ڈوبے ہوں تو پھر رسول اسلامؐ نے کروڑوں دلوں کو توہمات اور نامعقول خوف سے پاک کیا ہے۔ اگر عظمت انتہائی اعلیٰ کردار پیش کرنے میں ہے تو پھر محمدؐ کے متعلق دوست دشمن سب الامین اور الصادق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ اگر ایک فاتح بڑا آدمی ہوتا ہے تو پھر یہاں ایک ایسا شخص ہے جو ایک لاچار یتیم اور معمولی انسان کی حیثیت سے بڑھ کر پورے عرب کا ایسا حکمران بنا جو قیصر و کسریٰ کا ہم پلہ ہوا اور جس نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو ان چودہ صدیوں بعد بھی قائم ہے۔ اگر کسی

صفحہ ۲۹۵

رہنما کے لئے عقیدت عظمت کی کسوٹی ہے تو پھر آج رسولؐ کا نام ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کروڑوں انسانوں پر سحر انگیز اثر ڈالتا ہے۔

”انہوں نے ایتھنز‘ روم‘ ایران‘ ہندوستان اور چین کے مدرسوں میں فلسفہ کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ پھر بھی انہوں نے نوع انسانی کے لئے ابدی اقدار اور اعلیٰ صداقتوں کا اعلان کیا۔ وہ خود امی تھے تاہم وہ ایسی فصاحت اور ولولہ سے خطاب کرتے کہ لوگوں کے وجد میں آنسو جاری ہو جاتے۔ وہ یتیم پیدا ہوئے جن کے پاس دنیاوی مال نہ تھا لیکن ان سے ہر ایک نے محبت کی۔ انہوں نے کسی ملٹری اکیڈمی میں تعلیم حاصل نہ کی لیکن انتہائی نامساعد حالات میں بھی وہ اپنی فوج کی تنظیم ایسے کرتے کہ اپنی اخلاقی قوت کے بل بوتے پر فتح حاصل کرتے۔ ڈیکارٹیز (Descartes) کا یہ عقیدہ تھا کہ ایک نظریہ کار اور ایک منتظم اور رہنما کا ایک شخص میں اکٹھا ہونا روئے زمین کا نادر ترین منظر ہے اور اسی میں عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔ رسول اسلامؐ کی شخصیت میں دنیا نے یہ نادر ترین منظر واقعی بشری حالت میں چلتے پھرتے دیکھا۔

”فتح مکہ کے بعد جزیرہ نما عرب کے فرمانروا کی حیثیت سے دس لاکھ مربع میل اراضی ان کے پاؤں تلے تھی لیکن وہ خود اپنے جوتوں اور موٹے جھوٹے لباس کی مرمت کرتے‘ بکریوں کا دودھ دوہتے‘ چولہا صاف کر کے اس میں آگ جلاتے اور گھر کے دیگر ادنیٰ کام کرتے۔ مدینہ کا تمام شہر جہاں وہ رہ رہے تھے‘ ان کی زندگی کے آخری ایام میں مالا مال ہو رہا تھا۔ ہر طرف سونے چاندی کے ڈھیر لگ رہے تھے۔ لیکن خوشحالی کے ان دنوں میں بھی شاہ عرب کے چولہے میں آگ روشن ہوئے بغیر کئی کئی ہفتے گزر جاتے کیونکہ ان کی گزر اوقات صرف کھجوروں اور پانی پر تھی۔ ان کا خاندان کئی کئی رات متواتر فاقوں میں گزارتا کیونکہ ان کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا۔ وہ کبھی نرم بستر پر نہ سوئے بلکہ کھجور کی چٹائی پر ایک انتہائی مصروف دن گزارنے کے بعد رات کا بیشتر حصہ عبادت میں گزارتے اور اکثر اپنے خالق کے حضور رو رو کر یہ دعا کرتے کہ وہ انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی استطاعت عطا فرمائے۔ اس حال میں روتے روتے ان کی گھگھی بندھ جاتی اور ایسا لگتا جیسے چولہے پر رکھے کسی برتن میں ابال آ رہا ہے۔ ان کے انتقال کے روز ان کے کل اثاثے محض چند سکے

صفحہ ۲۹۶

تھے جن میں کچھ تو ایک قرض جو ان کی طرف تھا چکانے میں صرف ہوئے اور باقی ایک حاجت مند جو ان کے گھر سوالی کی حیثیت سے آیا ، دے دیئے گئے۔ جن کپڑوں میں انہوں نے آخری سانس لئے ان میں کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔ جس گھر سے ساری دنیا کو نور حاصل ہوا تھا وہ چراغ میں تیل نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں تھا"۔

"حالات بدل گئے لیکن رسول خدا میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ فتح اور شکست، اقتدار اور بدحالی، افراط و افلاس میں ان کی ایک ہی شخصیت تھی اور ایک ہی کردار۔ آخر خدا کے طریقوں اور قوانین کے مانند خدا کے رسول بھی تو ناقابل تغیر ہوتے ہیں.........

"قرآن میں ان آیات کی تعداد جو فطرت کا گہرا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتی ہیں ان سے کہیں زیادہ ہیں جو نماز، روزہ، حج وغیرہ سے متعلق مجموعی طور پر ہیں۔ مسلمانوں نے اس کے زیر اثر فطرت کا گہرا مطالعہ شروع کیا۔ اس چیز نے تجربہ اور مشاہدہ کے اس سائنسی جذبہ کو جنم دیا جو یونانیوں کے لئے انجانی چیز تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس طرح بے شمار مثالیں دینے کے بعد "تغیر نوع انسان" (The Making of Humanity) کا مصنف رابرٹ بریفالٹ (Robert Briffault) یوں رقمطراز ہے "سائنسی طریقے اور تحقیق کے جذبہ کی ابتدا کا سراغ ہمیں مسلمانوں میں ملتا ہے۔ اس چیز کا بڑا غالب امکان موجود ہے کہ مسلمانوں کے بغیر موجودہ تہذیب وہ روپ نہ دھارتی جو اسے پہلے کی تمام ارتقائی منزلوں پر فوقیت دلاتا ہے۔ اگرچہ یورپی (مغربی) ترقی کا کوئی ایک بھی پہلو ایسا نہیں جس میں اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن نفوذ کا سراغ نہ ملتا ہو لیکن یہ اور کہیں اتنا راسخ اور اتنا اہم نہیں جتنا کہ اس طاقت کے معرض وجود میں آنے میں ہے جو کہ موجودہ دنیا کی قوت کا غیر معمولی طرہ امتیاز اور اس کی کامرانی کا اعلیٰ ترین سرچشمہ ہے یعنی طبعی علوم اور سائنسی جذبہ۔ ہماری سائنس صرف چونکا دینے والی دریافتوں اور انقلابی نظریات ہی کے لئے نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑی شے کے لئے مسلمانوں کی تہذیب کی مرہون منت ہے۔ اس کا وجود ہی اس تہذیب پر مبنی ہے۔ یونانیوں نے علم کو منظم کیا۔ تعمیم و استقراء سے نظریہ کاری کی۔ لیکن تحقیق کے صبر آزما طریقے،

صفحہ ۲۹۷

قطعی معلومات کا اکٹھا کرنا‘ سائنس کے دقیق طریقے اور طویل و تفصیلی تجرباتی تفتیش‘ یہ سب کچھ یونانیوں کے لئے اجنبی تھا ۔ جس چیز کو ہم سائنس کہتے ہیں‘ یورپ میں تحقیق کے نئے جذبہ‘ تفتیش‘ تجربات‘ مشاہدہ‘ پیمائش کے نئے طریقوں اور ریاضی کی ایسی ترقی یافتہ شکل کا نتیجہ ہے جس کا یونانیوں کو علم نہ تھا۔ یہ جذبہ اور یہ طریقے یورپی دنیا میں مسلمانوں نے متعارف کرائے”۔

”انسان کی انتہائی منزل ایک طرف تسخیر کائنات ہے تو دوسری طرف اس بات کی یقین دہانی کہ اس کی روح اپنے رب کے ساتھ پرسکون ہے۔ یہ کہ نہ صرف اس کا رب اس سے راضی ہے بلکہ وہ بھی اپنے رب سے راضی ہے۔ قناعت‘ کامل قناعت‘ رضا‘ مکمل رضا‘ سکون‘ مکمل سکون‘ اس کا نتیجہ ہوگا۔ اس مرحلہ پر عشق حقیقی اس کی غذا ہوگی اور وہ زندگی کے سرچشمہ پر سیر ہو کر اپنی پیاس بجھائے گا۔ غم اور ناکامی اس پر غلبہ حاصل نہیں کریں گے اور نہ ہی کامیابی میں آپ اسے خودپسند اور اترانے والا پائیں گے“۔

ٹامس کارلائل (Thomas Carlyle) زندگی کے اس فلسفہ سے متاثر ہو کر لکھتا ہے ”اور پھر مزید اسلام۔۔۔ یعنی ہم خدا کے آگے جھک جائیں : یعنی ہماری تمام تر طاقت صابرانہ طور پر راضی برضائے الٰہی ہونے میں ہے‘ چاہے وہ ہمارے ساتھ کچھ بھی کرے۔ وہ ہمارے اوپر جو چاہے نازل کرے اگرچہ موت یا موت سے بھی بدتر شے کیوں نہ ہو‘ یہ ہمارے لئے اچھی ہے بلکہ بہترین ہے۔ ہم اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں“۔ یہی مصنف مزید لکھتا ہے ”اگر گوئٹے کے الفاظ میں یہی اسلام ہے تو کیا ہم سب اسلام میں زندہ نہیں ہیں؟“ کارلائل گوئٹے کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے خود کہتا ہے ”ہاں‘ ہم سب جن کی کوئی اخلاقی زندگی ہے وہ سب کے سب اسی طرح زندہ ہیں“۔ تاحال یہ اعلیٰ ترین حکمت ہے جو خدا نے اس زمین پر نازل کی ہے“۔

یہاں ہم سید قطب شہیدؒ کی تصنیف ”دین اسلام“ کے کچھ اقتباسات اس سلسلے میں ہدیہ قارئین کرتے ہیں جو غالباً ان کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لئے بھی یہ ضروری نہ سمجھا کہ لوگوں کی توجہ کسی ایسے ذریعہ (معجزہ) سے اپنی طرف مبذول کریں۔ جو کچھ

صفحہ ۲۹۸

بھی ہوا ایک داعی اور دہرائے جانے کے قابل اس طریقے سے ہوا کہ اسے جہاں کہیں اور جب بھی لوگ اپنائیں، صحیح ثابت ہو۔

دین حق کی فتح۔ ظاہری صورت حال سے قطع نظر۔ انسانی فطرت کی مخفی امکانی قوۃ کے تعاون سے ہوئی۔ یہ امکانی قوۃ جیسا کہ ہم پہلے نشاندہی کر چکے ہیں، بہت وسیع اور عظیم ہے۔ اگر اسے آزاد اور مجتمع کر کے اس کی کسی خاص سمت میں رہنمائی کی جائے تو سطحی بادل اس پر غلبہ نہیں پا سکتے۔

گمراہ کن اور مفسد عقائد نوع انسان کے لئے طوق غلامی بنے ہوئے تھے۔ باطل خداؤں کی نہ صرف کعبہ بلکہ انسانی ذہنوں، تصورات اور دلوں میں بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ قبائلی اور معاشی مفادات کی بنیاد ان باطل خداؤں پر تھی اور ان کے پیچھے کعبہ کے ولی اور فال گیر کھڑے تھے۔ اس صورت حال کا باعث الوہیت کی لوگوں میں تقسیم اور کعبہ کے ولیوں اور فال گیروں کو قانون سازی اور لوگوں کے لئے زندگی کی راہ متعین کرنے کے اختیار کی تفویض تھی۔

اسلام ایک حقیقی خدا کے عقیدے کے ساتھ اس صورت حال کی مخالفت کرنے کے لئے آیا۔ اس نے انسان کی اصلی فطرت کو مخاطب کیا جس میں ایک خدا کی حقیقت ودیعت کی ہوئی ہے۔ اور لوگوں کو ان کے حقیقی رب اور اس کی صفات و خواص سے آگاہ کیا، جن کا شعور باطل عقائد کے ملبے تلے لوگوں کی فطرت میں موجود تھا۔

”کہو! کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا محافظ بناؤں گا، جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو رزق دیتا ہے لیکن اس کا محتاج نہیں؟ کہو مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں میں سے اولین بنوں۔ تم بت پرستوں میں مت شامل ہو“۔

”وہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں تلے سے عذاب نازل کر سکتا ہے اور تمہیں مختلف گروہوں میں منقسم کر سکتا ہے تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے تشدد کا مزا چکھائے۔ دیکھو ہم کیسے اپنی نشانیاں پھیر پھیر کر بھیجتے ہیں شاید کہ وہ سمجھ جائیں“۔ (۶ : ۶۵)

اصلی انسانی فطرت نے اس غیر مخلوق آواز کو سنا جو انہیں جاہلیت کے

وسیع ویرانے میں بوجھل صورت حال سے حقیقی معبود کی طرف پلٹی اور نئے واعظ جب لوگ اپنے ایک پرستش ناممکن ہو گئی۔ جس دن تمام سر دن سب ایک دوسرے کے سامنے باوقار موروثی شرف، حکمرانی اور بادشاہت کی ب یہ ہوا کیسے؟ وہاں ایک نسلی، مادی اور ذہنی مفادات تھے جن کا اس صورت حال پر کوئی اعتراض نہ کرنا اکتاتے نہیں تھے اور جو اس کے بوجھ تھے۔

قریش اپنے آپ کو روایات کو منسوب کرتے تھے جو وہ س ٹھہرتے جبکہ دوسرے عرفات میں۔ ان برتری حاصل تھی۔ اس طرح انہوں نے کسی اور قبیلے کعبہ کے طواف کی ممانعت پڑتا۔

جزیرہ نما عرب کے لو کراہ رہی تھی۔

ایرانی معاشرہ خاندا مختلف طبقات کے درمیان ناقابل عبور رکھی تھی کہ عوام الناس میں سے کوئی ن خریدے۔ ساسانی مملکت کی ایک بنیاد ی آباؤ اجداد سے پیدائشی طور پر ملا ہے۔

