اسلام مخالف اور پاکستان دشمن این جی اوز کا بھیانک کردار
حقوق انسانی
کی آڑ میں
ترتیب و تحقیق
محمد متین خالد
”یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی سرحدیں بھی ہیں۔ ملک بھر میں غلیظ مکھیوں کی طرح پھیلی ہوئی ہماری این جی اوز مغرب کے اشارے پر مسلسل ہماری نظریاتی سرحدوں پر حملے کرتی رہتی ہیں۔ ان کا ایجنڈہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کی سرگرمیاں شریعت اور قرآن مجید کو (نعوذ باللہ) نا قابل عمل قرار دلوانے، ارتداد کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے نور ایمان کی دولت ختم کرنے، جہاد کو دہشت گردی قرار دینے، قانون توہین رسالت اور حدود قوانین کو ختم کرنے، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور دیگر گستاخان رسولؐ کی حمایت و تائید کرنے، دینی مدارس پر پابندی لگانے، اسلامی تعلیم کے خاتمے، مخلوط انتخابات کروانے، اسلامی کلچر کے بجائے سیکولر ازم کو فروغ دینے، یہودیت اور عیسائیت کے غلبے، ایٹمی پروگرام کی مخالفت، سی ٹی بی پر دستخط کرنے، فوج کا سائز کم کرنے، ڈاکٹر قدیر ایسے محسن پاکستان کو بے توقیر کرنے، مسئلہ کشمیر پر قومی موقف کو سبوتاژ کرنے، مسلمانوں کو تہذیبی طور پر غلام بنانے، مشترکہ خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے، خاتون خانہ کو گھر سے نکال کر شمع محفل بنانے، طوائفوں کو جنسی ورکر قرار دینے، گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو خاندان سے متنفر کرنے، اسقاط حمل اور کنڈوم کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہی وقف ہیں۔“
اسلام مخالف اور پاکستان
حقوق
کی
عالم ک مجا حضور ق
اسلام مخالف اور پاکستان دشمن این جی اوز کا بھیانک کردار
حقوق انسانی
کی آڑ میں
ترتیب و تحقیق:
محمد متین خالد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
فون: 514122
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ
نام کتاب .................... حقوق انسانی کی آڑ میں ترتیب و تحقیق .................... محمد متین خالد ناشر .................... مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان مطبع .................... جوہر رحمانیہ پرنٹرز لاہور سرورق .................... محمد عامر سعید کمپوزنگ .................... محمد حفیظ / فراز کمپوزنگ سنٹر لاہور سن اشاعت .................... مارچ 2003ء قیمت .................... -/200 روپے
ملنے کا پتہ
علم و عرفان پبلشرز
34-اردو بازار لاہور۔ فون: 7352332
مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122
- انتساب
- حقوق انسانی کے نام پر!
- اسلام اور بنیادی انسانی حقوق
- سیرت النبیؐ اور انسانی حقوق
- انسانی بنیادی حقوق
- امریکہ طالبان اور اسلام
- انسانی حقوق کے علمبرداروں
- امریکہ اور انسانی حقوق کی پامالی
- یورپ میں شرف انسانی کی تذلیل
- حکومت این جی اوز اور امریکہ
- انوکھے ”انسانی حقوق“ کی علمبردار
- آوارہ کتوں کے حقوق
- رواداری اور حقوق انسانی
- یورپ کے حقوق انسانی اور ہمارا
- عراق میں امریکی بربریت اور حقوق
محفوظ حقوق انسانی کی آڑ میں محمد متین خالد مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان جوہر رحمانیہ پرنٹرز لاہور محمد عامر سعید محمد حفیظ / فراز کمپوزنگ سنٹر، لاہور مارچ 2003ء -/200 روپے
شرز 7352332
ت 514122
فہرست
- انتساب 11
- حقوق انسانی کے نام پر! محمد متین خالد 13
- اسلام اور بنیادی انسانی حقوق ڈاکٹر خالد علوی 21
- سیرت النبیؐ اور انسانی حقوق جسٹس (ر) مولانا محمد تقی عثمانی 44
- انسانی بنیادی حقوق محمد صلاح الدین 62
- امریکہ طالبان اور اسلام احمد کامران 79
- انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ احمد شاکر 84
- امریکہ اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی محمد عطا اللہ صدیقی 88
- یورپ میں شرف انسانی کی بنیاد مولانا زاہد الراشدی 97
- حکومت این جی اوز اور امریکہ انوار حسین ہاشمی 99
- الو کے ”انسانی حقوق“ مگر انسان کے؟ ڈاکٹر صفدر محمود 113
- آوارہ کتوں کے حقوق حامد میر 115
- رواداری اور حقوق انسانی ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری 117
- یورپ کے حقوق انسانی اور بوسنیا ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری 143
- عراق میں امریکی بربریت اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی عزیز الرحمن ثانی 176
- فرنگی کی دورنگی عبداللہ قدوس محمدی 177
- بنیادی انسانی حقوق کا عالمی دن اداریہ روزنامہ ”دن“ 179
- غیرملکی این جی اوز اور بنگلہ دیش نورالزماں 181
- تعلیم میں بیرونی معاونت کا نظریاتی پہلو آغا مرتضیٰ پویا 194
- این جی اوز کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ عبدالرشید ارشد 198
- این جی اوز کی گھناؤنی سرگرمیاں موسیٰ خاں جلالزئی 207
- تم صرف نام کے مسلمان ہو؟ حامد میر 213
- یقین نہیں آتا !!! حامد میر 215
- پاکستان میں بے دین این جی اوز کا کردار عبدالرشید ارشد 217
- عاصمہ جہانگیر اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی ابو عفان 225
- تحریک نسواں کی اصل حقیقت؟ محمد عطا اللہ صدیقی 231
- انسانی حقوق حق وباطل کے درمیاں عبدالعزیز کامل 240
- این جی اوز کا مجرمانہ کردار شہناز ماجد 254
- این جی اوز کا حقوق نسواں کے حصول میں کردار ڈاکٹر ام کلثوم 256
- این جی اوز اور ان کی سرگرمیاں مسز تنویر ندیم 263
- خواتین عالمی کانفرنس ...... پس پردہ حقائق عظیم ایم میاں 268
- این جی اوز کا اخلاقی اقدار پر حملہ اے حمید 273
- مشرق کے آخری قلعے پر مغرب کی یلغار صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی 279
- ورکنگ ویمن، صیہونی ادارے، کمیٹی بیگمات حافظ شفیق الرحمن 283
- بال ٹھاکرے کی داسیوں کا ایجنڈا حافظ شفیق الرحمن 286
- این جی او کا تھیٹر اور جھوٹوں کی نانی
- رانی جھانسیاں اور بہانے
- آستین کے سانپ
- چائلڈ لیبر کی آڑ میں ملکہ
- این جی اوز فٹ پاتھوں کا ما
- امریکی بچے اور انسانی حقو
- این جی اوز کے شیطانی ح
- قبضہ گروپ این جی اوز اور
- بین الاقوامی لابیاں، قادی
بعض پاکستانی دانشور
- انسانی حقوق اور قادیانی
- قادیانیت اور حقوق انس
- بنیادی انسانی حقوق کا
- قومی اسمبلی میں مذہبی آم
دلچسپ بحث (پارلیمن
- تحفظ ناموس رسالت کی
- انسانی حقوق کی تنظیموں
- این جی اوز کی گھاتیں ا
- این جی اوز کے گملے
- لاکھوں ڈالر کہاں خرچ
... Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
- ☐ اجوکا تھئیٹر اور جھوٹوں کی نانی حافظ شفیق الرحمن 289
- ☐ رانی جھانسیاں اور جھانسے حافظ شفیق الرحمن 292
- ☐ آستین کے سانپ عبدالقادر حسن 295
- ☐ چائلڈ لیبر کی آڑ میں ملک دشمنی محمد متین خالد 397
- ☐ این جی اوز فٹ پاتھیں لاوارث بچے حافظ شفیق الرحمن 311
- ☐ امریکی بچے اور انسانی حقوق واجد علی ہاشمی 315
- ☐ این جی اوز کے شیطانی حربے ڈاکٹر ابو سلمان 318
- ☐ قبضہ گروپ این جی اوز اور 7 عیسائیوں کا قتل قاضی جاوید 333
- ☐ بین الاقوامی لابیاں قادیانی گروہ اور
بعض پاکستانی دانشور مولانا زاہد الراشدی 337
- ☐ انسانی حقوق اور قادیانی جماعت پروفیسر منور احمد ملک 344
- ☐ قادیانیت اور حقوق انسانی مولانا زاہد الراشدی 348
- ☐ بنیادی انسانی حقوق کا آئینی تصور اور قادیانی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ 358
- ☐ قومی اسمبلی میں مذہبی آزادی کے حوالے سے
دلچسپ بحث (پارلیمنٹ کی کارروائی سے) مولانا اللہ وسایا 368
- ☐ تحفظ ناموس رسالت کے بعد....... محمد عطا اللہ صدیقی 379
- ☐ انسانی حقوق کی تنظیموں کا اصل کردار بے نقاب قاضی کاشف نیاز 383
- ☐ این جی اوز کی گھاتیں اور وارداتیں انوار حسین ہاشمی 391
- ☐ این جی اوز کے گھپلے افضال طالب 398
- ☐ لاکھوں ڈالر کہاں خرچ ہورہے ہیں؟ عابد تہامی 412
Prophet Muhammad ؐ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ؐ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ؐ. v - Prophet ؐ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ؐ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
- این جی اوز مافیا کی بوکھلاہٹ محمد عطا اللہ صدیقی 419
- سامراج کے لشکری حافظ شفیق الرحمٰن 423
- این جی اوز اور حقائق ڈاکٹر فخر الاسلام 436
- این جی اوز کی ملک دشمن سرگرمیاں اداریہ ”ضرب مومن“ 443
- پڑھتا جا شرماتا جا محمد متین خالد 445
- غیر ملکی امداد پر پلنے والی خطرناک این جی اوز 445
- یہ ہے یورپ 446
- مغرب سے روشنی حاصل کرنے والی این جی اوز 447
- نادان دوست 448
- غیر مسلم این جی اوز کی انسانی ہمدردی؟ 448
- کاغذی این جی اوز 448
- کنڈوم کلچر 449
- انسانی حقوق کے دعویداروں کا معیار انصاف 450
- منافقت 451
- اکبر بگٹی کا اصل چہرہ 452
- پاکستانی فرعون 453
- مغرب کا شیطانی منصوبہ 453
- کتوں کی این جی اوز 454
- منافق این جی اوز 455
- سزائے موت اور انسانی حقوق! 455
- عورت میڈیا
- پاکستانی این جی
- آئی لو اسرائیل
- بھارتی سرپرا
- پاکستان کے
- پاکستان دشمن
- جرمن این جی
- لمبے ہاتھ
- اسلام اور انس
- این جی اوز ا
- سٹیٹ در سٹیٹ
- شیعہ سنی فساد کی
y Counts?
- قائد اعظم کے
- میری این جی او (نظم)
hammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
محمد عطا اللہ صدیقی 419 حافظ شفیق الرحمٰن 423 ڈاکٹر فخر الاسلام 436 اداریہ ”ضربِ مومن“ 443 ...شین خالد 445 445 446 ...آواز 447 448 448 448 449 450 451 452 453 453 454 455 455
عورت، میڈیا اور مغرب ❀ 456 پاکستانی این جی اوز کی آئین سے محبت ❀ 457 آئی لو اسرائیل ❀ 458 بھارتی سر پرستی ❀ 458 پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش ❀ 459 پاکستان دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ❀ 460 جرمن این جی او اور ہم جنس پرستی ❀ 460 لمبے ہاتھ ❀ 462 اسلام اور انسانی حقوق ❀ 463 این جی اوز اور ان کی مخفی سرگرمیاں ❀ 465 سٹیٹ ورسٹیٹ ❀ 468 شیعہ سنی فساد کی ذمہ دار این جی اوز ❀ 469 Who's Reality Counts? ❀ 470 قائد اعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی ❀ 471 میری این جی او (نظم) ◻ ریاض الرحمٰن ساغر 473
❀❀❀
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
آبروئے اسلامیان پاکستان ب
محترمہ آ
جنہوں نے
- سب سے پہلے پارلیمنٹ میں قانون
- اہم اسلامی قوانین کے نفاذ م
- اسلام مخالف این جی اوز کے
کاش ! ان کے بلند اق کے نقش قدم پر چلنے کی ے ایسی چنگاری بھی
بسم الله الرحمن الرحيم
حقوق انسانی
کی آڑ میں
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
انتساب
آبروئے اسلامیانِ پاکستان، مجاہدۂ تحفظ ناموس رسالت ﷺ، عفت مآب
محترمہ آپا نثار فاطمہؒ
کے نام
جنہوں نے
- سب سے پہلے پارلیمنٹ میں قانون توہین رسالت ﷺ کی قرارداد پیش کی۔
- اہم اسلامی قوانین کے نفاذ میں مخلصانہ کردار ادا کیا۔
- اسلام مخالف این جی اوز کے خلاف بھر پور تحریک چلائی۔
کاش! ان کے بلند اقبال صاحبزادے بھی اپنی والدہ محترمہ کے نقش قدم پر چلنے کی بطریق احسن سعی و آرزو کرتے !!!
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19— How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophethood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
حقوق انسانی کے نام پر!
دنیا میں انسانی حقوق کے لیے سب سے پہلا اور عظیم چارٹر نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کی صورت میں پیش کیا جس میں تمام انسانیت کے حقوق کا تحفظ اور تعین ہے۔ حتیٰ کہ اس میں دشمن اور اقلیتوں کے حقوق کا تعین بھی کر دیا گیا ہے۔ مغرب کے جید مفکرین اور دانشور انسانی حقوق کے بارے میں کنگ جان کے ”میگنا کارٹا“ اور روسو کے ”سوشل کنٹریکٹ“ کا حوالہ دیتے ہیں ۔ حالانکہ ان میں صرف سیاست دانوں ، امراء اور مخصوص طبقات کے حقوق کا تذکرہ وتحفظ کیا گیا ہے ، جبکہ عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کی سرے سے کوئی بات نہیں کی گئی ۔ دنیا بھر میں آکاس بیل کی طرح پھیلی ہوئی حقوق انسانی کی تنظیمیں اسی قانون اور نظریے کے تحت کام کرتی ہیں ۔ اس تناظر میں ان تنظیموں سے متعلقہ حقائق تلخ ہیں اور مضحکہ خیز بھی ۔ ان کی مبہم، پراسرار اور مشکوک سرگرمیاں ہمیشہ سے ہی موضوع بحث رہی ہیں ۔ یہ تنظیمیں بااثر ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے احتساب سے ماوراء ہیں ۔ یہ صرف اور صرف مفاد خویش کی قائل ہیں ۔ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ۔ آہستہ آہستہ اب یہ ادارے ”مقدس گائے“ کی حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔
یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ سرزمین پاکستان اسلام بیزار اور پاکستان دشمن این جی اوز کے لیے شروع ہی سے زرخیز اور ثمر ریز ثابت ہوئی ہے۔ مقتدر طبقات کی اغراض پرستیوں اور نااہلیوں نے انہیں ہمیشہ ”فری ہینڈ“ فراہم کیا کہ وہ اس ملک کی سلامتی واستحکام کا دامن جس طرح چاہیں، چاک کریں ۔ یہاں انہیں خصوصی اجازت رہی ہے کہ وہ جب اور جس طرح چاہیں، اپنے غیر ملکی آقاؤں کے عزائم کی تکمیل کریں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہر حکومت نے خواہ وہ سیکولر ہو یا اس نے اپنے چہرے پر اسلام دوستی کا ماسک چڑھا رکھا ہو ، ان اسلام دشمنوں اور وطن فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ہمیشہ ان کی سر پرستی کی، ان کے ناپاک مقاصد وعزائم کی آبیاری کی، انہیں معززین قوم قرار دے کر ”وی آئی پی“ کی حیثیت سے نوازا ۔ جبکہ دوسری طرف ان کے
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19— How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20— According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
خلاف آواز بلند کرنے والے محبان وطن کو حکومت کی طرف سے نہ صرف سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کا تمسخر بھی اڑایا جاتا رہا۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی سرحدیں بھی ہیں۔ ملک بھر میں غلیظ مکھیوں کی طرح پھیلی ہوئی ہماری این جی اوز مغرب کے اشارے پر مسلسل ہماری نظریاتی سرحدوں پر حملے کرتی رہتی ہیں۔ ان کا ایجنڈہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کی سرگرمیاں شریعت اور قرآن مجید کو (نعوذ باللہ) ناقابل عمل قرار دلوانے، ارتداد کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے نور ایمان کی دولت ختم کرنے، جہاد کو دہشت گردی قرار دینے، قانون توہین رسالت اور حدود قوانین کو ختم کرنے، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور دیگر گستاخانِ رسول کی حمایت و تائید کرنے، دینی مدارس پر پابندی لگانے، اسلامی تعلیم کے خاتمے، مخلوط انتخابات کروانے، اسلامی کلچر کے بجائے سیکولر ازم کو فروغ دینے، یہودیت اور عیسائیت کے غلبے، ایٹمی پروگرام کی مخالفت، سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے، فوج کا سائز کم کرنے، ڈاکٹر قدیر ایسے محسن پاکستان کو بے توقیر کرنے، مسئلہ کشمیر پر قومی موقف کو سبوتاژ کرنے، مسلمانوں کو تہذیبی طور پر غلام بنانے، مشترکہ خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے، ہم جنس پرستی کو فروغ دینے، خاتون خانہ کو گھر سے نکال کر شمع محفل بنانے، طوائفوں کو جنسی ورکر قرار دینے، گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو خاندان سے متنفر کرنے، اسقاط حمل اور کنڈوم کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہی وقف ہیں۔
نرم لہجے میں جو کانٹوں کا اثر رکھتے ہیں
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ملحد، سیکولر اور اسلام بیزار عناصر ہی ہماری تعلیمی اور معاشی پالیسیاں بناتے اور ہمارے معاشرتی مقاصد کا تعین کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمیں فکری غلامی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ہمارے ملک کے قانون اور آئین میں دراندازی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی طاقتیں، مغربی ممالک اور ان کے تابع مہمل وہ مالیاتی و خیراتی ادارے، ان این جی اوز کو جو فنڈز دیتے ہیں، وہ محض خیرات یا امداد نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کی جانب سے اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کے لیے دی جانے والی ”پیشگی اجرت“ ہوتی ہے۔ یوں یہ این جی اوز ”اجرتی قاتلوں“ ...... ”پیشہ ور تخریب کاروں“ ...... اور ”کرائے کے گورکنوں“ ...... کا کردار ادا کرتی ہیں۔
عالمی سامراج، مغربی ممالک اور صہیونی مالیاتی اداروں کی اپنی ترجیحات، مفاد اور خواہشیں بہرطور عزیز ہیں جس کی تکمیل وہ اپنی پسندیدہ این جی اوز کے ذریعے ہر حال میں پورا کرواتی ہیں۔
گذشتہ نصف صدی سے چند ترقی یافتہ مم مصروف ہیں۔ اصلاً تو وہ اس سے اپنے بعض مذموم مقا ہیں۔ لیکن کمال عیاری سے انہوں نے اسے احترام ان ایسے ہی ممالک میں امریکہ اور برطانیہ سر فہرست ہیں حقوق انسانی کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کے مر کشمیر، افغانستان، یمن، الجزائر، صومالیہ، فلپائن اور ب میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ 11 ستمبر 2001 مسلمان عورتوں کی عصمت دری، بچوں پر جنسی تشدد، ا اسلامی مراکز پر پتھراؤ روز مرہ کا معمول ہیں۔ مسلما کئے جارہے ہیں وہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ب دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والی زیا متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی عدالت انصاف، ہیومین ر این جی اوز جو انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں، نے ا ہی کبھی نالۂ احتجاج بلند کیا ........... بلکہ ........... ”ارتکاب“ کرتے ہوئے ہمیشہ ظالموں، سفاکوں ا متحدہ تو عالمی سامراج کے ہاتھ میں باقاعدہ قتل انسا
زیر نظر کتاب ”بدی کی محور“ ان این ج منصوبوں نہفتہ ارادوں، خفیہ ریشہ دوانیوں اور زہر ان تہلکہ خیز انکشافات کی روشنی میں ہر محب اسلام ک سوچنا چاہئے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ ان س قول ہے کہ ”جو شخص جھوٹ کے خلاف قدم نہیں اٹھا
بحمدللہ ! ہم قدم علم اور قلم اٹھا چکے ہیں، ا
عالم کے ہاتھ بیچ ک
طرف سے نہ صرف سنگین حالات کا سامنا کرنا
رافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی رح پھیلی ہوئی ہماری این جی اوز مغرب کے رتی رہتی ہیں۔ ان کا ایجنڈہ کسی سے پوشیدہ وذ باللہ ) ناقابل عمل قرار دلوانے، ارتداد کے ختم کرنے، جہاد کو دہشت گردی قرار دینے‘ سلمان رشدی‘ تسلیمہ نسرین اور دیگر گستاخان لگانے، اسلامی تعلیم کے خاتمے، مخلوط انتخابات ش دینے، یہودیت اور عیسائیت کے غلبے‘ ایٹمی ہ کو کم کرنے، ڈاکٹر قدیر ایسے محسن پاکستان کو کرنے، مسلمانوں کو تہذیبی طور پر غلام بنانے، فرار ہونے دینے، خاتون خانہ کو گھر سے نکال کر شمع ر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو خاندان سے متنفر لیے ہی وقف ہیں۔ ڈھنگ تو دیکھے کوئی س کا اثر رکھتے ہیں اسلام بیزار عناصر ہی ہماری تعلیمی اور معاشی کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمیں فکری غلامی کی ر آئین میں در اندازی کرتے ہیں۔ اس کے عمل وہ مالیاتی و خیراتی ادارے، ان این جی اوز ں ہوتی بلکہ یہ ان کی جانب سے اپنے مذموم اقت“ ہوتی ہے۔ یوں یہ این جی اوز ”اجرتی و کے گوریلوں“..... کا کردار ادا کرتی ہیں۔ وں کی اپنی ترجیحات، مفاد اور خواہشیں بہرطور اوز یسے ہر حال میں پورا کرواتی ہیں۔
- Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
گزشتہ نصف صدی سے چند ترقی یافتہ ممالک حقوق انسانی کے نام پر غوغا زنی میں مصروف ہیں۔ اصلاً تو وہ اس سے اپنے بعض مذموم مقاصد کی تکمیل اور مفادات کی تحصیل چاہتے ہیں۔ لیکن کمال عیاری سے انہوں نے اسے احترام انسانیت کا خوشنما نام اور لبادہ پہنا دیا ہے۔ ایسے ہی ممالک میں امریکہ اور برطانیہ سرفہرست ہیں۔ یہ دونوں ممالک حقوق انسانی کے نام پر حقوق انسانی کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ کوسوو، چیچنیا، فلسطین، کشمیر، افغانستان، یمن، الجزائر، صومالیہ، فلپائن اور برما وغیرہ میں لاکھوں بے گناہ افراد کے قتل میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ 11 ستمبر 2001 کے بعد خود امریکہ اور یورپی ممالک میں مسلمان عورتوں کی عصمت دری، بچوں پر جنسی تشدد، اغواء، مار پیٹ، غیر ضروری تلاشی، مساجد اور اسلامی مراکز پر پتھراؤ روزمرہ کا معمول ہیں۔ مسلمانوں کے انسانی حقوق جس طرح وہاں پامال کئے جا رہے ہیں‘ وہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں اور مظالم پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی عدالت انصاف، ہیومن رائٹس واچ، انسانی حقوق کمیشن جنیوا اور دیگر این جی اوز جو انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں، نے آج تک ان کے خلاف کوئی آواز اٹھائی اور نہ ہی کبھی نالۂ احتجاج بلند کیا.............. بلکہ.............. انہوں نے اس باب میں گھٹیا ترین ڈھٹائی کا ”ارتکاب“ کرتے ہوئے ہمیشہ ظالموں، سفاکوں اور قاتلوں کی پیٹھ ٹھونکی۔ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ تو عالمی سامراج کے ہاتھ میں باقاعدہ ”قتل انسانیت“ کا لائسنس تھماتے رہے۔
زیر نظر کتاب ”بدی کی محور“ ان این جی اوز کی ایسی ہی در پردہ سازشوں، سربستہ منصوبوں، نہفتہ ارادوں، خفیہ ریشہ دوانیوں اور زیر زمین مذموم کارروائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان تہلکہ خیز انکشافات کی روشنی میں ہر محب اسلام پاکستانی کو اپنے دین اور وطن کی فکر کرتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ ان سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتا ہے؟ ایک مفکر کا قول ہے کہ ”جو شخص جھوٹ کے خلاف قدم نہیں اٹھاتا، وہ سچائی کا انکار کرتا ہے“۔
بحمد للہ! ہم قدم، علم اور قلم اٹھا چکے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ
عالم کے ہاتھ پہنچیں گے عالم پناہ تک
محمد متین خالد
ii - Prophet muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
حقوق ا
دنیا میں انسانی حقوق کے الوداع کی صورت میں پیش کیا جس میں میں دشمن اور اقلیتوں کے حقوق کا تعین بھی حقوق کے بارے میں گنگ جان کے تـ ہیں۔ حالانکہ ان میں صرف سیاست داں گیا ہے، جبکہ عام آدمی کے حقوق کے تـ بیل کی طرح پھیلی ہوئی حقوق انسانی کی تناظر میں ان تنظیموں سے متعلقہ حقائق سرگرمیاں ہمیشہ سے ہی موضوع بحث احتساب سے ماوراء ہیں۔ یہ صرف اور حقوق کی کوئی اہمیت نہیں۔ آہستہ آہستہ جارہے ہیں۔
یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ کے لیے شروع ہی سے زرخیز اور ثمر ور نااہلیوں نے انہیں ہمیشہ ”فری ہینڈ“ فراہـ چاہیں، چاک کریں۔ یہاں انہیں خصوصی غیر ملکی آقاؤں کے عزائم کی تکمیل کریں اس نے اپنے چہرے پر اسلام دوستی کا ماسک خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ہمیشہ کی انہیں معززین قوم قرار دے کر ’وی آ
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
توہین رسالت کے قانون کو غیر مسلم کسی طور پر بھی قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ اس کی اہمیت ان کے لیے بھی غیر معمولی ہے۔ راہبائیں (نن) جو لباس پہنتی ہیں، وہ مقدس مانا جاتا ہے مگر مسلم خاتون کا سر ڈھانکنا اور حیا دار لباس معترضہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ عیسائی مرد وعورت اگر صلیب (کراس) کا نشان گلے میں ڈال کر برسرعام رہیں، گلے میں اسی صلیب کی علامت کے لیے ٹائی باندھیں یا بو لگائیں، سرعام سینے پر کراس بنانے کے لیے انگلیاں گھمائیں تو اسے ہرگز ناروا نہیں سمجھا جاتا لیکن مسلمان کو دینی و شرعی صورت وسیرت اور لباس و اعمال پر معترضہ قرار دیا جاتا ہے۔ چرچ کی عمارت پر گھنٹیاں بجیں تو درست ہیں، مسجد سے اذانوں کی آوازیں بلند کی جائیں تو اسے انہیں ملکوں میں سماعت پر بوجھ، نیند کش اور معترضہ قرار دیا جاتا ہے۔ دوغلے اور دوہرے معیار اور سلوک کی نہ جانے کتنی مثالیں ہیں جو ان ملکوں میں نمایاں نظر آتی ہیں جو انسانی آزادی اور انسانی حقوق کے علمبردار کہلاتے ہی نہیں، دعویدار بھی بنتے ہیں۔ انسان کی تعریف اب ہر حکومت کے نزدیک وہی مقبول ہے جو ان کی خود ساختہ ہے، انسانیت کی درجہ بندی اور حقوق طے کرنا بھی ان کی اپنی اپنی کابینہ کے دائرہ اختیار میں ہیں!! کبھی یہی لوگ ظلم وستم، جور وجفا اور جبر واستبداد کے خلاف احتجاج اور جدوجہد کو انسانی حقوق میں شمار کرتے ہیں اور پھر یہی لوگ حقدار کو مجرم قرار دیتے ہیں۔ نہ وہ اپنی پہلی رائے کو غلطی گردانتے ہیں نہ ہی دوسرے فیصلے کو غلط جانتے ہیں!!
۞ ۞ ۞
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
توہین رسالت کے قانون کو غیر حالانکہ اس کی اہمیت ان کے لیے بھی جنہیں وہ مقدس مانتا ہے مگر ٹھہرایا جاتا ہے۔ عیسائی مرد و عورت ا بر سر عام پہنیں گلے میں اسی صلیب کی سر عام سینے پر کراس بنانے کے لیے انگلیاں لیکن مسلمان کو دینی و شرعی صورت وسیرت ہے۔ چرچ کی عمارت پر گھنٹیاں بجیں تو درست بلند کی جائیں تو اسے انہیں ملکوں میں سماعت پر ہے۔ دوغلے اور دوہرے معیار اور سلوک کی نہ میں نمایاں نظر آتی ہیں جو انسانی آزادی اور انسا کے دعویدار بھی بنتے ہیں۔ انسان کی تعریف اب وہی جو ان کی خود ساختہ ہے انسانیت کی درجہ بندی ا اپنی کابینہ کے دائرہ اختیار میں ہیں !! سبھی یہی لوگ ظلم کے خلاف احتجاج اور جدوجہد کو انسانی حقوق میں شا حقدار کو مجرم قرار دیتے ہیں۔ نہ وہ اپنی پہلی رائے کو غلط فیصلے کو غلط جانتے ہیں!!
۞ ۞ ۞
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
حقوق انسانی
کی آڑ میں
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19– How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20– According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21– Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22– “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
ڈاکٹر خالد علوی
اسلام اور بنیادی انسانی حقوق
دور حاضر میں انسانی حقوق کی بات ایک فیشن کی صورت اختیار کر گئی ہے اور اس کا سبب وہ ظلم و جور ہے جو انسان نے روا رکھا ہے۔ اسی لیے انسان کے بارے میں خود انسانوں کے درمیان بار بار یہ سوال پیدا ہوتا رہا ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں؟ بقول سید ابوالاعلیٰ مودودی:
”قانون فطرت نے ایک حیوان کو دوسرے حیوان کے لیے اگر غذا بنایا ہے تو وہ صرف غذا کی حد تک ہی اس پر دست درازی کرتا ہے، کوئی درندہ ایسا نہیں ہے جو غذائی ضروریات کے بغیر بلاوجہ جانوروں کو ہلاک کرتا ہو....... یہ انسان ہی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے بے نیاز ہو کر اسی کی دی ہوئی قوتوں سے اپنی ہی جنس پر ظلم ڈھانے شروع کر دیئے۔ ایک اندازہ کے مطابق انسان کے اس روئے ارض پر آنے سے آج تک تمام حیوانات نے اتنے انسانوں کی جان نہیں لی جتنی انسانوں نے صرف دوسری جنگ عظیم میں انسان کی جان لی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ انسان کو دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی تمیز نہیں ہے۔ خالقِ انسان ہی نے اس سلسلہ میں انسان کی رہبری کی اور پیغمبروں کی وساطت سے انسانی حقوق کی واقفیت بہم پہنچائی ہے۔“
(ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست ص ۵۵۰)
انسان اجتماعی شعور رکھنے والی مخلوق ہے اور اجتماعیت کا پہلا تقاضا حقوق و فرائض کا تعین اور اس کے مطابق عمل ہے جس کے بغیر کوئی اجتماعیت، خواہ سادہ ہو یا ریاست کی صورت میں منظم، قطعاً نہیں چل سکتی۔ باہمی زندگی میں ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کا اصول ضروری ہے ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ ابن سینا نے ”الشفاء“ میں لکھا ہے کہ انسان اجتماعی مزاج رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی سے روابط پیدا ہوتے ہیں اور ان روابط کی تنظیم کے لیے انسان قوانین کا محتاج ہے۔ یہ قوانین حقوق و فرائض کا بھی تعین کرتے ہیں۔ حقوق کی تفصیلی بحث میں جانے سے قبل یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حق کے مفہوم کا تعین کر لیا جائے۔ حقوق حق کی جمع ہے اور اس کے اصلی معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں۔ علمائے لغت نے حق کے کئی معنی بیان کیے ہیں لیکن عام طور پر چار معانی میں یہ استعمال ہوتا ہے جن کا
ذکر کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔
حق کے عام معنی لازم ہیں۔ واجب اور جائز کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد وہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے جو کسی اور نسبت سے ایک آدمی پر عائد ہوتی ہے۔ حقوق و فرائض کا گہرا تعلق ہے۔ اگر ایک کے حقوق ہیں تو وہی دوسرے کے فرائض بن جاتے ہیں۔ حق کے تصور سے متعلق متعدد نظریے پیش کیے جا چکے ہیں۔ مثلاً قدرتی، قانونی، تاریخی، کائناتی اور فلاحی نظریے وغیرہ۔ حقوق کے ان تمام نظریات میں زندگی اور سوسائٹی کے کسی ایک پہلو کا ذکر ملتا ہے مثلاً فرد، ریاست اور اخلاق وغیرہ۔ ان میں تجربہ و مشاہدہ کو کسی نہ کسی طرح غالب حیثیت دی گئی ہے۔ اس طرح وہ توازن ممکن نہیں رہتا جو معاشرے کے اطمینان وسکون کے لیے ضروری ہے۔
دورِ حاضر میں انسانی حقوق کے شعور کا ارتقاء
حقوقِ انسانی کے اسلامی تصور پر گفتگو کرنے سے قبل دورِ حاضر میں حقوق کے شعور کی ارتقائی تاریخ کا سرسری جائزہ لے لیں تو مناسب ہو گا تاکہ انسانی کوششوں کے نقص اور الہامی ہدایت کے اکمال کی حقیقت ظاہر و ثابت ہو جائے۔
- ۱۔ بنیادی حقوق کی جدوجہد کا اصل آغاز گیارہویں صدی میں برطانیہ میں ہوا جہاں ۱۰۳۷ء
میں شاہ کانریڈ ثانی (Conrad II) نے ایک منشور جاری کر کے پارلیمنٹ کے اختیارات متعین کیے۔ اس منشور کے بعد پارلیمنٹ نے اپنے اختیارات میں توسیع کی کوششیں شروع کیں۔ ۱۱۸۸ء میں شاہ الفانسو نہم (Alfonso IX) سے حبس بے جا کا اصول تسلیم کرا لیا گیا۔ انگلستان میں شہنشاہ جان (King John) نے ۱۲۱۵ء میں جو میگنا کارٹا جاری کیا تھا وہ دراصل اس کے امراء (Barons) کے دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس میں زیادہ تر امراء ہی کا مفاد تھا۔ اس کی رو سے تحقیق جرم رو بروئے مجلس قضا، حبس بے جا کے خلاف دادرسی اور ٹیکس لگانے کے اختیارات انگلستان کے باشندوں کو حاصل تھے۔ اس کی حیثیت ایک معاہدہ کی سی تھی جس میں امراء کے مفادات کا تحفظ کیا گیا تھا۔ ہنری مارش (Henry Marsh) کے بقول:
”بڑے بڑے جاگیرداروں کے ایک منشور کے سوا اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔“
(Documents of Liberty/51)
۱۳۵۰ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے میگنا کارٹا کی توثیق کر کے قانونی چارہ جوئی (Due Process of law) کا قانون منظور کیا جس کے تحت کسی شخص کو عدالتی کارروائی کے بغیر زمین سے بے دخل یا قید نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اسے سزائے موت بھی نہیں دی جاسکتی تھی۔ چودھویں صدی سے سولہویں صدی تک آمریت اور بادشاہت پوری طرح حاوی رہی اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں کوئی نمایاں کامیابی نہیں ہوئی۔ سترہویں صدی میں پھر انسانی حقوق کی طرف توجہ دی گئی۔ ۱۶۷۹ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے حبس بے جا کا قانون منظور کیا جس سے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم ہوا اور
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
۱۶۸۹ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے قانون ۔ دستوری تاریخ کی اہم ترین دستاویز ہے۔ ا کی وضاحتوں کی کتابیں لکھیں۔ "ment John Locks نے لکھی اور فرد کے حقوق مشہور فرانسیسی مفکر روسو (aue جس میں ہابس اور لاک کے تصور معاہدہ عمرا
- ۲۔ انقلابِ فرانس کے بعد ”منشور
(of Man ۱۷۸۹ء میں نمودار ہوا جس میں ووٹ کا حق، قانون سازی کا اختیار، ٹیکس عا (Trial by Jury) وغیرہ کا اثبات کیا گ حوالے سے عوام میں اور حکومتی سطح پر مسلسل خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس اعلان آ (Jefferson) کا تیار شدہ ہے جو انگریز م نظریات پر مبنی تھا۔ ۱۷۸۹ء میں فرانس کی قو منظور کیا۔ of the Rights of Man) ۱۷۹۲ء میں ٹامس پین (aine Rights of Man) شائع کیا جو ایک ما کے حوالے سے قانون سازی ہوتی رہی اور ا جرمنی اور متعدد یورپی ممالک میں بنیادی حقوق
حقوق کی ساری بحث کا دارومدار معاشرے کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے معاہدہ عمرانی پر لکھنے والوں
Contract/4)
ریاستیں اور حکومتیں ارادتاً کسی معاہدے کے خاندان یا قبیلہ کی طرح ابتدائی گروہ بندیوں
ts Under the Law/3)
پروفیسر الیاس کے بقول:
”انسان کی پوری سیاسی تاریخ میں میں ریاست کی تشکیل کے لیے معاہدہ عمرانی
nd the Islamic State)
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
۱۶۸۹ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے قانون حقوق (Bill of Rights) منظور کیا۔ یہ برطانیہ کی دستوری تاریخ کی اہم ترین دستاویز ہے۔ اسی دور میں برطانوی اور فرانسیسی مصنفین نے نظریہ عمرانی کی وضاحتوں کی کتابیں لکھیں۔ "Treaties on Civil Goverment" نامی کتاب John Locks نے لکھی اور فرد کے حقوق پر مدلل بحث کی۔ مشہور فرانسیسی مفکر روسو (Rousseaue) نے معاہدہ عمرانی کے زیر عنوان کتاب لکھی جس میں ہابس اور لاک کے تصور معاہدہ عمرانی کا جائزہ لیا۔
- ۲۔ انقلاب فرانس کے بعد ”منشور حقوق انسانی“ (Declaration of the Rights
of Man) ۱۷۸۹ء میں نمودار ہوا جس میں قوم کی حاکمیت، آزادی، مساوات، ملکیت کے فطری حق، ووٹ کا حق، قانون سازی کا اختیار، ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات، تحقیق جرم روبروئے مجلس قضا (Trial by Jury) وغیرہ کا اثبات کیا گیا۔ انقلاب فرانس کے بعد مغرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے عوام میں اور حکومتی سطح پر مسلسل کاوشیں ہوتی رہیں۔ اس میں امریکی اعلان آزادی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس اعلان آزادی کا مسودہ تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) کا تیار شدہ ہے جو انگریز مفکرین بالخصوص جان لاک (John Locke) کے نظریات پر مبنی تھا۔ ۱۷۸۹ء میں فرانس کی قومی اسمبلی نے انسانی حقوق کا منشور (Declaration of the Rights of Man) منظور کیا۔
۱۷۹۲ء میں تھامس پین (Thomas Paine) نے ایک کتابچہ بعنوان (The Rights of Man) شائع کیا جو ایک ماخذ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ امریکہ میں انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی ہوتی رہی اور ان کے تحفظ کا اہتمام بھی ہوتا رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور متعدد یورپی ممالک میں بنیادی حقوق کو دساتیر میں شامل کیا گیا۔
حقوق کی ساری بحث کا دارومدار معاہدۂ عمرانی پر ہے۔ یہ ایک موہوم تصور ہے جو فرد اور معاشرے کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے سیاسی مفکرین نے پیش کیا۔ (The Social Contract/4) معاہدۂ عمرانی پر لکھنے والوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریاستیں اور حکومتیں ارادتاً کسی معاہدے کے ذریعہ سے وجود میں نہیں آئیں بلکہ فطری طور پر ایک خاندان یا قبیلہ کی طرح ابتدائی گروہ بندیوں سے بتدریج قائم ہوئی ہیں۔
(Protection of Human Rights Under the Law/3)
پروفیسر الیاس کے بقول: ”انسان کی پوری سیاسی تاریخ میں ہمیں کوئی ایک واقعہ یا ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں ریاست کی تشکیل کے لیے معاہدۂ عمرانی کو استعمال کیا گیا ہو۔“
(The Social Contract and the Islamic State)
یہی وجہ ہے کہ مغربی حکومتوں نے جب چاہا، انسانی حقوق کو نظر انداز کر کے ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھیں۔ دورِ حاضر میں امریکہ نے بنیادی انسانی حقوق کو کمزور قوموں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا، انہیں مسلسل دباؤ میں رکھ کر سیاسی و معاشی فوائد حاصل کیے اور جب چاہا اپنے آپ کو بالاتر سمجھ کر ان حقوق کو بے دریغ پامال کیا۔
۱۹۴۰ء میں ایچ جی ویلز (H.G. Wells) نے اپنی کتاب "New World Order" میں انسانی حقوق کے ایک منشور کو جاری کرنے کی تجویز پیش کی اور ۱۹۴۱ء میں منشور اوقیانوس (Atlantic Charter) پر دستخط ہوئے، جس کا مقصد بقول چرچل ”انسانی حقوق کی علمبرداری کے ساتھ جنگ کا خاتمہ تھا“۔ ۱۹۴۶ء میں فرانس نے ۱۷۸۹ء کے منشورِ انسانی حقوق کو اپنے دستور میں شامل کیا اور اسی سال جاپان نے بھی انسانی حقوق کو دستور میں شامل کیا۔ ۱۹۴۷ء میں اٹلی نے اپنے دستور میں بنیادی انسانی حقوق کو شامل کیا۔
- ۳- جمہوری فلسفہ کے تحت یو۔ این۔ او نے بہت سے مثبت اور تحفظاتی حقوق کے متعلق
قراردادیں پاس کیں اور بالآخر ”عالمی منشورِ حقوقِ انسانی“ منظر عام پر آیا جس میں وہ تمام حقوق سمو دیئے گئے جو مختلف یورپی ممالک کے دساتیر میں تھے۔
- ۴- دسمبر ۱۹۴۶ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد پاس کی جس کی رُو سے نسل
کشی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف ایک جرم قرار دیا گیا۔
- ۵- دسمبر ۱۹۴۸ء میں نسل کشی کے انسداد اور سزا دہی کے لیے ایک قرارداد پاس کی گئی، ۱۲ جنوری
۱۹۵۱ء سے اس کا نفاذ ہوا۔ عالمی منشور کی قرارداد کے حق میں ۴۸ ووٹ آئے جبکہ روس سمیت آٹھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہ لیا۔ دسمبر ۱۹۴۸ء کے منظور شدہ ”عالمی منشورِ حقوقِ انسانی“ کے دیباچے میں یہ الفاظ مذکور ہیں:
”بنیادی انسانی حقوق میں، فردِ انسانی کی عزت و اہمیت میں، مردوں اور عورتوں کے مساویانہ حقوق میں اعتقاد کو موثق بنانے کے لیے۔“
متذکرہ بالا پورے منشور کے کسی جز سے کسی بھی قوم کے نمائندوں نے اختلاف نہ کیا کیونکہ یہ عام اصولوں کا اعلان تھا، معاہدہ نہ تھا۔ یہ واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ یہ ایک معیار ہے جس تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علاوہ ازیں اس مختصر سے بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اوّل تو مغرب میں انسانی حقوق کے تصور کی تاریخ ہی صرف چند صدیوں پر محیط ہے۔ دوم اس کے پیچھے کوئی سند نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے حقوقِ انسانی کا جو منشور قرآن میں دیا اور جس کا خلاصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر پیش فرمایا، وہ اس سے قدیم بھی ہے اور بہتر بھی۔ اور ان حقوق کو عملاً قائم کرنے کی بے مثل نظیریں بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے چھوڑی ہیں۔ اسلام نے جو حقوق انسان کو عطا کیے ہیں، ان کا جائزہ لینے سے قبل
25
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس انسان کے مقام و ارفع حقوق دیئے گئے ہیں اور جن کا ابھی ہم ذکر کر
مقامِ انسانی کا تعین
انسان کو ابتدا سے ہی اپنے متعلق ایک وہ افراط پر اُترتا ہے تو اپنے آپ کو دنیا کی سب سـ اس کے دماغ میں بھر جاتی ہے اور وہ ”من اشد منا اور ”انا ربکم الاعلٰی“ (النازعات/۲۴) (تم ہے اور ظلم و جور اور شر و فساد کا مجسمہ بن جاتا ہے اور آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ ذلیل ہستی سمجھ لیتا چاند، سورج اور دیگر مظاہرِ فطرت، غرضیکہ ہر اس چیز طاقت یا منفعت اسے نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ اپنے جیسے یا معبود مان لینے میں تامل نہیں کرتا۔
اسلام نے ان دونوں انتہائی تصورات سامنے پیش کی۔ قرآنِ پاک میں بے شمار مقامات پـ
فلينظر الانسان مم خلقO بين الصلب والترائب ۔ (الطارق/۵ ۔
”(جب یہ بات ہے) تو انسان کـ چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ۔ جو پشت اور چھاتی (یعنی تمام بدن) کے
اولم ير الانسان انا خلقنـ وضرب لنا مثلا ونسى خلقه ۔ (یس/
”کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم اعتراض کرنے لگا اور اس نے ہماری پـ اپنی اصل کو بھول گیا ۔“
يا ايها الانسان ما غرک بـ فسوک فعدلک فی ای صوره ۔
”اے انسان! تجھ کو کس چیز نے ڈال رکھا ہے، جس نے تجھ کو (انسان بـ (مناسب) اعتدال پر بنایا (اور) جس
یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس انسان کے مقام کے بارے میں بھی اسلام کا تصور جان لیں جسے وہ ارفع حقوق دیئے گئے ہیں اور جن کا ابھی ہم ذکر کرنے والے ہیں۔
مقام انسانی کا تعین
انسان کو ابتداء سے ہی اپنے متعلق ایک بڑی غلط فہمی رہی ہے جو اب تک برقرار ہے۔ کبھی وہ افراط پر اُترتا ہے تو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ بلند ہستی سمجھ لیتا ہے۔ تکبر اور سرکشی کی ہوا اس کے دماغ میں بھر جاتی ہے اور وہ ”من اشد منا قوة“ (فصلت / ۱۵) (ہم سے بڑا طاقتور کون؟) اور ”انا ربکم الاعلی“ (النازعات / ۲۴) (تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں) کی صدا بلند کرتا ہے اور ظلم و جور اور شروفساد کا مجسمہ بن جاتا ہے اور کبھی یہی انسان تفریط کی جانب مائل ہوتا ہے تو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ ذلیل ہستی سمجھ لیتا ہے۔ درخت‘ پتھر‘ دریا‘ پہاڑ‘ جانور‘ ہوا‘ آگ‘ بادل‘ چاند‘ سورج اور دیگر مظاہر فطرت غرضیکہ ہر اس چیز کے آگے گردن جھکا دیتا ہے جس کے اندر کسی قسم کی طاقت یا منفعت اسے نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ اپنے جیسے آدمیوں میں بھی کوئی قوت دیکھتا ہے تو ان کو دیوتا یا معبود مان لینے میں تامل نہیں کرتا۔
اسلام نے ان دونوں انتہائی تصورات کو باطل کر کے انسان کی اصلی حقیقت اس کے سامنے پیش کی۔ قرآن پاک میں بے شمار مقامات پر انسان کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے:
فلینظر الانسان مم خلقO خلق من ماء دافقO یخرج من بین الصلب والترائب۔ (الطارق/۵ تا ۷)
”(جب یہ بات ہے) تو انسان کو (قیامت کی فکر کرنی چاہیے اور) دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ ایک اُچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پشت اور چھاتی (یعنی تمام بدن) کے درمیان سے نکلتا ہے۔“
اولم یرالانسان انا خلقنه من نطفة فاذا هو خصیم مبین O وضرب لنا مثلاً ونسی خلقہ۔ (یسین / ۷۷-۷۸)
”کیا آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا‘ سو وہ علانیہ اعتراض کرنے لگا اور اس نے ہماری شان میں ایک عجیب مضمون بیان کیا اور اپنی اصل کو بھول گیا۔“
یا ایها الانسان ماغرک بربک الکریم O الذی خلقک فسوک فعدلک فی ای صورة ماشاء رکبکO (الانفطار / ۶ تا ۸)
”اے انسان! تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے‘ جس نے تجھ کو (انسان) بنایا‘ پھر تیرے اعضاء کو درست کیا‘ پھر تجھ کو (مناسب) اعتدال پر بنایا (اور) جس صورت میں چاہا تجھ کو ترکیب دے دیا۔“
شرف انسانیت
مذکورہ بالا آیات قرآنیہ میں انسان کے تکبر کو توڑا گیا ہے اور اس کے زعم باطل پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ دوسری جانب اسلام نوع بشر کو بتاتا ہے کہ وہ اتنا ذلیل اور حقیر بھی نہیں جتنا وہ خود کو سمجھتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین /۴) ”کہ ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔“
ولقد کرمنا بنی اٰدم وحملنھم فی البر والبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علٰی کثیر ممن خلقنا تفضیلا. (الاسراء/۷۰) ”اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔“
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس. (البقرۃ/۳۴) ”اور جس وقت حکم دیا ہم نے فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی) کہ سجدے میں گر جاؤ آدم کے سامنے تو ابلیس کے سوا سب سجدے میں گر پڑے۔“
وہ مظاہر فطرت جن کی پرستش انسان نے کی وہ تو دراصل اس کی خدمت کے لیے خلق کی گئی تھیں‘ اسے ان کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔ قرآن پاک میں اس بات کو بڑے دل نشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
خلق لکم ما فی الارض جمیعا. (البقرۃ/۲۹) ”جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے اس نے سب کا سب تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے۔“
الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا فاذا انتم منہ توقدون. (یٰسین/۸۰) ”وہ ایسا (قادر) ہے کہ (بعض) ہرے درخت سے تمہارے لیے آگ پیدا کر دیتا ہے پھر تم اس سے اور آگ سلگاتے ہو۔“
والانعام خلقھا لکم فیھا دفء ومنافع. (النحل/۵) ”اور اس نے چوپایوں کو بنایا‘ ان میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔“
قرآن پاک اشیائے کائنات کو انسان کے لیے فائدہ مند‘ خدمت گزار اور مسخر قرار دے رہا ہے۔ ان کے سامنے سر بسجود ہونا اور ان سے حاجت روائی کی دعا کرنا نہ صرف انسان کی عاقبت
نا اندیشی ہے بلکہ اس کے لیے باعث ذلت بھی ہے۔
قرآن کریم کے علاوہ احادیث نبوی صلی خلق اللہ اٰدم علٰی صورتہ. ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو عن ابی ھریرۃ قال: لاتق خلق آدم علٰی صورتہ.
(الادب المفرد
”یہ نہیں کہنا چاہیے کہ خدا تیرے علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔“
مندرجہ بالا آیات و احادیث میں انسان جس میں اور کوئی مخلوق شامل نہیں۔ یہی اس کے ا کائنات نے اپنا نائب اور خلیفہ فی الارض بنایا۔ ارش
واذ قال ربک للملئکۃ انی ”اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ بناؤں گا زمین پر ایک نائب۔“
انا عرضنا الامانۃ علی الس یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الا ”ہم نے یہ امانت (یعنی احکام اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہو اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس یہاں نیابت خداوندی اور خلافت الہٰی نیابت خداوندی اور خلافت الہٰی در ا فراہم کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کو روئے زمین پر ا الہٰی کے ساتھ بندگان خدا اور خلق خدا کے سلسلے کے ارتقائی سفر میں مختلف تشریحات و توجیہات انسانیت کو عطا ہوتا رہا تا آنکہ پیغمبر آخر الزماں صلی اپنے کمال کو پہنچ کر مکمل ہو گیا۔ غور کریں تو حقوق ال ہے اور جس کا مہبط نبی ورسول کی ذات ہے۔ اس
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
کیا گیا ہے اور اس کے زعم باطل پر کاری گروہ اتنا ذلیل اور حقیر بھی نہیں جتنا وہ خود
(التین/۴)
سانچے میں ڈھالا ہے۔‘‘
فی البر والبحر ورزقنهم من تفضيلا . (الاسراء/۷۰) ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی
فسجدوا الا ابلیس. (البقرة/۳۴) اور جنوں کو بھی) کہ سجدے میں سجدے میں گر پڑے۔‘‘
اور دراصل اس کی خدمت کے لیے خلق کی کہ میں اس بات کو بڑے دل نشیں انداز میں
(البقرة/۲۹)
جو سب کا سب تمہارے فائدے
شجرة اخضر نارا فاذا انتم منه درخت سے تمہارے لیے آگ
دفء . (النحل/۵) تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور
بہرہ مند‘ خدمت گزار اور مسخر قرار دے رہا خدائی دعوا کرنا نہ صرف انسان کی عاقبت
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
نااندیشی ہے بلکہ اس کے لیے باعث ذلت بھی ہے۔ قرآن کریم کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی انسان کی عظمت ثابت ہے۔
خلق الله ادم على صورتة . (مشكاة، كتاب الآداب/٣٩٧)
’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔‘‘
عن ابی ھریرة قال: لاتقولن قبح الله وجهک....... فان الله خلق آدم على صورته.
(الادب المفرد، باب لاتقل قبح الله وجهک/۱۰۷)
’’یہ نہیں کہنا چاہیے کہ خدا تیرے چہرے کو بگاڑے....... کہ خدا نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔‘‘
مندرجہ بالا آیات و احادیث میں انسانی فضیلت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ ایسی فضیلت جس میں اور کوئی مخلوق شامل نہیں۔ یہی اس کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز ہے حتیٰ کہ اسے خالق کائنات نے اپنا نائب اور خلیفہ فی الارض بنایا۔ ارشاد ربانی ہے:
واذ قال ربک للملئکة انی جاعل فی الارض خلیفة.
(البقرة/۳۰)
’’اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین پر ایک نائب۔‘‘
انا عرضنا الامانة على السموت والارض والجبال فابین ان یحملنها واشفقن منها وحملها الانسان . (الاحزاب/۷۲)
’’ہم نے یہ امانت (یعنی احکام جو بمنزلہ امانت کے ہیں) آسمان زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا۔‘‘
یہاں نیابت خداوندی اور خلافت الٰہی سے انسانی عظمت مثبت طور پر واضح ہے۔ نیابت خداوندی اور خلافت الٰہی دراصل اطاعت کا وہ عہد ہے جو حقوق انسانی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کو روئے زمین پر اتارنے کے ساتھ جو ہدایت دی گئی تھی‘ وہ اطاعت الٰہی کے ساتھ بندگانِ خدا اور خلقِ خدا کے سلسلے میں حقوق و فرائض کا ایک ضابطہ تھا جو انسانی زندگی کے ارتقائی سفر میں مختلف تشریحات و توجیہات کے ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعہ سے انسانیت کو عطا ہوتا رہا تا آنکہ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر انسانیت کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اپنے کمال کو پہنچ کر مکمل ہو گیا۔ غور کریں تو حقوق انسانی کی سند وحی الٰہی ہے جس کا مقصد خالق کائنات ہے اور جس کا مہبط نبی و رسول کی ذات ہے۔ اس سلسلہ سند کو قرآن کی زبان سے واضح کر دیا گیا:
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
ان الله اصطفى ادم و نوحا و آل ابرهيم وال عمران على العلمين O ذرية بعضها من بعض . والله سميع عليم .
(آل عمران/۳۳-۳۴)
”اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا پر ترجیح دے کر اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا۔ یہ ایک ہی سلسلے کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے۔“
شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذى اوحينا اليك وما وصينا به ابرهيم و موسى و عيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه. كبر على المشركين ما تدعوهم اليه. الله يجتبى اليه من يشاء ويهدى اليه من ينيب .
(الشورى/۱۳)
”اللہ نے مقرر کیا ہے تمہارے لیے وہ دین جس کی ہدایت کی گئی ابراہیم اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اس تاکید کے ساتھ کہ تم لوگ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔“
حقوق کا اسلامی تصور
شرف انسانیت کے بعد حقوق کے اسلامی تصور کا ذکر کرتے ہیں جس سے واضح ہو گا کہ اسلام نے انسانیت کو کیا عطا کیا ہے؟
اسلام کا تصور یہ ہے کہ انسان کے پیدائشی حقوق بھی ہیں اور ریاست کے عطا کردہ بھی، اجتماعی بہبود کا لحاظ بھی ضروری ہے اور اخلاقی حدود کا خیال بھی ناگزیر ہے۔ اس اعتبار سے حقوق اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہیں اور کوئی فرد، سوسائٹی اور ریاست ان حدود سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ بلاشبہ فرد کی فلاح اور سوسائٹی کی بقاء دونوں ضروری ہیں اور ان کے درمیان توازن کا خط کھینچنا ضروری ہے۔ اور یہ توازن وحی و الہام کی غیر جانبدارانہ تعلیم کے سوا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین اگر احکام خداوندی کے خلاف حکم دے تو ایک عام آدمی بھی اسے رد کر سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق .
(مشکوٰۃ باب الامارۃ والقضاء/۳۲۶)
”اللہ تعالیٰ کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت کی گنجائش نہیں۔“
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کا تصور جامع اور کامل ہے۔ اسلام حقوق کی بحث میں فرد کو بے لگام نہیں ہونے دیتا اور اسے اس بات کی اجازت نہیں کہ مصالح عامہ کے خلاف سرکشیاں کرتا پھرے۔ مغرب کی تاریخ اور اس کے سیاسی ارتقاء سے واقف لوگوں کے نزدیک انسان کے حقوق کی تاریخ یو۔ این۔او کے چارٹر سے شروع ہوتی ہے یا انگلستان کے میگنا کارٹا (Magna Carta) سے۔
حالانکہ یہ بات بدرجہا غلط ہے۔ اسلام نے تصور تک سے نا آشنا تھی۔
اسلام ایک فطری دین ہے، جو اعتبار سے انسان کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ کا اور حیوانات کے سلسلے میں بھی ہدایات دی بے سبب تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اس میں مذہب اور کسی معاشرتی و سیاسی نظام میں نقطہ عروج تک سب کو سمیٹ لیتا ہے۔ سا رکھا ہے اور اس خوش اسلوبی سے اسے س ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسلام نے حقوق کی معاشی میں تقسیم کرتا ہے۔ اخلاقی حقوق اخلاقی بنیادوں کے لیے ضروری ہے ا احساس کا تقاضا اور شرف انسانیت کا م ہیں جن کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت ب ہے۔ اسلام ان حقوق کا تحفظ قانون کے اور سزا قائم کرنا قانون کا کام ہے۔ اس دیتی ہے۔ گو یہ حقوق فطری ہیں اور ہر لیکن پھر بھی ریاست کا اعلان ضروری مفہوم میں حقوق کا تعین کراتی ہے اور اس نہیں ہوتیں۔ ان کا مستحق ہر وہ متنفس حقوق انسانی کو مرتب صورت میں پیش کیا وہ کسی نظام میں نہیں۔ ان کے بعض حصے نہیں۔ قرآن وسنت کی نصوص اسوۂ رسول
حقوق کی اہمیت
جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق انسانی معاشرہ میں حقوق کی اہمیت کا اندازہ ons of social life k, in general, to be
ہم وال عمران علی یع علیم۔
(آل عمران/۳۳-۳۴)
کو تمام دنیا پر ترجیح دے کر لوگ تھے جو ایک دوسرے
والذی اوحینا الیک موا الدین ولا تتفرقوا یجتبی الیه من یشاء
دین کی ہدایت کی گئی ابراہیمؑ قائم کرو اس دین کو اور اس
ذکر کرتے ہیں جس سے واضح ہو گا کہ
ہی ہیں اور ریاست کے عطا کردہ بھی، ناگزیر ہے۔ اس اعتبار سے حقوق اللہ حدود سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ بلاشبہ فرد میان توازن کا خط کھینچنا ضروری ہے۔ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین اگر کر سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
(باب الامارۃ والقضاء/۳۲۱)
گنجائش نہیں۔“ اور اسلام حقوق کی بحث میں فرد کو بے عامہ کے خلاف سرکشی کرتا پھرے۔ جو ایک انسان کے حقوق کی تاریخ ہو۔ کارٹا (Magna Carta) سے۔
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اسلام نے تو انسانی حقوق کی ضمانت اس وقت دی جب دنیا اس کے تصور تک سے نا آشنا تھی۔
اسلام ایک فطری دین ہے جس کے مطابق یہ کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ کائنات کی ہر شے کا لحاظ رکھا جائے۔ حتیٰ کہ جمادات، نباتات اور حیوانات کے سلسلے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ مثلاً نباتات کو بے مقصد نہ کاٹا جائے، حیوانات کو بے سبب تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اس میں انسان کے متعلق تو اس قدر تفصیلی ہدایات ہیں کہ کسی دیگر مذہب اور کسی معاشرتی و سیاسی نظام میں نہیں پائی جاتیں۔ اسلام فرد سے آغاز کر کے اجتماعیت کے نقطہ عروج تک سب کو سمیٹ لیتا ہے۔ اسلام نے حقوق کی اقسام بیان کی ہیں پھر ان کی ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے اور اس خوش اسلوبی سے اسے سمیٹا ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ باقی نہیں رہا۔ جیسا کہ ابھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسلام نے حقوق کی اقسام بیان کی ہیں۔ مثلاً وہ حقوق کو اخلاقی، قانونی، سیاسی و معاشی میں تقسیم کرتا ہے۔ اخلاقی حقوق میں وہ انفرادی و اجتماعی حقوق آ جاتے ہیں جن کی ادائیگی اخلاقی بنیادوں کے لیے ضروری ہے، اگرچہ ان کے لیے قانونی و سیاسی بندش نہیں تاہم معاشرتی احساس کا تقاضا اور شرف انسانیت کا مطالبہ ہے کہ انہیں ادا کیا جائے۔ اس کے بعد وہ حقوق آتے ہیں جن کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت برقرار نہیں رہ سکتی۔ ایسے حقوق کی پامالی پر قانونی گرفت ہوتی ہے۔ اسلام ان حقوق کا تحفظ قانون کے ذریعہ سے کرتا ہے۔ عدم لحاظ کی صورت میں اس کے لیے حد اور سزا قائم کرنا قانون کا کام ہے۔ اس سے ملتے جلتے وہ حقوق ہیں جو ایک ریاست اپنے شہریوں کو دیتی ہے۔ گو یہ حقوق فطری ہیں اور ہر منظم شہریت اس بات کی پابند ہے کہ ان میں رکاوٹ نہ ڈالے لیکن پھر بھی ریاست کا اعلان ضروری ہے۔ اس کے بعد وہ مقام آتا ہے جہاں انسانیت اپنے وسیع مفہوم میں حقوق کا تعین کراتی ہے اور اس کے لیے کوئی مذہبی، لسانی، جغرافیائی اور معاشی حد بندیاں نہیں ہوتیں۔ ان کا مستحق ہر وہ متنفّس ہے جس پر لفظ انسان صادق آتا ہے۔ جس طرح اسلام نے حقوق انسانی کو مرتب صورت میں پیش کیا ہے اور اس کا خیال رکھنے کے لیے اصول وضوابط دیئے ہیں، وہ کسی نظام میں نہیں۔ ان کے بعض حصے ضرور کہیں نہ کہیں پائے جاتے ہیں لیکن وہ تفصیل و ترتیب نہیں۔ قرآن وسنت کی نصوص، اُسوۂ رسول اور عمل صحابہؓ سے ان کی بہترین تشریح ہو سکتی ہے۔
حقوق کی اہمیت
جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے، اس کی اہمیت سے کسی بھی ذی فہم کو انکار نہیں ہو سکتا۔ انسانی معاشرہ میں حقوق کی اہمیت کا اندازہ لاسکی کے اس فقرے سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
Right, in fact are those conditions of social life without which no man can seek, in general, to be himself at his best.
(Grammar of politics/91)
مغربی مفکرین دعویٰ کرتے ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق کی تاریخ صرف چند صدیوں کی تاریخ ہے اور مغرب میں جو کچھ بڑی جدوجہد کے بعد جو کچھ حاصل کیا ہے، آج پوری دنیا اس سے فیض یاب ہو رہی ہے لیکن قرآن نے جو تاریخ ہمارے سامنے پیش کی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن اولین انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا تھا بنیادی حقوق اسی دن سے اس کے احساس و شعور کا حصہ ہیں۔ اور ان کا حصول و تعین ان کا اپنا کارنامہ نہیں بلکہ خود مقتدر اعلیٰ نے اسے بتدریج یہ حقوق عطا کیے ہیں۔ جہاں کہیں بھی حقوق کی بات ہوگی وہاں الہامی تعلیمات کا نور جھلکتا دکھائی دے گا۔ وحی الٰہی نے ہی بنیادی حقوق کا شعور پیدا کیا۔ قرآن کی پیش کردہ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو فطری حقوق (Natural Rights) اور پیدائشی حقوق (Birth Rights) کی اصطلاحوں کے بارے میں واضح تصور موجود ہے جبکہ مغربی تصور حقوق میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ اسلام نے حقوق کے فطری اور پیدائشی پہلو کو واضح کیا ہے کیونکہ ان حقوق کا عطا کرنے والا اللہ خالق و مالک ہے۔ وحی الٰہی ہی حدود و قیود متعین کرتی ہے۔ ریاست اور شہری دونوں قرآن و سنت کے ایک ایسے ناقابل ترمیم اور ناقابل تنسیخ (Irrevocable) دستور کے تحت زندگی بسر کرنے کے پابند ہیں جس کی کوئی ایک دفعہ بھی ان کے درمیان قابل گفت و شنید (Negotiable) نہیں۔
حقوق کی درجہ بندی
بقول سید سلیمان ندویؒ:
”اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں انسانی حقوق کی درجہ وار کوئی تفصیل نہیں۔ انسان اور حیوان کے درمیان بھی کوئی خط فاصل نہیں۔ مثلاً بدھ کی اخلاقی تعلیم میں انسان اور حیوان کے اور پھر انسانوں میں اہل ملک، قوم، قبیلہ اور خاندان کی کوئی تمیز نہیں بلکہ سرے سے رشتہ اور قرابت کی اس میں کوئی دفعہ نظر نہیں آتی۔ اسی طرح ہندو قانون میں ایک جانور اور انسان کا قتل برابر کا درجہ رکھتا ہے اور ایک جانور بھی اپنی منفعت رسانی کے باعث ماں کا درجہ پا سکتا ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں تمام قرابت داروں کو چھوڑ کر صرف ماں باپ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے برترانہ حق اطاعت کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن دوسرے قرابت مندوں اور رشتہ داروں کو ان میں کوئی مرتبہ نہیں دیا گیا۔ لیکن اسلام نے اس مسئلہ میں فطری تفصیل سے کام لیا ہے۔“
(سیرۃ النبیؐ ۲۱۰/۶)
اسلام نے یہ ترتیب اخلاقی حقوق میں رکھی ہے۔ مثلاً سورۂ نساء میں انہیں اس طرح بیان فرمایا:
وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتمٰی والمسکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما
ملکت ایمانکم.
(النساء/٣٦)
اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اور یتیموں اور غرباء کے ساتھ بھی اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور دُور والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور راہ گیر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضہ میں ہیں۔
قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین والیتمیٰ والمسکین وابن السبیل۔ وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیمO
(البقرہ/۲۱۵)
”آپ فرما دیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہو سو ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کا اور بے باپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جو نیک کام کرو گے‘ اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے۔“
وات ذا القربیٰ حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا.
(الاسراء/۲۶)
”اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی و غیر مالی) دیتے رہنا اور محتاج اور مسافر کو بھی دیتے رہنا اور (مال کو) بے موقع مت اُڑانا۔“
اس ترتیب میں فطری تعلق اس طرح سمولیا گیا ہے کہ انسان اعتدال و توازن سے نہیں ہٹتا۔ حدیث نبویؐ میں انسان کے ذاتی حقوق کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
ان لربک علیک حقا ولنفسک علیک حقا ولاہلک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ.
(بخاری‘ کتاب الصوم‘ باب حق الجسم فی الصوم ۱/ ۲۹۴)
”تیرے پروردگار کا تجھ پر حق ہے‘ تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے‘ تیرے عیال کا تجھ پر حق ہے۔ سو تجھے ہر حق دار کا حق دینا چاہیے۔“
عن عبداللہ بن عمرو بن العاص قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یاعبداللہ الم اخبر انک تصوم النھار وتقوم اللیل فقلت: بلیٰ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: فلا تفعل صم و افطر و قم و نم فان لجسدک علیک حقا و ان لنفسک علیک حقا و ان لزوجک علیک حقا و ان لزورک علیک حقا۔
(بخاری‘ کتاب الصوم‘ باب من اقسم علی اخیہ لیفطر فی التطوع ۱/ ۲۹۱)
عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ صحیح خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزے رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ !
Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو۔ روزہ رکھو اور افطار بھی کرو کیونکہ تیرے وجود کا تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے۔ حقوق کی اس تفصیل میں اجتماعی ضرورت اور معاشرتی اساس کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً قرآن وسنت میں ان حقوق کی تفصیل بیان کرتے ہوئے یہ ترتیب رکھی گئی ہے: حقوق والدین، حقوق اولاد، حقوق زوجین، اہل قرابت کے حقوق، ہمسایہ کے حقوق، یتیموں کے حقوق، بیواؤں کے حقوق، حاجت مندوں کے حقوق، بیماروں کے حقوق، غلاموں کے حقوق، مہمانوں کے حقوق، مسلمانوں کے باہمی حقوق اور انسانی برادری کے حقوق بلکہ اس سے بڑھ کر جانوروں کے حقوق اور نباتات کے حقوق کا بھی ذکر ہے۔ ان میں ہر ایک کے متعلق ایسا جامع اور اتنا انسانی اور فطری طریق کار اختیار کیا ہے کہ انسانی معاشرہ قابل رشک صورت اختیار کرسکتا ہے۔
انسانی حقوق
اسلام نے انسانی برادری کے حقوق کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ یہ حقوق قابل غور ہیں۔ مثلاً اچھی بات کہنا اور اچھائی سے پیش آنا۔ قرآن پاک میں آتا ہے: وقولوا للناس حسنا.
(البقرۃ ۸۳)
”اور عام لوگوں سے بات اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا“۔ انسانی معاملات میں کوئی تعصب جائز نہیں۔ فرمایا: ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا. اعدلوا. ھو اقرب للتقوی.
(المائدہ /۸)
”اور کسی خاص قوم کی عداوت اس کا باعث نہ بن جائے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے“۔ حسد، کینہ اور غیبت سے روکا گیا ہے اور محبت انسانی کی ترغیب دی گئی ہے۔ ارشاد رسولؐ ہے: لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا و کونوا عباد اللہ اخوانا۔
(مشکاۃ، باب ماینھی عنہ من التھاجر و التقاطع ۶۲۰/۲)
”نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور نہ باہم روگردانی کرو اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ“۔ لایومن عبد حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ.
(مشکاۃ، باب ماینھی عنہ من التھاجر و التقاطع ۷۶۰/۲)
”کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ پسند نہ کرے جو اپنی ذات کے لیے کرتا ہے“۔ اسلام میں انسانی ہمدردی، خیر خواہی اور امداد و تعاون میں مسلم وغیر مسلم کے فرق کو بھی مٹا دیا گیا ہے، اسیروں کی امداد، غلاموں کی آزادی لحاظ سے مذہبی تفریق جائز نہیں۔ امیر المومنین عمرو بن شرجیل اور عمرو بن میمون، عیسائی راہبوں تعالیٰ عنہ نے ایک بوڑھے بھکاری کے اختلا مساوات کا علمبردار ہے، اس کی نظر میں تمام ا خالق حقیقی قرآن پاک میں انسانوں کے بارہ عنوان دے سکتے ہیں۔
وحدت نسل انسانی
یایھا الناس اتقوا وخلق منھا زوجھا وبث منھم ”اے لوگو! اپنے پروردگار س کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا عورتیں پھیلائیں“۔ اس سے انسانوں کا برابر ہونا ثاب یکساں حاصل ہیں۔ اب فرداً فرداً ان بنیادی ح کو حاصل ہیں۔
جان و مال اور ناموس کا تحفظ
قرآن پاک میں انسانی جان کے حق من قتل نفساً بغیر نفس الناس جمیعا.
(المائدہ /۳۲)
”جو شخص کسی شخص کو بغیر جان کے زمین میں فساد پھیلائے، قتل کر ڈ ڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچالے تو گ اس آیت پاک میں ایک انسان ک جانب ایک انسان کی جان بچانے کو پوری نسل دراصل اس میں حرمت جان کا اصول دیا گیا ہے
- (الف) اگر کوئی شخص قتل کا مرتکب ہو
- (ب) فساد فی الارض جیسے سنگین جرم
متذکرہ بالا آیت سے انسانی جان ک
دیا گیا ہے، اسیروں کی امداد، غلاموں کی آزادی، غریبوں کی امداد اور حاجت مندوں اور مستحقوں کے لحاظ سے مذہبی تفریق جائز نہیں۔ اُم المومنین صفیہؓ اپنے یہودی رشتہ داروں کی امداد کرتیں۔ ابو عبیدہؓ عمرو بن شرحبیلؓ اور عمرو بن میمونؓ عیسائی راہبوں کی امداد کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بوڑھے بھکاری کے اخراجات بیت المال سے ادا کر دیئے تھے۔ اسلام جو مساوات کا علمبردار ہے، اس کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ خالق حقیقی قرآن پاک میں انسانوں کے بارے میں جو کچھ فرماتا ہے، اسے ہم وحدت نسل انسانی کا عنوان دے سکتے ہیں۔
وحدت نسل انسانی
يأيها الناس اتقوا ربكم الذی خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا و نساء.
(النساء/۱)
”اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔“
اس سے انسانوں کا برابر ہونا ثابت ہے اور اس برابری کے نتیجہ میں حقوق بھی سب کو یکساں حاصل ہیں۔ اب فرداً فرداً ان بنیادی حقوق کو بیان کیا جاتا ہے جو اسلامی نقطہ نظر سے انسان کو حاصل ہیں۔
جان و مال اور ناموس کا تحفظ
قرآن پاک میں انسانی جان کے تحفظ کو یوں بیان کیا گیا ہے:
من قتل نفسا بغير نفس او فساد فى الارض فكانما قتل الناس جميعا.
(المائدہ/۳۲)
”جو شخص کسی شخص کو بلا معاوضہ دوسرے شخص کے یا بدون فساد کے جو زمین میں اس سے پھیلا ہو قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچا لے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچا لیا“۔
اس آیت پاک میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل بتایا گیا ہے اور دوسری جانب ایک انسان کی جان بچانے کو پوری نسل انسانی کی جان بچانے کے مترادف ٹھہرایا گیا ہے۔ دراصل اس میں حرمت جان کا اصول دیا گیا ہے اور اس سے صرف دو حالتیں مستثنیٰ ہیں:
- (الف) اگر کوئی شخص قتل کا مرتکب ہوا ہو تو اسے قصاص کے طور پر قتل کیا جائے۔
- (ب) فساد فی الارض جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کیا جائے۔
متذکرہ بالا آیت سے انسانی جان کے تحفظ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم اس پر
was asked about the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: The instinct of self-preservation is a basic natural urge of life in all its gradations. But for human beings the self to be preserved is not only the individual physical entity, his essential self is a social self.
(Fundamental Human Rights/11)
ایک انسان کا سب سے مقدم و مقدس حق یہ ہے کہ اس کی جان و مال اور ناموس کی حفاظت کی جائے۔ عزت و آبرو کے حق کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے: لا يسخر قوم من قوم۔
(الحجرات/۱۱)
ولا تنابزوا بالالقاب۔
(ایضاً)
”نہ ٹھٹھا کرے کوئی قوم کسی قوم سے اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو“۔ پیغمبر اسلام نے مذکورہ حق کے احترام کی تاکید مختلف طریقوں سے بیان فرمائی۔ حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے ارشاد فرمایا: فان دماءكم و اموالكم واعراضكم حرام كحرمة يومكم هذا۔
(ابن ہشام ۲۵/۲)
”تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسی حج کے اس دن کی حرمت ہے“۔
شخصی آزادی کا حق
دوسرا اہم حق جو اسلام نے انسان کو دیا ہے وہ شخصی آزادی کی حفاظت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور محض نہیں پیدا کیا ہے بلکہ ایک خاص دائرے کے اندر اس کو اختیار بھی بخشا ہے اور اس اختیار ہی کی بناء پر اس کو دنیا میں امر و نہی کا مکلف اور آخرت میں جزا و سزا کا حق دار بنایا ہے۔ انسانوں کے لیے جو اجتماعی نظام پسند فرمایا ہے اس میں فرد کو جماعت کے ہاتھ میں ایک آلہ بے جان بنا کر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ زندگی کے ہر گوشہ میں ایک خاص حد تک اس کی انفرادی آزادی محفوظ رکھی ہے اور اس آزادی ہی کے صحیح یا غلط استعمال پر اس کی انفرادی شخصیت کے کمال و زوال اور آخرت میں اس کی فلاح و خسران کا انحصار کیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ عین منشائے الٰہی ہے کہ ہر شخص کی انفرادی آزادی اس وقت تک محفوظ رکھی جائے جب تک وہ اپنی اس آزادی کو دوسروں کی آزادی سلب کرنے یا جماعت کے مفاد کو خطرہ میں ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کرتا۔
ان حقوق کے بعد آزا قانونی طریقہ پر اس کا جرم ثابت اسلام اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ حق سے محروم کر دیا جائے۔ افراد اور بدگمانیوں کی بناء پر کسی کی شخص روایت بیان کی گئی ہے کہ مدینہ میں خطبہ کے دوران اُٹھ کر نبی کریم ﷺ گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر گرفتاری کے لیے کوئی معقول وج نے اپنے سوال کا اعادہ کیا اور کوتوال خلوا له جاره ”اس کے ہمسای اس سے ثابت ہوتا ہے تھے۔ خلافتِ راشدہ میں بھی اس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ربیعہ بن عبدالرحمٰن زما پاس اہلِ عراق میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہو پوچھا وہ کیا؟ اس نے کہا کہ جھوٹی گ اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”اچھا“ یہ چیز والله لا يوسر ”خدا کی قسم اسلام عمرو بن العاص رضی اللہ اس کا فرار ہونا اور حضرت عمر رضی اللہ اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا: متى تعبدتم الناس و
ان حقوق کے بعد آزادی کا ہونا لازمی امر ہے۔ اسلام میں کسی شخص کی آزادی معروف قانونی طریقہ پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اور اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی۔ اسلام اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ محض شبہات و اوہام کی بناء پر کسی شخص کو اس کے اس بڑے فطری حق سے محروم کر دیا جائے۔ انفرادی مصلحت سے قطع نظر تمدنی و اجتماعی نقطہ نظر سے بھی اسلام شبہات اور بدگمانیوں کی بناء پر کسی کی شخصی آزادی پر حملہ کو نہایت خطرناک قرار دیتا ہے۔ ابوداؤد میں یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ مدینہ کے کچھ لوگ شبہ کی بناء پر گرفتار کیے گئے تھے۔ ایک صحابیؓ نے عین خطبہ کے دوران اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرے ہمسایوں کو کس قصور میں پکڑا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ان کے اس سوال کو سن کر سکوت فرمایا تا کہ کوتوال شہر اگر گرفتاری کے لیے کوئی معقول وجوہ رکھتا ہے تو اٹھ کر بیان کرے لیکن جب تیسری مرتبہ ان صحابیؓ نے اپنے سوال کا اعادہ کیا اور کوتوال نے کوئی وجہ بیان نہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا:
خلوا له جيرانه.
(ابوداؤد‘ کتاب القضاء‘ ۳ / ۲۷۶)
’’اس کے ہمسایوں کو رہا کر دو‘‘۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو مجرد الزام پر قید نہیں کر دیا کرتے تھے۔ خلافتِ راشدہ میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے شخصی آزادی کے تحفظ کا علم ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کا ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے:
ربیعہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اہلِ عراق میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ امیر المومنین! میں ایک ایسے معاملہ کی وجہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا وہ کیا؟ اس نے کہا کہ جھوٹی شہادت کا فتنہ ہمارے ملک میں پھوٹ پڑا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا‘ اچھا‘ یہ چیز شروع ہو گئی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ آپؓ نے فرمایا:
والله لا يوسر رجل في الاسلام بغير العدل.
(ابوداؤد‘ کتاب القضاء‘ ۳ / ۲۷۶)
’’خدا کی قسم اسلام میں کوئی شخص بغیر عادل گواہوں کے قید نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کا مصری کو کوڑے مارنا اور قید کرنا‘ بعد ازاں اس کا فرار ہونا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جانا‘ ایک مشہور واقعہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا:
متى تعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا.
(کنز العمال‘ ۲ / ۳۵۵)
”تم کیوں لوگوں کو غلام بناتے ہو جب کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا ہے“۔
مذہب و مسلک کی آزادی
تیسرا اہم حق عقیدہ و مذہب اور مسلک و رائے کی آزادی کا ہے۔ اسلام نے انسانیت کو ”لا اکراہ فی الدین“ (البقرہ / ۲۵۶) کا اصول دیا اس کے تحت ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جس مذہب یا مسلک کو اپنانا چاہے اپنا لے۔ اس حق کے باب میں اسلامی قانون کی سب سے بہتر وضاحت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے۔ ان کے زمانے میں خوارج کا گروہ پیدا ہوا جو علانیہ سٹیٹ کے وجود کی نفی کرتا اور بزور شمشیر اس کو مٹانے پر تلا ہوا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو پیغام بھیجا:
کونوا حیث شئتم وبيننا وبينکم ان لا تسفکوا دما ولا تقطعوا سبيلا ولا تظلموا احدا فان فعلتم نبذت اليکم الحرب۔
(نیل الاوطار ۱۳۹/۲)
”تم جہاں چاہو رہو ہمارے اور تمہارے درمیان یہ قرارداد ہے کہ تم خون ریزی اور رہزنی نہ اختیار کرو گے اور ظلم سے باز رہو گے۔ اگر ان باتوں میں سے کوئی بات تم سے سرزد ہوئی تو پھر میں تمہارے خلاف جنگ کا حکم دے دوں گا“۔
مساوات کا حق
اسلام نے نہ صرف مساوات کے حق کو تسلیم کیا ہے بلکہ علانیہ کہا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ اگر کسی کو فضیلت ہے تو وہ تقویٰ کے اعتبار سے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يايها الناس انا خلقنکم من ذکر وانثى وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ۔ ان اکرمکم عندالله اتقکم۔ (الحجرات/۱۳)
”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تا کہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو“۔
اس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ قوموں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے۔ مختلف نسلیں، مختلف رنگ، مختلف زبانیں درحقیقت انسانی دنیا کے لیے کوئی معقول وجہ تقسیم نہیں ہیں۔ مساوات ہی کے ضمن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
ہلک کس ”کسریٰ مر
قانونی مساوات
اسلام کے نزدیک مساوات کا بلند تر تصور یہ ہے کہ کے ایک معزز گھرانے کی ایک نے عورت کے خاندان کی عظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آپؐ اس پر نہایت ناراض ہو جب ان میں کوئی معمولی آ سے درگزر کر جاتے (لیکن م والذی نفس
(بخاری، کتا
والوضيع، ۱۷۰ ”اس ذات محمد) بھی یہ کام کر ایک روایت میں پر گفتگو کر رہے تھے کہ وہ زیاد عنہ نے کہا: فرض کیجیے کہ ایک قصاص دلوائیں گے؟ حضرت والذى نفس الله عليه وسلم ”اس ذات سے بھی قصاص لوں وسلم لوگوں کو خود اپنی خلافت راشدہ میں
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
هلك کسریٰ فلايكون کسریٰ بعد.
(مشکوٰۃ‘ کتاب الفتن‘ باب الملاحم ۱۵/۳)
”کسریٰ مرچکا‘ آج کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا۔“
قانونی مساوات
اسلام کے نزدیک ہر شخص بلا امتیاز قانون کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس دین میں تو قانونی مساوات کا بلند تر تصور یہ ہے کہ بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے ماورا نہیں۔ ایک مرتبہ قریش کے ایک معزز گھرانے کی ایک عورت نے چوری کی۔ (چوری کی سزا اسلام میں قطع ید ہے) لوگوں نے عورت کے خاندان کی عظمت کے پیش نظر اسے اس جرم کی سزا سے بچانا چاہا۔ اسامہ بن زیدؓ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت محبوب تھے‘ سفارش کے لیے آپؐ کی خدمت میں بھیجے گئے مگر آپؐ اس پر نہایت ناراض ہوئے اور فرمایا ”تم سے پہلے بہت سی قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے اور اگر کوئی با اثر آدمی چوری کرتا تو اس سے درگزر کر جاتے (لیکن میں ایسا نہیں کرنے کا) خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
والذی نفسی بيده لو فاطمة فعلت ذالك لقطعت يدها.
(بخاری‘ کتاب الحدود‘ باب اقامة الحدود علی الشریف
والوضیع‘ ۶۷۸۸) (دارالسلام ایڈیشن)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ (بنت محمد) بھی یہ کام کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا“۔
ایک روایت میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاملوں کے فرائض پر گفتگو کر رہے تھے کہ وہ زیادتی کرنے والے سے قصاص لیں گے تو عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: فرض کیجیے کہ ایک شخص کہیں کا گورنر ہے اور وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو کیا آپ اس سے بھی قصاص دلوائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
والذی نفسی بيده لاقصنه منه ولقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقص من نفسه. (کتاب الخراج / ۶۶) ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ میں اس (گورنر) سے بھی قصاص لوں گا کیونکہ میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خود اپنی ذات کے خلاف بدلہ کا موقع دیتے تھے“۔
خلافت راشدہ میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ خلفائے راشدین مدعا علیہ کی حیثیت سے
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
عام عدالتوں میں حاضر ہوئے اور ایک معمولی شہری کے مقابلے میں اپنے اوپر لگائے ہوئے الزام کے سلسلے میں جواب دہی کی۔
معاشرتی مساوات
خون، نسب، رنگ اور پیشہ وغیرہ کی بناء پر جو فرق و امتیازات قائم کیے گئے ہیں، اسلامی نقطہ نظر سے سب باطل ہیں۔ شرافت اور رذالت کی کسوٹی صرف تقویٰ ہے۔ قرآن پاک نے اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا ہے:
وجعلنکم شعوبا وقبائل لتعارفوا. ان اکرمکم عند الله اتقکم. (الحجرات/١٣)
”اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تا کہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو“۔
فتح مکہ کے بعد آپؐ نے جو تقریر فرمائی وہ بھی اس مساوات کا ایک بین ثبوت ہے۔
لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر على اسود ولا لاسود على احمر الا بالتقوى ولا فضل للانساب. (مسند احمد ۴۱۱/۵، مشکوۃ الاخبار)
”کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ سوائے تقویٰ کے اور نسبتوں کو کوئی فضیلت حاصل نہیں“۔
معاشی مساوات
معاشی دائرہ میں ہر انسان کا ایک حق ہے اور دنیا کی پیداوار میں اس کا حصہ ہے۔ ہر انسان کو ہدایت ہے کہ وہ اپنے حصہ کو نہ بھولے۔
لا تنس نصیبک من الدنیا. (القصص/۷۷)
نبی اکرمؐ نے انسانی معاشرہ کے ہر رکن کے لیے مندرجہ ذیل حقوق رکھے ہیں:
- ١- بیت لسكنه رہنے کے لیے گھر
- ٢- ثوب یواری عورتہ تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا
- ٣- جلف الخبز پیٹ کے لیے روٹی
- ۴- الماء
قرآن کریم کا بیان ہے:
قدر فیھا اقواتھا
ایک اور مقام پر فرمایا:
خلق لکم ما فی
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اگلا قدم یہ ہے قوانین کے تحت اپنی صلاحیتوں کی ملکیت ہرگز مراد نہیں بلکہ یہ دین تو حق معیشت کی مساوات کا قائل وسائل حاصل کرتا ہے تو اسلام اس اور لوٹ کھسوٹ کی بھی اجازت نہیں اسلام انسان کو معاشی کی تلقین کرتا ہے تا کہ وہ کسی کا عمومی اصول دیتا ہے جس میں معاشی
وان لیس للانسا
”انسان کے لیے
وہ اس جدوجہد میں میں لوٹ کھسوٹ، معاشی استحصال جاری نہ رہ سکیں۔ اسلام معاشر کفالت کی منزل عطا کرتا ہے۔ تعطل کو دور کرے اور اسے فعال کے اموال کا حصہ دار بناتا ہے۔ او
والذین فی اموا
”وہ (مسلمان)
وفی اموالھم
ں اپنے اوپر لگائے ہوئے الزام
لزامات قائم کیے گئے ہیں، اسلامی تقویٰ ہے۔ قرآن پاک نے اس
ان اکرمکم عند الله
تاکہ ایک دوسرے کو شریف وہی ہے جو سب
اوت کا ایک بین ثبوت ہے۔ فضل لعربی علی عجمی ولا بالتقویٰ ولا فضل
کسی عجمی کو کسی عربی پر نہ ہے پر۔سوائے تقویٰ کے
پیداوار میں اس کا حصہ ہے۔ ہر
مندرجہ ذیل حقوق رکھے ہیں:
کپڑا
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
- ۴۔ الماء پانی (استعمال کے لیے خواہ وہ آسمان سے برسے یا
نہروں و کنوؤں سے آئے)
قرآن کریم کا بیان ہے:
قدر فیها اقواتها فی اربعة ایام سواء للسائلین.
(حم السجدہ/۱۰)
ایک اور مقام پر فرمایا:
خلق لکم ما فی الارض جمیعا.
(البقرہ/۲۹)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اشیاء تمام بنی نوع آدم کی ملکیت ہیں۔
اس سے اگلا قدم یہ ہے کہ تمام انسان معاشی میدان میں چند اخلاقی اصولوں اور کچھ قوانین کے تحت اپنی صلاحیتوں کی بناء پر تگ و دو کرنے میں آزاد ہیں۔ معاشی مساوات سے اجتماعی ملکیت ہرگز مراد نہیں بلکہ یہ دین تو ذاتی ملکیت کا بنیادی حق بھی انسان کو دیتا ہے۔ فی الحقیقت اسلام حقِ معیشت کی مساوات کا قائل ہے۔ البتہ جائز ذرائع سے کسی پر ظلم کیے بغیر اگر کوئی شخص زیادہ وسائل حاصل کرتا ہے تو اسلام اس سے غصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہاں وہ ظلم، احتکار و اکتناز اور لوٹ کھسوٹ کی بھی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام انسان کو معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے وہ انسان کو معاشی جدوجہد میں بھر پور حصہ لینے کی تلقین کرتا ہے تاکہ وہ کسی کا دست نگر نہ ہو۔ وہ انسانی زندگی میں جدوجہد کے بارے میں ایک عمومی اصول دیتا ہے جس میں معاشی جدوجہد بھی شامل ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
وان لیس للانسان الا ماسعی.
(النجم/۳۹)
”انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہ جس کے لیے اس نے سعی کی“۔
وہ اس جدوجہد میں حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی حدود متعین کرتا ہے تاکہ معاشرے میں لوٹ کھسوٹ، معاشی استحصال، ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری اور ناجائز کاروباری سرگرمیاں جاری نہ رہ سکیں۔ اسلام معاشرے میں انفاق کے اصول متعارف کراتا ہے جو بالآخر اسے خود کفالت کی منزل عطا کرتا ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے شہری کی زندگی سے معاشی تعطل کو دُور کرے اور اسے فعال معاشی کارکن بنائے۔ وہ محروم المعیشت لوگوں کو خوشحال شہریوں کے اموال کا حصہ دار بناتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
والذین فی اموالهم حق معلوم.
(المعارج/۲۴)
”وہ (مسلمان) جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حق ہے“۔
وفی اموالهم حق للسائل والمحروم.
(الذاریات/۱۹)
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
”اور ان کے مال میں مانگنے اور نہ مانگنے والے محروم کا حق ہے“۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ دینے والا لینے والے کو اس کا حق دے رہا ہے احسان نہیں کر رہا۔
قرآن اسے اللہ کا قرض قرار دیتا ہے یعنی کوئی شخص اگر کسی محروم شہری کی مدد کرتا ہے تو وہ اللہ کو قرض دے رہا ہے جس کا نفع یقینی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: واقيموا الصلوة واتوا الزكوة واقرضوا الله قرضاً حسناً.
(المزمل/۲۰)
”نماز قائم کرو زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو“۔
انفاق کی سرگرمی کے باوجود اگر کچھ لوگ رہ جائیں تو اسلامی ریاست ان کی کفالت کا انتظام کرے گی۔ مسلمانوں کا بیت المال محروم شہریوں کا ذمہ دار ہے۔ خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی سرپرست نہیں اس کا سرپرست میں ہوں“۔ انا ولی من لا ولی له.
(مسند احمد ۱۳۳/۴)
اسی طرح مرنے والے کے قرض کے بارے میں فرمایا: انا وارث من لا وارث له اعقل له وارثه.
(ابو داؤد کتاب الفرائض باب فی میراث ذوی الارحام ۱۴۹/۳)
”جس کا کوئی وارث نہیں، اس کا میں وارث ہوں، اس کی جانب سے دیت دوں گا اور اس کا وارث ہوں گا“۔
ذاتی ملکیت کا حق
اسلام انفرادی ملکیت کے حق کو اصول وضوابط کے ساتھ تسلیم کرتا ہے جو بالآخر جماعت کے مصالح پر منتج ہوتی ہے۔ اس حق کی جائز صورتوں کو تو وہ اپنے نظام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
قرآن پاک کا فرمان ہے: للرجال نصيب مما اكتسبوا. وللنساء نصيب مما اكتسبن.
(النساء/۳۲)
”مردوں کے لیے ان کے مال کا حصہ ثابت ہے اور عورتوں کے لیے ان کے مال کا حصہ ثابت ہے“۔
واتوا اليتمى اموالهم ولا تتبدلوا الخبيث بالطيب.
(النساء/۲)
حکومت بدلا اسلام ذاتی لازمی نتائج کو بھی تسلیم کر کی عملی ضمانت دست ا سخت سزا ”قطع ید“ اس ایسی ملکیت جس سے ا پابندیاں لگا سکتی ہے لیکن آزادیِ اجتماع کا حق اسلام نے آ ولتک وينهون عن ا ”اور تم طرف بلایا کر کریں“۔ آزادی اجتماع کے ”جب امت قرآن نے بار بار رائے رکھنے والے لو حق اجتماعیت کا سوال ظہور پر پیش آیا اور انہوں نے ان سے فرمایا: ”جس کوشش نہ کرو مذکورہ بالا بیان
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
مانگنے والے محروم کا حق ہے‘‘۔ الا لینے والے کو اس کا حق دے رہا ہے، احسان میں کوئی شخص اگر کسی محروم شہری کی مدد کرتا ہے تو وہ مجید میں ہے: وا اقرضوا الله قرضاً حسناً.
(المزمل /۲۰)
قرض دیتے رہو‘‘۔ رہ جائیں تو اسلامی ریاست ان کی کفالت کا ں کا ذمہ دار ہے۔ خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ ت نہیں، اس کا سر پرست میں ہوں ۔“
م /۱۳۳)
ے میں فرمایا: ل له وارثه.
ب فی میراث ذوی الارحام ۱۴۹/۳)
یں وارث ہوں، اس کی جانب سے
رابطہ کے ساتھ تسلیم کرتا ہے جو بالآخر جماعت ، وہ اپنے نظام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
موا. وللنساء نصيب مما
(النساء /۳۲)
حصہ ثابت ہے اور عورتوں کے لیے
الخبيث بالطيب. (النساء /۲)
”اور یتیموں کے مال ان ہی کو پہنچاتے رہو اور تم اچھی چیز سے بری چیز کو مت بدلو“۔ اسلام ذاتی ملکیت کو تسلیم کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس سے مرتب ہونے والے لازمی نتائج کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ ملکیت چوری، ڈاکہ، لوٹ مار وغیرہ سے تحفظ بھی دیتا ہے۔ اس تحفظ کی عملی ضمانت دست اندازی کی تمام صورتوں پر سخت سزائیں مقرر کر کے دیتا ہے۔ مثلاً چوری کی سخت سزا ”قطع ید“ اس حق کے احترام اور اس پر دست درازی کی ممانعت کی کھلی دلیل ہے۔ بلاشبہ ایسی ملکیت جس سے اجتماعی مفاسد پھیل جائیں، اسلامی ریاست مصالح مرسلہ کے اصول کے تحت کچھ پابندیاں لگا سکتی ہے لیکن اسے ابدی اصول کی حیثیت سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
آزادی اجتماع کا حق
اسلام نے آزادی اجتماع کا حق بھی انسان کو عطا کیا ہے۔ قرآن کریم کا بیان ہے: ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر. (آل عمران /۱۰۴) ”اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جس کے لوگ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں“۔
آزادی اجتماع کے موضوع پر سید مودودیؒ لکھتے ہیں: ”جب اختلاف آراء کو انسانی زندگی کی ایک اٹل حقیقت کے طور پر قرآن نے بار بار پیش کیا ہے تو پھر یہ نہایت ممکن الامر ہے کہ ایک طرح کی رائے رکھنے والے لوگ آپس میں مربوط ہوں ۔“
(اسلامی ریاست /۵۶۸)
حق اجتماعیت کا سوال سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے خوارج کے ظہور پر پیش آیا اور انہوں نے ان کے لیے آزادی اجتماع کے حق کو تسلیم کر لیا۔ انہوں نے خارجیوں سے فرمایا: ”جب تک تم تلوار اٹھا کر زبردستی اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرو گے تمہیں پوری آزادی حاصل رہے گی ۔“
(الکامل للمبرد باب الخوارج )
مذکورہ بالا بیان کردہ حقوق کے علاوہ اسلام نے کچھ اور حقوق سے بھی انسان کو روشناس
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophethood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
کرایا ہے جن میں نیکی میں تعاون اور بدی میں عدم تعاون کا حق‘ تحفظ ناموس خواتین کا حق‘ عدل و انصاف اور ظالم کی اطاعت سے انکار کا حق‘ معصیت سے اجتناب کا حق اور سیاسی کارفرمائی میں شرکت کا حق وغیرہ بھی شامل ہیں۔
ریاست کے معاملات میں شرکت کا حق
اسلامی ریاست چونکہ شخصی‘ گروہی‘ خاندانی اور نسلی ریاست نہیں اور ہر مسلمان کو بحق نیابت الٰہی‘ امور مملکت میں شرکت کا پورا حق ہے۔ قرآن نے اس اصول کو واضح لفظوں میں بیان کیا ہے:
وامرهم شوریٰ بينهم.
(الشوریٰ/۳۸)
”اور مسلمانوں کا کام آپس میں مشورے سے چلتا ہے“۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اسلامی ریاست کے پہلے سربراہ تھے انہیں حکم ہوتا ہے:
وشاورهم فى الامر. فاذا عزمت فتوكل على الله.
(آل عمران/۱۵۹)
”اے پیغمبرؐ ان سے معاملات میں مشورہ کر لیا کرو اور پھر جب ارادہ پختہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو“۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد شوریٰ کے اس مفہوم میں مندرجہ ذیل امور شامل ہیں:
- (الف) ریاست کے امیر اور اس کے مشیر نمائندے لوگوں کی آزادانہ رائے سے
منتخب ہوں۔
- (ب) لوگوں کو اور ان کے نمائندوں کو تنقید‘ اختلاف اور اظہار رائے کی آزادی ہو۔
- (ج) عوام کو یہ حق حاصل ہو کہ جسے وہ چاہیں‘ وہی ریاست کا انتظام کرے اور جسے وہ نہ
چاہیں‘ اسے منصبِ ریاست سے ہٹایا جا سکے۔
جیسا کہ ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ دنیا میں انسانی حقوق کا جو اعلان ہوا ہے اس کے پیچھے کوئی سند نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام کے تصورِ حقوقِ انسانی کو سند اور قوتِ نافذہ دونوں حاصل ہیں۔
حقوق کے ضمن میں ایک بلند معیار پیش کر دیا گیا اور یہ کوئی معاہدہ نہ تھا کہ ان حقوق کو ساری قوموں سے منوایا جا سکے۔ لیکن اسلام کے حلقہ میں داخل ہونے والا ہر فرد اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا پابند ہے۔ اس لیے وہ لازماً مانے گا۔ اس اعتبار سے یہ حقوق
مسلمانوں کو بھی دیئے جائیں گے اور دو اسلام کے رحمت ہونے کی ایک بہت ب العمل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اسلام واقعی خصوصیت ہے جو اسے تمام ادیان اور صادق فرمایا جو قرآن حکیم میں محفوظ ہے! اليوم اكملت لك لكم الاسلام دينا. (المائ ”(آج کے دن تمہارے انعام تمام کر دیا۔ اور میں نے یہ ایک مختصر سی فہرست ہے جو ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات بنیادی حقوق کے سلسلے میں غالباً اسلام ایسے حقوق کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے ج بڑھ کر یہ کہ ان حقوق کو ایک سند حاصل ”مسلمانوں کا معاملہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پ اسلام نے انسانی حقوق کے دلیل ہیں۔ اسلام کے سیاسی نظام پر لکھی مآخذ اور جدید تصانیف میں ان تفصیلا
ق تحفظ ناموس خواتین کا حق، عدل و انتخاب کا حق اور سیاسی کارفرمائی میں
ئی ریاست نہیں اور ہر مسلمان کو بحق نے اس اصول کو واضح لفظوں میں بیان
سے چلتا ہے“۔ پہلے سر براہ تھے انہیں حکم ہوتا ہے: توکل علی اللہ۔
(آل عمران / ۱۵۹)
لیا کرو اور پھر جب ارادہ
ری کے اس مفہوم میں مندرجہ ذیل امور
عہدے لوگوں کی آزادانہ رائے سے
رف اور اظہار رائے کی آزادی ہو۔ ریاست کا انتظام کرے اور جسے وہ نہ
سانی حقوق کا جو اعلان ہوا ہے اس کے ق انسانی کو سند اور قوت نافذہ دونوں
اور یہ کوئی معاہدہ نہ تھا کہ ان حقوق کو حامل ہونے والا ہر فرد اللہ کی کتاب اور اس وہ لازماً مانے گا۔ اس اعتبار سے یہ حقوق
مسلمانوں کو بھی دیئے جائیں گے اور دوسری اقوام کو بھی، دوستوں کو بھی اور دشمنوں کو بھی۔ یہ بھی دین اسلام کے رحمت ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ انسانی حقوق کے ضمن میں بھی اسلام کا دین اکمل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اسلام واقعی زندگی کے جملہ پہلوؤں پر حاوی ہے اور یہی اسلام کی وہ خصوصیت ہے جو اسے تمام ادیان اور نظامہائے فکر سے ممتاز کرتی ہے۔ خالق کائنات نے قول صادق فرمایا جو قرآن حکیم میں محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا۔
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت
لكم الاسلام دينا. (المائدہ/۳)
” (آج کے دن تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا“۔
یہ ایک مختصر سی فہرست ہے جس کے بارے میں قرآن وسنت کی واضح نصوص پیش کی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے تتبع سے مزید تفصیلات مرتب کی جاسکتی ہیں۔ انسان کے بنیادی حقوق کے سلسلے میں غالباً اسلام کا نقطہ نظر زیادہ واضح اور تفصیلی ہے کیونکہ اسلام ہمیں بعض ایسے حقوق کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے جن کا تصور بھی دور حاضر کا دماغ نہیں کر پا رہا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان حقوق کو ایک سند حاصل ہے۔ بقول سید مودودیؒ :
”مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے پابند ہیں ۔“ (انسان کے بنیادی حقوق / ۲۸)
اسلام نے انسانی حقوق کے بارے میں بڑی جزئیات دی ہیں جو یقیناً اعلیٰ معیار کی دلیل ہیں۔ اسلام کے سیاسی نظام پر لکھنے والے مسلم مصنفین نے حقوق کی تفصیلی بحثیں کی ہیں۔ قدیم مآخذ اور جدید تصانیف میں ان تفصیلات کو دیکھا جاسکتا ہے۔
❀ ❀ ❀
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
جسٹس (ر) مولانا محمد تقی عثمانی
سیرت النبیؐ اور انسانی حقوق
تذکرہ ہے نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کی سیرت طیبہ کا اور سیرت طیبہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے صرف ایک پہلو کو بھی بیان کرنا چاہے تو پوری رات بھی اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے وجود باجود میں اللہ جل جلالہ نے تمام بشری کمالات، جتنے متصور ہو سکتے تھے وہ سارے کے سارے جمع فرمائے ۔ یہ جو کسی نے کہا تھا کہ :
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
تو یہ کوئی مبالغے کی بات نہیں تھی ۔ سرور دو عالم ﷺ اس انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی تخلیق کا ایک ایسا شاہکار بن کر تشریف لائے تھے کہ جس پر کسی بھی نقطۂ نظر سے غور کیجیے تو وہ کمال ہی کمال کا پیکر ہے ۔ اس لیے آپ کی سیرت طیبہ کے کس پہلو کو آدمی بیان کرے اور کس کو چھوڑے، انسان کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا است
اور غالب مرحوم نے کہا تھا :
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است
آج کی دنیا کا پروپیگنڈا
انسان کے تو بس ہی میں نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعریف و توصیف کا حق ادا کر سکے ۔ ہمارے یہ ناپاک منہ یہ گندی زبانیں اس لائق نہیں تھیں کہ ان کو نبی ﷺ کا نام لینے کی بھی اجازت دی جا سکے لیکن یہ اللہ جل جلالہ کا کرم ہے کہ اس نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اس سے راہنمائی اور استفادے کا بھی موقع عطا فرمایا ۔ اس لیے موضوعات تو سیرت کے بے شمار ہیں لیکن میرے مخدوم اور محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، اللہ تعالیٰ ان کے فیوض کو جاری و ساری فرمائے، انہوں نے حکم دیا کہ سیرت طیبہ کے اس پہلو پر گفتگو کی جائے کہ نبی کریم سرور دو عالم ﷺ انسانی حقوق کے
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
لیے کیا راہنمائی اور ہدایت لے کر تشریف لائے اور جیسا کہ انہوں نے ابھی فرمایا کہ اس موضوع کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں اس پروپیگنڈہ کا بازار گرم ہے کہ اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے ہیومن رائٹس مجروح ہوں گے انسانی حقوق مجروح ہوں گے اور یہ پبلسٹی کی جا رہی ہے کہ گویا ہیومن رائٹس کا تصور پہلی بار مغرب کے ایوانوں سے بلند ہوا اور سب سے پہلے انسان کو حقوق دینے والے یہ اہل مغرب ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات میں انسانی حقوق کا معاذ اللہ کوئی تصور موجود نہیں یہ موضوع جب انہوں نے گفتگو کے لیے عطا فرمایا تو ان کے تعمیل حکم میں اسی موضوع پر آج اپنی گفتگو کو محصور کرنے کی کوشش کروں گا۔
انسانی حقوق کا تصور
سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا منظور ہے کہ آیا اسلام میں انسانی حقوق کا کوئی جامع تصور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں ہے یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا عجیب و غریب رجحان ہے کہ انسانی حقوق کا ایک تصور پہلے اپنی عقل اپنی فکر اپنی سوچ کی روشنی میں خود متعین کر لیا ہے کہ یہ انسانی حقوق ہیں یہ ہیومن رائٹس ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے اور اپنی طرف سے خود ساختہ جو سانچہ انسانی حقوق کا ذہن میں بنایا اس کو ایک معیار حق قرار دے کر ہر چیز کو اس معیار پر پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے سے خود متعین کر لیا کہ فلاں چیز انسانی حق ہے اور فلاں چیز انسانی حق نہیں ہے۔ اور یہ متعین کرنے کے بعد اب دیکھا جاتا ہے کہ آیا اسلام یہ حق دیتا ہے یا نہیں دیتا؟ محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ حق دیا یا نہیں دیا؟ اگر دیا تو گویا ہم کس درجہ میں اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں دیا تو ہم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن ان مفکرین دانشوروں اور ان فکر و عقل کے سُورماؤں سے میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ نے جو اپنے ذہن سے انسانی حقوق کے تصورات مرتب کیئے یہ آخر کس بنیاد پر کیے؟ یہ کس اساس پر کیے؟ یہ جو آپ نے یہ تصور کیا کہ انسانی حقوق کا ایک پہلو یہ ہے ہر انسان کو یہ حق ضرور ملنا چاہیئے یہ آخر کس بنیاد پر آپ نے کہا کہ ملنا چاہیے؟
انسانی حقوق بدلتے آئے ہیں
انسانیت کی تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسان کے ذہن میں انسانی حقوق کے تصورات بدلتے چلے آئے ہیں۔ کسی دور میں انسان کے لیے ایک حق لازمی سمجھا جاتا تھا دوسرے دور میں اس حق کو بیکار قرار دے دیا گیا۔ ایک خطے میں ایک حق قرار دیا گیا دوسری جگہ اس حق کو ناحق قرار دے دیا گیا۔ تاریخ انسانیت پر نظر دوڑا کر دیکھیے تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ جس زمانے میں بھی انسانی فکر نے حقوق کے جو سانچے تیار کیئے ان کا پروپیگنڈا ان کی پبلسٹی اس زور و شور کے ساتھ کی گئی کہ اس کے خلاف بولنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔
حضور نبی کریم سرکار دو عالم ﷺ جس وقت دنیا میں تشریف لائے اس وقت انسانی
حقوق کا ایک تصور تھا اور وہ تصور ساری دنیا کے اندر پھیلا ہوا تھا اور اسی تصور کو معیار حق قرار دیا جاتا تھا کہ یہ حق لازمی ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ اس زمانہ میں انسانی حقوق ہی کے حوالے سے یہ تصور تھا کہ جو شخص کسی کا غلام بن گیا تو غلام بننے کے بعد صرف جان و مال اور جسم ہی اس کا مملوک نہیں ہوتا تھا بلکہ انسانی حقوق اور انسانی مفادات کے ہر تصور سے وہ عاری ہو جاتا تھا۔ آقا کا یہ بنیادی حق تھا کہ چاہے وہ اپنے غلام کی گردن میں طوق ڈالے اور اس کے پاؤں میں بیڑیاں پہنائے یہ ایک تصور تھا۔ جنہوں نے اس کو جسٹیفائی (Justify) کرنے کے لیے اور اس کو مبنی بر انصاف قرار دینے کے لیے فلسفے پیش کیے تھے ان کا پورا لٹریچر آپ کو مل جائے گا آپ کہیں گے کہ یہ دور کی بات ہے چودہ سو سال پہلے کی بات ہے۔ لیکن ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات لے لیجیے جب جرمنی اور اٹلی میں فاشزم نے اور نازی ازم نے سر اٹھایا تھا۔ آج فاشزم اور نازی ازم کا نام گالی بن چکا اور دنیا بھر میں بدنام ہو چکا، لیکن آپ ان کے فلسفے کو اٹھا کر دیکھیے جس بنیاد پر انہوں نے فاشزم کا تصور پیش کیا تھا اور نازی ازم کا تصور پیش کیا تھا اس فلسفے کو خالص عقل کی بنیاد پر اگر آپ رد کرنا چاہیں تو آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ جو طاقتور ہے اس کا ہی یہ بنیادی حق ہے کہ وہ کمزور پر حکومت کرے اور یہ طاقتور کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتا ہے اور کمزور کے ذمہ واجب ہے کہ وہ طاقت کے آگے سر جھکائے۔ یہ تصور ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے۔ تو انسانی افکار کی تاریخ میں انسانی حقوق کے تصورات یکساں نہیں رہے بدلتے رہے کسی دور میں کسی ایک چیز کو حق قرار دیا گیا اور کسی دور میں کسی دوسری چیز کو حق قرار دیا گیا اور جس دور میں جس قسم کے حقوق کے سیٹ کو یہ کہا گیا کہ یہ انسانی حقوق کا حصہ ہے اس کے خلاف بات کرنا زبان کھولنا ایک جرم قرار پایا۔ تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آج جن ہیومن رائٹس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان ہیومن رائٹس کا تحفظ ضروری ہے یہ کل کو تبدیل نہیں ہوں گے، کل کو ان کے درمیان انقلاب نہیں آئے گا اور کونسی بنیاد ہے جو اس بات کو درست قرار دے سکے؟
صحیح انسانی حقوق کا تعین
حضور نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کا انسانی حقوق کے بارے میں سب سے بڑا کنٹری بیوشن (Contribution) یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انسانی حقوق کے تعین کی صحیح بنیاد فراہم فرمائی، وہ اساس فراہم فرمائی جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کون سے ہیومن رائٹس قابل تحفظ ہیں اور کون سے ہیومن رائٹس قابل تحفظ نہیں۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی راہنمائی اور آپ کی ہدایت کو اساس تسلیم نہ کیا جائے تو اس دنیا کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بنا پر وہ کہہ سکے کہ فلاں انسانی حقوق لازماً قابل تحفظ ہیں۔
آزادی فکر کا علمبردار ادارہ
میں آپ کو ایک لطیفے کی بات سناتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک دن میں مغرب کی نماز پڑھ
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
کر گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو باہر سے کوئی صاحب لکھا ہوا تھا کہ یہ ساری دنیا میں ایک مشہور اد بنیادی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے اس ادار وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں، خیر میں نے ا وقت نہیں لیا تھا اچانک آ گئے اور پاکستان تھے۔ آپ کو یہ معلوم ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیش آزادی تقریر و تحریر کا علمبردار کہا جاتا ہے قادیانیوں کے سلسلے میں پابندیاں عائد کی احتجاجات کا سلسلہ رہا، بہر حال یہ صاحب سے اس لیے ملنا چاہتا ہوں کہ میرے ادار تقریر اور انسانی حقوق کے سلسلے میں ساؤتھ یہ معلوم کروں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے رائے کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہ آمادہ ہیں؟ اس کا سروے کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے معذرت پہلے سے وقت نہیں لے سکا، لیکن میں چاہت کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر سکوں۔
آج کل کا سروے
میں نے ان صاحب سے پوچ میں نے کہا آئندہ کیا پروگرام ہے؟ فرما بعد؟ کہا کہ اسلام آباد ایک یا دو دن ٹھہر فرمائیں گے؟ کہا دو دن میں نے کہا پھر و نے کہا کل آپ کراچی تشریف لائے اور آپ اسلام آباد چلے جائیں گے آج کا رائے عامہ کا سروے کر لیا؟ تو اس سوال پ نہیں ہو سکتا تھا، لیکن اس مدت کے اندر م ہو گیا ہے تو میں نے کہا آپ نے کتنے لو چکا ہوں، چھٹے آپ ہیں، میں نے کہا چھ افرا کر لیا اب اس کے بعد کل اسلام آباد تشر
د پہلا ہوتا تھا اور اسی تصور کو معیار حق قرار دیا جاتا تھا ہوں کہ اس زمانہ میں انسانی حقوق ہی کے حوالے م بننے کے بعد صرف جان و مال اور جسم ہی اس کا مادات کے ہر تصور سے وہ عاری ہو جاتا تھا۔ آقا کا میں طوق ڈالے اور اس کے پاؤں میں بیڑیاں گی (Justify) کرنے کے لیے اور اس کو مبنی بر ا پورا لٹریچر آپ کو مل جائے گا‘ آپ کہیں گے کہ یہ لیکن ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات لے لیجیے نے سر اٹھایا تھا۔ آج فاشزم اور نازی ازم کا نام گالی م کے فلسفے کو اٹھا کر دیکھیے‘ جس بنیاد پر انہوں نے لیا تھا‘ اس فلسفے کو خالص عقل کی بنیاد پر اگر آپ رد پیش کیا تھا کہ جو طاقتور ہے اس کا ہی یہ بنیادی حق بنیادی حقوق میں شمار ہوتا ہے اور کمزور کے ذمہ تصور ابھی سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات ہے۔ تو یکساں نہیں رہے‘ بدلتے رہے کسی دور میں کسی چیز کو حق قرار دیا گیا اور جس دور میں جس قسم کے عہ ہے اس کے خلاف بات کرنا‘ زبان کھولنا ایک جن ہیومن رائٹس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے دیل نہیں ہوں گے‘ کل کو ان کے درمیان انقلاب قرار دے سکے؟
انسانی حقوق کے بارے میں سب سے بڑا کنٹری نے انسانی حقوق کے تعین کی صحیح بنیاد فراہم فرمائی‘ سکے کہ کون سے ہیومن رائٹس قابل تحفظ ہیں اور ول اللہ ﷺ کی راہنمائی اور آپ کی ہدایت کو نہیں ہے جس کی بنا پر وہ کہہ سکے کہ فلاں انسانی
کچھ عرصہ پہلے ایک دن میں مغرب کی نماز پڑھ
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
کر گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو باہر سے کوئی صاحب ملنے کے لیے آئے۔ کارڈ بھیجا تو دیکھا کہ اس کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ یہ ساری دنیا میں ایک مشہور ادارہ ہے جس کا نام ایمنیسٹی انٹرنیشنل ہے‘ جو سارے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے‘ اس ادارے کے ایک ڈائریکٹر پیرس سے پاکستان آئے ہیں اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ خیر میں نے اندر بلا لیا‘ پہلے سے کوئی اپائنٹمنٹ نہیں تھی‘ کوئی پہلے سے وقت نہیں لیا تھا اچانک آ گئے اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر بھی ان کے ساتھ تھے۔ آپ کو یہ معلوم ہے کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل وہ ادارہ ہے جس کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اور آزادی تقریر وتحریر کا علمبردار کہا جاتا ہے اور پاکستان میں جو بعض شرعی قوانین نافذ ہوئے یا مثلاً قادیانیوں کے سلسلے میں پابندیاں عائد کی گئیں تو ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے اس پر اعتراضات و احتجاجات کا سلسلہ رہا‘ بہرحال یہ صاحب تشریف لائے تو انہوں نے آ کر مجھ سے کہا کہ میں آپ سے اس لیے ملنا چاہتا ہوں کہ میرے ادارے نے مجھے اس بات پر مقرر کیا ہے کہ میں آزادی تحریر و تقریر اور انسانی حقوق کے سلسلے میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کی رائے عامہ کا سروے کروں یعنی یہ معلوم کروں کہ جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمان انسانی حقوق‘ آزادی تحریر و تقریر اور آزادی اظہارِ رائے کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور وہ کس حد تک اس معاملہ میں ہم سے تعاون کرنے پر آمادہ ہیں؟ اس کا سروے کرنے کے لیے میں پیرس سے آیا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے انٹرویو کرنا چاہتا ہوں‘ ساتھ ہی انہوں نے معذرت بھی کی کہ چونکہ میرے پاس وقت کم تھا‘ اس لیے میں پہلے سے وقت نہیں لے سکا‘ لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے چند سوالات کا آپ جواب دیں تا کہ اس کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کر سکوں۔
آج کل کا سروے
میں نے ان صاحب سے پوچھا کہ آپ کب تشریف لائے؟ کہا کہ میں کل ہی پہنچا ہوں‘ میں نے کہا آئندہ کیا پروگرام ہے؟ فرمانے لگے کہ کل مجھے اسلام آباد جانا ہے‘ میں نے کہا اس کے بعد؟ کہا کہ اسلام آباد ایک یا دو دن ٹھہر کر پھر میں دہلی جاؤں گا‘ میں نے کہا وہاں کتنے دن قیام فرمائیں گے؟ کہا دو دن‘ میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ کہا کہ اس کے بعد مجھے ملائشیا جانا ہے تو میں نے کہا کل آپ کراچی تشریف لائے اور آج شام کو اس وقت میرے پاس تشریف لائے‘ کل صبح آپ اسلام آباد چلے جائیں گے‘ آج کا دن آپ نے کراچی میں گزارا‘ تو آپ نے کیا کراچی کی رائے عامہ کا سروے کر لیا؟ تو اس سوال پر وہ بہت سٹپٹائے‘ کہنے لگے اتنی دیر میں واقعی پورا سروے تو نہیں ہو سکتا تھا‘ لیکن اس مدت کے اندر میں نے کافی لوگوں سے ملاقات کی اور تھوڑا بہت اندازہ مجھے ہو گیا ہے‘ تو میں نے کہا آپ نے کتنے لوگوں سے ملاقات کی؟ کہا کہ پانچ افراد سے میں ملاقات کر چکا ہوں‘ چھٹے آپ ہیں‘ میں نے کہا چھ افراد سے ملاقات کرنے کے بعد آپ نے کراچی کا سروے مکمل کر لیا‘ اب اس کے بعد کل اسلام آباد تشریف لے جائیں گے اور وہاں ایک دن قیام فرمائیں گے‘ چھ
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
آدمیوں سے وہاں پھر آپ کی ملاقات ہو گی، چھ آدمیوں سے ملاقات کے بعد اسلام آباد کی رائے عامہ کا سروے ہو جائے گا، اس کے بعد دو دن دہلی تشریف لے جائیں گے، دو دن دہلی کے اندر کچھ لوگوں سے ملاقات کریں گے تو وہاں کا سروے آپ کا ہو جائے گا۔ تو یہ بتائیے کہ یہ سروے کا کیا طریقہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے آپ کی بات معقول ہے، واقعتاً جتنا وقت مجھے دینا چاہیے تھا، اتنا میں دے نہیں پا رہا، مگر میں کیا کروں کہ میرے پاس وقت کم تھا۔ میں نے کہا معاف فرمائیے، اگر وقت کم تھا تو کس ڈاکٹر نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سروے کریں؟ اس لیے کہ اگر سروے کرنا تھا تو پھر ایسے آدمی کو کرنا چاہیے جس کے پاس وقت ہو، جو لوگوں کے پاس جا کر مل سکے، لوگوں سے بات کر سکے، اگر وقت کم تھا تو پھر سروے کی ذمہ داری لینے کی ضرورت کیا تھی؟ تو وہ کہنے لگے کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے، لیکن بس ہمیں اتنا ہی وقت دیا گیا تھا، اس لیے میں مجبور تھا، میں نے کہا معاف فرمائیے، مجھے آپ کے اس سروے کی سنجیدگی پر شک ہے، میں اس سروے کو سنجیدہ نہیں سمجھتا، لہٰذا میں اس سروے کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں، اس لیے کہ آپ پانچ چھ آدمیوں سے گفتگو کرنے کے بعد یہ رپورٹ دیں گے کہ وہاں پر رائے عامہ یہ ہے۔ اس رپورٹ کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے؟ لہٰذا میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا، وہ بہت سٹپٹائے اور کہا کہ آپ کی بات ویسے یقیناً صحیح ہے، لیکن یہ کہ میں چونکہ آپ کے پاس ایک بات پوچھنے کے لیے آیا ہوں تو میرے کچھ سوالوں کے جواب آپ ضرور دے دیں، میں نے کہا نہیں، میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا، جب تک مجھے اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ آپ کا سروے واقعتاً علمی نوعیت کا ہے اور سنجیدہ ہے اس وقت تک میں اس کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تیار نہیں ہوں، آپ مجھے معاف فرمائیں، آپ میرے مہمان ہیں، میں آپ کی خاطر تواضع جو کر سکتا ہوں وہ کروں گا، باقی کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔
کیا آزادی فکر کا نظریہ بالکل مطلق ہے؟
میں نے کہا کہ اگر میری بات میں کوئی غیر معقولیت ہے تو مجھے سمجھا دیجیے کہ میرا موقف غلط ہے اور فلاں بنیاد پر غلط ہے، کہنے لگے بات تو آپ کی معقول ہے، لیکن میں آپ سے ویسے برادرانہ طور پر یہ چاہتا ہوں کہ آپ کچھ جواب دیں، میں نے کہا میں جواب نہیں دوں گا، البتہ آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں، کہنے لگے سوال تو میں کرنے کے لیے آیا تھا لیکن آپ میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے تو ٹھیک ہے۔ آپ سوال کر لیں۔ آپ کیا سوال کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا میں آپ سے اجازت طلب کر رہا ہوں، اگر آپ اجازت دیں گے تو سوال کرلوں گا۔ اگر اجازت نہیں دیں گے تو میں بھی سوال نہیں کروں گا اور ہم دونوں کی ملاقات ہو گئی، بات ختم ہو گئی۔ کہنے لگے نہیں آپ سوال کر لیجیے، تو میں نے کہا میں سوال آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کا علم لے کر چلے ہیں تو میں ایک بات آپ سے پوچھنا
ے ملاقات کے بعد اسلام آباد کی رائے لے جائیں گے دو دن دہلی کے اندر کچھ ملے گا۔ تو یہ بتائیے کہ یہ سروے کا کیا وقت مجھے دینا چاہیے تھا‘ اتنا میں دے نے کہا معاف فرمائیے‘ اگر وقت کم تھا تو اس لیے کہ اگر سروے کرنا تھا تو پھر ایسے اگر مل سکے‘ لوگوں سے بات کر سکے‘ اگر تو وہ کہنے لگے کہ بات تو آپ کی ٹھیک میں نے کہا معاف فرمائیے‘ مجھے آپ نہیں سمجھتا‘ لہٰذا میں اس سروے کے اندر ال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں‘ اس ورٹ دیں گے کہ وہاں پر رائے عامہ یہ پ کے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا‘ لیکن یہ کہ میں چونکہ آپ کے پاس ایک ب آپ ضرور دے دیں میں نے کہا نہیں‘ اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ آپ کا میں اس کے اندر کوئی پارٹی بننے کے لیے تی ہیں میں آپ کی خاطر تو وضع جو کر سکتا
ہے تو مجھے سمجھا دیجیے کہ میرا موقف غلط ہے‘ لیکن میں آپ سے ویسے برادرانہ میں جواب نہیں دوں گا‘ البتہ آپ مجھے لگے سوال تو میں کرنے کے لیے آیا تھا تہ آپ سوال کر لیں۔ آپ کیا سوال کرنا ہوں‘ اگر آپ اجازت دیں گے تو سوال کروں گا اور ہم دونوں کی ملاقات ہو گئی‘ تھا میں سوال آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کے ہیں تو میں ایک بات آپ سے پوچھنا
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
چاہتا ہوں کہ یہ آزادی اظہار رائے جس کی آپ تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں‘ یہ آزادی اظہار رائے Absolute یعنی مطلق ہے‘ اس پر کوئی قید‘ کوئی پابندی‘ کوئی شرط عائد نہیں ہوتی یا یہ کہ آزادی اظہار رائے پر کچھ قیود و شرائط بھی عائد ہونی چاہئیں؟ کہنے لگے میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا؟ تو میں نے کہا مطلب الفاظ سے واضح ہے۔ میں یہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جس آزادی اظہار رائے کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو کیا وہ ایسی ہے کہ جس شخص کی جو رائے ہو‘ اس کو برملا اظہار کرنے‘ اس کی برملا تبلیغ کرنے‘ برملا اس کی طرف دعوت دے اور اس پر کوئی روک ٹوک‘ کوئی پابندی عائد نہ ہو؟ اگر یہ مقصود ہے تو فرمائیے کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ دولت مند افراد نے بہت پیسے کما لیے اور غریب لوگ بھوکے مر رہے ہیں‘ لہٰذا ان دولت مندوں کے گھروں پر ڈاکہ ڈال کر اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر غریبوں کو پیسہ پہنچانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص دیانتدارانہ یہ رائے رکھتا ہو اور اس کی طرف تبلیغ کرے اور اس کا اظہار کرے‘ لوگوں کو دعوت دے کہ آپ آئیے اور میرے ساتھ شامل ہو جائیے اور یہ جتنے دولتمند لوگ ہیں‘ روزانہ ان پر ڈاکہ ڈالا کریں گے‘ ان کا مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کیا کریں گے‘ تو آپ ایسی اظہار رائے کی آزادی کے حامی ہوں گے یا نہیں؟ اور اس کی اجازت دیں گے یا نہیں؟ کہنے لگے کہ اس کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ لوگوں کا مال لوٹ کر دوسروں میں تقسیم کر دیا جائے‘ تو میں نے کہا یہی میرا مطلب تھا کہ اگر اس کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس کا معنی یہ ہے کہ آزادی اظہار رائے اتنی Absolute‘ اتنی مطلق نہیں ہے کہ اس پر کوئی قید کوئی شرط کوئی پابندی عائد نہ کی جا سکے‘ کچھ نہ کچھ قید شرط لگانی پڑے گی۔ کہنے لگے ہاں کچھ نہ کچھ تو لگانی پڑے گی‘ تو میں نے کہا مجھے یہ بتائیے کہ وہ قید و شرط کس بنیاد پر لگائی جائے گی اور کون لگائے گا؟ کس بنیاد پر یہ طے کیا جائے کہ فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا تو جائز ہے اور فلاں قسم کی رائے کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے؟ فلاں قسم کی تبلیغ جائز ہے اور فلاں قسم کی تبلیغ جائز نہیں ہے؟ اس کا تعین کون کرے گا اور کس بنیاد پر کرے گا؟ اس سلسلے میں آپ کے ادارے نے کوئی علمی سروے کیا ہو اور علمی تحقیق کی ہو تو میں اس کو جاننا چاہتا ہوں۔
آپ کے پاس کوئی معیار نہیں ہے
کہنے لگے کہ اس نقطہ نظر پر اس سے پہلے ہم نے غور نہیں کیا۔ تو میں نے عرض کیا کہ دیکھیے! آپ اتنے بڑے مشن کو لے کر چلے ہیں‘ پوری انسانیت کو آزادی اظہار رائے اور ان کو حقوق دلانے کے لیے چلے ہیں‘ لیکن آپ نے بنیادی سوال نہیں سوچا کہ آخر آزادی اظہار رائے کس بنیاد پر طے ہونی چاہیے؟ کیا اصول ہونے چاہئیں؟ کیا شرطیں اور کیا قیود ہونے چاہئیں؟ تو کہنے لگے اچھا آپ ہی بتا دیجیے تو میں نے کہا میں تو پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میں کسی سوال کا جواب دینے بیٹھا ہی نہیں‘ میں تو آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا قیود و شرائط ہونی چاہئیں اور کیا نہیں‘ میں نے تو آپ سے سوال کیا ہے کہ آپ کے نقطہ نظر سے اور آپ کے ادارے کے نقطہ نظر سے کیا ہونا چاہیے؟
کہنے لگے میرے علم میں ابھی تک ایسا کوئی فارمولا نہیں ہے‘ ایک فارمولا ذہن میں آتا ہے کہ ایسی آزادی اظہار رائے جس میں وائلنس ہو‘ جس میں دوسرے کے ساتھ تشدد ہو تو ایسی آزادی اظہار رائے نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے کہا یہ تو آپ کے ذہن میں آیا کہ وائلنس کی پابندی ہونی چاہیے‘ کسی اور کے ذہن میں کوئی اور بات بھی آ سکتی ہے کہ فلاں قسم کی پابندی بھی ہونی چاہیے‘ یہ کون طے کرے گا اور کس بنیاد پر طے کرے گا کہ کس قسم کی اظہار رائے کی کھلی چھٹی ہونی چاہیے‘ کس قسم کی نہیں؟ اس کا کوئی فارمولا اور کوئی معیار ہونا چاہیے‘ کہنے لگے آپ سے گفتگو کے بعد یہ اہم سوال میرے ذہن میں آیا ہے اور میں اپنے ذمہ داروں تک اس کو پہنچاؤں گا اور اس کے بعد اس پر اگر کوئی لٹریچر ملا تو آپ کو بھیجوں گا‘ تو میں نے کہا انشاء اللہ میں منتظر رہوں گا کہ اگر آپ اس کے اوپر کوئی لٹریچر بھیج سکیں اور اس کا کوئی فلسفہ بتا سکیں تو میں ایک طالب علم کی حیثیت میں اس کا مشتاق ہوں‘ جب وہ چلنے لگے تو اس وقت میں نے ان سے کہا کہ میں سنجیدگی سے آپ سے کہہ رہا ہوں‘ یہ بات مذاق کی نہیں ہے‘ سنجیدگی سے چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر غور کیا جائے‘ اس کے بارے میں آپ اپنا نقطہ نظر بھیجیں۔ لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں کہ جتنے آپ کے نظریات اور فلسفے ہیں‘ اس سب کو مدنظر رکھ کر غور کر لیجئے‘ کوئی ایسا متفقہ فارمولا آپ پیش نہیں کر سکیں گے‘ جس پر ساری دنیا متفق ہو جائے کہ فلاں بنیاد پر اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور فلاں بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ تو یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں اور اگر پیش کر سکیں تو میں منتظر ہوں۔ آج ڈیڑھ سال ہو گیا ہے کوئی جواب نہیں آیا۔
انسانی عقل محدود ہے
حقیقت یہ ہے کہ یہ مجمل نعرے‘ کہ صاحب! یہ ہیومن رائٹس ہونے چاہئیں‘ آزادی اظہار رائے ہونی چاہیے‘ تحریر و تقریر کی آزادی ہونی چاہیے‘ ان کی ایسی کوئی بنیاد جس پر ساری دنیا متفق ہو سکے‘ نہ کسی کے پاس ہے اور نہ ہو سکتی ہے‘ کیوں؟ اس واسطے کہ جو کوئی بھی یہ بنیادیں طے کرے گا وہ اپنی سوچ اور اپنی عقل کی بنیاد پر کرے گا اور کبھی دو انسانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتی‘ دو گروپوں کی عقلیں یکساں نہیں ہوتیں‘ دو زمانوں کی عقل یکساں نہیں ہوتیں‘ لہٰذا ان کے درمیان اختلاف رہا ہے‘ رہے گا اور اس اختلاف کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں‘ وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی عقل اپنی ایک حد رکھتی ہے‘ اس کی حدود ہیں‘ اس سے آگے وہ تجاوز نہیں کر پاتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا اس پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا احسان عظیم یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ان تمام معاملات کو طے کرنے کی جو بنیاد فراہم کی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ذات جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا‘ وہ ذات جس نے انسانوں کو پیدا کیا‘ اسی سے پوچھو کہ کون سے انسانی حقوق قابل تحفظ ہیں اور کون سے انسانی حقوق قابل تحفظ نہیں؟ وہی بتا سکتا ہے‘ اس کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں
جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہم گے‘ میں نے کہا اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں گئے‘ وہاں جائیں گے اور اس کے بعد تو یاد رکھو اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں پیش کرو کہ ان مسائل کو حل کرنے میں چاہیے جس کی بنیاد پر ہم مسائل حل کر تو پھر اسلام ہدایت و راہنمائی پیش کرتا کے کیا معنی؟ متقین کے معنی یہ ہیں کہ ہیں‘ درماندگی کا اعتراف کرتے ہیں ہمیں بتائیے کہ ہمارے لیے کیا راستہ لہٰذا یہ جو آج کی دنیا کے ملیں گے‘ تب اسلام میں داخل ہوں سرکار دو عالم ﷺ نے جتنے غیر مسلموں کو دعوت دی‘ کسی جگہ حقوق مل جائیں گے‘ بلکہ یہ فرمایا کہ ”قولوا لا الہ الا اللہ تفلحون“ مادی منافع‘ مادی مصلحتوں اور مادی خو اخلاص کے ساتھ صحیح راستہ تلاش نہیں کر ان مسائل کو حل کرنے سے عاجز ہیں‘ ان
عقل کا دائرہ کار
یاد رکھیے کہ یہ موضوع بڑا ہمیں عقل عطا فرمائی‘ یہ بڑی کارآمد چیز ہے میں استعمال کیا جائے اور حدود سے باہر گی۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل جواب دے جاتی ہے اور کارآمد نہیں
حواس کا دائرہ کار
دیکھو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں‘ کان سے
اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں
جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہمیں یہ بتاؤ کہ اسلام ہمیں کیا حقوق دیتا ہے پھر ہم اسلام کو مانیں گے، میں نے کہا اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں، اگر پہلے اپنے ذہن میں طے کر لیا کہ یہ حقوق جہاں ملیں گے وہاں جائیں گے اور اس کے بعد یہ حقوق چونکہ اسلام میں مل رہے ہیں، اس واسطے میں جا رہا ہوں، تو یاد رکھو اسلام کو تمہاری ضرورت نہیں۔ اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے یہ اپنی عاجزی، درماندگی اور شکستگی پیش کرو کہ ان مسائل کو حل کرنے میں ہماری عقل عاجز ہے اور ہماری سوچ عاجز ہے، ہمیں وہ بنیاد چاہیے جس کی بنیاد پر ہم مسائل حل کریں۔ جب آدمی اس نقطہ نظر سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر اسلام ہدایت و رہنمائی پیش کرتا ہے۔ ھدی للمتقین ۔ یہ ہدایت متقین کے لیے ہے۔ متقین کے کیا معنی؟ متقین کے معنی یہ ہیں کہ جس کے دل میں طلب ہو، یہ ہو کہ ہم اپنی عاجزی کا اقرار کرتے ہیں، درماندگی کا اعتراف کرتے ہیں، پھر اپنے مالک اور خالق کے سامنے رجوع کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بتائیے کہ ہمارے لیے کیا راستہ ہے۔
لہٰذا یہ جو آج کی دنیا کے اندر ایک فیشن بن گیا کہ صاحب! پہلے یہ بتاؤ کہ ہیومن رائٹس کیا ملیں گے، تب اسلام میں داخل ہوں گے تو یہ طریقہ اسلام میں داخل ہونے کا نہیں ہے۔
سرکار دو عالم ﷺ نے جب اس امت کو اسلام کا پیغام دیا اور دعوت دی تو آپ نے جتنے غیر مسلموں کو دعوت دی، کسی جگہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اسلام میں آ جاؤ، تمہیں فلاں فلاں حقوق مل جائیں گے، بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم کو اللہ جل جلالہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہوں ”قولوا لا الہ الا اللہ تفلحون“ اے لوگو! ”لا الہ الا اللہ“ کہہ دو۔ کامیاب ہو جاؤ گے۔ لہٰذا یہ مادی منافع، مادی مصلحتوں اور مادی خواہشات کی خاطر اگر کوئی اسلام میں آنا چاہتا ہے تو وہ درحقیقت اخلاص کے ساتھ صحیح راستہ تلاش نہیں کر رہا لہٰذا پہلے وہ اپنی عاجزی کا اعتراف کرے کہ ہماری عقلیں ان مسائل کو حل کرنے سے عاجز ہیں۔
عقل کا دائرہ کار
یاد رکھیے کہ یہ موضوع بڑا طویل ہے کہ عقل انسانی بے کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں عقل عطا فرمائی، یہ بڑی کارآمد چیز ہے، مگر یہ اُس حد تک کارآمد ہے جب تک اس کو اس کی حدود میں استعمال کیا جائے اور حدود سے باہر اگر اس کو استعمال کرو گے تو وہ غلط جواب دینا شروع کر دے گی۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک اور ذریعہ علم عطا فرمایا ہے، اس کا نام وحی الٰہی ہے، جہاں عقل جواب دے جاتی ہے اور کارآمد نہیں رہتی، وحی الٰہی اسی جگہ پر آ کر رہنمائی کرتی ہے۔
حواس کا دائرہ کار
دیکھو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں آنکھ دی، کان دیئے، یہ زبان دی، آنکھ سے دیکھ کر ہم بہت سی چیزیں معلوم کرتے ہیں، کان سے سن کر بہت ساری چیزیں معلوم کرتے ہیں، زبان سے چکھ کر
بہت ساری چیزیں معلوم کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اپنا ایک فنکشن رکھا ہے ہر ایک کا اپنا عمل ہے۔ اس حد تک وہ کام دیتا ہے اس سے باہر نہیں دیتا، آنکھ دیکھ سکتی ہے سن نہیں سکتی، کوئی شخص یہ چاہے کہ میں آنکھ سے سنوں تو وہ احمق ہے کان سن سکتا ہے دیکھ نہیں سکتا، کوئی شخص یہ چاہے کہ کان سے میں دیکھنے کا کام لوں تو وہ بے وقوف ہے۔ اس واسطے کہ یہ اس کام کے لیے نہیں بنایا گیا اور ایک حد ایسی آتی ہے جہاں نہ آنکھ کام دیتی ہے نہ کان کام دیتا ہے نہ زبان کام دیتی ہے اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی وہاں جو انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔
تنہا عقل کافی نہیں
دیکھئے یہ کرسی ہمارے سامنے رکھی ہے آنکھ سے دیکھ کر معلوم کیا کہ اس کے ہینڈل زرد رنگ کے ہیں ہاتھ سے چھو کر معلوم کیا کہ یہ چکنے ہیں، لیکن تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیا خود بخود وجود میں آ گئی یا کسی نے اس کو بنایا؟ تو وہ بنانے والا میری آنکھوں کے سامنے نہیں ہے اس واسطے میری آنکھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی، میرا ہاتھ بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے تیسری چیز عطا فرمائی جس کا نام عقل ہے، عقل سے میں نے سوچا کہ یہ جو ہینڈل ہے یہ بڑے قاعدے کا بنا ہوا ہے یہ خود سے وجود میں نہیں آسکتا، کسی بنانے والے نے اس کو بنایا ہے یہاں عقل نے میری رہنمائی کی ہے لیکن ایک چوتھا سوال آگے چل کر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کرسی کو کس کام میں استعمال کرنا چاہیے؟ کس میں نہیں کرنا چاہیے؟ کہاں اس کو استعمال کرنے سے فائدہ ہوگا کہاں نقصان ہوگا؟ اس سوال کو حل کرنے کے لیے عقل بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ایک چوتھی چیز عطا فرمائی اور اس کا نام ہے وحی الٰہی وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ وہ خیر اور شر کا فیصلہ کرتی ہے وہ نفع اور نقصان کا فیصلہ کرتی ہے جو بتاتی ہے کہ اس چیز میں خیر ہے اس میں شر ہے اس میں نفع ہے اس میں نقصان ہے۔ وحی آتی ہی اس مقام پر ہے جہاں انسان کی عقل کی پرواز ختم ہو جاتی ہے۔
لہٰذا جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم آ جائے اور وہ اپنی عقل میں نہ آئے سمجھ میں نہ آئے تو اس کی وجہ سے اس کو رد کرنا کہ صاحب میری تو عقل میں نہیں آ رہا، لہٰذا میں اس کو رد کرتا ہوں۔ یہ درحقیقت اس عقل اور وحی الٰہی کی حقیقت ہی سے جہالت کا نتیجہ ہے اگر سمجھ میں آتا تو وحی آنے کی ضرورت کیا تھی؟ وحی تو آئی ہی اس لیے کہ تم اپنی تنہا عقل کے ذریعے اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے اللہ تبارک و تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے تمہاری مدد فرمائی اگر عقل سے خود بخود فیصلہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایک حکم نازل کر دیتے کہ بس ہم نے تمہیں عقل دی ہے عقل کے مطابق جو چیز اچھی لگے وہ کرو اور جو بُری لگے اس سے بچ جاؤ۔ نہ کسی کتاب کی ضرورت نہ کسی رسول کی ضرورت نہ کسی پیغمبر کی ضرورت نہ کسی مذہب اور دین کی ضرورت۔ لیکن جب اللہ نے عقل دینے کے باوجود اس پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ رسول بھیجے کتابیں اتاریں وحی بھیجی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تنہا عقل انسان کی رہنمائی کے
ہر ایک کا اپنا ایک فنکشن رکھا ہے ہر ایک کا اپنا ہونا آنکھ دیکھ سکتی ہے سن نہیں سکتی، کوئی شخص سکتا ہے دیکھ نہیں سکتا، کوئی شخص یہ چاہے کہ کان سنے کہ یہ اس کام کے لیے نہیں بنایا گیا اور ایک سکتا ہے نہ زبان کام دیتی ہے اس موقع کے لیے کرتی ہے۔
سے دیکھ کر معلوم کیا کہ اس کے پنڈل زرد ہے، پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیا خود بخود ہے؟ آنکھوں کے سامنے نہیں ہے اس واسطے کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، اس مقام عقل ہے، عقل سے میں نے سوچا کہ یہ جو میں نہیں آسکتا، کسی بنانے والے نے اس کو یہاں تو سوال آگے چل کر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کرنا چاہیے؟ کہاں اس کو استعمال کرنے سے کے لیے عقل بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر ہے، یعنی وحی الہیٰ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے انسان کا فیصلہ کرتی ہے جو بتاتی ہے کہ اس چیز غلط ہے۔ وحی آتی ہی اس مقام پر ہے جہاں
ہے اور وہ اپنی عقل میں نہ آئے، سمجھ میں سچائی میں نہیں آ رہا، لہٰذا میں اس کو رد کرتا جہالت کا نتیجہ ہے اگر سمجھ میں آتا تو وحی عقل کے ذریعے اس مقام تک نہیں پہنچ نہیں فرمائی اگر عقل سے خود بخود فیصلہ ہوتا تو کہتا ”عقل کے مطابق جو چیز اچھی لگے وہ تو کسی رسول کی ضرورت نہ کسی پیغمبر کی عقل دینے کے باوجود اس پر اکتفا نہیں نہیں کہ تنہا عقل انسان کی راہنمائی کے
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
لیے کافی نہیں تھی۔ آج کل لوگ کہتے ہیں کہ صاحب ہمیں چونکہ اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آیا لہٰذا ہم نہیں مانتے تو وہ درحقیقت دین کی حقیقت سے ناواقف ہیں، حقیقت سے جاہل ہیں۔ سمجھ میں آہی نہیں سکتا۔
اور یہیں سے ایک اور سوال کا جواب مل جاتا ہے جو آج کل بڑی کثرت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے چاند پر جانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا، خلا کو فتح کرنے کا کوئی فارمولا محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں بتایا یہ سب قومیں اس قسم کے فارمولے حاصل کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں اور ہم قرآن بغل میں رکھنے کے باوجود پیچھے رہ گئے تو قرآن اور سنت نے ہمیں یہ فارمولے کیوں نہیں بتلائے؟
جواب اس کا یہی ہے کہ اس لیے نہیں بتایا کہ وہ چیز عقل کے دائرے کی تھی اپنی عقل سے اور اپنے تجربے اور اپنی محنت سے جتنا آگے بڑھو گے اس کے اندر تمہیں انکشافات ہوتے چلے جائیں گے وہ تمہارے عقل کے دائرے کی چیز تھی، عقل اس کا ادراک کر سکتی تھی۔ اس واسطے اس کے لیے نبی بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے لیے رسول بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی اس کے لیے کتاب نازل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن کتاب اور رسول کی ضرورت وہاں تھی جہاں تمہاری عقل عاجز تھی جیسے کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل والے آدمی کی عقل عاجز تھی کہ بنیادی حقوق اور آزادی تحریر و تقریر کے اوپر کیا پابندیاں ہونی چاہئیں، کیا نہیں ہونی چاہئیں۔ اس معاملے میں انسان کی عقل عاجز تھی اس لیے محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔
حقوق کا تحفظ کس طرح ہو
آپ ﷺ نے بتایا کہ فلاں حق انسان کا ایسا ہے جس کا تحفظ ضروری ہے اور فلاں حق ہے جس کے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ تو اس لیے پہلے یہ سمجھ لو کہ سرکار دو عالم ﷺ کا انسانی حقوق کے سلسلے میں سب سے بڑا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ انسانی حقوق کے تعین کی بنیاد فراہم فرمائی کہ کونسا انسانی حق پابندی کے قابل ہے اور کون سا نہیں۔ یہ بات اگر سمجھ میں آ جائے تو اب دیکھیے کہ محمد نبی کریم ﷺ نے کون سے حقوق انسان کو عطا فرمائے کن حقوق کو ریکگنائز (Recognize) کیا کن حقوق کا تعین فرمایا اور پھر اس کے اوپر عمل کر کے دکھایا۔ آج کی دنیا میں ریکگنائز کرنے والے تو بہت اور اس کا اعلان کرنے والے بہت اس کے نعرے لگانے والے بہت لیکن ان نعروں پر اور ان حقوق کے اوپر جب عمل کرنے کا سوال آ جائے تو وہی اعلان کرنے والے جو یہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق قابل تحفظ ہیں جب ان کا اپنا معاملہ آ جاتا ہے اپنے مفاد سے ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے تو دیکھیے پھر انسانی حقوق کس طرح پامال ہوتے ہیں۔
آج کی دنیا کا حال
انسانی حقوق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اکثریت کی حکومت ہونی چاہیے، جمہوریت سیکولر
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
ڈیموکریسی ۔ آج امریکہ کی ایک کتاب دنیا بھر میں بہت مشہور ہو رہی ہے : ”دی اینڈ آف ہسٹری اینڈ دی لاسٹ مین“ آج کل کے سارے پڑھے لکھے لوگوں میں مقبول ہو رہی ہے اس کا سارا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کی ہسٹری کا خاتمہ جمہوریت کے اوپر ہو گیا اور اب انسانیت کے عروج اور فلاح کے لیے کوئی نیا نظریہ وجود میں نہیں آئے گا۔
ایک طرف تو یہ نعرہ ہے کہ اکثریت جو بات کہہ دے وہ حق ہے اس کو قبول کرو اس کی بات مانو لیکن وہی اکثریت اگر الجزائر میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد جمہوریت باقی نہیں رہتی، پھر اس کا وجود جمہوریت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ تو نعرے لگا لینا اور بات ہے لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانا مشکل ہے۔
یہ نعرے لگا لینا بہت اچھی بات ہے کہ سب انسانوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، ان کو آزادی اظہار رائے ہونی چاہیے اور لوگوں کو حق خود ارادی ملنا چاہیے اور یہ سب کچھ صحیح، لیکن دوسری طرف جن لوگوں کا حق خود ارادی پامال کر کے ان کو جبر و تشدد کی چکی میں پیسا جا رہا ہے ان کے بارے میں آواز اٹھاتے ہوئے زبان تھراتی ہے اور وہی جمہوریت اور آزادی کے منادی کرنے والے ان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ تو بات صرف یہ نہیں ہے کہ زبان سے کہہ دیا جائے کہ انسانی حقوق کیا ہیں؟ بات یہ ہے کہ جو بات زبان سے کہو اس کو کر کے دکھاؤ اور یہ کام کیا محمد رسول اللہ ﷺ نے کہ آپ نے جو حق دیا اس پر عمل کر کے دکھایا۔
وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی
غزوہ بدر کا موقع ہے اور حضرت حذیفہ بن یمانؓ اپنے والد ماجد کے ساتھ سفر کرتے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ جا رہے ہیں راستے میں ابو جہل کے لشکر سے ٹکراؤ ہو جاتا ہے اور ابو جہل کا لشکر کہتا ہے ہم تمہیں محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے نہیں دیں گے اس لیے کہ تم جاؤ گے تو ہمارے خلاف ان کے لشکر میں شامل ہو کر جنگ کرو گے۔ یہ بیچارے پریشان ہوتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی زیارت کے لیے جانا تھا اور انہوں نے روک لیا۔ آخر کار انہوں نے کہا اس شرط پر تمہیں چھوڑیں گے کہ ہم سے وعدہ کرو کہ جاؤ گے اور جانے کے بعد ان کے لشکر میں شامل نہیں ہو گے ہم سے جنگ نہیں کرو گے اگر یہ وعدہ کرتے ہو تو ہم تمہیں چھوڑتے ہیں۔ حضرت حذیفہؓ اور ان کے والدؓ نے وعدہ کر لیا کہ ہم حضور ﷺ کی صرف زیارت کریں گے ان کے لشکر میں شامل ہو کر آپ سے لڑیں گے نہیں۔ چنانچہ انہوں نے ان کو چھوڑ دیا، اب یہ دونوں حضرات حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے جب کفار کے ساتھ جنگ کا وقت آیا، اور کیسی جنگ، ایک ہزار مکہ مکرمہ کے مسلح سُورما اور اس کے مقابلے میں ۳۱۳ نہتے، جن کے پاس ۸ تلواریں دو گھوڑے ستر اونٹ۔ ۸ تلواروں کے سوا تین سو تیرہ آدمیوں کے پاس کوئی اور تلوار بھی نہیں تھی، کسی نے لاٹھی اٹھائی ہوئی ہے کسی نے پتھر اٹھایا ہوا ہے اس موقع پر ایک ایک آدمی کی قیمت تھی، ایک ایک انسان کی قیمت تھی، کسی نے کہا یا رسول اللہ یہ نئے آدمی آئے زبردستی معاہدہ کرایا گیا ہے یہ وعدہ زبردستی ل اجازت دیجیے کہ جہاد میں شامل ہو جائیں یہ والا ہر فرد بدری بن گیا، جس کے بارے میں بدر کے سارے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما د کہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ شامل ہو جا کے لشکر سے وعدہ کر کے آئے ہو کہ جنگ م لہٰذا تم اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ و یہ ہے کہ جب وقت پڑے اس وقت انسان حقوق کے علمبردار ہیں اور ہیرو شیما اور ناگا س ان کی نسلیں تک معذور پیدا ہو رہی ہیں یہ دیکھنے والا نہ ہو۔
(الاصابہ ج ۱ ص ۳۱۶)
اسلام میں جان کا تحفظ
نبی کریم ﷺ نے پورے عالم کیا حقوق بتائے؟ اب سنیے: انسانی حقوق م کی جان کا تحفظ انسان کا بنیادی حق ہے، ج النفس التي حرم الله الا بالحق“ ا ﷺ نے یہ حکم دے دیا اور کیا حکم دے دی مقابلہ ہے اس حالت میں بھی تمہیں کسی ب کی اجازت نہیں بوڑھے پر ہاتھ اٹھانے ک گئی۔ یہ پابندی ایسی نہیں ہے کہ صرف زب طور پر تو کہہ دیا اور عمل نہیں کر دیا سار صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل کر دکھایا۔ ان کا جان کا تحفظ۔
اسلام میں مال کا تحفظ
مال کا تحفظ انسان کا دوسرا بنیا کے ساتھ ناحق طریقے سے کسی کا مال نہ کھ اور توجیہہ کر کے مال کھا گئے کہ جب تک بڑی امانت تھی، لیکن جب معاملہ جنگ کا
تھی، کسی نے کہا یا رسول اللہ یہ نئے آدمی آئے ہیں آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہیں اور ان سے زبردستی معاہدہ کرایا گیا ہے، یہ وعدہ زبردستی لیا گیا کہ تم جنگ میں شامل نہیں ہوگے تو اس واسطے ان کو اجازت دیجیے کہ جہاد میں شامل ہو جائیں۔ اور جہاد بھی کونسا؟ یوم الفرقان، جس کے اندر شامل ہونے والا ہر فرد بدری بن گیا، جس کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے سارے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمائے ہیں، اتنا بڑا غزوہ ہورہا ہے، حذیفہ بن یمانؓ چاہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ شامل ہو جائیں، سرکار دو عالم ﷺ کا جواب یہ ہے کہ نہیں، جو ابو جہل کے لشکر سے وعدہ کرکے آئے ہو کہ جنگ نہیں کرو گے تو مومن کا کام وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے، لہٰذا تم اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا۔ یہ ہے کہ جب وقت پڑے اس وقت انسان اصول کو نبھائے، یہ نہیں کہ زبان سے تو کہہ دیا کہ ہم انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور ہیروشیما اور ناگاساکی پر بے گناہ بچوں کو بے گناہ عورتوں کو تہہ و بالا کر دیا کہ ان کی نسلیں تک معذور پیدا ہورہی ہیں۔ اور جب اپنا وقت پڑجائے تو اس میں کوئی اخلاق کوئی کردار دیکھنے والا نہ ہو۔
(الاصابہ ج ۱ ص ۳۱۶)
اسلام میں جان کا تحفظ
نبی کریم ﷺ نے پورے عالم کو انسانی حقوق بتائے بھی اور اس پر عمل کرکے بھی دکھایا، کیا حقوق بتائے؟ اب سنیے: انسانی حقوق میں سب سے پہلا حق انسان کی جان کا حق ہے، ہر انسان کی جان کا تحفظ انسان کا بنیادی حق ہے کہ کوئی اس کی جان پر دست درازی نہ کرے ”لا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق“ کسی بھی جان کے اوپر دست درازی نہیں کی جاسکتی۔ نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دے دیا اور کیا حکم دے دیا، کہ جنگ میں جارہے ہو، کفار سے مقابلہ ہے، دشمن سے مقابلہ ہے اس حالت میں بھی تمہیں کسی بچے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، کسی عورت پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، بوڑھے پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں، عین جہاد کے موقع پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ یہ پابندی ایسی نہیں ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ ہو، جیسا کہ میں نے ابھی بتایا کہ صاحب زبانی طور پر تو کہہ دیا اور تہس نہس کر دیا سارے بچوں کو بھی اور عورتوں کو بھی، نبی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرامؓ نے اس پر عمل کر دکھایا۔ ان کا ہاتھ کسی بوڑھے پر، کسی عورت پر، کسی بچے پر نہیں اٹھا، یہ ہے جان کا تحفظ۔
اسلام میں مال کا تحفظ
مال کا تحفظ انسان کا دوسرا بنیادی حق ہے : لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل ”باطل کے ساتھ ناحق طریقے سے کسی کا مال نہ کھاؤ“ اس پر عمل کرکے کیسے دکھایا؟ یہ نہیں ہے کہ تاویل کرکے اور توجیہہ کرکے مال کھا گئے کہ جب تک اپنے مفادات وابستہ تھے اس وقت تک بڑی دیانت اور بڑی امانت تھی، لیکن جب معاملہ جنگ کا آ گیا، دشمنی ہوگئی تو اب یہ ہے کہ صاحب تمہارے اکاؤنٹس
منجمد کر دیئے جائیں گے، تمہارے اکاؤنٹس فریز کر دیئے جائیں گے، جب مقابلہ ہو گیا تو اس وقت حقوق انسانی غائب ہو گئے، اب مال کا تحفظ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
محمد رسول اللہ ﷺ نے جو مثال پیش کی، وہ عرض کرتا ہوں۔ غزوہ خیبر ہے، یہودیوں کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے، محمد رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ خیبر کے اوپر حملہ آور ہیں اور قلعہ خیبر کے گرد محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی فوج خیبر کے قلعہ کے اردگرد پڑی ہوئی ہے۔ خیبر کے اندر ایک بے چارا چھوٹا سا چرواہا اُجرت پر بکریاں چرایا کرتا تھا، اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ خیبر سے باہر آنحضرت ﷺ کا لشکر پڑا ہوا ہے، جا کر دیکھوں تو سہی، آپ کا نام تو بہت سنا ہے، ”محمد“ ﷺ کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟ بکریاں لے کر خیبر کے قلعے سے نکلا اور آنحضرت ﷺ کی تلاش میں مسلمانوں کے لشکر میں داخل ہوا، کسی سے پوچھا کہ بھائی محمد ﷺ کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں خیمے کے اندر ہیں، وہ کہتا ہے کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس خیمے کے اندر، یہ کھجور کا معمولی سا خیمہ، جھونپڑی، اس میں اتنا بڑا سردار اور اتنا بڑا نبی اس خیمے کے اندر ہے؟ لیکن جب لوگوں نے بار بار کہا تو اس میں چلا گیا، اب جب داخل ہوا تو سرکار دو عالم ﷺ تشریف فرما تھے۔ جا کر کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ آپ نے مختصر بتایا۔ توحید کے عقیدے کی وضاحت فرمائی۔ کہنے لگا اگر میں آپ کے اس پیغام کو قبول کرلوں تو میرا کیا مقام ہوگا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے، تم ہمارے بھائی ہو جاؤ گے اور جو حقوق دوسروں کو حاصل ہیں وہ تمہیں بھی حاصل ہوں گے۔ کہنے لگا آپ مجھ سے ایسی بات کرتے ہیں، مذاق کرتے ہیں۔ ایک کالا بھجنگ چرواہا سیاہ فام، میرے بدن سے بدبو اٹھ رہی ہے، اس حالت کے اندر آپ مجھے سینے سے لگائیں گے اور یہاں تو مجھے دھتکارا جاتا ہے۔ میرے ساتھ اہانت آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے تو آپ یہ جو مجھے سینے سے لگائیں گے تو کس وجہ سے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی ساری مخلوق اللہ کی نگاہ میں سب برابر ہیں، اس واسطے ہم تمہیں سینے سے لگائیں گے۔ کہا کہ اگر میں آپ کی بات مان لوں، مسلمان ہو جاؤں تو میرا انجام کیا ہوگا؟ تو سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسی جنگ کے اندر مر گئے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری اس چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دے گا اور تمہارے جسم کی بدبو کو خوشبو سے بدل دے گا میں گواہی دیتا ہوں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے جب یہ فرمایا، اس اللہ کے بندے کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً بولا اگر آپ یہ فرماتے ہیں تو اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمداً رسول الله عرض کیا میں مسلمان ہو گیا، اب جو حکم آپ دیں گے، وہ کرنے کو تیار ہوں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے سب سے پہلا حکم اس کو یہ نہیں دیا کہ نماز پڑھو، یہ نہیں دیا کہ روزہ رکھو، پہلا حکم یہ دیا کہ جو بکریاں تم چرانے کے لیے لے کر آئے ہو، یہ تمہارے پاس امانت ہیں، پہلے ان بکریوں کو واپس دے کر آؤ اور اس کے بعد آ کر پوچھنا کہ مجھے کیا کرنا ہے؟ بکریاں کس کی؟ یہودیوں کی، جن کے اوپر حملہ آور ہیں، جن کے ساتھ جنگ چھڑی ہوئی ہے، جن کا مال غنیمت چھینا جا
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophethood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
رہا ہے لیکن فرمایا کہ یہ مال غنیمت جنگ کی حا معاہدہ کے تحت اور اس معاہدے کا تقاضا یہ ہ کیا جائے یہ ان کا حق ہے لہٰذا ان کو پہنچا ک دشمنوں کی ہیں جو آپ کے خون کے پیاسے ہ پہلے ان کو واپس لوٹاؤ۔ چنانچہ بکریاں واپس لو میں، عین حالت جنگ کے اندر انسانی مال کے آ کر پوچھا کہ اب کیا کروں؟ فرمایا کہ نہ تو ت ہے کہ روزے رکھواؤں، نہ تمہارے پاس مال ہے جو کہ تلوار کی چھاؤں کے نیچے ادا کی جانی ہ شامل ہو گیا، اس کا اسود راعی نام آتا ہے، جب ہونے کے بعد دیکھنے جایا کرتے تھے کہ کون ش مجمع لگا ہوا ہے۔ آپس میں صحابہ پوچھ رہے ہ ہے تو صحابہ کرام نے بتلایا کہ یہ ایسے شخص کی ﷺ نے قریب پہنچ کر دیکھا اور فرمایا تم نہیں ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو جنت ا چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دیا ہے، اس مال کا تحفظ ہو، محض کہہ دینے کی بات نہیں ہ دشمن کے مال کا تحفظ، جو معاہدے کے تحت ہو
اسلام میں آبرو کا تحفظ
تیسرا انسان کا بنیادی حق یہ ہے ک بہت ہیں لیکن یہ پہلی بار محمد رسول اللہ ﷺ پیچھے اس کی بُرائی نہ کی جائے، غیبت نہ کی ج کوئی اس بات کا اہتمام کرے کہ کسی کا پیٹھ پ غیبت سننا بھی حرام اور فرمایا کہ کسی انسان حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں حضور طواف کے دوران آنحضرت ﷺ نے کعب مقدس ہے، کتنا معظم ہے، پھر عبداللہ بن مسع مقدس اور بڑا مکرم ہے، لیکن اس کائنات میں
کیں گے‘ جب مقابلہ ہو گیا تو اس وقت ملتا۔ کرتا ہوں۔ غزوہ خیبر ہے‘ یہودیوں کے خیبر کے اوپر حملہ آور ہیں اور قلعہ خیبر کے کے قلعہ کے اردگرد پڑی ہوئی ہے۔ خیبر آتا تھا‘ اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ تو سہی‘ آپ کا نام تو بہت سنا ہے‘ ”محمد“ قلعے سے نکلا اور آنحضرت ﷺ کی بھائی محمد ﷺ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہ اس خیمے کے اندر‘ یہ کھجور کا معمولی سا اندر ہے؟ لیکن جب لوگوں نے بار بار تشریف فرما تھے۔ جا کر کہا کہ یا رسول آیا۔ توحید کے عقیدے کی وضاحت کیا مقام ہو گا؟ آنحضرت ﷺ نے اور جو حقوق دوسروں کو حاصل ہیں وہ تے ہیں‘ مذاق کرتے ہیں۔ ایک کالا حالت کے اندر آپ مجھے سینے سے آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے تو آپ یہ جو فرمایا: اللہ کی ساری مخلوق اللہ کی نگاہ کہ اگر میں آپ کی بات مان لوں‘ نے فرمایا کہ اگر اسی جنگ کے اندر مر سیاہی کو تابانی سے بدل دے گا اور سرکارِ دو عالم ﷺ نے جب یہ فرماتے ہیں تو اشهد ان لا اله ہو گیا‘ اب جو حکم آپ دیں گے‘ وہ کو یہ نہیں دیا کہ نماز پڑھو‘ یہ نہیں دیا ہوئے‘ تمہارے پاس امانت ہیں‘ مجھے کیا کرنا ہے؟ بکریاں کس کی؟ ہوئی ہے‘ جن کا مال غنیمت چھینا جا
رہا ہے لیکن فرمایا کہ یہ مالِ غنیمت جنگ کی حالت میں چھیننا تو جائز تھا لیکن تم لے کر آئے ہو ایک معاہدہ کے تحت اور اس معاہدے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے مال کا تحفظ کیا جائے۔ اس معاہدے کا تحفظ کیا جائے‘ یہ اُن کا حق ہے‘ لہٰذا اُن کو پہنچا کر آؤ۔ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ بکریاں تو ان دشمنوں کی ہیں جو آپ کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں اور پھر آپ واپس لوٹاتے ہیں‘ فرمایا کہ ہاں! پہلے ان کو واپس لوٹاؤ۔ چنانچہ بکریاں واپس لوٹائی گئیں۔ کوئی مثال پیش کرے گا کہ عین میدانِ جنگ میں‘ عین حالتِ جنگ کے اندر انسانی مال کے تحفظ کا حق ادا کیا جا رہا ہو؟ جب بکریاں واپس کر دیں تو آ کر پوچھا کہ اب کیا کروں؟ فرمایا کہ نہ تو نماز کا وقت ہے کہ تمہیں نماز پڑھواؤں‘ نہ رمضان کا مہینہ ہے کہ روزے رکھواؤں‘ نہ تمہارے پاس مال ہے کہ زکوٰۃ دلواؤں۔ ایک ہی عبادت اس وقت ہو رہی ہے جو کہ تلوار کی چھاؤں کے نیچے ادا کی جاتی ہے‘ وہ ہے جہاد‘ اس میں شامل ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اس میں شامل ہو گیا‘ اس کا اسود راعی نام آتا ہے‘ جب جہاد ختم ہوا تو آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد دیکھنے جایا کرتے تھے کہ کون زخمی ہوا‘ کون شہید ہوا‘ تو دیکھا کہ ایک جگہ صحابہ کرام کا مجمع لگا ہوا ہے۔ آپس میں صحابہ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کون آدمی ہے؟ حضور ﷺ نے پوچھا کیا معاملہ ہے تو صحابہ کرام نے بتلایا کہ یہ ایسے شخص کی لاش ملی ہے کہ جس کو ہم میں سے کوئی نہیں پہچانتا۔ آپ ﷺ نے قریب پہنچ کر دیکھا اور فرمایا تم نہیں پہچانتے مگر میں پہچانتا ہوں اور میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو جنت الفردوس کے اندر کوثر و تسنیم سے غسل دیا ہے اور اس کے چہرے کی سیاہی کو تابانی سے بدل دیا ہے‘ اس کی بدبو کو خوشبو سے تبدیل فرما دیا ہے۔ لہٰذا یہ بات کہ مال کا تحفظ ہو‘ محض کہہ دینے کی بات نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کر کے دکھایا۔ کافر کے مال کا تحفظ‘ دشمن کے مال کا تحفظ‘ جو معاہدے کے تحت ہو۔ یہ مال کا تحفظ ہے!
اسلام میں آبرو کا تحفظ
تیسرا انسان کا بنیادی حق یہ ہے کہ اس کی آبرو محفوظ ہو۔ آبرو کے تحفظ کا نعرہ لگانے والے بہت ہیں لیکن یہ پہلی بار محمد رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ انسان کی آبرو کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ پیٹھ پیچھے اس کی بُرائی نہ کی جائے‘ غیبت نہ کی جائے۔ آج بنیادی حقوق کا نعرہ لگانے والے بہت‘ لیکن کوئی اس بات کا اہتمام کرے کہ کسی کا پیٹھ کے پیچھے ذکر بُرائی سے نہ کیا جائے‘ غیبت کرنا بھی حرام‘ غیبت سننا بھی حرام اور فرمایا کہ کسی انسان کا دل نہ توڑا جائے‘ یہ انسان کے لیے گناہِ کبیرہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بھی حضور ﷺ کے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف فرما رہے ہیں‘ طواف کے دوران آنحضرت ﷺ نے کعبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بیت اللہ تو کتنا مقدس ہے‘ کتنا معظم ہے‘ پھر عبداللہ بن مسعودؓ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اے عبداللہ! یہ کعبۃ اللہ بڑا مقدس اور بڑا مکرم ہے‘ لیکن اس کائنات میں ایک چیز ایسی ہے کہ اس کا تقدس اس کعبۃ اللہ سے بھی
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
زیادہ ہے اور وہ چیز کیا؟ ایک مسلمان کی جان، مال اور آبرو کہ اس کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کی جان پر مال پر آبرو پر ناحق حملہ آور ہوتا ہے تو سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ کعبہ کے ڈھادینے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ حق دیا۔
اسلام میں معاش کا تحفظ
جو انسان کے بنیادی حقوق ہیں وہ ہیں جان، مال اور آبرو ان کا تحفظ ضروری ہے پھر انسان کو دنیا میں جینے کے لیے معاش کی ضرورت ہے، روزگار کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا! کسی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسروں کے لیے معاش کے دروازے بند کرے۔ نبی کریم ﷺ نے یہ اصول بیان فرمایا۔ ایک طرف تو یہ فرمایا جس کو کہتے ہیں فریڈم آف کنٹریکٹ (Freedom of Contract) معاہدے کی آزادی جو چاہے معاہدہ کرو، لیکن فرمایا کہ ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجہ میں معاشرے کے اوپر خرابی واقع ہوتی ہو، ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجے میں دوسرے آدمی پر رزق کا دروازہ بند ہوتا ہو، وہ حرام ہے، فرمایا ”لا یبیع حاضر لباد“ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ ایک آدمی دیہات سے مال لے کر آیا مثلاً زرعی پیداوار، ترکاریاں لے کر شہر میں فروخت کرنے کے لیے آیا تو کوئی شہری اس کا آڑھتی نہ بنے، اس کا وکیل نہ بنے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں کیا حرج ہے؟ اگر دو آدمیوں کے درمیان آپس میں معاہدہ ہوتا ہے کہ میں تمہارا مال فروخت کروں گا، تمہارے سے اجرت لوں گا تو اس میں کیا حرج ہے؟ لیکن نبی کریم ﷺ نے یہ بتایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جو شہری ہے، وہ مال لے کر بیٹھ جائے گا تو احتکار کرے گا اور بازار کے اوپر اپنی اجارہ داری قائم کرے گا۔ اس اجارہ داری قائم کرنے کے نتیجے میں دوسرے لوگوں پر معیشت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اس واسطے فرمایا ”لا یبیع حاضر لباد“۔ تو کسب معاش کا حق ہر انسان کا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر دوسرے کے لیے معیشت کے دروازے بند نہ کرے۔ یہ نہیں کہ سود کھا کھا کر، قمار کھیل کھیل کر، گیمبلنگ کر کر کے، سٹہ کھیل کھیل کر، آدمی نے اپنے لیے دولت کے انبار جمع کر لیے اور دولت کے انباروں کے ذریعے سے وہ پورے بازار کے اوپر قابض ہو گیا، کوئی دوسرا آدمی اگر کسب معاش کے لیے داخل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے دروازے بند ہیں۔ یہ نہیں بلکہ کسب معاش کا تحفظ نبی کریم ﷺ نے تمام انسانوں کا بنیادی حق قرار دیا اور فرمایا: ”دعوا الناس يرزق الله بعضهم ببعض“ لوگوں کو چھوڑ دو کہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے رزق عطا فرمائیں گے۔ یہ کسب معاش کا تحفظ ہے، جتنے حقوق عرض کر رہا ہوں، یہ نبی کریم سرور دو عالم ﷺ نے متعین فرمائے اور متعین فرمانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل بھی کر کے دکھایا۔
اسلام اور عقیدے کا تحفظ
عقیدے اور دیانت کے اختیار کرنے کا تحفظ اگر کوئی شخص کوئی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہے
تو اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کوئی مجبور کرے: ”لا اکراہ فی الدین“ دین عیسائی ہے تو عیسائی رہے، ایک یہودی ہے سکتی۔ اس کو تبلیغ کی جائے گی، دعوت دی جا لیکن اس کے اوپر یہ پابندی نہیں ہے کہ زبر مرتبہ اسلام میں داخل ہو گیا اور اسلام میں د اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ارتداد کا راستہ اختیار کرے۔ اس واسطے کہ ار معاشرے میں فساد پھیلائے گا اور فساد کا مع اور معاشرے میں اس کو فساد پھیلانے کی ا آئے یا نہ آئے، کسی کی سمجھ میں آئے یا ن رسول اللہ ﷺ نے بنیاد فراہم فرمائی ہے ﷺ مانیں، اس سے باہر حق نہیں ہے۔ اس ہے، ورنہ اگر مرتد ہونا جرم نہ ہوتا تو اسلام ا تماشا دکھانے کے لیے اسلام میں داخل ہو اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شام کو کافر ہو ج رہتے ہوئے ارتداد کی گنجائش نہیں دی جا دار السلام سے باہر جاؤ، باہر جا کر جو چاہ اجازت نہیں۔
بہر حال یہ موضوع تو بڑا طویل پیش کی ہیں (۱) جان کا تحفظ (۲) مال کا تح معاش کا تحفظ ۔ یہ انسان کی پانچ بنیادی ضر پانچ مثالوں میں جو بنیادی بات غور کرنے ک کے اوپر عمل کر کے دکھانے والے محمد رسول ا
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا، اس ک پر بیت المقدس سے فوج بلا کر کسی اور محاذ پ نے فرمایا کہ بھائی بیت المقدس میں جو کافر فوج کو یہاں سے ہٹالیں گے تو ان کا تحفظ
آبرو کہ اس کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ اور ہوتا ہے تو سرکار دو عالم ﷺ فرماتے ہیں کریم ﷺ نے یہ حق دیا۔
مال اور آبرو ان کا تحفظ ضروری ہے پھر انسان کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں نبی نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی دولت کے بل ہے نبی کریم ﷺ نے یہ اصول بیان فرمایا۔ یکٹ (Freedom of Contract) ہر وہ معاہدہ جس کے نتیجہ میں معاشرے کے سرے آدمی پر رزق کا دروازہ بند ہوتا ہو وہ دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ ایک آدمی لے کر شہر میں فروخت کرنے کے لیے آیا تو ں پیدا ہوتا ہے کہ اس میں کیا حرج ہے؟ اگر تمہارا مال فروخت کروں گا تمہارے سے ﷺ نے یہ بتلایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جو ر بازار کے اوپر اپنی اجارہ داری قائم کرے گوں پر معیشت کے دروازے بند ہو جائیں معاش کا حق ہر انسان کا ہے کہ کوئی بھی شخص دروازے بند نہ کرے۔ یہ نہیں کہ سود کھا کھا آدمی نے اپنے لیے دولت کے انبار جمع کر کے اوپر قابض ہو گیا، کوئی دوسرا آدمی اگر دروازے بند ہیں۔ یہ نہیں، بلکہ کسب معاش رمایا اور فرمایا: ”دعوا الناس يرزق الله ں کو بعض کے ذریعے رزق عطا فرمائیں یہ نبی کریم سرور دو عالم ﷺ نے متعین کھایا۔
کوئی شخص کوئی عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہے تو اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کوئی زبردستی جا کر مجبور کر کے اسے دوسرا دین اختیار کرنے پر مجبور کرے: ”لا اكراه في الدین“ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ دین کے اندر کوئی جبر نہیں، اگر ایک عیسائی ہے تو عیسائی رہے ایک یہودی ہے تو یہودی رہے قانوناً اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس کو تبلیغ کی جائے گی، دعوت دی جائے گی، اس کو حقیقت حال سمجھانے کی کوشش کی جائے گی، لیکن اس کے اوپر یہ پابندی نہیں ہے کہ زبردستی اس کو اسلام میں داخل کیا جائے۔ ہاں البتہ اگر ایک مرتبہ اسلام میں داخل ہو گیا اور اسلام میں داخل ہو کر اسلام کے محاسن اس کے سامنے آ گئے تو اب اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دارالاسلام میں رہتے ہوئے وہ اس دین کو برملأ چھوڑ کر ارتداد کا راستہ اختیار کرے۔ اس واسطے کہ اگر وہ ارتداد کا راستہ اختیار کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ معاشرے میں فساد پھیلائے گا اور فساد کا علاج آپریشن ہوتا ہے لہٰذا اس فساد کا آپریشن کر دیا جائے گا اور معاشرے میں اس کو فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بہر حال کسی کی عقل میں بات آئے یا نہ آئے کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان معاملات کے اندر محمد رسول اللہ ﷺ نے بنیاد فراہم فرمائی ہے۔ حق وہ ہے جسے اللہ مانے حق وہ ہے جسے محمد رسول اللہ ﷺ مانیں، اس سے باہر حق نہیں ہے۔ اس لیے ہر شخص عقیدے کو اختیار کرنے میں شروع میں آزاد ہے ورنہ اگر مرتد ہونا جرم نہ ہوتا تو اسلام کے دشمن اسلام کو بازیچہ اطفال بنا کر دکھلاتے، کتنے لوگ تماشا دکھانے کے لیے اسلام میں داخل ہوتے اور نکلتے۔ قرآن کریم میں ہے لوگ یہ کہتے ہیں صبح کو اسلام میں داخل ہو جاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ تو یہ تماشا بنا دیا گیا ہوتا۔ اس واسطے دارالاسلام میں داخل رہتے ہوئے ارتداد کی گنجائش نہیں دی جائے گی، اگر واقعتاً دیانتداری سے تمہارا کوئی عقیدہ ہے تو پھر دار الاسلام سے باہر جاؤ، باہر جا کر جو چاہو کرو، لیکن دارالاسلام میں رہتے ہوئے فساد پھیلانے کی اجازت نہیں۔
بہر حال یہ موضوع تو بڑا طویل ہے لیکن پانچ مثالیں میں نے آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں (۱) جان کا تحفظ (۲) مال کا تحفظ (۳) آبرو کا تحفظ (۴) عقیدے کا تحفظ (۵) کسب معاش کا تحفظ۔ یہ انسان کی پانچ بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ پانچ مثالیں میں نے پیش کیں، لیکن ان پانچ مثالوں میں جو بنیادی بات غور کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کہنے والے تو اس کے بہت ہیں، لیکن اس کے اوپر عمل کر کے دکھانے والے محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلام ہیں۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بیت المقدس میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا جاتا تھا، اس لیے کہ ان کے جان و مال آبرو کا تحفظ کیا جائے ایک موقع پر بیت المقدس سے فوج بلا کر کسی اور محاذ پر بھیجنے کی شدید ضرورت پیش آئی۔ حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے فرمایا کہ بھائی بیت المقدس میں جو کافر رہتے ہیں، ہم نے ان کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے۔ اگر فوج کو یہاں سے ہٹالیں گے تو ان کا تحفظ کون کرے گا؟ ہم نے ان سے اس کام کے لیے جزیہ لیا
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
ہے لیکن ضرورت بھی شدید ہے۔ چنانچہ انہوں نے سارے غیر مسلموں کو بلا کر کہا کہ بھائی ہم نے تمہاری حفاظت کی ذمہ داری لی تھی اس کی خاطر تم سے یہ ٹیکس بھی وصول کیا تھا اب ہمیں فوج کی ضرورت پیش آ گئی ہے جس کی وجہ سے ہم تمہارا تحفظ کما حقہ نہیں کر سکتے اور فوج کو یہاں نہیں رکھ سکتے لہٰذا فوج کو ہم دوسری جگہ ضرورت کی خاطر بھیج رہے ہیں تو جو ٹیکس تم سے لیا گیا تھا وہ سارا تم کو واپس کیا جاتا ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ صحابی ہیں جن پر ظالموں نے کیسے کیسے بہتانوں کی بارش کی ہے ان کا واقعہ ابوداؤد میں موجود ہے کہ روم کے ساتھ لڑائی کے دوران جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا جنگ بندی ہو گئی ایک خاص تاریخ تک یہ طے ہو گیا کہ جنگ بندی رہے گی، کوئی آپس میں ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا۔ حضرت معاویہؓ بڑے دانش مند بزرگ تھے انہوں نے یہ سوچا کہ جس تاریخ کو معاہدہ ختم ہو رہا ہے اس تاریخ کو فوجیں لے جا کر سرحد کے پاس ڈال دیں کہ ادھر آفتاب غروب ہوگا اور تاریخ بدلے گی ادھر حملہ کر دیں گے کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ دشمن کو یہ خیال ہوگا کہ جب جنگ بندی کی مدت ختم ہوگی، کہیں دُور سے چلیں گے تو وقت لگے گا اس واسطے انہوں نے سوچا کہ پہلے فوج لے جا کر سرحد پر ڈال دیں۔ چنانچہ وہاں فوج لے جا کر ڈال دی اور ادھر اس تاریخ کا آفتاب غروب ہوا جو جنگ بندی کی تاریخ تھی اور ادھر انہوں نے حملہ کر دیا اور روم کے اوپر یلغار کر دی اور وہ بے خبر اور غافل تھے اس واسطے بہت تیزی کے ساتھ فتح کرتے چلے گئے روم کی زمین خطے کے خطے فتح ہو رہے ہیں۔ جاتے جاتے جب آگے بڑھ رہے ہیں تو پیچھے سے دیکھا کہ گھوڑے پر ایک شخص سوار دُور سے سرپٹ دوڑا چلا آ رہا ہے اور کہہ رہا ہے قفوا عباد الله! فقوا عباد الله! اللہ کے بندو رکو! اللہ کے بندو رکو! حضرت معاویہؓ رک گئے دیکھا کون ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عمرو بن عبسہؓ قریب تشریف لائے تو فرمایا: ”وفاء لاء غدر“ مومن کا شیوہ وفاداری ہے غداری نہیں۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تو کوئی غداری نہیں کی۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد حملہ کیا۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ان کانوں سے محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ”جب کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو اس معاہدے کے اندر کوئی ذرا سا بھی تغیر نہ کرے نہ کھولے نہ باندھے یہاں تک کہ اس کی مدت نہ گزر جائے اور یا ان کے سامنے کھل کر بیان نہ کر دے کہ آج سے ہم تمہارے معاہدے کے پابند نہیں ہیں“ اور آپ نے معاہدہ کے دوران سرحد پر فوجیں لا کر ڈال دیں اور شاید اندر بھی تھوڑا بہت گھس گئے ہوں تو اس واسطے آپ نے یہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور یہ جو آپ نے علاقہ فتح کیا ہے یہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے۔ اب اندازہ لگائیے حضرت معاویہؓ فتح کے نشے میں جا رہے ہیں، علاقے کے علاقے فتح ہو رہے ہیں لیکن جب سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد سنا ساری فوج کے لیے حکم جاری کر دیا کہ ساری فوج واپس لوٹ جائے اور یہ مفتوحہ علاقہ خالی کر دیا جائے۔ چنانچہ پورا مفتوحہ
علاقہ خالی کر دیا۔ دنیا کی تاریخ اس کی مثال وجہ سے خالی کیا ہو کہ اس میں معاہدے کی پ کے جو غلام تھے انہوں نے یہ کر کے دکھایا۔ بات تو جتنی بھی طویل کی جا کریم ﷺ نے انسانی حقوق کی بنیادیں کرے گا۔ دوسری بات یہ کہ آنحضرت متعین کیے گئے جن پر عمل کیا جائے۔
آج کل کے ہیومن رائٹس
آج کہنے کے لیے ہیومن ر دیئے گئے کہ یہ ہیومن رائٹس چارٹر ہیں ۔ کی خاطر مسافر بردار طیارہ جس میں بے گ نہیں ہوتا اور مظلوموں کے اوپر مزید ظلم و رائٹس اُسی جگہ پر مجروح ہوتے نظر آ جہاں اپنے مفادات کے خلاف ہو تو وہ ایسے ہیومن رائٹس کے قائل نہیں ہیں۔ ا سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ جو باطل یاد رکھیے کہ بعض لوگ اس پ انداز میں ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ نہیں نے فلاں حق دیا ہے اور اس کام کے ل مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یادر تتبع ملتہم. قل ان ھدی الله ھو ال نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دی وتعالیٰ نے عطا فرمائی جو محمد رسول اللہ کبھی ان نعروں سے مرعوب اور مغلوب فرمائے۔ آمین! وَآخِرُ دَعْوَانَا ا
نے غیر مسلموں کو بلا کر کہا کہ بھائی ہم نے ٹیکس بھی وصول کیا تھا، اب ہمیں فوج کی نہیں کر سکتے اور فوج کو یہاں نہیں رکھ سکتے، جو ٹیکس تم سے لیا گیا تھا، وہ سارا تم کو واپس
جن پر ظالموں نے کیسے کیسے بہتانوں کی ساتھ لڑائی کے دوران جنگ بندی کا معاہدہ کیا کہ جنگ بندی رہے گی، کوئی آپس میں ش مند بزرگ تھے انہوں نے یہ سوچا کہ لے جا کر سرحد کے پاس ڈال دیں کہ ادھر کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ دشمن کو یہ خیال چلیں گے تو وقت لگے گا اس واسطے انہوں وہاں فوج لے جا کر ڈال دی اور ادھر اس اور انہوں نے حملہ کر دیا اور روم کے اوپر ی کے ساتھ فتح کرتے چلے گئے، زمین کی آگے بڑھ رہے ہیں تو پیچھے سے دیکھا کہ ہے اور کہہ رہا ہے قفوا عباد الله! قفوا بزرگ گئے دیکھا کون ہے تو معلوم ہوا کہ قریب تشریف لائے تو فرمایا: ”وفاء لاء معاویہؓ نے فرمایا میں نے تو کوئی غداری نہیں ت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں سنا ہے، جب کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو طے نہ باندھے، یہاں تک کہ اس کی مدت نہ فوج سے ہم تمہارے معاہدے کے پابند نہیں ں دیں اور شاید اندر بھی تھوڑا بہت گھس گئے اور یہ جو آپ نے علاقہ فتح کیا ہے یہ اللہ کہ معاویہؓ فتح کے نشے میں جا رہے ہیں، ﷺ کا ارشاد سنا، ساری فوج کے لیے حکم علاقہ خالی کر دیا جائے۔ چنانچہ پورا مفتوحہ
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
علاقہ خالی کر دیا۔ دنیا کی تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کر سکتی کہ کسی فاتح نے اپنے مفتوحہ علاقے کو اس وجہ سے خالی کیا ہو کہ اس میں معاہدے کی پابندی کے اندر ذرا سی کمی رہ گئی تھی، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے جو غلام تھے، انہوں نے یہ کر کے دکھایا۔
بات تو جتنی بھی طویل کی جائے ختم نہیں ہو سکتی لیکن خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نبی کریم ﷺ نے انسانی حقوق کی بنیادیں فراہم کی ہیں کہ کون انسانی حقوق کا تعین کرے گا کون نہیں کرے گا۔ دوسری بات یہ کہ آنحضرت نے جو حقوق بیان فرمائے ان پر عمل کر کے دکھایا۔ حقوق ہی وہ متعین کیے گئے جن پر عمل کیا جائے۔
آج کل کے ہیومن رائٹس
آج کہنے کے لیے ہیومن رائٹس کے بڑے شاندار چارٹر چھاپ کر دنیا بھر میں تقسیم کر دیئے گئے کہ یہ ہیومن رائٹس چارٹر ہیں۔ لیکن یہ ہیومن رائٹس چارٹر کے بنانے والے اپنے مفادات کی خاطر مسافر بردار طیارہ جس میں بے گناہ افراد سفر کر رہے ہیں، اس کو گرا دیں، اس میں ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا اور مظلوموں کے اوپر مزید ظلم وستم کے شکنجے کسے جائیں، اس میں کوئی باک نہیں ہوتا۔ ہیومن رائٹس اسی جگہ پر مجروح ہوتے نظر آتے ہیں جہاں اپنے مفادات کے اوپر کوئی زد پڑتی ہو۔ اور جہاں اپنے مفادات کے خلاف ہو تو وہاں ہیومن رائٹس کا کوئی تصور نہیں آتا۔ سرکار دو عالم ﷺ ایسے ہیومن رائٹس کے قائل نہیں ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں اس حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ جو باطل پروپیگنڈہ ہے، اس کی حقیقت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔
یادرکھیے کہ بعض لوگ اس پراپیگنڈے سے مرعوب ہو کر مغلوب ہو کر یہ معذرت خواہانہ انداز میں ہاتھ جوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ نہیں صاحب! ہمارے ہاں تو یہ بات نہیں ہے، ہمارے ہاں تو اسلام نے فلاں حق دیا ہے اور اس کام کے لیے قرآن کو سنت کو توڑ مروڑ کر کسی نہ کسی طرح ان کی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھیے ولن ترضى عنک الیہود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم. قل ان ھدى الله ھو الھدى (یہ یہود اور نصاریٰ آپ سے ہرگز اس وقت تک خوش نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کے دین کی اتباع نہیں کریں گے ) ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمائی، جو محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے، اس کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، لہذا کبھی ان نعروں سے مرعوب اور مغلوب نہ ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِين.
❁ ❁ ❁
محمد صلاح الدین
انسانی بنیادی حقوق
فرد کے حقوق کا ایک اور دائرہ ریاست سے تعلقات کا ہے، اس دائرہ میں ایک وسیع الاختیار اور کثیر الوسائل ریاست کے مقابلہ میں فرد کو جو حقوق دیئے جاتے ہیں انہیں ہم بنیادی حقوق (Fundamental Rights) کہتے ہیں۔ ان حقوق کے لیے بنیادی انسانی حقوق Basic) (Human Rights اور انسان کے پیدائشی حقوق (Birth Rights of Man) کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ان حقوق کی ضمانت ملک کے عام قوانین کی بجائے سب سے بالاتر قانون ’’دستور‘‘ میں دی جاتی ہے۔ انہیں ’’بنیادی حقوق‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی بازو خواہ وہ انتظامی ہو یا قانون ساز ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ یہ حقوق فرد کو کسی ریاست کا شہری ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ عالمگیر انسانی برادری کا رکن ہونے کی حیثیت سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ رنگ، نسل، علاقے، زبان اور دوسرے تمام امتیازات سے ماورا ہیں۔ اور انسان کو محض انسان ہونے کی بناء پر حاصل ہیں۔ یہ کسی ریاست کے منظور کردہ یا کسی معاہدہ سے پیدا شدہ نہیں ہیں بلکہ انسان کو فطرتاً حاصل ہیں اور اس کے وجود کا لازمی حصہ ہیں۔ کوئی ریاست انہیں تسلیم یا نافذ کرنے سے گریز کرتی ہے تو اسے فطرت کے عطا کردہ حقوق کو غصب کرنے کا مجرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ حقوق غیر منفک (Inalienable) اور ناقابل تنسیخ (Irrevocable) ہیں۔ ریاست کو ان کی تنسیخ تو کجا ان میں ترمیم، تحدید یا کسی عذر کی بناء پر ان کے عارضی تعطل کا بھی اختیار نہیں، الا یہ کہ خود مقتدر اعلیٰ یعنی عوام نے اسے دستور میں متعین حدود و شرائط کے ساتھ یہ اختیار بخشا ہو۔ یہ گنجائش بھی صرف مغرب کے دساتیر میں رکھی گئی ہے۔ اسلامی دستور کسی بھی فرد، ادارے بلکہ بحیثیت مجموعی پوری اُمت تک کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ بنیادی حقوق کو کسی بھی صورت میں منسوخ، محدود یا معطل کر سکے۔
یورپ میں بنیادی حقوق کی اصطلاح کو رائج ہوئے تین ساڑھے تین سو سال سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یہ درحقیقت فطری حقوق (Natural Rights) کے اس قدیم نظریہ ہی کا دوسرا نام ہے جسے سب سے پہلے یونانی مفکرین نے پیش کیا تھا اور پھر روم کے مشہور مقنن سسرو (Cicero) نے قانونی اور دستوری زبان میں مزید واضح کیا۔ ڈبلیو فریڈمین کا کہنا ہے کہ:
’’ایک شہری کے متعین حقوق پر مبنی معاشرہ کا تصور نسبتاً جدید تصور ہے جو
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
اولاً قرون وسطیٰ کے معاشرے صدی کی جدید ریاست کی آمد کا نمایاں اظہار لاک (Locke حقوق اور امریکی دستور میں کا ایک نتیجہ تھا بنیادی حقو ’’انسانی یا بنیادی حقو فطری حقوق کہا جاتا ہے اور ہر انسان کو ہر جگہ اور ہمہ وق مخلوقات کے مقابلہ میں اس ہے۔ انصاف کو بری طرح کیا جاسکتا۔‘‘(2)
1940ء میں مشہور ادیب ایچ (New World Order) میں ایک میں صدر روز ویلٹ (Roosevelt) کی۔ اگست 1941ء میں منشور اوقیانوس بقول چرچل ’’انسانی حقوق کی علمبرداری دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس نے اپنے 1946ء کے دستور جاپان نے بنیادی حقوق کو دستور کا حص ضمانت دی۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر بالآخر 10 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کا گئے جو مختلف یورپی ممالک کے دساتیر رائے شماری کے وقت اس منشور کے حق نہیں لیا جن میں روس بھی شامل تھا۔ اس تحفظ یا نئے حقوق کے تعین کے لیے ایک حقوق بھی قائم کر دیا گیا۔
مغرب کے تصور حقوق کے انسان کے لیے بنیادی حقوق کی علمبرداری
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
اولاً قرون وسطیٰ کے معاشرتی نظام کے خلاف اور ثانیاً سترہویں اور اٹھارویں صدی کی جدید ریاست کی آمرانہ حکومت کے خلاف ردِعمل سے اُبھرا ہے۔ اس کا نمایاں اظہار لاک (Locke) کے فلسفہ قانون فرانس کے اعلانِ انسانی حقوق اور امریکی دستور میں ہوا۔‘‘ (1)
گائس ایزبنجیو فار بنیادی حقوق کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے: ’’انسانی یا بنیادی حقوق جدید نام ہے‘ ان حقوق کا جنہیں روایتی طور پر فطری حقوق کہا جاتا ہے اور ان کی تعریف یوں ہو سکتی ہے کہ وہ اخلاقی حقوق جو ہر انسان کو ہر جگہ اور ہمہ وقت اس بنیاد پر حاصل رہتے ہیں کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے مقابلہ میں اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ ذی شعور و ذی اخلاق ہے۔ انصاف کو بری طرح پامال کیے بغیر کوئی بھی شخص ان حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (2)
۱۹۴۰ء میں مشہور ادیب ایچ جی ویلز (H.G. Wells) نے اپنی کتاب دنیا کا نیا نظام (New World Order) میں ایک منشور انسانی حقوق کے اجرا کی تجویز پیش کی۔ جنوری ۱۹۴۱ء میں صدر روز ویلٹ (Roosevelt) نے کانگریس سے ”چار آزادیوں“ کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ اگست ۱۹۴۱ء میں منشور اوقیانوس (Atlantic Charter) پر دستخط ہوئے جس کا مقصد بقول چرچل ”انسانی حقوق کی علمبرداری کے ساتھ جنگ کا خاتمہ“ تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد تحریری دساتیر میں بنیادی حقوق کی شمولیت مزید نمایاں ہو گئی۔ فرانس نے اپنے ۱۹۴۶ء کے دستور میں ۱۷۸۹ء کے منشور انسانی حقوق کو شامل کیا۔ اسی سال جاپان نے بنیادی حقوق کو دستور کا حصہ بنایا۔ ۱۹۴۷ء میں اٹلی نے اپنے دستور میں انسانی حقوق کی ضمانت دی۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں بالآخر ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کا ”منشور انسانی حقوق“ جاری ہوا جس میں وہ تمام حقوق سمو دیئے گئے جو مختلف یورپی ممالک کے دساتیر میں شامل تھے یا انسانی ذہن میں آسکتے تھے۔ جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس منشور کے حق میں ۴۸ ووٹ آئے۔ آٹھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں روس بھی شامل تھا۔ اس منشور پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا جائزہ لینے اور ان کے تحفظ یا نئے حقوق کے تعین کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کر دیا گیا۔
مغرب کے تصورِ حقوق کے ایک اور پہلو کا جائزہ لیجیے۔ اہلِ مغرب یوں تو پوری بنی نوع انسان کے لیے بنیادی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کا طرزِ عمل اس کے برعکس ہے۔
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v- Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
ان کا تصور حقوق ان کے نظریہ قومیت اور نسلی امتیاز پر مبنی ہے۔ وہ اپنی قوم یا سفید فام نسل کے لیے جن بنیادی حقوق کی ضمانت چاہتے ہیں، دوسری قوموں اور نسلوں کو ان کا مستحق نہیں سمجھتے۔ فرانس کے منشور انسانی حقوق کو جب ۱۷۹۱ء کے آئین میں شامل کیا گیا تو ساتھ ہی یہ صراحت بھی کر دی گئی:
”اگرچہ کالونیاں اور ایشیا، افریقہ اور امریکہ میں فرانسیسی مقبوضات سلطنت فرانس ہی کا ایک حصہ ہیں لیکن اس آئین کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔“(3)
اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ جس منشور کو ”منشور انسانی حقوق“ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل فرانسیسی عوام کا منشور حقوق ہے۔ کسی اور قوم کو بلکہ خود فرانسیسی مقبوضات میں رہنے والے غیر فرانسیسی عوام کو ان حقوق کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں۔ چنانچہ روسو کے ہم وطنوں نے الجزائر، ویتنام اور دوسرے مقبوضات میں ان حقوق کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کے ساتھ جس درندگی اور بربریت کا مظاہرہ کیا، وہ عہد جدید کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔
یہی حال برطانیہ کا ہے۔ اس کے غیر تحریری دستور میں برطانوی شہریوں کو جو حقوق حاصل ہیں، وہ انگریز آقاؤں نے اپنی نو آبادیات میں خود اپنے وضع کردہ قوانین میں کبھی شامل نہیں ہونے دیئے۔ ان کا میگنا کارٹا، ان کا قانون حبس بے جا اور ان کا قانون حقوق بس انہی کے لیے تھے۔ اس لیے انہیں بھی ”انسانی حقوق“ کی دستاویز قرار دینا سراسر مغالطہ آرائی ہے۔ ان دستاویزات کے ذریعے ملنے والے حقوق صرف برطانیہ کے شہریوں تک محدود تھے۔ کسی اور قوم نے اگر خود برطانوی حکمرانوں سے ان حقوق کا مطالبہ کیا تو اسے باغی اور غدار قرار دے کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ آج بھی جنوبی افریقہ میں سیاہ فام باشندوں اور شمالی آئرلینڈ میں محکوم سفید فام باشندوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی حقوق کے بارے میں انگریزوں کے دوغلے پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
۲۰ نومبر ۱۹۷۳ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جب نسلی امتیاز کو قابل تعزیر جرم بنانے کے لیے ایک قرارداد منظور کی تو اس کے چار مخالفین میں امریکہ، جنوبی افریقہ اور پرتگال کے ساتھ برطانیہ بھی شامل تھا۔
امریکہ کا حال برطانیہ اور فرانس سے مختلف نہیں۔ امریکہ کے سفید فام نوآباد کاروں نے اس براعظم کے اصل باشندوں ریڈ انڈینز کی تو نسل ہی صفحہ ہستی سے مٹا دی۔ اپنی ”نئی دنیا“ کی تعمیر و ترقی کے لیے انہوں نے براعظم افریقہ میں سیاہ فام باشندوں کو جانوروں کی طرح پکڑ پکڑ کے اپنا غلام بنایا اور جہازوں میں لاد لاد کر امریکہ روانہ کیا۔ ان غلاموں کو باقاعدہ خریدا اور بیچا جاتا تھا۔ افریقہ کے جس ساحل سے انہیں جہازوں میں لادا جاتا تھا، اس کا نام ہی ساحل غلاماں (Slave Coast) پڑ گیا۔ ان درآمد شدہ غلاموں کی جو نسل باقی رہ گئی ہے وہ آج تک مساوی حقوق حاصل نہ کر سکی۔ اس نے جب کبھی امریکی دستور میں دیئے گئے ”انسانی حقوق“ کے حوالے سے اپنے لیے ان حقوق کے
نفاذ کا مطالبہ کیا تو اسے نہایت بے رحمی س ملاحظہ ہو:
”۵ لاکھ غلاموں اور م کالونی میں بیٹھ کر تھا جس جمہوری آقا تھے کس طمطراق سے ای فرماتے ہیں۔“(4)
اندرون ملک اس نسلی امتیاز و صورت حال اور بھی بھیانک نظر آتی ہے وسطی کے چپے چپے پر اس کے ہاتھوں ”ا ہوئی ملتی ہیں۔
اب مغرب کے چوتھے علمبر گہوارہ ہے جو انسانیت کو امریکی برطانوی لے کر اٹھی تھی اور جس نے انسان کو امید اٹھایا تھا، اسے جب پہلی بار زمین پر انسانوں کی لاشوں کے پہاڑ کی اوٹ سے ہنگری، مشرقی جرمنی، پولینڈ، چیکو سلواکیہ کمیونزم کو در آنے کا موقع ملا۔ روسی ماہر انسانی جانوں کے اتلاف کی تفصیلات جان
”انقلاب ۲۲-۱۹۱۸ء ہوئے۔ گویا فی سال ایک لا ہلاک شدگان اور بالواسطہ ذمہ ایک کروڑ پچاس لاکھ سے ایک
”جو لوگ سرخ انقلا لیے ملک سے بھاگ کھڑے ۲۰ لاکھ ہے۔“(6)
ان واقعات سے یہ بات واض نسلی، علاقائی، قومی اور نظریاتی تعصبات س انہیں نہ صرف دوسری اقوام تک وسعت د اس امر کی کوشش کی ہے کہ ان کے سوائے
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
نفاذ کا مطالبہ کیا تو اسے نہایت بے رحمی سے کچل دیا گیا۔ اس صورتحال پر رابرٹ ڈیوی کا یہ بھر پور طنز ملاحظہ ہو:
”۵ لاکھ غلاموں اور ہزاروں درآمد شدہ سفید فام خدمت گاروں کی کالونی میں بیٹھ کر تھامس جیفرسن نے جو خود بھی ان غلاموں کے ایک دولت مند آقا تھے، کس طمطراق سے امریکہ کے اعلانِ آزادی کے یادگار الفاظ رقم فرمائے ہیں۔“
(4)
اندرون ملک اس نسلی امتیاز سے ہٹ کر باہر کی دنیا میں امریکہ کے کردار کا جائزہ لیجئے تو صورت حال اور بھی بھیانک نظر آتی ہے۔ ہیروشیما، ناگاساکی، کوریا، ویت نام، کمبوڈیا اور مشرقِ وسطیٰ کے چپے چپے پر اس کے ہاتھوں ”بنیادی انسانی حقوق“ کی پامالی کی روح فرسا داستانیں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔
اب مغرب کے چوتھے علمبردار انسانی حقوق ...... کمیونسٹ روس کو لیجئے، یہ اس اشتراکیت کا گہوارہ ہے جو انسانیت کو امریکی برطانوی سامراج اور ہر قسم کے استحصال سے نجات دلانے کا پرچم لے کر اٹھی تھی اور جس نے انسان کو امن و خوشحالی اور حقیقی آزادی کی مسرتوں سے ہمکنار کرنے کا بیڑا اُٹھایا تھا، اسے جب پہلی بار زمین پر جلوہ گر ہونے کا موقع ملا تو اس کا سرخ سویرا پونے دو کروڑ انسانوں کی لاشوں کے پہاڑ کی اوٹ سے طلوع ہوا اور جب اس کی کرنیں مشرق و مغرب میں پھیلیں تو ہنگری، مشرقی جرمنی، پولینڈ، چیکو سلواکیہ، مقبوضہ ترکستان اور وہ تمام علاقے خون میں نہا گئے جہاں کمیونزم کو در آنے کا موقع ملا۔ روسی ماہر عمرانیات اور فلسفی پروفیسر پٹی رم سوروکن انقلاب روس میں انسانی جانوں کے اتلاف کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”انقلاب ۲۲-۱۹۱۸ء میں براہ راست تصادم میں چھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ گویا فی سال ایک لاکھ افراد موت کے گھاٹ اُترے۔ خانہ جنگی کے ہلاک شدگان اور بالواسطہ زد میں آ کر مرنے والوں کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ سے ایک کروڑ ستر لاکھ تک پہنچتی ہے۔“
(5)
”جو لوگ سرخ انقلاب کا خونیں چہرہ دیکھ کر اپنی جان بچانے کے لیے ملک سے بھاگ کھڑے ہوئے، ان کی باقاعدہ تصدیق شدہ تعداد ۲۰ لاکھ ہے۔“
(6)
ان واقعات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مغربی ممالک کا تصورِ حقوق انسانی نہیں بلکہ نسلی، علاقائی، قومی اور نظریاتی تعصبات سے آلودہ ہے۔ وہ جن حقوق کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں، انہیں نہ صرف دوسری اقوام تک وسعت دینے کے قائل نہیں بلکہ انہوں نے پوری قوت صرف کر کے اس امر کی کوشش کی ہے کہ ان کے سوا یہ حقوق کسی اور کو نہ ملنے پائیں۔
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
دنیا میں دستور کے نفاذ کی عمومی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اب برطانیہ اور امریکہ کے ان دساتیر پر بھی ایک نگاہ ڈال لیجیے جو جمہوریت کا بہترین نمونہ سمجھے جاتے ہیں اور بظاہر ان کے نفاذ کی شکل بھی خاصی اطمینان بخش نظر آتی ہے۔
برطانیہ میں سرے سے کوئی تحریری دستور ہی نافذ نہیں ہے۔ اس لیے وہاں دوسرے ممالک کی طرح بنیادی حقوق کو آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ مقتدر اعلیٰ ہے اس کے اختیارات قانون سازی پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ ملک کی کوئی عدالت اس کے منظور کردہ قانون کو منسوخ کر سکتی ہے اور نہ اس کے نفاذ کو روک سکتی ہے۔ وہاں بنیادی حقوق کا محافظ ملک کا عام قانون ہے اور ان کے حصول کے لیے عام عدالتوں ہی سے رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن تحریری دستور نہ ہونے کے باوجود برطانیہ کے شہری بنیادی حقوق کے معاملہ میں دنیا کے دوسرے ممالک کے شہریوں سے بہتر پوزیشن کے حامل ہیں۔ اسی لیے جینگز بڑے فخر سے کہتا ہے:
”برطانیہ میں کوئی قانون حقوق نہیں ہے۔ ہم صرف قانون کے مطابق آزادی کا حق رکھتے ہیں اور ہمارا خیال ہے جس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ہمارا کام کسی بھی ایسے ملک کے مقابلے میں بہت اچھی طرح چل رہا ہے جہاں قانون حقوق یا کوئی منشور انسانی حقوق موجود ہے۔“ (7)
لیکن یہ اظہار اطمینان اب رفتہ رفتہ رخصت ہو رہا ہے اور برطانیہ کے ماہرین قانون بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تحریری دستور کی ضرورت پر شدت سے زور دے رہے ہیں۔ اس ضرورت کا احساس سب سے پہلے تھامس پین کو ہوا تھا جس نے ۱۷۹۱ء میں اپنی کتاب ”حقوق انسانی“ میں بڑے طنزیہ انداز میں لکھا تھا:
”بلند بانگ برطانوی دستور سراسر فراڈ ہے۔ اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ ایک رکن اُٹھ کر کہتا ہے دستور یہ ہے دوسرا کہتا ہے نہیں دستور یہ ہے۔ آج یہ ایک شے ہے، کل دوسری شے اور اس پر بحث جاری رکھی جائے تو آخر میں ثابت یہ ہوتا ہے کہ اس کا تو کہیں نام ونشان نہیں ۔“ (8)
برطانیہ کے موقر جریدے ”اکنامسٹ“ (Economist) نے اپنی ۸ نومبر ۱۹۷۵ء کی اشاعت میں بنیادی حقوق سے متعلق تازہ ترین سروے رپورٹ میں لکھا ہے:
”آج سے ۲۰ برس پہلے یہ دعویٰ کہ ’بنیادی حقوق کے معاملہ میں برطانیہ سب سے بہتر ہے‘ بڑا محکم نظر آتا تھا۔ اس کے حامی آج بھی یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے اسقاطِ حمل‘ طلاق اور نسلی امتیاز سے متعلق اصلاحی قوانین منظور کرتے وقت شہری آزادیوں کے لحاظ کا اچھا ریکارڈ قائم کیا ہے لیکن اب قدامت پسند حقِ ملکیت کی تحدید اور یونینوں کی رکنیت پر پابندی کی مثال دیں
گے اور لیبر پارٹی تارکینِ وطن کے ایکٹ کی عائد کر علاوہ ازیں الاقوامی قانون متصادم ہے۔ ا لوگوں کی اجتماعی میں منظور کیا ہے اس رپورٹ میں ایک بل پیش کیا ہے پچیس سال قبل یورپی کن برطانوی قانون کا حصہ بنا برطانیہ میں با بالکل بے اختیار بنا دیا قانون سازی پر کوئی پابندی ہے۔ آج اسی پہلو پر حقوق کے مسئلہ کا تجزیہ کر کے لیے آئینی عدالت اختیار بھی رکھتی ہو لیکن منظور کر لیتی ہے تو عدالت سکے گی؟ وہ زیادہ سے مضبوط روایت کے قوی تجزیہ نگار ”کسی نظام اور بالخ کے اثرات ا کی تبدیلی پر دستاویز کی ضر اس رپورٹ
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
گے اور لیبر پارٹی کے حامی اسی طرح قدامت پسندوں کے منظور کردہ قانون تارکین وطن کے مؤثر بہ ماضی اطلاق اور ہڑتال کے حق پر ان کے صنعتی تعلقات ایکٹ کی عائد کردہ پابندی کی مثال پیش کریں گے۔
علاوہ ازیں کچھ دوسرے پہلو بھی موجود ہیں جن میں ملک کا قانون بین الاقوامی قانون بلکہ یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے عام اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ اس کی ایک مثال تو قانون انسداد دہشت گردی کے تحت مشتبہ لوگوں کی اجتماعی نظر بندی کا اختیار ہے۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے نومبر ۱۹۷۴ء میں منظور کیا ہے۔‘‘ (صفحہ 24)
اس رپورٹ کے مطابق لبرل رکن پارلیمنٹ ایلن بیتھ (Allen Beth) نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد اس تکلیف دہ حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ برطانیہ نے پچیس سال قبل یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کی جس دستاویز پر دستخط کیے تھے، وہ آج تک برطانوی قانون کا حصہ نہیں بن سکی۔
برطانیہ میں پارلیمنٹ اور بادشاہ کے درمیان طویل کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں بادشاہ تو بالکل بے اختیار بنا دیا گیا لیکن اس کی جگہ پارلیمنٹ آمر مطلق بن بیٹھی کیونکہ اس کے اختیارات قانون سازی پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے جبکہ دستور کا مقصد ہی حکمرانوں کے اختیارات کی حد بندی ہے۔ آج اسی پہلو پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ”اکنامسٹ“ برطانیہ میں بنیادی حقوق کے مسئلہ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک قانون حقوق منظور کیا جاسکتا ہے اور اس کے تحفظ کے لیے آئینی عدالت بھی قائم کی جاسکتی ہے جو کسی قانون کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کا اختیار بھی رکھتی ہو لیکن اصل شکل تو یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ اس اختیار کے باوجود کوئی غیر آئینی قانون منظور کر لیتی ہے تو عدالت بے چاری کیا کر سکتی ہے؟ کیا وہ پارلیمنٹ کے خلاف اپنے فیصلے کو نافذ کر سکے گی؟ وہ زیادہ سے زیادہ کسی قانون کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے لیکن پارلیمنٹ کی بالا دستی کی مضبوط روایت کے قومی ہیکل دیو کو ہلاک کرنا آسان نہیں۔‘‘ (صفحہ 25)
تجزیہ نگار بالآخر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ:
”کسی اطمینان بخش قانونِ حقوق (Bill of Rights) کا انحصار سیاسی نظام اور بالخصوص انتخابی نظام اس کے ذریعے ابھرنے والے حریفانہ گروہ بندی کے اثرات اور حکومت و پارلیمنٹ کے باہمی تعلق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تبدیلی پر منحصر ہے۔ بہ الفاظ دیگر کسی قانونِ حقوق سے پہلے ایک آئینی دستاویز کی ضرورت ہوگی۔‘‘ (صفحہ 25)
اس رپورٹ میں رائے عامہ کے عمومی رجحان پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۰ء
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
سے شروع ہونے والے عشرہ میں قانون حقوق کے مطالبہ کی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے اور ۱۹۷۴ء سے اس میں بڑی شدت آ گئی ہے۔ وزارت داخلہ اب دوسرے سرکاری محکموں سے یہ صلاح مشورہ کر رہی ہے کہ آیا برطانیہ میں اس قسم کا قانون قابل عمل اور پسندیدہ ہوگا؟
برطانیہ کو چونکہ جمہوریت کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے اور ہم پاکستانیوں سمیت دنیا کے بیشتر ممالک جہاں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے اسی کا اتباع کرتے ہیں اس لیے مناسب ہوگا کہ ہم مطالبہ قانون حقوق کی اس مہم کے شرکاء کی آراء پر بھی ایک نظر ڈال لیں تا کہ ہمیں اندازہ ہو کہ خود اہل برطانیہ اب اپنے دستور کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
برطانیہ کے ایک جج سرلیزلی اسکارمین اپنے ملک میں بنیادی حقوق کے احترام کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”برطانوی قانون میں انسانی حقوق کا کوئی مکمل ضابطہ موجود ہوتا تو کیا آپ کے خیال میں شمالی آئرلینڈ میں تفتیش کے جو انتہائی اذیت ناک طریقے اختیار کیے گئے ہیں وہ ممکن تھے؟“
(9)
وہ قانون حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”اگر انسانی حقوق کو ہماری بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق تحفظ فراہم کیا جانا ہے تو عام قانون سے ہٹ کر ہمیں کچھ دوسرے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ ایک ایسا نظام قانون جو مقننہ کے رحم و کرم پر ہو اور جس میں خود یہ مقننہ بھی چند استثنائی صورتوں کے سوا انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہو، بنیادی حقوق کی یقینی ضمانت نہیں بن سکتا، اور اسی وجہ سے محض قانون سازی کوئی تحفظ مہیا نہیں کرتی۔ ضرورت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی قانون، قانون سازی کا نگراں ہو۔ اس طرح بنیادی حقوق کی تحریک جو اب محض ایک مہم نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی ذمہ داری کا معاملہ بن چکی ہے، ہمارے دستور کے عدم توازن کو پوری طرح عیاں کر دیتی ہے اور ایک نئے دستوری بندوبست کی ضرورت ظاہر کرتی ہے۔ اب ایک قانون حقوق کے بغیر جو وقت کی حکومت کے کنٹرول میں کام کرنے والی پارلیمانی اکثریت کے ہاتھوں کسی تنسیخ، ترمیم اور تعطل سے محفوظ ہو، بنیادی حقوق ہمیشہ خطرے سے دوچار رہیں گے۔“
(10)
کینیڈا کے جسٹس بورالاسکن نے اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
”قانون حقوق صرف وزیر قانون کی رہنمائی کے لیے ہے تا کہ وہ قانون بناتے وقت اسے سامنے رکھ لیا کریں۔“
(11)
وزیر اعظم لیسٹر پیرسن نے قانون حقوق کو دستور میں شامل کرانے کی کوشش کی مگر وہ
کامیاب نہ ہو سکے۔ وزیر اعظم ٹروڈو حیثیت وہی ۱۹۶۰ء والی رہی۔ ۱۹۶۳ء قانون حقوق منظور کرانے کی کوشش کی میں ہے۔
برطانیہ اور اس کی نوآبادیوں پر ہیں۔ ان کا واحد سہارا روایات ( شک نہیں کہ ان روایات کے احترام جرأت نہیں کرتی لیکن پارلیمنٹ کی آئینی تحفظ کی کوئی ضمانت موجود نہیں
”برطانوی آئین پارلیمنٹ کے ارکان اور مگر برطانیہ کے جج صاح
روایت کو بنیادی حقوق کا کوئی قابل محدود ہونے سے نہیں روک سکتی۔ داد فریادی بھی نہیں ہو سکتی۔
برطانیہ کے بعد اب امری جمہوری دستور سمجھا جاتا ہے کہ اس بالادستی حاصل ہے۔ وہ کانگریس کے ان کا نفاذ روک سکتی ہے۔ لیکن عدال صورت میں انتظامیہ اور کانگریس کی سیکشن ۹ اور دفعہ نمبر ۲ کے تحت ملک اور عدالتوں سے رٹ کی سماعت کا اخ وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”زمانہ جنگ وا دیا جائے تو ہائی کورٹ میں عارضی طور پر معطل کر دی
۱۹۵۴ء میں کانگریس بعض حالات میں کسی بھی شخص کو خواہ کیا جا سکتا ہے جو دستور کی پانچویں
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
کامیاب نہ ہو سکے۔ وزیراعظم ٹروڈو (Trudeau) نے ۱۹۷۹ء میں اسے منظور تو کرا لیا لیکن اس کی حیثیت وہی ۱۹۶۰ء والی رہی۔ ۱۹۷۳ء میں نیوزی لینڈ کے اٹارنی جنرل جے آر ہینن (Hanan) نے قانون حقوق منظور کرانے کی کوشش کی مگر پارلیمنٹ نے اسے مسترد کر دیا۔ یہی صورت حال آسٹریلیا میں ہے۔
برطانیہ اور اس کی نوآبادیات کے شہری، بنیادی حقوق کے سلسلے میں پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کا واحد سہارا روایات (Traditions) اور رواج (Custom) کا احترام ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان روایات کے احترام کی جڑیں بہت گہری ہیں اور کوئی حکومت ان سے انحراف کی جرأت نہیں کرتی لیکن پارلیمنٹ کی بالا دستی اور عدلیہ کی بے اختیاری کے باعث بنیادی حقوق کے آئینی تحفظ کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ امریکہ کے جج ولیم او ڈگلس کے بقول: "برطانوی آئین دراصل ’ضبطِ نفس‘ کی اس روایت کا نام ہے جس پر پارلیمنٹ کے ارکان اور برطانوی حکام کار بند چلے آ رہے ہیں۔" (12)
مگر برطانیہ کے جج صاحبان، ماہرین قانون اور عام شہری اب محض اس ’ضبطِ نفس‘ کی روایت کو بنیادی حقوق کا کوئی قابلِ اعتماد محافظ نہیں سمجھتے کیونکہ یہ روایت ان حقوق کو معطل، منسوخ یا محدود ہونے سے نہیں روک سکتی۔ پارلیمنٹ جب چاہے انہیں ختم کر سکتی ہے اور اس صورت میں کہیں داد فریاد بھی نہیں ہو سکتی۔
برطانیہ کے بعد اب امریکہ کے دستور کا جائزہ لیجیے۔ یہ دستور اس لحاظ سے دنیا کا مثالی جمہوری دستور سمجھا جاتا ہے کہ اس میں عدلیہ کو بنیادی حقوق کا محافظ بنایا گیا ہے اور اسے مقننہ پر بالا دستی حاصل ہے۔ وہ کانگریس کے منظور کردہ قوانین کو منافی دستور قرار دے کر منسوخ کر سکتی ہے اور ان کا نفاذ روک سکتی ہے۔ لیکن عدلیہ کی اس بالا دستی کے باوجود داخلی بغاوت، شورش یا بیرونی حملے کی صورت میں انتظامیہ اور کانگریس کو وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔ دستور کے آرٹیکل نمبر ۱، سیکشن ۹ اور دفعہ نمبر ۲ کے تحت ملک میں مارشل لاء لگایا جا سکتا ہے، بنیادی حقوق معطل کیے جا سکتے ہیں اور عدالتوں سے رٹ کی سماعت کا اختیار واپس لیا جا سکتا ہے۔ ولوبی (Willoughby) اس دفعہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "زمانہء جنگ، داخلی شورش یا بدامنی کی حالت میں جب مارشل لاء نافذ کر دیا جائے تو ہائی کورٹ میں رٹ کا حق اور شہری آزادی کی دوسری تمام ضمانتیں عارضی طور پر معطل کر دی جائیں گی۔" (13)
۱۹۵۴ء میں کانگریس نے قانون تحفظ (Immunity Act) منظور کیا، جس کے تحت بعض حالات میں کسی بھی شخص کو خود اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور نہ کیے جانے کے اس حق سے محروم کیا جا سکتا ہے جو دستور کی پانچویں ترمیم میں غیر مشروط طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی سال آزادی
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophet ﷺ. v - Prophet ﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
بنیادی حقوق کی ضمانتیں (الف) قومی سطح پر (ب) بین الاقوامی سطح پر
اجتماع وتنظیم سازی کی آئینی ضمانتوں کے باوجود امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کی گئی اور عدلیہ کی بالا دستی، انتظامیہ کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کر پارٹی کو بحال کرانے میں کوئی مدد نہ دے سکی۔
اس بحث سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ برطانیہ اور امریکہ کے دستور بھی انسان کے بنیادی حقوق کے ناقابل انتقال ہونے کی ضمانت مہیا نہیں کرتے اور اگر ان سے ان دونوں ملکوں کے عوام کو کچھ فائدہ پہنچ بھی رہا ہے تو وہ انہی تک محدود ہے، کوئی دوسرا ملک ان کے دستور کو اپنے ہاں آزمانا چاہے تو نتیجہ آمریت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
اشتراکی ممالک کے بارے میں ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ وہاں ”معاشی حقوق“ کے سوا کسی اور حق کا وجود نہیں ہے اور جو دوسرے حقوق دستور میں گنوائے گئے ہیں، وہ عدلیہ کے ذریعے قابل حصول نہیں، اس لیے وہاں بنیادی حقوق کے تحفظ کا سرے سے کوئی مسئلہ ہی موجود نہیں۔ اشتراکی ریاست خود حقوق طے کرتی ہے اور وہی ان کے نفاذ کی حدود متعین کرتی ہے۔ گویا وہ ”خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ ہے ۔“
منشور انسانی حقوق
قومی سطح پر بنیادی حقوق کے تحفظ میں دستور کی ناکامی کے بعد اب یہ دیکھیے کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر جو انتظامات کیے گئے ہیں، وہ اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو انسانی حقوق سے متعلق جس عالمی منشور کا اعلان کیا تھا، وہ گویا اس ضمن میں انسانی کوششوں کی معراج ہے۔ یہ منشور ۳۰ دفعات پر مشتمل ہے، جو حسب ذیل ہیں:
- (۱) تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وقار و حقوق کے معاملہ میں مساوی الحیثیت ہیں۔
- (۲) ہر فرد نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا دوسرے نظریات، قومی و سماجی حیثیت،
املاک، پیدائش یا کسی اور حیثیت اور کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر اس منشور میں صراحت کردہ تمام حقوق اور آزادیوں کا مستحق ہوگا۔
- (۳) ہر فرد کو زندہ رہنے، آزاد رہنے اور اپنی جان کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے۔
- (۴) کسی بھی شخص کو نہ غلام بنایا جائے گا اور نہ محکوم رکھا جائے گا۔ غلامی اور غلاموں کی
تجارت کی ہر شکل ممنوع ہوگی۔
- (۵) کسی بھی شخص کو تشدد، ظلم و ستم، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا
جاسکے گا۔
- (۶) ہر فرد کو قانون کی نظر میں بحیثیت فرد ایک تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہوگی۔
- (۷) قانون کی نگاہ میں سب کی حیثیت مساوی ہوگی اور انہیں کسی امتیاز کے بغیر یکساں
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- “Mirza became an imposter prophet just to gain fame”. Discuss the essential credentials required to present the above claim.
قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
- (۸) ہر فرد کو آئین یا قانون کے ذریعے ملنے والے بنیادی حقوق کے منافی قوانین کے
خلاف بااختیار قومی ٹریبونل کے ذریعے مؤثر چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
- (۹) کسی شخص کو بلا جواز گرفتاری، نظر بندی یا جلاوطنی کی سزا نہیں دی جا سکے گی۔
- (۱۰) ہر شخص کو اپنے بنیادی حقوق و فرائض کے تعین یا اپنے خلاف عائد کردہ الزامات
سے برأت کے لیے آزاد و خود مختار اور غیر جانبدار ٹریبونل میں کھلی اور منصفانہ سماعت کا یکساں حق حاصل ہوگا۔
- (۱۱) الف۔ کسی تعزیری جرم کی صورت میں ہر فرد کو اس وقت تک بے قصور سمجھے جانے کا
حق حاصل ہوگا جب تک ایسی کھلی عدالت میں اسے قانون کے مطابق مجرم ثابت نہ کر دیا جائے جہاں اسے اپنی صفائی کی تمام ضمانتیں فراہم کی گئی ہوں۔
- (ب) کسی فرد کو کسی ایسے ارادی یا غیر ارادی فعل کی بناء پر قابل تعزیر جرم کا مرتکب قرار نہیں
دیا جاسکتا جو فی الواقع قومی یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابل تعزیر نہ ہو۔
- (۱۲) کسی فرد کی خلوت، گھریلو زندگی، خاندانی امور اور خط و کتابت میں مداخلت نہیں کی
جائے گی اور نہ اس کی عزت و آبرو پر حملہ کیا جائے گا۔
- (۱۳) الف۔ ہر فرد کو اپنی حدود ریاست میں نقل و حرکت اور رہائش کی مکمل آزادی
حاصل ہوگی۔
- (ب) ہر فرد کو بیرون ملک جانے اور اپنے ملک واپس آنے کا حق حاصل ہوگا۔
- (۱۴) الف۔ ہر فرد کو ظلم و تشدد سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کا حق
حاصل ہوگا۔
- (ب) غیر سیاسی جرائم یا اقوام متحدہ کے اصول و مقاصد کے منافی اعمال کے سلسلے میں
مقدمات سے بچنے کے لیے یہ حق قابل استعمال نہیں ہوگا۔
- (۱۵) الف۔ ہر فرد کو شہریت حاصل کرنے کا حق ہوگا۔
- (ب) کسی فرد کو بلا جواز اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ شہریت کی تبدیلی کا
حق سلب کیا جائے گا۔
- (۱۶) الف۔ ہر بالغ مرد اور عورت کو بلا امتیاز نسل، شہریت یا عقیدہ، شادی کرنے اور گھر
بسانے کا حق حاصل ہوگا۔
- (ب) شادی زن و شوہر کی آزادانہ مرضی و منظوری سے ہوگی۔
- (ج) خاندان، معاشرے کا بنیادی اور فطری یونٹ ہے جو ریاست اور معاشرے کی طرف
سے مکمل تحفظ کا مستحق ہے۔
the moon. ii - Prophet Muhammad ﷺ informed about the false prophets. iii - Dajjal was seen by the Prophet ﷺ in his dream. iv- The Caliphate came into existence after the Prophetﷺ. v - Prophetﷺ asked for the Quran and Sunnah to be held onto strongly. 19-- How has Maulana Nanotwi used various means to testify to the seal of the prophethood? 20-- According to the Hadith, what does the Straight Path mean? Also highlight the importance of the Hadith in solving the issue of the seal of the prophet hood. 21-- Discuss the immense recollection and remembrance of the Prophet ﷺ and build your argument to present a proof of the seal of prophethood. 22-- "Mirza became an imposter prophet just to gain fame". Discuss the essential credentials required to present the above claim.
- (۱۷) الف۔ ہر فرد کو تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر جائیداد رکھنے کا حق ہوگا۔
- (ب) کسی کو بلا جواز اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
- (۱۸) ہر فرد کو فکر و خیال، ضمیر اور عقیدے کی آزادی حاصل ہوگی اور اس حق میں تبدیلی
عقیدہ، اظہار عقیدہ، تبلیغ عقیدہ اور عبادت کا حق بھی شامل ہے۔
- (۱۹) ہر فرد کو آزادی اظہار خیال کا حق حاصل ہے اور اس میں کسی مداخلت کے بغیر کوئی
بھی رائے رکھنے، کسی بھی ذریعے سے اور سرحدوں کا لحاظ کیے بغیر خیالات و معلومات حاصل کرنے اور پہنچانے کا حق بھی شامل ہے۔
- (۲۰) الف۔ ہر فرد کو پُر امن اجتماع و تنظیم کا حق حاصل ہے۔
- (ب) کسی کو کسی خاص تنظیم سے وابستہ ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
- (۲۱) الف۔ ہر فرد کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا منتخب نمائندوں کے ذریعے
شرکت کا حق ہے۔
- (ب) ہر فرد کو اپنے ملک کی سرکاری ملازمت کے حصول کا مساوی حق حاصل ہے۔
- (ج) حکومت کے اختیار کی اصل بنیاد عوام کی خواہش و مرضی ہوگی جس کا اظہار انتخابات
کے ذریعے آزادانہ رائے شماری اور خفیہ رائے دہی کی صورت میں ہوگا۔
- (۲۲) ہر فرد کو اپنی باوقار زندگی اور تعمیر شخصیت کے لیے سماجی تحفظ کا حق ہوگا اور وہ قومی
مساعی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اور ہر ریاست کے وسائل کے مطابق معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کا مستحق ہوگا۔
- (۲۳) الف۔ ہر فرد کو کام کرنے، اپنی پسند کا پیشہ منتخب کرنے، بہتر اور منصفانہ شرائط کار
حاصل کرنے اور بے روزگاری سے تحفظ پانے کا حق ہوگا۔
- (ب) ہر فرد کو بلا امتیاز یکساں کام کی یکساں اجرت ملے گی۔
- (ج) ہر فرد کو بہتر اور منصفانہ معاوضہ حاصل کرنے کا حق ہے جو اس کی ذات اور اس کے
خاندان کے لیے باعزت زندگی بسر کرنے کی ضمانت فراہم کر سکے اور ضروری ہو تو اس کے سماجی تحفظ کے لیے کچھ دوسرے ذرائع بھی مہیا کیے جائیں۔
- (د) ہر فرد کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونین بنانے اور ان میں شامل ہونے کا
حق حاصل ہوگا۔
- (۲۴) ہر فرد کو راحت و آرام، تفریح، اوقات کار کے معقول تعین اور تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں
کا حق ہوگا۔
- (۲۵) الف۔ ہر فرد کو اپنی اور اپنے اہل خاندان کی صحت و خوشحالی کے لیے معقول معیار
زندگی برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے جس میں خوراک، لباس، رہائش، طبی امداد، ضروری سروس، بے
روزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی
- (ب) زچگی وغیرہ
جائز ہوں یا ناجائز یکساں سماجی
- (۲۶) الف۔ ہر فرد
- (ب) تعلیم کا مقص
مستحکم بنانا ہوگا۔
- (ج) والدین کو اپ
- (۲۷) الف۔ ہر فرد
اندوز ہونے اور سائنسی ترقی سے
- (ب) ہر فرد کو اپ
حق حاصل ہوگا۔
- (۲۸) ہر فرد ایسے
میں منشور کے ان حقوق اور آزا
- (۲۹) الف۔ ہر فر
رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آ
- (ب) اپنے حق
پابندیوں کے دائرے میں ر یقینی بنانا ہے۔
- (ج) ان حقوق او
کیا جاسکتا۔
- (۳۰) اس منشور
ریاست، گروپ یا فرد کو کسی متعین حقوق اور آزادیوں کو اس منشور میں جن کر دیا گیا۔ ایک فہرست میں اور ریاستی حقوق کو ۔ جنرل ا اور رکن ریاستوں کی صوابد عہد ناموں پر دستخط کردے اقوام متحدہ کے
روزگاری‘ بیماری‘ معذوری‘ بیوگی‘ بڑھاپے اور اسی نوعیت کے دوسرے حالات میں تحفظ بھی شامل ہے۔
- (ب) زچگی و شیر خوار کو خصوصی توجہ اور امداد کا مستحق سمجھا جائے گا اور تمام بچوں کو خواہ وہ
جائز ہوں یا ناجائز‘ یکساں سماجی تحفظ حاصل ہوگا۔
- (۲۶) الف۔ ہر فرد کو حصولِ تعلیم کا حق حاصل ہے۔
- (ب) تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی مکمل تعمیر اور انسانی حقوق و آزادیوں کے احترام کو
مستحکم بنانا ہوگا۔
- (ج) والدین کو اپنے بچوں کے لیے نوعیت تعلیم کے انتخاب کا حق حاصل ہوگا۔
- (۲۷) الف۔ ہر فرد کو معاشرے کی ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصہ لینے‘ علوم و فنون سے لطف
اندوز ہونے اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے متمتع ہونے کا حق ہے۔
- (ب) ہر فرد کو اپنی سائنسی‘ ادبی یا فنی تخلیقات کے اخلاقی و مادی ثمرات کے تحفظ کا
حق حاصل ہوگا۔
- (۲۸) ہر فرد ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی ماحول میں زندگی بسر کرنے کا مستحق ہے جس
میں منشور کے ان حقوق اور آزادیوں سے بہرہ ور ہونے کی ضمانت ہو۔
- (۲۹) الف۔ ہر فرد پر اس معاشرے کی طرف سے ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جس میں
رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور مکمل نشو و نما ممکن ہے۔
- (ب) اپنے حقوق اور آزادیوں کے سلسلے میں ہر شخص صرف قانون کی عائد کردہ ان
پابندیوں کے دائرے میں رہے گا جن کا مقصد دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔
- (ج) ان حقوق اور آزادیوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے منافی استعمال نہیں
کیا جا سکتا۔
- (۳۰) اس منشور کے کسی بھی حصے کی ایسی تعبیر نہیں کی جا سکے گی جس کا مقصد کسی بھی
ریاست‘ گروپ یا فرد کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے کا حق دلانا ہو جس کے ذریعے وہ ان متعین حقوق اور آزادیوں ہی کا صفایا کر دے۔
اس منشور میں جن حقوق اور آزادیوں کا اعلان کیا گیا ہے‘ انہیں بعد میں دو حصوں میں کر دیا گیا۔ ایک فہرست میں معاشی‘ سماجی اور ثقافتی حقوق کو یکجا کر دیا گیا اور دوسری فہرست میں شہری اور ریاستی حقوق کو۔ جنرل اسمبلی نے ۱۹۶۶ء میں ان دو عہد ناموں (Covenants) کی منظوری دی اور رُکن ریاستوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا کہ جو ملک رضا کارانہ طور پر ان حقوق کو تسلیم کرتا ہو‘ وہ ان عہد ناموں پر دستخط کر دے۔
اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے اس سلسلے میں مزید کچھ کام کیا ہے۔ ۱۹۵۹ء
میں اس نے بچوں کے حقوق سے متعلق اور ۱۹۶۳ء میں نسلی امتیاز کے انسداد کے لیے ایک اعلان جاری کیا۔ جنرل اسمبلی نے ۱۹۴۸ء میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے ۱۹۵۱ء میں مہاجرین اور جلاوطن لوگوں کے تحفظ کے لیے ۱۹۵۲ء میں خواتین کے سیاسی حقوق کے لیے ۱۹۵۷ء میں شادی شدہ عورتوں کی قومیت کے تعین کے لیے ۱۹۵۱ء میں غلامی کے مکمل انسداد اور خاتمے کے لیے اور ۱۹۶۵ء میں جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی مذمت کے لیے مختلف عہد نامے اور قراردادیں منظور کیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی اداروں مثلاً بین الاقوامی ادارہ محنت (.I.L.O) یونیسکو بین الاقوامی ادارہ مہاجرین (.I.R.O) اور ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے بھی اپنے اپنے دائرہ عمل میں انسانی حقوق کے تعین و تحفظ کے لیے قابل ذکر کام کیا ہے۔
لیکن حقوق انسانی کے عالمی منشور اور اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی ان شاندار کوششوں کا حاصل کیا ہے؟ کیا منشور نے فی الواقع انسان کو جبر و استبداد اور آمریت و فسطائیت کے چنگل سے نجات دلا کر آزادی کی فضا میں سانس لینے اور اپنے حقوق سے متمتع ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے؟ اس منشور کی حقیقت اور اقوام متحدہ کی بے بسی کی کیفیت کا حال خود مغربی مفکرین اور بین الاقوامی ماہرین قانون کی زبانی سنیے:
”کمیشن برائے انسانی حقوق نے ۱۹۴۷ء میں منشور کے نفاذ سے متعلق ایک رپورٹ منظور کی جس میں سابقہ انداز فکر کو یکسر اُلٹ دیا گیا۔ اس میں یہ عام اصول طے کر دیا گیا کہ ”کمیشن تسلیم کرتا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق شکایات کے معاملے میں وہ کسی قسم کی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا۔“
گویا منشور کے اعلان سے ایک سال قبل ہی یہ طے ہو گیا کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ کوئی ملک چاہے تو اس منشور پر از خود رضا کارانہ طور پر عمل در آمد کر سکتا ہے اور چاہے تو اُٹھا کر ردی کی ٹوکری میں بھی پھینک سکتا ہے۔
ہینز کیلسن کا یہ تبصرہ ملاحظہ ہو:
”خالص قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو منشور کی دفعات کسی بھی رُکن ملک پر انہیں تسلیم کرنے اور منشور کے مسودے یا اس کے ابتدائیہ میں صراحت کردہ انسانی حقوق اور آزادیوں کو تحفظ دینے کی پابندی عائد نہیں کرتیں۔ منشور کی زبان میں کسی ایسی تعبیر کی گنجائش نہیں جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ رُکن ممالک اپنے شہریوں کو انسانی حقوق اور آزادیاں دینے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔“ (15)
منشور نے ریاستوں کی چیرہ دستی کے ازالے کے لیے ایک فرد کو کیا کچھ عطا کیا ہے، اس کے بارے میں کارل منہا ئم لکھتے ہیں:
”منشور نے کسی فرد کو یہ قانو حقوق اور آزادیوں میں سے کسی ایک الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ کے سا عدالت انصاف سے اپیل کر سکے واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ عدالت ہ پر پیش ہو سکتی ہیں۔“ (16)
منشور میں جن معاشی اور سماجی حقوق ہوئے ڈاکٹر رفاعل کہتے ہیں:
”یہ نام نہاد معاشی اور سما کرتے۔ یہ ایسے حقوق ہیں جن کا آمدنی، سکول اور سماجی خدمات وغیر کرے؟ یہ فرض آخر کس سے متعلق مصنفین جب یہ کہتے ہیں کہ ”ہر فر مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو ایک عا ضرورت پڑنے پر وہ فائدہ اُٹھا س عہد ناموں کے مسودے میں جن تشکیل کے لیے کوئی دفعہ کیوں نہی کیسا فرض اور کہاں کا حق؟ لوگوں ک ہی نہ ہو سراسر حماقت ہے۔ تاہم ہ ایسے حقوق عطا کر دیئے جائیں جن ک ان حقوق کے بارے میں اے ۔ ا
”معاشی اور سماجی حقوق و اس اصطلاح کے تسلیم شدہ مفہوم ک معاشی پالیسیوں کے محض اصول ہ کہ کمیشن کو ایک کی بجائے دو علیحد کرنے پڑے۔“ (18)
ان کا اشارہ دنیا کے دو مختلف نظر عمل پیرا ہیں بلکہ حقوق کا قطعی مختلف تصور رک منشور کی حقیقت اور اقوام متحدہ کی
”منشور نے کسی فرد کو یہ قانونی حق نہیں دیا کہ وہ منشور میں دیئے گئے حقوق اور آزادیوں میں سے کسی ایک کے سلب ہو جانے کی صورت میں بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ادارہ انصاف‘ بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے اپیل کر سکے۔ اس عدالت کے قانون کی دفعہ ۳۴ میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ عدالت کے سامنے صرف ریاستیں ہی فریق کے طور پر پیش ہو سکتی ہیں۔“ (16)
منشور میں جن معاشی اور سماجی حقوق کا تذکرہ کیا گیا ہے‘ ان کی اصل حقیقت واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر رفائل کہتے ہیں:
”یہ نام نہاد معاشی اور سماجی حقوق کوئی بین الاقوامی فرض عائد نہیں کرتے۔ یہ ایسے حقوق ہیں جن کا تعلق کچھ چیزیں دینے سے ہے۔ مثلاً معقول آمدنی‘ سکول اور سماجی خدمات وغیرہ لیکن کس سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ چیزیں مہیا کرے؟ یہ فرض آخر کس سے متعلق ہے؟ اقوام متحدہ کے منشورِ انسانی حقوق کے مصنفین جب یہ کہتے ہیں کہ ”ہر فرد کو سماجی تحفظ کا حق حاصل ہو گا“ تو کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو ایک عالمگیر نظامِ تحفظ کو کچھ عطیہ دینا چاہیے جس سے ضرورت پڑنے پر وہ فائدہ اُٹھا سکے گا۔ اگر واقعی ان کی مراد یہی ہے تو ان عہد ناموں کے مسودے میں جن کا مقصد منشور کا نفاذ ہے‘ اس قسم کے نظام کی تشکیل کے لیے کوئی دفعہ کیوں نہیں ہے؟ اور اگر ایسا نظام وجود نہیں رکھتا تو پھر کیسا فرض اور کہاں کا حق؟ لوگوں پر ایسا فرض عائد کرنا جس کی ادائیگی کا امکان ہی نہ ہو‘ سراسر حماقت ہے۔ تاہم یہ اتنی ظالمانہ نہیں جتنی یہ حماقت کہ لوگوں کو ایسے حقوق عطا کر دیئے جائیں جن سے وہ کوئی استفادہ ہی نہ کر سکیں۔“ (17)
ان حقوق کے بارے میں اے کے بروہی فرماتے ہیں:
”معاشی اور سماجی حقوق کے عہد نامہ میں دیئے گئے حقوق درحقیقت اس اصطلاح کے تسلیم شدہ مفہوم کی رو سے حقوق ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سماجی اور معاشی پالیسیوں کے محض اصول ہیں اور اسی سے اتفاقاً یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کمیشن کو ایک کی بجائے دو علیحدہ عہد نامے (Covenants) کیوں مرتب کرنے پڑے۔“ (18)
ان کا اشارہ دنیا کے دو مختلف نظریاتی کیمپوں کی جانب ہے جو نہ صرف متضاد پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں بلکہ حقوق کا قطعی مختلف تصور رکھتے ہیں۔
منشور کی حقیقت اور اقوام متحدہ کی بے بسی کی یہ تصویر دیکھ لینے کے بعد اب مغرب ہی کے
ایک مفکر سے مستقبل کے امکانات کا یہ مایوس کن تجزیہ بھی سن لیجیے: ”انہی وجوہ کی بناء پر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کے قانونی تحفظ کا کوئی روشن مستقبل ہے۔ یہ ادارہ ایسی ریاستوں کے گروپوں پر مشتمل ہے جو جمہوریت اور ریاست وفرد کے باہمی تعلق کا قطعی مختلف تصور رکھتے ہیں۔ مغربی ممالک کے نزدیک بعض حقوق اور آزادیاں مہذب معاشرے کے لیے بنیادی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حقیقی جمہوریت کی بنیادیں انہی حقوق سے استوار ہوتی ہیں۔ دوسری طرف کمیونسٹ ممالک کا خیال ہے کہ کوئی حق اور آزادی بنیادی نہیں۔ تمام حقوق کا ماخذ ریاست ہے اور اسی کو یہ حق ہے کہ بحیثیت مجموعی پورے معاشرے کے مفاد میں وہ ان حقوق اور آزادیوں کی حدود کا تعین کرے۔ ان سے الگ وہ ترقی پذیر ریاستیں ہیں جن کا مقصد تیز رفتار معاشی و سماجی ترقی کا حصول ہے اور جو سمجھتی ہیں کہ شہری اور سیاسی حقوق اور آزادیوں کی ضمانت مطلوبہ معاشی و سماجی مقاصد کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے۔ ان اختلافات کے ہوتے ہوئے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے میدان میں بہتر نتائج نہ دکھا سکی اور نہ اس سے مستقبل میں ایسی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہوگا۔“ (19)
منشور انسانی حقوق کے مطالعہ اور اس پر کیے گئے تبصروں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انسان کی اجتماعی کوششیں بھی اس کے لیے پُر وقار اور آبرومندانہ زندگی کو کوئی ضمانت مہیا نہیں کر سکیں۔ وہ اپنے اپنے ملک میں حکومتوں کی قہرمانی کے سامنے جتنا بے بس و بے اختیار پہلے تھا‘ اتنا ہی آج بھی ہے‘ بلکہ حکومتوں کے دائرۂ کار اور اس کے اختیارات میں مسلسل وسعت واضافے نے بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کو بالکل بے معنی بنا دیا ہے۔ منشور انسانی حقوق کی حیثیت ایک خوشنما دستاویز سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس میں حقوق کی ایک فہرست تو مرتب کر دی گئی ہے لیکن ان میں سے کوئی ایک حق بھی اپنے پیچھے قوت نافذہ نہیں رکھتا۔ یہ نہ ریاستوں پر کوئی قانونی پابندی عائد کر کے انہیں بنیادی حقوق سلب کر لینے سے باز رکھنے کا کوئی اہتمام کرتا ہے اور نہ کسی فرد کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے کسی قانونی چارہ جوئی کا کوئی نظام مہیا کرتا ہے۔ اس طرح یہ منشور تحفظِ انسانی حقوق کے معاملہ میں بالکل ناکارہ اور ناقابل اعتماد دستاویز ہے‘ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ بس اتنا ہے کہ اس نے انسانی حقوق کا ایک معیار قائم کر دیا ہے اور عام انسانی برادری کو اپنے حقوق کے تحفظ کا ارتقائی احساس و شعور بخشا ہے۔ معاشرے میں فرد کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اس کی مدد سے نو آزاد ممالک اپنے آئین وضع کرتے وقت بنیادی حقوق کے رسمی باب کو سہولت کے ساتھ مرتب کر لیتے ہیں۔ اس منشور کی حیثیت سراسر اخلاقی ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اس کا کوئی وزن و مقام نہیں۔
بنیادی حقوق کے محافظ کی حیثیت سے اس منشور کی قوت و اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سیاسی قیدیوں کے معاملات سے متعلق بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) کی شائع شدہ رپورٹ برائے سال ۱۹۷۵-۷۶ء کے مطابق اقوام متحدہ کے ۱۴۲ رکن ممالک میں سے ۱۱۳ ملکوں میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں اور طاقت کے بے جا استعمال‘ بلا جواز گرفتاریوں‘ سیاسی قید و بند‘ جبر و تشدد اور سزائے موت کے واقعات اور پریس پر پابندی‘ عدلیہ کے اختیارات میں کمی‘ آمرانہ قوانین کے نفاذ اور بنیادی حقوق منسوخ و معطل کیے جانے کے اقدامات میں عالمگیر سطح پر تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔
حوالہ جات
- 1- Friedmann, W. "Legal Theory" Stevens Saw, London
(1967) p. 392
- 2- Gaiues Ezejiofor "Protection of Human Rights under
the Law" Butterworths, London (1964) p. 3
- 3- Vyshinsky, Andrie Y. "The Law of the Soviet State". The
Macmillan Co. New York. (1948) p.555
- 4- Dewey Robert, E. "Freedom" The Macmillan Co.
London (1970) p. 347
- 5- Sorokin Pitirim A. "The Crisis of Our Age." E.P. Duttan
& Co. Newyork (1951) p. 229
- 6- Encycl. Britannica "15th Ed." Vol. 16. p. 17
- 7- Jennings, Sir. Ivor "Approach to Self-Government"
Oxford, London p. 20
- 8- Fennessy, R.R. Burke, Paine and the Rights of
Man." Martiness Nijhaoff Hague. (1965) p. 179
- 9- Scarman, Sir Leslie "English Law-The New
Dimensions." Stevens & Sons, London, (1974) p. 18
- 10- Ibid. p. 69
- 11- Phillips, O. Hood "Reform of the Constitution. p. 143
- 12- Douglas, William O. "Bunyadi Insani Haqooq ka Masla
(Urdu Translation) Lahore. (1965) p.116
Ja Kanwar G By t
تحفة الحجاج مفتاح الحروف معاون کالم
- 13- Willoughby, W.
"Principles of the Constitutional Law of the United States" Baker Voorthis & Co. New York (1938) p. 677.
- 14- Gaius Ezejiofor
"Protection of Human Rights under the Law" (1964) p. 80
- 15- Hans Kelson
"The Law of United Nations" London, (1950) p. 29
- 16- Karl Mannheim
"Diagnosis of Our Time" London (1947) p. 15
- 17- Raphael, D. D.
"Political Theory And the Rights of Man. Indiana University Press, Bloomington (1967) p. 96.
- 18- Brohi, A.K.
"United Nations and The Human Rights" (1968) p. 44
- 19- Gaius Ezejiofor
"Protection of Human Rights Under the Law" (1964) p. 136
”جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے دور حکومت میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے ”مسجد سکول“ کے نام سے جو سکیم شروع کی گئی تھی، اس کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ نئی نسل کم از کم ناظرہ قرآن پڑھ سکے جو مسلمان کی حیثیت سے ہر فرد کا بنیادی حق اور اسلامی فریضہ بھی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مساجد میں اساتذہ کا تقرر ہوا تھا اور ہزار ہا مسجدوں میں قرآنی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اچانک یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ ایسا عالمی بنک کے ایماء پر کیا گیا۔ عالمی بنک نے دھمکی دی تھی کہ بچوں کو مذہبی تعلیم دینے سے ملک میں بنیاد پرستی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس لیے اگر پاکستانی حکومت نے مذہبی تعلیم کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو عالمی بینک کی طرف سے مختلف منصوبوں میں پاکستان کو جو قرض دیا جاتا ہے، قرض کی یہ ساری رقم بند کر دی جائے گی۔ اس دھمکی کے نتیجہ میں حکومت کو مجبوراً ”مسجد سکول“ کا سلسلہ بند کرنا پڑا اور ملک کے لاکھوں بچوں کو قرآن مجید پڑھنے کے بنیادی حق سے محروم رکھنا پڑا۔“
امریکہ
ذرا بزم تصور میں وہ دن لائیے ضلالت اور شقاوت کے سیل بے اماں کی نذر کو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا جاتا تھا برطانیہ کے عقوبت خانوں میں گنڈاسے مار مطلق العنان رجواڑوں نے تیزابی تالابوں میں ڈبو کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔ کسی قیدی کے سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ تاریخ کے اوراق میں میں عمر قید کے اسیر پھینک دیے جاتے تھے غاروں میں لٹکاتے تھے۔ اس طرح ان لاہو
اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو دیں۔ اسلام نے انسانوں کو تہذیب سکھائی منڈیوں اور علمی گہواروں سے لے کر بحر متو کا چراغاں کر دیا۔ اس طرح انسانیت اسلام کر اعلیٰ شرافتوں کے اجالے میں آکھڑی ہوئی
زندگی ایک رنگ چیز نہیں ہے۔ تضادات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جگہ سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ کہیں یہ آپس میں اور کہیں اس قدر سنگین ہو جاتے ہیں کہ آ کے پیش نظر قرآن کریم نے مسلمانوں کو یہ
ولا يجرمنكم شنان
للتقوى. (المائدہ /۸)
”کسی جماعت کی دشمنی آ انصاف ہی نہ کریں۔ انصاف کر
احمد کامران
امریکہ طالبان اور اسلام
ذرا بزم تصور میں وہ دن لائیے جب تاریخ کی صبح طلوع ہوئی تھی اور انسانیت ذلت، ضلالت اور شقاوت کے سیلِ بے اماں کی زد میں تھی۔ سلطنت روما میں کردہ یا نا کردہ جرائم کے قیدیوں کو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا جاتا تھا اور ہزاروں افراد جمع ہو کر یہ وحشیانہ تماشا دیکھتے تھے۔ برطانیہ کے عقوبت خانوں میں گنڈاسے مار کر قیدیوں کے سر قلم کر دیے جاتے تھے۔ ہندوستان میں مطلق العنان رجواڑوں نے تیزابی تالاب بنوا رکھے تھے۔ سزائے موت کے قیدیوں کو ان تالابوں میں ڈبو کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔ کسی قیدی کی آنکھیں نکال دی جاتی تھیں اور کسی کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ تاریخ کے اوراق میں ایسے غاروں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن کی خوفناک پستیوں میں عمر قید کے اسیر پھینک دیے جاتے تھے اور ان کے عزیز و اقارب ان کا کھانا رسیوں میں باندھ کر غاروں میں لٹکاتے تھے۔ اس طرح ان لاچار قیدیوں کو دانہ پانی میسر آتا تھا۔
اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس نے انسانی فکر و عمل کے ہر گوشے کی تاریکیاں کافور کر دیں۔ اسلام نے انسانوں کو تہذیب سکھائی اور حکومت کے ایوانوں، غریبوں کی جھونپڑیوں، تجارت کی منڈیوں اور علمی گہواروں سے لے کر مجرموں کے عقوبت خانوں تک ہر شعبۂ زندگی میں عدل و احسان کا چراغاں کر دیا۔ اس طرح انسانیت اسلام کے فیض کی بدولت حیوانی زندگی کے اندھیرے سے نکل کر اعلیٰ شرافتوں کے اجالے میں آ کھڑی ہوئی۔
زندگی یک رنگ چیز نہیں ہے۔ یہ تضاد اور اختلاف سے عبارت ہے۔ فرد ہو یا جماعت سبھی تضادات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف وجوہ سے چھوٹے بڑے اختلافات ہمیشہ اور ہر جگہ سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ کہیں یہ آپس میں تال میل کر لیتے ہیں، کہیں مدھم ہو جاتے ہیں، کہیں شوخ اور کہیں اس قدر سنگین ہو جاتے ہیں کہ آپس میں جنگ چھڑ جاتی ہے۔ انسانی فطرت کے اسی رنگ کے پیش نظر قرآن کریم نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے:
ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی۔ (المائدہ /۸)
”کسی جماعت کی دشمنی آپ کو اس پر آمادہ نہ کر دے کہ اس کے ساتھ انصاف ہی نہ کریں۔ انصاف کرتے رہیے کہ یہ تقویٰ کے بہت قریب ہے“۔
اللہ اللہ! دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کی تعلیم و تاکید! یہ انسانیت کا کتنا اونچا سبق ہے!! حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے فدائیوں نے خدائے بزرگ و برتر کی اس تاکید و تعلیم پر جس خوبی اور خوشدلی سے عمل کیا‘ تاریخ اسلام میں اس کی مثالیں جا بجا جگمگا رہی ہیں۔
سن ۲ ہجری میں جنگ بدر ہوئی۔ مقابلے میں وہ حملہ آور تھے جنہوں نے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیروکاروں پر اتنے مظالم توڑے تھے کہ وہ اپنے آبائی وطن مکہ سے ہجرت پر مجبور ہو کر مدینہ طیبہ آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے مشرکوں کی بھاری نفری اور زبردست اسلحے کے باوجود مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ اس جنگ میں مشرکین مکہ کے ستر افراد ہلاک اور ستر ہی قید ہوئے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے جانی دشمن تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ نے انہیں کوئی ہتھکڑی نہیں لگائی۔ کوئی بیڑی نہیں پہنائی، کوئی جیل خانہ نہیں بنایا، کسی کال کوٹھڑی میں نہیں ٹھونسا۔ بلکہ انہیں نہایت آرام اور احترام سے رکھا۔ خاص طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نہایت شفقت کا معاملہ فرمایا۔ انہوں نے ان مشرک حملہ آوروں کو صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دیا اور انہیں تاکید فرمائی کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ صحابہ کرامؓ نے رسول پاکؐ کے اس ارشاد گرامی پر کس قدر خوبی اور خلوص سے عمل کیا‘ اس کا حال ابو عزیز بن عمیر نے اس طرح بیان کیا ہے۔ ابو عزیز مصعب بن عمیر کے بھائی تھے یہ وہ کہتے ہیں:
’’اس جنگ میں نضر بن حارث مشرکین کے علمبردار تھے اور میں نائب علمبردار تھا۔ مجھے بعض انصار کے حوالے کیا گیا۔ ان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کا اس قدر زبردست اثر تھا کہ وہ مجھے صبح شام کھانا کھلاتے تھے اور خود کھجور کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ ان میں سے کسی کو روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ملتا تھا تو وہ فوراً مجھے دے دیتا تھا اور خود اسے ہاتھ تک نہیں لگاتا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر مجھے شرم آتی تھی‘‘۔
(سیرت النبیؐ۔ ابن ہشام جلد دوم)
جنگ بدر ہی کا ایک قیدی سہیل بن عمرو شعلہ بیان خطیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کے اگلے دانت توڑ دوں تا کہ اس بدبخت کی زبان باہر نکل آئے اور یہ پھر کبھی آپ کے خلاف اپنی خطابت کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اگر میں اسے اس طرح کی سزا دوں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھے ایسی ہی سزا دے سکتا ہے‘ چاہے میں نبی ہوں‘‘۔
ایک اور روایت میں یہ ارشادِ عالی اس طرح بیان ہوا ہے: ’’ممکن ہے وہ کل ایسی حیثیت میں ہو جو تمہارے لیے ناگوار نہ ہو (یعنی وہ مسلمان ہو جائے)‘‘۔
(سیرت النبیؐ۔ ابن ہشام جلد دوم)
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ کا سب سے زیادہ درخشاں اور گراں مایہ پہلو فتح مکہ کے وقت سامنے آیا۔ دنیاوی فاتحین مفتوحہ علاقوں میں داخل ہوتے ہیں تو بستیاں جلاتے ہیں،
خون کے دریا بہاتے ہیں، آگ بھڑکاتے ہیں، لاشیں گراتے ہیں اور غرور و تمکنت سے گردن اکڑا کر مفتوحین پر رعب جماتے ہیں...... مگر فاتح مکہ کا کیا حال تھا۔ اس موقع پر آپ اونٹنی پر سوار دھیرے دھیرے تشریف لا رہے تھے۔ سر اقدس جھکا ہوا تھا، زبان مبارک پر رب العزت کی تقدیس اور بڑائی کا زمزمہ تھا۔ عالم انسانیت کا سب سے زیادہ برگزیدہ انسان اپنے اس وطن مالوف لوٹ آیا تھا جہاں انسانیت سے نا آشنا سنگدل وحشی رحمت عالم کو قتل کرنے پر تل گئے تھے۔ جہاں اس کے پائے مقدس کے نیچے کانٹے بچھائے جاتے تھے۔ جہاں اس کی پشت مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی پھینک دی جاتی تھی۔ جہاں اس کا اور اس کے محترم عزیزوں کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ جہاں اسے ہدایت کا آسمانی پیغام سنانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور جہاں اس کے خلاف ہر گھڑی سازشیں اور شرارتیں کی جاتی تھیں ......
مگر رحمت عالم نے کسی سے انتقام نہیں لیا، کسی کو گرفتار نہیں کیا، کسی کو قیدی نہیں بنایا۔ یہی نہیں بلکہ ان کا ابر کرم سب کے لیے بخشش اور امن کے موتی لٹانے لگا۔ انہوں نے اپنے خون کے پیاسوں کو بھی معاف فرما دیا اور صحابہ کرام کو ہدایات جاری کیں کہ کسی بوڑھے کو کچھ نہ کہنا۔ عورتوں اور بچوں کو کوئی گزند نہ پہنچانا، کوئی نوجوان مشرک ہتھیار پھینک دے تو اس پر تلوار نہ اٹھانا۔ حتیٰ کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پکے دشمنوں کے سردار ابوسفیان کو بھی معاف کر دیا اور انہیں یہ عزت بخشی کہ جو مشرک یا کافر ابوسفیان کے گھر پناہ لے گا اسے معاف کر دیا جائے گا۔
کیا کبھی تاریخ عالم نے خون کے پیاسے دشمنوں سے ایسی بے مثال عالی ظرفی، ایسے ترحم، فراخدلی اور سیر چشمی کا سلوک دیکھا ہے؟ رحمت عام کی یہ نظیر صرف محمد رسول اللہ ہی نے قائم فرمائی بعد کو اہل بیت اور صحابہ کرام نے اپنے رہبر اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس شانِ کریمی کو اپنی سیرت کا جوہر بنا لیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ذرا فاتح خیبر کی سیرت کی درخشندگی دیکھیے۔
سیدنا علی کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو نماز فجر کے لیے بیدار فرمایا کرتے تھے۔ آپ شب جمعہ ۱۷ رمضان المبارک ۴۰ھ کو معمول کے مطابق گھر سے نکلے اور ”نماز! نماز!!“ کہہ کر لوگوں کو جگانے لگے۔ ابن ملجم ایک چھجے کے نیچے چھپا بیٹھا تھا۔ جونہی جناب علی آگے بڑھے اس بدبخت نے لپک کر امیر المومنین کے سر کے اگلے حصے پر تلوار کا وار کر دیا۔ سر مبارک سے خون پھوٹ پڑا اور ریش مبارک خون سے رنگین ہو گئی۔ حضرت علی نے لوگوں کو پکارا اور فرمایا کہ اس شخص کو پکڑو۔ ابن ملجم گرفتار کر لیا گیا۔ حضرت علی نے جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وھب کو امامت کے لیے آگے بڑھایا۔ سب نے انہی کی امامت میں نماز پڑھی۔ جناب علی کرم اللہ وجہہ کو گھر لایا گیا۔ جب ان کے سامنے ابن ملجم کو پیش کیا گیا تو فرمایا: اس شخص کی مشکیں ڈھیلی کرو۔ اس سے حسن سلوک کا معاملہ کرو۔ میں زندہ رہا تو سوچوں گا کہ کیا کروں، معاف کر دوں یا قصاص لوں۔ اگر میں مر جاؤں تو ایک جان کا
معارف کلمہ طیبہ انتخاب الحدیث الباقیات الصالحات مسنون دعاؤں کا مجموعہ تحفۃ الحجاج مؤلف: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
بدلہ ایک ہی جان سے لیا جائے۔ اس شخص کی بے حرمتی نہ کی جائے، اس کے اعضا نہ کاٹے جائیں۔ پھر اپنے بلند مقام صاحبزادوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو دیر تک اللہ کی بندگی، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فکر آخرت کی نصیحت فرماتے رہے۔ آخر میں فرمایا: تم کہو گے کہ امیرالمومنین قتل کر دیئے گئے...... خبردار! سوائے میرے قاتل کے کسی اور کو قتل نہ کرنا۔ دیکھو اگر میں اس کے وار سے مر جاتا ہوں تو اس پر بھی صرف ایک ہی وار کرنا۔ اسے اذیت نہ پہنچانا۔ اس کے اعضائے بدن نہ کاٹنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے ”خبردار! کسی ذی روح کو مار کر اس کا مثلہ نہ کیا جائے چاہے وہ بھونکنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو“۔
(الریاض النضرہ فی مناقب عشرہ)
اس کے بعد جناب علی کرم اللہ وجہہ نے یہ آیت پڑھی: فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره (سورۃ الزلزال) بعد ازاں روح مبارک پرواز کر گئی۔ دنیا میں کون مائی کا لال ہے جو اپنے قاتل کے ساتھ ایسی عالی ظرفی اور مروت و مرحمت کا سلوک کرے؟
یہ تو ہے قیدیوں اور قاتلوں کے بارے میں اسلام اور اس کی تعلیمات کے نادر نمونوں اور نمائندوں کی ایک جھلک...... اب ذرا قیدیوں کے بارے میں جدید دور کے نقیب، علم و ہنر، تہذیب و اخلاق، روشن خیالی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے مبلغ اعظم امریکہ کی تہذیب و انسانیت کا ایک تازہ بتازہ ننھا سا نمونہ دیکھئے:
”سنڈے مرر“ برطانوی اخبار ہے اور ”بنیاد پرستوں“ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جو جتھا بنا ہوا ہے اس کا پرجوش پشتیبان ہے۔ اس نے حال ہی میں ”امریکی عدل“ کی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے:
”امریکی فوجیوں نے افغانستان میں طالبان کے ساتھ جس قسم کا وحشیانہ سلوک کیا ہے ایسی اذیت رسانی اور گھناؤنے پن کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ انسان اس قدر سفاک اور بے رحم بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی فوجیوں نے طالبان قیدیوں کو قتل کرنے سے پہلے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے۔ پھر ان کی زبانیں کاٹ ڈالیں۔ پھر انہیں کھلے میدان میں لایا گیا جہاں ان کے سر اس بے دردی سے مونڈے کہ جابجا خون کی دھاریں پھوٹ پڑیں۔ پھر ان کے زخموں پر تیزاب انڈیلا گیا۔ درد و کرب سے طالبان تڑپنے لگے۔ ان کی فلک شگاف چیخوں سے میدان گونج اٹھا۔ امریکیوں نے اسی حالت میں انہیں ڈنڈوں کی سان پر رکھ لیا اور پے در پے اس قدر ڈنڈے برسائے کہ تمام طالبان قیدی تڑپ تڑپ کر مر گئے“۔
یہ ہے انسانی حقوق کے چیمپیئن اور جمہوریت کے سب سے بڑے لیڈر امریکہ کی عدل گستری! کہ جو طالبان پینٹا گون اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا نام تک نہیں جانتے تھے، ان پر ان عمارتوں کی تباہی کا الزام تھوپ دیا اور انہیں اتنی سفاکی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کہ آج حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ
کی روحیں بھی امریکہ کی درندگی پر اشکبار ہوں سنڈے مرر کے مطابق ایک برطانوی کی ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔ گزشتہ د سامنے آ گیا اور متعدد ارکان بے اختیا مروڑتے اور چہرے جھلساتے نظر آتے ہیں، نہیں رکھتا۔ شمالی اتحاد کے ایک فوجی نے رحم کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا جب وہ تیزاب گناہوں کی چیخوں سے دہل رہی تھی، تو میرا د میری آنکھیں بھیگ گئیں اور میں اپنے ہم وط
آپ کی نگاہوں کے سامنے دونو قیدیوں کے ساتھ اسلام کا حسن سلوک اور دوس ”سنڈے مرر“ کی گواہی!
امریکہ مدت سے اسلام کو تنگ نظر کوشش کر رہا ہے...... مگر فکر و عمل کی یہ دونوں تصو ایک طرف جانی دشمنوں سے اسلا ”انسانیت کے مربی اور تہذیب و ترقی کے امام“
طالبان کا افغانستان منشیات، چوری، ڈ ہو گیا تھا مگر یہ افغانستان امریکہ کے نزدیک بنیا امریکہ کا تسلط ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ اب وہاں عدالتوں کے فیصلے بندوق کی نوک پر ہ شراب کے جام پھر لنڈھائے جا رہے ہیں۔ مزار کل جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی تھی، آ سگریٹ پیئے جا رہے ہیں۔ قندھار، کابل اور مزار فحاشی کے اڈے کھل گئے ہیں اور عورت کی عزت نی جسے اب امریکہ ”امن کا گہوارہ“ تہذیب و ترقی کا م
کی روحیں بھی امریکہ کی درندگی پر اشکبار ہوں گی۔
سنڈے مرر کے مطابق ایک برطانوی ٹیلی ویژن پروڈیوسر جیمی ڈوران نے امریکی مظالم کی ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔ گزشتہ دنوں یہ فلم جرمنی کی پارلیمان میں دکھائی گئی تو پورا ایوان سناٹے میں آ گیا اور متعدد ارکان بے اختیار رو پڑے۔ اس فلم میں امریکی فوجی طالبان کی گردنیں مروڑتے اور چہرے جھلساتے نظر آتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کوئی ظالم ترین آدمی بھی یہ فلم دیکھنے کا یارا نہیں رکھتا۔ شمالی اتحاد کے ایک فوجی نے رندھے ہوئے لہجے میں ٹی وی پروڈیوسر کو بتایا کہ امریکیوں کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا جب وہ تیزاب سے طالبان کے چہرے جھلسا رہے تھے اور فضا ان بے گناہوں کی چیخوں سے دہل رہی تھی، تو میرا دل رو رہا تھا، مگر ہائے میری بے بسی! میرا دل زخمی ہو گیا۔ میری آنکھیں بھیگ گئیں اور میں اپنے ہم وطن طالبان کو بچانے کے لیے کچھ نہ کر سکا!“
آپ کی نگاہوں کے سامنے دونوں تصویریں ہیں۔ ایک طرف خونی دشمنوں اور سفاک قیدیوں کے ساتھ اسلام کا حسن سلوک اور دوسری طرف بے گناہ طالبان سے امریکیوں کی چنگیزی پر ”سنڈے مرر“ کی گواہی!
امریکہ مدت سے اسلام کو تنگ نظری اور دہشت گردی کا دین قرار دے کر چاند پر تھوکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر فکر و عمل کی یہ دونوں تصویریں بڑی واضح ہیں۔
ایک طرف جانی دشمنوں سے اسلام کا حسن سلوک اور دوسری طرف بے گناہ طالبان پر ”انسانیت کے مربی اور تہذیب و ترقی کے امام“ امریکہ کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے مظالم!
طالبان کا افغانستان منشیات، چوری، ڈاکے، فحاشی، بے حیائی، فتنہ گری اور بدامنی سے پاک ہو گیا تھا مگر یہ افغانستان امریکہ کے نزدیک بنیاد پرستی اور دہشت گردی کا گڑھ تھا۔ آج افغانستان پر امریکہ کا تسلط ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ آج کابل میں کسی کی جان مال اور عزت محفوظ نہیں۔ اب وہاں عدالتوں کے فیصلے بندوق کی نوک پر ہو رہے ہیں۔ پوست کی فصل پھر لہلہانے لگی ہے۔ شراب کے جام پھر لنڈھائے جا رہے ہیں۔ مزار شریف کی مسجدوں میں دوستم کے لفنگوں کا راج ہے۔ کل جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی تھی، آج وہاں گیت گائے اور منشیات کے بھرے ہوئے سگریٹ پئے جا رہے ہیں۔ قندھار، کابل اور مزار شریف میں عریاں فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔ جابجا فحاشی کے اڈے کھل گئے ہیں اور عورت کی عزت نیلام کا مال بن گئی ہے۔ ...... یہ ہے آج کا افغانستان جسے اب امریکہ ”امن کا گہوارہ، تہذیب و ترقی کا مرکز اور نئی روشنی کا مینار“ قرار دے رہا ہے۔
Ja Kanwar Ga
طالب علموں کی حکایات
امتحان اخلاص مؤلف محمد عاشق الہی
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت
تحفۃ الحجاج حج، عمرہ، زیارت مدینہ منورہ کے فضائل و مسائل، دعاؤں اور طریقہ حج کا مستند اور جامع مجموعہ
By
احمد شاکر
انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ
دور حاضر کے خوبصورت نعروں میں بظاہر بہت ہی خوبصورت‘ دل لبھانے والا اور بے ضرر سا نعرہ ”انسانی حقوق“ کا ہے جو دراصل دجل آمیز نعرہ ہے جس کا بانی اور موجد امریکہ بہادر ہے۔ جمہوریت کی ہر اصطلاح کی طرح اس نعرے کا استعمال بھی جہاں چاہے اور جیسے چاہے حسب خواہش ہی کرتا ہے۔
مصر میں اسلام کے عملی نفاذ کے خواہش مندوں‘ الجزائر کو قوانین اسلام سے مزین اسلامی مملکت بنانے والے عوام کے منتخب نمائندوں‘ فلسطین پر ناجائز قابضین ”یہود“ سے اپنی زمین واپس لینے والوں اور کشمیر میں حق خود ارادیت طلب کرنے والوں پر جو ظلم اور جبر ہو رہا ہے‘ ان سے جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور ان کی نسل کشی جس منصوبہ بندی سے کی جا رہی ہے اور اسی طرح سرب فوج بوسنیا میں قتل و غارت سے مسلمانوں کو جس طرح اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور چیچنیا میں مسلمانوں کو حق آزادی طلب کرنے کی پاداش میں جس طرح تہ تیغ کیا جا رہا ہے‘ قلم اس کو بیان کرنے اور شاید تاریخ اس کی مثال دکھانے سے قاصر ہے لیکن امریکی انسانی حقوق کی آنکھ کو یہ ظلم نظر نہیں آ رہا۔ اس اندھی آنکھ کو دنیا میں عموماً اور مسلمان ملکوں میں خصوصاً صرف سیاسی تسلط جمانے اور مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے لیے رخنے نظر آتے ہیں۔ جن کے سہارے ہر ملک میں موجود ان کے گماشتے نظر آتے ہیں اور پروپیگنڈہ اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے انسانی حقوق کی چیخیں بلند کرتے رہتے ہیں لیکن خود امریکہ بہادر انسانی حقوق کا احترام کس قدر کرتا ہے‘ اس کا اندازہ ذیل میں درج شدہ مکتوب سے کیجیے جو معاصر عزیز ”ماہنامہ تسخیر“ کے شکریہ کے ساتھ نذر قارئین ہے:
مکتوب درج کرنے سے پہلے مکتوب نگار کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمالیں۔
مکتوب نگار شیخ عمر عبدالرحمٰن حفظہ اللہ ایک نابینا عالم دین ہیں جن کی عمر ۷۵ سال ہے۔ یہ مصر ہی میں پیدا ہوئے‘ وہیں تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی‘ دین کی تبلیغ یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ خصوصاً مسلمانوں کو با عزت مسلمان بنانے کی تڑپ انہیں بے چین کیے ہوئے ہے۔ بصارت سے محرومی کے باوجود وہ دنیا میں نور الٰہی کی شمع سے دنیا کو روشن کرنے اور نور بصیرت عام کرنے کا بے پناہ جذبہ رکھتے ہیں۔
کئی سال قبل شیخ پاکستان زیارت کرنے اور ان کا خطاب سننے کا للکار ایک قابل رشک کردار اور جمہوری مندانہ بلکہ مومنانہ اظہار تھا۔
قرآن کریم کے علاوہ غالباً میں عملاً حصہ لیتے رہے ہیں‘ ذاتی زندگی تاثیر و تسخیر سے مزین کر رکھا ہے جس سے جب ان کے لیے مصر کی ز وہ درس و خطابات میں دین کے لیے ج رہے جسے انسانی حقوق کی لغت ”تشد کیسٹوں کو سیاق و سباق سے جدا کر کے لاکھ ڈالر کے عوض حاصل کیا جسے انسانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گواہ تسلیم کر لیجیے مکتوب ملاحظہ فرمائیں:
”تمام تعریفیں اللہ کے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ قیامت تک نزول رحمت ہو ۔ اور انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ اس
- (1) امریکی حکام مذہی
دعوے کرتے ہیں وہ سب ایک میں اس جیل میں آنے کے بع اجازت دی گئی اور نہ ہی باجماع شیخ کو یہ سزا بظاہر امریکہ میں یہ ہوتا ہے کہ وہ مصر میں دین کے نفاذ کے
- (2) جیل میں مجھ سے
دوسرے قیدی محافظوں کو بلانے میں گھنٹوں اپنی کوٹھڑی کا درواز اور میری ضروریات پر بھی دھیان
کئی سال قبل شیخ پاکستان میں ایک مطالعاتی دورے پر آئے تھے تو فلیٹی ہوٹل میں ان کی زیارت کرنے اور ان کا خطاب سننے کا موقع ملا تھا۔ بیناؤں کے مجمع میں ایک نابینا شخص کی طاغوت کو للکار ایک قابل رشک کردار اور جمہوریت کے کفر ہونے کا فتویٰ ان کے مافی الضمیر کا ایک جرأت مندانہ بلکہ مومنانہ اظہار تھا۔
قرآن کریم کے علاوہ غالباً صحیح بخاری مکمل انہیں حفظ ہے۔ شیخ کے متعدد بیٹے جہاد افغانستان میں عملاً حصہ لیتے رہے ہیں ذاتی زندگی میں ان کے حسن کردار اور عمل صالح نے ان کی زبان کو بلا کی تاثیر و تسخیر سے مزین کر رکھا ہے جس سے امریکہ بہادر خائف اور اس کے زلہ ربا لرزاں و ترساں ہیں۔ جب ان کے لیے مصر کی زمین تنگ کر دی گئی تو وہ ابلاغ حق کے لیے امریکہ آگئے جہاں وہ درس و خطابات میں دین کے لیے جدوجہد اور جہاد فی سبیل اللہ کو مقصد حیات بنانے کا درس دیتے رہے جسے انسانی حقوق کی لغت ”تشدد پر اکسانے“ کے معنی دینے پر مصر ہے۔ شیخ کے دروس کی کیسٹوں کو سیاق و سباق سے جدا کرنے کا ”اعزاز“ امریکہ بہادر کے گماشتے ایک مصری نے صرف دس لاکھ ڈالر کے عوض حاصل کیا جسے انسانی حقوق کی علمبردار حکومت کی عدالت نے انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گواہ تسلیم کر لیا اور ملزم کو صفائی کے موقع سے محروم رکھا گیا۔
لیجیے مکتوب ملاحظہ فرمائیں:
”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ سرور انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی آل ان کے وفادار ساتھیوں پر روز قیامت تک نزول رحمت ہو...... اس جیل کے حالات جہاں مقید ہوں، بدترین اور انتہائی ناگفتہ بہ ہیں۔ اس کا اندازہ آپ امور مندرجہ ذیل سے کر سکتے ہیں:
- (۱) امریکی حکام مذہبی آزادی اور عبادت کرنے کی آزادی کے جو
دعوے کرتے ہیں وہ سب ایک فریب اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۵ء میں اس جیل میں آنے کے بعد سے لے کر آج تک نہ تو مجھے نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی باجماعت نماز ادا کرنے کی۔
شیخ کو یہ سزا بظاہر امریکہ میں بم دھماکہ کی منصوبہ بندی کی دی گئی ہے لیکن اصل جرم معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ مصر میں دین کے نفاذ کے لیے کوشاں تھے۔
- (۲) جیل میں مجھ سے انتہائی متعصبانہ اور ناروا امتیاز برتا جاتا ہے۔ جب
دوسرے قیدی محافظوں کو بلاتے ہیں تو محافظ فوراً ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ میں گھنٹوں اپنی کوٹھڑی کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہوں لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملتا اور میری ضروریات پر بھی دھیان نہیں دیا جاتا۔
- (۳) بال اور ناخن ترشوائے بغیر مہینوں گزر جاتے ہیں اور اپنا زیر جامہ
تک مجھے اپنے ہاتھوں سے دھونا پڑتا ہے۔
- (۴) مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ (یاد رہے کہ شیخ عمر عبدالرحمن نابینا
ہیں۔ ذیابیطس کے مریض ہیں اور بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں) اس حالت میں کوئی بھی میرا ساتھی نہیں اور نہ مددگار جو اور کچھ نہیں تو کم از کم میرا سامان وغیرہ درست کرنے میں میری مدد کرے۔ دن اور رات کے کسی بھی لمحے میں میرے ساتھ گفتگو کرنے والا کوئی نہیں ہے، کسی دوسرے قیدی کے ساتھ علیک سلیک کرنے کی اجازت نہیں، میری کوٹھڑی کے نزدیک کسی دوسرے مسلم، غیر مسلم یا کسی ایسے شخص کی کوٹھڑی بھی نہیں ہے جو عربی بول سکتا ہو۔ کیا یہ وہی انسانی حقوق ہیں جن کے شور سے ہوائی لہریں اور ذرائع ابلاغ بھرے پڑے ہیں؟ انسانی حقوق کی دہائی دینے والے ہمیں صرف اس لیے مشقِ ستم بناتے ہیں کہ ہماری آواز کمزور ہے اور ہم بات کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
- (۵) کیا آپ نے برہنہ تلاشی اور پوشیدہ اعضاء کی پردہ دری کے بارے
میں کبھی سنا ہے؟ لوگ آئیں اور اوپر سے نیچے تک کپڑے اُتار کر انسان کو اس حالتِ زار میں لے آئیں جس میں وہ پیدا ہوا تھا؟ خدا کی قسم! جب بھی کوئی دوست یا عزیز (حالانکہ امریکہ میں میرا کوئی رشتے دار نہیں۔ تمام عالم اسلام میرا خاندان ہے) مجھ سے ملنے آتا ہے تو میرے ساتھ یہ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک ملاقات کے بدلے میں مجھے دو مرتبہ برہنہ کیا جاتا ہے، جیل کے حکام مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنے کپڑے اُتاروں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اتنی بات پر مطمئن ہو جائیں گے لیکن جیل کا چیف گارڈ ”کریگ ڈنے“ نامی ایک اور شخص اور جیل کے دوسرے بہت سے محافظ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں رانیں کھول کر آگے کی طرف جھک جاؤں اور پھر وہ جانوروں کی طرح ...... شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے مزید کچھ کہنا مجھے زیب نہیں دیتا۔ وہ میرے پوشیدہ اعضاء کی اچھی طرح تلاشی لیتے ہیں، میرے اردگرد کھڑے ہو کر قہقہے لگاتے ہیں۔ جب میں مادر زاد برہنہ حالت میں جھکا ہوتا ہوں تو محافظ میرے اردگرد گھومتے ہوئے میرے پوشیدہ اعضاء کے اندر جھانکتے ہیں اور جو شخص میرا اس طرح معائنہ کرتے ہوئے زیادہ وقت لیتا ہے اُسے داد و تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنا فرض نہایت تندہی سے سرانجام دیا ہے۔ وہ میرے ساتھ ایسا انسانیت سوز اور ذلت آمیز سلوک اس لیے کرتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں اور
اس طرح کے سلوک کو میرے وہ ایسا کیوں نہیں کریں نے اپنی منزل مراد پالی ہے۔ میرے دن خاموش ہیں تنہائی اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ اس ہیں تا کہ وہ مجھ سے مسلمان ہو وہ ہر ملاقات کے بعد مشکل گھڑی میں شرمندگی اور چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ میرا وجود نکل لے۔ کیا یہ یہ دین اور اس کی عظمت کے علم اے اُخوت کے علمبر خدا کی تعمیل کرنے والے نو والو! اے اللہ کے بندو! اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ ان گوشے گوشے میں سنائی دے کرد اور برائی کا قلع قمع کرنا اپنی لپیٹ میں لے لے اس کیا جیلیں علماء کے مسلمان اُمت کو چاروں طر اہل کفر پر یہ ثابت کر دو کہ مس اس قوم کو خواب غفل کرتی ہے، جس کا احساس مر ردِ عمل ظاہر نہیں کرتی۔ اگر ٹھونس دیا گیا تو یہ قوم وقت خدا رکھنے والے بہادر ختم ہو کی دہشت سے برائی کا و نقصانات کے خوف سے وا
اس طرح کے سلوک کو میرے خدا نے منع کیا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟ انہیں تو ان کا شکار ہاتھ لگ گیا ہے انہوں نے اپنی منزل مراد پالی ہے۔
میرے دن خاموش ہیں میری راتیں خاموش ہیں یہ کس قدر اذیت ناک تنہائی اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ ایسا کر کے وہ مجھے ذہنی، جسمانی مریض بنا دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ مجھ سے مسلمان ہونے کا بدلہ لے سکیں.....؟
وہ ہر ملاقات کے بعد دو مرتبہ مجھ سے یہ ناروا سلوک کرتے ہیں، اس مشکل گھڑی میں شرمندگی اور ندامت سے میرا وجود پانی پانی ہو جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ لوگ میری تذلیل کریں زمین پھٹ جائے اور میرا وجود نگل لے۔ کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے خوش کن ہو سکتی ہے جو اپنے دین اور اس کی عظمت کے محافظ ہیں؟
اے اخوت کے علمبردار بہادر لوگو! اے اپنے دین کی حفاظت اور احکام خدا کی تعمیل کرنے والے لوگو! اے دین کی عظمت و وقار کے لیے قربانی دینے والو! اے اللہ کے بندو! اب تو گہری نیند سے بیدار ہو جاؤ! اپنی گرجتی ہوئی آواز کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ! اے اللہ کے بندو! باہر نکلو تا کہ تمہاری آواز حق دنیا کے گوشے گوشے میں سنائی دے۔ اے بندگان خدا! ایک ہو کر سچائی کی آواز بلند کرو اور برائی کا قلع قمع کر ڈالو اس سے پہلے کہ کافرانہ جارحیت کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے اس آگ کو بجھا ڈالو۔
کیا جیلیں علماء کے لیے ہوتی ہیں یا مجرموں کے لیے؟؟ اہل کفر نے مسلمان امت کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرو اور اہل کفر پر یہ ثابت کر دو کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتے۔
اس قوم کو خواب غفلت سے کون بیدار کرے گا جو ہواؤں میں قلعے تعمیر کرتی ہے جس کا احساس مردہ ہو گیا ہو جو استعماری سازشوں کے خلاف کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ اگر اس قوم کے علماء کو بھیڑ بکریوں کی طرح جیلوں میں ٹھونس دیا گیا تو یہ قوم وقت کے غبار میں گم ہو جائے گی۔ کیا اس قوم میں خوف خدا رکھنے والے بہادر ختم ہو گئے ہیں؟ کیا اس کے پاس وہ مضبوط آواز نہیں جس کی دہشت سے برائی کا وجود ریزہ ریزہ ہو جائے؟ اے بندگان خدا! مادی نقصانات کے خوف سے دامن چھڑا کر جسد واحد بن جاؤ۔’’
محمد عطاء اللہ صدیقی
امریکہ اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی
انسانی حقوق کی جس قدر تکرار گزشتہ چند برسوں میں سننے میں آئی ہے‘ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انسانی حقوق کا آفاقی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو پاس کیا تھا‘ اس کا اس قدر مبالغہ آمیز پراپیگنڈہ کیا گیا کہ گویا انسانیت واقعی مساوات‘ انصاف اور آزادی اظہار کے اصولوں کے سامنے سر بسجود ہو گئی ہے۔ اس اعلامیے کو کبھی ورلڈ میگنا کارٹا کا نام دیا گیا‘ کبھی اسے انسانی تمناؤں کی تاریخ کی عظیم ترین دستاویز کہا گیا اور کبھی اسے بیسویں صدی کی اہم ترین دستاویزات میں سے ایک کا نام دے کر اس سے زبانی عقیدت کا اظہار کیا گیا۔ کسی نے اسے ”انسانیت کے حقوق پر پہلا بین الاقوامی سمجھوتہ“ کہہ کر اس کی اہمیت جتلائی۔ خود اس ڈیکلریشن کی تمہید میں اسے تمام لوگوں اور اقوام کی مطلوبہ کارکردگی کے لیے ”مشترکہ معیار“ قرار دیا گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے اسے ”انسانی حقوق کی تاجپوشی“ کا لقب عطا کیا تھا...... آفاقی اعلامیے کی تمہید کا آغاز ان سنہری حروف سے ہوتا ہے:
”ہر گاہ انسانی فیملی کے تمام ارکان کے پیدائشی وقار اور ان کے مساوی اور نا قابل انفکاک حقوق کو تسلیم کرنا ہی درحقیقت آزادی‘ انصاف اور امن عالم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔“
UDHR کے پہلے آرٹیکل کے الفاظ یہ ہیں:
(All human beings are born free and equal in dignity and rights"
”تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں‘ ان کا وقار اور حقوق مساوی ہیں۔“
آفاقی اعلامیہ بعض اعتبارات سے خاصا مبہم اور عمومی تاثر کا حامل تھا اس لیے اس کی بعض شقات کی تصریحات اور اس کے نفاذ کے لیے معاون اخلاقی اور قانونی دستاویزات‘ معاہدات یا کنونشن کی تیاری کی ضرورت جلد ہی محسوس کی گئی۔ ۱۹۹۵ء تک اس طرح کی ۶۵ دستاویزات سامنے آ چکی تھیں۔ ان میں سے دو دستاویزات:
- ☆...... بین الاقوامی میثاق برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق
- ☆...... بین الاقوامی میثاق برائے شہری اور سیاسی حقوق
خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ان دونوں (Covenants) میں آفاقی اعلامیہ کی ۳۰ شقات کی تمام تفصیلات کو سمونے کے ساتھ ساتھ رکن ریاستوں کو ان کی پاسداری کا پابند بھی بنایا گیا ہے اور کچھ اضافی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں۔ شہری اور سیاسی حقوق کے میثاق کی تمہید میں منجملہ دیگر باتوں کے زور دیا گیا ہے کہ رکن ممالک ایسی فضا پیدا کریں گے کہ جس میں شہری اور سیاسی آزادیوں کے نصب العین کا حصول آسان ہو۔ اسی تمہید میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے حصے کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں رکن ممالک پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق اور آزادیوں پر عمل درآمد اور ان کے عالمی احترام کو فروغ دیں۔ مذکورہ میثاق ۶ حصوں میں تقسیم اور کل ۵۳ آرٹیکلز پر مشتمل ایک ضخیم دستاویز ہے۔ اس کی چند شقات کے اقتباسات ہماری آنے والی بحث کے حوالے سے مفید رہیں گے:
آرٹیکل ۱: تمام لوگوں کو حق خودارادیت حاصل ہے۔ اس حق کی بناء پر وہ اپنے سیاسی مرتبے کا تعین آزادانہ طور پر کرتے ہیں اور اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے آزادانہ فیصلہ کے مجاز ہیں۔
آرٹیکل ۲: رکن ریاستیں حق خودارادیت کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد کو فروغ دیں گی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اس حق کا احترام کریں گی۔
آرٹیکل ۶: اور ہر انسان کو زندگی کا پیدائشی حق حاصل ہے۔ اس حق کی قانون کے مطابق حفاظت کی جائے گی کسی کو یک طرفہ طور پر زندگی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
۱۹۶۸ء میں UDHR کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تہران میں انسانی حقوق پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے آخر میں ”اعلانِ تہران“ میں ایک دفعہ پھر اعادہ کیا گیا:
”امن بنی نوع انسان کی آفاقی خواہش ہے اور بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کی مکمل عمل پذیری کے لیے امن اور انصاف ناگزیر ہیں۔“
نومبر ۱۹۸۹ء میں اقوامِ متحدہ کی اسمبلی نے ”لوگوں کے حقوق برائے امن کا اعلامیہ“ منظور کیا جس کی تمہید میں کہا گیا:
- (۱) جنرل اسمبلی ایک دفعہ پھر تصدیق کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد بین الاقوامی
امن اور سیکورٹی کو قائم کرنا ہے۔
- (۲) جنرل اسمبلی بنی نوع انسان کی تمنا اور خواہش کا اظہار کرتی ہے کہ انسانیت کی زندگی
سے جنگ کا خاتمہ کیا جانا اور پُر امن زندگی کا قیام ہر ریاست کا مقدس فریضہ ہے۔
اس کے آرٹیکل ۱‘ ۲‘ ۳ کے الفاظ یہ ہیں:
- (1) ”جنرل اسمبلی نہایت سنجیدگی سے اعلان کرتی ہے کہ ہمارے سیارے کے انسان امن
کا مقدس حق رکھتے ہیں۔
- (2) لوگوں کے حق برائے امن کا تحفظ اور اس کا نفاذ ہر ریاست کے بنیادی فریضے میں
شامل ہے۔
- (3) حق برائے امن کو عملی جامہ پہنانے کا امر اس بات کا متقاضی ہے کہ ریاستیں جنگ
کے خطرے کے انسداد کے لیے پالیسیاں وضع کریں۔ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مذمت کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں بین الاقوامی تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔“
لم تقولون مالا تفعلون؟
مندرجہ بالا اعلامیے، میثاق اور اعلانات ایک زبانی جمع خرچ اور لفظی بازی گری سے زیادہ نہیں ہیں۔ ویت نام کی جنگ، کوریا کی جنگ، افغانستان پر روسی فوج کشی، عراق پر دوبار اتحادی اور امریکی افواج کی ننگی جارحیت، بوسنیا، کوسوو اور کشمیر میں مسلمانوں کے خون کی ارزانی، روانڈا کی نسل کشی اور صومالیہ جیسے ممالک میں خانہ جنگی وغیرہ کے واقعات ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسان نہ تو ”آزاد“ ہیں اور نہ ہی ”مساوی“ ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی استعماری چیرہ دستیوں اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے امتیازی برتاؤ کو سامنے رکھا جائے تو یہ انسانی حقوق کا وعظ و نصیحت محض دھوکہ، فریب اور پرلے درجے کی منافقت ہے۔ ”انسانی حقوق“ سے فی الواقع مراد گورے اور یہودی انسان کے حقوق ہیں۔ امریکہ اور اہلِ مغرب مسلمانوں کو ”انسان“ سمجھنے میں تامل کا شکار ہیں۔
انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار بزعم خویش امریکہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جس قدر انسانی حقوق کی پامالی یہ جدید استعمار، جمہوریت، آزادی اور مساوات کے پردے میں کر رہا ہے، کسی اور ریاست کا مقابلہ اس سے نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور نے انسانی حقوق کے ورد وتذکرہ کا شغل اختیار کیا ہوا ہے۔ اس کی ابتدا صدر جمی کارٹر نے کی تھی جس کے بعد سے اب تک انسانی حقوق امریکی خارجہ پالیسی کا مسلسل حصہ بنے رہے ہیں، کسی بھی ملک کے سربراہ سے ان کی ملاقات انسانی حقوق کی صورتحال کو زیر بحث لائے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جب سے چین نے تیانامن سکوائر میں مشتعل ہجوم کو سختی سے کچلا تھا، امریکہ کے ہاتھ میں چین کو تنقید کا نشانہ بنانے کا آسان بہانہ ہاتھ آ گیا ہے، ورنہ اس واقعہ کے بعد ۱۹۹۱ء کی خلیجی جنگ میں اور اب دسمبر ۱۹۹۸ء میں عراق کے خلاف بلاجواز جارحانہ کارروائیاں جو امریکہ نے کی ہیں، ان کا چین کے ”جرم“ سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ امریکہ انسانی حقوق کو نفسیاتی سرد جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، وہ اپنے مخالفوں کو نفسیاتی دباؤ میں رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی پامالی کی مبالغہ آمیز رپورٹ پیش کرتا ہے۔
۱۹۹۷ء میں چین کے صدر ژیانگ بل کلنٹن نے استقبالیہ تقریر میں چین میں انسا تواتر سے تذکرہ کیا کہ چینی صدر کو اخلاق و امریکی صدر کو کھڑے ہو کر ٹوکنا پڑا۔ انہوں صدر! آپ چین کے اندرونی معاملات میں آپ اپنے ملک پر انسانی حقوق کی اقوام متحر وزیر خارجہ نے ”نیوز ویک“ کے نمائندے کو متحدہ کے ۱۷ کنونشن پر دستخط کیے ہیں جب کہ امریکی صدور کی منصب صدارت the Union" تقریر کا نام دیتے ہیں بسا ا امریکہ کی امنِ عالم کے قیام کے لیے ذمہ د گزرتا ہے گویا کوئی امن کا فرشتہ آسمان سے مشکلات کا مداوا کر دے گا۔ مگر یہی صدور اب قتل کا حکم صادر کرتے ہوئے ان کے ضمیر کٹتے ۱۰ دسمبر ۱۹۹۸ء کو انسانی حقوق کی نے حسب معمول امریکی صدور کی شاندار ر سے اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے انسا پُرجوش خطاب میں ایک دفعہ پھر یاد دلایا، ج آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں ۔“ انہوں نے ہیں جن کی بنیاد پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا چ یہی بل کلنٹن صاحب صرف تین نے عراق پر حملے کی ذہنی تیاری کر لی تھی اور ویژن پر اپنے خطاب میں عراق پر وحشیانہ حم ”دنیا کو امریکی طاقت باور ک سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا کو امریکی قوت کا علم نہیں تھا اس کے لیے اپنی قوت کی دھاک بٹھانے کو ضروری سمجھا ت تسکین نہیں ہو پائی تھی جس میں لاکھوں بے مقدس اصول جلد ہی فراموش کر گئے جن کی
2
erhaps the fact that he came to Bahawalpur as a supporter Muhammad ﷺ would become the very means for his redempti pon hearing these words of Hazrat, an immense agony over ithin the mosque and each began to weep loudly and uncontro
The writer of these words too, can think of no deed w e presented in the court of Allah ﷻ. Hence this booklet is ith the hope that he be included amongst the servants of the H rophet ﷺ and that he be blessed with the Prophet's i
3
or the Last Prophet of All Times (Allah Bless him and Grant him peace)
۱۹۹۷ء میں چین کے صدر ڈینگ زیمن جب امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے تو صدر بل کلنٹن نے استقبالیہ تقریر میں چین میں انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات پر اپنی تشویش کا اس قدر تواتر سے تذکرہ کیا کہ چینی صدر کو اخلاق و مروت کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مجبوراً امریکی صدر کو کھڑے ہو کر ٹوکنا پڑا۔ انہوں نے بل کلنٹن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ: جناب صدر! آپ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں، مناسب ہوگا آپ اپنے ملک پر انسانی حقوق کی اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ پر توجہ دیں۔“ گزشتہ برس چینی وزیر خارجہ نے ”نیوز ویک“ کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کو طعنہ دیا کہ چین نے اقوام متحدہ کے ۱۷ کنونشن پر دستخط کیے ہیں جب کہ امریکہ نے ایسے صرف ۵ کنونشن پر دستخط کیے ہیں۔
امریکی صدر کی منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد پہلی تقریر جسے وہ "State of the Union" تقریر کا نام دیتے ہیں، سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ امن، انصاف، آزادی، مساوات اور امریکہ کی امن عالم کے قیام کے لیے ذمہ داریوں کا والہانہ اور پُر جوش تذکرہ سن کر ایک دفعہ تو گمان گزرتا ہے گویا کوئی امن کا فرشتہ آسمان سے نازل ہو گیا ہے جو اپنی مسیحائی سے اولاد آدم کی تمام مشکلات کا مداوا کر دے گا۔ مگر یہی صدر اس قدر شقی القلب واقع ہوئے ہیں کہ لاکھوں انسانوں کے قتل کا حکم صادر کرتے ہوئے ان کے ضمیر معمولی سی خلش کا شکار نہیں ہوتے۔
۱۰ دسمبر ۱۹۹۸ء کو انسانی حقوق کے آفاقی اعلامیہ کا پچاس سالہ جشن منایا گیا۔ صدر کلنٹن نے حسب معمول امریکی صدر کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اعلامیہ کے مقدس اصولوں سے اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے اسے انسانی تاریخ کی عظیم دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے اپنے پُر جوش خطاب میں ایک دفعہ پھر یاد دلایا: ”دستاویز کی زبان صاف طور پر بتا رہی ہے کہ تمام انسان آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا کہ ”اس کے اصول ہمارے لیے وہ معیار مقرر کرتے ہیں جن کی بنیاد پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا ہے۔“
یہی بل کلنٹن صاحب صرف تین دن بعد جب بیت المقدس (یروشلم) میں تھے تو انہوں نے عراق پر حملے کی حتمی تیاری کر لی تھی اور پھر ۱۶ دسمبر کو قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں عراق پر وحشیانہ حملے کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا: ”دنیا کو امریکی طاقت باور کرانے کے لیے بمباری ضروری تھی۔“
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کو جو یک قطبی سپر پاور کا مرتبہ ملا تھا، گویا ابھی تک دنیا کو امریکی قوت کا علم نہیں تھا اس کے لیے ایک مسلمان ملک کے عوام پر وحشیانہ بمباری کے ذریعے اپنی قوت کی دھاک بٹھانے کو ضروری سمجھا گیا۔ خلیج کی جنگ میں بھی امریکی قوم کے ذوق بربریت کی تسکین نہیں ہو پائی تھی جس میں لاکھوں بے گناہ عراقی مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ امریکی صدر وہ مقدس اصول جلد ہی فراموش کر گئے جن کی تبلیغ وہ پورے عالم کو ۱۰ دسمبر کو کر رہے تھے۔ انہوں نے
امن، اخوت، انصاف، آزادی کا تو محض نقاب چڑھایا ہوا ہے۔ اصل میں ان کا چنگیزی چہرہ وہی ہے جو ہمیں عراق کے خلاف حالیہ جارحیت میں ایک دفعہ پھر دیکھنے کو ملا۔ ہم ہی ہیں جو ابھی تک ان کی اصلیت کے بارے میں دھوکے کا شکار ہیں ورنہ حکیم الامت علامہ اقبالؒ تو بہت پہلے ان کے چہرے سے نقاب الٹ چکے تھے
چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر
اُمتِ مسلمہ کے رہنماؤں کی بصارت صرف ان کا روشن چہرہ دیکھ سکی ہے، وہ اس بصیرت سے محروم ہیں جو اس روشنی کے پسِ پردہ ظلمتوں کے جوار بھاٹے کا مشاہدہ کر سکے، طوالت کا خوف دامن گیر ہے لیکن پھر بھی جی چاہتا ہے کہ استعماری منافقت کا پول ذرا کچھ اور کھولا جائے۔ امریکی صدر کی دانشور زوجہ محترمہ ہیلری کلنٹن نے ۱۰ دسمبر ۱۹۹۷ء کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے جو خطاب کیا، وہ فصاحت و بلاغت اور حسنِ بیان کا شاہکار ہے اور انہوں نے نہایت سوزمندی سے نازی جرمنی کے مظالم سے لے کر پوری دنیا میں انسانی حقوق کی مالیوں کے دردناک مناظر کی بے حد جذباتی تصویر کھینچی۔ انہوں نے اسلام کا نام تو نہیں لیا البتہ ض مذاہب میں عورت کی نصف شہادت اور طلاق کا حق میسر نہ ہونے‘‘ پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا لیکن وائے افسوس! کہ ان کی دل فگار مفصل تقریر میں ایک جملہ بھی عراق، بوسنیا، فلسطین اور کشمیر کے بے گناہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے متعلق نہیں تھا۔ انہوں نے امریکی آئین کے بانیوں (Founding Fathers) کے انسانی وقار کی پاسداری کے متعلق نظریات بیان کرتے ہوئے کہا:
’’ان کے انسانی وقار کی پاسداری کے متعلق نظریات اپنے وقت سے بہت آگے تھے جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ تمام انسان برابر تخلیق کیے گئے ہیں۔‘‘
ہیلری کلنٹن نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
’’نصف صدی گزر جانے کے باوجود ہم نے انسانی وقار کے دائرے کو زیادہ وسیع نہیں کیا ہے۔ ابھی تک ہمارے بہت سے خواتین و حضرات ہیں جو اعلامیہ میں بیان کردہ بنیادی حقوق سے محروم ہیں، بہت سے ایسے ہیں جن کے متعلق ہم قساوتِ قلبی کا شکار ہیں، بہت سے ایسے ہیں جن کے مصائب کو ہم دیکھنے، سننے اور محسوس کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘
محترمہ نے جس قساوتِ قلبی کا اظہار کیا ہے، اس سے مراد امریکہ نہیں بلکہ دوسرے ممالک ہیں۔ جو بات انہوں نے دوسروں کے متعلق کہی وہ اصل میں امریکہ اور امریکیوں پر صادق آتی ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان کی اس تقریر دل پذیر کے بعد جب ان کے شوہر موصوف کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عراق پر بمباری کی گئی تو ان کی طرف سے ایک بھی حرف مذمت ادا نہیں ہوا۔
انسانی حقوق کے اعلامیہ کی سلور جوبلی کے ضمن میں ۱۴ ستمبر ۱۹۹۸ء کو امریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ نے قرار داد منظور کی جس میں ایک دفعہ پھر آفاقی اعلامیہ اور اس کی روشنی میں کیے جانے والے معاہدات کے ”عملی نفاذ اور احترام کے لیے ایک دفعہ پھر تمام مساعی بروئے کار لانے کے عزم صمیم“ کا اظہار کیا گیا۔ اس قرار داد میں تمام امریکی قوم پر زور دیا گیا کہ ”وہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کو برداشت (Tolerance) افہام و تفہیم اور انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے کے لیے بطور ایک مؤثر ہتھیار کے استعمال کرے۔“
اس قرار داد کے ٹھیک تین ماہ بعد پوری دنیا نے امریکی قوم کی ”برداشت“، ”افہام و تفہیم“ اور ”انسانی حقوق کے احترام“ کا مظاہرہ عراق میں دیکھ لیا۔
جیرالڈین فرارو (Geraldine Ferraro) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں ۱۹۹۴ء اور ۱۹۹۶ء کے دوران امریکی نمائندہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں۔ یہ وہی محترمہ ہیں جنہوں نے ۱۹۸۸ء میں جارج بش کے خلاف نائب صدارت کا الیکشن لڑا تھا۔ ان کے خطاب کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے جو پوری امریکی قوم کی منافقت کا عکس لیے ہوئے ہے...... فرماتی ہیں:
”انسانی حقوق کے کمیشن میں بیٹھ کر ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم بنی آدم کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا کھل کر اظہار کریں۔ ہماری بات کو سنا جانا چاہیے ہماری صدا مظلوموں کی صدا ہے۔ اس بچے کی آواز جس کے پاس کھانے کو غذا نہیں ہے اس کم عمر نوجوان کی آواز جس کے کندھے پر زبردستی فوجی بندوق رکھ دی گئی ہے اس ماں کی آواز جو رو رہی ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو کچھ کھلا نہیں سکتی اس باپ کی آواز جو پابند زنجیر ہے کیونکہ اس نے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی جسارت کی تھی۔“
مظلوم بچوں ماؤں باپوں اور انسانوں کی ”آواز“ بن کر جذباتی تقریر کرنے والی جیرالڈین اور اس کے انسانی حقوق کمیشن کے دیگر انسانیت نواز ارکان کو عراق کے وہ لاکھوں بھوکے بچے دکھائی نہیں دیے جو ظالمانہ پابندیوں کا شکار ہو کر موت کے اندھے غار میں اتر گئے۔
قارئین کرام! عراقی مسلمانوں کو جس تباہی سے گزرنا پڑا اس کا اندازہ بہت کم لوگوں کو ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق خلیجی جنگ کے دوران اور اس کے بعد پانچ سال کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے جو بچے ہلاک ہوئے ان کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زائد تھی۔
امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل ریمزے کلارک ان چند امریکی شہریوں میں شامل ہیں جن کے ضمیر کی آواز نے اس انسانیت سوز ظلم کے خلاف انہیں آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ۱۶ اگست
۱۹۹۵ء کو لاس اینجلز میں انہوں نے بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے خلیجی جنگ کے متعلق جو لرزہ خیز حقائق بیان کیے اسے سن کر لوگ تڑپ اُٹھے۔ ان کی تقریر کو بہت سے اخبارات اور رسائل نے شائع کیا...... اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”بمباری کا مقصد انسانی آبادی کی لازمی بنیادی ضروریات کو تباہ کرنا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق چوبیس دنوں کی جنگ کے دوران ایک لاکھ دس ہزار ہوائی حملے کیے گئے جن سے پانی کے بڑے بڑے ذخائر (ڈیم)‘ پانی صاف کرنے کے کارخانے‘ زمین سے پمپ کے ذریعے پانی نکالنے کے سٹیشن اور نہروں کو کنٹرول کرنے کا نظام تاراج ہو گئے۔ پہلے ہی چار دنوں کے اندر اندر پانی کی سپلائی کا کوئی ایک مرکز بھی سالم نہ بچا‘ ماسوائے چند کنوؤں کے جہاں لوگ ہاتھ سے پانی نکالتے تھے۔ جنگ شروع ہونے کے صرف تیس منٹ کے اندر اندر بجلی کا ۹۰ فیصد نظام ناکارہ کر دیا گیا جس سے خوراک پیدا کرنے کے ذرائع تباہ و برباد ہو گئے۔ دو ماہ کے اندر ۹۰ فیصد پولٹری‘ چار ماہ کے اندر ۶۰ فیصد دودھ اور گوشت مہیا کرنے والے جانور ہلاک کر دیئے گئے۔ اناج پیدا کرنے یا اناج درآمد کرنے کی اہلیت نہ رہی‘ اناج کا کوئی ذخیرہ باقی نہ بچا۔ عراق اپنی خوراک کا ۴۰ فیصد درآمد کیا کرتا تھا اور ۶۰ فیصد خود پیدا کرتا تھا۔ شدید بمباری کے نتیجے میں آئندہ چار سال میں خوراک کی پیداوار دو تہائی کم ہو گئی۔ صرف ۴۲ دنوں کے دوران ۸۸ ہزار ٹن گولہ بارود برسایا گیا جو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے ساڑھے سات گنا زیادہ تباہی لایا۔ اس بمباری کی وجہ سے عراق اپنی آبادی کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے سے قاصر رہا۔ اس خلیجی جنگ کے دوران اور مابعد جنگ پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔“ (ترجمہ: چوہدری مظفر حسین)
اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے ایف اے او کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۹۵ء تک عراق پر عائد پابندیوں نے پانچ لاکھ عراقی بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ڈینس ہالیڈے (Denis Holliday) جو بغداد میں تیل کے بعد خوراک کی سکیم کا کوآرڈینیٹر تھا‘ اس کی رپورٹ کے مطابق روزانہ پانچ سے چھ ہزار عراقی بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ اس نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر اخلاقی دیوالیہ پن کا الزام لگاتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ایک اور صاحب کولن رواٹ (Colin Rowat) جن کا تعلق کیمبرج سے ہے‘ انہوں نے اسی غیر اخلاقی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
”جب صدام حسین ہماری طرف تھا تو ہم نے اس بات کی پروا نہ کی کہ وہ
گرد ہیں۔ اب جب کہ وہ ہمارا دشمن ہے ہمیں اس بات کی قطعاً پروا نہیں ہے کہ پابندیوں کا شکار بے گناہ بچے ہیں۔“
اوپر کی سطور میں جن افراد کا حوالہ دیا گیا ہے وہ محض اکا دکا افراد ہیں کہ جن کے ضمیر ابھی زندہ ہیں اور جو قومی مفادات سے بالا تر ہو کر انسانیت کے تناظر میں سوچنے کی اہلیت رکھتے ہیں ورنہ جہاں تک امریکی قوم کے اجتماعی ضمیر کی بات ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے سروے کے مطابق ۸۰ فیصد امریکی عراق پر بمباری کے حق میں ہیں۔
قارئین کرام ! یہ ہے کردار اس قوم کا جو عالمی قیادت کے منصب پر اپنے آپ کو فائز سمجھتی ہے اور جس کی حکومت دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی معمولی سی پامالی پر بھی اپنی طرف سے مداخلت کو جائز سمجھتی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کردار کس قدر ”حیوانی“ کارناموں پر مشتمل ہے اس کی چند جھلکیاں مندرجہ بالا سطور میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ ورنہ اس کی تفصیلات کے لیے تو ضخیم دفاتر درکار ہیں۔ اگر انسانی حقوق کا معمولی سا احترام بھی امریکی صدر اور امریکی عوام میں ہوتا تو وہ کویت کی آزادی یا صدام حسین کو سبق سکھانے کے پردے میں لاکھوں عراقی مسلمانوں کے خون سے ہولی کبھی نہ کھیلتے۔ ان کے پاس اس قدر جدید ٹیکنالوجی ہے کہ فوجی ٹھکانوں کو ہی نشانہ بناتے لیکن انہوں نے بے دریغ انسانی آبادیوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ ان کا مقصد عراقی عوام کو مکمل طور پر اپاہج کرنا تھا تا کہ ان کو ہمیشہ کے لیے نمونہ عبرت بنا دیا جائے کہ امریکی مخالفت کا انجام کیا ہوتا ہے!!
امریکی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ ان کے سابق صدر فرینکلن روز ویلٹ کے ذہن کی تخلیق (Brain Child) تھا اور انسانی حقوق کا آفاقی اعلامیہ اس کی بیوی الینر روز ویلٹ (Eleaner) کی کاوشوں سے منظور ہوا لیکن امریکہ کا انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ سے متعلق اپنا ریکارڈ کیا ہے؟ اس کا تذکرہ ”اکانومسٹ“ کی رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے:
”یکے بعد دیگرے آنے والے امریکن صدور نے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حاکمیت کو اپنی خارجہ پالیسی کی رہنما قدروں کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کو اپنے دفاع اور دوسروں پر تنقید کی غرض سے استعمال کیا لیکن خود امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی ترقی کے لیے روڑے اٹکائے ہیں۔ اس کا اس معاملے میں ریکارڈ افسوس ناک ہے۔ آگے بڑھ کر خود اپنی مثال پیش کرنے کے بجائے امریکہ نے انسانی حقوق کے بہت سے معاہدوں پر اس وقت دستخط کیے جب بہت سے ممالک ایسا کر چکے تھے۔ امریکہ نے نسل کشی کے کنونشن کو ۴۰ سال بعد نسلی امتیاز کے خلاف کنونشن کو ۲۶ سال بعد سماجی اور سیاسی حقوق کے میثاق کو جو کہ سب سے اہم میثاق ہے ۲۶ سال بعد Ratify کیا۔ ۱۶۰ سے زیادہ ممالک نے عورتوں کے خلاف امتیاز
کے خاتمہ کے کنونشن کو Ratify کر دیا ہے لیکن امریکہ نے اب تک نہیں کیا۔ صرف دو ممالک نے اب تک بچوں کے حقوق کے متعلق کنونشن کی تصدیق نہیں کی: ایک امریکہ اور دوسرا صومالیہ اور جن معاہدوں کی امریکہ نے تصدیق کی ہے، ان کے ساتھ بھی اضافی تحفظات منسلک کر دیئے ہیں جس سے امریکہ میں وہ ناقابلِ عمل ہو گئے ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں امریکہ نے روانڈا اور سابق یوگوسلاویہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے ٹریبیونل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا لیکن اب اپنے اتحادیوں میں یہ واحد ملک ہے جو مستقل بین الاقوامی فوجداری عدالت کی مخالفت کرتا ہے حالانکہ جولائی ۱۹۹۸ء میں اقوام متحدہ کی کانفرنس کے دوران ۱۲۰ ممالک اس کی حمایت کر چکے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے فوجیوں کو اس سے مستثنیٰ کروانا چاہتا ہے اور امریکہ کا یہ رویہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تمام امریکی حکومتوں نے بین الاقوامی قانون کو دوسری اقوام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا ہے اور اسے اپنے اوپر عملاً لاگو کرنے سے انکار کیا ہے۔“
سربیا اور روانڈا کے بعض رہنماؤں کو ”انسانیت کے خلاف جرائم“ کی پاداش میں عالمی عدالت کی طرف سے سزا سنائی جا چکی ہے۔ کیا اقوام متحدہ کے رکن ممالک امریکی صدر بل کلنٹن کے بلا جواز جنگ کے احکامات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بے گناہ انسانوں کی اموات کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے کر اسے عالمی عدالتِ انصاف کے روبرو پیش ہونے کا مطالبہ کر سکیں گے؟ اگر نہیں تو اس کا مطلب سوائے اس کے کیا ہے کہ عالمی انصاف اب بھی طاقتور اقوام کے مفادات کے تابع ہے ...... بقول علامہ اقبال ؒ :
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیو استبداد جمہوری قبا میں ہے پائے کوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
مولانا زاہد الراشدی
یورپ میں شرف انسانی کی بنیاد
انسانی حقوق اور شرف انسانی کے تحفظ کے مغربی فلسفہ نے عروج اور ترقی کی جو منازل طے کی ہیں، اس پر مغربی حکمران بہت خوش ہیں۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ تہذیب دی اور ایک متمدن ماحول فراہم کیا ہے لیکن یہ تمدن اور تہذیب ہے کیا؟ اس کے بارے میں دو خبریں ملاحظہ فرمائیے:
روزنامہ ”جنگ“ لندن نے ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ء کو خبر دی ہے کہ اٹلی نے نائیجیریا میں بدچلنی کے الزام میں سنگساری کی سزا پانے والی خاتون کو انسانی ہمدردی کے تحت اپنی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس خاتون کو نائیجیریا کی ایک شرعی عدالت نے ناجائز بچہ پیدا کرنے اور رکھنے کے الزام میں سنگسار کرنے کی سزا سنائی تھی جبکہ اس خاتون نے یہ الزام مسترد کر دیا۔ بعد ازاں اس عورت کو عالمی دباؤ کے پیش نظر چھوڑ دیا گیا۔ اطالوی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دنیا میں عورت کی عزت نفس کے احترام کو اُجاگر کرنا ہے۔
یہ صرف نائیجیریا کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں آتا ہے اور شرعی عدالتیں قائم ہوتی ہیں تو عالمی دباؤ اور مغربی حکومتیں انسانی حقوق اور عزت نفس کے تحفظ کے نام پر حرکت میں آجاتی ہیں اور مجرم کو سزا سے بچانے کے لیے این جی اوز کا نیٹ ورک کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ مجرموں کو دباؤ کے تحت رہا کرایا جاتا ہے اور کسی مغربی ملک میں لاکر سیاسی پناہ دلوا دی جاتی ہے۔ بھارت کے سلمان رشدی، بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین اور مصر کے ڈاکٹر نصر ابوزید کو اسی بنیاد پر سیاسی پناہ دی گئی ہے اور ان کے تحفظ پر لاکھوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور انہیں اس جرم کی سزا سے بچانے کے لیے مغربی ممالک نے انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا۔ خود پاکستان میں توہین رسالت کے حوالے سے رتہ دوہتر ضلع گوجرانوالہ کے مشہور کیس میں ملزموں کو اسی بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے باہر بھجوا دیا گیا اور جرمنی کی حکومت نے انہیں سیاسی پناہ دے دی۔ یہ مسلم ممالک میں شرعی قوانین کے نفاذ کے عمل کو ناکام بنانے کے لیے ایک طریق کار ہے جس پر مغربی حکومتیں پورے تسلسل کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور ستم کی بات یہ ہے کہ اطالوی حکام نے اپنے اس طرز عمل کی توجیہ کرتے ہوئے اسے عزت نفس کی حفاظت و احترام کا ذریعہ قرار دیا
ہے یعنی اب عزت اور حرمت کے معنی بھی تبدیل ہو گئے ہیں اور مغرب کے نزدیک کسی عورت یا مرد کا حرام کاری میں مبتلا ہونا اور کسی عورت کا ناجائز بچہ گود میں اٹھائے پھرنا اب عزت کی علامت بن گیا ہے اور اس کی اس حرمت کا احترام اب شرف انسانی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اس پر ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ پڑھنے اور انسانی اقدار و روایات کا ماتم کرنے کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟
دوسری خبر بھی روزنامہ جنگ لندن کی ہے جو ۴ ستمبر ۲۰۰۲ء کو شائع ہوئی ہے کہ لندن میں ہم جنس پرستوں کی پہلی شادی رجسٹرڈ ہونے کے ایک سال بعد پہلی طلاق ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال گریٹر لندن اتھارٹی نے ۳۱۴ شادیاں رجسٹر کیں اور ان شادیوں کے ٹوٹنے کی شرح وہی ہے جو عام شادیوں کی ہے۔ ہم جنس پرستوں کے دو لاکھ ۶۸ ہزار جوڑوں نے ۱۹۹۹ء میں شادیاں کیں اور ۲۰۰۰ء میں تین ہزار ۴۹۴ شادیاں ٹوٹ گئیں یہ شرح ۱ء۳ فیصد تھی۔ لندن پارٹنر شپ رجسٹر سے پتہ چلا ہے کہ سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے والے ۱۶ فیصد ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کا رشتہ ٹوٹ گیا۔
یہ بھی مغربی تہذیب کا کمال ہے کہ ہم جنس پرستی کا وہ ملعون عمل جس کے ارتکاب پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور سدوم و عمورہ کی بستیوں کی تباہی اور غرقابی پر آج بھی بحیرہ مردار گواہ ہے، وہ ملعون عمل آج مغربی تہذیب کے ہاں حقوق اور آزادی کا عنوان بن گیا ہے۔ اس حق کے حصول اور تحفظ کے لیے سیاسی مطالبات ہوتے ہیں، اس کے لیے جلوس نکالے جاتے ہیں، ریلیاں منعقد ہوتی ہیں، اسمبلیوں میں قوانین پاس ہوتے ہیں حتی کہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قاہرہ اور بیجنگ میں ہونے والی خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس میں اس ملعون عمل کو ”متبادل جنسی عمل“ قرار دے کر حکومتوں سے اس کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے اور لندن میں دو مردوں کا باہمی جنسی تعلق اور دو عورتوں کے باہمی جنسی تعلق کو قانونی پارٹنر شپ بلکہ باقاعدہ شادی قرار دے کر ان ”شادیوں“ کو رجسٹر کیا جاتا ہے اور ان کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ چند ماہ قبل یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی کہ لندن ہائی کورٹ نے اس قسم کی ایک ”شادی“ میں ایک پارٹنر کے مرجانے پر دوسرے پارٹنر کو اس کا قانونی وارث قرار دے دیا تھا۔
بائبل میں اس قبیح جرم پر سنگسار کرنے کی سزا بیان کی گئی ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے شیطانی عمل قرار دیتے ہوئے اس پر موت کی سزا بیان فرمائی لیکن مغرب نے سرے سے آسمانی تعلیمات کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا ہے کہ اس سے ان کی خواہشات کے گرد حد بندی قائم ہو جاتی ہے اور یوں آسمانی تعلیمات کی بالا دستی کو قبول کرنے کی صورت میں انسان اپنی ہر خواہش پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس لیے یہ مادر پدر آزاد تہذیب مغرب ہی کو مبارک ہو۔ مسلمان اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود بحمد اللہ تعالیٰ ابھی تک آسمانی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں اور قرآن وسنت کی بالادستی کا معتقد ہے، اس لیے مسلمان اس بے حیا اور آبرو باختہ کلچر کو قبول کرنے کے لیے انشاء اللہ تعالیٰ کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
❁ ❁ ❁
انوار حسین ہاشمی
حکومت، این جی اوز اور امریکہ
”عاصمہ جہانگیر ملک دشمن اور اسلام دشمن ہیں، یہ قادیانی لابی کے ساتھ مل کر اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہیں، یہ ہیومن رائٹس کمیشن کی آڑ میں پاکستان کو بدنام کر رہی ہیں اور وومن رائٹس کی آڑ میں مسلمان عورتوں کو اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے باغی بنا رہی ہیں۔ یہ مغرب کی طرز پر فری سوسائٹی کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کہ عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی اسلام کی تضحیک کرتی ہیں، شعائر اسلام کا مذاق اُڑاتی ہیں اور اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ اور وحشیانہ قرار دے کر انہیں ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ لابی غیر ملکی ایجنٹ ہے، انسانی حقوق کے پلیٹ فارم کی آڑ میں قومی راز بھی آؤٹ کرتے ہیں اور سالانہ کروڑوں ڈالر فنڈز لیتے ہیں۔ ان کا ادارہ ”دستک“ قابلِ اعتراض سرگرمیوں کا مرکز ہے جہاں لڑکیوں کو اپنے آشناؤں سے ملنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان کے پیچھے عیسائی اور قادیانی مضبوط لابی ہے اور انہیں امریکہ کی سرپرستی بھی حاصل ہے؟ اس لابی کے بااثر افراد بھارت، برطانیہ اور امریکہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ حکومت کو گرانے اور امورِ مملکت میں مداخلت کرنے کا ارتکاب کرتے ہیں۔“
ایسے ہی کئی سنگین الزامات ہیں جو عاصمہ جہانگیر اور اس کے گروپ پر لگائے جاتے ہیں۔ یہ الزامات تقریباً تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی جماعتوں اور اہم تنظیموں کے نمایاں افراد لگاتے رہتے ہیں۔ اخبارات کے کالموں، خبروں، تجزیوں اور اداریوں میں اس لابی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسی ہی این جی اوز کے بارے روزنامہ نوائے وقت ۱۱ مئی ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں اپنے اداریے میں تحریر کرتا ہے کہ ”خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنے والی متعدد این جی اوز ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو منہدم کرنے میں مصروف ہیں۔ آزادیِ نسواں کے نام پر بے حیائی، فحاشی اور جسمانی لہو و لعب کو پھیلانے کے علاوہ شادی کے مقدس ادارے کو مجروح اور قرآن وسنت کے مطابق طے شدہ شعائرِ اسلامی کے خلاف فضا ہموار کر رہی ہیں۔ اب عالم یہ ہے کہ ان میں سے بعض این جی اوز سیاسی خطوط پر بھی کام کر رہی ہیں اور وہ قومی اہمیت کے کارناموں پر منفی بیان بازی میں بھی شمولیت اختیار کرتی ہیں۔ یہ ادارے بیرونِ ملک قائم ہیڈ کوارٹر کو اپنے ملک کے قیمتی راز اور معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے، سیکولر نہیں۔ اس لیے
یہاں ان اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو شعائر اسلامی کے منافی ہیں ۔“
کیا مذکورہ تمام الزامات من وعن حقیقت پر مبنی ہیں؟ کیا ان الزامات کو بغیر دیکھے‘ بغیر جانچے اور ان کا جائزہ لیے بغیر اس تفصیلی فیچر میں دہرا دیا جائے اور زیر نظر سطور میں بھی عاصمہ جہانگیر کو ملک دشمن اور اسلام دشمن قرار دے دیا جائے؟ ایک اہم قومی اعزاز ستارہ امتیاز سمیت ۱۶ سے زائد قومی اعزازات حاصل کرنے والی عاصمہ جہانگیر ملک دشمن‘ اسلام دشمن یا غیر ملکی ایجنٹ کیسے ہو سکتی ہے؟ عاصمہ اینڈ کمپنی کے بارے میں‘ میں اور میرے جیسے درجنوں الزامات لگانے والے تو سب کچھ جانتے ہیں لیکن کیا حکومت‘ قومی ادارے‘ حساس ادارے‘ خفیہ ادارے ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے .....؟
ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ کئی افراد سے ملاقات کی۔ عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل (AGHS) کے سسٹم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس ادارے میں کام کرنے والوں سے ملتا رہا‘ دستک کے معاملات کو بھی جاننے کی کوشش کی۔ عاصمہ جہانگیر کی لابی میں شامل ایسے افراد کی سرگرمیوں کو بھی جاننے کی کوشش کی‘ عاصمہ جہانگیر کی لابی میں شامل ایسے افراد کی سرگرمیوں کو بھی دیکھا جو اگرچہ عاصمہ کے اداروں سے تو وابستہ نہیں لیکن ان کا شمار اسی لابی میں ہوتا ہے۔ اس اسائنمنٹ کے سلسلہ میں میں نے صوبائی وزیر پیر بنیامین رضوی‘ حنا جیلانی اور معروف ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی کی گفتگو بھی ریکارڈ کی۔ عاصمہ جہانگیر سے میں کئی سوالات کا جواب حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن گزشتہ چھ ماہ کی کوششوں کے باوجود انٹرویو کے لیے ان سے وقت نہ مل سکا۔ تاہم حنا جیلانی بھی اُس وقت انٹرویو دینے کے لیے تیار ہوئیں جب میں نے انہیں بتایا کہ صوبائی وزیر نے آپ اور آپ کے ادارے پر سنگین الزام لگائے ہیں اور میں ان کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔ عاصمہ جہانگیر کے شوہر جہانگیر کا تعلق عاصمہ جہانگیر کے کسی ادارے سے نہیں ہے۔ تاہم ان پر بعض ایسے الزامات تھے جو قومی اور بین الاقوامی پریس میں شائع ہوئے تھے۔ ان کا جواب اور رویہ سخت اور افسوس ناک تھا۔ عاصمہ جہانگیر اس وقت بھی اپنی پہچان رکھتی تھیں جب HRCP‘ AGHS اور دستک کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا تھا‘ وہ معروف ایڈووکیٹ تھیں‘ کئی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ تھیں لیکن اتنی زیادہ متنازعہ نہیں تھیں۔
جولائی ۱۹۸۴ء کا واقعہ ہے‘ اسلام آباد میں ایک سیمینار ہو رہا تھا جس میں مذہبی اور سیاسی شخصیات بھی شریک تھیں۔ اگلے روز اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں نے خیبر سے لے کر کراچی تک تمام مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر دیا جن میں واقعہ کو اس انداز میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ سیمینار سے خطاب کے دوران عاصمہ جہانگیر نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تھے جس سے وہاں موجود حاضرین مشتعل ہو گئے۔ کئی افراد نے عاصمہ جہانگیر کو سزا دینے کے لیے پکڑنے کی کوشش کی لیکن کر لے گئے ۔ اس واقعہ سے عاصمہ جہا پذیرائی ملی۔ عیسائی اور قادیانی حلقوں قانون کی بنیاد پڑی اور پھر دنیا بھر کے والے اس واقعہ کو اس منصوبے کا حصہ ہیومن رائٹس کمیشن کی بنیاد رکھنی تھی۔ ا پاکستان میں اسلام کی بنیاد پرستی کی جڑیں کے یا پھر ختم کر کے غیر مسلموں کی تعلیم و کی آڑ میں عورتوں کی مغربی طرز پر آزاد عاصمہ جہانگیر اور اس کے ح
پیر بنیامین نے گزشتہ روز ندائے ملت سخت الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا سلسلہ میں اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کی گئی چار اہم خفیہ ایجنسیوں نے ان کی سرگرمیو کرے گی۔ حکومت کے الزامات کا جائ چیئر مین محمد اسماعیل قریشی کے نقطہ نظر کو محرک ہیں اور توہین رسالت کی سزا موت کرانے کے لیے عاصمہ جہانگیر غیر ملکی فن قریشی کی کتاب ”ناموس رسالت اور قانو ۱۹۸۴ء میں اسلام آباد کے سیمینار میں جب الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگا تھا اسی وق کرنے کے لیے تحریک شروع کی اور اس والدہ آپا نثار فاطمہ کا تعاون حاصل رہا اور کی مخالفت میں عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ قادیانیوں کے کئی کیسوں میں جن کی وکا خلاف بطور وکیل پیش ہوتے رہے۔ اسماعی اپنا موقف ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے عیسائی لابی کرتی ہے۔ امریکہ اور اسرائی لیے آج تک کشمیر کے مظالم پر اس نے ایک
دینے کے لیے پکڑنے کی کوشش کی لیکن تقریب کے میزبان عاصمہ جہانگیر کو وہاں سے بحفاظت نکال کر لے گئے۔ اس واقعہ سے عاصمہ جہانگیر پاکستان میں تو متنازعہ ہوگئیں جبکہ اہل مغرب سے بے حد پذیرائی ملی۔ عیسائی اور قادیانی حلقوں نے عاصمہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہاں سے توہین رسالت کے قانون کی بنیاد پڑی اور پھر دنیا بھر کے میڈیا میں یہ ایشو طویل عرصے تک زیر بحث رہا۔ الزام لگانے والے اس واقعہ کو اس منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں جس کے تحت عاصمہ جہانگیر نے پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا مقصد اقلیتوں خصوصاً اور قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا اور پاکستان میں اسلام کی بنیاد پرستی کی جڑوں کو پہلے ہلانا اور پھر اُکھاڑنا تھا۔ اسلامی سزاؤں کو تبدیل کر کے یا پھر ختم کر کے غیر مسلموں کی تعلیم وتبلیغ کے لیے پاکستان میں راہ ہموار کرنا تھی۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں عورتوں کی مغربی طرز پر آزادی اور فری سوسائٹی کے قیام کے لیے کوششیں کرنا تھیں۔
عاصمہ جہانگیر اور اس کے اداروں کے خلاف موجودہ حکومت کے نمائندہ صوبائی وزیر پیر بنیامین نے گزشتہ روز ندائے ملت سے خصوصی ملاقات میں اہم انکشافات کرتے ہوئے بڑے سخت الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تمام باتیں بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کیونکہ اس سلسلہ میں اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کی گئی ہیں۔ انتظامیہ اور سوشل ویلفیئر کی خصوصی ٹیم کے علاوہ ملک کی چار اہم خفیہ ایجنسیوں نے ان کی سکریننگ کی ہے اور حکومت جلد ان کے اداروں کے خلاف آپریشن کرے گی۔ حکومت کے الزامات کا جائزہ لینے سے قبل ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹ کے چیئرمین محمد اسماعیل قریشی کے نقطہ نظر کو دیکھ لیتے ہیں جو عاصمہ جہانگیر کے خلاف تحریک کے اصل محرک ہیں اور توہین رسالت کی سزائے موت کا قانون منظور کرانے کا اعزاز انہیں حاصل ہے جس کو ختم کرانے کے لیے عاصمہ جہانگیر غیر ملکی قوتوں کی مدد سے گزشتہ کئی برسوں سے کوشاں ہیں۔ اسماعیل قریشی کی کتاب ’ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت‘ نے عالمگیر شہرت حاصل کی ہے۔ جولائی ۸۲ء میں اسلام آباد کے سیمینار میں جب عاصمہ جہانگیر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگا تھا اُسی وقت اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے قانون توہین رسالت منظور کرنے کے لیے تحریک شروع کی اور اس بل کو منظور کرانے میں انہیں مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی والدہ آپا نثار فاطمہ کا تعاون حاصل رہا اور بالآخر توہین رسالت کی سزا موت کا قانون منظور ہو گیا۔ اس کی مخالفت میں عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ تک گئیں لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔ سلامت مسیح کیس اور قادیانیوں کے کئی کیسوں میں جن کی وکالت عاصمہ جہانگیر کرتی رہی ہیں‘ اسماعیل قریشی اس کے خلاف بطور وکیل پیش ہوتے رہے۔ اسماعیل قریشی نے عاصمہ جہانگیر اور اس کی لابی کے بارے میں اپنا موقف ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ ’عاصمہ جہانگیر کے لیے ساری فنڈنگ قادیانی اور کٹر عیسائی لابی کرتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سے اس کے رابطے ہیں۔ یہ بھارت بھی جاتی ہے۔ اس لیے آج تک کشمیر کے مظالم پر اس نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ عاصمہ ایک قادیانی شخص جہانگیر کی بیوی
ہے۔ ایک مسلمان عورت قادیانی کی بیوی نہیں رہ سکتی لیکن وہ برملا کہتی ہے کہ میرا خاوند قادیانی ہے۔ اب انہوں نے اپنے بچاؤ کے لیے ایک این جی او بنالی ہے۔ یہ این جی او کی آڑ میں قادیانیوں کا تحفظ چاہتی ہے اور اس کے ساتھ اس نے عیسائیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر بیرون ملک جاکر یہ رپورٹیں دیتی ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ظلم قادیانیوں پر ہو رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کا قانون بننے کے بعد سب سے بڑا ٹارگٹ قادیانی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے ایسے بیان امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رابن رافیل کے سامنے دیئے ہیں۔ اسماعیل قریشی نے انکشاف کیا کہ عاصمہ کی مدد قادیانی لابی کرتی ہے اور قادیانی لابی کو اسرائیل کی سپورٹ حاصل ہے۔ اسرائیل میں کسی اسلامی ملک کا کوئی مشن کام نہیں کر رہا لیکن وہاں قادیانیوں کا مشن کام کر رہا ہے۔ ان کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ ان کا مذہب عیسائیوں سے ملا ہوا تھا اب اسرائیل کے ساتھ ان کا تعلق ہے۔ اب تو یہاں جرمن چانسلر آتا ہے تو وہ بھی کہتا ہے کہ قانون توہین رسالت کو منسوخ کرو۔ امریکی صدر کلنٹن بھی کہتے ہیں اس قانون کو منسوخ کرو۔ عاصمہ کا مشن ہے کہ پاکستان سے اس قانون کو ختم کر دیا جائے۔ اسماعیل قریشی نے بتایا کہ کچھ سال قبل قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے عدالت کی طرف سے ہماری ٹیم ربوہ گئی تھی۔ وہاں جا کر ہم نے ایک ایک چیز کا جائزہ لیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ریاست کے اندر ایک ریاست ہے۔ ان کی اپنی ایک ٹرانسمیشن ہے اپنا ریڈیو سٹیشن اپنی عدالتیں ہیں اپنی پولیس فورس ہے۔ وہاں کوئی جرم ہوتا ہے تو ان کے اپنے جج فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم ان کے قبرستان گئے تو معلوم ہوا کہ وہاں ان کی تمام میتیں بطور امانت دفن ہیں کہ جب ہندوستان اور پاکستان ایک ہو جائیں گے تو پھر ان کو قادیان میں جا کر دفن کیا جائے گا۔ ہم نے یہ ساری رپورٹ عدالت کو پیش کی اور بتایا کہ ان کے عزائم کیا ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ امانتاً دفن کرنے کا مقصد یہی ہے کہ انہوں نے اس سرزمین کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے ہیومن رائٹس کے دوہرے معیار ہیں۔ وہ خود ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں ان کے قالینوں کے کارخانے میں چائلڈ لیبر کام کرتی ہے جو ان کے اپنے شوہر کی نگرانی میں چلتے ہیں۔ جب باہر کی این جی اوز یہاں آئیں تو انہوں نے باہر جا کر اپنے اخباروں کو یہ رپورٹ پیش کی کہ عاصمہ جہانگیر کے اپنے کارخانوں میں چائلڈ لیبر سے کام لیا جاتا ہے۔ ان کے شوہر کے یہ کارخانے لاہور کے ایریا میں ہی واقع ہیں۔ انہیں ہیومن رائٹس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہیے۔ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عاصمہ جہانگیر گزشتہ دنوں اسلام میں چار شادیوں کی اجازت کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح یورپ میں شوہر کا تصور ختم ہو رہا ہے عورت اور مرد بطور دوست رہنے لگے ہیں اسی طرح انہوں نے دستک ادارہ کھولا ہے یہاں بطور دوست یہ لڑکے اور لڑکیوں کی ملاقات کراتے ہیں۔ یہ یہاں یورپ کے کلچر کو متعارف کرا رہی ہیں اور اب یہ کہتی ہیں کہ نکاح کے لیے قاضی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب انہوں نے خود ہی نکاح پڑھانا شروع کر دیا ہے کی کوشش کی ہے اور یہ ظاہر کیا پاکستان میں وہ کلچر لانا چاہتی ہیں اقدار کے لیے بنا تھا اسلامی قوان نہیں رہنا چاہتے تو پھر ان کو اس وہاں کے مذہب کی ہوتی ہے۔ ال سے بغاوت ہے اور یہ ملک کے 295-C کا قانون صرف اقلیتو قانون لاگو ہوا ہے۔ ہم کہتے ہی ہے تو وہ بھی سزائے موت کا ہیومن رائٹس کمیشن آف پا
ہیومن رائٹس کمیٹی
میں کام کا آغاز کر دیا۔ یہ سوسائٹ ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہے۔ تحت کام کرے گا۔ اس کے چا پہلی کونسل میں مختلف شعبوں کی
- 1۔ جسٹس (ر) دا
بخش مری 4۔ ایئر مارشل (ر) ط
- 8۔ عاصمہ جہانگیر 9۔ اقبال حی
- 13۔ صبیح الدین احمد 14۔ م
وڑائچ 18۔ شکیل احمد پٹھا Heredia-23Fr.AR 1996-98ء کے شاہد کاردار تھے جبکہ صوبائی بلوچستان سے طاہر محمد خان ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکست اور ہیڈ آفس کے ڈائریکٹر آ چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر کی جگہ
es the fact that he came to Bahawalpur as a supporter o mmad would become the very means for his redemptio hearing these words of Hazrat, an immense agony overc the mosque and each began to weep loudly and uncontrol
or the Last Prophet of All Times (Allah Bless him and Grant him peace)
3
ہی نکاح پڑھانا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے صائمہ کیس میں مذہبی گھرانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ یہاں مذہبی گھرانوں کی لڑکیاں بھی آزادی چاہتی ہیں۔ اب یہ پاکستان میں وہ کلچر لانا چاہتی ہیں جس نے یورپ کو تباہ کیا ہے۔ یہ ملک اسلام کے لیے بنا ہے اسلامی اقدار کے لیے بنا تھا اسلامی قوانین بنے تھے۔ اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے قوانین کے پابند نہیں رہنا چاہتے تو پھر ان کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سیکولر ممالک میں بھی بالا دستی وہاں کے مذہب کی ہوتی ہے۔ اگر یہ اسلام کے قانون کی پابندی نہیں کرتے تو یہ اس ملک کے قانون سے بغاوت ہے اور یہ ملک کے ساتھ غداری ہے۔ قادیانیوں کو آئین نے غیر مسلم قرار دیا ہے۔ C-295 کا قانون صرف اقلیتوں پر نہیں مسلمانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یوسف کذاب پر بھی یہی قانون لاگو ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو وہ بھی سزائے موت کا مستحق ہے۔"
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا قیام ۱۹۸۶ء میں عمل میں لایا گیا جبکہ اس نے ۱۹۸۷ء میں کام کا آغاز کر دیا۔ یہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ایک رجسٹرڈ سوسائٹی ہے جس کے چارٹر میں درج ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ایک خود مختار غیر سیاسی‘ غیر سرکاری‘ غیر کاروباری تنظیم ہے جو قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس ۱۹۴۸ء کے تحت کام کرے گا۔ اس کے چارٹر میں ۱۷ اہم مقاصد درج ہیں۔ رجسٹریشن کے وقت ایچ آر سی پی کی پہلی کونسل میں مختلف شعبوں کی ۲۵ شخصیات کے نام درج ہیں ۔
1- جسٹس (ر) داراب پٹیل 2- جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم 3- جسٹس (ر) خدا بخش مری 4- ایئر مارشل (ر) ظفر چودھری 5- پرنسس عابدہ سلطان 6- ڈاکٹر مبشر حسن 7- یحییٰ بختیار 8- عاصمہ جہانگیر 9- اقبال حیدر 10- منہاج برنا 11- بیرسٹر اعتزاز احسن 12- بیرسٹر ایس اے ودود 13- صبیح الدین احمد 14- مسٹر پی کے شاہانی 15- ظفر ملک 16- خورشید محمود قصوری 17- لیاقت وڑائچ 18- شکیل احمد پٹھان 19- رفیق سیفی 20- مسز نور ناز آغا 21- مسز انیس ہارون 22- Fr. AR Nold Heredia 23- عابد حسن منٹو 24- یوسف لغاری 25- افتخار گیلانی۔
۱۹۹۶-۹۸ء کے لیے کمیشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر‘ سیکرٹری جنرل زہرہ یوسف‘ خزانچی شاہد کاردار تھے جبکہ صوبائی چیئر پرسن میں پنجاب سے ایئر مارشل (ر) ظفر اے چودھری (قادیانی)‘ بلوچستان سے طاہر محمد خان‘ سرحد سے افراسیاب خٹک اور سندھ سے نور ناز آغا منتخب ہوئے تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا مرکزی دفتر ایوان جمہور ٹیپو بلاک گارڈن ٹاؤن لاہور میں قائم ہے اور ہیڈ آفس کے ڈائریکٹر آئی اے رحمٰن ہیں۔ اب ۱۹۹۹ء کے سالانہ اجلاس میں ایچ آر سی پی کا نیا چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر کی جگہ افراسیاب خٹک ایڈووکیٹ کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ سیکرٹری جنرل کے
لیے عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی اور خزانچی کے لیے ظفر اے چودھری کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد سے مسرت ہلالی‘ سندھ سے علی حسن‘ پنجاب سے طاہرہ مظہر علی اور بلوچستان سے ڈاکٹر امیر الدین داس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔
(AGHS)
اے جی ایچ ایس خواتین کے لیے فری لیگل ایڈ سروس کا ادارہ ہے۔ ۱۹۸۰ء میں اس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اے جی ایچ ایس چار خواتین ایڈووکیٹ کے ناموں کا مجموعہ ہے۔ A سے عاصمہ‘ G سے گل رُخ‘ H سے حنا اور S سے شہلا ضیا۔ یہ دفتر ۱۱۳۱ ای ون گلبرگ میں واقع ہے۔ اب اس ٹیم میں عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی سمیت حفصہ عزیز‘ عالیہ ایم خان‘ عالیہ ملک‘ فوزیہ عظیم‘ نبیلہ جعفری‘ عظمیٰ سعید اور روبینہ شاہین شامل ہیں۔ اے جی ایچ ایس بھی ایک رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیم ہے۔ یہ تنظیم رائل نیدرلینڈز ایمبیسی‘ NORAD اور AGHS کا اشتراک ہے۔ اس کے ذریعے خواتین کو مفت قانونی سہولت اور وکلاء کی سروس دی جاتی ہے۔ خاص طور پر طلاق اور شادی کے مسائل‘ گھروں سے بھاگی ہوئی لڑکیوں‘ ریپ کے کیس اور پسند کی شادی کے قانونی معاملات کی سروس دی جاتی ہے۔
دستک
دستک بھی AGHS کے زیر اہتمام ایک ادارہ ہے جو ۱۹۹۱ء میں قائم کیا گیا۔ یہ ایسی خواتین کی عارضی پناہ گاہ ہے جن کی شادی‘ طلاق‘ تشدد‘ پسند کی شادی یا گھروں سے فرار کے کیس AGHS کے پاس رجسٹرڈ ہوں۔ دستک کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بھی مختلف شعبوں کی نامور شخصیات شامل ہیں۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کی ابتدائی چیئر پرسن طاہرہ مظہر علی ہیں جبکہ بورڈ آف ٹرسٹیز میں عابد حسن منٹو‘ عارف نظامی‘ بیگم فرحت عتیق الرحمٰن‘ مس فریدہ شہید‘ مس فریحہ ظفر‘ حیدر فاروق مودودی‘ مس حنا جیلانی‘ مس نیلم حسن‘ بیگم نسیم شمیم اشرف‘ مس نگار احمد‘ مسز قمر محمود‘ مسز سلیم ہاشمی‘ مس سمینہ رحمٰن‘ مسز سحر سہگل اور مس شاہ تاج قزلباش کے نام شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ اے جی ایچ ایس اور دستک کو ہالینڈ‘ جرمنی اور امریکہ سے براہ راست امداد کے علاوہ NORAD یونیسیف اور سیڈا جیسی کئی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی امداد ملتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے چارٹر میں واضح طور پر تحریر ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے لیکن موجودہ حکومت کے نمائندے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ادارہ اب مکمل طور پر سیاست میں ملوث ہو چکا ہے۔ اس الزام میں بہت حد تک صداقت موجود ہے۔ امریکہ اور کچھ غیر ملکی طاقتیں اب پاکستان میں ایک مخصوص سیاسی خلاء کو محسوس این جی اوز کے ذریعے پُر کرنا چاہتے ہیں۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق جس وقت صوبائی وزیر پیر بنیا مین نے این جی اوز کے خلاف آپریشن شروع کیا‘ اس وقت پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کے نمائندوں نے صوبائی وزیر سے کئی ملاقاتیں کیں اور انہیں عاصمہ جہانگیر کی میں یقین دہانی مانگی۔ پیر بنیامین خلاف آپریشن نہ کرنے کے لیے ڈالا گیا لیکن ہمیں اس گروپ کے گے۔ اہم ذرائع کے مطابق موجود پکڑی گئی ہے اور ذرائع اس امر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی اے۔ سینئر عہدے داروں کے ساتھ امر کیوں ہوتے رہے ہیں۔ نجم سیٹھی صحافیوں اور اردو اخبارات کے دو کی بھارت یاترا کے دوران اسی س کے مبینہ ڈرامے کو بھی اسی سلسلہ نہیں بلکہ اسے غیر معمولی طور پر ض کے اداروں کو بین کرنے کا امکان اختیار کیا جا رہا ہے۔ انتہائی معتبر ذ امریکہ اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاں عاصمہ جہانگیر کی لابی کے پس پرد ادارہ تیار نہیں بلکہ خفیہ اداروں کو کئی میں سے کچھ افراد پاکستان میں س اہم قادیانی شخصیت کے پاس بھیجے گ افراد کا امریکہ میں میزبان چودھری اس کا شمار قادیانیوں کے ۳۱۳ دروی بتایا جاتا ہے کہ مبارک احمد کی ایک امریکی شہریت حاصل ہے اور اس ب ایک قریبی ساتھی نے بعض صحافیوں ک ہے۔ نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹ آتے ہیں۔ نیو کلیئر پروگرام کو پاکستان
ایک ایسے وقت میں جب ک دیوار بن کر یوم تکبیر منا رہی تھی‘ پور
کیں اور انہیں عاصمہ جہانگیر کی تنظیموں کے خلاف آپریشن نہ کرنے کی درخواست کی اور اس سلسلہ میں یقین دہانی مانگی۔ پیر بنجامین نے محتاط انداز میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کے خلاف آپریشن نہ کرنے کے لیے امریکی سفارت خانے کی طرف سے ان پر اور ان کی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا لیکن ہمیں اس گروپ کے بارے ایسے شواہد ملے ہیں کہ ہم ان کے خلاف آپریشن ضرور کریں گے۔ اہم ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کو گرانے کے لیے ایسی ہی این جی اوز کی ایک بڑی سازش پکڑی گئی ہے اور ذرائع اس امر کا دعویٰ کرتے ہیں کہ نجم سیٹھی کی گرفتاری اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی اے رحمٰن اور عاصمہ جہانگیر کی لابی کے کئی افراد کی امریکی حکومت کے سینئر عہدے داروں کے ساتھ امریکی قونصلیٹ لاہور اور امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں اجلاس کیوں ہوتے رہے ہیں۔ نجم سیٹھی کے علاوہ انگریزی اخبارات کے تین سینئر صحافیوں‘ تین خواتین صحافیوں اور اردو اخبارات کے دو کالم نگاروں کے خلاف بھی اس سلسلہ میں تحقیق جاری ہے۔ نجم سیٹھی کی بھارت یاترا کے دوران اسی لابی کے ایک انگریزی اخبار کے سینئر صحافی کی گاڑی جلائے جانے کے مبینہ ڈرامے کو بھی اسی سلسلہ کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ نجم سیٹھی کا معاملہ کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ اسے غیر معمولی طور پر حساس مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کی مکمل تحقیق کے بعد عاصمہ جہانگیر کے اداروں کو بین کرنے کا امکان ہے۔ اس وقت صرف امریکی دباؤ کی وجہ سے غیر معمولی محتاط طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع مذکورہ سازش کو اس لیول کا قرار دے رہے ہیں جس سطح پر امریکہ اور بھارت کی خفیہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر پاکستان کے خلاف کام کرتی ہیں۔ نجم سیٹھی اور عاصمہ جہانگیر کی لابی کے پس پردہ قادیانی لابی کو خارج از امکان قرار دینے کے لیے کوئی بھی خفیہ ادارہ تیار نہیں بلکہ خفیہ اداروں کو کئی ایسے شواہد بھی ملے ہیں جس میں نجم سیٹھی کو سپورٹ کرنے والی لابی میں سے کچھ افراد پاکستان میں سے چند صحافیوں اور این جی اوز کی بعض شخصیات کو امریکہ میں ایک اہم قادیانی شخصیت کے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سے بھیجے جانے والے ایسے افراد کا امریکہ میں میزبان چودھری مبارک احمد قادیانی تھا۔ مبارک احمد قادیان کا رہنے والا ہے اور اس کا شمار قادیانیوں کے ۳۱۳ درویشوں میں ہوتا ہے۔ مبارک احمد ایک غیر معمولی پُر اسرار شخص ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مبارک احمد کی ایک بیوی ربوہ میں رہتی ہے اور ایک بیوی قادیان میں ہے۔ اسے امریکی شہریت حاصل ہے اور اس کا پاکستان بھی آنا جانا رہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی کے ایک قریبی ساتھی نے بعض صحافیوں کو امریکہ میں اس شخص کے پاس بھجوایا تھا‘ یہ اس لابی کا ایک پہلو ہے۔ نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کیوں ہو رہی تھی؟ اس میں کچھ دفاعی معاملات بھی آتے ہیں۔ نیوکلیئر پروگرام کو پاکستان سے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے معاملہ کی تحقیق بھی ہو رہی ہے۔.....
ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم اپنے بدترین دشمن بھارت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر یومِ تکبیر منا رہی تھی‘ پوری پاکستانی قوم ایٹمی طاقت پر فخر کر رہی تھی اور پاک فوج کے
جوانوں کو پوری قوم یہ یقین دلا رہی تھی کہ دشمن کے مقابلہ میں وہ ان کے شانہ بشانہ ہیں اور سرکاری سطح پر قوم کا مورال بلند کرنے کے لیے یوم تکبیر منایا جا رہا تھا تو دوسری طرف انسانی حقوق کی علمبردار حنا جیلانی مجھے انٹرویو ریکارڈ کراتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ میں نہیں سمجھتی کہ اس میں ہماری کوئی عزت ہے کہ ہمارے پاس ایٹم بم آ گیا ہے۔ ہمارے عوام بھوکے ہیں اس لیے میں ایٹمی ہتھیار پر اپنا سر فخر سے بلند نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر خدانخواستہ بھارت پاکستان پر ایٹم بم پھینک دے تو کیا ایچ آر سی پی پاکستان کے کروڑوں عوام کو بھارت کے بم کی تباہی سے روک سکے گا۔ دراصل یہ ہمارے ہیومن رائٹس ہیں کہ ہم اپنے بدترین دشمن سے اپنے معصوم شہریوں کی جانیں بچائیں اور ایسا تب ہو سکتا ہے جب ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو۔
عاصمہ جہانگیر اور ان کا گروپ اپنے آپ کو اس سطح تک لانا چاہتا ہے جہاں یہ پاکستان کے حساس اور دفاعی معاملات کو بھی تنقید کا نشانہ بنائیں تو انہیں کوئی نہ پوچھے ۔ میں نے ایک سال قبل بھی ایک مختصر رپورٹ میں حوالہ دیا تھا کہ سندھ کے ایک علاقہ سے خفیہ اداروں نے ایک شخص کو اپنی تحویل میں لیا‘ انہیں شک تھا کہ یہ نوجوان بھارتی تنظیم ”را“ کے لیے کام کرتا ہے۔ اس پر ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام شائع ہونے والے جریدے میں حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب ممکن ہے نجم سیٹھی پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہوں لیکن عاصمہ جہانگیر کو کس چارٹر میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ حساس معاملات میں بھی مداخلت کرے۔ جس وقت امریکہ نے پاکستان کے اندر سے عاصمہ کے ملک کے دو شہریوں یوسف رمزی اور عامل کانسی کو گرفتار کیا اور امریکہ لے گئے اس وقت عاصمہ جہانگیر خاموش کیوں تھیں؟ اگر وہ سمجھتی ہیں کہ وہ مجرم تھے تو ابھی تو امریکی سی آئی اے نے امریکہ جا کر تحقیق کرنا تھی۔ عاصمہ کو سی آئی اے کی تفتیش کا پہلے کیسے علم ہو گیا کہ وہ مجرم تھے۔ اس لیے یہاں ہیومن رائٹس کمیشن کی آواز خاموش ہو گئی۔
عاصمہ کی زیر سرپرستی کئی جریدے بھی شائع ہوتے ہیں‘ ان میں سے دو کے نام صدائے آدم اور Slogan ہیں۔ عاصمہ نے اپنے اداروں کی رجسٹریشن کے وقت جو چارٹر دیا‘ اس میں واضح درج ہے کہ ان کی ہر تنظیم مکمل غیر سیاسی ہوگی‘ اس پلیٹ فارم سے وہ نہ سیاست کریں گے اور نہ سیاست میں حصہ لیں گے لیکن ان کے مذکورہ جرائد میں افسوس ناک حد تک سیاست کی جاتی ہے‘ اپنے ناپسندیدہ سیاسی لیڈروں کے خلاف زہر انگیز پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے جس میں باقاعدہ تضحیک ہوتی ہے اور اکثر مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والے آرٹیکل Reproduce کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے صدائے آدم اور Slogan کے شمارے اٹھا کر دیکھ لیے جائیں تو نواز شریف اور اس کے خاندان کے بارے میں افسوس ناک حد تک تضحیک آمیز مواد شائع کیا گیا۔ صدر مملکت محمد رفیق تارڑ کے بارے تو عاصمہ جہانگیر نے خود سخت تنقیدی مضمون تحریر کیے ہیں‘ اس کے علاوہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر محمد رفیق تارڑ اور ملّا کے کردار پر قابلِ اعتراض کارٹون شائع کیے جاتے
ہیں ۔ قادیانیوں سے ہمدردی اور ان کے کیسے بری قرار دے سکتی ہیں؟
اس دفعہ پہلی بار حکومت نے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ پر احتجاج کر رائٹس کمیشن کی اطلاعات پر مبنی رپورٹ خارجہ اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کر ڈرافٹ کی جاتی ہے ...... بعض ذرائع سے قبل پاکستان میں امریکی سفارت خانے جاری ہوتی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن کی سالانہ ریپو جو اعداد و شمار یا واقعات بیان ہوتے ہیں ان خلاف ورزیوں کے سدباب کے لیے سخت تبدیلیاں آئیں گی۔ اس حوالے سے یہ ایک معمولی باتوں کو غیر معمولی انداز میں شائع کیا ج کی جاتی ہے۔ مثلاً سندھ کے کسی دُور دراز علاق پیش آ جائے تو ہیومن رائٹس اسے دنیا کے سام عورتوں کو کاری کیا جاتا ہے۔ سالانہ رپورٹ میں دنیا کو دکھایا جاتا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف پا ہے جیسے توہین رسالت کے نام پر روزانہ قادیانیوں محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے این جی اوز کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور اسلام کے خلاف کام کرنے والی ای آپریشن جاری رکھا۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ندا ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ اے جی ایچ ای گفتگو کی۔ اسے آپ بھی پڑھیے۔
س....... آپ نے اکثر بیانات کے ف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور بیرون ملک سے بھی ال کریں اس کے علاوہ کیا این جی اوز کے خلاف آپ کرنا پڑا؟ نیز امریکن سفیر نے ملاقات کے دوران آ
ہیں۔ قادیانیوں سے ہمدردی اور ان کے لیے کام کرنے کے الزام سے عاصمہ جہانگیر اپنے آپ کو کیسے بری قرار دے سکتی ہیں؟
اس دفعہ پہلی بار حکومت نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ پر احتجاج کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ہیومن رائٹس کمیشن کی اطلاعات پر مبنی رپورٹ ہے اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی وزارت خارجہ اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک ہی جگہ بیٹھ کر ڈرافٹ کی جاتی ہے ...... بعض ذرائع کے مطابق ایچ آر سی پی اپنی سالانہ رپورٹ جاری کرنے سے قبل پاکستان میں امریکی سفارت خانے کو ارسال کرتا ہے وہاں سے منظوری کے بعد یہ رپورٹ جاری ہوتی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جو اعداد و شمار یا واقعات بیان ہوتے ہیں ان کی روشنی میں حکومت کو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سدباب کے لیے سخت اقدام کرنے چاہئیں۔ اس سے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ اس حوالے سے یہ ایک اچھی رپورٹ ہوتی ہے لیکن اس رپورٹ کی آڑ میں بعض معمولی باتوں کو غیر معمولی انداز میں شائع کیا جاتا ہے اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلاً سندھ کے کسی دُور دراز علاقے میں اگر سال میں عورت کو کاری کرنے کا ایک واقعہ پیش آجائے تو ہیومن رائٹس اسے دنیا کے سامنے ایسے پیش کرے گا جیسے پورے پاکستان میں روزانہ عورتوں کو کاری کیا جاتا ہے۔ سالانہ رپورٹ میں احمدیوں کے لیے پورا ایک باب وقف ہے جس میں دنیا کو دکھایا جاتا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف پاکستان میں زمین تنگ کر دی گئی ہے اور ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے توہین رسالت کے نام پر روزانہ قادیانیوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔
محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے صوبائی وزیر پیر بنیامین رضوی گزشتہ ایک سال سے این جی اوز کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔ ان پر اس سلسلے میں کافی دباؤ رہا ہے لیکن انہوں نے پاکستان اور اسلام کے خلاف کام کرنے والی این جی اوز بوگس اور کرپٹ این جی اوز کے خلاف آپریشن جاری رکھا۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ندائے ملت سے ایک خصوصی ملاقات میں این جی اوز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اے جی ایچ ایس اور دستک کے بارے میں خاصی انکشاف انگیز گفتگو کی۔ اسے آپ بھی پڑھیے۔
س...... آپ نے اکثر بیانات کے ذریعے الزام لگایا کہ بعض این جی اوز ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور بیرون ملک سے بھی ان کے رابطے ہیں۔ ایک تو اس کی تفصیل سے آگاہ کریں اس کے علاوہ کیا این جی اوز کے خلاف آپریشن کے دوران آپ کو کسی ملک کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا؟ نیز امریکن سفیر نے ملاقات کے دوران آپ سے این جی اوز کے حوالے سے کیا بات کی؟
ج...... میرے پاس جو رپورٹیں آئی ہیں ان میں چند این جی اوز ایسی ہیں جن کا تعلق 'را' سے ہے۔ کچھ این جی اوز کا تعلق جرائم پیشہ گروہوں سے ہے۔ جرائم پیشہ افراد بعض مخصوص مقاصد کے لیے ان کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس میں سمگلنگ اور منشیات مافیا بھی شامل ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں ملک دشمنی پر مبنی ہیں۔ اسی طرح بعض این جی اوز ایسی ہیں جو مسلمانوں کو اقلیتوں سے لڑانے کے کام میں مصروف ہیں۔ ڈوری پیدا کرنے، انتشار پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ بعض این جی اوز ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو ہماری نسل میں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہیں اور بڑے مہذب انداز میں وہ ہماری نئی نسل کو اسلام سے دور کر رہی ہیں، بالکل سیدھے طریقے سے اسلام کے خلاف تعلیم دیتی ہیں۔ انہوں نے جدید تقاضوں میں اسلام کو ناکافی قرار دے دیا ہے۔ کہتے ہیں نئے تقاضوں کے مطابق اور انسانی حقوق کی خاطر اجتہاد کرنا چاہیے جہاں تک بیرونی دباؤ کی بات ہے میں کہوں گا کہ بیرونی دباؤ تھا۔ مجھ سے زیادہ وزیراعلیٰ پر بیرونی دباؤ بہت زیادہ تھا۔ میں وزیراعلیٰ کی جرات اور عظمت کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر جگہ یہ کہا کہ میرا منسٹر اصلاح و احوال کے لیے جو کچھ کر رہا ہے، وہ ٹھیک کر رہا ہے۔ امریکی سفارت کار نے مجھ سے ملاقات کر کے چند خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن میں نے امریکی سفیر سے کہا کہ ہم نے صرف دو نکات پر کام کرنا ہے، ایک یہ کہ آپ اور آپ کی ڈونر ایجنسیاں ہمارے ملک کی این جی اوز کو جو پیسہ دیتی ہیں، ہم چاہتے ہیں وہ اس کا استعمال دیانت داری سے کریں۔ دوسرا ان کے احتساب کا یہاں کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس پر امریکی سفیر سو فیصد متفق تھے۔ امریکی سفارت کاروں نے مجھ سے دو تین مرتبہ ملاقات کی۔ ان کو مس گائیڈ کیا گیا تھا، ان تک غلط معلومات پہنچائی گئی تھیں۔ اس مافیا نے انہیں غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ حکومت ہمارے خلاف اس لیے کوئی کارروائی کرنا چاہ رہی ہے کہ ہم ایٹمی دھماکے کے خلاف تھے، ہم شریعت بل کے خلاف تھے، ہم مسلم لیگ کے خلاف ہیں، اس لیے حکومت ہمارے خلاف ہے۔ امریکی سفارت کار نے اعتراف کیا کہ ہماری ڈونر ایجنسیاں پاکستان میں بعض این جی اوز کو فنڈز فراہم کرتی ہیں۔ دراصل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان والوں نے امریکی سفیر کو کہا تھا کہ یہ منسٹر ہمارے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ ہماری این جی اوز کو بدنام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ شکایت امریکی سفارت کاروں سے کی۔ ان خدشات پر انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے امریکی سفیر سے کہا کہ ہم اینٹی سٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ امریکی سفیر نے کہا ٹھیک ہے یہ آپ کا حق بنتا ہے۔
س...... کیا HRCP آپ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے؟
ج...... میں اگرچہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور بیت المال کا وزیر ہوں، میرے ہاں ۵۹۶۷ این جی اوز رجسٹرڈ ہیں لیکن پنجاب میں جس اتھارٹی کے پاس بھی جو این جی اوز رجسٹرڈ ہیں، ان کی سکریننگ میرے پاس ہے۔
س...... پھر آپ نے کیا
ج...... پہلے ہم نے سکر ۷۵ فیصد مکمل کر لیا ہے۔ اگلا مرحلہ جس میں HRCP بھی آتا ہے، کریں گے۔ سب سے پہلے ہم لاہور لاہور میں سات ہزار این جی اوز ہے اور کر کیا رہے ہیں؟ HRCP ہیومن رائٹس کے لیے کام کرنے بلیک میلنگ بھی کر رہا ہے۔ مخصوص لڑکی بھاگ جاتی ہے، والدین سے موجود ہیں اور ہم مسلمان ہیں، ہما نظریہ ہے، بچی بھاگ کر اگر ان کے تو انہیں چاہیے کہ یہ ان کے والد بچی کے پاس بلائیں۔ ماں بیٹی با کروائیں جو ہمارے اس ملک کا نہیں کرتا۔ یہ کیا کرتے ہیں یہ اسے ہیں، یہ اس بچی کے والدین کی مخال رکھ لیتے ہیں اور پھر اس کی کئی ماہ تک اس کا خاندان معاشرے میں ذلیل لڑکی کی بہنیں ہوں تو ان کا رشتہ پھر یہ اس لڑکی کو اس کے آشنا کے سات کر رہا ہوں۔ اگر کوئی لڑکی کسی آشن والوں کو بھی اعانت جرم میں گرفتا ہوئی ہیں، اغوا ہونے والی بچیاں اور قانون اس بات کی اجازت دیتا کی اجازت دیتی ہے، دستک میں کم بھاگنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، بیٹی اور باپ کی آپس میں جنگ کر جائیں جو غربت اور دکھوں کو چھپا
س...... پھر آپ نے HRCP کے بارے میں کیا جائزہ لیا؟
ج...... پہلے ہم نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے متعلق کام شروع کیا تھا جو ہم نے تقریباً ۷۵ فیصد مکمل کر لیا ہے۔ اگلا مرحلہ ۱۹۲۱ء این جی اوز کا ہے جو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں جس میں HRCP بھی آتا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ڈویژن کے حساب سے این جی اوز کی سکریننگ کریں گے۔ سب سے پہلے ہم لاہور ڈویژن کو شروع کر رہے ہیں۔ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت صرف لاہور میں سات ہزار این جی اوز رجسٹرڈ ہیں۔ ابتدائی طور پر ہم نے جو کام کیا ہے وہ یہ کہ ان کا چارٹر کیا ہے اور کر کیا رہے ہیں؟ HRCP کے بارے اب تک میرے سامنے جو بات آئی ہے کہ یہ خالصتاً ہیومن رائٹس کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے جو چارٹر سے ہٹ چکا ہے وہ سیاست بھی کر رہا ہے بلیک میلنگ بھی کر رہا ہے، مخصوص نظریات کے لیے کام کر رہا ہے۔ مثلاً گھر سے بدقسمتی سے اگر کوئی لڑکی بھاگ جاتی ہے والدین سے لڑ کر بھاگ کر گھر سے چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ روایات بھی موجود ہیں اور ہم مسلمان ہیں، چاہے کسی کی بھی بچی ہو ان کو کوئی ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میرا یہ نظریہ ہے بچی بھاگ کر اگر ان کے پاس ہی چلی گئی ہے کہ میں فلاں لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں تو انہیں چاہیے کہ یہ ان کے والدین سے رابطہ کریں یا اس بچی کو ان کے پاس لے جائیں یا والدین کو بچی کے پاس بلائیں۔ ماں بیٹی باپ بیٹی اور خاندان کے لوگوں کو بٹھا کر ان کا قابل عزت سمجھوتہ کروائیں جو ہمارے اس ملک کا کلچر ہے۔ سمجھوتے ہو جاتے ہیں، کوئی ماں اور باپ اپنی عزت کو تباہ نہیں کرتا۔ یہ کیا کرتے ہیں یہ اسے Exploit کرتے ہیں۔ یہ اس بچی کو بغاوت پر مزید مجبور کرتے ہیں یہ اس بچی کے والدین کی معاشرے میں مکمل تذلیل کرتے ہیں پھر اس بچی کو اپنے ادارے میں رکھ لیتے ہیں اور پھر اس کی کئی ماہ تک میڈیا میں تشہیر ہوتی ہے۔ اخباروں میں اس کی خبریں لگتی ہیں۔ اس کا خاندان معاشرے میں ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ اتنا ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے کہ اس بھاگی ہوئی لڑکی کی بہنیں ہوں تو ان کا رشتہ لینے کے لیے بھی کوئی شریف آدمی اس خاندان میں دوبارہ نہیں آتا پھر یہ اس لڑکی کو اس کے آشنا کے ساتھ بھگا دیتی ہیں۔ میں یہ ساری باتیں HRCP کے بارے میں کر رہا ہوں۔ اگر کوئی لڑکی کسی آشنا کے ساتھ فرار ہو جائے اور جس گھر میں پناہ لے تو پولیس ان گھر والوں کو بھی اعانتِ جرم میں گرفتار کرتی ہے۔ یہ کس قانون کے تحت بچیاں وہاں دستک میں ٹھہری ہوئی ہیں، اغوا ہونے والی بچیاں اور گھر سے بھاگی ہوئی بچیاں دستک میں کیوں بیٹھی ہوئی ہیں؟ کونسا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ دارالامان میں جائیں تو وہ تو ایک سرکاری ادارہ ہے۔ کورٹ اس کی اجازت دیتی ہے دستک میں کس بنیاد پر بچیاں رہتی ہیں؟ میں سمجھتا ہوں اس سے بچیوں کو گھر سے بھاگنے کی ترغیب دی جا رہی ہے بچیوں کو والدین کے خلاف بغاوت کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کیا بیٹی اور باپ کی آپس میں جنگ کروا دینا انسانی حقوق کی بات ہے؟ یہ وہاں ان خواتین کے پاس جائیں جو غربت اور دُکھوں کو چھپائے بیٹھی ہیں ان کے پاس جائیں ان کی امداد کریں یہ انسانی حقوق
کے لیے کام ہوتا ہے۔ انسانی حقوق یہ نہیں ہیں کہ لاہور کے ٹھنڈے بنگلوں میں بیٹھ کر انسانی حقوق کے نام پر لیڈری چمکائی جائے۔ HRCP مکمل طور پر سیاست میں ملوث ہو چکا ہے، ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ سیاست کیوں کرتی ہیں یا کرتے ہیں؟ میں یہ چاہوں گا کہ وہ اس پلیٹ فارم کی بجائے سیاسی پارٹی جوائن کرلیں۔ اس پلیٹ فارم پر وہ جو کچھ کر رہی ہیں، اسے قانون اجازت نہیں دیتا۔ رجسٹریشن کے وقت انہوں نے جو چارٹر دیا ہوا ہے، اس میں یہ بات نہیں لکھی ہوئی کہ HRCP وومن این جی اوز اور عورت فاؤنڈیشن مال روڈ پر آئیں گی اور ایٹمی دھماکے کے خلاف مظاہرہ کریں گی۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی دھماکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں تو انہوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا؟ یہ منافقت کیوں ہے؟
س...... آپ نے HRCP اور عاصمہ جہانگیر کے دیگر اداروں کی سکریننگ کی ہے۔ آپ بتائیں ان کو کن ممالک سے فنڈز ملتے ہیں؟
ج...... عاصمہ جہانگیر کو مخصوص مفادات کے لیے بہت سے ملک پیسہ دیتے ہیں، نام نہ پوچھیں، کروڑوں روپیہ ملتا ہے۔
س...... ان الزامات کے بعد کیا حکومت کا پروگرام ہے کہ HRCP پر پابندی لگائی جائے ۔؟
ج...... ابھی ان کے خلاف سکریننگ جاری ہے اور اس کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ ایسی این جی اوز پاکستان میں مسلمان بچیوں کی برین واشنگ کر رہی ہیں، ان کو باغی بنا رہی ہیں اور کہتی ہیں نکاح کی بھی ضرورت نہیں ہے جب چاہیں جو مرضی آئے کریں۔ ان کے عہدیداروں کی سفر خرچ اور اسی اسی ہزار روپے تنخواہیں ہیں۔ یہ خدمتِ خلق کے لیے ملنے والا پیسہ اپنی گاڑیوں، مہنگے بنگلوں اور اپنی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ۷۰ فیصد سے زیادہ رقم تو یہ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں۔ فائیو سٹار ہوٹل میں سال میں ایک سیمینار منعقد کرا دیا اور فارغ۔ HRCP سمیت تمام این جی اوز جو باہر سے رقم لیتی ہیں، مخصوص مفادات کے لیے رقم لیتی ہیں، پاکستان کے بارے ان کی ۷۰ فیصد رپورٹیں بوگس اور من گھڑت ہوتی ہیں۔ ہم نے ایسی این جی اوز بھی پکڑی ہے جس نے جانور کی لاش کی تصویر بنا کر باہر بھیجی ہے کہ پاکستان میں عورت پر ایسے ظلم ہوتا ہے۔ باہر کے لوگ انسانیت پر بہت یقین رکھتے ہیں انہوں نے جھوٹ تو سنا نہیں ہوتا اس لیے وہ سمجھتے ہیں یہ جو بکواس کر رہی ہے، سچ ہوگی۔ ان کی اکثر رپورٹیں غلط ہوتی ہیں۔ ہم نے اس بار امریکہ سے کھل کر احتجاج کیا ہے کہ ان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پراپیگنڈہ کریں۔ وہ اپنے سفارت خانے سے صحیح معلومات حاصل کریں۔ یہ تو ملک دشمن عناصر ہیں جن سے وہ ساری رپورٹیں لیتے ہیں۔
س...... آپ کچھ عرصے سے این جی اوز کی سکریننگ کر رہے ہیں، کچھ اس کی تفصیلات سے آگاہ کریں؟
ج...... سوشل ویلفیئر فنڈ سے پہلی این جی او ۶۳ء میں رجسٹر سے اب تک این جی اوز کی رجسٹر پنجاب میں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت ہمارے ہاں جعلی، کرپٹ اور ناپید سکریننگ کے لیے ۷ رکنی کمیٹی میں ملک کی چار اہم خفیہ ایجنسیاں چھ اداروں نے اس کام میں حصہ لیا رد کیا ہے جس میں زیادہ مقدار زکوٰۃ کونسل، مرکزی بیت المال کے کئی اور ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ آج غیر سرکاری تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں ا میں انقلاب آ جانا چاہیے تھا یہا نے این جی اوز کو مال بنانے اور کروڑ روپیہ این جی اوز نے خور کروڑ روپیہ عارف نکی نے تقسی جب ہم وہاں گئے تو این جی او مقدس پلیٹ فارم کو فراڈیوں نے ہم ان این جی اوز کے خلاف کا
س...... کیا عارف الزام میں کارروائی کی جائے گی
ج...... جی ہاں عارف نے بھی اور مسلم لیگیوں نے بھ نے بھی لوٹا ہے۔ تمام سیاسی لوٹا ہے۔
س...... کیا آپ غیر ملکی امداد آ رہی ہے؟
ج...... جی ہاں ان مقاصد کے لیے وہ امداد استعمال
ج...... سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے تقریباً ۵۹۶۱ این جی اوز رجسٹرڈ ہیں، سب سے پہلی این جی او ۱۸۶۳ء میں رجسٹرڈ ہوئی جبکہ ستمبر ۹۸ء میں آخری این جی او رجسٹرڈ ہوئی، اس کے بعد سے اب تک این جی اوز کی رجسٹریشن پر مکمل پابندی ہے۔ ۲۹۵۰۰۔ این جی اوز انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ ان این جی اوز میں زیادہ تر این جی اوز کرپٹ ہیں، ہمارے ہاں جعلی، کرپٹ اور ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کی شرح بہت زیادہ ہے۔ سکریننگ کے لیے ۱۷ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی، یہ سکریننگ صرف ہمارے ڈیپارٹمنٹ نے نہیں کی بلکہ اس میں ملک کی چار اہم خفیہ ایجنسیاں بھی شامل تھیں۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے بھی معاونت کی ہے۔ پانچ چھ اداروں نے اس کام میں حصہ لیا ہے۔ پنجاب میں این جی اوز نے کم از کم چار پانچ ارب روپیہ خورد برد کیا ہے جس میں زیادہ مقدار غیر ملکی امداد کی ہے۔ ہمارے ہاں جو ڈونر ادارے ہیں، ان میں نیشنل زکوٰۃ کونسل، مرکزی بیت المال، پنجاب بیت المال، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ہے۔ اس طرح حکومت کے کئی اور ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ آج ورلڈ بینک این جی اوز کو پیسہ دے رہا ہے جس صوبے میں ۴۵ ہزار غیر سرکاری تنظیمیں رجسٹرڈ ہوں اگر وہ سماجی اور معاشی بھلائی کے لیے صحیح کام کریں تو پھر تو اس صوبے میں انقلاب آ جانا چاہیے تھا یہاں پر تو کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی، ۷۵ فیصد سے زیادہ لوگوں نے این جی اوز کو مال بنانے اور عیاشی کا ذریعہ بنایا۔ پنجاب میں صرف سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا ۱۰ کروڑ روپیہ این جی اوز نے خورد برد کر لیا ہے جس میں سے ۴ کروڑ روپیہ منظور وٹو نے بانٹا ہے، ڈیڑھ کروڑ روپیہ عارف نکئی نے تقسیم کیا ہے۔ عارف نکئی نے ایک این جی او کو ۲۶ لاکھ روپے دیئے اور جب ہم وہاں گئے تو این جی او کے دفتر کی بجائے چائے کا کھوکھا تھا۔ خدمت خلق کے اس پاکیزہ اور مقدس پلیٹ فارم کو فراڈیوں نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ جن این جی اوز کو نکئی نے رقم دی ہے، ہم ان این جی اوز کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
س...... کیا عارف نکئی کے علاوہ بھی سیاسی لیڈروں کے خلاف این جی اوز کو نوازنے کے الزام میں کارروائی کی جائے گی؟
ج...... جی ہاں عارف نکئی کے علاوہ بھی کئی سیاست دان ملوث ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لوگوں نے بھی اور مسلم لیگیوں نے بھی این جی اوز کے ذریعے لوٹا ہے، وٹو نے بھی لوٹا ہے اور عارف نکئی نے بھی لوٹا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے این جی اوز کے ذریعے لوٹا ہے۔
س...... کیا آپ کے علم میں ایسی بات ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں یا مذہبی تنظیموں کو بھی غیر ملکی امداد آ رہی ہے؟
ج...... جی ہاں ان کو بھی غیر ملکی امداد آ رہی ہے بے شمار امداد آ رہی ہے اور وہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے وہ امداد استعمال کر رہے ہیں، دینی این جی اوز بھی ہیں۔
س...... این جی اوز کے خلاف اتنا بڑا آپریشن کرنے کا خیال کیسے آیا؟ کیا اس کا کوئی خاص پس منظر ہے حالانکہ آپ سے پہلے بھی محکمہ سوشل ویلفیئر کے وزیر آئے لیکن انہوں نے ایسا ہرگز نہیں سوچا؟
ج...... جب مجھے یہ ڈیپارٹمنٹ دیا گیا، میں نے محکمہ سے بریفنگ لی۔ میں کارکن ہوں، میں وزارت کو انجوائے کرنے والا آدمی نہیں ہوں۔ میں نے دیکھا کہ میرے وزیر اعلیٰ نے مجھے جو اسائنمنٹ دی ہے اس میں میری کیا ذمہ داری ہے۔ میں نے دیکھا کہ مستحق لوگوں کے لیے ہمارے ہاں رجسٹریشن کے بعد جب کروڑوں روپیہ ان کو مل رہا ہے تو کیا ہم انہیں پوچھ نہیں سکتے؟ میں نے قانون پڑھا تو میرے علم میں یہ بات آئی کہ ہمارے ہاں اتنا مضبوط قانون موجود ہے کہ چھ مہینے سے دو سال تک ان کو قید ہو سکتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ جو کروڑوں روپے لے گئے ہیں، کبھی ان سے حساب بھی لیا گیا ہے؟ بدقسمتی رہی کہ اس شعبہ میں کبھی متحرک اور کارکن ٹائپ وزیر آیا ہی نہیں۔ یہ محکمہ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا، ایک لاش کی طرح ہو گیا تھا۔ میں نے پھر اس محکمہ میں جان ڈالی۔ ہر وہ این جی او جو سوشل ویلفیئر میں رجسٹرڈ ہے وہ اس بات کی سو فیصد پابند ہے کہ وہ اپنے حسابات مرتب کرے، اس نے عوامی فلاح کے کون کون سے کام کیے ہیں وہ بتائے اس کی کیا کارکردگی ہے؟ وہ بتانی پڑے گی۔ آڈٹ رپورٹس دینی پڑیں گی۔ میں نے جب چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں۔ سوشل ویلفیئر آفیسران کے ساتھ ملے ہوئے تھے ایک مافیا تھا جو این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ تعلیم، بیماری، صحت، خواتین، بچوں، معذوروں کے لیے رقم آ رہی تھی اور یہ اڑا رہے تھے۔ میں نے جتنی این جی اوز ختم کر دی ہیں انہوں نے آج تک آڈٹ نہیں کروایا تھا۔
بھارت کے شہر گجرات میں جنونی ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہاں دن دہاڑے انتہائی بے دردی سے ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ آگ سے جان بچا کر بھاگنے والوں کو ذبح کر دیا گیا۔ ایک حاملہ خاتون کا پیٹ چاک کر کے اُس کی نظروں کے سامنے اُس کے بچے کو قتل کیا گیا۔ ان کی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ وہاں مسلمانوں کے لہو کی ارزانی، عصمتوں کی پامالی اور حیوانیت کے ننگے ناچ پر ہمارے ہاں حقوق انسانی کی تنظیموں نے جان بوجھ کر اپنے لب سی لئے۔
ڈاکٹر صفدر محمود
اُلو کے ”انسانی حقوق“ مگر انسان کے؟
”استعماری قوتوں کو جب آزادی کی تحریکوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر غلام ممالک سے رخصت ہونا پڑا تو اس کے ساتھ ہی انہیں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کا خیال آیا۔ چنانچہ انسانی حقوق کے دفاع کے لیے عالمی سطح پر انجمنیں بنائی گئیں۔ کل تک انسانوں کو حیوانوں سے کم تر سمجھنے والے چند ہی برسوں میں انسانی حقوق کے ٹھیکے دار بن گئے۔ گویا پرانا شکاری نیا جال لے کر آگیا۔
گزشتہ چند برسوں سے اولاد آدم کے انسانی حقوق کی حفاظت کی اجارہ داری امریکہ کے پاس ہے۔ اُدھر مغربی میڈیا نے انسانی حقوق کو ایک آئیڈیالوجی بلکہ مذہب کا درجہ دے دیا ہے جس سے امریکہ کو یہ استحقاق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے سکتا ہے بلکہ اسے دہشت گرد قرار دے کر سزا کا حق دار ٹھہرا سکتا ہے جہاں انسانی حقوق پر زد پڑتی ہو۔ کس ملک میں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں؟ اس کا فیصلہ بھی امریکہ ہی کرے گا۔ چنانچہ امریکہ عراق پر بمباری کر کے سینکڑوں معصوم شہریوں کو موت کی نیند سلا دے تو وہ انسانی حقوق کے حوالے سے درست اقدام قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن بوسنیا میں ہزاروں معصوم مسلمان سربیائی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائیں تو امریکہ کے ضمیر میں خلش تک نہیں ہوتی کیونکہ بوسنیا مسلمان ملک ہے۔ اسی طرح پاکستان اگر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی مدد کرے تو وہ سزا کا مستحق ہے لیکن بھارت اگر ہزاروں مسلمانوں کو گولی کا نشانہ بنا دے تو اس سے چشم پوشی برتی جائے گی۔
انسانی حقوق کے حوالے سے مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آیا۔ جون ۱۹۹۱ء میں ایک بین الاقوامی سیمینار کے ضمن میں مجھے سان فرانسسکو جانے کا موقع ملا۔ اس سیمینار میں ایشیائی ممالک کے سکالرز کے علاوہ مختلف امریکی یونیورسٹیوں سے بھی ممتاز پروفیسر صاحبان بلائے گئے تھے۔ سیمینار کے آغاز سے ایک روز قبل میں نے ٹیلی ویژن آن کیا تو ایک دلچسپ خبر بمعہ تبصرہ سننے کو ملی۔ کیلی فورنیا کی ریاست میں جنگلات کے وسیع ذخیرے پائے جاتے ہیں کیونکہ وہاں عمارات کی تعمیر میں لکڑی بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے اس لیے سال بھر ان جنگلوں میں کٹائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ خبر یہ تھی کہ کٹائی کے دوران ماہرین جنگلات کو اچانک پتہ چلا کہ اس جنگل میں ایک اُلو صاحب نے اپنا مستقل ”گھر“ بنا رکھا ہے اور جب سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اُلو صاحب اُداس رہنے لگے
ہیں ۔ الو کی اداسی کی خبر سے اس علاقے میں احتجاج ہوا اور کیلی فورنیا کی حکومت نے جنگل کی کٹائی روک دی جس سے لکڑی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا اور گھروں کی تعمیر قدرے مہنگی ہو گئی۔ میں نے یہ ساری خبر اور اس پر تبصرہ ٹیلی ویژن پر سنا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
اگلے دن سیمینار کے دوران چائے کا وقفہ ہوا تو میں نے ممتاز امریکی پروفیسر صاحبان سے اس خبر کا تذکرہ کیا، وہ پہلے ہی سے اس سے آگاہ تھے لیکن جب میں نے ان سے ذکر کیا تو ان کے چہرے خوشی سے گلاب کی مانند کھل گئے۔ اس صورت حال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں نے یہ سوال داغ دیا ”کہ آپ نے ایک پرندے کی اُداسی کی خاطر جنگل کی کٹائی روک کر لکڑی کی قیمت میں اضافہ برداشت کر لیا لیکن چار پانچ ماہ قبل جب عراق کے معصوم شہریوں پر بموں کی بارش کی جا رہی تھی تو آپ کیوں خاموش رہے؟ کیا آپ کو ایک جانور مسلمان کی زندگی سے زیادہ عزیز ہے؟“ میرے اس سوال سے چہروں کے رنگ اُڑ گئے۔ اس ایک واقعہ سے آپ امریکہ کی انسانی حقوق سے کمٹ منٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
”کیوبا کے ساحلی علاقے میں واقع گوانٹاموبے کے فوجی اڈے میں قائم کیمپ ایکسرے میں قید 300 سو سے زائد مسلمان قیدیوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔ افغانستان کی جنگ کے دوران ان قیدیوں کو قندھار میں جہاز پر چڑھانے سے قبل ان کے تمام کپڑے اتروا لیے گئے، انہیں پہننے کو صرف انڈرویئر دیئے گئے۔ ان کی داڑھیاں مونڈی گئیں۔ ان کے کانوں میں روئی ٹھونس دی گئی اور ان کے چہروں پر ماسک چڑھا دیئے گئے اور پھر جہاز میں ان کو سیٹوں کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ اس ضمن میں امریکی وزیر دفاع کا بیان آیا کہ مذکورہ قیدیوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں۔ افغانستان میں شمالی اتحاد کے ملحد فوجیوں نے اتحادی فوجیوں کے ساتھ مل کر بے گناہ شہریوں کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر کی بھی جی بھر کر توہین کی۔ کابل کے شہریوں کی داڑھیاں نوچی گئیں۔ پاکستانی باشندوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعشیں درختوں کے ساتھ لٹکا دی گئیں۔ کئی ایک لاشیں ٹینکوں کے ساتھ باندھ کر گھسیٹی گئیں، سڑکوں پر بکھری لاشوں کے گرد بدمست فوجی رقص ابلیس کرتے ہوئے نظر آئے، بدمعاش اور غنڈے فوجیوں کے ہاتھوں عصمت ماب خواتین کی عصمتیں تار تار ہوئیں۔ مگر مجال ہے کہ مفاد خویش کی قائل حقوق انسانی کی نام نہاد پرچارک ہماری این جی اوز نے ان دلخراش اور جگر پاش واقعات کی مذمت میں ایک لفظ بھی کہا ہو۔“
حامد میر
آوارہ کتوں کے حقوق
انسانی حقوق کے بارے میں این جی اوز کی سرگرمیوں کے بارے میں تو بہت سنا تھا لیکن اب آوارہ کتوں کے حقوق کے لیے بھی این جی اوز بنائی جا رہی ہیں۔ لاہور کی مس سلمیٰ نعیم نے ”لکی ویلفیئر سوسائٹی فار ڈاگز“ کے نام سے ایک این جی او تشکیل دی ہے اور اس ”نیک“ کام میں معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ بھی ان کے قافلے میں شامل ہو چکی ہیں۔ مس سلمیٰ نعیم نے گورنمنٹ کالج لاہور سے زوالوجی (علم حیوانات) میں ایم ایس سی کر رکھی ہے۔ ہمارے ایک محترم دوست منیر احمد منیر نے اپنے جریدے ”آتش فشاں“ میں مس سلمیٰ نعیم کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا جس میں موصوفہ نے پاکستان کے آوارہ کتوں کے حقوق کے لیے دل کی گہرائیوں سے آواز اٹھائی ہے۔ مس سلمیٰ نعیم امریکہ کی معروف فلم سٹار برجی باردوٹ سے متاثر ہیں جس نے آوارہ کتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کام کیا اور لاکھوں ڈالر اکٹھے کر کے ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ مس سلمیٰ نعیم نے پاکستان میں کتوں کے حقوق کے لیے برجی باردوٹ کے انداز میں کام شروع کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں مناسب اراضی الاٹ کی جائے تاکہ وہ کتوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک کمپلیکس تعمیر کر سکیں۔
مس سلمیٰ نعیم کا کہنا ہے کہ پالتو کتے اور آوارہ کتے دو مختلف طبقے ہیں۔ پالتو کتوں کو بیرون ملک سے امپورٹ کیا جاتا ہے حالانکہ عادات و اطوار میں یہ آوارہ کتوں سے مختلف نہیں ہوتے۔ پالتو کتوں کو گھر کی حفاظت کے لیے تربیت دی جاتی ہے لہٰذا یہ اپنے مالک کے گھر کے آس پاس بھاگ دوڑ کرنے والے بچوں کو چور سمجھ کر کاٹ لیتے ہیں۔ پالتو کتوں کی اس بے وقوفی سے آوارہ کتوں پر آفت آ جاتی ہے اور کارپوریشن والے آوارہ کتوں کو مارنے کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ مس سلمیٰ نعیم کا کہنا ہے کہ آوارہ کتے دراصل ایک مظلوم طبقہ ہے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آوارہ کتوں کی فلاح و بہبود کے لیے آواز اٹھانا وقت کا ضیاع ہے تو وہ حضرت عمرؓ کا یہ قول سنا دیتی ہیں کہ ...... ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر گیا تو روزِ قیامت مجھے اللہ تعالیٰ کو حساب دینا پڑے گا“۔ مس سلمیٰ نعیم اپنی این جی او کے مقاصد کو درست ثابت کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کا ایک قول تو ضرور سناتی ہیں لیکن جب زندگی کے دیگر معاملات کے بارے میں اسلامی احکام اور حضرت عمرؓ
کے اقوال کی بات ہو تو وہ خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایسی باتیں کرنا بنیاد پرستی ہے۔ ان کی باتیں پاکستان کے اس طبقے کے انداز فکر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جس کے نزدیک انسانوں کی بجائے آوارہ کتوں کے مسائل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ نسل کے غیر ملکی کتے امپورٹ کرنے پر سالانہ ۱۰ کروڑ ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سالانہ ۱۰ کروڑ ڈالر خرچ کرنے والا طبقہ کون سا ہے؟ یہ وہی طبقہ ہے جس سے مس سلمیٰ نعیم اور ثمینہ پیر زادہ کا تعلق ہے۔ مس سلمیٰ نعیم کو چاہیے کہ وہ آوارہ کتوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت سے قطعہ اراضی مانگنے کی بجائے پاکستان کے امیر طبقے کو آوارہ کتے اپنانے پر آمادہ کریں۔ اگر یہ امیر طبقہ غیر ملکی کتے امپورٹ کرنے کی بجائے گلی محلوں میں گھومنے والے کتوں کو اپنے گھر میں جگہ دے دے تو مس سلمیٰ نعیم کے دل میں ان بے زبانوں کے لیے موجودہ درد خود بخود ختم ہو جائے گا۔ غیر ملکی کتوں سے نجات حاصل کرنے کے لے پاکستان کے امیر طبقے کو غیر ملکی سوچ سے بھی چھٹکارا پانا ہو گا کیونکہ اسی سوچ کے باعث ہم اپنے ملک اپنے کلچر اور اپنی چیزوں کی بجائے غیر ممالک کے کلچر اور امپورٹڈ چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
مس سلمیٰ نعیم اور ثمینہ پیر زادہ شوق سے اپنی این جی او چلائیں لیکن ان سے گزارش ہے کہ وہ صرف آوارہ کتوں پر توجہ نہ دیں بلکہ پاکستان کے کئی بڑے شہروں کے فٹ پاتھوں پر پڑے ہوئے لاکھوں انسانوں کے بارے میں بھی سوچیں۔ پاکستان میں سڑکوں پر بھیک مانگنے والے آوارہ بچوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ سلمیٰ نعیم، ثمینہ پیر زادہ اور ان جیسی دیگر این جی اوز کو چاہیے کہ وہ آوارہ کتوں کے ساتھ ساتھ ان آوارہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کوئی منصوبہ شروع کریں۔ پاکستان میں سب این جی اوز بری نہیں لیکن کچھ این جی اوز ایسی ہیں جنہیں غیر ممالک سے ہڈی پھینکی جاتی ہے۔ غیر ملکی ہڈی کھانے والی این جی اوز پاگل کتوں کی طرح اپنے ہی ملک کے مفادات کے خلاف بھونکنا شروع کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے مس سلمیٰ نعیم جیسی ”مخلص“ خواتین کی این جی اوز خواہ مخواہ بدنام ہوتی ہیں۔ مس سلمیٰ نعیم کو آوارہ کتوں اور پاگل کتوں کا فرق سمجھنا ہو گا ورنہ انہیں اپنے مقاصد کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
❁ ❁ ❁
ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری
رواداری اور حقوق انسانی
شجر رواداری کی ہی اک اور شاخ انسانی حقوق ہیں۔ اس حوالے سے بھی اہل مغرب کے نزدیک پوری امت مسلمہ مجرم ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہاں تک مبنی بر حقیقت ہے اور اس سلسلہ میں خود ان کا اپنا طرز عمل کہاں تک انسانی حقوق کے تقاضے پورے کرتا ہے اس کا اندازہ تو آپ خود ہی آئندہ درج واقعات سے لگا لیں گے۔ لیکن پہلے ہم مسلمانوں کی بنیاد یعنی قرآن و حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک انسانی حقوق کوئی رسم، روایت یا مجبوری نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے محتاج ہیں بلکہ انسانی حقوق تو مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر جب نہ تھا مسلمان اس وقت بھی ان کی ادائیگی اپنا دینی فرض جان کر کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں جبکہ اہل مغرب پہلے بھی کسی ٹھوس بنیاد سے محروم تھے اور آج بھی ہیں۔ اسی لیے ان کے نزدیک انسانی حقوق تو موم کی ناک اور کمزوروں کے خلاف ایک ہتھیار ہے جسے جب چاہیں موڑ لیں اور جب چاہیں استعمال کر لیں۔ کمزور ملکوں اور تیسری دنیا کی اقوام پر چڑھائی کرنے کے لیے اس سے خوبصورت نام شاید اور کوئی نہ ہو۔ اس نام سے جس گھر میں مرضی گھس جاؤ، جس کی عزت چاہے پامال کر دو، جس کی پگڑی چاہے اچھال دو اور جس کی عصمت چاہے نیلام کر دو، کیونکہ انسانی حقوق کی پاسداری ان ’بڑوں‘ کا فرض بنتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خود اس عمل سے کس کے کتنے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں؟ اسے کون پوچھتا ہے!
