ربوہ کی پُراسرار کہانیاں
جلد اول
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
ربوہ
کی
پُراسرار کہانیاں
جلد اوّل
تحقیق و تدوین
محمد طاہر عبدالرزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
بسم الله الرحمن الرحيم
تحفظ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔
ربوہ کی پُر اسرار کہانیاں .................... محمد طاہر عبدالرزاق .................... گیارہ سو .................... فراز کمپوزنگ سنٹر، اُردو بازار لاہور .................... عنایت اللہ رشیدی .................... اگست 2007ء .................... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت .................... حضوری باغ روڈ، ملتان .................... شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور .................... -/100 روپے ....................
ملنے کا پتہ ادارہ تالیفات ختم نبوت سٹریٹ، اُردو بازار لاہور فون: 7232926-042
علم و عرفان پبلشرز بازار، لاہور فون: 7232336-042
مکتبۃ الحسن اُردو بازار، لاہور فون: 7241355-042
انتساب
- ایک غیور اور جسور مسلمان
- استقامت واستقلال کی چٹان
- قرون اولیٰ کے قاضیوں کا فیضان
- حسن صورت اور حسن سیرت کا دلکش امتزاج
- ایمان و عشق کی سنگت
- عدلیہ کی دنیا میں تحفظ ختم نبوت کی توانا صدا
- ایک رنجیدہ قلب، ایک سوختہ جگر اور ایک مضطرب روح
جس کا قرار تحفظ ناموس رسالت
- ایک منصف! جس نے عدالت عالیہ میں ایسے تاریخ ساز
اور تابناک فیصلے لکھے کہ سارقان نبوت سر کچلے سانپ کی طرح تڑپنے لگے۔
- ایک نباض قادیانیت! جو جب قادیانیت کی نبض پر ہاتھ رکھتا
ہے تو قادیانی سازشیں ہاتھ باندھے حاضر ہو جاتی ہیں۔
عزت مآب جناب
جسٹس میاں نذیر اختر
کے نام ..... بصد احترام
تحفظ
فہرست
میں نے بھی ربوہ دیکھا محمد طاہر عبدالرزاق بات دل میں کہاں سے آتی ہے جی آر اعوان قادیانی طلسم کدہ کی نقاب کشائی مولانا مشتاق احمد موضع ڈھگیاں کا نام ربوہ کیسے؟ قادیانی، قادیان کو مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھتے ہیں منظور احمد شاہ آسی 25 مرتدوں کی نگری میں عبدالقدوس محمدی 29 ہم نے بھی ربوہ دیکھا— آنکھیں میری باقی مولانا عبدالحی 42 ان کا ربوہ میں آزادی رائے پر پابندی چوہدری غلام رسول 51 قرآن کریم کے لفظ ’ربوہ‘ کا تحقیقی مطالعہ ڈاکٹر محمد سید اعزاز الحسن شاہ 55 امریکی قونصل جنرل ربوہ میں...... معاملہ کیا ہے؟ حافظ حنیف ندیم 65 ربوہ کا سٹیٹ بنک چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 68 ربوہ کی کہانی، مرزا طاہر کی زبانی محمد حنیف ندیم 75 ربوہ سازشوں کا مرکز مولانا تاج محمود 82 پاکستان میں قادیانیوں کی خطرناک خفیہ سرگرمیاں چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 87 دارالکفر ربوہ میں اسلام کا داخلہ مولانا سید محمد یوسف بنوری 92 مظلوم قادیانیوں پر قادیانی پوپ کے مظالم چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 109 شہر ارتداد ربوہ بسانے میں ایک غدار کا کردار میجر مبارک علی سابق وزیر پنجاب 117 مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان— ربوہ میں منزل مولانا محمد اشرف ہمدانی 119 بہ منزل
ربوہ میں مجاہدین ختم نبوت کیسے داخل ہوئے محمد اشرف ہمدانی 128 اہل ربوہ کے مظالم مولانا تاج محمود 137 ربوہ کے چند حقائق سید منظور احمد شاہ آسی 142 ختم نبوت کانفرنس ربوہ مولانا اللہ وسایا 146 ربوہ ...... ایک نیا قادیان علامہ یوسف بنوری 147 مولانا چنیوٹی ۔ جنھوں نے ربوہ کا نام تبدیل کرایا محمد طاہر عبدالرزاق 148 خلیفہ ربوہ کی فوجی تنظیم چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 153 قادیان سے چناب نگر تک مولانا منظور احمد چنیوٹی 161 کیا ربوہ کے قصر خلافت میں ایٹمی پلانٹ تعمیر ہو رہا ہے۔ ایک اخبار نویس کی روداد ...... جو قادیانیوں کے ہتھے چڑھ گیا راشد چودھری 170 خلیفہ ربوہ کے حکومت پر قبضہ کرنے کے خواب چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 178 میں نے ربوہ دیکھا محمد شاہد 183 خلیفہ ربوہ کا نظام حکومت چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 189 ہر فیصلہ پر خلیفہ کی منظوری 194 ربوہ میں یہ پہرہ کیسا؟ مولانا تاج محمود 198 جماعت احمدیہ کے نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقعہ پر ربوہ میں ہنگامہ آرائی خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد کو اغوا کرنے کی کوشش ...... جماعت سخت انتشار کا شکار منصور بخاری 201
٭......٭......٭
ے داخل ہوئے محمد اشرف ہمدانی 128 مولانا تاج محمود 137 سید منظور احمد شاہ آسی 142 مولانا اللہ وسایا 146 علامہ یوسف بنوری 147 کا نام تبدیل کر لیا محمد طاہر عبدالرزاق 148 چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 153 مولانا منظور احمد چنیوٹی 161 نئی پلانٹ تعمیر روداد ...... جو راشد چودھری 170 نے کے خواب چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 178 محمد شاہد 183 چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 189 194 مولانا تاج محمود 198 انتخاب کے خلافت کے وا کرنے کی افکار منصور بخاری 201 ❁.......❁.......❁
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى فِى الْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں ، لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر
Muhammad is not the father of any one of your men, but the
Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.
قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ
میں " خاتم النبیین " ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں
میں نے بھی ربوہ دیکھا
یہ 1984ء کی بات ہے۔ راقم الحروف اپنے دو دوستوں جناب محمد متین خالد اور جناب اے ایچ شاہ کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہونے والی تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں شمولیت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ربوہ پہنچا۔ کانفرنس میں پہنچ کر دل باغ باغ ہو گیا اور طبیعت میں ایک نشاط اتر آیا کہ جہاں پہلے مسلمان قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ آج وہاں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے۔ تاجدار ختم نبوت زندہ باد اور مرزے پہ لعنت بے شمار کے نعرے گونج رہے ہیں۔ وہ شہر جو پاکستان کے وجود میں ایک الگ ریاست تھا۔ جس میں اپنے قوانین و ضابطے تھے اور حکومت پاکستان اُس کے سامنے بے بس و بے کس تھی جو مسلمان اُس شہر میں داخل ہو جاتا اسے عقوبت خانوں میں تشدد کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا اور پھر اُسے کسی خفیہ گڑھے میں رزق خاک بنا دیا جاتا۔ بہت سے لوگوں کے جسم کے ٹکڑے کر کے اور پھر اُن ٹکڑوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر محلول بنا کر دریائے چناب میں بہا دیا جاتا۔
مجھے 1953ء اور 1974ء کے شہیدان ختم نبوت یاد آ گئے۔ ماؤں کے گبرو بیٹے، بہنوں کے چھبیلے بھائی، سہاگنوں کے سرتاج اور سرور کائنات ﷺ کے پروانے جن کی فراخ چھاتیاں گولیوں سے چھلنی کر دی گئیں۔ جن کی لاشوں کو جلا دیا گیا اور جن کے پاکیزہ جسموں کو دریائے راوی میں بہا دیا گیا۔ اُن کا خون رنگ لایا اور اُن کی قربانیوں کے انقلاب سے آج مرتدوں کی نگری میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس ہو رہی تھی۔ مجھے وہ بزرگ ہستیاں بڑی شدت سے یاد آ رہی تھیں جنھوں نے 1934ء میں قادیان پر یلغار کی اور لاکھوں مجاہدوں پر مشتمل ختم نبوت کا لشکر قادیان میں داخل ہو گیا اور قادیان کی سرزمین پر ایک زبردست تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی اور قادیانیت کے جھوٹے دبدبے کو ملیا میٹ کر دیا۔
میں عالم تصور میں دیکھ رہا تھا کہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ لاکھوں کے مجمع
سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔ ”مرزا کے جانشین موصیو محمود سے کہو کہ فیصلہ آج ہی ہو سکتا ہے تم اپنے باپ کی خانہ ساز نبوت لے کر آؤ میں اپنے نانا کی نبوت کا علم لہراتا ہوا آؤں گا۔ تم اپنے ابا کی عادت کے موافق یاقوتیاں کھاؤ اور پلومر کی ٹانک وائن پی کر آؤ میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کے ستو کھا کر آؤں گا تم حریر و پرنیاں پہن کر آؤ میں اپنے نانا کے مطابق موٹا جھوٹا پہن کر آؤں گا۔
آؤ اور اپنے باپ کو ایک صحیح العقل انسان تو ثابت کر دکھاؤ۔ مناظرہ میرا تمہارا اس بات پر ہے اور یہ فیصلہ کن مناظرہ ہوگا۔ میں ملت اسلامیہ کا نمائندہ ہوں۔
با درد کشاں ہر کہ در افتاد برافتاد (شیرازی)
نبوت کے ڈاکوؤ! تم میں اتنی ہمت کہاں کہ تم بخاری کے مقابلہ میں آؤ ہمارے مقابلہ میں جو بھی آیا ہم نے اسے پچھاڑا ہے تم انگریز کے ذلہ خوار ہو اور میں ابن حیدر کرارؓ حیدر نے یہودیت کے مرکز خیبر کو اکھاڑا اور میں مرزائیت کے مرکز تمہارے قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔“
میں اس کانفرنس کو اُسی کانفرنس کا تسلسل سمجھ رہا ہوں۔ جب قادیان فتح ہوا اب ربوہ فتح ہوا۔ کانفرنس کے پنڈال میں کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد ہم ربوہ دیکھنے چلے گئے۔ ایک تانگہ کرایہ پر لیا اور ہم تینوں دوست تانگے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد میں نے تانگے والے سے پوچھا ”بابا! تم قادیانی ہو؟“ ”جی ہاں!“ اُس نے جواب دیا۔ ”کب قادیانی ہوئے؟“ ”میں نہیں میرا باپ قادیانی ہوا تھا۔ میں تو اُس کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے قادیانی ہو گیا۔“ ”قادیانیت کے بارے میں کیا جانتے ہو؟“ ”بابو جی! میں تو مزدور آدمی ہوں صبح سے لے کر رات گئے تک تانگہ چلاتا ہوں مگر
جا کر کھانا کھا کر تھکا ہارا سو جاتا ہوں۔ صبح اُٹھ کر پھر اپنی مزدوری پر آ جاتا ہوں۔ میرا ان بکھیڑوں سے کیا واسطہ۔‘‘
’’مرزا قادیانی کو جانتے ہو؟‘‘
ہمارے مربی ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ ایک نیک بندہ تھا لیکن مسلمان اُسے کافر کہتے ہیں۔
’’تو تم اُسے کیا سمجھتے ہو؟‘‘
’’میری رائے بھی اُس طرف ہو جاتی ہے کبھی اس طرف۔‘‘
میں سمجھ گیا کہ بابا اول جلول ہے۔ اُسے مرزا قادیانی اور مرزائیت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ فقط قادیانی کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے وہ قادیانی ہو گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش مسلمان مبلغین کی ایک ٹیم ایسے سادہ لوح قادیانیوں پر محنت کرے تو ہزاروں قادیانی اسلام میں واپس آسکتے ہیں۔
تانگے والے نے ہمیں ربوہ شہر میں اُتار دیا۔ ہم ربوہ کے ایک بازار میں داخل ہوئے اور پھر دوسرے بازاروں کا بھی دورہ کیا۔ معلوم ہوا کہ سارے دوکاندار قادیانی ہیں۔ کوئی مسلمان یہاں دوکان نہیں کھول سکتا۔ ربوہ میں ہمیں ہر چہرہ جھلسا ہوا، ہر منہ لٹکا ہوا، پیشانیاں ویران اور آنکھیں اُجڑی ہوئی نظر آئیں۔ چہروں پر ایک عجیب نحوست اور پھٹکار جو کسی اور چہرے پر آج تک نظر نہ آئی۔ قادیانیوں کو چلتے پھرتے دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے زندہ انسان نہیں بلکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے لاشیں چلتی پھرتی نظر آرہی ہیں اور ہر لاش جہنم کی طرف گامزن ہے۔ عورتوں نے مخصوص سیاہ برقعے پہن رکھے تھے۔ لیکن اُن کی باک چال اور بولتی آنکھیں ساری داستان سنا رہی تھیں۔ ان کے پردہ سے بے پردگی کو بھی شرم آ رہی تھی۔ زمین دیکھی تو بنجر، پانی کھاری اور کڑوا، درخت ویران ویران، مرجھائے مرجھائے اور گرد سے اٹے ہوئے، مکانات بھوت بنگلے، دوکانیں بدبودار اور دوکاندار ایسے جیسے کفن فروش بیٹھے ہوں۔
ایک مرزائی سے قصر خلافت کا راستہ پوچھا۔ اُس نے بتانے کے لیے منہ کھولا، بدبو کا ایسا بگولہ آیا کہ سر چکرا گیا۔ دوسرا بکواس سہنے کی ہمت نہ تھی۔ اس لیے ہم اُس کی بات سنے بغیر برق قدموں سے آگے بڑھے۔ پیاس اور دل کی گھبراہٹ کو دور کرنے کے لیے ہم نے
سوچا کہ بوتلیں تو یہاں بند آتی ہیں۔ آگے چل کر کسی دوکان سے ٹھنڈی ٹھنڈی بوتل پیتے ہیں تاکہ طبیعت کچھ تو بحال ہو۔ لیکن جونہی بوتلوں کی دوکان آئی۔ سامنے دوکاندار کی ہولناک اور لعنت افروز شکل دیکھی اور پھر سوچا کہ اگر اس نے منہ کھول دیا تو کیا بنے گا؟ خوف سے قدم خود بخود آگے بڑھنے لگے۔ ہم دوکانوں کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ تھوڑا آگے پہنچے تو ایک مرزائی کھیر کا تھال لیے بیٹھا تھا۔ جونہی اُس سے آنکھیں چار ہوئیں۔ اُس نے آنکھوں کی خاموش زبان میں کھیر کھانے کی دعوت دے دی تو ہم کانپ اُٹھے اور اندھا دھند آگے بھاگ اُٹھے۔ اتنے میں عشاء کا وقت ہو گیا۔ کچہری والی مسجد میں ہم نے بلند آواز سے اذان دے کر باجماعت نماز پڑھی اور دل ہی دل میں اُن غیور مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے اس کفریہ ماحول میں مسجد تعمیر کی۔
اگلے دن بہشتی مقبرہ دیکھنے چلے گئے۔ بہشتی مقبرہ کے گیٹ کو خوب آراستہ کیا گیا تھا۔ قبریں لائنوں میں ایک خاص ترتیب سے بنائی گئی تھیں۔ سنگ مرمر کی قبروں کی خوب زیبائش کی گئی تھی۔ قبروں کے اوپر رنگ برنگی ٹیوبیں لگی تھیں۔ جنھیں رات کے وقت روشن کر کے بہشت کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔ ہر قبر پر ”مردہ صاحب“ کا نام اور وصیت نمبر درج تھے۔ دور دور تک قبریں ہی پھیلی ہوئی تھیں۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے قبروں کی مارکیٹ ہے اور ہر قبر برائے فروخت ہے۔ مجھے بہشتی مقبرے کی آرائش طوائف کا سنگھار نظر آیا۔ جو اپنے گاہکوں کو پھنسانے کے لیے میک اپ کیے بیٹھی ہو۔ ہم نے مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانیوں کے دوسرے ”خلیفے“ مرزا بشیر الدین اور مرزا قادیانی کی ”بی وی“ نصرت جہاں بیگم کی قبریں بھی دیکھیں۔ جن پر ان کی وصیتیں درج تھیں کہ جب پاکستان ٹوٹ جائے اور اکھنڈ بھارت بنے تو ہماری لاشیں یہاں سے نکال کر قادیان لے جا کر دفن کی جائیں جو اب کسی مصلحت یا خوف کی وجہ سے مٹا دی گئی ہیں۔ قادیانی اپنے سارے مردے پاکستان میں امانتاً دفن کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ پاکستان ٹوٹے گا اور ہم قادیان واپس جائیں گے۔
دنیا کے سب سے بڑے فراڈ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا کوئی آسان کام نہیں جو قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا چاہے اُسے چاہیے کہ وہ زندگی میں اپنی آمدنی کا دس فیصد اور مرنے کے بعد اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور بینک بیلنس سے بھی دس فیصد قادیانی جماعت کو ادا کرے۔ ہائے افسوس! کتنے احمق اور عقلی یتیم ہیں یہ لوگ جو اتنی بھاری رقم دے کر جہنم
کا ٹکٹ حاصل کرتے ہیں۔ میں نے ایک قادیانی سے پوچھا کہ بہشتی مقبرہ تو مرزا قادیانی نے قادیان میں بنایا تھا اور وہ اب بھی وہاں موجود ہے اور اچھا بزنس کر رہا ہے۔ وہ بہشتی مقبرہ تمھارے پاکستان میں منتقل ہونے پر ربوہ میں کیسے آ گیا؟ شرمیلا سا منہ بنا کر کہنے لگا ”ہیڈ آفس تو وہی ہے یہ تو صرف ایک برانچ ہے اور ایسی بہت سی برانچیں ہم نے یورپ میں بھی کھول رکھی ہیں کیونکہ وہاں کی میتوں کو ربوہ یا قادیان لانا مشکل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ مزید برانچیں بھی کھلتی جائیں گی ۔“ بہشتی مقبرہ میں جب کسی قادیانی کی لاش آتی ہے تو اسے مقبرہ کے گیٹ پر روک لیا جاتا ہے۔ نام اور وصیت نمبر پوچھا جاتا ہے۔ بہشتی مقبرہ کا مینجر ایک بڑا رجسٹر کھولتا ہے۔ مرنے والے کا ریکارڈ نکالا جاتا ہے۔ پھر ورثا کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کے ذمہ دو لاکھ نو سو پچاس روپے باقی ہیں۔ عقل کے اندھے قادیانی بقایا جات ادا کرتے ہیں۔ کیشیئر نوٹ گنتا ہے اور مردے کو "NOC" جاری کر دیا جاتا ہے اور ”بہشتی“ دوزخ پہنچ جاتا ہے۔
مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ ان کا ایک قادیانی عزیز آنجہانی ہو گیا۔ وہ بھی بہشتی مقبرہ کا موصی تھا۔ اس لیے اسے لاہور سے بہشتی مقبرہ پہنچانا تھا۔ اُس کے مرنے کے فوراً بعد اُسے ربوہ پہنچانے کا بندوبست کیا گیا تا کہ ”بہشتی“ بدبو نہ چھوڑ جائے۔ فوراً ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا۔ مردے کو ایمبولینس میں رکھا گیا۔ اُس کا بیٹا آگے ڈرائیور کے پاس بیٹھ گیا اور پیچھے میت کے پاس وہ صاحب بیٹھ گئے۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ ابھی ہم لاہور ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچے تھے کہ مردے نے اتنی بدبو چھوڑی کہ میرا سانس لینا مشکل ہو گیا۔ میں نے ایک بڑا سا رومال اپنے منہ پر رکھ لیا۔ اُس کے بیٹے کا بھی برا حال تھا۔ لہٰذا سٹیشن کے پاس گاڑی روک کر تین اعلیٰ قسم کے پرفیوم کی بوتلیں خریدی گئیں اور وہ مردے پر ان کا سپرے کیا گیا۔ لیکن پانچ منٹ میں مردے کی خوفناک بدبو پرفیوم کو کھا گئی۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ شاہدرہ تک پہنچتے پہنچتے میرا اُبکیاں کر کر کے برا حال ہو گیا۔ میں نے اس کے بیٹے کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی مانگی اور کہا مجھ میں مزید مار کھانے کی سکت نہیں۔ لہٰذا میں تمھارے ساتھ نہیں جا سکتا۔ ڈرائیور بھی تنگ آچکا تھا۔ اُس نے غصہ سے کہا۔ اسے نیچے اُتارو اور کسی گٹر میں پھینکو۔ میں تمھارے ساتھ نہیں جا سکتا۔ اُس کا بیٹا انتہائی پریشان تھا کہ اب جائے تو کہاں جائے۔ آخر ڈرائیور کو طے شدہ کرایہ سے دوگنا کرایہ پر راضی کیا گیا۔ پانچ پانچ گز کے کپڑے کے دو پیس لیے گئے۔ ان پر خوشبوئیں چھڑکی گئی اور دونوں نے اپنے چہروں پر
”منڈاسے“ باندھ لیے اور تیزی کے ساتھ ربوہ روانہ ہو گئے۔ اللہ کا شکر کہ میری جان شاہدرہ میں ہی چھوٹ گئی۔
جب ہم بہشتی مقبرہ میں کھڑے تھے تو قادیانی نوجوان مسلسل ہمارے تعاقب میں تھے۔ اچانک میں نے قبرستان میں ایک نیولا دیکھا۔ میں نے ساتھیوں سے کہا کہ اس قبرستان میں سانپ بھی ضرور ہوں گے۔ کچھ مدت بعد روزنامہ جنگ میں جلی حروف میں یہ خبر شائع ہوئی کہ بہشتی مقبرہ میں اژدھا نکل آیا۔ جس سے ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا اور کچھ دیر بعد وہ اژدھا قبرستان میں ہی غائب ہو گیا۔ بہشتی مقبرہ میں ہم نے بہت سارے کتوں کو بھاگتے دوڑتے دیکھا۔ ہم نے سمجھا کہ شاید یہ ان کا ریس کورس یا جوگنگ ٹریک ہے۔ بہشتی مقبرہ کے ساتھ ہی دوسرا قبرستان ہے۔ یہاں وہ دفن ہوتے ہیں جن کے پاس بہشتی مقبرہ کی فیس نہیں ہوتی۔ یہاں کی قبریں کچی اور ٹوٹی پھوٹی نظر آئیں۔ اس قبرستان کو دیکھ کر مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے انارکلی کے ساتھ لنڈا بازار!
پانچ چھ سال بعد پھر ربوہ جانا ہوا تو سید کفیل شاہ صاحب کے ڈرائیور نے ایک عجیب بات بتائی کہ ہم حیران و ششدر رہ گئے۔ اس نے بتایا کہ ربوہ میں، میں نے ایک عجیب تماشا دیکھا ہے کہ جو قادیانی ستر سے بہترے ہو جاتے ہیں ان کی شکلیں مسخ ہو کر بالکل ایک جیسی ہو جاتی ہیں کہ ایک دوسرے میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے، منہ یوں پچک جاتے ہیں جیسے جنگلی بلے ہوں چہروں پر لکیروں کا چھاپہ لگ جاتا ہے جیسے پھٹی ہوئی زمین ہو۔ آنکھیں گول ہو جاتی ہیں۔ پلکیں جھڑ جاتی ہیں، ابرو غائب ہو جاتے ہیں۔ کان کھکول بن جاتے ہیں۔ سر کے بال بہت کم رہ جاتے ہیں۔ جلد جھلس جاتی ہے۔ ہم نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ اس میں تعجب کی کیا بات؟ میرے ساتھ چلیے۔ عجائب گھر حاضر ہے۔ ہم سب دوست کیری ڈبہ میں بیٹھے اور اندرون ربوہ میں داخل ہو گئے۔ چلتے چلتے ڈرائیور نے یکدم بریک لگائی۔ دیکھا تو سڑک کے کنارے چارپائی پر تین نمونے بیٹھے تھے۔ انھیں دیکھ کر اللہ کا عذاب یاد آ گیا۔ ہم نے جب غور کیا تو تینوں کے مسخ چہرے بالکل ایک جیسے تھے۔ وہ خاموش بیٹھے ہمیں آنکھیں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے۔ ہم میں اب مزید تاب نہیں تھی۔ اس لیے ڈرائیور کو آگے بڑھنے کا کہا۔ ڈرائیور آگے چل پڑا۔ یکلخت ڈرائیور نے پھر بریک لگائی اور کہا دیکھیے دوسرا نمونہ۔ ہم نے فوراً باہر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے۔ دو منحوس چہرے بالکل یکساں ہمیں
تھوتھنیاں اُٹھائے دیکھ رہے تھے۔ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے عاد اور ثمود کی قوم ہے۔ ڈرائیور نے کہا، مزید ڈرائیو! ہم نے ہاتھ باندھ دیے اور عرض کیا کہ خدارا واپس لے چل۔
قارئین کرام! یہ وہ شہر ہے جہاں قیدی رہتے ہیں۔ جہاں انسانوں کو حیوان بنا کر رکھا جاتا ہے۔ یہاں کوئی سوچ نہیں سکتا۔ کوئی آواز بلند نہیں کر سکتا۔ کوئی سوال نہیں کر سکتا۔ سب کے دماغ قصر خلافت میں گروی پڑے ہیں۔ یہاں غریب قادیانیوں کی کمائی، رائل فیملی کی عیاشیوں کی نذر ہوتی ہے۔ درجنوں چندے ہیں۔ جو خون نچوڑ کر حاصل کیے جاتے ہیں۔ جو بولنے کی ہمت کرے، اُسے فوراً ذاتی جیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے کیونکہ رائل فیملی کی اپنی پولیس ہے۔ اپنی عدالتیں ہیں اور اپنے فیصلے ہیں۔ آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے اور اُس کی اپیل کا کوئی حق نہیں۔ زمین قادیانی جماعت کی ہے۔ اُس پر مکان کی تعمیر غریب قادیانی کی ہے۔ جو اطاعت گزاری سے گریز کرے اُس کے مکان پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ اُسے شہر سے نکال دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اُس کے سوشل بائیکاٹ کا نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے۔ فرعونوں کے زمانے میں بھی ایسی غلامی نہیں تھی۔
دنیا بھر میں مظلوم احتجاج کر سکتے ہیں۔ مطالبات پیش کر سکتے ہیں۔ جلوس نکال سکتے ہیں۔ اشتہار اور بینر لگا سکتے ہیں۔ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ لیکن قادیانی ”شاہی خاندان“ کے سامنے کچھ نہیں کر سکتے۔ شاہی خاندان نے ان کی دنیا بھی برباد کر دی ہے اور آخرت بھی! انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ امریکہ کیوں نہیں بولتا؟ برطانیہ کیوں نہیں منہ کھولتا؟ روس خاموش کیوں ہے؟ فرانس و جرمنی لبوں پر مہر سکوت کیوں لگائے بیٹھے ہیں؟ اس لیے کہ قادیانی رائل فیملی ان کی اپنی فیملی ہے۔ انھیں عیسائیوں نے مرزا قادیانی کو جھوٹی نبوت عطا کی تھی۔ اس لیے قادیانی نبوت اور مرزا قادیانی کی اولاد کی حفاظت بھی وہ خود ہی کر رہے ہیں۔
اے اللہ! کوئی مرد میدان اُٹھے اور اس قادیانی قفس کی سلاخیں توڑ دے اور کئی پشتوں سے قید ان قیدیوں کو رہائی مل جائے اور یہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے گلستان نبوت میں داخل ہو جائیں (آمین ثم آمین)
خاکپائے اول شہید ختم نبوت، حضرت حبیبؓ بن زید انصاری محمد طاہر عبدالرزاق بی۔ ایس سی۔ ایم اے (تاریخ) لاہور
”بات دل میں کہاں سے آتی ہے“
وہ علاقے جو پہاڑوں کے دامن اور ساحل دریا کے قریب ہوتے ہیں اُن کا تصور ذہن میں آتے ہی قلب و نظر میں گل پوش وادیوں اور سرسبز و شاداب میدانوں کا منظر گھوم جاتا ہے۔ چاندنی راتوں میں چاند جب نور کی برسات کرتا ہے تو قدرت کی صناعی پر دل جھوم جھوم اٹھتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ایک مقام ایسا بھی ہے جسے کوہساروں کا احاطہ، دریا کی چھوتی ہوئی موجیں اور سبزہ شادابی دلکشی سے ہم کنار نہیں کر سکا۔ یہاں پہاڑ ہیں مگر گل پوش وادیاں ہیں نہ جھرنے ہیں رعنائی اور خوبصورتی کے تمام سامان ہونے کے باوجود قدرت نے اُس مقام کو خشک ہواؤں، سرد فضاؤں اور کالی گھٹاؤں سے ہمیشہ محروم رکھا ہے۔
ہاں تو فیصل آباد سے سرگودھا جاتے ہوئے دریائے چناب کا پل پار کرتے ہی ایک بستی ہے۔ جہاں دن رات کفر کی بالادستی ہے۔ جس جگہ کا تذکرہ یہاں زیر قلم ہے۔ وہ ربوہ ہے جو ربوہ سے چناب نگر بن کر بھی ربوہ ہی رہا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں ربوہ شہر میں کوئی چشمہ اور جھرنا تو نہیں ہے۔ ہاں مگر یہاں کھاری پانی ہے جو پینے کے بھی قابل نہیں۔ شہریوں کو سیراب کرنے کے لیے آب دریائے چناب سے لایا جاتا ہے۔ شہر کی موجودہ ہیئت کیسی ہے؟ یہاں کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں لیکن میری یادوں کے نہاں خانوں میں جو تصاویر آویزاں ہیں۔ وہاں ایک گول بازار ہے۔ یہ بازار اگرچہ گول نہیں بلکہ درانتی کی طرح گولائی مائل ہے۔ مگر پھر بھی گول کہلوانے پر اسی طرح بضد جیسے اس شہر کے مکین اپنی سرکشی اور کفر پرستی پر قائم ہیں۔ گول بازار درانتی کی طرح گول ہے یہاں کی دکانیں درانتی کے دندانوں جیسی ہیں جہاں کفر بکتا ہے۔ نفاق فروخت ہوتا ہے اور خرافات کا ذخیرہ ہے۔ ربوہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے ایک قبرستان ہے۔ جس کو مدینہ منورہ کے جنت البقیع کی نقل میں بہشتی مقبرہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ قادیانی نبوت کی طرح باطل کی راہ پر چلنے والوں کی آخری قیام گاہ ہے۔ اس نام نہاد بہشتی مقبرے کے وسیع و عریض رقبے میں بے شمار قبریں
ہیں ۔ جن میں بعض مردوں سے پُر ہیں۔ بعض آنے والے مُردوں کے سواگت کے لیے چشم براہ ہیں۔ اسی مقبرے کے ایک کونے میں پہاڑی کے دامن میں مولانا اللہ یار ارشد کی مسجد ہے۔ جس کے غسلخانوں کا پانی اس مقبرے میں موجود نام نہاد بہشتیوں کی آبیاری کر رہا ہے۔
ربوہ شہر میں کوئی جگہ یا چیز دیکھنے کے لائق نہیں۔ یا پھر مجھے کبھی کچھ بھی اس قابل نہیں لگا جسے دیکھا جائے۔ یہاں کی نبوت جھوٹی۔ اس نبوت کو ماننے والے جھوٹے۔ جنت جھوٹی۔ حوریں جھوٹیں۔ یہاں کا دربار جھوٹا۔ گول بازار جھوٹا۔
محمد طاہر عبدالرزاق وہ قادیانیت شناس ہیں جن کی شخصیت کے خمیر میں قادیانیت سے نفرت گندھی ہوئی ہے۔ وہ اپنی بے شمار تصانیف کے باوجود قادیانیت کے تعاقب میں سرگرداں ہیں۔ ان کے قلم اور زبان دونوں قادیانیت شکن ہیں۔ محمد طاہر عبدالرزاق کی کتاب ”ربوہ کی پُراسرار کہانیاں“ میرے زیر نظر ہے۔ یہ کتاب مختلف لوگوں کی تحریروں پر مشتمل ہے۔ ان کہانیوں میں بہت سی کہانیاں دلچسپ بھی ہیں جبکہ اکثر معلومات افزا بھی ہیں لیکن جو بات اس کتاب میں مجھے بہت اچھی لگی ہے۔ وہ مرزا رفیع کی انتخابات خلافت میں ہار کی داستان ہے۔
قصہ یہ ہے کہ ایسی روداد اس زمانے میں بھی فلک کج رفتار نے دیکھی جب ربوہ کی زمین میرے زیر پا تھی۔ مرزا بشیر الدین محمود قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ تھا۔ وہ جب مردار ہوا تو مرزا ناصر احمد تعلیم اسلام کالج کی پرنسپل شپ چھوڑ کر خلافت کے انتخابی امیدوار کے طور پر سامنے آیا۔ تب بھی ان کے مدمقابل امیدوار مرزا رفیع ہی تھا۔ لیکن اس وقت بھی مرزا ناصر نے مرزا رفیع کو شکست دے دی۔ یار لوگ کہا کرتے تھے مرزا رفیع اور مرزا ناصر کے ووٹ تو برابر تھے تاہم فرشتوں کے ووٹوں نے مرزا ناصر کو جیت سے ہمکنار کر دیا۔ جبکہ ہار مرزا رفیع کے مقدر کے گلے کا ہار بن گئی۔ محمد طاہر عبدالرزاق صاحب کی کتاب ”ربوہ کی پُراسرار کہانیاں“ میں بھی ایک اور ہار کا قصہ رقم ہے۔ ہار وہی ہے۔ امیدوار بھی وہی ہے لیکن ہرانے والا وہ نہیں ہے۔ ہاں ہاں تب مرزا رفیع کو شکست دینے والا مرزا ناصر تھا جبکہ دوسری شکست مرزا رفیع کو مرزا ناصر کے بھائی مرزا طاہر احمد نے دی۔ میرا خیال ہے مرزائی نبی پر اترنے والے فرشتے بھی بڑے جمہوریت پسند ہیں۔ وہ جمہور کے پسندیدہ نمائندے کے حق میں ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔
محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے اپنی اس کتاب میں مختلف موضوعات کو بڑی چابک دستی سے ٹچ کیا ہے لیکن ہر ایک پر قلم آرائی ناممکن ہے۔ چنانچہ میرے زیر قلم صرف کتاب کے وہی حصے ہیں۔ جن سے میری خود شناسائی ہے۔ ربوہ ایک نام نہاد نبی اور اس کی نام نہاد امت کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگوں کے اخلاق، اخلاص اور اوصاف کا اندازہ لگانا ہو تو یہاں کے غربا کو دیکھنا چاہیے۔
یہاں ایسے غربا اور بے بس لوگ بھی بستے ہیں جن کے مکان اپنے ہیں۔ لیکن زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے پھسلنے کے لیے ہمیشہ بے قرار رہی ہے مطلب ہے ’لیز‘ پر لی ہوئی یہ زمین بے چارے خریدنے کے بعد بھی اس زمین کے مالک نہیں۔ ربوہ کی زمین پر بڑے بڑے مکان بنانے والے قادیانی ان مکانوں کے مالک نہیں۔ یہی وجہ ہے جس نے یہاں پیسہ لگا رکھا ہے۔ وہ کفر کی بستی میں کفر اختیار کر کے رہنے پر مجبور ہے۔
ربوہ کے قادیانی بھی چودہ سو سال پہلے کے کفار کی طرح ہیں جو اپنے آباء کے مذہب کو جھوٹا جانتے ہوئے اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔ مر گئے مگر ضد کے باعث بت پرستی نہیں چھوڑی۔ یہی حال کفار ربوہ کا ہے ذلت میں پس رہے ہیں۔ جانتے ہیں جسے وہ مانتے ہیں وہ بالکل غلط ہے لیکن اسے چھوڑنے پر تیار نہیں۔ بے شمار مر گئے ہیں۔ کئی تیار بیٹھے ہیں لیکن موت کو دیکھ کر بھی کفر پر قائم ہیں۔
ہمارے بعض دوست قادیانیوں کو خوش اخلاق سمجھتے ہیں اور ان کے اندر انسانیت کے کوٹ کوٹ کر بھرے ہونے کا پرچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میرا موقف ایک تجربے کی طرح ٹھوس ہے۔ بات یہ ہے۔ قادیانیوں کی خوش اخلاقی کا اندازہ کرنا ہو تو ربوہ میں کسی درماندہ فیملی سے ملاقات کر لی جائے دودھ خود بخود اپنے اندر سے پانی باہر پھینک دے گا۔
محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے اپنی دیگر تالیف و تصانیف کی طرح ”ربوہ کی پُر اسرار کہانیوں“ میں بھی ایک بات کو پیش نظر رکھا ہے کہ قادیانی اس شخص کو گمراہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے جس کا مذہب کے بارے میں علم ناقص ہو لیکن ان کہانیوں میں ہمیں چلتے پھرتے کئی ایسے کردار بھی نظر آتے ہیں۔ جنھوں نے مذہبی کم علمی کے باوجود کسی قادیانی کو پیٹھ پر ہاتھ نہیں دھرنے دیا۔
شورش کاشمیری کی ربوہ کے لیے اصطلاح ”مرزائیل“ کا تذکرہ بھی اس کتاب میں موجود ہے۔ شورش کاشمیری نے اسرائیل کے ہم وزن ربوہ کو ”مرزائیل“ کہہ اس حقیقت کو بے نقاب کیا کہ دراصل قادیانیت صیہونیت کی فوٹو کاپی ہے یہودیوں کا مشن بھی اسلام کو نقصان پہنچانا تھا اور قادیانیوں کے عزائم بھی اسلام کے لیے خطرناک ہیں۔
ہمارے ایک دوست کسی کام کے لیے ربوہ گئے۔ وہاں پہنچے، کام ہوا یا نہیں لیکن وہ سفر کے باعث بہت تھک گئے۔ قادیانی انتظامیہ نے انھیں اپنے دارالضیافت میں آرام کرنے کی جگہ فراہم کی۔ کھانا کھلایا پھر سونے کے لیے بہترین آرام گاہ میں پہنچایا۔ ہمارے موصوف دوست کہنے لگے کھانا کھانے کے بعد مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی۔ ایسے میں مجھے ایک بہی خواہ کی بات یاد آئی کہ قادیانی مسلمانوں کو ”سلو پوائزن“ دے دیتے ہیں۔ ”کھانے کے بعد آنے والی غنودگی کے آثار کو میں نے سلو پوائزن سمجھا تو میری آنکھوں میں آنے والی نیند اڑ گئی میں ربوہ سے واپس آ گیا۔ لیکن اب بھی کئی بار یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ کہیں ”سلو پوائزن“ کے اثرات عود نہ کر آئیں اور ربوہ جانا جان سے جانا بن جائے۔
محمد طاہر عبدالرزاق صاحب ناموس رسالت ﷺ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوش بختی ہے۔ اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر اس کار خیر کی انجام دہی توفیق خدا ہے۔ یہ سعادت زور بازو سے حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مجھے محمد طاہر عبدالرزاق صاحب نے ”ربوہ کی پُر اسرار کہانیاں“ پر تقریظ لکھنے کے لیے کہا تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کیا لکھوں جو میں نے لکھنا ہے وہ سب کچھ محمد طاہر عبدالرزاق صاحب مجھ سے بہتر اور کئی بار لکھ چکے ہیں۔ لیکن ان کا کہا ٹالنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ میں نے قلم سنبھالا تو خود بخود تحریر بنتی چلی گئی۔ جب مضمون سمیٹا تو یہ شعر ذہن میں وارد ہوا ؎
بات دل میں کہاں سے آتی ہے
جی آرا اعوان روزنامہ جنگ، لاہور
قادیانی طلسم کدہ کی نقاب کشائی
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
”قادیان“ مرزا قادیانی کا آبائی وطن اور جنم بھومی تھا۔
مرزا قادیانی نے اس قصبہ کی مختصر تاریخ اپنی کتاب ”کتاب البریہ“ وغیرہ میں لکھی ہے وہ کس حد تک صحیح ہے یہ تحقیق ایک مؤرخ کا کام ہے۔ قادیان کو مرزا قادیانی نے دارالامان کا لقب دیا اور کہا مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے من دخلہ کان امنا، جو اس میں داخل ہوگا امن سے رہے گا لیکن قادیانیوں کے لیے درج ذیل وجوہ کی بنا پر قادیان دارالامان نہ بن سکا۔
- ۱۔ اس پیش گوئی کی وجہ سے قادیان میں طاعون داخل نہ ہونی چاہیے تھی لیکن داخل
ہوئی۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے گھر کی ایک ملازمہ بھی اس میں مبتلا ہوئی۔
- ۲۔ مرزا قادیانی پر زندگی کے کئی مراحل میں خوف و ہراس طاری ہوا جو کہ قادیان کے
دارالامن ہونے کے منافی ہے۔
- ۳۔ مرزا محمود جب تک قادیان میں رہا پہرہ داروں کے نرغہ میں رہا۔
- ۴۔ ۱۹۴۷ء میں مرزا محمود اور اس کے حواری ہندو مسلم فسادات سے خوف زدہ ہو کر
قادیان چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پاکستان میں ربوہ آباد کیا اور اسے اپنا عالمی ہیڈ کوارٹر قرار دیا۔
ربوہ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۷۴ء تک ایک قلعہ نما شہر کی حیثیت رکھتا تھا جہاں قادیانی سربراہ کی اجازت کے بغیر کسی کو آنے کی اجازت نہ تھی، نہ ہی کسی قادیانی کو اپنے سربراہ سے اختلاف رائے کی جرأت تھی جو اختلافی رائے ظاہر کرتا وہ طرح طرح کے عتاب کا شکار ہو جاتا تھا معاشرتی بائیکاٹ اور ربوہ بدری عام معمول رہا۔
۱۹۴۸ء سے ۱۹۷۴ء تک کے دورانیہ میں قادیانیوں نے خوب بال و پر نکالے۔
- ۱۔ بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔
- ۲۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سمیت ۵ علماء کے متعلق مرزا محمود نے کہا کہ یہ
پانچ ملا عنقریب میرے سامنے مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔
- ۳۔ سر ظفر اللہ نے وزارت خارجہ، دفاع، تعلیم سمیت تمام کلیدی محکموں اور فوج میں اہم
پوسٹوں پر قادیانی تعینات کرائے۔
- ۴۔ منصوبہ بندی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے ایم ایم احمد نے مشرقی پاکستان کی
علیحدگی کے بیج بوئے۔
- ۵۔ ۱۹۷۳ء میں ربوہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ایئر مارشل ظفر چوہدری (قادیانی)
کی ہدایت پر مرزا ناصر کو پاک فضائیہ کے جہازوں نے سلامی دی۔
- ۶۔ مرزائیوں نے عام مسلمانوں کو ختم نبوت، اجرائے نبوت اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ
السلام کی بحثوں میں الجھا کر اپنے سیاسی وجود سے بے خبر رکھا۔
لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے
ارباب نظر نے انفرادی و اجتماعی طور پر قادیانیوں کا خوب سیاسی محاسبہ کیا۔ ان میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ابنائے امیر شریعت سید ابوذر بخاریؒ، سید عطاء المحسنؒ شاہ بخاری، مولانا تاج محمود، آغا شورش کاشمیری اور سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی خدمات سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ کسی غیر جانبدار مورخ نے جب بھی محاسبہ قادیانیت کی تاریخ مرتب کی وہ ان بزرگوں کو نظر انداز نہ کر پائے گا۔
آغا شورش کاشمیریؒ ایک شاعر، صحافی اور سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح معنوں میں ایک مجاہد ختم نبوت بھی تھے وہ ایک سچے عاشق رسول ﷺ تھے انھوں نے ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۴ء تک کے دورانیہ میں قادیانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا وہ تعاقب کیا کہ ربوہ کی سرزمین تھرا اٹھی۔ انھوں نے الفضل اور ہفت روزہ لاہور اور دیگر قادیانی رسائل کی تحریروں کا وہ محاسبہ کیا کہ وہ چاروں شانے چت ہو گئے۔ آغا شورش نے تحریر و تقریر کے ذریعہ محاسبہ قادیانیت کا حق ادا کر دیا۔ وہ ”ربوہ“ کے عنوان سے اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں۔
ربوہ غلط مقام ہے اس کو ہلائے جا
سنتا ہوں قا اس کا وجود : آئے گی موت پھر موت کیا ۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ مہر و وفا کے مت ڈر کسی ہر ایک دوں مرزائیوں سے ان کے ہر ا شورش قلم کی نسلِ نوی کو چنیوٹ والوں کو بالخصوص مگر ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہوتا تھا جانتا ہوں اہل کافران دین دار کے تخت جھنگ کے پہل
سفیر ختم نبوت مولانا منظو شکن بالفاظ دیگر قہر خداوندی کی حیثیت وہ جو شورش نے اپنے حق زوال امت مری گرفت مسیلمہ سے خدا کا شکر ۔
اس کا وجود پاؤں کی ٹھوکر پہ لائے جا
آئے گی موت واقعہ ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
ناموس مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا
مت ڈر کسی مسیلمہ کذاب سے کبھی
ہر ایک دوں نہاد کو راہ سے ہٹائے جا
مرزائیوں سے قطع تعلق ہے ناگزیر
ان کے ہر ایک راز کا پردہ اٹھائے جا
شورش قلم کی خارہ شگافی کے زور پر
نسل نو کو خواب گراں سے جگائے جا
چنیوٹ والوں کو بالخصوص آغا صاحب کی وہ تحریریں کبھی نہیں بھولتیں جن کا مرکز و محور ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہوتا تھا۔
کافران دین قیم کو جھکایا جائے گا
دار کے تخت پر کھنچوا دو کہ میں ڈرتا نہیں
جھنگ کے پہلو سے ربوہ کو اٹھایا جائے گا
(چٹان ۲۸ جنوری ۱۹۷۴ء)
سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا وجود ربوہ کے قادیانیوں کے لیے گرز البرز شکن بالفاظ دیگر قہر خداوندی کی حیثیت رکھتا تھا۔
وہ جو شورش نے اپنے متعلق کہا تھا۔
مری گرفت سے ربوہ پہ کپکپی طاری
مسیلمہ سے صحابہ کا انتقام ہوں میں
خدا کا شکر ہے مقبول خاص و عام ہوں میں
یہ اشعار، مولانا چنیوٹی پر سو فیصد منطبق ہوتے تھے۔ تفصیلات کا یہ موقعہ نہیں۔ انشاء اللہ مولانا چنیوٹی کی سوانح عمری میں لکھی جائیں گی۔
مولانا چنیوٹی کے حوالہ سے یہ لکھنا ضروری ہے کہ وہ جو شورش نے نئی نسل کو پیغام دیا تھا۔
ربوہ غلط مقام ہے اس کو ہلائے جا
مولانا چنیوٹی نے اس شعر پر پوری طرح عمل کیا ..... ربوہ کے قادیانیوں کا مذہبی و سیاسی محاسبہ ساری زندگی کرتے رہے، اندرون و بیرون ملک قادیانیت کا خوب محاسبہ کیا۔ ۳۰ سال ربوہ کے نام کی تبدیلی کی جدوجہد کرتے رہے اور پنجاب اسمبلی سے نام تبدیل کروا کر دم لیا۔ قدرے ترمیم کے ساتھ ہم کہہ سکتے ہیں ؎
حق کے جلال سے یہی ایک ڈھیل ہو گئی
(مولانا ظفر علی خان)
مجاہد ختم نبوت جناب طاہر عبدالرزاق صاحب حضور علیہ السلام سے والہانہ شیفتگی اور تحفظ ختم نبوت کے مشن سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں۔
انھوں نے ربوہ کے مذہبی و سیاسی کردار کے متعلق مضامین کا ایک مجموعہ ”ربوہ کی پراسرار کہانیاں“ کے نام سے مرتب کیا ہے۔ انھوں نے ربوہ کے متعلق ایک مضمون احقر سے بھی حکماً لکھوایا ہے۔ ان کے اس جذبہ فراواں کی برکت ہے کہ احقر نے بھی ربوہ پر ایک مستقل کتاب لکھنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے واللہ الموفق والمعین۔
ان کے حکم پر یہ چند سطور بطور تقریظ بھی تحریر کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کو قبول فرمائیں ان کی تصانیف کو خاطر خواہ نافعیت نصیب فرمائیں۔ آمین!