صفحہ ٢٩٩

وسیع ویرانے میں بوجھل صورت حال کے بادلوں میں سے مخاطب کر رہی تھی۔ یہ اپنے ایک حقیقی معبود کی طرف پلٹی اور نئے واعظ نے بوجھل صورت حال پر فتح حاصل کی۔ جب لوگ اپنے ایک خدا کی طرف پلٹے تو پھر انسانوں کے لئے انسانوں کی پرستش ناممکن ہو گئی۔ جس دن تمام سر خدائے واحد و قادر مطلق کے سامنے جھک گئے‘ اس دن سب ایک دوسرے کے سامنے باوقار طریقے سے کھڑے تھے۔ خاندانی اور نسلی برتری‘ موروثی شرف‘ حکمرانی اور بادشاہت کی روایتیں ختم ہو گئیں۔ یہ ہوا کیسے؟ وہاں ایک معاشرتی صورت حال تھی جس کی پشت پر طبقاتی‘ نسلی‘ مادی اور ذہنی مفادات تھے جن کا جزیرہ نما عرب اور اس کے ارد گرد کی دنیا پر غلبہ تھا۔ اس صورت حال پر کوئی اعتراض نہ کرتا تھا کیونکہ وہ جو اس سے فائدہ اٹھا رہے تھے اس سے اکتاتے نہیں تھے اور جو اس کے بوجھ تلے کچلے جا رہے تھے وہ اس کی مذمت نہیں کر سکتے تھے۔

قریش اپنے آپ کو اشراف کہتے تھے اور اپنے آپ سے ان حقوق اور روایات کو منسوب کرتے تھے جو دوسروں کو عطا نہیں تھے۔ حج کے دوران وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے جبکہ دوسرے عرفات میں۔ ان استحقاقات کی بنا پر انہیں دوسرے عربوں پر معاشی برتری حاصل تھی۔ اس طرح انہوں نے قریش سے خریدے ہوئے کپڑوں کے علاوہ کسی اور کپڑے میں کعبہ کے طواف کی ممانعت کر دی۔ دوسری صورت میں یہ برہنہ حالت میں کرنا پڑتا۔

جزیرہ نما عرب کے ارد گرد کی دنیا نسلی اور خاندانی امتیازات کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی۔

ایرانی معاشرہ خاندانی اور پیشہ ورانہ امتیازات پر مبنی تھا۔ معاشرہ کے مختلف طبقات کے درمیان ناقابل عبور خلیج حائل تھی۔ سلطنت نے اس چیز کی ممانعت کر رکھی تھی کہ عوام الناس میں سے کوئی بھی حکمرانوں اور سرکردہ لوگوں میں سے کسی کی ملکیت خریدے۔ ساسانی مملکت کی ایک بنیاد یہ تھی کہ ہر فرد اس حال پر قانع رہے جو اسے اپنے آباؤ اجداد سے پیدائشی طور پر ملا ہے اور اس سے آگے مزید کسی چیز کی کوشش نہ کرے۔

صفحہ ۳۰۰

کوئی کسی ایسے دھندے میں نہیں پڑ سکتا تھا جسے خدا نے پیدائشی طور پر اس سے منسوب نہ کر دیا ہو۔ شاہانِ ایران اپنے فرائض میں سے کبھی کوئی ایک بھی عوام الناس میں سے کسی کو تفویض نہیں کرتے تھے۔ عوام الناس بھی علیحدہ مخصوص طبقات میں بٹے ہوئے تھے جن میں سے ہر ایک کا معاشرہ میں ایک مخصوص مقام تھا۔ (آرتھر کرسٹن سن کے ساسانی دور کے

متعلق تصنیفات سے ماخوذ)

شاہان ایران کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کی رگوں میں خدائی خون گردش کرتا ہے۔ ایرانی انہیں خدا سمجھتے تھے اور ان کا اس بات پر یقین تھا کہ ان کی (شاہان کی) فطرت میں کوئی اعلیٰ اور خدائی شے ہے۔ وہ ان سے اپنے گناہوں کی معافی کی التجا کرتے۔ ان کی خدائی کی تعریف کے گیت گاتے اور انہیں قانون، تنقید، حتیٰ کہ انسانیت سے بھی بالاتر سمجھتے تھے۔ وہ ان کا نام زبان پر لانے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کی جسارت نہیں کرتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ ان کے سب لوگوں پر حقوق ہیں لیکن خود ان پر کسی کی طرف سے کوئی فرض عائد نہیں۔ ان کی فالتو دولت میں سے عطا کردہ کوئی حقیر تحفہ بھی لوگوں کے لئے ایک کارِ خیر سمجھا جاتا جس کے وہ مستحق نہ تھے، اور ان کا واحد فرض شاہوں کی اطاعت و فرمانبرداری تھا............

ہندوستان کا ذات پات کا نظام انسانی کاموں میں سے انتہائی سنگدلانہ اور مکروہ تھا۔ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے تین صدیاں قبل ہندوستان کی برہمن تہذیب نے جس کا یہاں دور دورہ تھا، ہندوستانی معاشرہ کو ایک نیا نقش دیا۔ مذہبی مقتدرہ نے ایک نیا سول اور سیاسی قانون وضع کیا جسے منوشاستر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس قانون نے لوگوں کو چار مخصوص ذاتوں میں بانٹ دیا...... اس قانون نے برہمن ذات کو وہ حقوق و استحقاق عطا کئے جن سے ان کا درجہ خدا کے برابر ہو گیا۔ یہ کہتا ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ اور تمام مخلوقات کے والی ہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ ان کی ملکیت ہے۔ وہ معزز ترین مخلوق اور دنیا کے مالک ہیں۔ وہ اپنے شودر غلاموں سے جو چاہیں بغیر کسی جرم کے لے سکتے ہیں کیونکہ غلام کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اور اس کے پاس جو بھی ملکیت ہوتی ہے وہ مالک کی ہوتی ہے.........

اور جہاں تک شہرہ آفاق رومی تہذیب کا تعلق ہے، اس کی بنیاد آبادی کے

صفحہ ۳۰۱

تین چوتھائی غلاموں کی آبادی کے بقیہ ایک چوتھائی امراء کے لئے مہیا کردہ معیشت پر تھی۔ قانون میں بھی مالک اور غلام، اشراف اور عوام الناس کے درمیان امتیازات تھے۔ جب ساری دنیا میں یہ صورت حال تھی اسلام نے انسان کے حقیقی اور بنیادی میلان کو براہ راست مخاطب کیا جو غیر شعوری طور پر اس حالت کو رد کرتا ہے اور اسلام کی پکار پر اس کے جواب نے موجود صورت حال پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس نے رسول خدا کو لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ”اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا جد امجد ایک ہے۔ تم سب کا رشتہ آدم سے ہے اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ تم میں سے خدا کے نزدیک معزز ترین وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ عرب کو غیر عرب پر کوئی فوقیت نہیں اور گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر سوائے تقویٰ کے“۔ اس نے رسول خدا کو خصوصاً قریش کو مخاطب کر کے کہتے سنا ”پھر حج میں اسی جگہ بھاگو جہاں دوسرے بھاگتے ہیں“ (۲ : ۱۹۹) اس نے رسول خدا کو یہ کہتے سنا ”اے فاطمہ بنت محمد میری دولت میں سے جو مانگنا ہے مانگ لو، کیونکہ خدا کے حضور (ان میں سے) تمہیں کسی چیز سے کوئی فائدہ نہ ہوگا“۔

انسانی فطرت نے سنا اور متاثر ہوئی اور خدا کی دائمی سنت کے مطابق نتائج برآمد ہوئے جو دوبارہ کسی بھی موقع پر وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔

انسانی فطرت نے یہ محسوس کیا کہ احکامات خداوندی اسے موجودہ حالت سے بہتر حالت کی طرف لے جا رہے ہیں ........ یہ بھی اسی سنت اللہ کے مطابق ہوا جو ، جب بھی انسانی فطرت کو باطل عقیدہ کے ملبہ کے پیچھے سے طلب کیا جائے ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔

ہم یہاں صرف ان تین مثالوں پر اکتفا کریں گے جن میں حقیقی انسانی فطرت نے موجود صورت حال پر فتح حاصل کی، یہ باطل عقائد کے ملبہ کے نیچے سے نکل کر نمودار ہوئی اور جن میں یہ اس بیرونی موجود صورت حال پر فتح یاب ہوئی جس کی بنیاد خدائی رشد و ہدایت سے لاعلمی پر ہے۔ یہ صورت حال عقائد، خیالات، حالات، روایات اور معاشی عوامل پر مشتمل تھی۔ جس شخص کو عقیدے اور حقیقی انسانی فطرت کی طاقت کا علم نہیں اسے یہ تمام انتہائی زبردست اور ناقابل مزاحمت لگتے ہیں۔

صفحہ ۳۰۲

اسلام نے اس صورت حال کے آگے ہاتھ جوڑ کر شکست نہیں تسلیم کی۔ اس نے اسے منسوخ کر دیا یا تبدیل کر دیا اور اس کی جگہ اپنی ایک اعلیٰ و ارفع و بے نظیر عمارت بڑی مضبوط اور گہری بنیادوں پر کھڑی کی۔

جو کچھ ایک دفعہ ہوا وہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ جو کچھ ہوا وہ ایک مسلسل فطری حقانیت کے مطابق تھا نہ کہ کسی غیر معمولی معجزہ کے۔ یہ عمارت انسانی فطرت کی امکانی قوہ سے بنی تھی‘ وہ امکانی قوہ جو ان سب کے لئے حاضر ہے جو اس سے فائدہ اٹھانا‘ اسے مجتمع کرنا اور اسے زیر اختیار لا کر اس کا بہاؤ صحیح سمت میں کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام کی اس پہلی لہر نے تاریخ پر جو اثرات چھوڑے ہیں‘ انسانیت ان کی وجہ سے اس رخ کو اختیار کرنے کے لئے نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ یہ وہ لہر تھی جس نے سخت ترین مخالفت کا سامنا کیا لیکن اپنے راستے پر ثابت قدم رہتے ہوئے پیچھے نہایت گہرے نقوش چھوڑے۔

تجربے کے وسائل

جب اسلام نے انسانیت کا پہلے پہل سامنا کیا تو موجود صورت حال کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے پاس صرف انسانی فطرت کے امکانی قوہ ہی تھے۔ انسانی فطرت اسلام کی طرف دار تھی باوجود اس امر کے کہ زمانہ جاہلیہ کی طویل صدیوں کے دوران اس پر خدائی رشد و رہنمائی سے لاعلمی کے ملبے کا ڈھیر لگ چکا تھا۔ انسانی فطرت اپنے آپ کو آزاد کرنے کے قابل تھی اور اس کا اسلام کی پکار پر جوابی عمل اس ملبے کو ہٹانے کے لئے کافی تھا۔

وہ ایک قابل ذکر دور تھا۔ ایک اعلیٰ و ارفع چوٹی‘ ایک غیر معمولی نسل انسانی‘ ایک روشن شمع۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں خدا نے تقدیر میں یہ لکھ دیا تھا کہ اس بے نظیر عکس کی حقیقی زندگی میں صورت گری ہو تاکہ بعد کے زمانے میں اس کی طرف رجوع کیا جاسکے تاکہ انسانی کوتاہیوں کے باوجود اسے بعد کے زمانے میں دہرایا جاسکے۔

یہ اپنے ماحول کی قدرتی پیداوار نہ تھا بلکہ انسانی فطرت کی امکانی قوہ کی عملی

صفحہ ۳۰۳

تشکیل کا ثمر‘ جبکہ اس کو ایک راہِ قیادت‘ ہدایت اور روبہ عمل لانے اور آگے دھکیلنے کی تحریک مل گئی۔ تاہم انسانیت بحیثیت مجموعی ابھی اس انتہائی بلند چوٹی پر زیادہ دیر برقرار رہنے کے قابل نہ تھی جس پر انسانوں کا وہ برگزیدہ گروہ پہنچ گیا تھا۔ جب اسلام روئے زمین پر حیرت انگیز رفتار سے پھیل گیا‘ ایک ایسی رفتار جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی‘ اور لوگ گروہ در گروہ دین حق میں شامل ہو گئے‘ جب امت مسلمہ کی اکثریت کو وہ عمیق‘ بے مثال اور سلسلہ وار تعلیم نہ ملی جو اس چیدہ فریق کو ملی تھی‘ تب جن عوام الناس نے اسلام کی اطاعت قبول کی تھی‘ ان میں زمانہ جاہلیہ کے باقی ماندہ اثرات کے دباؤ نے تمام ملت اسلامیہ کو اس اعلیٰ و ارفع مقام سے زمین کی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ صرف ایک عظیم جست ہی امت کو ان بلندیوں تک پہنچا سکتی تھی جہاں وہ چیدہ فریق پہنچا تھا جس کو ایک بے نظیر‘ گہری اور سلسلہ وار تربیت ملی تھی‘ جس نے انسانی فطرت کے ذرائع کو حرکت میں لا کر ان کا رخ صحیح سمت میں کر دیا تھا۔

چنانچہ امت مسلمہ ایک ہزار سال تک اس بلند چوٹی پر نہیں بلکہ مختلف سطحوں پر رہی تاہم ان میں سے ہر ایک سطح ارد گرد کی دنیا کے دوسرے معاشروں سے بلند تر تھی۔ حقیقتاً دوسرے معاشرے اس سے مدد مانگتے تھے جیسا کہ تاریخ شاہد ہے اگر تاریخ سچی ہے‘ لیکن تاریخ شاذ و نادر ہی دیانتدار ہوتی ہے۔

نوع انسان کی تاریخ میں یہ آگے کی طرف بے نظیر جست اور وہ بلند سطحیں جن پر یہ اس کے بعد ایک ہزار سال تک برقرار رہی‘ بے مقصد نہ تھیں اور نہ ہی وہ دنیا کے انسانوں کے لئے بیکار ثابت ہوئیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیچھے ایسی دنیا چھوڑی جو اس سے بالکل مختلف تھی جس کا انہیں پہلے پہل سامنا کرنا پڑا۔

”زندگی اور انسان کے بارے میں اللہ کی سنت یہ نہیں ہے۔ نوع انسان وقت کے طویل عرصوں پر ایک متصل اکائی ہے اور جسم انسانیت ایک غریزی عضویہ ہے جو اپنے تجربے کے ذخیرے کو استعمال کرتا ہے اور معلومات کے ذرائع کو اکٹھا کرتا ہے۔ یہ ذرائع چاہے جاہلیت کے بادلوں سے کتنے ہی ڈھک چکے تھے اور چاہے ان پر ظلمت اور بے بصری کا کتنا ہی غلبہ ہو چکا تھا‘ وہ فطری اور مستقل طور پر نوع انسانی کے جسم میں گردش کرتے