بلکہ اب تو یہ خیال حقیقت کا روپ دھار چکا ہے کہ ان ’لاٹھی والوں‘ کے نزدیک انسانی حقوق سے مراد صرف غیر مسلموں کے انسانی حقوق ہیں۔ بوسنیا، چیچنیا، کشمیر، فلسطین، فلپائن، صومالیہ، اریٹیریا، انڈیا کے سسکتے مسلمان اس بات پر شاہد ہیں۔ عیسائی دنیا تو شاید زبان سے اس بات کا اقرار نہ کرے، لیکن یہودی تو بہر حال اسے بطور مذہبی فریضہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک انسان تو صرف یہودی ہیں۔ باقی سب لوگ ان کی خدمت کے لیے بطور غلام پیدا کیے گئے ہیں۔ اس لیے ان کے انسانی حقوق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں ایک یہودی ربی (عالم) کا بیان پڑھیے اور خود فیصلہ کیجیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کب تک ایسے کھڑے رہیں گے۔
کیا انسانی حقوق کے نام پر مسلمانوں کو یوں ہی ذبح ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ ہم یہ نہیں
کہتے کہ آپ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں کہ بہرحال اسلام کے نزدیک ہر انسان کی جان محترم ہے مگر ظالم کا ہاتھ روکنا تو بہرحال ہمارا حق بنتا ہے اور آج اگر اپنا گریبان محفوظ سمجھ کر اپنے بھائیوں کے لیے نہ اٹھے تو کل یہ بھی محفوظ نہ رہے گا‘ اور اگر محفوظ رہا بھی تو آخر کب تک؟
”مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر پر متولی کے فرائض سرانجام دینے والے یہودی ربی (مذہبی راہنما) اسحاق جنیبرگ نے مقامی یہودی اخبارات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک ایک یہودی کی زندگی ایک مسلمان اور عرب کی زندگی سے زیادہ افضل ہے۔ یہودی ربی کا کہنا ہے کہ اس بات سے قطعی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مسلمان یہودی کے لیے ضرر کا باعث بنتا ہے یا نہیں‘ کیونکہ ہر حال میں یہودی خون زیادہ محترم اور مقدس ہے۔ یہودی ربی نے مزید کہا کہ ۲۵ فروری ۱۹۹۴ء کو الخلیل شہر کی مسجد ابراہیمی میں باروخ گولڈسٹین نے ۷۰ سے زائد مسلمانوں کو شہید کر کے ”حکم الٰہی“ کی تکمیل کی تھی‘ جس پر وہ مبارک باد کا مستحق ہے۔“ (پندرہ روزہ ”بیت المقدس“ اسلام آباد ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۴ء)
انسانی حقوق کے نام پر
”۴ اپریل ۱۹۹۴ء کو عفولہ کی بستی میں ایک کار بم حملے میں دس یہودی آباد کار ہلاک ہوئے۔ اس بستی سے یہ نعرے بلند کیے گئے تھے ”عربوں کے لیے تباہی ہو“ اور ”باروخ گولڈسٹین‘ تم ہمارے دلوں میں آباد ہو“ اس حملے کا الزام ایک فلسطینی پر تھا‘ لہٰذا سلامتی کونسل نے فوراً ”دہشت گردی“ کی اس کارروائی کی مذمت کر دی‘ مگر ۲۵ فروری ۱۹۹۴ء کو مسجد الخلیل کے قتل عام پر غور کرنے میں اسی سلامتی کونسل کو تین ہفتے لگ گئے اور ایک بے کار سی مذمت کی قرارداد جاری کر دی جس میں اسے ایک تشدد کی کارروائی پر محمول کیا گیا۔ گویا یہ واشنگٹن پر منحصر ہے کہ کسے وہ دہشت گرد قرار دیتا ہے اور کسے محض ایک شدت پسند یعنی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز دیکھیے۔
جنیوا میں حال ہی میں حقوق انسانی کمیشن کے معرکے میں امریکہ سلامتی کونسل پر بھی بازی لے گیا‘ جہاں اس نے گاسپر بیرو Gaspar Biro کی رپورٹ پر مبنی ایک قرارداد پیشتر اس کے کہ کمیشن اس رپورٹ پر غور کرتا‘ تیار کر رکھی تھی۔ سابقہ روسی نو آبادی ہنگری کے گاسپر بیرو کو نسلی معاملات کا ماہر اور محقق ہونے کے ناطے سوڈان کے بارے میں ایک خصوصی رپورٹ تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ بیرو نے ”فرض شناسی“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی شریعت کو ہی بین الاقوامی قوانین کے تحت خلاف قانون قرار دے دیا‘ چنانچہ امریکی قرارداد کے ذریعے سوڈان کو مطالبات کی ایک طویل فہرست دے دی گئی ہے جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اپنے دستور کو بین الاقوامی قوانین کے تحت لائے۔ یہ قرارداد ۹ غیر حاضر ارکان کے مقابلے میں ۳۹ ووٹوں سے منظور ہوئی۔ قرارداد کے حق میں نظر بد دور‘ اسلامی ممالک کی تنظیم کے دو ممالک گبون اور تیونس نے بھی ووٹ ڈالنے کا شرف حاصل کیا۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں‘ یہاں تک کہ اسے راہ راست
پر لانے کے لیے ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کیے میں انسانی حقوق کی پامالی کے اقرار اور اس ایک بالکل مبہم‘ بے ضرر اور بے معنی سی قرارداد سے امریکہ کی مصالحتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں
اگر چین اپنے معاشی اور سیاسی نہیں کرتا‘ اسے سیاسی نظر بندوں کی رہائی مصنوعات برآمد کرنے سے باز نہیں آتا اسے تجارت کے شعبے میں ان مراعات سے چین کہتا ہے کہ جناب حقوق انسانی کی سات دستخط کیے ہیں‘ باقی چھ کو آپ نے اس لیے کا کہنا ہے کہ اس کا دستور اور قانون حقوق انسانی
مزید برآں اگر بھارت جیسے سے کام لینا عین دانش مندی ہو گی۔ صورت جائے تو انسانی حقوق کی بات کرنا بنیادی غبن، اور چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ قانون کی سزا ہوئی تو صدر کلنٹن نے اسے ایک کہ وہ نرمی سے کام لے کر روشن خیالی ہوئے سابق امریکی صدر بش نے اسے جگہ‘ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے جو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کو اپنے اداریے میں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بنانا چاہیے‘ گویا امریکی اقدار کی پیروی سے
یہ ہے کسی آزاد و خود مختار ملک جان لینا چاہیے کہ انسانی حقوق کا ڈھونگ میں مداخلت کرنے اور ان پر حکم چلانے ذریعہ ہے۔
امریکہ بہادر کی نازک مزاجی اسے گوارا نہیں‘ چنانچہ وہ مسلسل پاکستان بیک“ کرو۔ اور جتنا وہ بیچارے اس حکومت
mosque and each began to weep loudly and uncontrol earing these words of Hazrat, an immense agony overc mad would become the very means for his redemptio the fact that he came to Bahawalpur as a supporter o (Allah Bless him and Grant him peace) for the Last Prophet of All Times 2
پر لانے کے لیے ایٹمی ہتھیار بھی استعمال میں لائے جاسکتے ہیں۔ تاہم (بھارتی مقبوضہ) جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے اقرار اور اس بارے میں پاکستان کی حوصلہ افزائی کے باوجود امریکہ نے ایک بالکل مبہم، بے ضرر اور بے معنی سی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے امریکہ کی مصالحتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اگر چین اپنے معاشی اور سیاسی شعبے میں بہتری نہیں پیدا کرتا، امریکی نشریات کا خیر مقدم نہیں کرتا، اسے سیاسی نظر بندوں کی رہائی کا کہا جاتا ہے تو نہیں مانتا، جیلوں میں تیار ہونے والی مصنوعات برآمد کرنے سے باز نہیں آتا، غیر ملکی حکمرانوں سے اپنی جیلوں کا معائنہ نہیں کراتا وغیرہ تو اسے تجارت کے شعبے میں ان مراعات سے محروم ہونا پڑے گا جو از راہ نوازش اسے عطا کی گئی ہیں۔ چین کہتا ہے کہ جناب حقوق انسانی کی سات بین الاقوامی دستاویزات ہیں۔ آپ نے صرف ایک پر دستخط کیے ہیں، باقی چھ کو آپ نے اس لیے رد کر دیا کہ ان سے آپ کی خود مختاری پر حرف آتا ہے، امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا دستور اور قانون حقوق انسانی سے متعلق بین الاقوامی دستاویزات سے بالا تر ہے۔
مزید برآں اگر بھارت جیسا کوئی ملک ہو جس کی معاشی اور سیاسی اہمیت ہے تو چشم پوشی سے کام لینا عین دانش مندی ہو گی۔ صومالیہ اور اسرائیل میں مسلمان خواتین، بچوں کو گولی کا نشانہ بنایا جائے تو انسانی حقوق کی بات کرنا بنیاد پرستی ہے، لیکن سنگاپور میں ایک اٹھارہ سالہ امریکی لڑکا غل غپاڑہ اور چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ قانون کے مطابق اسے چار ماہ قید، چھ کوڑوں اور ۳,۲۲۲ ڈالر جرمانہ کی سزا ہوئی تو صدر کلنٹن نے اسے ایک عام غلطی قرار دیا اور سنگاپور کے صدر اُنگ ٹینگ شیانگ سے کہا کہ وہ نرمی سے کام لے کر روشن خیالی کا مظاہرہ کرے۔ انسانی حقوق کی اس لڑائی میں حصہ لیتے ہوئے سابق امریکی صدر بش نے اسے ”وحشیانہ سزا“ سے تعبیر کیا اور فرمایا، کہ ملکی قانون کی اہمیت اپنی جگہ، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے جوں کا توں مان لیا جائے۔ بابائے سنگا پور لی کوان یو نے سزا کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کو پورے معاشرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ نیویارک ٹائم نے اپنے اداریے میں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے مشورہ دیا کہ انہیں عالمی تصورات کو اپنے دستور کی بنیاد بنانا چاہیے، گویا امریکی اقدار کی پیروی سب پر لازم ہے۔
یہ ہے کسی آزاد و خود مختار ملک کی اصل حقیقت۔ اب تک اگر کسی کو غلط فہمی تھی بھی تو اسے جان لینا چاہیے کہ انسانی حقوق کا ڈھونگ نئے سامراج کا ہتھکنڈہ ہے جو ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور ان پر حکم چلانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ یہ محض سیاسی بلیک میلنگ کا ایک ذریعہ ہے۔
امریکہ بہادر کی نازک مزاجی کا یہ عالم ہے کہ اسلامی قوانین کا کہیں طاق میں رکھا رہنا بھی اسے گوارا نہیں، چنانچہ وہ مسلسل پاکستانی حکمرانوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے کہ اپنے ہاں اسلام کو ”رول بیک“ کرو۔ اور جتنا وہ بیچارے اس حکم کی بجا آوری میں مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اتنا ہی دباؤ
میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ لیکن اس سے یہ نہ سمجھیں کہ دوسرے مسلمان ممالک کا اسلام امریکہ کے لیے قابل برداشت ہے‘ صرف وقت کا انتظار ہے اور جزیرہ نمائے عرب چونکہ سردست مغرب کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر اہمیت کا حامل ہے‘ لہٰذا سعودی اسلام سے درگزر کرنا مصلحت کا تقاضا ہے۔
(ہفت روزہ ”ندائے خلافت“ لاہور‘ ۱۰ مئی ۱۹۹۴ء ص ۱۹)
انسانی حقوق اور ”امریکن کالے“
امریکہ اس وقت عالمی سطح پر بنیادی انسانی حقوق کا چیمپئن بنا ہوا ہے۔ عام طور پر تیسری دنیا کے ملکوں کے لیے امریکی امداد اس بات سے مشروط کر دی جاتی ہے کہ امداد حاصل کرنے والے ملک بنیادی انسانی حقوق کی سربلندی کا اہتمام کریں اور شہری آزادیوں کی بہتر صورت حال کی ضمانت دیں‘ لیکن ”انکل سام“ کے گھر کی یہ حالت ہے کہ ”بلیک امریکی“ فی الحقیقت تیسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے ٹھیکیدار کی اصل تصویر کی ایک ذرا سی جھلک ملاحظہ فرمائیں۔
”بلیک امریکہ کی بغاوتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ نسلی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں۔ امریکہ کی معلوم تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اپریل ۱۷۱۲ء میں نیویارک میں سیاہ فام غلاموں نے بغاوت کر دی تھی۔ گوری پولیس نے دو درجن سے زیادہ غلاموں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں سے چھ نے خود کشی کر لی اور ۲۱ کالے غلاموں کو پھانسی دے دی گئی۔ ۱۸۴۱ء میں کالے غلاموں نے پھر بغاوت کر دی۔ کئی پکڑے گئے ان میں سے ۱۳ کو پھانسی دے دی گئی‘ ۱۴ کو زندہ جلا دیا گیا اور ۷۱ کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی سیاہ باشندے گورے آقاؤں کے ظلم و تشدد سے عاجز آ کر علم بغاوت بلند کرتے رہے اور نسلی فسادات بھی رونما ہوتے رہے۔ ۱۹۶۰ء کا کم و بیش سارا عشرہ نسلی اضطراب و فسادات کی نذر ہو گیا تھا۔ ۱۹۶۰ء کے آغاز میں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کے طور پر نیگرو طلباء نے دھرنا مار کر بیٹھنے کی تحریک شروع کی۔ فروری ۱۹۶۰ء میں چار نیگرو کالج سٹوڈنٹس اپنے کالج کے زینے پر دھرنا مار کر بیٹھ گئے۔ ستمبر ۱۹۶۱ء تک کالجوں میں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کے طور پر دھرنا مار کر بیٹھنے والوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں نیگرووں کے ہمدرد سفید فام بھی شامل تھے۔ ۱۹۶۳ء میں نیگروز نے مساوی حقوق کا مطالبہ کیا۔ اس سال ۲۸ اگست کو دو لاکھ سے زائد افراد نے ”بلیک امریکہ“ کے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی شہرہ آفاق تقریر میں کہا ”میرا خواب ہے...... یہ قوم اٹھے گی اور اپنے عقائد و نظریات کی صحیح ترجمانی کرے گی۔ میرا یہ خواب ایک نہ ایک دن ضرور پورا ہوگا...... خدا نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا ہے۔ انہیں مساوی حقوق بھی حاصل ہونے چاہئیں...... یہ ان کا پیدائشی حق ہے۔...“
مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ۳۹ سال کی عمر میں نسلی منافرت کی نذر ہو گئے۔ انہیں اپریل ۱۹۶۸ء کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا‘ لیکن ان کی محنت رنگ لائی اور امریکی کانگریس ۲۱ جون ۱۹۶۴ء کو شہری حقوق کا قانون منظور کرنے پر مجبور ہو گئی باشندوں کے لیے رائے دہندگی ملازمت امتیاز کی ممانعت کر دی گئی‘ لیکن اس سے
اگست ۱۹۶۵ء کو لاس اینجلز میں نیگروز نے چھ دن تک کے عرصہ میں بدترین فسادات ہو گئے اور املاک کو دو سو ملین ڈالر سے ز سٹارم“ کی لپیٹ میں رہا۔ ان فسادات ہوئے‘ ایک ہفتہ بعد ڈیٹرائٹ میں نسلی ف میں یہاں چالیس افراد ہلاک اور دو ہزار قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی فسادات کی آگ کو بجھایا‘ اسی طرح کچھ امریکی سپاہیوں نے تعاقب کر کے گاڑی لٹا کر لاٹھیوں کی بارش کر دی۔ پاگلوں کی دماغ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ مارنے و سیاہ فام باشندہ تھا۔ اس لیے کوئی شخص آ
اتفاق سے ایک کیمرہ مین و منتقل کر لیا۔ جب مقدمہ جیوری کے سا اینجلس کے سیاہ فام باشندوں کو یقین تھ لیکن ہوا کیا کہ تمام گورے سپاہیوں کو جیو لیے بے انصافی کا یہ واقعہ اتنا بڑا تھا کہ ص لاوا جس طرف بڑھتا گیا‘ بربادی کی داست
امریکی میڈیا نے اس شرمناک دیا۔ ایک سیاہ فام سابقہ صدارتی امیدوار یہ سیاہ فام باشندوں کے حقوق کی حفاظت نے بھی اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا اور فام ڈرائیور کو پولیس کے ہاتھوں پٹنے د پولیس افسروں کو بری کیا گیا‘ وہ سخت تعجب
اس ایک واقعہ نے امریکی چونک اٹھی کہ انسانی حقوق کا چیمپئن اور
حقوق کا قانون منظور کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اس قانون (Civil Rights Bill) کے تحت سیاہ فام باشندوں کے لیے رائے دہندگی، ملازمت، پبلک اکاموڈیشن وغیرہ کے سلسلے میں کسی قسم کے فرق و امتیاز کی ممانعت کر دی گئی، لیکن اس سے پہلے کئی مرتبہ بلیک امریکہ کو خون میں غلطاں ہونا پڑا۔ ۱۶ اگست ۱۹۶۵ء کو لاس اینجلز میں نیگروز نے نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرے کیے۔ یہ مظاہرے ۱۱ سے ۱۶ اگست تک کے عرصہ میں بدترین فسادات کی صورت اختیار کر گئے۔ ان فسادات میں ۳۴ افراد ہلاک ہو گئے اور املاک کو دو سو ملین ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا۔ دو سال بعد ۱۲ تا ۱۷ جولائی نیو جرسی ’بلیک سٹارم‘ کی لپیٹ میں رہا۔ ان فسادات میں ۲۶ افراد ہلاک ہو گئے اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، ایک ہفتہ بعد ڈیٹرائٹ میں نسلی فسادات کا لاوا بہہ نکلا۔ ۲۳ تا ۳۰ جولائی ۱۹۶۷ء کے عرصے میں یہاں چالیس افراد ہلاک اور دو ہزار زخمی اور پانچ ہزار سے زیادہ بے گھر ہو گئے۔ ان فسادات پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی اور ۴۷۰۰ فوجیوں نے آٹھ ہزار نیشنل گارڈز کے ساتھ مل کر فسادات کی آگ کو بجھایا، اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک سیاہ فام موٹر ڈرائیور روڈنی کنگ کو چار گورے امریکی سپاہیوں نے تعاقب کر کے گاڑی سے گھسیٹ لیا، پھر فلارنس اور نارمنڈی ایونیو کے چوراہے پر لٹا کر لاٹھیوں کی بارش کر دی۔ پاؤں کی ٹھوکروں سے تشدد کرتے رہے۔ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور دماغ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ مارنے والے گورے امریکی پولیس کے سپاہی تھے اور پٹنے والا، ایک سیاہ فام باشندہ تھا۔ اس لیے کوئی شخص آگے بڑھ کر اس کی مدد نہ کر سکا۔
اتفاق سے ایک کیمرہ مین وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے تشدد کے اس منظر کو سلولائڈ پر منتقل کر لیا۔ جب مقدمہ جیوری کے سامنے پیش ہوا تو بطور شہادت اس ویڈیو فلم کو پیش کیا گیا۔ لاس اینجلس کے سیاہ فام باشندوں کو یقین تھا کہ انصاف ہو گا اور گورے سپاہیوں کو قرار واقعی سزا ملے گی، لیکن ہوا کیا کہ تمام گورے سپاہیوں کو جیوری نے بری کر دیا۔ لاس اینجلس کے سیاہ فام باشندوں کے لیے بے انصافی کا یہ واقعہ اتنا بڑا تھا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ نفرتوں کا آتش فشاں پھٹ پڑا، جس کا لاوا جس طرف بڑھتا گیا، بربادی کی داستانیں رقم کرتا گیا۔
امریکی میڈیا نے اس شرمناک جانبدارانہ فیصلہ کو امریکی ”نظام انصاف کی ناکامی“ کا نام دیا۔ ایک سیاہ فام سابقہ صدارتی امیدوار، مسٹر جیکسن نے کہا، ”ملک کا نظام انصاف شکستہ ہو چکا ہے اور یہ سیاہ فام باشندوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی بجائے الٹا ان کے خلاف کام کرتا ہے“۔ صدر بش نے بھی اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا اور اپنی نشری تقریر میں کہا، ”میں نے ویڈیو پر ایک کار کے سیاہ فام ڈرائیور کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے دیکھا، وہ بڑا کریہہ منظر تھا، اور جس طرح اس واقعہ میں ملوث پولیس افسروں کو بری کیا گیا، وہ سخت تعجب انگیز تھا“۔
اس ایک واقعہ نے امریکی مہذب معاشرے کے تضادات کو بے نقاب کر دیا، اور دنیا چونک اٹھی کہ انسانی حقوق کا چیمپئن اور جمہوریت کا علمبردار امریکہ رنگ و نسل کے کتنے بڑے تعصب،
میں جکڑا ہوا ہے اور اس کی تہذیب کتنی کھوکھلی اور کمزور ہو چکی ہے۔ چین کی حکومت نے برملا کہا، ”امریکہ کے فسادات سے یہ بات خوب اجاگر ہوگئی ہے کہ وہاں پر انصاف کا معیار کیا ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا شور مچانے والوں کی اپنی صورت حال کیا ہے“۔ امریکہ میں سیاہ فام آبادی آج بھی بدترین نسلی منافرت کا شکار ہے۔ مقامی آبادی ”ریڈ انڈینز“ ہمیشہ سے غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہی ہے۔ روڈنی کنگ کا معاملہ محض ایک چنگاری تھی جس نے نسلی ہیجان و اضطراب کے خاموش آتش فشاں کے دہانے کو کھول دیا۔
امریکی عدالتوں کا دہرا معیار بھی امریکی معاشرہ کا ایک تلخ پہلو ہے کہ جج فیصلہ کرتے وقت دلائل اور شہادت کو دیکھنے کی بجائے رنگ و نسل کو دیکھتے ہیں اگر رنگ گورا ہے تو گناہ معاف یا گناہ کے مقابلہ میں حقیر سزا، اور اگر سیاہ فام باشندہ ہے تو جج صاحبان تمام تر صلاحیتیں اس بات پر صرف کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سزا کم سے کم جرم پر دی جائے ۔ صرف روڈنی کنگ کا واقعہ ہی بطور مثال پیش نہیں کیا جاسکتا، بلکہ عدالتی تاریخ ایسے بدنما دھبوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک ممتاز جج ٹامس اور مشہور باکسر ٹائی سن کے خلاف اس لیے کارروائی کی جاتی ہے کہ وہ سیاہ فام ہیں۔ محمد علی (کلے) کو بھی اس لیے نامساعد حالات سے دوچار کر دیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور سیاہ فام بھی ۔ (پیر کرم شاہ صاحب الازہری اور محترم ہمایوں ادیب صاحب کے مضامین سے ماخوذ،
ماہنامہ ”ضیائے حرم“ لاہور، جون ۱۹۹۲ء)
اسرائیل اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق ؟
- ۱- بغیر وارنٹ گرفتاری
- ۲- جائیداد بحق سرکار ضبط
- ۳- شہریوں کے خطوط اور ٹیلیفون پر سنسر
- ۴- تقریر و تحریر پر پابندی
- ۵- سیاسی نشانات، علامات، اجتماعات پر پابندی
- ۶- پریس پر پابندی
- ۷- یونیورسٹی کی بندش
- ۸- نماز پر پابندی
”اسرائیل نے اس سال فوجی حکم ۱۳۲۹ جاری کیا، جس کے مطابق کسی بھی فلسطینی کو جو خصوصی سمن کی تعمیل نہیں کرتا، اسے یا اس کے خاندان کے کسی فرد کو ۷ سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ یہ خصوصی سمن صرف اُن فلسطینیوں کے لیے جاری ہوتے ہیں جو دفاع کے متعلق جرائم میں ملوث ہوتے ہیں ۔
فوجی حکام کو مقبوضہ علاقے میں فلسطینیوں کے گھروں میں ہر وقت آزادانہ گھسنے کی اجازت
ہے نہ صرف گھروں میں بلکہ دفاعی بنیاد پر کسی بھی جگہ کسی بھی ادارے میں حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی بغیر وارنٹ کے داخل ہو سکتے ہیں۔
۱۵ دسمبر کو سیکورٹی حکام نے فلسطینیوں کے ۱۲ گھروں کو منہدم کر دیا‘ ۳۳ کو تالے لگا دیئے‘ جبکہ دفاعی نقطہ نظر سے ۹۱ میں ۵۵ گھر گرائے گئے اور ۶۲ بحق سرکار ضبط کر لیے گئے۔
سیکورٹی سروس شہریوں کے خطوط کھول کر پڑھ سکتی ہے اور ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو خفیہ طور پر سُن سکتی ہے۔ حکام جب چاہیں کسی علاقے میں ٹیلیفون کی سہولت کو معطل کر سکتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے آزادی تقریر پر پابندی لگا رکھی ہے۔ فلسطینیوں کے سیاسی نشانات اور علامات جیسے جھنڈے‘ قومی رنگ اور Graffiti کی نمائش قابل تعزیر جرم ہے۔ کسی بھی طرح فلسطین کی تنظیم آزادی کی حمایت کا اظہار کرنا سختی سے ممنوع ہے‘ پی ایل او کے علاوہ دوسری مسلمان انتہا پسند تنظیموں حماس اور الجہاد پر مکمل پابندی عائد ہے۔
مشرقی بیت المقدس عربی مطبوعات اور اخبارات کا ایک سرگرم مرکز ہے۔ مغربی کنارے اور غزہ میں صرف ایک ہفتہ وار اخبار شائع ہوتا ہے۔ یہاں بیت المقدس سے شائع ہونے والے اخبارات پڑھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے عربی پریس پر پابندی لگا رکھی ہے‘ اگر عربی پریس عبرانی پریس کی پہلے سے شائع شدہ خبر لگا دے تو بھی سنسر کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مشرقی بیت المقدس میں اخباروں کا متن سنسر کے لیے پہلے فوجی حکام کو بھیجا جاتا ہے۔
اسرائیل نے یروشلم میں اکتوبر میں ”اصیل“ کے پریس دفتر کو بند کر دیا۔ مئی میں مشرقی بیت المقدس کے جریدے ”طفل العربی“ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا‘ کیونکہ اس پر پی ایل او کے ساتھ تعلقات کا شبہ تھا۔ اکتوبر تک ۲۲ فلسطینی صحافی گرفتار یا نظر بند کیے جا چکے تھے۔ باہر سے آنے والی مطبوعات کو بھی سنسر کیا جاتا ہے اور ممنوعہ مطبوعات جیسے بیداری کی تحریک کے پمفلٹ پاس رکھنا بھی جرم ہے‘ جس کی سزا قید اور جرمانہ ہے۔
فلسطینیوں کی آخری یونیورسٹی ”بیرزیت“ کو جسے فوجی حکام نے ۹۲ء کے اوائل میں بند کر دیا تھا‘ اپریل میں دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی۔ فلسطینیوں کو تعلیمی اعتبار سے پسماندہ رکھنے کے لیے عربی سٹڈی سوسائٹی کو ۴ سال قبل بند کر دیا گیا‘ یہ آج تک بند ہے۔ ثانوی اور ابتدائی سکول ۹۲ء۔۱۹۹۰ء کے تعلیمی سال کے دوران بند رہے۔ فوجی حکام کے تحت بغیر اجازت کے ۱۰ یا اس سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد ہے۔ سیاسی جماعتوں اور دوسری انجمنوں جن میں لیبر یونین بھی شامل ہے۔ (انہیں ایجنسیں تصور کیا جاتا ہے) پر مکمل پابندی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں مخصوص عمر کے مرد نمازیوں کو جانے کی اجازت نہیں۔ مغربی کنارے غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں کرفیو اور فوجی بندشوں کا سلسلہ سارا سال جاری رہا۔ انتفاضہ کے ابتدائی دنوں میں غزہ میں رات بھر کرفیو لگا رہتا تھا‘ اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں ۵ سے ۹ دن تک کے وقفے میں کرفیو رہتا ہے۔ اکتوبر ۹۱ء میں قیدیوں کی
ہڑتال کے دوران ۹۲ء کے پہلے ۶ ہفتوں کے دوران ”رملہ“ کے علاقے میں ۲۴ گھنٹے کرفیو نافذ رکھا گیا۔ اتنے طویل کرفیو کے دورانے نے فلسطینیوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے کچھ حقوق انسانی کی تنظیموں نے اسے اجتماعی سزا قرار دیا ہے تاہم کرفیو کا نفاذ اسرائیلی آباد کاروں پر نہیں ہوتا۔
(روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۱۰ فروری ۱۹۹۳ء)
اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی سیاسی قیدیوں کے انسانی حقوق؟
”حال ہی میں رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی تفتیش کاروں کو حکام بالا کی طرف سے وسیع اختیارات مل گئے ہیں اب وہ با آسانی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے تشدد کے نت نئے طریقے دریافت کیے ہیں مثلاً اس وقت تک گلا دبانا جب تک جسم نیلا نہ پڑ جائے۔ بجلی کے جھٹکے دینا، دیواروں کے ساتھ سر ٹکرا دینا اور بُری طرح جسمانی تشدد کرنا۔ اس سال کے آغاز میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے ان سزاؤں کی فہرست بھی جاری کی جو اسرائیلی عقوبت خانوں میں فلسطینیوں کو دی جاتی تھیں۔ ان میں زبانی گالم گلوچ اور دھمکیاں دینا، بھوکا رکھنا، سونے نہ دینا، گھنٹوں حتیٰ کہ دنوں سر کو ڈھانپ دینا، جسم کو بل دے کر بیڑیاں ڈال دینا، تابوت نما سیلوں میں بند رکھنا، سخت گرمی یا سردی میں رکھنا، سخت جسمانی مشقت کرانا، جسم کے تمام حصوں پر گھونسوں، چھڑیوں اور بندوق کے بٹوں سے تشدد کرنا، جسم کے نازک حصوں کو نشانہ بنانا، میزوں اور دیواروں کے ساتھ سر ٹکرانا، سگریٹوں سے جسم داغنا، بجلی کے جھٹکے دینا، شکنجوں میں جکڑ دینا اور مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنا“۔
باوجود اس حقیقت کے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا رویہ مسلمانوں کے معاملے میں انتہائی متعصبانہ ہے اور وہ مظالم کی صحیح اور مکمل رپورٹ بیان نہیں کرتے، اس کے باوجود یہ رپورٹ اتنی بھیانک ہے کہ اس میں انسانی حقوق کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر اصل صورت حال سامنے آ جائے تو وہ کیسی ہو گی۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۶ جولائی ۱۹۹۵ء)
اسرائیلی حکام کا ملاقاتی فلسطینی خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک
ملاقاتی خواتین کو ننگا کر کے تلاشی لی جاتی ہے:
”دارالحق و القانون (دی ہاؤس آف رائٹ اینڈ لاء آرگنائزیشن) جو غزہ کی پٹی میں تشکیل شدہ ایک انسانی حقوق کی تنظیم ہے اس نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کو خواتین کے ساتھ غلط رویے اور قیدیوں سے ملاقات کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے پر اسرائیل کی مذمت کرے۔ تنظیم نے ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ایک ملاقاتی کو اپنے رشتہ داروں اور عزیز واقارب سے ملاقات کرنے کے
لیے کس کس کرب اور ذلت سے گزرنا پڑتا ملاقات کرنے کے لیے سب ہے۔ اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے اجازت مل جاتی ہے ان کے راستے میں بھی میں قید بعض افراد کے ۱۰۰ رشتہ داروں کو ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ملاقاتی واقعہ سے لگائیں۔
”رات کو دو بجے ریڈ کراس کی ب ہوئی ۔ پہلے فوجی چیک پوائنٹ ایریز پر بس کو رو اس کے بعد آگے جانے کی اجازت دی گئی اقدامات متعارف کروانا تھا۔
فوجیوں نے مسافروں سے کہا کہ لیے انہیں تمام کپڑے اتار کر مکمل ننگا ہونا پڑ فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تاکہ وہ گروپ میں فلسطینی خواتین بھی شامل تھیں جن مسلسل گندی گالیاں سننی پڑیں۔ کپڑے اتار مذاق کرتی رہیں اور فلسطینی خواتین کو چھیڑتی رہیں کہ مرد فوجی بھی ننگی خواتین والے کمرے میں آ بعد سفر کی اجازت دی گئی۔ جب گروپ نافحہ جیل نئے قواعد وضوابط کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے داروں کے ساتھ کیسا شرمناک سلوک ہوا ہے تو قید تاکہ یہاں بھی ملاقاتیوں کو دوبارہ ویسی ہی شرمنا نے بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی۔ امریکہ کی ایک مشتمل ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں اسرائیل
انسانی حقوق اور اسرائیل کی انسانیت کش کارر
فلسطینیوں میں ایڈز کی منتقلی:
”یہودی دنیا کی سب سے مکار اور انتہا
’رملہ‘ کے علاقے میں ۲۴ گھنٹے کرفیو نافذ رکھا زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے‘ کچھ حقوق انسانی کی تھا‘ اسرائیلی آباد کاروں پر نہیں ہوتا۔
(روزنامہ ”خبریں“ لاہور، ۱۰ فروری ۱۹۹۳ء)
انسانی حقوق؟
اس نے کہا ہے کہ اسرائیلی تفتیش کاروں کو حکام آسانی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہیں‘ مثلاً اس وقت تک گلا دبانا جب تک جسم مرا دینا اور بُری طرح جسمانی تشدد کرنا۔ نے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے ان سزاؤں کی سطینیوں کو دی جاتی تھیں۔ ان میں زبانی گالم وں حتیٰ کہ دنوں سر کو ڈھانپ دینا‘ جسم کو بل رکھنا‘ سخت گرمی یا سردی میں رکھنا‘ سخت جسمانی اور بندوق کے بٹوں سے تشدد کرنا‘ جسم کے سر ٹکرانا‘ سگریٹوں سے جسم داغنا‘ بجلی کے جھٹکے نہ کرنا“۔
ع ابلاغ کا رویہ مسلمانوں کے معاملے میں ان نہیں کرتے‘ اس کے باوجود یہ رپورٹ اتنی آتا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر اصل
(رائے وقت‘ ۶ جولائی ۱۹۹۵ء)
غیر اخلاقی سلوک
۔ نڈ اینڈ لاء آرگنائزیشن) جو غزہ کی پٹی میں ن الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ قارب سے ملاقات کے راستے میں رکاوٹیں پیدا رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں تفصیل وں اور عزیز و اقارب سے ملاقات کرنے کے
لیے کس کس کرب اور ذلت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ملاقات کرنے کے لیے سب سے پہلے اسرائیلی حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے اور اکثر اوقات درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔ جن کو اجازت مل جاتی ہے‘ ان کے راستے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ۴ جون بروز جمعہ کو نافحہ جیل میں قید بعض افراد کے ۱۰۰ رشتہ داروں کو ملاقات کا اجازت نامہ دیا گیا‘ مگر صرف گیارہ خاندان ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ملاقاتیوں کے ساتھ کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ آپ ذیل کے واقعہ سے لگائیں۔
”رات کو دو بجے ریڈ کراس کی بس غزہ سے ملاقاتیوں کے پہلے گروپ کو لے کر روانہ ہوئی۔ پہلے فوجی چیک پوائنٹ ایریز پر بس کو روک لیا گیا۔ چار گھنٹے تک مسافروں کو انتظار کروایا گیا اور اس کے بعد آگے جانے کی اجازت دی گئی۔ چار گھنٹوں تک روکنے کا مقصد صرف نئے حفاظتی اقدامات متعارف کروانا تھا۔
فوجیوں نے مسافروں سے کہا کہ تمام افراد کی مکمل جسمانی تلاشی لی جائے گی۔ اس کے لیے انہیں تمام کپڑے اتار کر مکمل ننگا ہونا پڑے گا۔ طویل مذاکرات کے بعد فلسطینیوں نے اسرائیلی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تاکہ وہ اپنے عزیز اور رشتے دار قیدیوں سے مل سکیں۔ اس گروپ میں فلسطینی خواتین بھی شامل تھیں جن کو تلاشی کے دوران میں اسرائیل کی فوجی خواتین سے مسلسل گندی گالیاں سننی پڑیں۔ کپڑے اتارنے کے دوران میں یہودی فوجی خواتین نہایت فحش مذاق کرتی رہیں اور فلسطینی خواتین کو چھیڑتی رہیں اور تلاشی کے دوران میں مزید شرمناک حرکت یہ کی گئی کہ مرد فوجی بھی ننگی خواتین والے کمرے میں آتے جاتے رہے۔ اس اذیت اور شرمناک تلاشی کے بعد سفر کی اجازت دی گئی۔ جب گروپ نافحہ جیل میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ جیل حکام نے ملاقات کے نئے قواعد وضوابط کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے۔ جب قیدیوں کو بتایا گیا کہ راستے میں ان کے رشتہ داروں کے ساتھ کیسا شرمناک سلوک ہوا ہے تو قیدیوں نے بطور احتجاج ملاقات کا پروگرام کینسل کر دیا تا کہ یہاں بھی ملاقاتیوں کو دوبارہ ویسی ہی شرمناک تلاشی کے مرحلے سے نہ گزرنا پڑے۔ قیدیوں نے بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی۔ امریکہ کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ۳۱۶ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ ص ۱۵‘ ستمبر ۱۹۹۴ء)
انسانی حقوق اور اسرائیل کی انسانیت کش کاروائیاں
فلسطینیوں میں ایڈز کی منتقلی:
”یہودی‘ دُنیا کی سب سے مکار اور انتہائی ظالم قوم ہے۔ اس کی انسانیت کش کاروائیوں
2 the fact that he came to Bahawalpur as a supporter o hmad would become the very means for his redemptio earing these words of Hazrat, an immense agony overca emosque and each began to weep loudly and uncontroll
(Allah Bless him and Grant him peace) for the Last Prophet of All Times 3
کے بارے میں حال ہی میں عرب لیگ کے حوالے سے ایک مصری اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ بدکاری کے باعث یہودیوں میں ایڈز بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے۔ اس بات کو سامنے رکھ کر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ ایڈز فلسطینیوں، عرب اور دیگر مسلم ممالک میں بھی پھیلنی چاہیے تاکہ صرف یہودی ہی اس ہلاکت خیز بیماری سے ہلاک نہ ہوں۔ مصری اخبار (Roz-al-Yusuf) نے عرب لیگ کے سینئر آفیشیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل ایڈز اور دیگر ہلاکت خیز بیماریاں پیدا کرنے والا خون مشرقی وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھجوا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عرب لیگ نے ایک سرکلر کے ذریعے اپنے ممبر ممالک سے کہا ہے کہ وہ درآمد شدہ خون استعمال کرتے ہوئے احتیاط رکھیں کیونکہ اس میں ایڈز، ہیپاٹائٹس اور دیگر ہلاکت خیز بیماریوں کے وائرس ہوتے ہیں۔ اخبار نے اپنی ۲۴ اگست کی اشاعت میں لکھا کہ آسٹریا کی ایک کمپنی کے تیار کردہ بلڈ یونٹس عرب اور تیسری دنیا کے ممالک کو برآمد کرنے سے پہلے اسرائیل نے ان میں وائرس ملا دیے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ویانا میں عرب لیگ کے سفیر سمیر حمزہ کو آسٹرین چیمبر آف کامرس کے سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ عرب اور ایشیائی ممالک کو بھیجے جانے والے خون اور پلازما میں ایڈز اور دوسری بیماریوں کے وائرس ملائے گئے ہیں۔ جب آسٹرین حکام کو پتہ چلا تو انہوں نے کمپنی کے مالک سے پوچھا تو اس بات کی تصدیق ہو گئی۔
ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا، اسرائیل ایسی حرکتیں پہلے بھی کر چکا ہے۔ جنوری ۱۹۹۷ء میں عبر یو (اسرائیل) کے روزنامہ (Ha'aretz) میں بھی ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ۳۵۰ فلسطینی بچوں کو ایڈز وائرس والے خون کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ نومبر ۱۹۹۸ء)
انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں 'امریکی تنظیموں'
ہیومن رائٹس واچ اور امریکن سول لبرٹیز یونین کی مفصل رپورٹ
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بنیادی انسانی حقوق کی کیفیت کے بارے میں امریکہ کے دو اداروں (NGOS) (Watch Human Rights), (American Civil) امریکن سول لبرٹیز یونین اور واچ ہیومن رائٹس (Liberties Union) نے پہلی بار ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس کے مطابق بنیادی انسانی حقوق سے متعلقہ ۱۹ امور ایسے ہیں، جن کے ضمن میں امریکی ریکارڈ بین الاقوامی سطح پر بہت نیچے ہے۔ سرسری نظر ہی سے دیکھا جائے تو بنیادی انسانی حقوق کی اہمیت کے بارے میں امریکی حکمرانوں کی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ربع صدی (۲۵ سال) کی تاخیر کے بعد ۸ ستمبر ۱۹۹۲ء کو امریکہ نے انٹرنیشنل بل آف رائٹس پر دستخط کر کے اس کا فریق بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شہری اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کے لیے معرض وجود میں آیا تھا۔ آئی سی سی پی آر میں مندرجہ بنیادی حقوق کم و بیش وہی ہیں، جن
کا ذکر آئین میں موجود ہے۔ متذکرہ دونوں اداروں کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مختصر جائزہ یوں لیا گیا ہے۔
۱۔ نسلی امتیاز:
اگرچہ نسلی امتیاز کے ضمن میں امریکی شہریوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی تحفظ مناسب طور پر حاصل ہے‘ لیکن عمل کرتے وقت ان تحفظات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نسلی بنیاد پر جداگانہ تعلیم اور ہر سطح پر نسلی لحاظ سے تعلیمی اداروں کی جداگانہ کیفیت‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ میں بھی نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جداگانہ برتاؤ غالب رہتا ہے۔ مساوی اہلیت اور تجربہ رکھنے کے باوجود سیاہ فام امریکیوں کے مقابلے میں سفید فام امریکیوں کی تعداد ملازمتوں میں تین گنا زیادہ ہے۔ نسلی امتیاز اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک میں عدم درستگی کے باعث امریکہ آرٹیکل نمبر ۲ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جس کا تقاضہ ہے کہ ”ہیومن رائٹس“ کی خلاف ورزی کا سدباب کیا جائے‘ جبکہ آرٹیکل ۲۶ اس امر کا متقاضی ہے کہ امریکیوں کو مساوی اور موثر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
۲۔ جنسی امتیاز:
امریکی معاشرہ میں خواتین کو منظم امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اسے مخصوص مقام اور حالات میں خدمات انجام دینا پڑتی ہیں۔ خواتین کو مخصوص پیشوں تک ہی رسائی حاصل ہے۔ خواتین کے ساتھ شرائط ملازمت اور معاوضے کے معاملے میں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ حکومتی امداد سے قائم کردہ میڈیکل ریسرچ پروگرام کے دروازے خواتین پر بند کر کے بھی خواتین کے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا گیا ہے۔ پبلک سکولوں اور جامعات میں مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں اور خواتین کو کم وسائل حاصل ہوتے ہیں اور ان پر توجہ بھی کم دی جاتی ہے‘ جبکہ ٹائٹل IX کے مینڈیٹ کے مطابق مردوں اور خواتین کو حصول تعلیم میں مساوی مواقع کی ضمانت دی گئی ہے۔ آرٹیکل نمبر ۲۶ نہ صرف امتیازی سلوک کو ممنوع قرار دیتا ہے‘ بلکہ ریاستی جماعتوں کو امتیازی سلوک کے خلاف مساوی اور موثر تحفظ فراہم کرنے کا پابند بھی کرتا ہے۔ مناسب تحفظ کی عدم فراہمی کے نتیجے میں دفعہ ۲۶ کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘ پھر یہ کہ اس امر کا کوئی امکان نہیں کہ آئندہ برسوں میں کوئی خاتون امریکی صدارت کے عہدے پر فائز ہوگی۔
۳۔ لسانی حقوق:
اقلیتی زبانیں بولنے والوں کے ساتھ صحت عامہ‘ سوشل سروسز‘ ملازمت اور تعلیم کے معاملات میں امتیازی برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس لیے انگلش کے خلاف معاندانہ جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسی (۸۰) کی دہائی میں ایک تحریک بھی سامنے آئی تھی‘ جبکہ آرٹیکل ۲۶ لسانیت کی بنیاد پر امتیاز برتنے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ امریکہ میں تضادات کی بناء پر آئینی دعوؤں اور اس قسم
کے امتیازات کے ضمن میں پست درجے کا عدالتی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مذکورہ تحفظ کو اس ضمانت کے ساتھ تسلیم کیا گیا کہ امتیازی سلوک کی اس وقت اجازت ہوگی‘ جبکہ حکومت کے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو۔ اس ضمانت کے خاتمے اور شہری و سیاسی حقوق کے نفاذ کے باعث لسانی اقلیتوں کو مطلوبہ تحفظ حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
۴۔ تارکین وطن اور مہاجرین: ہیٹی سے آمدہ کشتی کو روک کر اس میں سوار افراد کو واپس کر دینے کا امریکی عمل آئی سی سی پی آر (انٹرنیشنل کوونٹ برائے سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس) کی دفعہ ۱۲ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ دفعہ کے مطابق ہر فرد اس معاملے میں آزاد ہے کہ وہ کسی ملک کی رہائش ترک کر دے۔ بشمول اس ملک کا جس کا وہ پیدائشی طور پر شہری ہے۔ امریکیوں کے اسی عمل سے آرٹیکل ۲۶ کی بھی خلاف ورزی ہوئی جو قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنے کی ممانعت کرتا ہے۔ امریکی بارڈر پر پیٹرول ایجنٹوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی سے آرٹیکل سات کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے‘ جو تشدد‘ ظلم‘ غیر انسانی اور ہتک آمیز رویے سے مبرا برتاؤ پر زور دیتا ہے۔ امیگریشن کے اہلکار عموماً جو رویہ اختیار کرتے ہیں‘ اس سے دفعہ ۹ (۱) کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے جو فرد کو آزادی کا اور تحفظ کا حق دیتی ہے۔
۵۔ جیلوں کی صورت حال: امریکہ عام طور پر آئی سی سی پی آر کی دفعہ دس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ مذکورہ دفعہ اس امر کی طالب ہے کہ تمام قیدیوں اور زیر حراست افراد کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائے جو انسانیت پر مبنی ہو اور ان کی عزت نفس و انسانی اقدار مجروح نہ ہوں۔ امریکہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھتا ہے‘ جہاں انہیں پوری سہولتیں میسر نہیں ہوتیں‘ جیل میں قیدیوں کو جو ماحول میسر ہے اس سے ان کی عزت نفس مجروح‘ نجی زندگی پامال‘ صحت اور تحفظ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ آرٹیکل دس کی خلاف ورزی بعض فنی امور اور سزاؤں کے لیے اختیار کردہ طریقوں کے باعث ہوتی ہے‘ کئی قیدی برس ہا برس یوں ہی بیرونی فضا کے بغیر محبوس زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ بعض قیدیوں کو پشت پر بندھے ہاتھوں کے باعث بغیر ہاتھوں کے کھانا کھانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ نیز خواتین قیدیوں کے ساتھ غیر مساویانہ اور غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔
۶۔ پولیس کے مظالم: ۱۹۹۱ء میں پولیس کے ہاتھوں روڈنی کنگ کی پٹائی سے امریکہ میں پولیس کے مظالم منظر عام پر آئے اور امریکہ کو انسانی حقوق کے ضمن میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ طاقت کا مسلسل بے جا استعمال اکثر حالات کو خراب کرنے کا ذمہ دار ہوا کرتا ہے۔ اس سے آرٹیکل (۷) سات کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘ جو غیر انسانی‘ ظالمانہ اور ہتک آمیز رویے و سزا کو ممنوعہ قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں
امریکی حکومت کی جانب سے مناسب اقدا امریکیوں سے سرزد ہوئی ہے۔
۷۔ اظہار رائے کی آزادی: ہر چند کہ اظہار آزادی کے لیے آزادی کے ضمن میں خود کو علمبردار بھی گرد امریکہ پورا کرنے سے گریزاں ہے۔ مذکو کی ترسیل‘ جستجو اور انہیں حاصل کرنے کا حق اطلاعات کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کر بعض متنازعہ مقررین کو ویزے دینے سے ان کے وہاں سے آمدہ اطلاعات کی راہ میں رک بیرونی سفر کر کے اطلاعات کے آزادانہ حص وار“ کے دوران میڈیا پر غیر منصفانہ اور سخت پ
۸۔ مذہبی آزادی: ۱۹۰۰ء میں اپیلائٹ ڈویژن فیصلہ دیتے ہوئے آئین میں پہلی ترمیم پر ش میں مذہب کی آزادی کو آئینی تحفظ حاصل ہ یہ شدید حملہ حال ہی میں کانگریس کے منظور کر روک دیا گیا‘ گزشتہ تین برس کے تجربات میں میں امریکی معاشرہ انحطاط کا شکار ہے اور آد معاملے میں ایک تحفظاتی اضافے کی حیثیت اور انسانی بنیادی حقوق کے حوالے سے بیرو کردار واضح ہو جاتا ہے اور یہ بات ثابت ہو امریکہ کو ہی سبقت ہے۔ (ماہنامہ ”الفاروق“
انسانی حقوق اور اصولوں کی علمبردار فرانسیس ”آج سے ۳۸ سال قبل کی بات سر توڑ کوششیں کر رہے تھے اور اپنے جلاوطن قاہرہ‘ بلغراد اور روم میں فرانسیسی حکومت سے ب ملنا چاہئے‘ مگر فرانس ان کے جائز اور قانونی اس کو جلاوطن رہنماؤں کی جدوجہد بھی کاٹنے
امریکی حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہ کیے جانے کے باعث دفعہ دو کی خلاف ورزی بھی امریکیوں سے سرزد ہوئی ہے۔
۷۔ اظہار رائے کی آزادی:
ہر چند کہ اظہار آزادی کے لیے امریکہ نے مثبت اقدام کیے ہیں اور امریکہ اظہار رائے کی آزادی کے ضمن میں خود کو علمبردار بھی گردانتا ہے، لیکن آئی سی سی پی آر کی دفعہ ۱۹ کی ضروریات کو امریکہ پورا کرنے سے گریزاں ہے۔ مذکورہ دفعہ ۱۹ سرحدوں کی حدود و قیود سے بالاتر ہو کر اطلاعات کی ترسیل، جستجو اور انہیں حاصل کرنے کا حق عطا کرتی ہے، جبکہ امریکہ اندرون ملک اور بیرون ملک اطلاعات کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کر کے دفعہ ۱۹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ امریکہ نے بعض ممتاز مقررین کو ویزے دینے سے انکار کیا، بعض ممالک پر معاشی پابندیوں کا قانون نافذ کر کے وہاں سے آمدہ اطلاعات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں، امریکیوں نے اپنی اہلیت کے مطابق بیرونی سفر کر کے اطلاعات کے آزادانہ حصول اور جستجو کی راہیں مسدود کر دیں۔ امریکہ نے ”گلف وار“ کے دوران میڈیا پر غیر منصفانہ اور سخت پابندیاں عائد کر کے بھی دفعہ ۱۹ کی خلاف ورزی کی تھی۔
۸۔ مذہبی آزادی:
۱۹۰۰ء میں ایسپلائٹ ڈویژن بنام سمتھ کے ایک مقدمے میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے آئین میں پہلی ترمیم پر شدید نکتہ چینی کی۔ یاد رہے کہ پہلی ترمیم کے مطابق امریکہ میں مذہب کی آزادی کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ خوش قسمتی سے امریکی عدالت کا مذہب کی آزادی پر یہ شدید حملہ حال ہی میں کانگریس کے منظور کردہ ”بحالی مذہبی آزادی کے ایکٹ“ کی منظوری کے بعد روک دیا گیا، گزشتہ تین برس کے تجربات میں یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ تحفظ مذہبی آزادی کے ضمن میں امریکی معاشرہ انحطاط کا شکار ہے اور آئی سی سی پی آر مذہبی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق کے معاملے میں ایک تحفظاتی اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ متذکرہ جائزے کی روشنی میں دہشت گردی اور انسانی بنیادی حقوق کے حوالے سے بیرون امریکہ اور اندرون امریکہ امریکی حکمرانوں کا گھناؤنا کردار واضح ہو جاتا ہے اور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی میں بھی امریکہ کو ہی سبقت ہے۔
(ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی ربیع الاول ۱۴۱۶ھ ص ۱۰،۸)
انسانی حقوق اور اصولوں کی علمبردار فرانسیسی حکومت کا تحریک آزادی کے رہنما سے سلوک
”آج سے ۳۸ سال قبل کی بات ہے جب الجزائر کے مسلمان حصولِ آزادی کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے اور اپنے جلاوطن رہنما بن بیلا کی قیادت میں سُوئے منزل گامزن تھے، وہ قاہرہ، بغداد اور روم میں فرانسیسی حکومت سے بھی مذاکرات کر چکے تھے کہ آزادی ان کا حق ہے جو ان کو ملنا چاہیے، مگر فرانس ان کے جائز اور قانونی حق اور مطالبے کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا، حتیٰ کہ اس کو جلاوطن رہنماؤں کی جدوجہد بھی کانٹے کی طرح کھٹکنے لگی اور تحریک آزادی کے سرکردہ مسلمان
جب حسن بن بیلا کی قیادت میں شاہ حسین سے ملنے جا رہے تھے تو طیارے کو اغوا کر کے فرانسیسی فوج کے حوالے کر دیا گیا‘ جہاں ان رہنماؤں کو بغیر مقدمہ چلائے چھ سال تک فرانس کی جیل میں رکھا گیا یہ ہے انسانی حقوق اور اصولوں کی علمبردار فرانسیسی حکومت کی ایک مسلمان ملک کے رہنماؤں سے سلوک کی داستان!‘‘
(ماہنامہ ”صدائے مجاہد“ مئی ۹۵ء ص۲۰)
اگر آج ایسا ہی سلوک کسی فرانسیسی رہنما سے تو کجا کسی عام فرانسیسی شہری سے بھی کیا جائے تو کیا فرانس اسے گوارا کرے گا؟ فرانس تو کیا بلکہ پوری عیسائی دنیا انسانی حقوق کے نام پر ایک طوفان کھڑا کر دے گی اور ایسا شور مچے گا کہ الامان والحفیظ۔ یہاں تو ہم نے دیکھا کہ مغربی دنیا اپنے مجرموں کی پشت پناہی بھی اس دھڑلے سے کرتی ہے کہ ہم اس طرح اپنے لیڈروں کی حمایت بھی نہیں کر سکتے۔ ”سچ ہے کہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“۔ سارے قانون‘ سارے ضابطے‘ سارے بندھن اور ساری زنجیریں مسلمانوں کے لیے ہی تو ہیں اور بڑوں کا تو ویسے بھی حق ہے نا کہ ماریں بھی اور رونے بھی نہ دیں۔
”حقوق انسانی کی آڑ میں امریکہ کا گھناؤنا فعل“
لواطت سے روکنا بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے:
”حقوق انسانی“ الہ دین کا ایسا چراغ ہے جو امریکہ کے ہاتھ میں ہے‘ وہ چراغ دکھا کر جہاں جو چاہتا ہے شروع کر دیتا ہے‘ چنانچہ پچھلے دنوں ۲۶ جون کو امریکی حکومت نے خود ہی ایک مظاہرہ کروایا جس میں مظاہرین نے یہ مطالبہ کیا کہ ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کے لیے آزادانہ جنسی اختلاط کا حق تسلیم کیا جائے اور اسے انسانی حقوق کے منشور میں شامل کیا جائے۔
مظاہرہ ہوتے ہی امریکہ کی خاتون اٹارنی جنرل نے اعلان کر دیا کہ اگر کسی ملک میں کسی فرد (مرد‘ عورت) کو ہم جنس پرستی کے جرم میں سزا دی جاتی ہو‘ تو وہ امریکہ میں پناہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس نے بتلایا کہ میں اس سلسلہ میں امیگریشن کے قوانین میں مطلوبہ تبدیلیوں کی سفارشات پیش کرتی ہوں۔
ذرا اندازہ کیجئے‘ قارئین کرام! دنیا کے نام نہاد مہذب اور واحد سپر پاور کی سوچ کہ اگر کوئی قوم لوط والا عمل کرتا ہے اور اسے اس سے روکا جاتا ہے‘ تو یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے اور امریکہ اپنے قوانین میں تبدیلی کر کے اسے سینے سے لگائے گا۔
ایڈز کی ماری ہوئی‘ گندی اور رذیل قوم جو اس سطح تک پہنچ جائے‘ اسے تو اللہ کی زمین پر ویسے ہی رہنے کا حق نہیں‘ چہ جائیکہ وہ سپر پاور بن کر ساری دنیا پر حکمرانی کرے۔ آہ! امت مسلمہ جو امتِ جہاد ہے‘ اس نے عزت کا راستہ ترک کر دیا اور آج ذلیل ترین لوگ ان کے فیصلے کرتے ہیں۔ بوسنیا کے مظلوم کہ جنہیں ظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلحہ کی ضرورت ہے‘ انہیں خوراک دی جاتی ہے‘ افریقہ کہ جہاں خوراک کی ضرورت ہے وہاں اسلحہ دیا جاتا ہے‘ اور پاکستان جیسے ممالک کے جہاں
ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے وہاں منصوبہ شعبہ جو اقوام متحدہ کی چھتری تلے ساز
انسانی حقوق اور قیدی:
امریکہ میں قیدیوں کو ایک ساتھ زن ”انسانی حقوق کی بین الا کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا دی جاتی ہیں اور ایذا رسانی کے دورا گیا ہے کہ امریکہ کی متعدد ریاستوں سے مشقت لی جاتی ہے۔ گزشتہ برس تشدد کا نشانہ بنایا گیا“۔ (روزنامہ ”نو
امریکی جیلوں کا ذکر چل عبدالرحمٰن کے نام سے جانتی ہے‘ علمبردار کا اصل چہرہ دیکھیے۔
سپرنگ فیلڈ جیل سے شیخ عمر عبدالر
”۷۵ سالہ شیخ عمر عبدالر کے فارغ التحصیل ایک نابینا عالم ہیں الفاظ دلوں میں اترتے چلے جاتے ہی عبدالناصر کے عہد میں حوالہٴ زنداں ر جاسکا‘ افغان جہاد کے دوران وہ نوجو مطالبہ بھی ان کو عزیز رہا‘ حکومت ن چلے گئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت د
یہاں ان پر تخریب کاری گردی کی منصوبہ سازی بھی ان کے س لیکن مختلف المیعاد قید کی سزائیں سنائی اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزا کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں اور نہ م استغاثہ نے ان کی تقریرو سیاق و سباق یوں دیا کہ انہیں اپنی مر نے ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو
ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے‘ وہاں منصوبہ بندی کے پروگرام دیئے جاتے ہیں۔ یہ ہے انسانی حقوق کا شعبہ جو اقوام متحدہ کی چھتری تلے ساری دنیا میں دندنا رہا ہے۔ (ماہنامہ ”میثاق“ اکتوبر ۱۹۹۴ء ص ۳۸)
انسانی حقوق اور قیدی:
امریکہ میں قیدیوں کو ایک ساتھ زنجیروں میں باندھ کر اذیتیں دی جاتی ہیں:
”انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی پر امریکہ کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکہ میں بھی حراست کے دوران قیدیوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں اور ایذا رسانی کے دوران قیدیوں کی اموات بھی ہوتی ہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں کئی قیدیوں کو ایک ساتھ زنجیروں میں جکڑنے کے بعد ان سے مشقت لی جاتی ہے۔ گزشتہ برس ریاست الابامہ میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے لاتعداد قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۱۱ جولائی ۹۶ء)
امریکی جیلوں کا ذکر چلا ہے تو اس ضمن میں ایک مسلمان نابینا قیدی جسے دنیا شیخ عمر عبدالرحمن کے نام سے جانتی ہے کی داستان الم بھی سن لیجیے اور اس آئینہ میں انسانی حقوق کے علمبردار کا اصل چہرہ دیکھیے:
سپرنگ فیلڈ جیل سے شیخ عمر عبدالرحمن کا مکتوب اور حقوق انسانی:
”۵۷ سالہ شیخ عمر عبدالرحمن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ وہ جامعہ الازہر کے فارغ التحصیل ایک نابینا عالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں ایسی تاثیر رکھ دی ہے کہ ان کے الفاظ دلوں میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ وہ حافظ قرآن ہیں اور قرآن ہی ان کی زندگی ہے۔ جمال عبدالناصر کے عہد میں حوالہ زنداں ہوئے انور سادات کے قتل کا الزام ان پر لگا لیکن جرم ثابت نہ کیا جا سکا‘ افغان جہاد کے دوران وہ نوجوانوں کو اس میں شرکت پر تیار کرتے رہے‘ مصر میں نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی ان کو عزیز رہا‘ حکومت نے ان کے راستے میں اس طرح دشواریاں کھڑی کیں کہ وہ امریکہ چلے گئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔
یہاں ان پر تخریب کاری کا الزام لگایا گیا۔ مصر کے صدر حسنی مبارک کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ سازی بھی ان کے سر تھوپی گئی اور چند ہی ماہ پہلے انہیں اور ان کے ۹ ساتھیوں کو طویل لیکن مختلف المیعاد قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ کم سے کم پچیس اور زیادہ سے زیادہ ستاون سال۔ شیخ نے اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی اور واضح طور پر کہا کہ بم بنانا اور نصب کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کوئی مسلمان مبلغ اس طرح کی حرکت کر سکتا ہے۔
استغاثہ نے ان کی تقریروں کے بعض ٹکڑوں کو اس طرح کاٹ کاٹ کر جوڑا اور انہیں نیا سیاق و سباق یوں دیا کہ انہیں اپنی مرضی کے معانی دینا ممکن ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مصری جاسوس نے ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر ان کی تقریروں اور گفتگوؤں کے ریکارڈ تیار کیے۔ اسے در،
لاکھ ڈالر معاوضہ کے طور پر ادا کیے گئے۔ اسلامی علم الکلام اور اصطلاحات سے واقف لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ جہاد اور جدوجہد کو تشدد پر اکسانے کا نام کس آسانی سے دیا جاسکتا ہے۔
جناب شیخ اس وقت سپرنگ فیلڈ جیل میں ہیں، انہوں نے وہاں سے ایک خط دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام لکھا ہے جس کا متن اسلامی تحریک کے ممتاز مجلے ”کریسنٹ انٹرنیشنل“ میں چھپا ہے۔ خط ملاحظہ ہو:
”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ سردار انبیاء حضرت محمد ﷺ پر ان کی آل پر اور ان کے وفادار ساتھیوں پر روز قیامت تک نزول رحمت ہو۔ اس جیل کے حالات جہاں میں مقید ہوں بدترین اور انتہائی نا گفتہ بہ ہیں۔ اس کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل حقائق سے کر سکتے ہیں:
- ۱۔ امریکی حکام مذہبی آزادی اور عبادت کرنے کی آزادی کے جو دعوے کرتے ہیں، وہ
سب ایک فریب اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۵ء میں اس جیل میں آنے کے بعد سے لے کر آج تک نہ تو مجھے نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی باجماعت نماز ادا کرنے کی۔
- ۲۔ جیل میں مجھ سے انتہائی متعصبانہ اور ناروا امتیاز برتا جاتا ہے۔ جب دوسرے قیدی
محافظوں کو بلاتے ہیں تو محافظ فوراً ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ میں گھنٹوں اپنی کوٹھڑی کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہوں۔ لیکن مجھے کوئی جواب تک نہیں ملتا اور میری ضروریات پر بھی دھیان نہیں دیا جاتا۔
- ۳۔ بال اور ناخن ترشوائے بغیر مہینوں گزر جاتے ہیں اور اپنا زیر جامہ تک مجھے اپنے
ہاتھوں سے دھونا پڑتا ہے۔
- ۴۔ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے (یاد رہے کہ شیخ عمر عبدالرحمان نابینا ہیں، ذیابیطس کے
مریض ہیں اور بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں) اس حالت میں بھی کوئی بھی میرا ساتھی اور مددگار نہیں جو اور کچھ نہیں تو کم از کم میرا سامان وغیرہ درست کرنے میں میری مدد کر دے۔ دن اور رات کے کسی بھی لمحے میرے ساتھ گفتگو کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مجھے کسی دوسرے قیدی کے ساتھ علیک سلیک کرنے کی اجازت نہیں۔ میری کوٹھڑی کے نزدیک کسی دوسرے مسلم، غیر مسلم یا کسی ایسے شخص کی کوٹھڑی بھی نہیں ہے جو عربی بول سکتا ہو۔ میرے دن خاموش ہیں، میری راتیں خاموش ہیں۔ یہ کس قدر اذیت ناک تنہائی اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ ایسا کر کے وہ مجھے ذہنی اور جسمانی مریض بنا دینا چاہتے ہیں تا کہ وہ مجھ سے مسلمان ہونے کا بدلہ لے سکیں۔ کیا یہ وہی انسانی حقوق ہیں، جن کے شور سے ہوا کی لہریں اور ذرائع ابلاغ بھرے پڑے ہیں۔ انسانی حقوق کی دہائی دینے والے ہمیں صرف اس لیے مشق ستم بناتے ہیں کہ ہماری آواز کمزور ہے اور ہم بات کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
- ۵۔ کیا آپ نے برہنہ تلاشی اور پوشیدہ اعضاء کی پردہ دری کے بارے میں کبھی سنا ہے؟
لوگ آئیں اور اوپر سے نیچے تک کپڑے اتار کر انسان کو اس حالت میں لے آئیں جس میں وہ پیدا
ہوا تھا؟ خدا کی قسم جب بھی کوئی دوست یا عزیز (جو اسلام میرا خاندان ہے) مجھ سے ملنے آتا ہے تو اس ملاقات کے بدلے میں مجھے دو مرتبہ برہنہ کیا جاتا ہے۔ کپڑے اتار دوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اُس ”کرلنگ ڈے“ نامی ایک اور شخص اور جیل کے دیگر رانیں کھول کر آگے کی طرف جھک جاؤں اور پھر یہ سے مزید کچھ کہنا مجھے زیب نہیں دیتا۔ میں اپنے رب یہ ضرور کہوں گا کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں کریں۔ وہ میرے پوشیدہ اعضاء کی اچھی طرح لگاتے ہیں۔ جب میں مادر زاد برہنہ حالت میں ہوئے میرے پوشیدہ اعضاء کے اندر جھانکتے ہیں وقت لیتا ہے، اسے تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ میرے ساتھ ایسا انسانیت سوز اور ذلت اور اس طرح کے سلوک کو میرے خدا نے منع فرمایا
وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟ انہیں مراد پالی ہے۔ وہ میرے جسم کے پوشیدہ اعضاء ان ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور منشیات کو تلاش تک پہنچاتا ہوں یا اپنے ملاقاتیوں سے لے کر ان دو مرتبہ مجھ سے ناروا سلوک کرتے ہیں۔ اس سلوک پانی ہو جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اس سے پہلے میرا وجود نگل لے۔ کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے کے محافظ ہیں؟
اے اخوت کے علمبردارو، بہادرو، کوہ والو! اے دین کی عظمت و وقار کے لیے قربانی دی ہو جاؤ۔ اپنی گرجتی ہوئی آواز کے ساتھ کھڑے دنیا کے گوشے گوشے میں سنائی دے۔ اے بند قطع کر ڈالو۔ اس سے پہلے کہ کافرانہ جارحیت ہ
کیا جیلیں علماء کے لیے ہوتی ہیں طرف سے گھرا ہوا ہے۔ اللہ اکبر کی صدائیں ب
the fact that he came to Bahawalpur as a supporter of mad would become the very means for his redemption earing these words of Hazrat, an immense agony overcam emosque and each began to weep loudly and uncontrolla
2
for the Last Prophet of All Times (Allah Bless him and Grant him peace)
3
ہوا تھا؟ خدا کی قسم جب بھی کوئی دوست یا عزیز (حالانکہ امریکہ میں میرا کوئی رشتے دار نہیں۔ تمام عالم اسلام میرا خاندان ہے) مجھ سے ملنے آتا ہے تو میرے ساتھ یہ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک ملاقات کے بدلے میں مجھے دو مرتبہ برہنہ کیا جاتا ہے۔ جیل کے حکام مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنے تمام کپڑے اتار دوں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اتنی بات پر مطمئن ہو جائیں گے لیکن جیل کا چیف گارڈ ”کرننگ ڈے“ نامی ایک اور شخص اور جیل کے دوسرے بہت سے محافظ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں رانیں کھول کر آگے کی طرف جھک جاؤں اور پھر وہ جانوروں کی طرح...... شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے مزید کچھ کہنا مجھے زیب نہیں دیتا۔ میں اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے پوری مسلم امت سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کریں۔ وہ میرے پوشیدہ اعضاء کی اچھی طرح تلاشی لیتے ہیں۔ میرے اردگرد کھڑے ہو کر قہقہے لگاتے ہیں۔ جب میں مادر زاد برہنہ حالت میں جھکا ہوا ہوتا ہوں تو محافظ میرے اردگرد گھومتے ہوئے میرے پوشیدہ اعضاء کے اندر جھانکتے ہیں اور جو شخص میرا اس طرح معائنہ کرتے ہوئے زیادہ وقت لیتا ہے‘ اسے تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنا فرض نہایت تندہی سے انجام دیا ہے۔ وہ میرے ساتھ ایسا انسانیت سوز اور ذلت آمیز سلوک اس لیے کرتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں اور اس طرح کے سلوک کو میرے خدا نے منع فرمایا ہے۔
وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟ انہیں تو ان کا شکار ہاتھ لگ گیا ہے۔ انہوں نے اپنی منزل مراد پالی ہے۔ وہ میرے جسم کے پوشیدہ اعضاء میں کیا تلاش کرتے ہیں؟ کیا وہ میرے اعضاء میں ان ہتھیاروں‘ دھماکہ خیز مواد اور منشیات کو تلاش کرتے ہیں جو میں اپنی کال کوٹھڑی سے اپنے احباب تک پہنچاتا ہوں یا اپنے ملاقاتیوں سے لے کر اپنی کوٹھڑی میں لے جاتا ہوں۔ وہ ہر ملاقات کے بعد دو مرتبہ مجھ سے ناروا سلوک کرتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں شرمندگی اور ندامت سے میرا وجود پانی پانی ہو جاتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ لوگ میری تذلیل کریں‘ زمین پھٹ جائے اور میرا وجود نگل لے۔ کیا یہ بات ان لوگوں کے لیے خوش کن ہو سکتی ہے جو اپنے دین اور اس کی عظمت کے محافظ ہیں؟
اے اخوت کے علمبردارو بہادر لوگو! اے اپنے دین کی حفاظت اور احکام خدا کی تعمیل کرنے والو! اے دین کی عظمت و وقار کے لیے قربانی دینے والو! اے اللہ کے بندو! اب تو گہری نیند سے بیدار ہو جاؤ۔ اپنی گرجتی ہوئی آواز کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ‘ اے اللہ کے بندو باہر نکلو تاکہ تمہاری آواز حق دنیا کے گوشے گوشے میں سنائی دے۔ اے بندگانِ خدا ایک ہو کر سچائی کی آواز بلند کرو۔ برائی کا قلع قمع کر ڈالو۔ اس سے پہلے کہ کافرانہ جارحیت کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے‘ آگ بجھا ڈالو۔
کیا جیلیں علماء کے لیے ہوتی ہیں یا مجرموں کے لیے؟ اہل کفر نے مسلمان امت کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرو اور اہل کفر پر یہ ثابت کر دو کہ مسلمان موت سے
نہیں ڈرتے۔
اس قوم کو خواب غفلت سے کون بیدار کرے گا جو ہواؤں میں قلعے تعمیر کرتی ہے جس کا احساس مردہ ہو گیا ہے جو استعماری سازشوں کے خلاف کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ اگر اس قوم کے علماء کو بھیڑ بکریوں کی طرح جیلوں میں ٹھونس دیا گیا تو یہ قوم وقت کے غبار میں گم ہو جائے گی۔ کیا اس قوم میں خوف خدا رکھنے والے بہادر ختم ہو گئے ہیں؟ کیا اس کے پاس وہ مضبوط آواز نہیں جس کی دہشت سے برائی کا وجود ریزہ ریزہ ہو جائے؟ اے بندگان خدا مادی نقصانات کے خوف سے دامن چھڑا کر جسد واحد بن جاؤ“۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی ۲۰ جون ۹۶ء)
اس خط کے ضمن میں ”عالم اسلام کی بے حسی“ کے عنوان سے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ:
”ایک عالم دین بزرگ کے ساتھ یہ ظلم و ستم صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلمان عالم دین ہے۔ اس نے کوئی چوری نہیں کی، کہیں ڈاکہ نہیں ڈالا، کسی کی عزت نہیں لوٹی، کسی حکمران کا تختہ نہیں الٹا۔ اس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کا تشخص یاد دلاتا ہے۔ ایک بوڑھے انسان سے جس کی قوم اور مذہب کی غیرت اتنی مر چکی ہو، اپنے اس رہنما پر مظالم کا اظہار تک نہ کر سکتے ہوں، امریکہ بہادر کا اتنا ناراض اور خوفزدہ ہونا کہ اس کے بارے میں اخلاقی قیود کی تمام حدود کو پھلانگ دیا جائے، سمجھ سے بالاتر ہے۔ امریکہ جس کے مہذب ہونے کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا جا رہا ہے، جس کے یہاں قانون کی بالا دستی کے دعوے پوری دنیا میں مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، جس ملک میں جیلوں کی سہولتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ گھروں سے زیادہ آرام و راحت دیا جاتا ہے۔ ملک میں چوروں اور ڈاکوؤں اور قاتلوں کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہو کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کی جاتی، ان کے حقوق کی رعایت کی جاتی ہے، ان کے مقدمہ میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ اس ملک کا دعویٰ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہے، پولیس یا انتظامیہ کی نہیں۔ اس ملک میں ایک نابینا عالم دین کے ساتھ اتنی زیادتی اور اتنا ظلم اور ایسی غیر اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ! افسوس اور تف ہے ایسے ملک پر، ایسے انصاف کے دعوؤں پر، ایسی قانون کی حکمرانی پر۔ ظلم کی یہ داستان امریکہ کے عدالتی نظام اور جیلوں کے انتظامات پر اتنا بد نما داغ ہے کہ اگر ذرا سی بھی اخلاقی جرأت ہوتی تو اس کے بعد وہاں کا تمام عدالتی عملہ مستعفی ہو کر ایسی جگہ روپوش ہو جاتا، جہاں کوئی ان کا منہ نہ دیکھ سکتا یا ایسے افراد کو ایسی سزائیں دی جاتیں کہ آئندہ محافظ دستے
کے کسی فرد کو اس قسم کے ظلم کی ہمت نہ ہوتی۔ اس داستان نے امریکہ کے جیلوں کے نظام کی قلعی کھول دی اور اس کے دعوؤں کی حقیقت دنیا پر واضح کر دی۔ قیدیوں پر ایسا ظلم تو ہندوستان اور اسرائیل کی جیلوں میں بھی نہیں سنا گیا۔ ایسی گراوٹ کا مظاہرہ تو پرانے زمانے کی نجی جیلوں میں بھی نہیں کیا گیا۔ مسلمان بزرگ کی جیل کے اندر تلاشی کا یہ انداز سوائے اذیت پسندی کے اور کچھ نہیں۔
چوروں اور ڈاکوؤں اور بدکاروں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی امریکی تنظیمیں اور پاکستان اور دوسرے ممالک کی تنظیمیں آج کہاں سو گئیں؟ آج ان کو اس مسلمان رہنما پر مظالم نظر نہیں آئے؟ کیا کسی عالمی تنظیم نے اس خط پر ردعمل کا اظہار کیا؟ کیا کسی تنظیم نے تحقیق کی کہ اس نابینا عالم دین پر یہ ظلم وستم کیوں کیا جا رہا ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ضمیر کہاں سو گئے ہیں؟ چلیے مان لیں کہ امریکہ اور یورپ کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کافر ہیں‘ ان کو مسلمانوں کے حقوق کا کیا‘ انہوں نے پہلے کب آواز بلند کی‘ کس مسلمان کے حق کے لیے آواز اٹھائی‘ سرینگر اور ہندوستان کی مختلف جیلوں میں آزادی کشمیر کے مجاہدین اور دیگر کئی قیدیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے‘ ان کا جینا دوبھر کر دیا گیا‘ کسی عالمی تنظیم کے کان پر جوں رینگی کہ آج جناب عمر عبدالرحمان نابینا پر امریکی مظالم پر وہ آواز بلند کریں گے؟ لیکن آج افسوس اور حیرت ہے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں پر اور عالم اسلام کے حکمرانوں پر‘ مسلمانوں کی امدادی اور رفاہی تنظیموں پر کہ عبدالرحمن مرد مجاہد کا یہ دردناک خط ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے سے قاصر رہا۔ کیا اس آواز میں اسلامی درد کی کوئی کیفیت نہیں‘ جس کی کسک ہر مسلمان اور عالم اسلام کے حکمران محسوس کریں اور اس ظلم کو کم از کم روکنے کے لیے صرف آواز ہی بلند کریں“۔
دو چوہڑوں اور جمعداروں کو پاکستان میں ایک عظیم ظلم ”توہین رسالت ﷺ“ پر سزا ہو گئی تو امریکہ‘ جرمنی‘ برطانیہ اور دیگر ممالک مغرب چیخ اٹھے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں میدان میں آ گئیں۔ ان پر ظلم کیا گیا نہ ان کو ایذائیں دی گئیں اور نہ ہی قانون کے دروازے ان پر بند کیے گئے۔
ایک ماتحت عدالت نے مقدمہ کی سماعت کی۔ قانون کے تمام تقاضے پورے کیے۔ شواہد کی روشنی میں مجرم ثابت ہونے پر سزا سنائی اور عدالت عالیہ میں اپیل کا اختیار دیا۔ اپیل عدالت عالیہ نے سماعت کے لیے قبول کر لی۔ اس کے باوجود امریکی اور مغربی پریس چیخ اٹھا۔ حکومت پاکستان پر دباؤ ڈال کر راتوں رات ان دونوں کو اعزاز واکرام کے ساتھ مغربی جرمنی منگوایا گیا‘ وی آئی پی مہمان کی حیثیت سے پروٹوکول دیا گیا۔ شہریت اور زندگی کی آسائشیں مہیا کر کے پاکستان کے عدالتی نظام
کی دھجیاں بکھیر دی گئیں اور ایک عالم اسلام کے حکمرانوں کے ضمیر ہیں کہ ایک سیاسی مجاہد عبدالرحمن نابینا اور دیگر مسلمان مجاہدین پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں‘ اخلاقی گراوٹ کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں لیکن ان کو یہ توفیق تک نہیں ہوتی کہ کم از کم احتجاج کی آواز ہی بلند کریں۔ کیا یہ قیدی مسلمان نہیں؟ عالم اسلام کے ساتھ ان کا مذہبی رشتہ نہیں؟ کیا قرآن مجید کا حکم کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی کا سبق مسلمان بھول چکے ہیں؟ کیا حضور خاتم النبیین ﷺ کی یہ حدیث کہ مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں‘ اگر ایک عضو میں تکلیف ہوگی تو تمام جسم تکلیف میں مبتلا ہوگا‘ آج ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکی ہے؟ عالم اسلام کی اس بے حسی اور مسلمانوں کی اس بے ہمتی کی بنا پر کب تک مظلوم مسلمان مغرب اور یہود و ہنود کی چیرہ دستیوں کا شکار رہیں گے؟ کب تک مسلمان رہنماؤں کو اس طرح بے آسرا اور بے سہارا رکھا جائے گا؟ کیا مسلمانوں کے دنیا میں کوئی حقوق نہیں‘ لیبیا اور سوڈان کے خلاف اس لیے اقتصادی بائیکاٹ کہ وہ امریکہ کے دعویٰ کے مطابق ان کے دو مجرم دینے کے لیے تیار نہیں‘ کیا آج عالم اسلام کے حکمران عبدالرحمن مجاہد کے مظالم پر امریکہ اور کشمیری حریت پسند رہنماؤں پر ہندوستان اور حماس کے لیڈروں پر اسرائیل سے کسی قسم کا احتجاج کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتے ہیں‘ یاد رکھیں یہی روش باقی رہی تو مسلمانوں کی عزت‘ آبرو‘ جان و مال کسی ملک میں محفوظ نہیں رہے گا۔ آج عیسائی باشندہ یہودی فرد اور ہندو لالہ کسی ملک میں سر اٹھا کر عزت سے چلتا ہے تو اس کو معلوم ہے کہ اس پر زیادتی کے خلاف امریکہ‘ یورپ‘ اسرائیل اور ہندوستان خاموش نہیں بیٹھے گا اور مسلمان ہر ملک میں ذلت اور مظلومیت کی زندگی گزار رہا ہے تو اس کے علم میں ہے کہ کوئی مسلمان میرا پرسان حال نہیں۔ اس لیے فلسطین میں بھی وہ پٹ رہا ہے‘ چیچنیا میں بھی موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے‘ کشمیر و بوسنیا میں اجتماعی قتل عام اور درندگی کا شکار ہو رہا ہے۔ آج اگر مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں نے امریکہ میں عبدالرحمن مجاہد کے ظلم پر خاموشی اختیار کر لی تو یاد رکھیں کہ کشمیر‘ فلسطین‘ چیچنیا‘ بوسنیا اور دیگر ممالک کی طرح امریکہ میں بھی مسلمان محفوظ نہیں رہیں گے“۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی ۲۰ جون ۹۶ء)
برطانیہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں:
”ملعون رشدی نے بدنام زمانہ کتاب ”شیطانی بَغْوَات“ لکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں اور منصف مزاج غیر مسلموں کے بھی دل دُکھائے ہیں‘ لیکن شخصی آزادی اور انسانی حقوق کے نام پر برطانوی حکومت اس کی حفاظت اور کفالت پر پانی کی طرح روپیہ بہا رہی ہے‘ جبکہ اس مخصوص کیس سے قطع نظر شخصی آزادی اور انسانی حقوق کے ضمن میں برطانیہ کا کردار افسوسناک ہے۔
”ایک تازہ ترین سروے کے مطابق برطانیہ میں پناہ کے ۶۵۰ سے زائد متلاشی جیلوں میں بند ہیں۔ ۶۰ سے زیادہ ۶ ماہ اور ۲۰ سے زائد ایک سال سے زیادہ عرصہ سے محبوس ہیں۔ ۵۰ فیصد پناہ گزین جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں جو
کہ بین الاقوامی مجالس کی خلاف الاقوامی قانون کا بھی تمسخر اڑانا ہے۔ ملزموں یا مجرموں کے ساتھ بند نہیں پناہ کے متلاشیوں کو لندن کی ص الگ الگ حجرہ میں قید ہوتا ہے۔ پینٹون ( ہے کہ پناہ گیروں کو اس جیل میں نہ رکھا جا حمایت کی۔ جواب میں وزیر داخلہ نے لکھا رہے ہیں“۔
”یہ امر خوش آئند ہے کہ گے‘ لیکن اتنی ہی قابل افسوس یہ محروم ہیں“۔
”فروری تا اپریل میں خانوں اور جیلوں میں بھوک ہڑت میں ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے میں ہوتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ چلایا جا رہا۔ بے چارے غیر م کرانے کے حق سے محروم ہیں غفلت سے کام لیا جا رہا ہے وہ
بھوک‘ غربت‘ بیماریاں‘ انسانی حقوق
کیا غریبوں‘ بے گھروں اور مہاجرین ترقی یافتہ ممالک کا دعویٰ ہے انجام دیا ہے اور اس مقصد کے لیے اندھا ہے اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں م بھی ترقی پذیر دنیا کے چند ممالک میں ا بسر کر رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ۱۹ ملی ہیں۔ مزید ۲۱ ملین لوگ ایسے ہیں جو ا قبل دنیا بھر میں ریفیوجیوں کی تعداد صرف کے ۲۰ ملین باسی اس وقت خوراک‘ گند
کہ بین الاقوامی مجالس کی خلاف ورزی ہے۔ یہ نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قانون کا بھی تمسخر اُڑانا ہے جس کی رُو سے پناہ گزینوں کو قانون شکنی کے ملزموں یا مجرموں کے ساتھ بند نہیں کیا جا سکتا“۔
پناہ کے متلاشیوں کو لندن کی مشہور پین ٹون ول جیل میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں ہر قیدی الگ الگ حجرہ میں قید ہوتا ہے۔ پین ٹون ول کا معائنہ کرنے والی ٹیم وزارت داخلہ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ پناہ گیروں کو اس جیل میں نہ رکھا جائے۔ جج سٹیفن نے بھی اپنی رپورٹ میں ٹیم کے موقف کی حمایت کی۔ جواب میں وزیر داخلہ نے لکھا ”جیل حکام اور محکمہ تارکین وطن متبادل انتظامات پر غور کر رہے ہیں“۔
”یہ امر خوش آئند ہے کہ پناہ کے متلاشی قید تنہائی میں نہیں رکھے جائیں گے، لیکن اتنی ہی قابل افسوس یہ حقیقت ہے کہ وہ بیچارے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں“۔
”فروری تا اپریل میں ۲۰۰ سے زائد متلاشیوں نے ملک بھر کے قید خانوں اور جیلوں میں بھوک ہڑتال کی۔ حال ہی میں آکسفورڈ کے قریبی قید خانہ میں ہنگامہ آرائی بھی دیکھنے میں آئی۔ جس سے پناہ گزینوں کی ناامیدی اجاگر ہوتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا رہا۔ بے چارے غیر محدود عرصہ کے لیے جیلوں میں بند ہیں اور ضمانت کرانے کے حق سے محروم ہیں۔ ان کی درخواستوں پر غور کرنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا جا رہا ہے، وہ قانونی اور طبی سہولتوں سے بھی محروم ہیں“۔
(ماہنامہ ”النداء“ لاہور، جنوری ۹۵ء ص ۷)
بھوک، غربت، بیماریاں، انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟
کیا غریبوں، بے گھروں اور مہاجرین کے انسانی حقوق نہیں ہوتے؟
ترقی یافتہ ممالک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دنیا سے بھوک ختم کرنے میں انقلابی کردار انجام دیا ہے اور اس مقصد کے لیے امداد، گرانٹس اور قرضوں کی صورت میں تیسری دنیا کی جو مدد کی ہے اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن اس نام نہاد دعویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی ترقی پذیر دنیا کے چند ممالک میں ۸۶ فیصد سے زائد لوگ غربت کی بدترین سطح سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً ۱۹ ملین افراد ریفوجی کیمپوں میں کسمپرسی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔ مزید ۲۱ ملین لوگ ایسے ہیں جو اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہیں۔ واضح رہے کہ آج سے دس برس قبل دنیا بھر میں ریفوجیوں کی تعداد صرف ۹ ملین تھی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کرۂ ارض کے ۴۰ ملین باسی اس وقت خوراک، گندے پانی، بیماریوں اور سر چھپانے کے لیے چھت سے کلیتاً محروم
ہیں اور یہ ایک بے رحم حقیقت ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھوک اور بیماریوں کے شکار ایسے لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے...... اور ان لوگوں کی بڑی تعداد تیسری دنیا کے ممالک سے تعلق رکھتی ہے..... ترقی پذیر دنیا میں یہ شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے، لسانی و نسلی فسادات، جنگوں، قدرتی آفات، سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگیوں، بیماریوں، بدترین موسمی حالات، اقتصادی اور زرعی بدحالی جیسے عوامل نے تیسری دنیا کے غریب عوام کو بھوک کے عفریت کا شکار بنا دیا ہے۔ امریکہ میں ۱۰ ملین سے زائد افراد بے روزگاری کا شکار ہیں، افریقہ کے قحط اور خانہ جنگی نے ۶۰ ملین عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں، ایشیا میں صرف فلپائن کے ۷۰ فیصد لوگ بدترین غربت کا شکار ہیں، کمبوڈیا اور افغانستان میں اگرچہ جنگ ختم ہو چکی ہے، لیکن لاکھوں شہری شدید بھوک کاٹ رہے ہیں اور شاید یہ سلسلہ آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے۔ یہی حال بھارت کا ہے جہاں سرد بازاری اور علاقائی جھگڑوں نے ملک کے مختلف حصوں میں بھوک اور بیماریوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سابقہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد وسطی ایشیا کی ریاستوں کی معاشی حالت بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ غربت کے شکار عوام کے ایک حصے نے دوسری ریاستوں کو نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ جہاں کے ۸۶ فیصد عوام غربت کی شرح سے نیچے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ چین اور مشرق بعید کے ”لٹل ڈریگن“ البتہ غربت کی شرح میں کمی کے لیے اپنی کوششوں میں خاصی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ جہاں تک لاطینی امریکہ کا تعلق ہے تو افراطِ زر اور اقتصادی بدحالی نے عوام کو تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پیرو، گوئٹے مالا اور ہیٹی کے لاکھوں رفیوجی موسم کی شدت، بیماریوں اور بھوک کا شکار ہیں، البتہ ایل سلواڈور میں خانہ جنگی کے خاتمے نے بہتری کی امید پیدا کر دی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عراق میں، فلسطین میں عوام کی اکثریت صاف پانی اور متوازن غذا سے محروم ہے۔
اسی طرح مشرق وسطیٰ کے بعض دوسرے ممالک میں بھی لوگوں کی کچھ تعداد غربت اور بیماریوں کا شکار ہے۔ مشرقی یورپ کے ممالک بھی آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں، علاقائی، نسلی اور مذہبی تنازعے اس پر مستزاد ہیں اور خطے کے بیشتر ممالک کے عوام بدترین نسلی فسادات کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی کمیٹی برائے رفیوجی کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس برس میں دنیا کے مختلف خطوں میں مہاجرین کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ریکارڈ کیا گیا جہاں یہ تعداد ۳ ملین سے بڑھ کر تقریباً ۱۷ ملین ہوگئی۔ دوسرے نمبر پر افریقہ ہے جہاں آج رفیوجیز کی تعداد ۴ ملین سے زائد ہے۔ مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ اور یورپ میں یہ شرح خاصی کم ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں رفیوجی کیمپوں کی حالت اتنی بری ہے کہ ایسے کیمپ جانوروں کی رہائش کے لیے بھی موزوں قرار نہیں دیئے جاسکتے...... ”ترکی کی سرحد کے قریب کردوں کے ایک کیمپ میں جہاں ساٹھ ہزار رفیوجی ہیں، صرف ایک بیت الخلاء ہے۔ پورا کیمپ گارے اور کیچڑ کی آ نہیں ہے...... کیمپ کی بیشتر آبادی بھوک ک پاس سردی سے بچاؤ کا بندوبست ہے ن بھی اس شدید سردی میں صرف ایک سینڈل پ ورلڈ پاپولیشن ریفرنس بیورو کے م رفیوجی اس وقت پاکستان میں ہیں، جہا دوسرے نمبر پر ایران ہے جہاں تقریباً ۲ میں ۲۸,۵۰۰، دریائے اردن کے مغر میں ۱۳,۲۰۰ اور شام میں ۹۳,۹۰۰ م تھائی لینڈ میں ۵,۱۲,۷۰۰ رفیوجی ہیں۔ افری جہاں یہ تعداد اس وقت ۹,۵۰,۰۰۰ سے زی زائر میں ۱۳,۸۲,۳۰۰ اور ایتھوپیا میں ا
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کی ۸ اردن کے مغربی کنارے کی ۳۹ فیصد، اردن ۹ فیصد، گیانا کی ۸ فیصد، ایران کی ۵ فیصد آ کیمپوں میں رہنے والوں کو یو این ایچ سی آ جاتی ہے، وہ ۲۰۰ گرام مکئی یا گندم کا آٹا، د ہوتی ہے، لیکن تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ر کیمپوں کی بیشتر آبادی خصوصاً بچے اور عور جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا ک اور عورتوں پر مشتمل ہے، حالانکہ دنیا کے کئی م خواتین پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی ۵۰ فیصد سے ز مشتمل ہے، لیکن انہیں دنیا کی مجموعی آمدن ک پراپرٹی کے صرف ایک فیصد حصے کی مالک ہیں ا حصے کی ذمہ دار بھی ٹھہرائی جاتی ہیں۔
تیسری دنیا میں یہ اعداد و شمار زیا پروڈکشن کا کام کرتی ہیں۔ افریقہ میں یہ شر جانب...... دنیا بھر میں تقریباً ۹ ملین بچے رفیو زائد بچے اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہیں۔ ر
مبتلا ہے۔ پورا کیمپ گارے اور کیچڑ کی دلدل سے بنا ہوا ہے...... صاف پانی کا سرے سے کوئی انتظام نہیں ہے...... کیمپ کی بیشتر آبادی بھوک، بیماریوں، سردی اور پیاس کا شکار ہے۔ بہت کم لوگوں کے پاس سردی سے بچاؤ کا بندوبست ہے...... تقریباً ۱۰ فیصد لوگ ننگے پاؤں زندگی بسر کر رہے ہیں، باقی بھی اس شدید سردی میں صرف ایک سینڈل پر گزارہ کر رہے ہیں‘‘۔
ورلڈ پاپولیشن ریفرنس بیورو کے ایک عالمی جائزے کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ ریفوجی اس وقت پاکستان میں ہیں، جہاں اس وقت بھی ان کی تعداد ۳.۵ ملین سے زائد ہے۔ دوسرے نمبر پر ایران ہے جہاں تقریباً ۳ ملین ریفوجی ہیں...... اردن میں ۹۰,۶۰۰، غزہ کی پٹی میں ۵,۲۸,۷۰۰، دریائے اردن کے مغربی کنارے پر ۳۰,۴۰,۱۰۰، بھارت میں ۲۰۰,۴۰,۲۰۰، لبنان میں ۳۱۲,۲۰۰ اور شام میں ۲۹۳,۹۰۰ ریفوجی ہیں۔ میکسیکو میں ۲۸,۵۰۰، ملائیشیا میں ۱۲,۰۰۰ اور تھائی لینڈ میں ۵۱۲,۴۰۰ ریفوجی ہیں۔ افریقہ میں سب سے زیادہ ریفوجی اس وقت ملاوی میں ہیں جہاں یہ تعداد اس وقت ۹,۵۰,۰۰۰ سے زائد ہے، جبکہ گیانا میں ۵,۲۶,۰۰۰، سوڈان میں ۱۷,۴۰۰، زائر میں ۸۲,۴۰۰ اور ایتھوپیا میں ۵,۳۲,۰۰۰ ریفوجی ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کی ۸۸ فیصد آبادی اس وقت مہاجرین پر مشتمل ہے، جبکہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کی ۳۹ فیصد، اردن کی ۲۸ فیصد، جبوتی کی ۳۰ فیصد، ملاوی کی دس فیصد، لبنان کی ۹ فیصد، گیانا کی ۸ فیصد، ایران کی ۵ فیصد اور پاکستان کی ۳ فیصد آبادی ریفوجیز پر مشتمل ہے۔ ریفوجی کیمپوں میں رہنے والوں کو یو این ایچ سی آر یا دوسری ایجنسیوں کی جانب سے روزانہ جو خوراک دی جاتی ہے وہ ۲۰۰ گرام مکئی یا گندم کا آٹا، ۶۰ گرام دالیں، ۲۵ گرام گھی یا تیل اور ۱۵ گرام چینی فی کس ہوتی ہے، لیکن تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ خوراک بالعموم ناکافی ثابت ہوتی ہے اور یوں ریفوجی کیمپوں کی بیشتر آبادی خصوصاً بچے اور عورتیں غذا کی قلت کے باعث بہت سی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر کے ریفوجی کیمپوں میں ۷۰ فیصد سے زائد آبادی بچوں اور عورتوں پر مشتمل ہے، حالانکہ دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار کا ۶۰ سے ۸۰ فیصد تک حصہ خواتین پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی ۵۰ فیصد سے زائد آبادی اور عالمی افرادی قوت کا تیسرا حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن انہیں دنیا کی مجموعی آمدن سے صرف دسواں حصہ ملتا ہے اور دنیا بھر کی عورتیں ورلڈ پراپرٹی کے صرف ایک فیصد حصے کی مالک ہیں۔ دنیا بھر کی خواتین ”سارے اوقات کار“ کے ۷۵ فیصد حصے کی ذمہ دار بھی ٹھہرائی جاتی ہیں۔
تیسری دنیا میں یہ اعداد و شمار زیادہ تکلیف دہ ہیں، جہاں کی خواتین ۵۰ فیصد سے زائد فوڈ پروڈکشن کا کام کرتی ہیں۔ افریقہ میں یہ شرح ۶۰ سے ۸۰ فیصد ہے۔ اب آئیے ریفوجی بچوں کی جانب...... دنیا بھر میں تقریباً ۹ ملین بچے ریفوجی کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ ۱۳ ملین سے زائد بچے اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہیں۔ ریفوجی کیمپوں کے بچوں کا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی
اور متوازن خوراک ہے اور بدقسمتی سے ان کیمپوں میں مقیم تقریباً سارے بچے ان نعمتوں سے محروم ہیں‘ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بے شمار بچے بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں اور صرف اسی پر ہی نہیں دنیا کے بیشتر ممالک کے بچے جنگی جرائم کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔ پھر دنیا کے مختلف حصوں میں بچوں کو زبردستی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ بچے (اٹھارہ سال سے کم) مختلف جنگوں یا خانہ جنگیوں میں بطور سپاہی لڑ رہے ہیں۔ ان بچوں کو جن ممالک میں اسلحہ استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا ہے ان میں افغانستان‘ انگولا‘ برما‘ کمبوڈیا‘ ایل سلواڈور‘ ایتھوپیا‘ گوئٹے مالا‘ ہونڈراس‘ ایران‘ عراق‘ لبنان‘ فلسطین‘ موزمبیق‘ نکاراگوا‘ پیرو‘ فلپائن‘ سری لنکا‘ سوڈان‘ یوگنڈا اور شمالی آئرلینڈ شامل ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ رفوجی بچوں کا تعلق افغانستان اور فلسطین سے ہے‘ جبکہ بے گھر بچوں کی زیادہ تعداد کا تعلق موزمبیق‘ سوڈان‘ جنوبی افریقہ اور افغانستان سے ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ اس کے ذیلی ادارے اور عالمی سطح پر کام کرنے والی امدادی ایجنسیاں دُنیا سے بھوک‘ غربت اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے جو کوششیں کر رہی ہیں وہ کس حد تک کامیاب ہیں...... کیونکہ اعداد و شمار تو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان تمام کوششوں کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں بھوک‘ غربت اور بیماریوں کے شکار بے گھر رفیوجیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سپر طاقتوں کا اصرار ہے کہ وہ تخفیف اسلحہ کے پروگرام پر سختی سے عمل کر رہی ہیں‘ لیکن دوسری طرف بے گھر اور رفیوجی لوگوں کے لیے امدادی پروگرام کے بجٹ میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیا عالمی اقتصادی نظام دُنیا سے معاشی بدحالی دور کر دے گا اور دوسری طرف تیسری دنیا پر قرضوں کا بوجھ اتنا زیادہ کر دیا گیا ہے کہ وہ شائد ہمیشہ کے لیے معاشی غلامی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایک طرف دعویٰ ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کو بیماریوں سے بچایا جائے گا‘ انہیں متوازن خوراک اور صاف پانی فراہم کیا جائے گا‘ لیکن دوسری طرف جنگی جرائم اور وحشیانہ تشدد کے شکار بچوں کی شرح میں نمایاں اضافہ سامنے آ رہا ہے۔
دُنیا بھوک سے مر رہی ہے...... کروڑوں افراد اپنے گھروں سے دُور کھلے آسمان تلے بھوک‘ سردی اور بیماریوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اقوام متحدہ‘ سپر طاقتیں اور عالمی ادارے موٹی موٹی رپورٹیں شائع کر رہے ہیں اور بڑی بڑی کانفرنسیں کروا رہے ہیں...... آخر یہ دو عملی کب تک ہوگی......؟
(از محترمہ منزہ الٰہی صاحبہ‘ بحوالہ روزنامہ جنگ‘ مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۴ء)
ایک طرف تو تیسری دنیا کی غربت‘ بھوک‘ بیماری‘ بے چارگی اور بے بسی کا یہ عالم ہے دوسری طرف انسانی حقوق اور انسانیت کی محبت کے دعویداروں کا یہ عالم ہے کہ وہ گولف پر سالانہ ۴۰ بلین ڈالرز‘ شراب پر ۲۳ بلین ڈالرز‘ سگریٹ نوشی پر ۴۰ بلین ڈالرز‘ اشتہار بازی پر ۲۵۰ بلین ڈالرز اور فوج پر ۸۰۰ بلین ڈالرز اڑا دیتے ہیں (بحوالہ ”بیدار ڈائجسٹ“ اکتوبر ۱۹۹۵ء) اگر یہ ”بڑے“
گولف‘ شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کے بجا حالت بدل سکتی ہے‘ مگر انہیں تو دعووں سے
انسانی حقوق کا
کیا رواداری صرف اپنے ہم مذہب لو ”آج کل مغربی دنیا میں انسا حقوق کی پامالی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا کے قیام سے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق رکھتا ہے کوئی شخص دوسروں کی دل آزاری کرے او
جدید دور میں‘ مغربی دنیا میں م زمرہ سے خارج ہیں‘ مراد ہومین جو ایک ی ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے‘ انہوں نے ا حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” جو اہلِ مغرب کے زیر اثر ہیں‘ وہ کسی ملک بقا اور چین سے سیاسی نظر بندوں کی رہائی ک ہومین کا یہ ذاتی تجربہ اور مشاہ جب ان کا کسی مسلمان شخص کے ساتھ واس رخصت ہو جاتی ہے۔ غیر مسلموں کے وقو مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار بن ج پسماندہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ گویا دائرہ تو اسے قدامت پسند کا لقب دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان لڑکی اپنے سر پر رومال جاتا ہے۔ یہ وہی فرانس ہے جس نے انسا بردار تصور کرتا ہے اور جو انسانی حقوق کے چ پن ہے کہ سوائے اسلام کے کسی مذہب کی یہ کہنا ہے کہ اگر آپ ان ممالک میں کوئی م کو نقشہ کی منظوری کے مختلف مراحل کے دو
گولف، شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کے حصے کی آدھی رقم بھی غریبوں کے لیے وقف کر دیں، تو ان کی حالت بدل سکتی ہے، مگر انہیں تو دعووں سے غرض ہے نہ کہ عمل سے!
انسانی حقوق کا تحفظ اور مغرب کی منافقت
کیا رواداری صرف اپنے ہم مذہب لوگوں کے لیے ہے؟
”آج کل مغربی دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کا بڑا چرچا ہے اور اکثر اسلامی ممالک کو ان حقوق کی پامالی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ء کے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس کا آرٹیکل ۱۸ اس اسلامی انقلاب کی دین ہے جو اقوام متحدہ کے قیام سے ایک ہزار برس سے بھی زیادہ پہلے ظہور میں آیا تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق ہر آدمی خیال، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق رکھتا ہے مگر اس اظہار خیال کی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کوئی شخص دوسروں کی دل آزاری کرے اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو سب و شتم کا نشانہ بنائے۔
جدید دور میں ’مغربی دنیا میں‘ جو انسانیت کا تصور ہے اس کی رو سے مسلمان انسانوں کے زمرہ سے خارج ہیں، مراد ہوفمین جو ایک جرمن سفارت کار تھے اور جو دین مبین کی تعلیمات سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے، انہوں نے اپنے ایک مضمون ”دی یورپین مینٹلیٹی اینڈ اسلام“ میں اس حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”گرین پیس“ اور ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“ جیسی عالمی فلاحی تنظیمیں، جو اہلِ مغرب کے زیر اثر ہیں، وہ کسی ملک میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے سے زیادہ وہیل مچھلیوں کی بقا اور چین سے سیاسی نظر بندوں کی رہائی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
ہوفمین کا یہ ذاتی تجربہ ہے اور مشاہدہ ہے کہ اہل مغرب کو اسلام کے علاوہ ہر چیز گوارا ہے۔ جب ان کا کسی مسلمان شخص کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے تو ان کی رواداری اور بے پایاں وسیع القلبی رخصت ہو جاتی ہے۔ غیر مسلموں کے وہی عادات و اطوار جو خوش دلی سے قبول کر لیے جاتے ہیں، مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار بن جاتے ہیں اور انہیں کٹر، متعصب، غیر مہذب، غیر آئینی اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر چی گویرا داڑھی رکھتا ہے تو وہ ترقی پسند اور اگر کوئی مسلمان یہ عمل کرتا ہے تو اسے قدامت پسند کا لقب دیا جاتا ہے۔ حضرت مریم کی ہر شبیہ میں ان کا سر ڈھکا ہوا دکھایا جاتا ہے لیکن اگر کوئی مسلمان لڑکی اپنے سر پر رومال باندھ لیتی ہے تو فرانس میں اسے سکول سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہی فرانس ہے جس نے انقلاب کو جنم دیا تھا اور جو اپنے آپ کو شخصی آزادی کا بڑا علم بردار تصور کرتا ہے اور جو انسانی حقوق کے تحفظ میں پیش پیش ہے۔ فرانس اور جرمنی میں مزید یہ دوغلا پن ہے کہ سوائے اسلام کے کسی مذہب کی عبادت گاہ کے قیام پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ ہوفمین کا یہ کہنا ہے کہ اگر آپ ان ممالک میں کوئی مسجد تعمیر کرنا چاہیں تو اگر آپ انتہائی خوش قسمت نہیں تو آپ کو نقشہ کی منظوری کے مختلف مراحل کے دوران عدالتوں کے بے شمار چکر کاٹنا پڑیں گے اور بالآخر آٹھ
دس برس گزرنے کے بعد ممکن ہے کہ آپ کو کہیں ریل کی پٹڑی کے عقب میں یا کسی مذبح کے قرب و جوار میں مسجد بنانے کی اجازت مل جائے مگر پھر بھی مسجد کے مینار کی اونچائی پر متعلقہ محکموں کے ساتھ قدم قدم پر جھگڑے اور مناقشے ہوں گے کیونکہ وہاں کے ماحول میں کارخانوں اور تجربہ گاہوں کی اونچی اونچی چمنیاں تو سما سکتی ہیں مگر مسجد کے میناروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اذان کے لیے مینار کو استعمال کرنے پر اعتراض ہوگا اور یہ مشورہ بھی دیا جائے گا کہ اذان کی بجائے گرجوں کی طرح گھنٹہ بجانے پر غور کیا جائے۔
ایک اور تفریق یہ بیان کی جاتی ہے کہ اگر چہ اکثر یورپی ممالک میں یہودیوں کو اپنے طریقہ پر جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے مگر مسلمان حلال گوشت کا بندوبست کرنے سے محروم ہیں کیونکہ ان کے معاملے میں جانوروں کے ساتھ بے رحمی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
مسلمانوں کے ساتھ اس دُہرے معیار کا ہی یہ مظہر ہے کہ کشمیر، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا اور اب کوسووا میں ان کے کشت و خون پر مغربی دنیا اور اس کے زیر تسلط اقوام متحدہ کی انجمن خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہے جبکہ دوسری جانب یہ حال ہے کہ اگر پاکستان کی کوئی عدالت قانوناً بھی کسی عیسائی کو موت کی سزا دیتی ہے تو دنیا بھر کی انسانی حقوق کے تحفظ کی انجمنیں واویلا مچانا شروع کر دیتی ہیں۔
عراق پر خلیج کی جنگ کے بعد سے ہنوز اقوام متحدہ کی طرف سے سخت پابندیاں عائد ہیں اور اسے ایک مقررہ مقدار سے زیادہ اپنا تیل بیچنے کی اجازت نہیں ہے جس کے سبب زر مبادلہ کی کمی کی وجہ سے وہ ملک بچوں کی جان بچانے والی ادویہ کی درآمد سے محروم ہے لہٰذا ہر سال ہزاروں معصوم بچے لقمۂ اجل بن رہے ہیں مگر چونکہ یہ ہلاک شدگان مسلمان ہیں اس لیے مغربی دنیا کے ضمیر کو مطلق خلش نہیں ہوتی اور اقوام متحدہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں آٹھ سال سے عائد اس پابندی کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
یہ انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویداران سب منافق ہیں۔ ان حقوق کی حقیقی ضمانت صرف دین اسلام دیتا ہے۔ جب حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایمان کا افضل درجہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم سب لوگوں کے لیے وہی چاہو اور وہی پسند کرو جو اپنے لیے چاہتے ہو اور پسند کرتے ہو اور اُس چیز اور حالت کو سب لوگوں کے لیے ناپسند کرو جس کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو“۔ اس حکم میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر انسانی حقوق کے تحفظ کا اور کون سا منشور ہو سکتا ہے؟
(از ایم ایم حسن صاحب بحوالہ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۷ مئی ۱۹۹۸ء)
ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری
یورپ کے ”حقوق انسانی“ اور بوسنیا
انسانی حقوق و آزادی، امن اور محبت، جمہوریت و روشن خیالی، تہذیب و ترقی، بُردباری و رواداری یہ سارے خوبصورت الفاظ اور حسین و خوشنما دعوے بحیرہ ایڈریاٹک میں غرق ہو کے رہ گئے۔ مسلمانوں کو بنیاد پرست کہنے والی دنیائے عیسائیت تاریخ کے صفحات پر ایک دفعہ پھر دنیا کی سب سے بڑی بنیاد پرست قوم ہونے کا ثبوت رقم کر چکی۔ گردشِ دوراں نے اُلٹی قلابازی کھائی اور آج کی ”مہذب و جدید“ دنیا نے ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں سے اس صلیبی جنون کو دیکھا جس نے کبھی بیت المقدس میں مسلمانوں کا خون اس طرح بہایا تھا کہ بقول عینی شاہد (ریمانڈ ڈی ایگائلز) ”خون سواروں کے ٹخنوں اور گھوڑوں کی رکابوں تک پہنچ رہا تھا“۔ (میکاؤ بحوالہ ہسٹری آف ساراسینز ۔ از سید امیر علی) آج کے ترقی یافتہ یورپ اور امریکہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ الفاظ اور اصطلاحات تو طاقت ور کے گھر کی باندیاں ہیں۔ حقیقت صرف یہی ہے کہ ”جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات“۔ کمزور کو امنِ عالم کے نام پر ذبح کر دو یا انسانی حقوق کے نام پر، جمہوریت کی آڑ میں اس کا گلا گھونٹ دو یا تہذیب و ترقی کے پردے میں اُسے بولنے کا حق چھین لو اور اگر کمزور، کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہوں تو پھر ان پر رواداری کی گولی بھی چلا دو۔ انہیں باور کراؤ کہ تمہارا مذہب تمہیں رواداری کے نام پر ہر جبر سہنے کا درس دیتا ہے۔ اگر پھر بھی ان کے لب آزاد رہیں تو انہیں بنیاد پرست و دہشت گرد کہہ کر صفحہ ہستی سے مٹانے کا سرٹیفیکٹ عطا کر دو۔ آج کے بوسنیا کا جرم اور اس کے سوا کیا ہے کہ وہ خود کو مسلمان کہلانے پر مُصر ہے۔ رنگ و نسل کے لحاظ سے گورے اور تہذیبی طور پر بھی یورپین ہونے کے باوجود ان کا خود کو مسلمان کہلانا عین یورپ کے اندر برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ظہورِ اسلام سے لے کر آج تک کی تاریخ عیسائیت اس بات پہ شاہد ہے کہ جب بھی دنیائے عیسائیت کے سر پر قوت اور اقتدار کا تاج آیا ان کا دماغ ٹھکانے نہ رہا۔ ان کے لیے امن و محبت، پیار و آشتی اور رواداری کی ساری انجیلی تعلیمات نہ صرف بے معنی ہو کر رہ گئیں بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے راست باز نبی اور روح اللہ کا یہ مذہب ”اگر کوئی دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں اس کے آگے کر دو اور اگر کوئی قبا مانگے تو نیچے والا پیرہن بھی اسے دے دو“ بھی بے وقعت ہو کر رہ گیا اور مسلمانوں کا خون بہانا ان کا پسندیدہ مشغلہ قرار پایا۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ اگر کہیں دنیا میں چنگیز کی نسل
معدوم ہونے لگی تو اس قوم نے پورے عالم میں شور مچانا شروع کر دیا‘ اس کے لیے فنڈز مختص ہونے لگے‘ اگر کہیں اُلّو اداس ہونے لگا تو جنگلوں کی کٹائی روک دی گئی۔ شیروں‘ چیتوں‘ ہاتھیوں اور بھیڑیوں کی نسلوں کے تحفظ کے لیے بڑے بڑے محکمے بنا دیئے گئے۔ مگر تاریخِ عالم گواہ ہے کہ اس قوم نے انسانیت کی نسلیں خود اپنے ہاتھوں تباہ کیں۔ آج بھی عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے امن کے دعویداروں کو بوسنیا‘ فلسطین‘ کشمیر‘ بھارت‘ افریقہ‘ برما‘ یونان غرض کہیں بھی انسانیت کی تذلیل اور نسل انسانی کا مستقبل خطرے میں نظر آ رہا ہے۔ نہ صرف تاریخ جانتی ہے بلکہ ہر حقیقت پسند مؤرخ اس اعتراف پر مجبور ہے کہ شان و شوکت‘ حکومت و سلطنت اور قوت و اقتدار کے ہوتے ہوئے بھی اگر کسی قوم نے مذہبی رواداری اور عظمتِ انسانیت کو مدنظر رکھا ہے تو وہ صرف اور صرف مسلمان ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں اپنی اس رواداری کی بڑی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ آج کا بوسنیا بھی شاید سلطان محمد فاتحؒ کی ”رواداری“ کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ عیسائیوں کے ساتھ سلطان کی رواداری کا عالم یہ تھا کہ پروفیسر آرنلڈ بیان کرتے ہیں کہ:
”سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے اور شہر میں امن قائم کر لینے کے بعد اعلان کیا کہ میں یونانی کلیسا کا محافظ اور سرپرست ہوں۔ عیسائیوں کی ایذا رسانی کی سختی سے ممانعت کر دی گئی اور سلطان نے ایک فرمان جاری کیا جس کے بموجب قسطنطنیہ کے نئے بطریق اور اس کے جانشینوں کو اور ان تمام اساقفہ کو جو اس کے ماتحت تھے ان کے تمام قدیم اختیارات اور ذرائع آمدنی‘ جو اُن کو گزشتہ حکومت میں حاصل تھے‘ واپس کر دیئے گئے۔ جن قواعد و ضوابط سے وہ مستثنیٰ تھے‘ اُن سے بدستور مستثنیٰ رکھا گیا۔ ترکوں کی فتح کے بعد قسطنطنیہ کا پہلا بطریق گنادیوس تھا جس کو سلطان نے اپنے دستِ خاص سے وہ عصا عطا کیا جو اس کے منصب کا خاص نشان تھا۔ ہزار اشرفیوں کی تھیلی کے علاوہ اسے ایک گھوڑا بھی عنایت کیا جس کا ساز و یراق بڑا پُر تکلف تھا اور جس پر سوار ہو کر وہ اپنے خدم و حشم کے ساتھ شہر میں نکل سکتا تھا۔ کلیسا کے پیشوا کا نہ صرف پورا پورا احترام قائم رکھا گیا‘ جیسا کہ عیسائی قیصر ملحوظِ خاطر رکھتے تھے بلکہ اسے وسیع دیوانی اختیارات بھی دے دیئے گئے۔ مثلاً اس کی عدالت ان تمام مقدمات کا فیصلہ کرتی تھی جس کے دونوں فریق مسیحی ہوں۔ وہ جرمانے کی سزا دے سکتی تھی اور مجرموں کو اپنے خاص قید خانوں میں مقید کر سکتی تھی اور بعض حالات میں سزائے موت بھی دے سکتی تھی۔ سلطنت کے وزیروں اور افسروں کو ہدایت تھی کہ وہ اس عدالت کے احکام اور فیصلوں کی تعمیل کریں۔ سابقہ بیزنطینی حکومت کی روش کے برعکس ترک حکام کلیسا کے مذہبی معاملات میں دست اندازی نہیں کرتے تھے بلکہ ان معاملات کا انصرام و انتظام پورے طور پر یا بطریق کے ہاتھ میں تھا یا اس مجلس کے اختیار میں تھا‘ جس کو وہ جب چاہے بلا سکتا تھا اور اس کے ذریعے سے ان مسائل کو جن کا تعلق دین یا عقائد سے تھا‘ بغیر حکومت کی مداخلت کے طے کر سکتا تھا اور شاہی حکومت کے ایک مسلمہ افسر کی حیثیت سے بطریق بے انصاف حکام کے کاموں سے سلطان کو مطلع کر کے مظلوموں کی داد رسی کر سکتا تھا۔
صوبہ جات میں جو یونانی اسقف تھے ان کی بھی بہت عزت ہوتی تھی۔ چنانچہ دیوانی معاملات میں ان کو اتنے وسیع اختیارات حاصل تھے کہ موجودہ زمانے تک وہ اپنے حلقوں میں اپنے کام اس طرح سر انجام دیتے تھے گویا کہ وہ عیسائی آبادی پر ترکی حکام کی حیثیت سے متعین ہیں“۔
(”دعوت اسلام“ ص ۱۵۲)
یہ تھی وہ رواداری جس کے جلو میں ترک مسلمان بوسنیا میں داخل ہوئے تھے اور یہ رواداری بوسنیا کی مسیحی دنیا کے لیے بالکل ایک نیا تجربہ تھی۔ اس خوشگوار تجربے نے انہیں فوری طور پر اسلام کی طرف مائل کر دیا۔ اس کی کہانی بھی پروفیسر آرنلڈ کی زبانی سنیے:
”ترکوں کی فتوحات سے پہلے ملک بوسنیا کے جو مذہبی اور معاشرتی حالات تھے وہ خاص توجہ کے لائق ہیں۔ یہاں کے اکثر لوگ عیسائیوں کے ایک فرقے سے تعلق رکھتے تھے جس کو بوگومیل کہتے تھے۔ تیرہویں صدی عیسوی سے رومن کیتھولک لوگوں نے ان کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رکھا تھا اور پوپ کئی مرتبہ ان کے خلاف جہاد کا اعلان کر چکا تھا۔ چنانچہ ۱۳۲۵ء میں پوپ جان دواز دہم نے شاہ بوسنیا کو اس مضمون کا خط لکھا:
”ہمارے عزیز فرزند امیر سٹیفن، شاہ بوسنیا کے نام۔ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ تم کلیسا کے ایک وفادار بیٹے ہو اس لیے ہم حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی قلم رو میں ملحدوں کو نیست و نابود کر دو اور ہمارے مقرر کردہ محتسب فابین کی ہر طرح امداد اور اعانت کرو کیونکہ تمام اطراف واکناف سے ملحدوں کا ایک جم غفیر بوسنیا کی ریاست میں جمع ہو گیا ہے۔ ان کو اس بات کی امید ہے کہ وہ وہاں اپنی شرم ناک ضلالتوں کا بیج بوسکیں گے اور امن وامان میں زندگی بسر کریں گے۔ ان لوگوں پر شیطان قدیم کے دجل و فریب کا گہرا رنگ چڑھا ہوا ہے اور وہ جھوٹ اور بے ایمانی کے زہر سے مسلح ہیں اور اپنی ظاہری سادگی کی نمائش کر کے اور عیسائیوں کا نام رکھ کر رومن کیتھولک لوگوں کے عقائد کو بگاڑ رہے ہیں۔ ان کی گفتگو کیکڑے کی طرح ٹیڑھی چال چلتی ہے۔ وہ عاجزی سے خاک پر رینگتے ہیں لیکن پوشیدہ طور پر لوگوں کے ایمان کو غارت کرتے ہیں۔ وہ در حقیقت گرگ ہیں جنہوں نے گوسپند کا لباس پہن رکھا ہے اور اپنی درندہ خصلت کو چھپا کر مسیح کی بھولی بھالی بھیڑوں کو دھوکہ دے رہے ہیں“۔
”پندرہویں صدی میں فرقہ بوگومیل کی تکلیفیں اس قدر ناقابل برداشت ہوگئیں کہ انہوں نے ترکوں سے التجا کی کہ ان کو ان کی زار و زبوں حالت سے نجات دلائی جائے، کیونکہ بوسنیا کے بادشاہ اور پادریوں نے اس فرقے پر اپنے ظلم و ستم کو اس انتہا تک پہنچا دیا تھا کہ اس فرقے کے چالیس ہزار لوگ بوسنیا سے بھاگ کر آس پاس کے ملکوں میں پناہ گزیں ہو گئے تھے۔ جو لوگ فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکے ان کو پابہ زنجیر کر کے رومہ بھیج دیا گیا۔ لیکن ان سختیوں کے باوجود بوسنیا میں بوگومیل کی قوت زائل نہ ہوسکی۔ چنانچہ جب سلطان محمد ثانی نے بوسنیا پر فوج کشی کی تو کیتھولک بادشاہ کی رعایا نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور بوبو دائز کے شاہی شہر کے قلعہ کی کنجیاں وہاں کے حاکم نے، جو فرقہ بوگومیل
میں سے قلاع ترکوں کے حوالے کر دیں۔ دیگر قلعوں اور شہروں نے بھی اس مثال کی پیروی کی۔ چنانچہ ایک ہفتے کے اندر ۷۰ شہر سلطان کے قبضے میں آ گئے اور محمد ثانی نے بوسنیا کو بھی اپنے کثیر التعداد مفتوحہ ممالک میں شامل کر لیا۔ یہ گمان غالب ہے کہ بہت سے قدیم عیسائی خاندانوں کے جائز وارثوں نے‘ جن کو کیتھولک فرقے نے ان کے ملحدانہ عقائد کی بنا پر اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر دیا تھا‘ ترک حکمرانوں کا مذہب اختیار کر کے اپنے قدیمی رتبے اور درجے کو دوبارہ حاصل کرنے کا موقع پایا۔ بوسنیا کے مسلمانوں نے اپنی قومیت کو قائم رکھا اور وہ اب تک اکثر صربی نام رکھتے ہیں اور صرف اپنی قومی زبان بولتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے نئے دین کے لیے ہمیشہ پُر جوش سرگرمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے امراء نے اپنے سپاہیانہ اوصاف‘ اسلام کی محبت اور اپنے اثر و رسوخ کی بدولت قسطنطنیہ کے دربار میں بڑی قدر و منزلت حاصل کر لی تھی اور ان کے اکثر افراد سلطنت کے اہم عہدوں پر متعین ہوئے تھے۔ چنانچہ ۱۵۴۴ء اور ۱۶۱۱ء کے درمیانی عرصے میں بوسنیا کی قوم کے ۹ مدبر ترکی کے صدر اعظم کے منصب پر سرفراز ہوئے۔
-(”دعوت اسلام“ ص ۲۰۱ تا ۲۰۴)
آج بوسنیا کے ساتھ سرب قوم نے جو کیا‘ وہ ان کی ماضی کی روایات سے کچھ مختلف نہیں۔ ۱۷۰۳ء میں ان کے آباؤ اجداد نے مسلمانوں کو جس انداز میں صفحہ ہستی سے مٹانے کی سعی کی تھی بالکل وہی انداز آج بیسویں صدی کی اخیر دہائی میں اپنایا گیا۔
پروفیسر آرنلڈ مونٹی نیگرو میں اسلام کی اشاعت کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”سترہویں صدی میں مونٹی نیگرو کے سرحدی اضلاع کے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے‘ اور نزدیکی علاقوں کے ترکی حکام کی ملازمت میں منسلک ہو گئے۔ لیکن ۱۷۰۳ء میں اسقف دانیال پترو وچ نے جو اس وقت ان کا حکمران تھا‘ تمام قبیلوں کو جمع کیا کہ اگر ان کے ملک اور ان کے دین کی بقاء کی کوئی امید ہو سکتی ہے تو وہ صرف اس امر پر موقوف ہے کہ جو مسلمان ان کے درمیان رہتے ہیں‘ ان کو نیست و نابود کر دیا جائے۔ چنانچہ کرسمس کی شام کو مونٹی نیگرو کے وہ تمام مسلمان نہایت بے دردی سے قتل کر دیئے گئے جو اسلام کو ترک کر کے عیسائیت اختیار کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔“
(”دعوت اسلام“ ص ۲۰۱)
(واضح رہے کہ مونٹی نیگرو کو ترک قرا طاغ یعنی جبل اسود کہتے تھے جو ان کا لفظی ترجمہ ہے۔ یہاں کے لوگ سرب قوم سے ہیں اور اکثر مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا سے وابستہ ہیں)۔
قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ تاریخ خود کو کیسے دہرا رہی ہے۔ ۱۷۰۳ء میں اگر مسیحی حکمرانوں کو اپنی بقا مسلمانوں کے خاتمے میں نظر آ رہی تھی تو آج کا پورا یورپ بھی اپنی بقا ان مٹھی بھر نہتے لوگوں کو ختم کرنے میں دیکھ رہا ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔
”سربیا کے وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ سرب اس شکست کا بدلہ لینا چاہتے ہیں جو ۱۳۸۹ء میں عثمانی ترکوں نے انہیں دی تھی۔ سرب وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے ۶۵۰ سال تک اس
موقع کا انتظار کیا تب کہیں جا کر یہ موقع ملا۔ عیسائی پادریوں نے ۱۳۸۹ء میں ترک مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جانے والے عیسائی بادشاہ لازور کی قبر کو اکھاڑا اور اس کے تابوت کو سارے یوگوسلاویہ میں گھمایا اور عیسائیوں کو غیرت دلائی کہ تم مسلمانوں کی عیسائی دشمنی بھول چکے ہو حالانکہ وہ تمہارے محسن بادشاہ کے قاتل ہیں“۔ (”ماہنامہ الاشرف“ فروری ۹۳ء)
مگر آج ہم کس کی قبر اکھاڑیں، کس کا تابوت اٹھائیں کہ یہاں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی ”بھولی بھالی بھیڑوں“ کے ہاتھوں سرکٹی لاشوں کے انبار ہیں، ظلم و ستم کے ایک نہیں کئی مینار ہیں اور ہاں اگر کوئی تابوت اٹھا بھی لیں تو کیا ہو گا کہ یہاں تو انڈونیشیا سے مراکش تک کا عالم اسلام ایک وسیع و عریض قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے باسی آنکھوں سے اندھے ہو چکے ہیں، جن کے کان سماعت سے محروم، ذہن سوچ سے خالی، ہاتھ حرکت سے عاری اور پاؤں شل ہو چکے ہیں، جن کے دلوں پر اب کوئی دستک نہیں ہوتی، جن کی آنکھوں کو اب لہو رنگ تصویریں بھی دکھائی نہیں دیتیں اور جن کے کانوں سے اب کوئی سماعت نہیں ٹکراتی۔ حتیٰ کہ سربیا کے صدر روڈوں کلات زچ کا یہ بیان بھی ان کے جذبات میں کوئی ہلچل پیدا نہ کر سکا۔
”کہ ہم مسلمانوں پر گولی ضائع نہیں کریں گے بلکہ ان کے گلے چھری سے کاٹیں گے حتیٰ کہ پورے بوسنیا، ترکی، ایران اور پاکستان تک ہمارا غلبہ ہو جائے“۔
(ماہنامہ ”الاشرف“ کراچی فروری ۹۳ء)
اور نہ سربیا کے جنونی قائد میلو سیوک کا یہ حکم کہ بوسنیا کے ہر مسلمان کو قتل کر دو ان کے جذبات کے سمندر میں کوئی مدوجزر پیدا کر سکا۔ محمد بن قاسم کے وارثوں کے کان اس مسلمان بیٹی کی فریاد بھی نہ سن سکے جس نے منجا کے کیمپ سے ایک عرب مسلمانوں کے نام یہ پیغام بھیجا تھا:
”اگر دنیا کے ۱۰۰ کروڑ مسلمان مل کر بھی ہماری جانیں اور عزتیں نہیں بچا سکتے تو کم از کم ہمارے لیے مانع حمل گولیاں ہی بھیج دیں۔ سربیائی فوجیوں کی بار بار عصمت دری کے بعد ہم نہیں چاہتیں کہ ۹ ماہ تک تذلیل انسانیت کو اپنی کوکھ میں جگہ دیں“۔ (ہفت روزہ ”ایشیا“ لاہور ۱۲ دسمبر ۹۲ء)
مگر کاش کہ کوئی اس بیٹی کو یہ بتا دیتا کہ بیٹی اپنی آس کے دیپ بجھا دو اُمید کی شمع گل کر دو یہاں کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا، آنے والے تو کب کے جا چکے۔ اب تو یہاں سونے والے رہ گئے ہیں۔ مُردوں کی سی نیند سونے والے اور مُردے بھی بھلا جاگا کرتے ہیں؟
مگر پھر بھی کوئی چپکے سے دل میں یوں کہتا ہے کہ شاید ان سونے والوں کے جہان میں کہیں کوئی غیرت مند آنکھیں جاگتی بھی ہوں۔ مردوں کے اس دیس میں شاید کچھ مرتے ہوؤں کی آنکھیں نیم روشن بھی ہوں کہ جیون ہارتے جسم کی آنکھوں کا دیا تو آخر میں ٹمٹماتا کرتا ہے۔ دل کہتا ہے کہ انہی سوتی، جاگتی، روشن، نیم روشن آنکھوں کو ایک بار پھر لہو رنگ تصویر دکھا دی جائے کہ شاید کسی جسم میں کوئی جھرجھری آ جائے، کسی کے لب سے کوئی چیخ نکل جائے، کسی کے دل سے کوئی ہوک اٹھ
جائے یا ہو سکتا ہے کہ کوئی انگڑائی لے کے اٹھ ہی کھڑا ہو تو رنگ محفل بدل جائے کہ بعض لمحے بھی امر ہوتے ہیں۔ وہی بات جو پہلے اجنبی ہوتی ہے ان لمحوں میں اثر کر جاتی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ لمحہ بھی انہی میں سے ایک ہو!
رواداری کے علمبرداروں کے ہاتھوں بنی ..... بوسنیا کی لہو رنگ تصویر مسلمانوں کے سینوں پہ خنجروں سے صلیبیں بنائی جاتی ہیں والدین کو بچوں کا خون پلایا جاتا ہے مسلمانوں کے کٹے سروں سے فٹ بال کھیلا جاتا ہے
”عرب مجاہد شیخ محمود باحذاق بیان کرتے ہیں کہ ان درندوں (آرتھوڈوکس صلیبی سربوں) نے اپنے مذہبی تعصب کا ثبوت اس طرح دیا ہے اور صلیبی جنگوں کا انتقام بوسنیا کے بے کس مسلمانوں سے یوں لیا ہے کہ زندہ لوگوں کے سینوں پر خنجروں سے صلیبیں بناتے ہیں، اس مقصد کے لیے مسلمانوں کو باندھ دیتے ہیں اور بسا اوقات اتنی گہری صلیب بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ستم رسیدہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وہ بچوں کو ذبح کر کے ان کے ماں باپ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے ان بچوں کا خون پئیں، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے بچے کو نکال کر ماں کا پیٹ سوئی دھاگے سے سی دیتے ہیں۔ اس تعذیب سے شاذ و نادر ہی کوئی عورت بچ پاتی ہے۔
”بعض سرب عیسائیوں نے مسلمانوں کو ذبح کر کے سر تن سے جدا کر دیئے اور پھر وہ سروں کو گلیوں اور سڑکوں پر ٹھوکریں مارتے ہوئے کہتے: ”ہم فٹ بال کھیل رہے ہیں“۔
”ایک سرب فوجی نے باپ بیٹوں کو پکڑ لیا اور ایک بیٹے سے کہا کہ وہ اپنے باپ کو کنکریٹ بنانے والی مشین میں پھینک دے۔ بیٹے کے انکار پر فوجی نے زور سے ہتھوڑا اس کے سر پر دے مارا جس سے سر کچلا گیا اور مغز باہر جا گرا۔ اس کے دوسرے بھائی کو حکم دیا گیا کہ وہ بھیجے کو اکٹھا کرے ورنہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا“۔
(ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اکتوبر 1992ء)
ستر افراد کو زندہ جلا دیا گیا:
”بوسنیا کے شہر گراڈ کے ایک مسلمان خاندان پر توڑے جانے والے مظالم یورپی اخباروں میں اس طرح بیان کیے گئے ہیں: 27 جون کو زہرہ طور نامی خاتون جو ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتی تھی وہ کام سے گھر واپس آئی تو دروازے پر دستک کی آواز سنائی دی، اس نے دروازہ کھولا تو سامنے چھ سات پولیس والے کھڑے تھے جنہوں نے اسے اس کی دو بہنوں، ان کے بچوں اور ماں کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا۔ اس کے بھانجوں اور بھانجیوں کی عمریں دو سے سات سال کے درمیان تھیں۔ ان آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کو بندوقوں کی نوک پر ایک ایسے مکان میں بند کر دیا گیا جہاں پہلے سے ساٹھ ستر افراد قید تھے۔ گھر کے تمام دروازوں اور کھڑکیوں کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا۔ پھر چاروں طرف سے پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی۔ کرفیو کے وقت آگ اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ کوئی شخص کسی طرح اس
قید خانے سے بچ کر نکل بھی جائے تو سرب فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جائے۔ آگ بھڑکی تو بچوں اور عورتوں نے چلانا شروع کر دیا لیکن یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔ ان کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ آخر کار سب قیدی دھوئیں کی گھٹن اور آگ لگنے کے سبب جل کر ہلاک ہو گئے۔ صرف زہرہ جس نے حواس قابو میں رکھے تھے کسی طرح اس مکان سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی مگر اس کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ گھر سے باہر عیسائی فوجی شراب پی کر دیوانہ وار ناچ رہے تھے۔ کچھ موسیقی سن رہے تھے، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی چیخیں بھی ان کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔
زہرہ چھپتی چھپاتی اس گھر سے نکل کر ایک قبرستان میں پہنچی پھر اٹھارہ روز کا پیدل سفر طے کرنے کے بعد وہ عورت میڈیڈا کے علاقے میں قائم جرمنی کے اس کیمپ میں پہنچی جہاں ہزاروں بوسنی پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس کے دونوں ہاتھ جھلسے ہوئے تھے جو ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے تھے“۔
(ہفت روزہ ”ایشیا“ ۳۱ اکتوبر ۹۲ء)
مسلم قبرستانوں کی بے حرمتی
مساجد کی بے حرمتی
”سرب فوجیوں نے مسلمانوں کے قبرستانوں سے مُردوں کو اکھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ وہ قبروں سے لاشوں کو نکالتے ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہر پھینک دیتے ہیں۔ عرب مجاہد شیخ محمود باحاذق بتاتے ہیں کہ آرتھوڈوکس صلیبی اب تک ۸۰ مساجد تباہ کر چکے ہیں۔ ان میں سراجیوو کی وہ مسجد بھی شامل ہے جو بلقان کی سب مسجدوں میں بڑی اور یورپ کی تمام مساجد سے پرانی ہے۔ یہ جنگ جو کئی مہینوں سے جاری ہے اس میں صرف پہلے مہینے میں ۲۲ ہزار مسلمان شہید کر دیے گئے“۔
(ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اکتوبر ۱۹۹۲ء)
صلیبوں پر لٹکی لاشیں اور رقص ابلیس
”بوسنیا کے شہر ”بوسکی نووی“ کے ایک نواحی گاؤں میں درختوں سے دس بارہ افراد یوں باندھے گئے تھے جیسے انہیں صلیب پر چڑھایا جا رہا ہو۔ ان کے ہاتھوں پر لمبی لمبی کیلیں ٹھونک دی گئی تھیں، ان کے جسم سے خون رواں تھا۔ ان کے ارد گرد عیسائی مرد اور عورتیں شیطانی ناچ ناچ رہے تھے جن کے ہاتھوں میں تیز دھار خنجر تھے۔ ان میں سے ایک ایک آدمی یا عورت ناچتے ہوئے بندھے ہوئے مسلمانوں کے قریب پہنچتا اور تیز دھار خنجر سے ان کے سینے پر ایک لمبا سا زخم بنا دیتا۔ خنجر کی کاٹ سے مسلمانوں کی چھاتی خون کا دھارا اگل دیتی اور اس کی بھیانک اور نا قابل برداشت چیخیں فضا میں پھیل جاتیں۔ اس بندھے ہوئے انسان کی چیخیں اور آہ و زاری سن کر وہاں موجود عیسائی تشدد پسندوں کے نہ رکنے والے قہقہے فضا میں پھیل جاتے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ انسان نہیں شیطان ہیں۔ باری باری درختوں سے بندھے ہوئے تمام انسانوں کے سینے پر صلیب کے بڑے بڑے
نشان بنا دیے گئے۔ اس دوران یہ ظالمانہ کھیل کھیلنے والے برابر ہنستے اور قہقہے لگاتے رہے تھے۔ یہ کھیل اس وقت تک جاری رہا جب تک ان کے تشدد کا نشانہ بننے والے مر نہ گئے۔
(ہفت روزہ ”ایشیا“ لاہور ۳۱ اکتوبر ۹۲ء)
مسلمان شہداء کی آخری چیخوں کا مذاق ...... ”بالکل اذان یا تلاوت کی طرح“
”ٹاپ کیجک حریم نے بتایا کہ میں گورسگ گاؤں کا واحد زندہ بچ جانے والا مسلمان ہوں۔ ۲۰ جون کو سرب فوجیوں نے ۵۷ مسلمان عورتوں، بچوں اور مردوں کو گرفتار کیا اور انہیں ایک تہہ خانے میں لے جا کر وہاں دستی بم چلا دیے۔ جیسے ہی شہید ہونے والوں کی آخری چیخیں بلند ہوئیں، قاتلوں نے ان کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا ”بالکل مسجد کی طرح“ یعنی اذان یا تلاوت کی آواز کی طرح“۔
(ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اکتوبر ۹۲ء)
مسلمان قیدیوں کا قتل صرف اس لیے کہ زخمی سرب فوجیوں کو خون کی ضرورت تھی
قیدیوں کی آنکھیں نکال دی گئیں
قیدیوں کے پنجرے:
”بوسنیا کے افسروں نے نمائندہ ”ٹائم“ کو بتایا کہ سرب فوجی ۱۰۵ عقوبت کیمپ چلا رہے ہیں جن میں دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد اپریل سے اب تک رکھے گئے ہیں۔ ان میں سے سترہ ہزار افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اب بھی کم از کم ایک لاکھ تیس ہزار افراد کیمپوں میں بند ہیں۔ ان کیمپوں میں کس قدر ظلم ہو رہا ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ براتوک میں وک کیرازک کے پرائمری سکول میں قائم عقوبت کیمپ کے پانچ سو مسلمانوں کو اس لیے قتل کر دیا گیا کہ زخمی سرب فوجیوں کو خون دیا جاسکے۔ چاون ٹرنٹر کی قیادت میں سرب فوج کے ایک دستے نے قیدیوں کو الٹا لٹکا دیا اور ان کی آنکھیں خصوصی چھریاں استعمال کر کے نکال دیں۔ نیویارک کے اخبار ”نیوز ڈے“ کے نمائندے کو مغربی بوسنیا میں واقع عمارسکا آئرن مائننگ کمپلیکس میں ایک سابق قیدی نے بتایا کہ ایک ہزار سے زائد مسلمانوں اور کروٹ باشندوں کو چار فٹ اونچے لوہے کے پنجروں میں قید کیا گیا تھا جہاں پینے کو پانی، نہ کھانے کو خوراک دی جاتی۔ ہر دوسرے تیسرے دن ۱۰ یا ۱۵ قیدیوں کو نکال کر گولی سے اڑا دیا جاتا۔ بعض کو اس قدر مارا جاتا کہ وہ جان ہار دیتے۔“ (ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ لاہور اکتوبر ۹۲ء)
جاؤ سربین بچوں کو جنم دو
بھوک، اذیت اور موت کے کیمپ:
”ڈاکٹروں کا بیان ہے کہ کئی کئی ماہ تک مسلمان اور کروٹ لڑکیوں کو سرب فوجی جنسی غلام بنا کر رکھتے ہیں۔ جب حمل واضح ہو جائے تو یہ کہہ کر رہا کر دیتے ہیں: جاؤ، جا کر سربین بچوں کو جنم دو“۔ ”سرب فوجیوں نے دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں اور کروٹوں کو ان کے اپنے گھروں سے
نکال دیا ہے۔ ان میں بے شمار کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی کو قتل کر دیا گیا۔ یہ خانہ جنگی نہیں ہے جیسے یوگوسلاویہ کہہ رہا ہے بلکہ یہ تو زمین کے ایک خطے کو اپنے مخالف لوگوں سے مکمل طور پر صاف کرنے کی مہم ہے یعنی مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم“۔
منجا کے عقوبت کیمپ کے بارے میں نمائندہ لکھتا ہے:
”وہ مُردوں کی طرح رہ رہے تھے، مکمل خاموش اور ہڈیوں کے ڈھانچے بنے ہوئے اور خوف زدہ چہروں کے ساتھ ۳۰×۲۳۰ کے کیمپ میں ۱۶۰۰ افراد قید تھے۔ ان میں سے بیشتر عمارسکا کے نزدیکی کیمپ سے یہاں لائے گئے تھے۔ اس کیمپ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں کم از کم گیارہ ہزار مسلمان اور کروٹ قید ہیں۔ میڈیا نے اسے بھوک، افلاس، عقوبت اور موت کا کیمپ قرار دیا ہے“۔
(نیوز ویک بحوالہ ”اردو ڈائجسٹ“ اکتوبر ۹۲ء)
بوسنیا کی جنگ مسلمانوں کے خاتمے کی مہم ہے ..... غیروں کی شہادت:
”نیوز ویک“ ہی میں چارلس لین لکھتا ہے:
”عقوبت کیمپ بوسنیا میں ایسی جگہیں نہیں جہاں سرب فوجی، مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں یا تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ یہ کیمپ تو بوسنیا سے مسلمانوں کے خاتمے کی مہم کا ایک حصہ ہیں“۔
ٹائم کا نمائندہ لکھتا ہے کہ:
”یہ وہ جنگ نہیں جہاں شہری غلطی سے مارے جاتے ہیں بلکہ یہاں تو شہری سوچا سمجھا ہدف ہیں۔ یہاں ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے شہری دہشت زدہ ہوں یا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کر جائیں اور اگر تمام مظالم کے باوجود ایسا نہ ہو تو پھر قتل کرنے کی پالیسی پر عمل ہوتا ہے۔ جنگ کا بنیادی مقصد بوسنیا کی سرزمین کو مسلمانوں سے صاف کرنا ہے“۔
”یوگوسلاویہ کا حال ہی میں دورہ کرنے والا ایک آسٹرین سیاستدان ایڈریس کول کہتا ہے: ظلم و تشدد اور دہشت ”گریٹ سربیا“ بنانے کے پلان کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ عقوبت کیمپ تو قتل اور حتمی انخلاء کے لیے راستے کے سٹیشن ہیں“۔ (ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ لاہور اکتوبر ۹۲ء)
غیروں کی گواہی ..... سرائیوو کے بشپ کا اعتراف:
”سرائیوو کے سربین آرتھوڈوکس بشپ نکولائی نے بلغراد ٹیلی وژن پر بتایا کہ بوسنیا کے تنازعہ میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار مسلمان ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ۳۰ ہزار عورتوں کی عصمت دری کر کے ان کو حمل ٹھہرانے کے بعد چھوڑا گیا اور ۲ سو مساجد تباہ کی گئیں۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے تحت سربيائی تعذیب خانوں سے رہا کیے جانے والے مسلمانوں نے بتایا کہ ان کیمپوں میں سربيائی عیسائیوں نے مسلم علماء، ڈاکٹروں اور اساتذہ کو چھانٹ کر قتل کیا۔ کروشیا کے شہر کارلو یک میں رہا ہونے والے قیدیوں نے بتایا کہ کس طرح ممتاز مسلمانوں کو پکار پکار کر لے جایا گیا اور انہیں ہلاک کر کے ان کی لاشیں قیدیوں سے جلوائی گئیں“۔ (ہفت روزہ ”ایشیا“ ۳۱ اکتوبر ۹۲ء)
مغربی ذرائع ابلاغ کا اعتراف........ رائٹر ایجنسی کے جمع کردہ اعداد و شمار:
"بوسنیا و ہرزی گووینا کے مسلمان گزشتہ چھ ماہ میں تقریباً دس ہزار کے قریب قتل کر دیئے گئے ہیں یا غائب کر دیئے گئے ہیں جن میں معصوم بچے بھی تھے۔
اعداد و شمار جمع کرنے والے مرکز کے مطابق ایک ہزار چار سو سینتالیس بچے قتل کیے گئے ہیں۔ چودہ ہزار تین سو چونسٹھ (۱۴,۳۶۴) افراد قتل کیے گئے ہیں۔ ستاون ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ سینتالیس ہزار دو سو چوراسی (۴۷,۲۸۴) زخمی ہیں جن میں بارہ ہزار اسی (۱۲,۰۸۰) بچے شدید زخمی ہیں۔ جنگ سے متاثرہ افراد میں ۸۰ فیصد شہری ہیں"۔
(ہفت روزہ "ایشیا" ۳۱ اکتوبر ۹۲ء)
آگ کے الاؤ میں مسلم تڑپ رہے تھے اور سرب فوجی مجھے کہہ رہا تھا'
دیکھو وہ کیسے گیت گا رہے ہیں اور کیسا ڈانس کر رہے ہیں:
"۲۵ سالہ نسمہ بتاتی ہے کہ وہ گھر کی طرف جارہی تھی کہ ایک مسلح سرب نے بندوق کی نال پر مجھے اور میرے ساتھ ایک دوسرے مسلمان مرد کو قصبے سے باہر چلنے کو کہا۔ اس نے بتایا میں پریشان ہو گئی۔ پورے سفر کے دوران میں اس آدمی نے بندوق کی نال میرے بیٹے کی گردن پر جمائے رکھی"۔
اس نے مزید بتایا:
"اس ظلم کی یادیں بہت ہولناک ہیں۔ پریجیڈور فٹ بال سٹیڈیم میں تمام مسلمان گرفتار کر کے رکھے گئے تھے۔ وہاں ہونے والے مظالم بیان کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔ میں کیسے بتاؤں کہ مجھ پر کیسا کیسا وحشیانہ جنسی تشدد ہوا' مجھے بہت زیادہ مارا پیٹا گیا۔ انہیں جب ضرورت ہوتی' ہم میں سے جن کو چاہتے بلا لیتے۔ سب سے زیادہ ہولناک ظلم ان مظالم کا جبری نظارہ کرنا ہوتا تھا۔ ایک رات انہوں نے آگ کا الاؤ جلایا اور اس میں کئی مسلمان مردوں کو پھینک دیا۔ میری پیٹھ پر بندوق رکھ کر کہا کہ میں روزن دیوار سے اس کا نظارہ کروں۔ آگ کے الاؤ میں جلتے ہوئے مسلمان تڑپ رہے تھے اور سرب فوجی مجھے کہہ رہا تھا' "دیکھو ! وہ کیسے گیت گا رہے ہیں اور کیسا ڈانس کر رہے ہیں"۔
(ماہنامہ "بیدار ڈائجسٹ" اکتوبر ۹۲ء)
درندگی کا وہ کھیل جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی
بیٹوں کو حکم کہ وہ اپنے اپنے والد کے پوشیدہ اعضاء چبا ڈالیں:
"۱۲ اور ۱۳ جون ۱۹۹۲ء عید الاضحی کے دن تھے۔ سرب کمانڈر ڈوسان ریپک نے ایک سٹیڈیم کے اندر قائم کیے گئے قیدی کیمپ میں سٹیج لگوایا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فہرست تھی جس میں قیدی باپ بیٹوں کے نام درج تھے۔ اس نے فہرست دیکھ کر سات جوڑوں کے نام پکارے اور انہیں سٹیج پر چڑھنے کا حکم دیا' ان تمام افراد نے حکم کی تعمیل کی۔ تب انہیں کپڑے اتارنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد وہ کھیل شروع ہوا جسے اگر شیطان بھی دیکھتا تو شرمندہ ہو جاتا۔ ڈوسان ریپک نے حکم دیا کہ آدھے شخص گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے سامنے والوں کے نازک اعضاء دانتوں سے چبا ڈالیں۔ اس بہیمانہ کاروائی سے اکثر لوگ زخموں کی تاب نہ لا
اس کے بعد ایک ۱۶ سالہ نوجوان لڑکے سے پوچھا: "سامنے کھڑے لوگوں میں اشارہ کیا' سرب کمانڈر نے بدقسمت باپ سے "جی ہاں! اکلوتا ہی ہے"۔ باپ گردن پر پستول رکھ کر ٹرائیگر دبا دیا۔ لڑکا بکھر سے نڈھال باپ سے کہا: "لو اب تمہارا کوئی ب
اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کا قتل باقاعدہ منص "۸ نومبر ۱۹۹۲ء کو سرب فوجی دو تہہ خانے میں داخل ہوئے اور سات آدمیوں پریجیڈور کا لارڈ میئر' سماجک' پریجیڈور ہسپتا فیکٹری کا مالک' ایک سرکاری وکیل اور دو دوس کی آغوش میں چلے گئے ۔
۲۶ اور ۲۷ جولائی کو سربوں نے سرجن اور سول ملازمین شامل تھے۔ یہ تمام دیے گئے ۔
باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بو تہذیب کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ مختلف قصبوں میں ہیں مگر مقصد ایک ہی ہے یعنی مسلمانوں کا خا چھوٹے سے قصبے ولاسیز کا میں ۱۸,۶۹۹ مس گیا اور کچھ ہجرت پر مجبور ہو گئے ۔
جنگ سے پہلے بانجالو کا میں ساٹھ دیئے گئے ہیں یا پھر پناہ کی تلاش میں دوسر کنارے ایک خوبصورت گاؤں تھا' اب و مسلمان تھے مگر اب ایک بھی نہیں اور گاؤں کی
غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا:
"۵۹ سالہ نصیف بنجالوکا میں س رہا تھا۔ وہ آپس میں پکے دوست تھے وہ ہر
بہیمانہ کارروائی سے اکثر لوگ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ اس کے بعد ایک ۱۶ سالہ نوجوان کو طلب کیا گیا‘ ڈوسان نے خوف سے لرزتے ہوئے لڑکے سے پوچھا: ”سامنے کھڑے لوگوں میں تمہارا باپ کون ہے؟“ لڑکے نے اپنے باپ کی جانب اشارہ کیا‘ سرب کمانڈر نے بدقسمت باپ سے پوچھا: ”کیا یہ تمہارا اکلوتا بیٹا ہے؟“ ”جی ہاں! اکلوتا ہی ہے“۔ باپ نے بیچارگی سے جواب دیا۔ یہ سن کر ڈوسان نے لڑکے کی گردن پر پستول رکھ کر ٹرائیگر دبا دیا۔ لڑکا بغیر آواز نکالے وہیں ڈھیر ہو گیا۔ ڈوسان نے قہقہہ لگا کر غم سے نڈھال باپ سے کہا: ”لو اب تمہارا کوئی بیٹا نہیں“۔ (ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ جنوری ۹۶ء)
اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کا قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت:
”۸ نومبر ۱۹۹۲ء کو سرب فوجی دوڑتے اور دھمکیاں دیتے ہوئے ”امارسکا موت کیمپ“ کے تہہ خانے میں داخل ہوئے اور سات آدمیوں کو پکارا۔ ان میں ایک لاکھ بارہ ہزار آبادی والے شہر پریجیڈور کا لارڈ میئر سناجک‘ پریجیڈور ہسپتال کے دو گائناکالوجسٹ ڈاکٹر‘ ایک کیفے اور ایک آرٹ گیلری کا مالک‘ ایک سرکاری وکیل اور دو دوسرے افراد شامل تھے۔ وہ ایک ایک کر کے اٹھے اور موت کی آغوش میں چلے گئے۔
۲۶ اور ۲۷ جولائی کو سربوں نے ۵۰ مسلمانوں کو بلایا۔ ان میں بزنس مین‘ جج‘ اساتذہ‘ سرجن اور سول ملازمین شامل تھے۔ یہ تمام افراد پریجیڈور کے معروف افراد تھے۔ یہ سب غائب کر دیے گئے۔
باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بوسنیا کے مسلمانوں کی جائیدادیں‘ معاشیات اور ۵۰۰ سالہ تہذیب کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ مختلف قصبوں میں تباہی و بربادی کے اگرچہ مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں مگر مقصد ایک ہی ہے یعنی مسلمانوں کا خاتمہ ۱۹۹۱ء کی مردم شماری کے مطابق مشرقی بوسنیا کے ایک چھوٹے سے قصبے دلاسینیکا میں ۱۸,۶۹۹ مسلمان آباد تھے مگر اب وہاں کوئی بھی نہیں۔ کچھ کو قتل کر دیا گیا اور کچھ ہجرت پر مجبور ہو گئے۔
جنگ سے پہلے بانجالوکا میں ساڑھے تین لاکھ مسلمان تھے‘ ان میں سے ۹۰ فیصد یا تو قتل کر دیئے گئے ہیں یا پھر پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں میں جا چکے ہیں۔ ڈیوک دریائے درینا کے کنارے ایک خوبصورت گاؤں تھا‘ اب وہاں صرف ایک کھنڈر ہے۔ زورنک میں کبھی چار ہزار مسلمان تھے مگر اب ایک بھی نہیں اور گاؤں کی مسجد کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا ہے“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ اکتوبر ۹۴ء)
غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا:
”۵۹ سالہ نضیف بنجالوکا میں سالہا سال سے اپنے سرب ہمسایوں کے ساتھ خوش وخرم رہ رہا تھا۔ وہ آپس میں پکے دوست تھے وہ ہر رات گھنٹوں اکٹھے بیٹھتے اور خوش گپیاں لگاتے۔ جنگ کے
Wait for the Last Prophet of All Times (Allah Bless him and Grant him peace) 3
بعد صورت حال بدل گئی۔ سرب ہمسایہ فرعون بن گیا۔ نضیف نے اسے سمجھایا کہ لڑائی اس کی وجہ سے شروع نہیں ہوئی اور نہ وہ کسی لڑائی میں شریک ہے۔ نضیف نے اس سے کہا: ”میرا تو کوئی بیٹا بھی نہیں جو سربوں کے خلاف لڑ رہا ہو“۔
ہمسایہ فرعون بن کر چیخا ”خاموش رہو بلیجا (مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز نام) میں آپ پر گولی ضائع نہیں کروں گا بلکہ میں تمہیں جلاؤں گا اور تمہارے گھر کا نام و نشان مٹا دوں گا۔ میں صاف بتادوں کہ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا“۔
دو سال تک نضیف کی فیملی گھر میں قید ہو کر رہ گئی۔ اشیائے ضروریہ لانے کے لیے وہ گھر کے پچھلی طرف کھڑکی میں سے باہر نکلتے اور ساری رات خوف اور پریشانی میں گزار دیتے۔ انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ نہ معلوم سرب کب گھر پر حملہ کر دیں۔ بالآخر ۱۶ فروری کو وہ دن آ پہنچا جب دو سرب گھر میں داخل ہوئے اور پیسوں کا مطالبہ کیا۔ نضیف کے پاس انہیں دینے کے لیے کچھ نہ تھا‘ نضیف کی ۳۳ سالہ بیٹی ریسما نے بتایا: ”انہوں نے میری ۹ سالہ بیٹی کو شدید زخمی کر دیا‘ اس کی ناک اور کانوں سے خون بہنے لگا۔ میں چیخی کہ میری بیٹی کو چھوڑ دو۔ میری چیخ پر وہ مجھ پر جھپٹ پڑے اور میرے خاوند ان کی آنکھوں کے سامنے دونوں نے باری باری میری عزت لوٹ لی“۔
اس کی ۶۷ سالہ بہن کو بھی معاف نہ کیا گیا۔ نضیف کا خاندان ہجرت کر کے کروشیا میں ایک مہاجر کیمپ میں آ گیا۔ اب وہ اپنے گھر کبھی واپس نہیں جائیں گے۔ نضیف کی بیوی کا کہنا ہے: ”وہاں ہمارے لیے کوئی زندگی نہیں‘ وہاں کسی بھی مسلمان کے لیے کوئی زندگی نہیں“۔
(ماہنامہ ’بیدار ڈائجسٹ‘ اکتوبر ۹۲ء)
سور کو ہلاک کرنے کا تجربہ مسلمانوں پر کام آیا
تین آدمیوں کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیا گیا: ”دو ماہ قبل بوسنیا کے فوجیوں نے چند سر بین عیسائی رضا کاروں کو گرفتار کیا‘ ان میں ایک ۲۱ سالہ ہیرک بھی شامل تھا۔ اس کی ایک بہن ایک مسلمان کے ساتھ بیاہی ہوئی ہے لیکن آرتھوڈوکس عیسائی تعصب نے اسے اس قدر اندھا کر دیا کہ وہ ظالم بھیڑیئے سے بھی زیادہ وحشی اور درندہ بن گیا۔ اس کے اعتراف جرم پر مبنی رپورٹ نیو یارک ٹائمز کے جون ایف برنز نے مرتب کی جو ”ہیرالڈ ٹریبیون“ میں شائع ہوئی“۔
”یہ اوائل جون کی بات ہے کہ ایک دن ایک ۶۵ سالہ سرب اسے اور اس کے تین ساتھیوں کو دو گوسکا کے باہر ایک گھاس کے فارم میں لے گیا اور وہاں اس نے بتایا کہ سور کو کس طرح ہلاک کیا جاتا ہے‘ اس نے بتایا کہ سور کے سر کو کانوں سمیت پیچھے کی طرف کھینچئے اور گلے پر چھری چلا کر شہ رگ کاٹ دیں۔ (دراصل ہمیں اس طریقے سے سمجھایا گیا تھا کہ گرفتار مسلمانوں کو کس طرح ہلاک کیا جانا چاہیے) چند دنوں بعد میں نے یہ تجربہ تین مسلمانوں کے گلے کاٹنے کے لیے کیا“۔
”ہیرک نے بتایا کہ دوسرا واقعہ میں پیش آیا۔ ڈونجا بوکا دوگوسکا کے شمال میں آدمیوں کو گولیوں سے بھون کر آگ کی بھٹی تھے جو آگ میں زندہ جل گئے ۔ وہ بتاتا ہے! ”میں نے ان ۶۰ مسلمانوں کی دوران بطور ڈھال استعمال کیا“۔ مسلمانوں کے ساتھ تعلقات ”مسلمانوں کے ساتھ میرے اپنے تہواروں پر خصوصی طور پر بلاتے اور مدد کی‘ وہ میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کر بالکل صحیح اور اچھے لوگ تھے مگر جب میں مسلمانوں کا دوسرا رخ پیش کیا گیا۔ سر بین ”مسلمان بوسنیا میں ۴۳ فیصد ہیں۔ ایک اسلامی ریاست میں سرب بچ رہنا ہوگا۔ اگر تم عیسائی رہنا چاہتے ہو تو بوسنوی مسلمانوں کے سر ہتھوڑوں سے تندوروں میں زندہ جلایا گیا: ”بوسنیا میں ظلم کے کون کون سے جھلک دنیا کو اب دکھلائی دے رہی ہے۔ مسلمان صحافی کو تو وہاں جانے ہی نہیں دیا مسلمان صحافی اقوام متحدہ کے چہرے سے کر دے۔ جہاد بوسنیا کے دوران محترم مجا حافظ عبد الخالق اور راقم (ایڈیٹر ”الدعوۃ“ مانگے تا کہ ہم بوسنیا جاسکیں مگر متعصب ص بوسنیا میں جنگ بندی کے ای جگہ پاش رپورٹ پیش کی ہے۔ آئیے ق مظالم کے دردناک اور ہولناک مناظر ملا
”ہیرک نے بتایا کہ دوسرا واقعہ جولائی کا ہے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے ایک گاؤں ’ڈونجا‘ میں پیش آیا۔ ڈونجا بوکا دوگوسکا کے شمال مغرب میں تین میل کی مسافت پر ہے۔ وہاں تیس (۳۰) آدمیوں کو گولیوں سے بھون کر آگ کی بھٹی میں پھینک دیا گیا۔ گولیاں کھانے کے بعد کئی آدمی زندہ تھے جو آگ میں زندہ جل گئے۔
وہ بتاتا ہے!
”میں نے ان ۶۰ مسلمانوں کی لاشیں بھی دیکھی ہیں جنہیں سرب فوجیوں نے لڑائی کے دوران بطور ڈھال استعمال کیا“۔
مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہیرک نے بتایا:
”مسلمانوں کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے تھے۔ ہمارے مسلمان ہمسائے ہمیں اپنے تہواروں پر خصوصی طور پر بلاتے اور ہم بھی انہیں کرسمس پر دعوت دیتے۔ انہوں نے کئی بار میری مدد کی‘ وہ میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ میں جہاں بھی گیا‘ مسلمانوں نے میری مدد کی‘ وہ بالکل صحیح اور اچھے لوگ تھے مگر جب میں گزشتہ مئی میں سربین فوج میں شامل ہوا تو میرے سامنے مسلمانوں کا دوسرا رخ پیش کیا گیا۔ سربین سیاسی لیڈروں اور فوجی کمانڈروں نے بتایا:
”مسلمان بوسنیا میں ۴۴ فیصد ہیں مگر وہ بوسنیا کو اسلامی ریاست بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایک اسلامی ریاست میں سرب بچوں کو بھی اسلامی لباس پہننے ہوں گے اور مسلمانوں کی طرح رہنا ہوگا۔ اگر تم عیسائی رہنا چاہتے ہو تو پھر اپنی بستیوں کو مسلمانوں سے صاف کر دو“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ جنوری ۹۴ء)
بوسنوی مسلمانوں کے سر ہتھوڑوں سے پھوڑے گئے
تندوروں میں زندہ جلایا گیا:
”بوسنیا میں ظلم کے کون کون سے اور کیسے کیسے پہاڑ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے‘ ان کی ہلکی سی جھلک دنیا کو اب دکھلائی دے رہی ہے۔ اس جھلک کو دکھایا بھی مغرب کے صحافیوں نے ہے۔... کسی مسلمان صحافی کو تو وہاں جانے ہی نہیں دیا گیا۔ کیوں نہیں جانے دیا گیا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان صحافی اقوام متحدہ کے چہرے سے نقلی سفید نقاب اتار کر کہیں اس کا اصل کالا چہرہ بے نقاب نہ کر دے۔ جہاد بوسنیا کے دوران محترم مجیب الرحمان شامی‘ الطاف حسن قریشی‘ این این آئی کے سربراہ حافظ عبدالخالق اور راقم (ایڈیٹر ”الدعوۃ“) کے لیے خود بوسنیا کے سفیر نے آسٹریا کے سفیر سے ویزے مانگے تاکہ ہم بوسنیا جاسکیں مگر متعصب صلیبیوں نے صاف انکار کر دیا۔
بوسنیا میں جنگ بندی کے ایک سال بعد اب ایک یورپین صحافی ٹیوڈور ولاکسن نے ایک جگر پاش رپورٹ پیش کی ہے۔ آئیے ذرا اس صحافی اور دیگر صحافیوں کی رپورٹوں کی روشنی میں سرب مظالم کے دردناک اور ہولناک مناظر ملاحظہ کریں:
”جن علاقوں پر سربوں کا قبضہ ہوا وہاں مسلمانوں کو گھروں سے نکالا گیا۔ جو سڑکوں پر چل رہے تھے انہیں وہاں سے جمع کیا گیا اور سب کو پکڑ پکڑ کر دریاؤں کے پلوں پر لے جایا گیا‘ جہاں ان کی شہ رگیں کاٹی گئیں‘ پھر انہیں دریا میں پھینک دیا گیا۔ بعض جگہ ایسا کیا گیا کہ بڑے بڑے گڑھوں کے کناروں پر جانوروں کی طرح لٹا کر مسلمانوں کو ذبح کیا گیا۔ وہاں اوپر تلے انہیں پھینک کر تڑپتی لاشوں پر مٹی ڈال دی گئی۔
اقوام متحدہ کے سائے تلے کیمپوں میں پناہ گزینی کی زندگی بسر کرنے والوں میں جب سرب ظالم داخل ہوئے تو انہوں نے ہتھوڑوں سے مسلمانوں کے سر کچل دیئے۔ کھوپڑیاں توڑ ڈالیں‘ معصوم بچوں کی کھوپڑیوں کو بندوقوں کے بٹوں سے پھوڑ ڈالا۔
بعض شہروں میں بڑے بڑے تندوروں میں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔
(ماہنامہ ”الدعوۃ“ اگست ۹۶ء)
مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے سرب آپس میں لڑ پڑتے:
”سربوں نے جن مسلمانوں کو مارا‘ یہ جنگی قیدی نہیں تھے بلکہ شہروں‘ دیہاتوں‘ گھروں اور بازاروں سے پکڑے ہوئے سول قیدی تھے۔..... ان مظلوم قیدیوں کو سرب باشندے ہر اس چیز سے قتل کرتے جو کسی کے پاس موجود تھی۔ بعض لوگ چاقوؤں سے قتل کرتے‘ کچھ لوگ قینچیوں سے مارتے‘ نازک اعضاء کترتے‘ کئی ہاتھوں سے گلا گھونٹ دیتے‘ بعض رسیوں اور کپڑوں سے گلا دباتے‘ بعض ظالم ان مظلوم مسلمانوں کو لٹا کر انہیں سیمنٹ کے بلاکوں‘ اینٹوں اور پتھروں وغیرہ سے قتل کرتے۔ سربوں کو جب مسلمان قتل کرنے کے مواقع میسر آتے تو یہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے آپس میں لڑ پڑتے“۔ (بحوالہ مجلہ ”الدعوۃ“ اگست ۹۶ء ص ۵۳)
برطانیہ کے وزیر اعظم جان میجر نے سربوں سے ایک لاکھ پونڈ کے عوض مسلمانوں کی لاشوں کا سودا کیا:
”۲۱ مئی ۹۶ء کے ”نوائے وقت“ نے وائس آف جرمنی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سربوں کے لیڈر لارڈ اوون اور برطانوی حکومت کے درمیان خفیہ ساز باز کا انکشاف ہوا ہے۔ سرب لیڈر نے برطانوی وزیر اعظم کو ایک لاکھ پونڈ کا خفیہ تحفہ پیش کیا‘ ٹیوڈور لاکسن نے صاف طور پر لکھا ہے کہ سربوں کی سرپرستی کرنے والے ممالک کا سربراہ برطانیہ تھا“۔
(ماہنامہ ”الدعوۃ“ اگست ۹۶ء ص۵۴)
بوسنیا..... اجتماعی قبر سے نعشوں کی تین تین تہیں برآمد
معلوم ہوتا ہے جب انہیں گولی ماری گئی تو یہ منہ کے بل گڑھے میں گرے۔۔ ماہرین:
”مشرقی بوسنیا میں اجتماعی قبروں کا پتہ چلانے والی جنگی جرائم کی تحقیقاتی ٹیم نے بدھ کو مزید نعشیں نکالی ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ گزشتہ سال سربوں کے قاتل سکواڈ کے ہاتھوں قتل عام میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی نعشیں ہیں۔ اس ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے قبر کا صرف ایک تہائی حصہ
کھودا ہے اور اس میں بری طرح خراب ہو پیکٹنڈ نے بتایا کہ قریباً ۴۰ نعشیں برآمد ہو چ تصاویر بھی اتاری گئی ہیں۔ نعشوں کی پوزیش ماری گئی‘ اس وقت وہ اونچی جگہ سے گڑھے سے کمر کے ساتھ بندھے ہوئے تھے“۔ (نو
جس روز آٹھ ہزار مسلمان قتل کیے گئے عبادت کی‘ موسیقی کا پروگرام کیا اور شرا
”سربرانیکا بوسنیا کا وہ شہر ہے قتل کیا۔ ۱۷ جولائی ۹۶ء کے ”نوائے وقت کے قتل ہو جانے والے مردوں کی بیویاں‘ گھنٹے متواتر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ ا وقت سرب عیسائی اپنے چرچ میں جمع ہو پر منایا۔ موسیقی کا پروگرام منعقد کیا اور شراب سربرانیکا کے مسلمانوں کا قتل عام۔۔
”نیز یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کی اپنے فوجیوں کو واضح ہدایات کے ”آشیر باد“ بھی شامل تھی۔ ملادک نے شادیوں کے اندراج کا ریکارڈ دکھاتے ہو
”آخر مسلمان کب تک اس ف مٹا دو تا کہ یہ خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہدایت پر حرف بحرف عمل کرتے ہوئے سر پر سرب صدر مملکت کرازچک نے اپنے ملاڈک ہر کسی کو یہ ڈراتی دھمکاتی لیفٹیننٹ کرنل تھامس کرامنس کو بھی یہ فراخ
اسپین کتے اور مسلمان
مسلمان اور سؤروں کے باڑے
مسلمان قیدی اور طوائف کا رقص
”برکونائی کیمپ میں مسلمانوں جبکہ بہت سی لاشیں گاڑیوں میں بند کر کے
کھودا ہے اور اس میں بری طرح خراب ہوئی نعشوں کی قریباً تین تین تہیں دیکھی ہیں۔ ٹیم کے ماہر ولیم پیگننڈ نے بتایا کہ قریباً ۴۰ نعشیں برآمد ہو چکی ہیں اس اجتماعی قبر کو بڑی احتیاط سے ماپا گیا ہے اور اس کی تصاویر بھی اتاری گئی ہیں۔ نعشوں کی پوزیشن اس طرح سے ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں گولی ماری گئی اس وقت وہ اونچی جگہ سے گڑھے میں منہ کے بل گرے ہیں، دو نعشوں کے ہاتھ ابھی تک رسی سے کمر کے ساتھ بندھے ہوئے تھے“۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۱۱ جولائی ٩٦ء)
جس روز آٹھ ہزار مسلمان قتل کیے گئے اس روز عیسائیوں نے چرچ میں عبادت کی، موسیقی کا پروگرام کیا اور شراب نوشی کی: ”سربرانیکا بوسنیا کا وہ شہر ہے کہ جہاں سرب ظالموں نے آٹھ ہزار مظلوم سول مسلمانوں کو قتل کیا۔ ۱۷ جولائی ٩٦ء کے ”نوائے وقت“ کے مطابق تزلا میں ایک بہت بڑے سٹیڈیم میں اس شہر کے قتل ہو جانے والے مردوں کی بیویاں، بہنیں، مائیں اور بیٹیاں اکٹھی ہوئیں۔ وہ مظالم کو یاد کر کے دو گھنٹے متواتر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ ایک جانب یہ آہ و زاری تھی، دوسری جانب اسی روز اور اسی وقت سرب عیسائی اپنے چرچ میں جمع ہوئے۔ انہوں نے سربرانیکا کے اس دن کو یوم آزادی کے طور پر منایا۔ موسیقی کا پروگرام منعقد کیا اور شراب کی محفل سجائی“۔
(ماہنامہ ”الدعوة“ اگست ٩٦ء)
سربرانیکا کے مسلمانوں کا قتلِ عام....... باقاعدہ پلاننگ
”نیز یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کا یہ قتلِ عام سرب فوج کے کمانڈر ریڈکو ملاڈک کی اپنے فوجیوں کو واضح ہدایات کے تحت دیا گیا تھا، نیز اس میں سرب صدر مملکت کرازچک کی ”آشیر باد“ بھی شامل تھی۔ ملاڈک نے اپنے زیرکمان فوجیوں کو سربرانیکا کے میونسپل آفس میں بلا کر شادیوں کے اندراج کا ریکارڈ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ: ”آخر مسلمان کب تک اس ملک کی آبادی میں اضافہ کرتے رہیں گے؟ ان کا نام و نشان مٹا دو تاکہ یہ خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے“۔ چنانچہ سرب فوجیوں نے اپنی ہائی کمان کی ہدایت پر حرف بحرف عمل کرتے ہوئے سربرانیکا کو مسلمانوں سے پاک (خالی) کر دیا۔ اس ”کارنامہ“ پر سرب صدر مملکت کرازچک نے اپنے کمانڈر ملاڈک کو ”ٹرافی“ سے نوازا۔ ملاڈک ہر کسی کو یہ ٹرافی دکھا کر پھولے نہیں سماتا تھا۔ اس نے ڈچ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل تھامس کرامنس کو بھی یہ ٹرافی دکھائی تھی“۔
(ماہنامہ ”الاشرف“ کراچی)
اسٹیفن گٹئے اور مسلمان
مسلمان اور سؤروں کے باڑے
مسلمان قیدی اور طوائف کا رقص
”برکوناکی کیمپ میں مسلمانوں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں کتوں کے آگے ڈال دی گئیں جبکہ بہت سی لاشیں گاڑیوں میں بند کر کے سؤروں کے باڑوں میں بھجوا دی گئیں۔ کچھ لاشیں دریا برد
بھی کر دی جاتی ہیں۔ یہاں ایک طوائف کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ منتخب قیدیوں کو شیشے کی ٹوٹی ہوئی بوتل سے ذبح کرے اور ان کے پیٹ پھاڑے۔ وہ روزانہ کئی قیدی اسی طرح ہلاک کرتی ہے اور جب قیدی جان کنی کے عالم میں تڑپتے ہیں تو وہ خوشی سے نعرے لگاتی اور رقص کرتی ہے۔ یہ طوائف ٹوٹے ہوئے شیشے سے قیدیوں کی آنکھیں نکالتی اور ناک اور کان کاٹتی ہے۔ اس کیمپ سے ایک پچاس سالہ مسلمان قیدی کسی نہ کسی طرح فرار ہو کر لندن پہنچ گیا جہاں اس نے کیمپوں میں آنکھوں دیکھے واقعات سنا کر لوگوں کو ناقابل یقین خوف میں مبتلا کر دیا۔ اس شخص کا نام مرساد ہے اور اس نے بتایا کہ برکو شہر کی ۸۰ فیصد آبادی مسلمان اور کروٹ تھی۔ جب سربوں نے اس پر قبضہ کیا تو ہمیں گرفتار کر کے مارا پیٹا اور پھر کیمپ میں ڈال دیا گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے سامنے تین قیدیوں کو اس بری طرح مارا گیا کہ وہ دم توڑ گئے کیمپ میں السیشن کتے رکھے گئے ہیں جنہیں کئی دنوں تک بھوکا رکھا جاتا ہے اور پھر کچھ قیدی ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کے آگے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ یہ بھوکے کتے جب ان کو کاٹنا اور بھنبھوڑنا شروع کرتے ہیں تو قیدیوں کی آہ و بکا دور تک سنی جاسکتی ہے۔ بھوکے کتے بالآخر ان زندہ انسانوں کو کھا جاتے ہیں۔ اس نے ایک چشم دید واقعہ سنایا جس میں یہ کتے ۱۰ نوجوان مسلمانوں کو چیر پھاڑ کر کھا گئے۔ ایک کروٹ پولیس افسر کو قیدی بنا کر لایا گیا جو زخموں سے لہولہان تھا۔ سربوں نے قیدیوں سے کہا کہ اسے گولی مار دو۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے ۲۰ قیدیوں کو یہ حکم دیا لیکن سب نے انکار کر دیا جس پر سربوں نے مذکورہ پولیس افسر کو گولی ماری اور پھر انکار کرنے والے قیدیوں کو بھی ہلاک کر دیا ۔ کیمپ میں جونہی اطلاع ملتی کہ جنگ میں ایک سرب فوجی ہلاک ہو گیا ہے تو وہ ظالم اسی وقت ۱۰ مسلمانوں کو ہلاک کر دیتے۔ اگر دو سربوں کے مرنے کی اطلاع آتی تو ۲۰ مسلمانوں کو گولی مار دی جاتی“۔
(ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اکتوبر ۹۲ء)
مسلمان عورتوں کی عصمت دری
جنسی مظالم اور وحشت و درندگی کا ننگا ناچ
ورلڈ کونسل آف چرچز (W.C.C) اور ڈبلیو ای یو کی گواہی :
”ورلڈ کونسل آف چرچز (w.c.c) نے کہا ہے کہ بوسنیا کی جنگ میں سربیا کی فوجوں نے عصمت دری کو بطور اسلحہ استعمال کیا ہے۔ اسے ”جنگی جرم“ کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ملوث افراد کو سزا دی جانی چاہیے۔ ڈبلیو سی سی کی جانب سے جو تفتیش کرنے والی خواتین ابھی حال ہی میں مہاجر کیمپ کروشیا سے واپس لوٹی ہیں ۔ مختلف جماعتوں کے ذریعہ یکجا کی جانے والی رپورٹوں، جن میں اقوام متحدہ کے مہاجروں کے ہائی کمشنر کی رپورٹ بھی شامل ہے، سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سربیا نے ایک خاص منصوبے کے تحت منظم طور پر بوسنیا کی مسلم خواتین کی عصمت دری کی مہم شروع کر رکھی ہے۔
برنڈ فٹز پریٹرک (Brend Fitzpratrick) جو ڈبلیو سی سی کے تفتیش کی رکن ہیں، نے
چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ذریعہ منظم طور پر عصمت دری کی پالیسی اخ مسز برنڈ نے مزید لکھا ہے کہ ’ایک سو بے دری کر کے خواتین کو حاملہ کیا گیا ہے جس (WEU) نے بھی خاصی تعداد میں شہاد خواتین اور لڑکیاں عصمت دری کے کیم روزانہ اذیت بھی دی جاتی ہے اور پھر ان مرد جنگی قیدیوں کو مردانہ صلاحیتوں سے کیمپ ”منظم نسل کشی کے نتیجے میں لگائے تھی کہ ان خواتین کے ساتھ آبرو ریزی بچے پیدا کرنے کے لائق نہیں ہو جاتیں جاتا کیونکہ اس وقت تک اسقاط حمل کا مقصد یہ ہے کہ ”نفرت زدہ بچوں کی افزا
”بوسنیا اور کروشیا کے انسانی ہے جسے سربیا کی فوجیوں نے ”چکلے کیمپو ہیں۔ سربیا کی فوج بار بار ان خواتین کے میں ایک جگہ اور لکھا ہے کہ دوسری جنگ کیا تھا جبکہ جاپانی ”آسائش کیمپ“ کے کی جنگ نے ویسا ہی رخ اختیار کیا ہے پر ایسی جگہوں کا انتخاب کیا ہے جہاں خوام اور بار بار یہ عمل جاری رکھا جائے جب تک
اکیس سالہ عیسائی سرب فوجی دوران گرفتار کر کے سراجیوو جیل میں رکھا خواتین کے ساتھ جیل خانے میں ہر قسم کا کی عمر کی دس لڑکیوں کی عصمت دری کی (Hill) پر دفن کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ م اجتماعی آبرو ریزی اور لاشیں آگ
رائٹر کے نمائندے نے لکھا
چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”اب ہم لوگوں کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ سربیا کے ذریعہ منظم طور پر عصمت دری کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اسے بطور جنگی اسلحہ استعمال کیا گیا ہے“۔ مسز برنڈ نے مزید لکھا ہے کہ ”ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مختلف جگہوں پر کیمپوں میں عصمت دری کر کے خواتین کو حاملہ کیا گیا ہے“۔ دیگر عالمی تنظیموں مثلاً پارلیمینٹری اسمبلی آف ویسٹرن یونین (WEU) نے بھی خاصی تعداد میں شہادتیں جمع کی ہیں۔ ڈبلیو ای یو نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں عصمت دری کے کیمپوں میں رکھی جاتی ہیں جہاں انہیں آبروریزی کے علاوہ روزانہ اذیت بھی دی جاتی ہے اور پھر اکثر کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ ڈبلیو ای یو کو یہ شہادت بھی ملی ہے کہ مرد جنگی قیدیوں کو مردانہ صلاحیتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ”آبروریزی کے کیمپ“ منظم نسل کشی کے نتیجے میں لگائے گئے ہیں۔ بہت سے متاثرین نے بتایا کہ انہیں یہ بات کہی گئی تھی کہ ان خواتین کے ساتھ آبروریزی کا یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ سربین بچے پیدا کرنے کے لائق نہیں ہو جاتیں۔ جب خواتین یقینی طور پر حاملہ ہو جاتیں تو انہیں تنہا چھوڑ دیا جاتا کیونکہ اس وقت تک اسقاط حمل کا کوئی خدشہ باقی نہیں رہتا۔ مسز برنڈ نے مزید بتایا کہ سربوں کا مقصد یہ ہے کہ ”نفرت زدہ بچوں کی افزائش نسل ہو“۔
”بوسنیا اور کروشیا کے انسانی حقوق کی جماعتوں نے درجنوں ایسے مقام کی نشان دہی کی ہے جسے سربائی فوجیوں نے ”چکلے کیمپس“ کے نام سے قائم کر رکھا ہے اور جہاں ہر عمر کی خواتین مقید ہیں۔ سربائی فوج بار بار ان خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرتی ہے۔ آدم نے اپنے مضمون میں ایک جگہ اور لکھا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں نے عورتوں پر مشتمل ”شادمانی کا شعبہ“ قائم کیا تھا جبکہ جاپانی ”آسائش کیمپ“ کے نام سے کورین خواتین کی عصمت دری کرتے تھے اب بوسنیا کی جنگ نے ویسا ہی رخ اختیار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سربیا نے مختلف مقامات پر ایسی جگہوں کا انتخاب کیا ہے جہاں خواتین کو منظم طور پر قید کر کے ان کے ساتھ آبروریزی کی جائے اور بار بار یہ عمل جاری رکھا جائے جب تک کہ وہ حاملہ نہ ہو جائیں۔
اکیس سالہ عیسائی سرب فوجی بوریسلیو ہیرک (Borislav Herak) جسے جنگ کے دوران گرفتار کر کے سراجیوو جیل میں رکھا گیا ہے نے بوسنیا کی خواتین پر تشدد کے بارے میں کہا کہ خواتین کے ساتھ جیل خانے میں ہر قسم کا تشدد کیا جاتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ میں نے بیس سال کی عمر کی دس لڑکیوں کی عصمت دری کی ہے اور ان میں سے چھ کو قتل کر کے زک پہاڑی (Zuc Hill) پر دفن کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے یہ کام اعلیٰ حکام کے کہنے پر کیا کیونکہ میں مجبور تھا“۔
(ہفت روزہ ”ایشیا“ لاہور ۱۶ جنوری ۹۳ء)
اجتماعی آبروریزی اور لاشیں آگ کے حوالے:
رائٹر کے نمائندے نے لکھا: ”سربیا کے فوجیوں کی طرف سے شروع کردہ ”مسلمانوں کی
نسل کشی کی مہم‘ میں سب سے زیادہ ظلم مسلمان لڑکیوں پر ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً ۱۲۵ مسلمان بچیوں کی اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ ادھیڑ عمر اور شادی شدہ عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے واقعات ان گنت ہیں۔ ۱۲۵ بچیوں میں سے تین لڑکیوں نے جن کی عمریں پندرہ سے بیس سال کے درمیان تھیں بتایا کہ انہیں گھروں سے زبردستی نکال کر روگٹیکا کے سکول میں قید کر دیا گیا اور پھر ایک فلیٹ میں لے جا کر سرب فوجیوں نے ان کی اجتماعی آبروریزی کی۔ مضروب لڑکیوں نے بتایا کہ عزتیں تار تار کرنے والے وہی لوگ تھے جو جنگ سے پہلے ہمارے ہمسائے اور دوست تھے‘‘۔
’’پی پی اے کے حوالے سے ۲۰ اگست کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق بوسنیا میں مسلمانوں کی اجتماعی قبروں کو آگ لگا دی گئی۔ سربیا کے فوجیوں نے شہید ہونے والے مسلمانوں کو ابتدا میں اجتماعی قبروں میں ڈال دیا تھا تاہم گزشتہ روز انہوں نے ان اجتماعی قبروں کو آگ لگا دی جس سے تمام لاشیں جل گئیں۔ ملبے کے ان ڈھیروں کو بھی آگ لگائی جا رہی ہے جن کے نیچے لاشیں دبی ہوئی ہیں‘‘۔
(ماہنامہ ’اردو ڈائجسٹ‘ اکتوبر ۹۲ء)
حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے کتے اور بلی کے بچے رکھ دیئے
آٹھ سال سے لے کر ستر سال تک کوئی بھی عورت ظالموں سے بچ نہ سکی:
’’سرب درندوں نے مسلمان حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے اور وہاں کتے اور بلی کے بچے رکھ کر پیٹ سی ڈالے۔ پچاس ہزار عورتوں کی عزتیں لوٹیں جن میں آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر ستر سال کی بوڑھیاں بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن کا صحافی پیٹر ماس کہتا ہے کہ مریحہ نامی ایک سترہ سالہ خوبصورت بوسنیائی لڑکی، ان میں سے یہ ایک مظلومہ کسی طرح بچ گئی تھی۔ اس کی چھوٹی بہن بھی اس کے ساتھ تھی مگر سرب فوجی انہیں بھی گھر سے گھسیٹ کر لے گئے۔ فوجی کمانڈر نے بہن کو ایک کمرے میں پھینک دیا اور لڑکی کو برہنہ کرتے ہوئے اسے سرب درندوں کے حوالے کیا اور انہیں کہا ”اس سے کھیلو لیکن بہت زیادہ نہیں“ اور پھر شیطان نے قہقہہ لگایا۔ غرض اس پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ ظالموں نے نہ جانے کیا کیا ظلم کیا کہ وہ جان سے ہار بیٹھی جبکہ مریحہ کسی طرح سے بچ نکلی۔
انگریز صحافی کہتا ہے کہ بوسنیا کی بہت سی لڑکیوں پر جو بیتی اب وہ سنانے کے لیے زندہ نہیں، یعنی ان ظالموں کے ہاتھوں عزتیں لٹوانے کے بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں‘‘۔
(ماہنامہ ’الدعوۃ‘ اگست ۹۶ء)
برہنہ مسلم لڑکیاں ’ہر ایک کے استعمال کے لیے‘:
نیوز ویک کا نمائندہ لکھتا ہے کہ: ’’مشرقی بوسنیا میں تزلہ کے قریب ایک عینی شاہد نے دہشت ناک منظر دیکھا کہ تین مسلمان نوجوان لڑکیاں کمر تک ننگی خاردار تار لگے باڑے کے اندر ’ہر ایک کے استعمال کے لیے‘
کھڑی تھیں۔ عینی شاہد بتاتا ہے کہ انہیں زندہ جلا دیا گیا‘‘۔ (ماہنامہ ”ا...
۷۰ سالہ عورت کی عصمت دری ...
خنجر سے حاملہ عورت کا پیٹ چاک، او ...
نماز پڑھنے کے ’جرم‘ میں ہدیہ ...
’’سرب دو دنوں سے جو ... تھے۔ اس گاؤں کی آبادی ۲ ہزار ... کرتے تھے اور دوسری طرف سے ... دیتی تھیں۔ اس گاؤں کے مظلوم مس... رونے اور واویلا کرنے کی آوازیں ... ایک دو کوا نما پرندے جو وہاں باقی ... مویشیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ... آتش، دیہات کی فضا توپوں کے گول ... دیتی تھیں۔ لوگ جب فرار کی کوشش ... ٹکڑے ہوتے اور وہ خاک و خون ... کمانڈر میلوو کو موردِ ملامت قرار دے ... سربوں کی اس سرزنش کے بدلے می... بازی کرنے نہیں آئے ہیں؟ کیا آپ ... کمانڈر میلوو طنزاً ہنستے ہو ... مرد مار ڈالنے اور اتنی ہی تعداد میں عو ... میلوو اپنا خنجر تیز کرتے ہوئے اپنے ... داخل ہوں گے‘۔ میلوو نے اسی تر ... کے جانور دیہات کے ایک طرف ا ... میلوو کے پہلو میں کھڑ ... کے دستے دس دس، پندرہ پندرہ کی ... سربوں کی پہلی ٹولی جو شمال کی طرف ... سے آٹومیٹک گن کی فائرنگ ہوئی ... فوجیوں کی وحشت اور بڑھ گئی۔ اف ... مقابلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس ...
کھڑی تھیں۔ عینی شاہد بتاتا ہے کہ تین دن کی اجتماعی عصمت دری کے بعد ان پر مٹی کا تیل چھڑک کر انہیں زندہ جلا دیا گیا‘‘۔ (ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ اکتوبر ۱۹۹۲ء)
• ۷۰ سالہ عورت کی عصمت دری
خنجر سے حاملہ عورت کا چیک اپ
نماز پڑھنے کے ’’جرم‘‘ میں ہدیہ سر
’’سرب دو دنوں سے جوزک کی پہاڑیوں میں واقع دردامہ نامی گاؤں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ اس گاؤں کی آبادی ۲ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ سرب اس گاؤں پر ہر قسم کے اسلحے سے فائر کرتے تھے اور دوسری طرف سے گاہے گاہے سرب فوجیوں پر دیہاتیوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ اس گاؤں کے مظلوم مسلمان اپنے اپنے زیر زمین گھروں میں محبوس تھے۔ صرف ان کے رونے اور واویلا کرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ حتیٰ کہ وہاں کوئی پرندہ تک پر نہیں مار سکتا تھا اور ایک دو کوا نما پرندے جو وہاں باقی تھے وہ بھی دوسرے ہی دن غائب ہو گئے۔ پہلے دن زوال تک تو مویشیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، لیکن دوسرے دن وہ بھی خاموش ہو گئیں۔ گھر ویران، گودام نذر آتش، دیہات کی فضا توپوں کے گولوں کے دھوئیں سے پُر اور صرف لوگوں کی فریادیں تھیں جو سنائی دیتی تھیں۔ لوگ جب فرار کی کوشش کرتے تو بدلے میں گولیوں اور مارٹر توپوں سے ان کی لاشوں کے ٹکڑے ہوتے اور وہ خاک و خون میں غلطاں ہوتے۔ دوسری طرف سرب کیمپوں میں فوجی اپنے کمانڈر میلود کو مورد ملامت قرار دے رہے تھے کہ ہم ابھی تک اس گاؤں میں داخل کیوں نہیں ہو سکے۔ سربوں کی اس سرزنش کے بدلے میں کمانڈر میلود قہقہہ لگاتا اور کہتا: ’’آپ صبر کریں، ہم یہاں آتش بازی کرنے نہیں آئے ہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہم تھوڑی بہت تفریح کریں؟‘‘
کمانڈر میلود طنزاً ہنستے ہوئے کہتا کہ تم سب آرام اور اطمینان سے رہو، تم سب کو چھ سات مرد مار ڈالنے اور اتنی ہی تعداد میں عورتیں اور جوان لڑکیاں عیش و تفریح کے لیے دی جائیں گی۔ کمانڈر میلود اپنا خنجر تیز کرتے ہوئے اپنے ایک سپاہی سے کہنے لگا: ’’حیوان! ہم اگلے گھنٹے اس گاؤں میں داخل ہوں گے‘‘۔ میلود نے اسی ترنگ میں کہا کہ دیہات کے تمام مرد و زن، بچے بوڑھے حتیٰ کہ ان کے جانور دیہات کے ایک طرف اکٹھے کر لیے جائیں‘‘۔
میلود کے پہلو میں کھڑے سرب فوجیوں نے خوشی کا نعرہ لگایا اور چند منٹوں کے بعد ان کے دستے دس دس، پندرہ پندرہ کی تعداد میں فائرنگ کرتے ہوئے گاؤں میں داخل ہونے لگے۔ سربوں کی پہلی ٹولی جو شمال کی طرف سے گاؤں میں داخل ہوئی تھی، اس پر ایک چھوٹے اور ویران گھر سے آٹومیٹک گن کی فائرنگ ہوئی اور اسی وقت چند سربوں کو واصل جہنم کر دیا گیا۔ اس پر سرب فوجیوں کی وحشت اور بڑھ گئی۔ انہوں نے اس گھر کو گھیر لیا۔ یہ امام مسجد کے بیٹے عدنان کا گھر تھا۔ مقابلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اسی اثناء میں عدنان کا ایک دوست آزادی کی خاطر جام شہادت نوش
مر گیا اور جب عدنان کے پاس کارتوس ختم ہو گئے تو اسے قیدی بنا لیا گیا۔ سرب فوجی رائفلوں کے بٹ‘ بوٹ اور جو کچھ بھی ہاتھ آیا‘ عدنان پر برسانے لگے حتیٰ کہ اس مجاہد میں کھڑا ہونے کی سکت باقی نہ رہی۔ ایک سرب اسے اپنے خنجر سے ذبح کرنا چاہتا تھا۔ اس کے کمانڈر نے اسے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اس کے ساتھ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ اس لیے اسے ابھی قتل نہ کیا جائے۔ عدنان کی گرفتاری اور اس کے دوست کی شہادت کے بعد گاؤں میں کوئی فرد نہیں رہ گیا تھا جو سربوں کی مزاحمت کرتا۔ گاؤں کے باقی باسی جنہوں نے تھوڑی بہت مزاحمت کی تھی‘ وہ بھی قتل کر دیئے گئے تھے۔
سربوں نے باقی دیہاتیوں کو گاؤں کے مرکز میں اکٹھا کیا‘ عورتوں کی فریادیں آسمان تک پہنچتی تھیں اور چھوٹے بچے جو یہ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے‘ چیختے چلاتے تھے۔ ایک سرب فوجی ایک ماں کی گود سے اس کا لال چھینتا ہے لیکن جب ماں مزاحمت کرتی ہے تو بچے کا سر تن سے جدا کر کے اس کے معصوم جسم کو عورتوں کے درمیان پھینکا جاتا ہے۔ بچے کی ماں بے ہوش ہو جاتی ہے۔ زنجیروں میں جکڑے مرد ایک طرف‘ عورتیں اور لڑکیاں دوسری طرف واویلا کرتی ہیں۔ ہر سرب اپنی حیوانی فطرت کے ساتھ ظلم کرنے میں مصروف تھا۔
ایک سرب اپنا خنجر اٹھائے ایک بوڑھے بوسنوی‘ جس کی داڑھی لمبی تھی‘ کی طرف بڑھا اور آنکھ جھپکنے میں اس کا کان کاٹ ڈالا۔ بوڑھا آدمی چیخا اور ایک دم زمین پر گر پڑا۔ سرب فوجی نے کان عورتوں کی طرف پھینکا۔ ایک اور بوڑھا آدمی جو نماز پڑھ رہا تھا‘ ایک فوجی اس کی طرف لپکا اور اپنا خنجر اس کی گردن میں پیوست کر دیا۔ بوڑھے کی چیخ نکلی اور زمین پر گر پڑا۔ ظالم فوجی نے بوڑھے کو کھینچتے ہوئے بڑے افتخار کے ساتھ اپنے کمانڈر تک پہنچایا اور اس حالت میں اس وحشی کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ پھر اس نے اپنا خنجر اس کی گردن میں دوبارہ پیوست کیا اور آہستہ آہستہ اس کی گردن کاٹنے لگا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا جس سے خون کا فوارہ جاری ہوا اور چار منٹ تک تڑپنے کے بعد وہ شہید ہو گیا۔ فوجی نے بریدہ سر کو اپنے کمانڈر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”یہ لیں ہماری طرف سے نماز پڑھنے کے جرم میں ہدیہ!“ کمانڈر نے بھی اس کی قدردانی کرتے ہوئے اسے شراب کی بوتل پیش کی۔
سرب فوجیوں نے جوان لڑکیوں کو عورتوں سے جدا کیا۔ لڑکیاں درخواستیں کرتیں‘ گریہ و زاری کرتیں‘ اللہ اللہ کی صدائیں بلند کرتی ہوئی دہائی دیتیں‘ لیکن ان وحشیوں نے ان کے لباس کو پارہ پارہ کر کے سب کے سامنے ان کی عزتوں سے کھیلا۔ ایک سرب فوجی نے مسلمانوں کی توہین اور ان کا مذاق اڑانے کے لیے ۷۰ سالہ بوڑھی عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کیا۔
کمانڈر میلوو قیدیوں کی طرف آیا اور اس کے حکم پر امام مسجد کی بیوی اور بچیوں کو اس کے پاس لایا گیا۔ کمانڈر نے ذاتی طور پر امام مسجد کی بیٹی پر جارحیت کی اور اس ظلم سے اس بوڑھے امام کا چہرہ آنسوؤں اور پسینے سے شرابور ہو گیا اور اس کے بعد سرب فوجیوں نے اس کی بیوی اور دوسری بیٹی
پر جارحیت کی۔ ان جانکاہ لمحوں کے بعد میلوو کے حکم پر امام مسجد کے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ امام مسجد کی بیٹی برداشت نہ کر سکی اور دیوانہ وار سرب فوجیوں پر ٹوٹ پڑی، مگر اسے بھی خنجروں سے شہید کر دیا گیا۔
اسی اثنا میں امام مسجد کے بیٹے عدنان کو کمانڈر میلوو کے سامنے لایا گیا جس کا سارا جسم خون ہی خون تھا اور اس کی معصوم اور پاک آنکھوں کے روبرو اس کی ماں اور بہن کے ساتھ زنا کیا گیا۔ کمانڈر نے یوران نامی فوجی کو حکم دیا کہ عدنان کی خوبصورت سرجری کرے۔ اس وحشی اور درندے نے اپنے خنجر سے اس مظلوم کے چہرے اور سر کا چمڑا ادھیڑ دیا۔
سربوں کی قوت برداشت سلب ہو گئی اور آخر کار عدنان کو بھی گردن سے کاٹا گیا۔ یوں امام مسجد کے خاندان کے ۵ بے گناہوں کی لاشیں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئیں۔
یوران نامی ایک سرب فوجی نے ایک عورت کو جو حاملہ تھی، میلوو کے سامنے پیش کیا۔ میلوو عورت کو دیکھ کر یوران سے کہنے لگا: ”ہاں بیٹا! اب تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا اس بار بھی شرط جیتنے کا ارادہ ہے؟“ یوران ہنسنے لگا اور عورت کو کمانڈر میلوو کے قدموں میں گرا دیا اور کہنے لگا: ”یہ مسجد کے تہہ خانے میں چھپی ہوئی تھی“۔ عورت کو چند دوسرے فوجیوں کی مدد سے اس نے زمین پر دے مارا اور اس کے لباس کو چیر پھاڑ دیا۔
عورت بے بس و مجبور پڑی رہی۔ یوران خنجر ہاتھ میں لیے اس کے قریب بیٹھا اور کمانڈر سے کہنے لگا: ”پہلے تم ہی بتاؤ کہ اس کے شکم میں لڑکی ہو گی یا لڑکا“۔ کمانڈر کہنے لگا: ”شاید لڑکی ہو“۔ یوران ظالم نے سینے کی طرف سے خنجر مارا۔ مظلوم عورت نے صرف ہونٹوں کو حرکت دی اور پھر ایک قہقہہ اٹھا: ”یوران معلوم ہوتا ہے لڑکا ہے اور اس مرتبہ تم جیت گئے“۔
آخر میں سرب فوجیوں نے عورتوں اور لڑکیوں کو نامعلوم مقام کی طرف روانہ کر دیا اور جاتے ہوئے تمام گھروں کو آگ لگا دی۔ انہوں نے امام مسجد کی سربریدہ اور اعضاء بریدہ لاش کو رسیوں سے مسجد کی دیوار سے لٹکا دیا اور ان کے جانے کے بعد پورا گاؤں ایک ڈراؤنی اور سنسان وادی کی طرح رہ گیا۔
اقوام متحدہ کی حفاظتی فوج میں شامل برطانوی سپاہیوں نے ایچ وی او کے مسلمان عورتوں اور بچوں کے خلاف مظالم کی ہولناک داستانیں سنائی ہیں۔ ایک برطانوی افسر کے داستان سناتے ہوئے تو آنسو نکل آئے۔ اس نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تین مسلمان عورتوں کو اس وقت ان کے سینوں میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ اپنے بچوں کو سینوں سے لگائے ہوئے تھیں۔ گولیاں بچوں اور عورتوں کے سینوں سے گزر گئیں۔
(”امپیکٹ انٹرنیشنل“ مئی ۹۳ء)
ایک رات کروشین ڈیفنس کونسل (HVO) کے سپاہیوں نے جنوبی بوسنیا کے قصبہ موستار میں زرجیتا تارول جاک اس کے تین بچوں اور اس کے درجنوں مسلمان ہمسایوں کو ان کے اپارٹمنٹس سے زبردستی نکال کر باہر اکٹھا کیا۔ اس موقع پر ایچ وی او کے سپاہی نعرے لگا رہے تھے: ”تمام
مسلمانوں کو قتل کر دو‘۔ یہ صورت حال دیکھ کر بچوں نے چیخنا شروع کر دیا ۔ ”ہمیں گولی مت ماریں۔ پلیز ہمیں قتل مت کریں“۔
اس کے بعد ایک کروٹ افسر نے سپاہیوں سے کہا کہ مسلمانوں کو اس طرح نہ ڈراؤ مگر اس کے ساتھ ہی اس نے مسلمانوں کو قصبے کی ان گلیوں میں‘ جو مسلمانوں کے جوابی حملے کی زد میں تھیں‘ دھکیلتے ہوئے کہا: ”تمام اس علاقے میں چلے جاؤ تاکہ تمہیں تمہارے اپنے ہی قتل کریں“۔
(ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ اگست ۱۹۹۳ء)
ہمسایوں نے مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی
مسلمانان عالم کے دلوں پہ دستک
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ یہ مان لیا جائے کہ اصل رشتہ صرف اسلام کا ہے: ”جب صفا کونووک (Safa Konovic) نے اپنے بطن میں نومولود بچے کی حرکت محسوس کی تو اس کا ذہن گزشتہ پانچ مہینوں کی طرف گیا جہاں سربیائی فوجی چکلے میں ناگزیر حالات کے باعث قیدی بنا کر رہنے پر مجبور کیا گیا تھا اور ہر فوجی کی بلا روک ٹوک وہاں آمد و رفت تھی۔ ”یہ بچہ میرے جسم کا حصہ نہیں۔ یہ میرے جسم میں ایک پتھر کی مانند ہے“ عصمت دری کا شکار ہونے والی مسلم خاتون نے پُر نم آنکھوں سے یہ بات کہی جو فی الحال کوسیوو (Kosevo) ہسپتال میں داخل ہے۔
صفا اور ان کے ساتھ دیگر خواتین بوسنیا کے دس سربیائی چکلوں میں گزشتہ آٹھ مہینوں سے سربیائی فوجیوں کے ہاتھوں اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھا رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ آٹھ مہینوں میں سربیائی فوجیوں نے تیس ہزار میں سے چودہ ہزار مسلم اور کروشیائی عورتوں سے زیادتی کی اور ان میں سے کئی خواتین کو طوائف بننے پر مجبور کر دیا۔
صفا کونووک جن کی عمر تیس سال ہے‘ انہوں نے بتایا کہ ان کا ناگزیر امتحان گزشتہ مئی سے شروع ہوا‘ جب سربیائی فوجوں نے سوکولک (Sokolac) پر قبضہ کیا‘ جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ سربیائی فوجوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم کے نتیجے میں سب سے پہلے اس قریہ کے سارے مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا۔ صرف چند نوجوانوں کو جنگی قیدی بنا لیا اور تیرہ (۱۳) عورتوں کو بھی گرفتار کر لیا جس میں ایک چھ سالہ بچی بھی تھی جسے گاؤں کے سکول میں بطور داشتہ رکھ لیا۔
صفا نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ: ”سربیائی فوجی عموماً روزانہ ہمارے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔ عام طور پر فوجی شراب کے نشہ میں ڈوبے ہوتے تھے اور ہمیں مستقل زدوکوب کرتے تھے۔ میرا جسم اب ڈراؤنے خواب کی طرح ہو گیا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک بات یہ تھی کہ ان میں سے اکثر سربیائی وہ تھے جو ہمارے قریب میں رہتے تھے۔ ان میں سے کچھ لڑکے ہمارے ساتھ سکول جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سربیائی فوجیوں نے زبردستی بہت سے مردوں کو قیدی اس لیے بنا لیا کہ ان کی عورتوں کے
ساتھ زیادتی کرسکیں۔‘‘
۱۴ دسمبر کے ہیرالڈ ٹریبون میں سلاونکا ڈراکیولک نے (Slavenka Drankulic) نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ جس منظم طور پر مسلمانوں اور کروشیائی خواتین کی عصمت دری سربیائی فوج کر رہی ہے۔ اس کی مثال جنگی جرائم کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ منظم طور پر اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ پوری مسلم آبادی کو بوسنیا سے ختم کر دیا جائے۔ اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔ مسٹر ڈراکیولک نے لکھا کہ اکتوبر میں بوسنیا کی وزارت داخلہ کے مطابق پچاس ہزار خواتین اور لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ بے آبرو کی گئی ان خواتین میں سے بہت ساری حاملہ ہوگئی ہیں۔ اب اس سے بھی زیادہ تعداد کے بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ عصمت دری کی تیرہ ہزار شہادتیں وزارت داخلہ نے درج کی ہیں۔
ایک چالیس سالہ خاتون کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سلاونکا نے کہا ہے کہ جیسے ہی چیٹنکس اس خاتون کے شہر میں داخل ہوئے، انہوں نے عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو الگ الگ کر دیا۔ مردوں کو ایک ایسے کیمپ میں لے گئے جہاں سے ان کی نقل و حرکت دیکھی جاسکے۔ خواتین کو ایک دبوجی (Doboji) کے سکول میں رکھا گیا، جسے بعد میں سربوں نے کیمپ کی شکل دے دی۔
خاتون نے مزید بتایا کہ ہمارے سرب پڑوسیوں نے ہمیں اس میں مقفل کر دیا۔ اس میں سے بہت سوں کو میں جانتی تھی۔ بعض وہ تھے جو ہمارے گھر بھی کبھی آیا کرتے تھے۔ جیسے ہی ہم کیمپ میں داخل ہوئے سربیائی لیڈر میلان مارٹک (Milan Martic) کے حامی اسلحے کے ساتھ کیمپ میں داخل ہوئے اور جوان لڑکیوں اور خواتین کو الگ کر کے ایک ہال میں رکھا۔ چیٹنکس سے کہا کہ ان کے ساتھ وہ کچھ کرو جس سے تمہیں خوشی ہو۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر یکا یک دیوانے بدبودار چیٹنکس نے خواتین پر جانوروں کی طرح چھلانگ لگا دی۔ خواتین کے کپڑے تار تار کر دیئے ان کو بالوں سے گھسیٹنا شروع کر دیا، پھر اپنے چاقوؤں سے ان کی چھاتیاں کاٹ دیں۔ مسلم خواتین جنہوں نے اسلامی طرز پر لمبے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، ان کے پیٹ چاک کر دیے حتیٰ کہ ان میں سے بہت ساری خواتین وہیں پر اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
ہزاروں مرد قیدیوں کے سامنے سربیائی فوجی مسلم خواتین کے ساتھ عصمت دری کرتے اور انہیں طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہے۔ یہ ناقابل برداشت عمل تھا کہ باپ کے سامنے اس کی بچی کی آبروریزی کی جائے۔
شام میں چیٹنکس کمرے میں روشنی لے کر داخل ہوتے اور بارہ تیرہ سال کی لڑکیوں کو تلاش کرتے۔ لڑکیاں سہم کر اپنی ماؤں سے لپٹ جاتیں۔ یہ ظالم ان معصوم کم سن لڑکیوں کو جب کھینچتے تو ماں کے کپڑوں کے ٹکڑے ان کے ہاتھوں میں آجاتے۔ اس کے بعد چیٹنکس ان کو گولی مار کر ہلاک
کر دیتے۔ لڑکیوں کی نعش اس کمرے میں چھوڑ دیتے۔ خواتین رات بھر اپنی لختِ جگر کی شہادت پر آنسو بہاتی رہتیں۔ صبح ان کی نعش کو دریا میں پھینک دیتے۔ روزانہ اسی طرح ہوتا۔ پہلے عصمت دری پھر سینکڑوں کے سامنے قتل۔
ایک مرتبہ ایک نوجوان خاتون اپنے بچے کے ساتھ ہال میں لائی گئی۔ یہ جون کا مہینہ تھا۔ چار چیچنکس نے اس عورت کی آبروریزی کی۔ عورت خاموش اپنے چیختے ہوئے بچے کی طرف دیکھتی رہی۔ جب اسے ظالموں نے چھوڑا تو اس نے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلائے۔ اس پر ایک چیچنک نے چاقو سے بچے کا سر جسم سے الگ کر دیا اور ماں کو خون آلود سر دے دیا۔ بے بس خاتون سسکیاں بھرنے لگی۔ وہ اسے باہر لے گئے اس کے بعد وہ خاتون دوبارہ واپس نہیں لوٹی۔
ایک مسلمان پارٹی کے لیڈر کی بیوی نے کہا کہ سربیا کی فوجی عصمت دری کے ساتھ ساتھ اذیت بھی دیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پڑوسی نے ہمیں سب سے زیادہ اذیت دی۔ یہ وہ شخص تھا جسے میرا شوہر اپنے بھائیوں کی طرح عزیز رکھتا تھا۔
جون کے آخر میں چیچنکس ہمارے ایک پڑوسی کو لائے اور گن پوائنٹ پر ایک چودہ سالہ لڑکی سے زیادتی کے لیے کہا۔ وہ شخص خوف و ہراس سے کپکپاتا ہوا کھڑا ہو گیا اور ایک چیچنک کی طرف مخاطب ہو کر کہا ”مجھے اس کے لیے مت کہو کیونکہ میں اس لڑکی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ پیدا ہوئی تھی اور اس کی پیدائش پر اس کے باپ اور ہم نے ایک ساتھ کھایا پیا تھا“۔ فوجیوں نے اس شخص کو ہمارے سامنے اتنا مارا کہ وہ مر گیا۔ دوسرے سربوں کے لیے یہ مثال تھی کہ ان کے یہاں رحم کی کوئی چیز نہیں۔ جو بھی لیڈر حکم دے اسے بلا چون و چرا کرنا ہے۔ اگست میں کچھ قیدیوں کی رہائی ”بدلے“ میں ہوئی جس میں میں اور میرے بچے بھی تھے۔ بہت سی خواتین اور لڑکیاں جو حاملہ تھیں کیمپ میں ہی رہ گئیں۔
ایک چودہ سالہ لڑکی نے کہا کہ ایک کمانڈر بہت موٹا، گندہ سن رسیدہ تھا۔ ہمیشہ شراب کے نشہ میں رہتا تھا۔ اپنے چہرے پر ماسک لگائے رہتا تھا۔ ایک دن میری طرف دیکھ کر سر ہلایا اور غصہ میں کہا، کھڑی ہو جاؤ۔ پھر اشارے سے ایک کمرہ کی جانب چلنے کو کہا۔ ہم ایک کمرے میں چلے گئے۔ میرے پیر کانپ رہے تھے۔ میں بالکل چل نہیں پا رہی تھی۔ اس نے مجھے دھکا دے دیا۔ میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ میں نے سوچا یہ شخص مجھے ذبح کر دے گا۔ میں عبادت بھی نہیں کر سکتی۔ ”اللہ مجھے بخش دو“ میں نے التجا کی۔ اس نے دوبارہ دھکا دیا، ضرب لگائی اور بستر پر ڈھیر کر دیا“۔
(ہفت روزہ ”آوازِ جہاں“ لاہور 20 جنوری 93ء)
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ۳۵ ہزار خواتین سرب ملیشیا کے جنسی جرائم سے حاملہ ہوئیں:
جناب عرفان مرزا ڈائریکٹر اسلامک میڈیا ایسوسی ایشن کیلیفورنیا کی بوسنیا کی خواتین کے بارے میں مرتب کردہ ایک رپورٹ ”ایمنسٹی انٹرنیشنل لندن“ میں شائع ہوئی ہے اس رپورٹ کی
تلخیص درج ذیل دی جارہی ہے۔
سراجیو میں وزارت سماجی بہبود کی رپورٹ کے مطابق ۳۵ ہزار خواتین سرب ملیشیا کے جنسی جرائم کی وجہ سے حاملہ ہیں۔ اس جنگ میں بوسنیا ہرزیگووینا کی ہر تین مسلم خواتین میں سے ایک خاتون جبری عصمت دری کا شکار ہوئی ہے یعنی تین فیصد سے زیادہ۔ عصمت دری کا شکار خواتین میں سے کچھ تو مستقل معذور‘ کافی تعداد میں نفسیاتی مریض اور ان گنت موت کی دہلیز پار کر چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سراجیو سمیت مشرقی اور شمالی بوسنیا میں ہزاروں خواتین عصمت دری اور جنسی تشدد کا نشانہ بن چکی ہیں۔ سراجیو کا ایک شہری جو اپنا تعارف گوران کے نام سے کراتا ہے دنیا والوں سے سوال کرتا ہے ”کیا دنیا والے بالکل بے حس ہو چکے ہیں۔ کیا اب ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں رہی؟ ورنہ لڑکیوں کے ساتھ یہ سلوک کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کون سی ایسی غلطی کی ہے جس کی انہیں یہ سزا دی جائے“۔
وائس گراڈ کی ۵۶ سالہ عورت نے اپنے قصبے کی چار لڑکیوں کی دل خراش داستان سنائی جنہیں چیٹک لے گئے تھے۔ اس نے بتایا کہ دو آدمی سرخ کار سے باہر آئے اور ان چار لڑکیوں کو زبردستی کار میں ڈال لیا جو پل کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ انہیں پل پر لے گئے اور وحشیانہ طریقہ سے کار سے باہر نکالا۔ لڑکیاں چیخ رہی تھیں۔ انہیں بزور قوت پل کی فصیل پر لٹا دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں آدمیوں نے انہیں دریا میں دھکیل دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان پر فائر کھول دیا۔ تقریباً ۵۰ کلومیٹر تک ان کی لاشیں پانی کی سطح پر تیرتی نظر آئیں‘ اس کے بعد وہ ڈوب گئیں۔ اس واقعہ کے بعد بھی فوجی ہر آدھ گھنٹے سے ایک گھنٹے کے وقفے میں لڑکیوں کو لاتے رہے اور انہیں اسی طرح وحشیانہ طریقے سے قتل کر کے دریا میں بہاتے رہے۔
فوکا کی ایک نوعمر لڑکی نے بتایا ”سرب فوجی ہمارے گاؤں میں آئے اور ہمیں ایک جگہ اکٹھا کیا اور تین گروپوں میں تقسیم کر دیا۔ آٹھ نوجوان مردوں کو فوراً چاقوؤں سے ذبح کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے چند لڑکیوں اور خوبصورت عورتوں کا انتخاب کر کے حکم دیا کہ کپڑے اتار کر سب کے سامنے ننگی ہو جائیں۔ لڑکیوں کے لیے اپنے والدین کے سامنے ایسا کرنا مشکل تھا۔ فوجی آگے آئے اور لڑکیوں کو تھپڑ مارنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی تیز چاقوؤں سے ان کے کپڑے پھاڑ کر انہیں ننگا کر دیا۔ جس مرد نے ردعمل کا اظہار کیا وہ فوراً قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد فوجیوں نے سب کے سامنے لڑکیوں کی عزت لوٹی۔ مردوں‘ عورتوں اور بچوں نے منتیں کیں اور کہا کہ سب کچھ لے لو مگر ایسا نہ کرو مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔
فوکا کی ایک چودہ سالہ لڑکی اپنے اوپر بیتنے والے مظالم کی داستان سناتے ہوئے بے حال ہو گئی۔ اس نے بتایا ”ایک سرب کمانڈر مجھے کمرے میں لے گیا۔ اس نے مجھے دھکا دیا اور میں خوف
سے کانپنے لگی۔ میں سوچ رہی تھی کہ وہ میرا گلا کاٹ دے گا۔ اس نے مجھ سے پوچھا ”کیا تم نے کبھی...... (ناقابل بیان الفاظ)“ میں نے گڑگڑا کر التجا کی کہ وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرے۔ مگر اس نے مجھے دھکا دے کر کوچ میں گرا دیا۔ میرے کپڑے پھاڑ دیئے اور مجھے مارا۔ میں چیخ چلا رہی تھی۔ میری چیخیں بند کرنے کے لیے اس نے میرا منہ بند کر دیا۔ اس کے بعد لڑکی اپنی کہانی جاری نہ رکھ سکی۔ اس کی ماں نے بتایا ”میں اپنی بچی کی چیخیں سن رہی تھی۔ وہ مجھے مدد کے لیے پکار رہی تھی کہ میں اسے درندوں سے بچاؤں لیکن وہاں میں کچھ نہ کر سکتی تھی۔ اس کی اذیت ناک چیخیں مجھے پاگل کیے جا رہی تھیں۔ میں نے کمانڈر کو یہ کہتے ہوئے سنا ”کتیا! کیا تمہیں مزا آ رہا ہے“۔ اس کے ساتھ وہ مزید وحشت پر اتر آتا۔ میں نے بچی کی آوازیں سنیں لیکن کتا کمانڈر نہ رکا۔ ایک دوسرے کمرے میں
ہو جائیے پھر جو چاہے عورتوں سے کیجیے“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ جنوری ۹۳ء)
اقوام متحدہ کی امن فوج اور عصمت دری
۲۶۰ سپاہی اور بیس ہزار کنڈومز:
”محمد حامد جو ایک سوڈانی طالب علم ہے وہ سراجیوو یونیورسٹی ہوسٹل میں رہتا ہے‘ وہ بتاتا ہے کہ فرانسیسی ہر وقت مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میں نے ان میں سے کئی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے اس مہم کے لیے رضا کارانہ شرکت کی ہامی اس لیے بھری تھی کہ وہ مسلمان عورتوں سے جنسی لطف اٹھا سکیں“۔
نکاس ظہیر ووک کیلی فورنیا کا ایک میڈیکل پوسٹ گریجوایٹ کا طالب علم ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے بوسنیا میں ۲۰ ہزار کنڈومز (Condoms) کا کھوج لگایا جو اقوام متحدہ کے ولندیزیوں نے سپلائی کیے ہیں۔ مجھے اس پر شدید غصہ آیا کہ ولندیزی فوجیوں کی تعداد صرف ۲۶۰ ہے اور کنڈومز کی تعداد بیس ہزار۔ وہ ہماری مدد کے بہانے یہاں آئے ہیں مگر اپنی ناپاک خواہشات کو مسلمان عورتوں سے پوری کرنے کی توقعات لگائے ہوئے ہیں“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ فروری ۹۳ء)
۱۲ سالہ لڑکی کی مسلسل ۹ دن تک اجتماعی عصمت دری:
”آبروریزی کے جرم کا اندوہناک واقعہ ایک معصوم ۱۲ سالہ مسلمان بچی وسویجا کے ساتھ بھی پیش آیا جسے اس کے گاؤں جبلیک سے بے دخل کر کے مشرقی بوسنیا کے قصبے فوکا کے ایک کیمپ میں ۷۰ دوسرے افراد بشمول عورتوں‘ بچوں اور بوڑھے مردوں کے ساتھ رکھا گیا اور بعد ازاں شیطانی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ اس معصوم بچی نے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک روز کیمپ سے دور ایک خالی فلیٹ میں لے جایا گیا اور دو سربوں نے اس نازک اور معصوم بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس کرب ناک واقعے کی یاد نے اس کی آنکھوں میں آنسو دے دیئے اور بلبلاتے ہوئے اس نے کہا کہ میری عصمت کو داغ لگانے کے بعد مجھے مختلف سربوں نے مسلسل ۹ راتوں تک اس تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد ایک روز میری ماں‘ مجھے اور دوسری عورتوں کو بھی مجموعی طور پر ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ۱۷ ستمبر کو اسے سربیائی فوجیوں کے تبادلے میں سراجیو کے ایک کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی ماں اور ایک چھوٹی بہن کے ہمراہ رہ رہی ہے“۔
(ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ فروری ۹۳ء)
مُردہ ماں سے بدفعلی کرو‘ معصوم بیٹے کو حکم
”عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹر کی خبر کے مطابق ایک ۳۰ سالہ مسلم بوسنین خاتون ٹروپچ کے نظر بندی میں محصور اپنے کم عمر لڑکے کو کھانا پہنچانے گئی تو اس روک کر اس کے شوہر کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی گئی اور جب وہ کیمپ کے نگران سرب کمانڈر کے حسب منشا معلومات فراہم کرنے سے قاصر رہی تو اسے زدوکوب کیا گیا اور اس کا لباس تار تار کر دیا گیا۔ جب وہ اپنے ننگے جسم کو چھپانے کے لیے دوہری ہوئی تو اس کے سر میں گولی مار کر اسے زمین پر ڈھیر کر دیا گیا۔ جب خاتون کا
بیٹا اپنی ماں کی مدد کے لیے آگے بڑھا تو سرب فوجیوں نے اسے دبوچ لیا۔ نشہ میں دھت ایک سرب فوجی افسر نے بندوق کی نوک پر بد نصیب لڑکے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے کپڑے اتار دے اور اپنی مردہ ماں کے ساتھ بدفعلی کا ارتکاب کرے۔ جب لڑکے نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اسے بھی گولیوں کی باڑھ مار کر ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سلا دیا گیا“۔
(ماہنامہ ”الاشرف“ کراچی)
بوڑھا دادا اور مُردہ پوتے کا کلیجہ:
”سرب درندوں نے ایک ضعیف العمر شخص کو مجبور کیا کہ وہ اپنے مردہ پوتے کا سینہ چیر کر اس کا کلیجہ (جگر) چبائے“۔
(ماہنامہ ”الاشرف“ کراچی)
یہ ہے درندگی کی وہ انتہا اور تاریخ عالم کا وہ سیاہ باب جس پر اپنے پرائے سب خاموش ہیں۔
واشنگٹن کا ہولوکاسٹ میوزیم امریکہ کے صدر کلنٹن سے ایک سوال:
”امریکہ کے صدر جناب بل کلنٹن نے کچھ دن پہلے واشنگٹن میں ایک عجائب گھر کو منسوب کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔ بظاہر یہ کوئی ایسی بات نہیں کیونکہ دنیا میں ہر ملک کا سربراہ ایسی تقریبات میں شرکت کرتا ہے۔ تاہم کسی بھی ان پڑھ شخص کو اتنا علم ضرور ہوتا ہے کہ ملک کا آئینی اور انتظامی سربراہ کم از کم چھوٹی تقریبات میں شرکت نہیں کرتا۔ یہ تقریب ”ہولوکاسٹ“ نامی عجائب گھر کے سلسلے میں تھی اس عجائب گھر کی تعمیر اگرچہ پرائیویٹ فنڈ سے ہوئی ہے مگر اس کے لیے تمام تر قطعہ اراضی حکومت امریکہ نے عطیہ کے طور پر فراہم کی ہے۔ یہ برسوں کی محنت، تحقیق، منصوبہ بندی اور تعاون کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے ایک طرف اگر یہ انسان کی انسان کے خلاف درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے تو دوسری طرف اس عزم کی علامت بھی کہ انسان کا قتل عام کوئی معمولی اور نظر انداز کر دینے والی بات نہیں۔
یہ ہولوکاسٹ میوزیم ان دو ہزار یہودیوں کی یاد میں قائم کیا گیا ہے۔ جنہیں ۱۹۳۳ء سے دوسری جنگ عظیم تک نازیوں کے ہاتھوں قتل عام کا شکار ہونا پڑا۔ لگ بھگ گیارہ سال کے اندر اندر ۲ ہزار یہودیوں کے قتل عام کے تقریباً نصف صدی بعد اس ”ہولوکاسٹ“ عجائب گھر کا افتتاح ہوا ہے۔ اصطلاحاً ”ہولوکاسٹ“ سے مراد ”جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا قتل عام“ ہے۔ لہٰذا اسی کی یاد میں صدر کلنٹن نے اپنے خطاب میں فرمایا۔
”صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ ہم ان برائیوں پر قابو پائیں جن کی وجہ سے ”ہولوکاسٹ“ جیسی ہولناکیوں اور تباہیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ ہم سب اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیں کہ اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود ہم ایک ہیں۔ نیز اپنی الگ الگ شناخت کے باوجود ”انسانیت“ ہم سب کی قدر مشترک ہے اور سب کو اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ شدید ترین اختلافات کے باوجود ہم سب ایک ہیں۔ یہ یادگاری عجائب گھر
ہم سب ایسے لوگوں کے لیے ہے جو وہاں موجود نہیں تھے۔ اس عجائب گھر کے قیام کا مقصد اس ہولناک واقعہ سے سبق حاصل کرنا اور عبرت پکڑ کے اپنے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف پیدا کر کے اسی سبق کو نسل در نسل منتقل کرنا ہے۔
قارئین اس سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکی صدر کے نزدیک ۵۰ سال پہلے قتل ہونے والے دو ہزار یہودیوں کے خون کی قیمت کتنی ہے۔ اس عجائب گھر کا افتتاح عین اس وقت کیا گیا جب کہ کشمیر میں ساٹھ ہزار ایک سو اٹھارہ بوسنیا میں لگ بھگ چالیس ہزار یونان میں تقریباً ۵ ہزار البانیہ میں اندازاً دو ہزار اور ارضِ فلسطین میں اب تک لاکھوں کی تعداد میں خون مسلم پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے صرف کیمرے کام کر رہے ہیں۔ کوئی قانون، اصول، ضابطہ اور اخلاقی تقاضا اقوامِ عالم اور خود صدر امریکہ کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ آگے بڑھ کر مسلمان نہ سہی انسان سمجھ کر ہی اس خونِ تازہ کو بہنے سے روک دیں۔ کوئی ایسا ہاتھ آگے نہیں بڑھ رہا جو معصوم اور لاچار مسلمان عورتوں کی عصمتوں کو لٹنے سے بچا سکے۔ جناب کلنٹن! آپ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟ آپ کے منہ سے انسانیت کا لفظ آپ کے طرز عمل کی بناء پر اچھا نہیں لگتا۔ آپ اپنے خطاب پر ایک نظر دوبارہ ڈالیں اور موجودہ دور پر نظر دوڑائیں اور پھر اس پر لب کشائی فرمائیں کہ اب تک دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بننے والے چار لاکھ مسلمان آپ سے کیا پوچھ رہے ہیں۔ آخر وہ کون سا سبق ہے جو آپ نسل در نسل منتقل کرانا چاہتے ہیں انسان کو بچانے کا یا مذہب کی بنیاد پر مار دینے کا۔
آپ دو ہزار یہودیوں کے قتلِ عام کی یاد میں قائم ہونے والے عجائب گھر کے حصار سے نکل کر کشمیر، بوسنیا، یونان، البانیہ، فلسطین اور دیگر مسلمان ممالک میں ان عبرت کدوں کی سیر کریں جنہیں آپ کے حمایت یافتہ ممالک نے عبرت کا نمونہ بنا رکھا ہے۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا کہ آپ کی پالیسیاں تمام لوگوں کے لیے یکساں نہیں ہیں بلکہ یہ مذہب کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں۔ اور ان کے نتیجہ میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔ (ماہنامہ ”النبویہ“ کراچی شوال ۱۴۱۴ھ)
وہ کتابیں اپنے آباء کی:
”انسانی حرمتوں کی بے دردانہ تضحیک کے ساتھ ساتھ علمی خزانوں کو جس طرح تاراج کیا گیا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
سراجیو کا انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ جس میں سترہ ہزار مخطوطات تھے جو مسلمانوں کی ۵۰۰ سال کی تاریخ کا نچوڑ تھے سب کو آگ لگا دی گئی۔ سراجیو یونیورسٹی جس میں پندرہ لاکھ کتابیں اور ڈاکیومنٹس تھے تباہ کر دی گئی“۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء ص ۱۸)
ایک غیر مسلم کی مسلمانوں کے ضمیر پر دستک!