مشتاق احمد جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ
موضع ڈگیاں کا نام ربوہ کیسے؟
قادیانی‘ قادیان کو مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھتے ہیں
منظور احمد شاہ آسی‘ مانسہرہ
ربوہ کے معنی ”ٹیلا“ یا ”تودہ“ کے ہیں۔ قرآن میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کے ذکر میں ربوہ لفظ آیا ہے چونکہ آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی تھا کہ میں مثل مسیح ہوں یا عیسیٰؑ ابن مریمؑ ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ اور اس کی ماں کو نشانی بنایا۔ سیدنا عیسیٰؑ جب بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو یہودی ان پر اتہام لگاتے تھے اور حضرت مریم صدیقہ کی توہین کرتے‘ جبکہ عیسائی حضرت عیسیٰؑ کی اس خلاف عادت پیدائش پر انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ ظالم یہودی بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشین‘ حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے درپے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ کو ایک سرسبز و شاداب ٹیلے پر لے جاکر پناہ دی۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰؑ نہایت امن و سکون سے جوان ہوئے۔ اس ٹیلے کا ذکر سورۃ مومنون آیت نمبر ۵۰ میں ہے۔ وہ کہاں تھا‘ مفسرین نے مصر‘ دمشق‘ بیت المقدس قرار دیا۔ یہی وہ جگہیں ہیں‘ جہاں حضرت مریمؑ‘ اپنے لخت جگر حضرت عیسیٰؑ کو لئے پھرتی رہیں۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں کی آب و ہوا نہایت خوشگوار تھی۔
قیام پاکستان کے بعد گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے ”خود کاشتہ پودے“ کو قادیان کے بجائے بعض سیاسی مصلحتوں کے تحت ”جہیز میں پاکستان کو دے دیا—“ حالانکہ ان کی جنم بھومی قادیان تھا۔ لیکن جو کام انگریز پاکستان میں قادیانیوں کو منتقل کر کے لے سکتا تھا‘ وہ اس کو بھارت میں کہاں نصیب ہو سکتا تھا حالانکہ قادیان کو مرزائی مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھتے
ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی خود کہتا ہے۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
انگریز کا واحد مقصد چونکہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا تھا۔ لہٰذا یہ شجر خبیثہ بھی ہمارے حصہ میں دیا گیا۔ انگریز گورنر سر فرانس موڈی نے قادیانی جماعت کو ۱۰۳۳ (دس سو تینتیس) ایکڑ‘ سات کنال آٹھ مرلے زمین چھ پیسے فی مرلے کے حساب سے ۹۰ سال کی لیز پر دلوائی۔ اس وقت اس جگہ کا نام ”ڈگیاں“ تھا۔ چونکہ پاکستان کا اہم فضائی اڈہ سرگودھا اس مقام کے قریب تھا۔ انگریز نے قادیانیوں کو جاسوسی کرنے کے لئے اس اہم جگہ بٹھایا۔ بظاہر یہ جگہ اس وقت غیر اہم اور بے وقعت تھی‘ خشک پہاڑیوں کے درمیان واقع تھی۔ چنانچہ بعد میں قادیانیوں نے اعلیٰ حکام سے مل کر اس زمین کا انتقال ۲۹ نومبر ۱۹۴۹ء کو انجمن احمدیہ کے نام کرالیا اور ڈگیاں کا نام ربوہ رکھ دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ حضرت عیسیٰؑ کے ذکر میں قرآن پاک میں لفظ ”ربوہ“ بھی آیا ہے تو گویا مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہی وہ ربوہ ہے‘ جس کا ذکر قرآن میں ہے حالانکہ ایسی بات نہ تھی۔ یہ قرآنی آیات کی توہین اور غلط تشریح کی گئی۔ اسی وجہ سے ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ربوہ کا نام ختم نبوت کے قافلہ کے پہلے سپہ سالار سیدنا صدیق اکبرؓ کی مناسبت سے صدیق آباد رکھا جائے۔ جنہوں نے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جہاد کیا اور انہیں جہنم رسید کیا۔ فروری ۱۹۸۶ء میں وزیراعظم پاکستان جونیجو مرحوم سے جو تحریری معاہدہ ہوا‘ جس میں اس مطالبے کو تسلیم کیا گیا کہ ربوہ کا نام تبدیل کرکے صدیق آباد رکھ دیا جائے گا‘ جو تاحال تشنہ تکمیل ہے۔
۷۴ء سے پہلے ربوہ کے اندر باقاعدہ ایک حکومتی نظام قائم تھا۔ ربوہ شہر کی پچیس‘ تیس ہزار آبادی تھی۔ جو صرف قادیانیوں پر مشتمل تھی۔ اندرون اور بیرون ملک بسنے والے قادیانیوں نے ربوہ میں اپنے اپنے مکانات تعمیر کئے ہوئے تھے۔ ملبہ تو قادیانیوں کا تھا لیکن نیچے زمین انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے۔ جو قادیانی بھی ربوہ میں ہے‘ وہ ربوہ کی ایک انچ زمین کا مالک بھی نہیں۔ انجمن ا خالی کرا سکتی ہے۔ ۱۹۷۴ء سے کوئی قادیانی مکان بنانے کی در جگہ دیتی۔ پاکستان میں ایک ایک ”مرزائیل“ کے نام سے موسو دوسرے ممالک مثلاً روس‘ ام پرست یہودی لاکر بسائے اور ع کو ڈرا دھمکا کر بے دخل کرے طاقت پکڑ لی تو ایک یہودی ریاس تسلیم کر لیا اور یوں اسرائیل کا وجہ تھی کہ ۷۴ء تک کوئی بھی تو یہ کہ ربوہ میں سرکاری دفاتر می کسی سرکاری محکمہ میں افسر کی تبدیلی یا تبادلہ کرایا جا سکت تھی۔ ہر محکمہ کا ایک ناظر تھا۔ ا ہوتا ہے یہی حال ریاست ربوہ کا
- ۱- ناظر اعلیٰ (وزیراعلیٰ
(وزیر خارجہ) ۳- ناظر ضیافت ناظر حفاظت مرکز (وزیر دفاع) فورس وغیرہ کا نگران اور ربوہ ک ناظر تعلیم‘ (وزیر تعلیم) ۹ ناظر بیت المال (وزیر خزانہ و زراعت (وزیر زراعت) ناظر اعلیٰ سے مراد وہ نا
زمین کا مالک بھی نہیں۔ انجمن احمدیہ جب بھی چاہے، ربوہ میں موجود قادیانیوں کے مکان خالی کراسکتی ہے۔ ۱۹۷۴ء سے قبل ربوہ میں کوئی مسلمان آباد نہیں ہو سکتا تھا۔ جب بھی کوئی قادیانی مکان بنانے کی درخواست کرتا تو انجمن احمدیہ بڑی چھان پھٹک کے بعد اسے جگہ دیتی۔ پاکستان میں ایک ایسی ریاست بنانا مقصود تھا جو بقول مرحوم آغا شورش کاشمیری "مرزائیل" کے نام سے موسوم ہوتی۔ جس طرح یہودیوں نے باقاعدہ منصوبے کے تحت دوسرے ممالک مثلاً روس، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک سے مذہب پرست یہودی لاکر بسائے اور عربوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ خریدتے رہے۔ اور عربوں کو ڈرا دھمکا کر بے دخل کرتے رہے اور جب فلسطین میں یہودیوں نے قدم جمالئے اور طاقت پکڑلی تو ایک یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔ جس کو مغربی ممالک نے فوراً تسلیم کر لیا اور یوں اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا۔ بعینہ یہی منصوبہ قادیانیوں کا تھا۔ ورنہ کیا وجہ تھی کہ ۱۹۷۴ء تک کوئی بھی مسلمان ایک انچ زمین خریدنے کا مجاز نہ تھا اور عجیب تر بات تو یہ کہ ربوہ میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے والا عملہ بھی قادیانی تھا۔
کسی سرکاری محکمہ میں مسلمان عملہ نہ تھا اور نہ ہی ربوہ میں کسی سرکاری مسلمان افسر کی تبدیلی یا تبادلہ کرایا جا سکتا تھا۔ ربوہ کے اندر مرزائیوں نے اپنی ریاست قائم کی ہوئی تھی۔ ہر محکمہ کا ایک ناظر تھا۔ اس کا انچارج تھا۔ گویا وہ ان کا وزیر تھا، اس کے نیچے سیکرٹری ہوتا ہے یہی حال ریاست ربوہ کا تھا۔ مندرجہ ذیل نقشہ دیکھئے۔
۱۔ ناظر اعلیٰ (وزیر اعلیٰ) ۲۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) ۳۔ ناظر امور خارجہ (وزیر خارجہ) ۴۔ ناظر ضیافت (وزیر خوراک) ۵۔ ناظر تجارت (وزیر تجارت) ۶۔ ناظر حفاظت مرکز (وزیر دفاع) قادیانی مسلح تنظیموں مثلاً خدام احمدیہ، انصار احمدیہ، فرقان فورس وغیرہ کا نگران اور ربوہ کی حفاظت اور دفاع۔ ۷۔ ناظر صنعت (وزیر صنعت) ۸۔ ناظر تعلیم (وزیر تعلیم) ۹۔ ناظر اصلاح و ارشاد (وزیر نشریات و مواصلات) ۱۰۔ ناظر بیت المال (وزیر خزانہ و مال) ۱۱۔ نظارت قانون (وزارت قانون) ۱۲۔ ناظر زراعت (وزیر زراعت)
ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جو ان سب کا انچارج ہو۔ دوسرے الفاظ ہو دوسرے الفاظ میں وزیر
اصل مراد ہے۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خود مرزا محمود کے پلان کو ذرا غور سے پڑھیں۔
”تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہو گی کہ اس مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے، جس طرح گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو، بلکہ وزراء کا طریق ہو ایک انچارج ہو۔“
(الفضل، ۱۸ جولائی ۱۹۲۵ء)
”اب اسی انتظامیہ کو بجائے وزارت کے نظارت کہا جاتا ہے تاکہ عوام اور حکومت کو پتہ نہ چل سکے اور نہ ہی محاسبہ ہو سکے۔ اس کا نام نہاد خلیفہ ہر محکمہ کے ناظر (وزیر) کو خود منتخب کرتا ہے۔ جیسا کہ مرزا محمود نے کہا:
”ناظر ہمیشہ میں خود نامزد کرتا ہوں۔“
(الفضل ۲۴ اگست ۱۹۳۰ء)
ربوہ میں باقاعدہ اسٹیٹ میں عدالتیں ہوتی تھیں اور ہر قسم کے مقدمات کی سماعت خود قادیانی قاضی اور جج جن کو قادیانی پوپ نامزد کرتا تھا اور جو فیصلہ وہ کرتے، ہر قادیانی کو ماننا پڑتا تھا۔ آخری فیصلہ قادیانیوں کے پیشوا کا ہوتا تھا، چنانچہ ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران جب ہائی کورٹ کے جج جسٹس صمدانی ربوہ میں تحقیقات کے لئے تشریف لے گئے اور تھانہ ربوہ کے روزنامچے اور رجسٹر دیکھے تو اس میں ایک مقدمہ کا اندراج بھی نہ کیا گیا تھا۔ کیا ۱۹۴۸ء سے لے کر ۱۹۷۴ء تک ربوہ میں کسی قسم کا کوئی جرم نہ ہوا تھا اور قادیانی، فرشتے تھے۔ یہ بات صمدانی کمیشن رپورٹ میں درج ہے۔ اصل بات ہی یہ تھی کہ قادیانی ریاست کے اندر ریاست بنائے ہوئے تھے اور وہ باقاعدہ اس کا نظام چلا رہے ہیں، جس کا کسی حد تک خاتمہ ۱۹۷۴ء میں ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ۱۲، شمارہ ۱۹)
مرتدوں کی نگری میں
ازقلم: محترم عبدالقدوس محمدی
مجھے ختم نبوت اور قادیانیت کے متعلق پڑھنے اور سننے کا خوب موقع ملا ہے۔ چونکہ قادیانیت کا قادیان شہر کے بعد چناب نگر سے گہرا تعلق اور چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے مجھے یہ شہر دیکھنے کا بیحد شوق تھا حال ہی میں اللہ رب العزت نے مجھے اپنے اس شوق کی تکمیل کا موقعہ عنایت فرمایا یعنی مجھے رد قادیانیت کورس میں شرکت کرنے کے لیے چناب نگر جانے کا اتفاق ہوا۔ نجانے کیا کچھ سوچتے اور کیسے کیسے تصورات کرتے ہوئے ہم چنیوٹ سے چناب نگر کی جانب روانہ ہوئے۔ دریائے چناب عبور کرتے ہی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں میں گھرے ہوئے چناب نگر شہر کی جو چیز سب سے پہلے دکھائی دی وہ مسجد ختم نبوت کا بلند و بالا مینار ہے جو ختم نبوت کی صداقتوں کی گواہی دے رہا ہے ...... عظمت اسلام کے گن گا رہا ہے ......... اور اکابرین امت و مجاہدین ختم نبوت کی سعی پیہم اور جہد مسلسل کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
”چناب نگر اس اراضی کا جدید نام ہے جسے پہلے ربوہ کہا جاتا تھا اور انگریز گورنر سر فرانسس موڈی نے اپنے چہیتے قادیانیوں کو پرانا آنہ فی مرلہ کے حساب سے تحفۃً عنایت کی تھی قادیانیوں نے پاکستان میں چناب نگر کو اپنی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔ اسے ایک بند شہر بنا دیا گیا کوئی مسلمان اس شہر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا قادیانی خلیفہ وہاں کا مطلق العنان حاکم تھا اس کا ہر حکم قانون تھا۔ ربوہ (چناب نگر) کی اپنی عدالتیں اور نظارتیں تھیں۔ اس کے اپنے الگ اسٹام پیپر تھے ابھی یہ خوفناک منصوبہ اپنی شیطانی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ ۱۹۷۴ء میں زبردست تحریک ختم نبوت اٹھی جس نے اس سارے منصوبے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر کافر قرار دے دیا گیا۔ ربوہ (چناب نگر) کھلا شہر قرار پایا اور مسلمان ربوہ (چناب نگر) میں داخل ہو گئے۔
(قادیانیت شکن ص ۳۱ از محمد طاہر رزاق صاحب)
اور آج الحمد للہ اس شہر میں اتنی بڑی مسجد و مدرسہ قائم ہیں اس مسجد کے علاوہ دیگر مساجد، ادارے اور بلند و بالا مینار قادیانیوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ مسجد ختم نبوت محافظین و مجاہدین ختم نبوت کا مرکز اور کیمپ جہاں رد قادیانیت کورس بھی ہوتا ہے اور سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس بھی منعقد کی جاتی ہے المختصر یہ کہ صحیح معنوں میں قادیانیوں کے سینوں پر مونگ دلے جارہے ہیں پورے شہر کا پانی انتہائی کھارا ہے جبکہ یہاں رب ذوالجلال نے اپنے بندوں کے لیے اور اپنے حبیبﷺ کی ناموس اور ختم نبوت کے پاسبانوں کے لیے میٹھے پانی کا انتظام کر رکھا ہے۔
چند دن ہمارا اس ادارے میں قیام رہا لیکن تعلیمی مصروفیات کی بنا پر ہم اندرون شہر (جہاں قادیانیوں کے ادارے، دفاتر اور مراکز ہیں) نہ جاسکے۔
جس دن کورس اختتام پذیر ہوا اس دن برادرم غلام اللہ عباسی، عبدالمومن اور عثمان وغیرہ احباب کو چنیوٹ سے رخصت کرنے کے بعد جب میں واپس چناب نگر کی جانب لوٹا تو مسجد ختم نبوت والے سٹاپ پر اترنے کی بجائے چناب نگر کے مرکزی سٹاپ پر جا اترا۔ ایک آدمی سے جس کے متعلق مجھے قادیانی ہونے کا پختہ یقین تھا دارالضیافت کا پتہ پوچھا اس نے انتہائی خندہ پیشانی اور بہت عمدہ طریقے سے مجھے راستہ بتلا دیا اور کسی مجبوری کی بنا پر خود میرے ساتھ نہ جاسکنے کی معذرت خواہی بھی کی میں چناب نگر کے مرکزی بازار سے ہوتا ہوا دارالضیافت کی طرف چل دیا اس شہر میں جا کر اور بالخصوص اس کے بازار سے گزرتے ہوئے آدمی پر عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے لعنتیں برستی ہوئی محسوس ہوتی ہیں وہاں سے کوئی چیز خریدنا تو درکنار آدمی وہاں سے جلد از جلد نکلنے کے لیے بیتاب ہو جاتا ہے لیکن کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے اس لیے میں بادل ناخواستہ اور استغفار پڑھتے ہوئے دارالضیافت کی جانب چلتا گیا جب میں دارالضیافت کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو ایک شخص نے مجھ سے پوچھا ”آپ احمدی ہیں؟“۔ ”نہیں“ میں نے جواب دیا۔ وہ کہنے لگا ”یہاں غیر احمدی تو نہیں آسکتے ۔“ میں نے کہا ”لیکن میں تو آگیا ہوں ۔“ میری یہ بات سن کر کچھ دیر وہ خاموش رہا پھر کہنے لگا ”اچھا اب آپ اپنے آپ کو میرا مہمان ظاہر کیجئے گا ۔“ میں نے کہا ”ٹھیک ہے میں آپ کا مہمان ہوں ۔“
میں اپنے ”میزبان“ کے ہمراہ دارالضیافت کے ایک بڑے ہال میں داخل ہوا جہاں کچھ لوگ بیٹھے ڈش پر قادیانی نشریات دیکھ رہے تھے اس ہال کی دیواروں پر مختلف تصاویر آویزاں تھیں جن کے متعلق میں نے اپنے میزبان سے پوچھا لیکن وہ چونکہ کسی دور افتادہ دیہات کا رہنے والا نام کا قادیانی تھا جو حکیم نور الدین کو جانتا تھا نہ اسے کبھی مرزا محمود کا ”بوقا“ دیکھنے کی ”سعادت“ حاصل ہوئی تھی اس لیے وہ مجھے مرزا قادیانی کی تصویر کے علاوہ دیگر کے متعلق کچھ نہ بتا سکا پھر وہ مجھے ساتھ لیکر اس ہال سے باہر نکلا اور دارالضیافت کے مختلف حصے اور کمرے دکھلائے۔ جہاں قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام تھا پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر سے قادیانی شکاری اپنے شکاروں کو پھانس کر یہاں لاتے ہیں۔ دارالضیافت ڈاکوؤں کی آماجگاہ اور اڈہ ہے جہاں سادہ لوح مسلمانوں کی دولت ایمانی لوٹی جاتی ہے یا دارالضیافت کو ایک مقتل کہہ لیجئے جہاں بیچارے مسلمانوں کے دین و ایمان کا خون کیا جاتا ہے۔
میں اپنے ”میزبان“ سے دارالضیافت کی دیواروں پہ لکھے ہوئے مرزے کے الہامات کے متعلق پوچھ رہا تھا کہ ”عموماً ایسی جگہوں پر قرآن مجید کی آیات لکھی جاتی ہیں یا احادیث مبارکہ لیکن یہ نہ تو قرآن کریم کی آیات ہیں اور نہ ہی احادیث کے اجزا پتہ نہیں کیا اوٹ پٹانگ اور بکواسات لکھے ہوئے ہیں“ اور میرا میزبان اب بھی لاعلمی کا اظہار کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک نوجوان قادیانی مسکراتے ہوئے ہماری طرف آتا ہوا دکھلائی دیا جو خاصا چالاک اور ہوشیار نظر آ رہا تھا وہ ہمارے ساتھ انتہائی پرتپاک طریقے سے ملا مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ میرے میزبان کا بہت پرانا اور انتہائی گہرا دوست ہے جبکہ درحقیقت ان کا پہلے کبھی آمنا سامنا بھی نہیں ہوا تھا ہاں البتہ ان کے مابین مرزائیت کا رشتہ ضرور تھا۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد اس نے اوّلاً اپنا تعارف کرایا ”مجھے امجد کہتے ہیں میں کوئٹہ کا رہنے والا ہوں اور فی الحال یہیں قیام پذیر ہوں ۔“ پھر اس نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا میرے ”میزبان صاحب“ گویا ہوئے ”ان کا نام عبدالقدوس ہے یہ غیر احمدی بھائی ہیں راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں مدرسے میں کوئی کورس کرنے آئے ہیں اور ہمارا شہر دیکھنا چاہتے ہیں۔“
وہ نوجوان خوشی کا اظہار کرتے ہوئے براہ راست مجھ سے مخاطب ہوا ”آپ تبلیغی
جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ناں؟“ میں نے فخریہ انداز سے کہا ”جی الحمد للہ مجھے یہ سعادت حاصل ہے۔“ میرا دل جیتنے کے لیے وہ کہنے لگا ”چند روز قبل میں بھی رائیونڈ گیا تھا وہ مزید کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ”بہت اچھا کیا تھا آئندہ بھی جانے کی کوشش کیجئے گا۔“ پھر اس نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا ”آپ اتنی دور سے تشریف لائے ہیں ہمارے مہمان ہیں اگر میں چند قدم آپ کے ساتھ چلوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔“
”نہیں، بلکہ مجھے خوشی ہوگی اس لیے کہ آپ مقامی ہیں اور میری اچھی طرح سے رہنمائی کر سکتے ہیں۔“ وہ میرے ”میزبان“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا ”آپ ان سے تصویروں کے متعلق بھی کچھ پوچھ رہے تھے اور ابھی بھی لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ یہ آپ کو صحیح طرح سے کچھ بتا نہیں پا رہے تھے اسی لیے میں حاضر ہوا ہوں۔“ یہ سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی اپنے ”شکار“ پر کیسی گہری نظر ہوتی ہے اور بعد میں جب امجد نے مجھے تفصیلی روداد سنائی تو میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا وہ کہنے لگا ”میں نے آپ کو بغور دیکھا اور بار بار دیکھا آپ کی چادر دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ آپ پنجاب ہی کے کسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جب میں نے آپ کی ٹوپی اور اسے پہننے کا انداز دیکھا تو میں سمجھا کہ آپ پٹھان ہیں لیکن آپ کی باتیں سن کر میری یہ غلط فہمی بھی جاتی رہی آپ کی داڑھی، ٹوپی اور لباس دیکھ کر میں بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ جو بھی ہوں اور جس علاقے کے رہنے والے بھی ہوں البتہ آپ تبلیغی جماعت سے ضرور تعلق رکھتے ہیں۔“ اسی لیے اس نے مجھ سے اسی انداز سے گفتگو کی تھی۔
اب ”سابقہ میزبان“ اور میں دونوں امجد کے مہمان بن چکے تھے اس نے ہمیں دارالضیافت کا بقیہ حصہ دکھلایا اور ساتھ ساتھ مجھے کریدنا بھی شروع کر دیا دراصل وہ میرا خاندانی پس منظر جاننا چاہ رہا تھا اس موضوع پر اس سے بہت سی باتیں ہوئیں اس نے مجھے جاننے، سمجھنے، پرکھنے اور جانچنے کے لیے مختلف سوالات کیے اس گفتگو کا خلاصہ اور نچوڑ یہ جملہ تھا ”اچھا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے خاندان اور رشتہ داروں میں مولوی کوئی بھی نہیں ہے“ میرا جواب نفی میں سن کر اس کی باچھیں کھل اٹھیں خود میں نے چناب نگر دیکھنے اور قادیانیوں کو سننے
اور اچھی طرح سے پرکھنے کی غرض سے ”تساہل عارفانہ“ کی ٹھان رکھی تھی اس لیے اس نے سوچا کہ خود تو اسے آتا جاتا کچھ نہیں اور اس کے خاندان میں مولوی بھی کوئی نہیں (جو اس کے ایمان کی حفاظت اور اس کی رہنمائی کر سکے) اس لیے اس پر ٹوٹ کر محنت کرنی چاہئے چنانچہ اس نے میرے لیے جال بننے اور مجھ پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ دارالضیافت کو تفصیلاً دیکھنے کے بعد ہم تینوں نماز کے لیے چل دیئے باہر چوراہے پر پہنچ کر میں نے انہیں کہا ”میں مسجد میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں واپس آ کر دارالضیافت میں مل لیں گے۔“ امجد کہنے لگا ”مسجد میں تو جماعت ہوچکی ہوگی۔“
مجھے کچھ تاخیر بھی ہوچکی تھی اور قریب ہی کوئی مسجد بھی معلوم نہیں تھی اس لیے میں نے اسے کہا ”میری نماز کی ادائیگی کے لیے جگہ کا اہتمام کریں“ اس نے مجھے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بتلا دی جہاں میں نے اپنی چادر بچھا کر نماز ادا کر لی اور پھر بیٹھ کر ان کو ”نماز“ پڑھتے ہوئے دیکھنے لگا انہوں نے مغرب کی ”نماز“ ادا کرتے ہی عشاء کی نماز کا بوجھ بھی سروں سے اتار پھینکا یعنی دونوں ”نمازیں“ ایک ساتھ پڑھ لیں۔ امجد فارغ ہو کر جلدی سے میرے پاس آیا نہ چھیڑنے کا عزم کر چکنے کے باوجود مجھ سے نہ رہا گیا میں نے کہا یہ کیا ابھی ہی دونوں نمازیں پڑھ کر چھٹی کر لی؟“ وہ کہنے لگا ”نہیں جی وہ پتہ ہے ناں آج جمعہ ہے اور سات بجے T.V پہ ہمارے حضرت صاحب (مرزا طاہر) کا خطاب نشر ہونا ہے اس لیے عشاء کی نماز ابھی پڑھ لی۔“ ”اچھا آپ کے حضرت کا خطاب نماز سے زیادہ اہم ہے؟“ وہ بیچارہ میرے غیر متوقع سوالات سن کر خاصا پریشان ہونے لگا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا پھر خود مجھے خیال آیا کہ میں کیوں انہیں خواہ مخواہ چھیڑ رہا ہوں نماز سے ان کا کیا تعلق یہ نماز تو نہیں ہے بلکہ انٹرنیشنل فراڈ اور بہت بڑا ڈرامہ ہے اور وہ جس طرح کوئی چاہے اور جب چاہے رچا سکتا ہے میرے کانوں میں مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ جملہ گونجنے لگا ”اک یہ تہاڈیاں نمازاں نیں.......“ ہم ابھی وہیں کھڑے تھے کہ امجد نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”وہ مرزا رفیع احمد صاحب ہیں ہمارے موجودہ خلیفہ صاحب کے.......“ میں اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی مرزائیے کے شمالی دروازے سے نکلتے ہوئے مرزا رفیع کی طرف چل دیا مرزائیے میں کھڑے ہو کر تعارف وغیرہ کا موقع ہی ملا تفصیلی گفتگو تو نہ
ہوسکی جو ادھار ہے انشاء اللہ پھر کبھی سہی مرزا رفیع، مرزا طاہر کا سوتیلا بھائی ہے جو خلافت کا امیدوار بھی رہ چکا ہے انتہائی حسین نقش و نگار کا بہت ہی زہریلا سانپ ہے سرخ و سفید چہرہ بالکل سفید اور مکمل داڑھی سر پہ سفید رنگ کا عمامہ پہنے بہت بڑا بزرگ اور شیخ دکھلائی دیتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
مرزا رفیع کو ملکر جب میں واپس آیا تو امجد نے چہک کر پوچھا ”مل آئے جی کیا خیال ہے ایسا چہرہ کسی جھوٹے کا ہوسکتا ہے؟“ اس کا سوال سن کر خیال آیا کہ سچ و جھوٹ اور سیاہ وسفید کا فرق کر دیا جائے۔ لیکن چونکہ اس دن میں نے نہ بولنے کا عزم کر رکھا تھا اس لیے اس موضوع کو ختم کرنے کے لیے طنزاً کہا ”پیشانی پر تو نہیں لکھا ہوا تھا۔“ امجد نے بھی مزید اس موضوع پہ کچھ نہ کہا اور ہم وہاں سے دارالضیافت واپس آگئے اس لیے کہ سات بجے مرزا طاہر کا خطاب نشر ہونا تھا ہم بھی T.V والے ہال میں بیٹھ گئے اور دیگر تمام قادیانی اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر مرزا طاہر کا خطاب سننے کے لیے اسی ہال میں جمع ہوگئے۔
مرزا طاہر کا خطاب شروع ہونے سے قبل بتایا گیا کہ دنیا کی فلاں فلاں زبانوں میں اس خطاب کا ترجمہ ہوتا ہے یہ جان کر کہ اس چینل کے ذریعے دنیا کے کتنے علاقوں اور کتنی زبانوں والوں میں کتنا مہلک زہر بانٹا جاتا ہے اور انہیں کس انداز سے دھوکہ دیا جاتا ہے میرے دل پر جو گزری وہ خدا ہی جانتا ہے پھر میں نے دل پہ ہاتھ رکھا مرزا طاہر کا اول تا آخر پورا خطاب سنا اس دن اس نے سادگی کے موضوع پر خطاب کیا پہلے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے سرسری طور پر سرکار دو عالم ﷺ، حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی سادگی کا مختصر سا تذکرہ کرنے کے بعد اپنی ”امت“ کی جیبیں خالی کر کے چھرے اڑانے والے نام نہاد ”نبی“ اور اس کے ”خلفاء“ کی ”سادگی“ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ خدا خدا کر کے مرزا طاہر کا خطبہ ختم ہوا جونہی اس کا بوتھا سکرین سے غائب ہوا میں اٹھ کھڑا ہوا امجد سے کہا ”میں جا رہا ہوں کیونکہ مجھے خاصی دیر ہوچکی ہے“ اس نے بڑی لجاجت سے کہا چند منٹ اور تشریف رکھئے بس یہ دستاویزی رپورٹ دیکھ اور سن کر آپ کو رخصت کرتے ہیں۔
مرزا طاہر کے خطاب کے بعد مرزائیت کی تبلیغ و ترویج کے لیے وقف شدہ بچوں کے بارے میں دستاویزی رپورٹ پیش کی گئی غالباً ۱۹۸۶ء میں مرزا طاہر نے اعلان کیا تھا کہ مرزائی اپنے بچوں کو ولادت سے قبل ہی مرزائیت کی خدمت کے لیے وقف کردیں چنانچہ اس وقت (۱۹۹۸ء میں) سترہ ہزار بچے (جن میں سے تیرہ ہزار لڑکے اور چار ہزار لڑکیاں ہیں) ایسے ہیں جو مرزائیت کی خدمت کے لیے بالکل وقف ہیں ان کی تعلیم و تربیت ایک تنظیم کے ذمے ہے والدین اپنے بچوں کو اس تنظیم کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ بچوں کو پڑھا سکھا کر کچھ کو ڈاکٹروں کے روپ میں اور کچھ کو ٹیچروں کی صورت میں دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بھیج دیتے ہیں جہاں وہ سادہ لوح مسلمانوں کی دولت ایمان دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں صرف انہی علاقوں کی بات نہیں بلکہ جہاں کہیں بھی، جب کبھی بھی اور جس انداز سے بھی انہیں کسی کی دولت ایمان ہتھیانے اور مرزائیت کا ناسور پھیلانے کا موقع ہاتھ لگتا ہے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ T.V پر کئی بچے دنیا کی مختلف زبانیں سیکھتے ہوئے دکھلائے گئے جو دنیا کے ہر خطے میں جا کر قادیانیت کو اسلام کے نام پر پیش کر کے دنیا بھر کے پیاسے لوگوں کو آب زم زم کے نام پر زہر قاتل پلا رہے ہیں۔
یہ دستاویزی رپورٹ سن کر میں خیالات کی دنیا میں کھو گیا میں سوچ رہا تھا ہم سچے نبی کے کتنے جھوٹے امتی ہیں؟ ہمارے آقا ﷺ اور ان کے یاروں اور جانثاروں نے اسلام کے جس گلشن کو اپنے خون سے سیراب کیا اور اسے بہاریں بخشیں آج ہمارے ہوتے ہوئے وہ گلشن اجاڑا جارہا ہے اور ہم اس کے دفاع اور حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟...... دین اسلام کی خدمت کے لیے ہمارے کتنے بچے مکمل طور پر وقف ہیں؟ ہم تو دینی تعلیم کے لیے عموماً ذہنی یا جسمانی طور پر معذور یا کمزور بچوں کو بھیجتے ہیں جو کسی اور کام کے نہیں ہوتے۔
ہمارے شفیق و مہربان اور رؤف و رحیم آقا ﷺ نے جس امت کی بخشش اور مغفرت اور اسے جنت میں لے جانے کے لیے رو رو کر دعائیں اور التجائیں کی تھیں...... جس امت کی فکر میں آپؐ کے سینہ اقدس سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آوازیں آیا کرتی تھیں وہ امت آج جہنم کی راہوں پہ چل پڑی ہے...... قادیانی غنڈے مسلمانوں کو دھوکے دے دے کر اور کھینچ کھینچ کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں ہم نے اس امت اور مسلمانوں کو جہنم سے
بچانے کے لیے کیا کیا ہے؟ ...... بروز محشر شدید پیاس، پسینے اور گھبراہٹ و پریشانی کے عالم میں جب سرکار دو عالم ﷺ کے حوض کوثر سے پانی پینے کے لیے اور آپ ﷺ کی شفاعت حاصل کرنے کے لیے اپنے آقا کے حضور حاضر ہوں اگر وہاں اور اس عالم میں آپ نے ہم سے اس بارے میں پوچھ لیا تو ہمارا کیا جواب ہوگا؟ ...... اور اگر وہاں سے خدانخواستہ خدانخواستہ دھتکارے گئے تو ہمارا کیا بنے گا؟؟؟؟
جب وہ دستاویزی فلم اختتام پذیر ہوئی تو امجد نے بڑے فخر سے کہا ”میری ایک ہی بیٹی ہے جسے میں نے احمدیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے دعا کریں اب میرے ایک ساتھ تین بچے ہوں۔“ میں نے کہا ”اتنی بھی کیا جلدی ہے؟“۔ ”میں ان سب کو احمدیت کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔“ اس کا یہ جملہ مجھ پر بجلی بن کر گرا مجھے اندازہ ہوا کہ کفر کتنا پھلنا پھولنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف سارا عالم کفر مل کر امت محمدیہ ﷺ کو کم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے مسلمان بچوں کو کم کرنے اور قتل و غارت کرنے کے لیے کیسے کیسے ”منصوبے“ بنائے جارہے ہیں اور افسوس صد افسوس کہ بدقسمتی سے ہم خود بھی ان کے مشن میں برابر کے شریک ہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امجد مجھے اس ہال سے اٹھا کر ڈائینگ ہال میں لے گیا اس نے بہت اصرار اور منتیں کیں کہ کھانے کا وقت ہے کھانا کھا لیجئے میں مسلسل انکار کرتا رہا ”اچھا چائے کا ایک کپ تو چلے گا۔“ ”وہ بھی نہیں بلکہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیوں گا۔“ امجد نے بڑے تعجب سے پوچھا ”کیوں؟“ میں نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیا ”اس لیے کہ ہم اسے حرام سمجھتے ہیں۔“ میری اس بات سے نجانے امجد کے دل پہ کیا گزری ہوگی لیکن بظاہر اس نے کسی خاص ردِعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کے لہجے میں پہلے سے زیادہ شیرینی آگئی اس نے اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ مختصر یہ کہ دسمبر کی انتہائی یخ بستہ رات میں عصر سے لیکر رات دس بجے تک وہ میرے ساتھ رہا حتیٰ کہ مجھے سائیکل پر ختم نبوت مسجد تک چھوڑنے آیا وہ صرف ایک قمیض پہنے ہوئے تھا جبکہ سویٹر اور گرم چادر کے باوجود بھی سردی سے میرے دانت بج رہے تھے وہ مجھ سے کہہ رہا تھا ”میری اہلیہ شدید بیمار ہے اس لیے مجھے اس وقت گھر ہونا چاہئے تھا لیکن میں عصر کے بعد سے ابھی تک گھر نہیں گیا ہوں مجھے کیا پڑی ہے کہ اتنی سخت سردی میں آپ کے
ساتھ پھر رہا ہوں آپ یقین جانئے مجھے آپ کے ساتھ مل کر اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا میرے دل میں مسرت اور آپ کی محبت کی آگ جل اٹھی ہے جس کی وجہ سے مجھے بالکل سردی محسوس نہیں ہو رہی ۔“ اس کے علاوہ اس نے اور بھی بہت سی باتیں کیں وہ کہنے لگا ”عبدالقدوس صاحب! آپ انسانی رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے خالی الذہن ہو کر انصاف کے ساتھ احمدیت کو پڑھیں ...... اس کے متعلق جاننے کی کوشش کریں ...... مولویوں نے بہت غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں ...... خوب جھوٹا پروپیگنڈہ کیا ہے خدا کی قسم ہم مسلمان ہیں ...... ہم کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں ...... ہم اذان بھی وہی دیتے ہیں جو عام مسلمان دیتے ہیں ہم نماز بھی تو وہی اور اس طرح پڑھتے ہیں پھر ہم کافر کیوں اور کیسے؟ ...... آپ کو مولویوں نے بتایا ہوگا کہ یہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں ایسا ہرگز نہیں یہ سراسر جھوٹ اور نرا فریب ہے یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ ہم سرکار مدینہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور سنیں! جو آپ کو خاتم النبیین نہیں مانتا ہمارے نزدیک اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ فلاں اور فلاں ہے۔“
امجد مسلسل بولے جا رہا تھا اور میں بالکل چپ چاپ اپنی زبان کو دانتوں تلے دبائے اپنے آپ پر قابو کیے اس کی سن رہا تھا اس لیے کہ میں اس دن انہیں دیکھنے اور اس کی سننے ہی تو گیا تھا اس نے جب میری یہ کیفیت دیکھی تو میرے ایمان کو متزلزل کرنے کے لیے وہ مجھ پر پہلا اور سب سے بڑا وار کر بیٹھا ”ابھی آپ جا کر دو رکعت نماز پڑھیں اس کے بعد خوب رو رو کر اور گڑ گڑا کر اللہ سے دعا کریں کہ میرے رحمٰن و رحیم مولا! میں اندھا ہوں ...... میں کچھ نہیں جانتا ...... مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے اور تو علام الغیوب ہے۔ ہدایت تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہے۔ اے میرے اللہ! مجھے سیدھا راستہ دکھلا اور اسی پہ چلنے کی توفیق عطا فرما۔ انشاء اللہ اللہ رب العزت بذریعہ خواب آپ کی رہنمائی فرمائیں گے اور آپ کو راہِ حق دکھلا دیں گے۔“
استخارہ کی یہ ترغیب قادیانیوں کا سب سے خطرناک وار ہوتا ہے اس لیے کہ یہ عمل کرنے پر وہی شخص آمادہ ہوگا جسے اپنے ایمان و دین میں شک پیدا ہو جائے اور یہ شک ایمان کے شجرہ طیبہ کی وہ جڑیں اکھیڑ دیتا ہے جو مومن کے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں ہوتی ہیں اور
جب درخت جڑوں ہی سے اکھڑ جائے تو پھر وہ کسی صورت بھی کھڑا نہیں رہ سکتا...... جب کسی کا دل اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے خالی ہو جائے تو پھر شیطان وہاں ڈیرے ڈال لیتا ہے خواب و وساوس کے ذریعے ایسی پٹیاں پڑھاتا ہے اور گمراہیوں کی ایسی گھمن گھیریوں میں ڈال دیتا ہے کہ پھر آدمی وہاں سے نکل نہیں سکتا اور ہاتھ پاؤں ہی مارتے رہ جاتا ہے۔
استخارے کے اس عمل سے کتنے ہی لوگ ارتداد کی گہری کھائیوں میں جا گرے، کتنوں ہی کو اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے پڑے اور انہوں نے اسلام و ایمان کی راہیں ترک کر کے کفر و ضلالت کے راستے اختیار کر لیے۔ امجد مجھے استخارے کی تاکید کر کے اور صبح دوبارہ ملاقات کا وقت طے کر کے واپس چلا گیا اور میں مسجد ختم نبوت میں آ گیا۔
ابھی تک چونکہ میں نے نماز عشاء ادا نہیں کی تھی اس لیے وضو کیا، نماز عشاء پڑھی اور پھر تمام قادیانیوں کی ہدایت کے لیے بالعموم اور امجد کی ہدایت کے لیے بالخصوص خوب دعائیں کیں پھر سونے کے لیے کمرے میں آ گیا میں نے چونکہ اپنے اللہ کے لیے بھوکا رہنے کا عزم کر لیا تھا اور اپنے آقا ﷺ کی ختم نبوت کی لاج رکھنے کے لیے دارالضیافت سے کھانا نہیں کھایا تھا اس لیے جس وقت اور جس حال میں، میں کھانا ملنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس وقت اور اس حال میں بالکل غیر متوقع طور پر میرے غیور مولا نے میرے لیے بڑے عمدہ کھانے کا انتظام فرما دیا جسے پا کر میرے ایمان کو جلا نصیب ہوئی اور جسے کھا کر میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سو گیا۔
اس دن مرزا طاہر کے خطاب اور رات ہونے کیوجہ سے میں چناب نگر شہر کے اہم مقامات نہ دیکھ سکا تھا اس لیے دوسرے روز میں اور پسرور سے تعلق رکھنے والے برادرم حماد صاحب دوبارہ چناب نگر گئے اور وہاں کا بڑا تفصیلی دورہ کیا لیکن چونکہ مضمون پہلے ہی بہت طوالت اختیار کر گیا ہے اس لیے اشارۃً اور مختصراً ہی لکھتا ہوں دوسرے دن سب سے پہلے ہم بہشتی مقبرے میں گئے طاہر رزاق صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں دفن ہونے کے لیے بے ایمان اور بیوقوف ہونا ضروری ہے وہاں مرزا کے سب خاندان والوں کی مخصوص جگہ میں قبریں دیکھ کر مرزا کی ”آسمانی منکوحہ“ محمدی بیگم کی کمی محسوس کی ان کی قبر کے متعلق ظاہراً بڑی معصومیت اور جہالت کے ساتھ لیکن درحقیقت شرارت سے اپنے میزبانوں سے پوچھ کر ان کے پرانے
زخموں کو تازہ کیا۔ لائبریریوں میں گئے جہاں انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے معارف القرآن وغیرہ مسلمانوں کی کتب اور البلاغ، الفاروق، ختم نبوت وغیرہ جرائد و رسائل بھی رکھے ہوئے تھے لائبریری میں امجد نے جب کئی زبانوں میں قادیانیوں کی طرف سے مترجم قرآن کریم کے نمونے دکھلائے اور بتلایا کہ ہم نے یہ تراجم بڑے پیمانے پر طبع کروا کر دنیا بھر میں پہنچائے ہیں تو مجھے وسطی ایشیاء ریاستوں کے تیس ہزار مسلمانوں کے مرتد ہونے کی خبر یاد آ گئی جن بیچاروں کے پاس قادیانیوں کے ہاتھوں مسخ شدہ اور تحریف شدہ قرآن کریم کے تراجم اور من گھڑت تفاسیر پہنچیں اور وہ انہیں پڑھ کر اپنی متاع ایمان کھو بیٹھے میں سوچتا ہوں کہ اگر صرف وسط ایشیاء میں مرزائیوں کے کرتوت یہ رنگ لا سکتے ہیں تو باقی دنیا والوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا اور کیا ہورہا ہوگا؟؟
مرزائیوں کے امام مرزا مظفر کے ساتھ بڑا مزیدار اور دلچسپ ٹاکرا ہوا ایک وکیل صاحب نے مجھے جب نیوٹرل (خالی الذہن) ہو کر اپنا شہر دیکھنے کی پیشکش کی اور کہا کہ یہ نہ ہو کہ آپ یہاں آئے ہوئے اور گھومتے پھرتے ہوئے بھی یہ سمجھتے رہیں کہ یہ پکے کافر ہیں تو میں نے امجد سمیت کئی مرزائیوں کی موجودگی میں جب کہا کہ ”یہ تو ہم سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہی رہیں گے۔“ تو وہ ہکا بکا رہ گیا اور لال پیلا ہو گیا۔
پھر ہم جامعہ احمدیہ گئے اس ادارے کو دیکھا کہ امت مسلمہ کی متاع ایمان لوٹنے کے لیے کیا کچھ ہو رہا ہے...... وہاں کتنے ڈاکو اور قاتل پالے جا رہے ہیں اور کتنے وسائل استعمال کر کے کس انداز سے ان کی تربیت کی جارہی ہے میں نے تصور ہی تصور میں پاکستان بھر کے اسلامی جامعات اور دینی مدارس میں حاضری دی مجھے ایک طرف تو جامعہ احمدیہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں دکھلائی دے رہی تھیں اور ان کے طنزیہ جملے سنائی دے رہے تھے اور دوسری طرف ”اسلام کے قلعوں“ سے ”مرزائیت کا مسئلہ تو حل ہو چکا ہے۔“ ”مرزائی تو ختم ہو گئے ہیں“ ”مرزائی ہیں کہاں“ وغیرہ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جامعہ احمدیہ کے بعد ہم ”الفضل“ کے دفتر گئے جہاں ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ والی قادیانیوں کی مخصوص انگوٹھی دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن انہوں نے مقدمے کے ڈر سے انگوٹھی دکھلانے کی ہمت نہ کی۔
چناب نگر شہر میں ہمارا کافی وقت گزر چکا تھا اور ہم وہاں کے تقریباً تمام اہم مقامات دیکھ چکے تھے اس لیے ہم وہاں سے بڑی افسردگی اور روتے ہوئے دل کے ساتھ واپس آگئے مجھے امجد کی باتیں اور برتاؤ رہ رہ کر یاد آ رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ مجھ پر تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے قادیانیت کے متعلق پڑھنے اور جاننے کا موقع اور معلومات عطا فرمائیں مجھے اسی دن حضرت خواجہ صاحب، شیخ الحدیث عبدالمجید انور صاحب اور مولانا عزیز الرحمن صاحب کے مبارک ہاتھوں سے خصوصی انعام اور سند حاصل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔
مجھے حضرت لدھیانوی، مولانا اللہ وسایا صاحب، صاحبزادہ صاحب، حسینی صاحب، مسعود صاحب، راشدی صاحب اور شجاع آبادی صاحب سے شرف تلمذ بھی حاصل تھا۔ میرے سر پر جناب طاہر رزاق صاحب کی شفقتوں کا سائبان بھی تھا اور ان کی تمام کتب بھی پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی اور الحمد للہ سالہا سال سے دینی مدارس کے چار دیواری میں رہنے کی سعادت عظمیٰ بھی حاصل ہے اس لیے میں قادیانیوں کی کئی رگوں ان کے کرتوتوں، دھوکوں اور فراڈوں سے کچھ کچھ واقف تھا میرے اساتذہ نے مجھے قادیانیوں کے اشکالات و سوالات اور ان کے جوابات بھی پڑھائے تھے اور میرے دل و دماغ میں قادیانیت سے نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے اس لیے میں وہاں سے اپنا ایمان با حفاظت لانے میں کامیاب ہو گیا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ یہاں روزانہ کتنے اور کیسے کیسے لوگ آتے ہوں گے۔ جو صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں کلمہ اور نماز کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے اور کچھ تو ان سے بھی بے خبر ہوتے ہیں انہوں نے ختم نبوت اور قادیانیت کا کبھی نام تک بھی نہیں سنا ہوتا ..... دور دراز کے علاقوں اور دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے ..... صحراؤں میں اور پہاڑوں پر رہنے والے جنہیں وہاں سے قادیانی مربیّن ومبلغین اپنے دام تزویر میں پھنسا کر لاتے ہیں اور یہاں آ کر وہ کتنے امجدوں کی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہوتے ہوں گے ..... کتنے مرزے رفیعوں کی لمبی لمبی ڈاڑھیاں اور عمامے دیکھ کر ان کو سچا مان لیتے ہوں گے ..... مرزاؤں کی مساجد سمجھ بیٹھتے ہوں گے ..... اور ان میں ہونے والی شرارتوں کو عبادتیں سمجھ لیتے ہوں گے ..... مرزائیوں کے کلمے سن کر ان کو مسلمان مان لیتے ہوں گے ..... اور قادیانی مگر مچھوں کے آنسو دیکھ کر ان کی
مظلومیت کا یقین کر لیتے ہوں گے۔
ہائے میرے اللہ! یہاں کتنے لوگوں کی دولت ایمان لٹی ہوگی اور اب بھی لٹتی ہوگی..... کتنے لوگ سرکار دو عالم ﷺ کو چھوڑ کر مرزا جیسے ملعون کا دامن تھام لیتے ہوں گے اور اس کے مذہب کو سچا مان کر اور اس کی نبوت کا اقرار کر کے اپنے لیے جہنم کے دہکتے ہوئے الاؤ کا انتخاب کر لیتے ہوں گے۔
اوہو یہ کیسا شہر ہے..... نہیں نہیں یہ شہر نہیں بلکہ مقتل ہے جس کے در و دیوار پہ ہم میں سے کتنوں کے رشتہ داروں، اعزہ و اقرباء، پڑوسیوں، محلے داروں، پنڈ اور گاؤں والوں اور قوم و قبیلے والوں کے دین و ایمان کا خون ہے اور وہ خون ہماری غفلتوں کی وجہ سے ہمارے سر ہے اس لیے کہ ہم نے اپنے گرد و نواح پہ نظر نہیں رکھی..... ہم نے اپنے آقا کے تاج و تخت ختم نبوت اور آپ کی ناموس کا تحفظ نہیں کیا..... ہم نے اپنے ہی بھائیوں کے ایمان کی حفاظت کا فریضہ سر انجام نہیں دیا بلکہ ہم تماشائی بنے رہے لیکن یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
(برادر مکرم جناب عبدالقدوس کا خط..... مؤلف کے نام)
لوگ تائب ہو گئے
قادیانیوں نے نہایت عجلت کے ساتھ اپنے مبلغین کو جموں و کشمیر کے طول و عرض میں پھیلانا شروع کر دیا تاکہ وہ ریاست کے سادہ لوح عوام کو ورغلا کر اپنے خود ساختہ ”نبی“ کے حلقہ بگوش بنانا شروع کر دیں۔ یہ مہم کافی کامیاب رہی۔ کئی دوسرے مقامات کے علاوہ خاص طور پر ”شوپیاں“ میں مسلمانوں کی ایک خاص تعداد قادیانی بن گئی۔ پونچھ کے شہر میں مسلمانوں کی اکثریت نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ خبر سنتے ہی رئیس الاحرار مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری پونچھ شہر پہنچے اور اپنی خطیبانہ آتش بیانی سے قادیانیت کے ڈھول کا ایسا پول کھولا کہ شہر کی وہ آبادی جو مرزائی بن چکی تھی، تقریباً ساری کی ساری تائب ہو کر از سر نو مشرف بہ اسلام ہو گئی۔
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
ہم نے بھی ربوہ دیکھا
آنکھیں میری باقی ان کا
غالباً ۱۹۵۸ء کی بات ہے مرزائی روزنامہ الفضل (ربوہ) میرے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ ربوہ کا سالانہ جلسہ جسے قادیانی حج کا درجہ دیتے ہیں، بچشم خود دیکھنا چاہیے۔ اور امت مرزا اور ان کے کارناموں کا قریب سے مشاہدہ ہونا چاہیے۔ تب ربوہ میں کسی مسلمان کے بلا اجازت رہنے کا تصور بھی نہ تھا۔ چنانچہ میں نے پہلے ایک خط دفتر جلسہ سالانہ کو لکھا کہ:
- ۱۔ میں ایک سنی العقیدہ مسلمان ہوں۔ ختم نبوت کا قائل ہوں۔ کیا مجھے تمہارے
سالانہ جلسہ میں شرکت اور شمولیت کی اجازت ہوگی۔
- ۲۔ چونکہ میں مسلمان ہوں مجھے وہ ذبیحہ چاہیے جو ایک مسلمان کے ہاتھ کا ذبیحہ ہو۔
مرزائیوں کو میں غیر مسلم سمجھتا ہوں، کیا مجھے تمہارے شہر ربوہ میں کسی مسلمان کا ذبیحہ اور طعام میسر ہو سکے گا۔
- ۳۔ میں چونکہ ناواقف ہوں، کیا ہوسٹل یا سرائے یا قریب رہائش کے لیے کوئی مکان
میسر آسکے گا۔
- ۴۔ اور مجھے اپنی نماز اور عبادت ادا کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔
یہ خط میں نے افسر جلسہ سالانہ کو ارسال کیا جو اس وقت مرزا طاہر تھا اور جو اب خلیفہ ہے۔ مجھے مولوی عبداللہ تونسوی، مولوی فاضل جو نائب افسر جلسہ سالانہ تھے، نے جواب بھیجا کہ:
- ۱۔ آپ بلا تامل جلسہ میں تشریف لائیں، کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔
- ۲۔ ہمارے جلسہ کا جملہ انتظام ٹھیکیداری سنی العقیدہ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
آپ کو حلال ذبیحہ بلا تکلیف ملے گا۔ (واللہ اعلم یہ صحیح تھا یا نہیں)
- ۳۔ آپ ہمارے مہمان ہوں گے۔ آپ کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔ آپ کا نمبر
آپ کو ارسال ہے۔
- ۴۔ آپ اپنی عبادت ادا کر
امت قادیانیہ کے اس قاری محمد عبداللہ صاحب (حال ہم ملتان پہنچے۔ جاتے ہوئے الحدیث و مہتمم خیر المدارس کو کے پوچھنے پر جملہ پروگرام ان خط دے دیا اور وہیں ٹھہرے ہوئے۔ مرزائیوں کے زنانہ و شادمانی ان کے چہروں پر تھی تھا۔ ان کی عقیدت اور فرط ش لقد زين الش ”بے شک شیطان
جمعہ کا دن تھا۔ ہم چن اصرار تھا کہ ان کے ”حضرت خلیفہ صاحب کی زیارت جمل نہیں ہوتی اور چنیوٹ اتر گئے
اگلے دن صبح ہفتہ کو ہم ہمارے انتظار میں تھے۔ ہم آپ یہاں ٹھہریں۔ ہم نے چائے پی لیں۔ چنانچہ ان کے تقریبا چھ افراد جو مولوی فاضل عیاری و مکاری بھی دیکھ یا گئے۔ چائے پیسٹریاں اشیا چاہیے۔ مولوی عبداللہ (م من الایمان۔
- ۴۔ آپ اپنی عبادت ادا کرنے میں آزاد ہوں گے ۔
امت قادیانیہ کے اس نظم اور رواداری پر حیران ہوا ۔ ارادہ سفر کر لیا اور مولانا قاری محمد عبد اللہ صاحب (حال خطیب مرکزی جامع مسجد اسلام آباد) میرے رفیق سفر تھے ۔ ہم ملتان پہنچے ۔ جاتے ہوئے حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ جالندھری، شیخ الحدیث و مہتمم خیر المدارس کو ملنے کے لیے چلے گئے اور شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ حضرت کے پوچھنے پر جملہ پروگرام ان سے ذکر کیا۔ حضرت نے چنیوٹ میں مولانا محمد حسین کے نام خط دے دیا اور وہیں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی ۔ براستہ لائل پور (فیصل آباد) ہم روانہ ہوئے ۔ مرزائیوں کے زنانہ و مردانہ قافلے عقیدت سے ربوہ جا رہے تھے اور بڑی مسرت و شادمانی ان کے چہروں پر تھی ۔ اپنے خلیفہ کی زیارت کا شوق ان کو کشاں کشاں لیے جا رہا تھا ۔ ان کی عقیدت اور فرط شوق کو دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلا : لقد زین الشیطان اعمالھم۔ ”بے شک شیطان نے ان کے اعمال سنوار سجا کے پیش کیے ہیں“۔
جمعہ کا دن تھا۔ ہم چنیوٹ پہنچے ۔ رفقاء سفر کو معلوم نہ تھا کہ ہم مسلمان ہیں ۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے ”حضرت صاحب“ کے پیچھے نماز جمعہ کا شرف حاصل کریں اور حضرت خلیفہ صاحب کی زیارت جملہ گناہوں کا کفارہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ہم نے کہا کہ ہماری نماز وہاں نہیں ہوتی اور چنیوٹ اتر گئے ۔ جمعہ ادا کیا۔ شام کو ربوہ چلے گئے اور واپس آ گئے ۔
اگلے دن صبح ہفتہ کو ہم ان خطوط کو لے کر افسر جلسہ سالانہ کا شکریہ ادا کرنے گئے تو وہ ہمارے انتظار میں تھے ۔ ہمیں خوش آمدید کہا اور ہماری بڑی آؤ بھگت کی اور اصرار کیا کہ آپ یہاں ٹھہریں ۔ ہم نے بہت معذرت کی لیکن ان کا شدید اصرار تھا کہ کم از کم ان سے چائے پی لیں ۔ چنانچہ ان کے ہمراہ کیفے فردوس میں گئے اور بڑی میز کے سامنے بیٹھ گئے ۔ تقریباً چھ افراد جو مولوی فاضل یا گریجویٹ معلوم ہوتے تھے، ہمارے ساتھ چلے ۔ میزبان کی عیاری و مکاری بھی دیکھ یا میزبان کی پختہ زناری بھی دیکھ ۔ ہم آٹھ افراد میز کے گرد بیٹھ گئے ۔ چائے پیسٹریاں اشیاء خوردنی رکھے گئے ۔ اب ارشاد ہوا ذرا فرینک ٹاک تو ہونی چاہیے ۔ مولوی عبد اللہ (مرزائی) کہنے لگے میں بھی ڈیرہ غازی خان کا ہوں ۔ حب الوطن من الایمان ۔
آپ ہمارے علاقہ اور ضلع کے ہیں۔ ہم نے کہا فرمائیے۔ ارشاد ہوا کہ ہمیں اسلام کا ایک فرقہ مان لو جس طرح دیوبندی، بریلوی، حنفی، شافعی، اہل حدیث وغیرہ ایک فرقہ ہیں (اور ہماری بڑی تعریف کرنے لگے کہ تم نے صاف صاف ہمیں کہہ دیا کہ ہم غیر احمدی ہیں وغیرہ وغیرہ) ہم نے کہا فرمائیے! زبان مناظرانہ ہو گی یا پارلیمانی؟ جواب ملا نہیں پارلیمانی اور محبت کی زبان ہو۔
ہم نے کہا جب تک درخت کا تنا ایک نہ ہو کبھی بھی متفرق شاخوں میں وحدت نہیں ہو گی۔ اگر کیکر کا درخت شیشم کے ساتھ کھڑا ہے، شاخیں ملی ہوئی ہیں تو وہ دونوں درخت علیحدہ علیحدہ کہلائیں گے۔ کبھی بھی ایک درخت نہیں کہلائے گا۔ تمہارا اور ہمارا تنا (اصل بنیاد) متفرق ہے۔ لہٰذا وحدت نہیں ہو سکتی تو پھر آپ کو اسلام کا فرقہ کس طرح تسلیم کریں۔
اس پر نائب افسر جلسہ سالانہ نے کہا بنیاد یا تنا کیا ہے۔ اس کی تشریح کریں۔ جبکہ ہم بھی تمہاری طرح اسلام کے مدعی ہیں۔ ہم نے کہا کہ بنیاد (تنا) نبوت ہے۔ عیسائیت، یہودیت، اسلام نبوت کی بنیاد کی شاخیں ہیں۔ ورنہ اہل کتاب ہونے میں یہ بھی مشترک ہیں۔ خاص حالات میں اہل کتاب سے نکاح بھی جائز ہے۔ لیکن وحدت نہیں ہے۔ چونکہ تمہارا نبی مرزا غلام احمد آنجہانی ہے، تم نے اپنا تشخص عام مسلمانوں سے علیحدہ کر رکھا ہے۔ تمہارے رشتے ناتے مسلمانوں سے نہیں ہوتے، تم مسلمانوں کا جنازہ تک نہیں پڑھتے، تمہاری عیدیں علیحدہ ہیں پھر کیا یہی وحدت ہے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔
مولوی عبداللہ مرزائی نے کہا، ہم احمدی ہیں۔ ہماری نسبت حضور کی طرف ہے۔ ہمارے نبی کا نام غلام احمد تھا۔ وہ ظلی بروزی نبی تھے۔ حضور کے صدقہ اور طفیل ان کو نبوت ملی۔ یہ نبوت کے منافی نہیں ہے۔ ہم نے کہا تمہارا احمدی ہونا ایک فریب ہے۔ تم نسبت مرزا صاحب کی طرف کرتے ہو اور مرزا صاحب کا نام تو غلام احمد تھا۔ احمد مضاف الیہ ہے نسبت مضاف کی طرف ہوتی ہے، مضاف الیہ کی طرف نہیں۔ کیا عبداللہ کا باغ خدا کا باغ کہلائے گا؟ خلیفہ اللہ کی بیوی مضاف الیہ کی بیوی کہلائے گی؟ مضاف اور مضاف الیہ میں تغایر ہوتا ہے اور موصوف صفت میں وحدت ہوتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ احمد کوئی اور ہے اور غلام کوئی اور۔ اور غلام کبھی بھی اصل کی مسند پر جانشین نہیں ہو سکتا۔ اگر تمہیں مرزا صاحب آنجہانی کی طرف نسبت مطلوب ہے تو تم ”غلامی“ تو کہلا سکتے ہو احمدی
نہیں ۔ نسبت ایک دھوکہ ہے جس سے یورپ اور ایشیاء میں تم شکار کھیل رہے ہو ۔ رہا مرزا صاحب کا ظلی ، بروزی نبی ہونا ، یہ اسلامی عقائد کی اصطلاحات میں تحریف ہے۔ اس کا کوئی اصل ثابت نہیں۔
لو كان بعدي نبيا لكان عمر ۔ (الحدیث)
وہاں ظلی بروزی کیوں نہیں فرمایا۔ پیغمبر خدا ﷺ کی نبوت کے بعد دوسری نبوت کا تصور مطلق حرام ہے۔ اکمل دین کے خلاف ہے۔ اچھا بتائیے مرزا صاحب نبی تھے تو کوئی کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔
نائب افسر جلسہ سالانہ نے کہا کہ حضرت نے مسلمانوں کے اندر جو ایک فرسودہ مسئلہ حیات مسیح چل رہا تھا اس کی وضاحت کی اور اس کو غلط بتلایا۔ تم تو علماء ہو ان کی ریسرچ کی داد دو۔
ہم نے کہا آپ اس عمر میں کیوں دھوکا دیتے ہو۔ میں خطبات احمدیہ سرسید احمد خان مرحوم کو تازہ پڑھ کے آیا ہوں۔ سر ولیم میور کے جواب میں یہ تحقیق سرسید مرحوم کی ہے۔ یہ اس کا چبایا ہوا لقمہ ہے کچھ تو لحاظ کرو۔ اس پر ایک مرزائی مندوب نے کہا کہ حضرت نے نظام خلافت قائم کیا ہے اور میاں محمود احمد صاحب ہمارے خلیفہ ہیں۔ ہم ستر ہزار آدمیوں کو روٹی ایک وقت میں کھلا دیتے ہیں۔
اس پر میں نے کہا میاں صاحب کے کارنامے تاریخ احمدیت میں پڑھے ہیں۔ مولانا عبدالکریم مباہلہ اور فخرالدین ملتانی کے مکتوبات بھی پڑھ چکا ہوں۔ کیا ان کارناموں پر تم فخر کرتے ہو یہ تمہارا نظام خلافت ہے۔ رہا ستر ہزار کو روٹی کھلا دینا ، یہ ٹھیکہ مجھے دے دو میں کھلا دوں گا۔ تیمور لنگ جب بایزید یلدرم کے مقابلے کے لیے گیا تو نو لاکھ فوج ساتھ تھی۔ وہ ان کو کتنی جلدی کھانا کھلا دیتا تھا اور سائنسی ترقی نہ ہونے کے باوجود کتنی جلدی سفر کر رہا تھا۔
بایزید یلدرم رحمۃ اللہ علیہ عیسائیت کے محاذ سے پلٹا اور اتنی تیزی سے فتوحات کر چکا تھا کہ اس کا لقب یلدرم (بجلی) پڑ چکا تھا۔ کیا اس دور میں یہی نظام خلافت تمہاری صداقت کی دلیل ہے۔
اس پر وہ لوگ چونک اٹھے۔ کہنے لگے اچھا جی چلیں ہم آپ کو تعلیم الاسلام کالج اور
دیگر مقامات کی سیر کرائیں اور غیر ملکی مہمانوں سے متعارف کرائیں۔ بحث کو ہم ختم کرتے ہیں۔ کیونکہ دکھتی رگ پر ہاتھ پڑ گیا تھا۔ اب ہم پر یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ اخلاص اور محبت کی دعوت نہ تھی بلکہ ہمیں شکار کرنا ہی مقصود تھا۔
غره مشو کہ گربہ زاہد نماز کرد
اب چونکہ ہم نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ بھلا ”تاریخ احمدیت“ اور فخر الدین ملتانی اور عبد الکریم مجاہد کے مضامین دیکھنے کے بعد کون ان کے فتنہ میں آسکتا تھا اور کون ایسی خلافت کی حرکات اور دام تزویر میں پھنس سکتا تھا۔ مرزائیوں کے سالانہ جلسہ کا گراؤنڈ کافی وسیع و عریض تھا۔ تقریباً ستر ہزار سے ایک لاکھ تک سامعین و زائرین موجود تھے۔ رضاکار فورس نے جلسہ کا انتظام سنبھال رکھا تھا۔ عورتوں کے اجتماع میں کافی گہما گہمی تھی۔ ”لجنہ اماء اللہ نے (جو کالج اور سکولوں کی ینگ لڑکیاں تھیں) انتظامات سنبھال رکھے تھے۔ دفتر تبلیغ میں لوگ جوق در جوق چندہ دے رہے تھے۔ قصر خلافت میں خلیفہ سے ملاقاتیں ہورہی تھیں۔ کالج اور سکولوں میں مہمان ٹھہرے ہوئے تھے اور ان سب کا خوردنی انتظام وہیں تھا۔ سب لوگ نظم سے کھانا کھا رہے تھے۔ اب ذرا تفصیل ملاحظہ ہو:
ربوہ شہر پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔ مشرقی جانب دریائے چناب بہہ رہا ہے۔ یہ زمین آنجہانی ظفر اللہ خان نے مرکزی حکومت سے انجمن احمدیہ کے نام کرالی۔ یہ کروڑوں روپے کی جائیداد غالباً تین پائی فٹ یا فی مرلہ کے حساب سے ان کو دے دی گئی۔ یہ شہر تقریباً پچاس ہزار آبادی پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک مرلہ زمین کسی غیر کی نہیں جس پر خلیفہ قادیان قابض ہے۔ اس شہر میں فلک شگاف کوٹھیاں اور ایوان محمود‘ قصر خلافت‘ دفاتر‘ پریس‘ کالج‘ سکولز اور تجارتی مراکز ہیں۔ جب کسی مرزائی کو زمین الاٹ کر دی جاتی ہے‘ وہ تعمیر کرتا ہے تو وہ ملکیت بدستور انجمن احمدیہ کی رہتی ہے۔ وہ صرف قابض ہوتا ہے۔ اگر وہ مذہب تبدیل کرے تو اس مکان تعمیر شدہ یا کوٹھی سے خود بخود محروم ہو جائے گا۔ وہ مکین جب ملازمت یا کسی کاروبار میں چلا جائے گا تو کچھ فیصد آمدنی انجمن کو دینی پڑے گی۔ مرنے کے بعد قبرستان ٹیکس (بہشتی مقبرہ) کے لیے تقریباً ۱/۱۶ حصہ جائیداد دینی پڑے گی۔ مرد‘ عورتیں‘ بچے‘ ملازم‘ تاجر سب پر ٹیکس (چندہ) لازم ہوتا ہے۔ اب فرمائیے یہ مجبور بندے
جو ملازمت یا کاروبار یا کسی جھانسے میں پھنس گئے ہیں، کب اس دلدل سے نکل سکتے ہیں۔ پھر ان کے مستقبل کا کاروبار، شادیاں، مکانات، رشتہ داریاں، ان سے ہو جاتی ہیں۔ ہم سوچتے تھے شاید ہی کسی دن کا سورج اس ربوہ کو آزاد دیکھ سکے گا۔ بھلا ہو مجلس احرار اسلام کا اور تحفظ ختم نبوت کا اور ان مظلوم طلباء کا جن کی قربانیوں سے اتنا ہوا کہ اب ربوہ میں مسئلہ ختم نبوت کا اعلان تو سنا جاتا ہے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی جماعت مجلس احرار اسلام نے سب سے پہلے ۱۹۷۶ء میں اس سرزمین کفر پر مسلمانوں کی پہلی جامع مسجد قائم کی اور اب وہاں مسلمانوں کی مساجد آباد ہیں۔ جن سے توحید و ختم نبوت کے ایمان افروز نعرے بلند ہوتے ہیں۔ سارے ملک میں یہ واحد بد نصیب شہر ہے جو صرف اور صرف کفر کی ملکیت ہے۔ پرستاران حق نے کبھی سوچا بھی ہے کہ کس طرح سے مظلوم پھنس چکے ہیں اور کفر کے نظام نے اسلامی سٹیٹ میں حق کی آواز کو مفلوج کر رکھا ہے۔ یہ حکومت کے اندر حکومت ہے۔ اس ربوہ کی عدالت اپنی ہے۔ یہ پوپ (خلیفہ) جو اپنی من مانی کرتا ہے اور یہاں جو مذہب، اخلاق، عصمت، دولت اور تقدس پامال کیا جاتا ہے۔ اس کی نظیر شاید دنیا میں کہیں نہ مل سکے گی۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
جلسہ میں مقررین کے خطبات
مختلف عنوانوں پر تقریریں جاری تھیں۔ دوسرے دن شام، تقریر کا عنوان تھا ”کمالات مصطفیٰ“ اس تقریر پر تقریباً ۱۴/ لوگ حاضر ہوئے۔ گراؤنڈ خالی رہا۔ لوگ چل پھر رہے تھے اور مقرر نے کوئی خاص دلسوزی اور عقیدت نہ دکھائی۔ دوسرے دن تقریر کا عنوان ٹھہرا ”کمالات حضرت صاحب“ (مرزا غلام احمد) پھر کیا تھا گراؤنڈ بھر گیا۔ قطار در قطار سامعین آ رہے تھے اور سر دھن رہے تھے۔ یہ حالت دیکھ کر خود سمجھیں ایک مسلمان کے دل پر کیا بیتی ہو گی۔ سید الانبیاء ﷺ کے کمالات سننے کے لیے تو کوئی شوق نہیں، ’ظلی، بروزی، جعلی پیغمبر کے لیے (بقول ان کے) یہ مجمع سر دھن رہا ہے۔ اس فریب کاری کو دیکھ کر ان کی تبلیغ اور خدمت اسلام کی حقیقت واضح ہو گئی۔ یہ لوگ تبلیغ اسلام کے نام پر یورپ، ایشیا، امریکہ، مشرق وسطیٰ میں پیسہ کماتے ہیں اور یہ ان کی حقیقت ہے۔
لوائے احمدیت کی پرچم کشائی
ظہر کے بعد خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ آگے پیچھے محافظ فورس تھی۔ جس طرح ایک ہز ہائی نس (والی ریاست) دربار میں تشریف لاتا ہے اور پھر لوائے احمدیت (مرزائیوں کا مخصوص جھنڈا یا علم) لایا گیا۔ خلیفہ نے اس کی پرچم کشائی کی۔ یہ منظر قابل دید تھا۔ بڑی عقیدت اور جوش سے مرزائی اس پر فریفتہ ہو رہے تھے۔ خلیفہ صاحب نے دیدار کرایا اور آخری تقریر کی۔ اس مصنوعی خلیفہ کے یہ عادات اور اطوار قابل دید تھے۔ واقعی سچ ہے۔ زین لهم الشيطان اعمالهم۔ یہی وہ خلیفہ تھا جس کی داستان روحانیت تاریخ احمدیت وغیرہ میں مرقوم ہے۔ جس کے عینی شاہد مولانا عبد الکریم مباہلہ (سابق امام مسجد قادیان اور صحابی مرزا) اور فخر الدین ملتانی، عبدالرحمٰن مصری اور ارکان جماعت لاہوری و کارکنان مجاہدین احرار اسلام ہیں۔ سلطنت برطانیہ کی تدبیر اور ہماری غفلت نے آج یہ دن ہمیں دکھلائے۔ (اس لوائے احمدیت پر قادیان کا منارہ چھپا ہوا ہے)
خبیث اصطلاح
عالم اسلام میں سرکار دو جہاں جناب آقائے کل محمد مصطفیٰ ﷺ کو بوجہ مدینہ شریف کے مکین ہونے کے مدنی کہا جاتا ہے اور ابتدائی زندگی اور پیدائش مکہ کی وجہ سے مکی کہا جاتا ہے۔ اب ذرا ان آئمہ تلبیس کی شقاوت ملاحظہ کریں کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد کو حضرت قدنی کہتے تھے۔ چونکہ ہم نبی کریم کو مدنی کہتے ہیں اس کے بالمقابل یہ مرزا کو قادیان کی نسبت سے اور حضور کے تقابل کے پیش نظر ”مرزائے قدنی“ یا حضرت قدنی کہہ کر پکار رہے تھے۔ حالانکہ قادیانی تو نسبت ہو سکتی ہے، قدنی کہاں۔ کیا یہ طفیلی کی شان ہے کہ اصل کے مقابل اعزاز حاصل کرے۔ یہ اسلام کے باغی، نبوت نبوی کے منکر، نئی نبوت کے قائل۔ حضور کے دشمن تو ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ایمان تو حضرت مدنی ﷺ پر ہے، ہم قدنی کی نبوت کو کفر اور لعنت سمجھتے ہیں اور اس اصطلاح کو بغاوت تصور کرتے ہیں۔ اعاذنا الله منهم بلکہ یہ طبقہ یہاں تک چلا گیا ہے کہ اکمل مرزائی شاعر ہے۔ وہ اپنے جذبات کو
اس انداز میں بیان کرتا ہے (جس پر مرزائی سر دھنتے ہیں)
اور پہلے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(قادیانی)
بلکہ مرزا غلام آنجہانی کی بیوی کو (نعوذ باللہ) ام المومنین کے نام سے پکارا جاتا ہے اور مرزا کے دیکھنے والوں کو صحابی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ امہات المومنین کے متعلق ارشاد خداوندی ہے لستن کاحد من النساء احد نکرہ ہے۔ النساء معروف بالام ہے۔ الف لام استغراق کا ہے۔ یعنی دنیا کی کوئی بھی عورت تمہارے برابر نہیں۔ (خواہ سیدہ مریم، خواہ آسیہ، خواہ سیدہ فاطمہ کیوں نہ ہوں) یہ مرزائی ام المومنین ایسی ہے جس سے جھنڈا سنگھ (سکھ) روایت کرتا ہے۔ یہ نسبت اور یہ حدیث اور یہ تعلق۔ ہم اس تہہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ دریں ورطہ شد غرق کشتی ہزار
مسجد اقصیٰ بھی ہے بہشتی مقبرہ بھی
مرزائیوں کی فریب کاری
غیر ملکی یا ملکی مہمان جب بھی ان کے مہمان خانہ پہنچتے ہیں تو پہلے ان کو تبلیغ اسلام کرتے ہیں۔ یہ تصور دلاتے ہیں کہ ہم نے یورپ ایشیاء، افریقہ، مشرق وسطیٰ میں عیسائیت سے محاذ قائم کر رکھا ہے اور اس قسم کا لٹریچر پیش کرتے ہیں۔ ہمہ قسم کی مہمان نوازی کے بعد اگر ملازمت یا تعلیم یا تجارت یا رشتہ کی ضرورت ہو تو امداد کی پیش کش کرتے ہیں۔ پھر ایسا جال میں پھنساتے ہیں کہ اس کے لیے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے یکیدون کیدا کی عملی تصویر ہیں۔ اس سلسلہ میں جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ربوہ سے خط ملا کہ آپ اپنے تاثرات بھیجیں۔ فرمائیے ہمارا کیا تعلق لے کر آئے اور گئے۔ مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی عنوان