صفحہ ۳۰۴

رہے۔

اگر اسلام کی اولین پکار کو صرف انسانی فطرت کی امکانی قوہ کی مدد سے موجود صورت حال کا سامنا اور مقابلہ کرنا پڑا (ماسوائے اس معمولی امکانی قوہ کے جو پچھلی رسالتوں کی نمائندہ تھی جو مخصوص قوموں کے لئے بھیجی گئی تھیں نہ کہ کل نوع انسانی کے لئے جیسا کہ اسلام) تو آج اسے نہ صرف یہ امکانی قوہ دستیاب ہے بلکہ وہ وسائل بھی جن کو اسلام کی پہلی لہر وجود میں لائی۔ یعنی وہ لوگ جن کا اسلام میں ایمان تھا اس کی حکمرانی تلے رہے اور اس سے متاثر ہوئے۔ اسی طرح یہ انسان کے ان تلخ تجربات کو بھی بروئے کار لاتا ہے جو خدا سے جدائی کے ویرانے میں اکٹھے کئے گئے۔

”وہ اصول‘ خیالات‘ اقدار‘ معیارات‘ نظامات اور ادارات جن سے اسلام کا شروع شروع میں سامنا تھا جبکہ اس کو صرف انسانی فطرت کی امکانی قوہ دستیاب تھی‘ ان کی اس نے قطعی تکذیب اور مزاحمت کی۔ پھر آدمیوں کے ایک گروہ کی زندگیوں میں ایک عرصہ کے لئے اسلام کے اصول‘ خیالات‘ اقدار‘ معیارات‘ نظامات اور ادارے قائم ہوگئے۔ اس کے بعد وہ وسیع اسلامی دنیا میں مزید ایک عرصہ کے لئے مختلف سطحوں پر قائم ہوگئے۔ آخرکار تقریباً چودہ سو سال کے عرصہ میں وہ تقریباً ساری کی ساری انسانیت کو معلوم ہوگئے۔ جب یہ عملی‘ اعتقادی اور تجرباتی طور پر موجود نہیں تھے تب بھی یہ ایک خواب یا ایک امید کے طور پر معلوم تھے۔

”اس لئے یہ یقیناً انسان کو اس طرح عجیب نہیں لگے جیسے پہلی اشاعت اسلام کے وقت لگے تھے۔ وہ اس کے احساسات اور رسومات کو اس قدر قابل ملامت نہیں لگے جیسے کہ پہلے۔ یہ سچ ہے کہ نوع انسان کو ان کا اس طرح کا تجربہ نہ ہوسکا جیسا اولین نسل کے اس برگزیدہ گروہ کو اس بے مثال دور میں ہوا۔ یہ بھی سچ ہے کہ جب انسان نے ان میں سے کچھ کو مختلف اوقات میں‘ مع عہد حاضر کے‘ زیر استعمال لانے کی کوشش کی تو یہ اس کی روح کا ادراک نہ کر سکا اور اسی لئے اسے زیر استعمال نہ لاسکا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اب بھی جب یہ اس بلند چوٹی پر چڑھنا چاہتا ہے جس پر اولین مسلمان ایک قدم میں پہنچ گئے

صفحہ ۳۰۵

تھے تو لڑکھڑا جاتا ہے۔

”ان سب باتوں کے باوجود نوع انسانی بحیثیت مجموعی ذہنی نقطہ نظر سے خدا کی طرف سے مقرر کردہ اس راستے کی ماہیت کے ادراک اور اس پر گامزن ہونے کے قابل ہونے کے قریب تر ہے بہ نسبت طلوع اسلام کے وقت کے۔

خاص مثالوں سے یہ نقطہ واضح ہو جائے گا۔ ہم صرف چند ایک چنیں گے ان کی تفصیل میں جائے بغیر۔ اس کی دو وجوہ ہیں، اول یہ کہ موجودہ بحث ان عناصر کی ایک مختصر بحث ہے جو کہ دین اسلام کے وسیع موضوع میں شامل ہیں۔ ثانیاً اسلام کی پہلی لہر نے تمام انسانیت کی زندگی اور دنیا کے تمام خطوں میں جو موٹے موٹے نقوش چھوڑے ہیں، وہ اتنے بے شمار، غیر معمولی اور وسیع ہیں کہ ایک مصنف ایک کتاب میں ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ نشانیاں اس قدیم دور سے انسانی زندگی میں سرایت کر چکی ہیں اور تمام وجود انسانیت کو وسیع سطح پر اپنے حلقہ آغوش میں اس طرح لے لیا ہے کہ دیکھنے والے کو پوری طرح نظر نہیں آتا۔

خلاصہ کے طور پر یہ کہنا ممکن ہے کہ اس آفاقی مظہر جو کرہ ارضی پر نمودار ہوا یعنی دین اسلام نے زندگی کے کسی پہلو کو متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑا۔ اور اگرچہ اس کے اثرات شدت کے اعتبار سے مختلف ہوں لیکن اس کے اثر کی حقیقت میں شک نہیں۔ تاریخ کی ہر ایک بڑی تحریک کا بالواسطہ یا بلاواسطہ منبع وہی انتہائی اہم واقعہ تھا یعنی وہ آفاقی مظہر۔

”اصلاح مذہب کی تحریک جو یورپ میں لوتھر (Luther) اور جے کیلون (J.Calvin) نے شروع کی ، تجدید علوم (Renaissance) کی تحریک جس سے یورپ آج بھی نشوونما پا رہا ہے ، جاگیرداری نظام کے خاتمہ اور رئیسانہ حکمرانی سے رہائی، انسانی مساوات اور حقوق کی تحریک جو انگلینڈ میں میگنا کارٹا (Magna Carta) اور انقلاب فرانس میں نمودار ہوئی ، وہ تجرباتی طریقہ جس پر یورپ کی سائنسی عظمت مبنی ہے۔ یہ تمام تحریکیں عام طور پر تاریخی ارتقا کی اعلیٰ منازل میں شمار کی جاتی ہیں، ان کا سرچشمہ یہ عظیم اسلامی لہریں تھیں اور ان پر اس کا بنیادی اور گہرا اثر تھا۔

ہمیں دین اسلام اور اسلامی زندگی کے نوع انسان کی تاریخ، زندگی اور عالمی

صفحہ ۳۰۶

تاریخ میں بڑی تحریکوں پر اثرات کی ان مثالوں پر اکتفا کرنا ہوگا۔ یہ صرف اس عظیم اور ہمہ گیر سچائی کی علامت کے طور پر ہیں جسے ہم اکثر و بیشتر بھول جاتے ہیں۔ جب ہم عصر حاضر کی تہذیب کی عمارت کو دیکھتے ہیں تو ہم اپنی سادگی اور لاعلمی میں سمجھتے ہیں کہ اس میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ کہ ہم نے اسے بالکل متاثر نہیں کیا اور یہ کہ یہ ہم اور ہماری تاریخ سے عظیم تر کوئی شے ہے حتیٰ کہ ہمیں اپنی تاریخ کا بھی شعور نہیں۔ ہم یہ بھی اپنے دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں جن کی واحد خواہش ہمارے دلوں کو اسلامی زندگی یعنی دین اسلام کے مطابق زندگی کے امکان سے متعلق مایوسی سے بھرنا ہے۔ انہیں اس مایوسی سے فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ یہ انہیں ہمارے حملے سے محفوظ کرتی ہے، یعنی وہ حملہ جو ہم دنیا کی قیادت کی عنانیں چھین کر واپس لینے کے لئے کر سکتے ہیں۔ ہمیں کیا مرض لاحق ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے ہم ہضم کر جاتے ہیں اور پھر یہی کچھ طوطوں یا بندروں کی طرح دہراتے رہتے ہیں"۔

یہاں پر یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ صرف اسلام کی پہلی لہر جس کا انسانیت کو بخوبی علم ہے، انکے خد و خال کی نشاندہی کی تیاری ہے۔ انسانیت بھی آج اسے سمجھنے اور تصور میں لانے کے لئے بہتر طور پر تیار ہے جو کہ پہلے سے موجود یعنی انسانی فطرت کے علاوہ ایک اضافی وسیلہ ہے۔

نشانیاں اور اثرات :

جب اسلام کا پہلا مد گزر گیا، جب اسلام کے ہاتھوں معزولی کے بعد ربانی رشد و ہدایت سے لاعلمی کا ایک دفعہ پھر عروج اور دور دورہ ہو گیا اور جب شیطان اپنے کندھوں سے جنگ کی گرد جھاڑ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے پیروکاروں کو پکارا جن کے ہاتھ میں پھر عنان حکومت آگئی تھی، جب یہ سب کچھ ہو گیا تو نوع انسان کی زندگی اس حالت کو نہیں پلٹی جس میں یہ قبل از اسلام زمانہ جاہلیہ میں تھی۔ اسلام برقرار تھا اگرچہ یہ دنیا پر غلبہ کی حیثیت سے پسپائی اختیار کر چکا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے موٹی موٹی نشانیاں چھوڑیں، وہ نمایاں اصول جو انسانی زندگی میں قائم و رائج اور لوگوں کو مانوس ہو چکے تھے۔ ان میں وہ اجنبیت باقی نہیں رہی تھی جو ان میں اس وقت تھی جب اسلام نے ان کا پہلے پہل اعلان کیا۔ ہم

صفحہ ۳۰۷

یہاں مختصراً ان موٹے موٹے اثرات اور نمایاں اصولوں کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔

ایک نوع انسانی

جزیرہ نما عرب میں قبیلے، ذیلی قبیلے یا خاندان کی وفاداری اور اس سے باہر کی دنیا میں ملک، جائے پیدائش، رنگ و نسل کی وفاداری کا غلبہ تھا۔ نوع انسان کے تصور سے کسی اور قسم کی وفاداری بالاتر تھی قبل اس کے کہ اسلام نے آکر ہر ایک کے لئے اعلان کیا کہ پوری انسانیت ایک ہے، اس کی ابتدا ایک ہی ہے اور اسے ایک ہی خدا کی طرف جانا ہے۔ اور یہ کہ نسل، رنگ، ملک اور خاندان کا فرق نوع انسانی میں تفرقہ ڈالنے، ان میں اجنبیت اور عداوت پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان سکیں اور ان کی شناخت کر سکیں تاکہ دنیا میں خدا کی خلافت کا کام ان میں بانٹا جاسکے اور آخر کار ان سب کو اس اللہ کی طرف لوٹنا ہے جس نے انہیں اس زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر قائم کیا۔ خدائے قادر مطلق نے انہیں قرآن مجید میں اس طرح مخاطب کیا۔ ”اے لوگو ہم نے تمہیں مذکر اور مونث سے پیدا کیا اور تم لوگوں کے قبیلے بنا دیئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں خدا کی نگاہ میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جس کا تقویٰ سب سے زیادہ ہے۔ بے شک خدا علیم و خبیر ہے“۔۔۔۔

یہ محض نظری اصول نہ تھے، بلکہ عملی صورت حال۔ اسلام کرہ ارضی کے ایک وسیع خطے پر پھیل گیا جس میں بہت سی نسلوں اور رنگوں کے لوگ شامل تھے جنہیں نظام اسلام نے متحد کر دیا۔ موروثی رنگ، نسل، طبقہ یا حسب و نسب ان سب کے لئے بھائیوں کی طرح اکٹھا رہنے میں مانع نہ ہوا اور نہ ہی کسی فرد کے کسی ایسی چیز کو حاصل کرنے میں جس کا وہ اپنی قابلیت کی بنا پر اہل تھا اور نہ ہی اس میں کہ ایک انسان کی حیثیت سے اسے اس کا مرتبہ دے دیا جائے۔

یہ ایک موٹی نشانی اگرچہ شروع میں دنیا کو عجیب و غریب لگی اور اس نے اسے رد کر دیا لیکن یہ قائم ہو گئی۔ اسلام کی پہلی لہر کی مراجعت کے بعد بھی دنیا کو یہ عجیب نہ لگی اور وہ اسے اسی طور پر رد نہ کر سکی۔

صفحہ ۳۰۸

یہ صحیح ہے کہ نوع انسانی اس پر مسلم امہ کی طرح عمل پیرا نہ ہو سکی اگرچہ وہاں بھی یہ پوری طرح قائم نہ تھا۔ یہ درست ہے کہ مختلف ادنیٰ وفاداریاں اور کٹر تعصبات ابھی موجود ہیں۔ مثلاً اپنے وطن، نسل، قوم، رنگ اور زبان کی وفاداریاں۔ یہ سچ ہے کہ سیاہ فام لوگوں کی جنوبی افریقہ اور امریکہ میں حالت ایک سنجیدہ اور کٹھن مسئلہ ہے، اور یہ یورپ میں بھی کسی حد تک مخفی شکل میں موجود ہے۔

تاہم ایک نوع انسان کا تصور آج انسانیت کے شعور کا ایک اہم عنصر ہے۔ یہ تصور جس کا خاکہ اسلام نے دیا نظریاتی نقطہ نگاہ سے تمام انسانی سوچ کی بنیاد ہے جبکہ ادنیٰ وفاداریاں بے بنیاد اور کمزور ہونے کہ وجہ سے گھٹ رہی ہیں اور ناپید ہو رہی ہیں۔ اسلام کی پہلی لہر اس تصور کا انسانی فطرت کی امکانی قوہ کی مدد سے خاکہ پیش کر کے گزر گئی۔ لیکن یہ اپنے سے بعد میں آنے والی لہر کے لئے نہ صرف امکانی قوہ بلکہ جو وسائل اس نے پیدا کئے وہ بھی چھوڑ گئی تاکہ نوع انسان اسلام کے پیغام کا ادراک کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے بہتر حالت میں ہے اور حیرت اور تعجب کا عنصر غائب ہو چکا ہے۔

معزز نوع انسان

جب اسلام پہلی دفعہ آیا تو انسانی وقار صرف چند خاندانوں اور طبقوں تک محدود تھا۔ جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے تو وہ صرف تلچھٹ تھے، کسی قدر و قیمت اور وقار سے محروم۔ اسلام نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا کہ انسان کے وقار کا سرچشمہ اس کی انسانیت ہی ہے نہ کہ کوئی اتفاقی پہلو مثلاً نسل، رنگ، طبقہ، دولت یا مرتبہ۔ اسی طرح انسان کے اصلی حقوق کا منبع بھی انسانیت ہے، جس کی اپنی ابتدا ایک ہی ہے۔ خدا قرآن میں انسان سے کہتا ہے ”جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین پر اپنا ایک خلیفہ بناؤں گا“ (۲: ۳۰)

جب ہم نے فرشتوں سے کہا ”آدم کے آگے سجدہ کرو“ تو انہوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا اور سرکشی کی اور کافرین میں سے تھا“ (۳۴:۲) اور اس نے سب کچھ جو زمین و آسمان میں ہے تمہارے تصرف میں دے دیا