”مسلم دشمنی اور تعصب کے اس عالمی تاریکی کے ماحول میں کینیڈا کے ممتاز ترین اور معتبر
اخبار نویس ایرک مارگولس مغربی دنیا اور کینیڈا اور امریکہ میں آباد مسلمانوں کے لیے غنیمت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایرک مارگولس ”ٹورانٹو سٹار“ اور ”دی ٹورانٹو سن“ میں طویل تجزیہ نما کالم لکھتے ہیں اور اپنی تحقیقی تحریروں کی بدولت مسلم دشمن لابیوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ ۲۷ جولائی ۹۵ء بروز جمعرات ایرک مارگولس نے ایک طویل کالم سپرد قلم کیا۔ اس کا موضوع بوسنیا کے مظلوم اور جبر و استبداد کے مارے مسلمان ہیں۔ ایرک لکھتا ہے: ”بوسنیا کے مقہور مسلمان عالمی ضمیر کے لیے ایک طمانچہ ہیں عالمی ذرائع ابلاغ نے بوسنیا کے بحران کے بارے میں جو کردار ادا کیا ہے‘ وہ انتہائی شرمناک‘ مکروہ اور منافقانہ ہے‘ بوسنیا کے مسلمانوں کی بھیڑیا صفت سربوں کے ہاتھوں نسل کشی کو روکنے کے لیے گزشتہ دنوں نیٹو نے جو اعلان کیا‘ اسے برطانیہ‘ کینیڈا اور کلنٹن انتظامیہ نے جان بوجھ کر سبوتاژ کر دیا اور اپنے ہی اعلان کی کالک اپنے منہ پر مل لی۔ سربوں کے مظالم کو روکنے والے ہاتھ نہ جانے اچانک کیوں رک سے گئے۔ تصور کیجیے اگر بوسنیا میں یہودیوں کے خلاف سربوں کے ہاتھوں مظالم کی یہی تصویر ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ اب تک اسرائیل کی فضائیہ بوسنیا پہنچ کر سربوں کی جارحیت اور وجود کا خاتمہ کر چکی ہوتی اور اسرائیلی کمانڈو پیراشوٹوں کے ذریعے اُتر کر ظالم سربوں کو گرفتار کر کے اسی طرح جیلوں میں قید کر دیتے اور بعد ازاں انہیں پھانسی کے تختوں پر لٹکا چکے ہوتے جس طرح انہوں نے جنگ عظیم دوم کے نازیوں کو ان کے ظلم کی قرار واقعی سزا دی تھی.....“۔
رواں لمحوں میں پوری دنیا میں ایک ارب سے زائد مسلمان بس رہے ہیں مگر وہ سب کے سب تماشائی بنے بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور غیر مسلموں کے ہاتھوں ان کی نسل کشی کے مظاہرے دیکھ رہے ہیں۔ ایرک مارگولس عالم اسلام کے حکمرانوں کو شرم دلاتے ہوئے لکھتا ہے: ”جب بوسنیا کے دولاکھ مسلمانوں کو سربوں نے شہید کر ڈالا‘ پچیس ہزار کنواری مسلمان خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا گیا اور بیس لاکھ کے قریب بوسنیائی مسلمان ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہو گئے۔ تب اسلامی ممالک ”ارجنٹ“ کانفرنس بلانے پر تیار ہوئے جو عملی اعتبار سے احتجاج کا ایک کمزور مظاہرہ ثابت ہوئی۔ ۲۱ جولائی کو دنیا کے آٹھ مسلم ممالک (ترکی‘ ایران‘ پاکستان‘ مصر‘ مراکش‘ سعودی عرب‘ سینیگال اور ملائیشیا) صرف اس قابل ہوئے کہ تھوڑی سی جرأت کر کے صرف یہ کمزور سا بیان دیا کہ بوسنیا پر ہتھیاروں کی پابندی ناجائز اور بے جا ہے۔ اس دوران جب یہ مسلمان ممالک تقریریں کرنے میں مشغول تھے‘ جارحیت پسند سربوں نے زیپا میں محصور بوسنیائی مسلمانوں پر آتشیں یلغار کر دی اور سینکڑوں انسانوں کو مار ڈالا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ اسلام کے نام لیوا تھے“ مسلمان ممالک بھی بزدلی کا مظاہرہ کرنے میں پیش پیش رہے۔ انہوں نے مکمل طور پر بانجھ ہونے کا ثبوت فراہم کیا اور یہ بھی کہ وہ سب کے سب واشنگٹن کے اشارۂ ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔
امریکہ نے بوسنیا کے ستم زدگان مسلمانوں کے خلاف جو شرمناک کردار ادا کیا ہے‘ دردمند
ایرک مارگلس اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مذکورہ بالا کالم میں لکھتا ہے: ”بش اور کلنٹن ہر دو انتظامیہ نے سختی سے ترکی‘ مصر‘ مراکش‘ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو حکم دیا کہ خبردار بوسنیا کے مسلمانوں کی فوجی مدد نہ کرنا ...... ہاں تم لوگ انہیں تھوڑی سی مالی امداد فراہم کر سکتے ہو۔ اس بحران میں پاکستان نے سب سے پہلے بوسنیائی مسلمانوں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش کی مگر یہ کوشش بھی امریکہ نے یہ کہہ کر ناکام بنا دی کہ بوسنیائی مسلمانوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے جرم میں پاکستان پر مزید اقتصادی پابندیاں نہ صرف عائد کر دی جائیں گی بلکہ اسے دہشت گرد ممالک کی فہرست میں بھی شامل کر لیا جائے گا۔ صرف ایران بوسنیا کو ہتھیار پہنچانے میں کامیاب رہا ہے مگر یہ ہتھیار ایک تو تھوڑی تعداد میں تھے دوسرے کوالٹی کے اعتبار سے وہ اعلیٰ پیمانے کے بھی نہ تھے۔
ترکی کے پاس اس وقت پانچ لاکھ سے زائد مسلح فوجی ہیں۔ وہ با آسانی اپنی فوج کا ایک قلیل حصہ بوسنیا کے مسلمانوں کی امداد کے لیے ارسال کر سکتا ہے۔ ایرک مارگلس تاسف کے ساتھ لکھتا ہے کہ یورپی عیسائی انتہائی سفاکی کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں کو ذبح کرتے جا رہے ہیں اور ترکی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ وہ خطرے اور لالچ کی وادی میں سرگشتہ ہے۔ اسے ایک طرف خطرہ ہے کہ بوسنیا کی مدد کی صورت میں ہو سکتا ہے یونان کے ساتھ اس کی جنگ چھڑ جائے اور اسے یہ بھی لالچ ہے کہ اگر اس نے بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کی تو یورپین یونین میں شامل ہونے کی اس کی ساری کوششیں اکارت جائیں گی۔ ایرک طنزیہ طور پر لکھتا ہے کہ ترکی کس قدر احمقوں کی جنت میں رہتا ہے کہ عیسائی یورپ جب بوسنیا کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں سربوں کو مدد فراہم کر رہا ہے ایسے میں وہ مسلم ترکی کو کیسے اپنی رکنیت دے گا......؟
ایرک مارگلس لکھتا ہے : ”اس وقت مصر کے پاس چار لاکھ چالیس ہزار کی تعداد میں فوج ہے۔ وہ آسانی کے ساتھ البانیہ کے راستے اپنے بوسنیائی بھائیوں کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور وہاں کی کم از کم سول آبادی کو اپنے فوجیوں کے تعاون سے سربوں کے جرائم سے نجات دلا سکتا ہے ...... مگر وہ بوجوہ ایسا نہیں کر رہا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملائشیا روس سے مگ ۲۹ طیارے خرید رہا ہے جب کہ ملائشیا بخوبی علم رکھتا ہے کہ روس ہی وہ بڑا ملک ہے جو سربوں کو جدید ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ مراکش اور اردن کے بادشاہ جو خود کو ”اسلام کے سپاہی“ قرار دیتے نہیں تھکتے‘ کیسی بے حسی کے ساتھ اسلام کے لیے جان دینے والے بوسنیا کے مجاہدین کی بے یار و مددگاری اور مجبوری پر خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں : شرم کا مقام ہے کہ مسلمان ممالک کے تمام شہری جانتے ہیں کہ بوسنیا کی مسلمان خواتین کے ساتھ سرب فوجوں نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا اور انہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک ان کی اکثریت حاملہ نہ ہو گئی مگر اس ظلم عظیم کے باوجود عالم اسلام کا حکمران طبقہ خاموش ہے“۔ بوسنیا کے حوالے سے لکھے گئے اپنے کالم کے آخر میں ایرک مارگلس ملت اسلامیہ پر طعن کا طمانچہ لگاتے ہوئے لکھتا ہے: ”شاید کسی روز اسلامی ممالک کے تمام حکمران اجتماعی حیثیت
میں باجماعت اسرائیل کی خدمت میں پیش ہوں اور اسرائیل سے گڑگڑا کر درخواست کریں کہ حضور ہمارے مسلمان بھائیوں کو بچالو....“
(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۵ء)
یہ تھی وہ لہو رنگ تصویر جو ہم نے اپنوں کی زبان سے کم اور غیروں کے حوالے سے زیادہ بیان کی ہے۔ اب اس سارے قصے میں خود کو مہذب ترین اور انصاف پسند حقوقِ انسانی کا چیمپیئن، جمہوری اقدار کا پیامبر اور امنِ عالم کا سرپرستِ اعلیٰ کہلانے والے ملک امریکہ بہادر کی مکروہ چہرہ خود ان کی اپنی زبان سے ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے کہ امریکہ اپنے دعوؤں کو وہیں سچ کر دکھاتا ہے کہ جہاں اس کا کوئی نہ کوئی مفاد وابستہ ہو ورنہ اس کی بلا سے۔
بوسنیا کے بارے میں منافقانہ پالیسی اختیار کرنے پر امریکی وزارتِ خارجہ کے بوسنیا
ڈیسک کے انچارج کا استعفیٰ:
”امریکہ کے صدر بل کلنٹن سے صحافیوں نے سوال کیا کہ بوسنیا ہرزیگووینا کے لیے آپ نے کیا کیا تو انہوں نے جواب دیا ”امریکیوں نے مجھے امریکہ کے مسائل کے حل کے لیے صدر چنا ہے‘ یورپ کے بکھیڑوں کے لیے نہیں“۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے یوگوسلاویہ ڈیسک کے انچارج جارج کین نے منافقانہ طرزِ عمل دیکھتے ہوئے ۱۹۹۲ء میں احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا اور اگست ۱۹۹۳ء میں وزارتِ خارجہ کے بوسنیا ڈیسک کے انچارج بتیس سالہ مارشل ہیریز نے بھی وزیرِ خارجہ وارن کرسٹوفر کو استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ مارشل نے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے امریکی وزارت میں فارن سروسز آفیسر کے طور پر اس نے برطانیہ، بلغاریہ اور مقدونیہ میں خدمات سرانجام دی ہیں، علاوہ ازیں صدر جارج بش کے زمانہ صدارت میں اس وقت کے وزیرِ خارجہ بیکر کے دست راست بھی رہے ہیں۔ اپنے استعفیٰ میں مارشل ہیریز نے وارن کرسٹوفر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔
”میں ایک ایسے ادارے (وزارتِ خارجہ) میں خدمات سرانجام نہیں دے سکتا جس نے طے کر لیا ہے کہ یورپی ریاست (بوسنیا ہرزیگووینا) کو ہر صورت میں ختم ہونا چاہیے اور جہاں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ قتلِ عام کو جاری رہنے دو‘ سربیا کا ہاتھ مت روکو“۔ (مسٹر مارشل ہیریز کے بیان اور انٹرویو کی مکمل تفصیلات کے لیے دیکھیے ماہنامہ ”الفاروق“ کراچی‘ ص ۱۱-۱۲ ذیقعد ۱۴۱۴ھ)
سرب درندوں کی ذلالت کا اک اور گھناؤنا طریقہ:
اب ٹیسیں اتنی ہو گئی ہیں کہ آنسوؤں کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے:
”۱۹ دسمبر ۱۹۹۲ء کو جرمن ٹیلی ویژن نے خبروں کے دوران اپنے ایک تبصرے میں کہا: ”بوسنیا میں روزانہ صرف ہتھیاروں ہی سے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ غیر انسانی سلوک سے بھی۔ وہاں ہر روز ہزار ہا مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی ایک خاص مقصد کے تحت عصمت دری کی جاتی ہے کیونکہ
عورتوں کی عصمت دری کرنے اور انہیں حاملہ کرنے کا مقصد انہیں لا انتہا ذلیل کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف مردوں کو بھی ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ جرمن ٹی وی پر اپنا تبصرہ جاری رکھتے ہوئے نامہ نگار نے مزید کہا کہ اس کے ساتھی کو تشدد کا شکار ہونے والی ایک عورت نے جو داستان سنائی ہے اسے سننے کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔
”سات سربوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا، میرے کپڑے پھاڑ دیے۔ ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس کے بم دیکھے؟ اس کا اشارہ میری چھاتیوں کی طرف تھا۔ وہ پوچھنے لگا: پہلے کون سی چھاتی کاٹیں؟ دائیں یا بائیں؟ پھر بولا: پہلے اس کا مزہ چکھ لیں پھر کاٹ لیں گے۔ چھ سرب مجھ پر پل پڑے، ایک علیحدہ کھڑا رہا۔ پہلے ایک سرب نے اپنا عضو مخصوص میرے منہ میں ٹھونس دیا، پھر دوسرے نے کہا: اسے چوسو اسے چوسو۔ پھر وہ کہنے لگے میرے نچلے حصے کو چاقو سے چیرنا ہو گا کیونکہ وہ خشک ہے۔ پھر انہوں نے میری عصمت دری شروع کر دی۔ مجھے سب کچھ نگلنا پڑا۔ پیشاب اور منی! یہ ناقابل برداشت تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے نگلنے کا یہ عمل کبھی ختم نہ ہوگا۔ ایک ماہ بعد بھی یہی احساس مجھے گھیرے ہوئے تھا۔ مجھے ہر لمحہ آوازیں سنائی دیتی تھیں، نگلو نگلو۔ ایسے لگتا تھا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا۔ میں نے ایک شال اپنی آنکھوں اور اپنی ناک پر پھیلا لی۔ دو مردوں نے مل کر اپنے عضو مخصوص میرے جسم میں ٹھونس دیئے“۔
ایک چودہ سالہ بچی نے اپنی داستان غم ایک جرمن اخبار کو سناتے ہوئے کہا کہ جس عورت نے سبز رنگ کے کپڑے پہنے وہ مصیبت میں مبتلا ہو گئی۔ کیونکہ سبز رنگ مسلمانوں کا رنگ سمجھا جاتا ہے۔ اسے جنسی تشدد کا سب سے پہلے سامنا کرنا پڑا۔ سربوں نے بندے اور انگوٹھیاں اتارنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہوں نے کان اور انگلیاں کاٹ ڈالیں۔ اس بچی نے اپنے آنسو خشک کرتے ہوئے کہا کہ عصمت دری کرنے والے اس کے پڑوسی سرب تھے اس کے گاؤں کے۔ پھر اس نے اپنا آخری جملہ دہرایا جسے لکھتے وقت قلم کا کلیجہ پھٹتا ہے۔
”اب چیخیں اتنی ہو گئی ہیں کہ آنسوؤں کی قدر و قیمت جاتی رہی ہے“۔
❁ ❁ ❁
عزیز الرحمٰن ثانی
عراق میں امریکی بربریت اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی
جنگ خلیج کے دوران امریکہ اور برطانیہ عراق پر چار سو ٹن بم گرا چکے ہیں۔ جنگ خلیج سے لے کر اب تک عراق پر گرائے جانے والے بم دوسری جنگ عظیم میں گرائے جانے والے بموں کی کل مقدار سے زیادہ ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق عراق پر لگائی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں ہر ماہ پانچ ہزار عراقی بچے مر رہے ہیں۔
پابندیوں کے نتیجے میں عراق کا معاشی، معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ ۱۹۹۰ء سے پہلے عراق میں فی کس آمدنی تین ہزار ڈالر تھی۔ آج عراق دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں فی کس آمدنی محض پانچ سو ڈالر ہے۔
۶۰ فیصد افراد کو صاف پانی میسر نہیں ہے اور ۸۰ فیصد سکول تباہ ہو چکے ہیں۔ ایف اے او کے اعداد و شمار کے مطابق ۷۲ فیصد عراقی غذائیت کی قلت کا شکار ہیں۔
بچوں کی شرح اموات جنگ سے پہلے کے مقابلے میں دگنا ہو چکی ہے۔
جنگ سے پہلے عراق جدید ترین نظام حفظان صحت اور اعلیٰ تعلیمی شرح والے ممالک میں شمار ہوتا تھا آج اس کا نظام حفظان صحت اور نظام تعلیم تباہ ہو چکا ہے۔
انٹرنیشنل نرسنگ کولمبیا کے رچرڈ گیری فیلڈ کے مطابق ۱۹۹۱ء سے لے کر آج تک شہید ہونے والے بچوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ یونی سیف کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد پانچ لاکھ ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور عراق میں اقوام متحدہ کے پروگرام برائے انسانی بہبود کے کوآرڈینیٹر ڈینس ہالیڈے کے مطابق یہ تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔
اس بربریت، سفاکیت اور قتل و غارت کا جواز اور مقصد کیا ہے؟ کیا صدام کو ہٹانا اس کا مقصد ہے؟ نہیں! اس کا مقصد خلیج میں اور حجاز مقدس میں امریکی فوجوں کی موجودگی کو مسلسل جواز فراہم کیے رکھنا ہے۔
امریکہ نے صرف اٹھارویں صدی میں ۷۰ لاکھ سرخ ہندیوں کو قتل کیا۔ جدید عراق میں امریکہ اب پھر اپنا سابقہ ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے۔
عبدالقدوس محمدی
فرنگی کی دورنگی
کتوں سے بھرے پڑے دیس امریکا کی ایک مصروف و معروف مارکیٹ میں اچانک ایک خونخوار کتا معصوم اور پھول سے بچے پر جھپٹ پڑا۔ اس بچے کے والد کی شفقت پدری نے جوش مارا تو اس نے آگے بڑھ کر کتے کا گلا دبوچ لیا جس کی وجہ سے وہ کتا تو مر گیا مگر بچہ بچ گیا۔ اتفاق سے نیو یارک ٹائمز کا نمائندہ اس وقت وہاں موجود تھا۔ اس نے اس منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا اور پھر مسکراتے ہوئے اس بچے کے والد سے بغلگیر ہو گیا اور اُس کے اس عظیم کارنامے پر اُسے خراج تحسین پیش کرنے کے بعد اپنے اخبار کے لیے اس کا تعارفی انٹرویو لیا۔ وہ آدمی وضع قطع، شکل و صورت اور لباس واطوار سے تو کوئی غیر مسلم امریکی دکھائی دے رہا تھا لیکن اس نے انٹرویو کے دوران اپنے مسلمان ہونے کا انکشاف کر کے اس اخباری رپورٹر کو حیران کر دیا۔
امریکا کے اتنے بڑے اخبار میں اپنی تصویر و تعارف کی اشاعت کی خوشی میں اس نے بڑی بے چینی سے رات کاٹی۔ صبح ہوتے ہی وہ ہاکر کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ جونہی اخبار والا آیا اس نے لپک کر کانپتے ہاتھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اخبار وصول کیا۔ اس کی بے چین مضطرب اور متلاشی نگاہیں ایک تصویر پر جا کر رک گئیں۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعتاً یہ اس کی اپنی تصویر ہے۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھیں۔ اس نے خوشی سے بے قابو ہو کر کیپشن پر نظر ڈالی تو لکھا تھا ”دہشت گرد اور سنگدل مسلمان نے معصوم اور بے زبان کتے کا گلا دبوچ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا“۔
محترم قارئین! یہ تو نام نہاد سپر پاور ..... انسانی حقوق کے خود ساختہ ٹھیکیدار ...... انسانی و اخلاقی قدروں کے ڈھنڈورچی ...... وسعتِ نظری، فراخدلی اور برداشت کے پرچارک ...... اور امن و آشتی کے علمبردار امریکا اور مغرب کے ایک ادنیٰ درجے کے اخباری رپورٹر کی معمولی سی جانبداری اور عصبیت کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ورنہ خود امریکی حکومت اور مغربی معاشرے کی منافقانہ پالیسیوں، دوہرے معیار، تعصّب، اسلام دشمنی اور فرنگیوں کی دورنگی کے بے شمار شرمناک مناظر کا چشم فلک اور نگاہِ خلق مدتوں سے نظارہ کر رہی ہے۔ ذرا سوچئے! کتنے عرصے سے دنیا میں خونِ مسلم کس ارزانی و فراوانی سے بہہ رہا ہے لیکن امریکیوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ خون اگر طوفان بن گیا یا اس نے سیلاب کی
صورت اختیار کر لی تو اس طوفان کے آگے بند باندھنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی...... انہوں نے کبھی نہ سوچا کہ مظلوم مسلمانوں کی سوختہ لاشوں اور جلتی ہوئی بستیوں سے بلند ہونے والے شعلے...... اور مسلمان نوجوانوں کے دل و دماغ میں پکنے والا لاوا کسی روز امریکا کے اعلیٰ ایوانوں اور بلند و بالا ٹاوروں کو جلا کر خاکستر کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کی مساجد گرتی رہیں لیکن امریکا سے کبھی کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی...... قرآن وحدیث کے اوراق جلتے رہے لیکن واحد سُپر پاور نے مذمّت کے دو بول بولنے کی زحمت گوارا نہ کی...... دنیا بھر کی ستم رسیدہ مسلمان ماؤں اور بیٹیوں کے بہتے آنسوؤں کو دیکھ کر امریکیوں کا جذبہ ترحم کبھی بیدار نہیں ہوا...... معصوم بلکتے تڑپتے بچوں کو دیکھ کر ان کی شفقت و ہمدردی کی رگیں نہ پھڑک سکیں...... رات کے پچھلے پہر عقوبت خانوں سے بلند ہونے والی بے بس قیدیوں کی چیخیں سلامتی کونسل کے پتھریلے کانوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس لوٹتی رہیں...... لق و دق دشتِ لیلیٰ میں بکھرے ہوئے انسانی اعضاء کے ٹکڑے کسی کو نظر نہ آئے...... بے نوا مسلمانوں کی اجتماعی قبریں عالمی ضمیر کو بیدار نہ کر سکیں...... مسلمانوں کی جلتی سلگتی بستیوں سے بلند ہوتا ہوا دھواں اور آگ کے شعلوں کی تپش و حرارت مغربی سنگدلوں کے پتھر دلوں کو موم نہ کر سکے...... سرب درندوں، روسی ریچھوں، بھارتی بھیڑیوں اور خونخوار اسرائیلیوں کے ظلم و ستم پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے چپ سادھے رکھی...... جبر و تشدد کا نشانہ بننے، عصمت دری و بے حرمتی کا شکار ہونے والی اسلام کی عفت مآب دریدہ آنچل بیٹیوں کی آہ و بکا حقوق و آزادی نسواں کے غم سے ہلکان امریکیوں کے خفتہ و مردہ ضمیروں کو بیدار نہ کر سکی۔
1982ء میں اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم ایریل شیرون نے صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں میں جو قتل و غارت کروائی، اس کی داستان انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اسرائیل کی وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے سے قبل عرب اور اہل عرب سے متعلق ایریل شیرون کے خیالات کیا تھے، ملاحظہ فرمائیں: ”اگر میں اسرائیل کا وزیر اعظم بنا تو پورے عرب کو موت کے گھاٹ اتاروں گا...... ان کتوں (اہلِ فلسطین) کو حق نہیں ہے کہ وہ ”خدا کے منتخب بندوں“ (یہود) کے پڑوس میں رہیں۔ ہم عربوں کو نیست و نابود کر دیں گے۔ اس علاقے میں عرب کے ایک فرد کو بھی زندہ رہنے دینا اسرائیل کی پیٹھ پر خنجر پیوست کرنا ہے۔ ہم عربوں کو فرداً فرداً قتل کر ڈالیں گے اور انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوگا۔ تم مجھے تھوڑی ہی مدت کے لیے سہی! اقتدار دو میں تمہیں دکھا دوں گا کہ میں ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہوں۔“
(ماہنامہ المنار لبنان، مارچ 2001ء)
اداریہ روزنامہ ”ڈان“
بنیادی انسانی حقوق کا عالمی دن
۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ نے عالمی انسانی حقوق کا چارٹر وضع کیا تھا۔ اس چارٹر کی تشکیل وتوضیع کے لمحات کے دوران مستقبل کی نسلِ انسانی کو یہ باور کروایا گیا تھا کہ آئندہ دنیا میں کسی بھی طاقت کو اولادِ آدم کے بنیادی حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آج دنیا بھر میں ”یومِ بنیادی انسانی حقوق“ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن عالمی برادری ایسے عالم میں منا رہی ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کا چارٹر تعبیر سے محروم خواب کا روپ دھار چکا ہے۔ اس چارٹر کے خالقوں کے دعووں کی دھجیاں اطراف و اکنافِ عالم میں بکھری پڑی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ چارٹر عملدرآمد کی قوت سے محروم ایک ایسا کمزور قانونی ضابطہ بن چکا ہے جسے طاقتوروں نے عملاً طاقِ نسیاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی ادارہ ہر سال ۱۰ دسمبر کو یہ دن منانے کی تلقین و تاکید کرتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس ادارے کے اپنے بنیادی حقوق چند طاقتور ممالک نے ہائی جیک کر رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل‘ عالمی طاقت اور اس کے حلیف چند مغربی ممالک کے یرغمالی ہیں۔ وہ ان کے تابعِ مہمل کی حیثیت سے ان کی ہر ڈکٹیشن پر عمل پیرا ہونا اپنا فرضِ منصبی جانتے ہیں۔ آج آدم کے بیٹے اور حوا کی بیٹیاں ایسے عالم میں یہ دن منا رہے ہیں کہ ایتھوپیا‘ صومالیہ‘ موزمبیق اور کئی دیگر افریقی ممالک میں لاکھوں انسان قحط سالی کا شکار ہیں۔ قحط سالی سے متاثرہ اولادِ آدم کو اس سے نجات دلانے کیلئے عالمی ادارہ‘ عالمی طاقت اور مغربی ممالک ٹھوس عملی اقدامات کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ اور تشہیری مہم پر جتے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کا اپنا کردار بھی کسی طور لائقِ رشک نہیں۔ مزید برآں ارضِ فلسطین‘ ارضِ کشمیر‘ ارضِ افغانستان‘ ارضِ چیچنیا‘ ارضِ اریٹیریا اور ارضِ فلپائن میں کروڑوں حریت پسند طاقتور غاصبوں کی جارحیت اور درندگی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کا ڈکلیئریشن تیار کرنے والے ادارے کی موجودگی میں فلسطینیوں کے لیے ان کی اپنی دھرتی دیارِ غیر بن چکی ہے۔ یہ بدقسمت قوم اپنے ہی وطن میں غریب الوطن ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک اور مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے یہودی ان کی جنم بھومی پر ناجائز طور پر قابض ہیں۔ کیا قیامت ہے کہ لاکھوں فلسطینیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے کلیتاً محروم کرنے والے اسرائیل کی سرپرستی عالمی طاقت کر رہی ہے۔ اب تو بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ اسرائیل ”منی امریکہ“ ہے جبکہ امریکہ ”گریٹر
اسرائیل‘ ہے۔ یہ کیسا دلچسپ تضاد ہے کہ جن دنوں اقوام متحدہ انسانی حقوق کا چارٹر پیش کرنے پر جامے میں پھولی نہیں سما رہی تھی‘ انہی دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تہذیب‘ جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کا نام نہاد علمبردار برطانیہ‘ ناجائز اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ قراردادیں پیش کر رہا تھا بلکہ رائے عامہ بھی ہموار کر رہا تھا۔ بنیادی انسانی حقوق کے پیشکاروں نے اس ڈیکلئیریشن کی پہلی سالگرہ سے قبل ہی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر کے اس کی معنویت اور روح کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی نفی کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو طاقت کے بل بوتے پر پامال کرنے والے جارح اور غاصب اسرائیل کے معاون و مددگار کس منہ سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں؟ ۱۹۴۸ء ہی میں بھارت نے جونا گڑھ‘ دکن‘ مناودر اور کشمیر کی ریاستوں کی داخلی خود مختاری کو پامال کرتے ہوئے وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت سے محروم کر دیا۔ مقام حیرت ہے کہ دنیا بھر کو انسانیت کی ارفع قدروں کی بحالی کا درس دینے والا عالمی ادارہ کشمیر میں استصواب رائے کے حوالے سے اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے قاصر ہے۔ اس ڈیکلئیریشن کے منظر عام پر آنے کے بعد دونوں بڑی طاقتوں اور ان کی طفیلی ریاستوں اور اتحادی ممالک نے بدترین قسم کی بہیمیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے کروڑوں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے۔ کیوبا‘ لاؤس‘ کوریا‘ ویتنام‘ چلی‘ گوئٹے مالا‘ نکاراگوا‘ پولینڈ‘ چیکوسلواکیہ‘ یوگوسلاویہ‘ بلغاریہ‘ وسط ایشیا‘ قبرص‘ اریٹیریا‘ فلپائن‘ فلسطین‘ جنوبی افریقہ‘ الجزائر‘ مشرق وسطیٰ اور بھارت کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ڈیکلئیریشن کی منظوری کے پہلے تین عشروں ہی میں دونوں بڑی طاقتیں سوویت روس اور امریکہ اس کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ آج بھی آزادی اور حریت کی پامالی طاقتور اور غاصب مملکتوں کا شیوہ و شعار ہے۔ الجزائر میں روح جمہوریت کو پامال کر کے اقتدار پر قبضے کی راہ فوجی جرنیلوں کو کس نے دکھائی؟ ترکی میں جرنیل شاہی کی سنگینوں کے زیر سایہ ”سیکولر ڈیموکریسی“ کی ”پرورش“ کس کے اشاروں پر کی جاتی رہی؟ بھارت میں جمہوریت اور سیکولرازم کی آڑ میں بدترین قسم کی مذہبی منافرت اور مسلم کشی کو انتہا پسند ہندو اکثریت کا حق کون قرار دیتا رہا؟ نسل پرست یہودیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے فری ہینڈ کس نے دیا؟ کون تھا جو سات سمندر پار افغانستان ایسے پسماندہ ملک پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی‘ بری و بحری دہشت گردی کو سند جواز فراہم کرتا رہا؟ آج بھی کون ہے جو لاکھوں معصوم عراقی بچوں کی قاتل اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تہذیب کی بالا دستی کا مظہر قرار دے رہا ہے؟ اس تاریک ماضی اور بھیانک حال کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک اقوام متحدہ امریکہ کی باندی کا کردار ادا کرے گی‘ اس کا ڈیکلئیریشن محض ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا رہے گا۔
غیر ملکی
اگست ۱۹۹۲ء میں ”حکومت نے برط ”ہماری آزادی پر ایسٹ انڈیا کمپنی ج اور ”حکومت این جی این جی اوز کے متعلق جن میں سے اکثر کا افریقہ کے نام نہاد ترقی پذی مذکورہ اخباری سرخیاں ب اپنے ہی فیصلے کو واپس لینے ایشر آف ڈویلپمنٹ این جی بیسک ایڈمنسٹریشن رجسٹریشن گورنمنٹ بیورو دی تھی۔ اس منسوخی کی وجہ رقم کا وصول کیا جانا تھا۔ دوس سرگرمی میں ملوث پایا گیا ا۔ تعلیم میں بیرونی آج کے بنگلہ دیش ڈھا کہ میں کی جائے۔ آج پاکستان میں نام پر ان کو داد و تحسین سے نو برداریاں کی جا رہی ہیں۔ اس
نور الزمان
غیر ملکی ”این جی اوز“ اور بنگلہ دیش
اگست ۱۹۹۲ء میں ڈھاکہ کے کئی بنگالی اخبارات کی شہ سرخیاں تھیں: ”حکومت نے بدطینت اور بدعنوان این جی اوز سے ہار مان لی“ ”ہماری آزادی پر نقب لگانے کا منصوبہ“ ایسٹ انڈیا کمپنی جیسا طرز عمل“ اور ”حکومت این جی اوز کو لگام ڈالنے میں ناکام ہو گئی“ وغیرہ وغیرہ۔
این جی اوز کے معنی ہیں نان گورنمنٹل آرگنائزیشن یعنی غیر سرکاری تنظیم۔ ان تنظیموں کے متعلق جن میں سے اکثر کا تعلق مغرب کے ترقی یافتہ ممالک سے ہے، یہ فرض کیا جاتا ہے کہ یہ ایشیا اور افریقہ کے نام نہاد ترقی پذیر ممالک میں رضا کارانہ مدد اور فلاح و بہبود کے کام میں مصروف ہیں۔...... مذکورہ اخباری شہ سرخیاں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے مغربی سفیروں کا دباؤ قبول کرتے ہوئے اپنے ہی فیصلے کو واپس لینے کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی تھیں جو اے ڈی اے بی یعنی ایسوسی ایشنز آف ڈویلپمنٹ این جی اوز ان بنگلہ دیش، اور ایس ای بی اے ۱؎ یعنی سوسائٹی فار اکنا مک اینڈ بیسک ایڈمنسٹریشن کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے بارے میں تھا۔
گورنمنٹ بیورو فار این جی اوز کے ڈائریکٹر جنرل نے ”سیبا“ کی رجسٹریشن منسوخ کر دی تھی۔ اس منسوخی کی وجہ سے خورد برد اور ایک غیر ملکی سفارت خانے سے حکومت کی اجازت کے بغیر رقم کا وصول کیا جانا تھا۔ دوسری این جی اوز ”ادب“ کو حکومتی قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب اور سیاسی سرگرمی میں ملوث پایا گیا۔ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ہونے
۱؎ تعلیم میں بیرونی معاونت سے متعلق غور و فکر کرتے وقت یہ مناسب ہوگا کہ کل کے مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلہ دیش ڈھاکہ میں غیر ملکی این جی اوز (غیر سرکاری سماجی تنظیموں) کے کردار کے مطالعے سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ آج پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی تنظیموں کا جال بڑی سرگرمی سے پھیلایا جا رہا ہے۔ کبھی حقوق انسانی کے نام پر ان کو داد و تحسین سے نوازا جاتا ہے اور کہیں پر ”وسعت قلبی“ کی آڑ میں امریکی اور یورپی این جی اوز کی ناز برداریاں کی جا رہی ہیں۔ اس خوش نما پھندے کے مطلوب ہدف سے پردہ ہٹایا جا رہا ہے۔
(زیر نظر مضمون بہ شکریہ Impact International لندن) مرتب
والے ایک اجلاس میں کیا گیا لیکن اپنے سرپرست اور مربی سفارت خانوں کی مداخلت پر ”سیڈا“ اور ”اڈب“ فقط تین گھنٹے کی مختصر مدت میں واپس اپنے کام پر آگئیں اور حکومت بنگلہ دیش کو اپنے الفاظ خون کا گھونٹ پی کر واپس نگلنے پڑے۔
یہ کہانی اب ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی جب این جی اوز بیورو نے فنڈز میں خورد برد اور لوگوں کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش میں مال و دولت کے بے محابا استعمال پر کچھ مزید غیر ملکی این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔ انٹرنیشنل کرسچین فیلوشپ، فنش فری مشن، سیواستھا اور پیپلز ایڈوانس کمیٹی نامی تنظیمیں بنگلہ دیش میں اعلانیہ عیسائیت کی تبلیغ کرتی ہیں۔ اس مرتبہ مغربی سفارت کار اکٹھے ہو کر وزیر اعظم سیکرٹریٹ گئے اور وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا سے کہا کہ ”اگر ان ’فلاحی‘ تنظیموں کی رجسٹریشن بحال نہ کی گئی اور ان کے خلاف مجوزہ فوجداری مقدمات قائم کرنے کا ارادہ ترک نہ کیا گیا تو بنگلہ دیش مغربی ملکوں کی امداد سے محروم ہو سکتا ہے۔“ یہ خالی دھمکی نہ تھی وزیر اعظم بخوبی جانتی تھیں کہ صرف دو برس قبل ۱۹۹۲ء میں انہی این جی اوز نے حکومت کے لیے مسئلہ کھڑا کر دیا تھا اور امداد دینے والے ملکوں کے پیرس کنسورشیم نے (غیر ملکی این جی اوز کے) انسانی ”حقوق“ کی خلاف ورزی پر بنگلہ دیش کی مذمت کی تھی۔
مغربی سفارت کاروں کی دھمکی کے بعد فی الفور این جی اوز بیورو کے ڈائریکٹر جنرل شاہد العالم کا تبادلہ کر دیا گیا حالانکہ وہ اس وقت سرکاری دورے پر بیرون ملک تھے، لیکن بلا تاخیر بیورو کے نئے سربراہ کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ ایجنسیاں پھر سے اپنے مشاغل میں لگ گئیں یعنی بنگلہ دیش کے غریبوں کی روحیں خریدنے اور انہیں عیسائی بنانے کا کام...... اس شے نے غیر ملکی این جی اوز کی طاقت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیشی حکومت کی بے بسی اور کمزوری کے بارے میں بھی سوال اُٹھادیئے ہیں۔
مقامی سماجی حلقوں کی جانب سے این جی اوز کے خلاف احتجاج کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے کئی قصبوں میں ان تنظیموں کے سنگ دلانہ طرزِ عمل کے خلاف غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے لوگ گلیوں میں نکل آئے اور انہوں نے بڑے بڑے مظاہرے کیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ”حکومت، سامراج کی اس نئے روپ میں تشکیل شدہ شکل کے خلاف حرکت میں آئے، قبل اس کے کہ قوم اپنے اسلامی تشخص اور ملک اپنی خود مختاری سے ہاتھ دھو بیٹھے۔“
تاہم یہ احتجاجات اور مظاہرے کوئی ایسی کہانی نہیں سنا رہے تھے جو پہلے سے حکومت کے علم میں نہ ہو۔ حکومت کی فائلوں میں تو ان این جی اوز اور ملک کے سماجی استحکام و سیاسی یک جہتی کے متعلق ان تنظیموں کی کارروائیوں میں پائی جانے والی سنگین بے قاعدگیوں کے بارے میں حساس معلومات موجود تھیں...... لیکن یہ کچھ نہ جانتے ہوئے کچھ نہ کرنے والا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ تو سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکنے والا معاملہ تھا۔
ایسے قابل موازنہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جن کی رو سے پتہ چل سکے کہ دنیا کی دیگر
”غریب“ اقوام میں آبادی کے لحاظ سے دیش کا تعلق ہے یہ ان درجن بھر ملکوں میں ارتکاز سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں ذیلی تنظیموں کے منظر نامے کو نگاہ ہوش مربع میل میں پائے جاتے ہیں۔ بھاری تعداد میں این جی اوز ہیں یعنی ایک این
ان غیر ملکی این جی اوز کا اپنے ہیں جو دنیا کے غریب، پس ماندہ، نادار فر لانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم ملک میں ان مقبول اور با وسائل مغربی حصہ نہ صرف حقیر ہے بلکہ سماجی لحاظ سے
ڈاکٹر شیخ مقصود علی بنگلہ دیش بھاری فنڈز دینے کے باوجود ان علاقوں طور پر این جی اوز نے اپنے منصوبے
ڈاکٹر سید مصباح الدین کے بقول بھی ”ترقی کے دو بڑے اہم نہیں ہے۔“ پروفیسر ہاشمی کے مطابق پہنچ سکتا ہے لیکن پس ماندہ اور غریب ا
ڈاکٹر قاضی خلیق الزماں صدر ہیں۔ انہوں نے ان خاص شہر دیہی غربت کی ’دریافت‘ کہتے ہیں ورلڈ بینک میں آنے سے قبل میکا سے سرشار اور (”مشنری ہمدرد“ اوز کے فیشن ایبل ناموں والے یہ کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کا منص وغیرہ) تیسری دنیا بشمول بنگلہ دیش فرض کر لیا گیا تھا کہ ایک بار جب حصول کا مقصد بہت آسان ہوگا نہیں اسی لیے غربت ختم کرنے کے
”غریب“ اقوام میں آبادی کے لحاظ سے کہاں کہاں این جی اوز کی کتنی بھر مار ہے لیکن جہاں تک بنگلہ دیش کا تعلق ہے یہ ان درجن بھر ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں غیر ملکی این جی اوز کا فی مربع میل میں ارتکاز سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں بکھری ہوئی سولہ ہزار غیر ملکی غیر حکومتی فلاحی تنظیموں اور ان کی ذیلی تنظیموں کے منظر نامے کو نگاہِ ہوش سے دیکھا جائے تو بنگلہ دیش میں ۳٫۵ غیر ملکی این جی اوز فی مربع میل میں پائے جاتے ہیں۔ بھارت بنگلہ دیش سے ۲۳ گنا بڑا ہے اور یہاں فقط ۱۰٬۵۹۵ کی تعداد میں این جی اوز ہیں یعنی ایک این جی اوز فی ۲۰۵٫۶ مربع میل۔
ان غیر ملکی این جی اوز کا اپنے بارے میں پھیلایا ہوا تاثر یہ ہے کہ وہ تو ”ڈویلپمنٹ پارٹنرز“ ہیں جو دنیا کے غریب پس ماندہ نادار غیر مہذب اور ترقی پذیر ملکوں میں غربت مٹانے اور تعلیم و ترقی لانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش کے چوٹی کے ماہرین معاشیات کے مطابق ان کے ملک میں ان متمول اور باوسائل مغربی ”پارٹنرز“ کی فراوانی کے باوجود ملکی ترقی میں ان این جی اوز کا حصہ نہ صرف حقیر ہے بلکہ سماجی لحاظ سے حد درجہ منفی بھی ہے۔
ڈاکٹر شیخ مقصود علی بنگلہ دیش پلاننگ کمیشن کے رکن ہیں انہیں ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ بھاری فنڈز دینے کے باوجود ان علاقوں میں لوگوں کی شرح آمدنی میں کوئی اضافہ ہوا ہو کہ جہاں مبینہ طور پر این جی اوز نے اپنے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔
ڈاکٹر سید مصباح الدین ہاشمی جہانگیر نگر یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیں۔ ان کے بقول بھی ”ترقی کے دو بڑے اہم میدانوں یعنی زراعت اور صنعت میں این جی اوز کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ پروفیسر ہاشمی کے مطابق ”کاروباری قرضوں کی پیش کش سے فقط چند ایک لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن پس ماندہ اور غریب علاقوں کے لیے ان این جی اوز کے پاس کچھ بھی نہیں۔“
ڈاکٹر قاضی خلیق الزماں احمد ممتاز ماہر معاشیات اور بنگلہ دیش ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے صدر ہیں۔ انہوں نے ان خاص قسم کی ترقیاتی سرگرمیوں کے خیالی منافع کا سراغ لگایا ہے جنہیں وہ دیہی غربت کی ”دریافت“ کہتے ہیں۔ یہ دریافت ورلڈ بینک کے سابق صدر مسٹر میکنامارا نے کی ہے۔ عالمی بینک میں آنے سے قبل میکنامارا امریکہ کے سیکرٹری دفاع تھے لیکن وہ (عیسائی مشنری جذبے سے سرشار اور) ”مشنری ہمدرد“ بھی تھے۔ ڈاکٹر قاضی خلیق الزماں کے دعوے کے مطابق ”این جی اوز کے فیشن ایبل ناموں والے یہ منصوبے مثلاً غربت مٹانے کا منصوبہ، ٹارگٹ گروپ پراجیکٹ، کام کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کا منصوبہ اور غریبوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ وغیرہ وغیرہ) تیسری دنیا بشمول بنگلہ دیش کے معاشی ڈھانچے میں یہ منصوبے کسی قسم کی تبدیلی نہیں لا سکے۔ یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ایک بار جب ٹارگٹ گروپوں کی شناخت کر لی گئی تو پھر غربت کا خاتمہ اور ترقی کے حصول کا مقصد بہت آسان ہوگا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشی وسائل ٹارگٹ گروپوں تک کبھی پہنچے ہی نہیں اس لیے غربت ختم کرنے کے مقصد میں خصوصی ترقیاتی پروگرام معمولی اہمیت کے حامل تھے۔
اس بارے میں صحیح صحیح اعداد و شمار میسر نہیں ہیں کہ بنگلہ دیش میں سرگرم عمل این جی اوز کے پاس مجموعی (ملکی و غیر ملکی) سرمایہ کتنا ہے کیونکہ حکومتی قواعد کے باوجود کہ ان تنظیموں کے دیئے جانے والے یا ان کی طرف سے وصول کیے جانے والے فنڈز کے معاملات صاف شفاف ہونے چاہئیں۔ یہ تنظیمیں وصول کردہ فنڈز کی تمام رسیدیں حکومت پر ظاہر نہیں کرتیں۔ دس برس قبل ۱۹۸۲ء میں صرف عیسائی این جی اوز کی سالانہ اعلان کردہ رسیدیں کم از کم ۸۴ ملین ڈالر کی تھی لیکن ورلڈ بینک، فوڈ فار ورک پروگرام، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر کئی امدادی اداروں کی جانب سے ان تنظیموں کو دی گئی امداد اور رقوم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ۸۴ ملین ڈالر سے کہیں زیادہ تھیں۔ این جی اوز کو ان کی حکومتیں براہ راست فنڈز مہیا کرتی ہیں لیکن اس کے علاوہ امداد دینے والے یہ ملک اور غیر ملکی ادارے حکومت بنگلہ دیش کو دی جانے والی امداد کے سلسلے میں یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ مذکورہ امداد کا ایک خاص حصہ ان نامزد کردہ این جی اوز یا این جی اوز کے توسط سے خرچ کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر امریکہ مطالبہ کرتا ہے کہ "فوڈ فار ورک پروگرام" کی نگران فلاحی تنظیم "CARE" ہوگی جو ایک معروف عیسائی تنظیم ہے۔ تاہم اس پروگرام کے بلین ڈالرز کہاں جاتے ہیں؟ ان کا کوئی جواب نہیں اور کوئی حساب نہیں۔
این جی اوز کے فنڈز اور وسائل کا تقریباً ۷۰ فیصد حصہ غیر ملکی رضا کاروں، ماہرین اور مشیروں کی تنخواہوں، سفر خرچ اور دیگر اللوں تللوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ۱۵ فیصد حصہ بنگلہ دیشی سٹاف پر، ۱۰ فیصد دفتری انتظام و انصرام پر، جبکہ فقط ۵ فیصد ٹارگٹ گروپوں پر خرچ کیا جاتا ہے کہ جن کے بارے میں یہ تنظیمیں اتنا واویلا کرتی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کم از کم ماہانہ اُجرت ایک ہزار ٹکا (۲۵ امریکی ڈالر) سے مشکل ہی سے بڑھ پاتی ہے وہاں کچھ این جی اوز کے سربراہان ایک لاکھ سے تین لاکھ ٹکا (۲۵۰۰ سے ۷۵۰۰ امریکی ڈالر تک) تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ کچھ این جی اوز اپنے سربراہوں کو تنخواہوں کی ادائیگی تو ان کے اپنے وطن میں غیر ملکی کرنسی میں کرتی ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں قیام کا رہائشی الاؤنس بھی دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک برطانوی تنظیم نے اپنے پروگراموں کے افسر اعلیٰ کو بیرون ملک تنخواہ کی ادائیگی کے علاوہ ایک لاکھ ٹکا "ماہانہ الاؤنس" بھی دیا۔ اخراجات کی مد میں یہ رقوم ظاہر کرتی ہیں کہ اکثر این جی اوز اپنے فنڈز، اپنے اعلان کردہ منصوبوں سے ہٹ کر دیگر مدات میں منتقل کرتی ہیں۔
ڈاکٹر شیخ مقصود علی کی رائے میں "این جی اوز کے ترقیاتی بجٹ کا تقریباً ۸۰ فیصد حصہ ٹارگٹ گروپوں (یعنی جن کی مدد کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے) کے بجائے "درمیان والوں" کی مٹھی گرم کرنے میں خرچ ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش پلاننگ کمیشن میں پیش کیے گئے این جی اوز کے اکثر منصوبے درست نہیں ہوتے اور بیشتر مواقع پر ان میں غلط اور مبالغہ آمیز اعداد و شمار پیش کیے گئے ہوتے ہیں جب کہ رسل و رسائل، زمین اور گاڑیوں کی مدوں میں اخراجات کا تخمینہ اصل سے کہیں
زیادہ ظاہر کیا گیا ہوتا ہے۔“
۱۹۹۳ء میں ”این جی اوز بیورو انکوائری رپورٹ“ وزیراعظم خالدہ ضیا کو پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ”این جی او کے بجٹ کا ۶۰ فیصد اپنے ماہرین اور عملے کی تنخواہوں اور الاؤنسز پر خرچ کیا گیا۔ مزید یہ کہ خطیر رقم نئے ماڈل کی کاریں اور متسوبشی پجارو گاڑیاں خریدنے اور این جی اوز کے افسروں اور ماہرین کے لیے فائیو سٹار ریسٹ ہاؤسوں کی تعمیر پر خرچ کی گئیں۔“
بیورو کے آڈیٹروں (مالی محتسبوں) نے ایک سو این جی اوز کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی تو یہ عقدہ کھلا کہ ان میں سے ۸۰ فیصد مالی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں حتیٰ کہ ان کے اپنے خفیہ بینک اکاؤنٹ بھی ہیں۔ یہ بھی ہے کہ این جی اوز کسی منصوبے کے لیے مختص تمام رقم لازمی طور پر اسی منصوبے پر خرچ نہیں کرتی ہیں بلکہ زیادہ رقم غائب کر لی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ”مینو نائٹ سنٹرل کمیٹی“ (Menonite Central Committee) نامی ایک این جی او نے ۰ء۸۴ ملین ٹکا بہبود اور بحالی کی مد میں نکالا لیکن مبینہ طور پر ۳۲۷۲۱ ٹکے تقسیم کیے۔ آڈیٹروں کا کہنا ہے آڈٹ کے دوران سامنے آیا کہ ”کاریتاس“ (Caritas) کی جانب سے ۵۰ لاکھ ٹکا اور "BADS" نامی این جی او کی جانب سے ۰ء۱۳ ملین ٹکا سمندری طوفان کے متاثرین کی بحالی کے بہانے غلط مدات میں استعمال کیا گیا۔
این جی اوز اپنے فنڈز اور امدادی رقوم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ بھی خریدتی ہیں۔ سرکاری اہل کاروں اور سیاست دانوں کی ملکیت عمارتوں اور گھروں کو فیاضانہ شرائط پر لیز پر لے لیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ان کے بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر عزیز و اقارب کو بے کام کی نوکریاں دی جاتی ہیں۔ اگر بنگلہ دیش میں آپ خوش لباس ہیں، آپ کے ایک ہاتھ میں جدید قسم کا بریف کیس ہے اور آپ جاپان ساختہ چمکتی دمکتی پجارو گاڑی میں سوار ہیں تو (کم و بیش) اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی این جی او کے افسر ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں کسی این جی اوز کے ساتھ تعلق کا مطلب بھی یہ ہے کہ آپ کوئی ”خاص شخصیت“ ہیں۔
این جی اوز کی سرگرمیوں میں سے ایک میدان یہ ہے کہ چاول صاف کرنے والی مشینیں خریدنے، مرغیاں پالنے اور چھوٹی موٹی دکانداری کے لیے لوگوں کو چھوٹے قرضے دیئے جاتے ہیں لیکن رقوم کی واپسی کا روزانہ، پندرہ روزہ اور ہفتہ وار نظام ایسا ہے کہ قرضہ لینے والے ان پڑھ لوگ ۲۵ فیصد سے ۳۰ فیصد سود ادا کرتے ہیں۔ ”پراشیکا منابک انیان کندرا“ نامی این جی او مبینہ طور پر ۲۲۶ فیصد سود وصول کرتی ہے۔
این جی اوز بیورو کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ”یہ این جی اوز غریب لوگوں کا دوسروں پر انحصار یا ان کی محتاجی ختم کرنے کے لیے شاذ ہی کام کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ان امدادی اداروں کی اکثریت سچ مچ کے غریب لوگوں کے مسائل سے لاتعلق ہے اور ان لوگوں کو پیروں پر کھڑا کرنے سے
ان اداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔‘‘ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ پوری کی پوری آبادیاں (مثلاً فینی اور مانک گنج ) کسی ایک یا دوسری این جی اوز کی اس حد تک دست نگر بن چکی ہیں کہ یہاں کی رعایا ان این جی اوز کی سچ مچ بیگاری ہو کر رہ گئی ہیں۔
بنگلہ دیش کے کئی مبصرین نے اس صورتحال کو نہ صرف ”شرمناک قرار دیا ہے بلکہ یہ شکنجہ تو روایتی ہندو بنیے کے مایا جال سے بھی زیادہ شرارت آمیز ہے۔‘‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ این جی اوز کس مقصد کے لیے کوشاں ہیں؟ اگر ان کے اپنے خوش نما نعروں کے مطابق ایک سیاسی اور سماجی انقلاب برپا کر کے ”روشنی اور تہذیب‘‘ لانا (اس معاملے پر ڈالی گئی ان کی اپنی ’روشنی کے مطابق‘ اور ”تاریک اور شب گرفتہ‘‘ مسلم بنگال کی دھرتی پر تعمیر و ترقی کی چکا چوند کرنا)‘‘ افسوس کہ ان کا عمل مذکورہ دعووں کی قلعی کھول رہا ہے۔
ان این جی اوز کی بڑی تعداد عیسائی (مشنریوں پر) مشتمل ہے اگرچہ بالعموم ان کے ناموں سے یہ حقیقت آشکار نہیں ہوتی‘ ان میں سے کچھ تو علانیہ کہتی ہیں کہ وہ انجیلی ہیں جبکہ اکثریت کی مثال خیمے کی ”کھونٹیوں“ جیسی ہے۔ یہ ”کھونٹیاں‘‘ اپنے طریقہ واردات میں بے حد عیار اور چالاک ہیں۔ بظاہر یہ اپنی مشنری تبلیغی دلچسپیوں کا اظہار نہیں کرتیں‘ ان کا کام یہ ہے کہ ”نو اعتقادوں“ (عیسائیت اختیار کرنے والوں) کی دنیاوی آسائشیں بہم پہنچائیں۔
بنگال کی سرزمین پر عیسائیت کی تبلیغ کے لیے فعال قسم کی دلچسپی کا آغاز دو صدیاں قبل ہوا۔ ۱۷۵۷ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں نے بنگال کے مسلم حکمران نواب سراج الدولہ کو جنگ پلاسی میں شکست دی اور ۱۷۹۳ء میں مشہور برطانوی مشنری‘ مسٹر ولیم کیرے کلکتہ پہنچا تھا۔ پھر بائبل اور دوسرے تبلیغی لوازمے کے بنگالی زبان میں ترجمہ کرنے کا آغاز ہوا اور بنگال بھر میں مشنری سکول قائم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بنگالی زبان سے عربی‘ فارسی اور اسلامی اصطلاحات اور الفاظ کو نکالنے کی بھی دانستہ کوشش کی گئی تاکہ یہ سنسکرت زدہ ہندو زبان بن کر رہ جائے۔ بنگال پر ۱۹۰ سالہ نوآبادیاتی راج کے دوران صرف ایک لاکھ گیارہ ہزار چار سو چھبیس لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا۔ (یعنی آج کے بنگلہ دیش میں تقریباً پچاس ہزار) لیکن آنے والے وقتوں کے لیے اس تبلیغی کام کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔
نو آبادیاتی پالیسی کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اسلامی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ”اوقاف“ (اسلامی مذہبی ادارے) کا گلا گھونٹا جائے تاکہ مقامی باشندے مجبور ہو کر اپنے بچوں کو مسجدوں کے بجائے مشنری سکولوں میں بھیجیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ لوگ اپنی صحت کے مسائل کے لیے مشنری ہسپتالوں کی طرف رجوع کریں۔ یہ پالیسی کامیاب رہی اور ایک ایسا مسلم طبقہ وجود میں آ گیا جو اپنے ان ”دانش ور مائی باپ‘‘ کا زیر احسان تھا اور بڑے خلوص سے اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ ”تعلیم‘ صحت‘ بہبود اور فلاح کے کاموں کا انصرام مشنری ادارے ہی بہترین انداز میں
کر سکتے ہیں۔‘‘ یہی وہ طبقہ تھا جسے برطانوی راج کے خاتمے پر مشرقی پاکستان میں اقتدار منتقل ہوا اور اس طرح آزادی ملنے کے بعد بھی اس طبقے نے اپنے آقاؤں کی تشکیل کردہ تعلیمی اور بہبودی پالیسیوں کو تھوڑی بہت ترمیم اور تبدیلی کے ساتھ جاری و ساری رکھا۔ درحقیقت جہاں اس طبقے کے نوآبادیاتی آقا مشنری تنظیموں سے اپنے تعلق کو پردۂ راز میں رکھنا چاہتے تھے، وہاں بھی شعوری طور پر اس غلام طبقے نے ایسی کوئی ضرورت محسوس نہ کی اور ملک کے دروازے ہر قسم کی غیر ملکی (نام نہاد) فلاحی تنظیموں کے لیے کھول دیئے، قطع نظر اس کے کہ ان کا مذہبی پس منظر اور سیاسی عزائم کیا ہیں؟
اس مفاد پرست طبقے کا زیادہ تر مفاد یہ تھا کہ یہ ملک میں غیر ملکی زر مبادلہ لا رہے تھے، جس میں سے وہ اپنا حصہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ جہاں تک مذکورہ طبقے کا تعلق ہے تو اس کے نزدیک ’’یہ تنظیمیں اگر سرحدی علاقوں میں غیر مسلم قبائل کو عیسائی بنا رہی تھیں اور اپنی توجہ ہندوؤں پر مرکوز کر رہی تھیں تو بھی یہ ٹھیک ہی تھا کیونکہ خود یہ لوگ تو غیر مسلموں میں اسلام کا آفاقی پیغام پہنچانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔‘‘
مشرقی بنگال عددی برتری کی خالص جمہوری منطق کی بنیاد پر ہی مشرقی پاکستان بنا۔ یعنی اس خطے میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی لہٰذا یہ ایک علیحدہ مسلم ریاست ہونی چاہیے لیکن حصولِ آزادی کے بعد مقتدر طبقہ اپنے قومی وجود کے منطقی جواز سے لا تعلق ہو گیا۔ تاہم جب مشرقی پاکستان دسمبر 1971ء میں بنگلہ دیش بنا تو اس علاقے میں عیسائیوں کی تعداد چار سو فیصد تک بڑھ چکی تھی یعنی 1947ء میں 50 ہزار سے 1971ء میں 2 لاکھ تک !
بنگلہ دیش کے قیام کا ایک قابل ذکر سبب مسلمانوں کا داخلی تنازعہ تھا لیکن جب یہ طے ہو چکا تو بنگلہ دیش نے خود کو ان بین الاقوامی طاقتوں کی گود میں پایا جن کا اپنا معاشی، سیاسی اور مذہبی ایجنڈا تھا۔ وہ اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں تھیں اور اس کی سماجی، معاشی اور سیاسی ساخت کو مزید اس حد تک کمزور کر دینا چاہتی تھیں کہ جہاں قوم خود بخود ایک نئی نوآبادیاتی نوکری میں جا گرے۔ ڈھاکہ میں وائی ایم سی اے (ینگ مینز کرسچن ایسوسی ایشن) کے جاری کردہ کتابچے ’’عوام سے عوام تک‘‘ میں لکھا ہے: ’’بنگلہ دیش کے سماجی ڈھانچے کو تعلیمات انجیل کے مطابق ڈھالنے کے عمل میں عیسائی تحریک کو لازماً ایک بھر پور قوت ہونا چاہیے۔‘‘ بنگلہ دیش میں سرگرم عمل غیر ملکی فلاحی تنظیموں کے مقاصد میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ ان کا مطمح نظر بالضرور فلاح و بہبود نہیں ہے۔ البتہ اس بارے میں کوئی شک نہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ قوم کے سماجی ڈھانچے کو تبدیل کیا جائے۔ (اور یہ لفظ ’’سماجی‘‘ بڑے وسیع امکانات کا حامل ہے)
1971ء سے 1991ء کی درمیانی مدت میں بنگلہ دیش میں عیسائی مذہب قبول کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ کر چار لاکھ ہو چکی ہے۔ اس بارے میں عیسائی ذرائع اعداد و شمار کو کم ظاہر کرتے ہیں لیکن معلوم ہوا ہے کہ اگلے بیس برسوں میں ان تنظیموں کا ہدف عیسائی آبادی کو دس سے بارہ ملین
تک پہنچانا ہے۔ شمالی بنگال میں گیرو کی پہاڑیاں اور چٹا گانگ کے پہاڑی خطے جیسے سرحدی علاقوں میں لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈھاکہ کا ”اسد ایونیو“ زیادہ تر نئے عیسائیوں کی ملکیت ہے اور میر پور ”گرجوں کا شہر“ بن چکا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ نہ صرف ہندو اور بدھ قبائل عیسائیت اختیار کر رہے ہیں بلکہ مسلمان بھی عیسائی بن رہے ہیں۔ قبل ازیں انڈونیشیا کی طرح اب بنگلہ دیش بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ”ایک مسلمان، کیتھولک یا پروٹسٹنٹ عیسائی بن سکتا ہے“۔ ایک متزلزل ”مسلمان“ کو اب پہلے سے کہیں زیادہ آسانی کے ساتھ متزلزل عیسائی بننے کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے۔
بنگلہ دیش حکومت کے این جی اوز بیورو نے ایسی ۵۲ این جی اوز کی نشاندہی کی ہے جو براہِ راست لوگوں کو عیسائی بنانے میں مصروف ہیں۔ فرقہ چاہے کوئی بھی ہو، مذہبی اور سیکولر این جی اوز میں فرق صرف ظاہری وضع قطع کا ہے، حقیقی مقاصد کا ہرگز نہیں۔ ایک این جی او مذہبی لحاظ سے غیر جانبدارانہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور ساتھ ہی معاشرے کی روحوں اور اقدار کو بگاڑنے میں معاونت بھی کرتی ہے جب کہ دیگر این جی اوز ”تباہ حال روحوں کی“ کچی فصل کاٹنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساٹھ ہزار سے زائد دیہات جو کہ ملک کی دیہی آبادی کا نصف ہیں، کسی ایک یا دوسری این جی او نے سنبھال رکھے ہیں۔ ان سب کا طریقہ واردات عام نوعیت کا ہے:
- (۱) کرپشن (۲) ترغیب (۳) اور عقیدے کی تبدیلی!
این جی اوز بیورو رپورٹ نے ان طریقوں کی ایک دلچسپ اندرونی تصویر پیش کی ہے۔ مذہب کی تبدیلی اور عیسائی بنانے کے لیے ہدف کی کمزوری کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یعنی عورتیں، بچے، ان پڑھ، بے یار و مددگار اور غربت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے بے بس اور محروم لوگ! کچھ این جی اوز اپنے عملے، بشمول مسلمانوں کے لیے بائبل پڑھنا لازمی قرار دیتی ہیں۔ ایک بڑی مشنری این جی او نے اپنے قائم کردہ سکولوں میں صرف عیسائی اساتذہ مقرر کیے ہیں اور ہوسٹل میں رہنے کی خواہش مند طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ عیسائی ہوں۔ کسی بھی سرکاری یا دوسرے پرائیویٹ سکول میں طالب علم کو اس کے اپنے مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے جب کہ اکثر مشنری سکولوں میں طالب علموں کے لیے عیسائیت (بطور نجات دہندہ مذہب) پڑھنا لازمی ہے۔
ایسے ہی ایک کیس میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اس بے ضابطگی کی طرف توجہ دلائی تو اس کو جواب ملا: ”ہمیں آپ کی حکومت فنڈز دیتی ہے اور نہ ہم اس کے سامنے جواب دہ ہیں۔“
ایک بڑی فلاحی تنظیم تقریباً ۸۵ سکولوں کو چلاتی ہے، جن میں سے زیادہ تر پرائمری سکول ہیں لیکن اسی خیراتی ادارے کے ثانوی اور ووکیشنل سکولوں میں صرف انہی طلبہ کو داخلہ ملتا ہے جو عیسائی نو اعتقاد ہوں۔
اکثر عیسائی این جی اوز کی پالیسی ہے کہ ”مسلمانوں کو آخر میں ملازمت دو اور نئے عیسائیوں کی دستگیری کرو۔“ اس پالیسی کا مقصد معاشی اور تعلیمی لحاظ سے موثر نو اعتقاد عیسائیوں کا معاشرہ قائم کرنا ہے جو افریقہ کے بہت سے علاقوں اور ملکوں کی طرح آگے چل کر یہاں بھی طاقت کے کلیدی سرچشموں پر کنٹرول حاصل کر سکیں۔ جیسے تعلیم، معیشت، بیوروکریسی، فوج اور سماجی پالیسی وغیرہ۔
۱۹۹۱ء کے سمندری طوفان (سائکلون) کے دوران چٹاگانگ میں قطب دیا کے مقام پر این جی اوز کے ایک دفتر پر سینکڑوں لوگوں نے حملہ کر دیا۔ وہ اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ امدادی سامان مانگنے پر ان سے کہا گیا کہ ”امدادی سامان لینا ہے تو پہلے اپنا عقیدہ چھوڑ کر عیسائی بن جاؤ۔“ صرف یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو امدادی سامان میں سے حقیر سا حصہ دیا گیا۔ چرچ آف بنگلہ دیش نے اس کی توجیہ یہ پیش کی ”یہ اشیاء ’عیسائی‘ ممالک سے آئی تھیں۔“ (اس برملا اعتراف سے چرچ نے اگر چہ اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیا مگر اس کے باوجود مغرب کی ذہنی غلامی میں گرفتار مقامی صحافتی اور سرکاری کارندوں نے پورے معاملے کو دبانے کے لیے آخری زور لگا دیا)
خواتین میں مشنری تبلیغی کام ”پروگرام برائے سماجی بیداری“ کی نقاب اوڑھ کر کیا جاتا ہے۔ ”سماجی بیداری کا یہ پروگرام“ خواتین سے اسلامی ثقافت اور خاندانی اقدار چھڑوا کر انہیں ”آزادیٔ نسواں“ اور خاندانی منصوبہ بندی کی آزاد اور ڈھیلی ڈھالی اخلاقیات سے متعارف کرواتا ہے۔ ایک این جی او کا فیلڈ ورکر جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ آوارہ اور لاوارث بچوں کی نگہداشت کرتا ہے، وہ مبینہ طور پر چھ بچوں کو ان کے والدین کی اجازت کے بغیر لے گیا۔ چھوٹے بچوں کو خریدنے کا ایک کاروبار خاموشی اور راز داری سے جاری و ساری ہے۔ ان بچوں کو عیسائی بنا کر مقامی طور پر ان کی پرورش کی جاتی ہے یا پھر انہیں باہر بھیج دیا جاتا ہے! ’کوئی مسلمان کسی مشنری طبی مرکز پر جاتا ہے تو اسے کم تر درجے کی دوائی دی جاتی ہے۔ جب یہ دوائی اپنا اثر نہیں دکھاتی تو اچھی قسم کی دوا دے کر کہا جاتا ہے کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مدد طلب کرو۔“ اچھی دوائی سے مریض اچھا ہو جاتا ہے جو ایک ثبوت ہے کہ ”عیسائیت اسلام سے بہتر مذہب ہے۔“
تاہم غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وائی ایم سی اے جس تبدیلی کی خواہاں ہے، وہ پہلے سماجی ڈھانچے میں رونما ہوگی یا پہلے ملک کا ”سیاسی ڈھانچہ“ تبدیلی کے عمل سے گزرے گا؟
این جی اوز سیاسی پریشر گروپوں کی تشکیل اور انہیں فنڈز مہیا کرنے میں بھی حد سے زیادہ ملوث ہیں۔ مذکورہ پریشر گروپ فنی رہنمائی اور مالی معاونت کے بدلے میں ملکی سیاست اور سیاسی واقعات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور معاملات کا رُخ اسلامی یا مسلم قوم پرست قوتوں کے خلاف جبکہ سیکولر اور غیر اسلامی قوتوں کی حمایت میں موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کمیونزم مر گیا ہو، قبر میں بھی جا پڑا ہو لیکن OXFAM کی حمایت یافتہ ایک ”انقلابی“ این جی او
”گانا سھاجیا سنگتھا“ (GSS) طبقاتی جدوجہد اور پولیٹیکل پاور میں تبدیلی کا نعرہ لگا رہی ہے۔ جی ایس ایس کی قائم کردہ (ہم خود کریں گے) ایک اور سیاسی طور پر فعال این جی او ہے جو متنازعہ سیاسی مسائل و معاملات پر موقف اپنانے اور برسرعام حکومتی قوانین کی دھجیاں اڑانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی۔ ”نائیجر اکوری“ کو ”کرسچن ایڈ“ ”وار آن وانٹ“ (War on Want) اور کچھ دیگر بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ اس تنظیم نے اپنے منصوبوں کے لیے حکومت سے زمین کے وسیع عریض قطعات لیز پر لے رکھے ہیں تاکہ بے زمین لوگوں کی مدد کی جاسکے۔
این جی اوز بیورو کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ”نائیجر اکوری“ نے سال 91-1990ء میں حکومت کے علم یا منظوری کے بغیر ۱۴۰۶ ملین ٹکا تک کی رقم کے غیرملکی فنڈز وصول کیے۔ دیہی ترقی کے نام پر اس تنظیم نے اپنے بجٹ کا ۵۰ فیصد اپنے عملے کی تنخواہوں اور الاؤنسوں پر خرچ کیا جبکہ ۳۰ فیصد ایڈمنسٹریشن‘ خدمت گار عملے‘ دفتری آسائش و اہتمام اور ریسٹ ہاؤس کے بلوں کی مد میں خرچ کیا اور جو باقی بچ رہا‘ وہ تربیت اور سیمیناروں پر برابر کر دیا۔ تربیتی پروگرام اور سیمینار این جی اوز کے لیے وقت گزاری اور تعلقات بنانے کے پسندیدہ مشغلے ہیں‘ انہیں عام طور پر سیاسی سرگرمیوں کی ڈھال خیال کیا جاتا ہے۔
سرکاری رپورٹ میں ”نائیجر اکوری“ کے کام میں فنڈز کی خردبرد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نے سمندری طوفان سے بے گھر ہونے والوں کے لیے گھر بنانے کی مد میں جو رقم مختص کی تھی‘ حقیقت میں اس سے کہیں کم رقم خرچ کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محنت مزدوری کرنے والے غریب طبقے کی حالت بہتر بنانے کے بجائے ایک خیراتی اور فلاحی ادارے کی منتظم مس خوشی کبیر نے اپنی حالت بہتر بنانے پر توجہ دی۔ یہ خاتون ڈھاکہ کے علاقے ”دھان منڈی“ میں عالی شان محل نما گھر میں رہتی ہے۔
یہ سب این جی اوز اور ان کے پریشر گروپ بالعموم بھارت نواز‘ سیکولر اور اسلام مخالف ہیں‘ جو طبقاتی اور مرد و عورت کی ”جنگ“ کی حمایت کرتے ہیں۔ اب تو یہ غیرملکی این جی اوز ٹریڈ یونینوں اور پریشر گروپوں کے ذریعے بالواسطہ سیاست میں مداخلت کے بجائے ملکی سیاست میں براہ راست مداخلت کرنے لگی ہیں۔ یہ غیرسرکاری این جی اوز اپنے رسالے اور خبرنامے بھی شائع کر رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح سیاسی موقف اپناتی ہیں اور اسلام اور اسلامی قوانین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ بنگلہ دیش پریس نے الزام لگایا ہے کہ این جی اوز اپنی پسند کی سیاسی پارٹیوں کو رقوم فراہم کرتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کا تعین کرتی ہیں اور قومی اسمبلی کے انتخاب میں مخصوص امیدواروں کی انتخابی مہم چلاتی ہیں۔ 1991ء کے عام انتخابات میں ”ورلڈ ویژن“ اور ”کار یتاس“ کے حمایت یافتہ امیدوار پی ماکن قومی اسمبلی کے حلقہ گھاروپل سے منتخب ہوگئے۔ ایک نئے عیسائی پی ماکن عوامی لیگ کے امیدوار تھے۔ انہوں نے حکمران بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے امیدوار ٹی ایچ خان کو
شکست دی۔ یاد رہے کہ ٹی ایچ خان سابق وزیر اور بنگلہ دیش کے ممتاز قانون دان ہیں۔
بنگلہ دیش کے سیاسی مبصرین کے خیال میں چٹا گانگ کے پہاڑی علاقوں (چٹا گانگ ہل ٹریکٹ) کی سیاست میں این جی اوز کی براہ راست مداخلت حد درجہ بڑھ گئی ہے اور اس سے بھارت کے حمایت یافتہ گروپ ”شانتی باہنی“ کی شورش کو شہ ملی ہے۔ اس شورش کی وجہ سے بنگلہ دیشی حکومت اس علاقے میں اپنے ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکی اور اسے اس پسماندہ علاقے کے مسئلے کا سیاسی حل سوچنا پڑا۔ این جی اوز کے اور بھارتی دباؤ کی بناء پر حکومت اس علاقے میں باغیانہ سرگرمیوں کو بھی نہیں کچل سکی۔ اس خطے کی صورتحال جنوبی سوڈان سے کسی حد تک ملتی جلتی ہے، جہاں این جی اوز نے بہبود فراہم کرنے والے اور باغیوں کے ”انسانی حقوق کے محافظوں“ کے طور پر خود کو تعینات کر رکھا ہے۔
یہ این جی اوز، مغربی سفارت خانوں، امریکی کانگریس کے ارکان اور انسانی حقوق کی مغربی لابیوں کو متحرک کرنے میں شانتی باہنی کی مدد کرتی ہیں تاکہ وہ بنگلہ دیشی حکومت پر اپنا دباؤ بڑھائیں۔ شانتی باہنی کا خفیہ خبر نامہ ”راڈار“ (Radar) ایسے مواد پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی این جی او نے فراہم کیا ہوتا ہے یا این جی او کے ذریعے فراہم کیا گیا ہوتا ہے اگر برطانوی ہائی کمشنر بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کو خط لکھتا ہے تو اسے ”راڈار“ میں پڑھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مالم گھاٹ کے کرسچن مشنری ہسپتال نے چالیس ہزار لوگوں کو عیسائی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سرکاری این جی اوز بیورو کی رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اکثر غیر ملکی این جی اوز کی غیر فلاحی سرگرمیوں سے غافل نہیں ہے۔ حکومت نے این جی اوز کی سرگرمیوں کے بارے میں صاف، شفاف اور صداقت پر مبنی رپورٹ مانگی ہے اور فنڈز کی وصولی اور استعمال کے طریقوں میں جوابدہی کا نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت نے یہ بھی کوشش کی کہ چند ”شرانگیز“ تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے۔ مگر حکومت کی یہ تمام خواہشات اس وقت ناکامی کا منہ بولتا ثبوت اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئیں جب ان تنظیموں کے غیر ملکی پشت پناہوں کے دباؤ پر حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا اور اپنی جائز خواہش کو اپنے ہاتھوں دفن کرنا پڑا۔
۱۹۹۳ء اپریل میں خبر آئی کہ حکومت این جی اوز کے کام پر نظم و ضبط رکھنے والے قوانین میں اس نقطہ نظر کے ساتھ ترمیم کر رہی ہے کہ غیر ملکی فلاحی اور امدادی ادارے ملکی مفاد کے منفی سرگرمیوں اور ملکی سیاست میں ملوث ہونے سے باز رہیں۔ اخبار "The Morning Sun" (صبح کا سورج) نے اپنی ۲۷ اپریل ۱۹۹۳ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ،
”حکومت کو قوانین میں ترمیم پر مجبور کیا گیا تھا کیونکہ یہ حقیقت منظر عام پر آئی تھی کہ چند این جی اوز ان پڑھ اور جاہل لوگوں کو پیسے اور مادی فوائد کا لالچ دے کر عیسائی بنا رہی تھیں اور ملکی سیاست میں حصہ لے رہی تھیں۔“
اسی روز ڈھاکہ میں امریکی سفیر نے ایک ظہرانے میں کہا: ”طاقت کے متنوع مراکز یعنی این جی اوز کے بارے میں پریشان اور دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اور نہ ان سے دشمنوں جیسا سلوک کرنا چاہیے۔ ہمارے تجربے کے مطابق تو این جی اوز بہتر کام کرتی ہیں اور معاشرے کی بہتر خدمت سرانجام دے سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں کم سے کم کنٹرول کیا جائے۔“
امریکی سفیر نے اعلان کیا کہ: ”مختلف گروپوں مثلاً کاروباری اور صنعتی تنظیموں، این جی اوز اور مزدور تنظیموں کو نہ حکومت کا مخالف ہونا چاہیے اور نہ حکومت کا حمایتی۔“
امریکی سفیر کی طرف سے ”طاقت کے مختلف مراکز“ کا ضابطہ پیش کرنے کے بعد عالمی بینک کے مقامی نمائندے نے این جی اوز کے کردار میں توسیع کا مطالبہ کیا کیونکہ:
- (1) امداد دینے والے ممالک چاہتے ہیں کہ این جی اوز ملکی ترقی میں زیادہ سے زیادہ حصہ
لیں۔ ......اور
- (2) وہ امداد باہمی کی کارروائیوں اور پروگراموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں کیونکہ
حکومتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔
اگر حکومتی اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تو وہ جو تعمیر و ترقی میں حکومت کی دوستی کے دعوے دار ہیں، انہیں چاہیے کہ ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے حکومت کی مدد کریں لیکن عالمی بینک کی منطق سامراجی ہے کہ:
کیونکہ تم نہیں کر سکتے اس لیے ہم انتظام سنبھالیں گے۔ ......اور تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حال ہی میں ایک بار پھر بنگلہ دیشی حکومت نے این جی اوز کی سرگرمیوں کو نظم و ضبط میں رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تا کہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ تنظیمیں ملک کے سماجی اور قانونی فریم ورک کے ڈسپلن اور اخلاقیات کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔ ......لیکن این جی اوز "ADAB" کی منتظم مس خوشی کبیر نے کہا ہے کہ ”یہ قانون گھٹن کا ماحول پیدا کر دے گا اور اس بات کو ناممکن کر دے گا کہ این جی اوز ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھ سکیں۔“ اس تنبیہ کے ساتھ ساتھ مس خوشی کبیر نے مجوزہ قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ قانون حکومت کی آزاد روی کی پالیسی اور جمہوری عمل کو فروغ دینے کے اعلان سے مطابقت نہیں رکھتا۔“
یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ کیا بنگلہ دیشی وزیر اعظم این جی اوز کے طاقتور سرپرستوں کا بہادری سے مقابلہ کرتی ہیں اور قوم کی اتھارٹی کو نئے امدادی سوداگروں سے منواتی ہیں یا نہیں۔
برنارڈ شا نے ”سامراج“ کو آزادی کا عظیم چیمپئن قرار دیا ہے کہ ایک سامراجی آدھی دنیا کو
فتح کر کے اسے اپنی عمل داری میں شامل کرتا ہے اور اسے نو آبادیات کا نام دیتا ہے۔ جب اسے اپنی مانچسٹر کی اشیاء کے لیے نئی منڈی درکار ہوتی ہے تو وہ لوگوں کو انجیل کی تعلیم دینے کے لیے وہاں پر اپنا مبلغ بھیجتا ہے۔ مقامی باشندے مبلغ کو قتل کر دیتے ہیں تو وہ عیسائیت کے تحفظ میں اپنی مسلح فوجوں سے وہاں کی سرزمین پر قبضہ کر لیتا ہے اور نئی منڈی کو خدا کا عطیہ سمجھتا ہے۔“
بنگلہ دیش کے اس مطالعے کے پس منظر میں ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ بیرونی معاونت کو خوش دلی سے قبول کرنے کے بجائے کیا زیادہ آبرومندانہ پالیسی یہ نہیں ہے کہ اس سے حتی الامکان احتراز کی پالیسی اپنائی جائے۔ اگر ان وسائل کا صرف ۱۰ فیصد حصہ ہی ہدف تک پہنچتا ہے تو پھر یہ مقامی وسائل سے بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمیں کیا حق ہے کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو مقروض اور بالفعل غلام چھوڑ کر جائیں۔ ہمیں خود پاکستان میں بھی استعمار کے کھیل کو سمجھنا چاہیے اور اس کے پھندے میں خوشی خوشی پھنسنے کے بجائے اس سے نکلنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
”2001ء میں اسرائیل کے وزیراعظم شیرون نے اقتدار میں آتے ہی فلسطینیوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ دیے۔ جنین مہاجر کیمپ میں شیطانی کھیل کھیلا گیا۔ 30 ہزار کی آبادی کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن کے ایک نمائندے نے بتایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے سینکڑوں لاشوں کو گلیوں میں پڑا ہوا دیکھا۔ لاشوں کو بلڈوزوں کے ذریعے گڑھے کھود کر غائب کیا جا رہا تھا، پورے دس دن تک پانی اور بجلی کٹی رہی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے بچے پکار رہے تھے، جس گھر سے رونے کی آواز آتی ”اسرائیلی“ فوجی اس گھر میں ٹینکوں کے گولوں کی بارش کر دیتے۔ کھڑکیوں اور روشن دانوں سے ہینڈ گرنیڈ گھروں کے اندر پھینکتے، کئی نوجوانوں کو اسرائیلی فوجیوں نے کھڑا کر کے ان کے بازو کاٹے اور ان کی آنکھیں نکال دیں۔ جو ماں گھر سے باہر آتی، اس کو عبرت کا نشانہ بنایا جاتا۔ اسرائیلی اخبار ”یدیعوت“ کے مطابق یہودیوں کے ایک تہوار کے موقع پر یہودیوں کے سات بڑے راہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات میں امریکی صدر جارج بش نے اپنی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اگر ایریل شیرون کی جگہ ہوتا تو فلسطینیوں کے ساتھ وہی کچھ کرتا جو ایریل شیرون کر رہے ہیں۔“
آغا مرتضیٰ پویا
تعلیم میں بیرونی معاونت کا نظریاتی پہلو
پاکستان کا مقصد اور مقدر خالصتاً ایک اسلامی، نظریاتی اور مقتدر ملک کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر معاونت جو تعلیم کے شعبے میں یا ثقافت کے شعبے میں امریکہ کی طرف سے یا امریکہ کے حامیوں کی طرف سے پاکستان کو ملی ہے، وہ روز اول سے آج تک پاکستان کے اسلامی تشخص کو قبول کر کے نہیں دی گئی۔ معاونت کے نام پر جو کچھ وہ یہاں کر رہے ہیں، وہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو کمزور اور مسمار کرنے کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔ یہ جو Clash of civilizations کی اصطلاح ہے، یہ آج کی اصطلاح نہیں ہے۔ اس کا بیج کم سے کم سو سال قبل امریکن امپیریلزم نے شرق اوسط میں بویا تھا اور امریکن یونیورسٹی بیروت کے فاؤنڈنگ فادر جب اس امریکن یونیورسٹی کی بنیاد رکھ رہے تھے، ان کی کہاوت یہ تھی کہ:
"We cannot convert a Muslim to Christianity, our objective should be to de-muslimize the Muslims."
یعنی ہم مسلمان کو غیر مسلم نہیں بنا سکتے بلکہ ہم مسلمان کو مسلمان نہ رہنے دیں۔ یہ ہے فاؤنڈنگ فادر آف امریکن یونیورسٹی آف بیروت کا خواب اور یہی خواہش امریکن یونیورسٹی انقرہ میں سامنے آئی اور یہی اُمنگ ایف سی کالج لاہور کے قیام میں کارفرما تھی۔ پاکستان میں اور برصغیر میں عیسائی مشنری اداروں کی جب بنیاد رکھی گئی تو یہی اصول مدنظر رکھا گیا تھا اور رکھا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان کو مسیحی تو نہیں بنا سکتے مگر ہم مسلمان کو مسلمان بھی نہ رہنے دیں۔ آج بھی ان کی جتنی پالیسیاں ہیں، وہ اسی کے مطابق چل رہی ہیں۔ اب تک مشاہدہ یہی بتا رہا ہے کہ معاملہ درست نہیں ہے، اس لیے جو فارن ایڈ آ رہا ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی آئے اگر وہ ہمارے اس مقصد و محور کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کو ہمیں ترک کرنا چاہیے۔ اگر ہم کہیں سے مدد حاصل کر کے اپنے مقصد کو ترویج دے سکتے ہیں اور ہم میں اتنی اخلاقی اور نظریاتی پختگی موجود ہے تو ہمیں بیرونی امداد کو اپنی شرائط پر قبول کرنا چاہیے، ورنہ اسے رد کرنا چاہیے۔
۱۹۴۹ء میں جب چین آزاد ہوا تو چو این لائی وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے تمام عیسائی مشنریوں کو بلایا اور کہنے لگے کہ ”میں تمام غیر ملکیوں کا چین سے اخراج کر رہا ہوں اگرچہ مشنریز میں
سے کچھ نے یہاں پر کار خیر میں حصہ لیا ہے اس لیے اگر آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو شوق سے رہیے مگر آپ اپنے آبائی ملک سے اپنے تعلقات منقطع کریں۔“ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانیت کی خدمت کا نعرہ بلند کرنے والے بہت بڑی تعداد میں واپس چلے گئے۔
میرا ایک اور مشاہدہ ہے۔ یہ ۱۹۸۲ء کی بات ہے۔ الجزائر کی جنگ آزادی کے ہیرو اور عظیم رہنما بن بیلا سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ”ہم ایک بہت عظیم انقلاب لائے جس میں ڈیڑھ ملین مسلمان شہید ہوئے مگر افسوس کہ اس انقلاب کو فکری، ثقافتی اور سیاسی سطح پر ہم نے گنوا دیا اور آج بھی ہم فرانس کے غلام ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہاں کوئی فکری، نظریاتی اور ثقافتی تبدیلی نہیں لائے۔“ پھر انہوں نے مجھ سے ایک اور بات کہی اس پر میں بڑا حیران ہوا کہ ایک فرینکو فائل جو کہ پوری زندگی فرانس کی ثقافتی برتری سے متاثر رہا ہے اس نے مجھ سے کہا ”ایران نے یونیورسٹیوں کو بند کر کے ایک بہت بڑی خدمت کی ہے کیونکہ اگر انجینئر یا ڈاکٹر یا کسی شعبۂ زندگی میں کوئی فرد کمال حاصل کرتا ہے مگر وہ اچھا مسلمان نہیں ہے تو میرے نزدیک وہ ضائع ہو گیا ہے۔“ یہ تحریک حریت کے عظیم رہنما بن بیلا کی تجویز اور ان کا مشاہدہ تھا۔
دوسرے لفظوں میں مقصد یہ ہے کہ ہم اسلامی Civilization کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، اسلامی اقدار کو اپنانا چاہتے ہیں اور اس کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ کار خیر صرف اپنے لیے نہیں چاہتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے بھی چاہتے ہیں۔
میری دوسری گزارش یہ ہے کہ خواندگی اور حصول علم کا تعلق اخلاقیات اور Morality کے ساتھ نہ رہے تو اس سے ایک نامکمل انسان پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ادھورا اور نامکمل معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے سابق سوویت یونین ایک بہترین ماڈل ہے۔ اس حوالے سے بھی میرا ایک ذاتی مشاہدہ ہے۔ میں ۱۹۸۵ء میں اشتراکی روس کا مہمان بن کر گیا وہاں قیام کے آخری دنوں میں ان کے چیئرمین نووستی پریس ایجنسی اور نائب وزیر اطلاعات سے میری ملاقات ہوئی۔ یہ بڑی طویل ملاقات تھی۔ میں صرف اس حصے کا ذکر کروں گا جو آج کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہے، بہت لمبی بحث رہی۔ آخر میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ "Mr. Poya! Communism is dead" ذہن میں رکھیے کہ یہ ۱۹۸۵ء کی بات ہے۔ انہوں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا ”ہمیں اس وقت امریکن میزائل اور ایٹمی بموں سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ سچی بات یہ ہے کہ ہم اندرونی طور پر بوسیدہ اور فکری سطح پر فرسودہ ہو چکے ہیں۔“
ہمارا سب سے بڑا دشمن عنصر جس نے ہمیں کمزور کیا، وہ ہے عدم اخلاق Immorality is our bigger enemy میں سمجھتا ہوں کہ آندروپوف اور گوربا چوف بہت پہلے اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ فکری اور نظریاتی حوالے سے انہیں اشتراکی نظریہ و عمل سے جان چھڑا لینا چاہیے، اس سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔ مراد یہ ہے کہ ایک معاشرے کے استحکام کے لیے اخلاقیات کا اتنا بنیادی
کردار ہے۔ اسی طرح آج ہمارے سامنے جاپان ایک بڑے کامیاب تجربے کی شکل میں نمودار ہوا ہے جس نے کم وبیش دنیا بھر کے لیے رشک اور اپنی اتباع کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ اس کی خود انحصاری نے اسے دنیا کی عالمی معاشی طاقت بنا دیا ہے مگر آپ جاپان کے معاشرے کو جا کر دیکھیں ان کے پوشیدہ زخموں پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جاپان خود ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہے جو اس کی ثقافت، اقدار حتیٰ کہ اس معاشی طاقت اور ناموری تک کو چاٹ رہا ہے۔ وہ بحران ہے اخلاقیات کا بحران۔ ان کا پورا معاشرہ پریشان ہے اور اہل فکر و دانش کی نیندیں اچاٹ ہو چکی ہیں۔ کچھ ہی برسوں بعد جب آپ یہ سنیں گے کہ جاپانی معاشرہ منہدم (Collapse) ہو گیا ہے تو آپ کو سناٹے میں نہیں آنا چاہیے۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اخلاقیات کے بحران نے مغرب کو بھی اور مشرق کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اور یہ بحران کساد بازاری (Inflation) اور ایٹمی جنگ و جدل سے بھی بڑا روح فرسا حادثہ ہے۔
در حقیقت ہم سب کو سب سے پہلے ایمان کی فکر کرنی چاہیے پھر ہمیں اس پہلو سے خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے کہ ہم ایک بڑے تمدن کے وارث ہیں اس بڑے تمدن کے وارث کہ جسے ہم نادانی میں بھلا بیٹھے ہیں اور دوسرے بے خدا اور بے اخلاق تمدن کی کشش میں کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں اس اسلامی تمدن کو حاصل کر کے صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اسے دنیا بھر کے غیر مسلموں کے سامنے پیش کرنا ہے کیونکہ وہ بھی تمدنی بحران کا شکار ہو کر اس خوش گوار قبولیت کے لیے منتظر ہیں۔ اسلام پر مسلمانوں کا اجارہ نہیں یہ پوری نوع انسانی کا اثاثہ اور تمام انسانیت کی زندگی ہے۔
جب تک اصل کشمکش کو سمجھا اور حل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ہم وطن پاکستانی، اسلامی اقدار کی ثروت حاصل نہیں کر سکتے۔ ظاہری اور نسلی اعتبار سے تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن ہم سب سیکولر پگڈنڈی پر چل کر یہ نظارہ کر رہے ہیں۔ تہذیبی تصادم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک جانب بے خدا تہذیب ہے جو باخدا تہذیب کو غلام بنانا، جذب کرنا یا بیخ نخلوں میں مٹا دینا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے بھی ایک مشاہدہ پیش کروں گا۔ ڈاکٹر بولا ہانگ جو کسی زمانے میں ہنگری کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے، ان دنوں وہ ہنگری کے وزیر اعظم ہیں۔ کمیونسٹ اقتدار کے دنوں میں ایک طویل بحث کے دوران میں انہوں نے مجھ سے کہا ”اسلامی فنڈامنٹل ازم یا اسلامی ریولوشن بطور لفظ ہمارے لیے خطرہ نہیں، البتہ ان لفظوں میں چھپا ہوا اسلامی تصور ہماری تہذیب کے لیے چیلنج اور خطرہ ہے۔“ میں نے کہا ”جی ہم تو بڑے کمزور لوگ ہیں، بڑے ضعیف ہیں، بڑے غریب ہیں، بڑے منتشر ہیں، بھلا ہم آپ کے لیے کیا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں؟“ جواب میں کہنے لگے ”نہ بھائی! آپ لوگ جو تجربے کر رہے ہیں اگر یہ کامیاب ہو گئے تو آپ ہمیں مجبور کر دیں گے کہ یا ہم مسلمان ہو جائیں یا پھر کم از کم عیسائی بن جائیں۔“
You will be forcing us either to become Muslims or at least christian, and our civilization for the last four hundred years has been based on secularism and if we change our track we will collapse.
اسلامی احیاء، اسلامی نشاۃ ثانیہ اور مسلم ممالک میں سامراج اور سامراج کے حواری
حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کی تمام تحریکوں کو اسی لیے خطرہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس کے مقابلے میں وہ اپنی بظاہر شاندار تہذیب کو فی الحقیقت ایک کمزور اور بودی تہذیب سمجھتے ہیں۔ ان کی جانب سے کیا جانے والا پراپیگنڈہ بے معنی نہیں۔ یہ شاید ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے دشمن فکری، اخلاقی اور تہذیبی سطح پر اپنے آپ کو ہم سے زیادہ کمزور سمجھتا ہے۔ ہمارے لیے اس میں بھی ایک پیغام ہے کہ ہم واقعی فکری، عملی، تہذیبی اور اخلاقی سطح پر اپنے آپ کو برتر ثابت کریں۔
بیرونی معاونت مجموعی طور پر تو ظلم ہی نہیں بلکہ ظلم کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ زمین داری میں اگر آپ زیادہ آب پاشی کریں گے تو غلہ کے ساتھ ساتھ اس کا مثبت اثر بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ پانی کی زیادتی سے نقصان زیادہ ہوگا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بیرونی امداد کے ساتھ ہے۔ ضرورت، مقدار اور کنٹرول ہوگا تو پائپ لائن میں آتی ہوئی امداد کا فائدہ ہو گا لیکن اگر اس کے لیے پھاٹک ٹوٹ جائیں تو سبھی کچھ بہہ جائے گا اور آب حیات، موت کا پیغام بن جائے گا۔ جس طرح کھیتوں میں پانی تقسیم کرنے کے لیے ہمدرد کسان کی ضرورت بنیادی اہمیت کی حامل ہے، اس طرح بقدر ضرورت حاصل کی جانے والی اس امداد کے کنٹرول کے لیے بھی مسلمان اور فی الحقیقت مسلمان کارندے کی ضرورت ہے، پاکستانی اور فی الحقیقت پاکستانی منتظم کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ ان امدادی پروگراموں کی تشکیل و تنفیذ کے لیے مسلمان اور پاکستانی ہاتھ کم تھے۔ البتہ لارڈ میکالے کے براؤن انگلش مین زیادہ تھے، بلکہ اب تو اس سلسلے کے کرتا دھرتا خالص اپنے لوگ لا لا کر بٹھا رہے ہیں۔ فاعتبروا یا اولوالابصار!
اسی طرح یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی یہ لوگ پاکستان کے لوگوں کو تعلیم یافتہ اور صاحب ہنر دیکھنا چاہتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اس وقت پاکستانی طلباء پر امریکہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کا علم حاصل کرنے پر کتنی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، انہیں داخلے نہیں مل رہے، ان کے سکالر شپ محدود بلکہ ختم کیے جا رہے ہیں۔ گویا کہ وہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایک مقتدر تعلیم یافتہ قوم نہیں دیکھ سکتے۔ ان کی بڑی ترجیح ہمارے ہاں Denationalization ہے۔ کتنے شعبوں اور کتنے محاذوں پر آپ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں پر آفتیں نازل کی جا رہی ہیں اور کتنے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں تا کہ آپ واقعی مایوس ہو جائیں مگر یہ حسن اتفاق ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان شہداء اور مجاہدین کے درجے بلند کرے، جنہوں نے ان کی راہ کو روک دیا ہے۔ بلاشبہ میں Emotional (جذباتی) سطح پر جا رہا ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ مغرب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہماری نظریاتی سطح ہے کہ یہ نظریہ غیرت بخشتا ہے، تاریخ کا شعور دیتا ہے اور اسی سے ان کو گھبراہٹ ہے۔
عبدالرشید ارشد
تعلیمی اداروں اور این جی اوز کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ
کچھار شیر کی رہائش و آسائش گاہ کا معروف نام ہے اور اس نام کو عیسائی اقلیت کے لیے استعمال کرنا بظاہر درست نہیں کہ اقلیت بہر حال اقلیت ہے جو کبھی اکثریت کے مقابلے میں شیر نہیں ہو سکتی مگر آج یہ سوچ عملاً غلط ثابت ہو چکی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عیسائی اقلیت شیر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہی کچھ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں۔
خطہ ہند و پاک میں تقسیم سے قبل پرتگیزیوں کے توسط سے عیسائیت متعارف ہوئی مگر باضابطہ اس کا پودا انگریزوں کی آمد سے قبل ۱۷۹۸ء میں لگا۔ پنجاب میں ۱۸۳۴ء میں ویسٹرن فارن مشن کے جان لارے نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو اپنے مشن سے متعارف کرایا۔ ہندوستان کے دوسرے خطوں سے زیادہ زور پنجاب کی طرف رہا۔ شاید اس لیے کہ اس کے پڑاؤ (Base) بنا کر ارد گرد کشمیر، سرحد اور افغانستان پر یلغار موثر اور سہل بن سکتی تھی۔ اس دور میں دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ بشپ ڈیوڈ مصروفِ عمل تھا۔
۱۸۴۵ء میں امریکن پریسبیٹیرین چرچ نے وسط پنجاب میں لدھیانہ کو بطور مرکز چنا اور پھر لاہور میں ڈیرے ڈال دیئے۔ اسی دوران ۱۸۴۵ء میں چرچ آف سکاٹ لینڈ سیالکوٹ کو مرکز بنا چکا تھا۔ چرچ مشنری سوسائٹی نے اپنے کام کا آغاز ۱۸۵۱ء میں کیا۔ ۱۸۴۹ء میں جب پنجاب انگریز کی عملداری میں آیا تو موجودہ صوبہ سرحد بھی اسی کا حصہ ہوتا تھا۔ پیشتر ازیں عیسائی مشنریوں کا کام سرکار کی عدم سرپرستی کے سبب انتہائی سست تھا مگر جب برطانوی حکمرانوں کی سرپرستی ان کا مقدر بنی اور ان حکمرانوں نے اپنے مطلب کے معاون و مددگار ڈھونڈ کر انہیں جاگیروں اور دیگر مراعات سے نوازا تو مشنریوں کا کام سہل ہو گیا۔ حکومت نے چرچ بنانے کے لیے ہی اپنے خزانہ سے امداد نہ دی بلکہ سکول و کالج اور ہسپتال بھی سرکاری امداد سے بنے، اس امداد سے جو مسلمان کے خون پسینہ سے خزانے میں جمع ہوئی تھی۔
سرکاری سرپرستی میں تعمیر شدہ چرچ مثلاً سینٹ کیتھڈرل، سینٹ میری لاہور میں بشمول گورڈن میموریل، سیالکوٹ میں ہولی ٹرنٹی، جہلم میں سینٹ جون، راولپنڈی میں کرائسٹ چرچ، سینٹ اینڈریوز اور سینٹ پال، مری میں ہولی ٹرنٹی، سینٹ ڈینیز ، ڈونگا گلی میں سینٹ سائمن، سینٹ جودھا،
ایبٹ آباد میں سینٹ لوکا، اٹک میں سینٹ پیٹرز، نوشہرہ میں کرائسٹ چرچ، مردان میں سینٹ البانز، کیمبل پور میں آل سینٹس، پشاور میں سینٹ جان، کرائسٹ چرچ اور آل سینٹس اور بنوں میں سینٹ جارج قابل ذکر ہیں۔
بات عبادت گاہوں سے آگے بڑھی تو عبادت گاہوں کی آڑ میں ہزاروں ایکڑ رقبہ ان کے نام مستقل الاٹ کر دیا گیا کہ عیسائیت قبول کرنے والے مرتد مسلمان بھوکے نہ مریں اور بطور مزارع ان زمینوں کو کاشت کریں۔ نسل در نسل عیسائیت کے غلام رہیں کہ مزارعت سے بے دخلی کا خوف ہدایت کے راستے کا پتھر بنا رہے گا کیونکہ اراضی کی ملکیت چرچ کے نام ہوگی۔ اس عیاری سے بہت سے دیہات وجود میں آئے جو آج تک اپنے ان محسنوں کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ مثلاً چند معروف دیہات یہ ہیں:
- (۱) کلارک آباد (ضلع قصور) یہ پہلے ضلع لاہور میں تھا اس کی اراضی ۲۵ ہزار ایکڑ ہے۔
- (۲) سٹیونسن آباد (ضلع سیالکوٹ) ڈاکٹر سٹیونسن کے نام پر آباد ہے اسے چک اے ۳ بھی کہا
جاتا ہے۔ ۱۸۹۹ء میں آباد ہوا تھا۔
- (۳) سٹٹس آباد (ضلع منٹگمری) موجودہ ساہیوال ۱۹۱۶ء میں پریسٹیبرین چرچ کے ڈاکٹر
روٹس نے الاٹ کروایا تھا۔
- (۴) سٹٹس آباد (ضلع ملتان) یہ میتھوڈسٹ چرچ کے نام الاٹ شدہ ایک ہزار ایکڑ
اراضی کا گاؤں ہے جسے مشنری ڈاکٹر سٹٹس نے الاٹ کروایا تھا۔
- (۵) منٹگمری والا (ضلع لائل پور) موجودہ فیصل آباد میں اینجلیکن چرچ کے نام الاٹ
اراضی پر مشتمل عیسائی مزارعوں کا چک بنایا گیا۔
- (۶) ہملٹن آباد (ضلع منٹگمری) موجودہ ساہیوال میں ایسوسی ایٹڈ پریسٹیبرین چرچ کو
الاٹ شدہ اراضی کا چک ہے۔
- (۷) مارٹن پور (ضلع شیخوپورہ) یونائیٹڈ پریسٹیبرین چرچ کی ملکیت ہے۔ یہ چک کے بانی
مسٹر مارٹن کے نام سے موسوم ہے۔
- (۸) شانتی نگر (ضلع ملتان) دو ہزار ایکڑ پر مشتمل چک سالویشن آرمی کی ملکیت ہے۔
علاوہ ازیں بعد کے ادوار میں بھی چرچ، سکول، کالج، فنی تربیتی ادارے اور مشنری ہسپتالوں کے نام پر انتہائی موزوں مقامات پر اراضی الاٹ کی جاتی رہی اور اسی طرح عیسائی بستیاں بھی بستی رہیں۔ مثلاً سلمیکی کے قریب مریم آباد کا معروف قصبہ ہے یا ضلع خوشاب میں چار چکوک ۱۵۹ ایم بی ۳۶، ۳۷ اور ۳۸ فیصل آباد، چوہڑکانہ (موجودہ فاروق آباد)، سرگودھا، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ٹیکسلا اور خوشاب وغیرہ میں رفاہی اداروں کے نام پر کئی کئی ایکڑ اراضی الاٹ ہوئی۔ یہ پودا چونکہ انگریز بہادر نے لگایا تھا اس لیے اس کی آبیاری کا حق بھی انگریزی حکومت نے ادا کیا کہ آج یہ تناور درخت ہے۔
ہم یہ سطور اقلیتوں، خصوصاً عیسائی اقلیت پر کسی ”ناپسندیدہ حملے“ کے طور پر نہیں لکھ رہے۔ کوئی ملک اقلیتوں کے وجود سے خالی نہیں ہے کہیں عیسائی اقلیت ہیں تو کہیں مسلمان اقلیت ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق بھی مسلم ہیں۔ ہر حکومت اور اس کے عوام کا یہ اخلاقی اور قانونی فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا مکمل طور پر تحفظ کرے اور یہ گلوبل فیملی کے چارٹر کا حصہ بھی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ سینہ دھرتی پر اگر اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے تو صرف اسلام نے۔ کوئی دوسری قوم اس میں برابری ثابت نہیں کر سکتی۔
حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ ساتھ اقلیتیں بھی فرائض سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ کوئی بھی ہوش مند شخص اس بات کی تائید نہیں کرے گا کہ اقلیت فرائض کے تو بخیے ادھیڑے اور حقوق کے تحفظ کے لیے شور مچائے اور چاروں طرف اس کے اس رویے کو سراہا جائے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، عیسائی اقلیت اگر حقوق کے لیے واویلا کرنے میں پیش پیش ہیں تو اکثریت کے دین اور دین و اخلاق کے حوالے سے مطلوب اقدار کی پامالی میں بھی ہر لمحہ مصروف ہے، حالانکہ آئین میں قوانین و ضوابط میں جو ضمانت فراہم کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ”اقلیتوں کو اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق عملی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہوگی۔“
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہو یا کسی دوسرے ملک کا آئین، کسی جگہ بھی اقلیتوں کو اکثریت کی مسلمہ اقدار کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ برطانیہ میں جو آزادی کا عالمی چیمپیئن ہے، مذہبی اور اخلاقی اقدار تو رہیں ایک طرف محض ملکہ کے خلاف بات کہنا قابل تعزیر جرم گردانا جاتا ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اکثریت کے لیے جن الفاظ کا چناؤ کیا جاتا ہے، وہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہیں۔ اکثریت کے دین کو ”جھوٹا دین“ زبانی ہی نہیں کہا جاتا بلکہ عملاً اور عمداً سرعام عوام میں پھیلائے جاتے ہیں۔
عیسائیت کی بہتر ترویج کے لیے اپنے تمام تر باہمی اختلافات (فرقہ وارانہ) کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کرسچن کونسل نے جو لائحہ عمل طے کیا اور جو سابقہ منصوبہ بندی کا تسلسل ہی ہے، اسے مختصراً یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔
- ☆...... تعلیمی و فنی تربیتی اداروں کا جال ملک میں پھیلایا جائے، تعلیم بالغاں کی چھتری
تلے مسلم گھرانوں تک رسائی۔
- ☆...... طبی خدمات۔ کے نام پر اہم مقامات پر معیاری ہسپتال اور نسبتاً کم اہم مقامات پر
ڈسپنسریاں اور موبائل یونٹ
- ☆...... خوبصورت اسناد کے لالچ میں نوجوان مسلم لڑکے لڑکیوں میں بائبل کورس کے نام
پر رسائی مؤثر بنائی جائے۔
- ☆...... رفاہی اداروں کے بھیس میں مفاد عامہ کے کاموں کی آڑ میں، مسلم عوام کی دہلیز تک عیسائیت،
اسماعیلیت پہنچائی جائے۔
- ☆...... اسلامی انداز اقدار
پر تعلیمیں عوام تک پہنچایا جائے۔
تعلیمی اور فنی تربیتی ادارے
یہ کام برطانوی حکومت کے کانونٹ سکول اور ایف سی کالج، سیالکوٹ پھر بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ جو مشنوں کے نام پر ”انگلش میڈیم“ مسلمان گھرانوں کو ”اعلیٰ تعلیم“ کے حصـ مشنری سکول میں مسلمان بچوں کی تعد مشنری سکولوں میں مسلما بچے لیے جاتے ہیں ممکن ہے انکی ظن و گمان کی بنیاد پر نہیں کہہ رہے راقم کو سرگودھا کالج روڈ کے ایک عیسـ کیتھڈرل ہائی سکول میں ایک ایک ما مشنری سکولوں میں مسلما پڑھائی جاتی ہے۔ مسلمان معلم یا معلـ بغیر بائبل کے مقاصد کی تکمیل پر ہی مـ بچیوں کے ذہن سے اسلامی تعلیمات مجبوری، عدم دینی تربیتی، گھریلو ماحو بچوں کی بگڑتی صورت سے بے خبر جب بچہ ٹائی پتلون اور انگریزی کے ہے اور باپ ڈیڈی سے ڈیڈ بن جاتا بہت سے لوگ ہماری اس طنز تو عام بات ہے ہی مگر یہی فتویٰ کل پرزے ہیں، ایسے انگلش میڈیم اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ ہم نے اس کے بنیادی نظریہ کے حوالے سـ ضمیر سے یہ پوچھ لیا جائے کہ وطن کی
عیسائیت پہنچائی جائے۔
- ٭ ...... اسلامی انداز اختیار کرتے ہوئے کثیر تعداد میں لٹریچر تیار کیا جائے اور اسے
بلاتخصیص عوام تک پہنچایا جائے۔
تعلیمی اور فنی تربیتی ادارے
یہ کام برطانوی حکومت کے دور میں ہی انتہائی مؤثر طور پر شروع ہو چکا تھا مثلاً لاہور میں کانونٹ سکول اور ایف سی کالج‘ سیالکوٹ میں سکول اور مرے کالج‘ راولپنڈی میں گارڈن کالج وغیرہ پھر بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ جوں جوں وسائل بڑھے‘ کم و بیش ہر ضلع‘ تحصیل کی سطح تک مختلف مشنوں کے نام پر ”انگلش میڈیم“ سکول کھل گئے اور ان میں اس چمک کا خاص خیال رکھا گیا جو مسلمان گھرانوں کو ”اعلیٰ تعلیم“ کے حصول کی خاطر اپنے بچے بھیجنے پر مجبور کر دے۔ چنانچہ آج ہر عیسائی مشنری سکول میں مسلمان بچوں کی تعداد عیسائی بچوں کی تعداد کے مقابلے میں کئی سو فیصد زیادہ ہے۔
مشنری سکولوں میں مسلم بچوں کی اکثریت ہے تو عیسائی فنی تربیتی اداروں میں صرف عیسائی بچے لیے جاتے ہیں ممکن ہے اشک شوئی کے لیے کوئی ایک آدھ مسلمان بچہ بھی ہو۔ یہ بات ہم محض ظن و گمان کی بنیاد پر نہیں کہہ رہے بلکہ اپنے عملاً تجربہ کے شواہد کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں جو ان سطور کے راقم کو سرگودھا کالج روڈ کے ایک عیسائی ہائی سکول اور ایک فنی تربیتی ادارے کے علاوہ لاہور کے ایک کیتھڈرل ہائی سکول میں ایک ایک ماہ لیکچرز کے لیے جانے کے دوران ہوا تھا۔
مشنری سکولوں میں مسلمان والدین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ مسلمان معلم یا معلمہ بالعموم مقرر بھی ہوتی ہے مگر فی الواقعہ زور بائبل کو سامنے لائے بغیر‘ بائبل کے مقاصد کی تکمیل پر ہی ہوتا ہے۔ نصابی اور غیر نصابی مصروفیات کا نقطہ عروج مسلمان بچے بچیوں کے ذہن سے اسلامی تعلیمات و اقدار کو کھرچ نکالنا ہوتا ہے اور مسلمان معلمات اپنی تنخواہ کی مجبوری‘ عدم دینی تربیتی گھریلو ماحول اور عیسائی معلمات کے مقابلے میں فیشن ایبل رہنے کے سبب بچوں کی بگڑتی صورت سے بے خبر دیکھی جاتی ہیں اور رہے والدین تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہوتا جب بچہ ٹائی پتلون اور انگریزی کے چار جملوں کے ساتھ گھر میں قدم رکھتا ہے۔ ماں ماما یا مام بن جاتی ہے اور باپ ڈیڈی سے ڈیڈ بن جاتا ہے۔ نئی نسل تیار کرنا ان کا مطمح نظر ہے۔
بہت سے لوگ ہماری اس بات کو ”فنڈا مینٹلزم کا ہیضہ یا بخار“ کہیں گے‘ متعصب ہونے کا طعنہ تو عام بات ہے ہی مگر یہی فتویٰ لگانے والے جو آج پاکستان کی قسمت کے امین بنے انتظامیہ کے کل پرزے ہیں‘ ایسے انگلش میڈیم سکولوں کی تعلیم و تربیت سے فیض یاب اگر اپنے اندر جھانک کر اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ ہم نے گزشتہ ۵۳ سالوں میں نظریاتی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کے بنیادی نظریہ کے حوالے سے کیا دیا تو اندر سے جواب نفی میں ملے گا اور سوال کو ذرا پھیلا کر ضمیر سے یہ پوچھ لیا جائے کہ وطن کی مٹی کو کچھ کیوں نہ دے سکے تو جواب ملے گا کہ انگریز کے بنائے
گئے سکولوں اور تعلیمی نظام سے ایسا ممکن نہ تھا اور نہ ہی آج ہے۔ یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ضمیر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
مشنری تعلیمی اداروں کی غیر نصابی سرگرمیاں ان اداروں کی انتظامیہ سوچ سمجھ کر اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے حوالے سے مرتب کرتی ہے۔ یہ فینسی ڈریس شو ہوں، یہ ٹیبلو ہوں یا میوزیکل پرفارمنس، سب سے مطلوب اقدار کا قتلِ عام ہے۔ اقدار جو زندگی کی طلب گار ہر قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتا ہے جن کے بغیر اقوام کی ملی عمارت بوسیدہ ہو کر دھڑام سے زمین بوس ہو جاتی ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مشنری تعلیمی اداروں کا جال، سرکاری سرپرستی میں، اسلامی رواداری کے نام پر، جو گل کھلائے گا، مستقبل کے پاکستان کے لیے جس استحکام اور خوشحالی کا پیغام لائے گا، اسے ہر ذی ہوش ماضی کے ۵۳ سالوں کے آئینے میں دیکھ سکتا ہے۔
ہماری مذکورہ گزارشات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہے کہ ہم خدانخواستہ مشنری سکولوں کے قیام کے خلاف ہیں۔ اپنے بچے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے معیاری ادارے چلانا اقلیت کا حق ہے مگر اسے اقلیت تک محدود رکھنا ان کا فرض ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان والدین اپنی آزاد مرضی سے اپنے بچے بچیوں کو بھیجتے ہیں، ہم گھروں سے کھینچ کر تو نہیں لاتے۔ یہ بات یقیناً وزنی ہے۔ مسلمان والدین کو اپنی اولاد کی تربیت تعلیم کے حقیقی تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کا مستقبل کن کے سپرد کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے ذمہ دار حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک کے تعلیمی نظام کو مملکت کے بنیادی نظریہ سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے نظام تعلیم میں یکسانیت پیدا کرے تا کہ قوم ایک ہی معیار پر اُٹھے یعنی تعلیمی اداروں پر اجارہ داری ختم ہو۔
ہسپتال، فری ڈسپنسریاں اور موبائل یونٹ
عیسائیت پھیلانے کا یہ دوسرا مؤثر ہتھیار ہے۔ راقم الحروف کو مشنری ہسپتالوں میں جانے کا بھی موقع ملا ہے۔ اور ایک بات ذاتی مشاہدے میں آئی ہے تو دوسری شنید ہے۔ بہر حال دونوں باتیں آپ کے سامنے رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ پہلی بات جو مشاہدے میں آئی، یہ ہے کہ مریض کے بنائے گئے یا ترتیب دیئے گئے کمرۂ انتظار میں میز پر عیسائیت کی ترغیب پر مبنی چھوٹے چھوٹے دو ورقے، کتابچے رکھے ہوتے کہ انتظار کی لذت ”انجوائے“ کرنے والا مریض ان کو پہلے اُلٹ پلٹ کرے گا پھر کوئی دو ورقہ، کتابچہ اُٹھا کر ورق گردانی کرے گا اور بالآخر پڑھے گا بھی اور ممکن ہے بات اثر کر جائے۔
انتظار ختم ہونے پر مریض کا ڈاکٹر سے آمنا سامنا ہوگا۔ ڈاکٹر انتہائی اخلاص اور ہمدردی سے اسے چیک کرنے کے بعد جو تشخیصی نسخہ دے گا اس پر بائبل سے دعائے شفا لکھی ہوگی۔ انسانی ذہن ڈاکٹر کی ہمدردی اور طریقہ تشخیص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی اور یہی بیج بالآخر عیسائیت کا
درخت بن جاتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ہسپتال کھانے کو کہا جاتا ہے مگر دوائی کی کوالٹی اور مقدار غیر یہ کہہ کر کھلائی جاتی ہے کہ خداوند یسوع مسیح کا نام لے مردہ تک زندہ کرنے کا معجزہ دیا تھا۔ چنانچہ یہاں آ ایمان کی بازی ہار کر ہسپتال سے فارغ ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ہندو زمیندار کا گدھا وزنی بوجھ پر ڈنڈے بھی برسائے اور ”بھگوان کی بپتا“ سنا مسلمان کسان کا گزر ہوا تو لالہ کی بے بسی دیکھتے اس یاد کرو مگر لالہ چونکہ بھگوان کو آزمائے بیٹھا تھا، خام رسید کرنے کے ساتھ ہی با آواز بلند اللہ اکبر کا نعرہ بدک گیا اور دلدل سے باہر آ گیا۔ لالہ بڑا حیران ہو میں نے اسے بہت لگائے، دل میں دعائیں بھی م کسان کہنے لگا میں نے اپنے بھگوان کو پکارا تھا۔ لالہ کے معاملے میں کمزور ٹھہرا۔ یہی کچھ عیسائی ان ہسپ دیتے ہیں۔
خط و کتابت کے بائبل کورسز
نوجوان لڑکے لڑکیوں میں خوبصور بائبل کرسپانڈنس کورسز کو بہت تقویت ملی اور مل آگئے۔ آج پاکستان کے بڑے شہروں میں قائم امریکہ وغیرہ تک پھیل چکا ہے جہاں سے خوبصور پہنچنے پر ہی متعلقہ شخص آگاہ ہوتا ہے۔ یہ اس طری کے پتے خاموشی سے لے لیے پھر ان کے ذمہ جاتی ہے۔ (ایسا ایک خط بکس میں دیکھئے)
”محترم ثناء اللہ خان لودھی خداوند یسوع مسیح کے مقدس نا آپ کے مہربان خط کے لیے نام میں ملے؟ آمین۔ ادارہ بے حد مم اور آج ہی سے آپ کے نام انجیل م جا رہا ہے جو کہ بحری ڈاک کے ذریع
درخت بن جاتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ہسپتال میں داخل مریضوں کو پہلے بسم اللہ پڑھ کر دوائی کھانے کو کہا جاتا ہے مگر دوائی کی کوالٹی اور مقدار غیر تسلی بخش ہوتی ہے پھر چند روز بعد تسلی بخش خوراک یہ کہہ کر کھلائی جاتی ہے کہ خداوند یسوع مسیح کا نام لے کر شفا کی دعا کے ساتھ کھاؤ کہ انہیں تو اللہ نے مردہ تک زندہ کرنے کا معجزہ دیا تھا۔ چنانچہ یہاں بھی ”معجزہ“ ہی ہو جاتا ہے اور پھر کبھی کبھار مریض ایمان کی بازی ہار کر ہسپتال سے فارغ ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ہندو زمیندار کا گدھا لدا لدایا بوجھ کے ساتھ دلدل میں پھنس گیا‘ اس نے گدھے پر ڈنڈے بھی برسائے اور ”بھگوان کی بپتا“ منت بھی کی مگر دلدل سے نکلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ ایک مسلمان کسان کا گزر ہوا تو لالہ کی بے بسی دیکھتے اس کی مدد کو لپکا اور اس سے کہنے لگا کہ لالہ بھگوان کو یاد کرو مگر لالہ چونکہ بھگوان کو آزمائے بیٹھا تھا‘ خاموش رہا۔ مسلمان کسان نے اچانک گدھے کو ڈنڈا رسید کرنے کے ساتھ ہی باآواز بلند اللہ اکبر کا نعرہ لگایا‘ گدھا اس ضرب شدید اور بلند آواز کے سبب بدک گیا اور دلدل سے باہر آ گیا۔ لالہ بڑا حیران ہوا۔ اس نے مسلمان کسان سے پوچھا کہ ڈنڈے تو میں نے اسے بہت لگائے‘ دل میں دعائیں بھی کیں مگر تم نے یہ ڈنڈے کے ساتھ کونسی آواز نکالی؟ کسان کہنے لگا میں نے اپنے بھگوان کو پکارا تھا۔ لالہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا تو میرا بھگوان دلدل کے معاملے میں کمزور ٹھہرا۔ یہی کچھ عیسائی ادویات کے حوالے سے شاید مسلمانوں کو سمجھا کر چقمہ دیتے ہیں۔
خط و کتابت کے بائبل کورسز
نوجوان لڑکے لڑکیوں میں خوبصورت اسناد کے حصول کے شوق سے فائدہ اٹھانے میں بائبل کارسپانڈنس کورسز کو بہت تقویت ملی اور ملکی حدوں سے نکل کر یہ بین الاقوامی فاصلوں کی زد میں آگئے۔ آج پاکستان کے بڑے شہروں میں قائم اس نیٹ ورک کا دائرہ جرمنی‘ سوئٹزر لینڈ‘ برطانیہ اور امریکہ وغیرہ تک پھیل چکا ہے جہاں سے خوبصورت کتابچوں اور تحائف کے سیٹ بلاطلب گھر میں پہنچنے پر ہی متعلقہ شخص آگاہ ہوتا ہے۔ یہ اس طرح کہ پہلے ”شکار“ سے اس کے شناسائوں اور احباب کے پتے خاموشی سے لے لیے پھر ان کے ذریعے ان کے شناسائوں اور یوں ”شکار“ کی چین بنتی چلی جاتی ہے۔ (ایسا ایک خط بکس میں دیکھئے)
”محترم ثناء اللہ خان لودھی خداوند یسوع مسیح کے مقدس اور پاک نام میں آپ کو آداب و سلام آپ کے مہربان خط کے لیے آسمانی خدا باپ کی عزت اور جلال‘ یسوع نام میں ملے! آمین۔ ادارہ بے حد خدا باپ کا شکر گزار ہے کہ آپ نے ہمیں لکھا اور آج ہی سے آپ کے نام انتہائی بیش قیمت کتب کا پارسل بلامقیمت روانہ کیا جا رہا ہے جو کہ بحری ڈاک کے ذریعے تین چار ماہ کے دوران آپ کو مل سکے گا۔
خدا باپ سے یسوع نام میں دعا کیجیے گا کہ آپ کے نام سے ہمارا پارسل کوئی دشمن گم نہ کر دے۔
۱۹۹۶ء کے لیے کیلنڈر اور ڈائری بھی آپ کے نام ارسال کی گئی ہے۔
ادارہ کی جانب سے جو کچھ بھی آپ کے لیے روانہ کیا جائے گا وہ بلا قیمت ہو گا اور خداوند یسوع المسیح کی عزت اور جلال کے لیے ایسا کیا جانا ممکن ہو سکے گا۔
فقط آپ سے التماس کی جاتی ہے کہ مسلمانوں سے ادارہ کی کتب احتیاط سے رکھی جاسکیں کیونکہ ادارہ کی کتب میں اسلام اور عیسائیت کا موازنہ پیش کیا جاتا اور اس طرح کتب میں بائبل مقدس اور قرآن سے حوالہ جات پیش کیے جاتے لیکن درخواست ہے کہ جب آپ کتب کا مطالعہ کر سکیں بعد میں ہی تمام کتب ان مسلم بھائیوں بہنوں کو دی جاسکیں جو راہ حق کے حقیقی متلاشی ہیں اور یاد رکھیے کہ خداوند کے پاک کلام کے مطابق صرف خداوند یسوع مسیح ہی حقیقی راہ اور حق اور زندگی ہی ہے۔ التماس کی جاتی ہے کہ آپ ہر کتاب کا ذاتی کوشش محبت اور دلی خوشی سے بغور مطالعہ کر کے ہر کتاب کے آخر میں دیئے گئے سوالات کے جوابات ادارہ کو ضرور ارسال کرتے رہیے گا تاکہ آپ کے اور ادارہ کے درمیان باہمی تعاون مزید بہتر و مضبوط ہو سکے۔
ادارہ کے نام Circular Letter کو بے حد احتیاط سے پڑھیں تاکہ آپ حالات کی نزاکت کے پیش نظر ہر خطرہ سے بچ کر یسوع المسیح کی بابت حقیقی صداقت کو جان کر ایمان لا کر ابدی نجات اور ابدی زندگی کے وارث ٹھہر سکیں۔ ہر خط میں دلچسپی رکھنے والے مسلم دوستوں کے نام ادارہ کو ارسال کیا کیجیے گا تاکہ آپ کا نام راز داری میں رکھتے ہوئے بہتیرے لوگوں کو بھی آفتاب صداقت کا پیغام اور ادارہ کی جانب سے تحفہ کے طور پر بھیجا جا سکے۔ آپ کی گراں قدر کاوشوں اور دعاؤں کے لیے ادارہ ممنون ہوگا۔ اب آپ کو آداب
سلام
دعا گو عبدالمسیح ۹۵-۱۲-۱۱
علاوہ ازیں کرسچن سٹڈی سنٹر بھی فعال ہیں۔
بائبل کورسز کے ساتھ ملنے والے خط میں ”دشمن“ (مسلمان والدین، بہن بھائی یا احباب) سے ہوشیار رہنے، بچ بچا کر لٹریچر پڑھنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور ”شکار“ سے کہا جاتا ہے کہ اپنے دوستوں کے پتے ارسال کریں۔ ہم آپ کا ذکر کیے بغیر انہیں بھی کتب کا سیٹ اور تحائف ارسال
رفاہی اداروں کے بھیس میں عیسائیت کے مقاصد کی تکمیل
غیر ملکی آقاؤں نے اسلام دشمنی کے لیے خفیہ طریقے سے سرمایہ اندرون ملک بھیج کر بدنام ہونے کے بجائے انتہائی محفوظ طریقہ یہ سوچا کہ عیسائی این جی اوز بنا کر انہیں رفاہی کاموں کے لیے مرد و زن میں ”بیداری“ پیدا کرنے کی خاطر کھلے عام کثیر وسائل فراہم کیے جائیں۔ یوں ہمارا نام محسنوں کی فہرست میں رہے گا اور ان این جی اوز کی وساطت سے ہمارے اہداف کی تکمیل بھی سہل ہو جائے گی۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر گزشتہ ربع صدی میں عیسائی این جی اوز ”برسات میں کھمبیوں کی طرح“ دیکھنے میں آئے۔ مظاہرے حقوق نسواں کے حق میں ہوں یا اسلامی نظام قانون کے خلاف اوپر بیان کیے گئے عیسائی دیہات سے مظاہرین بسوں میں بھر کر لائے جاتے ہیں اور ”کامیاب مظاہروں“ سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
عیسائی لٹریچر کی تیاری اور اشاعت
یوں تو ملک میں بے شمار جگہ عیسائی لٹریچر چھپتا ہے مگر لاہور میں بائبل سوسائٹی اور شاداب مرکز لٹریچر تیار کر کے عامۃ الناس میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہ لٹریچر قیمتاً بھی فروخت ہوتا ہے اور مفت بھی ملتا ہے۔ اس میں اس بات کا خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ ظاہری گیٹ اپ میں عیسائیت چھپی رہے۔ ایسا لٹریچر خصوصیت کے ساتھ گوجرانوالہ کے تعلیم بالغاں پراجیکٹ کے حوالے مسز سٹیفن محمود کی نگرانی میں تیار کیا تھا۔ یہ لٹریچر میلوں ٹھیلوں میں، مظاہروں کے دوران یا دفاتر اور بازاروں میں عیسائی کارکن تقسیم کرتے ہیں۔
عیسائیت اپنے پھیلاؤ کے لیے آفات ارضی و سماوی یعنی زلزلوں، سیلابوں، بیماریوں یا منشیات کے عادی لوگوں کے علاوہ غربت کے مارے عوام کی بے بسی سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ مثلاً بوسنیا، کسوو، چیچنیا کی تباہی کے بعد کیمپوں سے امداد کے نام پر محسنوں کے روپ میں مسلمان بچوں کو یورپی ممالک میں لے جایا گیا۔ ترکی کے زلزلہ زدگان ہوں یا بھارت کے این جی اوز کی پابندیوں کے سبب افغان ہوں یا ایرانی، عراقی این جی اوز کی رفاہی سرگرمیوں کی آڑ میں مسلمان کے دین و ایمان کے سودے ہوتے ہیں۔ ہم کھلے دل سے ان کے اس طریقہ واردات کو سراہتے ہیں اور سچے دین کے ان داعیوں کے عقل و شعور کا ماتم کرتے ہیں جو محشر کی حاضری اور جوابدہی سے بے نیاز اپنی سیاست اور اپنی ”تبلیغ“ میں مگن ہیں۔
عیسائیت کا چارہ بننے والے ”مرتدوں“ کو جہنم بھیجنے کا فرمان جب صادر ہو رہا ہو گا تو اگر انہوں نے قادر مطلق کے عدل سے یہ فریاد کر دی کہ ہمارے عادل رب ذرا ان عوامل کو بھی دیکھ لے جنہوں نے ہمیں آج اس فیصلے تک پہنچایا تو بے شمار جبہ و دستار والے وارثان محراب و منبر اس کی زد میں آ جائیں گے کہ عیسائی سماجی کارکن جب تمہارے بچے اُچک کر لے جا رہے تھے تو تم کہاں تھے؟ تمہارے پاس وسائل کی کمی تھی یا جگہ نہ تھی جہاں انہیں رکھ سکتے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عیسائیت کی بڑھوتری کی شرح فیصد خاصی تشویش ناک ہے۔ خصوصاً اہم علاقوں میں Strategic Points پر مثلاً (جلدی میں ہمیں تازہ ترین اعداد و شمار نہیں مل سکے مگر میسر اعداد و شمار بھی کم چونکا دینے والے نہیں ہیں) یہ بات نظر انداز کرنے کی نہیں‘ سوچنے کی ہے۔
بعض سرحدی اضلاع میں بڑھوتری کی شرح فیصد : بہاولنگر ۷۵۷ فیصد خیر پور ۱۸۰ فیصد ٹھٹھہ ۹۵۰ فیصد سکھر ۳۳۶ فیصد رحیم یار خان ۶۳۲ فیصد تھر پارکر ۶۳۳ فیصد حیدر آباد ۷۶۵ فیصد بہاولپور ۵۴۴ فیصد
صوبائی سطح پر بڑھوتری کی شرح فیصد : پنجاب ۱۶۴ فیصد سندھ ۶۸۲ فیصد سرحد ۹۸۶ فیصد بلوچستان ۴۱۱ فیصد فاٹا اور اسلام آباد (وفاق) ۹۶۵ فیصد
ہم سال بھر میں چند ایسے اعلانات سے خوش ہو لیتے ہیں کہ فلاں شخص نے یا خاندان نے فلاں مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا مگر بلا اعلان اندر ہی اندر ’نمی میں کھٹمل کی بڑھوتری کی طرح‘ عیسائیت کی دیمک اسلام کے تناور درخت کو جس طرح چاٹ رہی ہے اور اس کے تعلیمی ادارے اور ہسپتال خصوصیت کے ساتھ جو گل کھلا رہے ہیں‘ ہمارے ارباب فکر و نظر کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ہم رواداری کے مظاہروں میں حقوق ”عطا“ کرنے میں اس قدر مصروف دیکھے جاتے ہیں کہ بے لگام اقلیت سے یہ مطالبہ کرنے کی فرصت ہی نہیں کہ حقوق کے ساتھ فرائض بھی مطلوب ہیں یا شاید مغربی آقاؤں کا خوف ہے!
❁ ❁ ❁
این جی
یہ بات اظہر من الشمس ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے میں وسائل ناپید ہو جانے کی وجہ سے با صرف عالمی بینک کے ہاتھوں مجبور بعض لوگ اس لیے اہمیت دے رہے انہیں پتہ ہے۔ اس کے برعکس پا لوگوں اور پاکستان دشمن عناصر کا ٹو ہیں۔ ان لوگوں کو پاکستانی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بیرون سے اپنے ملک پر کیچڑ اچھالتے ہیں عوام کے مفاد میں کام نہیں کر وابستہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال این جی اوز کام کر رہی ہیں مگر م مفادات کے حوالے سے کام یا تو فرقہ وارانہ تنظیموں کو امداد کو فروغ دیا۔ خوبصورت اور پُر کوئی کام نہیں کیا۔ بعض سیاسی ل سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہ خلاف اقدامات پر کسی بھی حکوم جی او کو وزارت داخلہ نے اس ملوث تھی۔ اس کے بعد حکومت بتائی تاکہ ان کی سرگرمیوں کی ن
موسیٰ خان جلالزئی
این جی اوز کی گھناؤنی سرگرمیاں
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیاں انتہائی مشکوک ہیں اور وہ ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں۔ بدقسمتی سے تیسری دنیا کے ملکوں میں وسائل ناپید ہو جانے کی وجہ سے یا وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ عالمی بینک کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ وہ نہ صرف عالمی بینک کے ہاتھوں مجبور ہیں بلکہ غیر سرکاری اداروں کی غلام بنی ہوئی ہیں۔ ان تنظیموں کو بعض لوگ اس لیے اہمیت دے رہے ہیں کہ گویا وہ عوام کی خدمت کر رہی ہیں اور لوگوں کے مسائل کا انہیں پتہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں زیادہ تر این جی اوز پر بیورو کریسی، سرمایہ داروں، بااثر لوگوں اور پاکستان دشمن عناصر کا قبضہ ہے جو کہ آئے دن پاکستان کی بدنامی، بے عزتی اور توہین کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو پاکستانی مفادات کی نسبت غیر ملکی مفادات عزیز ہیں اور وہ رات دن ان کے مقاصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بیرون ملک جا کر پاکستان کا مذاق اُڑاتے ہیں اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے ملک پر کیچڑ اُچھالتے ہیں جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی بھی این جی او اس وقت تک ملک و عوام کے مفاد میں کام نہیں کرتی جب تک اسے یہ پتہ نہ ہو کہ اس کام میں ان کے آقا کا مفاد بھی وابستہ ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں دس ہزار جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پچیس ہزار این جی اوز کام کر رہی ہیں مگر سچ پوچھے تو چند ایک کے علاوہ کسی بھی این جی او نے مفاد عامہ اور قومی مفادات کے حوالے سے کام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی بجائے یا تو فرقہ وارانہ تنظیموں کو امداد دی ہے یا پھر ملک کے طول و عرض میں لسانی فسادات اور دہشت گردی کو فروغ دیا۔ خوبصورت اور پُرکشش دفاتر اور لگژری گاڑیوں میں عیش کرنے کے سوا ان تنظیموں نے کوئی کام نہیں کیا۔ بعض سیاسی اور بااثر شخصیات کے ساتھ مل کر اپنی گھناؤنی سرگرمیوں کے ذریعے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔ گزشتہ دس سال سے ان کی غیر قانونی سرگرمیوں اور قومی سلامتی کے خلاف اقدامات پر کسی بھی حکومت نے ایکشن نہیں لیا۔ ۱۹۹۰ء میں ورلڈ ویژن کے نام سے ایک این جی او کو وزارت داخلہ نے اس لیے بند کر دیا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ اس کے بعد حکومت نے ان تنظیموں کے احتساب کے لیے اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی تاکہ ان کی سرگرمیوں کی چھان بین کی جائے۔ تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو برصغیر میں ۱۹۲۷ء
میں پہلی بار ایک این جی او ”اشرم بنارس“ کے نام سے قائم کر دی گئی تھی۔ ۱۹۷۰ء میں ان تنظیموں نے شہری علاقوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ تاہم کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی اس کے بعد درجنوں کے حساب سے غیر سرکاری تنظیمیں وجود میں آئیں۔ شمالی علاقہ جات میں دولاکھ ڈالر فنڈ کی مدد سے ایک غیر ملکی ایجنسی نے خواتین کے لیے جو این جی او بنائی تھیں، اس نے فنڈ خورد برد کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ بنیادی طور پر غیر ملکی سفارت خانوں کی طرف سے جن این جی اوز کو فنڈ ملتا ہے، ان کے مقاصد سیاسی ہوتے ہیں۔ وہ یا تو پاکستان میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہتے ہیں یا پھر معاشی، معاشرتی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ این جی اوز برصغیر میں برطانوی سامراج کی جانشین ہیں۔ دوسری طرف دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی صنعت اور تجارت میں تیزی آ گئی اور اسے خام مال کی ضرورت تھی۔ ان اداروں نے یورپ کو خام مال کی ترسیل میں مدد دی لیکن اس کے برعکس جب یورپی صنعت مستحکم ہو گئی تو انہوں نے تیسری دنیا کی مصنوعات اور خام مال کو ناقص قرار دیا اور ایشیائی صنعت پر چائلڈ لیبر کا الزام لگا کر اسے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پاکستان میں ان اداروں نے کارپٹ انڈسٹری اور فٹ بال انڈسٹری کو تباہ کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ ان حالات کے پیش نظر ماہرین کا خیال ہے کہ این جی اوز قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ این جی اوز نے انتظامیہ اور دیگر اداروں کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں اور ان کے ذریعے سے ہی حکومتی کارکردگی معلوم کر رہی ہیں۔ ہم ساری این جی اوز کی بات نہیں کرتے۔ بعض این جی اوز ایسی بھی ہیں جو کہ ملکی مفادات اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھر پور کام کر رہی ہیں لیکن عام لوگوں کا خیال ہے کہ مغربی ممالک نے این جی اوز کے ذریعے جاسوسی کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا ہے اور حکومت کی کوئی بھی بات ان سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سوڈان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ان تنظیموں نے حکومت کے مخالف باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ اسی طرح افغانستان میں گزشتہ بیس سال سے یہ ادارے عوام کو باہم لڑانے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۴ء تک این جی اوز نے مختلف تنظیموں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا اور علاوہ ازیں نوجوان نسل کو وسیع پیمانے پر مسیحیت کی طرف دعوت دی۔ جب طالبان حکومت کو اس بارے میں پتہ چل گیا تو تمام این جی اوز کو بند کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ اور دہشت گردی کی وجہ ان تنظیموں اور اداروں کی پُر اسرار سرگرمیاں ہیں جو کہ وقتاً فوقتاً مختلف پارٹیوں کو فنڈ فراہم کرتی ہیں۔ ان اداروں نے گزشتہ پانچ سال سے پاکستان کے ہر شعبے کے بارے میں غیر ملکی سفارت خانوں کو منفی رپورٹیں دی ہیں۔ این جی اوز نے معیشت اور سیاسی نظام کو ناکام قرار دیا اور یہ تجویز پیش کی کہ گویا ان کے بغیر یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ بعض این جی اوز نے ترقیاتی کام بھی کیے ہیں تاہم وہ چند ایک ہیں، جنہیں ملکی سلامتی کا احساس ہے۔ این جی اوز اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ وہ کسی وزیر یا مشیر کے بیانات اور دھمکیوں کی پروا ہی نہیں کرتیں۔
گزشتہ چار ماہ سے وزارت سوشل ویلفیئر مہ ہے کہ حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آت ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ میں ان کی رجسٹر یش نہیں۔ سماجی بہبود کے وزیر پیر بنیامین نے ہیں۔ جب وزیر نے ان کے خلاف اقدا جانے کا فیصلہ کر لیا اور ان این جی اوز پ مضامین اور خبروں میں ان کی بھر پور تر جم افراد موجود ہیں اور نہ ہی یہ معقول معلوما ہے۔ این جی اوز کے بعض مالکان نے سمیت این جی اوز کا آلہ کار ظاہر کیا ہے ا ہے جب حکومت کو پتہ چلا کہ غیر سرکار کے لیے استعمال کر رہی ہیں تو اس نے اوز نے غیر ملکی فنڈ کی مدد سے فرقہ وار مثال کے طور پر ضلع جھنگ میں دو فر ملوث تھے۔ ان دونوں اسلامی ملکوں م بے پناہ دولت خرچ کی کیونکہ وہ پاکستان کی مذہبی این جی اوز کے خلاف اقدامات جو کہ انسانی حقوق، چائلڈ لیبر اور خواتین بھی نہیں کیا۔ یہ این جی اوز اپنے آقا حاصل کر رہی ہیں۔ ایک این جی او لگاتے ہوئے ہندوستان میں فلم تیا انہوں نے بچوں سے کام لیتے ہوئے غیر سرکاری تنظیمیں تیسری میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس میں ان کی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ ج دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان میں ۸۰ ہیں۔ ان تنظیموں نے بدقسمتی سے ای لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے صی ممالک لے جایا گیا جہاں انہیں
گزشتہ چار ماہ سے وزارت سوشل ویلفیئر اور ان تنظیموں کے درمیان سرد جنگ زور پکڑ گئی لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے کیونکہ غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی این جی اوز کا کہنا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ میں ان کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔ لہٰذا وہ کسی وزیر یا اہلکار کے سامنے جواب دہ نہیں۔ سماجی بہبود کے وزیر پیر بنیامین نے بعض این جی اوز پر الزام لگایا کہ وہ قحبہ خانے چلا رہی ہیں۔ جب وزیر نے ان کے خلاف اقدامات کرنے کی دھمکی دے دی تو این جی اوز نے کورٹ میں جانے کا فیصلہ کر لیا اور ان این جی اوز سے وابستہ بعض کمیونسٹ اور آزاد خیال صحافیوں نے اپنے مضامین اور خبروں میں ان کی بھر پور ترجمانی کی۔ بدقسمتی سے ان این جی اوز کے پاس نہ تو تربیت یافتہ افراد موجود ہیں اور نہ ہی یہ معقول معلومات رکھتی ہیں۔ بعض این جی اوز پر کرپشن کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ این جی اوز کے بعض مالکان نے سارا فنڈ ہڑپ کرنے کے لیے گھر کے تمام افراد کو ملازمین سمیت این جی اوز کا اہلکار ظاہر کیا ہے اور اس طرح پانچ چھ لاکھ روپیہ ماہانہ تنخواہ ان کے گھر میں آ جاتی ہے جب حکومت کو پتہ چلا کہ غیر سرکاری تنظیمیں غیر ملکی امداد کو دہشت گردی کے فروغ اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں تو اس نے ان کے خلاف ایکشن لیا۔ دینی مدارس سے متعلق بعض این جی اوز نے غیر ملکی فنڈ کی مدد سے فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ مثال کے طور پر ضلع جھنگ میں دو فرقہ وارانہ تنظیموں کے درمیان جنگ میں دو غیر ملکی سفارت خانے ملوث تھے۔ ان دونوں اسلامی ملکوں کے سفارت خانوں نے اس خونریزی میں بھر پور حصہ لیا اور بے پناہ دولت خرچ کی کیونکہ وہ پاکستان کی سرزمین پر اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔ حکومت کی طرف سے بعض مذہبی این جی اوز کے خلاف اقدامات کو سراہا گیا۔ مغربی ملکوں کی طرف سے امداد لینے والی این جی اوز جو کہ انسانی حقوق‘ چائلڈ لیبر اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں‘ ملک کو بدنام کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ این جی اوز اپنے آقاؤں کی طرف سے پاکستان کے ہر شعبے سے متعلق خفیہ معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ ایک این جی او نے چند سال پہلے پاکستان کی کارپٹ انڈسٹری پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ہندوستان میں فلم تیار کر کے یہ دکھایا کہ گویا یہ فلم پاکستان میں بنائی گئی ہے جس میں انہوں نے بچوں سے کام لیتے ہوئے ایک ہندوستانی انڈسٹری دکھائی۔
غیر سرکاری تنظیمیں تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں مہاجرین سمیت دیگر فلاحی کاموں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بعض ممالک مثلاً سوڈان‘ پاکستان اور افغانستان میں ان کی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ تاہم پھر بھی ان کے بغیر کسی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان میں ۱۹۸۰ء سے لے کر آج تک ہزاروں غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں نے بدقسمتی سے ایک طرف مخالف گروپوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا جبکہ دوسری طرف لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے عیسائیت کی تبلیغ کو ترجیح دی۔ نوجوانوں کو ورغلا کر یورپ کے مختلف ممالک لے جایا گیا جہاں انہیں عیسائی بنایا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ان
غیر سرکاری تنظیموں نے تین لاکھ افغان نوجوانوں کو عیسائی بنایا اور یہ کھیل افغانستان کے اندر اور پاکستان کے افغان مہاجر کیمپوں میں ابھی تک جاری ہے۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ مجبور اور مفلس نوجوانوں اور خواتین کو یورپ میں رہنے کا لالچ دیا جاتا ہے اور وہاں جا کر انہیں زبردستی عیسائی بنایا جاتا ہے۔ نہ صرف مرد بلکہ ہزاروں افغان خواتین کو بھی عیسائی بنایا گیا۔ اس وقت یورپ میں مقیم افغان اسلام کی بجائے عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ یورپ اور پاکستان میں عیسائی طالبان کے نام سے تنظیمیں بنی ہیں۔ یہ تنظیمیں عیسائی بننے والے نوجوانوں کو مستقبل میں افغانستان کے اندر مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گی۔ ان نوجوانوں کو مختلف یورپی اور غیر یورپی ممالک میں نہایت اعلیٰ فوجی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ یورپ افغانستان سے اسلام کا نام و نشان مٹانا چاہتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح یورپ والے پاکستان میں قادیانیوں کے ذریعے اسلام کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے اندر غیر سرکاری تنظیموں کا کھیل زور و شور سے جاری ہے۔ کیتھولک ریلوے سروس، سالویشن آرمی، امریکن ریلیف سروس، سیو چلڈرن اور ورلڈ چرچ کونسل کے علاوہ سو بے گھر غیر سرکاری ادارے افغانستان کے اندر افغان کلچر، ثقافت، روایات، زبان، مذہب اور زمین کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۸۵ء سے ۱۹۸۸ء تک ان غیر سرکاری تنظیموں نے اگر چہ پاکستان اور افغانستان کے اندر افغان مہاجرین کی مدد کی ہے۔ تاہم ۱۹۸۸ء کے بعد ان اداروں نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کا عمل شروع کیا اور اس عمل میں اقوام متحدہ نے بھر پور ساتھ دیا۔ بائبل کو پشتو زبان میں ہزاروں کی تعداد میں ترجمہ کرایا اور اسلام کو ایک ظالم جابر اور تنگ نظر مذہب کے طور پر پیش کیا۔ مختلف گروپوں کو اسلحہ اور پیسہ فراہم کر کے ان کو باہمی لڑائی کے ذریعے اسلام سے متنفر کر دیا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اور یورپ کی دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے افغانستان کے اندر اسلام کو ایک انتہائی تنگ نظر اور ناقابل قبول مذہب کے طور پر پیش کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کیا جو ادارے افغانستان کے اندر منشیات کی کاشت اور سمگلنگ کے خلاف کام کر رہے ہیں، وہ بھی زیادہ تعداد میں اپنا پیسہ عیسائیت کی تبلیغ پر خرچ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں نے خطیر رقم مختص کر کے سپاہ مسیح کے نام سے ایک تنظیم بنائی جبکہ پشاور میں طالبان مسیح کے نام سے ایک تنظیم وجود میں آئی۔ بنگلہ دیش میں لاکھوں افراد غربت و افلاس کی وجہ سے ان غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے عیسائی بن گئے جبکہ شمالی افغانستان میں دس ہزار پاکستانی روپے کے بدلے نادار لوگوں کو عیسائی بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں عیسائی بنانے کا عمل افغانستان کی نسبت زیادہ تیز ہے لیکن حکومت اور علماء نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ کیئر انٹرنیشنل اور والنٹیر ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے علاوہ یو ایس اے کے پیچھے چالیس ملکوں کا سرمایہ ہے اور وہ کسی بھی شخص کو آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ افغانستان میں کام کرنے والے ادارے اس وقت لوگوں کو عیسائی بنانے کے عمل پر پانچ سو ملین ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ لہٰذا مؤثر شخصیات کو عیسائیت کی تبلیغ کے لیے فنڈ فراہم کرتے ہیں۔ صوبہ سرحد اور افغانستان کے مختلف
مہاجر کیمپوں میں امام مسجد سے لے کر عام ہیں جن لوگوں نے کتابوں کی دکانیں کھولی جاتی ہیں۔
اب آتے ہیں ملٹی نیشنل انڈسٹ غیر سرکاری تنظیموں کی مدد کرنے سے کیا غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے اپنے مقاصد کے مواقع کم ہیں اور اپنے وجود کے لیے خ کتراتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے مسلم ملکوں کے لیے مسلح تنظیمیں بنانے پر اکتفا کیا۔ و چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے غیر س مسلمانوں کو اپنی ٹیکنالوجی کی اصلی قیمت ت اسی طرح آہستہ آہستہ انہوں نے مسلم مما ل پیداوار کو سخت نقصان پہنچایا۔ قادیانیوں کے کی منتقلی خطرناک سازش ہے۔ افغان خوانی افغانستان میں عیسائیت اور قادیانیت کی ج پاکستان میں این جی اوز کی مشک و رسائل میں ان کے خلاف خبریں شائع ہو جاتی ہے کہ ۱۹۴۷ء میں سات سے زیادہ ا جی اوز کی تعداد ۳۰ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ نے لکھا ہے کہ ملٹی نیشنل انڈسٹریل کارپوری دارانہ نظام کے نیو ورلڈ آرڈر کو چلانے کے کیا جائے۔
سابق صدر لاہور ہائی کورٹ با اوز کے ذریعے پاکستان میں تعلیمی اور بلدی حال ہی میں کراچی اور لاہور میں بہت سے ۹ مئی ۱۹۹۹ء کو صوبائی وزیر سو این جی اوز (Ntal Organizations فوری طور پر منجمد کر کے سب کو حیرت زدہ ک روابط کی وجہ سے حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے
مہاجر کیمپوں میں امام مسجد سے لے کر عام پڑھے لکھے آدمی تک کو عیسائیوں کی طرف سے وظیفے ملتے ہیں جن لوگوں نے کتابوں کی دکانیں کھولی ہیں انہیں پشتو میں عیسائی مذہب کی کتابیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
اب آتے ہیں ملٹی نیشنل انڈسٹریل کارپوریشنوں کے کارناموں کی طرف کہ انہیں ان غیر سرکاری تنظیموں کی مدد کرنے سے کیا ملتا ہے۔ مختلف ممالک میں ملٹی نیشنل کارپوریشنوں نے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے اپنے مقاصد تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم ممالک میں چونکہ سرمایہ کاری کے مواقع کم ہیں اور اپنے وجود کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے یورپی سرمایہ کار سرمایہ لگانے سے کتراتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے مسلم ملکوں کے اندر عیسائی آبادی بڑھانے اور اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے مسلح تنظیمیں بنانے پر اکتفا کیا۔ وہ مسلح تنظیمیں ۱۷۰۰ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے غیر سرکاری تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ کارپوریشنیں مسلمانوں کو اپنی ٹیکنالوجی کی اصلی قیمت نہیں بتاتیں اور ایک معمولی سی چیز کو تین گنا مہنگا بیچتی ہیں۔ اسی طرح آہستہ آہستہ انہوں نے مسلم ممالک کے ٹیلی ویژن پر اشتہارات دینا شروع کر دیئے اور قومی پیداوار کو سخت نقصان پہنچایا۔ قادیانیوں کے مرکز ربوہ میں افغانوں کی آمد اور وہاں سے یورپ میں ان کی منتقلی خطرناک سازش ہے۔ افغان خواتین میں سے بہت سی عورتیں عیسائی اور قادیانی بن چکی ہیں۔ افغانستان میں عیسائیت اور قادیانیت کی جنگ لڑنے کے لیے فورس تیار ہو رہی ہے۔
پاکستان میں این جی اوز کی مشکوک سرگرمیوں سے ہر شہری باخبر ہے اور آئے دن اخبارات و رسائل میں ان کے خلاف خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ۱۹۳۷ء میں سات سے زیادہ این جی اوز نہیں تھیں جبکہ ۱۹۴۷ء-۱۹۹۸ء تک ملک بھر میں این جی اوز کی تعداد ۳۰ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ معروف قانون دان اور دانشور خان یونس خان ایڈووکیٹ نے لکھا ہے کہ ملٹی نیشنل انڈسٹریل کارپوریشنوں نے این جی اوز کو اس لیے قائم کیا ہے تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے نیو ورلڈ آرڈر کو چلانے کے لیے ان غیر سرکاری تنظیموں کو نئی انتظامیہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار خان خداداد خان برکی کا خیال ہے کہ عالمی بینک این جی اوز کے ذریعے پاکستان میں تعلیمی اور بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خداداد خان برکی نے کہا کہ حال ہی میں کراچی اور لاہور میں بہت سے سکول این جی اوز کے حوالے کیے گئے ہیں۔
۹ مئی ۱۹۹۹ء کو صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر پنجاب نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں ۱۹۴۱ این جی اوز (Non-Governmental Organizations) کو ختم کرنے اور ان کے فنڈز فوری طور پر منجمد کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔ عام طور پر سمجھا جا رہا تھا کہ ان این جی اوز کے بیرونی روابط کی وجہ سے حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ ان این جی اوز کی سر پرستی امریکہ
برطانیہ جرمنی اور بین الاقوامی یہودی تنظیمیں بڑی فراخ دلی سے کر رہی تھیں۔ ان ممالک کی طرف سے ان این جی اوز کو ایک طرح سے سفارتی درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ ان این جی اوز کو گزشتہ کئی برسوں سے ہر طرح سے نوازے جانے کی وجہ بھی ان کی یہی خدمات رہی ہیں۔ ان این جی اوز کے بارے میں شکوک و شبہات تو پہلے سے ہی موجود تھے مگر حکومت میں جب ان این جی اوز کی سرگرمیوں اور عالمی روابط کو مانیٹر کیا گیا اور ان کے ملک دشمن معاملات کی تحقیقات کی گئی تو بڑے ہولناک اور خوفناک حقائق سامنے آئے۔ ان حقائق سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ جو کام کسی دور میں تجارتی لبادے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیا تھا بالکل وہی کام اب فلاحی لبادے میں یہ این جی اوز کر رہی تھیں یعنی بتدریج ملک کی نظریاتی و دفاعی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اپنے حصار میں لے لینا تا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ان حقائق کا منکشف ہونا تھا کہ حکومت کے سامنے یہ نیا چیلنج آ کھڑا ہوا کہ آیا حسب سابق بیرونی قوتوں کے دباؤ میں ان این جی اوز کو نہ چھیڑا جائے یا ملک کے نظریاتی و دفاعی مفادات کے تحفظ کی خاطر ان پر پابندی لگائی جائے۔
اسلام ایک معتدل متوازن اور عادلانہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں ہر انسان عزت و وقار سے زندگی گزار سکے اور یہی ہر مسلمان حکومت کا فرض اولیں قرار پاتا ہے۔ ”نہی عن المنکر“ اور ”امر بالمعروف“ صرف فرد واحد تک محدود نہیں ہے بلکہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے بالکل اسی طرح جیسے حکومت پر آئین کا نفاذ اور قانون کی بالادستی لازم آتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور شخصی آزادی کی آڑ میں کسی بھی مسلم معاشرہ میں بے لگام چھوٹ کی گنجائش نہیں۔ مسلمان حکومتوں میں غیر مسلم بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ان پر معاش کے تمام ذرائع کھلے رہے علم و حکمت میں غیر مسلم شریک رہے ان پر کبھی شریعت نافذ نہیں کی گئی اور غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل رہی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک غیر مسلم کسی مسلم حکومت کا سربراہ نہیں بن سکتا تو یہ کوئی سنجیدہ اعتراض نہیں۔ کیا کوئی مسلمان کسی بھی مغربی حکومت کا سربراہ منتخب ہو سکتا ہے؟ کیا یہ عملاً ممکن ہے؟ برطانیہ میں بادشاہ وقت اگر چرچ کی مرضی کے خلاف شادی کرے تو اس کو تخت و تاج سے دستبردار ہونا پڑتا ہے امریکہ کی تاریخ میں صرف ایک کیتھولک صدر اب تک منتخب ہو سکا ہے۔ اسلام میں تعطیل کا تصور تک نہیں لیکن ”سیکولر“ مغرب میں ہر چھٹی کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے منسوب ہے اور ہمارا ”سیکولر“ طبقہ کہتا ہے کہ ریاست اور حکومت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ روح کا جان سے تعلق نہ ہو!!
(مزمل یسین صدیقی)
تم صرف نام
فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق بڑی عجیب ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ دوسری جنگ گیا۔ جنگل میں قائم کیمپ کے کمانڈر نے ایک دف گارودی کو دو مسلمان الجزائری سپاہیوں کے سا سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ دین اس اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان سپاہیوں کو ان کے ب تمہارا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جا گارودی کی ان سپاہیوں سے کوئی جان پہچان ن حالات نے پلٹا کھایا اور وہ موت کے منہ سے ب اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور کچھ ہی عرصے میں م
دوسری جنگ عظیم کے دوران دو مسلم کر اسلام کا بول بالا کیا لیکن آج ہم مسلمان کو مسلم کے مسلمان میں بے شک کئی خرابیاں پیدا ہو چکی حیات ہے اور اسی لیے سب سے تیزی کے ساتھ پ جن ممالک میں مسلمان کم ہیں وہاں اسلام زیادہ زیادہ ہیں وہاں کے غیر مسلموں میں قبول اسلام اسلام نے غیر مسلموں کو اتنے زیادہ حقوق دے ر نومسلموں کے ساتھ زیادتیاں بھی کر جاتے ہیں ا لیتے ہیں۔ ایک سال قبل سرگودھا کے شمالی چک نورین کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا۔ ان دونوں میا کی لہر دوڑ گئی اور انہیں قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں
فراخ دلی سے کر رہی تھیں۔ ان ممالک کی طرف حاصل ہو چکا تھا۔ ان این جی اوز کو گزشتہ کئی برسوں کی خدمات رہی ہیں۔ ان این جی اوز کے بارے حکومت میں جب ان این جی اوز کی سرگرمیوں اور معاملات کی تحقیقات کی گئی تو بڑے ہولناک اور بالکل واضح ہو چکی تھی کہ جو کام کسی دور میں تجارتی کام اب فلاحی لبادے میں یہ این جی اوز کر رہی ملا کر کے اپنے حصار میں لے لینا تاکہ سانپ منکشف ہونا تھا کہ حکومت کے سامنے یہ نیا چیلنج آ میں ان این جی اوز کو نہ چھیڑا جائے یا ملک کے پابندی لگائی جائے۔
اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں ہر انسان اسلامی حکومت کا فرضِ اولیں قرار پاتا ہے۔ ”نہی عن ذمہ داری نہیں ہے بلکہ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اور قانون کی بالادستی لازم آتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید نہیں ہے لگام چھوٹ کی گنجائش نہیں۔ مسلمان حاصل ہے‘ ان پر معاش کے تمام ذرائع کھلے رہنے جہاں شریعت نافذ نہیں کی گئی اور غیر مسلموں کو مکمل غیر مسلم کسی مسلم حکومت کا سربراہ نہیں بن سکتا کیا کوئی حکومت کا سربراہ منتخب ہو سکتا ہے؟ کیا اپنی مرضی کے خلاف شادی کرے تو اس کو تخت و امریکہ میں ورنہ ایک کیتھولک صدر اب تک منتخب ہو سکا ہے؟ مغرب میں ہر چھٹی کسی نہ کسی مذہبی تہوار سے وہاں حکومت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
(مزمل یسین صدیقی)
حامد میر
تم صرف نام کے مسلمان ہو؟
فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق سربراہ پروفیسر جاگارودی کے قبول اسلام کی کہانی بڑی عجیب ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم میں مجھے قیدی بنا کر الجزائر کے جنگلوں میں بھیج دیا گیا۔ جنگل میں قائم کیمپ کے کمانڈر نے ایک روز مجھے گولی مار دینے کا حکم دیا‘ گولی مارنے کے لیے گارودی کو دو مسلمان الجزائری سپاہیوں کے سامنے پیش کیا گیا لیکن ان دونوں نے مجھے گولی مارنے سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ دین اسلام نہتے انسانوں اور قیدیوں کو بلاوجہ قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان سپاہیوں کو ان کے ساتھیوں نے سمجھایا کہ اگر تم نے کمانڈر کا حکم نہ مانا تو تمہارا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم اپنے اللہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتے۔ گارودی کی ان سپاہیوں سے کوئی جان پہچان نہ تھی لیکن وہ ان کی جرأت دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ حالات نے پلٹا کھایا اور وہ موت کے منہ سے نکل کر واپس فرانس پہنچ گیا۔ فرانس پہنچ کر گارودی نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور کچھ ہی عرصے میں عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہو گیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران دو مسلمان سپاہیوں نے ایک نہتے عیسائی قیدی پر گولی نہ چلا کر اسلام کا بول بالا کیا لیکن آج ہم مسلمان کو مسلمان پر گولی چلا کر اسلام کو بدنام ہوتا دیکھتے ہیں۔ آج کے مسلمان میں بے شک کئی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن اسلام آج بھی بلاشبہ دنیا کا بہترین ضابطۂ حیات ہے اور اسی لیے سب سے تیزی کے ساتھ فروغ پانے والا مذہب ہے۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ جن ممالک میں مسلمان کم ہیں‘ وہاں اسلام زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اور جن ممالک میں مسلمان زیادہ ہیں‘ وہاں کے غیر مسلموں میں قبول اسلام کی شرح بہت کم ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام نے غیر مسلموں کو اتنے زیادہ حقوق دے رکھے ہیں کہ بعض اوقات یہ غیر مسلم اپنی برادری کے نو مسلموں کے ساتھ زیادتیاں بھی کر جاتے ہیں اور ”اقلیتوں کے حقوق“ کی آڑ میں اپنی زیادتیاں چھپا لیتے ہیں۔ ایک سال قبل سرگودھا کے شمالی چک نمبراے کے ایک عیسائی نوجوان عالم نے اپنی بیوی نورین کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا۔ ان دونوں میاں بیوی کے قبول اسلام پر ان کے خاندان میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہیں قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ لہٰذا میاں بیوی اپنا گاؤں چھوڑ کر سرگودھا شہر چلے
گئے ۔ گاؤں چھوڑنے کے آٹھ ماہ کے بعد نو مسلم عالم کو اس کے سسرالی رشتہ داروں نے صلح کا پیغام بھیجا اور واپس بلایا۔ عالم سسرالی رشتہ داروں کے دھوکے میں آ گیا اور چند دن قبل اپنی حاملہ بیوی کے ہمراہ سسرال چلا گیا۔ عالم کے سسر بشیر مسیح نے اپنے بیٹوں یعقوب اور پرویز کے ہمراہ عالم کو باندھ دیا اور اس پر پتھروں کی بارش کر دی۔ ظالموں نے عالم کی آنکھیں بھی پھوڑ ڈالیں۔ نو مسلم داماد کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے بعد ظالم باپ نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی اسلام پر قائم ہے؟ بیٹی نے اثبات میں جواب دیا جس پر باپ نے اپنی نو مسلم حاملہ بیٹی کے سر میں اینٹیں مار کر اسے بھی قتل کر دیا۔ عالم کی ایک بہن نسرین کی شادی اسی گھر میں ہوئی تھی، جہاں موت کا یہ خوفناک کھیل کھیلا گیا۔ یہ لڑکی کسی طریقے سے بھاگ کر اپنے باپ عمانویل مسیح کے پاس پہنچی اور اسے اپنے بھائی عالم اور بھابی نورین کے قتل کی کہانی سنائی۔ عمانویل مسیح اپنے عیسائی رشتہ داروں کے اس ظلم پر ہوش و حواس کھو بیٹھا تاہم چند روز کے بعد سنبھلا تو پولیس کے پاس گیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اس قتل کے ذمہ داروں کو گرفتار کرانے کے لیے عمانوئیل مسیح اسلام آباد میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ انگریزی اخبار ”دی نیشن“ نے اس کے بیٹے اور بہو کے ساتھ ہونے والے ظلم کی تمام کہانی بھی شائع کر دی لیکن انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے اس کے ساتھ رابطہ قائم نہیں کیا۔ بی بی سی اور سی این این کو بھی ایک اسلامی ملک میں عیسائیوں کے ہاتھوں دو نو مسلموں کے قتل میں کوئی دلچسپی پیدا نہ ہوئی۔ اگر یہ واقعہ کسی عیسائی کے ساتھ پیش آتا تو اب تک پاکستان میں این جی او مافیا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے ایک طوفان برپا کر دیا ہوتا۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ اسلامی معاشرے میں غیر مسلم کا ناحق قتل ایک مسلمان کے قتل کے برابر ہے لیکن کسی غیر مسلم کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ مسلمانوں کا ناحق خون بہائے۔ سرگودھا کے شمالی چک نمبر ۷۱ میں ہونے والا واقعہ پاکستان کی مسیحی آبادی کے نام پر بھی بدنامی کا ایک دھبہ ہے۔ لہٰذا مسیحی برادری کے مذہبی لیڈروں کو چاہیے کہ وہ بھی عالم اور نورین کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کریں۔ پروفیسر جاگارودی کو اس واقعے کا پتہ چلے تو وہ حیران ہو کر ہم سے یہ ضرور پوچھے گا کہ میں تو عیسائیوں کے ملک میں اسلام قبول کر کے بھی زندہ رہا لیکن تم مسلمانوں کے ملک میں اسلام قبول کرنے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ آخر کیوں؟ کیا تم صرف نام کے مسلمان ہو؟
حامد میر
یقین نہیں آتا!!!
یقین نہیں آتا کہ پاکستان میں اسلام کے دشمن سرکاری سرپرستی بھی حاصل کر سکتے ہیں! لیکن کیا کریں کہ حقائق سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو اور وفاقی وزارت تعلیم کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اُردو جریدے ”پیامی“ میں بدنام زمانہ بنگلہ دیشی گستاخ قرآن تسلیمہ نسرین کا ایک مضمون شائع کیا گیا ہے جس کا عنوان ہے ”سیکولر معاشرے کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں“۔ تسلیمہ نسرین نے چند سال قبل اپنے ایک ناول میں قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سلمان رشدی کی روایت کو دہرایا جس کے بعد بنگلہ دیشی حکومت نے اس کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے لیکن وہ یورپ فرار ہو گئی۔ بنگلہ دیش کی بعض دینی جماعتوں نے تسلیمہ نسرین کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ٹکا مقرر کر رکھی ہے۔ تسلیمہ کی والدہ عیدالاراء اور والد رجب علی دو سال قبل اپنی بیٹی کا جرم تسلیم کر کے قوم سے معافی مانگ چکے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان کے ایک سرکاری جریدے نے تسلیمہ نسرین کے خیالات کو بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ جریدے کے پہلے صفحے پر لکھا ہے:
”پیامی ۸۶ء پرنٹرز سے چھپوا کر پاکستان نیشنل کمیشن برائے یونیسکو (وفاقی وزارت تعلیم) کی جانب سے شائع ہوتا ہے۔“
اس جملے کے بعد تسلیمہ نسرین کے مضمون کی اشاعت کی ذمہ داری سے وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وفاقی وزارت تعلیم کے زیر اہتمام شائع ہونے والے جریدے میں تسلیمہ نسرین نے لکھا ہے کہ:
”میں سمجھتی ہوں مذہب عورتوں کی ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہے، خواتین کے حقوق کی تحریک کو مذہبی قوانین منسوخ کرانے اور یکساں دیوانی تعزیرات متعارف کروانے کے لیے جنگ لڑنا ہو گی۔“
اسی پر بس نہیں بلکہ آگے چل کر تسلیمہ نسرین نے کہا ہے:
”جنوبی ایشیا میں جو خواتین سربراہ مملکت بنتی ہیں، ان کی اکثریت مذہبی
ہوتی ہے اور وہ مرد سربراہوں کی طرح انتظامیہ کے مذہبی مقاصد کی پابندی کرتی ہیں ۔ میں اس ملک کے مظالم کی شکار ہوں جہاں کی وزیراعظم ایک خاتون ہے چونکہ میں نے مذہب کے تسلط کی مذمت میں ایک قدم آگے بڑھایا کیونکہ یہ مذہب خواتین کو دبائے ہوئے ہے جس پر مجھے ملک چھوڑنا پڑا ۔“
افسوس اس بات کا ہے پاکستان کی ایک موجودہ وفاقی وزیر عطیہ عنایت اللہ کا یونیسکو سے پرانا تعلق ہے اور دوسری وزیر زبیدہ جلال اس محکمے کی انچارج ہیں۔ دونوں خواتین مسلمان ہیں اور اچھی طرح جانتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جتنے حقوق دیئے ہیں وہ کسی مذہب اور معاشرے میں نظر نہیں آتے لیکن اس کے باوجود یونیسکو اور وفاقی وزارت تعلیم کے جریدے میں تسلیمہ نسرین کو یہ لکھنے کی اجازت دے دی گئی کہ :
”مغربی ممالک میں خواتین کو تمام حقوق حاصل ہیں اور ان کے ساتھ مساویانہ سلوک ہوتا ہے۔“
تسلیمہ نسرین نے اسلام کی مذمت میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کی لبرل این جی اوز کو یہ انتہا پسندی صرف تسلیمہ نسرین کے مخالفین میں نظر آتی ہے۔ عطیہ عنایت اللہ اور زبیدہ جلال کا بھی این جی اوز سے گہرا تعلق ہے۔ لہذا تسلیمہ نسرین کے خیالات دراصل این جی اوز کے طرز فکر کا پتہ دیتے ہیں۔ یہ این جی اوز اتنی انتہا پسند ہیں کہ ایسی خواتین کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جو مذہب پر یقین رکھتی ہیں۔ ان خواتین میں بے نظیر بھٹو، خالدہ ضیا اور حسینہ واجد شامل ہیں جن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سر پر چادر لیتی ہیں۔ تسلیمہ نسرین نے اپنے اسی مضمون میں سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہاں خواتین کو حقوق حاصل نہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو تسلیمہ نسرین کا سرپرست یونیسکو سعودی عرب میں اپنے آپریشن بند کیوں نہیں کرتا ؟ یونیسکو اور وفاقی وزارت تعلیم کے جریدے میں اس قابل اعتراض مضمون کی اشاعت سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت میں انتہائی غیر ذمہ دار عناصر شامل ہیں، وہاں اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے اسلام دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اقوام متحدہ کے اصول اسلامی ممالک کے لیے مختلف اور غیر اسلامی ممالک کے لیے مختلف ہیں۔ اقوام متحدہ کے عملے کی پاکستان میں مشکوک سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ سرکاری محکموں میں موجود ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو اپنا ضمیر اور ایمان بیچ کر تسلیمہ نسرین کی ترجمانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اب کوئی شک نہیں رہا کہ اقوام متحدہ، اس کے ذیلی ادارے اور ان اداروں کے ساتھ کام کرنے والی این جی اوز کی سیکولر سوچ کے پیچھے اسلام دشمنی چھپی ہوئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان
حکومت پاکستان کے ایک کارروائی کے مطالبہ سے بچ پائیں اور قومی شائع ہوا ہے کہ ”این جی اوز کا تحفظ حکومت فرمایا کہ ”این جی اوز مفاد عامہ کے لیے کام کوشش کی تو حکومت مناسب ایکشن لے گی دیں گے تو پھر کون ان کی حمایت میں بولے گا
ماضی میں بادشاہوں کے وزراء جاتا تھا مگر اکیسویں صدی کی طرف سفر کیا شر میر صادق کی طرح اپنی دھرتی کا حق نمک ادا کی خاطر ہر لمحہ بے قرار دیکھے جاتے ہیں۔
این جی اوز جو anisations) عرف عام میں سماجی رفاہی اداروں پر منطبق کیا ہے ان کا سماج کی بہبود سے دُور کا بھی واسطہ سماج دشمن مافیا ہے جو غیر ملکی آقاؤں کی ضرور خدمت سرانجام دے رہے ہوں تو بعض غیر شعو مقاصد غیروں ہی کے پورے کرتے ہیں۔
سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کر کے سبب مفت میں بدنام ہوتے ہیں، ان کی کارک سکتے دیکھے جاتے ہیں۔ بڑے شہروں کے بڑ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کچھ عر کا کسی پراجیکٹ کے حوالے سے مکمل سروے تقاضوں میں خصوصیت کا حامل علاقہ ہے۔ اس
عبدالرشید ارشد
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے دین این جی اوز کا کردار
حکومت پاکستان کے ایک وزیر‘ این جی اوز کے خلاف ملک بھر میں نفرت اور عملی کارروائی کے مطالبہ سے سیخ پا ہیں اور قومی اخبارات میں سہ کالمی خبر کے طور پر ان کا دھمکی آمیز بیان شائع ہوا ہے کہ ”این جی اوز کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ہر صورت میں عہدہ برا ہوں گے۔“ مزید فرمایا کہ ”این جی اوز مفاد عامہ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اگر کسی عناصر نے ان کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو حکومت مناسب ایکشن لے گی۔“ عمر اصغر صاحب اگر این جی اوز کے حق میں بیان نہ دیں گے تو پھر کون ان کی حمایت میں بولے گا؟
ماضی میں بادشاہوں کے وزراء کے ساتھ با تدبیر کا لفظ معروف تھا بلکہ لکھا ہی وزیر با تدبیر جاتا تھا مگر اکیسویں صدی کی طرف سفر کیا شروع ہوا ہے کہ وزیر بے تدبیر بنتے چلے گئے اور میر جعفر و میر صادق کی طرح اپنی دھرتی کا حق نمک ادا کرنے کی بجائے غیر ملکی آقاؤں کے نمک کی لاج رکھنے کی خاطر ہر لمحہ بے قرار دیکھے جاتے ہیں۔
این جی اوز جو (Non-Governmental Organisations) کا مخفف ہے‘ عرف عام میں سماجی رفاہی اداروں پر منطبق کیا جاتا ہے مگر قوم جن کو این جی او مافیا کے نام سے پکارتی ہے‘ ان کا سماج کی بہبود سے دُور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ یہ امر واقع ہے کہ غیر ملکی سرمایہ پر پلنے والا یہ سماج دشمن مافیا ہے جو غیر ملکی آقاؤں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض شعوری خدمت سرانجام دے رہے ہوں تو بعض غیر شعوری ایجنٹ ہوں مگر اس میں شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ مقاصد غیروں ہی کے پورے کرتے ہیں۔
سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے حقیقی ادارے ان خارجی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کے سبب مفت میں بدنام ہوتے ہیں‘ ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور یہ عدم تعاون کے سبب اکثر سسکتے دیکھے جاتے ہیں۔ بڑے شہروں کے بڑے این جی اوز بعض دیہی سطح کے این جی اوز کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کچھ عرصے پہلے اسلام آباد کی کسی این جی او نے وادی سون کا کسی پراجیکٹ کے حوالے سے مکمل سروے کروایا تھا اور وادی سون سیکسر پاکستان کے دفاعی تقاضوں میں خصوصیت کا حامل علاقہ ہے۔ اسی طرح ایف اے او کے حوالے سے کہوٹہ شہر کو
ہیڈ کوارٹر بنا کر بعض مبینہ ”زرعی ماہرین“ علاقے میں دندناتے دیکھے گئے اور کہوٹہ ہمارے ایٹمی پراجیکٹ کے ساتھ واقع شہر ہے۔ ایف اے او کی ٹیم میں ہر شخص کے محب وطن پاکستانی ہونے کی ضمانت کون دے سکتا ہے! خصوصاً غیر ملکی درآمدہ شدہ ماہرین کی ضمانت۔
تعلیم کے پراجیکٹ میں مدد و تعاون کے حوالے سے بھی ایک مقامی این جی او استعمال ہوا کہ مبینہ ”ماہرین تعلیم“ مشکوک پائے گئے جو برٹش یا امریکی سفارت خانے نے تحفۃً دیئے تھے۔ یہ کام ملک کے مختلف حصوں میں عملاً اور عمداً ہورہا ہے اسی لیے باشعور اہلِ وطن ان ”سماجی اداروں“ کو سماج دشمن ادارے کہتے ہیں۔
جب ہم اس این جی او مافیا کو سماج دشمن قرار دیتے ہیں تو یہ محض تہمت یا الزام نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس اس بات کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد ہیں اور یہ دستاویزات انہی کی اپنی شائع کردہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بچہ بچہ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ یہ خطہ اسلام کے نام پر اسلام کے عملی نفاذ کے لیے مسلم اکثریت کو قائد اعظمؒ نے طویل جدوجہد کے بعد لے کر دیا تھا۔ قائد اعظمؒ نے بار بار وضاحت فرمائی کہ:
”اس قوم کو ایک جداگانہ گھر کی ضرورت ہے، ان دس کروڑ عوام کو جو مسلمان ہیں، جو اپنی تمدنی، معاشرتی صلاحیتوں کو اسلامی خطوط پر ترقی دینا چاہتے ہیں، ایک اسلامی ریاست کی ضرورت ہے۔“ (قرارداد لاہور ۲۳مارچ ۴۰ء حیات قائد اعظم مرتبہ چوہدری سردار محمد عزیز خان صفحہ ۲۲۰)
”مسلمان غلامی کو خدا کا عذاب سمجھتا ہے۔ مسلمان اور غلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ ایک آزاد اسلامی سلطنت کے بغیر اسلام کا تصور ہی باطل ہے۔ مسلمان کے نزدیک صحیح آزادی کا تصور یہ ہے کہ وہ ایسی اسلامی حکومت کو معرض وجود میں لائے جو قرآن کریم کے ضابطہ خداوندی کی متکفل ہو۔ مسلمان کے نزدیک ہر وہ نظام باطل ہے جو کسی انسان کا وضع کردہ ہو کیونکہ اس کے پاس ایک دستور ہے جو اس کی ہر موقع اور ہر زمانہ میں رہنمائی کرتا ہے۔“
(بحوالہ مذکورہ صفحہ ۲۵۲)
ہم نے مذکورہ اقتباسات اس لیے درج کر دیئے ہیں کہ شیخ رشید کی طرح اگر کسی کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ خناس ہے کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو آزاد سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے تو اس کا ذہن صاف ہو جائے کہ پاکستان صرف اسلام کے لیے تھا۔ دوسری اہم یہ بات ان اقتباسات سے اپنے قاری کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ قائد اعظمؒ کے پاکستان میں برتری قرآن کریم کے ضابطہ خداوندی کی متکفل ہوگی۔ اسلام مسلمان کے لیے ضابطہ حیات ہے اور ہر شعوری یا غیر شعوری مسلمان کے نزدیک قرآن اور شعائر اسلام کی عظمت و اہمیت اس کے اپنے جسم و جان
سے کہیں زیادہ ہے اور ماضی سے ہمـ ہماری عملی زندگی کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
یہود و نصاریٰ کی مشترکہ خواہش اور شعائر سے محبت کھرچ کر اسے قطعاً مـ اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے کہ عمـ کا بگاڑ ثابت ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ و اپنے خلاف مؤثر مورچہ سمجھتے ہوئے اسـ حربہ یہی این جی او مافیا ہے۔ دین دشمنی کا
”طویل عرصہ سے ہم مولویت کو بے وقار بنا دیں او ہمارے راستے کے سنگ گراں قیمت کم ہورہی ہے۔ آزادی مولویت کو برباد کرنے کا عزم
مذکورہ اقتباس کی روشنی میں مـ جہانگیر کا کردار دیکھ لیجیے کہ حقوق انسانی با ہم شیر وشکر بلکہ دشمن کے سپاہیوں میں کے گھر جا کر ملاقات کرنے اور بھارت اور بیان بازی پر میڈیا کی گواہی کافی ہے
قومی سلامتی کے حوالے سے مگر عاصمہ جہانگیر جو اپنے خالق و مالک خاطر میں لائے گی کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ قا پوچھنے والا نہیں ہے۔
عاصمہ جہانگیر بھی ایک این قرآن وسنت اور شعائر واقدار اسلام کی
”عاصمہ جہانگیر کی ایـ سے شائع کرتی ہے اس نے سورۃ النساء کی آیت ۳۴ پر ایـ کی توہین کے ساتھ ساتھ سنـ
- ٭...... مذکورہ آیت
سے کہیں زیادہ ہے اور ماضی سے حرمتِ قرآن اور شعائر اسلام پر جان دینے کی بے شمار مثالیں ہماری عملی زندگی کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
یہود و نصاریٰ کی مشترکہ خواہش و کاوش ہے کہ مسلمان کے قلوب و اذہان سے اسلامی اقدار اور شعائر سے محبت کھرچ کر اسے قطعاً ”بے ضرر انسان“ کے قالب میں ڈھال دیا جائے اور عورت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے کہ عورت مرد کو نہ صرف موم بناتی ہے بلکہ خود اس کا بگاڑ خاندانوں کا بگاڑ ثابت ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ دوسرے اسلامی ممالک کی نسبت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنے خلاف مؤثر مورچہ سمجھتے ہوئے اسے سر کرنے کی خاطر ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں اور مؤثر ترین حربہ یہی این جی او مافیا ہے۔ دین دشمنی کا عزم اور محنت ملاحظہ ہو:
”طویل عرصہ سے ہم نے یہ محنت کی ہے کہ غیر یہود میں پاپائیت/ مولویت کو بے وقار بنا دیں اور سینہ دھرتی پر ان کے مشن کو تباہ و برباد کر دیں جو ہمارے راستے کے سنگ گراں سے کم نہیں ہے۔ دن بدن مولویت کی قدر و قیمت کم ہو رہی ہے۔ آزادی ضمیر کے نعرے کی طرف ہم نے عوام کو دھکیل کر مولویت کو برباد کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔۔۔“ (17:2 Protocols)
مذکورہ اقتباس کی روشنی میں مثال کے طور پر ضمیر کی قیدی ”حقوق انسانی کی چیمپئن“ عاصمہ جہانگیر کا کردار دیکھ لیجیے کہ حقوق انسانی کے نام پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمہ دشمنوں کے ساتھ باہم شیر و شکر بلکہ دشمن کے سپاہیوں میں عملاً شکر پارے بانٹنے‘ پاکستان میں جاسوسی کرنے والے دشمن کے گھر جا کر ملاقات کرنے اور بھارت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پالیسیوں کے خلاف انٹرویو اور بیان بازی پر میڈیا کی گواہی کافی ہے۔
قومی سلامتی کے حوالے سے یہ رویہ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے کھلی غداری قرار پاتا ہے مگر عاصمہ جہانگیر جو اپنے خالق و مالک کی باغی ہے‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بغاوت کو کہاں خاطر میں لائے گی کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ قانون دان ہے اور آئین و قانون کی جو توجیہ چاہے‘ کر لے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
عاصمہ جہانگیر بھی ایک این جی او کی سربراہ ہے۔ اس این جی کے ذمہ اس کے آقاؤں نے قرآن وسنت اور شعائر واقدار اسلام کی بیخ کنی کا کام سونپ رکھا ہے۔ صرف دو مثالیں ملاحظہ فرمائیے:
”عاصمہ جہانگیر کی این جی او ایک ماہوار خبر نامہ ”صدائے آدم“ کے نام سے شائع کرتی ہے اس نے شمارہ جنوری ۲۰۰۰ء کے سرورق پر قرآن حکیم کی سورۃ النساء کی آیت ۳۴ پر ایک طنزیہ کارٹون شائع کیا ہے جو قرآن حکیم کی آیت کی توہین کے ساتھ ساتھ سنت رسول کی بھی توہین ہے۔
- ☆....... مذکورہ آیت نمبر ۳۴ کے الفاظ یہ ہیں ”الرجال قوامون علی
النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض ”یعنی مرد عورتوں پر قوام (محافظ) ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اس آیت کی ”کارٹون کی شکل میں تشریح کرتے ہوئے“ ایک ترازو بنایا گیا ہے جس کے اوپر اُٹھے (ہلکے) پلڑے میں ایک عورت اور اس کا بچہ ہے اور دوسرے خاصے جھکے بھاری پلڑے میں ایک مولوی صاحب نے جھک کر صرف داڑھی رکھی ہوئی ہے (یعنی مرد تو رہا ایک طرف مولوی کی داڑھی بھی عورت اور اس کے بچے سے بھاری ہے) یہ قرآن کی آیت اور سنت رسول کی کھلی توہین ہے۔
فروری ۲۰۰۰ء کے ”صدائے آدم“ کے سرورق پر شائع کارٹون پہلے کارٹون سے بھی توہین قرآن کے حوالے سے بازی لے گیا ہے۔ یہ کارٹون سورۃ الاعراف کی آیت ۴۰ پر مبنی ہے‘ جو یوں ہے ”ان الذین کذبوا بایتنا واستکبروا عنہا لا تفتح لہم ابواب السماء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذالک نجزی المجرمین“ (۴۰) یعنی (جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور مقابلے میں متکبر ہوئے ان کے لیے نہ تو آسمان کے دروازے کھلیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے کہ یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر اونٹ سوئی کے سوراخ سے گزر جائے یعنی نہ اونٹ سوئی کے سوراخ سے گزر سکتا ہے اور نتیجتاً نہ ایسے مجرم جنت میں جاسکتے ہیں)
اس آیت پر مبنی کارٹون میں ایک مولوی صاحب اونٹ کی نکیل (رسی) پکڑے اس میں سوئی پرونے (ڈالنے) اونٹ کو اپنی جانب کھینچ کر سوئی کے سوراخ سے گزارنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آج ملک میں توہین عدالت کا قانون موجود ہے‘ عدالتیں بات بات پر خود نوٹس لیتی ہیں‘ توہین کے مرتکبین کو سزائیں بھی ہوتی ہیں مگر کلام اللہ اور سنت رسول کی توہین پر سزا دینے والا کوئی نہیں کہ مجرم کی پشت پناہی کے لیے عمر اصغر اور دیگر مؤثر مافیا موجود ہے۔ قوم روٹی اور ٹیکس کے سبب نڈھال ہے۔ لہٰذا کھل کھیلتے ہیں کہ سیاں بھئے کوتوال
لاہور ہی میں ایک اور این جی او ”شرکت گاہ۔“ ہے جس کا سہ ماہی مجلّہ خبر نامہ ہے۔ اس این جی او کا سلوگن ہے ”خواتین زیر اثر مسلم قوانین“ یہ حقوق نسواں کا داعی ادارہ ہے۔
اس این جی او کی سرپرستی بے شمار غیر ملکی تنظیمیں کرتی ہیں جن کی فہرست خبر نامے کے شمارہ ۳‘ جلد ۴ کے صفحہ ۲۵ پر درج کی گئی ہے۔
اس این جی او کے سلوگن سے جو بات عیاں ہے‘ اسے حقوق نسواں کے حوالے سے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر جگہ عورت کو تمام حقوق میسر ہیں مگر کسی جگہ عورت کو خطرہ ہے‘ اس کے حقوق پامال ہیں تو صرف ان ممالک میں جہاں اسلامی قوانین کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ یہ پاکستان ہے‘ سوڈان ہے یا کوئی دوسرا اسلامی ملک۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے اور غیر ملکی آقاؤں کا نمک کھاتے‘ اسلامی اقدار کی حامل اکثریت کی موجودگی میں حقوق نسواں کے نام پر ”شرکت گاہ“ اور اس کی دیگر ہمنوا این جی اوز کے مطالبات پر ایک نظر ڈال کر وثائق یہودیت کے سابقہ اوراق میں دیئے گئے اقتباس کی روشنی میں خود موازنہ کر کے دیکھ لیجیے کہ جن این جی اوز کا عمر اصغر حکومتی سطح پر مؤثر دفاع کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں‘ ان کی اصلیت کیا ہے اور اسی سے عمر اصغر کا اپنا چہرہ نکھر کر ہر کسی کے سامنے آ جاتا ہے۔
(بقول خبر نامہ جلد ۶‘ شمارہ ۱‘ صفحہ ۳)
پاکستان میں بسنے والے تمام گروہوں اور قبیلوں کی نمائندگی کرنے والی چاروں صوبوں میں کام کرنے والی تنظیموں نے مندرجہ ذیل مطالبات پیش کیے ہیں۔ (تنظیموں کی طویل فہرست محل نظر ہے)
- (۱) حدود آرڈیننس کی تنسیخ
- (۲) قصاص اور دیت کے قانون کی تنسیخ
- (۳) قانون شہادت کی تنسیخ
- (۴) تمام پرسنل لاز میں ٹھوس اصلاحات جیسا کہ مطالبات بالا میں تحریر ہے۔
انہی تنظیموں نے ”قانونی اصلاحات کے لیے ایکشن“ کے عنوان سے مطالبات کی ایک فہرست مرتب کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جمہوری حکومت کے سامنے پیش کی تھی جس میں نمبر ۹ مطالبہ یہ ہے کہ:
”وفاقی شرعی عدالت اور تمام خصوصی عدالتیں ختم کر دینی چاہئیں۔“
وفاقی شرعی عدالت کی موجودگی کا ان این جی اوز کو ناپسند ہونا‘ ہر کسی کو بخوبی سمجھ آ سکتا ہے کہ یہ کوئی معمہ نہیں ہے۔ اسی مشترکہ آواز کا نمبر ۱۰‘ اپنی آواز ”سرکار“ کے کانوں میں اس طرح ڈالتا ہے کہ:
”اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) معاشرے کی اجتماعی آواز ہیں اور اس کی نمائندگی کرتی ہیں اس لیے سفارش کی جاتی ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں اور پارلیمنٹیرین کے مابین باقاعدہ رابطے کے لیے راہیں تجویز کی جائیں اور پارلیمنٹ کو ایسی کمیٹیاں بنانی چاہئیں جن کے ذریعے عورتوں کے گروپ اور اقلیتیں اپنی آواز اسمبلی میں پہنچانے کے قابل ہو سکیں۔“
لیگل ایکشن کا نقطہ نظر نمبر ۱۱ میں حقوق نسواں کی بحالی کے لیے مندرجہ ذیل ”تجویز اور مطالبہ“ سامنے لاتا ہے:
”یہ بھی سفارش کی جاتی ہے کہ خواتین کی نشستیں فوراً بحال کر دی جائیں۔“
آگے بڑھنے سے قبل بہتر محسوس ہوتا ہے کہ شرکت گاہ اور دیگر معاونین کے مذکورہ مطالبات کا مختصر جائزہ لے لیا جائے۔ موجودہ حدود آرڈیننس ہو یا قصاص و دیت کا قانون یہ لولا لنگڑا
جیسا بھی ہے قرآن حکیم کی صریح نص سے اخذ کردہ ہے۔ یہ مطالبہ تو کیا جاسکتا ہے کہ اسے قرآن و سنت کی حقیقی روح سے مکمل مطابقت دی جائے اگر کسی جگہ جھول ہے تو اسے دُور کر دیا جائے مگر ان کی تنسیخ کا مطالبہ قرآن وسنت کی توہین اور کھلی بغاوت کی علامت ہے۔
خواتین کی نمائندگی کا دیرینہ مطالبہ جنرل پرویز مشرف صاحب کی حکومت نے جنرل نقوی صاحب اور عمر اصغر صاحب جیسے این جی اوز نواز اور این جی اوز کے سرپرستوں کے مشورے پر قبول ہی نہیں کیا بلکہ ان کی توقع سے بڑھ کر انہیں نوازا کہ نواز شریف اور بے نظیر کی جمہوری حکومتیں نوازنے میں ناکام رہی تھی۔ ضلعی حکومتوں میں نمائندگی ہو یا بالائی سطح پر کیا موجودہ مذکورہ این جی اوز کی سرپرستی میں خواتین اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بنیادی نظریہ کی پاسداری کریں گی یا ملک دشمن این جی اوز کے ہاتھوں کھلونا بن کر اسلامی اقدار و شعائر کی بیخ کنی سے پاکستان کے سماجی اور معاشرتی ڈھانچہ کے بخیے ادھیڑ کر یہود و نصاریٰ کے اہداف کی تکمیل کے لیے استعمال ہوں گی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔
لاہور کی این جی او ”عورت فاؤنڈیشن“ کے ترجمان ماہنامہ ”اطلاع“ کے تازہ شمارہ ماہ جولائی اگست ۲۰۰۰ء کے ابتدائیہ سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
”اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے فارمولا کے تحت موجودہ حکومت نے یونین کونسلوں میں عورتوں کو مردوں کے برابر نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انتہائی اہم اور جرأت مندانہ قدم ہے ...... دنیا بھر میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جہاں عورتوں کو سیاسی عمل میں نمائندگی کا مساوی حق ہے ...... حکومت کے اس اقدام سے پاکستان کا شمار دنیا کے روشن خیال اور ترقی پسند ملکوں میں ہوگا۔ اس طرح جہاں پاکستان کے بارے میں پسماندہ اور قدامت پسند ملک ہونے کا جو ایک تاثر ہے اس کو حکومتی فیصلے سے دُور ہونے میں مدد ملے گی ...... سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں پر یہ بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ادارہ برائے قومی تعمیر نو این آر بی کو خطوط لکھیں‘ تاریں‘ فیکس اور ای میل بھیجیں جس سے حکومت کے اس خوش آئند اقدام کو سراہا جائے اور اہم فیصلے پر قائم رہنے کے لیے زور دیا جائے۔“ (ماہنامہ اطلاع‘ جولائی ۲۰۰۰ء صفحہ اوّل)
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہی کارنامہ ہے جو یونین کونسل کی سطح پر اَن پڑھ یا کم پڑھی لکھی عورتوں کو مردوں کے سامنے بٹھا کر انہیں بحث و مباحثے کے رنگ میں اخلاقی اقدار سے دُور لے جائے گا۔
ہم یہاں این جی اوز کے اسلام دشمن رویوں کے حوالے سے بات چیت آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسی ”شرکت گاہ“ کے خبرنامے سے ایک مثال لیجیے جو سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۲ جس میں اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین کے ضمن میں تحریر لکھنے کی ہدایت فرماتے ہوئے نصیحت کی ہے کہ مالی لین دین
کی تحریر میں دو گواہ ہونے لازم ہیں اور اگر بفرض محال دو مرد گواہ میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ اگر خدانخواستہ دوران گواہی ایک عورت کچھ بھول جائے تو دوسری عورت اسے یاد دلا دے۔ اس حکم میں عورت کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں ہے مگر ”شرکت گاہ“ نے اپنے ”خبر نامہ“ جلد اوّل شمارہ اوّل ۱۹۹۰ء کے صفحہ ۲۰ پر کسی ریحانہ توفیق کی طنزیہ نظم شائع کی ہے۔
محبوب خدا خود جس سے کہے جنت ہے تیرے قدموں تلے
اے عقل کے اندھو! سوچو ذرا کیا اس کی گواہی آدھی ہے
جس روز پکارے جاؤ گے تم نام سے اپنی ماؤں کے
اس روز انہیں بھی کہہ دینا جا تیری گواہی آدھی ہے
ہم نے نمونتاً لمبی نظم سے چند اشعار دیئے ہیں۔ قرآن پاک کی مذکورہ آیت سے مطابقت رکھتا ہوا ایک فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کتب حدیث میں وارد ہے مگر یہاں تو اسلامی شعائر کا تمسخر مقصود ہے جو اسلامی ناموں سے مشابہت کی آڑ میں عیسائی مرد و زن نبھا رہے ہیں۔ ان این جی اوز میں سب سے زیادہ عمل دخل عیسائی برادری کا ہے مگر چونکہ طے شدہ پالیسی کے مطابق ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں اس لیے تشخیص نہیں ہو پاتی۔ حکومت اگر سروے کروالے تو حقائق ہمارے نقطۂ نظر کی تائید کریں گے۔ ”شرکت گاہ“ کا علامتی نشان ہی عالمی صلیب (♀) ہے مگر اسے انہوں نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر عورت قرار دے رکھا ہے جس پر کوئی عقل کا اندھا ہی یقین کرے گا۔
اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ”خبر نامے“ نے انتہائی بے ہودہ کارٹون بنائے ہیں۔ مثلاً عورت کی آدھی گواہی والی قرآنی آیت کی تضحیک کرتے ہوئے ایک کارٹون بنایا ہے جس میں ایک ترازو کے جھکے پلڑے میں ”لوٹا“ رکھا ہے تو اوپر اُٹھے ہلکے پلڑے میں اَپ ٹو ڈیٹ عورت بٹھائی ہے دوسرے کارٹون میں قاضی حسین احمد کے ہاتھ میں ترازو ہے جس میں ایک طرف مولوی بیٹھا ہے تو دوسرے پلڑے میں دو عورتیں بیٹھی ہیں۔ یہ ہے اسلام دشمن این جی اوز کا عملی کردار۔
لاہور کی این جی او AGHS Legal Aid Cell کے ترجمان ”صدائے آدم“ کی ایڈیٹر حنا جیلانی صاحبہ کے شمارہ فروری ۲۰۰۰ء کے لکھے اداریئے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو انہوں نے سپریم کورٹ ایپلیٹ بنچ کے سود حرام قرار دینے پر لکھا ہے:
”کیا مسلمانوں کو اپنی زندگیاں سپریم کورٹ بنچ کے تین ارکان کے عقیدے کے مطابق گزارنا ہوں گی؟ مذہبی عدالتوں کے قیام میں بنیادی خامی یہی ہے کہ انہیں اجتماعی اور انفرادی زندگی کے ہر پہلو پر رائے دینے کا اختیار ہے مذہب کے غلط استعمال نے پاکستان میں سماجی و سیاسی زندگی تباہ کر دی ہے۔“
کیا یہ الفاظ توہین عدالت نہیں ہیں؟ کیا یہ مذہب پر بلاواسطہ حملہ نہیں ہے؟؟
حقوق انسانی یا آزادی نسواں کے نعروں کے ساتھ کام کرنے والی بے شمار این جی اوز میں خصوصی عمل دخل مسیحوں کا ہے۔ لاہور میں این جی اوز کی طرف سے ہونے والے جس قدر مظاہرے ہوتے ہیں ان میں سے اکثر شرکاء مظاہرہ رائے ونڈ‘ کلارک آباد‘ فاروق آباد (چوہڑکانہ) اور سلیمیکی کے قریب مریم آباد سے بسوں میں بھر کر لائے گئے عیسائی مرد و زن ہوتے ہیں۔ جو ہماری اس تحقیق سے متفق نہیں ہے۔ وہ آئندہ ہونے والے مظاہروں میں شامل ہو کر اپنی تسلی کرلے اور مظاہروں‘ تربیت گاہوں کے نام پر این جی اوز کے حسابات بھی قابل آڈٹ ہیں مگر کرے گا کون؟
سرکاری آشیرباد کے ساتھ چلنے والی دوسری بے شمار این جی اوز کے ساتھ ایک قابل ذکر این جی او پرنس کریم آغا خان کی ہے جو شمالی علاقہ جات کو اسرائیلی پودے کی طرح‘ اسماعیلی سٹیٹ میں بدلنے کے لیے بے پناہ وسائل کے ساتھ لوگوں کے قلوب و اذہان کے سودے کرنے میں صبح‘ دوپہر‘ شام مصروف ہے کہ شمالی علاقہ جات میں واخان کی پٹی کے ساتھ یہ اسماعیلی خطہ امریکہ کے لیے جو پرنس کریم آغا خان کا گھر ہے‘ ایک ایسا مستحکم اڈہ ہو گا جہاں سے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ پوری مسلم ریاستوں پر کنٹرول کا امریکی خواب شرمندہ تعبیر ہوگا تو دوسری طرف پاکستان کے دوست چین کے خلاف یہ مستقل Threat ہوگا اور یوں بھارت سے امریکی دوستی کا رشتہ پکا کرنے میں نام نہاد مسلمان کا نام میر جعفر و میر صادق کی طرح تاریخ کے صفحات پر رقم ہوگا۔
عیسائی این جی اوز پاکستان کے حساس علاقوں کے قرب و جوار میں زیادہ مصروف عمل دیکھی جاتی ہیں اور پاکستان میں ان کے بچھائے جال‘ بائبل کورسز کے نام پر انتہائی زہریلا لٹریچر نوجوان لڑکے لڑکیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اس حقیقت کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ عیسائی اقلیت کے حقوق اپنی جگہ اور الحمدللہ کہ پاکستان میں بطریق احسن ادا ہو بھی رہے ہیں۔ جسے شکوہ ہے‘ وہ کھل کر بتائے کہ کون سا حق یہاں سلب ہے؟
عیسائی اقلیت سے مسلم اکثریت کو بجا طور پر یہ گلہ ہے کہ اکثریت کے بچے دین کو اس کے منہ پر جھوٹا دین کہا جا رہا ہے کہ ڈلاس امریکہ سے چھپنے والا ایک ورق تقسیم ہو رہا ہے جس کا عنوان ہے "Islam the False Gospel" یعنی "اسلام ایک جھوٹا دین ہے" اور بے حمیت مسلم ریاست اس کا نوٹس لینے کے بجائے غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے اس کے تحفظ پر کمر بستہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اندلس کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔
❀ ❀ ❀
ابوعفان
عاصمہ جہانگیر اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی
توہین رسالت کے مقدمات کی پیروی کے حوالے سے شہرت حاصل کرنے والی متنازعہ قانون دان عاصمہ جہانگیر اور ان کے قائم کردہ ادارے ”دستک“ کا کردار خواتین کے تقدس اور گھریلو پاکیزہ زندگی کے خلاف ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور ”دستک“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو ایک مرتبہ وہاں چلا جائے تو مرد سے اس کی غیرت اور عورت سے اس کی حیا کا زیور چھن جاتا ہے۔ عاصمہ نے اب تک جتنے بھی مقدمات لڑے‘ ان میں مرد کی ذات اور اس کی غیرت کو للکارا‘ پشاور کی سمیعہ سرور سے لے کر لاہور کی صائمہ روپڑی تک......
عاصمہ جہانگیر کے ادارے ”دستک“ نے ہر اس راہ بھٹک جانے والی لڑکی کو والدین اور دین سے بغاوت پر آمادہ کیا اور اسے گمراہی میں دُور لے جانے کی کوشش کی جو ان کے ہاتھ میں آ گئی۔
”دستک“ میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ ظلم بھی ہے‘ جرم بھی اور گناہ بھی...... لیکن کوئی بھی اس ظلم‘ جرم اور گناہ کو ختم کرانے پر تیار نہیں۔ ”دستک“ کا بنیادی مقصد گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو پناہ فراہم کرنا ہے۔ ”دستک“ کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں ایس ایم ظفر‘ حنا جیلانی اور آئی اے رحمان جیسی شخصیات شامل ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ نیک نامی حاصل نہیں کر سکا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن اہم وجہ عاصمہ جہانگیر کا وہ رویہ اور ذہنیت ہے جو ”دستک“ کے قیام کا باعث بنا۔
”دستک“ کے قیام کا باعث عاصمہ جہانگیر کا وہ انٹرویو تھا جو اس نے ”دی ٹائمز“ لندن کو دیا۔ اس انٹرویو میں عاصمہ جہانگیر نے ”ارشاد“ فرمایا کہ جب میں دیکھتی ہوں کہ ایک جج گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو اس کے والدین کے ساتھ بھیج دیتا ہے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔ اسی قسم کے خیالات کا اظہار آسٹریلین ٹی وی اور بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی کیا۔ ”دستک“ کا قیام عاصمہ جہانگیر کی اس سوچ کے ساتھ ساتھ مالی فوائد کے لیے بھی ضروری تھا۔
”دستک“ کے معاملات سے آگاہی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ”دستک“ کو سالانہ تقریباً ۲۰ کروڑ ڈالر کی امداد ملتی ہے اور یہاں کا ماحول انتہائی لبرل ہے۔ ”دستک“ میں پناہ حاصل کرنے کے
لیے آنے والی لڑکیوں کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن ان لڑکیوں کو ”راہ راست“ پر لا کر کئی طرح کے فوائد سمیٹے جاتے ہیں جو لڑکیاں ”دستک“ میں پناہ لیتی ہیں، انہیں سب سے پہلے تو ایک مخصوص مغربی ماحول مہیا کیا جاتا ہے اور بعدازاں ان لڑکیوں کو مخصوص لڑکوں کے ساتھ میل جول کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔
ایک طرف تو ایچ آر سی پی کے لیے افرادی قوت تیار ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف ان لڑکیوں کو بعض بڑے افسروں، سیاست دانوں اور بااثر شخصیات کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو ان لڑکیوں کی ”عزتوں“ سے کھیلتے ہیں۔ یوں ”دستک“ ظاہری طور پر لڑکیوں کی پناہ اور ان کی عزت کے رکھوالے کا کردار ادا کر رہا ہے جب کہ پس پردہ اس کا کردار عزت کے لٹیروں کا ہے۔
اس بات کی سب سے پہلی شہادت شیخوپورہ کی گھر سے فرار ہو کر ”دستک“ پہنچ جانے والی لڑکی کنیز نے دی جو کسی طرح بچ بچا کر ”دستک“ تو پہنچ گئی لیکن وہاں اس کے لیے عزت بچانا مشکل ہو گیا۔ جب عزت بچانے کے لیے وہ ”دستک“ سے بھاگی تو پہلی بار پریس میں بھی یہ معاملہ آیا۔ کنیز نے بتایا کہ لڑکیوں کو مجبور کر کے نامور شخصیات کے پاس بھیجا جاتا ہے اور جو لڑکی انکار کر دے اسے شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کنیز نے ایک وکیل چوہدری نعیم ایڈووکیٹ سے رابطہ کر کے جان بچائی اور واپس اپنے گھر چلی گئی۔ بعدازاں اخبارات میں خبریں آنے پر شباب ملی نے ”دستک“ کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا تو عاصمہ جہانگیر نے بااثر شخصیات سے رابطہ کر کے مظاہروں کا سلسلہ رکوانے کی کوشش کی۔ ان ”بااثر“ شخصیات نے عاصمہ کو زبان بندی کا مشورہ دیا۔ ادھر شباب ملی نے بھی مظاہرے بند کر دیئے۔ ”دستک“ میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا داخلہ قطعا ممنوع ہے اور ”دستک“ کے حوالے سے انہیں کسی بھی قسم کی معلومات درکار ہوں تو وہ انہیں نہیں مل سکتیں۔
”دستک“ میں جو لڑکی پچھتاوے کے احساس سے مجبور ہو کر گھر واپس جانا چاہے تو اس کی واپسی ممکن نہیں۔ ادارے میں لڑکیوں کو اسلامی اقدار کا مذاق اڑانے کی تربیت دینے کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ لڑکیوں کو ٹی وی پر ”بے واچ“ نامی ایک فلم کثرت سے دکھائی جاتی ہے، ساحل سمندر پر بنی اس فلم میں تمام مردوں اور عورتوں نے نہ ہونے کے قریب کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔
”دستک“ کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت توہین رسالت کے قانون میں ترامیم کے مقدمات کی پیروی ہے جبکہ ان کی شہرت ان تین سو کے قریب مقدمات کے باعث بھی ہے جو وہ خواتین کے حقوق اور محبت کی شادیوں کے نام پر لڑ چکی ہے۔ خاص طور پر صائمہ ارشد اور سمیعہ عمران کیس نے تو ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے اور وہ تھوڑے ہی عرصے میں محبت کرنے والے کے درمیان حائل سماجی دیواروں کو گرانے کی چیمپیئن تصور ہونے لگی۔
عاصمہ جہانگیر کے بیشتر مقدمات ایسے ہیں جو اس نے انسانی حقوق کے نام پر لڑے اور اس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح کیے۔ اندرونی معلومات سے آگاہی رکھنے والے یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بعض غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خاتمے کے لیے دو کروڑ ڈالر سالانہ کی رقم مختص کر رکھی ہے۔ واقفان حال کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے اتنی رقم مقدمات کی پیروی سے نہیں کمائی جتنی رقم انہوں نے نظریاتی سرحدوں اور خاندانی و اسلامی اقدار کو تباہ کرنے کی سازشوں میں حصہ لے کر کمائی۔
عاصمہ جہانگیر کے لیے دولت کمانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ ان کے والد نے وراثت میں اچھی خاصی جائیداد چھوڑی۔ عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی‘ ایوب خان کے دور میں وفاقی وزیر تھے۔ وزارت سے قبل وہ سیٹلمنٹ کمشنر تھے اور انہوں نے ساہیوال میں انگریزوں کی گھوڑے پال سکیم میں سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کرائی تھی۔ ملک غلام جیلانی‘ شیخ مجیب الرحمان کے بھی اہم ساتھی شمار کیے جاتے تھے اور وہ شیخ مجیب کے ساتھ مل کر متحدہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں بھی شریک رہے۔
ملک غلام جیلانی کے سندھ کی معروف شخصیت یوسف ہارون کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم تھے اور دونوں امریکی ایئر لائن پین ایم میں حصہ دار تھے۔ اب یہ حصہ داری عاصمہ جہانگیر نے سنبھالی ہوئی ہے۔
عاصمہ جہانگیر نے خواتین کے حقوق کے علاوہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی سیل بھی بنایا ہوا ہے جس پر سالانہ ایک کروڑ سے زائد خرچ آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے قالین بافی کی صنعت کو چائلڈ لیبر کے نام پر بدنام کیا اور پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں ساکھ خراب کی۔ اس مقصد کے لیے بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں نے انہیں اچھا خاصا معاوضہ دیا۔ عاصمہ جہانگیر کو سیالکوٹ کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے معصوم بچے تو نظر آتے ہیں اور وہ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے چائلڈ لیبر کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں لیکن انہیں اپنے سابقہ شوہر کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے معصوم بچے نظر نہیں آتے۔
عاصمہ جہانگیر پر ایک اور الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل جو رپورٹیں تیار کرتا ہے اس کا اصل سرچشمہ ایچ آر سی پی اور خصوصاً عاصمہ جہانگیر ہی ہوتی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر جو اعداد و شمار بھجواتی ہے وہ ایمنسٹی کی رپورٹ میں شامل کر لیے جاتے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار غلط ہوتے ہیں اور انہی اعداد و شمار کے ذریعے پاکستان کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے۔
اپنی ایسی ہی رپورٹوں کی بدولت عاصمہ جہانگیر عموماً تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۹۷ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منیر اے شیخ نے اللہ رکھی کیس میں اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ
”عاصمہ جہانگیر حقوق انسانی اور حقوق نسواں کی باتیں کر کے لڑکیوں کو ہوش میں نہیں رہنے دیتیں۔“ ان ریمارکس کے بعد عاصمہ جہانگیر نے اپنی ٩٨-١٩٩٧ء کی سالانہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ بعض جج عورتوں کے بارے میں روایتی تعصب کا شکار ہیں اور ان کا رویہ عورتوں کے بارے میں مثبت نہیں ہے۔
عاصمہ جہانگیر پر تنقید کرنے والوں کے مطابق انہیں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی مخالف عالمی قوتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ وہ بھارت سے دوستی اور امن کی مالا تو ہر وقت جپتی ہیں لیکن وہاں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے‘ وہ انہیں نظر نہیں آتی۔ کشمیر سے آسام تک سینکڑوں مقام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے لیکن آج تک عاصمہ جہانگیر نے ان کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔
ہیومن رائٹس کے نام پر انٹرنیشنل فنڈنگ ایجنسیوں سے دھوکہ
ذرائع کے مطابق عاصمہ جہانگیر انٹرنیشنل فنڈنگ ایجنسیوں سے جو پیسہ لیتی ہیں‘ وہ ذاتی اکاؤنٹس میں چلا جاتا ہے اور صرف دکھاوے کے طور پر کسی سکینڈل کو اخبارات میں اچھال کر جعلی کارکردگی رپورٹ تیار کر لی جاتی ہے اور ایک آدھ نام نہاد کیس حکومت کے خلاف عدالت میں لے جا کر اس کا خوب چرچا کیا جاتا ہے تا کہ فنڈنگ ایجنسیوں کو مطمئن کیا جاسکے‘ جبکہ انسانی حقوق کے لیے جس سچائی‘ دیانت داری اور انسان دوستی کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آتی لیکن عاصمہ جہانگیر کو اس بات کی داد ضرور دینا پڑے گی کہ اخباری شعبے میں تعلقات قائم کرنے اور کیش کروانے بھی اسے آتے ہیں اور کسی معمولی سی بات کو ایشو بنا کر میڈیا ٹرائل پر لے آنا بھی اسے آتا ہے۔ اور یہی درحقیقت انسانی حقوق کی ”جہانگیری“ ہے حتیٰ کہ جماعت احمدیہ کے بعض سینئر ارکان کا کہنا ہے کہ صوم وصلوٰۃ کی پابند نہ ہونے اور بیعت نہ ہونے کے باوجود عاصمہ جہانگیر جتنا ممکن ہو‘ جماعت احمدیہ کو بھی کیش کرواتی ہے۔ جماعت احمدیہ کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عاصمہ جہانگیر کے شوہر کا تعلق لاہوری گروپ سے ہے اور اس کا خاندان کٹر احمدی ہے۔
پریمیئر گارمنٹس فیکٹری میں انسانی حقوق کی پامالی
١٠ اپریل ٩۴ء کو عاصمہ جہانگیر کے قادیانی شوہر طاہر جہانگیر کی فیکٹری سے چالیس مزدوروں کو بلا جواز نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا جس پر دوسرے مزدوروں نے احتجاج کرتے ہوئے کام بند کر دیا اور بھوک ہڑتال کر دی۔ بارہ روز کی بھوک ہڑتال سے کئی مزدوروں کی حالت نازک ہوگئی لیکن انسانی حقوق کی ”چیمپئن“ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ صورت حال کافی بگڑی تو محترمہ نے ضلعی انتظامیہ سے کہہ کر ہڑتالی مزدوروں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ کئی مزدور پولیس تشدد کے باعث اپاہج ہو گئے۔ عاصمہ بتائیں کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں تھی؟
عاصمہ جہانگیر کے شوہر کی فیکٹری میں چائلڈ لیبر
قصور لاہور روڈ پر واقع عاصمہ جہانگیر کے شوہر طاہر جہانگیر کی گارمنٹس فیکٹری ”پریمیئر
گارمنٹس“ اور ”ٹی جے کارپو اخبارات میں شائع ہونے وال فہرست درج ذیل ہے،
نام عارف ولد محمد دی اختر ولد محمد حسین محمد نذیر ولد اللہ د غلام مصطفیٰ ولد فقی ارشد ولد خوشی مح شیر احمد ولد عالم ارشاد ولد انور
کیا عاصمہ جہانگیر ان سوا
- (١) عاصمہ جہا
اور واپس نہیں کیا‘ کیوں؟
- (٢) عاصمہ ج
ممالک سے فنڈز حاصل کی
- (٣) عاصمہ ج
کے ٹائٹل پر ایک شخص کو سگ ارسال کی گئی‘ عالمی ڈونر تنظیمو کسی وجہ سے بعد میں یہ کتا واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ کیا یہ
- (۴) ساہیوال
کروڑ روپے لیے اور بعد م میں ٹرانسفر ہوئے؟
- (۵) خانیوال
نے علاقے کا دورہ کیا اور دیں تا کہ وہ ان کی تصاویر
- (٦) ”دھک“
آڈٹ نہیں کرایا گیا‘ آخر کی
ی کر کے لڑکیوں کو ہوش میں نہیں رہنے دیتیں۔ ۱۹۹ء کی سالانہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ بعض جج ن کا رویہ عورتوں کے بارے میں مثبت نہیں ہے۔ مطابق انہیں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی ت سے دوستی اور امن کی مالا تو ہر وقت جپتی ہیں ہے، وہ انہیں نظر نہیں آتی۔ کشمیر سے آسام تک تا ہے لیکن آج تک عاصمہ جہانگیر نے ان کے
ل سے دھوکہ فنڈنگ ایجنسیوں سے جو پیسہ لیتی ہیں وہ ذاتی ہر کسی سکینڈل کو اخبارات میں اُچھال کر جعلی یاد کیس حکومت کے خلاف عدالت میں لے جا کو مطمئن کیا جاسکے جبکہ انسانی حقوق کے لیے تی ہے، وہ دُور دُور تک نہیں نظر آتی لیکن عاصمہ شعبے میں تعلقات قائم کرنے اور کیش کروانے میڈیا ٹرائل پر لے آنا بھی اسے آتا ہے۔ اور ماعت احمدیہ کے بعض سینئر ارکان کا کہنا ہے کہ موجود عاصمہ جہانگیر جتنا ممکن ہو جماعت احمدیہ نے یہ بھی بتایا کہ عاصمہ جہانگیر کے شوہر کا تعلق
ہر شوہر طاہر جہانگیر کی فیکٹری سے چالیس دوسرے مزدوروں نے احتجاج کرتے ہوئے ک ہڑتال سے کئی مزدوروں کی حالت نازک ں تک نہ رینگی ۔ صورت حال کافی بگڑی تو م وستم کی انتہا کر دی ۔ کئی مزدور پولیس تشدد ت کی پامالی نہیں تھی ؟
اہر طاہر جہانگیر کی گارمنٹس فیکٹری ”پریمیئر
گارمنٹس“ اور ”ٹی جے کارپوریشن“ میں درجنوں بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ ۹۴ء کے اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جو چند بچے اس وقت فیکٹری میں ملازم تھے ان کی فہرست درج ذیل ہے،
نام عمر تنخواہ مدت ملازمت عارف ولد محمد دین ۱۴ سال ۳۰۰ روپے اڑھائی سال اختر ولد محمد حسین ۱۰ سال ۲۵۰ روپے دو سال محمد نذیر ولد اللہ دتہ ۱۲ سال ۳۰۰ روپے تین سال غلام مصطفیٰ ولد فقیر حسین ۱۳ سال ۳۰۰ روپے دو سال ارشد ولد خوشی محمد ۱۳ سال ۴۰۰ روپے تین سال شیر احمد ولد عالم ۹ سال ۳۰۰ روپے دو سال ارشاد ولد انور ۱۰ سال ۳۰۰ روپے دو سال
کیا عاصمہ جہانگیر ان سوالوں کے جواب دینا پسند کریں گی؟
- (۱) عاصمہ جہانگیر نے قصور میں واقع اپنی گارمنٹس فیکٹری کے لیے سوا دو کروڑ کا قرضہ لیا
اور واپس نہیں کیا، کیوں؟
- (۲) عاصمہ جہانگیر اور ان کے ساتھی سموئیل رابرٹ عذرایا نے امریکہ جاپان اور دیگر
ممالک سے فنڈز حاصل کیے ان میں پندرہ کروڑ روپے کا گھپلا کیا۔ کیا یہ بات درست نہیں؟
- (۳) عاصمہ جہانگیر نے کچھ عرصہ قبل کریمنل لاء نامی ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب
کے ٹائٹل پر ایک شخص کو سنگسار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ کتاب امریکہ سمیت عالمی ڈونر تنظیموں کو ارسال کی گئی، عالمی ڈونر تنظیموں سے یہ کتاب شائع کرنے کا معاوضہ عاصمہ نے کئی کروڑ ڈالر لیا۔ تاہم کسی وجہ سے بعد میں یہ کتاب متنازعہ ہوگئی اور ڈونر تنظیموں نے غلط کتاب چھاپنے پر عاصمہ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ کیا یہ بات درست نہیں؟
- (۴) ساہیوال میں پادری جوزف کا کیس اُچھالنے کے لیے عاصمہ نے امریکہ سے ایک
کروڑ روپے لیے اور بعد میں دیگر ممالک سے بھی لگ بھگ پانچ کروڑ کے قریب ان کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئے؟
- (۵) خانیوال کے قریب بستی شانتی نگر کا واقعہ ہوا تو عاصمہ جہانگیر کی این جی او کے ارکان
نے علاقے کا دورہ کیا اور وہاں کے مکینوں کو اس بات پر اکسایا کہ وہ اپنے کچے گھر اور جھونپڑے گرا دیں تاکہ وہ ان کی تصاویر بنا کر باہر بھجوائیں اور وہاں سے فنڈز لیں؟
- (۶) ”دستک“ کو بیرون ملک سے ۲۰ کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے، کبھی اس ادارے کا
آڈٹ نہیں کرایا گیا، آخر کیوں؟
- (7) کیا عاصمہ جہانگیر کو امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے دس
ممالک سے تیس کروڑ روپے کی امداد نہیں ملتی؟
- (8) کیا عاصمہ نے پاکستان کی دفاعی پالیسیوں اور ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد کیے جانے
والے مظاہروں کے عوض امریکہ سے بھاری رقم وصول نہیں کی؟
- (9) عاصمہ جہانگیر نے اپنے سٹاف کو ہدایت دے رکھی ہے کہ کسی صحافی سے کوئی بات
نہیں کرنی‘ اس کی وجہ کیا ہے؟
مسلمانوں کو اس بات سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ یہودی دانشور جو عالم اسلام کے لیے سیکولرازم‘ اسلامی شریعت و قانون سے بیزاری اور بغاوت کے سب سے بڑے پرچارک ہیں‘ لیکن حیران کن حقیقت یہ ہے کہ خود انھوں نے جو یہودی ریاست (اسرائیل کی حکومت) قائم کی‘ وہ خالص مذہبی بنیاد پر قائم ہوئی‘ یہاں کی تمام مذہبی پارٹیاں توریت ہی کو ملکی دستور قرار دینے پر مصر ہیں۔ اس میں سنیچر کے دن کام کرنا ممنوع ہے۔ اس حکومت میں ہر سنیچر (یوم السبت) کے دن کھانا پکانا فوجیوں کے لیے بھی حرام ہے۔ بن گوریان اور شازار برطانیہ کے سابق وزیر اعظم مسٹر چرچل کے جنازہ میں ڈیڑھ میل پیدل چلے کیونکہ اتفاق سے وہ سنیچر کا دن تھا اور توریت میں سنیچر کے دن سواریوں کا استعمال ممنوع ہے‘ اس وقت بن گوریان کی عمر 78 سال اور شازار کی عمر 76 سال کی تھی۔ شہر الخلیل میں مسجد ابراہیم کی پرانی مسجد میں عبادت کرنے والوں کی نصف تعداد یہودی فوجیوں کی ہوتی ہے‘ سائرن سے روزہ کے افطار کا اعلان کیا جاتا ہے‘ اسرائیلی ایئر لائنز ”العال“ کے طیاروں اور اسرائیلی شپ سروس ”زیم“ کے جہازوں میں خنزیر کا گوشت نہیں دیا جاتا‘ منظور شدہ اسرائیلی مذہبی پارٹیاں قائم ہیں‘ یہاں سول میرج خلاف قانون فعل ہے اور اس میں اتنی شدت ہے کہ بن فورین کے پوتے کو اسرائیل کی شہریت صرف اس وجہ سے نہیں مل سکی کہ اس کی ماں یہودیہ نہیں تھی۔ عبرانی وہاں کی سرکاری زبان ہے جو اب یہودی علم و ادب‘ صحافت و سیاست اور سائنس کی زبان بن چکی ہے۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پہلا اسرائیلی ٹینک جو صحرائے سینا میں داخل ہوا تھا‘ اس پر توریت کی آیت لکھی ہوئی تھی‘ یہاں کے اسکولوں میں مذہبی تعلیم کو صیہونیت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے‘ بعض مذہبی پارٹیاں ان اسکولوں کے اساتذہ کے لیے یہ ضروری قرار دیتی ہیں کہ وہ یہود کی اصل روایات کے پابند ہوں۔ یہ تمام حقائق ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
محمد عطاء اللہ صدیقی
تحریک نسواں کی اصل حقیقت؟
۸ مارچ کو ہر سال عالمی سطح پر خواتین کا دن منایا جاتا ہے۔ تحریک آزادی نسواں کی علمبردار خواتین بے حد جوش وخروش سے جلسے جلوس کا اہتمام کرتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ بھی اس دن کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان میں نسوانی حقوق کی علمبردار مغرب زدہ بیگمات اور این جی اوز کا نیٹ ورک اس دن کو منانے میں اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرتا ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ عام طور پر اس نام نہاد تحریک آزادی نسواں کا صرف وہی رُخ پیش کرتے ہیں جو مغربی میڈیا یا اس تحریک کی پُر جوش مبلغات دکھانا چاہتی ہیں۔ اس تحریک کے اصل اسباب وعوامل پر نہ تو روشنی ڈالی جاتی ہے اور نہ ہی اس تحریک کے منفی اثرات و مضمرات کا ناقدانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ درج ذیل سطور میں اس تحریک کے حوالے سے تصویر کا دوسرا رُخ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
گزشتہ تین صدیوں کے دوران یورپ میں سر اُٹھانے والی بیشتر فکری تحریکوں مثلاً سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاشزم اور پھر تحریک نسواں (Feminism) میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان تحریکوں کی بنیاد نفرت کے جذبات پر رکھی گئی۔ انہوں نے کسی ایک مبینہ ظالم کی نشان دہی کی اور پھر اس کے خاتمے کے لیے بھر پور جدوجہد شروع کر دی۔ اشتراکیوں کے نزدیک نجی جائیداد اور اس کے مالکان اصل ”مجرم“ تھے۔ فشار پسندوں (Anarchists) کے نزدیک ریاست ہی سب سے بڑا ظالمانہ اور جابرانہ ادارہ ہے جو فرد کی خوشیوں کا قاتل ہے، لہٰذا اسے نہیں ہونا چاہیے۔ فاشسٹوں کے خیال میں لبرل پارلیمانی جمہوریت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یورپ کے نسل پرستوں (Racists) کی رائے میں یہودی بطور قوم ان کی معاشی پریشانیوں کا اصل سبب تھے۔ اس لیے انہوں نے یہود کشی کو ان مسائل کا حل بتلایا۔ بقول فریڈ ننڈ لنڈ برگ عورت پسندوں (Feminists) کے نزدیک تقریباً نصف انسانی نسل یعنی مرد ہی ظالم ہے۔ لہٰذا انہوں نے ان کے خلاف محاذ کھول لیا۔
یورپ میں تحریک آزادی نسواں کا باقاعدہ آغاز فرانسیسی انقلاب کے فوراً بعد ہوا۔ فرانسیسی انقلاب کے مفکرین کے نزدیک مساوات مرد و زن کا کوئی تصور نہ تھا۔ ان کی پیش کردہ ”مساوات“ کے نعرے آزاد اور جائداد رکھنے والے مردوں کے سیاسی حقوق تک ہی محدود تھے۔ روسو جیسا حریت و مساوات کا علمبردار عظیم فلاسفر بھی عورتوں کو مساوی حقوق دینے کے خلاف تھا۔ ۱۷۸۹ء میں فرانس کی
انقلابی اسمبلی میں ایک رکن کانڈورسیٹ (Condorcet) نے اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ شہریوں کے حقوق میں عورتوں کو بھی شامل کیا جائے جس کے نتیجے میں اسے باغی قرار دے کر پھانسی دے دی گئی مگر فرانسیسی انقلاب نے حریتِ فکر کا جو الاؤ گرم کیا تھا، اس کی تپش جلد ہی انگلش چینل کے پار بھی محسوس کی جانے لگی۔
۱۷۹۲ء میں ایک انگریز خاتون میری وولسن کرافٹ نے ”ونڈی کیشن (Vindication) آف دی رائٹس آف وومن“ کے نام سے کتاب لکھ کر پہلی دفعہ بھرپور استدلال کے ساتھ عورتوں کے مساوی حقوق کی بات کی۔ میری وولسن کرافٹ کو تحریک آزادیِ نسواں کا بانی اور اس کی کتاب کو اس تحریک کی ”بائبل“ ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ میری کرافٹ کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ عورتیں مردوں کے مشابہ ہیں اسی لیے انہیں یکساں تعلیم، یکساں سیاسی حقوق (ووٹ) کام کرنے کے یکساں مواقع اور ان کے لیے یکساں اخلاقی ضابطے وضع کیے جائیں۔ لنڈ برگ کے خیال میں میری کی کتاب صرف ایک سحر انگیز رومانوی لفظ ”مساوات“ کے گرد ہی گھومتی تھی۔
عورت کے فطری فرائض کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ جنگ عظیم دوم سے قبل یورپ میں بھی اکثریتی رائے یہی تھی مگر مشرق و مغرب میں ہر زمانے میں عورتوں کی ایک محدود تعداد ایسی ضرور رہی ہے جسے چراغِ خانہ کی بجائے شمعِ محفل بننے میں زیادہ دلچسپی رہی ہے۔ گھر سے باہر کی زندگی انہیں بے حد پرکشش دکھائی دیتی ہے۔ ایسی عورتیں مردانہ اوصاف کی حامل ہوتی ہیں اور مردانہ فرائض کی ادائیگی میں انہیں یک گونہ مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ صنعتی انقلاب نے ایسی عورتوں کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے شاندار مواقع فراہم کیے۔ یہی وہ ابنارمل عورتیں تھیں جنہوں نے مساواتِ مرد و زن کے غیر فطری تصور کو بالآخر ایک جذباتی تحریک کی شکل دے دی۔ رفتہ رفتہ اس تحریک کی قیادت ایسی عورتوں کے ہاتھ میں آ گئی کہ جن کا اصل نصب العین جنسی آزادیوں کا حصول ہی رہ گیا۔ نسوانیت اور شرم و حیا ان کے خیال میں محض دقیانوسی خیالات تھے، جن کا مقصد عورت کو مستقلاً مرد کی غلامی میں جکڑ کر رکھنا تھا۔ فرڈیننڈ لنڈ برگ اپنی معروف کتاب ”جدید عورت، نصف گم گشتہ“ میں ایسی عورتوں کے بارے میں یوں رقم طراز ہے:
”حقوق نسواں کی علمبردار عورتیں نسوانیت سے نجات حاصل کرنے کا بھرپور تہیہ کیے ہوئے تھیں۔ ان کے خیال میں یہ نسوانیت ہی تھی جو ان کی سیاسی، معاشی، سماجی اور جنسی محرومیوں کا بنیادی سبب تھی۔“
وہ اس تحریک کی آئیڈیالوجی کے فروغ پانے کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"It was out of the disturbed libidinal organization of women that the ideology of feminism arose."