ایسا ملے گا جس میں ہماری مہمان نوازی کی یا تبلیغ کی یا نظم کی یا ہماری اجتماعیت کی تعریف ہو گی تو اسے خوب اچھالیں گے۔ دوسرا تعلق پیدا ہو جائے گا۔ آئندہ ہو سکتا ہے کہ شکار ہاتھ آجائے لیکن میں نے جواب میں واضح لکھا کہ تم ایک شاطر وکیل کی طرح ہو جو موکل کو صرف باتوں باتوں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسے مقصد سے ذرا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یورپ اور دیگر غیر ممالک میں تم نے اسلام کے نام پر بھاری چندے وصول کیے۔ وہاں انجمن احمدیہ کو ایک اسلامی انجمن قرار دیا۔ ربوہ کو ایک اسلامی جماعتی مرکز قرار دیا ورنہ حقیقت میں تمہیں مرزائے قدنی سے جو ربط ہے، وہ سرکار مدنی سے نہیں ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت وہ جلسہ اور لوائے احمدیت اور تحریک خلافت ہے جسے چشم گنہگار نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا۔ لاکھوں غریب، بے کس طلباء، ملازمین، سادہ لوح ان کے فریب میں آچکے ہیں۔ خدا بھلا کرے مجلس احرار اسلام کا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا اور کارکنان تحریک تحفظ ختم نبوت کا اور دیگر علماء کا، جنہوں نے اس فتنہ کو واضح کیا ہے اور ان کو کافر قرار دلوایا۔ اگرچہ قانون تو بن گیا لیکن زیر زمین یہ آگ بدستور جل رہی اور اپنی لپیٹ میں کئی سادہ لوحوں کو لے رہی ہے۔ ہمیں اس سے ہوشیار ہونا چاہیے۔ وما علینا الا البلاغ۔
(ماہنامہ "نقیب ختم نبوت" ملتان، مارچ ۱۹۹۱ء ۔ از قلم: مولانا عبدالحی)
ایک خواہش
اے کاش مجھے قادیان میں پانچ چھ تقریریں کرنے کی اجازت مل جاتی۔ وہاں میں کسی کا نام نہ لیتا، برا نہ کہتا، صرف رب کا قرآن پڑھتا اور جانتے ہو قرآن خود بخود دلوں میں گھر کرتا ہے۔
میری تقریر سن کر جو بیعت نہ بھی ہوتے، تو ان کا ضمیر انہیں ضرور ملامت کرتا۔ اگر مدمقابل کوئی شریف ہوتا جو دوسروں کی سنتا، اپنی سناتا تو مزہ آجاتا اور حق و باطل کا اظہار ہو جاتا۔ (خطاب امیر شریعت، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
ربوہ میں آزادیٔ رائے پر پابندی
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
ریاست ربوہ کا گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ وہاں کسی کو آزادیٔ ضمیر حاصل نہیں ہر کس و ناکس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اس نہج پر سوچے جو خلیفہ صاحب نے تجویز کیا ہے۔ یہ آمرانہ نظام بعینہ روسی نظام کے مشابہ ہے۔ جہاں تمام لوگوں کو ایک ہی راستہ پر سوچنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ اور ایک ہی قسم کا لٹریچر پیدا کیا جاتا ہے۔ اور ایسے ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں کہ بیرونی دنیا کے خیالات کے اثرات اندر نہ آسکیں۔ ریاست ربوہ میں تمام قسم کے اخبارات نہیں آسکتے۔ ایک سنسر بورڈ قائم کیا ہوا ہے۔ جو پہلے کتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتا ہے۔ جس اخبار اور کتاب کو اپنی پالیسی کے خلاف نہ پائیں ان کے پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اور جو اخبارات اور کتب ان کی پالیسی کے خلاف ہوتی ہیں ان کا داخلہ ربوہ میں کلیتاً ممنوع ہے۔
اخبار فروش کا واقعہ
چنانچہ حال ہی میں ایک واقعہ ربوہ میں رونما ہوا کہ چنیوٹ کا ایک اخبار فروش مبارک علی نامی ربوہ میں اخبار بیچنے گیا۔ تو وہاں کی ”خانہ ساز“ پولیس نے اس کو گھیر لیا۔ اور دفتر ناظر امور عامہ یعنی (ہوم سیکریٹری) کے پاس لے گیا۔ بدقسمتی سے اس کے پاس نوائے پاکستان کے پرچے بھی تھے۔ وہ اس سے جبراً چھین لیے گئے۔ اور اس کے سامنے ہی ان پرچوں کو پھاڑ کر جلا دیا گیا۔ اور اس اخبار فروش کو مار کوٹ کر ربوہ سے باہر نکال دیا گیا۔
اسی طرح اخبار الفضل میں بارہا دفعہ ناظر امور عامہ کی طرف سے یہ اعلان ہو چکا ہے کہ مخالفین یعنی گھر کے بھیدی کا جو لٹریچر بھی احمدیوں کے پاس پہنچے اس کو مت پڑھیں۔ بلکہ وہ مرکز میں بھیج دیں۔ (7 اپریل 1957ء الفضل)
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور مذکورہ بالا اعلان میں آپ کلی طور پر منع فرماتے ہیں کہ گھر کے بھیدی کا لٹریچر خواہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی لٹریچر پیش کرے۔ قطعاً نہ پڑھیں اور ستیارتھ پرکاش جیسی گندی کتاب اپنے خلف الرشید کو پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”میرے بچے جو جوان ہو گئے ہیں۔ میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے علاوہ ستیارتھ پرکاش اور انجیل وغیرہ بھی پڑھا کرو۔“
(12اگست 1939ء الفضل)
خوف و ہراس
ربوہ میں ایک ایسا محکمہ ہے جو لوگوں کے افکار و نظریات کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اگر کسی احمدی کا نظریہ اور رائے خلیفہ صاحب کے نظریہ سے مختلف ہو۔ تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات و افکار کو خلیفہ صاحب کے نظریات و افکار کے مطابق ڈھالے۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو اس کو مختلف طریق سے گزند پہنچانے کی پوری پوری سر توڑ کوشش کی جاتی ہے۔ تا کہ وہ مجبور ہو کر مرکز کو چھوڑ جائے۔ ان تکالیف کے باوجود اگر ریاست ربوہ نہ چھوڑنے پر بضد ہو تو محکمہ امور عامہ مقامی پولیس سے مل کر اس پر جھوٹا مقدمہ بنا کر خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ چند سال ہوئے (خاکسار) موسم گرما کی تعطیلات گزارنے ریاست ربوہ میں گیا۔ تو ربوہ کی تھاٹ پولیس (Thaught police) نے مجھے اپنے ڈھب کا نہ پایا تو مجھ پر ایک چوری کا مقدمہ بنا دیا۔ تھانیدار صاحب اور سپاہی نے مجھے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ نظارت امور عامہ آپ کے خلاف ہے۔ اس وجہ سے بہتر صورت یہی ہے کہ آپ ربوہ کو چھوڑ دیں۔
تھاٹ پولیس
جاپان میں بھی دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہی کاڈو (Shahi Kadoo) کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو تھاٹ پولیس کہتے ہیں۔ اس پولیس کا یہ فرض ہوتا تھا کہ ملک میں لوگوں کی گفتار اور افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال ”ربوی میکاڈو“ کا ہے۔ جو اپنی ریاست میں کسی کو نہ سوچنے دیتا ہے نہ کسی کو آزادی سے تالیف و تصنیف
کرنے دیتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”قاعدہ یہ ہے کہ تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف فرماویں (گو وہ کسی موضوع پر ہو) تو محکمہ تالیف و اشاعت میں روانہ فرمادیں۔ اور محکمہ مذکورہ بعد ملاحظہ و تنقیح ضروریہ اسے اشاعت کے لیے (Pass) منظور کرے۔ اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکور کے پاس کرنے کے احمدیہ لٹریچر میں شائع نہیں ہو سکتا۔“ (18 مئی 1922ء الفضل)
”اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری حضرت خلیفہ المسیح بذریعہ ریزولیشن نمبر 1، 1928ء یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتاب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف و اشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔“ (29 جنوری 1933ء الفضل)
اجازت نہیں
چنانچہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ المبشر نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا ہے جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ خلیفہ صاحب کے نزدیک بعض نقائص اور عیوب ایسے تھے کہ جن کے ہوتے ہوئے المبشر کو مرکز سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔“ (28 اگست 1937ء الفضل)
”اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب بیان المجاہد (جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ و تعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں جب تک نظارت دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔“ (10 دسمبر 1933ء الفضل)
ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ ”اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو وہ اسے فوراً تلف کردیں۔ اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں وہ سب تلف کر دی جائیں۔“
(7 دسمبر 1933ء الفضل)
جب نظارت تالیف و تصنیف کو اس ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی۔ اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا۔“ (4 دسمبر 1934ء الفضل)
غور کیجئے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔ "اب تک میں تین رسالوں کو اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں۔" (4 مارچ 1936ء الفضل)
ربوہ کا روسی نظام
ریاست ربوہ میں کوئی ایسا لٹریچر داخل نہیں ہو سکتا جو اس ریاست کی پالیسی کے خلاف ہو۔ اسی طرح اس ریاست میں روسی نظام کی طرح کوئی آدمی بھی جو ان کے خیال کا ہمنوا نہ ہو اس کو آزادی سے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ وارد شدہ آدمی سے کسی قسم کی گفتگو کر سکے۔ چنانچہ غلام محمد صاحب جو خلیفہ صاحب کے نظریات اور عقائد کے خلاف ہیں۔ ایک نجی کام کے لیے ربوہ میں گئے ربوہ کی تھانہ پولیس نے ربوہ سے نکال دیا تاکہ وہ لوگوں میں اپنے خیالات و افکار کا اثر نہ چھوڑ سکے۔
رشتہ داروں سے ملنا ممنوع
اسی طرح محمد یوسف صاحب ناز (خلیفہ صاحب کے محرم راز) اور ان کے ہمراہ عبدالمجید اکبر صاحب جو ان کے ماموں ہیں۔ اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو ملنے کے لیے ربوہ گئے تو ان کی خانہ ساز پولیس نے اپنی کڑی نگرانی میں گھیر کر ناظر امور عامہ کے سامنے پیش کیا۔ تو ان کو اپنے رشتہ دار سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔ بلکہ ان کو حکم دیا کہ وہ ریاست ربوہ کو فوراً سے پیشتر چھوڑ دیں ورنہ ان کی زندگی کے ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔
ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ کی طرف سے ایک ایسا آہنی نظام قائم ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگ نہ تو مخالفین کے خیالات سن سکتے ہیں اور نہ دوسروں کا لٹریچر پڑھ سکتے ہیں۔ میں حکومت پاکستان سے استدعا کرتا ہوں کیا ایک مذہبی دینی اور تبلیغی جماعت جنہوں نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے ان کی طرف سے امتناعی تعزیری اقدام ان کے لیے باعث فخر ہو سکتے ہیں۔ پس گورنمنٹ کا اولین فرض ہے کہ ریاست ربوہ کے لوگوں کو آزادی ضمیر دینے کے لیے مناسب اقدام کرے تاکہ وہ اس مطلق العنان آمر کے آہنی چنگل سے نجات پاسکیں۔
قرآن کریم کے لفظ ”ربوہ“ کا تحقیقی مطالعہ
ڈاکٹر محمد سید اعزاز الحسن شاہ
نحمده ونصلی وسلم علی رسوله الكريم . بسم الله الرحمن الرحيم وبعد
لفظی ترجمہ قرآن مجید میں ربوہ لفظ کا دو دفعہ استعمال ہوا ہے:
- (۱) كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ (سورۃ البقرہ، ۲۶۵) اور
- (۲) وَ آوَيْنَا هُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ (سورۃ المومنون۔ ۵)
پہلی آیت میں جو سطح زمین سے بلند جگہ پر ہو اور دوسری آیت میں ”عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو ایک ٹیلہ پر ٹھکانہ دیا۔ اس لفظ کا اصل مادہ ”رب و“ ہے۔ جو کہ قرآن مجید میں مختلف جگہوں میں مختلف شکلوں کے ساتھ وارد ہوا ہے۔ ان تین حروف کو جب یکجا کریں تو یہ لفظ ”ربوا“ کی شکل اختیار کر جاتا ہے، جس کا قرآن مجید میں اس طرح ذکر ہوا ہے
”احل الله البيع وحرم الربوا (البقرہ ۲۷۵)
یعنی اللہ نے خرید وفروخت کو جائز کیا ہے جبکہ سود کو حرام کیا ہے؟ یہ اصل ہر زیادتی کا نام ہے۔ پھر اس زیادتی پر جب مزید زیادتی ہوتی ہے تو اس میں سختی کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ اس پیرائے کی تعبیر کے لئے قرآن مجید نے لفظ رابیہ استعمال کیا ہے۔ فَاَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً (الحاقہ : ١٠) ہم نے انہیں انتہائی سخت طرح پکڑ لیا۔ یہ رابیہ بھی رب و سے ہی ماخوذ ہے۔ اس کے مصدر کا فعل مضارع یربو اور یربی دونوں طرح قرآن مجید میں مستعمل ہیں۔
ربوۃ لفظ کی قرأت تین طرح کی جاتی ہے۔ عام مشہور قرأت ”رَبْوَة“ ہے جبکہ ”رُبْوَة“ اور ”رِبْوَة“ بھی ہے۔ پہلی دو قرأتوں کا ذکر لسان العرب نے کیا ہے۔ (لسان العرب مادہ ربا) جبکہ تیسری قرأت کا ذکر امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں (مفردات القرآن مادہ رب و) امام راغب نے اس کا تلفظ ”رباوۃ“ بھی پڑھا جانا ذکر کیا ہے جبکہ لسان العرب نے ”رَبْوَة“ پڑھنے کو ترجیح دی ہے۔ اور ربوہ پڑھنا بنو تمیم کی لغت قرار دیا ہے۔ اور اس کی جمع رُبَی اور رِبی بتائی ہے۔ لسان العرب نے ”ربوۃ“ پڑھنے کی شاید اس لئے رائج قرار دیا ہے۔ کہ اہل عرب اپنی عام محاوراتی زبان میں کہتے ہیں۔ مرت بنا ربوہ من النّاس (وھی
الجماعته العظیم نحو عشره الاف) یعنی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کا ہم سے گزر ہوا (جس سے مراد تقریباً دس ہزار اور اسی طرح ربوۃ“ کا استعمال بھی اہل عرب زبان و) لسان العرب میں مزید اس مادہ کا ماضی فعل مضارع اور مصدر اور اس کی توضیح اس طرح کی گئی۔
ربا الشی يربو ربوا و رباء
بمعنی زاد و نما یعنی کسی چیز کا بڑھنا اس کا مضارع یربوا اور مصدر ربوا اور رباء بمعنی زیادہ ہونا اور بڑھنا اور اس سے ثلاثی مزید فیہ اربیتہ صیغہ ہے کہ میں نے اس کو زیادہ کیا اور بڑھایا قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔ يُرْبِى الصَّدَقَاتِ یعنی صدقات میں اضافہ کرتے ہیں اور حدیث صدقہ میں یوں مذکور ہے۔ تَرْبُوا فِى كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُوْنَ اَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ ۔ کہ صدقہ رحمن کے ہاتھوں میں بڑھ بڑھ کر پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ اور عام محاورہ میں کہتے ہیں ربا السویق یعنی ستو میں جب پانی ڈالا جاتا ہے تو وہ پھول جاتا ہے اس کے لئے یہ محاورہ بولا جاتا ہے اسی طرح قرآن مجید میں زمین کی جو صفت بیان ہوئی ہے۔ مَثَلاً اِهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ اَىْ عَظَمَتْ وَانْتَفَخَتْ یعنی زمین پھول کر پھٹ پڑی۔ حدیث شریف میں یہ لفظ اس طرح وارد ہے۔
الْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ اَىْ اَرْفَعُهَا یعنی فردوس جنت کی اونچی جگہ ہے۔ باقی جنتوں کے مقابلہ میں (لسان العرب مادہ رب و) ربوہ اور رَبْوَه کے فرق اکثر لغات نے تو واضح نہیں کیا۔ جبکہ ابن کثیر نے اپنی کتاب النہایہ فی غریب الحدیث والاثر میں یہ فرق کیا ہے۔ الربوه بالضم والفتح والضم ما ارتفع من الارض ۔ یعنی ربوہ مضموم اور مفتوح دونوں طرح مگر اگر مضموم ہو تو اس کا معنی سطح زمین سے اونچی زمین۔ باقی اگر بالفتح تو یہ زیادتی کے معنی میں ہو گا۔ جیسا حدیث طمغہ کے حوالے سے مذکور ہے ”مَنْ اَبْىٰ فَعَلَيْهِ الرَّبْوَةُ“ یعنی جو زکوٰۃ کے انکاری ہو تو اس سے اصل زکوٰۃ کی رقم سے زائد وصول کیا جائے گا۔ اور اس طرح مَنِ اقْرُبَا لُجَزْيَةِ فعليه الرَبْوَه یعنی جو اسلام اس لئے قبول نہیں کرتا اس میں آ کر زکوٰۃ دینی پڑے گی تو اس سے اصل جزیہ کی رقم سے زائد جزیہ لیا جائے گا۔ (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ج ۲ ص ۱۹۲) اس فرق سے تو یہ قول حق ٹھہرا کہ قرآن مجید نے جن دو جگہوں میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ اسے ”ربوہ“ پڑھنا اُولیٰ ہے۔ جیسا کہ صاحب لسان العرب کی ترجیح ہے۔ النجم المفہرس للالفاظ الحدیث کے حوالہ سے ترمذی میں سورۃ المؤمنون کی تفسیر میں اس لفظ کے ذیل میں لکھا ہے۔ ”الفردوس ربوۃ الجنة واوسطها وافضلها یعنی فردوس یہ جنت کا ربوہ (اونچی جگہ) اور جنت کا بہترین مقام ہے۔ اور
مسند احمد میں منقول ہے
(۲) روایات تجزیہ
اللہ تعالیٰ نے
دیا اس کو ربوہ سے تعبیر
ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ الـ
سنا کہ بنی اسرائیل کا باد
ملک سے نکل جاؤ نکل
عبدالقادر۔ ترجمہ قرآن
(۲) تفسیر جلالین
ذکر فی سـ
عیسیٰ
یعنی ان کے
کو قتل کرنا چاہا۔ (تفسیر
(۳) تفسیر مظہری
قتل کے درپے ہو گیا تـ
(۴) تفہیم القرآ
والدہ کو گلیل کے شہر نا
(۵) تفسیر حسینی
کے حوالہ سے نقل کیا
ہے جہاں حضرت عیسیٰ
رملہ اس کـ
چھاؤنی رہ چکی ہے۔ ا
(۶) قلمی تفسیر
ارض مرتفع وہی بیت الـ
یا تو بیت المقدس یا دَ
مسند احمد میں منقول ہے۔ لا ان عمل الجنة حزن بربوہ (مسند احمد ج ۵ ص ۳۲۷ و ج ۳ ص ۴۶۰)
(۲) روایاتی تجزیہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ مریم علیہ السلام کو جس جگہ ٹھکانہ دیا اس کو رَبْوہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالقادر موضح القرآن حاشیہ میں نقل فرماتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب ماں سے پیدا ہوئے تو اس وقت کے بادشاہ نے نجومیوں سے سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا ہے۔ وہ ان کی تلاش میں پڑا، ان کو بشارت ہوئی کہ اس کے ملک سے نکل جاؤ، نکل کر مصر کے ملک گئے۔ وہ گاؤں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا (شاہ عبدالقادر۔ ترجمہ قرآن مجید ص ۵۷۱ تاج کمپنی
- (۲) تفسیر جلالین نے بھی اس نکتہ سے اتفاق کیا ہے۔
ذکر فی سبب ہذا الایواء ان ملک ذلک الزمان عزم علیٰ قتل عیسیٰ یعنی ان کے ٹھہراؤ کے سبب کے بیان میں کہ اس زمانے کے بادشاہ نے حضرت عیسیٰ کو قتل کرنا چاہا۔ (تفسیر جلالین کلاں حاشیہ ص ۳۹۰ مطبوعہ نور محمد کراچی)
- (۳) تفسیر مظہری کا بھی اس سے اتفاق ہے۔ کہ یہودی بادشاہ ہیر دوس جب حضرت عیسیٰ کے
قتل کے در پے ہو گیا تھا تو حضرت مریم بچہ کو لے کر مصر چلی گئی تھیں۔ (تفسیر مظہری ج ۸ ص ۱۹۱)
- (۴) تفہیم القرآن میں ہیر دوس کے بعد ارخلاؤس کے عہد حکومت کا ذکر ہے۔ کہ ان کی
والدہ کو گلیل کے شہر ناصرہ میں پناہ لینی پڑی (بحوالہ متی ۱۳:۲ تا ۲۲) تفہیم القرآن ج ۳ ص ۲۸۱)
- (۵) تفسیر حسینی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ رملہ فلسطین ہے انہوں نے کشاف
کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رملہ فلسطین وہی ربوہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ٹھہرے۔ (قلمی نسخہ تفسیر حسینی ص ۶۶ ج ۳)
رملہ اس کا واحد الرمل ہے۔ فلسطین کا بہت بڑا شہر ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی رہ چکی ہے۔ (معجم البلدان ج ۳ ص ۶۹)
- (۶) قلمی تفسیر۔ ترجمان القرآن بالبیان مؤلفہ کلیم الدین نور اللہ ۱۱۴۷ھ کے حوالہ سے ربوہ
ارض مرتفع وہی بیت المقدس او دمشق او ایلیاء فلسطین او مصر) یعنی ربوہ یہ اونچی زمین کو کہتے ہیں۔ یہ یا تو بیت المقدس یا دمشق یا ایلیا فلسطین یا مصر ہے۔ (تفسیر مذکور کا ص ۴۳۳) ایلیاء کے متعلق معجم
البلدان میں مذکور ہے کہ اسم مدینۃ بیت المقدس کو یہ کہ کسی شہر کا نام ہے۔ (معجم البلدان ص ۲۹۳ ج ۱) دمشق کے وضاحتی نوٹ میں صاحب معجم البلدان آیت ۔ ”و آویناہما “ نقل کر کے لکھتے ہیں کہ وہی دمشق ذات قرار و معین و ذات رضاء من العیش یعنی یہ دمشق ہے کہ جو زندگی کی نعمتوں سے مالا مال ہے‘ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ان عیسیٰ ینزل عند المنارۃ البیضاء من شرقی دمشق کہ عیسیٰ علیہ السلام کہ دمشق کے شرقی سفید مینار پر نزول فرمائیں گے۔ اور والمغارۃ التی فی جبل الطور ب یقال انہا کانت ماوی عیسیٰ علیہ السلام اور جبل یثرب کی جو غار ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کی جائے پناہ تھی۔ (معجم البلدان ج ۳ ص ۴۶۴) اسی طرح اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں دمشق کے وضاحتی نوٹ کے سلسلہ میں مذکور ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ (یہاں) ایک پرسکون ٹیلہ (ربوہ) پر قیام فرمائے ہوئے تھے۔ (الی ربوہ ذات قرار ۲۳: (المومنون ۵۰) اور دنیا کے خاتمے کے قریب دجال سے لڑنے کے لئے سفید مینار پر جسے کبھی تو مشرق مینار قرار دیا جاتا تھا۔ اور کبھی مسجد جامع کا شرقی مینار نزول اجلال فرمائیں گے۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ ج ۹ ص ۳‘ ۴ مادہ (دمشق)
- (۷) مولانا ابو الکلام ۔ ترجمان القرآن میں اس آیت کے زیر حاشیہ تحریر کرتے ہیں ہم
نے انہیں ایک مرتفع مقام پر پناہ دی جو بسنے کے قابل اور شاداب تھا۔ غالباً اس سے مقصود وادی نیل کی بالائی سطح ہے یعنی مصر کا بالائی حصہ ۔ اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی پیدائش کے بعد مریم اسی مقام پر قیام پذیر ہوئیں۔ (ترجمان القرآن ج ۲ ص ۵۳ مطبوعہ اسلامی اکادمی)
- (۸) امام قرطبی نے الجامع الاحکام القرآن میں تحریر کیا ہے کہ ابو ہریرہؓ کے ایک قول
بموجب فلسطین اور رملہ ہے اور نبی علیہ السلام سے بھی مروی ہے۔ نیز ابن عباسؓ، ابن المسیب اور ابن سلام کے نزدیک یہ دمشق ہے۔ کعب اور قتادہ کے نزدیک بیت المقدس اور ابن زید کے نزدیک مصر (الجامع الاحکام القرآن ج ۱۲ ص ۱۶۲ مطبوعہ ایران)
- (۹) البدایہ والنہایہ میں ضحاک عن ابن عباس روایت کرتے ہیں یہود کے خطرہ کے موجب
اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ انہیں مصر کی طرف لیکر چلی جائے۔ اور قرآن مجید میں وجعلنا ابن مریم وامہ ...... میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ (البدایہ ج ۲ ص ۷)
- (۱۰) تفسیر حسینی کے قلمی نسخہ میں ایک روایت یہ بیان کی گئی ہے ”آوردہ اند کہ مریم با پسر
و پسر عم خود یوسف آیت ”الی ربوہ ذات قرار و معین“ ذکر ہے۔ (دائر معارف بستانی ج ۸ ص
۵۴۸ مادہ ربوہ دار المعرفہ بیروت) نی حوالہ بھی گزرا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس کی جنت نظیر جگہ ہے۔ اس کے نیچے ہ مسجد کی شکل میں تعمیر شدہ ہے۔ اس کے میں گرتا ہے۔ اس مسجد کے ایک پہلو م یہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی ہے ہے۔ (معجم البلدان ج ۳ ص ۲۶ دار نہر بردی یا دریا بردی یہ دمشق میل دور قوتا نامی جگہ سے بعلبک کے ن نہر یزید یا دریا یزید میں چلا جاتا ہے اس کا پانی پھر تین حصوں میں بٹ جاتا ۔ مغربی جانب باناس نامی دریا میں (معجم شاداب مقامات کی بہتات یہ سیدنا عیسیٰ
ربوہ کا تحریفی پہلو:
ربوہ کا لفظ ہمیں دمشق ۔ گاؤں 'چک ڈھکیاں' جو کہ دریائے چن جاتا ہے۔ اس گاؤں کو آج ”ربوہ“ کے حال میں بدستور 'ڈھکیاں' (چک ڈھکی پاکستان بننے کے بعد ظہور پذیر ہوئی۔ انجمن احمدیہ کو دی۔ تو قادیانی جماعت ۔ ”ربوہ“ رکھا۔ قرآنی لفظ کا بے جا استعما سازش ہے جو کہ کفر کا وطیرہ چلا آتا ہ تفسیر میں (جس کا پہلے ذکر نظریہ کشمیر کی تردید کی ہے۔ کہ ربوہ ربوہ بعد میں بنا جب وہ دنیا سے جا چکے
۵۳۸ مادہ ربوہ دار المعرفہ بیروت) نیز صاحب معجم البلدان یاقوت بن عبداللہ الحموی جس کا حوالہ بھی گزرا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دمشق ہے دمشق کے پہاڑ کے دامن میں دنیا کی جنت نظیر جگہ ہے۔ اس کے نیچے دریا بردی ہے۔ یہ دریا غوطہ پر ایک خوبصورت تاریخی مقسم کی شکل میں تعمیر شدہ ہے۔ اس کے اوپر دریا یزید بہتا ہے۔ جس کا پانی اس مقسم کے حوض میں گرتا ہے۔ اس مقسم کے ایک پہلو میں ایک گھاٹی سی غار نما جگہ ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی ہے۔ جس کا قرآن مجید میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ (معجم البلدان ج ۳ ص ۲۶ دار صادر بیروت)
نہر بردی یا دریا بردی یہ دمشق کا سب سے بڑا مشہور دریا ہے۔ یہ دمشق سے کوئی پانچ میل دور فونا نامی جگہ سے بعلبک کے نزدیک چشموں کے پانیوں سے بنتا ہے۔ اس کا کچھ پانی نہر یزید یا دریا یزید میں چلا جاتا ہے اسی طرح جب یہ دریا دمر نامی بستی کے پاس پہنچتا ہے تو اس کا پانی پھر تین حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ یعنی دریا بردی کے شمال میں شالی ثوری نامی دریا اور مغربی جانب باناس نامی دریا میں (معجم البلدان ج ۱ ص ۳۷۸) دریاؤں آبشاروں چشموں سرسبز شاداب مقامات کی بہتات یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جنم بھومی قرار پاتی ہے۔
ربوہ کا تحریفی پہلو:
ربوہ کا لفظ ہمیں دمشق سے پاکستان کے ضلع جھنگ تحصیل چنیوٹ کے قدیمی گاؤں ”چک ڈھکیاں“ جو کہ دریائے چناب کے شمالی کنارہ پر فیصل آباد سرگودھا روڈ پر واقع لے جاتا ہے۔ اس گاؤں کو آج ”ربوہ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا اصلی نام کاغذات مال میں بدستور ”ڈھکیاں“ (چک ڈھکیاں) چلا آ رہا ہے۔ اصلی نام کی جگہ جعلی نام کی تبدیلی پاکستان بننے کے بعد ظہور پذیر ہوئی۔ جب گورنر موڈی نے اس چک کی زمین ۹۹ سالہ ٹھیکہ پر انجمن احمدیہ کو دی۔ تو قادیانی جماعت کے وڈیروں نے اس چک کا نام اپنی مذہبی مناسبت سے ”ربوہ“ رکھا۔ قرآنی لفظ کا بے جا استعمال تحریف قرآن کے زمرہ میں آتا ہے جو کہ کفر کی ناپاک سازش ہے جو کہ کفر کا وطیرہ چلا آتا ہے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنی تفسیر میں (جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ۔) آیت ”الی ربوۃ ذات قرار و معین“ کے عین قادیانی نظریہ کشمیر کی تردید کی ہے۔ کہ ربوہ سے مراد کشمیر ہے۔ وہ اس ربوہ کی بھی تردید کرتے چونکہ یہ ربوہ بعد میں بنا جب وہ دنیا سے جا چکے تھے۔ لہٰذا انہیں تردید کا موقعہ نہ ملا۔
(ب) ربوہ سے مراد کشمیر:
مرزا بشیر الدین محمود اپنے قرآنی ترجمہ بعنوان تفسیر صغیر میں آیت و آوینا ھما کے تحت کیا ہے۔ کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ اونچی جگہ کشمیر تھی بائبل یہودیوں اور ہندوؤں کی تاریخ سے بہت حوالے اس کی تائید میں ملتے ہیں۔ قادیانی وڈیرے مرزا بشیر الدین کو مسلمانوں کی تاریخ سے کوئی حوالہ تو نہ مل سکا البتہ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کے مصداق اپنی کفار برادری سے اس کے تائیدی حوالے ملے۔ پھر دیانت داری یہ کہ ایک حوالہ بھی تحریر میں نہ لا سکے۔ اس طرح قرآنی ترجمہ نگار مولوی محمد علی نے بھی اس آیت کے ذیل میں اپنی کتاب ”بیان القرآن“ میں مسلم مؤرخین مفسرین اور ترجمہ اور تفسیر نگاروں کی جملہ آراء کو جھٹک کر رکھ دیا۔ اور اپنے کشمیر کے نظریے کو پیش کرنے میں سعی لاحاصل کی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو کتاب مذکورہ پر اس کا وضاحتی نوٹ (بیان القرآن ص ۹۴۵) کشمیر تو پرانی تحقیق ہے۔ اب ربوہ نام کی بستی پاکستان ضلع جھنگ کے نقشہ میں موجود ہے۔ تو اس کا مصداق قادیانیت کی نگاہ میں یہی وہ ربوہ ہے جو آیت میں مذکور ہے۔ اگر قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینا ضروری تھا تو اس قرآنی اصطلاح اور لفظ کا تقدس اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ اور اس کی جگہ چک ڈھکیاں اصل نام زبان خلق ہونا چاہیے۔ کفر اور مسخر بالکفر دونوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ مسلمان علماء میں سے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی دامت برکاتہم نے اس سلسلہ میں کافی کوشش کی ہے کہ اس (ربوہ) نام کو تبدیل کیا جائے۔ اور بلدیہ ربوہ نے اپنے ایک بل کے ذریعے اس تبدیلی کو پاس کر لیا ہے۔ مگر ہنوز عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہ نکتہ ہمارے مطالعہ کا ایک حصہ تھا۔ جس کا ہم نے ذکر کر دیا ہے۔
حاصل بحث :
بحث کا ماحاصل یہ ہوا کہ واقعات اور حقائق کے تناظر میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی جگہ ”بیت اللحم“ ہے اور یہ جگہ ایک ٹیلہ ہے جیسا کہ الموسوعة الذهبیہ میں مذکور ہے۔ وَهِيَ تَقَعُ عَلَى تِلال تُغَطِّيْهَا مَزَارِعِ الكُرُومِ وَالزَّيْتُونِ۔ یعنی یہ ٹیلہ ہے جس کے گردا گرد زیتون اور انگور کے کھیت ہیں اور اس کتاب میں بیت اللحم کی تعریف میں ذکر کیا ہے۔ وَهِيَ لَيْسَتْ بِبَعِيدَةٍ عَنْ مَدِينَةِ الْقُدُسِ لَيْسَتِ فِي بَيْتِ اللَّحْمِ سِوَى شَارِعٌ وَاحِدٍ طَوِيلٍ يَقُودُ إِلَى كَنِيسَةِ الْمِيْلَادِ الَّتِي شُيِّدَتْ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَعْتَقِدُ أَنَّ الْمَسِيحَ وُلِدَ فِيْهِ۔ یعنی بیت اللحم Bythlehem قدس شہر سے زیادہ دور نہیں اور اس
میں صرف ایک لمبی سڑک ہے۔ جو جہاں عقیدہ کے مطابق حضرت عیسی طرح مفسرین نے آیت مذکورہ بوقت پیدائش ایک دور جگہ لے گئی طحاوی کا قول ہے بعیداً عن اہلہا وادی کے آخر یعنی بیت اللحم میں ا اللحم کی تفسیر پہلے ہم معجم البلدان س ہے یا بیت المقدس سے جبرین کی ط اس جغرافیائی نقشہ سے واضح ہے۔ فلسطین رملہ فلسطین بیت المقدس ا ہیں یعنی اس سارے علاقہ پر فلسطی ہیں۔ یہاں تک کہ دمشق بھی اس اس میں ہے۔ جس کی وجہ سے آپ جگہ پر درست ہیں باقی غیر مسلم ق قول کیا ہے۔ حقائق اس کی نفی کر تحریف قرآنی کا ایک عملی ثبوت ۔ تاویل باطل کی راہ ہموار کرتا ہے حضرت عیسیٰ کے ابن اللہ (اللہ کا آیت ان ہو الا عبد انعمنا علیہ کہ وہ ان رسول ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم قا ’یعنی حضرت مریم اپنے لڑکے اور جگہ پر رہے۔ (تفسیر حسینی قلمی ص
(۱۱) جلالین نے تفسیر صاوی
(۱۲) مولانا حفظ الرحمان سیو
میں صرف ایک لمبی سڑک ہے۔ جو کہ میلاد نامی گرجا کی طرف جاتی تھی۔ جو اس جگہ تعمیر شدہ ہے جہاں عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی۔ (الموسوعة الذھبیہ ج ۳ ص ۲۴۲) اسی طرح مفسرین نے آیت فحملتہ فانتبذت بہ مکاناً قصیا (مریم: ۲۲) یعنی حضرت عیسیٰ کی والدہ انہیں بوقت پیدائش ایک دور جگہ لے گئیں۔ کی نشان دہی بیت اللحم کی طرف کی ہے۔ جیسا کہ علامہ طنطاوی کا قول ہے بعیداً عن اھلھا ای اقصی الوادی و ھو بیت اللحم یعنی اپنے گھر والوں سے دور وادی کے آخر یعنی بیت اللحم میں (الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم للطنطاوی ج ۱۰ ص ۸) بیت اللحم کی تفسیر پہلے ہم معجم البلدان کے حوالہ سے لکھ چکے ہیں کہ یہ دمشق اور بعلبک کے درمیان ہے یا بیت المقدس سے جبرین کی طرف ہے۔ یہ علاقہ فلسطین کا ہے۔ جیسا کہ مقبوضہ فلسطین کے اس جغرافیائی نقشہ سے واضح ہے۔ ذرا نقشہ ملاحظہ ہو۔ اس نقشہ کی رو سے جہاں مفسرین نے فلسطین رملہ، فلسطین بیت المقدس اور مصر کے اقوال درج کیے ہیں وہ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں یعنی اس سارے علاقہ پر فلسطین کی چھاپ ہے اور اس کے اندر یہ سب علاقے آ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ دمشق بھی اس نقشہ میں شامل ہے۔ اور حضرت عیسیٰ کی رہائش شہر ناصرہ بھی اس میں ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو المسیح الناصری کہا جاتا ہے۔ لہٰذا اب تمام احتمالات اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں باقی غیر مسلم قرآنی ترجمہ نگاروں نے جو ”ربوہ“ اس صفاتی نام سے کشمیر کا قول کیا ہے۔ حقائق اس کی نفی کرتے ہیں۔ اور اس صفاتی نام سے کسی شہر کا حقیقی نام رکھنا یہ تحریف قرآنی کا ایک عملی ثبوت ہے۔ جو کہ غیر مسلم کا داؤ پیچ ہے۔ جو متشابہ آیات سے اپنی تاویل باطل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جیسا کہ عیسائیوں نے وکلمتہ القاہا الی مریم و روح منہ سے حضرت عیسیٰ کے ابن اللہ (اللہ کا بیٹا) ہونے کا دعویٰ کیا اور ان کی خدائیت کا قائل رہا۔ اور محکم آیت ان ہو الا عبد انعمنا علیہ کہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم قادیانی فرقہ نے بن ماتان دوازدہ سال در آن موضع بسر کردند۔ ”یعنی حضرت مریم اپنے لڑکے اور یوسف بن ماتان اپنے چچا کے صاحبزادہ کے ہمراہ ۱۲ سال اس جگہ پر رہے۔ (تفسیر حسینی قلمی ص ۶۶۰ محفوظ کتب خانہ جامعہ عربیہ چنیوٹ ضلع جھنگ)
- (۱۱) جلالین نے تفسیر صاوی کے حوالہ سے یہی بات نقل کی ہے کہ آپ کی والدہ اس ٹیلہ
پر لے گئیں اور یہاں ۱۲ سال رہیں اتنے میں وہ بادشاہ مر گیا۔ (جلالین کلاں حاشیہ ص: ۲۹۰)
- (۱۲) مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی قصص القرآن میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
حالات و واقعات پر تبصرہ فرماتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی جائے ولادت کی جگہ کو ٹیلہ (ربوہ) سے تعبیر کیا ہے۔ اور یہ وہ جگہ ہے کہ آپ کی والدہ پیدائش کے قریب بیت المقدس سے دور تقریباً ۹ میل کوہ سراۃ (ساعیر) کے ایک ٹیلہ پر چلی گئیں جو اب بیت اللحم کے نام سے مشہور ہے (قصص القرآن ج ۴ ص ۴۲) بیت اللحم کے متعلق صاحب معجم البلدان نے یوں توضیح کی ہے۔ بیت المقدس کے آس پاس ایک پر رونق جگہ ہے۔ یہاں ایک جگہ مہد عیسیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کا محل وقوع بیت المقدس سے جبرین کی طرف ہے۔ جبرین بیت المقدس اور عسقلان کے درمیان ایک قلعہ ہے۔ اس کو عمرو بن العاص نے فتح کیا تھا اور اس کو اپنی جاگیر میں شامل فرمالیا۔ اس کا نام غلام کے نام پر عجلان رکھا۔ اور ایک روایت کے مطابق بیت اللحم دمشق اور بعلبک کے درمیان ایک بستی کا نام ہے۔ (معجم البلدان ص ۱۰۲ ج ۲) اسی ساعیر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے ظہور کی پیش گوئی سابقہ آسمانی کتابوں میں ہوئی۔ چنانچہ قصص القرآن میں مذکور ہے۔ توراۃ انجیل اپنی لفظی و معنوی تحریفات کے باوجود آج بھی چند بشارات کو اپنے سینہ میں محفوظ رکھتی ہے۔ جو مسیح علیہ السلام کی آمد سے تعلق رکھتی ہیں۔ توراۃ استثناء میں ہے اور اس میں موسیٰ نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور سعیر (ساعیر) سے ان پر طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑوں سے جلوہ گر ہوا۔ (باب ۳۳ آیت ۱۰) اس بشارت میں سینا سے خدا کی آمد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی جانب اشارہ ہے اور ساعیر سے طلوع ہونا نبوت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہے۔ کیونکہ ان کی ولادت با سعادت اسی پہاڑ کے ایک مقام بیت اللحم میں ہوئی۔ اور متی کی انجیل میں ہے۔ جب یسوع ہیر دوس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت اللحم میں پیدا ہوا۔ (باب ۲ آیات ۱۔۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیت المقدس کی سرزمین ہے جسے الیٰ رُبوَۃ ذات قرار و معین کہا گیا ہے۔
- (۱۳) ابن کثیر نے تفسیر میں لفظ معین کی تشریح میں لکھا ہے کہ معین سے نہر جاری مراد ہے اور
یہ اس نہر کا ذکر ہے جس کو آیت قد جعل ربک تحتک سریا میں بیان کیا گیا ہے۔ اور ضحاک اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ کہ الیٰ ربوۃ ذات قرار و معین سے بیت المقدس کی سرزمین مراد ہے اور یہی قول زیادہ ظاہر ہے۔ (قصص القرآن ص ۴۶ ج ۴)
- (۱۴) جامعہ الملک عبدالعزیز مکہ مکرمہ کے نامور مفسر قرآن محمد علی الصابونی نے اپنی تفسیر صفوۃ
التفاسیر میں آیت و آویناھما کے تحت ابن کثیر سے موافقت کی ہے وہ کہتے ہیں ای وجعلنا منزلہما ومأواہما الی مکان مرتفع من ارض بیت المقدس (صفوۃ التفاسیر ص ۳۱۰ ج ۲) یعنی ان دونوں کی جائے رہائش اور ان کا ٹھکانہ بیت المقدس کی اونچی زمین پر بتائی۔ اور ذات قرار و معین ای مستویۃ یستقر علیہا وماء جار ظاہر للعیون قال الرازی : القرار: المستقر کل ارض مستویۃ مبسوطۃ والمعین، الماء الجاری علی الارض وعن قتادہ ذات ثمار وماء یعنی انہ لاجل الثمار یستقر فیہا ساکنوہ۔ یعنی ذات قرار و معین سے مراد ہموار زمین اور پانی کا چل چلاؤ آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہو۔ امام رازی کے حوالہ سے قرار سے مراد ہموار زمین ہے۔ اور معین سے مراد زمین پر چلتا ہوا پانی اور قتادہ کے نزدیک پانی کے ساتھ پھل بھی۔ کیونکہ پانی اور پھلوں کی وجہ سے لوگوں کا وہاں رہائش پذیر رہنا ممکن ہو گا۔ (صفوۃ التفاسیر سابقہ حوالہ )
روایت تطبیق :
اس توضیح نے تو ماں بیٹے (یعنی عیسیٰ اور ان کی والدہ) کی رہائش گاہ اور ٹھکانے کو ایک سبز و شاداب جگہ قرار دیا ہے۔ جہاں زندگی کی ضروریات خوب ہوں اور جنت نظیر جگہ ہو۔ صاحب معجم البلدان اس کو دمشق قرار دیتے ہیں (جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے) بیت اللحم دمشق اور بعلبک کے درمیان واقع ہے۔ اگر آپ کی پیدائش بیت اللحم میں ہوئی ہو تو دمشق سے ملحقہ ہونے کی وجہ سے اس کو دمشق کہہ دیا جائے تو عین ممکن ہے پھر صاحب معجم البلدان کے بقول کہ بیت المقدس کے آس پاس ایک جگہ ”مہد عیسیٰ“ کے نام مشہور ہے۔ اس جگہ کو اگر دمشق میں شامل کر لیا جائے تو یہ عین ممکن ہے۔ اور چونکہ عیسیٰ کو دمشق سے خاصی مناسبت ہے۔ کہ قرب قیامت وہ دمشق کی جامع مسجد کے شرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے۔ تو اس مناسبت سے آپ کی پیدائش جو کہ بیت المقدس کے قریب کوہ ساعیر پر دمشق کا اطلاق کر دیا جائے تو یہ بھی خلاف قیاس نہیں۔ چونکہ قرآن پاک نے خود اس کو مطلق چھوڑا ہے مقید نہیں کیا اس لئے اس کو ایک جگہ سے مقید تو نہیں کیا جاسکتا۔ اب ربوہ سے مراد روایات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش کو لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اگلے زمانہ کے تغیرات کے بموجب آپ نے جو مختلف جگہوں پر سکونت اختیار کی ہو تو یہ معجزاتی رنگت اختیار نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے جس خصوصیت سے بطور انعام جس جز کا آیت شریفہ میں بیان کیا وہ حضرت عیسیٰ کے زمانہ حمل سے
لیکر زمانہ ولادت تک کے واقعات کا احاطہ اور بحفاظت دنیا پر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس مذکور بالا قول کی تائید مفسر قرآن علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے تفسیری وضاحتی نوٹ سے ہوتی ہے۔ جو انہوں نے آیت الی ربوہ ذات قرار و معین کے زیر فائدہ نمبر ۱۲ تفسیر کے حاشیہ میں تحریر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں شاید یہ وہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چنانچہ سورۃ مریم کی آیت ”فناداھا من تحتھا“ دلالت کرتی ہے کہ وہ بلند جگہ تھی نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا (پھر ہیردوس وغیرہ کا واقعہ نقل کیا) مزید آگے لکھتے ہیں بعض نے ربوہ (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ (تفسیر عثمانی ص ۴۲۵۹ حاشیہ فائدہ نمبر ۱۲)
اس جائے ولادت کی تصویر کشی کرتے ہوئے ابن بطوطہ کے حوالہ سے دائرہ معارف بستانی نے ربوہ Rabwah عنوان کے تحت یہ عندیہ دیا ہے ”جبل قاس کے آخر پر حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ کی والدہ کی رہائش گاہ کی جگہ ہے۔ اور یہ جگہ دنیا کی تمام حسین جگہوں سے زیادہ حسین سیر گاہ ہے۔ اس میں خوب صورت پختہ محلات عمارتیں اور عجیب و غریب باغات ہیں اور حضرت عیسیٰ کی رہائش گاہ کی جگہ اس میں ایک چھوٹی غار نما جگہ ہے۔ اس کے سامنے حضرت خضر کا مصلیٰ ہے پھر مزید یاقوت حموی کے حوالہ سے آبی گزرگاہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ کہ یہ جگہ شمالی دمشق جبل قاس کے پہلو میں ہے۔ اس کے نیچے بردی دریا بہتا ہے۔ اور یہ جگہ ایک اونچی مسجد کی شکل میں دریا ثوری پر ہے۔ اس جگہ سے اوپر دریاء یزید گزرتا ہے۔ اس کا پانی مسجد کے حوض میں گرتا ہے اس مسجد کے ایک کونہ میں ایک چھوٹی غار نما جگہ ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جس کا ربوہ کے محکم معانی میں تشابہ پیدا کرنے کے لئے اس صفاتی نام کا اپنی بستی پر اطلاق کر دیا اس کو محض حادثاتی واقعہ یا تبرکاتی نام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ عمداً قصداً انہوں نے ایسا کیا ہے تا کہ اس جھوٹے مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو اس سچے مسیح موعود کے بالمقابل لایا جائے۔ پس قرآن مجید کا یہ دعویٰ ”فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تاویلہ (آل عمران : ۷) کیسے فٹ نظر آتا ہے۔ کہ جن دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ کی من پسند تاویل سے پیوستہ رہتے ہیں۔ تا کہ لوگ شک وشبہ کا شکار ہوں اور ان کی باطل تاویل کا راستہ ہموار ہو جائے۔
امریکی قونصل
روزنامہ جسارت ہے کہ : ”امریکی قونصل ؟ محبت کے احمدیہ گیسٹ ہاؤ کی۔ ان رہنماؤں میں حمید اللہ اور حمید نصر اللہ و آج سے کچھ عرص تھی کہ وہ حکومت سے وغیرہ میں شریک ہوں، نمائندوں خصوصاً امریک قونصل جنرل کی ربوہ آم ہے۔ اس ملاقات کے با مولوی فقیر محمد صاحب۔ انہوں نے بتايا ربوہ آیا تھا اور ملاقات میں یہی افواہ ہے کہ ا میں کہا گیا ہے پر کہ ہم پر گیا ہے ہم کہا ہے پر میں کہا گیا ہے کہ ہم میں کہا گیا ہے کہ ہم پر میں کہا گیا ہے کہ ہم
امریکی قونصل جنرل ربوہ میں۔۔۔۔معاملہ کیا ہے؟
روزنامہ جسارت کراچی‘ ۲۴ فروری ۱۹۸۸ء نے پی پی آئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ:
"امریکی قونصل جنرل البرٹ تھیمباک نے گزشتہ روز ربوہ کا دورہ کیا اور سرائے محبت کے احمدیہ گیسٹ ہاؤس میں جماعت احمدیہ کے رہنماؤں سے ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی۔ ان رہنماؤں میں مرزا منصور احمد ناصر‘ مرزا غلام احمد‘ مقصود احمد خان‘ چودھری حمید اللہ اور حمید نصر اللہ خان شامل ہیں۔ تاہم ملاقات کی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں۔"
آج سے کچھ عرصہ پہلے حکومت نے غیر ملکی سفیروں اور نمائندوں پر پابندی عائد کی تھی کہ وہ حکومت سے پیشگی اجازت لیے بغیر کوئی دورہ نہ کریں اور نہ ہی کسی کی (موت وغیرہ میں شریک ہوں‘ چنانچہ اس پابندی پر کچھ عرصہ تو عمل ہوتا رہا‘ لیکن اب پھر غیر ملکی نمائندوں خصوصاً امریکیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ انہی سرگرمیوں میں امریکہ کے قونصل جنرل کی ربوہ آمد اور وہاں ڈیڑھ گھنٹہ تک قادیانی رہنماؤں سے ملاقات بھی شامل ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں ہمیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے ممتاز رہنما مولوی فقیر محمد صاحب نے کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی قونصل جنرل‘ قادیانی جماعت لاہور کے امیر کی دعوت پر ربوہ آیا تھا اور ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں ربوہ میں یہی افواہ ہے کہ اس میں قادیانیوں نے پاکستان کے خلاف درخواست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ ہمارے حقوق پامال کیے جا
رہے ہیں۔ یہ تو طے شدہ بات ہے کہ قادیانیت مغربی استعمار کا خود کاشتہ پودا یا دوسرے لفظوں میں ایک جاسوس ٹولہ ہے جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں مغربی استعمار کے مفادات کی نگہداشت کر رہا ہے اور ان کا براہ راست امریکن سی آئی اے سے تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل امریکہ اپنے لے پالک ٹولے کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ "امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں"۔ (دیکھئے روزنامہ جنگ‘ لاہور‘ ۵ مئی ۱۹۸۷ء ارشاد احمد حقانی کا مضمون)
ہم حیران ہیں کہ آخر امریکہ کے پیٹ میں قادیانیوں کے بارے میں مروڑ کیوں اٹھی ہوئی ہے۔ کبھی وہ امداد دینے کے لیے شرائط عائد کرتا ہے کبھی وہ ان پر پاکستان میں ہونے والے مبینہ مظالم پر آواز بلند کرتا ہے۔ حالانکہ اگر امریکہ والوں کو انسانی حقوق کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے یہودی ظلم و ستم پر کیوں منہ میں گھنگنیاں ڈال لیتے ہیں اور فلسطینیوں کے حق میں جو قرار داد بھی آتی ہے‘ اسے کیوں ویٹو کر دیتے ہیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ قادیانیت چونکہ مغربی استعمار کا خود کاشتہ پودا ہے‘ لہٰذا امریکہ اسی لیے قادیانیت کی حمایت میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ گزشتہ سال جب یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ پاکستان کی امداد کو قادیانیوں کی مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر رہا ہے اور یہ کہ امریکی کانگریس نے مرزا طاہر کو تقریر کرنے کی بھی دعوت دی ہے تو قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے یہ تردید کی تھی کہ ان کے یا ان کی جماعت کے امریکی کانگریس سے کسی قسم کے روابط موجود نہیں۔ (دیکھئے روزنامہ ملت‘ لندن‘ ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۷ء)
لیکن امریکی قونصل جنرل کے ربوہ میں جانے اور قادیانی لیڈروں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کرنے سے یہ بھانڈہ پھوٹ چکا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ قادیانی امریکی روابط موجود ہیں۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ قادیانی اسلام اور ملت اسلامیہ دونوں کے غدار ہیں۔ نیز یہ
جس ہنڈیا میں کھاتے ہیں اسی میں سوراخ کرتے ہیں۔ اسلام کے غدار تو اس لیے ہیں کہ انہوں نے سرکار دو عالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقابلے میں ایک بھٹیارے (سراپا مغلظات و نجاست) کو تخت نبوت پر بٹھایا۔ ملت اسلامیہ کے غدار اس لیے ہیں کہ یہودیوں کے شانہ بشانہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں اور پاکستان جہاں یہ رہتے ہیں، اس کے بارے میں اکھنڈ بھارت کا نظریہ رکھتے ہیں اور لسانی، قومی، صوبائی عصبیتیں پھیلا کر اس کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔
امریکہ کی طرف سے قادیانیوں کی پرزور انداز میں سرپرستی یا وکالت اور باہمی رابطے سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ امریکہ پاکستان کا دوست نما دشمن ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو امریکی قونصل جنرل کی ربوہ آمد اور قادیانی لیڈروں کے درمیان ہونے والی اس خفیہ میٹنگ کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہیے اور امریکی قونصل جنرل کو تنبیہ کرنی چاہیے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۶، شمارہ ۴۱، مارچ ۱۹۸۸ء)
(از قلم: حافظ حنیف ندیم)
حضرت رائے پوریؒ اور شاہ جیؒ
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یوں ہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید میاں حالات و کیفیات کیا چیز ہے اصل تو یقین ہی ہے، اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرما دے۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت کے سامنے بخاری صاحب کے لڑکوں کا تذکرہ آیا۔ فرمایا کہ شاہ صاحب کے لڑکے ہیں، میں تو ان کا نوکر ہوں۔
(”سوانح حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ “ ص ۲۹۳ از مولانا سید ابوالحسن ندوی)
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے
ربوہ کا سٹیٹ بینک
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
ربوہ میں ایک غیر منظور شدہ بینک خلیفہ صاحب کی زیر نگرانی چل رہا ہے جسے امانت فنڈ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس صیغہ کی طرف سے باقاعدہ چیک بک اور پاس بک (pass Book) جاری کی جاتی ہے۔ جن کا ڈیزائن منظور شدہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہیں کر سکتا کہ آیا یہ چیک بک (Chek Book) یا پاس بک (pass Book) کسی منظور شدہ بینک کی ہے۔ یا کسی جعلی غیر منظور شدہ بینک کی۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات ملاحظہ ہوں:
”چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت سرپرستی کے علاوہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل ہیں۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے سرانجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اس صیغہ نے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کروانا چاہیے۔“
(19 مارچ 1957ء الفضل)
”کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اس طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس
وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے۔ جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ شادی، تعمیر مکان، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لیے جمع ہو اس کو بجائے ڈاک خانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرانا چاہئے ۔“
(10 فروری 1938ء الفضل)
مذکورہ بالا حوالہ واضح طور پر اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ احمدی لوگ ڈاک خانوں اور بینکوں میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ میرے خیال میں ملک کے کسی بڑے سے بڑے بینک نے یہ جرأت نہیں کی۔ کہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ ڈاک خانہ میں اپنا روپیہ جمع نہ کروائیں۔ یہ بینک ریاست ربوہ کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح خلیفہ صاحب خود اور ان کے عزیز و اقارب اس بینک سے بھاری رقوم نکال کر اپنی تجارتیں چلا رہے ہیں۔ خلیفہ صاحب نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اس بات کا غیر مبہم الفاظ میں یہ اقرار کیا تھا کہ وہ بیت المال سے اور ڈرافٹ کے ذریعہ روپیہ حاصل کیا تھا۔ اس وقت تک خلیفہ صاحب اور ان کا خاندان اس بینک سے تقریباً سات لاکھ روپیہ کی ایک خطیر رقم لے چکے ہیں۔ یہ اس بینک کے روپے سے سیاسی افادیت حاصل کی جاتی ہے۔ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں:
”اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ میں روپیہ جمع کراتے رہیں ..... تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیاں اور اس کے گردو نواح میں ہماری جماعت کی مخالفت پچانوے فیصدی کم ہو جائے ۔“
(13 جنوری 1937ء الفضل)
پس کس طرح قادیاں اور اس کے گردونواح میں مخالفت کے طوفان کو کم کرنے کے لیے اس بینک کے ذریعے سکیمیں مرتب کی گئیں۔ پھر کس طرح احرار کے امڈتے ہوئے سیلاب کی طاقت کو کم کیا گیا۔ اور بقول خلیفہ صاحب احرار کو شکستیں دی گئیں۔ کیا خلیفہ صاحب کے سیاسی عزائم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس بینک کی طاقت سے کسی اور کو بھی شکست دی جائے۔ کیوں کہ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں:
”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں ۔“
(10 فروری 1938ء الفضل)
اور پھر بالفاظ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”میں اس مد امانت تحریک کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا۔“
(13 جنوری 1937ء الفضل)
خلیفہ صاحب کی الہامی تحریک بھی سنئے ”اور یہ بھی یاد رکھیئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“ (18 فروری 1937ء الفضل)
صیغہ امانت
حکومت کے ”سٹیٹ بینک“ (State Bank) کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔ اس بینک کا نام خلیفہ صاحب نے ”امانت فنڈ“ اس وجہ سے رکھا ہے تاکہ ملک کے قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔ حالانکہ یہ بینک (امانت فنڈ) وہی کام سرانجام دیتا ہے جیسا کہ منظور شدہ بینک۔
امانت کی شرائط ملاحظہ فرمائیں
- (1) ہر ایک عاقل بالغ مبائع احمدی خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں بہ پابندی شرائط
ذیل اپنا روپیہ بطور ذاتی امانت جمع کراسکتا ہے۔
- (2) جو امانتیں چیکوں یا ڈرافٹ کی یا کرنسی نوٹ غیر ممالک یا غیر سرکل کی صورت
میں وصول ہوں گے۔ ان کے بدلوانے پر جو اخراجات صیغہ کے ہوں گے وہ حساب دار سے لیے جائیں گے۔ اور رقم بینک سے وصول ہونے پر جمع کی جائے گی۔
- (3) پہلی قسط امانت پانچ روپے سے کم نہ ہوگی۔ اور نہ پہلی دفعہ آنے پائی وصول
کیے جائیں گے۔
- (4) واپسی امانت بذریعہ رسید یا رقعہ ہوگی۔ یعنی بوقت وصولی رسید تحریر کرنی ہوگی
کہ اس قدر رقم امانت سے وصول کی ہے۔ یا افسر امانت کے نام رقعہ تحریر کرنا ہوگا کہ اس قدر رقم امانت سے فلاں شخص کو ادا کر دی جائے۔ یا فلاں مد میں ادا کر دی جائے۔ یا بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کر دی جائے۔ جو حساب دار اپنے حساب سے کوئی رقم بذریعہ ڈاک باہر منگوائے یا کسی دوسری جگہ روانہ کرنے کی ہدایت کرے تو یہ خدمت صیغہ امانت حساب دار کی پوری ذمہ داری پر انجام دے گا۔ اور اگر روپیہ ادا کرنے کے بعد راستہ میں کوئی نقصان
ہوگا تو صیغہ امانت ذمہ دار نہ ہوگا۔
- (5) مبلغ پانچ روپے سے کم کوئی رقعہ یا رسید ادا نہیں کیا جائے گا۔ البتہ یہ شرط
آخری رسید یا رقعہ پر عائد نہیں ہوگی جس کے ذریعہ حساب بند ہو رہا ہو۔
- (6) کوئی رسید/رقعہ پوسٹ ڈیٹ یعنی تاریخ مندرجہ سے پہلے ادا نہیں کیا جائے گا۔
- (7) تاریخ رسید/رقعہ سے 60 دن گزرنے پر وہ رسید/رقعہ منسوخ سمجھا جائے گا۔
اور ہندوستان سے باہر رہنے والے امانت داروں کے لیے یہ میعاد 150 دن ہوگی۔
- (8) امانت داروں کو اپنے اپنے حساب کی اطلاع ششماہی دی جائے گی۔ صورت
اختلاف حساب داروں کے لیے دفتر متعلقہ کو جلد سے جلد آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ اس کی ذمہ داری حساب دار پر ہوگی۔
- (9) حساب داروں کو اپنے دستخطوں کا نمونہ دفتر صیغہ امانت ربوہ میں اپنی
درخواست کے ساتھ داخل کرنا ہوگا۔ جو دفتر میں محفوظ رہے گا۔
- (10) کسی حساب دار کی کوئی رسید/رقعہ خدانخواستہ گم ہو جائے تو اس کی اطلاع
تفصیلی یعنی تاریخ رقم معہ نام حساب دار وغیرہ فوراً افسر صیغہ امانت کو بھیجی جائے ورنہ ادائیگی کی ذمہ داری صیغہ امانت پر نہ ہوگی۔
- (11) حساب داروں کو چاہئے کہ اپنے اپنے حساب کو وقتاً فوقتاً صیغہ امانت میں
دیکھ کر اپنی تسلی کر لیا کریں۔
- (12) اپنی امانت میں سے جس قدر روپیہ کوئی امانت دار منگوائے گا اس کے بھیجنے
کا خرچ تا اعلان ثانی صیغہ امانت ادا کرے گا۔
- (13) تمام امانتوں کا حساب پبلک سے بصیغہ راز رکھا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
البتہ حساب دار اپنا اپنا حساب ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔
- (14) اگر کوئی حساب دار سال سے زائد عرصہ کے گزشتہ حساب کی نقل طلب
کرے تو اس کی اجرت 4؍ فی سال کے حساب سے دفتر صیغہ امانت وصول کرے گا۔ زیادہ پرانے حساب کے لیے زیادہ اجرت لی جائے گی۔
- (15) باستثنا یوم جمعہ یا کسی تعطیل کے دفتر کے اوقات میں ہر روز امانت کا روپیہ
داخل ہو سکے گا۔ اور واپس مل سکے گا۔
- (16) اگر کسی حساب دار کو سہواً اس کے بقائے سے زیادہ روپیہ دفتر سے ادا ہو
جائے تو حساب دار اس کی واپسی کا ذمہ دار ہوگا۔
- (17) حساب دار کو چاہیے کہ رسید یا رقعہ پر اگر کوئی اندراج قلم زن کرے یا کوئی
تحریر مشکوک ہو جائے تو اس پر اپنے تصدیقی دستخط کرے۔ کیونکہ کوئی مشکوک رسید یا رقعہ دفتر امانت سے ادا نہ کیا جائے گا۔
- (18) اگر باوجود رعایت رکھنے ان تمام اسباب حفاظت کے جو حالات کے ماتحت
ممکن ہوں۔ پھر بھی کسی وجہ سے خدانخواستہ کوئی نقصان ہو جائے۔ تو حسب احکام شریعت اسلامی اس نقصان کا حصہ امانت دار کو بھی اٹھانا ہوگا۔
افسر امانت صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ
اس بینک میں سرکاری ملازمین کے کھاتے کھلے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس (income Tax) والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بنظر عمیق اور سنجیدگی کے ساتھ اس امر کی چھان بین کرے انہیں بڑی بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی۔ وہ تمام لوگ جو محض ٹیکس سے بچنے کے لیے منظور شدہ بینکوں کی بجائے صیغہ امانت میں روپیہ جمع کرواتے ہیں۔ منظر عام پر آجائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بعض غیر متوقع حالات کی بنا پر دیوالیہ ہو جائے تو بہت سے لوگ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپل بینک (People Bank) جب دیوالیہ ہوا تھا تو ملک میں ایک شور مچ گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا لیکن ملک کی فضا میں بیواؤں، یتیموں اور بے بسوں کے رونے کی چیخ و پکار گونج اٹھی۔ ہزاروں لکھ پتی غربت اور بے بسی کے اژدھا کا لقمہ بن گئے۔ جن لوگوں کا ربوہ کے جعلی بینک میں روپیہ پڑا ہوا ہے۔ گورنمنٹ نے اس کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔ گورنمنٹ کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کے شہریوں کی اموال کی حفاظت کا بندوبست کرے۔
رقم خرد برد
ربوہ کے بینک کی مالی حالت اس قدر دگرگوں اور مخدوش ہے کہ یہ بینک عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ کل سرمایہ میں سے جو تقریباً تئیس (23) لاکھ روپیہ ہے۔ اٹھارہ (18) لاکھ کی رقم خرد برد کی جا چکی ہے۔ خلیفہ صاحب اور جماعت کے بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات اس بات کے ضامن ہیں کہ یہ بینک بالکل دیوالیہ ہو جائے گا۔ تو پھر امانت والوں کا کیا حال ہوگا۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ یا تو
اس جعلی بینک کو ختم کر دے۔ حکومت سے منظوری حاصل کر
مخفی اخراجات
جس طرح حکومت ک اسی طرح یہاں بھی مخفی اخراجات صرف ایک مد خاص متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہ
1937ء الفضل)
صیغہ خاطر مدارات
میں یہ مناسب سمجھتا ظاہر کر دوں۔ مخفی اخراجات د خرچ کیے جاتے ہیں۔ قادیاں تقریباً ایک لاکھ روپیہ سے زا دے کر اپنے ساتھ ملایا گیا۔ اور تائید حاصل کی گئی۔ باوجود اسی طرح خلیفہ ربو روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر دیتے ہیں۔
ریاست ربوہ سے دربد
اسی طرح اس مد ۔ میں اپنے مخالفین کو نیچا دکھان خلیفہ صاحب ربوہ نے خاند جھوٹا الزام لگایا۔ اور انہیں ر ربوہ سے نکالنے کے لیے عت
اس جعلی بینک کو ختم کر دے۔ یا خلیفہ صاحب کو مجبور کرے اس بینک کو چلانے کے لیے حکومت سے منظوری حاصل کرے۔
مخفی اخراجات
جس طرح حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اسی طرح یہاں بھی مخفی اخراجات کے لیے مد موجود ہے۔ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں:
صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں۔ مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جا سکتے۔ خرچ ہوئے ہیں۔
(2 جولائی 1937ء الفضل)
مد سے خاطر مدارات
میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ مخفی اخراجات کی حقیقت کو معزز قارئین کے سامنے ظاہر کر دوں۔ مخفی اخراجات وہ اخراجات ہیں۔ جو الیکشنوں رشوتوں اور سیاسی گٹھ جوڑ پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ قادیاں میں اسی خاص مد سے چوہدری فتح محمد سیال کا الیکشن لڑا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ روپیہ سے زائد خرچ کیا گیا۔ گردونواح کے بدمعاشوں کو شراب اور روپیہ دے کر اپنے ساتھ ملایا گیا۔ اور ان کی ہر طریق سے خاطر مدارات کر کے ان کی حمایت اور تائید حاصل کی گئی۔ باوجود اس قدر خرچ کرنے کے پہلا الیکشن ہار گئے۔
اسی طرح خلیفہ ربوہ اپنے مخالف حریف کو قتل کرنے کے لیے اسی مد سے بے دریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر بعد ازاں اس قاتل کو بچانے کے لیے پانی کی طرح روپیہ بہا دیتے ہیں۔