صفحہ ۳۰۹

ہے۔ یہ سب کچھ اس کے حکم سے ہے“ (۱۳:۴۵) اس کے بعد لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ انسان اپنی فطرت کی بناء پر ہی خدا کی نگاہ میں اشرف ہے اور اس کا یہ اعزاز خلقی ہے اور یہ نسل‘ رنگ‘ ملک‘ قوم‘ قبیلہ‘ خاندان یا کسی دوسرے معمولی اور اتفاقی پہلو سے مبرا ہے۔ اس کا انحصار صرف اس کے انسان ہونے پر ہے اور اس نوع سے تعلق رکھنے میں ہے جس کو خدا نے اعزاز بخشا ہے۔

یہ اصول نظری نہیں تھے، حقیقی اور عملی تھے اور مسلم امہ میں ان کی نمائندگی تھی۔ اس امت کی وساطت سے وہ تمام دنیا میں پھیل گئے۔ اور جن لوگوں نے انہیں تسلیم کیا انہوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ عوام الناس نے جو کہ میل کچیل سمجھے جاتے تھے‘ اپنے شرف کا احساس کیا اور اس چیز کا کہ انکے انسانی حقوق ہیں اور یہ کہ وہ اپنے حکمرانوں اور بادشاہوں کے محاسبہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور یہ کہ انہیں توہین و تذلیل و تحقیر کے آگے نہیں جھکنا چاہیے۔ حکمرانوں کو اس چیز کا سبق ملا کہ ان کے ایسے کوئی مخصوص حقوق نہیں ہیں جو کہ عوام الناس کو حاصل نہ ہوں۔ وہ کسی شخص کے وقار کو صرف اس لئے مجروح نہیں کر سکتے کہ وہ حکمران یا شاہان میں سے نہیں ہے۔

انسان کے لئے یہ ایک نئی پیدائش تھی‘ اس کی پہلی مادی پیدائش سے بڑی پیدائش۔ کیونکہ انسان بغیر انسانی حقوق اور شرف کے ہے ہی کیا؟ اگر ان حقوق کا انحصار صرف انسان کے وجود پر نہیں تو کبھی نہیں بدلتا‘ تو پھر انسان ہے ہی کیا؟

ابو بکرؓ نے اپنی خلافت کی ابتدا یہ کہہ کر کی ”مجھے تم پر حکمران بنایا گیا ہے۔ لیکن میں تم میں سے بہترین نہیں ہوں۔ اگر میں صحیح کام کروں تو میری مدد کرو۔ اور اگر میں غلط کام کروں تو میری اصلاح کرو۔ جب تک میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کروں‘ میری اطاعت کرو۔ جب میں ان کی اطاعت نہ کروں، تب میں تمہاری اطاعت کا حقدار نہیں“۔

عمر ابن الخطابؓ نے لوگوں کو ان کے اپنے حکمرانوں پر حقوق کے متعلق یوں مخاطب فرمایا ”اے لوگو‘ میں تمہارے اوپر گورنرز اس لئے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھال چھیلیں اور نہ ہی اس لئے کہ تمہاری ملکیت تم سے چھینیں۔ میں انہیں صرف تمہیں تمہارے مذہب اور دین کی تعلیم دینے کے لئے بھیجتا ہوں۔ جس کسی کے ساتھ بدسلوکی ہوتی

صفحہ ۳۱۰

ہے وہ اس کا معاملہ میرے سامنے پیش کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے میں یقیناً اس کا انتقام لوں گا۔"..........

اہم بات یہ ہے کہ جیسے ہم پہلے کہہ چکے ہیں یہ محض نظریاتی اصول یا صرف کہنے کی باتیں نہ تھیں۔ ان پر حقیقتاً عمل ہوتا تھا اور لوگوں میں یہ کردار کے عملی اصولوں کے طور پر رائج ہوئے۔ (اس کی بے شمار مثالیں خلفائے راشدین کے عہد سے دی جاسکتی ہیں)۔۔۔۔

چنانچہ ہمیں اسلام نے جو آزادی دی اس کی گہرائی کا شعور حاصل کرنا چاہیے۔ سوال صرف عمرؓ کے عادل ہونے کا نہ تھا کیونکہ ان کے عدل کی دہائی ہر زمانے میں نہیں دی جاسکتی بلکہ یہ تھا کہ عمرؓ کے عدل نے جس کا سرچشمہ دین اسلام اور اس کا نظام تھا دنیا میں آزادی کا زبردست سیلاب رواں کر دیا تھا اور انسانی شرف و وقار کو قائم کر دیا تھا۔

یہ سچ ہے کہ نوع انسان دوبارہ اس اعلیٰ نہج پر نہ پہنچ سکی۔ لیکن انسان کے شرف، آزادی اور ان کی اپنے حکمرانوں اور شاہان پر حقوق کے تصور کا جو خاکہ اسلام نے کھینچا اس نے نوع انسان کی زندگی میں ناقابل تردید نشان چھوڑے۔ کسی حد تک یہ نشان ہی ہیں جو آدمی کو انسان کے حقوق کا اعلان کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس اعلان نے انسانی زندگی میں عملی راہ اختیار نہیں کی۔ یہ سچ ہے کہ لوگ کرہ ارضی کے مختلف حصوں میں نفرت، تذلیل، ایذا رسانی اور محرومی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کچھ فلسفے انسان کو محض ایک آلہ یا ذریعہ کی سطح پر گرا رہے ہیں اور اس کی آزادی، وقار اور اعلیٰ اوصاف کو زیادہ پیداوار، آمدن اور مارکیٹ پر غلبے کی خاطر تلف کر رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود جو نظریہ اسلام نے قائم کیا وہ نوع انسانی کے ذہنوں اور تصور میں برقرار ہے۔ یہ اس طرح عجیب نہیں ہے جس طرح یہ اس وقت تھا جب اسلام نے اس کا اعلان کیا۔ نوع انسان آج اسے بہتر طور پر سمجھنے اور اس کا تصور کرنے کے قابل ہے اگر اسے ان شاء اللہ اسلام کی آئندہ لہر میں اس کا سامنا کرنا پڑے۔

امت واحد

جب اسلام پہلی دفعہ آیا تو اس نے لوگوں کو حسب ونسب، نسل، وطن اور

صفحہ ۳۱۱

مشترکہ مفاد اور فائدے کی بنیاد پر گروہوں میں بٹا ہوا پایا۔ ان تمام ادنیٰ وفاداریوں کا انسان کی حقیقی فطرت اور جبلت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ تو محض اتفاقی اور ضمنی اوصاف تھے جو انسان کی اعلیٰ فطرت سے نتھی ہو گئے تھے۔ اسلام نے اس اہم معاملہ کے متعلق بڑے مضبوط اور فیصلہ کن طریقے سے بات کی اور لوگوں کے باہمی تعلقات کا تعین کیا۔ اس نے کہا نہ تو رنگ، نہ نسل، نہ حسب و نسب، نہ وطن، نہ مشترکہ مفاد اور فائدہ لوگوں کو اکٹھا یا جدا کرے گا بلکہ ان کے عقیدے اور ان کے اپنے رب سے رشتے سے ان کے باہمی رشتے کا فیصلہ ہوگا۔ ان کا اپنے رب سے رشتہ ہی ہے جو انہیں ان کی انسانیت عطا کرتا ہے اور اسی سے ان کی اس دنیا اور آخرت میں راہ معین ہوگی۔ انہیں روح اللہ سے جو سانس حاصل ہوتی ہے اسی کی وجہ سے انسان انسان بنتا ہے۔ اسے یہ شرف حاصل ہوا اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اس کے زیر تصرف ہو گیا ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر لوگ اکٹھے یا علیحدہ ہوں گے نہ کہ کسی ایسے اتفاقی اور ضمنی وصف کی بنیاد پر جو انسان کی فطرت سے نتھی ہو جائے۔

باہمی معاشرت کی بنیاد عقیدہ ہے کیونکہ عقیدہ انسانی روح کا سب سے اعلیٰ وصف ہے۔ اگر یہ رشتہ ختم ہو جائے تو پھر کوئی اتحاد بلکہ کوئی وجود بھی باقی نہیں رہے گا۔ نوع انسان کو اپنے اعلیٰ وصف کی بنیاد پر معاشرت اختیار کرنی چاہیے نہ کہ چارے، چراگاہ یا قطعہ ارضی کی بنیاد پر حیوانات کی طرح۔ تمام دنیا میں دو گروہ ہیں۔ ایک حزب اللہ اور دوسرا حزب شیطان۔ حزب اللہ خدا کے جھنڈے تلے کھڑا ہوتا ہے اور اس کا پرچم لئے ہوتا ہے۔ شیطان کا گروہ ہر اس برادری، گروہ، قوم، نسل اور فرد پر مشتمل ہے جو خدا کے جھنڈے تلے نہیں ہے۔

امہ لوگوں کا وہ گروہ ہے جو عقیدہ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں جس سے ان کی قومیت تشکیل پاتی ہے۔ اگر کوئی عقیدہ نہیں ہے تو امت بھی نہیں ہے کیونکہ اسے باہم جوڑنے کے لئے کچھ نہیں۔ زمین، نسل، زبان، حسب و نسب اور باہمی مادی مفادات علیحدہ علیحدہ یا مل کر اس چیز کے لئے کافی نہیں ہیں کہ امت کی تشکیل کریں، جب تک کہ عقیدے کا رشتہ موجود نہ ہو۔ یہ رشتہ ایسا خیال ہونا چاہیے جو دل و دماغ کو زندگی بخشے، ایک ایسا تصور جو انسانی زندگی اور وجود کی تشریح کرے، جو انسان کا خدا سے

صفحہ ۳۱۲

رابطہ قائم کرے، جس کی روح کی ایک پھونک سے انسان انسان ہوا، حیوانوں سے ممیز ہو کر خدا کے عطا کردہ شرف سے مشرف کیا گیا۔

خدا قرآن میں حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت محمدؐ کے عہد تک ہر ملک، ہر زمانے، ہر رنگ، ہر نسل، ہر قبیلے، ہر گروہ کے ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ”تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔ اور میں تمہارا رب ہوں۔ سو میری عبادت کرو“ (۲۱ : ۹۲)

خدا نے لوگوں میں عقیدے کی بنیاد پر تمیز کی۔ قطع نظر حسب نسب، نسل اور وطن کے بندھنوں کے۔ اس نے کہا ”تم ایسے کوئی لوگ نہیں پاؤ گے جن کا خدا اور آخرت میں ایمان ہے اور وہ ایسے افراد سے محبت کرتے ہوں جو کہ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں چاہے وہ باپ ہوں، بیٹے ہوں، برادری کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

(۵۸ : ۲۲)

خدا نے قتال کا ایک ہی مقصد مقرر کیا ہے جبکہ کوئی دوسرا وسیلہ میسر نہ ہو۔ اور یہ جہاد ہے۔ اس نے ایک مومن کے مقصد اور ایک کافر کے مقصد کا تعین بڑے واضح اور فیصلہ کن انداز میں کر دیا ہے۔ ”مومنین اللہ کی خاطر لڑتے ہیں اور کفار بتوں کی خاطر۔ تو پھر شیطان کی پیروی کرنے والوں سے جنگ کرو۔ یقیناً شیطان کا گروہ نحیف ہے“

(۴ : ۷۶)

تمام نوع انسانی کو اس وقت یہ بڑا عجیب لگا کہ معاشرت کی بنیاد عقیدے پر ہو نہ کہ نسل، رنگ، پیشہ یا اس طرح کے کسی اور اتفاقی اور ضمنی وصف پر۔ آج کل کی اصطلاح میں اس فرقہ بندی کو جب اسلام نے متعارف کرایا تو یہ بڑی عجیب لگی۔ لیکن آج ہم نوع انسان کو اسے اپنے اندر جذب کرتے اور مختلف ملکوں، قوموں، زبانوں، رنگوں اور نسلوں کا باہم عقیدے کی بنیاد پر ملاپ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہم خدا پر عقیدے کی بنیاد پر باہم اختلاط نہیں کرتے بلکہ معاشی یا معاشرتی عقائد کی بنیاد پر چونکہ انسان اس نچلے مقام پر ہے، اسے ثانوی عوامل زیادہ اہم نظر آتے ہیں بہ نسبت ایک عظیم حقیقت اور سچائی کے۔ بہر حال، یہ تسلیم کرنا ہے کہ اختلاط کا اصول عقیدہ ہو سکتا ہے جو روحانی اور ذہنی رشتہ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے۔

صفحہ ۳۱۳

نوع انسان کے لئے یہ کام ابھی باقی ہے کہ وہ اسلام کی آئندہ لہر میں کسی بلند تر اور خوبتر چیز کی طرف چڑھے تاکہ وہ اس اعلیٰ وارفع نہج پر پہنچنے کا کام شروع کر سکے۔ تب اس کو نئے اور پرانے وسائل دستیاب ہوں گے یعنی وہ جن کا تعلق انسانی فطرت سے ہے اور وہ تجربہ جو نوع انسان نے اسلام کی پہلی لہر کے بعد سے چھوڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دارالاسلام اور دارالحرب کے مابین تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ بلکہ بڑے باضابطہ اور صحیح طریقے سے اچھے کردار، پاکیزگی اور راستبازی کے مطابق ان کا تعین کیا گیا ہے۔

ہمارا ارادہ یہاں دارالاسلام اور دارالحرب، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی رویہ کے قوانین کی تفاصیل میں جانے کا نہیں۔ یہ کتاب اس بحث کے لئے مناسب مقام نہیں ہے۔ ہم صرف مخالف کیمپوں کے درمیان تعلقات کے لئے اسلام نے جو خدوخال قائم کئے ان کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسلام سے قبل اس طرح کے کوئی اصول نہ تھے۔ اسلام سے پہلے ملتوں کا باہمی تعامل تلوار اور نارواداری پر مبنی تھا۔ طاقتور کے لئے سب کچھ جائز تھا اور مفتوح کے بالکل کوئی حقوق نہ تھے۔ اسلام کے وضع کردہ یہ اصول نوع انسان کی زندگی سے ناپید نہیں ہوئے۔ سترہویں صدی عیسوی (گیارہویں صدی ہجری) کے بعد دنیا نے اپنے باہمی اختلاط کو ان اصولوں پر قائم کرنا شروع کر دیا۔ یہ "بین الاقوامی قانون" کے تصور کی طرف بڑھنا شروع ہوئی اور انیسویں صدی عیسوی میں اس کے استحکام کے لئے بین الاقوامی اداروں کی تعمیر شروع ہوئی اور یہ ادارے مختلف حدوں تک کامیاب یا ناکام رہے۔