”یہ عورتوں کے جنسی اختلال کی بناء پر تھا کہ تحریک نسواں کا نظریہ آگے بڑھا۔“
وہ مزید لکھتا ہے:
”عورتوں کے دائرہ کار میں اصلاح کے پس پشت اصل بات یہ تھی کہ یہ عورتیں لاشعوری طور پر اپنی جنسی زندگی کے دائرے میں تبدیلی چاہتی تھیں۔ یہ وہ عورتیں تھیں جو لاشعوری طور پر اپنے مغلوب یا تباہ ہونے کے خدشات کا شکار تھیں انہوں نے اس مسئلے کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔“
انیسویں صدی میں تحریک نسواں کو قابلِ ذکر پذیرائی ۱۸۴۸ء میں ملی جب نیویارک کے نزدیک سینکافال کے مقام پر باغیانہ مزاج رکھنے والی عورتوں نے پہلا حقوق نسواں کنونشن منعقد کیا۔ شرکاء نے عورتوں کی ”غلامی“ کی خوب دہائی دی اور مردوں کو برملا بے نقط سنائیں۔
خاندانی نظام کی تباہی اور شادی کی ضرورت کا خاتمہ تحریک نسواں کے بنیادی اہداف میں شامل رہا ہے۔ میری وولسٹن کرافٹ سے لے کر آج تک اس تحریک کی علمبردار تمام عورتوں نے خاندان کو اپنی جارحانہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے چونکہ خاندان بطور ادارے کے مرد و زن کے آزادانہ اختلاط اور جنسی بے راہ روی کے راستے میں ایک اہم رکاوٹ ہے اس لیے خاندانی ادارے کو اس تحریک کے علمبردار راستے کا پتھر سمجھتے ہیں۔ درج ذیل سطور میں پیش کردہ تحریک نسواں کی پُر جوش مبلغات کے خیالات ملاحظہ فرمائیے:
- (۱) میری وولسٹن کرافٹ کے بعد جس خاتون نے شادی کے ادارے پر بھر پور حملہ کیا وہ
جارج سینڈ (۱۸۷۶ء-۱۸۰۴ء) تھیں۔ یہ خاتون انتہائی درجہ میں اعصابی اختلاج کی شکار تھی ان کی زندگی کا سٹائل مردوں سے مشابہت رکھتا تھا، شادی کے ادارے کے متعلق ان کا ارشاد ہے:
”میرے اس یقین میں کبھی کمی نہیں آئے گی کہ شادی کا ادارہ سب سے زیادہ قابل نفرت ادارہ ہے۔ مجھے ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ جب نوع انسانی عقل کی طرف سفر کرے گی تو شادی کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔“
- (۲) انیسویں صدی کے وسط میں مسز ابی ایچ پرائس کا اس تحریک کے حوالے سے خاصا
چرچا رہا۔ یہی وہ موصوفہ تھیں جو ۱۸۴۸ء کے عورتوں کے کنونشن کی روح رواں تھیں۔ انہوں نے مذکورہ کنونشن میں مطالبہ کیا کہ عورتوں کو ملازمتیں دی جائیں تا کہ وہ شادی کے جھنجھٹ اور معاشی انحصار سے اپنے آپ کو آزاد کر سکیں۔
- (۳) ۱۸۹۳ء میں الیزابتھ کیمبل نے ”عورت کا ارتقاء“ کے عنوان سے کتاب تحریر کی۔
موصوفہ نے اپنی تحقیق کا نچوڑ یوں بیان کیا کہ ”شادی نے عورت کو جنسی غلام بنا دیا ہے۔“
- (۴) جان سٹورٹ مل نے ”عورتوں کی محکومیت“ کے نام سے معرکہ الآرا کتاب لکھی۔ ۔
حقوق نسواں کا جذباتی پرچارک تھا۔ اس کا یہ قول زبان زد عام رہا: ”شادی واحد غلامی کی صورت ہے جو اب تک ہمارے قانون کے تحت جائز ہے‘ نکاح کا بندھن قانونی رنڈی بازی کے مترادف ہے۔“
- (۵) چارلٹ میکمن کا قول ہے: ”عورت اور مرد کے درمیان شادی کے بغیر جنسی تعلقات
کو ہم بدکرداری نہیں سمجھتے۔“
- (۶) ڈبلیو آئی جارج نے ۱۹۱۳ء میں ایک مضمون میں اعلان کیا:
”تحریک نسواں کا اصل مقصد شادی کو ختم کرنا اور آزاد جنسی تعلقات کا قیام ہے۔“
- (۷) ”میں غیر شادی شدہ اکیلی عورت کو قابل عزت سمجھتی ہوں۔ میری یہ پیشین گوئی ہے
کہ وہ وقت دُور نہیں جب شادی کے بغیر زندگی گزارنے والی اکیلی عورت شادی شدہ خواتین سے زیادہ قابل عزت سمجھی جائے گی۔“ (مسز سیسلیا ہرلے)
تحریک نسواں کی فکری دیگ کے یہ تو محض چند چاول ہیں مگر ان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ تحریک بنیادی طور پر جنسی آوارگی اور شادی کے نتیجے میں وجود میں آنے والے خاندانی نظام کی تباہی پر مبنی ہے۔
۱۹۶۰ء کے عشرے میں امریکہ اور یورپ میں رونما ہونے والے ”جنسی انقلاب“ نے تحریک نسواں کے لیے آتش گیر مادے کا کام کیا۔ ۱۹۶۳ء میں جب بے ٹی فرائیڈن کی کتاب ”نسوانی راز“ (Feminine Mystique) سامنے آئی تو اس سے تحریک نسواں کا مزاج ہیجان خیز بغاوت کی صورت اختیار کر گیا۔ اس دور کو ’جدید عورت ازم‘ یا تحریک نسواں کا دوسرا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں تمام اخلاقی قدروں اور شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ اس تحریک سے وابستہ خواتین مصنفین نے ہر موضوع پر بے حد بے باکانہ قلم درازی کی۔ ہر وہ بات جسے عورت کی زبان یا قلم سے نکلنا نسوانی حیا کے تقاضوں کے منافی سمجھا جاتا تھا‘ اب انہوں نے روشن خیالی کے احساس تفاخر سے مملو ہو کر تحریر کی۔ جنس سے وابستہ شاید ہی کوئی رکیک خیال ہو جو ان کی شوخی تحریر کی زد میں آنے سے بچ گیا ہو۔ اس دور کی چند نامور انقلابی خواتین میں کیٹ ملٹ (Kate Millat)‘ جرمین گریر (Germain Creer)‘ این کوئڈٹ (Ann Koedit) ہیں۔ ان کی بعض کتابوں کے بیحد واہیات نام ہیں مثلاً جرمین گریر کی کتاب کا نام ”نسوانی ہیجڑے“ (Female Eunuch) ہے۔
یورپ میں یوں تو ہر دور میں ہم جنس پرست (Lesbian) عورتوں نے تحریک نسواں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے لیکن ۱۹۷۰ء کے لگ بھگ یہ عورتیں عملاً اس تحریک کے ہراول دستے پر قابض ہو گئیں۔ تحریک نسواں کی قیادت پر قابض ہونے کے بعد انہوں نے نئے نعرے تشکیل دیئے۔ مثلاً
"Feminism is the theory, ...... bianism is t"
practice" "Lesbian Feminism by Molly Mcgray"
(p.179)
ترجمہ: ”تحریک نسواں ایک نظریہ ہے اور ہم جنس پرستی اس کی عملی صورت ہے۔“
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مغرب میں عورتوں میں ہم جنس پرستی کا رواج دراصل مردوں سے نفرت کا اظہار اور ان کے مزعومہ تاریخی ظلم و ستم کے خلاف شدید ردّعمل ہے۔ ان عورتوں کے خیال میں مردوں کی رفیقۂ حیات بننا ان کی جنسی غلامی کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔ تحریک آزادیِ نسواں میں شامل عورتوں کا ایک گروہ "Radical Feminists" کہلاتا ہے۔ یہ گروہ نسواں مردوں کی تحقیر اپنا ایمان سمجھتا ہے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں انہی عورتوں نے ایسا لٹریچر پیدا کیا ہے جس میں اعلان کیا کہ اکیسویں صدی میں عورتوں کو مردوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ عورتیں افزائشِ نسل کے لیے حیوانات کی طرح مصنوعی تخم کاری (Artificial Insemination) کی تبلیغ کرتی ہیں۔
عورتوں کو مردوں کی غلامی سے نجات دلانے کے تصور سے برپا کی جانے والی نام نہاد تحریک آزادیِ نسواں ہر اعتبار سے ”آوارگی نسواں“ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ سازش بربادیِ نسواں ہے۔ اس تحریک نے مغرب کو کیا دیا ہے؟ وہاں کا خاندانی نظام تباہی کے آخری کنارے پر ہے۔ یورپی معاشرہ جنسی ہوسناکی کی مکروہ تجربہ گاہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ نسوانی آبرو، شرم و حیا اپنا مفہوم کھو چکے ہیں۔ نکاح کے بغیر مرد و زن کے تعلق کو عیب نہیں سمجھا جاتا۔ حرامی بچوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ تقریباً ۸۰ فیصد شادیاں دو سال کے اندر اندر ہی طلاق پر منتج ہو جاتی ہیں۔ عورتوں اور مردوں میں نفسیاتی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بے نکاحی مائیں ویلفیئر کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہیں کیونکہ مرد حرامی بچوں کی پرورش میں شرکت کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ مغرب کی عورت جس نے ”گھر کی ملکہ“ کے عہدے کو حقیر جانا اور خاندان میں مرد کی سربراہی کو قبول نہیں کیا‘ آج دفتروں میں مرد کی سیکرٹری کا ذلت آمیز فریضہ انجام دینے میں محض اس لیے عیب نہیں سمجھتی کہ وہاں سے تنخواہ کی صورت میں چند ٹکے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ خاندانی ماحول میں پیار و محبت‘ انس و مودت اور ایثار و قربانی کے جذبات سے ایک ذہنی سکون اور نفسیاتی تسکین ملتی تھی۔ خاندانی اقدار کے زوال کی وجہ سے معاشرہ مادہ پرستی اور خود غرضانہ انفرادیت پسندی کی زد میں ہے۔ اس سے یورپی سماج کا اجتماعی ڈھانچہ انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔
ایسی تباہ کن تحریک اور مرد و زن کی غیر فطری مساوات کے خلاف ردّعمل ایک فطری عمل ہے۔ اس تحریک کا شور و غل اور دھوم دھڑکا امریکہ میں نسبتاً زیادہ رہا ہے۔ تعجب یہ ہے کہ اس کے خلاف باقاعدہ منظم ردّعمل بھی پہلی مرتبہ امریکہ میں سامنے آیا۔ ۷۴-۱۹۷۳ء میں امریکی کانگریس میں جب ”مساوی حقوق کی ترمیم (Equal Rights Amendment (ERA) کا بل پیش کیا گیا تو
اس کے خلاف ردعمل نے تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ دنیا پر پہلی مرتبہ منکشف ہوا کہ ”مساوی حقوق“ کی علمبردار متحرک اقلیت کو امریکی عورتوں کی خاموش اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ای آراے کی مخالفت میں اُٹھنے والی تحریک کی قیادت امریکی ریاست نارتھ کیرولینا سے تعلق رکھنے والی خاتون مادام شیلا فلائی (Schalafly) کر رہی تھیں۔ انہوں نے ریاست ہائے متحدہ کے طوفانی دورے کیے اور امریکی عورتوں میں یہ شعور پیدا کیا کہ ای آر اے کے نتائج عورتوں کے حق میں نہیں ہوں گے‘ انہوں نے اپنی تقاریر میں زور دے کر کہا:
"That a woman should be treated like a woman, not a man and certainly not a sex-neutral person."
”ایک عورت کے ساتھ برتاؤ ایک عورت سمجھ کر ہی کیا جانا چاہئے‘ نہ کہ ایک مرد کی حیثیت سے اور صنفی شناخت کے بغیر شخص کے طور پر تو یقیناً نہیں۔“
مادام شیلا فلائی کی تحریک نے جلد ہی زور پکڑ لیا۔ ان کی حامی عورتوں نے ای آر اے کے خلاف جلوس نکالے۔ وہ جو کتبے اُٹھا کر چلتی تھیں‘ ان پر لکھا ہوتا تھا:
ترجمہ: ”ہم مرد نہیں بننا چاہتیں۔“ "We don't want to be men"
(Sex Gender and politics of E.R.A by" Donald Mathew)
تحریک آزادی نسواں کی مترجلات کے لیے امریکی عورتوں کی اس انداز میں مخالفت ایک عظیم صدمے سے کم نہ تھی۔ ان کے تمام تر پراپیگنڈے اور جارحانہ ہلڑ بازی اور امریکی ذرائع ابلاغ کی پشت پناہی کے باوجود ”مساوی حقوق کی ترمیم“ منظور نہ ہوئی اور آج تک امریکی کانگریس سے یہ پاس نہیں کرائی جاسکی۔ تحریک نسواں کی مذکورہ بالا خرافات کے خلاف ردعمل ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی کانگریس نے ”عورتوں کے خلاف ہر طرح کے امتیازات ختم کرنے کے کنونشن“ (سیڈا) کی آج تک توثیق نہیں کی ہے۔ اکانومسٹ نے دسمبر 1999ء کے ایک شمارے میں اسے امریکہ کے دوہرے معیارات سے منسوب کیا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ”خاندانی اقدار“ کی بحالی پر زور سال بہ سال بڑھ رہا ہے۔ سابق برطانوی وزیراعظم جان میجر نے ”بنیاد کی طرف واپسی“ Back to Basics کا بارہا احساس دلایا۔
بیلجیم کے ایک قانون دان جنہیں تحریک نسواں کا علمبردار ”مگر مچھ“ کہہ کر پکارتی ہیں‘ خاندانی نظام کی بحالی کی زبردست تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے دوسرے انتخابات میں تقاریر کے دوران ”خاندانی اقدار“ کی بحالی کو اپنی پالیسی کی ترجیحات قرار دیا۔ گزشتہ سال روزنامہ ”جنگ“ میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ نیو یارک کی عورتیں‘ کچن کے کام میں دوبارہ دلچسپی لے رہی ہیں کیونکہ اس کے بغیر وہ اچھے شوہروں کے حصول میں ناکام رہتی ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں اس نام نہاد تحریک آزادی نسواں کے خلاف دانشور آواز بلند کر رہے ہیں
اور اس کے بھیانک نتائج کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔
راقم الحروف کی نگاہ سے اس تحریک کے نظریات کے خلاف ناقدانہ جائزہ پر مشتمل متعدد کتابیں گزری ہیں۔ ان میں فرڈینڈ لنڈ برگ اور میری فارناہم کی مشترکہ کتاب "Modern Woman- the Lost Sex" یعنی ”جدید عورت، صنف گم گشتہ“ بہت اہم ہے۔ اس کتاب میں نہایت تفصیل کے ساتھ تحریک نسواں کے عوامل، ارتقاء، نظریات اور منفی اثرات کا محققانہ اور عالمانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مصنفین نے تحریک نسواں کی علمبردار عورتوں کو مردانہ صفات کی حامل (Manly-women) اور اعصابی اختلاج میں مبتلا قرار دیتے ہوئے انہیں یورپی معاشرے میں بے چینی اور ناراضی کا بڑا سبب قرار دیا ہے۔ ۱۹۹۲ء میں شائع ہونے والی کتاب "No more Sex War" کے مصنف نیل لائسڈن نے تحریک نسواں کی غیر منطقی، غیر متوازن فکر اور اس کے منفی اثرات کو واضح کیا ہے۔ رونالڈ فلچر کئی کتابوں کے مصنف ہیں، اُن کی ایک کتاب کا عنوان ہے: "The Abolitionists: the Family and Marriage under Attack" ترجمہ: ”استیصالیت پسند، خاندان اور شادی، حملہ کی زد میں“
اس محققانہ تالیف میں رونالڈ فلچر نے مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی کے ذمہ دار مختلف مکاتب فکر بالخصوص تحریک نسواں کی معروف خواتین کے افکار کا ناقدانہ جائزہ لے کر ان کی بھرپور مذمت کی ہے اور خاندانی نظام کی بحالی و تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس نوعیت کی متعدد دیگر کتب، مضامین و رسائل ہیں، طوالت کی بناء پر ان کا تذکرہ ممکن نہیں ہے۔
مغرب کی تحریک آزادی نسواں کی علمبردار خواتین کے احوال و ظروف اور ان کے افکار و نظریات کا معروضی اور مفصل مطالعہ کرنے کے بعد راقم الحروف کی رائے میں یہ تحریک سرے سے عام عورتوں کی تحریک ہی نہیں ہے۔ اس تحریک کی علمبردار خواتین کو اس اعتبار سے ”عورت“ کہنا بھی محلِ نظر ہے، جس اعتبار سے اس لفظ کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم ہمارے ذہنوں میں ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے ایسی عورتوں کو ”نازن“ قرار دیا۔ ان کا ایک معروف شعر ہے:
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ ہنر موت
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایسی عورتوں کے لیے ”مُستَرجِلات“ کی ترکیب استعمال کی۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی معروف کتاب ”پاکستانی عورت، دوراہے پر“ میں مردانہ صفات کی حامل ان عورتوں کو ”مترجلات“ کا نام دیا۔ یعنی وہ عورتیں جو عورت کی بجائے رجل (مرد) بننے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہوں۔ اس تحریک کو تحریک نسواں کی بجائے ”تحریکِ نازن“ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
مسلمان عورتوں کے لیے ”تحریکِ نازن“ کا اتباع نہ صرف ان کے لیے اخلاقی گمراہی کے گہرے غار میں گرنے کا باعث بنے گا بلکہ ایک اسلامی معاشرے کو اخلاقی زوال اور سماجی انتشار
سے بالکل اسی طرح دو چار کر دے گا جیسا کہ ہم یورپ کے معاملے میں دیکھ رہے ہیں مگر پاکستان میں مغرب زدہ بیگمات کی ایک متحرک اقلیت عورتوں کے حقوق کے فریب انگیز دعوے کے پردے میں یورپ کی ”تحریک فیمنزم“ کو برپا کرنے کی کاوش میں مصروف ہے۔ وہ جن حقوق کی بات کر رہی ہیں اگر ان کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کا منطقی نتیجہ جنسی بے راہ روی اور مرد و زن کے آزادانہ اختلاط کے سوا کچھ اور نہیں نکلے گا۔
اسلام عورت اور مرد کو مساوی قرار دینے کے باوجود ان کی صنفی و فطری صلاحیتوں کے لحاظ سے ان کا الگ الگ دائرہ کار تجویز کرتا ہے۔ اسلام مرد و زن کی مساوات کو بلا شبہ تسلیم کرتا ہے لیکن وہ مساوات اس مساوات سے یکسر مختلف ہے جس کی پُر جوش تشہیر آج کے مغرب کا ”روشن خیال“ مفکر یا ”تحریک فیمنزم“ کے علمبردار کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تحریک نسواں کی علمبردار این جی اوز پاکستانی خواتین کے حقیقی مسائل کی نشاندہی کی بجائے مغرب کی تحریک آوارگی نسواں کی بھونڈی نقالی اور ان کے نظریات کی لغو جگالی میں مصروف ہیں۔ کوئی معقول پاکستانی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ "Marital Rape" (زوجہ سے زنا بالجبر) بھی پاکستانی خواتین کا کوئی مسئلہ ہے مگر ہماری این جی اوز کی بیگمات اس موضوع پر متعدد سیمینار منعقد کرا کے عورتوں کے خلاف اس مزعومہ ”ظلم“ کے خاتمہ کا بارہا مطالبہ کر چکی ہیں۔ اگست ۱۹۹۷ء میں خواتین حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس ”جرم“ کے مرتکب شوہروں کے لیے عمر قید کی سزا تجویز فرمائی۔ یادش بخیر اس کمیشن میں عاصمہ جہانگیر، شہلا ضیا اور دیگر عورتوں کے حقوق کی علمبردار بیگمات شامل تھیں۔
ابھی حال ہی میں مغرب زدہ بیگمات نے خاتون خانہ کی محنت کے معاوضہ کو ان کے ”نسوانی حق“ کے طور پر ذرائع ابلاغ میں خاص تشہیر دی ہے۔ ان ”روشن خیال“ بیگمات نے یہ سوچنے کی زحمت کم ہی گوارا کی ہے کہ وہ ایک ”گھر کی ملکہ“ کو ایک گھریلو خادمہ کے حقیر مقام تک لانے کی بات کر رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے حقوق نسواں کی علمبردار پاکستانی این جی اوز گھر سے فرار ہونے والی لڑکیوں کے عشق بازانہ نکاح کے ”حق“ کا خوب پرچار کر رہی ہیں۔ صائمہ ارشد کیس نے تو مغرب زدہ بیگمات اور اسلام پسندوں کے درمیان ایک باقاعدہ ”قانونی جنگ“ کی صورت اختیار کر لی تھی۔ اس فیصلے سے ہمارے خاندانی نظام پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کا اعتراف جسٹس خلیل رمدے صاحب بھی کر چکے ہیں۔ ۱۹۹۹ء کے دوران عالمی سطح پر ”غیرت کے نام پر قتل“ کے خلاف تحریک چلائی گئی۔ غیرت کے نام پر قتل کا لائسنس اسلام بھی نہیں دیتا مگر جس طرح این جی اوز نے اس کے خلاف جارحانہ پراپیگنڈہ کیا، اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا اصل مقصود پاکستانی معاشرے سے غیرت کا جنازہ نکالنا ہے نہ کہ غیرت کے قتل کے خلاف احتجاج کرنا۔ انسانی حقوق کے علمبردار کسی بھی جرم کے لیے ”موت کی سزا“ کی تو مخالفت کرتے ہیں مگر غیرت کے قتل کے مجرم کے
لیے پاکستانی مغرب زدہ بیگمات نے عبرتناک سزائے موت کا تواتر سے مطالبہ کیا۔ پاکستان میں خواتین حقوق کی علمبردار اسمبلیوں اور ملازمتوں میں خواتین کی نصف نمائندگی کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستانی معاشرہ تو ایک طرف‘ یورپی معاشرہ اپنی روشن خیالی کے باوجود اس تناسب کو ابھی تک حاصل نہیں کرسکا۔
پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ یہاں مرد و زن کے حقوق کا تعین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ اسلام نے مرد و زن کے حقوق و فرائض کے بارے میں بے حد متوازن نظام عطا کیا ہے‘ مغرب کے سیکولر‘ لا دین‘ مذہب بیزار‘ فحش انگیز‘ غیر متوازن اور ہیجان انگیز نظام کا اتباع بحیثیت قوم ہماری تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ مغرب جن خاندانی اقدار کی بحالی کی ضرورت محسوس کر رہا ہے‘ ہم ان اقدار کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں‘ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے!
”امریکہ آزادی رائے، آزادی تقریر و تحریر اور جمہوری حقوق کے حوالے سے تمام دنیا کا ٹھیکیدار اور چیمپئن بنا پھرتا ہے۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد خود امریکہ میں مسلمانوں پر زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ انہیں آئے روز جس ذہنی اذیت اور کوفت سے گزرنا پڑتا ہے، وہ ناقابل بیان ہے، امریکہ میں مقیم مسلمانوں خاص طور پر پاکستانیوں کے خلاف ایف بی آئی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر رکھی ہیں۔ مسلمان خوف و ہراس کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ انہیں ہر روز قتل، اغواء اور ڈکیتی کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ وہاں مار پیٹ‘ غنڈہ گردی‘ خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد‘ غیر ضروری تلاشی‘ مساجد اور اسلامی مراکز پر پتھراؤ روزمرہ کا معمول ہیں۔ امریکہ میں اب تک پاکستان کے خلاف منافرت کے 4 سو سے زائد واقعات ہوچکے ہیں۔ امریکی ”مسلمان کش ہسٹیریا“ میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مسلمان خواتین کو دفاتر اور سکولوں میں سر ڈھانپنے سے منع کیا گیا۔ مسلمان طلبہ کو روزہ رکھنے اور خنزیر کا گوشت نہ کھانے پر ڈانٹا جاتا ہے۔ امریکی اساتذہ مسلمان بچوں کو ”شتر بان“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ 30 اگست 2002ء کو کیلیفورنیا میں 3 امریکیوں نے 15 سالہ مسلمان لڑکی کی عزت لوٹی۔ پالو الٹو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مجرم لڑکی کی عزت لوٹتے وقت اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ المیہ یہ کہ ہمارے ہاں حرام کے چندوں سے چلنے والی این جی اوز نے ”خاموشی نیم رضا“ کا معاملہ اختیار کرتے ہوئے بالواسطہ اس کی تائید کی۔“
عبدالعزیز کامل
انسانی حقوق حق اور باطل کے درمیان!
کون سے حقوق اور کون سے انسان؟
حلق پھاڑ کر نعرے لگانا کتنا آسان ہے لیکن ان نعروں کے پس پردہ حقائق اور کارفرما خفیہ عزائم کا سراغ لگانا اور ان کا ادراک کرنا بڑا مشکل ہے۔ حقوق انسانی کا نعرہ بھی اسی طرح کا ایک دلکش خوبصورت اور پُر فریب نعرہ ہے جس کی چمک بڑی مسحور کن ہے اور جو بظاہر ہر انسان کے عزت و احترام پر ابھارتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نعرہ کا علمبردار کسے ہونا چاہیے؟ کسے حق ہے کہ وہ اس نعرے کو بلند کرے؟ اس کے لوازمات اور اجزائے ترکیبی کون متعین کرے؟ اور کون ہے جو اس کے اصول اور قواعد و ضوابط وضع کرے؟
یہ تمام سوالات یکے بعد دیگرے اس وقت جنم لیتے ہیں جب مغربی حکومتوں اور مغرب زدہ این جی اوز کے وظیفہ خوار حقوق انسانی کے نام نہاد علمبردار بعض اسلامی ممالک کے خلاف بھر پور مہم چلاتے ہیں اور ان کے نظام اور قوانین کو ہدف تنقید ٹھہراتے ہیں۔ کسی کے مال پر ہاتھ صاف کرنے والے کا ہاتھ کاٹنا ان کی نظر میں ظلم ہے دانستہ ناحق خون بہانے والے کو قتل کی سزا دینا ان کی کوتاہ عقل میں وحشت و بربریت ہے شراب پر پابندی عائد کرنا بے حیائی کے کلچر کے فروغ کو روکنا اور مرتد کو سزا دینا ان کے خیال میں تہذیب و تمدن کے منافی ہے اور فسق و فجور اور دین کے انحراف کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا یہ سب ان کے نزدیک افراد کی شخصی آزادی کے خلاف کھلا ظلم ہے۔
اگر دینی شعار کے خلاف زبان طعن دراز کرنے والے متجددین کا نوٹس لیا جائے تو یہ ان کے نزدیک آزادی اظہار اور آزادی فکر میں کھلی مداخلت ہے۔ البتہ اگر مذہبی اقلیات پر مصالح اقوام اور جمہور کی غالب اکثریت کے اجتماعی نظم کی خلاف ورزی کا الزام ہے تو مناسب طریق کار یہ ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی فورم میں اُٹھایا جائے اور الزام درست ثابت ہونے کی صورت میں اس پر قرارداد مذمت پاس کی جائے پھر نوٹس جاری کیا جائے اور اس کے بعد قرار واقعی سزا دی جائے۔
کاش! انسانی حقوق کے منادوں کی تمام تر توانائیاں مظلوم طبقہ کے حقوق کی بازیابی کے لیے انصاف کے مطالبہ پر محدود اور ان کے مصائب و شدائد کے ازالہ پر مرکوز ہوتیں اور عوام اور حکام کے درمیان انصاف اور مصالحت کی قدروں کو فروغ دینے پر صرف ہوتیں تو یقیناً ہم اس مہم میں ان
کے دست و بازو بنتے اور ان کی مساعی جمیلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی پشت پناہی کرتے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہم برملا کہتے ہیں اور لوگ بھی اب اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہیں کہ جو لوگ آج حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں وہ کل کی طرح آج بھی انسانیت کے سب سے بڑے ستم گار ہیں۔ جب سے قیادت اسلام کے ہاتھ سے نکل کر کفر کے ہاتھ آئی ہے اس وقت سے مجبور و مقہور انسانیت اس کے ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔ نامعلوم کب تک یہ سسکتی انسانیت ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوار رہے گی !!
اپنی نظروں کو عالم انسانی کے نقشہ پر گھما کر دیکھئے تو یقیناً آپ کو دو جہاں نظر آئیں گے۔ ایک تو وہ جہاں ہے جو بلندی ترقی اور خوشحالی کی معراج پر جاگزین ہے اور دوسرا وہ جو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نان جویں کے لقمہ لقمہ کو ترس رہا ہے اور شرف و عزت آزادی اور خود مختاری کے ادنیٰ مظاہر سے بھی محروم ہے۔ ایک وہ عالم کہ ہر چیز اس کے زیر تسلط ہے ہر چیز پر اس کا کنٹرول ہے اور ایک وہ محکوم ہے کہ جو اپنی ہی زمین کے سینے سے نکلنے والے مالی وسائل اور معدنی ذخائر پر حق نہیں رکھتا جو اپنے ہی علاقوں کا دفاع کرنے سے بے بس ہے۔ وہ کسی کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے نہیں روک سکتا۔ اس کا مستقبل تاریک اور اس کا حال غیر محفوظ ہے اور وہ عالم جو اس کے مقابلے میں پوری کرہ ارضی کا عشر عشیر بھی نہیں ہے آج یہ عشر عشیر اس اکثریت کا وڈیرہ اور نگہبان بنا بیٹھا ہے جو پوری دنیا کے تین چوتھائی وسائل کی مالک ہے اور ان کے وسائل کو مختلف حربوں سے لوٹ رہا ہے۔
آپ اسے لطیفہ کہیے یا عجوبہ سمجھیے بہر حال یہ ایک مضحکہ خیز بات ضرور ہے کہ ایک ظالم انسانیت دشمن اقلیت انسانی حقوق کا چارٹر مرتب کرے اور اپنی وظیفہ خوار تنظیموں اور کانفرنسوں کے ذریعے اس مظلوم اکثریت کو انسانی حقوق کی ادائیگی کا درس دے جو خود دو سو سال سے اپنے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پکار رہی ہے۔
کون سے انسان کے حقوق کی بات کرتے ہو؟
ان سے پوچھو کس انسان کو حقوق دینے کا راگ الاپ رہے ہو؟ کیا براعظم افریقہ کے اس انسان کے حقوق کی بات کرتے ہو جس کے مختلف قبائل کے لاکھوں سیاہ فام باشندوں کو سفید چمڑی والوں کی خدمت کے لیے بحری جہازوں میں لاد لاد کر یورپی ممالک میں لے جایا گیا اور ان سے ڈھور ڈنگروں کی طرح کام لیا گیا یا اس اصلی النسل امریکی کے حقوق کی بات کرتے ہو جسے یورپ کے گنجان آباد علاقوں سے آنے والے بکریوں کے چرواہوں نے اس طرح موت کے گھاٹ اُتارا کہ ان کا وجود اس خطہ ارضی سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا تا کہ وہ اس کائنات بشری کو انسانی حقوق کا پہلا اور آخری سبق سکھا دیں یا وسطی ایشیا کے ان مظلوم انسانوں کے حقوق کی بات کرتے ہو جنہیں بحر منجمد شمالی میں جمع کیا گیا اور اشتراکیت اور مارکسزم کے ظالمانہ قوانین کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لاکھوں
جانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
اے انسانی حقوق کے نام نہاد مبلغو! بتاؤ کون سے انسان کے حقوق کی بات کرتے ہو؟ کیا مقبوضہ فلسطین وکشمیر کے اس نہتے انسان کی جس پر آتش و آہن کی بارش کی جا رہی ہے یا عراق کے اس بے بس باشندہ کی جسے آئے روز بمباری کر کے خاک وخون میں تڑپایا جا رہا ہے اور اقتصادی شب خون سے وہاں کے عوام کی زندگی جہنم بنادی گئی ہے یا افغانستان کے اس مقہور و مجبور انسان کی جس پر اقتصادی پابندیاں لگا کر ان سے زندہ رہنے اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ یا بلقان اور چیچنیا کے اس درماندہ اور مقہور انسان کی جسے طیاروں اور ٹینکوں کی مدد سے خون کا غسل دیا جا رہا ہے۔
نہیں‘ نہیں ہرگز نہیں! بلکہ تمہارا طرز عمل امتیازی رنگ و روپ رکھتا ہے اور تم صرف اس انسان کے حقوق کے لیے شور مچا رہے ہو جو یورپی ہے اور مغربی تہذیب کا مدح خوان ہے۔
کون سے حقوق!
کاش حقوق انسانی کے داعیوں کو انسان کے حق میں یہ فکر دامن گیر ہوتی کہ اس دور کا تباہ حال انسان کس طرح خوشحال ہو سکتا ہے‘ وہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرنے میں خود مختار اور با اختیار کیونکر ہو سکتا ہے اور دورِ حاضر کے چیلنجوں کے مقابلہ میں کامیابی و فتح یابی سے ہمکنار کیسے ہو سکتا ہے اور پسماندگی اور مفلسی جو اس پر مسلط کر دی گئی ہے‘ اس کی پُر پیچ کھائیوں سے نکلنے میں کامیابی کب اس کے حصے میں آئے گی۔ یقیناً انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ جانتی ہیں کہ اکثر ترقی پذیر ممالک جو ہر میدان میں پسماندگی کی اندوہناک صورتحال سے دوچار ہیں‘ اس کے بنیادی طور پر مندرجہ ذیل اسباب ہیں:
- (۱) معاشی اور اقتصادی شب خون
- (۲) ٹیکنالوجی کا حصار اور
- (۳) معاشرتی اور اجتماعی بگاڑ
پھر ستم ظریفی یہ کہ استعماری طاقتیں ان قوموں کی معیشت کو ہمیشہ کے لیے برباد کرنے‘ انہیں سائنسی ٹیکنالوجی کے حصار میں جکڑنے اور ان کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کو بگاڑنے کے لیے سیاسی اور قانونی ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا رہی ہیں اور طاقت کے نشے سے مخمور ہو کر انہیں اس بات پر مجبور کر رہی ہیں کہ وہ اپنے تمام امور ہماری مرضی کے مطابق انجام دیں۔ یہی وہ پس پردہ عزائم ہیں جن کے حصول کے لیے انسانی حقوق کے یہ داعی حقوقِ انسانی کا غلغلہ بلند کرتے ہیں۔
خاص طور پر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے انسان کے جن حقوق کا راگ الاپا جا رہا ہے‘ وہ یہ کہ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ مذہب کا لبادہ اتار کر اپنے دین سے منحرف ہو جائے پھر فسق و فجور انسان کا حق ہے۔ وہ ملحد‘ وحدۃ الوجودی‘ سیکولر جو مرضی بن جائے‘ یہ اس کا حق ہے۔ اس طرح عورتوں کو یہ حق ہے کہ وہ تمام معاملات میں مردوں کے مساوی ہوں اور اگر مرد جنس مردانہ سے دستبردار ہونا
چاہے تو یہ اس کا حق ہے۔ یہ ہیں وہ مقاصد جو مغرب کے پیش نظر ہیں کہ مسلمان کے عقائد‘ نظریات‘ تہذیب و ثقافت‘ معاشرت اور خاندانی سسٹم کو بالکل برباد کر کے رکھ دیا جائے !!
پھر ان حقوق کے مطالبہ کے اوپر بعض خوشنما نعروں کا خول چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کے لیے وہی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جو ان مقاصد کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔ مثال کے طور پر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مقدمہ کی کارروائی صاف شفاف ہونی چاہیے‘ ہر شخص کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے‘ قیدیوں سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے‘ سزا دینے سے پرہیز کیا جائے اور قید خانوں کی صفائی کا مکمل خیال رکھا جائے۔
لیکن یہ تمام خوشنما مطالبات بھی اس وقت ریزہ ریزہ کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے جاتے ہیں اور ان حقوق کے مطالبہ کو اس وقت پاگل پن اور بے ہودہ گفتگو پر محمول کیا جاتا ہے‘ جب ان حقوق کا مطالبہ کرنے والے لا الہ الا اللہ کے حامل اور اللہ کی شریعت کا مطالبہ کرنے والے مسلمان ہوں۔ اس کے برعکس اگر دنیا کے کسی کونے میں کسی کافر خصوصاً عیسائی کے حقوق پر زد پڑتی ہے تو پورا مغرب حقوق حقوق کا غلغلہ بلند کرتا ہے!!
تم ہی بتاؤ ! ہم اس کی کیا توجیہ کریں کہ اگر مصر میں واقع امریکی یونیورسٹی کا ایک پروفیسر کسی جرم کی پاداش میں مصر کی عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو اس ایک شخص کی وجہ سے پوری مغربی دنیا برافروختہ اور مشتعل ہو جاتی ہے لیکن جب یہی لوگ یہ سنتے ہیں کہ ہزاروں مسلمان دنیا کی مختلف جیلوں میں بند پڑے ہیں جن کی اکثریت بے گناہ اور بغیر کسی الزام‘ جرم اور مقدمہ کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے تو یہ مہذب دنیا‘ بہری‘ گونگی اور اندھی بن کر خاموشی سے ان کی بے بسی کا تماشا دیکھتی ہے تو کیا یہ دوغلی پالیسی حقوق کے ضمن میں کھلی منافقت نہیں ہے!!
حال ہی میں صرف ایک ماہ میں مصر کے دو آدمیوں پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام عائد کیا گیا۔ ایک شخص کے متعلق تو یہ کہا گیا کہ یہ بہت زیادہ شادیاں کرتا ہے اور سخت مزاج کا مالک انسان ہے۔ اس لیے کہ یہ چار عورتوں سے شادی کرتا ہے‘ ضرورت پڑنے پر انہیں طلاق دیتا اور مزید عورتوں سے نکاح کر لیتا ہے۔ اس طرح اس نے کئی شادیاں کی ہیں اس کے علاوہ یہ شخص اسلامی موضوعات پر لکھتا اور شکل وصورت سے ”مذہبی“ معلوم ہوتا ہے۔ بس پھر کیا تھا کہ ذرائع ابلاغ کے متعدد فورموں سے اس کی عزت و آبرو پر رکیک حملے شروع ہو گئے جس میں اس کے کردار‘ شہرت اور شخصیت کو اس طرح نشانہ بنایا گیا‘ گویا یہ آدمی حقوق انسانی میں سے کسی حق کا بھی مستحق نہیں ہے۔ دوہرے معیار کے حامل ان منافقوں نے ایک طرف شریعت اسلامیہ پر اپنے زہر آگیں قلم سے طعن وتشنیع کے تیر برسائے اور دوسری طرف صرف اس لیے ایک شخص کو اپنی زہر آلود زبانوں کا نشانہ بنایا کہ وہ اسلام کا علمبردار اور کامیاب سرگرمیوں کا حامل تھا۔ کسی مسلمان کی کامیابی ان کے نزدیک ممنوع ہے اور ان کو قطعاً گوارا نہیں کہ ایک مسلمان ترقی کی معراج پر پہنچے بلکہ ان کے نزدیک مسلمان کی قسمت میں ہمیشہ
کے لیے پسماندگی اور نامرادی لکھ دی گئی ہے۔ یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ اس قسم کے سینکڑوں واقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں لیکن کیا مجال کہ حقوق انسانی کا راگ الاپنے والوں اور ہر وقت اپنی زبانوں کو حقوق انسانی کے ورد سے تر رکھنے والوں کے ضمیر پر احساس کی ہلکی سی خلش ان کے شعور میں ذرا سی جنبش بھی پیدا ہوتی اور مذمت کا ایک لفظ بھی ان کی زبان سے جاری ہوتا حالانکہ اس شخص نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا اس کا یہ کام نہ اللہ کے ہاں جرم ہے اور نہ ہی عرف عام میں اسے جرم کہا جاسکتا ہے!!
اب ایک اور واقعہ سنیے اور مغربی دنیا کی منافقت ملاحظہ فرمائیے! چند دن پہلے لندن کے ایک مقامی اخبار نے ایک عیسائی پادری کا ایک عورت کے ساتھ سکینڈل منظر عام پر لانے کی جرات کی ثبوت اور واقعہ کی توثیق کے لیے اس کی قابل اعتراض حالت کی تصاویر بھی شائع کر دیں اگرچہ اس اخبار کا یہ اقدام کہ اس نے پادری کو ذلیل و رسوا کرنے کی خاطر واقعہ کی تفصیلات کو تصاویر کے ذریعہ پھیلایا۔ اس پادری کے جرم سے کم بھیانک نہ تھا لیکن حیرت ناک اور تعجب انگیز بات یہ تھی کہ پوری دنیا اس اخبار پر برس پڑی اور اس بنیاد پر اخبار کو ہدف تنقید ٹھہرایا کہ ایک ایسے آدمی کی توہین کی گئی ہے جو دین کا رہنما تھا۔ یہ اس کی نہیں بلکہ دین کی توہین ہوئی ہے اور اس دین کی توہین کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین اسلامیہ اور باقی ادیان کے درمیان یہ تفریق کیوں؟ اگر ایک عیسائی راہب کی توہین دنیا کی نظروں میں مذہب عیسائیت کی توہین ہے تو دین اسلام کے حامل شخص کی توہین ”اسلام“ کی توہین کیوں نہیں؟ مزید یہ کہ مسلمان کا عمل اس کی شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے تھا اور عیسائی راہب کا عمل (مخفی معاشقہ یا زنا) مذہبی تعلیمات یا اخلاق سے گری ہوئی حرکت تھی۔ دونوں کے درمیان اس اہم فرق کے باوجود بھی ذرائع ابلاغ کا رویہ مسلمان اور عیسائی کے ساتھ جداگانہ ہے۔ یہی مغرب کی منتخب اخلاقیات ہے!
مذکورہ واقعہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حقوق حقوق کا بگل بجانے والوں کا حقوق انسانی کے سلسلے میں طرز عمل امتیازی رنگ و روپ رکھتا ہے اور ان کے نزدیک حقوق اور انسان کی الگ الگ انواع و اقسام ہیں اور کسی قسم کا حق بھی ان کے نزدیک تلف اور پامال نہیں کیا جاسکتا لیکن ایک مسلمان کے حقوق کی پامالی ان کے نزدیک انسانی حقوق کی پامالی کے دائرے میں نہیں آتی۔
ان کا انسان اور ہمارا انسان؟
حقوق انسانی کا درس دینے والے مغربی دراصل ہمیں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا انسان ہمارے انسان جیسا بن جائے تم اپنے قوانین ہمارے قوانین کے مطابق ڈھال لو۔ تمہارے اخلاق و آداب اور طور اطوار ہمارے جیسے ہو جائیں۔ تمہارا سماج اور معاشرہ ہر لحاظ سے ہمارے معاشرے کے مطابق ڈھل جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایک مغربی انسان کی حالت کیا ہے؟ کیا مغربی معاشرہ
اس لائق ہے کہ وہ ایک مشرقی اور عرب مسلمان کے لیے قابل تقلید نمونہ بن سکے۔ ہم انہیں کی زبانی اور ان کے اعداد و شمار کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مغربی انسان کی زندگی کی ایک ہلکی سی جھلک آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ وہ کس قدر تلخ زندگی اور اندوہناک صورتحال سے دوچار ہے۔ بداخلاقی اور بے حیائی کا سیلاب کس طرح انہیں بہا کر لے گیا ہے اور وہ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم بھی جہنم کے اس گڑھے میں گر جائیں جس سے نکلنے کی اب وہ راہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہم صرف خودسری اور احساس برتری میں مبتلا امریکی معاشرے کی صورتحال پیش کرنے پر اکتفا کریں گے جو برملا اپنی خودسری کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ ہم نے جو امریکی معاشرے کو منتخب کیا ہے‘ اس کی وجہ کوئی عناد اور تعصب نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ چند مخصوص وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:
- (۱) ایک تو امریکی معاشرہ بزعم خود انسان کو انسان بنانے میں زیادہ سرگرم ہے۔
- (۲) دوسرا یہ کہ امریکہ آج پوری دنیا پر حکمران بنا بیٹھا ہے اور وہ اپنی تہذیب‘ ثقافت اور
تمدن کو پوری دنیا میں رائج کر دینا چاہتا ہے۔
- (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ آج کا کوتاہ بین اور بے سمجھ طبقہ امریکی معاشرے کی نقالی کرنے
کے لیے بے چین اور بے قرار ہے۔
- (۴) آخری وجہ یہ ہے کہ امریکی معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں حقوق انسان کے لیے کام
کرنے والی تمام تنظیمیں امریکی ہیں یا امریکہ کی وظیفہ خوار اور رجسٹرڈ ہیں۔
چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاشرے کے متعلق تفصیل سے گفتگو کریں تاکہ ہم یہ جائزہ لے سکیں کہ خود اس معاشرہ میں حقوق کی حقیقت کیا ہے؟ اور وہ جن حقوق کی بات وہ کرتا ہے آیا انہیں انسانی حقوق کہنا چاہیے کہ جس سے انسانیت کو زندگی نصیب ہوتی ہے یا حیوانی حقوق کہنا چاہیے جس سے حیوانیت اپنی دل لگی کا سامان کرتی ہے۔
جرائم کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے!
امریکی معاشرے میں صرف ۸۰ء اور ۹۰ء کی دہائی میں قیدیوں کی تعداد پہلے سے تین گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ۱۹۸۰ء تا ۱۹۹۳ء کے دوران جیلوں میں آنے والے قیدیوں کی تعداد نو لاکھ پچاس ہزار (۹۵۰,۰۰۰) تھی اور یہ تعداد بھی ان مجرموں کی تھی جن کی باقاعدہ تھانے میں رپورٹ درج ہوئی۔ اگر ہم اس بات سے واقف ہوں کہ وہ جرائم جو منظر عام پر نہیں آئے‘ ان کی تعداد منظر عام پر آنے والے جرائم کی نسبت عموماً کئی گنا ہوتی ہے تو آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں حقیقی مجرموں کی تعداد کس قدر زیادہ ہوگی۔
اور جرائم کی وہ تعداد جن کا سرکاری اعداد و شمار میں اعلان کیا گیا‘ اس میں آخری چند سالوں میں جرائم کی تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔ امریکہ کی کل آبادی اس وقت
۲۶۳,۲۵۰,۰۰۰ ہے اور وہاں اب جرائم کی شرح ۶۰ فیصد ہو گئی ہے۔ امریکی معاشرے کی مجموعی تعداد میں ۶۰ فیصد ایسے لوگ ہیں جو عادی مجرم ہیں اور بڑے بڑے جرائم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ۵۸ فیصد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کم از کم دو مرتبہ ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ مذکورہ فیصد شرح جرائم سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں جرائم پیشہ افراد کی کل تعداد کتنی ہوگی۔ (جیمس پارٹیسون اور بیٹر کیم کی کتاب 'یوم ان اعترفت امریکہ بالحقیقہ' صفحہ: ۴۵، عربی ترجمہ: محمد بن مسعود البشر)
یہ تو تھا ایک اجمالی خاکہ اب مختلف جرائم کی الگ الگ تفصیل ملاحظہ ہو:
قتل و غارت
بعض لوگ اس وہم کا شکار ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں قاتل کے لیے پھانسی کی سزا کو ختم کرنے پر جو مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے اس کا سبب جذبۂ رحم دلی اور وہ انسانی جذبات اور احساسات ہیں جن کے مطابق پھانسی کی سزا ایک اذیت رساں، ظالمانہ اور غیر مہذب اقدام ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اگر ہمیں معلوم ہو کہ صرف امریکہ میں قتل کے واقعات کی شرح کس قدر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو ہمیں یہ بخوبی سمجھ آ جائے گا کہ امریکی اور یورپی معاشرہ اور دیگر مغربیوں کا پھانسی کی سزا پر واویلا کرنے کا اصل محرک کیا ہے؟
دراصل اس واویلے کے پس پردہ کارفرما حقیقی سبب یہ ہے کہ اگر پھانسی کی سزا کو امریکی باشندوں پر نافذ کیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر سال ہزاروں امریکیوں کا خون بہانا پڑے گا اس لیے کہ امریکہ میں ہر سال ۲۵ ہزار افراد قتل ہوتے ہیں۔ اس سزا کے نفاذ کی صورت میں ۲۵ ہزار افراد کو عدالت کے کٹہرے میں قتل کی پاداش میں قتل کیا جائے گا۔ یہ تو اس صورت میں ہے جب ہم یہ فرض کر لیں کہ ہر قتل میں صرف ایک شخص ملوث ہے۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ایک ہی قتل میں دو دو، تین تین، دس دس افراد تک شریک ہوتے ہیں تو آپ اندازہ کریں کہ اس صورت میں امریکیوں کی کتنی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا۔ اگر ان کے ساتھ جاسوسی، ڈاکہ زنی اور کرپشن وغیرہ کی وارداتوں کی پاداش میں قتل کے مستحق ٹھہرنے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو عقل و دانش سے بہرہ ور انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اہل مغرب اس سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ آخر کیوں کر رہے ہیں؟ اور اس مطالبے کے پس پردہ حقیقی محرک کیا ہے!!
امریکہ اور مغرب کے اہل دانش اور مفکرین جو اسلامی ممالک میں شرعی احکام کے نفاذ کی وجہ سے حقوق انسانی کی پامالی پر آہ و بکا کر رہے ہیں اگر وہ انصاف سے کام لیتے ہوئے اپنے ہاں ہونے والی قتل کی وارداتوں اور قانون قصاص کو نافذ کرنے والے اسلامی ممالک میں ہونے والے قتل کے واقعات کا موازنہ کریں تو یقیناً وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مغربی ممالک میں ہونے والے قتل کے واقعات اسلامی ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ایک بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق مملکت سعودی عرب میں ۱۹۸۰ء تا ۱۹۹۶ء کے دوران جن لوگوں کو قتل اور
دیگر جرائم میں موت کی سزا دی گئی ان کی تعداد صرف ۲۹ ہے۔ کہاں یہ معمولی سی تعداد اور کہاں وہ لاکھوں افراد جو قطع نظر دیگر جرائم کے صرف قتل کے الزام میں امریکہ کی جیلوں اور کال کوٹھڑیوں میں بند پڑے ہیں۔ اے حقوق انسانی کے نام پر اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دینے والو! تم اس صورتحال پر کیا تبصرہ کرو گے؟
آج ہر تین میں سے ایک امریکی اس بات کی تائید کرنے پر مجبور ہے کہ قتل پر موت کی سزا کا نفاذ ضرور ہونا چاہیے اور قاتل کو صرف قید کی سزا دینا سراسر خلاف انصاف ہے۔ اہل مغرب جو اسلام کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور اس کی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دے رہے ہیں ہم ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں بلکہ ہم ان سے صرف یہ گزارش کرتے ہیں کہ خدارا اسلامی معاشرہ کو خون کی وادی میں دھکیلنے سے باز آجائیں جس طرح کہ خود ان کا اپنا معاشرہ خونی یلغار کی لپیٹ میں آ چکا ہے جو صرف ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہی نہیں ہیں بلکہ وہاں ہر سال سینکڑوں لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ امریکی نوجوانوں میں خودکشی کی شرح پورے یورپ سے بیس گنا اور جاپان سے چالیس گنا زیادہ ہے۔
(جیمس بارٹرسون اور پیٹرکیم کی کتاب ’’یوم ان اعترفت امریکہ بالخطيئة‘‘ صفحہ: ۳۵، عربی ترجمہ: محمد بن مسعود البشر صفحہ ۸۸)
جنسی بے راہ روی
جو انسان ناحق خون بہانے کو معمولی کام سمجھنے لگے تو پھر بھلا وہ محفوظ عزتوں کو پامال کرنے میں کیا باک محسوس کرے گا! اور یہ حقیقت ہے کہ خون کا پیاسا انسان یقیناً شہوت کا اندھا اور زنا کاری و بدکاری کا رسیا ہوتا ہے۔ وہ کبھی بھی عزتوں کو تار تار کرنے سے اپنا دامن محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ کسی قوم میں اگر قتل کے مجرموں کی سالانہ تعداد لاکھوں ہے تو یقیناً حرام کاری کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد کئی ملین سے متجاوز ہوگی۔ اس بارے میں امریکہ کی سرکاری رپورٹ ملاحظہ ہو:
’’امریکی معاشرے میں زنا کے واقعات کی عددی شرح ۳۱ فیصد ہے اور یہ شرح ان لوگوں کے متعلق نہیں ہے جنہوں نے زنا کاری کا ارتکاب ایک یا دو مرتبہ کیا ہے بلکہ یہ رپورٹ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اس جرم میں بری طرح ملوث ہو چکے ہیں۔‘‘
اس کے بعد رپورٹ میں یہ لکھا ہے: ’’یہ رپورٹ باقی جنسی جرائم سے قطع نظر صرف زنا کاری کے متعلق ہے اور مجموعی جنسی جرائم میں سے ۲۸ فیصد جرائم زنا کاری سے متعلقہ ہیں اور یہ زنا کے وہ واقعات ہیں جو باقاعدہ عملی طور پر واقع ہوتے ہیں۔ ۶۲ فیصد امریکی وہ ہیں جو اگرچہ خود تو اس جرم میں ملوث نہیں ہیں لیکن وہ شادی کے بندھن میں
بندھے بغیر آپس میں جنسی تعلقات قائم کرنے میں کوئی جرم اور عار محسوس نہیں کرتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ مرد و زن شہوت رانی اور لذت پرستی کے لیے بالکل آزاد ہیں۔“
اعداد و شمار اس بات پر شاہد ہیں کہ امریکہ میں چار عورتوں میں سے ایک عورت اپنے خاوند سے خیانت کی مرتکب ہوتی ہے اور تین آدمیوں میں سے ایک آدمی اپنی بیوی سے خیانت کرتا ہے اور ایک دوسرے کی عزتوں کی پامالی اور جنسی تشدد صرف بالغ اور نوجوان نسل تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ نابالغ بچے اور بچیوں کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر ساتواں امریکی بچہ اباحیت کی قربان گاہ پر چڑھ جاتا ہے۔ سید قطب اپنی کتاب ”میرا چشم دید امریکہ“ میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”واشنگٹن کے ”ولسن ادارۂ معلمین“ میں غیر ملکیوں کو انگلش سکھانے والے شعبہ کی ایک خاتون استاد نے لاطینی امریکہ کے طلباء کو امریکی روایات کے بارے میں ایک لیکچر دیا جس کے اختتام پر ”گوئے مالا“ کے ایک طالب علم نے کہا: ”میں نے دیکھا ہے کہ چودہ سال کی لڑکیاں اور پندرہ سال کے لڑکے مکمل جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ یہ خبر بڑی قبل از وقت ہے۔ اس پر خاتون استاد نے انتہائی پُر جوش لہجے میں جواب دیا: ”ہماری زندگیاں انتہائی مختصر ہیں اور ہم چودہ سال سے زیادہ وقت ضائع نہیں کر سکتے۔“
اور اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ تو معصوم بچے اور بچیوں کی حالتِ زار ہے۔ رہی جوان عورتیں تو انہیں بھی جنسی جبر و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی جسمانی صحت اور روحانی قوت پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ عورتیں جو اس جنسی تشدد کا شکار ہوئیں ان میں سے ۴۲ فیصد عورتوں نے یہ کہا کہ ان پر جنسی تشدد کرتے ہوئے انتہائی قسم کی بداخلاقی اور سنگ دلی کا مظاہرہ کیا گیا۔
باوثوق اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ڈاکہ زنی اور لوٹ کھسوٹ کی وارداتیں جاپان، برطانیہ اور چین کی نسبت ۲۰ گنا زیادہ ہیں۔
شہوانیت کے اس عروج اور جنسی بے راہ روی کا سبب اور حقیقی محرک معاشی حالات کا بگاڑ اور روحانی قدروں کی تباہی تھا۔ معاشی حالات نے اس قدر مجبور کر دیا کہ ہر فرد مرد، عورت (کنواری یا بیوہ) سب کی سب کارزار حیات میں نکل کھڑی ہوئیں۔ پھر جب دونوں صنفوں میں ربط و اختلاط کے مواقع بڑھے تو اس کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ شہوانیت کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس آگ کے شعلوں کو مزید تیز کرنے کے لیے تھیٹر، رقص گاہوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں برہنہ اور خوبصورت عورتوں کی خدمات حاصل کی گئیں جس نے پوری قوم کو شہوانیت کی آگ بجھانے کے لیے زنا کاری اور بدکاری
کے جہنم میں دھکیل دیا۔ اس کا زنا کاری کا بازار گرم ہو گیا اور مع لیے زنا کاری کا ارتکاب کرنا ایسے
آپ یہ جان کر حیر خاوندوں سے خیانت کرنے میں کرنے میں کوئی تردد یا ہچکچاہ مردوں نے یہ اعتراف کیا کہ ان کا مطالبہ کیا تھا۔
دراصل اخلاقی نظا قوت حیات کو گھن کی طرح ک امریکہ میں ہر پانچویں لڑکی ج سال سے جوں جوں اوپر جا
”ہائی سکو ان کو لڑکوں سے جنہیں حمل ٹھہر گیا کی مؤثر تدابیر کا ان کا صحیح اندازہ
جنسی آزادی اور جنس پرستی مغربی اقوام میں اطلاق صرف اس شخص پر ہو مرضی سے زنا کرنے والوں پائے مغربی اقوام کے ہاں
مغربی اقوام خصوصاً کلنٹن کے دور حکو اس کی نظیر نہیں ملتی جب ۱۹۹۳ میں دس لاکھ سے انہوں نے حقوق کا تین صدر دفتر میں پیش کیا جم
(۱) جنس پر
کے جہنم میں دھکیل دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اخلاق اور روحانیت کی بنیادیں ڈھے گئیں‘ فحاشی اور زنا کاری کا بازار گرم ہو گیا اور معاشرہ راہِ راست سے ہٹ کر اخلاقی جذام میں مبتلا ہو گیا اور ان کے لیے زنا کاری کا ارتکاب کرنا ایسے ہی بن گیا جیسے قہوہ کا ایک کپ پی لیا یا سگریٹ سلگا لی۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ۵۳ فیصد امریکی عورتوں نے خود اقرار کیا کہ وہ اپنے خاوندوں سے خیانت کرنے میں کسی قسم کا تردد محسوس نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے خاوند ان سے خیانت کرنے میں کوئی تردد یا ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ شہوانیت اور جنسی بے راہ روی کے شکار ۲۰ فیصد مردوں نے یہ اعتراف کیا کہ ان کی حیوانیت کا شکار ہونے والی عورتوں نے بذاتِ خود ان سے بدکاری کا مطالبہ کیا تھا۔
در اصل اخلاقی نظام کی یہ تباہی اور قانونی و معاشرتی بندشوں سے آزادی مغربی قوموں کی قوتِ حیات کو گھن کی طرح کھا رہی ہے اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہر پانچویں لڑکی تیرہ سال کی عمر سے پہلے پہلے اپنی کنوارگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے اور تیرہ سال سے جوں جوں اوپر جائیں‘ یہ تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ [ جج لنڈ لکھتا ہے:
”ہائی سکول کی کم عمر والی ۴۹۵ لڑکیاں جنہوں نے خود مجھ سے اقرار کیا کہ ان کو لڑکوں سے صنفی تعلقات کا تجربہ ہو چکا ہے‘ ان میں سے ۱۲۵ ایسی تھیں جنہیں حمل ٹھہر گیا تھا۔ باقیوں میں سے بعض تو اتفاقاً بچ گئیں لیکن اکثر کو منعِ حمل کی مؤثر تدابیر کا کافی علم تھا۔ یہ واقعیت ان میں اتنی عام ہو چکی ہے کہ لوگوں کو ان کا صحیح اندازہ نہیں ہے۔“ (پردہ از مودودیؒ: ص ۱۰۹-۱۱۰)]
جنسی آزادی اور جنس پرستی کا فروغ
مغربی اقوام میں زنا کاری کو بہت معمولی سا خیال کیا جاتا ہے‘ ان کے نزدیک جنس پرستی کا اطلاق صرف اس شخص پر ہوتا ہے جو زنا کے سوا دیگر قبیح فواحش کا شکار ہو گیا ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ باہمی مرضی سے زنا کرنے والوں کو جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ جہاں فریقین کی رضامندی سے یہ قبیح فعل انجام پائے‘ مغربی اقوام کے ہاں وہ جرم کی تعریف سے خارج ہے۔
مغربی اقوام میں جنس پرستی ایک طویل تاریخ کی حامل ہے لیکن امریکی اقوام کے ہاں خصوصاً کلنٹن کے دورِ حکومت میں جنس پرستی نے جس قدر فروغ حاصل کیا ہے‘ مغرب کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی جب بل کلنٹن صدارت کے عہدہ پر فائز ہوئے تو اس کی حکومت کے ابتدائی دور ۱۹۹۳ء میں دس لاکھ سے زائد افراد نے مظاہرہ کرتے ہوئے ہم جنس پرستوں کے حقوق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حقوق کا تین نکاتی ایجنڈا تیار کیا اور مظاہرین کے نمائندوں نے یہ ایجنڈا وائٹ ہاؤس کے صدر دفتر میں پیش کیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ:
- (۱) جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے اور دیگر امریکی باشندوں کے درمیان
مساوات کے قیام کے لیے امریکی قوانین میں ترمیم کی جائے اور امریکی قانون دان ان کے خلاف نسلی بنیاد پر جو امتیازی کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں روکا جائے۔
- (۲) جنس پرستوں کے لیے امریکی افواج میں شامل ہونے پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں‘
ان کا خاتمہ کیا جائے۔
- (۳) صدر امریکہ اور کانگریس کو چاہیے کہ ایڈز جو جنس پرستوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی
ہے‘ کے مقابلہ کے لیے مختص فنڈ میں اضافہ کرے۔
بل کلنٹن قوم لوط کی آل کے ان تقاضوں سے متاثر ہوئے اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا ہوا‘ جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے ایک خط لکھا جو وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرین کے اجتماع کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا جس میں امریکی صدر نے کہا:
”میں امریکی معاشرے کے تمام گروہوں اور ہم جنس خواتین و حضرات کے درمیان مساوات کے قیام کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی بھر پور تائید کرتا ہوں۔ میرا یہ ایمان ہے کہ محنت اور تگ و دو سے کام کرنے والا ہر شخص امریکی معاشرے کا حصہ ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے بھر پور محنت کریں ۔“
(روزنامہ پولیس‘ ۲۷ اپریل ۱۹۹۳ء)
اس صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اقوام جو اللہ کی شریعت سے بغاوت کی روش اختیار کر لیں اور اللہ تعالیٰ کا دستور بھی انہیں گناہوں سے باز نہ رکھ سکے‘ ایسی فاسق و فاجر قوموں کو اللہ تعالیٰ ایسی بیماریوں کے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے جن کا نام ان کے آباؤ اجداد نے بھی نہیں سنا ہوتا۔
ان مغربی معاشروں کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایڈز جیسی نہایت موذی مرض ان پر مسلط کر دی جو تقریباً دو عشروں سے اللہ کے عذاب کا کوڑا بن کر ان پر برس رہی ہے اور انہیں موت کے گھاٹ اتار رہی ہے لیکن افسوس کہ یہ ہولناک عذاب بھی انہیں اس اخلاقی گراوٹ اور راہ انحراف سے نہ ہٹا سکا۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ تباہی کے اس عمیق غار میں گرنے کے لیے سب سے پیش پیش ہے جہاں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ شہوانیت کی اس آگ کو غیر فطری اور غیر طبعی طریقوں سے بجھانے کا انجام یہ ہوا ہے کہ ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۱ء کے صرف ایک عشرہ میں پوری دنیا میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ۱۳ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں ۳۰ ہزار تعداد صرف امریکیوں کی ہے اور خدشہ ہے کہ ۲۰۰۰ء تک اس موذی مرض کا شکار ہونے والوں کی تعداد چار کروڑ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔
منشیات اور ڈکیتیوں کا راج
امریکیوں کی اکثریت چوری اور ڈکیتی میں بہت مہارت رکھتی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ
کی رپورٹ کے مطابق ۷۵ فیصد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں پُر اعتماد اور محفوظ ذریعہ معاش میسر آ جائے تو وہ ڈکیتی اور چوری کا خیال بھی دل میں نہیں لائیں گے۔ جہاں تک منشیات کا تعلق ہے تو یہ بات مسلمہ ہے کہ امریکی معاشرہ دوسری اقوام عالم کی نسبت شراب اور نشہ کا سب سے زیادہ رسیا ہے اور اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ۳۵ فیصد امریکی ”میری جوانا“ اور ۱۵ فیصد کوکین (ایک نشہ آور چیز جسے استعمال کرنے کے بعد انسان وقتی طور پر تسکین محسوس کرتا ہے) اور ۲۴ فیصد دیگر نشہ آور اشیاء کے عادی ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے ۷۵ فیصد جرائم کا بنیادی سبب منشیات ہیں۔ (حالات فوضیٰ صفحہ ۱۳۸، یوم ان اعترفت امریکہ صفحہ: ۱۵۱)
جن اعداد و شمار کا تذکرہ ہم گزشتہ صفحات میں کر چکے ہیں انہیں کلی طور پر درست اور مبنی بر حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جرائم کی دنیا میں بے شمار حقائق کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔ چنانچہ جیمز پیٹرسون اور پیٹر کم اپنی کتاب ”یوم ان اعترفت امریکہ بالحقیقۃ“ میں اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
”امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے جرائم کے متعلق سرکاری اعداد و شمار ایک طرح کا شک پیدا کرتے ہیں کیونکہ ہماری تحقیقی رپورٹ کے مطابق جرائم کی تعداد سرکاری رپورٹ کی تعداد سے ۶۰ فیصد زیادہ ہے۔“ (یوم ان اعترفت امریکہ بالحقیقۃ، ص: ۱۴۱)
ان سے پہلے دو اور مصنفین فرانک براؤن اور جان گراس نے ”الجريمة على الطريقة الامريكية“ کے عنوان سے اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کی جو ۵۱۴ صفحات پر مشتمل تھی، جس میں انہوں نے جرائم کی مختلف شکلوں اور ان جرائم کے ارتکاب کے لیے انفرادی، اجتماعی، سیاسی اور تنظیمی سطح پر استعمال کیے جانے والے مختلف طریقوں کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بعض جرائم کا سبب کثرت مال کی حرص اور سرمایہ دارانہ نظام ہے تو بعض کا حد سے بڑھی ہوئی شہوانی پیاس ہے۔ بعض جرائم مفلسی اور فقر و فاقہ کا شاخسانہ ہوتے ہیں اور بعض جرائم خوشحالی اور مالی فراوانی کا نتیجہ ہیں۔ بے شمار جرائم کا سبب مذہبی، نسلی امتیازات اور فرقہ واریت ہوتا ہے۔ وہ جرائم جن میں نوجوان نسل ملوث ہوتی ہے یا جن میں عورتیں اور بچے ملوث ہوتے ہیں، کتاب میں ان تمام جرائم کو بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ [ایک امریکن رسالے میں ان اسباب کو جن کی وجہ سے وہاں بداخلاقی کی غیر معمولی اشاعت ہو رہی ہے، اس طرح بیان کیا گیا ہے:
”تین شیطانی قوتیں ہیں جن کی تثلیث آج ہماری دنیا پر چھا گئی ہے اور یہ تینوں ایک جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں: فحش لٹریچر جو جنگ کے بعد سے حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بے شرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ متحرک تصویریں جو شہوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکاتی ہیں بلکہ عملی
سبق دیتی ہیں۔ عورتوں کا گرا ہوا اخلاقی معیار، جو ان کے لباس اور بسا اوقات ان کی برہنگی اور سگریٹ کے روز افزوں استعمال اور مردوں کے ساتھ ان کے ہر قید و امتیاز سے نا آشنا اختلاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تین چیزیں ہمارے ہاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ان کا نتیجہ سطحی تہذیب اور معاشرت کا زوال اور آخر کار تباہی ہے۔ اگر ان کو نہ روکا گیا تو ہماری تاریخ بھی روم اور ان جیسی دوسری قوموں کے مماثل ہوگی جن کو یہی نفس پرستی اور شہوانیت ان کی شراب اور عورتوں اور ناچ رنگ سمیت فنا کے گھاٹ اتار چکی ہے۔“
[(پردہ از مودودیؒ صفحہ ۱۰۲۔۱۰۳)]
کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ”ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے غیر معمولی حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قلق اور اضطراب نے امریکیوں کی جسمانی اور ذہنی قوتوں پر نہایت مہلک اثرات مرتب کیے ہیں۔ چنانچہ امریکیوں نے ذہنی اور جسمانی تسکین کے حصول کے لیے نشہ آور اشیاء کا سہارا لیا جس کی وجہ سے منشیات فروشی کی صنعت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اخباروں کے صفحات جرائم، قتل و غارت، زنا کاری اور بدکاری کی وارداتوں سے بھر گئے اور بڑے بڑے عہدے داروں کی کرپشن کے واقعات اخبارات کی شہ سرخیوں میں شائع ہونے لگے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ امریکہ میں جن جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، ان کا مکمل انسائیکلوپیڈیا تیار کرتے کیونکہ اس کے لیے بے شمار جلدیں درکار ہیں جن کو تصنیف کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں۔“
چنانچہ یہ دونوں مصنف ۲۷ ابواب پر مشتمل جرائم کی اس مطالعاتی رپورٹ کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جرم ایک ایسے مضبوط اقتدار کا روپ دھار چکا ہے جو تمام قوانین کو اپنے ہاتھ میں لے کر مقننہ، انتظامیہ، عدالت اور صحافت ان چاروں ریاستی ستونوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خم ٹھونک کر میدان میں آ گیا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ”نہایت ضروری ہے کہ امریکہ کی چند عمومی مگر مضبوط ترین ایجنسیوں کی تفتیش کی جائے۔ اس قسم کی تحقیق ان جرائم کو طشت از بام کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگی جن جرائم نے امریکی اداروں کو جرائم کی نرسریاں بنا دیا ہے۔ اس تحقیق سے ہم ایک ایسے راج کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کو ہم ببانگ دہل جرائم کے راج سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“
(الجریمہ علی الطریقہ الامریکیہ از فرانک براؤن اور جان گراس، عربی ترجمہ: فواد جدید، ص: ۵)
اخلاقی اور تہذیبی کوڑھ میں مبتلا مغرب کے سرخیل امریکہ میں جرائم کا جو ننگا ناچ ناچا جا رہا ہے‘ اس کی ذکر کردہ تفصیل کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ روس جو الحاد و لادینیت کا سرخیل ہے‘ وہ ان جرائم سے بالکل پاک ہے۔ روس بھی امریکہ کی طرح جرائم کی کالونی بن چکا ہے بلکہ وہ امریکہ سے بھی دو قدم آگے ہے اور وہاں جرائم کی شدت کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ روس کے بارے میں اعداد و شمار کے مطابق وہاں صرف قتل کے جرائم کی شرح امریکہ سے پچاس فیصد زیادہ ہے اور رہا دیگر جرائم کا حال تو اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ وہاں کے تین ہزار باقاعدہ منظم جرائم پیشہ گروہ‘ جرائم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (حالاتِ فوضوی‘ صفحہ: 113)
الحاد پرستی کے شکار مشرق اور اخلاقی جذام میں مبتلا مغرب کے اس فساد کے درمیان ایک قوم صدیوں سے ہلاکت و تباہی کے عمیق غار میں سسکیاں لے رہی ہے اور تباہی و ہلاکت کے بادل چھٹنے کی بجائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا بنیادی سبب نت نئی ایجادات ہیں۔
جرائم کی دنیا
یہ جرائم آہستہ آہستہ بین الاقوامی رنگ اختیار کر رہے ہیں اور سمگلنگ کے قوانین میں تخفیف‘ وسائل نقل و حمل اور ذرائع ابلاغ میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ جرائم پیشہ مافیا اُٹھا رہا ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ منشیات کی تجارت اور انسانی جان کے لیے مہلک اشیاء کا کاروبار پوری دنیا میں عام ہو چکا ہے اور یہی دو ذرائع تجارت جرائم کی سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ 1990ء تا 2000ء کے عشرے میں صرف امریکہ اور یورپ میں منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی 100 ارب ڈالر سالانہ تھی۔
1994ء میں اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی امن و امان کی بحالی کے لیے دنیا کے کثیر ممالک کے وزراء کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی‘ تمام شرکائے کانفرنس نے اس بات کی توثیق کی کہ گلوبلائزیشن کے متعلقہ بعض قراردادوں کے اعلان کے بعد 90ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں بین الاقوامی جرائم کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کی قراردادوں نے جرائم کو عام کرنے اور اسے پوری دنیا میں پھیلا دینے کے لیے جو مواقع فراہم کیے ہیں‘ ان کا بلا خیز سیلاب جرائم کے آگے باندھے گئے تمام بند توڑ کر پوری دنیا میں پھیل گیا ہے اس طرح الیکٹرانک میڈیا‘ پرنٹ میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے انقلاب نے بھی جرائم کی دنیا میں ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔ خدا جانے اس طوفان کا دائرہ کار کس قدر وسیع ہوگا اور کب یہ طوفان تھمے گا!!
شہناز ماجد
این جی اوز کا مجرمانہ کردار
پیارے وطن پاکستان میں جس طرح اور بہت سے عناصر اسے نقصان پہنچا رہے ہیں این جی اوز اس میں سب سے زیادہ پیش پیش ہیں۔ اس میں جو خواتین مسلمان ہونے کا صرف لیبل لگائے ہوئے ہیں، بیرونی سازشوں، قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کے ایجنڈے کو تیزی سے پاکستان میں عمل درآمد کروانے کے درپے ہیں، صرف چند ٹکوں کی خاطر اپنے وطن اور مذہب سے غداری ان کا وطیرہ ہے۔
ابھی چند دن پہلے ایک اخبار کے دفتر میں مذاکرہ بعنوان ”جنسی تشدد پاکستان میں بہت زیادہ ہونے کی وجوہات، اثرات، سدباب“ تھا؟ یہاں این جی اوز کی ممبران بھی مدعو تھیں۔ ان سے بات ہوئی کہ آپ سالہا سال سے عورت کو کون سے حقوق دلوانے میں کامیاب ہوئی ہیں؟ آپ عورت کو کونسی آزادی دلوانا چاہتی ہیں؟ کون سے برابری کے حقوق دلوانا چاہتی ہیں؟ عورت کو تو اسلام نے جتنا معزز مقام عطا کیا ہے آپ تو الٹا اس کے حقوق کی پامالی کا بندوبست کر کے اسے اس کے بلند مرتبہ سے گرانا چاہتی ہیں۔ عورت کا اسلام میں بلند مقام دیکھ کر تو ہر سال صرف امریکہ کی پانچ ہزار خواتین مسلمان ہو رہی ہیں۔ آپ مغرب کی عورت کی تقلید میں جو سبز باغ پاکستانی خواتین کو دکھا رہی ہیں، مغرب کی عورت تو خود اس ترقی کے زینے پھلانگتے پھلانگتے گھر سے، لباس سے، عفت و حیا، مذہبی اخلاق، سکون و قرار سے تہی دامن ہو کر اسلام میں پناہ گزیں ہو رہی ہے۔ منصوبہ بندی کی آڑ میں مسلم ممالک کے جائز بچوں کو اس دنیا میں لانے سے روکنے والے مغربی ممالک میں ۶۰ ہزار ناجائز بچے سالانہ پیدا ہو رہے ہیں، وہاں کی ۹۸ فیصد لڑکیاں چودہ برس کی عمر میں شادی کے وقت کنواری نہیں ہوتیں۔ کیا آپ پاکستان کو بھی ایسا ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی ہیں؟
پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی آزادی نسواں کے نعرہ کی وجہ سے ہوا۔ عورت جب بے حجاب دکانوں، دفتروں، بازاروں غرض ہر جگہ مرد کے شانہ بشانہ آ موجود ہوئی تو یہی کچھ ہو گا جو روزانہ کے اخبارات ہماری آزادی کا منہ چڑا رہے ہیں۔
ان کا ایک ہی جواب تھا کہ پاکستان میں مظلوم عورتوں کی داد رسی ہم کرتے ہیں۔ کیسی مظلوم عورتیں، صائمہ جیسی جس کا نکاح عاصمہ جہانگیر نے پڑھایا یا سمیہ جیسی شادی شدہ عورت جو اپنے خاوند کو چھوڑ کر کسی غیر کے ساتھ ہوٹل میں کئی دن مقیم رہی۔ پھر این جی اوز کی طرف رجوع کیا۔
ہم نے انہیں رائے دی کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اگر ہم سب این جی اوز مل کر پاکستان میں اسلامی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کریں تو ساری قوم کی بیٹیاں آپ کے ساتھ مل کر کوشش کریں گی تو کیا وجہ ہے کہ پچاس فیصد خواتین پاکستان کی ایک آواز اسلامی نظام کی اٹھائیں اور مطالبہ پورا نہ ہو۔ خواتین کی تمام خوشحالی اور سکون و قرار اسلامی نظام میں ہے۔ پھر یہ نظام اسے وہ تمام حقوق مرد سے دلوائے گا جو اس کے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تفویض کیے ہیں۔
پھر وہ گویا ہوئیں کہ ہم نے لڑکی کی شادی کی عمر اٹھارہ برس منوائی ہے مگر جب انہیں بتایا گیا کہ حقوق نسواں کمیشن کی سفارشات کے مطابق اگر کسی لڑکی کی شادی اٹھارہ سال سے پہلے کر دی جاتی ہے تو اس کے باپ، شوہر یا سرپرست کو پانچ سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جانی چاہیے۔ ہاں اگر لڑکی اپنی مرضی سے چودہ برس کی عمر میں بھی شادی کر لے تو کوئی سزا نہیں یعنی آپ کے کمیشن کی سفارشات کے مطابق غیر قانونی طریقے سے شادی کرنے پر کوئی سزا نہیں۔ اگر باپ اپنا فرض پورا کرتا ہے تو سزا کا مستحق ٹھہرا۔ یہ ابھی آپ کے کمیشن کی سفارشات میں سے صرف ایک نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے ورنہ تقریباً تمام سفارشات اسلام سے متصادم اور معاشرے کو بے راہ روی کی طرف ڈالنے والی ہیں۔ یعنی اس باطل کو قانونی حق قرار دیا گیا۔ مخلوط تعلیم لازمی ہوگی۔ پولیس، فوج اور عدلیہ ہر جگہ برابری کی بنیاد پر ملازمتیں دلوانا وغیرہ این جی اوز صرف مادی مفاد کی خاطر اس طرح کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ جو تنظیمیں اس طرح کے غلط کام کروا رہی ہیں، انہیں فوری طور پر قانونی طور پر ختم کر دینا چاہیے۔ دین دار اور محب وطن افراد کو آگے آنا چاہیے جو خوف خدا رکھتے ہوں اور انہیں مذہب پر مکمل عبور حاصل ہو۔ غیر ملکی تنظیموں سے روپے پیسے سے بک جانے والے افراد کبھی بھی ملک و قوم کی بہتری نہیں کر سکتے۔
بیدار ذہن رکھنے والی، اسلامی سوچ رکھنے والی خواتین کو اپنے ملک و قوم کو بچانے کے لیے آگے آنا ہوگا، ورنہ معاشرہ بڑی تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے، ہم سے دین کی روشنی چھینی جا رہی ہے، جہالت کے اندھیرے چھا رہے ہیں، روحانیت ختم ہو رہی ہے، مادیت پروان چڑھ رہی ہے۔ اس طرح کی فیشن زدہ نااہل خواتین بیرونی ممالک سے درآمدہ نعروں کی نوک پر اچھے برے سب کو خس و خاشاک کی طرح اپنے جلو میں بہائے لئے جا رہی ہیں۔ معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہا ہے، فحاشی و عریانی کا سیلاب ہزاروں مرد و خواتین کو اپنے ساتھ بہا رہا ہے، اسلام کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے نکال کر مساجد تک محدود کیا جا چکا ہے۔ قرآن یعنی نظام حیات کو الماریوں میں بند کر کے مغربی انداز اپنانے میں فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اگر ماں، بہن، بیٹی، بیوی کا تقدس پامال کر کے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا کہ نیویارک کی طرح کراچی لاہور میں کسی عورت کا مغرب کے بعد گھر سے نکلنا اور خیریت سے واپس آنا ناممکن ہو جائے، ہم ایسا ہرگز نہیں چاہیں گے۔ ہم سب کو آج ہی اپنی تمام کوششوں کو بروئے کار لا کر طاغوتی ایجنڈے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
٭ ٭ ٭
ڈاکٹر اُم کلثوم
این جی اوز کا حقوق نسواں کے حصول میں کردار
رضاکارانہ طور پر رفاہی خدمات سرانجام دینے والی تنظیمیں این جی اوز کئی مقاصد کے لیے قائم کی جاسکتی ہیں۔ جن میں سے اہم یہ ہیں:
(۱) بچوں کی بہبود (۲) نوجوانوں کی بہبود (۳) خواتین کی بھلائی (۴) جسمانی اور ذہنی معذوروں کی بھلائی (۵) خاندانی منصوبہ بندی (۶) تفریحی پروگرام تاکہ لوگوں کو غیر سماجی سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکے (۷) سماجی تعلیم۔ تعلیم بالغاں کے ادارے تاکہ لوگوں میں ذمہ دار شہری ہونے کا شعور پیدا کیا جا سکے (۸) قید کی سزا بھگت کر جیلوں سے آنے والے افراد کی بھلائی اور بحالی (۹) بے راہرو نوجوانوں کی بھلائی (۱۰) سماجی طور پر پسماندہ افراد کی بھلائی (۱۱) بھکاریوں کی بھلائی اور بحالی (۱۲) مریضوں کی فلاح، بھلائی اور بحالی (۱۳) بوڑھوں اور معذوروں کی فلاح (۱۴) سماجی بہبود کے کاموں کی تربیت (۱۵) سماجی خدمات سرانجام دینے والے اداروں میں باہم تعاون پیدا کرنا۔
ان میں سے کسی ایک مقصد کے لیے بھی دس شہری مل کر ایک سماجی بہبود کی تنظیم تشکیل دے سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سماجی بھلائی کی رضا کار تنظیموں کے سلسلے میں جاری ہونے والے آرڈیننس ۱۹۶۱ء کے تحت ہر تنظیم کی رجسٹریشن لازم ہے۔ یہ رجسٹریشن درج ذیل اداروں کے ساتھ کروائی جاسکتی ہے:
- (۱) صوبائی سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ (محکمہ سماجی بہبود)
- (۲) صوبائی محکمہ امداد باہمی
- (۳) مرکزی محکمہ صنعت۔ یہ تنظیمیں ایسوسی ایشن، ٹرسٹ یا فاؤنڈیشن کی صورت میں
رجسٹریشن کروا سکتی ہیں۔ تاہم عملاً بے شمار تنظیمیں بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہی ہیں، بالخصوص بیرونی امداد پر چلنے والی تنظیمیں تو ہمیشہ لازمی رجسٹریشن کے قوانین کے اجرا کی مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ چنانچہ این جی اوز کی رجسٹریشن لازم قرار دینے اور ان کے فنڈز پر نگرانی رکھنے کے سلسلے میں ایک بل ۱۹۹۶ء سے سینٹ میں معرض التوا میں ہے۔ این جی اوز کی زبردست مزاحمت کے باعث بل پیش ہونے کے باوجود زیر بحث نہ آسکا اور اس معاملے میں کچھ بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔
اس وقت ملک بھر میں کوئی ۱۳ ہزار رضا کار تنظیمیں کاغذوں پر موجود ہیں، ان میں سے نصف
سے زائد (سات ہزار کے لگ بھگ) پنجاب میں ہیں، پنجاب کے صوبائی محکمہ سماجی بہبود کے ساتھ رجسٹر ہونے والی تنظیموں کی تعداد ۴۶۶۱ ہے۔ ان میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہیں جو عملاً غیر فعال ہیں انہیں مردہ تنظیمیں بھی کہا جاتا ہے۔
رجسٹریشن کروانے والی تنظیمیں اگر چاہیں تو حکومتی فنڈز مثلاً پی ایس ایس بی، زکوٰۃ اور بیت المال وغیرہ سے حصہ لے سکتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے فنڈز کے آمد و خرچ کو کسی بھی وقت چیک کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ کئی تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو سیاسی اثر و رسوخ کے تحت رجسٹر ہو کر لاکھوں کے فنڈز حاصل کرنے کے بعد ایک آدھ افتتاحی تقریب کروا کر غائب ہو جاتی ہیں۔ فنڈز خورد برد کر لیے جاتے ہیں، حکومت کی جانب سے حسابات کی پڑتال (آڈٹ) صرف اسی تنظیم کا ہوتا ہے جس کے خلاف کوئی شکایت ہو۔ ”کھانے پینے والی تنظیموں“ کے وجود سے متعلقہ کھانے پینے والے افراد کے سوا کسی کو آگاہی نہیں ہوتی، شکایت کون کرے۔ پنجاب میں رجسٹر ہونے والی ۴۶۶۱ تنظیموں میں سے تقریباً دو تہائی ایسی ہیں جن کا عملاً کہیں وجود نہیں۔ پنجاب میں رجسٹریشن نہ کروانے والی تنظیموں کی تعداد اس وقت ایک اندازے کے مطابق اڑھائی تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں بیشتر وہ ہیں جو بیرونی امداد حاصل کر کے بیرونی ممالک اور اداروں کے زیر اثر کام کر رہی ہیں۔ رجسٹریشن نہ کروانے کی سب سے بڑی وجہ ان کا یہ خوف ہے کہ اس طرح ان کے فنڈز کے ذرائع اور عزائم منظر عام پر آ سکتے ہیں۔
یہ تنظیمیں بیرونی ممالک سے بھاری فنڈز وصول کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کئی ادارے سماجی ترقی اور عورتوں بچوں کے حقوق کے نام پر بڑے بڑے فنڈز دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ رقوم ریسرچ اور سروے وغیرہ کے نام پر دیئے جاتے ہیں۔ ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ اس وقت (۱۹۹۴ء-۲۰۰۰) صرف خاندانی منصوبہ بندی کے مقاصد کے فروغ کے لیے مختلف غیر ملکی ادارے کوئی تیس ارب روپے کے لگ بھگ فنڈز ۵۵ مختلف پراجیکٹس کے لیے دے رہے ہیں۔
فنڈز حاصل کرنے والی تنظیمیں ان فنڈز کو مہنگے ہوٹلوں میں سیمینارز اور میٹنگز کے انعقاد پر خرچ کرتی ہیں۔ ان کے عہدے داران بھاری ماہانہ مشاہرے پر کام کرتے ہیں، شاندار دفاتر اور مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔ فنڈز کا ۹۰ فیصد سے زائد حصہ انہی مقاصد پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بمشکل چار پانچ فیصد حصہ ان مقاصد پر استعمال کیا جاتا ہو گا جن کے لیے یہ سب محفل آرائی ہے۔
ان میں سے بعض تنظیمیں بین الاقوامی ڈونرز کے لیے مقامی اداروں اور کمیونٹی میں سروے کرواتی ہیں، ان سروے رپورٹس کی ”کوالٹی“ ایک الگ موضوع ہے۔ تاہم ان کے من مانے نتائج کو بین الاقوامی سطح پر من مانے پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں بالعموم تعلیم یا صحت کے مقاصد کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ قومی سطح پر کام کرنے والی تنظیمیں اپنے ڈونرز کے مقاصد کو فروغ دینے کا کام کرتی ہیں، ان میں زیادہ
فعال درج ذیل مقاصد کے لیے سرگرم ہیں:
- ☆...... عورتوں کے حقوق بشمول (Gender Equality) اور خاندانی منصوبہ بندی
- ☆...... بچوں کے حقوق
- ☆...... بچوں کی جبری مزدوری
- ☆...... عورتوں اور بچوں کے لیے قانونی امداد
- ☆...... قیام امن
اس وقت ”بیجنگ کانفرنس“ کے پس منظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے دیئے گئے مقاصد اور طریقہ کار کو اپنانے اور فروغ دینے کے لیے حکومتوں پر خاصا دباؤ ہے۔ اس دباؤ کو بڑھانے کے لیے این جی اوز کو خصوصی تربیت دی گئی ہے اور انہیں اس مقصد کے لیے بھر پور استعمال کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”عورتوں“، ”بچوں“ اور ”امن“ کے نام پر قائم ہونے والی تین سو سے زائد تنظیموں نے پنجاب میں ایک این جی او بنایا ہے تاکہ ”بیجنگ کانفرنس“ کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور نتائج حاصل کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جاسکے۔ ان کی جدوجہد کے دو پہلو نمایاں ہیں:
- (۱) حکومت پر مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے دباؤ
- (۲) ان مقاصد کو عوام میں قابل قبول بنانے کے لیے جدوجہد
اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان کا طریقہ کار یہ ہے:
- ...... فیصلہ کن حیثیت رکھنے والے افراد حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، ان سے مضبوط
اور قریبی روابط تاکہ اپنے مشن کے لیے لابنگ کی جاسکے۔
- ...... اہم افراد مثلاً صحافیوں، ججوں، وکلاء، بیوروکریٹس، سیاست دانوں کے ساتھ میٹنگز
- ...... معاشرے میں مؤثر مقام رکھنے والے افراد مثلاً اساتذہ، سیاسی کارکن، معاشرتی
رضا کار تنظیموں کے کارکن، وکلاء وغیرہ میں نفوذ کے لیے سیمینار، کانفرنس، ورکشاپس کا انعقاد
- ...... رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اشتہارات اور لٹریچر کی تشہیر واشاعت
- ...... آج کل ایک مؤثر اور باقاعدہ پلاننگ کے تحت ”عورتوں کے لیے جنسی فیصلوں کی
آزادی“ کے نام پر ایسے کیس خاص طور سے عدالتوں میں لائے جارہے ہیں جن میں ”پسند کی شادی“ کرنے والے جوڑوں کو قانونی حق دلوانے کے نام پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کیا جائے تاکہ اس طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
- ...... ”جنسی آزادی“ کو یقینی بنانے کے لیے بڑے منظم طریقے سے ”فنڈز“، تعلیمی اداروں
کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں مخلوط تعلیم کی بنیاد پر تعلیمی ادارے قائم کیے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ”ایجوکیشن فاؤنڈیشن“ سے فنڈز کے اجراء میں ایسے سکولوں کو ترجیح دی جارہی ہے جن میں مخلوط تعلیم ہو۔
...... ملازمتوں میں جینڈر فری رجحان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ منشاء یہ ہے کہ ہر مقام پر مخلوط ماحول پیدا کیا جائے۔ چنانچہ پرائیویٹ سیکٹر میں خاتون سیکرٹری کا رواج روز افزوں ہے۔ افواج پاکستان میں مخلوط ماحول کے لیے ایجوکیشن انجینئرنگ اکاؤنٹس اور دیگر دفتری امور کے لیے خواتین کیڈٹس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ حال ہی میں امریکی نائب وزیر خارجہ نے تو بطور خاص افواج پاکستان کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اپنا ماحول اور نظام مغربی طرز کے مطابق تشکیل دیں۔ ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس مشن کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔
...... جینڈر فری تعلیمی اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ لڑکوں کے تعلیمی اداروں میں خواتین اور طالبات اور لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں خواتین اور طالبات اور لڑکیوں کے اداروں میں طلباء اور دیگر مرد حضرات کو بلایا جائے۔ فی الحال یہ اختلاط خاص تقریبات کے نام پر ہوتا ہے۔ اس طرح کی مخلوط محفلوں کے مطلوبہ نتائج ظاہر ہونا بھی شروع ہو گئے ہیں۔
...... پریس اور میڈیا کو ان مقاصد کے حصول کے لیے بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی تصویریں اور مخلوط محفلوں کی خبریں اور رودادیں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ میڈیا سے پیش ہونے والے پروگراموں میں مخلوط محفلوں، جنسی آزادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے مقاصد کو خصوصی طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے خلاف امتیازی قوانین و رجحانات کا جائزہ لینے کے لیے ۱۹۹۴ء میں سینٹ کی منظوری سے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا گیا‘ اس کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے کی۔ اس کے ارکان میں غالب اکثریت ”خواتین کے حقوق“ کے نام پر کام کرنے والی این جی او سے وابستہ تھی۔ کہا تو یہ گیا کہ یہ کمیشن قرآن وسنت کے مطابق ان امور کا جائزہ لے گا اور انہی کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔ لیکن جو سفارشات سامنے آئیں‘ ان کا غالب حصہ واضح طور پر قرآن وسنت سے متصادم نظر آتا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ اور سفارشات ایک مخصوص فکر اور سوچ کے حامل ہیں۔ یہ کمیشن معاشرے میں بے انصافی اور ظلم کی اصل وجوہ کے تعین اور ان کا حل تجویز کرنے میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرتا نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس اس کی تمام تر سفارشات اقوام متحدہ کے دیئے گئے ایجنڈے کے مطابق ہیں۔ اس ضمن میں رپورٹ کے آغاز میں ہی عزائم صاف ظاہر کر دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ کہا گیا کہ پاکستان کو دنیا کے باقی ممالک سے الگ تھلگ نہیں رکھا جاسکتا۔ اس میں وہی معاشرتی اور اخلاقی اقدار جاری ہونے چاہئیں جو باقی دنیا میں (مطلوب مغربی دنیا ہے ) رائج ہیں۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ یا سفارشات میں کہیں بھی اسلام یا قرآن وسنت کی بات نہیں کی بلکہ ”خواتین کے حقوق“ کے لیے مغربی سٹائل میں کام کرنے والی این جی اوز کو زبردست خراج تحسین
ادا کیا گیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یہ کمیشن ان کی ”خدمات“ کے اعتراف کے طور پر ان کی سفارشات کو نمایاں مقام دے گا۔ کمیشن کی سفارشات پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرد اور عورت مد مقابل فریق ہیں جو معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور ان کا باہمی تعلق محض جانوروں کا سا ہے۔ گھر کوئی ایسا اہم ادارہ نہیں جس کا کوئی سربراہ ہو یا اسے سربراہی کے حقوق و اختیارات حاصل ہوں۔
کمیشن کی سفارشات اس فیلڈ میں کام کرنے والی این جی اوز کی سفارشات کے عین مطابق ہیں۔ ان میں سے اہم یہ ہیں:
- ...... پاکستانی قوانین اور معاشرے کو دنیا کے دوسرے ممالک کے قوانین، معاشروں اور
اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق بنایا جائے۔
- ...... زندگی کے ہر شعبے میں بشمول مسلح افواج، پولیس اور عدلیہ عورتوں کو ملازمت کے
مساوی حقوق دیئے جائیں۔
- ...... سیاسی اداروں میں ہر سطح پر خواتین کو ۳۳ فیصد نمائندگی دی جائے۔
- ...... قصاص و دیت کے قوانین منسوخ کیے جائیں، عورتوں کو سزائے موت سے استثناء قرار
دیا جائے اور مردوں اور عورتوں کی دیت برابر قرار دی جائے۔
- ...... معاشی کفالت مرد کی ذمہ داری ہے، باپ ۲۱ سال کی عمر تک بیٹی کی کفالت کرے۔
- ...... شادی کے بعد طلاق یا کسی بھی وجہ سے علیحدگی کی نوبت آ جائے تو شوہر بیوی کی
تاحیات معاشی کفالت کرے یا جب تک وہ عورت دوسری شادی نہیں کر لیتی۔
- ...... وراثت کی تقسیم بیٹے اور بیٹی میں برابر برابر ہو۔
- ...... شوہر کی وفات کے وقت اگر اُس کے والدین زندہ ہیں تو ان کی وفات کے بعد ان کی
وراثت میں بہو کو وہ پورا حصہ دیا جائے۔
- ...... شوہر اگر بیوی سے زبردستی اس کی خواہش کے خلاف ازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے تو
یہ Marital-rape ہے جو قابل سزا ہے۔
- ...... مرد کو دوسری شادی کی اجازت انتہائی ناگزیر حالت میں پہلی بیوی اور عدالت کی
اجازت سے دی جاسکے گی۔ اس کے بغیر شادی کرنے والے کو پانچ سال قید با مشقت اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کیا جائے اور پہلی بیوی کو حق حاصل ہو کہ وہ چاہے تو اس بنیاد پر طلاق حاصل کرلے۔
- ...... زنا بالرضا کی سزا پانچ سال قید ہو۔ سزا کا نفاذ مرد پر ہو کیونکہ عورت تو مجبور ہے۔
- ...... حدود قوانین منسوخ کیے جائیں۔
- ...... غیر ملکی افراد اور غیر مسلموں سے شادی پر مسلمان عورت کے لیے کوئی پابندی نہیں ہونی
چاہیے۔
- ...... سولہ سال سے کم عمر کی لڑکی کی شادی کرنے والے باپ یا ولی اور اس لڑکی کے شوہر کو
تین سے پانچ سال قید اور جرمانہ کی سزا دی جائے۔
- ...... اسلامی قانون شہادت کے بجائے برطانوی دور کا قانون شہادت بحال کیا جائے۔
- ...... قحبہ گری کرنے والی خواتین کے بارے میں کمیشن کی رائے ہے کہ وہ مجرم نہیں ہوتیں
بلکہ معاشرے کے ظلم اور جبر کا نتیجہ ہیں۔ ان کی بحالی اور تحفظ کے لیے انتظامات ہونا چاہئیں۔ اس سلسلے میں معاشی اخراجات اُن افراد پر ڈالے جانے چاہئیں جو ان سے یہ پیشہ کراتے ہیں۔ (ان کے لیے بھی کسی سزا کی تجویز نہیں)
- ...... فیملی پلاننگ کے لیے عورت کو غیر مشروط حق دینے کی سفارش کی گئی ہے اس معاملہ میں
کسی بھی طریقہ کے استعمال یا نس بندی کے لیے وہ شوہر کی اجازت کی پابند نہ ہو بلکہ تین یا اس سے کم بچوں کی پیدائش کی صورت میں اسے مراعات دی جانی چاہئیں...... حمل کے بعد ۱۲۰ دن تک اسقاط حمل کا غیر مشروط حق حاصل ہونا چاہیے اور اس کے لیے عورت کو کسی عدالت ہیلتھ اتھارٹی یا شوہر کی اجازت کی ضرورت نہ ہو۔ اس عرصہ کے بعد بھی اگر عورت کسی مرحلہ پر کسی وجہ سے (بالخصوص اگر حمل زنا کے باعث ہو) حمل ختم کروانا چاہے تو اسے اس کی سہولت دی جانی چاہیے۔
- ...... ان غیر سرکاری رضا کار تنظیموں کی مزید دلچسپی غیر مسلموں کے لیے مراعات کے حصول
میں ہے اس مقصد کے لیے وہ مخلوط انتخابات کی حمایت کرتی ہیں اور قانون رسالت کے خاتمے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔
- ...... رفاہی کاموں کے لیے رضا کارانہ مساعی اسلامی معاشرے کے لیے کوئی نیا کام نہیں
ہے۔ اسلام کی ابتدا ہی سے اسلام میں اوقاف کا نظام قائم رہا ہے بلکہ عظیم الشان مسلم سلطنتوں میں بھی تعلیم، صحت اور کئی دوسرے امور بڑے بڑے اوقاف کی زیر نگرانی ہی چلا کرتے تھے۔ کمزور اور مظلوم طبقات کو انصاف کی فراہمی ہمیشہ مفت رہی، یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے اور کئی ادارے خفیہ اور کھلے طریقہ سے کمزور افراد کی مدد انفرادی اور اجتماعی سطح پر کرتے ہیں لیکن بیرونی سرمایہ سے چلنے والی Feminist تنظیموں کا مقصد سوائے مخلوط اور آزاد جنسی ماحول کے قیام اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے ذرائع کی فراہمی کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ ان کی تگ و دو کا حاصل محض یہ نکلا کہ مرضی کی شادی کرنے یا خفیہ تعلقات رکھنے والے جوڑوں کے کیس عدالتوں میں اچھالے گئے تاکہ قائم معاشرتی سیٹ اپ متاثر ہو ان کیسز میں سامنے آنے والے جوڑوں کو مغربی ممالک کی آغوش میں پہنچانے کے لیے سمگل کیا گیا۔
- ...... بچوں سے مشقت (Child Labour) کے نام پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے بیرون
ممالک پاکستان کی برآمدات کو نقصان پہنچایا گیا۔
- ...... غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کے نام پر توہین رسالت کے مرتکب افراد کو مظلوم قرار
دے کر انہیں مغربی ممالک میں پناہ دلوائی گئی جبکہ ان کے اشتعال انگیز طرز عمل سے پیدا ہونے والے اکثریتی آبادی کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا بلکہ اسے متعصبانہ قرار دیا گیا۔ قانون رسالت کے خلاف بے بنیاد اور غلط پروپیگنڈے کرتے ہوئے پاکستان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی جہاں اقلیتوں سے ناروا اور ظالمانہ سلوک ہوتا ہے۔
امن کے نام پر پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی پروگراموں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے دفاعی بجٹ کو گھٹانے اور ہندوستان کے ساتھ دوستی کے فروغ کے لیے جدوجہد کی گئی بلکہ قیام پاکستان کو غلط قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کو تقسیم کرنے والی لائن دلوں کو ختم کرنے والی ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ مظلوموں کی حمایت کی دعوے دار ان تنظیموں کی طرف سے آج تک کشمیر، فلسطین، بوسنیا، کوسوو، چیچنیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام، امریکہ اور یورپ میں مسلمان افراد اور ان کی عبادت گاہوں کو جلانے اور نقصان پہنچانے والی کارروائیوں اور اس سودی معیشت کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا جس نے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور اس کے باعث اس وقت ہمارے بجٹ کا ۶۰ فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگیوں میں صرف ہو رہا ہے۔
ان تنظیموں کی تمام تگ و دو میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، دوسری بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے ادارے ان کے پشت پناہ نظر آتے ہیں، یورپی اور امریکی نشریاتی ادارے ان کے مقاصد کو اُجاگر کرنے اور پھیلانے میں ان کے معاون بلکہ رہنما ہوتے ہیں۔
افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ایسی این جی اوز کی مسلم معاشرہ میں کوئی کمی نہیں جو بڑے خلوص سے معاشرتی بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے لیے صحت اور تعلیم و تربیت کی سہولتیں بھی بڑے موثر انداز میں فراہم کی جا رہی ہیں لیکن مذکورہ بالا این جی اوز کی سرگرمیوں اور ریشہ دوانیوں سے مسلم معاشرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے موثر اور منظم جدوجہد نہایت قلیل ہے۔ ان این جی اوز کا خصوصی ہدف ہماری معاشرت ہے جسے مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی یہ ساری جدوجہد ہے۔ ہمارے معاشرے میں غیر اسلامی اور جاہلانہ چھاپ موجود ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے معاشرے میں غیر اسلامی اقدار و روایات کو نکالنے اور اسلام کے سماجی انصاف کو رواج دینے کی جدوجہد کرتے تاکہ ہر فرد کو اسلام دیئے ہوئے حقوق حاصل ہو سکتے۔ لیکن یہ نام نہاد تنظیمیں جنہیں حکومتی اور مغربی پشت پناہی حاصل ہے، بنیادی انسانی حقوق کے نام پر آزاد جنسی معاشرہ تشکیل دینے کی تگ و دو میں ہیں تا کہ مغربی سٹائل اور تہذیب کو پوری دنیا پر اجارہ داری اور غلبہ حاصل ہو۔ یوں فی الواقع یہ ساری کوشش مغربی تہذیب کے غلبہ اور Unipolar سسٹم کے قیام کی تگ و دو ہے۔
این جی ا
تاریخ شاہد ہے کہ کفر و کے ساتھ حق و صداقت کے خلاف تنظیمیں (Organizations ہیں اور ان کی جڑیں تقریباً ہر مسلم مخصوص اور منفی مفادات کی تکمیل ک بینک جیسے ادارے ان کی پشت پنا کھلے عام انہیں تحفظ بھی فراہم کر پبلسٹی بھی کی جاتی ہے۔ چنانچہ این دیگر مراعات کے علاوہ کروڑوں اور ایجنڈا دے دیتی ہیں جن کے مطابق خواتین کی ترقی و خوشحالی کے لیے سرگرم پاکستان میں ان دنوں ا چکی ہیں۔ باوثوق اور مستند ذرائع کے پر چلنے والی ایک درجن کے قریب اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ بعض ہیں۔ الغرض بیوروکریسی سے ل لیگ) سے لے کر اہم ریاستی مناصب پروپیگنڈہ مہمات میں مصروف ہ گھریلو خواتین این جی اوز چلاتی ہ تمام معاملات کے لیے پوری طرح ٹاؤن کے علاقے کو اپنا گڑھ بناد (Organization، جس کے سربر
مسز تنویر ندیم
این جی اوز اور ان کی سرگرمیاں
تاریخ شاہد ہے کہ کفر و طاغوت کی طاقتیں ہمیشہ سے اور ہر دور میں نت نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ حق و صداقت کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں۔ آج کی نام نہاد این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں (Non-Government Organizations) در حقیقت ان ہی باطل قوتوں کی آلہ کار ہیں اور ان کی جڑیں تقریباً ہر مسلم ملک میں موجود ہیں۔ تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اپنے مخصوص اور منفی مفادات کی تکمیل کے لیے بیرونی طاقتیں بشمول اقوام متحدہ‘ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ورلڈ بینک جیسے ادارے ان کی پشت پناہی کرتے ہیں حتیٰ کہ ملک میں موجود بڑی طاقتوں کے سفارت کار کھلے عام انہیں تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ذریعے ان کی ترویج اور پبلیسٹی بھی کی جاتی ہے۔ چنانچہ این جی اوز سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ طاقتیں ان کو دیگر مراعات کے علاوہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز مہیا کرتی ہیں اور ساتھ ہی ان کو ایک مخصوص ایجنڈا دے دیتی ہیں جن کے مطابق وہ کام کرتی ہیں جبکہ بظاہر وہ انسانی حقوق‘ آزادی نسواں اور خواتین کی ترقی و خوشحالی کے لیے سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں۔
پاکستان میں ان دنوں ایسی این جی اوز کی منفی سرگرمیاں خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکی ہیں۔ باوثوق اور مستند ذرائع کے مطابق ہمارے ملک میں صرف اور صرف مغربی امداد اور اشاروں پر چلنے والی ایک درجن کے قریب این جی اوز ایسی ہیں جن کے نمائندے اہم حکومتی عہدوں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ نیشنل سیکورٹی کونسل میں نہ صرف شامل ہیں بلکہ ان کے کرتا دھرتا بھی وہی ہیں۔ الغرض بیورو کریسی سے لے کر صحافت اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ) سے لے کر اہم ریاستی مناصب (وزیر‘ مشیر) تک ہر جگہ ان کے ایجنٹ ملک و دین کے خلاف پروپیگنڈہ مہمات میں مصروف ہیں۔ اسلام آباد میں ہر تیسرے اور چوتھے بیورو کریٹ (افسر) کی گھریلو خواتین این جی اوز چلاتی ہیں اور وہ بیورو کریٹ اپنے سرکاری عہدے کو اپنی این جی اوز کے تمام معاملات کے لیے پوری طرح استعمال کرتے ہیں۔ لاہور میں مصروف این جی اوز نے گارڈن ٹاؤن کے علاقے کو اپنا گڑھ بنا رکھا ہے۔ مثلاً S.P.O (Strengthening Participatory Organization) جس کے سربراہ جاوید جبار ہیں کے دفاتر بھی یہاں ہیں۔ عورتوں کے حقوق کے
نام پر کام کرنے والی معروف این جی اوز ”شرکت گاہ“ نے بھی کچھ عرصہ پہلے اپنا ہیڈ کوارٹر اسی علاقے میں منتقل کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنے دفاتر میں انتہائی عیش پرستانہ اور آزادانہ ماحول قائم کر رکھا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کہنے کو یہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں مگر عوام تو ایک طرف یہ این جی اوز اور صحافیوں اور سوشل ڈیپارٹمنٹ کی خاتون افسروں تک کو اپنے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں، مبادا کہ ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کا پول نہ کھل جائے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی این جی اوز کو ہر سال تین ارب روپے کے لگ بھگ فنڈز ملتے ہیں جس کا یہ کثیر حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ این جی اوز کی اکثریت کے مرد حضرات کو قریب سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی 90 فیصد اکثریت سیکولر، بے دین اور نام نہاد ترقی پسند ذہن کی مالک ہے۔ این جی اوز سے متعلق ایک معروف صحافی کا تجربہ بالکل درست ہے کہ فلاح و بہبود تو محض ایک دکھاوا ہے، اصل میں ان این جی اوز کا بنیادی مقصد پاکستان جیسے اسلامی ملک میں لادینیت اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا ہے۔
- ☆...... تمام این جی اوز کا سب سے پہلا اور بنیادی ہدف تو یہی ہوتا ہے کہ وہ اسلامی
ممالک بالخصوص پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں اسلامی تعلیمات اور اقدار و روایات کی نفی کرتے ہوئے مغربی افکار و نظریات کو فروغ دیں اور یوں ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو مغربی قالب میں ڈھالنے کی سعی کریں۔
- ☆...... چند این جی اوز کا اصل مقصد ہی نیم خواندہ اور بے علم مسلمانوں کو اس بنیاد پر گمراہ
کرنا ہے کہ قرآن (استغفر اللہ) چودہ سو سال پرانی کتاب ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہو چکا ہے۔ لہٰذا قرآن و سنت کو بالائے طاق رکھ کر انجیل یا زبور جیسی آسمانی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے جن میں بقول ان کے ہر دور میں وقت و حالات کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی و ترمیم ہوتی رہتی ہے۔
- ☆...... کچھ این جی اوز اسلامی تعلیمات میں ابہام پیدا کر کے بڑی شدومد کے ساتھ
سادہ اور غافل مسلمانوں کو شعائر اسلام سے بدظن کرتی اور عیسائیت کا پرچار کرتی ہیں۔ یہ این جی اوز اکثر و بیشتر مسلمانوں کی غربت اور بے بسی سے فائدہ اٹھا کر انہیں پیسے کے بل بوتے پر بھی عیسائی بنا رہی ہیں۔ (باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان کی بہت سی پیدائشی مسلمان نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ان این جی اوز کے ہاتھوں عیسائی مذہب میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں پچاس ہزار سے زائد مسلمان عیسائیت قبول کر چکے ہیں اور اب افغانستان کے اندر اور پاکستان میں موجود افغان بستیوں میں بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے)
- ☆...... کچھ این جی اوز آزادی نسواں کے دلفریب نعرے کے ساتھ مادر پدر آزاد
معاشرے کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ جدید تعلیم و تربیت کی آڑ میں نئی
نسل کے اندر اس طرح کا شر اور فساد پیدا کر رہی ہیں کہ وہ اسلام اور والدین سے باغی ہو کر جو جی میں آئے، کرتے پھریں۔ انہیں روکنا یا ٹوکنا خلاف تہذیب اور ان کے ذاتی حقوق میں بے جا مداخلت متصور ہو۔
اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دینا، خاندان سے بغاوت اور کورٹ میرج کرنا ان کے پسندیدہ موضوعات ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں این جی اوز اور تحفظ نسواں کے نام پر گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی پشت پناہی کرتی، میڈیا کے ذریعے ان کی عزتوں کو سر عام اُچھالتی اور لڑکے اور لڑکی کے آزادانہ میل ملاپ اور دوستی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور بوقتِ ضرورت قانونی تحفظ بھی فراہم کرتی ہیں۔
- ٭...... بعض این جی اوز پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے اور کرپٹ ظاہر کرنے کے
لیے سیاسی، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں جان بوجھ کر منفی رپورٹس تیار کر کے اندرونی و بیرونی ذرائع ابلاغ کو فراہم کرتی ہیں۔
- ٭...... کچھ این جی اوز دو قومی نظریے پر قائم ہونے والی اس مملکتِ خداداد کی اسلامی
نظریاتی اساس کے خلاف بھی کام کر رہی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر انہی این جی اوز کی آلہ کار ہے جس نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے سامنے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں اسلام کو متنازعہ بنا کر پیش کیا۔
مسلم ممالک میں مسلمان عورتوں پر ظلم و ستم کی بے بنیاد داستانیں پوری دنیا تک پہنچانا اور اس کے لیے صرف اور صرف مذہب اسلام کو ذمہ دار ٹھہرانا تو این جی اوز کی پرانی پراپیگنڈہ مہم ہی کا حصہ ہے۔
- ٭...... حقوق نسواں اور آزادیِ خواتین کی علمبردار این جی اوز کی اکثریت غریب، پسماندہ،
پریشان حال اور بے سہارا خواتین کی مجبوریوں سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ بظاہر ان کی غم گسار اور خیر خواہ بن کر انہیں شوہروں اور خاندانی نظامِ زندگی سے بغاوت پر اُکساتی ہیں۔
ان این جی اوز نے ایسی خواتین کو ایسے ایسے سبق پڑھائے کہ گھروں کے گھر اُجڑ کر رہ گئے حتیٰ کہ بعض خواتین کو تو انہوں نے پیسے، شہرت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی چمک سے اتنا اندھا کر دیا کہ وہ اپنے روایتی حیا و تقدس کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سرِ بازار بکنے کو بھی تیار ہوگئیں۔ آج کل ان این جی اوز کا نشانہ بلوچستان، سندھ اور سرحد کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے ہیں جہاں عوام کی مجبوری و بے بسی کا ناجائز فائدہ اُٹھایا جارہا ہے۔
- ٭...... عوام کے اندر انتشار پیدا کرنے، خوف و ہراس پھیلانے اور حکومتوں کو غیر مؤثر اور
غیر مستحکم کرنے کے لیے بعض این جی اوز کا کردار ہمیشہ سے بہت اہم رہا ہے۔ مثلاً عوام کو ایک
دوسرے کے خلاف اور حکومتوں کے خلاف کرنے کے لیے فسادات کا سلسلہ شروع کراتی ہیں، خود ہی تخریب کاری کروا کر پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے والی طاقتوں کی بھر پور معاونت بھی کرتی ہیں۔ بعد ازاں اس حوالے سے ایسی ایسی بے بنیاد رپورٹس مرتب کر کے بیرونی طاقتوں کو بھجواتی ہیں کہ ملک وقوم کے لیے مشکلات اور پابندیوں کا دَور شروع ہو جاتا ہے۔
- ☆...... کچھ این جی اوز بعض قومی اور علاقائی تنظیموں کو باقاعدہ فنڈز مہیا کرتی ہیں کہ وہ ہر
ممکن طریقے سے فرقہ واریت کو ہوا دیں تا کہ ملک وقوم انتشار و پریشانی کا شکار ہو۔
- ☆...... بعض این جی اوز ملک میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات کرانا چاہتی
ہیں اور بعض اسماعیلی فرقے کے ساتھ مل کر الگ سٹیٹ بنانے کے منصوبے پر بھی عمل کر رہی ہیں۔
- ☆...... بعض این جی اوز یہودی لابی کے تحت بھی مصروف عمل ہیں۔ اکثر و بیشتر اقلیتوں
کے لیے بے چینی کا اظہار کرنا اور قانونِ تحفظِ رسالت کے طے شدہ اور حساس معاملے کو چھیڑنا انہی این جی اوز کا کارنامہ رہا ہے۔
- ☆...... بعض این جی اوز بڑی طاقتوں کی شہ پر حکومتوں کو بلیک میل کرنے اور دباؤ ڈالنے
کا کام بھی مسلسل سرانجام دیتی رہتی ہیں۔
- ☆...... بعض این جی اوز افواج پاکستان اور ملکی سالمیت کے خلاف سازشوں کی بھی
زبردست آلہ کار ہیں۔ ان میں بعض ایٹمی پروگرام کے خلاف ہیں اور بعض تو پاکستانی فوج کو ہی غیر ضروری سمجھتی اور اسے ختم کرنے کی ناپاک خواہش رکھتی ہیں۔ (ایٹم بم کے خلاف احتجاج کے طور پر عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر بنانا اور سوگ منانا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں)
- ☆...... حد یہ ہے کہ بعض این جی اوز تو ملک وقوم کے خلاف جاسوسی کا فریضہ بھی بڑی
جانفشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں۔
- ☆...... اپنے اثر ورسوخ کے بل بوتے پر اب تو بعض این جی اوز تعلیمی نصاب تک میں
دخل اندازی کر رہی ہیں تاکہ ان کے مذموم مقاصد پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔
دراصل این جی اوز کے مطالبہ پر ہی ضلعی حکومتوں میں خواتین کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پھر ٹی وی پر بھی جو حکومتوں کی سرپرستی میں فحاشی و بے حیائی کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور مخلوط پروگراموں کے ذریعے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے اخلاق بگاڑے جا رہے ہیں، ایسے فحش پروگراموں کے پیچھے بھی این جی اوز کی ذہنیت کار فرما ہے۔
بہر حال یہ انتہائی دُکھ اور تشویش کا مقام ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرزمین پر ایسا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔
بہر حال لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لیے۔ آخر کب تک ہم اور ہماری حکومتیں اپنی آستینوں میں سانپ پالتی رہیں گی؟ کب تک محتاط رویوں اور غیر ضروری مصلحتوں کا شکار رہیں گی۔ آج تو پھر
بھی کچھ چانسز ہیں، کہیں ہمارا حشر بھی سامنے اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ چند سا قواعد وضوابط مرتب کرنے کی کوشش کی تو جمع ہو کر کاروبارِ مملکت جام کر دیا۔ نتیجتاً کہیں ایسا نہ ہو کہ پانی ہمارے جائیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ ا جی اوز بھی خلافِ ملک سرگرمیوں میں ملو کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں علمائے کرام اور دینی جماع رکھیں اور عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم کے تا کہ این جی اوز کے لیے ان نیک کام اسی میں ملک وقوم کی بقاء وسلامتی مضمر
بھی کچھ چانسز ہیں، کہیں ہمارا حشر بھی بنگلہ دیش کی طرح نہ ہو جائے جہاں کی حکومت این جی اوز کے سامنے اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ چند سال پہلے جب بنگلہ دیش کی حکومت نے این جی اوز کے لیے قواعد وضوابط مرتب کرنے کی کوشش کی تو ایک لاکھ سے زائد این جی اوز کے کارکنان نے ڈھاکہ میں جمع ہو کر کاروبار مملکت جام کر دیا۔ نتیجتاً حکومت خود ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ پانی ہمارے سروں سے بھی اونچا ہو جائے اور ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور جو این جی اوز بھی خلاف ملک سرگرمیوں میں ملوث پائی جائیں ان پر نہ صرف پابندی عائد کی جائے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔
علمائے کرام اور دینی جماعتوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ این جی اوز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم کے فروغ اور غربت کے خاتمے کے لیے میدانِ عمل میں اتریں تا کہ این جی اوز کے لیے ان نیک کاموں کی آڑ میں کوئی گھناؤنا کردار ادا کرنا ممکن نہ رہے۔ بے شک اسی میں ملک وقوم کی بقاء وسلامتی مضمر ہے۔
٭ ٭ ٭
عظیم ایم میاں
خواتین عالمی کانفرنس، پس پردہ حقائق
اقوام متحدہ نے ۵ تا ۱۰ جون ”خواتین ۲۰۰۰ء امن اور ترقی“ کے عنوان سے جنرل اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ ۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی اس کا مقصد تھا، اس لیے اسے بیجنگ +5 کا نام دیا گیا تھا۔ یہ کانفرنس اس لحاظ سے ایک انتہائی مشکل اور اہم عالمی کانفرنس تھی کہ اپنی موجودہ مادی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل مغرب ساری دنیا کی ثقافتوں اور روایات کو ختم کر کے اپنے کلچر میں ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ کانفرنس بھی نئی صدی میں مختلف ثقافتوں والی دنیا کو ایک گلوبل کلچر کے تحت لانے کی کوشش تھی اور یہ کلچر مغربی کلچر اور اس کی روایات ہوں۔ اس کے لیے وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مذاہب، خاندان اور روایات میں بھی اگر تبدیلیاں لانا پڑیں تو وہ بھی لائی جائیں۔ بیجنگ میں ۱۹۹۵ء میں ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس میں جو فیصلے ہوئے تھے پانچ سال بعد ان فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ خصوصی اجلاس منعقد کیا تھا مگر جائزے اور عملدرآمد کا مقصد تو کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد اور جائزہ محدود رکھنا ہوتا ہے لیکن اس کانفرنس میں تو مغربی ممالک نے ایسے مسائل بھی پیش کر دیئے جن کے بارے میں بیجنگ میں نہ تو کوئی ذکر تھا اور نہ ہی اس بارے میں فیصلہ ہوا تھا۔ آج کی دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مغربی میڈیا کا یہ اعجاز ہے کہ جب چاہیں تو غلط سے غلط تر موقف کو بھی ایک اچھے اور معقول روپ میں پیش کر سکتے ہیں اور چھوٹے ممالک بلاجواز بھی معذرت خواہی اور دفاع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ۵ تا ۱۰ جون اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی اسی انداز کا ایک اجلاس تھا۔
پاکستان نے بھی سرکاری طور پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے وفاقی وزیر تعلیم زبیدہ جلال کی قیادت میں ایک وفد بھیجا جس کی تمام اراکین خواتین تھیں۔ وفد میں سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد کی صوبائی خواتین وزراء بیرسٹر شاہدہ جمیل، شاہین عتیق الرحمٰن اور شاہین سردار بھی شامل تھیں۔ ان کے علاوہ اداکارہ ثمینہ پیرزادہ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی یاسمین راشد، فرسٹ ویمن بینک کی زرینہ وہاب، صادقہ صلاح الدین، پروین مگسی، نرگس زیدی اور دیگر خواتین بھی شامل تھیں۔ اس سرکاری وفد کے علاوہ پاکستان سے این جی اوز کی نمائندہ خواتین کی بھی ایک خاصی بڑی تعداد اقوام متحدہ کے اجلاس
میں شرکت کے لیے پہنچی ہوئی تھی چونکہ صرف چار یا پانچ خواتین ذاتی خرچ سے اقوام متحدہ آئی تھیں اور بقیہ تمام کے ٹکٹ اور خرچ ”غیبی قوت“ نے ادا کیے تھے لہٰذا بہت سی پاکستانی خواتین نیویارک پہنچ کر صرف اقوام متحدہ کے کیفے ٹیریا میں ایک دو مرتبہ خوش گپیوں میں مصروف دیکھی گئیں اور پھر اس کے بعد کسی مذاکرے، مباحثے، گروپ میٹنگ میں شریک نہیں دیکھی گئیں۔ سرکاری وفد میں شامل تینوں صوبائی وزراء ثمینہ پیرزادہ، بشریٰ گوہر، پروین مگسی، یاسمین راشد، صادقہ صلاح الدین نے خاصی محنت کی۔ توجہ اور دلچسپی کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں شرکت کی اور طویل اجلاسوں میں بھی ثابت قدمی دکھائی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کی غرض و غایت اور ایجنڈا یہ تھا کہ دنیا کی معیشت اور مواصلات کو گلوبلائزیشن کے احاطہ میں لانے کے بعد اب مغرب کی برتر قوتیں اپنی سوچ، روایات اور طرزِ بود و باش پر مبنی ایک گلوبل کلچر رائج کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مادی برتری کے باعث وہ اپنے کلچر اور بود و باش کو بھی سب سے بہتر و برتر ہونے کے احساس میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا وہ کسی دوسرے کلچر کی مثبت روایات کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں جبکہ اپنی بود و باش کے ان طریقوں کو بھی آزادی کے عنوان سے دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً وہ لڑکیوں کی کم عمر میں شادی کو دنیا بھر میں ممنوع قرار دینا چاہتے ہیں مگر کم عمر بچیوں کو شادی کے بغیر جنسی تعلقات کو ممنوع یا اس کی روک تھام کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں کہ یہ انفرادی آزادی کے خلاف بات ہوگی۔ وہ کم عمر بن بیاہی ماؤں اور ان کے بچوں کے مسائل کے ہاتھوں پریشان ہیں مگر وہ ان معاشروں کو بھی پندرہ یا سولہ سال کی عمر میں بچیوں کی شادی کرنے کو جرم قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ جہاں گرم مرطوب آب و ہوا ہے اور والدین بچیوں کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے کم عمر میں شادی کر کے انہیں خاندانی زندگی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ ہاں یہ بات غلط ہوگی کہ اگر کمسن نابالغ بچیوں کو کسی ایسے بندھن میں باندھا جائے۔ وہ دنیا کے پسماندہ علاقوں میں قحط سالی اور بھوک پیاس کی شکار خواتین کو صحت مند غذا، آسودگی اور تعلیم کی فراہمی کو ترجیح دینے کے بجائے عورتوں کی جنسی آزادی کو اولیت دے رہے ہیں جس سے غریب اور غیر تعلیم یافتہ عورتوں کی زندگی پر کوئی بہتر اثر پڑے۔ افریقہ اور ایشیا میں جہالت، غربت اور مصائب کی شکار کئی سو ملین عورتوں کو اگر تعلیم اور معاشی خود کفالت مل جائے تو حقوق نسواں کی حالت خود بخود بہتر ہو جائے گی۔ مگر اہل مغرب کو تو ہم جنس پرست ہونے کی آزادی کی فکر ہے جبکہ غریب عورت یا مرد کو اس سے زیادہ فکر تو روٹی حاصل کرنے کی ہے۔ بہرحال مذکورہ بالا امور ہی اس خصوصی اجلاس کا ایجنڈا تھے۔ ۲۴۰ پیراگرافوں پر مشتمل ایک دستاویز کو بطور قرارداد جنرل اسمبلی سے منظور کروا کر اسے عالمی سطح پر نافذ کرانے کا پروگرام تھا، اس دستاویز کا سب سے کلیدی لفظ جنسی حقوق اور جنسی انداز کی آزادی یعنی ہم جنس پرستی کی آزادی کی ضمانت تھے اور اسی انداز کے مطالبے تھے، اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ کم عمر میں شادی اور بیک وقت ایک سے زائد
عورتوں سے شادیاں ایڈز کے مرض کو پھیلانے کا کام کرتی ہیں جبکہ حقائق یہ ہیں کہ آزادانہ جنسی میل ملاپ اور عصمت فروشی ایڈز کے مرض کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔
دراصل جنرل اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس کا مقصد بیجنگ کانفرنس کے پانچ سال بعد اس کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر کیے گئے عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا مگر یورپی ممالک اور امریکہ نے جنرل اسمبلی کے لیے مسودہ قرارداد میں بعض ایسی تجاویز شامل کر دی تھیں جو بیجنگ کانفرنس کے فیصلوں میں کہیں بھی موجود نہیں تھیں، ان نئے غیر متعلقہ اور زائد از ایجنڈا امور میں ہم جنس پرست مردوں اور ہم جنس پرست عورتوں کو آزادی، بلا جواز اسقاط حمل کی آزادی، بیک وقت ایک سے زائد شادیوں پر پابندی، عصمت فروشی کی آزادی اور بہت سے ایسے امور شامل تھے جن کا تعلق مذہبی تعلیمات اور مقامی روایات سے ہے مگر ان تمام حقائق سے بے نیاز یورپی ممالک نے ایسے پیراگراف شامل کر رکھے تھے کہ جو مغربی کلچر اور بود و باش کو عورتوں کے حقوق کا نام دے کر تمام دنیا کے ممالک سے تسلیم کروا کر عالمی حیثیت دینا چاہتے تھے تاکہ دنیا میں صرف ایک کلچر قائم ہو جائے۔
جب پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے اعتراضات کیے تو پاکستان، سوڈان، ایران کو رکاوٹ کھڑی کرنے والے ممالک (Obstructionist) کہہ کر عالمی سطح پر بدنام کرنے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی جب پاکستان نے انتہائی ذہانت اور سفارت کاری کے ذریعے اس مسودہ کی خامیوں کی نشاندہی کر کے اسے بیجنگ کے فیصلوں سے انحراف بلکہ متضاد قرار دیا تو اسی روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کر کے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو رکاوٹیں کھڑی کرنے والے ممالک قرار دیا جبکہ اقوام متحدہ میں سفارتی دباؤ بھی عروج پر پہنچ گیا۔ چونکہ اس مسودہ کی منظوری اتفاق رائے سے ہونا تھی، اس لیے یورپی ممالک کے لیے کوئی راستہ نہ تھا۔ اگر ۵۱ فیصد ووٹوں کی معمولی اکثریت سے فیصلہ کرنا ہوتا تو زبردست دباؤ استعمال کر کے اہل مغرب اپنے حق میں فیصلہ لے چکے ہوتے۔
یورپی ممالک کا خیال تھا کہ جنرل اسمبلی کا اجلاس ۹ جون کو ختم ہونے سے قبل وہ جلدی جلدی کر کے وقت کی کمی کے باعث اپنی مرضی کا مسودہ منظور کروا لیں گے۔ پاکستان اور دیگر ممالک دباؤ اور مسودہ کی عدم منظوری کی ذمہ داری سے عالمی سطح پر بچنے کے لیے تعاون پر مجبور ہو جائیں گے لیکن جنرل اسمبلی کا پانچ روزہ خصوصی اجلاس شروع ہونے کے دو روز بعد بھی جب پاکستان اور اس کے حامی اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو پھر دباؤ مزید بڑھا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مسودہ کی عدم منظوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے منظور کیا جانا چاہیے جبکہ اس سے قبل بھی متعدد ایسے مسودات تھے جو آخر وقت تک منظور نہیں ہوئے لیکن سیکرٹری جنرل خاموش رہے ہیں۔ جب اس سے بھی کام نہ بنا تو پھر پاکستانی سفیر پر براہ راست دباؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اقوام متحدہ میں پاپولیشن فنڈ کی سربراہ ڈاکٹر نفیسہ صادق (قادیانی) کو متحرک کیا گیا۔ انہوں نے
علی الاعلان مطالبہ کیا کہ اس مسودہ کو جوں کا توں ہی منظور کیا جائے اور اسلامی روایات اور مسلم معاشرہ کی فکر فرسودہ ہے۔
جب اس سے بھی بات نہ بنی اور مسودہ کے ۲۴۰ میں سے ۱۹۳ پیراگراف کی منظوری کے بعد پیش رفت نہ ہو سکی اور جنرل اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے میں ایک روز رہ گیا اور رات گئے تک کمیٹی کے اجلاس میں بھی صورتحال نہ بدل سکی تو پھر ایک اور چال چلی گئی۔ ۸ اور ۹ جون کی درمیانی شب کمیٹی کے اجلاس میں وزیٹرز گیلری میں نہ جانے کیسے اور کہاں سے ہم جنس پرستی کے حامی لال ٹی شرٹس اور اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کے مخالفین پیلی ٹی شرٹس میں گھس آئے یا لائے گئے گو کہ سکیورٹی انتظامات سخت ہونے کے باعث کئی سال سے وزیٹرز گیلری میں عوام کا داخلہ بند ہو چکا ہے اس لیے امکان ہے کہ مختلف این جی اوز کے روپ میں اقوام متحدہ میں داخلے کا پاس حاصل کرنے والے افراد نے بعض مغربی ممالک کے اشارے پر کیا دونوں گروپوں نے اقوام متحدہ کی بلڈنگ کے اندر ہی اجلاس کے خاتمے پر ریفریشمنٹ کے انتظامات بھی کر رکھے تھے۔ یہ سارا ڈرامہ دراصل مغربی ممالک کی داخلی سیاست کے تقاضوں کے تحت اپنے ووٹروں کو مطمئن کرنے کے لیے رچایا گیا تھا۔
مسلم ممالک اس سیاسی ڈرامہ کو بھانپ گئے اور دباؤ کی اس کوشش کے جواب میں پاکستانی نمائندے منور بھٹی نے بھی ایک پُر جوش مگر مدلل تقریر کی کہ یہ تمام مطالبات نہ تو بیجنگ کے فیصلوں کا حصہ ہیں اور نہ ہی بیجنگ کانفرنس میں مختلف کلچرز مذہب اور اقدار کے لیے اظہار کردہ احترام کے مطابق ہیں بلکہ دیگر ثقافتوں کو گھٹیا قرار دے کر ایک مخصوص اور مغربی کلچر کی اقدار کو ساری دنیا پر مسلط کرنے کا منصوبہ ہے اور اگر گیلری میں اس طرح کا سیاسی اور غیر سنجیدہ ماحول برقرار رکھا گیا تو وہ قاعدہ کے تحت گیلریاں خالی کرانے اور بند اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کر دیں گے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ وہ اب کسی ورکنگ گروپ میں کام کرنے کی بجائے ۱۸۵ ممالک کی اس کمیٹی کے علاوہ اس مسودہ پر کہیں اور شرکت نہیں کریں گے۔
مصر کی نمائندہ خاتون وزیر نے بھی ماحول کو غیر سنجیدہ قرار دے کر کہا کہ اس قدر اہم اور سنجیدہ امور پر اس قدر غیر سنجیدگی مناسب نہیں اور اگر مغربی ممالک مسودہ کی منظوری نہیں چاہتے تو پھر مصر کو بھی پروا نہیں۔ ہم بھی جنرل اسمبلی کا اجلاس کسی مسودہ کی منظوری کے بغیر یہیں ختم ہونے کی پرواہ نہیں کریں گے دباؤ کی پالیسی یورپی ممالک کو ختم کرنا ہو گی۔ ان دو تقریروں کے بعد اہل مغرب اور عالمی برادری کو اندازہ ہو گیا کہ مسلم ممالک دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ اب ماحول بھی سنجیدہ ہو گیا اور کمیٹی کا اجلاس بھی رات بھر جاری رکھا گیا تا کہ کام ختم کیا جا سکے مگر کوشش رہی کہ وقت کی کمی کا فائدہ اُٹھا کر بقیہ پیراگراف تبدیلیوں کے بغیر ہی منظور کرا لیے جائیں مگر پاکستان اور مسلم ممالک نے ایک موقف اختیار کر لیا کہ جو بات بیجنگ کانفرنس میں طے نہیں ہوئی، اس کے بارے میں نہ تو کوئی فیصلہ کیا جائے اور نہ ہی مسودہ میں اس کا ذکر ہو کیونکہ یہ اجلاس بیجنگ کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے
کے لیے اس سخت موقف کے باعث کمیٹی کا اجلاس 9 جون کے روز بھی جاری رہا۔ حتیٰ کہ ۱۰ جون شروع ہوگئی۔ رات بھر اجلاس جاری رہا اور صبح چار بجے تک کام اور کمیٹی کی منظوری کا کام مکمل ہوا۔ وہ تمام پیرا گراف نکالے گئے جو بیجنگ کانفرنس کا حصہ نہیں تھے۔ ۹ جون کو جنرل اسمبلی کا اجلاس ختم کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کا کلاک روک کر اجلاس کو ۱۰ جون سہ پہر تک بڑھایا گیا اور پھر مسودہ قرار داد منظور ہوا۔
”سیکولرازم“ حقیقتاً ایک مفروضہ اور سیاسی حربہ ہے جو مغربی تہذیب اپنے مفاد ، اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے حسب ضرورت استعمال کرتی ہے اور ہمارے نام نہاد دانشور اور مغربی افکار و نظریات سے متاثر طبقہ اس کے ہم نوا بن جاتے ہیں اور جو طبقہ یا افراد ”سیکولرازم“ کو تسلیم نہیں کرتا ان کو ”بنیاد پرست“ کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے۔ دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے مغرب میں کوئی بھی حقیقتاً ”سیکولر“ نہیں ہے! ۱۱ ستمبر کے واقعہ کے بعد سے یورپ اور امریکہ مسلمانوں کے ساتھ جو ”خصوصی امتیازی سلوک“ ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟ مغرب کے ذرائع ابلاغ میں ”صیہونی دہشت گرد“ ، ”کیتھولک دہشت گرد“ یا ”ہندو دہشت گرد“ کی اصطلاح سننے اور دیکھنے میں نہیں آتی۔ 15 ویں صدی کے اسپین میں مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ جس ظلم و فرعونیت کا سلوک ہوا کیا وہ ”سیکولر“ تھا؟ جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا کیا وہ ”سیکولر“ تھا۔ حال میں بوسنیا‘ کوسوو اور چیچنیا میں جو کچھ ہوا کیا وہ ”سیکولرازم“ کے زمرہ میں آتا ہے؟ ان کا قتل عام اور نسل کشی اس لیے کی گئی کہ وہ مسلمان تھے نہ کہ نسل کی بنیاد پر۔ ”صلیبی“ جنگوں کو مغرب نے Crusade کا نام دیا جب کہ اس دور کے مسلمان مورخین نے ان کو ”فرنگیوں کی جنگ“ لکھا ہے۔ امریکہ کے صدر بش نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو برملا "Crusade" کہا اور اس طرح ایک خالصتاً ”دنیاوی“ مسئلہ کو ”مذہبی“ رنگ دیا۔ امریکہ کا ہر نومنتخب صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے۔ برطانیہ کے بادشاہ یا ملکہ کی تاجپوشی پادریوں کے ہاتھوں گرجا گھر میں ہوتی ہے۔ کیا کوئی مسلمان حکمراں (بشمول صدر پاکستان) قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے یا مسجد میں جا کر اپنا منصب سنبھالتا ہے؟ امریکہ کا نومنتخب صدر چرچ میں جا کر دعا میں شریک ہوتا ہے۔ کیا کوئی مسلمان سربراہ حکومت منصب سنبھالنے سے پہلے یا بعد میں نوافل شکرانہ ادا کرتا ہے؟ لیکن مغرب ”سیکولر“ ہے اور مسلمان ”بنیاد پرست“ ہیں۔ اب جنہیں کہو ہم کہیں کیا؟ (مزمل یٰسین صدیقی)
اے حمید
این جی اوز کا اخلاقی اقدار پر حملہ
شواہد بتا رہے ہیں کہ این جی اوز کی مضبوط لابی نے پنجاب حکومت کو اس کا تھوکا چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے اور اب آہستہ آہستہ ان تمام این جی اوز کو بحال کر دیا جائے گا جن پر پابندی لگا کر پنجاب حکومت کے وزراء اور بعض افسران نے بے پناہ شہرت حاصل کی تھی۔ وزیر سماجی بہبود کئی ماہ سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی اکثر این جی اوز سٹیٹ کے خلاف کام کر رہی ہیں اور ان کے دفاتر میں نہ صرف غیر اخلاقی حرکات ہوتی ہیں بلکہ ایک انگریزی اخبار میں چھپنے والے انٹرویو میں پیر بنیامین رضوی سے یہ بات بھی منسوب کی گئی تھی کہ این جی اوز کی خواتین اعلیٰ شخصیات کو لڑکیاں سپلائی کر کے اپنے کام نکلواتی ہیں۔
ابتداء میں ان این جی اوز کے خلاف جس تیزی سے کارروائی ہو رہی تھی اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ صوبائی وزیر کی کوششیں بارآور ہوں گی اور عوام کو اس خطرناک مافیا سے نجات مل جائے گی جو ان کے دکھ تکالیف اور مصیبتیں بیچ کر اپنے لیے عیاشی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ پیر بنیامین رضوی کا دعویٰ تھا کہ یہ تمام تر کام وہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کر رہے ہیں اور انہیں ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ صوبائی وزیر کی دیکھا دیکھی دوسرے صوبوں نے بھی مشکوک این جی اوز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ حکومت کی اس جارحانہ پالیسیوں پر بعض این جی اوز نے وقتی طور پر اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں اور محفلیں سجانا بھی بند کر دیا تھا۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ حکومت کی ان کارروائیوں کا توڑ کرنے کے لیے بیرونی امداد سے چلنے والی این جی اوز نے ۵۰۰ ملین روپے کا ایک خفیہ فنڈ قائم کیا ہے اور کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے راولپنڈی میں ان این جی اوز کے نمائندوں کا بہت بڑا اجلاس ہوا جس کا اہتمام و انتظام ”سنگی“ نامی این جی او کے سربراہ عمر اصغر خان نے کیا اس کے بعد لاہور میں بھی ایک اجلاس بلایا گیا اور پھر حکومت اور این جی اوز کے اس مقابلے میں پنجاب حکومت پھنس گئی۔ این جی اوز کی مضبوط لابی نے اپنا کام کر دکھایا ہے اور غیر ملکی امداد کے ساتھ ساتھ ”عالمی بنک کی مداخلت“ کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے۔ حکومتی عہدے دار کوئی واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے معاملہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ این جی اوز کے وہ نمائندے جو حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ پنجاب حکومت نے ہم سے
معاملات طے کرنے کے لیے خود عالمی بنک کی خدمات حاصل کی ہیں جس سے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ این جی اوز مافیا حکومتوں سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہوتا ہے اور بڑی طاقتیں کسی حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور این جی اوز کا لیور استعمال کرتی ہیں۔
اگرچہ اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ حکومت اور این جی اوز کے درمیان معاملات ”خوش اسلوبی“ سے طے پا جائیں گے لیکن حکومت میں شامل اس سنجیدہ طبقے کے خدشات کون دور کرے گا جن کا خیال ہے کہ ان این جی اوز نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں پر خوشی کا اظہار کیا لیکن گستاخ رسول ایکٹ اور پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر نہ صرف آسمان سر پر اٹھا لیا بلکہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی قبر بھی بنا ڈالی۔ اس طبقہ کا ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ یہ وہی این جی اوز ہیں جنہوں نے طالبان کو وحشی درندے اور عورت کو چار دیواری تک محدود رکھنے والوں کو تنگ نظر مولوی قرار دے کر مغرب سے بھاری فنڈز کھرے کر لیے اور پھر بڑے افسران سیاستدانوں اور اشرافیہ کی بیگمات نے اس فتح کا جشن فائیو سٹار ہوٹلوں اور اپنے گھروں میں موجود قحبہ خانوں میں منایا۔
این جی اوز کے قیام کا مقصد
غیر سرکاری تنظیموں کے قیام کا ظاہری مقصد یہ تھا کہ تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک میں چونکہ کرپشن کی شرح بہت زیادہ ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو بھی فنڈز دیئے جاتے ہیں ان کی مثال برف کے اس ٹکڑے کی مانند ہوتی ہے جو مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا جب منزل تک پہنچتا ہے تو بہت معمولی رہ جاتا ہے۔ اس کرپشن کو روکنے کے لیے فیصلہ کیا گیا تھا کہ مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے ضرورت مندوں کی براہ راست مدد کی جائے۔ ظاہری طور پر یہ بہت اچھی تجویز تھی کیونکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عوام کی مدد "No Profit No Loss" کے اصول پر کی جائے گی۔ این جی اوز کے مقاصد میں شامل تھا کہ وہ غریب اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی مدد کریں گی ان کا تعلیمی معیار بہتر کریں گی چادر اور چاردیواری کا بندوبست کریں گی پینے کے لیے صاف پانی فراہم کریں گی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سماجی ادارے قائم کریں گی لاوارثوں کا سہارا بنیں گی اور بوڑھوں بچوں اور خواتین کی بھلائی کے منصوبے تیار کریں گی۔ مگر جہاں پیسے کا معاملہ ہو دل بے ایمان ہو ہی جاتا ہے۔ اگر پیسے کی خرد برد تک معاملہ رہتا تو شاید یہ دھندہ چلتا رہتا لیکن جب پاکستان میں این جی اوز کی چھان بین شروع کی گئی تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی گیلی اور گندی جگہ سے بڑی اینٹ اٹھا دی گئی ہو۔ بے شمار کیڑے مکوڑے اور زہریلے سانپ باہر نکل آئے اور اینٹ اٹھانے پر پھنکارنے لگے ڈنک مارنے لگے۔
این جی اوز کی تعداد
غیر سرکاری تنظیموں کی صحیح تعداد معلوم کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں کیونکہ بہت سی این جی اوز ایسی ہیں جنہیں سالہا سال سے فنڈز ریلیز ہورہے ہیں مگر ان کا وجود کم از کم اس کرہ ارضی پر
نہیں ہے۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ کچھ این جی اوز نے مریخ اور مشتری پر کام شروع کر دیا ہے اور ان کے نمائندوں نے سرکاری خزانے سے فنڈز نکلوا لیے ہیں۔ بہر حال ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ۸۰ ہزار این جی اوز رجسٹر ہیں جن میں سے ۳۰ ہزار غیر سرکاری تنظیموں کی مالکان بڑی بیگمات ہیں۔ ان بیگمات کا تعلق سیاستدانوں‘ بیوروکریٹس‘ سفارتکار‘ فوجی افسران اور سرمایہ دار صنعتکار طبقے سے ہے۔ ان میں وہ بیگمات بھی شامل ہیں جو خود کو کسی سرکاری شخصیت کی بیوی ظاہر کرتی ہیں مگر وہ شخصیت اپنی ”بیوی“ سے بھری محفل میں بات کرنے سے کتراتی ہے۔
دوغلا پن
بیرونی امداد سے چلنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکن اور نمائندے عام طور پر ٹیڑھے منہ سے انگریزی بول کر لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے کام اور سرگرمیوں کو اگر ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور‘ دکھانے کے اور“ سے تشبیہہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ فائیو سٹار ہوٹلوں اور بڑے بڑے ہال میں منعقد ہونے والے اجلاسوں کے دوران ان کی تقاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ سارے جہان کا درد ان کے سینے سے اٹھ رہا ہے۔ لیکن ان کے سینے کے ”درد“ کی وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔ میٹنگ یا محفل کے اختتام پر جب یہ لوگ بے لباسی سے بھرپور لباس زیب تن کر کے عام لوگوں کے بارے میں جن فقروں کا تبادلہ کرتے ہیں اگر وہ عوام کے کانوں تک پہنچ جائیں تو وہ غصے اور شرم سے مر جائیں۔ یہ عوام کی بے وقوفی پر ہنستے ہیں اور انہیں گالیاں بکتے ہیں۔ ان کی نااہلی‘ بے وقوفی اور پینڈو پن پر فقرے بازی کی جاتی ہے۔ جلسے‘ جلوسوں اور ”واک“ کے دوران عوام کو سادگی اور اخلاقی اقدار کا درس دینے والے این جی اوز کے ارکان کی اکثریت اجلاس کے اختتام پر عوام کے فنڈز سے شراب و کباب کی محفلیں سجاتے ہیں جہاں پر خاص لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ ان این جی اوز کی سرگرمیوں سے تائب ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اہم شخصیات ان محفلوں میں بڑے اہتمام سے جاتی ہیں اور صبح سویرے کئی فائلوں پر دستخط کر کے لوٹ آتی ہیں۔
ان این جی اوز کے دوغلے پن کی یہ مثال بھی دی جا رہی ہے کہ وہ جن ممالک سے فنڈز لیتی ہیں‘ ان کے مفادات کی تکمیل کے لیے ملکی سلامتی اور اصول وضوابط کو بھی خاطر میں نہیں لاتیں۔ مثال کے طور پر جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو کسی بھی غیر سرکاری تنظیم نے اس کے خلاف احتجاج نہ کیا۔ اندرون و بیرون ملک کی تنظیمیں بلکہ بڑی طاقتیں بھی بھارتی دھماکوں کے مختلف جواز پیش کرتی رہیں لیکن جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو اسے دہشت گرد‘ جارح اور انتہا پسند ملک کہا جانے لگا۔ مغربی اور غیر مسلم قوتوں کے ٹکڑوں پر پلنے والی اکثر غیر سرکاری تنظیموں نے پاکستان کے خلاف اول فول بکنا شروع کر دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بات کرنے والی کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی کیونکہ ان کے نمائندے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں جو ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جس کے عوض انہیں مالی امداد کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی سپورٹ
بھی ملتی ہے۔ ان این جی اوز نے بیرونی امداد لے کر پاکستان کے خلاف من گھڑت رپورٹیں بیرون ملک بھیجیں۔ بچوں کو ٹافیاں، کھلونے اور پیسے دے کر ان کو مجبور کیا کہ وہ محنت اور مشقت کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیو بنوائیں۔ ان تصاویر اور ویڈیو کے بھاری معاوضوں سے غیر اخلاقی محفلیں سجائی گئیں۔ حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی فرضی فلموں سے ملک کو کتنا نقصان ہوگا۔ ان فلموں کی بنیاد پر پاکستانی قالین، سپورٹس اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو تباہ کر دیا گیا۔
اخلاقی بگاڑ
غیر ممالک سے امداد حاصل کرنے والی تنظیمیں شعوری اور غیر شعوری طور پر پاکستان میں اسلامی قدروں کی پامالی، خاندانی نظام کی تباہی اور ثقافت کے بگاڑنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے دفاتر، ان کی نجی محفلوں اور ان کے نمائندوں کی باتوں اور سرگرمیوں سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں اور انہیں یہ فریضہ سونپ دیا گیا ہے کہ وہ جس قدر جلدی مگر خاموشی سے مثبت اقدار کا خاتمہ کر سکتے ہیں، کریں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، سنگی، عورت فاؤنڈیشن، سرحد رورل سپورٹ کارپوریشن اور دستک جیسی تنظیمیں حکومت اور اپوزیشن کے بعض "معزز" ارکان کی دوستی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ بعض لوگ عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان، آغا خان اور عمر اصغر کے نظریات پر شک کر رہے ہیں۔ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ غیر مسلموں سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ مسلمانوں میں گھس کر اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو اخلاقی طور پر تباہ کر رہے ہیں، مسلمانوں کو غیر مسلموں سے لڑانے، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو والدین کے خلاف بھڑکانے اور جنسی آزادی کا نعرہ لگانے کا انہیں بھاری معاوضہ دیا جاتا ہے۔ غیر اخلاقی ایجنڈے پر کامیابی سے کام کرنے کے عوض نہ صرف ان کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں اضافہ کیا جاتا ہے بلکہ ان کے لیے کام کرنے والے این جی اوز کے ارکان کو بیرون ملک کے دورے کرائے جاتے ہیں اور واپسی پر ان ارکان کو تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سفر کو اس انداز سے پیش کریں جیسے پاکستانی عوام قید میں رہ رہے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی آزادی نہیں ہے، وہ گھٹ کر مرجائیں گے۔ دنیا بہت وسیع اور لبرل ہے اور ہر قسم کی آزادی انسان کا حق ہے۔ اگر پنجاب حکومت نے اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھا تو کئی بہتر فیصلے ہو سکتے ہیں جو ملک اور قوم کے مفاد میں ہوں گے ورنہ این جی اوز، متوازی نظام حکومت قائم کر کے حکومتیں گرانے کا فریضہ انجام دیتی رہیں گی اور مشرقی اخلاقی اقدار کے خاتمہ کے لیے اپنے کارکنوں کے ذریعے معاشرے کو میٹھا زہر کھلاتی رہیں گی۔
این جی اوز سے معاملہ طے کرنے کے لیے بعض اہم امور کو زیر بحث لانا اور انہیں آئینی و قانونی حیثیت دینا بہت ضروری ہے۔ یہ امور درج ذیل ہیں:
- ۱- تمام این جی اوز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنی رجسٹریشن اپنے کام کی نوعیت کے حوالے سے
کرائیں جو تنظیمیں معاشرے کی سماجی بہبود کے تحت اپنی رجسٹریشن
- ۲- تمام این جی اوز کو اس بات کا
رکھیں اور یہ بتائیں کس کو کہاں گیا ہے۔ یعنی وہ فنڈز کا تمام ر
- ۳- اگر کسی این جی او کے متعلق یہ
تو نہ صرف اس کی رکنیت ختم کر کر لی جائے۔
- ۴- این جی اوز کا پے سٹرکچر حکومتی
کے جذبے کا دعویٰ کر کے رقو اور بنگلے سے غرض نہیں ہونا چا
- ۵- این جی اوز کو فیملی انٹرپرائزز
تنخواہ دار عزیز کام نہ کرتے ہ
- ۶- تمام تنخواہ دار ورکروں کا ریکا
از کم ہونا چاہیے۔
- ۷- این جی اوز کو اس بات کا پابن
جہاں اس کی ضرورت ہے،
- ۸- فنڈز کی تقسیم کے لیے "ڈون
بنایا جائے۔
- ۹- این جی اوز اپنی سروسز کا تما
وہ لوگ کہاں رہتے ہیں اور
- ۱۰- این جی اوز اس بات کی پابن
ثقافت کو نقصان پہنچنے کا اندی
- ۱۱- اس بات کو این جی اوز
اخراجات ۲۵ فیصد سے ضروری ہوں۔
- ۱۲- کسی بھی سرکاری عہدیدار
اس میں کام کرنے سے رو
- ۱۳- اس بات کو آئینی حیثیت
کرائیں جو تنظیمیں معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں وہ وزارت سماجی بہبود کے تحت اپنی رجسٹریشن کرائیں۔
- ۲۔ تمام این جی اوز کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ بیرون ملک سے ملنے والی امداد کا ریکارڈ
رکھیں اور یہ بتائیں کس کو کہاں سے کتنی امداد کس مقصد کے لیے ملی ہے اور اسے خرچ کیسے کیا گیا ہے۔ یعنی وہ فنڈز کا تمام ریکارڈ رکھیں اور سالانہ آڈٹ کرائیں۔
- ۳۔ اگر کسی این جی او کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ سٹیٹ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے
تو نہ صرف اس کی رکنیت ختم کی جائے بلکہ اس این جی او کی گارنٹی دینے والوں کی جائیداد ضبط کر لی جائے۔
- ۴۔ این جی اوز کا پے سٹرکچر حکومتی پے سٹرکچر سے زیادہ مختلف نہ ہو۔ کیونکہ تمام این جی اوز خدمت
کے جذبے کا دعویٰ کر کے رقوم حاصل کرتی ہیں۔ خدمت کے دعویداروں کو گاڑی، بینک بیلنس اور بنگلے سے غرض نہیں ہوتا، بہرحال ان کو بنیادی سہولتیں حاصل ہونی چاہئیں۔
- ۵۔ این جی اوز کو فیملی انٹرپرائز ہونے سے بچایا جائے۔ یعنی کسی بھی این جی او میں دو سے زیادہ
تنخواہ دار عزیز کام نہ کرتے ہوں۔
- ۶۔ تمام تنخواہ دار ورکروں کا ریکارڈ رکھا جائے اور ادارے کے سربراہ اور کارکن کی تنخواہ میں فرق کم
از کم ہونا چاہیے۔
- ۷۔ این جی اوز کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ان علاقوں میں فلاح و بہبود کے لیے کام کریں
جہاں اس کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں سرگرمیوں کی ایک خاص شرح مقرر کی جائے۔
- ۸۔ فنڈز کی تقسیم کے لیے ”ون مین شو“ کے بجائے کمیٹیاں مقرر کی جائیں اور انہیں بااختیار
بنایا جائے۔
- ۹۔ این جی اوز اپنی سروسز کا تمام ریکارڈ رکھیں کہ ان کے پراجیکٹ سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔
وہ لوگ کہاں رہتے ہیں اور یہ کام کس کارکن کی نگرانی میں کتنے عرصہ میں ہوا؟
- ۱۰۔ این جی اوز اس بات کی پابند ہوں کہ وہ کوئی ایسا پراجیکٹ شروع نہ کریں جس سے علاقے کی
ثقافت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا ان کے مذہبی عقائد کو چھیڑا جانا مقصود ہو۔
- ۱۱۔ اس بات کو این جی اوز کے منشور میں شامل کیا جائے کہ ان کے پروگراموں کے انتظامی
اخراجات ۲۵ فیصد سے زائد نہیں ہوں گے۔ یعنی ترقیاتی اخراجات ۷۵ فیصد ہونا ضروری ہوں۔
- ۱۲۔ کسی بھی سرکاری عہدیدار یا اس کے قریبی عزیز کو پابند بنایا جائے کہ وہ کوئی این جی او بنانے یا
اس میں کام کرنے سے قبل متعلقہ محکمہ سے اجازت لے۔
- ۱۳۔ اس بات کو آئینی حیثیت دی جائے کہ جو بھی غیر ملکی ادارہ یا فرم کسی پراجیکٹ کے لیے پاکستان
میں فنڈز دینا چاہتا ہے تو وہ اخبارات کے ذریعے اس کی تشہیر کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بڑی این جی او کے سربراہ کی سفارش کے بجائے میرٹ پر فنڈز یا امداد دے۔
- ۱۴۔ کوئی بھی رپورٹ یا درخواست کسی غیر ملکی ادارے کو روانہ کرتے وقت ایک کاپی وزارت سماجی
بہبود یا متعلقہ ادارے کو بھی بھیجی جائے اور ضرورت پڑنے پر وزارت خارجہ کی اجازت بھی حاصل کی جائے۔
- ۱۵۔ این جی اوز کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ حساس علاقوں میں کام کرنے سے قبل حکومت
سے اجازت طلب کرے۔
- ۱۶۔ این جی اوز کے کام کی رفتار، سرگرمیوں اور آڈٹ کے لیے مسلسل اور شفاف نظام متعارف
کرایا جائے۔
اسلام اور مسلمانوں سے بغض و عناد کی ایک گھناؤنی مثال
”تیسری دنیا کے ممالک خصوصاً افریقا اور مشرق وسطی کے ممالک میں رہائش پذیر اپنے دوستوں اور عزیزوں کے لیے جو تحائف بھیجتے ہے وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ”دی گارجین“ کے مطابق اس کا انتظام ایک عیسائی مشنری کرتی ہے۔ اس مشنری کا سربراہ ایک انتہا پسند امریکی فرینکلین گراہم ہے جو امریکی صدر بش کا قریبی دوست ہے۔ اخبار کے مطابق کرسمس کے موقع پر برطانوی سکولوں کے اسٹوڈنٹس پیسے جمع کر کے ایک برطانوی تنظیم کو دے دیتے ہیں۔ اسکول کے بچے یہ چندہ اس غرض سے جمع کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے تیسری دنیا کے اسلامی ممالک کے غریب بچوں کے لیے کتابیں‘ قلم اور جوتے وغیرہ خریدے جائیں مگر سکول کے بچوں‘ انتظامیہ اور والدین کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ اس امداد کی آڑ میں ایک امریکی عیسائی مشنری اسلام مخالف مہم چلا رہی ہے۔ ایک سکول کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ ہم یہ کام گزشتہ پانچ سالوں سے کر رہے ہیں۔ پرنسپل کے مطابق اس سال ہمارے سکول کے 162 بچوں نے 92 امدادی صندوق بھیجے۔ یاد رہے کہ فرینکلین گراہم ایک انتہا پسند عیسائی ہے جو اسلام اور مسلمانوں سے سخت بغض رکھتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ کافی عرصہ ہرزہ سرائی کر رہا ہے۔ فرینکلین کا کہنا ہے کہ مسلمان جس خدا کو پوجتے ہیں وہ وہ خدا نہیں ہے جس کی یہودی اور عیسائی عبادت کرتے ہیں۔ ”دی گارجین“ کے مطابق فرینکلین کی عیسائی مشنری ہر سال تقریباً 50 لاکھ امدادی صندوق جمع کرتی ہے جن میں موجود کتابوں‘ قلموں اور جوتوں وغیرہ پر اسلام کے خلاف مختلف نعرے لکھ کر انھیں تیسری دنیا کے ممالک بھیجتی ہے۔ مگر تحائف دینے والوں کو اس گھناؤنے عمل کا پتہ تک نہیں ہوتا۔“
صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی
مشرق کے آخری قلعے پر مغرب کی یلغار
مغرب اور اسلام کا تصادم اب نوشتۂ دیوار بن چکا ہے۔ کسی بھی حیلے بہانے سے اب یہ جنگ کچھ وقت کے لیے مؤخر تو ہوسکتی ہے، موقوف ہونے کا امکان نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس جنگ کے شعلے بھڑکانے میں اہلِ اسلام کا کوئی حصہ نہیں، پھیپھڑوں کا سارا زور لگا کر ان شعلوں کو ہوا دینے میں مغرب مصروف ہے اور اس کی بدیہی وجہ مغربی تہذیب کا غلبہ اور مغربی طرز سیاست کا تسلط ہے۔ فاتح اگر نشے میں چور نہ ہو تو کیا کرے؟
پروفیسر سموئیل ہٹنگٹن سے ”تہذیبوں کا تصادم“ جیسے مقالے لکھوائے جا رہے ہیں تا کہ دنیا ابھی سے ذہنی طور پر تیار ہو جائے کہ بالآخر ایک تہذیب (اور وہ مغربی تہذیب ہے) غالب آئے گی، باقی تہذیبیں یا تو سرنڈر کر دیں یا پھر کشمکش کے لیے تیار رہیں۔ اور اسی طرح فوکویاما کے قلم سے ”تاریخ کا اختتام اور آخری آدمی“ جیسی کتاب مارکیٹ میں یہ ثابت کرنے کے لیے آئی ہے کہ تاریخ کو ترقی کا جس قدر سفر کرنا تھا، وہ اس نے کر لیا اور اس کا نقطۂ عروج ”مغربی تہذیب“ ہے اور تاریخ کے سرے پر کھڑا ہوا آخری آدمی اپنے حلیے، لباس اور انداز سے صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ ”مغربی انسان“ ہے۔ یہ ساری باتیں اس تصادم کی راہ ہموار کرنے کے لیے سامنے آ رہی ہیں، جو اب دو چار ہاتھ کے فاصلے پر رہ گیا ہے۔
دراصل سوویت یونین کے ٹوٹنے پر مغرب اور امریکہ کے رویے میں ڈرامائی مگر جارحانہ تبدیلی آئی ہے۔ اب مغرب اور امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ جنگ تو وہ جیت چکا ہے، دو چار بچے کھچے مورچے رہ گئے ہیں جن میں چند جذباتی اور جوشیلے جوان اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اہلِ مغرب کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ تجزیہ اور منظر چنداں خلافِ واقعہ اور غیر حقیقی نہیں۔ پردے پر جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ یہی ہے لیکن پسِ پردہ جو کچھ ہے، اس سلسلے میں اہلِ مغرب ظریفانہ حد تک خوش فہمی کا شکار ہیں۔ مغرب کو مسلمانوں کی نفسیات، عادات، کمزوریوں اور کوتاہیوں کا فی الواقع علم ہو چکا ہے لیکن وہ اسلام کے مزاج، ورثے اور جوہر کا پوری طرح ادراک نہیں کر سکا ہے۔ اسے خون صد ہزار انجم کا منظر تو دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نو سحر کا اندازہ نہیں ہے۔ اسے تاتاریوں کا زور دار حملہ تو یاد ہے لیکن ان کا بالآخر پاسبانِ کعبہ بن جانا یاد نہیں رہتا۔
اہل مغرب کے ذہن میں میر جعفر اور میر صادق تو رہتے ہیں، صلاح الدین ایوبی اور سلطان ٹیپو محو ہو جاتے ہیں۔
مغرب اور امریکہ کو صرف ”گوربا چوف“ نظر آتا ہے جو ریت کے ذروں کی طرح بکھر کر رہ گیا لیکن ”جوہر دودایوف“ کو بھول جاتا ہے جو صفحہ ہستی پر امر ہونا جانتا ہے۔
تاہم اہل اسلام کو پس منظر کی روحانی قوتوں کے ساتھ ساتھ منظر کی سیاسی قباحتوں کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔ گھر کا دروازہ کھلا نہ رہے تو کوئی چور اندر جھانکنے کی جرأت نہیں کرتا اور کوئی جنس منڈی میں نہ آئے تو کوئی مول تول کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ ہماری سوسائٹی میں کچھ ایسی تبدیلیاں یقیناً واقع ہو گئی ہیں جو مغرب کو امید دلانے اور گھات لگانے کا موقع دے رہی ہیں۔
یوں تو نیو ورلڈ آرڈر کا ایجنڈا خاصا طویل اور بہت سے معاملات پر محیط ہے لیکن عالم اسلام اور پاکستان خاص طور پر اس ایجنڈے کی زد پر ہے اور پاکستان پر یہ قہر کرم کچھ زیادہ ہی ہے۔ غالباً امریکہ کو عالم عرب سے چنداں خطرہ نہیں کیونکہ عرب کی تیل کی دولت نے ان سے ”شمشیر و سناں“ چھین کر ”طاؤس و رباب“ کا پوری طرح خوگر بنا دیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں کے حکمران تو امریکہ اور مغرب کی آغوش میں کھیلنے اور اُچھلنے کو بہت مضطرب رہتے ہیں لیکن عام مسلمان کباب میں ہڈی بنا ہوا ہے اور اپنے بچے کھچے دینی ورثے اور نظریاتی اثاثے کو یوں برسر عام لٹانے پر آمادہ نہیں۔ ہر چند کہ ہمارے حکمران فرنگی سیاسی قالب میں پوری طرح ڈھل چکے ہیں، معاشی خرمستیاں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا بھکاری بنا چکی ہیں لیکن پاکستان کا معاشرتی ڈھانچہ ابھی کافی حد تک فرنگی دیمک سے بچا ہوا ہے۔ یہ وہ آخری مورچہ ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے پناہ گاہ اور مغرب کا ہدف نگاہ ہے۔ مغرب آج کل اس مورچے پر پوری طرح حملہ آور ہے۔
چنانچہ ہمارا ٹی وی جو کچھ دکھا رہا ہے دراصل اسی ایجنڈے کی تکمیل کی ایک بھونڈی کوشش ہے اور طبقہ اشرافیہ کے لچھن اس پر مستزاد! امریکہ اور مغرب اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کا سماجی تانا بانا بکھیر دیا جائے۔ جب سماجی رویے بدل جائیں گے تو پھر اسلامی اور مشرقی اقدار خود بخود زوال پذیر ہو جائیں گی۔ امریکہ نے اس معاملے میں اقوام متحدہ کو بھی اس مہم میں پوری طرح شامل کر لیا ہے۔ قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اس سماجی ڈھانچے کی شکست و ریخت کے علاوہ کچھ نہیں تھا اگرچہ نام اس کا ”خواتین کی ترقی اور بہبود“ رکھا گیا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے خاص طور پر سندھ کے علاقوں میں ریسرچ کے نام پر کئی انگریز سکالر دیہاتوں اور گوٹھوں میں یہ معلومات حاصل کر رہے ہیں کہ یہاں صدیوں سے قائم مستحکم اور مربوط خاندانی نظام کیسے چل رہا ہے؟ پردادا سے لے کر پڑپوتے تک ایک حویلی میں کیسے گزر بسر کر رہے ہیں؟ چھوٹے موٹے اختلافات اور ہلکی پھلکی خاندانی رنجشوں کے باوجود جوائنٹ فیملی سسٹم کیونکر قائم ہے؟
وہ کیا اسباب اور عوامل ہیں جو خاندانوں کی مضبوطی کے لیے سیمنٹ کا کام دے رہے ہیں ۔ چنانچہ اہل مغرب ان اسباب وعوامل اور بنیادوں پر تیشہ چلانے کی فکر میں ہیں تا کہ پاکستان میں سماجی انارکی پیدا کی جائے ۔ یہ بات ان کے لیے حیرت کا موجب بھی ہے‘ حسرت کا سبب بھی اور اذیت کا باعث بھی۔
حیرت اس لیے کہ مغرب میں سکول گوئنگ لڑکے اور لڑکیاں دوبارہ ماں باپ کے گھر کی دہلیز پر آنا گوارا نہیں کرتیں ۔ یہ بات ان کی شخصی آزادی کے منافی ہے پھر ان کی جوانی کسی کی بانہوں میں جھولتے غیروں کا دل بہلانے اور غیر مطلوب بچوں کا بوجھ اٹھانے میں گزر جاتی ہے اور بڑھاپا اولڈ ہاؤسز میں ۔
حسرت یوں کہ کاش خود کو اس اندھے شوق کی نذر نہ ہونے دیتے ۔ آج یورپ میں ہر بچہ ممتا کے پیار کا پیاسا اور ماں باپ لخت جگر کو سینے کی گرمی پہنچانے سے قاصر ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ لڑکے اور لڑکیاں نشہ کر کے سکون پانے کے چکر میں ہیں اور ماں باپ اپنے بچوں کی جگہ کتے اور بلیاں پال کر اپنے پیار کا مصرف ڈھونڈتے ہیں ۔ آخر اس قدر مہذب اور خوشحال ممالک میں ہیروئن اور دوسرے نشے کی اس قدر مانگ کا کوئی سبب تو ہوگا کہ پوری حکومتی مشینری ڈرگ کنٹرول میں لگی ہوئی ہے۔ اور ہمارا مضبوط خاندانی نظام مغرب کے لیے اذیت کا موجب اس لیے ہے کہ:
پاکستان میں آج کل لو میرج اور سول میرج کی بھر مار اسی سازش کا حصہ ہے ۔ آج ہر دوسرے لڑکے اور لڑکی پر عشق کا خمار اور آزادی کا بخار اس مہم کے غیر محسوس اثرات ہیں رہا خاندانی نظام تو یورپ کے ہاں خاندان کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ ایک ایسا گھر جس میں ماں باپ‘ بہن بھائی اور میاں بیوی رہ رہے ہیں بلکہ اس کے ہاں اس کا مفہوم یہ ہے (اور یہ مفہوم ہوائی اور زبانی نہیں با قاعدہ بیجنگ کانفرنس کی دستاویز میں درج ہے ) کہ اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی یا دو لڑکیاں ایک چار دیواری میں مل کر رہ رہے ہیں تو گویا ایک خاندان وجود میں آ گیا‘ ان کے درمیان جنسی تعلقات ان کے بقول ایک خاندان کو جنم دے رہے ہیں ۔
انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں ان دنوں ایک غلغلہ برپا ہے‘ ہر دوسری تیسری بات پر انسانی حقوق اور شخصی آزادی کی دہائی مچ جاتی ہے۔ کوئی لڑکی بھاگ جائے تو مخالفت پر انسانی حقوق کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔ کوئی لڑکا کسی کو بھگا کر لے جائے تو مزاحمت پر شخصی آزادی کی ڈھنڈیا پٹ جاتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق صرف وہی ہیں جو مغرب نے دیئے اور متعارف کرائے ہیں یا انسانی حقوق کا کوئی اسلامی تصور بھی ہے؟ ماں باپ بھی انسانوں کے دائرے میں داخل ہیں یا نہیں؟ آخر ان کے حقوق کیا ہیں؟ بہن بھائی بھی انسان شمار ہوتے ہیں یا نہیں؟ ان کے حقوق کی وضاحت کیسے ہو؟ یا صرف خود سر لڑکا اور لڑکی ہی ”انسانی حقوق“ کا لطف لینے کے مجاز ہیں؟
بیٹی باپ کو رسوا کر دے اور بیٹا ماں کو دھکا دے کر گرا دے تو بیٹے اور بیٹی کی اس حرکت سے ماں باپ کے بنیادی حقوق پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ کیا ماں باپ صرف پالنے پوسنے کے ذمہ دار ہیں، حرمت و تعظیم کے حق دار نہیں؟
ہمارا معاشرہ جس شوق اور فیشن کی طرف بڑھ نکلا ہے اور ہمارا معاشرتی قلعہ جس حملے کی زد میں ہے، ارباب حکومت اور اصحاب دانش کو ضرور اس پر غور کرنا چاہیے اور ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہوس کی اس آگ پر پانی کے چھینٹے ڈالنے کے بجائے تیل چھڑک کر بھڑکانے کی جس کوشش میں ہے، اللہ نہ کرے کہ یہ آگ خود آگ لگانے والوں کے دامن تک پہنچ جائے۔ تازہ ہوا کا شوق بجا اور نئے روزن کھولنے کا لپکا اپنی جگہ لیکن:
حافظ شفیق الرحمن
ورکنگ ویمن‘ صیہونی ادارے‘ گھسیٹی بیگمات
پاکستان میں امریکی‘ یورپی اور دیگر صیہونی سر پرستوں کے زیر سایہ خواتین کی این جی اوز کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے‘ جمعہ بازار تو مہذب لفظ ہے‘ مچھلی بازار کہنا چاہیے۔ ان این جی اوز کی سر پرستی اور رہنمائی کی ذمہ داری برطانوی دور سے مراعات یافتہ طبقہ (Privileged class) کی میموں نے اپنے نازک کندھوں پر لے رکھی ہے‘ حقوق خواتین کے نام پر ڈرامہ بازی کا سلسلہ جاری ہے‘ ہر وہ مسئلہ ان کے پلیٹ فارم سے اچھالا اور اجالا جاتا ہے جو اس مملکت کی تہذیب‘ تمدن‘ روایات‘ اقدار‘ شعائر اور تاریخ سے کسی طور پر میل نہیں کھاتا۔
ہر وہ لڑکی جو اپنے باپ کی دستار اور ماں کے آنچل کو اپنے پاؤں تلے روند کر اپنے کسی آشنا کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے لیے گھر کی چار دیواری پھلانگ جاتی ہے....... اس ”کوٹھے ٹپنی“ کو یہ ہاتھوں ہاتھ لے کر بانس پر اس طرح سے چڑھاتی ہیں جیسے اس نے کوئی بہت ہی (Heroic) کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کارنامے کی انجام دہی پر وہ اسے مبارک باد اور ”ودھائیاں“ پیش کرتی ہیں۔ اس ”نو آزاد چڑیا“ کی میڈیا کے ذریعے خوب خوب تشہیر کی جاتی ہے‘ گویا یہ بھگوڑی یا مغویہ نہیں بلکہ اندلس کی فاطمہ بنت عبداللہ ہے یا مصر کی امینہ قطب ہے جو سامراج یا سامراج کے کسی گماشتے سے ٹکرا گئی تھی۔
آزادی نسواں کے پرچم تلے اپنا رنگ جمانے والی یہ کالی‘ پیلی‘ بھوری اور سانولی میمیں‘ مغربی سفیروں اور یہودی شریروں کے چشم و ابرو کے اشارے پر لٹو کی طرح گھومتے ہوئے‘ ان کی مکروہ ہدایات پر عمل پیرا ہیں‘ پاکستان کی دھرتی میں مغربی سفارت اور یہودی شرارت کے بیج بونے والی یہ میمیں وہی کام کر رہی ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ۱۸۵۷ء میں مردوں میں سے میر جعفر اور عورتوں میں سے گھسیٹی بیگم نے کیا تھا۔
عورتوں کے حقوق اور آزادی کے جھنڈے گاڑنے‘ اور عورتوں کی برابری کے بینر لہرانے والی لیٹر پیڈ تنظیموں کی یہ آل ان آل قسم کی آل راؤنڈر کھلاڑی عورتیں حقیقت میں‘ مشرقی روایات کو مغربی بیلچوں کے ساتھ بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بزعم خویش گھمسان کا یدھ رچائے ہوئے ہیں‘ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے چودہ کروڑ عوام اندھے اور بہرے ہیں....... سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے
محروم ہیں‘ اس لیے ڈالروں کی یہ باندیاں اور صہیونی اداروں کی زرخرید کنیزیں مشرقی ممالک میں مغرب کی فحاشی اور عریانی کے سیلاب کو بلا روک ٹوک ”امپورٹ“ کرتی رہیں گی۔ سیاست اور حکومت پر بھی چونکہ انہی کے مراعات یافتہ قبیلے کے بانکے سجیلوں کا قبضہ ہے۔ اس لیے ان کی طرف کوئی دستِ احتساب نہیں بڑھ سکے گا۔
اس طوفانِ بدتمیزی اور سیلاب فحاشی کے راستے میں جو بند باندھنے کی کوشش کرے گا‘ بورژوا کلاس کی یہ جادوگرنیاں لسانی شعبدہ بازی سے اسے ”پرو لتاریوں“ کے خلاف بغاوت سے تعبیر کریں گی‘ اس بند باندھنے والے دیوانے کو امریکی و روسی سامراج کی ٹکسال میں ڈھلی ڈھلائی گالیوں سے نوازا جائے گا‘ انہیں قدامت پرست‘ دقیانوسی‘ جنونی‘ دہشت گرد اور کٹھ ملا قرار دے کر ایمل کانسی کی طرح امریکی عدالتوں سے سزائے موت دلوانے کے لیے کوشاں ہو جائیں گی۔
امریکی وصہیونی سامراج کی یہ کٹھ پتلیاں آخر چاہتی کیا ہیں؟ عورتوں کو برابری دلوانا......
عورتوں کو مردوں کے مساوی کھڑا کرنے کے معاملے میں یہ کس حد تک سنجیدہ ہیں؟ سات کروڑ عورتوں کو مردوں کے برابر لاکھڑا کر دینے کی دعویدار یہ رہنما خواتین‘ عورتوں کو برابری دینے کے کارِ خیر کا آغاز اپنے گھر سے کیوں نہیں کرتیں؟ پہلے اپنے گھر کی عورتوں کو تو اپنے برابر لا کر کھڑا کریں پھر میدان میں آ کر بڑھک بازی کریں...... اپنے باورچی خانے میں کھانا پکانے والی کک (Cook) صفائی کرنے والی مہترانی‘ برتن مانجھنے والی ماسی‘ کپڑے دھونے والی مائی اور گھنٹی کی آواز پر گیٹ کی طرف دوڑی جانے والی باندی کو کھانے کے اوقات میں اپنے ڈائننگ روم میں ڈائننگ ٹیبل پر ساتھ بٹھا کر امپورٹڈ کراکری میں اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے کبھی تصور میں بھی خود کو آمادہ پاتی ہیں؟ بالائی طبقے کی یہ ”پنڈتانیاں“ شودر طبقے کی ان ملیچھوں کو تو اپنے بنگلہ ”ولا“ کوٹھی اور محل میں اپنا باتھ روم بھی استعمال کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔
ملک بھر کی خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دینے کی بات کرنے والی امریکن سنڈیوں کا اپنی گھریلو خادماؤں کے ساتھ سلوک آج بھی اتنا ہی ظالمانہ‘ حاکمانہ اور فرعونی ہے جتنا زمانہ قبل از تاریخ کے مطلق العنان رومی‘ مصری اور عراقی فرمانرواؤں کا اپنی کنیزوں کے ساتھ ہوتا تھا۔
پرائیویٹ سکول دفاتر اور اداروں کے بیگار کیمپوں میں محبوس ”ورکنگ ویمن“ کے مسئلہ پر آج تک کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ نجی اداروں میں کام کرنے والی یہ مظلوم و مجبور عورتیں‘ عرصہ دراز سے استحصال اور جبر کی چکی میں گھن کی طرح پس رہی ہیں‘ عورتوں کے نام پر قائم ادارے...... جنہیں چند کھاتے پیتے اور خوشحال گھرانوں کی ”ویلی“ خواتین نے مصروفیت اور سستی شہرت کے حصول کے لیے پارٹ ٹائم جاب اور مشغلے کے طور قائم کر رکھا ہے‘ وہ اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔ وہ جنہوں نے کبھی کانٹے کی چبھن بھی محسوس نہیں کی‘ انہیں کیا معلوم کہ تلوار کی دھار پر چلنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ کانٹوں سے کوسوں دُور پھولوں کی بستیوں میں کئی کئی کنالوں پر پھیلے
ہوئے محلات میں رہنے والی گلبدن شمعِ حقوق کی نمائندگی کا ناٹک رچا رکھا ہ ہے وہ تو ان ”رہنما خواتین“ کے ایک سٹار ہوٹلوں میں اکثر ادا کرتی رہتی ہیں وہ عورتیں جن کے گھروں ک دعویدار ہیں‘ اُس عورت کی...... اُس ہوتیں...... وہ عورت جو اپنے سر پر پا سڑکیں بنانے اور نہریں کھودنے پر مج عورت روشنی ڈال سکتی ہے لیکن ابھی کے ان سیمیناروں میں دعوت نہیں د چاکلیٹ‘ مباحثوں کی کافی‘ تقریروں جتنی خطیر رقم یہ ان فضول‘ لچر اور بے اگر صحیح استعمال کیا جائے تو اس سے ہیں۔ عورت کے نام پر تنظیم سازی کے تنظیموں کے مرکزی عہدیداروں کی فہ دکھائی دے گی‘ یہ تنظیمیں ہائی کلاس کی و ہیں جن کی گھوڑی پال اراضی ہی سینکڑ بیویاں“ ہیں......
درآمد شدہ فرانسیسی منرل واٹ صاف ستھرا آیوڈین ملا پانی بھی نہیں اتر بوتلوں کی ٹوکری نوکرانیوں کے سروں پر ل بجھاتی ہے وہ تو آپریٹر‘ استانی‘ ماسی‘ نرس ا تنخواہ کے برابر ہوتی ہے۔
ہوئے محلات میں رہنے والی گلبدن شہزادیوں نے تہہ تیغ مرغ نیم بسمل کی طرح تڑپنے والی عورتوں کے حقوق کی نمائندگی کا ناٹک رچا رکھا ہے وگرنہ مہینہ بھر خون پسینہ ایک کر کے محنت کش عورت جتنا کماتی ہے وہ تو ان ”رہنما خواتین“ کے ایک دن کے پٹرول اور ایک وقت کے کھانے کا بل ہے جو وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں اکثر ادا کرتی رہتی ہیں۔
وہ عورتیں جن کے گھروں کی دیواریں بھی اطلس و حریر میں ملبوس ہوتی ہیں...... رہنمائی کی دعویدار ہیں اُس عورت کی...... اُس حوا کی بیٹی کی...... جس کے تن پر لباس تو کجا مکمل دھجیاں بھی نہیں ہوتیں...... وہ عورت جو اپنے سر پر بائیس اینٹیں اٹھا کر ۱۰ منزلہ پلازوں کی سیڑھیاں چڑھتی ہے جو سڑکیں بنانے اور نہریں کھودنے پر مجبور ہے ان عورتوں کے مسائل پر انہی کے طبقے کی مسائل گزیدہ عورت روشنی ڈال سکتی ہے لیکن ابھی وہ خود اندھیرے میں ہے...... اسے تو کبھی پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے ان سیمیناروں میں دعوت نہیں دی گئی جہاں ہائی کلاس کی عورتیں عورت کے مسائل پر گفتگو کی چاکلیٹ مباحثوں کی کافی تقریروں کے سوپ اور مقالوں کے کاک ٹیل سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ جتنی خطیر رقم یہ ان فضول لچر اور بے کار قسم کے سیمیناروں اور مباحثوں پر ضائع کر دیتی ہیں اس رقم کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو اس سے سینکڑوں محنت کش خواتین کی بچیوں کے ہاتھ پیلے کیے جاسکتے ہیں۔ عورت کے نام پر تنظیم سازی کے نام پر دام بنانے والی ان نامدار دام ساز اور دام دار خواتین کی تنظیموں کے مرکزی عہدیداروں کی فہرست ملاحظہ کر لیں، آپ کو محنت کش طبقہ کی ایک بھی خاتون نہ دکھائی دے گی یہ تنظیمیں ہائی کلاس کی ویلی (بیکار) رنوں کی چوپالیں ہیں...... کچھ ایسے باپوں کی بیٹیاں ہیں جن کی گھوڑی پال اراضی ہی سینکڑوں مربع تھی...... چند کروڑ پتی کارخانے داروں کی ”بے مصرف بیویاں“ ہیں......
درآمد شدہ فرانسیسی منرل واٹر پینے والی ان رہنماؤں کے نازک گلوں سے نیچے تو شہروں کا صاف ستھرا آیوڈین ملا پانی بھی نہیں اترتا۔ گلبرگ سے پی سی تک کا بھی سفر کرنا ہو تو فرنچ منرل واٹر کی بوتلوں کی ٹوکری نوکرانیوں کے سروں پر لاد دیتی ہیں۔ یہ عورت مہینے میں جتنی رقم سے صرف اپنی پیاس بجھاتی ہے وہ تو آپریٹر، استانی، ماسی، نرس اور بھٹیاری کے طور پر کام کرنے والی ورکنگ وومن کی سالانہ تنخواہ کے برابر ہوتی ہے۔
❁ ❁ ❁
حافظ شفیق الرحمٰن
بال ٹھاکرے کی داسیوں کا رتجگا
برصغیر میں کون ایسا پڑھا لکھا ہے جو مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری وجاہت اور علمی تبحر کا قائل نہ ہو لیکن تحریک قیام پاکستان کے دوران وہ کانگرس کے دام ہمرنگ زمیں میں ایسے پھنسے کہ ہزار پھڑ پھڑانے کے باوجود وہ اس کی سحر کاری کے حلقوں کو نہ توڑ سکے۔ کانگرس کے ترجمان کی حیثیت سے جب انہوں نے ہندوؤں کے اکھنڈ بھارت کے فلسفے کا پرچار شروع کر دیا تو قائد اعظم نے انہیں ”کانگرس کا شو بوائے“ قرار دیا۔ پاکستان کے قیام کی تحریک میں اگر ایک جید عالم دین رکاوٹ بنے تو مسلم لیگی قیادت اسے بھی کانگرس کا شو بوائے قرار دینے میں تامل محسوس نہ کرے تو قیام پاکستان کے پچاس سال بعد اگر کوئی سیاسی غیر سیاسی ۔۔۔ سرکاری یا غیر سرکاری تنظیم بھارت کی مسلم آزاری اور اسلام دشمنی کی واضح پالیسی کے باوجود بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے عندیہ کا اعلانیہ اظہار کرے، ایسی تنظیم کو کیوں نہ بھارت کی کال گرلز اور شو بوائز کی تنظیم قرار دیا جائے۔ وہ تمام این جی اوز جو قیام امن کے نعرے کی آڑ میں بھارت کے متعصب ہندوؤں کے اکھنڈ بھارت کے قدیمی خواب کو تعبیر دینے کے لیے آب و ہوا اور فضا کو سازگار بنانے کی کوشش کریں۔ ہونا تو یوں چاہیے کہ ایسے لوگوں کو فوری حراست میں لے کر ایسی قرار واقعی سزا دی جائے کہ وہ نقش عبرت بن جائیں۔
میر جعفر اور میر صادق کی یہ نسلیں دو سو ۴۰ سال بعد دوبارہ سرگرم عمل ہوئی ہیں۔ ان زہریلے سپولیوں کا سر ابھی نہ کچلا گیا تو کل یہ پھن پھیلا کر ہر محب وطن پاکستان کو ڈسنے کی کوشش کریں گے۔ یہ لوگ نا قابل رعایت، نا قابل معافی اور نا قابل رحم ہیں۔ یقین جانیے ان موذیوں کو کچل دینے سے بنیادی انسانی حقوق کے نازک آبگینے پر کسی قسم کی کوئی خراش نہیں آئے گی۔
اگر کسی زمیندار یا کاشتکار کی خون پسینے کی محنت سے تیار کی ہوئی لہلہاتی فصلوں اور سرسبز و شاداب کھیتوں میں اگر سور گھس آئیں اور فصلوں کو پامال کرنا شروع کر دیں تو آپ بتائیے کہ زمینداروں کو سوروں کے اس ریوڑ کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ کیا اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھوڑے بیچ کر سو جانا چاہیے یا اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مسلح ہو کر اس ناپاک مخلوق سے اپنے کھیتوں کو پاک کرنے کے لیے کوئی عملی کوشش کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں ہر ذی شعور کھیتوں کو ناپاک مخلوق کی جارحیت سے پاک کرنے کے لیے مسلح کاروائی کو جائز قرار دے گا۔ بات ذی شعور لوگوں کی ہو رہی
ہے ان روشن خیالوں کی نہیں جو اس اقدام کو بھی ”بنیادی حیوانی حقوق“ کے خلاف تاریک خیالی کا مظہر قرار دیں گے۔
گزشتہ دس پندرہ سالوں میں اس ملک میں جہاں دیگر کئی عارضوں، بیماریوں، بلاؤں اور وباؤں نے جنم لیا ہے ان میں این جی اوز نامی ”خوفناک اور پراسرار بیماری اور وباء“ بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ سنا ہے کہ ان مہلک جرثوموں کی پرورش اور نگہداشت یہودیوں کے عالمی مالیاتی اداروں کی نرسریوں کے آئی سی یو میں کی جاتی ہے جب ان کے پر پرزے نکل آتے ہیں تو اسلام دشمنی اور مغرب پرستی کے خصوصی طاقتور انجکشن لگا کر انہیں اسلامی ممالک میں زہر افشانی کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔۔۔ بدقسمتی سے پاکستان، آستین کے ان سانپوں اور بغلی گھونسوں کی پیداوار میں اس حد تک خودکفیل ہو چکا ہے کہ اگر وہ چاہے تو انہیں برآمد بھی کر سکتا ہے۔
کچھ نام نہاد ترقی پسند اور روشن خیال این جی اوز نے چودہ اگست اور پندرہ اگست کی درمیانی شب واہگہ سرحد پر ”پاک بھارت دوستی کے لیے رت جگا“ منانے کا اعلان کیا تو میرا خیال تھا کہ محب وطن دینی، سیاسی، سماجی، ثقافتی حلقوں کے نامی گرامی قائدین اس اقدام کی مذمت کریں گے لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔ خدا شاد آباد رکھے رفیق ملت خواجہ رفیق شہید کے صاحبزادے خواجہ سعد رفیق کو۔۔۔ کہ مادر وطن کا یہ جسور و غیور غازی بیٹا جس کی رگوں میں شہید باپ کا خون ڈنڈ پیل رہا ہے، آگے بڑھا اور کروڑوں پاکستانیوں کے گنگ جذبات کو زبان اور الفاظ دیتے ہوئے کہا کہ ”اگر کوئی بھارت کا چہیتا، گاندھی کا پجاری، نہرو کا پرستار، پٹیل کا فدائی، قائد اعظم کے پاکستان کی حدود میں بیٹھ کر بال ٹھاکرے کا جام صحت تجویز کرنے کے لیے واہگہ بارڈر پر ”رت جگے“ کے عنوان سے محفل جمانے کی کوشش کرے گا تو زندہ سلامت واپس نہیں لوٹے گا۔ اس کی ارتھی خیرسگالی کے طور بھارت سے آنے والے ان کے ”گاڈ فادرز“ کے حوالے کر دی جائے گی کہ وہ یہ سوغات لے جائیں، ہمیں اس گندے انڈے کی ضرورت نہیں“۔ سعد رفیق نے مسلم لیگ ہاؤس کے جلسہ عام میں یہ اعلان کر کے میرے جیسے کروڑوں پاکستانیوں کے دل جیت لیے۔ اس روز خواجہ سعد رفیق کی تقریر حاصل مشاعرہ تقریر تھی۔ جو لفظ بھی اس کی زبان سے ادا ہوا سننے والوں کے قلب و جگر میں اس طرح اتر گیا جس طرح صبح کے وقت چلنے والی ٹھنڈی ہوا کا لمس پھولوں کی ڈالیوں کے ریشوں میں رچ بس جاتا ہے۔
ان نمک حراموں، وفا ناشناسوں، مادر وطن کی ناموس کے دشمنوں کی قلمی بدمعاشیوں، فکری گمراہیوں، ذہنی غلط کاریوں، علمی غنڈہ گردیوں اور نظریاتی دہشت گردیوں کا سد باب کون کرے گا؟ غیر ملکی ٹکڑوں پر پلنے والے ان سگان بد لگام کو نکیل دینا کس کا فرض منصبی ہے؟ آخر یہ کب تک مادر وطن کے غیور بیٹوں کی غیرت کے لیے چیلنج بنے رہیں گے، کیا ان کے کوائف اکٹھے نہیں کیے جا سکتے۔۔۔ کیا ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا؟ کیا یہ مشتری اور مریخ کی مخلوق ہیں کہ اُڑن طشتریوں پر آتے،
اسلام آباد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی علامتی قبر کھودتے اور پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کیخلاف نعرہ زنی کرتے اور رفو چکر ہو جاتے ہیں، اس امر کی تفتیش کی جائے کہ ان نام نہاد این جی اوز کے پردہ زنگاری کے پیچھے کونسا معشوق ہے۔۔۔ کوئی بھی ذی عقل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ رانی خان کا کوئی سالا اپنے تئیں یہ جرأت کر سکتا ہے، ان لوگوں کو یقیناً براہ راست یا بالواسطہ حکومتی افسر شاہی کی سرپرستی حاصل ہے۔ وگرنہ یہ ممکن ہے کہ کوئی تنظیم دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف برسرعام نعرہ زنی کرے اور بچ کر صاف نکل جائے۔۔۔ اور ایک بھی مجرم پکڑا نہ جائے؟
واہگہ کی سرحد پر رت جگا کی تقریب کا انعقاد کر کے بھارت کے خون آشام ہندوؤں کو محبت کا درس دینے والے کیوں یہ بھول گئے ہیں کہ ہندومت کا تو بنیادی فلسفہ ہی یہی ہے کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام۔۔۔ بھارت کی طرف دوستی، پریم، شانتی اور خیرسگالی کا پیغام بھیجنے والی ان امن پرست فاختاؤں کو معلوم نہیں کہ یہ وہی بھارت ہے جس کے اگنی، پرتھوی، سوریا اور آکاش میزائلوں کا رخ پاکستان کی طرف ہے، رت جگا منا کر دوستی کی دھونی رمانے والے ان سادھوؤں کو یقین ہے کہ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے بھارت نے پاکستان کے خلاف ۵۰ سالوں سے تابکاری، کیمیائی، جوہری، جراثیمی اور دور مار ہتھیاروں کے جو ڈھیر جمع کر رکھے ہیں، ان بگلا بھگتوں اور دیوداسیوں کی خواہش پر بھارت ان کو سمندر برد کر دے گا، اور تاراپور کے ایٹمی پروگرام کو بھی کیپ کر دے گا یا ان امن کی دیویوں کو اپنے ایٹمی پلانٹ کے طبعی معائنے کی اجازت دے گا تو پھر ہم بھی کہیں کہ سورماؤ، گوکل کی گوپیو! شاباش تم نے بھی کوئی کارنامہ انجام دیا ہے۔
۱۴ اور ۱۵ اگست کی درمیانی شب تفریحی رت جگا منانے والے ان مادر پدر آزاد بے فکروں اور پاکستان کے نظریاتی باغیوں کے ساتھ ہونا تو یوں چاہیے کہ یہ بد لگام گرو جیسے ہی اپنے چیلوں چانٹوں، شراب و شاہد، اہل و عیال، قشقے اور تلک اور ساز و سامان کے ساتھ سرحد کے قریب خیمہ زن ہوں، انہیں فوری طور پر حراست میں لے کر وہاں سے سیدھا مچھ یا میانوالی جیل کی قصوری چکیوں میں منتقل کر دیا جائے، دو چار ماہ انہیں یہاں مچھروں، مکھیوں، پسوؤں اور کھٹملوں کی صحبت میں رتجگوں کے سنہرے مواقع فراہم کیے جائیں، دو چار رتجگوں کے بعد ہی یہ سورمے بول اٹھیں گے کہ اسلام آباد میں پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف انہوں نے کس کے اشارے پر جلوس نکالا اور کس کی خوشنودی کے حصول کے لیے انہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی علامتی قبر کھودی؟
”اجو“
یہ کامریڈ اجو اور کامریڈ مدیحہ گوہر نامی میاں بیوی نے این جی کے نظریات کا بے لاگ ترجمان ہے کے مصنف اور ہدایت کار بھی تھے سیاسی سفر تھا۔ زرد دوپٹہ ہو یا سرخ سرخ چنریوں، ساڑھیوں، یرقان زدہ دوپٹو کی سرگرمیوں سے ایک زمانہ بخوبی وا ٹائپ کا مفکر جوڑا جس کے بارے میں خدا کے
یہ مہذب میاں بیوی جس پڑنا کیوں شروع ہو جاتے ہیں۔ آج نام سے انہوں نے ایک ڈرامہ سٹیج کر پیغام یہ ہے کہ قیام پاکستان کا کوئی جوا کی ان خارش زدہ بکریوں کی ممیاہٹوں پ
اب ان بے وقوفوں کو کون نہیں ہیں کہ انہیں گرایا یا توڑا جا سکے۔ لکیریں ہیں کہ انہیں مٹایا جاسکے۔۔۔ کے ایک گھونٹ کے عوض جس میں کوئی برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے اپنے بات کرنے والے ذہنی مریض اس تاریخ سرحدیں مٹانے کا پیغام دے ناموں کو مٹانے یا بگاڑنے کی کوشش کر
حافظ شفیق الرحمٰن
”اجو“ کا تھیٹر اور جھوٹوں کی نانی
یہ کامریڈ ’اجو‘ اور کامریڈ ’سمجھ‘ کون تھے جن کے نام پر اور جن کی یاد میں شاہد ندیم اور مدیحہ گوہر نامی میاں بیوی نے این جی او تھیٹر قائم کر رکھا ہے۔ سنا ہے یہ تھیٹر پاکستان میں بائیں بازو کے نظریات کا بے لاگ ترجمان ہے۔ یہ شاہد ندیم وہی ’باکمال‘ شخصیت ہیں جو زرد دوپہر نامی ڈرامے کے مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ اس ڈرامے کا مرکزی موضوع بین السطور میں محمد نواز شریف کا سیاسی سفر تھا۔ ’زرد دوپہر‘ ہو یا ’سرخ خونیں سویرا‘ یہ کبھی بھی ہماری دلچسپیوں کا محور و مرکز نہیں رہے۔ سرخ خونیں سویروں، یرقان زدہ دوپہروں، ملگجی سرمئی شاموں اور ویران سیاہ راتوں کے ان خالقوں کی سرگرمیوں سے ایک زمانہ بخوبی واقف ہے۔ میاں بیوی روشن خیال اور لبرل دانشور ہیں۔ یہ اسی ٹائپ کا مفکر جوڑا جس کے بارے میں لسان العصر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا؎
یہ ’مہذب‘ میاں بیوی جب بھی بھارت جاتے ہیں، نہ جانے ان پر بدتہذیبی کے دورے پڑنا کیوں شروع ہو جاتے ہیں۔ آج کل یہ ثقافتی جوڑا بھارت میں ہے۔ دہلی میں ’ایک تھی نانی‘ کے نام سے انہوں نے ایک ڈرامہ سٹیج کر رکھا ہے۔ اخباری اطلاع کے مطابق ’جھوٹوں کی نانی‘ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ قیام پاکستان کا کوئی جواز نہ تھا، دونوں ملک ’سرحدوں کی دیواریں گرا دیں‘..... لبرل ازم کی ان خارش زدہ بکریوں کی ممیائوں پر نہ جانے کون لوگ ہیں جو توجہ دیتے ہیں۔
اب ان بے وقوفوں کو کون بتائے کہ پاکستان کی سرحدیں کوئی دیوار برلن یا لینن کا مجسمہ نہیں ہیں کہ انہیں گرایا یا توڑا جا سکے..... نہ ہی یہ سرحدیں اُڑ جانے والے کچے رنگ سے کھینچی ہوئی لکیریں ہیں کہ انہیں مٹایا جا سکے..... یہ سرحدیں کسی بکاؤ دانشور کے مسودے کی تحریر بھی نہیں کہ شراب کے ایک گھونٹ کے عوض جس میں کوئی ترمیم کی جاسکے۔ ان سرحدوں کو ابدیت عطا کرنے کے لیے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ کیا ان سرحدوں کو مٹانے اور گرانے کی بات کرنے والے ذہنی مریض اس تاریخی حقیقت سے باخبر نہیں؟
سرحدیں مٹانے کا پیغام دینے والے کیا کسی کو اجازت دیں گے کہ وہ ان کے ننھے منے ناموں کو مٹانے یا بگاڑنے کی کوشش کرے۔ یہ بے نام اور بدنام جوڑا اس بے نامی اور بدنامی کے
باوجود اپنے نام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تو پاکستان اور پاکستانیوں کو اپنا تشخص اور اپنی شناخت گم کر دینے کا پیغام کس منہ سے دے رہا ہے۔ چاندی پہلوان پوچھتا ہے کہ پاکستان کے خلاف یاوہ گوئی کرنے والا یہ شاہد ندیم کس کھیت کا باتھو اور یہ مدیحہ گوہر کس باغ کی مولی ہے...... میں نے چاندی پہلوان کے اس طرز سوال پر اعتراض کرنے کی کوشش تو اس نے کہا جو قائد اعظم کے پاکستان کی عزت نہیں کرتا، خواہ وہ کتنا بڑا دانشور، کتنا بڑا فنکار اور کتنی بڑی اداکارہ کیوں نہ ہو قابل عزت نہیں۔ عزت دار صرف وہ ہیں جو پاکستان کی عزت کرتے ہیں۔ جو پاکستان کو گالی دیتے ہیں ان کا وجود سراپا گالی ہے۔ عزت شرفاء کے لیے ہوتی ہے، جسمانی اور ذہنی لفنگوں کے لیے نہیں۔
بدی کرتا ہے دشمن اور ہم شرمائے جاتے ہیں
صلح کل اور وسیع المشربی کے علمبرداروں کے نزدیک اس قسم کے 'منی میر جعفروں' اور 'منی گھیٹی بیگموں' کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے حب الوطنی پر مبنی دیانت دارانہ آراء کا اظہار کرنا 'جذباتیت' اور 'انتہا پسندی' کے زمرے میں آتا ہے۔ اعتدال اور توازن کے نام پر وہ دل کو کشادہ اور ذہنی افق کو وسیع کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جذبوں سے محروم اس 'قبیلے' کے بعض دانشوروں نے ایسے مواقع پر خاموشی کا دوسرا نام برداشت اور رواداری رکھ چھوڑا ہے۔
شاہد ندیم اور مدیحہ گوہر کو یہ نام اور تشخص کس نے دیا۔ اس بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ اس سوہنی دھرتی نے، جس کا نام پاکستان ہے۔ نہ جانے بھارت جا کر ان کے من کی سیاہ ہنڈیا میں موہنجوداڑو کی باسی کڑھی میں ابال کیوں آ جاتا ہے۔ اب اگر انہیں پاکستان کی عطا کی ہوئی عزتیں، سہولتیں اور راحتیں چین نہیں لینے دیتیں تو شرنارتھی بن کر بھارت چلے جائیں اور سیاسی و سماجی اور ثقافتی پناہ کے لیے درخواست دے دیں۔ شاید ممبئی کی کسی جھونپڑی میں انہیں کوئی ایک آدھ کھولی 'تپیا' کے لیے میسر آ جائے۔ اور گیان دھیان کے دوران ان پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے کہ گنگا جمنی اور وادی سندھ کی تہذیبیں صدیوں سے متحارب اور متصادم تو نہیں رہی ہیں۔ واہگہ بارڈر اور کھوکھرا پار سرحد کے قیام سے ہزاروں سال قبل بھی ہند اور سندھ دو الگ الگ تہذیبی، تمدنی، ثقافتی اور سماجی رویوں اور روایات کے حامل خطے تھے۔ آزاد اور کھلی سرحدوں کے باوجود اس دور میں اگر ان میں کنفیڈریشن قائم نہیں ہو سکی تو آج اس قسم کے شوشے چھوڑنے والے شاہد ندیم اور مدیحہ گوہر جیسے ٹوٹ بٹوٹ اور موسمی دانشوروں کی کاوشیں کیونکر کامیاب ہوں گی۔ انہیں بھارت سے اتنا ہی پیار ہے تو یہ بھارت کو مستقل اپنا ٹھکانہ بنالیں تو بہتر ہو گا، خس کم جہاں پاک۔ ہندو معاشرت میں ان کی حیثیت ایک ملیچھ ہریجن سے زیادہ نہیں ہو گی۔ لگتا ہے کہ ان لوگوں کو وہ عزت راس نہیں آئی جو پاکستان نے انہیں دی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ مادر وطن کے ان ناخلف بیٹوں کے اثاثے ضبط کر کے انہیں مستقل طور پر جلاوطن کر دیا جائے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ جو شخص پاک دامن ماں کو گالی دیتا ہے اسے باپ کے گھر میں رہنے کا کوئی حق نہیں دیا جانا چاہیے۔ اسے تو
دونوں کانوں سے پکڑ کر گنگا برد کر دھرتی فروش دانشور یہ کرنے والا جو بھی پاکستانی بھارت ہے۔ استاد بڑے غلام علی خاں کے خان، زیبا بختیار، سلمیٰ آغا اور انیتا ا رہے ہیں..... محمد علی اور زیبا کو بڑے 'کلرک' جیسی سپر فلاپ مووی میں گجرال کے ساتھ مصافحہ کرنے اور آقاؤں کا حق نمک ادا کرتے ہوئے کی مظلومیت کی داستانوں کو نمک مر ہوئے محب وطن عوامی حلقے سوچ رہے ان
دونوں کانوں سے پکڑ کر گنگا بُرد کر دینا چاہیے۔
دھرتی فروش دانشور یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ بھارت کو اپنے خوابوں کی جنت تصور کرنے والا جو بھی پاکستانی بھارت جاتا ہے ذلیل و خوار اور رسوا و برباد ہونا اس کا مقدر بن جایا کرتا ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان کے ساتھ کیا ہوا؟ خون تھوکتے تھوکتے ’سورگ‘ کو سدھار گئے ...... محسن خان زیبا بختیار سلمیٰ آغا اور انیتا ایوب کو وہ عزت ملی کہ آج تک اس عزت افزائی کے زخم چاٹ رہے ہیں ...... محمد علی اور زیبا کو بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ بھارت یاترا کی دعوت دی گئی اور پھر ’کلرک‘ جیسی سپر فلاپ مووی میں انتہائی گھٹیا کردار دے کر ان کے بڑے پن کو داغدار کر دیا گیا ...... گجرال کے ساتھ مصافحہ کرنے اور معانقہ کرنے کا اعزاز حاصل کرنے والی لبرل اداکارہ نے بھارتی آقاؤں کا حق نمک ادا کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف خوب ہرزہ سرائی کی۔ اور پاکستان میں عورت کی مظلومیت کی داستانوں کو نمک مرچ لگا کر بیان کیا۔ اور ان ثقافتی بہروپیوں کی قلابازیوں کو دیکھتے ہوئے محب وطن عوامی حلقے سوچ رہے ہیں کہ ؎
حافظ شفیق الرحمٰن
رانی جھانسیاں اور جھانسے
اُدھر بھارت اگنی II کا تجربہ کر چکا ہے اور ادھر ہمارے ہاں کراچی اور سندھ میں لسانی، پنجاب میں فرقہ وارانہ اور صوبائی عدم مفاہمت کے خطرات ناگوں کی طرح پھن اٹھائے سینہ تانے کھڑے ہیں اور ایسے میں غیر ملکی سرمائے کے بل بوتے پر جو، معاشرے اور مملکت کو للکارنے والی عاصمائیں اور حنائیں فوج میں کمی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ عاصماؤں، حناؤں اور امن کی ان ”فاختاؤں“ کے حوالے سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ غیر ملکی ایجنڈے کے تحت سرگرم عمل ہیں تو بعض دانشوروں کی پیشانیوں پر شکنیں نمودار ہو جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کے نام پر رانی جھانسی بننے کا خواب دیکھنے والی ان رانی جھانسیوں، ان دانشوروں کو انسانی و نسوانی حقوق کا جھانسہ دے رکھا ہے۔ انسانی حقوق، چائلڈ لیبر اور آزادی نسواں کے نام پر بعض ریٹائرڈ بیورو کریٹوں کی بیگمات نے این جی اوز کا کھٹ راگ چھیڑ رکھا ہے۔ یہ بیگمات جن انسانوں کے بچوں اور بچیوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں، عام روزمرہ زندگی میں ان کے ساتھ ہاتھ ملانے اور انہیں اپنے ساتھ ایک صوفے پر بٹھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتیں۔ عالیشان ایئرکنڈیشنڈ بنگلوں میں درآمدی سگاروں اور درآمدی ”ممنوعہ پانی“ سے دل پشوری کرنے والی خواتین حقوق کی ان علمبرداروں کو کیا خبر کہ ایک غریب، مفلوک الحال اور مفلس انسان کے لیے زندگی سزا کیوں بن جاتی ہے۔ چائلڈ لیبر کے عنوان کے تحت بھارتی ایماء پر پاکستان کی کارپٹ انڈسٹری کا بیڑہ غرق کر کے ملکی معیشت کو عدم استحکام کا شکار بنانے والی یہ بیگمات اپنے محلات اور بنگلوں میں اپنے ملازموں کی بچیوں اور بچوں سے بیگار تک لینے سے بھی باز نہیں آتیں۔ ان سنگ دل اور کٹھور دل بیگمات کی جدوجہد کا محور و مرکز یہی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے چہرے کو مسخ کر کے پاکستان کو تنہا کر دیا جائے۔ بھارت ایٹمی دھماکہ کرے تو یہ منقار زیر پر ہوتی ہیں اور پاکستان بھارتی دھماکے کے رَدعمل میں اپنی ملّی غیرت کا اظہار کرے تو پارلیمنٹ ہاؤس، اسمبلی ہال اور شاہراہ قائد اعظم کے آس پاس پلے کارڈ لے کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ تب انہیں یاد آتا ہے کہ پاکستانی عوام کو ایٹم بم نہیں، آٹا چاہیے۔ ان بیگمات نے بیرونی ممالک سے کروڑوں پاؤنڈز اور اربوں ڈالرز کے عطیات حاصل کیے ہیں اگر یہ انسانی خوشحالی اور بہبود کے شعبوں میں نیک نیتی کے ساتھ کام کرنا چاہتیں تو یہ اس ملک کے ہر گاؤں اور ہر محلے میں محنت کش خواتین کے ورکنگ فوج کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کرنے، ایٹمی پرو لبرل خواتین سے اب یہ استفسار کون کرے اس کے بعد پاکستان کے ہر شہر کی سلامتی معر آکاش، ناگ، ترشول اور پرتھوی بھی ہیں۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پتلا جلا
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہر یو مالک یہ گل بدن اور گل بکاؤلی شہزادیاں باہ رکھنے والی محنت پیشہ خواتین کی ترجمان بنی پاکستان کے سارے دیہاتوں، سارے قصب ہے۔ ان کے اس دعوے اور زبانی جمع خرچ کبھی ایک ہفتہ کسی جناح آبادی، کسی جھونپڑے میں بسر نہیں کیا۔ انہیں کیا خبر کہ اور کھیت کے آنگن میں کن مسائل و مصائ فلاح و بہبود کے دعوے میں مخلص ہیں تو میں گزاریں جہاں ابھی بجلی نہیں پہنچی۔ ان سورج سر پر ہو اور اس کی کرنیں تیز ای اپنے سر پر گھاس یا لکڑیوں کی بھاری گٹھ کیا گزرتی ہے ....... یہ بیگمات جن کے ادراک کر سکتی ہیں۔ ننگے پاؤں راہ کے محنت کش عورت کے مصائب کا ادراک ایک تنکا بھی نہیں توڑتا ...... جنہیں چند ق رائس گاڑیوں کے بغیر جانا اپنے سٹیٹس سوتی جوڑا بنانے کی سہولت بھی حاصل کوٹھیوں کے در و دیوار بھی ریشم کے پر مالک مراعات یافتہ خاندانوں کی یہ بیگم بنا کر اپنے افراد خانہ کو نواز رہی ہیں اور کام آتی ہے نیز یہ کہ ان کے سفارشی حصول آسان ہو جاتا ہے۔
اور ہر محلے میں محنت کش خواتین کے ورکنگ سنٹر اور بچوں کے لیے تعلیمی ادارے قائم کر سکتی تھیں۔۔۔۔ فوج کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کرنے، ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی تجویزیں پیش کرنے والی ان لبرل خواتین سے اب یہ استفسار کون کرے کہ بھارت نے اگنی ٹو جوہری میزائل کا تجربہ کر لیا ہے اور اس کے بعد پاکستان کے ہر شہر کی سلامتی معرض خطر میں ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے ترکش میں آکاش، ناگ، ترشول اور پرتھوی بھی ہیں۔ بھارت کے خلاف تو یہ احتجاجی مظاہرہ نہیں کرتیں لیکن اسلام آباد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پتلا جلانے اور علامتی قبر بنانے سے بھی باز نہیں آتیں۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہر بڑے شہر کی پوش آبادیوں میں عالیشان ولاز اور بنگلوں کی مالک یہ گل بدن اور گل لگاؤٹی شہزادیاں ہاریوں، مزارعوں اور زرعی محنت کشوں کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی محنت پیشہ خواتین کی ترجمان بنی بیٹھی ہیں اور ببانگ دہل یہ دعوے کر رہی ہیں کہ سارے پاکستان کے سارے دیہاتوں، سارے قصبوں اور سارے شہروں کی خواتین کا درد ان کے جگر میں ہے۔ ان کے اس دعوے اور زبانی جمع خرچ کے برعکس عملی صورت حال یہ ہے کہ انہوں نے زندگی میں کبھی ایک ہفتہ کسی جناح آبادی، کسی چنگڑ محلے، کسی چیچہ کی ملیاں، کسی دھوپ سڑی اور کسی چک جھمرے میں بسر نہیں کیا۔ انہیں کیا خبر کہ ایک عام شریف اور غریب خاتون کو اپنے گھر کی چاردیواری اور کھیت کے آنگن میں کن مسائل و مصائب کی پرخطر وادیوں کو قطع کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ اگر یہ عورتوں کی فلاح و بہبود کے دعوے میں مخلص ہیں تو موسم گرما کی چلچلاتی دھوپ میں ایک ہفتہ کسی ایسے دیہات میں گزاریں جہاں ابھی بجلی نہیں پہنچی۔ انہیں کیا خبر کہ گرمیوں کے جھلسے موسم اور تپتے دنوں میں جب سورج سر پر ہو اور اس کی کرنیں تیزاب اور شعلے برسا رہی ہوں تو ایسے میں ایک باپردہ دیہاتی عورت اپنے سر پر گھاس یا لکڑیوں کی بھاری گٹھری رکھے برہنہ پا جب دہکتی زمین پر چلتی ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔۔۔۔۔ یہ بیگمات جن کے ہاں وال ٹو وال کارپٹ بچھا ہے، کیا اس خاتون کے مسائل کا ادراک کر سکتی ہیں۔ ننگے پاؤں راہ کے کانٹوں کی تواضع آبلوں کے پانی سے کرنے والی اس زرعی محنت کش عورت کے مصائب کا ادراک وہ عورت کیسے کر سکتی ہے جس نے زندگی میں اپنے ہاتھ سے ایک تنکا بھی نہیں توڑا۔۔۔۔ جنہیں چند گز دور بھی جانا ہو تو پجیرو، مرسیڈیز، نسان، پٹرول، بیوک اور رولز رائس گاڑیوں کے بغیر جانا اپنے سٹیٹس کے منافی سمجھتی ہوں۔۔۔۔ وہ عورتیں جنہیں سال میں ایک مرتبہ سوتی جوڑا بنانے کی سہولت بھی حاصل نہ ہو، ان کے حقوق کی گوریلا جنگ لڑنے والی فائیٹر خواتین کی کوٹھیوں کے در و دیوار بھی ریشم کے پردوں میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔۔ گھوڑی پال مربعوں کے مالک مراعات یافتہ خاندانوں کی یہ بیگمات اب بقول پیر بنیا مین خاندان پال سکیم کے تحت این جی اوز بنا کر اپنے افراد خانہ کو نواز رہی ہیں اور دانشور اس لیے خاموش ہیں کہ ورلڈ ٹور کے لیے ان کی سفارش کام آتی ہے نیز یہ کہ ان کے سفارشی رقعوں سے امریکہ میں مقیم کامریڈ زادوں کے لیے گرین کارڈ کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
پونم جیسی نام نہاد سیاسی جماعتوں کا ملغوبہ ہو یا این جی اوز کا یہ چٹوں پٹوں کا مربہ...... ان کے اہداف یہ ہیں:
...... یہ پاکستان کا نام بدلنا چاہتے ہیں...... یہ ہماری ملی تاریخ کے ہیروز کو ولن اور ولنوں کو ہیرو بنانا چاہتے ہیں...... یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کروانا چاہتے ہیں...... یہ بے حجابی اور آزادی نسواں کے نام پر غیرت ملی کے جذبات کو فنا کرنا چاہتے ہیں...... یہ اس سوہنی دھرتی کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کا منفی عزم رکھتے ہیں...... یہ ملک کے آئین کی تنسیخ چاہتے ہیں...... لیکن یہ اپنی سماجی حیثیت اور شناخت کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں!