ریاست ربوہ سے در بدر کرنے کی سکیمیں
اسی طرح اس مد سے جس سے مخفی اخراجات چلائے جاتے ہیں۔ کسی ہنگامی وقت میں اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے لوگوں سے جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب ربوہ نے خاندان خلیفہ اول حضرت مولوی نور الدین صاحب پر منافقت کا جھوٹا الزام لگایا۔ اور انہیں ریزولیشن کی بھرمار کی وجہ سے خلیفہ اول کے خاندان کو ریاست ربوہ سے نکالنے کے لیے مختلف سکیمیں مرتب ہونے لگیں۔ ریزولیشن کے فوراً بعد ان کے
ارد گرد سایہ کی طرح ان کی تمام نقل و حرکت پر کڑی نگرانی رہی اور اسی طرح ان کے گھروں پر بھی 24 گھنٹے پہرے دار کھڑے کیے گئے تا کہ دہشت پیدا کی جائے۔ اور خوفزدہ ہو کر یہاں سے بھاگ جائیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ ضرورت زندگی کے راستے مسدود کیے گئے۔ اور پھر ہر لمحہ تنگ کرنے کی تدبیریں سوچی گئیں۔ مولوی عبدالمنان عمر صاحب کی عدم موجودگی میں ان کی اہلیہ آمنہ الرحمن صاحبہ بنت مولوی شیر علی صاحب کو اپنا ذاتی مکان نمبر 602 کے ارد گرد کڑا پہرا لگا کر (کرفیو) چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ آخر لاچار ہو کر وہ ستم زدہ عورت عبدالمجید کے مکان پر منتقل ہوگئی۔ جو پہلے سے کرایہ پر لیا گیا تھا۔ مکان کی ذاتی ملکیت ملاحظہ ہو۔
No: Certified that Mr.Abdulmanan Umar is the owner of the House No 602 Honrary Secrty (Sd) M.C. Rabwah
انگریزی کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔ تصدیق کی جاتی ہے کہ مسٹر عبدالمنان عمر مکان نمبر 602 کے مالک ہیں۔ دستخط آنریری سیکریٹری میونسپل کمیٹی ربوہ
مخالفین کو مکان سے بے دخل کرنے کا طریق
عبدالمجید صاحب کے مکان پر منتقل ہونے کے بعد خلیفہ صاحب کی ایما پر یہ عمارت کم و بیش ساڑھے بارہ ہزار روپے پر خرید لی گئی۔ جس کی ادائیگی اسی مد میں ہوئی خادم حسین کپتان صاحب جو اس وقت ناظر امور تھے ان کی چٹھی ملاحظہ ہو۔
ربوہ مکرمی و محترمی عبدالمجید صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہم 18/10/1957 آپ کی جو گفتگو مولوی عبدالعزیز صاحب آف بھامڑی سے ہوئی ہے۔ اس کے مطابق آپ کے مکان واقعہ محلہ دارالرحمت غربی کا سودا مبلغ ساڑھے بارہ ہزار روپیہ پر خاکسار کو منظور ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ فوری طور پر اس کو خالی کرا کر ہمارے حوالہ کریں۔ اور خالی کرانے میں جتنی مدت لگے۔ اس کا کرایہ ہمیں ادا ہو۔ اس خط کی رسیدگی سے مطلع فرماویں۔ والسلام خاکسار خادم حسین کپتان
اس مکان کی خریداری کے بعد ذاتی ضرورت کا بہانہ بنا کر نوٹس دیا گیا۔ اور ان کو جبراً ربوہ ریاست اس طرح چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
محمد حنیف
ربوہ کی کہانی ، مرزا طاہر کی زبانی
ہفت روزہ ختم نبوت کے شمارہ نمبر ۳۶ میں ایک قادیانی نوجوان زاہد عباس سید کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں اس نوجوان نے ربوہ میں بغاوت کی اٹھنے والی لہروں کی نشاندہی کی تھی۔ اس مضمون میں قادیانی نوجوان نے یہ بھی بتایا تھا کہ اب وہاں کے نوجوان:
- ۱۔ مرزا طاہر کے ملک سے فرار پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔
- ۲۔ مرزا طاہر کے باپ مرزا محمود پر بدکاری کے الزامات زیر بحث ہیں۔
- ۳۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مباہلہ کا شوشہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے چھوڑا
ہے۔
- ۴۔ یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی ”کتے کی موت یعنی کتے کے
عدد پر مر گیا“ اس کا مصداق مرزا محمود تھا جو باون ویں سال میں ۱۱ سال تک فالج میں مبتلا رہ کر مرگیا۔
- ۵۔ وہاں دانشوروں کا ایک طبقہ کھل کر رائل فیملی اور اس کے کارندوں پر تنقید کرتا
ہے اور مرزا طاہر نے ان سے سوشل بائیکاٹ کی تلقین کی ہے۔
الغرض اس مضمون میں ربوہ کی اندرونی صورت حال کو واضح طور پر پیش کیا تھا۔ ممکن ہے کہ قادیانی یہ کہیں کہ ربوہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ وہاں کوئی بغاوت نہیں ، سب لوگ رائل فیملی کے وفادار ہیں۔ اس لیے ہم ذیل میں مرزا طاہر کے ایک طویل بیان کے اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔ جس میں اس مضمون کی تصدیق ہوتی ہے لیکن ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزا طاہر کے بیان کا خلاصہ پیش کردیں، جس سے مرزا طاہر کے بیان کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے:
- O۔ ربوہ میں بدیوں کے اڈے بن چکے ہیں۔
- O۔ پیشہ ور اور عادی مجرم برائیاں پھیلانے کا کار و بار کرتے ہیں۔
- O۔ ”احمدی“ (قادیانی) شراب کا کاروبار کرتے ہیں۔
- ربوہ میں برے لوگوں کے لیے عمل جراحی کی ضرورت ہے۔
- وہاں ماحول دیکھ کر لوگ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
- ناظر سودا لانے کے لیے کار استعمال کرے تو تنقید کرتے اور پھبتیاں کستے ہیں۔
- کسی کے گھر کے اچھے حالات دیکھیں تو اس کا لندن ہاؤس، پیرس ہاؤس نام رکھتے
ہیں۔
- وہ غلطیاں کرتے ہیں تو یہ پکڑنے والے (تنقید کرنے والوں کی طرف اشارہ) کون
ہوتے ہیں۔
- وہ آگ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ زبان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی۔
- حسد سے دانشوری پیدا ہو رہی ہے۔
- (قادیانی مبلغ جنہیں مربی کہا جاتا ہے) دبی زبان میں شکوے کرتے ہیں کہ ہم سے یہ
ہوا، وہ ہوا۔ ہماری فلاں جگہ تقرری ہونی چاہیے تھی۔
- فلاں شخص نے ظلم کیا، مجھے نیچا دکھانے کے لیے یہ کیا، وہ کیا۔
- نئی نسل شتر بے مہار کی طرح جدھر چاہے، سر اٹھائے نکل جاتی ہے۔
- اگر کسی واقف زندگی نے اپنی اولاد کو لاہور شالامار باغ کی سیر کرا دی، لاہور لے
گیا تو آگ لگنے کی کیا ضرورت ہے۔ کون سا عظیم گناہ اس سے ہو گیا کہ اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤ۔
- کاریں استعمال نہ کریں ساتھ دو قدم پر بازار ہے۔ پیدل چلیں خواہ مخواہ کار کا
استعمال اچھی عادت نہیں۔
- جنہوں نے جلنا ہے، انہوں نے جلنا ہی ہے۔
قارئین کرام ! یہ مرزا طاہر کے بیان کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ اب آپ اصل بیان کے اقتباسات ملاحظہ کریں۔
”میں نے تربیتی امور کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس میں بار بار ربوہ کا نام لیتا رہا ہوں، ایک مثال کے طور پر۔ لیکن جیسا کہ میں نے واضح کیا تھا، دراصل ربوہ کی اس مثال کا تعلق دنیا کی ساری جماعتوں سے ہے“۔
”جہاں تک میرے گزشتہ خطبے میں اس نصیحت کا تعلق ہے کہ تربیت، نرمی اور
شفقت، محبت اور پیار اور سمجھانے کے ذریعہ کی جاتی ہے، سختی سے نہیں کی جاتی۔ یہ بات بالکل درست ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ پیشہ ور مجرموں سے نرمی کرنی چاہیے اور ان کے جرم کو نظر انداز کر دینا چاہیے اور انہیں معاشرے کے ساتھ ظلم کرنے سے باز رکھنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
بعض بدیوں کے اڈے بن جاتے ہیں۔ یعنی لفظ ”پیشہ ور“ اس طرح تو ان پر اطلاق نہیں پاتا لیکن ”پیشہ وری“ کا لفظ ایک محاورہ بن چکا ہے یعنی ”عادی مجرموں“ کے لیے بھی آپ ”پیشہ ور مجرموں“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ پس ان معنوں میں بعض جگہ بدیوں کے ایسے اڈے بن جاتے ہیں جن کو ہم ”پیشہ ور“ اڈے کہہ سکتے ہیں اور وہاں سے برائیاں پھیلانے کے کام ہوتے ہیں۔
بظاہر ایک دکان ہے، ایک جنرل اسٹور ہے۔ وہاں کاروبار تو ہونا چاہیے۔ ان سودوں کا جن سودوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ وہاں حاضر ہوتے ہیں، لیکن بسا اوقات وہاں بدیوں کے کاروبار بھی شروع ہو جاتے ہیں اور آپ ہمیشہ وہاں قابل اعتراض حرکت کرنے والوں کو قابل اعتراض حالت میں لمبے عرصے تک پائیں گے اور کئی قسم کی خرابیاں وہاں سے جنم لیتی ہیں۔
تو جہاں تک نظام کا تعلق ہے، نظام جماعت کو وہاں ضرور دخل دینا چاہیے۔
احمدی دکاندار ربوہ سے باہر بھی ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ یورپ میں بعض احمدی دکانداروں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے ہوٹل کے کاروبار ہیں اور وہاں شراب بھی بکتی ہے۔ چنانچہ جب میں نے اس بات پر اصرار کیا کہ آپ کو یہ کاروبار چھوڑنا ہو گا تو بڑی بھاری تعداد ایسی تھی جنہوں نے اس کاروبار کو ترک کر دیا (جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ قادیانیوں نے اب بھی شراب کا کاروبار نہیں چھوڑا۔ ندیم) تو اس صورت حال کے مطابق مختلف کارروائی کرنی ہوتی ہے۔ مگر نظام جماعت کو سب دنیا میں مستعد ہو کر، جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے، ان کو برائیوں سے متعلق نہ رہنے دیں اور ربوہ جیسے شہر میں جہاں انتظامیہ کا دخل عام شہروں کے مقابلے پر زیادہ ہے، کیونکہ وہاں بھاری اکثریت احمدیوں کی ہے اور احمدیوں کی رائے عامہ کو جس قوت سے استعمال کیا جا سکتا ہے، اس قوت سے غیر شہروں میں بسنے والے احمدیوں کی رائے
عامہ کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ تو Firmness اور سختی سے میری مراد یہ ہے کہ پہلے باقاعدہ ایک منصوبہ بنا کر ایسے لوگوں کو نصیحت کی جائے۔ ان کی برائیاں ان پر کھولی جائیں۔ ان کو بتایا جائے کہ تم ان حالات میں بالکل غلط سمت میں جارہے ہو۔
ان لوگوں کو تلاش کیا جائے جن کا ان پر اثر ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ ایسے لوگوں پر دباؤ بڑھایا جائے۔ پھر اس دباؤ کو نسبتاً عام کیا جائے اور رائے عامہ کو منظم کر کے اس کے ذریعے دباؤ کو بڑھایا جائے۔
پس اس پہلو سے ' ربوہ کا شہر ہو یا دوسرے ایسے مقامات ہوں جہاں احمدیوں کی کچھ آبادیاں ' جہاں اس قسم کی بدیاں دکھائی دیتی ہیں ' جہاں الگ الگ گھر ہیں لیکن بچوں میں کچھ کمزوریاں نظر آرہی ہیں ' ان سب باتوں کا رائے عامہ سے مقابلہ کریں۔
لیکن پھر بھی بعض بیمار ایسے ہیں جن پر نسخے کارگر نہیں ہوا کرتے۔ ان کی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ پھر نتھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ وہاں پھر عملِ جراحی بھی ہے۔
پس اس پہلو سے ربوہ کا عمومی معیار بلند کر دیا جائے یا دوسری احمدی بستیوں کا معیار بلند کیا جائے کہ وہاں مریض لوگ بے چینی محسوس کریں۔ بدیوں کے شکار سمجھیں کہ یہاں کوئی مزہ نہیں آ رہا۔ یہ جگہ ہمیں قبول نہیں کرتی۔ ان لوگوں کو معاشرہ رد کردے۔ معاشرہ ان لوگوں سے تعلق کاٹ لے۔ بغیر اس کے کہ مقاطعہ کا اعلان ہو۔ معاشرے کا عملی وجود مقاطع کر رہا ہو اور یہ ظاہر کر رہا ہو کہ ہم الگ ہیں تم الگ ہو۔ تمہاری ہمارے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب یہ احساس دلوں کے اندر پیدا ہو تو پھر ایسے لوگ ان شہروں کو چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔
جہاں تک بدیوں کے اڈوں کا تعلق ہے ' بعض بیہودہ حرکتوں والے ایسے اڈے جہاں بدیاں دکھائی دیتی ہیں ' ان کے متعلق اور بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ ان سے زیادہ دلکش اڈے بھی تو بنانے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ بعض اڈے آپ بند کر رہے ہوں۔ ان کی جگہ دوسرے اڈے جاری ہونے چاہئیں ' جہاں نوجوان بے کار لوگ ' غریب لوگ ' جن کے لیے لذت یابی کے کوئی سامان نہیں ہیں ' جن کو تسکین قلب کے لیے کچھ میسر نہیں ' ان کو معاشرہ یہ چیزیں مہیا کرے۔
مثال کے طور پر اگر ربوہ میں کسی ناظر نے سودا لانے کے لیے اپنی کار استعمال کر لی تو ان لوگوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس کی جو تعلیم ہے، اس کی جو پرانی قربانیاں ہیں، اس کو جس قسم کی صلاحیتیں خدا تعالیٰ نے عطا فرمائی ہوئی تھیں، وہ اگر یہ دنیا میں استعمال کرتا، جس طرح دوسرے دنیا داروں نے کی ہیں، تو جس حال میں اب وہ رہ رہا ہے، اس سے بیسیوں گنا بہتر حال میں ہوتا۔ اگر جماعت نے اس کو کار دے دی اور اگر اس نے اپنا سودا لانے کے لیے بھی استعمال کر لی تو تمھیں جلنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن وہ اسی پر پھبتیاں کستے رہیں گے۔ اس پر ان کا دل آگ میں جلتا رہے گا کہ ان کو یہ چیزیں کیوں نصیب ہوئیں، انہوں نے یہ چیزیں کیوں استعمال کیں۔
کسی گھر کے اچھے حالات دیکھے تو اس کا نام ”لنڈن ہاؤس“ رکھ دیا، کسی گھر کا نام پیرس ہاؤس رکھ دیا۔ یہ ہے اولی الالباب غیر (دینی۔ ناقل) جو اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ ( ناقل) اولی الالباب کے بالکل مد مقابل طاقتوں کی پیداوار ہے اور ان کی سوچ اور طرزِ فکر کا نتیجہ سوائے مزید جلن کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ کسی انتظامیہ سے جھگڑا ہو گیا، کسی امیر سے ناراض ہو گئے، اس کو پھر ساری عمر معاف ہی نہ کیا۔ ان کے خلاف ہر وقت مجلسوں میں تنقید۔ کبھی سوچتے نہیں کہ اس جماعت کے کارکنوں میں، اس کی مجلس عاملہ میں ایسے ایسے کارکن ہیں، جنہوں نے ساری زندگیاں، اپنے سارے وقت کو جماعت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ جب تم لوگ آرام کرتے تھے، جب تم لوگ سیر و تفریح میں لذتیں حاصل کیا کرتے تھے، یا گھروں کی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے، یہ لوگ جماعت کے کام کی خاطر دن رات کبھی دفتروں میں، کبھی لوگوں کے گھروں میں پھر کر چندہ اکٹھا کرتے ہوئے، کبھی نصیحتیں کرتے ہوئے، کبھی مجلس عاملہ کے اجلاس میں، گویا کوئی اور شغل ہی نہیں۔ جنہوں نے ساری زندگی....... وقف کر دی، اگر ان سے غلطیاں بھی ہو گئی ہیں تو تم خدا سے بڑھ کر اوپر پکڑنے والے کون ہوتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو ایسے بندوں سے عفو کا سلوک فرماتا ہے۔ درگزر کا سلوک فرماتا ہے اور تمھیں کسی ایسے احساس نے کہ انہوں نے کبھی مجھے اچھی نظر سے نہیں دیکھا تھا یا مجھ سے، جو میں توقع رکھتا تھا، وہ سلوک نہیں کیا تھا۔ ایسے احساس نے ہمیشہ کے لیے آگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے خلاف ہر وقت تخریبی کارروائیاں، تنقید، زبان ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی اور ارد گرد کی جو ہستیاں ہیں، جو تمہارے پاس آ کے بیٹھتی ہیں،
ان کو بھی جہنم کی آگ میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہو۔ ایسے تنقیدی اڈے بعض دفعہ ظاہری بدیوں کے اڈوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں...... بعض واقفین زندگی ایسے بھی ہیں بد نصیبی کے ساتھ، جنہوں نے اپنے آپ کو ساری عمر...... وقف کیا اور خدمتیں بھی کیں۔ لیکن کبھی تحریک جدید کے کسی افسر سے ناراض ہو کر، کسی سلوک کے نتیجے میں، ان کے دل میں ہمیشہ ایک انتقام کی آگ بھڑکتی رہی۔ اور چونکہ حسد سے جو دانشوری پیدا ہوتی ہے، وہ جہنم سے ہٹانے والی نہیں بلکہ جہنم کی طرف لے جانے والی ہوا کرتی ہے۔ آگ کی اولاد ہمیشہ آگ ہوتی۔ آگ سے جنت نہیں پیدا ہوا کرتی۔ اس لیے پھر ان کے گھروں میں جہنم پیدا کرنے کے کارخانے قائم ہو جاتے ہیں۔ اپنے گھر میں بیٹھ کر دبی زبان میں شکوے کرتے ہیں۔ ہم سے یہ ہوا، ہم سے وہ ہوا۔ ہماری فلاں جگہ تقرری ہونی چاہیے تھی، فلاں شخص نے ظلم کی راہ سے اور پارٹی بازی کے نتیجے میں مجھے نیچا دکھانے کے لیے یہ کیا، وہ کیا۔ اب جب اولاد اپنے باپ کی مظلومیت کے قصے سنے گی تو اس کا ردعمل وہاں تک نہیں رہے گا جہاں تک اس کے باپ کا ردعمل تھا۔ اس کے باپ کے اوپر اس کے ذہن کی بالغہ قوتوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور باپ کا جو ردعمل ہے، جس طرح گھوڑے کی باگیں ہاتھ میں ہوتی ہیں، ایک حد تک اس کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ لیکن اولاد کے ردعمل پر پھر کوئی باگیں نہیں ہوا کرتیں۔ پھر یہ شتر بے مہار کی طرح جس طرف سر اٹھائیں، نکل جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اولادیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
بعض لوگوں کے متعلق اطلاع ملتی ہے کہ ان کا بیٹا فلاں جگہ کام کر رہا ہے۔ اس نے اپنی ظالمانہ تنقید کے گویا اپنی دانشوری کے اڈے بنائے ہوئے ہیں۔ اور نئی نسلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کا باپ ہے اس نے عمر بھر خدمت کی، باہر اور اندر بھی۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اس میں یہ عادت ہے۔ وہ محلے کی انتظامیہ سے شاکی ہوگا۔ فلاں سے شاکی ہو گیا۔ باہر سے حسن سلوک سے، محبت سے باتیں کرے گا لیکن گھر میں بیٹھ کر وہ اندرونی جو دبی ہوئی آگ ہے، وہ بھڑک اٹھتی ہے۔
اب نام لینے کا تو کوئی مناسب موقع نہیں ہے۔ نہ مناسب ہے کہ کوئی نام لے کر کسی کو ننگا کرے۔ لیکن ایک دو تین چار ایسے بہت سے ہوا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ رہے
ہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے انتظامیہ کو ربوہ قادیان میں بہت قریب سے دیکھا ہے، ان کو پتہ ہے کہ کئی کچھ دیر رہے، کچھ کو تو مدینہ نے نکال باہر پھینک دیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس ماحول سے اتنا دور سمجھا، ایسی اجنبیت دیکھی کہ بالآخر خود نکل کر چلے گئے ۔ کچھ ایسے تھے جن کی اولادیں تباہ ہو گئیں، خوار رہے ۔ اس طرح مختلف قسم کے بد اثرات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خود کمائے ۔
اگرچہ میں بذات خود اس میں کوئی عیب نہیں دیکھتا کہ اس سلسلہ میں کسی افسر کو کار ملی ہے، کوئی سہولت ملی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بھی اس میں شامل کر لے۔ اگر کسی نے اپنی سہولتوں میں کبھی اپنے بچوں کو شامل کر لیا یعنی اگر لاہور دورے پر گیا ہے، اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ واقفین زندگی کے بچے آخر قید ہونے کے لیے تو نہیں بنائے گئے اور کبھی ان کو شالامار باغ کی سیر کرا دی تو آگ لگنے کی کیا ضرورت ہے۔ کون سا اس قدر گناہِ عظیم اس سے مرتکب ہو گیا کہ اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناؤ لیکن ایسے لوگوں پر، جو بے چارے طعن و تشنیع کے محل پر کھڑے رہتے ہیں۔ ان کو طوعی طور پر، قربانی کی خاطر بعض بیماروں کو بچانے کے لیے اپنے معاملات میں احتیاط کرنی چاہیے اور اس سے کوئی بڑی قیامت نہیں آ جائے گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اپنے خاندانوں کو پوری طرح محروم کر دیں۔ مثلاً اگر آپ اپنے بیٹوں کو کاریں دیں کہ وہ بازاروں اور گلیوں میں دندناتے پھریں اور کار کا غلط استعمال کریں اور وہ اپنے ساتھ دوستوں کو لے کر پھریں تو یہ یقیناً حد سے بڑھنے والی بات ہے۔ یہاں آپ کا عمل واقعتاً سرزنش کے لائق بن جاتا ہے۔ پھر آپ اسے عادت بنالیں۔ ساتھ دو قدم پر بازار ہے کہ جب بھی گھر سے باہر نکلنا ہے موٹر پر قدم رکھنا ہے اور موٹر سے قدم نکال کر دکان تک پہنچنا ہے۔ یہ تو اچھی عادت نہیں ہے۔
تو ٹھیک ہے آپ بھی خواہ مخواہ دوسروں میں جلن کیوں پیدا کرتے ہیں۔ جنہوں نے جلنا ہے انہوں نے جلنا ہی ہے۔
(روزنامہ ”الفضل“ ربوہ جلد ۴۷-۳۹، نمبر ۱۵، ۱۷ جنوری ۱۹۸۹ء)
ربوہ سازشوں کا مرکز
مولانا تاج محمودؒ
1973ء کے آخر میں ربوہ سازشوں کی آماجگاہ بن گیا تھا اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ نبوت کے بزرگ رہنما مولانا تاج محمود نے حکومت کو اس طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:
”اب ربوہ خالص مرزائی آبادی کا شہر ان کا دارالخلافہ ہے۔ جہاں مرزا ناصر احمد خلیفہ کہلاتا ہے۔ چالیس لاکھ روپیہ ماہوار کے قریب جماعت احمدیہ کی چندوں کی آمدنی ہے۔ 36000 ایکڑ زرعی اراضی ان کی صرف سندھ میں ہے۔ ملک بھر میں اوقاف وصایا اور ملکیتی جائیدادیں اس کے علاوہ ہیں۔ کامرس بینک پر انہوں نے تقریباً مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ حبیب بینک‘ یونائیٹڈ بینک میں بھی ان کا بے حساب روپیہ ہے۔ بیمہ کمپنیاں اگرچہ حکومت کی تحویل میں آگئی ہیں۔ لیکن زون بی پر مرزائیوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ پیپلز فنانس کارپوریشن جس کا کروڑوں روپیہ سرمایہ ہے۔ یہ سرکاری ادارہ بھی مرزائیوں کے مکمل قبضہ میں ہے۔ ربوہ اور سرگودھا ڈویژن میں تعلیم حاصل کرنے والے مرزائی طلبہ کو فرسٹ ڈویژن اور بہترین نمبر دلانے کے لیے سرگودھا ایجوکیشن بورڈ پر مرزائیوں کا مکمل قبضہ ہے۔ فوج میں جنرل ٹکا خان کے بعد ان کے کئی جرنیل اور سینئر آفیسر ہیں۔ ایئرفورس کا ہیڈ مرزائی‘ اور نیوی کے متعلق بھی ایسی ہی افواہیں ہیں۔
ربوہ میں ایک پورا نظام حکومت اور اس کا سیکریٹریٹ موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہیڈ آف دی سٹیٹ کو یہ صدر یا پرائم منسٹر نہیں کہتے خلیفہ کہتے ہیں۔ دس وزارتیں
جنہیں یہ نظارت کا نام دیتے ہیں نظارت تعلیم' نظارت زراعت' نظارت تجارت' نظارت امور عامہ وغیرہ موجود ہیں۔ اس سال انہوں نے آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بغاوتیں اور فسادات کروائے۔ تحریف شدہ قرآن مجید چھاپ کر تقسیم کیے گئے اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا گیا۔
ہم نے سینکڑوں قرآن مجید کی ایسی آیات کی نشان دہی کر دی ہے' جنہیں مرزا غلام احمد نے بدل دیا تھا اور اب قرآن مجید کی آیات کے مسلمہ اور متداولہ تراجم میں تحریف اور تبدیلی کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ان کی ایک اور جسارت کا ثبوت مل گیا ہے کہ انہوں نے کلمہ بھی بدل دیا ہے۔ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَحْمَدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ کا کلمہ جاری کر دیا ہے۔ ان کی اس جسارت کا ثبوت خود ان کی کتابوں سے نائجیریا کی ان کی ایک عبادت گاہ کے مینار پر کندہ کلمہ کے مذکورہ الفاظ سے مہیا ہوا ہے۔ ہر پہلی حکومت سے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور بالآخر اسے دھوکہ دیا اور نئی حکومت میں شامل ہو گئے۔ ہر حکومت ان کی پرورش کرتی رہی اور ان کے خلاف دلائل سے خطرات کی نشان دہی کرنے والوں کو دباتی رہی۔
موجودہ حکومت کے معاملہ میں بھی یہ لوگ بلیک میلنگ کرتے رہتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس حکومت کا سب کچھ گویا انہی کے ہاتھوں میں ہے۔
1953ء میں تمام مسلمانوں نے مل کر مسلم لیگ کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ تاکہ ان کے حقوق اور فرائض متعین ہو جائیں اور جو خطرات ان کی وجہ سے اسلام یا ملک کو درپیش ہیں ان کا سد باب ہو جائے لیکن مسلم لیگ کی حکومت نے ظلم اور زبردستی سے ان کے خلاف تحریک کو وقتی طور پر دبا دیا لیکن خود بھی رائے عامہ کے غضب کا شکار ہو گئی اور آج تک پھر اپنے اعتماد کو عوام میں بحال نہ کر سکی۔
موجودہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے۔ خود مرزائیوں کے مسئلہ میں بھی ہم حکومت کے رویہ سے مطمئن نہیں ہیں لیکن تاہم اس نے عوام کی رائے کا احترام کیا اور آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کر دی ہے۔ اس کے علاوہ صدر اور وزیر اعظم کے لیے ضروری قرار دے دیا ہے کہ وہ اپنے عہدہ کا حلف اٹھاتے وقت اس بات کا اعلان کریں کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا وحدہ لاشریک ہے۔ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا اور قرآن مجید آخری کتاب ہے۔
آئین منظور ہوا اور خدا کا شکر ہے کہ بالاتفاق منظور ہو گیا ہے۔ اس آئین پر جب سے مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے ساتھیوں نے‘ مولانا شاہ احمد نورانی اور ان کے ساتھیوں نے اور پروفیسر غفور احمد اور ان کے ساتھیوں نے دستخط کیے ہیں اس وقت سے مرزائی بھٹو صاحب کے خلاف ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کی مخالفت بھی ان کی جھوٹی نبوت کی طرح ایک مکر اور دجل سے کم نہیں۔ بظاہر سب اچھا ہے۔ مفادات حاصل کیے جا رہے ہیں۔ جو کچھ حاصل ہے‘ اسے ہضم کیا جا رہا ہے۔ لیکن اندرونی طور پر ناراض ہیں اور اس لیے ناراض ہیں کہ انہیں توقع تھی کہ سوشلزم کا پرچار کرنے والا بھٹو ان کی توقع کے مطابق ملک کو سیکولر آئین دے گا تا کہ اس سیکولر فضا میں یہ اپنی دکانداری قائم رکھ سکیں لیکن ان کی توقع کے خلاف پاکستان کے سات کروڑ عوام کی رائے کے احترام میں بھٹو صاحب نے جو آئین دیا‘ اس میں خامیاں بھی ہوں گی لیکن بہرحال اس پر دینی اتھارٹیز نے دستخط کر دیئے۔ اس میں مسلمان کی تعریف شامل کر دی گئی۔ بس اس بات سے وہ موجودہ حکومت سے اندرونی طور پر ناراض ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے 27 مئی 1973ء کو ربوہ میں ایک خفیہ میٹنگ کی‘ جس کی تفصیلات ہمیں خود ربوہ سے موصول ہوئیں اور ہم نے انہیں شائع کر دیا۔
اس میٹنگ میں بھٹو صاحب کے خلاف ایک قد آور سیاسی شخصیت جو سابق ایئر مارشل ہیں‘ ان کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ حکومت کو بدنام کرانے کے لیے متعدد سیاسی رہنماؤں کو قتل کرانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔
(لولاک 14 دسمبر 1973ء)
قادیانیوں نے ”دینی معلومات“ نامی ایک پمفلٹ مجلس خدام احمدیہ ربوہ کی جانب سے شائع کیا۔ اس میں مرزا قادیانی کو انبیاء علیہم السلام میں آخری نمبر پر شمار کیا گیا اور غلام احمد قادیانی کی بجائے اسے احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھا گیا۔ چٹان سے بمع تبصرہ پیش خدمت ہے۔
مرزا غلام احمد کا نام قرآن پاک میں
(مرزائیوں کی شوخ چشمانہ جسارت)
ہمارے سامنے بہ عنوان دینی معلومات (بطرز سوال و جواب) ایک کتابچہ ہے جو ربوہ کی مجلس خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے یہ کتابچہ 20x30/8 سائز کے 56 صفحات پر
ہے عنوان یہ ہیں
- 1- اللہ تعالیٰ‘ اسلام‘ قر
- 2- ختم المرسلین صلی اللہ
- 3- حدیث النبی صلی ال
- 4- صحابہ و بزرگان اسل
- 5- تاریخ اسلام
- 6- حضرت مسیح موعود
- 7- خلفاء حضرت مسیح م
- 8- تاریخ احمدیت
صفحہ چھ اور سات سوال 21- قرآ جواب: حضرت صالح‘ شعیب‘ موسیٰ‘ لقمان‘ عزیز‘ ذوالقرنین علی والسلام۔
واضح رہے کہ م کے نام Purity کرنے اس کے ڈانڈے قرآن بدراہ کر سکیں۔ صدر بھٹو تحریف اور حضور کی ختم ا ربانی کو کیسے کیسے مجروح مرزائیوں کے دی ہے۔ انا للہ وانا الیہ ر قادیانیوں کی مرزائیوں کی
کے عنوان یہ ہیں
- 1- اللہ تعالیٰ اسلام قرآن مجید
- 2- ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
- 3- حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم
- 4- صحابہ و بزرگان اسلام
- 5- تاریخ اسلام
- 6- حضرت مسیح موعود علیہ السلام
- 7- خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام
- 8- تاریخ احمدیت
صفحہ چھ اور سات پر سوال و جواب ہے۔
سوال 21۔ قرآن کریم میں جن انبیاء کے اسماء کا ذکر ہے بیان کریں۔
جواب: حضرت آدم، نوح، ابراہیم، لوط، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ہود، صالح، شعیب، موسیٰ، ہارون، داؤد، سلیمان، ذوالکفل، الیسع، ادریس، ایوب، زکریا، یحییٰ، لقمان، عزیر، ذوالقرنین علیہم الصلوٰۃ والسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین نے پاکستان بن جانے کے بعد ان کے نام Purify کرنے کی مہم کے تحت غلام کا لفظ حذف کر دیا اور صرف احمد بنا دیا ہے اور اس کے ڈانڈے قرآن پاک سے اس طرح ملا رہے ہیں کہ پاکستان کے سادہ دل عوام کو گمراہ کر سکیں۔ صدر بھٹو اور گورنر کھر یہ کتابچہ منگوا کر ملاحظہ فرما لیں کہ قرآن پاک میں تحریف اور حضور کی ختم المرسلینی کے خلاف مرزائی امت کیا کیا گل کھلا رہی ہے اور آیات ربانی کو کیسے کیسے مجروح کر رہی ہے؟
مرزائیوں کے اس حوصلہ پر ہم کیا لکھیں؟ ماتم کیجئے! انہیں یہ آزادی پاکستان نے دی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
قادیانیوں کی اس جسارت سے بھی مسلمانوں میں اشتعال پھیلا۔
مرزائیوں کی اسلام دشمنی اور ملک دشمن سرگرمیوں سے پاکستان کے عوام سخت
پریشان ہیں۔ عوام کی بے چینی اور پریشانی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرزائی اپنی اس ملک اور مذہب دشمنی کے باوجود پاکستان کے اہم ترین سول اور فوجی مناصب پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی دولت اور بہترین وسائل معاش پر ان کا کنٹرول اور قبضہ ہے۔ باہر سے امریکہ اور برطانیہ جیسی سامراجی طاقتوں کی انہیں یہودیوں کی طرح تائید اور سپورٹ حاصل ہے۔ ایسے حالات میں انہیں کھل کر اپنے اصلی روپ میں سامنے آنے کی جسارت ہوئی ہے۔ انہوں نے قرآن مجید میں تحریف شروع کی قرآن مجید کے ڈیڑھ ہزار سالہ مسلمہ معانی کو بدل کر وہ اپنی جھوٹی نبوت کے حق میں قرآن مجید کی آیات کے معانی اور تفسیر کرنے لگے ہیں اب انہوں نے دیدہ دلیری کی انتہا کر دی ہے چنانچہ انہوں نے کلمہ طیبہ کو بدل دینے کی جسارت شروع کر دی ہے۔
ہفت روزہ چٹان لاہور نے اپنی اشاعت 10 دسمبر 1973ء کے صفحہ 10 پر مرزائیوں کی ایک مطبوعہ کتاب سے ایک ایسی تصویر شائع کی ہے جس نے مرزائیوں کے دجل و فریب اور تحریف کے تمام پردے چاک کر دیئے ہیں۔
یہ تصویر نائیجیریا میں احمدیہ سنٹرل قادیانی عبادت گاہ کے مینار کی ہے جس پر کلمہ طیبہ کو بدل کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَحْمَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کندہ کیا ہوا دکھایا گیا ہے۔
تقاضائے دوستی
حضرت مولانا شمس الحق افغانی فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی چارپائی دیوبند کی جامع مسجد کے صحن میں لائے۔ تمام طالب علموں و اساتذہ عملہ کو مخاطب کر کے فرمایا آپ سب حضرات اور جنہوں نے مجھ سے حدیث شریف پڑھی ان کی تعداد دو ہزار کے قریب ہو گی۔ سب سے کہتا ہوں کہ اگر نجات اخروی و شفاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہو تو ختم نبوت کا کام کرو۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ مرزا قادیانی سے تمہیں جتنی نفرت ہوگی اتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہیں قرب نصیب ہوگا۔ اس لیے کہ دوست کا دشمن، دشمن ہوتا ہے۔
گر وقت نے ہم سے خون مانگا ہم وقت کا دامن بھر دیں گے
پاکستان میں قادیانیوں کی خطرناک خفیہ سرگرمیاں
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
گشتی مراسلہ
حال ہی میں گورنمنٹ پاکستان نے سیکریٹریوں اور حکومت کے سربراہوں کو ایک گشتی مراسلہ بھیجا ہے۔ جس میں گورنمنٹ کے ذمہ دار افسران کو خلیفہ صاحب ربوہ کی خفیہ (C.I.D) سے ہوشیار رہنے کے لیے ہدایت دی گئی ہے۔ اس مراسلہ کا تذکرہ اخبار آزاد امروز، پاکستان ٹائمز میں آچکا ہے۔
مرکزی حکومت نے اعلیٰ حکام کو خبردار رہنے کی ہدایت کر دی
یہ مراسلہ کچھ عرصہ ہوا سرکاری افسران کو بھیجا گیا ہے۔ اس میں متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے انتظامات کریں کہ سرکاری اطلاعات ناجائز طور پر احمدیوں کے خبر رساں عملے کے ہاتھوں نہ پڑنے پائیں۔ اس مراسلہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس اس کی معتبر اطلاع ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت نے خبر رسانی کا خصوصی عملہ ملازم رکھا ہے۔ جو ایسی سرکاری اور غیر سرکاری اطلاعات فراہم کرے گا جو احمدیہ فرقہ کے مفاد میں ہوں گی۔ حکومت کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سرکاری ملازم جو احمدیہ فرقہ کے معتقد ہیں ان کے ذریعہ سرکاری اطلاعات مہیا کی جا رہی ہیں۔ ایک اور ذریعہ سے کام لے کر احمدیہ جماعت کا خبر رسانی کا عملہ سرکاری اطلاعات جمع کرتا ہے۔ وہ حکومت کے پنشن یافتہ احمدیہ ملازم ہیں جن کا ابھی تک اپنے دور کے ساتھیوں اور ماتحتوں پر اثر ہے۔ حکومت کے علم میں
یہ بھی آیا ہے کہ بعض احمدیوں نے غیر احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاکہ ان کی طرف سے شک و شبہ جاتا رہے۔ اور وہ آزادی سے تمام مسلمانوں میں خلط ملط ہوسکیں۔ اور معلومات حاصل کرسکیں۔ حکومت نے بتایا ہے کہ احمدی جماعت کا یہ عملہ عام طور پر جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان میں ربوہ کی احمدیہ جماعت کے باغیوں کی جماعت جس کا نام حقیقت پسند پارٹی ہے‘ مجلس تحفظ ختم نبوت اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا پتہ چلانا شامل ہے۔ نیز اس میں احمدیہ فرقہ اور شیعہ سنی تعلقات سے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی خبر رکھنا بھی شامل ہے۔ حکومت کے اس گشتی مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کا یہ خبر رسانی کا عملہ فی الحال ربوہ اور لاہور میں تعینات ہے۔ اور جماعت احمدیہ کی تجویز ہے کہ اس عملہ کی شاخیں‘ راولپنڈی اور کراچی میں بھی قائم کی جائیں۔ اس عملہ کو ہدایت دینا اور اس کی نگرانی کرنا احمدیہ فرقہ کے امام (خلیفہ کے بیٹے) مرزا ناصر احمد کے سپرد ہے۔ (6 دسمبر 1957ء امروز)
اس پر ملک کے مشہور معروف اخباروں نے ادارتی نوٹ بھی لکھے ہیں۔ جس میں گورنمنٹ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی ہے کہ یہ محکمہ گورنمنٹ کے لیے اتنا ضرر رساں نہیں جتنا کہ ربوہ کا خلافتی نظام چنانچہ روزنامہ آفاق لاہور کا ادارتی نوٹ ملاحظہ ہو۔
صوبائی حکومت کا راہ فرار
کچھ عرصہ پہلے معاصر ”آزاد“ نے صوبائی حکومت کے ایک خفیہ سرکلر کے نمبر اور تاریخ کا حوالہ دے کر یہ انکشاف کیا تھا۔ کہ حکومت نے اپنے محکموں کے سربراہوں کو اور سیکریٹریوں کو ربوہ کے جاسوسوں سے خبردار رہنے کے لیے کہا ہے۔ اب پاکستان ٹائمز نے اس خبر کو دہرایا ہے۔ اس خبر کے مطابق حکومت کے سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کے خلافتی نظام نے جاسوسی کا ایک محکمہ قائم کر رکھا ہے۔ جو حکومت کے دفاتر سے اپنے مفید مطلب راز حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ محکموں کے سربراہوں اور سیکریٹریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ سرکاری راز ان جاسوسوں کے ہاتھوں میں نہ پڑیں۔
صوبائی حکومت کا یہ سرکلر ایک اہم مسئلے سے فرار کی مضحکہ خیز کوشش ہے‘ حکومت کو یہ چھوٹا تنکا نظر آگیا کہ ربوہ کی انجمن نے حکومت کے راز حاصل کرنے کے لیے ایک
جاسوسی نظام قائم کر رکھا ہے۔ تقدس کی آڑ میں ایک خفیہ مقو حربے استعمال کرنے پر مجبور میں سب سے نمایاں حربہ عام کے سامنے اس بات کے ثبو واقعات پولیس کے نوٹس میں آ کو شک و شبہ باقی نہیں رہا۔ کی سازش نے ان کے لیے مجرم ا مذہب کے علم بردار سچ بات کہ زر یا زور کے ذریعے سچی گوا ہے۔
اگر اس ملک میں وا اپنے وسائل کے ذریعے چھو طفلانہ سرکلر جاری کرنے کی چاہئے۔ یا بصورت دیگر اقتد ہے کہ ربوہ کے جاسوس حکوم راز ہی کون سے ہیں جنہیں و کے خلافتی نظام کے کارکن اور دہشت خفیہ سیاسی نظام کی
روزنامہ ”تسنیم“ ب ”ربوہ کا اخباروں میں حکوم جس میں محکموں کے سربرا
جاسوسی نظام قائم کر رکھا ہے۔ لیکن یہ بہت بڑا معمہ نظر نہیں آتا کہ ربوہ کی انجمن نے مذہبی تقدس کی آڑ میں ایک خفیہ متوازی حکومت کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اور وہ ایسے تمام حربے استعمال کرنے پر مجبور ہے جو سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں حربہ عام قانون کی مشینری کو ناکام بنانے کا ہے۔ حکومت کی پولیس کے سامنے اس بات کے ثبوت و شواہد موجود ہیں۔ ربوہ میں تشدد اور جرائم کے ایسے واقعات پولیس کے نوٹس میں آ چکے ہیں۔ جن کی صداقت کے متعلق پولیس کے افسران اعلیٰ کو شک و شبہ باقی نہیں رہا۔ لیکن ان افسروں کا بیان ہے کہ اخفائے جرم کی ایک لمبی چوڑی سازش نے ان کے لیے مجرم کو سزا دلوانا یا مظلوم کی داد رسی کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ احیائے مذہب کے علم بردار سچ بات کہنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص آمادہ ہوتا ہے تو اسے زر یا زور کے ذریعے سچی گواہی دینے سے روک دیتے ہیں لہٰذا ملک کا قانون بے بس ہے۔
اگر اس ملک میں واقعی ایسے حالات پیدا ہو جائیں اور ایک جماعت اپنی تنظیم اور اپنے وسائل کے ذریعے قانون و انصاف کی مشینری کو جب چاہے شل کر دے تو حکومت کو طفلانہ سرکلر جاری کرنے کی بجائے ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کی مؤثر تدبیر سوچنی چاہئے۔ یا بصورت دیگر اقتدار کے عہدہ سے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اصل یا اہم سوال یہ نہیں ہے کہ ربوہ کے جاسوس حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس راز ہی کون سے ہیں جنہیں وہ محفوظ رکھ سکتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے خلافتی نظام کے کارکن اور بھی بہت کچھ کر رہے ہیں۔ جو ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام کی سرگرمیوں کے ذیل میں آتا ہے۔ اس کا علاج کیا ہے۔
(7 دسمبر 1957ء روزنامہ آفاق لاہور)
روزنامہ ”تسنیم“ بھی ملاحظہ ہو:
”ربوہ کا جاسوسی نظام!“
اخباروں میں حکومت مغربی پاکستان کے ایک گشتی مراسلے کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ جس میں محکموں کے سربراہوں اور سیکریٹریوں کو ربوہ کے جاسوسوں سے خبردار رہنے کی
ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ربوہ کے قادیانی خلیفہ نے جاسوسی کا ایک محکمہ قائم کر رکھا ہے۔ جو حکومت کے دفاتر سے قادیانی جماعت کے بارے میں حکومت کے فیصلوں کی اطلاعات ناجائز طور پر حاصل کرتا ہے۔ حکومت نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان جاسوسوں سے خبردار رہیں۔ حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ اطلاعات قادیانی جاسوس قادیانی سرکاری ملازموں سے حاصل کرتے ہیں۔ یا قادیانی پنشن خواروں سے جن کے تعلقات اب بھی سرکاری دفاتر سے ہیں۔
ایک معاصر نے اس پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کے نزدیک کون سی شئے اہم ہے۔ سرکاری راز معلوم کرنے کا جاسوسی نظام یا وہ خفیہ متوازی حکومت جو قادیانی نظام خلافت نے تقدس کی آڑ میں ربوہ میں قائم کر رکھی ہے۔ اگر پہلی بات ایک ”تنکا“ ہے تو دوسری بات ”شہتیر“ جاسوسی کا نظام حقیقت میں اسی خفیہ متوازی حکومت کا ایک قدرتی اقتضاء ہے۔
اس کے بعد معاصر حکومت کو بتاتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کے اعتراف کے مطابق ربوہ میں قانون اور امن کی طاقتیں بے بس ہو جاتی ہیں۔ وہاں لوگوں کی زندگی تلخ کر دی جاتی ہے۔ مگر مجرموں کے خلاف شہادت دینے پر کوئی شخص آمادہ نہیں ہوتا۔ معاصر لکھتا ہے کہ:
اصل یا اہم سوال یہ نہیں ہے کہ نظام ربوہ کے جاسوس حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں ...... بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے حفاظتی نظام کے کارکن اور بہت کچھ کر رہے ہیں۔ جو ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام کی سرگرمیوں کی ذیل میں آتا ہے۔ اس کا علاج کیا ہے؟
ہمیں معاصر کے اس تجزیے سے پورا اتفاق ہے۔ افسوس ہے کہ معاصر نے علاج تجویز کرنے کا مسئلہ حکومت پر چھوڑ کر سکوت اختیار کر لیا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ کچھ بھی پیچیدہ نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قادیانی جماعت کی اصل حیثیت کو مشخص کر دے۔ اور پردہ فریب کو چاک کر دے جو اس نے اپنے چہرے پر ڈال رکھا ہے۔ یہ جماعت بالکل اسی طرح کی ایک خفیہ سیاسی جماعت ہے۔
جس طرح کوئی خفیہ سیاسی جماعت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس نے خود کو محض ایک مذہبی جماعت قرار دے رکھا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے افراد پر سرکاری دفاتر کے دروازے چوپٹ کھلے ہوئے ہیں۔ بڑے سے بڑے عہدے پر وہ فائز ہیں۔ ان کی اصل وفاداریاں پاکستان کے نظام حکومت سے وابستہ نہیں ہیں۔ بلکہ ربوہ کے خلافتی نظام سے ہیں۔ وہ خلافت ربوہ کے راز تو سینے میں چھپا سکتے ہیں۔ مگر سرکاری اطلاعات کو عقیدۃً چھپا نہیں سکتے اگر چھپائیں تو انہیں نظام خلافت کا باغی قرار دیا جاتا ہے۔ معاصر موصوف نے پولیس اور قانون کی جس بے بسی کا تذکرہ کیا ہے وہ اسی صورت حال کا نتیجہ ہے۔
اس خرابی کا علاج یہ ہے کہ قادیانی جماعت کو خفیہ سیاسی جماعت قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو ایسی جماعتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر یہ دو عملی ختم نہیں ہو سکتی۔ اور اس گشتی مراسلے کے اجزاء کا کچھ حاصل نہیں۔ بجز اس کے کہ ”چور“ کو آگاہ کر دیا جائے کہ جاگ ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنا کام زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ جن افسروں کے نام یہ گشتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ ان میں کتنے ہی ہوں گے جو خود اس فہرست میں آتے ہوں گے جن سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ (8 دسمبر 1957ء روزنامہ تسنیم لاہور)
مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالویؒ
کی خدمت میں ایک دفعہ مرزا قادیانی آیا۔ آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ عقیدہ اہل سنت پر ثابت قدم رہنا اور خواہشات نفسانیہ و ہوائے شیطانیہ کا غلام نہ بن جانا۔
آپ کے شاگرد حافظ عبدالوہاب نے مرزا کے بعد پوچھا کہ حضرت آپ نے عجیب ہدایت فرمائی، اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کچھ عرصہ بعد اس آدمی کا دماغ خراب ہو گا اور یہ دعویٰ نبوت کرے گا۔ شیطان اس وقت بھی اس کی مہار تھامے ہوئے ہے۔ چنانچہ اس پیش گوئی کے ۳۲ سال بعد مرزا نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔
(”ارشادات مجددین“ ص ۱۶۱)
دارا لکفر ربوہ میں اسلام کا داخلہ
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کے بعد حکومت نے ربوہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا۔ جس میں آر۔ ایم مقرر ہوئے۔ پولیس، ڈاک، فون، بجلی، ریلوے، بلدیہ اور دوسرے محکموں کے قادیانی افسران کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مسلمان افسر مقرر ہوئے۔
یہ سب کچھ اس دور میں ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے۔ آپ کی دور رس فکر نے یہ سوچا کہ یہی وہ موقعہ ہے۔ جس کے لیے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور دوسرے اکابر ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان تمام حضرات نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ کوشش کی کہ ربوہ میں کام کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے تو ان اکابر کی سالہا سال کی امنگوں اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنایا جائے مگر قدرت کو منظور نہ تھا۔ یہ سعادت رب العزت نے مولانا محمد یوسف بنوری کے لیے مقرر کر رکھی تھی۔
چنانچہ آپ نے اپنے مکتوب کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی کہ جس مناسب وقت کا مدت سے انتظار تھا، وہ آ پہنچا ہے۔ آپ ربوہ جا کر کام کرنے کی راہیں تلاش کریں اور ربوہ میں اس مہم کا نگران مولانا تاج محمود کو مقرر کریں۔ مولانا محمد شریف جالندھری کا پیغام لے کر مولانا خدا بخش، مولانا قاری عبدالسلام حاصل پوری اور راقم الحروف ۵ دسمبر ۱۹۷۴ء کو جناب آر۔ ایم سے ان کی عدالت میں ملے اور ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے احاطہ عدالت کے ایک کونہ میں مسجد نما تھڑا پر نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے کسی آدمی کو متعین کر دیں، جو یہاں آپ کی عدالت میں مقدموں کے سلسلہ میں آنے والے مسلمانوں کو
بلا معاوضہ نماز باجماعت پڑھا دیا کرے۔ موصوف نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مگر چند دنوں بعد آپ دوبارہ مجھ سے رابطہ قائم کریں۔ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء کو مولانا محمد اشرف جالندھری اور مولانا عزیز الرحمن خورشید‘ جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے مبلغ تھے‘ دوبارہ ربوہ میں آر۔ ایم سے ملے۔ موصوف نے ظہر اور عصر کی نماز باجماعت پڑھانے کی اجازت دے دی۔ کیونکہ عدالت کے اوقات میں یہی دو نمازیں آتی تھیں۔
چنانچہ اسی دن مجلس تحفظ ختم نبوت کھرڑیانوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ حافظ سید ممتاز الحسن نے ظہر کی نماز ربوہ میں جا کر پڑھائی۔ خود اذان کہی۔ جماعت کرائی۔ پہلے دن امام صاحب کے علاوہ دو نمازی تھے۔ ربوہ میں مسلمانوں کی یہ پہلی جماعت تھی۔ بعد میں مولانا عزیز الرحمن خورشید روزانہ سرگودھا سے ربوہ تشریف لاتے اور یہ دونوں نمازیں پڑھاتے اور یہ سلسلہ چار ماہ تک جاری رہا۔ اس کے بعد کراچی سے مولانا محمد شریف احرار کا چنیوٹ تبادلہ کر دیا گیا۔ ربوہ میں نمازیں اور جمعہ پڑھانے کا فرض انہیں تفویض کیا گیا۔
قبرستان شہداء کی حد براری
اس دوران رانا فضل الرحمن صاحب چنیوٹ کے تحصیلدار تھے۔ مولانا محمد شریف نے انہیں درخواست دی کہ ربوہ میں لاری اڈہ کے قریب مرزائیوں کا خود ساختہ بہشتی مقبرہ کے مشرقی جانب کا قبرستان جو کاغذات میں قبرستان شہداء مقبوضہ اہل اسلام ہے۔ اس کی حد براری ہونی چاہیے۔ یہ سولہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے اور مسلمانوں کا ہے۔ قادیانی آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا اس کی حد براری کر کے نشان لگا دیے جائیں تاکہ مرزائی اس میں اپنے مردے دفنا نہ سکیں۔ یہ ربوہ میں مسلمانوں کی دوسری کامیابی تھی۔
یہ تمام کام انتہائی آہستگی سے کیا گیا۔ اس کا کہیں پروپیگنڈہ تو درکنار ذکر تک نہ کیا گیا۔ پانچ ماہ بعد ہفتہ وار ”لولاک“ کی اشاعت ۱۲ مئی ۱۹۷۵ء میں بعنوان ’کفرستان ربوہ میں اسلام کی پہلی آواز‘ مسلمانوں نے ربوہ میں جمعہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ خبر شائع کی۔ ملک
بھر کے جماعتی احباب نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اب ہمارے قدم مضبوط تھے۔ دشمن کو کسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات نہ ہوئی۔
مسلم ٹی سٹال
آر۔ ایم صاحب کی عدالت سے ملحق مسلم ٹی سٹال کے نام سے ایک چھوٹا سا کھوکھا بنوایا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے محمد اعظم کشمیری نگران مقرر ہوئے۔ عدالت میں آنے والے مسلمان یہاں سے چائے پیتے تھے۔ اس سلسلہ میں مسلمان وکلاء نے بڑا تعاون کیا۔ سب سے زیادہ لالیاں ضلع جھنگ کے جواں سال کارکن جناب محمد اشرف نے بہت محنت کی۔
مولانا خدا بخش ربوہ میں
مولانا محمد شریف کے جہلم چلے جانے کے بعد مولانا خدا بخش شجاع آبادی کو مجلس نے ربوہ کے امور کا انچارج مقرر کیا۔ موصوف نے گرمی، سردی، بارش، آندھی کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ اسی عدالت کے احاطے میں نمازیں اور جمعے ہوتے رہتے تھے۔ مولانا محمد خان مبلغ سیالکوٹ، مولانا قاضی محمد اللہ یار، مولانا منظور احمد شاہ، مولانا محمد یوسف لودھیانوی اور مولانا خلیل الرحمٰن نے کبھی کبھار مولانا خدا بخش کی عدم موجودگی میں جمعہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔
ریلوے مسجد محمدیہ کی تعمیر
ریلوے کا ایک وفد غالباً ۲۵ جنوری ۷۶ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن کے لیے آیا۔ اس کے آفیسر نیک آدمی تھے۔ نماز پڑھنا چاہی، مسلمانوں کی وہاں کوئی مسجد نہ تھی۔ انہوں نے
تحریک پیدا کی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ریلوے اسٹیشن ربوہ کا مسلمان عملہ کمر بستہ ہو گیا۔ مولانا تاج محمود نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ نے فیصل آباد کے دوستوں کو توجہ دلائی۔ ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت اور اہل اسلام نے معاونت کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کبھی کبھار رقم کی دقت پیش آتی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز ملتان سے تعاون حاصل ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد بن گئی۔ مولانا تاج محمود صاحب دامت برکاتہم نے اس کا نام مسجد محمدیہ اہل سنت والجماعت تجویز کیا۔ اس کے سائن بورڈ پر جاء الحق وزهق الباطل آیت تحریر کی گئی۔ یہ مسجد مختلف مراحل سے گزر کر آج اصلها ثابت وفرعها في السماء کے مصداق ہے۔ اس کی چھت پڑنے کے بعد عدالت کی بجائے جمعہ کی نماز اس مسجد میں شروع کر دی گئی۔ حضرت مولانا خدا بخش
مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس کے خطیب مقرر ہوئے جبکہ پنجگانہ نمازوں‘ اذان اور مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے قاری شبیر احمد عثمانی کو مقرر کیا۔ موصوف شجاع آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام اور خطیب دونوں مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ جو حضرت مرحوم کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ آج کل اس مسجد کی انتظامیہ کے سربراہ مولانا خدا بخش صاحب ہیں۔ پچھلے دنوں رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع تھا۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب کے توجہ دلانے پر تبلیغی جماعت کے ارباب بست و کشاد نے اپنی جماعتوں کو اس علاقہ میں بھیجنے کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کے خلوص کا صدقہ اس جگہ کو مزید آباد فرمائے۔
ربوہ میں قبول اسلام
۲۹ رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ مطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کو بروز جمعۃ الوداع مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ خطیب ربوہ مولانا خدا بخش صاحب کے دست حق پرست پر ایک مرزائی نے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔ ۴ شوال ۱۳۹۶ھ کے جمعہ پر مولانا موصوف کے
دست مبارک پر قصبہ احمد نگر کے حکیم غلام حسین نے اسلام قبول کیا۔ ۱۳ شوال کے جمعہ پر مسماۃ سیدہ بشریٰ اور اس کی والدہ ساکنان ربوہ نے مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کی ہفت روزہ ”لولاک“ کی اشاعت کے مطابق ریلوے مسجد کے امام حافظ قاری شبیر احمد کے ہاتھ پر مزید آٹھ افراد نے اسلام قبول کیا۔
ہمیں یقین ہے کہ ان خبروں سے کل مسلمانوں کو عظیم خوشی ہوگی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خادموں اور مبلغوں کی پرامن، خاموش اور موثر خدمات ربوہ میں رنگ لا رہی ہیں اور ربوہ کے بھولے بھٹکے مرزائی حقیقت حال سے آگاہ ہونے پر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ”الحمدللہ علی ذالک حمدا کثیرا طیبا کما امر۔“
ایک زمانہ تھا کہ ربوہ میں کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر کسی کو وہاں جانا ہوتا تو وہ ربوہ سرکار سے اجازت حاصل کیا کرتا تھا۔ کئی بے گناہ لوگ ربوہ کو ملک کا ایک حصہ سمجھ کر داخل ہوتے تو ان کی ٹانگیں اور بازو توڑ دیے جاتے اور جان بحق کر دیا جاتا۔ لیکن اب ایک زمانہ ہے وہاں مسلمانوں کی مساجد بن رہی ہیں۔ اذان، جماعت، جمعہ اور عیدین ہو رہی ہیں۔ ربوہ اور احمد نگر کے لوگ مرزائیت سے علی الاعلان تائب ہو رہے ہیں۔ لیکن کسی مرزائی کو جرات نہیں کہ وہ ان کو ہاتھ لگا سکے۔
ربوہ میں مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز تراویح
رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ ربوہ میں دو جگہ پر پہلی دفعہ مسلمانوں کی باجماعت نماز تراویح ہوئی۔ جس میں ربوہ کے رہنے والے مسلمان شریک ہوتے تھے اور نماز تراویح پڑھنے اور قرآن شریف سننے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ نماز تراویح مسجد تحفظ ختم نبوت کی زیر تعمیر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں مولانا عبدالرزاق رحیمی نے پڑھائی اور دوسری نماز تراویح ریلوے مسجد ربوہ میں ہوتی رہی۔ جہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قاری شبیر احمد نے قرآن مجید سنایا۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ
مرقدہ کے حکم خاص پر ریلوے مسجد میں اعتکاف باجماعت قاری صاحب اس سال ۱۹۷۹ء المبارک ۱۳۹۷ھ کو تو سارا قرآن مجید سنایا۔ اس سال بھی عیدالفطر امامت میں ادا کی۔
ربوہ میں
اوائل ۱۹۷۸ء محمد شریف جالندھری اینڈ ٹاؤن پلاننگ فیصل ختم نبوت پاکستان کو جا محکمہ ہاؤسنگ جھنگ ک ۱۹۷۶ء کے اواخر میں ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ آپ ربوہ میں ایک اور آپ کو زمین دی مرحوم اور مولانا خد سے بھی ہمیں درخو رجسٹرڈ ہو۔ مولانا رجسٹرڈ ادارہ ہے۔
مرقدہ کے حکم خاص پر رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ کے آخری عشرہ میں قاری شبیر احمد نے ریلوے مسجد میں اعتکاف کی سنت ادا کی۔ نماز عید الفطر پڑھائی اور اسی طرح عید الاضحیٰ بھی باجماعت قاری صاحب موصوف نے پڑھائی۔
اس سال ۱۳۹۷ھ میں بھی دونوں جگہوں پر باجماعت تراویح ہوئیں۔ ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ کو قاری شبیر احمد صاحب نے اکیلے ہی عشاء کی نماز سے لے کر فجر تک سارا قرآن مجید سنایا۔ پوری رات مسجد اللہ رب العزت کے کلام پاک سے گونجتی رہی۔ اس سال بھی عید الفطر اور عید الاضحیٰ مسلمانوں نے ریلوے مسجد میں قاری صاحب کی امامت میں ادا کی۔
ربوہ میں مجلس کے لیے قطعہ اراضی کا حصول
اوائل ۱۹۷۶ء میں حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے درخواست گزاری۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے جنرل سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے وہ درخواست محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فیملی پلاننگ فیصل آباد کو ارسال کی کہ آپ ربوہ کی زیر تجویز رہائشی کالونی میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو جامع مسجد اور مدرسہ کے لیے پلاٹ عنایت کریں۔ ہفتہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ کی طرف سے جواب ملا کہ آپ کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔ مئی ۱۹۷۶ء کے اواخر میں جناب بلال زبیری مرحوم، مولانا خدا بخش اور راقم الحروف ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ سے ملے۔ اپنی درخواست کی یاد دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ربوہ میں ایک ٹرسٹ قائم کریں۔ اسے رجسٹر کرائیں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور آپ کو زمین دی جاسکے۔ ۱۵ جون ۱۹۷۶ء کو مولانا محمد شریف جالندھری، بلال زبیری مرحوم اور مولانا خدا بخش ڈپٹی ڈائریکٹر سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اور لوگوں کی طرف سے بھی ہمیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ لیکن ہم زمین ان کو دیں گے جن کی پارٹی رجسٹرڈ ہو۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ان کو بتایا کہ مجلس ختم نبوت پاکستان کا ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ ہم تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے اندرون اور بیرون ملک کام کرتے
ہیں۔ ہمارا حساب باقاعدہ گورنمنٹ کی منظور شدہ اتھارٹی آڈٹ کرتی ہے۔ ہماری درخواست بھی پہلے آئی ہے۔ ہمارا ترجیحی حق بنتا ہے کہ زمین ہمیں ملنی چاہیے۔ اس وضاحت کے بعد موصوف مطمئن ہو گئے اور وعدہ کیا کہ عنقریب ہماری ضلعی میٹنگ ہو گی۔ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔
مولانا محمد علی جالندھری کی فراست ایمانی
تاریخ سے زیادتی ہو گی‘ اگر اس جگہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نور اللہ مرقدہ کی روح پر فتوح کو دل کھول کر خراج عقیدت پیش نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے۔ جنہوں نے اس دن سے ربع صدی قبل مجلس کو رجسٹرڈ کرا دیا تھا۔ گو اس وقت بعض احباب چیں بہ جبیں تھے، معترض تھے، طعنے دیتے تھے کہ مولانا نے جماعت کو رجسٹرڈ کروا کر حکومت کی مداخلت کی راہ ہموار کر دی ہے۔ حکومت جب چاہے گی۔ حساب چیک کرنے کے بہانے روڑے اٹکائے گی۔ مگر آج کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ مولانا مرحوم کی دور رس نگاہوں، مومنانہ بصیرت اور مجاہدانہ فراست نے جو کام کیا تھا۔ سو فیصد درست تھا۔ چنانچہ ربوہ میں زمین ملنے کا ایک سبب جماعت کا رجسٹرڈ ہونا بھی ہے۔
زمین کا قبضہ
درخواست مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ حتیٰ کہ ۲۶ جون ۱۹۷۶ء کو ملتان دفتر میں محکمہ ہاؤسنگ کا ایک حکم نامہ موصول ہوا کہ محکمہ نے آپ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آپ جلدی حاضر ہو کر قبضہ لے سکتے ہیں۔ چنانچہ ۲۸ جون ۱۹۷۶ء مطابق ۲۹ جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ بروز پیر مولانا محمد شریف جالندھری دامت برکاتہم نے ربوہ پہنچ کر جناب ڈپٹی
ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ سے ۹ کنال زمین برائے جامع مسجد و مدرسہ کے پلاٹ کا قبضہ لے لیا۔ والحمد لله حمدا كثيرا
حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین
خانقاہ سراجیہ ربوہ میں
۷ جولائی ۱۹۷۶ء مطابق ۸ رجب ۱۳۹۶ھ بروز بدھ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ جو ان دنوں نائب امیر تھے۔ شیخ طریقت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف تشریف لائے۔ اس پلاٹ پر عصر کی باجماعت نماز پڑھائی اور دعا کی کہ اللہ رب العزت اس مسجد کو رشد و ہدایت اور تعلیم و تبلیغ کا مرکز بنائے اور ہم سب کو اس کی تعمیر اور آباد کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ اس تقریب سعید کا گو پہلے سے اعلان نہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ربوہ میں رہنے والے تمام مسلمان نماز میں شریک ہوئے۔ حضرت الامیر کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری مرکزی نمائندگی کر رہے تھے۔
فیصل آباد سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمود، مولانا فقیر محمد، حاجی بشیر احمد، رانا نصر اللہ خان، جناب برکت دارا پوری، نمائندہ نوائے وقت شریک ہوئے۔ چوہدری ظہور احمد، شیخ مقبول احمد، شیخ منظور احمد، سالار فیروز اور بیسیوں کارکن چنیوٹ سے تشریف لائے۔ چک جھمرہ سے سید ظفر علی شاہ کی قیادت میں ایک دستہ رضا کاروں اور کارکنوں کا پہنچ گیا تھا۔ گوجرہ کے احباب بھی شریک ہوئے۔ یہ سادہ اور پر خلوص تقریب ۲ گھنٹے تک جاری رہی۔ حضرت امیر شریعت کے پرانے رفیق کار مولانا عبدالرحمن میانوی اجتماعی دعا میں شریک نہ ہو سکے۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھی اسی پلاٹ میں نماز پڑھی اور پر خلوص دعا کی۔ یہ ایمان پرور تقریب دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب پاؤں کی چوٹ کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ کار سے نماز کی جگہ تک چوہدری