چنانچہ اسلام کا متعارف کرایا ہوا نظام نوع انسان کے لئے اتنا عجیب نہیں جتنا کہ یہ شروع میں لگا۔ یہ سچ ہے کہ نوع انسان اخلاق کی اس نہج کو نہیں پہنچ سکی جہاں پر اولین مسلم امہ اپنے دوسری قوموں کے ساتھ باہمی تعاون اور اختلاط میں پہنچی تھی۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس صدی میں مغربی علم قانون پر استوار بین الاقوامی قانون کے نظریات میں بڑی سنجیدہ قسم کی رکاوٹیں اور پسپائیاں پیش آئی ہیں۔ اعلان جنگ کا اصول اور معاہدوں کی تنسیخ کی ممانعت کالعدم ہو چکے ہیں۔ گپت گھات یعنی خفیہ قتل انسانوں میں اتنا عام ہوچکا ہے جتنا جانوروں

صفحہ ۳۱۴

کا ایک دوسرے کو مارنا نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ جنگ اور امن کی غرض وغایت اب بھی منفعت‘ لوٹ‘ مال غنیمت اور منڈیاں ہیں جو عقیدہ‘ نظریہ‘ نیکی اور انصاف کی غرض وغایت سے بہت نیچے ہیں جن کا جہاد کے مقصد کے طور پر اسلام نے تصور قائم کیا۔

تاہم بین الاقوامی تعلقات کا کسی ایسے قانون پر مبنی ہونے کا تصور‘ جو تمام فریقین کو معلوم ہو‘ موجود ہے۔ اس کو سب سے پہلے اسلام معرض وجود میں لایا۔ اس اعلیٰ و ارفع اور راستباز دین نے جو کہ خدا کی طرف سے نوع انسان کے لئے مقرر کردہ ہے‘ لوگوں کی زندگی میں اسے عملی شکل دی۔

اگر لوگوں کو دوبارہ اس دین کی طرف پکارا گیا تو یہ تصور اور نظریہ ان کو غیر مانوس اور قابل ملامت نہیں لگے گا۔ اس کی اعلیٰ و ارفع اخلاقی بنیاد چاہے نوع انسان کے لئے انجانی ہو‘ گو انسان خدائی رشد و ہدایت سے لاعلمی کی دلدل میں ٹھوکریں کھا رہا ہو لیکن یہ نظریہ بذات خود نہ تو غیر مانوس ہے نہ قابل ملامت۔

اسلام‘ جس نے شروع میں اپنے اصول نافذ کرنے کے لئے صرف انسانی فطرت کی امکانی قوت پر بھروسہ کیا‘ اپنی آئندہ عملی زندگی میں نوع انسان کی اپنے اصولوں میں سے چند ایک کے ساتھ روشناسی سے بھی استفادہ کرے گا۔ یہ نوع انسان کو حاصل شدہ مختلف تجربات سے بھی استفادہ کرے گا۔ اور انشاء اللہ یہ اس طرح اپنی پیشقدمی دوبارہ شروع کرنے کے بہتر قابل ہوگا۔

نوع انسان آج تمام عقائد‘ نظریات اور نصب العین کے متعلق سبکی اور بے اعتنائی کا شکار ہے۔ یہ منافقت‘ مکاری اور سفلہ پن میں بھی مبتلا ہے۔ یہ تمام کی تمام لوگوں کو خدا کی طرف بلانے کے راستے میں رکاوٹیں ہیں اور دین حق پر راستبازی سے قائم رہنے میں سدِ راہ ہیں۔ ہمیں ان اور ان جیسی دوسری باتوں کو نظر انداز یا کم تر خیال نہیں کرنا چاہیے تاکہ اسلام کے لئے کام کرنے والے موافق عوامل سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو مناسب طور پر آراستہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔

وہ اپنے آپ کو کیسے آراستہ کر سکتے ہیں؟ صرف ایک چیز ہے جو انہیں اپنے آپ کو مہیا کرنی ہے۔ خوف خدا‘ خدا کی حقیقت کا شعور‘ خدا سے براہ راست تعلق اور

اس کے واضح وعدے پر عائد کر لیا ہے“ (۳۰)

ضرور کے ہاتھ میں دے دیئے اور خدا کی رضا انکا فوز ا

ہوگی۔ یہ انسانی فطرت کرے گا کہ اس کا کل میں ہو۔

صفحہ ۳۱۵

اس کے واضح وعدے پر کلی بھروسہ یعنی ”مومنین کی فتح ایک فرض ہے جو ہم نے اپنے اوپر عائد کر لیا ہے“ (۳۰ : ۴۷)

ضرورت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین کا ایک گروہ اپنے ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دے اور پھر پیش قدمی کرے۔ خدا کا وعدہ ان کے لئے اعلیٰ ترین حقیقت ہو اور خدا کی رضا ان کا اولین و آخرین مقصد۔

اس گروہ کے ذریعے دین حق کے لئے خدا کے راستے کی عملی تشکیل ہوگی۔ یہ انسانی فطرت پر سے لاعلمی کے بادل منتشر کر دے گا۔ یہ خدا کے اس منشا کا اظہار کرے گا کہ اس کا کلمہ روئے ارض پر عظیم ترین ہو اور عنان حکومت دین حق کے ہاتھوں میں ہو۔

صفحہ ۳۱۶

مشہور برطانوی جریدے The Economist کے مورخہ ۶؍ اگست ۱۹۹۴ء کے شمارے میں ایک طویل مضمون ”اسلام اور مغرب“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون ۱۹۹۳ء کے موسم گرما میں دوسرے جریدے Foriegn Affairs میں ”تہذیبوں کا تصادم“ کے عنوان سے چھپنے والے مضمون کے تسلسل کے طور پر تھا۔ یہ مضمون ایک مغربی سکالر کا ہے جو کہ اسلام کے متعلق بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی اس کی روح کو نہیں پہنچ سکا۔ مثلاً مضمون نگار مسلمانوں کو ایک بہت بڑا مشورہ یہ دیتا ہے کہ جس طرح تقریباً پانچ صدی قبل عیسائی مذہب میں مارٹن لوتھر کی اصلاح دین (Reformation) کی تحریک شروع ہوئی تھی اسی طرح کی تحریک اب اسلام میں شروع ہونی چاہیے۔ مضمون نگار کو یہ تو معلوم ہو گا کہ تحریک اصلاح دین اس چیز کا نقطہ آغاز تھا جس کے نتیجے میں ایک یہودی سینٹ پال کے ذہن کی اختراع یہ مذہب اب (جیسا کہ پچھلی چند دہائیوں کے دوران امریکہ اور یورپ میں مذہب کے متعلق مختلف سروے سے ظاہر ہے) مغربی دنیا میں عملی طور پر ختم ہو رہا ہے۔ چنانچہ اب ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے حصے کے طور پر کلیسا والے اسے تیسری دنیا خصوصاً مسلم ممالک میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مذکورہ بالا مضمون کے مصنف کو اس چیز کا شاید علم نہیں کہ اسلام میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کی بنیاد پر کوئی مارٹن لوتھر آ کر کہے کہ ”جو کوئی اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ”جونہی (کلیسا کے چندے کے ڈبے میں) دولت کھنکھناتی ہے روح برزخ سے جنت کی طرف پھدکتی ہے“ وہ حماقت کی تلقین کرتا ہے۔“

(Who-ever preaches that, 'as soon as the coin in the box rings, the soul from purgatory springs,' preaches folly)

مسلم امہ اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس صراط مستقیم کو اختیار کر کے چاہے کتنی بلندی پر پہنچ جائے یا اس سے بھٹک کر کتنی پستی میں چلی جائے‘ قادر مطلق کے وضع کردہ آفاقی و دائمی قوانین اور اصولوں پر مبنی یہ حقیقی عالمی نظام قائم و دائم ہے جس کی گواہی اب کئی مغربی سکالر بھی دے چکے ہیں جیسا کہ اگلے صفحات پر دیئے گئے اقتباسات سے ظاہر ہے۔ اس تناظر میں مذکورہ بالا مضمون کے آخری حصے کے کچھ اقتباسات بھی ”نیو ورلڈ آرڈر“ کے ناطے سے قارئین کی خصوصی توجہ کے لائق ہیں جن کا ترجمہ درج ذیل ہے : ”

مغرب میں لوگوں کی اکثریت کے ایک صدی قبل کے جبکہ ابھی قریباً طبقہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ لیکن یکا یک غیر متوقع طور پر زیادہ سنگدلا

”اس لئے اب تلاش کرنی چاہیے کہ انفرادی محرکہ ہے‘ ایک تشکیل کرنے وا کی تلقین کا واحد طریقہ ہے۔ یہ یقین کو لازم کرے۔ یا یہ قاتل ہے۔ ہر دو صورت میں اس کے ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز لازمی کہ مغرب کے لوگ جب اکیسو جستجو اور مسرور زندگی کا حصول کارکردگی کے لحاظ سے ایک عالی پایا۔

”یورپی تحری سے جدید مغرب معرض وجود کہتے ہیں۔ لیکن تحریک اصلا ڈائنامو عیسائیت کے تب تک رہا۔ پھر اٹھارویں صدی عیس شروع ہو گیا۔ لوگوں نے یہ کے قابل ہے۔ نوع انسان کے انیسویں صدی کے اس تلاش کر لیا ہے۔

صفحہ ۳۱۷

مغرب میں لوگوں کی اکثریت کے لئے زندگی کئی ایک لحاظ سے زیادہ پرکیف ہے۔ بہ نسبت ایک صدی قبل کے جبکہ ابھی زرعی مزدوروں اور فیکٹری کارکنوں پر مشتمل ایک وسیع متوسط طبقہ وجود میں نہیں آیا تھا۔ لیکن اب یہ نیا متوسط طبقہ اس شک میں مبتلا ہو رہا ہے کہ زندگی یکا یک غیر متوقع طور پر زیادہ سنگدل، ہوس پرست اور پر خطر ہو گئی ہے۔

"اس لئے اب یہ منطق اختیار کیا جا رہا ہے کہ مغرب کو کوئی ایسی راہ تلاش کرنی چاہیے کہ انفرادی قوۃ ابتکار (initiative) کو، جو ترقی کے لئے ضروری قوت محرکہ ہے، ایک تشکیل کرنے والے اخلاقی نظام کا پابند کیا جائے اور یہ لفظ "ترقی" کے مفہوم کی تعین کا واحد طریقہ ہے۔ یہ تشکیل کرنے والی قوت مذہب ہو سکتی ہے جو ایک خدا میں یقین کو لازم کرے۔ یا یہ قابل قبول و ناقابل قبول کے متعلق ایک خالصتاً لادینی اجماع ہو سکتا ہے۔ ہر دو صورت میں اس کے بارے میں اس کے پابند لوگوں کی خوشدلانہ رضا ضروری ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز لازمی ہے۔ بصورت دیگر تاریخ کی کتابوں میں یہ ریکارڈ کیا جائے گا کہ مغرب کے لوگ جب اکیسویں صدی میں بیدار ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ کارگزاری کی جستجو اور مسرور زندگی کا حصول ایک ہی چیز نہیں تھی۔ وہ کہیں گے کہ مغرب نے خود کو کارکردگی کے لحاظ سے ایک عالیشان لیکن حتمی طور پر ایک بے مقصد نظام میں زندگی گزارتے پایا۔

"یورپی تحریک اصلاح دین نے انفرادیت کا ایک سیل عظیم جاری کیا، جس سے جدید مغرب معرض وجود میں آیا، مع اس چیز کے جسے ہم جمہوریت اور سرمایہ داری نظام کہتے ہیں۔ لیکن تحریک اصلاح مذہب کے بعد پہلی دو صدی کے دوران انفرادیت کا یہ نیا ڈائنامو عیسائیت کے تب تک عمومی طور پر قابل قبول نظم و ضبط کے دائرے کے اندر عمل پیرا رہا۔ پھر اٹھارویں صدی عیسوی میں، جو روشن خیالی کا زمانہ تھا، اس قسم کا نظم و ضبط بیکار ہونا شروع ہو گیا۔ لوگوں نے یہ یقین کرنا شروع کر دیا کہ انسانی دماغ تنہا ہر سوال کا جواب دینے کے قابل ہے۔ نوع انسان خود کفیل ہے۔ سائنسی یقین کا زمانہ شروع ہو چکا تھا، مع مارکس کے انیسویں صدی کے اس قیامت خیز دعوے کے کہ اس نے سیاست میں سائنٹفک یقینی امر تلاش کر لیا ہے۔

صفحہ ۳۱۸

اب مارکسی یقینی امر کے دعوے کے انہدام نے انفرادی توانائی کے گرداب کو سیاسی و معاشی معاملات میں تمام اخلاقی رہنمائی سے محروم کر دیا ہے۔ بائیں بازو کے نئے لوگ اب کہتے ہیں کہ نئی سیاسی انتہا پسندی کا کام اب نئے اخلاقی ضابطے کی ایجاد ہے۔

"اس تمام کے جواب میں ایک مسلمان کہے گا۔ "خوب! آپ واپس آگئے۔" اسلام کا ایک امتیازی پہلو، جو اسے فی الحال دوسری آج کی تمام عالمگیر ثقافتوں سے جدا کرتا ہے وہ اس کا عقیدہ ہے کہ انسان کی روزمرہ کی ظاہری زندگی نہ صرف ایک باطنی زندگی کے اندر محصور ہے بلکہ ان دونوں کا باہم ربط لازمی ہے۔"

"ٹائم" میگزین مورخہ ۱۵؍ اگست ۱۹۹۴ء میں ایک طویل مضمون "ازدواجی بیوفائی" کے عنوان سے شائع ہوا جو کہ ایک وسیع معاشرتی تحقیق پر مبنی ہے اور کافی حد تک اسلام کے عائلی قوانین کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔

صدیوں کی قطع برید اور تحریفات کے باوجود بائبل میں رسول کریم کی بعثت کے متعلق بہت سی آیات میں سے مندرجہ ذیل چند ایک ہیں، جبکہ بارناباس کی انجیل میں لفظ محمدؐ کے ساتھ پیش گوئیاں مزید واضح ہیں۔ لیکن کلیسا نے حضرت عیسیٰؑ کے سچے حواری بارناباس کی انجیل کو رد کر کے ایک یہودی سینٹ پال کے شاہکار کو اختیار کیا۔ بارناباس کی انجیل کی قبل از اسلام کے زمانے میں موجودگی کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود کلیسا کے مطابق یہ مسلمانوں کی جعل سازی ہے، کچھ اسی طرح جیسے پوپ نے جب گیلیلیو کو حکم دیا کہ وہ اعتراف کرے کہ زمین سورج کے گرد نہیں بلکہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے ورنہ اسے کلیسا کی قدیم رسم کے مطابق صلیب پر زندہ جلا دیا جائے گا، جس پر گیلیلیو نے کہا کہ وہ اعتراف کرتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے اور ساتھ ہی دھیمی آواز میں کہا۔ "زمین تو بہرحال سورج کے گرد گھوم ہی رہی ہے۔"