عبد القادر حسن
آستین کا سانپ
اس ملک میں اور اس قوم پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ اس کے دارالحکومت میں محافظ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف جلوس نکالا جائے اور جسارتیں یہاں تک بڑھیں کہ ان کی قبر بھی بنائی جائے۔ اسلام آباد راولپنڈی میں آباد پاکستانیوں کی بے حسی بلکہ بے حمیتی کی انتہا ہے کہ انہوں نے یہ تماشا دیکھا اور چپ رہے اور ہماری حکومت جو کبھی چپ نہیں ہوتی‘ اس سانحہ پر خاموش ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ یہ جلوس اور مظاہرہ بھارتی سفارت خانے کی مالی امداد سے ہوا۔ اس ملک میں سامراجی گماشتوں نے این جی اوز (غیر سرکاری تنظیموں) کا جال بچھانا شروع کر دیا ہے جن کو امریکہ کے زیر اثر ادارے ورلڈ بینک اور عالمی فنڈ وغیرہ سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور ان تنظیموں سے متعلق لوگ اس کا حق نمک ادا کرتے ہیں۔ یہاں ایک ”پاک بھارت فورم“ بھی بنا ہوا ہے جس کے بارے میں بعض لوگ یقین سے اور بعض مبینہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ اس فورم کو بھارت سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ ایک طریقہ واردات یہ بھی ہے کہ امریکہ کی بعض یونیورسٹیاں بھی تحقیق کے نام پر ان تنظیموں کی مالی امداد کرتی ہیں۔ بہر کیف جو ادارے بھی مالی امداد کرتے ہیں‘ ان کے اپنے مخصوص مقاصد ہیں اور ایک پاکستان دشمن مقصد تو کھل کر سامنے آیا ہے اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کے خلاف یہ مظاہرہ ہوا ہے۔ کون اس سے انکار کر سکتا ہے کہ اس کا فائدہ صرف بھارت کو جاتا ہے؟
جڑواں دارالحکومت راولپنڈی‘ اسلام آباد سے آنے والی یہ واحد خبر تھی جس پر میں نے یقین نہیں کیا۔ میرے لیے یہ تصور کرنا ممکن نہیں کہ کوئی کم بخت پاکستانی ایسا بھی ہو سکتا ہے جو ڈاکٹر قدیر جیسے شخص کے خلاف بات کر سکتا ہے اور اس حد تک جا سکتا ہے کہ ایک شاہراہ پر ان کی قبر بناتا ہے۔ اسلام آباد راولپنڈی میں اگر کوئی قبر بنے گی اور ضرور بنے گی تو ان لوگوں کی حسرتوں کی قبر ہوگی۔ لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ ایسی جرات کیسے ہوئی اور یہ سوال میں اگر کسی سے پوچھ سکتا ہوں تو وہ صدر پاکستان جناب فاروق لغاری ہیں جن کی حب الوطنی پر شک کرنے کی میرے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے‘ وہ کسی سیاسی پارٹی کے نہیں‘ پاکستان کے صدر ہیں۔ پاکستان کے مفادات کی حفاظت ان کا پہلا فرض ہے اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے جب یہ اطلاع سنی ہوگی تو وہ میری طرح بلکہ مجھ
سے زیادہ پریشان ہوئے ہوں گے کیونکہ ان کی ذمہ داری مجھ سے زیادہ ہے۔ میں تو صرف دو لفظ لکھ کر رو سکتا ہوں لیکن وہ تو ان نام نہاد پاکستانیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ ہماری سیاسی حکومت ان دنوں وزارتوں کی تقسیم میں مصروف ہے اور آزاد کشمیر کی فتح کو مکمل کرنے کی فکر میں ہے لیکن جناب صدر کا مملکت پاکستان کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے اور یہ طے ہو چکا ہے اور پوری قوم اس پر متفق ہے کہ پاکستان کے دفاع کے لیے فی الوقت ایٹمی توانائی سے بڑھ کر اور کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ بالکل یہی وجہ ہے کہ بھارتی ایجنٹ اس سے پریشان ہیں اور اس کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ بھارت کے کچھ ایجنٹ پاکستان میں ایک طرف اگر دھماکے کرا رہے ہیں اور بے گناہ پاکستانیوں کی جانیں لے کر ملک میں بے اطمینانی پھیلا رہے ہیں تو دوسری طرف ”دانشوروں“ کے ذریعہ فکری محاذ پر قوم کے اندر شکوک اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں تاکہ یہ قوم اپنے قومی فکری مرکز سے ہٹ جائے۔ بھارت کی تو یہ خواہش ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے کہ وہ ہمارا دشمن ہے جو ہر میدان میں ہمارے خلاف برسر پیکار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان پاکستانی دانشوروں کی خباثتیں کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ یہ مظاہرہ صرف قدیر خان کے خلاف نہیں، پوری فوج کے خلاف بھی تھا کیونکہ ہر وہ ادارہ جو پاکستان کا دفاع کر سکتا ہے، ان لوگوں کے لیے ناپسندیدہ اور ناقابلِ برداشت ہے جسے اسلام آباد والوں نے ہنسی خوشی برداشت کر لیا۔ تعجب ہے کہ جب یہ مظاہرہ ہو رہا تھا تو وہاں موجود لوگ کیا کر رہے تھے؟ خاموشی کے ساتھ دیکھنے والوں کی آنکھیں پھوٹ کیوں نہ گئیں اور دل پھٹ کیوں نہ گئے؟ کیا کوئی پاکستانی اس قدر بے حس بھی ہو سکتا ہے؟ میرے لیے اس کا تصور کرنا بہت مشکل ہے اور وہ پولیس کہاں تھی جو اس شہر میں اپوزیشن کو پر نہیں مارنے دیتی لیکن پاکستان کی اپوزیشن شاید ہماری پولیس کے لیے اپوزیشن نہیں ہے، صرف حکومت کی اپوزیشن ہی اپوزیشن ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں بھی پولیس کی طرح خاموش ہیں۔ جنرل حمید گل کے دل میں ہی اضطراب پیدا ہوا اور ان کی بات اخبارات میں چھپی۔ کسی دوسرے دل کو یہ چوٹ نہیں لگی یا بات بات پر احتجاج کرنے والوں نے ابھی تک اس کا اظہار نہیں کیا۔
صدر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ صرف یہی نہ کریں کہ ایسی جماعتوں اور مظاہرہ کے پس پردہ محرکات کی تحقیقات کرائیں بلکہ ان این جی اوز کی باقاعدہ انکوائری کرائیں کہ یہ سوشل ویلفیئر جیسے کاموں کے پردے میں کیا گل کھلاتے ہیں؟ آج انہوں نے ایک مظاہرہ کیا ہے کل مزید آگے بڑھیں گے اور ملک کے مفادات کے لیے مزید خطرات پیدا کریں گے۔ شہری کمشن روز اول کے دانش مندانہ مشورے پر عمل کیا جائے اور اس فتنے کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔ صومالیہ کی بربادی انہی این جی اوز کا کارنامہ ہے۔ پاکستانی اگر ہوشیار نہ رہے تو یہ آستین کے سانپ ان کو ڈس لیں گے اور پانی پلانے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔
❁ ❁ ❁
چائلڈ لیبر
صوبائی دارالحکومت سے اقبال مسیح کا عالمی شہرت یافتہ قتل معمہ واقعہ کو بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر کے خلا رہا تھا، وہ ایک گدھی سے منہ کالا کر بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ”ہم غصہ میں آگیا۔ پھر اس نے بارہ بور ہوگئے جبکہ اقبال دم توڑ گیا۔ مقتول (مرید کے) کے دورے کے بعد معلوم تھی۔ ان کے ہاں تین بیٹے وریام، ق ہوئیں۔ اقبال مسیح ثوبیہ سے بڑا اور باقی سے شادی کر رکھی تھی اور اس کے بطن س تھا۔ ثوبیہ کی پیدائش سے قبل ہی سیف بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ وہ مقبول کے بعد وہیں آ گیا اور پطرس مسیح اور فو اسلم مسیح، اقبال مسیح اور ثوبیہ رہنے لگے۔ ا پہلے پطرس مسیح اور اقبال مسیح نے مرید ک دیا۔ پطرس مسیح نے بتایا کہ ہم دونوں بھا میں یہ اعلان ہوا کہ شیخوپورہ میں ایک جل میں اہم اعلان ہوگا۔ پطرس مسیح کے مطا وہاں بانڈڈ لیبر فیڈریشن کے سربراہ احس سے پیشگی سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
محمد نوید شاہین (ایڈووکیٹ)
چائلڈ لیبر کی آڑ میں پاکستان دشمنی
صوبائی دارالحکومت سے 25 کلومیٹر دُور مریدکے کے نزدیک سلامت پورہ میں 12 سالہ اقبال مسیح کا عالمی شہرت یافتہ قتل معمولی اور فوری نوعیت کے جھگڑے کا شاخسانہ تھا۔ عالمی سطح پر جس واقعہ کو بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اُٹھانے والے نوعمر کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا‘ وہ ایک گدھی سے منہ کالا کرنے سے منع کرنے کا نتیجہ نکلا۔ مقتول کے ننھے منے زخمی ساتھی اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ”ہم نے منشی اشرف کو گدھی سے زیادتی کرتا دیکھ کر مذاق کیا اور وہ غصہ میں آ گیا۔ پھر اس نے بارہ بور بندوق سے فائرنگ کر دی۔ ہم تینوں کو چھرّے لگے‘ ہم زخمی ہو گئے جبکہ اقبال دم توڑ گیا ۔ مقتول اقبال مسیح کے گھر واقع کچی بستی عیسائیاں موضع حدوکے (مریدکے) کے دورے کے بعد معلوم ہوا کہ سیف مسیح نے سولہ سال قبل عنایتاں بی بی سے شادی کی تھی۔ ان کے ہاں تین بیٹے دریام مسیح‘ پطرس مسیح‘ اقبال مسیح اور دو بیٹیاں فوزیہ اور ثوبیہ کی پیدائشیں ہوئیں۔ اقبال مسیح ثوبیہ سے بڑا اور باقی سب سے چھوٹا تھا۔ عنایتاں بی بی نے اس سے قبل رمضان مسیح سے شادی کر رکھی تھی اور اس کے بطن سے اسلم مسیح پیدا ہوا تھا جو اقبال وغیرہ کے ساتھ ہی رہائش پذیر تھا۔ ثوبیہ کی پیدائش سے قبل ہی سیف مسیح نے زبیدہ نامی خاتون سے شادی کر لی۔ اس سے بھی دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ وہ منواں آباد کے نزدیک چک نمبر 26 میں مقیم ہے۔ سیف مسیح شادی کے بعد وہیں آ گیا اور پطرس مسیح اور فوزیہ کو بھی یہیں لے آیا۔ حدوکے والے گھر میں عنایتاں بی بی‘ اسلم مسیح‘ اقبال مسیح اور ثوبیہ رہنے لگے۔ اسلم مسیح قریب ہی واقع ایک بھٹہ پر کام کرتا تھا جبکہ پانچ سال پہلے پطرس مسیح اور اقبال مسیح نے مریدکے میں محمد ارشد کے قالینوں کے کارخانے میں کام شروع کر دیا۔ پطرس مسیح نے بتایا کہ ہم دونوں بھائی وہاں اکٹھے کام کرتے تھے۔ چار سال قبل ہمارے کارخانے میں یہ اعلان ہوا کہ شیخوپورہ میں ایک جلسہ عام ہو رہا ہے جس میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے بارے میں اہم اعلان ہو گا۔ پطرس مسیح کے مطابق جب ہم دونوں بھائی دیگر افراد کے ہمراہ جلسہ میں گئے تو وہاں بانڈڈ لیبر فیڈریشن کے سربراہ احسان اللہ خان موجود تھے جنہوں نے قالینوں کے کارخانوں میں سے پیشگی سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہم لوگوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔ پھر احسان اللہ
خان باری باری ہم سے ملے۔ انہوں نے میرے بھائی اقبال مسیح سے ملنے کے بعد کہا کہ ”تم پڑھے کیوں نہیں؟“ پھر لاہور آنے کا کہہ کر وہ چلے گئے۔ ایک ماہ بعد ایک جلسہ اور ہوا جس میں انہوں نے اقبال مسیح سے تقریر کروائی اور پھر میرے والد سیف مسیح اور والدہ عنایتاں سے بات کر کے اپنے ساتھ لاہور لے گئے۔ کچھ عرصہ بعد اسے گھر واپس لائے تو اقبال بڑا خوش تھا اس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ خان صاحب نے بتایا کہ ”اب یہ سکول میں پڑھنے لگا ہے“ اقبال کی والدہ عنایتاں بی بی نے کہا کہ ”میں نے تو صرف اقبال کو جنم دیا تھا اس کے بعد تربیت تو احسان اللہ خان نے کی ہے وہی اس کے اصل وارث ہیں ۔“ سیف مسیح نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”خان صاحب نے اقبال کو اپنا بیٹا بنایا تھا، ہم تو ان کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے، وہ جو کہیں گے وہی قدم اٹھائیں گے وہی اقبال کے اصل وارث ہیں ۔“ اقبال مسیح کے بڑے بھائی اسلم مسیح نے بتایا کہ اقبال ایسٹر منانے اپنے گھر واقع حدوکے آیا تھا وہ ۱۶ اپریل آٹھ بجے رات اپنے کزنز فریاد مسیح اور لیاقت مسیح کے ساتھ سائیکل پر اپنے پھوپھا نیامت مسیح کو کھانا دینے قریب واقع گاؤں سلامت پورہ جا رہا تھا۔ میں نے چک ۴۵ کے نزدیک ٹھیکہ پر زمین لے رکھی تھی۔ اس سے ملحقہ زمین مقامی زمیندار ذکی جٹ نے ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔ کھیتوں کی رکھوالی والا اس کا ملازم اشرف نشہ کرتا تھا۔
فریاد نے بتایا کہ جب وہ کھیتوں کے پاس سے گزر رہے تھے تو بندوق سے مسلح اشرف لیاقت کے والد نیامت سے مانگی ہوئی گدھی سے غیر فطری سلوک کر رہا تھا۔ ہم تینوں نے بیک زبان اس پر آواز لگائی ”اوئے یہ کیا کر رہے ہو؟ تمہیں شرم نہیں آتی“ اس پر اشرف مشتعل ہو گیا۔ ہم نے سائیکل بھگائی اور ”اوئے اوئے“ کے نعرے لگاتے رہے۔ وہ ہمارے پیچھے آیا اور کچھ فاصلے سے بندوق سے فائرنگ کر دی۔ تین چھرے فریاد دو لیاقت اور اقبال کو لگے۔ تینوں زخمی ہو گئے۔ اقبال مسیح بعد ازاں دم توڑ گیا۔ فریاد مسیح نے تھانہ فیروز والا میں یہی بیان دے کر اشرف کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کروایا۔ اشرف بعد ازاں اپنی بندوق کھیت میں ہی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ یہ بندوق ذکی جٹ کی تھی۔ پولیس نے ذکی اور اشرف کے بھائی کے علاوہ ان کی ماں کو بھی گرفتار کر لیا۔ جائے وقوعہ کے ارد گرد موجود تمام افراد ذکی جٹ اور قریب ہی واقع گاؤں سلامت پورہ کے تمام مکینوں کا کہنا ہے کہ اقبال مسیح کے قتل کی اصل کہانی یہی ہے اس سے زیادہ کوئی واقعہ نہیں ہوا، اور نہ ہی ملزم اشرف کا قالین بافی کی صنعت سے متعلقہ افراد سے کوئی تعلق ہے۔ مقتول کے والد سیف مسیح والدہ عنایتاں بی بی، بھائی اسلم مسیح اور پطرس مسیح نے بھی یہی کہا ہے کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی آج تک اشرف سمیت کسی سے جھگڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاقی حادثہ تھا جو چھوٹی سی بات کے بعد رونما ہوا۔ زخمی فریاد کا کہنا ہے کہ ملزم اشرف اپنی ذلت اور بدنامی سے ڈر گیا اس لیے اس نے فائرنگ کر دی۔ اس قتل کے بارے میں تمام غیر ملکی نشریاتی اداروں اور ذرائع ابلاغ نے طویل ڈاکومنٹری اور مضامین نشر و شائع کیے جن میں قتل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور قالین بافی
کی صنعت سے متعلقہ افراد پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے نوعمر اقبال مسیح کو چائلڈ و بانڈڈ لیبر پر احتجاج کے جرم میں قتل کروایا ہے اس سلسلے میں بھارت سمیت متعدد ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ یورپی ممالک نے اسی وجہ سے پاکستان ایکسپورٹ کیے جانے والے قالین خریدنے سے انکار کر دیا۔ اس بارے میں پاکستان کارپٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے الزام کی تردید کی اور کہا کہ اقبال مسیح کے قتل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت پنجاب کے ساتھ ساتھ پولیس بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں شہرت حاصل کرنے والے قتل پر حرکت میں آگئی اور وزیر اعلیٰ سے ایس پی شیخوپورہ تک رپورٹیں طلب کی جانے لگیں۔ فیروز والا پولیس نے پریشانی کے عالم میں ملزم اشرف کے اہل خانہ کے علاوہ ذکی جٹ وغیرہ کو بھی گرفتار کر لیا۔ قتل کے دو واحد گواہ غائب کر دیئے گئے۔ عینی شاہدوں مقتول کے عزیز واقارب کے بیانات اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد نے یہ بات ثابت کر دی کہ اقبال مسیح کو گدھی کے جھگڑے پر قتل کیا گیا لیکن ایک مخصوص گروپ نے اس کیس کا رنگ بدل کر پاکستان کے تیرہ ارب روپے کی برآمدات خطرے میں ڈال دی۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے سامنے اس کیس کو اس انداز سے پیش کیا گیا جیسے اقبال مسیح کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک بڑے اور بااثر گروپ نے قتل کیا۔ اس طرح اس کیس کو سلامت مسیح کیس بنانے کی کوشش کر کے ملک کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ ہدایت مسیح کے بھائی امانت مسیح جو اس کیس کا اہم گواہ ہے‘ نے بتایا کہ وقوع کی رات میں ڈیرے پر تھا جب اقبال مسیح گھر آیا تو ان کے بھتیجے ۲۲ سالہ فریاد اور ۱۳ سالہ لیاقت سائیکل پر میرے لیے روٹی لے کر ڈیرے پر آئے تھے۔ آخری وقت اقبال مسیح اُٹھا اور کہا کہ میں بھی ان کے ساتھ ڈیرے پر چلتا ہوں۔ چنانچہ تینوں سائیکل پر روانہ ہوئے۔ امانت مسیح نے بتایا کہ رات تقریباً پونے آٹھ بجے مجھے ایک فائر کی آواز سنائی دی۔ میں فائر والے مقام کی طرف بھاگا اور تقریباً ۲۰ منٹ بعد اس مقام پر پہنچا‘ وہاں اقبال مسیح مردہ حالت میں پڑا تھا جبکہ اس کے قریب دونوں بچے رو رہے تھے۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ سب کیا ہوا تو دونوں نے کہا کہ اشرف عرف ہیرو نے ہم پر بندوق سے فائر کیا۔ اقبال مسیح مر گیا اور ۲۲ سالہ فریاد کے بازو میں چھرے لگے جبکہ ۱۳ سالہ لیاقت محفوظ رہا۔ اس نے مزید کہا کہ تب میرے ساتھ ایک شخص یوسف بھی تھا جس کے سامنے دونوں نے اشرف عرف ہیرو کا نام لیا۔ وہ اپنی بندوق بھی اس مقام پر چھوڑ گیا تھا جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ وہ اس کے مالکوں کی تھی۔ امانت مسیح نے مزید بتایا کہ رات کی تاریکی میں اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ وہ اپنے بیٹے لیاقت مسیح اور ماموں زاد فریاد کو اقبال مسیح کے پاس چھوڑ کر ٹریکٹر ٹرالی پر سوار ہو کر تھانے آگیا‘ وہاں سے پولیس کو لے کر تقریباً رات ایک بجے جائے وقوعہ پر آئے۔ پولیس نے لاش قبضہ میں لی۔ اس کے بعد فریاد اور لیاقت مسیح کو گھر لے آئے۔ اس ساری کارروائی میں صبح ہو گئی تقریباً دس بجے احسان اللہ خان ہمارے گھر آئے‘ سارا واقعہ پوچھا اور پھر انہوں نے کہ فریاد اور لیاقت مسیح کو ساتھ چلنے کو کہا۔ ہم نے کہا کہ کہاں لے کر جا
رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ فریاد کا علاج کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ دوسرے بچے کو یہاں چھوڑ جائیں تو انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں زخمی کے پاس بھی تو کوئی ہونا چاہیے۔ آج آٹھ روز ہو گئے، ہم میں سے کئی افراد اپنے بچوں کو لینے لاہور گئے، ان کے دفتر میں دونوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دونوں خیریت سے ہیں لیکن ہماری دونوں سے ملاقات تک نہیں کرائی۔ آج بھی ہمارے گھر کا ایک فرد وہیں سے آیا ہے لیکن انہیں بھی دونوں لڑکے نہیں دکھائے گئے۔ وہ مایوس واپس لوٹ آیا۔ امانت مسیح سے جب پوچھا گیا کہ اقبال مسیح کو کن ظالموں نے قتل کیا اور اس کی وجہ کیا تھی تو وہ بڑا حیران ہوا۔ اس نے کہا حقائق تو سامنے ہیں، تینوں سائیکل پر ڈیرے جا رہے تھے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ ملزم اشرف عرف ہیرو ان کی گدھی سے غلط حرکات کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے منع کیا جس پر ہیرو غصے میں آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اب اس کیس کی تفتیش کیا رُخ اختیار کر گئی ہے اور نہ ہی ہم نے پولیس کو اس بیان کے علاوہ اور کوئی بیان دیا اب جبکہ فریاد اور لیاقت مسیح ہمارے پاس نہیں ہیں، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اب اس کیس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ دوسری طرف اس کیس کی تفتیش کے بارے میں فیروز والا تھانے کے انچارج انسپکٹر محمد اشرف نے بتایا کہ فریاد کی رپورٹ پر انہوں نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا جس نے رپورٹ میں گدھی کے واقعہ کا ذکر کیا اور ایف آئی آر میں محمد اشرف عرف ہیرو کو ملزم نامزد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بارہ بور کی بندوق، جس سے ہیرو نے مبینہ طور پر فائر کیا، وہ اس کے مالک علی حسین کی ملکیت ہے۔ انہوں نے اس کیس میں علی حسین ولد زکی حسین کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ ہیرو مفرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ اقبال مسیح کی کسی سے دشمنی تھی یا اس کے علاوہ اسے کوئی اور قتل کر سکتا ہے۔
ایک رپورٹ میں ”بچوں کی حالت“ میں بتایا گیا ہے کہ چائلڈ لیبر اب صرف تیسری دنیا کا نہیں بلکہ صنعتی دنیا کا بھی مسئلہ ہے۔ امریکہ میں تارکین وطن اور نسلی اقلیتوں کے بچوں کی ایک بڑی تعداد محنت و مزدوری پر مجبور ہے۔ ۱۹۹۰ء کے ایک سروے کے مطابق ریاست نیویارک میں میکسیکو کمیونٹی کے بچوں کی نصف سے زیادہ تعداد علاقے کے کھیتوں میں کام کرتی ہے جہاں وہ کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح یورپ خصوصاً برطانیہ میں بھی مشقت کرنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
چائلڈ لیبر کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ چھ ممالک کے سوا تمام اقوام عالم بچوں کے حقوق کے معاہدے کی توثیق کر چکی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جن چھ ممالک نے ابھی تک بچوں کے حقوق کے معاہدے کو تسلیم نہیں کیا، ان میں کک آئی لینڈ، اومان، صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ سوئٹزرلینڈ اور امریکہ بھی شامل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ اور خصوصاً امریکہ کا شمار دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے جو انسانی حقوق کی سربلندی اور بحالی کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے ہیں اور دنیا
کے کسی بھی حصے میں ہونے والی انسانی حقو کے حقوق کے معاہدے کی توثیق نہیں کر
بانڈڈ لیبر لبریشن فیڈریشن کے کیا ہے کہ فیڈریشن کا ایک دوسرا عہدیدار میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر شوہر کی وفات کے بعد اقبال مسیح کے با کے پہلے شوہر کی بیٹی زبیدہ سے شادی ر اقبال مسیح کی عمر سات سال تھی۔ ہارون بچے ہیں جن کی عمریں چھ سے بارہ سال عمر ۱۹ یا ۲۰ سال تھی جبکہ اس کے بارے تھی۔ ہارون مسیح نے کہا کہ اقبال مسیح تم تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ عہدیدار نے والوں کی فلاح کے لیے بھاری رقوم بٹو گیا تھا جس کے بعد اقبال مسیح کا قتل ہو ایل ایل ایف کے مرکزی صدر احسان ال اس کیس کو اُچھال کر بین الاقوامی شہرت کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر قالین بنانے والے مالکان پر ڈالنا چاہت ایل ایل ایف کے جنرل سیکرٹری رفیق م کے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے لیا۔ ہارون تعلقات ہیں اور انڈین بی ایل ایل ایف جاتے رہتے ہیں۔ اقبال مسیح نے الزام ل روپے کما رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں لیے وہ میرا دشمن بن گیا ہے۔ اقبال مسیح کی تصاویر بھی دکھائیں۔ پریس کانفرنس میں
انہی دنوں امریکہ کے سابق صد کے قتل کی تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر کرائی جا کہ اقبال مسیح کیس کے بارے میں امریکی قتل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہ
کے کسی بھی حصے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر احتجاج کرتے ہیں لیکن خود ابھی تک بچوں کے حقوق کے معاہدے کی توثیق نہیں کر سکے۔ منافقت اور دوہرا معیار شاید اسی رویے کو کہا جاتا ہے۔
بانڈڈ لیبر لبریشن فیڈریشن کے بانی رکن اور قصور برانچ کے صدر ہارون مسیح نے الزام عائد کیا ہے کہ فیڈریشن کا ایک دوسرا عہدیدار اقبال مسیح کے قتل میں ملوث ہے‘ وہ یہاں لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال مسیح کی ماں نے اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد اقبال مسیح کے باپ سے شادی کی تھی مگر اُس کے باپ نے اقبال مسیح کی ماں کے پہلے شوہر کی بیٹی زبیدہ سے شادی رچا لی اور اقبال مسیح اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دیا۔ اس وقت اقبال مسیح کی عمر سات سال تھی۔ ہارون مسیح کا کہنا ہے کہ اقبال مسیح کی سوتیلی ماں زبیدہ کے اب تین بچے ہیں جن کی عمریں چھ سے بارہ سال تک ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کے وقت اقبال مسیح کی عمر 19 یا 20 سال تھی جبکہ اس کے بارے میں غلط پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی۔ ہارون مسیح نے کہا کہ اقبال مسیح تین سو روپے ماہوار پر اس عہدیدار خان کے گھر پر ملازم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ عہدیدار نے اقبال مسیح کو بانڈڈ لیبر کا رہنما ظاہر کر کے جبری مشقت کرنے والوں کی فلاح کے لیے بھاری رقوم بٹوری تھیں اور بعد ازاں کسی وجہ سے وہ اقبال مسیح سے ناراض ہو گیا تھا جس کے بعد اقبال مسیح کا قتل ہو گیا۔ بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ قصور کے صدر ہارون مسیح نے بی ایل ایل ایف کے مرکزی صدر احسان اللہ خان پر الزام لگایا ہے کہ اقبال مسیح کو اس نے قتل کرایا تا کہ اس کیس کو اُچھال کر بین الاقوامی شہرت اور بھاری رقوم حاصل کر سکے۔ ہارون مسیح نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احسان اللہ پہلے مجھے قتل کروا کر اس کا الزام قالین بنانے والے مالکان پر ڈالنا چاہتا تھا لیکن خوش قسمتی سے میں بچ گیا‘ اس کے بعد اس نے بی ایل ایل ایف کے جنرل سیکرٹری رفیق مسیح کو مروانے کی کوشش کی اور اسے رات کے بارہ بجے اغوا کر کے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے لیا۔ ہارون مسیح نے کہا کہ احسان اللہ خان کے بھارتی لوگوں سے خاص تعلقات ہیں اور انڈین بی ایل ایل ایف کے صدر سوامی اور کیلاش نامی افراد اکثر اس کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ اقبال مسیح نے الزام لگایا کہ احسان اللہ خان بی ایل ایل ایف کے نام پر لاکھوں روپے کما رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے احسان اللہ خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہوا ہے اس لیے وہ میرا دشمن بن گیا ہے۔ اقبال مسیح نے اس موقع پر اخبار نویسوں کو احسان اللہ خان کی دو بیویوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ پریس کانفرنس میں اقبال مسیح کے دوسرے ساتھی بھی موجود تھے۔
انہی دنوں امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقبال مسیح کے قتل کی تحقیقات ترجیحی بنیادوں پر کرائی جائیں۔ حکومت پاکستان کے نام ایک خط میں انہوں نے کہا کہ اقبال مسیح کیس کے بارے میں امریکی عوام حقیقی صورت حال جاننے کے خواہش مند ہیں کہ اس قتل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں اس لیے کیس کی تحقیقات جلد اور غیر جانبدارانہ طور پر
کرائی جائیں۔ اقبال مسیح کو امریکہ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خصوصی شہرت حاصل تھی امریکہ کی ایک معروف جفت ساز کمپنی نے اسے امریکہ کے دورے کے دوران سال کے بہترین بچے کا ایوارڈ ”یوتھ ان ایکشن ایوارڈ“ دیا تھا جس کے ساتھ اسے پندرہ ہزار ڈالر کی رقم بھی ملی تھی‘ اس کے قتل کے بعد بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کے رہنما احسان اللہ خان نے الزام عائد کیا تھا کہ اقبال مسیح کو کارپٹ انڈسٹری کے لوگوں نے قتل کرایا ہے تا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف اس کی آواز کو دبایا جاسکے۔
معروف کالم نگار نذیر ناجی اپنے کالم ”چہ ارزاں فروختند؟“ میں لکھتے ہیں:
”پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے تحقیقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ اقبال مسیح قتل کیس میں کوئی سازش کارفرما نہیں۔ یہ قتل ایک اتفاقیہ حادثے کے نتیجے میں ہوا اور اس واردات کا ملزم گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔ اقبال مسیح کے بارے میں آپ جانتے ہوں گے‘ وہ ایک نوجوان لڑکا تھا جو پاکستان میں جبری اور بچوں کی مزدوری کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتا تھا۔ اس میں اسے عالمی شہرت ملی اور نقد رقم کے علاوہ امریکہ میں اس کی تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ اس کی یہی شہرت بعض لوگوں کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بن گئی۔ پاکستان کی برآمدات کو نقصان پہنچانے کے لیے بیرونی ملکوں میں متعدد مہمات ایک مدت سے چلائی جارہی ہیں۔ اندرون ملک بھی بعض جذباتی دانشور ایسی کاوش کے نادانستہ آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ایسی مہمات کی زیادہ تر سرپرستی بھارت کرتا ہے۔ ان میں سے ایک مہم پاکستانی کارپٹ انڈسٹری کے خلاف بھی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ پاکستان قالینوں کی عالمی مارکیٹ پر چھایا ہوا تھا اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہمارے قالینوں کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا اگر برآمدات میں اضافے کی رفتار جاری رہتی تو اندازہ تھا کہ اب تک ہم دنیا میں قالینوں کے سب سے بڑے برآمد کنندہ بن چکے ہوتے لیکن اچانک ایک طوفان اُٹھا اور ہماری کارپٹ انڈسٹری تباہی کا شکار ہونے لگی۔
ہوا یوں کہ امریکہ میں ہمارے کچھ پاکستانیوں نے عام صارفین کو مخاطب کر کے ایک مہم چلا دی کہ ”آپ پاکستانی قالین مت خریدئیے کیونکہ ان میں معصوم بچوں کا خون شامل ہے“ اگر بچوں سے مزدوری لینے کا غیر مہذب کام کسی کو برا لگتا تھا تو اپنی مہم پاکستان کے اندر چلانی چاہیے تھی۔ یہاں پر جلوس نکالے جاتے‘ یہاں کے قانون سازوں پر دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ بچوں سے مزدوری لینے کے خلاف قانون بنا کر اس پر عمل کرائیں۔ یہاں رائے عامہ کو منظم کر کے بچوں کی مزدوری ختم کرائی جاتی‘ انہیں تعلیم دلوانے کے لیے سکولوں میں داخلے مہیا کیے جاتے‘ ان کی فیسیں ادا کرنے کا بندوبست کیا جاتا‘ اُن کی کتابیں خریدنے کے لیے فنڈز اکٹھے ہوتے‘ ان بیوہ ماؤں یا بے کار باپوں کو گزارہ الاؤنس دلوایا جاتا تاکہ وہ ان کی مزدوری کی رقوم سے محروم ہونے کے بعد اپنا پیٹ پال سکتے۔
اس سے قبل بھٹہ مزدوروں کے سلسلے میں بچوں کی مزدوری ختم کرادی گئی ہے لیکن یہ سب کچھ کیے بغیر اس مہم کو سارا پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن بچوں کے مسئلے پر ایسی مہم پاکستان
کے بجائے بیرون ملک کیوں مہم کو پھیلا کر یہاں تک کیو میں امریکہ کی انسانی حقوق ک انڈسٹری میں بچوں سے کام قتل کیس بھی اسی مہم کا ایک ساتھ اس کا کوئی تنازع تھا لاش اور جائے واردات کی طوفان کھڑا کر دیا گیا کہ مزدوری لینے کے خلاف کھینچا گیا کہ وہاں کس طر پھر سے شور مچا کہ پاکست دوسرے ملکوں نے فوری کر دیئے گئے۔ روزنام ہوا جبکہ ”ڈان“ کی ایک نقصان ہو جانے کے بعد لیکن کیا یہ رپورٹ اس والوں کی پاکستان میں موجو
پاکستان کے اندر بچے کام کاج سے ا یہاں محنت کشوں اور ذریعے یا ایسے کام لینا ج قانون اور سماجی دباؤ ہو فراہم کرنے کے لیے مہم چلانے والوں کو پاک اگر قالین انڈسٹری کے جاپان‘ امریکہ‘ جرمنی‘ س موٹریں نہ برآمد کریں کوئی نہیں چلائے گا ہیں۔ جواز تو کارپٹ
کے بجائے بیرون ملک کیوں چلائی گئی اور یہ کیوں کہا گیا کہ پاکستانی قالین مت خریدیے اور اب اس مہم کو پھیلا کر یہاں تک کیوں پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان سے کوئی مال بھی نہ خریدا جائے۔ حال ہی میں امریکہ کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے صدر کلنٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ کیونکہ پاکستان کی کارپٹ انڈسٹری میں بچوں سے کام لیا جاتا ہے لہٰذا اس ملک کے سارے مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اقبال مسیح قتل کیس بھی اسی مہم کا ایک تسلسل تھا۔ یہ لڑکا نہ تو اب کسی کارخانے میں کام کرتا تھا اور نہ ہی کسی کے ساتھ اس کا کوئی تنازع تھا۔ وہ ایک اتفاقیہ حادثے کا شکار ہوا لیکن نہ جانے کس طریقے سے اس کی لاش اور جائے واردات کی ویڈیو فلم بنائی گئی اور عالمی میڈیا پر اس کی نمائش کر کے پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا کہ اس بچے کو قالین کے کارخانہ داروں نے قتل کرایا۔ چونکہ وہ بچوں سے جبری مزدوری لینے کے خلاف سرگرمیوں میں نمایاں تھا اور پھر پاکستان کے بارے میں ایک بھیانک نقشہ کھینچا گیا کہ وہاں کس طرح جبر اور تشدد کے ذریعے بچوں سے قالین بنوائے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سے شور مچا کہ پاکستان سے قالین نہ خریدے جائیں۔ اس مہم کے نتیجے میں آسٹریلیا، سویڈن اور کئی دوسرے ملکوں نے فوری طور پر پاکستانی قالینوں کی درآمد بند کر دی۔ پہلے سے دئیے گئے آرڈر کینسل کر دئیے گئے۔ روزنامہ نیشن کے مطابق اس ایک واقعے کی وجہ سے پاکستان کو دس ملین ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ ’ڈان‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے نقصان کا اندازہ ایک سو ملین ڈالر ہے۔ یہ نقصان ہو جانے کے بعد اب انسانی حقوق کا کمیشن کہتا ہے کہ اقبال مسیح کا قتل ایک حادثے کا نتیجہ تھا لیکن کیا یہ رپورٹ اس بڑے نقصان کی تلافی کر دے گی؟ آخر حکومت پاکستان اس مہم کو شروع کرنے والوں کی پاکستان میں موجود فساد کی جڑ تک کیوں نہیں پہنچتی؟
پاکستان کے معاشی اور سماجی حالات اس قسم کے ہیں کہ ان میں خصوصاً دیہی علاقوں کے اندر بچے کام کاج سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ کسان کا بچہ تو تعلیم کے ساتھ بھی ہر حال میں کام کرتا ہے یہاں محنت کشوں اور نچلے طبقوں کے بچوں کو کام نہ ملنا زیادتی ہے۔ البتہ بچوں سے جبر و تشدد کے ذریعے یا ایسے کام لینا جو ان کی استعداد سے باہر ہوں یقیناً زیادتی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے قانون اور سماجی دباؤ دونوں کی ضرورت ہے لیکن یہ مہذب اور انسانی مشن بچوں کو تحفظ اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ ان کا ہدف صنعتوں کو بنا لیا جائے۔ بچوں کی مزدوری کے خلاف مہم چلانے والوں کو پاکستان میں چپے چپے پر موٹر ورکشاپوں میں کام کرنے والے بچے نظر نہیں آتے اگر قالین انڈسٹری کے خلاف مہم چلائی جاسکتی ہے تو پھر موٹر انڈسٹری کے خلاف بھی مہم چلنی چاہیے اور جاپان، امریکہ، جرمنی، سویڈن، برطانیہ، اٹلی اور فرانس کے لوگوں سے کہنا چاہیے کہ آپ پاکستان کو موٹریں نہ برآمد کریں کیونکہ وہاں انہیں سڑکوں پر چلانے کے لیے بچوں کا خون لیا جاتا ہے لیکن یہ مہم کوئی نہیں چلائے گا کیونکہ نہ تو اس کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی مہم چلانے کے لیے کہیں سے ڈالر مل سکتے ہیں۔ جواز تو کارپٹ انڈسٹری کے خلاف مہم چلانے کا بھی نہیں لیکن یہ مہم چلانے کے لیے ڈالر وافر
تعداد میں دستیاب ہو جاتے ہیں اور چند ڈالر اگر پاکستان کی کروڑوں ڈالر کی برآمدات ختم کر سکتے ہیں تو پھر بھارت بھی یہ خرچ کرنے کو تیار ہوگا، یہودی بھی اور قالینوں کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے دوسرے حریف بھی۔ یہ دیکھ کر بڑا دُکھ ہوتا ہے کہ ہمارے پاکستانی اپنے ہی ملک کے خلاف اغیار کے آلہ کار بن کر کیوں کام کرنے لگتے ہیں؟
پاکستان کے خلاف نفرت کا یہ زہر جن ملکوں میں پھیلایا گیا ہے وہاں میڈیا پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اور ان ملکوں کی حکومتیں اور رائے عامہ بھی انہی کے پروپیگنڈے کے زیر اثر ہے۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی موضوع پر انہیں کچھ مل جائے تو وہ اسے مرچ مصالحہ لگا کر اصل سے کئی گنا بڑا کر کے دکھاتے ہیں اور بہانے فراہم کرنے کے لیے چند ڈالروں کے بھوکے پاکستانی بیرون ملک اور فنڈز کی بھوکی این جی اوز اندرون ملک ان کی خدمت کرنے کو ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں بے شمار ”این جی اوز“ (نان گورنمنٹل آرگنائزیشن) کے تنخواہ دار کارندے سرگرم ہیں۔ ان میں سے بعض کو دس دس ہزار ڈالر ماہانہ کی تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور ان کا کام صرف یہ ہے کہ جس معاملے میں پاکستان کو دنیا کے اندر ذلیل و رسوا کیا جا سکے، اسے ڈھونڈ کر شور مچا دیں جیسے حال ہی میں دو عیسائیوں کے مقدمے کے سلسلے میں ہوا جو توہین رسالت کے قانون کے تحت حراست میں لیے گئے تھے لیکن جن معاملوں میں اہل وطن کی اکثریت کے حقیقی انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں، ان پر یہ کبھی توجہ نہیں دیتے۔
حکومت صوبائی اسمبلی کے رکن نشاط بٹ کے بیٹے کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ گوجرانوالہ میں تحریک نجات کے دوران سڑک پر تشدد کر کے ایک نوجوان کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ انجمن تاجران کے معزز عہدیدار اپنی انتہائی درجے کی پٹائی دھنائی کے دوران پینے کو پانی مانگتے ہیں تو بعد میں انعام حاصل کرنے والا اعلیٰ افسر انہیں کہتا ہے ”نالی سے پانی پیو“ مگر انسانی حقوق کے نام پر تنخواہیں ہڑپ کرنے والے ان سخروں کو کچھ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پاکستانی عوام کو انسانی حقوق دلوانا ان کے آقاؤں کو مطلوب نہیں۔ البتہ ۱۲ سالہ اقبال مسیح ایک حادثے میں بھی قتل ہو جائے تو یہ سارے ڈالر خور مل کر شور مچانے لگتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان رُسوا بھی ہوتا ہے اور اس کی برآمدات کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اسی چیز کی یہ لوگ تنخواہیں لیتے ہیں ورنہ الجزائر، چیچنیا، بوسنیا، مصر، مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل میں انسانی حقوق جس طرح پامال کیے جاتے ہیں، پاکستان میں تو بے نظیر بھٹو کی حکومت بھی تمام تر کوششوں کے باوجود اس سطح تک نہیں پہنچ سکی امریکہ اور یہودیوں کی اپنی یا ان کے زیر اثر ملکوں کی برآمدات کے خلاف نہ کوئی مہم چلتی ہے اور نہ ہی وہاں این جی اوز والے ڈالر جھونکتے ہیں۔ نہ کوئی کمیشن ادھر کا رُخ کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے یہ نام نہاد ادارے درحقیقت یہودیوں اور مغرب کے اجارہ داروں کے گماشتے ہیں۔ یہ ڈالر خور نہ تو انسانی حقوق سے دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں مہذب معاشرہ تشکیل دینے سے کوئی غرض ہے۔ یہ صرف اپنے ملک کی جڑیں کاٹنے کا معاوضہ
وصول کرتے ہیں۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۴ مئی ۱۹۹۵ء)
روزنامہ ”جنگ“ نے اپنے اداریہ ”مغربی ذرائع ابلاغ کا تعصب“ میں لکھا: ”اقبال مسیح ذاتی عناد کی وجہ سے قتل ہوا ہے اور اس ضمن میں مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے دیا جانے والا تاثر غلط ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ انسانی حقوق کے تحفظ کی آڑ میں آج کل جس طرح پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں، اقبال مسیح کے قتل کو من مانا رنگ دے کر اس کے پردے میں پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کرنا اس کی بدترین مثال ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے نہ صرف اس واقعہ کو انسانی حقوق کی بے حرمتی کی ایک مثال قرار دے کر خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے سے اُچھالا بلکہ بانڈڈ چائلڈ لیبر کے حوالے سے فلمیں دکھا کر بھی وطن عزیز کے خلاف عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس واقعہ کا سرے سے انسانی حقوق یا بانڈڈ چائلڈ لیبر سے کوئی تعلق نہ تھا۔ صوبائی دارالحکومت میں اس واقعہ کے خلاف مظاہروں کا جو اہتمام کیا گیا، اس کے پس پردہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہاتھ کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۲۹ اپریل ۱۹۹۵ء)
معروف صحافی ایم طفیل ”چائلڈ لیبر ...... پاکستان کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ کا پراپیگنڈہ“ کے عنوان سے لکھتے ہیں: ”۱۸ اپریل کو مریدکے کے نواح میں ایک ۱۲ سالہ لڑکے اقبال مسیح کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ وہی اقبال مسیح تھا جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس نے کمسن لڑکوں سے صنعتی اداروں میں کام لینے کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر رکھی تھی۔ اس کے قتل کے بعد بعض اخبارات میں جو خبریں شائع ہوئیں، ان کے مطابق دو سال قبل اقبال مسیح ”بانڈڈ“ چائلڈ کارپٹ ورکرز ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہوا تھا۔ اسے ایک امریکن کمپنی نے انسانی حقوق کا ایوارڈ بھی دیا۔ بعض مقامی اور بیرونی سرپرستوں کی بدولت اسے سویڈن میں چائلڈ لیبر سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ جس وقت اقبال مسیح کو قتل کیا گیا اس وقت پاکستان میں حقوق انسانی کی ایک تنظیم کے ترجمان نے اس قتل کے جو محرکات بیان کیے وہ بڑی حد تک ناقابل فہم اور ناقابل یقین تھے اور ان کے بیان سے ہی پاکستان کی صنعت قالین بافی کے خلاف سازش کی بو آتی تھی۔ ترجمان کے مطابق صنعت قالین بافی میں اقبال مسیح کے مخالفین اس کے قتل کے ذمہ دار تھے۔ یہ بڑی حیرانی کی بات تھی کہ ایک ۱۲ سالہ لڑکا ایک ایسی صنعت میں جو ہر سال اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتی ہے اور جس میں ہزار ہا خاندان
کسب معاش میں مصروف ہیں چند سالوں کے اندر اس مقام تک کس طرح پہنچ گیا کہ اس کے اتنے حریف پیدا ہو گئے جن کے لیے اسے قتل کر دینے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔ مزدور تنظیموں کے اندر اور ان تنظیموں کے عہدیداروں اور صنعتی اداروں کے مالکان کے درمیان اختلافات اور چپقلش کوئی نئی بات نہیں لیکن محض ایک ۱۲ سالہ مزدور لڑکا صنعت قالین بانی میں اپنے حریفوں کے لیے ایسا خطرہ بن گیا کہ وہ اسے ہلاک کرنے پر تیار ہو گئے۔ قطعی ناقابل فہم امر تھا صنعت قالین بانی سے متعلق محنت کشوں میں اس سے زیادہ باشعور محنت کشوں کے مسائل سے باخبر اور ٹریڈ یونین ازم میں عمریں کھپانے والے بھی موجود ہیں لیکن اقبال مسیح کے سرپرستوں نے اسے جس طرح آگے بڑھایا اور بعض غیر ملکی اداروں نے جس طرح اس کی سرپرستی کی وہ اپنی جگہ ایک پراسرار داستان ہے پھر اس کے قتل کو جس انداز میں اچھالا گیا اور ملک کی ایک بڑی صنعت سے متعلق لوگوں کو جس طرح اس واقعہ میں ملوث کیا گیا، بعد میں منکشف ہونے والے واقعات نے ثابت کر دیا کہ نہ صرف قتل کے اسباب و علل مبالغہ آمیز اور غلط تھے بلکہ اس واقعہ کو بلاشبہ ایک سانحہ تھا جس میں ایک بے گناہ بچے کا خون بہایا گیا۔ بعض لوگوں نے اپنے مفادات اور مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس کے قتل کو غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس انداز میں اچھالا جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ پاکستان میں کمسن محنت کشوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے اور اپنے اور ساتھیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں جرائم کی کثرت کے کئی ایک اسباب ہیں جن میں ذاتی مخاصمت، ناخواندگی، جاگیردارانہ معاشرے کے اثرات اور بعض معاشرتی تعصبات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان وجوہ کی بناء پر قتل کی وارداتیں بھی ہوتی ہیں اور ان میں دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں رقابت کی بناء پر بعض اوقات مزدور لیڈر اور نمائندے بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ ماضی میں لاہور میں عبدالرحمان اور حالیہ دنوں میں ضلع شیخوپورہ میں سید عارف شاہ کو قتل کر دیا گیا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے کسی مزدور لیڈر کے قتل پر اتنا واویلا کیا ہو، قتل کے واقعات پر دستاویزی فلمیں دکھائی ہوں، تبصرے اور تجزیے پیش کیے ہوں لیکن اقبال مسیح کے قتل کو جس طرح ابتدا میں غلط رنگ دیا گیا اور صنعت قالین بانی کے متعلق افراد کو اس میں ملوث کیا گیا، یہ کہا گیا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ قتل کی اپنی وجوہ تھیں اور یہ ہرگز کوئی سوچا سمجھا یا کسی رقابت کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ معاشرے میں ہر روز بلا سبب اور معمولی معمولی باتوں پر ہونے والے قتل کے واقعات میں ایک افسوس ناک اضافہ ہی تھا لیکن پاکستان میں ٹریڈ یونین ازم کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں نے اسے اس رنگ میں استعمال کیا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے جو یہودی لابی امریکہ اور بعض دوسرے مغربی ممالک کے زیر اثر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے، اسے دہشت گردی میں ملوث قرار دینے اور بنیاد پرستی کے نام پر پاکستان کو مطعون کرنے کی جس سازش پر
عمل کر رہے ہیں‘ اقبال مسیح کے قتل کے حوالے سے سارا پروپیگنڈہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مغربی ممالک نے پاکستان کی معیشت اور اقتصادیات کو تباہ کرنے کے لیے اس کے خلاف اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کے بہانے تراشنے شروع کر رکھے ہیں‘ سب سے پہلا وار پاکستانی ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر کوٹہ سسٹم کے نام پر کیا گیا جس کے نتیجے میں امریکہ اور مغربی ممالک میں پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی برآمدات انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بعض مغربی ممالک کی طرف سے پاکستان کے صنعتی اداروں میں غیر صحت مند ماحول کے نام پر (جس سے ان کی مراد صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی تھی) پاکستان کی مصنوعات کی درآمد میں کمی کر دی گئی۔ تجارتی تحفظات ہر ملک کا اپنا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اگر اس معاملے میں بھی کسی ایک ملک سے امتیازی سلوک کیا جائے تو اس سے متعلقہ ملک کے خلاف تعصب کا اظہار ہوتا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے خلاف چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے نام پر مغربی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے علمبردار بعض ادارے منظم پروپیگنڈے میں مصروف ہیں حالانکہ صنعتی اداروں میں کم عمر محنت کشوں کی موجودگی قیام پاکستان سے پہلے بھی تھی‘ بعد میں بھی رہی اور آج بھی ہے۔ اور یہ صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ تیسری دنیا کے صنعتی اعتبار سے تمام ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہے اور پاکستان کی نسبت اس خطے کے کئی دوسرے ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین صورت میں اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے لیکن اس بنیاد پر کسی دوسرے ملک کو وہ سزا نہیں دی گئی جو پاکستان کو دی جا رہی ہے۔ پاکستان سے آلات جراحی کی برآمد اس بنیاد پر بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ نے ان آلات کی درآمد روک دی ہے اور پاکستان کی دوسری صنعتیں بھی اس حوالے سے مغربی ممالک کا ہدف بن سکتی ہیں۔ چنانچہ اقبال مسیح کے قتل کے بعد ابتدا میں اس واقعہ کو جس رنگ میں پیش کیا گیا‘ اس کے نتیجے میں بعض اطلاعات کے مطابق بعض مغربی ممالک کی درآمدی فرموں نے پاکستان سے بعض درآمدی آرڈر منسوخ کر دیئے۔ بین الاقوامی پریس اور ٹی وی نیٹ ورک پر اس واقعہ کو اس ڈراؤنے اور خوفناک انداز میں پیش کیا گیا اور چائلڈ لیبر کا ایسا گھناؤنا نقشہ پیش کیا گیا جس نے پاکستان کے برآمدی تاجروں کے لیے سخت مشکلات پیدا کر دیں۔ بعض مغربی ممالک میں پاکستان کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگانے کے لیے پہلے ہی چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے مسئلہ کو اچھالا گیا تھا۔ اس پر اقبال مسیح کے قتل کے واقعہ کا مخصوص رنگ میں پروپیگنڈہ ایک اور تازیانہ ثابت ہوا لیکن اقبال مسیح کے قتل کے جو اصل اسباب بعد میں سامنے آئے‘ ان کے مطابق اسے ایک قطعی ذاتی نوعیت کے معاملے میں جس میں قاتل ایک اخلاقی برائی کا مرتکب ہوا تھا‘ قتل کیا گیا۔ مبینہ قاتل اشرف جو منشیات کے استعمال کا بھی عادی بتایا جاتا ہے‘ ایک ایسی برائی کا ارتکاب کر رہا تھا جو انتہائی شرمناک تھی۔ مقتول اقبال مسیح کے بڑے بھائی اسلم مسیح کے مطابق وہ ۱۶ اپریل رات آٹھ بجے اپنے دو عزیزوں کے ساتھ اپنے ایک بزرگ رشتہ دار کو کھیتوں میں کھانا دینے جا رہا تھا کہ انہوں نے ایک نوجوان اشرف کو ایک جانور سے غیر فطری فعل کا
ارتکاب کرتے دیکھ کر شور مچایا‘ اس پر آوازے کسے‘ اسے مطعون کیا۔ ملزم نے تعاقب کر کے ان تینوں پر بندوق سے فائر کیا جس سے تینوں زخمی ہو گئے۔ یہ بندوق کسی دوسرے شخص کی تھی۔ اقبال مسیح بعد میں دَم توڑ گیا۔ اقبال مسیح کے ساتھ زخمی ہونے والے فریاد مسیح نے تھانے میں یہی بیان دے کر پرچہ درج کرایا۔ جائے وقوعہ کے قریب عام افراد کے علاوہ مبینہ قاتل اشرف کے مالک اور مقامی زمیندار ذکی جٹ‘ مقتول کے ساتھ زخمی ہونے والے فریاد مسیح اور لیاقت مسیح کے مطابق قتل کی اصل کہانی بس اتنی ہی ہے۔ مقتول کے والد‘ والدہ اور بھائیوں کے مطابق ان کی کسی سے کوئی عداوت نہ تھی‘ نہ ہی مبینہ قاتل اشرف کے ساتھ اس سے پہلے ان کا کوئی جھگڑا ہوا۔ لیکن پاکستان میں موجود انسانی حقوق کے بعض علمبرداروں کے علاوہ مغربی ذرائع ابلاغ نے پروپیگنڈہ کا جو طوفان اُٹھایا‘ بھارت سمیت کئی دوسرے ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن مغربی ملکوں میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے صرف پاکستان میں ایک بچے کے بے گناہ قتل پر یہ طوفان کیوں کھڑا کیا؟ کیا انہیں بوسنیا‘ چیچنیا‘ مقبوضہ کشمیر‘ بھارت اور فلسطین میں سربوں‘ روسیوں‘ بھارتی فوجوں اور یہودیوں کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مسلمان بچوں کے قتل پر انسانی حقوق کی پامالی یاد نہیں آئی؟ مغربی ممالک کی ان تنظیموں کا سارا واویلا مسلمان ملکوں اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کے منصوبوں اور سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔ بدقسمتی سے سماجی اور معاشرتی خدمات کے نام پر بعض ادارے اور افراد مغربی تنظیموں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں لیکن اقبال مسیح کے قتل کے حوالے سے پاکستان اور خاص طور پر پاکستان کی قالین بافی کی صنعت کے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ پاکستان کی معیشت اور اقتصاد کے خلاف ایک ایسی سازش ہے جس کا جواب دینا حکومت کا فرض ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ان عناصر کے خلاف بھی قدم اُٹھانا چاہیے جو مغربی ذرائع ابلاغ کے لیے اس قتل کے حوالے سے پروپیگنڈہ مواد فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے جنہوں نے اس واقعہ کو غلط رنگ میں پیش کیا۔ اب جبکہ معاملہ صاف ہو چکا ہے‘ حکومت کو مغربی پریس میں اس کے اصل اسباب کی وضاحت کا اہتمام کرنا چاہیے اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کس حد تک پوری کرتے ہیں؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بانڈڈ لیبر فاؤنڈیشن نے جن یورپی ممالک میں اقبال مسیح کے قتل کا جو غلط پروپیگنڈہ کیا تھا‘ اس کے نتیجے میں آسٹریلیا‘ سویڈن اور بلجیم نے پاکستان سے قالینوں کی درآمد بند کر دی ہے اور فیکس کے ذریعے درآمدی آرڈرز کی منسوخی کی اطلاع متعلقہ فرموں کو پہنچا دی گئی ہے۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اس فاؤنڈیشن نے صدر کلنٹن سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ پاکستان سے دوسری مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی لگادی جائے۔ یہ خبر پاکستانی معیشت کو برباد کرنے کی مغربی ممالک کی تیار کردہ سازش اور اس کے مختلف کرداروں کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اگر حکومت نے ملک کے اندر بعض نام نہاد این جی اوز اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی سرگرمیوں پر تباہ کرنے اور ملک کو دہشت گرد ثابت کرنے جھگڑے میں ہلاک ہونے والے ایک ۱۳ سالہ گڑھے میں دھکیل دے گی؟‘‘ (روزنامہ ”جنگ“
”چائلڈ لیبر پاکستان کے خلاف وقت نے اپنے اداریہ میں لکھا:
”جہاں تک پاکستان میں بچوں کے کرنے کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ مغرب اپنے روایتی بغض کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں جو غیر ممالک کے فنڈز کے حصول کی خاطر دارالحکومت میں بھی متذکرہ واقعہ کے خلاف ہاتھ نظر آتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہماری کماتی ہے اور چائلڈ لیبر کے پردے میں اس یہ ہے کہ برصغیر میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں تو اس حد تک ہے کہ بچوں کرنے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ال نہیں ہوا کہ کسی عالمی ادارے نے اس کے کی توفیق ہوئی ہو۔
اقبال مسیح کے کیس میں جس طر کہانی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کی معیشت بہانے تلاش کیے جاتے ہیں‘ ٹیکسٹائل کی صن حتیٰ کہ غیر صحت مند ماحول کو بھی آڑ بنایا گی بانڈڈ چائلڈ لیبر سے بڑا ہتھیار شاید اور نہیں اسی ملک کے باشندے ہیں‘ انہیں یہاں کے گھرانوں جن میں آٹھ دس بچے بھی ہوتے اکثر گھروں میں دال روٹی اس وقت تک نہ باہر نہیں نکلتے‘ ایسے گھرانے بھی ہیں جن م بچے بھیک مانگنے کے بجائے خود کمانے کو تر کے بچوں کے روٹی کمانے پر معترض ہو
اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر نہ رکھی تو یہ سارے کردار پاکستان کے تشخص کو تباہ کرنے اور ملک کو دہشت گرد ثابت کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ ذاتی نوعیت کے جھگڑے میں ہلاک ہونے والے ایک ۱۳ سالہ لڑکے کی ہلاکت کیا پاکستان کی معیشت کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دے گی؟‘‘
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۲۹ اپریل ۱۹۹۵ء)
”چائلڈ لیبر‘ پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ“ کے عنوان سے روزنامہ نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں لکھا:
”جہاں تک پاکستان میں بچوں کی طرف سے محنت مزدوری کرنے کے معاملے کو سکینڈلائز کرنے کا تعلق ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ مغربی ممالک نے متذکرہ واقعہ کو بہانہ بنا کر ہمارے خلاف اپنے روایتی بغض کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں ہمارے ہاں ایسی نام نہاد این جی اوز کا تعاون مل گیا ہے جو غیر ممالک کے فنڈز کے حصول کی خاطر ملک کو بدنام کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ صوبائی دارالحکومت میں بھی متذکرہ واقعہ کے خلاف جو مظاہرے ہوئے‘ ان کے پس پردہ بھی ان تنظیموں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہماری قالین بافی کی صنعت ہر سال اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتی ہے اور چائلڈ لیبر کے پردے میں اس صنعت کو تباہ کرنے کی ایک مکروہ سازش کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ برصغیر میں صرف پاکستان ہی نہیں بھارت اور دیگر ملکوں میں بھی چائلڈ لیبر کی شرح خاصی ہے بلکہ بھارت میں تو اس حد تک ہے کہ بچوں کے والدین پیسے لے کر کئی کئی سال تک بچوں کو کاروبار کرنے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ان مزدوروں کو ”بندھوا“ مزدور کہا جاتا ہے اور آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی عالمی ادارے نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی ہو اور یا کسی این جی او کو ہی ایسا کرنے کی توفیق ہوئی ہو۔
اقبال مسیح کے کیس میں جس طرح ان اداروں کی مداخلت ہوئی ہے‘ اس سے کوئی اور ہی کہانی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کے بہانے تلاش کیے جاتے ہیں‘ ٹیکسٹائل کی صنعت کا کوٹہ مقرر کر دیا گیا‘ آلات جراحی کی درآمد کم کی گئی حتیٰ کہ غیر صحت مند ماحول کو بھی آڑ بنایا گیا۔ پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے مغرب کو بانڈڈ چائلڈ لیبر سے بڑا ہتھیار شاید اور نہیں مل سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ہماری این جی اوز کے ارکان اسی ملک کے باشندے ہیں‘ انہیں یہاں کے ماحول اور سماجی روایات کا بھی علم ہے‘ ہمارے غریب گھرانوں جن میں آٹھ دس بچے بھی ہوتے ہیں‘ کی معاشی تکالیف کا بھی علم ہے‘ انہیں یہ بھی علم ہے کہ اکثر گھروں میں دال روٹی اس وقت تک نہیں پک سکتی ہے جب تک گھروں کے یہ بچے روزی کمانے باہر نہیں نکلتے‘ ایسے گھرانے بھی ہیں جن میں کمانے والا اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کے بچے بھیک مانگنے کے بجائے خود کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان عوامل کا این جی اوز کو علم ہے تو کسی گھر کے بچوں کے روٹی کمانے پر معترض ہونے کے بجائے وہ ان گھروں میں راشن کیوں نہیں ڈال
دیتیں؟ تاکہ بچے محنت مشقت نہ کریں۔ یہ تنظیمیں بیرونی ممالک سے ملنے والے پیسے کا کچھ حصہ ہی اس نیک کام پر صرف کر دیں تو ان کے اعتراض میں کوئی وزن پیدا ہو جائے۔ یہ کیسا تماشا ہے کہ غیر ممالک سے پیسے لے کر اپنے ہی ملک کی معاشی سماجی ضروریات پر اس طرح انگشت نمائی کریں کہ غیروں کو لے دے کا موقع مل جائے۔
ظاہر ہے ان تنظیموں کی ایسی حرکات کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں۔ دینی مدرسوں کی بندش یا ان کے خلاف کارروائی کے لیے تو یہ جواز کافی ہوتا ہے کہ وہ باہر سے پیسے لیتے ہیں۔ ان این جی اوز سے کیوں باز پرس نہیں ہوتی؟ وہ جانتے ہوئے یا انجانے میں ملک دشمنی کیوں کر رہی ہیں؟ ان تنظیموں کا یہ رویہ ملک دشمن ہے یا غریبوں کے روٹی کمانے سے دشمنی ہے یا بھارت نوازی ہے کہ بھارتی صنعت میں تو ”بندھوا“ مزدور کام کرتے رہیں اور اس کی مصنوعات کی خریداری بند نہ ہو پاکستان کو بلا وجہ نشانہ بنا لیا جائے“۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۹ اپریل ۱۹۹۵ء)
٭ ٭ ٭
حافظ شفیق الرحمن
این جی اوز، فٹ پاتھیں، لاوارث بچے
رانا عظیم گزشتہ کئی دنوں سے رائل پارک کی سیڑھیوں، سٹیشن، داتا دربار، سرکلر روڈ کے فٹ پاتھوں، حضوری باغ اور پرانے لاہور کی فصیل کے ساتھ واقع پارکوں کو اپنا رین بسیرا بنانے والے ڈیڑھ ہزار بچوں کی حالت زار پر کڑھ رہا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا وگرنہ ان ڈیڑھ ہزار پھول سے بچوں کے ہونٹوں سے مسکراہٹیں اور آنکھوں سے نیندیں چھین لینے والے ”مجرموں“ کا ناطقہ بند کر دیتا۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں قلم ہے، کلاشنکوف نہیں، اس لیے اس کے تحریری اور دستاویزی احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔
کون توجہ دے، عارف نکی، جس نے اپنی نواسی کے لیے ۷ لاکھ کی گڑیا خریدی۔
منظور وٹو، جس نے اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی کی جھلملاتی، جگمگاتی تقریب پر بقول شخصے کروڑوں خرچ کر دیے۔
کوئین آف گڑھی خدا بخش، جس کے لندن میں کچی جماعت میں زیر تعلیم بچوں کی ٹیوشن فیس ۶۰ لاکھ روپے سالانہ ہے۔
یہ خاک نشینوں کے بچے ہیں، یونہی رزق غبار بنتے رہیں گے۔ یونہی خاک میں رُل رُل کر ایک دن خاک میں مل جائیں گے اور پھر ان کی لاوارث نعشیں ہسپتالوں کے ڈیڈ ہاؤسوں کے سرد خانوں میں زیر تربیت ڈاکٹروں کے علم اور تربیت میں اضافے کا سبب بنیں گی۔ اور ان میں سے اگر کوئی ”خوش قسمت“ لاش ایدھی ٹرسٹ کے کارکنوں کے ہتھے چڑھ گئی تو وہ اسے کسی قبرستان میں دفنا دیں گے۔
کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ کیا ہوتا ہے؟
جوہریوں کے لاکرز میں رکھے ہوئے ہیرے، موتیوں کے ڈھیر، بندرگاہوں کی گودیوں میں محفوظ پڑا ہوا کپاس کا پلاٹینم، قومی بنکوں کے مقفل گارڈز روم میں پڑے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، دریاؤں کی گیت گاتی ہوئی کنواری لہریں، سورج سے آنکھ مچولی کھیلتی ہوئی فلک بوس پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں، کھیتوں کے دالانوں میں بکھرا ہوا اناج کا سونا، کارخانے کی چمنیوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے سرمئی بادل، پھلوں کے زیور سے لدے ہوئے درختوں کے مرصع وجود، ٹہنیوں کے
بازوؤں پر کھنکنے والے پھولوں کے کنگن یقیناً یہ سب کچھ بھی قیمتی سرمایہ ہے لیکن میرے نزدیک کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اس کے صحت مند اور نوخیز نونہال ہوتے ہیں، جو قوم ان بچوں کے حقوق پر توجہ نہیں دیتی وہ اپنا مستقبل تاریک کر لیتی ہے۔
یہ بچے کس درخت کی ٹہنی کے پتے، کس پودے کی ڈالی کے پھول، کس بیل کی ڈنٹھل کی کلی ہیں یہ ناقابل شناخت بچے یہ بے نام بچے یہ لاوارث بچے ہر صاحب اولاد کے لیے ایک بڑے سوال کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ان بچوں کو ان کی شناخت ان کا نام کون دے گا۔ ان بچوں کے وارثوں کا سراغ لگانا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ بچے خود رو جنگلی پودے تو نہیں کہ ان کے انکھوے زمین سے از خود پھوٹ پڑے ہیں۔ یہ بچے آسمان سے گرنے والی برف کا گالا تو نہیں کہ فطرت کی جابر قوتوں نے انہیں لاہور شہر کے سمندر میں پھینک دیا ہے۔ یہ انسانی بچے ہیں، کاش ہم نے ان کے مسئلے پر اتنی توجہ دی ہوتی جتنی تہمینہ پیرزادہ اپنے پالتو کتے ڈیزی پر دیتی ہیں یا بھٹو کا ہاف بلڈ کزن ممتاز بھٹو تحفے میں ملے ہوئے اپنے جگنو پر دیتا ہے۔ اگر یہ آدم کے بیٹے اور حوا کی اولاد ہیں تو یقیناً ان کا کوئی ماں باپ ہوگا؟ اگر ان کی ولدیت قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں تو پھر ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ کسی دن مغربی این جی اوز کا کوئی گماشتہ ان کی ڈاکومنٹری ویڈیو تیار کرے گا اور انہیں پاکستانی ”کنواری ماؤں“ کا شاہکار قرار دے کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خوب خوب ”تشہیر“ کرے گا۔ سی این این، بی بی سی اور اے بی سی کے عالمی نشریاتی اداروں کے چینل پاکستان کی گولڈن جوبلی سال کے موقع پر پاکستانیوں کو ان کا دوسرا چہرہ دکھائیں گے اور بار بار دکھائیں گے۔
کہاں ہیں وہ این جی اوز جو بنیادی انسانی حقوق کی چمپیئن بنی پھرتی ہیں، کہاں ہیں بچوں کے حقوق کے وہ محافظ جنہوں نے دن رات چائلڈ لیبر کا ”رنڈی رونا“ رو رو کر پاکستان کی کارپٹ اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے اور اب اس پر بغلیں بجا رہے ہیں، اپنی اس عظیم کنٹری بیوشن کے صلے میں خفیہ ہاتھوں سے وہ ماہانہ لاکھوں اور سالانہ کروڑوں روپے کی رشوت، عطیات اور اعزازیوں کے نام پر وصول کر رہے ہیں۔ کھڈیوں پر قالین بننے والے ان بچوں کے سنہرے ہنرمند ہاتھوں سے روزگار چھین کر ان کے ہاتھوں میں چرس کے سوٹے ہیروئن کی پڑیاں اور صمد بانڈ کے رول دے کر وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے دیئے گئے ٹارگٹ کو پورا کر لیا ہے۔
ان این جی اوز کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ان سے پوچھنا چاہیے کہ کیا وہ صرف ماں کے دوپٹے اور باپ کی دستار کو روندنے والی کوٹھے ٹپنیوں کے حقوق کے لیے عدالت کے دروازے پر دستک دیتی ہیں؟ کیا وہ صرف توہین رسالت کیس کے نامزد ملزموں کے وکیلان صفائی ہیں؟ جی ہاں! حالات و واقعات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ صرف ان ایشوز کو اٹھاتے ہیں جن سے عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان کی کردار کشی کی جاسکے۔ ان این جی اوز کے خدائی خدمت گاروں سے کسی نے نہیں پوچھا کہ تمہارے پاس یہ کروڑوں کے رئیسانہ ٹھاٹھ باٹھ اور امیرانہ وضع قطع کس عظیم کی دریافت نہیں، ان کے حقوق پر شب اگر اس مسئلے کو بھی کوئی حنا جیلانی اور عاصمہ ج کر عدالتی ایوانوں میں اٹھاتی تو ایک مرتبہ تو ا لیکن وہ ان لاوارث، ناقابل شناخت اور ب ٹھکرائے اور غربت کے دھتکارے ہوئے ع فائیو سٹار ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ ان کے ا کلرک، بیرے، ڈرائیور، سیلزمین کی ایک ماہ ک میں کاٹا نہیں چبھا نہیں، کیا خبر تلوار کی کاٹ ک امریکہ کے ایک دورے اور سیر سپاٹے پر ا ایک بہترین ہاسٹل تعمیر کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے ہاں یہ الٹرا ماڈرن فیشن پ سرمایہ داروں اور بیوروکریٹوں کی ارب پت کے نام پر مشرقی اور دینی اقدار کا مذاق اڑا سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے آج تک کوئ کی ماری خواتین بڑی جدوجہد کرتی ہیں ا لیے۔۔۔۔ رات دن ایک کر کے مدتوں ہ جگ ہنسائی اور کردار کشی ہو، پھر اس کیس ک لاکھوں روپے ماہانہ پرنٹ میڈیا پر اپنی ذات رکھنے والے علماء، وکلاء، دانشوروں اور صح ہیں۔ عدالتوں میں زیر سماعت کتنے کیس قانونی، آئینی اور عدالتی جنگ لڑتے ہ برطانیہ کا ہاؤس آف لارڈز کوئی دلچسپ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کوئی توجہ نہ برطانوی سفارت خانوں کا عملہ اور ان ک مقدمات کی کارروائی نہ تو ٹائم نیوز ویک م کاسٹ کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ذہنوں میں یہ سوالیہ ایک بڑے سوال کی ن
نہیں پوچھا کہ تمہارے پاس یہ کروڑوں کے وسائل کہاں سے آئے؟ تمہارا یہ شاہانہ طرز زندگی‘ رئیسانہ ٹھاٹ باٹ اور امیرانہ وضع قطع کس دست غیب کی جود و سخا کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ یہ بچے رانا عظیم کی دریافت نہیں‘ ان کے حقوق پر شب خون مارا جا رہا ہے‘ برسر عام اور برسر بازار کئی سالوں سے‘ اگر اس مسئلے کو بھی کوئی حنا جیلانی اور عاصمہ جیلانی منظور مسیح اور صائمہ کیس کی طرح اپنی انا کا سوال بنا کر عدالتی ایوانوں میں اٹھاتی تو ایک مرتبہ تو ذمہ دار محکموں اور حکومتوں کے کان کھڑے ہو جاتے۔ لیکن وہ ان لاوارث‘ ناقابل شناخت اور بے نام بچوں کے مسئلہ پر سوچتی ہی کیوں؟ حالات کے ٹھکرائے اور غربت کے دھتکارے ہوئے بچوں کے مسائل پر توجہ دینا ان کا منشور ہی نہیں‘ کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ ان کے کھانے کی دعوت کا بل ایک مزدور‘ چھابڑی فروش‘ چپڑاسی‘ کلرک‘ بیرے‘ ڈرائیور‘ سیلز مین کی ایک ماہ بلکہ کئی ماہ کی تنخواہوں کے برابر ہوتا ہے۔ وہ جن کے پاؤں میں کانٹا نہیں چبھتا انہیں کیا خبر تلوار کی کاٹ کیا ہوتی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے یہ چیمپیئن یورپ اور امریکہ کے ایک دورے اور سیر سپاٹے پر جتنی رقم اڑا دیتے ہیں‘ اس سے ان ڈیڑھ ہزار بچوں کے لیے ایک بہترین ہاسٹل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں یہ الٹرا ماڈرن فیشن ایبل‘ جدی پشتی رئیسوں‘ جاگیرداروں‘ کارخانے داروں‘ سرمایہ داروں اور بیوروکریٹوں کی ارب پتی بیگمات کا ایک ”گینگ“ ہے جس نے بنیادی انسانی حقوق کے نام پر مشرقی اور دینی اقدار کا مذاق اڑانے کے لیے مختلف ناموں سے این جی اوز بنا رکھی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ انہوں نے آج تک کوئی بندے کے پتروں والا کام کیا ہے؟...... یہ بے چاری‘ غم کی ماری خواتین بڑی جدوجہد کرتی ہیں‘ انسانی حقوق کی بحالی کی گوریلا جنگ کو تیز تر کرنے کے لیے...... رات دن ایک کر کے مدتوں بعد کوئی ایسا کیس ڈھونڈتی ہیں جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی اور کردار کشی ہو‘ پھر اس کیس کو اخبارات میں اچھالنے کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کرتی ہیں‘ لاکھوں روپے ماہانہ پرنٹ میڈیا پر اپنی ذات کی پروجیکشن پر خرچ کر دیتی ہیں‘ پاکستانی اور اسلامی مزاج رکھنے والے علماء‘ وکلاء‘ دانشوروں اور تنظیموں کے خلاف ”گوئبل“ کے انداز میں کردار کشی کی مہم چلاتی ہیں۔ عدالتوں میں زیر سماعت کتنے کیس ہیں‘ جن میں وکلاء بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے قانونی‘ آئینی اور عدالتی جنگ لڑتے ہیں‘ ان کیسوں میں تو امریکہ کی کانگریس‘ بھارت کا ڈور درشن‘ برطانیہ کا ہاؤس آف لارڈز کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ ان مقدمات کی کوریج کے لیے تو ملکی اور غیر ملکی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کوئی پھرتی نہیں دکھاتا۔ ان مقدمات کی سماعت کے دوران تو امریکی اور برطانوی سفارت خانوں کا عملہ اور ان کی گاڑیاں ہائی کورٹ اور کچہریوں کے چکر نہیں لگاتے۔ ان مقدمات کی کارروائی نہ تو ٹائم نیوز ویک میں شائع ہوتی ہے اور نہ ہی بی بی سی اور سی این این سے ٹیلی کاسٹ کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟...... آخر ایسا کیوں ہے؟ ۱۴ کروڑ محب وطن پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوالیہ‘ ایک بڑے سوال‘ ایک بگ کوسچن کی شکل میں موجود ہے۔
دیکھنا تو یہ ہے کہ رانا مشہود ایڈووکیٹ جب ان فٹ پاتھی بچوں کے حق میں آواز اٹھائے گا تو کون سا بنیادی انسانی حقوق کا علمبردار ادارہ آگے بڑھ کر اس کی مالی اور قانونی معاونت کرے گا یا ان بچوں کا کیس بھی رانا مشہود کو مسلم لیگی کارکنوں کے کیسوں کی طرح فی سبیل اللہ لڑنا پڑے گا۔
مسئلہ کیس لڑنے کا نہیں ہے مسئلہ تو ان بچوں کو ان کی شناخت، ان کا نام، ان کی ذات کی پہچان دینے کا ہے۔ یہ کام ۸۰ لاکھ کے اس شہر میں صرف رانا عظیم یا رانا مشہود ہی کے کرنے کا نہیں۔ ان بچوں کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کی تزئین و آرائش پر ۱۴ کروڑ کے قومی سرمائے کی منظوری دینے والے ”دریادل“ اراکین پارلیمنٹ اور ان بچوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے قومی خزانے سے چند پھوٹی کوڑیوں کی ”خیرات“ کی منظوری دے سکتے ہیں۔۔۔ بیت المال میں موجود اربوں روپے کی رقم میں ان بچوں کا حصہ ان تک کون پہنچائے گا؟ کیا بیت المال سے استفادے کا حق صرف منظور وٹو جیسے ”امین“ لوگوں کو حاصل ہے۔ میرا تو بس نہیں چلتا، ورنہ میں منظور وٹو دور کے خریدے ہوئے طیارے کو بیچ کر، حاصل ہونے والی تمام رقم ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ایسے لاکھوں بچوں کی بحالی پر صرف کر دیتا اور انہیں بلاول، بختاور، آزادی، حسین نواز، حمزہ شہباز اور معظم وٹو کی طرح معزز اور تعلیم یافتہ شہری بنانے کی کوشش کرتا۔ آگے ان کے مقدر! لیکن میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں۔۔ میرے پاس ایک کمزور سا قلم ہے۔۔ جو ان معصوم بچوں کے کسی درد کا درماں، زخم کا مرہم اور بیماری کا علاج نہیں بن سکتا۔
واجد علی ہاشمی
امریکی بچے اور انسانی حقوق
تیسری دنیا کے چودہ کروڑ بچوں کی تعلیم سے محرومی، بارہ کروڑ بچوں کی کل وقتی مزدوری، بیس کروڑ کے لگ بھگ بچوں کی گلیوں میں پرورش، کم عمر بچوں کو اغوا کر کے ان سے بیگار لینے اور ان سے جنسی زیادتی کرنے، فوج میں چھوٹی عمر کے بچوں کی بھرتی، بمبئی میں دو لاکھ تیس ہزار (۲,۲۳,۰۰۰) بچوں کی غربت کی وجہ سے گھروں میں ملازمت اور کم عمر بچیوں کی قحبہ خانوں میں فروخت اور ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہونے پر امریکا کو بڑی تشویش ہوتی ہے۔ ہر مہینہ دو مہینے بعد چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان، لیبیا، سوڈان اور بہت سے دوسرے ملکوں میں بچوں کی حالت کو افسوسناک قرار دینا امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو بن چکا ہے لیکن خود اپنے ہاں بچوں کی شرمناک اور انسانیت سوز حالت پر ایک لفظ تک بولنا تو درکنار، سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔
بچوں پر جنسی حملے ہوں یا جسمانی تشدد، علم سے دوری ہو یا جبری مشقت کا دھندہ، جیلوں میں ناگفتہ بہ سلوک ہو یا گھروں کے اندر مار پیٹ اور سب سے بڑھ کر خرید و فروخت کا کاروبار، امریکا ہر حوالے سے کسی آفت زدہ، پسماندہ اور غیر مہذب معاشرہ کا منظر پیش کرتا ہے جبکہ بچوں کے حقوق کا ڈھنڈورہ پیٹنے والے امریکہ نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن ۱۹۸۹ء پر آج تک دستخط نہیں کیے۔ امریکا میں بچوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ آئیے اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔
صحت و انسانی حقوق کی وزیر نے ۱۹۹۷ء میں ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ چار سالوں (۹۷-۱۹۹۳ء) کے دوران بچوں پر تشدد کے ان واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے حتیٰ کہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تشدد کا شکار ہونے والے بچوں کی سالانہ تعداد تین لاکھ سے بھی زائد ہو چکی ہے۔ ایک اور تجزیے کے مطابق امریکا میں صرف جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ لوئس ہارس نامی گروپ جس نے دولت مشترکہ کے فنڈ کے لیے سروے کیا تو اس نے سنسنی خیز انکشافات کیے کہ امریکی سکولوں میں پڑھنے والے نو عمر طالب علموں کی ایک بہت بڑی تعداد کو جنسی اور جسمانی دونوں قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زیادہ تر جنسی حملے نو عمر لڑکیوں پر ہوتے ہیں۔ ہر آٹھواں امریکی طالب علم جنسی اور جسمانی حملوں کی زد میں ہے۔ ۴۵ فیصد لڑکیوں نے یہ شرمناک انکشاف کیا کہ ان پر جنسی حملے کرنے والے ان کے گھر کے اپنے افراد ہوتے
ہیں ۔لڑکیوں پر جنسی تشدد کے بارے میں سرکاری اعداد وشمار کی ایک تردیدی رپورٹ جون ۱۹۹۷ء میں منظر عام پر آئی تھی جس کے مطابق امریکا میں روزانہ ۱۳۰۰ جبکہ سالانہ ۴,۷۴,۵۰۰ بن بیاہی لڑکیاں مائیں بن جاتی ہیں۔ یہ تعداد کبھی کبھار پانچ لاکھ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ جن میں پندرہ سال سے کم عمر بچیاں ہوتی ہیں جو وحشیانہ زیادتی کے نتیجے میں ماہانہ ۳۹,۰۰۰ سے زائد حرامی بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۶ء میں ساڑھے پانچ لاکھ لڑکیوں نے حرامی بچوں کو جنم دیا۔ امریکا میں ہر پانچ میں سے چار بچے ناجائز پیدا ہوتے ہیں۔ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکا میں سالانہ سات لاکھ خواتین زنا بالجبر کا نشانہ بنتی ہیں جن میں سے بیشتر بارہ سال سے کم عمر کی بچیاں ہوتی ہیں۔ بھارتی اخبار ’دی آرگنائزر‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکا میں تقریباً ۳۵ ہزار بچے سکول میں اسلحہ لے کر جاتے ہیں۔ فلوریڈا میں ایسے کئی قوانین نافذ ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ سفید فام طلبا کا نصاب سیاہ فام طلبہ کے نصاب سے مختلف ہو۔ شعبہ تعلیم میں اس ہوشربا طبقاتی اور نسلی امتیاز کی وجہ سے اس وقت امریکا میں لاکھوں پھول جیسے بچے غربت اور سیاہ رنگت کے ناکردہ جرم کی سزا کے طور پر علم کی روشنی سے محروم جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
۱۹۹۸ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق امریکا میں سات سال سے کم عمر بچوں کی ایک بڑی تعداد غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔ ٹیکساس‘ کیلیفورنیا اور نیویارک میں آدھے سے زیادہ بچوں کی تعداد جو غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں‘ پائی جاتی ہے۔
امریکی محقق ڈاکٹر ولیم ایچ ڈیز نے اپنی رپورٹ میں اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فی الوقت امریکا میں ایک کروڑ ۳۰ لاکھ بچے سال کے بعض مہینوں میں بھوکے رہتے ہیں۔ لیبر اکانومسٹ ایل کرس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکا میں دو لاکھ نوے ہزار بچے جبری مشقت کا شکار ہیں۔ امریکا نے ۱۹۹۶ء میں بچوں کی جبری مشقت کے ذریعے ایک سو پچپن ملین ڈالر آمدنی حاصل کی۔ بچوں کی جبری مشقت زیادہ تر گھریلو صنعت میں استعمال کی جاتی ہے جس میں گارمنٹس اور سویٹ انڈسٹری شامل ہے۔ زرعی فارموں پر بھی بچوں سے مشقت کا کام لیا جاتا ہے۔ جہاں ان سے مسلسل ۱۲ سے ۱۳ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ایک اور تحقیقاتی جائزے میں یہ ہوش اڑا دینے والا انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں شیشہ سازی کی صنعت میں بچوں سے پندرہ سو تا اٹھارہ سو سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں کام لیا جاتا ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ دوران کام ان کا جسم درجہ حرارت سے صرف دو فٹ کے فاصلے پر ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر ۱۹۹۶ء میں چودہ سے سترہ سال کی عمر کے دو لاکھ ۲۹ ہزار ساٹھ بچوں سے مختلف صنعتوں میں جبری مشقت لی جاتی رہی۔ یادرہے کہ امریکا میں زرعی فارموں پر بچوں سے فصلوں پر زہریلی دوائی چھڑکوانے کی مشقت کرائی جاتی ہے جس سے ان بچوں میں زہریلی ادویات کے اثرات اثر انداز ہوتے ہیں۔ کیا امریکا
کے لیے اس سے بڑھ کر شرم کی کوئی اور بات ہو سکتی ہے کہ کتے اور بلی کی کھال کی تجارت کرنے والوں کو تو ۲۵ ہزار ڈالر جرمانہ اور ایک سال کی قید کی سزا دی جائے جبکہ حوا کی بیٹی کو محض پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کرنے والوں کے لیے کوئی قانون اور سزا نہیں ہے۔ امریکا نوزائیدہ بچوں کی تجارت کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں بچوں کے حقوق کی آئے دن پامالی ہوتی رہتی ہے۔ ۱۹۹۶ء تک امریکا نے دنیا میں ۱۰۷ جنگیں کروائیں جن میں ایک کروڑ نوے لاکھ تہتر ہزار لوگ مروائے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ اس وقت دنیا میں ۱۶۸ ایسے تنازعے موجود ہیں جن میں انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ انسان بھی جل رہے ہیں اور بچوں کی اکثریت متاثر ہو رہی ہے۔ امریکا کی ناجائز اولاد اسرائیل کے ہاتھوں گزشتہ نصف صدی سے فلسطینی معصوم بچے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں اور کشمیر میں نصف صدی سے جاری برہمن کی بربریت سے ۴۲۰۰ بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ کشمیر ہی میں ساٹھ لاکھ بچے بھارتی فورسز کے تشدد کے نتیجہ میں نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ اسرائیلی مظالم کی الگ داستان ہے جو فلسطینی بچوں پر روا رکھی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر ابوسلمان
این جی اوز کے شیطانی حربے
آزاد روی یعنی (Liberalization) مغربی استعمار کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے سامنے ہمارے بڑے بڑے دانش ور اور نظریاتی قائدین بھی ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ انہیں جب بنیاد پرست‘ کٹر اور ضدی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے تو وہ فوراً لبرل‘ روشن خیال‘ ترقی پسند اور Forward Looking ہونے کا دعویٰ فرما دیتے ہیں اور اس طرح پورے معاشرے کو آزاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل میں این جی اوز مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ خصوصاً بیگمات کی این جی اوز جو مغربی دنیا سے مالی امداد لیتی ہیں۔ آزاد روی میں کبھی اشاروں میں اور کبھی کھل کر خاندانی بندھنوں کو ڈھیلا کرنے اور توڑنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ بزرگوں کی شفقت اور محبت کا مذاق اڑایا جاتا ہے، مشترکہ خاندانی نظام سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اور معاشرتی مسائل گنوائے جاتے ہیں‘ لڑکیوں کی بے راہ روی کو جرأت مندانہ اقدام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور رشتوں ناطوں کے تقدس کو پامال کرنے کے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ثقافت کو میڈیا کے ذریعے آزاد Liberalize کرنے کی تلقین کی جاتی ہے اور صاف ستھری تفریحات اور ثقافتی سرگرمیوں کو گھٹن کا نام دے کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور معاشرے کی نظریاتی اور روایتی جڑیں اکھاڑی جاتی ہیں اور معاشرے کو بے لنگر جہاز کی طرح ذہنی انتشار کے سمندر میں بھٹکنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس وقت ہمارے ملک میں این جی اوز کے نام پر کئی تنظیمیں مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ عرف عام میں یہ ادارے عوام کے رفاہی کاموں میں مصروف ہیں لیکن عوام کو مختلف قسم کے لالچ دے کر اہل اسلام کو غفلت میں ڈالنے اور نئی نسل کے اذہان کو اسلامی احکامات سے دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ رفاہی کاموں کی آڑ میں فحاشی اور بے حیائی کو ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ این جی اوز والے اپنے کاموں میں اتنے آزاد ہیں کہ جس ملک میں یہ ادارے اپنا کام کر رہے ہوں‘ وہاں کی حکومت ان کے کاموں اور اخراجات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ این جی اوز کو اس وقت امریکہ اور یورپ والے سب سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ تو اپنے سفارت کاروں میں بڑی حد تک کمی بھی کر چکا ہے اور جاسوسی کا کام انہی اداروں سے لے رہا ہے۔ ہم نے یہ سوچنے کی کبھی زحمت
ہی گوارا نہیں کی کہ بھلا امریکہ اور یورپ کے عیسائیوں اور یہودیوں کو پاکستان کے مسلمانوں سے اتنی ہمدردی کیسے ہو سکتی ہے؟ حالانکہ یہ دونوں ہمارے ازلی اور ابدی دشمن ہیں۔ حالانکہ یہ بوسنیا اور کوسووا میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل چکے ہیں۔ مشرقی تیمور میں مسلمانوں کا خون پانی سمجھ کر بہایا گیا‘ چیچنیا میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا‘ کشمیر میں بھی مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے اس سے بھی ان کی انتقام کی ہوس ختم نہیں ہوئی تو افغانستان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ یہ سب اسلام دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ یہاں پاکستان میں قادیانیت اور عیسائیت این جی اوز کے ذریعے فلاحی کاموں کی آڑ میں قادیانیت‘ عیسائیت اور یہودیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ جہاں کھلم کھلا ان کے لیے غلط سرگرمیاں ممکن نہیں ہوتیں وہاں وہ فحاشی اور آوارگی کو فروغ دے رہی ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ یہاں سوڈان‘ انڈونیشیا اور الجزائر کی طرح پاکستان میں بھی فسادات کروائے جائیں اور پھر کسی صوبے یا علاقے میں قادیانی یا عیسائی ریاست بنا دی جائے۔
این جی اوز کو امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر مالی امداد دی جاتی ہے۔ امریکی وزراء نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہمیں تو پاکستان کی این جی اوز اطلاع دیتی ہیں کہ پاکستان میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ قادیانیوں کی این جی اوز فلاحی کاموں کی آڑ میں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قادیانیت کی تبلیغ کرتی ہیں‘ لوگوں کو زبردستی اور لالچ دے کر قادیانی بنایا جاتا ہے۔ اندرون سندھ ہسپتالوں کے ذریعے قادیانیت کی تبلیغ کی جاتی ہے‘ آئی ایم ایف اور این جی اوز کے نمائندوں کو انہی مقاصد کے لیے وزیر بنایا ہوا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ہماری حکومت نے ضلعی حکومتوں کے ذریعے پاکستان کو مزید تقسیم کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔
پاکستان کو بنے ہوئے نصف صدی بیت چکی ہے لیکن انگریزوں کی غلامی‘ ان کی دی ہوئی نظام تعلیم کی صورت میں اب بھی قائم ہے۔ لارڈ میکالے کا ترتیب دیا ہوا نظام تعلیم جو صرف مسلمان کلرک پیدا کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا‘ وہ اب بھی ہمارے سکولوں میں رائج ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت اگر مسلمان عیسائی نہ ہوئے تو ان کو مسلمان بھی رہنے نہ دیا جائے گا۔ اُس کی بات بالکل ٹھیک تھی کیونکہ ایک بچہ جو پندرہ برس سرکاری تعلیمی اداروں میں گزارتا ہے تو وہ دین اسلام سے پوری طرح بے گانہ ہو چکا ہوتا ہے بلکہ بے زار بھی ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کا سبب وہ تعلیمی زہر ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ انڈیلا جاتا ہے۔ مثلاً ڈارون کا نظریہ ارتقاء اب بھی طلباء کو پڑھایا جاتا ہے حالانکہ یہ نظریہ خود غیر مسلموں کے نزدیک کب کا فرسودہ ہو چکا ہے لیکن ہمارے ہاں ماہرین تعلیم آنکھیں بند کیے ابھی تک پڑھائے جا رہے ہیں اور جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے تاکہ طلباء انسانیت کو چھوڑ کر حیوانیت سے آشنا ہو جائیں۔
اس کے علاوہ ہمارے نصاب تعلیم میں عیسائیت کا لٹریچر بھی فروغ پا رہا ہے اور طلباء کو
اسلامی ثقافت کے بجائے عیسائی ثقافت پڑھائی جا رہی ہے اور یہ سب این جی اوز کی سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جرمنی کا ایک مشنری ادارہ ”ندائے امید“ (Call of Hope) قرآن سے مشابہ عربی بائبل مسلمان نوجوانوں میں پھیلا کر انہیں مرتد اور عیسائی بنا رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان میں بھی یہ کتاب پہنچ چکی ہے جو کسی این جی اوز کے ذریعے مسلمانوں میں پھیلائی جائے گی اور یہ کتاب یہاں مفت تقسیم کی جائے گی۔ اس بائبل کا سرورق بالکل قرآن سے مشابہ ہے اور اس کی آیات کو بھی قرآنی آیات کی طرح عربی طرز پر تحریر کیا گیا ہے اور اس کا نام ”الکتاب المقدس“ رکھا گیا ہے۔ اس بائبل کو نیو انٹرنیشنل ورژنز N.I.V کی طرف سے اُردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
یہ مشنری ادارے مختلف طریقوں سے عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ مثلاً بازاروں، ہسپتالوں، گھروں اور سکولوں میں اپنا لٹریچر ڈاک کے ذریعے مفت روانہ کرتے ہیں۔ جرمنی میں یہ ادارہ مسلمان لڑکیوں کو خاص طور پر عیسائی بناتا ہے پھر ان کی شادی عیسائی لڑکوں سے کروائی جاتی ہے تاکہ ان کی نسل بھی عیسائی پیدا ہو۔ یہ ادارے انٹرنیٹ کے ذریعے بھی عیسائیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک کے نصاب تعلیم میں خاص طور پر کچھ ایسے مضامین شامل کیے گئے تھے جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہیں بلکہ شکوک و شبہات پیدا کرنے والے ہیں۔ یہ کام خود انہوں نے نہیں کیا بلکہ اپنے انہی اداروں سے ہمارے ہی بڑے لوگوں کے ذریعے کروایا۔ سُود کو منافع بخش کاروبار پیش کر کے تعلیمی نصاب کو چار چاند لگائے گئے اس کے ذریعے پھر وہ کلرک تیار ہونا شروع ہوئے جو موجودہ بینکنگ سسٹم کے آلہ کار بن کر یہودیوں کے سُودی نظام کی تشہیر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے تعلیمی نظام کے ذریعے مسلمانوں کو رہبانیت کی تعلیم دی جاتی ہے اور جہاد کو بدمعاشی اور دہشت گردی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
ابھی حال ہی میں ہماری ایک این جی او کی خاتون جو کہ مغرب زدہ بھی ہیں، نے ایک خط کے ذریعے ہماری وزارت تعلیم کے ذریعہ میٹرک کے نصاب سے قرآنی آیات، ترجمہ اور احادیث کو خارج کروا دیا ہے۔ اس خبیث خاتون نے اس خط کی ایک کاپی امریکی صدر کو بھی بھجوائی اور ساتھ ہی امریکی صدر کے کُتے کی تعریف بھی کی اور اُس کا بچہ تحفے کے طور پر بھی مانگا۔ لعنت ہے ایسی خواتین پر جن کو قرآن کی جگہ کتا زیادہ پسند ہے، یہ ہے ہماری این جی اوز کا کردار۔
موجودہ تعلیمی و مشاورتی بورڈ میں جن حضرات کو نامزد کیا گیا ہے، وہ ذہنی لحاظ سے بے دین، ملحد اور قادیانی نظریات کے حامل ہیں۔ انہی میں سے ایک بے غیرت شخص نے کچھ عرصہ پہلے ایٹمی پروگرام کے خلاف جلوس نکالا اور ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی قبر بنا کر ان کی توہین کی۔ یاد رہے کہ
یہ شخص ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے او حافظ ہے۔ یہ شخص ابھی تک پروفیسر ہے تک۔ یہ شخص ہمیشہ اسلام اور نظریہ پاکس جمہوریت اور پاکستان“ نامی ایک کتاب م
آج کل بے شمار سرکاری سکولو تعلیم دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ ملک رہے ہیں جہاں بچوں کو عیسائی اور یہودی انگریزی سکولوں کے نام عیسائیوں کے بو پال، سینٹ انتھونی وغیرہ لیکن وہ بنیاد پرست میں دینی تعلیم کو لازم کر لیں تو ان پر بنیاد پر
حال ہی میں انٹرنیشنل یونیورسٹی ا اور ہم جنس پرستی کی حمایت پر مبنی ایک ناول ش ہوا ہے جس کا نام "of Aziz Khan جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ اس وقت ی تعلقات اور ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا ہے م سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کتا شامل ہیں۔ یہ ناول طلباء کے احتجاج کے باوج ہوا ہے کہ جس کو بھی اس کتاب پر اعتراض ہے کے نام پر جہالت اور بیہودگی بانٹی جا رہی ہے اور
وفاقی وزارت تعلیم نے ۱۲ دسمبر ۰۰ E-1/2000-1E-4 جاری کیا جس میں بور امتحانات کے لیے اسلامیات کے مضمون سے سور ان کا ترجمہ خارج کر دیا جائے۔ عیسائیوں اور یہو کہ مسلمان طالب علم اگر کافر نہ ہوئے تو ان کو مسل میں پھر بیدار نہ ہو جائے۔ یاد رہے کہ جن سورتو سورتوں میں جہاد کے بارے میں ہی زیادہ بیان تاکہ دنیا میں جہاد نہ پھیل سکے۔
موجودہ حکومت نے ملک میں چائلڈ لی ایل او کا پروگرام متعارف کروایا ہے اور ظاہر ہے یہ
یہ شخص ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور جو طالب علم اس سے تعلیم حاصل کریں گے‘ ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ شخص ابھی تک پروفیسر ہے کیونکہ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں‘ شاید امریکی سفارت خانے تک۔ یہ شخص ہمیشہ اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف بکواس کرتا رہا ہے‘ اس کے یہ خیالات ”اسلام‘ جمہوریت اور پاکستان“ نامی ایک کتاب میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
آج کل بے شمار سرکاری سکولز کو این جی اوز کے حوالے کیا جارہا ہے جہاں وہ اپنی مرضی کی تعلیم دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ ملک میں بے شمار این جی اوز کے تحت انگلش میڈیم سکولز کام کر رہے ہیں جہاں بچوں کو عیسائی اور یہودی بنایا جارہا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ تمام مغربی اور انگریزی سکولوں کے نام عیسائیوں کے بڑوں اور بزرگوں کے نام پر رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً سینٹ پال‘ سینٹ انتھونی وغیرہ لیکن وہ بنیاد پرست نہیں کہلاتے اگر مسلمان کوئی اسلامی مدرسہ بنالیں اور اس میں دینی تعلیم کو لازم کرلیں تو ان پر بنیاد پرستی کا لیبل لگ جائے گا۔
حال ہی میں انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم اے انگلش کے نصاب میں اسلام دشمن اور ہم جنس پرستی کی حمایت پر مبنی ایک ناول شامل کیا گیا ہے۔ یہ ناول آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کا چھپا ہوا ہے جس کا نام "The Murder of Aziz Khan" ہے‘ اس کا مصنف ایک قادیانی ہے جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ اس وقت یہ شخص امریکہ میں ہے۔ اس کتاب میں اس نے ناجائز تعلقات اور ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا ہے‘ مسلمانوں کو دہشت گرد اور امن کا دشمن قرار دیا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کتاب کو پاس کرنے میں ہمارے وفاقی وزیر مذہبی امور بھی شامل ہیں۔ یہ ناول طلباء کے احتجاج کے باوجود بھی اُن کو پڑھایا جارہا ہے اور ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری ہوا ہے کہ جس کو بھی اس کتاب پر اعتراض ہے وہ یونیورسٹی چھوڑ دے۔ ہمارے طالب علموں میں علم کے نام پر جہالت اور بیہودگی بانٹی جارہی ہے اور ہماری انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم نے ۱۲ دسمبر ۲۰۰۰ء کو ملک بھر کے تعلیمی بورڈ کے نام ایک خط نمبر E-1/2000-1E-4 جاری کیا جس میں بورڈ کے سربراہوں کو کہا گیا ہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات کے لیے اسلامیات کے مضمون سے سورۃ الانفال‘ سورۃ التوبۃ اور سورۃ الاحزاب کی آیات اور ان کا ترجمہ خارج کر دیا جائے۔ عیسائیوں اور یہودیوں بلکہ ہمارے تعلیمی ماہرین کا بھی یہی مقصد ہے کہ مسلمان طالب علم اگر کافر نہ ہوئے تو ان کو مسلمان بھی نہ رہنے دیا جائے تاکہ کہیں جہاد کی روح ان میں پھر بیدار نہ ہو جائے۔ یادرہے کہ جن سورتوں کو امتحان سے خارج کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘ ان سورتوں میں جہاد کے بارے میں ہی زیادہ بیان ہے جنہیں وہ تعلیمی نصاب سے ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں جہاد نہ پھیل سکے۔
موجودہ حکومت نے ملک میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن آئی ایل او کا پروگرام متعارف کروایا ہے اور ظاہر ہے یہ اقوام متحدہ کے کہنے پر این جی اوز کے اشارے پر
شروع کیا گیا ہے۔ اس میں ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو محنت مزدوری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ان کے پڑھنے اور کھیلنے کے دن ہیں۔ اس کے لیے وہ کارخانوں سے جبری طور پر بچوں کو نکلوا کر تعلیم دلوا رہے ہیں اور ان کے والدین اور بچوں کی مالی امداد بھی کی جاتی ہے اور جو فیکٹری کے مالکان اس پر عمل نہ کریں ان سے تجارت بند کرنے کی بھی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کارخانوں میں سینٹرز کھولے گئے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو تعلیم ابتدائی طور پر تو دے رہے ہیں لیکن کب تک؟ آخر یہ ادارے کس جماعت تک ان بچوں کا بوجھ اٹھائیں گے۔ کیا وہ انہیں ڈاکٹر انجینئر یا سائنس دان بنائیں گے؟ کیونکہ جب بھی انہوں نے کارخانہ چھوڑنا ہے پھر سے محنت و مشقت کرنا ان کی مجبوری ہے کیونکہ انہوں نے اپنا بھی اور بوڑھے والدین کا بھی پیٹ پالنا ہے۔ کیا ان اداروں نے پوری قوم کے غریب بچوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے یا صرف فیکٹری والے بچوں کا؟ اگر کوئی وسیلہ نہ ہو تو بچوں کا کام کرنا بُری بات نہیں۔ آئی ایل او سے یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا آپ نے یورپ اور امریکہ سے چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ کر لیا ہے جو اب پاکستان کے بچوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں؟ جب مسلمان ملکوں کے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا ہے انہیں دوسرے ملکوں میں لا لا کر بیچا جاتا ہے اور جبری عیسائی بنایا جاتا ہے اور جب دوائی نہ ملنے سے مسلمان بچوں کی موت واقع ہوتی ہے تو اس وقت یہ عالمی ادارے کہاں سو رہے ہوتے ہیں؟ لیکن حقیقت میں ان اداروں کو مسلمان بچوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں بلکہ یہ ایک دنیا کو دکھاوا ہے اور یہ دکھاوا بھی صرف کارخانوں اور فیکٹریوں تک ہی محدود ہے۔ دوسرا وہ اس ادارے سے ایک اور مقصد بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ ہمارے کاریگروں کی تعداد نہ بڑھنے پائے جو تعداد اس وقت موجود ہے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی اور نئے کاریگر اوپر نہیں آئیں گے تو لامحالہ ہماری پروڈکشن کم ہو گی کام کم ہوگا اور صنعتیں بھی کم لگیں گی جس سے ہماری درآمدات اور برآمدات پر بھی فرق پڑے گا اور ہمیں زرمبادلہ کم ملے گا تو پھر ظاہر ہے کہ ہمارا ملک امیر نہیں ہوگا اور ہم پھر بھیک مانگنے ان دروازوں پر جائیں گے۔ وہ تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ پاکستان میں کام کم ہو اور ہم اپنی مہنگی امریکی مصنوعات پاکستان میں متعارف کروائیں اور پاکستان کو امریکی اور برطانوی مصنوعات کی منڈی بنا دیں۔ لوگ سستی چیزیں چھوڑ کر ان کی مہنگی چیزیں خریدیں۔ بالکل یہی کام یہودیوں کے دوا ساز ادارے یہاں کر رہے ہیں یہ ان کی بہت لمبی پلاننگ ہے جسے ہمارا عام شخص سمجھ نہیں پا رہا اور ان کے اس کام کی بہت داد دے رہا ہے کیونکہ یہاں مزدوری بہت سستی ہے اور مغرب میں بہت مہنگی۔ یہ چیز بھی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔
پھر تعلیم کے نام پر ان معصوم بچوں کو دینی تعلیم سے دُور کر رہے ہیں اور بچوں کو عیسائی بنانے میں کوئی کسر بھی اٹھا نہیں رکھ رہے۔ یہ کام وہ مشنری ادارے تعلیمی ادارے بنا کر کر رہے ہیں حالانکہ عیسائیت کی تبلیغ یہاں ممنوع ہونی چاہیے۔ حال ہی میں دبئی میں مسلمانوں کو مرتد کرنے والے
عیسائی مبلغین کو گرفتار کیا گیا ہے جو این جی اوز کی آڑ میں معصوم لوگوں کو ملحد بنا رہے تھے۔ ان اداروں کے مبلغین یہاں بھی ہسپتالوں میں بے چارے غریب مسلمانوں میں اپنا لٹریچر بانٹتے ہیں اور علاج معالجے کے نام پر مسلمانوں کو راہِ راست سے ہٹا رہے ہیں۔ یہ ہمارے دوست کب سے ہو گئے؟ آخر انہیں کیا پڑی ہے کہ سات سمندر پار سے یہ مسلمانوں کا علاج کرنے آتے ہیں حالانکہ یہ تو مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔
عالمِ اسلام کے خلاف عیسائیت کا بڑا محاذ قائم کیا جا رہا ہے‘ عیسائیت کو پھیلانے کے لیے دس ہزار ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن اور ستر لاکھ مبلغین تیار کیے جائیں گے اور اسلامی ممالک پاکستان سمیت ان کی زد میں ہوں گے۔ اب مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے نئے طریقے وضع کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے اور ان کے حصول کے لیے ایک ادارہ ”سیموئیل زویمر“ بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے عقائد کو منہدم کرنا ہے۔ اس کے لیے دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں مفت انجیلیں تقسیم کی جا رہی ہیں اور ان سب کاموں کے لیے عیسائی چرچ پیسہ فراہم کرتا ہے اور یہ پیسہ عیسائیوں کی خیرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ عیسائیوں کے مشنری ہسپتال ہوں یا مشنری سکول سب کے لیے پیسہ وہیں سے تقسیم ہوتا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ بنیاد پرستی نہیں؟ مسلمان جب کوئی دینی مدرسہ بنائے یا پیسہ لگائے تو اس پر بنیاد پرستی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور اگر عیسائی یا یہودی اپنا مذہبی کام کریں تو وہ ترقی پسند کہلاتے ہیں اور اس ترقی پسندی میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ سیکولرازم اور ماڈرن ازم ان کے دکھانے کے دانت ہیں‘ کھانے کے دانت ان کے اور ہیں۔ دراصل عیسائی اور یہودی مل کر در پردہ مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اپنی صدیوں کی شکست کا بدلہ لے رہے ہیں لیکن مسلمان اکثر اس سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے دکھاوے کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے‘ اس کی خوش نمائی سے مسلمان بے حد متاثر ہوئے جا رہے ہیں اور یہ بڑا خطرناک طرزِ عمل ہے اور دینِ اسلام کے لیے انتہائی نقصان دہ۔
انہی مشنری اداروں میں پڑھے ہوئے ایک نوجوان جو لاہور کے رہائشی ہیں اپنی بے حیائی کے پھول نچھاور کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایف اے اور بی اے میں اسلامیات‘ مطالعہ پاکستان اور اُردو پڑھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو دین کی طرف سے ہٹا کر صرف پروفیشنل تعلیم کی طرف مائل کرنا چاہتے ہیں کہ ڈگری صرف پیسہ کمانے اور روزگار حاصل کرنے کے لیے حاصل کرو اور بس۔ دین کا یہاں کیا کام؟ بس ساری قوم کو صرف تین وقت کی روٹی کے چکر میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سوچنے کی صلاحیت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ہماری قوم صرف اس وقت اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں اور دولت صرف پیسہ کمانے کے چکر میں صرف کر رہی ہے۔
یہ مشنری ہسپتال اور تعلیمی ادارے صرف مسلمانوں اور ان کے بچوں کو عیسائی اور یہودی بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں بنیاد پرست ہندو بھی اسی وجہ سے ان مشنری
این جی اوز کے خلاف ہیں کہ وہ ہندوؤں کو بھی عیسائی بنانے میں مصروف ہیں۔ کراچی میں حال ہی میں ایک لیڈی گینگ کا انکشاف ہوا ہے جو شیر خوار بچوں کو مالٹا، پرتگال اور امریکہ سمگل کرتی ہیں۔ یہ گینگ ملکی اور غیر ملکی خواتین پر مشتمل ہے۔ اب تک یہ سینکڑوں بچے مختلف ممالک میں بھیج چکی ہیں۔ بچوں کو لاوارث ظاہر کر کے ایدھی ٹرسٹ سے بھی بچے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہاں پاسٹر عباس اور ڈینس چارلس نامی دو صاحب اس منصوبے کے کرتا دھرتا ہیں۔ بنگلہ دیش سے بھی ہزاروں حاملہ خواتین کو ترقی اور پیسے کا لالچ دے کر یورپ لے جایا گیا، نوزائیدہ بچوں کو عیسائی بنایا گیا اور یہ سب کچھ یہاں کے چرچ یعنی گرجا گھروں کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسی طرح کوسوو، بوسنیا اور انڈونیشیا سے بھی یہ ادارے ہزاروں بچوں کو یورپ اور امریکہ لے گئے ہیں جہاں انہیں عیسائی بنایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا آخر کیوں کر رہے ہیں اور یہ گھناؤنا کھیل جس میں ہمارے پاکستانی بھی شامل ہیں، کیوں کھیل رہے ہیں؟
بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ اور یورپین ممالک اور یہودی بھی دن بدن مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خوفزدہ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کی تعداد دنیا میں عیسائیوں سے بڑھ جائے اور ان کی سلطنتوں کو خطرہ لاحق ہو جائے کیونکہ خاندانی منصوبہ بندی کے نتیجے میں ان کی شرح پیدائش کافی حد تک کم ہو چکی ہے جسے وہ اب آہستہ آہستہ بڑھا رہے ہیں لیکن یہی خاندانی منصوبہ بندی وہ این جی اوز کے ذریعے مسلم ممالک خاص طور پر پاکستان میں لاگو کر رہے ہیں۔ اب تو انہوں نے ہماری افواج میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کو رائج کر دیا ہے تاکہ بہادری اور شجاعت کے بیج کم سے کم بوئے جائیں۔ اس وقت امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ خوف بھی انہیں دامن گیر ہے کہ کہیں مسلمان آہستہ آہستہ ہمارے ہر ادارے میں نہ گھس جائیں۔ اس خطرے کے پیش نظر کچھ ہی عرصہ پہلے امریکہ میں ایک سینیٹر نے امریکہ کے صدر کو ایک درخواست میں اس خطرے سے آگاہ کیا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی مساجد، اسلامک سینٹرز، لائبریریاں اور تبلیغی مراکز بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ یہاں پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی این جی اوز سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی نہ بڑھنے پائے لیکن فی الحال وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو رہے۔ مشنری ہسپتال تو مسلمانوں کی نس بندی اور نل بندی میں پیش پیش ہیں اور آپریشن کی مفت سہولت کے ساتھ ساتھ آنے جانے کا خرچہ بھی دیا جاتا ہے۔ بعض مشنری ڈاکٹر گھر گھر جا کر بھی اپنی خدمات پیش کرتی ہیں تا کہ کسی طرح مسلمانوں کی آبادی کے آگے بند باندھا جا سکے لیکن امریکہ کے صدر بش نے آتے ہی تمام دنیا کے ممالک سے خاندانی منصوبہ بندی کے تمام منصوبوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ چیز فحاشی اور بے حیائی کے زمرے میں آتی ہے اس لیے تمام ممالک میں اس منصوبے کے فنڈز ختم کیے جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھارت میں بھی گود لینے کے نام پر بچوں کی خرید و فروخت کرنے والی این جی اوز کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ چلڈرن ہوم کی آڑ میں بچوں کی خرید و فروخت کا ناجائز کاروبار کرتے تھے۔ بظاہر یہ تنظیمیں بچوں سے ہمدردی جتاتی ہیں لیکن در پردہ انہیں بچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ ابھی پچھلے دنوں لاہور میں این جی اوز کے زیر انتظام بچوں کے حقوق اُجاگر کرنے کے لیے چائلڈ رائٹس فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن بے شمار بچوں کو یہ میلہ نہیں دیکھنے دیا گیا۔ بچوں کو ہال کے اندر ہی نہیں جانے دیا گیا بلکہ بچے کافی دیر تک باہر دھوپ میں کھڑے رہے لیکن این جی اوز نے فیسٹیول کے نام پر اپنے پیسے کھرے کر لیے اور بچے جائیں بے شک بھاڑ میں!
آئیے! اب ہم ان این جی اوز کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ہیں کیا اور ان کے پیچھے کون ہے؟
ان کے پیچھے ہے اقوام متحدہ یعنی U.N.O (United Nations Organization) اس ادارے کو قائم ہوئے تقریباً 55 سال گزر چکے ہیں اور اس کا نام ایک سابق امریکی صدر روز ویلیٹ نے تجویز کیا تھا جو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز قائم کی گئی تھی جس کا مقصد دنیا کو جنگ سے باز رکھنا تھا لیکن جب دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی تو یہ ادارہ ختم ہو کر رہ گیا۔ پھر برطانیہ اور امریکہ نے مل کر ایک ادارے اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی۔ امریکہ ہی کے ایک شہر سان فرانسسکو میں ایک کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کا منشور (جسے یو این او کے چارٹر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) ترتیب دیا گیا۔ اس پر اس وقت دنیا کے پچاس ممالک نے دستخط کیے تھے۔
اقوام متحدہ اپنے ہر بڑے ادارے کے دفاتر ہر ملک میں قائم کرتی ہے اور وہاں کی حکومت کی مدد سے اپنے مفادات کی خاطر کام کرتی ہے۔ اس مقصد کی خاطر ہر ملک میں چھوٹے چھوٹے لوکل ادارے بنائے جاتے ہیں جنہیں این جی اوز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان اداروں میں انہی ملکوں کے افراد کو چھانٹ کر ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ سیکولر اور بے دین اور دولت کے پجاری افراد ان کے ملازموں میں شامل ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ ادارے فلاحی کام کرتے ہیں لیکن در پردہ یہ اس ملک کے خلاف اور مذہب کے خلاف کام کرتے ہیں انہیں اقوام متحدہ کے ادارے ہی فنڈ مہیا کرتے ہیں دفاتر مہیا کرتے ہیں اور سفر کے لیے گاڑیاں بھی دی جاتی ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کام تو یہ ادارے کیا کرتے ہیں بلکہ این جی اوز کا پیسہ ہڑپ کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ یہ نام نہاد این جی اوز یہاں ہمارے ملک میں یونیسیف کی عطیہ شدہ گاڑیاں ناجائز استعمال کرتی ہیں اور پٹرول کا مال مفت سمجھ کر اُڑایا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ گاڑیاں صرف دفتری استعمال کے لیے ہوتی ہیں لیکن صرف دس فیصد ان کا درست استعمال کیا جاتا ہے باقی ان کے ملازم مغل شہزادوں کی طرح ان گاڑیوں میں ذاتی امور کی خاطر گھومتے نظر آتے ہیں۔ این جی اوز نے تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے افراد کو گاڑیاں دی ہوتی ہیں جنہوں نے کبھی کالج کا منہ نہیں دیکھا لیکن اس وقت ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے بہت سے ادارے اور اس کے علاوہ یورپ اور امریکہ کے سرکاری و
غیر سرکاری ادارے اس وقت ہمارے ملک میں کام کر رہے ہیں۔ مثلاً مشنری غیر ملکی ادارے جو یہاں ہسپتالوں اور سکولز کو فنڈ مہیا کر رہے ہیں ان میں :
Protestant Association for Cooperation In Development (Germany) Inter- Church Organization for Development (Netherland) Presbyterian Church (U.S.A) Medical Benevolence Foundation (USA) CWS---Church World Services Catholic Relieve Services (U.S.A)
مندرجہ بالا غیر ملکی مشنری ادارے مقامی این جی اوز تشکیل دے کر یہاں لوگوں اور خصوصاً بچوں کو عیسائی اور مرتد بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مشنری ہسپتال اور سکولز ان کے خاص گڑھ ہیں۔ مسلمان بچوں کو سمگل کر کے عیسائی بنانا بھی ان کے مشن میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک برطانیہ کا چیری ٹیبل فنڈ (Charitable Fund) بھی کام کر رہا ہے۔ یہ فنڈ عیسائیوں کے مذہبی صدقات اور عطیات پر مشتمل ہوتا ہے جو یہاں فلاحی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے اور ہمارے لوگ بڑے شوق سے اس فنڈ کو کھاتے ہیں اس کے علاوہ (IDL)
International Labour Organization Unicef, Save The Childern Fund (U.K)
ان کے علاوہ ہماری مقامی غیر سرکاری تنظیمیں جنہیں این جی اوز کہا جاتا ہے اور یہ تمام مندرجہ بالا ڈبلیو ایچ او اداروں کی مالی امداد پر چلتی ہیں ان میں مثلاً (ادارہ خاندانی منصوبہ بندی) این آر ایس پی (NRSP) National Rural Support Programme یہ ادارہ ہر شخص کو کاروبار کے لیے آسان شرائط پر بغیر کسی تصدیق کے رقم مہیا کرتا ہے اور ہر شخص کو سودی نظام میں جکڑتا ہے۔
Aurat Foundation, Dastak, Sudhar, Apna Ghar
یہ تمام خواتین کی این جی اوز ہیں جو ملک بھر میں خواتین کو مادر پدر آزادی کا سبق پڑھاتی ہیں اور بے حیائی، فیشن اور بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ:
BLCC-Buniad Literacy Community Concern Primary Education Programme Population Planning
عیسائیت اور یہودیت کی ریشہ دوانیوں میں سے ایک ”آزادی نسواں“ بھی ہے۔ موجودہ دور کی ہر آزاد عورت چاہے وہ مسلم ہے یا غیر مسلم خاص طور پر اسلام کو ناپسند کرتی ہے اور اس کے پیچھے عالمی صہیونیت کارفرما ہے۔ عالم اسلام میں آزادی نسواں ایک اہم مسئلہ رہا ہے جس کے لیے صلیبی سامراج اور صہیونی سازش نے پوری ایک صدی تک جدوجہد کی ہے۔
عیسائی مشنریوں کا کہنا ہے کہ مشنری کوششوں کے دو مقاصد ہیں جس میں ایک نوجوانوں کو عیسائی بنانا اور دوسرے تمام مسلمانوں میں مسیحی افکار کی اشاعت۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ مشنری اگر اپنی تحریکات کے آثار کمزور دیکھیں تو اس سے ناامید نہ ہوں کیونکہ یہ بات بالکل سامنے آ چکی ہے کہ مسلمانوں کو مغربی علوم اور آزادی نسواں کی لت پڑ چکی ہے۔
۱۹۱۱ء میں قاہرہ میں ایک مشنری کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں یہ پروگرام طے پایا تھا:
- (۱) تعلیم نسواں...... مشنریوں کی تعلیم کے لیے کوشش
- (۲) مسلم خواتین میں اجتماعی اور نفسیاتی ارتقاء
یہ طریقہ کار تھا جو مسلم خواتین کی آزادی کے لیے مشنری کانفرنسوں میں طے پایا اور صلیبی مشنریوں نے اس مقصد کے لیے ان تھک کوششیں کیں۔ ایک امریکی یہودی ”مور برجر“ (Moor Berger) اپنی کتاب ”آج کی عربی دنیا“ میں لکھتا ہے کہ:
”تعلیم یافتہ مسلمان عورت مذہبی تعلیمات سے بہت دُور ہے اور معاشرے کو بے دین بنانے میں حد درجہ مفید ہے۔“
عورت ہی بچے کی پرورش کرتی ہے اور مسلمان عورت دوران تربیت اسلام کے بیج بو دیتی ہے اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ کہیں بچہ پکا سچا مسلمان نہ بن جائے اس لیے انہوں نے سوچا کہ مسلمان عورت کے دل سے اسلامی عقیدہ مٹنا چاہیے اور عورتوں کی ایسی کھیپ تیار ہونی چاہیے جو اسلام سے قطعاً ناواقف ہو۔ طریقہ اس کا بھی وہی ہے جو پہلے مرحلے پر آزمایا جا چکا ہے یعنی تعلیم! چنانچہ اس مقصد کے لیے تمام مسلمان ممالک میں آزادی نسواں کی تحریکیں شروع کی گئیں۔ سرکاری اور مشنری سکولوں میں خواتین کی وہ کھیپ تیار ہوئی جو کہ نہ صرف اسلام سے دُور ہے بلکہ متنفر بھی۔
صلیبی سامراج اور یہودی سازش کے تحت تعلیم نسواں کا مدعا یہ نہیں تھا کہ خواتین تعلیم حاصل کریں کیونکہ اسلام تو پہلے ہی عورت کی تعلیم پر زور دیتا ہے لیکن ان کا مدعا یہ تھا کہ مسلم خواتین وہ تعلیم حاصل کریں اور اسلام سے آزاد ہو جائیں۔
تعلیم نسواں کے مبارک قدم کے بعد دوسرا اقدام یہ اُٹھایا گیا کہ عالم اسلام میں کچھ اس قسم کے اجتماعی، فکری اور اخلاقی حالات پیدا کیے گئے کہ عورت بے پردہ ہو جائے تاکہ بگاڑ مکمل ہو سکے۔ غرض ایک بگڑی ہوئی نئی نسل تیار کی گئی جن کے بگاڑ میں لکھنے والے فن کار، افسانہ نویس، صحافی، سینما، ٹی وی اور ریڈیو والوں نے پورا پورا کردار ادا کیا، ساتھ ہی زندگی کے مختلف مرحلوں پر اس بگاڑ کو
مکمل کرنے کے لیے مرد و عورت کو باہمی میل جول کے مواقع مہیا کیے گئے۔ عالمِ اسلام کی موجودہ نسل صلیبی سامراج اور یہودی سازش کا اصل سرمایہ ہے کیونکہ یہی نسل اسلامی عقیدہ کے خاتمہ کے لیے فیصلہ کن وار کرنے کے لیے پر تول رہی ہے اور خاص طور پر موجودہ عالمِ اسلام کی خاتون جس کے بارے میں ایک یہودی مصنف لکھتا ہے کہ:
”معاشرے کو بے دین بنانے میں عورت زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے“
اور یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ اب تعلیم یافتہ عورت حریت پسند ہونے کی بناء پر مسلمان بچے ہی نہیں پیدا کرے گی پھر بھی عورت پر گرفت مضبوط ہے اور اس کے دل میں اسلام دشمنی کے جذبات اُبھارنے کا کام منظم طریقے سے جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے حریت پسند خاتون کو حصولِ حقوق کی اُلجھن میں مبتلا کر دیا گیا ہے اور یہ اُلجھن اس وقت تک دُور نہیں ہو سکتی جب تک اسلامی قوانین کا خاتمہ نہ کر دیا جائے یا اس سے بھی خطرناک مہم کو اسلام کے معنی و مفہوم کو ہی بدل دیا جائے۔ عورتوں کی آزادی میں فرائڈ کے جنسی مذہب نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ مغرب کی طرح مسلم ممالک میں بھی مرد عورت کی کفالت سے ہاتھ اُٹھاتا جا رہا ہے اور اسے محنت مزدوری کی طرف دھکیل رہا ہے اس کے لیے عورت کو خود میدانِ عمل میں آنا پڑا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کا اخلاق اس کے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے کیونکہ حیوانی اثر رکھنے والا جاہل انسان جس کے ساتھ اسے مزدوری کرنا تھی‘ وہ اسے اس وقت تک مزدوری نہیں کرنے دے گا جب تک وہ اس کے حیوانی جذبات کے سکون کا سامان نہ کرے۔ پھر عورت مساوات بھی چاہتی ہے‘ اُجرت کے معاملے میں بھی اور بے راہ روی میں بھی۔
ان تمام اسباب کے پس پردہ مکار یہودی بھی غیر یہودی کا اخلاق تباہ کرنے میں لگا ہوا تھا۔ مارکس‘ فرائڈ اور ڈر کائم یہ نصیحت کر رہے تھے کہ:
”اخلاق ایک بے معنی قید ہے انسانی وجود سراپا جنس ہے اور جنسی اختلاط ہی صحیح راہِ عمل ہے۔“
ان نصیحتوں پر عمل کر کے سارا یورپ معاشرہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے جس کے اثرات یہاں مشرق میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور خاندانی روابط منقطع ہو رہے ہیں۔ یورپ میں تو انسان صرف ایک شہوت پرست جسم ہے جب اس کی شہوانی خواہش پوری ہوتی ہے‘ جنسی رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور جب شہوانی خواہش دوبارہ بے دار ہوتی ہے تو جنسی رابطہ پھر سے استوار ہو جاتا ہے۔
ڈارون‘ فرائڈ اور اس کے شاگردوں کے مطابق عورت اور مرد دونوں کا انسانی تشخص ختم ہو گیا ہے اب وہ مرد و زن نہیں رہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا۔ سارے اجتماعی‘ خاندانی اور جنسی رابطے ٹوٹنے کے بعد انسان کے بجائے مشین کا ایک پُرزہ بن کر رہ گیا ہے۔ اب انسان کی زندگی کے دو مقاصد ہیں‘ مشینی پیداوار اور حیوانی آزادی۔
ماہرین کے مطابق عورت کے تشخص میں بھی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے کیونکہ اعداد و شمار بتا
رہے ہیں کہ گھر سے باہر کی زندگی میں حصہ لینے والی عورتوں کے یہاں پیدائش کم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ایسی عورت کا تشخص ماں بننے کی صلاحیت ترک کر رہا ہے اور مادی، ذہنی اور اعصابی لحاظ سے وہ اپنے مادی تشخص سے کٹ گئی ہے۔ ماں باپ کا تعلق خاندان اور گھر سے کٹ گیا ہے اور بچوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ غرض کہ سارے کا سارا خاندانی نظام یورپ میں تباہ و برباد ہو چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے تمام بے ہودہ افکار سائنٹفک انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں اور تمام ذرائع نشر و اشاعت کو اس نیک کام میں لگا دیا گیا ہے اور پس منظر میں عالمی صہیونیت خوشی اور شادمانی سے تالیاں بجا رہی ہے کہ وہ غیر یہودیوں کا اخلاق خراب کرنے کے مبارک کام میں کامیاب ہو گئی ہے، خاص طور پر مسلمانوں کا جن کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔
نوجوان نسل جس کے سامنے بے حیائی اور بے غیرتیوں کے دروازے چوپٹ کھلے ہیں اور ان کی تمام زندگی کا حاصل دولت، اور عورت ہے۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اسلام کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ تمام تر بے راہ روی اور شہوت رانی مذہب سے دُور رہ کر ہی ہو سکتی ہے۔ اس بدکاری سے گزشتہ اقوام کس انجام کو پہنچیں اور آج بعض قومیں کس انجام سے دوچار ہیں، انہیں ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ وہ تو شراب کے نشے میں سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ دنیا کی تخریب کار قومیں ان کے اخلاق کی بربادی اور ان کے دین و ایمان کی تباہی کا ایک بڑا پروگرام اپنے سامنے رکھتی ہیں اور اس پروگرام کی منظوری صہیونی اور صلیبی دنیا سے مل چکی ہے۔ اس پروگرام کے ایک کردار روسی دانش ور اپنے ایک ناول میں لکھتا ہے کہ:
”شراب خوری اور زنا کوئی قابل شرم چیزیں نہیں ہیں، گناہ کوئی چیز نہیں، محبت کرنا، خوب پینا اور عورت کا تعاقب کرنا خاصہ مردانگی ہے۔ ایک فطری جذبہ ہے اور فطری جذبہ گناہ نہیں ہو سکتا۔“
(معرکہ اسلام اور جاہلیت از مولانا صدر الدین اصلاحی)
اسی پروگرام کے تحت امریکہ میں حال ہی میں ایک دوا ساز ادارے نے شرمیلے پن سے نجات دلانے کے لیے گولیاں بنانے کا اعلان کیا ہے جو نوجوان میں پائی جانے والی فطری جھجک اور شرم دُور کرنے میں مددگار ہوں گی۔ مغرب میں فطری شرم و حیا پہلے ہی رخصت ہو چکی ہے۔ اگر کسی نوجوان میں اس کے بچے کچھے آثار باقی ہیں تو انہیں اس دوا ساز ادارے کی بنائی ہوئی بے شرم گولیاں دُور کر دیں گی۔ اس دوا کے اثر سے نوجوان کی حالت شیخ سعدی کے اس مقولے کی طرح ہو جائے گی:
یعنی بے حیا بن جاؤ اور جو جی چاہے کرتے پھرو۔ پھر تمہیں کسی بات پر شرم نہیں آئے گی۔
اسلام نے حیا کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کنواری لڑکیوں سے بڑھ کر حیا پائی جاتی تھی۔ لیکن مغربی ممالک میں اب حیا کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے اور جن لڑکے اور لڑکیوں
میں شرم وحیا کے جذبات محسوس کیے جائیں انہیں ڈاکٹر سے علاج کی ہدایت کی جائے گی۔ مغرب کی دیکھا دیکھی بعض مسلمان بھی شرم وحیا کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بے حیا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
مثلاً یورپ تو اس لعنت میں گرفتار ہو گیا ہے لیکن ملک عزیز پاکستان میں بھی اس کے اثرات نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے خبر آئی تھی کہ شکار پور کے علاقہ گڑھی یاسین میں دو محبت کرنے والے لڑکوں نے آپس میں شادی کر لی۔ ان کا نکاح بھی پڑھایا گیا تھا، نکاح خواں کو گرفتار تو کر لیا ہے لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ مغرب کی ہوائیں ہمیں کس طرف لیے جا رہی ہیں۔ وہاں لڑکیاں لڑکیوں سے اور لڑکے لڑکوں سے شادی کرتے ہیں اور انہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ہم جنس پرستوں کے لیے علیحدہ قوانین بنا لیے گئے ہیں۔ حال ہی میں بنکاک میں ایک نوجوان لڑکی چینا مورائن کو ہم جنس پرستوں کا مقابلہ جیتنے پر خصوصی ایوارڈ ”ملکہ یونیورس ۲۰۰۰ء“ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرافی بھی دی گئی ہے۔
خواتین کا مقابلہ حسن تو پرانی بات ہے اب موٹی خواتین کا مقابلہ حسن شروع کر دیا گیا ہے اور حال ہی میں بنکاک میں اس مقابلہ کا انعقاد بھی ہوا ہے جس میں اوّل آنے والی خاتون کو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس کے علاوہ کالی عورتوں کا مقابلہ حسن بھی شروع ہو گیا۔
دراصل صیہونیت اور صلیبیوں کا یہ عہد ہے کہ کسی بھی عورت کو شرافت کی زندگی میں نہیں رہنا چاہیے۔ ہر عورت کو باہر نکلنا چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کیسی ہی ہو۔ اسے آزادی اور فحاشی کی زندگی میں دھکیل دینا چاہیے تب ہی ان کے گھناؤنے عزائم پورے ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہم پچھلے صفحات پر ذکر کر آئے ہیں۔ سود خور قوم یہودی مقابلہ حسن کروا کر دو مقاصد حاصل کرتی ہے ایک تو وہ عورت کا بیڑہ غرق کرتی ہے۔ حضرت حوا کی بیٹی کو بازاری چیز بنا کر پیش کرتی ہے اور اس کی بولی لگائی جاتی ہے تا کہ وہ ایک بکنے والی چیز بن جائے۔ کوئی بھی پیسہ خرچ کر کے اسے خرید لے۔ اس کے لیے عورت کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ وہ تو بہت خوبصورت چیز ہے اور قیمتی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حسن اور جسم اس لیے عطا نہیں کیا کہ اسے چھپا کر رکھا جائے بلکہ اس لیے دیا ہے کہ وہ ساری دنیا کے سامنے پیش کر کے داد بھی حاصل کرے اور پیسہ بھی کمائے۔ اس کام کے لیے وہ آزاد ہے اور کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس کا راستہ روکے وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو اس مقصد کے لیے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں۔
دوسرا مقصد ان لوگوں کا آمدنی ہے چاہے کسی طریقے سے بھی ہو کیونکہ یہ ایک کاروباری قوم ہے۔ اس کے لیے وہ عورت کو ہر جگہ استعمال کرتے ہیں اور عورت کے متعلق ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کام میں کشش ہو اور زیادہ آمدنی حاصل ہو۔ عورت چونکہ ایک سیکس سمبل (Sex Symbol) ہے اسی لیے اسلام نے اسے چھپا کر رکھنے کا حکم دیا ہے تا کہ فتنے کا خطرہ نہ رہے۔
اسی صیہونیت کے پروگرام کے تحت کچھ ہی عرصہ پہلے جون ۲۰۰۰ء کے پہلے ہفتہ میں یو این او کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں خواتین ملینیم ۲۰۰۰ء کی اکیسویں صدی میں ’مرد و زن کی ہم جنس مساوات‘ کا نہایت اہم مسئلہ منظوری کے لیے پیش ہوا۔ بیسویں صدی میں مساوات مرد و زن کے حقوق کے لیے ماڈرن خواتین کی شب و روز کی محنت بڑی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان خواتین کے ہم خیال مردوں کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ صدی کی عالمی ہیومن رائٹس کانفرنس میں منجملہ دیگر امور کے ”کنڈوم کلچر“ کے فروغ کے لیے بھی سفارشات منظور کر لی گئی تھیں۔ اس منظوری کی سب سے بڑی افادیت یہ بتلائی گئی کہ غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو آپس میں جنسی اختلاط سے پیدا ہونے والی قانونی اور غیر قانونی پیچیدگیوں سے نجات مل جائے گی لیکن اکیسویں صدی میں حالات بہت آگے نکل چکے ہیں۔ اب اس عالمی ادارے نے اس بات کا نہایت سختی سے نوٹس لیا ہے کہ خواتین کو ان کے انسانی اور پیدائشی حقوق سے اور ان تمام آزادیوں‘ آسائشوں اور لذتوں سے محروم نہیں کیا جاسکتا جو مردوں نے غصب کیے ہوئے ہیں اور اپنے لیے مخصوص کر رکھے ہیں۔ یو این او کی جنرل اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس کے لیے بڑی محنت سے ایک اعلامیہ تیار کیا گیا ہے جسے یو این او کا نیا عالمی فرمان کہا جاسکتا ہے۔ اس نئے عالمی فرمان میں گناہ و ثواب‘ فرمودہ مذہبی اعتقادات اور دین و اخلاق پر مبنی جرم و سزا کے قوانین کو جنسی مساوات اور آزادی نسواں کے منافی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور قابل تنسیخ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا احتجاج ۱۹۰۸ء میں کیا گیا تھا پھر ۱۹۱۰ء میں عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے واضح طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ کر ڈالا پھر تو جیسے راستہ ہی کھل گیا اور ۱۹۷۵ء میں پہلی دفعہ عورتوں کا ایک بہت بڑا اجتماع ہوا جس میں دنیا بھر سے عورتوں نے شرکت کی اور اسے عالمی کانفرنس کا نام دیا گیا۔
سب سے پہلے ۱۹۷۵ء میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس میکسیکوسٹی میں منعقد ہوئی۔ دوسری عالمی کانفرنس ۱۹۸۰ء میں کوپن ہیگن میں منعقد ہوئی۔ تیسری عالمی کانفرنس ۱۹۸۵ء میں نیروبی میں منعقد کی گئی جبکہ چوتھی عالمی کانفرنس ۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں منعقد ہوئی جسے بیجنگ کانفرنس کا نام دیا گیا۔ اس کانفرنس کا افتتاح اس وقت پاکستان کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا اور انہوں نے بھی خطاب کے دوران عورت کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا عالمی نظام متعارف کروایا جائے جس میں خواتین کو سماجی اور معاشی مواقع میسر آئیں اور ان کے ساتھ استحصال اور زیادتی نہ ہو۔ انہیں تجارت‘ سیاست‘ معیشت اور زندگی کے دیگر شعبوں میں مساوی مواقع دیئے جائیں۔ بے نظیر بھٹو نے یہ بھی کہا کہ معاشی خود مختاری کے بغیر عورت اپنی مرضی کی زندگی نہیں گزار سکتی اور عورت کی پیدائش کو ابھی تک ناپسندیدہ خیال کیا جاتا ہے۔ اور ہمارے یہاں ابھی تک ورکنگ وومن کا احترام نہیں دیا جاتا۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ دوسرے ملکوں میں کام کرنے والی عورت کو احترام کب ملتا ہے؟ اس کانفرنس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ خواتین کی یہ کانفرنس
جس میں ۱۸۷ ممالک سے ۲۱,۸۰۰ غیر سرکاری تنظیموں (NGO's) نے حصہ لیا۔ پہلی بار کسی کانفرنس میں ۳۵۰۰۰ عورتوں نے شرکت کی اور اس میں حقوق نسواں کی علمبردار خاتون ڈیل اولیری نے بارہ صفحات پر مشتمل ایک ڈرافٹ تیار کیا جسے بیجنگ ڈرافٹ کا نام دیا گیا۔
اس ڈرافٹ میں یہ کہا گیا کہ بچے پیدا کرنے کا حق عورت کو دیا جائے، اسقاط حمل کو جائز قرار دیا جائے اور اس کا اختیار عورت کے پاس ہو۔ عورتوں کو ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت دی جائے۔ اسی طرح اس ڈرافٹ میں شادی شدہ زندگی کی حوصلہ شکنی اور بنیاد پرستی پر تنقید کی گئی ہے۔ اس ایجنڈے پر کئی مسلم ممالک نے نکتہ اعتراض اٹھایا اور ان نکات کو قابل مذمت قرار دیا۔ البتہ پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی ان میں سے شاید کسی ایک نکتہ پر بھی کام نہیں ہوا۔ نو دن مسلسل ہونے والی یہ کانفرنس جس پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوا تھا، سوائے بے حیائی پیدا کرنے کے زیادہ سودمند ثابت نہ ہو سکی کیونکہ پاکستان میں اسکے منشور پر دستخط کے باوجود کام نہیں کیا گیا۔
❁ ❁ ❁
قاضی جاوید
قبضہ گروپ این جی او اور سات عیسائیوں کا قتل
کراچی میں ۲۵ ستمبر کو سات عیسائیوں کے قاتلوں کا پتہ لگانے کی کوشش جاری ہے لیکن اس مقصد کے لیے پولیس سابق رُکن صوبائی اسمبلی مائیکل جاوید اور سلیم خورشید کھوکھر کی گرفتاری کے لیے بھی سرگرم ہو گئی ہے۔ پولیس نے دونوں سابق ارکان صوبائی اسمبلی کے گھروں پر چھاپہ مارا لیکن دونوں گھروں میں موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل پادری ہاؤس جہاں صادق ڈینیل رہائش پذیر ہیں، سلیم خورشید کھوکھر کی گاڑی کے اے ڈبلیو ۳۰۱۵ موجود ہے۔ پولیس کے سپاہی فاطمہ جناح روڈ پر موجود بشپ ہاؤس اور پادری ہاؤس کی حفاظت پر مامور ہیں لیکن سلیم خورشید کھوکھر کی گاڑی کے بارے میں وہ غور نہیں کر رہے ہیں۔ اس پوری کارروائی کے دوران جس میں پولیس نے دونوں سابق ارکان اسمبلی کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ڈالا، صادق ڈینیل کا پادری ہاؤس مکمل طور سے چھاپوں سے محفوظ رہا ہے۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ۲۹ ستمبر کی شب مائیکل جاوید اور سلیم خورشید کھوکھر کی گرفتاری کے لیے چھاپوں سے قبل دونوں نے صادق ڈینیل سے ملاقات کی تھی۔ سندھ اور بلوچستان کے چرچ اور دیگر عیسائی اداروں کے تمام امور اس وقت صادق ڈینیل کے ہاتھوں میں ہیں اور ان کی انتظامیہ پر مکمل گرفت ہے، انتخابات کے بعد بشپ سندھ و بلوچستان اعجاز عنایت کو مقرر کیا گیا تھا۔ کراچی اور بلوچستان بشپ آف ڈایوسیس کا عہدہ ۱۹۹۴ء میں بشپ ارنی رڈون کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوا تھا۔ صادق ڈینیل بشپ ارنی رڈون کے قریبی ساتھی تھے۔ ارنی جب اس عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تو ان کی خواہش تھی کہ اس عہدے پر صادق ڈینیل کا انتخاب ہو جائے۔ ۱۹۹۵ء میں اس وقت کے ماڈریٹر چرچ آف پاکستان بشپ سیموئیل پرویز نے چرچ آف پاکستان کے آئین کے صفحہ ۲۶ میں موجود آرٹیکل XI کے رول A-9 کے مطابق انتخابات کرائے۔ ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ بعد میں بشپ حیدرآباد نے انتخاب میں اعجاز عنایت کو بشپ آف سندھ و بلوچستان مقرر کر دیا۔
یہ احکامات بشپ سیموئیل پرویز اور سیکرٹری نے جاری کیے لیکن سندھ اور بلوچستان کے مالی اختیارات مکمل طور سے صادق ڈینیل کے ہاتھوں میں ہیں۔ ۱۹۹۵ء میں اعجاز عنایت کا انتخاب بشپ
آف حیدر آباد کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کو صادق ڈینیل نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور بشپ آف بلوچستان و سندھ اعجاز عنایت کو حلف اٹھانے سے عدالت نے منع کر دیا تھا۔
صادق ڈینیل کا کہنا ہے کہ ۱۴ فروری کو عدالتِ عالیہ کے حکم پر ان کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے اور وہ بشپ سندھ و بلوچستان منتخب ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک ان کو بشپ ہاؤس نہیں مل سکا۔ صادق ڈینیل اگر بشپ سندھ و بلوچستان ہیں تو ان کے لیے بشپ ہاؤس پر قبضہ حاصل کرنا قطعی مشکل نہیں ہے لیکن اس مقصد کے لیے وہ قانون سے مدد لینے کے بجائے عیسائی برادری کو اکسانے کی کوششوں میں مصروف رہے تا کہ ہنگامی صورت حال پیدا کی جائے۔ اسی وجہ سے سیاسی عیسائی رہنماؤں نے سات عیسائیوں کی ہلاکت کے موقع پر بھی یہی کوشش جاری رکھی کہ کسی نہ کسی طرح عیسائی مسلم فساد شروع ہو جائے اور پورا شہر فساد کی لپیٹ میں آ جائے لیکن کراچی کی انتظامیہ اور رومن کیتھولک چرچ کے اکابرین کی کوششوں سے ہنگامہ بڑھنے سے رک گیا ورنہ عیسائی سیاسی رہنماؤں نے ہنگامہ کرانے کی بھرپور کوشش کی تھی تا کہ اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کو عالمی برادری میں بھارت کی طرح ایک عیسائی قوم دشمن ملک کے طور پر پیش کیا جائے۔
ادارہ امن و انصاف کے لیے چند ہفتے قبل ۲۸ کروڑ روپے کی غیر ملکی امداد پاکستان میں عیسائی غریب آبادیوں کے لیے لائی گئی تھی اور اس فنڈ کو استعمال کرنے کے لیے ہر گروپ سرگرم تھا۔ اسلم مارٹن کی کوشش تھی کہ اس فنڈ کو درست انداز سے خرچ کیا جائے لیکن ادارے کے چند افراد اس فنڈ کو سندھ اور کراچی میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس فنڈ کا استعمال اندرون سندھ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا پروگرام تھا۔ اس مقصد کے لیے چھ گاڑیاں بھی سیاسی مقاصد کے لیے بیرون ملک سے لائی گئی تھیں۔ ان گاڑیوں کو کسٹم سے چھڑانے کی کوشش جاری ہے ان گاڑیوں میں تین عدد لینڈ کروزر بھی ہیں۔
۲۵ ستمبر کو ادارہ امن و انصاف کے دفتر میں جن لوگوں نے سات عیسائیوں کو قتل کیا، ان کے بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ اپنے ساتھ چند فائلیں بھی لے گئے ہیں۔ ان فائلوں کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ ان کا تعلق مالی حسابات سے تھا جس میں ادارے کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات درج تھیں۔ مائیکل جاوید سلیم خورشید کھوکھر اور صادق ڈینیل کے قریبی ساتھی ظفر اقبال ادارہ امن و انصاف کے بورڈ کے اہم رکن ہیں، جنہوں نے تین ہفتہ قبل کراچی پریس کلب میں امن و انصاف کی جانب سے سیاسی امور پر اظہار خیال کیا تھا۔
ادارہ امن و انصاف ایک فلاحی ادارہ ہے جو اس سے قبل ہمیشہ فلاحی سرگرمیوں میں مصروف رہا ہے لیکن چند ہفتہ قبل اس ادارے نے پہلی مرتبہ سیاسی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس کے کیا مقاصد تھے اس سلسلے میں ذرائع نے بتایا کہ صادق ڈینیل، مائیکل جاوید اور سلیم خورشید کھوکھر کی ہر ممکن کوشش تھی کہ وہ اس ادارے سے قریبی رابطے رکھیں۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی
تکمیل کے لیے ظفر اقبال سے قر گھروں کے انتظامی امور بھی مائیک کے قوانین کے مطابق تینوں افراد والی مالی کمیٹی کے ارکان کی تعداد ارکان ریٹائر ہو گئے جبکہ چند ارکان لیے ضروری ہے کہ کمیٹی کے ارکان جائیں لیکن بشپ صادق ڈینیل ایس اور مالی اخراجات قانونی تقاضے بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور چم میں بیان کی جاتی ہے۔ اس کی رق اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے بیک لیکن بعد میں پاکستان منارٹی اتحا کی وجہ سے وائی ایم سی اے گراؤ گھروں اور زمینوں پر مائیکل جاو سے لوٹا ہے جس کی گواہی عیسیٰ نگر قابض ہونے کی کوشش میں مصروف کی مدد سے پورے کراچی کی عی کراچی پولیس نے مائیکل جاوید ا دونوں عیسیٰ نگری سے فرار ہو گئے بوجھ کر دونوں کو رعایت فراہم کر مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے ذرائع نے بتایا کہ علاقہ پولیس اس
کراچی میں صادق ڈین لیے ۱۰ اکتوبر کے ملکی انتخابات کے ف کیا لیکن جنرل کونسل اور ایگزیکٹو کو انہوں نے سیکرٹری کو خط کے ذری صرف ایک پادری ہے اس لیے وہ میں اورنگی اعظم بستی اور ایم اے ج قرار دیا ہے۔ ان ارکان کا کہنا ہے
تکمیل کے لیے ظفر اقبال سے قریبی رابطہ رکھے ہوئے تھے۔ کراچی اور اندرون سندھ کے تمام گرجا گھروں کے انتظامی امور بھی مائیکل جاوید، سلیم خورشید کھوکھر چلا رہے تھے لیکن چرچ آف پاکستان کے قوانین کے مطابق تینوں افراد مالی اخراجات چلانے کے اہل نہیں تھے۔ ۱۹۹۳ء میں بنائی جانے والی مالی کمیٹی کے ارکان کی تعداد چودہ ہوتی تھی۔ اس کمیٹی کے اس وقت تین ارکان ہیں جبکہ بقیہ ارکان ریٹائر ہو گئے جبکہ چند ارکان وفات پا چکے ہیں اس لیے کروڑوں کے مالی اخراجات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کمیٹی کے ارکان کی تعداد پوری کی جائے اور وسیع مشاورت سے فنڈز خرچ کیے جائیں لیکن بشپ صادق ڈینئل ایسا کرنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور مالی اخراجات قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ اس گروپ نے چند ماہ قبل بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور چمن میں بھی بھاری مالیت کی زمین فروخت کی جس کی مالیت کروڑوں میں بیان کی جاتی ہے۔ اس کی رقم کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ اسی طرح سلیم خورشید کھوکھر نے صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن (YMCA) پر بھی قبضہ کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں پاکستان منارٹی اتحاد سے بھر پور احتجاج کر کے اس کام کے خلاف سخت مزاحمت کی جس کی وجہ سے وائی ایم سی اے گراؤنڈ اور اس کا دفتر فروخت ہونے سے بچ گیا۔ اسی طرح متعدد گرجا گھروں اور زمینوں پر مائیکل جاوید، سلیم خورشید کھوکھر نے قبضہ کر کے معصوم عیسائیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے جس کی گواہی عیسیٰ نگری کے ہر گھر سے مل سکتی ہے۔ یہی گروپ ادارہ امن و انصاف پر بھی قابض ہونے کی کوشش میں مصروف تھا اور اس نے عیسائی عوام کو مشتعل کرنے کے لیے اپنے کارکنان کی مدد سے پورے کراچی کی عیسائی آبادیوں میں ہنگامہ کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ۲۹ ستمبر کی شب کراچی پولیس نے مائیکل جاوید اور سلیم خورشید کھوکھر کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن علاقہ پولیس کی مدد سے دونوں عیسیٰ نگری سے فرار ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنما کراچی میں ہیں اور پولیس جان بوجھ کر دونوں کو رعایت فراہم کر رہی ہے۔ علاقہ ایس ایچ او عدنان شاہد ان دونوں کی گرفتاری میں مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے علاقہ کے بے قصور کارکنان کو پریشان کرنے میں مصروف ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ علاقہ پولیس اب بھی مائیکل جاوید اور سلیم کھوکھر کی ہدایت پر کام کر رہی ہے۔
کراچی میں صادق ڈینئل نے سات عیسائیوں کے قتل کے بارے میں عوام کو اکسانے کے لیے ۱۰ اکتوبر کے ملکی انتخابات کے فوراً بعد کراچی اور سندھ و بلوچستان کے بشپ اور پادریوں کا اجلاس طلب کیا لیکن جنرل کونسل اور ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں شرکت سے کراچی کے متعدد بشپ نے انکار کر دیا اور انہوں نے سیکرٹری کو خط کے ذریعے مطلع کیا کہ بشپ صادق ڈینئل چرچ آف پاکستان کا رکن نہیں اور وہ صرف ایک پادری ہے اس لیے وہ ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔ اس سلسلے میں تین ارکان جس میں اورنگی اعظم بستی اور ایم اے جناح روڈ کے چرچ کے بشپ نے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ بشپ عنایت منتخب بشپ ہیں جبکہ صادق ڈینئل خود ساختہ بشپ ہیں۔
۱۴ فروری ۲۰۰۲ء کو عدالتِ عالیہ نے حکم دیا کہ ماڈریٹر آف پاکستان چرچ الیکشن کمیشن کا تقرر کرے جس کے ارکان کی تعداد کم سے کم سولہ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہو۔ اس کے علاوہ انتخابات سینٹ چرچ آف پاکستان کے قوانین کے مطابق کرائے جائیں۔ ان قوانین کے مطابق الیکشن کمیشن نے پادری سرور مسیح کو الیکشن کمیشن کے طور پر مقرر کیا تھا لیکن صادق ڈینیل نے بہت تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۴ فروری کو انتخابات کا انعقاد بھی کر دیا۔ اس سلسلے میں تمام قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دن میں تمام انتخابی عمل کو مکمل کر لیا گیا۔ اس طرح ریٹائرڈ ہونے والے بشپ ارنی رڈون کے گروپ نے اپنا قبضہ سندھ بلوچستان ڈایوسیس پر برقرار رکھا ہے۔ ان غیر قانونی انتخابات کو چرچ آف پاکستان نے بھی ۱۴ فروری کے انتخابات کو مکمل طور سے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ۱۴ فروری کے دن صادق ڈینیل کے انتخاب کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سینٹ کے فیصلے ۱۴ فروری کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں۔ صادق ڈینیل کا دعویٰ ہے کہ ۱۴ فروری کے انتخابات میں وہ اور اعجاز عنایت بشپ آف سندھ و بلوچستان کے امیدوار تھے جبکہ بشپ عنایت کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے ۱۴ فروری کو ہونے والے انتخابات میں قطعی شرکت نہیں کی۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا کہ بشپ صادق ڈینیل نے جو الیکشن کمیشن بنایا تھا، اس کے ارکان کی تعداد پندرہ تھی جبکہ عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعداد سولہ کم از کم اور بیس زیادہ سے زیادہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس لیے صادق ڈینیل کا انتخاب مکمل طور سے غیر قانونی اور چرچ آف پاکستان کے آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جس کو چھپانے کے لیے صادق ڈینیل اور اس کے گروپ کے ارکان کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان تمام حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائی برادری کے حقوق پر عیسائی رہنماؤں اور عیسائی اکابرین کے روپ میں چند افراد ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ چرچ آف سندھ و بلوچستان کے مالیاتی کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے مالیاتی کمیٹی چودہ کے بجائے اب دو ارکان پر مشتمل ہے اور گزشتہ دس برسوں سے چرچ کے اکاؤنٹ کا آڈٹ نہیں ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے آمدنی اور اخراجات کے بارے میں درست معلومات کسی کو بھی نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں چرچ آف پاکستان کے سندھ و بلوچستان اور خاص طور سے کراچی ڈایوسیس کی چھان بین کی جائے جس کے بعد چرچ کے فنڈز میں کروڑوں کے گھپلے کا انکشاف ہوگا۔ نیب کو اس فنڈز کی آمدنی اور اخراجات کی چھان بین کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ چرچ اور کلیسا کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جائے اور چرچ میں دوبارہ وہ ماحول پیدا ہو جس میں اکابرین چرچ اپنی جائیداد بیچ کر عیسائیوں کے لیے فلاحی کام کریں نہ کہ اپنی جائیدادوں میں اضافہ کے لیے چرچ کی زمین بیچ ڈالیں۔
مولانا زاہد الراشدی
بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ
اور بعض پاکستانی دانشور
”نوائے وقت“ میں ”اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے!“ کے عنوان سے اصغر علی گھرال کے مضمون کی تین قسطیں نظر سے گزریں جس میں انہوں نے پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات اور ان کے حوالہ سے عالمی سطح پر قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے خلاف شور وغوغا صرف تنگ نظر ملاؤں نے بپا کر رکھا ہے ورنہ عام مسلمانوں کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی عام آبادی قادیانیوں کے خلاف کسی قسم کی مہم میں شریک ہے۔ اصغر علی گھرال نے پارسی کالم نگار اردشیر کاؤس جی کے ایک مضمون کا بھی حوالہ دیا جس میں انہی مقدمات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور قادیانیوں کی مبینہ مظلومیت کی دہائی دی گئی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ قادیانی گروہ نے کچھ عرصہ سے لندن کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر دنیا بھر میں یہ پراپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان میں ان کے مذہبی حقوق پامال کیے جارہے ہیں، ان کی شہری آزادیاں محدود کر دی گئی ہیں، اور انہیں مذہب کی تبلیغ اور عبادت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، ان کے اس موقف کو مغربی ذرائع ابلاغ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کی بھی باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے اور امریکی وزارت خارجہ ہر سال پاکستان کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کے اس موقف کی حمایت کرتی ہے جس کے ساتھ سرکاری طور پر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کاروائیاں روک دی جائیں اور ان کے خلاف کیے گئے آئینی اور قانونی فیصلے واپس لیے جائیں مثلاً مارچ ۹۶ء میں امریکی وزارت خارجہ نے پاکستان کے بارے میں جو رپورٹ جاری کی، اس میں کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں۔ قادیانیوں کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے پاسپورٹ نہیں دیا جاتا، ان پر توہین رسالت کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں اور توہین رسالت کے قانون کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔
اس کشمکش سے نکلنے کا ایک راستہ تو یہ ہے کہ قادیانیوں اور ان کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مغربی ذرائع ابلاغ کے موقف کو آنکھیں بند کر کے درست تسلیم کر لیا جائے اور پھر ”تنگ نظر ملاؤں“ کو اس ساری صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرا کر قادیانیوں اور ان کے سرپرستوں کو دلاسا دینے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے ان محترم دانشوروں اصغر علی گھرال اور اردشیر کاؤس جی نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ مگر ہمیں اس سے شدید اختلاف ہے کیونکہ اگر حق کی تلاش اور اس کی حمایت کا یہی معیار ہے تو پھر سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور مصر کے ڈاکٹر نصر ابو زید کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ان کے بارے میں مغربی لابیوں کا موقف تسلیم نہ کیا جائے اور انہیں مظلوم قرار دے کر ان کی حمایت نہ کی جائے۔ اس لیے کہ معاملہ وہاں بھی آزادی رائے اور شہری حقوق کا ہے اور مغرب اسی حوالے سے ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ سلمان رشدی کا معاملہ تو سب کے علم میں ہے البتہ قارئین کی معلومات کے لیے تسلیمہ نسرین اور ڈاکٹر نصر ابو زید کے بارے میں کچھ عرض کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ تسلیمہ نسرین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور وہ مصنفہ ہے۔ اس کی متعدد تصانیف اہل مذہب کے ہاں قابل اعتراض ہیں مثلاً ایک مقام پر اس خاتون نے لکھا ہے کہ ”قرآن کریم میں عورتوں اور مردوں کے بارے میں جو ضابطے بیان کیے گئے وہ (نعوذ باللہ) فرسودہ ہو گئے ہیں، اس لیے ان میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ انہیں آج کی سوسائٹی کے لیے قابل قبول بنایا جاسکے۔“ اس پر مذہبی حلقوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور تسلیمہ نسرین کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جس پر یہ مقدمہ درج ہو گیا، اس کی سزا بنگلہ دیش کے قانون کے مطابق صرف تین سال قید ہے، مغربی لابیوں کو آزادی رائے کی ایک نئی ہیروئن مل گئی۔ یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر اس کے تحفظ پر غور کیا گیا اور باقاعدہ پلاننگ کے تحت ڈھاکہ میں ایک مغربی ملک کے سفارت خانے میں اسے سیاسی پناہ دلوا کر یورپ پہنچا دیا گیا جہاں اسے مکمل پروٹوکول اور تحفظ حاصل ہے۔ ڈاکٹر نصر ابو زید کا تعلق قاہرہ سے ہے۔ اس نے تسلیمہ نسرین سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر یہ لکھ دیا کہ ”پورا قرآن ہی (نعوذ باللہ) ایک ان پڑھ بادیہ نشین کے خیالات کا مجموعہ ہے اس لیے نئی نسل کو اس ”خرافات“ سے جلد از جلد نجات حاصل کر لینی چاہیے۔“ اس پر قاہرہ کے چند غیور وکلاء نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور ایک عدالت نے اسے مرتد قرار دے کر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی۔ یہ ڈاکٹر نصر ابو زید بھی آج کل یورپ میں بیٹھا ہے اور آزادی رائے اور انسانی حقوق کے نام پر ناز برداری کا لطف اٹھا رہا ہے۔ ہم اصغر گھرال اور اردشیر کاؤس جی سے یہ عرض کریں گے کہ ان کے مضامین میں اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی بجائے مغرب کے موقف کی ترجمانی کی گئی ہے اور قادیانیوں کے بارے میں ”ایمنسٹی انٹرنیشنل“ ہی کی سالانہ رپورٹ کو ایک الگ انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ اگر ہماری اس بات پر کوئی شک ہو تو پاکستان کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی وزارت خارجہ کی گزشتہ دو سال کی رپورٹیں سامنے رکھ لی جائیں اور گھرال صاحب اور کاؤس جی
صاحب کے مضامین کے ساتھ ان کا تقابل کر لیا جائے تو کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہ جائے گا۔ مگر ہمارے لیے اس مغربی موقف کو قبول کرنا مشکل ہے۔ اصول ونظریات کے حوالے سے بھی اور واقعات و حقائق کی بنیاد پر بھی‘ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقف کا ایک حد تک جائزہ لیا جائے تاکہ ”تنگ نظر ملا“ جو شور وغوغا کر رہا ہے‘ اس کی وجہ بھی سمجھ میں آسکے۔
اس سلسلے میں پہلی گزارش یہ ہے کہ شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا جو تصور مغرب نے پیش کر رکھا ہے اور جسے اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں کے زور پر ہم سے منوانے کی کوشش کی جارہی ہے‘ وہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارے دینی معتقدات‘ مذہبی احکام اور تہذیبی تسلسل کے منافی ہے۔
- ١- مغرب کے ہاں مذہب انفرادی اور اختیاری فعل ہے اور ہمارے ہاں مذہب ریاست
اور سوسائٹی کی بنیاد ہے‘ اس لیے ہم مذہب کے بارے میں مغربی فلسفہ کی پیروی نہیں کر سکتے۔
- ٢- مغرب کے ہاں آزادی رائے کا تصور یہ ہے کہ خدا‘ رسول اور مذہب سمیت ہر
شخصیت اور ادارے پر تنقید کی جاسکتی ہے اور اس کا تمسخر اڑایا جاسکتا ہے مگر ہمارے ہاں اس کی اجازت نہیں ہے۔
- ٣- مغرب کے ہاں مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط اور باہمی رضامندی سے جنسی
تعلقات تک پر کوئی قدغن نہیں ہے مگر ہمارے مذہبی قوانین اس کے روادار نہیں ہیں۔
- ٤- مغرب کے نزدیک مرد کا مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا بھی ”حقوق“ کی فہرست
میں شامل ہو چکا ہے مگر ہمارے ہاں یہ قابل نفرت اور قابل تعزیر جرم ہے اس لیے ہم مغرب کے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے فلسفے کو قبول نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے انصاف اور آزادیوں کا کوئی معیار سمجھتے ہیں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ مغرب اس وقت ہمارے خلاف صلیبی جنگ میں ہے اور اس نے سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد اسلام اور ملت اسلامیہ کو اپنا اگلا ہدف قرار دے کر مسلم ممالک میں سیاسی مداخلت اور معاشی جکڑ بندیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور لابنگ کے تمام تر وسائل و ذرائع اس جنگ میں ہمارے خلاف میدان میں جھونک دیے ہیں۔ یہ ایک تہذیبی جنگ اور ثقافتی یلغار ہے جس کا مقصد ہمیں سوسائٹی کی مذہبی بنیادوں سے محروم کر دینا ہے اور اس مقصد کے لیے اقلیتوں کے حقوق‘ عورتوں کی مظلومیت اور شہری آزادیوں کے نعرے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کیفیت میں اگر کوئی شخص ہمیں مغرب کے موقف کو قبول کرنے اور اس پر غور کرنے کے لیے کہتا ہے تو بالکل ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مغرب کے آگے سپر انداز ہونے کا مشورہ دے رہا ہو۔ یہ درست ہے کہ ہم سائنس‘ ٹیکنالوجی اور معیشت میں مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں جس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو ان شعبوں میں گزشتہ دو سو برس تک سرگرم رہے ہیں مگر اپنے مذہبی اعتقادات‘ دینی
تعلیم، تہذیبی روایات اور آسمانی تعلیمات کے ساتھ جذباتی وابستگی میں ہم بحمد اللہ تعالیٰ مغرب سے بہت آگے اور بہت ہی آگے ہیں اور ”تنگ نظر مُلّا“ اس محاذ پر فتح و کامرانی کا پرچم سنبھالے آج بھی ڈٹا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے معاشرتی ڈھانچے، قانونی نظام اور مذہبی اقدار و روایات کے بارے میں مغرب کا کوئی مشورہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
تیسری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے حوالہ سے تو مغرب کا یہ موقف اصولی طور پر غلط ہونے کے علاوہ واقعاتی لحاظ سے بھی بے بنیاد ہے اور مکر و فریب کی ایک گمراہ کن داستان سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ قادیانیوں کے ساتھ ان کے اقلیتی حقوق کے حوالہ سے تو ہمارا کوئی تنازعہ ہی نہیں ہے۔ ہم نے کبھی ان کے اقلیتی حقوق سے انکار نہیں کیا اور نہ آج کر رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا اسلام سے زیادہ علمبردار کون ہے؟ پاکستان میں دوسری غیر مسلم اقلیتیں بھی آباد ہیں مگر ہمارا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ عیسائی، ہندو، پارسی، بابی، بہائی سب یہاں رہتے ہیں مگر قادیانی گروہ اور مسیحی کمیونٹی کے بعض لیڈروں کے سوا ہمارا کسی سے تنازعہ نہیں ہے بلکہ اس موقع پر اس تاریخی حقیقت کا حوالہ دینا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ قیام پاکستان کے وقت ریاست قلات سے ہندوؤں نے نقل وطن کر کے بھارت جانا چاہا تو ریاست کے نواب میر احمد یار خان مرحوم اور ان کے ”تنگ نظر مُلّا“ وزیر دینی امور علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ نے ہندو کمیونٹی کے ذمہ دار افراد کو بلا کر یقین دلایا کہ ریاست میں شرعی قوانین نافذ ہیں جو ان کے حقوق کا مکمل تحفظ کرتے ہیں اس لیے انہیں نقل مکانی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ اطمینان کے ساتھ اپنے وطن میں رہیں۔ چنانچہ اس یقین دہانی پر ہندوؤں کی بڑی تعداد قلات میں ہی رہ گئی جو آج بھی وہاں موجود ہے اور آزادی کے ساتھ تجارت اور دیگر امور میں شریک ہے۔ ان کے علاوہ سکھ بھی ہمارے ملک میں موجود ہیں اور بھارت سے بھی ہر سال آتے ہیں اور اپنی تقریبات آزادی کے ساتھ کرتے ہیں۔ کسی ”مُلّا“ نے کبھی ان سے تعرض نہیں کیا۔ البتہ قادیانی گروہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے اور کچھ عرصہ سے مسیحی اقلیت کے چند راہ نماؤں کا طرز عمل بھی قابل اعتراض ہے جس پر ”تنگ نظر مُلّا“ ضرور روک ٹوک کرتا ہے اور یہ روک ٹوک بلاوجہ نہیں ہے اس لیے ہم اردشیر کاؤس جی اور اصغر علی کھرال سے گزارش کریں گے کہ وہ اس روک ٹوک پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کے اسباب کا جائزہ لیں اور ”غریب مُلّا“ سے بھی پوچھ لیں کہ اسے قادیانی گروہ اور مسیحی اقلیت کے چند راہ نماؤں سے کیا شکایات ہیں؟ اگر یہ شکایات درست نہیں ہیں تو بلاشبہ آپ کو حق حاصل ہے کہ ”مُلّا“ کو کوسیں اور اس پر طعن و تشنیع کے تیر جی بھر کے برسائیں۔ لیکن اگر یہ شکایات جائز ہیں تو پھر امریکی وزارت خارجہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کہنے پر آنکھیں بند کر کے ایمان لانے کی بجائے حقائق کا ساتھ دیں اور کسی ملامت کی پروا کیے بغیر انصاف کی حمایت کریں۔ ان گزارشات کے بعد ان شکایات کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس ملک کے ”تنگ نظر مُلّا“ کو قادیانیوں اور چند مسیحی راہ نماؤں سے ہیں تاکہ قارئین تصویر کے اس رخ سے
بھی آگاہ ہوں اور انہیں اس معاملہ میں رائے قائم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ قادیانیوں کے بارے میں صورت حال یہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تجویز ”مُلّا“ کی نہیں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کی تھی جسے ”مُلّا“ نے اپنے اصل مؤقف سے بہت پیچھے ہٹ کر قبول کر لیا اور پاکستان میں ”قادیانی گروہ“ کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے تحریک ختم نبوت شروع کی اور یہ قادیانی مسلم تنازعہ کا منطقی تقاضا تھا کہ جب قادیانی نئے نبی اور نئی وحی کی بنیاد پر اپنا مذہب مسلمانوں سے الگ کر چکے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتے جس کا اظہار پنجاب کی تقسیم کے موقع پر ضلع گورداسپور کی تقسیم کے حوالہ سے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے قادیانیوں کا مؤقف الگ پیش کرنے کی صورت میں اور اس کے بعد قائد اعظم کے جنازے میں موقع پر موجود ہوتے ہوئے بھی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے قائد کے جنازہ میں شریک نہ ہونے کی صورت میں عملاً ہو چکا ہے۔ اور سن ۷۴ء میں پارلیمنٹ کے فلور پر قادیانی کو نبی نہ ماننے والے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتے تو قادیانیوں کی جداگانہ مذہبی حیثیت کے دستوری تعین کے سوا اور کون سا راستہ باقی رہ گیا تھا؟
قادیانیوں کو اسی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور جب وہ خود اپنے اختیار کردہ عقائد اور مؤقف کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت قرار پا گئے ہیں تو اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص شعائر و علامات پر ان کا کوئی استحقاق باقی نہیں ہے۔ انہیں اپنے لیے الگ نام اختیار کرنا ہوگا اور اپنے مذہبی شعائر و علامات مسلمانوں سے الگ بنانے ہوں گے ورنہ اشتباہ قائم رہے گا جس سے مسلمانوں کا مذہبی تشخص اور امتیاز مجروح ہوتا ہے اور اپنے تشخص اور امتیاز کا تحفظ دنیا کے ہر فرد اور گروہ کا مسلمہ حق ہے جس سے کوئی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے اگر قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات مثلاً کلمہ طیبہ، مسجد، اذان وغیرہ استعمال کرنے سے قانوناً روک دیا گیا ہے تو اس سے آخر انصاف کا کون سا تقاضا پامال ہوا ہے؟ اور ہم اس معاملہ میں قادیانیوں کی حمایت کرنے والے دوستوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ کیا اپنے مذہبی تشخص اور امتیاز کے تحفظ اور اسے اشتباہ سے بچانے کا مسلمانوں کو بھی کوئی حق حاصل ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ اسے حق تسلیم کرتے ہیں تو متنازعہ امتناع قادیانیت آرڈیننس سے ہٹ کر وہ کوئی فارمولا طے کر دیں جس سے مسلمانوں اور قادیانیوں کا مذہبی نام الگ الگ ہو جائے اور مذہبی اصطلاحات و علامات کے حوالہ سے ان کے درمیان اشتباہ عملاً ختم ہو جائے۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ”تنگ نظر مُلّا“ ان کے تجویز کردہ فارمولے کو بھی اسی طرح تسلیم کر لے گا جس طرح اس نے اپنے اصل مؤقف سے پیچھے ہٹ کر علامہ اقبال کی اس تجویز پر قناعت کر لی تھی کہ قادیانیوں کو صرف غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ ہمیں قادیانیوں سے شکایت یہ ہے کہ وہ نہ تو ملت اسلامیہ کے اجتماعی عقائد قبول کر کے مسلمانوں کے دائرہ میں واپس آ رہے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں سے الگ حیثیت قبول کر رہے ہیں۔ یہ بے جا ضد اور ہٹ
دھری ہے جس کا حوصلہ انہیں صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکہ ان کی حمایت کر رہا ہے اور مغربی لابیاں اور پریس ان کی پشت پر ہیں اور یہ بات بھی یقیناً کاؤس جی اور اصغر علی گھرال کے علم میں ہو گی کہ قادیانیوں نے اسی بنیاد پر مردم شماری اور ووٹ شماری کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور جدا گانہ انتخابات سے لاتعلقی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس طرح وہ مسلمانوں سے الگ اقلیتوں کے خانوں میں درج ہوں گے اور اسی حوالہ سے حال ہی میں قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو کھلم کھلا ”ردی کاغذ کا ٹکڑا“ قرار دے کر اس کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔
مغرب کی بات چھوڑیئے اسے تو پاکستان کی اسلامی حیثیت پر اعتراض ہے۔ اس لیے اس کے نزدیک پاکستان کے دستور اور قانون کی ہر وہ شق غلط ہے جس کا اسلام کے کسی بھی پہلو سے کوئی تعلق ہے اور وہ ملک کے ہر اس فرد اور گروہ کی حمایت کرے گا جو پاکستان کو سیکولر بنانے کے لیے کسی بھی درجے میں کارآمد ہو۔ اگر آپ مغرب کے اعتراضات کی بات کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور، جنیوا انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں اور امریکی وزارت خارجہ کے مطالبات کے حوالہ سے پاکستان کو ”بدنامی“ سے بچانا چاہتے ہیں تو ان ”بدنامیوں“ کی فہرست بہت لمبی ہے۔
- ☆....... انہیں پاکستان کے نام کے ساتھ ”اسلامی“ کے لفظ اور دستور میں اسلام کو ریاست کی بنیاد
قرار دینے والی شقوں پر اعتراض ہے۔
- ☆....... وہ ”توہین مذہب“ اور ”توہین رسالت“ کو سرے سے کوئی جرم نہیں سمجھتے اور اس پر سزا دینا
ان کے نزدیک انسانی حقوق کے منافی ہے۔
- ☆....... زنا ان کے ہاں کوئی معیوب کام نہیں ہے اور اس جرم پر اسلامی سزا ان کے نزدیک وحشیانہ
اور غیر منصفانہ کہلاتی ہے۔
- ☆....... معاشرتی جرائم کے بارے میں قرآن کریم کی مقرر کردہ سزائیں ان مغربی اداروں کے
نزدیک جسمانی تشدد اور وحشت و بربریت کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔
- ☆....... نکاح، طلاق، وراثت اور خاندانی تعلقات کے حوالہ سے قرآن کریم کے بیان کردہ قوانین
اور ضابطے ان کے نزدیک غیر منصفانہ ہیں اور خود ان کے مقرر کردہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔
- ☆....... انہیں سرے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر ہی اعتراض ہے اور وہ اسے بھی انسانی
حقوق کے منافی کہتے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی وزارت خارجہ کی گزشتہ پانچ سال کی رپورٹوں کو سامنے رکھ لیں، یہ سب مطالبات ریکارڈ پر ہیں اور ان سب امور کے حوالے سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر ”بدنام“ ہو رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو بدنامی
ہے کہ امریکہ ان کی حمایت کر رہا ہے اور مغربی یقیناً کاؤس جی اور اصغر علی گھرال کے علم میں ہو شماری کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور جداگانہ انتخابات وں سے الگ اقلیتوں کے خانوں میں درج ہوں مرزا طاہر احمد نے اسلامی جمہوریہ پاکستان ں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔ کی اسلامی حیثیت پر اعتراض ہے۔ اس لیے اس غلط ہے جس کا اسلام کے کسی بھی پہلو سے کوئی کرے گا جو پاکستان کو سیکولر بنانے کے لیے کسی اعتراضات کی بات کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل کی رپورٹوں اور امریکی وزارت خارجہ بچانا چاہتے ہیں تو ان ”بدنامیوں“ کی فہرست
کے لفظ اور دستور میں اسلام کو ریاست کی بنیاد
سرے سے کوئی جرم نہیں سمجھتے اور اس پر سزا دینا
اور اس جرم پر اسلامی سزا ان کے نزدیک وحشیانہ
یم کی مقرر کردہ سزائیں ان مغربی اداروں کے ے میں شمار ہوتی ہیں۔ کے حوالہ سے قرآن کریم کے بیان کردہ قوانین کے مقرر کردہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں
دینے پر ہی اعتراض ہے اور وہ اسے بھی انسانی
انسانی حقوق کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی تے رکھ لیں یہ سب مطالبات ریکارڈ پر ہیں اور ان ”بدنام“ ہو رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو بدنامی
سے بچانے کے خواہش مند دوستوں بالخصوص اصغر علی گھرال سے یہ گزارش ہے کہ وہ حوصلہ کر کے پوری بات کریں۔ آدھی بات کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو کوئی اصول کی بات نہ ہوئی کہ ملک کو ایک حوالہ سے تو بدنامی سے بچانے کی کوشش کی جائے اور باقی ”بدنامیوں“ پر چپ سادھ لی جائے۔ باقی رہی بات ”تنگ نظر ملا“ کی تو کسی طعن و ملامت کی پروا کیے بغیر ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک مغرب کے تمام مطالبات غلط ہیں اور اسلام اور مغرب کے درمیان دن بدن تیز ہونے والی ”تہذیبی جنگ“ کے ہتھیار ہیں جنہیں مغرب کی حکومتیں، ادارے اور لابیاں ہمارے خلاف صرف اس مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں کہ مسلمان اپنی اعتقادی اور تہذیبی بنیادوں سے محروم ہو جائیں تاکہ مغرب اس ثقافتی یلغار میں انہیں آسانی کے ساتھ بلڈوز کر سکے۔ لیکن مغرب اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہا کہ اسلام اور عیسائیت میں فرق ہے۔ اسلام زندہ، متحرک اور عملی مذہب ہے اور اسلام کی نمائندگی کرنے والا ”تنگ نظر ملا“ اپنی تمام تر کمزوریوں، کوتاہیوں اور خامیوں کے باوجود اسلام اور اسلام کے اجتماعی کردار کے ساتھ لازوال وفاداری کا تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے اسے یورپ کے عیسائی پادری کی طرح مذہب کے اجتماعی کردار سے محروم کر کے ”کارنر“ کرنے کی خواہش مغرب کی ”خام خیالی“ ہے جو ان شاء اللہ العزیز قیامت کی صبح تک پوری نہیں ہو سکے گی۔
ہمیں پاکستان کی مسیحی برادری کے چند مذہبی راہنماؤں سے بھی یہی شکایت ہے کہ وہ مذہب کی نہیں بلکہ ”لامذہبیت“ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ مذہبی اقدار کو فروغ دینے اور بائبل کے احکام کو سوسائٹی میں رواج دینے کی بجائے سیکولر لابیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کی بیشتر تنظیمیں این جی اوز میں شامل ہیں جو مغرب کی سیکولر لابیوں کی شہ پر اور بین الاقوامی اداروں کی رقوم کے ساتھ پاکستان میں فکری انتشار پیدا کرنے اور مذہبی قدروں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں ورنہ وہ اگر انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں کی بجائے اپنی سوسائٹی کے لیے بائبل کے احکام وقوانین کی بات کریں تو ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ”تنگ نظر ملا“ کی حمایت ان کے ساتھ ہو گی اور ہم مسیحی کمیونٹی کے لیے بائبل کے قوانین کو اسی طرح سپورٹ کریں گے جس طرح مسلم معاشرے کے لیے قرآن وسنت کے قوانین کی بات کرتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بات مذہب کی ہو لامذہبیت کی نہ ہو اور اس کی بنیاد بائبل پر ہو جنیوا کے سیکولر انسانی حقوق کمیشن کی قراردادوں پر نہ ہو۔
آخر میں گزارش ہے کہ قادیانی گروہ اپنی اقلیتی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا مذہبی نام اور مذہبی اصطلاحات وعلامات مسلمانوں سے الگ کر لے اور پاکستان اور اس کے دستور کے خلاف بے بنیاد مہم بند کر دے تو ہمیں بحیثیت اقلیت ان کے وجود اور سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مسلمانوں سے الگ ہوتے ہوئے اسلام کا نام اور علامات استعمال کرنے کی انہیں کبھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی امریکہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل یہ سراسر ناجائز مطالبہ ہم سے کسی قیمت پر منوا سکتے ہیں۔
❁ ❁ ❁
پروفیسر منور احمد ملک
انسانی حقوق اور قادیانی جماعت
۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا، اس فیصلے سے قبل قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ کئی دن تک قادیانی جماعت نے تفصیل سے زبانی اور تحریری طور پر اپنا موقف پیش کیا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران نے فیصلہ کیا۔ ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اس فیصلے کی روشنی میں اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نیا آرڈیننس جاری کر دیا جس میں قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے، اپنی عبادت کے لیے مسلمانوں کی طرح اذان دینے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابی کہنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں کو امیر المومنین کہنے اور مرزا قادیانی کی ازواج کو اُم المومنین کہنے سے روک دیا گیا۔
۱۹۷۴ء سے مسلسل اور ۱۹۸۴ء سے خصوصی طور پر قادیانی جماعت نے باضابطہ طور پر دنیا میں دہائی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے سخت قسم کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، قادیانیوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے اور کسی قسم کا انصاف قادیانیوں کو میسر نہیں۔ اس پروپیگنڈہ سے قادیانی مسلسل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یورپ نے اس پروپیگنڈہ کی وجہ سے قادیانیوں کے لیے اپنا دامن پھیلا رکھا ہے اور قادیانی جوق در جوق یورپ میں داخل ہو رہے ہیں مگر داخلہ کے آداب سے عاری ہیں۔ یعنی جعلی کاغذات کی بناء پر داخل ہونا پھر جعلی کاغذات تیار کر کے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنا اور پھر پناہ حاصل کرنا قادیانیوں نے مشغلہ بنا رکھا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یورپ کا قادیانیوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اب انہوں نے دھڑا دھڑ کیس مسترد کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔ ۹۸ فیصد قادیانیوں کے کیس جھوٹے اور جعلی کاغذات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قادیانی تو ترستے ہیں کہ ان پر ظلم ہو اور وہ اس کا ثبوت دنیا کو دکھا سکیں مگر ظلم کی عدم دستیابی پر وہ پیسے دے دلا کر ایف آئی آر درج کروا کر اس کی نقل حاصل کر کے گزارا کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے برملا قادیانی مظلوم ہیں کہ ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مقدور بھر ظلم بھی دستیاب نہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ قادیانی جو دنیا میں اپنے مظلوم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، خود کتنے
منصف مزاج‘ نرم دل‘ صلح جو اور انسانی حقوق کا تحفظ یا خیال کرنے والے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اتنا کچھ لکھا جا سکتا ہے کہ لکھاری لکھتے لکھتے تھک جائے اور قاری پڑھتے پڑھتے ”رج“ جائے۔ سمجھ نہیں آتی کہ قادیانیوں کے کس کس ظلم کی تصویر پیش کروں۔
پاکستانی عدالتیں اور قادیانی جماعت کا نظام
قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض اور دنیا میں پاکستان کو ظالم ثابت کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ کوئی قادیانی چوری کے جرم میں سزا پائے یا بدعنوانی کی وجہ سے گرفت میں آئے‘ قادیانی جماعت میں سب لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہیں گے کہ قادیانی جو ہوئے‘ سزا تو ہونی ہی تھی۔ یہ سزا صرف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک کیس بھی ایسا نہیں ہوگا کہ کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس گیا ہو اور جج قادیانی کو بتائے بغیر‘ اس کو صفائی کا موقع دیئے بغیر براہ راست سزا سنا دے اور پھر وہ چیلنج بھی نہ ہو سکے۔ آج تک ایک کیس بھی ایسا نہیں گزرا‘ اس حوالے سے قادیانی ایک مثال بھی پیش نہیں کر سکتے۔
ہوتا یوں ہے کہ کسی نے کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا۔ عدالت قادیانی کو بذریعہ نوٹس کیس کے بارے میں مطلع کرے گی اور اسے مقررہ تاریخ پر طلب کرے گی۔ وہ قادیانی عدالت میں پیش ہوگا‘ اسے کیس (الزامات) کی پوری تفصیل بتائی جائے گی بلکہ کیس کی نقل دی جائے گی۔ اسے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنی صفائی میں جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت (کچھ دن) دیا جائے گا۔ وہ قادیانی وکیل کی مدد سے جواب تیار کرے گا اور مقررہ تاریخ کو جمع کروا دے گا۔ کچھ دنوں‘ ہفتوں بعد دونوں فریقوں کے وکیل آمنے سامنے اس کیس سے متعلق بحث کریں گے۔ پھر جج دونوں فریقوں کو باری باری گواہ لانے اور دیگر ثبوت مہیا کرنے کا موقع دے گا۔ قادیانی کو پورا اختیار ملے گا کہ وہ نہ صرف اپنی صفائی بیان کرے بلکہ اپنے مخالف اور اس کے گواہوں پر خوب جرح کرے۔
اس طرح یہ کیس چلتے چلتے چھ ماہ‘ ایک سال یا پانچ سال تک کا عرصہ لے گا۔ خوب بحث و تکرار کے بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو اس فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے کیونکہ قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملا ہے مگر اس کے باوجود قادیانی کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ سیشن کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے۔ اس اپیل پر کیس دوبارہ شروع ہوگا۔ قادیانی کو ایک بار پھر صفائی کا موقع ملے گا۔ وکلاء دوبارہ بحث کریں گے۔ چار‘ چھ ماہ تک دوبارہ کیس چلنے اور واقعات کو کھنگالنے کے بعد اگر قادیانی کے خلاف فیصلہ ہو جاتا ہے تو اب فیصلے کو درست سمجھا جانا چاہیے مگر قادیانی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دے۔ ہائی کورٹ میں ایک بار پھر کیس چلے گا‘ قادیانی کو صفائی کا خوب موقع ملے گا اب اگر چار‘ چھ ماہ بعد قادیانی کے خلاف فیصلہ ہو جاتا ہے تو
قادیانی کو پھر اختیار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بھی جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں پھر کیس چلے گا اور کچھ عرصہ بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو جاتا ہے تو اب قادیانی کو فیصلہ تسلیم کر لینا چاہیے مگر اس کے باوجود قادیانی کو مزید چانس یہ ملے گا کہ وہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دے کر ایک بار پھر انصاف کے لیے دستک دے سکے۔
اب اگر لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک کیس چلنے میں چار یا چھ سال لگ جائیں اور قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملے گا تو اس فیصلے کو انصاف پر مبنی سمجھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی صفائی کا موقع قادیانیوں کو ملتا رہا ہے اور ملتا ہے مگر اس کے باوجود قادیانی یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے اور انصاف نہیں ملتا۔ پاکستان کے ججوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے آج تک ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں دیا جس میں قادیانی کو صفائی کا موقع دیئے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا ہو۔
قادیانیوں کا انصاف
اب ذرا قادیانیوں کا انصاف ملاحظہ کیجیے۔ قادیانی جماعت میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں البتہ دھوکہ دہی کے لیے دارالقضاء ایک ادارہ قائم ہے جس کے اختیارات امراء کو پریشان نہیں کرتے۔ قادیانیوں میں یہ عام بات ہے کہ امیر جماعت نے کسی کے خلاف لکھ دیا۔ قادیانی جماعت نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ قادیانی کو سزا دے دینی ہے۔ نہ کوئی انکوائری ہوگی اور نہ ہی قادیانی کو جرم بتا کر صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ بغیر جرم بتائے بغیر انکوائری کے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سزا دینا اور پھر وہ سزا کسی طرح بھی چیلنج نہ کرے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟ دوسروں سے انصاف کی بھیک مانگنے والے خود کتنا ظالمانہ نظام رکھتے ہیں؟ ”اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت“ (اردو دانوں سے درخواست ہے کہ قول و فعل میں اتنا ظالمانہ فرق رکھنے والوں کے لیے کوئی مناسب سا محاورہ ایجاد کریں۔ درج بالا محاورہ بہت نرم ہے) ذرا قادیانی جماعت کے امام اور سربراہ کا انصاف اور عدل کا معیار ملاحظہ کیجیے:
قادیانی جماعت کے امام کا عدل
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اپنے ایک ایسے عہدیدار کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں جس کے بارے میں قادیانی جماعت کے ادارے نظارت امور عامہ نظارت مال نظارت اصلاح و ارشاد اور نظارت علیا کی طرف سے این اوسی جاری ہونے کے بعد خود اسے مقرر کیا ہے۔ (واضح رہے کہ قادیانی جماعت کے درج بالا ادارے حکومت کی منسٹری کے برابر کے ہیں) پورے ضلع میں کل تین عہدیداروں کی تقرری درج بالا اداروں کی سفارش اور کلیئرنس کے بعد کی تھی۔ ان میں سے ایک عہدیدار کے بارے میں فیصلہ سنا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ:
”جہاں تک میری معلومات ہیں آپ خرابی پیدا کرنے والے گروہ کے سرغنہ ہیں۔ خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں مگر بتاتے سبھی یہی ہیں۔“
نوٹ: مرزا طاہر احمد کے دستخطوں سے جاری قادیانی جماعت میں گھسا پٹا جو میں کوئی فیصلہ کرنا ہو اُس کے خلاف لوکل جما کرے گی۔ پھر لوکل امیر جماعت اس سفار گا۔ پھر ناظر اعلیٰ امام جماعت سے سزا کی حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے جو کہہ دیتے علیہ کو جرم یا الزام کا پتہ ہے نہ ہی خرابی کی جواب میں بلکہ ”سوال گندم اور جواب چنا فیصلہ فرما رہے ہیں۔
غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ کے ذرائع یا تو نظارتیں ہیں یا پھر امیر ضلع میں ان میں سے کسی نے کچھ کہا نہ لکھا ان غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ فیصلہ چیلنج بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ صفائی کا موق سزا دی جا رہی ہے۔ پھر کہتے ہیں ”مگر بتاتے گویا سنی سنائی بات پر ایسا کے بغیر جرم بتائے اور بغیر صفائی کا موقع یہ ہے قادیانی جماعت یا قادی کیسے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دیت علیہ کو پتہ ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہوئی نہ مجلس عاملہ نے مداخلت کی نہ ام ہے؟ اور وہ بھی امام جماعت کی طرف کہتے ہیں۔ (اگر کسی قادیانی کو شک ہو قادیانی بتائیں کہ قیام پاکس خلاف ایسا فیصلہ دیا ہے؟ یقیناً نہیں تو قا دو۔ انسانی حقوق کے حوالے سے شور
نوٹ: مرزا طاہر احمد کے دستخطوں سے جاری ہونے والا اصل خط میرے پاس موجود ہے۔
قادیانی جماعت میں گھسا پٹا جو نظام چل رہا ہے اس کے مطابق جس قادیانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہو اس کے خلاف لوکل جماعت کی مجلس عاملہ قرارداد پاس کرے گی یا سزا کی سفارش کرے گی۔ پھر لوکل امیر جماعت اس سفارش کو امیر ضلع پھر ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ تک پہنچائے گا۔ پھر ناظر اعلیٰ امام جماعت سے سزا کی سفارش کرے گا مگر درج بالا کیس میں مرزا طاہر احمد تمام حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے جو کہہ رہے ہیں نہ اس بارے میں کوئی انکوائری ہوئی ہے نہ ہی الزام علیہ کو جرم یا الزام کا پتہ ہے نہ ہی خرابی کی تفصیل بتائی ہے اور نہ ہی اس کی کسی درخواست یا کیس کے جواب میں بلکہ ”سوال گندم اور جواب چنا“ کے مصداق ایک علیحدہ مضمون کے خط کے جواب میں یہ فیصلہ فرما رہے ہیں۔
غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ ( ”جہاں تک میری معلومات ہیں“ )۔ اب ان کی معلومات کے ذرائع یا تو نظارتیں ہیں یا پھر امیر ضلع۔ مقامی صدر جماعت اور مجلس عاملہ ہے جبکہ درج بالا کیس میں ان میں سے کسی نے کچھ کہا نہ لکھا ان کے علاوہ کسی ذریعہ کی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔
غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں کہ ( ”خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں“ ) گویا فیصلہ سنا دیا۔ اب یہ فیصلہ چیلنج بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ صفائی کا موقع نہ چیلنج کے قابل اور نہ ہی جرم بتایا گیا ہے کہ کس جرم میں سزا دی جا رہی ہے۔ پھر کہتے ہیں ”مگر بتاتے بھی یہی ہیں۔“ (کانوں کا کچا)
گویا سنی سنائی بات پر ایسا فیصلہ دیا جا رہا ہے جو نہ صرف چیلنج نہیں ہو سکتا بلکہ بغیر انکوائری کے بغیر جرم بتائے اور بغیر صفائی کا موقع دیئے سنی سنائی بات پر فیصلہ کر دیا گیا۔
یہ ہے قادیانی جماعت یا قادیانی جماعت کے امام کے عدل کی ہلکی سی جھلک۔ یہ جماعت کیسے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دے سکتی ہے۔ کیا یہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوئے کہ الزام علیہ کو پتہ ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہے نہ اس سے کوئی جواب طلب کیا گیا ہے نہ کوئی انکوائری ہوئی نہ مجلس عاملہ نے مداخلت کی نہ امیر جماعت نے نہ نظارتیں اثر انداز ہوئیں۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ اور وہ بھی امام جماعت کی طرف سے جسے قادیانی ”خلیفۂ وقت“ کہتے ہیں بلکہ ”خدا کا خلیفہ“ کہتے ہیں۔ (اگر کسی قادیانی کو شک ہو تو اس مذکورہ خط کی فوٹو کاپی حاصل کر سکتا ہے)
قادیانی بتائیں کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی جج یا عدالت نے بھی کبھی قادیانیوں کے خلاف ایسا فیصلہ دیا ہے؟ یقیناً نہیں تو پھر اپنے گھر کو سنبھالو دوسروں کو عدل اور انسانی حقوق کا سبق نہ دو۔ انسانی حقوق کے حوالے سے شور اور واویلا بند کرو۔
مولانا زاہد الراشدی
قادیانیت اور حقوق انسانی
قادیانی گروہ اس کی سرپرست اسلام دشمن طاقتوں اور مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے قادیانیوں کے حوالے سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں اکثر دہرایا جاتا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیئے گئے ہیں اور ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیئے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں شریک بھارتی ہائی کمشنر نے بھی اپنی تقریر میں انسانی حقوق کے حوالے سے قادیانیوں کی نام نہاد مظلومیت اور پاکستان سے ان کی جلاوطنی کا ذکر کیا ہے۔ دراصل مغربی ممالک، اسلام دشمن عناصر اور مغربی ذرائع ابلاغ اپنی اسلام دشمنی کی بنیاد پر قادیانی گروہ کی مکمل پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس لیے آج میں یہ چاہتا ہوں کہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے کون سے انسانی حقوق پامال ہوئے ہیں اور ان کے ہیومن رائٹس پر کیا زد پڑی ہے؟ جذبات سے ہٹ کر منطق اور استدلال کے ساتھ اس مسئلہ کا تھوڑے سے وقت میں تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اصل تنازعہ کیا ہے؟
اس سلسلہ میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ قادیانی مسلم تنازعہ کی اصل بنیاد کو تلاش کیا جائے کہ اصل جھگڑا کیا ہے؟ اصل قصہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے نئی نبوت اور نئی وحی کے ساتھ اپنے لیے نئے مذہب کا انتخاب کر کے اپنا مذہب مسلمانوں سے الگ کر لیا ہے۔ یہ بات مسلمات میں شامل ہے کہ نئی نبوت اور نئی وحی کے ساتھ مذہب بھی الگ ہو جاتا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر صاف ایک حوالے سے بات عرض کروں گا کہ برطانوی معاشرہ میں یہودی اور عیسائی دونوں رہتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دونوں اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر بھی دونوں ہی متفق ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں کا مذہب ایک نہیں ہے بلکہ دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں اس لیے عیسائی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھنے کے باوجود ایک نئے
نبی اور نئی وحی کو تسلیم کرتے ہیں جن پر یہودیوں کا ایمان نہیں ہے یعنی عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل کو بھی مانتے ہیں جن پر یہودیوں کا ایمان نہیں ہے اس لیے عیسائیوں کا مذہب یہودیوں سے الگ ہو گیا ہے اور دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ٹھہرے۔ اسی طرح مسلم قادیانی تنازعہ میں بھی یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا مذہب ایک نہیں ہے بلکہ دونوں الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔ اس حقیقت کو قادیانی گروہ بھی تسلیم کرتا ہے اور تاریخ میں اس کی متعدد دستاویزی شہادتیں موجود ہیں جن میں سے بعض کا اس وقت میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
پہلی شہادت
جب پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم ہورہی تھی اور پنجاب کی تقسیم کے لیے ریڈ کلف کمیشن بیٹھا تھا تو پنجاب کو اس بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان میں شامل ہوں گے اور جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں وہ علاقے بھارت کا حصہ ہوں گے۔ گورداسپور کے علاقہ ”جہاں قادیان واقع ہے“ کی صورتحال یہ تھی کہ اگر قادیانی آبادی خود کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کراتی تو یہ خطہ زمین پاکستان کے حصہ میں آ جاتا اور اگر قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ شمار ہوتا ہے تو گورداسپور کا یہ علاقہ بھارت کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس وقت قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے جو مرزا غلام احمد قادیانی کا فرزند اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد کا باپ تھا‘ اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کر کے یہ فیصلہ تاریخ میں ریکارڈ کروایا کہ قادیانی خود کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان نے مرزا بشیر الدین محمود کی ہدایت پر قادیانیوں کی فائل مسلمانوں سے الگ ریڈ کلف کمیشن کے سامنے پیش کی جس کی بنیاد پر گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے کر بھارت کے حوالے کر دیا گیا اور قادیانیوں کے اسی فیصلے کے نتیجہ میں بھارت کو کشمیر کے لیے راستہ ملا اور اس نے کشمیر پر قبضہ کر لیا جہاں آج بھی لاکھوں کشمیری عوام بھارتی تسلط اور وحشت و درندگی کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
دوسری شہادت
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا جنازہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی پڑھا رہے تھے‘ ملک بھر کے سرکردہ حضرات اور غیر ملکی سفراء جنازہ میں شریک تھے۔ حکومت پاکستان کا قادیانی وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان وہاں موجود ہونے کے باوجود جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور غیر مسلم سفیروں کے ساتھ الگ بیٹھا رہا۔ یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں ہے کہ جب چوہدری ظفر اللہ خان سے پوچھا گیا کہ آپ وزیر خارجہ ہیں لیکن جنازہ میں شریک نہیں ہوئے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر ظفر اللہ خان نے کہا کہ ”مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ“ اس طرح چوہدری ظفر اللہ خان نے بھی تاریخ میں اپنی یہ شہادت ریکارڈ کرائی کہ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے اور قادیانی ان سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار ہیں۔
تیسری شہادت
۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم پر بحث کر رہی تھی تو اسمبلی نے یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو اسمبلی کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا۔ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد نے گیارہ روز تک اور لاہوری گروپ کے سربراہ مولوی صدر الدین نے دو روز تک اسمبلی کے سامنے اپنے مؤقف کی وضاحت کی اور ان کا مؤقف پوری طرح سننے کے بعد اسمبلی نے اپنا فیصلہ صادر کیا۔ اس موقع پر مرزا ناصر احمد سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ دنیا بھر کے ایک ارب کے لگ بھگ ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے؟ مرزا ناصر احمد نے پہلے تو اس سوال کو گول کرنے کی کوشش کی لیکن بالآخر پارلیمنٹ کے فلور پر انہیں اپنے اس عقیدہ کا دوٹوک اظہار کرنا پڑا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے ایک ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور اس طرح موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد نے بھی تاریخ کی عدالت میں اپنی یہ شہادت ریکارڈ کروا دی کہ وہ قادیانیت کو مسلمانوں سے الگ مذہب قرار دیتے ہیں۔
چوتھی شہادت
آج مرزا طاہر احمد دنیا بھر میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف واویلا کر رہا ہے لیکن میں مرزا طاہر احمد کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں ایک شہادت تو خود وہ بھی ریکارڈ کرا چکا ہے جو تازہ ترین شہادت ہے۔ کچھ عرصہ قبل ٹل فورڈ میں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا، مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے ہیں تو مہمان خصوصی امام کعبہ ہوتے ہیں یا پھر شیخ الازہر، مسلم ممالک کے سفراء کے علاوہ نامور مسلم شخصیات ان اجتماعات میں شریک ہوتی ہیں لیکن ٹل فورڈ کے قادیانی اجتماع میں مہمان خصوصی کون تھا؟ بھارت کا ہندو ہائی کمشنر اور ساؤتھ ہال کونسل کا سکھ میئر! یہ بھی تاریخ کی ایک شہادت ہے۔
جب یہ بات طے شدہ ہے کہ قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں سے الگ ہے اور دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو ظاہر بات ہے کہ اسلام کا نام ان میں سے ایک ہی فریق استعمال کرے گا، دونوں استعمال نہیں کر سکتے۔ اسلام کا نام اور اس کے شعائر مثلاً کلمہ طیبہ، مسجد، امیر المومنین، اُم المومنین، خلیفہ اور صحابی جو اسلام کے ساتھ مخصوص ہیں اور مسلمانوں کی پہچان بن چکے ہیں، انہیں استعمال کرنے کا حق ایک فریق کو ہوگا۔ آپ ہی انصاف سے کہیں کہ کیا دونوں گروہوں کو اسلام کا نام، اسلام کا لیبل اور اس کا ٹریڈ مارک استعمال کرنے کا حق ہے؟ اگر نہیں اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ نہیں تو پھر انصاف کے ساتھ یہ فیصلہ بھی کیجیے کہ یہ حق دونوں میں سے کس فریق کا ہے؟ مسلمانوں کا جو چودہ سو سال سے اس نام اور اصطلاحات کو استعمال کر رہے ہیں یا پھر قادیانیوں کا جو صرف ایک سو سال سے اس کے دعوے دار ہیں۔ اصل بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ عام سی مثال عرض کرتا ہوں
ایک کمپنی ہے جو سو سال سے کام کر رہی ہے اس کا ایک نام ہے ایک لیبل ہے ایک ٹریڈ مارک ہے وہ اس نام، لیبل اور ٹریڈ مارک کے ساتھ مارکیٹ میں متعارف ہے اس کی ساکھ ہے اس حوالہ سے اس کا اعتبار قائم ہے اب کچھ لوگ اس سے الگ ہو کر ایک نئی کمپنی بناتے ہیں انصاف کیجئے کہ کیا اس نئی کمپنی کو پہلی کمپنی کا نام ٹریڈ مارک اور لیبل استعمال کرنے کا حق حاصل ہے؟ اگر نہیں اور اس کے باوجود نئی کمپنی اپنا مال مارکیٹ میں لانے کے لیے پہلی کمپنی کا نام استعمال کرتی ہے اس کا ٹریڈ مارک اور لیبل استعمال کرتی ہے تو انصاف کی زبان اسے کیا کہتی ہے؟ قانون اسے کیا کہتا ہے؟ میں ان مغربی لابیوں سے پوچھتا ہوں کہ انصاف اور قانون کا تقاضا کیا ہے؟ دانش کا تقاضا کیا ہے؟ خدا کے لیے ہمارا موقف بھی سمجھنے کی کوشش کریں نبوت کا دعویٰ بہاء اللہ نے بھی کیا تھا۔ اس کے ماننے والے بہائی بھی ہم سے الگ مذہب رکھتے ہیں، ہم انہیں کافر کہتے ہیں لیکن ہمارا ان سے قادیانیوں کی طرز کا کوئی تنازعہ نہیں ہے، کشمکش کی کوئی فضا نہیں ہے اس لیے کہ وہ اسلام کا نام استعمال نہیں کرتے انہوں نے اپنا نام اور اصطلاحات الگ کر لی ہیں وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہتے، لندن (ماسک) کے نام پر اپنا لٹریچر تقسیم نہیں کرتے اور اپنے مرکز کو اسلام آباد نہیں کہتے، ہم انہیں کافر کہتے ہیں لیکن ہمارا ان سے جھگڑا کوئی نہیں ہے۔ قادیانیوں کے ساتھ تنازعہ یہ ہے کہ ان کا مذہب نیا ہے کمپنی نئی ہے لیکن نام ہمارا استعمال کرتے ہیں، لیبل اور ٹریڈ مارک ہمارا استعمال کرتے ہیں، ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ یہ دھوکہ ہے فراڈ ہے اور کھلا فریب ہے۔ ہم دنیا بھر کے قادیانیوں کو دہائی دیتے ہیں کہ خدا کے لیے ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لو کہ اصل قصہ کیا ہے اور تنازعہ کس بات پر ہے؟
انسانی حقوق اور صدارتی آرڈیننس
اب میں اس صدارتی آرڈیننس کی طرف آتا ہوں جسے مرزا طاہر احمد اور اس کی سرپرست لابیوں کی طرف سے پوری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا عنوان دے کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ یعنی ۱۹۸۴ء کا وہ صدارتی آرڈیننس جس کے تحت صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قادیانیوں کو اسلام کا نام اور اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا ہے اور جس کے بارے میں مغربی لابیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ اس کے ذریعے قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال ہو گئے ہیں لیکن پہلے یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ آرڈیننس صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا تیار کردہ نہیں اور نہ ہی اسے فوجی ہیڈ کوارٹر نے ترتیب دیا ہے بلکہ یہ آرڈیننس تحریک ختم نبوت کے ان مطالبات پر مشتمل ہے جن کے لیے ہم نے ملک بھر میں تحریک چلائی، سٹریٹ پاور کو منظم کیا، لوگوں کو سڑکوں پر لائے اور راولپنڈی کی طرف لانگ مارچ کیا۔ اس پر مجبور ہو کر ہمارے مطالبات کو آرڈیننس کی شکل دی گئی۔ اس لیے یہ مارشل لا ریگولیشن یا کسی ڈکٹیٹر کا نافذ کردہ قانون نہیں بلکہ عوامی مطالبات پر مشتمل ایک قانونی ضابطہ ہے۔
مرزا طاہر احمد کی مہم
صدارتی آرڈینینس پر بحث سے قبل آپ کو مرزا طاہر احمد کی اس مہم سے بھی متعارف کرانا چاہتا ہوں جو اس آرڈینینس کے خلاف ابھی تک جاری ہے۔ اس مہم کے مختلف مراحل کا آپ کے سامنے لایا جانا ضروری ہے تاکہ آپ لوگ دیکھ سکیں کہ ان کا طریقہ واردات کیا ہے؟ بالخصوص برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے اس مہم سے واقف ہونا بے حد ضروری ہو گیا۔ ۸۴ء میں صدارتی آرڈینینس کے نفاذ کے بعد مرزا طاہر احمد لندن میں آ کر بیٹھ گیا اور مغربی لابیوں تک رسائی حاصل کر کے یہ دہائی دی کہ پاکستان میں امتناع قادیانیت کے صدارتی آرڈینینس کے ذریعے قادیانیوں کے انسانی حقوق چھین لیے گئے ہیں، ان کے ہیومن رائٹس پامال کر دیئے گئے ہیں، انہیں عبادت کے حق سے روک دیا گیا ہے اور ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ فوراً اس مہم میں شریک ہو گیا۔ دراصل اسے تو انتظار رہتا ہے کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف کوئی بات کہنے کو ملے، وہ تو بہانے تلاش کرتے ہیں کہ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف کسی بات پر شور مچا سکیں۔
جنیوا کا انسانی حقوق کمیشن
پھر بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ قادیانیوں نے جنیوا میں انسانی حقوق کے کمیشن تک رسائی حاصل کی۔ یہ کمیشن یو این او کے تحت قائم ہے اور اس کا کام دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنا ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، یہ کمیشن اس کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر مغربی حکومتیں اپنی پالیسیاں مرتب کرتی ہیں۔ یہ قادیانیوں کی طرف سے اس کمیشن کو درخواست دی گئی کہ پاکستان میں ان کے شہری حقوق پامال کیے جا رہے ہیں لیکن اس درخواست سے پہلے قادیانی تمام تیاریاں مکمل کر چکے تھے کہ جنیوا میں پاکستان کی سفارت اور نمائندگی مسٹر منصور احمد سنبھال چکا تھا جو معروف قادیانی ڈپلومیٹ اور پاکستان کا سینئر سفارت کار تھا، اب راستہ صاف تھا۔ درخواست قادیانیوں کی طرف سے تھی اور کمیشن کے سامنے پاکستان کی نمائندگی اور حکومت پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی ذمہ داری ایک قادیانی سفارت کار پر تھی۔ نتیجہ وہی ہونا تھا جو ہوا اور جنیوا کے انسانی حقوق کمیشن نے اس مضمون کی قرارداد منظور کر لی کہ پاکستان میں واقعتاً قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیئے گئے ہیں اور حکومت پاکستان اس کی ذمہ دار ہے۔
امریکی سینٹ کی قرارداد
بات اور آگے بڑھی اور قادیانی گروہ اس قرارداد کو لے کر واشنگٹن پہنچا جہاں پریسلر رہتا ہے، جہاں سولارز رہتا ہے، آپ انہیں اچھی طرح سے جانتے ہوں گے۔ پاکستان کا کون سا باشعور شہری ہے جو پریسلر اور سولارز کو نہیں جانتا، وہاں لابنگ ہوئی۔ اس وقت امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد کے لیے شرائط طے کر رہی تھی، جنیوا انسانی حقوق کمیشن
کی یہ قرارداد اس کے سامنے پیش ہوئی اور امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کے لیے امداد کی شرائط والی قرارداد میں قادیانیت کا مسئلہ شامل کر لیا۔ یہ ہے مرزا طاہر احمد کی مہم اور یہ ہے اس کا طریقہ واردات، جسے آپ کے علم میں لانا میں نے ضروری سمجھا ہے۔
پاکستان کی امداد کے لیے امریکی شرائط
امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی امداد کے لیے جن شرائط کو اپنی قرارداد میں شامل کیا، ان کا خلاصہ روزنامہ جنگ لاہور نے ۵ مئی ۸۷ء اور روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۵ اپریل ۸۷ء کو شائع کیا۔ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ ان شرائط میں کون کون سی باتیں شامل ہیں؟ عام طور پر صرف ایٹمی تنصیبات کے معائنہ کی شرط کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ بنیادی شرط ہے اور ہم اس مسئلہ پر پاکستانی حکومت اور قوم کے موقف کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں بلکہ ہمارا موقف تو یہ ہے کہ ایٹم بم پاکستان سمیت تمام مسلمان ملکوں کا حق ہے اور اس سلسلہ میں معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ خیر ذکر ہو رہا تھا امریکی شرائط کا اس میں صرف ایٹمی تنصیبات کا مسئلہ نہیں اور امور بھی ہیں جن میں دو کا بطور خاص آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے ضروری ہو گا کہ امریکی صدر ہر سال ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا جس میں یہ درج ہوگا کہ حکومت پاکستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ازالہ میں نمایاں ترقی کی ہے۔
یہ کتنا خوبصورت جملہ ہے لیکن اس کے اندر جو زہر چھپا ہوا ہے، آپ حضرات نہیں جانتے۔ آپ کہیں تو عرض کر دوں کہ اس شوگر کے پردے میں کون سا زہر ہے؟ اس شرط میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنے کی بات کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان مغربی ملکوں کے ہاں انسانی حقوق کا تصور کیا ہے؟ اور یہ کس چیز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان میں مغربی ذرائع ابلاغ کے ”بوسٹر“ کیا کہتے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے ”بوسٹر“ ہر جگہ موجود ہیں، پاکستان میں بھی ہیں۔ امریکی سینٹ کی اس قرارداد کے بعد پاکستان میں بھی انسانی حقوق کمیشن قائم ہوا ہے جس کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل ہیں جو پارسی ہیں اور سیکرٹری جنرل بیگم عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ ہیں جو ایک قادیانی مسٹر جہانگیر کی بیوی ہے۔ یہ لوگ پاکستان میں ہیومن رائٹس کے عنوان سے فورم منعقد کرتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں اور امریکی سفارت کار ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ذرا سنئے اس کمیشن کے سربراہ مسٹر دراب پٹیل کیا کہتے ہیں، روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۵ اپریل ۸۷ء کے مطابق مسٹر دراب پٹیل نے کہا کہ ”کمیشن کو بہت سے ایسے قوانین منسوخ کرانے کی کوشش بھی کرنا ہو گی جو یک طرفہ ہیں اور جن سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا راستہ کھلتا ہے اس سلسلہ میں حدود آرڈیننس، قانون شہادت، غیر مسلموں کو مسلمانوں کی شہادت پر سزا دینے کا مسئلہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے
والا قانون‘ جداگانہ انتخابات کا قانون اور سیاسی جماعتوں کا قانون نمایاں ہیں۔ یہ سارے قوانین ختم کرنا ہوں گے‘ یہ قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں۔“
روزنامہ نوائے وقت نے ۲۷ اپریل ۸۷ء کی اشاعت میں بیگم عاصمہ جہانگیر کے حوالہ سے کمیشن کے جنرل اجلاس میں کیے جانے والے مطالبات بھی شائع کیے ہیں‘ جن کے مطابق تعزیراتِ پاکستان اور حدود آرڈیننس کی بعض سزاؤں کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنگسار کرنے‘ پھانسی پر لٹکانے اور موت کی سزا کو فی الفور ختم کیا جائے۔ نیز کوڑے لگانے‘ ہاتھ کاٹنے اور قید تنہائی کی سزائیں بھی ختم کر دی جائیں۔ جنرل اجلاس میں منظور کردہ ڈیکلریشن میں تمام مذہبی اقلیتوں کی تائید کی گئی ہے اور اس ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت کسی بھی شخص کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہ کرے۔
اب تو آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ انسانی حقوق سے ان کی مراد کیا ہے اور ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کو روکنے کے عنوان سے مغربی ممالک اور لابیاں ہم سے کیا تقاضا کر رہی ہیں؟ امریکہ ہم سے یہ ضمانت چاہتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو گی اور اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسلامی قوانین نافذ نہیں کریں گے‘ قرآن کریم کے احکام نافذ نہیں کریں گے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی پارلیمنٹ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر موت کی سزا کا قانون منظور کیا تو ایک محترمہ نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے......معاذ اللہ۔ توہینِ رسالت کو بھی انسانی حقوق میں شامل کیا جا رہا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کوئی بدبخت توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنا چاہے تو اسے اس کا حق حاصل ہو اور قانون کو حرکت میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہے ان لوگوں کا انسانی حقوق کا تصور اور یہ اسی قسم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے ہمیں روکنا چاہتے ہیں۔ ہم پر ”انسانی حقوق“ کا کیسا تصور تھوپا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال چکوال میں اغوا اور قتل کی ایک واردات ہوئی‘ خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا۔ عدالت نے قاتل کو موت کی سزا سنائی اور یہ فیصلہ دیا کہ پھانسی برسرعام لوگوں کے سامنے دی جائے۔ اسلام کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ سزا سرِ عام دی جائے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ”مجرموں کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے۔“ یہ اسلامی قانون کا تقاضا ہے لیکن ہماری عدالت عظمیٰ نے اس سزا پر عملدرآمد روک دیا ہے اور سپریم کورٹ میں گزشتہ چار پانچ ماہ سے اس نکتہ پر بحث جاری ہے کہ مجرم کو لوگوں کے سامنے سزا دینا اس کی عزت نفس کے منافی ہے اور یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے قاتل کو سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے۔ یہ مثالیں میں نے وضاحت کے ساتھ اس لیے بیان کی ہیں تاکہ آپ اچھی طرح جان سکیں کہ انسانی حقوق سے مغربی ممالک کی مراد کیا ہے اور یہ طاقتیں جب ہم سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ضمانت طلب کرتی ہیں تو اس سے ان کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اب ایک اور شرط بھی سماعت فرما لیجیے۔ امریکہ کے سینٹ کی ۱۷ رکنی خارجہ
تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط شامل کی ہیں ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ ”امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفیکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آ رہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔“ (بحوالہ مضمون جناب ارشاد احمد حقانی، ادارتی صفحہ ۳ روزنامہ جنگ ۵ مئی ۱۹۸۷ء) قادیانیوں کی مکمل مذہبی اور شہری آزادیوں کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ وہ ملت اسلامیہ سے قطعی طور پر الگ ایک نئی امت ہوتے ہوئے بھی، اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال کر کے دھوکہ اور اشتباہ کی جو فضا قائم رکھنا چاہتے ہیں، وہ بدستور قائم رہے۔ امریکی سینٹ کی یہ قرارداد قادیانیوں کے خود ساختہ حقوق کی حمایت سے زیادہ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص اور مذہبی معتقدات پر براہ راست اور ناقابل برداشت حملہ ہے۔
چند سال قبل میں جمعیت علمائے اسلام کے ایک وفد کے ساتھ لاہور میں امریکی قونصل مسٹر رچرڈ بکی سے ملا اور گفتگو کے دوران یہ شکوہ کیا کہ امریکہ قادیانی گروہ کی سر پرستی کر رہا ہے۔ جب کہ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں سے امریکی حکام نے کبھی ان کا مؤقف معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی اور نہ ان کی شکایات سنی ہیں، اس پر مسٹر رچرڈ بکی چند موٹی موٹی فائلیں اٹھا لائے جن میں چک سکندر کے تنازعہ کے بارے میں اس قدر تفصیلات درج تھیں کہ اتنی تفصیل خود ہمیں معلوم نہیں تھی حالانکہ ہم اس جھگڑے کے مقدمہ کو ”ڈیل“ کر رہے تھے۔ چک سکندر ضلع گجرات تحصیل کھاریاں کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں کچھ عرصہ قبل قادیانیوں اور مسلمانوں میں تصادم ہو گیا تھا، کچھ لوگ مارے گئے تھے اور کچھ مکانات نذر آتش ہو گئے۔ یہ لاہور سے دور ایک چھوٹے سے گاؤں کا مقامی جھگڑا تھا مگر لاہور میں امریکہ کا قونصل جنرل اس جھگڑے کی بڑی بڑی فائلیں میز پر رکھے اس کے اسباب پر ہم سے بحث کر رہا تھا۔ اس حوالہ سے جو بات آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں، وہ امریکی سفارت کار کا یہ جملہ تھا کہ ”پاکستان میں قادیانیوں کو کسی جگہ کوئی تکلیف پہنچے تو واشنگٹن ہم سے جواب طلبی کرتا ہے اس لیے ہمیں ان معاملات میں دلچسپی لینا پڑتی ہے۔“ ان حالات میں پوری امت مسلمہ خصوصاً مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی مسلمان اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں ضرور سوچیں کہ اس حوالے سے ان پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں خدا کی بارگاہ میں کس طرح سرخرو ہو سکتے ہیں؟
آپ کو کچھ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مسئلہ کی نوعیت کیا ہے اور معاملات کہاں تک پہنچ چکے ہیں؟ بیشتر حضرات یہ کہہ دیتے ہیں کہ ”ہمیں تو ان باتوں کا علم ہی نہیں“ لیکن ان حضرات کا نہ جاننا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے؟ کیا یہ بھی ہمارا قصور ہے؟ قابل افسوس امر تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ مغربی ممالک میں رہتے ہوئے بھی ان امور سے واقف نہیں ہیں۔ میری ان سے التماس ہے کہ خدا کے لیے
آنکھیں کھولیے اور اپنی ذمہ داری کا احساس کیجیے۔
اب آئیے صدارتی آرڈیننس کی طرف اس آرڈیننس کا مقصد اور منشاء صرف یہ ہے کہ چونکہ قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں سے الگ ہے، اس لیے قادیانی اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال نہ کریں۔ اس کے علاوہ اس آرڈیننس میں کچھ نہیں۔ اس آرڈیننس کی رو سے قادیانیوں کو اس امر کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ:
- (۱) اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں اور خود کو مسلمان کے طور پر ظاہر نہ کریں۔
- (۲) اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہ کہیں اور اپنی عبادت کے لیے لوگوں کو بلانے کا طریقہ اذان
سے الگ اختیار کریں اور اسے اذان نہ کہیں۔
- (۳) جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے علاوہ کسی اور خاتون کو اُمّ
المؤمنین نہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور خلفاء کے علاوہ کسی اور کے لیے صحابی یا خلیفہ کی اصطلاح استعمال نہ کریں۔
آرڈیننس میں ان امور کو جرم قرار دیتے ہوئے ان میں سے کسی ایک کے ارتکاب پر تین سال تک قید یا جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے، میں مغربی لابیوں سے پوچھتا ہوں کہ اس آرڈیننس میں قادیانیوں کو عبادت گاہ بنانے یا عبادت کرنے سے کہاں روکا گیا ہے؟ انہیں اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے سے روکا گیا ہے، اذان دینے سے روکا گیا ہے اور اسلام کے دیگر شعائر کو استعمال کرنے سے روکا گیا ہے اور قادیانیوں کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ایک جداگانہ مذہب ہے تو یہ پابندیاں اس کا منطقی تقاضا ہے اور ان اصولی اور منطقی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینا سراسر نا انصافی ہے۔
انسانی حقوق کے مجرم! قادیانی
بات انسانی حقوق کی ہے تو میں ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہم نہیں بلکہ قادیانی کر رہے ہیں اور عملی صورتحال یہ ہے کہ خود ہمارے انسانی حقوق قادیانیوں کے ہاتھوں پامال ہو رہے ہیں اس لیے کہ اسلام کا نام، مسجد، اذان، کلمہ طیبہ اور دیگر اسلامی شعائر، دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی پہچان ہیں اور ان کی شناخت ہیں۔ اپنی شناخت کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے اور شناخت کی حفاظت انسانی حقوق میں شامل ہے جسے قادیانی مسلسل پامال کر رہے ہیں اور جب قادیانیوں کے خلاف اس جرم میں قانونی کارروائی ہوتی ہے تو مغرب چیخ اٹھتا ہے کہ قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ اب دیکھیے میں ایک شخص ہوں، مجھے زاہد الراشدی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ گوجرانوالہ سے ماہنامہ الشریعہ شائع کرتا ہوں اور اس کا ایڈیٹر ہوں، کوئی اور شخص یہ دعویٰ کرے کہ زاہد الراشدی میں ہوں یا الشریعہ کا ایڈیٹر میں ہوں تو کیا اس سے میری شناخت مجروح نہیں ہوتی؟ اور کیا میرے انسانی حقوق پر زد نہیں پڑتی؟ اور اگر میں اس شخص کے خلاف دھوکہ
دہی کا مقدمہ درج کرادوں اور قانون اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دے تو کیا مغربی لابیاں اس پر شور مچانا شروع کردیں گی کہ اس کے انسانی حقوق پامال ہوگئے ہیں۔ میں مغرب میں بیٹھ کر اسلام اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے لابیوں سے خدا کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ کچھ انصاف کریں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کریں کہ وہ اپنی شناخت اور پہچان کی حفاظت کر سکیں اور اسلام کا نام اور اس کا لیبل اور ٹریڈ مارک غلط استعمال کرنے والوں کو ایسا کرنے سے باز رکھ سکیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے مذہبی نام کا تحفظ کریں اپنی شناخت کا تحفظ کریں اپنی علامات اور نشانیوں کا تحفظ کریں اور اپنی پہچان کو بچائیں۔ قادیانی گروہ مٹھی بھر ہونے کے باوجود مغربی طاقتوں اور لابیوں کی شہ پر ہماری پہچان کو خراب اور ہماری شناخت کو مجروح کر رہا ہے صدارتی آرڈیننس میں قادیانیوں کو اسی جرم سے روکا گیا ہے اس لیے انصاف کی بات تو یہ ہے کہ امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور ہیومن رائٹس کے تقاضوں کی تکمیل کا آرڈیننس ہے۔
بنیادی انسانی حقوق کا آئینی تصور اور قادیانی
(سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کا ایک اقتباس)
دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی عبارت اس طرح ہے: ”۲۰۔ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی“۔ قانون‘ امن عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے:
- (الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے‘ اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا
حق ہوگا اور
- (ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقہ کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے‘ برقرار رکھنے اور
ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔“
یہاں متعلقہ بنیادی حق ”مذہب کی پیروی کرنے کی آزادی“ ہے‘ تاہم یہ آزادی قانون‘ امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ دوسرے ممالک کی عدالتوں نے جہاں اسی طرح کے بنیادی حقوق دیئے ہیں‘ قرار دیا ہے کہ یہ حق دو تصورات پر مبنی ہے۔ ایک عقیدہ کی آزادی اور دوسرے عمل کی آزادی۔ ان میں سے بعض نے اوّل الذکر آزادی کو مطلق‘ لامحدود اور غیر مشروط قرار دیا ہے جبکہ بعض دوسروں کے خیال میں‘ وہ بھی قانون وغیرہ کے تابع ہے۔ بہر حال اس بات پر سب متفق ہیں کہ آخر الذکر آزادی‘ اپنی نوعیت کے لحاظ سے مطلق اور لامحدود نہیں ہے‘ ان کے بقول افراد کا رویہ قواعد و ضوابط کے تابع رکھا جاتا ہے تاکہ معاشرہ کی حفاظت کی جا سکے۔ پس اس تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آزادیِ عمل کی تعریف کرنا لازمی ہے‘ اس کے برعکس ترکیب ”قانون کے تابع رہتے ہوئے“ نہ تو مقننہ کو یہ لامحدود اختیار دیتی ہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق پر ناروا پابندیاں لگائے یا انہیں سلب کر لے‘ نہ ہی انہیں معدوم سمجھ کر نظر انداز یا ترک کیا جا سکتا ہے۔ ان دونوں کے مابین ہر معاملہ کے خصوصی حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے‘ معنوی تعبیر کا سہارا لے کر توازن قائم رکھنا ضروری ہے دیکھئے:
- 1- Jesse Cantwell etc. Vs State of Connecticut 310 U.S. 296
نیز
- 2- Tikamdas and others Vs Divisional Evacuee Trust
Committee, Karachi, PLD, 1968 Kar, 703 (F.B)
امریکہ کی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان "Reynolds Vs United States" "(98.U.S. 145) میں قرار دیا تھا کہ ”کانگرس کو محض رائے کی بنیاد پر قانون سازی کے پورے اختیار سے محروم کر دیا گیا تاہم کارروائی کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا جو معاشرتی فرائض کی خلاف ورزی اور اچھے امن وامان میں خرابی پیدا کرنے کے سلسلہ میں درکار ہوتی۔ قوانین‘ حکومت کے لیے کارروائی کرنے کی غرض سے وضع کیے جاتے ہیں اور جہاں وہ محض مذہبی عقائد اور آراء میں مداخلت نہیں کر سکتے‘ اعمال میں یقیناً کر سکتے ہیں۔“
مذکورہ بالا نقطہ نظر اپنانے کے بعد سپریم کورٹ نے مارمنوں کے فرقہ میں مروّج تعدد ازدواج پر اس بناء پر پابندی لگانے کو حق بجانب سمجھا کہ ان پر یہ فرض مذہب کی طرف سے عائد ہوتا تھا‘ وہ کوئی مذہبی عقیدہ یا رائے نہیں تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا پیرا کے آخری حصہ میں ظاہر کی گئی رائے امریکیوں سے مخصوص ہے جہاں مقتدر اعلیٰ عوام ہیں اللہ تعالیٰ نہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ نے کمشنر ہندو مذہبی اوقاف مدراس بنام سری لکش مندرا وغیرہ (اے آئی آر ۱۹۵۴ء ایس سی ۲۸۲ صفحہ ۲۹۱) میں مذکورہ بالا نقطہ نظر سے ملتے جلتے مؤقف کو قبول کر لیا جیسا کہ آسٹریلیا کے چیف جسٹس لتھم نے ایک فیصلہ میں کہا تھا:
”مذہب کی حفاظت کے لیے بنایا گیا حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی تعبیر میں اسے مطلق حفاظت سمجھا جاتا اور دستور کی دیگر دفعات سے الگ کر کے جداگانہ طور پر اس کا اطلاق کیا جاتا۔ ان مراعات کا ریاست کے اس اختیار سے سمجھوتہ ہونا چاہیے کہ وہ امن‘ سلامتی اور منظم بود و ماند کو یقینی بنانے کے لیے قوت فرماں روائی کو استعمال کر سکے جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کے رہ جائے گی۔“
فیصلہ کے صفحہ ۱۲۷ پر ذیل کی رائے کا اظہار کیا گیا ”ریاست ہائے متحدہ میں اس دفعہ سے جو مسائل پیدا ہوئے‘ انہیں بڑی حد تک یہ قرار دے کر حل کر دیا گیا کہ مذہب کی حفاظت کے لیے بنائی گئی دفعہ مطلق نہیں ہے جس کی تعبیر اور اطلاق کو دستور کی دوسری دفعات سے الگ تھلگ کیا جا سکے۔“
سپریم کورٹ نے تقریر کی آزادی‘ پریس کی آزادی اور مذہبی آزادی کے متعلق دستور میں دی گئی ضمانت کے حوالے سے Jones Vs Opelika (1942) 316 U.S. 584 میں کہا تھا:
”یہ حقوق مطلق نہیں ہیں جن کو ان دوسری پسندیدہ مراعات سے جدا کر
کے استعمال کیا جا سکے جن کی حفاظت کا اہتمام اسی دستاویز میں کیا گیا ہے۔“
مزید قرار دیا گیا کہ ”ان مراعات کو ریاست کے اس حق سے سمجھوتہ کر لینا چاہیے کہ وہ منظم معاشرت کو یقینی بنانے کے لیے اقتدار اعلیٰ کو استعمال کر سکتی ہے جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کر رہ جائے گی۔“
صفحہ ۱۳۰ پر مزید کہا گیا تھا کہ:
”اس ریاست میں آنے کے بعد ہمیشہ کے لیے تمام انسانوں کو کسی امتیاز یا ترجیح کے بغیر مذہب کی پیروی اور عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہو گی۔ تاہم شرط یہ ہے کہ بذریعہ ہٰذا ضمیر کی جو آزادی عطا کی گئی ہے‘ اس سے یہ مفہوم مراد نہیں لیا جائے گا کہ اسے عیاشی پر مبنی افعال کا بہانہ بنا لیا جائے یا ایسے کاموں کا جواز بنا لیا جائے جو ریاست کے امن یا سلامتی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔“
اس سے آگے صفحہ ۱۳۱ پر کہا گیا ہے:
”جان سٹورٹ مل نے اپنی کتاب "Essay on Liberty" میں آزادی سے متعلق افکار و نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اس موضوع پر اس کی بحث کو اصول کے وقیع اور وزن رکھنے والے اظہار کے طور پر بڑے پیمانہ پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مصنف کو وہ امتیاز کرنا پڑا جو "Liberty" اور "Licence" کے الفاظ کے مابین اکثر کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ آزادی سے یہ مراد نہیں کہ خود کو ہر وہ کام کرنے کی کھلی چھٹی ہے جو اس کے دل میں آئے کیونکہ ایسی آزادی کے معنی ہوں گے کہ امن و امان غارت ہو جائے گا اور آخر کار خود آزادی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس نے آزادی کی حدود کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
”وہ واحد غرض جس کے لیے انسانوں کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کسی فرد کے عمل کی آزادی میں مداخلت کرنے کی اجازت دی گئی ہے‘ وہ ذاتی تحفظ ہے۔“
اسی صفحہ پر مزید کہا گیا ہے کہ:
”ایسے معمولات اور طرز عمل پر پابندی لگانا ریاست کی طرف سے مذہبی آزادی قائم رکھنے کے عین مطابق ہے جو سول حکومت کے قیام سے مطابقت نہ رکھتے ہوں یا معاشرے کے مسلسل وجود کے لیے ضرر رساں ہوں۔“
مذکورہ بالا رائے کا ا طرح ہے: ”کامن ویلتھ (ر منوانے یا کسی مذہبی رسم کو نافذ قانون نہیں بنائے گی اور حکوم جائے گا جو صلاحیت کے طور پر محولہ بالا مقدمہ کے ”آئینی دفعہ معاشرہ کے لیے تباہ ک حریت کی ضمانت دی تابع ہے جس کی تعر پابندیاں ایسی ہوتی ہ کے مفاد میں ہوں۔“
مذہب کی تعریف
پس یہ جاننا لازم ہے ک کارروائی کرنے کے اختیار کو محدو ہیں۔ مذہب نظریات‘ اعمال اور ا ایسی دنیا یا دنیاؤں پر ایمان کے ا مفہوم میں مذہب کا لفظ کسی کے عقا مسلمانوں کا مذہب اسلام‘ یہودیوں کورٹ نے 333 .U.S (133 حسب ذیل تعریف کی ہے: ”مذہب کی اصطلا اور اس کی ذات کے اخت کردار کے حوالے سے عائ کسی خاص فرقہ کے مسلک یہ آخر الذکر سے مختلف چیز اس اصطلاح کی پاکستان تاہم آرٹیکل 260(3) کی شق (الف اس سے مذہب کے معانی اخذ کیے جائ
مذکورہ بالا رائے کا اظہار دستوری دفعہ ۱۱۶ کی تعبیر و توضیح کرتے ہوئے کیا گیا تھا جو کہ اس طرح ہے: ”کامن ویلتھ (ریاست ہائے آسٹریلیا کی مشترکہ حکومت) کسی مذہب کو سرکاری طور پر منوانے یا کسی مذہبی رسم کو نافذ کرنے یا کسی مذہب پر آزادی سے عمل کی ممانعت کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں بنائے گی اور حکومت کے تحت کسی عہدہ یا عوامی ٹرسٹ کے لیے کوئی مذہبی ٹیسٹ نہیں لیا جائے گا جو صلاحیت کے طور پر مطلوب ہو۔“
محولہ بالا مقدمہ کے صفحہ ۱۵۵ پر حسب ذیل متعلقہ رائے ملتی ہے: ”آئینی دفعہ غیر سماجی افعال یا ایسے افعال کا تدارک نہیں کرتی جو خود معاشرہ کے لیے تباہ کن ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دستور میں جس مذہبی آزادی و حریت کی ضمانت دی گئی ہے اور تحفظ کا اہتمام کیا گیا ہے وہ بعض پابندیوں کے تابع ہے جس کی تشریح کرنا عدالت ہائے قانون کا کام اور فرض ہے اور وہ پابندیاں ایسی ہوتی ہیں جو معاشرہ کے تحفظ کے لیے ضروری اور معاشرتی امن کے مفاد میں ہوں۔“
مذہب کی تعریف
پس یہ جاننا لازم ہے کہ مذہب کیا ہے؟ وہ آزادی کیا ہے جو حکومت کے قانون بنانے اور کارروائی کرنے کے اختیار کو محدود کرتی ہے۔ اہلِ علم نے اس لفظ کے مختلف مشتقات اور ماخذ بتائے ہیں۔ مذہب نظریات اعمال اور اداروں کا مرکب و مجموعہ ہوتا ہے مذہب خدا پر عالمِ روحانیت پر اور ایسی دنیا یا دنیاؤں پر ایمان کے اظہار و اعلان سے عبارت ہے جو ہماری دنیا سے ماورا ہے۔ آسان مفہوم میں مذہب کا لفظ کسی کے عقیدہ کے بارے میں بولا جاتا ہے جیسے عیسائیوں کا مذہب عیسائیت مسلمانوں کا مذہب اسلام یہودیوں کا مذہب یہودیت اور کیتھولک کا مذہب وغیرہ۔ امریکی سپریم کورٹ نے Davis Vs Beason 1890 (133) U.S. 333 نامی مقدمہ میں مذہب کی حسب ذیل تعریف کی ہے:
”مذہب کی اصطلاح کسی آدمی کے اپنے خالق کے بارے میں نظریات اور اس کی ذات کے احترام و عقیدت اور اس کی مرضی و منشاء کی اطاعت اور کردار کے حوالے سے عائد ہونے والے فرائض سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے اکثر کسی خاص فرقہ کے مسلک یا عبادت کے طریقہ سے گڈمڈ کر دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ آخرالذکر سے مختلف چیز ہے۔“
اس اصطلاح کی پاکستان کے دستور میں اس طرح کی صراحتاً کوئی تعریف نہیں دی گئی تاہم آرٹیکل 260 (3) کی شق (الف) اور (ب) میں ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کی جو تعریف کی گئی ہے اس سے مذہب کے معانی اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا
مسلم اور غیر مسلم کی تعریف
”۲۶۰۔ تعریفات“
- (3) دستور اور تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں تاوقتیکہ موضوع یا سیاق
و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو۔
- (الف) ”مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت و توحید اور
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر ایمان نہ رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کے کسی بھی مفہوم یا تشریح کی رو سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے اور
- (ب) ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ ہو اور اس میں عیسائی‘ ہندو‘ سکھ‘
بدھ یا پارسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ کاسٹس میں سے کسی ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔“
اصطلاح ”مذہب“ کی تعریف بھارت‘ امریکہ یا آسٹریلیا میں سے کسی ملک کے دستور میں درج نہیں۔ تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان H.R.E. Vs. Lakshmindra Swamiar (AIR 1954, S.C.282) میں اس اصطلاح کی تشریح یوں کی ہے:
”مذہب افراد یا برادریوں کے عقیدہ سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے‘ اس کا خدا پرستی سے متعلق ہونا ضروری نہیں۔ ہندوستان میں ایسے معروف مذاہب موجود ہیں مثلاً بدھ مت اور جین مت‘ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مذہب کی بنیاد بلاشبہ عقائد یا نظریات کے نظام پر ہوتی ہے جنہیں اس مذہب کے ماننے والے اپنی روحانی اصطلاح میں ممد و معاون سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مذہب کی حقیقت‘ عقیدہ کے بارے میں نظریہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کوئی مذہب اپنے پیروکاروں کے لیے نہ صرف ضابطہ اخلاق طے کر سکتا ہے بلکہ یہ ایسی رسوم و رواج‘ تقاریب اور عبادت و پرستش کے طریقوں کا تعین بھی کر سکتا ہے جنہیں مذہب کے لازمی اجزا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسوم اور صورتیں بڑھ کر خوراک اور لباس سے متعلق معاملات کا بھی احاطہ کر سکتی ہیں۔“
سپریم کورٹ نے فیصلہ کے پیرا نمبر ۱۹ میں کہا:
”پہلی بات یہ ہے کہ کسی مذہب کے لازمی ارکان کیا ہوتے ہیں‘ اس کا تعین بنیادی طور پر خود اس مذہب کے نظریات کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اگر
ہندو مذہب کے کسی فرقہ کے احکام میں کہا گیا ہو کہ بت کے سامنے خوراک کا نذرانہ دن کے فلاں اوقات میں پیش کیا جائے گا‘ ایسی وقفہ داری رسوم ایک خاص طریقہ سے اور سال کے ایک خاص دن منانی چاہئیں‘ یا یہ کہ مقدس کتابوں کو ہر روز پڑھنا چاہیے یا مقدس آگ کو چڑھاوا پیش کرنا‘ ان تمام معمولات کو مذہب کا جزو سمجھا جائے گا اور محض یہ حقیقت کہ ان پر رقم خرچ ہوتی ہے‘ ان کو لادینیت پر مبنی نہیں بنا سکتی۔‘‘
عدالت نے اس بات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہ ”امریکہ اور آسٹریلیا کی عدالتیں کسی بھی قسم کی پابندی سے پاک‘ غیر مبہم الفاظ میں مذہب کی آزادی کا اعلان کر چکی ہیں“ درج ذیل رائے کا اظہار کیا:
”آرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کی زبان بڑی حد تک صاف ہے جس سے ہم غیر ملکی استاد کی مدد کے بغیر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کون سے امور مذہب کے دائرۂ اثر میں آتے ہیں اور کون سے نہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں‘ ہمارے دستور میں مذہب کی آزادی محض مذہبی عقائد تک محدود نہیں بلکہ یہ مذہبی معمولات پر بھی ان پابندیوں کے تابع رہتے ہوئے جو خود دستور نے عائد کی ہیں‘ حاوی ہے۔‘‘
اس کے بعد عدالت نے اس سوال کو لیا کہ آیا بعض معاملات مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اس نتیجہ پر پہنچی۔ ”یہ معاملات یقیناً مذہب سے متعلق نہیں ہیں اور ان احکام کے جواز کی بابت کیا گیا اعتراض سراسر بے بنیاد لگتا ہے۔‘‘ اسی عدالت نے درگاہ کمیٹی بنام حسین علی (اے آئی آر ۱۹۶۱ء ایس سی ۱۴۰۲) میں جو فیصلہ صادر کیا‘ نمبر ۳۳ میں جسٹس گجندر گاڈکر نے خبردار کرتے ہوئے لکھا:
”اس نکتہ پر بحث کرتے ہوئے ایک انتباہی نوٹ لکھنا اور یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ زیر بحث معمولات کو مذہب کا ایک جزو قرار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ مذہب میں انہیں اس مذہب کے لازمی ارکان اور اجزائے تکمیلی سمجھا جاتا ہو‘ ورنہ لادینی معمولات کو بھی جو کہ مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو نہیں‘ مذہبی روپ دیا جا سکتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مذہبی معمولات سمجھا جائے۔ اسی طرح ایسے معمولات بھی ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں جو محض وہمی عقائد کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اور اس مفہوم میں وہ غیر متعلقہ اور غیر ضروری ہیں تاوقتیکہ ایسے معمولات کسی مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ثابت نہ کیے جائیں‘ ان کے تحفظ کے بارے میں دعویٰ کا احتیاط سے جائزہ لینا ہوگا۔ بالفاظ دیگر یہ تحفظ ایسے مذہبی معمولات تک محدود ہونا چاہیے جو اسی مذہب کے لازمی اور تکمیلی اجزا ہوں‘ دوسروں کے لیے نہیں۔‘‘
اسی عدالت نے جگ دیش آنند بنام پولیس کمشنر کلکتہ (اے آئی آر ۱۹۸۴ء ایس سی ۵۱) میں قرار دیا ہے: ”عدالتوں کو یہ طے کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ آیا کسی خاص رسم یا رواج کو کسی مخصوص مذہب کے احکام کی رو سے اس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔“
جیسا کہ ہم غیر ملکوں کی لادینی عدالتوں کے فیصلوں میں دیکھ چکے ہیں کہ اگرچہ مذہبی معمولات کو ”مذہبی آزادی“ کے پردے میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس کے تحت صرف ایسے معمولات آتے ہیں جو مذہب کے لازمی اور تکمیلی ارکان ہوں۔ مزید قرار دیا گیا ہے کہ اس امر کا تعین کرنا عدالتوں کا کام ہے کہ آیا کوئی خاص عمل مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ہے یا نہیں؟ معاملہ کی اس نوعیت کے پیش نظر ان معمولات کو اس طرح عدالت کے اطمینان کے لیے مستند مذہبی حوالوں سے اسی طرح بیان کرنا اور ثابت کرنا ہوگا۔
اس لیے اپیل کنندگان کو پہلے ان معمولات کی تفصیل بتانی چاہیے تھی جو وہ صد سالہ جشن کے موقع پر ادا کرنا چاہتے تھے پھر یہ ثابت کرنا چاہیے تھا کہ وہ معمولات ان کے مذہب کے ناگزیر اور تکمیلی اجزا ہیں۔ اس کے بعد ہی عدالت ایسا اعلان کر سکتی تھی کہ ان معمولات کی ادائیگی میں متنازعہ حکم یا انتظامی احکام کے تحت غیر قانونی رکاوٹ ڈالی گئی تھی۔ اپیل کنندگان کو یہ وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ القابات وغیرہ اور مختلف تقریبات جو وہ منانا چاہتے تھے ان کے مذہب کا جزو لاینفک ہیں اور یہ کہ انہیں صرف اعلانیہ یا لوگوں کی نظروں کے سامنے سڑکوں اور گلیوں میں عام مقامات پر ہی منایا جا سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر متنازعہ قانون، قانون سازی کا جائز جزو ہے اور مسئول الیہان نے متنازعہ کارروائی امن و امان کے مفاد میں کی تھی تو جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ وہ اقدامات بدنیتی سے کیے گئے یا حقیقی جواز کے بغیر تھے بنیادی حقوق کی پامالی کا سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس نکتے پر لاگو ہونے والے قانون کی عدالتوں میں خاصی تشریح ہو چکی ہے۔ اس لیے ان کا حوالہ دینا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔
چیف جسٹس لاتھم (Latham) نے جیہوواہ (Jehovah) کے گواہوں سے متعلق مقدمہ بعنوان "Adelaide vs Commonwealth" میں جس کا حوالہ پہلے دیا جا چکا ہے آسٹریلوی دستور کی دفعہ ۱۱۶ کے مندرجات کو زیر بحث لاتے ہوئے جو دیگر باتوں کے علاوہ حکومت کو ”کسی مذہب پر آزادانہ عمل کرنے“ سے روکنے کی ممانعت کرتے ہیں درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا:
- (۱) دفعہ ۱۱۶ اقلیتوں خصوصاً غیر مقبول اقلیتوں کے مذہب (یا اس کی عدم موجودگی) کا بچاؤ
کرتی ہے (صفحہ ۱۲۳) گو یہ درست ہے کہ اس بات کا تعین کرتے وقت کہ مذہب کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ لفظ مذہب پر لازماً غور کرنا چاہیے۔
- (۲) دفعہ ۱۱۶ معمولات
- (۳) جہاں تک مذہب
ہے۔ آزادی کے تصور کو محض ایک ط تقریر کے یہ معنی نہیں کہ پُرہجوم جگہ پر اسی طرح جیسا کہ مختلف امریکی مقد عقائد کی بناء پر اختیار نہیں دیتا کہ وہ ق
- (۴) ہائیکورٹ اُس وقت
مذہبی آزادی میں ناجائز طور پر خلل ا انتشار میں مبتلا کیے بغیر عملی اقدام کی ص اس لیے عدالت نے قرار د حکومت سے عدم تعاون کے لیے جو ا دفعہ ۱۱۶ نے اسے تحفظ فراہم نہیں کیا ب کرنے والے قانون کو مذہبی آزادی ک جسٹس ہگس (Hughes) re (1941 - 312 U.S. 569) قانون جو عام گلیوں کو پریڈ یا جلوس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کریں کسی تصور نہیں ہو گا جب اس کا اطلاق ایسے اُٹھائے ایک قطار میں فٹ پاتھ پر مار ہم نے مذکورہ بالا نقطہ نظر ک ہونے کے مدعی ہیں مذہبی یا کٹر مذہب و دیگران بنام ریاست بہار (اے آئی اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ بعض قو گئی ہے مسلمانوں کو آرٹیکل ۲۵ کے تح دعویٰ کی تائید میں کوئی مواد موجود نہیں ہے یا مسلمانوں کے لیے اپنے عقیدہ و پسندیدہ بات ہے۔ اسی عدالت نے Commissione of Police,
(۲) دفعہ ۱۶ معمولات کے ساتھ ساتھ عقائد کا تحفظ بھی کرتی ہے۔ (۳) جہاں تک مذہب پر آزادانہ عمل کا تعلق ہے ”آزادانہ“ سے ”کھلی چھٹی“ مراد نہیں ہے۔ آزادی کے تصور کو محض ایک خاص سیاق و سباق میں پرکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آزادانہ تقریر کے یہ معنی نہیں کہ پُر ہجوم جگہ پر ”آگ آگ“ کا شور مچا کر لوگوں میں اضطراب پھیلا دیا جائے اسی طرح جیسا کہ مختلف امریکی مقدمات سے ظاہر ہے مذہب پر آزادانہ عمل افراد کو ان کے مذہبی عقائد کی بناء پر اختیار نہیں دیتا کہ وہ ملکی قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ (۴) ہائیکورٹ اُس وقت ثالثی کے فرائض انجام دیتی ہے جب مقننہ کا بنایا ہوا کوئی قانون‘ مذہبی آزادی میں ناجائز طور پر خلل ڈالتا ہے۔ اس طرح مذہب کی حفاظت کے لیے معاشرے کو انتشار میں مبتلا کیے بغیر عملی اقدام کی منظوری دینا ممکن ہو جاتا ہے۔“
اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ جیہوواہ کے گواہوں نے فوجی ذمہ داری کے معنوں میں حکومت سے عدم تعاون کے لیے جو اصول بیان کیا‘ وہ معاشرے کے دفاع کے لیے ضرر رساں تھا اور دفعہ ۱۱۶ نے اسے تحفظ فراہم نہیں کیا۔ پس وہاں جو اصول وضع کیا گیا وہ یہ ہے کہ سول فرائض عائد کرنے والے قانون کو مذہبی آزادی میں خلل ڈالنے والا قانون نہیں کہا جا سکتا۔
جسٹس ہگس (Hughes) نے بھی مقدمہ بعنوان Willis Cox Vs. New Hampshire (1941 - 312 U.S. 569) میں اس اصول کو اس طرح بیان کیا ہے: ”کوئی قانون جو عام گلیوں کو پریڈ یا جلوس کے لیے استعمال کرنے والے افراد سے تقاضا کرتا ہو کہ اس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کریں‘ کسی مذہبی عبادت یا مذہب پر عمل میں کوئی خلاف دستور مداخلت تصور نہیں ہوگا جب اس کا اطلاق ایسے گروہ پر کیا جائے جو مذہبی عقائد پر مشتمل پلے کارڈز اور نشانات اُٹھائے ایک قطار میں فٹ پاتھ پر مارچ کر رہا ہو۔“
ہم نے مذکورہ بالا نقطۂ نظر کی حمایت میں ایسے ممالک کا حوالہ دیا جو لا دین اور معتدل مزاج ہونے کے مدعی ہیں‘ مذہبی یا کٹر مذہب پرست نہیں ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے محمد حنیف قریشی و دیگران بنام ریاست بہار (اے آئی آر ۱۹۵۸ء ایس سی ۷۳۱) نامی مقدمہ میں انہی اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ بعض قوانین سے جن کے تحت بعض جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے‘ مسلمانوں کو آرٹیکل ۲۵ کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی کیونکہ اس دعویٰ کی تائید میں کوئی مواد موجود نہیں کہ بقر عید کے روز مسلمانوں کے لیے گائے کی قربانی کرنا لازمی ہے یا مسلمانوں کے لیے اپنے عقیدہ و نظریہ حیات کے اظہار کے لیے ایسا کرنا اسلام کی رو سے کوئی پسندیدہ بات ہے۔
اسی عدالت نے مقدمہ زیر عنوان A c h a r y a Jagdishwaranandavadhutta etc. Vs Commissioner of Police,
Calcutta. (AIR 1984 S.C. 51) Avadhutta میں قرار دیا تھا کہ ”اگر اس بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ ”تنداوا“ (Tandava) رقص کو آنند مارگ کے ہر پیروکار کے لیے مذہبی حق کے طور پر مقرر کیا گیا ہے‘ تب بھی اس کا یہ لازمی نتیجہ نہیں نکلتا کہ تنداو ارقص کو عام پبلک میں پیش کرنا مذہبی رسم کا حصہ ہے۔ پس یہ دعویٰ کہ درخواست گزار کو دستور کے آرٹیکل ۲۵ یا ۲۶ کے مفہوم میں عام گلیوں اور عام مقامات پر ایسا رقص کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے‘ قابل استرداد ہے۔“
امریکی عدالتوں نے اسی طرح کی صورتوں کی بابت قرار دیا کہ اس سے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جناب شریف الدین پیرزادہ نے اپنی تصنیف "Fundamental Rights and Consitutional Remedies in Pakistan" (Edition 1966) صفحہ ۳۱۴۔۳۱۳ اور ۳۱۷ پر لکھا ہے:
- (i) ”مقدمہ بعنوان Hamilton Vs. Board of Regents of
University of California." (1934, 293, U.S. 245) میں طلباء نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ یونیورسٹی کی طرف سے لازمی فوجی تربیت کے بارے میں بنایا گیا قانون‘ ان کے مذہبی عقیدہ کے منافی ہے۔ تو عدالت نے ان کے دعویٰ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ”حکومت پر عوام کی طرف سے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے اندر رہتے ہوئے امن و امان قائم رکھنے اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کی غرض سے اپنے لیے معقول قوت بہم پہنچائے۔ اسی طرح ہر شہری پر اس کی صلاحیت کے مطابق یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تمام دشمنوں کے مقابلہ میں حکومت کی مدد اور اس کا دفاع کرے۔“
- (ii) بنیادی حقوق کے عذر کو مقدمہ زیر عنوان Commonwealth Vs.
Plaisted" (1889. 148 Mass, 375) میں میساچوسٹس کی سپریم کورٹ نے ایسے معاملہ میں مسترد کر دیا تھا جس میں گلیوں کو مذہبی اجتماعات کے لیے استعمال کرنے یا ڈرم بجانے پر قانوناً پابندی تھی حالانکہ وہ بعض تنظیموں مثلاً مکتی فوج کی مذہبی رسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔
- (iii) جہاں کوئی قانون کسی شخص سے یہ تقاضا کرے کہ وہ بیمار بچہ کو طبی علاج بہم پہنچائے
خواہ وہ والدین کے مذہبی عقائد سے مطابقت نہ رکھتا ہو‘ تب بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔
- (iv) مذہبی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سلوک میں مطلق مساوات برتی جائے۔
حقیقتاً چرچ آف انگلینڈ کی خصوصی حیثیت کا خیال رکھنا لازمی ہوگا۔ دیکھئے The United" Kingdom" by G.W. Keeton and D.Leoyed, pp. 67-68"
مذکورہ بالا موقف سے جو کہ محولہ بالا ملکوں میں عام پایا جاتا ہے‘ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذہبی آزادی کو امن و امان یا امن عامہ اور سلامتی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ موقف اس اصول پر مبنی ہے کہ ریاست کسی کو اپنے حقوق سے استفادہ کرتے وقت دوسروں کے بنیادی حقوق
کی خلاف ورزی یا سلب کرنے کہ کسی دوسرے طبقہ کے مذہـ احساسات کو مشتعل کرے یہاں کہیں ریاست یہ باور کرنے کی مـ جذبات مجروح ہوں گے جس سـ انسدادی اقدامات بروئے کار لاـ
مسلمانوں کا خیال ہـ تخلیق اس کی نظریاتی سرحدوں پر لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہیں کـ ایسی صورتحال میں احمدیوں کی طرـ جسے مسلمان اپنی مقدس ہستیوں کی اور قومی امن و سلامتی کے لیے خطـ ماضی میں بارہا ہو چکا ہے۔
کی خلاف ورزی یا سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور یہ کہ کسی کو اس امر کی چھٹی نہیں دی جا سکتی کہ کسی دوسرے طبقہ کے مذہب کی توہین کرے‘ نقصان پہنچائے یا بے حرمتی کرے یا ان کے مذہبی احساسات کو مشتعل کرے یہاں تک کہ امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جائے اس لیے جب کہیں اور جہاں کہیں ریاست یہ باور کرنے کی وجوہ رکھتی ہو کہ امن وامان خراب ہو جائے گا یا دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے جس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے تو وہ مجاز ہے کہ ایسے کم سے کم انسدادی اقدامات بروئے کار لائے جو قیام امن وامان کے لیے ضروری ہوں۔
مسلمانوں کا خیال ہے کہ انگریزی راج کے دوران مسلم معاشرہ میں احمدیہ جماعت کی تخلیق اس کی نظریاتی سرحدوں پر ایک سنگین اور منظم حملہ ہے‘ وہ اس تنظیم کو اپنی سلامتی و یک جہتی کے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ مسلم معاشرہ کی سماجی و سیاسی تنظیم کی بنیاد اس کے مذہب پر ہے‘ ایسی صورتحال میں احمدیوں کی طرف سے مذکورہ بالا القابات و اصطلاحات کا ایسے طریقہ سے استعمال جسے مسلمان اپنی مقدس ہستیوں کی توہین اور بے حرمتی پر محمول کرتے ہیں‘ وہ اُمت کے اتحاد و یک جہتی اور قومی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے جو امن و امان کی صورتحال کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بارہا ہو چکا ہے۔
مرتب: مولانا اللہ وسایا
قومی اسمبلی میں مذہبی آزادی کے حوالے سے دلچسپ بحث
(------- پارلیمنٹ کی کارروائی سے -------)
آپ نے ۲۱ جون کے خطبہ جمعہ میں کہا کہ ہر شخص اپنے مذہب کی صراحت کرنے میں آزاد ہے، کوئی طاقت، کوئی حکومت اس حق کے استعمال میں دخل نہیں دے سکتی۔ یہی آئین کی دفعہ ۲۰ کا تقاضا ہے۔ یہ آپ نے کہا ہے؟
مرزا ناصر: جی میری تقریر ہے، مذہبی آزادی ہے، دفعہ ۲۰ کے تحت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔
اٹارنی جنرل: اسمبلی یا حکومت بھی؟
مرزا ناصر: کوئی بھی۔
اٹارنی جنرل: ایک آدمی جھوٹ بولتا ہے، جان بچانے کے لیے، کیا اسے بھی دفعہ ۲۰ اجازت دیتی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہے۔ کیا جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز نہیں؟
مرزا ناصر: میرے نزدیک جائز نہیں۔
اٹارنی جنرل: بہت اچھا! اب جھوٹ بولنا جائز نہیں مگر کیا ایک آدمی جھوٹ کے طور پر اپنا مذہب غلط بتاتا ہے تو کیا دفعہ ۲۰ کا معنی یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہے اس لیے کہ مذہبی آزادی ہے؟
مرزا ناصر: آپ کو کیسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟
اٹارنی جنرل: مثلاً میں کالج کا پرنسپل ہوں، اقلیت کے کوٹہ سے سیٹ لینے کے لیے ایک مسلمان خود کو غیر مسلم ظاہر کرتا ہے اب آپ کے نزدیک دفعہ ۲۰ کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب کے اظہار کی اجازت ہے۔ لہٰذا وہ جھوٹ بولے تو میں کوئی کارروائی نہ کروں۔ اچھا آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے مذہبی آزادی کے حوالہ سے دستور کے کچھ حصے اپنی تقریر میں پڑھے ہیں۔ میں یہاں مودبانہ طریقہ سے آپ سے پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری دفعہ کو بیان کیا ہے یا اس دفعہ کا کچھ حصہ آپ بھول گئے ہیں؟
مرزا ناصر: میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں موجود ہے۔
اٹارنی جنرل: شکریہ! وہ حصہ؟
مرزا ناصر: قانون اور اصول کی شرط پر۔
اٹارنی جنرل: جی ہاں اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہ
مرزا ناصر: ظاہر ہے،
اٹارنی جنرل: اب ا برآری کے لیے تو اب اس پر پابند
مرزا ناصر: کسی کو حق نہیں
چیئرمین: دیکھیں سوا جواب اور سوال مطابق ہونا چاہیے
اٹارنی جنرل: ہر شخص اب وہ غلط بیانی کریں، مذہب کے
مرزا ناصر: دغا بازی کا
چیئرمین: سوال کا جوا
اٹارنی جنرل: بات ا اب جناب گواہ کی اس بارے میں
مرزا ناصر: میں ایسے آ
اٹارنی جنرل: مگر آپ
مرزا ناصر: میں مذمت
چیئرمین: چھوڑیئے (ا
اٹارنی جنرل: ایک فر پرنسپل اس میں مداخلت کر سکتا ہے یا
مرزا ناصر: دیکھیں ناں
اٹارنی جنرل: تو غلط فہ بیانی اور جھوٹ سے حاصل کر لے گا
مرزا ناصر: جی کوئی حر نہ کریں۔
اٹارنی جنرل: صرف کا روکا، تو جس کا حق مارا گیا، وہ عدالت حق مارا ہے تو کیا عدالت مداخلت کر س
مرزا ناصر: شخص مرزا ناصر: ایک شخص اصر : ایک شخص ناصر: ایک شخص مذہب
اٹارنی جنرل: جی ہاں! مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے قانون‘ اخلاقیات اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہے ناں؟
مرزا ناصر: ظاہر ہے یہ ہے۔
اٹارنی جنرل: اب ایک آدمی غلط بیانی سے اپنا مذہب غلط ظاہر کرتا ہے‘ غلط مقاصد کی برآری کے لیے تو اب اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: کسی کو حق نہیں کہ مذہب کی آزادی پر پابندی لگائے۔
چیئرمین: دیکھیں سوال کے مطابق جواب آنا چاہیے۔ چاہے گواہ اس سے متفق ہو یا نہ مگر جواب اور سوال مطابق ہونا چاہیے۔ وکیل صاحب کے سوال کا جواب دیں۔
اٹارنی جنرل: سر‘ متفق نہ ہونے کا سوال نہیں‘ دنیا میں ہزاروں دھوکے باز پھرتے ہیں۔ اب وہ غلط بیانی کریں‘ مذہب کے بارے میں تو پابندی لگائیں گے یا نہ؟
مرزا ناصر: دغا باز کی ملامت کرنی چاہیے۔
چیئرمین: سوال کا جواب آنا چاہئے‘ جواب سوال کے مطابق نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل: بات اظہار کی ہے‘ ایک شخص عمداً جھوٹا بیان دیتا ہے‘ اپنے مادی نفع کے لیے‘ اب جناب گواہ کی اس بارے میں رائے کیا ہے؟ جناب اگر آپ جواب نہ دینا چاہیں تو آپ کی مرضی۔
مرزا ناصر: میں ایسے آدمی کو پسندیدہ نہیں سمجھتا۔
اٹارنی جنرل: مگر آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت پابندی......؟
مرزا ناصر: میں مذمت کرتا ہوں اس نوجوان کی جو دستاویزات میں جعل سازی کرتا ہے۔
چیئرمین: چھوڑیئے (اصل سوال کا جواب گول کر رہے ہیں)
اٹارنی جنرل: ایک لڑکے نے اپنے مذہب کا غلط ڈیکلریشن جھوٹا داخل کرایا‘ اب کالج پرنسپل اس میں مداخلت کر سکتا ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: دیکھیں ناں پرنسپل مداخلت نہ کرے۔
اٹارنی جنرل: تو غلط ڈیکلریشن دے کر عیسائی اقلیت کی سیٹ کا حق ایک مسلمان شخص غلط بیانی اور جھوٹ سے حاصل کر لے گا تو کوئی حرج نہیں؟
مرزا ناصر: جی کوئی حرج کی بات نہیں۔ کالج کا مسئلہ ہے‘ آپ اسے دوسرے پر قیاس نہ کریں۔
اٹارنی جنرل: صرف کالج کی نہیں‘ یہ بات تو عدالت میں بھی جائے گی کہ پرنسپل نے نہیں روکا‘ تو جس کا حق مارا گیا‘ وہ عدالت میں رٹ دائر کرے گا کہ اس نے غلط بیانی سے جھوٹ سے میرا حق مارا ہے تو کیا عدالت مداخلت کر سکتی ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: ایک شخص مذہب کے متعلق غلط بیانی کرتا ہے تو عدالت کیوں مداخلت کرے؟
اٹارنی جنرل: تو جھوٹ بول کر لوگوں کے حقوق کھاتے جائیں اسمبلی یا عدالت قانون کی پاسداری نہ کرے؟
مرزا ناصر: ایک شخص خود کو مسلمان کہتا ہے۔
اٹارنی جنرل: مگر زکوٰۃ کا منکر ہے اور خود کو مسلمان کہتا ہے؟
مرزا ناصر: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اٹارنی جنرل: جیسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں مانعین زکوٰۃ نے کیا؟
مرزا ناصر: وہ مسلمان نہیں ہے۔ پانچ ارکان میں سے کسی ایک کا منکر بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔
اٹارنی جنرل: اس کو اسلام سے کس نے نکالا؟
مرزا ناصر: وہ خود نکلا۔
اٹارنی جنرل: ایک شخص خود کو مسلمان بھی کہتا ہے اور اسلام کے بنیادی ارکان کا منکر بھی ہے تو وہ؟
مرزا ناصر: تو وہ خود کو کیسے مسلمان کہہ سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل: مگر اس کے باوجود وہ کہتا ہے؟
مرزا ناصر: وہ کہہ نہیں سکتا۔
اٹارنی جنرل: ایک شخص قرآن کریم کی بعض آیات کا انکار کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں؟
مرزا ناصر: آپ اس کو کیسے مسلمان کہہ سکتے ہیں؟ وہ تو قرآن کا انکار کر رہا ہے اور قرآن کو نہیں مانتا۔ دیکھئے میرے دل میں اس ہاؤس کا اتنا احترام ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا لیکن میں کہنے کی جرأت کروں گا کہ آپ اتنی مثالیں نہ دیں ہم کسی نتیجہ پر نہ پہنچیں گے۔
اٹارنی جنرل: میں بھی ایوان کے احترام اور فرض کی بجا آوری میں کہتا ہوں کہ دیکھئے ارکان اسلام میں سے کسی ایک کا انکار کرتا ہے انکار عملی یا کلامی لیکن خود کو مسلمان کہتا ہے تو؟
مرزا ناصر: جو ارکان اسلام کو مانے جس طرح ہم اس کو مسلمان کہتے ہیں اسی طرح کسی ایک کے منکر کو غیر مسلم کہنا پڑے گا۔
اٹارنی جنرل: گویا آپ کو حق ہے کہ آپ کسی کو غیر مسلم کہیں باوجود اس کے کہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہے؟
مرزا ناصر: میرا پوائنٹ یہ ہے کہ خود اعلان کرتا ہے کہ میں مسلمان نہیں۔
اٹارنی جنرل: اگر وہ اعلان نہ کرے؟
مرزا ناصر: وہ اپنے عمل سے اعلان کر رہا ہے۔
اٹارنی جنرل: گویا وہ خود کافر ہو گیا؟
مرزا ناصر: جی بالکل۔
اٹارنی جنرل: میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ضروریات اسلام میں سے ایک کا منکر ہو گیا‘ اس کو مسلمان آپ کہہ سکتے ہیں؟
مرزا ناصر: وہ تو کافر ہو گا مگر ہمیں دخل کی ضرورت نہیں۔
اٹارنی جنرل: ایک اسرائیل کا یہودی جاسوسی کے لیے جھوٹا مسلمان ہونے کا ڈیکلریشن دے کر بلجیم سے سعودیہ آ کر مقامات مقدسہ میں داخل ہو جاتا ہے‘ اسے سعودی حکومت کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: وہ تو جاسوس ہے اس لیے گرفتار ہو گا‘ نہ کہ غیر مسلم کی بنیاد پر۔
اٹارنی جنرل: گویا غلط ڈیکلریشن کی بنیاد پر گرفتار نہ ہو گا؟
مرزا ناصر: گرفتار ہو گا کہ غلط ڈیکلریشن کیوں دیا؟
اٹارنی جنرل: بہت شکریہ مگر غلط ڈیکلریشن ہے یا صحیح اس کی تمیز اور فرق کون اتھارٹی کرے گی؟
مرزا ناصر: ڈیکلریشن کا یا مذہب کا؟
اٹارنی جنرل: ڈیکلریشن جس میں مذہب کا استعمال غلط کیا گیا۔ غیر مسلم ہو کر خود کو مسلمان کہلوایا‘ ڈیکلریشن میں جھوٹ ہے۔ اس جھوٹ پر پکڑ دھکڑ کا کسی اتھارٹی کو حق ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: جی۔
اٹارنی جنرل: ایک شخص سعودی عرب جاتا ہے اور وہ دراصل یہودی یا عیسائی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ مکہ مدینہ سوائے مسلمان کے کوئی نہیں جا سکتا۔ وہ ان کو دیکھنے کا شوقین ہے‘ غلط ڈیکلریشن دے کر جاتا ہے۔ معلوم ہونے پر گرفتار کر لیں تو وہ کہے کہ جناب مذہبی آزادی ہے جو میں نے کہا کہ اس میں دخل نہ دیں تو اس کا یہ بہانہ وعذر درست ہو گا؟
مرزا ناصر: اس کی نیت دیکھیں گے۔
اٹارنی جنرل: ویسے ظاہری طور پر؟
مرزا ناصر: مجرم ہے۔
اٹارنی جنرل: شکریہ! ایک شخص یہودی ہو کر مسلمان کہلائے تو مجرم‘ اس لیے کہ غلط ڈیکلریشن دیا۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری آزادی سلب کر لی گئی؟
مرزا ناصر: جی نہیں کہہ سکتا۔
اٹارنی جنرل: اتھارٹی یا کورٹ مداخلت کر سکتی ہے؟
مرزا ناصر: جی! کر سکتی ہے۔
اٹارنی جنرل: دیکھئے مذہبی آزادی کی طرح آئین میں ہر شخص کو بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ دفعہ نمبر ۱۸ کے تحت تجارت کر سکتا ہے۔ تجارت‘ کاروبار‘ بزنس کی ہر شخص کو اجازت ہے؟
مرزا ناصر: اجازت ہے۔
اٹارنی جنرل: مگر کیا مطلق اجازت ہے یا قیود و شرائط ہیں؟
مرزا ناصر: مطلق اجازت ہے۔
اٹارنی جنرل: چرس، سمگلنگ، ہر چیز کی اجازت ہے، اس لیے کہ جو یہ کام کرے گا، وہ کہے گا یہ تجارت ہے اور تجارت کی آزادی بنیادی حق ہے؟
مرزا ناصر: نہیں! ان کی اجازت نہیں۔
اٹارنی جنرل: تو کاروبار کی ان قیود کے ساتھ اگر کوئی قانون مقرر کرے، ہر شہری کو حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی جائز پیشہ یا کام اختیار کرے یا کوئی مجاز تجارت یا بزنس کرے۔ یہ دفعہ نمبر ۱۸ ہوا؟
مرزا ناصر: شرائط و قیود ہوں گی۔
اٹارنی جنرل: تو بنیادی حقوق پابندیوں سے مشروط ہیں، کچھ حدود ہیں ۔ وہ مطلق العنان نہیں؟
مرزا ناصر: جی نہیں۔
اٹارنی جنرل: ہر آدمی ڈاکٹری پریکٹس، وکالت نہیں کرسکتا حالانکہ یہ بھی کاروبار ہے مگر شرائط ہیں؟
مرزا ناصر: ان چھوٹی باتوں میں نہ الجھیں، چلیے۔
اٹارنی جنرل: کاروبار کی اجازت ہے، صابن بنانا، لیور برادرز والے بناتے ہیں۔ میں اپنی کمپنی کا نام لیور برادر رکھوں، وہی لیبل چھاپ لوں ان جیسا صابن کا رنگ اختیار کروں تو کیا لیور برادرز کو اعتراض نہ ہوگا۔ اگر ہوگا تو وہ مجاز اتھارٹی یا کورٹ میں جاسکتی ہے یا نہ؟
مرزا ناصر: جاسکتی ہے، ان کو جانا چاہیے۔
اٹارنی جنرل: کورٹ شہادت لے کر مجھے روک سکتا ہے، میرے پر پابندی لگا سکتا ہے۔ فرم کا نام تبدیل کرنا ہوگا، لیبل تبدیل کرنا ہوگا تو تجارت کی آزادی ہے مگر قیود کے ساتھ؟
مرزا ناصر: آپ غلط، تنگ اور کیچڑ والے راستے پر چل پڑے ہیں۔
اٹارنی جنرل: میں صحیح راستہ پر آرہا ہوں۔
مرزا ناصر: مگر میں سیدھا آدمی ہوں، یہ مثالیں غیر متعلق ہیں۔
چیئرمین: یہ کام کمیشن کا ہے یا چیئرمین کا کہ وہ مثالوں کو غیر متعلق کہے یا متعلق، آپ سوالات کے جوابات دیں۔
مرزا ناصر: مگر غیر متعلق ہوں تو ۔
چیئرمین: یہ ہم پر چھوڑیں، غیر متعلق ہوئے تو ہم اٹارنی کو روک دیں گے۔
اٹارنی جنرل: تو کاروبار پر حکومت کی شرائط و پابندیاں جائز اور قابل تسلیم ہیں یا نہ؟
مرزا ناصر: حکومت کی پابندی قابل تسلیم ہوگی‘ حکومت کی اطاعت ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل: آپ کے نزدیک ہر حکومت کی اطاعت ضروری ہے۔ ایک حکومت اگر اسلام کے خلاف حکم دے تو؟
مرزا ناصر: کیسے دے؟
اٹارنی جنرل: وہ کہے کہ گائے ذبح نہ کرو۔
مرزا ناصر: تو گائے کے بجائے دنبہ ذبح کرو۔
اٹارنی جنرل: مگر ایک قصائی جس کا یہ پیشہ ہے‘ وہ کہے میرے آزادی پیشہ پر اثر پڑتا ہے تو؟
مرزا ناصر: وہ بھی بکری کا گوشت کرے۔
اٹارنی جنرل: تو گویا حکومت کا یہ حکم بھی مان لے؟
مرزا ناصر: میں جاہل آدمی ہوں‘ مجھے آپ کی دلیل سمجھ نہیں آئی۔
اٹارنی جنرل: جہاں جو ہے ٹھیک ہے؟
مرزا ناصر: کلیش نہ کریں‘ ہمارا کسی سے کلیش نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل: کسی بھی حکومت سے یا کسی بھی مسلمان سے؟
مرزا ناصر: یہ پھر دوسرا مسئلہ آ جاتا ہے۔
اٹارنی جنرل: آدمی کتنی شادیاں کر سکتا ہے؟ چار‘ مگر امریکہ میں اس کی اجازت نہیں تو گویا مذہبی آزادی وہاں کے قانون کے تابع ہوگی؟
مرزا ناصر: اگر کر لے تو پھر۔
اٹارنی جنرل: کیس چلے گا‘ وہ کورٹ میں کہے گا کہ مذہبی آزادی کے باعث کیا۔ کورٹ پانچ یا سات سال کے لیے جیل بھیج دے گی کہ تم نے بوجہ جرم کثیر الازواجی سوسائٹی کو خراب کیا؟
مرزا ناصر: تو پھر۔
اٹارنی جنرل: جیل میں (قہقہہ) ہم اس قدر مذہبی آزادی کو تسلیم نہیں کرتے‘ پھر حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے؟
مرزا ناصر: آپ مثال کیسے دے رہے ہیں؟
اٹارنی جنرل: یہ ہوتا رہا ہے۔
مرزا ناصر: یہ مذہب کی روایات کے مطابق ہے۔
اٹارنی جنرل: ہندوؤں میں تو ساری روایات ہی کا نام مذہب ہے۔ مثلاً تھر پارکر کی ایک ہندو عورت کہتی ہے کہ میں خاوند کے ساتھ ”ستی“ کرنا چاہتی ہوں‘ اس کے ساتھ جل مرنا چاہتی ہوں تو کیا اس روایت پر عمل کی اجازت دے دی جائے؟
مرزا ناصر: میں ”سنی“ کے قانون کو نہیں جانتا۔
اٹارنی جنرل: وہ اس پر عمل پیرا تھے روایات تھیں ان کے مذہب کی۔
مرزا ناصر: آپ اسلام کی مثالیں دیں۔
اٹارنی جنرل: میں نے فرض کیا‘ کے تحت عرض کیا تھا۔
مرزا ناصر: آپ فرض کر کے بہت دُور چلے جاتے ہیں۔
اٹارنی جنرل: میں اور سوال کرنا چاہوں گا۔ آپ نے کہا کہ جونسا چاہیں مذہب اختیار کر سکتے ہیں۔ اختیار کر سکتے ہیں یا نیا مذہب شروع بھی کر سکتے ہیں کیونکہ مذہب بنانے کی آزادی ہے؟
مرزا ناصر: جی بالکل! یہ انسانی حقوق کا ہمہ گیر منشور ہے لیکن ہمہ گیر الحاد کو بطور مذہب انہوں نے لے لیا ہے۔
اٹارنی جنرل: تو گویا ہر ایک نیا فرقہ‘ نیا مذہب بنانے کی اجازت ہونی چاہیے؟
مرزا ناصر: ہونی چاہیے۔
اٹارنی جنرل: مثلاً یہی ہیں‘ کہیں کہ ہمارا یہ حلیہ ہوگا‘ جو ان کا آپ دیکھتے ہیں۔ کہیں کہ ہر آدمی ننگا رہے گا‘ اس لیے کہ ننگا پیدا ہوتا ہے ماں سے پیدا ہوتا ہے تو ماں سے شادی بھی کر سکتا ہے۔ ماں سے کئی بچے پیدا ہوتے ہیں تو کئی ایک سے نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ پھر کہے انسانیت کی خاطر انسان کی قربانی جائز ہے۔ انسان کو مارنا انسانیت کے لیے ٹھیک ہے؟
مرزا ناصر: کیا پاکستان میں ایسا پرابلم ہے؟
اٹارنی جنرل: فرض کریں‘ وہ کہیں کہ ہم عیسائی ہیں تو کیا عیسائی حکومت ان میں دخل اندازی کر سکتی ہے؟
مرزا ناصر: اخلاقیات کے تحت۔
اٹارنی جنرل: تو آپ نے تسلیم کر لیا کہ اخلاقیات کے تحت پابندی لگائی جا سکتی ہے؟
مرزا ناصر: جی ہاں‘ اخلاقیات کے تحت میں تسلیم کرتا ہوں۔
اٹارنی جنرل: تو بشرط اخلاقیات اور بشرط امنِ عامہ؟
مرزا ناصر: جی ہاں۔
اٹارنی جنرل: تو آزادی مذہب پر بھی پابندی عائد ہو سکتی ہے؟
مرزا ناصر: ہاں‘ ہو سکتی ہے مگر ان پر مدبّرانہ طور پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
اٹارنی جنرل: اور ان پابندیوں کے جانچنے کا معیار؟
مرزا ناصر: مجاز اتھارٹی کے پاس۔
اٹارنی جنرل: ہر شخص مذہبی آزادی کو استعمال کر سکتا ہے تاوقتیکہ دوسروں پر اثر انداز نہ ہو یا دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کرے؟
مرزا ناصر: جی ہاں!
اٹارنی جنرل: شکریہ
ہے۔ اس کی تمہید میں یہ بات
تعلیمات و ضروریات اسلام کے
مرزا ناصر: مسلمان کے
اٹارنی جنرل: تمام فرقے
مرزا ناصر: تمام مسلما
اٹارنی جنرل: میں ا
سکیں۔ قانون ساز ادارہ پر فرض
مرزا ناصر: قاعدہ کلیہ
اٹارنی جنرل: میں ف
کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو احکام
مرزا ناصر: حق ہے
اٹارنی جنرل: اب آ
کا ریاستی مذہب ہوگا۔ کیا مطلب
مرزا ناصر: حکومت کا
اٹارنی جنرل: بالکل
مرزا ناصر: تو کیا باقی
اٹارنی جنرل: سب کے
مگر امریکہ کا اپنا سرکاری مذہب کوئی
مرزا ناصر: سرکاری مذ
اٹارنی جنرل: بالکل اص
مسلمان ہوں گے؟
مرزا ناصر: یہ بنیادی
اٹارنی جنرل: یہ دستور کا
مرزا ناصر: ہاں حصہ ہے
اٹارنی جنرل: اب ایک
کہ وہ اس عہدے کے لیے الیکشن لڑ
مرزا ناصر: ایسا آدمی نہ ا
مرزا ناصر: جی ہاں! اٹارنی جنرل: شکریہ! اچھا اب دیکھئے آئین پاکستان میں اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا ہے۔ اس کی تمہید میں یہ بات بھی ہے تاکہ مسلمان انفرادی و اجتماعی دائرہ کار میں اپنی زندگیوں کو تعلیمات و ضروریاتِ اسلام کے بموجب گزار سکیں جو کہ قرآن و سنتِ نبوی ...... مرزا ناصر: مسلمان کے تمام فرقے۔ اٹارنی جنرل: تمام فرقے‘ آپ جلدی سے میری بات میں نہ کودیں۔ مرزا ناصر: تمام مسلمان‘ کسی کو خارج نہ کریں۔ اٹارنی جنرل: میں ابھی نہیں کہہ رہا‘ آپ فکر نہ کریں۔ قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قانون ساز ادارہ پر فرض ہے کہ مذہبی امور میں قانون سازی کرے‘ کیا ایسا نہیں ہے؟ مرزا ناصر: قاعدہ کلیہ نہ بنائیں پھر آپ کہیں اور لے جائیں گے۔ اٹارنی جنرل: میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ چونکہ مقننہ کو قانون سازی کرنی ہے‘ اس مقصد سے کہ مسلمان اپنی زندگیوں کو احکامِ اسلامی کے مطابق بنا کر رہ سکیں۔ یہ حق ہے یا نہیں‘ قانون سازی کا؟ مرزا ناصر: حق ہے‘ قانون بنانے کا حق رکھتے ہیں‘ میں بالکل مانتا ہوں۔ اٹارنی جنرل: اب آپ سے درخواست بصد ادب ہے کہ دفعہ نمبر ۲ میں ہے‘ اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔ کیا مطلب ہے اس کا؟ مرزا ناصر: حکومت کا مذہب اسلام ہوگا۔ اٹارنی جنرل: بالکل صحیح۔ یہ کہ حکومت یا ریاست مذہب کے مفاد کی ذمہ دار ہے؟ مرزا ناصر: تو کیا باقی لوگ ...... اٹارنی جنرل: سب کے حقوق کا خیال‘ جیسے امریکہ میں تمام کے حقوق کا خیال کیا جاتا ہے مگر امریکہ کا اپنا سرکاری مذہب کوئی نہیں جبکہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے؟ مرزا ناصر: سرکاری مذہب مگر دیگر کے ساتھ انصاف۔ اٹارنی جنرل: بالکل انصاف رعایت۔ دفعہ نمبر ۴۱ اور نمبر ۹۱ بھی ہے کہ صدر اور وزیراعظم مسلمان ہوں گے؟ مرزا ناصر: یہ بنیادی نہیں۔ اٹارنی جنرل: یہ دستور کا حصہ ہے لازمی ہے۔ ہدایت نہیں لاگو ہے؟ مرزا ناصر: ہاں حصہ ہے‘ لاگو ہے۔ اصولی پالیسی کے تحت ہے‘ جی ہاں۔ اٹارنی جنرل: اب ایک شخص جو ہر دلعزیز ہے‘ مسلمان نہیں ہے‘ مسلمان کا ڈیکلریشن دے کر وہ اس عہدے کے لیے الیکشن لڑنا چاہتا ہے‘ کیا کوئی شخص اس پر اعتراض کر سکتا ہے؟ مرزا ناصر: ایسا آدمی نہ امین ہو سکتا ہے‘ نہ سچا‘ نہ خدا ترس پارسا‘ جھوٹا ڈیکلریشن دے کر‘
ذیل ڈیکلریشن دے کر۔
اٹارنی جنرل: فرض کریں کہ وہ غیر مسلم ہو کر مسلمان کا ڈیکلریشن دے تو پھر؟
مرزا ناصر: اس صورت میں حکومت کو کورٹ میں جانا چاہیے۔
اٹارنی جنرل: یا الیکشن کمشنر کے ہاں؟
مرزا ناصر: جو بھی اتھارٹی ہو آپ بتائیں کہ کاغذات کے لیے کس کے پاس جانا پڑتا ہے۔
اٹارنی جنرل: آپ نے حلف دیا ہے کہ آپ صحیح جواب دیں گے۔
مرزا صاحب چند ایک وضاحت طلب امور کی طرف ممبران نے توجہ دلائی ہے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد اس لیے ۱۹۴۷ء میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے جو احمدیوں کی طرف سے دستخط شدہ یادداشت پیش کی گئی اس میں احمدی فرقہ کی تعداد ۱۹۴۷ء میں دو لاکھ بتائی گئی اور آپ نے صبح کہا کہ ۱۹۰۸ء میں احمدیوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔ پہلے والی تعداد غلط تھی یا بعد والی آپ نے غلط بتائی؟
مرزا ناصر: آپ کے پاس دستاویز ہے؟
اٹارنی جنرل: یہ لیجیے۔
مرزا ناصر: دیکھ کر (خاموش) اعداد و شمار کے بغیر دوسرے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ پانچ آدمیوں پر بھی ناجائز ظلم کیا جائے تو اتنا ہی بُرا ہے۔
اٹارنی جنرل: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کم پر ظلم جائز ہے۔ میں چاہتا تھا کہ چونکہ ہم ایک ریکارڈ تیار کر رہے ہیں تو ہمارے پاس احمدیوں کی پاکستان میں نفری کی بالکل صحیح یا تقریباً صحیح تعداد ہو۔ خیر چلیے۔ میں دوسری بات کہہ رہا ہوں کہ ۱۹۰۱ء میں مرزا غلام احمد نے حکومت سے استدعا کی تھی کہ مردم شماری میں احمدیوں کو علیحدہ بتایا جائے پھر ۱۹۱۱ء میں اور پھر ۱۹۳۱ء میں یہی ہوا؟
مرزا ناصر: مردم شماری کی کوئی تعداد صحیح نہیں۔
اٹارنی جنرل: صحیح نہ ہو میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ۱۹۳۱ء کے بعد مردم شماری کیوں منقطع کر دی گئی۔ کیا آپ نے حکومت سے استدعا کی کہ علیحدہ نہ بتایا جائے یا حکومت نے ایسے کر دیا؟
مرزا ناصر: نہ معلوم کیوں ہوا؟
اٹارنی جنرل: ایک اور وضاحت درکار ہے۔ آپ نے صبح کہا کہ آپ کے پیرو آپ کو امام جماعت کہتے ہیں لیکن آپ کا لقب خلیفۃ المسیح الثالث ہے۔ لفظ امام کی اہمیت واضح کریں کہ کس معنی میں وہ آپ کو امام کہتے ہیں؟
مرزا ناصر: میں نے آج تک نہیں کہا کہ مجھے امام کہو نہ امیر المومنین۔ ہماری جماعت میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتا لیکن پاکستان میں جو استعمال ہوتا ہے وہ امیر المومنین مراد مبایعین ہیں۔
اٹارنی جنرل: میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ اس ہاؤس میں تقریر کرنے آئے تھے۔
آپ نے چیئرمین صاحب کو ٹوکا تھا اور درست کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ جماعت کے امام ہیں؟
مرزا ناصر: میں نے کہا کہ مجھے صدر انجمن احمدیہ نہ کہا جائے، امام جماعت کہا جائے۔ میرے ذہن میں ہیڈ آف دی کمیونٹی تھا۔
اٹارنی جنرل: اس لیے میں وضاحت چاہتا تھا۔
مرزا ناصر: ہاں ہاں، بالکل میں نے کہا تھا۔ مجھے یاد ہے، اچھی طرح یاد ہے۔
اٹارنی جنرل: اب اگلا نکتہ یہ ہے جو میں صبح معلوم کرنا چاہتا تھا کہ بحیثیت ہیڈ خلیفہ یا امام کے اپنے عہدہ سے مستعفی ہو سکتے ہیں یا آپ کو مستعفی ہونے کی اجازت ہے؟
مرزا ناصر: یہ عہدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے تو اجازت نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل: آپ کو اگر غیر مسلم ڈکلیئر کر دیا جائے تو کیا اس کا قانون ساز ادارہ کا حق ہے؟
مرزا ناصر: اس سے ہمارے حقوق متاثر ہوں گے۔
اٹارنی جنرل: آپ کو اقلیت قرار دینے سے آپ کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے۔
مرزا ناصر: یہ بات ہے تو ہم اپنے حقوق کی حفاظت نہیں چاہتے۔
اٹارنی جنرل: آخر دوسری اقلیتیں بھی تو ہیں ان کے حقوق کا تحفظ بھی ہے؟
مرزا ناصر: پاکستان پر دھبہ لگے گا کہ ایسے ریزولیوشن پاس ہوتے ہیں، ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے۔
اٹارنی جنرل: آپ کے حقوق محفوظ کرنے سے دھبہ لگے گا؟
مرزا ناصر: آخر اس سے فائدہ کیا ہوگا؟
اٹارنی جنرل: آپ کو اعتراض کیا ہے؟
مرزا ناصر: ہمیں کافر قرار دے کر کیا مقصد برآری ہوگی؟
اٹارنی جنرل: میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ پر کیسے اثر انداز ہوگا؟
مرزا ناصر: ہمارے ساتھ مناسب برتاؤ نہ ہوگا۔
اٹارنی جنرل: میں یہ پوچھتا ہوں کہ انسانی حقوق کے ڈیکلریشن کے بارے میں جو رائے ہے اس کا سوال اُٹھتا ہی نہیں؟
مرزا ناصر: اب ٹھوس حقیقی سوچ تو یہ ہے کہ کسی کو حق نہیں کہ مجھے غیر مسلم کہے۔
اٹارنی جنرل: صبح تو آپ نے کہا کہ اتھارٹی ڈکلیئر کر سکتی ہے؟
مرزا ناصر: مگر وہ اور بات تھی۔
اٹارنی جنرل: آپ نے ۲۱ جون کی تقریر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ دکھا دے گا، اپنی تجویز سے کہ کون مومن ہے اور کون کافر ہے۔ اب آپ اعلان کرتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، دوسرا کہتا ہے کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ ایک اعلان آپ کا ہے، ایک دوسرے کا۔ تو اس طرح کہنے سے آپ کے
بنیادی حقوق میں رخنہ اندازی کیسے ہوئی؟ آپ جو کہیں وہ مان لیں تو ٹھیک ورنہ آپ کے حقوق میں رخنہ اندازی۔ اس کی میں وضاحت چاہتا ہوں۔
مرزا ناصر: اگر کہیں تو ہمیں بالکل غصہ نہیں آئے گا۔
اٹارنی جنرل: اگر قانون ساز ادارہ کہے تو پھر؟
مرزا ناصر: حکومت کیوں دخل دے؟
اٹارنی جنرل: آپ نے صبح کہا کہ اتھارٹی، عدالت مسلم و غیر مسلم کا فرق کرنے پر؟
مرزا ناصر: صبح اور نکتہ نظر سے کہا ہوگا۔ (قہقہہ)
محمد عطاء اللہ صدیقی
تحفظ ناموس رسالت کے بعد.......
دینی جماعتوں، شمع رسالت کے پروانوں اور حکومت کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم فوری طور پر ٹل گیا ہے۔ ۱۶ مئی ۲۰۰۰ء کو جنرل پرویز مشرف نے ترکمانستان کے دورہ سے واپسی پر قانون توہین رسالت (۲۹۵-سی) کے تحت FIR درج کرانے کے پرانے طریقے کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔ ۱۷ مئی کے تمام اردو اخبارات نے ماسوائے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کے، اس اعلان کو شہ سرخی کی شکل میں شائع کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ:
”حکومت نے توہین رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ علمائے کرام و مشائخ عظام متفقہ طور پر چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر براہ راست ایس ایچ او کے پاس درج ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان سب کا احترام ہے اور اس سے بڑھ کر عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے طریقہ کار میں تبدیلی نہ ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمام کا یہی فیصلہ ہے کہ اب بھی ایس ایچ او کے پاس ہی براہ راست ایف آئی آر درج ہو سکے۔ توہین رسالت کے تحت ایف آئی آر کے حوالے سے حکومت جو مجوزہ تبدیلی لانا چاہ رہی تھی، اس پر علماء کی رائے حکومت کے لیے بہت راہنمائی کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کا قانون پی پی سی-۲۹۵ سی کا حصہ ہے، نہ تو اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے، نہ ہی کوئی مسلمان اسے بدل سکتا ہے، کوئی اسے تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جو معاملہ سامنے آیا ہے وہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک معمولی تبدیلی کا تھا جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسا معاملہ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں لایا جائے گا جو اس پر FIR درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں علماء کا بے حد احترام کرتا ہوں اور میں نے حکام کو علماء کے ساتھ رابطے کی ہدایت کی ہے“۔
(روزنامہ ’نوائے وقت‘ ۱۶ مئی ۲۰۰۰ء)
پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کا یہ اعلان بے حد دانشمندانہ ہے۔ انہوں نے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے قانون توہین رسالت کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے
متعلق اپنے اعلان کو واپس لے لیا ہے۔ یہ بات قابل تعریف ہے کہ انہوں نے ایک فوجی حکمران ہونے کے باوجود اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ ان کے اس فیصلہ سے پاکستان ایک اچھے خاصے داخلی بحران اور انتشار سے بچ گیا ہے۔ ملک کی تمام دینی جماعتوں، مسلم لیگ اور دیگر رائے عامہ کے طبقات نے 19 مئی کو مکمل ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔ اگر یہ اعلان نہ کیا جاتا تو یہ ہڑتال حکومت اور دینی جماعتوں کے درمیان خطرناک تصادم کی صورت بھی اختیار کر سکتی تھی، جس کا ایک منظر 11 مئی کو لاہور میں دیکھا جا چکا ہے۔
دینی جماعتوں کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس کے بروقت احتجاج اور دینی حمیت کے اظہار کی وجہ سے حکومت کو صحیح فیصلہ کرنے میں رہنمائی میسر آئی اور بالآخر حکومت اور دینی طبقہ کے درمیان خوفناک محاذ آرائی کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا ہے۔ مگر انہیں حکومت کے فیصلہ واپس لینے کے اعلان کو "عظیم کامیابی" قرار دے کر مستقبل کے بارے میں غافل نہیں ہو جانا چاہیے۔ ان کا کام یہیں پر ختم نہیں ہو گیا۔ اگر وہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اس کے لیے ایک جامع منصوبہ اور قابل عمل حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ لادین این جی اوز کے مکمل خاتمے اور استیصال کے لیے ایک طویل صبر آزما جدوجہد کرنی ہوگی۔ اب این جی اوز کا نیٹ ورک خاصا پھیل چکا ہے۔ یہ دو چار کی بات نہیں ہے، سینکڑوں بلکہ ہزاروں تنظیموں کا معاملہ ہے جو شہر شہر بستی بستی اس مملکت خداداد کی نظریاتی اساس کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ دین پسند اور محب وطن عناصر کے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے چند ایک نکات پیش خدمت ہیں جن پر غور و فکر کے بعد عملی اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے:
- 1- پاکستان کے دینی طبقہ اور دائیں بازو کے دانشوروں کو جدید مغربی استعمار اور این جی
اوز کے نیٹ ورک کو نیو ورلڈ آرڈر کے تناظر میں دیکھنے کی سنجیدہ کاوش کرنی چاہیے۔ این جی اوز ترقی اور انسانی حقوق کے پردے میں استعماری یورپ کی ثقافتی استعماریت کو مسلمان ممالک میں فروغ دینا چاہتی ہیں۔ ان کا بنیادی فلسفہ پاکستان جیسے نظریاتی معاشرے کو تہذیب مغرب کے رنگ میں رنگنا ہے۔ ہماری اسلامی اقدار کو ختم کرنا ان کا اولین ہدف ہے۔ جب تک ہم ان کے اصل عزائم کا ادراک نہیں کریں گے، ان کے خلاف مؤثر تحریک برپا نہیں کی جاسکے گی۔
- 2- پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جدید نسل کو NGO's کے خوفناک خفیہ عزائم کے
متعلق آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ان کے مذموم مقاصد کو بے نقاب کیا جائے اور نوجوان نسل کو ان کے خلاف منظم کیا جائے۔
- 3- این جی اوز سیکولر، اشتراکی اور ملحد طبقہ کی آماجگاہیں ہیں۔ ابھی حال میں بائیں بازو کی
نو جماعتوں نے ایک سیمینار میں 295-سی کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔ اشتراکی ملحدوں کی ان باقیات سیئات پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
- 4- قادیانیوں کو این جی اوز کی صورت میں بہترین پلیٹ فارم ہاتھ آ گیا ہے۔ اس طرح
وہ اپنی حقیقت کو بڑی کامیابی سے چھپائے ہوئے ہیں۔ معروف ترین این جی اوز پر قادیانیوں اور غیر مسلموں کا قبضہ ہے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن جو مؤثر ترین این جی او ہے یہ حقیقت میں ”قادیانی حقوق کمیشن“ کا کردار ادا کر رہا ہے اس کے کرتا دھرتا افراد میں سے عاصمہ جہانگیر حنا جیلانی، آئی اے رحمان قادیانی ہیں۔ اس کے ارکان میں جو قادیانی نہیں بھی ہیں، وہ قادیانیت نواز ضرور ہیں۔ ہمارے علماء جو ابھی تک صرف جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی کتب کا جواب دینے میں مصروف ہیں انہیں چاہیے کہ این جی اوز کے لٹریچر کا گہری نگاہ سے مطالعہ کریں اور ان کے خلاف ایک علمی تحریک پیدا کریں۔ اس سلسلے میں کالجوں اور یونیورسٹی کے پروفیسر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
- 5- اسلام کے فلاح و بہبود کے نظام کو نئے سرے سے متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔
لادین این جی اوز ترقی کے نام پر معصوم مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے ترقی کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اسے بھی ثواب کا کام سمجھ کر سرانجام دینا چاہیے تا کہ اس میدان میں مغربی این جی اوز کا غلبہ ٹوٹ جائے۔
- 6- لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں اسلام دشمن اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں
ملوث ایک ایک این جی او کے مفصل کوائف جمع کیے جائیں۔ ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے بے نقاب کیا جائے۔ نوجوانوں کے گروہوں کو ان کے تعاقب میں چھوڑا جائے تا کہ وہ ہر وقت ان کی نقل و حرکت اور مذموم سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں۔
- 7- تمام دینی جماعتیں مشترکہ مطالعاتی مرکز قائم کریں جس میں این جی اوز کے متعلق
اعداد و شمار اور رپورٹیں مرتب کر کے پریس میں شائع کروائی اور حکومت کو پیش کی جائیں۔
- 8- جدید دور میں کوئی بھی تحریک جدید ذرائع ابلاغ، ٹیلی ویژن، اخبارات، ویڈیو کیسٹ
ریڈیو، لٹریچر انٹرنیٹ وغیرہ کے بغیر مؤثر طریقے سے چلانا مشکل ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کے حصول کے لیے بھاری سرمائے کی بھی ضرورت ہے ۔ اسلام سے محبت کرنے والے سرمایہ داروں اور مخیر حضرات کو جدید ذرائع ابلاغ کی سہولتیں بہم پہنچانے کے لیے ہر ممکن کاوش کرنی چاہیے۔
- 9- پاکستانی اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کی اچھی خاصی تعداد اسلام پسندوں
پر مبنی ہے، مگر وہ اتنے متحرک نہیں ہیں جتنا کہ لبرل اور لادین صحافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام پسند صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ یہی وہ طبقہ ہے کہ اگر بیدار ہو جائے تو اسلام دشمن این جی اوز کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی ساری چلت پھرت اخباری پذیرائی کی وجہ سے ہے۔ اگر اخبارات اس یہود کی ایجنٹ بے حمیت عورت کی مکروہ تصویر عوام کو دکھا دیں تو یہ پاکستان سے فرار ہو جائے گی۔
- 10- عورتوں کے حقوق کے نام پر مغرب زدہ بیگمات اپنی این جی اوز کے ذریعے عورتوں
میں شعور کی آڑ میں فتور پھیلا رہی ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ اسلام پسند خواتین کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات پر مبنی خواتین کی تنظیمیں قائم کی جائیں۔ پہلے سے قائم ایسی تنظیموں کو متحرک کیا جائے۔
- 11۔ اسلام دشمن این جی اوز کی منفی سرگرمیوں کو اخبارات میں شائع کرانے کے ساتھ
ساتھ حکومت کو بھی ان کے متعلق آگاہ کیا جائے۔
قاضی کاشف نیاز
انسانی حقوق کی تنظیموں کا اصل کردار بے نقاب
ہمارے ملک میں آج کل این جی اوز (Non-Govermental Organizations) یعنی غیر سرکاری سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اچھا خاصا اودھم مچایا ہوا ہے۔ اگر یہ تنظیمیں حقیقی معنوں میں سماجی برائیوں اور خرابیوں کے خلاف کام کرتیں تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیمیں مخلصانہ طور پر کوئی کام سرانجام نہیں دے رہیں۔ بلکہ صرف وہی کام سرانجام دیتی ہیں جس کی انہیں ان کے مغربی آقا ہدایت کریں۔ اپنے آقاؤں کی تابعداری میں چاہے عالمِ اسلام بدنام ہو یا ملک کو ہی نقصان پہنچ جائے‘ اس کی انہیں کوئی پروا نہیں۔ حال ہی میں چائلڈ لیبر سے متعلق ان کی چلائی جانے والی مہم کا یہ نتیجہ نکلا کہ ملک کو قالینوں کی برآمد میں اربوں روپے کا خسارہ ہو گیا۔ حالانکہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ قالین برآمد کرنے والا ملک بن رہا تھا اور اس معاملے میں وہ ایران کو بھی پیچھے چھوڑ چکا تھا۔ یہی حال کپڑے‘ سپورٹس وغیرہ کی صنعت کے ساتھ ہوا۔ لیکن انسانی حقوق کی ان نام نہاد تنظیموں کو ملک کے مفاد کی کوئی پروا نہیں۔ اور وہ اپنے مغربی آقاؤں کی ہدایات کے مطابق ملک وملت کے مفادات کو تہہ و بالا کرنے میں پوری طرح سرگرم و منہمک ہیں۔
ان تنظیموں کا تمام تر کام انسانی حقوق کے نام پر مغرب سے ایڈ اور تنخواہیں لینا ہے۔ ان کی زیادہ تر تنظیمیں کاغذوں میں ہیں۔ اخباروں سے ہی روزمرہ کی رپورٹیں جمع کر کے یہ انہیں اپنا سروے اور اپنی جستجو قرار دے کر ان کی فائلیں بناتے ہیں اور یہی فائلیں اپنی کارکردگی کے طور پر اپنے مغربی آقاؤں کو روانہ کر دیتے ہیں‘ جس کے عوض انہیں پھر کروڑوں کی امدادیں ملتی ہیں۔ انسانی حقوق کی آڑ میں اگر کہیں کوئی ان کا کام نظر آتا ہے تو وہ صرف ایسے پہلوؤں پر نظر آتا ہے جس سے اسلام اور اسلامی اقدار پر ضرب پڑے۔
خصوصاً عورتوں میں اسی لیے ان کا کام سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ عورتوں کو مغربی آزادیاں دلانے‘ پردہ اور شرم وحیاء ختم کرنے‘ مخلوط سروسوں اور محفلوں میں لانے‘ رقص‘ میوزک اور کھیلوں سمیت تمام شعبہ جات میں عورت کو بے باکانہ طور پر زیادہ سے زیادہ آگے کرنے کے لیے یہ دن رات سرگرم ہیں۔ لڑکیاں گھروں سے بھاگنے پر مجبور کیوں ہیں۔ ان کا استحصال کون کر رہا ہے اور
انہیں بے راہروی کی راہ پر ڈالنے کا ذمہ دار کون ہے؟ ان میں ایک بڑا سبب یہ انسانی حقوق اور آزادی نسواں کے نام پر کام کرنے والی نام نہاد تنظیمیں تھیں۔ عورتوں سے ان کی ہمدردی اور اخلاص کی حقیقت اسی سے کھل جاتی ہے کہ جو لڑکیاں عشق و محبت کے جنون میں گھر سے بھاگ کھڑی ہوتی ہیں یہ تنظیمیں ان لڑکیوں اور ان کے والدین کی اصلاح کرنے کی بجائے ان لڑکیوں کو مزید بغاوت پر ابھارتی ہیں۔ اور بالآخر انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتیں۔ چنانچہ اہل مغرب باقی معاملات میں ان کاغذی اور رسمی کارکردگی کے باوجود اسی کام کو ہی غنیمت समझते ہیں۔ بلکہ ان کے نزدیک تو یہی اصل کارکردگی ہے۔ اور وہ ان کی نام نہاد کارکردگی کے باوجود ان کی خوب پیٹھ ٹھونکے رکھتے ہیں۔ چنانچہ آج انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کے دن پھرے ہوئے ہیں۔ جو لوگ کبھی کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے آج وہ ڈیفنس ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ کے مہنگے ترین علاقوں، عالی شان کوٹھیوں اور ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر قوم کی غم خواری فرما رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں روزنامہ ”خبریں“ نے ۱۵ سے ۲۲ جون تک ان کاغذی تنظیموں اور ان کے ذمہ داران کے ٹھاٹ باٹ کے بارے میں مسلسل رپورٹیں شائع کیں جس سے ان خدمت گاروں کے اصل کردار کی قلعی کھل گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کے کسی کرتا دھرتا نے تا دم تحریر اس کی کوئی تردید نہیں کی، جس سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کا سوائے ڈالر کمانے یا معاشرے کا اسلامی تشخص بگاڑنے کے اور کوئی مقصد نہیں۔ لیجیے اب ان تنظیموں کے بارے میں ان رپورٹوں کی روشنی میں ان کا کچا چٹھا ملاحظہ کریں۔ اور ان کی اصلیت سے آگاہ ہوں کہ کس طرح قوم کے یہ دردمند قوم کو لوٹ رہے ہیں۔
سیپ SAP
SAP ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان کا ڈائریکٹر محمد تحسین ہے۔ یہ ادارہ ۱۹۸۹ء میں قائم ہوا۔ یہ غیر سرکاری ادارہ جو کینیڈا کی ایک کنسورشیم کے زیر اہتمام چل رہا ہے اب تک کروڑوں ڈالر کی غیر ملکی امداد لے چکا ہے۔ اس کا اصل کام غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دیہی علاقوں کی ترقی ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رجسٹریشن جائنٹ سٹاف آف کمپنیز کے ایکٹ کے تحت کروا کر اپنے آپ کو قانونی طور پر مضبوط کر لیا ہے۔ اس کے ۵۰ فیصد منصوبے دوستوں اور عزیز و اقارب کی نذر ہو گئے ہیں جبکہ باقی میں سے کچھ بورڈ ممبرز کو دیئے گئے ہیں جو تمام پابندیوں اور جوابات سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ تنظیم چاروں صوبوں میں کام کر رہی ہے اور پروجیکٹ دینے کے لیے کسی تنظیم کے معیار کی بجائے اس کے نظریات SAP کے منشور سے ملنے چاہئیں۔ اس تنظیم کا نظریہ ترقی پسندی ہے اور جو تنظیم ترقی پسند ہو وہ SAP کے نیٹ ورک یا دائرہ عمل میں آ جاتی ہے۔ اس وقت ایک ہزار کے قریب تنظیمیں اس کے زیر انتظام کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں نے تنظیموں کی تربیت کا اہتمام بھی کر رکھا ہے۔ جس کا ایجنڈا تنظیم سازی، منصوبہ بندی واضح طور پر ہے مگر اس کے پیچھے تبدیلی کی بات ہوتی ہے اور اس طرح سماج دشمن تاثرات اور رجحان پیدا کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اس تنظیم کی تربیت لے لیتے ہیں وہ بعد میں دانشور کے زمرے میں آجاتے ہیں میں اس سسٹم مذہب کے خلاف نفرت آدمی تھا اور اندرون گوالمنڈی کا رہائشی ہر سال کینیڈا امریکہ اور سوئٹزرلینڈ اکاؤنٹ ماجد سے انڈر سٹینڈنگ ہے برائے نام اور خواہش کے مطابق کرتا
ایس پی او SPO
SPO کینیڈین انٹرنیشنل چاروں صوبوں اور ہیڈ آفس اسلام آبا میں جبکہ پنجاب میں شینہ اسلام کام کر کی ترقی کی بجائے اپنی اور ملازمین کی میں تین کروڑ روپے کی ادائیگی ہے روپے ہوتی ہے جبکہ ڈائریکٹر ۴۰ ہزا Left کی تحریک سے ہے۔ قابلیت یا اہ ٹوٹل بجٹ عملی طور پر ۹۰ فیصد دفتری ام
یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس YCHR
YCHR یوتھ کمیشن فار ہیو یہ علاقائی طور پر بننے والی تنظیم ہے جس انہوں نے کسی کے مشورے پر ایک گر جس کے بعد TVO سمیت دیگر تنظیموں اس کے سارے ممبران آپس میں رشتے سے اس کا بھی آڈٹ ہوتا ہے مگر آڈیٹر
حوا ایسوسی ایٹس
حوا ایسوسی ایٹس کا قیام ۹۱ بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کلب لاہور کی نے ۶۳ پاک بلاک بنایا۔ یکی گیٹ لاہو کے تعاون سے ہوا تھا۔ مگر اس کے بعد کام کرنے والی خواتین کو نمائش کے طو گئے۔ یہ تمام پروجیکٹ ایک ہی جگہ یعنی
دانشور کے زمرے میں آ جاتے ہیں اور یوں ایک علیحدہ کلاس اور طبقہ پیدا کیا جا رہا ہے جس کے دل میں اس سسٹم‘ مذہب کے خلاف نفرت ہے۔ بات قابل ذکر ہے کہ ادارے کا ڈائریکٹر محمد تحسین جو عام آدمی تھا اور اندرون گوالمنڈی کا رہائشی تھا مگر اب وہ ڈیفنس میں ایک عالیشان بنگلے میں رہتا ہے۔ وہ ہر سال کینیڈا‘ امریکہ اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ کے دورے فیملی کے ہمراہ کرتا ہے۔ مذکورہ ڈائریکٹر کی اکاؤنٹنٹ ماجد سے انڈرسٹینڈنگ ہے جس کا بھائی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محسن ندیم ہے جو تمام تنظیم کا آڈٹ برائے نام اور خواہش کے مطابق کرتا ہے۔
ایس پی او SPO
SPO کینیڈین انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی امداد سے چلنے والے اس ادارے کے دفاتر چاروں صوبوں اور ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلمان شیخ اسلام آباد میں جبکہ پنجاب میں ثمینہ اسلام کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ گزشتہ سات سال سے کام کر رہا ہے مگر ملکی عوام کی ترقی کی بجائے اپنی اور ملازمین کی زندگیاں سنوارنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسے تین سالوں میں تین کروڑ روپے کی امداد ملتی ہے۔ اس تنظیم میں کام کرنے والے ڈرائیور کی تنخواہ پانچ سے چھ ہزار روپے ہوتی ہے جبکہ ڈائریکٹر ۴۰ ہزار سے ۵۰ ہزار روپے تک وصول کرتا ہے۔ اس تنظیم کا تعلق Left کی تحریک سے ہے۔ قابلیت یا اہلیت کا کوئی معیار نہیں ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر پروگرام کا ٹوٹل بجٹ عملی طور پر ۲۰ فیصد دفتری امور اور ۴۰ فیصد پروجیکٹ پر خرچ ہوتا ہے۔
یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس YCHR
YCHR یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس پر ایک مقامی تنظیم ہے جو کہ ۱۹۹۰ء میں قائم ہوئی۔ یہ حادثاتی طور پر بننے والی تنظیم ہے جس کے سربراہ زخام خان اور شازیہ خان ہیں جو میاں بیوی ہیں۔ انہوں نے کسی کے مشورے پر ایک گروپ بنا لیا ہے۔ Sap نے اسے تقریباً چار لاکھ کے فنڈز دیئے جس کے بعد TVO سمیت دیگر تنظیموں نے اس کی امداد کی۔ اس ساری تنظیم میں بھی اہم بات یہ ہے کہ اس کے سارے ممبران آپس میں رشتے دار‘ بہن بھائی ہیں اور موبائل فون بھی زیر استعمال ہے۔ بدقسمتی سے اس کا بھی آڈٹ ہوتا ہے مگر آڈیٹرز کو خوش کرنے کے بعد ڈائریکٹر اپنی پسند کا آڈٹ کرواتا ہے۔
حوا ایسوسی ایٹس
حوا ایسوسی ایٹس کا قیام ۹۱-۱۹۹۰ء میں اچانک ہوا۔ اس کی صدر کشور ناہید ہے۔ وہ پہلے بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کلب لاہور کی صدر تھیں مگر بعد میں حوا ایسوسی ایٹس بنا لی جس کا دفتر انہوں نے ۱۴۳ پاک بلاک بنایا۔ یکی گیٹ لاہور میں ایک سکھی مرکز کے نام سے ایک سنٹر کا قیام فیملی پلاننگ کے تعاون سے ہوا تھا۔ مگر اس کے بعد یہاں پر غیر ملکی ڈونرز کی لائنیں لگ گئیں‘ جنہیں اندرون شہر میں کام کرنے والی خواتین کو نمائش کے طور پر دکھایا گیا اور لاکھوں روپے ان کی تربیت کے نام پر لیے گئے۔ یہ تمام پروجیکٹ ایک ہی جگہ یعنی یکی گیٹ کے مراکز میں قائم ہیں لیکن آج کل گھوڑے شاہ
منتقل کر دیا گیا ہے۔
اے ایس آر ASR
ASR اپلائیڈ سوشیو اکنامک ریسرچ غیر سرکاری ادارہ ہے جو قریباً دس سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر عورتوں کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے اس کی ڈائریکٹر نگہت سعید خان ہیں جنہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ یہ ادارہ عورتوں کی آزادی اور تحریک آزادی نسواں کو منفی رنگ دے کر ابھارتا ہے۔ اس کے علاوہ پمفلٹ اور مختلف لٹریچر اس پر شائع کیے جاتے ہیں۔ جتنا بھی مواد شائع کیا جاتا ہے اس میں عورتوں کی آزادی کو جو رنگ دیا جاتا ہے وہ مذہب سے دُور‘ شوہر سے دُور بلکہ اس سسٹم سے دُور ہو جاتا ہے جس میں خاندانوں کے خاندان تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں بے شمار غیر ملکی امداد حاصل کی جارہی ہے۔ ہندو شعرا اور شاعرہ کی شاعری کی لوک دُھن پر کیسٹ بنا کر فروخت کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر غیر ملکی مواد کا ترجمہ کیا جاتا ہے جنہیں بعد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
الف لیلیٰ بک بس اور ہابی کلبز
اس طرح ایک اور تنظیم جو الف لیلیٰ بک بس اور ہابی کلبز کے زیر اہتمام کام کر رہی ہے۔ اس کے سربراہ میاں بیوی بصارت کاظمی اور مدحت کاظمی ہیں۔ یہ مختلف غیر ممالک ڈونرز سے اس مقصد کے لیے امداد حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کام تعلیم کو آسان بنانے کے لیے غریب اور پرائمری سکولوں کے بچوں کو لائبریری کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ تنظیم کارپوریشن کے سکول کے بچوں کو نمائش کے طور پر دکھا کر امداد حاصل کرتی ہے جبکہ یہاں جو کچھ بچے پڑھنے آتے ہیں وہ کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کو بسیں اور کتابیں امداد کے طور پر ملی ہیں‘ عملہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھا رہتا ہے‘ بچے بہتر کتابیں نہ ہونے کے باعث ممبرز شپ ختم کروا رہے ہیں۔ الف لیلیٰ بک بس کے علاوہ ہابی کلب جس میں کمپیوٹر‘ مکینکس‘ الیکٹرونکس‘ کارپینٹری اور فوٹو گرافی وغیرہ کا جھانسہ دے کے امداد حاصل کی جاتی ہے۔
اصغر خان کے بیٹے کی تنظیم ”سنگی“ اور بیگم پرویز صالح کی ”نساء فاؤنڈیشن“
تحریک استقلال کے سربراہ ائیر مارشل (ر) اصغر خان کا بیٹا عمر اصغر خان جس نے ”سنگی“ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے۔ اس کا کام ریسرچ سروے کرنے کے علاوہ چھوٹی چھوٹی تنظیموں کو تربیت دے کر اس کے عوض رقم وصول کرنا ہے۔ اس تنظیم نے بھی اب تک لاکھوں روپے بیرونی امداد حاصل کی ہے۔ لیکن رزلٹ کچھ بھی نہیں۔ سابق ایم پی اے اور پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز صالح کی بیوی بیگم فرح صالح نے بھی ”نساء فاؤنڈیشن“ کے نام سے پتلی تماشا کروانے کے لیے ایک تنظیم بنائی اور انہیں ابتدائی طور پر تقریباً 20 لاکھ روپے کے لگ بھگ امداد ملی۔ انہوں نے اس امداد سے تقریباً 15 سے 20 پتلی تماشے کروائے ان پر کتنی رقم خرچ ہوئی کسی کو کچھ پتہ نہیں۔
علاوہ ازیں فیملی ویلفیئر کوآپریٹو سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم اسلام پورہ میں کام کر رہی ہے جس میں ایک زچہ بچہ سنٹر کھولنے کے علاوہ خواتین کو چھ ماہ کا ٹریننگ کورس کروایا جاتا ہے۔ لیکن یہ تمام کام بے سود ثابت ہو رہا ہے کیونکہ یہاں سے ٹریننگ حاصل کرنے والی خواتین کو کہیں بھی کوئی نوکری نہیں ملتی کیونکہ ٹریننگ وغیرہ کا کام برائے نام ہی ہے لیکن اس مد میں لاکھوں روپے امداد بدستور جاری ہے۔
عاصمہ جہانگیر کی تنظیم HRCP (کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان) اور ”دستک“
HRCP یعنی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے کرتا دھرتاؤں میں چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر جبکہ اس تنظیم میں آئی اے رحمان اور حسین نقی جیسے دانشور بھی اپنی ”خدمات“ سرانجام دے رہے ہیں۔ اس تنظیم کا مقصد انسانی حقوق کا بیڑہ اٹھانا ہے اور خواتین کو ”آزادی“ کی طرف مائل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ عورتوں پر ہونے والے تشدد، قتل و غارت اور دیگر واقعات کی اخبارات میں سے کٹنگ کر کے بیرون ممالک ارسال کرنا، ان کے بنیادی کام میں شامل ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم ایسے افراد کی مدد کرتے ہیں۔ یہ تنظیم اس کے عوض لاکھوں ڈالر حاصل کر چکی ہے۔ اسکے علاوہ اس تنظیم نے کئی ذیلی تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔ جن میں چائلڈ لیبر بانڈڈ وغیرہ شامل ہیں جس کا سربراہ احسان اللہ ہے جس کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ”را“ کا ایجنٹ ہونے پر مقدمہ بنایا گیا مگر وہ بیرون ملک فرار ہو گیا۔ اس تنظیم کا کام چھوٹے بچوں کو مزدور ظاہر کر کے ان کی فلمیں، تصاویر اور جلسے جلوسوں میں شرکت کروانا ہے۔ مذکورہ تنظیموں نے پاکستان میں قالین سازی کی صنعت کو تباہ کروا دیا ہے۔ اس کام کے عوض ڈونرز سے بھاری امداد وصول کی۔
علاوہ ازیں HRCP کی ایک تنظیم ”دستک“ کے نام پر بنائی گئی جو نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو آزادی کے خواب دکھا کر انہیں مذکورہ ادارے میں پناہ دیتی ہے جس کی بنا پر حال ہی میں صائمہ اور گل بہار بانو جیسے کیس اخبارات کی زینت بنے۔ اس کے علاوہ مذکورہ تنظیم کو جب کوئی ایشو نہ ملے تو یہ مذہب یا ملاؤں کو چھیڑ دیتی ہے۔
”ویمن ایکشن فورم“ اور ”دی ریفارمرز“
ویمن ایکشن فورم کا کام عورتوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اس تنظیم کے کرتا دھرتاؤں میں ماڈرن بیگمات شامل ہیں۔ ان کی اہم میٹنگوں میں سگریٹ نوشی اور مے نوشی عام ہے۔ یہ تنظیم بھی صرف اہم کیسوں کو ”کیش“ کرواتی ہے۔ مذکورہ تنظیم نے ”دینا حیات“ کیس پر چار روز کے لیے بھوک ہڑتال بھی کی۔ بیرون ممالک ڈونرز کو یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی خواتین دنیا کی مظلوم ترین خواتین ہیں جن کی ہم مدد کرتے ہیں۔
ایک اور تنظیم ”دی ریفارمرز“ ہے جو تقریباً ۱۰ سال سے کام سرانجام دے رہی ہے۔ اس کو
بنانے والوں میں طاہر آزدانی اور ان کے دوست احباب ہیں۔ اس کا کام خون اکٹھا کرنا اور ضرورت مند لوگوں کو دینا ہے لیکن ہلال احمر اور فاطمید جیسے اداروں کے سامنے آنے پر اس تنظیم نے اپنا کام کم کر دیا ہے لیکن ڈونرز سے امداد بدستور لی جاتی ہے۔
”پائلر“ PILER
غریب پسماندہ عوام کو مظلوم ظاہر کر کے بیرون ممالک سے کروڑوں روپے امداد حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں میں ایک تنظیم پائلر (Piler) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن بھی ہے جس کا سربراہ کرامت چھ ماہ پاکستان اور چھ ماہ بیرون ممالک دوروں پر رہتا ہے۔ اس تنظیم نے بیرون ممالک ڈونرز سے لاکھوں ڈالر یہ کہہ کر وصول کیے کہ ہم صنعتی ورکرز کی تربیت اور ریسرچ کرواتے ہیں۔ اس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے جبکہ سب آفس لاہور میں۔ کرامت کا بھائی شرافت اس تنظیم کا اکاؤنٹنٹ ہے۔ کرامت کی بھانجی فرح پائلر کے نام پر بیرون ممالک دورے پر گئی اور واپس نہیں آئی۔ یہ تنظیم ہالینڈ کے علاوہ ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ سے امداد حاصل کرتی ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ ڈونرز کو یہ کہتی ہے کہ ہم دیہاتی علاقوں میں صنعتی ورکرز کی ٹریننگ کے لیے امداد دیتے ہیں۔ حالانکہ پائلر کا دفتر لاہور میں ہے۔
ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (D.H.C.D)
اس کے علاوہ ایک تنظیم D.H.C.D ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر وجاہت مسعود ہیں جبکہ ان کی بیوی تنویر جہاں تنظیم کی اہم پوسٹ پر کام کرنے کے علاوہ HRCP میں بھی کام کر کے بھاری تنخواہ وصول کرتی ہے۔ اس تنظیم نے بھی انسانی حقوق کی پامالی روکنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔
”جدوجہد“ ”مزدور جدوجہد“ اور ”طبقاتی جدوجہد“
”جدوجہد“ نام کا ایک ادارہ جو کچھ عرصہ قبل کام کر رہا ہے لیکن اس کے ڈائریکٹر تنویر گوندل اور مذکورہ تنظیم کے اہم رکن فاروق طارق کے درمیان لین دین پر جھگڑا ہو گیا جس کے بعد فاروق طارق نے اپنی تنظیم ”مزدور جدوجہد“ بنالی جبکہ تنویر گوندل نے اپنی تنظیم طبقاتی جدوجہد بنا کر کام شروع کر دیا۔ تنویر گوندل کی کینال ویو میں کوٹھی ہے۔ علاوہ ازیں فاروق طارق جو آج کل سویڈن کے دورے پر گیا ہوا ہے اس نے گلزار حیات بھٹی جو کینٹین پر قتل ہو گیا تھا اسے تنظیم کا اہم رکن ظاہر کرنے کے علاوہ اس کی میت کی وڈیو فلم بنائی اور بیرون ملک ڈونرز کو یہ ظاہر کیا گیا کہ ہمارا تنظیم کا اہم رکن ریاستی تشدد کی بھینٹ چڑھ کر قتل ہو گیا ہے۔
”انسان فاؤنڈیشن“ ”وومن“ اور بیگم پرویز صالح کی نئی تنظیم C.C.H.D
انسان فاؤنڈیشن کے نام سے بھی ایک تنظیم جس کے ڈائریکٹر محمد مشتاق ہیں۔ انہوں نے بھی چائلڈ لیبر کے نام پر بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ ایک تنظیم جو ”وومن“ کے نام سے کام کر رہی ہے۔
اس کی چیئر پرسن فوزیہ رشید ہے۔ یہ تنظیم بھی عورتوں کی ٹریننگ کے نام پر بیرون ملک سے امداد حاصل کرتی ہے۔ ان کا مغل پورہ میں سکول ہے جس کو وہ چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک ساتھی نیازی نامی ایک خاتون، جس کی گارمنٹس کی ایک فیکٹری ہے جہاں عورتوں کو ٹریننگ دینے کے بہانے ڈونرز سے امداد حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سابق ایم پی اے پرویز صالح کی اہلیہ فرح صالح جنہوں نے نساء فاؤنڈیشن بنائی تھی۔ اب انہوں نے مذکورہ پراجیکٹ کے بعد C.C.H.D سٹیزن کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ تنظیم بنائی ہے۔ جس کا نعرہ انسانیت کو بچانے اور ان کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ ممبر شپ دینے کی آڑ میں لوگوں سے ۲۰۰ روپے سے لے کر ۱۰۰۰ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں، بعض افراد کو رسیدیں بھی جاری نہیں کی گئیں۔
ٹی وی پروڈیوسر منیزہ ہاشمی کی تنظیم ”ہمت“
غریب اور پسماندہ عوام کی بقا اور انہیں بنیادی حقوق دلوانے کے چکروں میں بیرون ممالک سے لاکھوں ڈالر امداد حاصل کرنے والی نام نہاد ”خدمت گار“ غیر سرکاری تنظیموں میں ایک سوسائٹی ”ہمت“ کے نام سے کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم کاغذی طور پر بنی ہے جس کی ڈائریکٹر منیزہ ہاشمی ہے اور وہ پی ٹی وی کی سینئر پروڈیوسر بھی ہیں۔ یہ سیڈا (CIDA) کینیڈا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی، ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ وغیرہ سے فنڈ لیتی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا اور ترقی کے لیے کام کرنا وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم آڈیو کیسٹ کے علاوہ انڈین شاعر کی فوک کیسٹیں بھی تیار کروا کر دور دراز علاقوں میں تقسیم کرتی ہے جن میں انڈین رہنماؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
”اسلامک ویلفیئر سوسائٹی“ اور تجدد پسند پروفیسر عزیز الدین کی ”عوامی کمیٹی لاہور“
اسلامک ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم کئی سال سے محلے کی سطح پر کام کرتی ہے۔ اس نے چائلڈ لیبر، ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ سے امداد لی۔ آج کل یہ تنظیم آئی ایل او کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ چند روز قبل اس نے چائلڈ لیبر کے موضوع پر ورکشاپ سے چند بچوں کو نمائش کے طور پر پیش کیا اور کام کرنے کے نام پر ڈونرز کو بے وقوف بنایا۔ ایک اور تنظیم ”عوامی کمیٹی لاہور“ کے نام سے پانچ سال قبل بنائی گئی۔ اس تنظیم کے کرتا دھرتا پروفیسر عزیز الدین، جمیل عمر وغیرہ ہیں۔ یہ خود کو ترقی پسند اور دانشور کہلواتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان منٹ اور بھٹہ سادھوواں والا میں سکول قائم کیے۔ پھر اس پروجیکٹ کو آگے بڑھاتے ہوئے فنڈز لیے اور ریسرچ کروائی۔ اس نے OXFAM جیسے ادارے سے امداد لی۔ آج کل یہ ادارہ ختم ہو چکا ہے۔ پروفیسر عزیز الدین کی طرف سے آنے والے پمفلٹ میں سوشلزم، لیفٹ ازم اور سرائیکی صوبے کو علیحدہ کرو جیسے کلمات درج ہیں۔
آؤ مل کر کھائیں
مختلف تنظیموں کے عہدے داروں کی باہمی رشتہ داریاں
غیر سرکاری تنظیموں کے کرتا دھرتا این جی اوز بنا کر جہاں خود عیاشیاں کر رہے ہیں وہاں
انہوں نے گھپلوں کو چھپانے کے لیے باہر یا غیر متعلقہ افراد کو ان کا ممبر بنانے کی بجائے اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو اس ”کار خیر“ میں شامل کر لیا ہے۔ SAP ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر محمد تحسین ہیں۔ اس تنظیم میں ان کا بھتیجا شرجیل احمد اور کزن وسیم اعجاز اہم پوسٹ پر کام کر رہے ہیں۔ لاہور عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر نگار احمد ہے۔ ان کی بہن کراچی اور اسلام آباد آفس کی ڈائریکٹر ہیں جبکہ ان کی نند نجمہ صدیقی NRSP نیشنل رورل سپورٹ پروگرام پاکستان کی اہم پوسٹ پر کام کر رہی ہیں جو انیس دانی چیف ایگزیکٹو TVO ٹرسٹ فار والنٹری آرگنائزیشن کی بیوی ہیں اور ڈاکٹر طارق صدیقی سابق ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی کی بہن ہیں۔ اس طرح SAP کے ڈائریکٹر محمد تحسین کا بہنوئی زمان خان جو امریکہ اور کینیڈا کے دورے کر چکا ہے فیصل آباد میں اپنی تنظیم چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ رانا سرور کا بھائی رانا اجمل SPO میں کام کر رہا ہے اور اس کی بھابھی ثمینہ SPO کی ایجنٹ ہے۔ SPO کے علی اکبر ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر کام کرتے ہیں ان کا بھائی شبیر احمد اس تنظیم کے لاہور آفس میں کام کرتا ہے۔ ریحانہ ہاشمی SPO پشاور کی ریجنل ڈائریکٹر ہیں اور ان کا خاوند فیاض باقر UNDP یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اس طرح YCHR کے ڈائریکٹر زخام خان ہیں اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ان کی بیوی شازیہ خان ہیں۔ انہوں نے اپنی بہنوں کو اس پراجیکٹ میں بطور منیجر اور سپروائزر تعینات کیا ہے۔ الف لیلیٰ بک بس سوسائٹی کو چلانے والے ڈائریکٹر بصارت کاظمی اور ان کی بیوی مدحت کاظمی ہیں۔ علاوہ ازیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر تنظیم کا ایک بورڈ یا کونسل ہے اور یہ سب لوگ ایک دوسرے کے بورڈ یا کونسل کے رکن ہیں۔
غیر سرکاری تنظیمیں لوٹ مار کے لیے مٹھی گرم کر کے پونچھ ہاؤس سے رجسٹریشن کراتی ہیں
حکومت کی ناقص پالیسی کے پیش نظر یہ غیر سرکاری تنظیمیں لوٹ مار مچا رہی ہیں جبکہ محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر تحت رجسٹرڈ ہونے والی تنظیموں میں بے ضابطگیاں کم ہیں کیونکہ انہیں چیک کرنے کے لیے پورا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ لہٰذا تنظیمیں یہاں سے رجسٹریشن کرانے کے بجائے پونچھ ہاؤس سے کرواتی ہیں جہاں کام مٹھی گرم کر کے ہو جاتا ہے۔
انوار حسین ہاشمی
این جی اوز کی گھاتیں اور وارداتیں
پاکستان کے اندر ایسی این جی اوز ہر وقت موضوع بحث رہتی ہیں جو نہ صرف مغربی ایجنڈے پر کام کرتی ہیں بلکہ انہیں سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز بیرون ملک سے ملتے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ اور آڈٹ نہیں ہوتا۔ ایسی این جی اوز پر عام طور پر یہ الزام لگائے جاتے ہیں کہ یہ پاکستان کے اندر اسلام کے بنیاد پرست عنصر کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں یہاں پر عیسائی‘ یہودی اور انڈین لابی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ یہ اپنا ٹارگٹ مخلوط معاشرے کا قیام‘ عورت کی مادر پدر آزادی اور اسلامی طرز معاشرہ سے بغاوت کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی این جی اوز کے رابطے کن بین الاقوامی این جی اوز سے ہیں یا یہ ادارے کونسے بین الاقوامی مشنری اداروں کے ذیلی پلیٹ فارم ہیں‘ بہت کم لوگوں کو معلوم ہیں۔ کچھ حلقوں نے بعض حقائق جاننے کے بعد یہ الزامات ضرور لگائے ہیں کہ پاکستان میں مغربی طرز کی این جی اوز چرچ کی انتظامیہ سے وابستہ ہیں۔ اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ قرار دینا‘ توہین رسالت کے قوانین کو ختم کرانے کی کوششیں اور مشرقی معاشرے سے بغاوت کر کے اپنی پسند کی شادی جیسے ایشوز کو بین الاقوامی میڈیا پر کوریج دلانے کی کوششوں کا کریڈٹ ایسی ہی این جی اوز کو جاتا ہے جو چرچ سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ مغربی سازشوں اور مغربی ایجنڈے کو ہؤا بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن آج بھی پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں ایسے اسلامک مشن کام کر رہے ہیں جو اسلام کے خلاف مغرب کی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسلامی ممالک کے بعض انٹیلی جنس اداروں کے بعض شعبے اس کام کے لیے وقف ہیں جو باہمی اشتراک سے کام کرتے ہیں۔ ایسے ہی اداروں کے بعض ذرائع سے اسلام دشمن مشنری اداروں خصوصاً بین الاقوامی کرسچین اداروں کے ایسے منصوبوں کا انکشاف ہوا ہے جو اسلامی ممالک کے خلاف این جی اوز‘ مشنری اداروں‘ سیٹلائٹ خصوصی ریڈیو اور ٹی وی چینلز اور پبلشنگ اداروں کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں بلکہ اسلامی ممالک کے اہم شعبوں کی معلومات بھی چراتے ہیں۔ اسلامک ورلڈ کے خلاف کرسچین ورلڈ کا پروگرام اور نیٹ ورک اتنا وسیع اور گھمبیر ہے کہ اس کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے بہت وقت اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بہت دولت اور فورس چاہیے۔ تاہم اس منصوبے کے کچھ گوشے یہاں بے نقاب کیے جا رہے ہیں۔
اسلامی ممالک کے خلاف دنیا بھر میں جو سب سے بڑا مشن کام کر رہا ہے اس کا نام ”ڈور تھے مشن“ (Dorothea Mission) ہے جس کی بنیاد آج سے کئی برس پہلے کینیا کے مقام پر چند افراد نے رکھی تھی۔ پہلا اجلاس آج سے تیس برس قبل نیروبی میں ہوا تھا جس میں عیسائی مشن کی دو اہم شخصیات Robert Footner اور Dr. David Barrett نے شرکت کی تھی۔ منصوبے کا پہلا حصہ دنیا کے اسلامی ممالک کے سروے پر مشتمل تھا جسے آپریشن ورلڈ کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف تمام اسلامی ممالک کے ہر شعبے سے متعلق کوائف، معلومات اور اعداد و شمار جمع کیے گئے بلکہ اس پہلو پر بھی تفصیلی غور ہوا کہ اسلامی ملک میں کس طرح نقب لگا کر عیسائیت کے لیے راستہ بنایا جاسکتا ہے۔ معلومات کی روشنی میں ہر ملک کے لیے علیحدہ علیحدہ فنڈز مشنری ادارے اور سیٹلائٹ و ابلاغ کے ذرائع مختص کیے گئے۔ اس کام کو منظم کرنے اور مربوط بنانے پر تقریباً چھ سال لگے۔ اس کے بعد منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوا جسے آپریشن موبلائزیشن کا نام دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ڈور تھے مشن پھیلتا چلا گیا۔ اس کے فنڈز میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوتا چلا گیا اور جدید سے جدید تر ذرائع کا استعمال ہونے لگا۔ ڈور تھے مشن کی تازہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ دس برسوں کی کوششوں کو کامیاب ترین اور حوصلہ افزا قرار دیا گیا۔ اس رپورٹ کے ایک حصے کے مندرجات آپ بھی ملاحظہ کریں۔
"The Muslim World is the Major Challenge" The last 10 years have been more en-couraging than ever before. Despite the rise of Islamic Fundamentalism Muslim have been more exposed to the Gospel, and been more responsive to it, than even before. the number of converts out of Islam has increased, and for the first time churches have come into being in a number of muslim cities and nations. The cracks in the seemingly impenetrable wall of Islam can be widened.
”گزشتہ دس برس جتنے حوصلہ افزا رہے ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ اسلامی رجعت پسندی کے ابھرنے کے باوجود مسلمان عیسائیت کی طرف زیادہ مائل اور متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ صورت حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اسلام ترک کر کے عیسائی ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے شہروں اور علاقوں میں گرجا گھروں کی تعداد اور اہمیت بڑھی ہے۔ اسلام کے قلعہ میں دراڑیں پڑنے سے عالم اسلام کا منظر تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے“۔
ڈور تھے مشن کی تفصیلات کا آغاز ہم افغانستان سے کرتے ہیں۔ کیا افغان جنگ کے دوران افغان مہاجرین کے کیمپوں میں امدادی کام کرنے والی مغربی این جی اوز در پردہ افغان
مہاجرین کو عیسائی بنانے کے مشن پر بھی کام کر رہی تھیں؟ کون کون سی این جی اوز نے کن ذرائع سے افغان مسلمانوں میں نقب لگانے کی کوشش کی‘ اس کی تفصیلات سے قبل مولانا فضل الرحمن کی گفتگو کا ایک حصہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ مولانا فضل الرحمن بتاتے ہیں کہ ایسی این جی اوز نے پہلے پشتو‘ فارسی اور دری زبان سیکھی‘ پھر ۱۹۹۹ء تک وہ افغان کیمپوں میں ۱۳ لاکھ سے زائد افغانیوں کو عیسائی بنا چکے تھے اور ان میں سے اکثریت کو پاسپورٹ دے کر وہ یورپ آباد کر چکے تھے۔ اب یہ لوگ این جی اوز کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں بھی اس سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو عیسائی بنایا جارہا ہے۔ یہ این جی اوز جاسوسی کے اڈے ہیں۔ یہ ادارے پاکستان کے بارے گلی گلی کوچے کوچے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور بعض اوقات حساس معلومات بھی دوسرے ملکوں کو پہنچاتے ہیں۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں افغان مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے مشن پر ۱۹۸۶ء میں کام شروع ہوگیا تھا۔ ان این جی اوز نے جن بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے یہ کام شروع کیا ان میں نمایاں نام GRI، MI اور FEBA کے ہیں۔
GRI جو دنیا کی ۱۰۰ زبانوں میں عیسائیت کے فروغ کے لیے آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں تیار کرتا ہے اور مسلمان ممالک میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ GRI نے افغان کیمپوں میں فلاحی اداروں کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں نہ صرف کیسٹیں تقسیم کیں بلکہ ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر اور ٹی وی بھی فراہم کئے۔ GRI کے دفاتر دنیا کے کئی ممالک میں ہیں لیکن افغان مہاجر کیمپوں کو امریکہ‘ بھارت‘ برطانیہ کے دفاتر سے مانیٹر کیا جاتا رہا۔ GRI کے دفاتر کہاں کہاں واقع ہیں‘ بعض رپورٹوں سے ان کے ایڈریس معلوم ہوئے ہیں:
- 1- USA. 122, Glendle Blvd, Los Angeles, CA-90026
- 2- UK-Gloucester, Gl,5Se.
- 3- AUST- G.R.INC, Eastwood, NSW.2122.
- 4- S. AFRICA-G.R. Inc. OBSERVATORY, Cape Town, 7935.
پاکستان میں افغان کیمپوں کے لیے GRI کے بھارت آفس نے سب سے زیادہ کام کیا اور بھارت میں اس تنظیم کا آفس GR. Assoc, Commissariat Rd, Bangalore 560025 میں واقع ہے۔ ان کیمپوں میں دوسری تنظیم (International Mission Inc.) MI نے بھی بھر پور کام کیا ہے جس کا مرکزی دفتر USA, 323, Wayne, NJ 07470 واقع ہے۔ GRI کے ساتھ ساتھ بھارت میں موجود انٹرنیشنل تنظیم IEM (Indian Evangelical Mission) بھی معاون کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ بھارت میں اس کا مرکزی دفتر بنگلور میں واقع ہے اور اس کی ڈاک کے لیے پوسٹ بیگ نمبر ۲۵۵۷ بنگلور استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ افغان کیمپوں میں ریڈیو سروس کو سب سے زیادہ فروغ دیا
گیا جس پر روزانہ ایک خاص فریکونسی پر صبح ۶ بجے اور رات ۸ بجے پشتو، فارسی اور دری زبان میں FEBA ریڈیو کی سروس نشر کی جاتی تھی اور کیمپوں میں کام کرنے والی این جی اوز مہاجرین کو اس فریکونسی سے آگاہ کرتی تھیں۔ FEBA ریڈیو عیسائیت کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ سروسز مہیا کرتا ہے۔ یہ ریڈیو سروس ’فار ایسٹ براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن‘ کے تحت جاری ہوتی ہے۔ برطانیہ میں اس کا مرکزی دفتر UK, Ivy Arch Rd, Worthing, W. Sussex Bn 148Bu میں واقع ہے اور یہ ادارہ فار ایسٹ براڈ کاسٹنگ کمپنی کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کمپنی کے دوسرے دفاتر امریکہ کی ریاست Mirada آسٹریلیا میں Carningbah اور نیوزی لینڈ میں Hamilton میں واقع ہیں۔ ڈور تھے مشن کے زیادہ تر ادارے اور این جی اوز جو ایشیا میں کام کرتی ہیں وہ GEM (Greater Europe Mission) نام کے ادارے کے زیر کنٹرول ہیں اور GEM کا مرکزی دفتر Wheaton امریکہ میں ہے۔ بعض رپورٹوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ Afghan Border Crusade تنظیم نہ صرف مشنری کام کر رہی تھی بلکہ پاکستان، افغانستان اور روس تک امریکی سی آئی اے کے لیے جاسوسی کا کام بھی کر رہی تھی۔ علاوہ ازیں تمام اسلامی ممالک میں جتنے عیسائی مشن کام کرتے ہیں، ان کی GMU کے نام سے مشترکہ یونین بھی قائم ہے۔ جس کا مکمل نام Gospel Missionary Union ہے اور اس کا مرکزی دفتر 10,000 N. Oak, 64155 Kansas City Mo امریکہ میں واقع ہے۔ افغان باشندوں پر کام کرنے والی این جی اوز کی بعض رپورٹوں میں واضح طور پر تحریر ہے کہ انہوں نے افغان مہاجرین کو عیسائی بنانے میں حصہ لیا ہے۔ نہ صرف کیمپوں کے اندر اس مشن پر کام کیا ہے بلکہ ایسے مہاجرین جنہیں شدید زخمی حالت میں این جی اوز نے یورپی ممالک کے ہسپتالوں میں پہنچایا، انہیں بھی عیسائی بنایا گیا بلکہ مغرب میں تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلباء نے بھی عیسائیت قبول کر لی۔
افغانستان میں مہاجر کیمپوں میں امدادی سرگرمیوں اور سعودی عرب میں خلیجی جنگ کی آڑ میں غیر ملکی این جی اوز نے نقب لگائی۔ آج سے ۱۵ برس قبل ڈور تھے مشن کی رپورٹوں میں سعودی عرب کو عیسائیت کے فروغ کے لیے مشکل ترین سرزمین قرار دیا گیا تھا۔ اس مشن سے قبل ۱۹۸۶ء میں سعودی عرب کے بارے میں جاری کی جانے والی سروے رپورٹ کے ایک حصے کے مندرجات کچھ یوں تھے:
Saudi Arabia is one of the least evangelized nation on earth. "What a Challenge to Faith, no known believers, no Indigenous, no Christian Workers permitted to enter the Country, and no Christian even allowed to set Foot in Islam,s Holiest city of Mecca. Pray that this land, the heart of Islam, may see a demonstration of the power of the blood of lamb".
بھیجے اور رات ۸ بجے پشتو، فارسی اور دری زبان میں کیمپوں میں کام کرنے والی این جی اوز مہاجرین کو اس عیسائیت کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ سروسز ٹنگ ایسوسی ایشن کے تحت جاری ہوتی ہے۔ برطانیہ UK, Ivy Arch Rd, Worthing, W ڈ کاسٹنگ کمپنی کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس کمپنی کے اسٹریلیا میں Carningbah اور نیوزی لینڈ میں یادہ تر ادارے اور این جی اوز جو ایشیا میں کام کرتی Grea) نام کے ادارے کے زیر کنٹرول ہیں اور میں ہے۔ بعض رپورٹوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ نری کام کر رہی تھی بلکہ پاکستان، افغانستان اور ام بھی کر رہی تھی۔ علاوہ ازیں تمام اسلامی ممالک C کے نام سے مشترکہ یونین بھی قائم ہے۔ جس کا ہے اور اس کا مرکزی دفتر 10,000 N. Oak ہے۔ افغان باشندوں پر کام کرنے والی این جی وں نے افغان مہاجرین کو عیسائی بنانے میں حصہ لیا بلکہ ایسے مہاجرین جنہیں شدید زخمی حالت میں یا انہیں بھی عیسائی بنایا گیا بلکہ مغرب میں تعلیم ئی۔
گرمیوں اور سعودی عرب میں خلیجی جنگ کی آڑ رس قبل ڈور تھے مشن کی رپورٹوں میں سعودی قرار دیا گیا تھا۔ اس مشن سے قبل ۱۹۸۶ء میں ے رپورٹ کے ایک حصے کے مندرجات کچھ
Saudi Arabia Is one of "What a Challenge to Faith no Christian Workers perm Christian even allowed to set Pray that this land, the heart the power of the blood of lamb
ڈور تھے مشن کی سروے ٹیموں نے سعودی عرب کے بارے میں بڑی تفصیلی رپورٹیں اپنے مرکزی آفس کو ارسال کی تھیں۔ ان کی ایک رپورٹ میں مشن کو آگاہ کیا گیا کہ دنیا بھر میں اسلامک مشن کے پیچھے جو سب سے بڑی طاقت ہے اس کا نام مسلم ورلڈ لیگ مکہ (رابطہ عالم اسلامی) ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں اپنے مشن پر بھاری رقم خرچ کرتی ہے۔ اور اسلامی عقائد کو دنیا بھر میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسلامی ممالک کو امداد دیتی ہے دنیا بھر میں مساجد اور اسلامک سنٹرز کی تعمیر، مشن کے لیے وفود، لٹریچر اور ریڈیو سروس پر بھی بھاری فنڈز خرچ کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب دنیا میں مسلمانوں کے لیے جن آزادانہ سرگرمیوں کا حامی ہے ایسی سرگرمیوں کی اجازت عیسائیوں کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ رپورٹ کے ایک حصے کے مطابق سعودی عرب میں ظاہری یا خفیہ مشن بھیجنا انتہائی خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر کوئی فرد خفیہ طور پر بھی اپنا مذہب تبدیل کرے گا تو اسے سزائے موت ہو جائے گی۔ تاہم ہمیں کچھ راستے تلاش کرنا پڑیں گے۔ رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ سعودی عرب میں عیسائیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے نقب کا ایک راستہ موجود ہے اور وہ یہ کہ سعودیہ میں کام کرنے والے یمنی، پاکستانی اور ایرانی باشندوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والے کورین بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ نیز فلپائنی نرسوں، پاکستانی لیبر اور مغربی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ڈور تھے مشن کے سروے کے بعد سعودی باشندوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرنے کے لیے سب سے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے ان طالب علموں، کاروباری افراد اور سیاحت کرنے والے باشندوں پر ڈورے ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا جو یورپی ممالک میں مقیم تھے۔ کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ FEBA ریڈیو نے خفیہ طور پر سعودی عرب میں اپنی نشریات کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی سعودی باشندے خفیہ طور پر یہ سروس سنتے ہیں اور یہ بہت مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ آغاز میں FEBA ریڈیو سعودی عرب میں ایک ماہ سے اوسط ۸۰ گھنٹے کی نشریات جاری کرتا رہا۔ سعودی عرب میں FEBA سروس کا خفیہ کوڈ Twr-39 تھا اور یہ نشریات کوریا سے جاری ہوتی تھیں۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا۔ بعد ازاں خلیج کی جنگ کے بعد دفاع، میڈیکل، ٹیکنیکل اور مالیاتی شعبوں کی آڑ میں کئی مشنریز سعودی عرب میں داخل ہو گئے۔ اس وقت سعودی عرب کو جو ادارے مانیٹر کر رہے ہیں ان میں (Every Home (EHC Crusade (جس کا دوسرا نام World Li- terature Crusade ہے) (IHCF (انٹرنیشنل ہاسپٹل کرسچین فیلوشپ) اور (Middle East Christian Outreach) نمایاں ہیں۔ MECO کے مختلف ممالک میں دفاتر ہیں جہاں سے سعودی عرب اور پورے مڈل ایسٹ کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ ان کے دفاتر کہاں واقع ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
USA- Highland Park, IL, 60035- P.O.Box- 725. Cyprus- P.O. Box 662- Larnaca.
UK- 22, Culverden Park Rd. Tunbridge Wells, Kent tn4 Gra. Aust- P.O. Box. 528, Camervell Vic-3124.
دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں مغرب اور امریکہ کی سرپرستی میں کام کرنے والی مقامی این جی اوز کو ڈور تھے مشن سے وابستہ تقریباً ۱۵۰ بین الاقوامی ادارے کنٹرول کرتے ہیں۔ ان میں براڈ کاسٹنگ پبلشنگ اور امدادی و فلاحی ادارے بھی شامل ہیں اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے مشن بھی۔ ان ڈیڑھ سو اداروں میں سے چند اداروں کے مختصر نام یہاں دیے جارہے ہیں۔
AEAM, ACCF, EMA. EFI, USCWM, ABC, AEF, ARCM, BEM, BFM, CAM, CBOMB, CMA, ECM, FEBA, FEBC, GEM, GRI, HCJB, IBRA, IEM, IMI, ISI, MECO, NTM, OD, QIM, RSMT, SAO, SIM, TEAR, UBS, UWM, WRMF, YWAM.
مشن سے وابستہ لوگ اب اسلامی ممالک میں مالیاتی اداروں، آئل کمپنیوں ریڈ کراس یو این او اور دفاعی ماہرین کے پلیٹ فارم استعمال کر کے بھی ان ممالک میں اپنا کام کر رہے ہیں۔ عیسائیت کے لیے سب سے زیادہ کام افریقہ کے پسماندہ علاقوں میں کیا گیا جہاں اربوں ڈالر خرچ کیے گئے اور لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی بنایا گیا۔ افریقہ میں عیسائیت کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ کام AEAM نامی تنظیم نے کیا جس کا پورا نام Association of Evangelicals in Africa and Madagascar ہے اور اس کا مرکزی دفتر نیروبی کینیا میں ہے۔ اس کے علاوہ افریقہ میں اس کے ساتھ AE, AEF اور ALM نام کے ادارے بھی معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے کام میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بہت تیزی آئی۔ جنگ اور جنگ کے فوراً بعد امدادی اور فلاحی کاموں کی آڑ میں ڈور تھے مشن کے لیے ابتدائی طور پر تین بڑی این جی اوز نے کام کیا۔ یہ تنظیمیں نہ صرف جاسوسی کا کام کرتی رہیں بلکہ بحران کے دور میں انہوں نے پورے بنگلہ دیش میں عیسائیت کے بارے میں لٹریچر پھیلا دیا۔ ریڈیو کی نشریات کی فریکوئنسی بڑھادی اور اپنے دفاتر قائم کر لیے۔ سب سے زیادہ کام HEED نامی تنظیم نے کیا۔ اس کے علاوہ wv اور Tear نام کی تنظیمیں بھی سرگرم رہیں۔ براڈ کاسٹنگ کمپنی FEBC عیسائیت کی تبلیغ کے لیے بنگلہ دیش میں اپنی نشریات منیلا سٹیشن سے جاری کرتی ہے۔ اس کے علاوہ GRI تنظیم ۱۶ مختلف زبانوں میں اپنی ریکارڈنگ بنگلہ دیش ارسال کرتی ہے۔
ڈور تھے مشن پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں جو این جی اوز کام کرتی رہی ہیں وہ دراصل دو اہم بین الاقوامی مشنری اداروں کے لیے کام کر رہی تھیں جس میں ایک ادارہ RSMT (Red Sea Mission Team) اور
دوسرا ادارہ (tional) WEC Minneapolis امریکہ ely واقع ہیں جبکہ WEC کے اہم واقع ہیں۔ پاکستان میں پختونوں سرحد میں اور افغان کیمپوں میں Team, Rsmt, Om شامل گلگت میں بھی کئی مشن برسوں سے ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ کرا ہاتھ بھی ہے۔
دوسرا ادارہ WEC (Wec International) کے نام سے مشہور تھا۔ RSMT کے بڑے دفاتر Minneapolis امریکہ Finchely لندن Sydney آسٹریلیا اور آک لینڈ (نیوزی لینڈ) میں واقع ہیں جبکہ WEC کے اہم دفاتر برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں واقع ہیں۔ پاکستان میں پشتو بولنے والے لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر صوبہ سرحد میں اور افغان کیمپوں میں جو ادارے کام کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، ان میں ABC, Team, Rstm, Om شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی علاقہ جات کوہستان، سوات، دیر چترال اور گلگت میں بھی کئی مشن برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ کراچی کے اندر جو مشن کام کر رہے ہیں بعض ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ کراچی میں سنگین صورت حال کے پس پردہ ان بین الاقوامی تنظیموں کا ہاتھ بھی ہے۔
افضال طالب
این جی اوز کے گھپلے
وطن عزیز کی آزادی کا دائرہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب نصف صدی سے زائد پر محیط ہے۔ اس مختصر سے سفر میں مملکت خداداد کو بے تحاشا مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ آزادی کے بعد سفر پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ مسائل کا انبار ہے اور ہم اب تک اسی آزادی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ مارشل لاء‘ صدارتی نظام اور جمہوریت یہ سب ذائقے عوام نے چکھے اور نتیجتاً ان کے لیے کسی ایک راہ کو اپنانا مشکل ہو گیا۔ ان کا مستقل طور پر استحصال ہو رہا ہے۔ اس استحصال کی کئی شکلیں ہیں‘ کبھی جاگیردار‘ کبھی سرمایہ دار‘ کبھی آمر اور کبھی جمہوریت کے علمبردار ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آیا جس نے عوام کا استحصال عوامی طریقے سے کرنا شروع کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران طبقہ یا جاگیردارانہ نظام نے بہت کچھ کیا مگر اس طبقے نے جو کہ غیر سرکاری تنظیمیں ہیں‘ غیر سرکاری طور پر عوام کا استحصال عوامی سطح پر کیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد ہم نے دیکھا کہ بہت سارے فلاحی ادارے سرگرم عمل رہے اور فلاح و بہبود کے کام کے لیے محلہ کی سطح تک تنظیمیں بنیں‘ اس طرح سلسلہ چلتا رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے ادارے قائم ہوئے۔ رفتہ رفتہ ان اداروں نے منظم ہو کر فلاح و بہبود کے دیگر کام کیے اور چھوٹی سطح پر ترقی کے لیے ایک راہ ہموار کی۔ اس بناء پر حکومت وقت نے ان کا ساتھ دیا کیونکہ اس کام کے پیچھے جو جذبہ کارفرما تھا‘ اس میں ایک چیز تعمیر مملکت اور دوسرا خدمت انسانیت تھا۔ ان چھوٹے اداروں سے متاثر ہو کر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ۶۰ اور ۷۰ کی دہائیوں میں یہ ڈیپارٹمنٹ زیادہ فعال ہوا اور اس کا بجٹ بڑھا دیا گیا۔ پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب بنگلہ دیش علیحدہ ہو گیا‘ ملک میں سیاسی سطح پر افراتفری ہوئی اور یہ مسئلہ مارشل لاء کا باعث بنا۔ عوامی حکومت کا خاتمہ ہوا‘ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والے لوگوں کے لیے تقریباً تمام دروازے بند ہو گئے۔ مارشل لاء کا دور سیاہ دور تھا‘ جب طلباء تنظیموں پر پابندی‘ وکلاء پر پابندی‘ لیبر یونین بند‘ یعنی تمام سرگرمیاں ختم ہو گئیں اور ایک گھٹن کی فضا قائم ہو گئی تھی۔ لوگوں نے اپنے آپ کو قید اور جبر کی حالت میں پایا۔ یہی وہ موقع تھا جب سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کے حامل لوگوں نے اپنے چہرے
بدلے اور خدائی خدمت گار بن کر میدان عمل میں اتر آئے۔ ان لوگوں نے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور ان کی رہنمائی کا بیڑا اٹھالیا۔
۱۹۸۵ء میں نوجوانوں کا عالمی سال منایا گیا اور یہاں پر بہت سارے نوجوانوں کے گروپ بنے۔ اس سے پہلے حدود آرڈیننس اور دیگر قوانین کے خلاف عورت فاؤنڈیشن اور دیگر ادارے معرض وجود میں آئے جنہوں نے ان یوتھ گروپس کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ وہ علیحدہ نظریات کے حامل ہو گئے اور بقایا جات کو ان سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے استعمال کیا جن کا نہ سیاسی ماضی تھا، نہ کوئی پہچان۔ انہوں نے پیسے خرچ کیے ان نوجوانوں کے کندھوں کو استعمال کر کے غیر جماعتی الیکشن جیت کر اسمبلیوں کی راہ لی اور اب تک وہ کامیابی سے اس راہ پر چل رہے ہیں۔ دوسری طرف لیفٹ کے لوگوں نے بھی سوچا اور غیر سرکاری تنظیمیں بنا کر ان میں اپنے آپ کو فٹ کر کے اپنے نظریات کا پرچار شروع کر دیا۔ یوں ایک نئی قسم کا ناراض گروپ پیدا ہوا، اس کو ”ترقی پسند“ کہا جانے لگا۔ یوتھ گروپس میں سے کچھ ختم ہو گئے اور کچھ مستقل طور پر باقاعدہ ایک رسمی شکل اختیار کر کے اب کاروباری ادارے کا مقام رکھتی ہے۔ یہ شکل آل پاکستان یوتھ فیڈریشن ہے۔ طارق حلیم چوہدری اس کے تاحیات چیئرمین ہیں جو کہ بڑھاپے میں نوجوانوں کی بیرون ملک نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ بہت سے تعلیمی اور سائنسی اداروں کے مالک بھی ہیں۔ یوں ہمارے ملک کا روشن مستقبل جو کہ یہ نوجوان طبقہ ہے، اب اس فیڈریشن کی گھٹیا سیاست میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ یہ نوجوان اپنے قیمتی سال ضائع کر کے اس فیڈریشن کے لیے کام کرتے ہیں مگر حاصل کچھ بھی نہیں۔ اس کام کی سربراہی حکومتی سطح پر ہوتی ہے اور یوتھ منسٹری بھی اس فیڈریشن کے رحم و کرم پر ہے۔ سیمینار، تقاریب، بیرون ملک کے دورے اس منسٹری اور فیڈریشن کا کام ہے۔
مارشل لاء دور کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ہی غیر سرکاری تنظیموں کی بھر مار ہوگئی۔ دُور دراز علاقوں کے یوتھ گروپس نے تنظیمیں بنائیں جنہوں نے اپنی مظلومیت کا چرچا کر کے غیر ملکی امداد حاصل کی۔ اس طرح غیر سرکاری تنظیموں کا مافیا رسمی اور عملی طور پر ۱۹۸۸ء میں سرگرم عمل ہوا جن کا منشور ”آؤ مل کر کھائیں“ شروع ہو گیا۔ ان اداروں نے بیرون ملک سے ترقی کے نام پر امداد لینا شروع کی اور ساتھ ساتھ ان یوتھ گروپس اور تنظیموں کی اندر کھاتے سرپرستی شروع کر دی جو مارشل لاء دور کے اندھیروں میں روشنی اور امید کے متلاشی تھے، وہ ان کے چنگل میں پھنس گئے۔ اس ساری یاترا اور قربانی کے بعد یہ چیلے اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے اور انہوں نے گاؤں گاؤں اور اپنے علاقوں میں تنظیم سازی شروع کر دی حالانکہ نظریات ان ترقی پسندوں کے تھے جو سال میں چھ چھ ماہ بیرون ملک جاتے تھے۔ واپسی پر اپنی تفریحات کے سامان کے ساتھ نئے نعرے، نئی اصطلاحات لاتے اور ان چیلوں کو بانٹ دیتے تھے۔ یوں اس مافیا نے ترقی کے نام پر لوگوں کو ان کے ثقافتی، سیاسی، سماجی اور مذہبی اثاثوں اور ورثہ سے محروم کرنا شروع کر دیا جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر
سے خدمت اور انسانیت کا شعور ختم ہو گیا یعنی جو ہم رضا کارانہ طور پر کر رہے تھے اس نظریہ کو مادی اصطلاح میں تبدیل کر دیا گیا اور رضا کارانہ خدمت کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ایک دیہات کی سطح پر عام آدمی پروفیشنلزم کی بات کرتا ہے جس کا مطلب مادی فائدہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس طرح ایک نیا طبقہ تشکیل پا گیا مگر ترقی کی رفتار وہی ہے جو تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سیدھی بات ہے کہ یہ سب کچھ صرف غیر موزوں قوانین‘ ناقص نظام‘ ناہموار سیاسی نظام اور مفادات کی بناء پر ہوا۔ اگر کچھ غور کریں تو سماجی فلاح و بہبود کے لیے گروپ بنتے ہیں اور رجسٹرڈ بھی ہوتے ہیں مگر وہ رجسٹریشن ان اداروں سے کرواتے ہیں جو مؤثر طریقے سے کوئی کارروائی عمل میں نہ لا سکے۔
اس وقت تمام پیرنٹس آرگنائزیشنز ۱۸۶۰ء رجسٹریشن ایکٹ جوائنٹ سٹاک آف کمپنیز کے ساتھ رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تو اس ایکٹ کے ذریعہ خیراتی ادارے‘ مسجد کمیٹیاں وغیرہ رجسٹرڈ ہو سکتی ہیں۔ مگر بدقسمتی کہ چند سو روپے یا ایک سیکرٹری کا فون ان اداروں کو رجسٹریشن فارم حاصل کرنے میں اتنا اہم اور ضروری ہے کہ ساری سہولتیں مل جاتی ہیں یعنی غیر ملکی ڈونرز کے لیے یہ رجسٹرڈ ادارے ہیں اور امداد حاصل کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں آڈٹ اور حکومتی چیک سے بچنے کے لیے یہ خیراتی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے کوئی ادارہ خواہ وہ ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ ہو‘ عورت فاؤنڈیشن یا دیگر ادارے سب کے سب اسی مد میں رجسٹرڈ ہیں حالانکہ یہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے رجسٹرڈ ہونے چاہئیں اور اگر بیرون ملک سے امداد لیتے ہیں تو سوشل ویلفیئر کے افسران ان کی نگرانی کریں مگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں قائم تمام بڑے ادارے اصل میں تمام ”بڑے“ بڑی سطح پر مل کر چلا رہے ہیں۔
اس وقت ملک میں بڑی بڑی تنظیمیں یا ادارے جو بیرونی ممالک کی امداد سے چل رہے ہیں‘ ان کی تعداد تقریباً چالیس ہے جو بیرون ملک سے امداد حاصل کر کے ان کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف ممالک کے ہائی کمیشن بھی اپنے فنڈز کا استعمال براہ راست یا بذریعہ ان اداروں کے کر رہے ہیں۔ یہ سب مل جل کر ملک کے دُور دراز علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے کلائنٹس میں چھوٹی چھوٹی تنظیمیں یا دوست احباب شامل ہیں۔ اب تک کروڑوں ڈالر امداد کی شکل میں اس ملک کے غریبوں کے نام پر حاصل کیے گئے ہیں مگر غریب وہیں کے وہیں ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کافی کچھ کما چکے ہیں اور صحیح معنوں میں ترقی یافتہ ہو گئے ہیں۔ نام نہاد ملازمین کو نہ صرف پرکشش تنخواہیں دی جاتی ہیں بلکہ بیرونی ممالک کے دورے‘ ایئرکنڈیشنڈ دفاتر‘ گاڑیاں اور سہولیات ملتی ہیں۔ اس کے بدلے میں یہ لوگوں کو کیا دے رہے ہیں؟ نفرت‘ نظام کے خلاف غصہ‘ ایک بے مقصد انقلاب کا نوالہ‘ مذہب سے دُوری‘ رشتوں‘ رسم و رواج اور ثقافت کے خلاف علم بغاوت...... اس کے نتائج نئی نسل گمراہ...... والدین کی عزت خاک اور ہر روز عدالتوں میں
صائمہ ارشد جیسے ”لو میرج“ کیس ۔ انسانی حقوق کے علمبردار یا ترقی پسند یا اس ملک کے عوام کے خیر خواہ یا درد رکھنے والے خواتین و حضرات دراصل ہیں کیا؟
ہمارے ملک کی نمائندہ خواتین‘ جن میں قابلِ ذکر نگار احمد‘ نگہت سعید خان‘ کشور ناہید‘ عاصمہ جہانگیر وغیرہ ہیں جو خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں اور بیرونِ ملک جا کر ہمارے ملک کی عورت کی مظلومیت کو ڈالرز میں بیچتی ہیں۔ ان کی دُکھی زندگی کی عکاسی تصاویر وغیرہ میں کر کے اسے مختلف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ سونے پہ سہاگہ ان کے گروپ کی شاعرہ ان کے جذبات کو آزاد نظم میں بیان کر کے داد تحسین اور رقوم لیتی ہیں۔ ان عورتوں نے آزادی کی ایک نام نہاد جنگ شروع کر دی ہے اور اسی جنگ میں انہوں نے بہت سے گھر برباد کر دیئے ہیں۔
اگر ہم اس سارے نیٹ ورک پر غور کریں تو سب سے پہلی بات ان کے تعلقات ہیں‘ جو بیرونِ ملک میں ہیں یعنی ان کو امداد دینے والے آقا۔ انہوں نے ان کو بالا بالا فنڈنگ کی‘ انہوں نے بڑے بڑے دفاتر بنائے‘ قوانین بنائے‘ اصول وضع کیے اور اپنی مرضی کا ایک طریقہ کار بنایا جس کے تحت دیگر چھوٹی تنظیموں سے کام لیتے ہیں اس کے بعد ان لوگوں نے اپنی زبان بنائی یعنی انہوں نے اپنی سہولت کے لیے نئے محاورے‘ اصطلاحات اور نام متعارف کرائے۔ یعنی چھوٹی تنظیمیں سی بی او‘ دیہی گروپ‘ اربن گروپ اور مضافات وغیرہ اس کے علاوہ ترقی کو اپنی تعریف دی پھر اس کی اقسام بنا دیں۔ استعداد کار کی بہتری کے لیے پروگرام بنائے اس کے علاوہ اپنے ارد گرد وہ لوگ شامل کیے جو ان کے نظریات کے حامی ہیں۔ باہر کا کوئی شخص ان کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ بھائی‘ بہنوئی‘ بھتیجے‘ بیویاں‘ سالیاں سب مل جل کر کھا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے بورڈ ممبرز ہیں‘ ایڈوائزر ہیں اور بعض اوقات یہی لوگ پورے پروگرام کا تجزیہ اور جائزہ لینے کے لیے جاتے ہیں۔ ڈونر کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں اور ان کو ”ٹن“ کرنے کا انتظام تنظیم کے بڑے کرتے ہیں۔
ان اداروں میں بھرتی ہونے کا یا ممبر شپ کا سسٹم
زیادہ تر ”اِن“ لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو کہ ”یَس مین“ ہوں۔ ایک جائزہ لیں تو ہر تنظیم میں گرو اور چیلوں کی تعداد ملے گی۔ اس کے علاوہ سب ایک دوسرے کے بورڈ ممبر ہیں یا کونسل کے ارکان ہیں۔ ان کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ”اِن“ نہ ہو جائے۔ ان اداروں کے سربراہ یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ‘ ان کی بیویاں‘ سیاست دان‘ ان کے بیٹے‘ بہوئیں‘ بیگمات یا پھر جیالے ہوتے ہیں جن کو نہ ترقی کی سمجھ ہے نہ کسی اور کی۔ اسی طرح سلمان شیخ ایس پی او کے ڈائریکٹر بھی جیالے ہیں جو پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر تھے اب وہ ایسے ادارے کے سربراہ ہیں جہاں وہ تقریباً پچاس ہزار سے زیادہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔
کھانے کا طریقہ
ایک طریقہ کار تو یہ ہے کہ تنخواہیں‘ اس کے علاوہ ان کے اکاؤنٹس آفیسر بڑے چاک و
چوبند اور ہوشیار ہیں۔ ایک سطح پر وہ ڈائریکٹرز کے اخراجات کو اتنی مہارت سے دفتری اخراجات میں ملا دیتے ہیں کہ اس کو الگ کر دکھانا عام انسان کے بس میں نہیں۔ علاوہ ازیں ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے یہ اکاؤنٹنٹ بینکوں میں پڑے کروڑوں کے فنڈز کا ذاتی استعمال کر کے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹنٹ صرف تنخواہ پر اکتفا نہیں کرتا، اس نے اپنی سطح پر کھانے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ جب کسی تنظیم کو امدادی رقم کا چیک دیا جاتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ ہم آڈٹ کریں گے۔ آڈٹ اس ادارے کے اکاؤنٹنٹ کے ذمہ ہوتا ہے یا پھر اس کے بھائی کی بنائی ہوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کرتی ہے۔ مجموعی فنڈز جو غریبوں کی ترقی کے لیے استعمال ہونا ہوتا ہے اس میں سے پانچ ہزار سے لے کر پندرہ ہزار روپے آڈٹ خرچ آ جاتا ہے۔ یہ سب مل جل کر جیب میں جاتا ہے۔ اگر ہر سال دس پندرہ تنظیموں کا آڈٹ ہو تو کم از کم لاکھوں روپے کی آمدن تنخواہ کے علاوہ یہ کارنامہ ایس اے پی کے ماجد ذوالفقار کا ہے۔
اسی طرح جب دیکھیں تو عورت فاؤنڈیشن کے ماہر اکاؤنٹنٹ مسٹر جمال ہیں جو اس ادارے کے ماہر انتظامات مسٹر چیمہ کے ساتھ مل کر خوب محنت کر رہے ہیں۔ اس کا صلہ ان کو ذاتی مفادات میں ملتا ہے۔ کمائی کا ذریعہ یہاں تک ہے کہ اگر کوئی سیمینار کوئی بین الاقوامی ادارہ کروا رہا ہو تو شرکاء کو سفری الاؤنس دیا جاتا ہے اس کے فارم پر سب چیزیں قلم سے لکھی جاتی ہیں جبکہ رقم پنسل سے۔ پچاس شرکاء کو سو روپے دیئے جائیں اور ادارے کی طرف سے تین سو روپے مختص ہوں تو دو سو روپے ہر شرکت کرنے والے کے کٹ جاتے ہیں اور یوں ان کی جیبیں بھرتی ہیں۔
گزشتہ آٹھ دس برس میں اس مافیا نے جس طریقے سے سارے ترقیاتی عمل کو بے معنی رنگ دیا ہے وہ ہمارے لیے خطرناک ہے۔ کروڑوں ڈالر کی امداد غریبوں کے لیے آتی ہے جو ممالک امداد دیتے ہیں ان کے اعداد و شمار میں ہم پسماندہ ہیں، مظلوم ہیں اور تیسرے درجے کے لوگ ہیں۔ وہ اپنی ہدایات دیتے ہیں اور جدید طریقے سے حکمرانی کرتے ہیں۔ ایک سطح پر ہمارے خیر خواہ دوسری سطح پر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس خاص مقصد کے لیے جو لوگ ان کے ایجنٹ ہیں وہ پے رول پر ان اداروں کے سربراہ ہیں جو دوبارہ انہیں ایک نو آبادیاتی نظام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خیالی نئی پیکنگ اور سوچ میں لپٹا ہے مگر ۱۸-۱۹۱۷ء کا نو آبادیاتی نظام نہیں آئے گا بلکہ ہم اکیسویں صدی میں جا رہے ہیں جہاں پر ہم اصل میں ایک معاشی نو آبادیاتی نظام کی طرف جا رہے ہیں۔ اب یہ لمحہ فکریہ نہ صرف لوگوں کے لیے ہے بلکہ حکمرانوں کے لیے بھی ہے کہ اس سرطان کے خلاف کام کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر وہ ادارہ جو غیر سرکاری ہونے کا دعویٰ کرے اس کی نگرانی کرے اور ان کے معاشی وسائل اور اخراجات کی جانچ پڑتال کرے تاکہ معلوم ہو کہ کیا کام ہوا؟ کیا خرچ ہوا؟
صدر صاحب، وزیر اعظم صاحبہ اور اپوزیشن لیڈر اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے سوچیں تو لمحہ
فکر یہ ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ سب ملے جلے ہیں مگر ایسا ممکن نہیں۔ ہاں اس ساری صورت حال کو جانچنے اور کوئی لائحہ عمل بنانے کے بعد حکومت وقت ایک بڑی کرپشن میں شامل حصہ ہونے کے الزام سے بری الذمہ ہو سکتی ہے کیونکہ زرداری صاحب ماحولیات کمیشن کے چیئر مین ہیں اور عوام کو آگاہی ہے کہ اس مد میں بھی کروڑوں ڈالرز کی امداد آتی ہے۔
سابق ایم پی اے اور پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز صالح کی بیوی فرح صالح نے بھی ”نساء فاؤنڈیشن“ کے نام پر پتلی تماشا کروانے کے لیے ایک تنظیم بنائی اور انہیں ابتدائی طور پر تقریباً بیس لاکھ کے لگ بھگ امداد ملی جس سے انہوں نے پندرہ سے بیس کے قریب پتلی تماشے کروائے۔ ان پر کتنی رقم خرچ ہوئی، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ ”فیملی ویلفیئر کوآپریٹو سوسائٹی“ کے نام سے ایک تنظیم اسلام پورہ میں کام کر رہی ہے جس میں ایک زچہ بچہ سنٹر کھولنے کے علاوہ خواتین کو چھ ماہ کا ٹریننگ کورس کروایا جاتا ہے لیکن یہ کام زیادہ تر دکھاوے کا اور بے سود ہے کیونکہ یہاں سے ٹریننگ حاصل کرنے والی خواتین کو مشکل سے کوئی نوکری ملتی ہے البتہ ٹریننگ دینے کی آڑ میں لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ”ویمن ایکشن فورم“ ایک تنظیم ہے جس کا کام عورتوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس تنظیم کے کرتا دھرتاؤں میں ماڈرن بیگمات شامل ہیں۔ ان کی اہم میٹنگوں میں سگریٹ اور مے نوشی عام ہوتی ہے۔ مذکورہ تنظیم نے دینا حیات سے زیادتی والے کیس میں چار روز بھوک ہڑتال بھی کی اور بیرون ممالک ڈونرز کو یہ باور کروایا کہ پاکستان کی خواتین دنیا کی مظلوم ترین خواتین ہیں جن کی ہم مدد کرتے ہیں حالانکہ آئے روز اخبارات میں خواتین سے زیادتی کے کیس شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ تنظیم کبھی حرکت میں نہیں آئی۔
”دی ریفارمز“ ایک تنظیم جس کو بنانے والوں میں طاہر آزدانی اور ان کے دوست احباب شامل ہیں، اس کا کام خون اکٹھا کرنا اور ضرورت مند لوگوں کو دینا ہے لیکن ہلال احمر اور فاطمید جیسے ادارے سامنے آنے پر اس تنظیم نے اپنا کام بند کر دیا لیکن ڈونرز سے امداد بدستور لے رہے ہیں۔
”پائلر“ (PILER) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن نامی ایک تنظیم ہے جس کا سربراہ کرامت چھ ماہ پاکستان اور چھ ماہ بیرون ملک دوروں پر رہتا ہے۔ اس تنظیم نے بیرونی ممالک کے ڈونرز سے لاکھوں ڈالر یہ کہہ کر وصول کیے کہ ہم صنعتی ورکرز کی تربیت اور ریسرچ کرواتے ہیں اس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے جبکہ سب آفس لاہور میں ہے۔ کرامت کا بھائی بھی اس تنظیم کا اکاؤنٹنٹ ہے۔ کرامت کی بھانجی فرح ”پائلر“ کے نام پر بیرون ممالک دورے پر گئی اور واپس نہیں آئی۔ یہ تنظیم ہالینڈ کے علاوہ ”ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ“ سے بھی امداد حاصل کرتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ”ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ“ ڈونرز کو یہ کہتی ہے کہ ہم دیہی علاقوں میں صنعتی ورکرز کی ٹریننگ کے لیے امداد دیتے ہیں حالانکہ ”پائلر“ کا دفتر لاہور میں ہے اس کے علاوہ ایک تنظیم ”ڈیموکریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ“ (DCHD) ہے۔ اس کا ڈائریکٹر وجاہت مسعود ہے جبکہ اس کی بیوی تنویر جہاں
تنظیم کی اہم پوسٹ پر کام کرنے کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن میں بھی کام کر کے بھاری تنخواہ وصول کرتی ہے۔ اس تنظیم نے بھی انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ ”جدوجہد“ نام کا ایک ادارہ جو کچھ عرصے سے کام کر رہا تھا لیکن اس کے ڈائریکٹر تنویر گوندل اور مذکورہ ادارے کے اہم رکن فاروق طارق کے درمیان لین دین کا جھگڑا ہو گیا جس کے بعد فاروق طارق نے اپنی تنظیم ”مزدور جدوجہد“ بنالی جبکہ تنویر گوندل نے اپنی تنظیم ”طبقاتی جدوجہد“ کے نام سے بنا کر کام شروع کر دیا۔ تنویر گوندل کی کینال ویو میں کوٹھی ہے۔ فاروق طارق بیرون ملک دورے پر رہتے ہیں۔ ”انسانی فاؤنڈیشن“ کے نام سے بھی ایک تنظیم ہے جس کا ڈائریکٹر محمد مشتاق ہے انہوں نے بھی چائلڈ لیبر کے نام پر بہتی گنگا پر ہاتھ دھوئے۔ ایک اور تنظیم جو ”دامن“ کے نام پر کام کر رہی ہے‘ اس کی چیئر پرسن نغمہ رشید ہے۔ یہ تنظیم بھی عورتوں کی ٹریننگ کے نام پر بیرون ممالک سے امداد حاصل کرتی ہے۔ ان کا مغل پورہ میں سکول ہے جس کو وہ چلا رہی ہے اس کے علاوہ ان کی ایک ساتھی نیازی نامی خاتون ہے جس کی گارمنٹس کی ایک فیکٹری جہاں وہ عورتوں کو ٹریننگ دینے کی آڑ میں بیرون ممالک ڈونرز سے امداد حاصل کرتی ہے۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے مختلف شہروں میں یہ خدائی خدمت گار تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ ان میں ملتان میں کام کرنے والی ایک تنظیم ”عوامی کمیٹی“ کام کر رہی ہے اس کے سربراہ آصف رشید نے یوتھ گروپ بنایا‘ سیمینار اور ورکشاپس کروانے کی آڑ میں فنڈز اکٹھے کیے اور اپنی لائف بنائی۔ فیصل آباد میں کام کرنے والی ایک تنظیم جس کا نام ”کریسنٹ یوتھ ویلفیئر سوسائٹی فیصل آباد“ ہے‘ اس کو مسز شیخ چلا رہی ہیں جس نے اپنے دوست کی سفارش پر اسے فنڈز دیئے جس کے تحت اس نے سکول بنایا اور یہ تنظیم ختم کر دی اور وہ سکول آمدن کا ذریعہ بن کر رہ گیا۔ ”کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل“ جہلم میں ایک ادارہ ڈاکٹر اسد مرزا چلا رہا ہے۔ یہ ایک خاندانی تنظیم ہے جس نے یوتھ کلب سپورٹ کلب بنائے تھے۔ یہ تنظیم بڑے آرام سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھی کہ ایس اے پی نے ترقی کا سبق دیا اور پھر فنڈز کی طرف لگا دیا۔ ڈیڑھ لاکھ روپے ایس اے پی سے فنڈ ملا جس کے بعد سی آئی ڈی اے نے بلڈنگ بنانے کے لیے لاکھوں روپے دیئے۔ مذکورہ تنظیم کی آؤٹ پٹ کچھ بھی نہیں۔ ”سانجھ ویلفیئر سوسائٹی“ نارنگ منڈی‘ نارووال بھی ایک تنظیم کو وحید احمد نامی شخص چلا رہا ہے جو کسانوں اور عام لوگوں کو نفع کی بنیاد پر قرضے دیتے ہیں حالانکہ قرضے بغیر نفع کے دینے چاہئیں جبکہ یہ نفع کی بنیاد پر قرضے جاری کرتے ہیں۔ اس تنظیم کا صدر نفسیات میں ماسٹر ہے جو زیادہ تر لاہور میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پراجیکٹ میں اس کی فیملی کے لوگ بھی تنخواہ لیتے ہیں۔ مذکورہ صدر گزشتہ چار سالوں سے اس عہدے پر فائز ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مذکورہ صدر نے یہ پراجیکٹ اپنے ایک دوست وسیم اشرف کی وساطت سے لیا تھا۔ اس طرح اس تنظیم نے بھی قرضے دینے کی آڑ میں خوب روپے ہڑپ کیے۔ ”کمیونٹی ڈویلپمنٹ کنسرن“ ڈھلے والی‘ ہیڈ مرالہ میں ایک تنظیم کو شکور مرزا چلا رہا ہے جس نے فنڈز میں ملے لاکھوں روپے لوگوں کی آمدن بڑھانے کے
منصوبے میں قرضہ دینے کے پراجیکٹ کی آڑ میں خود کھائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ تنظیم زیادہ تر دیہاتی عورتوں کے لیے سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ لاہور اور اسلام آباد میں اس کی اکثر میٹنگز ہوتی رہتی ہیں لیکن رزلٹ کچھ نہیں نکلتا۔
غریب پسماندہ عوام کو نمائش کے طور پر پیش کر کے بیرون ممالک سے لاکھوں روپے امداد حاصل کرنے والی ”خدائی خدمت گار“ غیر سرکاری تنظیموں کا راز فاش ہونے کے بعد مزید ایسی تنظیمیں منظر عام پر آئی ہیں جنہوں نے بیرونی ممالک کے ڈونرز کو خوب بے وقوف بنایا اور لاکھوں ڈالرز امداد حاصل کر لی ہے۔ ان میں ایک تنظیم ایچ آر سی پی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان جس کے کرتا دھرتاؤں میں عاصمہ جہانگیر اور جسٹس (ر) دراب پٹیل شامل ہیں جبکہ اس تنظیم میں آئی اے رحمان اور حسین نقی جیسے دانش ور بھی اپنی ”خدمات“ سرانجام دے رہے ہیں۔ اس تنظیم کا مقصد انسانی حقوق کا بیڑہ اٹھانا ہے اور خواتین کو ”آزادی“ کی طرف مائل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ عورتوں پر ہونے والے تشدد قتل و غارت اور دیگر واقعات کی اخبارات میں سے کٹنگ کر کے بیرون ممالک ارسال کرنا ان کے بنیادی کام میں شامل ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم ایسے افراد کی مدد کرتے ہیں۔ یہ تنظیم اس کے عوض لاکھوں ڈالر حاصل کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس تنظیم نے کئی ذیلی تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن میں چائلڈ لیبر بانڈڈ لیبر وغیرہ شامل ہیں جس کا سربراہ احسان اللہ ہے جس کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ”را“ کا ایجنٹ ہونے پر مقدمہ بنایا گیا مگر وہ بیرون ملک فرار ہو گیا۔ اس تنظیم کا کام چھوٹے بچوں کو مزدور ظاہر کر کے ان کی فلمیں تصاویر اور جلسے جلوسوں میں شرکت کروانا ہے۔ مذکورہ تنظیموں نے پاکستان میں قالین سازی کی صنعت کو تباہ کروا دیا ہے۔ اس کام کے عوض ڈونرز سے بھاری امداد وصول کی۔ علاوہ ازیں ایچ آر سی پی کی ایک ذیلی تنظیم ”دستک“ کے نام پر بنائی گئی جو نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو آزادی کے خواب دکھا کر انہیں مذکورہ ادارے میں پناہ دیتی ہے جس کی بناء پر حال ہی میں صائمہ اور گل بہار بانو جیسے کیس اخبارات کی زینت بنے۔ اس کے علاوہ مذکورہ تنظیم کو جب کوئی ایشو نہ ملے تو یہ مذہبی ایشو کو چھیڑ دیتی ہے۔
تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان کا بیٹا عمر اصغر خان جس نے ”سنگی“ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے اس کا کام ریسرچ اور سروے کرنے کے علاوہ چھوٹی چھوٹی تنظیموں کو تربیت دے کر اس کے عوض رقم وصول کرنا ہے۔ اس تنظیم نے بھی اب تک لاکھوں روپے بیرونی امداد حاصل کی ہے لیکن رزلٹ کچھ بھی نہیں۔
والدین کی معاشی مجبوریوں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب بچے اور خاندان کی کفالت کے لیے ہوٹلوں ورکشاپوں دکانوں بوٹ پالش کڑھائی وغیرہ کے کارخانوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ محکمہ لیبر اور خدائی خدمت گار تنظیمیں (این جی اوز) بچوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی آڑ میں کروڑوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں۔ ایک
غیر سرکاری ادارے کی طرف سے بنائی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۱۰ فیصد بچے سکول نہ جانے کے باعث تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ۳۷ فیصد بچے پرائمری تک تعلیم حاصل کرتے ہیں اور باقی محنت مزدوری کرتے ہیں۔ یہ بچے زیادہ تر ورکشاپوں، ہوٹلوں، بوٹ پالشوں، برتن دھونے، درزی کی دکانوں، کڑھائی، مکئی چنے فروخت کرنے اور بسوں میں پھیری لگا کر اور ویگنوں میں کنڈیکٹری کر کے اپنی اور خاندان کی کفالت کر رہے ہیں اور اکثریت حفظان صحت کے بنیادی اصول کے خلاف ماحول میں کام کرتے ہیں اور مالکان کی مار پیٹ علیحدہ ہے۔ محنت مشقت کرنے والے بچوں کی زیادہ تر عمریں چھ سے چودہ سال تک ہیں۔ پاکستان میں ہر سال دو لاکھ ۲۸ ہزار بچے اسہال کے مرض میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں اور ان کے مرنے کی وجہ بچوں کو بوتل کے ذریعے دودھ پلانا ہے۔ ایک ہزار بچوں میں سے ۹۱ فیصد بچے اپنی پہلی سالگرہ سے قبل ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ بچے صرف بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں۔ سندھ میں پانچ لاکھ سے زائد نو عمر بچے مشقت کر کے معمولی معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔ ساحل مکران بلوچستان میں بچوں سے سمگلنگ کروانے کے علاوہ اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کیا جاتا ہے جن کے پیچھے بااثر افراد کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ۲۰ لاکھ بچے سکول میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ۸۰ فیصد بچے غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں جنم لیتے ہیں جو زندگی بھر مختلف بیماریوں یا معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مستقبل کے معماروں کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے، اس کے بارے میں تاحال کوئی بہتر پالیسی نہیں بنائی گئی۔ محکمہ لیبر کاغذی جمع خرچ کر کے سب اچھا ہے، کا شور مچا رہا ہے جبکہ خدائی خدمت گار غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) بھی چائلڈ لیبر کے نام پر کروڑوں روپے امداد لے کر ہڑپ کر چکی ہیں اور معصوم بچے اپنے ہنسی خوشی کے دن اپنی اور خاندان کی کفالت کے چکروں میں گزار رہے ہیں۔
حکومت کلاز 5 (VI) کے تحت قانون بنادے تو کوئی این جی او کسی غیر ملکی تنظیم کے ساتھ مالی تعاون، گرانٹ یا فنڈز کے حصول کے لیے معاہدہ نہیں کر سکے گی۔ اس طرح بے شمار بے ضابطگیاں ختم ہو جائیں گی۔
حکومت کی ناقص پالیسی کے پیش نظر یہ غیر سرکاری تنظیمیں لوٹ مار مچا رہی ہیں جبکہ محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت رجسٹرڈ ہونے والی تنظیموں میں بے ضابطگیاں کم ہیں کیونکہ انہیں چیک کرنے کے لیے پورا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ لہٰذا تنظیمیں یہاں سے رجسٹریشن کرانے کے بجائے پونچھ ہاؤس سے کرواتی ہیں جہاں تمام کام مٹھی گرم کر کے ہو جاتا ہے۔
غریب عوام کی فلاح و بہبود اور انہیں انسانی حقوق دلوانے کی آڑ میں بیرونی ممالک سے کروڑوں روپے کی امداد اکٹھا کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے کرتا دھرتاؤں نے عوام کے بجائے اپنی زندگیاں سنوارنی شروع کر دی ہیں۔ ان میں بیورو کریٹ اور سیاست دانوں کی بیگمات کے علاوہ ایسے بھی افراد ہیں جن کے پاس رہنے کی سہولتیں بھی موجود نہیں تھیں۔ انہوں
نے ’’خدائی خدمت گار‘‘ غیر سرکاری تنظیمیں بنا کر عالیشان بنگلے اور پجارو خریدیں اور ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر اپنا کام سرانجام دے رہی ہیں۔ ان این جی اوز کو چیک کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ اس پورے مافیا نے اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب کو بھی اپنے ساتھ شامل کر رکھا ہے جنہیں بھاری تنخواہیں اور بیرونی ممالک کے دورے بھی کروائے جاتے ہیں۔ ایسی ہی چند تنظیموں کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے اب تک کروڑوں روپے بیرون ملک سے امداد کی آڑ میں ہڑپ کر لیے ہیں۔ ان تنظیموں میں ایک ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ (ایس اے پی) پاکستان ہے جس کا ڈائریکٹر محمد تحسین ہے۔ یہ ادارہ ۱۹۸۹ء میں قائم ہوا۔ یہ غیر سرکاری ادارہ جو کینیڈا کی ایک کنسورشیم کے زیر اہتمام چل رہا ہے، اب تک کروڑوں روپے ڈالر کی غیر ملکی امداد لے چکا ہے۔ اس کا اصل کام غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دیہی علاقوں کی ترقی ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رجسٹریشن جائنٹ سٹاک آف کمپنیز کے ایکٹ کے تحت کروا کر اپنے آپ کو قانونی طور پر مضبوط کر لیا۔ اس تنظیم نے اب تک تقریباً ۱۲۰ کے قریب منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی ہے۔ اس میں ۵۰ فیصد منصوبے دوستوں اور عزیز و اقارب کی نذر ہو گئے ہیں جبکہ باقی میں سے کچھ بورڈ ممبرز کو دیئے گئے ہیں جو تمام پابندیوں اور جوابات سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ تنظیم چاروں صوبوں میں کام کر رہی ہے اور پروجیکٹ دینے کے لیے کسی تنظیم کے معیار کے بجائے اس کے نظریات ایس اے پی کے منشور سے ملنے چاہئیں۔ اس تنظیم کا نظریہ ’’ترقی پسندی‘‘ ہے اور جو تنظیم ترقی پسند ہو، وہ ایس اے پی کے نیٹ ورک یا دائرۂ عمل میں آ جاتی ہے۔
اس وقت ایک ہزار کے قریب تنظیمیں اس کے زیر انتظام کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں نے تنظیموں کی تربیت کا بھی اہتمام کر رکھا ہے جس کا ایجنڈا تنظیم سازی، منصوبہ بندی واضح طور پر ہے مگر اس کے پیچھے تبدیلی کی بات ہوتی ہے اور اس طرح سماج دشمن تاثرات اور رجحان پیدا کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اس تنظیم کی تربیت لے لیتے ہیں، وہ بعد میں دانش ور کے زمرے میں آ جاتے ہیں اور یوں ایک علیحدہ کلاس اور طبقہ پیدا کیا جا رہا ہے جس کے دل میں اس سسٹم، مذہب کے خلاف نفرت ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ادارے کا ڈائریکٹر محمد تحسین جو عام آدمی تھا اور اندرون گوالمنڈی کا رہائشی ہے مگر اب وہ ڈیفنس میں ایک عالیشان بنگلے میں رہتا ہے جو ہر سال کینیڈا، امریکہ اور سوئٹزر لینڈ وغیرہ کے دورے فیملی کے ہمراہ کرتا ہے۔ مذکورہ ڈائریکٹر کی اکاؤنٹنٹ ماجد ذوالفقار سے انڈر سٹینڈنگ ہے جس کا بھائی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محسن ندیم ہے جو تمام تنظیم کا آڈٹ برائے نام اور خواہش کے مطابق کرتا ہے۔ ایس پی او کینیڈین انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی امداد سے چلنے والے اس ادارے کے دفاتر چاروں صوبوں اور ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلمان شیخ اسلام آباد میں جبکہ پنجاب میں ثمینہ اسلام کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ گزشتہ سات سال سے کام کر رہا ہے مگر ملکی عوام کی ترقی کے بجائے اپنی اور ملازمین کی زندگیاں سنوارنے کے لیے
کام کر رہا ہے۔ اسے تین سالوں میں تین کروڑ روپے کی امداد ملتی ہے اس تنظیم میں کام کرنے والے ڈرائیور کی تنخواہ پانچ سے چھ ہزار روپے ہوتی ہے جبکہ ڈائریکٹر چالیس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک وصول کرتا ہے۔ اس تنظیم کا تعلق بھی Left کی تحریک سے ہے۔ قابلیت یا اہلیت کا کوئی معیار نہیں ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر پروگرام کا ٹوٹل بجٹ عملی طور پر ۶۰ فیصد دفتری امور اور ۴۰ فیصد پروجیکٹ وغیرہ پر خرچ ہوتا ہے۔
(YCHR) یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس نامی ایک مقامی تنظیم ہے جو کہ ۱۹۹۰ء میں قائم ہوئی۔ یہ حادثاتی طور پر بننے والی تنظیم ہے جس کے سربراہ زرغام خان اور شازیہ خان ہیں جو میاں بیوی ہیں۔ انہوں نے کسی کے مشورے پر ایک گروپ بنا لیا ہے۔ ایس اے پی نے اسے تقریباً چار لاکھ کے فنڈز دیئے جس کے بعد ٹی وی او سمیت دیگر تنظیموں نے اس کی امداد کی۔ اس تنظیم میں بھی اہم بات یہ ہے کہ اس کے سارے ممبران آپس میں رشتے دار‘ بہن بھائی ہیں اور موبائل فون بھی زیر استعمال ہے۔ بدقسمتی سے اس کا بھی آڈٹ ہوتا ہے مگر آڈیٹر کو خوش کرنے کے بعد ڈائریکٹر اپنی پسند کا آڈٹ کرواتا ہے۔
حوا ایسوسی ایٹس کا قیام ۹۱-۱۹۹۰ء میں اچانک ہوا۔ اس کی صدر کشور ناہید ہے‘ وہ پہلے بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کلب لاہور کی صدر تھیں مگر بعد میں حوا ایسوسی ایٹس بنا لی جس کا دفتر انہوں نے ۱۴۳ پاک بلاک میں بنایا۔ یکی گیٹ لاہور میں ایک سکھی مرکز کے نام سے ایک سنٹر کا قیام فیملی پلاننگ کے تعاون سے ہوا تھا مگر اس کے بعد یہاں پر غیر ملکی ڈونرز کی لائنیں لگ گئیں‘ جنہیں اندرون شہر میں کام کرنے والی خواتین کو نمائش کے طور پر دکھایا گیا اور لاکھوں روپے ان کی تربیت کے نام پر لیے گئے۔ یہ تمام پروجیکٹ ایک ہی جگہ یعنی یکی گیٹ کے مراکز میں قائم ہیں لیکن آج کل گھوڑے شاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اے ایس آر اپلائڈ سوشیو اکنامک ریسرچ غیر سرکاری ادارہ ہے جو قریباً دس سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر عورتوں کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے‘ اس کی ڈائریکٹر نگہت سعید خان ہیں جنہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ یہ ادارہ عورتوں کی آزادی‘ تحریک آزادیٔ نسواں کو منفی رنگ دے کر ابھارتا ہے۔ اس کے علاوہ پمفلٹ اور مختلف لٹریچر اس پر شائع کیے جاتے ہیں۔ جتنا بھی مواد شائع کیا جاتا ہے اس میں عورتوں کی آزادی کا جو رنگ دیا جاتا ہے‘ وہ مذہب سے دُور‘ شوہر سے دُور‘ بلکہ اس سسٹم سے دُور ہو جاتا ہے جس میں خاندانوں کے خاندان تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں بے شمار غیر ملکی امداد حاصل کی جا رہی ہے۔ ہندو شعراء اور شاعرات کی شاعری کی لوک دُھن پر کیسٹ بنا کر فروخت کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر غیر ملکی مواد کا ترجمہ کیا جاتا ہے جنہیں بعد میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اس طرح ایک اور تنظیم جو الف لیلیٰ بک بس اور ہابی کلبز کے زیر اہتمام کام کر رہی ہے اس کے سربراہ میاں بیوی بصارت کاظمی اور مدحت کاظمی ہیں۔ یہ مختلف غیر ممالک کے ڈونرز سے اس
مقصد کے لیے امداد حاصل کرتے ہیں سکولوں کے بچوں کو لائبریری کی سہولتیں کے طور پر دکھا کر امداد حاصل کرتی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کمروں میں بیٹھا رہتا ہے‘ بچے بہتر لیلیٰ بک بس کے علاوہ ہابی کلب جس جھانسہ دے کر امداد حاصل کی جاتی ہے
بے نظیر بھٹو کے دور میں ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے خلاف ریفرنس چیف احتساب کمشنر آنے کے بعد بے نظیر بھٹو نے اس فاؤنڈیشن کے فنڈز سے دس کروڑ وزیر اعظم کے حکم پر یہ رقم بیگم شہناز و کہ دس کروڑ روپے ۳۱ ہزار ایسے افرا وغیرہ کے تربیتی پروگرام میں ظاہر کیا والے ۳۱ ہزار افراد کا کچھ پتہ نہیں چل بے نظیر دور میں زیڈ اے بھٹو انسٹی ٹیو جس کا ہیڈ کوارٹر کاغذات میں ۷ے کے ساتھ تین سو ایکڑ زمین ملیر میں میں ماسٹرز ڈگری دینے کا کام سونپا کام لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وفا فراہم کی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکوم ممالک کی طرف سے دس ملین ڈالر فراہم کرنے کے باوجود اس ادارے وفاقی حکومت کے ویمن ڈویژن نے وجود ہی مشکوک بتایا گیا ہے۔ ریفرنس این جی او کے حوالے کی گئی۔ اسی طر تھی۔ اس این جی او کو بھی وفاقی حکو کارکردگی کی کوئی مانیٹرنگ رپورٹ وف
مقصد کے لیے امداد حاصل کرتے ہیں، اس کا کام تعلیم کو آسان بنانے کے لیے غریب اور پرائمری سکولوں کے بچوں کو لائبریری کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ تنظیم کارپوریشن کے سکول کے بچوں کو نمائش کے طور پر دکھا کر امداد حاصل کرتی ہے جبکہ یہاں جو کچھ بچے پڑھنے آتے ہیں وہ کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کو بسیں اور کتابیں امداد کے طور پر ملی ہیں، عملہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھا رہتا ہے، بچے بہتر کتابیں نہ ہونے کے باعث ممبر شپ ختم کروا رہے ہیں۔ الف لیلیٰ بک بس کے علاوہ ہابی کلب جس میں کمپیوٹر، الیکٹرونکس، کارپینٹری اور فوٹو گرافی وغیرہ کا جھانسہ دے کر امداد حاصل کی جاتی ہے۔
بے نظیر بھٹو کے دور میں این جی اوز کے نام پر پچاس کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے بیگم آفتاب شیر پاؤ اور بیگم عذرا کھرل سمیت متعدد شخصیتوں کے خلاف ریفرنس چیف احتساب کمشنر کو بھیج دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 1993ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت کے پہلے سو دن کے دوران اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے فنڈز سے دس کروڑ روپے نکلوانے کی منظوری دی۔ ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے حکم پر یہ رقم بیگم شہناز وزیر علی کے دستخطوں سے حاصل کی گئی۔ ریکارڈ پر یہ بات لائی گئی کہ دس کروڑ روپے 31 ہزار ایسے افراد میں تقسیم کر دیئے گئے جنہیں ڈرائیور، الیکٹریشنز، بورچی، مالی، آیا وغیرہ کے تربیتی پروگرام میں ظاہر کیا گیا۔ ووکیشنل ٹریننگ کے نام پر 50 روپے ماہانہ 'وظیفہ' پانے والے 31 ہزار افراد کا کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون لوگ تھے؟ اسی طرح ایک اور ریفرنس کے مطابق بے نظیر دور میں زیڈ اے بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس و ٹیکنالوجی کے نام سے ایک 'ادارہ' قائم کیا گیا جس کا ہیڈ کوارٹر کاغذات میں ووکیشنل کراچی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس ادارے کے نام پر پاکستان اسٹیل کے ساتھ تین سو ایکڑ زمین ملیر میں اور پانچ ہزار ایکڑ زمین گھارو میں حاصل کی گئی۔ ادارے کو سائنس میں ماسٹرز ڈگری دینے کا کام سونپا گیا مگر چارٹر کے برعکس اس سے لاڑکانہ میں نرسوں کی ٹریننگ کا کام لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے وزارت تعلیم کے ذریعے تیس کروڑ روپے کی گرانٹ اس ادارے کو فراہم کی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی درخواست پر بعض دوست عرب ملکوں اور اوپیک کے رکن ممالک کی طرف سے دس ملین ڈالر کی گرانٹ بھی اس ادارے کے نام منتقل کی گئی۔ اتنی خطیر گرانٹ فراہم کرنے کے باوجود اس ادارے کا کوئی باقاعدہ کیمپس قائم نہیں ہوا۔ ایک اور ریفرنس کے مطابق وفاقی حکومت کے ویمن ڈویژن نے دس کروڑ روپے این جی اوز میں تقسیم کر دیئے جن میں سے بیشتر کا وجود ہی مشکوک بتایا گیا ہے۔ ریفرنس کے مطابق پچاس لاکھ روپے کی رقم بیگم آفتاب شیر پاؤ کی سپانسر این جی او کے حوالے کی گئی۔ اسی طرح ایک اور این جی او کی سپانسر شپ بیگم عذرا کھرل کے پاس تھی۔ اس این جی او کو بھی وفاقی حکومت نے پچاس لاکھ روپے دیئے۔ مذکورہ دونوں این جی اوز کی کارکردگی کی کوئی مانیٹرنگ رپورٹ وفاقی حکومت کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔
کاریتاس
مسیحی این جی او کاریتاس پاکستان میں مختلف مسائل پر کام کرنے والی این جی اوز کو بیرون ملک سے فنڈ فراہم کرنے والے ادارے کے درمیان تھرڈ پارٹی کا کردار ادا کرتی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کاریتاس کی سفارش پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور بشپ جان جوزف انقلابی کونسل سمیت دوسری تنظیموں کو بیرون ممالک سے اس تنظیم کی سفارش پر فنڈز جاری کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر جاوید جبار کی زیر سرپرستی پاکستان میں کام کرنے والی (ایس پی او) سٹرینتھنگ پارٹیسی پیٹری آرگنائزیشن جس کے صوبائی انچارج سلمان شاہ اور روبینہ اسلام ہیں، کی زیرنگرانی خواتین کی ترقی کے سلسلے میں عاصمہ جہانگیر کی این جی او کے تعاون سے ہونے والی دو روزہ ورکشاپ کے دوسرے روز کا پروگرام ایمبیسیڈر ہوٹل سے کاریتاس لاہور کے دفتر میں منتقل کر دیا گیا۔ گزشتہ برس کرسچین لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام ایمبیسیڈر ہوٹل میں ہونے والی جس آل پارٹیز کانفرنس میں قوم پرست جماعتوں نے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی اس کانفرنس کا بل بھی کاریتاس لاہور ہی نے ادا کیا تھا۔
عیسائیت کے نام پر
سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مسیحیوں کے نام پر تنظیم بنا کر پٹواریوں کی ملی بھگت سے لوگوں کو جعلی کاغذات سے زمین بیچ کر لوٹنا شروع کر دیا۔ تھانہ گلبرگ نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیکب آئزک جو ایف سی کالج کالونی کا رہائشی ہے، نے پاکستان کرسچن ڈویلپمنٹ سوسائٹی بنا رکھی ہے۔ جیکب آئزک محکمہ مال کے پٹواریوں کی ملی بھگت سے زمینوں کی جعلی فرد بنا کر اب تک کئی لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹ چکا ہے۔ ملزم جیکب آئزک نے راوی بلاک اقبال ٹاؤن کے رہائشی سابق سرکاری ملازم چوہدری سعید الدین کو ریونیو سٹیٹ موضع آپلو تحصیل کینٹ میں ۶۸ کنال اراضی اپنی ملکیت ظاہر کر کے فروخت کے لیے پیش کی۔ ملزم نے چوہدری سعید کو موقع پر لے جا کر زمین دکھائی اور اپنے نام انتقال شدہ زمین کا فرد بھی دکھایا جو متعلقہ پٹواری نے صحیح ہونے کی تصدیق کر دی۔ بعد میں ملزم جیکب آئزک نے چوہدری سعید الدین کے حق میں ساڑھے سات لاکھ کے عوض معاہدہ بیع تحریر کر کے دیا۔ اس طرح مختلف مواقع پر اس نے سعید الدین سے سولہ لاکھ روپے وصول کر لیے۔ بعد میں جب زمین کا قبضہ لینے کے لیے سعید الدین نے جیکب آئزک سے اصرار کیا تو ملزم نے مختلف حیلے بہانوں سے اسے ٹالنا شروع کر دیا۔ سعید الدین نے جب موقع پر جا کر اردگرد کے لوگوں سے تفصیلات حاصل کیں تو زمین کسی اور کی نکلی۔ سعید الدین نے ملزم سے اپنی رقم کی واپسی کا اصرار کیا تو اس نے حبیب بینک گلبرگ برانچ میں اپنے اکاؤنٹ نمبر 7- 12657 PLS کا چار لاکھ روپے کا چیک دیا جو کیش نہ ہوسکا۔ اسی طرح ایک اور چیک نمبر 27258835 مالیتی چار لاکھ بھی بینک نے واپس کر دیا۔ اپنی
ساری عمر کی جمع پونجی چھن جانے کے صدمے ہو گیا۔ تھانہ گلبرگ نے متوفی کے بیٹے چوہدری مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لاہور کے مختلف تھانوں میں مختلف افراد سے چوہدری سعید الدین نے فراڈ کا مانگی تو ملزم نے ایف سی کالج کالونی میں واقع دیا اور مزید چھ لاکھ روپے بٹور لیے اور بعد میں جیکب آئزک فراڈ کا انکشاف گلبرگ مارکیٹ کا چیک دے دیتا اور بعد میں ملزم جیکب آئزک نے اپنی ڈسٹرکٹ کر رکھی تھی اور مختلف لوگوں سے رقم بٹورتا تھا جج ایس ایم شریف کے پاس زیر سماعت ہے جیکب آئزک کے فراڈ کا شکار سرکاری ملازم تھا جس نے ریٹائرمنٹ کے سعید الدین دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا
ساری عمر کی جمع پونجی چھن جانے کے صدمہ سے چوہدری سعید الدین دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔ تھانہ گلبرگ نے متوفی کے بیٹے چوہدری علی رضا کی درخواست پر ملزم جیکب آئزک کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم کے خلاف لاہور کے مختلف تھانوں میں مختلف افراد سے زمین بیچنے کے نام دس سے زائد مقدمات درج ہیں۔
چوہدری سعید الدین نے فراڈ کا انکشاف ہونے پر جب ملزم جیکب آئزک سے رقم واپس مانگی تو ملزم نے ایف سی کالج کالونی میں واقع اپنی کوٹھی ۱۴۶ ایف سی کا آدھا حصہ گروی رکھنے کا جھانسہ دیا اور مزید چھ لاکھ روپے بٹور لیے اور بعد میں کوٹھی گروی رکھنے سے انکار کردیا۔
جیکب آئزک فراڈ کا انکشاف ہونے کے بعد متاثرین کو سیونگ اکاؤنٹ حبیب بینک گلبرگ مارکیٹ کا چیک دے دیتا اور بعد میں بنک کو چیک کینسل کرنے کے لیے لیٹر لکھ دیتا تھا۔
ملزم جیکب آئزک نے اپنی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعیناتی کے دوران بھی کرپشن کی انتہا کر رکھی تھی اور مختلف لوگوں سے رقم بٹورتا تھا۔ ملزم کی درخواست ضمانت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایس ایم تریف کے پاس زیر سماعت ہے۔
جیکب آئزک کے فراڈ کا شکار ہونے والا اقبال ٹاؤن کا رہائشی چوہدری سعید الدین سرکاری ملازم تھا جس نے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی رقم ملزم کو دی تھی۔ اسی صدمہ سے چوہدری سعید الدین دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا۔
٭ ٭ ٭
عابد تہامی
خواتین کی بہبود پر لاکھوں ڈالر کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟
عورت‘ عورت کا استحصال کر رہی ہے‘ بظاہر یہ بات بڑی معیوب اور غیر حقیقی لگتی ہے لیکن عملی طور پر ایسا ہورہا ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی کا ۷۰ فیصد حصہ دیہات پر مشتمل ہے۔ ملک کی کل آبادی میں ۵۰ فیصد خواتین ہیں۔ ہمارے ہاں خواندگی کی جو ۲۶ فیصد شرح ہے‘ اس میں خواتین کی شرح خواندگی صرف ۷.۵ فیصد ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے ملک کی خواتین کے جو اہم اور بنیادی مسائل ہیں ان میں تعلیم‘ صحت اور ان کے حقوق سرفہرست ہیں‘ ان مسائل کو حل کروانے کے لیے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کا قیام عمل میں آیا۔
اس وقت پورے ملک میں کل ۶ ہزار سے زائد این جی اوز رجسٹرڈ ہیں۔ ویسے یہ تعداد دس ہزار سے بھی زائد ہے۔ ان ۶ ہزار رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیموں میں سے ۳۵ سو کے قریب صرف پنجاب ہی میں ہیں اور ان میں سے ۷ فیصد ایسی ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ سوشل ورک کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد ”چیرٹی“ ہے اور ان لوگوں کی مدد کر رہی ہیں جو اپنی مدد کے قابل نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی فلاحی تنظیمیں بلاکسی امتیاز کے لوگوں کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں‘ مگر ۹۰ فیصد ایسی تنظیمیں ہیں جو کاغذوں کے ہیر پھیر سے لاکھوں اور کروڑوں روپے ”چیرٹی“ کے نام پر ہضم کر رہی ہیں۔ اس وقت ان تنظیموں میں سے صرف ایسی خواتین کی تنظیموں کے بارے میں کی گئی تحقیق یہاں درج کر رہے ہیں جن کے بظاہر مقاصد خواتین کو تعلیم‘ محنت‘ روزگار اور ان کے حقوق کے بارے میں شعور دینا ہے مگر یہ حقیقتاً خواتین کا استحصال کر رہی ہیں اور انہیں ایسی دلدل میں دھکیل رہی ہیں جہاں گھپ اندھیرا ہی ہے اور کسی صورت میں ان تک روشنی پہنچنے کا امکان بھی نہیں۔
یہ تنظیمیں کونسی ہیں؟ ان کو چلانے والی خواتین کا تعلق کسی طبقے سے ہے؟ ان کے دفاتر کن علاقوں میں ہیں؟ ان کے جو لاکھوں روپے کے بجٹ ہیں وہ کہاں سے پورے ہو رہے ہیں؟ یہ تنظیمیں جن خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں ان کے لیے کیا عملی طور پر کچھ کیا ہے؟ کون سی غیر ملکی ایجنسیاں انہیں فنڈنگ کر رہی ہیں؟ یہ غیر ملکی ایجنسیاں فنڈنگ کیوں کرتی ہیں؟ اور متعلقہ لوگوں کا اس بارے میں کیا مؤقف ہے؟
غیر حکومتی خواتین‘ مردوں اور نوجوانوں کی ان تنظیموں کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض ایسی ہیں جو صرف وقتی نوعیت کی ہوتی ہیں، کئی مستقل بنیادوں پر کام کرتی ہیں۔ محکمہ ڈائریکٹریٹ جنرل سوشل ویلفیئر پنجا حقوق العباد کا شعور پیدا کرنا‘ انہیں ف کے لیے فرائض سرانجام دیتا ہے اور اور انہیں ٹوکن منی کے طور پر کچھ امداد تنظیمیں جو اس ادارے میں حکومت ادارے کے علاوہ ٹرسٹ بورڈ وفاقی املاک بورڈ اور یو ایس ایڈ سے امداد کے چکر میں ہیں، ان کے علاوہ اپوا وغیرہ ایسی تنظیمیں ہیں جنہیں یونیسیف، آئی ایل او وغیرہ فنڈنگ کرتی ہیں۔ یہ ایجنسیوں سے فنڈ کس طرح ا مختلف ڈونر ایجنسیاں جو بہت رابطے ہیں انہوں نے اپنی ا کچھ مواد انڈیا سے منگوا کر ترجمہ کر ڈونیشن حاصل کرتی ہیں۔ اگر یہ ٹری ٹریننگ صرف بیگمات کی بیٹیوں کرواتی ہیں تو وہ بھی ان ایجنسیوں براہ راست خواتین کو کوئی فائدہ ہوت ملتے رہے۔ پھر پیپلز پارٹی آئی تو تعلقات ہیں۔ یہ تنظیمیں لوئر کلاس تنظیموں کے لوگ ہی ہوتے ہیں ا ہے۔ ہم نے ان کے کام کے بار دیہات کا دورہ کر کے معلومات حا امکان ذہن میں تھا کہ یہاں کے ل ملحقہ چونگی امرسدھو کے قریب ای ہے اور نہ ہی ان خواتین کے مسائ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے
جو صرف وقتی نوعیت کی ہوتی ہیں کسی خاص مسئلے کے حل کے لیے بنتی ہیں اور پھر ختم ہو جاتی ہیں۔ بعض مستقل بنیادوں پر کام کرتی ہیں۔ واقعتاً دکھی انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں میں زیادہ تر ڈائریکٹریٹ جنرل سوشل ویلفیئر پنجاب میں رجسٹرڈ ہیں۔ سوشل ویلفیئر ادارے کا مقصد لوگوں میں حقوق العباد کا شعور پیدا کرنا، انہیں فعال شہری بنانا اور اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے کی اجتماعی ترقی کے لیے فرائض سرانجام دینا ہے اور انہی مقاصد کے تحت رضا کار اداروں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے اور انہیں ٹوکن منی کے طور پر کچھ امداد بھی دی جاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ دس ہزار ہو سکتی ہے۔ وہ تنظیمیں جو اس ادارے میں حکومت کے ۱۹۶۱ء آرڈی نینس کے تحت رجسٹرڈ ہوتی ہیں انہیں اس ادارے کے علاوہ ٹرسٹ بورڈ وفاقی ویمن ڈویژن، زکوٰۃ فنڈ، بیت المال، مخیّر حضرات، متروکہ وقف املاک بورڈ اور یو ایس ایڈ سے امداد ملتی ہے۔ ان میں ایسی تنظیموں کی اکثریت ہے جو صرف پیسہ بنانے کے چکر میں ہیں ان کے علاوہ اپوا، شرکت گاہ، عورت فاؤنڈیشن، ویلیف، بہبود، اسر، وائی ڈبلیو سی اے وغیرہ ایسی تنظیمیں ہیں جنہیں یونیسیف، یونیسکو فاؤ، یو ایس ایڈ، سیڈا، ہالینڈ، آسٹریلیا، ناروے، ڈچ اور آئی ایل او وغیرہ فنڈنگ کرتی ہیں۔
یہ ایجنسیوں سے فنڈز کس طرح اکٹھا کرتی ہیں؟
مختلف ڈونر ایجنسیاں جن میں یونیسیف، یونیسکو، سیڈا، ایس اے پی، ڈچ وغیرہ سے ان کے بہت رابطے ہیں انہوں نے اپنی این جی اوز رجسٹرڈ کروانے کے بعد سب سے پہلے میٹریل چھپوایا، کچھ مواد انڈیا سے منگوا کر ترجمہ کروایا اور جب باہر سے ڈونر ایجنسیاں آتی ہیں تو انہیں یہ دکھا کر ڈونیشن حاصل کرتی ہیں۔ اگر یہ ٹریننگ پروگرام بھی کرواتی ہیں تو اس میں بھی خوب پیسہ کماتی ہیں۔ یہ ٹریننگ صرف بیگمات کی بیٹیوں کے لیے ہوتی ہے۔ عام خواتین کو مدعو نہیں کیا جاتا۔ اگر ریسرچ کرواتی ہیں تو وہ بھی ان ایجنسیوں کے لیے۔ آج تک انہوں نے کوئی ایسی ریسرچ نہیں کی جس سے براہ راست خواتین کو کوئی فائدہ ہوا ہو۔ ان خواتین کو ضیاء الحق کے دور میں بھی ویمن ڈویژن سے پیسے ملتے رہے۔ پھر پیپلز پارٹی آئی تب بھی انہیں کندھوں پر اٹھایا۔ اب موجودہ دور میں بھی ان کے تعلقات ہیں۔ یہ تنظیمیں لوئر کلاس کو تسلیم نہیں کرتیں ان کی ایگزیکٹو کونسل یا گورننگ باڈی آپس کی تنظیموں کے لوگ ہی ہوتے ہیں اور مسائل کی ڈسکشن کے لیے فائیو سٹار ہوٹلز سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے ان کے کام کے بارے میں ضلع لاہور، ضلع گوجرانوالہ، ضلع شیخوپورہ کے مختلف پانچ پانچ دیہات کا دورہ کر کے معلومات حاصل کر لی ہیں۔ چونکہ یہ اضلاع لاہور سے قریب ہیں اس لیے یہ امکان ذہن میں تھا کہ یہاں کے لوگوں کو ان کے بارے میں زیادہ معلومات ہوں گی مگر لاہور شہر سے ملحقہ چونگی امرسدھو کے قریب ایک بستی کے علاوہ باقی دیہات میں نہ تو کوئی ان تنظیموں کا نام جانتا ہے اور نہ ہی ان خواتین کے مسائل جاننے کے لیے کوئی تنظیم ان دیہات میں آئی ہے۔ مگر یہ تنظیمیں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے چند خواتین کو اکٹھا کر کے کسی مسئلے پر جلوس نکالتی ہیں اور پھر
اخبارات والے بھی ان کو بے جا اہمیت دیتے ہیں۔ خبریں شائع ہونے کے بعد یہ چند بیگمات پیسہ اکٹھا کرتی ہیں۔ یہ بیگمات اکثر اوقات جلوسوں کے لیے ورکنگ خواتین کی تنظیموں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ورکنگ خواتین کی ایک ایسی ہی تنظیم ویمن ورکرز آرگنائزیشن کی صدر روبینہ جمیل جو عرصہ پندرہ سال سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ خواتین کے لیے اتنے عرصے سے کام کر رہی ہیں اس سلسلے میں آپ کا مختلف خواتین تنظیموں سے رابطہ بھی رہا۔ کیا آپ اپنے تجربات کی روشنی میں ان تنظیموں کے بارے میں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا کہ یہ جتنی بھی بیگمات کی تنظیمیں ہیں، وہ صرف باہر سے ہی خواتین کے حقوق کے لیے نعرے لگاتی ہیں۔ خواتین اتحاد زندہ باد کہتی ہیں مگر یہ خواتین کا استحصال کر رہی ہیں۔ یہ صرف اپنے مفادات کے ساتھ مخلص ہیں۔ کئی دفعہ خواتین کے مسائل اور حقوق کے لیے ہم نے خواتین کو اکٹھے کر کے جلوس نکالے لیکن جب ۱۹۸۵ء میں ہم بہت ساری خواتین کو ”واہگہ“ سے نکالا گیا تو کسی نے ہمارا حال بھی نہ پوچھا۔ میں نے ایک دو خواتین تنظیموں میں کام بھی کیا، اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ بیگمات خواتین کے حقوق کے لیے کام نہیں کر رہیں بلکہ ان کے مقاصد تو کچھ اور ہیں کیونکہ ہم مزدور خواتین کا ہر ہفتے اجلاس کرواتی ہیں تو مجھے اس سلسلے میں لوگ ملنے آتے تھے یا فون کرتے لیکن انہوں نے پابندی لگا دی کہ یہاں نہ تو کوئی فون آئے اور نہ ہی خواتین کے اجلاس ہوں گے اور اگر ٹیلی فون آتا بھی تو دوسری طرف سے سنا جاتا بہر حال میں نے انہیں چھوڑ دیا۔
جتنی بھی خواتین کی فلاحی تنظیمیں ہیں ان سب کے ایک ہی مقاصد ہیں مگر عملی طور پر یہ تنظیمیں خواتین کے حقوق کی خاطر کوئی کام نہیں کر رہیں بلکہ یہ صرف اور صرف اپنے مفادات کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہیں۔ ان خواتین میں اکثریت ایسی ہے جو انگریزی سکولوں سے یا باہر کے ممالک سے پڑھی ہیں۔ ان کے فارن ایجنسیوں سے تعلقات ہیں اور خواتین کے مسائل پر ریسرچ کے لیے ان سے پیسے لیتی ہیں۔ مگر جن خواتین کے مسائل ہیں، یہ ان تک کبھی پہنچ نہیں پائیں، نہ ہی انہیں کسی قسم کا فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ ارد گرد کسی ایک فیکٹری سے سروے کر کے رپورٹ لکھ دیتی ہیں اور پیسے کما رہی ہیں۔ ان خواتین نے کوئی اصل کام نہیں کیا بلکہ باہر کی کتابوں کے ترجمے کیے ہیں۔ یہ خواتین اپنی کلاس سے باہر کی کسی خاتون کو اپنے اندر گھسنے نہیں دیتیں اور یہ نہیں چاہتیں کہ لوکل سطح پر لیڈر شپ ابھرے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ان کی دکانداریاں بند ہو جائیں گی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے تو اس بارے میں ایک تو یہ ہے کہ حکومت انہیں کنٹرول کرے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ غیر ملکی ایجنسیوں سے اگر یہ پیسہ حکومت کے پاس جائے گا تو اس کے اہلکار کھا جائیں گے، اور اصل جگہ یہ خرچ نہیں ہوں گے کیونکہ ایسے بے شمار وظائف آتے ہیں جو اصل لوگوں تک پہنچ نہیں پاتے اس لیے ضروری ہے کہ دیہات کی سطح پر لوگوں کو چن کر انہیں پیسے دینے چاہئیں اور ان کے ذریعے خواتین کو تعلیم، صحت اور پانی کی سہولیات پہنچانی چاہئیں۔
س: یہ طے شدہ بات ہے کہ ہمارے ہاں جتنی بھی بڑی بڑی فیکٹریز ہیں ان کے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے رابطے ہیں اور جو امداد آتی ہے وہ بھی انہیں دی جاتی ہے۔ این جی اوز کے حوالے سے دیکھیں تو ان کے بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے تعلق ہیں۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان کی مقرر کردہ ہوں؟
ج: بالکل ایسا ہو سکتا ہے خواتین کی یہ این جی اوز بڑی سوچ سمجھ کر کام کرتی ہیں۔ دوسروں سے کام کرواتی ہیں۔ جب ان کا کام بن جاتا ہے تو انہیں مکھن سے بال کی طرح نکال دیتی ہیں خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں مگر خود خواتین کے حقوق کا استحصال کر رہی ہیں۔ باہر کی مختلف ایجنسیوں سے امداد لینی ہی نہیں چاہیے۔ یہاں خواتین کے لیے ایسا کام شروع کرنا چاہیے جس سے خواتین تربیت حاصل کریں، کمپیوٹر کورس ہوں، سلائی کڑھائی کا کام سکھایا جائے تاکہ خواتین کو روزگار تلاش کرنے میں آسانی ہو۔
باہر کی ایجنسیاں فنڈ کیوں دیتی ہیں؟
یہ ایجنسیاں ریسرچ پاکستان کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لیے کروا رہی ہیں۔ وہ یہ کھوج لگاتی ہیں کہ ہمارے مسائل کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں تاکہ بعد میں ان کا استحصال کر سکیں اور انہیں محکوم رکھا جا سکے ورنہ یہ ایجنسیاں کبھی بھی ورکنگ آرگنائزیشن کو امداد نہیں دیتیں۔ یہ تنظیمیں کیا ریسرچ کرتی ہیں اور کیا واقعتاً غیر ملکی ایجنسیوں سے ڈونیشن کے نام پر پیسہ لیتی ہیں۔ اس بارے میں جاننے کے لیے ہم نے ایسی تنظیموں سے رابطے کی کوشش کی ہے اور اکثر نے ملنے سے گریز کیا۔ بہر حال ہم نے عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر نگار احمد سے رابطہ کر کے پوچھا کہ خواتین کی اس تنظیم کا مقصد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد عورتوں کو شعور دینے کے لیے صحت اور تعلیم، روزگار، مالیات، قانون، ماحول، ملازمت کے ضابطے مختلف شعبے کی تربیت اور صارفین کے تحفظ کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں جو ہم اخبارات کو اپنے نیوز لیٹر کے ذریعے پہنچا رہے ہیں۔
س: عورت فاؤنڈیشن کا قیام ۱۹۸۶ء میں عمل میں آیا۔ آپ ابھی تک یہ پروگرام بنا رہے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے؟
ج: ہم نے محنت، ماحول اور ملازمت کے بارے میں جو معلومات اکٹھی کی ہیں، وہ ہم کیلنڈر نیوز لیٹر کے ذریعے دے رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں جو خلاء ہے اسے دور کیا جائے۔
س: ریسرچ بھی عورت فاؤنڈیشن کا ایک حصہ ہے۔ یہ آپ کن کے لیے کر رہے ہیں؟
ج: ہم یہ ریسرچ عورتوں کے لیے کرتے ہیں۔ یونیسیف، ایف پی اے، سی آئی ڈی اے، ڈچ، آسٹریلیا، انٹرنیشنل اور ناروے کے پراجیکٹ ہم کر رہے ہیں۔ یہ ایجنسیاں ڈونیشن دیتی ہیں۔ یہ ایجنسیاں ایسی این جی اوز تلاش کرتی ہیں جو معلومات دلا سکیں، کیونکہ حکومت کے ذریعے ایسا نہیں ہو سکتا۔ باقی ان کے اپنے مفادات ہیں کیونکہ کوئی ملک جب دوسرے کو امداد دیتا ہے تو وہ ”چیرٹی“ کی خاطر نہیں۔ وہ تو سمجھتے ہیں کہ ہم کسی ملک میں اپنے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں اسی لیے وہ ترقی
اور ترقیاتی پروگراموں پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔
س : جتنی بھی ریسرچ ہوئی ہے کیا عوام کو اس سے فائدہ پہنچا ہے؟
ج: ہمارا مقصد لوگوں کو معلومات پہنچانا ہے وہ ہم کر رہے ہیں۔ عمومی طور پر بہت ریسرچ ہوتی ہے اس سے فائدہ اٹھانا ہمارا کام ہے۔ ایک اور تنظیم وائی ڈبلیو سی اے کی صدر مونی گوش کا کہنا ہے کہ ہمارا ادارہ ۸۵ سال پرانا ہے۔ ہم انسانیت کی خدمت کیونکہ روحانی اور جسمانی تربیت اور ان کی نشوونما کے لیے کام کر رہے ہیں اسی لیے ہم نے ہاسٹل بنایا ہوا ہے۔ کمرشل کالج ہے ہم مختلف بستیوں میں جا کر سوشل ورک کا کام کرتے ہیں۔ وہاں جا کر لڑکیوں کو ان کے حقوق بتاتے ہیں‘ ان کو مختلف ہنر سکھاتے ہیں اور سارا کام ہم اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں۔ ہم نہ حکومت سے امداد لیتے ہیں اور نہ ہی غیر ممالک سے۔ پھر جب خواتین کے حقوق کی بات ہوتی ہے تو ہم دوسری خواتین تنظیموں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں جبکہ فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی خواتین کے ونگ کی سینئر ڈائریکٹر یاسمین شاہد کا کہنا ہے کہ یہ ایک فلاحی ادارہ ہے جو صحت کی سہولتیں پہنچانے‘ عورتوں کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے اور ان کی معاشی و معاشرتی حالت بہتر بنانے کے لیے ان کو شعور فراہم کرنے کے لیے ۱۹۷۸ء سے کام کر رہا ہے۔ ہم جتنے بھی اس سلسلے میں سسٹم پراجیکٹ بناتے ہیں ان کے لیے انٹرنیشنل ایجنسی آئی پی پی فنڈز مہیا کرتا ہے۔ دوسری طرف پنجاب فیڈریشن کے ایڈوائزر جمال اشرف کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سی ایسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو فارن ایڈ سے چلتی ہیں۔ جن میں عورت فاؤنڈیشن، ایس اے پی ایف ویمن رائٹس وغیرہ شامل ہیں۔ ہم نے ایسی تنظیمیں جو واقعتاً فلاحی کام کر رہی ہیں‘ ان کو اکٹھا کر کے ایک فیڈریشن بنائی ہے۔ ۱۹۸۵ء میں باقاعدہ ان کے الیکشن کروائے ہیں۔ اب تک ۷۵ کے قریب ایسی تنظیموں کی رجسٹریشن کی گئی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے ۳ ہزار سے زیادہ تنظیموں کی رجسٹریشن کی جن میں اکثریت ایسی تنظیموں کی ہے جو صرف پیسے کھا رہی ہیں۔ وہ صرف ان تنظیموں کو فنڈ دے جو واقعتاً گھر گھر جا کر لوگوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ تنظیمیں جنہیں باہر کے ممالک کی ایجنسیاں بھی ڈونیشن دیتی ہیں انہوں نے کبھی بھی عوام کے لیے کام نہیں کیا تنظیموں کے بارے میں جب ہم نے ایک سوشل ورکر سے پوچھا تو انہوں نے سوشل ریسرچ ایسوسی ایشن کی رکن مس فلیشیا بیٹ سے کہا کہ وہ اس سے پہلے کسی تنظیم میں نہیں تھی۔ انفرادی طور پر سارے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتی تھی۔ اب میں نے یہ ایسوسی ایشن بنائی ہے ہماری تنظیم کا مقصد بچوں کی مزدوری ختم کروانے انہیں مفت تعلیم دلوانا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے بچے نہیں ہوں گے انہیں ایسے اداروں سے بچے لے کر پرورش کروانا ہے جہاں وہ لاوارث ہیں اور اولڈ ایج خواتین کے لیے گھروں میں آسان کام تلاش کرنا ہے۔ یہ سارے کام ہم اپنی مدد آپ کے تحت کریں گے ہم کسی بیرونی ایجنسی سے امداد لینے کے حق میں نہیں۔ اگر ہمیں ان سے ہی امداد لینی ہے تو ہماری فلاحی تنظیم کا کیا فائدہ؟ یہ تنظیمیں جو غیر ملکی ایجنسیوں سے فنڈ لیتی ہیں ان
میں یونیسیف بھی شامل ہے۔ یونیسیف بچوں کے علاوہ خواتین کے لیے بھی کام کرتا ہے جس کے لیے اس کے تین شعبے ہیں جو خواتین کی ترقی کے لیے ان کی سیٹوں کو بڑھانے کے لیے ان کی صحت، تعلیم اور پیداواری این جی اوز کو امداد دے کر ان کے ذریعے عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔ فنڈ دینے کے طریقہ کار کے سلسلے میں ہم نے یہ یونیسیف لاہور کی پروگرام ڈائریکٹر نسرین الٰہی سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بڑی دیکھ بھال اور تحقیق کرنے کے بعد این جی اوز کو ریسرچ وغیرہ کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے امداد دیتے ہیں ہم کوشش تو کرتے ہیں کہ یہ تنظیمیں اس امداد کا صحیح استعمال کریں لیکن اگر کوئی اس میں سے کچھ پیسے کا صحیح استعمال نہیں کرتے تو یہ ان کی ایمانداری پر ہے۔ اب یہ سوال کہ غیر ملکی ایجنسیاں امداد کیوں دیتی ہیں تو اس سلسلے میں تحقیق کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملٹی نیشنل کارپوریشن سوشیالوجی کے حوالے سے پاکستان کے سماجی، نفسیاتی اور سیاسی تجربے کرواتی ہیں۔ اس سلسلے میں ریسرچ بیوروکریسی کے ذریعے سے نہیں ہو سکتی اس لیے پرائیویٹ تنظیموں کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے ایسی تنظیموں کو چنا جاتا ہے جو گراس روٹ نہ رکھتی ہوں جو صرف شور کر سکیں عوام پر اثر انداز نہ ہو سکیں اور یہ تنظیمیں ان ایجنسیوں کے بتائے ہوئے منصوبوں پر ریسرچ کر کے جو رپورٹیں دیتی ہیں دراصل وہ جاسوسی ہوتی ہیں۔ یہ ریسرچ کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں آتی۔ ان این جی اوز کا کہنا ہے کہ ڈونیشن لیتے ہیں جبکہ یہ ڈونیشن نہیں ہوتی بلکہ ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی طرف زرمبادلہ کی صورت میں دی گئی فیس ہوتی ہے اور یہ فیس بیرونی صنعتیں اور تجارتی کمپنیاں اس لیے ادا کرتی ہیں کہ پاکستان میں انکی اقتصادی اور سیاسی منصوبے چلانے کے لیے تحقیق کی مدد سے طریقہ کار وضع کریں۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں غیر ملکی کمپنیوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ این جی اوز کے عطا کیے ہوئے عطیوں کو وصول کرنے کے باوجود معیار کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ اس شکایت پر بے نظیر بھٹو نے یہ حکم دیا تھا کہ کوئی بھی این جی اوز براہ راست غیر ملکی کام نہیں کر سکتی اور حکومت کی مقرر کردہ کمیٹی سے اس کی منظوری لینا ہو گی۔ اس کمیٹی کی سربراہ بیگم نصرت بھٹو تھی۔ پھر کسی نہ کسی طریقے سے ان کے خلاف مضامین بھی اخبارات میں نظر آئے جن میں براہ راست این جی اوز کا ذکر تو نہیں تھا مگر چینل یہی تھا۔ اس اقدام سے پہلے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے متعدد مغربی ملکوں سے یہ درخواست کی تھی کہ این جی اوز کے لیے براہ راست ڈونیشن نہ دی جائے لیکن ان غیر ممالک نے جواب میں یہ کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ جو معاہدے ہو چکے ہیں ان کے تحت پاکستان کی حکومت این جی اوز کے معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ ہماری کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ باہر کے ممالک جو ہمیں فوجی یا اقتصادی امداد دیتے ہیں اس کے بدلے وہ یہاں اپنے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں تاکہ ہمیں سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر محکوم رکھا جائے اور ہمارے منہ کا رخ جس جانب چاہیں موڑ دیں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ہم ان بھوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے سامنے کھڑے نہیں ہو جاتے تب تک یہ ہمارا سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی
قتل جاری رکھیں گے لیکن اگر ہم یہ عہد کر لیں کہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، بیساکھیوں کے سہارے نہیں چلنا تو ہمیں خود انحصاری کی پالیسی اپنانی ہو گی اور یہ بھی اس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اس قسم کی فلاحی تنظیموں کا محاسبہ کریں غیر ملکی امداد لینے پر پابندی لگائیں اور ایسی فلاحی تنظیموں کو پرموٹ کریں جو واقعتاً اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا چاہتی ہیں نہیں تو پانچ کروڑ خواتین کو شعور دینے کی بجائے جہالت کی دلدل میں گرا دیں گے اور یہ خواتین مستقبل کے سپوت پیدا کرنے سے قاصر رہیں گی۔
بہبود کے نام پر جاسوسی کے لیے لاکھوں ڈالر کا حصول؟
پاکستان میں بے شمار تنظیمیں اور ادارے ایسے ہیں جو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں مگر کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو بہبود کے نام پر ہی قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ ادارے غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے جاسوسی کا کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو چلانے والے بعض بااثر خواتین و حضرات ہیں جو بہت اچھی انگریزی بولنے والی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور پیسوں کے لالچ میں اپنے دیس کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ان چیزوں کی نشاندہی کرنا ہی میرا مقصد تھا۔ اس کے لیے میں نے بڑے پیار سے اور احسن طریقے سے مختلف تنظیموں سے ان کی کارکردگی اور مقاصد پوچھے۔ اس فیچر پر مجھے تقریباً دو مہینے لگے ہیں۔ ان دو مہینوں میں دن رات کی کوشش کے باوجود بعض خواتین جو ان اداروں کی سربراہ تھیں ان سے رابطہ نہ کر سکا کیونکہ وہ صبح کراچی ہوتی تھیں دوپہر کو اسلام آباد اور شام کو لندن پہنچ جاتی تھیں اور یہ تنظیمیں بہبود کا کام دور دراز گاؤں (علاقوں) میں کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں اس فیچر کے شائع ہونے کے بعد بعض ایسی خواتین کے مجھے فون آئے کہ ہم آپ پر ہرجانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا بسم اللہ کیجیے۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکیں کیونکہ میرے پاس تمام ثبوت موجود تھے اور انہیں بھی اپنی کرتوتوں کا بخوبی علم تھا۔
محمد عطاء اللہ صدیقی
این جی اوز مافیا کی بوکھلاہٹ
این جی اوز مافیا کی اسلام دشمن اور وطن دشمن سرگرمیوں کے متعلق جوں جوں خبریں شائع ہو رہی ہیں‘ توں توں صہیونی لابی کے ایجنڈے پر عمل پیرا‘ اس مافیا کی بوکھلاہٹ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
”ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف مذہبی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کے پیش نظر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ۲۵ سے زائد این جی اوز کے نمائندوں نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کٹر مذہبی تنظیموں کی جانب سے روشن خیالی کے منصوبے کے خلاف مسلسل دیئے جانے والے بیانات کی مذمت کی۔ ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ذرائع ابلاغ بھی ان کے شرپسند ایجنڈے کو ہوا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف زیادہ توہین آمیز لہجہ استعمال کیا جارہا ہے“۔ (روزنامہ جنگ‘ ۲۵/ جون ۲۰۰۰ء)
۲۵/ جون ہی کے ایک انگریزی روزنامہ ”ڈان“ میں تین کالمی خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی تین ہزار این جی اوز نے مذہبی جماعتوں کی مبینہ جارحیت کے خلاف وسیع پیمانے پر حکمتِ عملی تیار کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ حکومت کی بے جا ناز برداری اور محبِ وطن‘ اسلام پسند جماعتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے گزشتہ دس برسوں میں این جی اوز کا نیٹ ورک ایک خطرناک مافیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ انسانی حقوق‘ آزادی نسواں اور ترقی کے نام پر کچھ این جی اوز مغرب کی صہیونی لابی کے خطرناک ایجنڈے کی پاکستان میں تکمیل میں مصروف ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جس سے وطن عزیز کی شناخت اور سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ فلاح و بہبود تو محض ایک cover ہے اصل میں ان این جی اوز کا بنیادی مقصد پاکستان جیسے اسلامی ملک میں لادینیت اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دینا ہے۔
این جی اوز مافیا کی موجودہ بوکھلاہٹ اور احتجاج کے پسِ پشت فوری عوامل درج ذیل ہیں:
- 1- ۱۷ مئی کو جنرل پرویز مشرف نے رائے عامہ کے احترام میں قانون توہین رسالت
کے طریقہ کار میں مجوزہ تبدیلی کو واپس لینے کا اعلان کر کے ان این جی اوز کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک مغربی ذرائع ابلاغ اور پاکستان کے انگریزی اخبارات میں حکومت کے اس فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ روزنامہ ”ڈان“ کی صرف ۲۸ مئی کی اشاعت میں قانون توہین رسالت کے خلاف چار مضامین شائع ہوئے۔ اسلام آباد کو احتجاج کے لیے اسی لیے منتخب کیا گیا تاکہ مغربی ذرائع ابلاغ اس مسئلے کو غیر معمولی طور پر تشہیر دیں اور اس طرح حکومت پاکستان پر 295-C میں تبدیلی کے بارے میں ایک دفعہ پھر دباؤ ڈالا جاسکے۔ حکومت کی پسپائی کو این جی اوز اپنی ہزیمت سمجھتی ہیں۔
- 2- چند روز پہلے اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ حکومت پنجاب نے ایسی
این جی اوز کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے جو در پردہ قادیانیت اور عیسائیت پھیلا رہی ہیں۔ اس طرح کی خبریں این جی اوز مافیا کے لیے اعصاب شکن ہوتی ہیں، کیونکہ انسانی حقوق کے نام پر فتنہ برپا کرنے والی معروف اور اہم ترین این جی اوز کے سرکردہ خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ حکومت پنجاب کے سابق وزیر برائے سماجی بہبود جناب بنیامین رضوی کی طرف سے این جی اوز کے خلاف کی گئی تحقیقات ایسی این جی اوز کے لیے آج بھی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں۔ اس طرح کی مزید تحقیقات اگر ہوتی ہیں تو ان کے Expose ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے این جی اوز کے کرتا دھرتا افراد نے عدم تحفظ کا رونا رو کر اس سے بچاؤ کی پیش بندی کا اہتمام کیا ہے۔
- 3- ۲۸ مئی کو روزنامہ خبریں، ڈان اور دیگر اخبارات نے عاصمہ جہانگیر کا خط شائع کیا
جس میں اس کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اردو اخبارات کے بعض کالم نگاروں کی طرف سے بھارت کا دورہ کرنے والی این جی اوز کی خواتین کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی گئی ہے۔ مذکورہ بالا پریس کانفرنس میں اس خط کی بازگشت اور پس منظر کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں بھی خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے، اسلام آباد میں این جی اوز کے پڑاؤ کی منصوبہ بندی میں عاصمہ جہانگیر نے ”ماسٹر مائنڈ“ کا کردار ادا کیا ہے۔
- 4- ۵/ جون سے لے کر ۱۰/ جون تک نیویارک میں ہونے والی بیجنگ پلس فائیو کانفرنس
میں مسلمان ملکوں اور کیتھولک چرچ کے بروقت احتجاج کی وجہ سے بے حیائی کا شرمناک ایجنڈا ناکام ہو گیا۔ حکومت پاکستان کی نمائندہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال صاحبہ نے اس ایجنڈے کی شدت سے مخالفت کی۔ اس ایجنڈے کی ناکامی سے جہاں پاکستان کی مغرب زدہ این جی اوز کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا وہاں انہیں اس صدمہ سے دوچار بھی ہونا پڑا کہ ان کا اصل چہرہ پاکستانی عوام کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ حقیقت کیا ہے جس کا یہ پہلے ہی واقف تھے۔ اب جی اوز ”بنیادی انسانی حقو مطالبہ بھی اب کھل کر سامن خفت کا شکار ہیں۔ خفت مظلوم بنا کر پیش کرنے ک سکیں ۔
- 5- آئے د
رہے ہیں۔ ۲۵/ جون ۔ اوز کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر فراہ ہر سال تین ارب روپے خبروں کی اشاعت این قائم رکھنے کے لیے مطلو قارئین کرا اوز کا نیٹ ورک پوری ممالک کے استحصال کا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کرنے کو تیار نہیں ہیں، کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس جیسا احمق شاید ہی میں اپنے کلچر کو فروغ د طور پر کام کرتی ہیں۔ کرتی ہیں جو انہیں بیرو جی اوز کی مہم بازی اور کے واقعات ہمارے اقدامات کا مطالبہ لاہور میں مصروف این rganization
سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ پاکستانی عوام کو اب بخوبی علم ہو گیا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی اصل حقیقت کیا ہے جس کا یہ بڑی شدت سے مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کے عزائم سے واقف حال افراد تو پہلے ہی واقف تھے۔ اب عوام الناس کو بھی معلوم ہو گیا کہ ہم جنس پرستی‘ اسقاط حمل وغیرہ کو بھی یہ این جی اوز ”بنیادی انسانی حقوق“ سمجھتی ہیں۔ بیوی سے جماع بالجبر کو قابل تعزیر قرار دینے کا واہیات مطالبہ بھی اب کھل کر سامنے آ گیا۔ یہ این جی اوز عوام کے سامنے اپنا مکروہ چہرہ سامنے آنے پر شدید خفت کا شکار ہیں۔ خفت کو مٹانے کے لیے اسلام آباد میں عدم تحفظ کا واویلا کیا گیا اور اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، تاکہ یہ این جی اوز عوام کے ممکنہ عتاب سے محفوظ رہ سکیں۔
- 5- آئے دن اخبارات میں این جی اوز مافیا کی لوٹ مار اور کرپشن کے واقعات شائع ہو
رہے ہیں۔ ۲۵/ جون کے روزنامہ ”انصاف“ میں یہ خبر چھپی ہے کہ یورپ سے پاکستان کی این جی اوز کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی این جی اوز کو ہر سال تین ارب روپے کے لگ بھگ فنڈز ملتے ہیں، جس کا کثیر حصہ یہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ایسی خبروں کی اشاعت این جی اوز مافیا کے لیے خاصی پریشان کن ہے۔ وہ اپنے تیزی سے مٹتے اعتبار کو قائم رکھنے کے لیے مظلومیت کا خول چڑھا رہی ہیں۔
قارئین کرام! حالات و واقعات نے اب ثابت کر دیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں این جی اوز کا نیٹ ورک یورپی استعماری نو آبادیات کا نیا روپ ہے۔ یورپی استعمار کو ایشیا اور افریقہ کے ممالک کے استحصال کا جو چسکا پڑا ہوا ہے، اس سے وہ کسی بھی صورت میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک پاکستان جیسے غریب ملکوں کے قرض تو معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں مگر وہ ان ممالک کی این جی اوز کو اربوں روپے کیوں فراہم کر رہے ہیں؟ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کی یہ ”عنایات“ پاکستانی عوام کو ترقی و خوشحالی عطا کرنے کے لیے ہیں، تو اس جیسا احمق شاید ہی کوئی ہو۔ دولت اور ٹیکنالوجی کے گھمنڈ میں مبتلا مغربی ممالک ترقی پذیر ملکوں میں اپنے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے این جی اوز ان کے آلہ کار کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ این جی اوز عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دیتیں۔ یہ محض ایجنڈے پر کام کرتی ہیں جو انہیں بیرونی آقاؤں کی طرف سے ملتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف این جی اوز کی مہم بازی اور پاکستان کے غیر متنازعہ محسن ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر بنا کر ان کی تذلیل کے واقعات ہمارے اس دعویٰ کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرنے والی این جی اوز بے حد جاسوسانہ طریقہ پر کام کر رہی ہیں۔ لاہور میں معروف این جی اوز نے گارڈن ٹاؤن کے علاقے کو اپنا گڑھ بنا رکھا ہے۔ جس کے Strengthening Participatory Organization (SPO)
سربراہ جاوید جبار ہیں کے دفاتر بھی یہاں ہیں۔ اس این جی او کا بجٹ باخبر ذرائع کے مطابق ۲۰ کروڑ سے زیادہ ہے۔ عورتوں کے حقوق کے بارے میں کام کرنے والی معروف این جی او ”شرکت گاہ“ نے بھی کچھ عرصہ پہلے اپنا ہیڈ کوارٹر اسی علاقے میں منتقل کر لیا ہے۔ اس کے باہر مسلح گارڈز ہر وقت چاق و چوبند نظر آتے ہیں جو کسی کو اندر نہیں جانے دیتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ این جی اوز اگر عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہیں تو پھر ان کے دروازے عوام کے لیے کیوں بند ہوتے ہیں؟ ان این جی اوز کے طریقہ واردات کو جاننے والے ایک صحافی نے بتایا کہ یہ این جی اوز عوام سے اسی لیے دور رہتی ہیں تا کہ ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کا پول نہ کھل جائے اور مزید برآں انہوں نے اپنے دفاتر میں جو عیش پرستانہ اور آزادانہ ماحول قائم کر رکھا ہے عوام اس سے آگاہ نہ ہو جائیں۔ عوام تو ایک طرف یہ این جی اوز صحافیوں اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی خاتون افسروں تک کو اپنے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں۔ ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ این جی اوز مافیا نے اپنی سرگرمیوں کو پراسراریت کے پردوں میں کیوں چھپا رکھا ہے؟ اس کا جواب راقم الحروف کے نزدیک یہ ہے کہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ان این جی اوز کے افراد کا ضمیر احساس جرم کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں!
پاکستانی این جی اوز کو اس مملکت خداداد کی نظریاتی اساس کو مٹانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کی ”روشن خیالی“ کا پردہ اب چاک ہو گیا ہے۔ ارباب اقتدار کو چاہیے کہ وہ وطن دشمن سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ان پر پابندی عائد کریں۔
❁ ❁ ❁
افغانستان، بنگلہ دیش مخالف غیر ملکی سفارتکار این جی اوز ہیں۔ یہ تمام عالمی سامراجیت کے افغانستان میں سرمایہ اوز اس حد تک طاقتور ہو چکی ہیں کہ طالبان کی امداد جاری رکھی تو ہم ا این جی اوز کی سسٹر این جی اوز م المملوک نسلی اور فرقہ وارانہ دہشت کردہ لامحدود وسائل ان محب سے اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جی اوز جانتی تھیں کہ خانہ جنگی وسیع ہوگا۔۔۔ جوں جوں اس زیادہ پیدا ہوں گے۔ وہ ”امن ٹرک لے کر بھوکے ننگے افغان امداد“ کی آڑ میں وہ عیسائیت ممالک سرمایہ فراہم کرتے ہیں کے خصوصی اہداف رہے ہیں کے ہزاروں نسخے تقسیم کیے نوجوانوں کو عیسائی بنانے میں کیمونسٹ خاندانوں سے تعلق کیمونسٹ بنا رکھا تھا اب ڈالر بنگلہ دیش میں این
حافظ شفیق الرحمن
سامراج کے لشکری
افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان وہ ممالک ہیں جہاں اقدار شکن، اسلام دشمن اور عوام مخالف غیر ملکی سفارتکار این جی اوز کے پاسبان اور ان کے عہدیداروں کے باڈی گارڈ بنے ہوئے ہیں۔ یہ تمام عالمی سامراجیت کے نقاب پوش گماشتے ہیں۔
افغانستان میں سامراجی امریکہ اور استعمار پسند مغربی ممالک کی آلہ کار اور پروردہ این جی اوز اس حد تک طاقتور ہو چکی تھیں کہ ایک موقع پر کمانڈر احمد شاہ مسعود نے کہا تھا ”اگر سعودی عرب نے طالبان کی امداد جاری رکھی تو ہم مختلف این جی اوز سے اسلحہ حاصل کریں گے“۔ ”سحر“ اور ”ہنر“ ٹائپ این جی اوز کی سسٹر این جی اوز نے طالبان عہد حکومت میں افغانستان میں خانہ جنگی، انتشار، طوائف الملوکی، نسلی اور فرقہ وارانہ وحشت گردی کو پروان چڑھانے کے لیے امریکہ و مغربی ممالک کے فراہم کردہ لامحدود وسائل، ان گنت ہتھیار اور لاتعداد ویزے تقسیم کیے۔ افغانستان میں یہ این جی اوز 1991ء سے اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کہ ”افغانستان میں خانہ جنگی کو طول دو“۔ یہ مشنری اور مسیحی تبلیغی این جی اوز جانتی تھیں کہ خانہ جنگی طول پکڑے گی تو غربت، عسرت، فاقہ مستی، تنگدستی اور افلاس کا دائرہ وسیع ہوگا۔--- جوں جوں اس منحوس دائرے کا حجم پھیلے گا، این جی اوز کے لیے کام کرنے کے مواقع زیادہ پیدا ہوں گے۔ وہ ”امن“ کے جھنڈے ڈالروں اور پونڈوں کی بوریاں اور اشیائے ضروریہ کے ٹرک لے کر بھوکے، ننگے افغانوں سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوں گے اور یوں ”دکھی انسانیت کی امداد“ کی آڑ میں وہ عیسائیت کا پرچار کر سکیں گے۔ ان مسیحی رضا کار این جی اوز کو ۲۰ اسلام دشمن ممالک سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ ”مسیحی تبشیری سرگرمیوں“ کے خصوصی اہداف رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں مسیحی مبشرین نے دری اور پشتون زبانوں میں بائبل کے ہزاروں نسخے تقسیم کیے۔ این جی اوز کی ۲۲ سالہ کوششیں رنگ لائیں اور وہ تین لاکھ افغان نوجوانوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ واضح رہے کہ عیسائی بننے والے یہ نوجوان روس نواز کمیونسٹ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ماضی میں کے جی بی کے روبلوں کی کشش نے انہیں کمیونسٹ بنا رکھا تھا، اب ڈالروں اور پونڈوں کے لالچ میں یہ ”عیسائی“ بن چکے ہیں۔
بنگلہ دیش میں این جی اوز کی آکاس بیل ہر سو پھیل چکی ہے۔ ۱۶ ہزار سے زائد یہ این جی
اور بنگلہ دیش کے اسلامی تشخص کو سیکولرائز کرنے میں جٹی ہوئی ہیں۔ پاکستانی این جی اوز کی طرح بنگلہ دیشی این جی اوز کے عہدیداران بھی ملنے والے فنڈز کا بڑا حصہ تنخواہ کی وصولی اور نئے نئے ماڈلوں کی گاڑیوں پر اڑا رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق اقلیتوں کے حقوق اور بنیادی انسانی حقوق کے شعور کے فروغ اور بحالی کے لیے ملنے والے کروڑوں ڈالرز یہ این جی اوز رنگ رلیوں، الٹے تلوں، گل چھڑوں اور عیاشیوں پر اڑا چکی ہیں۔ بنگلہ دیش میں قائم فارن فنڈڈ این جی اوز فرقہ وارانہ تنظیموں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کر کے حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار بناتی ہیں۔ مزید برآں یہ این جی اوز عیسائی مشنوں کو عوامی غیض وغضب سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام بھی کرتی ہیں۔
پاکستانی این جی اوز نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا رکھی ہے۔ ان سے جب بھی ملنے والی امداد کی تعداد اور اس کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یہ سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی صحافی ان کے چہرے پر پڑے نقاب سرکانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی اس سعی جمیل کو وہ صحافتی ضابطہ اخلاق کے منافی قرار دیتی ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور اظہار رائے کی سر بلندی کے فلک خراش نعرے لگانے والی ان این جی اوز کی مالکنوں، مہارانیوں اور چوہدرانیوں کے تحمل، برداشت، رواداری اور اعلیٰ ظرفی کا حال یہ ہے کہ جب کوئی صداقت نگار اور حقائق شعار کالم نگار ان کی کالی کرتوتوں سے قارئین کو آگاہ کرنے کے لیے قلم اٹھاتا ہے یہ پریس کانفرنسوں میں ان کے خلاف ہرزہ سرائی کے طومار باندھ دیتی ہیں۔ راقم الحروف بھی ان مغربی مزاج ”نیک پروینوں“ کی نازک انگلیوں اور نیش زنیوں کا ہدف رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے تو راقم الحروف کے خلاف اخباری مالکان کو باقاعدہ خطوط لکھے یادداشتیں ارسال کیں کہ ان کے کالموں کی اشاعت پر پابندی عائد کی جائے۔ --- برادرم ضیاء شاہد کا بھلا ہو کہ اس نے یہ خط من وعن شائع کر کے ان کی اعلیٰ ظرفی، تحمل، برداشت اور رواداری کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ یوں ان کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی۔ ان کے حوالے سے جب بھی کوئی تحریر شائع ہوتی ہے تو ان کے میڈیا مینجرز، ٹیلی فونی، فیکسی اور ای میلی پیغامات کی آڑ میں اخبارات کے ذمہ داران کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ این جی اوز درحقیقت سماج دشمن، اقدار دشمن، اخلاقیات دشمن، عوام دشمن اور وطن دشمن عناصر پر مشتمل ایک منظم اور خوفناک مافیا ہے۔ --- تینوں مہلک اور موثر ہتھیار ان کے ہاتھوں میں موجود ہیں۔ اسلحہ، پیسہ اور اثر ورسوخ --- اخبار نویسوں کو قائل کرنے اور راہِ راست پر لانے کے لیے یہ مافیا ان تینوں طاقتوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔
۹۰ء کے عشرے میں پاکستان کی سپورٹس اور کارپٹ انڈسٹری کی برآمدات عالمی سطح پر بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔ بھارتی تجارتی حلقوں اور دیگر پاکستان دشمن ابلاغیاتی و نشریاتی اداروں کے ایماء پر این جی اوز کے سامراجی گماشتے متحرک ہوئے۔ معروضی حالات سے آنکھیں بند کر کے این جی اوز مافیا نے دونوں صنعتوں پر چائلڈ لیبر کا الزام دھرنا شروع کر دیا۔ اور تو اور این جی اوز کی عہدیداران بی بی سی ایسے دروغ باف نشریاتی ادارے کے گورے صحافیوں کی بستہ بردار اور فوٹو گرافرز
کی تھیلا بردار بن کر انڈسٹریل زونوں میں پہنچیں ۔ رپورٹس اور فلمیں تیار کر کے پاکستان دشمن عناصر کے ہاتھوں فروخت کیں اور لاکھوں کروڑوں اپنی توندوں اور تجوریوں کی نذر ہو گیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ یہ بھس میں چنگاری پھینکنے والی ’’بی جمالو‘‘ کی طرح ’پردہ نشین‘ ہو گئیں۔۔۔
یہ ان بچوں کی اتنی ہمدرد تھیں تو سامراج کی عطا کردہ اپنے آباء و اجداد کی سینکڑوں ایکڑ اراضی اور اربوں کی مالیتی جائیداد ان بچوں کے لیے مختص کر دیتیں۔۔۔ ان کے لیے مختلف شہروں میں ایسے تربیتی مراکز قائم کرتیں جہاں انہیں ماہانہ معقول وظیفہ دیا جاتا ۔۔۔ پاکستان ایسے پسماندہ ملک میں ”چائلڈ لیبر“ ایسے ”نان ایشو“ کو ایشو بنایا گیا۔ مزید حیرت تو یہ ہے کہ چائلڈ لیبر پر پابندی کا بلند آہنگ مطالبہ کرنے والی این جی اوز کی مالکہ کے اپنے شوہر کی فیکٹری میں غریب بچوں سے انتہائی کم معاوضے پر ’بیگار‘ لی جاتی اور ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور نسوانی حقوق کی تحریکوں کی بلاشراکت غیرے اجارہ دار بہنوں کو کبھی ان خواتین کے پامال شدہ حقوق یاد نہیں آئے جنہیں ان کی فیکٹری کے مروجہ عالمی و ملکی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بیک جنبشِ لب فارغ کیا جاتا رہا ہے۔۔۔ خواتین کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرنے والی ان بلند بام و بلند نام خواتین نے کیا اپنے گھروں اور دفتروں میں معمولی اجرت پر کام کرنے والی غریب خواتین کے حقوق کی بحالی کے متعلق بھی کبھی غور فرمانے کی زحمت گوارا کی؟ کیا یہ اپنے گھر میں کام کرنے والی خاکروبہ، دھوبن، باورچن، مالن یا کسی اور ملازمہ کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں؟
برطانوی استعمار کی چاکری کر کے سینکڑوں ایکڑ گھوڑے پال اراضی حاصل کرنے والے استعمار پرست جاگیرداروں اور اعلیٰ سطحی بیورو کریٹس کے این جی اوز فیم ”بلند اقبال صاحبزادے“ اور ”دخترانِ بلند اختر“ کو عام اور غریب شہری سے نفرت ورثے میں ملی ہے۔ اس ”ورثے“ اور ”ترکے“ پر وہ ہمیشہ نازاں رہے ہیں۔ نچلے اور مسلے ہوئے طبقات سے نفرت ان کا جینیاتی مسئلہ ہے، یہ نفرت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اپنے ہی آباء و اجداد کی تخلیق کردہ طبقاتی تفریق اور معاشی ناہمواری کی کوکھ سے جنم لینے والے محروم طبقات کے افراد کو وڈیروں اور دیسی لاٹ صاحبوں کی یہ اولاد مکھی اور مچھر سے بھی حقیر تر جانتی ہے۔ اس نفرت، اس حقارت، اس عناد، اس کدورت اور اس بغض کا زندہ مظہر یہ ہے کہ یہ غریبوں کے بچوں کو برسرِ روزگار نہیں دیکھ سکتے۔ چائلڈ لیبر کے کلہاڑے کا وار کر کے یہ ان کے شجرِ روزگار کی ہر شاخ، ہر تنے اور ہر جڑ کو کاٹ پھینکنے کے درپے ہیں۔ انہیں یہ پسند نہیں کہ کسی غریب شہری کا بچہ محنت کر کے ناموافق حالات کو سدھارے اور نامساعد حالات کے شکار والدین کا دست و بازو بنے۔ روزگار کے راستے میں ”چائلڈ لیبر قوانین“ کا جال بچھا کر انہوں نے خطِ افلاس سے نیچے جانوروں سے بھی بدتر حالت میں زندگی گزارنے والے والدین کو خودکشیوں اور خودسوزیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
۱۹۸۵ء سے ”پاکستان میڈ مصنوعات“ کی برآمدات گراف کی انتہائی بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔ داخلی معیشت مضبوط ہو رہی تھی، گھر گھر گلی گلی، گاؤں گاؤں اور گوٹھ گوٹھ روزگار پہنچ رہا تھا، محنت کش گھرانوں کے بچے جوش و جذبہ کے ساتھ رضا کارانہ کارخانوں اور فیکٹریوں کا رخ کر رہے تھے۔ وہ کام بھی سیکھ رہے تھے اور پیسے بھی کما رہے تھے، ان کا معیار زندگی قدرے بہتر ہو رہا تھا۔ یہ کارخانے یہ فیکٹریاں ان کے لیے روزگار کے سرچشمے تھے۔ دن کے اوقات میں وہ کام کرتے اور شام کے اوقات میں قصبے اور گاؤں کے ”میاں جی“ یا ماسٹر صاحب سے تعلیم حاصل کرتے۔ وہ بیک وقت ”دولت مند، ہنرمند اور عقل مند“ بن رہے تھے۔ اور نہیں تو کم از کم وہ آوارہ گردی سے تو بچے ہوئے تھے۔۔۔ غربت کے صحرا میں صنعت کا وجود گلستان کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستانی غریب کا بچہ ۔۔۔ اور ہنر سیکھ جائے، پاکستان ایسا غریب ملک ۔۔۔ اور اس کی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں برآمدات کے نئے ریکارڈ قائم کریں، قرضوں کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہونے لگے، تیسری دنیا کا ایک پسماندہ ملک ۔۔۔ اور ترقی پذیر ممالک کی صف میں شامل ہو جائے ۔۔۔ عالم اسلام کے قلعے کی داخلی معیشت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں آکسیجن ٹینٹ میں پڑی نزع کی آخری ہچکیاں لینے کے بجائے اتنی صحت مند اور توانا ہو جائے کہ ترقی کی شاہراہ پر چوکڑیاں بھرنے لگے۔۔۔ غربت کی لکیر سے نیچے رینگنے والے کیڑے اس لکیر سے کہیں اوپر بلند فضاؤں میں پر تولنے اور کھولنے لگیں، عام آدمی کی قوت خرید میں اضافہ ہو اور وہ اپنی خواہشوں اور خوابوں کے خاکے میں عمل کے رنگ بھرنے لگے۔۔۔ یہ سب بھارت، اسرائیل، امریکہ اور پاکستان دشمن مغربی ممالک کیونکر ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے۔۔۔ ان شاطروں نے اقتصادی بساط پر پاکستان کو شہ مات دینے کے لیے این جی اوز کی شکل میں اپنے سدھائے ہوئے مہروں کو آگے بڑھایا۔
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق سامراجی شاطر کے یہ مہرے میدان میں اترے۔ انہوں نے پاکستان کی ابھرتی ہوئی صنعتی ترقی اور نکھرتی ہوئی معیشت کی پشت میں خنجر گھونپنے کے لیے اپنے آقاؤں کی ڈکٹیشن کے عین مطابق پاکستانی مصنوعات پر ”چائلڈ لیبر“ کا الزام دھر دیا۔ چائلڈ لیبر کا پھندا ڈال کر انہوں نے پاکستان کی نومولود صحت مند معیشت کا گلا عالم شیر خوارگی ہی میں گھونٹ دیا۔ یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ جب سے چائلڈ لیبر قوانین کا ”گھن چکر“ متحرک ہوا ہے، تب سے پاکستانی صنعت کا پہیہ جام ہونا شروع ہوا ہے۔ این جی اوز کے ان امیر کبیر غریب بیزار عہدیداروں کو عام اور غریب شہری کی رتی بھر معاشی آسودگی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔۔۔ یہ امر ان کے لیے سوہان روح تھا کہ غریب والدین کے حساس اور فرض شناس بچے محنت مزدوری کر کے اپنے تاریک گھروں کے چولہے روشن کر رہے تھے، اس قسم کی خبروں نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی تھیں کہ بے زر اور بے پر مخلوق کی جھونپڑیوں میں بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ننھے منے دیے جگمگ
جگمگ کرنے لگے ہیں۔۔۔ یہ اطلاعات ان کے مرمریں کاشانوں پر موت کی بجلیاں گرا رہی تھیں کہ درجہ چہارم کی مخلوق کے بیٹے اپنی معصوم بہنوں کے چہروں پر راحت کے گلاب کھلانے کے لیے زندگی کی کیاریوں کو اپنے خون سے سینچ رہے ہیں۔۔۔ یہ روشن چولھے یہ جگمگاتے دیئے یہ کھلکھلاتے گلاب غریب کش اور عوام بیزار این جی اوز کے بے حس عہدیداران کی آنکھوں کے کانٹے اور کلیجوں کی پھانس بن گئے۔--- صدیوں سے بھوک چکھ کر ننگ اوڑھ کر سو جانے والے ہزاروں گھروں میں جب روٹی اور کپڑا پہنچا تو یہ بلبلا اٹھے۔ یہ صورت حال انہیں مشتعل، برہم اور برافروختہ کرنے کے لیے کافی تھی۔
این جی اوز کے ست رنگے سائبان تلے ڈالروں کی بارہ دری میں پاؤنڈوں، لیروں اور فرانکوں کے دستر خوان پر ٹوٹ پڑنے والے یہ ”طفیلی“ ہڑبڑا کر اٹھے۔۔۔ ”چائلڈ لیبر“ پر پابندی کی آڑ میں پاکستانی معیشت کا ”بولورام“ کرنے کے ایجنڈے کی دھونی رمائی۔
جا بجا شور و غوغا کیا، آہ و فغاں بلند کی، نالہ و شیون سے کام لیا۔ شور و غوغا، آہ و فغاں اور نالہ و شیون کا ناٹک اس وقت تک جاری رکھا جب تک مجبور والدین کے محنت کش بچوں کے ہاتھوں سے روٹی کا لقمہ نہ چھین لیا۔ امریکہ اور اپنے دیگر مغربی آقاؤں سے دباؤ ڈلوا کر پاکستانی مصنوعات پر پابندی لگوائی اور وجہ یہ بیان کی کہ ان کے بنانے میں بچوں سے مشقت لی گئی ہے۔ کیا قیامت ہے کہ وہ عورتیں جو شادی اور بچوں کے تصور ہی سے الرجی محسوس کرتی ہیں بچوں کی ہمدردی کے دعوے کرنے لگیں۔
اگلے روز جب بیوہ ماں کے واحد سہارا بچے نے اپنی ماں کو یہ بتایا کہ آج اس کے لیے کارخانے کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب وہ اپنے ہاتھ میں پیچ کس یا ہتھوڑے کی بجائے کشکول گدائی تھام کر بازار میں نکلے گا اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے روٹی مانگ کر لائے گا۔۔۔ تو ۔۔۔ یقین کیجیے! بیوہ ماں کی پلکیں اور آنچل آنسوؤں سے بھیگ گیا۔۔۔ آنسوؤں سے بھیگے آنچل کو دونوں ہاتھوں میں دعا کے انداز میں تھام کر اس نے فریاد کی۔۔۔ ”بارِ الہا! ان ظالموں اور سفلے کمینوں کی سات نسلوں کو سکون سے محروم کر! وہ جنہوں نے محض عالمی آقاؤں سے دام کھرے کرنے کے لیے میرے معصوم اور یتیم بچے کو روزگار سے محروم کر دیا“۔
رجعت پسند استحصالی اور مراعات یافتہ عوام دشمن طبقات کی باقیات این جی اوز کا گاؤن پہنے انسانی حقوق کی ڈفلی بجا رہی ہیں۔ چائلڈ لیبر کے خلاف جنگ کی اوٹ میں انہوں نے قومی معیشت کی بربادی کا یُدھ رچا رکھا ہے۔ روبینہ سہگل انسانی حقوق کی نام نہاد تحریک کی قلعی کھولتے ہوئے بتاتی ہیں ”انسانی حقوق کی موجودہ تحریک سامراجی تسلط کے تاریخی عمل کی کڑی ہے۔ اس تحریک کو مغربی ممالک چین، تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک اور خاص طور پر اسلامی ممالک پر اپنا عملی اور تہذیبی تسلط جمانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں“۔ انسانی حقوق کی سامراج پرور تحریک کے علمبرداروں نے چائلڈ لیبر کا شور و غوغا بلند کر کے غریب والدین کے محنت کش بچوں سے جائز طریقے سے روزی روٹی کمانے کا حق چھین لیا۔ اربوں ڈالر فنڈز وصولنے کے باوجود پاکستان کے سکول
جانے کے قابل چار کروڑ سے زائد بچوں کے لیے انہوں نے کوئی ٹھوس منصوبہ نہ بنایا۔ ان کے پاس اتنے فنڈز تھے کہ یہ تین کروڑ بچوں کے لیے سکول بنا سکتے تھے۔
۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۵ء تک این جی اوز نامی سامراجیت کے علمبردار یہ استعمار دوست لشکری ”چائلڈ لیبر“ کے خلاف مسلسل جنگ کا دعویٰ کرتے رہے۔ یہ چائلڈ لیبر کے خلاف تو شور ڈالتے ہیں لیکن طبقاتی تفریق اور معاشی ناہمواری کے ذمہ دار جاگیردارانہ نظام کے ہاتھوں ”چائلڈ مرڈر“ کی وارداتوں پر سومنات کی مورتیوں کی طرح خاموش رہتے ہیں۔ چائلڈ مرڈر پر یہ چپ رہیں بھی کیوں ناں؟ لاکھوں غریب بچوں کی خوشیوں اور مستقبل کے قاتل جاگیردار تو ان کے آباؤ اجداد اور بھائی بند ہیں۔ طبقاتی نظام ہی دراصل غریب بچوں کی خوشیوں کا قاتل ہے۔ بچوں کے قاتل اس نظام کے خلاف آج تک کسی بھی این جی او نے صدائے احتجاج بلند نہیں کی۔ ۔۔۔ یہ صرف اور صرف اسی طبقے کے حقوق کی محافظ ہیں۔ ان کی کلاس کی وینا حیات سے ”مبینہ گینگ ریپ“ ہو تو یہ بڑے شہروں کی فٹ پاتھوں پر کئی کئی روز دھرنے دیتی ہیں اور جب میر والا جتوئی کے غریب کی بیٹی مختاراں سے ان کی کلاس کے چشم و چراغ اجتماعی زیادتی کریں تو یہ فقط کارروائی ڈالنے کے لیے محض ایک بیان جاری کرنے پر اکتفا کرتی ہیں۔
امریکہ میں نہ صرف چائلڈ لیبر کا چلن عام ہے بلکہ چائلڈ ٹارچر کی وارداتیں بھی معمول بن چکی ہیں۔ ہر سال ہزاروں بچوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ”تہذیب“ اور ”انسانی حقوق“ کے ”اکلوتے ٹینڈر ہولڈر“ امریکہ کا کردار انتہائی گھناؤنا اور متعفن ہے۔ عالم یہ ہے کہ ”امریکہ کے چالیس فیصد بچے والدین سے محروم ہیں ایسے بچوں کی تعداد ۳۲ ملین (تین کروڑ بیس لاکھ) سے زائد ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہر سال کم و بیش پندرہ لاکھ بچے گم ہو جاتے ہیں جن میں سے کم از کم پچاس ہزار کا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ امریکہ میں میکڈونلڈ اور دوسری کئی کمپنیوں میں ہزاروں کی تعداد میں چودہ پندرہ اور سولہ سال کی عمر کے بچے کام کرتے ہیں اور یہی امریکہ ہماری این جی اوز کی شکایت پر پاکستانی مصنوعات پر پابندی عائد کروانے میں پیش پیش ہے (”جنگ“ جمعہ میگزین یکم جنوری ۱۹۹۲ء) امریکہ کی ایک کمیٹی نے جو بچوں کو ایذا رسانی سے بچانے کے لیے قائم کی گئی ۱۹۹۳ء میں ایک جائزہ رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۲ء میں امریکہ کے مختلف علاقوں میں تیس لاکھ بچے ایذا رسانی کا شکار ہوئے جن میں سے دو ہزار چھ سو گیارہ بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں بچوں کو بے تحاشا مارنے پیٹنے، جنسی جارحیت کا نشانہ بنانے، کاشتکاری میں زیادہ محنت کرانے، امریکہ کے بڑے شہروں میں غیر اخلاقی ماحول اور خاندانی جھگڑوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچوں کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں۔۔۔ اسی پر بس نہیں، وہاں تو ۸۰ء کی دہائی میں How to have sex with a kid کے عنوان سے کتابیں تک شائع ہو رہی ہیں۔
امریکہ میں چھوٹے بچوں پر جنسی تشدد کی وارداتیں روز افزوں ہیں۔ ۱۹۸۴ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ”ہر سال پچاس لاکھ بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں ۔“ جدید تہذیب کے سب سے بڑے پرچم بردار اس ملک میں ”اعداد و شمار کے مطابق ۲۸ فیصد لڑکیاں چودہ برس کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی درندگی کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ اٹھارہ برس کی عمر سے پہلے اڑتیس فیصد لڑکیاں ہوس کا نشانہ بنتی ہیں“ (تکبیر ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء)۔ یہ تو پرانی رپورٹ ہے۔ سی این این کی ۱۹۹۲ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ”امریکہ میں ساٹھ فیصد بچوں پر جنسی تشدد ان کے قریبی عزیز باپ چچا یا ماموں کرتے ہیں۔ اور تو اور ڈے کیئر سنٹروں میں بھی دو سے سات سال تک کی عمر کے بچوں پر انچارج مجرمانہ حملے کرتے ہیں۔ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دینے کے واقعات سے اخبارات کے صفحے بھرے پڑے ہیں۔۔۔ شکاگو ایسے شہر کا میئر اس جرم میں پکڑا گیا کہ اس نے ۳۲ نو عمر لڑکوں کو جنسی وحشت کا ہدف بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔
برطانیہ مغربی تہذیب کا سب سے بڑا استعارہ ہے وہاں ہر ہفتے ایک بچہ اپنے والدین کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔ ہر سال چھ ہزار بچے اپنے ماں باپ کے ہاتھوں بے رحمانہ تشدد جھیلتے ہیں، بچوں پر ظلم وستم کے تدارک کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے پاس اس ضمن میں ہر سال ایک لاکھ کے قریب کیس آتے ہیں۔ یہاں ”چلڈرن ہومز“ کے منتظمین نے بچوں پر جنسی تشدد کو اپنا ”محبوب ترین مشغلہ“ بنا رکھا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ یہ ادارے باقاعدہ قحبہ خانوں کا روپ دھار چکے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ یہ خود ان بچوں سے جنسی حظ اٹھاتے ہیں بلکہ انہیں جسم فروشی پر مجبور کر کے ”بالائی آمدنی“ بھی حاصل کرتے ہیں۔۔۔ صورت حال یہ ہے کہ ۱۰۰۰ بچوں میں سے ناجائز بچوں کی تعداد ۳۰۰ ہوتی ہے۔ سولہ سال سے کم عمر کی دس ہزار بچیاں ہر سال ”گناہ کا بوجھ“ اٹھانے پر مجبور کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہوتا ہے جو بچوں کے حقوق اور آزادی نسواں کا ایک بڑا پرچارک ملک ہے۔
سربیا کے بنیاد پرست عیسائیوں کے جنگی جنون نے بوسنیا کے ۸۵ ہزار مسلم بچوں کو دہشت کا نشانہ بنایا۔ ۹۰ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں سراجیوو کا دورہ کرنے والا یونیسف کا نمائندہ سٹیفن چیخ اٹھا ”میں ویتنام، کمبوڈیا، لبنان اور افغانستان جیسے جنگ زدہ علاقوں کا دورہ کر چکا ہوں، مگر جو کچھ میں نے سابق یوگوسلاویہ میں دیکھا وہ میری نگاہوں سے پہلے کبھی نہیں گزرا۔ میں اور میرے رفقائے کار نے خواتین اور بچوں کے خلاف اتنی جارحیت کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے قافلے پہاڑوں میں پناہ لینے والے بچوں اور بوڑھوں تک خوراک پہنچانے کے لیے جب پہنچے تو سربیا کے انتہا پسند صلیبی فوجیوں نے انہیں روک دیا۔ بعض تنظیمیں سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے دیہاتوں میں پناہ لینے والے بچوں کے پاس جب پہنچیں تو ان کے اعصاب پر لرزہ طاری ہو گیا۔
عمر شیخ بھی ایسے ہی امدادی قافلے کے ساتھ بوسنیا پہنچا تھا۔
جنگلی جنونی صلیبیوں کی پھیلائی ہوئی بربادی نے بوسنیا کو ایک بڑا مقتل بنادیا تھا۔ مجاہد عمر شیخ اور اس کے ساتھیوں نے بوسنیا میں مختلف مقامات پر اس قسم کے لرزہ خیز مناظر دیکھے کہ مسلم بچے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ سہمے ہوئے اور خوفزدہ ہیں۔۔۔ کھوئے کھوئے ہوئے یہ بچے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے عزیزوں کو تلاش کر رہے ہیں۔۔۔ سینکڑوں بچے آتش و آہن کی بارش سے تباہ شدہ عمارتوں کے کھنڈروں اور تہہ خانوں میں پناہ لیے ہوئے تھے، سردی اور بھوک نے انہیں ایک ایک کر کے موت کی آغوش میں دھکیل دیا۔۔۔ ”سفارۃ الاطفال“ کے نام پر روسی ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے بوسنیا کے ہزاروں مسلم بچے نامعلوم مقامات کی جانب بھجوا دیئے گئے کم از کم تیس ہزار بچوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ مغربی ممالک ہزاروں مسلم بچوں کے ”سفارتی اغوا“ پر منہ میں گھنگھنیاں ڈالے چپ ہیں۔
فلسطینی، کشمیری، چیچن اور افغان بچوں پر آج بھی اسرائیلی، بھارتی، روسی اور امریکی افواج ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ پاکستان کی فارن فنڈڈ این جی اوز میں سے ایک بھی ان مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کر رہی۔۔۔ خیر سے یہ سب خوشحال اور مالا مال ہیں۔ اگر ان کے پہلو میں انسانیت کا سچا درد ہوتا تو اپنا احتجاج ریکارڈ پر لانے کے لیے یہ کم از کم نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتیں۔۔۔ دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی کہ یہ انسانوں اور بچوں کے حقوق کے باب میں مخلص ہیں۔
جناب موسیٰ خان جلال زئی اپنی تحقیقی کتاب ”این جی اوز اور قومی سلامتی کے تقاضے“ میں لکھتے ہیں: ”یہ این جی اوز جن باتوں کو پاکستان کے اندر ایک برائی تصور کرتی اور ان کے خلاف مہم چلاتی ہیں، کیا بیرونی ممالک میں یہ برائیاں نہیں پائی جاتیں؟ امریکہ، برطانیہ اور اسی طرح کے انسانیت کے بیشتر دعویدار ممالک کے خلاف کبھی کسی این جی او نے کوئی آواز بلند نہیں کی، کیونکہ زیادہ تر این جی اوز انہیں کا دیا کھاتی ہیں۔ اپنے ملک کو تضحیک کا نشانہ بنا کر یہ دراصل اپنے ان خداؤں کو خوش کرتی ہیں، جو ان کو مالی طور پر بہت نوازتے ہیں (صفحہ ۱۳)۔
یہاں زیادتی ہوگی اگر میں محرم راز ہائے درون خانہ محترمہ روبینہ سہگل کا یہ چشم کشا جملہ نقل نہ کروں ”اس منافقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کا انسانی حقوق کا پرچار اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ ایک ہتھیار ہے جو وہ کمزور اور پسماندہ ممالک کے خلاف اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں“۔ انسانی حقوق کا پرچار ایک ہتھیار ہے جسے عالم اسلام اور پسماندہ ممالک کا دشمن نمبر ون امریکہ این جی اوز کی پھولن دیویوں کے ہاتھوں میں دے کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل و تعمیل کر رہا ہے۔
اگر کوئی چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے معاملہ میں واقعتاً سنجیدہ ہے تو اسے پہلی فرصت میں بالغ محنت کشوں کے لیے معقول معاوضہ کی تحریک چلانا ہو گی، اگر بالغ محنت کشوں کو ان کے معاوضے کی
معقول اجرت ملے تو کون بے درد اس گرانی کے دور میں چھوٹے سے ہزار ہے، ضرورت اس امر کی ہے جاگیر دار کے مزارع اور وڈیرے کے برابر تنخواہ دیں۔ کیا انسانی حقو اوز کے کروڑ پتی اور ارب پتی اور ڈرائیوروں اور ہیلپروں کو ماہانہ مع کے یہ نعرے باز اپنے ملازمین کے پڑھتے ہیں؟ ہم یہ سوال نہ اٹھا جملہ نہ پڑھا ہوتا ”آنے والی صفا آئینی طور پر غیر مسلم شوہر کے او مراعات اور سہولیات بہم پہنچا کر ایک
پاکستان میں یہ بات کے ہر واقعہ کے مرکزی کردار اس گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، شی حوالے سے ”مخبریاں“ کرتی ہیں لغاریوں، مزاریوں، بھٹوؤں، وٹوؤں لنڈوں، جمالیوں، جتوئیوں، مستوئی بگٹیوں، مینگلوں، مگسیوں، دریشکوں سے لی جانے والی مشقت اور عورتوں نہیں کرتیں۔۔۔ کیا ان جاگیردا مخدوم کے قلعوں، حویلیوں، چوباروں کشوں کے بیوی بچوں اور بیٹیوں سے لی جانے والی بیگار چائلڈ لیبر موج لے کر قالین ساز فیکٹریوں ہیں۔۔۔ کیا انہوں نے کبھی ڈیرہ بگٹی، الائی، روجھان، چوٹی زیریں، بچوں پر ہونے والے مظالم کی جان جائزہ رپورٹ مرتب کر
معقول اجرت ملے تو کون بے درد ہے جو اپنے بچوں کو مشقت کے کولھو میں بیل کی طرح جوت دے۔ اس گرانی کے دور میں چھوٹے سے چھوٹے خاندان پر مشتمل عیال دار محنت کش کا ماہانہ خرچ کم از کم دس ہزار ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سرکاری ملازم‘ کارخانوں‘ فیکٹریوں‘ نجی اداروں کے مزدور‘ جاگیردار کے مزارع اور وڈیرے کے ہاری کو وڈیرہ‘ جاگیردار‘ صنعتکار اور حکومت کم از کم دو تولہ سونے کے برابر تنخواہ دیں۔ کیا انسانی حقوق کی بحالی اور چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے کروڑ پتی اور ارب پتی اور بخیل عہدیداران اپنے گھریلو ملازمین‘ چوکیداروں‘ باڈی گارڈوں‘ ڈرائیوروں اور ہیلپروں کو ماہانہ دو تولے سونے کی قیمت کے برابر تنخواہ دیتے ہیں؟ کیا ”مساوات“ کے یہ نعرے باز اپنے ملازمین کے بچوں کو بھی انہی سکولوں میں تعلیم دلا رہے ہیں جہاں ان کے بچے پڑھتے ہیں؟ ہم یہ سوال نہ اٹھاتے اگر ہم نے یو این او نیو یارک سے عاصمہ جہانگیر کے خطاب کا یہ جملہ نہ پڑھا ہوتا ”آنے والی صدی کو مساوات کا پیغام اور تصور لے کر آنا چاہیے“ کیا وہ اپنے گھر اور قانونی طور پر غیر مسلم شوہر کے ادارے کے ملازمین اور ان کے بچوں کو اپنے بچوں کے مساوی حقوق‘ مراعات اور سہولیات بہم پہنچا کر ایک عملی مثال قائم کریں گی؟
پاکستان میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ گینگ ریپ‘ چائلڈ لیبر‘ چائلڈ ٹارچر اور چائلڈ مرڈر کے ہر واقعہ کے مرکزی کردار این جی اوز کے سرپرست جاگیردار اور وڈیرے ہیں۔ یہ فیصل آباد‘ گوجرانوالہ‘ گجرات‘ سیالکوٹ‘ شیخوپورہ‘ قصور اور دیگر شہروں کے صنعتی علاقوں میں تو چائلڈ لیبر کے حوالے سے ”مخبریاں“ کرتی ہیں‘ لیکن ٹوانوں‘ دولتانوں‘ ممدوٹوں‘ جاموٹوں‘ رئیسانیوں‘ گورچانیوں‘ لغاریوں‘ مزاریوں‘ بھٹوں‘ وٹوؤں‘ جدونوں‘ نونوں‘ اربابوں‘ نوابوں‘ لانگوں‘ مانکوں‘ چھینوں‘ گھمنوں‘ لالیوں‘ جمالیوں‘ جتوئیوں‘ مستوئیوں‘ چیموں‘ چٹھوں‘ کھرلوں‘ مہروں‘ کھوسوں‘ کھڑوں‘ بگٹیوں‘ مینگلوں‘ مگسیوں‘ دریشکوں‘ مریوں‘ زہریوں‘ بزنجوؤں اور مخدوموں کی جاگیروں میں بچوں سے لی جانے والی مشقت اور عورتوں سے کی جانے والی زیادتیوں کے خلاف کبھی صدائے احتجاج بلند نہیں کرتیں۔۔۔ کیا ان جاگیرداروں‘ وڈیروں‘ تمن داروں‘ سرداروں‘ نوابوں‘ اربابوں‘ خوانین اور مخادیم کے قلعوں‘ حویلیوں‘ چوباروں‘ آستانوں‘ ڈیروں اور جیلوں میں ہاریوں‘ مزارعوں اور دیگر محنت کشوں کے بیوی بچوں اور بیٹیوں سے بیگار نہیں لی جاتی؟ ۔۔۔ کیا ان معصوم بچوں اور کم سن بچیوں سے لی جانے والی بیگار چائلڈ لیبر کے زمرے میں نہیں آتی؟ ۔۔۔ یہ مغربی ذرائع ابلاغ کی فوج ظفر موج لے کر قالین ساز فیکٹریوں کی جانب تو ”لانگ مارچ“ کرنے کے لیے ۲۴ گھنٹے ریڈ الرٹ رہتی ہیں۔۔۔ کیا انہوں نے کبھی ڈیرہ بگٹی‘ ڈیرہ جمالی‘ سن‘ جھل مگسی‘ پیر جو گوٹھ‘ نوڈیرو‘ چانڈکا‘ ولی باغ‘ ٹمپ‘ الائی‘ روجھان‘ چوٹی زیریں‘ لنڈن‘ کالا باغ اور کالر اسٹیٹ ایسے نمرود کی خدائی کے ہیڈ کوارٹرز میں بچوں پر ہونے والے مظالم کی جائزہ رپورٹ بھی مرتب کی ہے؟ جائزہ رپورٹ مرتب کرنا تو دُور کی بات ہے‘ یہ ان علاقوں کے طائرانہ جائزے کے تصور
سے بھی گھبراتی ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی ان دیہہ خداؤں کے علاقوں میں ورکشاپ ٹریننگ کیمپ سیمینار یا ریلی کا انعقاد کیا؟ ماضی کا سامراج برطانیہ اس خطے میں اپنے جاسوسوں کو جاگیریں عطا کیا کرتا تھا آج کا سامراج امریکہ اپنے مخبروں کو این جی اوز ”ہبہ“ کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ جاگیردار ان پڑھ اور دقیانوسی تھے یہ الٹرا ماڈرن اور ایجوکیٹڈ ہیں۔۔۔ دونوں کی اصل اور شجرہ نسب ایک ہے۔
چائلڈ لیبر کی دہائی دے کر یہ این جی اوز ایک طرف غریب بچوں کے رزق حلال کمانے کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں اور دوسری جانب غربت اور ناموافق حالات کے ہاتھوں مجبور بچوں کے تعلیم حاصل کرنے کے راستے بھی مسدود کر رہی ہیں۔ 98-1996ء میں ورلڈ ایجوکیشن کے اعلامیہ کے تحت ایک بڑا منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس منصوبے کا عنوان تھا ”تعلیم سب کے لیے“۔۔۔ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے 11 ارب 21 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی تھی۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں 82 ہزار سکول قائم ہونا تھے لیکن 8 برسوں میں صرف 9 فیصد کام ہوا۔ رزق حلال کے لیے بچوں کی محنت مشقت پر پابندی عائد کروانے والی بچوں کی ہمدرد این جی اوز نے بچوں کی تعلیم کے لیے ملنے والی گیارہ ارب اکیس کروڑ روپے کی رقم بیوروکریٹس سے ساز باز کر کے ہڑپ کر لی۔۔۔ اس سے قبل یہ این جی اوز ایلیمنٹری ایجوکیشن کے فروغ کی مد میں ملنے والا 20 ارب روپیہ بھی خرد برد کر چکی ہیں۔ 51 ارب روپے کے اس فراڈ کا احتساب کیا نیب کے چیئرمین کے زمرہ اختیار میں نہیں آتا؟ کیا این جی اوز کے یہ عہدیداران احتساب سے ماورا مخلوق ہیں؟ کیا یہ مقدس بچھڑے ہیں؟
جب بھارت میں مسلم اقلیت کا صفایا کر کے بھارت کو ”پوتر“ بنانے کے خواب دیکھنے والی حکومت کے ایماء پر صوبہ گجرات میں مسلم کش فسادات کا الاؤ بھڑکایا جاتا ہے اور اس دوران مسلم خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے 500 سے زائد واقعات ہوئے، 3 ہزار بے گناہ مسلمانوں کے قتل کر دیئے جانے، 12 سو سے زائد مسلمان زندہ جلا دیئے جانے، 10 ہزار مکان مکمل طور پر تباہ کر دیئے جانے اور 3 سو سے زیادہ مساجد اور درگاہوں کی بے حرمتی کرنے کی رپورٹس سامنے آتی ہیں تو این جی اوز کے فکری و نظری سرپرستان اعلیٰ ڈاکٹر مہدی حسن، ڈاکٹر ہود بھائی، ڈاکٹر مبشر حسن، عابد حسن منٹو، آئی اے رحمن، حیدر فاروق مودودی، حسین نقی وغیرہ وغیرہ میں سے کسی ایک کے حلق سے بھی ”نوائے مذمت“ بلند نہیں ہوتی، سیکولر بھارت کی درندگی پر سیکولرازم کے گیت گانے والے ان لبرل قوالوں اور ان کے جملہ ہم نواؤں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
جب کیوبا کے کیمپ ایکسرے کے ٹارچر سیل میں امریکی درندے افغان، عرب، چیچن اور پاکستانی شہریوں کو تختہ مشق ستم بناتے ہیں تو بات بات پر جا و بے جا ”انسانی حقوق“ کے راگ الاپنے والی ایک بھی تنظیم کو قرارداد مذمت تک پیش کرنے اور پاس کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
جب اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی چھاؤں میں فلسطینی دیہاتوں پر دھاوا بولتے ہیں تو ”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“ کی دعویدار این جی اوز مورتیوں کی طرح ساکت و صامت رہتی ہیں
جب بھارت کی غاصب اور ہزاروں لڑکیوں کی عصمتوں سے اُدھیڑ بنے پر نازاں خواتین و حضرا مغربی درندے ایک شہر یا ایک ق کشی کرتے ہیں تو ہماری این جی پھوٹتی ہیں۔۔۔ جب لاہور کی شا خلاف مظاہرہ کرنے والے اساتذ بات پر پریس کانفرنسوں کا انعقاد کے ”برف بستہ لاوارث لاشے“
جب ہسپتالوں کے آ ہزاروں غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کی رینگتی۔۔۔ جب لاکھوں محنت کش آگے نکل جاتے ہیں تو بالائی طبقہ اس ”سانحے“ کی خبر نہیں ہوتی۔۔۔
غریب مزارع کی بیٹی کو چارپائی س تار تار کرتے ہیں تو نسوانی حقوق کی عہدیدار ٹس سے مس نہیں ہوتا۔۔۔
بیروزگار باپ کی بیٹی چوہے مار گولیا روز نت نئے ڈیزائن کے ملبوسات ز والی این جی اوز کی امیر کبیر شعلہ رو ب
کنیاؤں، جھونپڑیوں، کچے گھروندوں لڑکیوں کے سیاہ بالوں میں چاندی مقدر کفن کی سفیدی اور قبر کی تاریکی ”جدوجہد“ کو لاکھوں کروڑوں ڈالر نم نہیں ہوتیں۔۔۔ جب کوٹ خوا دستیوں کا نشانہ بنتی ہے تو کوئی عاصمہ کوئی سلیمہ ہاشمی، کوئی زبیدہ جلال، ک
طرح ساکت و صامت رہتی ہیں۔ جب بھارت کی غاصب افواج مقبوضہ کشمیر کے ۸۰ ہزار جوانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی اور ہزاروں لڑکیوں کی عصمتوں کے آبگینے پامال کرتی ہیں تو بین الاقوامی این جی اوز کی ”مسٹر این جی او“ ہونے پر نازاں خواتین و حضرات ”خاموش تماشائی“ کا رول ادا کرتے ہیں۔۔۔ جب امریکی اور مغربی درندے ’ایک شہری ایک کلسٹر بم‘ کے جنگی فارمولے کے تحت افغانستان کے مسلمانوں کی نسل کشی کرتے ہیں، تو ہماری این جی اوز کی مجرمانہ خاموشی کے انگ انگ سے ”سب اچھا“ کی صدائیں پھوٹتی ہیں۔۔۔ جب لاہور کی شاہراہوں پر پنجاب پولیس کے سورمے تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف مظاہرہ کرنے والے اساتذہ پر لاٹھیوں، ٹھڈوں اور تھپڑوں کی بارش کرتے ہیں تو ذرا ذرا سی بات پر پریس کانفرنسوں کا انعقاد کرنے کے عادی بنیادی انسانی حقوق کمیشن کے عہدیدار ڈیڈ ہاؤس کے ”برف بستہ لاوارث لاشے“ کی طرح مہر بلب نظر آتے ہیں۔
جب ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور وارڈوں میں دوائی دارو، علاج اور ڈاکٹر کے انتظار میں ہزاروں غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر، تڑپ تڑپ کر، بلک بلک کر اور سسک سسک کر مر جاتے ہیں، تو بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کی رٹ لگانے والے کسی ”طوطے“ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ جب لاکھوں محنت کش باپ غم روزگار کی صلیب کاندھوں پر اٹھائے ”حدود وقت سے آگے“ نکل جاتے ہیں تو بالائی طبقات سے تعلق رکھنے والے ”غیر سرکاری تنظیموں“ کے کسی رکن کو بھی اس ”سانحے“ کی خبر نہیں ہوتی۔۔۔ جب جاگیرداروں کے چشم و چراغ گھر کے آنگن میں سونے والی غریب مزارع کی بیٹی کو چارپائی سمیت اٹھا کر اپنے ”ڈیرے“ پر لے جاتے اور اس کے دامان عصمت کو تار تار کرتے ہیں، تو نسوانی حقوق کی ڈفلی بجا کر عورت کو تماشا بنانے والی کوئی فاؤنڈیشن اور اس کا کوئی عہدیدار ٹس سے مس نہیں ہوتا۔۔۔ جب جون جولائی کے مہینے میں سوتی جوڑا نہ ملنے کے دکھ میں بیروزگار باپ کی بیٹی چوہے مار گولیاں کھا کر خودکشی کر لیتی ہے تو ”پوش ایریاز“ کے بوتیکوں سے آئے روز نت نئے ڈیزائن کے ملبوسات خرید کر پہننے اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے سیمیناروں میں بھاشن جھاڑنے والی این جی اوز کی امیر کبیر شہزادیاں اس المیہ کو اپنے آوارہ قہقہوں میں اڑا دیتی ہیں۔۔۔ جب کٹیاؤں، جھونپڑیوں، کچے گھروندوں اور تنگ و تاریک کواٹروں میں پل کر جوان ہونے والی ان گنت لڑکیوں کے سیاہ بالوں میں چاندی کے تار چمکنے لگتے اور شادی کے سرخ جوڑے کے بجائے ان کا مقدر کفن کی سفیدی اور قبر کی تاریکی بن جاتی ہے تو عورتوں کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دلانے کی ”جدوجہد“ کو لاکھوں کروڑوں ڈالروں میں کیش کروانے والی بیگمات میں سے کسی ایک کی پلکیں بھی نم نہیں ہوتیں۔۔۔ جب کوٹ خواجہ سعید کی کوئی استانی علاقے کے نمبرداروں کی۔۔۔ جنسی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنتی ہے تو کوئی حنا جیلانی، کوئی عاصمہ جہانگیر، کوئی مسز سکندر شاہین، کوئی مسز نگار احمد، کوئی سلیمہ ہاشمی، کوئی زبیدہ جلال، کوئی عطیہ عنایت اللہ، کوئی فریال گوہر، کوئی مسز صالح حیات، کوئی
تہمینہ درانی اور کوئی شاہ تاج قزلباش ان کی مدد کو نہیں پہنچتی۔ ہسپتال کے آؤٹ ڈور وارڈ میں ایڑیاں رگڑتے بچے کی ماں کی ڈھارس بندھانے یا عام آلام گزیدہ شہری کی مدد کرنے کے لیے یہ کیوں پہنچیں۔ یہ تنظیمیں ان نیک مقاصد کے لیے قائم ہی نہیں کی گئیں۔۔۔ صاحبو! یہ ہے گردو پیش کا منظر نامہ۔۔۔ اور ۔۔۔ یہ ہے ”خاموش کارکردگی“ ان این جی اوز کی۔
استعمار کے یہ پٹھو پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟ ۔۔۔ یہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے‘ پاکستان کی سرحدوں کو مٹانے‘ بھارت اور پاکستان کو ایک فیڈریشن بنانے‘ بھارت اور پاکستان کی کرنسی ایک کرنے‘ سبز ہلالی پرچم کو تبدیل کرنے‘ مسئلہ کشمیر پر ”ہر فتنے کی جڑ“ کی پھبتی کس کر بالائے طاق رکھنے‘ ہندوانہ رسومات‘ تہواروں اور اقدار کو عام کرنے‘ پاکستان کو سیکولر ریاست کا روپ دینے‘ حساس قومی رازوں کو افشا کرنے‘ پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کو سبوتاژ کرنے‘ کہوٹہ پلانٹ کو تباہ کرنے‘ دین دوست ایٹمی سائنسدانوں پر دہشت گردوں کی امداد کا الزام دھرنے‘ ڈاکٹر قدیر خان کے ساتھیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے‘ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی علامتی قبر بنانے‘ پاکستان کو انگریز کا تحفہ قرار دینے‘ لسانی تعصبات کو فروغ دینے‘ سندھی‘ سرائیکی‘ بلوچی‘ پختون اور پنجابی کے نام پر عالمی کانفرنسوں کے ڈرامے رچانے‘ آئین سے اسلامی شقوں کو نکال باہر کرنے‘ اسلامی تعزیرات کو وحشیانہ سزاؤں سے تعبیر کرنے‘ توہین رسالت کی اجازت دینے‘ توہین رسالت کے جرم کی آئینی سزا کو موقوف کرنے‘ توہین رسالت کے مرتکب ملزموں کو دوران سماعت بیرون ملک فرار میں مدد دینے‘ حجاب اور پردے کے فطری نسوانی تقاضے کا تمسخر اڑانے‘ مشرقی اقدار و روایات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے‘ پاک افواج کا بجٹ اور سائز کم کروانے‘ پاک افواج کے مائنڈ کو تبدیل کرانے‘ امریکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے جہاد پر پابندی لگوانے کے مطالبے دہرانے‘ سول و ملٹری بیوروکریسی میں موجود دینی مزاج کے افسران کی کردار کشی کرنے‘ سرکاری ملازمین کی گردنیں ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ گلوٹین سے اڑانے کے مشورے دینے اور پاکستان کے حصے بخرے کرنے ایسی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔
غریبوں اور محب وطن پاکستانیوں کے ردعمل سے بچنے کے لیے انہوں نے ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیلوں‘ اعلیٰ سطحی سول بیوروکریٹوں‘ عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ کے جج صاحبان اور بارسوخ سیاستدانوں کی بیگمات اور آل اولاد کو ڈالرز‘ ان این جی اوز کے تنظیمی نیٹ ورک میں منسلک کر کے عہدے (بطور رشوت) دے رکھے ہیں۔ انہیں سوسائٹی اور سٹیٹ کے طاقتور ترین ستونوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ارنے بھینسوں‘ بے زنجیر پاگل ہاتھیوں اور بد لگام سانڈوں کی طرح دندناتے پھرتی ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ یہ توہین وطن کریں‘ توہین عوام کریں‘ توہین افواج کریں‘ توہین عدالت کریں یا توہین رسالت۔۔۔ کچھ بھی کریں۔۔۔ کوئی بھی ان سے باز پرس نہیں کرتا۔
بنیادی انسانی حقوق کمیشن ہوں‘ خواتین محاذ عمل ہو‘ جوائنٹ ایکشن کمیٹیاں ہوں‘ ”اثر“ ہو
”سحر“ ہو‘ ”سیپ“ ہو‘ سویرا ہو‘ کاریتاس ہو‘ دار ہو‘ سامی ہو یا کوئی اور واہی تباہی۔۔۔ یہ سب غیر ملکی سرمائے اور رشوت کے بل بوتے پر استحکام پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں اور سامراج کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں ایک طاقتور مافیا ہیں۔ استعمار پرست مغرب اور امریکی سامراج اس مافیا کا پالن ہار اور محافظ ہے۔ عالمی دہشت گرد امریکہ اور بدی کا محور مغرب ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔۔۔ ڈالرز‘ ویزا‘ وسکی‘ سیمینار‘ ورکشاپ‘ مغرب کا دورہ اور عورت ان کے ہتھیار ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کے سفارتخانے ان کے آرڈیننس ڈپو ہیں۔ این جی او مافیا میں درحقیقت بدی کی کئی قوتیں ضم ہو چکی ہیں۔۔۔ یہ عالمی سامراج کے لشکریوں کا متحدہ محاذ ہے۔۔۔ انٹرنیشنل ڈونرز کے فنڈ پر پلنے اور سرمائے سے چلنے والی ہر این جی او تیسری دنیا کے مقروض ملکوں میں ”بدی کا محور“ (Axis of Evil) ہیں۔ غریب ممالک میں یہ ریاست اندر ریاست ”بدمعاش ریاستیں“ ہیں۔ آج پاکستان میں این جی اوز کی تعداد ۲۵ ہزار کے قریب ہے۔ ان میں سے ۴۰ فیصد امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے جاسوسی کر رہی ہیں۔ ان کی ”مہربانی“ سے پاکستان کا کوئی ”راز“ اب راز نہیں رہا۔ سب کچھ طشت از بام ہو چکا ہے۔ سامراج نواز این جی اوز کے اکثر عہدیداران امریکہ و مغرب کے سیکرٹ ایجنٹ ہیں۔ ان کی کارکردگی اب امریکہ و مغربی ممالک کے لیے ”رپورٹنگ“ اور ”انٹیلی جنس“ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ امریکہ و مغرب کی جاسوسی پر مامور یہ لشکری پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک خطرناک مافیا بن چکے ہیں۔۔۔ ایک انتہائی خطرناک مافیا۔۔۔ مافیا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو‘ عوامی طاقت کے ریلے کے سامنے تنکے کی طرح بے بس اور بے مایہ ہوا کرتا ہے۔
۞ ۞ ۞
ڈاکٹر فخر الاسلام
این جی اوز اور حقائق
بیسویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں دنیا میں ایسی سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ عالمی نقشہ نئے سرے سے مرتب کیا گیا۔ سوویت یونین کے انہدام اور اس کے نتیجے میں سرد جنگ کے خاتمے نے دنیا میں سیاسی اور اقتصادی گروہ بندی کو نئی جہت عطا کی۔ عالمی سیاسی منظر دو قطبی سے یک قطبی شکل اختیار کر گیا۔ اس یک قطبی دنیا میں امریکہ بلاشراکت غیرے عالمی طاقت بن کر ابھرا۔ امریکی سیاسی و انتظامی اداروں اور تحقیق و دانش کے اداروں (Think Tanks) نے یہ خیال عام کرنا شروع کر دیا کہ گذشتہ تاریخ اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور آئندہ جب بھی تاریخ مرتب کی جائے گی تو اس میں امریکی قیادت میں مغرب کی مرضی کو بنیادی عمل دخل ہو گا۔ ان کے دانش وروں نے تہذیبوں کا ایک مثلث بھی دنیا کے سامنے متعارف کرایا جس کے تینوں سروں پر بالترتیب عیسائی غرب، عالم اسلام اور چین دکھائے گئے۔ مدعا یہ تھا کہ آئندہ تہذیبوں کی جو جنگ ہوگی ان میں مذکورہ بالا تہذیبیں فریق ہوں گی۔ اس حوالے سے سیموئل ہنٹنگٹن اور فرانسس فوکویاما کی کتابوں The Clash of Civilizations (تہذیبوں کا تصادم) اور The End of History (تاریخ کا اختتام) نے کافی شہرت پائی۔
امریکہ اور عیسائی غرب نے یک قطبی دنیا کی قیادت اپنے بے پناہ وسائل اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے بل پر حاصل کر رکھی ہے۔ دنیا کی دیگر تہذیبوں کی طرف سے مغربی تہذیب کو کوئی خاص چیلنج ان میدانوں میں سامنے نہیں آیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ خود روس اور اس کے اتحادی امریکہ کے حاشیہ بردار بن گئے۔ اس کی بڑی مثال بھارت ہے جس نے سرد جنگ کے دوران ایشیا کی طاقت کے توازن میں اپنا وزن ہمیشہ روس کے پلڑے میں ڈالا لیکن یک قطبی دنیا میں روس کا یہ روایتی اتحادی امریکہ کا عزیز ترین دوست بن گیا ہے۔
چین پر سرد جنگ کے خاتمے کا کوئی بڑا منفی اثر مرتب نہیں ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ چین نے اپنی بے پناہ اقتصادی ترقی کے بل پر دنیا میں اپنی صلاحیت کا لوہا کافی حد تک منوا لیا۔ تاہم اس عرصے میں عالم اسلام سیاسی اور اقتصادی حوالوں سے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکا۔ اس کے واحد سیاسی
ادارے یعنی اسلامی کانفرنس کی تنظیم نے عالمی سیاست پر کوئی اثر مرتب نہیں کیا۔ جنگ خلیج‘ بلقان کے بحران اور چیچنیا کے تنازعے میں او آئی سی نے جو مایوس کن کردار ادا کیا‘ اس نے عالمی سیاسی منظر نامے میں اس کو ایک بے جان سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا۔ نہ صرف اسلامی کانفرنس کی تنظیم بلکہ اسلامی دنیا کے ممالک انفرادی طور پر بھی مجموعی قومی کارکردگی‘ اقتصادی ترقی اور علمی ترقی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ عالمی سطح پر نئی صف بندی میں عالم اسلام عملی طور پر تماشائی بنا رہا۔ اس نئی صف بندی میں اقوام متحدہ اور اقتصادی امداد کی عالمی تنظیمیں یعنی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بنک امریکی اشارۂ ابرو کے منتظر رہے۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ غالب تہذیبیں دنیا کو نئی اصطلاحات اور طرزِ زندگی عطا کرتی ہیں۔ اسلامی تہذیب غالب تھی تو یہ کام اس نے کیا‘ اور آج مغرب کا بول بالا ہے تو اس کا طرزِ زندگی اور اصطلاحیں باقی دنیا اپنا رہی ہے۔ ان نئی اصطلاحات اور مظاہر میں سے ایک غیر حکومتی تنظیمیں یا این جی اوز (NGO's) ہیں۔
زیر نظر مضمون میں ان تنظیموں کا تعارف‘ تاریخی پس منظر‘ پاکستان میں مقاصد اور حکمت عملی اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی ہے۔
این جی اوز کیا ہیں؟
این جی او ہر اس تنظیم یا ادارے کو کہتے ہیں جو متعین مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہو اور جس کے انتظامی اور مالیاتی امور حکومتی اثرات سے آزاد ہوں۔ اس عمومی تعریف کی رو سے سیاسی جماعتیں‘ مزدور اور پیشہ ور تنظیمیں‘ تجارتی اور ثقافتی انجمنیں اور دیگر تنظیمیں فی الحقیقت غیر سرکاری تنظیمیں ہیں۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے مخصوص پس منظر‘ مقاصد اور طریق کار کی روشنی میں ان کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
وہ تنظیمیں جو غیر سرکاری طور پر معاشرے کے مجموعی یا ایک مخصوص شعبے کی فلاح اور ترقی کے لیے کام کریں۔
بدلتے ہوئے حالات میں یہ تنظیمیں صرف بہبود اور ترقی میں شرکت پر اکتفا نہیں کر رہیں ہیں بلکہ مفادِ عامہ کے کسی بھی مسئلے پر نہ صرف یہ کہ حرکت میں آتی ہیں بلکہ محرومیت‘ استحصال‘ حقوقِ انسانی کی پامالی اور معاشرے کے خلاف ہونے والے ہر کام پر ردِ عمل ظاہر کرتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ان کا کام اب یہ نہیں رہا کہ قدرتی آفات میں مدد بہم پہنچائیں یا لوگوں کو ترقی کے بنیادی تصورات اور زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں بلکہ اب یہ تنظیمیں سیاسی معاملات اور حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں ملکی قوانین‘ اقتصادی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات میں اپنے مخصوص نقطۂ نظر کو منوانے کے لیے سڑکوں پر آنے سے بھی نہیں کتراتیں۔ اپنے دائرہ کار میں وسعت کی وجہ سے ان تنظیموں سے متعلق لوگ اپنے آپ کو این جی اوز کے بجائے پی آئی اوز (Public Interest Organizations) یعنی مفادِ عامہ کی تنظیمیں کہلوانا پسند کرتے ہیں۔
تاریخی پس منظر:
این جی اوز کا تصور انیسویں صدی عیسوی کے دوران امیر صنعتی ممالک میں پروان چڑھا جہاں خوش حال اور درمیانے طبقے نے اپنے ہاں کے غریب اور غیر مراعات یافتہ لوگوں کی بہبود کے لیے کام شروع کیا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ وسائل پر محض امیروں کی اجارہ داری نہ رہے بلکہ اس کا ایک حصہ غریبوں کو بھی منتقل کیا جائے۔ دوسری طرف یہ سماجی کارکن سیاسی عمل کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ مزید برآں اس وقت کے مسائل یعنی غلاموں کی حالت زار بچوں کی مشقت اور بالغ رائے دہی جیسے امور پر اپنا موقف سامنے لاتے رہے۔ مشنری اداروں کا ایک ہی مقصد تھا یعنی یہ کہ دنیا کو مشرف بہ عیسائیت کیا جائے۔ ان مشنری اداروں کے اثرات انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر میں بھی نظر آنے لگے۔ آج بھی پاکستان کے ہر قابل ذکر شہر اور قصبے میں مشنری اداروں کے قائم کردہ ادارے ابھی تک کام کر رہے ہیں۔
بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں عوامی بہبود کے کام حکومتی سرپرستی میں ہوتے رہے۔ تاہم مغربی ممالک میں اس حوالے سے جائزہ لیا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ریاستی سرپرستی میں بہبود کے سارے کام ممکن نہیں۔ کیونکہ ایک طرف حکومت کو بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے تھے اور دوسری طرف سرکاری اداروں کی خامیاں یعنی کام کرنے کی اہلیت کی کمی عدم مساوات اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محرومی ان کی ناکامی کے اسباب میں شامل تھے۔ چنانچہ بہبود کے کاموں کو غیر سرکاری سطح پر انجام دینے کی روایت آگے بڑھی۔ اس مرحلے پر غیر حکومتی تنظیموں نے بہبود سے ایک قدم آگے جاکر نئے تصورات سے دنیا کو آگاہ کر دیا۔ ان جدید تصورات میں انسانی ترقی شراکت اور سماجی تبدیلی جیسے اصول شامل تھے۔ آج دنیا کے کسی بھی حصے میں این جی اوز درج ذیل شعبہ جات میں سب یا ان میں سے بعض میں مداخلت کرتی ہیں:
خدمات اور سپلائی--- وسائل میں اضافہ--- تحقیق و تجسس--- انسانی وسائل کی ترقی عوامی اطلاعات--- تعلیم
پاکستان میں این جی اوز کا ارتقا:
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قبل از تقسیم قائم کردہ خیراتی اداروں نے اپنا کام جاری رکھا۔ ایک جائزے کے بعد حکومت پاکستان نے ان اداروں کو سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ناکافی قرار دیا۔ اس مرحلے پر اس ضرورت کا احساس ہوا کہ سماجی خدمات کے ایک مربوط نظام کی بنیاد ڈال دی جائے۔ چنانچہ ۱۹۵۱ء میں اقوام متحدہ کے تعاون سے حکومت پاکستان نے سماجی بہبود اور امداد باہمی کا مربوط نظام متعارف کرایا۔ ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۸ء تک اس کام کو وزارت ورکس اور سماجی بہبود سرانجام دیتی رہی۔ ۱۹۵۸ء میں اس مقصد کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کی گئی جس کو وزارت محنت اور سماجی بہبود کا نام دیا گیا۔ اگلے سال ۱۹۵۹ء میں وزارت صحت محنت اور سماجی
بہبود کو یک جا کرتے ہوئے اسے ایک مرکزی سیکرٹری کے تحت کر دیا گیا۔ 1961ء میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے رضا کارانہ سماجی خدمات کے اداروں (Voluntary Social Welfare Services Association) کے عنوان سے ایک قانون نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون میں سماجی اداروں کی ہیئت ترکیبی، مقاصد، دائرہ کار اور احتساب جیسے امور صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے۔ یہی قانون آج تک پاکستان میں نافذ ہے۔ 1962ء میں سماجی بہبود کا محکمہ صوبائی سطح پر بھی قائم کیا گیا۔ چنانچہ صوبوں میں موجودہ انتظامی ڈھانچہ وزیر سماجی بہبود، سیکرٹری (ان کا ماتحت عملہ) نظامت سماجی بہبود اور اس کے ذیلی اداروں پر مشتمل ہے۔
1979ء میں افغانستان پر روسی قبضے کے بعد امریکہ کی قیادت میں مغربی دنیا نے جہاں جنگی سامان اور مالی و سیاسی امداد سے افغانوں کو نوازا وہاں ان ممالک سے بڑی تعداد میں رضا کار تنظیموں نے پاکستان کا رخ کیا۔ ان میں سے قابل ذکر 50 تنظیمیں تھیں جو مہاجرین سے متعلق پاکستانی ادارے افغان کمشنریٹ کے ساتھ باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ تھیں۔ ان میں سے صرف چھ تنظیمیں اسلامی ممالک سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابتدا میں ان تنظیموں نے مہاجرین کی خوراک، لباس اور علاج معالجے پر توجہ دی لیکن بعد میں انہوں نے افغان معاشرے میں کام شروع کیا اور مختلف امور کے بارے میں افغانوں کی رائے بنانے کی کوششیں شروع کیں، جن میں خواتین کے حقوق اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے شعبے شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ افغانوں کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنا دائرہ کار پاکستان کے اندر بھی بڑھانا شروع کر دیا اور 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں ان کے کام میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس وقت پاکستان میں این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے پانچ قوانین نافذ ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
- 1- رضا کار تنظیموں کی رجسٹریشن اور کنٹرول کا قانون مجریہ 1961ء:
اس قانون کے تحت ذیل میں سے ایک یا زیادہ شعبوں میں کام کرنے والی تنظیمیں رجسٹر ہوتی ہیں:
بچوں، نوجوانوں، خواتین، معذوروں، قیدیوں، ناداروں، مریضوں اور ضعیفوں کی بہبود، فروغ تعلیم، تفریحی امور اور سماجی تربیت۔ قانون 1961ء کی دیگر ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے تحت رجسٹرڈ ہونے والی تنظیموں میں مسلمہ جمہوری روایات کے ذریعے عہدیداران کا باقاعدہ انتخاب کیا جاتا ہے۔
- 2- سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ مجریہ 1860ء:
جو تنظیمیں اس قانون کے تحت رجسٹریشن کی خواہش مند ہوں، ان کے کارپرداز محکمہ صنعت میں موجود جوائنٹ سٹاک کمپنیز کے رجسٹرار کے پاس درخواست جمع کراتی ہیں۔ عام طور پر اس قانون
کے تحت جو تنظیمیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں وہ سائنس، ادب اور تعلیم کے فروغ، تاریخی و ثقافتی امور اور عام رفاہی کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔ آج کل این جی اوز کی بہت بڑی تعداد اس قانون کے تحت رجسٹر ہونا پسند کرتی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ اس قانون میں کشش کا سبب یہ ہے کہ اس میں عہدیداروں کا انتخاب نہیں کیا جاتا بلکہ چند افراد پر مشتمل بورڈ آف ڈائریکٹرز اس کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے جو عام طور پر اساسی ارکان کے خاندان یا قرابت داروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
- ۳- امدادِ باہمی کے اداروں کا قانون مجریہ ۱۹۲۵ء:
اس قانون کے تحت رجسٹریشن کے کام کی نگرانی امدادِ باہمی کے رجسٹرار کرتے ہیں۔ جو تنظیمیں اس قانون کے تحت رجسٹر ہو سکتی ہیں ان میں کاشتکاروں، وکلاء، اساتذہ، ڈاکٹر، صارفین، ہنرمند خواتین اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق این جی اوز شامل ہیں۔
- ۴- کمپنیوں کا آرڈی نینس مجریہ ۱۹۸۴ء:
کوئی بھی ایسی تنظیم جو غیر منافع بخش ہو اور تجارت، سائنس، مذہب، کھیلوں، سماجی خدمات اور عمومی رفاہی کاموں میں دلچسپی لیتی ہو وہ اس قانون کے تحت رجسٹر ہوتی ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت رجسٹریشن کا اختیار کارپوریٹ لاء اتھارٹی کو حاصل ہے جس نے صوبائی سطح پر یہ اختیار ڈپٹی رجسٹرار کو تفویض کر دیا ہے۔
- ۵- ٹرسٹ یا وقف کا قانون مجریہ ۱۸۸۲ء:
قانون وقف کے تحت کوئی بھی وقف کا ادارہ ضلعی کچہری کے سب رجسٹرار کے پاس رجسٹر کرایا جاتا ہے۔ رجسٹرڈ وقف مذہب، تعلیم، حفظان صحت، انسانی حقوق اور مفاد عامہ کے دیگر امور جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مجاز ہوتا ہے۔
پاکستان میں این جی اوز کی صحیح تعداد کا ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا۔ وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا پانچ قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہونے والی تنظیموں کی اس قدر زیادہ اقسام ہیں کہ ان میں سے مخصوص طریق کار کے مطابق کام کرنے والی این جی اوز کو علیحدہ کرنا خاصا مشکل ہے۔ تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں چھوٹی بڑی این جی اوز کی تعداد ۲۰ ہزار کے لگ بھگ ہے۔
پاکستان میں کام کرنے والی اکثر این جی اوز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سیکولر سوچ کی علم بردار ہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی تحقیقی کام نہیں ہوا جس کے نتیجے میں انہیں اسلامی یا سیکولر بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکے۔ تاہم عمومی مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذہبی جماعتیں یا تنظیمیں عمومی طور پر (ایک خاص مفہوم میں) سماجی بہبود کے کاموں سے لا تعلق ہیں۔ چند استثنائی صورتیں ضرور ہیں لیکن وہاں بھی سرگرمیوں کا انداز لگا بندھا اور محدود نوعیت کا ہے۔ اس وقت پاکستان میں لاتعداد مغربی تنظیموں اور امداد فراہم کرنے والے اداروں (Donor Agencies) کے مقابلے میں چند ایک بین الاقوامی اسلامی این جی اوز کے دفاتر بھی قائم ہیں لیکن ان کا زیادہ تر کام
یتیموں، بیواؤں اور ناداروں کی حد تک محدود ہے۔ یہ تنظیمیں رجب، رمضان اور عیدین کے موقع پر زکوٰۃ کی تقسیم، افطاریوں کے اہتمام اور قربانی کا گوشت تقسیم کرنے جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ نچلی سطح پر دیہاتوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ المختصر ملک کے کونے کونے میں قائم چھوٹی چھوٹی تنظیموں کو تو شاید مذہبی اور سیکولر بنیادوں پر تقسیم کا علم بھی نہیں لیکن ان تنظیموں کو مالی وسائل، تربیت اور دیگر امداد جن بین الاقوامی اداروں سے ملتی ہیں وہ بہرحال اپنی سوچ کے لحاظ سے سیکولر ہیں۔
این جی اوز کا ایجنڈا:
اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ این جی اوز کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟ اس حوالے سے پاکستان کے اندر مختلف اور انتہا پسند آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک مکتب فکر ان تنظیموں کو تقاضائے وقت سمجھتا ہے، جب کہ دوسرا زہر قاتل۔ دونوں کے پاس اپنے موقف کے حق میں دلائل ہیں۔ اس مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
عالمی تناظر میں جب ہم عالم گیریت اور منڈی کی معیشت کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عالمی برادری ان تنظیموں کی ممد و معاون اور پشتی بان ہے۔ بین الاقوامی سیاسی اور مالیاتی ادارے ان کی اخلاقی اور مادی مدد پر کمر بستہ ہیں۔ گذشتہ ۱۵ سال سے اقوام متحدہ کی براہ راست نگرانی میں مختلف موضوعات پر عالمی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہی ہیں جن میں دنیا بھر کی این جی اوز اور سربراہان حکومت پہلو بہ پہلو بیٹھ کر ان مسائل کے بارے میں عالمی سطح پر پالیسی وضع کرتے رہے۔ چنانچہ ۱۹۹۲ء میں ریوڈی جنیرو کی ارض سربراہ کانفرنس، ۱۹۹۴ء کی آبادی کانفرنس منعقدہ قاہرہ، کوپن ہیگن میں ۱۹۹۵ء کی سماجی سربراہ کانفرنس، اور اسی سال بیجنگ میں عالمی خواتین کانفرنس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ستمبر ۲۰۰۰ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ملینیم سربراہی اجلاس تھا جس میں ریکارڈ تعداد میں سربراہان مملکت و حکومت، بادشاہوں اور دیگر اعلیٰ سطحی عہدیداران نے شرکت کی۔ اس اجلاس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری ہوا جس پر پاکستان اور تمام اسلامی ممالک سمیت ممبر ممالک نے دستخط کئے اس میں نئے ہزارئیے کے لیے ایک واضح ایجنڈا پیش کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق شرکاء نے غربت، بیماری، جہالت اور خونریز جھگڑوں کو کم کرنے، عالمی سطح پر جمہوریت کی کارفرمائی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور خواتین کے مساوی درجے کے تحفظ اور تمام اقوام عالم کے مابین امن و تعاون اور ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس اعلامیے میں این جی اوز کے بارے میں واضح طور پر کہا گیا ہے: ”نجی شعبے اور این جی اوز کے ذریعے ہم اقوام متحدہ کے خوابوں کو تعبیر دیں گے“۔ چنانچہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ترقی کا جدید تصور این جی اوز کے ذریعے عام کرنے کے عمل کو اقوام متحدہ کی سند اور حمایت حاصل ہے اور اسلامی دنیا اس پورے پروگرام کی حامی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں این جی اوز کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ لیکن اس
کے پہلو بہ پہلو ان تنظیموں کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ پاکستان میں این جی اوز کے مخالفین ان پر جو الزامات لگاتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے:
- ۱۔ این جی اوز ایک مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر ملک میں فحاشی عریانیت اور مغربی
ثقافت کو فروغ دے رہی ہیں۔
- ۲۔ متعدد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں عیسائیت کی تبلیغ کر رہی ہیں۔
- ۳۔ یہ تنظیمیں محسوس اور غیر محسوس انداز میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑا کر اسلام اور پاکستان
کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ مزید برآں یہ لوگ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں شریک ہیں۔
- ۴۔ یہ انسانیت کی بھلائی کے نام پر پیسے بٹور رہی ہیں۔
- ۵۔ یہ پاکستان میں مشرقی تیمور جیسی صورت حال پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
- ۶۔ غیر سرکاری تنظیموں کو افغانستان میں طالبان حکومت کو کمزور کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
- ۷۔ پاکستان کے کمیونسٹوں نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد این جی اوز کی آڑ میں
پناہ لے کر اپنا کام ایک نئے انداز سے شروع کر رکھا ہے۔
- ۸۔ پاکستان کی این جی اوز بھارت کے حق میں فضا ہموار کر کے ملک کی نظریاتی اور
جغرافیائی سرحدات پر تیشہ چلا رہی ہیں۔
ان کے علاوہ بھی الزامات ہو سکتے ہیں تاہم درج بالا باتیں مذہبی جماعتوں کی طرف سے بالخصوص اور دیگر طبقوں کی طرف سے بالعموم تکرار کے ساتھ سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں تو بات الزامات سے آگے بڑھ کر ایک منظم احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چنانچہ این جی اوز مخالف تحریک پچھلے سال صوبہ سرحد سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل گئی جس میں تقریباً تمام مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا۔ اگرچہ اس وقت اس تحریک میں وہ شدت نہیں رہی جو گذشتہ سال تھی تاہم یہ چنگاری ابھی تک بجھی نہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔
اداریہ، ہفت روزہ ”ضرب مومن“
مغربی این جی اوز کی ملک دشمن سرگرمیاں
پاکستان کے مرکزی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمود غازی نے لاہور کے ایک دینی مدرسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”غیر ملکی این جی اوز پاکستانی خواتین کو اسلام سے گمراہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ان کا قابل اعتراض مواد قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”غیر ملکی این جی اوز“ اپنا لٹریچر سستے داموں بیچ رہی ہیں تا کہ گمراہ کن نظریات کا زیادہ سے زیادہ پرچار ہو سکے۔ ادھر دوسری طرف قومی اخبارات نے مغربی این جی اوز کی ایک اور سنگین ملک دشمن سازش کی خبر دی ہے۔ انجمن دفاع پاکستان کے سروے کے مطابق بی آر بی کینال کے اس پار زیرو لائن کے قریب دیہاتیوں اور قصبوں کے باسیوں نے ان سے منسوب کئی اخبارات میں شائع ہونے والی منفی خبر کی مذمت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے لیے سرحدوں پر کشیدگی اور فوج کی موجودگی سے مالی وسائل پیدا ہوئے ہیں اور ان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی آقاؤں کی آشیر باد سے چلنے والے چند این جی اوز اور نام نہاد ادارے ہماری مسلح افواج اور ہمارے درمیان رخنہ اندازی سے باز رہیں۔ ہم اپنے ملک کے دفاعی تقاضوں کی اہمیت کو خوب سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس من گھڑت خبر سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور جذبہ حب الوطنی کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اس سے قبل بھی متواتر اس طرح کی خبریں آتی رہی ہیں کہ این جی اوز برملا ملک دشمن سرگرمیوں اور ملت کے مفاد کے منافی حرکات میں مشغول رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں بظاہر تعلیم، صحت، ترقی، حقوق، تحفظ ماحول اور عورتوں و بچوں کے متعلق مسائل کے حوالے سے جدوجہد کرتی نظر آتی ہیں لیکن درپردہ مسلمانوں کے مسلّمہ عقائد، نظریات اور پاکیزہ معاشرتی روایات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے اور مسلمانوں کے شرم و حیاء کا جنازہ نکال دینے کے لیے محنت کرتی ہیں۔ اسلامی قوانین کا استہزاء اڑا کر مسلمانوں میں ان کی وقعت ختم کرتی ہیں۔ قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کو نعوذ باللہ جبری قانون گردانتی ہیں۔ پاکستان کی جڑیں کمزور کرنے کے لیے کبھی چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں، کبھی پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں اور کبھی پاک فوج میں کمی کا نعرہ لگاتی ہیں۔ بعض این جی اوز ایسی ہیں کہ انہیں پاکستان سے زیادہ بھارت کا غم پریشان کیے رکھتا ہے اور وہ اپنے مرد و خواتین اراکین کے ہمراہ واہگہ بارڈر پر جا کر
ہندو مشرکوں سے اظہار یک جہتی کرتی نظر آتی ہیں۔ تعلیم کے نام پر انہوں نے معصوم طلبہ و طالبات کے ذہنوں کو شیطنت سے بھرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے ایجاد کر رکھے ہیں۔ ”ورائٹی شو، میلو شو مینا بازار“ کے نام پر سکولوں اور کالجوں کی مدد کرتی اور ان میں مغربی ثقافت پھیلاتی ہیں۔ پاکستان جو غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ ملک ہے اس پر غیر ملکی پابندیاں لگوانے کے لیے کبھی چائلڈ لیبر کے حوالے سے سرگرم ہو جاتی ہیں جس سے بیرون ملک پاکستانی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ چونکہ ان کے سرپرست غیر ملکی عالمی ادارے ہوتے ہیں اس لیے محض انہی کے اشارے پر متحرک ہوتی ہیں۔ ان کے عہدے دار عالمی اداروں سے بھاری فنڈز لے کر خود پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس گھناؤنے کردار کے باوجود ہمارے یہاں ان موذی ٹڈیوں کو کھل کھیلنے کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے انہیں تمام تر سرکاری سہولتیں پورے اعزاز کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے دینی اداروں اور رفاہی تنظیموں پر جو فی الحقیقت اس ملک کے حقیقی خیر خواہ، ہمدرد اور ضرورت پڑنے پر جان قربان کرنے والے لوگ ہیں...... ان کا کردار محدود کرنے اور ان پر پابندی کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس پر تو وہی مثال صادق آتی ہے کہ ”یہ کیسا عجیب ملک ہے جس کے باشندے پتھر تو باندھ دیتے ہیں اور موذی جانوروں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں؟“ ذرا سوچیے تو سہی! اس طرز عمل سے ہم ملک کی بقاء اور سلامتی کے تقاضے پورے کر رہے ہیں یا اسے سنگین خطرات کے نرغے میں دیتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت این جی اوز کے معاملات کی پوری طرح چھان بین کرے اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے تاکہ ملک کی نظریاتی و دفاعی بنیادوں کی دیمک خوری کے خوفناک سلسلے کی بروقت روک تھام ہو سکے۔ ہمارے ارباب حکومت کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ مقامی رفاہی تنظیمیں جو صحیح معنوں میں پورے اخلاص کے ساتھ ملک اور قوم کی خدمت میں مصروف ہیں ان کی حوصلہ افزائی نہ سہی، کم از کم انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کا موقع فراہم کریں۔
٭ ٭ ٭
محمد متین خالد
پڑھتا جا، شرماتا جا
غیر ملکی امداد پر پلنے والی خطرناک این جی اوز پنجاب یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق ملک میں ۸۰ فیصد این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) ایسی ہیں جن کا معاشرے میں کوئی فعال کردار نہیں ہے اور لاکھوں ڈالرز غیر ملکی سرمایہ بٹور رہی ہیں جن میں پنجاب میں چار ہزار، سندھ میں تین ہزار تین سو ایک، سرحد میں تین سو سات اور بلوچستان میں دو سو چھیاسی اور آزاد کشمیر میں بہتر این جی اوز ایسی ہیں جو کسی فلاحی کام میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔
یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ معاشرے کی فلاح و بہبود اور مستحق افراد کی مدد اور خدمتِ خلق کے جذبے کے نام پر یہ تمام ادارے نہ صرف ملکی اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز ہضم کر جاتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر نے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے خلاف بھی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں جن پر ہر محبِ وطن کو تشویش ہے۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ بعض مغربی ایجنسیاں انسانی خدمت کی آڑ میں ان این جی اوز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ بات بھی حکومت کے علم میں ہے کہ کتنی ہی این جی اوز پاک بھارت دوستی کی آڑ میں قومی غیرت کے منافی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ہر غیر سرکاری تنظیم کسی نہ کسی قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونی چاہیے، وہ سوسائٹی ایکٹ ہو، کمپنیز ایکٹ ہو یا سوشل ویلفیئر ایکٹ پھر ان قوانین پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جاتا جن کے تحت وہ این جی اوز رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آج سے نہیں یہ این جی اوز سالہا سال سے کام کر رہی ہیں۔ آج تک کسی ایسے نظام کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی گئی جس کے ذریعے این جی اوز کو مانیٹر کیا جا سکے۔ ان کی خلافِ ضابطہ سرگرمیوں کا نوٹس لیا جا سکے۔ ایک دَم حکومت کو یہ خیال آ جاتا ہے کہ یہ این جی اوز غیر قانونی ہیں، غیر فعال ہیں یا محض پیسے بٹورنے کا ذریعہ ہیں، یہ حکومت کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خواتین این جی اوز کی سرگرمیاں روز اخبار کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ”دستک“ جیسے اداروں کا کردار کسی سے مخفی نہیں ہے۔ عورت کی فلاح و بہبود کے لیے قائم یہ انجمنیں عورت کے استحصال میں
یا خاتم النبیین سید المرسلین
پیش پیش ہیں۔ جوں جوں این جی اوز کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اسی تناسب سے خودکشیوں کے واقعات، مجرمانہ حملوں کے واقعات، فحش لٹریچر کی اشاعت، ذرائع ابلاغ سے عورت کی بے حرمتی اور استحصال میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ آج کی عورت کل کی عورت کے مقابلے میں زیادہ مظلوم ہے، زیادہ استحصال کا شکار ہے۔ اس کے اوپر زیادہ دباؤ ہیں، وہ دباؤ معاشی بھی ہیں اور معاشرتی بھی، اخلاقی بھی اور نفسیاتی بھی۔ حکومت کے اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں نے اس کے سدباب کے لیے کیا کام کیا ہے؟
پاکستان میں رجسٹرڈ تیس ہزار این جی اوز اگر معاشرے کی فلاح و بہبود اور عوامی مسائل کے لیے کام کر رہی ہوتیں تو کیا معاشرہ آج اسی طرح مسائل کا گڑھ ہوتا؟ کیا اسی طرح خودسوزی کا کلچر پروان چڑھتا؟ غیر ملکی زرمبادلہ پر پلنے والی یہ این جی اوز جن میں کچھ کا صرف اپنا مفاد ہے اور کچھ کا کردار حد درجہ خطرناک ہے کہ وہ معاشرے کے لیے ناسور ہیں اور غیر ملکی آلہ کار ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ این جی اوز کے روپ میں کہاں کہاں یہودی لابی اور ذہنیت کارفرما ہے۔ اس وقت تمام این جی اوز کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے، وہ حکومتی ادارے جن کے تحت یہ تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں، ان کی غفلت کا نوٹس لیا جائے کیونکہ ان کا کام تنظیموں کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہے ہیں تو این جی اوز کے ساتھ ساتھ وہ بھی ناقابلِ معافی ہیں اور اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ کیا حکومت نے ان افسران کے خلاف بھی نوٹس لیا ہے اور قرار واقعی، کافی سخت اقدامات کیے ہیں۔ اس کے ساتھ عوام الناس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دوست نما دشمنوں کو پہچانیں اور طاغوتی ایجنٹوں سے ہر محاذ پر ہوشیار رہیں۔
(افشاں نوید، ماہنامہ ”خواتین میگزین“ جون 1999ء)
یہ ہے یورپ
یورپ اور امریکہ میں خاندان کا نظام ختم ہو چکا ہے اور وہاں شرم و حیا کا جنازہ نکل چکا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر قانونی اور ”بن“ بچوں کی کثرت کے باعث دفتری فارموں میں سے انہیں ولدیت کا خانہ ختم کرنا پڑا ہے۔ جنسی آزادی کا حال یہ ہے کہ دو مرد یا دو عورتیں شادی کر کے گھر بسا کر رہتے ہیں۔ ناجائز بچوں کی پیدائش کی شرح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے ابتدائی خطاب میں کہا تھا کہ عنقریب ہمارے معاشرے کی اکثریت ”بن“ بچوں پر مشتمل ہوگی۔ فائیو پلس کانفرنس کی قراردادوں کے مطابق:
- (۱) ہم جنس پرستی محض ایک جنسی رویہ ہے جس پر پابندی کا کوئی جواز نہیں، ہم جنس پرست
افراد کے جوڑوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
- (۲) عورتوں کو حق دیا جائے کہ وہ گھر کا کام کاج کرنے سے انکار کر دیں اور اگر وہ کام
کریں تو اس کا معاوضہ طلب کریں، اس طرح عورت حمل اور وضع حمل کا (کرایہ) معاوضہ لینے کی بھی حق دار ہوگی۔
- (۳) بیوی کو حق حاصل ہوگا کہ وہ شوہر کی جنسی خواہش پورا کرنے سے انکار کر دے اور اگر
شوہر زبردستی کرے تو یہ زنا بالجبر
- (۴) جسم فروشی کو
قانونی تحفظات حاصل ہوں۔
- (۵) وراثت اور طلا
مغرب سے روشنی حاصل کر حکومت کو اپنے ذرا کہ یہ تنظیمیں پاکستان کے دستو کیا ہے اور وہ پاکستان کو اس خدمت کے لیے کام کرنے وا لیے تیار نہیں کہ وہ ہمارے اسلا ایوانوں میں بے پناہ اثر و رسو فیصد نمائندگی کا ذکر کرنا ضرور دلدادہ ایسے لوگ ہیں جو یا تو ہما ریاستی جبر کے ذریعہ مخلوط معا ”دانش ور“ عورتوں کے حقو مغربی ممالک میں کوئی ضرور انتخابات میں حصہ لے سکتی ہی میں عورتوں میں تعلیم کی شرح نہیں۔ اس معاشرتی صورت مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا پاکستان میں مخلوط معاشرہ مسل رہنا چاہیے۔ یہ اجنبی تصورات نہیں کر سکتا۔ پاکستان کسی کی جائیں جن کے بارے میں ی جماعتوں کا غلبہ نہیں کر سکت درمیان مؤثر رابطے قائم کیے سے راہِ عمل تلاش کی جائے۔
شوہر زبردستی کرے تو یہ زنا بالجبر کے زمرے میں آئے گا۔
- (۴) جسم فروشی کو پیشہ مزدوری کا درجہ دیا جائے اور اس کام کو دوسری مزدوریوں کی طرح
قانونی تحفظات حاصل ہوں۔
- (۵) وراثت اور طلاق کے معاملے میں مرد و زن کو کامل برابری حاصل ہونا چاہیے۔
(جناب ڈاکٹر اسرار احمد روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۱۵ مئی ۲۰۰۱ء)
مغرب سے روشنی حاصل کرنے والی این جی اوز
حکومت کو اپنے ذرائع سے ان این جی اوز کی حقیقت معلوم کرنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ تنظیمیں پاکستان کے دستور میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے درپے کیوں ہیں؟ ان کا نظریہ زندگی کیا ہے اور وہ پاکستان کو اس کے مطابق ڈھالنے میں کس لائحہ عمل پر کام کر رہی ہیں۔ ہم انسانی خدمت کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن انہیں یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں کہ وہ ہمارے اساسی تصورات کی جڑیں کھودنے کے لیے سرگرم عمل ہوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بے پناہ اثر و رسوخ حاصل کر لیں۔ ہم یہاں دیہی کونسلوں میں عورتوں کی لازمی پچاس فیصد نمائندگی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس تجویز کے محرکین مغربی تہذیب کے دلدادہ ایسے لوگ ہیں جو یا تو ہمارے معروضی حالات سے قطعی ناواقف ہیں یا ایسے جنونی جو پاکستان پر ریاستی جبر کے ذریعہ مخلوط معاشرہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ مغرب سے ”روشنی“ حاصل کرنے والے یہ ”دانش ور“ عورتوں کے حقوق کے نام پر انتخابی نظام میں ایسی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں جن کی خود مغربی ممالک میں کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ موجودہ قوانین کے تحت عورتیں مردوں کی طرح انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں اور اس میں کوئی امر مانع نہیں۔ دوسری طرف ہمارے اکثر دیہات میں عورتوں میں تعلیم کی شرح نہایت کم ہے اور خواتین کو امور خانہ داری کے سوا عملی زندگی کا کوئی تجربہ نہیں۔ اس معاشرتی صورت حال میں دیہی کونسلوں میں پچاس فیصد عورتوں کو نمائندہ بنا کر بٹھانے کا مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ معاشرتی ڈھانچے کو زمین بوس کر دیا جائے۔ مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں مخلوط معاشرہ مسلط کیا جائے۔ حکومت کو ایسی این جی اوز اور ان کی لایعنی تجاویز سے خبردار رہنا چاہیے۔ یہ اجنبی تصورات اور رومانوی انداز فکر سیاسی استحکام یا اقتصادی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جس کے بنیادی فیصلے ایسی این جی اوز کی صوابدید پر چھوڑ دیئے جائیں جن کے بارے میں یہ شبہ بھی عام ہو کہ ان کی ڈور کوئی اور ہلا رہا ہے۔ این جی اوز سیاسی و دینی جماعتوں کا خلا پُر نہیں کر سکتیں۔ قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ حکومت اور سیاسی و دینی جماعتوں کے درمیان مؤثر رابطے قائم کیے جائیں اور ملک کو دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھانے کے لیے سنجیدگی سے راہ عمل تلاش کی جائے۔
(اداریہ روزنامہ ”پاکستان“ لاہور ۱۰ مئی ۲۰۰۰ء)
نادان دوست
موجودہ حکومت کا زیادہ انحصار این جی اوز پر ہے، جن کی آزاد خیالی عوام کو پسند نہیں۔ ان کی سیکولر سوچ کو تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور نظریہ پاکستان سے معمولی سا انحراف بھی سوہان روح بن جاتا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ این جی اوز کے نمائندے موجودہ حکومت کو محض خوش فہمی ہی میں نہ مروا دیں، ان کی محدود سوچ اپنی ناک سے آگے اور اپنے مفاد سے بالا نہیں جاتی۔ ان کے مالی مفادات بھی بیرونی دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ معاشرے کے بگڑے ہوئے آوے کو راہ راست پر لانے کی تو ان میں استطاعت نہیں لیکن جو قدریں باقی رہ گئی ہیں، ان کو توڑنے میں وہ ضرورت سے زیادہ عمل پیرا ہیں۔ ناموس رسالت کے قانون میں مجوزہ تبدیلی بھی اسی نوعیت کی تھی۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء)
غیر مسلم این جی اوز کی انسانی ہمدردی؟
انسانی بھلائی اور دُکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے غیر مسلم این جی اوز کی بڑی تعریف کی جاتی ہے۔ ان غیر مسلم این جی اوز میں سے ۹۰ فیصد گورے صلیبیوں کی ہیں۔ گوروں کے بارے میں جتنی بھی رپورٹیں پڑھیں اور سنی ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ تک کو نہیں پوچھتی۔ اکثریت اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ بہت کم افراد سال میں ایک بار اپنے والدین سے اولڈ ہومز میں ملنے آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے والدین کے لیے ہمدردی نہیں رکھتے، ان کے لیے وقت نہیں نکال سکتے، ان کی خدمت نہیں کرتے، ان کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے ہمدردی کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ گھر بار چھوڑ کر وہ کیوں دُور دراز کے علاقوں میں دُکھی انسانوں بالخصوص اپنے مذہب کے مخالفوں کی خدمت کریں گے؟ کیا محض مذہبی فریضہ اور نیکی سمجھ کر؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ان کی مذہبی کتب میں تو والدین کی خدمت کے بھی بڑے احکام ہیں۔ اگر نیکی کا کام ہی کرنا ہوتا تو والدین کی خدمت سے بڑھ کر کونسا کام ہو سکتا ہے۔ ان انسانی خدمت کے کاموں کے پس پردہ حقیقت کچھ اور ہے۔ ان غیر مسلم این جی اوز کی سرگرمیوں کے مطالعہ کے بعد جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت انسانی خدمت کے بھیس میں اپنے ممالک کے لیے جاسوسی کا کام کرتی ہے، غلامی میں جکڑنے کے لیے سازشیں کرتی ہے، مسلمانوں کی آبادی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے مختلف پروگراموں پر عمل کرتی ہے۔ عیسائیت کے فروغ کے لیے بھی کام کرتی ہے تاکہ عیسائیوں کی عددی برتری قائم رہ سکے۔ انسانی ہمدردی کے نام پر کام کرنے والی یہ تنظیمیں استعماری قوتوں کا ہر اول دستہ ہیں۔ (علی حمزہ، ماہنامہ ”بیدار ڈائجسٹ“ لاہور، مارچ ۲۰۰۲ء)
کاغذی این جی اوز
این جی اوز کا سیلاب سا آ گیا ہے، کسی بھی شعبے میں جائیے آپ کو فیشن ایبل خواتین غریبوں کے درد میں مبتلا نظر آئیں گی۔ یہ سلسلہ پہلے بھی ہوا کرتا تھا لیکن سوویت یونین کی شکست و
ریخت کے بعد ہمارے ہاں یہ بہت زیادہ دکھائی دینے لگیں اور ترقی یافتہ اقوام میں درد دل رکھنے والے ادارے اور اشخاص ترقی پذیر ممالک کی طرف دیکھنے لگے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ترقی یافتہ اقوام جب ہمارے ہاں صحت اور تعلیم کے بجٹ کی حقیقت کو جانیں تو وہ حیران رہ گئیں اور حکومتوں نے ان غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے بیشتر کام کیے اور بعض لوگ ان کو محض کارروائی قرار دیتے لیکن یہ لوگ بہت کم ہیں زیادہ تر تنظیمیں کام کرتی ہیں اور ان کے ثمرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تنظیمیں جہاں خواتین اور بچوں کے لیے کام کرتی ہیں وہاں انہوں نے حیوانات وغیرہ کے لیے بھی تنظیمیں بنائیں، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے بھی اس عہد میں زیادہ زور و شور سے کام ہوا۔ اسلام تو نام ہی اجر عظیم کا ہے اس میں کار خیر کی تعلیم بطور خاص دی جاتی ہے۔ صدقہ خیرات، زکوٰۃ کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں۔ سو ہمارے ہاں یہ فلاحی سلسلے بہت خوبصورتی سے جاری ہیں۔
جو نہی این جی اوز کا تصور ذہن میں آتا ہے تو چندہ دکھانے والی تنظیمیں یا پھر کاغذی تنظیموں کا خیال آتا ہے۔ یہ چند کاغذی تنظیموں کی وجہ سے ہوا اور صحیح کام کرنے والی تنظیمیں بھی مورد الزام ٹھہریں۔ پاکستان ایک پسماندہ ملک ہے اور ترقی پذیر ہونے کی وجہ سے یہاں ناہمواری ہر شعبہ میں موجود ہے۔ پہلے پہل یوں ہوتا تھا کہ عالمی اداروں سے جو فنڈز آتے تھے وہ سرخ فیتہ کی نذر ہو جاتے اور جو کچھ بچ جاتا، وہ کچھ انتظامی اور کچھ برائے نام فلاحی کاموں پر صرف ہوتا لیکن اب عالمی اداروں نے اپنے سروے کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ہم براہ راست تنظیموں کو فنڈز دیں گے تا کہ فنڈز خورد برد نہ ہوں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خواتین کی تنظیموں میں کئی ایک اونچے طبقے کی خواتین آ گئیں اور وہ اپنی کلاس سے باہر کی بات نہ کر سکیں اور محض فیشن کے طور پر غریبوں کی باتیں کرنے لگیں۔ وہی مغرب زدہ باتیں اور چند خواتین کی شمولیت۔
(عظمیٰ جعفری روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۰ دسمبر ۱۹۹۹ء)
کنڈوم کلچر
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک (مسلم ممالک) میں گزشتہ برسوں کے دوران مانع حمل ادویات اور اشیاء کے استعمال میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اب مجوزہ منصوبے میں مزید مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام ممالک خاندانی منصوبہ بندی کی راہ میں تمام رکاوٹوں کو دُور کریں تمام سیاسی اور طبقاتی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کی فراہمی اور استعمال کے فروغ میں اپنا بھر پور مثبت اور واضح کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کا منصوبہ ہے کہ پوری دنیا پر کنڈوم کلچر مسلط کیا جائے۔ وہ اس مقصد کے لیے ۳۳ ارب ڈالر آئندہ چھ برسوں میں خرچ کرے گی اور اس کے بعد اس سے بھی زیادہ رقم مختص کی جائے گی۔ اس سے اس منصوبے کے سائز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ (اس منصوبے پر عمل درآمد کے
لیے ہر ملک ۷۰ فیصد رقم مہیا کرے گا) پھر بھی یہ اختتام نہیں ہے۔ اگر ہم نے اس جانب سے آنکھیں موند لیں یا خاموش رہے تو یقیناً اس منصوبے کے اگلے فیز میں داخل ہوں گے۔ وہ کیا ہو گا اس کا اندازہ کرنے کے لیے دو خبریں پڑھ لیجیے۔ ۲۶ جون ۹۴ء کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے ہزاروں ہم جنس پرستوں نے اغلام بازی اور ہم جنسی کے اعمال کو عالمی انسانی حقوق کے اعلان میں تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے اس مطالبہ کی امریکہ کے ذرائع ابلاغ نے حمایت کی ہے۔
اس سے دس دن قبل ہی امریکہ کی اٹارنی جنرل جینی رین بو نے ہم جنسی کے عمل کو تقویت دینے کے لیے اس کی حمایت کرتے ہوئے امریکی امیگریشن بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ ہم جنسی میں ملوث سزا یافتہ افراد اگر امریکہ میں پناہ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں ایک سماجی گروہ کا رکن تصور کرتے ہوئے اور ہم جنس پرستی کو ان کا بنیادی حق تصور کرتے ہوئے امریکہ میں پناہ دی جائے۔ لاس اینجلس ٹائمز میں شائع شدہ بیان کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ”کوئی فرد جس کی شناخت ہم جنس پرست کے طور پر کی گئی ہو اور اس بناء پر اس کی حکومت نے اسے سزا دی ہو وہ امریکہ میں پناہ حاصل کرنے کے قانون کے تحت ایک سوشل گروپ کے رکن کے طور پر پناہ حاصل کرنے کا حق دار ہوگا۔“ اور اقوام متحدہ کے لائحہ عمل میں بھی اس قسم کے اشارات موجود ہیں حتیٰ کہ ایڈز کا ذکر کرتے ہوئے بھی ہم جنس پرستی کو مسترد نہیں کیا گیا بلکہ کنڈوم استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۹ اگست ۱۹۹۴ء)
انسانی حقوق کے دعویداروں کا معیار انصاف
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم محض زبانی جمع خرچ کے عادی ہو گئے ہیں اور عملاً کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا چاہتے یا ہماری خود غرضیاں ذاتی پسند اور ناپسند اور مصلحتیں ہمارے پیروں کی زنجیر بن چکی ہیں۔ دنیا میں اگر مسلمان کا خون پانی کی طرح بے دریغ بہایا جائے اور ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے، مسلمان عورتوں کی عصمتوں کو اجتماعی طور پر لوٹا جائے تو انسانی حقوق کے علمبردار آنکھیں بند کیے اور کانوں میں انگلیاں دے کر بیٹھ رہتے ہیں اور اپنے ملک میں اگر کتا یا بلی کسی گٹر پائپ میں پھنس جائے تو اس کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان نام نہاد انسانی حقوق کے دعوے داروں کا معیار انصاف اگر ایسا نہ ہوتا تو بوسنیا ہرزی گووینا میں مسلمانوں کی اجتماعی نسل کشی کی مہم نہ چلائی جاتی۔ اب تک لاکھوں مسلمان بوسنیا میں شہید کیے جاچکے ہیں، ہزاروں بچوں کو ذبح کیا جاچکا ہے اور مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی ناقابل بیان داستانیں رقم کی جاچکی ہیں لیکن یورپی ممالک اور امریکہ بہادر صرف تماشا دیکھ رہے ہیں۔
مذاکرات ہیں جو کسی نتیجہ پر پہنچنے کا نام نہیں لیتے۔ دوسری طرف اگر اپنے مفادات کا مسئلہ آئے تو پھر عراق پر دن رات بمباری اور اقتصادی پابندیاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے عین مطابق ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف یورپی ممالک اور امریکہ وغیرہ کو الزام دینا ہی درست نہیں،
بھی یہ اختتام نہیں ہے۔ اگر ہم نے اس جانب سے آنکھیں بند کئے رکھیں تو قبر میں داخل ہوں گے۔ وہ کیا ہو گا اس کا اندازہ جون ۹۴ء کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے اور ہم جنسی کے اعمال کو عالمی انسانی حقوق کے اعلان میں شامل کرانے کی امریکہ کے ذرائع ابلاغ نے حمایت کی ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل جینی رین بو نے ہم جنسی کے عمل کو تقویت دے کر امریکی امیگریشن بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ ہم جنسی میں پناہ حاصل کرنا چاہیں تو انہیں ایک سماجی گروہ کا رکن تصور کرتے ہوئے امریکہ میں پناہ دی جائے۔ لاس اینجلس کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ”کوئی فرد جس کی شناخت ہم جنسی کے طور پر اس کی حکومت نے اسے سزا دی ہو وہ امریکہ میں پناہ ایک سماجی گروپ کے رکن کے طور پر پناہ حاصل کرنے کا حق دار ہے۔“ اس قسم کے اشارات موجود ہیں حتیٰ کہ ایڈز کا ذکر کرتے ہوئے کنڈوم استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
(روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور ۲۹ اگست ۱۹۹۴ء)
تاسف
ہم ناجائز خرچ کے عادی ہو گئے ہیں اور عملاً کسی کے لیے کچھ کرنا پسند نہیں کرتے اور مصلحتیں ہمارے پیروں کی زنجیر بن چکی ہیں کہ مسلم خون بے دریغ بہایا جائے اور ان کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے تو انسانی حقوق کے علمبردار آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور اپنے ملک میں اگر کتا یا بلی کسی گٹر پائپ میں گر جائے تو ریسکیو آپریشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بوسنیا ہرزی گووینیا میں مسلمانوں کی اجتماعی قبریں اور مسلمان جو بوسنیا میں شہید کیے جاچکے ہیں‘ ہزاروں بچوں سے وحشت و درندگی کی ناقابل بیان داستانیں رقم کی جا چکی ہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ چلیں ہم نام ہی نہیں لیتے۔ دوسری طرف اگر اپنے مفادات کا مسئلہ درپیش ہو تو ان کی پابندیاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو پرے رکھ کر ممالک اور امریکہ وغیرہ کو الزام دینا ہی درست نہیں‘
وہ تو ہیں ہی غیر بلکہ اپنوں کا کردار بھی قابل غور ہے۔ عالمِ اسلام کیا کر رہا ہے‘ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ خون کی جو ہولی سالہا سال سے کھیلی جا رہی ہے اور اب اس میں جو شدت آ گئی ہے‘ کتنے ایسے اسلامی ممالک ہیں جنہوں نے محض رسمی سی تشویش کا اظہار کیا ہو یا صرف ہندوستانی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا ہو۔ شاید پاکستان کے علاوہ ایک دو ممالک ہی ایسے ہوں گے ورنہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ورنہ اگر دولت مند اسلامی ممالک ہندوستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کرتے اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر اقتصادی تعلقات منقطع کرنے کا صرف اشارہ دیتے تو ہندوستان جہاں غربت کے ہاتھوں لاکھوں لوگ صرف بمبئی شہر کے فٹ پاتھوں پر سونے پر مجبور ہیں‘ فوراً کسی تصفیہ پر تیار ہو جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کشمیر‘ بوسنیا‘ فلسطین اور دنیا کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں پر ظلم کے جو پہاڑ گرائے جا رہے ہیں‘ وہ ہم سب کی آنکھ سے پوشیدہ ہیں اور ہم سب انسانی حقوق کا عالمی دن ایک رسم کے طور پر منانے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔
(اخلاق علی خان‘ روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۸ دسمبر ۱۹۹۳ء)
منافقت
امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے اپنی این جی اوز کو ڈونیشن کے بل بوتے پر ہمارے بائیں بازو کو نہ صرف غیر سیاسی بلکہ کرپٹ کر دیا ہے۔ توہین رسالت کے علاوہ کوئی بھی واقعہ ہو جائے‘ یہ احتجاج سے عاری ہو چکے ہیں اور صرف ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کمپیوٹر سے بڑی خوبصورت رپورٹ نکال کر بڑے اعلیٰ کاغذ پر چار رنگا چھپائی کرا کے ایک دوسرے کو بانٹتے رہتے ہیں جس کو یہ Share کرنا کہتے ہیں۔ فقیر کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ انسانی حقوق کے یہ ادارے پچھلے دس سالوں سے پورے ملک کے دور دراز علاقوں میں ورکشاپس منعقد کر رہے ہیں لیکن تبدیلی پھر بھی نہیں آئی۔ سندھ میں ہاری پر ظلم و ستم جاری ہے‘ بلوچستان میں سرداروں کا استحصال جاری ہے اور پنجاب میں ونی کی رسم اور پنچایت کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ آخر انسانی حقوق کہاں بیدار ہو رہے ہیں؟ فقیر کو چونکہ ان کی محفلوں میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے اس لیے یہ بخوبی جانتا ہے کہ انسانی حقوق کی ان ورکشاپس میں آج سے دس سال قبل جن لوگوں نے شرکت کی تھی‘ کم و بیش وہی لوگ آج بھی شرکت کر رہے ہیں۔ وہ بھی صبح‘ دوپہر اور شام کے کھانے‘ آنے جانے کے کرائے اور پیسے لے کر۔ وگرنہ یہاں بھی آپ کو الو بولتے نظر آئیں گے۔ عمر اصغر خان بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور کسی شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار کی تلاش میں تھے۔ اگر ان کا بھی کوئی ساتھی قتل ہو جاتا تو شاید ہی وہ کوئی احتجاج کر پاتے۔ ان لوگوں کا کام بس اتنا ہی رہ گیا ہے کہ ملا کو گالی دی جاتی رہے۔ یہ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ مولوی ان کے کام میں روڑے اٹکائے اور پھر یہ احتجاج کریں اور یورپی ممالک میں اپنی نیوز ویلیو میں اضافہ کرتے جائیں۔ جہاں تک نظام کی تبدیلی کی بات ہے‘ وہ اس پر بحث ہی نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے نزدیک اصلاحات ہی معاشرے میں تبدیلی کی ضمانت ہیں۔
ان تمام این جی اوز کے بعد اگر کوئی بائیں بازو کا ٹوٹا پھوٹا دانش ور بچ گیا تھا تو اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنٹوں نے اپنے ہاں ملازمتیں دے کر ختم کر دیا ہے اور انہیں قصیدے جیسے تعویزوں کی تیاری میں مصروف کر رکھا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک تعویز کی تیاری پر کئی سال صرف ہو چکے ہیں اور نہ جانے کتنے سال اور لگیں گے۔ (ماہنامہ 'نیا زمانہ' لاہور ستمبر ۲۰۰۲ء)
اکبر بگٹی کا اصل چہرہ
بلوچستان کے قبائلی رہنما اور بگٹی قبیلے کی اہم شخصیت غلام قادر بگٹی نے کہا ہے کہ اگر قوم کو اکبر بگٹی کا صحیح چہرہ نظر آ گیا اور ان کے کرتوتوں کا پتہ چل گیا تو انہیں بلوچستان تو کیا پورے ملک میں کہیں پناہ نہیں مل سکے گی۔ اخبار نویسوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اکبر بگٹی نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ اپنے مخالفین کی داڑھیاں منڈوا کر منہ کالا کرنا اور انہیں ننگا کر کے بازاروں میں گھمانا، خواتین کی بے عزتی کرنا کیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اکبر بگٹی پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور سوئی سادرن گیس کمپنی کو بلیک میل کر کے سالانہ کئی کروڑ روپے وصول کر رہے ہیں۔ اکبر بگٹی کے پاس اس وقت ان کمپنیوں کی دس مستقل اور ۲۲ دیگر گاڑیاں ہیں، ان گاڑیوں میں پجارو، لینڈ کروزر، سوزوکی جیپ اور دیگر قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ صرف دسمبر ۱۹۹۴ء کے دوران ان گاڑیوں کے پٹرول اور ڈیزل کی مد میں ان کمپنیوں سے تقریباً ۳۸ لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ گاڑیوں کی مرمت کے نام پر چار لاکھ روپے متفرق اخراجات کی مد میں ساڑھے چار لاکھ روپے دونوں کمپنیوں میں پچیس ملازمین تنخواہ کمپنیوں سے حاصل کرتے ہیں لیکن ڈیوٹی اکبر بگٹی کی کرتے ہیں جبکہ تنخواہوں کی مد میں صرف ایک ماہ کے دوران پچاس لاکھ اکسٹھ ہزار روپے حاصل کیے۔ اس میں ڈرائیوروں کا اوور ٹائم بھی شامل ہے۔ اکبر بگٹی نے سوئی میں برف کا کارخانہ لگایا ہوا ہے اور سوئی گیس کمپنی کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنا کارخانہ بند رکھے اور برف اکبر بگٹی کے کارخانے سے خریدی جائے۔ گزشتہ سال اکبر بگٹی نے کمپنی کو چوبیس لاکھ کی اور اس سال مارچ سے اکتوبر تک ۳۵ لاکھ روپے کی برف فروخت کی۔ اکبر بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں ریاست کے اندر ریاست قائم کی ہوئی ہے۔ ان کا ذاتی جیل خانہ ہے اور کسی انسان کی جان لینا ان کے لیے انتہائی معمولی بات ہے اور اس وقت بھی ان کے ذاتی جیل خانے میں تیس سے زیادہ افراد کئی کئی ماہ سے بند ہیں۔ آٹھ سو سے زیادہ مظلوم افراد اکبر بگٹی کے مظالم سے اپنا علاقہ چھوڑ کر دو سال سے کیمپوں میں مہاجر ہو کر انتہائی پریشانیوں اور تکالیف سے دوچار ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے اپیل کی کہ ڈیرہ بگٹی اور ڈیرہ کے علاقوں کا خود دورہ کریں تب انہیں اصل حقائق معلوم ہوں گے کیونکہ اکبر بگٹی پورے ملک کو بلیک میل کر رہے ہیں تاکہ نہ صرف ان کے پہلے کیے جانے والے مظالم پر پردہ پڑا رہے بلکہ آئندہ بھی وہ مظالم کریں اور حکومت کوئی کارروائی کرے تو اسے سیاسی انتقام کا رنگ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا ڈیرہ بگٹی کی تینوں تحصیلوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)
مقرر کیے جائیں۔ (روزنامہ
پاکستانی فرعون
برطانوی صحافی اقتباس جس میں پاکستان انکشافات کیے گئے ہیں۔ ایما نے نواب ” قبیلے میں آپ ”کیوں نہیں ”لیکن خدا کا ”کیسے؟“ ”موت“ ”میں ان ہیں۔“ پھر ظالمانہ ہنسی ”یہ جنت کا وعدہ کیا ہے؟..... حور ایما نے اس لگے کہ اس کی وضاحت ایما نے سمجھا
این جی اوز اور 'را'
معروف اسرائیلی گٹھ جوڑ“ کے پاکستان فراہم کر مغرب کا شیطانی حال کے تحت منعقد ہو لیے ناقابل برداشت
مقرر کیے جائیں۔ (روزنامہ 'پاکستان' لاہور ۱۸ نومبر ۱۹۹۵ء)
پاکستانی فرعون
برطانوی صحافی خاتون ایما ڈنکن کی کتاب "Breaking the Curfew" سے اقتباس جس میں پاکستانی سیاست دانوں، وڈیروں اور مغرب زدہ طبقات کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔
ایما نے نواب اکبر بگٹی سے جو بات چیت کی کچھ یوں تھی:
"قبیلے میں آپ کی مخالفت ہے؟"
"کیوں نہیں؟ اپوزیشن تو خدا کی بھی ہے۔"
"لیکن خدا کا حکم تو حرفِ آخر ہے۔"
"کیسے؟"
"موت"
"میں ان لغویات پر یقین نہیں رکھتا۔ موت مٹی میں ملا دیتی ہے، جسم کو کیڑے کھا جاتے ہیں۔" پھر ظالمانہ ہنسی کے بعد نواب صاحب اپنے داماد کی طرف اشارہ کر کے بولے:
"یہ جنت پر یقین رکھتا ہے، دو بار حج کر چکا ہے...... جانتی ہو جنت میں اللہ نے کن چیزوں کا وعدہ کیا ہے؟...... حوریں، غلمان اور شراب۔" اور پھر مزید تفصیل سمجھائی۔
ایما نے اس کی وضاحت چاہی تو نواب صاحب اپنے داماد کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ اس کی وضاحت اس سے طلب کرو۔ وہ بے چارہ کھسیانی ہنسی ہنس کر رہ گیا۔
ایما نے یہی اندازہ لگایا کہ یہاں بھی سردار ہی خدا بنے بیٹھے ہیں۔
(ماہنامہ 'اخبارِ وطن' لندن نومبر ۱۹۹۶ء)
این جی اوز اور "را"
معروف صحافی جناب وقار محمد شیخ کی تہلکہ خیز رپورٹ "پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیلی گٹھ جوڑ" کے نام سے شائع ہوئی جس میں انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا کہ:
"بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے گرفتار ملزمان کے انکشاف کے مطابق پاکستان میں سرگرم چار این جی اوز بھی 'را' کے ایجنٹوں کو اخراجات اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔" (ہفت روزہ 'وجود' کراچی ۱۵ مئی ۲۰۰۱ء)
مغرب کا شیطانی منصوبہ
حال ہی میں ۵ جون سے ۹ جون تک نیویارک (امریکہ) میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تحت منعقد ہونے والی بیجنگ پلس فائیو کانفرنس کا بے ہودہ اور شرمناک ایجنڈا پوری مسلم امہ کے لیے ناقابل برداشت ہے بلکہ ایک چیلنج ہے، اس کانفرنس کا عنوان "اکیسویں صدی کے لیے جنسی
مساوات“ تھا۔ اس اجلاس میں ہزاروں مندوبین اور خواتین سرکاری طور پر اور غیر سرکاری طور پر دنیا بھر سے شریک ہوئیں۔ پاکستان سے مغربی ممالک کی طرف سے کروڑوں روپیہ سالانہ گرانٹ لینے والی این جی اوز کی نمائندہ خواتین نے بھی شرکت کی جس میں این جی او کے ایک وفد کی قیادت عاصمہ جہانگیر نے بھی کی جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے وفاقی وزیر زبیدہ جلال بھی شریک ہوئیں۔ جو خود بھی بلوچستان میں این جی او چلا رہی ہیں۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے کا مقصد بالخصوص اسلامی ملکوں میں عورت کے حقوق کے نام پر جنسی انارکی پیدا کرنا‘ ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینا‘ اسلامی معاشرہ میں خاندانی نظام کی تباہی کو عام کرنا‘ جنسی آزادی اور جنسی مساوات کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرنا‘ اس کانفرنس کے ذریعے معاشرے میں ماں‘ بیٹی‘ بہن‘ بیوی کے مقدس رشتوں کی اہمیت اور احترام کو ختم کر کے عورت کو ”آزاد پنچھی“ بنانا‘ طوائفوں کو جنسی کارکن ڈیکلیئر کر کے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا‘ اسقاط حمل کو فروغ دینا تا کہ بدکاری اور زنا کاری کو تحفظ حاصل ہو سکے‘ بچے کی پیدائش اور تولیدی سرگرمیوں پر عورت کی طرف سے معاوضے کا مطالبہ‘ بال بچے کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریوں کا مناسب فریضہ عورتوں پر ختم کرنا اور گھریلو کام کاج سے باغی کرنا‘ عورتوں کو زنا اور اسقاط کا قانونی حق دینا اور خواتین کے خلاف ہر طرح کا امتیازی طرز عمل ختم کرنا ہے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے کو عالمی فرمان کا نام دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اس اجلاس کو غیر مسلم ممالک کی طرف سے مسلمان اور اسلامی معاشرے کی تباہی کا خطرناک ترین شیطانی منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بے ہودہ کانفرنس کے ایجنڈے میں ازدواجی عصمت دری کے نام سے ایک نئے جرم کا تعارف کروایا گیا ہے جس کا مقصد میاں بیوی کے پاکیزہ ازدواجی رشتے کے عمل سے فرار کا رجحان پیدا کرنا ہے۔ عورت کے حقوق کے نام پر یہ خوفناک شیطانی منصوبہ اسلامی دنیا پر مسلط کرنے کا مغربی منصوبہ ہے۔ مغرب کی تہذیبی یلغار کے زیر اثر این جی اوز چلانے والی بعض پاکستانی عورتیں اس شیطانی منصوبے کی تکمیل کے لیے متحرک ہیں۔
(پیر بنیا مین رضوی‘ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی ۱۲ جولائی ۲۰۰۰ء)
کتوں کی این جی او
اسلام ایک فطری دین ہے‘ اسلام نے اللہ کی ہر مخلوق کو اس کی حیثیت کے مطابق حق دیا ہے اور حق تلفی کی صورت میں باز پُرس کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھا ہے۔ کسی بھی مخلوق پر زیادتی اسلام کو گوارہ نہیں ہے اور تمام مخلوق میں زیادہ حقوق انسان کے ہیں لیکن این جی اوز والے یا این جی اوز کے سرپرست اور ان کی مالی سرپرستی کرنے والے کتوں کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں اور فلسطین میں انہی این جی اوز کے سرپرستوں کی نگرانی میں فلسطین کے اصل باشندوں پر دوسری جگہوں سے اکٹھے کیے گئے یہودیوں کے ذریعے مظالم کیے جا رہے ہیں اور ان کی مقدس سرزمین پر یہودیوں کے ناپاک جسموں کا بوجھ برقرار رکھنے میں انہی این جی اوز کے سرپرستوں کا عمل دخل ہے۔ کیا کتوں کے لیے این جی اوز بنانے والوں نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے بھی کبھی اپنے این جی اوز کا پلیٹ فارم
استعمال کیا ہے؟ کشمیر کے مسلما رقم ہو رہی ہے انسان کے ب کشمیر میں کی جا رہی ہے کسی جی اوز وجود میں آئی اور کیا جی او یا اس کے سرپرست مد این جی اوز کا بنیادی فلسفہ ہو یا رسول کریم صلی اللہ عل اُٹھائی جائے تو اس سے اسلا او ان کے سرپرستوں کو گواہ چاہیے۔ کشمیر کے حق میں حق میں آواز بلند ہو مزاق
منافق این جی او
ایک این جی ا ذکر قرآن کریم کی سورۃ ”مسجد“ کے عنوان سے ا صلی اللہ علیہ وسلم نے ا اسے ”دشمن کی گھات تھا اور پھر وہ نام نہاد دشمن کی گھات اور کم ایجنڈے پر کام کر س
سزائے موت اور ا
انسان کے تصور ہی سے اس رنگ نہیں۔ یہ کسی بھ بہت کمزور پریشان بُرے حال میں زندہ ر
مندوبین اور خواتین سرکاری طور پر اور غیر سرکاری طور پر دنیا ئی ممالک کی طرف سے کروڑوں روپیہ سالانہ گرانٹ لینے شرکت کی جس میں این جی او کے ایک وفد کی قیادت عاصمہ طرف سے وفاقی وزیر زبیدہ جلال بھی شریک ہوئیں۔ جو خود اس کانفرنس کے ایجنڈے کا مقصد بالخصوص اسلامی ملکوں پیدا کرنا، ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینا، اسلامی معاشرہ میں برابری اور جنسی مساوات کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرنا، اس یٹی بہن، بیوی کے مقدس رشتوں کی اہمیت اور احترام کو ختم کو جنسی کارکن ڈیکلیئر کر کے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا، اکاری کو تحفظ حاصل ہو سکے، بچے کی پیدائش اور تولیدی کا مطالبہ، بال بچے کی پرورش اور گھریلو ذمہ داریوں کا کاج سے باغی کرنا، عورتوں کو زنا اور اسقاط کا قانونی حق طرز عمل ختم کرنا ہے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے کو عالمی بمقام اس اجلاس کو غیر مسلم ممالک کی طرف سے مسلمان ن شیطانی منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بے ہودہ ی کے نام سے ایک نئے جرم کا تعارف کروایا گیا ہے نے کے عمل سے فرار کا رجحان پیدا کرنا ہے۔ عورت اسلامی دنیا پر مسلط کرنے کا مغربی منصوبہ ہے۔ مغرب کی بعض پاکستانی عورتیں اس شیطانی منصوبے کی تکمیل
وہ ”تکبیر“ کراچی ۱۲ جولائی ۲۰۰۰ء)
اللہ کی ہر مخلوق کو اس کی حیثیت کے مطابق حق دیا اختیار بھی اپنے پاس رکھا ہے۔ کسی بھی مخلوق پر زیادتی ق انسان کے ہیں لیکن این جی اوز والے یا این جی کے کتوں کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں اور فلسطین فلسطین کے اصل باشندوں پر دوسری جگہوں سے رہے ہیں اور ان کی مقدس سرزمین پر یہودیوں کے اوز کے سرپرستوں کا عمل دخل ہے۔ کیا کتوں کے ں کے لیے بھی کبھی اپنے این جی اوز کا پلیٹ فارم
استعمال کیا ہے؟ کشمیر کے مسلمانوں پر ہندو جو مظالم ڈھا رہے ہیں، ظلم و بربریت کی جو داستان کشمیر میں رقم ہو رہی ہے، انسان کے بنیادی حقوق جس طرح کشمیر میں معطل ہیں اور انسانی حقوق کی جو تضحیک کشمیر میں کی جا رہی ہے، کیا ان این جی اوز نے اس کے لیے کوئی آواز اٹھائی یا اس کے لیے کوئی این جی اوز وجود میں آئی اور کیا چیچنیا میں انسانیت کے خلاف جو حرکات وقوع پذیر ہو رہی ہیں، کیا کسی این جی او یا اس کے سرپرست نے اس کے لیے کوئی آواز اٹھائی؟ نہیں بالکل نہیں کیوں نہیں؟ اس لیے کہ این جی اوز کا بنیادی فلسفہ ہی یہ ہے کہ ہر اس کام کو فروغ دیا جائے جس سے اسلام کے حکم پر زد پڑتی ہو، یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کی مخالفت ہوتی ہو اگر کشمیر، فلسطین، چیچنیا کے لیے آواز اٹھائی جائے تو اس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہوگا جو کہ کسی طرح گوارا نہیں اور کتوں کی این جی او ان کے سرپرستوں کو گوارا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انسان کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ کشمیر کے حق میں، فلسطین کے حق میں، چیچنیا کے حق میں اور پھر اس کے بعد کسی دوسری چیز کے حق میں آواز بلند ہو، مزا تو تب ہے۔
(مولانا شریف ہزاروی، روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد ۱۶ ستمبر ۲۰۰۰ء)
منافق این جی او
ایک این جی اوز جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی قائم ہوئی تھی جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ توبہ میں موجود ہے کہ مدینہ منورہ میں مسلمان کہلانے والے کچھ لوگوں نے ”مسجد“ کے عنوان سے ادارہ قائم کیا تھا جس کا ظاہری عنوان نماز اور عبادات کا تھا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھ کر اس کا افتتاح کرنے کا وعدہ بھی کر لیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے ”دشمن کی گھات اور کمین گاہ“ قرار دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں جانے سے روک دیا تھا اور پھر وہ نام نہاد ”مسجد“ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر نذرِ آتش کر دی گئی تھی۔ اس لیے اگر دشمن کی گھات اور کمین گاہ کے طور پر ”مسجد“ کا وجود اسلام میں گوارا نہیں ہے تو عالمی استعمار کے ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کو برداشت کرنے کی گنجائش کیسے نکل سکتی ہے؟
(مولانا زاہد الراشدی، روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء)
سزائے موت اور انسانی حقوق!
انسان جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے، وہ موت ہے۔ موت ایک ایسی چیز ہے جس کے تصور ہی سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ موت کا کوئی روپ نہیں، کوئی مخصوص انداز یا رنگ نہیں۔ یہ کسی بھی راستے اور کسی بھی انداز سے آسکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی بہت زیادہ بیمار ہو، بہت کمزور، پریشان یا زندگی سے بے زار ہو۔ یہ اچھے خاصے صحت مند، طاقتور، بہت خوش اور خوشحال اور پُر حال میں زندہ رہنے کا تہیہ کیے ہوئے شخص کو بھی لے جاتی ہے تاہم اس کے باوجود کہ موت پر کسی کو
العلیم الخافض السمیع
القابض الرافع المذل
الباسط المعز البصیر
اختیار نہیں۔
وہ اشخاص جن کی موت کا فیصلہ عدالت سے جاری ہو چکا ہے ان کے لیے لوگوں میں اختلاف ہے۔ بہت سے لوگ اور ممالک سزائے موت کے خلاف ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے اور میرے خیال میں ایسا اس لیے کہ موت کا تصور انسان کے نزدیک ایک ناگوار تصور ہے۔
سزائے موت کے لیے یہ مشہور ہے کہ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بہت احتجاج کرتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ سزائے موت کو عمر قید سے بدل دیا جائے لیکن کیا سزائے موت کو عمر قید میں بدل دینا انسانی حقوق کا تحفظ ہے کیا یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے؟ نہیں یہ خدمت نہیں نادان دوستی ہے حماقت ہے کیونکہ ایک تو یہ جرم کے خوف کو کم کرتی ہے اور دوسرا یہ کہ یہ انصاف کا تقاضہ پورا کرنے میں رکاوٹ ہے۔ تیسرا یہ کہ کیا کسی کو عمر بھر قید رکھنا انسانی حقوق کا تحفظ ہے اور یہ انسانیت کی بھلائی ہے کیا گھٹ گھٹ کر اور روزانہ تھوڑا تھوڑا ہو کر مرنا بہتر ہے یا ایک ہی دن سارے عذاب سے جان چھوٹ جانا آخر مرسی کلنگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
جرم وسزا اور سزا کی سخت پابندی کی اہمیت کو یہ غافل انسانی حقوق کے علمبردار کیا جانیں وہ تو نہ جرم کی بھیانک صورت کو جانتے ہیں نہ سزا کی شاندار افادیت کو۔ وہ نہیں جانتے کہ ایک بار سخت ترین سزائیں دینے سے آئندہ کتنے ہی سالوں تک حالات خوش گوار اور جرائم سے پاک ہو جاتے ہیں اور اس کے برعکس سزا کے نہ دینے پر مجرموں کی کتنی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور انہیں فرار کی راہیں نظر آتی ہیں۔
(ڈیوڈ صادق روزنامہ ”پاکستان“ لاہور ۵ دسمبر ۱۹۹۶ء)
عورت، میڈیا اور مغرب
آزادی نسواں کے حوالے سے انسانی تاریخ میں پہلی اور آخری بار اگر واقعی کسی نے بہت کچھ کیا تو وہ دینِ فطرت اسلام اور ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جبکہ مغرب نے جسے عام طور پر آزادی نسواں کا علمبردار سمجھا جاتا ہے عورت کے ساتھ ”سنگین واردات“ کی ہے۔
اسلام نے تو صدیوں پہلے معاشرے میں عورت کا احترام متعارف کرایا اسے ناقابلِ فراموش آزادی سے ہمکنار کیا جبکہ مغرب کا عالم یہ ہے کہ.......
فرانس میں ۱۸۹۰ء کے اعداد و شمار کے مطابق عورتوں کو مردوں کی نسبت آدھی اُجرت ملتی تھی۔ امریکہ میں ۱۹۱۶ء میں عورتوں کو مردوں کی نسبت آدھی تنخواہ ملتی تھی۔ جرمنی میں بھی انہی دنوں عورتوں کو مردوں کی تنخواہ کا ایک چوتھائی ملتا تھا اور ۱۹۳۲ء تک فرانسیسی قانون کے مطابق بیوی پر خاوند کی ”غیر مشروط“ تابعداری اور اطاعت قانوناً فرض تھی۔
عورتوں کے حقوق کے حصول کی داستان آسٹریلیا میں ۱۸۹۰ء نیوزی لینڈ میں ۱۸۹۳ء اور امریکہ میں ۱۹۶۰ء سے شروع ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ مغرب میں عورت ”مویشی“ کی سطح سے گزر کر جبری نیلامی سے گزرتی ہوئی آج جس مقام پر ہے وہ دراصل اس کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں، معاشی اور صنعتی
حالات کے جبر کا نتیجہ تھا۔ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کی ابتدا ۱۸۸۱ء میں شروع ہوتی ہے۔ رکھنے اور اس پر تصرف کا اختیار اس وقت عورت سستی مزدور تھی، زیادہ بھی بہت کم تھی یعنی عورت سے یونین سازش کے تحت ”عورت کی آزادی“ پھر جوں جوں مشینوں کی ا گاہکوں کی اصل ضرورتوں سے کہیں او ”مصنوعی فروخت“ بذریعہ ”مصنوعی طر نفسیاتی اور معاشرتی طور پر مختلف حربوں ”کمرشل ضرورت“ کے نتیجے میں عورت ک کرنے کی ضرورت کے تحت عورت کو umption on consumer" کے طور پر استعمال کیا گیا اور عورت کے ”مساوات“ اور ”برابری“ کے رنگ بھرتے مختصر یہ کہ عورت کی ”آزادی معاشی، صنعتی اور کاروباری ضرورتوں اور تقا بہتر، محترم اور انسانی فطرت کے مطابق صد ”فطرت“ کے تقاضوں کے تحت سرانجام دیا کاش...... مستقبل کی مائیں تا آزادی نسواں کا فرق محسوس کر سکیں۔ (حسن
پاکستانی این جی اوز کی آئین سے محبت
پاکستانی این جی اوز کی آئین ضروری معلوم ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے مگر ان نام نہاد غیر سرکاری تنظیموں کا ”غیر رہنماؤں کو آئین پاکستان کے صرف دو تین نمبر ۲۵ جن میں مساوی حقوق اور عورتوں ۔ رکھتے جن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس
حالات کے جبر کا نتیجہ تھا۔
دنیا کی قدیم ترین جمہوریت برطانیہ میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں قانون سازی کی ابتدا ۱۸۸۲ء میں شروع ہوتی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ وہاں کی عورت کو کمانے‘ اپنی کمائی علیحدہ رکھنے اور اس پر تصرف کا اختیار اس وقت ملا جب صنعتی انقلاب کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔
عورت سستی مزدور تھی‘ زیادہ قابل بھروسہ تھی اور عورت میں مرد کارکن کی نسبت جارحیت بھی بہت کم تھی یعنی عورت سے یونین سازی اور ہڑتال بازی کا خطرہ نہ تھا‘ سو ایک سوچی سمجھی سکیم اور سازش کے تحت ”عورت کی آزادی“ کا آغاز کیا گیا۔
پھر جوں جوں مشینوں کی تعداد‘ استعداد اور اقسام میں اضافہ ہوا اور پروڈکشن کا گراف گاہکوں کی اصل ضرورتوں سے کہیں اونچا نکل گیا تو اس کے نتیجے میں ”فن اشتہار بازی“ کے نام پر ”مصنوعی فروخت“ بذریعہ ”مصنوعی ضرورت“ کے صنعتی فراڈ کا تصور متعارف ہوا۔ بصری‘ سمعی‘ نفسیاتی اور معاشرتی طور پر مختلف حربوں سے زیادہ سے زیادہ فروخت کرنے کی نوبت آئی اور پھر اس ”کمرشل ضرورت“ کے نتیجے میں عورت کی کشش بلکہ عورت کی جنسی کشش کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت کے تحت عورت کو مزید ڈھیل دی گئی یعنی عورت کو impose "consumption on consumer" کے مقصد کے حصول کے لیے ایک ہتھیار اور حربے کے طور پر استعمال کیا گیا اور عورت کے اس بازاری‘ گھٹیا اور فحش استعمال پر ”آزادی نسواں“ ...... ”مساوات“ اور ”برابری“ کے رنگ برنگے اور دل آویز لیبل چسپاں کر دیئے گئے۔
مختصراً یہ کہ عورت کی ”آزادی اور احترام“ کے لیے مغرب نے جو کام تقریباً سو سال پہلے معاشی‘ صنعتی اور کاروباری ضرورتوں اور تقاضوں کے تحت کیا‘ وہی کام اس سے کہیں مثبت‘ خوبصورت‘ بہتر‘ محترم اور انسانی فطرت کے مطابق صدیوں قبل عرب کے صحراؤں میں اسلام نے ”صنعت“ نہیں ”فطرت“ کے تقاضوں کے تحت سرانجام دیا تھا۔
کاش ...... مستقبل کی مائیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر ”اسلامی“ اور ”مغربی“ آزادی نسواں کا فرق محسوس کر سکیں۔ (حسن نثار روزنامہ ”خبریں“ لاہور ۸ جون ۱۹۹۶ء)
پاکستانی این جی اوز کی آئین سے محبت
پاکستانی این جی اوز کی آئین پاکستان سے وابستگی اور محبت کی حقیقت بیان کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲ کی رو سے اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے مگر ان نام نہاد غیر سرکاری تنظیموں کا ”غیر سرکاری مذہب“ اسلام دشمنی ہے۔ پاکستانی این جی اوز کے رہنماؤں کو آئین پاکستان کے صرف دو تین آرٹیکل یاد ہیں۔ مثلاً آرٹیکل نمبر ۴‘ آرٹیکل نمبر ۱۸ اور آرٹیکل نمبر ۲۵ جن میں مساوی حقوق اور عورتوں کے حقوق کا ذکر ملتا ہے۔ وہ ایسے تمام آرٹیکل پر یقین نہیں رکھتے جن میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسلام یا اسلامی قوانین کی بالا دستی کا ذکر ملتا ہے۔ آرٹیکل ۲۷
جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام مروجہ قوانین کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے گا‘ کو یہ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اپنے بیانات میں آرٹیکل ۶۲‘ ۶۳ کا بار ہا مذاق اڑا چکی ہے کیونکہ اس میں عوامی نمائندوں کے لیے اسلامی معیارات کی بات کی گئی ہے۔ این جی اوز پاکستانی آئین میں سے وفاقی شرعی عدالت کے باب کو نکالنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہ این جی اوز آرٹیکل ۶ کے نفاذ کو بھی بھول جاتی ہیں اگر پاکستان کے آئین کی روشنی میں این جی اوز کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ یقیناً غیر آئینی قرار پائیں گی کیونکہ آئین میں نظریہ پاکستان کے منافی سرگرمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔
(محمد عطاء اللہ صدیقی‘ ماہنامہ ”محدث“ لاہور‘ ستمبر ۲۰۰۰ء)
”آئی لو اسرائیل“
اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ایک گمنام گروپ نے اسرائیل کے حق میں وال چاکنگ شروع کر دی ہے اور شہر کی اہم سڑکوں پر ”آئی لو اسرائیل“ کے نعرے درج کر دیئے ہیں۔ ان نعروں کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔ اگرچہ خبر رساں ایجنسیوں نے اس گروپ کو گمنام قرار دیا ہے لیکن اہل پاکستان خوب جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ بقول شاعر
من انداز قدت را می شناسم
ترجمہ: تم جس طرح کا چاہو لباس پہن لو‘ میں تمہارے انداز قد سے تمہیں پہچان لوں گا۔
پچھلے دنوں اس گروپ نے پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا جنازہ نکالا تھا اور پھر انہیں چوک آبپارہ کے نزدیک دفن کر دیا تھا۔ یہ سب کچھ ان لوگوں نے دن کی روشنی میں کیا تھا اس لیے انہیں پہچاننے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے۔ وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر کراچی میں ”را“ کے ایجنٹ تلاش کرتے پھرتے ہیں لیکن چراغ تلے اندھیرا کے مصداق انہیں اسلام آباد میں ”را“ کا کوئی ایجنٹ نظر نہیں آتا۔
(بشکریہ‘ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۶ء)
بھارتی سرپرستی
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے انکشاف کیا ہے کہ ۱۶ اگست کو سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کے حق میں مظاہرہ کرنے والی غیر سرکاری سماجی تنظیموں کو بھارتی سفارت خانے نے سپانسر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے اس واقعے کا نوٹس نہیں لیا۔ ۱۶ اگست کو جن غیر سرکاری تنظیموں نے اسلام آباد میں مظاہرہ کیا تھا‘ انہوں نے صرف سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ پاکستان کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر کا جنازہ بھی نکالا تھا اور پھر ان کی فرضی ”لاش“ کو قبر میں دفن کر دیا تھا۔ یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ اس پر حکومت کو ہل جانا چاہیے تھا لیکن حکومت نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا۔ جنرل حمید گل کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے کو
بھارتی سفارت خانے نے سپانسر کیا تھا بھی حاصل تھی جو عوام کے غیض و غضب لیکن اندرون خانہ وہ اس معاہدے پر د اطمینان حاصل نہ ہوتا تو وہ پاکستان کے کی خاموشی ہمارے اس موقف کو مزید
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف
پاکستان کے ایٹمی پروگرام غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے مظاہرے کرنے والے پاکستان کو پھ کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ”ہلال بلکہ پاکستان کے خلاف لگا رہا ہے۔ دوران ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ اظہار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پروگرام کو کسی صورت میں رول بیک نہیں ک کے باوجود وفاقی دارالحکومت میں بعض کرنا یا کروانا خالی از علت نہیں ہو سکت جی اوز اپنے آپ کو فلاحی اور رفاہی اد اوز غیر ملکی فنڈز کے سہارے چلتی ہی جاتی۔ وہاں ان این جی اوز کا غیر سکتا۔ کچھ عرصہ پہلے بعض اطلاعات انہیں ملنے والے غیر ملکی فنڈز کو حکوم عندیہ دیا تھا لیکن عملاً اس ضمن میں خودرو پودوں کی طرح کام کرتی کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ان کی رپو تنظیم غیر ملکی مفادات کے لیے کام پابندی عائد کر دینی چاہیے کیونکہ مداخلت کرنا خودکشی کے مترادف ہ
بھارتی سفارت خانے نے سپانسر کیا تھا لیکن ہمارا خیال ہے کہ مظاہرین کو اس حکومتی طبقے کی آشیر باد بھی حاصل تھی جو عوام کے غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے سی ٹی بی ٹی کو مسترد کرنے کا اعلان تو کرتا ہے لیکن اندرون خانہ وہ اس معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار ہے اگر مظاہرین کو حکومت کی طرف سے اطمینان حاصل نہ ہوتا تو وہ پاکستان کے خلاف اس قسم کے مظاہرے کی جرأت ہی نہ کرتے۔ حکومت کی خاموشی ہمارے اس مؤقف کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
(سرراہے‘ روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۱۳ اگست ۱۹۹۶ء)
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش
پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور دفاعی اخراجات کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں بعض غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے مظاہرے کے خلاف مسلح افواج کے ترجمان جریدے ”ہلال“ نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مظاہرے کرنے والے پاکستان کو بھارت کے حوالے کرنا چاہتے ہیں لیکن قوم ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔“ ”ہلال“ نے یاد دلایا کہ بھارت ہتھیاروں کے انبار بھوٹان یا نیپال نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف لگا رہا ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان جریدے ”ہلال“ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ بڑے واضح اور واشگاف الفاظ میں مسلح افواج کے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو درپیش خطرات کے پیش نظر پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو کسی صورت میں کیپ نہیں کرے گا اور جو کوئی ایسا کرنا چاہے گا وہ خود نہیں رہے گا لیکن اس کے باوجود وفاقی دارالحکومت میں بعض این جی اوز کا وطن عزیز کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مظاہرے کرنا یا کروانا خالی از علت نہیں ہو سکتا اور اس کا پوری سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں این جی اوز اپنے آپ کو فلاحی اور رفاہی نوعیت کے کاموں تک محدود رکھتی ہیں لیکن جن ممالک میں این جی اوز غیر ملکی فنڈز کے سہارے چلتی ہیں اور عمومی طور پر ان فنڈز کی حکومتی سطح پر کوئی چھان بین نہیں کی جاتی۔ وہاں ان این جی اوز کا غیر ملکی مصالح اور مفادات کے لیے کام کرنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ عرصہ پہلے بعض اطلاعات کی بناء پر حکومت نے این جی اوز کے حسابات کی پڑتال کرنے اور انہیں ملنے والے غیر ملکی فنڈز کو حکومت کے علم میں لانے کے بارے میں بعض پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن عملاً اس ضمن میں کوئی ٹھوس اور مؤثر کام نہیں ہوا اور ملک میں سینکڑوں این جی اوز خودرو پودوں کی طرح کام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ حکومت کو ان کی کارکردگی اور ان کو ملنے والی امداد پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ان کی رجسٹریشن کے لیے بھی انتہائی سخت قوانین بنانے چاہئیں اور جو ایسی تنظیم غیر ملکی مفادات کے لیے کام کرتی ہوئی نظر آئے اس کو کالعدم قرار دے کر اس کے کام کرنے پر پابندی عائد کر دینی چاہیے کیونکہ قومی سلامتی اور ملکی دفاع ہر چیز پر مقدم ہے اور اس سلسلہ میں کوئی مداہنت کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔
(اداریہ روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۲۱ اگست ۱۹۹۶ء)
پاکستان دشمن طاقتوں کے ایجنٹ
”ہماری حکومت نے دانستہ یا نادانستہ ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ بعض لوگ قومی غیرت اور حمیت کو چیلنج کرنے میں کوئی ڈر‘ خوف یا حجاب محسوس نہیں کرتے اور امن اور خیر سگالی کے دلفریب اور بظاہر بے ضرر نعروں کی اوٹ میں اپنا یا دشمن کا کام دکھا جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان لوگوں کی تنظیموں نے مل کر اسلام آباد میں بظاہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے امریکی بم کے خلاف مظاہرہ کیا لیکن قہر بن آئی ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی جن کو پوری قوم نے ان چند بدبختوں کے سوا ”محسن پاکستان“ کا غیر سرکاری خطاب دے رکھا ہے۔ گویا ہیروشیما پر پھینکا جانے والا بم قدیر خاں نے بنایا تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ بھارت کی دلی خواہش کے مطابق پاکستان کے مبینہ ایٹم بم کے خلاف پاکستان کے اندر فضا تیار کی جائے۔
مجھے بعض پاکستانی دانش وروں پر رحم آتا ہے کہ جب تک روسی سلطنت سوویت یونین کی صورت میں زندہ رہی‘ وہ اس کی ایجنٹی کرتے رہے اور امریکیوں کی شرابیں پیتے رہے۔ اب جب روس ختم ہو چکا ہے اور اسے کسی ایسے ایجنٹ کی ضرورت نہیں رہی تو یہ امریکہ کی آغوش میں آگئے ہیں اور اس کے صدقے بھارت کی آغوش میں بھی۔ خدا کسی کو رُسوا کرتا ہے تو پھر یہ رسوائی کئی رنگوں میں سامنے آتی ہے اور رنگ رنگ کے تماشے اور عبرتیں دکھاتی ہے۔
بعض دوست میری اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ یہ لوگ روس کے ایجنٹ تھے‘ ان کے خیال میں یہ اس وقت بھی درحقیقت امریکہ کے ایجنٹ تھے لیکن سوانگ روس کی ایجنٹی کا بھرتے تھے یا پھر ڈبل ایجنٹ تھے۔ بہرکیف کچھ بھی ہو‘ ان کی پاکستان دشمن ملکوں کی ایجنٹی شک و شبہ سے بالاتر ہے اور سب کے سامنے ہے۔ اس پر ان لوگوں کی جرأت کی داد دینی چاہیے کہ یہ کس دھڑلے کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں۔ بینر بدلتے رہتے ہیں‘ کبھی انجمن ترقی پسند مصنفین‘ کمیونسٹ پارٹی وغیرہ اور اب پاک بھارت پیپلز فورم اور اس طرح کی دوسری این جی اوز جو امریکی یونیورسٹیوں یا امریکہ کے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں سے امداد لیتی ہیں اور پوری محنت کے ساتھ ان کا حق نمک ادا کرتی ہیں۔ ہم مسلمانوں میں ایک کافر کو منافق سے بہتر سمجھا جاتا ہے اس لیے یہ بہتر لوگ ہیں جو کچھ چھپاتے نہیں ہیں اور اس پر میں ان کا بہت معترف ہوں۔ جب یہ لوگ روسی ایجنٹ ہوا کرتے تھے تو اسے چھپاتے نہیں تھے اب جب یہ امریکہ اور بھارت کی ایجنٹی کرتے ہیں تو اسے بھی چھپاتے نہیں ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا کھوج لگانے کے لیے کسی سراغ رساں ادارے کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی“۔
(عبدالقادر حسن‘ روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۲۰ اگست ۱۹۹۶ء)
جرمن این جی او اور ہم جنس پرستی
”جرمن حکومت کی اتحادی غیر سرکاری تنظیم ہنرک بال فاؤنڈیشن نے پاکستان میں نسوانی حقوق کے نام پر نوجوان نسل میں ہم جنس پرستی کی تعلیمات اور سیاسی ایجنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔
فاؤنڈیشن نے نظریہ پاکستان کے خاتمے کے لیے سرگرم خواتین و حضرات کو مالی مفادا کی پُرکشش پیش کش کی ہے۔ ۱۹۹۷ء میں قا بھی اپنے سیاسی ایجنڈے کا آغاز کر دیا ہے کے تمام اخراجات برداشت کیے ہیں جس می غیر سرکاری تنظیموں کی خواتین نے نظریہ پاکس ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ صرف موق بلکہ قرآن کریم آج سے چودہ سو سال قبل نازل لیے اپنے اصول اور قوانین خود تلاش کرنے ہو کے لیے سرگرم جماعتوں اور شخصیات کے خلا مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں ان لاکھوں جنہوں نے مبینہ طور پر خواتین کی عصمت دری کی کے بھارتی وفد کے صدر و سابق بھارتی نیول چ پاکستانی فوجیوں کے خلاف ۱۹۷۱ء میں جو الزاما گئی ہے اور حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔ یہ غلط اندا پیش کرتی ہیں۔ سیمینار میں شریک بھارتی وفد فاؤنڈیشن نے برداشت کیے۔ یہ فاؤنڈیشن جر پارٹی کی اتحادی ہے جس کا بنیادی مقصد لڑکے او راہ ہموار کرنا اور مدد فراہم کرنا ہے۔ اپنے مقا "Long Road Ahead" میں بیان کیا گیا عیش و عشرت کے حصول کے لیے کسی بھی ملک بھر پور جنگ کرے گی۔ تنظیم کے مذکورہ تعارفی کتا work is also dedicated to lesbians and gays."
تنظیم مقاصد میں اور کلچر کے فروغ کیے جانے والے فن کاروں کے اظہار رائے کی گئے لٹریچر میں واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ ہما وظائف دینے کے علاوہ مالی تعاون بیرون ملک جائیں گے تا کہ انہیں مذہبی و نظریاتی لوگوں کے
فاؤنڈیشن نے نظریہ پاکستان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے سرگرم خواتین و حضرات کو مالی مفادات اور بیرون ملک دورے اور تفریحی سہولتیں مہیا کرنے کی پُر کشش پیش کش کی ہے۔ ۱۹۹۷ء میں قائم ہونے والی ہینرک ہال فاؤنڈیشن نے پاکستان میں بھی اپنے سیاسی ایجنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں ہونے والے ایک ایسے سیمینار کے تمام اخراجات برداشت کیے ہیں جس میں بھارت سے آئی ہوئی اور پاکستان میں غیر نمائندہ غیر سرکاری تنظیموں کی خواتین نے نظریہ پاکستان، دو قومی نظریہ اور وحدت پاکستان کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ صرف موجودہ معروضی حالات میں دو قومی نظریہ کی ضرورت نہیں بلکہ قرآن کریم آج سے چودہ سو سال قبل نازل ہوا تھا۔ آج کے حالات کے مطابق اپنی رہنمائی کے لیے اپنے اصول اور قوانین خود تلاش کرنے ہوں گے۔ سیمینار کے دوران پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لیے سرگرم جماعتوں اور شخصیات کے خلاف نازیبا اور غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی۔ سیمینار میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں ان لاکھوں پاکستانی فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے مبینہ طور پر خواتین کی عصمت دری کی حالانکہ منگل کے روز ۱۶ مئی کے دن پاک انڈیا فورم کے بھارتی وفد کے صدر و سابق بھارتی نیول چیف رام داس نے یہ امر واضح کیا کہ بنگلہ دیش میں پاکستانی فوجیوں کے خلاف ۱۹۷۱ء میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان میں زیادہ تر مبالغہ آرائی کی گئی ہے اور حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔ یہ غلط اعداد و شمار مفاد پرست عناصر اور ڈرائنگ روم این جی اوز پیش کرتی ہیں۔ سیمینار میں شریک بھارتی وفد کے رہائش و طعام کے تمام اخراجات ہینرک ہال فاؤنڈیشن نے برداشت کیے۔ یہ فاؤنڈیشن جرمنی میں موجودہ برسراقتدار جماعت کی اتحادی گرین پارٹی کی اتحادی ہے جس کا بنیادی مقصد لڑکے اور لڑکیوں کو جنسی امتیاز کے بغیر آزادانہ ملاپ کے لیے راہ ہموار کرنا اور مدد فراہم کرنا ہے۔ اپنے مقاصد بیان کرنے کے لیے شائع شدہ کتاب "The Long Road Ahead" میں بیان کیا گیا کہ ہماری تنظیم ہم جنس پرستی کے فروغ اور خوشیوں و عیش و عشرت کے حصول کے لیے کسی بھی ملک میں روا رکھے جانے والے امتیازی برتاؤ کے خلاف بھر پور جنگ کرے گی۔ تنظیم کے مذکورہ تعارفی کتابچہ کے صفحہ ۱۱ پر تحریر ہے: "The foundation's educational work is also dedicated to fighting discrimination against lesbians and gays."
تنظیمی مقاصد میں اور کلچر کے فروغ میں حائل رکاوٹیں دُور کی جائیں گی، سماجی طور پر محدود کیے جانے والے فن کاروں کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، لٹریچر میں واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ ہمارے سیاسی ایجنڈے سے اتفاق کرتے ہوں، انہیں وظائف دینے کے علاوہ مالی تعاون بیرون ملک دوروں کے علاوہ خصوصی تفریحی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ انہیں مذہبی و نظریاتی لوگوں کے بارے دل میں بیٹھے خوف کو دُور کیا جائے اور انہیں
آزادانہ میل ملاپ کے ذریعے اخلاقی طور پر تباہ کیا جا سکے۔ فاؤنڈیشن کے بڑے دفاتر چیکو سلواکیہ‘ اسرائیل‘ ترکی‘ ایتھوپیا‘ یلسواڈور‘ کمبوڈیا‘ پاکستان اور جنوبی افریقہ میں واقع ہیں جبکہ امریکہ‘ فلسطین‘ بوسنیا‘ ہرزیگووینا کے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جا رہے ہیں۔ اپنی سرگرمیوں کے لیے مذکورہ تنظیم نے ۱۹۹۸ء میں متعلقہ ممالک میں تقریباً دو ارب ڈالر دیئے تھے۔
(روزنامہ ”انصاف“ لاہور‘ ۲۷ مئی ۲۰۰۰ء)
لمبے ہاتھ
”این جی اوز کو بعض حلقے مغرب کی فکری یلغار کا ہراول دستہ قرار دیتے ہیں اور انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی والے تلخ تجربے کی رو سے کچھ زیادہ ہی خطرناک گردانتے ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ این جی اوز مغربی اقوام کے ٹکڑوں پر پلتی ہیں اور انہی کی عنایات سے پھلتی پھولتی ہیں۔ اور مغربی اقوام کی دنیا پرستی اور حرص و ہوس کا یہ عالم ہے کہ سُود وصول نہ ہونے پر بیٹا باپ کو یا باپ بیٹے کو جیل بھیج دے تو یہ کوئی معیوب اور باعث عار بات نہیں ہوتی‘ اس خست طبع اور قارونی جبلت کے باوجود مسلم ممالک پر ان کی نوازشات کے پیچھے لامحالہ مفاد کا عامل ہو گا۔ ان کے مشکوک کردار اور ہمدردی کے امتیازی معیار سے بجائے فلاحی اداروں کے فسادی اداروں کا روپ سامنے آتا ہے‘ انہیں دعوٰی تو انسانی حقوق‘ خوشحالی‘ معیار تعلیم کی بلندی اور روشن خیالی کا ہے مگر ہر انسان کو وہ قابلِ ہمدردی نہیں سمجھتے۔ ان کے اس بارے میں خاص پیمانے ہوتے ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ پیمانے غربت و افلاس اور تعلیمی گراوٹ جیسے ہوں گے جس کی بنیاد پر یہ لوگ امداد کرنے دوڑتے ہوں گے تو ہرگز ایسا نہیں‘ ان کے پیمانے یہ نہیں‘ غربت سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے‘ جہالت بڑھے یا گھٹے ان کی بلا سے‘ ہاں! البتہ نوجوان نسل خصوصاً خواتین کے لیے وہ جگر سوزی کی حد تک خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں‘ عمر رسیدہ بیواؤں اور معذور افراد کو مالی سہارا دینے سے یہ ادارے اس لیے پہلو تہی کرتے ہیں کہ ان میں روشن خیالی کا مادہ ختم ہو چکا ہوتا ہے‘ وہ ورکشاپس‘ فنکشنز اور آؤٹ ڈور پروگرامز میں وقت کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘ جبکہ یہ ادارے صرف نوجوانوں کو ”زندگی“ کی دوڑ میں دنیا کے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ادارے عموماً تعلیم کے حوالے سے کام کرتے ہیں اور تعلیم میں بھی غیر نصابی سرگرمیاں ہی ان کا مجال کار ہیں۔ رہیں نصابی سرگرمیاں تو وہ اس میں زیادہ دخل نہیں دیتے کیونکہ موجودہ نصاب سے دھڑا دھڑ بے روزگار فوج تیار ہو رہی ہے۔ ایم اے کی ڈگری کے حامل چوکیدار بن رہے ہیں اور اسی نصاب نے تو قوم کو مختلف ادوار میں کئی ”انگوٹھے مار وزراء“ بھی عطا کیے ہیں‘ اس لیے وہ اس اعلیٰ تعلیمی معیار سے مطمئن ہیں کہ اس میں مزید بگاڑ کی کوئی گنجائش نہیں‘ البتہ ان کو ایک خامی پریشان کیے رکھتی ہے کہ تعلیم کے آب میں زہر ڈالنے کے بعد بھی اس قوم کے سرکش بچے بعد میں سنبھل کر اپنی دینی اقدار اور مذہبی روایات کو گلے لگاتے ہیں۔ اور ان کے وجود میں دبی ایمانی چنگاری کسی بھی وقت راکھ جھاڑ کر شعلہ بار ہو جاتی ہے اور دیکھتے دیکھتے اس کو سلانے کے لیے رچایا گیا سارا کھیل اکارت ہو جاتا
ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذہب بیزاری کے لیے صرف بے روح اور دین سے دور کر دینے والا نصابی مواد کافی نہیں ہے۔ ان کو غیر نصابی سرگرمیوں میں گھسیٹ کر باقاعدگی سے نگرانی میں رکھ کر ان سے مذہب سے دوری اور دین داری کا مادہ نکال دیا جائے اور ان کو ایسے سرابوں کے پیچھے لگا دیا جائے جن کے پیچھے جتنا دوڑیں وہ اتنا ہی دور ہوتے جائیں اور بالآخر وہ اس انجام کو پہنچیں جو سراب کے پیچھے دوڑنے والے ہر پیاسے کا مقدر ہے۔ قارئین اس واقعہ پر ضرور غور کریں کہ پندرہ پاکستانی برخوردار ایک این جی او کے خرچ پر امارات کی ایک پرواز سے میکسیکو پہنچے ان کے دلوں میں نہ جانے تمناؤں کے کتنے طوفان موجزن تھے اور خوابوں کی سرزمین براعظم امریکا پہنچنے پر فوٹو گرافروں کے لیے پیشگی انہوں نے کتنے فخریہ پوزوں کی مشق کی ہوگی مگر جب میکسیکو ایئر پورٹ پر اترے تو ذرا ’گستاخانہ‘ رویہ برتا گیا انہیں مجرموں کی طرح ایک خاص کمرے میں لے جایا گیا اور وہاں ان کو فوراً میکسیکو خالی کرنے کا حکم دیا گیا انگریزی میں انہیں بولنے نہیں دیا گیا تو جیالوں کا سارا سرمایہ ہی ڈوب گیا بیت الخلاء استعمال نہیں کرنے دیا گیا جوتے قمیض اتروا کر تلاشی لی گئی اور جوتے ہاتھوں میں پکڑا کر ایمسٹرڈیم کی فلائٹ میں واپس چلتا کر دیا گیا۔ یہ انسانی حقوق کے لیے گلا پھاڑ پھاڑ کر دہائیاں دینے والی این جی اوز کی جنت کی ایک جھلک ہے ہمارے نوجوان عنقریب مزید عبرتوں سے بہرہ مند ہوں گے۔
(سعید حسن ہفت روزہ ”ضرب مومن“ کراچی ۷ تا ۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء)
اسلام اور انسانی حقوق
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسانی حقوق کا ایشو ایک میدانِ جنگ کا روپ دھار چکا ہے جہاں اسلام اور مغرب کے درمیان شدید نظریاتی اور فکری جنگ بھڑک اُٹھی ہے۔ شاید آتشِ جنگ کے یہ شعلے اس قدر شدید نہ ہوتے اگر اہل مغرب ہماری فقہی میراث سے تغافل یا تجاہل کا مظاہرہ نہ کرتے۔ یا اس کا سبب وہ گمراہ کن خیالات ہیں جو رائے عامہ اور اسلام کے درمیان دیوار حائل کرنے کے لیے مستشرقین کی طرف سے وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے۔ یا وہ اس بات کو بھول گئے کہ انہوں نے خود اسلامی تہذیب سے بہت زیادہ استفادہ کیا تھا اور انہوں نے اپنی تہذیب کی بنیاد انہی علوم پر استوار کی تھی جو مسلمانوں سے حاصل کیے تھے اور یہی وہ بنیاد تھی جس نے یورپ کی خاموش علمی فضا میں حرکت پیدا کر دی تھی۔ لیکن حیرت ہوتی ہے کہ وہ اصول جو ہم نے صدیاں ہوئیں دنیا کے سامنے واضح کیے تھے آج انہی اصولوں کا درس ہمیں دیا جاتا ہے گویا یہ نئی انسانی دریافت ہے اور ہم آج تک اس سے واقف نہیں تھے۔
مغرب کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے چارٹر میں دوسری اقوام --- خصوصاً وہ اقوام جو سیاسی، عسکری، اقتصادی اور ثقافتی بحران کا شکار ہیں --- کے عقیدہ، زبان، تہذیب و ثقافت اور ان کی فکر کے مختلف انفرادی اور اجتماعی لوازمات کی آزادی کا بنیادی حق تسلیم کرلے۔ اس کے بعد جن مختلف میدانوں میں ترقی کی معراج پر وہ خود پہنچ چکا ہے اسے یہ حق دوسروں کے لیے بھی تسلیم کر لینا چاہیے۔
لیکن خود سر مغرب جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کا محافظ، اجارہ دار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے، ان قوموں کے حقوق کے حصول کے راستے میں اس طرح دشواریاں اور مشکلات کھڑی کر رہا ہے کہ ان مجبور اقوام کے مناسب اور جائز مقاصد اور حقوق بھی ناقابل حصول ہو کے رہ گئے ہیں۔ حتی کہ یہ ممالک امریکہ اور یورپی ممالک کے یرغمال اور دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی قسمت کا فیصلہ ان ظالموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان اقوام کو معاشی، تعلیمی، علاج معالجہ اور امن وامان کے تمام چھوٹے بڑے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔
پھر یہ خوبی کیا کم ہے کہ اسلام نے اس وقت یہ حقوق دنیا کو دیئے جب یورپ تو مکمل اندھیرے میں تھا ہی، ایران و روم جیسی روشن خیال ریاستیں بھی ان حقوق سے نا آشنا تھیں۔ پھر یہ حقوق جو اسلام نے انسان کو عطا کیے، کسی فکری کشمکش، انقلاباتِ زمانہ اور تحریکوں کے دباؤ کے نتیجے میں ظہور پذیر نہیں ہوئے، بلکہ اسلام میں حقوق انسانی کے تمام اصول و احکام چودہ سو سال قبل وحی الہی کے چشمہ صافی سے پھوٹے تھے اور اس سے پہلے کوئی انسان بھی ان اصولوں سے نا آشنا نہیں تھا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ فرانس اور برطانیہ میں انسانی حقوق کے شعور نے مختلف تحریکوں اور انقلابات کے بطن سے جنم لیا وگرنہ یہ لوگ اس سے قبل حقوق انسانی کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے۔
اسلام وہ مذہب ہے جس نے کسی بھی شخص کو محض نسل، وطن، رنگ، زبان اور دین و مذہب کی بنیاد پر غلام بنانا حرام قرار دیا ہے۔ جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو بلاوجہ مارا تھا تو حضرت عمرؓ نے برسر عام اس کو سزا دی اور ساتھ ہی گورنر کو قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا:
متی استعبدتم الناس و قد تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنانا شروع ولدتهم أمهاتهم أحرارا. کیا ہے جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔
یہ وہ فصیح و بلیغ جملہ تھا جو آج سے چودہ سو سال قبل امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے ادا ہوا تھا۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے اپنے مزاج و نفسیات پر مغرب کو مکمل طور پر سوار کر لیا ہے۔ ہمارا جدت پسند طبقہ ان کے فیشن کی نقالی اور خیالات کی جگالی میں فخر محسوس کرتا نظر آتا ہے۔ حد یہ کہ محاورات اور اصطلاحات تک کے لیے ہم مغرب کے کاسہ لیس بن گئے ہیں۔ اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشہور فرانسیسی مفکر روسو نے اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ میں ایک جملہ لکھا تھا کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے“۔
بس پھر کیا تھا کہ ہمارے روشن خیال اور جدت پسند طبقہ نے اسے الہامی کلام سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اسے اپنی تحریروں کا عنوان بنایا، تقریروں کا موضوع بنایا اور کئی تنظیموں نے اسے اپنا ماٹو قرار دیا۔ ہمارے روشن خیال مفکرین کی ذہنی مرعوبیت کی انتہا دیکھیے کہ یہ جملہ ۱۷۵۰ء میں روسو کے قلم سے نکلا تھا لیکن کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ روسو کی یہ بات نرالی اور انوکھی نہیں بلکہ اسلام ہی کا چربہ ہے اس لیے
یا علیم
یا عظیم
یا حلیم
یا حکیم
یا علیم
ئی حقوق کا محافظ‘ اجارہ دار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے‘ ان قوموں کے طرح دشواریاں اور مشکلات کھڑی کر رہا ہے کہ ان مجبور اقوام تی ناقابل حصول ہو کے رہ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ ممالک امریکہ رہن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی قسمت کا فیصلہ ان ظالموں کے بھی علاج معالجہ اور امن وامان کے تمام چھوٹے بڑے حقوق
م نے اُس وقت یہ حقوق دنیا کو دیئے‘ جب یورپ تو مکمل مدن خیال ریاستیں بھی ان حقوق سے نا آشنا تھیں۔ پھر یہ فکری کشمکش‘ انقلاباتِ زمانہ اور تحریکوں کے دباؤ کے نتیجے میں انسانی کے تمام اصول و احکام چودہ سو سال قبل وحیِ الٰہی کے پہلے کوئی انسان بھی ان اصولوں سے نا آشنا نہیں تھا لیکن انسانی حقوق کے شعور نے مختلف تحریکوں اور انقلابات کے قوقِ انسانی کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے۔ سی بھی شخص کو محض نسل‘ وطن‘ رنگ‘ زبان اور دین و مذہب کی رکے گورنر حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو کو سزا دی اور ساتھ ہی گورنر کو قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے
کیا ہے‘ جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔
یہ چودہ سو سال قبل امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب وس کہ آج ہم نے اپنے مزاج ونفسیات پر مغرب کو مکمل کے فیشن کی نقالی اور خیالات کی جگالی میں فخر محسوس کرتا ند کے لیے ہم مغرب کے کاسہ لیس بن گئے ہیں۔ اس ور فرانسیسی مفکر روسو نے اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ میں ن وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے“۔ ن اور جدت پسند طبقہ نے اسے الہامی کلام سمجھ لیا ہے۔ ں کا موضوع بنایا اور کئی تنظیموں نے اسے اپنا مونو قرار کی انتہا دیکھیے کہ یہ جملہ ۱۷۵۰ء میں روسو کے قلم سے خزائی اور افق ہی نہیں بلکہ اسلام ہی کا چربہ ہے اس لیے
کہ اس سے کہیں زیادہ فصیح وبلیغ اور پُر اثر جملہ روسو سے تقریباً گیارہ سو سال قبل ۶۱۲ء کے لگ بھگ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے آشنا ہو چکا ہے۔ (مترجم)
(محمود بن محمد الشنقیطی)
این جی اوز اور ان کی منفی سرگرمیاں
۱۹۵۱ء میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے اپوا کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی۔
۱۹۵۰ء تا ۱۹۷۰ء کے دوران ملک میں موجود این جی اوز کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا جو حقوق نسواں کی علمبردار تھیں۔ تاہم ۸۰ء کے عشرہ میں این جی اوز کھمبیوں کی طرح اُگ آئیں‘ ان این جی اوز نے عورت کو جن حقوق دلوانے کی بات کی معاشرے میں اس سے متعلق درج ذیل آراء ہیں:
- ☆.......عورت کو مادر پدر آزادی دی جائے۔
- ☆.......اسلامی سزاؤں کو ظالمانہ قرار دیا جائے اس ضمن میں ان کا مطالبہ حدود آرڈیننس کو
ختم کرنے کا ہے۔
- ☆.......عورت کے حقوق انسانی حقوق ہیں لہٰذا عورت کو اس کے بنیادی حقوق عطا کیے
جائیں۔
- ☆.......عورت پر تشدد کو ختم کیا جائے۔
- ☆.......عورت کو بطور جنسی محرک نہ پیش کیا جائے۔
- ☆.......عورت اور مرد میں ہر قسم کے امتیاز کو ختم کیا جائے۔
این جی اوز کے درج بالا مطالبات کی وضاحت ان کے اپنے شائع کردہ مواد سے بخوبی ہو سکتی ہے۔ ”ستمبر ۱۹۸۱ء میں خواتین محاذ عمل وجود میں آئی‘ اس میں خواتین کی کئی تنظیمیں اور افراد شامل تھے۔ خواتین محاذ عمل کا محرک ایک زنا کیس تھا جس میں ایک پندرہ سالہ لڑکی کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی صرف اس لیے کہ اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف نچلے طبقے کے ایک آدمی سے شادی کر لی تھی۔ اس سزا نے عورتوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اب کچھ کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا کیونکہ اس کیس کے بعد عورتوں پر متعدد حملے کیے گئے۔ عورتوں کو احساس ہو گیا کہ یہ لڑائی انہیں خود لڑنا ہوگی اور یہ کہ انہیں ایک دوسرے کو تعلیم دینے اور منظم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ ہر شعبے میں اپنے خلاف عدم مساوات کے رویے پر غلبہ پا سکیں اور اپنے جائز حقوق حاصل کر سکیں۔“
”عورتوں کی تحریکوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عورت پیدائشی طور پر ان تمام تصورات‘ صفات‘ قدروں اور نظریات کی مالک نہیں ہوتی جو نسوانیت سے منسوب کیے جاتے ہیں بلکہ یہ سوچ وقت کے ساتھ ساتھ بنتی ہے اور اس میں نظریاتی اداروں مثلاً ذرائع ابلاغ اور تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے۔ عورتوں کے بارے میں تصورات معاشرے کے مساوی نظریات یعنی پدرسری کی اقدار کے تحت بنائے جاتے ہیں۔ عورتوں کی شخصیت کی تعمیر انہی قدروں کے تحت کی جاتی ہے۔ لہٰذا عورت پیدا نہیں
ہوتی بلکہ اس کی ساخت کی جاتی ہے۔‘‘
’’ہم چاہتے ہیں: قانون سازی
- (۱) گھریلو تشدد کو قانون سازی کے ذریعے خاص جرم قرار دیا جائے۔
- (۲) جنسی خوف و ہراس کو بھی قانون بنا کر خاص جرم قرار دیا جائے۔
- (۳) زیر حراست تشدد کو روکنے کے لیے ایک پُر اثر نظام بنایا جائے اور ایسے جرم کرنے
والوں کو سخت سزا دی جائے۔
- (۴) حدود آرڈیننس کو ختم کیا جائے۔ یہ قوانین زانی کو بچاتے ہیں اور زنا کی شکار عورت کو
انصاف نہیں دے سکتے۔‘‘
"Political participation is a fundamental right of every citizen. Equal participation of men and women in decision-making is a prerequisite for effective and genuine democracy. Unfortunately, even major decision that affect their bodies/ without women's participation. It is vital for women to have a decisive voice on issues of particular concern to them, and it is also critical to have women's views reflected in other decisions in other spheres and at all lavels."
’’ہمارا معاشرہ امتیاز پر مبنی ہے اور یہ امتیاز طبقاتی‘ جنسی‘ گروہی اور نسلی بنیادوں پر دیکھنے میں آتا ہے۔ اس عدم مساوات اور امتیاز کے عام لوگوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات ہیں۔ یہ اثرات محنت کشوں‘ مزدوروں اور خصوصاً خواتین پر زیادہ ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے جن میں بچیاں‘ نوجوان اور ہر قسم کی خواتین شامل ہیں۔ اس معاشرے میں مجموعی طور پر خواتین کا درجہ یا مقام مردوں سے کمتر ہے۔ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک‘ منفی رویوں اور رجحانات کو سماجی اور روایتی اقدار کا حصہ سمجھتے ہوئے جائز تصور کیا جاتا ہے۔‘‘
یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاس ہیں کہ ان این جی اوز کے نزدیک عورت کا اصل مسئلہ مرد وخواتین سے ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاہم ان تمام مثالوں کو گہرائی سے سمجھنا ایک عام آدمی
کے بس کی بات نہیں۔ اس سے یہ تنظیمیں عام طبقے کو اپنا مدعا سمجھانے کے لیے روزمرہ معمولات کی وضاحت جس انداز میں کرتی ہیں، ان کا ذکر مسئلہ کی نوعیت کو سمجھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
نتائج
بعد از تحقیق محققین نے درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں:
- (1) اکثر این جی اوز اسلام اور پاکستان سے متعلق کسی قسم کے ضابطہ اخلاق کی پابند نہیں ہیں۔
- (2) اکثر این جی اوز اپنی رفاہی سرگرمیوں کے نام پر کروڑوں روپے کی بیرونی امداد
حاصل کرتی ہیں۔ باعث افسوس امر یہ ہے کہ اس امداد کا تقریباً 90 فیصد اپنی انتظامی امور پر خرچ کرتی ہیں، بہت کم این جی اوز ایسی ہیں جو اس طبقے کی ضروریات پوری کرتی ہیں جس کے نام پر فنڈ حاصل کیا جاتا ہے۔
- (3) حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کی اکثریت خود حقوق نسواں کے
تصور سے نا آشنا ہے۔
- (4) این جی اوز کی نظریاتی پڑتال کے لیے حکومت کا چیک نہ ہونے کے برابر ہے۔
- (5) حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کی اکثریت عورت سے متعلق جن
مسائل کو پیش کرتی ہیں، حقیقت میں وہ پاکستانی عورت کے مسائل نہیں۔
- (6) اکثر این جی اوز در پردہ مغربی ایجنڈے پر کام کرتی ہیں۔
- (7) بڑی این جی اوز عورتوں کے مسائل سے متعلق محض منتخب کیسوں پر کام کرتی ہیں جن
کیسوں کی Back پر انہیں کوئی خاص چیز نظر آتی ہے۔
- (8) اکثر بڑی این جی اوز کی رجسٹریشن پاکستانی حکومت کے متعین کردہ اداروں کے
بجائے بیرونی ممالک کے اداروں کے ساتھ ہے۔
- (9) این جی اوز پاکستانی عورت کی فلاح کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کے بجائے
مخصوص اوقات میں مخصوص مسائل پر کام کرتی ہیں۔
- (10) بڑی این جی اوز نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف چھوٹی چھوٹی این جی اوز
بنا رکھی ہیں۔
- (11) اکثر این جی اوز خواتین کی عالمی اداروں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عالمی
کانفرنسوں کے ایجنڈوں پر کام کر رہی ہیں۔
- (12) اخبارات محض این جی اوز کے منتخب کردہ کیسوں کو اچھالتے ہیں۔
- (13) اکثر کیسوں میں اخبارات این جی اوز کے نمائندوں کو مدعی کی حیثیت سے پیش
کرتے ہیں۔ متاثرہ خواتین کے اقرباء کو ملزموں کی حیثیت سے سامنے لاتے ہیں۔
- (14) اکثر اخبارات این جی اوز کے پشت پناہ محسوس ہوتے ہیں ۔
سفارشات
- (۱) این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے حکومتی سطح پر صرف ایک ادارے کو ذمہ دار بنایا جائے
اور این جی اوز کو رجسٹریشن کروانے کا پابند کیا جائے۔
- (۲) ہر این جی او حکومت کو اپنے مقاصد واضح بتائے اور اپنا منشور اور لائحہ عمل حکومت کو
بتانے کے علاوہ اپنی آمدن کے ذرائع بتائے۔
- (۳) این جی اوز کے حسابات کی جانچ پڑتال کا حکومت نظام وضع کرے۔
- (۴) این جی اوز کی نظریاتی پڑتال کے لیے حکومت کو چاہیے کہ گاہے بگاہے ان کے شائع
کردہ مواد کی جانچ پرکھ کرے۔
- (۵) اخبارات کو پابند کیا جائے کہ خبروں کو بیان کرتے ہوئے معروضیت کا خیال رکھیں۔
- (۶) اخبارات کو پابند کیا جائے کہ وہ این جی اوز کے بیان کردہ کیسوں کو یک رُخی کوریج
دینے کے بجائے اصل حقائق کو منظر عام پر لانے کے لیے فریقین کے آراء کو نہ صرف سامنے لائیں بلکہ ان پر کالم نویسی بھی کروائی جائے۔
(محترمہ عاصمہ چغتائی کی غیر مطبوعہ کتاب سے اقتباس)
سٹیٹ در سٹیٹ
”غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز سے خیر کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ میں نے ایسے این جی اوز کے پروگرام دیکھے ہیں کہ اگر وہ میں قوم کو بتا دوں تو قوم ان کے گھروں پر حملے کر دے دفتروں کو آگ لگا دے مگر میں کوئی خون خرابہ نہیں چاہتا۔ میں قانون اور آئین کے دائرہ میں رہ کر ان کو لگام دینا چاہتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کو لگام نہ دی گئی تو دس سال کے بعد نظریہ پاکستان اور اسلام کا حلیہ بگڑ جائے گا۔
پارٹی کے اندر بھی مجھے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں کئی لوگوں نے اپنی اپنی این جی اوز بنا رکھی ہیں، اسی طرح بہت سی صحافی خواتین نے بھی این جی اوز بنا رکھی ہیں۔ ان کے آپس میں بڑے لنک ہیں، کچھ ججوں کی بیویاں جو بیرونی امداد سے چلنے والی این جی اوز چلاتی ہیں۔ یہ ایک نیٹ ورک ہے اور یہ ایک کلب بنا ہوا ہے، یہ موجیں کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب نیو ورلڈ آرڈر کا پروگرام ہے جس کے تحت ایشیا میں این جی اوز کو متحرک کر دیا گیا ہے اسی کے تحت بنگلہ دیش اور پاکستان میں این جی اوز نے یلغار کر دی ہے۔ افغانستان میں بھی اسی پروگرام کے تحت کچھ این جی اوز ”را“ سے تربیت لیتی ہیں۔
میرے دور میں حساس اداروں نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ این جی اوز اینٹی اسلام اور اینٹی پاکستان ہیں، ان کے نظریات بڑے عجیب وغریب ہیں لیکن انہوں نے لکھا کہ ان کو
ہاتھ نہ ڈالا جائے کیونکہ یہ اتنے بااثر لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور میں حیران رہ گیا کہ اس ملک میں سو ڈیڑھ سو عورتیں اور مرد اتنے بااثر اور مضبوط ہیں کہ ہماری ایجنسیاں کہہ رہی ہیں کہ ان کو ہاتھ ڈالا گیا تو کئی ممالک میں کہرام مچ جائے گا۔ میں اسی لیے رویا کہ ان کو کیوں ہاتھ نہ ڈالا جائے؟ ہمارا ملک اپنا ہے اور ہم با اختیار ہیں۔ چودہ کروڑ عوام کو یہ بھی حق حاصل نہیں کہ ان چند سو عورتوں اور مردوں کو کنٹرول کر سکیں؟“
(سابق صوبائی وزیر سماجی بہبود جناب پیر بنیامین رضوی کے انٹرویو سے اخذ کردہ روزنامہ ”انصاف“ لاہور ۱۵ جون ۲۰۰۰ء)
شیعہ سنی فساد کی ذمہ دار این جی اوز
”مغرب نے ایک تاثر عام کیا ہے کہ تیسری دنیا میں حکومتی سطح پر کرپشن بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے سوسائٹی کے اندر کے لوگ لیے جائیں جو ان فنڈز کو مناسب جگہ پر خرچ کر سکیں۔ اس تصور کو سامنے رکھ کر این جی اوز کا قیام عمل میں آیا جس کا بنیادی نقطہ نظر یہ تھا کہ ان غیر سرکاری تنظیموں کو چلانے والے لوگ خود افسر بن کر نہ بیٹھ جائیں بلکہ لوگوں کے مسائل کو سمجھیں اور ان مسائل کا ایسا حل پیش کریں جو ان لوگوں کو قابل قبول ہو ۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد انکشاف ہوا کہ ان این جی اوز کو خفیہ طور پر بھی رقوم فراہم کی جاتی ہیں جس کے عوض ان سے مخصوص مقاصد کے لیے کام کرایا جاتا ہے۔ این جی اوز کے کارکنوں اور افسران کے ذریعے مغربی نظریات کو غیر محسوس طریقے سے پھیلایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد مشرق کا ثقافتی اور خاندانی نظام تباہ کرنا اور لوگوں کو مذہب سے دور کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر این جی اوز کے دفاتر میں شراب نوشی اور دوسری مغربی روایات کو عام کیا جاتا ہے۔ اس غیر محسوس تربیت اور ماحول کا اثر ہے کہ یہاں اب یہ فقرہ فیشن کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ ”پاکستان میں کیا رکھا ہے یہ تو بس قید خانہ ہے“۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے نظر آئیں گے کہ ”اس سے تو اچھا انگریز کا نظام تھا قائد اعظم نے اس قوم کے لیے کیا کیا ہے؟“ اس قسم کے فقرے بازی کرنے والے دراصل نظریاتی اور ذہنی طور پر نیم اپاہج ہو چکے ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کا واحد مقصد عیاشی کرنا اور پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ عام طور پر غیر سرکاری تنظیموں یا الٹی سیدھی انگریزی بولنے والوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان کے نظریات پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مشرق کے پاس اس وقت خاندانی نظام واحد ہتھیار ہے جس پر وہ جتنا بھی فخر کرے کم ہے۔ مگر اس خاندانی نظام کے خاتمہ کے لیے بھی این جی اوز نے شعوری یا غیر شعوری طور پر کام کا آغا ز کیا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں عاصمہ جہانگیر نے انتہائی منفی کردار ادا کیا ہے وہ اتنی بااثر خاتون بن چکی ہے کہ اب حکومتوں کے لیے بھی اس پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہے۔ بعض شواہد کے مطابق پاکستان میں شیعہ سنی فساد کی ذمہ دار بھی یہی این جی اوز ہیں۔ جن کے چند کارندے دونوں گروپوں میں گھل مل چکے ہیں اور مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے لڑائی جھگڑے کراتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ من گھڑت احادیث لے آتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر لوگوں کو آپس میں لڑواتے ہیں۔ ان این جی اوز پر یہ بھی
الزامات لگ چکے ہیں کہ یہ غیر ممالک کے لیے جاسوسی بھی کرتی ہیں۔ پنجاب کے وزیر سماجی بہبود نے بھی ایسی این جی اوز کی نشاندہی کی ہے جو بھارت اور بعض دوسرے ممالک کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔
ترقی پذیر اور غریب ممالک کو ان این جی اوز کے ذریعے کتنا خراب کیا جاتا ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مثلاً آج کل ترقی پذیر اور غریب ممالک پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ہیروئن اور چرس کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ حالانکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ، بھارت سے چرس خرید کر چین کو سمگل کرتا رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پوری چینی قوم چرسی بن گئی تھی۔ ایک وزیر کو تحقیقات کا حکم دیا گیا اس وزیر کی رپورٹ پر چرس پر پابندی لگا دی گئی تو برطانیہ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ "free trade" کے اصول وضوابط کے خلاف ہے۔ آخر یہ کون سا اخلاقی تقاضا ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرے اور قابل اعتراض مال پر پابندی لگا دینے پر بنیادی حقوق کی پامالی کا رونا روئے۔ بعض این جی اوز تو ملکی مفادات کا خیال رکھے بغیر روپے کی خاطر کوئی بھی کام کرنے کو تیار بیٹھی ہیں۔ اب حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایسے مشکوک افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
(سوشل سائنسز اور اقتصادیات کے ماہر پروفیسر سعید اکبر زاہد کے خیالات، روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد، ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء)
Who's Reality Counts?
”ماہر عمرانیات رابرٹ چیمبرز نے "Who's Reality Counts" کے عنوان سے ایک خوبصورت کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے این جی اوز میں کام کرنے والے افراد کے ”دانشورانہ کلف“ کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ رابرٹ چیمبرز کا کہنا ہے کہ این جی اوز کے لوگوں کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی تھیوریوں کو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت تسلیم کر کے دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کی بات مانیں۔ این جی اوز کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ سیڑھی پر سوار ہو کر یہ تصور کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو ان کی ضرورت ہے یا کوئی مسئلہ ہے وہ سیڑھی کا سفر طے کر کے ان تک پہنچیں۔ وہ ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ لوگ انہیں سمجھیں، ان سے فائدہ اٹھائیں، ان کے نظریات اپنائیں۔ مثلاً وہ مچھیروں کی بستی میں جاکر ان کے ارد گرد پھیلے مسائل پر بات کرنے کے بجائے انہیں مشورہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر وہ ”فشریز فارم“ قائم کر لیں تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
رابرٹ چیمبرز کا کہنا ہے کہ این جی اوز میں کام کرنے والوں کا خیال ہے کہ لوگ اس لیے جاہل ہیں کہ وہ ان کی بات نہیں سمجھ رہے حالانکہ اگر وہ لوگوں کی سطح پر آ کر ان سے بات کریں تو زیادہ
بہتر طریقے سے ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ”کس کی حقیقت اہم ہے!“ ان لوگوں کی جن کی ترقی مقصود ہے یا ان تھیوریوں اور نظریات کی جن کا پرچار این جی اوز کے لوگ کرتے ہیں۔ اس طرح ایک برطانوی صحافی نے اپنی کتاب "Lords of Poverty" میں این جی اوز اور اقوام متحدہ کے افسران کی ذاتی عیاشیوں پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح یہ خیراتی پیسہ عیاشی کی نذر ہو جاتا ہے اور محض بیس فیصد رقم پراجیکٹ پر خرچ ہوتی ہے“۔
(روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء)
قائد اعظم کے خلاف ہرزہ سرائی
”پاکستان میں یہ تاثر بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز میں کام کرنے والے افراد کے نظریات اور سرگرمیاں حکومت اور سٹیٹ مخالف ہوتی ہے۔ کوئی کارکن جتنا سینئر ہو جاتا ہے‘ اس کے خیالات اتنے ہی عجیب و غریب ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ این جی اوز میں بڑی سیٹ، بنگلہ اور گاڑی حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کہہ اور کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان کا پیٹرک فرنچ کو دیا جانے والا انٹرویو قابل غور ہے۔ پیٹرک فرنچ نے یہ انٹرویو اپنی کتاب "Liberty or Death" میں شامل کیا ہے۔
آئی اے رحمان نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت میرا جھکاؤ کمیونزم کی طرف تھا۔ بہرحال اس وقت میرا خیال یہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا مسلم ریاست کا تصور‘ نجات کا راستہ تھا مگر میرے والد جو ایک وکیل تھے دو قومی نظریہ (مذہب کی بنیاد پر قوموں کی تقسیم) پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن جوں جوں میں بڑا ہوا‘ مجھ پر انکشاف ہوا کہ جناح نے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہمیشہ کے لیے نفرت کا بیج بو دیا اور ہندوستان اور پاکستان میں فاصلے پیدا کر دیئے۔ وہ جو کچھ کرنے جا رہے تھے اس کے اثرات کے بارے میں انہوں نے پہلے سوچا تک نہیں تھا۔
آئی اے رحمان اپنے انٹرویو میں آگے چل کر بتاتے ہیں کہ جناح اچھے وکیل اور ایماندار آدمی تھے مگر وہ ریاستی امور سے ناواقف تھے۔ انہوں نے چیزوں کو سماجی نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے قانونی انداز میں دیکھا اور پرکھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں جماعتیں ۱۹ویں صدی کے ریاستی نظریات سے چپکی ہوئی تھیں اور انسانی سیاست کے بارے میں ان کی سوچ پختہ نہیں تھی۔ مسلم لیگ نے جمہوریت کی قدر نہ کی جس کی وجہ سے ملک میں کئی مرتبہ مارشل لاء کے ادوار آئے۔ دراصل پاکستان میں اپنی تاریخ پر تنقیدی طور پر سوچنے کی روایت نہیں ہے۔ یہاں یہ کہنا قابل تعزیر جرم ہے کہ پاکستان جس بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا‘ وہ بنیاد ہی غلط تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی جناح کی
تعریف کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں بچا لیا لیکن پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ اس نے ان علاقوں میں مسلم حکومت قائم کر دی جہاں پہلے ہی مسلمانوں کی حکومت تھی۔‘‘
(روزنامہ ’اوصاف‘ اسلام آباد ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء)
”ترکی میں ایک دور ایسا آیا کہ ایک ہزار سال کی مدت میں اسلام کو ایسے حادثے سے سابقہ پیش نہ آیا تھا۔ اب ایک ایسی طاقت (مصطفیٰ کمال) ظہور میں آئی، جس نے ان تمام چیزوں کو بدلنے کے لیے ہر قسم کے مظالم روا رکھے۔ تمام مدرسوں کو جو دینی درس دیتے تھے، ختم کر دیئے، تمام دینی ادارے بند کر دیے یا ان پر ناروا پابندیاں لگائیں، دینی طلبہ منتشر کر دیے۔ اذان کو خلاف قانون قرار دیا اور ترکی زبان میں اذان کو رواج دینے کی کوشش کی۔ مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی آواز کو محدود کیا گیا۔ سرکاری خطبہ جاری کیا جاتا، جس میں محض سیکولر ازم کی طرف راغب کیا جاتا۔ بلند آواز سے اذان دینے والوں، تلاوت کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ دیواروں سے اسلامی و دینی کلمات کو ختم کیا گیا۔ قرآن پڑھانے والوں کو اور حفظ کروانے والوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ دینی کتابوں کو جمع کر کے جلایا گیا کہ تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ گھروں میں دینی کتابوں کا موجود ہونا خلاف قانون قرار پایا۔ کتب خانوں کی تلاشی لی گئی، عربی رسم الخط کو ختم کیا گیا، حتیٰ کہ قرآن کو بھی عربی رسم الخط سے ختم کیا جانے لگا۔ ”مذہب ایک زہر ہے“ کا سلوگن دے کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ علمائے دین کو حقیر جانا گیا، معاشرہ میں کمتر حیثیت دی گئی، عربی لباس پر پابندی لگائی گئی، یورپی لباس قومی لباس قرار دیا گیا۔ فری میسن کلب اپنی سرگرمیوں میں آزاد تھے، دینی مدارس اور تنظیموں پر قفل چڑھائے گئے۔ مساجد سے خانہ کعبہ، روضہ رسول کی تصاویر اتار لی گئیں اور خلفائے راشدین کے نام مٹائے گئے۔ مسلمانوں کو حج سے منع کیا گیا اور مسجدوں کی تعداد بتدریج محدود کر دی گئیں۔ اخباروں میں دینی مضامین پر پابندی لگائی گئیں۔ سکولوں میں بچوں کو برین واش کیا جاتا کہ قرآن پڑھنا، سننا معیوب بات ہے، عربی زبان اور رسم الخط کے ساتھ دشمنی کی حد تک سلوک کیا گیا۔ دیہاتوں میں کیمونسٹ بھر دیے اور عوام الناس کو جدید ترکی کے جدید باشندے بنانے کی مہم شروع کی گئی، جس میں شراب دستر خوان کا لازمی حصہ قرار پائی۔ مرد و زن کے اختلاط کو تہذیب جدید کے نام پر آزادی دی گئی۔ ساحل سمندر پر یورپ کا سماں باندھنے کے لیے ٹریننگ دی گئی۔ اخبار و رسائل میں فحش اور جنسی تصاویر ترقی پسندی کا عنوان بن گئے۔ آج پاکستانی معاشرے میں لباس، رہن سہن، میڈیا، انداز و اطوار بدلتی تہذیب کے رنگ ڈھنگ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں کے ارادے بھانپ لیں تو آنے والے دور کی تصویر صاف نظر آتی ہے۔ (ڈاکٹر بشریٰ تسنیم)
بچا لیا لیکن پاکستان نے کیا حاصل کیا؟ اس نے ان علاقوں میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔“
(روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء)
بتایا گیا کہ ایک ہزار سال کی مدت میں اسلام کو ایسے حادثے سے واسطہ پڑا کہ ایک طاقت (مصطفی کمال) ظہور میں آئی جس نے ان تمام چیزوں کو مٹا دیا۔ تمام مدرسوں کو جو دینی درس دیتے تھے ختم کر دیئے گئے۔ ناروا پابندیاں لگائیں، دینی طلبہ منتشر کر دیے۔ اذان کو خلاف قانون رواج دینے کی کوشش کی۔ مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی آواز کو روکا جاتا، جس میں محض سیکولر ازم کی طرف راغب کیا جاتا۔ بلند آواز کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ اداروں سے اسلامی و دینی تبلیغ کرنے والوں کو اور حفظ کروانے والوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ یہ کہ تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ گھروں میں دینی کتابوں کا موجود ہونا جرم تھا۔ تلاشی لی گئی، عربی رسم الخط کو ختم کیا گیا، حتیٰ کہ قرآن کو بھی یہ کہہ کر کہ ”یہ سب ایک زہر ہے“ کا سلوگن دے کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ ترجیح دی گئی، عربی لباس پر پابندی لگائی گئی، یورپی لباس پہننے والے اپنی سرگرمیوں میں آزاد تھے، دینی مدارس اور تنظیموں پر قفل ڈالے گئے، دیواروں سے تصاویر اتاری گئیں اور خلفائے راشدین کے نام مٹا دیا گیا اور مسجدوں کی تعداد بتدریج محدود کر دی گئیں۔ سکولوں میں بچوں کو برین واش کیا جاتا کہ قرآن اور رسم الخط کے ساتھ دشمنی کی حد تک سلوک کیا گیا۔ ان کو جدید ترکی کے جدید باشندے بنانے کی مہم شروع کی گئی۔ مرد و زن کے اختلاط کو تہذیب جدید کے تقاضوں کا سماں باندھنے کے لیے ٹریننگ دی گئی۔ اخبار و رسائل کے عنوان بن گئے۔ آج پاکستانی معاشرے میں لباس کے رنگ ڈھنگ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں کی پالیسی سمجھ میں آتی ہے۔ (ڈاکٹر بشریٰ تسنیم)
ریاض الرحمٰن ساغر
”میری این جی او“
کہ ہے یہ سلسلہ ”کھاؤ پیو“ کا
کریدو گے زیادہ تو کہوں گا
ہے کاروبار جینے دو جیو کا
نہ پوچھو فنڈ آتا ہے کہاں سے
نہ دیکھو خرچ ہوتا ہے کہاں پر
ہم اپنی روح پہلے مارتے ہیں
تو پھر کیوں ہو ستم اس جسم و جاں پر
امیں ہیں کوٹھیوں کاروں کے ہم تو
کہ خیر اندیش ہیں ساروں کے ہم تو
ہمیں اہل حکومت جانتے ہیں
ہیں کاسہ لیس درباروں کے ہم تو
کوئی ڈالے گا ہم پر ہاتھ کیسے
نہ کرتے ہیں کوئی چوری نہ دھوکا
سماجی کام ہے جو چاہے کر لے
کسی کو ہم نے کب نیکی سے روکا
ثقافت کے نئے معیار لاؤ
وطن میں مغربی اطوار لاؤ
ہوا قصہ پرانا ہیر رانجھا
ڈرامہ آج کا ہے بس ”اجو کا“
چل اے ساغر پہن کانوں میں بالی
تو بلکہ ناک میں بھی ڈال کوکا