ظہور احمد آپ کو کندھوں پر اٹھا کر لائے۔ اس حالت کو دیکھ کر ساتھیوں کو اس دن ہی یقین ہو گیا تھا کہ ان حضرات کے اس خلوص کے صدقے اللہ رب العزت اس جگہ کو ضرور آباد فرمائیں گے۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ خطیب پاکستان حضرت قاضی صاحب‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری‘ مولانا لال حسین اختر اور دوسرے ہزاروں بزرگوں کی تمنا تھی کہ اللہ رب العزت اسی دارالکفر ربوہ میں مسلمانوں کو محمد عربی ﷺ کا جھنڈا لہرانے کی سعادت سے بہرہ مند فرمائیں۔ وہ حضرات گو اس تقریب میں موجود نہ تھے۔ لیکن ان کی روحیں یقیناً شادمان ہوں گی کہ ان کے جانشین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے حدی خوان حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ‘ ان کے ساتھی حضرت مولانا تاج محمود صاحب‘ مولانا محمد شریف جالندھری‘ مولانا محمد حیات‘ مولانا عبدالرحمن میانوی کے ہاتھوں ان کی دیرینہ خواہش و تمنا کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ اسی دن عارضی مسجد اور حجرہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور نیت یہ تھی کہ اس عارضی مسجد کی شرعی حیثیت ایک ہوگی۔ مستقل نقشہ کے مطابق ردو بدل کیا جائے گا۔ اب اس جگہ کو آباد کرنے کا مسئلہ تھا۔ چنانچہ گوجرانوالہ سے مولانا حافظ عبدالرزاق کا ربوہ تبادلہ کر دیا گیا۔ چھ ماہ تک آپ نے یہاں کام کیا۔ اس کے بعد مولانا عبدالحمید آزاد تشریف لائے۔
مولانا عبدالحمید آزاد
موصوف ڈیرہ غازی خان کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت امیر شریعت کے تربیت یافتہ ہیں۔ ان کو فنا فی الاحرار کا مقام حاصل ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مولانا تاج محمود‘ حافظ حکیم عبدالمجید مرحوم نابینا کے ہمراہ مہینوں کیمبل پور جیل میں رہے۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہیں۔ آپ کے جاری کردہ ہفت روزہ ”خدام الدین“ کے سیلز منیجر رہے ہیں۔ چنیوٹ میں ۱۰‘ ۱۱‘ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۲ء کو چوبیسویں ختم نبوت سالانہ کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مولانا
محمد شریف جالندھری نے ربوہ میں ڈیرہ لگانے کا حکم دے دیا۔ سنتے ہی تیار ہو گئے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۷۲ء سے ۱۴ جون ۱۹۷۷ء تک ۴ سال چھ ماہ قیام کیا۔ دیانت داری کی بات ہے کہ اس قسم کے بے لوث مجاہد ورکر بہت کم ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے۔ ان کے بعد قاری اللہ وسایا غوری علی پور سے تشریف لائے جو تاحال اس مسجد کے انچارج ہیں۔
مبارک باد کے خطوط
۷ جولائی کو حضرت مولانا خان محمد صاحب نے افتتاح کیا تھا۔ ۸ جولائی کو اخبار میں خبر چھپی۔ اہل اسلام کو جب اس کامیابی کا علم ہوا تو خطوط، تاریں، فون، پیغامات کے ذریعہ مجلس کے نمائندوں سے بے پناہ محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوشی ہوئی، اس کا بیان کرنا کم از کم میرے جیسے کم علم آدمی کے لیے مشکل ہے۔
شکر گزار ہوں
اس عنوان سے مولانا محمد شریف جالندھری نے ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء کو درج ذیل بیان جاری کیا ”پچھلے ماہ پیر طریقت حضرت مولانا خان محمد صاحب کندیاں شریف نے عصر کی نماز اس پلاٹ پر پڑھائی۔ جس میں سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ وہاں پر عارضی مسجد کا حجرہ بنا دیا گیا۔ تاکہ ابتدائی کام شروع ہو۔ مستقل تعمیر حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم (رحمۃ اللہ علیہ) امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع کرنا ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کو قیامت تک یہ افسوس رہے گا کہ حضرت مرحوم کے ہاتھوں ربوہ میں
مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ حضرت دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کی طبیعت ناساز ہو گئی اور ہم فوری طور پر سنگ بنیاد کی تقریب منعقد نہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت الامیر دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کو صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ (اے بسا آرزو کہ خاک شد) حقیقت یہ ہے کہ جو تحریک ختم نبوت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی الف سے شروع ہوئی تھی وہ حضرت بنوری کی یا پر تکمیل پذیر ہوئی۔ حضرت کا وجود پوری امت مسلمہ کے لیے بالعموم اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لیے بالخصوص غنیمت ہے۔ حضرت کے صحت یاب ہونے پر ہم وہاں سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کرائیں گے جس میں ملک بھر کے جماعتی احباب کو مدعو کیا جائے گا۔ جس کے بعد مسلسل تعمیر شروع ہو جائے گی۔ اس کامیابی پر ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں نے بے پناہ جوش و خروش، محبت و عقیدت، خوشی و انبساط کا مظاہرہ کیا۔ دعاؤں سے نوازا۔ خطوط لکھے۔ تاریں دیں۔ فون کیے، پیغامات ارسال کیے۔ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان میں سے بعض احباب کے خطوط مجلس کے آرگن ہفتہ وار ”لولاک“ میں بھی شائع ہوئے۔ سینکڑوں خطوط کا جواب دینا میرے لیے مشکل امر ہے۔ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اپنی دعاؤں سے ہماری سرپرستی فرمائی۔
”لولاک“ کے ذریعہ تمام احباب سے فرداً فرداً جواب نہ دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت، آقائے نامدار کی ختم نبوت کے صدقے، شہدائے ختم نبوت کے خون کے بدلے، حضرت انور شاہ کشمیری، حضرت امیر شریعت، حضرت قاضی صاحب، حضرت مولانا جالندھری مرحوم، مولانا لال حسین اختر رحمہم اللہ اور دوسرے بزرگوں کی قربانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کامیابی عنایت فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص مبارک باد کا مستحق ہے جس نے ختم نبوت کے لیے تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت اقدس مولانا خان محمد سجادہ نشین کی قیادت باسعادت۔ مولانا تاج محمود، مولانا محمد حیات، مولانا عبد الرحمن میانوی، مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا غلام محمد، سردار میر عالم خان لغاری کی رفاقت با کرامت کے صدقے یہ مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔
ملک بھر کے مبلغین ختم نبوت اور کارکنان بہی خواہاں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کر دیں تاکہ جلد از جلد منزل مقصود کو حاصل کریں۔ والسلام۔ دعاؤں کا محتاج۔ محمد شریف جالندھری۔
ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں
فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما مولانا فقیر محمد صاحب نے اس پلاٹ کے حصول کے لیے مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری سے بھرپور تعاون کیا۔ ۹ جولائی ۱۹۷۶ء کے ”لولاک“ میں آپ کا ایک تفصیلی بیان شائع ہوا۔ جس میں پنجاب بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں۔ چنانچہ جو احباب محکمہ ہاؤسنگ کی شرائط کے مطابق درخواست دینے کے مستحق تھے۔ انہوں نے پلاٹ حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کی۔ اہل اسلام کو جب اس کامیابی کا علم ہوا تو خطوط، تاریں، فون، پیغامات کے ذریعہ مجلس کے نمائندوں سے بے پناہ محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوشی ہوئی، اس کا بیان کرنا کم از کم میرے جیسے کم علم آدمی کے لیے مشکل ہے۔
شکرگزار ہوں
اس عنوان سے مولانا محمد شریف جالندھری نے ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء کو درج ذیل بیان جاری کیا ”پچھلے ماہ پیر طریقت حضرت مولانا خان محمد صاحب کندیاں شریف نے عصر کی نماز اس پلاٹ پر پڑھائی۔ جس میں سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ وہاں پر عارضی مسجد کا حجرہ بنا دیا گیا۔ تاکہ ابتدائی کام شروع ہو۔ مستقل تعمیر حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت
پاکستان کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع کرنا ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کو قیامت تک یہ افسوس رہے گا کہ حضرت مرحوم کے ہاتھوں ربوہ میں مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ حضرت دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کی طبیعت ناساز ہو گئی اور ہم فوری طور پر سنگ بنیاد کی تقریب منعقد نہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت الامیر دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کو صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ (اے بسائے آرزو کہ خاک شد) حقیقت یہ ہے کہ جو تحریک ختم نبوت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی الف سے شروع ہوئی تھی وہ حضرت بنوریؒ کی یا پر تکمیل پذیر ہوئی۔ حضرت کا وجود پوری امت مسلمہ کے لیے بالعموم اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لیے بالخصوص غنیمت ہے۔ حضرت کے صحت یاب ہونے پر ہم وہاں سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کرائیں گے جس میں ملک بھر کے جماعتی احباب کو مدعو کیا جائے گا۔ جس کے بعد مسلسل تعمیر شروع ہو جائے گی۔ اس کامیابی پر ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں نے بے پناہ جوش و خروش، محبت و عقیدت خوشی و انبساط کا مظاہرہ کیا۔ دعاؤں سے نوازا۔ خطوط لکھے۔ تاریں دیں۔ فون کیے، پیغامات ارسال کیے۔ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان میں سے بعض احباب کے خطوط مجلس کے آرگن ہفتہ وار ”لولاک“ میں بھی شائع ہوئے۔ سینکڑوں خطوط کا جواب دینا میرے لیے مشکل امر ہے۔ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے اپنی دعاؤں سے ہماری سرپرستی فرمائی۔
”لولاک“ کے ذریعہ تمام احباب سے فرداً فرداً جواب نہ دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت، آقائے نامدارؐ کی ختم نبوت کے صدقے، شہدائے ختم نبوت کے خون کے بدلے، حضرت انور شاہ کشمیریؒ، حضرت امیر شریعت، حضرت قاضی صاحبؒ، حضرت مولانا جالندھری مرحوم، مولانا لال حسین اخترؒ رحمہم اللہ اور دوسرے بزرگوں کی قربانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کامیابی عنایت فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص مبارک باد کا مستحق ہے جس نے ختم نبوت کے لیے تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت اقدس مولانا خان محمد سجادہ نشین کی قیادت باسعادت۔ مولانا تاج
محمود، مولانا محمد حیات، مولانا عبد الرحمن میانوی، مولانا عبد الرحیم اشعر، مولانا غلام محمد، سردار میر عالم خان لغاری کی رفاقت یا کرامت کے صدقے یہ مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ ملک بھر کے مبلغین ختم نبوت اور کارکنان بہی خواہاں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کر دیں تاکہ جلد از جلد منزل مقصود کو حاصل کریں۔ والسلام۔ دعاؤں کا محتاج۔ محمد شریف جالندھری۔
ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں
فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما مولانا فقیر محمد صاحب نے اس پلاٹ کے حصول کے لیے مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری سے بھرپور تعاون کیا۔ ۹ جولائی ۱۹۷۶ء کے ”لولاک“ میں آپ کا ایک تفصیلی بیان شائع ہوا۔ جس میں پنجاب بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں۔ چنانچہ جو احباب محکمہ ہاؤسنگ کی شرائط کے مطابق درخواست دینے کے مستحق تھے۔ انہوں نے پلاٹ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دیں تاحال ان کی قرعہ اندازی نہیں ہوئی۔
ملکی و غیر ملکی معروف رہنماؤں کی
ربوہ میں تشریف آوری
۱۳ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ سردار عالم خان لغاری، مولانا تاج محمود، حاجی محمد صدیق، چوہدری محمد صدیق، فیصل آباد تشریف لائے۔ ربوہ میں مجلس مشاورت ہوئی، جس میں طے پایا کہ جامع مسجد کے اردگرد دارالعلوم ختم نبوت کی عمارت، مدرسین و عملہ کی رہائش گاہیں، لائبریری، دارالحدیث اور دارالقرآن تعمیر کیے
جائیں گے۔ نقشہ میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ مسجد کا ایمان پرور نظارہ دریائے چناب کے پل پر سرگودھا‘ فیصل آباد سڑک پر سفر کرنے والے اہل اسلام کو دکھائی دے۔ اس جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد وفد نے ریلوے مسجد محمدیہ کا معائنہ کیا۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب ربوہ میں جامعہ مسجد ختم نبوت میں مستقلاً رہائش کے لیے تشریف لائے۔ آج سے نصف صدی قبل امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے حکم پر آپ شعبہ تبلیغ کے انچارج کی حیثیت سے قادیان تشریف لے گئے تھے۔ جہاں احرار رہنما ماسٹر تاج الدین انصاری‘ مولانا عنایت اللہ اور دوسرے احباب کے ہمراہ امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا تھا۔ اب خود مولانا کے اصرار اور احباب کی تجویز پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ آپ قادیان کی طرح ربوہ کے کام کی سرپرستی فرمائیں۔ جماعتی ضرورت کے مطابق آپ کو ملتان‘ کراچی‘ گوجرانوالہ‘ لاہور کے سفر بھی کرنے پڑتے مگر آپ کا صدر مقام ربوہ میں ہے۔ وعظ و تبلیغ اور رشد و ہدایت کی محفلیں منعقد ہوتی رہتی ہیں اور علاقہ کے لوگ مولانا کے علم اور تجربہ سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔
۲۴ اکتوبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت‘ ابو ظہبی‘ عرب امارات کے جنرل سیکرٹری جناب محمد رفیق صابری ربوہ میں تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور راقم الحروف آپ کے ہمراہ تھے۔ ربوہ میں مولانا محمد حیات‘ مولانا خدا بخش‘ شیخ منظور احمد‘ قاری شبیر احمد مولانا عبدالرزاق رحیمی اور دوسرے احباب نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا محمد حیات نے مسجد کے حجرہ میں جناب صابری کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ سادہ مگر پر خلوص تقریب قابل دید تھی۔ مولانا محمد حیات نے ربوہ میں کام کی تفصیل سے صابری صاحب کو باخبر کیا۔ صابری صاحب نے ابو ظہبی کی طرف سے کامل تعاون کا یقین دلایا۔ ظہر کی اذان صابری صاحب نے کہی۔ مولانا عبدالرزاق نے امامت کرائی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ایمان پرور دعا کرائی۔ صابری صاحب ریلوے مسجد کے معائنہ کے بعد فیصل آباد اور ملتان کے سفر پر روانہ ہوگئے۔
۳۰ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حسن عامر آرکی ٹیکٹس اینڈ کمپنی کراچی کے سربراہ کرنل حسین صاحب کراچی سے ہوائی جہاز کے ذریعہ فیصل آباد تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف
خاطر رکھا جائے کہ مسجد کا ایمان پرور نظارہ دریائے سڑک پر سفر کرنے والے اہل اسلام کو دکھائی دے۔ نے ریلوے مسجد محمدیہ کا معائنہ کیا۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حسب ربوہ میں جامعہ مسجد ختم نبوت میں مستقلاً رہائش صدی قبل امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی حیثیت سے قادیان تشریف لے گئے تھے۔ جہاں مولانا عنایت اللہ اور دوسرے احباب کے ہمراہ امت تھا۔ اب خود مولانا کے اصرار اور احباب کی تجویز پر طرح ربوہ کے کام کی سرپرستی فرمائیں۔ جماعتی چی، گوجرانوالہ، لاہور کے سفر بھی کرنے پڑتے مگر تبلیغ اور رشد و ہدایت کی محفلیں منعقد ہوتی رہتی تجربہ سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ د، ابو فہمی، عرب امارات کے جنرل سیکرٹری جناب ، مولانا محمد شریف جالندھری اور راقم الحروف آپ ، مولانا خدا بخش، شیخ منظور احمد، قاری شبیر احمد حباب نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا محمد حیات نے ز میں استقبالیہ دیا۔ سادہ مگر پر خلوص تقریب قابل کی تفصیل سے صابری صاحب کو باخبر کیا۔ صابری ون کا یقین دلایا۔ ظہر کی اذان صابری صاحب نے ا۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ایمان پرور دعا معائنہ کے بعد فیصل آباد اور ملتان کے سفر پر روانہ
ٹیکسٹائل اینڈ کمپنی کراچی کے سربراہ کرنل حسین یہ فیصل آباد تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف
جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری، مولانا تاج محمود، حاجی نذر حسن کے ہمراہ ربوہ تشریف لے گئے۔ موصوف کو آنحضرت ﷺ سے والہانہ عشق ہے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے خاص معتقدین میں سے ہیں۔ ملتان کے عالمی تبلیغی مرکز کا نقشہ انہوں نے بنایا ہے۔
ربوہ میں سنگ بنیاد کی تقریب کا التوا
ربوہ میں جامع مسجد ختم نبوت کے سنگ بنیاد کے لیے پروگرام بنتا رہا۔ بھٹو گورنمنٹ کی مہربانی سے اجازت نہ ملنے کے باعث ملتوی ہوتا رہا۔ بالآخر طے پایا کہ ۹ جنوری ۱۹۷۷ء کو سنگ بنیاد رکھنے کے انتظامات کیے جائیں۔ ابتدائی انتظامات کر لیے گئے۔ ۲۶، ۲۷، ۲۸ دسمبر ۱۹۷۶ء کی چنیوٹ کانفرنس میں اس کا اعلان کر دیا گیا۔ اب بھی بھٹو گورنمنٹ مانع آئی اور یہ پروگرام بھی بالآخر طوعاً و کرہاً ملتوی کر دیا گیا۔
اس کے بعد فروری ۱۹۷۷ء میں طے پایا کہ پلاٹ کی چار دیواری کرلی جائے تاکہ چار دیواری کے اندر شاید اجلاس منعقد کرنے کی منظوری مل جائے۔ فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما ٹھیکیدار الحاج نذر حسن نے جاکر چار دیواری کے نشانات کر دیے۔ ہدایات دیں، کام شروع ہوا۔ چار دیواری مکمل ہوئی، پلاٹ کے جنوب مشرقی کونہ میں ٹیوب ویل لگایا گیا۔ جنوب مغرب کے کونہ میں دو عالیشان کمرے تعمیر کر دیے گئے۔ بجلی مل گئی، ٹیلیفون مل گیا جس کا نمبر ۴۶۶ ہے۔ مگر بھٹو گورنمنٹ نے پھر بھی اجازت نہ دی۔ اس طرح شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ہاتھوں اس پلاٹ میں جامع مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جاسکا۔ مرحوم اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے ساتھیوں کو قیامت تک اس بات کا دکھ رہے گا کہ حضرت موصوف اپنے پودے کو ربوہ میں پھلتے پھولتے نہ دیکھ سکے۔ اب حضرت مولانا تاج محمود صاحب اس کا نقشہ بنوا رہے ہیں۔ انتظامات مکمل ہونے پر مجلس کے امیر مرکزیہ حضرت پیر طریقت مولانا خان محمد صاحب نقشبندی، مجددی، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بنوری کے ہاتھوں لگائے اس پودے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے اور پوری امت کو آپ کے نقش قدم پر چل کر تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ وماذالک علی اللہ العزیز۔
حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کا
ربوہ کے متعلق مکتوب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت ملت اسلامیہ پر واضح ہوچکی ہے کہ یہ دین اسلام کا بنیادی ستون ہے اور اس کی حفاظت دین کی اہم ترین خدمت ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی کی قیادت میں جس انداز سے تحریک چلائی گئی تھی‘ اسے حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مثمر فرمایا۔ وہ ظاہر ہے لیکن اب ضرورت ہے کہ یہ بنیادیں پختہ کی جائیں اور مزید بقیہ امور کی تکمیل کی جائے۔
ربوہ‘ جو قادیانیت کا عظیم مرکز تھا۔ وہاں مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ۹ کنال برائے تعمیر مسجد و مدرسہ دی گئی ہے۔ اس لیے مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کی تکمیل میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔
ابتدائی مراحل طے کرنے کے لیے کچھ رقم بھی آگئی ہے اور کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ جب کہ نماز جمعہ اور وعظ و تبلیغ کا کام تقریباً دو سال سے شروع ہوچکا ہے۔ مجھے حق تعالیٰ سے امید ہے کہ احباب توجہ فرمائیں گے اور ان کے ہاتھوں اس بنیادی کار خیر کی تکمیل ہو جائے گی۔ حق تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے اور صالحین کے ہاتھوں سے اور مخلصین کی کوشش سے اس کی تکمیل ہو جائے۔ وما ذالک علی اللہ العزیز
(مولانا سید محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ)
(بحوالہ لولاک فیصل آباد‘ ۱۴ ستمبر ۱۹۷۲ء مطابق ۱۸ رمضان المبارک ۱۳۹۲ھ)
مظلوم قادیانیوں پر قادیانی پوپ کے مظالم
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
الغرض خلیفہ صاحب ربوہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا ہر حکم جماعت کے ممبروں کے نزدیک آخری حرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ صاحب کے ادنیٰ اشارے پر اپنی جان و مال عزت آبرو قربان کر دینا دنیا میں عین سعادت سمجھتے ہیں اور ان کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ صاحب کی آتش حرص کو بجھانے کے کام آتا ہے۔ خلیفہ صاحب نے دنیا کے مختلف ممالک میں مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔ وہ خلیفہ صاحب کے بطور سفیر کے ہیں۔ یعنی
مرزا محمود کی C.I.D
مرزا صاحب لاکھوں روپے گورنمنٹ کی گرانٹ سے حاصل کر کے بیرونی ممالک میں اپنی من مانی کارروائیوں کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ کبھی مبلغوں کی تنخواہوں کا عذر تراشتے ہیں۔ کبھی مساجد کی تعمیر کا ڈھنڈورا پیٹ کر لاکھوں روپے فارن کرنسی سے لیے جاتے ہیں۔ اور خرچ اپنی مرضی سے کیا جاتا ہے۔ بالآخر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لیے وہ مساجد تیار ہوتی ہیں ان کا چندہ کہاں جاتا ہے۔
خلیفہ صاحب خود کہتے ہیں کہ حکومتیں ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ صاحب اپنے کار خاص یعنی (C.I.D) کے ذریعہ مخفی راز معلوم کرتے ہیں۔ ان کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک ہیں۔ پس حکومت پاکستان کا ریاست ربوہ سے سہل انگاری
برتنا ملک وملت سے غداری کے مترادف ہے۔ ربوہ میں کسی احمدی کو اجازت حاصل کیے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اب جو بھی احمدی ربوہ میں آتا ہے وہ اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ یا امیر کی تصدیق لاتا ہے۔ یہ بات صرف ربوہ سے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ تقسیم ہند سے پہلے یہی حکم قادیان کے متعلق تھا۔ کہ جو مضافات قادیان میں سکونت اختیار کرنا چاہیں وہ نظارت امور عامہ سے اجازت حاصل کریں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”مضافات قادیان ننگل‘ باغبان‘ عیسیٰ بانگر خوردوکلاں‘ کھارا‘ نواں پنڈ‘ قادر آباد اور احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لیے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہذا سے اجازت حاصل کریں۔“
(5 جنوری 1939ء الفضل)
پھر ربوہ میں آکر 1948ء میں خلیفہ صاحب اعلان فرماتے ہیں:
”سب تحصیل لالیاں میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید سکتا۔“ ربوہ میں داخل ہونے کے بارہ میں خلیفہ صاحب کا حکم امتناعی یوں جاری ہوتا ہے۔
”ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے۔ یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے۔ کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمینوں میں آکر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔“
(4 فروری 1956ء الفضل)
مملکت در مملکت
اس اعلان کا ہر لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معتوبین میں سے جنہوں نے انجمن سے زمین خریدی ہوئی ہے۔ ان کو ربوہ میں جاکر سکونت اختیار کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ جب وہ ربوہ جائیں گے مقامی پولیس کی امداد سے نقص امن کی آڑ لے کر کوئی مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا۔ گویا ان کی زمین ضبط کر لی گئی ہے۔ یہی مملکت در مملکت کا بین ثبوت ہے۔ اور ریاست ربوہ میں کاروبار کرنے کے لیے ہر شخص کو حسب ذیل معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
”میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال
رکھوں گا۔ اور مدیر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا۔ اور اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا ادا کروں گا۔“
”میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لیے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لیے حجت ہوگا۔ اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے زر خرید کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں بھی شریک نہ ہوں گا۔“
اس حوالہ سے یہ امر واضح ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے یہ معاہدہ لکھایا جاتا ہے جو وہاں رہے۔ خلیفہ صاحب کا تصرف اور تسلط نہ صرف لین دین پر بلکہ ہر شخص کی جائیداد پر ان کا تصرف تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان ملاحظہ ہو۔
اعلان
”قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ محلہ دارالعلوم کے مکان کی نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں اس قدر ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا
(18 اگست 1927ء الفضل)
سودا رہن و بیع نظارت ھذا کے توسط سے ہو سکتا ہے۔“
قادیان میں جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ لین دین سلام وکلام کے تعلقات بھی منقطع کر دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خلیفہ صاحب کا بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنیے:
”شیخ عبدالرحمٰن صاحب مصری منشی فخر الدین صاحب ملتانی اور حکیم عبدالعزیز صاحب جو جماعت سے علیحدہ ہیں۔ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔ جن دوستوں
(14 جولائی 1927ء الفضل)
کا ان کے ساتھ لین دین ہو وہ نظارت ھذا کے توسط سے طے کروائیں۔“
”مولوی محمد منیر صاحب انصاری سکنہ محلہ دار البرکات کو ان کی موجودہ فتنہ میں
شرکت پائے جانے کی وجہ سے کچھ عرصہ ہوا جماعت احمدیہ سے خارج کیا جاچکا ہے۔ اب مزید فیصلہ ان کی نسبت یہ کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ مقاطع رکھا جائے۔ لہٰذا احباب ان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات لین دین و سلام و کلام نہ رکھیں۔‘‘
(10 اگست 1937ء الفضل)
مرزا بشیر احمد کا دجل اور جزوی بائیکاٹ کی عملی تفسیر
بعض اوقات میاں بشیر احمد صاحب جیسے فہمیدہ انسان بھی جو خلیفہ صاحب کے منجھلے بھائی ہیں۔ یہ عذر لنگ تراشنا شروع کر دیتے ہیں کہ سوشل بائیکاٹ سے مراد جزوی بائیکاٹ مراد ہے۔ یہ سراسر فریب، جھوٹ، دجل، کذب و افتراء عیاری اور مکاری ہے۔ سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں، بلکہ معتوب سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔ اس بارہ میں خلیفہ صاحب کا یہ اعلان ملاحظہ کریں۔
”جناب کی اطلاع کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ چونکہ فضل نرس بیوہ عبداللہ صاحب درزی مرحوم کے متعلق ثابت ہے کہ اس کے تعلقات شیخ مصری وغیرہ کے ساتھ ہیں۔ اس لیے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی منظوری سے 15 اگست 1937ء کو جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کسی کو باستثناء اس کے والد میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر کے کسی قسم کا تعلق رکھنے کی اجازت نہیں۔
(21 اگست 1937ء الفضل)
”عبدالرب پسر عبداللہ خان کلرک نظارت بیت المال اور محمد صادق صاحب دونوں نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے اپنا عہد بیعت فسخ کر دیا ہے۔ اس لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ احباب ان دونوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔ ان کے ساتھ ملنا جلنا اور بات کرنا اس طرح منع ہے جس طرح مصری عبدالرحمن صاحب وغیرہ مجرمین کے ساتھ۔‘‘
(16 اگست 1937ء الفضل)
”چونکہ مستری جمال دین صاحب سکنہ سرگودھا نے ایسے شخص
کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی باوجود ممانعت کے کر دی ہے۔ جو سلسلہ احمدیہ سے تعلقات منقطع کر چکا ہے۔ لہٰذا احباب جماعت کی اطلاع کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ انہیں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے دوست کلی مقاطعہ رکھیں۔"
(11 دسمبر 1937ء الفضل)
"میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کے لیے تیار ہوں کہ آئندہ اس کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے۔ ...... چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔"
(22 نومبر 1956ء الفضل)
بہن کا بہن سے تعلق نہ رکھنا
اس کے بعد خلیفہ صاحب نے امۃ السلام اہلیہ ڈاکٹر علی اسلم صاحب کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو یہ دھمکی دی۔
"اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے۔ (الفضل میں اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے تعلق نہ رکھیں۔" (21 جون 1957ء الفضل)
بعد ازاں تنویر بیگم نے خلیفہ صاحب کی دھمکی سے خائف ہو کر اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل میں شائع کرا دیا:
"ڈاکٹر سید علی اسلم صاحب (حال ساکن نیروبی اور سیدہ امۃ
السلام بیگم ڈاکٹر علی اسلم نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔“ (25 جون 1957ء الفضل)
بیعت فسخ کرنے کا اعلان
آغاز فتنہ میں جب محمد یونس خان صاحب ملتانی نے خلیفہ صاحب ربوہ کی خلافت سے باکمال انشراح صدر بیعت فسخ کا اعلان کیا تو خلیفہ صاحب نے اپنے خاص ایجنٹ کو صاحب موصوف کے گھر بھیج کر ان کے والدین اور خسر سے مکمل سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرا دیا۔ جس پر ملک کے مشہور و معروف جریدہ نوائے وقت نے مملکت در مملکت کے عنوان سے ادارتی نوٹ لکھا تھا۔
موت کی دھمکی
میں نے بحوالہ اخبار الفضل سوشل بائیکاٹ کے متعلق چند ایک مثالیں ہدیہ قارئین کی ہیں۔ جن کی بنا پر ملک کے تمام اخبار اور جرائد نے ادارتی نوٹ لکھے۔ مگر افسوس صد افسوس ان اخبار اور جرائد کی آواز بے اثر ثابت ہوئی کیونکہ ابھی تک گورنمنٹ نے اس ریاست کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جس سے یہ کھیل ختم ہو سکے۔ خلیفہ صاحب ربوہ صرف سوشل بائیکاٹ کا حربہ ہی اپنی ریاست میں استعمال نہیں کرتے بلکہ ملک کے قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی کی جان کو لینے سے دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ملک اللہ یار خان صاحب بلوچ پر قاتلانہ حملہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جو بھی سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔
خلیفہ صاحب کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے ناقدین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے اور ان کو موت کی دھمکی سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لیے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے۔“ (6 اگست 1937ء الفضل)
اس طرح مولانا فخر الدین صاحب ملتانی (مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان) شیخ
عبدالرحمن صاحب مصری (ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ) حکیم عبدالعزیز صاحب دواخانہ رفیق زندگی) محمد صادق صاحب شبنم بی۔ اے پریذیڈنٹ نیشنل لیگ ورکر و محتسب جماعت احمدیہ ) مرزا منیر احمد صاحب عبدالرب خان صاحب برہم ( کلرک نظارت بیت المال ) خلیفہ صاحب کے مشتبہ چال چلن سے الگ ہوئے تو انہوں نے ایک مجلس احمدیہ قائم کی۔ خلیفہ صاحب کی طرف سے مکمل سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ تمام ممبروں کے گھر پہرے لگائے گئے۔ ضروریات زندگی سے محروم کرنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔ فخر الدین صاحب ملتانی کے تمام مکان کرایہ داروں سے خالی کروائے گئے۔ حتیٰ کہ شیر خوار بچے کا دودھ تک بند کر دیا گیا۔ خلیفہ صاحب نے فرمایا:
”کہ ہم ان سزاؤں سے بڑھ کر سزا اور ایذا دے سکتے ہیں۔ جو بااختیار حکومت دے سکتی ہے۔“ (1937ء الفضل)
پھر فرماتے ہیں:
”ان دنوں ان کی زندگیوں کی ایک ایک گھڑی میرے احسان کے نیچے ہے۔“
(29 جولائی 1937ء الفضل)
خلیفہ صاحب کا مریدوں کو ابھارنا اور اس کے نتائج
خلیفہ صاحب نے پھر ایک آخری خطبہ 6 اگست 1937ء جمعہ کے دن دیا۔ جس میں مذکورہ بالا شخصیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مریدوں اور جانبازوں کو ابھارا گیا۔ اس کے دوسرے ہی دن پھر بروز ہفتہ 7 اگست تقریباً ساڑھے چار بجے عصر کے وقت مولانا فخر الدین صاحب ملتانی، حکیم عبدالعزیز و حافظ بشیر احمد صاحب (پسر شیخ عبدالرحمن) تینوں پولیس پوسٹ کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس پوسٹ سے کم و بیش سو گز کے فاصلہ پر ایک تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا گیا۔ تیز دھار آلہ فخر الدین صاحب ملتانی کی پسلی کو چیرتا ہوا پھیپھڑے میں جا نکلا بعدازاں حکیم عبدالعزیز صاحب کو بھی اسی تیز دھار آلے سے منہ اور گالوں پر شدید ضربات آئیں۔ گورداسپور ہسپتال میں فخر الدین ملتانی 13 اگست 1937ء پانچ بجے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی لاش قادیان میں لائی گئی۔ حکیم صاحب موصوف بدستور زیر علاج رہے۔
خلیفہ صاحب کا آخری خطبہ جو جمعہ 16 اگست 1937ء کو دیا گیا تھا۔ وہ اس قدر اشتعال انگیز تھا کہ ڈی۔سی گورداسپور نے حکماً روک دیا تھا۔ جو آج تک شائع نہیں ہوا۔ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو کس طرح ابھارتے ہیں ان کے مزید اقتباس ملاحظہ ہوں۔
”تم میں سے بعض تقریر کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم مر جائیں گے مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں بھائیو کچھ روپے ہیں کہ جن سے مقدمہ لڑا جائے۔ کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے بھلا ایسے ...... نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے۔ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے۔ اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ شریفانہ اور عقلمندانہ طریق وہی ہوتے ہیں۔“
(5 جون 1937ء الفضل)
”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا دینے والوں کو مٹا دو گے۔ اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“
(5 جون 1937ء الفضل)
”جسمانی ذرائع دعاؤں کے ساتھ وہ تمام تدابیر اور تمام ذرائع کو خواہ وہ روحانی ہوں...... استعمال کریں۔“
(9 جولائی 1937ء الفضل)
اسی پر بس نہیں...... پھر یوں فرماتے ہیں:
”تو احمدیوں کا خون اس کی (حکومت) گردن پر ہوگا...... ہم دنیا میں نابود ہونا ...... منظور کرلیں گے...... احمدی جماعت زندہ جماعت ہے ...... وہ ہر قربانی پیش کرے گی۔“
”مظلومیت (قانونی نقطۂ نظر ملاحظہ ہو) کے رنگ میں عمر قید چھوڑ پھانسی پر بھی لٹکایا جائے تو ہم اسے باعث عزت سمجھیں گے۔“
(11 جولائی 1937ء الفضل)
اس کے بعد میں بعض ان امور کی طرف گورنمنٹ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن وہ ریاست ربوہ میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ تفصیل کے ساتھ ان امور کے بارے میں آئندہ علیحدہ علیحدہ روشنی ڈالی جائے گی۔
شہر ارتداد ربوہ بسانے میں ایک غدار کا کردار
اس سال ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں جمعیت العلمائے اسلام کے شیخ محمد اقبال ایم پی اے نے تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مرزائیوں کے مرکزی شہر ربوہ کی آباد کاری شاہ جیونہ کے میجر سید مبارک علی شاہ اور انگریز گورنر موڈی کی سہ طرفہ سازش کے نتیجہ میں ہوئی تھی۔ اور اس طرح اس ناپاک مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا چنانچہ شیخ صاحب نے میجر مبارک علی شاہ کی اپنی تصنیف کردہ کتاب خدمت خلق کے ایک حوالے سے یہ ثابت کیا کہ مرزائیوں کو یہ زمین کوڑیوں کے بھاؤ دلوانے میں میجر صاحب موصوف کا عمل دخل تھا۔ ہم ذیل میں میجر صاحب کی کتاب خدمت خلق کا وہ حوالہ من وعن شائع کر رہے ہیں تاکہ لولاک کے صفحات پر یہ اہم دستاویزی ثبوت ریکارڈ ہوجائے۔ (ادارہ)
نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت سے ممتاز محمد خاں دولتانہ سردار شوکت حیات خان اور میاں افتخار الدین یہ کہہ کر مستعفی ہوگئے کہ ہم دیکھیں گے کہ ہمارے بغیر نواب ممدوٹ وزارت کا کام کیوں کر چلاتے ہیں۔ حضرت قائد اعظم نے ان لوگوں کو ہر چند بہت سمجھایا اور وزارت میں رہ کر کام کرنے کے لیے بہت کچھ کہا سنا مگر یہ صاحبان مانے نہیں ۔ نواب ممدوٹ نے فوراً ہی دوبارہ وزارت قائم کر لی اور سردار عبدالحمید خاں دستی حاجی میاں نور اللہ صاحب چوہدری فضل الہی صاحب اور راقم الحروف (یعنی مصنف کتاب میجر سید مبارک علی آف شاہ جیونہ ضلع جھنگ ) کو وزارت میں لے لیا۔ قادیان کی جماعت احمدیہ لٹ لٹا کر جھنگ پہنچی۔ اور اپنا نیا مرکز قائم کرنے کی فکر اور تگ و دو میں تھی سردار
شوکت حیات خان وزیر مال تھے اور انہوں نے جماعت احمدیہ کو ایک علیحدہ شہر بسانے کے لیے سستی زمین دینے سے انکار کر دیا خان بہادر چوہدری دین محمد ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے اور میرے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔ ادھر چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان نے بھی مجھے امداد کے لیے خط لکھا۔ لہذا میں نے درخواست لے لی اس پر نہایت پرزور الفاظ میں سفارش لکھی اور چوہدری دین محمد کو ہمراہ لے کر گورنر موڈی سے ملا اور ربوہ آباد کرنے اور شہر بسانے کی اجازت لے دی۔ یہ پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میری تربیت کشادہ ظرفی‘ پاک باطنی اور فراخ مشربی کی فضا میں ہوئی تھی سنی شیعہ یا احمدی‘ غیر احمدی قسم کی فضول باتیں میری نگاہ میں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔ میں تو اتنا جانتا تھا کہ احمدی حضرات پاکستان کی رعایا اور ایک اقلیتی فرقہ تھے‘ ان کے چند حقوق تھے جن کی نگہ داری اور پاسداری حکومت کا فرض تھا۔ آج ربوہ ضلع جھنگ کا اہم تہذیبی تعلیمی اور ثقافتی مرکز ہے یہاں ایم اے تک تعلیم کا نظام ہے۔ شفاخانے‘ تار گھر‘ ٹیلیفون سسٹم اور بجلی موجود ہے۔ (کتاب خدمت خلق مصنفہ میجر مبارک علی سابق وزیر پنجاب صفحہ نمبر 63/62 مطبوعہ مسلم پریس جھنگ) لولاک 21 جولائی 1971ء۔
حکیم نور الدین کا انجام
سب سے پہلے جس خبیث الفطرت انسان نے مرزا قادیانی کی نبوت کو تسلیم کیا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی‘ وہ حکیم نور الدین تھا۔ قادیانی جماعت میں مرزا قادیانی کے بعد اس کا مقام ہے۔ مرزا قادیانی کی موت کے بعد وہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پہلا خلیفہ کہلایا۔ قادیانی اسے سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے برابر قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ)۔ ساری زندگی سائے کی طرح مرزا قادیانی کے ساتھ رہا اور بناسپتی نبوت کی منصوبہ سازی میں پیش پیش رہا۔ ایک دن گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا کہ گھوڑے کی پیٹھ سے زمین پر پٹخا جس سے ٹانگ ٹوٹ گئی۔ زخم ٹھیک نہ ہوا اور بگڑ کر گنگرین ہو گئی۔ اسی حالت میں اس کی بیوی کسی کے ساتھ فرار ہو گئی۔ جوان بیٹے کو بشیر الدین نے قتل کرا دیا اور اسی قاتل نے خلافت حاصل کرنے کے لیے اس کی بیٹی سے شادی رچائی۔ مرزا بشیر الدین نے باقی بیٹوں کو دھکے دے کر جماعت سے نکال دیا۔ آخری وقت میں زبان بند ہو گئی اور چہرہ مسخ ہو گیا۔ اسی حالت میں ختم نبوت کا غدار اس جہان فانی سے اپنی بقایا سزا پانے کے لیے اس دار باقی میں پہنچ گیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
ربوہ میں منزل بہ منزل
۲۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے پہلے ربوہ میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا مسلمان یہاں داخل ہو بھی گیا تو اس کی جان پر بن آئی۔ حبس بے جا میں رکھنا‘ درد ناک اذیتیں دے کر اسے انٹروگیٹ کرنا‘ ظلم و ستم اور جبر و تشدد کا نشانہ بنانا اہل ربوہ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس شہر میں کوئی پتہ مرزائی قیادت کی اجازت کے بغیر ہل نہیں سکتا تھا۔ کسی کو دم مارنے کی اجازت نہ تھی۔ مولوی غلام رسول جنڈیالوی مرحوم (ایڈیٹر روزنامہ ایام) فیصل آباد کا لڑکا اپنے دوست کے ہمراہ ربوہ آیا تو مرزائیوں نے ان دونوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ابدی نیند سلا دیا۔ یہ ان کے ظلم کی ادنیٰ مثال ہے۔ حکومت چاہے تو اس قسم کے جبر و تشدد کے بیسیوں واقعات اور راز ہائے درون پردہ کو طشت از بام کیا جا سکتا ہے جن پر کوئی رپٹ‘ کوئی مقدمہ‘ بلکہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
مسٹر جسٹس صمدانی ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے جب یہاں تشریف لائے تو تھانہ ربوہ کے کورے کورے رجسٹر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عرصہ تین سال تک ان میں کوئی رپورٹ تک درج نہ کی گئی۔ مرزائیوں کا اپنا عدالتی نظام تھا۔ مرزائی ربوہ کو اپنی خود مختار سٹیٹ سمجھتے تھے۔ مرزائی سربراہ کے دفتر پر اپنا جھنڈا لہرایا جاتا تھا۔ جسے وہ ”لوائے احمدیت“ کا نام دیتے ہیں۔ اس تمام پس منظر کے مسٹر جسٹس صمدانی عینی گواہ ہیں۔ صمدانی رپورٹ چھپ جاتی تو قادیانی فرعونیت کے کئی خوفناک کردار عیاں ہو جاتے اور ربوہ کی اندھیر نگری میں لاقانونیت اور ان کی حکومت کے اندر حکومت کرنے کے کئی
پروگرام قوم پر واضح ہو جائے۔ خدا جانے وہ رپورٹ کس سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ صمدانی رپورٹ، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ، ۱۹۷۴ء کی نیشنل اسمبلی کی کارروائی اور شریعت بینچ کی کارروائی شائع کی جائیں تاکہ قادیانی سازشیں بے نقاب ہوں اور پاکستانی قوم و حکومت آستین میں چھپے ہوئے ان سانپوں کے زہر سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے۔
۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کے بعد حکومت نے ربوہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا جس میں آر۔ ایم مقرر ہوا۔ فون، پولیس، بجلی، ڈاک، ریلوے، بلدیہ غرضیکہ تمام محکموں سے قادیانی ملازمین کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مسلمان عملہ متعین کیا گیا تاکہ ربوہ کی سنگینی کو توڑا جاسکے۔ سب کچھ اس دور میں ہوا، جب شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر تھے۔ آپ کی دور رس مومنانہ فراست نے بھانپ لیا کہ یہی وہ موقع ہے جس کے لیے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ ،مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ اور دوسرے اکابر ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ان تمام حضرات نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ جدوجہد کی کہ ربوہ میں تبلیغی کام کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے مگر قدرت کو منظور نہ تھا۔ آج وقت ہے کہ ان اکابر کی سالہا سال کی امنگوں اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے ایک مکتوب کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی کہ جس مناسب وقت کا مدت سے انتظار تھا، وہ آ پہنچا ہے۔ آپ ربوہ میں کام کرنے کی راہیں تلاش کریں اور ربوہ کی مہم کو سر کرنے کا انچارج حضرت مولانا تاج محمود کو بنائیں۔
مولانا محمد شریف جالندھری کی ہدایات لے کر ۵ دسمبر ۱۹۷۴ء کو مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، قاری عبدالسلام حاصل پوری ربوہ کے پہلے آر۔ ایم جناب منیر لغاری سے
ملے اور ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے احاطہ عدالت (ان دنوں بلدیہ ربوہ کی عمارت میں آر۔ ایم کی عدالت قائم تھی) کے ایک کونے میں چبوترا نما مسجد پر مجلس تحفظ ختم نبوت نماز باجماعت کا اہتمام کر دے۔ موصوف جو بڑے بہادر اور غیرت رکھنے والے قابل قدر خاندان کے چشم و چراغ ہیں‘ نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر چند دنوں تک آپ دوبارہ رابطہ قائم کریں۔
۲۶ دسمبر ۱۹۷۴ء کو حضرت مولانا محمد شریف جالندھری جن کی قیادت با سعادت پر ہمیں فخر ہے‘ وہ جس مہم پر بھی روانہ ہوئے‘ رحمت خداوندی ہمیشہ ان پر سایہ فگن رہی اور فتح و ظفر نے ان کے قدم چومے۔ آپ اس وقت کے مبلغ سرگودھا مولانا عزیز الرحمن خورشید کے ہمراہ جناب آر۔ ایم ربوہ سے ملے۔ انہوں نے ظہر و عصر کی نماز باجماعت پڑھانے پر خوشی کا اظہار کیا اور اجازت دے دی۔ کیونکہ عدالتی اوقات میں یہی ۲ نمازیں آتی تھیں۔
پہلی باجماعت نماز
اسی دن ۲۶ دسمبر ۷۴ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کھرڑیانوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ مولانا حافظ سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے ظہر کی نماز ربوہ پہنچ کر پڑھائی۔ خود اذان کہی‘ خود ہی امامت کرائی۔ پہلے دن شاہ صاحب کے علاوہ دو نمازی تھے۔
قارئین محترم! ربوہ جیسی کرب و بلا کی دھرتی پر اہل اسلام کی یہ پہلی آواز حق اور صدائے توحید تھی جو ایک سید آل رسول‘ سید ممتاز الحسن کی زبان سے بلند ہوئی اور مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز جو تین مسلمانوں نے مل کر ادا کی‘ اس کے بعد مولانا عزیز الرحمن خورشید نمازیں پڑھاتے رہے۔ چار ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر مولانا محمد شریف احرار کا کراچی سے چنیوٹ تبادلہ کیا گیا۔ وہ ربوہ پہنچ کر نمازیں پڑھاتے رہے۔ جمعہ پڑھانے کا فرض بھی انہی کے سپرد کیا گیا۔ شان خداوندی دیکھئے کہ ان دنوں جمعہ کو عدالتوں میں سرکاری تعطیل نہ ہوتی تھی۔ لوگ مقدمات کے لیے جمعہ کو بھی عدالت میں آتے اور یوں
جمعہ کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کو ربوہ میں اجتماع میسر آجاتا۔ جبکہ جمعہ کی تعطیل نہ تھی۔ تو جمعہ احاطہ عدالت میں ہوتا رہا۔ جب جمعہ کا اعلان تعطیل ہوا تو اس وقت تک قدرت نے ربوہ کے قلب میں واقع ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مسجد محمدیہ کا انتظام کرا دیا۔ الحمد للہ مولانا محمد شریف احرار کے بعد ربوہ کے لیے مولانا خدا بخش شجاع آبادی کا بحیثیت مبلغ و خطیب تقرر کیا گیا۔
مسجد محمدیہ کی تعمیر
ریلوے کا ایک وفد ۲۵ جنوری ۱۹۷۶ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن آیا۔ اس کے آفیسر نیک مسلمان تھے۔ نماز پڑھنا چاہی تو مسلمانوں کی کوئی مسجد نہ تھی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا اور ان کی تحریک پر ربوہ ریلوے اسٹیشن کا مسلمان عملہ مسجد کے لیے کمر بستہ ہو گیا۔ مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور فیصل آباد کے دوستوں کی توجہ دلائی۔ ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت اور اہل اسلام نے معاونت کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کبھی کبھار رقم کی دقت پیش آتی تو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکز ملتان سے تعاون حاصل ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد بن گئی۔ حضرت مولانا تاج محمودؒ مرحوم نے اس کا نام ”مسجد محمدیہ اہل سنت و جماعت“ تجویز فرمایا۔ اس پر جو کتبہ لگوایا گیا‘ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود نے اس پر یہ عبارت تحریر کروائی
قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
”کہہ دیجئے! حق آیا اور باطل بھاگ کھڑا ہوا۔ تحقیق باطل ہے ہی بھاگنے کے لیے“۔
حواس باختہ : مرزا بشیر الدین ایک قادیانی جلسہ سے خطاب کر رہا تھا۔ ایک موقعہ پر وہ کہنے لگا: ”جب پاکستان بنا تھا اس وقت میری عمر ۴۹ سال تھی اور آج میری عمر ۶۵ سال ہے“۔ ۔ باقی سامعین کو تو بولنے کی ہمت نہ ہوئی‘ صرف ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا ”مرزا بشیر الدین تیرا معاملہ ختم ہو گیا“۔ یہ کہا اور جلسہ سے چل دیا۔
مسجد محمدیہ ربوہ
اہل سنت و جماعت
مسجد کی خطابت کے لیے مولانا خدا بخش اور امامت، اذان اور مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے قاری شبیر احمد عثمانی کو مجلس تحفظ ختم نبوت نے مقرر کیا جنہوں نے آج تک اس گلستان ختم نبوت کو اپنے خون سے سینچا ہوا ہے۔ اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کے لیے سرگودھا، جھمرہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ کے احباب بالخصوص مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز کی گرانقدر اعانت شامل ہے۔
۲۲ ستمبر ۷۸ء بروز جمعہ المبارک سے فروری ۸۲ء تک کم و بیش چار سال تک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مسجد محمدیہ ربوہ کے خطیب رہے۔ انہوں نے بہادری اور جرات رندانہ کے ساتھ جمعہ کے خطبات میں قادیانیت کو ایسا رگیدا اور ایسے چرکے لگائے کہ قادیان کی جھوٹی نبوت اور اس کے پیروکار تڑپ اٹھے۔ حضرت مولانا تاج محمود کی علالت اور پھر ان کی وفات کے بعد انہیں جامع مسجد محمود ریلوے اسٹیشن فیصل آباد کے خطبہ جمعۃ المبارک کا فرض سونپا گیا اور مسجد محمدیہ میں مولانا خدا بخش صاحب دوبارہ تشریف لائے۔ تاحال اس کے وہی خطیب ہیں جبکہ قاری شبیر احمد امام و مدرس۔ ان حضرات کی مساعی نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ یہ گرمی، سردی، دوست دشمن کی پرواہ کیے بغیر اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر پر کتنے اخراجات ہوئے؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ ۹۸ھ محرم، صفر ۹۹ھ صرف پانچ ماہ کے عرصہ میں مجلس نے اپنے محفوظ فنڈ سے مسجد کے برآمدے، صحن، فرش اور چار دیواری پر اسی ہزار روپے سے زائد خرچ کیا۔ اب بھی مسجد کے تمام تر اخراجات، مدرس و خطیب کی تنخواہ، بجلی، سوئی گیس اور تعمیر و مرمت کے تمام مصارف مجلس ادا کرتی ہے۔
اس کی متولی و مہتمم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ہے۔ مسجد میں بارہ ہزار روپے کا سپیکر نصب کیا ہے۔ سوئی گیس لگوانے پر پندرہ ہزار روپے خرچ ہوئے۔
آج یہ مسجد ربوہ کے قلب میں رشد و ہدایت کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ ۲۸ دسمبر ۷۶ء کو الشیخ محمد اسماعیل بن عقیل نمائندہ رابطہ عالم اسلامی نے اس مسجد میں جمعہ پڑھایا۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق میلے کا سماں تھا۔ مسجد کا ہال، برآمدہ، صحن، چھت اور ریلوے اسٹیشن پر مخلوق کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔ مسجد سے باہر بھی تقریباً بیس صفیں تھیں۔ ضلع بھر کی انتظامیہ اور مارشل لاء حکام بھی موجود تھے۔
ربوہ میں اہل اسلام کا اتنا بڑا اجتماع چشم تصور نے بھی شاید آج تک نہ دیکھا تھا۔ اس سے قبل قاری فتح محمد صاحب پانی پتی، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دوسرے فرزندان اسلام یہاں تشریف لائے جن کی آمد پر عظیم اجتماعات ہوئے۔ رابطہ کے نمائندے نے اس مسجد کو ”حجتہ اللہ“ کا لقب دیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی سے اس مسجد کے بن جانے کے بعد قادیانی قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں گے کہ اے اللہ ! ہمیں حق کا پیغام نہیں پہنچایا تھا۔ اس مسجد کے بعد ان پر حجت پوری ہو گئی ہے۔ اس موقعہ پر حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب بھی موجود تھے۔ جن کی طرف سے حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ نے رابطہ کے نمائندے کے اعزاز میں استقبالیہ پڑھا اور کراچی سے مجلس کے مرکزی شوریٰ کے رکن ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے اردو سے عربی میں ترجمانی کے فرائض انجام دیے۔
۱۲ ربیع الاول ۱۴۰۰ھ ۱۰ فروری ۱۹۷۹ء سے یہاں پر سالانہ اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں ملک بھر کے عظیم راہنما تشریف لاتے ہیں۔ اس مسجد کے مینار فروری ۸۰ء میں مکمل ہوئے۔ ۸۲ء کے اوائل میں مدرسہ کے دو کمرے، برآمدہ، چار دیواری مکمل ہوئی جن کے مصارف فیصل آباد کے جناب شہزادہ صاحب نے برداشت کیے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بیش از بیش نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔
اہم اجتماعات
اب تک ربوہ میں متعدد اہم اجتماعات منعقد ہو چکے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل
ہے: ۲۵ دسمبر ۸۰ء کو جمعہ کا عظیم اجتماع ہوا جس میں حضرات امیر مرکزیہ کے علاوہ حضرت علامہ مولانا عبد الستار تونسوی، مولانا مفتی احمد الرحمن کراچی، مولانا محمد عبد اللہ اسلام آباد شریک ہوئے۔ ۳۱ اکتوبر ۸۱ء کو مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب عبد اللہ بن زائد تشریف لائے۔ ان کے اعزاز میں مجلس نے استقبالیہ دیا۔ ۲ مئی ۸۴ء کو حضرت الامیر دامت برکاتہم، خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی کے اعزاز میں حالیہ صدارتی آرڈیننس کی خوشی میں استقبالیہ دیا گیا۔ اس دن مجلس کے راہنماؤں کی ربوہ آمد اور مرزا طاہر کے ملک سے فرار پر ربوہ میں عجیب سماں تھا۔ ربوہ کے قادیانیوں پر خسر الدنیا والاخرہ کی جھلک نمایاں تھی۔
الغرض یہ مسجد ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس مسجد کا کچھ کام ابھی باقی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت (مسلم کالونی)
۷۵ء میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے سلسلہ میں حکومت پنجاب نے یہ قدم اٹھایا کہ محکمہ ہاؤسنگ کے تحت ربوہ میں مسلم کالونی کے نام سے کالونی قائم کی۔ اس میں مسجد و مدرسہ کے لیے ۹ کنال کا پلاٹ مختص کیا۔ کچھ اور لوگوں کے علاوہ اس پلاٹ کے لیے مجلس نے بھی درخواست دی۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو سلام کرتا ہوں کہ جن کی فراست ایمانی نے مستقبل کو بھانپتے ہوئے مجلس کو رجسٹرڈ کرایا تھا۔ آج سے نصف صدی قبل ہونے والی یہ رجسٹریشن کام آئی اور پلاٹ مجلس کو مل گیا۔ کیونکہ قاعدے کے مطابق یہ کسی رجسٹرڈ ادارے یا انجمن کو ہی مل سکتا تھا۔ ۲۶ دسمبر ۷۶ء کو محکمہ ہاؤسنگ کے ملتان مرکزی دفتر کو آرڈر ملا کہ آپ کی درخواست منظور ہو گئی ہے۔ آپ جلد پلاٹ کا قبضہ حاصل کریں۔ چنانچہ ۲۸ جون ۷۷ء کو حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے محکمہ ہاؤسنگ کے افسران کے ہمراہ ربوہ آکر پلاٹ کا قبضہ لیا۔
۸ رجب ۹۶ھ ۷ جولائی ۷۶ء بروز بدھ حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ‘ امیر مرکزیہ نے اس پلاٹ پر نماز عصر کی پہلی جماعت پڑھائی۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ ان دنوں پاؤں زخمی ہونے کے باعث چل نہ سکتے تھے۔ ان کو ہماری چنیوٹ مجلس کے ناظم اعلیٰ چودھری ظہور احمد کاندھوں پر اٹھا کر لائے۔ حضرت مولانا عبدالرحمٰن سیالویؒ بیماری کے باوجود اس تقریب میں شریک ہوئے۔ اب یہ دونوں حضرات گو ہم میں موجود نہیں لیکن ان کے اخلاص بھرے ہاتھوں لگا ہوا پودا تناور درخت کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے۔ حضرت امیر نے جس اخلاص دل اور سوز جگر سے دعا کرائی‘ اس کا نتیجہ ہے کہ آج اس جگہ پر تیسری سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اس پہلی تقریب کے بعد نماز کے لیے عارضی جگہ اور ایک رہائشی کمرے کی تعمیر کرائی گئی۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات مرحوم و مغفور کو ملتان دفتر میں پلاٹ ملنے کی خبر سنائی تو آپ نے کھانا چھوڑ دیا‘ چنے کھانے لگے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ ملتان گئے تو مولانا نے کھانا نہ کھانے اور چنے چبانے کی وجہ پوچھی۔ فرمایا کہ میں اپنے دانتوں کی ریہرسل کر رہا ہوں کہ اگر مجھے ربوہ میں کھانا نہ ملے تو کیا میرے دانت چنے چبا سکتے ہیں یا نہیں۔ حضرت مولانا محمد حیات مرحوم کے اس دلی لگاؤ کو دیکھ کر فیصلہ کیا کہ آپ قادیان کی طرح ربوہ میں بھی اپنے بزرگوں کی امانت کو سینے سے لگائیں۔
مولانا محمد حیات جن کی عظمت کو قلب و جگر کی گہرائیوں سے سلام پیش کرنے پر مجبور ہوں‘ وہ ۲۱ اکتوبر ۷۹ء کو ربوہ تشریف لائے اور دم واپسیں تک یہیں قیام پذیر رہے۔ ان کا وجود قادیانیت کے خلاف امت محمدیہؐ کے لیے انعام الٰہی تھا۔ پہلے قادیان میں اور پھر ربوہ میں انہوں نے جس طرح مرزائیت کا تعاقب کیا‘ اس پر پوری امت مسلمہ ان کی شکر گزار ہے۔
۲۲ اکتوبر ۷۹ء کو یہاں جامع مسجد ختم نبوت کا سنگ بنیاد رکھا۔ تبلیغی جماعت کے راہنما مولانا جمیل احمد صاحب میواتی نے دعا کرائی۔ اس تقریب میں جن خوش نصیب راہنماؤں نے شرکت کی‘ ان کے نام یہ ہیں: حضرت مولانا محمد حیاتؒ ‘ حضرت مولانا تاج محمودؒ ‘ حضرت مولانا محمد شریف
جالندھریؒ ‘ مولانا عزیز الر مولانا اللہ وسایا‘ مولانا عبد ا عمر سید‘ قاری منیر احمد‘ مدثر
(از قلم مولانا محمد ا
کالا ناگ ٭ : بھکر کے عمرا
تبلیغ کرنے لگا۔ مرزا قادیانی کو نبی اسے جواب دیتا رہا۔ ڈیڑھ دو گھنٹہ صاحب سے کیا۔ انہوں نے بڑی قادیانی مذہب قادیانیت کی سیا میرے گھر کے دروازے پر دستک کے ہاتھوں میں قادیانی کتابوں ک کتابوں کا مطالعہ کرو‘ تمہیں بہر سکتا۔ اگر میری بیوی یا میرے د خاندان میرا بائیکاٹ کر دے گا۔ ساتھ تمہاری شادی کر دوں گا او کہ بے غیرت! تو زن اور زر ک گرجتا جواب سن کر وہ منہ میں میرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ میں بھاگ بھاگ کر میرا سانس پھول نواز پر پڑتی ہے۔ میں لپک کر ان اس ناگ سے بچائیں۔ اس افزا تیزی سے دھک دھک کر رہا ت دوست کے ذریعے اس قادیانی ک نہ ہو گا۔ یوں ایک خواب کے ذ
جالندھری‘ مولانا عزیز الرحمن جالندھری‘ مولانا سید منظور احمد شاہ‘ مولانا قاضی اللہ یار‘ مولانا اللہ وسایا‘ مولانا عبد الرؤف‘ مولانا کریم بخش‘ قاری شبیر احمد‘ سید غلام مصطفیٰ شاہ‘ عمر سید‘ قاری منیر احمد‘ مدرسہ کے طلباء اور تبلیغی جماعت کے احباب۔
(از قلم مولانا محمد اشرف ہمدانی‘ ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۲۱‘ شمارہ
۲۶-۲۷)