نے اس پر اپنی برکات نازل کیں اور اس کو بار آور کروں گا اور اس کی نسل کو بہت بڑھاؤں گا اور اس میں بارہ بادشاہ ہوں گے اور اس کو ایک عظیم قوم بنا دوں گا۔

(آفرینش باب ۱۷، آیت ۲۰)

۲۔ یہودا سے عصائے سلطانی نہیں

تک کہ (Shiloh) یعنی اسلام

حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹوں سے

اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ خ

۳۔ میں ان (بنی اسرائیل) کے

ایک رسول اٹھاؤں گا اور اس

کہے گا جس کا میں اسے حکم کر

۴۔ خدا طور سے نکلا۔ ساعیر (

سے بلند ہو کر پھیلا۔ اور وہ د

کریمؐ نے دس ہزار صحابہ کے

۵۔ میں تمہارے نام کو تمام ن

تمہاری تعریف و ثناء کریں گے

(نام محمدؐ یعنی تعریف کیا گیا وہ

ہوتا رہتا ہے۔ ایک مسلمہ

ترانہ روزانہ پانچ مرتبہ دنیا ب

۶۔ دیکھ میرا بندہ جسے میں اوپر

ہوتی ہے۔ میں نے اس پر

اور دور دراز جزائر اس کے

۷۔ اور اس نے دو سوار دیکھے

پر۔

۸۔ اور جب حضرت عیسیٰؑ نے

ہوا ہے۔۔۔۔ ان کے حوا

صفحہ ۳۱۹

(آفرنیش باب ۱۷، آیت ۲۰)

تک کہ (Shiloh) یعنی اسلام نہ آئے گا۔

(سفر آفرنیش باب ۴۹، آیت ۱-۱۱)

حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹوں سے مخاطب ہیں۔ چنانچہ رسول کریمؐ کی بعثت سے پہلے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

ایک رسول اٹھاؤں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ انہیں وہ سب کچھ کہے گا جس کا میں اسے حکم کروں گا۔

(سفر استثناء باب ۱۸، آیت ۱۷-۱۸)

سے بلند ہو کر پھیلا۔ اور وہ دس ہزار خدا رسیدہ لوگوں کے ساتھ آیا۔ (نوٹ: رسول کریمؐ نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ فتح کیا)

(سفر استثناء باب ۳۳، آیت ۲)

تمہاری تعریف و ثناء کریں گے۔

(عارفانہ گیت Psalm نمبر ۴۵: ۱۷)

(نام محمدؐ یعنی تعریف کیا گیا دنیا کے کونے کونے سے اللہ کے نام کے ساتھ اذان میں بلند ہوتا رہتا ہے۔ ایک مسلمان ہونے والے عیسائی سکالر کے الفاظ میں مومنین کا قومی ترانہ روزانہ پانچ مرتبہ دنیا کے بہت سے حصوں میں مساجد سے بلند ہوتا رہتا ہے۔)

ہوتی ہے۔ میں نے اس پر اپنی وحی نازل کی۔ وہ بے دین قوموں کے لئے دین لائے گا.... اور دور دراز جزائر اس کے قانون کے منتظر ہوں گے۔

(یسعیاہ ۴۲، آیت ۱، ۴)

پر۔

(ولگیٹ بائبل ۔ یسعیاہ ۲۱:۷)

ہوا ہے.... ان کے حواری پہلے یہ چیزیں سمجھ نہ پائے لیکن جب ان کی تعظیم ہوئی تب

صفحہ ۳۲۰

ان کو یاد آیا کہ یہ چیزیں تو پہلے ہی (مقدس صحیفوں میں) ان کے لئے لکھی جاچکی ہیں۔

(یوحنا ۱۲: ۱۶)

بھیجے گا تاکہ وہ تمہارے ساتھ ہمیشہ کے لئے رہے۔

(یوحنا ۱۴: ۱۶)

نوٹ: مختلف ترجموں میں یونانی لفظ Paraclete یا دوسرا لفظ Periclytos استعمال ہوا ہے۔ جن کے مطابق ترجمہ احمدؐ، رحمتہ للعالمینؐ یا پھر شفیع اللہ ہوگا۔

گا تو وہ سچائی کی روح ہوگا جو کہ باپ سے نازل ہوئی۔ وہ میری تصدیق کرے گا۔

(یوحنا ۱۵: ۲۶)

اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ باتوں سے آگاہ کرے گا۔

(یوحنا ۱۶: ۱۳-۱۵)

کے لئے باعث فرحت ہوگی کیونکہ وہ دانائی اور ہدایت کے جوہر سے آراستہ ہے، حکمت اور قوت کے جوہر سے، تقویٰ اور محبت کے جوہر سے، عاقبت اندیشی اور اعتدال کے جوہر سے، جو سب کچھ اسے اپنے خدا سے اس سے تین گنا ملا ہے جتنا کہ باقی تمام مخلوق کو (اجتماعی طور پر)۔ وہ کیا بابرکت زمانہ ہوگا جب وہ اس دنیا میں آئے گا! یقین کریں میں نے اسے دیکھا ہے اور اس کی تعظیم بجالایا ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے باقی تمام انبیاء نے اسے دیکھا ہے اور انہوں نے دیکھا کہ خدا انہیں اسی کے طفیل نبوت دیتا ہے۔ اور جب میں نے اسے دیکھا تو میری روح کو تسکین پہنچی اور میں نے کہا۔ ”اے محمدؐ! خدا تمہارا نگہبان ہو اور وہ مجھے یہ اعزاز دے کہ میں تمہارے جوتوں کے تسمے باندھوں کیونکہ یہ اعزاز اگر مجھے مل جائے تو میں ایک عظیم نبی ہوں گا۔“ انجیل بارناباس میں حضرت عیسیٰؑ کے الفاظ (باب ۴۲-۴۳، ۴۴-۴۶)

حضرت عیسیٰؑ کے اپنے الفاظ کے مطابق ان کی نبوت کا مقصد آفاقی و عالمی

صفحہ ۳۲۱

نہیں تھا۔ ”میں نہیں بھیجا گیا سوائے بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے۔“ (متی ۱۵: ۲۴)

”نجات دہندہ (حضرت عیسیٰؑ) نے اپنے پیروکاروں کی اصولوں سے راہنمائی کرنے کی کسی قسم کی کوشش سے احتراز کیا‘ لیکن انہیں بتدریج تعلیم دی..... کہ ان کی زندگیاں روح القدس سے متحرک ہوں گی جس کے ان کے اندر سما جانے سے انہیں ہمیشہ کے لئے قوت اور جذبہ حاصل ہو گا۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی اخلاقی تعلیمات اتنی معنی خیز لیکن اتنی ہی متباین‘ بڑی تمثیلی لیکن غیر مکمل ہیں۔ ان کا مقصد ہمیں سوچ بچار کی زحمت سے بچانا نہیں بلکہ ہمارے خیالات کا رخ اس احمدؐ رحمتہ للعالمین کی طرف موڑنا ہے جس کا انہوں نے بھجوانے کا وعدہ کیا۔

(Encyclopedia of Religion & Ethics: Vol. XII. p.621)

”قوم یہود کے انبیاء کی پیشین گوئیوں کے مطابق حتمی نبی یا مسیحا محض ”منتخب شدہ ہے“ جو کہ لفظ المصطفیٰ کا ہو بہو ترجمہ ہے۔

(Jewish Encyclopedia, Vol. V, p.123)

قبل از اسلام کے زمانے میں مصر‘ یونان اور بابل کی عظیم تہذیبیں تھیں۔ مصر کے شہر تھیبس میں ہامان (Ammon) کے دیوتاؤں کے پروہت‘ یونان کے شہر ڈیلفی (Delphi) میں دیوتاؤں کے پروہت اور بابل کے نجومی اپنی پیشین گوئیوں اور مشوروں سے امور سلطنت میں بڑا کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ قرآن کی سورہ جن آیت نمبر ۹ میں فال گیری‘ کہانت اور شیطنت کا دروازہ بند ہونے کی خبر سے پیشتر ان برائیوں کے مذکورہ بالا عظیم مراکز کے متعلق مندرجہ ذیل اقتباس قابل غور ہے۔ ”یہ بات اتنی عجیب و غریب ہے کہ تاریخ اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ یعنی رسول کریمؐ کی ولادت سے ایک دو صدی قبل قدیم دیوتائی الہام کے مورد (Oracle) خود بخود بتدریج گونگے ہو گئے‘ نزول اسلام کے لئے ایک شایان شان پیش خیمہ‘ حتیٰ کہ ڈیلفی میں دیوتائی الہام کی عظیم شناعت جو قدیم زمانے میں اس قدر مشہور اور اہم رہی تھی‘ خاموش ہو گئی۔ تاریخ میں ایک قوت کی حیثیت سے یہ بڑی مدت سے اپنی طاقت زائل کر چکی تھی۔ حضرت عیسیٰؑ کے ایک صدی بعد ڈیلفی اور ہامان

صفحہ ۳۲۲

(Ammon) کی جگہ کلدانی نجومیوں نے لے لی تھی، جیسا کہ سٹرابو (Strabo) اور جوونیال (Juvenal) کہنے میں متفق ہیں اور جس کی وجوہات کی تفتیش میں پلوٹارک (Plutarch) نے ایک جامع کتاب لکھی۔ چوتھی صدی میں جولین (Julian) نے جب ڈیلفی کے دیوتائی الہام کے لئے رجوع کیا تو یہ اس کا آخری جواب تھا جو کہ اس کے لئے بولا گیا۔ ”بادشاہ کو کہہ دو کہ قصر حسین زمین بوس ہو گیا ہے۔ سورج دیوتا کے لئے اب کوئی گھر نہیں رہا اور نہ ہی پیشیں گوئی میں امتیاز کے لئے لارل کی پتیوں کا تاج اور نہ ہی کوئی قلعہ جہاں سے آواز آئے۔ بولتا پانی خشک ہو چکا۔“

(Hastings Dictionary of Bible, Vol. V p.155)

یہ سب کچھ اس حقیقت کے علاوہ ہے کہ قرآن میں رسول کریمؐ کی زندگی میں برسوں بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات ایسے بیان کئے گئے جیسے وہ واقع ہو چکے کیونکہ ان آیات کا نزول اس مقام سے ہو رہا ہے جہاں زمان و مکاں بے معنی ہو جاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے علاوہ ہے کہ مخبر صادقؐ نے بہت سی احادیث میں قیامت تک کے اہم واقعات کی نقشہ گری کردی۔

مغربی مصنفین کے مندرجہ ذیل اقتباسات اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف انتہائی شدید تعصب کے علی الرغم ہیں۔

جہاں تک اکتسابی علم کا تعلق ہے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس کچھ نہ تھا، کیونکہ اپنے قبیلے کی روایتی تعلیم کے علاوہ انہیں اور کوئی تعلیم نہ دی گئی اور ان کا قبیلہ جس چیز کو ہم علم و ادب کہتے ہیں اس سے غافل اور شاید متنفر تھا۔ (Sale) غالباً وہ نہ تو پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی لکھ سکتے اور یہ تقریباً یقینی امر ہے کہ وہ یہ معتدبہ حد تک نہیں کر سکتے تھے۔

(Palmer)

اس امر کی کوئی شہادت نہیں کہ وہ پڑھ سکتے تھے۔ (دائرۃ المعارف بریٹانیکا جلد ۱۴، صفحہ ۴۸۳)

”یہ یقینی بات ہے کہ انہوں نے نہ تو بائبل پڑھی تھی اور نہ ہی کوئی اور کتاب۔“

صفحہ ۳۲۳

(Historians' History of the World, 25 Vol, The Times, London)

اگر وہ جیسا کہ مسلمان ان کے متعلق کہتے ہیں، امی تھے تو پھر اس نتیجے سے کوئی گریز نہیں کہ قرآن ایک مستقل معجزہ ہے، جیسا کہ وہ (مسلمان) دعویٰ کرتے ہیں

(Rodwell in ‘The Koran’, Preface P.xxi)

”دنیا کی کوئی بھی قوم ادبی کلام کے لئے اتنی سرگرمی کا اظہار نہیں کرتی جتنا کہ عرب اور نہ ہی کسی کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ سے اس قدر اثر پذیر ہوتی ہے جتنی کہ عرب — شاید ہی کوئی زبان اپنے استعمال کرنے والوں پر اس قدر ناگزیر اثر و رسوخ کرتی ہے جتنی کہ عربی ...... اسلام کی فتح کسی حد تک ایک زبان کی فتح تھی اور ایک کتاب کی۔“

”ایک عمومی سامی النسل قوم کی حیثیت سے عربوں نے اپنے کسی آرٹ کا ارتقاء نہیں کیا۔ ان کے فنون لطیفہ کے مزاج کے اظہار کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ ہے یعنی کلام۔ اگر یونانی لوگ مجسموں اور فن تعمیر کی اوج پر ہیں تو عرب اسے غزل میں پاتے ہیں جو اظہار نفس کے لئے ایک لطیف تر اسلوب ہے۔ ایک عربی ضرب المثل کے مطابق ایک آدمی کا حسن اس کی زبان کی فصاحت و بلاغت میں ہے۔“

(Hitti, ‘History of the Arabs’, pp. 90-91

اعلیٰ ترین عرب مصنفین میں سے کوئی بھی کبھی قرآن کے معیار کی کوئی چیز تخلیق نہیں کر سکا۔“

(Palmer, The Quran, Intro. p. LV)

ہم الور (Alvar) جیسے کٹر متعصب اور اسلام مخالف شخص کو بھی اس بات کا قائل پاتے ہیں کہ قرآن ایسی فصیح و بلیغ اور حسین زبان میں ہے کہ عیسائی بھی اسے پڑھنے اور اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

(Arnold, Preaching of Islam, p.138)

”صاف اور غیر مبہم ایک ایسی کتاب جس میں کوئی معمہ نہیں۔ اس کا تقابل عیسائیت سے کریں جو کہ اپنے لایحل اسرار پر لاف زن ہے۔ کیتھولک مذہب میں تین بنیادی اور عظیم لاینحل اسرار ہیں۔ (۱) تثلیث (۲) تجسیم (۳) عشائے ربانی اور ان میں کولیمے عیسیٰ کے پر اسرار وجود کا اضافہ کرتا ہے۔“

صفحہ ۳۲۴

(Pallen & Wynne's New Catholic Dictionary, p.59

"موجودہ قرآن کی عبارت بنیادی طور پر خود حضرت محمدؐ کے کہے ہوئے کلام کے مطابق ہے۔"

(Arnold, Islamic Faith, P.9)

یہودیوں کے مکتب اصلاح (Reform School) کی دینیات نہ صرف بائبل مقدس کے انسانی منبع کی قائل ہے بلکہ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ اس میں تحریر مواد بعض اوقات جدید تحقیق سے ثابت شدہ تاریخی، طبعی و نفسیاتی نتائج سے متضاد ہے۔

"حضرت عثمانؓ کا مرتب قرآن بغیر تبدیلی کے ہم تک پہنچا ہے۔۔۔۔۔ دنیا میں غالباً اور کوئی کتاب نہیں جو کہ بارہ صدیوں تک (تحریف سے) اس قدر پاکیزہ رہی ہو۔"

(Muir, Life of Muhammad, Intro. pp.XXIII)

"مقدس قرآن کا نہ صرف مفہوم القاء شدہ ہے بلکہ اس کا ہر لفظ ہر حرف حضرت جبرئیلؑ نے عرش میں موجود لوح محفوظ سے املا کرایا ہے۔ قرآن کے اس امتیازی دعویٰ میں دنیا کی کوئی الہامی کتاب اس کی ثانی نہیں۔ خصوصاً بائبل ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتی۔۔۔۔۔ بائبل طویل عرصے پر پھیلے ہوئے کثیرالتعداد شعراء، انبیاء، مدبران اور مقنین کی تصنیف ہے۔ اس میں دیگر، پہلے کی اور اکثر اوقات متضاد دستاویزات شامل ہیں۔۔۔۔۔ قرآن میں بغیر کسی معقول اشتباہ و التباس کے، ہمارے پاس حضرت محمدؐ کے اپنے حقیقی الفاظ بغیر کسی کمی کے ہیں۔۔۔۔۔ محمدؐ نے زندگی کے آخر تک اپنے لئے صرف اسی خطاب کا دعویٰ کیا جس سے انہوں نے آغاز کیا تھا۔ جو اعلیٰ ترین فلسفہ اور انتہائی حقیقی عیسائیت ایک روز، میں اس یقین کی جسارت کرتا ہوں، ان کے حق میں تسلیم کرلے گی۔ یعنی ایک رسول، خدا کا ایک حقیقی رسول۔"

(Bosworth Smith : 'Muhammad & Muhammadanism' pp. 19' 22)

"جدید ناقدین اس پر متفق ہیں کہ آج کل مروجہ (قرآن کی) کاپیاں حضرت زیدؓ کی ترتیب دی ہوئی ابتدائی اصل تحریر کی ہو بہو نقل ہیں اور یہ کہ مجموعی طور پر قرآن کا متن وہی ہے جیسا کہ حضرت محمدؐ نے دیا۔ جیسا کہ کسی سامی النسل ناقد نے رائے دی کہ عبرانی (بائبل) کی صفر پیدائش کے ایک باب میں پورے قرآن کی نسبت زیادہ تغیرات ہیں

صفحہ ۳۲۵

........ گو عہد ساز کتابوں میں سب سے کم سن ہے لیکن دنیا میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی یہی ہے........ اپنے مضامین کی بے مثال فضیلت، اپنی اعلیٰ و ارفع زبان اور طرز بیان، اور سب سے بڑھ کر اپنی تعلیمات کی جامعیت و تکمیل کے لحاظ سے یہ کتاب، جو ایک زبردست اور زندہ آواز ہے، قرأت کے لئے ہے اور اس کی قدر پہچاننے کے لئے اسے اصل صورت میں سننا ضروری ہے۔ اس کی تاثیر کا گرانقدر حصہ اس کی قافیہ بندی اور فصاحت و بلاغت میں ہے جو ایک ترجمے میں پیدا کرنا ناممکن ہے۔

(Hitti, History of the Arabs, pp. 123, 126, 127)

اور ان کے لئے یہ حیرانگی کی بات ہے کہ ایشیاء اور افریقہ کے لوگ روز مرہ کی زندگی میں رہنمائی کے لئے، اور یورپ اور امریکہ اپنی علمی روشنی کے لئے کس قدر اس کتاب کے مرہونِ منت ہیں۔

(Dr. J.H. Bridges)

قرآن مجید کا بنی نوع انسان کی تقدیر پر عظیم کنٹرول رہا ہے اور ابھی بھی یہ ہماری نسل کے بڑے حصے کے لئے ضابطہ حیات ہے۔

(Draper "Intellectual Depvelopment of Europe", p. 340, 345)

اسلام دین فطرت ہے جو ایک بچہ اگر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس پر قائم ہو گا۔

(Lady Cobbold, Pilgrmage to Mecca Intro, P.XII)

بنی نوع انسان کے مذہب کے لئے اس (اسلام) سے بہتر کوئی نام نہیں۔ تمام الہامی مذاہب میں سے اسلام سادہ ترین میں سے ہے اور اس کی سادگی بازار میں ایک عام آدمی اور حجرے میں بیٹھے فلسفی کے لئے یکساں پرکشش ہے۔ گوئٹے پر قرآن سے وجد طاری ہو جاتا تھا اور گبن کو اس میں توحید کی جلیل القدر شہادت ملی۔

(Book of Knowledge IV, P.2282)

”اسلام کے ماننے والے، جیسا کہ غیر مسلم بھی مشاہدہ کرتے ہیں، تسلیم و تفویض اور توکل و قناعت کے شعور سے بہرہ مند ہوتے ہیں جس سے دوسرے عقائد کے پیروکار نا آشنا ہوتے ہیں۔ مسلم دنیا میں خودکشی ایک شاذ و نادر ہی چیز ہے۔“

(Hitti. 'History of the Arabs', p. 129

صفحہ ۳۲۶

اعداد و شمار، جہاں کہیں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اندھا پن کا تناسب یہودیوں میں بہ نسبت ان کے غیر یہود ہمسایوں کے زیادہ ہے۔

(Jewish Encyclopedia, Vol. III, pp. 249-250)

”نابینائی کی طرح یہودیوں میں صمّ بکم (Deaf-Mutism) کا رجحان بھی نمایاں طور پر غیر یہود کی نسبت دو گنا ہے۔“

(Jewish Encyclopedia, Vol. IV, p. 480)

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاءً وَّ نِدَاءً ط صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (سورۃ البقرة۔۱۷۱)

اور ان کافروں کو حق بات کی طرف بلانے کی مثال اس شخص کی سی مثال ہے جو کسی ایسے شخص کے پیچھے چلاتا ہو جو سوائے پکار اور آواز کے اور کچھ نہ سنتا ہو۔ یہ کفار بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ سو یہ کچھ سمجھنے بوجھنے والے نہیں۔

”اُس چیز کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ یہودیوں میں پاگل پن کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔ کشن نے جو اعداد و شمار اکٹھے کئے ہیں ان سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انہیں غیر یہود کی نسبت چار سے چھ گنا زیادہ دماغی امراض لاحق ہوتے ہیں۔“

(Jewish Encyclopedia, Vol. VI, p. 603)

تک بیان دیا ہے کہ ان (یہودیوں) میں سے اکثر خلل اعصاب (Neurasthenic) اور باؤ گولہ (Hysterical) کے مریض ہیں۔

(Jewish Encyclopedia, Vol. IX, p. 222)

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ ط وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ (البقرة-۷)

اللہ نے مہر کر دی ان کے دلوں (عقل) پر اور ان کے کانوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

”اسلام کی کتاب (قرآن) نے تثلیث کے نظریے کے متعلق وہی سمجھا جو

صفحہ ۳۲۷

آزاد ذہن و شعور والا مفکر بے لاگ سوچ کے بعد سمجھتا ہے۔ یعنی ایک لغو قصہ جو نہ تو معقولیت کے ابتدائی اصولوں کے موافق ہے اور نہ ہی ہماری مذہبی ارتقاء میں کسی قدر و قیمت کا حامل۔

”برہمنی دھرم میں بھی ترمورتی (تثلیث) کو ”خدا کی وحدت“ تصور کیا جاتا ہے جو تین اقنوم سے بنی ہے۔ براہما یعنی تخلیق کرنے والا‘ وشنو یعنی پرورش کرنے والا اور شیوا یعنی فنا کرنے والا۔

(Haeckel, 'Riddle of the Universe' PP. 226.233)

”عیسائیت نے بتدریج ایسی شکل اختیار کرلی جو کہ اتنی ہی مشرکانہ اور اتنی ہی بت پرست تھی جتنی کہ قدیم کفر۔“

(Leckey, 'History of the European Morals', II, p.97)

”یونان نے عیسائی مذہب کے لئے فلسفہ فراہم کیا جو پلوٹینس اور پورفری کے بعد عیسائی کلیسا میں زیادہ توانا طور پر زندہ تھا بہ نسبت ایتھنز کے مکاتب میں...... ”رومن کلیسا اپنی دقیق رسومات اور زندگی کی ادنیٰ چیزوں کے واسطے تردد کے لئے قدیم رومی مذہب کا مرہون منت ہے۔“

(Hammertons Universal History of the World, 8 Vol. p. 1753 & 2085)

”مشرک قوموں کے غیر مہذب اوہام کے مطابق خدا واقعی وہ خوراک اور مشروب کھاتے پیتے ہیں جو کہ ان کی نذر کی جاتی ہے...... عیسائی قومیں اس بارے میں ان سے سبقت لے گئی ہیں۔ اپنے خداؤں کو کھلانے کے مرحلے کو بہت پیچھے چھوڑ کر وہ بڑی بے شرمی سے اپنے خدا کو کھانے لگ گئے۔ ان کا عشائے ربانی کا مشہور تہوار اور ہے کیا؟ خدا بر انسان کا جسم اور خون واقعی‘ اصلاً‘ حقیقتاً اور دائمی طور پر اپنی روح اور ربوبیت کے ساتھ موجود ہوتے ہیں تاکہ روٹی اور شراب کی قلب ماہیت سے حضرت عیسیٰ کا جسم اور خون بن کر روحوں کو غذا پہنچائیں جو عہد نامہ جدید کی غیر خونی قربانی یعنی عشائے ربانی کی دعائیں ہوتی ہے۔

(Pallen & Wynne's New Catholic Dictionary)

”جسمانی طہارت کو روح کی آلودگی خیال کیا جاتا تھا اور وہ عیسائی سینٹ (Saint) جو سب سے زیادہ ممدوح ہوتے تھے وہ تہہ بہ تہہ جمی غلاظت سے ایک مکروہ انبار بن چکے ہوتے تھے۔ سینٹ ایتھانسس بڑے جذبے کے ساتھ روایت کرتا ہے کہ کیسے سینٹ

صفحہ ٣٢٨

انتھونی‘ رہبانیت کے پیر کبیر‘ نے انتہائی بڑھاپے کی زندگی تک اپنے پاؤں دھونے کا جرم بھی سرزد نہیں کیا تھا۔ سینٹ یوفریٹیا ایک سو تیس ایسی راہب عورتوں کے کونونٹ میں شریک ہو گیا جنھوں نے کبھی اپنے پاؤں نہیں دھوئے تھے اور جو غسل کے ذکر سے ہی لرزہ براندام ہو جاتی تھیں۔

(Leckey, History of the European Morals; p.47)

”یہ (اسلام) کوئی ناقابل حصول نصب العین پیش نہیں کرتا۔ نہ ہی کوئی نظریاتی پیچیدگیاں اور مجسمے‘ نہ کوئی باطنی اور پراسرار مقدس رسومات اور نہ کوئی کلیسا کے پادریوں کا نظام مراتب جس میں پادریوں کی درجہ بندی کے مطابق تقرر‘ تقدیس اور مبلغانہ جانشینی ہو ۔ “

(Hitti : History of the Arabs, p.129)

”جہاں تمام دیگر مذاہب تہذیب و ثقافت بننے میں ناکام رہے اور اس کی بجائے مسلک (Cult) بن گئے‘ اسلام اس میں کامیاب رہا کیونکہ اس نے صرف انسان کے غیب کے ساتھ روابط کے تعین کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ جرات مندانہ انداز میں عملی زندگی اور اس کے روز مرہ کے مسائل میں قدم رکھا۔ یعنی روٹی اور جنسی تعلقات‘ سیاست و تجارت‘ اقتصادیات_________ اور اس طرح سیزر اور خدا کے درمیان جو آڑ تھی اسے ہٹا دیا۔

(Leopold Asad, in 'Islam on the Crossroads')

”محمدؐ کے زمانے سے پہلے عرب بت پرستی میں ڈوبا ہوا تھا اور ننھی بچیوں کو ناپسندیدہ طور پر زندہ دفن کر دیا جاتا اور دیگر مکروہ خباثتوں کا ارتکاب کیا جاتا۔ رسول عربی کے متعلق یہ حقیقی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کا یہ کارنامہ ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس نے اس ملک کو جرائم و جہالت کی دلدل سے نکال کر ایک ایسی قوم بنا دیا جس میں مذہبی ذمہ داریوں اور فرائض کا گہرا شعور ہو۔ ایک ایسی قوم جس نے ان کے انتقال کے قلیل عرصہ بعد دنیا کی تسخیر کے بعد تہذیب و ثقافت‘ علم اور سائنسی کامرانیوں میں اس کی قیادت کرنی تھی جب کہ دین اسلام سمندروں پار پھیل رہا تھا۔

(Lady Cobbold, 'Pilgrimmage to Mecca' pp. 105, 126)

”ایک ایسا عقیدہ جو ہماری موجودہ (دماغی) صلاحیتوں سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ تصور بلکہ ادراک کے لئے بھی کیا شے باقی رہ جاتی ہے جب ہم عالم الغیب کو زمان و مکان‘ مادہ و

صفحہ ۳۲۹

حرکت اور احساسات و خیالات سے ماورا کر دیں۔“

(Gibbon, in Decline and Fall of Roman Empire, V.5, p. 339)

مسلمان کی میت پر سورۃ طٰہٰ کی آیت ۵۵ بلند آواز میں پڑھی جاتی ہے جس کا ترجمہ ہے : ”ہم نے تمہیں اسی (خاک) سے پیدا کیا اور اسی میں ہم تم کو پھر لوٹا دیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ بھی (زندہ کرکے) نکال کھڑا کریں گے۔“ جبکہ ایک یہودی اور عیسائی کی میت پر بائبل کی یہ آیت پڑھی جاتی ہے ۔ ”تم خاک ہو اور خاک میں ہی شامل ہوگئے ۔“

”مسلمانوں کا مذہب مسلسل اس کے ساتھ موجود رہتا ہے اور روزانہ کی نمازوں میں باوقار اور دل نشین طرز عبادت میں عیاں ہے جو نہ تو عبادت کرنے والے اور نہ ہی دیکھنے والے پر اثر انداز ہوئے بغیر رہ سکتی ہے۔

(Arnold, 'Preaching of Islam,' p.417)

خدائے واحد خود کو انسان پر انبیاء کے ذریعے یا دوسری طرح ظاہر کرتا ہے۔ اور انسان نماز میں براہ راست خدا کے پاس آتا ہے۔ یہ محمدؐ کی انتہائی عظمت ہے کہ فرد کی روح اور اللہ روبرو ہو جاتے ہیں۔

(Macdonald in 'Religious Attitude and Life in Islam,' p.38)

”سائنٹیفک روشن خیالی کے اس زمانے میں اس توضیح کے ضمن میں بالکل کچھ نہیں کہا جاتا کہ ہم عبادت کیوں کرتے ہیں۔ جو فقط یہ ہے کہ ہم عبادت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ بات بڑی قرین قیاس لگتی ہے کہ ”سائنس“ کے اس کے برخلاف سب کچھ کرنے کے باوجود انسان آخر زمانے تک عبادت کرتا رہے گا..... عبادت کا محرک اس حقیقت کا لازمی نتیجہ ہے کہ جہاں انسان کے تجرباتی نفس کا انتہائی باطن ایک سماجی قسم کا نفس ہے تاہم اسے ایک خاطر خواہ Socious صرف مثالی کامل وجود میں ہی حاصل ہوتا ہے۔“

(James, 'Principles of Psychology' p.316)

بغیر کسی مستقل فوج کے بغیر کسی ذاتی محافظ دستے کے‘ بغیر کسی محل کے اور بغیر کسی مقررہ محصولات کے اگر کبھی بھی کسی آدمی کو یہ کہنے کا حق تھا کہ اس کی حکومت حقِ ربانی (Divine Rights) کی بنیاد پر ہے تو وہ محمدؐ تھے۔ بغیر اس کے وسیلوں اور بغیر اس کے

صفحہ ۳۳۰

سہاروں کے ان کے پاس تمام تر طاقت تھی۔

(Bosworth Smith in 'Muhammad and Muhammadanism', p.341)

یہ لوگ (صحابہ) رسولؐ کے حقیقی اخلاقی جانشین تھے، مستقبل میں اسلام کے مبلغین، محمدؐ نے بندگان خدا پر جو کچھ منکشف کیا اس کے وفادار امین...... ان میں ہر لحاظ سے ایک بہتر تبدیلی آچکی تھی اور بعد میں بحیثیت مدبروں اور جرنیلوں کے تسخیر کی جنگ کے انتہائی مشکل موقعوں پر انہوں نے اس چیز کا ناقابل انکار اور شاندار ثبوت دیا کہ محمدؐ کے خیالات و نظریات کے بیج زرخیز زمین میں بکھیرے گئے تھے اور اس سے اعلیٰ ترین اوصاف والی جماعت پیدا ہوئی تھی۔ وہ قرآن کے مقدس کلام کے حافظ تھے جو صرف انہیں کو زبانی یاد تھا۔ وہ رسولؐ کے کئے ہوئے ہر حکم اور ہر لفظ کی یادداشت کے بڑے غیور محافظ تھے---- محمدؐ کے اخلاقی ورثہ کے امین۔

(Caetani, quoted in Arnold's Preaching of Islam, pp. 41 - 42)

”حج کی رسم مسلمانوں کے لئے محض ایک مقدس رسم ہی نہیں بلکہ ایک انجمن اقوام بھی، علوم فنون کی ایک بین الاقوامی درسگاہ، ایک بین الاقوامی ایوان تجارت، سب ایک میں شامل۔ پروفیسر سنوک ہرگرونج کہتا ہے: انسانی نسلوں کی انجمن کے نصب العین کے قریب ترین جتنا اسلام پہنچا ہے اور کوئی نہیں کیونکہ جس ادارہ اقوام متحدہ کی بنیاد محمدؐ کے دین پر ہے وہ تمام نسلوں کی مساوات کے اصول کے متعلق اتنی سنجیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں دوسری قوموں کا سر شرم سے نیچا ہے۔“

(Lady Cobbold in Pilgrimage to Mecca, Intro, pp. XVII)

”اسلام کے مذہب کی حیثیت سے ہندوستان میں متعارف ہونے کا اہم معاشرتی نتیجہ سماج کی عمودی بنیاد پر تقسیم تھا۔ تیرھویں صدی (عیسوی) سے پہلے ہندو معاشرہ افقی طرز پر منقسم تھا اور نہ بدھ مت اور نہ ہی جین مت اس تقسیم پر اثر انداز ہوسکا تھا۔ یہ کوئی ناقابل انجذاب عناصر نہ تھے اور پہلے سے موجود تقسیم میں آسانی سے ڈھل گئے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہندوستانی سماج کو چوٹی سے تہہ تک دو حصوں میں کاٹ دیا اور آج کل کے محاورے میں جسے ”دو مختلف قومیں“ جانا جاتا ہے شروع سے وجود میں آگئیں۔“

صفحہ ۳۳۱

A Survey of Indian History by K.M. Panikar (1947)

”عیسائی عقائد کے مطابق ”عورت کو جہنم کے دروازے کے طور پر اور تمام انسانی برائیوں کی ماں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔“

(Leckey, History of the European Morals ; p. 142)

”عورت ایک حیوان ہے اور وہ بھی کوئی اعلیٰ پائے کا نہیں۔“ ایڈمنڈ برک

Reflections on the French Revolution

جب ہم ان ہزاروں بد قسمت عورتوں کو دیکھتے ہیں جو مغربی شہروں کی سڑکوں پر رات کے وقت بھٹکتی پھرتی ہیں تو ہمیں یقیناً یہ احساس ہوتا ہے کہ مغرب کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اسلام کو تعدد ازواج کا طعنہ دے۔ ایک عورت کے لئے یہ بہتر ہے‘ ایک عورت کیلئے آسودہ تر ہے‘ ایک عورت کیلئے زیادہ باوقار ہے کہ اسلام کے تعدد ازواج کے دائرہ میں صرف کسی ایک مرد سے منسلک ہو کر جائز بچے کو اپنی بانہوں میں لئے عزت کے حلقے میں رہے۔ بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی سے بہکائی جائے اور پھر شاید قانون کے دائرے سے باہر ناجائز بچہ بازوؤں میں لئے بغیر کسی پناہ اور سہارے کے ہر رات کو ہر راہ گیر کا نشانہ بننے کیلئے سڑک پر دھکیل دی جائے۔ ماں بننے کے ناقابل اور ہر ایک کیلئے حقیر Mrs. Annie Besant

”مسز ہا تھورن کے مطابق گھر عورت کی عظیم آماجگاہ ہے اور اس کی توقع کے مطابق ایسا ہی رہے گا۔ وہاں وہ اس طرح عمل پیرا ہو سکتی ہے کہ کوئی شاہ یا شہنشاہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور یہ ثقافت‘ عقل و دانش اور سنجیدگی کے لحاظ سے موزوں ہے۔ میں ماڈرن خواتین کو بلند آواز میں پکار کر کہوں گی۔ تعلیم حاصل کریں۔ علم کے لئے اپنا وقت وقف کریں۔ مردوں کے خیالات اور مشاغل میں حصہ لیں۔ لیکن جو کچھ وہ کرتا ہے وہ کچھ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ آپ کبھی بھی اس کے برابر نہیں ہو سکتیں بالکل اسی طرح جیسے وہ آپ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ (Block, Sexual Life in England, pp.48-49)

”کیا اسلام نے اس طرح ان لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیکر جو خدا کے قوانین کو توڑتے ہیں‘ اسکے اقتدار اعلیٰ کو للکارتے ہیں اور دنیا میں تشدد اور ظلم پھیلاتے ہیں‘ سوائے ناممکن کے ہر رعایت نہیں دے دی؟ کیا جنگی اخلاقیات کا کوئی بھی ضابطہ دشمن کے

صفحہ ۳۳۲

لئے اس قدر فتوّت سے بھرپور‘ اس قدر حلیم اور اس قدر نرم دل ہے؟ خلیفہ ابوبکر نے شام کی فوج کو ہدایات دیتے ہوئے جو اخلاقی لب و لہجہ اختیار کیا وہ‘ جیسا کہ ایک موجودہ دور کا عیسائی مورخ کہتا ہے‘ رومی حکومت کے اصولوں سے اتنا غیر مشابہ تھا کہ یہ مغلوب قوم کی گہری توجہ کا حامل رہا ہو گا۔۔۔۔ اس طرح کے اعلان سے یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے انصاف کے ان جذبات اور رواداری کے ان اصولوں کا اظہار ہوتا تھا جو کہ نہ تو رومن شہنشاہوں اور نہ کٹر قسم کے لاٹ پادریوں نے کبھی اپنے کردار کے اصول کے طور پر اختیار کئے تھے۔“

(Finlay, Greece Under the Romans, pp. 357-358)

حجۃ الوداع کے موقع پر رحمتہ اللعالمینؐ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے مجمع کو مخاطب کر کے پوچھا ”کیا میں نے خدا کا پیغام آپ تک پہنچا دیا؟“ سب حاضرین نے بیک زبان جواب دیا۔ ”ہاں‘ پہنچا دیا۔“ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا ”جن تک یہ پہنچ گیا ان کا فرض ہے کہ وہ ان تک پہنچائیں جو موجود نہیں۔“

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من مات و لم یغز و لم یحدث بہ نفسہ مات علی شعبۃ من نفاق۔

(رواہ مسلم۔ مشکوٰۃ شریف)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو مرجائے اور جہاد نہ کرے اور نہ جہاد کا عزم و تمنا کرے وہ منافقت کے ایک شعبہ پر مرتا ہے۔

صفحہ ۳۳۳

اس قدر نرم دل ہے؟ خلیفہ ابو بکرؓ نے شام کی اختیار کیا وہ‘ جیسا کہ ایک موجودہ دور کا عیسائی اتنا غیر مشابہ تھا کہ یہ مغلوب قوم کی گہری توجہ یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے انصاف کے ان آتا تھا جو کہ نہ تو رومن شہنشاہوں اور نہ کٹر قسم کے طور پر اختیار کئے تھے۔“

(Finlay, Greece Under the Roman

رحمۃ اللعالمینؐ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کا پیغام آپ تک پہنچا دیا؟“ سب حاضرین نے اس کے بعد آپؐ نے فرمایا ”جن تک یہ پہنچ گیا ان کا “

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفسہ مات علی شعبۃ من نفاق۔

عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ جہاد نہ کرے اور نہ جہاد کا عزم و تمنا کرے وہ

BIBLIOGRAPHY

صفحہ ۳۳۴

Yonge.

Sabtini.

Foremost Problem).

صفحہ ۳۳۵

Yonge.

Sabtini.

Foremost Problem).

Columbus and Columbian Legacy).

by Robrt O Driscoll and Margarita Ivanoff- Dubrowsky.

Lapierre.

Kokan Umari.

And many more mentioned in the text.

صفحہ ۳۳۶

IPCI ISLAMIC PROPAGATION CENTRE

INTERNATIONAL

124 QUEEN STREET, DURBAN 4001 R.S.A. PHONE: (027-31) 3060026 / 7 TELEX: (095) 6-21815 IPCI SA FAX: (027-31) 3040326

REF: GHA/MYS 18 APRIL 1990 22 RAMADAAN 1410

AMJAD H. MALIK 243-244B, NEW CHAUBURJI PARK CHAUBURJI LAHORE PAKISTAN

Respected Brother in Islam.

AS-SALAAMU-ALAIKUM WARAHMATULLAHI-WABARAKATU

Jazakallah for your letter of the 6th February 1990, and the Booklet, "THE CAMPAIGN OF SATANIC VERSES" a short historical analysis and the Present situation bases on Verse 51 of Sura Maida.

You have so precisely and beautifully warned the Ummah to be on guard against our Arch enemies. Insha Allah the detailed version in easy English and Urdu will benefit the masses.

We are sorry for not replying sooner as brother Ahmed Deedat, the servant of Islam, was out of the country twice in the last three months. We will benefit form your reseach and will help us in the field of Dawah.

May Allah grant you long, happy, healthy and peaceful life, so that you may continue to serve Deen Al Islam as you are so nobly serving. Ameen.

We are sending you our booklet "ARABS AND ISRAEL CONFLICT OR CONCILIATION?" for your perusal and comment.

With best salaams and kind wishes from brother Ahmed Deedat and members of the centre.

Your Brother in Islam.

G. H. AGJEE (SECT. GENERAL)

ENCL: 1 x LETTER by air mail 1 x B10 by surface mail

PDF 337

امجد حیات ملک

نیو ورلڈ آرڈر

شیطانی آیات کی تحریک اور ماضی کے آئینے میں

PDF 338

چند تبصرے

(اس سابقہ شائع شدہ خاکے پر جس کی زیر نظر کتاب تکمیلی صورت ہے۔)

یہ کتاب عالمی سیاست اور تاریخ پر مستند اور جامع تحقیق کا نچوڑ ہے۔

(لاہور چیمبر سرکلر مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۹۱ء)

امجد حیات کہ تاریخ کا وسیع مطالعہ اور دوربیں نگاہ رکھتے ہیں، نے حقائق کی گرہ کشائی کچھ اس طرح سے کی ہے کہ قاری کی نگاہ سے پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں اور خفیہ کاروں کی خفیہ کاریاں بے نقاب ہوتی چلی جاتی ہیں۔ (ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور ۱۱ تا ۱۷ جنوری ۱۹۹۲ء)

یہ کتاب تاریخی واقعات کا ایک انکشافی تجزیہ ہے اور تمام طلباء، سیاستدانوں اور ان لوگوں کے لئے اس کا مطالعہ لازم ہے جو کہ مغربی قوموں کی مسلمانوں کے لئے ”امداد“ سے متاثر ہیں۔

(”دی نیشن“ ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء)

ان فروگزاشتوں سے قطع نظر یہ کتاب ہر صاحب علم سے خراج تحسین حاصل کرے گی۔ اسے لازماً ہر لائبریری اور ہر کتب خانے کی زینت بننا چاہئے۔

(ماہنامہ اردو ڈائجسٹ فروری ۱۹۹۲ء)

اس میں تاریخ کی ریسرچ کا پورا نچوڑ ہے۔ .... مصنف ..... کامیاب تصنیف پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تاریخ اسلام اور موجودہ عالمی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب مفید اور کار آمد ہے۔

(ماہنامہ حکایت مئی ۱۹۹۳ء)

زیر نظر کتاب میں تاریخ کے کئی نہایت اہم خفیہ گوشوں پر سے پردہ ہٹا کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

(مشرق میگزین مورخہ ۲۰ دسمبر ۱۹۹۱ء)