کالا ناگ ٭ بھکر کے عمر الدین سائی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک قادیانی آیا اور مجھے قادیانیت کی تبلیغ کرنے لگا۔ مرزا قادیانی کو نبی اور قادیانیت کو مذہب حق ثابت کرنے لگا۔ میں اپنی علمی بساط کے مطابق اسے جواب دیتا رہا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے بحث کرنے کے بعد وہ چلا گیا۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر مولانا محمد نواز صاحب سے کیا۔ انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ مجھے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کے متعلق بتایا اور مرزا قادیانی و مذہب قادیانیت کی سیاہ تاریخ سے آگاہ کیا۔ اس واقعہ کو تقریباً ایک ہفتہ گزرا تھا کہ ایک دن میرے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہی ملعون قادیانی کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں قادیانی کتابوں کا ایک بنڈل تھا۔ اس نے کتابیں میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرو‘ تمہیں بہت فائدہ ہوگا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں ان کتابوں کو اپنے گھر نہیں رکھ سکتا۔ اگر میری بیوی یا میرے والدین کو ان کی بابت پتہ چل گیا تو وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے اور پورا خاندان میرا بائیکاٹ کر دے گا۔ اس پر وہ مجھے کہنے لگا کہ تم نہ کرو‘ میری جوان بھتیجی ہے‘ میں اس کے ساتھ تمہاری شادی کر دوں گا اور میں اپنی زمین بھی تیرے نام کر دوں گا۔ میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ بے غیرت! تو زن اور زر کے عوض میرا ایمان خریدنا چاہتا ہے۔ میری نظروں سے دور ہو جا۔ میرا گرجتا جواب سن کر وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا دفع ہو گیا۔ اسی رات مجھے خواب آیا کہ ایک بہت بڑا کالا ناگ میرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ میں جس طرف بھاگتا ہوں‘ وہ بڑی سرعت کے ساتھ میرے پیچھے بھاگتا ہے۔ بھاگ بھاگ کر میرا سانس پھول جاتا ہے اور میں پسینے میں شرابور ہو جاتا ہوں۔ اچانک میری نظر مولانا محمد نواز پر پڑتی ہے۔ میں لپک کر ان تک پہنچ جاتا ہوں اور ان سے لپٹ کر ان سے استدعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ناگ سے بچائیں۔ اس افراتفری میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ دیکھا تو پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ دل اتنی تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا گویا سینے سے ابھی باہر نکلا۔ حواس درست ہونے پر میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس قادیانی کو پیغام بھجوایا کہ اگر آئندہ مجھ سے ملاقات کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ یوں ایک خواب کے ذریعے اللہ پاک نے میری رہنمائی فرمائی۔
ربوہ میں مجاہدین ختم نبوت کیسے داخل ہوئے؟
محمد اشرف ہمدانی
معزز محترم سامعین! آپ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ربوہ جس میں یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور ان کی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے اور ہزاروں مختلف مکاتب فکر کے مسلمان آج یہاں ایک پلیٹ فارم پر نعرہ تکبیر اللہ اکبر نعرہ ختم نبوت زندہ باد اسلام زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ 7 ستمبر 74ء سے پہلے اس بستی میں کسی مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا مسلمان یہاں داخل ہو جاتا تو اس کو کئی کئی دن حبس بے جا میں رکھا جاتا تھا۔ یہاں کا ایک نام نہاد سیکیورٹی افسر اس کو دردناک اذیتیں پہنچا کر انٹیروگیٹ کرتا یہاں تک کہ کئی نوجوان محض مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیئے گئے۔ مثال کے طور پر آپ حضرات کے سامنے میں صرف ایک واقعہ کا ذکر کر دیتا ہوں۔ مولوی غلام رسول جنڈیالوی ایڈیٹر روزنامہ ”ایام“ کا جواں سال لڑکا اور اس کا ایک نوجوان ساتھی ربوہ دیکھنے کے شوق میں وہاں اتر گئے۔ ان کے دفاتر ان کی نام نہاد مساجد نام نہاد قصر خلافت اور دوسرے بازاروں میں چند گھنٹے پھرتے رہے۔ جب وہ وہاں سے سرگودھا جانے کے لیے بس کے اڈہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پیچھے مرزائیوں کی سی۔آئی۔ڈی لگی ہوئی تھیں۔ انہوں نے انہیں پکڑ لیا۔ اور پکڑنے کے بعد پہلے اذیتیں پہنچاتے رہے پھر ان کے باری باری ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آج تک کوئی رپٹ رپورٹ پرچہ گرفتاری
اور کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ بالآخر حکومت نے ربوہ میں ایک پولیس چوکی قائم کی۔ وہاں پولیس کی نفری اور انچارج بٹھائے گئے۔ تین سال بعد جسٹس صمدانی جب 29 مئی 74ء کے واقعات کی انکوائری کے لیے ربوہ آئے تو انہوں نے پولیس چوکی کے انچارج سے دریافت کیا کہ تین سال میں یہاں کتنے مقدمے درج ہوئے ہیں۔ پولیس چوکی انچارج نے اپنے کورے رجسٹر جسٹس صاحب کو دکھاتے ہوئے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ تین سال میں یہاں جتنے واقعات اور وقوعے ہوئے ان کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی بلکہ ان کا اپنا ایک نظام ہے جو ان کی رپورٹیں اور کارروائیاں کرتا ہے۔ جسٹس صمدانی کو جو چیزیں ہم نے ربوہ میں دکھائیں ان میں یہ بات بھی شامل تھی۔ کہ مرزائیوں کا اپنا ایک مرکزی سیکریٹ تھا۔ جس میں مختلف محکموں کی وزارتیں قائم تھیں البتہ وہ وزارت کے لیے نظارت کا لفظ اور وزیر کے لیے ناظر کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ ہیڈ آف دی جماعت جس کو وہ خلیفہ کہتے ہیں۔ اس کے دفتر پر پاکستان کے پرچم کی بجائے مرزائی جماعت کا اپنا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ جسے وہ لوائے احمدیہ کہتے تھے۔ جسٹس صمدانی نے ان تمام چیزوں کے فوٹو لیے۔ افسوس کہ ان کی آج تک کسی حکومت نے رپورٹ شائع نہ کی۔
جسٹس صمدانی کو ہم مرزا محمود کی قبر پر لے گئے اور وہ کتبہ پڑھایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ جب موزوں وقت آئے تو میری اور میرے خاندان کی قبروں کو اکھاڑ کر ہماری میتیں قادیان کے بہشتی مقبرے میں لے جا کر دفن کی جائیں۔ ہم نے جسٹس صمدانی صاحب سے عرض کیا کہ مرزائی مرزا محمود کی وفات کے وقت بھی ان کی میت قادیان لے جا سکتے تھے۔ بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتیں اجازت دے دیتیں، لیکن یہ میتوں کا موزوں وقت پر قادیان لے جانا اس ”موزوں وقت“ سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی بنیاد مرزا محمود کا وہ خطبہ ہے جو ”الفضل“ میں چھپا ہوا موجود ہے اور جو تحریک پاکستان کے آخری سال میں انہوں نے مرزا غلام احمد کی پیشین گوئیوں کی روشنی میں دیا تھا کہ یہ تقسیم نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ہندوستان جیسے وسیع ملک کو اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی نبوت کے لیے ایک وسیع بنیاد کے طور پر بنایا ہے اور وہ بالآخر ہندوستان کی تمام قوموں کی گردنوں میں احمدیت کا جوا ڈالنے والا ہے۔ اس لیے یہ تقسیم مشیت ایزدی کے خلاف ہے اگر یہ تقسیم ہوئی تو یہ عارضی ہوگی اور ہم کوشش کریں گے پھر کسی نہ کسی طرح اکھنڈ بھارت بن جائے۔
حضرات گرامی قدر! ہم نے تمام دینی جماعتوں اور تمام مسلمانوں کے تعاون سے 53ء اور 74ء میں اس پرفتن ٹولہ کے خلاف تحریکیں لڑیں اور ہزاروں مسلمانوں نے شمع رسالت پر پروانہ وار اپنی جانیں نچھاور کیں۔ 53ء اور 74ء میں انگریزوں کی حکومتیں نہ تھیں بلکہ ہمارے اپنے مسلمان بھائیوں کی حکومت تھی۔ ہم پر ظلم و تشدد کے وہ پہاڑ توڑے کہ الامان والحفیظ تب جاکر 7ستمبر 74ء کو ان کے خلاف قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا کہ یہ ایک غیر مسلم اقلیت ہیں۔ اور اس فیصلہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں ہم قافلہ بخاری کے خادم داخل ہوئے بلکہ ہم حکومت کے مختلف محکموں کو بھی یہاں لائے۔ یہاں سب تحصیل قائم ہوئی۔ ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کا تقرر ہوا‘ پولیس کا تھانہ قائم ہوا۔ اور وہ پہلی تین سالہ چوکی کا تھانہ نہیں بلکہ ایسا تھانہ ہے کہ یہاں کے مجرموں کو بلا جھجک پکڑتا اور انہیں سزائیں دلواتا ہے ضلعی اور بالائی اعلیٰ حکام اب اس شہر میں آتے ہیں اور یہاں کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہر سکتے ہیں۔ ریلوے‘ ڈاکخانہ‘ ٹیلی فون اور تمام سرکاری محکموں کے ملازم یہاں مرزائی ہی ہوا کرتے تھے کسی مسلمان سرکاری ملازم کی تقرری ناممکن تھی۔ اللہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ آج تمام محکموں میں مسلمان سرکاری ملازم اپنے اپنے محکموں میں سرکاری فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ چھ سات ہزار مسلمان مزدور پٹھان‘ پنجابی اس شہر میں پہاڑ کاٹنے‘ پتھر کوٹنے اور دوسری دوکانیں کرنے کا کام کر رہا ہے اور کسی مرزائی کو ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں ہے۔
شہر کے عین وسط میں ریلوے اسٹیشن ربوہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے جامع مسجد اور اس کے ساتھ قرآن مجید کا مکتب مسلمانوں کے لیے تعمیر کرایا۔ اساتذہ‘ خطیب اور امام وہاں اپنے ہیں۔ اور نہ صرف اپنے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور رہنمائی کرتے ہیں بلکہ اس بستی کے راہ گم کردہ عوام کو بھی محبت اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق رشد و ہدایت کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ جامع مسجد محمدیہ ربوہ میں پنجگانہ نماز، مسلمان بچوں کی تعلیم کے علاوہ جمعہ کی نماز ہوتی ہے جس میں ربوہ کے سینکڑوں مسلمانوں کے علاوہ گردونواح کے مسلمان بھی آکر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ جمعہ کے دن یہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔
مسلم کالونی
جس جگہ آپ تشریف رکھتے ہیں اور یہ اجتماع ہو رہا ہے یہ نو (9) کنال رقبہ پر مشتمل مسلم کالونی کی جامع مسجد کا پلاٹ ہے مسلم کالونی حکومت نے 74ء کے فیصلہ کے مطابق ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لیے بنائی تھی اس وقت ربوہ میں تقریباً چودہ سو پلاٹ خالی پڑا ہوا تھا ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ یہ خالی پلاٹ مسلمانوں میں تقسیم کر دیے جائیں حکومت نے اس طور پر یہ تجویز منظور کر لی اور ان چودہ سو پلاٹوں پر تعمیر ممنوع قرار دینے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔
قادیانیوں نے دفعہ 144 توڑتے ہوئے اکثر خالی پلاٹوں پر قبضہ کر لیا اور وہ سکیم فیل کر دی۔ بالآخر حکومت نے ربوہ کے مشرقی حصے کا پچاس ایکڑ رقبہ لے کر اس پر یہ کالونی محکمہ ہاؤسنگ کے تحت تعمیر کی اور درخواستیں لے کر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے۔
گورنر صاحب سے خصوصی گزارش
میں اس موقع پر جناب گورنر پنجاب اور دوسرے اعلیٰ حکام سے درخواست کروں گا کہ محکمہ ہاؤسنگ کی معرفت کوئی کالونی بنوا کر مسلمانوں کو دینے کا نہ ہمارا مطالبہ تھا اور نہ سمجھوتہ۔ لیکن پچھلی حکومت کے دور میں 7 ستمبر کے فیصلہ کے بعد جب خود حکومت فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گول مول ہوگئی اور عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی قانون سازی یا کوئی کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری دفاتر میں بیٹھے ہوئے قادیانیوں کی ملی بھگت سے ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور اس میں چودہ سو خالی پڑے ہوئے پلاٹوں کو ضرورت مند مسلمانوں کو دینے کی بجائے انہوں نے یہ کالونی بنائی اور ستم بالائے ستم یہ کہ پہلے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو زمین مرزائیوں نے حکومت سے ایک آنہ مرلہ لی تھی الاٹ منٹ کے بعد اس کی اب چودہ سو روپے فی مرلہ قیمت مقرر کر دی۔ اور اب اتنی گراں قیمت زمین کی قسطوں میں معمولی تاخیر یا کوتاہی کی وجہ سے بھاری سود تعزیری سود اور ایک اپنا خود ساختہ سود لگا کر لوگوں کو یہاں سے متنفر کرنے اور بھگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ کالونیاں ان شہروں میں بناتا ہے جہاں شہر کے اندر کوئی جگہ باقی نہ رہ گئی ہو اور لوگوں کو رہائش کی تنگی ہو۔ ربوہ میں چودہ سو پلاٹ پڑا ہوا تھا وہاں کالونی بنانے کا ڈھونگ
رچانا اور ضرورت مند مسلمانوں کو مفت الاٹ کرنے یا جس قیمت پر مرزائیوں نے یہاں زمین حاصل کی تھی اس پر دینے کی بجائے اتنی زیادہ قیمت رکھی گئی جو کہ ربوہ کے گردونواح کے کسی شہر میں اتنی قیمت نہیں ہے اور نہ ہی اقساط کی وصولیوں میں تاخیر کی وجہ سے سود تعزیری سود اور کمپوزیشن سود کی سختی کی جاتی ہے۔ یہ محض مسلمان الاٹیوں کو ربوہ سے بھگانے اور متنفر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ یہ کالونی بھی مرزائیوں کی خواہش کے مطابق بالآخر انہی کے حوالے کی جائے۔ گورنر صاحب کو اپنے اعلیٰ حکام کے ذرائع سے اس پورے معاملے کی چھان بین کر کے اس ناانصافی اور ظلم کا انسداد کرنا چاہیے۔ موجودہ قیمت کی بجائے جب یہ کالونی بنی تھی اس وقت کے حساب سے زمین کی قیمت اور ڈویلپمنٹ کے چارجز الاٹیوں سے وصول کیے جانے چاہئیں۔ ورنہ حکومت 74ء کے فیصلہ کی رو سے ضرورت مند مسلمانوں کو مفت پلاٹ دینے کی پابند تھی۔
حضرات گرامی قدر!
مسلم کالونی ربوہ کی یہ عظیم جامع مسجد آپ کے سامنے زیر تعمیر ہے اس کے ساتھ مجلس کے دفاتر، مدرسہ کی عمارت کا کچھ حصہ تعمیر ہو چکا ہے جس میں حفظ قرآن مجید اور کتابوں کی درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ قابل ترین ایثار پیشہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ سات لاکھ روپیہ کے قریب اب تک مجلس آپ کے تعاون سے خرچ کر چکی ہے ابھی اس منصوبہ پر مزید لاکھوں روپیہ درکار ہے جو خدا کے فضل و کرم اور آپ لوگوں کی توجہ سے ہمیں موصول ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت کے اعلیٰ حکام خصوصاً مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہمارے مراکز کا معائنہ کر گئے ہیں لیکن حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی وصیت تھی کہ ملتان کی مسجد اور سہ منزلہ دفتر ایک آدمی کے گرانقدر عطیہ تین لاکھ روپیہ سے تعمیر ہوا لیکن ربوہ کی جامع مسجد عامۃ المسلمین کے تعاون سے تعمیر کی جائے یہاں تک کہ اگر اس میں کوئی مسلمان ایک پیسہ چندہ دے تو وہ بھی قبول کر لیا جائے۔ اس لیے ہم نے اس جامع مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا انحصار اللہ کے توکل اور عام مسلمانوں کے تعاون پر کیا ہوا ہے۔ ہمیں اللہ کی ذات پر یقین ہے کہ یہ مسجد مدرسہ اور اساتذہ کی رہائش گاہیں اور اس عظیم منصوبہ کے سارے کام آپ فدایان ختم نبوت کے تعاون سے مکمل کرائے گا۔
حاضرین محترم!
اب ربوہ کو ہم نے اپنی جماعت کا سب ہیڈ کوارٹر بنا لیا ہے۔ حضرت مولانا تاج محمود اس زون کے نگران ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کی سرکردگی میں متعدد مبلغین ربوہ اور ربوہ کے گردونواح کے دیہات میں کام کر رہے ہیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے پچاس ملازمین دفاتر میں خدمت گزاری کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ یہ تقریباً سو کارکن جماعت کے ہمہ وقتی خادم ہیں اور ان کو مجلس معقول ماہوار تنخواہیں اور دوسرا سفر خرچ وغیرہ اخراجات اپنے بیت المال سے ادا کرتی ہے۔ 5 مدرسے جماعت کی سرکردگی میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
لٹریچر
اس کے علاوہ جماعت مقدور بھر ہزاروں روپیہ کا انگریزی‘ اردو‘ عربی زبانوں میں لٹریچر شائع کر کے تقسیم کرتی ہے۔ بیرونی ممالک سے اکثر ہمیں خطوط موصول ہوتے ہیں اور وہاں کے لیے ہم سے انگریزی اور عربی زبان کا لٹریچر طلب کیا جاتا ہے جو ہم بلاقیمت ارسال کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے جماعت کے مبلغین کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نام و نمود شہرت و پروپیگنڈہ سے‘ اخبارات میں تصویریں اور کارروائیاں چھپوانے سے بے نیاز ہو کر ان دیہات کا دورہ کریں جہاں گاؤں کا کچھ حصہ اہل اسلام اور کچھ مرزائیوں پر مشتمل ہے۔ بعض دیہات میں اب تک ایک برادری کے لوگ آدھے مسلمان اور آدھے مرزائی ہیں لیکن ان کی رشتہ داریاں اور تعلقات قائم ہیں۔ ہمارے مبلغین ایسے دیہات میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر جا رہے ہیں اور مشکلات کے باوجود وہاں کفر اور اسلام کا فرق سمجھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ نوجوان نسل نے ہمارے مبلغین سے تعاون کیا ہے۔ نوجوانوں کی تنظیمیں بن گئی ہیں۔ بے شمار دیہات میں ہمارے دفاتر کھل گئے ہیں اور اب وہاں مرزائیوں کا طلسم ٹوٹ رہا ہے۔ گزشتہ سال کوئی ایک درجن دیہات میں مرزائیوں سے مناظرے طے ہوئے۔ ہمارے مبلغ حضرات وقت پر کتابیں لے کر پہنچ گئے۔ اکثر جگہ مرزائی مبلغین سرے سے پہنچے ہی نہیں اگر کہیں پہنچے اور مناظرہ ہوا‘ اللہ نے حق کا بول بالا کیا اور جھوٹ کا منہ کالا کیا۔
حضرات گرامی قدر!
اس وقت مجلس کے دو ہفتہ وار ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشن اور مقاصد کی نشرواشاعت میں مصروف ہیں۔ ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد سے مولانا تاج محمود کی زیر ادارت گزشتہ اٹھارہ برس سے اس فتنہ کے خلاف مصروفِ جہاد ہے اور اس سال سے ہفتہ وار ختم نبوت کراچی جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا کی زیر ادارت اس جہاد میں شریک ہو چکا ہے۔ مجلس کے یہ ترجمان مرزائیوں کے گمراہ عقائد کا نوٹس لینے کے علاوہ ان کے ملک دشمن عزائم کے بھی پردے چاک کر رہے ہیں۔
محترم حضرات
آخر میں اگرچہ یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں کہ مرزائیت کا سارا کاروبار جھوٹ‘ فریب کاری‘ دھوکہ دہی سے چندے بٹورنے اور ایک مغل فیملی کے لیے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ مہیا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں لیکن ان کے ربوہ سے بے شمار پرچے نکلتے ہیں۔ ان کے پاس بے شمار مالی وسائل موجود ہیں۔ میں اس وقت یہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ سارا عالم کفر دنیائے اسلام کو برباد کرنے کے لیے کن کن ذرائع سے ان کو روپیہ مہیا کرتا ہے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ہماری حکومتوں نے تمام مسلمانوں کے اوقاف قبضہ میں لے لیے ہیں لیکن آج تک کسی مسلمان حکمران کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ وہ کروڑوں روپیہ کے قادیانی اوقاف پر قبضہ کرے۔ ان کے مالی وسائل کا آپ اس سے اندازہ کریں کہ مستقبل قریب میں ان کا صد سالہ جشن ہونے والا ہے۔ مرزا ناصر جو حال ہی میں مرا ہے اس نے پانچ کروڑ روپیہ اس جشن کے لیے اکٹھا کرنے کی اپیل کی تھی لیکن ہماری اطلاع کے مطابق اب تک ان کے پاس تین ارب روپیہ جمع ہو چکا ہے۔ یہ روپیہ کہاں کہاں سے آیا کن دشمن اسلام طاقتوں نے انہیں دیا ہے۔ اس کی تحقیقات کا دردسر کون ذمے لیتا ہے۔ اسرائیل دنیائے اسلام کا بدترین دشمن ہے حال ہی میں بدبخت یہودیوں نے فلسطین اور لبنانی مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اس نے ظلم اور تشدد کے پچھلے سارے ریکارڈ مات کر دیئے۔ اسرائیل نے اپنے ہاں سے تمام مذاہب کے مشن بند کر دیئے لیکن قادیانیوں کا مشن آج تک وہاں موجود ہے اور لندن کے ایک یہودی مصنف کی لکھی ہوئی کتاب کے انکشافات کے مطابق اسرائیلی فوج میں قادیانی جوان بھی موجود ہیں جو یہودیوں کے شانہ بشانہ عربوں کے خلاف
لڑتے ہیں۔ لیکن الفضل کو مرزا ناصر کی موت کے بعد پاکستانی اخبارات سے مرزائیوں کے بارے میں چھپنے والی خبروں سے بڑا صدمہ پہنچا ہے اور اس نے اپنے ایک مقالے میں صحافیوں سے اپیل کی ہے کہ ہمارے بارے میں ہمیشہ ہی یہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور اختلافات و انتشار ہے۔
الفضل کے اس مقالے کا جواب دینا پاکستانی صحافیوں کی ذمہ داری ہے لیکن میں الفضل کے ایڈیٹر سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہاری جماعت کے ہر سربراہ کی موت کے بعد تمہارے اندر ایک نئی پھوٹ ایک نئی جنگ اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا فرقہ نہیں بنتا رہا۔ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بتاؤ کہ حکیم نور الدین بھیروی ہیڈ آف دی جماعت کی موت کے بعد مولوی محمد علی لاہوری اور ان کے ہزاروں ساتھیوں نے تمہارے منہ پر تھوکا اور مرزا محمود کی سرپرستی کو رد کرتے ہوئے علیحدہ لاہوری جماعت نہیں بنائی تھی؟ پھر ربوہ میں مرزا محمود کی موت کے بعد ہزاروں نوجوانوں نے مرزا ناصر کی سربراہی پر تبرا کرتے ہوئے اپنی علیحدہ تنظیم حقیقت پسند پارٹی نہیں بنائی تھی؟ اور اب مرزا ناصر کی موت کے بعد تم نے مرزا غلام احمد کے پوتے مرزا رفیع کی اپنی نام نہاد مسجد میں پٹائی نہیں کی۔ اور کیا مرزا رفیع تمہارے انتخابی اجلاس سے واک آؤٹ کر کے نہیں نکلا اور اس نے اجلاس سے باہر نکل کر بازار میں کھڑی ہوئی ایک بس کے اوپر کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا کہ انتخابی اجلاس کے اندر دھاندلی اور فراڈ کے علاوہ کچھ نہیں اور میں اس فراڈ کی پیروی نہیں کروں گا؟ اور کیا باہر سے جانے والے لوگوں حتیٰ کہ لاہور کے ایک معروف روزنامہ کے صحافیوں کو مرزا رفیع کے دروازے پر متعین تمہاری سی آئی ڈی نے مرزا رفیع سے ملنے دیا تھا؟ اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ پاکستان کے ہزاروں مرزائیوں نے ابھی تک تمہارے نئے سربراہ کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا ہے اور جب ابھی تک اندرون ملک کی تمہاری بغاوت فرو نہ ہوئی تھی تو تمہارے نئے سربراہ کو یورپ جانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ تمہارا تو سارا تانا بانا جھوٹ پر مبنی ہے اور تم مسلمان صحافیوں پر الزام عائد کرتے ہو کہ وہ تمہارے متعلق جھوٹ لکھتے ہیں۔
آخری بات
میں صدر ضیاء الحق گورنر پنجاب جناب جیلانی صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ ربوہ کے شہریوں کو ان کے گھروں کی زمین کے مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ یہ زمین پنجاب کے
آخری انگریز گورنر نے ایک آنہ مرلہ کے حساب سے لیز پر دی تھی لیکن بعد میں ریکارڈ خرد برد کر کے اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز مرزائیوں نے ہیرا پھیری کر کے اس لیز کو مالکانہ حقوق میں بدل دیا اور ایک آنہ مرلہ سرکار سے لی ہوئی زمین تین سو روپیہ سے لے کر ایک ہزار روپیہ مرلہ تک انہوں نے مرزائیوں کو لیز پر دے رکھی ہے۔ ملبہ مکان والے کا ہے اور زمین انجمن کی ملکیت ہے جس آدمی کے متعلق ذرا شبہ یا شکایت پہنچتی ہے اس سے زبردستی مکان خالی کرا لیا جاتا ہے یا اس کا سوشل بائیکاٹ کر کے اس پر ربوہ کی زمین اور زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ آج حکومت ربوہ کے مکینوں کو ان کے مکانوں کے مالکانہ حقوق دے یا خود مرزائی جماعت اخلاقی جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں مالکانہ حقوق دے دے تو دنیا دیکھے گی کہ جماعت احمدیہ میں انتشار اور اختلاف کی خبریں سچ ہیں یا جھوٹ، میں اس کانفرنس میں پوری ذمہ داری سے اعلان کرتا ہوں کہ اگر آج حکومت ربوہ کے مکینوں کو ان کے مکانوں کے مالکانہ حقوق دلوا دے تو رائل فیملی کے شہزادوں کے ستائے اور دکھیا ربوہ کے آدھے لوگ مرزائیت کو چھوڑ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہو جائیں گے۔
آخر میں
میں ایک دفعہ پھر اپنی طرف سے مجلس استقبالیہ کے تمام اراکین اور پوری مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس ناخوش گوار موسم میں سفر کی صعوبتیں اور مالی ایثار و قربانی کر کے شرکت کی اور حضور خاتم النبیین ﷺ سے اپنی والہانہ عقیدت اور محبت کا ثبوت دیا چونکہ اس جگہ یہ ہماری پہلی کانفرنس ہے اگر کسی وجہ سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچے یا آپ کے شایان شان ہمارے کارکن آپ کی خدمت نہ کر سکیں تو آپ اسے نظر انداز فرمائیں اور مجلس کے ساتھ اپنے تعلق اور تعاون کو زیادہ سے زیادہ اور پختہ سے پختہ کرتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو دنیا و آخرت میں اس کی نیک جزا دے اور سرخروئی و سر بلندی نصیب فرمائے۔ آمین۔
اہل ربوہ کے مظالم
مولانا تاج محمودؒ
پچھلے دنوں ربوہ میں چنیوٹ کے دو طالب علموں مسٹر احمد نواز (ایف اے) مسٹر اظہر حسین شاہ (بی اے) کو قادیانیوں نے مبینہ طور پر ربوہ میں پکڑ لیا۔ حبس بے جا میں رکھا اور دونوں کو 80، 80 کے قریب کوڑے مارے۔ قادیانیوں کو شبہ یہ تھا کہ یہ طالب علم سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ہمارے سالانہ جلسہ کی ڈائری چنیوٹ کے مسلمانوں کو پہنچاتے تھے۔
اب یہ معاملہ چونکہ ایک قابل احترام عدالت کے سپرد ہو چکا ہے۔ اس لیے ہم اس واقعہ کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ البتہ یہ کہنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ ربوہ کیا چیز ہے۔ بدگمانی کرنا اچھی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ شبہ ہے کہ شاید ہمارے ارباب اقتدار کی اکثریت کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ربوہ کی حقیقت کیا ہے؟
تقسیم ملک کے زمانہ میں صوبہ پنجاب کے گورنر سر فرانسس موڈی تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا جڑ سے اکھڑ گیا ہے۔ موڈی بھی انگریز تھا اس نے اپنے بڑوں کے لگائے ہوئے خود کاشتہ پودے کو ایک مرتبہ پھر دریائے چناب کے کنارے لگا دیا۔
موڈی صاحب نے دریائے چناب کے کنارے پڑا ہوا ایک بقایا رقبہ انجمن احمدیہ ربوہ کو سوا روپیہ کنال ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے فروخت کر دیا انجمن احمدیہ نے اس زمین کے پلاٹ بنا دیئے اور سڑکیں وغیرہ بنا کر ایک آبادی کا نقشہ بنا لیا۔
ادھر اتفاق ایسا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کے بھائی چوہدری عبداللہ محکمہ
بحالیات میں بہت بڑے افسر تھے۔ اسی طرح مرزا مظفر احمد سابق خلیفہ ربوہ کے داماد وغیرہ قادیانی افسران اہم مناصب پر فائز تھے۔ ان قادیانی افسروں کی جرأت مندانہ قادیانیت نوازی اور خویش پروری سے اکثر قادیانی بڑی بڑی املاک کے مالک بن گئے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے مفلس قلاش قسم کے لوگ لاکھ اور کروڑ پتی بن گئے۔
ربوہ کے یہ پلاٹ ان نو دولتیے قادیانیوں کو کئی کئی ہزار روپے مرلہ کے حساب سے (Lease) پر دیئے گئے۔ جس پر انہوں نے مکان تعمیر کر لیے۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں شرط یہ تھی کہ پلاٹ صرف قادیانی لے سکتا ہے۔ اور اسے ہر سال معاہدہ کی تجدید کرانا ہوگی۔ تاکہ اول تو کوئی غیر احمدی پلاٹ ہی نہ حاصل کر سکے اور اگر کوئی غلطی سے لے لے یا قبضہ لینے کے بعد کوئی قادیانی ہی مسلمان ہو جائے تو اسے نکالنے کے لیے یہ شرائط رکھ لیں کہ ہر سال تجدید معاہدہ ضروری ہے۔
اب یہ صرف قادیانیوں کی آبادی پر مشتمل ایک شہر ہے۔ جس میں دوسرے عقیدے اور خیال کا کوئی آدمی نہ ہے اور نہ رہ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس شہر میں گورنر مغربی پاکستان محمد موسیٰ خان، گورنر مشرقی پاکستان خان عبدالمنعم خان، کمانڈر انچیف افواج پاکستان محمد یحییٰ خان اور خود صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان کو بھی حقوق ملکیت اور حقوق رہائش نہیں مل سکتے۔ جب تک کہ وہ خدانخواستہ قادیانی مذہب نہ قبول کر لیں۔
صرف قادیانی عقیدہ کے لوگوں پر مشتمل آبادی کے قیام کا فلسفہ بغیر کسی وجہ کے نہیں ہے۔ مغل شہزادوں کی بدچلنیوں کے واقعات کی پردہ پوشی قادیانی گسٹاپو کے تشدد آمیز سانحات کا ہضم، اپنے دیس میں اپنے راج کا مزہ، اس قسم کے فوائد تو انہیں حاصل ہیں اس کے علاوہ اور دوسری کئی خطرناک وجوہات بھی سمجھ میں آسکتی ہیں۔ جو یقیناً اس آبادی کے تہ منظر میں موجود ہیں۔
ربوہ انجمن احمدیہ کی ایک نجی زمین اور آبادی تھی لیکن اسے ایک اہم شہر بنانے کے لیے ہماری حکومتوں نے افسوس ناک حد تک مرزائیت نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ ہمیں دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جن جن حکومتوں نے اس شہر کی تعمیر میں قادیانیت نوازی کا ثبوت دیا ہے انہوں نے ملک اور قوم کے مفادات کے ساتھ غداری کی ہے۔ اس قادیانیت نوازی کی چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
- (1) جن دنوں ہمارے صوبہ کے وزیر تعلیم سردار عبدالحمید دستی تھے۔ انہوں نے
ربوہ کے ٹی آئی کالج کو (جو قادیانیوں کا ایک خالص مشنری کالج ہے) حکومت کے خزانے سے تیرہ لاکھ روپے کی گرانٹ دی۔
- (2) واپڈا نے قوم کے خزانہ کی رقم سے حاصل کردہ بجلی کے کھمبے اور تاریں فراخدلی
کے ساتھ ربوہ کی آخری بے آباد گلیوں تک لگائے۔ حالانکہ ایک تجارتی ادارے کی حیثیت سے اتنی کم آمدنی اور منافع کے مقابل انہیں اتنا زیادہ روپیہ نہیں خرچ کرنا چاہئے تھا۔ خصوصاً یہ اس زمانے میں کیا گیا جب کہ بجلی کے لیے کئی اور دوسرے اہم مقام محروم تھے۔
- (3) محکمہ ریلوے نے اس شہر کی رونق کو دوبالا اور آبادی کو فروغ دینے کے لیے
ریلوے اسٹیشن بنایا۔ اسی طرح محکمہ ڈاک نے وہاں ڈاکخانہ اور ٹیلیفون لگانے کا ثواب حاصل کیا۔ محکمہ پولیس نے وہاں پولیس چوکی قائم کی۔ اگرچہ ربوہ کے جائز و ناجائز معاملات پولیس کی بجائے ان کا سیکیورٹی افسر عبدالعزیز جہانبازی اور ناظر امور عامہ ہی طے کرتا ہے۔
- (4) گزشتہ دنوں ضلع جھنگ کی ڈسٹرکٹ کونسل نے ربوہ ٹاؤن کمیٹی کے لیے بیس
ہزار روپے کی گرانٹ منظور کی تھی۔
- (5) حال ہی میں حکومت نے دریائے چناب کے پل پر کئی لاکھ روپے کے خرچ
سے سیاحوں کے لیے سیرگاہ اور قیام گاہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے لیے جھنگ ڈسٹرکٹ کونسل نے بھی بیس ہزار روپے دینا منظور کیے ہیں۔
یہ دریائے چناب کے پل اور سیاحوں کا تو صرف نام ہی بدنام ہے۔ یہ ساری تگ و دو ربوہ کی دل کشی اور آبادی کو زینت بخشنے اور بڑے بڑے قادیانی مہمانوں کے لیے ایک مفت کا ریسٹ ہاؤس تیار کرنے کے لیے اختیار کی جا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بے شمار باتیں ایسی ہیں جو قومی اور ملکی مفادات کو قربان کرنے کے بعد قادیانیوں کے اس مرکز کی خاطر کی گئی ہیں اور برابر کی جا رہی ہیں۔
حکومت کے متعلقہ محکمے یہ سب کچھ کرتے رہے اور کسی اللہ کے بندے کو یہ سوچنے کی توفیق نہ ہوئی کہ آخر کس چیز کے لیے وہ قومی مفادات کو ایک فرقہ کی انجمن کی نجی جائیداد کی ترقی کے لیے صرف کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس شہر کی حقیقت صرف اسی قدر ہے
جو ہم تحریر کر چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ملک میں ایک ایسی آبادی جس میں صرف ایک عقیدے کے لوگ ہوں اور جس آبادی کے اب تک کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں جو کچھ بھی ہو اس کا علم نہ تو حکومت کو ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوسرے لوگوں کو اور نہ ہی اس کے متعلق کوئی انسدادی کارروائی بروقت کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں نمونہ کے طور پر ہم چند واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔
- (1) مولانا غلام رسول جنڈیالوی ایڈیٹر روزنامہ ملت لائلپور کا لڑکا ربوہ میں مبینہ
طور پر قتل کیا گیا اور اس بے دردی سے قتل کیا گیا کہ خدا کی پناہ پہلے اس کی ٹانگیں توڑی گئیں پھر بازو توڑے گئے پھر جان سے مار دیا گیا اور پولیس میں رپٹ لکھوا دی گئی کہ ڈاکو تھے اور ڈاکہ زنی کرتے ہوئے مار دیئے گئے ہیں۔
- (2) خان محمود احمد خان صاحب جنرل سیکرٹری کنونشن مسلم لیگ لائل پور کے
صاحبزادے اور کیپٹن کلیم شہید مرحوم کے چھوٹے بھائی معہ اپنے چند طلبہ ساتھیوں کے ربوہ گئے قادیانیوں نے انہیں پکڑ کر ایک کمرہ میں بند کر دیا اور انہیں سخت ذہنی تکلیف پہنچائی۔ ابھی حبس بے جا میں تھے کہ یہ بات باہر کسی کو معلوم ہو گئی اور ساتھ ہی ان طلبہ نے بھی قادیانیوں کو وارننگ دی کہ ہم کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں۔ تم نے جو سلوک ہمارے ساتھ روا رکھا ہے۔ اس کا لازمی جواب یہ ہوگا کہ تمہارے قادیانی طلبہ کے ساتھ انتقامی کارروائی کی جائے گی۔ تب جا کر انہیں رہا کیا گیا۔ اور تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر ایک بوڑھے فرتوت نے ان بچوں سے معافی مانگ کر ان کا غصہ فرو کر دیا تاکہ کوئی قانونی کارروائی نہ کی جائے۔
- (3) پاک بھارت جنگ کے دوران ربوہ جو ایک اہم فوجی جگہ واقع ہے۔ حکام ضلع
کے لیے درد سر بنا رہا۔ ربوہ سرگودھا کے راستے میں واقع ہے۔ بھارتی بمباروں کا اہم نشانہ سرگودھا تھا۔ بھارتی بمباروں سے بچنے کے لیے ملک میں بلیک آؤٹ ضروری تھا۔ پوری قوم اور پورے ملک نے سول ڈیفنس کے حکام سے تعاون کیا۔ لیکن یہ بات بتائی گئی ہے کہ چنیوٹ کے حکام کو مبینہ طور پر ربوہ کی بجلی کا کنکشن کاٹ دینا پڑا تھا۔ کیونکہ ربوہ بلیک آؤٹ کے سلسلہ میں ان سے تعاون نہیں کرتا تھا۔
- (4) ربوہ کے رہنے والے کئی قادیانی حضرات ربوہ کی خلافت کے مظالم کا شکار
ہوئے ان کے شہری اور انسانی حقوق پامال کر دیئے گئے۔ ان میں سے بعض کے بچے اور گھر کا سامان تک چھین لیا گیا اور وہ راتوں رات اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سلسلہ کے کئی مظلوم افراد اور خاندان ربوہ کی سیاہ پیشانی پر سفید داغ کے طور پر ملک میں موجود ہیں۔
- (5) ربوہ میں مغل شہزادوں نے ایسے ایسے افعال بھی کیے جن کی اسلام میں بڑی
سنگین سزا ہے۔ لیکن قادیانی شریعت کے حیلوں سے انہیں بچا دیا گیا۔ یہ شرمناک شرف بھی ربوہ کو حاصل ہے کہ وہاں کنواری ماؤں نے بیٹوں کو جنم دیا۔ جن کے والدین ربوہ کے اس احسان کو نہ بھولتے ہوئے ترک سکونت پر مجبور ہوگئے۔
- (6) حال ہی میں مسٹر مختار احمد صدر سٹوڈنٹس اسلامک سالڈیرٹی آرگنائزیشن
چنیوٹ نے ٹی آئی کالج ربوہ کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ وہاں مسلمان لڑکوں کو مرزائیت کا لٹریچر بطور نصاب پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اور انہیں علیحدہ نماز تراویح اور جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ یہ کالج یونیورسٹی سے ملحق ہے اور یونیورسٹی سے ملحق کالجوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یونیورسٹی کے قواعد وضوابط کی پابندی کریں۔ یونیورسٹی کے رولز میں یہ بات شامل ہے کہ کوئی مشنری ادارہ یونیورسٹی کے مجوزہ نصاب کے علاوہ اپنی (تعلیمات یا) کوئی چیز پڑھانے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
سطور بالا میں ہم نے ربوہ کا ہلکا سا تعارف کرایا ہے۔ ہم موجودہ حکومت سے ایک بار پھر درخواست کریں گے کہ وہ اس شہر کو کھلا شہر قرار دے۔ ہر مکتب فکر اور ہر طرح کے لوگوں کو وہاں کے حقوق ملکیت اور حقوق رہائش دلانے کے لیے یہ شہر کھلا نہیں قرار دیا جاتا تو تمام سرکاری مراعات جن کا بوجھ تمام ملک اور پوری قوم کے خزانے پر پڑتا ہے واپس لے لی جائیں اگر حکومت دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے ربوہ کی موجودہ حیثیت کو ختم نہیں کرے گی تو اس شہر میں کتنے مظلوموں کے قتل اور کتنے ہی بے گناہوں کو بے وطنی اور کتنے ہی مجبور انسانوں کے اخراج اور بائیکاٹ کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ نہ صرف اس قسم کے واقعات رونما ہوں گے۔ بلکہ خدا جانے کس قسم کی خوفناک سازشیں یہاں پروان چڑھیں گی۔ جو ملک اور ملت کے مفاد کے منافی ہوں گی۔ (لولاک 10 مارچ 1967ء)
ربوہ کے چند حقائق
سید منظور احمد شاہ آسی، مانسہرہ
اگر قادیانی مذہب کا لبادہ نہ اوڑھتے تو آج اپنی موت آپ مرجاتے لیکن اس خالص سیاسی اور سازشی جماعت نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاسی مفادات حاصل کئے اور اقتدار کے لئے ہاتھ پاؤں مارے اور کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں نے رائل فیملی کے ہاتھ مضبوط کئے۔
فیصل آباد سے صرف ۲۵ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے اس پار ایک نیا شہر آباد ہوا جو کسی زمانے میں خالص قادیانی بستی تھا۔ آخر اس شہر کے باسیوں نے الگ تھلگ بسنے کا ارادہ کیوں کیا؟ وہ دوسرے لوگوں سے الگ ہو کر یہاں کیوں آباد ہوئے اور کسی دوسرے فرد کو یہاں کیوں نہ رہنے دیا؟ اس کے پیچھے آخر کیا حقائق کار فرما تھے۔ ہر ذی عقل و فہم کے دماغ میں یہ بات ضرور کھٹکتی ہے اور اس کا جواب آپ کو ان کالموں میں دوں گا، جیسا کہ الیاس برنی صاحب مرحوم نے اس کا تجزیہ پیش کیا:
۱۰ اگست ۱۹۴۹ء کو ربوہ میں تار لگ گئی اور تاروں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۴۹ء کو ربوہ میں ڈاک خانہ بھی باقاعدہ کھل گیا۔ ڈاک خانے کے پہلے انچارج ایک احمدی مقرر ہوئے۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۴۹ء بروز دو شنبہ امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ (لعنت اللہ علیہ) ربوہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لئے مع حضرت ام المومنین مدظلہا العالی (لعنت اللہ علیہما) دیگر اہل خانہ رتن باغ لاہور سے بذریعہ کار ربوہ تشریف لے گئے۔
راستے میں حضور مع دیگر اہل قافلہ خصوصیت سے قرآنی دعا رب ادخلنی مدخل صدق واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا پڑھتے رہے۔ جب ربوہ کی سر زمین شروع ہوئی، حضور نے اتر کر یہ دعا پڑھی۔ ربوہ پہنچ کر سب سے پہلے
ظہر کی نماز ادا فرمائی اور پھر تقریر فرمائی‘ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے علاوہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ (لعنت اللہ علیہ) کی رہائش گاہ‘ لنگر خانہ‘ مہمان خانہ اور نور ہسپتال کی عارضی عمارتیں تیار ہوچکی تھیں اور بازار بن چکے ہیں اور مسجد تعمیر ہوچکی ہے۔ (ربوہ کی روداد مندرجہ قادیانی اخبار ”الرحمت“ لاہور جلد ۱ مورخہ ۲۱ نومبر ۱۹۴۹ء)
ربوہ کی تعمیر سے قبل انجمن احمدیہ اصول طے کرچکی تھی۔
- ۱- ربوہ کی زمین پر کسی شخص کو ملکیتی حقوق نہیں دیئے جائیں گے۔
- ۲- نقشے اور شرائط کے مطابق مکانات اور بنگلے بنیں گے۔
- ۳- اور ہر سال ان مکانات کی تجدید الاٹمنٹ ہوا کرے گی۔
- ۴- یہ تجدید مرزائیوں کا پوپ کرے گا۔
تجدید اس لئے ہر سال ہوگی کہ اگر کسی مکین کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو جائے کہ قادیانیت پر چار حرف بھیجنے کے لئے تیار ہے تو اس کو فوراً ربوہ سے نکال دیا جائے جیسا کہ بیسیوں واقعات اس طرح کے پیش آئے اور غیر احمدی حضرات کا داخلہ بند کرنا مقصود تھا۔ ربوہ میں ۷۴ء سے پہلے سخت احتیاط برتی گئی حالانکہ خود قادیان میں ۱۹۴۷ء سے قبل اور بعد میں بھی سکھ‘ مسلمان‘ قادیانی اکٹھے اور مخلوط طور پر آباد تھے۔ آج بھی قادیان کی بستی میں مسلمان‘ ہندو‘ سکھ مشترکہ طور پر آباد ہیں۔ ہر صاحب عقل کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر ربوہ پر یہ پابندی کیوں لگائی گئی کہ کوئی مسلمان وہاں زمین خرید کر آباد نہ ہو سکے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے‘ ورنہ قادیان میں نہ تو پہلے ایسی کوئی بات تھی‘ نہ اب ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کی تحریکوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ”ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے“ اب ذرا جسٹس صمدانی کی مرتب کردہ رپورٹ کی طرف آئیے جو انہوں نے ۷۴ء میں عدالتی تحقیقات کے مقرر کردہ کمیشن کو پیش کی۔ واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل کے واحد ممبر جسٹس صمدانی ۲۰ جولائی کو ربوہ تشریف لے گئے تاکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کرسکیں اور دوسری معلومات حاصل کرسکیں۔ وہاں ساڑھے پانچ گھنٹے کے قریب تشریف فرما رہے جبکہ ان کے ساتھ ایڈوکیٹ جنرل‘ وکلاء اور صحافی بھی تھے۔ اس قیام کے دوران جو خاص
باتیں دیکھنے میں آئیں، ان کا خلاصہ ملاحظہ ہو۔
- ۱۔ جسٹس صمدانی کی آمد پر پاک فضائیہ کے دو طیارے بڑی گھن گرج کے ساتھ نمودار
ہوئے، انہوں نے ”انتہائی نیچی پرواز کی“ اور قلابازیاں کھاتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
- ۲۔ جسٹس صمدانی صاحب نے ربوہ میں تمام دفاتر اور اہم جگہوں کا معائنہ کیا۔ تمام
سرکاری اور قادیانی دفاتر میں مرزا قادیانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ البتہ بابائے پاکستان اور علامہ اقبال کی کوئی تصویر نظر نہ آئی۔ نیز ربوہ میں پاکستان کا قومی پرچم کہیں بھی نظر نہ آیا۔ البتہ قصر خلافت پر جماعت کا اپنا مخصوص جھنڈا لہرا رہا تھا۔
- ۳۔ ۱۹۵۶ء میں ربوہ بدر کئے جانے والے صالح نور نامی قادیانی پر ایک عجیب قسم کا خوف
طاری تھا۔ اس کے رشتہ داروں نے جھروکوں سے دیکھ کر محض آنسو بہائے۔ لیکن ”قادیانی جرم“ کے پیش نظر بات کرنے کی جرات نہ کی۔
- ۴۔ خلیفہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے باہر ایک تختی پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی
”آج ملاقات کا دن نہیں ۔“
- ۵۔ ٹربیونل نے ربوہ کی چوکی کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کسی جرم کی کوئی رپورٹ
نہیں۔ اس موقعہ پر تھانہ ”لالیاں کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہم محکمہ ”امور عامہ“ کے تحت کچھ نہیں کر سکتے (یعنی امور داخلہ پچھلی قسط میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قادیانیوں نے تمام محکمے قائم کئے ہوئے تھے اور اب بھی ہیں۔)
- ۶۔ صمدانی صاحب نے شہر کی سڑکوں پر بعض عجیب اور اشتعال انگیز نعرے دیکھے۔ مثلاً
مرزا غلام احمد کی جے۔ نیز مرزا صاحب کا مشہور انگریزی الہام جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”خدا بادلوں کی اوٹ میں اپنی فوجیں لے کر تمہاری مدد کو آ رہا ہے۔“
- ۷۔ فاضل ٹربیونل کے حکم سے فوٹو گرافر حضرات نے بعض کتبوں کی تصویریں بھی
لیں۔
- ۸۔ ربوہ کے اس وقت کے پوپ مرزا ناصر سے جسٹس صمدانی کی ملاقات نہ ہو سکی۔
- ۹۔ ناظم امور عامہ کے دفتر کا جب جسٹس صمدانی صاحب نے معائنہ کیا اور فائلیں
دیکھیں تو آپ کو بتلایا گیا کہ اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔
- ۱۰۔ قصر خلافت پر لہرانے والے قادیانی جھنڈے کے علاوہ ایک جھنڈا آپ نے
دفتر امور عامہ پر دیکھا۔ جس کو پرچم "لوائے احمدیت" کہا جاتا ہے۔ اس پر مینار چاند ستاروں کے علاوہ قرآن حکیم کی اس آیت کا ترجمہ بھی ہے کہ "خدا نے بدر میں تمہاری امداد کی جب کہ تم کمزور تھے"۔ آپ کو بتلایا گیا کہ جماعت کی شاخ کسی بھی ملک میں ہو، ملکی جھنڈے کے ساتھ یہ جھنڈا لازمی ہے۔ (جب کہ ربوہ میں کسی بھی قادیانی دفتر پر پاکستانی پرچم لہرایا نہیں گیا)
- ۱۱۔ اس موقع پر آپ کو بتلایا گیا کہ امسال زر مبادلہ کی سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے
بیرون ممالک میں مبلغ نہیں بھیجے جاسکے۔
- ۱۲۔ جسٹس صمدانی صاحب نے بلدیہ کا دفتر دیکھا اور وہاں خدام الاحمدیہ کا پرچم دیکھا
(قادیانیوں کے کل پانچ پرچم ہیں) اس پرچم پر چاند ستاروں اور مینار کی تصویر کے علاوہ برطانوی طرز کے جھنڈے کی طرح لکیریں بھی ہیں۔
- ۱۳۔ مسجد اقصیٰ کے معائنہ کے دوران دیکھا گیا کہ منبر کی جگہ ڈائس رکھا ہوا ہے۔
- ۱۴۔ ٹربیونل نے قصر خلافت (قصر خباثت) اور مبارک نامی عبادت گاہ کو دیکھا۔ اس
عبادت گاہ کے محراب کی جانب دروازہ دیکھ کر بڑا تعجب کیا گیا۔
- ۱۵۔ آپ نے "بہشتی مقبرہ" (جو ربوہ میں مخصوص قبرستان ہے۔ بڑے بڑے کورو
قادیانیوں کو اس دوزخی مقبرہ میں خاص فیس کی ادائیگی کے بعد ہی دفن کیا جاتا ہے) بھی دیکھا، جہاں "خاندان خباثت" کی قبروں پر کندہ وصیتیں بڑی تعجب خیز تھیں۔ ان میں مرزا محمود کا قول درج تھا کہ جو نہی موقع ملے یہ نعشیں قادیان (بھارت) لے جائی جائیں، یاد رہے کہ جسٹس صمدانی صاحب کو ربوہ کے اس وقت کے پوپ مرزا مبارک نے چائے کی دعوت دی جو جسٹس صاحب نے رد کر دی تھی۔ قارئین حضرات ! مندرجہ بالا حقائق ہیں۔ یہ باتیں سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں اور ۷۴ء کے اخبارات میں بھی آچکی ہیں۔ اسی سے آپ جائزہ لیں کہ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال کیسے ربوہ میں تیار کئے جاتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ۶، شمارہ ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس ربوہ
خانیوال کے طارق محمود صاحب جو آج کل کراچی میں ہیں، عابد، زاہد، متقی نوجوان ہیں ۔ اپنے اخلاص و نیکی کے باعث بہت ہی زیادہ قابل احترام ہیں ۔ انہوں نے ایک دفعہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی ربوہ کے موقعہ پر فقیر سے بیان کیا کہ:
”میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں محبت و اضطراب کی کیفیت ہے ۔ عظیم اجتماع استقبال کے لیے امڈ آیا ہے ۔ لوگ ادھر ادھر دیوانوں کی طرح سرگرداں پھر رہے ہیں ۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو مجھے بتایا گیا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و سلم دریائے چناب کی جانب سے کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں ۔ میں بھاگم بھاگ دریائے چناب کی جانب گیا جس طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم .... تشریف لا رہے تھے ۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کی سعادت حاصل کی اور عرض کیا کہ کہاں تشریف لے جانے کا ارادہ ہے ۔ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ۔۔۔۔۔ جامع مسجد ختم نبوت میں ہماری کانفرنس ہو رہی ہے ۔ ادھر جانے کا پروگرام ہے ۔ سبحان اللہ ۔ (”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۳۸۰، از مولانا اللہ وسایا)
اپنا اپنا ظرف جس کو جو میسر آ گیا (مؤلف)
تحفہ شفاعت
حضرت بنوریؒ نے ”نفحۃ العنبر“ پر لکھا ہے : حضرت شیخنا الانور فرمایا کرتے تھے کہ جب میں عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام کتاب لکھی تو مجھے توقع پیدا ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اس تعلق کے باعث شفاعت فرمائیں گے ۔
ربوہ... ایک نیا قادیان
پاکستان میں ایک نیا قادیان بسانے کے لیے ایک علیحدہ خطہ ”ربوہ“ کے نام سے حاصل کیا گیا اور اس کے لیے اس وقت کے انگریز گورنر پنجاب نے خاص کارنامہ یہ انجام دیا کہ پاکستان کے قلب میں ایک وسیع خطہ ”قادیانی ریاست“ کے لیے مخصوص کر دیا اور
”ربوہ کے قادیانیوں کو ایسی آزادی دی گئی کہ عملاً پاکستان کی حکومت وہاں نہیں تھی۔ گویا پنجاب میں اس کو ایک آزاد ریاست کی حیثیت حاصل تھی جسے ریاست در ریاست کہنا صحیح ہوگا۔ ”تبلیغ اسلام“ کے نام پر دو لاکھ سالانہ زر مبادلہ قادیانی وصول کرتے رہے جس کے ذریعہ مشرقی افریقی ممالک میں وسیع پیمانے پر مرزائیوں نے اپنے مبلغ بھیجے اور ارتداد کا جال پھیلایا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی یہودی حکومت سے حکومت پاکستان کا کوئی تعلق اور رابطہ نہیں تھا مگر مرزائیوں نے ان کے مرکز تل ابیب اور حیفہ میں مراکز قائم کیے اور اس طرح برطانیہ کا خود کاشتہ پودا نہ صرف پاکستان میں بلکہ تمام اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں بھی ایک تن آور درخت بن گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سکندر مرزا اور ایوب کی غفلتوں یا غداری کی وجہ سے پاکستان کے کلیدی مناصب پر مرزائی چھا گئے۔ اس طرح مٹھی بھر مرزائی پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔ حکومت نے محکمہ اوقاف کے ذریعہ مسلمانوں کے تمام اوقاف ”وقف ایکٹ“ کے ماتحت قبضہ میں لے لیے۔ لیکن قادیانی مرزائیوں کے اوقاف کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ جس کے ذریعہ نہ صرف ان کی مالی حیثیت مزید قوی ہو گئی بلکہ ان میں ”خود مختار ریاست“ کا تصور شدت سے ابھرا۔ علاوہ اس کے بین الاقوامی سطح پر دشمنان اسلام اسرائیل و برطانیہ وغیرہ کی جانب سے ان کی جو مخفی اعانت ہوتی رہی اور سر ظفر اللہ نے تین سالہ زندگی میں اقوام متحدہ کی نمائندگی کے دوران باہر کی دنیا میں مرزائیت کی جڑوں کو جو مضبوط کیا، وہ اس پر مستزاد ہے جس سے مرزائیوں کو اپنی بین الاقوامی پوزیشن کے مضبوط ہونے کا گھمنڈ ہونے لگا۔ الغرض ان متعدد عوامل کے تحت یہ فتنہ روز بروز قوی تر ہوتا گیا جس کی تفصیلات حیرت ناک بھی ہیں اور درد ناک بھی۔
(بصائر و عبر، حصہ دوم، ص ۲۲۹، ۲۳۰، از علامہ یوسف بنوریؒ)
مولانا چنیوٹی
جنہوں نے ربوہ کا نام تبدیل کرایا
محمد طاہر عبدالرزاق
وہ زندگی کی شاہراہ پر حیات مستعار کی اکہتر منزلیں طے کر چکے ہیں۔ داڑھی اور سر کے بال سفید براق ہو چکے ہیں۔ پون صدی کا بڑھاپا قدم قدم پر ان کی راہ میں ہمالیہ بن کے کھڑا ہوتا ہے۔ نوے فیصد قوت سماعت ختم ہو چکی ہے۔ کانوں میں سماعت کا حساس آلہ لگانے کے باوجود بڑی اونچی آواز میں ان سے بات کرنا پڑتی ہے۔ شوگر نے صحت کو گھائل کر رکھا ہے۔ سفر میں ان کے ڈرائیور کے پاس تھرماس میں انسولین ہوتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے سرنج میں انسولین بھرتے ہیں اور خود ہی پیٹ میں سوئی چبھو کر ٹیکہ لگا لیتے ہیں اور اپنی اگلی منزل کی جانب عازم سفر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے قریہ قریہ گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ اور شہر شہر میں قادیانیت کا تعاقب کرتے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں بیرونی دنیا کے سینکڑوں دورے کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ اعزاز بھی بخشا ہے کہ بیت اللہ کے صحن میں انہوں نے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر درس بھی دیئے ہیں۔ علالت اور بڑھاپے کے باوجود جلسوں میں دو دو تین تین گھنٹے بے تکان بولنا ان کا معمول ہے۔ قادیانیت پر شیر کی طرح گرجتے اور چیتے کی طرح لپکتے ہیں۔
اس عمر میں ان کی یہ کارکردگی دیکھ کر لوگ انہیں تعجب بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں لیکن مجھے تعجب نہیں ہوتا۔ کیونکہ عقاب سے کسی نے پوچھا تھا ”تو پرواز کرتے کرتے تھکتا کیوں نہیں؟“ عقاب نے جواباً کہا تھا ”میرا شوق پرواز مجھے تھکنے نہیں دیتا۔“ مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب کو اس بڑھاپے میں جب میں اتنا پر مشقت کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو انگلستان میں رونما ہونے والا وہ واقعہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ جب ایک شخص اتوار کے روز اپنی گاڑی کو جیک لگا کر صاف کر رہا
تھا۔ اس کا اڑھائی تین سال کا بچہ گاڑی کے نیچے گھسا کھیل رہا تھا کہ اچانک جیک ٹوٹ گیا اور بچہ گاڑی کے نیچے آ گیا۔ نوجوان اور طاقتور باپ نے گاڑی کو اٹھا کر بچے کو نکالنے کی بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ آخر باپ ساتھ والے ہمسائے کے گھر جیک لینے کے لیے بھاگا۔ ادھر گھر میں کام کرتی ماں نے جب اپنے بچے کی آہ و بکا سنی تو وہ لپکتی ہوئی آئی۔ اس نے آتے ہی ایک ہاتھ سے گاڑی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے اپنے بچے کو باہر نکال لیا۔ ادھر باپ بھی جیک لے کر ہانپتا کانپتا پہنچ گیا۔ باپ نے آ کر عجیب منظر دیکھا کہ ماں اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر فاتحانہ انداز میں مسکرا رہی ہے۔
”تم کمزور اور دبلی سی عورت نے اسے کار تلے سے کیسے نکال لیا؟“ باپ نے سوال کیا۔
”میں نے ممتا کے عشق کی قوت سے اسے نکال لیا۔“
ماں نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا۔
مولانا منظور احمد چنیوٹی بھی قوت عشق رسول ﷺ سے پرواز کر رہے ہیں اور دنیا میں ”لانبی بعدی“ کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ میدان تحریر ہو یا میدان تقریر وہ ہر میدان میں شہسوار نظر آتے ہیں۔ مختصر سی نشست میں ایک عام آدمی کو فتنہ قادیانیت سے آشنا کر دینا اور اسے قادیانیت سے برسر پیکار کر دینا ان کا وصف خاص ہے۔ تحریر میں ان کا قلم قادیانیت اور مرزا قادیانی کی ایسی سرجری کرتا ہے کہ قادیانیت کے اعضاء کٹ کٹ کر گرنے لگتے ہیں اور جسد قادیانیت کٹے ہوئے اعضاؤں کا ڈھیر بن جاتا ہے۔
مولانا ایک ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں لوگوں کے قلوب میں اتر جاتے ہیں۔ لوگ ان کے راستے کو اپنی پلکوں سے آراستہ کرتے ہیں۔ اور مولانا کی ایک صدا پر پروانوں کی طرح امڈے چلے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے شہر چنیوٹ سے ایک مرتبہ چیئرمین بلدیہ اور تین دفعہ ایم۔ پی۔ اے چنے گئے۔
مولانا جب پنجاب اسمبلی میں پہنچے تو پنجاب اسمبلی ایک مجاہد ختم نبوت کی للکار سے گونج اٹھی۔ مولانا ہر اجلاس میں قادیانیوں کی شر انگیزیوں کا محاسبہ کرتے۔ ممبران اسمبلی کو ان کی غداریوں اور ان کے کالے کرتوتوں سے آگاہ کرتے۔ وہ یہ ہدف لے
کر اسمبلی کے کارزار میں اترے تھے کہ میں ممبران اسمبلی کی قادیانیوں کے خلاف ذہن سازی کروں گا اور پھر اس اسمبلی سے تحفظ ختم نبوت کا ایک عظیم کام لوں گا۔ پھر وہ وقت سعید آیا جب مولانا کی محنت رنگ لائی اور انہوں نے ایک مہم جو کی طرح اپنے ہدف کو پالیا۔
قادیانی جس طرح مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول، مرزا قادیانی کی ہفوات کو قرآن مجید، اس کے بکواسات کو احادیث رسول۔ اس کے خاندان کو اہل بیت، اس کی بیوی کو اُم المومنین، اس کے ساتھیوں کو صحابہ اور اس کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اسی طرح قادیانی اپنے کفریہ مرکز کو ربوہ کہتے تھے۔ 1984ء کے صدارتی امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت قادیانیوں کو اسلامی شعائر اور اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے روک دیا گیا۔ لیکن ربوہ ایک سرکاری نام تھا۔ قادیانی اس اسلامی نام کو استعمال کرتے تھے۔ اس نام سے ظاہر ہوتا تھا کہ ربوہ مسلمانوں کی ایک بستی ہے۔ جو ایک بہت بڑا دھوکہ اور فریب تھا۔ ایسا فریب جیسے چوروں کی بستی کا نام شریف پورہ اور کافروں کے شہر کا نام اسلام نگر رکھ دیا جائے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب نے ربوہ کا نام تبدیل کرنے کا نعرہ رستا خیز بلند کیا اور پنجاب اسمبلی میں ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد پیش کردی اور پھر اسے کامیاب و کامران کرنے کے لیے مولانا سیماب بن گئے، طوفان بن گئے، ایک نہ جھکنے والا آہنی نوجوان بن گئے۔ رعد کی طرح کڑکے، بادل کی طرح برسے اور پورے پنجاب کا جہادی دورہ کیا۔ ممبران اسمبلی کے حلقوں میں پہنچے، عوام سے ملے اور انہیں کہا کہ وہ اپنے حلقہ کے ممبران اسمبلی کو اس قرارداد کے لیے تیار کریں۔ خود بھی ممبران اسمبلی سے فرداً فرداً رابطہ کیا۔ قومی پریس میں اس مسئلہ کو ایک ماہر وکیل کی طرح پیش کیا اور اس پر دلائل و براہین کی برسات کردی۔ لٹریچر شائع کیا۔ اشتہارات لگائے، بینرز لٹکائے۔ پورے پنجاب کے علماء سے جلسوں اور کانفرنسوں میں قراردادیں منظور کروائیں۔ اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں اور آخر وہ تاریخی وقت آ گیا جب پنجاب اسمبلی نے ”ربوہ“ کا نام تبدیل کرکے ”چناب نگر“ رکھ دیا۔ پورا ملک ختم نبوت کے نعروں سے گونج اٹھا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اندرون و بیرون ملک مولانا کے اعزاز میں
تقریبات منعقد کی گئیں۔ وہ وقت بھی کتنا عہد ساز تھا جب ربوہ کے ریلوے سٹیشن سے تقریباً نصف صدی بعد ”ربوہ“ کا بورڈ اتار کر ”چناب نگر“ کا بورڈ لگایا گیا۔ قادیانیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ جھوٹی نبوت کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ کہاں وہ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہے تھے اور کہاں ربوہ کا نام بھی چناب نگر ہو گیا۔ لوگ اس وقت کو بھی یاد کر رہے تھے جب 1974ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو اسی ریلوے سٹیشن پر ختم نبوت...... زندہ باد کے نعرے لگانے پر قادیانی غنڈوں نے شدید زخمی کر دیا تھا اور پھر اسی سٹیشن سے اٹھنے والی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی تھی اور 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا۔ آج اس ریلوے سٹیشن کا نام بھی بدل گیا تھا اور آج پھر اسی ریلوے سٹیشن پر ختم نبوت....... زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگ رہے تھے۔ لیکن آج قادیانی یوں خاموش تھے جیسے ان کی ماؤں نے انہیں گونگا جنم دیا تھا۔ قربانی رنگ لایا کرتی ہے، محنت رائیگاں نہیں جاتی اور اخلاص کا شجر ہمیشہ ثمر بار ہوا کرتا ہے۔
اس کتاب کی اشاعت سے چند روز قبل حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب اپنے شاگرد خاص اور میرے واجب الاحترام دوست اور بھائی جناب مولانا قاری محمد رفیق صاحب کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے تو دوران گفتگو کہنے لگے کہ آج کل میرے دل میں ایک خواہش بڑی شدت سے اٹھ رہی ہے کہ قادیانیوں کے قبضہ سے ربوہ کی زمین چھڑا کر ربوہ کے مکینوں کو مالکانہ حقوق پر دے دی جائے فرمانے لگے کہ قادیانیوں نے ایک خطرناک سازش کے تحت انگریز گورنر سر فرانسس موڈی سے 1033 ایکڑ سات کنال آٹھ مرلہ زمین صرف آنہ فی مرلہ کے حساب سے لے لی تاکہ پاکستان میں ایک قادیانی ریاست بنائی جائے۔ زمین خریدنے کے بعد پورے پاکستان سے قادیانیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا۔ قادیانیوں نے یہاں آکر اچھے خاصے پیسے لگا کر مکانات تعمیر کئے۔ آج اُن مکانات اور کوٹھیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ لیکن کوئی قادیانی انہیں بیچ نہیں سکتا کیونکہ مکان یا کوٹھی تو قادیانی کی ہے لیکن زمین انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے۔ ۱۹۷۴ء کے بعد ربوہ کے بہت سے قادیانی مسلمان ہونے لگے تو انہیں ان کے مکانات پر قبضہ اور ربوہ سے نکالنے کی دھمکیاں دے کر کفر
کے قفس میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ مولانا کہنے لگے کہ اگر ربوہ کی زمین جو قادیانیوں نے فراڈ کے ذریعے حاصل کی۔ اس کے مالکانہ حقوق مکینوں کو مل جائیں تو قادیانی ایوان زمین بوس ہو جائیں گے اور ہزاروں قادیانی قادیانیت پر تھوک کر مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے ایمانوں کو مجبوری کے زندانوں میں غنڈہ گردی کے شکنجوں میں کس دیا گیا ہے۔ مولانا کہنے لگے کہ میں نے اس سلسلہ میں سارے کوائف اکٹھے کر کے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ کر دی ہے۔ انشاء اللہ ہم یہ کیس جیتیں گے اور دنیا کی آنکھیں دیکھیں گی اور کان سنیں گے کہ ہزاروں قادیانی قادیانیت کے کفر کے خارزار سے نکل کر اسلام کی پر بہار فضاؤں کے گلستان میں آجائیں گے۔
میرے گھر کے ڈرائنگ روم میں جب اکہتر سالہ بوڑھے عالم دین اور سیدنا صدیق اکبرؓ کے مشن کے علمبردار یہ ولولہ انگیز اور ایمان پرور گفتگو فرما رہے تھے تو میں اپنی مشتاق آنکھوں سے دن کے اجالوں سے اجلی ان کی سفید داڑھی، مہتابی چہرے اور عقابی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اور میرے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ آواز اٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ الٰہی! حضرت مولانا کی شخصیت کا سحاب کرم ہمارے سروں پر تادیر چھایا رہے۔۔۔۔۔۔ یہ زبان بولتی رہے۔۔۔۔۔۔ اس دہن سے نکلنے والے الفاظ نجوم بن کر ختم نبوت کا چراغاں کرتے رہیں۔ دوران خطابت ان کے متحرک بازو قادیانیت پر محمود غزنوی کے گرز بن کے برستے رہیں۔ اس دل میں عشق نبی ﷺ کے دریا میں طغیانیاں بپا ہوتی رہیں۔۔۔۔۔۔ یہ دماغ تحفظ ختم نبوت کے منصوبے سوچتا رہے۔۔۔۔۔۔ یہ پاؤں تحفظ ختم نبوت کی راہوں میں مصروف سفر رہیں۔۔۔۔۔۔ ان کے کردار کی خوشبو جہاد ختم نبوت کے لیے مسلمان نوجوانوں کے دلوں پر کمندیں ڈالتی رہے۔۔۔۔۔۔ وہ بوڑھے ہو گئے تو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ بھی تو نوے سال کی عمر میں فوجوں کی کمان کیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔!!!
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر عبدالرزاق بی۔ ایس۔ سی۔ ایم اے (تاریخ) 28 مارچ 2002ء لاہور
خلیفہ ربوہ کی فوجی تنظیم
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
خلیفہ صاحب نے اپنی ریاست کے دفاع کے کام کو تکمیل دینے کے لیے فوجی نظام کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ایک جھوٹی رویا کا سہارا لے کر جماعت کو یہ حکم دیا کہ ٹیری ٹوریل فورس (Terri Torial Force) میں احمدیوں کو بھرتی ہونا چاہئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ یہ کام ”فوجی نظام“ آئندہ جماعت کے لیے بہت برکتوں کا موجب ہوگا۔
(16 اکتوبر 1939ء الفضل)
جماعت کے نوجوان طبقہ کو بار بار یہ تحریک کی جاتی ہے۔ ”احمدی نوجوانوں کو چاہیے کہ ان میں سے جو بھی شہری ٹیری ٹوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہیں شامل ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔“
(8 مارچ 1939ء الفضل)
اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی گئی۔ ”جیسا کہ پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ یکم ستمبر 1934ء سے قادیان میں فوجی سکھلائی کے لیے ایک کلاس کھولی جائے گی جس میں بیرونی جماعتوں کے نوجوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔...... ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغیر پذیر ہو رہے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ مسلمان جلد سے جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس میں توقف نہ کرے۔ اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی سکھلائی کریں۔ اور پھر اپنے اپنے مقام پر دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں۔ اور ان کی ایسی تنظیم کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہوسکیں۔
(17 اگست 1939ء الفضل)
”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء پریذیڈنٹ بہ حیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے۔ ہر مقام کی احمدی جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازمی ہوگی۔“ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہوگا۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہوگا۔ اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون سمجھی جائے گی۔ جس پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹون بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا جائے گا۔ جہاں چار پلٹونیں ہوں گی وہاں پر پلٹون کے مذکورہ بالا افسران کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنا دیا جائے گا۔
حضرت امیر المومنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی کے فخر سے بھی سرفراز کرنا منظور فرما لیا ہے۔ (17 اگست 1932ء الفضل)
حضور کا منشا و ارشاد اس تحریک کو نہایت باقاعدگی اور عمدگی کے ساتھ چلانے کا تھا۔ (یکم ستمبر 1932ء الفضل)
”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحب زادہ کیپٹن مرزا شریف احمد صاحب ہوا۔“ (4 ستمبر 1932ء الفضل)
یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی۔
چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ خلیفہ یکم اکتوبر 1932ء صبح 10 بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرما دارالامان ہوں گے احمدیہ کور کے کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم حضرت میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کی گراؤنڈ میں جمع ہوگئے جہاں سے مارچ کرا کر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے۔ خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔“
”حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“ (17 ستمبر 1933ء الفضل)
اس فوج کا اپنا خاص پرچم تھا۔ جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا۔ اس پر منارۃ المسیح بنا کر ایک طرف اللہ اکبر دوسری طرف ”عباد اللہ“ لکھا ہوا تھا۔ جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی وہ فوج ہے جو کیمپنگ (Camping) کے لیے دریائے بیاس کے کنارے بھیجی گئی تھی۔
(14 ستمبر 1933ء الفضل)
خلیفہ صاحب کی ’خاص محفل‘
دریائے بیاس کے کنارے ذکر آنے کے ساتھ ہی خلیفہ صاحب کی وہ تمام رنگین محفلوں کی یاد دل میں چٹکیاں لینا شروع کر دیتی ہے۔ جہاں نامحرم لڑکیوں کے جھرمٹ میں خلیفہ صاحب عیش و طرب کی آغوش میں جھولے جھولا کرتے تھے۔ اگر دریائے بیاس کے کنارے پر خلیفہ صاحب کی ایک منٹ کی ”خاص محفل“ کی ظلمت و تاریکی کو تیرہ سو سال کے نور پر پھیلایا جائے تو تمام نور کافور ہو جائے گا۔
جبری بھرتی
خلیفہ صاحب نے اس فوج کے لیے جبری بھرتی کا اصول اختیار کیا تھا۔ ”میں ایک دفعہ امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں ...... کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جاوے۔“
(15 اکتوبر 1933ء الفضل)
کمانڈر انچیف اور وزارت
یہی وہ فوج ہے جس کے نوجوانوں نے سر ڈگلس ینگ کو جو اس وقت پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ قادیان میں باوردی والنٹیرز کور نے سلامی دی تھی۔
(16 اپریل 1939ء الفضل)
اور اسی طرح لاہور جا کر پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی سلامی دی گئی۔ شروع میں ناظر صاحب امور عامہ اس فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ لیکن جلد ہی خلیفہ صاحب نے ان کو برطرف کرتے ہوئے یہ کہا۔ ”کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔“
(5 اپریل 1933ء الفضل)
خلیفہ صاحب کو اپنی اس فوجی تنظیم پر اتنا ناز اور فخر تھا کہ ایک دفعہ الفضل نے یہ لکھا۔
”کہ حضور نے احمدیہ کور کی جو سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ رہیں۔ اس وقت بعض بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لیے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں کہ جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔“
(12 اگست 1939ء الفضل)
مطلق العنان بادشاہ کا ہلالی پرچم
اگر خلیفہ صاحب کا مطمح نظر اور مدعا محض اشاعت اسلام تھا۔ تو اس مقدس و مطہر مقصد کے لیے اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ عسکری تربیت پر روپیہ خرچ کیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ صاحب کے ذہن میں مطلق العنان بادشاہ کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ اشاعت اسلام کا نعرہ محض ایک فریب اور دھوکہ تھا۔ یہ تو صرف عوام کالانعام سے روپیہ وصول کرنے کا طریق تھا۔ اسلام کے مقدس اور پیارے نام پر حاصل کیا ہوا روپیہ آتش ہوس کو بجھانے کے لیے صرف کیا جاتا ہے۔ یہ عسکری نظام خلیفہ صاحب کے سیاسی عزائم کی ہی عکاسی نہیں کرتا بلکہ ان کی نیت اور ناپاک ارادوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔ اس کا باقاعدہ ایک ہلالی پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔
”خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔“
(17 اپریل 1939ء الفضل)
یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ صاحب فرماتے ہیں۔
”میں نے انہی مقاصد کے لیے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں۔ نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ ٭ جس قدر احمدی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں خواہ وہ کسی حیثیت میں ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔“
(10 اپریل 1938ء الفضل)
اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔
(22 جولائی 1930ء الفضل)
انڈین یونین اور ہمارا مرکز
وہ اشاعت اسلام کی دعوے دار جماعت جس نے قادیان میں بھی احمدیہ کور کی بنیاد ڈالی۔ جس کا پندرہ سال سے چالیس سال تک کا ہر احمدی ممبر تھا۔ ٹری ٹوریل فورس (Trri Torial Force) میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت حاصل کرنا پھر 8/15 پنجاب رجمنٹ میں خالص احمدی کمپنی کا ہونا۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ خلیفہ صاحب کے عقل و قلوب میں بادشاہت کی آرزوئیں لہریں مار رہی تھیں۔ پھر تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں سرحد پر انہیں احمدیہ کمپنی کے ریلیز (Release) شدہ سپاہی منظم طور پر خلیفہ صاحب کے حکم کے مطابق پہنچ گئے۔ ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ میسر ہونے لگا۔ پھر فرقان فورس (Furqan Force) جو خالص احمدیوں کی فوج تھی۔ کشمیر میں کھڑی کر دی گئی اور خلیفہ صاحب نے از خود محاذ جنگ پر جا کر اس فوجی تنظیم کا جائزہ لیا اور سلامی لی۔ اس فوج کو استعمال کرنے کے لیے خلیفہ صاحب فرماتے ہیں ۔
”انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے تب بھی ضروری ہے۔ کہ آج ہی سے ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔“
(30 اپریل 1948ء الفضل)
تقسیم ہند کے بعد دوبارہ اکٹھی ہوئی فوجی تنظیم فرقان فورس کی شکل میں جمع ہوگئی۔ تو خلیفہ صاحب کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک مرکز ہونا چاہئے۔ جہاں اپنے نوجوانوں کو مزید فوجی تربیت دی جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی بے اعتدالیوں، عفونتوں، گندگیوں، ناپاکیوں اور برائیوں پر پردہ ڈالا جاسکے۔ خلیفہ صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا:
”یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہوسکتی ہے۔ ...... بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہہ سکیں ...... میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔“
(13 اگست 1948ء الفضل)
ڈائنامائٹ سے مخالفت کا قلعہ اڑا دو
یہ واقعہ اخبارات میں آچکا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے خلیفہ صاحب کی فوجی نظام کی تجویز بہت پرانی ہے۔ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش چلی آرہی ہے کہ ایک خاص علاقہ احمدیوں سے معمور ہو۔ تاکہ خلیفہ صاحب کا حکم آسانی سے چل سکے۔ تقسیم ہند سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے۔ اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں ہی فتح کر سکتے ہیں۔...... اس وقت ڈائنامائٹ رکھا جا چکا ہے۔ اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے ۔“ (12 مارچ 1931ء
الفضل)
اور پھر ارشاد فرماتے ہیں:
”مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبراً لوگوں کو اس کام پر لگا سکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لیے پکڑ لیں مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں ۔“ (12 جون 1922ء الفضل)
انہی مقاصد کے پیش نظر قادیاں اور ماحول قادیاں کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا۔
”ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع گورداسپور کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں۔ جہاں وہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو ...... احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو۔ اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے ۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں ہوا...... جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔“ (12 جون 1922ء الفضل)
چناب کے اس پار آہنی پردہ
یہ وہ سیاسی عزم ہے کہ جو خلیفہ صاحب کے عقل و قلب پر بری طرح مسلط ہے کیا دینی جماعتوں کو اشاعت اسلام کے لیے ایسے علاقے مطلوب ہیں جو کلیتاً ان کی ہی ملکیت ہوں اور وہاں اور کوئی نہ بستا ہو۔ کیا سید الکونین سردار دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے کسی ایسے صدر مقام کی تلاش کی تھی۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کا کام جاری رکھ سکیں۔ بس ان کی یہ دیرینہ آرزو ربوہ میں پوری ہوگئی۔ یہ وہ ریاست ہے جو اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ چناب کے کنارے پر قائم ہو چکی ہے۔ وہاں سوائے محمودیوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک ہی حصہ ہے جس میں ایک ہی فرقہ کے لوگ بستے ہیں۔ یہ وہ آہنی پردہ ہے جہاں ملک کا قانون بے بس اور درماندہ ہے۔ اگر وہاں دن دھاڑے قتل بھی کر دیا جائے تو پولیس قاتلوں کے سراغ لگانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔
مسلم لیگی ورکرز
چنانچہ ایک دو سال ہوئے کہ دو مسلمانوں کو سحری کے وقت پکڑ کر اتنا زدوکوب کیا گیا کہ ان میں سے ایک مشہور مسلم لیگی ورکرز مولوی غلام رسول صاحب لائلپور کا لڑکا جاں بحق ہوگیا۔ لیکن واقعہ یوں بتایا گیا کہ یہ لوگ مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔
ربوہ کی خانہ ساز پولیس
اسی طریقے سے نعمت اللہ خان ولد محمد عبداللہ خان صاحب جلد ساز کو جبکہ وہ اڑھائی بجے رات کی گاڑی سے اترا تو ربوہ کی خانہ ساز پولیس نے اتنا مارا کہ اس غریب بیچارے کی پنڈلیاں توڑ دی گئیں۔ اور تمام زندگی کے لیے ناکارہ کر دیا۔ اور بعد ازاں مقامی پولیس میں پرچہ چوری کا دے دیا۔
حبس بے جا
اس کے بعد چوہدری صدر الدین صاحب آف گجرات کے ساتھ ایک المناک واقعہ گزرا۔ چوہدری صاحب موصوف کی شہادت کے مطابق ان کو عبدالعزیز بھانبڑی بمع
اپنی خانہ ساز پولیس کے دفتر بہشتی مقبرہ میں لے گئے۔ وہاں ان کی چھاتی پر پستول رکھ کر بعض تحریریں لکھوائیں ۔ یہ کیس تادم تحریر پولیس جھنگ زیر تفتیش ہے۔
اللہ یار بلوچ
ان اندوہناک واقعات سے ملک اللہ یار بلوچ کا واقعہ کوئی کم المناک اور تکلیف دہ نہیں۔ جب کہ ملک صاحب موصوف کو اس شک و شبہ کی بناء پر پکڑ لیا گیا۔ کہ وہ خلیفہ صاحب ربوہ کے واضح اور غیر مبہم حکم کے مطابق سوشل بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مولوی عبد المنان صاحب عمر ایم۔ اے خلف حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے گھر اشیاء خوردنی پہنچاتا ہے۔ ان کو اس قدر زدوکوب کیا گیا کہ ابتدائی ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق پسلیاں ٹوٹی ہوئی ثابت ہوئیں۔ ان کا کیس بھی عدالت میں پیش ہے۔
ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ یار بلوچ کو دن دیہاڑے مارا گیا لیکن الفضل میں حلفیہ شہادتیں درج ہوئیں۔ کہ یہاں کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا۔ یہی وہ بات ہے جس کی طرف ملک کے اخبارات اور جرائد حکومت کو متواتر آگاہ کر رہے ہیں کہ ربوہ ایک ایسی بستی ہے اگر وہاں سورج کی روشنی میں کوئی آدمی قتل بھی کر دیا جائے تو شہادتیں میسر ہونی ناممکن ہیں۔ اس وجہ سے پریس ایک طرف سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یعنی اس میں دوسرے طبقے ایک عمرانی منصوبے کے تحت بسائے جائیں۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ صدا بہ صحرا ثابت ہو رہا ہے۔
ایک ولی اللہ کا چیلنج
جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو ۱۹۳۳ء بہاولپور عدالت میں فرمایا کہ اگر اس طرح نہیں مانتے تو عدالت میں کھڑے کھڑے دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔
(”نقش دوام“ ص ۲۹)
راست بازوں کی زباں میں ہے اثر تلواروں کا
قادیان سے چناب نگر تک
مولانا منظور احمد چنیوٹی
الحمدللہ والسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد!
قادیان ہندوستان میں مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کا ایک قصبہ ہے جو مرزا غلام احمد مدعی نبوت کی وجہ سے مشہور ہوا۔ اسی وجہ سے اس کے پیروکاروں کو قادیانی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ قادیان میں اکثریت ہمیشہ ان لوگوں کی رہی ہے جو اس کے پیروکار نہ تھے آج کل بھی یہ زیادہ سکھوں کی ہی ایک آبادی سمجھا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے قادیان کی بڑی تعریف کی ہے اور اسے اللہ کے رسول کی تخت گاہ قرار دیا اسے دارالامان قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ ”اب مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو چکا ہے۔ اب جو کچھ لینا ہے وہ قادیان سے ہی ملے گا“ قادیان کے سالانہ جلسہ کو ظلی حج قرار دیا۔ اس کی تمام پرانی کتابوں اور اخبارات میں قادیان کو ”دارالامان“ لکھا ہوا ہے۔
قادیانیوں کی غداری
۱۹۴۷ء میں ملک دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ پنجاب کی تقسیم کا فارمولا یہ تھا کہ جس ضلع میں اکیاون فیصد یا اس سے زیادہ مسلم آبادی ہوگی وہ پاکستان میں شامل ہوگا اور جس
میں غیر مسلم آبادی اکیاون فیصد یا اس سے زیادہ ہو گی وہ بھارت میں شامل ہوگا۔ گورداسپور کا ضلع مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور یہ ابتداء میں پاکستان کے نقشے میں شامل تھا مگر قادیانی مردم شماری میں اپنے علیحدہ تشخص پر مصر تھے اور اپنے آپ کو احمدی لکھوانا چاہتے تھے۔ چنانچہ ریڈ کلف کمیشن نے کہا کہ ہمارے پاس دو خانے ہیں، مسلم اور غیر مسلم۔ احمدی کے لئے کوئی تیسرا خانہ نہیں ہے، آپ کا شمار ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہو سکتا ہے مگر قادیانیوں نے اس وقت اپنا شمار مسلمانوں میں نہ کرایا۔ انگریزی حکومت کے سامنے سازش سے ضلع گورداسپور کی مسلم آبادی اکیاون فیصد سے کم ظاہر کی گئی اور ضلع گورداسپور ہندوستان میں چلا گیا۔ اگر گورداسپور کا ضلع پاکستان میں شامل ہوتا جس طرح پاکستان کے پہلے مجوزہ نقشہ میں تھا تو آج کشمیر کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا کیونکہ سری نگر اور جموں کو راستہ پٹھان کوٹ ضلع گورداسپور سے جاتا ہے جو اب بھارت کے زیر تسلط ہے۔ کشمیر میں گزشتہ پچاس سالوں سے جتنی قتل و غارت گری، معصوم بیٹیوں، بہوؤں کی عصمت دری ہو رہی ہے، معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے، سہاگ اجڑ رہے ہیں، بچے یتیم ہو رہے ہیں، بوڑھوں کے سہارے چھینے جا رہے ہیں، ہزاروں بلکہ لاکھوں قیمتی جانیں آزادی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، اس کی تمام ذمہ داری اسی قادیانی جماعت پر ہے۔
جھوٹے پر خدا کی پھٹکار
جب گورداسپور کا ضلع ان کے غیر مسلم ہونے کے باعث ہندوستان میں شامل ہو گیا اور پنجاب میں ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کیا اور مسلمان وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ تاہم قادیانیوں کو انہوں نے کچھ نہ کہا اور وہ بالکل محفوظ تھے لیکن انگریزی سیاست کا یہ تقاضا تھا کہ قادیانیوں کو پاکستان بھیج کر مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا کئے جائیں۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ان سفید فام آقاؤں کی اسی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی جماعت کو پاکستان جانے کا حکم دیا، حالانکہ سکھوں نے ان پر کوئی حملہ کیا تھا اور نہ ہی وہاں سے نکلنے پر انہیں مجبور کیا تھا۔ مگر یہ خود ترک وطن پر آمادہ ہوئے اور قادیان سے بھاگ کر لاہور آکر پناہ لی۔ قادیان جسے یہ ”دارالامان“ کہتے تھے، اسے انہوں نے اپنے لیے ”دارالہلاک“ اور
”دارالفساد“ ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے قادیانی دجال کو جھوٹا کر کے اس کو اور اس کی پوری جماعت کو ذلیل کر دیا۔ اگر خود اللہ تعالیٰ نے قادیان کو مکہ مکرمہ کی طرح دارالامان بنایا ہوتا تو یہ وہیں رہتے، کم از کم مرزا قادیانی کا تمام خاندان تو وہیں رہتا۔ ان کو تو وہاں امن حاصل تھا، دوسرے قادیانیوں کی طرح مرزا قادیانی کا تمام خاندان اس کی بیوی نصرت جہاں بیگم، تینوں بیٹے مرزا بشیر الدین محمود، مرزا بشیر احمد، مرزا شریف احمد، مرزا کی بیٹیاں مع اپنے پورے کنبے کے قادیان سے بھاگ کر لاہور آئے اور بہت شور کیا کہ قادیان اب ”دارالامان“ نہیں رہا۔ حاصل یہ کہ ان کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوا اور جھوٹ کی لعنت کا طوق ان کے گلے میں پڑا اور ان کے لئے قادیان دارالامان کی بجائے دارالفرار بن گیا۔
مرزا قادیانی کا ایک اور عجیب الہام
مرزا صاحب کا الہام ہے:
(تذکرہ) ص ۱۸۱
(ترجمہ) قادیان سے یزیدی لوگ نکالے جائیں گے۔
مرزا کے جانشین اول حکیم نور دین کی ۱۹۱۴ء میں وفات ہوئی، اس کی جانشینی کے مسئلہ پر اختلاف پیدا ہوا تو ایک طرف مرزا کا بڑا بیٹا بشیر الدین محمود امیدوار تھا اور دوسری طرف مولوی محمد علی لاہوری تھا۔ مرزا محمود غالب اکثریت سے کامیاب ہو گیا اس لئے کہ اس کی والدہ نصرت جہاں بیگم کا ووٹ بھی اپنے بیٹے کے حق میں تھا اور مرزا قادیانی کا خاندان بھی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو اس جماعت کی سربراہی ہمیشہ اس خاندان میں رہے۔ مرزا بشیر الدین جانشین مقرر ہو گیا۔ مولوی محمد علی لاہوری اور اس کے ساتھیوں نے مرزا محمود کی بیعت نہ کی، اس کی جماعت کو قادیانی حضرات ”غیر مبایعین“ کہتے تھے۔ ۱۹۲۰ء تک چھ سال وہیں قادیان میں رہ کر کام کرتے رہے۔ جب محمد علی نے سمجھا کہ اب ہماری یہاں دال نہیں گلتی، مرزا محمود اچھی طرح جماعت پر قابو پا چکا ہے تو یہ قادیان چھوڑ آئے اور لاہور میں ”انجمن اشاعت اسلام احمدیہ“ کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کر لی اور اس کا پہلا امیر خود
مقرر ہو گیا۔ جب دو دکانیں کھل گئیں تو اپنی دکانوں کو چمکانے اور کامیاب کرنے کے لئے دونوں میں اختلافات کا سلسلہ چل نکلا وگرنہ ۱۹۲۰ء تک تو دونوں ایک ہی تھے اور باہمی عقائد کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور سب وشتم کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا۔ ۱۹۳۵ء میں مرزا محمود نے محمد علی لاہوری کے الزامات و اعتراضات کے جواب میں ”آئینہ صداقت“ نامی ایک کتاب لکھی اور دیگر باتوں کے علاوہ مرزا محمود نے اپنی اس کتاب کے صفحہ ۲۰۲ پر محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی کو مرزا غلام احمد کے الہام ”اخرج منه الیزیدیون“ کا مصداق ٹھہرایا کہ محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی حضرت کے اس الہام کے مطابق یزیدی ہیں کیونکہ یہ خاندان رسالت کے خلاف ہیں۔
خدائی قدرت کا ظہور
خدا تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا ظہور اس وقت ہوا جب ۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہوا اور ضلع گورداسپور ہندوستان میں چلا گیا اور مرزا بشیر الدین محمود اور اس کے پیروکاروں کو بھی قادیان چھوڑنا پڑا اور وہ بھی اسی شہر لاہور میں آکر پناہ گزین ہوئے جہاں ان کے پہلے یزیدی رہتے تھے تو محمد علی لاہوری نے مرزا صاحب کا یہی الہام شائع کیا اور کہا کہ حضرت صاحب کے اس الہام کا اصل مصداق، مرزا محمود اور اس کی پارٹی ہے کیونکہ یہ نکالے گئے ہیں، ہم تو خود اپنی مرضی سے نکلے تھے اور الہام کے الفاظ میں ”اخرج“ ہے جس کا معنی ہے ”نکالے جائیں گے“ ہم تو سرے سے اس الہام کو ہی نہیں مانتے۔ یہ شیطانی آواز مرزا نے کیسے سن لی اور اسے مرزائی الہام کہہ دیا۔ (استغفر اللہ) خیر یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے کہ مرزا کے الہام کے مطابق محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی اصلی یزیدی ہیں یا مرزا محمود اور اس کی پارٹی، وہ گھر بیٹھ کر اس کا فیصلہ کرلیں۔ ہمارے نزدیک تو دونوں یزیدیوں سے بھی بدتر ہیں۔
مستقل نئے شہر کی خطرناک سازش
تقسیم ہند کے بعد مختلف مکتبہ ہائے فکر سے متعلق مسلمانوں نے ہجرت کی۔ جو لوگ پاکستان پہنچے ان میں سے کسی نے یہ نہ سوچا کہ اپنا علیحدہ شہر بسائیں، مختلف شہروں میں
جہاں کسی کو جگہ ملی، مقیم ہو گئے۔
مرزا بشیر الدین اپنی روایتی شاطرانہ اور عیارانہ فطرت کی بناء پر جب قادیان ”دارالامان“ سے بھاگ کر لاہور آئے تو ایک خاص منصوبہ کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ کہیں کوئی جگہ تلاش کریں اور اپنا علیحدہ مستقل شہر بسائیں جس میں سوائے قادیانیوں کے اور کوئی باشندہ نہ ہو اور قادیانیوں کی ملک ہو۔ دراصل اس کا منصوبہ یہ تھا کہ اپنا علیحدہ شہر بنا کر عیسائیوں کی طرح ”ویٹی کن سٹی“ کی طرح امریکہ وغیرہ سے اپنا علیحدہ شہر منظور کرا کر اپنی چھوٹی سی علیحدہ حکومت قائم کر لیں گے جس میں تمام نظام ان کا اپنا ہو گا۔ یہ حکومت کے اندر ایک ”منی حکومت“ کا خطرناک منصوبہ تھا۔
جگہ کی تلاش
چنانچہ اس منصوبہ کے تحت مرزا بشیر الدین نے تین اضلاع سیالکوٹ، شیخو پورہ اور جھنگ کا انتخاب کیا اور ایک سروے ٹیم مقرر کی کہ ان اضلاع میں مناسب جگہ تلاش کرے جہاں پر وہ اپنے منصوبہ کے تحت نئے شہر کی بنیادیں رکھ سکیں۔ مرزا بشیر الدین کی ان تین ضلعوں کے انتخاب کی وجوہ درج ذیل تھیں:
ضلع سیالکوٹ
اس لئے کہ پنجاب میں بلکہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ قادیانی اس ضلع میں ہیں اور سر ظفر اللہ قادیانی (پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ اگر اس کے قرب وجوار میں ہم اپنا شہر بسائیں گے تو ہمیں وہاں سے سپورٹ اچھی ملے گی اور وہ بوقت ضرورت ہمارے کام آئے گا۔ نیز بارڈر نزدیک ہونے کی وجہ سے تخریبی سرگرمیوں میں آسانی ہوگی۔
ضلع شیخو پورہ
اس کا انتخاب اس نظریہ سے تھا کہ شیخو پورہ میں ننکانہ صاحب سکھ سٹیٹ ہے۔ اگر سکھ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھارت چلے گئے تو ان کی جگہ ہم اپنی ریاست قائم کر لیں گے۔
ضلع جھنگ
اس لئے کہ وہ انتہائی پسماندہ اور جہالت کا ضلع ہے۔ اس میں ان پڑھ لوگ زیادہ ہیں ان کو ہم آسانی سے اپنا شکار بنالیں گے۔
سروے ٹیم نے تینوں اضلاع کا سروے کیا۔ انہیں چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے گورنمنٹ کی خالی پڑی ہوئی جگہ سب سے زیادہ پسند آئی کیونکہ دفاعی اعتبار سے بھی یہ جگہ ان کے لئے انتہائی موزوں تھی۔ مرزا محمود نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ اس وقت گورنر پنجاب ایک انگریز سر فرانسس موڈی تھا‘ اس انگریز گورنر نے (۱۰۳۴) ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین کا وسیع قطعہ برائے نام قیمت دس روپے ایکڑ کے حساب سے انہیں فروخت کر دیا۔ ۱؎
نئی بستی کی بنیاد اور اس کا نام
اس رقبہ پر ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء میں نئے قصبہ کی بنیاد رکھی گئی اور قادیان میں مرزا قادیانی کی ”مسجد مبارک“ جو وہاں سکھوں ہندوؤں کے لئے چھوڑ آئے تھے‘ اس نام سے موسوم مسجد کی بنیاد رکھی۔ اب اس نئی بستی کا نام زیر غور آیا۔ مختلف لوگوں نے مختلف نام تجویز کئے۔ کسی نے ”دارالہجرت“ کسی نے ”محمود آباد“ کسی نے ناصر آباد کی تجویز دی۔ مولوی جلال الدین شمس نے تجویز دی کہ اس کا نام ”ربوہ“ رکھیں کیونکہ ”ربوہ“ کا لفظ پارہ نمبر ۱۸ سورہ مومنون آیت نمبر ۵۰ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کی ہجرت کے ضمن میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو جب وہ ہجرت کر کے آئے تو انہیں ایک اونچی جگہ (ربوہ) میں جو قرار والی اور چشموں والی تھی‘ پناہ دی۔“ ”ربوہ“ کسی جگہ کا نام نہ تھا‘ یہ اس جگہ کی حقیقت تھی کہ وہ اونچی تھی۔ مفسرین کرام نے ”ربوہ“ سے مراد فلسطین لیا ہے کہ وہ اونچی جگہ پر واقع ہے۔
۱؎ تاریخ ربوہ ص ۳۲ مؤلفہ خادم حسین قادیانی۔
مولوی جلال الدین شمس نے کہا ۱؎ کہ ہم بھی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی امت ہیں اور ہجرت کر کے آئے ہیں تو اس شہر کا نام ”ربوہ“ رکھیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں آیا ہے۔ ”ربوہ“ نام کا شہر دنیا میں کہیں موجود نہیں، جب اس شہر کا نام دنیا میں مشہور ہو جائے گا تو آئندہ چل کر ہر قرآن پڑھنے والا شخص یہی سمجھے گا کہ قرآن کریم میں جو ”ربوہ“ کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد یہی ”ربوہ“ شہر ہے جو پاکستان میں موجود ہے اور یہی مسیح موعود کا مقدس شہر سمجھا جائے گا اور اس میں مرزا کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہو جائے گی کہ قرآن میں تین شہروں کا نام بڑے اعزاز سے ذکر کیا گیا ہے: ”مکہ، مدینہ اور قادیان“ کیونکہ ”ربوہ“ دوسرے لفظوں میں ایک نیا قادیان ہی تو ہوگا۔ اس گہری سازش کے ساتھ قرآن کریم میں یہ ایک خطرناک قسم کی تحریف کی گئی کہ لفظ تو یہی رہے لیکن اس کا محل اور مصداق بدل جائے۔ اسے کہا جاتا ہے: كَلِمَةُ حَقٍّ اُرِيْدَ بِهَا الْبَاطِلُ کہ ”کلمہ حق سے باطل کا ارادہ کرنا“ ورنہ یہ نام رکھنے کا کیا مطلب تھا؟ ”ربوہ“ اردو میں ”ٹیلہ“ اور پنجابی میں ”ٹبہ“ کو کہتے ہیں۔ آج کل نیا نام کسی عظیم شخصیت پر رکھا جاتا ہے جیسا ”لائل پور“ انگریز کے نام پر تھا، اس کا نام بدل کر ”فیصل آباد“ شاہ فیصل شہید کے نام پر رکھا گیا یا جیسے پاکستان میں دیگر نئے شہر آباد کئے گئے۔ مثلاً فاروق آباد، قائد آباد، جوہر آباد، لیاقت آباد وغیرہ۔ اگر قادیانیوں کی یہ تحریف قرآن کی مذموم اور خبیث غرض نہ ہوتی تو وہ اس کا نام مرزا محمود کے نام پر ”محمود آباد“ یا اس کے بیٹے ناصر کے نام پر ”ناصر آباد“ یا مرزا طاہر کے نام پر ”طاہر آباد“ رکھتے۔ آخر یہ نام رکھنے میں اس سازش کے علاوہ اور کونسی غرض تھی۔
ایک لطیفہ
آغا شورش کشمیری مرحوم سنایا کرتے تھے۔ ۱۹۷۳ء میں پاکستان کے دریاؤں میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا، پنجاب کے بہت سے شہر متاثر ہوئے، ایک قادیانی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آغا صاحب! اب تو ہمارے حضرت پر ایمان لائیں“ میں نے کہا ”کون سے آپ کے حضرت؟“ کہا ”حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی پر“ میں نے کہا
۱؎ تاریخ ربوہ ص ۲۷۔
”کروڑ کروڑ لعنت انگریز کے اس آلہ کار جھوٹے دجال پر“ قادیانی کہنے لگا ”دیکھیں جی کتنا بڑا سیلاب آیا ہے دریائے چناب کے کنارے چنیوٹ تباہ ہو گیا اور ”ربوہ“ بچ گیا‘ اس میں سیلاب نہیں آیا۔“ آغا صاحب نے کہا کہ ”ادھر دریا راوی میں بھی بڑا سیلاب آیا لیکن لاہور کا ”ٹبی“ محلہ بچ گیا۔ وہاں سیلاب نہیں آیا‘ ادھر آپ کے ٹبہ ”ربوہ“ پر سیلاب کا پانی نہیں آیا‘ وہ بچ گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ٹبی اور ٹبہ والے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔“ معلوم رہے کہ ٹبی ایک خاص محلہ ہے جسے آپ لاہور والوں سے ہی پوچھ سکتے ہیں۔ ہمیں تو اس کی صراحت کرتے شرم آتی ہے ) آغا صاحب کا یہ جواب سن کر وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ دریائے چناب کا مغربی کنارہ جہاں ”ربوہ“ آباد ہے‘ وہ اونچا ہے۔ ایک طرف پہاڑی سلسلہ ہے‘ وہاں اکثر سیلاب کا پانی نہیں آتا اس لئے اس میں کوئی کرامت کی بات نہ تھی۔
ربوہ نام رکھنے میں ایک دوسری مخفی حکمت
مرزا قادیانی نے اپنی مشہور کتاب ”ازالہ اوہام“ صفحہ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۱۲۱‘ ۱۲۲ پر لکھا ہے کہ:
” قرآن کریم نے تینوں شہروں کا نام بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ ذکر کیا ہے : مکہ‘ مدینہ اور قادیان“۔
اب مکہ اور مدینہ کے نام تو قرآن کریم میں موجود ہیں لیکن قادیان کا نام قرآن کریم میں کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ قرآن کریم پر مرزا قادیانی کا یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کا رہتی دنیا تک کوئی جواب نہیں ہے اور نہ کوئی اس کا جواب دے سکے گا۔
علماء کرام قادیانیوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں قرآن کریم سے ”قادیان“ کا لفظ دکھاؤ یا تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قرآن پر جھوٹ بول کر لعنت کا مستحق ہوا ہے اور وہ اپنے ان تمام فتاویٰ کا مستحق ٹھہرے گا جو اس نے جھوٹ بولنے والوں پر لگائے ہیں۔ یعنی
- ☆ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ جلد ۳ ص ۵۶)
- ☆ جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک جیسا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ۲۰۶)
- ☆ وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔
(شحنہ حق جلد ۲ ص ۳۸۶)
لیکن افسوس کہ مرزا قادیانی کو قرآن دیگر آسمانی کتابوں انبیاء کرام و اولیاء پر اور خود خدا پر جھوٹ بولتے ذرا شرم نہ آئی۔ (اس کے ایسے جھوٹوں کے بے شمار حوالے موجود ہیں) اب قادیانی مرزا کے اس جھوٹ یعنی ”قرآن پاک میں تین شہروں کا بڑے اعزاز و اکرام سے ذکر ہے‘ سے بڑے لاچار اور پریشان تھے کیونکہ قرآن پاک میں کہیں قادیان کا نام نہیں ہے‘ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ اب قادیان کا متبادل جو شہر آباد کیا جا رہا ہے تو اس کا نام ایسا رکھا جائے جو قرآن میں موجود ہو تاکہ وہ تاویل کر سکیں کہ دراصل مرزا صاحب کا مقصد یہ تھا کہ قادیان کے بدلے جو شہر آباد ہو گا اس کا نام قرآن مجید میں موجود ہے اور وہ ”ربوہ“ ہے جس کا ذکر بڑے اعزاز و اکرام سے قرآن کریم میں ہے لہٰذا ”ربوہ“ کا قرآنی نام رکھ کر اس جھوٹ پر ملمع کاری کرنا بھی مقصود تھا۔
رقت انگیز جواب
مولانا محمد انوری نے لکھا ۱۳۴۳ھ بہاولپور جامع مسجد میں حضرت مولانا انور شاہ نے تقریر فرمائی۔ حضرات میں نے ڈابھیل جانے کے لیے سامان سفر باندھ لیا تھا کہ یکا یک مولانا غلام محمد شیخ الجامعہ کا خط دیوبند موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لیے بہاولپور آئیے۔ چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل کا سفر ملتوی کر دیا اور بہاولپور کا سفر کیا۔ یہ خیال کیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی شاید یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار ہو کر بہاولپور میں آیا تھا۔ بس اس فرمانے پر تمام مسجد میں چیخ و پکار پڑ گئی۔ لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ خود حضرت پر بھی ایک عجیب کیفیت وجد طاری تھی۔ ایک مولوی (عبدالحنان ہزاروی) نے اختتام وعظ پر فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب کی شان ایسی ہے اور آپ ایسے بزرگ ہیں۔ وغیرہ۔ حضرت فوراً کھڑے ہوئے اور فرمایا حضرات ان صاحب نے غلط کہا ہے۔ ہم ایسے نہیں بلکہ ہم سے تو گلی کا کتا بھی اچھا ہے۔ ہم اس سے گئے گزرے ہیں۔ وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک خوب ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی کا ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبر کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر۔
(”کمالات انوری“)
بٹھایا کفر کو لا کر نبی کے ہم نشینوں میں
کیا ربوہ کے قصر خلافت میں ایٹمی پلانٹ تعمیر ہو رہا ہے
ایک اخبار نویس کی روداد۔۔۔ جو قادیانیوں کے ہتھے چڑھ گیا
تحریر: راشد چودھری
قادیانی فرقے کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی دل کے دورے کی وجہ سے موت اور پھر مسئلہ جانشینی پر آنجہانی کے بھائیوں میں سنگین اختلافات کی خبریں سن کر ہماری اخبار نویسوں کی مخصوص حس تجسس ہمیں بے چین کرنے لگی اور جب یہ ناقابل برداشت محسوس ہونے لگی تو ہم نے ربوہ جا کر خود حالات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ۲۴ جون کو صبح نو بجے کے قریب جب بس کے اڈے کے قریب واقع گول بازار میں داخل ہوا تو وہاں مسند نشینی کے بعد مرزا طاہر احمد کی پہلی تقریر کے ٹیپس کی آوازیں سنیں، تقریر کی آوازیں متعدد دکانوں سے اٹھ رہی تھیں اور بظاہر ایسے لگتا تھا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ پروگرام کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ آوازیں مناسب فاصلوں سے اٹھ رہی تھیں۔ ایک دکان کا مالک تنہا بیٹھا مدھم آواز میں کسی شخص کی ٹیپ سن رہا تھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ آنجہانی مرزا ناصر کی تقریر سن رہا ہے۔
مسلسل دو گھنٹے تک میں نے ربوہ میں گھوم پھر کر لوگوں کی آراء معلوم کیں جن سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اگرچہ اس شہر میں مرزا رفیع احمد کے حامیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے مگر مرزا طاہر اور ان کے حامیوں کو حالات پر کنٹرول حاصل ہے۔ جب مرزا رفیع کے ایک حامی سے اس کی توجیہہ طلب کی گئی تو اس نے کہا کہ ابھی لوگ مرزا ناصر احمد کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔ اس لیے اصل صورت حال چند روز تک کھل کر سامنے آئے گی۔
ایک مخلص قادیانی نوجوان سے پوچھا کہ آیا وہ مرزا رفیع احمد کو پسند کرتا ہے تو اس نے جواب دیا ’کیوں نہیں، وہ بہت نیک آدمی ہیں ۔ ” تو پھر آپ نے مرزا طاہر احمد کی بیعت کیوں کی ؟“ میں نے دریافت کیا۔ جس پر اس نے کہا:
”در اصل جماعت کی انتظامیہ بہت بد عنوان ہو چکی ہے ۔ مرزا رفیع احمد بہت دیانتدار اور بااصول ہیں اگر وہ خلیفہ بن جاتے تو انہوں نے تمام بیورو کریسی کی چھٹی کروا دینی تھی۔ جس سے پارٹی میں زبردست انتشار پیدا ہوتا۔ لہٰذا میرے خیال میں مرزا طاہر احمد کا انتخاب زیادہ موزوں ہے ۔ “
جانشینی کے بارے میں مرزا طاہر احمد کے حامیوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ خلفاء خدا بناتا ہے اور اگر انتخاب کا طریق غلط بھی ہو تو بھی مرزا طاہر احمد خدا تعالیٰ کے منتخب کردہ ہیں۔ جب میں نے اس سلسلے میں مرزا رفیع احمد کے ایک حامی سے رائے پوچھی تو اس نے جواب دیا:
”اگر خلیفہ خدا بناتا ہے تو پھر انتخابات کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ وہ شخص جو جماعت کی مشینری میں سب سے زیادہ مضبوط ہو‘ خود ہی اپنی خلافت کا اعلان کر دیا کرے ۔ “
بہر حال مرزا رفیع احمد کے حامیوں کو شکایت ہے کہ بیعت کر لینے کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ایک ستر سال سے زیادہ عمر کے قادیانی نے بتایا کہ وہ آنجہانی مرزا ناصر احمد کے آخری دیدار کے لیے گیا تو اسے یہ کہہ کر میت کے قریب جانے سے روک دیا گیا کہ بھابھی نے حکم دیا ہے کہ مرزا رفیع سے تعلقات رکھنے والوں کو جنازے کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے ۔
بیرون ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان جو مرزا رفیع احمد کے واک آؤٹ اور پھر دونوں بھائیوں کے حامیوں کے درمیان ناخوشگوار صورت حال اور مرزا رفیع احمد پر دست درازی سے پریشان تھے۔ انہوں نے مرزا طاہر احمد کی بیعت کر لی تھی اور ان کے نزدیک یہ انتخاب حالات کی مناسبت سے ٹھیک ہوا تھا۔ مگر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے وقت وہ بار بار اپنے لیے خلافت سے وابستگی کی دعا مانگ رہے تھے۔ جب وہ مجھ سے علیحدہ ہونے لگے تو انہوں نے بتایا کہ وہ آج کوئٹہ واپس جا رہے ہیں اور پھر بڑی لجاجت کے ساتھ کہا۔
”آپ بہت شریف انسان معلوم ہوتے ہیں‘ میرے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے خلافت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے“۔
شرافت‘ خلافت دعا میرے لیے یہ سب اجنبی سے لفظ تھے۔ میں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر بات چیت کے لیے کسی اور شخص کو تلاش کرنے لگا۔
مرزا طاہر احمد کے حامیوں کی یہ بات درست ہے کہ ان کے فرقے میں ”منافقین“ صورت حال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ تاہم ذاتی طور پر میں ”منافقت“ اور مصلحت میں تمیز نہیں کر سکا۔ مثال کے طور پر ایک شخص جو قادیانی تنظیم کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکا ہے اور ان دنوں زیر عتاب ہے‘ وہ درجن کے قریب اہل خانہ کا کفیل ہے‘ اس شخص نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
”آپ کی یہ رائے درست ہے کہ مرزا طاہر احمد بہت ذہین و فطین انسان ہیں مگر دنیا میں فقط ذہانت ہی کام نہیں آتی۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کتنے عظیم انسان اور خود کو کتنے بلند مقام و مرتبہ پر خیال کرتے تھے۔ مگر قدرت نے صرف ایک جھٹکے سے ان کے تمام منصوبے ختم کر دیے۔ میں نے مرزا طاہر کی بیعت کی ہے اور یہ جانتے ہوئے کی ہے کہ وہ ”بہت کچرا آدمی ہے۔“
میں نے متعدد لوگوں سے مرزا رفیع کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ مگر اس سلسلے میں مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا ان سے ملاقات ممکن ہے؟ تو اس پر منفی جواب ملا۔ بلکہ ایک دو افراد نے تو یہاں تک کہا کہ اسی (۸۰) کنال کے رقبے پر مشتمل اس ”Walled City“ میں جانا میرے لیے کسی مصیبت کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے مگر چونکہ ان کے بارے میں متضاد خبریں تھیں‘ لہٰذا میں نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر حالات کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔
اس مقصد کے لیے میں نے گول بازار کے ایک دکاندار سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ مرزا رفیع احمد کے گھر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اگر میں چاہوں تو وہاں جا کر خود حالات کا مشاہدہ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے کہیں سے سائیکل فراہم کر دے تو شدید دھوپ میں پیدل چلنے سے بچ جاؤں گا۔ جس پر اس
نے ایک نوجوان سے کہا کہ ایک تانگہ لا دو۔ تھوڑی دیر میں تانگے پر بیٹھ کر مرزا رفیع کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ تانگے والے کو میں نے ہدایت کی کہ وہ غیر مانوس راستے سے جائے۔ دوسری سواری نہ بٹھائے اور بلاوجہ راستے میں نہ رکے۔ تھوڑی دیر میں، میں ایک بہت بڑے گیٹ کے دروازے پر کھڑا تھا۔ سڑک پر موجود یہ واحد گیٹ مرزا ناصر احمد کے خاندان کی کوٹھیوں میں لے جاتا تھا۔ کسی زمانے میں عام شہروں کی طرح ان کوٹھیوں کے درمیان گلیاں اور سڑکیں تھیں۔ اور ان گھروں تک پہنچنے کے لیے متعدد راستے تھے مگر کچھ عرصہ قبل تمام راستے بند کر دیے گئے۔ میری معلومات کے مطابق چند برس قبل جب یہ کام ہوا تو ٹاؤن کمیٹی والوں نے اس بنیاد پر ان راستوں کو بند کرنے کے لیے نو تعمیر دیواریں گرا دیں کہ اس طرح ان کوٹھیوں میں آنے جانے والوں کو دقت کا سامنا کرنا پڑے گا مگر تازہ ترین صورت حال کے مطابق مجھے ایک ایسے گیٹ میں سے گزر کر جانا پڑا۔ جسے کسی وقت بھی بند کر کے کوٹھیوں کے اندر جانے کا راستہ بند کیا جا سکتا تھا۔
جب میں گیٹ کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ خلاف توقع وہاں کوئی پہرہ نہیں تھا۔ لہٰذا میں آگے بڑھتا گیا اور اس چھوٹی سی سڑک پر پہنچ گیا، جہاں مرزا رفیع کی رہائش گاہ ہے۔ اس سڑک پر چڑھتے ہی میں نے ایک درخت کے نیچے دو نوجوانوں کو کھڑے ہوئے دیکھا جو واضح طور پر قادیانی نوجوانوں کی تنظیم ”خدام الاحمدیہ“ سے تعلق رکھتے تھے اور جو فاصلے پر کھڑے ہو کر مرزا رفیع کے گھر کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی میرے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید یہ لوگ تعرض کریں۔ مگر کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر ہی میں مرزا رفیع کی کوٹھی کے گیٹ پر پہنچ گیا۔ گیٹ کھلا ہوا تھا اور سامنے ایک کار کے پاس بیٹھا بچہ کھیل رہا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا:
آپ کے ابو کہاں ہیں؟
مجھے نہیں پتہ۔
بیٹا! اپنے ابو کو میرے آنے کی اطلاع تو کر دو۔
”آپ اندر چلے جائیں۔“
”آپ اندر جا کر میری آمد کا بتائیں۔ اگر وہ اجازت دیں گے تو پھر ہی میں اندر جا سکتا ہوں۔“
میں نے کہا ہے ناکہ آپ اندر چلے جائیں۔
سامنے ایک جالی دار دروازہ تھا۔ میں اسے کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ پاس ہی ایک کمرے میں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چند لمحے توقف کے بعد میں اس کمرے میں داخل ہو گیا۔ دروازے کے عین سامنے بیڈ پر ایک نوجوان لیٹا ہوا تھا۔ دو شخص کرسیوں پر تھے اور دو فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھے تھے۔ مگر یہ چاروں افراد تیزی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ کمرہ چھوٹا سا تھا۔ لہٰذا مجھے دروازے کے قریب ہی کھڑا ہونا پڑا‘ اتنی دیر میں ایک نوجوان شمیم قدسی پانی کا ایک جگ اور گلاس لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے مجھے بیٹھ جانے کے لیے کہا۔ میں دری پر بیٹھ گیا۔ میرے پاس ایک شخص تیزی سے کچھ لکھ رہا تھا۔ غالباً وہ کسی اخبار کے لیے خبر یا مضمون تھا۔ اس نے تحریر کو میری نظروں سے بچانے کے لیے دیوار سے ٹیک لگائی اور فاصلہ بڑھا دیا۔ شمیم قدسی وقفے وقفے سے کمرے میں آتا رہا اور میں ہر بار اس سے مرزا رفیع احمد کے بارے میں دریافت کرتا رہا مگر ہر بار اس کا ایک ہی جواب تھا۔ ابھی بیٹھے رہیں۔ جب کچھ دیر گزر گئی تو میں نے ایک بار پھر شمیم قدسی کو مخاطب کیا اور اسے کہا کہ مجھے میاں صاحب سے ملنا ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ ”ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی“۔ اور وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے باہر نکلتے ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے میرا تعارف حاصل کرنا چاہا۔ میں نے اپنا نام وغیرہ بتا دیا۔ جس پر ان میں سے ایک شخص نے بیڈ پر لیٹے ہوئے لڑکے سے کہا۔
صمد ! انہیں لے جائیں اور اس نے فوراً اٹھتے ہوئے مجھ سے کہا کہ فوری طور پر یہاں سے نکل جائیں اور پھر ایک جست کے ساتھ میرے قریب پہنچ گیا اور پھر بڑی درشتی سے کہا:
”آپ میرے والد کا انٹرویو لینا چاہتے ہیں؟“
”نہیں‘ صرف ملاقات کا خواہش مند ہوں“ میں نے جواب دیا۔
آپ یہاں فتنہ اور انتشار برپا کرنے کے لیے آئے ہیں۔ فوری طور پر چلے جائیں۔
ابھی میں اس کمرے سے نکلا ہی تھا کہ انتہائی ڈرامائی طور پر سامنے والے کمرے سے مرزا رفیع احمد کا دوسرا صاحبزادہ نمودار ہوا۔ وہ بڑے غصے میں تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:
”یہ لوگ ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اندر فتنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔“
اب میں مرزا رفیع کے دونوں لڑکوں میں گھرا ہوا گیٹ کی طرف جا رہا تھا۔ گیٹ پر پہنچنے کے بعد میں حیران رہ گیا کیونکہ اندر آتے ہوئے جن دو نوجوانوں کو میں نے کوٹھی سے کچھ فاصلے پر درخت کے نیچے دیکھا تھا، اب گیٹ کے عین سامنے کھڑے تھے۔ مزید برآں اب یہ دو نہیں تھے، بلکہ ان میں ایک اور پہلوانوں جیسی شخصیت کا اضافہ ہو چکا تھا۔ مجھے گیٹ سے نکالنے کے بعد مرزا طیب احمد نے ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا "اسے لے جائیے"۔
وہ لوگ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھے اور مجھے اس طرح اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا جیسے کوئی انتہائی خطرناک قسم کا مجرم پاکستانی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ یہ لوگ انتہائی نازیبا اور دھمکی آمیز زبان استعمال کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز نوائے وقت میں شائع ہونے والی خبر میں نے فراہم کی ہے اور آج مجھے اس جرم کی سنگین سزا بھگتنی ہوگی۔ جس پر میں نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ آپ کے بارے میں اخبارات میں یہ جو خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ان کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ خبریں اخبارات کے مقامی نمائندے بھجواتے ہیں۔ مگر وہ ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ اپنے گرد ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کسی کے انتظار میں ہوں۔ اتنی دیر میں مرزا طاہر اور ان کے خاندان کا ایک شخص نمودار ہوا اور ان لوگوں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا: "یہ شخص مرزا رفیع سے ملنا چاہتا ہے"۔
"اسے مرزا غلام احمد کے پاس پہنچا دو" اس شخص نے یہ جواب دیا۔
پہلوان نما آدمی غالباً گیٹ کے پاس ہی بیٹھ گیا اور دوسرے دو نوجوانوں نے قریباً گھسیٹتے ہوئے مجھے قصر خلافت کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ گھسیٹنے کے لفظ سے قارئین یہ خیال نہ کریں کہ شاید میں ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بلکہ بات یہ تھی کہ دونوں نوجوان بڑے جذباتی انداز میں چلتے ہوئے میرے بازوؤں کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے میرے لیے توازن برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ بالآخر وہ مجھے قصر خلافت میں لے گئے۔ یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ قصر خلافت محض ایک عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمپلیکس ہے، جس میں متعدد عمارتیں اور دفاتر موجود ہیں۔ میرے گرفتار کنندگان مجھے ایک عمارت کے انٹرنس پر لے گئے اور بدستور مجرموں کی طرح
اپنی گرفت میں لیے ہوئے وہاں کھڑے ہو گئے۔ پیچھے سے دو نوجوان آگے بڑھے۔ ان سے یہ کہا گیا کہ وہ اندر جا کر بتائیں کہ ایک اخبار نویس مرزا رفیع کا انٹرویو لینے کے لیے آیا تھا۔ ہم اسے پکڑ کر لائے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ایک نوجوان میرا مکمل تعارف دریافت کرنے کے لیے انٹرنس پر آیا۔ جس پر میں نے اسے بتایا کہ میرا نام راشد چودھری ہے۔ میں نوائے وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کی اجازت سے صحیح صحیح حالات معلوم کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مجھے حراست میں لینے والے دونوں نوجوان اس شخص کے ساتھ اندر چلے گئے اور میری نگرانی کا کام دو اور نوجوانوں نے سنبھال لیا۔
کچھ دیر کے بعد یہ لوگ باہر آئے اور آتے ہی مجھے کہا کہ: ”آپ نے صحیح حالات کا جائزہ لے لیا ہے نا۔ اب ہمارے ساتھ آئیں، ہم آپ کو عمارت سے باہر چھوڑ آتے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مجھے ایک گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا اور پھر وہ گول بازار کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک درخت کے سائے میں انہوں نے گاڑی کھڑی کر دی اور ان میں سے ایک نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا: ”اگر آپ کو مرزا رفیع احمد کے لڑکوں سے دوبارہ ملاقات کی خواہش ہو تو ہم آپ کو واپس ان کی کوٹھی پہ لے جانے کے لیے تیار ہیں مگر اس شرط پر کہ نتائج کی ذمہ داری خود آپ پر ہو گی“۔
جس پر میں نے جواب دیا کہ ”میں گناہ بے لذت کا عادی نہیں ہوں۔ میں تو صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مرزا رفیع احمد اس وقت کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور ان کا تازہ ترین موقف کیا ہے۔ اگر مجھے اس کے حصول کے لیے مرزا رفیع احمد کے پاس پہنچا دیں تو پھر میں ہر قسم کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہوں“۔
میرے نگرانوں نے جواب دیا ”ہم آپ کو مرزا رفیع کے صاحبزادوں سے ملا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ خدمت ممکن نہیں ہے۔ اور ہاں یہ بات یاد رکھیں کہ ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے، آپ کی حفاظت کے نقطہ نظر سے کیا ہے“۔
جس پر میں نے ان سے کہا ”آپ نے جس حفاظت کے ساتھ مجھے مرزا رفیع کے گیٹ سے باہر دبوچا، جس حفاظت کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے آپ لوگ مجھے قصر خلافت میں لے گئے
اور راستے میں دھمکی آمیز زبان میں آپ نے مجھے جس حفاظت کی بار بار پیش کش کی، میں اسے فراموش نہیں کر سکتا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے علاقے میں ایک اخبار نویس کی حیثیت سے آیا تھا، دشمن کی حیثیت سے نہیں اور اس سلسلے میں مروجہ آداب کو ملحوظ رکھنا آپ کا اخلاقی فرض تھا۔ میرے خیال میں اب بہتر ہو گا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں یہیں اتر جاؤں"۔
"نہیں ہم آپ کو کم از کم گول بازار تک چھوڑ کر آئیں گے۔"
گول بازار پہنچنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ میں کھانا کھا کر جاؤں۔ جس پر میں نے پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کے اصرار پر میں نے کہا: صرف پانی پلا دو۔ پانی پینے کے بعد میں ان سے الگ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ان میں سے ایک نے قہقہہ لگایا اور کہا: ”ربوہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ یہاں مزید گھوم پھر سکتے ہیں۔ آپ سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔"
یہ ڈرامہ تو ختم ہو چکا تھا مگر مجھے کہیں ڈراپ سین نظر نہیں آ رہا تھا۔ جس پراسراریت کے پردے چاک کرنے کے لیے میں یہاں آیا تھا، وہ ابھی بدستور موجود تھے۔ اب بھی میں کشمکش میں تھا کہ ربوہ ایک کھلا شہر ہے یا منی اسٹیٹ؟ اس کھلے شہر اور پھر ۸۰ کنال کے رقبے میں تعمیر نام نہاد ”خاندان نبوت“ کی رہائش گاہوں پر مشتمل اس قلعہ نما کمپلیکس میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے آپ کو محبوس کیوں تصور کرتا ہے؟ اگر مرزا رفیع احمد آزاد ہیں تو پھر انہیں لوگوں سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں؟ اگر وہ آزاد نہیں ہیں تو پھر ان کے بیٹوں کا یہ عجیب و غریب طرز عمل اس الزام کی نفی کیوں کرتا ہے۔ یہ لوگ باہر سے آنے والوں کو تحفظ کی فراہمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر درست ہے تو پھر یہ بدسلوکی اور متشددانہ رویہ چہ معنی دارد؟ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے قصر خلافت میں کوئی ایٹمی پلانٹ تعمیر ہو رہا ہے اور غلطی سے انہوں نے مجھے مارک ٹیلی سمجھ لیا۔
(بہ شکریہ نوائے وقت، کراچی ۱۶ جون ۱۹۸۲ء)
خلیفہ ربوہ کے حکومت پر قبضہ
کرنے کے خواب
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
خلیفہ صاحب کے رگ و ریشہ میں سیاست رچی ہوئی ہے۔ اگر ان کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذہب کے پردہ میں سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں۔ اور سیاست کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کی ابتلا انگیزیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ خلیفہ صاحب اکثر کہا کرتے ہیں۔
”ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو کچل دیں گے ایسے ہی مقاصد کے لیے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی افسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول، بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔“
(8 نومبر 1932ء الفضل)
کبھی وہ واشگاف الفاظ میں کہہ دیتے ہیں:
”پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں...... جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے۔ وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے...... پس اس سیاست کے مسئلہ کو اگر میں نے بار بار یہاں بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے۔ اور جو
شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“ (3 اگست 1926ء الفضل)
اسی زعم میں برملا کہہ جاتے ہیں: ”میرا خیال یہ ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں۔ عدم تعاون سے نہیں...... اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہو گی۔ مگر جبکہ یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے۔ ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں، دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازمین کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکتی۔ کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“ (18 جولائی 1925ء الفضل)
مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات
جب کبھی بھی خلیفہ ربوہ کے خفیہ اڈوں پر حکومت نے چھاپا مارا تو اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زمین میں دفن کر دیئے گئے۔ قادیان میں ایک موقع پر یکدم قصر خلافت پر چھاپا پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی فراست ان کے کام آئی۔ تو فوراً خفیہ دستاویزات اپنی مستورات کی چھاتیوں پر باندھ کر اپنی کوٹھی دارالسلام قادیان بھجوا دیں۔ اور تمام اسلحہ فوراً زیر زمین کر دیا۔ 1953ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جو گورنمنٹ پاکستان نے ربوہ کے دفاتر اور قصر خلافت پر چھاپا مارنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ خبر دو دن پہلے ہی ربوہ پہنچ گئی۔ کچھ ریکارڈ نذر آتش کر دیا۔ اور کچھ حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا۔ چنانچہ اس اسلحہ کے نشان اب قادیانی اسٹیجوں میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا بشیر آباد اسٹیٹ کے ملازم سے ایک تھری ناٹ تھری کی رائفل اور ایک گرنیڈ برآمد ہوا تھا۔ تو وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ کے ماتحت سزا پا گیا۔
حکومت وقت سے بغاوت
اسی طرح حال ہی میں اسی اسٹیٹ میں ایک قادیانی ملازم سے تھری ناٹ تھری کی رائفل پولیس نے برآمد کی ہے۔ اگر حکومت ربوہ اور قادیانی اسٹیٹوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے تو بے شمار اور راز بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ خلیفہ صاحب ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے ہیں۔ جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی نے خلیفہ صاحب سے دریافت کیا ۔ کہ جس ملک کے لوگوں نے کسی حکومت کی اطاعت نہ کی ہو تو کیا انہیں حق ہے کہ وہ اس حکومت کا مقابلہ کرتے رہیں۔ تو ارشاد ہوا۔
”اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے۔ اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے۔“ (19 ستمبر 1934ء الفضل)
پھر فرماتے ہیں:
”اگر تبلیغ کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے۔ یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے ۔“ (13
نومبر 1953ء الفضل)
پھر فرمایا:
”شاید کابل کے لیے کسی وقت جہاد کرنا پڑ جائے ۔“ (27 فروری 1922ء
الفضل)
”جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بعض حکومتیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔ اور قومیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔“ (20 اپریل 1938ء
الفضل)
انتشار پیدا کر کے ملک پر قبضہ کرنا
ان اقتباسات اور حوالہ جات سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب ربوہ اپنی جماعت کے ذہنوں میں اسی سیاسی خون کی پرورش کر رہے ہیں۔ جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا ہے اور اس تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب پاکستان میں افتراق و انتشار کی
آگ بھڑکے اور اس سے فائدہ اٹھا کر ملک کے حکمران بن جائیں۔
خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”کہ قبولیت کی رو چلانے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔“ (11 جولائی 1936ء الفضل)
ان کا اپنا ارشاد ہے کہ:
”پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے اتنے یہ معنی نہیں کہ ہمارے صوبے کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں۔“ (27 جولائی 1936ء الفضل)
بیرونی حکومتوں سے گٹھ جوڑ
خلیفہ صاحب غلامی کی حالت میں بھی بیرونی حکومتوں سے بھی گٹھ جوڑ کرنے کے متمنی ہیں۔ اور اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
”کہ کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لیے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لیے دشمن تو بناتی ہے۔ مگر دوست نہیں کیونکہ یہ سیاسی خودکشی ہے۔“ (18 جون 1926ء الفضل)
خلیفہ صاحب کی اندرونی تصویر
اس حوالہ سے خلیفہ صاحب کی اندرونی تصویر ظاہر ہو جاتی ہے۔ کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی وقت بھی اس کے دشمنوں کے حلیف بن سکتے ہیں۔ چاہے اس کی کوئی بھی صورت پیدا ہو جائے۔ مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ایک کرنل کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ کرنل صاحب نے کہا ہے:
”حالات پھر خراب ہو رہے ہیں لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“ (8 مارچ 1950ء الفضل)
حکومت کی مخفی پالیسی کا راز
اس حوالہ سے کئی امور منکشف ہوتے ہیں۔ کہ فوج میں بعض ایسے افسر بھی ہیں جو
حکومت کی پالیسی خلیفہ صاحب کو بتا دیتے ہیں۔ مثلاً کرنل کا یہ کہنا کہ حالات پھر خراب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ حالات محمودیوں کے لیے خراب ہو جائیں گے لیکن فوج امداد نہیں کرے گی۔ اگر واقعی کرنل صاحب کا کہنا درست ہے تو یہ الفاظ حکومت کی کسی مخفی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
(دوئم) اگر خلیفہ صاحب نے یہ بات کرنل صاحب کی طرف غلط طور پر منسوب کی ہے اور پاک آرمی کی (ساکھ) پر کاری ضرب ہے۔ کیونکہ خلیفہ صاحب کرنل صاحب کی زبانی یہ بتا رہے ہیں کہ حالات خراب ہونے پر بھی فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ یعنی اگر گورنمنٹ فوج کو حالات سدھارنے پر متعین کرے تو وہ انکار کرے گی۔ لیکن تعجب والی بات یہ ہے کہ جب خلیفہ صاحب نے خطبہ دیا تو اس وقت نوائے پاکستان کی وساطت سے حکومت کی خدمت میں یہ عرض کی تھی کہ خلیفہ صاحب کو گرفتار کر کے اس سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون کرنل صاحب ہیں جس نے خلیفہ صاحب کو پاک فوج کے متعلق یہ کہا تھا۔ اگر خلیفہ صاحب کرنل صاحب کا نام بتانے سے قاصر ہوں تو ان کو سزا دی جائے۔ لیکن افسوس گورنمنٹ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر خلیفہ صاحب سے باز پرس نہ کی۔ دراصل یہی وہ امور ہیں جب خلیفہ صاحب اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ خطبات دیتے ہیں تو حکومت ان پر گرفت نہیں کرتی۔ جس سے وہ بے لگام ہو کر جرأت اور جسارت میں بڑھ جاتے ہیں۔
خلیفہ صاحب کی یہ عادت قدیمہ ہے کہ جب کبھی ان کی تقریر پر کوئی قانونی اعتراض پڑے تو اپنا کام نکل جانے کے بعد تو وہ کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ اصلاح کے ساتھ شائع کر دیتے ہیں۔ اس دوبارہ شائع کرنے کا صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ جب کبھی حکومت کی طرف سے گرفت ہو تو وہ دجل و فریب سے حقیقت پر پردہ ڈال کر دوسری اشاعت کو پیش کر سکیں۔ اور قانون کی گرفت سے بچ جائیں، یہاں بھی اسی قسم کے مکر و فریب اور عیاری سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ خطبہ پہلی دفعہ شائع ہوا تو اس کے الفاظ اور تھے۔ جب وہی خطبہ دوسری بار شائع کیا گیا تو قابل اعتراض الفاظ کو حذف کر دیا گیا۔
میں نے ربوہ دیکھا
اس سال ربوہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ ربوہ پہلی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا۔ پوری کانفرنس میں بڑی گہما گہمی رہی۔ ملک کے ہر گوشے سے علماء کرام، دانشور، صحافی، طلبہ اور عوام کی کثیر تعداد آئی ہوئی تھی۔ تمام مقررین نے مرزائیوں کی بڑھتی ہوئی شر انگیزیوں اور ملک دشمن سرگرمیوں پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی اور ان کی روک تھام کے لیے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے حاضرین میں غضب کا جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ حاضرین جلسہ نے یہ اعلان کیا کہ امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ہم کو اشارہ تو کریں ہم ربوہ کے مرزائیوں کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی پشتیں یاد رکھیں گی۔ اس جوش و خروش کا ایک بڑا سبب مولانا اسلم قریشی کا اغوا تھا جو ان کے سربراہ کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ لیکن امیر صاحب نے ملکی حالات کے پیش نظر تشدد سے باز رہنے کی تلقین کی۔
کانفرنس کے اختتام کے اگلے دن اجتماع گاہ واقع مسلم کالونی ربوہ سے (اسٹیشن والی) محمدیہ مسجد تک تانگے سے سفر کیا۔ تانگہ ایک مسلمان نوجوان چلا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرے تانگے میں ایک اسکول کی مرزائی استانی سفر کرتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا کہ تم ہماری انجمن میں شامل ہو جاؤ۔ ہم تمہیں روپیہ اور مکان دیں گے اور مرزائی لڑکی سے تمہاری شادی بھی کریں گے۔ اس نے بتایا کہ جب اس کانفرنس کے دوران لوگ نعرے لگاتے ہوئے ربوہ میں داخل ہوتے تو مرزائی اپنے گھروں میں گھس جاتے تھے اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک فروٹ کی ریڑھی والا اپنی ریڑھی بھگا کر ایک کونے میں لے گیا اور ایک کونے میں جا کر چھپ گیا۔ ایک دوسرے تانگے والے نے بتایا کہ ربوہ میں مرزائیوں کے گھروں میں کڑوا پانی نکلتا ہے اور مسلمانوں کے گھروں میں میٹھا پانی نکلتا
ہے۔ اس صورت میں وہ پینے کے لیے پانی مسلمانوں کے گھر سے لیتے ہیں۔
شام کو ربوہ کے مقامی ساتھی بھائی صاحب اور صوفی صاحب ربوہ شہر دکھانے لے گئے۔ جب ہم نام نہاد بہشتی مقبرے میں داخل ہوئے تو وہاں عجیب ویرانی محسوس کی۔ واللہ میرا دل اندر سے رو رہا تھا کہ کتنے ہی نادان لوگ سیدھی راہ سے بھٹک کر ایسی راہ پر چل نکلے جو سوائے جہنم کی تہہ کے، کسی اور طرف نہیں جاتا اور تمام منازل میں سے پہلی منزل ہے۔ وہاں تین سوالوں میں سے ایک سوال حضرت خاتم النبین ﷺ کے بارے میں بھی ہو گا تو اس وقت قادیانی کیا جواب دے سکیں گے؟
اس کے بعد کے حشر کا تو ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔ اس خیال کے آتے ہی میری زبان سے نکلا ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا سامنے ایک چہار دیواری پر نظر پڑی۔ اندر جا کر دیکھا تو وہاں خواص کی قبریں تھیں۔ جن میں مرزا ناصر کی قبر سب سے آخر میں تھی۔ وہاں ایک بورڈ پر لکھا تھا کہ اگر موقع ملے تو ان لاشوں کو نکال کر قادیان میں دفن کر دیا جائے۔ قبرستان میں ایک ٹیلیفون نصب تھا تو ہمارے ساتھی نے از راہ مذاق کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ربوہ کے قبرستان میں مدفون مرزائیوں کا قادیان کے قبرستان والوں سے فون پر رابطہ ہو۔ قبرستان میں جہاں بھی نگاہ ڈالی وہاں کے درختوں کے پتے ایسے مرجھائے تھے۔ جیسے اہل قبرستان پر ماتم کرتے کرتے نڈھال ہو چکے ہوں۔ ابھی ہم قبرستان سے باہر نکل کر آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ پیچھے سے ایک مرزائی نمودار ہوا۔ داڑھی چھدری اور سر پر بھاری ٹوپی اور انگریزوں کا پسندیدہ لباس پینٹ کوٹ پہنے ہوئے۔ آتے ہی بولا کہ دین میں تو اختلافات ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ آپ یہ بتائیے کہ اس جگہ آنے کے بعد اور یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔
ہم نے موقع غنیمت جان کر کہا کہ ہمارے ذہنوں میں کچھ سوالات ابھر رہے ہیں۔ اس نے موقع کی مناسبت سے کہا ضرور پوچھئے، جس پر میں نے جھٹ یہ سوال کر دیا۔
میں: یہ بتائیے کہ آپ کی انجمن ہر مرزائی سے اس کی دولت کا دسواں حصہ کیوں طلب کرتی ہے اور اسے کہاں صرف کرتی ہے؟
مبلغ: پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی محبوب چیزوں کو میری راہ میں خرچ کرو۔ جہاں تک خرچ کرنے کا سوال ہے تو ہم رقم غریبوں اور ناداروں پر خرچ کرتے ہیں اور آپ کے لوگوں (غیر مرزائیوں) کو بھی دیتے ہیں۔
بھائی صاحب !: مثال دے کر بتائیے کہ ربوہ میں آپ کس غیر مرزائی کی مدد کرتے ہیں؟
مبلغ: (تھوڑی دیر سوچ کر) مثلاً ریلوے اسٹیشن پر رہنے والے ایک بیمار بوڑھے کی مدد کی گئی۔
بھائی صاحب: میں تو بہت عرصے سے اسٹیشن والی مسجد کے پاس رہتا ہوں۔ میں نے کوئی ایسا بوڑھا نہیں دیکھا۔ نیز یہ بتائیں آپ کے ہاں اگر کوئی بہت پرہیز گار ہو ۔ لیکن غریب ہو یا کوئی مرزائی کسی مجبوری یا کنجوسی کی وجہ سے آپ کی انجمن کے لیے اپنی دولت کا مطلوبہ حصہ وقف نہ کرے تو آپ اسے کیا ”بہشتی مقبرے“ میں دفن ہونے دیں گے۔
میں نے پوچھا: کیا دولت کا یہ دسواں حصہ آپ کی انجمن جبراً لیتی ہے؟
مبلغ: نہیں ۔ بلکہ جو ”بہشتی مقبرے“ میں جگہ لینا چاہتا ہو وہ خوشی سے دیتا ہے۔
بھائی صاحب: چونکہ میں ربوہ کا رہنے والا ہوں ۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے دیکھا کہ بیرون ربوہ سے ایک لاش آئی ۔ اس مرزائی نے انجمن کو مطلوبہ پوری رقم ادا نہیں کی تھی ۔ اس لیے اس کو اس وقت تک بہشتی مقبرے میں دفن ہونے نہیں دیا گیا ۔ جب تک کہ اس کا مکان فروخت کر کے مطلوبہ رقم حاصل نہ کر لی گئی یہ تو مرنے والے کی رقم جبراً لی گئی ۔ ممکن ہے وہ رقم اس نے اپنی اولاد وغیرہ کے نام کر دی ہو اور انجمن کو ادا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو ۔ بصورت دیگر اگر آپ نے رقم لینی تھی تو پہلے اسے دفنا تو دیتے ۔ بعد میں اس کے مکان کا حساب کتاب ہوتا رہتا ۔ جب آپ نے اپنے مردے کے ساتھ یہ سلوک کیا تو پتہ نہیں زندہ لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے؟
مبلغ: میں اس وقت یہاں موجود نہ تھا ۔ مجھے اس واقعے کا علم نہیں ۔
شاہد: اس قبرستان کا نام ”بہشتی مقبرہ“ رکھا گیا ہے۔ آپ کو کیسے یقین ہے کہ اس
میں داخل ہونے والے جنتی ہیں۔ مبلغ:۔ (لاجواب ہو کر) اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید تو کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ساتھی صوفی صاحب نے کہا کہ آپ اپنی مخصوص جگہیں دکھانا پسند کریں گے۔ مبلغ نے کہا چلئے۔ پہلے نام نہاد قصر خلافت پہنچے۔ وہاں ایک بڑی کوٹھی بنی ہوئی تھی۔ باہر ہی سے بڑے بڑے شیشے کے دروازے اور کھڑکیاں نظر آرہی تھیں اور ان پر مخمل کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ اس میں موجودہ خلیفہ مرزا طاہر قیام پذیر ہے۔ قصر خلافت کے در و دیوار رنگ و روغن سے محروم تھے۔ اس پر میں نے مبلغ سے پوچھا کہ کیا یہ آپ کے خلیفہ کی سادگی ہے؟ اس پر وہ کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ قصر خلافت کے برابر سیکرٹریٹ اور سامنے قادیانی معبد تھا۔ قادیانی معبد پہنچے تو میں اپنی جوتی لے کر اندر جانے لگا تو اس نے کہا جوتی یہیں رہنے دیجئے چوری نہیں ہوگی۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ جو قوم نبوت پر ڈاکہ ڈال سکتی ہے۔ وہ یقینا جوتی بھی چوری کر سکتی ہے کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کوئی قوم اپنی اصلیت نہیں بھولا کرتی۔ مبلغ نے بتایا کہ مرزا طاہر جب یہاں ہوتا ہے تو امامت بھی کرتا ہے۔
قادیانی عبادت گاہ کافی بڑی تھی۔ وہاں ایک جگہ کلمہ لکھا ہوا تھا۔ مبلغ نے میری توجہ اُس طرف پھیری کہ دیکھو پورا کلمہ لکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا ہاں ! مسیلمہ کذاب بھی پورا کلمہ پڑھتا تھا۔
سڑک پر نکلے تو ایک جنازہ جارہا تھا اور تابوت چار پہیوں والے ریڑھے کی طرح بنا ہوا تھا۔ اور اسے چلا کر لے جایا جا رہا تھا۔ مبلغ نے کہا کہ دیکھو اس تابوت کے اوپر چھت بنی ہوئی ہے تاکہ ہر طرح کے گرد و غبار اور بارش سے محفوظ رہے اور کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ میں نے سوچا کہ ایک تو مردہ اپنے ساتھیوں کے کندھے دینے سے محروم رہ گیا۔ دوسرا یہ کہ یہاں کی گرد و غبار اور بارش وغیرہ سے اگر یہ محفوظ کر بھی لیں گے لیکن آنے والی تکالیف سے تو نہیں بچا سکتے۔
اس کے بعد بیرون ممالک سے آنے والے مبلغین اور مہمانوں کے ٹھہرنے کی جگہ
بتائی اور اس نے بتایا کہ اس وقت چار پانچ مبلغ ہمارے مہمان ہیں۔ یہاں سے نکل کر ”دار الاقامہ“ کی طرف گئے۔ جہاں اندرون ملک سے آنے والوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ یہاں ہمارے مہمانوں کے علاوہ اگر کوئی ربوہ میں بھولا بھٹکا مسافر آجائے یا قرب و جوار میں کوئی حادثہ ہو جائے تو متاثرین کو بطور مہمان ٹھہراتے ہیں اور پھر پھانس کر مرزائی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فضل گیٹ میں داخل ہوتے ہی سامنے استقبالیہ ہے۔ جہاں اسٹاف اپنے کام میں مصروف تھا۔ آگے چل کر دیکھا کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں اور ہر کمرے کے باہر گتے کے بورڈ پر پاکستان کے چار پانچ شہروں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ انصار اللہ کا اجتماع ہو رہا ہے (جو چالیس سال سے زیادہ عمر کے قادیانی افراد کی انجمن ہے) اور اس میں شریک مہمانوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے فوراً سوال کیا کہ ایک کمرے میں کتنے پلنگ ہیں؟ اس نے کہا دو پلنگ۔ میں نے کہا کہ اگر ایک شہر سے دس آدمی آئے تو پانچ شہروں سے پچاس ہوئے اور دو پلنگ پر پچاس آدمی کیسے سو سکتے ہیں؟
وہ میری توجہ ہٹانے کے لیے ”دار الضیافت“ کی طرف لے گیا۔ کھانے کے کمرے میں گھستے ہی بدبو سی محسوس ہوئی۔ اپنے آقاؤں کی وفاداری کا یہ عالم کہ کھانے کے کمرے میں جہاں نگاہ ڈالتے میز کرسیاں بچھی ہوئی نظر آتی تھیں۔
چونکہ میں اس کی باتوں میں بہت دلچسپی لے رہا تھا اس لیے جب واپسی ہونے لگی تو اس نے کہا کہ دین میں تو اختلافات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں ان باتوں میں نہیں پڑنا چاہیے ہمیں ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے اور آپس میں مل کر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ مبلغ نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ تو ابھی ربوہ میں ٹھہریں گے۔ آپ مجھ سے کل ملئے۔ تفصیلی بات کریں گے اور آپ کے اشکالات بھی دور کریں گے۔
اگلے دن لاہور روانہ ہونے کے لیے اسٹیشن پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے نوجوان مرزائی لڑکے لڑکیاں ٹرین کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ٹرین میں مجھے ایک بڑے میاں ملے۔ لمبی سی داڑھی تھی۔ مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا ”ربوہ سے“
یہ سنتے ہی چونک اٹھے، پہلے تو مجھے اوپر سے نیچے تک بڑے غور سے دیکھا۔ پھر پوچھنے لگے ”تیرا ایمان کیا ہے؟“ میں نے کہا الحمد للہ مسلمان ہوں۔ ربوہ کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ یہ سن کر انہوں نے با آواز بلند مرزا صاحب کی جھوٹی نبوت کی ساری قلعی اتارنی شروع کر دی۔ برابر میں مرد و زن بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے میاں کی باتوں سے لال پیلے ہو رہے تھے اور بڑے میاں کی طرف دیکھ دیکھ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ ایک مرزائی برداشت نہ کر سکا اور اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سچائی تو ایسی خوشبو ہے جو چھپائے نہیں چھپتی اور ایک دم میری زبان سے بے ساختہ نکلا۔
لا نبی بعدی
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۶‘ شمارہ ۲۸‘ از قلم: محمد شاہد)
۱۹۶۵ء کی جنگ قادیانیوں نے لگوائی تھی
”کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ (۱۹۶۵ء) قادیانیوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ اس لیے فوج کے ایک قادیانی افسر میجر جنرل اختر حسین ملک نے مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کرنے کے لیے ایک پلان تیار کیا جس کا کوڈ نام ”جبرالٹر“ تھا۔ صاحبان اقتدار کے کئی افراد نے ان کی مدد کی۔ ان میں مسٹر ایم ایم احمد سرفہرست بتائے جاتے ہیں جو خود بھی قادیانی تھے‘ اور عہدے میں بھی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ہونے کی حیثیت سے صدر ایوب کے نہایت قریب تھے۔ جنرل اختر ملک نے اپنے پلان کے مطابق کارروائی شروع کی۔ ایک بار میں نے نواب آف کالا باغ سے اس جنگ کے متعلق کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فرمایا بھائی شہاب یہ جنگ پاکستان کی ہرگز نہ تھی۔ دراصل یہ جنگ اختر ملک‘ ایم ایم احمد‘ عزیز احمد اور نذیر احمد نے شروع کروائی تھی“۔ (جو سب قادیانی تھے۔ ناقل)
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
خلیفہ ربوہ کا نظام حکومت
چوہدری غلام رسول (سابق قادیانی)
اب میں خلیفہ صاحب کی تقاریر اور خطبات کے اقتباسات کی روشنی میں خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ بیان کرتا ہوں۔
حاکم اعلیٰ
”ریاست میں حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“
(15 اکتوبر 1936ء الفضل)
خلیفہ صاحب کا یہ مذہب ہے کہ کوئی آدمی بھی خواہ وہ حق پر ہو خلیفہ وقت پر سچا اعتراض بھی نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اعتراض کرے تو وہ دوزخی اور ناری ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔
”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“
(8 جون 1926ء الفضل)
”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا۔ اور خدا تعالیٰ اسے تباہ و برباد کر دے گا۔“
(29 مئی 1928ء الفضل)
مقننہ یعنی مجلس شوریٰ
مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس مشاورت کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکموں کی طرح کلیتاً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے۔ اس مجلس کے فیصلہ جات اس وقت تک جاری نہیں
ہوتے جب تک خلیفہ منظوری نہ دے دے اور وہ صدر انجمن احمدیہ کے لیے واجب التعمیل نہیں ہوتے اس کے علاوہ اپنی ریاست کے ہر محکمہ پر خلیفہ صاحب خود نگرانی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ فرماویں۔
”تمام محکموں پر خلیفہ صاحب کی نگرانی ہے۔“ (15 نومبر 1930ء الفضل)
”اسے یہ حق ہے۔ (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے لیکن اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ مشورہ کو رد کر دے۔“ (27 اپریل 1937ء الفضل)
خلیفہ کا مجلس شوریٰ پر کلی اختیار
مجلس مشاورت کے ممبروں کی کوئی تعداد مقرر نہیں اس میں دو قسم کے نمائندہ ہوتے ہیں ایک وہ نمائندے جن کو جماعتیں منتخب کرتی ہیں لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ صاحب ہی دیتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ جماعتوں کے چنے ہوئے نمائندوں میں جن کو خلیفہ صاحب چاہیں مجلس مشاورت کا ممبر بنا سکتا ہے۔ اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس نمائندہ پر کوئی اعتراض کر سکے۔ مجلس مشاورت کے اجلاس میں کوئی شخص بھی خلیفہ صاحب کی اجازت کے بغیر تقریر نہیں کر سکتا اور نہ وہ بغیر منظوری حاصل کیے مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ صاحب کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو۔
”پارلیمنٹوں میں تو وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جن کی حد نہیں...... یہاں تو میں روکنے والا ہوں...... گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے سخت تنقید کو نہیں۔“ (27 اپریل 1938ء الفضل)
خلیفہ صاحب کو یہ کلی اختیار ہے کہ جماعتوں کے منتخب شدہ ممبروں کو جسے چاہے بولنے کا موقع دیں اور جسے چاہیں ان کے حق سے بالکل محروم کر دیں۔ اس مجلس کا انعقاد سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے۔ تمام آمدہ سال کی پالیسی کو زیر غور لایا جاتا ہے۔ اور بجٹ کی منظوری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بجٹ منظور کیے بغیر ہی خلیفہ صاحب یہ فرما دیا کرتے ہیں کہ میں خود ہی بجٹ پر غور کر کے منظوری دے دوں گا۔ ان امور سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مجلس شوریٰ کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
یہ صرف دکھاوے کے لیے ڈھانچہ ہے۔
انتظامیہ
اس کے بعد میں خلیفہ صاحب کی انتظامیہ کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ اور بہتر یہی ہے کہ خلیفہ صاحب کے اقوال ہی من وعن نقل کر دیئے جائیں جس میں انتظامیہ کی ضرورت، کیفیت اور ہیئت کا تفصیلی نقشہ موجود ہے۔
خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
’’تیسری بات اس تنظیم کے لیے یہ ضروری ہو گی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے جس طرح کہ گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکریٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو ۔‘‘
(18 جولائی 1925ء الفضل)
اس انتظامیہ کو نظارت کہا جاتا ہے۔ اور ہر وزیر کو ناظر اور ان کی نامزدگی خلیفہ صاحب کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں:
’’ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں ۔‘‘
(24 اگست 1937ء الفضل)
خلیفہ صاحب آخری سپریم کورٹ
یہ نظارت اپنے سارے کام خلیفہ کی نیابت میں سرانجام دیتی ہے۔ ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ صاحب سنتے ہیں۔ اور انہی کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد وضوابط خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتے۔ اور اس کے فیصلوں کی تمام ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ نظارت خلیفہ صاحب کی نمائندہ ہوتی ہے۔ خلیفہ صاحب خود ہی فرماتے ہیں:
’’صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے۔ چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے۔ اس لیے خلیفہ بھی ان کا ذمہ دار ہے۔‘‘
(23 اپریل 1938ء الفضل)
اس نظارت کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق کی ہے۔ خلیفہ صاحب خود ہی فرماتے ہیں:
’’ناظر یعنی (وزراء) بعض دفعہ چلا اٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔‘‘
(27 اپریل 1938ء الفضل)
صدر انجمن احمدیہ
ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن اضلاعی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورے کے بعد کرتی ہے۔ (12اگست 1929ء الفضل)
اغراض
اس انجمن کے اغراض و مقاصد میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کیے جاتے ہیں۔ یا آئندہ کیے جاویں۔
اراکین
تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔
ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔
تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن احمدیہ
خلیفہ وقت کے حکم کے ماتحت ممبران صدر انجمن احمدیہ تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔
ربوہ سٹیٹ کا اجمالی نقشہ
اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں قائم ہیں ان کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے۔
- (1) ناظر اعلیٰ
ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جس کے سپرد تمام محکمہ جات کے کاموں کی نگرانی ہو۔ وہ خلیفہ اور دیگر ناظروں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے عموماً ناظر اعلیٰ ایسے شخص کو خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں جس میں ذاتی رائے کا مادہ مفقود ہو۔ خلیفہ صاحب کے ہر جائز و
ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔
- (2) ناظر امور عامہ
(وزیر داخلہ) ان ۔ پولیس اور حکومت سے روابط قا
- (3) ناظر امور خارجہ
(وزیر خارجہ) کے ما کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھنا ۔
- (4) ناظر ضیافت ........
- (5) ناظر تجارت ........
- (6) ناظر حفاظت مرکز........
انڈیا کی حفاظت کا بندو
- (7) ناظر صنعت ........
- (8) ناظر تعلیم ........
- (9) ناظر اصلاح وارشاد........
- (10) ناظر بیت المال........
- (11) ناظر قانون ........
- (12) ناظر
آٹوگراف
ایک دفعہ ایک (Autograph) دینے کی درخوا حدیث مبارک لکھ دی: لا نبی بعدی (میرے بعد ک
ناجائز حکم پر سر تسلیم خم کرے۔ جو قابلیت اور علمیت کے لحاظ سے بہت ہی کم ہو۔
- (2) ناظر امور عامہ
(وزیر داخلہ) ان کے سپرد مقدمات فوج داری کی سماعت۔ سزاؤں کی تنفیذ، پولیس اور حکومت سے روابط قائم کرنے کا کام ہے۔
- (3) ناظر امور خارجہ
(وزیر خارجہ) کے ماتحت سیاسی گٹھ جوڑ کرنا۔ اور اندرون ملک اور بیرون ملک کی کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہے۔
- (4) ناظر ضیافت ..................................... وزیر خوراک
- (5) ناظر تجارت ....................................... وزیر تجارت
- (6) ناظر حفاظت مرکز ........... وزیر دفاع (پولیس و فوج کا کنٹرول اور ربوہ و قادیان
انڈیا کی حفاظت کا بندوبست۔
- (7) ناظر صنعت ......................................... وزیر صنعت
- (8) ناظر تعلیم ............................................ وزیر تعلیم
- (9) ناظر اصلاح و ارشاد ........................... وزیر پروپیگنڈہ و مواصلات
- (10) ناظر بیت المال .................................... وزیر مال
- (11) ناظر قانون ......................................... وزیر قانون
- (12) ناظر زراعت ....................................... وزیر زراعت
آٹوگراف
ایک دفعہ ایک طالب علم نے ان سے زمانہ جدید کی رسم پوری کرنے کے لیے آٹوگراف (Autograph) دینے کی درخواست کی۔ آپ نے بلا تکلف کاغذ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک لکھ دی:
لا نبی بعدی (میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا) اور نیچے دستخط کر دیے۔
("حضرت مولانا محمد علی جالندھری" ص ۱۳۳، پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری)
ہر فیصلہ پر خلیفہ کی منظوری
اختیارات و فرائض ناظران
ناظران کے اختیارات و فرائض خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہوتے ہیں۔ اور ان کی تعداد بھی خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں۔ اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فرائض وہی ہیں۔ جو خلیفہ صاحب کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ صاحب کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ بجٹ خلیفہ صاحب کی منظوری سے طے اور ان کی منظوری سے ہی جاری ہوتا ہے۔ اور صدر انجمن احمدیہ کے تمام فیصلہ جات خلیفہ صاحب کے دستخطوں کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتے۔ اور قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر وتبدل صرف خلیفہ صاحب کی منظوری سے ہوسکتا ہے۔ اور خلیفہ صاحب کے تجویز کردہ قواعد وضوابط میں صدر انجمن احمدیہ تبدیلی نہیں کر سکتی۔ صدر انجمن احمدیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ کہ وہ ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے جو خلیفہ صاحب کے کسی حکم کے خلاف ہو۔ یا خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظران کی تقرری و برطرفی خلیفہ صاحب کے اختیار میں ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کو سلسلہ کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کی فروخت، ہبہ، رہن، تبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ صاحب ربوہ اختیار نہیں۔ اور خلیفہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے۔ اور وہ تمام صیغوں کے کام کی ہفتہ واری رپورٹ خلیفہ صاحب کو پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ناظر اعلیٰ کا فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری و تقریری ہدایت کے علاوہ ان کے تمام خطبات و تقاریر وغیرہ میں جو احکام صادر ہوں ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طریقے سے یہ خلیفہ صاحب کی طرف سے بیرونی جماعتوں کو یہ ہدایت ہے کہ جب کوئی ناظر کسی جماعت میں جائے تو یہ جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔
مذکورہ بالا تمام کوائف قوائد صدر انجمن احمدیہ طبع شدہ سے لیے گئے ہیں۔
تقرر قاضیاں اور فیصلہ جات کی نقول
عدلیہ
انتظامیہ کے علاوہ ریاست ربوہ میں عدلیہ بھی قائم ہے۔ خلیفہ صاحب خود آخری عدالت ہیں۔ وہی ناظم قضا مقرر کرتے ہیں۔ جب چاہیں اس کو معزول کر سکتے ہیں۔ قضا کے جج خلیفہ صاحب مقرر کرتے ہیں۔
خلیفہ صاحب کا اپنا اعلان ملاحظہ ہو
احباب کی اطلاع کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مولوی ظفر محمد صاحب کی جگہ مولوی ظہور حسن صاحب کو شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کی جگہ صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس کو اور مزید بابو اکبر علی صاحب کو مرکزی دارالقضاء کا قاضی مقرر فرمایا ہے۔ (4 جون 1937ء الفضل 9)
خلیفہ صاحب جب چاہیں مقدمہ کی مثل اپنے ملاحظہ کے لیے طلب کر سکتے ہیں جس قاضی کو چاہیں مقدمہ سننے کا نااہل قرار دے کر برطرف کر سکتے ہیں۔ مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں انہیں ناظم قضاء باقاعدہ اجازت نامہ دیتا ہے۔ اس کے بغیر وہ قاضیوں کے سامنے مقدمہ کی وکالت کے لیے پیش نہیں ہو سکتے۔ فیصلوں کی نقول دی جاتی ہیں۔ اور نقول کی اجرت لی جاتی ہے۔ جس کی آمدنی بیت المال میں جمع کی جاتی ہے۔ ناظم قضا کا ایک خط بغرض حصول نقول مقدمہ ملاحظہ ہو۔
مکرمی بابو عبد الرزاق صاحب ٹیلیفون آپریٹر السلام و علیکم آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ مقدمہ مقبول بیگم صاحبہ بنام بابو
عبدالرزاق صاحب ٹیلیفون آپریٹر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ آپ نقل فیصلہ منگوالیں۔ نقول کے لیے موازی آٹھ آنے کے ٹکٹ ارسال کریں۔ (دستخط) ناظم قضاء سلسلہ احمدیہ قادیان
نوٹس اور ڈگریوں کا اجراء
محکمہ قضاء نوٹس بھی دیتا ہے۔ ڈگریوں کا اجراء بھی باقاعدہ کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خلیفہ صاحب اور خلیفہ صاحب کا خاندان قضا کے تمام فیصلوں سے بالاتر ہے۔ قضاء کو یہ حق حاصل نہیں کہ ان کے خلاف کوئی ڈگری دے کر اس کا اجرا بھی کروا سکیں۔ اگر کوئی بدنصیب احمدی قضا میں اس ”شاہی خاندان“ کے خلاف مقدمہ دائر بھی کر دے تو مدعی کے تمام ثبوت بدرجہ اتم واکمل باہم پہنچانے کے باوجود قاضی کو یہ جرأت نہیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کا فیصلہ کر سکے۔ اگر فیصلہ کر بھی دے تو قضا کا قانون فیصلہ کے اجرا کے لیے بے بس ہو جاتا ہے۔ اور قاضی کو مدعی کے دل کو تشفی دینے کے لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ صاحبزادگان کی مالی حالت بہت خراب ہے۔ اگر آپ پسند کریں۔ تو یہ فیصلہ غیر معین عرصہ کے لیے التوا میں رکھ دیا جاوے۔ اگر مدعی زیادہ اصرار کرے تو قاضی صاحب یہ فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں کہ مدعا علیہ ”صاحبزادہ“ کی مالی حالت دگرگوں ہے۔ اس وجہ سے وہ ایک روپیہ ماہوار مدعی کو دیں گے۔ خواہ وہ مدعی نے ہزاروں روپیہ لینے ہوں۔
سمن جاری کرنا زیر آرڈر نمبر 62
ریاست ربوہ کا ناظم قضا سمن جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اور جو سمن جاری کیے جاتے ہیں۔ اور غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر 62 یک طرفہ سماعت کر سکتا ہے۔ حسب ذیل سمن جاری کردہ ملاحظہ ہو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلیٰ عبدہ المسیح الموعود
از ناظم دفتر ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ
مکرمی السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
نقل عرضی دعویٰ منجانب...... دعویٰ بابت........ آپ کو برائے جواب بذریعہ رجسٹری/ رجسٹرڈ ڈاک ارسال ہے۔ آپ اس دعویٰ کا جواب دفتر ہذا میں ...... تک ارسال کریں۔ مقررہ تاریخ تک آپ کی طرف سے تحریری جواب موصول ہونا ضروری امر ہے۔ اور 16-8-49 بوقت دس بجے صبح ربوہ براستہ چنیوٹ جھنگ تشریف لاویں۔ غیر حاضری کی صورت میں زیر آرڈر نمبر 62 یک طرفہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ناظم دارالقضاء 22-6-49 دستخط ناظم دارالقضاء سلسلہ عالیہ احمدیہ
محکمہ عدلیہ یک طرفہ اور ضابطہ کی کارروائیاں کرنے کا مجاز ہے مثال ملاحظہ ہو۔ نوٹس بنام شیخ منظور احمد مدعی مستری بدر الدین معمار ساکن قادیان۔ بنام منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم۔ دعویٰ اجراء ڈگری مبلغ 2 مقدمہ مندرجہ عنوان میں لوکل قضا نے 4/8/33 کو آپ کے برخلاف یک طرفہ ڈگری 2 کی دی ہے۔ آپ نے امور عامہ میں اجرائے ڈگری کی درخواست 14/8/33 کو دی...... لہٰذا آپ کو بذریعہ اخبار نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا رقم 24/12/32 تک دفتر امور عامہ میں جمع کروا دیں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جاوے گی۔ (19 دسمبر 1933ء الفضل)
اب مزید سمن کے بارہ میں سنیے: ملک عبدالمجید صاحب ولد غلام حسین صاحب محلہ دارالرحمت قادیان کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کیے گئے ہیں۔ مگر وہ تعمیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ 1/2/33 کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لیے جاری کیا گیا اس پر ملک عبدالمجید نے عذر کیا کہ میں 15 یوم کے لیے باہر جا رہا ہوں لہٰذا مجبور ہوں۔ اس پر اسی وقت ان کو اطلاع بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کر کے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں...... لہٰذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔ (ناظر امور عامہ)
(9 دسمبر 1933ء الفضل)
ربوہ میں یہ پہرہ کیسا؟
مولانا تاج محمودؒ
27 مئی 1973ء کو ربوہ میں مرزائیوں کی جماعت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس صبح 6 بجے سے دوپہر تک جاری رہا۔ اس اجلاس کو مرزائیوں نے غیر معمولی طریقہ سے اہمیت دی۔ لائلپور‘ لاہور‘ سرگودھا اور دوسرے شہروں سے فرقان فورس کے رضا کار ربوہ بلائے گئے تھے۔ جب تک اجلاس جاری رہا نہ صرف محمود ہال کے ارد گرد کڑا پہرہ رہا بلکہ ربوہ کے دوسرے اہم ناکوں پر بھی پہرہ لگایا گیا۔ غالباً ارادہ یہ بتانا مقصود تھا کہ اجلاس میں کوئی اہم فیصلہ ہونے والا ہے۔ دوسری طرف شوریٰ کے ممبروں سے حلف لیے گئے کہ کاروائی کو صیغۂ راز میں رکھیں۔ ابتدائی بنائی ایک رپورٹ باہر بھیجی گئی کہ سچ بولنے کی تلقین کی گئی ہے اور کسی کو گالی نہ دی جائے۔ یعنی یہ سمجھا گیا کہ دنیا میں سارے لوگ بے وقوف بستے ہیں جو دھوکہ کھا جائیں گے اور حقیقت حال کا اندازہ نہ لگا سکیں گے۔ ہفت روزہ لولاک نے جب اس پراسرار میٹنگ اور اس کے خفیہ فیصلوں کے متعلق کچھ انکشافات کیے تو ربوہ میں اعلان کرا دیا گیا کہ عنقریب ایک پمفلٹ شائع کیا جا رہا ہے‘ جس میں خلیفہ صاحب کی تقریر جو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہوئی تھی‘ چھاپ دی جائے گی۔ حالانکہ پہلے بلیٹن کی طرح یہ دوسرا بلیٹن بھی مصنوعی اور غیر اصلی ہوگا۔ اگر کارروائی بعد میں شائع ہونا ہی تھی تو شرکائے اجلاس سے حلف لینے اور سارے ربوہ کے گلی کوچوں میں پہرہ لگانے کی کیا ضرورت تھی؟
اب ایک نیا ڈرامہ ہو رہا ہے۔ ہر روز رات کے 10 بجے سے صبح کے 4 بجے تک ربوہ میں رضا کاروں کا کڑا پہرہ ہوتا ہے اور شہر کی مکمل ناکہ بندی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ غیر معمولی نوعیت کے پہرے اور رات بھر شہر کی ناکہ بندیاں بلا وجہ نہیں ہیں۔ ربوہ پر کسی غنیم یا دشمن کے حملہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے نہ ہی کسی پاکستان کے شہر کا ایسا پروگرام ہے۔ مسلمانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ جب تم نے نبوت الگ بنا لی اور معاشرتی طور پر یعنی نکاح‘ بیاہ اور موت مرگ بھی مسلمانوں سے جدا کر لی تو براہ کرم ایک غیر مسلم اقلیت کی پوزیشن قبول کرو۔ اپنے شہری حقوق حاصل کرو‘ تمہارے مال جان کی حفاظت ہوگی تو ایسے حالات میں کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے جو ربوہ یا اہل ربوہ کو لاحق ہو۔ پھر یہ پہرے کیسے ہیں؟ حکومت کا فرض ہے کہ اس پہرے کی حقیقت کا پتہ لگائے‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کڑے پہرے لگا کر اور ناکہ بندیاں کر کے رات کی تاریکی میں اسلحہ وغیرہ کو ادھر سے ادھر کیا جا رہا ہو۔
اس کے علاوہ ایک اور حیرت انگیز ڈرامہ یہ ہے کہ مرزا ناصر احمد پر بھی پہرہ بہت سخت کر دیا گیا ہے۔ پہرہ داروں اور اسلحہ برداروں کی تعداد زیادہ کر دی گئی ہے۔ حالانکہ ناصر احمد کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اصل میں اس پہرے‘ ناکہ بندی اور اسلحہ برداری کے ڈھونگ سے جو کچھ ہم سمجھ سکے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ 27 مئی کی شوریٰ میں یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ ملک کی اہم شخصیتوں کو ۔۔۔۔ مرزائی نیم فوجی تنظیموں کی معرفت قتل کرایا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد ایک نفسیات کے ماہر کی حیثیت سے خواہ مخواہ اپنے کو شدید خطرہ میں ظاہر کیا جا رہا ہے اور لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ ساری کارروائی کی جا رہی ہے۔
ہم نے یکم جون کے جمعہ میں اعلان کیا تھا کہ مرزائیوں نے بعض اہم شخصیتوں کو قتل کرانے کا منصوبہ بنایا ہے‘ ہماری یہ پیش گوئی 6 جون کو ہی پوری ہو جاتی۔ وہ تو خدا کا فضل شامل حال ہو گیا کہ مولانا مفتی محمود‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ عبد الولی خان‘ نوابزادہ نصر اللہ خان اور چوہدری ظہور الٰہی وغیرہ اکابر میں سے کوئی آدمی وزیر آباد کے اسٹیشن پر شہید نہیں ہو گیا ورنہ پروگرام کے مطابق ہم تو مار دیئے گئے تھے۔ ہم حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس سیاسی کش مکش اور غنڈہ گردی میں در حقیقت مرزائی کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کریں گے جو مصیبت بن جائے گی۔ ہمیں یہ کہنے
دیکھیے کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مظاہرے اور غنڈہ گردی برسر اقتدار جماعت کے منشاء کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ برسر اقتدار پارٹی کا کوئی ذمہ دار رکن کسی کو یہ کہے کہ کسی سیاسی لیڈر کو خدانخواستہ قتل کر دیا جائے۔ یقین مانئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا کندھا استعمال ہوگا لیکن ان میں مرزائی شامل ہو کر کوئی نہ کوئی واردات کر دیں گے۔ جو نہ صدر بھٹو چاہتے ہوں گے اور نہ گورنر کھر ـــــ لیکن مرزائی اپنا کام کر کے ایک طرف بیٹھ جائیں گے کسی کو معلوم تک نہیں ہوگا کہ یہ کام کون کر گیا لیکن بدنامی و رسوائی اور ذمہ داری ارباب اقتدار کے سر ہوگی۔ (ماہنامہ لولاک)
مردے کا منہ قبلہ سے پھر گیا ٭ آدھی کوٹ ضلع خوشاب کے نزدیک امام الدین نامی ایک قادیانی رہتا تھا۔ جب 1974ء کی طوفانی تحریک ختم نبوت اٹھی تو مسلمانوں کے غیظ و غضب کو دیکھتے ہوئے امام الدین قادیانی نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مسلمانوں نے اس کے اسلام قبول کرنے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ امام الدین مساجد میں نماز پڑھنے لگا۔ مسلمانوں کی شادی غمی میں شرکت کرنے لگا۔ لیکن وہ منافق اندر ہی اندر قادیانیوں سے رابطے رکھتا اور انہیں مسلمانوں کی ساری خبروں سے آگاہ کرتا۔ لیکن مسلمانوں کو اس جاسوس کا پتہ نہ چلا۔ ایک دن امام الدین قادیانی بیمار ہوا اور چل بسا۔ مسلمانوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا، نماز جنازہ پڑھائی، لحد تک ساتھ گئے۔ جب اسے قبر میں لٹایا گیا تو ایک مولوی صاحب قبر میں اترے اور انہوں نے اس کا چہرہ مخالف سمت سے قبلہ رخ کر دیا۔ ایک زور دار جھٹکا لگا اور مردے کا منہ دوسری طرف ہو گیا۔ مولوی صاحب نے سمجھا کہ شاید میرا پاؤں لگ گیا ہے۔ انہوں نے دوبارہ اس کا منہ قبلہ رخ کیا، لیکن پھر ایک جھٹکا لگا اور منہ دوسری طرف ہو گیا۔ مولوی صاحب کہتے ہیں: جب تیسری دفعہ بھی اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے ہٹ گیا تو میرے دل میں یہ القاء ہو گیا کہ یہ شخص قادیانی ہے اور اس نے صرف مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔ سارے حاضرین اس واقعہ کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے اور جلدی جلدی قبر پر مٹی ڈال کر اپنے گھروں کو بھاگ گئے۔
مدفن ہے یہ کسی گستاخ رسولؐ کا
جماعت احمدیہ کے نئے خلیفہ کے
انتخاب کے موقع پر ربوہ میں ہنگامہ آرائی
خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد کو اغوا کرنے کی کوشش ۔۔۔
جماعت سخت انتشار کا شکار
فیصل آباد ۱۰ جون (صفدر بخاری نمائندہ نوائے وقت) جماعت احمدیہ ربوہ نئے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر انتشار کا شکار ہو گئی، چنانچہ آج ربوہ میں نئے خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں حتمی اعلان سے قبل مسجد مبارک کے باہر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور دو گروپوں میں نصف گھنٹہ تک ہاتھاپائی ہوتی رہی ۔ خلافت کے ایک امیدوار مرزا رفیع احمد تو مجلس مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر آگئے تھے ۔ انہیں ایک کار میں ڈال کر اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جماعت احمدیہ کی مشاورت کا اجلاس آج دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ربوہ مسجد مبارک میں شروع ہوا ۔ اجلاس شروع ہوتے ہی مسجد کی بیرونی دیوار کے تمام دروازے مقفل کر دیئے گئے اور کسی کو ان دروازوں کے قریب نہیں جانے دیا گیا ۔ اس عرصہ میں جماعت کے ہزاروں ارکان باہر کھڑے انتخاب کے اعلان کا انتظار کرتے رہے ۔ ڈھائی بجے کے قریب مرزا رفیع احمد مشاورت کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر آئے اور اپنے حامیوں کو لے کر چوک میں جمع ہو گئے ۔ انہوں نے ایک بس کی پچھلی سیڑھی پر کھڑے ہو کر چوک میں مختصر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے خلافت کے اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور انہیں انتخاب خلافت سے خارج کر دیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔
مرزا رفیع احمد نے کہا کہ میں جان دے دوں گا۔ آپ میری جان لے لیں۔ اس پر مرزا طاہر احمد کے حامی بھی وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے مرزا رفیع کو بس سے اتار لیا۔ اس پر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ چوک میں دونوں گروپوں میں تقریباً نصف گھنٹہ تک ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ اس عرصہ میں مرزا رفیع احمد کو ایک کار نمبر اے جے کے ۳۰۰ میں زبردستی بٹھانے کی کوشش کی گئی مگر ان کے حامیوں نے یہ کوشش ناکام بنادی۔ جس کے بعد مخالف گروپ کے ارکان مرزا رفیع احمد اور ان کے حامیوں کو ان کے گھروں کی طرف جانے والی سڑک پر دھکیلنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ سڑک بند کر دی گئی تاکہ کوئی بھی شخص مرزا رفیع احمد کے پاس نہ پہنچ سکے۔ اس واقعہ کے بعد مرزا رفیع احمد اپنے گھر چلے گئے۔
سوا تین بجے مسجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا گیا کہ مجلس مشاورت نے متفقہ طور پر مرزا طاہر احمد کو جماعت احمدیہ کا چوتھا خلیفہ منتخب کیا ہے۔ جس کے بعد مرزا طاہر احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ بہت گنہگار ہیں تاہم جماعت نے ان کے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈالی ہیں، وہ انہیں نبھانے کی کوشش کریں گے۔ پانچ بجے کے بعد مرزا ناصر احمد کی تدفین کی رسومات ادا کی گئیں۔ جن میں سابق وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ خاں، ایم ایم احمد اور جماعت کے دیگر لیڈر بھی شریک ہوئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز بھی ایک گروپ نے یہ نعرے لگائے تھے کہ خلیفہ ایک مخصوص کنبہ کی بجائے ان میں سے منتخب کیا جائے۔ اس طرح اب جماعت احمدیہ تین گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ جن میں ایک مرزا طاہر احمد اور دوسرا مرزا رفیع احمد کا حامی ہے۔
جب کہ تیسرا گروپ خلیفہ کا انتخاب جماعت کے عام ارکان میں سے چاہتا ہے۔
دریں اثنا مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے وضاحت کی ہے کہ پروفیسر صوفی بشارت رحمٰن اور پروفیسر حبیب اللہ کو جو مجلس کار پردازان انجمن احمدیہ کے صدر اور سیکرٹری ہیں، قادیانیت سے خارج کر کے اور ملازمت سے برطرف کر کے سزا کے طور پر ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے۔ البتہ قصر خلافت کے ایک انتہائی قریبی اور فعال قادیانی نے اسلام قبول کیا ہے جس کا نام مناسب وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔
(نوائے وقت، ۱۱ جون ۱۹۸۲ء)
ربوہ کی پُر اسرار کہانیاں
تحقیق و تدوین محمد طاہر عبدالرزاق
- ربوہ کیسے بنا؟ کیوں بنا؟ کس نے بنایا؟ کس نے بنوایا؟
- ربوہ! وطن عزیز پاکستان میں الگ ریاست ۔۔۔ الگ حکومت
- ربوہ کی نظارتیں ۔ ربوہ کی وزارتیں ۔ ربوہ کے اشٹام پیپر ۔ ربوہ کا سٹیٹ بنک ۔ ربوہ کی پولیس ۔ ربوہ کی
عدالتیں ۔ ریاست در ریاست کا ایک خوفناک منصوبہ
- ربوہ کے مظلوم عوام ۔ جابر حکمران ۔ ظالم خلافتی کارندے ۔ ایک کانپتی ہوئی کہانی
- ربوہ کا نام قادیانیوں نے کہاں سے چرایا؟ کیوں چرایا؟ دجل وتلبیس کی ایک داستان
- زمین قادیانی خلافت کی ۔ مکانات کی تعمیر غریب مکینوں کی۔ اور ملکیت قادیانی خلافت کی۔ جھوٹی نبوت کے
پنجروں میں مقید قادیانی عوام ۔ ایک روتا ہوا منظر
- درجنوں چندوں کے پھندے ۔ وصولی کے طریقے ۔ معاشی پھانسی چڑھتے قادیانی عوام ۔ انسانی حقوق
کے ادارے کہاں ہیں ؟
- بہشتی مقبرے کا فریب ۔ نام نہاد جنت کی ایڈوانس بکنگ ۔ اربوں کے بزنس ۔ جھوٹ کے قہقہے ۔ سچ کے آنسو
- ربوہ میں خلافت کی لڑائی ۔ خلیفوں کی مار کٹائی ۔ سرعام بزم رسوائی
- ربوہ کی تہذیب ۔ قوم لوط کی بستی ۔ پامال عصمتیں ۔ مجبور عورتیں ۔ مکار شکاری ۔ ایک ایسا کریہہ منظر جسے دیکھ
کر انسانیت کی پیشانی عرق آلود ہو جاتی ہے۔
- جسٹس صمدانی کا دورہ ربوہ ۔ کیا دیکھا؟ کیا پایا؟ نقاب الٹتی ایک کہانی ۔
- 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جب پورے ملک میں بلیک آؤٹ ہوتا تھا۔ تو ربوہ کی ساری لائیٹیں
کیوں جلائی جاتی تھیں؟
- امریکی سفیر، اسرائیلی اور بھارتی جاسوس ربوہ میں کیوں آتے تھے؟
- ربوہ میں مسلمان کیسے داخل ہوئے ؟ مساجد کیسے بنیں؟ ادارے کیسے وجود میں آئے؟ مسلم کالونی کیسے
آباد کی گئی؟ زمینیں کیسے خریدی گئیں؟ ربوہ میں پہلی ختم نبوت کانفرنس کب اور کیسے ہوئی؟ پہلی نماز کہاں ادا کی گئی؟ امامت کا شرف کسے ملا؟ پہلا جمعہ کہاں پڑھایا گیا؟ جمعہ پڑھانے کی سعادت کسے حاصل ہوئی؟ ایک راز اگلتی تاریخ ۔ ایک انکشافاتی داستان ۔ ایک لہو رلاتی کہانی !!
مطالعہ فرمائیے ........... کہ یہ اس کتاب کا حق ہے
صفحات : 208 قیمت -/100 روپے، مجاہدین ختم نبوت کے لیے خصوصی رعایت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان