رَدّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بانی ندوۃ العلماء
١٢٦٢ھ / ١٨٤٦ء ۔ ١٣٤٦ھ / ١٩٢٧ء
احتسابِ قادیانیت
ہفتم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون: 514122
رَدّ قادیانیت
رسائل
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بانی ندوۃ العلماء
١٢٦٢ھ / ١٨٤٦ء ۔ ١٣٤٦ھ / ١٩٢٧ء
احتساب قادیانیت
جلد ہفتم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلى على رسوله الكريم ، اما بعد!
حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کا وجود قادیانی امت کے لئے درّہ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ رد قادیانیت کے عنوان پر کام کرنے والے حضرات کے لئے مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کی حیثیت آئیڈیل شخصیت کی ہے۔ آپ نے اس عنوان پر وہ گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے لئے مشعل راہ اور فتنہ قادیانیت کے لئے سوہان روح ہیں۔ ان کے وجود سے اللہ تعالیٰ نے فتنہ قادیانیت پر اتمام حجت کا کام لیا۔ وہ بلاشبہ اپنے دور میں امت مسلمہ کے لئے آیت من آیات اللہ تھے۔ آپ کے ردّ قادیانیت پر چودہ رسائل و کتب ہمیں میسر آئے جن کے نام یہ ہیں :
(١) مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت۔ (٢) مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت وافضلیت۔ (٣) عبرت خیز۔ (٤) فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)۔ (٥) تتمہ فیصلہ آسمانی (حصہ اوّل)۔ (٦) فیصلہ آسمانی (حصہ دوم)۔ (٧) فیصلہ آسمانی (حصہ سوم)۔ (٨) دوسری شہادت آسمانی (اوّل، دوم)۔ (٩) تنزیہ ربانی از تلویث قادیانی۔ (١٠) معیار صداقت۔ (١١) حقیقت المسیح۔ (١٢) معیار المسیح۔ (١٣) ہدیہ عثمانیہ و صحیفہ انواریہ۔ (١٤) حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ۔
ان میں سے پہلے تین صحائف رحمانیہ پر مشتمل احتساب قادیانیت جلد پنجم میں شائع ہو گئے ہیں۔ فالحمد للہ ! باقی گیارہ کا مجموعہ احتساب قادیانیت جلد ہذا (ہفتم) ہے۔ آپ کا ایک رسالہ شہادت آسمانی حصہ اوّل بھی ہے۔ جسے خود مصنف مرحوم نے دوسری شہادت آسمانی میں مکمل سمو دیا تھا۔ اس لئے دوسری شہادت آسمانی کے ہوتے ہوئے حصہ اوّل تکرار کے باعث اس فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد کے پیش کرنے پر توفیق ایزدی کے شکر گزار ہیں۔ جماعتی رفقاء سے درخواست ہے کہ وہ اس عنوان پر مزید کام جاری رکھنے کے لئے بارگاہ خداوندی میں ہمارے لئے دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اس کام کو قبول فرمائیں۔ آمین! بحرمة النبي الكريم!
فقیر اللہ وسایا ١١ جمادی الثانی ١٤٢٣ھ / ٢٠ اگست ٢٠٠٢ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست
١ فیصلہ آسمانی حصہ اول ٥ تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ اول ٦٦ ٢ فیصلہ آسمانی حصہ دوم ٩٥ ٣ فیصلہ آسمانی حصہ سوم ١٦٣ ٤ دوسری شہادت آسمانی ٢٩٧ ٥ تنزیہ ربانی از تکویث قادیانی ٣٩٩ ٦ معیار صداقت ٤٣٧ ٧ حقیقت المسیح ٤٥٥ تتمہ حقیقت المسیح ٤٩٢ ٨ معیار المسیح ٤٩٩ ٩ ہدیہ عثمانیہ و صحیفہ انواریہ ٥٢٥ ١٠ حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ ٥٧٣
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فیصلہ آسمانی
در باب مسیح قادیانی
حصہ اوّل
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم الله الرحمن الرحيم
اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه والباطل باطلا ويسرلنا اجتنا به آمین بحرمة سيد المرسلين محمد واله واصحابه اجمعین ﷺ
”مسلمانو! اسلام کے لئے یہ وقت نہایت نازک ہے ہوشیار ہو جاؤ۔“
حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں ایک علامت یہ ہے کہ ہر ذی رائے اپنی ہی رائے پر فخر کرے گا اور اسے بڑی سمجھے گا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی عقل رکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگیں گے۔ اب اس کے بہت مراتب ہیں، اہل علم دیکھ رہے ہیں کہ نہایت کم فہم اپنے تئیں بڑا فہمیدہ سمجھتے ہیں بہت کم علم اپنے تئیں دین کا بڑا ماہر خیال کر رہے ہیں گم راہ ہیں اور اپنے کو ہادی کہہ رہے ہیں اب جس کے دل میں کبر کے تخم نے اس سے زیادہ نشوونما کیا وہ اپنے تئیں مجدد و امام کہنے لگا اگر اس سے بھی زیادہ اس نے ترقی کی تو اس نے مہدی اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کر دیا اور یہ کچھ ہندوستان ہی پر منحصر نہیں یورپ میں بھی کئی جگہ مسیحیت کا دعویٰ کرنے والے موجود ہیں اور بہت لوگ ان کے ماننے والے بھی ہو گئے ہیں ہندوستان میں مرزا غلام احمد ساکن قادیان پنجاب ہیں انکے قلب میں بہت زیادہ مادہ پایا جاتا ہے جس کے پھیلنے کی خبر حدیث مذکور میں ہے کیونکہ مرزا قادیانی اسی قدر نہیں کہتے کہ میں امام وقت یا مجدد وقت ہوں بلکہ وہ اس سے
بھی زیادہ نہایت عظیم الشان تقدس کا دعویٰ کرتے ہیں یعنی اولوالعزم رسول ١ ہونے کا اور صراحت کے ساتھ بعض انبیاء سے اپنے تئیں افضل کہتے ہیں بعض باتوں میں ٢ حضرت سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی (نعوذ باللہ) اپنے تئیں بڑھکر سمجھتے ہیں مثلاً خر دجال وغیرہ کی حقیقت کما ینبغی آنحضرتؐ پر منکشف نہیں ہوئی تھی مرزا قادیانی پر ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو صریح اہانت کے کلمات لکھے ہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض وقت مجھ پر منکشف ہوا کہ بالیقین میں خدا ہوں۔ اور یہ بھی الہام ہوا کہ کن فیکون کا مجھے اختیار دیا گیا ہے یہ باتیں میرے نزدیک شریعت حقہ محمدیہؐ کے بالکل خلاف ہیں اور دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت اسلام نے اس خطرناک راہ کو اختیار کر لیا ہے اور یہ بھی خوف ہے کہ کچھ
(١ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور رسالت اور اولوالعزم رسول ہونا ان کے متعدد رسالوں سے نہایت ظاہر ہے توضیح مرام (ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں ہے ”میں نبی ہوں میرا انکار کرنے والا مستوجب سزا ہے“ دافع البلاء (ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں ہے سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ اور قصیدہ اعجازیہ میں بہت جگہ رسالت کا دعویٰ ہے دافع البلاء (ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں لکھا ”خدا نے اس امت میں سے مسیح بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنے تمام شان میں بہت بڑھکر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا“ اب اس پر غور کیا جائے کہ حضرت مسیح اولوالعزم رسولوں میں ہیں صاحب کتاب ہیں۔ مرزا قادیانی اپنے ہر شان کو ان سے بہت بڑھ کر کہتے ہیں اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اولوالعزم رسول سے بھی اپنا مرتبہ زیادہ سمجھتے ہیں بعض وقت حضرات مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے اور جہاں کہیں کہا ہے اس سے مقصود ظلی نبوت ہے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ نبوت و رسالت سے شرعی اصطلاح یہاں مراد ہے اس لئے قرآن و حدیث میں کہیں ظلی نبوت کو دکھانا چاہئے ورنہ عوام کو محض دھوکا دینا ہے اور جب حضرت مسیح علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہیں تو پھر ظلیت کیسی اب تو مستقل رسول سے بھی شان بڑھ گئی بھائیو! ذرا غور کرو قادیانی کے مختلف اقوال سے پریشان نہ ہوں۔ (٢ جس وقت میں نے یہ رسالہ لکھا تھا اس وقت اسی قدر مجھے اطلاع ہوئی تھی کہ مرزا قادیانی کو فضیلت جزئی کا دعویٰ ہے مگر جب ان کی تصانیف پر زیادہ نظر کی گئی تو معلوم ہوا کہ انہیں فضیلت کلی کا دعویٰ ہے اور اپنے تئیں افضل الانبیا سمجھتے ہیں۔ (اس کی تفصیل میں میں نے رسالہ لکھا ہے دعویٰ نبوت مرزا جس کا نام ہے)
اور مسلمان بھی اس ہلاکت میں پڑیں۔
اس دعوے پر توجہ کرنے والے اور نہایت دل سے خیال کرنے والے امت محمدیہ میں تین گروہ ہو سکتے ہیں (١) اولیائے امت (٢) علمائے امت (٣) عامۂ مومنین امت اور حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مہدی کے آنے کی خبریں حدیثوں میں اس قدر آئی ہیں اور مشہور ہیں کہ ہر خاص و عام جانتا ہے مگر شاذ و نادر اور بہت سے سچے مسلمان ان کے منتظر ہیں خصوصاً اس نازک وقت میں کہ مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی ہر طرح کی حالت نہایت خراب بلکہ معرض زوال میں ہو رہی ہے ایسے وقت میں حضرت مسیح کے آنے کا مژدہ نہایت ہی مسرت بخش ہو سکتا ہے مگر ہر ایک گروہ نے یہ بھی معلوم کیا ہے اور تاریخ کی کتابیں بھری ہیں کہ اس کے قبل بھی کتنوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض نے مسیح ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور ہر ایک نے اپنے خیال کے موجب سچائی کی دلیلیں پیش کیں اور بہت ماننے والوں نے انہیں مان بھی لیا مگر اس وقت تک بالاتفاق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سب جھوٹے تھے اس لئے ہر ایک گروہ امت محمدیہ کو ضرور ہے کہ اب جو ایسے عظیم الشان امر کا دعویٰ کرے اسے وہ نہایت سچے معیار سے جانچیں جس سے وہ جانچ سکتے ہیں اور سچائی اور غیر سچائی کو معلوم کر سکتے ہیں میرے خیال میں اس کے معلوم کرنے کے لئے بھی تین طریقے ہیں اول وہ جو مخصوص اولیائے امت سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ان کے قلب میں ایسا نور عنایت کرتا ہے جس کے ذریعہ سے وہ بہت کچھ معلوم کر سکتے ہیں خصوصاً انسان کی اچھی یا بری حالت کو بخوبی جان سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سے رابطہ قوی ہے وہ تھوڑے تامل سے معلوم کر لیتے ہیں کہ فلاں شخص کو اللہ سے ایسا رابطہ ہے حضرت مسیح اور مہدی کی حالت ان پر ہرگز چھپی نہیں رہ سکتی مگر اب وہ وقت ہے کہ ایسی بات منہ سے نکالنا ایک مضحکہ ہے اس لئے میں اسے زیادہ نہیں لکھنا چاہتا اور ان حضرات کو معذور سمجھتا ہوں کیونکہ گولر کے اندر کا کیڑا اسی گولر کو آسمان اور زمین خیال کرتا ہے اس سے زیادہ اس کا حوصلہ نہیں ہو سکتا اس وقت ظاہر بینی کا زور و شور سے دورہ ہے امور باطنیہ لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اس لئے اس کے انکار سے وہ معذور ہیں الغرض اس گروہ میں سے کسی نے مرزا قادیانی کو برگزیدۂ خدا بھی نہیں مانا اور حضرت مہدی و مسیح تو بہت بڑا رتبہ رکھتے ہیں۔
دوسرا طریقہ معلوم کرنے کا دلیل ہے یعنی آثار و حدیث میں جو علامتیں ان حضرات کے وجود کی ہیں وہ جن میں پائی جائیں وہ مسیح و مہدی ہوں گے یہ طریقہ علمائے امت سے مخصوص ہے وہ جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ جن روایتوں میں حضرت مسیح اور امام مہدی کے آنے کا ذکر ہے ان میں ان کی علامتیں بھی بیان ہوئی ہیں ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی مگر اس طریقے میں بہت جھگڑے ہیں اول تو ان حدیثوں کے صحیح اور غیر صحیح ہونے میں (قادیانیوں کا) جھگڑا پھر اس کے معنی میں جھگڑا پھر یہ جھگڑا کہ جن مسیح کے آنے کا وعدہ ہے وہ وہی ہیں جو پہلے آچکے ہیں یا کوئی دوسرے ہوں گئے ان سب کے علاوہ ان باتوں کے سمجھنے والے خاص اہل علم ہی ہو سکتے ہیں اور اس طریقے سے عام کو فائدہ نہیں ہو سکتا ہے اور پھر یہ طریقہ اس قدر طول وطویل ہے کہ اس کے لکھنے کے لئے دفتر عظیم چاہئے اس لئے میں اس طریقہ کو بھی اس وقت چھوڑتا ہوں البتہ ایک مختصر بات عام فہم کہنا چاہتا ہوں اسے ملاحظہ کیا جائے حضرت مسیح کے آنے کی خبر جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دی اور صحابہؓ اور تابعینؒ اور تمام علمائے دین نے اس پر یقین کیا اُس سے ظاہر ہے کہ بڑی مہتمم بالشان خبر ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اور شان صرف اسی وجہ سے ہے کہ ان کی ذات مقدس سے دینی فائدہ بہت کچھ ہو گا مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت ان کی برکت سے درست ہو جائیگی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں بغض و عداوت نہ رہے گا روپے پیسے کی یہ کثرت ہو گی کہ کسی مسلمان کو ہدیہ اور تحفہ لینے کی طرف توجہ نہ ہو گی دنیا بھر میں دین اسلام کو غلبہ ہو گا ان میں سے کسی بات کا شائبہ بھی مرزا قادیانی کے وجود سے نہیں پایا گیا بلکہ سب باتیں برعکس ہیں غور سے دیکھا جائے کہ مسلمانوں میں کس قدر بغض و عداوت ہے کس قدر افلاس ہے اور دنیا میں کس قدر تفرق ادیان ہے اور پھر یہ کہ اسلام کس قدر ضعیف ہو گیا ہے اور اگر قادیانی جماعت یا کوئی صاحب ان حدیثوں پر نظر نہ کریں یا کچھ بے تکے معنی لگائیں تو اس قدر فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے آنے سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا؟ میں نہایت یقین اور زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ باوجود نہایت کوشش کے کوئی عیسائی مسلمان نہیں ہوا کوئی دہریہ ایمان نہیں لایا کوئی ہندو کوئی آریہ
یا کوئی اور مذہب والا اسلام سے مشرف نہیں ہوا ہاں دنیا میں جو تخمیناً چالیس کروڑ مسلمان شمار کئے جاتے تھے وہ سب ١ کافر و مردود ہو گئے ان میں سے صرف چند ہزار یا کئی لاکھ مسلمان رہ گئے سابق کے لحاظ سے اس کہنے میں کوئی تأمل نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کے وجود سے اسلام ایسا غریب ہو گیا کہ گویا مٹ گیا اور مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت جو خراب تھی اسے روز بروز ترقی ہے اس پر طرّہ یہ ہوا کہ جس قدر مرزا قادیانی کو ترقی ہوئی اسی قدر امراض عامہ طاعون وغیرہ کو ترقی ہوئی یہاں تک کہ کسی سال امن عافیت سے لوگ نہیں بیٹھ سکتے پھر جن کی ذات سے اسلام کی اور مسلمانوں کی یہ حالت ہو جائے انہیں کون ذی عقل مسلمان مسیح مان سکتا ہے؟ خدا کے لئے اس میں تھوڑا سا تأمل کرو مرزائی جماعت کے لوگوں کو مرزا قادیانی کی حیات میں بھی دیکھا اور ان کے حالات سنے اور اب انہیں انتقال کئے بہت تھوڑا زمانہ ہوا ہے مگر ان میں صلاح و تقویٰ کا نشان نہیں پایا ان کی صورت ان کی حالت یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے قلب تک شریعت محمدیہ کا نور نہیں پہنچا جیسے بے قید نام کے مسلمانوں کی حالت ہے ویسے ہی وہ ہیں حالانکہ وہ اپنے تئیں امام وقت اور رسول وقت کا صحبت یافتہ بلا واسطہ یا بالواسطہ کہتے ہیں اگر مرزا قادیانی اپنے دعوے میں سچے ہوتے تو ان کے صحبت یافتہ زمانہ کے لوگوں سے نرالا ڈھنگ رکھتے کہ ہر طرف سے قبولیت کی نگاہ ان پر پڑتی مگر حالت برعکس ہے۔
تیسرا طریقہ دریافت کرنے کا یہ ہے کہ جو شخص ایسے عظیم الشان امر کا مدعی ہوا ہے اس کے ذاتی حالات کو معلوم کریں اور اس میں عاقلانہ طور سے انصاف کے ساتھ نظر کریں اور اس کے اقوال و افعال کو منہاج نبوت پر جانچیں۔ یہ طریقہ ایسا ہے کہ ہر ایک ذی فہم اس سے کام لے سکتا ہے اور خاص و عام اس سے نتیجہ نکال سکتے ہیں اگر اس کے حالات ایسے نہ ہوں جیسے بزرگ مقدس حضرات کے ہونے چاہئیں تو پھر کسی دلیل اور کسی نشان کے تلاش کی حاجت نہیں ہے اسے سمجھ لیں کہ یہ اپنے دعویٰ میں کاذب ہے سب سے
(١ اس کے ثبوت میں مرزا قادیانی کے فرزند اور ان کے خلیفہ نے خاص رسالہ لکھا ہے تشحیذ
الاذہان ج ٦، ش ٤ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء میں ملاحظہ کیا جائے)
پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ سچائی میں سب سے اول درجہ رکھتا ہے یا نہیں اگر ذرا بھی سچائی میں گرا ہوا پائیں تو اس سے اجتناب کریں میں نے اس رسالہ میں اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے کہ خاص و عام اس سے مستفید ہوں اور بذات خود فیصلہ کرسکیں‘ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کیلئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“ ”آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً“ اس لئے میں نے ان کی پیشگوئیوں پر نظر کرنا مناسب سمجھا اور پیشگوئیوں میں سے اس پیشگوئی کو اختیار کیا جو ان کے نزدیک نہایت ہی عظیم الشان ہے اور جس کی شرح سے ان کے ذاتی تقدس کا حال طالبِ حق نہایت روشن دلیل سے معلوم کر سکے۔
مرزا قادیانی کے رسالہ شہادۃ القرآن سے ظاہر ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے متعلق جو مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی ہے وہ بہت ہی عظیم الشان ہے اس لئے میں اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
چونکہ عظیم الشان نشان کا سترہ برس تک امتحان رہا اس لئے مرزا قادیانی کو اس کی نسبت مختلف طور سے الہامات ہوتے رہے ہیں ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ مرزا قادیانی کا ”نکاح اس لڑکی سے آسمان پر ہو گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
اس وجہ سے وہ لڑکی منکوحہ آسمانی کے لقب سے مشہور ہے۔ اب میں ان واقعات کے بیان کرنے سے پہلے نہایت زور اور سچائی سے کہتا ہوں کہ اس منکوحہ آسمانی کے نسبت جو واقعات ہوئے ہیں اور جو باتیں ان کی زبان اور قلم سے نکلی ہیں اور جو حالتیں اس سے ظاہر ہوئی ہیں وہ اس عظمت اور مرتبت کے بالکل برخلاف ہیں جس کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا ہے اور انبیا علیہم السلام کے تقدس کی تو بڑی شان ہے اور اولیاء اللہ بلکہ ادنیٰ ولی کو بھی دنیا کے کسی چیز سے ایسا تعلق نہیں ہو سکتا جیسا تعلق مرزا قادیانی کو ایک معمولی عورت سے ہوا اور اس کی وجہ سے بہت سی خلاف شان باتیں ان سے ہوئیں۔ میں نہایت سچائی اور خیر خواہی سے برادران اسلام کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس قصہ کے متعلق واقعات پر جو سچا طالب حق نظر کرے گا اس کی قوت ممیزہ اس کی انصاف پسندی بے اختیار کہہ اٹھے گی کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں بالکل جھوٹے ہیں اور جنکے دلوں پر تعصب کا پردہ پڑا ہے اور جو اپنی غلطی اور نافہمی اور کم علمی سے پھنس کر اب بے جا غیرت اور اپنی بات کی
کج اور ہٹ دھرمی پر آمادہ ہو گئے ہیں یا ان کو اور کوئی مخفی دنیاوی فائدہ اس میں حاصل ہوتا ہے ان سے ہمارا خطاب نہیں ہے ہم کو امید ہے کہ بہت سے گم گشتہ بہت سے متحیر و پریشان اس تحریر سے ہدایت پائیں گے اور ان کے دلوں کو کامل تسلی ہو گی ”وما ذلک علی اللہ بعزیز“۔ اس رسالہ کا نام فیصلہ آسمانی رکھا گیا اور تین حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصہ میں خاص منکوحہ آسمانی کا ذکر ہے اور دوسرے و تیسرے حصہ میں اس کی متعلقات کا اور ضمناً ان کے کذب کی اور باتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔
اس عظیم الشان پیشین گوئی کے غلط ہونے کے بعد جو باتیں خود مرزا قادیانی نے اور انکے مریدین نے بنائی ہیں اور انہیں جواب قرار دیا ہے ان کا غلط اور محض غلط ہونا بطور اجمال اور تفصیل ہر طرح ان تین حصوں میں بیان کیا گیا ہے خاص منکوحہ آسمانی کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اس کا جواب اسی حصہ میں پورے طور سے دیا گیا ہے پھر تیسرے حصہ میں اس کی زیادہ تفصیل کر دی گئی ہے اور اس قدر لکھا گیا ہے کہ کسی طالب حق کو دیکھنے کے بعد مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں تأمل نہیں ہو سکتا اب بعض حق پوش حضرات کا یہ کہہ دینا کہ یہ وہی پرانی باتیں ہیں جن کا جواب دیا گیا ہے ناواقفوں کو دھوکہ دینا ہے میں نہایت استحکام اور یقین سے کہتا ہوں کہ اس غلط پیشین گوئی کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا یہ پیشین گوئی بلا شک و شبہہ یقیناً غلط ہوئی اور جو کچھ اس کے جواب میں باتیں بنائی جاتی ہیں وہ محض غلط ہیں ان کی غلطی آفتاب نیمروز کی طرح روشن کر دی گئی ہے اور مرزا قادیانی کے وہ اقوال نقل کر دئے گئے جن سے تمام جوابات غلط ہو جاتے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کے کذب کی یہ نہایت روشن دلیل ہے اور ایسی دلیل ہے کہ عام و خاص سب اسے بخوبی سمجھ سکتے ہیں اس لئے اس کو پیش کیا گیا اور پیش کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے غلط ہونے کا اقرار کریں اور بموجب آسمانی کتابوں کے مرزا قادیانی کو کاذب مانیں یا ہماری باتوں کا جواب دیں مگر ہم بالیقین کہتے ہیں کہ جواب نہیں دے سکتے قادیانی جماعت خوب سمجھ لے کہ یہ عوام کا مناظرہ نہیں ہے کہ کبھی یہ کہہ دیا اور کبھی وہ کہہ دیا کوئی بات طے نہ ہوئی اور عوام مشتبہ ہو کر رہ گئے الغرض اس بحث کے طے ہونے کے بعد مرزا قادیانی کے متعلق جس بحث کو چاہیں قادیانی جماعت کے ذی علم پیش کریں اس طرف سے جواب دیا جائے گا اور انشاء اللہ ایسا جواب دیا جائے گا کہ آنکھیں کھل جائیں گی ہمارے
مخاطبین ذرا نظر اٹھا کر دیکھیں کہ دنیا میں کس قدر مذاہب باطلہ ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں اور اہل حق نے ان کے رد میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا پھر کیا اس مذہب کے ماننے والوں نے کسی اہل حق کی سنی اور حق کو قبول کیا ہرگز نہیں اور شاذ و نادر کا اعتبار نہیں۔ خیال کیا جائے کہ تثلیث پرستی اور بت پرستی کیسی بدیہی البطلان چیز ہے مگر اس کے ماننے والے اپنی جان دے دیتے ہیں مگر اپنا مذہب اور اپنا عقیدہ نہیں چھوڑتے پھر کیا ان کی پختگی اور اپنے خیال سے نہ ہٹنا ان کے مذہب کی حقانیت اور سچائی کی دلیل ہو سکتی ہے ہرگز نہیں بلکہ اسکی یہ وجہ ہے کہ جن کے لئے شقاوت ازلی نے ہاویہ میں جانے کا فیصلہ کر دیا ہے جنکے دلوں پر مہر لگادی ہے وہ حق بات کو کبھی نہیں قبول کر سکتے۔
ملاحظہ کیا جائے کہ دہریہ اور لا مذہب کی ہدایت کے لئے اصحاب مذہب نے بہت کچھ کوشش کی پھر کیا وہ اپنے خیال سے کچھ بھی ہٹے؟ کبھی نہیں دیکھو اس وقت یورپ میں کس زور وشور سے لا مذہبی پھیل رہی ہے اور اس کا نمونہ ہندوستان میں بھی شروع ہو گیا ہے۔ عیسائی، ہنود، آریہ کے راہ راست پر لانے کے لئے مسلمانوں نے بہت کچھ کوشش کی، سچائی اور حقانیت کو بہت کچھ روشن کر کے دکھلایا دین حق کے ثبوت میں اور باطل کے ابطال میں بہت کتابیں لکھیں مگر یہ بتائیے اور خوب تحقیق کر کے جواب دیجئے کہ کتنے آریہ، ہنود، عیسائی مناظرہ کی کتابیں دیکھ کر مسلمان ہوئے غالباً دس بیس کا نام بھی آپ سارے ہندوستان میں نہ بتائیں گے۔ اب مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کی کوشش کو ملاحظہ کیجئے کہ ان کے جواب میں کتنے رسالے اور اشتہارات لکھ کر شائع کئے۔
عیسائیوں سے مناظرہ بھی کیا ایک رسالہ انگریزی میں ماہوار تمام یورپ و ہند میں برسوں سے شائع ہو رہا ہے اب مسیح جدید کے مقلد فرمائیں کہ کتنے قدیم مسیحی مرزا پر ایمان لائے اور کتنے آریہ قادیانی ہوئے؟ واقف کار حضرات خوب جانتے ہوں گے کہ اتنی کوشش پر بھی دس بیس آریہ یا عیسائی ان کے مناظرہ سے قادیانی نہیں ہوئے بلکہ ان کی مسیحیت اور نبوت کی زندگی ہی میں خاص ان کے وطن پنجاب میں عیسائی اور آریہ کی ترقی بہت کچھ ہوئی اور ان کے خلیفہ اور حواریین کے روبرو ہو رہی ہے اور کس قدر الحاد و زندقہ اور گمراہی اور تفرق ادیان کا زور و شور ہے کیا حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد ایسی حالت رہے گی؟ ذرا آنکھیں کھول کر احادیث صحیحہ کو دیکھو اگر حق طلبی کی نظر سے دیکھو گے اور
کجروی سے بچو گے تو مثل آفتاب کے تم پر روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں ہرگز سچے نہیں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مرزا قادیانی کسی کافر کو مسلمان نہ کیا البتہ بہت سے مسلمانوں کو گمراہ کر دیا اور تیرہ سو برس کے مسلمین کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جو منکر اور کافر تھے وہ تو ویسے ہی رہے اور جو مسلمان تھے مرزا قادیانی نے انہیں بھی کافر کر دیا۔ نزول مسیح کا یہ نتیجہ ہوا۔
اس تمہید کے بعد اصل قصہ کو ملاحظہ کیجئے مرزا قادیانی کے قرابت مندوں میں ایک لڑکی تھی جس کا نام محمدی ہے وہ ان کے ١؎ پسند آگئی اور منظور نظر ہو گئی مگر وہ قرابت مند مرزا قادیانی کے اس دعوے اور تقدس کے نہایت مخالف تھے اس لئے مرزا قادیانی کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ نکاح کا پیام بھیجیں اول تو مرزا قادیانی بوڑھے اور اہل و عیال والے تھے اس پر مذہبی مخالفت ہو گویا پھر تو کریلا اور نیم چڑھا ہو گیا اب کیا امید ہو سکتی تھی کہ لڑکی کے والدین اس رشتہ کو قبول کریں کچھ عرصہ تک تو مرزا قادیانی کو اس کے اشتیاق میں دم بخود رہنا پڑا مگر حسن اتفاق سے اس لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ کو ایک ضرورت مرزا قادیانی سے پیش آئی وہ بھی مالی ضرورت جس کا ذکر آئے گا اب مرزا قادیانی کو موقع ملا اور وحی و الہام کی بھرمار شروع ہوئی۔ پہلے نکاح کا پیغام بڑے شان سے بھیجا گیا الہامی پیام تھا اس کے قبول کرنے پر بہت کچھ ترغیبیں دی گئیں اور انکار کی تقدیر پر خوفناک باتوں سے ڈرایا گیا مگر اس کے والدین اور اس کے دوسرے اقرباء نے نہایت مضبوطی اور حقارت
(١؎ تذکرہ ص ٦١‘ ٩٦‘ ١٠٣‘ طبع سوم) میں مرزا قادیانی کا الہام عربی میں یہ ہے وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا یوم القیمۃ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیرے پیرووں کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا‘‘ اس میں مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کو صاف طور سے کافر بیان کیا ہے اس میں مسلمان اور غیر مسلمان سب شامل ہیں خلیفہ المسیح کا خط الحکم مورخہ ١٧ اگست ١٨٩١ء میں چھپا ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ اگر کسے شکے آرد درشان او (یعنی مرزا غلام احمد) آں کافر است اور مرزا قادیانی جب ’’اپنے الہامات کو ایسا ہی یقینی من جانب اللہ کہتے ہیں جیسا قرآن مجید ہے‘‘ (حقیقت الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠) تو باضرور ان کے منکر کو ایسا ہی کافر کہیں گے جیسا قرآن مجید کے منکر کو کافر کہا جاتا ہے۔ ٢؎ (اگرچہ حضرات مرزائی اس جملے کو دیکھ کر ناخوش ہوں گے اور خدا جانے کیا کچھ کہیں گے مگر مرزا قادیانی کے تمام حالات دیکھنے سے اس میں ذرا شبہ نہیں رہتا۔)
سے انکار کیا اور اس لڑکی کا نکاح دوسرے شخص سے پڑھا دیا سلطان محمد بیگ اس کا نام ہے مگر جس طرح طالب دل دادہ کو کسی وقت محبوب اور مطلوب کے ملنے سے مایوسی نہیں ہوتی اسیطرح مرزا قادیانی کو اسکے نکاح کے بعد بھی مایوسی نہیں ہوئی اور ان کی قوت متخیلہ نے یہ خیال پختہ کیا کہ اس کا میاں مرے گا اور بیوہ ہو کر یہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اس پختہ خیال کو وہ الہام سمجھے اور الہام کا غل مچانا شروع کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہو گی اور میرے نکاح میں آئے گی کسی وقت خیال عالی زیادہ بلند ہوا تو یہ فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ نے آسمان پر میرا نکاح اس سے کر دیا ہے یہاں وہ قصہ قابل ذکر ہے جو انگریزی اخباروں میں شائع ہوا ہے کہ ولایت لندن میں یا اس کے قریب ایک انگریز نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور بہت لوگ اسے مان چکے ہیں اور ایک ایسا عمدہ اور بڑا گرجا بنوایا ہے کہ لندن میں اس کی نظیر نہیں ہے اس میں ایک نوجوان لیڈی پھنس گئی اس کے لڑکا ہوا حسب دستور ملک رجسٹرار لکھنے آیا اور لیڈی سے دریافت کیا کہ تیرا نکاح کب ہوا ہے اس نے جواب دیا کہ عالم ارواح میں خدائے تعالیٰ نے نکاح پڑھایا ہے۔ پھر وہ عیسیٰ بلائے گئے اور ان سے کہا گیا کہ تمہاری بیوی تو فلاں ہے یہ کیسی؟ جواب دیا کہ یہ روحانی بیوی ہے اور وہ جسمانی ہے رجسٹرار ان جوابوں سے بہت ناخوش ہوا اور ان دونوں کو بہت برا خیال کیا مدعی نبوت نے قیافہ سے اس کا خیال معلوم کر کے اُس سے کہا کہ چل کر ہمارا چرچ دیکھو پھر کچھ کہنا وہ گیا جب دیکھ کر لوٹا تو اس کا وہ بد خیال نہ رہا۔ اور عقیدت مند ہو گیا ان دونوں کے جواب مرزا قادیانی کے جوابوں سے کم مرتبہ نہیں اور مرزائیوں کی حالت اس رجسٹرار کے بہت مشابہ ہے اگر انصاف سے دیکھا جائے پھر مرزا قادیانی نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اپنے الہام کا یقین لوگوں کو دلانا چاہا اور اپنے مخالفین کو نہایت خوفناک دھمکیوں سے ڈرایا مگر لڑکی کے والدین اور دوسرے اقربا ایسے مستحکم اور قوی الایمان تھے کہ نہ کسی لالچ میں آئے نہ کسی دھمکی سے ڈرے نہ ان کے الہاموں کی کچھ پرواہ کی اور مرزا قادیانی اس لڑکی کی تمنا اور آرزو میں دست حسرت ملتے ہوئے قبر میں تشریف لے گئے اور آرزو پوری نہ ہوئی۔ اس لڑکی کا میاں خدا کے فضل سے اس وقت تک موجود ہے دس بارہ اولادیں اس کی ہو چکی ہیں۔ (مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے ١٩٤٨ء میں وفات پائی۔ زریں اصول ص ١٢٢، فقیر)۔
حضرات ناظرین! مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کو نہایت ہی عظیم الشان بتایا ہے اس قدر عظمت اور کسی پیشین گوئی کی مرزا قادیانی نے نہیں بیان کی اگرچہ بعض اور پیشین گوئیوں کو عظیم الشان کہا ہے مگر اس کی عظمت کو انتہا مرتبہ کا بیان کیا ہے کیونکہ اسے نہایت ہی عظیم الشان کہا ہے اردو کے محاورہ میں یہ جملہ اس مقام پر بولا جاتا ہے جہاں نہایت اعلیٰ مرتبہ کی عظمت بیان کرنی منظور ہوتی ہے اس لئے میں نہایت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس میں پورے طور سے غور کروں اور اس کے متعلق جس قدر باتیں مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کی ہمیں ملیں ہم طالبین حق کے روبرو پیش کریں تا کہ ہر ایک پر مرزا قادیانی کی حالت آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ نے جن کی آنکھوں میں بینائی دی ہے وہ خوب دیکھ لیں اور صداقت پر ایمان لا کر خدا کا شکر بجا لاویں اور جو بینائی کی نعمت سے محروم ہیں یا دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے وہ اپنے حال زار پر واویلا کریں اور خدا سے ڈریں جس نے صداقت کے ماننے اور بطالت سے بچنے پر نجات کا مدار رکھا ہے اس پیشین گوئی کی تفصیل میں تین امروں پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔
اول ...... یہ کہ مرزا قادیانی کو نکاح کے پیام کا موقع کیونکر ملا اور کس طرح انہوں نے پیام دیا؟ دوم ...... یہ کہ انکار کے بعد کیا کیا تدبیریں مرزا قادیانی نے کیں تاکہ لڑکی کے اعزہ انکار سے باز رہیں لڑکی ہمارے پاس آئے۔ سوم ...... اس بات میں نہایت غور و انصاف کی ضرورت ہے لڑکی کے نکاح کا معاملہ تھا مرزا قادیانی نے اسے اس قدر طول دیا اور اشتہارات شائع کئے اعزہ واقربا کو خطوط لکھے اور بالآخر جب وہ ناکام اور بے نیل و مرام رہے تو اپنے دو بیٹوں کو عاق کر دیا اور سابقہ بی بی (بیوی) کو طلاق دے دی۔ ان سب باتوں پر نظر کرنے سے کیا حالت معلوم ہوتی ہے آیا یہ پایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی بزرگ اور مقدس شخص ہیں یا یہ کہ نفسانی خواہش کے نہایت تابع اور خدا اور رسول کی طرف غلط باتیں منسوب کرنے والے۔
اس تحریر کے بعد ناظرین کو دو امروں کی طرف اور بھی زیادہ توجہ دلاتا ہوں۔ اول ...... یہ کہ مرزا قادیانی کے ان اقوال پر کامل نظر کریں جو ان کی زبان قلم
سے اس پیشین گوئی کی نسبت وقتاً فوقتاً نکلے ہیں۔ اور کس کس طرز سے انہوں نے یقین دلایا ہے کہ اس کا ظہور میرے وقت میں ہو گا جس میں کسی طرح چون و چرا کو مجال نہیں ہے اور پھر اس کا ظہور نہ ہوا اور اس کے متعلق تمام الہامات اور سارے بیانات غلط ثابت ہوئے۔
دوسرا...... امر یہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے جو تدبیریں انہوں نے کیں اور جو خطوط وغیرہ انہوں نے لکھے اور جو جو کلمات مہذبانہ انہوں نے اپنے مخالفین کے لئے استعمال کئے ان میں انصاف دلی سے غور فرماتے جائیں میں نہایت سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کی قوت ممیزہ بے اختیار بول اٹھے گی کہ جس کے ایسے حالات ہیں وہ ہرگز خدا سے دلی رابطہ نہیں رکھتا اور مجدد اور نبی ہونا تو بڑی بات ہے یہ دوسرا امر بہت زیادہ غور کے لائق ہے۔
پہلے امر کا بیان (یعنی مرزا قادیانی نے نکاح کا پیام کس طرح کیا) سب سے اول پیامی خط جو مرزا قادیانی کا ١٠ مئی ١٨٨٨ء کے نور افشاں میں چھپا ہے اس کا ذکر مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات اسلام (ص ٢٧٩ خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں کیا ہے اس کے بعد ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کو گورداسپور سے جو اشتہار شائع کیا ہے وہ کتاب مذکور کے صفحہ ٢٨١ سے صفحہ ٢٨٨ تک میں لکھا ہے اور اس کی نقل یعقوب علی نے اپنے رسالہ آئینہ حق نما کے صفحہ ١٤٧ وغیرہ میں کی ہے چونکہ پورا اشتہار بہت طویل ہے اس لئے میں اصل مطلب کے متعلق جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اسی قدر نقل کروں گا اشتہار کا عنوان جلی قلم سے یہ ہے ”ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار“ اس کے بعد دو شعر ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر یقین کامل ہے وہ شعر یہ ہیں ١؎
جھوٹ اور حق میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨١ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١؎ اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ اس کی نسبت جو الہام ہوا تھا وہ متشابہات میں نہ تھا بلکہ وہ محکمات سے تھا جس کے معنے اور مطلب نہایت ظاہر تھے ورنہ اس کے ظہور کا انہیں یقین ہرگز نہ ہوتا
مرزا قادیانی کو اپنی صداقت کا کس قدر جوش ہے اور کیسا یقین ہے با ایں ہمہ انکا گمان غلط ثابت ہوا مگر پھر بھی حضرات مرزائی ان کی صداقت کے قائل رہے حیرت ہے الغرض ان اشعار سے اصلی غرض جو مرزا قادیانی کی ہے وہ تو ہر فہمیدہ سمجھتا ہے مگر ظاہر میں ان کے الفاظ عام ہیں یعنی انجام کے ظاہر ہونے سے مرزا قادیانی کو ذلت ہو یا ان کے مخالفین کو اب تو دنیا اس کے انجام کو جان چکی اور جو صاحب نہ جانتے ہوں وہ جان لیں کہ اس پیشین گوئی کا انجام یہ ہوا کہ پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی اپنے قول کے رو سے رسوا ہوئے ١؎ اس کے بعد کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس لڑکی کا پیام کیا تھا اور اس لڑکی کے ماموں نے ان سے آسمانی نشان طلب کیا تھا یعنی لڑکی کے ماموں وغیرہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے منکر تھے جب انہوں نے رشتہ کی درخواست کی تو انہوں نے کہا ہو گا اگر تم اپنے دعوے کو ثابت کرو تو ہم رشتہ کر سکتے ہیں ورنہ جھوٹے نبی کو لڑکی دینا کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ اس میں شبہ نہیں کہ لڑکی کے اعزہ نہایت ہی پختہ مسلمان اور کامل الاعتقاد تھے کہ نہ مرزا قادیانی کی وجاہت و ثروت پر انہوں نے نظر کی نہ ان کے ہر قسم کے ترغیبوں کی پرواہ کی نہ ان کے ترہیبوں سے انہیں کچھ خوف و ہراس ہوا۔ جَزَاهُمُ اللّٰهُ خَیْرَ الْجَزَاءِ
مرزا قادیانی ان کی استقامت اور دینداری کی وجہ سے ان سے نہایت خفا ہیں اور اسی اشتہار میں انکی شکایت کر کے لکھتے ہیں کہ ”مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو
١؎ اس اشتہار میں ان جملوں پر خوب نظر رہے جن سے بخوبی ظاہر ہو رہا ہے کہ اس پیشنگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اور اس کا ظہور مرزا قادیانی کے روبرو عنقریب ہونا ضرور ہے۔ اول تو یہ رباعی صاف کہہ رہی ہے کہ اس کا ظہور مرزا قادیانی کی زندگی میں ہو گا اور مرزا قادیانی کی عزت اور ان کے مخالفین کی رسوائی ہوگی اس کے بعد ان کے الہامات آفتاب کی طرح روشن کر رہے ہیں کہ یہ پیشین گوئی خاص محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کی ہے اور اس کا نکاح مرزا قادیانی سے ضرور ہو گا مگر وہ تمام الہامات اور دعوے سب غلط ثابت ہوئے۔ ٢؎ اب اس پر نظر کی جائے کہ وہ کیا دعا تھی جو قبول ہوئی اور اس کی قبولیت کے آثار شروع ہو گئے جب اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی حسب خواہش لڑکی کے ماموں وغیرہ کے لئے ظہور نشان کی دعا کی اور وہ دعا قبول ہوئی یعنی اس کے لئے کوئی نشان ظہور میں آئے گا اب آئندہ کا مضمون بتا رہا ہے کہ وہ نشان وہی ہے جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا بھی کی گئی تھی سو وہ دعا قبول ٢؎ ہو کر خدائے تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا‘ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً) اس کی شرح یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا چچا زاد بھائی غلام حسین صاحب جائیداد تھا مگر بہت عرصہ سے مفقود الخبر ہو گیا تھا اور سوائے بیوی اور مرزا قادیانی کے کوئی اسکا وارث نہ تھا اس عرصہ میں کسی طور سے اس کی بیوی کا نام اس کی جائیداد پر چڑھ گیا تھا۔ یہ عورت مرزا احمد بیگ (جن کا سابق میں ذکر ہو چکا ہے۔) محمدی بیگم کے والد کی ہمشیرہ تھی اس وجہ سے مرزا احمد بیگ نے چاہا کہ ہماری ہمشیرہ اس جائیداد کو ہمارے بیٹے کے نام منتقل کر دے وہ آمادہ تھی مگر مرزا قادیانی اس کے بڑے شریک تھے بغیر ان کی مرضی کے وہ جائیداد منتقل نہیں ہو سکتی تھی اسلئے احمد بیگ صاحب نے ان کی طرف رجوع کیا۔ اب مرزا قادیانی کو اپنی تمنا پوری کرنے کا نہایت عمدہ موقع ملا اس لئے فرماتے ہیں کہ ”ہماری عادت بڑے کاموں میں استخارہ کرنے کی ہے اسلئے استخارہ کر کے جوابدیں گے پھر متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کا وقت آ پہنچا تھا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦ ملخص)
پیام کے لئے کس زور کی تمہید ہے اہل حق کے دیکھنے کے قابل یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دیرینہ خواہش دلی کو کس عمدہ پیرایہ میں ظاہر کرتے ہیں اور لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ سے کہتے ہیں۔ ”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا۔“ یعنی تم اپنی لڑکی کا نکاح ہمارے ساتھ کر دو ہم جائیداد تمہارے بیٹے کے نام کرادیں گے اس الہامی پیام سے نہایت ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی کہ اس لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی سے ہو اس امر کو خیال رکھ کر اس کے انجام پر نظر کریں کہ کیا ہوا اور پھر فرمائیں کہ یہ الہام کیونکر سچا ہو سکتا ہے؟ ذرا غور کیجئے کہ اگر مرضی خدا ایسی ہی ہوتی اور اس کے حکم سے مرزا قادیانی نکاح کا پیام کرتے تو ممکن تھا
(١ اس جملہ پر نظر کی جائے کہ اس نشان کے ظہور کے وقت کو نہایت قریب بتا رہے ہیں جس سے خلیفہ نور الدین والی تاویل غلط ہو جاتی ہے۔
کہ اس کا ظہور نہ ہوتا اور ان کے نکاح میں وہ لڑکی نہ آتی؟ نہیں نہیں بلکہ ضرور ان کے نکاح میں آتی اور مرزا قادیانی کبھی اپنی اس تمنا سے محروم نہ رہتے اسلئے ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ اگر مرزا قادیانی کو یہ الہام ہوا تو رحمانی الہام نہ تھا بلکہ اس معاملہ میں جس قدر الہامات ہوئے اس کی بنیاد شیطانی الہام پر ہوئی۔ اس کے علاوہ ہم حضرات مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ جو رحمتہ اللعالمین کا ظل ہو اور جو اپنے کو فانی الرسول بتائے اس کی یہی شان ہونا چاہئے کہ اعزہ واقربا سے سلوک ومروت کرنے کے لئے یہ شرط کرے کہ اپنی کنواری کم عمر لڑکی ایک بوڑھے شخص کو دو جسے ایک عالم برا اور کذاب کہہ رہا ہے ذرا خدا سے ڈر کر ان دونوں باتوں کا جواب دیجئے گا اور جلدی سے اس کو خدا کا حکم نہ کہہ دیجئے گا اوپر کے مضمون پر خیال رکھئے گا۔ یہاں تک تو مرزا قادیانی نے خدا کا حکم سنایا اور ایک معقول جائیداد کی طمع اور ترغیب دی مگر اسی پر بس نہیں ہے اور بھی سنئے فرماتے ہیں کہ ”یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور رحمت کا نشان ہو گا ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں“ (ایضاً) یہ تو خوش کرنے کی ترغیبیں تھیں۔ اب وہ تہدید اور خوف دلانا بھی سنئے جو انکار کرنے پر متعلق ہے فرماتے ہیں ”لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ویسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی“ (ایضاً) یہاں مرزا قادیانی نے بزعم خود پورے دانشمندی سے کام لیا ہے یعنی انکار کرنے کی تقدیر پر خود اس لڑکی کو ڈرایا اس کے والدین کو اس کے اقربا کو اور جو اس سے نکاح کرے اس کو اور پھر ہر طرح کا خوف دلایا جان کا‘ مال کا‘ مصیبت کا‘ باہم تفرقہ کا‘ غرض کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑا مقصود یہ ہے کہ اتنے گروہ میں کوئی تو ضعیف القلب ضعیف الایمان ہو گا جو ڈر کر یا طمع میں آ کر مرزا قادیانی کی خواہش پورا کرنے پر آمادہ ہو جائے گا اور دوسروں کو آمادہ کرے گا مگر یہ حضرات ایسے قوی الایمان نکلے کہ کسی نے پرواہ بھی نہ کی اور افسوس کہ مرزا قادیانی کے دل کی تمنا ان کے دل ہی میں رہی ہاں اس لڑکی کو صرف اس کے انجام کے برا ہونے سے بہت ڈرایا تھا مگر عمر کے درمیانی حصہ کا ذکر نہیں کیا تھا شاید اسے خیال ہوتا کہ عمر کے اکثر حصہ میں تو مزے کریں گے انجام دیکھا جائے گا اس لئے مرزا قادیانی
اس خیال کو بھی اٹھاتے ہیں اور فرماتے ہیں اور ”درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“ (ایضاً) دور اندیشی سے کیسے عام الفاظ میں خوف دلایا ہے تا کہ جس قسم کی کراہت یا کم و بیش غم پیش آئے مرزا قادیانی کی صداقت معلوم ہو اگر ایسے ہی باتوں کا نام پیشگوئی اور کرامت ہے تو ہر ذی فہم و فراست کر سکتا ہے‘ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح ١ میں لائے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا۔“ (ایضاً) سابق الہام سے تو خدائے تعالیٰ کی صرف مرضی معلوم ہوئی تھی اس الہام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آجانا ضرور ہے کسی طرح ٹل نہیں سکتا انجام میں وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی اس میں کوئی شرط اور کوئی قید نہیں ہے یہ بیان ایسا صاف اور صریح ہے کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہو سکتی پھر یہ کہ اس الہام کی توضیح اور تقدیر مبرم ہونا مختلف اوقات میں مختلف طور سے انجام آتھم وغیرہ میں مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے جس سے نہایت واضح اور روشن ہو جاتا ہے کہ یہ پیش گوئی خاص مرزا قادیانی کی ذات سے متعلق ہے اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنے عربی الہام کا جو ترجمہ بیان کیا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے وہ ترجمہ یہ ہے۔ ”خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس ٢ لائے گا کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ ......اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائیگی یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں لیکن آخر کار خدائے تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی خاکسار غلام احمد ١٠ جولائی ١٨٨٨ء“ (ایضاً ص ٢٨٧)۔
١؎ یہ پہلا موقع جس میں مرزا قادیانی نے الہامی طور سے اس لڑکی کے نکاح میں آنے کا یقین ظاہر کیا ہے۔ ٢؎ دوسرا موقع جس میں نہایت زور سے یقین ظاہر کیا ہے کہ وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔
اس عبارت میں دو جملے ہیں جن میں مرزا قادیانی نہایت صفائی سے الہام الہی پھر بیان کرتے ہیں کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی خاص میرے نکاح میں ضرور آئے گی اسے نہ کوئی شرط روک سکتی ہے اور نہ کسی دوسری وجہ سے یہ بات ٹل سکتی ہے۔ وہ جملے یہ ہیں۔ (١) ”ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا“ یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نکاح میں موانع پیش آئیں گے مگر وہ سب موانع دور ہوں گے اور انجام کار وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ (٢) ”خدائے تعالیٰ تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔“ اس جملے میں بھی وہی مطلب ہے کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی اگرچہ درمیان میں موانع پیش آئیں۔ مگر انجام میں وہ سب موانع دور ہوں گے اور اس لڑکی سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوگا اسے نہ کوئی شرط روک سکتی ہے نہ اس کے شوہر کا گریہ وزاری اس کا مانع ہو سکتا ہے۔ اصل مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس الہام پر اور اس کے مطلب کے سمجھنے پر نہایت وثوق ہے۔ اس لئے وہ تمام جوابات غلط ہو جاتے ہیں جو اس جھوٹی پیشین گوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے دئے جاتے ہیں ان جوابات کو دیکھو اور اس بیان میں غور کرو۔ اس اشتہار کے بعد پھر کچھ مضمون ان کے خیال میں آیا اس لئے پانچ روز کے بعد ہی اس اشتہار کا تتمہ ١٥ جولائی ١٨٨٨ء کو شائع کیا (دلی اضطراب کا تقاضا بھی یہی ہے) تتمہ اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں جو یہ الہام درج ہے ”فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللہ اس کی تفصیل مکرر توجہ سے یہ کھلی ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمارے کنبے اور قوم میں سے ایسے تمام لوگوں پر کہ جو اپنی بیدینی اور بدعتوں کی حمایت کی وجہ سے پیشگوئی کے مزاحم ہونا چاہیں گے اپنے قہری نشان نازل کرے گا اور ان سے لڑے گا اور انہیں خبر نہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جو اس عقوبت سے خالی رہے۔ کیونکہ انھوں نے نہ کسی اور وجہ سے بلکہ بے دینی کی راہ سے مقابلہ کیا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٠) دسویں جولائی کے اشتہار میں مرزا قادیانی نے اپنے کنبے کے لوگوں کو بہت کچھ دھمکی دی تھی اس تتمہ میں اسی مضمون کا اعادہ زیادہ شاندار الفاظ میں کیا ہے جن سے ضعیف القلب زیادہ متردد اور پریشان ہو سکتے ہیں اس کے سوا اس تتمہ میں جس صفائی کے ساتھ منکرین پر عقوبت کو عام کیا ہے ایسے صفائی سے اصل اشتہار میں نہیں ہے اور بڑی وجہ اس کے اضافہ کی اس عبارت
سے یہ سمجھی جاتی ہے کہ اشتہار میں لڑکی کے والدین کو جو ڈرایا ہے اور خوف دلایا ہے وہ صرف نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اس کے بعد ان کے خیال میں آیا کہ لوگ اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ کون سی بزرگی اور تقدس ہے کہ اگر کوئی شخص انہیں لڑکی نہ دے تو خواہ مخواہ اس پر مصیبتیں آئیں جیسی وہ بیان کر رہے ہیں اے صاحب کوئی دینی وجہ نہ سہی لڑکی نہ دینے کے لئے اس قدر عذر کافی ہے کہ تم بوڑھے ہو تمہاری بیویاں اور جوان لڑکے موجود ہیں نوجوان کم عمر کنواری لڑکی کا تمہیں دینا دقت اور خطرہ سے خالی نہیں اس اعتراض کے اٹھانے کے لئے تتمہ میں یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مصیبتیں جو ان پر آئیں گی وہ ان کی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت کی وجہ سے آئیں گی فقط انکار ہی اس کا سبب نہیں ہے مگر یہ تو فرمائیں کہ ان کی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت اس انکار سے پہلے بھی تھی یا انکار کے بعد ہی وہ بے دین اور بدعت کے حامی ہوئے اگر پہلے سے تھی تو اس سے پہلے بھی کبھی انہیں اس قسم کی تنبیہہ اور تہدید کی ہوتی آپ کے خطوط سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے وہ اقارب انکار سے پہلے ایسے نہ تھے کیونکہ آئندہ وہ خط نقل کیا جائے گا جو اسی مرزا احمد بیگ کو لکھا ہے اس میں آپ نے انہیں مکرمی اخویم لکھا ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ کوئی بزرگ مقدس انسان کسی بے دین حامی بدعت کو اپنا مکرم اپنا بھائی نہیں کہہ سکتا ہے اس کے علاوہ اس کے مضمون میں یہ جملہ بھی ہے۔ ”آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خدا وند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل آپ سے بکلی صاف ہے“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٣)
یہ عبارت صاف کہہ رہی ہے کہ مرزا احمد بیگ پہلے بے دین اور حامی بدعت نہ تھے ورنہ کسی دیندار کا دل بے دین سے بکلی صاف نہیں ہو سکتا اور بزرگ کاملین تو مامور ہیں کہ بے دینوں کو برا سمجھیں ١؎ اور ان کے بے دینی کی وجہ سے ان کے دل میں غبار رہے بھائیو مرزا قادیانی خدائے علیم کے علم کو درمیان میں دے کر اپنی دلی صفائی ظاہر کر رہے ہیں جب مرزا قادیانی اس زور سے اپنی صفائی ان سے بیان کر رہے ہیں تو ان کے دیندار ہونے میں کیا شبہہ ہو سکتا ہے؟ البتہ مرزا قادیانی ہی کو دیندار نہ خیال کیا جائے اور خط کے مضمون کو دنیا سازی ہی پر محمول کیا جائے تو یہ مطلب ہو گا کہ دل میں تو انہیں بے دین
١؎ مرزا قادیانی کو دعائے قنوت کا وہ ٹکڑا بھی یاد نہ رہا جس کو روزانہ نماز میں پڑھنا مسلمانوں کا معمول ہے۔ ”وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ يَّفْجُرُکَ“۔
جانتے ہیں مگر انہیں نرم کرنے کیلئے اپنا مکرم اور اپنا بھائی کہا ہے اور اپنا دل ان سے صاف بتایا ہے یعنی یہ بین جھوٹ اس غرض سے بولے ہیں کہ مرزا احمد بیگ نرم ہو کر نکاح کر دینے پر راضی ہو جائیں اب اہل انصاف مرزا قادیانی کی ان باتوں کو ملاحظہ کرکے ان کی سچائی اور دینداری دیکھ لیں۔ افسوس ہے کہ قادیانی جماعت ایسی روشن باتوں کو بھی نہیں دیکھتی مرزا قادیانی کی صداقت اور عدم صداقت کے فیصلہ کے لئے صرف اسی پیشین گوئی کے حال میں غور کرنا کافی ہے اب مرزا قادیانی، احمد بیگ وغیرہ اپنے اقارب کی شکایت اس طرح کرتے ہیں۔ ”ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد اور کیا عورت مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دوکاندار خیال کرتے ہیں اور بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦١)
مرزا قادیانی! آپ کے کنبے والوں کا قصور نہیں ہے آپ اور آپ کے معتقدین یقین کرلیں کہ آپ کی حرکات، آپ کے سکنات، آپ کی باتیں، آپ کا چلن۔ اہل حق پر ظاہر کر رہا ہے کہ آپ فریب خوردہ یا بڑے دوکاندار ہیں۔ تحریروں میں اس قدر مبالغہ مخالفین پر اس قدر گالیوں کی بھرمار اور فحش اور بد زبانی کی بوچھاڑ کہ خدا کی پناہ اپنے آپے سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔ پھر ایک مرتبہ نہیں دس دس رسالوں میں اخباروں میں غل مچ رہا ہے اپنی جھوٹی باتوں کی تاویلوں میں اوراق سیاہ ہورہے ہیں پھر ایک تحریر میں نہیں متعدد رسالوں میں بار بار لکھا جا رہا ہے اور کسی میں کوئی قید بڑھا دی، اور کسی میں کچھ اور۔ کہیں کہہ دیا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے بھلا اس مبالغہ اور جھوٹ کا کچھ ٹھکانا ہے انبیائے عظام علیہم السلام اور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کی شان تو بہت اعلیٰ اور ارفع ہے یہ روش تو کسی متین دیندار کی بھی نہیں ہوسکتی ہاں بعض انبیاء سے کسیوقت ایسا ہوا ہے کہ تنگ
(ہمارے اس بیان سے ناظرین کو نہایت تعجب ہوگا کہ مرزا قادیانی قرآن مجید کا غلط حوالہ دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی حیرت ہے مگر میں صداقت کے اظہار پر مجبور ہوں اگر کوئی ذی علم قادیانی اس کا ثبوت چاہے تو میں موجود ہوں علانیہ طور پر سامنے آکر دریافت کرے پھر وہ حیرت کی نظر سے دیکھے گا کہ اس قسم کی غلط بیانیاں کس قدر انہیں دکھائی جاتی ہیں مگر ایک غلطی کے فیصلے کے بعد دوسری غلطی دکھائی جائے گی اگر خداداد انصاف ان کے دل میں ہے تو بہت جلد مرزا قادیانی کی غلطیوں کا انبار وہ اپنے سامنے دیکھیں گے اور متحیر ہوں گے۔
آ کر غصہ آ گیا کچھ کہہ دیا (وہ بھی اپنی ذاتی اغراض میں نہیں) پھر وہی بردباری اور اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِيْنَ پر عمل ہے اور تحمل سے کام لے رہے ہیں اور مخلوق کی ہدایت میں مشغول ہیں اور خود ثنائی اور خود ستائی سے علیحدہ ہیں اور قادر توانا محض اپنی قدرت سے ان کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے حیرت یہ ہے کہ قادیانی مولویوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ ان باتوں کو وہ بھی نہیں دیکھتے اور علانیہ جھوٹ کے گرویدہ ہیں سچ ہے اس غنی حکیم کی عجیب شان ہے ۔
یہ جو فرمایا کہ ”بعض نشانوں کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوتے۔“ اے جناب آپ نے کونسا نشان دکھلایا سوائے زبان درازی کے؟ اسی اشتہار میں آپ لکھ چکے ہیں کہ لڑکی کے قرابت مندوں نے آسمانی نشان مجھ سے مانگا میں نے اس کے لئے دعا کی وہ دعا قبول ہو کر تقریب قائم ہوئی کہ اس لڑکی سے نکاح ہو اس سے ظاہر ہوا کہ پیام نکاح سے پہلے کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور جس نشان کے لئے دعا قبول ہوئی اس کا یہ حال ہوا کہ مرزا قادیانی انتظار کرتے کرتے قبر میں تشریف لے گئے اور آغوش لحد سے ہمکنار ہو گئے مگر وہ نشان آسمان سے نہ اترا اور آسمانی نکاح جس کو خدائے تعالیٰ نے (معاذ اللہ) پڑھا دیا تھا جس کی نسبت بار بار توجہ اور مراقبہ کیا گیا اور یہی معلوم ہوا کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اور برسوں اس بات پر کامل یقین رہا آخر میں نا امید ہو کر یہ کہا گیا کہ وہ نکاح فسخ ہو گیا اب غور کرنے کا مقام ہے اہل انصاف فرمائیں کہ جب وہ نہایت عظیم الشان نشان جس کو مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا ظہور میں نہ آیا تو اور نشانوں کا ذکر فضول ہے کیونکہ اس نشان عظیم الشان کے غلط ہو جانے سے ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی بات مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق ہو گئی تو وہ امر اتفاقی ہوا۔ دنیا کے بہت امور کسی کے موافق کسی کے مخالف ہوا کرتے ہیں اور شب و روز اس کا تجربہ ہو رہا ہے پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ
(یہ تو فرمائیے کہ اگر ان کی بھلائی کیلئے اس پیشین گوئی کا ظہور ہوا تھا تو ان کے توبہ کرنے سے اس کا فسخ کیوں ہو گیا جیسا آپ حقیقۃ الوحی (ص١٣٣ خزائن ج٢٢ ص٥٧٠) میں کہہ رہے ہیں۔ توبہ کی وجہ سے تو ان پر بھلائی کا ظہور ہونا چاہئے تھا ذرا غور کر کے جوابدیجئے۔
نے انہیں کے بھلائی کے لئے انہیں کے تقاضے سے انہیں کے درخواست سے اس الہامی پیشگوئی کو جو اشتہار میں درج ہے ظاہر فرمایا ہے تا وہ سمجھیں کہ وہ درحقیقت موجود ہے اور اسکے سوا سب کچھ ہیچ ہے کاش وہ پہلے نشانوں کو کافی سمجھتے اور یقیناً وہ ایک ساعت بھی مجھ پر بدگمانی نہ کر سکتے اگر ان میں کچھ نور ایمان ہوتا اور انکشاف ہوتا"
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦١)
مرزا قادیانی کو اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس پیشگوئی کا الہام ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس کا ظہور نہ ہوتا اے صاحب ضرور ہوتا زمین و آسمان ٹل جاتے مگر پیش گوئی کا ظہور ہوتا۔ مگر دنیا نے برسوں انتظار کر کے دیکھ لیا کہ اس کا ظہور نہ ہوا اور یقین کر لیا کہ یہ الہام خداوندی نہ تھا ورنہ ضرور ہوتا کیونکہ خدائے تعالیٰ کا وعدہ تھا اور اس قادر کریم کا وعدہ ٹل نہیں سکتا ”مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ“۔ (ق ٢٩) اِسی اصدق الصادقین کا ارشاد ہے۔ پھر وہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی سب ضرورتوں کو خدائے تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہو گا بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا تھا جس کا نام محمود احمد ہو گا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔ یہ رشتہ جس کی درخواست کی گئی ہے محض بطور نشان کے ہے تا کہ خدائے تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو عجوبہ ہائے قدرت دکھلا دے اگر وہ قبول کریں تو برکت و رحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور ان بلاؤں کو دفع کر دیوے جو نزدیک چلی آتی ہیں لیکن اگر وہ رد کریں تو ان پر قہری نشان نازل کر کے ان کو متنبہ کرے“ خاکسار غلام احمد از قادیان۔ پانزدہم جولائی ١٨٨٨ء
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٢)
یہ کہنا کہ ہمیں اس رشتہ کی ضرورت نہیں تھی ایسی دنیا سازی ہے کہ اس کے راستی کے خلاف ہونے میں کوئی حق پسند تامل نہیں کر سکتا۔ بھائیو مرزا قادیانی نے جس کے لئے غالباً بیس برس کوشش کی اور کس کس طرح کی تدبیریں کیں اور ذلتیں اٹھائیں کیا یہ سب باتیں بلا ضرورت تھیں؟ میں بالیقین کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی حالت ان کے اقوال ان کے خطوط جو انہوں نے اپنے اقربا کو اس غرض سے لکھے ہیں ان کی ضرورت پر
١؎ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری باتیں بدلا نہیں کرتیں۔ ٢؎ یہ دوسرا مقام ہے جس میں تامل کرنے سے حکیم نور الدین صاحب کی توجیہ محض غلط ٹھہرتی ہے جس کا ذکر اس کے تتمہ میں کیا گیا ہے۔
کامل شہادت دیتے ہیں ذرا انصاف سے ملاحظہ کیا جاوے کہ مرتے دم تک اس کے نکاح کی ان کو تمنا رہی اور جس طرح عشاق کو معشوق کے وصال سے کبھی مایوسی نہیں ہوتی اور محال صورتوں میں بھی اسے یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ سب موانع کسی دن دور ہو جائیں گے اور ہم وصال سے کامیاب ہوں گے یہی حال مرزا قادیانی کا رہا ان کے خطوط جو آئندہ نقل کئے جائیں گے ان سے معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اس مدعا کے حصول کے لئے اپنے منکرین اعزہ سے کیسی کیسی منت کی ہے عقل صریح کہہ رہی ہے کہ بغیر ضرورت ایسی عاجزی اور منت صرف اس کے طلب میں کسی شریف بلند حوصلہ عالی ظرف سے کبھی نہیں ہو سکتی اب یہ خیال کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے باوجود ایسے عظیم الشان دعوٰی تقدس کے اس مضمون کے خط کیوں لکھے اسے میں کیا کہوں؟ اہل پنجاب تجربے کار اس کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں بعض نیک دل صالح بھی دلدادہ ہو کر پریشان ہوئے ہیں مگر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ جس منت اور زاری اور کچی دنیا داری کے خطوط مرزا قادیانی نے لکھے ہیں یہ مضمون نہ کوئی سچا دلدادہ لکھ سکتا ہے نہ کوئی بزرگ کسی دنیا دار کے سامنے ایسی خوشامدانہ الفاظ لکھ سکتا ہے انبیاء کرام نے دین کے لئے تدبیریں کی ہیں مگر ایسی مداہنت اور اہل دنیا کی خوشامد ہرگز نہیں کی خصوصاً ایسے لوگوں کی جنہیں خود بیدین کہہ چکے ہوں بزرگوں کی یہ شان ہرگز نہیں ہو سکتی یہ کہنا کہ یہ خواہش اس لئے ہے کہ منکرین کو اعجوبہ قدرت دکھائیں اس بات کا نمونہ ہے کہ مرزا قادیانی ہر طرح کی خواہش کو ایسے طرز سے پورا کرنا چاہتے ہیں کہ خواہش بھی پوری ہو اور مشتہرہ تقدس میں بٹہ بھی نہ آئے کوئی منصف یہ تو کہے کہ اگر ایک غریب قدیم رشتہ دار کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آجاتی تو کوئی اعجوبہ قدرت کا ظہور ہوتا بعض اوقات تھوڑے سے طمع سے یا اس خیال سے کہ ہماری لڑکی خوب آرام سے رہے گی بڑے بڑے خاندانی شرفاء اپنی لڑکیاں غیر خاندان میں دیتے ہیں جسے اکثر خاندانی نہایت معیوب سمجھتے ہیں پھر اگر مرزا قادیانی کی بے انتہا ترغیبوں اور ترہیبوں کی وجہ سے مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی دے دیتا تو اس میں اعجوبہ پن کیا ہوتا؟ اس کے علاوہ یہ تو فرمائیے کہ منکرین کو اعجوبہ قدرت دکھانا اسی پر منحصر تھا کہ ایک کم عمر کنواری لڑکی ان کے نکاح میں آئے کوئی دوسرا طریقہ قدرت الٰہی کے دکھانے کا نہیں تھا؟ قادیانی حضرات کچھ تو ان باتوں پر غور کریں پھر نظر لوٹا کر دیکھیں مرزا قادیانی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ
نے اولاد دی تھی اس کی بھی خواہش نہ تھی مگر اسکے بعد ان کے خیالات جو ان کے اشتہاروں سے ظاہر ہوتے ہیں وہ تو پورا یقین دلاتے ہیں کہ انہیں اولاد کی بھی خواہش تھی اور ہونا چاہئے تھی کیونکہ پہلی اولاد تو ان کے مخالف تھی اور انجام کار مرزا قادیانی نے انہیں عاق ہی کر دیا تھا تو ایک طرح گویا بے اولاد تھے ان اشتہاروں کا نقل کرنا تو کتاب کو طول دینا ہے صرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
لڑکے کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی
”٢٢ فروری ١٨٨٦ء میں بڑے زور شور سے ایک لڑکے کی بشارت کا دعویٰ کیا گیا اور بڑے بھاری اس کے لقب اور خطاب تھے کہ وہ اللہ کا نور ہے کَلِمَۃُ اللّٰہ ہے اور کیا ہے بس کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ہے۔
(تذکرہ ص ١٣٨۔ ١٣٩ طبع سوم ملخص)
اس کے بعد ١٨ اپریل کو ایک اشتہار اسی مضمون کا دیا اور کس کس طرح کے اس کے رنگ بدلے مگر باوجود اس زور کی بشارت اور پیشین گوئی کے کچھ نہ ہوا بجز اس کے کہ مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع ملا اور انہوں نے خوب مضحکہ اڑایا۔
مرزا قادیانی کی تمنائے دلی نے اس تضحیک پر بھی متوجہ ہونے نہ دیا اور پھر تیسرے ہی برس اسی مضمون کا اعلان دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دل اولاد کی خواہش سے لبریز ہے اور عمدہ اولاد چاہتے ہیں اور یہی غلبہ خواہش امید کی جانب کو اسقدر غالب کر دیتا ہے کہ اس کے ہونے کا انہیں یقین ہو جاتا ہے اور چونکہ ان پر قوت خیالیہ بہت غالب ہے اس لئے وہ اس کو الہام سمجھتے ہیں اور پیشین گوئی کہا کرتے ہیں اگر اتفاقیہ ان کا یہ خیال مشیت الہی کے مطابق ہو گیا تو پھر کرامت اور نشان کا غل مچ گیا اور اگر یہ خیال مشیت الہی کے خلاف ہے تو اس کا ظہور نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے اس کی تاویل میں باتیں بنانا شروع کیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ کئی پیشین گوئیاں ان کی غلط ہو گئیں۔ بھائیو! میں یہ نہیں کہتا کہ اچھی اولاد کی خواہش بری چیز ہے یا غلبہ خواہش سے امید کی جانب کا غالب ہو جانا اسے الہام الہی سمجھ لینا کوئی اختیار کی بات ہے مگر مکرر تجربہ کے بعد بھی فوراً اپنے خیالات کا اعلان نہایت زور وشور سے کرنا اور جب اس کا ظہور نہ ہو (یعنی دنیا میں اس کا آنا ایسا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر آیا جب بیٹا گویا خدا ہے تو باپ کا کیا مرتبہ ہو گا ناظرین خود سمجھ لیں۔
تو نہایت بے جا اور محض بے سرو پا تاویلیں کرنا اختیاری امر ہے اور بہت برا ہے کیونکہ مخالفین اسلام کو نہایت مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔
اور پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے کے جواب میں یہ کہنا کہ بعض وقت پیشین گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوتی ہے اور اس کے ظہور کا صحیح وقت معلوم نہیں ہوتا یا کسی وجہ سے اس کا ظہور ملتوی کر دیا جاتا ہے محض دھوکا یا کم علمی کا نتیجہ ہے انبیاء کرام کو وحی و الہام کے ذریعہ سے جو علم ہوتا ہے اس میں غلطی کا احتمال ہرگز نہیں ہو سکتا (شفائے قاضی عیاض اور اس کی شرح ملاحظہ ہو) البتہ اجتہاد ١ میں غلطی ہو سکتی ہے مگر ایسی غلطی بھی بہت کم ہوتی ہے اور جس وقت ہوتی ہے تو اس کے اعلان اور اثر مرتب ہونے سے پہلے انہیں آگاہ کر دیا جاتا ہے اور ایسی کوئی غلطی کسی نبی کی ثابت نہیں ہو سکتی کہ برسوں اس غلطی پر اصرار اور وثوق کامل کسی نبی کا رہا ہو اور اس کا اعلان دیتے رہے ہوں اور پھر وہ غلط ثابت ہوئی ہو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا یہ امر شان نبوت کے بالکل خلاف ہے یہ ایک طویل تحقیق ہے اگر خلیفہ المسیح صاحب ٢ چاہیں گے تو ہم انشاء اللہ محققانہ طور سے اس کو مفصل بیان کر دیں گے مگر پہلے وہ کسی نبی کی ایسی غلطی یقینی طور سے ثابت کر کے دکھائیں۔ قادیانی مؤلف القاء نے جو منہاج نبوت بیان کیا ہے وہ محض غلط ہے اس کی غلطی کے اظہار میں خاص رسالہ لکھا گیا ہے۔ (اس کا نام اغلاط ماجدیہ ہے جو مولانا عبداللطیف رحمانی کا مرتب کردہ ہے)
یہاں تک تو دہم جولائی کا اشتہار اور اس کے تتمہ کا مضمون اور اس کی کچھ شرح تھی اب میں آپ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس اشتہار کو آپ مکرر دیکھ کر یہ خیال کریں کہ کتنی باتیں ہیں جن کا یقین مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں کو دلانا چاہا ہے اور انجام میں وہ باتیں محض غلط ثابت ہوئیں۔ ان کی فہرست ملاحظہ کیجئے اور غور فرماتے جائیے
(١ خبر اور پیشین گوئی میں اجتہاد واقع نہیں ہوتا خبر میں اجتہادی غلطی یا نسخ بتانا سخت جہالت ہے اس کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں دیکھنا چاہئے ۔)
(٢ افسوس ہے کہ خلیفہ صاحب تو چل بسے اور اس کا جواب نہ دیا اب کوئی دوسرا ذی علم قادیانی اس کے جواب میں قلم اٹھائے پھر اپنی غلطی کا تماشا دیکھے حضرت نوح علیہ السلام کی ایک غلط فہمی اکثر قادیانی بیان کیا کرتے ہیں مگر وہ ان کی محض غلطی ہے حضرت نوح سے وحی کے معنے سمجھنے میں غلط فہمی ہرگز نہیں ہوئی اس کی تفصیل دوسرے مقام پر کی گئی ہے۔
کہ منہاج نبوت ایسی ہی ہوا کرتی ہے؟ جس حضرت کی یہ حالت ہو ان کی نبوت کی دلیلیں قرآن و حدیث میں مل سکتی ہیں؟ ذرا سمجھ کر جواب دو اب وہ باتیں ملاحظہ کیجئے (١) نشان آسمانی کے لئے دعا کی گئی وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی یعنی لڑکی کے اقربا نشان آسمانی (کوئی کرامت) مانگتے تھے مرزا قادیانی نے اس کے لئے دعا کی کہ کوئی نشان ظاہر ہو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کیا اور اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ وہ لڑکی ان کے نکاح میں آئے گی جب وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط تھا کہ دعا قبول ہوئی اب نکاح سے انحراف کرنے اور اس کے مزاحم ہونے پر مرزا قادیانی نے جو وعیدیں اور اپنے لئے بشارتیں اور محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کا قطعی فیصلہ جو اس اشتہار میں بیان کیا گیا ہے وہ ملاحظہ ہو (٢) لڑکی کا انجام نہایت خراب ہونا (٣) درمیان میں بھی اس کے لئے کراہت کے امر پیش آنا (٤) جس سے وہ بیاہی جائے گی اس کا اڑھائی سال میں مر جانا (اس پیشین گوئی نے مرزا قادیانی کو بہت پریشان کیا) (٥) لڑکی کے اقربا میں تفرقہ پڑنا (٦) ان پر تنگی کا آنا (٧) ان پر مصیبت کا آنا (٨) تین سال کے اندر لڑکی کے والد کا مر جانا۔
پندرہ برس سے زیادہ گزر گئے وہ لڑکی بخیر و عافیت ہے اور چین سے زندگی بسر کر رہی ہے اس کا شوہر بخیر و خوبی زندہ ہے اس کے اقربا پر تنگی اور مصیبت کچھ نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ کا کوئی قہری نشان ان پر نازل نہ ہوا اور یوں کسی کی نانی دادی کا مر جانا اور کسی قدر رنج و الم پیش آجانا دنیا ہر ایک کو ہوا ہی کرتا ہے۔ اگر ہوا ہو تو اسے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کا نتیجہ کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا پیشین گوئی کا نتیجہ اسی وقت کہہ سکتے ہیں کہ کوئی غیر معمولی اور نہایت تباہ کن اثر ظاہر ہوا کیونکہ وہ تتمہ مذکور میں کہہ رہے ہیں کہ ان پر قہری نشان نازل ہوگا قہری نشان وہی ہو سکتا ہے جس کے ظاہر ہونے سے بے اختیار لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ سختی اور خرابی فلاں پیشین گوئی کا نتیجہ ہے مگر ایسا نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا احمد بیگ کا مرنا اگر پیشین گوئی کے مطابق مان لیا جائے تو یہی ثابت ہو گا کہ سترہ باتوں میں سے ایک سچی ہوئی پھر ایسی پیشین گوئی کرنے والا تو شاید دنیا میں کوئی نہ نکلے گا کہ اس کی بہت سی پیشین گوئیوں میں ایک بھی صحیح نہ نکلے گو اتفاقیہ طور سے سہی۔
(٩) نویں وہ بات ہے جس کے وقوع کا اور سچ ہونے کا دعویٰ اس زور اور
استحکام سے کیا گیا ہے جس سے زیادہ زور لگانا اور مخلوق کو یقین دلانا ممکن نہیں ہے اشتہار مذکور میں دو جگہ تو اردو میں صاف صاف لکھا ہے۔ کہ خدائے تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ ٢ کی (یہ تیسرا موقع ہے جس میں مرزا قادیانی اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ محمدی میرے نکاح میں آئے گی۔) دختر کلاں (محمدی) کو اس عاجز کے نکاح میں لائے گا اور تیسری مرتبہ اسی مضمون کا اعادہ عربی الہام میں ہے پھر اسی مضمون کا اعادہ اسی کی تکرار مرزا قادیانی نے اشتہاروں میں اور خطوط میں اور رسالوں میں اسقدر کی ہے کہ میں اس کی صحیح تعداد اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔
٢٠ مئی ١٨٩١ء میں حقانی پریس لدھیانہ میں اشتہار نصرت دین طبع کرایا ہے اس میں لکھتے ہیں ”کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور اقرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدائے تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لاوے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩) اشتہار کا مضمون تو معلوم ہوا خطوط کا ذکر آئندہ آئے گا۔ جن میں مرزا قادیانی نے اس الہام کی سچائی پر قسم کھائی ہے مگر خدا کی رحمت واسعہ نے سچائی کو نہایت صفائی سے مخلوق پر ظاہر کر دیا اور مرزا احمد بیگ کی لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ دوسرے شخص سے اس کا نکاح ہوا اور اس وقت تک اسی کے نکاح میں ہے اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تین برس سے زائد ہو گئے۔
- (١٠) ان کا یہ مقولہ ہے کہ ”بے دینوں کو مسلمان بنائے گا“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
(١مرزا قادیانی کا یہ جملہ ھدیۃ الوحی کے اس جواب کو محض غلط ثابت کر رہا ہے کہ ظہور نکاح کے لئے شرط تھی اور شرط کے پائے جانے سے نکاح فسخ ہو گیا بھائیو! ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو۔ ٢حکیم نور الدین وغیرہ اپنے مرشد کے کلام کو غور سے ملاحظہ کریں۔ کہ کس صراحت سے اس منکوحہ کی تخصیص خاص اپنے لئے کر رہے ہیں اس کو مثل اتموا الصلوٰۃ کے ٹھہرانا کیسا اندھیر ہے تمام جماعت قادیانی کی آنکھوں پر کیسا پردہ پڑا ہے؟ جن دو چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہو جن کا فرق آفتاب کی طرح روشن ہو ان دونوں کو حکیم صاحب یکساں بتاتے ہیں افسوس صد افسوس۔ اس کی تفصیل تتمہ میں ہو گی۔ (٣ مرزا محمود اس قول کو دیکھیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں کہ اس کے بعد جو مرزا قادیانی نے بار بار کہا ہے کہ وہ لڑکی لوٹ کر میرے پاس آئے گی یہ پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ یہ مقولہ اس وقت کا ہے جب اس کے اول نکاح سے مایوس ہو چکے ہیں پہلا قول یہی ہے جو یہاں نقل کیا گیا اور آئندہ ازالہ الاوہام سے نقل کیا جائے گا۔
یعنی جب وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی تو بہت سے مخالف بے دین ایمان لائیں گے جب وہ لڑکی نکاح میں نہ آئی تو یہ لکھنا بھی غلط ہوا کہ اس کے نکاح میں آنے سے بے دین مسلمان بنیں گے (١١) اسی اشتہار کے آخر میں ہے ”گو اول میں احمق لوگ بد گوئی کرتے ہیں لیکن آخر میں خدا کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے“ اس کا غلط ہونا بھی اظہر من الشمس ہو گیا اس معاملہ میں نہ خدا کی مدد ان پر ہوئی نہ ان کے مخالف شرمندہ ہوئے بلکہ مرزا قادیانی شرمندگی کا داغ قبر میں اپنے ساتھ لے گئے۔
اور یہ بھی یقین کر لیں کہ اس معاملہ میں کوئی تاویل نہیں چل سکتی اور اگر ایسے صاف وصریح اور تاکیدی مضمون میں تاویلیں چلیں تو پھر دین کوئی چیز نہ رہے گا اور قرآن و حدیث کے صاف اور صریح معنی کو ہر نفس پرست جدھر چاہے گا پھیر لے جائے گا۔ (١٢) اسی اشتہار کا آخری جملہ یہ ہے ”اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی“ اس کا غلط ہونا تو آفتاب کی طرح چمک رہا ہے کہ ہر طرف سے صدا آ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی عظیم الشان پیشگوئی غلط نکلی اور مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے یہ بارہ باتیں تو ان کے اصل اشتہار میں تھیں۔
اب اس کے تتمہ کو دیکھئے اس میں پانچ باتیں اپنے مخالفین کے لئے کہتے ہیں
نمبر ١۔ ”اللہ تعالیٰ ان پر قہری نشان نازل کرے گا بھلا جس پر خدائے تعالیٰ کا قہری نشان نازل ہو اس کا کیا حال ہو گا۔“ نمبر٢۔ ”اللہ تعالیٰ اس سے لڑے گا“ نمبر٣۔ ”انہیں انواع و اقسام کے عذابوں میں مبتلا کرے گا“ نمبر٤۔ ”وہ مصیبتیں ان پر اتارے گا جن کی ہنوز انہیں خبر نہیں“ اس کے علاوہ اس کا بھی یقین دلانا چاہتے ہیں کہ نمبر ٥۔ ”ایک بھی ایسا نہ ہو گا جو اس عقوبت سے خالی رہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٠)
الغرض اشتہار مذکور اور اس کے تتمہ میں سولہ پیشین گوئیاں تھیں اور ایک قبولیت دعا کا اظہار تھا۔ یہ سترہ خبریں مرزا قادیانی نے دی تھیں اس میں سے سولہ کا غلط ہونا تو اظہر من الشمس ہو گیا البتہ ایک احمد بیگ کے مرنے میں گفتگو ہے اس کی تشریح حصہ دوم میں آئے گی اور دکھا دیا جائے گا کہ یہ پیشین گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔
مقام انصاف ہے جس کے بیسوں اشتہاروں میں سے ایک اشتہار میں سولہ
باتیں غلط ثابت ہوں اور صریح جھوٹ نکلیں اسے مجدد وقت اور نبی مانا جائے؟ بھائیو! کچھ تو غور کرو۔ اب بغرض اتمام حجت کہا جاتا ہے کہ قران مجید کے نصوص قطعیہ اور توریت مقدس سے ثابت ہے کہ اگر مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹا ہے پھر جس کے سولہ جھوٹ ایک اشتہار میں ایک معاملہ کے متعلق ثابت ہو جائیں تو اسے کیا کہا جائے گا انصاف سے اس کا جواب دو کیا ایسے شخص کو بزرگ اور مقدس کہہ سکتے ہیں؟
الحاصل صرف اس اشتہار کا مضمون اور اس کا نتیجہ مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لئے کافی ہے اسی سے ان کا سچا یا جھوٹا ہونا اظہر من الشمس ہو جاتا ہے اس اشتہار کے بعد مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کا ذکر اپنی مایہ فخر کتاب ازالۃ الاوہام ١ میں کیا ہے جس میں نہایت شدومد سے الہامی طور سے اپنا یقین مرزا قادیانی نے ظاہر کیا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔
میں اس کی عبارت نقل کرتا ہوں تاکہ ناظرین معلوم کریں کہ اس پیشگوئی کے سچے ہونے پر انہیں کس قدر وثوق تھا اور اسے کیسی باعظمت اور مہتم بالشان سمجھتے تھے چنانچہ تحریر کرتے ہیں۔
”خدائے تعالٰی نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد عرف گاماں بیگ ہوشیار پوری کی (١) دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن (٢) آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اور فرمایا کہ (٣) خدائے تعالٰی ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے اور (٤) ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس (٥) کام کو ضرور پورا کرے گا۔ (٦) کوئی نہیں جو اس کو روک ٢ سکے چنانچہ اس پیشینگوئی کا مفصل بیان معہ اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات
١اس کتاب کا نہایت عمدہ جواب مولانا محمد انوار اللہ خاں صاحب بہادر حیدر آبادی نے دیا ہے افادۃ الافہام اس کا نام ہے طالبان حق اسے ضرور ملاحظہ کریں (٢ اتنی عبارت میں مرزا قادیانی کے چھ جملے ہیں یہ چھوؤں جملے نہایت صراحت سے ظاہر کر رہے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح خاص مرزا قادیانی سے ہو گا اس کے ظہور کے لئے کوئی شرط نہیں ہے اگر کوئی شرط ہے تو وہ شرط ضرور پوری ہو گی اس کے بعد وہ نکاح میں آئے گی کوئی شرط یا کوئی دوسری بات اسے روک نہیں سکتی بھائیو! خدا کے لئے غور کرو اور اپنی جانوں پر رحم کر کے صریح کذب سے ہاتھ اٹھاؤ۔)
مقرر شدہ کے اور معہ اس کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی طاقت سے اس کو باہر کر دیا ہے اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طور پر طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو بلا شبہہ یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے اور یہ پیشگوئی ایک ١؎ سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جو ان کے حال سے خبر ہو گی وہ اس پیشگوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہو گا...... جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار سے ملے گا کہ خدائے تعالیٰ نے کیوں یہ پیشگوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے۔
(پھر لکھتے ہیں) اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری ٢؎ نہیں ہوئی تھی (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦۔ اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی اس وقت گویا پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں ٣؎ سکا
١؎ مرزا قادیانی کے ان جملوں پر تھوڑا تأمل کرنے سے یقین ہو جاتا ہے کہ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے کے بعد جو باتیں خلیفہ نورالدین صاحب اور دوسروں نے بتائی ہیں وہ محض غلط ہیں۔ ٢؎ یہ عبارت بھی مکرر دیکھی جائے کس صفائی سے آفتاب کی طرح روشن کر رہی ہے کہ اس پیشین گوئی سے مقصود یہی ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کے سوا کچھ اور مقصود بتانا محض غلط اور مرزا قادیانی کے کلام کے بالکل خلاف ہے اور اس الہام نے غلط فہمی کے احتمال کو بھی اٹھا دیا۔ ٣؎ یہ وہ الفاظ ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی کے مریدوں کو بڑے دھوکے میں ڈال رکھا ہے جو ان کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی اس کی نسبت یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا الہام تو صحیح ہے لیکن مرزا قادیانی کو اس کے معنے سمجھنے میں غلطی ہوئی مگر افسوس اس قدر خیال نہیں کرتے کہ جس الہام کی تشریح اور توضیح بار بار بوحی اور الہام کی گئی ہو جس میں غلط فہمی کے خیال کو غلط بتا دیا ہو اور اس کے مطلب میں شک کرنے کو تاکید سے منع کیا ہو پھر وہاں بھی غلط فہمی اور خطائے اجتہادی بتائی جائے کیسا غضب ہے اور کیسا صریح مرزا قادیانی کو جھوٹا کہنا ہے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
تب اسی حالت میں قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے سو اس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر‘ سو میں نے سمجھ لیا کہ یہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نو امیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہوگیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو خدائے تعالیٰ تازہ یقین دلانے کے لئے ان کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں نو امید کردیا تو نو امید مت ہو۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ٣٩٦۔٣٩٩ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥۔٣٠٦)
اب اس عبارت میں ذیل کے جملے ملاحظہ کیجئے۔
(١) کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا یعنی وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ (٢) خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ (٣) ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔ (٤) اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ (٥) کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔
ان پانچ جملوں کو دیکھا جائے کس زور سے اس کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی بیان کر رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اس کے ظہور کے لئے کوئی شرط نہیں ہے اس نکاح کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس بیماری میں جو اس پیشین گوئی کے ظہور میں تردد ہوا تھا
(بقیہ حاشیہ) مگر جماعت مرزائیہ کی عقل کیسی جاتی رہی ہے کہ انہیں سچا ثابت کرنے کے لئے ایسی باتیں بناتے ہیں کہ وہ باتیں بھی انہیں جھوٹا ثابت کرتی ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے۔ افسوس ان کی تیرہ درونی پر۔ اس کے سوا یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ غلط فہمی کی کوئی حد ہے اور اس کے معنے سمجھنے میں غلطی ہرگز نہیں کرسکتا۔ اس کی تشریح علامہ قاضی عیاضؒ نے شفا میں اچھی طرح کی ہے اگر علم ہو تو اس میں دیکھو اور بالخصوص ایسے الہام میں جو برسوں ہوتا رہا ہو اور اس کے صحیح سمجھنے پر بھی الہام ہوا ہو اور اس کے غلط فہمی پر مرزا قادیانی کی روسیاہی ہوتی ہو۔ میں نہایت استحکام سے یقینی طور پر کہتا ہوں کہ نبی سے ایسی غلطی کا ہونا غیر ممکن ہے کہ برسوں اس پر قائم رہے اور بڑے زور وشور سے اپنا یقین ظاہر کرتا رہے پھر آخر میں رسوا ہو۔ اگر ایسے الہام میں بھی غلط فہمی ہوسکتی ہے تو پھر اس کی کسی بات پر اعتبار نہیں ہوسکتا۔ جس الہام میں اسے نبی ہونے کی خبر دی گئی ہے اسمیں غلط فہمی نہ ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی جب دونوں الہام تکرار اور استحکام میں یکساں ہوں غرض یہ قول مرزا قادیانی کے سب دعووں کو غلط کر دیتا ہے۔)
وہ بھی دور کر دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ اس کے ظہور میں تردد نہ کر اس کا ظہور ضرور ہو گا مرزا قادیانی کو الہام کے نہ سمجھنے کا خیال ہوا تھا وہ بھی دور کر دیا گیا اب اس میں اجتہادی غلطی بتانا اس الہام کو متشابہات میں سمجھنا مرزا قادیانی کو جھوٹا کہتا ہے اگر کچھ خوف خدا ہے تو اس میں غور کرو۔ اگر زیادہ تمہارے سمجھ میں نہ آئے تو اسے بخوبی سمجھ سکتے ہو کہ یہ پانچوں جملے جو میں نے ابھی نقل کئے ہیں یہ تو علانیہ جھوٹے ہو گئے ان کے جھوٹے ہونے میں تو کوئی تردد نہ رہا اب تمہیں اختیار ہے کہ مرزا قادیانی کے ان جملوں کو جھوٹا کہو یا نکاح فسخ ہونے کو غلط سمجھو۔
چھٹا...... وہ الہام جھوٹا ہوا جو انہیں سخت بیماری میں ہوا تھا اور سولہ جھوٹوں کی تعداد پہلے بیان کی گئی ہے غرضکہ اس نکاح کے نہ ہونے سے بیان مذکور سے ٢٢ جھوٹ مرزا قادیانی کے کلام میں یہاں تک ثابت ہوئے۔
اب حضرات مرزائیوں کو اختیار ہے کہ انہیں مرزا قادیانی کی طرف منسوب کریں یا خدا کی طرف (نعوذ باللہ)
مگر یہ ضرور انہیں ماننا ہو گا جس طرح یہ یقینی الہامات مرزا قادیانی کے غلط ہو گئے اسی طرح ان کے مسیح موعود ہونے کا الہام بھی غلط اور محض غلط ہے دونوں الہاموں کی حالت یکساں ہے ان الہاموں کے غلط ہونے کے علاوہ ایک اور غلط بیانی لائق ملاحظہ ہے خیال فرمائیے اسی ازالۃ الاوہام کی منقولہ عبارت میں لکھتے ہیں کہ جو شخص اشتہار پڑھے گا وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالاتر ہے حالانکہ محض غلط ہے اشتہار نقل ہو چکا ہے اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ پیش گوئی کا مضمون انسانی طاقت سے باہر ہے کسی کا نکاح میں آ جانا کسی کا مرنا کسی کا پیدا ہونا کسی پر مصیبت کا آنا ایسی چیزیں ہیں جن کی خبر رمال اور نجومی وغیرہ کثرت سے دیا کرتے ہیں ان میں بعض جھوٹی ہو جاتی ہیں اور بعض سچی نکلتی ہیں۔
اب جماعت مرزائیہ اور خصوصاً خلیفۃ المسیح فرمائیں کہ اس اشتہار میں کون سی بات ایسی ہے جو رمال ۔ نجومی ۔ کاہن نہیں بتاتے۔
اے بھائیو! اب تو رمال ۔ نجومی کے پیش کرنے کی بھی ضرورت نہ رہی اب تو عیاں ہو گیا کہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا تھا وہ غلط تھا کیونکہ وہ پیش گوئی غلط ہو گئی اور
جتنے بیانات اس کے متعلق تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے۔ پھر کیا اب بھی کوئی سمجھ دار خدا سے ڈرنے والا مرزا قادیانی کو سچا مان سکتا ہے؟ جن حضرات کو مرزا قادیانی کے حالات سے زیادہ واقفیت حاصل کرنا ہو وہ آئندہ بیان کو غور سے دیکھیں۔
ناظرین جب مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کی نہ آسمان پر شنوائی ہوئی ہزاروں دعا کرتے کرتے تھک گئے نہ زمیں والوں نے ان کی طرف توجہ کی تو مجبور ہوکر بعض اعزہ کو اور لڑکی کے والد کو عاجزانہ خط لکھے جو لائق دید ہیں جن سے مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی پڑتی ہے۔ پہلا خط جو مرزا قادیانی نے اپنے سمدھی کو لکھا
مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں۔ اور دین کی پروا نہیں رکھتے آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر بڑی عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر
(١ نکاح کے اصل کرنے والے لڑکی کے باپ مرزا احمد بیگ ہیں اس لئے اصل دشمن وہی ہوئے اور دین اسلام کے دشمنوں میں اول نمبر ان کا ہوا مگر آئندہ ناظرین ملاحظہ کریں گے کہ مرزا قادیانی انہیں اپنا مکرم لکھتے ہیں اور بہت کچھ خوشامد کی باتیں بتاتے ہیں۔)
لیا ہے کہ اس کو خوار ١ کیا جائے ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں اب مجھ کو بچا لینا ٢ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچا لے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا؟ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی؟ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ٣ ہو اور اس کا رو سیاہ ہو خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے رو سیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو خدائے تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی صاحبہ نے
١ مرزا قادیانی کے اس کلام سے ظاہر ہوا کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا ان کی خواری اور ذلت اور روسیاہی کا باعث ہوگا جب وہ لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی تو جنہیں مرزا قادیانی دین اسلام کے سخت دشمن بتاتے ہیں وہ کامیاب ہوئے اور ان کے مقابلہ میں مرزا قادیانی ذلیل و خوار اور روسیاہ ہوئے اب غور سے دیکھا جائے کہ یہ ذلت و خواری کس کی طرف سے ہوئی اس کا نہایت سچا اور صاف جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ روسیاہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی کیونکہ اول اس کی طرف سے پیام نکاح کا الہام ہوا پھر یہ الہام ہوا کہ وہ ہر طرح تیرے نکاح میں آئے گی۔ ایسے پختہ وعدہ کے بعد بھی وہ نکاح میں نہ آئی اور خدائے تعالیٰ نے اپنا پختہ وعدہ پورا نہ کیا اس سے قطعاً ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ذلیل و خوار کیا اور بخوبی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی خدا کے پیارے اور اس کے رسول ہرگز نہ تھے۔ ٢ یہ جملہ نہایت قابل غور ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو خدائے تعالیٰ کا نہایت پیارا اور اس کا کمال مقرب بتاتے ہیں جس کے دعا قبول کرنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ خاص طور سے کر چکا ہے وہ نہایت عاجزی اور بے کسی سے کہہ رہا ہے کہ اگر میں اللہ کا ہوں گا یعنی اس کا پیارا اور مقرب ہوں گا تو وہ مجھے بچا لے گا مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں بچایا اور مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب روسیاہ ہوئے اور یہ روسیاہی خدا کی طرف سے ہوئی کیونکہ اس نے نہیں بچایا کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی نبی نے اس طرح کیا ہو اور وہ سچا مانا گیا ہو مگر مرزائی جماعت اندھی بن کر مرزا کو مان رہی ہے۔ ٣ اس سے صاف مفہوم ہے کہ صرف نکاح پر آپ کی خواری مرتب تھی جو ہو چکی ہے ہمارا یہی مقصد ہے۔
جوش میں آخر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے؟ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے بے شک وہ طلاق دیوے ہم راضی ہیں ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے؟ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے جو چاہے کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے مرتا مرتا رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں بے شک میں ناچیز ہوں ١؎ ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہو گا تو دوسری طرف ٢؎ فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہو گا ٣؎ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں
١؎ مرزا قادیانی کی اس صورت حال کی زبان پر یہ شعر ہو گا ؎
کیا کیا مصیبتیں نہ سہیں تیرے واسطے
٢؎ مرزا قادیانی کا یہ تقدس دیکھا جائے کہ صرف اپنی خواہش نہ پوری ہونے کی وجہ سے بلا قصور اپنی بہو کو طلاق دلواتے ہیں اور دھمکی دے کر اسے مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ٣؎ یہ جملہ مرزا قادیانی کا لائق غور ہے کیسی عاجزی سے اپنے سمدھی کی منت کر رہے ہیں کوئی اہل اللہ کسی دنیا دار سے اپنے مطلب کے لئے ایسی عاجزی نہیں کر سکتا بالخصوص وہ ملہم جس کو الہام الٰہی نے یقین دلا دیا ہو کہ یہ نکاح ضرور ہوگا۔
اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں واللہ اعلم۔
راقم خاکسار غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥ تا ١٢٧)
جن کے نام یہ خط لکھا گیا ہے وہ مرزا قادیانی کے سمدھی ہیں اور ان کی بیوی یعنی مرزا قادیانی کی سمدھن احمد بیگ کی بہن ہیں ان کی بیٹی مرزا قادیانی کے بیٹے فضل احمد کو بیاہی ہے اس خط میں کئی باتیں قابل غور ہیں جن سے ان کی حالت کا کامل فیصلہ ہوتا ہے۔
- (١) جو لوگ مرزا قادیانی کے اس نکاح کے مخالف ہیں اور نکاح نہیں کرتے یا
کرنے سے روکتے ہیں مثلاً احمد بیگ اور اس کے خاص اعزہ وہ اسلام کے دشمن ہیں۔
- (٢) مرزا قادیانی نے مکرر ظاہر کیا کہ محمدی سے نکاح نہ ہونے پر ان کی ذلت و
خواری موقوف ہے یعنی اگر محمدی میرے نکاح میں نہ آئی تو میں (مرزا قادیانی) ذلیل اور روسیاہ ہوں گا۔
اس کلام سے نہایت روشن ہے کہ اس پیشین گوئی کے لئے کوئی ایسی شرط نہ تھی جس کی وجہ سے مرزا قادیانی پر روسیاہی کا داغ نہ آئے اگر چہ پیشین گوئی پوری نہ ہو الغرض جب وہ عورت نکاح میں نہ آئی تو مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب ذلیل و روسیاہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں روسیاہی سے نہ بچایا۔
- (٣) احمد بیگ نے اپنی لڑکی کا رشتہ کر دیا عنقریب وہ نکاح کرنے والے ہیں۔
لے ناظرین غور کریں ابھی تو رشتہ توڑنے پر خدا کا خوف دلا چکے ہیں اور ابھی خود رشتہ توڑنے پر صرف آمادہ ہی نہیں بلکہ قسم کھا رہے ہیں برائے خدا حضرات مرزائی فرمائیں کہ رسول اللہ کا یہی شیوہ ہے منہاج نبوت اسی کو کہتے ہیں؟ کہیں پر تو خوف خدا کر کے مرزا قادیانی کی بے عنوانیوں کو دیکھیں اور اپنی جانوں پر رحم فرمائیں۔
اب مرزا قادیانی اس کی بہن اور اس کے بہنوئی سے بار بار نہایت زور سے تحریک کرتے ہیں کہ اس کا نکاح نہ ہونے دو اور مقابلہ اور لڑائی کر کے اسے روک دو اور ان کے قول و قرار کو فسخ کرا کے مجھ سے نکاح کرادو۔ اب یہاں مرزا قادیانی کئی امر نامشروع کے مرتکب ہوئے۔
- (١) یہ کہ بہن کو بھائی سے لڑنے کے لئے کہتے ہیں۔
- (٢) یہ کہ ایک بھائی مسلمان ایک شخص سے قول و قرار کر چکا ہے اور اس کے
ایفا کے لئے وہ تیار ہے مرزا قادیانی اس پختہ اقرار کو توڑ دینے اور تڑوا دینے پر اصرار کر رہے ہیں اور بالتصریح اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا (بنی اسرائیل ٣٤) کے خلاف تعلیم دے رہے ہیں۔ البتہ جماعت مرزائیہ اپنے مذہب کے بموجب یہ کہہ سکتی ہے کہ جب خدا ہی اپنے عہد و وعدہ کا پابند نہیں نہایت پختہ عہد کر کے پورا نہیں کرتا پھر اس کا رسول بھی اسی کا پیرو ہے ع وزیر چنیں شہر یارے چناں۔
- (٣) بیٹے کا عاق کرنا بھی مرزا قادیانی کے نزدیک کوئی شرعی بات ہے جس کی
وجہ سے وہ بیٹا وراثت سے محجوب ہو جائے حالانکہ شریعت محمدیہ میں عاق کرنا موانع ارث میں نہیں ہے اب یا تو مرزا قادیانی شرع محمدی کے مسئلے سے ناواقف تھے یا شریعت محمدیہ کے خلاف جدید حکم نافذ کیا اور بیٹے کے حقوق کو مانع ارث ٹھہرایا۔
- (٤) رشتہ ناتہ کے توڑنے سے دوسروں کو منع کیا اور خلاف حکم خداوند ٹھہرایا۔ مگر
خود رشتہ ناتہ توڑنے کے لئے قسم کھاتے ہیں یعنی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کے لئے رشتہ توڑ دیں گے اگر تم خلاف شریعت امر کرنے میں ہمارے معین و مددگار نہ ہو گے۔
- (٥) ان باتوں کے علاوہ اب میں حق پرستوں کی خدمت میں منت سے کہتا
ہوں کہ اس مضمون میں غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی اپنے سمدھی کو کیسی اسلامی غیرت دلا رہے ہیں۔ اپنی رسوائی دکھلا رہے ہیں اور پھر اس نکاح کے روکنے کی تدبیریں بتا رہے ہیں پھر مضطرب ہو کر عاجزی سے فرما رہے ہیں کہ آپ کو لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو خط لکھیں کہ دوسری جگہ عقد کرنے سے باز آجائے اس اضطراب اور عاجزی کو دیکھئے اور اس الہام کے دعوے کو ملاحظہ کیجئے جس پر قسم کھا رہے ہیں اور نہایت شدت اور بے تہذیبی کے ساتھ اپنے جزم و یقین کا اعلان کر رہے ہیں پھر ایک بار نہیں مکرر سہ کرر بار بار
بھائیو! کیا اب بھی شبہ رہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی الہام کے دعوے میں سچے نہیں ہیں! انہیں الہام ہرگز نہیں ہوا یہاں ہمیں کوئی پہلو نہیں ملتا ہے جس سے ہم مرزا قادیانی کو قصداً غلط بیانی سے بچائیں بلکہ اس کہنے پر مجبور ہیں کہ لوگوں میں نبی بننے کو اور ڈرا کر مطلب نکالنے کو الہام کا دعویٰ زور و شور سے کیا اور خانگی طور سے عاجزی اور مطلب برآری کی تدبیریں کیں۔
سمجھتے ہوں گے کہ خانگی خطوط کو کون دیکھے گا اور کس پر ظاہر ہو گا؟ اعلان کو ہر شخص دیکھے گا۔ پھر اگر ان دھمکیوں اور تدبیروں سے مطلب نکل آیا تو کام بن گیا اور لوگوں میں پیش کرنے کو نبوت کی ایک دلیل ہاتھ آگئی اس لئے پہلے سے اسے عظیم الشان نشان مشہور کیا انہیں اپنی تدبیروں پر یقین تھا کہ میں کامیاب ہوں گا اور ظاہر ہے کہ لڑکی کے والدین قرابت مند تھے اور بقول انہیں کے مرزا قادیانی کچھ چوہڑے چمار نہیں تھے صاحب ثروت صاحب جاہ تھے پھر انکار کی کیا وجہ۔
مگر خدائے تعالیٰ کو بہت سی خلقت کو گمراہی سے بچانا تھا اس لئے ان کے قرابت مندوں کے ایمان کو پختہ کر دیا وہ کسی لالچ میں نہ آئے کسی دھمکی سے نہ ڈرے۔
- (٦) یہ امر لحاظ کے لائق ہے کہ بعض امور شریعت محمدیہؐ کے خلاف کر رہے ہیں
اور دوسروں کو خلاف کرنے کا اشتعال دے رہے ہیں ملاحظہ کیجئے۔
اپنی سمدھن کو کہتے ہیں کہ اگر سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتیں تو کیوں نہ سمجھتا بھائی سے سخت مقابلہ کرنے کے لئے اشتعال ہو رہا ہے۔
پھر سمدھی صاحب کو لکھتے ہیں کہ اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیں۔ بھلا یہ کوئی انسانیت ہے کہ بھائی اپنی لڑکی کا رشتہ کر چکا نکاح کے لئے عہد و پیماں مستحکم ہو لیا یہاں تک کہ تاریخ نکاح کی معین ہو گئی اب بھی سمدھن صاحبہ کو
(١ اس پر طرہ یہ ہے کہ کچھ تھوڑی بہت رمل سے کام لیا ہو گا۔ زائچہ میں پہلی شکل (لحیان) کی نکلی قیاس غالب کر لیا کہ مقصود براری پر دال ہے اتنا غور نہ کیا کہ زائچہ کی دسویں شکل میں (نقی) موجود ہے۔ جو پہلی شکل کے سعادت کا سخت مخالف ہے۔ حضرت جی منسوبات رمل میں بھی پھسڈی رہے تابہ الہام ربانی چہ رسد۔ ابوالمجد عبدالرحمن) (٢ مرزا قادیانی کے جب رشتہ کا پیام کو احمد بیگ نے منظور نہیں کیا اس نے سلطان محمد سے نکاح ٹھہرایا اس کے بعد پھر اس سے پیام نکاح کرنا خلاف شریعت ہے۔)
بڑے زور سے اشتعال ہو رہا ہے کہ بھائی سے لڑے اور اس عہد و پیماں کو توڑوا دے اور ان سے نکاح کرا دے۔
بھائیو! کچھ تو انصاف کیجئے کیا نبی کی یہی شان ہے اور مسیح موعود کی یہی پہچان ہے؟ کہ بھائی بہنوں میں لڑائی کراوے اور ایک شخص سے قول و قرار شرعی ہو چکا ہے اور حسب دستور طرفین کا کچھ صرف بھی ہو لیا ہے یہ سب کچھ خیال نہ کرے اور عہد و پیماں شرعی کو توڑ کر آپ سے نکاح کرا دے۔
اے مرزائیو! منہاج نبوت یہی ہے انبیا کی یہی رَوِش ہے ذرا خدا کا خوف کر کے اس کا جواب دو! پھر اسی پر قناعت نہیں ہے کچھ اور بھی فرما رہے ہیں کہتے ہیں ”کہ اگر ایسا نہ کرو گی تو مجھے خدا کی قسم ہے کہ ہمیشہ کے لئے تمامی رشتے ناطے (ناتے کی خرابی ہے) توڑ دوں گا اور فضل احمد اگر میرا وارث بننا چاہتا ہے تو آپ کی لڑکی کو گھر میں نہ رکھے گا“ یعنی طلاق مغلظہ دے دے گا۔
میرے پیارے بھائیو! ذرا غور کرو کہ ایک عورت کی خواہش میں یا اپنی پیشین گوئی کے سچا کرنے کے لئے قطع رحم پر قسم کھائی جاتی ہے۔ میاں بی بی میں جدائی کرائی جاتی ہے پھر کن میاں بیوی ایک لائق بیٹا اور نیک بخت عفیفہ بہو اور پھر بلاقصور اگر بہو کا ماموں یا دوسرا شخص کہنا نہیں مانتا تو اگر قصور وار ہیں تو وہ ہیں غریب بہو اور بیٹے نے کیا کیا؟ جو ان میں جدائی کرائی جاتی ہے اگر بیٹا جدا نہ کرے تو اسے وراثت سے محرومی کی دھمکی دی جاتی ہے کیا نبی یا برگزیدہ خدا سے ایسا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں یہ وہ لائق نفرت کام ہے جسے شریعت اور عقل دونوں نہایت برا بتاتے ہیں۔
(بڑا لطف تو یہ ہے) کہ اسی خط میں لکھ رہے ہیں ”کہ پرانا رشتہ مت توڑو خدا سے ڈرو“ اس جملہ سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی رشتہ توڑنا گناہ ہے بری بات ہے اس لئے خدا سے ڈرا رہے ہیں مگر خود اسی گناہ کے ارتکاب پر تیار ہیں اور اپنے خاص ذی رحم پر ظلم کرنے پر آمادہ ہیں۔
اے حق کے جاں نثارو! میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا کے برگزیدہ جن کو وہ
١؎ یعنی بے چارہ فضل احمد ناکردہ گناہ مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور نیک بخت عزت بی بی اپنی بہو۔
اپنے خطاب اور الہام سے نوازتا ہے وہ ایسے ہی ناخدا ترس ہوتے ہیں؟ ایسے شخص حضرت رحمۃ للعالمین کا ظل ہو سکتے ہیں؟ جس کا دعویٰ مرزا قادیانی کر رہے ہیں ذرا سوچ کر فرمائیے۔ یہ خط تو سمدھی صاحب کے نام تھا ایک دوسرا خط اسی روز سمدھی صاحبہ کو بھی اسی مضمون کا لکھا ہے اسے بھی ملاحظہ کیجئے۔
دوسرا خط سمدھن صاحبہ کے نام
”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا“ اس لئے نصیحت ١؎ کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین٢؎ صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا نکاح کسی دوسرے سے ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق٣؎ کر دوں گا اور پھر وہ میرے وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے
(خود تو خلاف شریعت رشتہ ناتہ توڑنے پر آمادہ ہیں اور دوسروں کو نصیحت ہورہی ہے۔ ٢؎ جناب مسیح موعود مہدی مسعود نے اس گناہ میں اپنے خلیفہ کو بھی شریک کرلیا۔ ٣؎ بیٹے کو عاق کرنے اور وراثت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا اور اس پر قسم کھانا۔ مرزا قادیانی کے جدید شرعی احکام ہیں۔ جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہیں)
بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدائے تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔
(راقم مرزا غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء (کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧))
اس خط کا مضمون بھی وہی ہے جو اس سے قبل کے خط میں ہے مگر مجھے یہ دکھانا ہے کہ انصاف پسند حضرات مرزا قادیانی کی تحریر کو اور اس کے مضمون کو غور سے ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تحریر عامیانہ معمولی اہل غرضوں کی سی ہے یا اس میں کچھ بھی تہذیب اور متانت اور تقدس کا شائبہ ہے؟ کیا آپ خیال کر سکتے ہیں کہ کوئی مہذب دیندار صاحب متانت بار بار اس طرح قسم کھا سکتا ہے جس طرح مرزا قادیانی کھا رہے ہیں اور وہ بھی کسی جائز امر پر نہیں بلکہ رشتہ ناتہ توڑنے پر جو شریعت محمدیہ میں جائز نہیں ہے اور خود بھی اسے برا بتاتے ہیں بیٹے کو محروم الارث کر رہے ہیں اس وجہ سے کہ اگر وہ بلا قصور اپنی بیوی کو طلاق نہ دے اور طلاق بھی وہ جو شریعت محمدیہ میں مکروہ ہے یعنی تین طلاق ایک ہی مرتبہ دینا۔ کوئی قادیانی کسی نبی کی یا کسی بزرگ کی سوانح عمری میں ایسی باتیں دکھا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں تقدس کی شان ایسی باتوں سے منزہ ہے یہ بھی ملاحظہ کیجئے کہ ان خطوں سے مرزا قادیانی کا اضطراب کس قدر ظاہر ہوتا ہے اولیاء اللہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلب مطمئنہ عنایت فرمایا ہے انہیں ایسے اضطراب سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ اب مجھے اس قدر اور کہنا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس خط میں چند حکم نافذ کئے ہیں جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہیں۔
(پہلا یہ کہ) اگر احمد بیگ اپنی لڑکی سے ہمارا نکاح نہ کرے تو فضل احمد ہمارا بیٹا ان کی بھانجی (عزت بی بی کو) طلاق دے دے یہاں میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ اس کہنے سے فضل احمد پر طلاق کا دے دینا فرض یا واجب ہو گیا تھا یا نہیں؟ اگر فرض یا واجب ہو گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بلا قصور کسی وقت اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دے دینا فرض ہو جاتا ہے۔ یہ حکم شریعت محمدیہ کے خلاف ہے اور اگر فرض و واجب نہ ہوا تھا اگر فضل احمد اس پر عمل نہ کرے اور اپنی بیوی کو طلاق نہ دے تو گنہگار نہیں ہو سکتا اور کسی سزا کا مستحق ہو سکتا
ہے پھر اسے ترکہ سے محروم کر دینا شریعت محمدیہ کے خلاف ہے بہر حال دونوں صورت میں مرزا قادیانی کے کلام سے ایک حکم ثابت ہوتا ہے جو شریعت محمدیہ کے خلاف ہے اور ایسا حکم ہے کہ کوئی سلیم العقل شریف الطبع اسے پسند نہیں کر سکتا۔
(دوسرا یہ کہ) اگر فضل احمد طلاق نہ دے تو عاق کیا جاوے اور ایک پیسہ وراثت کا اسے نہ ملے اس پر بہت زور ہے اور ایک ہی خط میں مکرر لکھا ہے اس حکم کی نسبت مجھے یہ کہنا ہے کہ بیٹے کو عاق کرنا اور وراثت سے اسے محروم کر دینا شریعت محمدیہ کا مسئلہ تو نہیں ہے کیا موانع ارث میں عاق کرنا بھی کوئی مانع ہے؟ ہر گز نہیں پھر مرزا قادیانی خلاف شریعت محمدیہ یہ تشریعی حکم اپنی طرف سے دے رہے ہیں۔
ان دونوں حکموں کا حاصل یہ ہوگا کہ اگر بیٹا اپنی بیوی کو بلاقصور طلاق نہ دے تو اولاد کے لئے جو حکم خداوندی ہے اسے ہم نہ مانیں گے اور بیٹے کو محروم الارث کر دیں گے اس پر بہت زور ہے اور بار بار جتاتے ہیں حضرات مرزائی انصاف سے فرمائیں کہ ایسے ہی احکام منہاج نبوت کے مناسب ہیں؟ یہاں سے مرزائیوں کا یہ کہنا بھی غلط ہو گیا کہ نبوت تشریعی ختم ہو چکی ہے مرزا قادیانی کی نبوت ظلی ہے تشریعی نہیں ہے حالانکہ بیان مذکور سے معلوم ہوا کہ مرزا جی نے تشریعی حکم نافذ کئے اور جب کسی قسم کی نبوت ختم نہیں ہوئی تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ حضرات مرزائی جناب رسالت حضرت سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو (نعوذ باللہ منہا) خاتم النبیین نہیں مانتے۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ اس خط کا آخری جملہ یہ ہے کہ جس دن (محمدی کا) نکاح ہوگا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔
یہ بالکل غلط ثابت ہوا کیونکہ اس لڑکی کا نکاح دوسرے سے ہو گیا اور ان کے بیٹے (فضل احمد) نے اپنی بیوی (عزت بی بی کو طلاق نہ دی) یہاں سے ظاہر ہے کہ محض قیاس سے مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ جس دن اس لڑکی کا نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا اور قیاس کی وجہ ظاہر ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا کہنا مانے گا وراثت کی طمع بھی کچھ ہوگی اس وجہ سے مرزا قادیانی نے حکم لگا دیا مگر وہ قیاس غلط نکلا۔
اس کی تفصیل تیسرے حصہ میں کی گئی ہے۔ ناظرین ضرور ملاحظہ کریں۔
بھائیو! اس پر قیاس کر لو کہ مرزا قادیانی نے جس طرح یہاں قیاس سے خبر دی تھی ایسی ہی اور خبریں اور پیشگوئیاں کیا کرتے ہیں اگر اتفاقیہ کوئی بات ہو گئی اسے آسمانی نشان کہنے لگے اور جو نہ ہوئی تو تاویلیں چلیں اگرچہ وہ کیسی ہی بے تکی ہوں، ماننے والے مان ہی لیتے ہیں عیاں را چہ بیاں۔ مرزائیوں کی حالت معائنہ کر لی جائے کیسی کیسی پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور ایسی صریح غلط ہوئیں کہ جائے دم زدن نہ رہی مگر حضرات مرزائی ایسی صریح حق بات کو بھی نہیں مانتے اور محض بیہودہ باتیں بناتے ہیں۔ مذکورہ خطوط کے بعد بھی مرزا قادیانی نے اس لڑکی کے والد کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں توجہ کے لائق یہ امر ہے کہ مرزا احمد بیگ کو کس ادب اور تعظیم کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے اور اس لڑکی کے نکاح میں آنے کا وثوق کس زور کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ناظرین ملاحظہ کے ساتھ اس کے حواشی بھی ملاحظہ کرتے جائیں۔ تیسرا خط مرزا احمد بیگ کے نام
مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آن مکرمی کی خبر سنی تھی تو بہت درد و رنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا۔ اور خط نہیں لکھ سکتا تھا اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرماوے۔ اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ
(اس پر نظر رہے کہ مرزا قادیانی مرزا احمد بیگ کو اپنا مکرم لکھتے ہیں اور متصل دو سطروں میں اسی خطاب سے احمد بیگ کو مخاطب کیا ہے اور فہمیدہ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ کوئی ذی علم متین کسی معمولی شخص کو اس لفظ سے مخاطب نہیں کرتا اور جسے علم کے علاوہ کمال تقدس اور صداقت کا دعویٰ ہو وہ ہرگز ایسا نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کی صداقت و تقدس کے بالکل منافی ہے۔
غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل ١؎ بالکل صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر و برکت چاہتا ہوں میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل ٢؎ کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے جب ایک مسلمان خدائے تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے سو مجھ کو خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ٣؎ ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدائے تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو بتلایا کہ ٤؎ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب ٥؎ سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ
١؎ اس کہنے سے معلوم ہوا کہ احمد بیگ بدعتی اور بے دین نہ تھے بلکہ نہایت سچے مسلمان اور نیک تھے کیونکہ کسی بزرگ کا دل کسی بے دین بدعتی سے بالکل صاف نہیں ہوسکتا پھر بالخصوص وہ بزرگ جو ہدایت اور اصلاح خلق کے لئے مامور ہو۔ ٢؎ اس جملہ میں مرزا قادیانی اپنی دلی محبت احمد بیگ سے اس قدر ظاہر کرتے ہیں جس کی انتہا نہیں اس جملہ کو پہلے دو جملوں سے ملا کر دیکھا جائے تو نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک احمد بیگ صرف رشتہ دار ہی نہیں ہیں بلکہ نہایت با وقعت اور اس لائق ہیں کہ ایک اعلیٰ مرتبہ کا بزرگ ان سے محبت رکھے حق پسند حضرات اس بات کو ملاحظہ کر کے علی شیر بیگ کے خط کو ملاحظہ کریں مع اس کی شرح کے اور مرزا قادیانی کی دنیا سازی کو دیکھیں کیا کوئی صادق خدا ترس ایسا لکھ سکتا ہے؟ اور خلاف واقع اور خوشامدانہ باتیں اس کی زبان قلم پر آ سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں مگر مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں جس سے ان کی حالت بخوبی ظاہر ہو رہی ہے۔ ٣؎ یہاں اس الہام کے سچے ہونے کی تاکید خدا کی قسم سے کی گئی اور قادر مطلق اس کی صفت غالباً اس لئے بیان کی تاکہ مخاطب سمجھے کہ اگر میں اس کی جھوٹی قسم کھاؤں گا تو وہ قادر خدا جانے میرا کیا حال کرے گا اس قسم کے ساتھ یہاں بھی وہی صراحت ہے کہ انجام کار اس لڑکی کا رشتہ مرزا قادیانی سے ہوگا۔ ٤؎ اس جملہ کا مضمون بھی غلط ثابت ہوا کیونکہ وہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی اور اپنے شوہر کے ساتھ اچھی طرح رہی کوئی بات ایسی ظہور میں نہیں آئی جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ اس رشتہ کا ہونا نامبارک ہوا۔ ٥؎ یہ عاجزی اور مودبانہ الفاظ لائق ملاحظہ کے ہیں۔ جب الہامات ختم ہوئے اور ترغیب و تہدید بھی پورے طور پر ہو چکی اور کچھ اثر نہ ہوا تو اب عاجزی اور انکساری سے کام نکالنا چاہا اور وہ الفاظ معمولی شخص کے لئے استعمال کئے جو کسی بزرگ کے مقابلہ میں لکھے جاتے )
انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا۔ اور خدائے تعالٰی ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمیں اور آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشین گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوں گے کہ جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس کی طرف نظر لگی ہوئی ہے۔ اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو لیکن یقیناً خدائے تعالٰی ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔
میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشین گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے۔
اور یہ عاجز جیسے (لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰه) پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالٰی کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان ٣؎ لاتا ہے اور آپ
١؎ یہاں بھی مرزا قادیانی اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی کیونکہ جس پیشین گوئی کے جھوٹا ہونے کے پادری منتظر تھے وہ یہی پیشین گوئی تھی کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اسی کے جھوٹا ہونے پر ان کے پلہ بھاری ہونے کا مدار تھا اسی کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ پادری یقیناً رسوا ہوں گے یعنی یہ پیشین گوئی یقیناً پوری ہوگی تا کہ پادری رسوا ہوں اس بیان سے وہ تمام جوابات غلط ہو جاتے جو اس کے جھوٹے ہونے کے بعد دئے گئے ہیں۔ ٢؎ اس بیان میں تو مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے بیان صداقت کی انتہا کر دی اس سے زیادہ مسلمان کو کسی شے پر اعتماد وثوق نہیں ہو سکتا اس سے معلوم ہوا کہ احمد بیگ کی دختر کا نکاح میں آنے کا یقین مرزا کو ایسا ہی تھا جیسا مسلمان کو خدا تعالٰی کی توحید اور محمد مصطفیٰ (ﷺ) کی رسالت پر یقین ہوتا ہے اب بنظر انصاف ملاحظہ کیا جائے کہ جس الہام پر مرزا قادیانی کو اس مرتبہ کا یقین ہو اس کا غلط ہونا مثل آفتاب کے روشن ہو جائے تو کون صاحب عقل ان کے دوسرے الہاموں پر ایمان لا سکتا ہے اور انہیں سچا مان سکتا ہے؟ ٣؎ مرزا قادیانی کا یہ جملہ بھی حکیم نورالدین صاحب کی توجیہہ کو محض غلط بتا رہا ہے یعنی اس پیشین گوئی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محمدی کی اولاد میں سے کسی لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ ہوگا۔
سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔
آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں آپ کو خدائے تعالیٰ عطا فرمائے اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں والسلام۔
(خاکسار احقر عبد اللہ غلام احمد عفی عنہ ١٧۔ جولائی ١٨٩٢ء روز جمعہ (از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣ تا ١٢٥)
اس خط سے جو باتیں ثابت ہوتی ہیں انہیں میں حاشیہ میں لکھ چکا ہوں مگر اب میں حق پسند حضرات کو تین باتوں کی طرف زیادہ توجہ دلاتا ہوں جو اس خط سے ظاہر ہو رہی ہیں۔
ایک ....... بات یہ کہ پیشین گوئی سے مقصود یہی تھا کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی یہ کہنا محض غلط ہے کہ وہ لوگ بے دین تھے ان کی ہدایت مقصود تھی کیونکہ احمد بیگ اس قدر دیندار اس خط سے معلوم ہوتا ہے جس کی انتہا نہیں ہے کیونکہ مسیح موعود اپنے ابتداء خط میں اسے اپنا مکرم اور بزرگ لکھ رہا ہے پھر اس سے اس قدر دلی محبت اور خلوص رہا ہے کہ اس کے بیان کے لئے الفاظ نہیں ہیں پھر اس سے کمال عاجزی اور ادب سے التماس کرتا ہے جس طرح نہایت چھوٹا اپنے بڑے بزرگ سے کرتا ہے غرض کہ تین طریقے سے مرزا قادیانی یعنی مسیح موعود انہیں اپنا مکرم اور بزرگ بتا رہے ہیں اور اپنے خلوص و محبت کا اظہار کر رہے ہیں انہیں بے دین کہنا سخت بے دینی ہے اب
یہ تین جملے ان کو ان کے پیشتر کے پورے جملے سے ملا کر دیکھئے کس زور سے اس امر کو قطعی اور یقینی بنا رہے ہیں احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا آسمان پر ٹھہر چکا ہے وہ ضرور ان کے نکاح میں آئے گی کوئی صورت ایسی نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے صرف آسمانی نکاح پر کفایت ہو جائے بلکہ زمین پر اس کا ظہور ضرور ہے یہ معاملہ خداوندی بدل نہیں سکتا اسی طرح پورا ہو کر رہے گا جماعت قادیانی کچھ تو غور کرے ایسے قطعی حکم لگا دینے کے بعد نکاح کو فسخ کہ دینا یا کہنا کہ اس پیشین گوئی سے مقصود ہدایت تھی یا کچھ اور تھا کیسا اندھیر ہے افسوس مرزائیوں کی عقل و فہم پر اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کرے آمین)
اگر مرزا قادیانی ہی دوسری جگہ انہیں بے دین لکھیں تو انہیں کی بے دینی ثابت ہو گی اور ثابت ہو گا کہ مرزا قادیانی دکھا رہے ہیں کہ انبیا ایسے بے دین اور جھوٹے ہوتے ہیں (نعوذ باللہ) دوسری ....... بات یہ بھی یقینی طور سے ثابت ہوا کہ جس لڑکی کا پیام نکاح مرزا قادیانی نے کیا اور جس کی نسبت انہیں قطعی الہام ہوا کہ یہ تیرے نکاح میں آئے گی وہ خاص محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی لڑکی ہی ہے کسی وقت اور کسی طرح اس الہام کے معنی یہ نہیں ہو سکتے کہ مرزا قادیانی کے اولاد کے سلسلہ میں یا ان کے مریدین کے سلسلہ میں کسی کا نکاح محمدی سے یا اس کی اولاد کے سلسلہ میں کسی سے ہو جائے تو یہ پیشین گوئی پوری ہو جائے گی کوئی انسان ہوش و حواس کی حالت میں یہ معنی نہیں کہہ سکتا کئی وجہ سے۔
ایک ....... یہ کہ مرزا احمد بیگ کو اپنا عزیز سمجھ کر یہ کہہ رہے ہیں کہ میری یہ پیشن گوئی دس لاکھ آدمیوں میں مشہور ہو چکی ہے اگر تم نکاح نہ کرو گے تو اتنے لوگوں میں میری ذلت ہو گی یہ ذلت اسی وقت جا سکتی تھی کہ خاص مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہوتا۔
دوسرے ...... یہ کہ پادریوں کے انتظار اور ان کے پلہ بھاری ہونے سے خود بھی ذلت کے خوف سے ڈر رہے ہیں اور ڈرا بھی رہے ہیں یعنی اگر تم نے اپنی لڑکی نہ دی اور میری پیشگوئی غلط ہو گئی تو پادریوں کا پلہ بھاری ہو جائے گا یہ مضمون بھی قطعی طور سے کہہ رہا ہے کہ وہ عظیم الشان پیشگوئی یہی ہے کہ محمدی سے خاص مرزا قادیانی ہی کا نکاح ہو گا۔ اولاد سے کچھ واسطہ نہیں ہے اور نہ ہدایت مقصود ہے نہایت ظاہر ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا نکاح اس سے نہ ہوا تو اس میں شبہہ نہیں کہ جو پادری منتظر ہیں ان کا پلہ ضرور بھاری ہو جائے گا۔
اور مرزا قادیانی کے بعد کوئی پادری اس پیشگوئی کا منتظر نہیں رہ سکتا اور اس پیشگوئی کے پورا نہ ہونے پر ان کا پلہ ضرور بھاری ہو جائے گا۔
تیسرے ..... یہ کہ مرزا قادیانی احمد بیگ کو لکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں تم معاون بنو تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ احمد بیگ اپنی لڑکی محمدی کا نکاح مرزا قادیانی سے کر دے یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی اولاد سے اور محمدی کے اولاد سے نکاح ہو جائے تو بھی پیشین گوئی پوری ہو جائے گی محض غلط ہے مرزا قادیانی کا یہ قول غلط کہہ رہا ہے۔
ناظرین کو تعجب ہوگا کہ کاتب رسالہ یہ کیا لکھنے لگا کون عاقل ایسا سمجھ سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی یوں بھی پوری ہو سکتی ہے کہ محمدی کی کسی اولاد کا رشتہ مرزا قادیانی کے کسی متبعین سے ہو جائے۔
میں کہتا ہوں آپ تعجب نہ کریں اس وقت یہی مطلب اس پیشگوئی کا بیان ہو رہا ہے اور کوئی جاہل یا معمولی شخص نہیں کہتا ہے بلکہ وہ حضرت یہ معنی پہنا رہے ہیں جنہیں خلیفۃ المسیح وحکیم الامۃ کا خطاب دیا جاتا ہے جن کے نام پر علیہ الصلوٰۃ والسلام جاتا ہے اس لئے مجھے اس بیان کی حاجت ہوئی اور پہلے بھی مکرر اشارہ کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ۔
تیسری ...... بات جس کا فیصلہ خط کی عبارت سے آپ حضرات کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جو پیام نکاح کے وقت اپنا الہام بیان کیا تھا اور پھر قسم کھا کر کہا تھا کہ محمدی میرے نکاح میں آئے گی اور آخر کار اسی جگہ رشتہ ہو گا یہ محض غلط تھا کہ یہ مضمون صاف کہہ رہا ہے کہ یہاں الہام کا دعویٰ کرنا ایک حکمت عملی تھی اور اس کے والدین پر دباؤ ڈالنا مقصود تھا اگر مرزا قادیانی کو الہام ہوتا کہ اس لڑکی کا نکاح ان سے ہو گا اور پھر وہ الہام بھی ایسا قطعی اور یقینی تھا جس میں انہیں ذرا بھی شبہ نہیں ہے اور نہ اس کے معنے اور مطلب سمجھنے میں انہیں تردد ہے نہ اس میں کوئی قید اور شرط ایسی ہے جس سے اس کا نکاح میں آنا رک جائے اور آخر کار وہ نکاح میں نہ آئے ایسے الہام کے بعد تو ان کے قلب میں خطرہ بھی نہیں آتا کہ ہماری الہامی پیشگوئی کے خلاف ہو سکتا ہے اور پادریوں کے پلہ بھاری ہونے کا احتمال ہے اس لئے بحکم لا تبدیل لکلمات اللہ انہیں اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کا یقین کامل ہونا چاہئے تھا مگر ان کا بیان تو صاف کہہ رہا ہے کہ انہیں پادریوں کے پلہ بھاری ہونے کا خوف ہے اور اپنی جماعت کی ذلت سے ڈر رہے ہیں اور دوسروں کو ڈرا رہے ہیں ایسے الہام کے بعد تو وہ اطمینان سے بیٹھتے لڑکی کے والد کو اگر کچھ لکھتے تو یہ لکھتے کہ دیکھو لڑکی ہمارے نکاح میں ضرور آئے گی تم اس وقت انکار کر کے کیوں انجام میں ندامت و پشیمانی اٹھانے کی کوشش کر رہے ہو مگر اس کے برخلاف اس کے بعد بھی مناسب اور غیر مناسب تدبیریں اور جا بجا ایسی کوششیں کیں جن سے ظاہر ہو گیا کہ انہیں الہام ہر گز نہیں ہوا تھا محض جھوٹی دھمکیوں اور حکمت عملی سے اپنا کام نکالنا چاہتے تھے اور
اپنی دلی آرزو کے پورا کرنے کے درپے تھے۔
خطوط اور اس کے نتائج دیکھنے کے بعد ایک اور کارروائی بھی قابل ملاحظہ ہے مرزا قادیانی کی ایک قدیم بیوی ضعیفہ تھیں جو اکثر حصہ عمر میں مرزا قادیانی کی خدمت گزار رہی تھیں ان کے دو بیٹے مرزا سلطان احمد بیگ اور مرزا فضل احمد بیگ مرزا قادیانی نے ان تینوں پر زور ڈالا کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں ہمارے ساتھ تم بھی کوشش کرو مگر انصاف کا مقام ہے کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بیوی (وہ بھی پہلی بیاہی ہوئی) اپنے سوکن کے لانے میں کوشش کرے۔ یہ ایسا ہے کہ کسی عاشق سے کہا جائے کہ تم ایسی کوشش کرو کہ تمہارا رقیب ہمارے پاس آئے اور ہم اپنا جان و مال اس کے حوالہ کریں اور تم دور سے دیکھو اور ترسو۔ غرض کہ اس بیوی نے اس میں کوشش نہیں کی۔ بیٹوں کے اوپر ماں کا حق زیادہ ہے بہ نسبت باپ کے اس لئے بیٹوں نے ماں کی حکم برداری کی اس پر مرزا قادیانی نے خفا ہو کر ٢۔ مئی ١٨٩١ء حقانی پریس لدھیانہ میں اشتہار چھپوایا جس کا عنوان یہ ہے۔
اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین
کیسا عمدہ عنوان ہے اور اس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ بیوی سے اور بیٹوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور تمام اشتہار دیکھنے سے کوئی دین کی مخالفت ان کی نہیں معلوم ہوتی۔ البتہ قادیانی اپنے بڑے بیٹے سلطان احمد بیگ کے دو گناہ بیان کرتے ہیں ایک یہ ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔
مرزا قادیانی اپنے بڑے بیٹے پر اتنا بڑا الزام رکھتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ دین کی کیا مخالفت کی کیا نماز نہیں پڑھی۔ روزہ نہیں رکھا۔ رشوت لی۔ مسلمانوں سے فریب کر کے روپیہ حاصل کیا نا محرم عورت کو تکا۔ کیا کیا۔ کچھ نہیں فرماتے ہاں یہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔
اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے جو منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا اعلان بڑے زور و شور سے دے رکھا ہے۔
اور ہمارا بیٹا چاہتا ہے کہ جہاں اس لڑکی کی نسبت اس کے والدین نے کی ہے
وہیں ہو تو اگر ایسا ہی ہوا اور وہ لڑکی ہمارے نکاح میں نہ آئی تو مخالفین کا حملہ ہوگا اور مرزا قادیانی کو جھوٹا کہیں گے۔
بھائیو! ذرا غور کرو! بیٹا باپ کے خانگی حالات سے بخوبی واقف ہے اور ہر طرح کی سمجھ رکھتا ہے جب وہ ان کے خیالات کو پیش نظر کرتا ہے۔ اور مرزا قادیانی کے ایسے عظیم الشان دعوے کو دیکھتا ہے تو اس کی عقل سلیم اور تمیز صحیح یہی کہتی ہے کہ باوا جان اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔
اب اس کی کمال دینداری ہے کہ اس جھوٹ میں باپ کا شریک نہیں ہوتا اور باپ کے ترکہ وغیرہ کا بھی خیال نہیں کرتا۔
عجب نہیں یہ بھی اسے خیال ہو کہ باوا جان نے جس پیشین گوئی کو اپنے لئے عظیم الشان نشان قرار دے رکھا ہے وہ اگر ظہور میں نہ آئے تو شاید والد صاحب متنبہ ہو کر اپنے دعوے سے تائب ہوں اور سچے مسلمان ہو جائیں جیسے پہلے تھے۔ تو یہ امر اس کی نہایت خیر خواہی اور دین کی پابندی تھی۔
”دوسرا گناہ صاحبزادہ موصوف کا یہ بتاتے ہیں کہ مجھے جو اس کا باپ ہوں نا چیز قرار دیا اور اسلام کی ہتک بدل و جان منظور رکھی۔“
البتہ اس میں شبہہ نہیں کہ باپ کو ناچیز ٹھہرانا گناہ ہے مگر جب باپ کے افعال اور ان کے خیالات ناچیز ہوں اور بیٹا سمجھے کہ ہمارا باپ مخلوق کو گمراہ کرتا ہے اگر اتفاقیہ یہ نکاح ان کے حسب خواہ ہو گیا تو بہت خلق گمراہ ہو جائے گی۔
اس وجہ سے وہ مامور تھے کہ باپ کے خلاف کریں۔ اور اس خلاف شرع امر انہیں ناچیز سمجھیں۔ اور اب تو یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ انکا بیٹا حق پر تھا اور مرزا قادیانی کے دعوے سب غلط تھے کیونکہ مرزا قادیانی تمام عمر کوشش کرتے کرتے تھک گئے اور یہی کہتے رہے کہ آخر کار یہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی چنانچہ اشتہار مذکور میں بھی یہی دعویٰ ہے اور ازالۃ الاوہام میں تو یہ دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے مگر مرزا قادیانی اس جہاں سے تشریف لے گئے اور وہ لڑکی ان کے نکاح میں نہ آئی: ؎
اب اس میں کیا شبہہ رہا کہ دین اسلام پر اگر مخالفوں کا حملہ کرایا تو خود مرزا
قادیانی نے کرایا اور اسلام کی ہتک کی تو مرزا قادیانی نے کی۔
الہام کا اس قدر غل مچایا کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ اور اخباروں میں اشتہاروں میں اس قدر شور کیوں کیا کہ دنیا میں مشہور ہو گیا۔
کہ قادیانی اپنی نبوت کے ثبوت میں عظیم الشان نشان دکھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی یقینی الہام بیان کرتے ہیں کہ ضرور ایسا ہی ہو گا اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے جب ایک مدت دراز تک انتظار کے بعد بھی اس کا ظہور نہ ہوا اور امید منقطع ہو گئی۔ تو اب فرمائیے کہ اگر اسلام کی ہتک کرائی تو مرزا نے کرائی یا کسی دوسرے نے؟ دوسرے بیٹے فضل احمد بیگ کا کوئی قصور نہیں بیان کرتے بجز اس کے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔
بھائیو! اصل بات یہ ہے کہ اس لڑکی کا رشتہ دوسری جگہ ہو گیا اور عنقریب اس کا نکاح ہونے والا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نہایت مضطرب ہیں لڑکی کے والدین اور دیگر اعزہ کی بہت خوشامد کی مگر ناکام رہے اب گھر میں آ کر غصہ نکالا اور بیوی صاحبہ کو طلاق دی اور بیٹوں کو عاق کیا۔
اب یہاں یہ امر دیکھنے کے لائق ہے کہ اس اشتہار میں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیٹے اور بیوی چونکہ دین کے مخالف ہیں اس لئے ان سے ہم قطع تعلق کرتے ہیں اور کوئی امر مخالفت کا نہیں بیان کرتے بجز اس کے کہ مرزا قادیانی کے نکاح میں وہ کوشش نہیں کرتے بلکہ مخالفین کے شریک ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ اس اعلان کی بنا اگر سچائی پر ہے اور واقعی ایسے مخالف دین سے وہ قطع تعلق کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بہت سے مریدین سے قطع تعلق کا اعلان کرنا چاہئے تھا جنہیں احکامات شریعت محمدیہ سے کچھ واسطہ نہیں ہے اکثر منہیات شرعیہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور جھوٹ جو اسلام کے بالکل خلاف ہے ان کا شعار ہے پھر جو ان کے اقارب ان کے صریح مخالف ہیں جن کو اس اشتہار کے بعد خطوط لکھتے ہیں (جن کی نقل اوپر کی گئی) انہیں دیکھئے کہ اس میں کس قدر تملق اور میل کی باتیں ہیں اشتہار نصرت دین مرقومہ ٢۔ مئی ١٨٩١ء کا ہے اور اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کو ٤۔ مئی کو خط لکھا ہے اس میں انہیں لکھتے ہیں کہ میں آپ کو نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔
شیر علی بیگ بھی اسی گروہ میں ہیں جو چاہتے تھے کہ اس لڑکی کا نکاح مرزا
قادیانی سے نہ ہو یعنی جو جرم ان کے بیٹے سلطان احمد بیگ نے کیا تھا جس کی وجہ سے وہ مخالف دین قرار پائے وہی جرم ان کے سمدھی کا ہے مگر انہیں نیک خیال اور اسلام پر قائم مرزا قادیانی سمجھتے ہیں۔
پھر ١٧۔ جولائی ١٨٩٢ء کو مرزا احمد بیگ کو خط لکھا ہے جو لڑکی کا والد ہے جن سے جولائی ١٨٨٨ء میں مرزا قادیانی نے نکاح کا پیام دیا اور پھر اس طرح کہ خدائے تعالیٰ کا حکم انہیں پہنچایا مگر اس نے ایک نہ سنی اور دوسری جگہ رشتہ کر دیا باوجود یہ کہ اس نے اس قدر سخت مخالفت کی مگر اسے مرزا قادیانی مخالف دین نہیں کہتے بلکہ اس اشتہار نصرت دین کے بعد جو مرزا احمد بیگ کو انہوں نے خط لکھا ہے اس میں نہایت ہی محبت اور خلوص کا اظہار کرتے ہیں ان کی عبارت یہ ہے۔ ”میں نہیں جانتا کہ میں کن طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے“ ان الفاظ سے جس قدر محبت اور خلوص کا اظہار ہوتا ہے اس کی کچھ انتہا نہیں ہے اب میں انصاف پسند حضرات سے دریافت کرتا ہوں کہ اس مضمون کی بنا اگر سچائی پر ہے یعنی مرزا قادیانی جو اس قدر محبت و خلوص کا اظہار کر رہے ہیں وہ واقعی ہے تو سلطان احمد ان کے بیٹے نے مرزا احمد بیگ سے زیادہ کیا قصور کیا تھا جو اسے مخالف دین ٹھہرا کر اسے قطع تعلق کا اشتہار دیا اور احمد بیگ سے اس قدر محبت اور خلوص ہے۔ حالانکہ احمد بیگ لڑکی کے باپ تھے لڑکی کے دینے یا نہ دینے کا اختیار انہیں تھا جب اس نے لڑکی نہ دی تو دین کی مخالفت اگر کی تو احمد بیگ نے کی سلطان احمد غریب نے اگر کچھ کیا ہو گا تو صرف اس کی تائید ماں کی اطاعت کے خیال سے کی ہوگی۔
بھائیو! ایسی ہی باتیں مرزا قادیانی کی صداقت اور راستبازی کا نمونہ ہیں ان دونوں باتوں کے مقابلہ کرنے سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اسلام اور سچائی سے کچھ واسطہ نہیں ہے جس وقت اور جس شخص سے جیسا موقع ہو ویسا کام انہوں نے اس وقت اور اس شخص سے کیا، خواہ وہ جھوٹ ہو خواہ سچ جیسا اس وقت کے پکے دنیا دار معاملہ پرداز کیا کرتے ہیں اسی وجہ سے ان کے کلام میں بہت تعارض ہے افسوس ہے کہ ایسے عظیم الشان تقدس کا دعویٰ اور اس قدر دنیا سازی کا برتاؤ۔ یہاں پھر میں یہ کہوں گا کہ جس طرح یہ باتیں ان کی دنیا سازی کی تھی ایسا ہی اس الہام کے دعوے کو سمجھنا چاہئے جو انھوں نے
اس نکاح کے بارے میں کہیں۔
اگر انہیں الہام ہوتا اور اس کے ہونے کا ایسا ہی یقین ہوتا جیسا انہوں نے ازالہ الاوہام وغیرہ میں ظاہر کیا ہے تو نہ مرزا احمد بیگ کی خوشامد کرتے نہ خلاف مروت و متانت بیٹے اور بیوی صاحبہ سے قطع تعلق کرتے بلکہ اپنے کامل یقین الہام پر بیٹھے رہتے اور سمجھتے کہ جب وہ لڑکی ہمارے نکاح میں آجائے گی تو سب درست ہو جائیں گے مگر یہ باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ مرزا قادیانی مضطر ہیں کہیں غصہ سے کام نکالنا چاہتے ہیں کہیں نرمی سے غصہ کے اظہار کے لئے تو انہیں عمدہ دو طرفہ پہلو ہاتھ آ گیا تھا جس میں دباؤ بھی تھا اور عوام پر تقدس کا اظہار بھی اور اپنے سمدھی اور مرزا احمد بیگ سے جو دنیا سازی انہوں نے کی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خط کے اظہار کا انہیں گمان نہ تھا اس لئے دلی حالت اس میں ظاہر کر دی۔
برادران اسلام متوجہ ہوں اور دلی توجہ فرمائیں۔ آپ نے منکوحہ آسمانی کا حال معلوم کیا اور مرزا قادیانی کے بیان سے یہ بھی آپ کے ذہن نشین ہو گیا کہ اس منکوحہ آسمانی سے جب رشتہ کا پیام کیا گیا ہے اسے مرزا قادیانی بحکم خدا کہتے ہیں پھر اس کے نکاح میں آنے کا الہام مرزا قادیانی کو ایسا قطعی اور یقینی ہوا کہ مرزا قادیانی اس پر قسم کھاتے ہیں اور بار بار اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں اور اس زور کے الفاظ میں اس کے وقوع کو بیان کرتے ہیں جس سے زیادہ زور لگانا میرے خیال میں ممکن نہیں ہے اس کے بعد دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ ان کا الہام محض غلط تھا کیونکہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں کسی وقت نہیں آئی بلکہ مرزا سلطان محمد بیگ سے بیاہی گئی اور آخر تک اسی کے نکاح میں رہی اور مرزا قادیانی دنیا سے تشریف لے گئے۔ جب ایسا عظیم الشان الہام جو برسوں بار بار ہوتا رہا اور ان کا نہایت کامل یقینی دعویٰ غلط ہو گیا تو دوسرے الہامات اور خبروں پر کیونکر اعتبار ہو سکتا ہے؟ کون فہمیدہ ان کے مسیح موعود ہونے کے الہام کو قابل اعتبار سمجھ سکتا ہے اس میں اور اس میں کیا فرق ہے یہ الہام وہ ہے جس کے غلط ہو جانے سے بہت سے دعوے اور الہامات مرزا قادیانی کے غلط ہو گئے تئیس الہامات کا شمار تو میں نے کر دیا تھا اس کے بعد ناظرین پر چھوڑ دیا وہ خود شمار کر لیں یہ دعوے ہیں جن کی نسبت مرزا قادیانی نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یوں فرمایا ہے کہ انجام کار ایسا ہی ہو گا۔ وہ باتیں
غلط نکلیں اور کہنے کے مطابق ان کا ظہور نہ ہوا اس لئے ان کا کوئی الہام قابل اعتبار نہ رہا۔ اس کے علاوہ توریت کی صریح شہادت کے بموجب مرزا قادیانی جھوٹے مدعیان نبوت میں یقینی طور سے داخل ہیں توریت کی کتاب استثنا باب ١٨ میں ہے وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جاوے اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے‘‘ اس مقدس کلام سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔
اول....... یہ کہ جھوٹے نبی کے لئے حکم الٰہی یہ ہے کہ قتل کر دیا جائے یعنی جو نبوت کا دعویٰ کرے اور یہ دعویٰ اس کا غلط ثابت ہو تو وہ قتل کر دیا جائے۔
دوم....... جھوٹے نبی کی شناخت یہ ہے کہ اس کی پیشین گوئی پوری نہ ہو یعنی اگر وہ کسی بات کی خبر دے اور اس کے مطابق اس کا ظہور نہ ہو تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے
تیسری....... بات یہ ثابت ہوئی کہ سچے نبی کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی یعنی اللہ تعالیٰ کسی نبی سے کوئی وعدہ کرے یا کسی بات کی خبر دے اس کا ہونا ضرور ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی وجہ سے وہ پیشین گوئی ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ جھوٹے نبی کا معیار قرار دے چکا کہ اس کی پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اب اگر سچے نبی کی پیشین گوئی کسی وجہ سے پوری نہ ہو تو سچے اور جھوٹے میں امتیاز نہ رہے اور خدائے تعالیٰ کا معیار غلط ہو جائے۔ ٢؎ قرآن مجید سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا چنانچہ سورۂ ابراہیم میں ارشاد ہے ’’فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ‘‘
١؎ اور مرزا قادیانی نے جو حضرت یونس کی پیشین گوئی کو بڑے زور وشور سے ذکر کر کے لکھا ہے کہ ان کی پیشین گوئی بلا شرط تھی اور قوم کی گریہ وزاری سے اس پیشین گوئی کا ظہور نہ ہوا محض غلط ہے اول تو الہامی پیشین گوئی کا ثبوت نہیں ہے اگر ہے تو صرف اس قدر ہے کہ عذاب آئے گا وہ آیا مگر جب وہ پورا ایمان لے آئے تو عذاب ہٹ گیا۔ ٢؎ اس کی کامل تفصیل اس رسالہ کے تیسرے حصہ میں کی گئی ہے اور متعدد آیتیں مع ان کی تفسیر کے نقل کی گئی ہیں جن سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے میں خلاف نہیں ہو سکتا اور نہ وعدے میں پوشیدہ شرطیں ہو سکتی ہیں یہ تحقیق لائق دید ہے۔
(ابراہیم ٤٧) یعنی ایسا گمان نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے دوسری جگہ نہایت تاکید سے ارشاد فرمایا ہے کہ ”لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ“ (الحج ٤٧) یعنی اللہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرتا اب برادران اسلام غور کریں کہ نہایت صفائی سے قرآن مجید اور توریت مقدس اور عقل سلیم سب ایک زبان ہو کر شہادت دے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں سچے نہیں تھے اور ان کا دعوٰی محض غلط تھا اگر سچے ہوتے تو یہ دعوے ضرور پورے ہوتے اب جو کلام الٰہی کی ایسی شہادت بیّنہ کو نہ مانے اور مرزا قادیانی کو سچا جانے اسے اختیار ہے۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن۔
اگر کلام الٰہی پر تمہاری نظر نہیں ہے تو دنیا کی حالت کو دیکھو۔ دنیا کے عقلا میں بھی یہ بات مسلم ہے کہ اگر گواہ کے بیان میں ایک بات بھی جھوٹ ثابت ہو جائے تو پھر اس گواہ کا کوئی بیان لائقِ اعتبار نہیں رہتا پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اس قدر دعوے اور الہام غلط ثابت ہو جائیں اور ان کے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوٰی غلط نہ ہو۔
جماعت قادیانیہ مرزائیہ خدا کے لئے کچھ تو غور کرو۔ کیا اس کا جواب دے سکتے ہو ہرگز نہیں غیر ممکن ہے۔ ”وَلَوْ کَانَ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا“ اس کے بعد دوسری بات بھی آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تحریر سابق سے جس قدر غلط بیانیاں مرزا قادیانی کی ثابت ہوئی ہیں اور جو ان کی ذاتی حالت خطوط و اشتہارات سے معلوم ہوئی ہے وہ کسی بزرگ اور مقدس شخص کی ہو سکتی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ آپ کا وجدان آپ کی صداقت آپ کی حق طلبی اگر کچھ ہے تو بے اختیار یہی کہے گی کہ ہرگز نہیں ہو سکتی ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اگر خدا کے کسی برگزیدہ بندہ کو ایسا یقینی الہام ہو اور وہ بندہ اپنے ایسے یقین کو اس زور کے ساتھ بیان کرے جیسا مرزا قادیانی نے کیا تو وہ الہام کبھی غلط نہیں ہو سکتا منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی طرف تو بہت باتیں منسوب کی تھیں جن کی حالت اوپر بیان کی گئی مگر چونکہ یہ ان کے خیال میں عظیم الشان نشان تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی اس کی بشارت سمجھے چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”اس پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ”یَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور
اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشین گوئی موجود ہے گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سے سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣‘ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ)
افسوس مرزا قادیانی کے دماغ میں منکوحہ آسمانی کا خیال اس قدر بس گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو اس کی تصدیق سمجھتے ہی تھے رسول اللہ ﷺ کے کلام مبارک سے بھی اس کی تائید سمجھنے لگے کسی نے خوب کہا ہے ؎
رسول اللہ ﷺ نے کچھ فرمایا ہو مگر مرزا قادیانی یہ سمجھے کہ میری منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی خبر ہے۔
خیر اب اس طرف آپ توجہ کیجئے کہ روایت میں حضرت مسیح کی نسبت مذکورہ الفاظ آئے ہیں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے منکوحہ آسمانی کی بشارت سمجھی ہے یہاں سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
ایک...... یہ کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا جس طرح متواتر الہامات ربانی سے انہیں معلوم ہوا اور اس کا یقین انہیں ایسا ہی تھا جیسے توحید و رسالت کا انہیں یقین تھا اسی طرح اس کی تصدیق جناب رسول اللہ ﷺ کے اس قول سے ان کے نزدیک ہے دوسرے...... یہ کہ منکوحہ آسمانی اور اس کی اولاد کی نسبت جو مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا اس سے مقصود خاص نکاح تھا یعنی مرزا قادیانی کا نکاح محمدی سے ہوگا اور اس کے بطن سے وہ خاص بیٹا ہوگا جس کی تعریف کی انتہا نہیں ہے اس خصوصیت کا ان کے کلام سے ظاہر ہونا کئی وجہ سے ہے اول...... کہ یہ نکاح مسیح موعود سے ہو گا مسیح موعود ان کے خیال کے بموجب وہی تھے اس لئے اس نکاح سے مقصود خاص مرزا قادیانی کا نکاح ہے کسی دوسرے کا نہیں۔ دوم...... وہ کہتے ہیں کہ نکاح سے مقصود معمولی نکاح نہیں ہے بلکہ وہ خاص نکاح ہے جو مرزا قادیانی کا معجزہ اور نشان ہوگا اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ محمدی کا نکاح خاص مرزا قادیانی سے ہو اور اگر مرزا قادیانی کی اولاد کا یا کسی مرید کا یا کسی مرید کے اولاد کا
نکاح محمدی کی اولاد سے کسی وقت ہو جائے تو یہ مرزا قادیانی کا نشان نہیں ہو سکتا۔ ایسے نکاح ہوا کرتے ہیں اور ہوتے رہیں گے یہی حالت اولاد کی ہے کہ وہ بھی خاص بیٹا مراد ہے جو مرزا قادیانی کے نطفہ سے ہو گا آخر میں مرزا قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے اپنے خیال میں یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ باتیں ضرور ہوں گی۔ یعنی محمدی بیگم سے میرا نکاح ضرور ہو گا اور اس سے اولاد بھی ضرور ہو گی یہاں مجھے پہلے تو یہ کہنا ہے کہ حکیم نورالدین صاحب للہ و باللہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے اس بیان سے ان کا وہ قول مردود ہو گا یا نہیں کہ نکاح اور اولاد کی خبر عام ہے یعنی مرزا قادیانی سے نکاح ہو یا ان کے کسی متعلقین کا محمدی سے یا اس کی اولاد سے ہو جائے تو یہ الہامی خبر سچ ہو جائے گی...... بھائیو! مرزا قادیانی نہایت صفائی سے اس خبر کو خاص کر رہے ہیں اور حکیم صاحب الہام کا مطلب صاحب الہام کے خلاف بتا رہے ہیں اور ایک وقت حکیم صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ الہام کا وہی مطلب صحیح ہے جو صاحب الہام بیان کرے غرض کہ حکیم صاحب کی بناوٹ سے پہلے بھی ہم نے ثابت کر دی تھی اور یہاں انہیں کے قول سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا اس کے بعد یہ کہتا ہوں کہ طالبین حق اس بیان کو ملحوظ نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے اس بیان کو دیکھیں جو حقیقۃ الوحی میں ہے کہ اس نکاح کا ظہور شرط پر موقوف تھا اور جب شرط پوری کر دی گئی تو نکاح فسخ ہو گیا یا جس طرح حضرت یونس کی پیشین گوئی کا ظہور نہیں ہوا تھا اس کا بھی نہ ہوا۔ اب خیال کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے پہلے تو کہا کہ ہمارے اس نکاح کے ظہور میں آنے کی اور اس سے اولاد ہونے کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کا ظہور ضرور ہو گا اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ وہ نکاح فسخ ہو گیا یا حضرت یونس کی پیشین گوئی کی طرح اس کا ظہور نہ ہوا۔ اس کا اصل یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد غلط ہو گیا (نعوذ باللہ استغفر اللہ) بھائیو! ذرا غور کرو حضرت سرور انبیا علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کیسا صریح جھوٹ کا الزام لگا رہے ہیں؟ اور مخالفین اسلام کو اعتراض کا موقع دے رہے ہیں اور پھر اپنے آپ کو ان کا وارث اور ظل بھی کہتے ہیں۔
افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی ان پیچدار یا معارض باتوں پر لوگ نظر نہیں کرتے اور اندھے ہو کر انہیں مان رہے ہیں۔
اب میں نہایت استحکام سے کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان محض غلط ہے
رسول اللہ ﷺ نے ان کے خاص نکاح کی اور ان کے اولاد کی خبر دی الفاظ حدیث کی شرح آگے بیان کی جائے گی۔
اس وقت میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں ایک ..... یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان بھی ان مخصوص بیانات میں ہے جہاں مرزا قادیانی نے خاص اپنا نکاح محمدی سے ہونا بڑے زور سے ظاہر کیا ہے بایں ہمہ مرزا قادیانی کا وہ الہام یا وہ خیال غلط ثابت ہوا؟ دوسرے ..... ان کا یہ کہنا غلط ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کوئی بات پوری نہ ہوئی۔
اب خلیفۃ المسیح صاحب اور ان کے پیرو فرمائیں کہ یہ مرزا قادیانی کی عظیم الشان غلطی ہے یا نہیں؟ اگر غلطی ہے تو تسلیم کریں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے یہ ان کا دعویٰ غلط تھا اور یہ بھی کہہ دیں کہ جب مرزا قادیانی کے الہامات غلط نکلے اور ایسی عظیم الشان غلطی ظاہر ہوئی تو سیاہ دل کون ٹھہرا؟ جماعت قادیانی یا ان کے مقابل جن کی حقانیت عالم پر روشن ہو گئی؟ اے جماعت مرزائیہ ذرا انصاف کرو کہ مرزا قادیانی کے کلام سے یہ کیسا صریح الزام جناب رسول اللہ ﷺ پر عائد ہوتا ہے کہ حضور نے پیشین گوئی کی تھی اور غلط ثابت ہوئی معاندین اسلام علانیہ آنحضرت ﷺ کے قول کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں اور قادیانی جماعت اس کا کچھ جواب نہیں دے سکتی۔ مگر افسوس ہے اور نہایت افسوس ہے کہ حضرات مرزائی باوجود دعویٰ اسلام کے کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح ہو مرزا قادیانی کو الزام سے بچایا جائے اگرچہ اللہ کے رسول پر الزام آئے حدیث کا جملہ جو مرزا قادیانی نے نقل کیا ہے اور کہاں سے کہاں لے گئے ہیں اس کی مختصر شرح ملاحظہ ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے جب تشریف لائے تھے تو ان پر زہد کا غلبہ زیادہ تھا اس لئے آپ نے کوئی سامان دنیا میں عمدگی سے رہنے کا نہیں کیا تھا اسی سے آپ نے نکاح بھی نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جب دوسری مرتبہ دنیا میں آئیں گے تو نکاح کریں گے کیونکہ شریعت محمدیہ کے پیرو ہوں گے اور دوسرا جملہ جو ارشاد ہوا ہے اس میں بھاری امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت کے بعض کوتاہ اندیش اور بعض وہ حضرات جو باوجود کم عقل ہونے کے اپنے تئیں نہایت فہمیدہ سمجھتے ہیں وہ حضرت مسیح کے
آسمان پر جانے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے کو محال سمجھتے ہیں اور بعض وقت اعتراض کرتے ہیں کہ ضعیفی کی وجہ سے ان کی بری حالت ہو گئی ہو گی۔ ان کے بال اور ناخن بہت زیادہ ہو گئے ہوں گے ایسے نادانوں کے لئے اس حدیث میں اشارہ ہوا کہ انحطاط اور تغیر حالت عالم دنیا کا خاصہ ہے جو اس عالم سے گذر گیا اور اس قادر و توانا کی عجیب قدرت نے اسے اس عالم تک پہنچا دیا جو اس عالم سے وراء ہ وہاں ان تغیرات کا پتہ نہیں ہے جو یہاں شب و روز دیکھے جاتے ہیں حضرت مسیح جس قوت اور جس صفت سے دنیا سے اٹھائے گئے نزول کے وقت اسی حالت پر ہوں گے یہ نہ سمجھو کہ اس قدر کبرسنی کی وجہ سے اس قابل نہ رہیں گے کہ ان کی بیوی کی اولاد نہ ہو یہ اشارہ ہے ”يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ“ میں جس وقت اس کا ظہور ہو گا اس وقت دیکھنے والے دیکھیں گے۔“ اور مرزا قادیانی نے جو بے تکے جوڑ گانٹھے ہیں وہ علاوہ غلط ہونے کے حدیث کے الفاظ سے انہیں کوئی ربط نہیں ہے اہل علم اسے خوب جان سکتے ہیں۔
اس وقت مرزا قادیانی کا ایک اور الہام یاد آیا اس کا ذکر بھی مناسب ہے تاکہ مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کا انبار دیکھ کر طالبین حق متنبہ ہوں اور جو حضرات غلطی سے گمراہی میں پھنس گئے ہیں وہ سچائی کی راہ اختیار کریں۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ ”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا اور وہ الہام یہ ہے۔ ..... ”یاادم اسکن انت وزوجک الجنة یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة. یا احمد اسکن انت وزوجک الجنة۔“ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے۔ جبکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا گیا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس حضرت مسیح سے مشابہت ملی ...... تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہو گی یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے جس کا سِرّ اس وقت خدائے تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
بھائیو! مرزا قادیانی کے الہامات اور پیش گوئیوں کو ملاحظہ کرو اور ان کے غامض اور اسرار کو دیکھو کہ اپنے خیالات خام کو کس عظمت سے بیان کرتے ہیں اور واقعی حالت کیا ہے ابھی مرزا قادیانی کے اشتہار نصرت دین سے معلوم ہو لیا ہے کہ پہلی بیوی اشتہاری مطلقہ ہو چکی۔ اور کسی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے بے دینی کی وجہ سے۔ جب بے دینی کی وجہ سے پہلی زوجہ سے اشتہاری قطع تعلق ہو گیا تو پہلا الہام غلط ہو گیا۔ کیونکہ اب مرزا قادیانی سے اس کو معیت نہیں ہو سکتی نہایت ظاہر ہے کہ رسول جسے بے دین ٹھہرا کر علیحدہ کر چکا اور وہ اپنی اس بے دینی پر برابر قائم رہی پھر وہ جنت میں کیونکر اس رسول کے ہمراہ رہ سکتی ہے اس لئے وہ الہام غلط ثابت ہوا۔
تیسری بیوی جس کے انتظار میں مرزا قادیانی اس عالم سے تشریف لے گئے اس نے تو مرزا قادیانی کو ایسا رسوا اور بدنام کیا جس کی انتہا نہیں جس کی شرح اوپر ہم کر چکے ہیں۔ اور آئندہ بھی کچھ اور لکھی جائے گی۔
حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اس منتظرہ بیوی سے محروم رہے اور کسی وقت ان کے نکاح میں نہ آئی تو اس تیسرے الہام کی غلطی میں کیا شبہہ رہا حضرات اب کچھ اور ملاحظہ فرمائیں جب مرزا قادیانی کے الہامات ختم ہوئے تو مجبور ہو کر فرماتے ہیں کہ ”وہ نکاح فسخ ہو گیا۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
مگر وہ یہ تو فرمائیں کہ اس الہام ١؎ کا جواب میں جب وہ کسی وقت شرعی بیوی نہیں ہوئی۔ اور وہ جو آپ عالم کے خیال میں اس کا غیر شرعی نکاح ہوا تھا۔ وہ ٢؎ بھی فسخ ہو
١؎ یعنی یا احمد اسکن انت الخ۔ یہ قابل دریافت یہ امر ہے کہ نکاح کا فسخ محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے ہوا یا بعد میں اگر سلطان بیگ سے نکاح ہونے کے قبل ہی مرزا قادیانی کا آسمانی نکاح فسخ ہو گیا تھا تو مرزا قادیانی اس فسخ شدہ نکاح اور دوسرے کی بیوی پر اس قدر زور کیوں لگا رہے تھے اور اگر مرزا قادیانی کا آسمانی نکاح مرزا سلطان محمد کے نکاح کے بعد فسخ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی دوسرے کو کیوں دلوادی اور باوجود اس وعدہ کے کہ ہم پھر اس کو تمہاری طرف لوٹا دیں گے کیوں نہ لوٹایا اور نعوذ باللہ بالآخر نہ لوٹا سکا اور مجبور رہا۔ قادیانی نبی کی بیوی کا نکاح فسخ ہی کرنا پڑا اور اس کا کچھ خیال نہ فرمایا کہ اس فسخ میں شیخ چلی کا بنا بنایا گھر ہی نہیں بگڑتا بلکہ نبی روسیاہ ہو گا ذلیل ہو گا مخالفین اسلام کا پلہ بھی بھاری ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ بھائیو! خدا سے ڈرو اور کچھ تو سمجھو۔ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ایک عالم کو غلطی پر قرار دے کر ایک لحظہ کے لئے یہ بھی تو سمجھو کہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں)
گیا تو یہ عربی الہام قطعاً غلط نکلا اور معلوم ہوا کہ خدا کی طرف سے نہ تھا اور اس کی عظمت بڑھانے کے لئے یہ جو کہا کہ یہ ایک چھپی پیشگوئی ہے جس کا سرّ اس وقت خدائے تعالیٰ نے مجھ پر کھولا محض غلط ثابت ہوا غرض یہ کہ کئی الہاموں کا جھوٹا ہونا اس وقت ظاہر ہو گیا۔ اور ایک الہام اور بھی انہیں میں شامل کر لیجئے وہ یہ ہے کہ تیسری بیوی کے وقت میں حمد و تعریف کا ہونا بیان کرتے ہیں جب وہ تیسری بیوی ہی ان کے آغوش میں نہ آئی تو تعریف کیا ہوتی بلکہ ہر طرف سے بدنامی کا غل ہے جس کے کان ہیں وہ سن رہا ہے۔
دوسری بیوی کی حالت مجھے نہیں معلوم اس لئے اس کی نسبت زیادہ نہیں کہہ سکتا اس قدر کہنا کافی ہے کہ دو جھوٹوں کے درمیان میں ہے۔ اب میں پہلے حصہ کو ختم کرتا ہوں اور دوسرا حصہ شروع کرتا ہوں جس سے اس کی زبان سے ان کے بار بار اقرار سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ہیں اس حصہ میں مرزا قادیانی کے علم خصوصاً تفسیر دانی اور تاریخ دانی کی حالت بھی معلوم ہو جائے گی اور اہل حق ذی علم جان لیں گے کہ جس علم میں مرزا قادیانی نے تمام عمر صرف کی اس میں بھی انہوں نے ایسی غلطیاں کیں کہ حیرت ہوتی ہے۔
وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِیْنُ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٥
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) مرزا قادیانی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے یا نہیں اگر تاویل کرو تو معنوں پر قیاس فرماؤ ورنہ اس سے زیادہ جھوٹ پر کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ مرتضیٰ حسن عفا عنہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ اول
جس میں مرزا قادیانی کی مسیحیت کا کامل فیصلہ ہے
حامداً ومصلیاً
حصہ اول میں مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی یعنی مرزا احمد بیگ کی لڑکی محمدی بیگم کے متعلق الہامات لکھے گئے اور ان کا غلط ہونا اظہر من الشمس کیا گیا مگر ایک امر کا ذکر رہ گیا اس لئے اس وقت لکھا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی جب اُس لڑکی کا انتظار حد سے زیادہ کر چکے اور دس بارہ اولاد بھی پہلے خاوند سے اُس کے ہوئی تو اب مایوسی کی حالت پیدا ہوئی مایوسی کے اسباب تو بہت تھے شاید اپنی موت کا خیال آیا ہو اور یہ کہ وہ لڑکی کثیر الاولاد ہو چکی اب اگر اُس کا خاوند مر بھی گیا تو بھی اُس کا نکاح میں آنا مشکل ہے کیونکہ جو بیوہ صاحب اولاد ہو جاتی ہے وہ دوسرا نکاح نہیں کرتی اور اکثر تو یہی ہے کہ جس کے دس بارہ اولاد ہو وہ دوسرا عقد کرے یہ بہت بعید ہے اس لئے وہ اپنے آخر وقت کی تصنیف میں لکھتے ہیں۔ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ جو اُس وقت شائع کی گئی تھی اور یہ کہ ایتھا المراۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢۔١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
طالبین حق ملاحظہ کریں منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا کس قدر زور شور برسوں رہا اور کس قدر وثوق اور یقین اُس پر ظاہر کیا گیا مگر آخر میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نکاح فسخ ہو گیا افسوس اور سخت افسوس اس پر ہے کہ بعض لکھے پڑھے بھی ایسی بدیہی بناوٹ کو جواب مان رہے ہیں اور ذرا بھی غور نہیں کرتے یا خدا سے نہیں ڈرتے۔ اب اس بناوٹ کی تشریح ملاحظہ ہو یہ جواب کئی طور سے غلط ہے۔ منکوحہ آسمانی کی نسبت دو قسم کی پیش گوئیاں ہیں۔ ایک یہ کہ منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی
١
کے نکاح میں آئیگی اور ضرور آئیگی اس کے لئے کوئی شرط اور قید مرزا قادیانی نے اس سے پہلے کسی وقت بیان نہیں کی۔ دوسری پیش گوئی یہ کہ احمد بیگ اور اُس کا داماد یعنی اُسی لڑکی کا باپ اور اُس کا شوہر تین برس کے اندر مر جائیں گے یہ پیش گوئی پہلے تو بلا قید مشتہر ہوئی، دہم جولائی ١٨٨٨ء کا اشتہار اور ان کا تتمہ ملاحظہ ہو اُس کے بعد وہ جملہ بڑھایا گیا ہے (انجام آتھم ص ٢١٣) ملاحظہ کیا جائے اور حقیقۃ الوحی ص ١٨٧ اور انجام آتھم ص ٢١۔ وغیرہ میں مرزا قادیانی مذکورہ جملہ کو احمد بیگ کے داماد کی نسبت بیان کرتے ہیں مگر تتمہ حقیقۃ الوحی کے آخر میں مجبور ہو کر منکوحہ آسمانی کی نسبت بھی کہہ دیا مگر یہ کہنا ایسا ہی غلط اور بے جوڑ ہے جیسے کوئی روز روشن کو شب تاریک کہہ دے اور غلط ہونے کے وجوہ یہ ہیں۔ منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی نے علیحدہ الہام بیان کئے ہیں اُن میں یہ قید نہیں ہے۔ اُنہوں نے اپنے الہامات کا ذخیرہ دکھایا ہے اُنہیں الہام کے عربی الفاظ مع اردو ترجمہ کے یہ ہیں۔
"کذبوا بآیاتی وکانوا بھا یستھزؤن فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک امر من لدنا انّا کنّا فاعلین زوّجنا کھا الحق من ربک فلاتکونن من الممترین لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعّال لما یرید انا رادوھا الیک....... توجھت لفصل الخطاب انا رادوھا۔"
انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا (١) اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا (٢) یہ امر (واپس لانا) ہماری طرف سے ہے (٣) اور ہم ہی کرنے والے ہیں (٤) بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا (٥) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو (٦) خدا کے حکم بدلا نہیں کرتے تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اُس کو کر دیتا ہے کوئی نہیں جو اُسے روک سکے۔ (٧) ہم اُس کو واپس لانے والے ہیں (٨) آج میں فیصلہ کرنے کے لئے متوجہ ہوا، ہم اُس کو تیری طرف واپس لائیں گے
(انجام آتھم ص ٦٠۔ ٦١ خزائن ج ١١ ص ایضا)
یہ اُردو ترجمہ اور عربی الہامات مرزا قادیانی کے ہیں ان میں بلا شرط اور بغیر کسی قید کے منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا بیان ہوا ہے اور اُس کے وقوع میں آنے کو اس زور سے بیان کیا ہے
٢
اور یقین دلایا ہے کہ اُس سے زیادہ یقین دلانے کا کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ہے میں نے آٹھ جملوں پر ہندسہ دیا ہے اُنہیں غور سے ملاحظہ کیا جائے کہ کس قدر تاکیدات سے اور مختلف عنوان سے اُس پر اعتماد دلایا ہے کہ منکوحہ آسمانی تیرے نکاح میں آئے گی اس کی کچھ تشریح بھی سنئے بقول مرزا قادیانی تین مرتبہ تو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ ہم اُسے واپس لائیں گے اور چوتھی مرتبہ کہا کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا اس جملے کو ماضی کے صیغہ سے فرمایا تا کہ اُس کا ہونا یقینی معلوم ہو پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ زیادہ اطمینان کے لئے کہا گیا کہ یہ سچا وعدہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہے اس میں شک نہ کر ایسے سخت وعدوں کے ساتھ ساتھ نسخ و فسخ کا احتمال تو کسی ایماندار کو تو نہیں ہو سکتا اور اگر کسی کو احتمال ہو تو پانچویں اور چھٹے جملہ نے یقینی طور سے اُٹھا دیا کیونکہ اُن کا صریح مطلب یہ ہے کہ اُس عورت کو ہم تیرے پاس واپس لائیں گے یہ کسی طرح بدل نہیں سکتا اور کسی کی قوت اور کسی کی عاجزی اُسے روک نہیں سکتی وہ ضرور تیرے نکاح میں آئیگی ما یبدل القول لدی وما
١ اہل علم غور کریں کہ اس ایک الہام میں (١) تین مرتبہ تو اللہ نے اُسے واپس لانے کا وعدہ کیا (٢) اور تین جگہ اسی مطلب کی تاکید لفظ ان سے اور ایک جگہ نون تاکید سے کی گئی ہے یہ چھ تاکیدیں ہوئیں (ساتویں) اُس وعدہ کی عظمت اور وثوق کیلئے کہا گیا کہ ہم کرنے والے ہیں کوئی دوسرا نہیں ہے جس میں کچھ تردد ہو سکے (آٹھویں) نہایت توثیق کیلئے یہ کہہ دیا کہ ہم نے اُس کا نکاح کر دیا یعنی اُس کا ہو جانا ایسا یقینی ہے کہ سمجھو ہو گیا اور ہم نے کر دیا (نویں) اس کے بعد اس طرح تاکید کی کہ یہ نکاح کر دینا یا اُس کا لوٹ کر آنا تیرے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اس میں شبہ نہیں ہو سکتا (دسویں) تاکید سے کہا کہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے میں شک نہ کرنا ان دس تاکیدوں کے سوا دو جملے ایسے ہیں جو ہزار تاکیدوں سے زیادہ ہیں ایک یہ کہ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں دوسرا یہ کہ کوئی نہیں جو اُسے رد کر سکے دیکھا جائے کہ اُس کے وقوع میں آنے کے لئے اتنی تاکیدیں ہیں اور بالخصوص آخر کے دو جملے نہایت پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس پیش گوئی میں نسخ و فسخ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی سبب سے وہ ملتوی ہو سکتا تھا تو خدائے تعالیٰ کے علم میں اس کا ظہور میں نہ آنا ضرور ہوگا اور جب اس کے علم میں یہ تھا کہ فلان شرط کی وجہ سے اس کا ظہور نہ ہو گا تو اس کی طرف سے بتاکید بار بار یہ الہام ہرگز نہ ہوتا کہ اللہ اسے تیری طرف ضرور لائیگا اور الہام میں یہ جملہ بھی کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا تو اس میں شک مت کر خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں ان باتوں کے بعد یہ کہہ دینا کہ یہ نکاح فسخ ہو گیا اعلانیہ اپنے الہاموں کو سخت جھوٹا کہنا ہے مگر اس پر بھی قادیانی جماعت نہیں دیکھتی افسوس!
٣
آنا بظلاّم للعبید اس کے بعد یہ کہہ دینا کہ وہ نکاح فسخ ہو گیا کس قدر اُن کی بناوٹ اور ان کی کذب کو ثابت کرتا ہے اور ان کی تمام الہامات اور وحی کو بیکار بتاتا ہے۔
بھائیو! اگر اس پر بھی مرزا قادیانی کو کاذب نہ مانیں تو خدائے تعالیٰ و تقدس پر نعوذ باللہ کیسے سخت کذب کا دھبہ آتا ہے یعنی اول تو بغیر تاکید کے یونہی وعدہ کرنا اور اسے پورا نہ کرنا کس قدر اُس کی شان کے نازیبا اور نقص ہے پھر اُس پر اس تاکید اور اصرار کے بعد اس کے خلاف کرنا تو ایسا ہے کہ کوئی بھلا آدمی بھی اُس کے خلاف نہیں کر سکتا اور اس قادر قدوس کی تو بہت بڑی شان ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے خدائے تعالیٰ کی شان اور عظمت کو انسان سے بھی کم سمجھ لیا اور قرآن مجید کے نصوص قطعیہ پر ذرا بھی خیال نہ کیا بھائیو! اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ نص قطعی ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلاشبہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اس لئے یقین کر لو کہ اگر مذکورہ الہام خدا کی طرف سے ہوتا تو وہ کسی طرح فسخ ونسخ نہیں ہو سکتا تھا وہ ضرور ہو کر رہتا اور اگر حکیم (نور دین) یا اور کوئی خدائے قدوس کو جھوٹا مان کر مرزا قادیانی کو سچا کرنا چاہیں تو غیر ممکن ہے جو خدا کسی وقت بھی جھوٹ بولے۔ تو اس کے رسول اور اس کی باتیں کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہوسکتیں اور تمام کارخانہ نبوت و رسالت سب درہم و برہم ہو جاتا ہے اور اگر کسی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے (٢) جس جملہ الہامی کو مرزا قادیانی ظہور نکاح کے لئے شرط کہتے ہیں اور اُس کا مخاطب منکوحہ آسمانی کی نانی کو بتاتے ہیں اور اُس کا ترجمہ اس طرح بیان کرتے ہیں۔ اے عورت توبہ توبہ کر کیونکہ تیری لڑکی اور تیری لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے
(حقیقت الوحی ص ١٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤)
اب اہل علم ملاحظہ کریں کہ مذکورہ بالا جملہ نہ بلحاظ لفظ کے شرط ہو سکتا ہے نہ بلحاظ معنی کے اس کی تشریح کیلئے اول یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اس جملہ میں اُس لڑکی کی نانی سے کیوں خطاب کیا گیا اور وہ توبہ کیلئے کیوں خاص کی گئی؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہی بانی فساد اور سخت مخالف تھی اور انکار نکاح کی بانی تھی اور مرزا قادیانی کو بُرا سمجھتی تھی اس لئے اُس سے توبہ کیلئے کہا گیا اور ڈرایا گیا کہ اگر توبہ نہ کرے گی تو اُس کی لڑکی پر اور اُس کی نواسی پر بلا آئے گی اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اُس نے اور اس کے گروہ نے توبہ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ قصور معاف ہو اور بلا دور ہو مگر مرزا قادیانی اُس کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ آسمانی نکاح فسخ ہو گیا اس کو توبہ کا نتیجہ کہنا اسی وقت ہو سکتا ہے
٤
کہ اُس کے نکاح کا ظہور اُس کے لئے اور اعزاء کیلئے سخت بلا اور آفت جان مان لیا جائے اگر ایسا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مرزا قادیانی اقرار کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص ہوں کہ اُس لڑکی کا میرے نکاح میں آنا اور اُس نکاح کا ظاہر ہونا بڑی بلا تھی مگر اس سے پہلے دہم جولائی کے اشتہار میں مشتہر کر چکے ہیں کہ اس نکاح سے ہر قسم کی برکتیں نازل ہونگی اور اس وعدے کو الہامی بتایا ہے الغرض یہ جواب اُس مشتہر الہام کے مخالف ہے اس لئے حضرات مرزائیوں کو اسے غلط ماننا ضرور ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ جواب ظاہر کرتا ہے کہ وہ حرمان و یاس کے صدمہ سے بدحواس ہو گئے ہیں پھر ایک صدمہ نہیں بلکہ عظیم الشان دو صدمے ہیں۔ اول تو برسوں کے انتظار کے بعد بھی دلی مقصود تک رسائی نہ ہوئی دوسرے یہ کہ مخلوق میں بڑی بھاری رسوائی ہوئی اس میں بدحواس ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اگر حواس درست ہوتے تو توبہ کی وجہ سے نکاح کا فسخ ہونا بیان نہ کرتے اور پھر وہ نکاح جسے خدا نے پڑھایا ہو اور خدا کا وہ وعدہ تاکیدی جس کی نسبت خاص طور سے الہام ہوا کہ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں (٣) اس کے علاوہ جس جملے کو مرزا قادیانی ظہور نکاح کی شرط بیان کرتے ہیں اس کے نزول کی حالت اُنہوں نے (انجام آتھم ص ٢١٣-٢١٤(خزائن ج ١١ میں بیان کی ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عورت سخت منکر اور مخالف تھی اس لئے اُسے تہدید کی گئی اور توبہ کا حکم دیا گیا اُس سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ ظہور نکاح کیلئے کوئی شرط ہے اور اگر اُن کی خاطر سے اس کو شرط بھی مان لیا جائے تو یہ کہنا کہ اُس نے یا اُس کے گروہ نے شرط کو پورا کیا محض غلط ہے کیونکہ اُس کا توبہ کرنا یہ تھا کہ جس گناہ کی وجہ سے اسے اس قدر تنبیہہ ہوئی اُس سے وہ توبہ کرتی (یعنی مرزا قادیانی کے انکار سے) اور انہیں سچا مسیح موعود مانتی مگر یہ ہرگز نہیں ہوا اور کسی عزیز کے مرجانے سے رونا دھونا توبہ نہیں ہو سکتا بلکہ اُس گناہ سے باز آنا اور اُس پر نادم ہونا توبہ ہے جس کی وجہ سے تنبیہہ کی گئی تھی۔ جس طرح حضرت یونسؑ کی قوم نے کیا تھا کہ عذاب دیکھ کر حضرت یونسؑ پر ایمان لے آئی تھی اور اُنہیں تلاش کرتی تھی مگر وہ چلے گئے تھے جب وہ نہ تھے تو وہ سب یہاں تک کہ بادشاہ بھی اپنی توبہ کے اظہار کیلئے ٹاٹ پہن کر میدان میں جا کر اپنے سابق انکار پر بہت روئے اور اللہ سے عاجزی و زاری کر کے اُس گناہ کی معافی چاہی اُس وقت اُن کے اختیار میں اسی قدر تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا حضرت یونسؑ کی قوم کا ایمان لانا قرآن شریف سے
٥
ظاہر ہے سورۃ یونس میں ہے لَمَّا اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ (یونس ٩٨:) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یونسؑ کی قوم ایمان لے آئی تو میں نے اُس پر سے ذلت کے عذاب کو اُٹھا دیا۔ مگر یہاں جو عورت منکر تھی اور جن کے لئے توبہ کا حکم ہوا وہ مرزا قادیانی پر ہرگز ایمان نہیں لائی وہ بدستور سابق منکر رہی کوئی اُن کے پاس تک نہیں گیا کسی نے اُن کی حقانیت کا اقرار نہیں کیا پھر یہ کہنا کہ اُنہوں نے توبہ کی کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟ الحاصل منکوحہ آسمانی کے نکاح کو کسی شرط پر موقوف بتانا اور پھر اُس شرط کا پورا ہونا اور اُس کے پورا ہونے سے نکاح کا فسخ ہو جانا یہ تینوں باتیں غلط ہیں اور عقل کے بالکل خلاف ہے ان کے الہامات اسے غلط بتا رہے ہیں (٤) مذکورہ جواب کی غلطی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس جواب میں مرزا قادیانی متردد ہیں اور کہتے ہیں کہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔
اس کی وجہ کچھ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ نکاح آسمان پر ہوا اور دنیا میں اس کے ظہور کیلئے نہایت تاکیدی الہامات ہوئے اب اس کے فسخ کی اطلاع بھی آسمان سے ہونا چاہیے مگر مرزا قادیانی اُس کی اطلاع میں تردید بیان کر رہے ہیں یعنی فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ اب حضرات مرزائی فرمائیں کہ آسمانی اطلاع جس علام الغیوب کی طرف سے آتی ہے اُسے بھی کسی وقت گذشتہ یا آئندہ کے واقعات میں تردد اور شک ہوتا ہے؟ جسے مرزا قادیانی ظاہر کر رہے ہیں اور اگر وہ قدوس واقعی علام الغیوب ہے کوئی بات اُس پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی تو یہ تردید کیسی؟ اور اگر مرزا قادیانی کا اجتہاد اور خیال ہے تو اس مقام پر کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہو سکتا کیونکہ جس کی طرف سے نکاح ہوا ہے اس کے ہاتھ میں اس کا فسخ کرنا ہے وہاں کسی کے اجتہاد کو دخل نہیں ہے۔ الغرض یہ تردید تو خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی مرزا قادیانی کا قول ہے وہ چاہتے ہیں کہ پہلی پیش گوئیاں بھی غلط نہ ہوں اور آئندہ کیلئے موقع رہے کیونکہ امید موہومہ اُنہیں ہوگی کہ اگر اُس کا خاوند مرے اور شاید نکاح میں آجاوے تو اُس وقت کیلئے دوسرا جملہ فرما دیا مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس تار و پود سے کیا نفع ہوا اس کہہ دینے سے کہ نکاح فسخ ہو گیا وہ الہامات جو اس حصہ میں نقل کئے گئے ہیں اور جن کا کذب ظاہر کیا گیا ہے سچے ہو جائیں گے؟ وہ یقین جو مرزا قادیانی نے بڑی شد ومد سے بارہا اپنے نکاح کے ہونے پر ظاہر کیا ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا؟ وہ سیاہی جس ٦
سے وہ بہت سے اوراق اسی مضمون میں سیاہ کر چکے ہیں دھل جائے گی؟ غیر ممکن ہے اور الہامات کے علاوہ جو الہام اوپر نقل کیا گیا ہے اور اس کا دیکھنا کافی ہے ناظرین اُن الہامات کو مکرر دیکھیں اس کہہ دینے سے کہ نکاح فسخ ہو گیا مرزا قادیانی کذب کے الزام سے بچ نہیں سکتے (٥) یہ تو فرمائیے کہ آسمان پر جو نکاح پڑھایا گیا تو بحکم الٰہی اور بمشیتِ ایزدی پڑھایا گیا یا اُس کے خلاف آپ نے پڑھوا لیا؟ اگر خدا کے حکم اور اس کی مرضی سے تھا تو خدائے علیم کو یہ علم نہ تھا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے؟ اگر علم تھا تو یہ فضول حرکت جو مخالفین اسلام کیلئے باعث مضحکہ ہو کیوں ہوئی؟ خواب میں یا کشف میں جس طرح کہو۔ نکاح پڑھانا کیوں دکھایا گیا اسی طرح بار بار کی توجہ سے یہ الہام کیوں ہوا کہ ”خدا تعالیٰ اُس لڑکی کو ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا“ جب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے اور اس نکاح کا ظہور نہ ہوگا تو بار بار کی توجہ میں ایسا غلط الہام کیوں ہوا؟ الحاصل مرزا قادیانی کی ان باتوں سے خدائے قدوس پر ضرور الزام آئے گا حضرات مرزائی اس کہنے پر مضطر ہیں کہ یا تو مرزا قادیانی کا قول یہ خدا تعالیٰ پر افتراء ہے یا مرزا قادیانی کا خدا عالم الغیب اور دانشمند نہیں ہے؟ (نعوذ باللہ) افسوس مرزا قادیانی اپنی باتوں کے بنانے میں بہت کوشش کرتے ہیں مگر اُن کا حال اس شعر کا مصداق ہے۔
جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو وہ ادھڑا تو یہ ٹانکا
قول مذکور کے بعد مرزا قادیانی نے کچھ اور بھی کہا ہے اس کی حالت روشن کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے اُسی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں ہے ”کیا آپ کو خبر نہیں کہ يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ‘ مرزا قادیانی اس آیت کو پیش کر کے دوسرے جواب کی طرف اشارہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے نکاح کا وعدہ کیا تھا اور آسمان پر نکاح پڑھا بھی گیا مگر اللہ تعالیٰ کو محو و اثبات کا اختیار ہے جس کو چاہے اس کا ظہور ہو اور جس کو نہ چاہے باوجود وعدے کے اس کو ظاہر نہ کرے اس کے خلاف کرے کوئی اس کا روکنے والا نہیں۔ یہ تو ان کے جواب کی تقریر ہوئی اب میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ایسی آیت پیش کی ہے جس کی شرح میں بڑا رسالہ لکھا جائے تو اس کی تفصیل کما حقہ سمجھ میں آئے مگر میں مختصراً کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں عموم کے
٧
ساتھ جہاں مشیت خداوندی کا ذکر ہے وہاں صرف اُس کی عظمت اور قدرت کا اظہار ہے اس سے کسی واقعہ خاص پر استدلال کرنا محض نادانی ہے مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ (آل عمران ١٢٩) اب اگر کوئی کافر اس آیت کو پیش کر کے یہ کہے کہ قرآن شریف کی رُو سے بخشش اور عذاب میں مسلمان اور کافر یکساں ہیں جس کو چاہے بخشے اور جس کو چاہے عذاب کرے یا اس طرح ارشاد ہوا ہے اَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَاشَاءَ رَبُّكَ (ھود ١٠٨) اس آیت سے اس پر کوئی دلیل پکڑے کہ سعداء ازلی ہمیشہ جنت میں نہ رہیں گے تو یہی کہا جائے گا کہ قرآن مجید پر اس کی نظر نہیں ہے وہ اس کے اطلاقات اور محاورات سے محض ناواقف ہے یہی ہم مرزا قادیانی کے جواب میں کہتے ہیں اور اُس کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ جس طرح اُس کا یہ ارشاد ہے کہ جسے چاہے اللہ مٹا دے اور جسے چاہے رہنے دے اسی طرح اس کا ارشاد ہے لَاتَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ یعنی اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں جو کہہ دیا اس کا ہونا ضرور ہے ایسا ہی دوسرا ارشاد ہے مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ہمارے یہاں کی باتیں نہیں بدلا کرتیں یعنی ہماری باتوں میں محو واثبات نہیں ہوتا یعنی قدرت تو اُسے سب پر ہے جو چاہے وہ کرے مگر کرتا وہی ہے جو اس کی عظمت وشان کے لائق ہے وہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے اس لئے وہی کرے گا جس میں کوئی عیب اس کی ذات پر نہ آئے۔ پھر کیا وعدے کر کے پورا نہ کرنا خصوصاً بار بار وعدہ کر کے اور اس کے پورا کرنے کا کامل وثوق اور یقین دلا کر پھر اس کا پورا نہ کرنا کوئی عیب نہیں ہے؟ ضرور عیب ہے اور بہت بڑا عیب ہے کوئی انسان ہوش وحواس کی حالت میں اس سے انکار نہیں کرسکتا پھر کیا جماعت مرزائیہ اس کو پسند کرتی ہے کہ قرآن شریف سے خدا کی ذات میں بہت بڑا عیب ثابت کرے؟ اگر پسند نہیں کرتے تو کس لئے مرزا قادیانی کو قرآن شریف کا ماہر اور خدا کا رسول مان رہے ہیں وہ تو علانیہ طور سے خدا پر عیب لگانا چاہتے ہیں یہ تو عقلی تقریر تھی جسے عالم و جاہل سب اس کی تصدیق کر سکتے ہیں اب قرآن مجید کی بعض آیتیں بھی ملاحظہ ہوں جن سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ وعدہ خداوندی میں محو واثبات ہر گز نہیں ہوتا وہ آیتیں یہ ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
- (١) لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (روم ٦)
٨
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ہیں جاہل ہیں مرزا قادیانی اس کے خلاف کہہ رہے ہیں یعنی اللہ وعدے کے خلاف کرتا ہے اب اس آیت کی رُو سے مرزا قادیانی کس گروہ میں ٹھہرے جماعت مرزائیہ انصاف کرے؟
- (٢) لَنْ يُخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ (الحج ٤٧)
اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔ جس کو عربیت سے واقفیت ہے وہ جانتے ہیں کہ لَنْ آئندہ نفی کی تاکید کیلئے آتا ہے اس لئے آیت کا مطلب ہر ایک ماہر یہی کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔
- (٣) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (ال عمران ٩)
بلاشک اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔ اس آیت میں بھی تاکید کے ساتھ ارشاد ہوا کہ جس بات کا اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اس کے خلاف نہیں کرتا اب اگر اللہ تعالیٰ وعدے کر کے محو کر دے اور پورا نہ کرے تو یہ آیتیں جھوٹی ہو جائیں گی۔ (نعوذ باللہ)
- (٤) فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ (ابراہیم ٤٧)
یہ گمان مت کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے (یعنی یہ نہیں ہو سکتا) حسب دعویٰ مرزا قادیانی یہ آیت زیادہ صراحت سے کہہ رہی ہے کہ اگر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ان سے جو وعدہ خداوندی ہوا اس کے خلاف نہیں ہو سکتا پھر وعدہ نکاح کے پورا نہ ہونے کے جواب میں آیت یمحو اللہ الخ کو پیش کرنا اس آیت کے بالکل خلاف ہے یہاں یہ امر خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آیت اس امر میں نص قطعی ہے کہ مرزا قادیانی نبی یا رسول نہیں ہیں کیونکہ ان کے اقرار کے بموجب خدا نے ان سے بہت سے وعدے کئے مگر وہ پورے نہ ہوئے۔ ان میں سے ایک وعدہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا تھا اور کیسا مستحکم وعدہ کہ خدا تعالیٰ نے بتاکید فرمایا کہ اس میں شک نہ کرنا جملہ فلا تکونن من الممترین ان کے الہام میں موجود ہے اور بیان سابق سے ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ وعدہ اس طور کا تھا کہ اس میں کوئی شرط نہیں ہو
٩
سکتی اس کا ظہور ہر طرح ہونا چاہئے تھا مگر مرزا قادیانی کے مرتے دم تک اس کا ظہور نہ ہوا اگر وہ خدا کے رسول ہوتے تو بموجب تصریح اس آیت کے وہ وعدہ ١ ضرور پورا ہوتا اور جب وہ وعدہ پورا نہ ہوا تو ثابت ہوا کہ وہ خدا کے رسول نہیں تھے اگر خلیفۃ المسیح خفا نہ ہوں تو میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ ان نصوص قطعیہ کے بعد بھی آپ جملہ یعد ٢ ولا یوفی پیش کر سکتے ہیں؟ ذرا خوف خدا کو دل میں لا کر جواب دیجئے گا اس مضمون کی آیتیں اور بھی پیش ہو سکتی ہیں مگر ثبوت مدعا کیلئے اسی قدر کافی ہیں کیونکہ ایک آیت کا منکر بھی کافر ہے۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نکاح عرش پر ہوا یا آسمان پر مگر آخر وہ سب کاروائی شرطی تھی؟ شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اس کو سوچنا چاہیے۔
١ اس وعدہ کے پورا ہونے کی وجہ مرزائی یہ بیان کرتے ہیں کہ اس وعدہ کا پورا ہونا موقوف تھا ایک وعید کے پورا ہونے پر یعنی اس کے شوہر کے مرنے پر اور اس کا شوہر اپنے خسر کے مرجانے سے بہت خوف زدہ ہو گیا تھا اور سنت اللہ ہے کہ خوف کی وجہ سے وعید ٹل جاتی ہے اس لئے اس کے شوہر کے باب میں جو وعید تھی وہ ٹل گئی اور جب یہ وعید ٹل گئی اور اس کا شوہر نہ مرا تو نکاح کا وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔ ناظرین! ایسی جاہلانہ باتیں بنانا اور انہیں مان کر دل کی تسلی کر لینا مرزا پرستوں کا ہی کام ہے کوئی صاحب عقل اور خصوصاً ذی علم اس کے غلط ہونے میں ایک منٹ بھی تامل نہیں کر سکتا اس کے وجوہ ملاحظہ ہوں (١) اُس وعید کا پورا ہونا یعنی اس کے شوہر کے مرنے کی کیا ضرورت تھی؟ نہایت خوف زدہ ہو گیا تھا تو ایمان لے آیا ہوتا اور طلاق دے کر خود مرزا قادیانی سے آ کر کہتا ہوتا کہ میں نے علیحدہ کر دیا آپ نکاح کر لیں (٢) یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی بیوی یعنی محمدی اپنے شوہر سے لڑ کر یا خوشامد کر کے اس سے طلاق لے لیتی اور الگ مفت طلاق نہ دیتا تو مرزا قادیانی سے کچھ لے کر اسے دیتی اور خلع کراتی یہ صورتیں ایسی تھیں کہ مرزا قادیانی کے سب الہامات بھی صحیح ہوتے اور بغیر وعید پورا ہونے کے نکاح کا وعدہ بھی پورا ہو جاتا۔ کیا کسی ذی علم پر یہ بات پوشیدہ ہے؟ ہرگز نہیں مگر مرزائی اس سے بے خبر ہیں مرزا پرستی نے ان کی عقل کو سلب کر دیا ہے (٣) معمولی خوف کی وجہ سے وعید ٹل جانے کو سنت اللہ بنانا محض غلط ہے کہیں قرآن میں، حدیث میں دکھاؤ یا کوئی عقلی ہی وجہ پیش کرو۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں پیش کر سکتے بلکہ ہم اس کے غلط ہونے پر قرآن مجید کی صریح آیتیں اور صحیح حدیث اور عقلی برہان پیش کر سکتے ہیں اور پیش کی ہیں فیصلہ آسمانی کا حصہ ٣ ملاحظہ کیا جائے۔
٢ یعنی خلیفہ قادیانی بعض پیش گوئیوں کے پورا نہ ہونے کے جواب میں کہتے ہیں کہ یعد ولا یوفی یعنی خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت پورا نہیں کرتا اس کا ذکر آئندہ آئیگا
٠١
اس کے جواب میں ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ برائے خدا جماعت مرزائیہ اغوائے شیطانی سے علیحدہ ہو کر بیان سابق پر غور کرے اور فیصلہ آسمانی کو اچھی طرح سے دیکھے اگر انصاف کا شائبہ بھی اس کے قلب میں ہوگا تو بے اختیار کہہ دے گی کہ مرزا قادیانی کے اقوال اس کے شاہد ہیں کہ منکوحہ آسمانی کا ان کے نکاح میں آنا یقینی تھا اس میں کوئی شرط نہ تھی اور اس وقت جس الہام کو شرط کہا گیا ہے وہ اس کے لئے کسی طرح شرط نہیں ہو سکتا۔
پھر لکھتے ہیں۔ کیا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ (٤٠) دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی وقت پر ٹال دے۔؟
اس قول میں مرزا قادیانی نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا اور ایک نہیں کئی جھوٹ ہیں (١) حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح والی پیش گوئی کے مثل ہے یا اس سے بھی زیادہ حالانکہ یہ دعوے محض غلط ہے آیندہ اس کی تشریح کی جائے گی (٢) یہ کہنا آسمان پر فیصلہ ہو چکا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر چالیس دن تک عذاب نازل ہو گا اس فیصلہ کا ذکر نہ قرآن مجید میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں نہ توریت و انجیل میں کوئی قطعی روایت ہے پھر یہ قطعی فیصلہ کس طرح معلوم ہوا؟ جب اس فیصلہ کا ذکر آسمانی کتابوں میں نہیں ہے احادیث صحیحہ میں اس کا پتہ نہیں ہے۔ تو اس کے جھوٹے ہونے میں کیا تردد ہو سکتا ہے؟ اب اگر کسی غیر معتبر روایت میں اس کا ذکر ہو تو اسے کوئی ذی علم مسلمان فیصلہ آسمانی نہیں کہہ سکتا (٣) یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیشینگوئی شرطی نہ تھی غلط ہے کیونکہ اول تو قطعی طور سے الہامی پیشین گوئی کا ثبوت ہی نہیں ہے پھر شرطی اور غیر شرطی کیسی؟ اور اگر بعض روایتوں سے پیشین گوئی کا ثبوت ہوتا ہے تو شرطی ہونے کا ثبوت بھی بعض روایتوں سے ہوتا ہے غرضیکہ قطعی طور پر کہہ دینا کہ یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں شرط نہ تھی محض غلط ہے۔
اب اس کی تفصیل ملاحظہ ہو
نکاح والی پیشین گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں آسمان و زمین کا فرق ہے اس کے وجوہ ملاحظہ کئے جائیں (١) نکاح والی پیشین گوئی قطعی اور یقینی ہے حضرت یونس
11
علیہ السلام کی پیشین گوئی یقینی نہیں ہے بعض نہایت ضعیف روایت میں اس کا ذکر آیا ہے اس لئے دونوں کو یکساں قرار دینا محض غلط ہے (٢) منکوحہ آسمانی کے لوٹ آنے کی خبر تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دی انا کنا فاعلون فرمایا حضرت یونسؑ سے ایسا نہیں کہا گیا (٣) اس امر کی نسبت یوں الہام ہوا کہ اُس عورت کا لوٹ کر آنا حق ہے اس میں شک نہ کرنا یونسؑ سے اس طرح کہنے کا ثبوت نہیں ہے (٤) اس وعدہ کی نسبت ان کا الہام ہے کہ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں یعنی اس وعدے کا پورا ہونا ضرور ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت یونسؑ سے بھی یہ صراحت کی گئی تھی؟ ہرگز نہیں یہ بات تو کسی ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں ہے (٥) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بار بار کی توجہ سے یہ الہام ہوا کہ خدائے تعالیٰ اس لڑکی کو ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔ حضرت یونسؑ نے نزول عذاب کیلئے ایسا یقین کسی وقت بیان نہیں کیا۔
مرزا قادیانی کے یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح کا ظہور ہونا نصوص قطعیہ کے خلاف ہے جو ابھی نقل کی گئی اور حضرت یونسؑ کی پیش گوئی کا ظہور نہ ہونا کسی آیت قرآنی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ یہ کہیں نہیں ہے کہ حضرت یونسؑ کو قطعی خبر دی گئی تھی کہ تیری قوم پر ضرور عذاب آئے گا اگر حضرت یونسؑ کو الہامی اطلاع ہوئی تو اس قدر ہوئی کہ اگر یہ قوم ایمان نہ لائے گی تو اس پر عذاب آئے گا۔ جیسا کہ اور انبیا کی امت پر عذاب آیا۔ کیا یہ مرزا قادیانی کا بار بار یہ کہنا کہ یونسؑ کی پیش گوئی میں شرط کی تصریح نہ تھی محض نافہمی یا فریب دہی ہے۔ جو شرط میں نے بیان کی اس کا ہونا تو ضرور ہے طریقہ ہدایت اور عقل اس کی کامل شہادت دیتی ہے کہ حضرت یونسؑ نے اپنی قوم سے یوں ہی کہا ہوگا اور روایتیں بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ حضرت یونسؑ نے اسی طرح کہا تھا جس طرح میں نے ابھی بیان کیا (٦) مرزا قادیانی نے اس کے نکاح میں آنے کی قسم کھائی ہے حضرت یونسؑ نے کسی وقت نزول عذاب پر قسم نہیں کھائی نہایت ظاہر ہے کہ کوئی بھلا آدمی قسم اُسی بات پر کھاتا ہے جس کا اُس کو کامل وثوق ہوتا ہے اور آئندہ ہونے والی بات پر وہی سچی قسم کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے یقینی اطلاع ہو۔ اب ایسی یقینی اطلاع کے بعد اس کا ظہور نہ ہونا اس کا یقین دلاتا ہے کہ یا تو وہ اطلاع شیطانی تھی تاکہ مرزا قادیانی کو رسوا کرے۔ یا ایسی تھی جیسی اس وقت اہل دنیا اپنا مطلب نکالنے کیلئے قسم کھایا کرتے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری نہ ہونے پر سخت الزام ہے اور حضرت یونس کی پیش گوئی پر یہ الزام
نہیں ہو سکتا (٧) حضرت یونسؑ کی پیش گوئی شرطی تھی یعنی انہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا اس شرط کا ہونا بدیہی ہے اور سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ منکرین سے اسی طرح کہا جاتا ہے اگرچہ یہ امر ایسا بدیہی ہے کہ اس پر کسی روایت اور قول کی حاجت نہیں ہے مگر میں کمال وثوق کے لئے بعض روایتیں پیش کرتا ہوں۔
(پہلی روایت) شیخ زادہ محشی بیضاوی، حضرت یونسؑ کے قصہ میں لکھتے ہیں
فاوحی الله اليه قل لهم ان لم يؤمنوا جاء هم العذاب فابلغهم فابوا فخرج من عندهم شیخ زادہ (ج٢ ص ٣٦٥)
اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہیں کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا حضرت یونسؑ نے یہ پیغام الٰہی اپنی قوم کو پہنچا دیا۔ اور اُن کے انکار کے بعد اُن کے پاس سے چلے گئے۔“
دوسری روایت روح المعانی جزو ١٧ ص ١٧٧ میں ہے۔
فاوحی الله تعالیٰ الیه قل لهم ان لم يؤمنوا جاء هم العذاب فابلغهم فابوا فخرج من عندهم فلما فقدوه ندموا على فعلهم فانطلقوا يطلبون فلم يقدروا عليه
”اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہہ کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا اس پر بھی وہ ایمان نہ لائے اس کے بعد حضرت یونسؑ چلے گئے جب ان کفار نے ان کو نہ دیکھا تو اپنے انکار پر نادم ہوئے اور حضرت یونسؑ کی تلاش میں چلے مگر وہ نہ ملے“
تفسیر کبیر میں بھی ایسا ہی ہے
ملاحظہ کیا جائے کہ کس صراحت سے شرط کا ذکر کیا گیا مگر مرزا قادیانی نے شور مچا رکھا ہے کہ حضرت یونسؑ کی پیش گوئی میں شرط نہ تھی یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت یونسؑ کے جانے کی بعد ہی وہ اپنے انکار پر نادم ہوئے اور اُن کی تلاش میں جا نکلے اس سے ظاہر ہے کہ ان کے جانے کے بعد ہی اللہ نے ان کے دل میں ایمان ڈالا اور اُنہوں نے اپنے انکار سے توبہ کی اور اپنا ایمان ظاہر کرنے کیلئے ان کی تلاش میں نکلے الغرض حضرت یونسؑ کی پیش گوئی میں شرط کا ہونا عقلی طور سے بھی ظاہر ہے اور نقل بھی اس کی شہادت دیتی ہے اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی میں
١٣
شرط نہیں ہے میرا مقصود یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کیلئے کوئی شرط مرزا قادیانی نے پہلے نہیں بیان کی تھی اور اب آخر میں جس الہام کو وہ شرط بیان کرتے ہیں وہ شرط نہیں ہو سکتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریر کے وقت مرزا قادیانی کے حواس درست نہ تھے۔ ذرا اس پر غور کیا جائے کہ محمدی سے تو نکاح ہو اور اس کے ظہور کیلئے اس کی نانی سے شرط کی جائے این چہ معنی دارد اور شرط کیا ہے کہ وہ توبہ کرے کیونکہ جس الہام کو شرط کہا جاتا ہے اس کے الفاظ یہی ہیں یا ایتھا المرأۃ توبی توبی الخ پھر یہ کہا جاتا ہے کہ جب اس نے اور اس کے گروہ نے توبہ کر لی تو نکاح فسخ ہو گیا یہ عجب شرط تھی کہ اس کے پورا ہونے سے معاملہ الٹ ہو گیا یعنی اس کی پورا کرنے کا یہ نتیجہ ہونا چاہیے تھا کہ نکاح کا ظہور ہوتا کیونکہ تمام اہل علم جانتے ہیں کہ شرط کے پائے جانے کے بعد مشروط کا پایا جانا ضرور ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کے الٹ کہتے ہیں کہ شرط کے پورا کرنے سے نکاح فسخ ہو گیا یہ اختلال بدحواسی نہیں تو کیا ہے؟ اس کی علاوہ اس پر غور کیا جائے کہ ظہور نکاح کے الہام میں تو بار بار وعدہ کر کے اور نہایت وثوق دلا کر کہا گیا کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی اس میں شک نہ کر پھر اس کے بعد مخالفین کو ایسا حکم کیا جاتا ہے کہ اگر وہ بجالائیں تو نکاح کا ظہور نہ ہو اس جملہ کو اگر شرط کہا جائے گا تو بجز اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور جب یہی مطلب ہے تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو فریب دیتا ہے (نعوذ باللہ ) یعنی مرزا قادیانی سے تو نکاح کے ظاہر ہونے کا نہایت پختہ وعدہ کرتا ہے اور ان کے مخالفین کو ایسا حکم دے رہا ہے کہ اس کے بجالانے سے نکاح کا ظہور نہ ہو
بھائیو! ان باتوں پر کچھ تو غور کرو اسے یقین کر لو کہ مرزا قادیانی کا الہام اس دلیل میں ہے کہ ظہور نکاح کیلئے کوئی شرط نہیں ہو سکتی اس کو ہم نے نہایت روشن طریقے سے ثابت کر دیا اور فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصہ نہایت روشن نو دلیلیں بیان کی گئی ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ جواب محض غلط ہے با ایں ہمہ اس نکاح کا ظہور نہ ہونا مرزا قادیانی کے کذب کی روشن دلیل ہے انہیں الہام ربانی ہر گز نہیں ہوا صرف مطلب برآری کیلئے انہوں نے الہام کا ہونا ظاہر کیا اگر یہ نہ مانا جائے گا تو خدائے قدوس کا جھوٹ بولنا اور فریب دینا ثابت ہو گا تعالیٰ اللہ عن ذالک علواً کبیرا
- (٧) حضرت یونس کے چلے جانے کے بعد ان کی قوم ایمان لے آئی تھی اب اس میں اختلاف
ہے کہ صرف ان کے چلے جانے سے ڈر گئی اور ایمان لے آئی یا عذاب کے آثار دیکھنے کے بعد
١٤
ایمان لائی اور ان کے ایمان لانے کی شہادت قرآن شریف میں موجود ہے ایک آیت تو اوپر نقل ہو چکی ہے دوسری آیت سورہ صافات میں اس طرح ہے۔
وَاَرْسَلْنَاهُ إِلى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ فَامَنُوا فَمَتَّعْنَا هُمْ إِلى حِينٍ (صافات ١٤٧)
ہم نے یونسؑ کو ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ کی طرف بھیجا وہ لوگ ایمان لے آئے اس لئے ہم نے انہیں چھوڑ دیا اور ایک مدت تک (یعنی موت کے وقت تک) انہیں دنیا کا فائدہ اٹھانے دیا۔
جب نص قطعی سے اُن کا ایمان ثابت ہے تو کسی روایت کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب وہ ایمان لے آئے تھے تو ان پر سے عذاب کا ٹل جانا نہایت بجا تھا مرزا قادیانی کے مخالفین یعنی اس لڑکی کی نانی وغیرہ کبھی ایمان نہیں لائی یہ کتنا بڑا فرق ہے؟ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ احمد بیگ کے مرنے سے وہ لوگ اس قدر روئے اور خوف زدہ ہوئے نمازیں پڑھنے لگے اور یہ ہوا اور وہ ہوا یہ سب مرزا قادیانی کا زور تحریر ہے جیسے ان کی عادت ہی اور کچھ نہیں۔ گھر کے سر پرست کے مرنے کے بعد رونے پیٹنے کا اکثر معمول ہے کہیں کم کہیں زیادہ کسی کے دل میں خوف بھی ہوا ہو یہ بھی معمولی بات ہے کہ موت کے بعد گھر والوں کے دل میں خوف خدا کچھ نہ کچھ آجاتا ہے اس کی موت کو یاد کر کے نماز روزہ زیادہ کرنے لگے ہوں تو اس کا نام ایمان لانا مگر اس کو دوسری طرف پھیر دینا اور بہت زیادہ کر کے دکھانا ایسا صریح جھوٹ ہے جس میں کوئی فہمیدہ شک نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اگر انہیں مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی وجہ سے اس قدر خوف و ہراس ہوا تھا جیسا مرزا قادیانی نے بار بار بیان کیا ہے تو مرزا قادیانی ان کے پاس موجود تھے کہیں چلے نہیں گئے تھے ان پر ایمان لے آتے ان سے اپنا قصور معاف کراتے مگر نہ کوئی ایمان لایا نہ اپنا قصور معاف کرایا بدستور مخالف رہے یہ بیّن دلیل ہے کہ معمولی طور سے ان کا رونا دھونا خوف و ہراس تھا اسی طرح ہم اور بھی فرق دکھا سکتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی میں اور حضرت یونسؑ کی پیش گوئی میں بہت بڑا فرق ہے حضرت یونسؑ کی قوم سے عذاب کا دور ہو جانا مطابق عقل کی اور موافق شرط کے ہوا۔ اور مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا کسی طرح مطابق عقل اور موافق شرط کی نہیں ہو سکتا۔ اس کے وجوہ جس قدر بیان کئے گئے ہیں وہ بہت کافی ہیں طول دینے کی ضرورت نہیں ہے مذکورہ قول میں مرزا قادیانی کا یہ کہنا آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس
١٥
روز تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا، محض غلط ہے فیصلہ ہوتا اور بات ہے اور ڈرانا اور بات ہے یوحنا نبی کی کتاب باب چہارم سے ظاہر ہے کہ حضرت یونس نے عذاب کی پیش گوئی کی تھی خود انہیں یقین نہ تھا کہ عذاب ضرور آئے گا اور ٤٠ روز کی مدت کو آسمانی فیصلہ بتانا وہی مرزا قادیانی کی معمولی بیباکی کی ہے ورنہ عذاب آنے کی مدت میں مختلف روایتیں ہیں بعض میں ایک دن ہے بعض میں ٣ دن اور بعض میں ٤٠ دن ہیں۔
کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک روایت پر ایسا یقین کر لیا جائے جیسا مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں اب تو آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا جواب ہر طرح غلط ہے اور منکوحہ آسمانی کی پیش گوئی کے جھوٹی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اب اگر مرزا قادیانی کے جواب کی غلطی کا انکشاف اور زیادہ منظور ہے تو فیصلہ آسمانی کا تیسرا حصہ دیکھنا چاہیے الغرض مرزا قادیانی کے جوابات محض غلط ثابت ہوئے اور اس قسم کی غلطی ثابت ہوئی کہ ان کی کوئی بات لائق اعتبار نہ رہی۔ اس لئے ان کے کسی مرید کی بات کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر میں ان کے خلیفہ کے حالت کو بھی نمونہ کے طور پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس لئے ان کے جواب کی بھی حالت دکھاتا ہوں۔
خلیفۃ المسیح کے جواب کا غلط ہونا
عجب نہیں کہ جناب خلیفۃ المسیح قادیان کے پیش نظر بعض ایسے امور ہوں جو میں نے بیان کئے اس لئے وہ مرزا قادیانی کے جواب کو پسند نہیں کرتے دوسرا جواب دیتے ہیں اور پسند نہ کرنا میں اس وجہ سے کہتا ہوں کہ خلیفہ صاحب بہت زور سے کہہ چکے ہیں کہ صاحب الہام کے کلام کے معنی وہی صحیح ہیں جو صاحب الہام خود بیان کرے باوجود اس خیال کے خلیفہ صاحب نے یہاں صاحب الہام کے کلام کو چھوڑ کر دوسری توجیہہ ایسی کی جس سے صاحب الہام یعنی مرزا قادیانی کا قول غلط ٹھہرتا ہے ان کی توجیہہ صحیفہ محبوبیہ میں اس طرح منقول ہے ”ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ (یعنی مرزا قادیانی) کی شادی ہوگی اور ایک عورت سے زلازل سے پہلے ایک لڑکا ہوگا اور پانچویں اولاد کی بشارت پر اعتراض ہے ان کا للہ و باللہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے گاہے وہ اور اس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثل مراد ہوتا ہے۔
١٦
(اُس کی مثال ملاحظہ ہو) مثلاً اللہ تعالیٰ زبان نبوی میں فرماتا ہے اَقِيْمُو الصَّلوٰۃ وَآتُو الزکوٰۃ (نماز پڑھو روزہ رکھو) اس حکم الٰہی میں خود مخاطب اور ان کے مابعد کے لوگ شامل ہیں جو ان مخاطبین کے مثل ہیں“
خلیفہ قادیانی جس تفصیل سے کتب سماویہ کا طرز بیان کر رہے ہیں ہم بغرض اختصار تسلیم کرتے ہیں مگر یہ فرمائیں کہ یہاں تو خطاب میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے یہ لفظ تو اسی لئے بنایا گیا ہے کہ عام مخاطبین پر حکم کیا جائے یہ تو اپنے صریح معنے کے لحاظ سے عام ہے اور شامل ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کی تمام امت کو۔ منکوحۂ آسمانی کی نسبت کسی وقت مرزا قادیانی کے الہام میں ایسا عام لفظ نہیں آیا ہے اس منکوحہ کی نسبت برسوں الہامات ہوتے رہے مگر اسی خصوصیت کے ساتھ مثلاً کہ ”یہ عورت تیرے نکاح میں آئے گی“ کسی وقت اس طرح الہام ہے ”خدائے تعالیٰ اُس لڑکی کو ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا“ جس نبی مکرمؐ کی وحی میں اقیمو الصلوٰۃ آیا ہے اُس نے کسی وقت نہیں فرمایا کہ یہ حکم اس عاجز کیلئے ہے ”کبھی عربی میں یوں الہام ہوا سیردھا الیک یعنی اللہ تعالیٰ اس لڑکی کو لوٹا کر تیرے پاس لائے گا“ ان خطابوں سے اَقِيْمُو الصَّلوٰۃ کو کیا نسبت ہے جو آپ اسے مثال میں لائے ہیں۔
کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ کتب سماویہ میں ایسے خطابات خاصہ کا استعمال کر کے عام مخاطب ١؎ مراد لیا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر ایسا ہو تو کلام خدا غلط ہو جائے اس پر خوب غور کیجئے گا۔ خیر
١؎ اس مضمون کو دیکھ کر ایک صاحب نے کہا کہ قرآن مجید میں ہے وَلَا تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا یہاں واحد کا صیغہ بولا گیا ہے اور خطاب عام مسلمانوں سے ہے میں نے کہا کہ کتب معانی اور بلاغت کا معائنہ کرنا چاہیے تاکہ معلوم ہو جائے کہ خطاب کس کس طرح سے بلغاء کرتے ہیں اس آیت میں اگرچہ حکم عام ہے مگر یہ عموم اس لئے نہیں ہے کہ واحد کا صیغہ بول کر عام کو خطاب کیا ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ہر امتی سے جداگانہ خطاب ہے جس حکم میں نہایت تاکید مقصود ہوتی ہے وہاں ایسا ہی کہا جاتا ہے جب کوئی رئیس اپنے نوکروں پر ضروری حکم کرنا چاہتا ہے تو ہر ایک کو بلا کر کہہ دیتا ہے کہ تجھے یہ کام کرنا ہوگا یا اپنے کسی خاص کو بھیجتا ہے کہ ہر ایک سے کہہ دو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ سے کہا کہ ایک کو یہ حکم سنا دو۔ اس لئے مخاطب ہر ایک امتی ہے خواہ اس وقت موجود ہو یا آئیندہ امت میں داخل ہو مگر جب امتی سے خطاب کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکم عام ہو گیا۔
١٧
یہ گفتگو تو بلحاظ الفاظ اور استعمال کے تھے اب میں یہ کہتا ہوں کہ ان الہاموں کے خطاب کو عام کرنا خود مرزا قادیانی کے اقوال کے خلاف ہے مثلاً اس وقت ان کے تین الہام بیان کئے گئے۔
تیسرے الہام کی شرح میں مرزا قادیانی کہتے ہیں لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی جو غیر کفو میں چلی گئی ہے یعنی اس کا نکاح غیر کفو میں ہوا ہے اب وہ لوٹ کر اپنے کفو میں آئے گی یعنی میرے نکاح میں۔ میں اس کا کفو ہوں‘
یہ الہام اور اس کی شرح صاف کہہ رہی ہے کہ یہ خطاب خاص ہے عام نہیں ہوسکتا کیونکہ لوٹ کر اپنے کفو میں آجانا خاص احمد بیگ کی لڑکی کی نسبت ہوسکتا ہے اور اگر وہ لوٹ کر مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تو پھر کفو میں لوٹ کر آنے کی کوئی صورت نہیں ہے بالفرض اگر محمدی کی لڑکی مرزا قادیانی کے لڑکے سے بیاہی جائے تو بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ محمدی یا اس کی بیٹی اپنے کفو میں آگئی‘ محمدی کا نہ آنا تو ظاہر ہی ہے اس کی وہ بیٹی سلطان محمد کی اولاد ہے اور سلطان محمد کو مرزا قادیانی غیر کفو بتارہے ہیں اور اولاد کا کفو باپ کے لحاظ سے ہوتا ہے اس لئے وہ لڑکی مرزا قادیانی کے کفو میں نہیں ہے اب نکاح ہونے کے بعد یہ کہیں گے کہ مرزا قادیانی کا لڑکا غیر کفو میں گیا اور محمدی کی لڑکی غیر کفو میں آئی دوسرا الہامی قول اور ملاحظہ کیجئے جو حکیم صاحب کی تاویل کو غلط بتا رہا ہے اس سے پہلے لکھا گیا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی سے آسمان پر نکاح ہوا تھا مگر وہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا اب آسمان پر خاص مرزا قادیانی سے محمدی کا نکاح ہوا تھا کسی مفہوم کلی کا نہیں ہوا تھا جس میں مرزا قادیانی کے تمام متعلقین بھی شامل ہوں اور پھر وہ فسخ ہو گیا اگر خلیفہ صاحب کا قول صحیح ہو تو نکاح کے فسخ ہونے اور تاخیر میں پڑنے کے کوئی معنے نہیں بنتے کیونکہ بقول خلیفہ صاحب جس وقت مرزا قادیانی کے متعلقین میں سے کسی کا نکاح محمدی کی اولاد سے ہو جائے تو الہام صحیح ہو گیا اس کے لئے کوئی حد نہیں ہے کوئی وقت نہیں ہے پھر تاخیر میں پڑنا یا فسخ ہو جانا چہ معنی دارد؟
الغرض جب مرزا قادیانی اُسے فسخ ہو جانا یا تاخیر میں پڑنا بتا رہے ہیں تو خلیفہ صاحب کا خطاب کو عام کہنا مرزا قادیانی کے قول کے صریح مخالف ہے
یہاں دو قولوں کی مخالفت دکھائی گئی اور پہلے حصہ میں بہت کچھ ہے وہاں دیکھئے اب خلیفہ صاحب کو کیا حق ہے کہ اپنے مرشد کے خلاف معنی بیان کریں اب اگر اسی پر اصرار ہے تو
١٨
فرمائیں کہ منکوحہ آسمانی کے متعلق جو الہامات ہیں وہ ایسے ہی عام ہیں جیسے اقیمو الصلوۃ کا حکم ہے تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ جس طرح نماز پڑھنے کا حکم ہر مسلمان کو ہر زمانہ میں ہے نبی بھی اس میں شامل ہیں تو نکاح میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے؟ ۔ اور اس کا جو کچھ نتیجہ ہے۔ وہ صاف ظاہر ہے۔ اور فطرت کے سراسر خلاف ................. جس طرح نماز ہر مسلمان پڑھتا ہے۔ اور تاویل کر کے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی سے ہو اور ان کے متعلقین کا محمدی کی اولاد سے ہو اس وقت اقیمو الصلوۃ کی مثال صحیح ہو سکتی ہے اب اس کی تفصیل پر آپ خود ہی غور کریں کہ کہاں تک نوبت پہنچتی ہے؟۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہو جائے یا ان کے متعلقین میں سے کسی کا نکاح محمدی کی اولاد سے ہو جائے اسی قدر صداقت الہام کیلئے کافی ہے؟ مگر اس کی مثال خلیفہ صاحب اقیمو الصلوۃ سے دیتے ہیں تو اب اس حکم خداوندی کے معنے انہیں یہ کرنا ہوں گے کہ اگر اس حکم خداوندی کی تعمیل رسول اللہ ﷺ نے کر دی تو تعمیل ہو گئی اب امت کو ضرور نہیں ہے اور اگر امت میں سے کوئی اسکی تعمیل کردے تو کافی ہے سب کے لیے ضروری نہیں جب تک ان دونوں معنی میں سے ایک معنی خلیفہ جی اختیار نہ کریں اس وقت تک یہ مثال ان کی صحیح نہیں ہو سکتی اب وہ فرمائیں کہ انہوں نے کون سے معنی مراد رکھے ہیں؟ تاکہ قرآن دانی ان کی معلوم ہو! ١؎
افسوس حکیم (نور دین) نے اپنا علم و فضل بھی مٹی کر دیا باطل پرستی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ غضب ہے کہ ایسے بیہودہ اور شرمناک جواب کو قرآنی جواب کہا جاتا ہے افسوس! الغرض ہر فہمیدہ معلوم کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ان الہاموں میں خطاب عام کسی طرح نہیں ہو سکتا اور نہ خلیفہ صاحب کی مثال اس مقام پر صحیح ہو سکتی ہے بلکہ اس کے ماننے سے شرمناک بات پیش آتی ہے
١؎ اب دوسرا افسوس یہ ہے کہ خلیفہ جی تو چل دیئے اور اس کا جواب نہ دیا اور نہ کسی دوسرے مرزائی کی ہمت ہوئی جب خلیفہ قادیان جواب سے عاجز رہے تو اب دوسرے کی کیا ہستی ہے کہ جواب دے مگر باینہمہ مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ پرانے اعتراض ہیں سب کے جواب دیئے گئے ہیں مگر ہمارے جواب الجواب سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ناواقفوں کو دھوکا دیتے ہیں اگر اپنے آپ کو راستی کا طالب خیال کرتے ہو تو ہمارے اعتراضوں کا جواب دو مگر اب تک نہیں دیا اور نہ دے سکتے ہو (مرتضی حسن)
١٩
آگے چل کر حکیم صاحب فرماتے ہیں ”جب مخاطب میں مخاطب کی اولاد ۔ مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی ہے۔“
ہمارے بیان سے ظاہر ہو گیا کہ ہر جگہ مخاطب میں اس کی اولاد وغیرہ داخل نہیں ہو سکتی اور بالخصوص یہاں داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے اور جب مرزا قادیانی نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے کہ اس خطاب میں فقط احمد بیگ کی بڑی لڑکی ہی مراد ہے اس کی اولاد مراد نہیں ہے جس کا بیان ہو لیا تو اب خلیفہ صاحب کا قول لائق توجہ نہیں ہو سکتا پھر فرماتے ہیں ” کیا آپ کے علم الفرائض میں بنات البنات کو حکم بنات کا نہیں مل سکتا“ نہیں مل سکتا بنات ذوی الفروض میں ہیں اور بنات البنات ذوالارحام میں دونوں میں بڑا فرق ہے ”کیا مرزا قادیانی کی اولاد مرزا کے عصبہ نہیں“
حکیم صاحب یہاں ترکہ تقسیم نہیں ہوتا کہ اس کا عصبہ ہونا کام آئے یہاں حکم خداوندی یا اطلاع خداوندی کا ذکر ہے جس کے لئے حکم ہو اور جس کے لئے اطلاع ہو یہ ضرور نہیں کہ جو بشارت باپ کے لئے ہو وہ بیٹے کے لئے ہی ہو۔ مرزا قادیانی تو نہایت زور سے برابر کہتے رہے کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی اور بارہا اس کا اظہار کیا اس کو مشتہر کیا اور اس کو خدائے تعالیٰ کا قول بیان کیا برسوں یہی کہتے رہے کسی وقت عموم اور شمول کا شائبہ بھی ان کے کلام میں نہیں پایا گیا پھر حکیم صاحب کیوں اس کے خلاف زور دے رہے ہیں اور اپنی قابلیت میں بٹہ لگا رہے ہیں۔
خلیفہ قادیان کی ایک اور تقریر بھی اس کے متعلق دیکھی اُسے دیکھ کر تو فرقہ باطنیہ کی توجیہیں یاد آ گئیں اسی طرح وہ بھی خدا اور رسول کو الزام دیتے ہیں اور کتاب اللہ کے خلاف کہا کرتے ہیں اور اُن باتوں کو خدا کے اسرار بتاتے ہیں خلیفہ قادیان کی ساری تقریر کو نقل کرنا فضول ہے اس میں دو باتیں اس قابل ہیں کہ مسلمانوں کو ان کی اصلی حالت سے اطلاع دی جائے۔
- (١) خلیفہ قادیان فرماتے ہیں ”حضرت نبی کریم ﷺ نے کسریٰ اور قیصر کی کنجیوں کا
ذکر فرمایا ہے کہ مجھے دی گئیں ہیں مگر آپ نے وہ کنجیاں نہ دیکھیں کہ چل دیئے“ غرض یہ کہ اسی
١؎ یہ تقریر ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے رسالہ اتمام الحجۃ میں منقول ہے
٢٠
طرح مرزا قادیانی نے بعض پیش گوئیاں بیان کیں اور وہ پوری نہ ہوئیں کہ مرزا قادیانی چل دیئے ایسی باتوں میں اللہ تعالیٰ کے مخفی اسرار ہوتے ہیں (٢) حضرت شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے يَعِدُهُ لَا يُوْفِي بعض دفعہ خدا وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا۔‘‘
یہ حکیم صاحب کے اقوال ہیں جنہیں دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے کہ وہ کس بلند آسمان پر تھے اور اب کس تاریک غار میں جا گرے مرزا قادیانی کی شغف محبت نے ان کے دل و دماغ کو بیکار کر دیا اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرمائے اور ان کے قلب سے ظلمت کے پردہ کو ہٹائے۔
افسوس ہے مرزا قادیانی کی محبت میں وہ خدا اور رسول خدا پر الزام لگا رہے ہیں اور اُسے اسرار خدا بتاتے ہیں۔
حکیم صاحب اگر ایسی صریح غلط باتیں بھی اسرار خدا کہہ دینے سے مان لینے کے لائق ہو جائیں تو پھر کسی باطل پرست اور گمراہ کے مقابلہ میں آپ زبان نہیں کھول سکتے کیونکہ وہ اپنی سب گمراہی کی باتوں کو اسرار بتا کر آپ کو بند کر دے گا اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔
حکیم صاحب کی حالت بیان کرتا ہوں حکیم صاحب کہتے ہیں کہ ”نبی کریم ﷺ نے کسریٰ اور قیصر کی کنجیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ مجھے دی گئیں ہیں“
بھائیو! مجھے ان کی دیانت پر نہایت افسوس ہے کہ ایسے معرکہ کی بات اور حکیم صاحب ایسے گول الفاظ میں بیان کر رہے ہیں جس سے ناواقف بڑے دھوکے میں پڑ سکتے ہیں کسی چیز کا ذکر کرنا مختلف طور سے ہو سکتا ہے۔
آیا حضور انور جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے خواب کا ذکر فرمایا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے یا اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت بیّنہ کا خیال کر کے حضور نے اپنا قیاس اور فراست ظاہر فرمائی ہے یا الہام خداوندی بیان فرمایا یعنی یہ کہ خدا کی طرف سے مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ مجھے کنجیاں دی گئیں؟۔
اور پھر اُس الہام کی صداقت پر کتنی مرتبہ اپنا یقین ظاہر فرمایا ہے اور کسی وقت اس کی سچائی ظاہر کرنے کیلئے آپ نے قسم بھی کھائی ہے یا نہیں اور حضور انور نے یہ بھی فرمایا ہے یا نہیں کہ
٢١
اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ١؎ ہوں (معاذ اللہ) اس کا ظہور میری صداقت کا معیار ہے۔ حکیم صاحب یہ کچھ بیان نہیں کرتے بلکہ مجمل الفاظ لکھ کر مرزا قادیانی سے الزام اُٹھانا چاہتے ہیں حکیم صاحب کے بیان سے ناواقف یہی سمجھیں گے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی کی تھی کہ قیصر و کسریٰ کے خزانہ کی کنجیاں دی جائیں گی مگر اس کا ظہور نہیں ہوا اسی طرح منکوحہ آسمانی کی نسبت مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ وہ نکاح میں آئے گی مگر نہیں آئی غرض کہ الزام اگر ہے تو دونوں پر برابر ہے (نعوذ باللہ استغفر اللہ) چہ نسبت خاک را با عالم پاک
حکیم صاحب یہ آپ نے کہاں کا جوڑ کہاں لگایا اگر مرزا قادیانی کے غلبۂ محبت میں قصداً ناواقفوں کو دھوکا دیا ہے تو منتقم حقیقی کے حوالہ ہے اور اگر غلطی ہے آپ کی سمجھ میں نہیں آیا تو سمجھ لیجیے جس قصہ کو آپ نے گول الفاظ میں بیان فرمایا ہے وہ جناب رسول اللہ ﷺ کا خواب ہے اور اس کا بیان صحیح حدیثوں میں اس طرح ہے جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں گذشتہ شب کو سو رہا تھا کہ بینا انا نائم اُوتیت خزائن الارض
دیکھتا ہوں کہ تمام زمین کے خزانہ میرے روبرو پیش کئے گئے
(بخاری باب وفد بنی حنیفہ ج ص ٦٢٨ مسلم کتاب الرؤیا ج ٢ ص ٢٤٢)
حدیث میں صرف اسی قدر خواب کا ذکر ہے حضور انور ﷺ نے اپنا خواب بیان فرما کر اس کی تعبیر میں یا اس کی شرح میں کوئی لفظ نہیں فرمایا۔
یہ عاجز اور حدیثوں پر نظر کر کے مختصر شرح اس خواب کی کرتا ہے خزانۂ زمین کی کنجیاں یا
١؎ مرزا قادیانی کی اس عظیم الشان پیش گوئی میں یہ سب باتیں ہیں پہلے پیام نکاح میں اپنا الہام مرزا قادیانی نے بیان کیا پھر نکاح میں آنے کا وعدہ خداوندی ظاہر کیا پھر بار بار اس پر اپنا یقین اور کامل اعتماد ظاہر فرمایا ہے جن کا ذکر ہو چکا ہے اور حاشیہ پر وہ مقامات بتائے گئے ہیں اور احمد بیگ کے خط میں قسم بھی کھائی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ احمد بیگ کا داماد اگر میرے روبرو نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ نبی کریم ﷺ کے بیان میں ایسی ایک بات بھی نہیں ہے حکیم صاحب صرف اس قدر کہتے ہیں کہ کنجیوں کا ذکر فرمایا پھر وہ ذکر فرمایا تو خواب کی حالت کا تھا اب نہیں معلوم ہوا کہ اُس خواب کی تشریح اور تعبیر کیا ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کچھ بیان نہیں فرمایا پھر ایسی مجمل بات پیش کر کے کوئی انصاف پسند مرزا قادیانی سے الزام کو اُٹھا نہیں سکتا۔
٢٢
تمام زمین کا خزانہ ایسا تھوڑا تو نہیں ہوسکتا ہے کہ حضور انور ﷺ کے دست مبارک میں آجائے۔ اس لئے اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ صورت مثالیہ کنجیوں کی یا خزانہ کی حضورؐ کے سامنے پیش کی گئی اور فرشتہ نے کہا کہ یہ سب آپؐ کی امت کیلئے ہے اس مطلب کی تائید بہت سی حدیثوں سے ہوتی ہے۔
جن میں حضور انور ﷺ نے اپنے صحابہؓ کی نسبت پیش گوئی کی ہے کہ تم ملک فارس اور روم کو فتح کرو گے اور ان کا خزانہ اللہ کی راہ میں صرف کرو گے ایک روایت اس طرح ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ صحابہؓ سے پیش گوئی فرماتے ہیں کہ
يفتح الله لكم ارض فارس وارض الروم وارض حمير قيل ومن يستطيع الشام مع الروم ذوات القرون فقال والله ليفتحها الله لكم ويستخلفكم فيها
(امام احمد طبرانی و غیرہما)
فارس اور روم اور حمیر کے ملک پر اللہ تمہیں فتح دے گا بعض صحابہؓ اس پر متعجب ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت روم سے کون لڑ سکتا ہے تو حضورؐ نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ تمہیں ضرور اس پر کامیاب کرے گا اور تم اپنا خلیفہ وہاں بٹھاؤ گے۔
ایک مرتبہ حضورؐ نے اپنے کشف کی حالت بیان ١؎ فرمائی کہ میں نے کسریٰ اور روم کے شہروں کو دیکھا اور جبریلؑ نے کہا آپؐ کی امت ان پر قابض ہوگی۔
اور بخاری اور مسلم کی روایت میں ہے کہ کسریٰ اور قیصر مرینگے اور ان کے بعد پھر کوئی کسریٰ اور قیصر نہیں ہوگا اور ان کے خزانوں پر تم قابض ہو گے اور تم انہیں اللہ کی راہ میں صرف کرو گے۔
ترمذی شریف کے الفاظ یہ ہیں والذی نفسی بیده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله تعالیٰ (ترمذی باب ماجاء اذا ذهب کسریٰ فلا كسریٰ بعده ج٢ ص ٤٥) یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کسریٰ اور قیصر کے خزانے تم اللہ کی
١؎ یہ روایت کنز العمال کی جلد ٦ میں ہے
راہ میں صرف کرو گے۔ یا صرف کئے جائیں گے۔
حکیم صاحب! جناب رسول کریم ﷺ کی یہ پیش گوئیاں صاف کہہ رہی ہیں کہ خواب میں فرشتہ نے خزانے کی کنجیاں پیش کر کے بغرض مسرت آپؐ سے کہا کہ یہ خزانہ آپؐ کے صحابہؓ یا آپؐ کی امت کا ہے اور بالفرض اگر اس وقت نہیں کہا تو دوسرے وقت آپؐ کو اس کی شرح الہام سے معلوم ہوئی اور آپؐ نے پیش گوئی فرمائی اور اس کا ظہور حسب ارشاد آپؐ کے ہوا کیا یہ روایتیں آپ کی نظر سے نہیں گذریں؟ اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے خواب کی یہ تعبیر نہ تھی کہ ان کنجیوں کا میں مالک ہوں گا اور اگر یہی تعبیر ہے تو بھی نہایت صحیح ہے کیونکہ خزانے کی کنجیاں بادشاہوں کے پاس نہیں رہتیں خزانچیوں کے پاس رہتی ہیں سلاطین انہیں دیکھتے بھی نہیں اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے کیا اس کی وجہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بادشاہ خزانہ کا مالک نہیں ہے ہرگز نہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ سلطان دارین ہیں آپؐ کو کنجیوں کے دیکھنے کی حاجت نہیں ہے آپؐ کے خزانچیوں صحابہؓ نے دیکھیں اور ان کے قبضہ میں آئیں اور آپؐ کے ارشاد کے بموجب اُس خزانہ کو اُنہوں نے صرف کیا چونکہ آپؐ اُن کے ہادی اور مرشد تھے آپؐ ہی کی وجہ سے وہ خزانہ صحابہؓ کے قبضہ میں آیا اس لئے دو وجہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خزانہ حضورؐ کے قبضہ میں آیا ایک یہ کہ اُس سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ ہوا اس کا ثواب حضورؐ کو ایسا ہی ملا جیسا کہ حضورؐ اپنے مملوک خزانہ کو صرف کرتے اور آپؐ کو ثواب ملتا دوسرے یہ کہ وہ خزانہ اللہ کی راہ میں صرف ہوا اور تمام مسلمانوں کو یعنی اس وقت کی پبلک کو فائدہ ہوا یہ بعینہٖ بادشاہ کا فائدہ ہے اگر اس طور کی ملک خواب میں دکھائی گئی تو عجب نہیں بہت خواب ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے ظاہری معنی سے ان کی تعبیر بالکل مخالف معلوم ہوتی ہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی (ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٨) میں لکھتے ہیں ”خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں“ خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور صحت سے مراد موت ہوتی ہے اب اگر رسول اللہ ﷺ کے خواب کی یہ تعبیر ہو کہ آپؐ کے جانشین اس خزانہ کے مالک ہوں گے تو نہایت ظاہر ہے۔
الغرض خواب کو پیش کر کے اس کے ظاہری لفظوں سے استدلال پیش کرنا صحیح نہیں ہے
٢٤
مگر الحمد للہ ہم نے دکھا دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے نہ ایسی پیش گوئی کی جس کا ظہور حسب ارشاد نہ ہوا ہو نہ آپؐ کا کوئی خواب غلط ثابت ہوا مگر حکیم صاحب اپنے مرشد کی غلط پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے جناب رسول اللہ ﷺ پر الزام لگانا چاہتے ہیں مرزا قادیانی نے بھی تحفہ گولڑویہ (ص٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میں اسی قسم کا الزام لگایا ہے (استغفر اللہ نعوذ باللہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ”حدیبیہ کی پیش گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی“ حالانکہ یہ محض افترا ہے آپؐ نے حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی ایسی نہیں کی جس کا وقت اپنے انداز سے متعین کر دیا ہو اور وہ پیش گوئی اس وقت پر پوری نہ ہوئی یہ بالکل غلط ہے مرزا قادیانی اپنے اوپر سے الزام دفع نہیں کر سکتے اس لئے حضرت سرور انبیاء پر الزام لگا کر عوام کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔
مگر ناظرین خوب یاد رکھیں کہ حدیبیہ کی پیشن گوئی جناب رسول اللہ ﷺ نے کوئی وقت اپنے انداز سے بیان نہیں فرمایا اس کی تفصیل دوسری جگہ کی جائیگی۔
حکیم صاحب خدا کے لئے کچھ تو انصاف کیجئے کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی کس زور شور سے کی ہے اور کتنی مدت تک اس کا اعلان کرتے رہے ہیں اور کس کس طرح سے انہوں نے اس پر اپنا یقین ظاہر کیا ہے یہاں تک کہ عدالت کے اجلاس میں حاکم نے دریافت کیا کہ آپ کو امید ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی آپ کے نکاح میں آئے گی اُس کے جواب میں مرزا قادیانی کہتے ہیں ”امید کیسی یقین ہے“ (منظور الٰہی ص ٢٤٥) اور پھر چل دیئے اور اس کی صورت دیکھنا بھی نصیب نہ ہوئی۔
اسی طرح اس کے میان کیلئے پیش گوئی کی کہ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا جب وہ نہ مرا تو کیسی کیسی بیہودہ اور غلط باتیں بنائی ہیں کہ خدا کی پناہ اس کے بعد اسی کے لئے دوسری پیشن گوئی کی گئی اور کہا گیا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا تقدیر مبرم ہے اگر وہ نہ مرے اور میں مرجاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١)
مرزا قادیانی کو مرے ہوئے کئی برس ہو گئے اور اس کا خاوند اب تک زندہ ہے۔ غرضیکہ
١؎ اس کا ذکر آئندہ آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ
٢٥
یہ دوسری پیشن گوئی بھی جھوٹی ہوئی پھر ایسی جھوٹی پیشین گوئیوں کے مقابلہ میں یا ان پر پردہ ڈالنے کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ کا خواب پیش کرتے ہو اور پھر اور اس میں دخل دے کر جناب رسول اللہ ﷺ پر الزام لگا کر اپنی برأت کرنا چاہتے ہیں افسوس کیا یہی دیانت ہے مگر بحمد اللہ اس خواب کی بھی سچائی ظاہر کر دی گئی۔
دوسری بات حکیم صاحب کی یہ ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں یعد ولا یوفی اور بعض جگہ یوعد ولا یوفی لکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض مرتبہ پورا نہیں کرتا‘‘
حکیم صاحب آپ کے علم کو کیا ہو گیا جو مضمون قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے خلاف ہے جس کے ماننے سے خدائے قدوس پر الزام آتا ہے اسے آپ مان رہے ہیں قرآن مجید کی متعدد آیتیں نقل کی گئی ہیں جن سے قطعی طور سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں خلاف نہیں ہو سکتا اس کے خلاف سنت اللہ بتانا محض غلط اور نصوص قطعیہ کے مخالف ہے پھر کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ کے خلاف عقیدہ رکھ کر اور خدائے قدوس پر الزام لگا کر حضرت محبوب سبحانیؒ کی پناہ میں جائیں اور ان کے کلام سے سند پیش کریں یہ خیال خام ہے نصوص قطعیہ کے خلاف ان بزرگان کا کلام ہرگز نہیں ہو سکتا حضرت محبوب سبحانیؒ نہایت بلند پایہ کے بزرگ ہیں وہاں سکر وشطحیات کا بھی پتہ نہیں ہے آپ نہایت ہی شریعت کے متبع ہیں آپ کبھی قرآن مجید کے خلاف نہیں فرما سکتے آپ کی شان اس سے نہایت اعلیٰ ہے البتہ یہ حضرات جہاں مراتب ولایت اور عارفین کی حالت بیان کرتے ہیں اُسے وہی سمجھ سکتے ہیں جن پر کم وبیش وہ حالتیں گزری ہیں۔ جو ان حالتوں سے محض نا آشنا ہیں وہ اُنہیں ہرگز نہیں سمجھ سکتے اسی لئے ان کے کلام کو سند میں پیش کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔
اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ حضرت شیخ کا یہ جملہ ان کی کسی کتاب میں میں نے نہیں دیکھا اور نقل کرنے والے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیتے اگر فتوح الغیب میں ہے تو بتائیں کون سے مقالہ میں ہے البتہ ان کا یہ ارشاد ہے فح يَجُوز اَنْ يَعِدَهُ اللّٰهُ وَلَا يَظْهَرُ لِوَعْدِهِ وُقُوعٌ یعنِی
٢٦
مقام فنا میں عارف کو اس قدر محویت اور از خود رفتگی ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس سے وعدہ کرے اور اس کے ایفاء کی اسے خبر نہ ہو۔
شیخ اس کے وقوع اور فعلیت کو ہرگز نہیں کہتے بلکہ عارف کی کمال محویت کے سمجھانے کیلئے امکانی صورت فرض کر کے مثال دیتے ہیں عرفائے کاملین عاشقان خدا ہیں اور چاشنی چشیدہ محبت اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ عاشق اپنے محبوب کے مسرت بخش وعدے سے کس قدر محظوظ اور مسرور ہوا کرتا ہے اور پھر اس کے پورا ہونے کے انتظار میں اس کی عجب حالت رہتی ہے اور جب اس کا محبوب اس وعدے کو پورا کرتا ہے تو خوشی کے مارے یہ پھولے نہیں سماتا مگر یہ عرفا ایسے از خود رفتہ اور مدہوش ہو جاتے ہیں کہ اس کے وعدے اور ایفاء کی بھی انہیں خبر نہیں رہتی۔ اس کی تفصیل دوسرے مقام پر کی جائے گی (انشاء اللہ تعالیٰ) ١؎
غرضیکہ حضرت شیخ کے کلام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت وعدہ خلافی کرتا ہے۔
تنبیہ:- حکیم صاحب کی شغف محبت ناجائز و قابل ملاحظہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو بڑے زور و شور سے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی وعدہ کرتا ہے کہ (١) احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی اور ایک (٢) ایسا عجوبہ لڑکا تجھے دیا جائے گا گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے اُتر آیا یا مثلاً (٣) قادیان میں طاعون نہ آئے گا مگر ان وعدوں کا ظہور نہ ہوا نہ وہ لڑکی نکاح میں آئی نہ اس عجوبہ لڑکے کا ظہور ہوا نہ قادیان طاعون سے محفوظ رہا اب مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے جاتے ہیں اس لئے حکیم صاحب اس کا جواب دینے میں مضطر ہوئے اور غلبہ محبت امر حق کو قبول کرنے نہیں
١؎ یہ قول فتوح الغیب کے مقالہ ٥٦ میں ہے اور اس کی صحیح عبارت اسی طرح ہے جس طرح اس میں لکھی گئی ہے یعنی یظہر باب فتح یفتح سے ہے باب افعال سے نہیں ہے جیسا کہ حکیم صاحب سمجھتے ہیں اور وفاء اس کا فاعل ہے‘ میرے پاس قلمی نسخہ نہایت صحیح اور معرب ہے اس میں اسی طرح ہے دوسرا نسخہ مطبوعہ مصر ہے اس میں بھی ایسا ہی ہے وہ اگرچہ معرب نہیں ہے مگر وفاء کے بعد الف اس میں نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ یظہر مجرد ہے اور وفاء اس کا فاعل ہے ایک نسخہ مطبوعہ لاہور ہے اس میں بھی وفا کے بعد الف نہیں ہے جس سے ظاہر ہے کہ وفاء یظہر کا فاعل پر حرکات غلط دیئے ہیں۔
٢٧
دیتا بلکہ آمادہ کرتا ہے کہ جس طرح ہو مرزا قادیانی کو اس الزام سے بچانا چاہیے اگر چہ خدا پر اور اس کے رسول پر الزام آئے اس لئے پہلے جواب تو ایسا دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر الزام آیا کہ فلان پیشین گوئی یا خواب آپؐ کا سچا نہیں ہے اور دوسرے جواب میں خدا تعالیٰ پر الزام ہے کہ وہ قدوس ہو کر وعدہ خلافی کرتا ہے یعنی مرزا قادیانی سے اس نے وعدے کئے اور پورے نہ کئے اور دوسرے جواب میں ایک بڑے بزرگ کو سند میں پیش کرتے ہیں مگر ظاہر ہو گیا کہ ان کی غلط فہمی تھی مسلمانو! مرزا قادیانی کے اور ان کے خلیفہ کے یہ جوابات ہیں اور یہ ان کے اقوال ہیں اب تم ہی انصاف کرو کہ صدی کے مجدد اور وقت کے مسیح ایسے شخص ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ چشم بصیرت عنایت کرے اور ایسے ناجائزہ محبت سے محفوظ رکھے آمین۔
وَاللّٰہ الموفق والمعین والحمد للّٰہ رب العالمین
٢٨
خاتم النبیین
فارسی متن : شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ مقدمہ : محدث کبیر مولانا محمد یوسف بنوریؒ اردو ترجمہ : شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی زندگی کی آخری تصنیف جس کا مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے حکم پر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے اردو میں ترجمہ کیا۔ متن و ترجمہ ایک ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
حصہ اول : نبوت اور منصب نبوت' ختم نبوت' خاتم النبیین' تفسیر آیت خاتم النبیین' ختم نبوت اور حدیث نبوی' اجماع امت اور ختم نبوت' ختم نبوت اور صوفیائے کرام' عیسیٰ علیہ السلام۔
حصہ دوم : تلبیسات مرزا' کفریات مرزا' دعاوی مرزا' تناقضات مرزا' عقائد مرزا' عجائبات مرزا' سیرت مرزا' الہامات مرزا۔
مندرجہ بالا عنوانات سے کتاب کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ مدت سے نایاب تھی۔ اہل علم کی خواہش پر دوبارہ شائع ہوئی ہے۔
صفحات 320 مجلد' طباعت' کاغذ' جلد انتہائی عمدہ اعلیٰ اور خوبصورت دیدہ زیب ہے۔ تمام تر خوبیوں کے باوجود قیمت صرف =/60 روپے۔ پیشگی منی آرڈر ضروری ہے۔ وی پی نہ ہو گی۔ پڑھئے تاکہ اکابر کے علوم اور مسئلہ کی اہمیت سے آپ روشناس ہوں۔
ملنے کا پتہ:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
فیصلہ آسمانی
در باب مسیح قادیانی
حصہ دوم
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہیں بڑے فتنے سے بچانے کے لئے اس میں حق و باطل کو روشن کر کے دکھایا ہے
تمہید
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا و بَيْنَ قَوْمِنَا بِالحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الفَاتِحِين بِحُرْمَةِ سَيِّدِ المُرْسَلِين وَرَسُولِكَ الاَمين صَلَّى الله تَعَالٰى عَلَيْہِ وَعَلٰى اٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِين
مبارک وہ ہیں جن کا شیوہ راستی اور حق طلبی ہے ابدی حیات ان ہی کا حصہ ہے جو صداقت کے عاشق اور سچوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور کذب و دروغ سے متنفر اور جھوٹوں سے بیزار ہیں ان ہی کے لئے میں اپنے گرانمایہ وقت کو صرف کر کے امر حق کو آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھانا چاہتا ہوں، حق پرستوں سے امید ہے کہ وہ اسے غور سے دیکھیں گے اور انصاف کر کے اپنے دل میں جگہ دیں گے اس رسالے کے پہلے حصے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے پر دو طرح سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے کذب و صدق کو دکھایا گیا ہے ایک تو ان الہامات کو دکھایا ہے جو خاص منکوحہ آسمانی کے متعلق انہوں نے بیان کئے ہیں اور آفتاب کی طرح روشن کر دیا ہے کہ وہ سارے الہامات غلط تھے باوجود یکہ مرزا قادیانی کو ان کے سچے ہونے پر نہایت ہی وثوق تھا، اور ممکن ہے کہ دلی وثوق نہ
١؎ وثوق کی حالت کو ملاحظہ کیا جائے ١٨٨٨ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ ”ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨) ”ازالہ الاوہام ص ٢٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥ میں لکھا ہے“ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ہو مگر کسی وجہ سے ظاہر کیا گیا۔ دوسرے ان کی ذاتی حالت دکھائی گئی ہے‘ جس سے ہر سمجھدار حق کو پسند کرنے والا بے تامل کہہ سکتا ہے کہ جس کی ایسی حالت ہو وہ بزرگ مقدس نہیں ہو سکتا۔ اس غلط پیشین گوئی کی نسبت آخر میں جو باتیں مرزا قادیانی اور ان کے قادیانی خلیفہ اول نے بنائی ہیں ان کا غلط ہونا بھی کافی طور سے دکھایا ہے‘ دوسرے حصہ میں بھی دو طرح سے ان کے دعوے کی غلطی دکھانا چاہتا ہوں۔ اول تو ان ہی کے چند اقوال نقل کروں گا جن میں آپ دیکھ لیں گے کہ مرزا قادیانی کی زبان اور ان کی تحریر نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی کیسے ہیں اب کسی دلیل اور حجت کی حاجت نہیں ہے‘ اب قرآن و حدیث سے ان کے دعوے پر دلیل لانا قرآن و حدیث پر جھوٹ کا الزام لگانا ہے۔ دوم ان کے بعض وہ اقوال دکھاؤں گا جو مرزا قادیانی نے قرآن و حدیث کی طرف منسوب کئے ہیں حالانکہ محض غلط ہے‘ قرآن و حدیث میں وہ باتیں نہیں ہیں‘ اور اس غلطی کا ایسا بدیہی ثبوت ہو گا کہ حضرات ناظرین متحیر ہو جائیں گے اور بڑی حیرت سے کہیں گے کہ جس کو ایسے تقدس کا دعویٰ ہو وہ ایسا صریح خدا اور رسول پر افتراء کر سکتا ہے؟ اس میں مرزا قادیانی کی قابلیت اور اسرار دانی اور تفسیر دانی کا حال بھی کسی قدر معلوم ہو جائے گا اس وقت میں جس قدر فنون دنیاوی اور علوم ظاہری کا زور و شور ہے اسی قدر دینی علوم اور دینی فہم کمزور بلکہ نیست و نابود ہونے کے قریب ہو رہی ہے جہل مرکب کا نام علم اور کج فہمی کا نام خوب سمجھا گیا ہے‘ غضب ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مسیح ہونے ثبوت قرآن و
(بقیہ پچھلے صفحہ کا حاشیہ) خدائے تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور آخر کار ایسا ہی ہو گا‘‘ یہ الفاظ نہایت صفائی سے فیصلہ کر رہے ہیں کہ اس پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری ہے اس لئے کوئی مانع نہیں ہو سکتا جو مانع پیش آئے گا وہ دور ہو گا اور وہ لڑکی نکاح میں ضرور آئے گی مگر یہ نہیں ہوا اس لئے یقینی طور سے مرزا قادیانی کاذب ہوئے۔
٣
حدیث سے دیتے ہیں اور ماننے والے اسے نہایت مسرت سے مان رہے ہیں اور اس پر جہل مرکب کا یہ زور ہے کہ علماء کے مقابلے میں ان تخیلات باطلہ کو پیش کرنا چاہتے ہیں‘ میں نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ وہ تمام دلائل تار عنکبوت سے زیادہ قوت نہیں رکھتے مگر سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ قوت علمی کے ساتھ فہم سلیم عنایت کرے‘ اور تعصب کی تاریکی اور دلائل کاذبہ کی ظلمت دل سے ہٹا دے‘ آئندہ تحریر سے مرزا قادیانی کی غلط فہمیاں‘ اور خواہ مخواہ کی زبردستیاں نمونے کے طور پر ظاہر کی جائیں گی ان سے ہر ایک روشن دماغ‘ طالب حق ان کی استدلالی حالت کو سمجھ لے گا اور اسی پر ان کے اور دلائل کو قیاس کر سکے گا‘ اس رسالے میں جس طرح مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان سے ان کی حالت کو ظاہر کیا ہے اسی طرح ان کے دعوے کی بہت بڑی دلیل کو محض بے بنیاد اور غلط ثابت کیا ہے‘ ایک اور حیرت یہ ہے کہ دو کتابیں مرزا قادیانی نے لکھی ہیں ایک کا نام اعجاز المسیح اور دوسری کا نام اعجاز احمدی ہے‘ ہاں ان دونوں رسالوں کو معجزہ مانا جاتا ہے‘ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے خیال میں ان کے مضامین ایسے عالی اور مفید خلائق ہیں کہ دوسرا ذی علم ایسے مضامین نہیں لکھ سکتا‘ یا اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ دوسرا ادیب نہیں لکھ سکتا‘ یا دونوں باتیں ہیں مگر اہل علم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہے نہ وہ ہے‘ معمولی باتوں کے علاوہ مرزا قادیانی کی تعلیان اور کج بحثیاں ہیں اور کچھ نہیں ہے سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہے اس کے مقابلے میں ابن قیم کی تفسیر سورۂ فاتحہ دیکھو کہ کیسے کیسے مضامین عالیہ بیان کئے ہیں اور محققانہ بحث کی ہے‘ اور کس قدر مفید باتیں مسلمانوں کے لئے لکھی ہیں کہ اہل حق کو وجد آتا ہے‘ دو جلدوں میں قلمی نسخہ میرے پاس ہے‘ اب تک چھپی نہیں ہے۔ مدارج السالکین اس کا نام دیندار اہل علم سے بمنت کہتا ہوں کہ دونوں کا مقابلہ کرکے دیکھیں اور انصاف کریں کہ مرزا قادیانی کی اعجاز المسیح اس کے سامنے کوئی رتبہ رکھتی ہے یا کوئی چیز سمجھی جاسکتی ہے؟ استغفراللہ‘ عبارت اور معنی دونوں پر نظر کریں‘ اسی طرح علامہ صدر الدین قونوی نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر
٤
لکھی ہے اس کا نام ”اعجاز البیان فی کشف بعض اسرار ام القرآن“ ہے۔ اس کو دیکھا جائے کیسے حقائق و اسرار بیان کئے ہیں اور لکھا ہے کہ میں نے اس میں کسی مفسر کا قول نقل نہیں کیا بلکہ وہی لکھا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر الہام کیا اور خدا کی طرف سے جو باتیں میرے قلب پر وارد ہوئیں، یہ تفسیر ٤٥٨ صفحوں میں مطبع دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن میں چھپی ہے، اس پر یہ لکھتے ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے بعض اسرار اس میں ہیں سب نہیں ہیں۔ ان تفسیروں کو دیکھئے اور اعجاز المسیح کا مقابلہ کیجئے عبارت کا عبارت سے، مضامین کا مضامین سے، الہام کا الہام سے، پھر مرزا قادیانی کے اعجاز کی حقیقت کھل جائے گی کیا جماعت مرزائیہ میں کوئی ذی علم ایسا نہیں ہے کہ ان کتابوں کو دیکھے اور انصاف سے مقابلہ کرے؟ میں انصاف سے کہتا ہوں کہ مولوی لطف اللہ صاحب مرحوم لکھنوی نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر اردو میں لکھی ہے شیعوں کے جواب میں ہے اس کا نام ”مظہر العجائب فی النکتہ الغرائب“ ہے۔ پوری چار سو صفحے کی کتاب ہے اور گنجان اور باریک لکھی گئی ہے مضامین کے لحاظ سے وہ بھی اس اعجاز المسیح سے بدرجہا فائق ہے۔
میں نے ایک ذی علم دوست سے کہا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھو انہوں نے کہا کتاب بھیج دو میں نے کتاب بھیج دی کچھ عرصے کے بعد جب ان سے ملاقات ہوئی، تو
ان تفسیروں کے علاوہ امام غزالی اور امام فخر الدین رازی کی تفسیر دیکھئے کہ اسی سورۃ کے بیان میں کیا کچھ انہوں نے لکھا ہے صاحب فتح البیان اسی سورۃ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”وللامامین الغزالی والرازی فی تقدیر اشتمالھا علی علوم القرآن بسط کثیر حتی استخرج الرازی منھا عشرۃ الاف مسئلة.“ یعنی امام غزالی اور امام رازی نے نہایت دراز اور مفصل تقریر اس مدعا پر کی ہے کہ سورۂ فاتحہ تمام علوم قرآن مجید پر حاوی ہے یہاں تک کہ امام رازی نے دس ہزار مسئلے اس سے نکالے ہیں تفسیر کبیر کے دیکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اب خلیفہ المسیح فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے کتنے مسئلے نکالے ہیں جس پر اعجازی دعویٰ ہے بھائیو! ذرا تو انصاف کرو جن ذی علموں کے پیش نظر یہ تفسیریں ہیں وہ مرزا قادیانی کی تفسیر کی طرف کیونکر توجہ کر سکتے ہیں ایسی تفسیروں کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کی تفسیر کو معجزہ کہنا کسی ذی علم کا کام نہیں۔
٥
میں نے دریافت کیا کہ کچھ لکھا کہنے لگے ”کیا لکھوں کوئی مضمون ہو فصیح و بلیغ عبارت ہو تو اس کے جواب میں دل لگے؟ مرزا قادیانی نے یہ اعجازیہ رسالہ اہل علم کے مقابلہ میں لکھا ہے مگر کوئی فہمیدہ ذی علم ایسے معمولی رسالے کو اعجاز نہیں مان سکتا اور جس کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا ہے اور قوت ممیزیہ اس کی جاتی رہی ہے کہ اس معمولی رسالے کو اعجاز خیال کرتا ہے تو کسی ذی علم کی عمدہ کتاب کی خوبیاں وہ دریافت نہیں کر سکتا پھر ان کے لئے دماغ کو خالی کرنا اور محنت کرنا اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرنا ہے۔“ یہ کیسا سچا مقولہ ہے جس کے سچے ہونے کا مشاہدہ ہو رہا ہے ان دونوں کتابوں کی عبارت کا یہ حال ہے کہ صرف و نحو کی کثرت غلطیاں اہل علم نے ظاہر کی ہیں اور فصاحت و بلاغت تو بڑے پایہ کی بات ہے جس کی صرف و نحو درست نہ ہو اس کو بلاغت اور پھر کمال بلاغت سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے؟ مصر کے رسالہ المنار میں بھی اعجاز المسیح کی بہت غلطیاں دکھائی ہیں اور اس کے دعویٰ اعجاز پر مضحکہ کیا ہے بھائیو! یہ مسلّم ہے کہ مرزا قادیانی میں اتنی لیاقت تھی کہ اردو فارسی‘ عربی تینوں زبانوں میں اپنا مطلب بیان کر لیتے تھے مگر فصیح و بلیغ کسی زبان کے نہ تھے جو اردو کے اہل زبان ہیں وہ ان کی اردو عبارت دیکھ لیں کہ کس قدر تکرار اور فضول ان کی عبارت میں ہوتا ہے تذکیر و تانیث میں بہت غلطیاں ہیں تذکیر کی جگہ اکثر انہوں نے تانیث استعمال کیا ہے اور فصیح محاورہ کے خلاف ان کے الفاظ اور جملے بہت ہوتے ہیں ایسا ہی ان کی عربی اور فارسی کو سمجھنا چاہئے اس کے جواب میں بعض مرزائیوں کو کہتے سنا کہ غلطیاں تو آریہ وغیرہ قرآن مجید میں بھی بتاتے ہیں‘ ایسے مرزا قادیانی کی غلطیاں لوگ بیان کرتے ہیں مگر اس کے مقابل کوئی جواب نہیں دیتا‘ اس بے علمی‘ اور نافہمی پر افسوس ہے انہیں یہ تمیز نہیں کہ قرآن مجید میں جو عقل کے دشمن غلطیاں بیان کرتے ہیں وہ معنی کے لحاظ سے کہتے ہیں جو ان کی غلط فہمی یا ہٹ دھرمی ہے اور ان کے جوابات نہایت زور سے مسلمانوں نے دئے ہیں قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت یا صرف و نحو میں تیرہ سو برس سے آج تک کوئی ماہر دم نہیں مار سکا بلکہ مخالفین اسلام جو ادب میں کمال رکھتے ہیں‘ وہ قرآن مجید کی
١؎ بعض پادریوں نے اعتراض کیا ہے مگر انہوں نے کیا ہے جو علم عربی کے ماہر نہیں ہیں۔ قادیانی مؤلف القاء نے جو مثال دی ہے وہ ان کی ناواقفی اور محض بے خبری ہے ہمارے علماء نے اسے اچھی طرح بیان کیا ہے اس لئے میں نے ماہر کی قید یہاں لگا دی ہے کہ جہلا اس سے خارج ہو جائیں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٦
عبارت سے سند لاتے ہیں‘ مرزا قادیانی کی غلطیاں صرف و نحو اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے دکھائی گئی ہیں اور اس وقت تک کوئی جواب ان کا نہیں دے سکا۔ اب برائے خدا اہل انصاف ملاحظہ کریں کہ جب اس کتاب کی عبارت درست نہیں مضامین اس کے مفید اور عالی نہیں جس سورۃ کی وہ تفسیر ہے اس کی اور تفسیریں بدرجہا اس سے فائق موجود ہیں اور ہر طرح اس سے اچھی ہیں پھر کسی لائق ذی علم کو اس کے جواب کی طرف کیوں توجہ ہونے لگی وہ اپنے مشاغل ضروریہ اور معمولات روز مرہ کو چھوڑ کر فضول کام میں اپنے اوقات کو کیوں صرف کرنے لگا‘ خصوصاً ایسی حالت میں کہ مکرر تجربہ ہو گیا ہو کہ مرزا قادیانی اسی قسم کے دعوے کرتے ہیں اور جب کوئی سامنے آگیا تو کچھ باتیں بنا دیتے ہیں‘ اور اپنے مریدوں کو خوش کر لیتے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ صاحب سے مناظرہ کرنے کی نسبت بہت کچھ اشتہارات ہوئے بالآخر لاہور میں مناظرہ قرار پایا‘ تاریخ معین ہوئی‘ پیر جی صاحب تاریخ معینہ پر تشریف لائے اور مرزا قادیانی نہ آئے‘ لاہور وغیرہ کے مریدوں نے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے مگر ایسی باتیں کہیں کہ مناظرہ میں جانا بھی نہ پڑا اور مریدین بھی راضی رہے‘ لاہور میں اس کی پوری کیفیت چھپی ہے۔ دوسری مرتبہ مختصر تمہید کے ساتھ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں چھپی ہے۔
مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت رسالہ اعجاز احمدی میں یہ پیشگوئی مشتہر کی کہ وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔ (اس زور سے انکار پر خوب نظر رہے) مگر اس زور کی پیشگوئی کے بعد بھی مولوی صاحب ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی نے بجز اظہار غیظ و غضب اور زبردستی کی باتوں کے اور کچھ نہیں کیا۔ الہامات مرزا کا صفحہ ١٠١ تا ١١٠۔ ملاحظہ کیا جائے یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزا قادیانی کی ایسی صاف پیشگوئی غلط ہو گئی مگر مرزا قادیانی پر یا ان کے مریدین پر کوئی اثر نہیں ہوا‘ اسی طرح اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی نسبت جو پیشگوئی کی ہے اگر وہ غلط ہو جائے تو کیا نتیجہ ہو گا؟ مرزا قادیانی کی ایک ہی پیشگوئی تو غلط نہیں ہوئی بلکہ بہت کثرت سے ان کی پیشگوئیاں غلط ہوئی ہیں یہ رسالہ ملاحظہ کیا جائے پھر معلوم
(بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر ٥) اب ”رسالہ ابطال اعجاز مرزا“ میں تقریر اعجازیہ کی حالت معلوم ہو جائے گی۔
(انشاء اللہ یہ بھی احتساب قادیانیت کی کسی جلد میں شائع ہوگا۔ فقیر)
ہو جائے گا کہ ایک ہی معاملے کے متعلق کتنی پیشگوئیاں ان کی غلط ثابت ہوئیں، پھر کوئی قادیانی اپنی غلطی پر متنبہ ہوا، کسی نے بھی اقرار کیا؟ کہ یہ پیشگوئی غلط ہوئی ان ہی باتوں پر نظر کر کے اہل علم نے خیال کیا کہ اگر غیر ضروری کام میں اپنا وقت صرف کیا تو ایسا ہی نتیجہ ہو گا جو مذکورہ باتوں میں ہوا اہل دانش کو یہ کہنے کا موقع ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ اس کتاب کا کوئی جواب نہیں دے سکے گا اور جو قصد کرے گا وہ روک دیا جائے گا اسی خیال پر مبنی ہے وہ ضرور واقف ہوں گے کہ اس حالت کے ساتھ اہل کمال توجہ نہیں کر سکتے اور اگر کوئی قصد کرے گا تو وہ ”اعجاز المسیح“ کو دیکھے گا اور دیکھنے کے بعد اسے جواب کے لائق نہیں پائے گا تو خواہ مخواہ اس کی طبیعت رک جائے گی خصوصاً جب وہ علامہ قونوی وغیرہ کی تفسیریں دیکھ چکا ہے کیونکہ انہیں دیکھ کر وہ معلوم کر چکا کہ اعجاز المسیح کے متعدد جواب اس سے نہایت اعلیٰ اور ہر طرح اس سے عمدہ موجود ہیں پھر اس کے جواب کی طرف توجہ کرنا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں اس طرف کے بعض مرزائی اب بھی اسے معجزہ خیال کرتے تھے اس لئے ان کا جواب لکھا گیا ہے۔
اب میں اصل مدعا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان کے بقیہ کو بیان کرتا ہوں۔
منکوحہ آسمانی کی پیشگوئی کو مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا اور اس کی وجہ اس طرح بیان کی ہے:۔
”پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرئے یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی
١۔ خیال کیا جائے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا کی مذکورہ پیشین گوئی کے خلاف قادیان میں پہنچ گئے اور مرزا قادیانی غصہ سے برافروختہ گھر کے اندر بیٹھے ہوئے بے ہودہ گوئی اور سخت کلامی کر رہے ہیں اور مریدین بھی جی حضرت کر رہے ہیں مگر نہ مرزا قادیانی کو شرم آتی ہے کہ ہماری پیشین گوئی جھوٹی ہو گئی اور نہ مریدین کو حق بات کا خیال آتا ہے کہ مولوی صاحب کا یہاں آ جانا کسی قدر صاف طور سے مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہراتا ہے مگر تعصب نے قلب کو ایسا سیاہ کر دیا کہ نہایت روشن بات بھی انہیں نہیں سوجھتی۔
٨
ہیں، یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں (١) کہ ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے، اور ظاہر ہے کہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥-٣٧٦)
اس عبارت سے یہ تو اظہر من الشمس ہے کہ منکوحۂ آسمانی کا نکاح میں آنا مرزا قادیانی کا ایسا عظیم الشان نشان ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نشان نہیں ہو سکتا، کیونکہ اردو کے محاورے میں معمولی عظمت کی شے کو عظیم الشان نہیں کہتے بلکہ اس کے لئے بڑی عظمت کا ہونا ضروری ہے، اب اس بڑی عظمت میں بھی تین درجے ہو سکتے ہیں، اس کے ادنیٰ درجے کو عظیم الشان ...... کہیں گے، اور متوسط درجے کو بہت عظیم الشان کہیں گے، اور سب سے اول درجے کو بہت ہی عظیم الشان کہیں گے مرزا قادیانی نے اس نشان کے لئے یہی لفظ لکھا ہے جو نہایت کمال مرتبہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے جس سے بڑھ کر عظمت نہیں ہو سکتی، اب اس کی اتنی بڑی عظمت کی کیا وجہ ہے؟ ہم نے جہاں تک غور کیا تو کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی، بجز اس کے کہ بہت بڑی دلی آرزو کے پورا ہونے کی خبر ہے، اب وہ جیسی خبر ہو، ایک خبر ایسی بھی ہوتی ہے کہ انسان قرائن موجودہ اور اپنی تدابیر کاملہ کا پورا وثوق کر کے اس کے ہونے کی خبر دے دیتا ہے اور اس کے دل میں اس کا یقین ہو جاتا ہے، اور واقعی بات بھی یہی تھی اور آسمانی فیصلے نے اس کو عالم پر روشن کر دیا مگر مرزا قادیانی اس کے عظمت کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ وہ چھ پیشگوئیوں پر مشتمل ہے مگر اللہ تعالیٰ نے جن کو علم کے ساتھ نظر وسیع اور طبع سلیم عنایت کی ہے وہ بالیقین جان سکتے ہیں کہ اس قسم کی چھ پیشگوئی کیا چھ صد جھوٹی پیشگوئیاں ہوتیں تب بھی کوئی عظمت نہیں ہو سکتی تھی، حیرت یہ ہے کہ جماعت قادیانیہ میں بعض اہل علم بھی ہیں، خصوصاً حکیم نور الدین قادیانی وہ بھی ایسی باتوں
٩
کو عظیم الشان سمجھتے ہیں‘ اگر اب بھی وہ ایسا ہی سمجھتے ہیں تو مناسب ہے کہ صناعۃ الطرب ١؎ ملاحظہ کریں اس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجوہ سے آئندہ کی خبر معلوم ہو سکتی ہے جن میں بزرگی اور ولایت اور نبوت کو کچھ دخل نہیں ہے۔ یہاں بھی لوگ جانتے ہیں اور بہت سے حضرات تجربہ بھی کر چکے ہیں کہ رمال اور جفار اور نجومی اور جوتش کے جاننے والے آئندہ کی خبریں دیتے ہیں‘ خصوصاً مرنے کی اور جینے کی اور نکاح ہونے کی بعض بعض اخباروں میں طبع بھی ہوتی ہیں۔ بعض اہل فراست تجربہ کار پیشگوئیاں کرتے ہیں اور بہت باتیں ان کی صحیح نکلتی ہیں پھر کیا یہ پیشگوئیاں خدا کی طرف سے ہوتی ہیں؟ کیا یہ سب بھی مقبولان خدا میں سے ہوگئے؟ اور ان کی یہ پیش خبریاں نبوت یا مقبولیت کا نشان ہوگئیں؟ ذرا سوچ کر اور خدا سے ڈر کر جواب دو۔
کچھ نئے تعلیم یافتہ بھی انہیں مان رہے ہیں‘ ان کی آنکھوں سے بھی یہ پردہ نہیں ہٹا افسوس۔ بھائیو! ذرا نظر کو اٹھاؤ اور آزادی کے ساتھ غور کرو‘ اور اگر کسی صاحب کو اب بھی توجہ نہ ہو اور مرزا قادیانی کے قول پر انہیں پختہ ایمان ہو کہ یہ عظیم الشان نشان ہے‘ تو وہ حضرات ملاحظہ کریں ان پیشگوئیوں میں اصل پیشگوئی وہ ہیں پانچویں اور چھٹی یعنی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک (١) مرزا قادیانی کا زندہ رہنا اور (٢) منکوحہ آسمانی کا ان کے نکاح میں آجانا باقی اس کی فروع ہیں کیونکہ اس کے نکاح میں آنے کے لئے یہ چھ پیشین گوئیاں کی گئی ہیں اور پھر ازالہ الاوہام (ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں یہ الہام بیان کیا ہے کہ ”انجام کار وہ نکاح میں ضرور آئے گی اور سب موانع دور ہوں گے“ یہ باتیں یقینی طور سے شہادت دیتی ہیں کہ اصل پیشین گوئی کا مقصود یہی دو پیشین گوئیاں ہیں
١؎ یہ کتاب عرب کی تاریخ ہے نوفل بن نعمۃ اللہ طرابلسی اس کا مؤلف ہے بیروت میں چھپی ہے‘ مرزائیوں میں عجب اندھیر ہے کہ دنیا بھر جانتی ہے اور عام طور سے تجربہ ہو رہا ہے کہ رمال اور نجومی پیشین گوئیاں کرتے ہیں خصوصاً پنجاب کے رمال آتے ہیں اور پیشگوئیاں کرتے اور خبریں دیتے پھرتے ہیں ہم نے ایک مطبوعہ کتاب بھی پیش کی جس میں آئندہ کی خبریں دینے کا تذکرہ بتفصیل لکھا ہے مگر مرزائی آفتاب روشن کو غل مچا کر چھپانا چاہتے ہیں اور یہ لکھ رہے ہیں کہ پیشین گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اور غیب کی خبر اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا اور پھر اپنی جہالت سے قرآن کی آیت اس کی سند میں پیش کرتے ہیں‘ یہ صریح قرآن مجید پر الزام لگانا ہے منکرین اس بات کو دیکھ کر کس قدر قہقہہ لگائیں گے کہ کیسی صریح غلط بات قرآن میں ہے۔
١٠
بیان سابق سے نہایت روشن ہو گیا کہ یہ دونوں پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور ان کا غلط ہو جانا ایسا عظیم الشان امر ہے کہ ان کی تمام پیشگوئیاں اور دعویٰ پایۂ اعتبار سے ساقط ہو گئے‘ کیونکہ ان کے ہونے پر مرزا قادیانی کو کس قدر وثوق تھا اور کس قدر اشتہاروں میں اور رسالوں میں بار بار اس کے ظہور میں آنے کو بیان کیا ہے کہ اللہ اکبر۔ اس لئے ہر طالب حق بالضرور یہی کہے گا کہ جب یہ پیشگوئی جھوٹی ہو گئی‘ تو اب اگر کوئی پیشگوئی مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق ہو جائے تو بالضرور وہ انہیں اتفاقیہ امور میں ہے جو دنیا میں کسی کے موافق اور کسی کے مخالف ہوا کرتے ہیں‘ یہ بھی خیال رہے کہ یہ دونوں پیشگوئیاں ان کے خلیفہ کی اس تاویل کو غلط بتاتی ہیں جس میں وہ خطاب کو عام ٹھہرا کر اپنے مرشد اور محمدی بیگم کی اولاد کو شامل کرتے ہیں چوتھی پیش گوئی بھی اپنے پورے مضمون کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئی کیونکہ اس کا مضمون یہ ہے کہ ”دختر تا ایام بیوہ ہونے کے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو ۔“ یہ پیشگوئی دو دعوؤں کی خبر دے رہی ہے‘ ایک یہ کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کی زندگی میں بیوہ ہوگی‘ دوسرے یہ کہ نکاح ثانی اس کا مرزا قادیانی سے ہو گا اور ہمارے پہلے بیان سے ان دونوں دعوؤں کا غلط ہونا ظاہر ہو گیا۔ تیسری پیش گوئی پہلی پیشگوئی کے لوازمات سے ہے‘ کوئی مستقل نہیں ہے‘ البتہ نمبر دوم کی پیشگوئی اس لئے نہایت لائق لحاظ ہے کہ مرزا قادیانی نے بار بار نہایت زور سے اپنی سچائی کا معیار اسے قرار دیا ہے‘ اور یہ بھی لکھا ہے کہ ”اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا اور ہر بد سے بدتر ہوں“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
شہادۃ القرآن کی مذکورہ عبارت میں اور دہم جولائی ١٨٨٨ء کے اشتہار میں مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی ہے کہ ”اگر احمد بیگ نے اس نکاح سے انحراف کیا تو یہ لڑکی جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا۔“ (حوالہ گذشتہ) جب مرزا قادیانی کی یہ پیشگوئی غلط ہو گئی‘ اور اس لڑکی کا خاوند مرزا قادیانی سے منحرف رہا یہاں تک کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں قریب سولہ سترہ سال کے گزر گئے (کیونکہ ١٨٩٢ء میں اس کا نکاح ہوا ہے اور ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی مرے ہیں اور اب مرے ہوئے تین برس ہو گئے اور خدا کے فضل سے اب تک وہ زندہ ہے) تو اس سچے واقعے کو اہل حق نے ظاہر کرنا شروع کیا‘ اس پر مرزا قادیانی نے کیسی کیسی تاویلیں کی ہیں
١١
اور کس قدر شور و شر اٹھایا ہے کہ خدا کی پناہ مگر آخر میں خدائے تعالیٰ نے آفتاب روشن کی طرح سچائی کو ظاہر کر دیا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا۔ کہ مرزا قادیانی کا کہنا بالکل غلط تھا، زیادہ افسوس اس کا ہے کہ ایسی غلط پیشگوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزا قادیانی نے اور ان کے خلیفہ نے جناب رسول اللہ ﷺ پر بھی الزام لگانا چاہا ہے مگر ہم دکھلائیں گے کہ یہ بڑی جسارت اور محض افتراء ہے جو انہوں نے اپنے نفس کے بچانے کے لئے کیا ہے۔
خلیفہ قادیانی کے بعض اقوال کا ذکر پہلے حصے کے تتمہ میں ہو لیا ہے۔ اب مرزا قادیانی کے بعض رسائل کی عبارتیں اس پیشگوئی کے متعلق نقل کی جاتی ہیں جن سے اظہر من الشمس ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی کی زبان مرزا قادیانی کو جھوٹا کہہ رہی ہے۔ مرزا قادیانی کا صاف وصریح اقرار مرزا قادیانی کو کذاب ومفتری بتا رہا ہے، ان کی تحریر انہیں ہر بد سے بدتر ظاہر کر رہی ہے۔ جن کی آنکھیں ہوں وہ دیکھیں اور انصاف کریں اور یقین کر لیں کہ یہ پیشگوئی بلا شبہہ غلط ہوئی اور مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے، اس کا جواب قیامت تک کسی سے نہیں ہو سکتا۔
- (١) انجام آتھم (ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١) کے حاشیے میں لکھتے ہیں ”میں بار
بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی، اور اگر میں سچا ہوں تو خدائے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا، جیسا احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔“
اے طالبان حق دوڑو اور قدرت حق کا تماشا دیکھو کس صفائی سے آفتاب صداقت چمکا ہے، اس میں شبہ نہیں کہ جب منکوحہ آسمانی کا خاوند یعنی مرزا احمد بیگ کا داماد اڑھائی سال کے اندر نہ مرا اور مسلمانوں نے شور کیا تو مرزا قادیانی نے اپنے اشتہاروں، رسالوں میں بار بار بہت زور کے ساتھ لکھا کہ ”احمد بیگ کا داماد ضرور میرے سامنے مرے گا کچھ دنوں کی مہلت اسے دی گئی ہے۔“ اب یہاں صاف کہہ رہے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ نہ مرے گا میری موت آجائے گی۔ اب تو دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے تین برس ہو گئے اس لئے مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے۔ کیا اب بھی جماعت مرزائیہ سچائی کے ماننے میں کوئی عذر کرے گی؟ وہ بھی خوب سمجھ لے کہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے
١٢
میں کوئی شرط نہیں ہے اور اب جس کو شرط کہا جاتا ہے وہ محض فریب دیا جاتا ہے اس کی تفصیل تنزیہ ربانی اور معیار صداقت میں دیکھئے نہایت تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔
- (٢) اور ملاحظہ ہو ضمیمہ انجام آتھم (ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھتے ہیں
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جسکی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ مرزا قادیانی کا یہ قول کس صفائی سے بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اس پیشین گوئی کے پیدا ہونے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے اس کے پورا ہونے کے لئے خدا کا سچا وعدہ ہے یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہو سکتا اگر کوئی شرط ہوتی تو یہاں ضرور بیان کرتے۔
اب برادران اسلام اس پر غور کریں کہ مرزا قادیانی کو اپنے الہام کے سچے ہونے پر کس قدر وثوق ہے اور احمد بیگ کے داماد کی موت کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں با ایں ہمہ کس صفائی سے اس وعدے کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو گیا۔ اب اس میں کون ایماندار شبہ
احمد بیگ کے داماد کی نسبت پہلے یہ الہام تھا کہ ڈھائی برس کے اندر مرے گا جب اس میعاد میں وہ نہ مرا تو مرزا قادیانی نے کیسی کیسی توجیہیں کی ہیں اور متعدد تحریروں میں بہت اوراق سیاہ کئے ہیں اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کے مثل اسے ٹھہرایا ہے اور حسب ضرورت الہام میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے۔ رسالہ انجام آتھم اور اس کا ضمیمہ ملاحظہ کیا جائے اس میں ٢٢ صفحے اسی بیان میں سیاہ کئے ہیں مگر اب اظہر من الشمس ہو گیا کہ وہ سب غلط تاویلیں اور بناوٹ کی باتیں تھیں دراصل پہلا الہام بھی ایسا ہی غلط تھا جیسا یہ دوسرا الہام باوجود ایسے سخت وثوق کے غلط ثابت ہوا۔ مقام انصاف ہے جس الہام کو وہ اپنی صداقت کا معیار قرار دیتے ہیں جب وہ جھوٹا نکلے تو جن الہاموں کی نسبت ایسا وثوق نہیں بیان کیا گیا انہیں کون سمجھ دار الہام ربانی یقین کر سکتا ہے؟ یہ کہنا کہ اس پیش گوئی کا پورا نہ ہونا ایسا ہی ہوا جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی پوری نہ ہوئی تھی اور باوجود وعدہ کے ان کی قوم سے عذاب ٹل گیا تھا نص قطعی کے مضمون سے چشم پوشی کرنا ہے کیونکہ قرآن مجید میں دو جگہ صاف مذکور ہے کہ حضرت یونس کی قوم ایمان لے آئی تھی اور ایمان کی وجہ سے انہیں نجات ملی (قرآن مجید میں سورۂ یونس اور سورۂ صافات ملاحظہ کیجئے) احمد بیگ کا داماد یا اس کی بیٹی اور بیوی تو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ آخر تک وہ منکر رہے۔ پھر مرزا قادیانی کی پیشگوئی حضرت یونس کی پیشگوئی کے مثل کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا جماعت مرزائیہ میں کوئی ذی علم نہیں ہے کہ قرآن مجید دیکھ کر اس بدیہی بات کا فیصلہ کرے؟ اور مرزا قادیانی کی زبردستی کو دیکھے۔
١٣
کر سکتا ہے کہ وہ وعدہ شیطانی تھا جسے مرزا قادیانی رحمانی سمجھے تھے، اب میں مرزائی جماعت سے خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ ان اقوال پر نظر کریں، اگر مرزا قادیانی کو کسی وجہ سے انہوں نے سچا مان لیا تھا تو اب دیکھیں کہ ان ہی کے اقوال انہیں کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا ان کے ان اقوال کو دیکھ کر کوئی سچا مسلمان انہیں سچا سمجھ سکتا ہے؟ ذرا خوف خدا دل میں لا کر جواب دیجئے گا، اور خدا کے لئے یہ نہ کہہ دیجئے گا کہ اعتراض تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں، کیونکہ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، البتہ بعض متعصبوں نے نفسانی غرض سے اور بعض کم عقلوں نے بدگمانیاں کی ہیں بعض نے کم عقلی کی بنیاد پر عقلی شبہات کئے ہیں اور ان کے جواب میں خاص کر تفسیریں علمائے متقدمین نے لکھی ہیں اور متاخرین نے خاص خاص رسالوں میں ان کا جواب دیا ہے۔ اور پھر کوئی (مرزائی) دم نہیں مار سکا۔ مرزا قادیانی پر جو اعتراضات ہم کر رہے ہیں ان میں نہ نفسانی غرض کو دخل ہے اور نہ صرف عقل پر ان کی بنیاد ہے، یہ تو آسمانی فیصلہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی زبان سے کرایا ہے، یہ تو اقراری ڈگری ہے جس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ دو اقرار تو آپ ملاحظہ کر چکے اب تیسرا اقرار دیکھئے! اسی رسالہ انجام آتھم میں اسی پیشگوئی کے متعلق مرزا قادیانی نے کئی ورق سیاہ کئے ہیں اور عربی زبان میں لکھ کر فارسی میں اس کا ترجمہ کیا ہے، اس کے آخر میں جو حاصل لکھا ہے وہ نقل کیا جاتا ہے، میں ایک طرف ان کی فارسی عبارت لکھ کر دوسری طرف اس کا ترجمہ مع کچھ شرح کے لکھوں گا۔
- (٣) ”بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است و ہیچکس باحیلہ خود او را رد نتوان کرد۔
اب اگر کوئی تامل کرے تو اتنی ہی عبارت میں چھ جھوٹ مرزا قادیانی کے معلوم کرے گا ملاحظہ کر لیجئے
- (١) ”اصل امر بر حال خود قائم ست۔“ محض غلط، اپنے حال پر ہرگز قائم نہیں ہے بلکہ جھوٹ ثابت ہوا،
- (٢) ”ہیچکس باحیلہ خود او را رد نتوان کرد۔“ یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت کو کوئی روک نہیں سکتا، محض غلط،
مسلمانوں نے اس کی درازی عمر کی دعا کی اللہ نے قبول کی اس لئے مرزا قادیانی کا یہ جملہ غلط ہو گیا۔
- (٣) خدا کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے، اس کا جھوٹ ہونا اظہر من الشمس ہو گیا، اگر تقدیر مبرم ہوتی تو احمد
بیگ کا داماد ضرور مرزا قادیانی کے سامنے مرتا حالانکہ مرزا قادیانی پہلے مر گئے اور وہ ہنوز زندہ ہے (٤) اس کا وقت عنقریب آنے والا ہے۔ محض غلط۔ عنقریب کیا مرزا قادیانی کی موت تک اس وقت نہ آیا۔ افسوس۔
- (٥) خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے سامنے مرنا حق ہے عنقریب تو دیکھ لے گا، یہ
بھی جھوٹ نکلا اور مرزا قادیانی کی یہ جھوٹی قسم ثابت ہوئی۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں)
١٤
و این تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آں خواہد آمد پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ را برحق مبعوث فرمودہ او را بہترین مخلوقات گردانید کہ دین حق است و عنقریب خواہی دید و من این را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم و من نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم (انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ٣٢٣)
ترجمہ :۔ ” اصل بات اپنے حال پر قائم ہے (یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اور محمدی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) کوئی شخص کسی تدبیر سے اسے مٹا نہیں سکتا خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے جو بغیر پورے ہوئے ٹل نہیں سکتی اور اس کے پورے ہونے کا وقت عنقریب ہے۔ اس خدا کی قسم ہے جس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سچا نبی کیا اور ساری مخلوق سے انہیں بہتر بنایا جو میں کہہ رہا ہوں وہ حق ہے‘ عنقریب تو اسے دیکھ لے گا یعنی احمد بیگ کے داماد کے مرنے میں جو کچھ تاخیر ہوئی وہ ایک وجہ سے ہوئی۔ مگر میرے سامنے اس کا مرجانا اس میں شبہ نہیں ہے عنقریب تو دیکھ لے گا کہ وہ میرے سامنے مر گیا اور میں اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی اسے ٹھہراتا ہوں‘ (اگر وہ میرے سامنے مر گیا تو میں سچا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا بلکہ میں اس کے سامنے مر گیا تو جھوٹا ہوں میں) اور جس امر کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہی میں نے کہا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔“
خوب یاد رہے کہ ترجمہ میں جو شرح کی گئی ہے وہ مرزا قادیانی ہی کے کلام سے لی گئی ہے‘ کوئی بات اپنی طرف سے نہیں ہے۔ اس قول سے پہلے انجام آتھم کو دیکھنا چاہئے بھائی مسلمان دیکھ چکے کہ یہاں مرزا قادیانی کے تین الہامی قول نقل کئے گئے ہیں پہلے میں نہایت صفائی سے اپنے جھوٹے ہونے کی یہ علامت بتا رہے ہیں کہ احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے بلکہ میری موت اس کے سامنے ہو۔ دوسرے میں اسی بنیاد پر اپنے آپ کو بد سے بدتر کہہ رہے ہیں تیسرے میں اس پیشگوئی کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بتاتے ہیں یعنی اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے مر گیا تو میں سچا اور اگر میں اس
(بقیہ حاشیہ) (٦) میں نے وہی کہا ہے جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے“ جب اس پیشگوئی کا جھوٹا ہونا یقیناً ثابت ہو گیا تو معلوم ہوا کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا وہ شیطانی وسوسہ تھا خدا کی طرف سے ہرگز نہ تھا۔
١٥
کے سامنے مر گیا تو میں جھوٹا۔ یہ آسمانی فیصلہ ہے جو خدائے تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی زبان سے کرایا ہے اور تمام گمراہوں کے لئے اتمام حجت ہے۔
میں تمام جماعت مرزائیہ اور بالخصوص حکیم نور الدین قادیانی سے کہتا ہوں کہ خدا کے لئے اس صاف اور روشن دلیل پر غور کریں اور یقین کر لیں کہ اس کا کوئی جواب وہ نہیں دے سکتے اور ہمارے لئے یہی فیصلہ ان کی تمام باتوں کے لئے کافی جواب ہے، ان کے تمام نشانات اس فیصلے سے بے نشان ہوجاتے ہیں ان کی تمام حجتیں تار عنکبوت کی طرح ٹوٹ جاتی ہیں۔
تھوڑی سی سمجھ اور انصاف چاہئے ذرا توجہ کیجئے! جب اس پیشگوئی کے جھوٹ ہو جانے سے مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے تو مرزا قادیانی ہی کے قول سے ثابت ہوا کہ جس قدر نشانات انہوں نے دکھائے وہ سب جھوٹے اور جتنی حجتیں انہوں نے پیش کیں وہ ایسی تھیں جیسے جھوٹے لوگ پیش کیا کرتے ہیں خوب خیال رہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ مرزا قادیانی کے کلام سے جو ظاہر ہو رہا ہے، اسے میں آپ کو دکھا رہا ہوں، دوسری طرف سے سمجھ لیجئے مجملاً کچھ بیان کئے دیتا ہوں، نشانوں کا بے نشان ہونا تو اس طرح ظاہر ہے کہ جب وہ عظیم الشان نشان جسے انہوں نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا وہ خاک میں مل گیا تو دوسرے نشان کس شمار میں ہیں اگر کوئی پیشگوئی سچی بھی ہو گی تو ایسا ہی سمجھنا چاہئے جیسے رمال اور نجومی کی باتوں میں بعض صحیح ہو جاتی ہیں۔ مرزا نے اپنا ایک الہام عربی میں بیان کر کے فارسی میں اسکا ترجمہ کیا ہے، ان کی عبارت نقل کر کے اس کا نتیجہ بیان کرتا ہوں۔
(٤) قال کذبوا بایاتی و کانوا بھا مستھزئین فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید فاشار فی لفظ فسیکفیکھم اللہ الی انہ یرد بنت احمد الی بعد ھلاک المانعین و کان اصل المقصود الا
١؎ میں نے فرضی طور سے کہا ہے ورنہ صحیح امر یہی ہے کہ ان کی کوئی صاف پیشین گوئی سچی نہیں ہوئی۔ یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی سینکڑوں پیشین گوئیاں سچی ہوئیں اور ہو رہی ہیں محض غلط ہے کوئی مقابلہ پر آ کر ثابت کرے۔
١٦
هلاک و تعلم انه هو الملاک و اما تزويجها اياى بعد اهلاك الها لكين و الهالکات فهو لا عظم الآية فى عين المخلوقات.
گفت ایں مردم مکذب آیات من ہستند و بدانها استہزا می کنند پس من ایشان را نشانے ١ خواہم نمود و برائی تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد و آں زن را کہ زن (۔) احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بہ تقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رو کردہ خواہد شد در کلمات خدا و وعد ہائے او ہیچ کس تبدیل نتوان کرد و خدائے تو ہر چہ خواہد ان امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند پس خدا تعالیٰ بلفظ فسیکفیکہم اللہ بسوئے ایں امر اشارہ کرد کہ ٢ او دختر احمد بیگ را بعد میرانیدن مانعان بسوی من واپس خواہد کرد و اصل ٣ مقصود میرانیدن بود و تو میدانی کہ ملاک این امر میرانیدن است و بس۔
(انجام آتھم ص ٢١٦‘ ٢١٧ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اس کلام سے کئی باتیں ثابت ہوئیں (اول) خدائے تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی (دوم) جو اس نکاح کے روکنے والے ہیں وہ ہلاک ہوں گے۔ روکنے والوں میں ان کی پہلی بیوی اور دو بیٹے تھے اور اس
١ الہام کے جو الفاظ مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں ان میں کوئی لفظ نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہے۔ ١٢۔ ٢جماعت مرزائیہ اس جملہ پر خوب غور کرے اور بتائے کہ وہ دختر واپس کیوں نہ آئی اور اس کے روکنے والے کیوں نہ مرے؟ مرزا قادیانی ابھی کہہ چکے ہیں کہ خدا کی باتوں میں تغیر تبدل نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ خدا کی بات تھی یعنی الہام خداوندی تھا تو بدل نہیں سکتا تھا جب بدل گیا تو یقیناً معلوم ہوا کہ خدا کی طرف سے یہ الہام نہ تھا بلکہ مرزا قادیانی کی دلی آرزو تھی جسے وہ الہام سمجھے اسی پر ان کے اور الہاموں کو قیاس کرنا چاہئے اگر یہ خدا کی طرف سے الہام ہوتا تو خدا اپنے رسول کو کبھی جھوٹا نہ کرتا۔ احمد بیگ ضرور مرتا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آتی۔ (۔) یہ جملہ ان کی کتاب میں اسی طرح ہے۔ ٣ خوب خیال رہے کہ عربی اور فارسی دونوں میں الہام کا اصلی مقصود احمد بیگ کے داماد وغیرہ کا مرنا مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں اور وہی نہ پایا گیا، پھر مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کیا تامل رہا؟
١٧
عورت کا شوہر بڑے روکنے والے یہی لوگ تھے ان میں سے کوئی نہیں مرا حالانکہ اصل مقصود انکا مرنا تھا بلکہ مرزا قادیانی خود تشریف لے گئے (سوم) خدائے تعالیٰ کے وعدے میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور نہ اس میں التوا ممکن ہے۔ کہئے خلیفہ قادیان آپ کے مرشد تو ١؎ يَعِدُ وَلَا يُوْفِیْ کے خلاف کہہ رہے ہیں یعنی خدائے تعالیٰ کا یہ جو وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی‘ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا اور نہ اس میں تاخیر و التوا ہوسکتا ہے‘ الغرض اس کلام سے وہ تاویلیں محض غلط ہوگئیں‘ جو مرزا قادیانی کے خلیفہ وغیرہ اس جھوٹی پیشگوئی کے بنانے میں اب کیا کرتے ہیں اور کبھی خدا پر الزام لگانا چاہتے ہیں اور کبھی اس کے رسول پر جس کا ذکر پہلے حصے کے تتمہ میں کیا گیا‘ اب دیکھنا چاہئے کہ پیشگوئیاں اور کتنے قول ان کے غلط ہوئے‘ (١) مثلاً احمد بیگ کی لڑکی ان کے نکاح میں نہیں آئی‘ (٢) احمد بیگ کا داماد ان کے روبرو نہیں مرا‘ (٣) ان کی پہلی بیوی نہیں مری‘ (٤) ان کے بیٹے زندہ موجود ہیں‘ (٥) جس قدر الہامی وعیدیں اس کے والدین وغیرہ کے لئے بیان کی تھیں وہ سب جھوٹی ثابت ہوئیں اب اس کہنے میں کیا تامل ہوسکتا ہے کہ توریت کے مطابق مرزا قادیانی جھوٹے نبیوں میں ہوئے کیونکہ توریت ٢؎ کے استثنا باب ١٨ میں ہے ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جائے (یعنی مثل قصاص کے توریت میں یہ بھی ایک حکم ہے) اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں‘ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کہے اور جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔“
١؎ خلیفہ قادیان نے غلط پیشگوئیوں کے جواب میں بعض بزرگوں کا یہ قول نقل کیا ہے يَعِدُ وَلَا يُوْفِیْ اور اس کا ترجمہ انہوں نے اس طرح کیا ہے کہ خدائے تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور بعض وقت پورا نہیں کرتا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ بعض وقت جھوٹ بول دیتا ہے (نعوذ باللہ) مگر مرزا قادیانی یہ کہہ رہے ہیں کہ خدا کے وعدے میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا اب خلیفہ قادیان کو اس کے خلاف نہیں کہنا چاہئے۔ الحاصل خلیفہ قادیان نے تو چاہا تھا کہ خدائے قدوس پر الزام آئے تو آئے مگر مرزا قادیانی الزام سے بری رہیں اب خود مرزا قادیانی نے اپنے خلیفہ کے قول کو غلط ٹھہرا دیا وللہ الحمد۔ ٢؎ توریت کے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ یہ قول کہ میرا نکاح ہوگا مرزا قادیانی کا گستاخانہ قول ہے۔
١٨
مذکورہ پیشگوئی کے متعلق ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ (خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں ایک قول اور بھی لائق ملاحظہ ہے:۔ ”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے، بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا‘ (١)اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے (٢)اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ (٣)ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ (٤)اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی (٥)اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے ناظرین ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ اس قول میں بھی کس زور سے مذکورہ پیشگوئی کی صداقت کو مرزا قادیانی ظاہر کر رہے ہیں مگر غیظ و غضب کی انتہا نہیں ہے، تہذیب و شائستگی بھی لائق دید ہے جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ پر عمل کرنے والے اپنے مرشد کو دیکھیں کہ ان کا کلام مناظرہ مونگیر سے کتنے دنوں پہلے کا ہے۔
اب ہم جماعت مرزائیہ سے دریافت کرتے ہیں کہ جن باتوں کے پورا ہو جانے پر مرزا قادیانی نے یہ پانچ جملے مخالفین کے لئے کہے تھے اور اب نہایت صفائی سے ظاہر ہو گیا کہ وہ باتیں پوری نہ ہوئیں اور اعلانیہ طور پر غلط ثابت ہوئیں تو اب ان پانچوں جملوں کا مصداق ان کے نزدیک کون ہے؟ مرزا قادیانی یا ان کی جماعت امر حق کے اظہار میں کچھ شرم نہ کریں، ہمارے نزدیک تو اس وقت ان کی جماعت زیادہ مستحق ہے، ذرا انصاف کا آئینہ سامنے رکھ کر اپنے چہروں کو ملاحظہ کریں اگر وہ ذرا غور کریں گے تو ان کے کانشنس ان کی اندرونی سچائی (اگر کچھ ہے) تو بے اختیار کہہ اٹھیں گی ہم ابدی حیات سے محروم رہے، فریب کی تلوار نے ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، غلط فہمی اور ندامت کے داغ نے چہروں کو مسخ کر دیا۔ یہ جماعت ان جملوں کی زیادہ مستحق اسلئے ہے کہ باوجود اس بدیہی ثبوت کے حق کی طرف رجوع نہیں کرتی اور جھوٹ کو مان رہی ہے، مرزا قادیانی تو شیطانی الہاموں کے دھوکے میں ایسا کہہ گئے اور دنیا سے چل بسے، اور اگر انہیں انکار ہے اور ظاہر میں ضرور ہو گا تو اس کی وجہ بتائیں اور خوب سوچ سمجھ کر بتائیں، مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں بتا سکتے نہیں بتا سکتے، ان کے مخالفین کی سچائی تو خدائے تعالیٰ نے دنیا پر ظاہر کر دی اور کسی خارجی دلیل سے نہیں، مرزا قادیانی کی زبان سے ان کے اقرار سے اور ایک اقرار سے
١٩
نہیں متعدد اقراروں سے، پھر اب سوا ان کی جماعت کے اور کون مستحق ہو سکتا ہے۔
اب میں ایک اور قول مرزا قادیانی کا اُسی پیشگوئی کے متعلق ناظرین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جسے دیکھ کر انہیں حیرت ہو جائے گی کہ مرزا قادیانی کے اقوال کس کس طرح کے ہوتے ہیں اور ان کی کیا حالت ہے لکھتے ہیں ”یہ پیشگوئیاں کچھ ایک دو نہیں بلکہ اسی قسم کی سو سے زیادہ پیشگوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرنا کس قدر مخلوق کو دھوکا دینا ہے“
(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
ملاحظہ کیا جائے جس نشان کو خود ہی بہت عظیم الشان بتایا، جس کے ہونے یا نہ ہونے کو اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی علامت ٹھہرائی جس کا برسوں سے انتظار ہوتا رہا ہے مرزا قادیانی اب مسلمانوں کی توجہ کو اس طرف سے ہٹانا چاہتا ہے، یہ عبارت صاف کہہ رہی ہے کہ اس نشان کے ہونے میں انہیں بھی تردد ہو گیا ہے، انتظار کرتے کرتے عرصہ ہو گیا اور تاویلیں کرتے کرتے اور باتیں بناتے بناتے بھی تھک گئے ہوں گے۔ دیکھنے کے لائق یہ بات ہے، کہ یا تو اس پیشین گوئی پر اس قدر زور و شور یا اس قدر کمزوری تریاق القلوب میں جو پیشگوئیوں کا تھیلہ بتایا جاتا ہے وہ سب ادھڑ گیا، اب اس کا ذکر کرنا نہایت شرم کی بات ہے، جب ان کا عظیم الشان نشان غلط نکلا اور اپنے اقرار سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے تو وہ تھیلہ ان نجومی اور رمالوں کے تھیلے کی طرح ہوا جو کچھ پیش گوئی کر کے لوگوں سے کچھ لے لیا کرتے ہیں، یہ خوب یاد رہے کہ پیشین گوئی کرنا اور اس کی پیشین گوئی کا سچا ہو جانا اس کے سچے ہونے کی ہرگز دلیل نہیں ہے، کسی نبی نے اپنی صداقت کا معیار پیشین گوئیوں کو نہیں بتایا ہے، البتہ پیشین گوئی کا جھوٹا ہو جانا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے اس لئے مرزا قادیانی اپنے قول کے بموجب کاذب ہوئے۔
جناب رسول اللہ (ﷺ) پر مرزا قادیانی کا غلط الزام
مرزا قادیانی کی سخن سازی اور بیباکی کی حد ہو گئی، کہ اپنے اوپر سے الزام اٹھانے کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ پر غلط پیشگوئی کا الزام عمدہ پیرایہ سے لگانا چاہتے ہیں ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔
٢٠
”اس کی ایسی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔ اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
بھائیو! اس مثال کی اصلی حالت کو دیکھو پھر مرزا قادیانی کے بیان کو ملاحظہ کرو کہ وہ مخلوق کو کیسا صریح دھوکا دے رہے ہیں ٦ ہجری میں جناب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا ارادہ کیا۔ یہ وہ وقت ہے کہ ابھی مکہ معظمہ کفار مشرکین کے قبضے میں ہے‘ مگر وہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور عمرہ کرنے والے کو روکتے نہ تھے‘ اور چار مہینوں میں یعنی شوال ذیقعدہ ذی الحجہ اور رجب میں لڑائی کو منع جانتے تھے‘ اسی وجہ سے آپؐ نے ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا‘ اور تشریف لے چلے آپؐ کے ہمراہ چودہ پندرہ سو صحابہؓ ہو لئے‘ اب حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپؐ نے خواب دیکھا کہ ہم مع تمام اصحاب کے بلا خوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں‘ اور ارکان حج ادا کئے ہیں۔ یہ آپ کا خواب ہے کوئی الہامی پیش گوئی نہیں ہے اس خواب میں کوئی قید اور کسی وقت کی تعیین نہ بطور اندازہ بیان کی گئی ہے نہ حتمی طور پر کوئی بات کہی گئی ہے۔ یہ خواب آپؐ نے اصحابؓ سے بیان فرمایا‘ چونکہ حضور انور ﷺ اس سال عمرے کا ارادہ فرما رہے تھے اور انبیا علیہم السلام کا خواب تو سچا ہوتا ہی ہے۔ اس لئے بعض اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم کو یہ یقین ہوا‘ کہ اسی سال ہم بلا خوف و خطر مکہ معظمہ میں پہنچیں گے اور حج کریں گے انہیں یہ خیال نہیں رہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے وقت کی تعیین نہیں فرمائی مقام حدیبیہ میں جب آپؐ پہنچے تو کفار مانع ہوئے‘ مگر کچھ شرائط کے ساتھ اس پر صلح ہو گئی کہ اس سال نہ جائیں‘ آئندہ سال آ کر عمرہ کریں‘ حضور انور ﷺ نے حدیبیہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ حضرت (ﷺ) آپؐ نے تو فرمایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں گے‘ یعنی آپؐ نے اپنا خواب بیان فرمایا تھا‘ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں‘ ہم نے کہا تو تھا مگر کیا یہ کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ”نہیں“ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو گے اور طواف کرو گے یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ہوگا۔ یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے‘ خدائے تعالیٰ نے آئندہ سال میں اس کا ظہور دکھایا‘ اور پھر ایک سال کے بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل
٢١
طور سے اس پیشین گوئی کی صداقت کا ظہور ہوا‘ غرض یکہ دو برس کے اندر وہ پیشین گوئی کامل طور سے پوری ہو گئی ۔
یہاں یہ معلوم کر لینا بھی ضروری ہے کہ ٦ ہجری میں جو حضور انور ﷺ نے عمرہ کا ارادہ کیا تھا اس ارادہ کا باعث آپ کا خواب تھا‘ یا صرف عمرہ کا شوق اور وہاں کے کفار کی حالت کا معلوم کرنا کامل تحقیق اس کی شہادت دیتی ہے کہ عمرہ کرنے کا خیال اس کا باعث ہوا‘ کیونکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خواب کا دیکھنا اس سفر کا باعث ہوا‘ صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انور ﷺ نے وہ خواب دیکھا تھا‘ اس کی صحت بہ لحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے بہر طرح ثابت ہوتی ہے‘ اس کے راوی مجاہدؒ ہیں جو حضرت عبداللہ ابن عباس کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں‘ اور اس روایت کو اکثر مفسرین اور محدثین نے نقل کیا ہے‘ تفسیر درمنثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا ہے کہ
عن مجاهد قال ارى رسول الله ﷺ وهو بالحديبية انه يد خلى مکہ هو واصحابه امنين.
(درمنثور ج ٦ ص ٨٠)
”مجاہد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کہ آپؐ نے خواب دیکھا کہ آپؐ اور آپؐ کے اصحاب بے خوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں“
تفسیر جامع البیان طبری‘ اور فتح الباری‘ اور عمدۃ القاری‘ اور ارشاد الساری میں بھی یہی ہے کہ حضور انور ﷺ نے حدیبیہ میں یہ خواب دیکھا۔ غرض یہ کہ اس وقت نو کتابوں سے اس دعویٰ کا ثبوت دیا گیا جس روایت میں یہ آیا ہے کہ مدینہ پاک میں حضور انور ﷺ نے یہ خواب دیکھا وہ روایت ضعیف ہے علاوہ اس کے ضعیف ہونے کے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور ﷺ کا وہ سفر اس خواب کیوجہ سے ہوا اس کی تحقیق جدا گانہ رسالہ میں کی گئی ہے‘ اس مختصر بیان سے یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا یہ الزام کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی وقت مقرر کردہ پر پوری نہ ہوئی محض غلط ہے رسول اللہ ﷺ نے اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لئے کسی وقت کسی طرح کوئی بیان نہیں فرمایا۔ اب ہمارے برادر اس واقعہ کو مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے ملائیں جسے وہ اپنے دعویٰ کا عظیم
٢٢
الشان نشان بتا رہے ہیں جس کی نسبت بار بار کہا کہ اگر اس کا ظہور نہ ہوا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘ اور حضور انور ﷺ نے صرف اپنا خواب بیان کیا تھا اور بطور تعبیر بھی اس کے ظہور کا کوئی وقت کسی طرح بیان نہیں فرمایا تھا‘ آپ کا سفر کرنا اور ذوالحلیفہ پہنچ کر احرام باندھنا اس کی دلیل ہرگز نہیں ہے کہ آپؐ کے خیال میں یہ تھا کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال ظہور میں آئے گی‘ بلکہ احرام باندھنا اس کی دلیل ہے کہ اس کی تعبیر اس وقت ظہور میں نہیں آئے گی پھر یہاں کسی شریر کو کس طرح گنجائش مل سکتی ہے‘ کہ وہ کہے یہ پیشگوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی؟
یہاں اول تو الہامی پیشگوئی نہ تھی اور جس قسم کی پیشین گوئی تھی وہ پوری ہوئی اور ہر طرح پوری ہوئی‘ اب اس خواب کو اپنی اس پیشگوئی کے مثل ٹھہرانا جس کی میعاد پہلے اڑھائی برس بیان کی پھر اس کو خوب مشتہر کیا جب وہ میعاد گزر گئی اور احمد بیگ کا داماد نہ مرا اور مسلمانوں نے کہنا شروع کیا تو مرزا قادیانی بڑے زور و شور سے باتیں بناتے رہے اور اس کے وقوع میں آنے کا یقین دلاتے رہے‘ چنانچہ چار قول ان کے بھی نقل کئے گئے‘ مگر پندرہ یا سولہ برس کے بعد مرزا قادیانی اس جہان سے تشریف لے گئے اور اس کا ظہور نہ ہوا۔
بھائیو! انصاف سے کہو کہ یہ خلقت کو گمراہ کرنا نہ ہوا کہ اپنی جھوٹی پیشگوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے رسول اللہ ﷺ پر یہ افتراء کیا کہ حدیبیہ میں آپؐ نے پیشگوئی کی تھی اور وہ وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی‘ اس کو خوب یقین کرنا چاہئے کہ اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ ﷺ کے خلاف مرزا قادیانی کی روّش
مرزا قادیانی کے خیالات اور ان کی باتیں انبیائے کرام کی روّش کے خلاف ہیں‘ ایک یہ امر نہایت لائق توجہ ہے جس سے سچے اور جھوٹے میں ایک لطیف فرق دانشمند حضرات سمجھ سکتے ہیں۔ (١) جناب رسول اللہ ﷺ نے کسی پیشگوئی یا معجزے کی نسبت نہیں فرمایا کہ یہ میری نبوت کی دلیل ہے‘ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں جیسا مرزا قادیانی
٢٣
کہہ رہے ہیں، وہاں تو آپ کی ذات مبارک، آپ کے صفات حمیدہ، آپ کے حالات جمیلہ، آپ کی ہدایات جلیلہ آپ کی نبوت کی روشن دلیلیں تھیں، جو کسی حق پرست پر پوشیدہ نہیں رہ سکتیں وہاں کسی خارجی اسباب کی حاجت نہ تھی، (٢) نشانات و معجزات بہت کچھ ہوئے مگر کسی منکر یا طالب معجزہ کے سامنے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے دو ہزار یا تین ہزار یا اس قدر معجزے دکھائے ہیں تم ان پر نظر کرو، قرآن مجید دیکھو کہ جب منکرین نے معجزہ طلب کیا ہے تو گویا انکار ہی کیا ہے نہ گزشتہ کسی معجزے کا حوالہ دیا ہے نہ آئندہ کسی خرق عادت کا وعدہ فرمایا ہے، مثلاً سورۂ بنی اسرائیل ٩٣ میں ہے کہ کفار نے کئی معجزے طلب کئے ان کے جواب میں ارشاد خداوندی ہے۔ ”قُلْ سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا“ ”یعنی اے محمد (ﷺ) کہہ دے کہ اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے۔ (تم جو عیب لگانا چاہتے ہو وہ نہیں لگ سکتا) اور میں ایک انسان ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔“ مرزا قادیانی کی روش اس کے بالکل برعکس ہے، ذرا سی کوئی بھی بات ان کے حسب خواہ ہو گئی، بس اخباروں میں، اشتہاروں میں، رسالوں میں اس کا غل مچ گیا کہ یہ نشان ہوا۔ یہ کرامت ہوئی، اور جب کوئی بات کہنے کے مطابق نہ ہوئی تو تاویلیں چلیں اور تاویلیں بھی ایسی جنہیں کوئی حق پسند قبول نہیں کر سکتا، اور مسلمانوں پر سخت کلامی شروع ہو گئی۔ قادیانی جماعت سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہی منہاج نبوت ہے؟
(٣) جناب رسول اللہ ﷺ نے جو خواب دیکھا تھا اس کا ظہور دوسرے ہی سال میں ہو گیا، اور مرزا قادیانی نے جو الہامی پیشگوئی کی تھی اس کا ظہور ان کے مرتے وقت تک نہ ہوا۔ حالانکہ پندرہ سولہ برس تک اس پیشگوئی کے بعد جیتے رہے، اور اس کے ظہور میں آنے کا یقین دلاتے رہے۔
اب میں طالبین حق کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں خوب خیال کریں کہ شروع رسالے سے یہاں تک مرزا قادیانی کے کتنے الہامات جھوٹے ثابت ہوئے اور ایسا ثبوت جس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا۔ ان الہامات کا شمار کرنا آپ کے حوالے کرتا
١؎ اس کی شرح خلعۃ الہنود میں مولانا سید حسین شاہ مرحوم نے خوب کی ہے یہ کتاب جواب ہے اندر من کی کتاب تحفۃ الاسلام کا، لائق دید ہے۔
٢٤
ہوں اب آپ ہی فرمائیے کہ جو شخص اس قدر اعلانیہ جھوٹ خدائے تعالیٰ پر باندھے رسول اللہ ﷺ پر افتراء کرے جس کے حالات ایسے ہوں جن کا ذکر پہلے حصے میں ہوا وہ برگزیدہ خدا یا رسول و نبی ہو سکتا ہے؟ کوئی ایماندار اس کا اقبال نہیں کر سکتا‘ بلکہ بے اختیار کہہ اٹھے گا کہ ایسا شخص برگزیدہ خدا ہرگز نہیں ہو سکتا‘ اگرچہ کتنا ہی بڑا علامہ کیوں نہ ہو‘ یہاں تک مرزا قادیانی کے عظیم الشان نشان کا خاتمہ ہو گیا‘ اور قدرت خدا نے دکھا دیا کہ وہ ایک نشان عظیم ہے‘ مرزا قادیانی کے حالات ظاہر کرنے کا۔ اور ایسا نشان ہے کہ خاص و عام جاہل و عالم‘ جس کو حق طلبی ہے وہ اس رسالے کو دیکھ کر بے تامل کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط تھا‘ اور اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ بڑے شد و مد سے انہیں اپنے جھوٹے ہونے کا اقبال ہے‘ اس نشان کے متعلق اس کا ذکر کرنا باقی ہے‘ کہ مرزا احمد بیگ ان کی پیش گوئی کے مطابق مرے‘ یعنی مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ اس لڑکی کا باپ تین سال کے اندر مر جائے گا اور ایسا ہی ہوا کہ چار مہینے یا چھ مہینے کے بعد وہ مر گئے‘ اس کے جواب دینے کی ضرورت تو نہیں ہے مگر شاید کسی کو خلجان رہ جائے‘ اس لئے کہتا ہوں متوجہ ہو کر سنئے ۔ اول...... احمد بیگ کے داماد کے متعلق پیشگوئی جھوٹی ہوئی جو اسی الہام کا ایک جزو تھی‘ اور ظاہر ہو گیا کہ وہ رحمانی الہام نہ تھا‘ تو اس کا دوسرا جز کیونکر رحمانی ہو سکتا ہے؟ ۔ دوم...... جب مرزا قادیانی کے اقرار سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا تو اب کوئی پیشگوئی ان کی حقانیت کے لئے پیش کرنا فضول ہے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ بہت قسم کے لوگ پیشگوئی کرتے ہیں‘ جن کا ذکر بار بار ہو چکا ہے ویسے ہی یہ بھی ہیں۔ سوم...... اگر کوئی
١؎ مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ١٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤) وغیرہ میں مرزا احمد بیگ کے مرنے کے بعد بار بار یہ لکھا ہے کہ ”اس پیش گوئی کی دو ٹانگ تھیں ایک ٹوٹ گئی ایک باقی ہے“ غرض یہ کہ ان دونوں پیشگوئیوں کا ایک ہی الہام سے ہونا مرزا قادیانی کے کلام سے ظاہر ہے لہٰذا ایک کا جھوٹا ہو جانا اور دوسرے کو بھی ساقط الاعتبار کرتا ہے‘ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے مرنے کے بعد جب اپنی صداقت کا اظہار زور و شور سے کیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے پچاس سوالات جرح کے کئے تھے جس کا جواب اس وقت تک دیکھا سنا نہیں گیا‘ رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ جلد ١٥ نمبر ١ اور ٢ دیکھنا چاہئے‘ مگر جو کچھ اس رسالے میں لکھا گیا ہے وہ کافی ہے کیونکہ اس میں آسمانی فیصلہ کا اظہار ہے اور ایسے فیصلے کے بعد سوالات جرح کی ضرورت نہیں۔
٢٥
انصاف سے غور کرے تو ان باتوں کے قطع نظر وہ معلوم کر لے گا کہ احمد بیگ کی موت مرزا قادیانی کی پیشگوئی کے مطابق نہیں ہوئی، کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ تین سال کے اندر احمد بیگ مر جائے گا، اردو کے محاورے کے موافق اگر احمد بیگ دو سال کے بعد تین سال کے اندر مرتا اس وقت یہ کہنا صحیح ہو سکتا تھا کہ پیشگوئی کے مطابق اس کی موت ہوئی اور جب وہ چار یا چھ ماہ میں مر گیا تو کوئی فہمیدہ محاورہ دان منصف مزاج نہیں کہہ سکتا کہ پیشین گوئی کے مطابق مرا البتہ اگر یہ پیشگوئی ہوتی کہ ایک سال کے اندر مر جائے گا اس وقت کہہ سکتے تھے کہ احمد بیگ کی موت پیشگوئی کے مطابق ہوئی ہے اس کے علاوہ ایک نہایت روشن بات مرزا قادیانی کے الہام سے ثابت ہوتی ہے کہ احمد بیگ کی موت پیشین گوئی کے مطابق نہیں ہوئی، کیونکہ الہام میں کہا گیا کہ احمد بیگ تین سال کے اندر فوت ہو اور اس کے داماد کے لئے کہا گیا کہ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو نہایت ظاہر ہے کہ احمد بیگ کے مرنے کے لئے زیادہ میعاد بیان ہوئی، اور اس کے داماد کی اس سے کم اس کمی اور بیشی کے لئے کوئی وجہ نہیں ہو سکتی بجز اس کے کہ جس کی میعاد کم ہے وہ پہلے مرے گا اور جس کی میعاد زیادہ ہے وہ بعد کو مرے گا، یعنی اڑھائی برس کے بعد جب یہ نہ ہوا تو یقینا احمد بیگ کی موت پیشین گوئی کے مطابق نہیں ہوئی، اس کے بھی علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اسی کے ساتھ اس کے داماد کے موت کی پیشین گوئی کی تھی وہ تو یقینا جھوٹی ہوئی، پھر وہ پیشین گوئی بھی کیسی کہ برسوں اس کا الہام ہوتا رہا پہلے اس کے موت کے لئے اڑھائی برس کی قید لگائی جب وہ غلط ہو گئی تو کتنے برسوں تک کہتے رہے کہ وہ میرے سامنے مرے گا، پھر اس میں کیسی کیسی دعائیں اس کی موت کے لئے مرزا قادیانی نے مانگی ہوں گی، شب کو کس کس طرح روئے اور گڑگڑائے ہوں گے اس خیال سے کہ میں کہیں جھوٹا نہ ہو جاؤں مگر کچھ نہ ہوا اور مرزا قادیانی جھوٹے ٹھہرے ان باتوں کو خیال کر کے کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ احمد بیگ کی موت مرزا قادیانی کے قول کی تصدیق ہے؟ ہرگز نہیں۔
الحاصل! مرزا قادیانی نے اپنی صداقت ثابت کرنے کے لئے جس کو نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا جس کے ہونے پر انہیں نہایت ہی وثوق تھا وہ بالکل غلط نکلا اور جتنی پیشین گوئیاں اس کے متعلق تھی سب جھوٹی ثابت ہوئیں۔
الغرض! پیشین گوئی کا بیان تو ہو لیا مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض اہل علم ان کی
٢٦
لیاقت علمی اور تفسیر دانی کو بہت مانتے ہیں‘ اور ان کی دلیلوں کی وقعت کرتے ہیں‘ اس لئے ان کی خیر خواہی اس پر مجبور کرتی ہے کہ اس رسالے کے مناسب ان کی علمی لیاقت اور تفسیر دانی کا نمونہ بھی دکھایا جائے‘ اور اسی نمونے میں اس دلیل پر گفتگو کی جائے‘ جسے مرزا قادیانی اپنی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی دوسری عظیم الشان دلیل کا پامال ہونا
ان دلیلوں میں سب سے زیادہ قوی اور عام فہم دلیل وہ ہے جو اس نے یوں لکھی ہے ”میرے دعویٰ الہام پر پورے بیس برس گزر گئے اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی...... پھر کیا اسی خدائے تعالیٰ کی عادت ہے‘ کہ ایسے کذاب بے باک اور مفتری کو جلد نہ پکڑے یہاں تک کہ اس افتراء پر بیس برس سے زیادہ عرصہ گزر جائے کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہمون کو بہت جلد کھاتی رہی ہے‘ اس لمبے عرصے تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی...... ایک تقویٰ شعار آدمی کے لئے یہ کافی تھا‘ کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔“ (انجام آتھم ص٤٩۔٥٠ خزائن ج١١ ص ایضاً) پھر لکھتے ہیں ”کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذاب اور دجال اور مفتری جو برابر بیس برس کے عرصے سے خدائے تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا اور کیا یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ جس سلسلے کا تمام مدار ایک مفتری کے افتراء پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیں سکتا تھا۔ توریت و قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنیوالا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔“
(انجام آتھم ص٦٣ خزائن ج١١ ص ٦٣)
یہاں جو اقوال نقل کئے گئے ان سے تو صاف ظاہر ہے کہ جھوٹے کو بیس برس تک مہلت نہیں مل سکتی اور (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٦ خزائن ج١٧ ص٤٢) میں ٢٣ برس میعاد بیان کی ہے‘ مرزا قادیانی کا یہ دوسرا قول پہلے قول کو غلط کرتا ہے‘ کیونکہ دوسرے قول سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی جھوٹا بیس برس کیا بائیس بلکہ ساڑھے بائیس برس تک جھوٹ بولتا رہے
٢٧
تو اس کی گرفت ضروری نہیں ہے‘ اس ترقی کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کو تئیس برس سے زیادہ مہلت ملی‘ اب مصلحت یہ ہے کہ جھوٹے کی مہلت میں ترقی کر دی جائے‘ تاکہ اس کی نظیر تلاش کرنے میں زیادہ وقت ہو اور ان کے خیال میں تو کوئی مل ہی نہیں سکتی‘ مرزا قادیانی کی یہ دلیل ایسی ہے کہ عوام کے ذہن نشین جلد ہو جاتی ہے‘ اور عام کیا بعض اہل علم بھی اس میں بہک جاتے ہیں‘ اس لئے اس کے متعدد جواب دیئے جاتے ہیں۔
پہلا جواب اس سے پیشتر احمد بیگ کے داماد کے متعلق جو چار قول مرزا قادیانی کے منقول ہو چکے ہیں وہ چاروں قول اس دلیل کو غلط بتاتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی ٢٣ برس سے زیادہ دعویٰ الہام کے ساتھ عیش وعشرت کرتے رہے اور ان اقوال سے ظاہر ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے اور ہر بد سے بدتر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جھوٹا ملہم اور خدا پر افتراء کرنے والا بھی ٢٣ برس سے زیادہ عیش وعشرت کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے اور زیادتی کی کوئی میعاد نہیں معلوم ہوتی‘ اس لئے مرزا قادیانی ہی کے قول سے یہ دلیل غلط ہے۔
دوسرا جواب فیصلہ آسمانی پہلے حصے میں اور اس میں بہت سے الہامات مرزا قادیانی کے غلط ثابت کئے گئے‘ اور ان کی غلطی ایسی ثابت ہوئی کہ کسی طرح کا شبہہ باقی نہیں رہا۔ جب ان کے الہامات غلط ثابت ہوئے‘ تو خدا پر افتراء کرنے کا ثبوت یقینی طور سے ہو گیا‘ اب اگر خدا پر افتراء کرنے والے کو تئیس برس کی مہلت نہیں ملتی تو مرزا قادیانی تئیس برس کے اندر کیوں نہیں ہلاک ہوئے؟ اس کا جواب مرزائی حضرات فرمائیں۔ ہمارے نزدیک تو جس طرح وہ پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں‘ اسی طرح ان کا یہ قول بھی غلط ہے کہ جھوٹے ملہم کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی‘ ان دو جوابوں کے بعد تحقیقی جواب دیا جاتا ہے غور سے ملاحظہ ہو۔
تیسرا جواب مرزا قادیانی کی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ کذاب ومفتری یعنی خدا پر افتراء کرنے والا ذلت کی موت سے جلد ہلاک ہو جاتا ہے‘ اور سچا ملہم عیش وعشرت کے ساتھ دیر تک زندہ رہتا ہے‘ یہ دلیل بالکل بے اصل ہے‘ سنت اللہ اس طرح جاری ہے‘ نہ قرآن وحدیث میں اس کا ثبوت ہے‘ توریت وانجیل میں پایا جاتا ہے‘ اور مرنے کو سچے جھوٹے سب ہی مرتے ہیں کسی کی عمر کم ہوتی ہے‘ کسی کی زیادہ‘ اس میں سچے اور جھوٹے
٢٨
سب برابر ہیں، البتہ سچے کی موت راحت ہے، اور جھوٹے کی موت اس کے لئے مصیبت ہے، اگرچہ موت کے وقت تک وہ عیش و عشرت میں رہا ہو امور سلطنت چھوڑ کر مرا ہو اس کی تفصیل سے پہلے اس کا بیان ضرور ہے، کہ خدا پر افتراء کرنے والے کون ہیں اور کتنے قسم پر ہیں، اور ان پر ہلاکت اور ذلت کا حکم ہونے کی کیا وجہ ہے؟ کیا دنیا میں نیکوں اور صالحوں کے عیش و عشرت کا مقام ہے؟ جو ان کے مقابلے میں جھوٹوں کو جلد ہلاکت کا حکم دیا جاتا ہے، اور نیکوں کو عیش میں چھوڑا جاتا ہے؟ خدا پر افتراء کرنے والوں کی بہت قسمیں ہو سکتی ہیں مگر اس وقت ہم دو قسمیں بیان کرتے ہیں، ایک وہ ہیں جو نبوت یا الہام کا دعویٰ کر کے جھوٹے الہام بیان کریں، اور جو باتیں خدا نے نہیں کہیں انہیں خدا کی طرف منسوب کریں، ایسے جھوٹے پہلے بھی گزر چکے ہیں اور اس صدی میں بھی گزر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مجدد اور امام اور مہدی ہونے کا دعویٰ تو کئی شخصوں نے کیا مگر الہام اور نبوت کا دعویٰ صرف مرزا قادیانی کا معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو خدا کی سچی باتوں کو جھوٹی کہتے ہیں اور اس کے سچے رسولوں کو مفتری اور کذاب بتا کر خلقت کو گمراہ کرتے ہیں، ان کا یہ خیال ہے کہ ہمارے پاس جو شریعت الٰہیہ اور کتاب خدا ہے وہ انہیں مفتری اور کذاب ٹھہراتی ہے، اس لئے ہم مامور ہیں کہ انہیں نہ مانیں اور کوشش کریں کہ خلقت انہیں خدا کا رسول نہ جانے، یہ صریح خدا پر افتراء ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جا بجا کفار و مشرکین کو مفتری کہا ہے اور ارشاد ہوا ہے کہ ”يَفْتَرُونَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ“ (نساء ٥٠) یہ گروہ اپنے خیالات اپنے گمانات فاسدہ کو خدا کا حکم اور منجانب اللہ سمجھتا ہے اس لئے وہ مفتری ہے، ان پر غضب الٰہی آنے اور جلد ہلاک ہونے کی وجہ مرزا قادیانی کے کلام سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مفتری مخلوق خدا کو گمراہ کرتے ہیں، خدا کے قہر کا یہ مقتضاء ہے کہ ان کو ذلت سے جلد ہلاک کرے تاکہ اس کی مخلوق گمراہی سے محفوظ رہے، اب اگر مخلوق کو گمراہ کرنا اس بات کا سبب ہے کہ گمراہ کرنے والا غضب الٰہی کی آگ سے جلد ہلاک ہو اور ذلت کے ساتھ مرے، تو اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ گمراہ کرنے والا گروہ دہریہ اور لا مذہب ہے جس کو سرے سے خدائے تعالیٰ کے وجود سے انکار ہے۔ جب کوئی ان کے سامنے اس قادر بے چون کا ذکر کرے تو بشرط قدرت و موقع زور سے قہقہہ لگاتے ہیں، اور ان کی تقریروں اور تحریروں کے زور سے یورپ میں دہریت کا دریا موج زن ہے، مذہب عیسوی
٢٩
خطرناک حالت میں ہو گیا ہے اور عیسائی برابر دہریہ ہوتے جاتے ہیں اور ہندوستان میں بھی یہ مذہب پھیل رہا ہے ٢٣ برس سے زیادہ ہوئے کہ یہ گروہ کمال عیش و عشرت اور مسرت و حکومت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے دوسرے گروہ میں دیانند سرستی کو دیکھو تیس برس سے زیادہ ہوئے کہ اس نے آریہ مذہب کی بنیاد ڈالی اور ہندوستان میں ہندو مسلمانوں میں ہلچل مچا دی مذہب حقہ اسلام اور اس کے بانی علیہ السلام پر بہت کچھ زبان درازی کی مگر تازیست چین کرتا رہا اور مرا بھی تو کسی ذلت کی موت سے نہیں مرا جیسا کہ مرزا قادیانی مفتری کے لئے کہتے ہیں۔
اب دیکھو کہ اس کے مذہب کو اس کی جماعت کو کس قدر ترقی ہو رہی ہے حیرت یہ ہے کہ بعض مسلمان آریہ ہو گئے دیانند اگرچہ مر گیا مگر اس کی گمراہی اور اس کی جماعت گمراہ کرنے والی موجود ہے اور اس سے زیادہ گمراہی پھیلا رہی ہے اس لئے اسے زندہ سمجھنا چاہئے۔
الحاصل! خدا پر افتراء کرنے والے اور خلقت کو گمراہ کرنے والے دو گروہ ہوئے پہلا گروہ وہ ہے جو کہہ رہا ہے کہ خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے ان کے سرگروہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی ہیں اور اخبار ”ایڈوکیٹ“ بمبئی میں لکھا ہے کہ لندن میں ایک عیسائی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسیح موعود میں ہوں اور اس قدر اس کو ترقی ہے کہ اس کا چرچ یعنی گرجا جو اس نے بنوایا ہے اس قدر شاندار ہے کہ باوجود سلطنت اور بے حد عمارت کے شہر لندن میں اس کے مثل نہیں ہے مرزا قادیانی سے تو عمدہ مسجد بھی نہ بن سکی منارہ بنواتے تھے وہ بھی اس کے مرنے تک ناتمام رہا اور ان کا روپیہ ضائع اور بے کار گیا۔ غرض یہ کہ مسیح لندنی کی عیش و عشرت اور شان و شوکت مسیح قادیانی کی عیش و عشرت و شوکت سے بہت زیادہ ہے۔ دوسرا گروہ منکرین رسالت کا ہے جن کا ذکر ابھی کیا گیا۔ تیسرے گروہ کو اگرچہ مفتری نہ کہیں مگر خدائے تعالیٰ کا اور اس کے سچے رسولوں کا بالکل انکار کرنا افتراء کرنے سے زیادہ جرم ہے اور خلقت کو گمراہ کرنا جس قدر اس تیسرے گروہ سے ہو رہا ہے ان دونوں سے نہیں ہے اس لئے مورد غضب الٰہی اگرچہ تینوں گروہ ہیں مگر اسے سب سے زیادہ ہونا چاہئے لیکن اس وقت تک کسی گروہ کو غضب الٰہی کے صاعقہ نے ہلاک نہیں کیا
٣٠
بلکہ نہایت زور سے انہیں ترقی ہو رہی ہے، یہ وہ حالت ہے کہ مرزا قادیانی کی غلط بیانی کا ثبوت دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اس میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی بدیہی بات کا مرزا قادیانی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صفحہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی، اگر کوئی قادیانی کہے کہ مرزا قادیانی خاص جھوٹے ملہموں کی نسبت لکھتے ہیں کہ ایسا جھوٹا ملہم کوئی نہیں گزرا، تو میں کہتا ہوں کہ جھوٹے ملہم کی تخصیص کیوں کی جاتی ہے؟ ہم تو بیان کر چکے کہ جو وجہ ہلاک کر دینے کی جھوٹے ملہم میں ہے، اس سے زیادہ دوسرے گروہوں میں ہے، پھر تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ کوئی قادیانی اس تخصیص کی وجہ نہیں بیان کرتا، مگر ہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے خاص مفتری کے لئے یہ نتیجہ بیان کیا ہے، مگر اسے یہ چاہئے کہ اپنے مرشد کے قول کی دلیل قرآن مجید سے، حدیث سے یا عقل سے کوئی دلیل تو پیش کرے یا مرزا قادیانی کے محض جھوٹے اور غلط اقوال کو پیش کر کے ہمیں الزام دینا چاہتا ہے تمہارے مرشد کا یہ قول کہ ”توریت و قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے یعنی دنیا میں تئیس پچیس برس تک وہ عیش و آرام میں نہیں رہ سکتا“ محض غلط ہے، خدا پر افتراء ہے، اور اگر گذشتہ زمانے میں ایسے جھوٹے مدعیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو تھوڑا انتظار کریں آئندہ ان کا بھی ذکر ہوگا، مرزا قادیانی کے جواب میں یہ بدیہی اور یقینی دلیل تھی، اب حقیقت امر کو بیان کیا جاتا ہے، اور استدلالی طریق سے جواب دیا جاتا ہے، جس طرح زمانے کی موجودہ حالت سے ثابت ہو گیا کہ مفتری اور خلقت کو گمراہ کرنے والے جلد ہلاک نہیں ہوتے اسی طرح تاریخ پر نظر کرنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے منکروں کو اور اس پر افتراء کرنے والوں کو بہت کچھ مہلت دی گئی ہے اس پر کسی کو تعجب نہ ہو خدائے تعالیٰ بڑا حکیم ہے، اگر اس کی حکمت بالغہ کا مقتضاء یہ ہو کہ کسی مفتری کو مہلت دی جائے تو کوئی روکنے والا اور الزام دینے والا نہیں ہے لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ (انبیاء ٢٣) سچا ارشاد ہے، طبیب ظاہری بیمار کے علاج میں بعض وقت ایسا علاج کرتا ہے کہ دیکھنے والے اس وقت متحیر ہوتے ہیں بعض اسے نا پسند کرتے ہیں، مگر وہ اصول طب کے موافق علاج کرتا ہے، ناواقفوں کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، پھر اس حکیم مطلق کی حکمتوں پر کس کا علم محیط ہو سکتا ہے؟ البتہ اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ کسی
٣١
وقت اس کی صفت اضلال کا غلبہ اس کی مہلت کا باعث ہو سکتا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے صفات میں جس طرح ہدایت ہے اسی طرح اضلال بھی ہے‘ جب ہدایت اور گمراہی اسی کی طرف سے ہے تو جس طرح اسے ھَادِیْ کہتے ہیں‘ اسی طرح اسے مُضِلّ بھی کہہ سکتے ہیں‘ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ میں اس کا بیان ہے چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔
- ١....... اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَھْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ
تَجِدَ لَهُ سَبِیْلاً (سورۃ نساء ٨٨)
اللہ تعالیٰ امت محمدیہ سے خطاب کر کے فرماتا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا تم اسے ہدایت کرو (یہ نہیں ہو سکتا) جسے اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا اسے تو نیک راہ پر نہیں چلا سکتا۔
- ٢....... مَنْ یَّھْدِی اللّٰهُ فَھُوَ الْمُھْتَدِی وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰۤئِكَ ھُمُ
الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ اعراف ١٧٨)
جسے اللہ تعالیٰ ہدایت کرے وہی ہدایت پا سکتا ہے اور جسے گمراہ کرے وہی نقصان والوں میں ہے۔
- ٣....... مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ (اعراف ١٨٦)
جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔
- ٤....... مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَہٗ مِنْ ھَادٍ (سورۃ رعد ٣٣)
جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہو سکتا۔
- ٥....... وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ
یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ (سورۃ نحل ٩٣)
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ساری دنیا کو ایک گروہ کر دے لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور
١۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اپنے مکتوبات جلد سوم کے صفحہ ٢٣ میں لکھتے ہیں۔ ہر دو مظاہر اسم الہادی واسم المضل یافتہ از ہر دو حظ میگیرد۔“
اس میں صاف طور سے جس طرح اللہ تعالیٰ کا نام الہادی بتایا اسی طرح المضل بتایا مگر چونکہ مرزائیوں کو علم سے اور بزرگوں کے کلام سے کچھ واسطہ نہیں ہے صرف بغدادی قاعدے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کچھ نام لکھے دیکھے ہیں‘ اس لئے سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے ہی نام ہیں حالانکہ علماء نے ہزار نام بتائے ہیں۔
٣٢
جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے یعنی اس کی حکمت بالغہ کا یہی مقتضاء ہے کہ کوئی گمراہ رہے اور کوئی ہدایت پائے۔ انسان کو اس غیر متناہی ذات وصفات کی ساری باتوں پر اطلاع نہیں ہوسکتی۔
اس وقت حضرات مرزائیوں کی حالت پر اس کا تجربہ ہو رہا ہے کہ ان کی خیر خواہی میں کیسی کوشش کی جاتی ہے اور ان کی گمراہی کو کس کس طرح سے روشن کرکے دکھایا جاتا ہے مگر سچ ہے کہ ”مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ“ ”جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرے اسے کون ہدایت کر سکتا ہے“۔ اس مضمون کی آیتیں قرآن مجید میں کثرت سے ہیں، مگر ان کی نظر ان پر نہیں پڑتی یا ان کے معنی سمجھنے میں ان کی عقل بہک گئی ہے اور اس طریقہ سے وہ گمراہ ہوئے ہیں، بہر حال گمراہ ہیں۔ زمانے کی تاریخ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں صفتوں کا دورہ ہوا کرتا ہے جس وقت صفت ہدایت کا دورہ ہوتا ہے تو ساری دنیا میں ہدایت کی روشنی پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ہر طرف ہدایت کا اثر کم و بیش نظر آتا ہے اور جب صفت اضلال کا دورہ ہوتا ہے تو حالت اس کے برعکس ہوتی ہے، صفت ہدایت کے دورے میں جس قدر مفتری اور کذاب گمراہ کرنے والے ہوں گے، اگر وہ ہدایت کے دائرے میں نہ آئیں گے تو عقل سلیم یہ کہتی ہے کہ صفت قہاری ان کی طرف جلد متوجہ ہوگی اور انہیں نیست و نابود کردے گی، مگر اس کے لئے کوئی میعاد نہیں ہوسکتی، اسی علام الغیوب اور حکیم مطلق کے اختیار میں ہے، یہی وجہ ہوئی کہ سرور انبیا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد میں اسود عنسی اور مسیلمہ کو زیادہ مہلت نہ ملی اور سجاح مدعیہ نبوت کو تیس برس سے زیادہ مہلت اس لئے رہی کہ خدا کے علم میں وہ مسلمان تھی اسی وجہ سے وہ حضرت معاویہؓ کے عہد میں آئی اور مسلمان ہوئی۔ جس وقت صفت اضلال کا غلبہ ہوتا ہے اس وقت کذاب و مفتری کو جس قدر زیادہ مہلت دی جائے تو عجب نہیں ہے اس دورے میں اس کی شان حلم و کرم اس کی مربی ہوگی۔ اہل نظر خوب دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت میں صفت اضلال کا زور ہے دنیا میں ہر طرح سے گمراہی پھیل رہی ہے نظر اٹھا کر دیکھا جائے جس مذہب نے ہدایت کی روح دنیا میں پھونک دی تھی اب اس کی کیا حالت ہو رہی ہے اس کے دشمن کس کس طرح سے اس کے مٹانے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں ہو سکتا اور نہ کسی کو خیال ہے اور خدا پر افتراء کرنے والے اس سے انکار کرنے والے کس
٣٣
زور و شور سے گمراہی کو پھیلا رہے ہیں، اور کتنی مدت سے کمال عیش و آرام سے حکومت کر رہے ہیں، روز افزوں انہیں ترقی ہو رہی ہے، ایسے وقت میں اگر کسی مفتری اور جھوٹے ملہم کو پچیس چھبیس برس کی مہلت دی جائے تو اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتی، اس وقت جو میں نے توقف کی وجہ بیان کی، یہ ایک عظیم الشان سرّ الٰہی ہے، یہاں ان آیتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے جن کی نقل ابھی ابھی کی گئی، جن سے اس صفت کا اظہار ہوتا ہے، اور یہ تو ظاہری بات ہے، کہ کسی وقت صفت انتقامی اس کی مہلت کا سبب ہو گی، تاکہ اس کے کذب و دروغ کا پلہ نہایت بھاری ہو جائے، اور اسی قدر اس سے انتقام لیا جائے، ایمانداروں خصوصاً علماء اور فہمیدہ حضرات کا امتحان بھی اس کی مہلت کا باعث ہو سکتا ہے، تاکہ آشکارا ہو جائے کہ کون ثابت قدم رہا اور کس کا ایمان پختہ نکلا، کہ گمراہ کرنے والے کے فریب میں نہ آیا، اور کون بہک گیا، جب یہ دونوں وجہیں بتا رہی ہیں کہ مفتری کی ہلاکت میں دیر ہو سکتی ہے اور اس کے لئے کوئی میعاد معین نہیں ہو سکتی، اور کوئی آیت و حدیث ایسی نہیں ہے جس سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہو۔ پھر مفتری کی مہلت سے انکار کرنا محض زبردستی اور نفس پرستی نہیں تو کیا ہے؟ جماعت قادیانی یہ تو کہے کہ شیطان جو صفت اضلال کا پورا مظہر ہے، اس کے مثل کون جھوٹا مفتری گمراہ کرنے والا ہو سکتا ہے؟ پھر اسے کیوں قیامت تک کی مہلت دی گئی اور ہلاک نہیں کیا گیا؟ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے کوئی فہمیدہ انکار نہیں کر سکتا، اور بعض جگہ جو مرزا قادیانی نے ہلاکت کے لئے قیدیں لگائی ہیں وہ محض ایجاد بندہ اور ابلہ فریبی ہے، کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہو سکتا، کہ ہلاک ہونا خاص قسم کے مفتری کے لئے مخصوص ہے، اگر کسی کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے۔
مرزا قادیانی اپنی کامیابی اور دنیاوی عمدہ حالت دکھا کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ہماری سچائی کی دلیل ہے مگر بیان سابق سے اس کی غلطی بھی ظاہر ہو گئی، کیونکہ منکرین خدا و رسول اور جھوٹے مدعی اس وقت اپنے مطالب میں کامیاب ہیں، اور مرزا قادیانی سے بدرجہا زائد عمدہ حالت رکھتے ہیں، مگر اب ہم قرآن مجید سے یہ ثابت کر کے دکھانا چاہتے ہیں، کہ دنیا میں عیش و عشرت سے رہنا، دشمنوں سے محفوظ رہنا، اپنے مطالب میں کامیاب ہونا سچائی اور حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔ دنیا دار الابتلاء ہے، یعنی آزمائش اور
امتحان کا مقام ہے اور خدا کا امتحان مختلف طور سے ہوتا ہے کسی وقت مال و دولت اور آسائش و آرام دے کر اور کسی وقت عزت و آبرو و جاہ و منصب عنایت کر کے اور کسی وقت تنگی اور پریشانی سے۔
دنیاوی حالت کا عمدہ ہونا حقانیت کی دلیل نہیں
پہلی آیت ارشاد خداوندی ہے اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْ صَاد فَاَمَّا الْإِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْٓ اَكْرَمَنِ ط وَاَمَّا اِذَا مَا ابْتَلٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّيْٓ اَهَانَنِ
(سورة الفجر ١٤ تا ١٦)
یعنی تیرا پروردگار سب کی حالت کو دیکھ رہا ہے اور ہر ایک کو آزماتا ہے، کسی کو دنیاوی عزت دیتا ہے اس کے مال و دولت میں ترقی ہوتی ہے یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میں مقبول ہوں، اس نے میری بڑی عزت کی اور کسی پر روزی تنگ کرتا ہے تو پریشان ہو کر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ذلیل کیا، اس آیت میں عام انسان کی آزمائش کا ذکر ہے اور دوسری آیتوں میں خاص مسلمانوں کے لئے ارشاد ہوا ہے، مثلاً سورۂ عنکبوت کی پہلی اور دوسری آیت میں ہے:“
دوسری آیت : اَلٓمٓ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْا اَنْ يَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ O وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ
(عنکبوت ١ تا ٣)
...... کیا لوگوں کا ایسا گمان ہے کہ وہ صرف اس کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جائیں کہ ہم ایمان لے آئے ہم مسلمان ہیں اور ان کی آزمائش نہ کی جائے اور وہ فتنے میں نہ ڈالے جائیں ایسا نہیں ہو سکتا، بلکہ جو ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں ان کا امتحان ہونا ضروری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنتِ قدیمہ ہے اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کو بالیقین جان لو کہ ہم نے تم سے پہلے مسلمانوں کی بھی آزمائش کی ہے اس غرض سے کہ سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے۔
یہ آیت نصِ قطعی ہے کہ ایمان والوں کا امتحان ہوتا ہے اس میں انبیاء اولیاء سب داخل ہیں، اور امتحان کس کس طرح کا ہو سکتا ہے اس کا بیان کچھ نہیں ہے جس سے
٣٥
مقصد یہ ہے کہ ہر طرح کا امتحان ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے، چنانچہ پہلی امتوں میں بہت سخت سخت امتحان ہوئے ہیں اس آیت کی تفسیر میں صاحب فتح البیان لکھتے ہیں، بعض آرے سے چیر دئے گئے، بعض قتل کر دئے گئے، بعض آگ میں ڈال دئے گئے، بعضوں کا سر لوہے کے کنگھوں سے کھرچا گیا۔ اور ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں، اس مضمون کی تصدیق میں حدیث نقل کرتے ہیں ” فمنهم من نشر بالمنشار و منهم من قتل ومنهم من القی فی النار و منهم من مشطوا با مشاط الحدید
(فتح البیان، جلد ٧)
یعنی حدیث صحیح میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان انبیاء کا ہوتا ہے اس کے بعد نیک لوگوں کا یعنی نیکوں کا امتحان انبیاء کے امتحان سے کم ہوتا ہے، ان کے بعد جس قدر نیکوں سے مشابہت اسی قدر ان سے امتحان۔ ”جاء فی الحدیث الصحیح اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الصلحون ثم الا مثل فالا مثل“
(ترمذی باب ما جاء فی الصبر علی البلاء ج ٢ ص ٦٥)
یعنی اگر زیادہ مشابہت ہے تو سخت امتحان ہے اور جس قدر مشابہت میں کمی ہے اتنی ہی امتحان میں کمی ہے، یہ حدیث مختلف الفاظ سے آئی ہے اور بہت ائمہ حدیث نے اسے روایت کیا ہے، ترمذی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے، حاکمؒ اور ابن حبانؒ روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ غرض یہ کہ مقبولان خدا کی حالت اس آیت اور حدیث سے معلوم کرنا چاہئے اور مرزا قادیانی کے قول پر نظر کرنا چاہئے کہ ان کا قول قرآن مجید اور حدیث صحیح کے صریح خلاف ہے، سورۂ انعام میں بعض سابق امتوں کا اس طرح ذکر ہے:
تیسری آیت وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلَا إِذْ جَاءَ هُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُوا مَاذُكِّرُوابِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوْا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ (الانعام ٤٢ تا ٤٤)
اللہ تعالیٰ نہایت تاکید سے قسم کھا کر اپنے رسول سے فرماتا ہے کہ تجھ سے پہلے
٣٦
بہت امتوں میں ہم نے رسول بھیجے اور جب انہوں نے نہ مانا تو ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں پکڑا تا کہ یہ لوگ جھکیں اور رسولوں کو مانیں مگر باوجود سخت گیری کے بھی انہوں نے نہ مانا اور ان کے دل سخت ہو گئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے شیطانی وساوس سے ان ہی باتوں کو پسند کرتے رہے جب انہوں نے نصیحت کی باتوں پر توجہ نہ کی تو ہم نے نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دیئے اور ہر قسم کا آرام و چین انہیں ملنے لگا یہاں تک کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں پر وہ اترانے لگے اس وقت ہم نے ایک بارگی اس طرح پکڑا کہ مایوس ہو گئے اور اپنے چھٹکارے کی انہیں امید نہ رہی اور ان ظالموں کی جڑ و بنیاد کاٹ دی گئی اور نیست و نابود کر دئے گئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض ان امتوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے زمانے کے نبیوں کی نہیں سنی اس ساری قوم کی تین حالتیں بیان فرمائیں۔ اول انہیں سختی اور تکلیف سے متنبہ کیا پھر ان پر بہت کچھ انعامات دنیاوی کئے مگر دونوں حالتوں میں وہ نا فرمان رہے اس لئے انجام میں وہ نیست و نابود کر دئے گئے پہلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ہم دو طرح سے امتحان لیتے ہیں نرمی سے اور سختی سے یہاں بھی وہی بات ہے البتہ یہاں اس امتحان کا انجام بھی بیان فرما دیا یعنی جب کسی امتحان میں پاس نہ ہوئے تو ہلاک کر دئے گئے مگر یہ سمجھ لینا ضرور ہے کہ تین حالتیں جو بیان کی گئیں وہ نہ ایک شخص کی ہیں نہ اس امت کے ہر شخص کی بلکہ ایک گروہ اور ایک بڑی امت کی ہیں اب اگر اس امت کے ہر فرد بشر کا خیال کیا جائے گا تو مختلف حالت کے لوگ ہوں گے بعض تکلیف کی حالت میں مر گئے ہوں گے راحت ان کے پاس نہ آئی ہو گی بعض نے تمام عمر عیش و آرام کیا ہو گا اور اپنی کامیابیوں اور عیش کے نشے میں کیا کیا کیا ہو گا اور کس کس قسم کے دعوے کئے ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے بعض ایسے بھی ہوں گے کہ عیش و آرام میں اپنے خیالات میں مست ہوں گے کہ یکبارگی خدا کی پکڑ ان پر آ گئی اب نہیں معلوم کہ کتنی مدت تک وہ عیش و آرام میں رہے غرض یہ کہ اس آیت سے یہ بخوبی ثابت ہوا کہ کسی وقت نا فرمانوں پر نعمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اب وہ نافرمان کسی قسم کا مجرم ہو مدعی نبوت ہو جھوٹی وحی کو خدا کا کلام بتائے افتراء کرے یا ایسے مفتری ہوں جیسے یہود و نصاریٰ وغیرہ کلام الٰہی میں کوئی قید نہیں ہے عام الفاظ ہیں اس لئے کوئی شخص اپنی عمدہ حالت دکھا کر اپنی سچائی اور حقانیت ثابت نہیں کر سکتا الحاصل پہلی
٣٧
آیت صاف شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان کا امتحان لیتا ہے کسی کو مال و دولت عزت و آبرو دے کر آزماتا ہے اور کسی کو فقر و فاقے میں رکھ کر دیکھتا ہے دوسری آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی آزمائش اکثر سختی سے کی جاتی ہے تیسری آیت سے ظاہر ہے کہ بعض وقت نا فرمان مجرموں کے لئے خاص طور سے راحت کے سامان مہیا کئے جاتے ہیں اور وہ بھی اس زور کے ساتھ کہ دنیاوی اسباب کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اس آیت سے عیش و آرام میں رہنا زیادہ خطرناک معلوم ہوتا ہے اب یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عیش و آرام اور عزت و آبرو کے مراتب و اقسام ہیں مثلاً کسی کو اللہ نے علم دیا اور اس کی وجہ سے خلق کو اس کی طرف متوجہ کیا اور قبولیت کی عزت عنایت فرمائی۔ اب یہ امتحان ہوتا ہے اور اپنے تئیں خدا کا مقرب اور مقبول خیال کرتا ہے یا بار احسان سے اس کی عاجزی اور شرمندگی میں ترقی ہوتی ہے خصوصاً اس خیال سے کہ اس کریم کے ایسے احسانات اور میں ایسا نالائق اور مجھ سے اس کا شکریہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ اب اگر اس کے دل میں اپنی بڑائی سماگئی تو اس کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ اگر یہ اپنے آپ کو مقبول خدا مخلوق کا امام اور پیشوا خیال کرے تو بعید نہیں ہے اسے خیالی الہام ہونے لگیں اور اپنے تئیں نبی اور رسول سمجھ لے تو بھی بعید نہیں اور اگر علم اور قبولیت کے ساتھ دولت اور مقصد میں کامیابیاں بھی اس کی ہونے لگیں تو دعویٰ خدائی کرنے لگے تو عجب نہیں الغرض انعام ظاہری کسی وقت تو مقبولیت کا باعث ہو جاتا ہے اور کسی وقت نہایت مردود بنا دیتا ہے مگر یہ مقبولیت ہی کے خیال میں رہتا ہے ایسا ہی تنگی کا حال ہے کہ کبھی تو ”کاد الفقر ان یکون کفرا۔“ محتاجی کسی وقت کفر کی نوبت پہنچا دیتی ہے۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٤٩٢ حدیث ١٦٦٨٢) کا مصداق ہوتا ہے اور کسی وقت کمال صبر کی وجہ سے مقبول خدا ہو جاتا ہے غرض یہ کہ تینوں آیتوں سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ ظاہری حالت کا عمدہ ہونا اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جانا مقبولیت کی دلیل نہیں ہے بلکہ بعض وقت خدا کے مقبول سختی میں رہے ہیں اور رہتے ہیں اور نا فرمان اپنی زندگی عمدگی سے بسر کرتے ہیں اب حیرت یہ ہے کہ ایسی صریح آیتیں موجود ہیں پھر ان کے برخلاف اپنی عمدہ حالت کو دکھا کر اپنی سچائی ثابت کی جاتی ہے اور ماننے والے مان رہے ہیں اور ان کے مولوی کہتے ہیں کہ فیصلہ آسمانی میں کوئی علمی اعتراض نہیں ہے اے نافہمو! علمی اعتراض اسی کو
٣٨
سوجھتا ہے جس کے دل کی آنکھیں کھلی ہوں اور جو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے انہیں علمی اعتراض کیا سوجھے گا۔ اب میں جھوٹے مدعیوں کے چند نام لکھتا ہوں، جن سے معلوم ہو جائے گا کہ بعض ایسے حضرات گزرے ہیں کہ ان کی پہلی حالت اچھی تھی مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام کیا اور خلق میں انہیں مقبولیت عنایت ہوئی، اس وقت ان کی حالت بگڑی اور دعویٰ مہدویت کے ساتھ سلطنت کی، اور باوجود ایسے جھوٹے دعوے کے تمام عمر عیش و عشرت میں کامران رہے اور بعض تو اپنے خلیفہ اور اپنی اولاد کے لئے سلطنت چھوڑ گئے اور سینکڑوں برس ان کی سلطنت رہی ذلت کی موت سے وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ انتہائے مغرب کے پہاڑی ملک میں بہت بڑی قوم بربر رہتی ہے اس میں بہت لوگ گزرے ہیں جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس قوم نے مانا ہے اور اس قدر مانا ہے کہ اس دعویٰ کی وجہ سے وہ بادشاہ ہو گئے، مہدی ہونے کا دعویٰ جنہوں نے کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں۔
(١) محمد بن تومرت علوی مغربی (٢) عبدالمومن
انتہائے مغرب میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام سوس ہے وہاں کا رہنے والا تھا بہت بڑا عالم تھا، فقیہ تھا، حدیث کا حافظ تھا، اصول فقہ اور علم کلام کا پورا ماہر تھا، ادیب بھی تھا نہایت متقی اور پرہیزگار اور زاہد تھا، ایک زمانے تک اس نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہایت زور و شور سے کیا، بلا تخصیص جس کو برے کام کرتے دیکھا اسے منع کیا اور نیک کام کی رغبت دی بے سروسامانی کی یہ حالت تھی کہ مقام مہدیہ میں ٥٠٥ھ میں پہنچا اس وقت اس کے پاس بجز ایک چھاگل اور لاٹھی کے کچھ نہ تھا، اس علم و فضل اور زہد و تقویٰ نے خلقت کو اس کا مسخر و مطیع کر دیا، نیک کاموں کی اشاعت میں اور برائی کے مٹانے میں تو اس قدر مشہور ہوا کہ بادشاہ تک خبر پہنچی، اس وقت یحییٰ بن تمیم وہاں کا بادشاہ تھا، اس نے علما کی مجلس میں اسے بلوایا اور جب وہ بادشاہ اس کے علم و فضل اور صلاح و تقویٰ سے واقف ہوا تو اس نے اس کا بہت احترام کیا، وہاں سے پھر مراکش پہنچا اور وہاں بھی اسی تقویٰ اور امر بالمعروف کی وجہ سے وہاں کے بادشاہ تک اس کو جانے کی نوبت آئی، اس نے اس وقت کے بڑے بڑے فضلا کو اس سے مناظرہ کا حکم دیا مگر کوئی فاضل اس سے مقابلہ نہ کر سکا، اور اس کی عمدہ نصیحتوں اور پر اثر کلمات نے بادشاہ کے دل پر ایسا اثر ڈالا
٣٩
کہ بے اختیار رونے لگا مگر وزیر کے اصرار سے بادشاہ نے اپنے ملک سے نکال دیا پھر ٥١٢ھ میں اپنے وطن پہنچا اور اپنی سحر بیانی سے عام طور پر لوگوں کو مسخر کرنے لگا اور اپنے مجدد ہونے اور مہدی ہونے کی تمہید شروع کر دی یعنی یہ بیان کرنا شروع کیا کہ فلاں فلاں احکام شرعی بدل گئے ہیں اور یہ یہ خرابیاں اسلام میں داخل ہو گئی ہیں ایک سال کے بعد وہاں کے لوگ اس کے پورے مطیع ہو گئے اب اس نے امام مہدی کی تعریف بیان کرنی شروع کی اور یہ بھی کہا کہ ان کا خروج انتہائی ١ مغرب میں ہوگا۔ ایک روز بیان کی حالت میں دس آدمی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ جو خوبیاں امام مہدی کی آپ بیان کرتے ہیں یہ تو سب آپ میں پائی جاتی ہیں۔ آپ ہی مہدی ہیں لایئے ہاتھ ہم بیعت کریں محمد بن تومرت نے ان سب کی بیعت لی۔ اس وقت جنہوں نے بیعت کی ان میں عبدالمومن بھی تھا یہ پہلا روز تھا اس کے مہدویت کی بنا کا، پھر تو قبیلے کے قبیلے اس کے مطیع ہونا شروع ہو گئے بادشاہ وقت کو جب اس کی خبر پہنچی تو فوج لے کر اس کی طرف چلا جب وہ قریب آ گیا تو ابن تومرت نے اپنے معتقدوں سے کہا میں پوشیدہ طور سے یہاں سے چلا جاتا ہوں تاکہ تم محفوظ رہو۔ کیونکہ جب بادشاہ معلوم کرے گا کہ وہ چلا گیا تو واپس چلا جائے گا اس کے معتقدین میں ایک شخص مشائخوں ہی میں تھا اس نے کہا کہ آپ کیوں جاتے ہیں کیا آسمان کی طرف سے خوف ہے مہدی نے کہا نہیں بلکہ آسمان کی طرف سے مدد ہو گی تو اس شخص نے کہا کہ اب اگر روئے زمین کے لوگ ہم پر چڑھائی کریں تو ہمیں کچھ خوف نہیں ہے اور مہدی کے تمام گروہ نے اس پر اتفاق کیا۔
ابن تومرت کی پہلی پیشگوئی
اس وقت ابن تومرت نے پیشین گوئی کی کہ میں تمہیں فتح یابی کی بشارت دیتا ہوں تمہارا تھوڑا گروہ مخالف کی بیخ و بنیاد اکھیڑ دے گا اور ہم اس کے ملک کے مالک ہوں گے اس کے بعد یہ لوگ پہاڑ سے اترے اور بادشاہ سے لڑائی ہوئی پھر تو ابن تومرت کے مریدوں کا عقیدہ بہت ہی مضبوط ہو گیا اور یہ خبر سن کر اطراف و جوانب سے کثرت سے لوگ آکر مرید ہونا شروع ہو گئے بس اس جاہ کی ترقی نے اس کی اندرونی حالت میں تغیر پیدا کر دیا بعض لوگوں کی طرف سے بدگمانی ہوئی اور
١۔جہاں کا یہ رہنے والا تھا وہ انتہائے مغرب ہے اس نے اپنی مہدویت جمانے کے لئے جو طرز اختیار کیا وہ مرزا کی خود ستائی سے عمدہ تھا۔
٤٠
لوگوں کو قتل کرانا شروع کیا‘ اور ہزاروں ١؎ قتل ہو گئے اور عجیب طور سے قتل ہوئے ایک پیشین گوئی کے اتفاقیہ پورا ہو جانے سے مریدین کا یہ حال ہوا ٥٢٤ھ میں سخت بیمار ہوا‘ اور ان ہی ایام میں ایک بھاری لڑائی بھی پیش آئی اس لڑائی میں اس کا بڑا رفیق ہمراز و بشریشی مارا گیا حالت بیماری میں اس کی موت کی اسے خبر پہنچی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے دریافت کیا کہ عبدالمؤمن زندہ ہے لوگوں نے کہا ہاں زندہ ہے۔
ابن تومرت کی دوسری پیشین گوئی
اس وقت اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ اگر وہ زندہ ہے تو کوئی نہیں مرا حالت بدستور ہے یہی وہ شخص ہے کہ بہت ملک فتح کرے گا یہ کہہ کر اس نے مریدوں کو حکم کیا کہ سب اس کی پیروی کریں اور امیر المؤمنین کا اسے لقب دے کر انتقال کر گیا۔ عبدالمؤمن چار برس تک خاموش رہا۔ اور لوگوں کے ساتھ احسان و سلوک کرتا رہا بڑا سخی تھا اور بہت بڑا جوانمرد تھا پھر اسے لڑنے اور ملک فتح کرنے کی طرف توجہ ہوئی۔ اور اس مہدی کی پیشگوئی کا ظہور یہ ہوا کہ جس طرف گیا ادھر اس کی فتح ہوئی۔ اندلس اور غرب پر بھی فتحیاب ہوا ٥٥١ھ میں اس نے اپنے بیٹے محمد بن عبدالمؤمن کو ولی عہد کر کے اپنے مریدین سے بیعت لے لی ٥٥٨ھ میں اس کا انتقال ہوا ٣٣ برس مہدی کا خلیفہ اور امیر المؤمنین رہا بڑے زور کی بادشاہت کرتا رہا اور اپنی اولاد کو بادشاہت دے گیا اور مدتوں اس کی اولاد میں سلطنت رہی یہ کہنا رہ گیا کہ ابن تومرت مہدی نے تو ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا مگر اس کے خلیفہ نے اس قدر قتل کیا کہ کچھ شمار نہیں ہو سکتا مگر ٣٣ برس خلافت کی اور مہدی کے طریقے کا پیرو رہا۔ ابن تومرت کے مہدی ہونے کا زمانہ اگرچہ دس برس ٢؎ معلوم ہوتا ہے مگر حضرت یحییٰ ؑ کے زمانہ نبوت سے کم اس کا زمانہ نہیں
١؎ ایک روایت میں بارہ ہزار قتل ہوئے اور دوسری روایت میں ستر ہزار۔
٢؎ ناظرین کو تعجب ہوگا کہ تاریخ کامل (جدید ایڈیشن ۔ ج ٩ ص ١٩٥ تا ٢٠٠ ابن تومرت احوال مذکور میں ) لکھا ہے کہ ابن تومرت نے بیس برس بادشاہت کی تو لامحالہ مہدویت کا زمانہ زیادہ ہو گا پھر یہاں دس برس کیوں لکھا گیا۔ خیال رہے کہ ہم کو تحقیق اور سچائی ہر وقت مدنظر ہے ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ جس طرح ہو سکے الزام دیا جائے اس لئے کہتے ہیں کہ تاریخ کامل جلد دہم مطبوعہ مصر کے صفحہ ٢٠٥ میں بے شک لکھا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ عشرۃ کی جگہ عشرین کاتب کی غلطی سے لکھا گیا کیونکہ ٥١٥ھ میں اس کی مہدویت کی ابتدا ہے اور ٥٢٣ھ میں اس کا انتقال ہے اور ٥٢٨ھ میں اس کے خلیفہ نے لڑائی (بقیہ اگلے صفحے پر)
٤١
ہوا بلکہ زیادہ ہی رہا۔ اس کا ذکر آئندہ آئے گا اس کے علاوہ اس کے خلیفہ کا زمانہ بھی اسی میں شمار کرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کا جانشین اور بالکل اس کا پیرو تھا جو گمراہی اس مہدی نے پھیلائی اس کے خلیفہ نے بدرجہا زائد اس سے پھیلائی۔ کیونکہ اس نے بہت شہروں کو فتح کر کے اس کے رہنے والوں کو اپنا مطیع کیا اور اسی طریقے پر چلایا اور ٣٣ برس تک خدا کا قہر ان پر نہیں آیا، ابن تومرت اگر چہ جلد مر گیا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ غضب الہی سے مرا کیونکہ عیش و آرام میں سلطنت کرتا ہوا مرا اور اپنا جانشین ایسے شخص کو کر کے مرا جس نے اس کے نام اور طریقے کو بہت کچھ ترقی دی۔
دوسرے یہ کہ دو عظیم الشان پیشگوئیاں ہم نے ابن تومرت کی نقل کیں، جن کی صداقت اس وقت میں آفتاب کی طرح روشن ہو گئی تھی پھر مرزائیوں کو اس کے سچے ہونے میں کیا عذر ہو سکتا ہے کیونکہ مرزا قادیانی بھی اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی پیشگوئیوں کو پیش کرتے ہیں اور آپ ان پر ایمان لاتے ہیں، یہاں ایمان نہ لانے کی کیا وجہ ہے، کامل ابن اثیر کی جلد دہم میں ان کا حال مفصل ١؎ مذکور ہے میں نے ان کے حال میں تھوڑی تفصیل اس لئے کی کہ ابن تومرت کا حال مرزا قادیانی کے حال سے بہت مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ ابتداء میں اس نے اچھے کام کئے تھے ایسا ہی مرزا قادیانی نے حقانیت اسلام پر عمدہ تحریریں لکھنے کا دعویٰ کیا جس وقت جاہ پوری مرتبے پر پہنچ گئی تو جس طرح ابن تومرت کا حال بگڑا، اسی طرح مرزا قادیانی کا جس طرح اس شخص کے علم و فضل اور پہلے زہد و تقویٰ نے لوگوں کو اس کا مسخر کر دیا تھا اور ایک پیشگوئی کے پورا ہو جانے سے خلقت اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی اور پھر وہ لوگ اس کے متبع رہے اسی طرح مرزا قادیانی کا
(بقیہ پچھلے صفحہ) کی طرف توجہ کی ہے کامل کے اسی صفحے میں اس کا ذکر ہے ابن خلکان سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ دعویٰ مہدویت کے بعد دس برس وہ زندہ رہا مگر اہل حق یقین کر سکتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد اس کا نام اس کا دعویٰ زندہ رہا اس کے جانشین نے اسے خوب ترقی دی اس لئے وہ ایسی موت نہیں مرا جیسی موت مرزا قادیانی جھوٹے کے لئے بیان کرتے ہیں۔
١؎ مولانا انوار اللہ صاحب حیدر آبادی نے افادۃ الافہام میں اس کی بگڑی حالت کو بیان کیا ہے شائقین افادہ کی (جلد ١ صفحہ ٣٣١ کو ملاحظہ کریں)
٤٢
حال ہوا کہ پہلے ان کی ظاہری صلاحیت اور بعض تحریروں نے بعض اہل علم کو بھی ان کی طرف متوجہ کر دیا اور بعض کو نہایت حسن ظن ہو گیا اور دعوٰی کے بعد بھی وہ اپنے گمان پر قائم رہے اب اگر ایسا اعلانیہ جھوٹ دیکھنے کے بعد بھی وہ اپنے اس خیال پر رہیں تو مسلمان ان کی طرف بدگمانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔
- (٣) عبید اللہ مہدی صاحب افریقہ ٢٩٦ھ میں اس نے اپنے مہدی ہونے کا
دعوٰی کیا اور ٢٩٧ھ میں افریقہ پہنچا اور وہاں کا فرمانروا ہوا اور اپنی مہدویت کا اعلان زور و شور سے کیا اور اطراف و جوانب میں اپنے ایلچی بھیجے اور اس کے معتقد و مرید کثرت سے ہوئے اور ملک فتح کر کے خوب بادشاہت کی اس کی عمر تریسٹھ برس کی ہوئی اور اپنے بیٹے ابو القاسم کو ولی عہد کر کے ٣٢٢ھ میں اپنی موت سے مر گیا۔ ابو القاسم نے بالکل اپنے باپ کا طریقہ اختیار کیا اور اپنی سلطنت کو بہت ترقی دی اور ملک فتح کئے اور بڑی شان سے بادشاہت کی غرض یہ کہ اسی طرح ٥٦٧ھ تک اس کی اولاد میں سلطنت قائم رہی اور تیرہ فرمانروا اس کی اولاد میں ہوئے۔ تاریخ ابن خلدون جلد چہارم اور کامل ابن اثیر جلد ہشتم (جدید ایڈیشن میں اس کے حالات ص٢٥٢ سے ٢٦٣ تک) میں اس کا مفصل حال مذکور ہے۔ کامل میں یہ بھی ہے کہ اس کے دعوے کا زمانہ ٢٤ برس ایک مہینہ ٢٠ دن رہا اور اس کی اولاد میں تو کئی سو برس تک سلطنت قائم رہی۔ الحاصل اسی طرح مہدی ہونے کا دعوٰی بہت لوگوں نے کیا حکمت الٰہی نے کسی کو بہت کچھ فروغ دیا کثرت سے اس کے پیرو ہوئے۔ سید محمد جونپوری نے دسویں صدی میں دعوٰی کیا تھا اور اب تک اس کے ماننے والے حیدر آباد وغیرہ میں موجود ہیں اور اپنے عقیدے میں نہایت
١ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے حقانیت اسلام پر جو تقریر کی ہے وہ بہت عمدہ ہے علماء نے اسے پسند کیا یہ بڑی وجہ مرزا قادیانی کے دماغ بگڑ جانے کی ہوئی انہیں پختہ گمان ہو گیا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کیونکہ ایسی تقریر بغیر الہام کے نہیں ہو سکتی اس پر نفس طبعی کبر اور عجب نے زور کیا جس کا ذکر شروع رسالے میں کیا گیا ہے عمدہ لکھنے والے امت محمدیہ میں بہت گزرے ہیں جنہوں نے علمی مضامین اسرار شریعت اور رموز قدرت کو اس زور اور خوبی سے بیان کیا ہے کہ مرزا قادیانی ان کی گرد کو بھی نہ پہنچے آخر میں شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبدالعزیز صاحب علیہما الرحمۃ کی کتابوں کو اہل علم ملاحظہ کر کے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
پختہ ہیں بعض کو فروغ بہت کم ہوا۔ دعویٰ کرنے والے کئی قسم کے ہوئے بعض وہ حضرات بھی ہیں جن پر یاد الٰہی سے ایک نشہ کی سی حالت طاری ہوئی اور عجائب وغرائب امر ان سے صادر ہونے لگے اور غلبۂ حال میں وہ اپنے تئیں مہدی سمجھے اور اس کا اعلان انہوں نے کیا اور آخر تک اسی حالت میں رہے بعض کو نفسانی خواہش اس کا باعث ہوئی اور جس قدر ان کی زور تقریر اور تحریر اور تدابیر مناسبہ نے کام دیا اس قدر وہ کامیاب ہوئے اور جن کو مشیت الٰہی نے نہ چاہا وہ نامراد رہا۔ تاریخ پر نظر وسیع کرنے سے بہت نظیریں انکی ملیں گی مدعیان مہدویت کی مثالیں تو آپ معلوم کر چکے اب نبوت کے دعویٰ کرنے والوں کا نام بھی ملاحظہ کیجئے۔ اسی پہاڑی ملک میں قوم بربر کی ایک شاخ برغواطہ ہے اس کے ایک خاندان کے تین شخصوں نے یکے بعد دیگرے نبوت کا دعویٰ کیا اور نبوت کے ساتھ بادشاہت کی اور اس خاندان میں کئی سو برس تک سلطنت رہی۔
(٤) طریف ابو صبیح دوسری صدی کے شروع میں اس نے حکومت کی بنیاد قائم کی اور نبوت کا دعویٰ کر کے نیا مذہب اپنی قوم میں رواج دیا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں حکومت وسلطنت رہی۔
(٥) صالح بن طریف ١٢٧ھ میں اپنے باپ کا ولی عہد ہوا یہ شخص اپنی قوم میں عالم اور دیندار تھا لیکن اپنے باپ کے ترکہ سے کچھ نبوت کا حصہ بھی اسے ملا اور اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ میں مہدی اکبر ہوں اور یہ بھی کہتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم میرے ہی وقت میں نزول کریں گے اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ مختلف پانچ زبانوں میں اس نے اپنے پانچ نام رکھے تھے بربری زبان میں جو نام تھا اس کے معنے ابن خلدون نے خاتم الانبیاء کے لکھے ہیں ایک جدید قرآن کے نازل ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا‘ اسی قرآن کی سورتیں اس کی امت کے لوگ نماز میں پڑھتے تھے چند سورتوں کے نام ملاحظہ ہوں۔ سورۃ الدیک سورۃ الحمر۔ سورۃ الفیل۔ سورۃ آدم۔ سورۃ نوح۔ سورۃ ہاروت و ماروت و ابلیس سورۃ غرائب الدنیا۔ ان کے سوا اور بھی سورتیں تھیں آخر سورہ میں حرام و حلال اور
١؎ ابن خلدون جلد ٦ (ص ٢٠٨ تا ٢١١) میں برغواطہ کا حال دیکھنا چاہئے۔
٤٤
دوسرے مسائل کا ذکر تھا ٤٧ برس تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت کرتا رہا اور اپنی قوم پر حکمران رہا (مرزائی جماعت اس کے حال میں غور کرے اور مرزا قادیانی کے حال سے ملائے) اس دراز مدت کے بعد اس نے اپنے بیٹے الیاس کو اپنا جانشین کر کے بلاد مشرقیہ کی طرف چلا گیا اور چلتے وقت اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے وصیت کی۔ الیاس نے پچاس برس حکومت کر کے انتقال کیا اس کے بعد ٢٢٤ھ میں اس کا بیٹا یونس اس کا جانشین ہوا اس نے اپنے دادا کے مذہب کو بہت کچھ فروغ دیا اور چالیس برس حکومت کر کے مارا گیا اس کے بعد ابو غفیر محمد صالح کا پڑپوتا ٢٦٨ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اس نے نہایت شوکت و عظمت سے ٢٩ برس سلطنت کی اور تمام ملک برغواطہ پر قابض ہو گیا اور نہایت سرگرمی سے اپنے دادا کے مذہب کی اشاعت کرتا رہا اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالانصار عبداللہ ٢٩٧ھ میں فرمانروائے سلطنت ہوا اور اپنے باپ کی طرح اس نے بھی اپنے دادا کے مذہب کو ترقی دی اور نہایت صاحب اقبال اور صاحب شوکت و جلال ہوا جس سے اس وقت کے خلفاء اور بادشاہ اس سے ڈرتے تھے اُس نے بھی ٤٤ برس حکومت کی اور اپنے بیٹے کو سلطنت کا مالک کر گیا۔ خیال کیا جائے کہ دوسو چودہ برس خاص صالح کی نبوت سلطنت کے ساتھ چمکی۔
- (٦) ابو منصور عیسیٰ یہ ابوالانصار کا بیٹا ہے اپنے باپ کے بعد یہی تخت کا مالک ہوا
اس وقت اس کی عمر ٢٢ سال کی تھی اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور ستائیس برس نہایت اقبال مندی اور شوکت شاہی کے ساتھ اپنی نبوت کی اشاعت کرتا رہا اور تمام مغربی قبائل کو اپنا مطیع کر لیا اس کے بعد ٣٦٨ھ میں مارا گیا مگر ٢٣ برس سے زیادہ نبوت اور سلطنت کر کے مرا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں سلطنت قائم رہی ہم بالیقین یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی نبوت کے ماننے والے کب تک رہے مگر یہ امر ظاہر ہے کہ جب کئی سو برس تک نبوت کی اشاعت سلطنت کے زور کے ساتھ رہی تو ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ اور دور تک ہو گئی ہو گی اور یہ نہایت سچا قرینہ اس قیاس کا ہے کہ اس خاندان کی
٤٥
سلطنت جانے کے بعد بھی کئی صدی تک ان کے ماننے والے ہوں گے اور اگر اب تک بھی ہوں تو کوئی عجب نہیں کم سے کم چار پانچ سو برس تک تو ان جھوٹے نبیوں کی نبوت ایسی چلی کہ باید و شاید الغرض ان جھوٹے مہدی اور جھوٹے نبیوں کا افتراء خوب چلا جس سے مرزا قادیانی کی کامل تحقیق محض غلط اور جھوٹی ثابت ہوئی۔ اب مرزا قادیانی کی کامل تحقیق ملاحظہ کی جائے۔
مرزا قادیانی کے بعض غلط اقوال
پہلا قول ”ہم کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء (یعنی جھوٹی نبوت و الہام کا دعویٰ) کبھی کسی زمانے میں چل نہیں سکا۔“ (انجام آتھم ص ٦٣ حاشیہ خزائن ج ١١ صفحہ ایضاً)
بھائیو! تم دیکھ چکے کہ جھوٹے مہدی اور جھوٹے نبی بھی گزرے اور کس زور و شور سے ان کے جھوٹے دعوے کو فروغ ہوا اور مہدویت و نبوت کے ساتھ انہوں نے سلطنت بھی کی اور سو پچاس برس نہیں بلکہ سینکڑوں برس ان کے دعوے کو بہت کچھ فروغ رہا مگر قادیانی جماعت اور مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ ایسا افتراء کسی زمانے میں چل نہیں سکا اور اس پر یہ بے باکی ہے کہ اسے کامل تحقیق بتا رہے ہیں قادیانی جماعت بتائے کہ یہ کیا بات ہے مرزا قادیانی کی کامل تحقیق ایسی صریح غلط ہو۔ اب کیا وجہ ہے کہ ان پر دانستہ فریب دینے کا الزام نہ دیا جائے کیونکہ جن کا جھوٹا دعویٰ اوپر دکھا دیا گیا ہے ان کا ذکر کسی کم یاب کتاب سے نقل نہیں ہوا بلکہ نہایت مشہور تاریخ کامل ابن اثیر اور ابن خلدون سے لکھا گیا ہے پر سمجھ میں نہیں آسکتا کہ مرزا قادیانی نے یہ کتابیں نہیں دیکھیں یا ان کے خلیفہ جو کتابوں کے مخزن گنے جاتے ہیں ان کے پاس یہ کتابیں نہ ہوں اور ان کی نظر سے ان کذابوں کا حال نہ گزرا ہو۔ ضرور گزرا اور قصداً انہوں نے فریب دیا۔
اس کے سوا میں اور بھی کچھ کہتا ہوں اسے غور سے ملاحظہ کیجئے۔ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ ہے اور کس قدر قرب الٰہی ان کے الہامات سے پایا جاتا ہے بعض الہام میں انہیں خاص صدیق کا خطاب بھی دیا گیا ہے پھر کیا ایسا نبی اگر انسانی غلطی سے کوئی غلط بات کہہ دے تو خدا کی طرف سے اس غلطی پر آگاہ نہ کیا جائے گا؟ ضرور کیا جائے گا
خصوصاً ایسی بات میں کہ اس غلطی سے مخلوق بڑے دھوکے میں پڑتی ہو مگر باوجود عرصہ دراز گزرنے کے بھی تنبیہ نہیں کی گئی۔ ان کے خلیفہ ان کے جانشین نے بھی چشم پوشی کی یہ صریح دلیل ہی ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے تائید نہ تھی جو کچھ ان کا دعویٰ تھا وہ غلط تھا اور ان کے خلیفہ بھی اسی غلط دعوے کے معین رہے۔
اس وقت میرے روبرو مرزا قادیانی کا رسالہ انجام آتھم رکھا ہے جس کے اقوال اس رسالے میں نقل ہو چکے ہیں اور ان کی ناراستی ظاہر کی گئی ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض اقوال اور بھی اس سے نقل کئے جائیں تاکہ ان کی ناراستی اور قابلیت علمی کی حالت خوب روشن ہو جائے اور اتمام حجت میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہے ناظرین اس پر غور کرتے جائیں کہ مرزا قادیانی کے اقوال واقعات صحیحہ و حالات موجودہ اور نصوص قرآنیہ کے کس قدر خلاف ہیں۔
دوسرا قول ”قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے (٢) اور خدائے قادر غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا۔ (٣) اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جس بات کا قرآن مجید میں پتہ نہ ہو اسے مرزا قادیانی نصوص قطعیہ سے ثابت بتاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر صریح افتراء کر رہے ہیں۔ کیا قرآن شریف کے نصوص صریحہ میں ایسی باتیں ہیں جنہیں حالات موجودہ اور واقعات گزشتہ غلط بتا رہے ہیں (استغفر اللہ) کبھی ایسا نہیں ہو سکتا الغرض اس قول میں تین جملے ہیں اور تینوں غلط ہیں۔ کسی نص میں نہیں ہے کہ ایسا مفتری دست بدست سزا پا لیتا ہے اور مفتریوں کا امن میں رہنا ہم دکھا چکے اور یہ بھی ثابت کر چکے کہ ایسے مفتری جلد ہلاک نہیں ہوتے کیا اس میں کسی کو تردد ہو سکتا ہے کہ کتنے قسم کے مفتری ہیں مدتوں سے عیش کر رہے ہیں۔ دیکھو! اہل کتاب کو خدا نے انہیں مفتری اور کذاب کہا ہے مگر ان کی سلطنت کس زور کی ہے اور کتنی مدت سے ہے قرآن مجید میں مشرکین و کفار کو بھی مفتری کہا ہے انہیں دیکھو بہ نسبت مسلمانوں کے وہ کس قدر مالدار ہیں اور عیش و عشرت کر رہے ہیں نبوت اور مہدویت کا دعویٰ کر کے ٢٣ برس سے زیادہ عیش و آرام میں رہے اور اولاد کے
٧
لئے سلطنت چھوڑ گئے۔
تیسرا قول اسی (انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٥٠) میں لکھتے ہیں۔ ”کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ (١) ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے اس لئے عرصے تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے (٢) جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل نہیں سکتی اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے ”وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا“ یعنی اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدائے تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ (٣) خدائے تعالیٰ پر افتراء کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔“
جس طرح پہلے قول میں تین جملے غلط تھے اس میں بھی تین جملے غلط ہیں جن پر ہندسہ دے دیا ہے ان کی غلطی بیان سابق سے بخوبی ظاہر ہوگئی ہے اور آئندہ نصوص قرآنیہ سے ثابت کی جائے گی۔ یہاں یہ کہتا ہے کہ غضب الٰہی کی صاعقہ نے تو دس برس۔ بیس برس۔ چوبیس برس۔ چھبیس برس۔ ستائیس برس۔ سینتالیس برس بلکہ سینکڑوں برس جھوٹے ملہموں اور ان کی اولاد کو نہیں کھایا اس کا ثبوت دکھا دیا گیا پھر بہت جلد کھانے کے کیا معنی ہیں؟ کان کھول کر سن لو خدائے تعالیٰ کے غضب کا صاعقہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔ مگر وہ کمزور انسان کی طرح جلد باز نہیں ہے اس نے سزا کے لئے دن مقرر کر رکھا ہے اور جھوٹوں اور مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دیتا ہے یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کسی کو یہاں اور وہاں دونوں عالم میں سزا دیتا ہے اور کسی کو ایک ہی عالم میں مگر واقعات گزشتہ اور حالات موجودہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اکثر جھوٹے اور مفتری اس عالم میں چین سے رہے ہیں اور دنیا میں انہیں کافی مہلت دی گئی ہے۔
مفتری کو مہلت ملنے کا سبب اور اس کا ثبوت
اس ذات پاک کی صفات کریمیہ زیادہ ہیں بہ نسبت صفات غضبیہ کے‘ وہ کریم ہے رحیم ہے‘ حلیم ہے‘ رحمٰن ہے‘ ستار ہے‘ غفار ہے‘ غفور ہے اسی لئے اس کا ارشاد ہے۔
”سَبَقَتْ رَحْمَتِيْ عَلٰی غَضَبِیْ“
(کنز العمال ج ٤ ص ٢٥٠ حدیث نمبر ١٠٣٨٥)
”یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے“۔ اب غور کرو اگر ان وجوہ سے جھوٹے اور مفتری کو مہلت ملے تو کیا عجب ہے اس سے پہلے اور بھی وجوہ بیان
٤٨
ہو چکے ہیں۔
یہاں میں ایک آیت اور پیش کرتا ہوں جو اس مدعا میں نص قطعی ہے کہ منکروں کو جھوٹوں کو بہت مہلت دی جاتی ہے وہ آیت یہ ہے۔
چوتھی آیت: وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ٥ وَأُمْلِيْ لَهُمْ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ٥
(اعراف ١٨٣‘١٨٢)
”جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا (یعنی ہمارے کلام کو سچا نہ جانا یا ہمارے احکام کو نہ مانا اور عمل نہ کیا) انہیں ہم آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ (ہلاکت کے بلند درجہ تک) لے جائیں گے ایسے طریقے سے کہ انہیں خبر نہ ہوگی۔“
وہ طریقہ یہ ہے کہ جس قدر وہ نافرمانی کریں گے اور جھوٹ بولیں گے اسی قدر ان پر دنیاوی نعمتوں کے دروازے کھول دئے جائیں گے پھر ان میں کوئی یہ کہے گا کہ ہم ضرور خدا کے مقبول ہیں اگر مقبول نہ ہوتے تو ہم پر یہ نعمتیں کیوں آتیں اور بعض ایسے مست ہو جائیں گے کہ انہیں دنیاوی لذتوں کے سوا کچھ خبر ہی نہ رہے گی پھر ارشاد ہوتا ہے اور ہم انہیں مہلت دیں گے یعنی زمانہ دراز تک انہیں دنیاوی نعمتوں میں رکھیں گے۔ اور اس زمانہ کی مدت کسی طرح اور کسی جگہ بیان نہیں ہوئی۔ امام رازیؒ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں:۔
ای امهلهم واطيل لهم مدة عمرهم ليتمادوا فى المعاصى ولا اعاجلهم بالعقوبة على المعصية
(تفسیر کبیر جلد ٤ ص ٤٧٩)
میں انہیں مہلت دوں گا اور ان کی عمر دراز کروں گا اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کروں گا تاکہ وہ لوگ گناہوں میں ترقی کریں اور جب گناہوں کی زیادتی اس حد کو پہنچ جائے گی جس حد تک انہیں سزا دینا حکمت الٰہی میں مقرر ہو چکا ہے اس وقت انہیں موت آئے گی اور خدائے تعالیٰ کی پکڑ ہوگی۔
اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ میری پکڑ بہت سخت ہے۔ یہ آیت بھی نص قطعی ہے اس بات پر کہ منکروں کو نافرمانوں کو دنیا میں بہت مہلت دی جاتی ہے جلد ہلاک نہیں کیے جاتے اب وہ نافرمان جھوٹے ملہم ہوں جو ظاہر میں خدا کی آیتوں کو مان کر باطن میں شریعت الٰہی کی برہمی اور نفسانی خواہش کو پورا کریں یا ایسے نافرمان ہوں جو اعلانیہ شریعت الٰہی سے انکار کریں۔ آیت کا مضمون دونوں گمراہوں کو شامل ہے امام رازیؒ کے بیان سے
٤٩
معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگانی تک انہیں مہلت دی جاتی ہے بلکہ بہ مقتضائے۔ ”يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَ يُثْبِتُ“۔ ان کی عمر بڑھا دی جاتی ہے آئندہ آیت جو ہم نقل کریں گے اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روز مقررہ موت تک انہیں مہلت دی جاتی ہے الغرض مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ایسا مفتری دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے اور خدا اس کو امن میں نہیں چھوڑتا نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔
اب ہم وہ آیت نقل کرتے ہیں جس کا ٹکڑا مرزا قادیانی نے اپنے قول میں پیش کیا ہے ظاہر تو یہی ہے کہ اپنے دعوے کی دلیل پیش کی ہے۔ بہر حال جو ان کا مقصد ہو مگر ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ اس آیت کو ان کے دعوے سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ بلکہ اس آیت سے ان کا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے۔ بہت جگہ بار بار ان کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ”جھوٹا ملہم جلد مارا جاتا ہے‘ غضب الہی کی آگ ایسے جھوٹوں کو جلد ہلاک کرتی رہی ہے۔“ اب یہ کہ جلد مارے جانے کی انتہائی مدت مرزا قادیانی کے نزدیک کس قدر ہے؟ انجام آتھم سے بیس برس معلوم ہوتی ہے اور ان کے رسالہ ”اربعین“ (حوالے گذر چکے ہیں) وغیرہ سے ٢٣ برس مگر اس پر نہ کوئی عقلی دلیل قائم ہو سکتی ہے نہ نقلی۔ کون عاقل ہوش کی حالت میں یہ کہہ سکتا ہے؟ کہ اگر مفتری اس مدت میں مرا تو جلد ہلاک ہو گیا۔ بھائیو! دنیا میں کوئی اس کا قائل نہیں ہو سکتا۔ انصاف سے کہو کہ بیس برس کی مہلت خلق کو گمراہ کرنے کے لئے تھوڑی ہے؟ کیا مدبر خوش بیان خوش تقریر اس مدت میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کو گمراہ نہیں کر سکتا؟ اور کیا گزشتہ مدعیوں نے نہیں کیا؟ ضرور کیا ہے۔ ابھی ہم اس کی نظیریں پیش کر چکے ہیں۔ الغرض مفتری کی مدت کے لئے جو مدت مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں اسے تو کسی طرح عقل قبول نہیں کر سکتی۔ عقل کا مقتضا یہ ہو سکتا ہے کہ ایسا مفتری مخلوق کے معتقد ہونے کے پہلے ہی ہلاک کر دیا جائے تا کہ ساری مخلوق اس کی گمراہی سے محفوظ رہے اور کم سے کم یہ ہونا چاہئے کہ جب زیادہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے لگیں‘ اس وقت وہ ہلاک ہو جائے تاکہ بہت مخلوق اس کی گمراہی سے محفوظ رہے مگر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نہیں ہے
ا۔ اسود عنسی نے تین چار مہینے کے عرصے میں کس قدر اور کتنے دور تک رسول اللہؐ کے بابرکت زمانے میں گمراہی پھیلا دی تھی تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھو۔
٥٠
اس لئے جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اسے عقل سلیم کبھی باور نہیں کرسکتی اور واقعات بھی اسے غلط بتاتے ہیں نقلی ثبوت میں جس قدر آیت نقل کی ہے اس کے معنی تو اسی قدر ہیں کہ افتراء کرنے والا بڑا ظالم ہے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اس میں نہ مفتری کے ہلاک ہونے کا ذکر ہے نہ اس کے چھوٹ جانے کا۔ اب اگر پوری آیت پر نظر کیجائے تو یہ الفاظ قرآن مجید میں کئی جگہ آئے ہیں۔ مثلاً
پانچویں آیت: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اَوْقَالَ اُوْحِیَ ١؎ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ ٢؎ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَوْ تَرٰی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْهِمْ اَخْرِجُوْا اَنْفُسَكُمْ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ (انعام ٩٣)
اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا یہ کہا کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی کوئی اپنے کمال کے غرہ پر یہ کہے کہ جیسی کتاب رسول پر اتری ہے ہم بھی ایسی کتاب بنا سکتے ہیں (اپنی زندگی میں جو چاہیں کہتے رہیں مگر اے مخاطب اگر تو ان ظالموں کا حال مرتے وقت دیکھے کہ موت کی کیسی سختی ان پر ہوگی اور فرشتے ان کے طرف ہاتھ بڑھاتے ہوں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو (اب تک تو تم نے چین کیا یا جس طرح رہے) مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے جھوٹ کی سزا میں تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا تم وہی ہو کہ خدا کی نشانیوں کو حقیر سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا خیال کرتے تھے یعنی خدا کے سچے رسول جو اپنی سچائی کی نشانیاں دکھاتے تھے یا ان کے ورثہ ان کے جانشین جو حقانیت کی دلیلیں پیش کرتے تھے تم تکبر کی مستی میں اس طرف توجہ بھی نہیں کرتے تھے اور انہیں لچر و پوچ خیال کرتے تھے۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین قسم کے لوگوں کو بہت بڑا ظالم فرمایا ہے ایک
١؎ ادعائے نبوت کو خیال کر کے ایسا قیاس کرنا محض خیال خام ہے آئندہ کے بیان سے اس کا غلط ہونا اظہر من الشمس ہو جائے گا۔ ٢؎ آیت کے اس جملے نے واضح کر دیا کہ جھوٹے ملہموں کے سوا بھی ایسے لوگ ہیں جو خدا پر افتراء کرتے ہیں جن کو آیت کے پہلے جملے میں مفتری کہا گیا ہے۔
٥١
وہ جو خدا پر افتراء کرے ...... دوسرے وہ جو وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے ...... تیسرے وہ جو اپنے آپ کو صاحب کمال سمجھ کر یہ دعویٰ کرے کہ کلام الٰہی کے مثل میں بھی بنا سکتا ہوں۔ اب ہر ایک قسم میں اقسام ہیں مثلاً خدا پر افتراء کرنے والے کئی طرح کے گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں ایک وہ جو کہتے تھے کہ خدا نے کسی پر کچھ نازل نہیں کیا اب بھی ایک گروہ کی یہ رائے ہے کہ خدا نے انسان کو عقل دی ہے یہ کافی ہے اب کسی رسول اور کلام الٰہی کی ضرورت نہیں ہے غرض یہ کہ کلام الٰہی کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔
(٢) جو شرک کرتے ہیں وہ بھی مفتری ہیں کیونکہ بتوں کی عبادت کو حکم الٰہی جانتے ہیں قرآن شریف کی متعدد آیتوں میں مشرکین کی نسبت فرمایا ہے ’’يَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰهِ الْكَذِبَ‘‘۔ یعنی اللہ پر افتراء کرتے ہیں۔ (٣) مشرکین کے سوا دوسرے منکرین کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم میں داخل کیا ہے کیونکہ بہت باتیں جو انہوں نے اپنے خیال و قیاس سے نکالیں یا ان کے باپ دادا نے انہیں وہ احکام الٰہی سمجھتے ہیں اور یہی کہتے ہیں۔ (٤) اہل کتاب کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس قسم میں داخل فرمایا ہے اور انہیں مفتری ٹھہرایا ہے کیونکہ تثلیث کو خدا کی ذات میں داخل کرتے ہیں اور اس کا ماننا فرض سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توریت و انجیل میں خدائے تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی بشارت نہیں دی۔ اور بہت باتیں ہیں جو یہود و نصاریٰ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں مگر دراصل وہ باتیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں یہ صریح افتراء ہے۔ (٥) وہ شخص جو جھوٹا دعویٰ کرے کہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ (٦) جو کوئی خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات میں ایسی باتیں کہے جو اس کی عظمت و شان کے خلاف ہے وہ بھی مفتری ہے مثلاً یہ کہنا کہ خدائے تعالیٰ عرش پر اس طرح بیٹھا ہے جس طرح انسان بیٹھتا ہے غرض یہ کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑا ظالم کہا ہے وہ چھ قسم کے ہیں اور سب کا ایک حکم ہے۔
دوسرے قسم کے لوگ جو بہت بڑے ظالم ہیں وہ ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پر وحی آتی ہے حالانکہ ان پر کبھی وحی نہیں آئی بظاہر یہ کوئی جداگانہ قسم مفتری کی نہیں ہے بلکہ پہلی قسم میں جو پانچویں صورت بیان کی گئی ہے وہی ہے مگر اس کو علیحدہ کر کے بیان کرنا یا تو اس غرض سے ہو سکتا ہے کہ اس کا اہتمام زیادہ مقصود ہے کیونکہ اس وقت ایسے مفتری یعنی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی موجود تھے گو ان کا دعویٰ کچھ دنوں بعد ظاہر ہوا ہو
٥٢
اس لئے ایسے مفتری کو کھول کر بیان کر دیا گیا اور اگر وحی کے مشہور معنی نہ لئے جائیں بلکہ انسان کے دماغ میں جو خیال زور کے ساتھ فوراً آ جاتا ہے اسے بھی وحی ١؎ کہتے ہیں۔ یہ معنی لئے جائیں اور یہ مطلب کہا جائے کہ اپنے فوری خیالات کی نسبت کہتا ہے کہ اس رسول کی طرح مجھ پر وحی کی گئی وہ بڑا ظالم ہے کیونکہ رسول خدا جو وحی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ تو وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ اپنے خیالات کو وحی کہہ کر دھوکا دینا چاہتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وَلَمْ يُوْحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ“ یعنی اس پر وحی کچھ نہیں کی گئی۔ یعنی انبیا اور رسولوں کو جو اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے وہ اس پر نہیں ہوئی اگرچہ اس قسم کے خیالات اسے ہوئے ہوں جنہیں محاورۂ عرب میں وحی کہہ دیتے ہیں اس معنی میں یہ خوبی ہے کہ یہ قسم بالکل جدا ہو گئی پہلی قسم سے۔
تیسری قسم بہت بڑے ظالموں کی وہ ہے جو اپنے کمال کے گھمنڈ میں کلام الٰہی کے مقابلے میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی ایسا بنا سکتے ہیں یہ ان کا کہنا یا تو اس وجہ سے ہے کہ اسے کلام الٰہی نہیں سمجھتے یا یہ کہ خدا ہی پر انہیں ایمان نہیں ہے جیسے لا مذہب دہریہ ہیں۔
الحاصل اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اہل کتاب کو الہام و وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کو کلام الٰہی کے نہ ماننے والوں کو سب کو ایک طرح ظالموں میں شمار کر کے ان کی حالت بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تو ایسے ظالموں کو موت کی سختی میں دیکھے جس وقت فرشتے ان پر دست درازی کر رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ اپنی جانوں کو نکالو! (تو ایسی بری حالت تو دیکھے کہ تیرے ہوش جاتے رہیں) اس وقت فرشتے یہ بھی کہتے ہوں گے کہ تم جو خدا پر افتراء کیا کرتے تھے اس کی جزا میں آج تم ذلت کے عذاب میں گرفتار ہو گے۔ آیت کا یہ جملہ کہ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ الخ کیسی روشن دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا قول جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”ایسا مفتری دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے“ نص صریح کے خلاف ہے بلکہ جو آیت انہوں نے اپنے دعویٰ کے لئے پیش کی ہے وہی آیت ان کے دعوے کو غلط بتا رہی ہے کیونکہ آیت تو صاف کہہ رہی ہے کہ دنیا میں انہیں سزا نہیں دی جاتی بلکہ جب یہ ظالم دنیا کو چھوڑنے لگتا ہے اور اس کی روح قبض ہونے لگتی ہے اس وقت
١؎ امام راغب اصفہانی کی مفردات القرآن ملاحظہ ہو۔
٥٣
سے اس پر ذلت کی مار ہوتی ہے اور جب اس آیت کو سورۂ انعام کی اس آیت سے ملاؤ جو اوپر نقل کی گئی ہے کہ نافرمانوں پر دنیا میں عیش و آرام اور ناز ونعم کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں تو پوری توضیح ہو جاتی ہے کہ بہت نافرمان اپنی مقررہ زندگی میں عیش و آرام سے رہتے ہیں اور موت کے وقت سے ان پر پکڑ ہوتی ہے۔ انصاف پسند حضرات نے آیت مذکورہ کی شرح سے تو مرزا قادیانی کی قرآن دانی معلوم کی اب ان کے اقوال کی طرف پھر توجہ کیجئے اسی رسالہ انجام آتھم کے ص ٦٣ میں مضمون سابق کو تھوڑے سے تغیر سے دہرایا ہے ملاحظہ ہو۔
چوتھا قول ”کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذاب اور دجال اور مفتری جو برابر بیس برس کے عرصے سے خدائے تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا“ کسی ذی علم واقف کار کو یہ بات تعجب میں نہیں ڈال سکتی حالات موجودہ دکھا رہے ہیں کہ اس وقت مفتریوں کو بہت کچھ مہلت دی جا رہی ہے۔ مرزا قادیانی پادریوں کو دجال کہتے ہیں اب ان کے پیرو دیکھیں کہ کتنے عرصے سے ان کا افتراء چل رہا ہے اور کس زور سے انہیں ترقی ہو رہی ہے ذلت کی مار سے تو ہلاک نہیں ہوتے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ”میں صلیب کے توڑنے اور تثلیث کے مٹانے کے لئے آیا ہوں“ مگر انہوں نے تو اسلام کو مٹا دیا تثلیث کا زور تو ویسا ہی روز افزوں ہے۔ مرزا قادیانی نے تو کسی تثلیث پرست مسلمان نہیں بنایا ہاں دہریوں نے بہت تثلیث پرستوں کو لا مذہب بنا دیا۔ مرزا قادیانی کے مقابلے میں تو وہی زیادہ کامیاب رہے۔
پانچواں قول ”کیا یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ جس سلسلے کا تمام مدار ایک مفتری کے افتراء پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیں سکتا۔“ جو ایماندار ذی علم دیکھ رہے ہیں کہ مفتریوں کا افتراء دس بیس برس بھی چلا اور سینکڑوں برس بھی چلا اور چل رہا ہے پھر ان کی سمجھ میں ایسی جھوٹی بات کیونکر آ سکتی ہے۔
١؎ کیونکہ دنیا کے چالیس کروڑ (اور اب ایک ارب تیس کروڑ) مسلمانوں ٢؎ یہ ان کے بیان کے بموجب صرف تین لاکھ یا کچھ کم وبیش مسلمان رہ گئے پھر یہ اسلام مٹانا نہیں تو . . . .
٥٤
چھٹا قول توریت ١ اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔‘‘ قرآن شریف میں اس مضمون کی گواہی ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم نے کئی آیتیں اوپر نقل کی ہیں جو اس کے خلاف شہادت دے رہی ہیں۔
ساتواں قول ”خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔“ (انجام آتھم حاشیہ ص ٦٣) مرزا قادیانی وہی غلط دعویٰ بار بار پیش کر رہے ہیں افسوس اور نہایت افسوس ہے کہ ایسے عظیم الشان تقدس کا دعویٰ اور اعلانیہ خلاف گوئی پر ذرا تامل نہیں ہوتا۔ میں نے مرزا قادیانی کے ان مکرر اقوال کو اس لئے نقل کیا ہے کہ طالبین حق ملاحظہ کریں کہ جس بات پر انہیں اس قدر وثوق و اصرار ہے کہ بار بار اسے کہہ رہے ہیں اور خدا کی طرف اسے منسوب کر رہے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ ”خدا کی پاک کتاب میں ایسی گواہی کا اشارہ بھی نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہم چار آیتیں نقل کر چکے ہیں پہلی آیت سورۂ والفجر سے معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کی غرض سے ہر انسان کو مہلت دی جاتی ہے اور دنیا کی نعمتیں اسے عنایت کی جاتی ہیں دوسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مومنین کا بھی امتحان آتا ہے۔ تیسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو خدا
١؎ ہم نے اس رسالے میں توریت کے حوالے سے زیادہ بحث نہیں کی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لئے قرآن مجید کافی ہے ہمیں دوسری کتاب کی ضرورت نہیں ہے البتہ قرآن مجید کی ہدایت سے اس قدر ماننا ضرور ہے کہ توریت و انجیل آسمانی کتابیں ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اہل کتاب نے ان میں تحریف کی ہے اس لئے کوئی حکم یا کوئی مضمون اس کا سند پکڑنے کے لائق نہیں ہے پھر خصوصاً اس زمانے کے ترجمے اردو فارسی عربی کے تو کسی طرح توجہ کے لائق نہیں ہو سکتے کیونکہ ترجمہ کرنے والوں کی بے باکی اور نافہمی اور کچھ ترجمے کی مجبوری سے کیا ہو گیا یا بالجملہ میں کہتا ہوں کہ توریت میں جھوٹے نبی کے جلد ہلاک ہو جانے کی خبر نہیں دی ہے بلکہ بنی اسرائیل پر حکم ہے کہ جو نبی جھوٹا ثابت ہو اسے مار ڈالو جس طرح قصاص میں مار ڈالنے کا حکم ہے اسی طرح جھوٹے مدعی نبوت کو مار ڈالنے کا حکم ہے کسی مقام پر اس حکم کو خبر کے طور پر بیان کیا ہے اور ایسا اکثر ہوتا ہے پھر یہ معلوم نہیں ہے کہ اصل توریت میں کس طرح بیان ہوا ہے ممکن ہے کہ اس میں اس طرح نہ ہو مترجم کی غلطی سے ایسا ہو گیا ہو۔
٥٥
کی نصیحتوں کو بھول جاتے ہیں یعنی ان پر عمل نہیں کرتے ان کی پرواہ نہیں کرتے ان پر کسی وقت نعمتوں کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں خدا کی نصیحتوں پر توجہ نہ کرنا کئی طرح پر ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ انہیں کلام الٰہی نہیں مانتے دوسرے ایسے طور پر اس کا مطلب لگاتے ہیں جو مقصود الٰہی نہیں ہے بعض ایسے بھی ہیں کہ خدا کی طرف سے معافی کا پروانہ دکھاتے ہیں، غرض یہ کہ تینوں قسم کے لوگ اس آیت میں داخل ہیں، چوتھی آیت میں ہے کہ جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ”انہیں ہم زمانہ دراز تک مہلت دیتے ہیں“ اور اس غرض سے دیتے ہیں کہ ان پر زیادہ عذاب کیا جائے۔ پانچویں آیت میں تو نہایت صفائی سے ظاہر کر دیا ہے کہ ہر قسم کے مفتری اور مکذب کی سزا موت کے وقت سے شروع ہوتی ہے، اور پہلی آیتوں کے ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دنیاوی زندگانی میں عیش و آرام سے رہتے ہیں، جلد تباہ نہیں ہوتے۔ الحاصل مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ مفتری جلد ہلاک ہو جایا کرتا ہے نہایت روشن دلائل سے باطل ہو گیا یعنی ”آیات قرآنیہ اسرار شریعت الٰہیہ حالات موجودہ واقعات گذشتہ“ سب ایک زبان ہو کر پکار رہے ہیں کہ جھوٹوں کو منکروں کو بہت کچھ مہلت دی جاتی ہے اس کے اسباب اور وجوہ بھی بیان کر دئے گئے ناظرین ملاحظہ کریں۔
دوسرا دعویٰ مرزا قادیانی کا یہ تھا کہ سچا ہلاک نہیں کیا جاتا بلکہ وہ عیش و کامرانی
١؎ یعنی ایسا الہام بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرما دیا کہ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ جو چاہو کرو جس طرح حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مرتبہ شیطان نے دھوکا دینا چاہا تھا مگر چونکہ آپ کا علم کامل تھا اور نور ہدایت سے آپ کا سینہ منور تھا اس لئے آپ اس کے دھوکے میں نہیں آئے مختصر کیفیت اس کی یہ ہے کہ آپ ایک میدان میں تھے کہ یکبارگی آپ نے دیکھا کہ ایک نور مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلا ہوا ہے اسی نور میں ایک عجیب و غریب صورت بھی نظر آئی اس نے آواز دی کہ اے عبدالقادر میں تیرا پروردگار ہوں جو چیز غیروں پر حرام تھی میں نے تجھ پر حلال کر دی اب تجھے اختیار ہے جو چاہے لے اور جو چاہے کر آپ نے یہ آواز سنتے ہی اعوذ باللہ پڑھا اور شیطانی فریب سے نجات پائی اسی قسم کے الہامات مرزا قادیانی کو ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی انہیں الہام الٰہی سمجھتے ہیں۔
٥٦
کے ساتھ رہتا ہے اس کا غلط ہونا بھی بیان سابق سے ظاہر ہوتا ہے مگر یہاں اور واضح طریقے سے اس دعوے کی غلطی بیان کی جاتی ہے قرآن مجید میں بہت جگہ آیا ہے کہ یہود نے انبیا علیہم السلام کو شہید کیا سورۂ آل عمران ١١٢ میں ہے وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ۔ یعنی یہود نے انبیاء کو ناحق قتل کیا اور اسی سورۃ کے ٣ رکوع اور ١٩ رکوع میں اور سورۂ بقرہ کے ٧ رکوع میں بھی یہی مضمون ہے غرض یہ کہ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت جگہ ہے ان آیات سے ثابت ہوا کہ سچے انبیا بھی امن و عافیت سے نہیں رہ سکے اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کئی برس قید خانے میں رہے پھر بے رحمی سے ذبح کر دیئے گئے ان کے والد ماجد حضرت زکریاؑ آرہ سے چیر دئے گئے۔ اسی طرح حضرت شعیا علیہ السلام
١؎ اسی طرح توریت اور انجیل میں بہت جگہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے نبیوں کو قتل کیا انہیں ستایا ان پر پتھراؤ کیا۔ چند حوالے مثال کے طور پر نقل کئے جاتے ہیں توریت و انجیل اور کتب سابقہ میں دیکھا جائے نحمیا باب ٩ آیت ٢٦۔ اول سلاطین باب ١٨ آیت ٤ اور باب ١٩ آیت ١٠ لوقا باب ١٣ آیت ٣٤۔ اعمال باب ٧ درس ٥٢ حضرت یحییٰ کا قید ہونا اور ان کا قتل کیا جانا انجیل متی کے باب چودہویں سے ظاہر ہے غرض یہ کہ کتب سابقہ بھی قرآن مجید کے مطابق کہہ رہی ہیں کہ بہت انبیا قتل کئے گئے۔ ٢؎ حضرت یحییٰؑ حضرت عیسیٰؑ کے ہم عمر تھے تاریخ طبری سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے ابن خلدون ایک انگریزی مورخ سے نقل کرتے ہیں کہ تین مہینے بڑے تھے یہود کے خیال کے موافق حضرت عیسیٰؑ ٣٣ء میں سولی دئے گئے اور حضرت یحییٰؑ کو اس سے قبل ٣٠ء ہیردوس بادشاہ نے قید کیا اور ٣٢ء میں ان کا سر کٹوا کر اپنی بیوی کو دیا۔ الغرض حضرت یحییٰ پورے ٣٢ برس بھی زندہ نہیں رہے اب دیکھنا چاہئے کہ اس کم سنی میں کب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر کتنے دنوں کے بعد شہید کئے گئے بعض کہتے ہیں کہ چار برس کے اندر شہید کئے گئے بعض کے نزدیک آٹھ برس کے اندر (توریت اور انجیل کا اردو ترجمہ محشی جو ١٨٧٠ء میں نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی کی طرف سے مرزا پور میں چھپا ہے اس میں انجیل متی کے باب ٣ اور باب ٤ کو مع حاشیہ دیکھا جائے) حضرت یحییٰؑ کا نام یوحنا بھی ہے ابن خلدون لکھتا ہے کہ یحییٰ کا مشہور نام یوحنا تھا انجیل کے اکثر ترجموں میں ان کا نام یوحنا ہے بعض میں یحییٰ ہے ایک یوحنا حضرت مسیح کے حواری ہیں وہ اور ہیں۔ ٣؎ تاریخ کامل ابن اثیر (ج ١ ص ٢٣٣ طبع ١٨٩٥) ملاحظہ ہو۔ جاہل مرزائی نام کے پڑھے کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰؑ کا مارا جانا جھوٹ ہے ان کو چاہئے کہ رسالہ عبرت خیز دیکھیں اس میں قرآن وحدیث سے بلکہ اجماع امت سے ثابت کر دیا گیا ہے۔
٥٧
چیرے گئے۔ اب حضرات مرزائی بتائیں کہ کون مفتری اس سے زیادہ ذلیل کیا گیا انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا نبی قتل کئے گئے اور تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا چار سال کے اندر قتل کئے گئے۔ اسی پر اور انبیا کو قیاس کرنا چاہئے۔ یعنی دشمنوں نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی الغرض سچوں کا امن و عافیت سے رہنا اور جھوٹوں کا جلد ہلاک ہونا نصوص قطعیہ کے خلاف اور واقعات صحیحہ کے صریح مخالف ہے مگر حیرت ہے کہ بعض اہل علم بھی ایسی غلط بات کو مان رہے ہیں۔
الغرض قرآن مجید میں مفتری کی نسبت کہیں نہیں ہے کہ مفتری دس برس میں یا بیس برس میں یا تئیس برس میں مرجائے گا یا ہر ایک مفتری ذلیل و خوار ہوگا نہ بلا قید کہیں یہ ارشاد ہے اور نہ کسی قید کے ساتھ فرمایا ہے کہ ایسا شخص دنیا میں جلد تباہ ہو جاتا ہے بلکہ یہ بالکل خدا پر افتراء ہے کوئی کلام خدا یا کلام رسول ایسا نہیں ہے جس سے یہ دعویٰ قیاسی طور پر بھی مستنبط ہو سکے اور توریت میں بھی ایسا نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو ہم پر حجت نہیں ہو سکتا۔
قطع وتین کی بحث میں مرزا قادیانی کی صریح غلطیاں
البتہ قرآن پاک میں ایک آیت ہے جس سے کم علم شبہہ میں پڑ سکتے ہیں اور مرزا قادیانی نے متعدد رسالوں میں اور اشتہاروں میں اپنی حقانیت کی دلیل میں اسے بہت زور سے پیش کیا ہے اور قادیانی جماعت کو اس پر بہت کچھ ناز ہے حالانکہ اس کی بنیاد مرزا قادیانی کی محض غلط فہمی پر ہے۔ وہ آیت ملاحظہ ہو۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی نسبت فرماتا ہے تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ٥ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ٥ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ ٥ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ ٥ (حاقہ ٤٣ تا ٤٧) ”یعنی قرآن پروردگار عالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (کسی دوسرے کا بنایا ہوا نہیں ہے) اور اگر (ہمارا رسول محمد ﷺ سچے الہاموں کے ساتھ) بعض جھوٹی باتیں ملا دیتا تو ہم اسے مضبوط پکڑتے یا اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے (اور وہ بری حالت کرتے کہ تم دیکھتے) اس کے
١؎ کامل ج ١ ص ١٩٦ ملاحظہ ہو۔
٥٨
بعد اسے ہلاک کر دیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ زندہ درگور ہو جاتا، اس معنی کی تشریح آئندہ آئے گی۔ کفار قریش جب قرآن مجید سنتے تو کہتے کہ محمد ﷺ نے اپنے جی سے بنا لیا ہے خدا کا کلام نہیں ہے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ساری باتوں کا جھوٹ ہونا تو بڑی بھاری بات ہے اگر ہمارا رسول محمد ﷺ کوئی بات بھی جھوٹی ہماری طرف سے کہتا تو ہم پکڑ کے ذبح کر دیتے، یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص بادشاہ کے خاص پیام رسان کو کہہ دے کہ یہ جھوٹا ہے اپنی طرف سے بات بنا کر کہتا ہے یہ کہنا بادشاہ کو ناگوار خاطر ہو اور کہے کہ اگر ہمارا پیامبر ذرا بھی جھوٹ بولتا تو ہم اس کی گردن مار دیتے یہ ایک معمولی بات ہے جس سے اس پیامبر کی واقعی خصوصیت اور سچائی کا اظہار منظور ہوتا ہے منکر کے لئے کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے یا اس آیت میں اہل کتاب سے خاص خطاب ہے چونکہ توریت میں حکم ہے کہ جس نبی کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے وہ قتل کر دیا جائے اس لئے اللہ تعالیٰ توریت کے ماننے والوں سے فرماتا ہے کہ اگر یہ رسول کچھ بھی جھوٹ بولتا تو ہم خود قتل کر دیتے یعنی اور جھوٹوں کے لئے تو ہم نے تمہیں قتل کرنے کے لئے حکم دیا تھا انہیں ہم خود ہلاک کر دیتے یا ایسی مصیبت میں مبتلا کرتے جس کا انجام ہلاکت ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ جس قدر جس شخص سے زیادہ خصوصیت ہوتی ہے اسی قدر اس کی خلاف ورزی سے ناگواری زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے وہ خصوصیت تھی جو کسی اور رسول سے نہ تھی آپؐ سید المرسلین حبیب رب العالمین تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ اگر یہ کچھ بھی خلاف ورزی کرتے تو ہم یہیں دنیا میں سزا کر دیتے مگر یہ بھی ایک واقعی حالت بیان کی گئی ہے جس طرح توریت میں قتل کا وہ حکم کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے ویسا ہی قرآن شریف کے اس بیان سے مقصود دلیل پیش کرنا نہیں ہے، قرآن مجید کے طرز بیان سے جو واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس مقدس کتاب میں منطقی طور پر حجتیں پیش نہیں کی گئیں۔ بلکہ سچی اور حقانی باتیں بیان کی گئی ہیں جن میں قدرتی اثر ہے کہ راست طبیعتیں انہیں برغبت قبول کر لیتی ہیں اور کلام الٰہی کے نازل ہونے سے جو مقصود ہے وہ حاصل ہوتا ہے، اس آیت کے بیان میں مرزا قادیانی کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ اس آیت کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک کلیہ قاعدہ بیان کیا ہے جس سے جھوٹے اور سچے ملہم کا فرق ظاہر ہو جاتا ہے، یعنی جو سچا ہے وہ امن و عافیت سے رہتا ہے اور جھوٹے کو اللہ
٥٩
تعالیٰ جلد ہلاک کر دیتا ہے اس مطلب کا غلط ہونا ہم حالات موجودہ اور واقعات گزشتہ سے ثابت کر آئے ہیں کہ بہت جھوٹے مفتری تازیست عیش و آرام میں رہے‘ قرآن مجید کی کئی آیتیں ہم لکھ چکے ہیں جن سے ثابت ہے کہ مجرموں کو تازیست بھی مہلت دی جاتی ہے‘ بلکہ نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئے جاتے ہیں اور سچے انبیاء نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کر دئے گئے۔ پھر ان آیات اور واقعات صحیحہ کے خلاف اس آیت کا مطلب کیونکر ہو سکتا ہے۔ اس کے سوا خود اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں جھوٹے ملہم کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف سچے ملہم کا ذکر ہے‘ کیونکہ ارشاد ہے لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ الخ۔ یعنی یہ اگر ہمارا سچا رسول بعض باتیں ہم پر جھوٹ باندھتا اس بعض کے لفظ نے جھوٹے ملہم کو خارج کر دیا۔ کیونکہ جھوٹے ملہم کے تو جتنے الہامات ہیں سب جھوٹے ہونے ہیں‘ البتہ سچے ملہم کے الہامات سچے ہوں گے اب اگر وہ سچا ملہم اپنے سچے الہاموں کے ساتھ بعض جھوٹے الہام بیان کر دے تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں بیان کر دی۔ الغرض بعض باتوں کا جھوٹا ہونا‘ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ آیت میں خاص سچے ملہم کا ذکر ہو ورنہ آیت میں بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ کا لفظ غلط ہو جائے گا۔ حاصل یہ کہ بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ کی قید نے نہایت صفائی سے جھوٹے ملہم کو اس آیت سے نکال دیا‘ یہ دوسری غلطی ہے مرزا قادیانی نے اس لفظ پر غور نہیں کیا اور ایسے معنے کئے جس کی وجہ سے اس لفظ کا لانا غلط ہو گیا۔
اب دیکھنا چاہئے کہ آیت میں جو سزا جھوٹ باندھنے والے پر بیان کی گئی ہے وہ عام سچے ملہموں کے لئے ہے یا خاص جناب سید المرسلین ﷺ کی خصوصیت خاصہ کا تقاضا ہے؟ قرآن مجید کے الفاظ سے تو ظاہر ہے کہ اس آیت میں خاص جناب سید المرسلین ﷺ کا ذکر ہے اہل علم جانتے ہیں کہ تَقَوَّلَ میں جو ضمیر ہے اس سے مراد جناب رسول اللہ ﷺ ہیں مطلب یہ ہے کہ ہمارے یہ خاص رسول کوئی بات جھوٹ کہتے تو ہم یہ سزا کرتے۔
الحاصل اس آیت میں کوئی حجت و دلیل نہیں پیش کی گئی ہے بلکہ ایک واقعی بات کہی ہے جیسے اور بہت باتیں قرآن مجید میں کہی گئی ہیں‘ مثلاً نیکوں کے لئے یہ جزا ہے اور بدوں کے لئے یہ سزا ہے۔ اب اس آیت کے متعلق دو بحثیں اور باقی ہیں‘ ایک یہ کہ افتراء کرنے کی تقدیر پر اللہ تعالیٰ نے صرف موت کی سزا بیان کی ہے یا دوسری سزا کا بھی ذکر یا
٦٠
اشارہ ہے؟ دوسری یہ کہ اس سزا کے لئے کوئی مدت بھی اس آیت سے یا دوسری آیت و حدیث سے معلوم ہوتی ہے یا نہیں؟ اور اگر مدت معلوم ہوتی ہے تو وہ کس قدر ہے؟
اہل علم خوب جانتے ہیں کہ الفاظ کے معنے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک کا نام حقیقی ہے اور دوسرے کا نام مجازی مگر جب لفظ بولا جائے گا تو سب سے اول حقیقی معنے اس کے مراد لئے جائیں گے جب تک کوئی ایسی وجہ نہ پائی جائے جس سے وہ معنی نہ بن سکتے ہوں اور جس وقت حقیقی معنے نہ بن سکیں گے اس وقت جو مجازی معنی قرینہ و قیاس سے بن سکیں گے وہ لئے جائیں گے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ اس میں الفاظ کے اصلی اور حقیقی معنی مراد نہیں ہو سکتے کیونکہ جس طرح سے پکڑنا اور رگ جان کو کاٹنا آیت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے اس کے افعال جس طرح ہوتے ہیں اس کی نسبت خود اس کا ارشاد ہے إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ ۔ (یسین ٨٢) یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اتنا کہہ دینے سے کہ ہو جا وہ چیز موجود ہو جاتی ہے اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے اس لئے ضرور ہوا کہ یہاں کوئی معنی مجازی مراد لئے جائیں جو یہاں کے مناسب ہوں غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہاں متعدد معنی ہو سکتے ہیں مثلاً (١) اگر محمد ﷺ ہم پر کچھ افتراء کرتے تو ہم ان کی قوت کو چھین لیتے اور پھر انہیں ہلاک کر دیتے جب کوئی نہایت قوی شخص کمزور کو زور سے پکڑ لیتا ہے تو اس کمزور کی طاقت جاتی رہتی ہے اور بالکل بے بس ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ جس کو پکڑے اس کی بے بسی کا کیا ٹھکانا ہو سکتا ہے اب قوت کا سلب کرنا کئی طریقے سے ہو سکتا ہے مثلاً فصاحت و بلاغت کی قوت چھین لی جاتی، بات کرنے کی قوت نہ رہتی یا زور ولایت و نبوت لے لیا جاتا جس کے سبب سے وہ باتیں نہ ہو سکتیں جو انبیا کی شان کے مناسب ہیں اور کوئی نشان و معجزہ نہ ہو سکتا۔
یا کوئی شخص مخالف ایسا کھڑا ہو جاتا کہ کذب کو ظاہر کر کے لوگوں کو اس کی پیروی سے روک دیتا یا زبان سے ایسی باتیں نکلتیں جس سے اس کا کذب مخلوق پر ظاہر ہو جاتا جیسا کہ مرزا قادیانی کی زبان سے بہت سی باتیں نکلیں یہ صورتیں ایسی ہیں کہ سمجھدار خدا سے ڈرنے والا ضرور اس فعل سے باز رہے گا جس کے سبب سے یہ ذلت و رسوائی پیش آئے اور اگر اس پر بھی باز نہ آتے اور جھوٹی باتوں کو سچی دکھانے کے درپے ہوتے (جس
٦١
طرح مرزا قادیانی ہوئے) تو ایسی مصیبت و تکلیف میں مبتلا کرتے کہ زندہ درگور ہو جاتے اور کچھ کرتے بن نہ آتی، اہل علم پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لَاخَذْنَا مِنْهُ فرمایا یعنی اس مفتری سے کوئی چیز لیتے لَاخَذْنَاهُ نہیں فرمایا جس کے معنی ہیں کہ ہم اس کو لے لیتے اور اسے پکڑتے لفظ من کے زیادہ کرنے سے صاف اشارہ ایسے ہی معنی کی طرف ہے جیسے ہم نے بیان کئے اور آئندہ بیان کریں گے قطع وتین سے مقصود کسی وقت تکلیف پہنچانا بھی ہوتا ہے چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں أَرِحْنِي أَرِحْنِي قَطَعْتَ وَتِينِي یعنی مجھے آرام لینے دے آرام لینے دے تو نے تو مجھے مار ڈالا یعنی بہت تکلیف دی، اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مفتری کی سزا میں دو جملے فرمائے ہیں اول لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ٥ ہم اس کا ہاتھ پکڑ لیتے دوسرا ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ٥ پھر ہم اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے یہ جملے علیحدہ علیحدہ اپنے مستقل معنی رکھتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مفتری کے لئے دو سزائیں ایک سزا پہلے جملے میں بیان ہوئی جس کو پہلے ہونا چاہئے دوسری سزا دوسرے جملہ میں بیان ہوئی وہ پہلی سزا کے بعد ہے کیونکہ دوسرا جملہ ثُمَّ سے شروع ہوا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس جملے کا مضمون پہلے جملے کے مضمون کے بعد ہو گا جیسا کہ ہم نے آیت کے معنے میں بیان کیا۔
یہ تیسری غلطی ہے کہ مرزا قادیانی نے ان صاف باتوں پر نظر نہیں کی۔ اربعین میں جو معنے بیان کئے ہیں اس میں پہلے جملے کا کچھ مطلب بیان نہیں کیا بلکہ آیت کا مطلب اس قدر لکھتے ہیں یعنی ”اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی“ اس مطلب سے آیت کا پہلا جملہ بے کار ہو گیا اور دوسرے جملے میں جو ثُمَّ کا استعمال اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ بھی بے کار ٹھہرا۔ الغرض پہلے بیان سے ثابت ہوا تھا کہ آیت میں لفظ بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ کی طرف مرزا قادیانی نے ذرا بھی توجہ نہیں کی، ان کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ لفظ بے کار ہے اور توجہ نہ کرنے کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جو دعویٰ وہ اس آیت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں اسے یہ لفظ غلط ٹھہراتا ہے ہمارے اس بیان سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی جس طرح معنی بیان کرتے ہیں اس سے آیت کا ایک پورا جملہ لَاخَذْنَا مِنْهُ
الغرض یہ ہے کہ لفظ اخذ متعدی بنفسہ ہے اس کے متعدی ہونے کے لئے کسی حرف کی ضرورت نہیں۔ رہا یہ شبہ کہ آیت میں من تبعیضیہ لایا گیا اس کی وجہ ہم نے بیان کر دی۔
٦٢
بِالْيَمِيْنِ ٥ اور دوسرے جملے کا ایک لفظ ثُمَّ بے کار ہو جاتا ہے۔
یہ چوتھی غلطی ہے مرزا قادیانی کی غور کا مقام ہے کہ وہ کلام مقدس جس کی فصاحت و بلاغت اعجاز کی حد کو پہنچ گئی ہے اس کی چھوٹی آیت میں ایک پورا جملہ اور کئی لفظ جس کے بیان سے بے کار ہو جائیں وہ قرآن مجید کا ماہر اور جاننے والا ٹھہرے افسوس اس فہم و انصاف پر مذکورہ بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ افتراء کرنے والے کی سزا صرف موت ہی نہیں ہے جیسا کہ مرزا قادیانی بیان کر رہے ہیں بلکہ متعدد سزائیں ہو سکتی ہیں جن کا بیان کچھ تو اوپر ہوا اور عام سزا جو آیت کے الفاظ سے سمجھی جاتی ہے یہ ہے کہ جو مصیبت یا جو تکلیف ایسی ہو جسے عام طور پر فہمیدہ حضرات دیکھ کر یا سن کر یہ کہہ دیں کہ یہ خدا کی پکڑ ہے کیونکہ اس کی سزا میں اول جملہ یہ ہے لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ٥ دوسری بحث آیت مذکورہ کے متعلق یہ تھی کہ مفتری کی سزا کے لئے کوئی مدت کسی آیت یا حدیث سے ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب بیان سابق سے ظاہر ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ میں تو عام مفتریوں کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ فرضی طور پر خاص یہاں رسول اللہ ﷺ کا بیان ہے اور کسی دوسری آیت و حدیث سے بھی اس کا ثبوت نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا کے واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ جس طرح سچوں کی عمر کم و بیش ہوتی ہے اور کوئی معمولی موت سے دنیائے فانی سے گزر گئے اور کوئی مخالفین کے ہاتھ سے شہید ہوئے اسی طرح مفتریوں کا حال ہوا ہے۔ بعض جلد دار البوار کو بھیج دئے گئے بعضوں نے مدتوں بادشاہت کی اور اپنی اولاد کو سلطنت دے گئے اور سینکڑوں برس ان میں سلطنت قائم رہی اس کا ثبوت بخوبی کر دیا گیا اور نص صریح میں یہ بھی دکھا دیا کہ جھوٹوں کو بہت کچھ مہلت دی جاتی ہے مرزا قادیانی نے جو مدت بیان کی ہے اس کا غلط ہونا عقلاً اور نقلاً دونوں طرح بیان کر دیا گیا اب اگر اس پر بھی کسی صاحب کو تشفی نہ ہو تو ہم مرزا قادیانی کے خیال کے بطلان میں مذکورہ دلائل کے علاوہ چند دلیلیں اور پیش کرتے ہیں اور اہل انصاف سے فیصلہ چاہتے ہیں۔ غور سے دیکھو۔
پہلی دلیل جس آیت کی تفسیر میں یہاں تک بیان کو طول ہوا یعنی لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ الخ اسی آیت سے مرزا قادیانی کا قول غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ آیت
٦٣
مکّی ہے یعنی جناب رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے۔ مدینہ طیبہ اب تک نہیں گئے تھے ان ہی ایام میں یہ آیت نازل ہوئی نبوت کے بعد کامل بارہ برس تک حضور مکہ معظمہ میں رہے اور تیرہویں سال آپؐ نے ہجرت فرمائی‘ اس بارہ برس کے اندر جناب رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہوا کہ ہمارا رسول (محمدؐ) اگر کچھ بھی ہم پر افتراء کرتا تو ہم اسے سخت سزا دیتے یہاں خیال رکھنا چاہئے کہ آیت مذکورہ میں آئندہ کا ذکر نہیں ہے اس طرح ارشاد نہیں ہوا کہ اگر یہ افتراء کرے گا تو ہم یہ سزا دیں گے بلکہ گزشتہ زمانہ کی نسبت ارشاد ہوا کہ اگر افتراء کرتا تو ہم یہ سزا دیتے ”اس لئے ثابت ہوا کہ اگر جھوٹ بولتے تو اس کی سزا بارہ برس کے اندر ہی ہو جاتی“ کیونکہ دعویٰ نبوت کے بعد بارہ برس کے اندر یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں گزشتہ زمانے کا حکم بیان ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جھوٹ کی سزا اس آیت کے نزول سے پہلے یعنی بارہ برس کے اندر ہو جاتی‘ غور سے دیکھو مرزا قادیانی نے جو زمان نبوت پر قیاس کر کے تئیس برس اس کی میعاد بیان کی ہے وہ اس آیت کے رو سے غلط ہے۔
یہ پانچویں غلطی ہے جو آیت مذکورہ کے بیان میں مرزا قادیانی سے ہوئی اگر مرزا قادیانی اس آیت پر غور کرتے تو ٢٣ برس کی میعاد مقرر نہ کرتے نہایت تعجب ہے کہ کم از کم پندرہ بیس برس تک اس آیت پر ان کی توجہ رہی مگر یہ تھوڑی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہ آئی اب خلیفہ اس میں غور کریں اگر حق طلبی ہے تو اس غلطی کو تسلیم کریں‘ یا جواب دیں۔ یہ جو کچھ بیان کیا گیا مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق کیا گیا ہم اس آیت سے جھوٹے ملہم کی سزا کی کوئی میعاد ثابت نہیں کرتے‘ ہم تو نصوص صریحہ اور دلائل نقلیہ سے اسے غلط ثابت کر چکے ہیں۔
دوسری دلیل مرزا قادیانی جھوٹے کے ہلاک ہونے کی میعاد ٢٣ برس بتاتے ہیں یعنی اگر تئیس برس کے اندر وہ ہلاک ہو گیا تو اسے جھوٹا سمجھو اور اگر ہلاک نہ ہوا تو سچا جانو۔ حضرات ناظرین متوجہ ہوں اگر یہ قاعدہ صحیح ہو تو سچے نبی کے لئے ضرور ہو گا کہ دعویٰ نبوت کے بعد سے ٢٣ برس سے زیادہ جئے اور اس قدر زیادہ ہونا چاہئے کہ اس کی نبوت کا ثمرہ اور نتیجہ ظاہر ہو سکے کیونکہ اگر ٢٣ برس کے بعد چوبیسویں برس میں مر گیا تو اس قاعدے
٦٤
کے بموجب وہ سچا نبی تو ہوا مگر کوئی نفع خلق کو اس سے نہ پہنچا کیونکہ ٢٣ برس تک انتظار کرنا تو ضرور ہے اس کے بعد اتنی مہلت نہ ملی کہ اس پر ایمان لا کر اس سے ہدایت پاتے اور بعثت کا نتیجہ ظاہر ہوتا۔ الغرض دعوائے نبوت کے بعد کم سے کم تیس چالیس برس تک اسے جینا چاہئے کہ اس کی رسالت کا کام پورا ہو ورنہ اس کا نبی ہونا بے کار ہوگا۔ اب کیا خلیفۃ المسیح یا ان کے کوئی ہم مشرب یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جتنے انبیائے کرام گزرے ہیں وہ دعوت نبوت کے بعد سے چوبیس برس سے زیادہ زندہ رہے ہیں؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں ہمارے سرور عالم سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف ٢٣ برس زندہ رہے ہیں جن انبیاء کو یہود نے قتل کیا تو کیا وہ شریر یہودی ٢٣ برس تک چپ بیٹھے رہے اور اس مدت کے بعد انہوں نے قتل کیا کوئی عاقل اسے باور کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
تیسری دلیل بڑی وجہ اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت اور آپ کے اصحاب کبار کا برتاؤ اس کو غلط ثابت کر رہا ہے کیونکہ حضور علیہ السلام کی عمر ٦٣ برس کی ہوئی اور نبوت کا دعویٰ چالیس برس کی عمر میں کیا اس سے ظاہر ہے کہ نبوت کے بعد آپ ٢٣ برس زندہ رہے اس سے زیادہ زمانہ آپ کو نہیں ملا اسی ٢٣ برس کی مدت میں آپ نے تعلیم و ہدایت فرمائی اور دعویٰ نبوت کے بعد ہی صحابہؓ آپ کی تصدیق کرتے گئے کسی مدت کا انتظار نہیں کیا اس سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ سچائی کی شناخت کے لئے بیس یا تیس برس مقرر کرنا محض غلط ہے۔
چوتھی دلیل اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اس قاعدے کی رو سے مخلوق کو چاہئے کہ ٢٣ برس تک کسی مدعی نبوت کو نہ سچا کہیں نہ جھوٹا کہیں بلکہ اس مدت کا انتظار کریں مگر سنت اللہ اور احکام الٰہی اس کے خلاف ہیں کیونکہ دعویٰ نبوت کے بعد ہی نبوت کے ماننے اور احکام پر عمل کرنے کا حکم ہوتا رہا ہے اور ماننے والوں نے مانا ہے اور ان کی شریعت پر عمل کیا ہے خود مرزا قادیانی نے اور ان کی امت نے بھی ایسا ہی کیا تیس برس کا انتظار نہیں کیا۔
پانچویں دلیل اگر اتنی مدت تک انتظار کرنا ضرور ہو تو عام طور سے ہدایت قبول کرنے کا دروازہ بند ہو جائے گا کیونکہ انتظار کا زمانہ طویل ہے اس مدت میں لاکھوں آدمی زیر زمین ہو جائیں گے اب اگر اس مدعی کی نبوت سچی تھی تو جتنے انتظار کرنے والے مر گئے
٦٥
ہدایت قبول نہ کر سکے اور ایمان سے محروم رہے اور کم سے کم اس کے فیض صحبت اور اس کے رشد و ہدایات پر عمل کرنے سے ضرور محرم رہے اور انبیا جس لئے بھیجے جاتے ہیں وہ حاصل نہ ہوا۔
چھٹی دلیل اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ ایسا حکم خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی طرح نہیں ہو سکتا کہ اس مدت دراز تک اس کے کرنے نہ کرنے دونوں میں انسان کو خطرہ ہو‘ مرزا قادیانی کے اس قاعدے کے بموجب ٢٣ برس تک ہر مدعی الہام کے ماننے میں بھی خطرہ ہے شاید جھوٹا ہو اور ٢٣ برس کے اندر ہلاک ہو جائے اور نہ ماننے میں بھی خطرہ ہے کہ شاید سچا ہو اور ہم بغیر اس کے مانے ہوئے مر گئے تو بے ایمان مرے۔
یہ چھٹی غلطی ہے قطع وتین کے بیان میں جس سے نہایت کوتاہ نظری مرزا قادیانی کی ثابت ہوتی ہے کہ ایسے عقلی وجوہ پر ان کی نظر نہیں گئی اور ٢٣ برس کی میعاد مقرر کر دی‘ اب دیکھیں جماعت مرزائیہ میں کون راست باز ہے کہ ایسی سچی بات کو قبول کرتا ہے یا ان غلطیوں کا جواب دیتا ہے‘ مگر یہ وہ باتیں ہیں جس کا جواب غیر ممکن ہے اور اگر نشان و معجزے سے یقینی صاف طور سے سچائی معلوم ہو سکتی ہے تو پھر ٢٣ برس کی میعاد بے کار اور غلط ہوگی‘ یوں کہو کہ جو مدعی واقعی سچا نشان دکھائے وہ سچا ہے اور جو کوئی نشان نہ دکھائے یا اس کا نشان کسی علمی قوت یا فراست و تجربہ کی بنیاد پر ہو یا اس کی تکذیب کسی طور سے ظاہر ہو جائے وہ جھوٹا ہے غرض یہ کہ یہ میعاد مقرر کرنا ہر طرح غلط ہے۔
جس نے براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی کے وہ مضامین دیکھے ہیں جو اثبات حقانیت اسلام پر انہوں نے لکھے ہیں وہ ان مضامین کو دیکھتا ہے جو انہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کئے ہیں وہ متحیر ہو جاتا ہے اور اسے یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ دونوں تحریریں ایک شخص کی ہیں کیونکہ دونوں میں ایسا ہی فرق ہے جیسا صاف حق و باطل میں فرق ہوتا ہے یہ امر خیال میں آنا دشوار ہوتا ہے کہ جو شخص ایسی لچر اور خلاف عقل اور نقل تحریر کرے جیسی قطع وتین وغیرہ میں کی گئی ہے وہ ایسی پر زور تحریر کیونکر کر سکتا جو جیسی براہین احمدیہ میں ہے‘ یہ تفرقہ بین دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط ہے‘ اگر سچا ہوتا تو اس تحریر کی بھی وہی حالت ہوتی جو براہین احمدیہ کے دلائل کی ہے‘ باطل دعویٰ کے اثبات میں مرزا قادیانی نے بہت ہی زور لگایا مگر اہل حق کی نظر میں اس کی غلطیاں ایسی ہی ظاہر ہیں جیسے آفتاب کی روشنی میں سیاہ اور بدنما چیز ممتاز ہوتی ہے‘ بیان سابق سے اس کا ثبوت بخوبی روشن ہے۔
لٰکِنِ اللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم٥
٦٦
خلاصہ مرام وحسن ختام
اب میں قادیانی جماعت سے خیر خواہانہ اور دلی دردمندی سے کہتا ہوں کہ اس رسالے کو تحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھیں اور غور فرمائیں مرزا قادیانی کا قول ہے کہ ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشینگوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔
(آئینہ کمالات ص ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
اس بنیاد پر ہم نے نہایت خلوص دلی اور بے تعصبی سے ان کے اقوال اور ان کے حالات پر نظر کی اور یہ چاہا کہ انہی کے کہنے کے بموجب ہم ان کی صداقت کا حال ان کی پیشینگوئی سے معلوم کریں پیشینگوئیاں ان کی بہت ہیں ان میں سے ان پیشین گوئیوں کو ہم نے دیکھا جنہیں وہ نہایت ہی عظیم الشان کہتے ہیں یہاں تک کہ اپنی صداقت کا معیار اسے ٹھہرایا تھا وہ اقوال اس رسالے کے شروع میں نقل کئے گئے ہیں وہ پیشینگوئیاں محض غلط ثابت ہوئیں اور ان کا کذب ایسا ظاہر ہو گیا کہ کسی کو اس میں گفتگو کی گنجائش نہ رہی بشرطیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور کچھ بھی انصاف کو دخل دے پھر آپ اپنی عاقبت پر نظر کر کے ایک صریح دروغ کے کیوں در پے ہیں؟ کیا آپ کو یہ خیال ہے کہ مرزا قادیانی کے بقول سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بھی بعض پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی؟ مگر خیال رکھو اور مسلمان ہو تو یقین کر لو کہ اس اصدق الصادقین سید المرسلین کی کوئی پیشینگوئی ایسی نہیں ہے کہ پوری نہ ہوئی ہو اور مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ نے جو حدیبیہ اور خزانہ قیصر و کسریٰ کی پیشینگوئی کا غلط ہونا بیان کیا وہ محض غلط ہے رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ قیصر و کسریٰ کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اس کا مالک ہوں گا بلکہ صحابہؓ کے لئے پیشینگوئی کی ہے کہ وہ مالک ہوں گے اس کا ظہور ہوا اس سردار دو جہاںؐ کی کوئی پیشینگوئی غلط نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی تھی اگر ایک پیشینگوئی بھی غلط ہو جائے تو بہت جھوٹے رمال جفار وغیرہ دعویٰ مہدویت کر کے اپنی پیشین گوئیوں کو اپنی صداقت میں پیش کر سکتے تھے اور حسب معمول اگر بعض پیشین گوئیاں غلط نکلتیں تو رسول اللہ ﷺ کی اس غلط پیشگوئی کو دکھا کر اپنی صداقت ثابت کر سکتے تھے اس لئے مسلمان کو یہ ماننا ضرور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ
٦٧
کی کوئی ایسی پیشین گوئی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اس کے سوا مرزا قادیانی تو اپنی پیشین گوئی میں یہ فرما چکے ہیں کہ اگر یہ سچی نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور اس دعوے کے بعد وہ پیشین گوئی غلط ہوگئی پھر آپ مرزا قادیانی کو سچا کیوں مان رہے ہیں؟ ذرا غور کیجئے اور اپنے حال پر رحم فرمائیے اب تو مرزا قادیانی کا کذب ان کے قول سے ظاہر ہو گیا ایسے بدیہی ثبوت کے بعد مرزا قادیانی کی کسی دلیل کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی مگر آپ حضرات کی دلی خیر خواہی نے مجبور کیا کہ ان کی صداقت میں جو سب سے زیادہ قوی اور عظیم الشان دلیل مرزا قادیانی نے بیان کی تھی الحمد للہ کہ اس کا غلط ہونا بھی اظہر من الشمس کر دیا گیا اور کامل طور سے اس کا قلع و قمع ہو گیا اگر آپ طالب حق ہیں تو اس رسالہ فیصلہ آسمانی کے حصہ دوم کو اول سے آخر تک ملاحظہ کریں دیکھنے کے بعد آپ معلوم کرلیں گے کہ مرزا کا غلط ہونا قرآن مجید سے حدیثوں سے واقعات گزشتہ اور حالات موجودہ سے ثابت ہو گیا اور عقلی دلائل سے بھی اسکی غلطی اظہر من الشمس ہو گئی الغرض کوئی دقیقہ اس دلیل کے غلط ہونے میں باقی نہیں رہا اس کے بعد بھی اگر آپ سچائی کو نہ مانیں تو اس علام الغیوب کے روبرو اس کا بدلہ لینے کے لئے تیار رہیں جس نے صادق اور کاذب کی سزا اور جزا کے لئے ایک دن مقرر کیا ہے اس دن ہماری خیر خواہی اور سچائی آفتاب کی طرح آپ پر روشن ہو جائے گی۔
وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْن ٥ وَاللّٰهُ يَهْدِيْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهٗ اِلٰی يَوْمِ الدِّيْن ٥
تمت بالخير
٦٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
فیصلہ آسمانی
ملقب بہ
دلائل حقانی
حصہ سوم
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم
تعریف اُسی ذات اقدس کے لئے زیبا ہے جو ہر عیب سے پاک اور اپنے بندوں پر کمال مہربان ہے جس نے ہماری ہدایت کیلئے اپنے برگزیدہ رسول بھیجے، حق اور باطل کے تمیز کرنے کے لئے عقل سلیم عنایت کی۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ الْھَادِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیّٖنَ وَرَحْمَةٍ لِّلْعَالَمِیْنَ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ؕ
برادران اسلام! اس ناچیز نے محض آپ کی خیرخواہی کے خیال سے رسالہ فیصلہ آسمانی لکھا ہے یہ اُس کا تیسرا حصہ ہے۔ طالبین حق سے میں التجا کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو بنظر غور ملاحظہ کریں۔ مذہب اسلام کی روشنی جب سے پھیلی ہے اُس کے دوسری صدی سے ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہوئے جنہوں نے اسلام کو بظاہر مان کر اُس کی روشنی کو ماند کرنا چاہا اور اس بہترین اُمت کو فتنہ میں ڈالا، کتنوں نے نبوت کا دعویٰ کر کے خلق کو گمراہ کیا بعضے مہدی موعود بن کر بادشاہ ہوگئے۔ لاکھوں کے مقتداء قرار پائے، غرض کہ اپنی لیاقت اور ہمت اور کوشش کے بموجب کامیاب ہوئے اور بعض ناکام رہے ہندوستان میں بھی ایسے لوگ ہوئے مثلاً نویں صدی میں سید ١؎ محمد جونپور میں ایک شخص ہوا،
١؎ سید محمد کی پوری حالت رسالہ ہدیہ مہدویہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔ یہ رسالہ مطبع نظامی کانپور ١٢٨٧ھ میں چھپا ہے۔ مرزا قادیانی کی حالت اس کے بہت مشابہ ہے اور اس کے مریدین کی حالت ان کے مریدین سے، جن حضرات کو مرزا قادیانی کی طرف میلان ہو وہ اس رسالہ کو دیکھیں اور اس کی حالت کو مرزا قادیانی کی حالت سے ملائیں، میں آپ کی محض خیر خواہی سے آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔
٢
اُس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو تمام انبیاء سے افضل بتایا اور اس کی سحر بیانی کی وجہ سے لاکھوں نے اسے مانا اور اس وقت اُسے مرے ہوئے چار سو برس سے زیادہ ہو گئے مگر اب تک اس کے ماننے والے حیدر آباد وغیرہ میں موجود ہیں۔ تیرھویں صدی میں علی ١؎ محمد بابی نے ملک فارس میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور باوجود حاکم وقت کی مخالفت کے کثرت سے اُس کے ماننے والے ہوئے اور اس وقت اُس کے ماننے والے بمبئی، رنگون ، استنبول، مصر، شام، امریکہ، لندن وغیرہ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چودھویں صدی میں ہندوستان کے خطۂ پنجاب میں یہ فتنہ اُٹھا اور مرزا غلام احمد ساکن قادیان نے معجون مرکب ہونے کا دعویٰ کیا۔ یعنی یہ کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے ”میں مہدی اور مسیح ہوں“ اور ہندوؤں کیلئے ”کرشن“ ہوں۔ اُن کے حالات معلوم کرنے سے اس کی بنیاد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء میں مرزا قادیانی اچھے مزاج اور ذی علم تھے اور مناظرہ اور تحریر کا ذوق طبعی تھا۔ اس کے ساتھ جبلی طور سے ان کی طبیعت میں علو اور کبر تھا۔ اتفاقاً اس وقت پادریوں کا زور تھا۔ اُن سے مقابلہ کا اتفاق ہوا اور اسلام کی حقانیت کے اثبات میں دلائل لکھنے کا ارادہ کیا۔ براہین احمدیہ لکھنا شروع کیا۔ پہلی دلیل جو انہوں نے لکھی چونکہ خلقی طور سے اُن کی طبیعت میں علو تھا۔ اس لئے وہ خود ان سے متاثر ہوئے اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑا قابل اور مضمون نگار سمجھنے لگے اور ان کی قابلیت کی خیالی عظمت نے اُن کے
١؎ علی محمد بابی کی حالت رسالہ مذہب الاسلام مطبوعہ پیسہ اخبار لاہور کے خاتمہ سے اور سفر نامہ حافظ عبدالرحمن صاحب امرتسری مطبوعہ مفید عام لاہور سے معلوم کرنی چاہئے۔ جن حضرات کو تحقیق حق کا شوق ہو اور مرزا قادیانی کی طرف انہیں رجحان ہو وہ اس کی حالت پر غور کریں۔ اس کے مریدین کی حالت جہاں تک سُنی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں سے بہت اچھے تھے۔ کچھ عرصہ ہوا اُن کے خلیفہ عبدالبہاء لندن میں آئے تھے اور بعض اہل ولایت نے اُنہیں اعزاز سے لیا تھا اور ان کی تقریر سننے کے لئے وہاں کے لوگوں کو دعوت دی تھی اور انہوں نے فارسی میں لیکچر دیا تھا اور مترجم انگریزی میں ترجمہ کرتا گیا تھا۔ مرزا قادیانی کے ایک مرید خواجہ کمال الدین وہاں پہنچے ہیں اور ایک اخبار بھی جاری کیا ہے۔ مگر وہاں ان کی وقعت نہیں ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے لیکچر دینے کیلئے مجمع کیا مگر ان کی تقریر کی تمہید بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ اکثر لوگ چلے گئے۔
ذہن میں یہ جما دیا کہ ایسی ایسی تین سو دلیلیں ہم لکھ سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے بڑے زور سے نہایت جلی حرفوں میں اعلان کیا۔ (چونکہ وہ خیالی علو کا ثمرہ تھا اس لئے وہ پورا نہ کر سکے) چونکہ براہین میں جو دلیل لکھی گئی تھی وہ عمدہ دعویٰ تھی اس لئے ہر طرف سے آفرین اور مرحبا کی صدا بلند ہوئی اور اُن کی طرف لوگ متوجہ ہوئے۔ تعریف ہونے لگی اور روپیہ بھی آنے لگا۔ اب خدا تعالیٰ کا امتحان شروع ہوا اور سخت ابتلاء پیش آیا جس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح ہوا ہے۔ فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَاابْتَلٰهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ فَيَقُوْلُ رَبِّى اَكْرَمَنِ (فجر١٥) پروردگار جب کسی انسان کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس کا اکرام کرتا ہے۔ یعنی خلق کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے اور مخلوق اس کی عظمت کرنے لگتی ہے اور دنیاوی نعمتیں بھی اُسے ملنے لگتی ہیں۔ اس وقت یہ شخص سمجھتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عظمت کی میں مقبول خدا ہو گیا۔ اس حالت میں اُس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہتا اور جیسی طبیعت اس کی عالی ہوتی ہے ویسا ہی عالی دعویٰ کرنے لگتا ہے۔ خلق کا رجوع ہونا اور خوش حالی سے گزر ہونے لگنا سخت ابتلاء ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کا دماغ بگڑا اور پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا پھر جس قدر لوگوں کی توجہ زیادہ ہوئی اور اہل کمال ذی علم نے قابل توجہ نہ سمجھ کر سکوت اختیار کیا اس وجہ سے مرزا قادیانی نے اپنے مقابل میں سب کو جاہل خیال کر کے جو جی میں آیا کہنا شروع کیا اور دلی خواہش اُن کی یہ ہو گئی کہ ساری دنیا مجھے اپنا مقتداء مان لے اور دنیا کے تمام باشندے یعنی ہندو، مسلمان، عیسائی وغیرہ سب مجھے اپنا پیشوا بنا لیں مگر افسوس ہے کہ بجز چند مسلمانوں کے اور کسی نے انہیں نہیں مانا اور اُن کی ذات سے مسلمانوں کی تعداد میں کچھ بھی اضافہ نہ ہوا اور بڑی حسرت اور افسوس کی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے تمام اہل اسلام کے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ جنہوں نے انہیں نہیں مانا اور دنیا کے (٢٣) کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا دیا اور کسی کافر کو مسلمان نہ بنایا۔ اسلام کیلئے اس سے زیادہ اور کیا آفت ہو سکتی ہے کہ تمام دنیا سے اسلام گویا نابود ہو گیا؟ اب اُن کے خلیفہ اور صاحبزادے کا اس پر اصرار ہے کہ سب کو کافر بنایا جائے اور
ا۔ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١١ء ملاحظہ ہو۔
م
کسی سے میل نہ رکھا جائے جس روز سے کوشش مرزا قادیانی نے اپنی شہرت اور پیشوا بننے میں کی اس کے لحاظ سے تو گویا ناکام رہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں جو بہت بڑے دو گروہ عیسائی اور ہندو ہیں اُن میں سے کوئی ان١؎ پر ایمان نہ لایا اب رہے مسلمان ان میں سے بعض کا انہیں مان لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ پہلے ان کی ظاہری اصلاح اور دینی حمایت یعنی عیسائی اور آریہ کے جوابات نے ان کی طرف بہت لوگوں کو متوجہ کر دیا۔ پھر دعویٰ مہدویت کے بعد انہوں نے اپنی پیچدار تحریروں کا ایسا سلسلہ پھیلایا کہ بعض اہل علم بھی اُس میں آگئے اور پھر نکلنا مشکل ہو گیا اور ہمیں بھی ماننے میں کیا عذر ہو سکتا تھا اگر اُن میں وہ باتیں پائی جاتیں جو مقتداء اور برگزیدہ خدا حضرات میں ہونا چاہئیں۔ بزرگوں کے حالات کی کتابیں ملاحظہ کی جائیں اُن کی مفید ہدایات کو دیکھا جائے پھر مرزا قادیانی کے حالات پر غور سے نظر کی جائے تو بدیہی طور سے حق و باطل کا فرق معلوم ہوتا ہے مگر طلب حق ہو اور عنایت خداوندی اُس کی مدد کرے۔ حضرت امام مہدی کی علامتیں تو صحیح حدیثوں میں موجود ہیں۔ وہ اُن میں ہوتیں تو سر آنکھوں پر انہیں لیتے، مگر نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے تو کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہ پائی گئی
١؎ میرے علم میں اُن کی تمام عمر کی کوشش میں ایک عیسائی یا ہندو اُن پر ایمان نہیں لایا اگر دو ایک غیر مشہور عیسائی یا ہندو اُن پر ایمان لائے ہوں تو اُن کے اس عظیم الشان دعویٰ اور ایسی بلیغ کوشش کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ جن دیندار علماء کو کچھ بھی اپنے فضل و کمال کا دعویٰ نہیں ہے اُن کے ہاتھ پر کتنے عیسائی اور ہندو توبہ کر چکے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی عیسویت اور مہدویت کی خصوصیت کیا ہوئی ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تثلیث کے ستون کو توڑنے آیا ہوں اب کوئی اُن کا ستون توڑنا دکھائے۔ بھائیو! کچھ تو خوف خدا کرو جو شخص بڑے زور سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اگر میں تثلیث پرستی کے ستون کو نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں۔ اب تم انصاف سے کہو کہ جس کا یہ دعویٰ ہو اس کے ہاتھ پر سو دو سو عیسائی تثلیث پرست مسلمان نہیں ہوئے۔ پھر اس نے تثلیث پرستی کے ستون کو کس طرح توڑا؟ جب اتنا خفیف اثر بھی تثلیث پر اس کا نہ ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس کے اقرار کے بموجب اسے کاذب نہ مانا جائے؟ اور بزرگوں کے حالات تاریخ میں دیکھو کہ اُن کی ذات سے کس قدر یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار اور گنہگار ان کے ہاتھ پر توبہ کرتے تھے۔
٥
بلکہ اُن علامتوں کے بالکل برخلاف ظاہر ہوا اور ہو رہا ہے؟
بھائیو! ذرا غور کرو کہ مرزا قادیانی کے قبل کیسے کیسے عالی مرتبت اولیاء اللہ گزرے مثلاً حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ حضرت مجدد الف ثانیؒ جن کے سلسلے میں خلیفہ قادیانی حکیم نور الدین مکہ معظمہ پہنچ کر داخل ہوئے تھے اور اب بھی اُن کا مرید بتاتے ہیں ١ ان حضرات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت کچھ فائدہ پہنچا اور سینکڑوں اولیاء اللہ اُن کے سلسلہ میں ہوئے جن کی کرامات و نشانات کے دفتر لکھے ہوئے اس وقت موجود ہیں با ایں ہمہ ان بزرگوں کی خبر قرآن و حدیث میں نہیں دی گئی مگر حضرت امام مہدیؑ اور حضرت مسیحؑ کا غل سینکڑوں برس سے ہے اور ان کے آنے کی خبر حدیثوں میں دی گئی ہے اور خاص و عام میں ان کا انتظار ہے پھر یہ کیوں ہے؟ یہ اس لئے ہے کہ ان کی ذات سے اسلام کو مسلمانوں کو ایسا عظیم الشان فائدہ دینی اور دنیاوی پہنچے گا کہ کسی اولیاء اللہ کی ذات مقدس سے نہ پہنچا ہوگا۔ اب یہ بتایا جائے کہ مرزا قادیانی
١ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ آپ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ حضرت کی کوئی مجلس یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار اور عُصاۃ سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ آپ کی وجہ سے پانچ سو سے زیادہ یہود و نصاریٰ مسلمان ہوئے۔ مرزا قادیانی تو پچیس تیس برس کی بے انتہا کوشش اور اپنی مداح سرائی سے کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس پر تمام اولیاء سے برتری کا دعویٰ ہے۔ اب اُن کے خلیفہ اور متبعین کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر کیا ہوا خواجہ کمال الدین جو لندن میں جا کر کوشش کر رہے ہیں تو اس وقت تک نفس مذہب اسلام پر لیکچر دیتے ہیں اگر وہاں کوئی مسلمان ہو تو وہ اسلام کی خوبی کا اثر ہے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ خواجہ صاحب مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے۔ درحقیقت وہ اس عظیم الشان مسئلہ میں مرزا قادیانی کے مخالف ہیں۔ اور بالفرض اگر وہاں کوئی مرزا قادیانی کو بھی مان گیا تو ایسا ہی ہوا جیسا بعض عیسائی شیخ علی محمد بابی اور شیخ عبدالبہاء کو مان چکے ہیں۔
٢۔ خلیفہ صاحب نے مکہ معظمہ میں شاہ عبدالغنی صاحب مرحوم سے بیعت کی تھی اور اخبار بدر میں خلیفہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں اب بھی ان کا مرید ہوں۔ شاہ صاحب مرحوم حضرت مجددؒ کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کے خلیفہ مولوی عبدالحق صاحب مہاجر مکہ معظمہ میں موجود ہیں وہ کہتے تھے کہ شاہ عبدالغنی صاحب فیض یافتہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ کے تھے یعنی حضرت ممدوح سے بہت کچھ فیض حاصل کیا تھا۔
٦
کے آنے سے کیا فائدہ پہنچا؟ اسلام کی کیا ترقی ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد میں کس قدر ترقی ہوئی ان کی نکبت اور پریشانی میں کیا کمی ہوئی؟ ذرا نظر اٹھا کر دیکھو پھر ہر طرف ناکامی اور تنزلی کی گھٹا چھائی ہوئی دیکھو گے۔ اگر آپ کو دنیا کی حالت پر نظر ہے اور مسلمانوں کے دلی دردمند ہیں تو ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کا وجود شریف جب سے ہوا اور جب تک وہ زندہ رہے اور اب اُن کے خلیفہ موجود ہیں۔ اس عرصہ میں کس قدر مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت میں تنزل ہوا؟ کئی اسلامی سلطنتیں زیرو زبر ہو گئیں۔ ہندوستان میں دیکھو کہ کتنی زمینداریاں مسلمانوں کی ہنود کے ہاتھ میں جا چکی ہیں اور مسلمان تاجروں کا کیا حال ہو رہا ہے۔ دینداری کی حالت دیکھی جائے کہ کیسی افسوسناک ہو رہی ہے۔ حدیثوں میں جو حالت مسلمانوں کے شوق عبادت کی امام مہدی کے وقت میں بیان ہوئی ہے اُسے خیال کیجئے اور اب مسلمانوں کی حالت کو دیکھئے تو رونا آتا ہے شوق عبادت تو بڑی بات ہے۔ اب تو عبادت کا خیال بھی بہت کم معلوم ہوتا ہے جو ان (مرزا) پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی صحبت میں رہ کر صحابی کا لقب حاصل کر چکے ہیں۔ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ان کی حالت بیان کرنے سے شرم آتی ہے اور دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں۔ نہ اُن کی صورت صلحاء کی سی ہے نہ ان کے حالات و اقوال نیکوں اور سچوں کے سے ہیں اور روحانیت کا غلبہ اور اہل دل ہونا تو عظیم الشان بات ہے۔ میں اس کی تفصیل نہیں کرتا دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں اور جنہیں خوف خدا اور طلب حق ہے وہ کچھ دن بُری صحبت سے علیحدہ ہو کر مرزا قادیانی اور ان کے متعلقین کے حالات پر انصاف سے غور کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ امر حق اُن پر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا۔ یہ ایسی بدیہی اور روشن باتیں ہیں کہ ان پر تھوڑا غور کرنے کے بعد کوئی حق پسند مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں تأمل نہیں کر سکتا اور کسی حجت اور دلیل کی اُسے حاجت نہیں رہتی مگر میں نے بنظر کمال خیر خواہی اور اتمام حجت اُن کے دلائل کی حالت بھی اظہر من الشمس کر دی ہے اور دکھایا ہے کہ جو دلیلیں ان کی صداقت میں پیش کی جاتی ہیں انہیں سے ان کا کاذب ہونا ثابت ہے مثلاً (١) بعض وقت قرآن مجید کی بعض آیتوں سے ان کی صداقت
٧
ثابت کیجاتی ہے۔ اس کا نمونہ رسالہ معیارالمسیح میں دکھایا گیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہی آیتیں ان کے کاذب ہونے کی دلیلیں ہیں اور حق پسند نظریں انہیں دیکھ چکی ہیں اور ان کے دلوں میں میرے بیان کی صداقت سما گئی ہوگی۔ ان مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جن حضرات کی مختصر حالت ابھی بیان کی گئی ان کی صداقت کا ثبوت قرآن مقدس میں سمجھتے ہیں۔ (٢) بڑی دلیل مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کی گہنوں کا اجتماع بیان کیا تھا اور اس کے بیان میں خاص رسالے لکھے تھے اور آسمانی شہادت اُسے ٹھہرایا تھا اور جابجا اپنے رسالوں میں بڑے شدومد سے اسے پیش کیا تھا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ١٣١٢ھ ماہ رمضان میں چاند گہن اور سورج گہن کا اجتماع ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے ایک نہایت ضعیف بلکہ موضوع روایت پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ یہ اجتماع امام مہدی کے وقت میں ہوگا اس سے پیشتر کبھی اس کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ چونکہ یہ اجتماع میرے وقت میں ہوا اس لئے میں مہدی ہوں۔ اس غلط فہمی یا دانستہ غلطی کے اظہار میں رسالہ شہادت آسمانی لکھا گیا اور بحمد اللہ آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا گیا کہ یہ سب خیالات مرزا قادیانی کے محض غلط اور بے سروپا تھے۔ نہ گہنوں کے ایسے اجتماع کو کسی حدیث میں امام مہدی کی علامت بیان کیا ہے اور نہ یہ اجتماع عقلاً اور نقلاً علامت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایسے اجتماع بہت ہو چکے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ حضرات ناظرین اس رسالہ کو ضرور ملاحظہ کریں۔ (٣) مرزا قادیانی کی صداقت کی وہ دلیل جسے انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان ٹھہرایا تھا۔ یعنی منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا اور اس کے شوہر کا مرنا اس کا غلط ہونا تو ایسا روشن ہوا کہ ہر کہہ و مہہ نے اُسے دیکھ لیا اور معلوم کر لیا ہے کہ اسی کے بیان میں رسالہ فیصلہ آسمانی لکھا گیا۔ جس نے اظہر من الشمس کر دیا کہ مرزا قادیانی یقیناً کاذب تھے اور ان کا کاذب ہونا نصوص قطعیہ اور آیات قرآنیہ سے اور ان کے پختہ اقراروں سے نہایت روشن ہے اس سے بڑھ کر ان کے کاذب ہونے کا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے کے جواب میں عاجز ہو کر عجیب عجیب طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں مگر اس پر نظر نہیں کی جاتی کہ مرزا قادیانی اپنی صداقت کی دلیل میں نہایت عظیم الشان دلیل یہ پیش کرتے تھے
٨
کہ میرا نکاح محمدی سے ہوگا اور اس کا شوہر میرے روبرو مرے گا۔ جب دنیا پر واقعات نے روشن کر دیا کہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی اور اس کا شوہر مرزا قادیانی کے روبرو نہیں مرا تو اظہر من الشمس ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے جس بات کو اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان قرار دیا تھا۔ اس کا ظہور نہ ہوا اب اس کی وجہ جو ہو اس کو ماننا ہر طرح ضروری ہے کہ وہ معجزہ ظاہر نہیں ہوا جسے انہوں نے عظیم الشان قرار دے کر دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
الغرض مذکورہ رسائل کو دیکھ کر کسی طالب حق کو اس میں شبہ نہیں رہ سکتا کہ مرزا قادیانی کی دلیلیں محض غلط تھیں کسی دلیل سے ان کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار اور اپنے پختہ اقراروں سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ الحمدللہ! اتمام حجت ہر طرح سے کر دیا گیا مگر افسوس ہے کہ مرزائی جماعت میں ایسے حضرات نظر نہیں آتے کہ ایسے محققانہ اور مہذبانہ رسالوں کو تحقیق و انصاف کی نظر سے دیکھیں بعض نے ہمارے خلاف میں کچھ لکھا بھی ہے مگر سوائے غلط دعوؤں کے دلیل کا نشان نہیں ہے۔ ان کی تحریر نہایت بے تہذیبی سے گندہ اور عقل و انصاف سے معرا ہے اور اس وقت جو ان کے مقتداء ہیں باوجود دعوٰی مہذب ہونے کے ایسے بیہودہ اور بے عقلی کی تحریروں پر اپنی جماعت کو متنبہ نہیں کرتے بلکہ اپنے اخباروں میں ان گندہ اور محض غلط تحریروں کی تعریف چھاپتے ہیں اور خود جواب دینے کی جرأت نہیں کرتے مگر وہ ارشاد نبوی کو یاد رکھیں۔ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِہٖ میدان حشر میں اس افسری کی حقیقت کھل جائے گی۔ اب میں بغرض حصول برکت اصل مقصد بیان کرنے سے پہلے ایک پیشین گوئی اصدق الصادقین حبیب رب العالمینؐ کی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اگر آپ کو اُمت محمدیہؐ ہونے کا فخر حاصل ہے اور کامل یقین ہے کہ انسان کو حیات ابدی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے کہ وہ حضور انور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا پورا پیرو اور ساری باتوں کا ماننے والا ہو اور بتقاضائے نفس نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ اُس کی حالت نہ ہو تو ضرور آپ توجہ سے اُسے ملاحظہ کریں گے اور اُسی کے بموجب اعتقاد رکھیں گے وہ رسولِ برحق
٩
کی سچی پیشین گوئی یہ ہے۔ سَيَكُوْنُ فِیْ اُمَّتِيْ كَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْ عُمُ اَنَّهُ نَبِيٌّ وَّ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيّيْنَ لَانَبِيَّ بَعْدِیْ
(ترمذی باب لاتقوم حتی یخرج کذابون ج ٢ ص ٤٥)
وَلَاتَزَ الُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِيْ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ لَا يَضُرُّ هُم مَّنْ خَالَفَهُمْ حَتَّی يَاْتِيَ اَمْرُ اللّٰهِ
(مسلم باب قولہ لا تزال طائفۃ ج ٢ ص ١٤٣، ترمذی باب ماجاء فی ائمۃ المضلین ج ٢ ص ٤٧ ابوداؤد
واللفظ لہ باب ذکر الفتن ج ٢ ص ١٢٧ و غیر ہم مِن اَئِمَّةِ الْحَدِيْثِ)
میری اُمت میں تیس جھوٹے پیدا ہونے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (اس لئے ان کا یہ دعویٰ کرنا ہی اُن کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے) میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ حق پر رہے گا اور غالب رہے گا اُس کے مخالف اُسے ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ خدا کا حکم یعنی قیامت آجائے۔
اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ میرے بعد نبوت کے جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے اور ان کے جھوٹے ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یعنی میرے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
اس حدیث سے اس کا بھی فیصلہ ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں یعنی کلام خدا و رسول میں جن کو نبی کہا گیا ہے ان سب کے بعد آنے والے۔
جناب رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مان کر یہ کہنا کہ آپ تشریعی انبیاء کے خاتم ہیں یا تمام انبیاء کے لئے زینت یا مہر ہیں محض غلط اور قرآن شریف میں تحریف کرنا ہے یہ دونوں تراشیدہ معنوں کی غلطی اس حدیث نے ظاہر کر دی اگر خاتم النبیین کے معنی میں کوئی
٠١
تخصیص کی جائے یا اس کے دوسرے معنے لئے جائیں تو جملہ وانا خاتم النبیین اُن کاذبوں کے جھوٹے ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔ واقعات اور تاریخ سے ظاہر ہے کہ جن جھوٹے مدعیان نبوت نے جناب رسول اللہ ﷺ کو مان کر دعویٰ کیا ہے اُن میں کل یا اکثر ایسے ہی ہیں جنہوں نے نبوت غیر تشریعی کا دعویٰ کیا ہے اس لئے ان کے کذب کیلئے حضور کا یہ ارشاد صحیح نہ ہوگا۔ (نعوذ باللہ)
الحاصل! یہ حدیث قرآن مجید کے مطابق اور آیت وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کے بعض مضمون کی تفسیر ہے۔ اس حدیث نے اول تو خاتم النبیین کے معنی بیان کر دیئے یعنی تمام انبیاء کرام بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمدؐ سلطان الانبیاء ہیں۔ اب آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ آپؐ کی ہدایت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا اور آپؐ کی شریعت حقہ کی روشنی عمل کرنے والوں کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ ہاں علمائے اُمت اور مجددین ہوں گے جو آپؐ کے دینِ مستقیم کی حقانیت کو ظاہر کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کی خراب حالت کی درستگی اُن کا کام ہوگا اور یہ بھی بشارت حضور انور نے دے دی کہ یہ گروہ حقانی، جھوٹوں پر گمراہوں پر غالب رہے گا اس لئے کسی نبی
١؎ نمونہ کے طور پر چند حدیثوں کے بعض الفاظ آپ کے روبرو پیش کئے جاتے ہیں تا کہ میرے دعوے کی صحت میں آپ کو تامل نہ رہے۔
- (١) لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب (ترمذی باب مناقب عمرؓ ج ٢ ص ٢٠٩) اگر میرے بعد
کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتا۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ نبوت کا مرتبہ آپؐ کے بعد کسی کو نہیں ملے گا۔
- (٢) لانبوة بعدی الا المبشرات (مسند احمد ج ٥ ص ٤٥٣) میرے بعد نبوت نہیں مگر مبشرات ہیں۔ یعنی
بزرگوں کو صلحاء کو خواب میں بعض باتیں معلوم ہوتی رہیں گی۔
- (٣) ان الرسالۃ و النبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبیّ (ترمذی باب ذہبت النبوۃ وبقیۃ
المبشرات ج ٢ ص ٥٣) بلاشبہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی ہے۔
- (٤) عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مکان سے تشریف لائے اور تین مرتبہ فرمایا انا
النبی الامی ولا نبی بعدی (مسند احمد ج ٢ ص ١٧٢) میں نبی اُمی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ہے۔ یہ حدیثیں امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہیں۔
١١
کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔ اسی مضمون کی شہادت میں بہت حدیثیں پیش ہوسکتی ہیں مگر بغرض اختصار صرف دو حدیثیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ (مسلم باب فی اسمائہ ج ٢ ص ٢٦١) میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اس طرح روایت کرتے ہیں۔ (١) اَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَهُ نَبِیٌّ ”میں عاقب ہوں (یعنی پیچھے آنے والا) اور عاقب وہ ہے کہ اُس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
جناب رسول اللہ ﷺ کے نام بہت ہیں ان میں ایک نام عاقب بھی ہے اس کے معنی پیچھے آنے والا اس حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺ نے اس نام کی شرح فرما دی جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیاء کے پیچھے آنے والا اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس بیان نے خاتم النبیین کی نہایت واضح شرح کر دی یعنی پہلی حدیث میں تھا۔ اَنَا خَاتَم النبیین لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ اور یہاں اُس کی جگہ ارشاد ہوا۔ انا العاقب یعنی میں سب نبیوں کے بعد آنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث نے خاتم النبیین کے لفظی معنی آخر النبیین کے صاف طور سے کر دیئے اور یہی معنی محاورۂ عرب کے مطابق ہیں۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔
(بقیہ حاشیہ) اور مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ فختمت الانبیاء (مسلم باب ذکر خاتم النبیین ج ٢ ص ٢٣٨) وختم بی النبیون (مسلم باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ ج ١ ص ١٩٩) یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں انبیاء کا خاتمہ مجھ پر کیا گیا۔ اس مضمون کی روایتوں سے حدیث کی کتابیں بھری ہیں۔ بیس صحابی اس مضمون کے روایت کرنے والے اس وقت میرے پیش نظر ہیں اور کامل تلاش سے کس قدر ہوں گے۔ اسے میں نہیں کہہ سکتا۔ الغرض عام طور سے ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث سے کامل طور سے ہے، مگر نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق کر کے کسی ضعیف روایت میں بھی پتہ نہیں چلتا کہ نبوت غیر تشریعی ختم نہیں ہوئی۔ جن صحابہؓ نے ختم نبوت کی حدیثیں روایت کی ہیں اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ (١) جابر بن عبداللہ (٢) ابوسعید خدری (٣) ابوالطفیل (٤) ابوہریرہ (٥) انس بن مالک (٦) عفان بن مسلم (٧) ابی معاویہ (٨) جبیر بن مطعم (٩) عبداللہ بن عمر (١٠) ابی بن کعب (١١) حذیفہ (١٢) ثوبان (١٣) قتادہ (١٤) عبادۃ بن الصامت (١٥) عبداللہ بن مسعود (١٦) جابر (١٧) عبداللہ بن عمرو (١٨) عائشہ (١٩) عبداللہ بن عباس (٢٠) عطاء بن یسار رضی اللہ عنہم اجمعین۔
١٢
الغرض اس الہامی لفظ کے معنی صاحب الہام نے وہی بیان فرمائے جو عرب کے محاورہ کے بالکل مطابق ہیں۔
(١٧) صحیح بخاری میں ہے۔
كانت بنو إسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبىّ خلفه نبىّ وانه لانبىّ بعدى وَسَيَكُونُ خلفاء فيكثرون قالوا فَمَا تَأمُرُنا قال فُوْا بِبَيعَةِ الاول فالاول اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم (بخاری باب ماذکر عن بنی اسرائیل ج ١ ص ٤٩١)
”بنی اسرائیل پر انبیاء حکومت کرتے تھے۔ جب کوئی نبی انتقال کرتا تو ان کی جگہ دوسرا نبی قائم ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ خلفا ہوں گے۔ (جو مسلمانوں کے تمام اُمور کا نظم کریں گے) اور ان کی کثرت ہوگی۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپؐ ہم کو کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ (یعنی جب بہت سے ہوں گے تو اگر ایک وقت میں کئی ہوئے تو ہم کو کیا کرنا چاہئے) حکم ہوا کہ جس سے پہلے بیعت کرلو اس کو پورا کرو اور ان کے حقوق کو ادا کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ خلفاء سے ماتحت کی نسبت سوال کرے گا کہ کس طرح انہوں نے رعیت سے برتاؤ کیا ۔“ اس حدیث سے نہایت صفائی سے ظاہر ہو گیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ اُمّت کی سیاست خلفاء کے ہاتھ میں ہوگی اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ خلفاء سب راشدین ہوں گے۔ اس حدیث سے خود ظاہر ہے کہ اُن کی حالت اچھی نہ ہوگی مگر چونکہ حاکم ہوں گے اس لئے اُن کی اطاعت کیلئے ارشاد ہوا اور کہا گیا کہ اُن کی حالت کو خدا پر چھوڑ دینا خدا اُن سے باز پرس کرے گا۔ دوسری حدیث سے اس کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ خلافت راشدہ کا زمانہ زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف تیس برس کے اندر محدود ہے۔ یعنی حضور انور ﷺ کے بعد تیس برس تک خلافت راشدہ رہے گی پھر خلافت کے ساتھ رشد کی صفت ضروری نہیں ہے۔
الحاصل ان حدیثوں سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ حضور انور ﷺ کے بعد کسی کو
١٣
نبوت کا مرتبہ نہیں دیا جائے گا البتہ جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے۔ اب میں مختصر طور سے یہ بیان کرتا ہوں کہ خاتم النبیین کے جو معنی حدیث مذکور سے معلوم ہوئے اگر قرآن مجید کے الفاظ میں غور کیا جائے تو اُن سے بھی یہی معنی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ خاتم النبیین میں جو لفظ خاتم ہے اُس میں صرف تا کو زبر بھی ہے اور زیر بھی ہے۔ اگرچہ روایت کے لحاظ سے زیر زیادہ مستند اور معتبر ہے کیونکہ زبر کی روایت کرنے والے صرف دو راوی ہیں باقی جتنے ماہرین قرآن اور قراء ہیں وہ سب زیر کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ مگر ہندوستان میں زبر کے ساتھ معمول اور مشہور ہو گیا ہے اس لئے عوام سمجھتے ہیں کہ صحیح یہی ہے، مگر یہ اُن کی ناواقفی ہے کلام عرب میں خاتم کے کئی معنی ہیں۔ انگوٹھی، مہر، آخر القوم، یعنی جو سب سے آخر میں ہو مگر یہ لفظ جب مضاف ہوجاتا ہے اُس وقت کئی معنی نہیں رہتے بلکہ مضاف الیہ کے اعتبار سے اِس کے معنی خاص ہوجاتے ہیں۔ مثلاً خاتم فضہ یعنی انگوٹھی چاندی کی یہاں خاتم خاص انگوٹھی کے معنی میں ہے اسی طرح جس وقت خاتم کو قوم وغیرہ کی طرف مضاف کریں گے مثلاً خاتم القوم کہیں گے تو اُس کے معنی صرف آخر قوم کے ہوں گے۔ دوسرے معنی نہیں ہوں گے۔ لسان العرب (ج ٤ ص ٢٥) جو اہل زبان کے نزدیک نہایت مستند لغت ہے۔ اُس میں لکھا ہے ختام القوم و خاتِمُہُم و خَاتَمُہُم. آخرہم یعنی لفظ ختام اور خاتم اور خاتم تینوں کو جب مضاف کرتے ہیں اور مثلاً خاتم القوم کہتے ہیں تو اُس کے ایک ہی معنی ہوتے ہیں یعنی ساری قوم کے آخر میں آنے والا اسی طرح جب لفظ نبیین کی طرف مضاف ہوگا اور خاتم النبیین کہیں گے تو اُس کے معنی یہ ہوں
١؎ علامہ جریر طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حَسَن اور عاصم کے سوا تمام قاری خاتم کے (ت) کو زیر پڑھتے تھے۔ بیضاوی کے حاشیہ شیخ زادہ میں ہے کہ عاصم کے سوا سب نے خاتم بکسر التاء پڑھا ہے اور تفسیر مدارک میں بھی اسی طرح ہے اور تفسیر روح المعانی میں ہے وقراءۃ الجمہور خاتم بکسر التاء علی انہ اسم فاعل ای الذی ختم النبیین والمراد آخرہم اور فتح البیان میں بھی یہی ہے الغرض ان پانچ تفسیروں سے معلوم ہوا کہ سوائے ایک یا دو قاریوں کے سب نے خاتم کے (ت) کو زیر پڑھا ہے اس لئے زیادہ مستند زیر ہی ہے۔
١٤
گے کہ سب انبیاء کے بعد آنے والا اُس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے کیونکہ اگر اُس کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ دیا جائے تو وہ آخر الانبیاء نہ ہوا۔ الغرض قرآن پاک عرب کی زبان میں اتارا گیا ہے۔ اس لئے اُس کے الفاظ کے وہی معنی لئے جائیں گے جو عرب کے محاورہ میں ہیں اور اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ عرب کے محاورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ یعنی سب کے آخر میں آنے والا اس کے سوا دوسرے معنی نہیں ہو سکتے۔ اس بیان سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّین اس باب میں نص قطعی ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو مرتبہ نبوت نہیں ملے گا۔ آپؐ کے وجود باجود سے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپؐ کی نبوت اور آپؐ کی شریعت کا آفتاب قیامت تک چمکتا رہے گا۔ اہل علم اس کو سمجھتے ہوں گے کہ قرآن مجید اور حدیثوں میں اس مقام پر لفظ (النبیین) جمع سالم معروف بااللام آیا ہے، ایسے لفظ کو اُصول فقہ وغیرہ میں الفاظ عام میں شمار کیا ہے اس لئے خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ جس کو نبوت کا مرتبہ دیا گیا اور جس پر نبی کا اطلاق کیا جائے خواہ وہ ظلی اور بروزی نبی ہوں یا تشریعی اور غیر تشریعی جس قسم کے ہوں سب کے آپؐ خاتمؐ ہیں آپؐ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ ملے گا۔ الغرض جس طرح صحیح
- ١۔ یہی بات بعض کاملین اُمت محمدیہ کے کلام سے بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ کلام بھی روحانی اور القائی
ہے۔ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ایں فقیر از روح پر فتوح آنحضرت ﷺ سوال کرد کہ حضرت چہ میفرمایند در باب شیعہ کہ مدعی محبت اہل بیت اند و صحابہ را بدی گویند آنحضرت ﷺ بنوعی از کلام، روحانی القا فرمودند کہ مذہب ایشاں باطل است و بطلان مذہب ایشاں از لفظ امام معلوم میشود چوں ازاں حالت افاقت دست داد۔ در لفظ امام تامل کردم معلوم شد کہ امام باصطلاح ایشاں معصوم مفترض الطاعت منصوب من الحق است و وحی باطنی در حق امام تجویز می نمایند پس در حقیقت ختم نبوت را منکر اند گو بزبان آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء می گفتہ باشند اس کے بعد جناب شاہ صاحب کے قول کی شرح میں قاضی صاحب فرماتے ہیں (فقیر محمد ثناء اللہ گوید کہ آنچہ حضرت شیخ را در بطلان مذہب امامیہ از جناب رسالت پناہ علیہ السلام القا شدہ و واضح گشتہ کہ عقیدہ شاں مستلزم انکار ختم نبوت است بطریق توارد بریں فقیر ہم واضح شدہ کہ فقیر آنرا در شمشیر برہنہ باستیعاب
١٥
حدیثوں سے ثابت ہوا تھا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت نے اس مطلب کی صراحت کر دی۔ الحاصل قرآن مجید کے نص قطعی اور مستند اور متعدد احادیث کے صریح الفاظ سے یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ حضور انور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا، اس لئے آپ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ البتہ علماء کاملین آپؐ کے نائب ہوتے رہیں گے اور وہ وہی کام کریں گے جو انبیاء بنی اسرائیل کرتے تھے۔ اس مختصر بیان سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت کا کرنا اور اُن کی جماعت کا اُنہیں کسی
(بقیہ حاشیہ) گزشتہ۔ یہ ہر دو بزرگ اُن کاملین علماء اور واصلین خدا میں ہیں جن کے علم و فضل پر اُمت محمدیہ ناز و فخر کرتی ہے۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ شیعہ کا مذہب اس وجہ سے باطل ہے کہ آل اطہار اور ائمہ کبار کے ساتھ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں جس سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے۔ اس عقیدہ میں شاہ صاحب چار باتیں لکھتے ہیں۔ (١) امام کو معصوم جانتے ہیں۔ (٢) اس کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہیں۔ (٣) یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ مخلوق کیلئے مقرر کئے گئے ہیں۔ (٤) وحی باطنی اُن پر اُترتی ہے۔ ان چار باتوں میں آخر کی دو باتیں انبیاء سے مخصوص ہیں۔ اور پہلی دو باتیں ان کو لازم ہیں البتہ چوتھی بات میں اس قدر کمی ہے کہ انبیاء کو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی وحی ہوتی ہے اور امام کو صرف باطنی ہوتی ہے۔ مگر باوجود اس کمی کے اُن کے عقیدہ کو انکار ختم نبوت لازم ہے اور یہ دونوں حضرات کاملین شیعہ کو منکر ختم نبوت فرماتے ہیں۔ اُن کے کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں اور وہ نبی تشریعی یا غیر تشریعی جس طرح کا ہو جناب رسول اللہ ﷺ سب کے خاتم ہیں کیونکہ شیعہ اماموں کو تشریعی نبی نہیں جانتے۔
مرزائی حضرات تو مرزا قادیانی کو رسول بلکہ انبیاء اولوالعزم سے افضل اعتقاد کرتے ہیں اور کامل وحی الٰہی کا اُن پر اُترنا اُن کے عقیدہ میں ہے۔ مرزا قادیانی تو نزول وحی کا اس طرح دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی نبی نے نہیں کیا چنانچہ حقیقۃ الوحی (ص ١٥٠ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں لکھتے ہیں۔ ”بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“ ملاحظہ کیا جائے کہ بارش کی طرح نزول وحی کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا مگر مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ اُس کے ساتھ صاف طور سے یہ بھی کہتے ہیں کہ صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ اس لئے بموجب ارشاد شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ و قاضی ثناء اللہ علیہ الرحمۃ بھی مرزائی حضرات منکر ختم نبوت ہیں اور
١٦
قسم کا نبی سمجھنا قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ سنا گیا ہے کہ جماعت مرزائی کے سرگروہ قرآن مجید کا مطالعہ زیادہ رکھتے ہیں مگر حیرت ہے کہ ایسی صریح باتوں سے بیخبر ہیں اور وہ سورۂ اعراف کی آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی رسول آئیں گے وہ آیت یہ ہے۔ يٰبَنِيْ آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ آيٰتِيْ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ (اعراف ٣٥) اس آیت سے یہ ثابت کرنا کہ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد انبیاء آئیں گے۔ بہت بڑی غلطی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت علوم قرآنیہ سے بالکل ناواقف ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء سابقین کے حالات اور واقعات بہت بیان ہوئے ہیں۔ انہیں واقعات کے بیان میں یہ آیت بھی ہے، اس سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر آنے کا قصہ ہے اُس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کی اولاد سے یہ خطاب کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی آدم میرے رسول تمہارے پاس آئیں گے اور میری باتیں تم سے کہیں گے۔ پھر جس نے انہیں مانا اور اُس پر عمل کیا
(بقیہ حاشیہ) رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے گو زبان سے اس کا اظہار کریں اور اپنے اشتہاروں اور رسالوں میں چھاپیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ جب کوئی دریافت کرتا ہے کہ جب تم مرزا کو نبی مانتے ہو تو پھر جناب رسول اللہ ﷺ کیسے ختم الانبیاء ہوئے تو بسبب جہالت و کم علمی کے عجیب طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ حاصل یہ کہ خلاف قرآن و احادیث صحیحہ اور محاورہ عرب کے خاتم النبیین کے معنی قرار دے رکھے ہیں اور خوش ہیں اور کسی وقت کہتے ہیں کہ ظلی نبی ہیں ، اصلی نہیں ہیں مگر وہ یہ بتائیں کہ جب مرزا قادیانی اپنے اوپر نزول وحی کا یہ زور بیان کرتے ہیں کہ کسی اولوالعزم نبی نے بھی بیان نہیں کیا اور یہ بھی دعویٰ ہے کہ صریح طور سے مجھے نبی کا خطاب دیا گیا پھر اصلی نبی میں اس سے زیادہ کیا ہوتا ہے۔ جو اُس سے انکار کیا جاتا ہے الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی بعلانیہ ”نبوت کا دعویٰ“ کرتے ہیں اور صاف طور سے ختم نبوت کے منکر ہیں اور عوام کے دھوکہ دینے کو باتیں بناتے ہیں۔ رسالہ ختم نبوت مطبوعہ اخبار اہل فقہ امرتسر میں عمدگی سے اُس کی تفصیل کی ہے۔
١۔ قرآن مجید میں جو کامل مہارت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس آیت میں اُمت محمدیہ سے خطاب نہیں ہوا۔
١٧
اُسے کچھ خوف و خطر نہیں ہے اور جس نے نہ مانا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض اُن انبیاء کا ذکر کیا جو اس عام حکم سنانے کے بعد آئے۔ یعنی حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ، حضرت موسیٰ علیہم السلام۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس آیت میں اُسی وقت کا ذکر ہے اس کے علاوہ اگر قرآن مجید پر نظر ہے تو ذیل کی آیت کو ملاحظہ کیجئے جس میں یہی مضمون ہے مگر اس طرح کہ میرے بیان کی اُس سے پوری تصدیق ہو جاتی ہے وہ آیت یہ ہے۔
فَتَلَقّٰى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ط اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا ج فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ o وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا اُولٰئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ج هُمْ فِيْهَا خَالِدُوْنَ
(سورۃ بقرہ ٣٧ تا ٣٩)
’’یعنی آدمؑ نے خدا سے چند کلمات سیکھے اور خدا نے اُس پر مہربانی کی اور وہ بڑا مہربان ہے۔ ہم نے آدم اور اُس کی اولاد سے کہا کہ تم سب جنت سے چلے جاؤ اور جب میری ہدایات آئیں تو جو اُن کو مانے گا اُس پر کسی قسم کا اندیشہ اور تکلیف نہ ہوگی البتہ جو نہ مانیں گے اور ان کی تکذیب کریں گے وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں جلیں گے۔‘‘
یہ آیات اور سورۂ اعراف کی آیت دونوں مضمون کے اعتبار سے ایک ہیں اور معنی اور حاصل میں کچھ فرق نہیں ہے، البتہ کچھ لفظوں کا اختلاف ہے اور جب اس آیت میں صاف ہے کہ یہ خطاب حضرت آدمؑ کو جنت سے جدا ہونے کے وقت کیا گیا تھا اس لئے سورۂ اعراف کی اس آیت کے خطاب کا وقت بھی یہی ہے کیونکہ یہ دونوں ایک ہیں۔ الغرض آیت کا مضمون اور اُس کے بعض لفظ اور قرآن مجید کی دوسری آیات اس بات کی
١٨
کامل شہادت دیتی ہیں کہ سورہ اعراف کی اس آیت مذکورہ میں اُمت محمدیہؐ سے خطاب نہیں ہے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں اُن کی اولاد سے خطاب ہے۔ اب اس کی تائید حدیث سے بھی ملاحظہ کر لیجئے۔
تفسیر درمنثور (ج ٣ ص ٨٢) میں ہے۔
اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی قال اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جَعَلَ ادَمَ وَذُرِّیَّتَہ فِی کَفِّہ فَقَالَ یَابَنِی اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِی فَمَنِ اتَّقٰی
اس روایت میں خاص اُسی آیت کی تفسیر ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے اور نہایت صفائی سے وہی تفسیر کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے یعنی اس آیت میں اُمت محمدیہؐ سے خاص خطاب نہیں ہے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں یہ خطاب کیا گیا ہے اور اُس کی صورت خیالی اس روایت میں بیان کی گئی ہے چونکہ مرزا قادیانی نے اس تفسیر سے بہت حوالے دیئے ہیں اس لئے اس تفسیر سے لکھنا میں نے مناسب سمجھا اس تفسیر کے علاوہ جب خاتم النبیین کے معنی محاورۂ عرب اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوئے کہ آخرالنبیین کے ہیں تو آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ سورۂ اعراف کی آیت میں قیامت تک کے بنی آدم مراد نہیں ہیں بلکہ خاص حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کا ذکر ہے کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ آخرالنبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اب اہل علم انصاف پسند مرزائی جماعت کے سرگروہ کی قرآن دانی معلوم کر لیں کہ قرآن مجید کے معنی سے کس قدر نا آشنا ہیں اور نصِ قطعی کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں اور عوام کو دھوکہ دینے کو حضرت غوث اعظمؒ اور شیخ محی الدین عربیؒ کا قول پیش کرتے ہیں مگر نصِ قطعی اور احادیث صحیحہ کے خلاف ان حضرات کا قول پیش کرنا یہ دعویٰ کرنا ہے کہ ان مقدس حضرات نے صریح قرآن وحدیث کے خلاف ایک بات کہی مگر یہ بڑی غلطی
١٩
ہے ان بزرگوں کی شان نہایت اعلیٰ و ارفع ہے اُن کا کوئی کلام خلاف قرآن و حدیث کے نہیں ہو سکتا جو حضرات صوفیہ کے اصطلاحات نہیں جانتے اور اُن کے حالات سے واقف نہیں ہیں۔ اُنہیں یہ منصب نہیں ہے کہ اپنے دعوٰی کے دلیل میں اُن کے کلام کو پیش کریں اس کی تفصیل دوسرے رسالہ میں کی جائے ١؎ گی جو خاص ختم نبوت کے بحث میں لکھا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہاں اس کا بھید معلوم کرنا چاہئے کہ جب خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں۔ یعنی سب انبیاء کے بعد آنے والا تو اس میں کیا خوبی اور نعمت ہوئی بلکہ خوبی تو اس میں ہی تھی کہ آپؐ کے بعد آپؐ کی شریعت کے پیرو بہت سے انبیاء آتے۔ جس طرح حضرت موسٰیؑ کے بعد شریعت موسوی کے پیرو بہت انبیاء ہی آئے۔ یہ خیال ظاہر میں کم علم کو ہوسکتا ہے مگر جن کو فضل خداوندی نے اسرار شریعت پر آگاہی دی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کا وجود باجود سب کے بعد اس لئے ہوا کہ آپؐ کی ذات مقدس سے اللہ تعالیٰ کو دین کا کمال منظور تھا۔ آپ کو شریعت کاملہ دی گئی اور ارشاد ہوا الیوم اکملتُ لکُم دِینَکُم حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسٰیؑ کے وقت سے لے کر حضرت عیسٰیؑ کے زمانہ تک دنیا کے لوگ اس لائق نہ تھے کہ اُنہیں کامل شریعت دی جاتی۔ پہلے انبیاء جس قدر آئے وہ سب بمنزلہ مقدمۃ الجیش کے تھے۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ سلطان الانبیاء ہیں۔ تمام انبیاء سابقین نے آہستہ آہستہ آراستہ اور اس لائق کیا کہ شریعت کاملہ دی جائے۔ اس لئے سب کے بعد آنے والے کی زیادہ عظمت ہونی چاہئے۔ کیونکہ اُس کے ذریعہ سے شریعت کاملہ مخلوق کو ملے جو اصل مقصود ارسال انبیاء ہے چونکہ آپؐ مظہر کامل صفت رحمت کے ہیں اور رحمۃ اللعالمین آپؐ کا خطاب ہے اس کا مقتضا یہ ہوا کہ آپؐ کے بعد نبوت کا مرتبہ کسی کو نہ دیا
١؎ اس وقت جسے دیکھنا ہو وہ رسالہ ختم نبوت مطبوعہ مطبع اخبار اہل فقہ امرت سر ملاحظہ کرے۔ اُس میں تفصیل سے اس کا جواب دیا ہے اور خوب لکھا ہے۔
٢٠
جائے کیونکہ شرعی نبی وہی ہے کہ جس کا منکر کافر ہے۔ یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اب اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حسب عادت قدیمہ ضرور بہت لوگ ایسے ہوتے کہ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے ہوتے اور اس نبی پر ایمان نہ لاتے جو آپؐ کے بعد ہوا اور اس وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہوتے۔ یہ آپؐ کے شان رحمت کے بالکل خلاف تھا کہ آپؐ کو مان کر کسی وجہ سے دائمی عذاب میں مبتلا رہے یہ نہیں ہو سکتا اس لئے آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا مگر آپؐ کی اُمت کے علماء کاملین کی عظمت و شان وہی ہے جو انبیاء کی ہونی چاہئے۔ علامہ سیوطی خصائص کبریٰ ج ١ ص ٣٩ میں امت محمدیہؐ کی خصوصیات میں لکھتے ہیں۔ جن کا خلاصہ ہے کہ علمائھم کا نبیاء بنی اسرائیل یعنی امت محمدیؐ کی علماء بنی اسرائیل کے مانند ہیں۔ جناب رسول اللہﷺ نے اپنے علماء کی شان میں فرمایا العلماء ورثۃ الانبیاء (کنز العمال حدیث ٢٨٦٧٩ ج ١٠ ص ١٣٥) اور یہ بھی١؎ فرمایا فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادنکم (ترمذی
١؎ امام احمد نے اپنی مسند ج ٥ ص ٣٢٢ میں جناب رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد لکھا ہے۔ الابدال فی ھذہ الامۃ ثلاثون مثل ابراھیم خلیل الرحمٰن لمامات رجل ابدل اللہ مکانہ رجلا۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ اس امت میں تیس ابدال ابراہیم خلیل اللہ کے مثل ہوتے رہیں گے اُن میں سے جب ایک کا انتقال ہوا کرے گا۔ اُس کی جگہ دوسرا اُن کے قائم مقام ہوگا۔ یعنی ایسے بزرگ ذی مرتبہ سے امت محمدیہ خالی نہیں رہے گی۔ یہاں اُن بزرگوں کو حضرت ابراہیمؑ کے مثل کہا ہے۔ اس سے کوئی صاحب یہ خیال نہ کریں کہ اُن کا مرتبہ بعینہ حضرت ابراہیمؑ کا سا ہوگا اور وہ ظلی اور بروزی نبی حضرت ابراہیمؑ کے مثل ہوں گے اور اُن کا منکر کافر ہے۔ استغفراللہ یہ ہرگز نہیں ہے بلکہ جس طرح مثال دی جاتی ہے کہ زیدٌ کالاسد یعنی زید شیر کے مانند ہے اس مثال سے یہ غرض ہرگز نہیں ہوتی کہ جو حالتیں اور خواص شیر کے ہیں وہ سب یا اکثر زید میں پائی جاتی ہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ شیر کی ایک خاص صفت جو انسان کے مناسب اور اُس کے لئے خوبی ہو سکتی ہے وہ ایک حد تک زید میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح اُن ابدال میں قربِ خداوندی اور خلت حضرت ابراہیمؑ کے مشابہ ہوگی۔ مگر جس قسم کے دعویٰ مرزا قادیانی نے کئے یہ ہرگز نہ کریں گے۔ الغرض اُمت محمدیہ میں ولایت اور نبوت کے مشابہ کمالات ہوں گے (بقیہ اگلے صفحہ پر)
٢١
کتاب العلم ج ٢ ص ٩٨) یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کا ترکہ مال و دولت نہیں ہوتا یہی عظمت اور بزرگی اور علم اُن کا ترکہ ہے اس لئے حدیث کے یہ معنی ہوئے کہ انبیاء کی شان اور عظمت اور ہدایت وعلم علماء کو ملتی ہے۔ جب علماء امت کی شان انبیاء کی شان سی ہوئی تو جس طرح حضرت موسیٰؑ کے بعد انبیاء کے ہونے سے حضرت موسیٰؑ کی عظمت معلوم ہوتی ہے اسی طرح یہاں علمائے کاملین سے آپؐ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ حضرت رحمۃ اللعالمین کو مان کر پھر کسی بزرگ اور عالم کے نہ ماننے سے دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوسکتا اور حضرت موسیٰؑ کو مان کر ان کے بعد کے نبی کو نہ ماننے سے عذاب دائمی کا مستحق ہے۔ مثلاً یہود حضرت موسیٰؑ کو مانتے ہیں، مگر حضرت عیسیٰؑ کے نہ ماننے سے کافر ہیں۔ اس فرق سے حضرت رحمۃ اللعالمینؐ کی شان بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ دوسری حدیث سے تو علمائے کاملین کی بہت ہی بڑی عظمت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اُن کی فضیلت کو حضور انور ﷺ اپنی فضیلت کے مشابہ فرماتے ہیں۔
اب خیال کرنا چاہئے کہ اس فضیلت کی کیا انتہا ہے۔ اللہ اکبر یہ خیال کہ اگر نبوت ختم ہو جائے تو خدا تعالیٰ کی صفت کلام معطل لے ہو جائے گی جاہلانہ خیال ہے ذرا غور کرو کہ خدائے تعالیٰ کی ذات پاک ازلی و ابدی ہے۔ اسی طرح اُس کی صفات ازلی و ابدی ہیں اور انسان کا وجود اور اس نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلا، جن کی نبوت کو آٹھ نو ہزار برس سے زیادہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے
(بقیہ حاشیہ) جس کی وجہ سے العلماء ورثۃ الانبیاء اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ۔ کہا جاسکے مگر نبوت کا وہ خاص درجہ جس کی وجہ سے اُس کا منکر کافر ہوجاتا ہے۔ کسی کو نہیں دیا جائے گا اور اس کی وجہ وہی ہے کہ آپؐ کی شان رحمت کے منافی ہے۔
لے یہ شبہ بعینہ وہی ہے جو دہریہ وقائلین قدم عالم کرتے ہیں کہ عالم قدیم ہے اس لئے کہ عالم حادث ہو تو تعطل باری لازم آئے گا۔ یعنی عالم کے وجود کے قبل خدا معطل تھا اور تعطل باری محال ہے اس لئے عالم قدیم ہے۔
٢٢
نبوت کا سلسلہ نہ تھا اس وقت اس کی صفت کلامیہ کا کیا حال تھا۔ اگر اس نبوت کے ختم ہو جانے سے اُس کی صفت کا معطل ہو جانا لازم آئے تو حضرت آدم علیہ السلام کے وجود سے پہلے تو اس نبوت کا سلسلہ ہی نہ تھا تو اس خیال کے بموجب اُس غیر متناہی زمانے میں خدائے پاک کی یہ صفت معطل رہی (معاذ اللہ) مگر اس خیال کی بنیاد محض نادانی اور ناواقفتی ہے۔ خدا کے مقربین فرشتے ہیں جن سے وہ ہمیشہ کلام کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا اس کے علاوہ خدا کی مخلوق کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا۔ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (بنی اسرائیل ٨٥) اُس کا ارشاد ہے پھر بھی یہ نہیں معلوم کہ اُس کا کلام کس کس طرح ہوتا ہے اور کون کون بندے اُس سے ممتاز ہوتے ہیں۔ انسان کا علم اس کو احاطہ نہیں کر سکتا مگر اس قدر کہتے ہیں کہ اُس کے مخصوص فرشتے اور خاص خاص اولیاء اللہ اس کے خطاب اور کلام سے ممتاز ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس کے لئے رسالت اور نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد برادران اسلام کی خیر خواہی اس پر آمادہ کرتی ہے کہ اس رسالہ کے پہلے دو حصوں میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی جو دلیلیں صراحتاً یا ضمناً بیان کی گئی ہیں۔ اُن کو مستقل طور سے دوسرے پیرایہ سے طالبین حق پر ظاہر کروں اور اس کی ضرورت اس لئے زیادہ ہے کہ بعض دلیلیں اُن حصوں میں ایسی لکھی گئی ہیں کہ ہر ایک شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کوئی مستقل دلیل ہے، بلکہ ضمنی بات خیال کرے گا۔
پھر مرزائی حضرات بھلا اس طرف کیا توجہ کریں گے اور کیا سمجھیں گے؟ جو دلائل صاف طور سے مذکور ہو چکے ہیں۔ انہیں ذکر کرنا اس لئے ضرور ہے کہ ان کے جواب میں مرزا قادیانی نے یا ان کے خلیفہ صاحب نے یا کسی دوسرے مرزائی نے جو کچھ کہا ١؎ ہے اس کی حالت کو خوب روشن کر کے دکھایا جائے تا کہ مرزا قادیانی کے دعوے کی غلطی بندگان خدا پر آفتاب کی طرح روشن ہو جائے اور جو سچائی کے طالب ہیں انہیں حق کے قبول کرنے میں کوئی عذر نہ رہے۔
١؎ چنانچہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی (ص ٣٩٠ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں کہ ’’اس امت کے بعض افراد مکالمہ اور مخاطبہ الٰہی سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔‘‘
٢٣
مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی روشن دلیلیں
پہلی دلیل قرآن مجید کی صریح اور متعدد صحیح حدیثوں سے ثابت کر کے دکھا دیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور جو نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔ مرزا قادیانی نے نبوت و رسالت کا دعویٰ ١؎ کیا اور اُن کے مریدین اُنہیں نبی مانتے ہیں اور اُن کے خاص اخباروں میں اُنہیں خاتم الانبیاء جلی قلم سے لکھا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی
١؎ مرزا قادیانی کی اکثر باتیں پیچدار ہوتی ہیں۔ صادقوں کی سی صفائی کسی بات میں نہیں ہے۔ اسی طرح اس دعویٰ میں بھی اُن کے اقوال متعارض ہیں۔ یہاں اُن کے بعض اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ جن سے اُن کا دعویٰ نبوت ظاہر ہے یہ اقوال تین طرح کے ہیں۔ ایک یہ کہ صاف طور سے وہ اپنے رسول ہونے کے الہامات بیان کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو افضل کہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اپنے منکر کو کافر اور مستحق سزا سمجھتے ہیں۔ پہلے طریق کا اثبات بعض الہامات مرزا قادیانی نے (الاستفتاء ص ٧٨ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٥) کے خاتمہ میں نقل کئے ہیں۔ اُن میں یہ الہام بھی ہے (١)انک لمن المرسلین علی صراط المستقیم بلاشبہ تو رسولوں میں ہے۔ سیدھے راستے پر یہ بعینہ ویسا ہی الہام ہے جیسا کہ جناب رسول اللہﷺ کی رسالت کی نسبت قرآن مجید میں کیا گیا کوئی فرق نہیں ہے۔ اس قول سے نہایت تاکید کے ساتھ ویسے ہی رسالت ثابت ہوتی ہے جیسے جناب رسول اللہﷺ کی (٢) رسالہ (دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں ہے، ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ دیکھا جائے کہ کس صفائی سے دعویٰ رسالت ہے۔ اس قسم کے بہت اقوال ہیں۔ حقیقۃ الوحی اور اعجاز احمدی وغیرہ ملاحظہ کیا جائے۔ دوسرے طرز کے اثبات میں اُن کے اقوال ملاحظہ کئے جائیں۔ (١)(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) میں ہے۔ ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام
٢٤
نص قطعی اور صحیح حدیثوں کے بموجب مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ اس کا خوب خیال رہے کہ یہاں نبی سے مراد وہی نبی ہے جسے قرآن وحدیث میں نبی کہا ہے۔ جس کے انکار سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح سے یہاں بحث نہیں ہے اصطلاحی نبی کے منکر کو حضرات صوفیہ نے کافر نہیں کہا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت معین الدین چشتیؒ جو نہایت عالی مرتبہ بزرگوں میں گزرے ہیں جن کے نشانات اور مکاشفات نہایت کثرت سے ہیں۔ اُن کے منکر کو بھی کسی نے کافر نہیں کہا مگر مرزا قادیانی تو اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور اُن کے خلیفہ اور بیٹے کا بڑا زور ہے کہ مرزا قادیانی کے منکرین سب کافر ہیں۔ البتہ ”بعض مرزائی“ اس سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے ہیں مگر کسی مرزائی ذی علم کی زبان سے یا قلم سے یہ جملہ نکلنا بجز کسی پالیسی کے نہیں ہوسکتا کیونکہ مرزا قادیانی اور اُن کے خلیفہ کے صریح اقوال اور تمام
(بقیہ حاشیہ) احمد رکھا۔“ (٢) پھر اس میں کہتے ہیں۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ١٨ ص ٢٤٠) (٣) ایک منم کہ حسب بشارات آمدم ...... عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم۔ (ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠) ملاحظہ کیا جائے کہ مرزا قادیانی نے اس پر بس نہیں کی کہ اپنی فضیلت ایک اولوالعزم نبی پر ثابت کرتے، بلکہ ایسے ذی شان رسول کی تحقیر کرنے لگے۔ جن کے قلب میں ایمان ہے وہ اس شعر کے دوسرے مصرعہ پر غور کریں کہ کیسی بے ادبی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔ حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کا تو ارشاد تعلیم ادب کی غرض سے یہ ہے کہ مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دو اور مرزا قادیانی نہایت زور سے اپنی ہر شان کو حضرت مسیح سے افضل کہہ کر اُن کی تحقیر کرتے ہیں۔ جب اُن کا یہ دعویٰ ہے تو پھر اس کہنے کے کیا معنی کہ انہیں نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ ظلی نبوت اور شعبہ نبوت کا دعویٰ ہے۔
بھائیو! جب حضرت مسیح جو اولوالعزم انبیاء ہیں جن کا مستقل رسول خدا ہونا قرآن کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جن کی شان میں وَجِيْهًا فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (آل عمران ۔ ٤٥) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُن سے مرزا قادیانی اپنے آپ کو ہر طرح افضل بتاتے ہیں۔ تو پھر نہایت ظاہر ہے کہ مستقل رسالت کا دعویٰ ہے۔ بلکہ بعض اولوالعزم انبیاء سے بھی بڑھا ہوا اپنے آپ کو خیال کرتے ہیں۔ اب کسی وقت ظلی اور بروزی کہہ دینا اور حقیقی نبوت سے انکار کرنا اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت اُن کے نبی
٢٥
مرزائیوں کے افعال اس بات کے شاہد ہیں کہ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو مرزائی نہیں ہیں ۔ مسلمان نہیں جانتے ملاحظہ کیا جائے کہ جو غیر احمدی حضرات کو کافر کہنے سے انکار کرتے ہیں وہ کسی وقت غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ جس مقام پر دو چار مرزائی ہوں اور عید کی نماز ہو اس وقت بھی وہ ہزاروں کی جماعت کو چھوڑ کر علیحدہ نماز پڑھتے ہیں اور پھر اس قدر اصرار ہے کہ حاکم وقت سے استغاثہ کرتے ہیں اور باہم لڑتے ہیں۔ اس بات پر کہ ہم اپنی جماعت علیحدہ کریں گے۔ اُن کی جماعت کا کیسا ہی فاسق و فاجر ہو اُس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ غیر احمدی کو بیٹی دینا بالکل حرام سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر و مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو ۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
اب جو شخص اس قول پر عمل کر رہا ہے اور اس کے خلاف وہ کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں کرتا تو بالضرور وہ غیر احمدیوں کو کافر جانتا ہے۔ مسلمان اگرچہ فاسق ہو مگر
(بقیہ حاشیہ) ہونے پر اعتراض کیا جائے۔ کہہ دیا جائے کہ ہم حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ تیسرے طرز کا ثبوت مرزا قادیانی کے فرزند محمود احمد کا رسالہ تشحیذ الاذہان جلد ٦ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء دیکھا جائے۔ اُس میں نہایت زور کے ساتھ مرزا قادیانی کے صریح اقوال سے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں ٢٣ کروڑ بلکہ ٤٠ کروڑ مسلمانوں میں سے جس نے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو نہیں مانا وہ کافر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی ایک عبارت اس میں یہ ہے۔ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے، اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے ۔“ (تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم) اسی طرح ان کی آخری کتاب حقیقۃ الوحی سے بھی ظاہر ہے۔ الغرض اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور اب اُن کے خلیفہ کا بھی یہی قول ہے اور یہ عقیدہ اجماعیہ ہے کہ کسی شخص کے انکار سے کافر نہیں ہوتا۔ جب تک وہ خدا کا رسول نہ ہو اور جب مرزا قادیانی نے اپنے منکر کو کافر کہا تو نہایت صفائی سے اپنے رسول مستقل ہونے کا دعویٰ کیا اور جناب رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے منکر ہوئے اب اس کے خلاف کوئی قول ان کا پیش کرنا خود اُنہیں اور اُن کے خلیفہ اور اُن کے بیٹے کو جھوٹا کہنا ہے۔ اس میں خوب غور کرو۔
٢٦
اس کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ہے۔ جو اخبار خلیفۃ المسیح کے دربار سے نکلتا ہے۔ اُس میں صاف لکھا ہے کہ جو غیر احمدی کو اپنی بیٹی دے وہ احمدی نہیں ہے۔ یہ باتیں نہایت صفائی سے شہادت دے رہی ہیں کہ تمام مرزائی مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں ١؎ کو کافر سمجھتے ہیں۔ مگر بعض حضرات کسی مصلحت سے اپنے خیال اور عقیدہ کے خلاف ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی اہل قبلہ غیر احمدی کو کافر نہیں کہتے۔ اُن کی خلاف گوئی کی نہایت ظاہر وجہ یہ ہے کہ تمام مرزائی مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں۔ اُنہیں نبی اور مسیح موعود مانتے ہیں اور مرزا قادیانی اپنی آخری کتاب میں اپنے کسی مرید کا سوال نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
سوال ٦: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ اُن مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔
الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا۔ وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِایٰتِہٖ۔ یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں۔ ایک خدا پر
١؎ اب ماہ مارچ ١٩١٤ء سے مرزا قادیانی کے جانشین اُن کے بیٹے میاں محمود احمد ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنے خاص رسالہ میں تمام دُنیا کے ٤٠ کروڑ مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔ جو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١١ء ملاحظہ ہو
٢٧
افتراء کرنے والا، دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اُس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں خود فرماتا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ الخ
(حقیقة الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
بنظر انصاف دیکھا جائے کہ مرزا قادیانی اصل سوال کا جواب نہیں١ دیتے بلکہ مختلف طور سے اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ چونکہ سائل کا یہ خیال ہے کہ جو مرزا قادیانی کی تکفیر کرتا ہے۔ تو بمقتضائے حدیث شریف کے وہ خود کافر ہوجاتا ہے اور جو تکفیر نہیں کرتا صرف منکر ہے۔ اُسے کافر نہ ہونا چاہئے اس لئے مرزا قادیانی اُس کے خیال کو غلط ٹھہرا کر یہ کہتے ہیں کہ کافر کہنے والے اور انکار کرنے والے دونوں کافر ہیں کیونکہ جو میرا منکر ہے وہ مجھے مفتری علی اللہ سمجھتا ہے اور ایسا مفتری بہت بڑا کافر ہے۔ غرض کہ جو میرا منکر ہے وہ بھی مجھے کافر سمجھتا ہے اور چونکہ میں مفتری نہیں ہوں اس لئے وہ خود کافر ہوجاتا ہے۔ دوسری وجہ اس کے کفر کے علاوہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ یعنی جو میرا منکر ہے وہ خدا اور رسول کا بھی منکر ہے۔ غرضیکہ اس جواب سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں اور کافر کے یہ معنی نہیں ہیں کہ منکر امام ہیں بلکہ اُسے منکر خدا اور رسول کہتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی صاف
١ کیونکہ سوال کا حاصل یہ ہے کہ پہلے بہت رسالوں میں آپ نے تمام اہل قبلہ کو مسلمان ٹھہرایا ہے۔ خواہ آپ کا منکر ہو یا نہ ہو اور اب آپ اپنے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ یعنی آپ کے کلام میں تناقض ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کا جواب کچھ نہیں دیا۔ اگر منکر اور کافر سے مراد منکر امام ہوتا اور مسلمان نہ ہونے سے مراد یہ ہوتا کہ کامل مسلمان نہیں ہے تو سوال کا نہایت آسان جواب یہ ہوتا کہ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ کوئی اہل قبلہ کافر نہیں ہے اور اپنے نہ ماننے والے کی نسبت جو میں نے یہ لکھا ہے کہ وہ مسلمان نہیں اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کامل الایمان نہیں ہے۔ مگر یہ نہیں لکھا۔ اس سے بخوبی ظاہر ہوگیا ہے کہ مرزا قادیانی بجز اپنے ماننے والوں کے تمام اہل قبلہ کو کافر سمجھتے ہیں۔
٢٨
لکھتے ہیں کہ جو مجھے نہیں مانتا ١؎ وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
الغرض یہ یقینی طور سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی اپنے نہ ماننے والے کو کافر کہتے ہیں اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو نبوت مستقلہ کا دعویٰ ہو اس لئے ضرور ہے کہ جو حضرات مرزا قادیانی پر ایمان لائے ہیں وہ مرزا قادیانی کو نبی اور اُن کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں اور جب قرآن مجید کی نص صریح اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ خدا اور رسول کے کلام سے غلط ثابت ہوا اور یہ ایسی غلطی ہے کہ کوئی ذی علم سچائی سے اس کا انکار نہیں کر سکتا۔
دوسری دلیل: فیصلہ کے حصہ ٢ کی تمہید میں مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا ذکر کر کے یہ دکھایا ہے کہ ان رسالوں کو معجزہ کہنا محض غلط ہے۔ اس حصہ میں اس دعویٰ کی غلطی ظاہر کرنے کے بعد یہ دکھایا جائے گا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ اُن کے کاذب ہونے کی بیّن دلیل ہے اور ایک طریقہ سے نہیں بلکہ کئی طریقوں سے۔
اہل حق غور سے ملاحظہ کریں۔ ان دونوں رسالوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس طرح قرآن مجید جناب رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے عرب وعجم کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اس کے مثل لاؤ اور پھر یہ کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لاسکو گے اور ایسا ہی ہوا کہ کوئی اس کے مثل نہ لاسکا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے یہ دو رسالے پیش کئے ایک نظم اور دوسرا نثر اور ایسا ہی دعویٰ کیا اور کوئی ان دونوں کے مثل نہ لاسکا۔
مناظرۂ مونگیر کی کیفیت میں جو اُنہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کی ہیں۔ اُن میں وہ آیت بھی پیش کی ہے جو رسول اللہ ﷺ
١؎ ناظرین مرزا قادیانی کے اس قول پر نظر رکھیں۔ اس میں بھی مرزا قادیانی کامل نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کیونکہ جس کے نہ ماننے سے خدا اور رسول کا انکار لازم آئے یہ شان مستقل سچے رسول کی ہے۔
٢٩
نے اپنے رسالت کے دعویٰ میں پیش کی تھی یعنی آیت وَاِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا۔ اب راست باز حق پسند حضرات کامل طور سے متوجہ ہوں۔ اس کے جواب میں کئی باتیں میں کہنا چاہتا ہوں۔
- (١) پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس دعویٰ سے یہ تھا
کہ اس وقت اہل عرب فصاحت و بلاغت کلام میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھتے تھے اور شب و روز انہیں فصیح و بلیغ نظم و نثر لکھنے کا مشغلہ تھا اور مضامین لکھ کر ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے اور دوسرے ملک کے لوگوں کو عجم کہتے تھے۔ یعنی بے زبان گونگے اس لئے ایسے وقت اور ان کاملین فصحاء کے مقابلہ میں ایک ایسا شخص دعویٰ کرے جو معمولی طور سے بھی کچھ پڑھا لکھا نہ ہو اور پھر وہ فصحائے عرب جن کی حالت ابھی بیان کی گئی۔ اس کے جواب سے عاجز ہو جائیں یہ البتہ بدیہی طور سے نہایت عظیم الشان معجزہ ہے۔ پھر اس کا معجزہ ہونا ایک طور سے نہیں ہے، بلکہ کئی طور سے ہے۔ اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ دوسرا کوئی فصیح و بلیغ ایسی عبارت نہیں لکھ سکتا۔ اس کے مضامین ایسے عالی اور باعث ہدایت عالم ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا رفارمر اور مقنن ایسی کامل ہدایت کی باتیں اور پبلک کیلئے مفید قانون نہیں بنا سکتا اور پھر وہ قانون بھی ایسا ہو جو کسی وقت لائق منسوخ ہونے کے نہ ہو۔ یہ صفت صرف قرآن مجید ہی میں ہے اور اس کا اقرار بڑے بڑے عقلاء مخالفین اسلام نے بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کا یہ دعویٰ کسی وقت اور کسی شخص سے خاص نہیں ہے۔ یعنی کوئی شخص خود لکھ کر پیش کرے یا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہو اور کسی وقت کا لکھا ہوا ہو وہ سامنے لائے یا آئندہ کوئی لکھے مگر اس وقت اہل زبان نہ اپنا کلام پیش کر سکے نہ اپنے کسی گذشتہ بزرگ کی تحریر اس کے مثل دکھا سکے اور اب تیرہ سو برس سے زیادہ ہو گیا مگر کوئی مخالف اُس کے مثل نہ لا سکا۔
- (٢) الغرض امور ذیل کی وجہ سے قرآن مجید معجزہ بینہ قرار پایا۔
- (١) ایسے انسان کی زبان سے نکلا جو معمولی طریقہ سے کچھ لکھے پڑھے نہ تھے
امی کہلاتے تھے۔
٣٠
- (٢) جس زبان میں قرآن مجید لکھا گیا۔ دعویٰ کے وقت اُس کی فصاحت و
بلاغت انسانی کمال کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔
- (٣) اُس ملک کے رہنے والوں کو اس وقت اپنی زبان میں کمال پیدا کرنے کا
نہایت شوق ہی نہ تھا۔ بلکہ اُسے مایۂ فخر سمجھتے تھے۔
- (٤) پھر یہ کہ خیالی شوق ہی نہ تھا بلکہ اس کمال کو حاصل کرتے تھے اور نظم ونثر
لکھنا اُن کا مشغلہ تھا۔
- (٥) اس تحصیل کمال کے ساتھ اُن کے دماغ میں کبر بھی تھا کہ ہر ایک دوسرے
کو اپنے سے زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظم ونثر دعویٰ کے ساتھ عام جلسوں میں پڑھتے تھے اور بعض وقت یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ کوئی اُس کے مثل لائے جس وقت حضور انور ﷺ پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا ہے۔ اس وقت اس قسم کے سات قصیدے سات شخصوں کے لکھے ہوئے خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کو دیکھا تو وہ قصائد اتار لئے گئے۔ اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے اُن کی فصاحت و بلاغت کو گرد آلود کر دیا۔ اب وہ اس لائق نہ رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انھیں خانہ کعبہ پر لٹکا کر اُن پر دعویٰ کیا جائے۔ ایسے وقت میں اُن عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایۂ ناز فصیح و بلیغ عبارت کا لکھنا تھا قرآن مجید کا یہ دعویٰ پیش ہوا اور اُس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہر گز نہ لاسکو گے۔ باوجودیکہ جواب کے لئے میدان نہایت وسیع رکھا گیا ہے۔ نہ اُس کے لئے کوئی میعاد معین کی تھی نہ کسی زمانہ کی تخصیص تھی کہ آئندہ کوئی لکھے۔ گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو بلکہ الفاظ آیت کا عموم صاف طور سے یہ مطلب بتا رہا ہے کہ تم اس کا جواب لکھ کر لاؤ۔ یا اپنے کسی استاد یا کسی گذشتہ شخص کا لکھا ہوا پیش کرو یا آئندہ کوئی کسی وقت لکھ دے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ سارے قرآن کا جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب لاؤ۔ غرضیکہ قرآنی تحدّی ایسی عام ہے کہ مذکورہ پانچ حالتیں اُس میں داخل ہیں۔ اب غور کیا جائے کہ اُن امور کے ساتھ اُن مخالفین عرب سے جواب کا طلب کرنا کس قدر غیظ وغضب کا باعث ہوسکتا ہے اور اپنی طبعی حالت کی وجہ
٣١
سے انہیں کس قدر جواب دینے کا جوش ہوا ہوگا مگر چونکہ کلام کی فصاحت و بلاغت میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اس لئے اپنے تئیں عاجز سمجھے اور نہ خود جواب دیا اور نہ کسی دوسرے کا کلام پیش کیا اور عاجز رہے۔ اس لئے قرآن مجید معجزہ باہر اور اعجاز پیشہ ٹھہرا اور اُس کے اعجاز میں کسی طرح کا شبہ نہ رہا اس لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں اُسے پیش کیا۔
(٣) اب مرزا قادیانی کے دعویٰ پر نظر کی جائے اور بتایا جائے کہ یہ چھ باتیں جو قرآن مجید کے دعویٰ کے وقت تھیں۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے وقت اُن میں سے ایک بات بھی تھی؟ ہرگز نہیں مرزا قادیانی امی نہ تھے۔ اچھے لکھے پڑھے تھے اور اُن کے مقابل کے علماء جن میں اُن کا نشوونما ہوا تھا۔ اُنہیں عربی عبارت لکھنے کا شوق تو کیا توجہ بھی نہ تھی اور یہ تو بڑی بات تھی کہ کمال درجہ فصیح و بلیغ عبارت لکھنے کا خیال ہو اور لکھنے کا مشغلہ رکھتے ہوں۔ ایسی حالت میں اگر کسی ذی علم کو عربی ادب سے طبعی مناسبت ہو تو تھوڑی توجہ سے وہ ایسی عبارت لکھ سکتا ہے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے۔ خصوصاً جس وقت یہ لکھنے والا دوسروں کے لئے میعاد مقرر کر دے اور وہ میعاد بھی اس قدر کم ہو کہ مشاق لکھنے والے کو بھی لکھنا اور چھپوا کر بھیج دینا اس کی وسعت سے باہر ہو نہایت ظاہر ہے کہ اگر ایسی حالت میں کوئی جواب نہ دے تو اس شخص کی عربی تحریر معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتی بلکہ جواب نہ لکھنے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں۔ مثلاً علماء کو عربی تحریر کی طرف توجہ نہیں ہے۔ اسلئے نہیں لکھا، یا یہ کہ لکھنے کی میعاد اس قدر کم رکھی گئی تھی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا ممکن نہ ہو اور میعاد کے بعد بھیجنا بیکار سمجھے اس لئے نہیں لکھا یہ ایسی بدیہی باتیں کہ کوئی صاحب عقل ان کا انکار نہیں کر سکتا۔
یہ پہلی وجہ ہے مذکورہ رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی اور نہایت سچی اور قوی وجہ ہے۔
(٤) میرے بیان سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے وقت ہندوستان میں عربی تحریر کا مذاق کسی ذی علم کو نہ تھا۔ مرزا قادیانی اس فن میں اس
٣٢
وقت کے لحاظ سے اپنا مثل نہیں رکھتے تھے۔ میری یہ غرض ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اکثر اہل علم کے لحاظ سے کہا ہے کہ انہیں عربی نظم و نثر کی طرف توجہ نہیں تھی۔ جن حضرات کو عربی تحریر کا مذاق ہے اور عربی نظم و نثر میں کسی قدر کمال رکھتے ہیں یا رکھتے تھے۔ وہ مرزا قادیانی کی نظم و نثر سے بدرجہا زائد عمدہ عبارت لکھتے تھے اور اب لکھ سکتے ہیں۔ اُن کی توجہ نہ کرنے کی نہایت روشن وجوہ بھی موجود ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ توجہ وہ ذوق جو اہل عرب کو اس وقت تھا وہ اس وقت کسی کو نہیں ہے اور نہ اس طرح کا مشغلہ کسی کا سنا گیا۔ جیسا کہ اہل عرب کو تھا مگر اس فن میں ایک حد تک کمال رکھنے والے موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے۔ مگر نہایت ظاہر ہے کہ اہل کمال جسے اُس فن میں لائق نہیں سمجھتے اُس کی تحریر کو رڈی کی طرح پھینک دیتے اور اس طرح توجہ کرنے کو وہ ننگ و عار سمجھتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے توجہ نہ کی، یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے باطل کرنے کے لئے لکھنا ضرور تھا۔ صرف اس لئے لکھتے کہ مخلوق اس غلطی میں پڑنے سے بچے یہ کہنا میرے خیال میں کسی قدر صحیح ہے۔ مگر اس پر نظر کرنا ضروری ہے کہ یہ توجہ اسی وقت ہو سکتی ہے کہ علماء کے قلب میں مرزا قادیانی کی اور ان کے دعویٰ کی کوئی وقعت ہوتی یا انہیں یہ خیال ہوتا کہ ایسے بے سرو پا دعویٰ سے کوئی گمراہ ہوگا اور جو گمراہ ہونے والے ہیں وہ ہر طرح ہوں گے۔ نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان دعوے غلط ثابت کر دیئے گئے۔ پھر کسی ماننے والے نے اُسے مانا۔ ہرگز نہیں ایسا ہی ان رسالوں کے جواب کے بعد ہوتا۔ ہندوستان کے ادیب اور اہل کمال کے نزدیک مرزا قادیانی کی جو وقعت ہے وہ ذیل کے دو شاہدوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔ (١) ہندوستان میں عربی کے ادیب مولوی شبلی صاحب نعمانی مشہور ہیں۔ ان سے ان دونوں رسالوں کی حالت دریافت کی گئی وہ لکھتے ہیں۔ ”قادیانی کو عربیت سے مطلق مس نہ تھا۔ ان کا قصیدہ اور تفسیر فاتحہ میں نے خوب دیکھی ہے۔ نہایت جاہلانہ عبارت ہے۔ مصر کے مشہور رسالے نے لوگوں کے اصرار سے اس کی غلطیاں بھی نہایت کثرت سے دکھائی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ عربیت اس قدر مفقود ہے کہ قادیانی کو ایسی جرأت ہوسکی۔“ ٥ جولائی ١٩١١ء کا یہ خط ہے۔ (٢) مولوی حکیم شاہ محمد حسین صاحب
٣
الہ آبادی بھی مشہور عالم ہیں انہیں بھی عربی ادب سے پورا مذاق تھا۔ ان سے کہا گیا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھئے۔ انہوں نے رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کا جواب کیا لکھوں؟ جس کتاب میں نہ عمدہ مضامین ہوں نہ اُس کی عبارت فصیح و بلیغ ہو۔ اس کے جواب میں کون ذی علم اپنے اوقات عزیز کو خراب کر سکتا ہے۔ اگر مضامین کچھ عمدہ ہوتے یا عبارت ہی فصیح و بلیغ ہوتی تو اُس کے جواب دینے میں دل لگتا۔ غرض کہ کوئی ادیب ذی علم تو اس کو عمدہ اور فصیح بھی نہیں کہہ سکتا اور معجزہ کہنا تو عظیم الشان بات ہے اور جن میں یہ مادہ ہی نہیں ہے کہ عمدہ مضامین اور معمولی باتوں اور فصیح اور غیر فصیح عبارت میں تمیز کر سکیں یا مرزا قادیانی کی محبت نے اُن کے عقل و تمیز کو کھو دیا ہے۔ اُن کے لئے اگر سو (١٠٠) جواب لکھے جائیں گے تو وہ ہرگز نہ مانیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی متعدد باتوں میں تجربہ ہو رہا ہے۔ کیسے کیسے صریح اقوال انہیں کی زبان سے نکلے۔ انہیں کے قلم سے لکھے ہوئے اُن کے کاذب ہونے کے ثبوت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر سوائے بیہودہ باتیں بنانے کے کچھ نہیں کرتے۔ پھر ایسے حضرات کی خیر خواہی میں محنت کرنا بیکار ہے۔ جواب نہ لکھنے کی یہ وجہ دوسرے حصہ میں لکھی گئی ہے۔ حق پسند حضرات دیکھیں کیسی معقول وجہ ہے۔ اس کے جواب میں حضرات مرزائی دم نہیں مارتے مگر یہ کہتے ہیں کہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ اے جناب اگر جواب نہیں دیا تو اس سے اعجاز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان رسالوں کی کمال حقارت ثابت ہوتی ہے کہ ایسے اہل کمال کے لائق توجہ نہیں ہیں۔ ان شہادتوں کے علاوہ حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ ان رسائل کو مصر کے فصحائے اہل زبان نے بھی نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا اور اُس کی عبارت کی غلطیاں کثرت سے ظاہر کیں۔ (مصر کا مشہور رسالہ المنار ملاحظہ کیا جائے) جس سے بالیقین ظاہر ہو گیا کہ ماہرین ادب کے نزدیک ان رسالوں کی تحریر فصیح و بلیغ ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اُس سے ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ صرف ونحو کے قواعد کی رو سے عبارت صحیح ہو وہ بھی نہیں ہے اور جب فصاحت و بلاغت کے درجہ سے بھی گری ہوئی ہے تو اعجاز کی حد تو بہت بلند ہے ۔ وہاں تک کیونکر پہنچ سکتی ہے اس پر علاوہ یہ ہے کہ اُن کے مضامین بھی عالی اور مفید نہیں ہیں کہ اُن کی عمدگی کی وجہ سے اُن کی طرف
٣٤
تو جب ان رسالوں کی یہ حالت ہے تو انسانی نیچر کا اقتضاء یہ ہے کہ ایسی لچر تحریر کی طرف اہل کمال کی توجہ نہ ہو۔ اگرچہ ناواقف کیسا ہی عمدہ اسے سمجھے مگر اہل کمال اُس کی طرف توجہ کرنا عار سمجھتے ہیں۔ اس لئے اُن رسالوں کی طرف کسی ذی علم صاحب کمال نے توجہ نہ کی یہ ایسی روشن وجہ ہے کہ کوئی حق پسند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ (مگر اس کے باوجود متعدد جوابات عربی نظم و نثر میں لکھے گئے اس پر مستقل جلد احتساب قادیانیت کی قارئین آئندہ ملاحظہ کریں گے۔ انشاء اللہ فقیر اللہ وسایا)
یہ دوسری وجہ ہے۔ ان رسالوں کے جواب نہ لکھے جانے کی۔
اب انہیں معجزہ خیال کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ جب یہ رسالے فصیح و بلیغ نہ تھے تو اُن کا جواب لکھنا زیادہ آسان تھا۔ پھر کیوں نہ جواب لکھا گیا سخت نادانی ہے۔ افسوس ہے کہ جو مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے ہیں۔ ان کی عقل کی حالت بعینہ ایسی ہو گئی ہے جیسا تثلیث پرست عیسائیوں کی کہ دنیا کی باتوں میں اگرچہ وہ کیسے ہی دانشمند اور ذی رائے ہیں۔ مگر تثلیث کے ماننے پر نجات کو منحصر جانتے ہیں اور کیسی یقینی اور روشن دلیلوں سے اُسے غلط ثابت کیا گیا اور کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے غلط اعتقاد سے نہیں ہٹتے۔ اسی طرح مرزائیوں کا حال ہے کہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی کیسی روشن اور کھلی کھلی دلیلیں پیش ہو رہی ہیں۔ مگر ایک نہیں سنتے اگر کسی کو شبہ ہو اور کسی مرزائی نے کوئی لچر اور مہمل سی بات اُس کے جواب میں کہہ دی اُسے فوراً ماننے لگتے ہیں اور اہل حق کیسی ہی سچی اور محقق بات کہے مگر وہ خیال بھی نہیں کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اہل کمال کا نیچرل اقتضا یہ ہے کہ ایسی تحریر کی طرف اُن کی توجہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اُس طرف توجہ کرنے کو عار سمجھتے ہیں۔ پھر وہ حضرات کیوں قلم اٹھانے لگے یہی مانع ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے عوام کے خوش کرنے کے لئے الہام کے پیرایہ میں ظاہر کیا ہے۔ اس بے توجہی سے اُن رسالوں کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ کمال درجہ کی اُن کی بے وقعتی ثابت کرتا ہے کہ اہل کمال نے انہیں نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور قابل توجہ نہ سمجھا۔
٣٥
(٥) اس کے علاوہ اہل کمال صاحب قلب اُن کے طول طویل متضاد تحریروں کو دیکھ کر اور اُن کے اثر میں ظلمت قلب کا معائنہ کر کے اُن کی تحریروں سے اجتناب کرتے ہیں اور بعض تو انہیں مجنوں ہی خیال کرتے ہیں اور جو کوئی اُن کے جواب کی طرف توجہ کرے اُسے روکتے ہیں۔ چنانچہ مؤلف سوانح احمدی ص ٣٣٧ میں لکھتے ہیں۔ ”جب یہ کتاب چھپ رہی تھی اس وقت ایک بزرگ باشندہ پنجاب جو پہلے مجدد وقت ہونے کے دعوے دار تھے اور اب جھٹ پٹ ترقی کر کے مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہو بیٹھے پہلے تو اس دعوے کو خلاف اپنے اعتقادِ قدیم کے دیکھ کر مجھ کو بھی تعجب ہوا تھا مگر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے۔ اُس کا ثانی آج تک کوئی پیدا ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہوگا۔ اُن بزرگ کا یہ کہنا کہ میں مسیح موعود ہوں مجھ کو قبول کرو۔ ٹھیک ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک دیوانہ آدمی یہ کہے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں اور فلاں فلاں دلائل میرے دعوے کے ثبوت میں میرے پاس موجود ہیں اور فلاں فلاں حکیم اور مولوی نے میرے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے۔
اے ناظرین صاحب بصیرت! مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے۔ اُس کو اپنے ثبوت میں دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ مدعی اگر دراصل مسیح موعود ہے تو عنقریب اُس کے جلال اور اقبال کا نشان ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر وہ جھوٹا اور مکار اور مسیلمہ کذاب کا ہم مشرب ہے تو بہت جلد مثل کاذب دعویدارانِ نبوت اور مہدویت اور مسیحیت کے جھک مار کے تھوڑے دنوں کے بعد خود ہلاک ہو جائے گا اور ہزارہا ١ مسلمانوں کے ایمان کو تباہ کر جائے گا۔ انتہیٰ مختصراً
طالبین حق غور فرمائیں کہ مخصوص علماء کا یہ خیال ہے، پھر وہ مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی طرف کیوں توجہ کریں گے اور یہ بے توجہی کسی دانشمند کے نزدیک ان کے اعجاز کا باعث نہیں ہو سکتی۔
الحاصل یہ تیسری وجہ ہے ان رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی۔
١ مؤلف سوانح کی یہ پیش گوئی نہایت صحیح ثابت ہوئی۔
(٦) چونکہ کیفیت مناظرۂ مونگیر میں قادیانی حضرات نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں وہ آیت پیش کی تھی جو قرآن مجید میں حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کے ثبوت نبوت میں پیش کی گئی ہے اس لئے میں نے اعجاز المسیح کے جواب میں دو کتابیں پیش کی تھیں۔ (ایک) مدارج السالکین (دوسری) اعجاز البیان۔
یہ دو کتابیں سورۂ فاتحہ کی عربی تفسیر میں پہلی تفسیر دو جلدوں میں اور دوسری ایک جلد میں مگر ٣٥٠ صفحوں میں ہے اور ہر صفحہ میں ٢٧ سطریں ہیں اور ہر سطر میں گیارہ بارہ الفاظ ہیں اور مرزا قادیانی نے جو غل مچایا ہے کہ میں نے ستر دن میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے کیسا صریح دھوکے میں ڈالنا ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ستر دن میں لکھی جب ہم تفسیر کی لکھائی دیکھ کر اُن کے ساڑھے بارہ جز کے دعویٰ کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار دلی صداقت یہی کہتی ہے کہ صریح دھوکا دے رہے ہیں کہ تخمیناً ڈھائی جز کو موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر ساڑھے بارہ جز لکھنے کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے۔ جب اس حالت کو ہم معائنہ کر رہے ہیں تو ان کے اس قول پر کیونکر اعتبار کریں کہ ستر دن میں لکھی اس کی مفصل حالت ملاحظہ کر کے انصاف کیجئے چونکہ اس تفسیر کے اعلان میں دو شرطیں لگائی تھیں۔ ایک یہ کہ ستر دن میں لکھی جائے۔ دوسرے یہ کہ چار جز سے کم نہ ہو۔ اس کے بعد زیادہ قابلیت دکھانے کے لئے یہ اعلان بڑے دعویٰ سے کیا گیا کہ ہم نے اس میعاد میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے اور ہمارے مخالف نے ایک ورق بھی نہ لکھا اور میرا الہام مَنَعَهُ مَانِعٌ مِنَ السَّمَآءِ سچا ہو گیا۔ اب کوئی انصاف پسند ساڑھے بارہ جز کی حالت کو دیکھے۔ اول تو رسالے کو دیکھا جائے کہ کیسے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے پھر یہ کہ صفحہ میں اصل عبارت کی دس سطریں ہیں۔ اب بنظر تحقیق حق تفسیر اعجاز التنزیل مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن کی صرف لکھائی اور مقدار تحریر سے مقابلہ کیا جائے۔ اگرچہ اعجاز التنزیل بھی نہایت کشادہ لکھی گئی ہے۔ مگر اس کی اسی واضح تحریر سے اعجاز المسیح کی تحریر کا مقابلہ کیا جائے تو
١؎ اسی طرح میں دس بارہ تفسیروں کے نام بتا سکتا ہوں جو خاص سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں۔ مگر جب مقابلہ میں کوئی طالب حق راستباز نہیں ہے تو کلام کو طول دینا بیکار ہے۔
٣٧
بالیقین معلوم ہو جائے گا کہ جنہیں ساڑھے بارہ جز کہا جاتا ہے وہ معمولی واضح تحریر سے تقریباً ڈھائی تین جزوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ جسے تحقیق کرنا منظور ہو وہ دونوں تفسیروں کے صفحات کے الفاظ شمار کر کے دیکھ لے اور پھر اس پر نظر کرے کہ صفحوں کی یہ مقدار صرف سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں نہیں ہیں بلکہ شروع سے ٦٦ صفحہ تک تو تمہید ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے اپنی تعریف اور دوسرے علماء کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔ اس صفحہ پر پہنچ کر لکھتے ہیں وَسَمَّيْتُهُ اعجاز المسیح۔ یعنی میں نے اس کا نام اعجاز المسیح رکھا اہل علم جانتے ہیں کہ مصنفین یہ جملہ اکثر پہلے یا دوسرے صفحہ میں لکھتے ہیں مگر مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر کے بڑھانے کو چار جز فضول باتوں میں سیاہ کر کے یہ جملہ لکھا۔ اس حساب سے اصل تفسیر کے تقریباً آٹھ ہی جز ہوتے ہیں۔ اسلئے مقتضائے دیانت یہ ہے کہ اسی آٹھ جز کا اندازہ کیا جائے، اگر اس مقدار کا اندازہ کیا جائے گا تو فاتحہ کی تفسیر میں دو سوا دو جز سے زیادہ نہ ہوگا۔ اب اس قلیل مقدار کی تحریر کو بڑے زور سے ساڑھے بارہ جز بار بار کہا جاتا ہے۔ پھر یہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے؟ خدا کے لئے خلیفہ صاحب یا اور اہل فہم کہیں تو غور کر کے انصاف سے کہیں مگر ان سے ایسا نہیں ہوسکتا۔ افسوس! الغرض جب اس اعلانیہ بات میں ایسا صریح دھوکا دیا جاتا ہے تو اس کہنے پر کیونکر اعتبار کر لیا جائے کہ ستر دن میں لکھی، جو حضرات اظہار فخر کے لئے ایسی صریح ابلہ فریبی کریں اُن سے ظہور اعجاز کی امید رکھنا کسی ذی عقل کا کام نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کو میں نے اس لئے پیش کیا تھا کہ یہ دونوں تفسیریں بلحاظ عمدگی مضامین اور باعتبار فصاحت و بلاغت عبارت کے اس قدر بلند پایہ اعجاز المسیح سے ہیں کہ کوئی ذی کمال انہیں دیکھ کر اگر اعجاز المسیح کو دیکھے گا تو نفریں کرنے لگے گا اور پھر اُدھر نظر اُٹھا کر نہ دیکھے گا پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اسے اس قابل سمجھے کہ اس کا جواب دیا جائے۔
بھائیو! اگر کچھ علم وفہم ہے تو ان صریح اسباب میں غور کرو اور خدا سے ڈر کر انصاف سے کہو کہ جب ان رسالوں کی طرف توجہ نہ کرنے کے یہ اسباب ہیں تو اُن کے جواب نہ لکھے جانے سے اُن کا اعجاز کیونکر ثابت ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں بعض
٣٨
جہلاء یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جواب میں ان کتابوں کو پیش کرنا مرے مردوں کی ہڈیاں اکھیڑنا ہے۔ ایسے ہی بیہودہ جوابوں کی وجہ سے کوئی ذی علم اُن کے جواب کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِيْنَ پر عمل کرتا ہے۔ مگر بعض کی خیرخواہی نے کسی قدر اُن کی طرف متوجہ کر دیا۔ اب جنہیں کچھ علم وفہم ہو وہ ملاحظہ کریں۔
اعجاز المسیح کے فصیح و بلیغ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣)
اور پھر اُسے اعجاز کہا ہے۔ اس لئے اُن کا نام بھی اعجاز المسیح رکھا ہے۔ فن بلاغت میں کلام کی دو طرف بیان کی ہیں۔ ایک اعلیٰ، دوسری ادنیٰ۔ اعلیٰ مرتبہ کو اعجاز کہا ہے اور طاقت بشری سے اُسے خارج بتایا ہے، یعنی کوئی انسان کسی وقت ویسا کلام نہیں لکھ سکتا اس سے ظاہر ہو گیا کہ اعجاز اور معجزہ اُسی کلام کو کہیں گے جس کے مثل نہ زمانہ گذشتہ میں کسی نے لکھا ہو۔ نہ حال اور آئندہ میں کوئی لکھ سکے۔ اسی تحقیق علمی کی بنیاد پر میں نے ان تفسیروں کو پیش کیا تھا۔ جس سے بالیقین ظاہر ہو گیا کہ اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا محض غلط ہے۔ کیونکہ اس سے ہر طرح نہایت عمدہ سورۂ فاتحہ کی تفسیریں موجود ہیں۔ اب تفسیر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیکار وقت ضائع کرنا ہے۔ مگر چونکہ قادیانی جماعت علم وفہم سے بے بہرہ ہے اس لئے سچے اور علمی جواب کو مذاق میں اڑاتی ہے۔
الغرض یہ چوتھی وجہ ہے اعجاز المسیح کے معجزہ نہ ہونے کی۔ جب اس تفسیر سے بدرجہا زیادہ عمدہ تفسیریں موجود ہیں تو اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا سراسر غلط ہے اور قصیدہ اعجازیہ کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی پروفیسر کالج لاہور نے لکھا تھا اور اخبار اہل حدیث میں چھپا تھا۔ (عنقریب احتساب قادیانیت کی مستقل جلد اس بحث پر مشتمل شائع ہو گی انشاء اللہ فقیر اللہ وسایا) اُس وقت کسی مرزائی نے اس کی نسبت دم نہیں مارا۔ مگر جھوٹا دعویٰ ہو رہا ہے کہ کوئی اُس کے مثل نہ لایا اب ان دونوں رسالوں کے لکھے جانے کا اصلی سبب بھی معلوم کرنا چاہئے جس سے مرزا قادیانی کی حالت اور اُن کے اعجاز کی کیفیت اور زیادہ منکشف ہو جائے گی۔
اعجاز احمدی کے لکھے جانے کا ظاہری سبب ١٩٠٢ء میں ضلع امرت سر میں مولوی ثناء اللہ صاحب سے اور مرزا قادیانی کے خاص مرید سے مناظرہ ہوا اور مرزائی اس میں نہایت ذلیل ہوئے اور مرزا قادیانی کے پاس جا کر بہت کچھ فریاد کی مرزا قادیانی کو بہت کچھ طیش آیا اور قصیدہ اعجازیہ شاید پہلے سے لکھ رکھا تھا اور اُس وقت حسب مناسب بعض اشعار کی بیشی و کمی کر کے یا کرا کے اپنے گھر کے مطبع میں فوراً طبع کرا کے مولوی صاحب کے پاس اس اشتہار کے ساتھ بھیجا کہ اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اُردو و عربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے۔ بیس روز میں بنا دے تو میں دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ پھر اس رسالہ کے لئے صرف بیس روز کی قید شدید پر مرزا قادیانی نے بس نہیں کی بلکہ یہ بھی لکھا کہ رسالہ چھاپ کر اور مرتب کرا کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔ اب جن کے قلب میں کچھ بھی انصاف کی بو ہے۔ وہ صرف ان قیدیوں میں تھوڑا سا غور کر کے مرزا قادیانی کی حالت معلوم کر سکتے ہیں۔ کیا صادقین کی باتیں ایسی چالاکی اور عیاری کی ہو سکتی ہیں؟ اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اس کے جواب میں چار قیدیں لگاتے ہیں۔ (١) باریک قلم سے لکھا ہوا نوے صفحہ کا رسالہ ہو (٢) آدھا رسالہ اردو میں ہو اور آدھا عربی نظم میں۔ (٣) بیس روز میں لکھیں۔ (٤) پھر اسی میعاد میں چھپوا کر میرے پاس بھیج دیں۔
اہل انصاف اس روشن زبردستی کو ملاحظہ کریں کہ ان قیدوں کے ساتھ ظاہری اسباب کی نظر سے جواب لکھا جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جس کے بعض صفحوں پر ٢٢ سطریں ہوں اور بعض میں ٢١ پھر اتنے بڑے رسالے کی تالیف کرنا اور تالیف بھی معمولی نہیں۔ ایک شاطر مناظر مغالط کی باتوں کا جواب دینا اور وہ بھی صرف اُردو نہیں بلکہ عربی قصیدہ بھی اس طرح کا ہو جیسا کہ اُس میں ہے۔ ان قیدوں کو دیکھ کر ہر ایک منصف کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اُس کا جواب لکھ دیں گے۔ اس لئے ایسی شرطیں لگاتے ہیں کہ اُن کی وجہ سے لکھنا غیر ممکن ہو۔
٤٠
حضرات انہیں شرطوں پر قناعت نہیں ہے۔ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسی مدت میں چھپوا کر میرے پاس بھیجو۔ اب ملاحظہ کیجئے کہ معمولی پریس میں چار روز میں ایک جز چھپتا ہے۔ اگر ہزار یا بارہ سو چھاپا جائے اس حساب سے ساڑھے پانچ جز ٢٢ روز میں چھپے گا۔ پھر اس کی ترتیب اور سلائی وغیرہ میں دو تین روز ضرور لگیں گے۔ غرضیکہ ہر طرح کی عجلت کے ساتھ مطبع سے ٢٥ روز میں نکلے گا اور کم سے کم ڈاک کی معمولی حالت کے لحاظ سے تیسرے روز مرزا قادیانی کو پہنچے گا۔
غرضیکہ تخمیناً ایک مہینہ صرف چھپنے اور پہنچنے میں لگے گا اور تالیف اور تصنیف کا زمانہ اس سے علاوہ ہے۔ اب تصنیف کا زمانہ کس قدر ہونا چاہئے۔ اُسے مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا چاہئے۔ مولوی صاحب نہ صاحب جائیداد ہیں۔ نہ اُن کے مریدین معتقدین ہیں کہ نذرانہ یا چندہ کے طور پر انہیں کچھ ملتا ہے۔ اخبار کے اجراء میں کوشش کرتے ہیں۔ کچھ مشاغل ہیں اس سے بسراوقات ہوتی ہے۔ ان سب کے ساتھ ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جن میں عربی قصیدہ بھی ہو۔ ایک مہینہ سے کم میں نہیں لکھ سکتے۔ بشرطیکہ عربی نظم کی طرف انہیں توجہ بھی ہو، غرضیکہ جو کام حسب عادت دو ماہ سے کم میں نہ ہو سکے وہ بیس دن میں کیونکر ہوسکتا ہے۔
حاصل یہ کہ انہیں مشکلات پر نظر کر کے مرزا قادیانی نے ایسی قیدیں لگائیں کہ اُن قیدوں کی وجہ سے سے جواب غیرممکن ہو جائے اور اگر ان قیدوں کو چھوڑ کر کوئی جواب لکھے تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم اُسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔ اہل حق فرمائیں کہ جب ایسی شرطیں لگائی جائیں کہ اُن شرطوں کی وجہ سے جواب ممکن نہ ہو تو اصل کتاب کا اعجاز ثابت ہوسکتا ہے؟
انصاف سے اس کا جواب دیا جائے۔ قادیانی جماعت کچھ تو غیرت کرے اِن دنوں خلیفہ قادیانی سے دریافت کیا گیا کہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا اگر اب کوئی جواب دے تو وہ جواب سمجھا جائے گا یا نہیں، اس کا جواب جناب مفتی محمد صادق قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا آیا کہ اعجاز احمدی کے بالمقابل لکھنے کی میعاد ١٠ دسمبر ١٩٠٢ء کو ختم ہو گئی اور اعجاز
٤١
المسیح کی میعاد ٢٥ فروری ١٩٠١ء کو ختم ہو گئی۔
لیجئے جناب خلیفہ قادیانی کی تحریر سے بھی معلوم ہوا کہ ان رسالوں کا اعجاز بہت تھوڑی مدت کے اندر محدود تھا۔ اب اُس کے بعد وہ اعجاز سلب ہو گیا۔ اب اس کے مثل اہلِ علم لکھ سکتے ہیں مگر وہ جواب جماعت قادیانیہ کے لائق توجہ نہ ہوگا۔
برادران اسلام نے ایسا اعجاز نہ سنا ہوگا کہ بیس دن کے اندر تک تو معجزہ رہے اور اس کے بعد وہ اعجاز جاتا رہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حد بندی کی اطلاع اُن کے مریدین اور معتقدین کو ہے یا نہیں ہے، کیونکہ وہ اب تک ان رسالوں کو جواب کیلئے پیش کرتے اور بآواز بلند کہتے ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ جب یہ امر مشتہر ہو چکا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اُن کی جماعت کو خبر نہ ہو بلکہ ناواقفوں کو دھوکا دینا مدنظر معلوم ہوتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ اگر کوئی جواب نہ لکھے تو اس کا اعلان ہے کہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ اعجاز ثابت ہو گیا اور اگر کسی نے جواب دیا تو فوراً کہہ دیا جائے گا کہ جواب کی تاریخ گزر گئی۔ اب لائق توجہ کے نہیں ہے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کے اور اُن کے متبعین کی باتیں عجب پیچ در پیچ ہوتی ہیں۔ صادقوں کی سی سچائی اور صفائی ہرگز نہیں ہے۔ ان باتوں نے آفتاب کی طرح روشن کر دیا کہ اس اعجاز کے دعوے سے مقصود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور معلوم کر لیا تھا کہ ان شرطوں کیساتھ جواب دینا غیر ممکن ہے۔ کیونکہ جو کام اسباب ظاہری کے لحاظ سے کم سے کم ڈیڑھ دو مہینے کا ہو۔ وہ بیس دن میں کیونکر ہو سکتا ہے مگر قدرت خدا ہے کہ جماعت قادیانیہ کے پڑھے لکھے بھی ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے اور ان رسالوں کو معجزہ مان رہے ہیں۔ قصیدہ اعجازیہ کی تفصیلی حالت اور اُس کے اغلاط ”الہامات مرزا“ کے صفحہ ٨٦ سے ٩٦ تک دیکھنا چاہئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے قصیدہ کی غلطیاں دکھا کر یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قصیدہ کو ان اغلاط سے پاک کریں اور پھر زانو بزانو بیٹھ کر عربی تحریر کریں۔ اس وقت حال کھل جائے گا١ مگر مرزا قادیانی نے تو اس
١ اس تحریر کے بعد خلیفہ قادیانی کا رسالہ نورالدین نظر سے گزرا، اُس میں اس حد بندی مقرر کر دینے کے لئے خلیفہ قادیانی نے اپنی دانست میں نہایت عمدہ وجہ لکھی ہے وہ یہ ہے کہ غلام احمد کو آنحضرتﷺ سے برابری کا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ وہ غلام احمد یعنی رسول اللہﷺ جو احمد ہیں اُن کا غلام ہے۔ اس لئے وہ
٤٢
کے جواب میں دم بھی نہ مارا۔ اگر عربیت میں دعویٰ تھا اور یہ رسالہ خود انہوں نے لکھا تھا تو کیوں سامنے نہ آئے۔ یہ بدیہی دلیل ہے کہ قصیدہ دوسرے سے لکھوایا اور اپنے فہم کے موافق سمجھ لیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا رسالہ عربی میں
(بقیہ حاشیہ) اعجاز میں بھی برابری نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں جواب دینے کے لئے مدت مقرر نہیں کی ہے۔ مرزا قادیانی مدت معین کرتے ہیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کے اس معجزے سے برابری نہ ہوجائے۔ خلیفہ قادیانی کی ایسی باتوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ کیا اسی عقل و فہم پر حکیم الامت کا خطاب دیا گیا ہے۔ بھلا یہ تو فرمائیے کہ برابری کا نہ ہونا اور ادب اور غلامی کا ثبوت اسی پر منحصر تھا کہ جواب کیلئے ایسے انداز سے قید لگائی جائے کہ اُس میعاد میں جواب لکھ کر بھیجنا غیر ممکن ہو۔ ادب اور غلامی کا ثبوت تو اس طرح بھی ہوسکتا تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تمام عمر میں اس کا جواب دیں یا دوسرے سے لکھوا دیں۔ اس قدر قید ان کی غلامی کے ثبوت کیلئے کافی تھی۔ مگر یہ نہیں کیا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مقرر کی اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں ہے جو ابھی بیان کی گئی، اس کے علاوہ خلیفہ قادیان یہ تو فرمائیں کہ اگر برابری کا دعویٰ نہیں ہے تو (١) منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد (تریاق القلوب ص ٦ خزائن ج ١٥ ص ١٣٣) کس نے کہا ہے (٢) اعجاز احمدی کا وہ شعر بھی آپ کو یاد ہے جس میں مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیلئے تو صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں ہوئے۔ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) کہئے جناب یہاں تو برابری سے گذر کر فضیلت کا دعویٰ ہے۔ (٣) اسی طرح ان کا الہام ہے لولاک لما خلقت الافلاک (تذکرہ ٦١٢) یعنی اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی سے کہتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان پیدا نہ کرتا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اصل مقصود عالم میں مرزا قادیانی کا پیدا کرنا تھا باقی جتنے اولیاء انبیاء دنیا میں آئے اُن کا وجود مرزا قادیانی کے طفیل میں ہوا۔ اب خلیفہ کی روح اور اُن کے ماننے والے بتائیں کہ اس الہام میں کس قدر فضیلت کا دعویٰ ہے۔ یہاں غلامی کہاں چلی گئی۔ یہاں تو سرور انبیاء کو اپنا طفیلی بتا رہے ہیں۔ (٤) تحفہ گولڑویہ (ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) کا وہ مقولہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ سے تین ہزار معجزے ہوئے۔ اس کے بعد اس قول پر نظر کیجئے جہاں لکھتے ہیں کہ مجھ سے تین لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوئے۔ (حقیقت الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
اب فرمائیے کہ یہاں سو حصہ زیادہ فضیلت کا دعویٰ ہے یا نہیں۔ ضرور ہے پھر یہاں دعویٰ غلامی کیوں چھوڑا گیا اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوے بہت ہیں ، مگر جیسا موقع اُن کے خیال میں آگیا ویسا دعویٰ کر دیا حکیم صاحب کچھ تو ہوش کیجئے۔ آپ کہاں تک باتیں بنائیں گے۔ لَنْ یُصْلِحَ الْعَطَّارُ مَا اَفْسَدَهُ الدَّهْرُ
٤٣
لکھ سکیں۔ پھر بطور احتیاط بیس دن کے اندر لکھ کر بھیجنے کی قید لگا دی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے اندر تو وہ لکھ کر کسی طرح بھیج ہی نہیں سکتے، اگرچہ وہ ادیب بھی ہوں اس لئے ایسا دعویٰ کر دیا۔
الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہو یا لکھوایا ہو اور اُن کی میعاد مقررہ کے اندر کسی نے جواب دیا ہو یا نہ دیا ہو مگر وہ معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ اس کے متعدد وجوہ بیان کر دیئے گئے۔
اعجاز المسیح کا شان نزول بھی کچھ ملاحظہ کرنا چاہئے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب (گولڑویؒ) جو پنجاب اور خصوصاً سیالکوٹ کے نواح میں زیادہ مشہور بزرگ ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان سے مناظرہ کا اشتہار دیا۔ اب قدرت خدا کا یہ نمونہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنے ہاتھوں سے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو پھر میں مردود، جھوٹا، ملعون ہوں اور اس شدومد کے اشتہار اور اقرار کے بعد قدرت خدا سے صداقت کا ظہور نہایت آب و تاب سے اس طرح ہوا کہ باید و شائد۔ حاصل یہ کہ پیر صاحبؒ مرزا قادیانی کی تمام شرطیں منظور کر کے مناظرہ پر آمادہ ہو گئے اور ٢٥ اگست ١٩٠٠ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہو گئی اور پیر صاحب اپنے اقرار کے بموجب ٢٤ اگست ١٩٠٠ء کو مع دیگر علماء اور معززین اسلام کے لاہور پہنچے اور ٢٩ اگست تک منتظر رہے، مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے۔ اس نواح کے مریدوں نے زور لگایا، مگر وہ نہ آئے اور اپنے اس اشتہاری اقرار کی بھی پروا نہ کی کہ لکھ چکے تھے کہ اگر مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو جھوٹا اور ملعون ہوں مہتمم جلسہ نے اس جلسہ کی روئداد طبع کرا کے مشتہر کرائی تھی۔ اس میں ذیل کا مضمون لائق ملاحظہ ہے۔ ”جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ یہ شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغ گوئی سے اپنی دوکانداری چلانا چاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی اور اُس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پروا نہ کریں“ یہ روئداد مسلمانوں میں بہت شائع ہوئی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حالت اظہر من الشمس ہو گئی اور اپنے پختہ اقرار
٤٤
سے جھوٹے اور ملعون ٹھہرے اس شرمناک ذلت مٹانے کے لئے مرزا قادیانی نے تفسیر اعجاز المسیح لکھی اور پیر صاحب سے جواب طلب کیا اور منعہ مانع من السماء کا الہام بھی سنا دیا، کیونکہ روئیداد سے معلوم کر چکے تھے کہ پیر صاحب اور تمام علمائے حاضرین جلسہ مجمع عام میں ہزاروں معززین اسلام کے روبرو کہہ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کو مخاطب نہ بنائے اور اُن کی کسی بات کا جواب نہ دے اور ظاہر ہے کہ یہ علماء اپنے قول کے خلاف ہرگز نہ کریں گے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے عمدہ موقع پا کر اپنی تفسیر پیش کی اور جواب طلب کیا اور پیر صاحب نے اور دیگر علماء نے اپنے قول کے بموجب سکوت کیا اور اپنے اقرار کے پابند رہے اور مرزا قادیانی کی طرح بدعہد اور جھوٹا ہونا پسند نہیں فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ پیر صاحب اور دیگر علماء کے لئے یہ آسمانی مانع تھا کیونکہ اپنے قول پر قائم رہنا آسمانی حکم ہے اس لئے الہام کا مضمون بلاشبہ صحیح ہے مگر مرزا قادیانی نے اصل حالت کو پوشیدہ کر کے ایسے پیچ سے اُسے بیان کیا ہے کہ مریدین اُسے معجزہ سمجھ رہے ہیں۔ ایک اور راز ملاحظہ کیجئے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا ہوگا کہ جو علماء اس جلسہ میں شریک تھے وہ تو اپنے عہد کے خیال سے جواب دیں گے نہیں اور دوسرے علماء جو دور دراز جگہ کے رہنے والے ہیں۔ انہیں کیا خبر ہوگی اور کسی کو ہوئی بھی تو دیر میں ہوگی اس لئے جواب کیلئے ستر دن کی قید لگا دی اور معلوم کر لیا کہ اوّل تو اس میعاد کے اندر دوسرے علماء کو خبر ہی نہیں ہوسکتی اور اگر کسی کو ہوئی بھی اور جوش اسلامی نے انہیں آمادہ بھی کیا تو انہیں
١ چنانچہ قادیانی اخبار الحکم مورخہ ١٧ جنوری ١٩٠٣ء کے صفحہ ٥ میں ہے اعجاز المسیح حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود کی عربی تصنیف ہے۔ جو ستر دن کے اندر باوجود یکہ چار جز کا وعدہ تھا۔ ساڑھے بارہ جز پر شائع ہوگئی اور ٢٣ فروری ١٩٠١ء کو پیر صاحب گولڑوی کو بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل پیر صاحب کی طرف سے ان ستر دن کے اندر چار جز ساڑھے بارہ جز تو کجا ایک آدھ صفحہ بھی اعجازی عربی کا شائع نہیں ہوا اور اس طرح پر الہام منعہ مانع من السماء پورا ہو گیا۔ پیر گولڑوی کی علمیت و قرآن دانی کا راز طشت از بام ہوگیا۔ اس الہام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں اعجازی عربی نہیں ہے کہ اُس طرح کی عربی پر پیر صاحب قادر نہ تھے بلکہ کوئی مانع پیش آ گیا اور اصلی مانع کو میں نے ظاہر کر دیا جس سے مرزا قادیانی کا راز طشت از بام ہو گیا اور ان کے دعویٰ اعجاز کی حقیقت کھل گئی۔
٤٥
اتنی مدت نہیں مل سکتی کہ وہ اس قدر تفسیر لکھیں اور اس قلیل مدت کے اندر چھپوا کر اُن کے پاس بھیج دیں اس لئے یہ میعاد مقرر کر دی۔
اب اہل حق اس داؤ پیچ کے اعجاز کو ملاحظہ کریں جس سے مرزا قادیانی کی حالت آفتاب کی طرح چمک رہی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار یہ وہ سچا بیان ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں کہ اسے غلط ثابت کرے۔ الغرض اس بیان سے دنیا پر دو باتیں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہوگئیں۔ ایک یہ کہ اعجاز المسیح کے جواب نہ لکھے جانے کی اصلی وجہ کیا تھی۔ دوسرے یہ کہ اُن کے صریح اقرار سے یہاں بھی ثابت ہو گیا کہ وہ جھوٹے تھے۔
اس لئے قدرت الہی نے انہیں جانے نہ دیا اور روک لیا اگرچہ جانے کے بعد بھی جھوٹے ٹھہرتے مگر وہ جھوٹ دوسرے کی زبان سے ثابت ہوتا اور نہ جانے سے اُن کی زبان سے اُن کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا اور اُن کے دعوؤں کی حالت بھی معلوم ہوگئی۔ اس زور وشور سے مناظرہ کا اشتہار دیا اور پیر صاحب کو نہایت سخت اور توہین کے الفاظ لکھ کر انہیں آمادہ کیا اور جب وہ آمادہ ہو کر میدان میں آگئے تو گھر سے باہر نہ نکلے۔
حق پرست حضرات اس واقعہ پر انصاف سے نظر کریں اور بہتر ہے کہ روئیداد١؎ جلسہ اسلامیہ لاہور کو ملاحظہ کرلیں۔ پھر فرماویں کہ خدا کے برگزیدہ رسول اُس کے نیک بندے سے نہایت سخت کلامی کر کے عہد و پیمان کریں اور نہایت پختہ اقرار کر کے اُسے پورا نہ کریں۔ ایسا ہو سکتا ہے؟ خدا کو عالم الغیب جان کر جواب دیجئے کیا ممکن ہے کہ خدا کے مقبول کسی سے ایسا پختہ وعدہ کریں کہ اُس کے پورا نہ ہونے پر اپنے کذب کو منحصر کر دیں؟ اور خدا اُن کی اس قدر مدد نہ کرے کہ وہ وعدہ پورا کر سکیں؟ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔
سنا گیا کہ نہ جانے کا عذر مرزا قادیانی نے یہ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ولائتی
١؎ یہ روئیداد دوسری مرتبہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں بصورت رسالہ چھپی ہے۔ یعنی اس روئیداد کے پہلے ایک لائق دید تمہید ہے اور اس مجموعہ کا نام ”حق نما“ ہے۔ ١٣٣١ھ ہجری میں رسالہ النجم کے ہمراہ بھی یہ رسالہ چھپا ہے اور علیحدہ بھی ہے۔ (نوٹ: اب ماہنامہ لولاک ملتان ربیع الاول ١٤٢٣ میں قسط وار شائع ہوئی ہے۔ فقیر)
٤٦
مولوی مجھے مار ڈالنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ اب وہاں جانا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید میں اس کی صریح ممانعت آئی ہے۔
بھائیو! ذرا تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مناظرہ کا اشتہار دیا اور نہایت غیرت دار الفاظ لکھ کر پیر صاحب کو آمادہ کیا اور جب مناظرہ کا ٹھیک وقت آ پہنچا اور مقابل سامنے آگیا اس وقت یہ الہام ہوتا ہے کہ ولایتی مولوی مارنے کے لئے بلاتے ہیں۔ کیا اُس علام الغیوب کو پہلے سے اس کا علم نہ تھا کہ اگر مناظرہ میں اجتماع ہوگا تو وہ مار ڈالنے کی فکر کریں گے؟ اس ملہم نے اشتہار دینے کے وقت یہ الہام نہ کیا کہ اب اشتہار نہ دے ورنہ روکا جائے گا اور جھوٹا اور ملعون ٹھہرے گا۔ خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس فعل سے تو نہ روکا جس سے وہ تمام خلق کے نزدیک بدعہد اور جھوٹا قرار پائے اور اُس کی اس رسوائی اور کذب کو پسند کر کے اس کے بچانے کے لئے الہام کیا، کون صاحب عقل اسے باور کر سکتا ہے؟ مگر اُن کے معتقدین کی کچھ ایسی عقل سلب کر دی گئی ہے کہ ایسی بدیہی بناوٹ بھی اُنہیں نظر نہیں آتی۔
اس پر غور کیا جائے کہ پیر جی کے مقابلہ پر اُس زور شور سے مناظرہ کا اشتہار دیا کہ اپنے کذب کو اُس کے نہ کرنے پر منحصر کر دیا پھر کیا مقربین خدا خصوصاً انبیاء بغیر الہام الٰہی ایسا اعلان کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں اور اگر غلطی کریں تو انہیں فوراً اطلاع خداوندی نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ عام مخلوق کے روبرو وہ اپنی زبان سے جھوٹے ٹھہرتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مقام پر انبیاء کی حمایت نہ ہو اور انبیاء کو اس کی حمایت پر اعتماد نہ ہو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔
مرزائی جماعت انبیاء کے قتل نہ ہونے پر آیۃ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ پیش کرتی ہے۔ پھر کیا مرزا قادیانی کو اس وقت تک اس آیت پر نظر نہ تھی جو ولایتی مولویوں سے ڈر گئے اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ نہ جانے سے میں جھوٹا ٹھہروں گا۔ اسی خجالت کو مٹانے کے لئے جو رسالہ لکھنے کا وعدہ کیا اُس کی واقعی حالت تو ہمیں معلوم نہیں ہو سکتی کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا یا دوسرے سے مدد لی اور اگر خود ہی لکھا تو کتنے دن میں لکھا۔ اس کا ثبوت
٤٧
مرزائی جماعت نہیں دے سکتی ہے۔ مناظرہ کا زور و شور مچا کر عین وقت پر گریز کر جانا اس بات کیلئے نہایت قوی قرینہ ہے کہ بالمشافہ لکھنے کی قدرت نہ تھی۔ علماء خصوصاً صوفیاء کی حالت کو قیاس کر کے سمجھتے تھے کہ پیر صاحب مقابلہ کیلئے تیار نہ ہوں گے اس لئے مناظرہ پر زور تھا۔ جب اُن کے خلاف قیاس پر وہ آمادہ ہو گئے تو بچنے کا ایک حیلہ نکالا اور بالفرض اگر ہم مان لیں کہ خود مرزا قادیانی نے لکھا اور اسی مدت میں لکھا اور کسی دوسرے نے مدد نہیں دی۔ پھر اس میں اعجاز کیا ہوا؟ اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ادب میں مذاق اس قدر تھا کہ دو ڈھائی مہینے میں ڈھائی تین جز، تفسیر کی عربی عبارت میں لکھ سکتے تھے اور وہ بھی اتنی محنت و مشغولی کے بعد کہ نمازیں بھی بہت سی قضا کیں اور پھر اُنہیں جمع کیا۔ اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے ساتھ پونے تین یا تین جز عربی عبارت لکھ دینا کوئی کمال کی بات نہیں۔ اگر شب و روز میں ایک صفحہ بھی لکھا جاتا تو چار جز سے زیادہ ہوتا اور مرزا قادیانی کی تفسیر تو معمولی طریقہ سے اگر لکھی جائے تو تین جز سے زیادہ کسی طرح نہیں ہوتی۔ پھر شب و روز کی محنت میں نمازیں قضا کر کے ایک صفحہ تفسیر کا لکھ دینا کون سی بڑی قابلیت کی دلیل ہے کہ دوسرے نہیں کر سکتے۔ ذرا کچھ تو انصاف کرنا چاہئے اور بہت اچھا! ہم نے مانا کہ اس وقت چونکہ اکثر علماء کو عربی تحریر کا مذاق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی عربی میں ایسی عبارت اور مضمون لکھ سکتے ہیں کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے پھر اس سے اُن کے رسالہ کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی میں اتنی قابلیت تھی کہ شب و روز کی محنت میں ایک صفحہ عربی عبارت کا لکھ سکتے تھے اور وہ چند علماء جنہیں ان کی طرف توجہ بھی تھی اور اُنہیں اس اعلان کی خبر بھی پہنچی وہ اس لئے نہ لکھ سکے کہ عربی لکھنے کی مشق نہیں رکھتے تھے یا بوجوہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہوئے۔ اس میں مرزا قادیانی کا اعجاز کیا ہوا۔
١؎ فرضی طور پر یہ لکھا گیا ہے ورنہ اس وقت بھی جن کو عربی تحریر کا مذاق ہے وہ مرزا قادیانی سے بدرجہ عمدہ تفسیر لکھ سکتے ہیں۔ البتہ عرب کا سا مشغلہ اور ان کے سے خیالات کسی ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے جواب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں اور اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصاً ایسے شخص کے مقابلہ میں جسے وہ لائق خطاب نہیں سمجھتے جس کی تحریر کو وہ جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں۔
٤٨
الحاصل اس رسالہ کو معجزہ کہنا اور اس کا نام اعجاز المسیح رکھنا محض غلط ہے اور اس کی تصدیق خود مرزا قادیانی کا دل بھی کرتا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے ستر دن کے اندر لکھنے کی قید لگائی ورنہ اعجاز کیلئے کوئی قید نہیں ہو سکتی اور ”منعه مانع من السماء“ کا الہامی راز بھی بیان کر دیا گیا اور اگر اس جملہ کے الہامی ہونے پر اصرار ہے تو پہلے یہ فرمائیں کہ کتنے الہامات مرزا قادیانی کے غلط ثابت کر دیئے گئے۔ اُس سے کیا فائدہ ہوا۔ منکوحہ آسمانی کے متعلق کتنے الہامات غلط ثابت ہوئے اور ایسے قطعی اور یقینی الہامات تو برسوں ہوتے رہے اور ایسا پختہ یقینی وعدہ خداوندی بار بار ہوتا رہا اور پھر اُس کا ظہور نہ ہوا۔ اب دیکھا جائے کہ اول تو مرزا قادیانی نے اُس کے لئے کیا کیا باتیں بنائی ہیں۔ پھر اُن کے علاوہ خلیفہ قادیان نے عجیب و غریب لائق تماشا اُس کی توجیہیں نکالیں بالآخر خدائے قدوس پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا۔ یہ بھی سنا جاتا ہے کہ اب بعض جدید مرید مرزا قادیانی کے خطائے اجتہادی ١؎ بتاتے ہیں اور بعض یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ایسی نکتہ چینی کیجائے گی تو ہم قرآن مجید میں بہت سی ایسی باتیں نکال دیں گے۔ (استغفر اللہ)
برادران اسلام ان باتوں پر غور کریں، یہ باتیں وہ ہیں جن سے مرزا قادیانی کا راز فاش ہوتا ہے۔ شائد اصل مقصد ان کارروائیوں سے یہی تھا کہ مقدس مذہب اسلام کو مورد اعتراضات بنایا جائے۔ مگر ظاہر میں حامی اسلام بن کر۔
غرضیکہ اس الہام کی غلطی ثابت کر دینے سے حضرات مرزائی تو سچائی کو مانیں گے نہیں، البتہ عاجز ہو کر خدائے تعالیٰ پر کچھ نہ کچھ الزام لگا دیں گے۔ الغرض ان رسالوں کا جواب کسی نے لکھا ہو یا نہ لکھا ہو وہ معجزہ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ اس کے متعدد وجوہ ایسے قوی بیان کئے گئے ہیں کہ اُن کا جواب نہیں ہو سکتا۔ ان سب باتوں کے قطع نظر اگر اب بھی خلیفہ قادیان کو اور اُس جماعت کے دوسرے ذی علموں کو اس کے اعجاز کا دعویٰ ہے اور
١؎ یہ حضرت بھی نہیں سمجھے کہ خطائے اجتہادی کا کون محل ہوتا ہے۔ دعویٰ نبوت کر کے خدا کی طرف نہایت پختہ وعدہ بار بار کیا جائے اور برسوں اس پر اصرار رہے اور پھر وہ پورا نہ ہو، اُس کو خطائے اجتہادی وہی کہے گا جس کو علم اور عقل سے کچھ واسطہ نہ ہوگا یا در پردہ خدا پر الزام لگانا مدنظر ہوگا۔
٤٩
کہتے ہیں کہ وہ ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا تو اُس کا اعلان دیں اور اس میں لکھ دیں کہ اگر کوئی عالم ایسا قصیدہ یا ایسی تفسیر سورۂ فاتحہ لکھ دے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں گے، تو وہ دیکھیں کہ اُن کا جواب کس زور اور عمدگی سے ہوتا ہے۔ اگر اُس کے لئے میعاد مقرر کریں تو اول اس بات کو ثابت کریں کہ اعجاز میں ایسی قیدیں ہو سکتی ہیں۔ اُس کے بعد ایسی میعاد معین کریں جسے چند اہل علم تجربہ کار مجیب کی حالت پر نظر کر کے کہہ دیں کہ اتنے دنوں میں تالیف اور طبع ہو کر خلیفہ قادیان تک پہنچ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح قید نہ لگائی جائے، جس میں لکھا جانا اور چھپ کر اُن کے پاس بھیجنا غیر ممکن تھا۔
اس کے سوا یہ بھی بتائیں کہ اُس کا فیصلہ کون ذی علم ادبی منصف مزاج کرے گا کہ مرزا قادیانی کا قصیدہ اور تفسیر عمدہ ہے یا اُن کا جواب ہر طرح فائق اور بدرجہا زائد عمدہ ہے اور یہ بھی ظاہر کر دیں کہ اگر جواب دیا گیا اور منصف نے اُسے عمدہ اور مرزا قادیانی کے رسالے سے بہت فائق کہہ دیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا یا خلیفہ قادیان اور دیگر اہل علم حق کی پیروی کریں گے یا عقیدۂ سابقہ باطلہ پر قائم رہیں گے، اگر ایسا اعلان ایک ماہ کے اندر نہ دیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ اعجاز کا دعویٰ غلط تھا اور اُن کے پیرو مدعی کاذب کی پیروی کر رہے ہیں۔ اب اس کی وجہ بات کی پاسداری ہو یا جو کچھ ہو مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ سچا ارشاد ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی عربی دانی کا نمونہ اُن حضرات کو بھی دکھاؤں جنہیں زبان عربی میں بہت تھوڑا دخل ہے یا انگریزی میں پورے قابل ہیں اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اعجاز المسیح کے لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت بھی لکھی ١؎ ہے۔ جس میں اس رسالے کی نسبت لکھا ہے۔ ہٰذَا رَدٌّ عَلَی الَّذِیْنَ یَجْہَلُوْنَنَا یعنی یہ اُن لوگوں کا ردّ ہے جو ہمیں جاہل بتاتے ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں۔
وانی سمیتہ اعجاز المسیح وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوماً من شہر الصیام و کان من الہجرۃ ١٣١٨ ومن شہر النصاریٰ ٢٠
١؎ اس رسالہ کی غلطیاں تو رسالہ المنار مصری میں اور اعجاز احمدی کے اغلاط الہامات مرزا میں نمونہ کے طور پر شائع ہو چکے ہیں۔ یہاں رسالہ کے ٹائٹل کے دو سطر عبارت نقل کر کے اُس کی حالت دکھائی جاتی ہے۔
٥٠
فروری ١٩٠١ء مقام الطبع قادیان
(اعجاز المسیح ٹائٹل خزائن ج ١٨ ص ١)
جن کو علم و فہم سے اللہ تعالیٰ نے کچھ حصہ دیا ہے۔ وہ غور فرمائیں کہ کیسی لچر عبارت ہے اور جو نہایت معمولی مضمون مرزا قادیانی ادا کرنا چاہتے تھے۔ وہ عربی عبارت میں ادا نہ کر سکے اور بہت غلطیاں کیں۔ اس عبارت کا ٹھیک ترجمہ یہ ہے۔ اس رسالہ کا نام میں نے اعجاز المسیح رکھا اور مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں یہ رسالہ ستر دن میں چھاپا گیا اور اُس کی ابتداء ماہ رمضان سے ہوئی اور ہجری ١٣١٨ھ تھا اور عیسوی ٢٠ فروری ١٩٠١ء تھا۔
اب قدرت خدائی اور اس ہادی مطلق کی رہنمائی کا یہ عجیب نمونہ ہے کہ وہ رسالہ جس کی فصاحت و بلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز سمجھتے ہیں۔ اُس کے معمولی اور متداول مضمون کی دو سطر عبارت بھی (جو رسالہ کے پہلے صفحہ پر ہے) صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے۔ وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہو سکا۔ وہ چار جز یا بارہ جز معجزہ نما کیا لکھیں گے؟ اگرچہ اس مضمون کو صحیح طور سے ادا کر دینا بڑی قابلیت کی دلیل نہ تھی مگر اس قادرِ کریم کی قدرت کا نمونہ ہے کہ جس مدعی نے اپنے متکبرانہ خیال میں اپنے آپ کو علمی کمال کی نظر سے ایسا بلند پایہ سمجھ لیا ہو کہ ایک مضمون میرا لکھا ہوا معجزہ ہو سکتا ہے اور اسی خیال سے اُس نے رسالہ لکھا ہو۔ اُس کے اوّل صفحہ میں دو سطر معمولی مضمون کی عبارت صحیح نہ لکھے اور ایسی غلطیاں کیں جو کم فہم بھی یقینی طور سے معلوم کر سکیں، جن کو عربی صرف و نحو سے واقفیت ہے اور جنتڑیاں بھی دیکھ لیا کرتے ہیں۔ وہ ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کا مطلب تو یہ ہے کہ اعجاز المسیح میں نے ستر دن میں لکھی اور انہیں دنوں میں وہ طبع بھی ہوئی اور ستر دن کی ابتداء اور انتہا بھی بیان کرنا چاہتے ہیں مگر منقولہ عبارت کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا۔
٥١
غلطیاں ملاحظہ ہوں
- (١) نہایت ظاہر ہے (قد طبع فی سبعین یومًا) کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ
ستر دن میں چھاپی گئی اس عبارت سے یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاتا کہ ان ایام میں تصنیف اور طبع دونوں کام ہوئے۔ اس مطلب کے لئے ضرور تھا کہ ”صُنِّفَ“ کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔
- (٢) سیاق عبارت یہ چاہتا ہے کہ من شهر الصیام بیان ہو سبعین کا۔ اس کا
حاصل یہ ہوگا کہ ماہ صیام ستر دن سے زیادہ کا ہے۔ اب ناظرین اس غلط بیانی کو دیکھ لیں۔ میں نے اس غلطی سے چشم پوشی کر کے دوسرے پہلو سے ترجمہ کیا ہے۔
- (٣) اگر خلاف سوق عبارت میں من شهر الصیام کے من کو ابتدائیہ کہا جائے اور
یہ مطلب قرار دیا جائے کہ ماہ صیام سے رسالہ کی تالیف کی ابتداء کی گئی تو ضرور تھا کہ (اختتام کی) تاریخ بھی لکھتے کیونکہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ بیان مہینے کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے غرضیکہ یہ تین غلطیاں ہوئیں اب اگر تیسری غلطی سے چشم پوشی کی جائے اور مرزا قادیانی کی دوسری عبارت سے تاریخ معین کرنے کی نوبت آئے تو بھی کوئی تاریخ معین نہیں ہوتی، سارے احتمالات غلط ہیں، اس کی وجہ ملاحظہ ہو۔
- (٤) مذکورہ عبارت کے بعد مرزا قادیانی تالیف اور طبع کا ہجری سال اور عیسوی سال
مع مہینے اور تاریخ کے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ لکھتے ہیں وکان من الهجرة ١٣١٨ھ ومن شهر النصارىٰ ٢٠ فروری ١٩٠١ء۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس ماہ صیام سے رسالہ لکھنے کی ابتداء ہوئی وہ ماہ صیام ١٣١٨ھ کا تھا۔ اس عبارت کا ناقص ہونا نہایت ظاہر ہے کیونکہ مہینے کے تعین کے ساتھ یہاں تاریخ کا معین کرنا ضرور تھا تا کہ ستر دن کی ابتداء معلوم ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا۔
٥٢
یہ چوتھی غلطی ہے اس عبارت کی، رسالے کے صفحہ ٦٥ سے ٦٧ تک دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تفسیر کے لکھنے کی ابتداء ٢٣ رمضان کے قبل نہیں ہوئی بلکہ بعد ہوئی ہے۔ مگر بعد کی کوئی تاریخ یہاں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضان کی ٢٣ مطابق ہے۔ ١٥ جنوری ١٩٠١ء کے اس لئے لکھنے کی ابتداء ١٥ جنوری یا اس کے بعد ١٦۔١٧ کو ہوگی اس کے بعد یہ جملہ ہے من شھر النصاریٰ ٢٠ فروری ١٩٠١ء عربی کی طرز تحریر کا مقتضا یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتدا نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے۔ اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو، یہ طرز بالکل مطابق ہے۔ اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کر کے عیسوی مہینہ اور سنہ کے مطابق لکھا کرتے ہیں۔ مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہائے تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں جیسا کہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔
یہ پانچویں غلطی ہے۔ قاعدۂ عربیت کے لحاظ سے مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی بس نہیں ہے بلکہ انہیں کے بیان سے فروری کے مہینے میں رسالہ کی نہ ابتدا ہوئی نہ انتہا۔ یہ بیان بالکل غلط ہے کیونکہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ١٣١٨ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتدا ہے اور یہ ماہ صیام ٢٣ دسمبر ١٩٠٠ء روز دوشنبہ سے شروع ہے اور ٢١ جنوری ١٩٠١ء روز دوشنبہ کو ختم ہو گیا۔ اس لئے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اگر ابتداء رمضان کی پہلی تاریخ کو فرض کریں تو اکہترواں دن فروری کے بعد ٢ مارچ کو ہوگا اور اگر ابتداء ٢٣ یا ٢٤ یا ٢٥۔ ماہ صیام سے ہے تو مارچ کے ٢٥۔٢٦ یا ٢٧ تاریخ مطابق ٤۔٥۔٦ تاریخ ذوالحجہ ١٣١٨ روز دوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ کو ہوگا۔ غرضیکہ ٢٠ فروری کو انتہا کسی طرح نہیں ہو سکتی۔
یہ چھٹی غلطی ہے اور بہت بڑی غلطی ہے ۔ یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں۔ (١) ٹائٹل کے دوسرے صفحہ پر اطلاع لکھی ہے ۔ اس کی پہلی اور دوسری سطر میں ’’خدائے تعالیٰ
٥٣
نے ستر دن کے اندر ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو اس رسالہ کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا ۔“
(٢) اس اطلاع کے آخر میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے۔ (٣) اس رسالہ کے آخر میں اعجاز کا اشتہار دیا ہے، اُس میں بھی ٢٠ فروری ہے اور ٹائٹل کے پہلے صفحہ پر بھی یہی تاریخ ہے اور اس رسالہ کے آخر صفحہ (٢٠٠) میں لکھتے ہیں۔ قد طبع بِفَضْلِکَ فی مدة عدة العین فی یوم الجمعة وفی شهر مبارک بین العیدین۔ تیرے فضل سے یہ کتاب عین کے عدد کی مدت میں جمعہ کے دن اور مبارک مہینے میں دو عیدوں کے درمیان چھاپی گئی۔ اس سے تین باتیں ظاہر ہیں۔
اوّل یہ کہ اس رسالہ کا اختتام جمعہ کے دن ہوا، دوسرے یہ کہ ماہ مبارک میں ہوا تیسرے یہ کہ وہ ماہ مبارک دو عیدوں کے درمیان میں ہے۔
اب دیکھا جائے کہ ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا اختتام ہے تو روز جمعہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ تاریخ روز چہار شنبہ ٣٠ شوال ١٣١٨ ھ کو ہے۔
اب کہئے کہ ٢٠ فروری کو صحیح مانا جائے یا روز جمعہ کو غرضیکہ اسی طرح اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں۔ سب کے بیان میں بیکار تقریر کو طول دینا ہے جن کو حق طلبی ہے۔ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسالہ جس کی نسبت دعوٰی بڑے زور سے ہو رہا ہے کہ اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لاسکا اور نہ لاسکے گا۔ اس کے لوح کی دو سطر عبارت نہایت خبط اور محض غلط ہے۔ پھر ایسا شخص فصیح و بلیغ عبارت کیا لکھے گا اور اگر لکھ سکتا تھا مگر یہاں ایسی غلطیاں ہو گئیں تو یہ روشن دلیل ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ایسے مدعی کے دعوٰی کے غلط کرنے کو اس عبارت کے لکھنے کے وقت اُس کے حواس سلب کر دیئے کہ ایسی مہمل عبارت لکھی کہ ادنیٰ طالب علم ادب کا پڑھنے والا نہ لکھے گا، مگر افسوس ہے کہ کذب کے ایسے بیّن ثبوت موجود ہیں۔ مگر ماننے والے کچھ نہیں دیکھتے۔
٥٤
اس کے بعد میں مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی نسبت ایک عظیم الشان بات کہنا چاہتا ہوں۔ جو حضرات علم و دانش سے حصہ رکھتے ہیں اور خوف خدا سے کسی وقت اُن کے دل لرزنے لگتے ہیں وہ متوجہ ہو کر غور فرمائیں۔
اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کے مثل طلب کرنے اور معجزہ کہنے پر گہری نظر
حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ سے بہت معجزات ظاہر ہوئے اور کثرت سے پیشین گوئیاں آپؐ نے کیں اور جن کے پورا ہونے کا وقت گزر چکا وہ پوری ہوئیں۔ مگر حضور انور ﷺ نے بجز قرآن مجید کے کسی کو اپنے دعویٰ نبوت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا اور کفار کے معجزہ طلب کرنے کے وقت آپؐ نے نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں معجزہ دکھایا ہے۔ اُس پر نظر کرو، صرف قرآن مجید ہی کو پیش کر کے کہا گیا۔
فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَاءَ كُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صَادِقِیْنَ o فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ط (بقرہ ٢٣۔٢٤)
”یعنی اگر تم (مجھ پر الزام دینے میں) سچے ہو تو قرآن مجید کے مثل ایک سورۃ لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے معین و مددگاروں کو بلاؤ اور اگر نہ لاسکو، تو جہنم کی آگ سے ڈرو۔“
اس فرمانے کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کر دی کہ تم اس کے مثل ہرگز نہ لاسکو گے۔ یہ دعویٰ قرآن مجید سے مخصوص ہے، کسی آسمانی کتاب کی نسبت ایسا نہیں کہا گیا۔ مرزا قادیانی اپنے رسالوں کو اپنی تصنیف کہتے ہیں مگر بعینہ وہی دعویٰ اپنے دونوں رسالوں کی نسبت کرتے ہیں۔ جو قرآن مجید میں کیا گیا۔
اب میں اہل دل حقانی حضرات سے ملتجی ہوں کہ اس بیان میں محققانہ طور سے غور فرمائیں اور ملاحظہ کریں کہ جب مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں کی نسبت بے مثل
٥٥
ہونے کا ویسا ہی دعویٰ کیا جیسا کہ قرآن مجید میں کیا گیا تھا اور اس کے مثل نہ لانے پر اُسی طرح پیشین گوئی کر دی جس طرح قرآن مجید کے مثل نہ لانے پر کی گئی تھی اور مرزائی جماعت اُس پر ایمان لے آئی اور اُسے مرزا قادیانی کا معجزہ سمجھی تو نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے رسالے اُن کے خیال کے بموجب ویسے ہی بے مثل ہیں۔ جیسے قرآن مجید بے مثل ہے۔ جب اس خاص صفت میں یعنی بے مثل ہونے میں وہ رسالے اور قرآن مجید یکساں ہوئے اور قرآن مجید کی خصوصیت نہ رہی تو اُس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ رسالے قرآن مجید کے مثل ہیں۔ اُس لئے قرآن مجید کا یہ دعویٰ کہ اس کے مثل کوئی نہیں لا سکے گا۔ غلط ٹھہرا اور جناب رسول اللہ ﷺ کا وہ عظیم الشان معجزہ جسے حضور انور ﷺ نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا تھا باطل ہوا۔ اب اس کا فیصلہ ناظرین اہل علم پر چھوڑتا ہوں کہ جس دعویٰ کا انجام یہ ہے جو ابھی بیان کیا گیا، کس غرض سے کیا گیا؟ میں اپنی زبان سے کچھ نہیں کہتا۔ اس کے علاوہ اس پر بھی نظر کی جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف قرآن مجید اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا جو عربی نثر میں ہے۔ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں دو رسالے پیش کرتے ہیں۔ ایک نظم میں اور دوسرا نثر میں، اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید یعنی صرف نثر عبارت پیش کر کے اس کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
مرزا صاحب نظم اور نثر دونوں میں پیش کر کے یہی دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسا ہی ہوا جیسا اعجاز احمدی میں کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کیلئے تو صرف خسوف قمر ہوا تھا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا۔ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ پر میری فضیلت ثابت ہو گئی۔
میرا یہ کہنا اگرچہ آپ کو تعجب خیز معلوم ہوگا۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی نے حضور انور ﷺ کی بہت کچھ مدح سرائی کی ہے اور اپنے آپ کو حضور کا ظل کہتے ہیں۔ پھر اُن کی طرف ایسا خیال کیونکر ہو سکتا ہے؟ مگر آپ خوف خدا کو دل میں لا کر اور طرفداری سے علیحدہ ہو کر اور نظر کو وسیع کر کے مرزا قادیانی کی پیچدار باتوں پر غور کریں۔
٥٦
اس کے علاوہ اگر ان عظیم الشان باتوں سے تھوڑی دیر کیلئے قطع نظر کیجائے تو اس دعوٰی کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ دشمنان اسلام کو مرزا قادیانی نے بہت بڑے اعتراض کا موقع دیا اور جس معجزے کے ابطال سے تیرہ سو برس سے تمام مخالفین عاجز اور ساکت تھے۔ اب مرزا قادیانی کے طفیل سے نہایت دریدہ دہنی سے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح مرزا قادیانی کا دعوٰی تمام دنیا کے اہل مذہب کے علاوہ ٢٣ کروڑ مسلمانوں کے نزدیک بھی محض غلط ہے اور اُس کے جواب نہ دیئے جانے کی نہایت معقول وجوہ موجود ہیں۔ ایسا ہی دعوٰی نزول قرآنی کے وقت بھی ہوگا اور جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی تصنیف کو معجزہ قرار دیا ہے۔ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا ہو، کیونکہ اب کلام کا حدّ اعجاز تک پہنچنا قوت بشری سے خارج نہ ہوا۔ بلکہ انسان ہی کا کلام بھی معجزہ ہوسکتا ہے اور یہ اعجاز خدا کے کلام سے مخصوص نہ رہا۔ غرض کہ سادہ لوح مخالفین اسلام کی نظروں میں نہایت عظیم الشان معجزہ کو بے وقعت کر دیا۔ یہ مجدد ہیں؟ اور یہ مہدی موعود ہیں؟ اسلام کے فائدہ پہنچانے کے لئے آئے ہیں؟ اے اسلام کے بہی خواہو! مرزا قادیانی کی باتوں پر خوب غور کرو۔ میں نہایت خیر خواہی سے تمہیں متنبہ کرتا ہوں۔ اس بیان پر روشنی ڈالنے کیلئے اور بھی چند باتیں آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں۔ انصاف دلی سے آپ غور کریں۔
- (١) رسول اللہ ﷺ کے قرۃ العینین حضرات حسنین رضی اللہ عنہم کی کیسی مذمت
کی ہے۔ جس کا نمونہ میں نے حقیقۃ الوحی میں دکھایا ہے اور اُن کے اقوال اعجاز احمدی سے نقل کئے ہیں۔ پھر کیا عاشق رسول اللہ امت محمدی ہو کر ایسا کہہ سکتا ہے۔ ہرگز نہیں اور عاشق رسول ہونا تو بڑی بات ہے۔ سچا مسلمان بھی اس دریدہ دہنی سے رسول الثقلین کے نواسوں کو وہ کلمات نہیں کہہ سکتا جو مرزا قادیانی نے کہے ہیں۔
- (٢) جناب رسول اللہ ﷺ کو سید المرسلین اور خاتم النبیین مان کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ
٥٧
میرے نشانات و معجزات جناب سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے سو (١٠٠) حصے بھی زیادہ ہیں ہرگز نہیں یہ تو فضیلت کلی کا دعویٰ ہے۔
- (٣) اسی طرح اُن کا یہ شعر تكدّر ماء السابقين وعيننا ...... الى آخر الايام لا
تتكدر
(اعجاز احمدی ص ٥٨ خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)
اس شعر میں سابقین جمع ہے اور اس پر الف ولام استغراق یا جنس کا آیا ہے۔ اس لئے اس کے یہ معنی ہوئے کہ جتنے اولیاء انبیاء پہلے گزر گئے اُن کے فیض کا پانی میلا اور مکدر ہو گیا اور میرا چشمہ کبھی میلا نہ ہوگا۔ یہ نہایت بدیہی دعویٰ ہے۔ تمام انبیاء کرام پر فضیلت کا جس میں جناب رسول اللہﷺ بھی شامل ہیں اور اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا اور اپنی نبوت کے قیامت تک بقاء کا، چنانچہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا قادیانی کو خاتم الانبیاء اپنے اخباروں میں لکھتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی فضیلتیں ہیں جن میں سے بعض کا ذکر آئندہ آئے گا۔
- (٤) کیا ممکن ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کو مان کر اور آپ کا پیرو ہو کر حضرت
مسیح علیہ السلام کی نسبت ایسے بیہودہ اور سخت کلمات زبان سے نکال سکتا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام ١؎ آتھم وغیرہ میں نکالے ہیں اور ایک اولوالعزم نبی کی
١؎ اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔ مرزا نے اپنے بارے میں ایک فیصلہ شائع کیا ہے۔ لکھتے ہیں ”جو میرے لئے نشان ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں ۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) جناب رسول اللہﷺ نے آخر عمر تک کبھی بھی نہیں فرمایا کہ میرے لئے تین سو یا تین ہزار معجزے ظاہر ہوئے یا اس قدر پیشین گوئیاں میں نے کیں۔ مگر مرزا قادیانی شمار کے لئے رجسٹر رکھتے ہیں اور تمام رسائل اور تحریروں میں وہ رجسٹر کھولا جاتا ہے۔ مگر جب کوئی طلبِ حق کیلئے تحقیق حق کے درپے ہو جائے تو ایک نشان کا بھی پتہ نہ ملے گا۔ غرض تین لاکھ سے زیادہ اپنے معجزے بیان کئے اور یہ بھی کہہ دیا کہ کوئی مہینہ بغیر نشانوں (معجزوں) کے نہیں گزرتا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اب اہل بصیرت ان کی عمر پر نظر کر کے کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً سوا تین لاکھ یعنی تین لاکھ پچیس ہزار معجزے مرزا قادیانی سے ہوئے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ دن کے ہر گھنٹہ میں ایک معجزہ مرزا قادیانی صادر کرتے تھے۔ جس کا جی چاہے حساب کر کے
٥٨
بے حرمتی کی ہے۔ ہرگز نہیں کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ایسے الفاظ نہیں نکل سکتے بلکہ قوی الاسلام اُن الفاظ کو سن نہیں سکتا۔ اُس کا دل لرز جاتا ہے۔ اگر کوئی دہریہ خدائے تعالیٰ کے ساتھ گستاخی کرے یا کوئی مردود حضرت سرور انبیاء کی نسبت زبان سے بے ادبانہ کلمات نکالے تو کسی مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اُس کے جواب میں خدائے تعالیٰ یا کسی برگزیدۂ خدائے تعالیٰ کو گالیاں دینے لگے۔ بھلا یہ تو فرمائیے کہ انبیاء کرام کو ایسے سخت کلمات کہنا شریعت محمدیہ میں کسی طور سے جائز ہے؟ حکیم نور الدین قادیانی یا کوئی ذی علم شریعت محمدیہ سے اس کا جواز ثابت نہیں کر سکتا۔
دیکھ لے مگر جناب رسول اللہ ﷺ کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ ارشاد ہے کہ تین ہزار معجزے ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) یہاں تین ہزار سے زیادہ ایک کا بھی اضافہ مرزا قادیانی بیان نہیں کرتے مگر اپنے لئے تین لاکھ نشانوں سے بھی بے تعداد اضافہ بیان کرتے ہیں۔ اب اس پر غور کیجئے کہ معجزہ خاص خدائے تعالیٰ کی طرف سے رسول کی صداقت اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اب جس قدر نشانات اور معجزات زیادہ ہوں گے۔ اسی قدر اُس رسول کی عظمت اور مرتبت زیادہ ہوگی۔ اب مرزا قادیانی اپنے تین لاکھ سے زیادہ معجزات بیان کرتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کے تین ہزار اس سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عظمت اور مقبولیت کو حضور انور ﷺ سے سو (١٠٠) حصے زیادہ بلکہ سوا سو (١٢٥) حصے سے بھی زیادہ بتاتے ہیں اور اُن کے پیرو اس پر آمنا کہہ رہے ہیں۔ بھائیو! اس پر غور کرو جو رسول سید الاولین والآخرین ہو جس پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہو۔ خدائے تعالیٰ نے قطعی طور سے جسے آخرالانبیاء قرار دیا ہو۔ اُس کے بعد کوئی نبی آئے وہ سرور الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سو حصہ زیادہ عظمت رکھتا ہو یہ ہو سکتا ہے۔ کسی مسلمان کا دل اسے باور کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ مگر مرزا صاف طور سے کہہ رہے ہیں۔ اب غور کرو کہ مرزا قادیانی کا خیال جناب رسول اللہ ﷺ سے کیسا ہے اور اُن کی مدح کرنے کا کیا منشا ہے؟ فاعتبروا یا اولی الابصار :
١؎ ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ص ٤ سے ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٨٧ تا ٢٩٣ تک دیکھا جائے۔ جب یہ حاشیہ پیش کیا جاتا ہے تو ناواقفوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات یسوع کو کہے ہیں۔ جب ان کے رسالہ توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢ سے دیکھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور یسوع ایک ہیں تو اور بیہودہ باتیں کہنے لگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ الزاماً ایسا کہا جاتا ہے۔ مگر یہ سب اندھیر ہے۔ الزام دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی الزام دیئے ہیں۔ مگر جس طرز سے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام اور
٥٩
پھر اس سخت کلامی اور سخت بیہودہ گوئی کا یہ جواب دینا کہ پادری نے جناب رسول اللہ ﷺ سے بے ادبی کی تھی۔ اُس کے جواب میں ایسا کہا گیا، کیسا لغو عذر ہے، بلکہ اس قسم کی تحریر یہ اُن کی قلبی حالت کو ظاہر کرتی ہے کہ دل میں انبیاء کرام کی عظمت نہیں ہے۔ بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت مسیح کی نسبت لکھا ہے۔ (استغفر اللہ)
الغرض اس قسم کی باتوں کو خیال میں لاکر اس دعوٰی پر نظر کیجئے اور صاف دل ہو کر میرے بیان میں غور کیجئے تو خدا کے فضل سے پوری امید ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے۔ اُس کی تصدیق آپ کے دل میں ہوجائے گی۔ اب جناب رسول اللہ ﷺ کی مدح
حضرت داؤد علیہ السلام وغیرہ کی بے حرمتی کی ہے۔ کوئی مسلمان کسی طرح نہیں کر سکتا اور نہ شریعت محمدیہ سے اُسے اس طرح کہنا جائز ہے۔ اس واقعہ کو یاد کرنا چاہئے۔ جسے امام بخاری (باب نفخ صور ج٢ ص ٩٦٥) نے روایت کی ہے کہ ایک صحابی کی یہودی سے لڑائی ہوئی تھی اور یہودی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو سارے جہان پر ترجیح دی اور صحابی نے جناب رسول اللہ ﷺ کو اور اس یہودی کے ایک طمانچہ مارا اور یہودی جناب رسول اللہ کے پاس شکایت لے گیا اور حضور نے اُس یہودی کے سامنے فرمایا۔ لا تخیرونی علٰی موسٰی۔ مجھے فضیلت نہ دو موسٰی پر۔ غور کیا جائے کہ صحابی نے کوئی لفظ بے ادبی کا حضرت موسٰی علیہ السلام کی شان میں نہیں کہا تھا۔ صرف جناب رسول اللہ ﷺ کو فضیلت دی تھی اور وہ بھی یہودی کے مقابلہ میں اتنا کہا تھا اور سچی بات تھی۔ مگر حضور نے اُس کو بھی جائز نہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے موسٰی پر نہ بڑھاؤ۔ اس روایت کو حقیقت الوحی میں دیکھنا چاہئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صرف یہود کے مقابلہ میں اپنی فضیلت کو منع فرمایا تو ایسی بیہودہ گوئی اور بے حد فضیحت پادری کے مقابلہ میں کیونکر جائز ہو سکتی ہے؟ جسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ انبیاء کی کی ہے۔ اس کے علاوہ (دافع البلاء ص ٤ خزائن ج١٨ ص ٢٢٠) کے آخر میں تو کسی پادری کے مقابلہ میں نہیں کہتے۔ بلکہ قرآن مجید کا حوالہ دے کر مسلمانوں سے خطاب کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کو نہایت فضیحت ناک الزام دیا ہے۔ اب خلیفہ قادیان فرمائیں کہ جن کی عظمت و شان قرآن مجید میں بار بار بیان کی گئی ہے۔ جن کو اللہ تعالٰی نے اپنا برگزیدہ رسول فرمایا ہو۔ اُن کی نسبت کوئی مسلمان ایسا خیال کر سکتا ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے دافع البلا کے آخر میں کیا ہے؟ ہرگز نہیں
٦٠
سرائی اور اُن کی اتباع وظلیت کا دعویٰ اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی گروہ ہندو عیسائی یا دوسرے مذہب کا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اب اگر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح نہ کرتے اور اُن کے اتباع وظلیت کا دعویٰ مسلمانوں پر ظاہر نہ کرتے تو کوئی مسلمان بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ اس لئے اوّل انہوں نے خوب زور سے دین اسلام کی تائید کی اور رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کی۔ پھر اپنی مدح سرائی اور ضمناً اپنے بیان اور الہامات میں اپنا تفوق جابجا ظاہر کیا۔ پھر نہایت عمدہ پیرایہ سے حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نہایت عظیم الشان معجزہ کا اس انداز سے ابطال کیا کہ مسلمان برہم نہ ہوں۔ یہ سب تمہیدیں بھی آئندہ اپنے مقصود کے اظہار کے لئے کیں۔ جس طرح عبداللہ چکڑالوی پہلے مقلد حنفی تھا۔ اس وقت اُس نے لوگوں کو اپنا معتقد اور پیرو بنایا۔ پھر وہ غیر مقلد ہو کر اہل حدیث بنا اور اپنے تئیں حدیث کا پیرو بتایا اور معتقدین کو غیر مقلد بنایا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے بالکل منہ پھیر لیا اور تمام حدیثوں کو جھوٹی اور غلط کہنے لگا۔ جب اس کے معتقدین نے اُس سے کہا کہ پہلے آپ مقلد تھے اور ہم سے آپ نے تقلید کی ضرورت اور تعریف کی تھی۔ پھر آپ نے غیر مقلد ہو کر عمل بالحدیث کی طرف ہمیں متوجہ کیا۔ اب آپ اُس کی مذمت کرتے ہیں اور حدیثوں کو جھوٹی اور موضوع بتاتے ہیں اور صرف قرآن پر عمل کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے، اُس نے جواب دیا کہ اگر میں آہستہ آہستہ تمہیں بتدریج راہ پر نہ لاتا تو تم ہرگز میری بات کو نہ مانتے۔ میرا شروع سے یہی خیال تھا جو میں اب کہہ رہا ہوں۔ چونکہ اُس کے معتقدین کا اعتقاد راسخ ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ اُس کے پیرو رہے اور جو اُس نے کہا انہوں نے اُسے مانا۔
یہ واقعہ مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتا ہے اور طالبین حق کیلئے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کی حالت کو دکھا رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مثیل مسیح ہونے کا اور نہایت صفائی سے مسیح موعود ہونے سے
٦١
انکار کیا۔ پھر بڑے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل اسلام حضرت مسیح کے منتظر تھے اور اس نازک وقت میں اُن کا بہت زیادہ انتظار تھا۔ اس لئے بعض نیک دل مولوی بھی اُن کے معتقد ہو گئے۔ مگر وہ اپنے اصلی مدعا تک کامیاب نہ ہوئے تھے کہ اس جہان فانی سے رحلت کر گئے مگر اپنے اصلی مقصد یعنی بیخ کنی اسلام کے لئے تخم پاشی کرتے رہے اور بہت سے سادہ دل حضرات اُس سے بے خبر رہے۔ جب اُن کے بعض مقلدین نے اس کے اختلاف اقوال کی نسبت دریافت کیا تو جب کوئی بات نہ بنی تو کہہ دیا کہ جس طرح مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر کیا گیا ویسا میں نے کہا۔ اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ اُنہوں نے خدائے تعالیٰ پر خلاف وعدگی کا الزام لگا کر اپنے آپ کو بچایا اور مریدین اُس پر آمنا کہہ رہے ہیں اور نصوص قطعیہ کے خلاف حیلۂ یَعِدُہُ لَا يُوْفِیْ پیش کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خیال میں مریدین کی ابھی تک یہ حالت نہ پہنچی تھی کہ میرے اعلانیہ کہنے سے یہ لوگ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انکار کر کے میرے پیرو ہو جائیں گے۔ اس لئے درپردہ وہ ایسی باتیں کہیں تاکہ آئندہ کسی وقت اصلی منشاء کا اظہار کریں اور اُس وقت کہیں کہ فلاں فلاں بات اس لئے کہی تھی، مگر چونکہ تمہاری طرف سے پورا اطمینان نہ تھا اس لئے صاف طور سے نہیں کہا۔
الحاصل، رسالہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی نسبت جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ اگر صحیح ہو تو قرآن مجید کا اعجاز باطل ہو جائے گا اور دشمنان اسلام کو دریدہ دہنی کا عمدہ موقع ملے گا۔
١؎ لطف یہ ہے کہ وہ وعدہ خلافی کا لفظ نہیں بولتے تاکہ عوام دھوکہ کھائیں بلکہ کسی وقت یہ کہتے ہیں کہ وعید کا پورا نہ ہونا سنت اللہ ہے۔ کبھی کہتے ہیں سنت مستمرہ ہے۔ وعدہ کی نسبت کبھی کہتے ہیں کہ بعض وقت وعدے میں پوشیدہ شرطیں ہوتی ہیں کہ اُن کا علم نہیں ہوتا اس لئے بظاہر خلاف وعدگی معلوم ہوتی ہے۔ کسی وقت بعض اولیاء اللہ کی طرف اس قول کو منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام باتیں شانِ خداوندی کے بالکل خلاف ہیں۔ مگر اُن کو ایسی رنگ آمیزی سے بیان کیا جاتا ہے کہ عوام کم علم حضرات کی تسکین ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کو بُرا نہ سمجھیں، افسوس اس خیال پر۔
٦٢
برادران اسلام! مرزا قادیانی کی اس گہری پالیسی کو غور سے دیکھیں اور خدا سے ڈر کر اُن سے پرہیز کریں۔
- (٣) مرزا قادیانی شہادۃ القرآن (ص ٧٩ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) میں لکھتے ہیں۔ کہ
’’پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔‘‘ پھر منکوحہ آسمانی کی پیشین گوئی کو بہت ہی عظیم الشان نشان بتایا ہے جو ایک عورت کے نکاح میں آنے اور اُس کے شوہر اور اُس کے والد کے مرنے کی خبر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے بوحی الہی پیشینگوئیاں کی ہیں اور اولیاء عظام بھی کرتے رہے ہیں۔ مومنین کاملین بھی فراست سے پیشین گوئی کرتے ہیں اور کی ہیں جس کی نسبت ارشاد ہے۔ اتقوا فراست المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ مگر یہ کسی نے نہیں کہا کہ پیشین گوئی کرنا معیار صداقت ہے اور نبی کے سوا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا اور سوائے وحی اور الہام کے کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جس سے انسان آئندہ کی خبر معلوم کر سکے۔ یہ تشخیص محض غلط ہے کیونکہ اکثر ہوشیار تجربہ کار بخوبی واقف ہیں۔ اخباروں میں دیکھتے ہیں۔ معائنہ کرتے ہیں کہ رمال، جفار، نجومی، پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور پہلے کاہن کیا کرتے تھے اور اُن کی پیشین گوئیاں اکثر صحیح ہوتی تھیں۔ پھر ایسی مشترک چیز کو یہ کہنا کہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ سوائے وحی یا الہام کے کسی ذریعہ سے اس کا علم نہیں ہو سکتا۔ کیسا صریح غلط دعویٰ ہے اور پھر ایک معمولی پیشین گوئی کو نہایت عظیم الشان معجزہ بتانا محض سادہ لوحوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے۔ جس پر خواص کیا عوام بھی شہادت دے سکتے ہیں۔ تین چار برس ہوئے۔ مونگیر میں ایک رمال آیا تھا اور جو کوئی اُس سے آئندہ کی بات کا سوال کرتا تھا وہ کچھ لے کر جواب دیتا تھا۔ یعنی پیشین گوئی کرتا تھا اور دریافت کرنے والوں نے بیان کیا کہ اُس کی اکثر پیشین گوئیاں صحیح ہوئیں۔ بعض حضرات راقم الحروف کا تجربہ دریافت کرتے ہیں۔ بہ نظر خیر خواہی اُسے بھی کچھ بیان کرتا ہوں۔ بعض بزرگ اہل اللہ کی پیشین گوئیوں کو دیکھا اور ایسا دیکھا کہ جس طرح اُنہوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ کبھی اُس کے خلاف نہیں ہوا، مگر کسی وقت اور کسی طرح کا اُنہیں دعویٰ کرتے نہیں
٦٣
دیکھا اور بعض ایسے ہندو اور مسلمان کو بھی دیکھا جو علم نجوم وغیرہا کے ذریعہ سے پیشین گوئی کرتے تھے۔ کم سنی میں میں نے ایک ذی علم ہندو کو دیکھا جو اپنی ہندی کے سوا علم عربی فارسی بھی اچھی طرح جانتا تھا۔ ایک روز میرے روبرو ایک شخص کا ہاتھ اس نے دیکھ کر کہا کہ تمہاری اولاد تو بہت ہے مگر مرے گی بھی بہت۔ تیس چالیس برس تک دیکھا گیا جیسا اُس نے کہا تھا ویسا ہی ہوا اور جو پیشین گوئی اُس نے کی تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔ مولوی بقا حسین صاحب فلکی مشہور ہیں۔ اُن کی پیشین گوئیاں چھپتی رہتی ہیں۔ وہ ایک مرتبہ مجھ سے ملے اور اتفاقاً دریافت کیا کہ آپ کس روز اور کس وقت پیدا ہوئے ہیں۔ میں نے بتا دیا، اُس وقت تو وہ چلے گئے کئی روز کے بعد پھر اُن سے ملاقات ہوئی، اُس وقت انہوں نے میری حالت کے متعلق گذشتہ اور آئندہ کی متعدد خبریں دیں اور وہ صحیح ثابت ہوئیں۔ جن کو اخبار بینی کا شوق ہے وہ دیکھتے ہیں کہ اخباروں میں پیشین گوئیاں چھپتی رہتی ہیں اور اکثر پوری بھی ہو جاتی ہیں۔ پھر اس سے انکار کرنا کس قدر بے خبری یا ابلہ فریبی ہے۔ جس کی انتہا نہیں، یہ تو موجودہ زمانے کا تجربہ بیان کیا گیا۔ گذشتہ زمانہ کا معتبر تجربہ بھی ملاحظہ کیا جائے۔ رمال اور نجومی کے علاوہ پیشتر کاہن پیشین گوئیاں کرتے تھے اور اکثر اُن کے کہنے کے مطابق ہوتا تھا۔ حدیث سے بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں حیرت خیز واقعہ لکھتے ہیں۔ اسے ملاحظہ کیا جائے۔
ان الكاهنة البغدادية التى نقلها السلطان سنجر بن ملک شاه من بغداد الى خراسان وسائلها عن الحوال الآتية فى المستقبل فذكرت اشياء ثم انها وقعت على وفق كلامها. قال مصنف الكتاب وانا قد رأت اناسا محققين فى علوم الكلام والحكمة حكوا عنها انها اخبرت عن الاشياء الغائبة اخبار على سبيل التفصيل وجأت تلک الوقائع على وفق خبرها وبالغ ابوالبرکات فى کتاب المعتبر فى شرح حالها وقال قد تفحصت عن حالها مدة ثلثين سنة حتى يتقنت انها
٦٤
کانت. تخبر عن المغیبات اخبارا مطابقا (تفسیر کبیر، ج٨) ”ایک بغدادیہ کاہنہ کو سلطان سنجر بغداد سے خراسان لے گیا اور بہت سے آئندہ کے حالات اُس سے دریافت کئے اور اس عورت نے ان کا جواب دیا اور جیسا اُس نے کہا تھا۔ اسی کے مطابق ہوا۔ (یعنی پیشین گوئیاں اُس نے کی تھیں۔ وہ سب پوری ہوئیں) امام فخر الدین رازیؒ کہتے ہیں کہ میں نے بعض ایسے علماء کو دیکھا جو علم کلام اور علم حکمت کے محقق تھے۔ انہوں نے اُسی عورت کاہنہ کی نسبت بیان کیا کہ اُس نے بہ تفصیل بہت سی آئندہ باتوں کی خبریں دیں اور اُس کے کہنے کے مطابق ان کا ظہور ہوا اور (علامہ) ابوالبرکات نے اپنی کتاب معتبر میں اس کا مشرح حال بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے تیس برس تک اس کے حالات کو تحقیق کیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس کی پیشین گوئیاں صحیح ہوتی ہیں۔ تفسیر کبیر کی آٹھویں جلد میں یہ بیان ہے۔“
اور مرزا قادیانی اس تفسیر کو ایسا معتبر سمجھتے ہیں کہ اپنے قول کی سچائی میں اس کی تصدیق پیش کی ہے۔
(انجام آتھم ص ٣٠ خزائن ج ١١ ص ایضاً ملاحظہ ہو)
اس پر نظر کی جائے کہ وہ عورت پیشین گوئیاں کرنے میں اس قدر مشہور تھی کہ خراسان کا بادشاہ اُسے بغداد سے لے گیا اور امام فخر الدین رازیؒ اُس کی پیشین گوئیوں کی صداقت میں تین شہادتیں پیش کرتے ہیں۔ اوّل بادشاہ خراسان کا تجربہ دوم متعدد علمائے محققین کا تجربہ کہ اس کاہنہ نے بہت سی آئندہ باتوں کی خبر دی اور جیسا اُس نے کہا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا۔ سوم علامہ ابوالبرکات کے تیس برس کا تجربہ اور اس تجربہ کے بعد اُس کی پیشین گوئیوں کے سچے ہونے کی نسبت اپنا یقین ظاہر کرتے ہیں۔ اب یہ کیسی بیّن شہادتیں مرزا قادیانی کے قول کو غلط بتا رہی ہیں اور موجودہ اور گذشتہ صحیح واقعات اُن کے کلام کو محض غلط ثابت کر رہے ہیں۔ پھر ایسی غلط بات کو اپنے دعویٰ کی صداقت میں پیش
٦٥
کرنا اور ایک معمولی بات کو عظیم الشان نشان اور معجزہ کہنا کسی دیندار ذی علم کا کام نہیں ہوسکتا اور خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں کی تو بہت بڑی شان ہے۔ اُن کی زبان و قلم سے ایسی غلط باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیا مسیح موعود اپنے دعویٰ کے اثبات میں ایسی بات پیش کریں گے جس کی غلطی آفتاب کی طرح روشن ہے۔ جس کو موجودہ زمانے کے واقعات اور تجربہ اور گذشتہ زمانے کی شہادتیں غلط بتا رہی ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ کسی ایماندار کی عقل اس کو جائز نہیں رکھ سکتی۔ اس کاہنہ کے حال میں اُن حضرات کو غور اور انصاف کرنا چاہئے۔ جو مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کی (خیالی) صداقت پیش کر کے یہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی سچے نہ تھے تو پیشین گوئیاں کیوں سچی ہوئیں اور خدائے تعالیٰ نے ان کے کذب و افتراء کی کیوں تائید کی۔ اگر مرزا قادیانی جھوٹے ہوتے تو اُن کی پیشین گوئیاں پوری نہ ہوتیں اور یہ کامیابی اُنہیں نہ ہوتی اور خدائے تعالیٰ اُن کی تائید نہ کرتا۔ اب یہ حضرات اس کاہنہ کے حال پر نظر کریں اور خدائے تعالیٰ کے کرشموں اور حکمتوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ ایک ادنیٰ کافرہ عورت اپنی پیشین گوئیوں کی وجہ سے اس قدر کامیاب ہوئی کہ خراسان کا بادشاہ اُسے قدر کے ساتھ لے گیا اور بڑے بڑے علماء اُس کی تعریف کرتے ہیں۔ اس کافرہ ادنیٰ عورت کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ مرزا قادیانی اپنی حیثیت کے لحاظ سے اس قدر کامیاب نہیں ہوئے اور کوئی ذی علم ایماندار یہ نہیں کہہ سکتا کہ پچیس یا تیس برس تک ہم نے مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کا تجربہ کیا اور کوئی پیشین گوئی اُن کی جھوٹی نہ ہوئی۔
بھائیو، جھوٹی پیشین گوئیوں کا انبار ہے۔ باایں ہمہ اگر مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں خدائے تعالیٰ پر الزام آتا ہے تو اس کاہنہ کی پیشین گوئیوں کے پورا ہونے پر بھی الزام آنا چاہئے، کیونکہ وہ کاہنہ باوجود کافرہ ہونے اور شیاطین سے رابطہ رکھنے کے اہل اسلام بالخصوص علماء کے روبرو پیشین گوئیاں کرتی رہی اور خدائے تعالیٰ انہیں پوری کرتا رہا اور اُس کے کفر اور شیاطین کے ذلیل کرنے کیلئے اُسے جھوٹا نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے بالاضطرار اور بالطبع مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس کافرہ کی صداقت اور عظمت بیٹھی اور یہ وہ خطرناک امر ہے۔ جس سے انبیاء کرام علیہم السلام کی پیشین گوئیوں کی عظمت عوام کے
٦٦
خیال میں نہیں رہتی۔
المختصر اگر مرزا قادیانی کے کاذب ماننے پر بقول مرزائیاں خدا تعالیٰ پر الزام آسکتا ہے تو اس کاہنہ کی پیشین گوئیوں کے سچے ہونے پر بھی آسکتا ہے؟ اگر مرزا قادیانی کی طرح زبان درازی کی مشق ہوتی اور خوفِ خدا نہ ہوتا تو الزام کی تقریر کر کے دکھلا دیتا، مگر عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔
الحاصل! یہ یقینی بات ہے کہ پیشین گوئی کرنا اور اُس کا سچا ہو جانا اور کامیاب ہونا نبوت یا ولایت کی دلیل نہیں ہے۔ دیکھو اس وقت مخالفین ١؎ اسلام کس قدر کامیاب ہیں اور اُن کی کامیابی سے دنیا پر کیسا مذہبی اثر ہو رہا ہے۔ خدا کے لئے نظر وسیع کر کے اس میں غور کرو۔ پھر مرزا قادیانی کی کامیابی کو اُس سے مقابلہ کرو۔ مدرسہ قادیان کے بعض تعلیم یافتہ اصل دلیل کے جواب میں کچھ ایسے مضطرب ہوئے کہ رمال وغیرہ کی پیشین گوئیوں سے انکار کر دیا اور قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی۔
١؎ یہاں مرزا قادیانی کے پیرو یہ کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ جو الہام اور نبوت کا دعویٰ کرے اور مفتری علی اللہ ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہتے کہ کوئی مخالف اسلام کامیاب نہیں ہوتا۔ افسوس ہے کہ بعض ذی علم نیک طبیعت بھی مرزا قادیانی کے دام میں ایسے آگئے کہ اپنے علم و فہم کو بھی کھو بیٹھے۔ اے عزیزو! اس پر تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے یہ قید کیوں لگائی۔ کیا قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت ہے؟
یہ تو ہرگز نہیں ہے مفتری علی اللہ قرآن مجید میں فرعون کی جماعت کو بھی کہا ہے۔ یہود و نصاریٰ کو بھی کہا ہے۔ مشرکین کو بھی کہا ہے اور جو الہام نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اُسے بھی کہا ہے۔ اب کوئی یہ ثابت کرسکتا ہے کہ مفتری کی آخری قسم کیلئے بالتخصیص ناکامی کسی آیت سے ثابت ہے۔ دوسروں کیلئے نہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی جماعت کو مفتری علی اللہ کہہ کر فرمایا و خاب من افتری یعنی نقصان اور ٹوٹے میں پڑا، وہ شخص جس نے خدا پر افتراء کیا۔ یہاں تو عام مفتری کیلئے یہ حکم خداوندی بیان ہوا ہے، پھر قرآن مجید کے خلاف مرزا قادیانی کی شرط پیش کر کے ہمیں الزام دینا چاہتے ہو اور خدا کا خوف نہیں کرتے اور اگر اس شرط کیلئے کوئی عقلی ثبوت رکھتے ہو تو وہی پیش کرو مگر ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں پیش کر سکتے۔ مرزا قادیانی اس مخصوص مفتری کی ناکامی کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ اُس کی گمراہی دنیا میں نہ پھیلے، اب جن کی آنکھیں ہیں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٦٧
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (جن ٢٦)
اس آیت کی تفسیر مجیب تو کیا سمجھیں گے، اگر خلیفہ قادیان بھی سمجھے ہوں گے تو اس بات کے ہرگز قائل نہ ہوں گے کہ اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بغیر الہام یا وحی کے کوئی انسان کسی طرح پیشین گوئی نہیں کر سکتا یہ موقع اس کی تفصیل کا نہیں ہے۔ صرف اس قدر کہوں گا کہ آیت میں لفظ غیب آیا ہے اور وہ مضاف ہے۔ ضمیر کی طرف جو عالم الغیب کی طرف پھرتی ہے۔ جس سے غیب کی خصوصیت سمجھی گئی اس لئے آیت کا یہ مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب کو کسی مخلوق پر ظاہر نہیں کرتا۔ مگر اپنے خاص رسول پر اب اگر غیب کے معنی وہ لئے جائیں جو مجیب سمجھا ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں۔ جو واقعات صحیحہ کے خلاف ہیں اور جن کے غلط ہونے کو ہر خاص و عام جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں۔ مگر ایسے معنی کرنا مدرسۂ قادیان کے تعلیم یافتوں کے سوا کوئی فہمیدہ ایماندار نہیں کر سکتا۔ آیت کے بیان میں عوام کے لئے تو میں اس قدر کہتا ہوں کہ یہاں غیب کے معنی بھید کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کسی پر اپنا بھید ظاہر نہیں کرتا۔ بجز اپنے خاص رسول کے۔ اس لئے آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو باتیں بھید کی نہیں ہیں۔ ان کا علم بھی کسی کو نہیں ہوتا اور یہ نہایت ظاہر ہے کہ فلاں مرد کا نکاح فلاں عورت سے ہوگا اور اُس عورت کا باپ یا شوہر اتنے دنوں میں مرے گا۔ خدا کے بھید میں داخل نہیں ہے۔ اس لئے علم رمل وغیرہ سے ایسی باتوں کا معلوم کرنا اس آیت کے خلاف نہیں ہے اور اہل علم سے یہ کہتا ہوں کہ غیب کے کئی معنی ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جو چیز انسان اپنے ظاہری اور باطنی حواس سے معلوم نہ کر سکے۔ اسے غیب کہتے ہیں۔ اب جس قدر باتیں رمال، نجومی،
(بقیہ حاشیہ) اور کچھ عقل بھی اُس کے ساتھ ہے تو دیکھ لے کہ اس وقت دہریہ اور نصاریٰ کس قدر گمراہی دنیا میں پھیلا رہے ہیں؟ مرزا قادیانی کی جماعت کو دہریوں کی جماعت سے مقابلہ کیا جائے جب دوسرے گمراہوں کی گمراہی جھوٹے ملہم کی گمراہی سے زیادہ دنیا کو تباہ و گمراہ کر رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ نصاریٰ اور دہریہ ناکام اور برباد نہ ہوں اور صرف جھوٹے ملہم ہی تک ناکامی محدود رہے۔ بھائیو! ذرا عقل سے کام لو مرزا قادیانی کی شرطوں اور قولوں پر اپنے ایمان کو برباد نہ کرو۔
کاہن، اہل فراست یا جو گذشتہ اور آئندہ کی خبریں دیا کرتے ہیں۔ غیب میں داخل نہیں ہیں کیونکہ انسان انہیں اپنے علم اور اپنی فہم سے معلوم کر سکتا ہے۔ اس لئے (مذکورہ آیت کا یہ مطلب سمجھنا کہ مطلقاً پیشین گوئی کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے) محض غلط ہے۔
الغرض عام پیشین گوئیوں کو انسانی طاقت سے باہر بتانا اور معمولی پیشین گوئیوں کو بہت ہی عظیم الشان کہہ کر اپنی صداقت کی دلیل میں پیش کرنا کسی صادق کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے اپنی صداقت کے ثبوت میں اپنی پیشین گوئیوں کو پیش نہیں کیا اور نہ کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ پیشین گوئی کرنا نبوت یا مجدد ہونے کی دلیل ہو سکتی ہے۔ اس بیان سے روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی صداقت کا بڑا معیار پیشین گوئی کو قرار دیا تھا وہ محض غلط ہے۔ پیشین گوئی صداقت کا معیار نہیں ہو سکتی اسی تحقیق کی بناء پر میں نے حصہ دوم میں لکھا ہے کہ پیشین گوئی کا سچا ہو جانا معیار صداقت نہیں ہے۔ اس پر وہی قادیان کے تعلیم یافتہ بڑی شوخ چشمی سے لکھتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں سچی ہوئیں۔ اس لئے یہ ایسا کہہ دیا۔ مگر اہل نظر واقف کار جانتے ہوں گے کہ یہ خیال محض غلط ہے۔ میں نے ایک سچی اور واقعی تحقیق بیان کی ہے اور مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشین گوئیاں تو فیصلہ آسمانی کے پہلے اور دوسرے حصہ میں بیان ١؎ کی گئی ہیں۔ اب انہیں کوئی سچا ثابت کرے جو حضرات مرزا قادیانی کے قریب رہتے ہیں اور ان کی حالت سے زیادہ واقف ہیں۔ وہ تو اعلانیہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کوئی ایسی پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی جو صاف لفظوں میں ہو۔ مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا قادیانی کے روبرو کہتے رہے اور چیلنج دیتے رہے کہ پیشین گوئیوں کی پڑتال پر گفتگو کر لی جائے۔ مرزا قادیانی نے دھمکیاں تو بہت دیں اور حسب عادت اس کے متعلق جھوٹی پیشین گوئیاں بھی کیں۔ مگر یہ جرأت نہ ہوئی کہ اُن کے مقابل میں پیشین گوئیوں کی صداقت ثابت کرتے۔ اُن کے مرنے کے
١؎ اور ایک رسالہ خاص اُن کی غلط پیشین گوئیوں میں لکھا گیا ہے۔ مسیح کاذب (اس رب العزت کو منظور ہوا تو اسے بھی شائع کیا جائے گا۔ فقیر ) جس کا نام ہے اور رسالہ النجم الثاقب دیکھنا چاہئے۔ جس میں جھوٹی پیشین گوئیوں کے علاوہ جن پیشین گوئیوں کے سچے ہونے کا دعویٰ ہے۔ انہیں بھی غلط ثابت کر کے دکھایا ہے۔
٦٩
بعد اُن کے متبعین سے بھی اُن کا یہی چیلنج ہے کہ پیشین گوئیوں کی پڑتال کرلیں۔ لاہور میں جلسہ کرلیا جائے مگر کسی قادیانی کی جرات نہ ہوئی، پھر کس بنیاد پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں مگر میں نے تو یہ دکھا دیا کہ اگر اس قسم کی پیشین گوئیاں صحیح بھی ہو جائیں تو دعویٰ نبوت یا مہدویت ثابت نہیں ہو سکتا۔ بعض قادیانی اس قول کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ پیشین گوئی کا صحیح ہونا صداقت کی نشانی نہیں اُس کا کسی پیشین گوئی پر اعتراض کرنا شرارت سے خالی نہیں۔ اُس نے تو سارے انبیاء کی پیشین گوئیوں پر ہاتھ صاف کردیا۔ یہ دعویٰ تو دلیل بینہ سے ثابت کردیا گیا کہ پیشین گوئی کا صحیح ہو جانا معیار صداقت نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں کسی ذی علم راستباز کا یہ مذہب نہیں ہے کہ پیشین گوئی کا صحیح ہو جانا مدعی کی نبوت یا مقدس ہونے کی دلیل ہے۔ تمام رمال، جفار، کاہن، پیشین گوئی کرتے ہیں اور اُن کی بہت پیشین گوئیاں صحیح ہوتی ہیں۔ دنیا میں کوئی وسیع النظر واقف کار اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ایک کاہنہ کا حال لکھا گیا کہ بڑے بڑے علماء نے برسوں اُس کی پیشین گوئیوں کا تجربہ کیا اور صحیح پایا پھر جو شخص ان بدیہی باتوں پر نظر نہ کرے اور اس بات کی وہ کوئی دلیل بھی پیش نہ کر سکے کہ پیشین گوئی کا سچا ہو جانا صداقت کی دلیل ہے۔ بایں ہمہ اُس کا دعویٰ کرنا کہ پیشین گوئی کا سچا ہوجانا صداقت کی نشانی ہے۔ حماقت بلکہ شرارت سے خالی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہوش و حواس رکھ کر کوئی پڑھا لکھا انسان نیک نفسی کے ساتھ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جسے عالم کے واقعات روز مرہ کے تجربات غلط بتا رہے ہوں۔ اس شخص کی شرارت اس سے بھی ظاہر ہے کہ بلاوجہ اور بغیر کسی دلیل کے ایک مسلمانوں کے خیرخواہ کو شریر بتا رہا ہے۔ کوئی حق پسند ذی علم نہیں کہہ سکتا کہ پیشین گوئیوں کا صحیح ہونا صداقت کی نشانی ہے۔ پیشین گوئی ایک مشترک چیز ہے۔ انبیاء بھی کرتے ہیں اور غیر انبیاء بھی کرتے ہیں اور ہر ایک کی پیشین گوئی صحیح بھی ہوتی ہے۔ پھر اسی مشترک چیز کو نبوت کا نشان بتانا بجز جہالت یا ابلہ فریبی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس میں انبیاء کی شان میں کسی قسم کی بے ادبی نہیں ہے بلکہ امر حق ظاہر کرنے کے لئے ایک سچی بات کا اظہار ہے اور یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ کھانا کھانا نبی کی
٧٠
صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ تمام انسان کھاتے ہیں اسی طرح پیشین گوئی کرنا نبوت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ بعض اور انسان بھی پیشین گوئی کرتے ہیں۔ جو نبی نہیں ہیں اس میں شبہ نہیں ہے کہ پیشین گوئی کے اسباب میں فرق ہے۔ انبیاء کرام وحی و الہام سے کرتے ہیں اور دوسرے لوگ علم و فراست سے مگر یہ فرق ایسا ہے کہ دوسروں پر ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اسی وجہ سے کسی نبی نے اپنی صداقت کے معیار پیشین گوئی کو نہیں بتایا اب جو مدعی تمام انبیاء کے خلاف پیشین گوئی کو اپنی صداقت کا معیار بتاتا ہے۔ وہ بالیقین کاذب ہے اور اُس کے کذب پر قرآن مجید کی نص قطعی شاہد ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ خاتم النبیین کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے اس کے کاذب ہونے میں کسی مسلمان کو تردد نہیں ہو سکتا ہے اور ہاتھ صاف کرنا اسے کہتے ہیں۔ جیسا مرزا قادیانی نے بعض انبیاء ؎١ پر کیا ہے۔ جن کی مدح میں خدائے تعالیٰ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فرماتا ہے جن کو مقربین میں ارشاد فرما کر اُن کے معجزات بیّنہ کو بیان فرمایا ہے۔ انہیں معجزات کو مسمریزم اور تالاب کی مٹی کا اثر بتایا ہے اور ایسے فحش کلمات اُن کی شان میں لکھے ہیں کہ کوئی بھلا آدمی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کو بھی نہیں کہتا۔ اُن کلمات کو دیکھ کر یا کسی کی زبان سے سُن کر سچے مسلمان کا دل لرز جاتا ہے اور کسی حالت میں اُن کلمات کا زبان پر لانا تو کسی مسلمان کا کام نہیں۔
الحاصل! معمولی پیشین گوئیوں کو عظیم الشان نشان قرار دے کر اپنی صداقت کا معیار بتانا کسی صادق کا کام نہیں ہے۔ مگر الحمد للہ کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے بھی کاذب ثابت ہوئے۔ یعنی وہ پیشین گوئیاں غلط ہوئیں۔ جنہیں انہوں نے اپنی صداقت کا عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا۔ یہ خدا کا بڑا فضل ہوا کہ حق و باطل پوشیدہ نہ رہا۔
؎١ اس سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہیں اور حضرت یونس علیہ السلام کو بھی انجام آتھم میں ایسے ناروا الزام دیئے ہیں کہ شان نبوت کے نہایت ہی منافی ہیں اس کا ذکر خاص رسالے میں دیکھنا چاہئے جو حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر میں لکھا گیا ہے۔ (اس کا نام تذکرہ یونس ہے۔ مونگیر سے شائع ہوا)
٧١
(٤) یہ تو اظہر من الشمس کر دیا گیا کہ پیشین گوئی کا سچا ہو جانا صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ اب یہ بھی معلوم کرنا چاہئے کہ پیشین گوئی کا پورا نہ ہونا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی اگر کسی مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی غلط ہو جائے تو اُس کا جھوٹا ہونا یقینی ہے۔ قرآن مجید اور توریت ؎١ دونوں اس کی شہادت دیتے ہیں۔ توریت کتاب استثناء باب (١٨) میں ہے۔ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جاوے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کہے اور جو اُس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اُس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔“ اس حوالے میں ناظرین کو دو باتوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
ایک یہ کہ یہاں کہا گیا ہے کہ جس مدعی نبوت کی پیشین گوئی سچی نہ ہو اُسے جھوٹا سمجھو اور اس معیار اور شناخت کو ایسا محکم اور کامل قرار دیا کہ کسی دوسری حالت پر توجہ
١؎ اس دعوٰی کے ثبوت میں قرآن مجید اور توریت مقدس دونوں کا حوالہ اس لئے دیا ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ اس مضمون میں قرآن مجید اور توریت بالکل مطابق ہیں۔ اس سے کامل طور سے ظاہر ہے کہ توریت کا یہ مضمون تحریف سے پاک ہے اور مرزا قادیانی (توضیح مرام ص ٧، ٨ ملخص خزائن ج ٣ ص ٥٥) میں انجیل اور قرآن مجید سے وعدہ الٰہی نقل کر کے لکھتے ہیں ۔ ”کیا اس میں خدا کے اس وعدہ کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے۔ چونکہ قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ جس طرح قرآن مجید خدا کی پاک کتاب ہے اسی طرح توریت و انجیل بھی خدا کی کتابیں ہیں۔“ اس لئے مرزا قادیانی ان سب کتابوں کو خدا کی پاک کتاب سمجھتے ہیں۔ اب جس کا قلب کفر و الحاد اور دہریت سے پاک ہے۔ وہ پاک کتابوں کے متفق علیہ مسئلہ کو ضرور مانے گا اور جس کا دل ملوث ہو وہ کچھ نہ کچھ باتیں بنا کر خدا کی پاک کتابوں کی بات ٹال دے گا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔ آمین ! غرض جس طرح یہاں مرزا قادیانی نے توریت و انجیل کا حوالہ دیا اور اُسے پاک کتاب بتایا اسی طرح ہم نے بھی حوالہ دیا جس طرح توضیح المرام کے حوالہ کو حضرات مرزائی صحیح مانتے ہیں۔ یہاں بھی ماننا ہوگا۔ اگر کچھ انصاف پسندی ہے اور جب یہ مضمون کتاب اللہ کا ہے تو مرزا قادیانی کو نبی کاذب ضرور ماننا ہوگا۔
کرنے کا اشارہ بھی نہیں کیا گیا مگر یہ نہیں کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرنے والا پیشین گوئی کرے اور اس کے کہنے کے مطابق ظہور میں آئے تو اُسے مانو وہ خدا کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ اس لئے صاف ظاہر ہوا کہ پیشین گوئی کا سچا ہو جانا مدعی نبوت کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ حضرات مرزائیاں عبث مرزا قادیانی کی بعض مہمل پیشین گوئیوں کو لئے پھرتے ہیں اور غل مچاتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی۔
الغرض! توریت میں نہایت صراحت سے بیان ہوا کہ پیشین گوئی کا پورا نہ ہونا۔ مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ یعنی جو نبوت کا دعویٰ کرے اور اس کی ایک پیشین گوئی بھی پوری نہ ہو وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ توریت کا یہ مضمون قرآن مجید کے بالکل مطابق ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اُسی کتاب الٰہی کا ہے۔ جس کی تصدیق قرآن مجید میں ہے۔ اس لئے اس صریح ارشاد کی طرف توجہ نہ کرنا کلام الٰہی سے منہ پھیرنا ہے۔ اب قرآن مجید کا ارشاد بھی ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید میں بہت جگہ نہایت تاکید سے قطعی طور پر بیان ہوا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں۔ وہ ذات مقدس جس طرح تمام عیوب سے منزہ اور پاک ہے۔ اسی طرح وہ وعدہ خلافی کے عیب سے بھی پاک ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ وہ کوئی وعدہ کرے اور پورا نہ کرے؟ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اُس کے کسی وعدے میں ایسی پوشیدہ شرطیں ہوں کہ بندے اُس سے واقف نہ ہوں؟ کیونکہ اس کی وجہ سے اس کریم کے تمام وعدوں سے اطمینان اٹھ جائے گا اور کسی وعدہ کی وقعت بندے کے قلب میں نہ رہے گی اور اس کے تمام وعدے بیکار ہو جائیں گے۔ یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ جس طرح اُس کے تمام وعدے پورے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اُس قدوس غیر متغیر اور متین کی ساری وعیدیں بھی پوری ہوتی ہیں ٹل نہیں سکتیں۔ اس پر ایمان رکھنا فرض ہے۔ اب اس دعوے کے ثبوت میں قرآن مجید کی چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
- (١) رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
اِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِيْعَاد
(آل عمران ١٩٤)
”اے ہمارے پروردگار تو نے جو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ہم
٧٣
سے وعدہ کیا ہے۔ اُسے پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘
اس آیت میں تعلیم ہورہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے رہا کرو کہ تو نے جو اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ عنایت فرما۔ پھر اُس عنایت فرمانے اور وعدہ پورا کرنے کی ترغیب میں اس طرح کہنے کی تعلیم ہوئی کہ إِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِيْعَادَ یعنی اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا تیرے سارے وعدے پورے ہوا کرتے ہیں۔ یہ طرز بیان روشن دلیل ہے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے پورے ہوا کرتے ہیں۔ یہ طرز بیان بتا رہا ہے کہ المیعاد میں الف و لام استغراق کا ہے چونکہ الدعاء مخ العبادة (کنز العمال ج ٢ ص ٦٢ حدیث ٣١١٤) یعنی دعا کرنا عبادت کا مغز ہے۔ اس لئے دعا کا طرز تعلیم ہوا۔
الغرض! یہ آیت قطعی طور سے ثابت کرتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے وعدے جو اُس کے رسولوں کے ذریعے سے ہوتے ہیں ان میں خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ اُس میں پوشیدہ شرط ہوتی ہے۔ جس کا علم بندے کو نہ ہو اس لئے بندوں کو اُس کے وعدوں پر اطمینان رکھنا چاہئے۔
(٢) لَكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ وَعْدَ اللّٰهِ لَايُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِيْعَادَ (زمر ٢٠) ’’لیکن جو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے اُن کے لئے بالا خانے اور ان پر اور بالا خانے ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے پرہیز گاروں سے وعدہ فرمایا اُس کے بعد کامل اطمینان دینے کیلئے ارشاد ہوا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ کسی دوسرے کا نہیں ہے کہ اُس کے پورا ہونے میں تردد ہو۔ پھر بغرض نہایت تاکید اور تصریح کے ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اس طرز بیان نے نہایت خوبی کے ساتھ ثابت کر دیا
٧٤
کہ خدا کے سارے وعدے پورے ہوتے اور اُن میں کوئی پوشیدہ شرط بھی نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے بندے کا اطمینان جاتا رہے۔ اگر ایسی صراحت کے بعد بھی اُس قدوس کے ایک وعدے میں بھی پورے ہونے کا احتمال نکالا جائے اور کہا جائے کہ اُس کے بعض وعدے پورے نہیں ہوتے یا بعض وعدوں میں ایسی شرط ہوتی ہے۔ جس پر بندے کو اطلاع نہیں ہوتی تو اس قدوس قدیر کا یہ بیان بالکل غلط ہو جائے گا اور اُس کا کوئی وعدہ قابل اطمینان نہ رہے گا۔ چنانچہ مرزا بھی اسے تسلیم کرتے ہیں اور (توضیح مرام ص ٨ خزائن ج ٣ ص ٥٥) میں خدا تعالیٰ کا وعدہ نقل کر کے لکھتے ہیں کہ ”کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا...... یقیناً سمجھو کہ ان لغو باتوں سے خدا تعالیٰ کی کسرِ شان اور کمال درجہ کی بے ادبی ہوگی۔“
مرزا کا یہ قول نہایت صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ایک وعدے میں بھی خلاف نہیں ہو سکتا، خواہ وہ خلاف ہونا کسی پوشیدہ شرط کی وجہ سے ہو یا بغیر شرط کے ہو اور یہی حال بعینہ وعید کا ہے۔
- (٣) وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا
مِنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ
(سورۃ رعد ٣١)
”کفار مکہ کو اُن کے کئے کی سزا پہنچتی رہے گی۔ خاص انہیں پہنچے یا اُن کے پڑوسی کو تا کہ وہ دیکھ کر متنبہ ہوں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ۔ (موت یا قیامت) آجائے اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا۔“
اس آیت میں وعید کا بیان ہے مگر وہی طرز ہے جو پہلی دو آیتوں میں وعدے کے بیان میں ذکر کیا گیا جس سے ظاہر ہے کہ المیعاد میں الف استغراق کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کل وعیدیں پوری ہوتی ہیں اور ایسا ہونا ضرور ہے کیونکہ اگر ایک وعدہ یا وعید پورا نہ ہو تو اُس قدوس کا کذب لازم آئے اور اس کا کاذب ہونا بالذات
٧٥
محال ہے جو ایسا سمجھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کل وعدے اور وعیدیں پوری نہیں ہوتیں۔ بعض کہتے ہیں وہ اُس ذات پاک میں سخت عیب لگاتے ہیں اور جو یہ کہتا ہے کہ المیعاد میں الف و لام عہد ذہنی ہے وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ عہد ذہنی کسے کہتے ہیں۔ کیونکہ الف لام عہد خارجی ہو یا عہد ذہنی ہو اُس سے مراد ایک چیز ہوتی ہے اگر عہد خارجی ہے تو وہ ایک چیز متکلم اور مخاطب دونوں کے نزدیک خارج میں متعین ہوتی ہے اور اگر عہد ذہنی ہے تو صرف متکلم کے ذہن میں اس کا تعین ہوتا ہے مگر ہوتی ایک شئے ہے۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ آیت اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَاد قرآن مجید میں کئی جگہ آئی ہے اور میعاد سے مراد کہیں وعدہ ہے اور کہیں وعید ہے۔ مقصود آیت سے خدا تعالیٰ کی خاص صفت ایفائے وعدہ اور وعید کی عظمت بیان کرنا ہے کہ خدائے تعالیٰ ایسا سچا اور صادق الوعد ہے کہ اُس کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا اور وہ ایسا متین غیر متغیر ذوالبطش الشدید ہے کہ اس کی کوئی حتمی وعید نہیں ٹلتی۔ اس لئے اُس کا یہ بھی ارشاد ہے کہ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ (یونس ٦٤) یعنی اللہ کی باتوں میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا بندوں کی ترغیب کیلئے یہ بیان نہایت ضرور اور نہایت مفید ہے مگر یہ مطلب اسی وقت ہو سکتا ہے کہ المیعاد میں الف لام استغراق کا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی وعدے اور وعید میں خلاف نہیں کرتا اور اگر المیعاد میں الف لام عہد ذہنی ہے تو آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ یا وعید ضرور پوری ہوتی ہے۔ باقی سینکڑوں وعدے اور وعیدیں پوری ہوں یا نہ ہوں ان پر اطمینان نہیں کرنا چاہئے۔ اب رہا وہ ایک وعدہ یا وعید جس کے پورا ہونے کا ذکر آیت میں ہے۔ اس کا علم اللہ کو ہے بندے کو نہیں ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اللہ کے کسی وعدہ اور وعید پر بندے کو اطمینان نہیں ہو سکتا۔ جب آیت کا یہ حاصل ٹھہرا تو دیکھا جائے کہ یہ مضمون خدا تعالیٰ کی عظمت شان کے کس قدر خلاف ہے کہ اُس مقدس غیر متغیر ازلی و ابدی کا ایک وعدہ یا ایک وعید بھی ایسا نہیں ہے جس پر بندے کو پورا اطمینان ہو۔ مرزائیوں کے خدا کی یہ شان ہے؟ اب نعیم جنت کے وعدے اور عذاب دوزخ کی وعیدیں سب بیکار ہیں۔ استغفر اللہ۔ یہ حالت بعض ایسے رئیسوں کی ہوتی ہے جن کے قول و فعل پر کسی کو اعتبار نہیں ہوتا اور
٧٧
کذب اور بے اعتباری میں مشہور ہوتے ہیں۔ افسوس ہے کہ حضرات مرزائی خدائے قدوس کو بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں۔ مگر ایسے خدا پر مرزا قادیانی اور اُن کے پیرو ہی ایمان لا سکتے ہیں۔
خوب یاد رہے کہ جب وہ المیعاد میں الف لام عہد ذہنی کہیں گے تو آیت کا یہی مطلب ہوگا۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اب ناظرین! مرزا قادیانی کی قرآن دانی معلوم کریں کہ مرزا قادیانی ایسے قرآن دان تھے کہ خدائے قدوس کو ایسا ہی فضول گو، متلون ثابت کرنا چاہتے ہیں جیسا ایک معمولی انسان فضول گو کاذب ہوتا ہے۔ تعالیٰ اللہ عما یصفون۔
- (٤) الم غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْ اَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ
سَيَغْلِبُوْنَ (الیٰ) وَعْدَ اللّٰهِ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (روم ١، ٢، ٣)
”نزدیک کے ملک میں رومی (نصاریٰ) مغلوب ہو گئے ہیں لیکن عنقریب غالب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما کر اپنے بندوں کو وثوق دینے کے لئے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔“
اس آیت کے طرزِ بیان نے بھی قطعی فیصلہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اگر اُس کے وعدہ میں کسی وقت پورا نہ ہونے کا احتمال ہو تو اُس آیت میں جو بیانِ خداوندی ہے وہ صرف فضول اور بیکار ہی نہ ہوگا بلکہ غلط ہو جائے گا۔ (العیاذ باللہ)
الغرض! پہلی اور دوسری اور چوتھی آیت نص قطعی ہیں اس بات میں کہ خدائے تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور نہ اُس کے وعدہ اور وعید میں کوئی پوشیدہ شرط ہو سکتی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض وعدوں میں پوشیدہ شرطیں بھی ہوا کرتی ہیں، تو کسی وعدے پر اطمینان نہیں رہ سکتا۔ ہر ایک وعدے میں احتمال ہوگا کہ اس میں کوئی شرط ہو جسے ہم معلوم نہیں کر سکتے۔ غرضیکہ تمام وعدے متزلزل اور غیر قابل اطمینان ہو جائیں گے۔
٧ ٧
- (٥) أَلَا إِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ o (یونس ٥٥)
”اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کر کے تاکید کے ساتھ فرماتا ہے کہ اسے خوب سمجھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔ (اس میں کسی وقت جھوٹ کا شائبہ نہیں ہو سکتا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
یعنی انہیں کامل یقین نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں پوری ہوا کرتی ہیں۔ اگر انہیں سچا یقین ہوتا تو ہرگز ایسی باتیں نہ کرتے جس کی وجہ سے وہ کسی وعید الٰہی کے مستحق ہوتے۔
- (٦) وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهُ ط (الحج ٤٧)
”اے پیغمبر منکرین تجھ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں (یہ یقین کر لیں کہ) اللہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا۔“
یعنی اللہ نے کافروں سے جو عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ اس کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا، مگر وہ حکیم ہے اُس کی حکمت اور مصلحت نے اس کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اس وقت پر اس کا ظہور ہوگا۔ اُس کی ذات جلد باز نہیں ہے۔ بلکہ غصہ کرنے میں دھیما ہے۔ اس لئے اُن کی جلدی کرنے سے فوراً عذاب نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعید کے پورا کرنے کو زیادہ تاکید سے بیان فرمایا ہے کیونکہ وعدہ خلافی کی نفی لفظ لَنْ سے کی ہے جو عربی زبان میں نفی کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے کوئی وعید کرے اُس کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ وعید ضرور پوری ہو کر رہے گی، اگر اس کے لئے وقت مقرر کر دیا گیا ہے تو اس وقت پر اس کا پورا ہونا ضرور ہے اور اگر وقت مقرر نہیں کیا گیا تو اُس کی مشیّت جس وقت ہو اس
١؎ اس آیت نے اس مضمون کی شرح کر دی جو حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں ہے کہ اُن کی قوم نے کہا تھا۔ فاتنا بما تعدنا یعنی جو تم عذاب کا وعدہ کرتے ہو تو عذاب لاؤ، اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْشَاءَ یعنی اللہ چاہے گا تو لے آئے گا یعنی حضرت نوح کے انشاء کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وعید الٰہی کا آنا یقینی نہیں ہے، ممکن ہے کہ آوے یا نہ آوے بلکہ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے کہ منکرین عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت نوح (بقیہ آگے)
٧٨
وقت پر اُس کا ظہور ہوگا۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وعید کو بھی وعد کہتے ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں خاص وعید کا ذکر ہے۔ مگر لفظ وعدہ آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ قرآن مجید میں جہاں لفظ وَعْدٌ یا مِيْعَادٌ کا استعمال کیا گیا ہے اور قرینہ مقام نے کسی معنی کو خاص نہیں کیا تو یہ لفظ دونوں کو شامل رہے گا۔
- (٧) فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ
ذُو انْتِقَامٍ ط (ابراہیم ٤٧)
”اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے یا عام مخاطبین سے ارشاد فرماتا ہے کہ تو ایسا خیال اور گمان ہرگز نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا اس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ گروہ منکرین سے انکار کا بدلہ لے گا اور اپنے رسول کے ذریعے سے جو وعید ان کے لئے کی ہے اُسے ضرور پورا کرے گا۔“ جس طرح سابق کی آیت میں بیان ہے کہ وعید کی پیشین گوئی ٹل نہیں سکتی
(بقیہ حاشیہ) کی قوم جلدی کرتی ہوگی۔ اس لئے حضرت نوحؑ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو جلدی آئے گا یعنی وعید کا پورا ہونا تو ضروری ہے۔ مگر تمہاری خواہش کے مطابق جلد اس کا ظہور ہو جائے گا۔ یہ اس کی مشیت پر ہے اس کی نسبت ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔ چنانچہ امام نووی اپنی تفسیر مراح لبید میں لکھتے ہیں کہ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ. اى ان الاتيان بالعذاب الَّذِى تستعجلونه امر خارج دائرة القوى البشرية وانما يفعله اللّٰه تعالى ان شاء امام نووی کی تفسیر سے بھی وہی معلوم ہوا جو ہم نے بیان کیا کہ کفار عذاب کی جلدی کرتے تھے۔ اسی کی نسبت کہا گیا کہ اگر اللہ چاہے گا تو جلد لے آئیگا۔
افسوس ہے کہ قادیانی جماعت باوجود بڑے دعوٰی کے قرآن مجید کو نہیں سمجھتی اور اس آیت سے یہ بات ثابت کرنا چاہتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کی وعید کا پورا ہونا ضروری نہیں ہے
- ١۔ لغت عرب کے اعتبار سے لفظ وعد خیر اور شر دونوں کو شامل ہے یعنی وعدہ خیر کو بھی کہتے ہیں اور وعدہ
شر کو بھی کہتے ہیں۔ جس کا نام وعید ہے مذکورہ آیات سے اس کا ثبوت ہو گیا کہ لفظ وعد دونوں معنی کے لئے آتا ہے۔
< ٧٩ >
ضرور پوری ہو کر رہتی ہے۔ اسی طرح اس آیت میں بھی وہی بیان ہے مگر نہایت ہی تاکید سے کیونکہ اس میں وعدہ خلافی کے گمان و خیال کی بتاکید ممانعت فرمائی جس کا حاصل یہ ہوا کہ وعید کی پیشین گوئی کا ٹل جانا تو بڑی بات ہے۔ اس کا گمان و خیال بھی نہ کرنا کہ ایسی پیشین گوئی ٹل جاتی ہے۔ یہ کمال مرتبہ کی تاکید ہے اس تاکید کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس پیشین گوئی کے مخاطب خاص رسول ہوں اور پھر وہ اپنی امت سے یہ کہیں کہ اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے۔ اگر وہ ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو تو یہاں اللہ تعالیٰ اور اُس کا سچا رسول دونوں کاذب ٹھہرتے ہیں، (معاذ اللہ) کیوں اللہ تعالیٰ نے کسی پر عذاب آنے کی خبر دی تھی مگر کسی وجہ سے عذاب نہ آیا۔ اس لئے وہ خبر غلط ہوگئی اور اُس صادق قدوس پر کذب کا الزام آیا۔ پھر اس خبر کے غلط ہونے سے امت کے نزدیک خدا کے سچے رسول بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔ غرضیکہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے رسول دونوں پر الزام آتا ہے۔ اس کے سوا جتنی وعید کی پیشین گوئیاں ہیں سب متزلزل اور غیر معتبر ہوگئیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ایسا گمان بھی نہ کرو کہ وعید کی پیشین گوئی جو خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے کرتا ہے وہ کسی وقت ٹل جاتی ہے۔ بلکہ اُس کے ٹل جانے کا وہم ١؎ و گمان بھی نہ کرنا مفسرین نے اس مضمون کی تاکید دوسرے طریقے سے بیان کی ہے۔ چونکہ وہ علمی بات ہے اور علمی مضمون سے کم علم اور عوام کو مطلقاً دلچسپی نہ ہوگی۔ اس لئے میں اُسے بیان نہیں کرتا۔ اہل علم ! تفسیر ابو سعود ملاحظہ کریں اس میں اس کی تفصیل اچھی طرح ہے اور تفسیر کبیر وغیرہ میں بھی ہے۔ تفسیر ابو سعود میں نہایت صفائی سے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے روز قیامت کی جو وعیدیں ظالموں کے لئے بیان فرمائی
١؎ ان دونوں آیتوں سے قطعی طور سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی کا اور اُن کے متبعین کا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ ہے کہ وعید کی پیشین گوئی خوف سے ٹل جاتی ہے۔ محض غلط ہے اُس خدائے قدوس کا قول کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں بدلتا۔ لا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللہ نہایت سچا ارشاد ہے اس کی تائید اور توضیح صحیح بخاری (باب ذکر النجمین یقتل ببدر ج ٢ ص ٥٦٣) کی اُس روایت سے کامل طور سے ہوتی ہے۔ جسے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ اُس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ معظمہ کے کفار کے گروہ میں امیہ بن خلف ان کے سرداروں میں تھا۔ حضرت سعد بن معاذؓ سے اس کی پرانی دوستی تھی۔ (بقیہ آگے)
٨٠
ہیں وہ اسی طرح پوری ہوں گی، جس طرح پہلی نافرمان امتوں کی وعیدیں جو انبیاؤں کے ذریعہ سے دنیا میں کی گئی تھیں وہ پوری ہوئیں اور جن کے ہلاک کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ہلاک ہوئے۔ یعنی کسی نبی کی کوئی پیشین گوئی ٹل نہیں گئی سب پوری ہوئیں۔
اب یہ معلوم کرنا چاہئے کہ جس طرح چھٹی آیت کے پہلے جملہ سے ظاہر ہوا تھا کہ اس میں وعید کا ذکر ہے۔ اسی طرح اس آیت کے آخری جملے اور بیان سابق اور لاحق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وعید کی پیشین گوئی کا بیان ہے مگر اُن آیتوں سے جب اس کا ثبوت ہوا کہ وعید کی پیشین گوئی نہیں ٹلتی تو اس کا ثبوت بطریق اولیٰ ہو گیا کہ وعدہ کی پیشین گوئی بھی ضرور پوری ہوتی ہے۔ کیونکہ وعدے کے پورا ہونے میں آیات صریحہ کے علاوہ بداہت عقل بھی اُس کی شاہد ہے کہ کریم کا وعدہ ٹل نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے مفسرین نے اس آیت میں وعدہ اور وعید دونوں کے پورا ہونے کو بیان کیا ہے۔ ان آیتوں کے علاوہ اُن نصوص پر بھی نظر کرنا چاہئے جن میں خاص طور سے مذکور ہے کہ مجرموں سے
(بقیہ حاشیہ) ایک مرتبہ حضرت سعدؓ نے قسم کھا کر اُس سے کہا کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ تو مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کیا جائے گا۔ فَفَزِعَ لِذٰلِكَ اُمَيَّةُ فَزَعًا شَدِيْدًا ، امیہ یہ پیشین گوئی سن کر نہایت گھبرا گیا اور خوف زدہ ہو گیا اور یہ ارادہ کیا کہ میں مکہ سے باہر نہ جاؤں گا جب جنگ بدر پیش آئی اور ابو جہل نے لڑائی کے لئے اپنے گروہ کو تیار کیا۔ اُس نے پہلو تہی کی مگر ابو جہل نے بہت کچھ ترغیب دے کر اُسے آمادہ کیا۔ اُمیہ نے اپنے گھر جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ سفر کا سامان تیار کر اُس کی بیوی نے حضرت سعدؓ کا قول یاد دلایا اُس نے کہا میں تھوڑی دور جا کر واپس آؤں گا، وہ گیا اور اسی خیال میں رہا کہ جلدی لوٹ جاؤں گا مگر نہ بچا اور مارا گیا۔
یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے جس کی صحت پر مرزا قادیانی کو بھی اتفاق ہے۔ اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ اُمیہ وعید کی پیشین گوئی سن کر سخت خوف زدہ ہو گیا تھا اور اُس کی صداقت پر اُسے ایسا یقین ہوا تھا کہ اس نے اپنے دل میں مضبوط ارادہ کر لیا تھا کہ مکہ سے باہر نہ جاؤں گا۔ مگر یہ خوف اور اس طرح کا ایمان اُس کے کام نہیں آیا اور اُس جنگ میں وہ مارا گیا اور رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہو کر رہی۔ اب حق پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور صحیح حدیث کا واقعہ مرزا قادیانی کے قول کو کس صفائی سے غلط بتا رہے ہیں۔ مگر مرزائیوں پر افسوس ہے کہ ایسے صریح غلط قول کو مان رہے ہیں اور اہل علم کے مقابلہ میں پیش کر رہے ہیں۔
٨١
عذاب نہیں ٹل سکتا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔
- (٨) لَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ ط (سورة یوسف ١١٠)
”ہمارا عذاب گروہ مجرمین سے نہیں ٹلتا۔“ پھر مکرر ارشاد ہے
- (٩) لَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ ط (سورة انعام ١٤٧)
”اللہ کا عذاب مجرموں کے گروہ سے نہیں ٹلتا۔“ طالبین حق ملاحظہ کریں کہ کس صفائی سے مکرر ارشاد ہے کہ عذاب الٰہی نہیں ٹلتا۔ جس عذاب کے آنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ ضرور پوری ہوگی۔
راستی کے طالبو! سنت اللہ یہ ہے جسے اُس قدوس برحق نے اپنے کلام مقدس میں نہایت صراحت سے بار بار ارشاد فرما دیا۔ نصوص قطعیہ سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ سنت اللہ یہی ہے کہ جس طرح وعدہ الٰہی ضرور پورا ہوتا ہے۔ اسی طرح وعید خداوندی بھی نہیں ٹلتی بغیر سچا ایمان لائے ہوئے۔ مگر قادیانی جماعت کی بے خبری پر اور زیادہ تر اُن کے جہل مرکب پر افسوس ہے کہ ایسے نصوص صریحہ کے ہوتے ہوئے خدائے قدوس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس کی وعید کی پیشین گوئیاں ٹل جاتی ہیں۔ (صرف کسی قدر خوف سے) ایمان لانا ضروری نہیں ہے اور پھر اسے خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ بتاتے ہیں اور اہل حق کو ناواقف کہتے ہیں اور بڑے فخر سے اپنے مسیح کا مقولہ اُن کی کتاب (حقیقة الوحی ص ١٣٢ خزائن ج٢٢ ص ٥٧١) سے نقل کرتے ہیں کہ ”وعید کی پیشین گوئی کے ٹل جانے میں سب نبی متفق ہیں۔“
اس اندھیر کا کچھ ٹھکانا ہے۔ مجھے ایسا خیال نہ تھا کہ مرزا قادیانی محض غلط قول تمام انبیاء کی طرف منسوب کریں گے۔ مگر قادیانی جماعت! یہ تو بتائیے کہ تمام کا اتفاق کہاں لکھا ہے۔ انبیاء میں سے دو چار ہی کا نام بتائیے۔ جنہوں نے ایسا کہا ہو اور جہاں ان کا قول ہے۔ اُس کا حوالہ بھی بتائیے کہ حضرت سید المرسلینﷺ کا تو وہی ارشاد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکید اور صراحت سے قرآن مجید میں ظاہر فرمایا۔ اس میں تو کسی
٨٢
مسلمان کو شک نہیں ہو سکتا۔ عجب لطف ہے کہ جو دعویٰ نصوص قطعیہ کے خلاف ہو اُسے اللہ تعالیٰ کی سنت مستمرہ بتایا جاتا ہے اور گویا یہ کہا جاتا ہے کہ جب وعدہ خلافی اُس ذات مقدس کی سنت مستمرہ یعنی عادت دائمی یا عادت محکم ہے تو اُسے وعدہ خلافی نہیں کہیں گے۔ شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ جو اتفاقیہ کبھی وعدہ خلافی کرے اُسے وعدہ خلاف کہیں گے اور جسے وعدہ خلافی کی عادت مستمرہ ہوگئی وہ وعدہ خلاف نہیں کہلائے گا۔ جن کی عقل و فہم ایسی سلب کر دی گئی ہو اُن کی اصلاح کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ عجب جہالت ہے کہ جابجا ہمارے سامنے مرزا قادیانی کے قول سے سند لائی جاتی ہے اور کوئی آیت یا صحیح حدیث نہیں پیش ہو سکتی ہے۔ ذرا تو خیال کرو کہ جو قرآن و حدیث پر ایمان لائے ہیں اور مرزا قادیانی کے اقوال کو سراسر غلط اور مخالف قرآن و حدیث یقیناً معلوم کر چکے ہیں۔ اُن کے نزدیک مرزا قادیانی کے اقوال کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ بیان سابق مع تحقیق دقیق
الغرض! نصوص قطعیہ قرآنیہ اور کتب سابقہ الہیہ اور دلائل عقلیہ سب متفق ہیں اس بات پر کہ خدائے تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں تغیر ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اُس کے تمام وعدے اور وعیدیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ اُن کے پورے ہونے کیلئے کوئی رکاوٹ اور کوئی مانع پیش نہیں آ سکتا۔ کیونکہ وہ علام الغیوب ہے۔ اُس کے علم میں گذشتہ اور آئندہ کی تمام باتیں ایسی ہی ہیں جیسی اس وقت ہمارے سامنے کی باتیں اس لئے وہ ایسا وعدہ کبھی نہ کرے گا جو آئندہ کسی واقعہ کی وجہ سے پورا نہ ہو سکے۔ اسی طرح وہ پختہ وعید بھی ہرگز نہ
١؎ ان نصوص صریحہ کو پیش نظر رکھ کر آیت يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (مومن ٢٨) کے معنی کرنا چاہئے یہ آیت حضرت موسیٰؑ کے قصہ میں ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص فرعون کے گروہ کا تھا۔ وہ پوشیدہ طور سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا۔ اُس نے چاہا کہ فرعون کو اس ارادہ سے باز رکھے اور خود بھی اس کے شر سے محفوظ رہے۔ اس لئے اُس نے اس طرح گفتگو کی کہ اُس کا ایمان لانا بھی ظاہر نہ ہو اور فرعون اپنے ارادہ سے باز رہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اُس نے فرعون سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت کہا کہ اگر یہ جھوٹے ہیں تو اس
٨٣
کرے گا۔ جو کسی وجہ سے ٹل جائے اور پیشین گوئی میں کسی قسم کا وعدہ یا وعید ضرور ہوتی ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ سچے رسول کی تمام پیشین گوئیاں پوری ہوں اور اگر کسی مدعی کی ایک پیشین گوئی بھی پوری نہ ہو تو ثابت ہوگا کہ یہ پیشین گوئی خدا کی طرف سے نہیں تھی بلکہ شیطانی وسوسہ یا علوم ظنیہ یا اس کے خیالات کا نتیجہ تھا اور اس میں شبہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں بالیقین غلط ثابت ہوئیں۔ اس لئے یہ یقینی طور سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ مرزا قادیانی کاذب تھے اور کذب بھی ایسا کہ قرآن مجید اور توریت مقدس بالاتفاق اُس کی شہادت دیتی ہے۔ البتہ اس بیان میں ایک تحقیق دقیق باقی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر وعید میں کسی وقت تغیر نہ ہو تو مجرم کی توبہ سے یا کسی عالی مرتبہ کی سفارش سے یا محض جوش کرم سے گنہگار کی نجات نہ ہو سکے حالانکہ نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ان
(بقیہ حاشیہ) جھوٹ کا وبال ان پر آ پڑے گا۔ تیرے مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ وہ شخص اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے جھوٹے ہونے کو پہلے کہا اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ اگر یہ سچا ہے تو جو کچھ یہ کہہ رہا ہے کچھ نہ کچھ تو اس کا نتیجہ ضرور ہوگا۔ مخالف کے سمجھانے کا یہ طریقہ عمدہ ہے۔ آیت کے جو الفاظ نقل کئے گئے اُس کا مطلب یہی ہے جو میں نے بیان کیا۔ اس طرز بیان سے یہ سمجھنا کہ جو باتیں اس نے کہی ہیں ان سب کا ظہور نہ ہوگا بلکہ بعض کا ہوگا محض نادانی ہے ایک معنی یہ ہوئے دوسرے یہ ہو سکتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حسب معمول انبیاء ایمان لانے پر وعدہ اور نہ لانے پر وعید بیان کی ہوگی۔ اس لئے یہ سمجھانے والا مجمل طور سے کہتا ہے کہ اگر یہ سچا ہے تو جو کچھ یہ کہہ رہا ہے اس میں سے بعض تو تجھے ضرور ملے گا یعنی اگر اُن کے کہنے کے مطابق تو ایمان لے آیا تو وہ نعمتیں تجھے ملیں گی جن کا یہ وعدہ دے رہے ہیں اور اگر ایمان نہ لایا تو جو وعید یہ بیان کر رہے ہیں۔ اُن میں تو مبتلا ہوگا۔ غرضکہ دونوں صورتوں میں ایک بات کا ظہور ہوگا۔ دونوں کا اجتماع نہیں ہو سکتا ایمان لانے کی صورت میں وعدہ کا اور نہ لانے پر وعید کا، اس لئے اس کا کہنا نہایت صحیح ہے کہ یُصِبْکُم بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ یعنی وعدے اور وعید دونوں تجھ سے کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کا تو مستحق ہوگا۔ ان دونوں معنوں کے سوا اور بھی ہو سکتے ہیں۔ تنزیہہ ربانی۔ معیار صداقت ملاحظہ کیا جائے الحاصل جب نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کے وعدہ وعید میں خلاف نہیں ہوتا اس لئے ایماندار کے لئے ضرور ہے کہ اس آیت کے معنی ایسے کرے جو نصوص قطعیہ کے خلاف نہ ہوں۔
٨٤
تینوں طریقوں سے نجات ثابت ہے۔ اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ وعید کسی وقت پوری نہیں ہوتی۔ بلکہ توبہ وغیرہ سے ٹل جاتی ہے۔ اس کا جواب نہایت غور و تامل سے ملاحظہ کیا جائے اور خوب ذہن نشین کر لیا جائے کہ مجرم کے گناہ کا کسی وجہ سے بخشا جانا گذشتہ تحقیق کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وعیدوں کی کئی قسمیں ہیں۔
- (١) وہ وعید جو کسی خاص شخص سے یا خاص قوم سے حتمی طور سے کی گئی اور اُس کے
ظہور کا وقت بھی مثلاً جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اُمیہ بن خلف مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا اور باوجود اس کے نہایت خائف ہو جانے کے وہ مارا گیا اور پیشین گوئی پوری ہوئی اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی خبر دی تھی۔ وہ ہلاک ہوئی۔ اس قسم کی پیشین گوئی کسی وجہ سے ٹل نہیں سکتی اور ایسے اسباب پیش ہی نہیں آسکتے جس کی وجہ سے پیشین گوئی پوری نہ ہو۔ اگر اس قسم کی پیشین گوئی پوری نہ ہو تو مخلوق کے روبرو وہ رسول جھوٹا قرار پائے یا خدا تعالیٰ پر کذب کا الزام آئے۔ اسے کوئی عقل باور نہیں کر سکتی کہ وہ قادر مطلق اپنے سچے رسول کو امت کے سامنے جھوٹا ٹھہرا کر رسوا کرے۔ ایسا تو کوئی رئیس اور متین انسان بھی نہیں کرتا۔ احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی اسی قسم میں داخل ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اُس کا ٹل جانا مرزا قادیانی کو کاذب ثابت کرتا ہے اور اُس وعید کی نسبت جو باتیں بنائی جاتی ہیں وہ محض غلط ہیں۔
- (٢) دوسرے وہ وعیدیں جو عام کفار کے لئے کی گئی ہیں۔
- (٣) وہ جو گناہ گار مسلمانوں کے لئے ہیں یہ دونوں قسم کی وعیدیں اول تو سب مشروط
ہیں۔ کوئی حتمی وعید نہیں ہے کیونکہ نص صریح میں ان وعیدوں کے ساتھ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا موجود ہے۔ یعنی کفار کے لئے جو وعید ہے وہ اُسی وقت ہے کہ توبہ نہ کرے اور جو کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے۔ اُس کے لئے وعید ہی نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے۔ التائب من الذنب كمن لا ذنب له
(کنز العمال ج ٤ ص ٢٠٧ حدیث ١٠١٧٤)
یعنی جس نے گناہ سے توبہ کی وہ گویا ایسا ہی ہے کہ اُس نے گناہ کیا ہی نہیں
٨٥
اس لئے وہ وعید اس کے لئے نہیں ہے۔ غرضکہ یہاں کوئی وعید ٹل نہیں گئی بلکہ اُس کے لئے وعید تھی ہی نہیں، مگر یہ خوب خیال رہے کہ توبہ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دل میں ڈر جائے یا ڈر کے مارے بھاگا پھرے، بلکہ اعلانیہ طور سے اپنے کفر کے عقیدے سے توبہ کر کے سچے رسول پر ایمان لائے۔ یہی وجہ ہوئی کہ امیہ بن خلف پر وعید پوری ہوئی۔ اگرچہ وہ دل میں بہت ڈر گیا تھا اور اضطراری طور سے جناب رسول اللہ ﷺ کی صداقت اُس کے دل میں آ گئی تھی۔ مگر یہ تصدیق لائق اعتبار نہیں ہے بلکہ ایمان لانے کے لئے ایسی تصدیق کی ضرورت ہے جو اُس کی رغبت اور خوشی سے ہو توبہ کا استثناء تو کافر اور گناہ گار مسلم، دونوں کے لئے ہے۔ مگر گناہ گار کیلئے دوسری آیت ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کیلئے کوئی وعید قطعی نہیں ہے۔ وہ آیت یہ ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ (نساء ٤٨) یعنی اللہ مشرک کو نہیں بخشے گا۔ (اُس کیلئے حتمی وعید ہے) اور جو شرک سے تائب ہیں اور گناہ کرتے ہیں اُن کی مغفرت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ جسے چاہے بخش دے۔ اب مشیت کا ظہور کسی وقت شفاعت کی وجہ سے ہوگا اور کسی وقت جوش کرم اُس کو ظاہر کرے گا۔ اس آیت نے قطعی طور سے فیصلہ کر دیا کہ مسلمانوں کے لئے کوئی وعید الٰہی قطعی نہیں ہے کہ اُس کے خلاف ہونے سے کذب لازم آئے۔ اس کے علاوہ ایک سِرّ عظیم یہ ہے کہ جو وعیدیں عام کفار یا عام گناہگاروں کے لئے کی گئی ہیں وہ درحقیقت وعید نہیں یعنی کسی سزا کے حتمی وقوع کی خبر نہیں ہے بلکہ قانون شریعت کا بیان اور جرم کی شناعت کا اندازہ ہے۔ اُس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ قانون الٰہی میں اس جرم کی سزا یہ مقرر کی گئی ہے کہ جو کوئی اس جرم کا مرتکب ہوگا وہ اس سزا کا مستحق ہے۔ اس استحقاق کے بعد حاکم کو اختیار ہے چاہے اُسے سزا دے اور چاہے چھوڑ دے کیونکہ اس صورت میں کسی خبر کا کاذب ہونا ثابت نہیں۔ امام نووی حدیث مَنْ تَعَمَّدَ عَلَیَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّا مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ کی شرح میں لکھتے ہیں۔
معنی الحديث ان هذا جزاءه وقد يجازى به وقد يعفو الله الكريم عنه ولا يقطع عليه بدخول النار وهكذا سبيل كل
٨٦
ماجاء من الوعيد بالنار لاصحاب الکبائر
(نووی ج ١ ص ٨ باب تغليظ الکذب علی رسول اللہ )
"معنی حدیث کے یہ ہیں کہ جو کوئی رسول اللہ ﷺ پر عمداً جھوٹ باندھے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کسی وقت یہ سزا دے گا اور کبھی اپنے کرم سے معاف کر دے گا اس شخص کا جہنم میں جانا کوئی قطعی بات نہیں ہے۔ اسی طرح اہل کبائر کیلئے جتنی وعیدیں جہنم میں جانے کی آئی ہیں اُن کا حاصل یہی ہے۔"
یعنی شریعت الہی نے یہ قانون مقرر کر رکھا ہے کہ یہ مجرم اس سزا کا مستحق ہے مگر اُس جرم کے بعد اُس سزا کا دینا حاکم کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ عاجزی اور توبہ سے یا سفارش اور جوش کرم سے اُسے چھوڑ دے تو اُس پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ اس چھوڑنے سے اُس کا کوئی وعدہ یا وعید غلط نہیں ہو جائے گی۔ قانون وعید کسی سزا کی قطعی خبر نہیں ہے بلکہ صرف مجرم کے استحقاق کا بیان اور جرم کی شناعت کا اندازہ ہے۔ اب اگر حاکم سزا کا حکم دے دے اور پھر کسی مصلحت سے اسے منسوخ کر دے تو کوئی عیب نہیں ہو سکتا۔ جس طرح گورنمنٹ کسی جرم کی سزا مقرر کر دیتی ہے اور اُس کے مطابق حاکم اُسے سزا کا حکم دیتا ہے پھر کسی وقت وہی حاکم یا دوسرا حاکم اُسے چھوڑ دیتا ہے یعنی پہلے حکم کو منسوخ کر دیتا ہے۔ یہاں کسی پیشین گوئی یا کسی وعدہ کا ٹال دینا اور غلط کر دینا ہرگز نہیں ہے۔
البتہ اگر کسی قوم یا کسی شخص کے ہلاک کر دینے کی خبر دی گئی یعنی رسول کو اطلاع دی گئی کہ یہ قوم ہلاک کی جائے گی یا اس شخص پر عذاب آئے گا اور اُس رسول نے اپنی قوم سے پیشین گوئی کی کہ تم پر عذاب آئے گا اور تم ہلاک ہو گے۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا یا مرزا قادیانی نے احمد بیگ کے داماد کے موت کی پیشین
١؎ مگر قادیانی حضرات ایسی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے اور وعید الہی کو مثل حاکم کے حکم کے سمجھتے ہیں۔
٨٧
گوئی کی تھی۔ یہ اُس قوم اور اُس شخص کے عذاب میں مبتلا ہونے کی قطعی خبر ہے اس کے خلاف ہو جانے سے اُس قدوس کا کذب لازم آئے گا اور اُس رسول کے تمام وعدوں اور وعیدوں پر وثوق نہ رہے گا اس لئے یہ وعید نہیں ٹل سکتی اور اس کی نسبت ارشاد ہے۔ لَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ یعنی اللہ کی وعید ہرگز نہیں ٹلتی یہی وجہ ہے کہ جن انبیاء سابقین نے اپنی قوم کے لئے عذاب کی پیشین گوئی بہ الہام الٰہی کی ہے اس کا ظہور قطعاً ہوا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی پیشین گوئی نہیں کی تھی۔ اس لئے وہ بچ گئے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کی کوئی خبر جھوٹی نہیں ہوئی۔ کسی وعدۂ الٰہی یا کسی خبر کو منسوخ کہہ دینا صاحب عقل کا کام نہیں ہے جو نسخ کے قائل ہیں۔ وہ بھی خبر میں نسخ کو نہیں مانتے ہیں۔ بلکہ حکم میں نسخ کے قائل ہیں۔ افسوس ہے اُن کی عقل پر جو خبر کو منسوخ بتاتے ہیں اور صریح جھوٹ کو اس پردہ میں چھپاتے ہیں۔ قادیانی جماعت کا یہی حال ہے، یہ وہ تحقیق ہے کہ قادیانی جماعت کے ذی علم اس سے بالکل بے خبر ہیں۔ اور مرزا قادیانی سخت غلطی کی پیروی کر رہے ہیں۔ کذب اور باطل کی پیروی نے ان کے قلب پر ظلمت کا پردہ ڈال دیا ہے۔
میں نے توریت کا حوالہ یہاں اس لئے دیا ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ یہ بات
١؎ مرزا قادیانی کے دماغ تک اس تحقیق کی ہوا نہیں پہنچی تھی یہ وہ تحقیق ہے کہ جس سے خلف فی الوعید کا مختلف فیہ مسئلہ بآسانی حل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگرچہ محققین اسی بات کے قائل ہیں۔ خلف فی الوعید جائز نہیں مگر بعض علماء اس کے قائل ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ اختلاف ظاہری ہے۔ بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی اختلاف نہیں ہے اور نہایت ظاہر ہے کہ جب نصوص قطعیہ سے صاف ثابت ہے تو علمائے اسلام کیونکر اختلاف کر سکتے ہیں۔ مگر بعض علماء جو خلف فی الوعید کو جائز کہتے ہیں، اُن سے مراد وہی وعیدیں ہیں جو مسلمان گناہگاروں کے لئے ہیں۔ حقیقتاً وعید ہی نہیں ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو اُن میں سے کوئی حتمی وعید نہیں ہے بلکہ صاف طور سے مشیت کی شرط اس میں موجود ہے اس لئے اُس کے ظاہر ہونے سے خلف فی الوعید نہیں ہوتا کیونکہ جب وہ حقیقتاً وعید ہی نہیں ہے تو پھر خلف کس کا البتہ وعید کی پہلی قسم جس میں کسی خاص قوم یا خاص شخص کے لئے وعید کی گئی ہو تاریخ عذاب بیان کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو یہ نہیں ٹلتیں۔ چونکہ خدائے تعالیٰ عالم الغیب ہے اس لئے اس کی وعید ایسی قوم یا ایسے شخص کیلئے نہیں ہو سکتی۔ کسی وقت سچی
٨٨
تمام انبیاء سابقین سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک یکساں مانی گئی ہے کہ جس مدعی کی پیشین گوئی جھوٹی ہوجائے۔ وہ کاذب ہے اور اس مقام پر تحریف کا الزام بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن مجید میں جس طرح کتب سابقہ کی تحریف کا دعویٰ کیا ہے اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ آخری کتاب مقدس کتب سابقہ کی مُصَدِّق اور مُهَیْمِنْ یعنی محافظ ہے۔ اس لئے جو جو مضمون توریت کا قرآن مجید کے مطابق ہے وہ بالیقین توریت مقدس کا مضمون ہے۔ اُس میں تحریف کا گمان نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے بہت جگہ توریت اور انجیل کا حوالہ دیا ہے اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں اسی طرح پیش کیا ہے جس طرح قرآن مجید کو، اس لئے اُن کے مسلمات سے بھی اُن کا کاذب ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔
الغرض! اس بیان سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوگیا کہ دعویٰ نبوت کی صداقت کیلئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اُس کی پیشین گوئی کوئی غلط بھی ہوئی یا نہیں۔ اگر ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوجائے تو یقین کرنا چاہئے کہ یہ مدعی جھوٹا ہے مگر عجب تعصب یا نادانی ہے کہ بعض طالبین حق بھی مرزا قادیانی کی اُن پیشین گوئیوں کو جو اُنہیں کے خیال میں سچی ٢؎ ثابت ہوئیں پیش کرکے اُنہیں سچا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بڑی بھاری غلطی ہے۔ پیشین
(بقیہ حاشیہ) توبہ اُس سے ظہور میں آئے اور اضطراری توبہ اور کسی وقت بتقاضائے بشریت خوف کرنا لائق اعتبار نہیں ہے۔ اس سے وعید نہیں ٹلتی مرزا محمود نے صرف عوام کے دھوکا دینے کو یا محض ناواقفی سے بعض عبارتیں خلف فی الوعید میں نقل کی ہیں مگر جب آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ سے ثابت ہوگیا تو کسی قول کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر حکیم نورالدین ضرورت بتلائیں تو یہ فقیر موجود ہے ہر طرح ثابت کردے گا کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے اور وعدہ خلاف ہونا اس سے زیادہ دشوار ہے۔ مرزا محمود کیا سمجھیں گے؟
١؎ مثلاً انجام آتھم صفحہ ٦٣ اس طبع میں اور اسی کے حاشیہ ٧، ٨ میں پھر صفحہ ٦٤ میں اور توضیح مرام صفحہ ٧، ٨ میں ملاحظہ ہو۔
٢؎ یہاں یہ کہا گیا کہ جو پیشین گوئیاں اُن کے خیال میں سچی ہوئیں کیونکہ واقعی طور پر اُن کی کسی ایسی پیشین گوئی کا سچا ہونا ثابت نہیں ہوتا جسے صاف طور سے پیشین گوئی کہہ سکیں مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا قادیانی کے زمانہ سے اعلان کے ساتھ دعویٰ کر رہے ہیں۔ کہ کوئی پیشین گوئی ایسی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی نے اس پر یہ پیشین گوئی کی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب پیشین گوئیوں کی پڑتال کیلئے قادیان
٨٩
گوئی کے سچے ہو جانے سے مدعی کی صداقت ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔ ان دونوں دلیلوں کو انصاف و غور سے ملاحظہ کیا جائے۔ پھر بالیقین روشن ہو جائے گا کہ اگر کسی کی دو ہزار پیشین گوئیاں صحیح ہو جائیں تو بھی اُس مدعی کو صداقت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد میں یہ کہوں گا کہ جو راستباز مرزا قادیانی کے حال سے واقف ہوگا وہ بالیقین کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی کی بہت پیشین گوئیاں غلط ہوئیں اور ایسی غلط ہوئیں کہ جن کی غلطی میں کوئی شبہ نہیں رہا۔
اب میں اُن کی چند پیشین گوئیاں نقل کرتا ہوں جن کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اُن کی سچائی ثابت کرنے کے لئے جو باتیں خود مرزا قادیانی نے اور اُن کے بعد اُن کے متبعین نے بنائی ہیں اُن سے اور زیادہ اُن کی ناراستی اور اُن کی بناوٹ اظہر من الشمس ہوتی ہے مگر حکیم نورالدین کو اس رسالہ کے دیکھنے کے بعد بھی اُن کی صداقت پر اصرار ہے تو یہ عاجز ہر طرح حاضر ہے۔ خواہ زبانی گفتگو کر کے سمجھ لیں یا تحریری مناظرہ کر کے اپنی تسلی فرما لیں مگر اپنی جماعت کو بدزبانی اور بیہودہ گوئی ١؎ سے روکیں کیونکہ پھر اس طرف بھی لوگ جزاء سيئة سيئة پر عمل کرنے کو موجود ہو جاتے ہیں اور مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔
(بقیہ حاشیہ) میں ہرگز نہ آئیں گے مگر وہ گئے اور مرزا قادیانی سامنے نہ آئے۔ اُس کے بعد انہوں نے اخبار اہلحدیث میں اعلان دیا کہ لاہور میں جلسہ کر کے مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کی پڑتال کی جائے۔ میں ثابت کروں گا کہ کوئی پیشین گوئی سچی نہیں ہوئی مگر کسی قادیانی کی ہمت نہ ہوئی کہ سامنے آئے اس سے معلوم ہوا کہ قادیانی خود متردد ہیں۔
١؎ ذرا خیال فرمائیں کہ اہل اللہ کی یہی شان ہے کہ اپنے گروہ کا کوئی شخص کیسے ہی بیہودہ اور غلط تحریر سے رسالہ سیاہ کرے اُس کی تعریف اپنے خاص اخبار میں کی جاتی ہے اور مصاحبین خاص جھوٹی تعریفیں کرتے اور کسی وقت انہیں متنبہ نہیں کیا جاتا۔ جب متبعین کی صریح کذب اور غلط باتیں انہیں بڑی معلوم نہ ہوئیں تو ظاہر ہوگیا کہ باطل پرستی سے اُن کی قوت ممیزہ جاتی رہی، اگر خلیفہ قادیان اظہار حق پر متوجہ ہوں تو یہ عاجز ان رسالوں کی محض غلط اور جھوٹی باتیں پیش کرے جن کی تعریف اخبار بدر وغیرہ میں کی گئی ہے مگر اُن سے یہ امید ہرگز نہیں ہے۔
٩٠
مرزا قادیانی کی بعض غلط پیشین گوئیاں
- (١) مرزا احمد بیگ کا داماد سلطان محمد ڈھائی سال کے اندر مرے گا۔
(شہادۃ القرآن ص ٨٠ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
مگر نہیں مرا پھر اُس کیلئے یہ دوسری پیشین گوئی کی گئی کہ۔
- (٢) نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو
اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا جیسے احمد بیگ اور آتھم کی پوری ہوگی۔
(انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اس پیشین گوئی میں سلطان محمد کے مرنے کی میعاد مقرر نہیں کی صرف اس قدر تعین کی کہ میرے سامنے مرے گا اور اس کو متعدد جگہ لکھا ہے اور مختلف عنوان سے لوگوں کو اس کا یقین دلایا ہے اور اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے مگر بایں ہمہ اس پیشین گوئی کا بھی ظہور نہ ہوا یعنی سلطان محمد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی ہی اُس کے سامنے مر گئے۔ اس لئے علاوہ پیشین گوئی غلط ہونے کے مرزا قادیانی اپنے اقرار اور اپنے معین کردہ معیار کے بموجب جھوٹے ٹھہرے۔
- (٣،٤) احمد بیگ کی لڑکی بیوہ ہوگی اور نکاح ثانی تک زندہ رہے گی، اس میں دراصل دو
پیشین گوئیاں ہیں۔ ایک اُس لڑکی کا بیوہ ہونا اور دوسری نکاح ثانی تک اُس کا زندہ رہنا۔ یہ دونوں پیشین گوئیاں بھی غلط ہوئیں کیونکہ وہ لڑکی بیوہ نہیں ہوئی۔ بلکہ پہلے ہی خاوند کے نکاح میں مری۔
- (٥) پھر یہ عاجز بھی ان واقعات کے پورے ہونے تک زندہ رہے گا، اس کا غلط ہونا
بھی دنیا نے دیکھ لیا یہ پیشین گوئی بھی وعید نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے زندہ رہنے کا وعدہ ہے مگر افسوس ہے کہ یہ وعدۂ الٰہی بھی پورا نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے خدائے تعالیٰ کے وعدے اور وعید دونوں کو غیر معتبر ٹھہرا دیا۔
٩١
- (٦) اور اس کا عاجز اُس لڑکی سے نکاح ہوگا،
(نوٹ) نمبر ٣ سے ٦ تک تمام حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو، شہادۃ القرآن ص ٨٠ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦۔
- (٧) اور اس سے ایک لڑکا ہوگا جس کی تعریف کی انتہا نہیں۔ ایک جملہ اس کی مدح
میں یہ ہے کہ كَانَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ (تذکرہ ص ١٤٩) گویا اللہ تعالیٰ آسمان سے اتر آیا۔ یہ دونوں پیشین گوئیاں وہ ہیں جن کی تصدیق مرزا قادیانی نے حدیث رسول اللہ ﷺ سے کی ہے (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھا ہے کہ ”اس پیشین گوئی کی تصدیق میں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ“ باایں ہمہ دونوں پیشین گوئیوں کا غلط ہونا تو اظہر من الشمس ہو گیا کہ کسی راستباز پر پوشیدہ نہ رہا۔ اس پیشین گوئی کے متعلق بیس پچیس پیشین گوئیاں اور الہامات ہیں وہ سب کے سب غلط ہوگئے۔ اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت رسالہ اعجاز احمدی (ص ٣٧ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں یہ پیشین گوئی کی تھی کہ
- (٨) ”وہ قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کیلئے میرے پاس ہرگز نہیں
آئیں گے۔“ مولوی صاحب کے نہ آنے پر کس قدر زور ہے۔ یہاں دیکھا جائے کہ مولوی صاحب کے نہ آنے کی پیشینگوئی کی گئی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ مولوی صاحب خاص اسی غرض سے قادیان میں گئے۔ اس لئے یہ پیشین گوئی بھی غلط ہوئی۔ یہاں اس پر پوری نظر رہے کہ اُن کے جانے کے بعد مرزا قادیانی کا گفتگو نہ کرنا اور باتیں بنا کر ٹال دینا اور بات ہے صرف مولوی صاحب کا اس غرض سے قادیان میں جانا مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نہایت زور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ قادیان میں پیشین گوئیوں کی پڑتال کیلئے ہرگز نہیں آئیں گے۔ یہ قول اُن کا جھوٹا ہوگیا مگر مرزا قادیانی کے معتقد اس بدیہی بات سے بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ آٹھ پیشین گوئیاں ہیں جن کا ذکر فیصلہ کے پہلے دو حصوں میں ہے۔ یہ پیشین گوئیاں اس صفائی سے غلط ثابت ہوگئیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں نے دیکھ لیا اور سننے والوں کے کانوں نے بتواتر
٩٢
اس طرح سنا کہ کسی طرح کا شک و شبہ نہ رہا۔ اب دنیا میں کوئی منصف مزاج، حق پسند، اُن کے غلط ہونے سے انکار نہیں کر سکتا اور یوں کوئی زبردستی سے دن کو رات کہنے لگے تو اُس کی زبان کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس وقت اگرچہ غلط پیشین گوئیوں کے آٹھ نمبر دئے گئے مگر وہ پیشین گوئیاں بھی اس میں داخل کی جائیں۔ جو پہلے حصہ میں بیان ہوئی ہیں تو جھوٹے الہاموں اور جھوٹی پیشین گوئیوں کا شمار تیس سے زیادہ ہو جائے گا۔ اس میں تین پیشین گوئیاں ایسی ہیں جن کی صداقت ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے اور اُن کے متبعین نے بہت زور لگایا ہے اور اس جھوٹ کو سچ بنانے میں عجیب عجیب باتیں نکالی ہیں اور زور لگانے کی وجہ ظاہر کی ہے کہ اُن پیشین گوئیوں کو مرزا قادیانی نے اپنا نہایت عظیم الشان معجزہ ٹھہرایا تھا اور اپنے صدق یا کذب کا معیار بتایا تھا۔ یعنی پہلی اور دوسری اور چھٹی پیشین گوئی کو اس لئے ضرور تھا کہ اُن کے سچا بنانے میں جی توڑ کر کوشش کریں۔ الحمدللہ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کی بناء ان پیشین گوئیوں کے پورے ہونے پر رکھی تھی اور واقعی وہ معیار غلط تھا اس لئے اُس کریم و رحیم کا یہ بڑا فضل ہوا کہ جن پیشین گوئیوں کو انہوں نے اپنا نہایت عظیم الشان نشان قرار دیا تھا۔ وہ غلط ثابت ہوئیں۔ پہلی پیشین گوئی چونکہ مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں جھوٹی ثابت ہوئی تھی۔ اس لئے خود مرزا قادیانی نے الزام سے بچنے کے لئے خوب زور تحریر دکھایا جس کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کے مرجانے سے اُس کے تمام گھر پر بہت کچھ خوف طاری ہوا اور گریہ زاری اور عبادت الٰہی میں لگ گئے۔ اُنہیں میں اُس کا داماد بھی تھا چونکہ اس کے لئے خاص پیشین گوئی تھی۔ اس لئے طبعی طور سے وہ نہایت خائف رہا اور وعید کی پیشین گوئی گریہ وزاری سے ٹل جاتی ہے۔ اس لئے ڈھائی برس کے اندر نہ مرا مگر جس طرح کا زور شور مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے ٹل جانے میں کیا ہے۔ اسے حق پسند حضرات بناوٹ کے بغیر نہیں کہہ سکتے۔
اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ احمد بیگ کا داماد اگر مرزا قادیانی کی پیشین گوئی سے اس قدر خائف اور پریشان ہو گیا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے تو اقتضائے طبعی یہ تھا
٩٣
کہ وہ مرزا قادیانی کا معتقد ہوتا اور اُن کے پاس آ کر مرید ہو جاتا مگر مرید ہونا تو کیا معنی اُس کے اور اُس کے گروہ کی نسبت خود مرزا قادیانی انجام آتھم (ص٢٢٤ خزائن ج١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں۔ انهم مالوا الی سیرتهم الاولی وقست قلوبهم وعادوا الی التکذیب والطغوی یعنی جو لوگ منکوحہ آسمانی کے نکاح کے حارج ہوتے تھے اور مخالفت کی تھی احمد بیگ کے مرنے سے دب گئے تھے۔ مگر پھر انہوں نے سرکشی شروع کی اور مرزا قادیانی کو جھوٹا کہنے لگے اور نہایت ظاہر ہے کہ اگر وہ مخالف اور سرکش نہ تھا تو مرزا قادیانی اُسے آخر عمر تک کیوں کہتے رہے کہ یہ میرے روبرو مرے گا اور یہ ضرور مرے گا۔ مرزا قادیانی نے اس پر بھی قسم کھائی ہے۔ اس کی تفصیل مع حوالہ کے تنزیہہ ربانی میں دیکھنا چاہئے۔
دوسرا جواب: یہ ہے کہ فطرتی بات ہے کہ انسان کو اپنی زندگی نہایت پیاری ہوتی ہے اگر وہ پیشین گوئی سے خائف ١؎ ہو گیا تھا اور کسی وجہ سے اُن پر ایمان لانے سے بھی اُسے انکار تھا تو بالضرور اپنی بیوی کو طلاق دے کر علیحدہ کر دیتا کیونکہ اُس کی موت کی پیشین گوئی اس لئے تھی کہ اس کی بیوی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آ سکتی تھی مگر یہ بھی اُس نے نہیں کیا اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ وہ ہرگز ایسا خائف نہ تھا جیسا کہ مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں۔ تجربہ اس کی کامل شہادت دیتا ہے کہ جس طرح موت کے خوف دلانے یا کسی بزرگ و عزیز کے مر جانے سے بعض نہایت خائف اور غمگین ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض ایسے سخت یا کامل ایمان ہوتے ہیں کہ وہ کسی کی پیشین گوئی یا دھمکی سے ذرا نہیں ڈرتے اور جسے انہوں نے جیسا سمجھ لیا ہے اس پر قائم رہتے ہیں۔ وہ یہ بھی یقین
ا۔ چنانچہ انجام آتھم ص ٢٢٢ خزائن ج ١١ ص ایضاً میں لکھتے ہیں۔ ”نزدیک بود کہ جان بعد شنیدن ایں حادثہ ہائلہ و بر جان خود بہ ترسید و نکاح را آفتی از آفات آسمانی انگاشت“ اگر یہ بات سچی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتا یا بیوی کو طلاق دے دیتا۔ اب مرزا قادیانی کے صاحبزادہ نے اس کا ایک خط مشتہر کیا ہے اور اس سے منوایا ہے کہ میں مرزا قادیانی کے مخالف کبھی نہ تھا۔ البتہ ایسے اسباب ہوئے کہ ملاقات نہیں کر سکا یہ خط محض جعلی ہے یعنی یا تو اسے کچھ دے کر یا خوشامد کر کے لکھوا لیا ہے کیونکہ یہ مضمون تو مرزا قادیانی کے صریح اقوال کے خلاف ہے۔
٩٤
کرتے ہیں کہ موت و حیات کیلئے ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے کم و بیش نہیں ہوتا۔ اب اگر رمل یا نجوم کے ذریعہ سے کوئی کسی کی مدت عمر معلوم کر کے پیشین گوئی کر دے تو نبی یا مقدس، یا پارسا نہیں ہو سکتا۔ اس سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اب کون ہے جو اس سچی اور واقعی بات کو غلط بتائے اور مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرے؟
تیسرا جواب: یہ ہے کہ یہ دعویٰ تو نص قطعی سے ثابت ہے کہ سچے رسول کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ صرف گریہ و زاری سے وعید کی پیشین گوئی ٹل جاتی ہے۔ ایمان لانے کی ضرورت نہیں ہے کسی آیت وحدیث سے ثابت نہیں ہے بلکہ نصوص مذکورہ اور اُس حدیث بخاری کے بالکل مخالف ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اُمیّہ بن خلف کے مارے جانے کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور اس کی وجہ سے وہ نہایت ہی خائف تھا۔ اُس کا یہ خوف اور ترس کچھ کام نہ آیا اور پیشین گوئی کے مطابق وہ مارا گیا۔ یہ حدیث بخاری ج ٢ ص ٥٦٣ اور اس سے قبل ساتویں آیت کے بیان میں اس حدیث کا حاصل حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ تنزیہہ ربانی میں بھی اس کا ذکر ہے غرضکہ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔
مرزا قادیانی کا پہلا جھوٹ
مرزا قادیانی نے نہایت بے باکی سے لکھا ہے کہ قرآن مجید اور توریت کے رو سے امر بتواتر ثابت ہوتا ہے کہ وعید کی میعاد توبہ ١؎ اور خوف سے ٹل سکتی ہے۔
(انجام آتھم ص ٢٩ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
مگر یہ محض غلط دعویٰ ہے البتہ اُس کے ثبوت میں حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی بار بار نقل کی گئی ہے۔
مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ
انہوں نے پیشین گوئی کی تھی مگر قوم کی گریہ وزاری سے اُن کا عذاب ٹل گیا۔
١؎ توبہ کے یہ معنی نہ خیال کئے جائیں کہ پہلے انکار سے باز آکر ایمان لے آئے کیونکہ جس کی نسبت یہ کہا گیا ہے وہ کسی وقت انکار سے باز نہیں آیا۔
٩٥
(انجام آتھم ص ٣٠ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
مگر یہ محض دھوکا یا ناواقفى ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوسکتا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ یہ قوم چالیس روز تک ہلاک ہوجائے گی۔ جس طرح مرزا قادیانی نے اڑھائی برس کے اندر صاف طور سے اُس کے مرجانے کی پیشین گوئی کی تھی اور وہ پوری نہ ہوئی پھر اُس کے نظر میں حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی کو پیش کرنا محض غلط ہے چونکہ یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی کے نہایت عظیم الشان نشان کا بڑا جز تھا۔ اس لئے اس کے لئے پھر پیشین گوئی کی اور اس کے مرنے کی کوئی میعاد مقرر نہیں کی البتہ اس قدر دھمکی دی کہ اگر تم میعاد مقرر کرانا چاہتے ہو تو سلطان محمد سے اشتہار دلواؤ مگر اسی قسم کی باتیں اُن کے کذب اور بناوٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگر کچھ بھی عقل و انصاف کو دخل دیا جائے تو بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ کہنا اُن کی معمولی بناوٹ اور مخالفوں کو اعتراض سے ہٹا کر دوسری طرف مشغول کرنا تھا کیونکہ وہ لوگ تو پہلے ہی سے کاذب سمجھتے تھے۔ اس پیشین گوئی کے جھوٹا ہوجانے سے انہیں اور زیادہ وثوق ہو گیا اور اُن کی جماعت کو دیکھا کہ وہ اس کذب کی پیروی سے باز نہیں آتے۔ مرزا قادیانی کیسی ہی غلط اور بیہودہ بات بنا کر کہہ دیتے ہیں وہ اُسے وحی الٰہی سمجھتے ہیں۔ پھر اشتہار دلوانا بیکار صرف کرانا اور جھگڑے میں پڑنا ہے۔ اس کے علاوہ خود تو وہ جاہل وہ کیا اشتہار دیتا اور پھر اس قدر دینی جوش کہاں کہ ایک دینی بات کے اظہار میں کچھ صرف کیا جائے یا محنت کر کے اس کو اعلان دیا جائے۔
دوسری پیشین گوئی
یہ تو ظاہر ہے کہ آئندہ کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی خبر دینے کو پیشین گوئی کہتے ہیں۔ اس خبر دینے کے متعدد طریقے ہیں۔ مثلاً معمولی طور سے خبر دی کہ فلاں بات ہوگی یا مخاطب کو کامل متوجہ کر کے تاکید کے ساتھ کہے کہ یہ بات ضرور ہوگی اور تاکید اور مخاطب کے یقین دلانے کے بھی اقسام اور درجات ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس پیشین گوئی کے وقوع میں آنے کا اس زور کے ساتھ متعدد طور سے یقین دلایا ہے کہ اُس سے زیادہ
٩٦
اعتماد اور وثوق ظاہر کرنا اور دوسرے کو یقین دلانا ہو نہیں سکتا، پھر ایک دو مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ اور مختلف طور سے چند مرتبہ کے الفاظ لکھے جاتے ہیں۔
- (١) نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں
جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی۔
(حاشیہ انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١)
اس عبارت پر اچھی طرح نظر کی جائے۔ اس میں صرف مرنے کی خبر ہی نہیں دی بلکہ کئی طریقوں سے اُس کے وقوع میں آنے کا یقین دلایا ہے۔ ایک یہ کہ دو واقعوں کی نظیر دے کر یہ کہا کہ جس طرح یہ واقعات میری زندگی میں ہوئے اسی طرح اس کی موت بھی میری زندگی میں ہوگی۔ دوسرے اُس نے نہایت تاکید سے کہا کہ خدا تعالیٰ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ تیسرے۔ انتہا درجہ کا یقین اس طرح دلایا کہ اگر وہ میری زندگی میں نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا اور مرزا قادیانی ہی اُس کے سامنے مر گئے تو کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب جھوٹے نہ ٹھہریں؟ یہاں عذاب کی پیشین گوئی کیلئے ٹلنے اور نہ ٹلنے کو کچھ دخل نہیں ہے۔ یہاں صرف مرزا قادیانی کے پختہ اقرار سے بحث ہے۔ سچے نبی اور مقرب خدا کے ایسے پختہ اقرار جس کے پورا نہ ہونے پر وہ اپنے قول سے جھوٹا ٹھہرے کبھی غلط نہیں ہو سکتے برادران اسلام! اس میں غور کریں۔
چوتھے، یہ کہ جس طرح اُس کے مرنے کی پیشین گوئی کرتے ہیں اسی طرح اس کی بھی خبر دیتے ہیں کہ میری زندگی میں اُس کا مرنا خدائے تعالیٰ کے علم ازلی میں قرار پا چکا ہے۔
- ١۔ اس قول کو پیش نظر رکھ کر میاں محمود کے اس اشتہار کو دیکھا جائے جو انہوں نے ان دنوں طبع کیا ہے
اور احمد بیگ کے داماد کا معتقد ہونا ظاہر کیا ہے۔ جب وہ مرزا قادیانی کا معتقد تھا تو پھر مرزا قادیانی خواہ مخواہ اسے کیوں برابر کوستے رہے اور نہایت زور کے ساتھ اس کے مرنے کی پیشین گوئی کرتے رہے۔؟
٩٧
اُس کے وقوع میں آنے کے لئے کوئی قید اور شرط نہیں ہوسکتی کیونکہ اپنے سامنے اُس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم اُسی کو کہتے ہیں جس کا ہونا یقینی طور سے علم الٰہی میں قرار پاچکا ہو۔ اُس کے خلاف ہرگز نہیں ہوسکتا اگر کسی وجہ سے اُس کے خلاف ظہور میں آئے تو خدائے تعالیٰ کا علم ناقص قرار پائے۔ نعوذ بااللہ
انبیاء کو تقدیر مبرم کا علم بغیر وحی یا قطعی الہام کے نہیں ہو سکتا۔ اب جس بات کو مرزا قادیانی نے تقدیر مبرم کہا تھا اس کا ظہور نہ ہوا، اس لئے ضرور ہے کہ یا تو مرزا قادیانی کو مفتری کہا جائے یا یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے۔ اب ناظرین نے معلوم کیا ہوگا کہ اس پیشین گوئی کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی خبر دی گئی کہ وہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے گا۔ دوسرا حصہ یہ ہے کہ اس خبر کے وقوع میں آنے کا اس طریقے سے یقین دلایا ہے کہ اگر اُس کا ظہور نہ ہوا تو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ٹھہریں اور جب اُس کا ظہور نہ ہوا تو وہ کاذب ٹھہرے اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔
- (٢) ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨ میں لکھتے ہیں۔ ’’یاد رکھو کہ اس
پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسانی افتراء نہیں یقیناً سمجھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔‘‘ اس عبارت میں بھی مرزا قادیانی کئی باتیں کہتے ہیں۔ اوّل، اپنے سامنے اُس کے مرنے کی خبر دیتے ہیں۔ دوم، یہ کہ یقینی طور سے اُسے خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں۔ وعید نہیں کہتے۔ سوم، یہ کہ اس خبر کے سچے ہونے کا یقین اس طرح دلاتے ہیں کہ اگر احمد بیگ کا داماد میرے سامنے نہ مرے تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر اس پیشین گوئی کے ظہور کے لئے کوئی شرط ہوتی تو ہرگز یہ نہ کہتے کہ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ چہارم یہ کہ اس پیشینگوئی کا ظہور خدائے تعالیٰ کی اُن باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں۔ یہ جملہ بھی صفائی سے کہہ رہا ہے کہ اس پیشین گوئی کے لئے کوئی شرط نہیں ہے غرضیکہ اس قول سے بھی ظاہر ہوا کہ اس پیشین گوئی کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ سلطان محمد کی موت کی خبر دینا۔ دوسرے
٩٨
اس کا یقین دلاتا کہ اگر یہ خبر صحیح نہ ہو تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے ٹل نہیں سکتا۔ ان دونوں قولوں کے سوا اور بھی اقوال ہیں جن کو میں نے آسمانی فیصلہ حصہ دوم اور تنزیہہ ربانی میں نقل کیا ہے۔ اُن میں مرزا قادیانی نے اُس کے مرجانے کو اپنی صداقت کا معیار اور نہ مرنے کو اپنے کذب کا معیار بتایا ہے۔ اس پر خدا کی قسم کھائی ہے۔ الغرض اس پیشین گوئی کا دوسرا حصہ ١ یعنی اس کی موت کو (١) تقدیر مبرم کہنا (٢) اُسے اپنی صداقت کا معیار بتانا (٣) اُسپر قسم کھانا اور (٤) پھر اُس پر برسوں اصرار کرنا (٥) اور اس مدت مدید میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی وقت اس خیال کی غلطی پر اطلاع نہ ہونا متعدد طریقوں سے شہادت دیتا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے فرستادہ بلکہ برگزیدہ خدا بھی نہ تھے۔ اُس وقت تک اس پہلو پر کسی نے نظر نہیں کی اور نہ اس کا کوئی جواب دیا۔ صرف پہلے حصہ پر نظر کی گئی ہے یعنی یہ کہ احمد بیگ کا داماد میرے سامنے مرے گا۔ اس لحاظ سے یہ ایک وعید کی پیشین گوئی ہے۔ البتہ مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں اُسے خدا کا سچا وعدہ کہا ہے۔ یہ قول بھی صحیح ہے کیونکہ یہ پیشین گوئی سلطان محمد کے لئے وعید ہے اور مرزا قادیانی کے لئے وعدہ ہے۔ اگر اس پیشین گوئی کا ظہور ہوجاتا تو مرزا قادیانی کی صداقت پر لوگ ٹوٹ پڑتے اور بہت لوگ ماننے لگتے۔ الغرض اس پیشین گوئی میں وعدہ اور وعید دونوں ہیں۔ اگر طالبین حق اس پیشین گوئی کے دونوں حصوں پر علیحدہ علیحدہ نظر کر کے اُس کے نتیجہ پر غور کریں گے تو بالیقین معلوم کرلیں گے کہ اُس کے دونوں حصے مرزا قادیانی کے کذب کو متعدد طریقوں سے ثابت کرتے ہیں اور اس وقت تک جو اُن کے متبعین نے یا خود انہوں نے اس پیشین گوئی کی نسبت کہا ہے۔ وہ صرف پہلے حصہ کی نظر سے کہا ہے یعنی یہ ایک وعید کی پیشین گوئی ہے۔ دوسرے حصہ کی طرف سے بالکل خاموشی ہے۔ وہاں چون و چرا کی مجال ہی نہیں ہے۔ اپنے دل میں سمجھے ہوں گے کہ اس حصہ کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ اب ان طریقوں پر نظر کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جس حصہ کا جواب دیا گیا ہے وہ بھی بالکل غلط اور چند جھوٹے دعوؤں اور غلط
١ یہ خوب مد نظر رہے کہ اس پیشین گوئی کے دوسرے حصہ میں یہ پانچ باتیں ہیں جن پر میں نے نمبر دے دیا ہے۔ ان میں غور کرنے سے مرزا قادیانی کی نسبت کامل فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اس کی تفصیل آئندہ ملاحظہ کیجئے۔
٩٩
فہمیوں کا مجموعہ ہے۔
پہلا طریقہ: جن کے قلوب نور اسلام سے منور ہیں وہ قرآن پاک کی ان آیتوں کو ملاحظہ کریں جن کے نقل اوپر ہو چکے ہیں اور جن سے آفتاب کی طرح روشن ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور وعید میں تخلف نہیں ہو سکتا اور خصوصاً جو وعدہ یا وعید خاص مدعی رسالت سے کی جائے۔ جب مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور نہایت پختہ وعید خداوندی کا کچھ ظہور نہ ہوا تو آیات قرآنیہ سے روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے نہ تھے، ورنہ اُن کی پیشین گوئی ضرور پوری ہوتی۔ یہ کہنا کہ عذاب کی پیشین گوئی کا ٹل جانا اللہ کی سنت مستمرہ محض غلط اور نصوص قطعیہ کے خلاف ہے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی کے متعدد اقوال کے خلاف ہے۔
پہلا قول: احمد بیگ کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ اُس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور اُن کے توبہ اور رجوع کے باعث فوت نہ ہوا مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام کار وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣ خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
ذرا آنکھ کھول کر ملاحظہ کیا جائے کہ احمد بیگ کے داماد کی وعید کی نسبت کہہ رہے ہیں کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں۔ اُس کے مرنے کی نسبت جو کئی مرتبہ کہا گیا ہے۔ وہی ہوگا یعنی احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مرے گا۔
دوسرا قول: اُسی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی نسبت پھر لکھتے ہیں کہ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں١؎
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
یہاں بھی خدا کی تمام باتوں کی نسبت لکھتے ہیں کہ نہیں ٹلتیں یہ بعینہ ترجمہ لا تبدیل لکلمات اللہ کا ہے اور پھر خاص اس وعید کی پیشین گوئی کو اُنہیں باتوں میں بتاتے ہیں جو نہیں ٹلتیں۔
اب اگر نصوص قرآنیہ کے خلاف اور خود اپنے متعدد اقوال کے مخالف مضطر ہو کر مرزا قادیانی کسی جگہ یہ لکھیں۔
١؎ مرزا قادیانی کا یہ قول بہت جگہ ہے مگر میں نے بغرض اختصار دو ہی جگہ کا حوالہ نقل کیا ہے۔
مرزا قادیانی کا تیسرا اور چوتھا جھوٹ
”کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدلا نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی کو ٹال نہیں سکتا مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہے گا۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١)
پھر مرزا نے اسی کتاب تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٦ پر وعید کی پیشین گوئیوں کو ٹال دینا سنت اللہ کہا۔“ اس میں مرزا کے دو جھوٹ ہوئے۔ (١) خدا ٹالتا رہا (٢) ٹالتا رہے گا۔ اور اسے سنت اللہ قرار دینا۔ بناء الفاسد علی الفاسد۔
مرزا قادیانی کا پانچواں جھوٹ
یا یہ کہہ دیں کہ وعید کی پیشین گوئی کے ٹل جانے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔ مگر ذی علم مسلمان اسے مان نہیں سکتا کیونکہ یہ دونوں باتیں محض غلط اور اللہ پر اور اُس کے تمام رسولوں پر اتہام ہے اور اس پیشین گوئی کو شرطی کہنا بھی غلط ہے۔ اس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔ اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس سے مقصود کنبہ کی ہدایت تھی وہ حاصل ہوگئی۔
مرزا قادیانی کا چھٹا جھوٹ
اور اُن کا سرگروہ بانی فساد ایمان لے آیا کیونکہ نہ کوئی بانی فساد ایمان لایا اور نہ انبیاء کی ہدایت کا طریقہ ایسا ہوسکتا ہے جس میں خدائے قدوس کے وعدہ یا وعید میں تخلف لازم آئے۔ نبی کے ایک وعدہ یا وعید میں تخلف آنے سے اُس کے تمام وعدہ اور وعیدوں میں زلزلہ پڑ جائے گا اور اُس کے کسی قول پر اعتبار نہ رہے گا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے تو مانعین نکاح کا ہلاک کرنا مقصود خداوندی بیان کیا ہے۔ اب اُن کے پیرو اُسے غلط
١٠١
ٹھہرانا چاہتے ہیں۔
مرزا قادیانی انجام آتھم ص ٢١٦ خزائن ج ١١ ص ٢١٦ میں لکھتے ہیں۔ يُرَدُّ بِنْتُ احمد اِلَىَّ بَعْدَ اِهْلَاكِ الْمَانِعِيْنَ وَكَانَ اَصْلُ الْمَقْصُودِ الْاِهْلَاكَ یعنی بعد ہلاک کرنے مانعین نکاح کے احمد بیگ کی لڑکی لوٹ کر میرے پاس آئے گی اور اصل مقصود انکا ہلاک کرنا ہے۔“
یہاں تو مرزا قادیانی صاف کہہ رہے ہیں کہ مقصود اصلی تو ہلاک کرنا ہے۔ پھر اس کے صریح خلاف بناوٹ سے کیونکر جواب ہوسکتا ہے۔ اب اگر مانعین نکاح کی ہلاکت ظہور میں نہ آئی تو خدا تعالیٰ کا عاجز ہونا لازم آئے گا۔ کیونکہ جو اس کا اصل مقصود تھا وہ حاصل نہ ہوا طالبین حق مرزا قادیانی کے اُن اقوال کو ملاحظہ کریں اور میاں محمود کے اُس خط کو دیکھیں جو انہوں نے اس پیشین گوئی کے جواب میں شائع کیا ہے اور اُس کی صداقت کا اندازہ کریں۔ الحمدللہ ہمیں اس کی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے اقوال ہی اسے محض غلط اور بناوٹ کہہ رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی تحریر میں یہ کمال ہے کہ انہیں کی تحریر سے اُن کا رد ہو جاتا ہے۔ یہ تو پیشینگوئی کے پہلے حصے کا نتیجہ تھا۔ اب دوسرے حصہ کے طرق واضحہ کو ملاحظہ کیجئے۔
دوسرا طریقہ! مرزا قادیانی اُس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں اور اس پر اس قدر وثوق ہے کہ پہلے اسے زبان اردو میں لکھا پھر انجام آتھم کے ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً میں عربی و فارسی میں بیان کیا اور بار بار اسے تقدیر مبرم کہا۔ یعنی اس کا وقوع میں آنا علم الہی میں قرار پاچکا ہے۔ اس کے لئے نہ کوئی شرط ہوسکتی ہے نہ وہ کسی وجہ سے ٹل سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس کا ظہور نہ ہو تو خدا تعالیٰ کا جہل لازم آئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں تو یہ تھا کہ یہ کام یوں ہوگا مگر نہ ہوا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم غلط نکلا۔ وہ علام الغیوب واقعی حالت سے واقف نہ تھا۔ نعوذ باللہ
اس پر خوب نظر رہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو ان انبیاء میں بتاتے ہیں جن پر بارش کی طرح وحی نازل ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے (جو بڑے شان کے
١٠٢
مستقل نبی ہیں) ہر شان میں اپنے آپ کو بڑھ کر کہتے ہیں تو اُن کے وحی الہام میں غلطی نہیں ہو سکتی، انبیاء اس سے معصوم ہیں۔ مرزا قادیانی جب اُس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں تو اس کے مدعی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے علم سے اطلاع دی ہے کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے روبرو مرنا اللہ تعالیٰ کے علم میں قرار پا چکا ہے۔ اُس کا ظہور میں آنا ضروری ہے۔ (انجام آتھم کے حاشیہ ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١ ) کے جملے اس مدعا کی صاف شہادت دیتے ہیں۔ جب ظاہر ہو گیا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی اس کے سامنے مر گئے تو معلوم ہوا کہ اپنے سامنے مرنے کو تقدیر مبرم کہنا محض غلط تھا۔ جس سے اُس قدوس پر سخت الزام آتا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی اپنے قول سے مفتری ٹھہرتے ہیں اور مفتری علی اللہ نبی یا کوئی مقدس نہیں ہو سکتا۔ اگر یہاں مرزا قادیانی کی سمجھ کی غلطی مان کر انہیں افتراء کے الزام سے بچایا جائے تو پھر نبی کے قول کی کوئی وقعت نہیں ہو سکتی کیونکہ جب اس کا ایسا پختہ قول جس کو اُس نے اپنی صداقت کا معیار بتایا اور برسوں اُس پر قائم رہا اور خدا کی طرف سے اُسے متنبہ نہ کیا گیا۔ پھر جس الہام سے اُس نے اپنے آپ کو مہدی موعود یا رسول سمجھ لیا، اُس پر کیونکر اعتبار ہو سکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس الہام کے سمجھنے میں اُسے غلطی سے معصوم سمجھ لیا جائے۔ کسی نبی کی ایسی غلط فہمی ثابت نہیں ہو سکتی کہ اُس نے الہام کو غلط سمجھ کر برسوں اس کو مشتہر کرتا رہا ہو اور اپنی صداقت کا معیار اُسے قرار دیا ہو اور انجام میں اُس کی غلط فہمی ثابت ہوئی ہو اگر ایسا ہو تو نبی کے کسی کلام پر اعتبار نہیں ہو سکتا۔
تیسرا طریقہ: انجام آتھم (ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ ”کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں
١ جماعت مرزائیہ اعلانیہ جب ان پیشین گوئیوں کی صداقت ثابت کرنے سے عاجز ہو گئی تو اب کہنا شروع کیا ہے کہ یہ پیشین گوئیاں صرف اُن کی ہدایت کے لئے کی گئی تھیں۔ مگر یہ تو فرمائیے کہ خدا کے رسولوں کی ہدایت اس طرح ہوا کرتی ہے کہ خواہ مخواہ ایسی پیشین گوئیاں کریں جس سے وہ خود بھی جھوٹے ٹھہریں اور خدائے قدوس پر جھوٹ اور تخلف وعدہ کا الزام آئے ذرا خدا سے ڈر کر اور ہوش سنبھال کر بات کہو۔
١٠٣
تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کر دے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔‘‘ اس کلام میں مرزا قادیانی نہایت صاف طور سے اپنے جھوٹے اور سچے ہونے کا معیار بتاتے ہیں۔ جھوٹے ہونے کا معیار یہ کہتے ہیں کہ داماد احمد بیگ کی پیشین گوئی میری زندگی میں پوری نہ ہو اور اُس سے پہلے میں مر جاؤں اور سچے ہونے کا معیار اسے بتاتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی اُسی طرح پوری ہوگی جس طرح احمد بیگ اور آتھم کی پوری ہوئی یعنی جس طرح یہ دونوں مرزا قادیانی کے روبرو مر گئے۔ یہ بھی اسی طرح مر جائے گا۔ یہ دونوں معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے قلم سے لکھی تھیں۔ ان دونوں معیاروں کے بموجب وہ کاذب ٹھہرے کیونکہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا بلکہ مرزا قادیانی ہی اُس کے سامنے مر گئے۔ اس لئے جو سچے ہونے کی معیار بیان کی تھی۔ وہ اُن میں نہیں پائی گئی اور جو معیار جھوٹے ہونے کی بیان کی تھی وہ پائی گئی، اس وجہ سے مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیاروں کے بموجب کاذب ٹھہرے۔ وعید کی پیشین گوئی کا ٹل جانا یا نہ ٹلنا اور بات ہے۔ یہاں اُن کا صریح اقرار اُنہیں کاذب ثابت کر رہا ہے اور اس اقرار کو اُن کی انسانی غلطی بتا کر اُن کی صداقت کو قائم رکھنا غیر ممکن ہے کیونکہ اوّل تو یہ دونوں جملے پہلے جملے کی شرح ہیں۔ یعنی داماد احمد بیگ کی پیشین گوئی کو مرزا قادیانی تقدیر مبرم لکھ چکے ہیں۔ اب اُس کی شرح اس طرح کرتے ہیں کہ علم الٰہی میں یہ قرار پا چکا ہے کہ جس طرح احمد بیگ اور آتھم میرے روبرو مر گیا۔ یہ بھی اسی طرح مرے گا، یہاں تو بے توبی کی شرط بھی بیکار ہے، کیونکہ جب اس کا مرنا علم الٰہی میں ٹھہر چکا ہے تو کسی شرط وغیرہ سے بدل نہیں سکتا۔ البتہ اگر اُن کے تقدیر مبرم کہنے کو غلط کہا جائے اور انہیں مفتری مان لیا جائے تو وہی نتیجہ ہوگا جو دوسری وجہ کا ہوا۔ اس کے علاوہ نہایت صاف بات ہے کہ جسے خدا تعالیٰ اپنا رسول بنا کر کے بھیجے۔ جس کو خصوصیت کے ساتھ صدیق کا خطاب دے وہ تمام خلق کے روبرو ایسی غلطی کرے جس کی وجہ سے وہ اپنے اقرار کے بموجب کاذب ٹھہرے اُسے خدا فوراً مطلع نہ کرے۔ یہ غیر ممکن ہے جب مدعی نبوت نے ایسی بھاری غلطی کی اور اس پر آگاہ نہ کیا گیا تو بالیقین معلوم ہوا کہ خدا کا رسول یہ ہرگز نہ تھا۔ خلق کی
١٠٤
ہدایت کیلئے خدا نے اسے نہیں بھیجا تھا ورنہ وہ اس غلطی پر ضرور آگاہ کرتا بلکہ اُس کی زبان سے یہ الفاظ ہی نہ نکلتے۔ رسول اللہ ﷺ نے یا کسی نبی نے کسی پیشین گوئی کی نسبت ایسا نہیں کہا کہ اس کا ظہور نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں یہ طرز روش انبیاء کی نہیں ہے۔
چوتھا طریقہ: ضمیمہ انجام آتھم (ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں اس پیشین گوئی کی نسبت نہایت زور کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ ”یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
عنقریب یہاں بیان ہو گیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کے لحاظ سے وعید ہے اور دوسرے پہلو سے وعدہ ہے۔ اب مرزا قادیانی اُسے خدا کا وعدہ قرار دے کر اُس کے ظہور کا یقین اس طرح دلاتے ہیں کہ یہ وعدہ اُس ذات مقدس و متین کا ہے جس کی کوئی بات نہیں ٹلتی۔ خواہ وعدہ ہو یا وعید ہو مرزا قادیانی کی اس عبارت کا تو مطلب یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا مگر چونکہ اُن کے کلام میں تعارض اور اختلاف بہت ہے۔ اس لئے یہ بھی انہوں نے لکھا ہے کہ وعید کی پیشین گوئی کا ٹل جانا سنت اللہ ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ اس اختلاف سے قطع نظر ضمیمہ کی یہ عبارت اگر مرزا قادیانی نے ہوش و حواس کی حالت میں لکھی ہے۔ یہ جملہ نہایت صفائی سے کہہ رہا ہے کہ یہ پیشین گوئی ان میں نہیں ہے جو کسی وجہ سے ٹل جاتی ہیں بلکہ یہ سچا وعدہ خداوندی ہے اور خدا کی اُن باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں۔ اب یہاں خلف فی الوعید کو دخل دینا اور خدا کی نسبت یہ بتانا کہ عذاب کی پیشین گوئی ٹل جاتی ہے کس قدر دھوکا دینا ہے۔
بھائیو! یہاں تو صاف مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی خدا کی ان باتوں میں ہے جو نہیں ٹلتیں۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، یہ ضرور پورا ہوگا۔ جب اس کے کہنے کے بعد بھی وہ وعدہ پورا نہ ہوا تو یقیناً مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوئے اور ہر بد سے بد ٹھہرے۔ عذاب کی پیشین گوئی ٹلتی ہو یا نہ ٹلتی ہو مگر مرزا قادیانی اپنے اقرار سے ہر طرح کاذب ہوئے اس کا جواب کوئی صاحب قیامت تک نہیں دے سکتے۔
پانچواں طریقہ: اس انجام آتھم (ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں پہلی پیشین گوئی
١٠٥
پوری نہ ہونے کی وجہ میں کئی ورق سیاہ کر کے اور خوب زور تحریر دکھا کر کامل وثوق سے عربی اور فارسی دونوں تحریروں میں احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو تقدیر مبرم لکھا ہے اور مکرر اس کا وقت عنقریب بتایا ہے اور پھر اس پر پختہ قسم کھائی ہے اور لکھا ہے ۔
و من نگفتم الا بعد ازاں کہ از رب خود خبر دادہ شدم
اس قول میں صاف طور سے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اُس کی موت کا تقدیر مبرم ہونا اور اُس کے ظہور کا وقت عنقریب ہونا اور اُس کی موت کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بتانا بالہام الٰہی ہے۔ پھر جب یہ امر آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا تو اپنے معیار کے بموجب وہ کاذب ٹھہرے یا نہیں؟ اور اُن کی پختہ قسم جھوٹی ہوئی یا نہ ہوئی۔ ضرور جھوٹی ہوئی۔ بھائیو! ذرا تو غور کرو اپنی بات کی پچ میں اپنی عاقبت کیوں برباد کرتے ہو جب وہ قسم کھا کر اس کے نہ مرنے کو اپنے کاذب ہونے کا معیار بتاتے ہیں اور پھر اُسے الہام ربانی کہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اُن کے الہامی قول کے بموجب اُنہیں کاذب نہ کہا جائے۔ اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے پختہ اقرار اور اپنے معین کردہ معیار کے بموجب کاذب ہوئے یہاں یہ عذر کرنا کہ عذاب کی پیشین گوئی ٹل جاتی ہے۔ سخت نافہمی ہے۔ عذاب کی پیشین گوئی ٹلتی ہو یا نہ ٹلتی ہو یہاں تو وہ اپنے الہامی اقرار سے کاذب ہیں۔ الحاصل اس پیشین گوئی کے غلط ہو جانے سے بالیقین مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوتے ہیں اور کذب بھی ایک طرح سے نہیں بلکہ پانچ طریقوں سے ہے جنہیں بیان کیا گیا۔ ان میں سے چار طریقوں کا جواب تو اس وقت تک کوئی نہیں دے سکا۔ البتہ پہلے طریقے کے جواب میں چند غلط اور بے اصل باتیں کہی ہیں۔ وہ یہ ہیں۔
- (١) خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا مگر پورا نہیں کیا۔ یہ ضرور نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے تمام
وعدے اور وعیدیں پوری کرے۔ اس کے ثبوت میں بعض آیتیں پیش کی تھیں۔ مگر تنزیہہ ربانی اور معیار صداقت میں کافی طور سے دکھا دیا گیا کہ اُن آیتوں کا وہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا۔ جو مرزائی سمجھے ہیں وہ مطلب قرآن مجید کے نصوص قطعیہ کے مخالف ہے اور اس
١٠٦
رسالہ میں بھی ان کا جواب دیا گیا ہے، بعض کا بیان ہوگیا ہے بعض کا عنقریب آئے گا۔
(٢) سنت اللہ یہ ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی توبہ و استغفار سے ٹل جاتی ہے۔ تمام انبیاء کا اس پر اتفاق ہے۔ اس کا جواب اس قدر کافی ہے کہ یہ مرزا قادیانی کا محض غلط دعویٰ ہے۔ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہرگز نہیں ہے بلکہ قرآن مجید کی جو آیتیں اوپر نقل ہو چکی ہیں ان سے کامل طور سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں ضرور پوری ہوتی ہیں اور سنت اللہ یہی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری پیشین گوئی کے بعد سلطان محمد کا توبہ واستغفار ہرگز ثابت نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے اقوال سے اس کی سرکشی١؎ ثابت ہے۔
(انجام آتھم ص ٢٢٢ خزائن ایضاً ملاحظہ ہو)
ظاہر ہے کہ جب اُس کے متعلق پہلی پیشین گوئی مرزا قادیانی کی غلط ہوگئی اور وہ ڈھائی برس کے اندر نہ مرا تو اُسے جرات زیادہ ہوگئی ہوگی اور مرزا قادیانی کے کذب کا اُسے یقین ہوگیا ہوگا اور یہ بھی سمجھ لیا ہوگا کہ میرے خسر یعنی احمد بیگ کی موت اتفاقیہ ہوئی۔
(٣) یہ پیشین گوئی شرطی تھی جب شرط پوری کردی گئی تو وعید منسوخ ہوگئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دوسری پیشین گوئی کے لئے کسی وقت کوئی شرط بیان نہیں کی گئی۔ جس کے لئے شرط کہا جاتا ہے وہ پہلی پیشین گوئی ہے۔ یہ دوسری پیشین گوئی تو وہ ہے جس کے وقوع میں آنے کو تقدیر مبرم کہا ہے اور اُس کے ظہور کو اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے اور
١؎ میاں محمود نے جو ان دنوں سلطان محمد کا خط چھپایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ میں پہلے ہی مرزا قادیانی کو بزرگ سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں یہ خط مرزا قادیانی کے اقوال کو بالکل غلط بتا رہا ہے۔ ذرا انصاف کیا جائے کہ مرزا قادیانی ہمیشہ اسے کوستے رہے اور اُس کے مرنے کو اپنی صداقت کا معیار بتاتے رہے اور اُس کی بیوی کی نسبت کہتے رہے کہ ہمارے پاس آئے گی اور ہماری بیوی ہوگی۔ اب انسانی طبیعت پر نظر کر کے کہا جائے کہ جس شخص کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ حال رہا ہو اور برسوں اسی حالت پر گزرے ہوں۔ اس کا خیال مرزا قادیانی سے کیونکر اچھا رہ سکتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر یہ خط محض مصنوعی نہیں ہے تو اسے کچھ دے کر یا نہایت درجہ کی خوشامد کر کے لکھوایا گیا ہے۔ اس لئے وہ کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہم تو مرزا قادیانی کے صریح اقوال سے انہیں کاذب ثابت کر رہے ہیں یہ اقراری ڈگری مصنوعی خط سے منسوخ نہیں ہوسکتی۔
١٠٧
اُس پر قسم کھائی ہے یہ کہنا بدیہی دلیل ہے کہ اس کے لئے نہ کوئی شرط تھی اور نہ اُس کے لئے کوئی شرط ہو سکتی ہے۔ اس کا ظہور ہونا ہر طرح ضرور تھا اور جس پیشین گوئی کیلئے جملہ ”تُوبِی تُوبِی“ شرط کہا گیا ہے۔ اس کی حقیقت بھی عنقریب ظاہر ہو جائے گی اور بخوبی اُس کی غلطی اظہر من الشمس کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس جماعت میں جو بعض لکھے پڑھے ہیں۔ وہ اس پر بھی غور نہیں کرتے کہ منسوخ کیا چیز ہو گئی۔ وعدہ اور وعید تو آئندہ کی ایک خبر ہے اور خبر کے منسوخ ہونے کا تو دنیا میں کوئی صاحب عقل قائل نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اگر کسی وعدہ کرنے والے نے کوئی وعدہ کیا اور پورا نہ کیا تو وہ وعدہ کرنے والا وعدہ خلاف کہلائے گا۔ وعدے کے منسوخ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ جو لوگ قرآن مجید میں نسخ کے قائل ہیں وہ صرف بعض احکام کو منسوخ کہتے ہیں جو وقتی ضرورت کے لئے کسی وقت دیئے گئے اور جب وہ ضرورت نہ رہی تو وہ حکم بھی اٹھا دیا گیا۔ قرآن مجید کی خبروں میں کوئی مسلمان نسخ کا قائل نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ خلاف ہونا جھوٹ بولنا سب کے نزدیک محال ہے۔ خواہ وہ امکان کذب کے قائل ہوں یا امتناع کذب کے۔ مسلمان اہل دل یہ سن کر کانپ جائے گا کہ خدائے تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے یا وعدہ خلافی کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ) غرضیکہ پیشین گوئی کے ٹل جانے یا منسوخ ہونے کے کوئی معنی نہیں ہو سکتے بجز اس کے کہ جو خدائے تعالیٰ نے خبر دی تھی وہ غلط تھی۔ ایسی جرأت اور بیباکی قادیانیوں کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتی۔
- (٤) معلوم ہوتا ہے کہ وہ جان چکے ہیں کہ اس کے جواب میں ہم کوئی دلیل شرعی
پیش نہیں کر سکتے جو اہل علم کے نزدیک حجت ہو سکے۔ اس لئے عوام پر اثر ڈالنے کے لئے بعض اولیاء کرام کے زیر دامن پناہ لینا چاہا ہے، مگر جب اللہ و رسول نے پناہ نہیں دی اور قرآن مجید کے نصوص صریحہ سے اُن کے اقوال غلط ثابت ہو گئے اولیاء کرام کے یہاں انہیں پناہ نہیں مل سکتی۔ اس کی تفصیل تو اس دلیل کے آخر میں آئے گی۔ (انشاء اللہ) مگر یہاں اس قدر کہتا ہوں کہ کامل اولیاء کرام کا کلام قرآن مجید کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مگر چونکہ تصوف کی کتابوں میں اکثر جگہ عارف کی حالت کا بیان ہوتا ہے۔ اس لئے جو صاحب حال نہیں ہیں وہ اُسے سمجھ نہیں سکتے اور بغیر اُن کے کلام کو کسی دعویٰ کے ثبوت میں
١٠٨
پیش کرنا جہل مرکب ہے۔ اگر دعویٰ ہے تو کوئی آیت قرآنی پیش کرو۔ اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو فرمائیں کہ جملہ یُوْعَدُوْ لَا یُوْفٰی اگرچہ غلط ہے مگر بالفرض صحیح بھی مان لیا جائے تو اس پیشین گوئی کے جواب میں اسے پیش کرنا عوام کو محض دھوکا دینا ہے۔ اگر کچھ عقل ہے تو خیال کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے صرف وعدۂ الٰہی نہیں بیان کیا کہ آپ کہہ سکیں کہ اُس نے وعدہ کیا تھا، مگر پورا نہ کیا اور یوعدو لا یوفی ہو گیا۔
بھائیو! مرزا قادیانی تو بڑے اصرار اور نہایت پختگی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس وعدۂ الٰہی کا پورا ہونا تقدیر مبرم ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اگر وعدہ پورا نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔ دوسرے مقام پر خدا کی قسم کھا کر اس وعدہ کا پورا ہونا بیان کرتے ہیں اور اسے اپنی صداقت کا معیار کہتے ہیں اور اُس کے پورا نہ ہونے کو اپنے کذب کا معیار بتاتے ہیں۔ اس لئے ضرور ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے بموجب کاذب ہیں۔ یہاں جملہ ”یوعدو لا یوفی“ سے اُن کی صداقت کیونکر ثابت ہو سکتی ہے۔
الحاصل، دوسری پیشین گوئی بھی ایسی غلط ثابت ہوئی جس طرح پہلی پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی تھی۔ بلکہ دوسری پیشین گوئی کے غلط ہونے سے مرزا قادیانی کا کذب نہایت ہی روشن ہو گیا۔ کیونکہ وہ اپنے متعدد اقراروں سے کاذب ثابت ہوئے۔ یہاں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ قادیانی جماعت یہ تو بتائے کہ وہ نکاح بھی منسوخ ہو گیا جس کے ظہور کا برسوں اس قدر زور و شور سے دعویٰ ہوتا رہا اور اس مفروضہ بیوی کے شوہر کی موت کی وعید بھی ٹل گئی مگر یہ تو فرمائیے کہ مسلمان، عیسائی، آریہ، سب کے مقابل میں جو مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان نشان اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کرنا چاہا تھا اور مدتوں انتظار میں رکھا وہ کیا ہوا۔ کیا اس میں بھی آپ کو کوئی عذر ہو سکتا ہے کہ جسے نہایت ہی عظیم الشان کہہ کر مخلوق کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا تھا۔ وہ محض اُن کی خیالی آرزو تھی جو پوری نہ ہوئی؟ اگر اتفاقیہ طور سے پوری ہو جاتی تو پھر عظیم الشان نشان تھا۔ اللہ اکبر غضب تو یہ ہے کہ آپ سے اعلانیہ طور سے اُس پیشین گوئی کا ظہور نہ ہوا مگر پھر کہا جاتا ہے کہ پیشین گوئی کی صداقت ثابت ہو گئی۔ اس اعلانیہ کذب یا نہایت درجہ کی بیوقوفی کا کیا ٹھکانا
١٠٩
ہے۔ ایسے حضرات کے سمجھانے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے جن کی عقل و فہم بالکل الٹ گئی ہو اور باطل پرستی نے اُن کے دل کو بالکل تاریک کر دیا ہو۔
بھائیو! مرزا قادیانی کے کذب کے ثبوت میں میں نے یہ پیشین گوئی اسی غرض سے پیش کی ہے کہ متعدد وجوہ سے اُن کا کاذب ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے۔ شاید حق بات کسی طور سے آپ کے ذہن میں آجائے۔ یہ خیر خواہ برادران اسلام کو ہلاکت ابدی سے بچانے کے لئے ایک فریب خوردہ کی تمام جھوٹی باتوں کو چھوڑ کر صرف ایک بات کو پیش کرتا ہے اور مثل آفتاب روشن کر کے دکھاتا ہے کہ اس سے اس فریب خوردہ کا کذب عیاں ہو رہا ہے اور مختلف طریقوں سے اس کے کذب کی تاریکی نظر آ رہی ہے۔ اسے دیکھو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو پرہیز کرو۔
اب چھٹی پیشین گوئی کے متعلق یہ دکھانا منظور ہے کہ وہ بھی ہر طرح سے غلط ثابت ہوئی اور جو جوابات اس کے دیئے گئے ہیں وہ خود مرزا قادیانی کے اقوال سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ بعض اقوال یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔
منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کے بعض الہامات و اقوال
- (الف) ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا نے مقرر
کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو جس کی درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“
(مرزا قادیانی کا اشتہار مرقومہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٥٨)
معزز ناظرین! ذرا اس قول پر دوبارہ نظر کر کے فرمائیں کہ اس قول میں جس بات کو مرزا قادیانی تقدیر خداوندی بتاتے ہیں اس کے ہونے یا نہ ہونے کے لئے کوئی شرط ہو سکتی ہے۔ جب یہ کہہ دیا کہ ہر مانع دور ہونے کے بعد انجام کار وہ لڑکی خاص مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی تو کوئی وجہ ایسی ہو سکتی ہے کہ یہ تقدیر ٹل جائے اور اس کا ظہور نہ ہو۔ آپ سوچ کر ذہن نشین رکھئے۔
- (ب) خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں
مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ (ایضاً)
اس قول پر بھی مکرر نظر کر کے کہئے کہ جب خدائے تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ انجام کار میں وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس آئے گی اور خدائے تعالیٰ کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ ٹل نہیں سکتا۔ تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ اُس کے ظہور کے لئے ایسی شرط ہو کہ خدا کا یہ وعدہ پورا نہ ہو اور یہ ارشاد خداوندی کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کی طرف واپس آئے گی۔
جھوٹا ثابت ہوا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہ آئی کوئی ایماندار اس کا اقرار نہیں کر سکتا۔
(ج) خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اُس کو میری طرف لائے۔
(اشتہار ٢ مئی ١٨٩١ء مجموعہ اشتہارات ص ٢١٩ ج١)
ناظرین! اس قول میں بھی تامل فرماویں کہ جب اس قول کے بموجب خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ قرار پا چکا ہے کہ وہ لڑکی ہر طرح سے مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی تو اس کے لئے ایسی شرط کیونکر ہوسکتی ہے کہ اُس کے پورا ہو جانے سے نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ وعدہ صحیح نہیں ہے تو محمدی کا نکاح میں آنا ضرور
١؎ اس پر نظر کیجئے کہ یہ عبارت خلیفہ قادیان کے جواب کو بھی غلط بتا رہی ہے کیونکہ جو لوگ روک رہے تھے وہ خاص محمدی کے نکاح سے روک رہے تھے اور پھر اسی کتاب کی نسبت یہ کہا گیا کہ انجام کار تمہاری طرف واپس لائے گا۔ محمدی کی اولاد کا تو اس وقت وجود بھی نہ تھا بلکہ اس کا کسی کو خیال بھی نہ تھا۔ پھر روکنے کے کیا معنی اور واپس لانے کے کیا معنی۔ واپس لانے کے معنی جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ اس وقت صحیح ہو سکتے ہیں کہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے، الغرض ایسی صراحت کے بعد کوئی صاحب یہ نہیں کہہ سکتا کہ نکاح میں آنے سے یہ مراد ہے کہ محمدی کی اولاد میں سے قیامت تک کوئی نہ کوئی لڑکی مرزا قادیانی کے خاندان میں بیاہی جائے گی اور یہ ایسے غلط معنی ہیں کہ کوئی ذی عقل حالت ہوش و حواس میں اس کی غلطی سے انکار نہیں کر سکتا۔
١١١
ہے اور اگر بالفرض ایسا نہ ہو تو یہ خدا کا متغیر ہونا اور کاذب اور وعدہ خلاف ہونا ثابت نہ ہوگا؟ ضرور ہوگا۔ کوئی ذی فہم اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
- (ر) خدا تعالیٰ نے پیشین گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ۔
- (١) احمد بیگ کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور بہت لوگ
عداوت کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔
- (٢) لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔
- (٣) ہر طرح سے اُس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے۔
- (٤) اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھائے گا۔
- (٥) اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔
- (٦) کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔
(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
مرزا قادیانی کا یہ الہامی قول ہے۔ جس میں چھ جملے ہیں۔ ان میں خدائے تعالیٰ کا نہایت پختہ وعدہ اس طرح ہے کہ انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی اور پھر اُس کی کامل تاکید اور پختگی کے لئے کہا گیا کہ آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ یہاں لفظ انجام کار اور آخر کار خوب ملحوظ رہے اور آخر کے دو جملے کہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اُسے روک سکے، کیسی یقینی شہادت دے رہے ہیں کہ اس لڑکی کے نکاح میں آنے کے لئے کوئی ایسی شرط نہیں ہو سکتی۔ جس کی وجہ سے نکاح کا ظہور رک جائے۔ اب اگر کسی وجہ سے اس کے نکاح کا ظہور نہ ہو تو قطعی طور سے کہا جائے گا کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام اور سابق کے الہامات واقوال سب غلط ہیں اور بغیر اس کے غلط مانے ہوئے یہ کہنا کہ ظہور نکاح کے لئے شرط تھی اور اس شرط کے پائے جانے سے نکاح فسخ ہو گیا۔ کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا اگر مذکورہ الہامات صحیح ہیں تو ظہور نکاح کے لئے کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔ بھائیو یہ تو ایسی کھلی باتیں ہیں جن کا انکار کوئی صاحب عقل نہیں کر سکتا۔
١؎ اس جملہ پر کامل نظر کی جائے اور اس قول کو دیکھا جائے جو کہا جاتا ہے کہ پیشین گوئی شرطی تھی۔ شرط کے پورا نہ ہونے سے نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ یہ دونوں قول بالکل متعارض ہیں جو بات خدا کی طرف سے قرار پا چکی ہو اس کا ظہور نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
١١٢
حاصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات مذکورہ تو اس شرط کو غلط بتاتے ہیں اور چونکہ اُس شرط کو بھی الہامی کہا جاتا ہے اس لئے یہ شرط مرزا قادیانی کے خیال کے بموجب ان تمام اقوال و الہامات کو غلط بتاتی ہے۔ اس لئے بموجب قاعدہ مشہور اذا تعارضا تساقطا کے دونوں الہامات غلط ثابت ہوئے اور جب ایسے پختہ اور بار بار کے الہامات یقیناً غلط ثابت ہوچکے تو کوئی وجہ نہیں کہ اُن کے اور الہامات پر اعتبار کیا جائے۔ افسوس ہے کہ ایسی روشن باتوں پر بھی حضرات مرزائی نظر نہیں کرتے۔ اب ایک اُور عربی الہام اس باب میں ملاحظہ کیجئے اور اس میں تاکیدی الفاظ دیکھئے کہ خدا تعالیٰ اُس عورت کو واپس لائے گا۔ مکرر کہتا ہے اور اُس وعدے کے سچے ہونے میں شک کرنے کو منع فرماتا ہے اور اس کے نکاح میں آنے کی نسبت کس کس طرح سے تاکیدی وعدہ فرماتا ہے۔ وہ الہام یہ ہے۔
- (٥) (١)کذّبوا بایاتی وکانوا بھا یستھزؤن فسیکفیکھم الله
(٢) ویردھا الیک امر من لدنا انا کنا فاعلین (٣) زوجنا کھا الحق (٤) من ربک ولا تکونن من الممترین (٥) لا تبدیل لکلمات الله (٦) ان ربک فعال لما یرید (٧) انا رادوھا الیک...... توجهت لفصل الخطاب انا رادوھا الیک...... وقالوا متی ھذا الوعد قل ان وعد الله حق(٨)ه
(انجام آتھم ص ٦٠ ، ٦١ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا۔ (١) اور اُس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا اس کے بعد قول خداوندی اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ (٢) یہ امر (یعنی اُس عورت کا واپس لانا) ہماری طرف سے ہے اور بلا شبہ ہم ہی اُس کے کرنے والے ہیں۔ (٣) واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔ (یہ نکاح کر دینا) (٤) تیرے رب کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو کس زور کی تاکید سے اُس نکاح کا ظاہر ہونا اور اُس وعدۂ خداوندی کا
١١٣
سچا ہونا بیان ہوا ہے اور پھر نص قرآنی سے اس کی تائید کی گئی ہے کہ (٥) خدا کے کلمے (باتیں) بدلا نہیں کرتیں تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے۔ بالضرور اس کو کر دیتا ہے کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔ (٦) بیشک ہم اُس کو واپس لانے والے ہیں۔ (لفظ اِنَّ سے تاکید کر کے واپس لانے کو دوبارہ بیان کیا) آج میں فیصلہ کرنے کے لئے متوجہ ہوا۔ (٧) بلا شبہ ہم اُس کو تیری طرف واپس لائیں گے۔ یہاں تیسری مرتبہ اس عورت کے واپس لانے کو تاکید بیان کیا۔ (٨) لوگوں نے کہا کہ یہ وعدہ کب ہوگا۔ کہہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ یعنی اس وعدہ خداوندی کا وقت نہیں بیان کیا جاتا مگر یہ سمجھ لو کہ اُس عورت کا ہمارے پاس آنا خدا کا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ اس میں تخلف نہیں ہو سکتا۔‘‘
طالبین حق! اس پر غور کریں کہ یہاں پانچ مقام سے مرزا قادیانی کے پانچ الہام نقل کئے گئے ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا یقینی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے مکرر اور بار بار کے الہام سے اس کا ثبوت ہے اور وہ اپنے الہام کا قطعی اور یقینی ہونا نہایت زور سے بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ (حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن ج ج ٢٢ ص ٢٢٠) میں لکھتے ہیں۔ ’’میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘ یہ وہ الہام ہے کہ جس کی نسبت مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس پر ہم اسی طرح ایمان لاتے ہیں، جس طرح لا إلہ
١؎ اس پیشین گوئی میں تین جگہ تاکید کے ساتھ کہا گیا کہ ہم تیرے پاس اُسے واپس لائیں گے۔ اس کے صریح جھوٹا ہو جانے پر نظر نہیں ہے مگر اس سے مرزا قادیانی کا یہ نشان بیان کیا جاتا ہے کہ دوسرے سے نکاح ہو جانے کی خبر مرزا قادیانی دے رہے ہیں۔ کس قدر تعصب نے پردہ ڈالا ہے کہ جو جملہ نہایت صفائی سے جھوٹا ثابت ہو رہا ہے۔ اس پر نظر نہیں ہے مگر نشان ثابت کرنے کے لئے وہی غلط جملہ پیش ہو رہا ہے۔ دیکھو تشحیذ الاذہان بابت مئی ١٩١٣ء اور نشان ثابت کرنے میں کیسا فریب دیا جاتا ہے کیونکہ یہ الہام اس کے نکاح کے بعد کا ہے پہلا الہام وہ ہے جو ہم تیسرے اور چوتھے نمبر میں نقل کر چکے ہیں۔ جس میں صاف طور سے مذکور ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ باکرہ ہونے کی حالت (بقیہ آگے)
١١٤
الاّ اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر جب اس کے یقین اور صراحت کی یہ حالت ہے تو اس میں کسی طرح کی غلطی کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا اور یہ کہنے کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ اس سے غرض محمدی کا نکاح میں آنا یا اس کے شوہر کا مرنا مقصود نہ تھا بلکہ صرف ہدایت تھی وہ ہوگئی کیونکہ مکرر بار بار نہایت صراحت و تاکید سے الہام میں اس کا بیان ہے کہ محمدی نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔ اب اگر ایسی صراحت اور تاکید کے بعد اگر اسلام سے مقصود کچھ اور کہا جائے تو لا الہ الاّ اللّٰہ کا مقصود بھی توحید کے سوا کوئی دوسرا بیان کر سکے گا اور تمام دین کو درہم برہم کر دے گا اور قادیانی جماعت لاجواب ہو جائے گی۔ اب ذرا اُس پانچویں الہام میں غور کیجئے۔ اس الہام کے آٹھ جملوں پر میں نے ہندسہ دیا ہے۔ اس میں غور کیا جائے کہ کس قدر تاکیدات اور صراحت سے اس دختر کے نکاح میں آنے کا وعدہ بِلا قید و شروط کیا گیا ہے۔ ایسے صاف وعدے کے بعد کون انسان حالت ہوش و حواس میں یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی تب بھی پیشین گوئی سچی ہوگئی اور یہ وعدہ خداوندی جو ابھی ذکر کیا گیا ہے پورا ہو گیا۔
بھائیو! یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر یہ الہامات سچے ہوتے تو اس دختر کا ہر طرح مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضرور تھا۔ کوئی شرط اُسے روک نہیں سکتی تھی اور جب نکاح میں نہ آئی تو یقیناً ظاہر ہو گیا کہ وہ سب الہامات غلط تھے۔ وہ الہام خداوندی نہ تھے۔ اسی طرح وہ بھی خیالی الہام تھا، جسے مجبوری کی حالت میں شرط قرار دیا ہے۔ اب یہ غلطی اس وجہ سے ہوئی کہ مرزا قادیانی شیطانی الہامات کو رحمانی سمجھے یا الہام کے معنی سمجھنے میں غلطی کی مگر ہر طرح مرزا قادیانی کا قول لائق اعتبار نہ رہا کیونکہ جب ایسے بار بار کے یقینی الہامات غلط ہو گئے یا مدت دراز تک اس کے معنی نہ سمجھے تو اُس کے مسیح موعود ہونے کے الہام پر کیونکر اعتبار ہوسکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اسے غلط نہ مانا جائے یا اس کے غلط معنی سمجھنے میں قوی احتمال نہ ہو؟ اگر مرزا قادیانی کو اس غلطی سے معصوم بتا کر خدا پر خلاف وعدگی کا
(بقیہ حاشیہ) میں یا خدا اس کو بیوہ کر کے میری طرف لائے غرضکہ پہلے عام طور سے اس کے نکاح میں آنے کو بیان کیا ہے اور جب اس کا نکاح ہو گیا تو اُس کے واپس آنے پر زور دیا گیا ہے، مگر اب ناواقفوں کے سامنے سچی بات پر پردہ ڈال کر اُسے نشان بتایا جاتا ہے، افسوس
١١٥
الزام دیں تو انہیں ضرور ماننا ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے تمام وعدے اور وعیدیں غیر معتبر ہیں۔ (نعوذ باللہ) کیونکہ ایسے پختہ وعدے جس کی نسبت کہا گیا۔
- (١) کہ آخر کار ایسا ہی ہوگا۔
- (٢) ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔
- (٣) اور اُس کام کو ضرور پورا کرے گا۔
- (٤) کوئی نہیں جو اُسے روک سکے۔
جب ایسی شدید پختگی کے بعد بھی وعدہ الٰہی پورا نہ ہو تو پھر جن وعدوں میں ایسی پختگی نہ ہو اُن پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔ غرضکہ تمام وعدہ الٰہی غیر معتبر ٹھہرے اور ساری شریعت درہم برہم ہوگئی۔ لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی بھی اس کا اقرار کرتے ہیں ”کہ ایک وعدہ کے خلاف ہو جانے سے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑ جائے گا ۔“
(توضیح مرام ص ٨ خزائن ج ٣ ص ٥٤)
یہ اقوال اس وقت کے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس کے نکاح میں آنے کی امید تھی اور جب یاس کا مرتبہ پہنچا اور لوگوں کا اعتراض شروع ہوا ہے تو کئی طور سے بات بنائی ہے اور اس کذب پر پردہ ڈالنا چاہا ہے وہ بھی ملاحظہ ہو۔
اول اپنی آخری کتاب (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں۔ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھایا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایتها المرأة توبي توبي فان البلاء على عقبک پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ اب اگر دنیا میں عقل و انصاف ہے تو اہل انصاف مرزا قادیانی کے مذکورہ اقوال پر مکرر نظر کر کے اس جواب کو ملاحظہ کریں اور فرمائیں کہ یہ جواب کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ کوئی صاحب عقل منصف مزاج اس جواب کو صحیح نہیں کہہ سکتا۔ اس کی غلطی آفتاب کی طرح روشن ہے جو حضرات حقانیت کے طالب
١١٦
ہوں اُن کو اس جواب کے غلط ہونے کے وجوہ ملاحظہ ہوں۔
پہلی، دوسری اور تیسری وجہ
- (١) اُس وعدہ کے ظہور کے لئے کوئی شرط تھی اور اُس شرط کو وہ لوگ پورا کرنے
والے تھے اور اُن کے ایمان میں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے تو اُسے ضرور علم ہوگا کہ یہ لوگ شرط کو پورا کریں گے۔ اس علم کے ساتھ خدا کی طرف سے یہ تقدیر کیونکر ہو سکتی ہے کہ احمد بیگ کی دختر کلاں ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی مگر مرزا قادیانی پہلے اور تیسرے قول میں نہایت صفائی سے اس کا اقرار کر رہے ہیں کہ تقدیر الٰہی اسی طرح ہو چکی ہے۔ غرضکہ اس دعویٰ کو تقدیر الٰہی کہہ کر اُس کے ظہور کے لئے کسی شرط کو پیش کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ بجز اس کے کہ وہ قدوس جامع صفات کمالیہ مرزائیوں کے نزدیک عالم الغیب نہ ہو یا یوں ہی جھوٹ کہہ دیا ہو۔ (استغفراللہ) مگر ان حضرات سے عجب نہیں کہ جس طرح اس قدوس کو وعدہ خلاف مان چکے ہیں اسے بھی مان لیں اور خدا کی خدائی اور رسولوں کی رسالت کو غیر معتبر ٹھہرائیں۔
- (٢) اُن کے الہام کے ان جملوں کو ملاحظہ کیا جائے۔ (١) احمد بیگ کی دختر کلاں
انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی۔ (٢) اور آخر کار ایسا ہی ہوگا۔" (٣) خدائے تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔" (٤) اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔" اب جو خدا تعالیٰ کی نسبت قادر مطلق کا اعتقاد رکھتے ہیں وہ فرمائیں کہ جس کام کی نسبت اللہ تعالیٰ اس زور کے ساتھ فرما دے کہ انجام کار ایسا ہی ہوگا اور ضرور ہوگا پھر اُس کی طرف سے ایسی شرط ہو سکتی ہے کہ اُس کے ظہور کو روک دے اور کسی وجہ سے وہ کام نہ ہو؟ اور اگر ایسا ہو تو وہ قادر توانا اور عالم الغیب والشہادہ، عاجز، یا نادان، نہ ٹھہرے گا؟ ضرور ٹھہرے گا۔ پھر جس جواب سے خدائے قدوس پر ایسا سخت الزام آئے وہ جواب کسی مسلمان کے نزدیک صحیح ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
- (٣) اسی طرح پانچویں الہامی قول کو پیش نظر کر کے اس شرط کے پیش کرنے کو ملاحظہ
کیجئے۔ اس قول میں تین جگہ وعدہ خدائی بتاکید بیان ہوا ہے کہ اُس لڑکی کو لوٹا کر ہم تیرے
١١٧
پاس لائیں گے۔ پھر اس وعدہ کی نسبت یہ بھی کہنا ہے کہ سچا وعدہ ہے اُسی قول میں یہ جملہ بھی ہے کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔ پھر اس واپسی کے بعد نکاح کر دینے کی صداقت نہایت زور سے اس طرح کی ہے کہ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو اس میں شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ ان الہامات کے بعد یہ کہہ دینا کہ اُس نکاح کیلئے شرط تھی اُس کے پورا ہو جانے سے نکاح فسخ ہو گیا کیسی صریح بناوٹ اور خدائے قدوس پر الزام لگانا ہے۔ جس بات کے لئے خدائے تعالیٰ ایسا پختہ وعدہ کرے جس کام کیلئے وہ خود ارشاد فرمائے کہ ہم نے کر دیا اور مخاطب کو اس میں شک کرنے کی ممانعت کرے غضب ہے کہ اُس کا ظہور نہ ہو۔ اُس کے ظہور کیلئے اگر کوئی شرط خدا کی طرف سے ہوتی تو اُس عورت کے لوٹانے کا ایسا حتمی وعدہ اس کی طرف سے ہو سکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ باوجود اس علم کے کہ اُس کے لئے شرط ہے اور وہ شرط پوری ہونے والی ہے۔ وہ قدوس، سبحان یہ کہہ سکتا تھا کہ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا تو اس میں شک نہ کر؟ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بھائیو یہ خدا تعالیٰ پر کیسا سخت الزام ہے کہ جس کام کی نسبت وہ قادر مطلق یہ کہہ دے کہ ہم نے کر دیا اور وہ کام نہ ہو یہ تو ایسی روشن باتیں ہیں کہ آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کے کذب کو ظاہر کر رہی ہیں۔ اس میں خدائے قدوس پر صرف یہی الزام نہیں آتا کہ اُس کے پختہ وعدے بھی پورے نہیں ہوتے بلکہ اس کا صریح کذب ثابت ہوتا ہے۔ (نعوذ باللہ) پھر اب کہئے کہ رسول کی رسالت اور شریعت الٰہی کے وعدہ و وعید پر کیونکر یقین ہو سکتا ہے۔ کیا قرآن پاک کی وہ نصوص قطعیہ جن میں نہایت تاکید سے ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے خلاف نہیں ہوتے۔ سب کے سب غلط نہ ہو جائیں گے؟ کیا منکرین اسلام مسلمانوں کو یہ الزام نہ دیں گے؟ کہ مسلمانوں کے اعتقاد میں خدا وعدہ خلافی کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اور اس صریح وعدہ خلافی کو سنت اللہ کہہ کر اس سے انکار کرنا دن کو رات کہنا ہے۔ ایسی غلط بیانیوں سے الزام دفع نہیں ہو سکتا۔ جب وعدہ خداوندی پورا نہ ہوا تو یہ الزام ضرور آئے گا اور اُسے سنت اللہ کہنے سے الزام بہت زیادہ ہو جائے گا کیونکہ اس کے کہنے کے یہ معنی ہوں گے کہ وعدہ خلافی کرنا اللہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ اور مستحکمہ ہے ان
١١٨
بدیہی الزامات کے بعد بھی نہایت شوخ چشمی سے بعض پڑھے لکھے مرزائی بھی مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اس شرط کو پیش کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس شرط کے ماننے سے خدائے قدوس پر کیسے کیسے الزام آتے ہیں اس کا سبب کچھ نہیں ہو سکتا۔ بجز اس کے کہ عار کی وجہ سے نفس امارہ نے نار کو عار پر اختیار کرنا پسندیدہ کر دیا ہے یا اس باب میں عقل سلب کر دی گئی ہے۔ مَنْ يُضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ سچا ارشاد ہے۔
چوتھی وجہ: اس میں تو شبہ نہیں رہا کہ احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا خدائے تعالیٰ کا نہایت پختہ وعدہ تھا اور ایسا وعدہ جو بار بار کیا گیا اور اس کی سچائی اور پورا ہونے کا ایسا پختہ اور کامل وثوق دلایا گیا جس سے زیادہ پختگی خیال میں نہیں آسکتی۔ اسی وجہ سے اس میں شک کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کے قول کے بموجب بھی اس نکاح کا ظہور ضرور ہے۔ اس کے لئے کوئی شرط اور قید نہیں ہوسکتی۔ (ازالۃ الاوہام ص٣٩٣ خزائن ج٣ ص ٦٢٢) میں لکھتے ہیں۔ ”وہ ہر بات پر قادر ہے مگر اپنی صفات قدیمہ اور اپنے عہد و وعدے کے برخلاف کوئی بات نہیں کرتا اور سب کچھ کرتا ہے۔“ اور (توضیح مرام ص ٨ خزائن ج ٣ ص ٥٥) میں اس سے زیادہ لکھتے ہیں۔ ”اس میں خدائے تعالیٰ کے اُس وعدے کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اُس سے نکالے نہیں جائیں گے۔ کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدا تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ لاتا...... ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی نہیں ہوگی۔“ مرزا قادیانی کا یہ قول خوب یاد رکھنے کے لائق ہے۔ ان دونوں قولوں نے نہایت صفائی سے ثابت کر دیا کہ حسب وعدۂ خداوندی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضرور تھا اور اس وعدے کے پورا نہ ہونے سے خدا تعالیٰ کے تمام وعدے غیر معتبر ہو جائیں گے اور اُس کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی ہوگی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے یہ اقوال اُن کے جواب کو محض غلط بتاتے ہیں۔ اس نکاح کا ظہور نہ ہونا خدائے تعالیٰ کے اُن وعدوں کے بالکل خلاف ہے۔ جو اوپر نقل کئے گئے۔ اُن وعدوں کا مضمون آفتاب کی طرح دکھا رہا
١١٩
ہے کہ اُن کا پورا ہونا کسی شرط پر موقوف نہیں ہو سکتا۔ ان وعدوں کے بعد مرزا قادیانی کا یہ جواب دینا مرزا قادیانی کے کذب اور بناوٹ کی کافی دلیل ہے۔ پانچویں وجہ: جس جملہ کو شرط کہا جاتا ہے وہ جملہ کسی طرح شرط نہیں ہو سکتا کیونکہ مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب اس جملہ میں احمد بیگ کی ساس یعنی اس لڑکی کی نانی کی طرف یہ خطاب ہے۔ کیونکہ وہ سخت مخالف تھی اور یہ مطلب ہے کہ توبہ کرو ورنہ تیری لڑکی پر اور نواسی پر بلا آئے گی مگر اس نے توبہ نہیں کی اور مرزا قادیانی کے خلاف اُس نے اپنی نواسی کا نکاح سلطان محمد سے کرا دیا۔ اب آپ کے قول کے موجب اُس کی لڑکی پر یہ بلا آئی کہ احمد بیگ اس کا شوہر مر گیا اب یہ بتانا چاہئے کہ نواسی کی بلا کیا ہے؟ جو تُوبِیْ تُوبِیْ کا الہام اس کے نکاح سے پہلے کا ہے تو نہایت قرین قیاس ہے کہ محمدی کا مرزا
ا۔ مرزا قادیانی کے ان دونوں قولوں پر نظر کیجئے کہ پہلے قول میں عام طور پر کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ دوسرے میں نہایت صفائی سے بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ایک وعدے میں خلاف ہونے سے اُس کے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑ جاتا ہے بایں ہمہ حضرات مرزائی، مرزا قادیانی کے ان اقوال کے خلاف خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں آیت يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ پیش کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو وعدہ خلاف ٹھہرا کر مرزا قادیانی کو سچا ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ افسوس صد افسوس وہ مضمون ملاحظہ ہو جس میں اُن کے نہایت خاص مرید نے خدا کی وعدہ خلافی ثابت کی ہے مگر شائستہ پیرایہ سے ”حضرت مسیح موعود کے وصال پر چند مختصر نوٹ“ ایک دوسرا امر اصل پیشین گوئی کے متعلق یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ انذاری پیشین گوئیاں بعض وقت ٹل بھی جاتی ہیں۔ ایک نہایت کھلی کھلی مثال یونس نبی کی پیشین گوئی ہے۔ (یہ مثال محض غلط ہے کیونکہ حضرت یونس کی پیشین گوئی کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ کسی صحیح حدیث سے پھر کھلی کھلی مثال کس بات کی پیش ہورہی ہے؟ البتہ ضعیف روایت سے عذاب آنے کی پیشین گوئی معلوم ہوتا ہے مگر اُسی روایت سے اس کا پورا ہونا بھی ثابت ہے۔) اس کے بعد مضمون نگار لکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بھی فرماتا ہے اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ جس سے معلوم ہوتی ہے کہ بعض پیشین گوئیاں گو بظاہر پوری بھی نہیں ہوتیں۔ (پیشین گوئیوں کے پورا نہ ہونے میں بظاہر کی قید لگانا ایک جاہل فریب کی بات ہے ورنہ بظاہر پورا نہ ہونے کے کیا معنی مرزا قادیانی کی جو پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ وہ ظاہر اور باطن ہر طرح پوری نہیں ہوئی مگر آیت سے یہ ثابت کرنا کہ انبیاء کی بعض پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوتیں۔ خدا پر سخت الزام لگانا ہے اگر لفظ بعض سے آپ (بقیہ آگے)
١٢٠
قادیانی کے نکاح میں نہ آنا اور سلطان محمد سے بیاہا جانا اور اُن تمام نعمتوں اور برکتوں سے محروم رہنا جو مرزا قادیانی سے نکاح پر موقوف تھیں۔ نہایت سخت بلا تھی۔ خاص اُس لڑکی کے لئے بھی اور اس کی ماں اور نانی کے لئے بھی وہ ظہور میں آگئی اور الہام پورا ہو گیا۔ اس کے بعد اگر وہ عورت توبہ کرے یا کوئی دوسرا اُس کا عزیز یا رشتہ دار تو ضرور ہے کہ توبہ کے عمدہ نتائج جو اللہ و رسول نے بیان فرمائے ہیں۔ انہیں ظاہر ہونا چاہئے۔ ان نتائج میں نہایت عمدہ نتیجہ یہ تھا کہ سلطان محمد مرزا قادیانی پر ایمان لاتا اور محمدی کو طلاق دے کر مرزا قادیانی کے پاس آ کر بعاجزی عرض کرتا کہ آپ نکاح کر لیں اور مرزا قادیانی نکاح
(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) کو دھوکہ لگا تو اس کی شرح لسان العرب اور تفسیر بحر محیط میں دیکھئے۔ تنزیہہ ربانی میں مختصر کچھ لکھا گیا ہے۔ اگر حق طلبی ہے تو اسے ملاحظہ کیجئے۔ اگر ان کتابوں کا دیکھنا پسند خاطر نہ ہو تو اپنے مرشد و امام کے مذکور قولوں پر نظر کیجئے۔ کس زور سے کہہ رہے ہیں کہ ایک وعدہ کے خلاف ہو جانے سے تمام وعدوں میں زلزلہ آجائے گا۔ اگر اس میں بھی کچھ چون و چرا ہے تو ہم دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ محض غلط ہے۔ کیونکہ نصوص قطعیہ قرآنیہ کے مخالف ہے۔ اس سے پہلے اس کی کامل تحقیق لکھی گئی ہے۔ مضمون نگار کی یہ تحریر شہادت دیتی ہے کہ اس کی نظر نہ قرآن مجید پر ہے نہ علوم عقلیہ پر اور نہ عقل سے اُنہیں واسطہ ہے۔ اُس کی وجہ ملاحظہ ہو۔ قرآن مجید میں بہت آیتیں ہیں۔ جن سے یقیناً ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نہ وعدہ خلاف ہوتا ہے نہ اُس کی وعید ٹلتی ہے اور عقلی طور سے بھی ثابت کر دیا گیا ہے۔ بعض آیتیں نقل ہو چکی ہیں۔ اُن آیتوں کو پیش نظر رکھ کر اس آیت کا مطلب سمجھنا چاہئے مگر مضمون نگار نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا مطلب بیان کیا جس سے قرآن مجید کے مضامین میں اختلاف ہو جائے اور اپنی ناتفہمی سے یہ دکھانا چاہا کہ قرآن پاک اللہ کی طرف سے نہیں ہے کیونکہ (لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا) سچا ارشاد ہے اس کا ثبوت کہ محرر مضمون کا دماغ علوم عقلیہ سے بھی خالی ہے نہایت ظاہر ہے کیونکہ آیت میں (یصبکم بعض الذی یعدکم) موجبۂ جزئیہ ہے اور موجبۂ جزئیہ موجبۂ کلیہ سے عام ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ بعض وعیدیں تجھے پہنچیں گی۔ اس وقت بھی صحیح ہے جس وقت کل وعیدیں اُسے پہنچ جائیں۔ یہاں بعض کا لفظ یہ ثابت نہیں کرتا کہ کل وعیدیں نہ پہنچیں گی۔ یہ گفتگو صرف اس وقت ہے کہ یَعِدُکُمْ میں صرف وعید کا بیان کہا جائے اور اگر یہ لفظ وعدہ اور وعید دونوں کو شامل ہے اور بظاہر ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ حضرت موسیٰؑ نے یہی فرمایا ہوگا کہ اگر تو ایمان لے آیا تو تیرے لئے یہ نعمتیں ہیں۔ اور اگر ایمان نہ لایا تو یہ عذاب ہے۔ اس صورت میں تو بعض کہنا ضرور تھا۔
١٢١
کرتے اور حسب وعدہ محمدی وغیرہ پر برکتیں نازل ہوتیں اور عامہ خلائق اس عظیم الشان نشان سے فیض یاب ہوتے اور ہزاروں ایمان لاتے اور مخالفین اسلام پادری اور آریہ وغیرہ کو پوری ذلت ہوتی۔ مگر یہ کچھ نہیں ہوا بلکہ معاملہ بالکل برعکس ہوا کہ آسمان پر نکاح ہو کر منسوخ ہو گیا اور اس عظیم الشان نشان کے ظاہر نہ ہونے سے مرزا قادیانی کو سخت ذلت ہوئی بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل میں مرزا قادیانی نے اسلام کو ایک قسم کی ذلت پہنچائی۔
(بقیہ حاشیہ ۔ صفحہ گذشتہ) کیونکہ وعدہ ہو یا وعید ہو دونوں شرطیہ ہے ۔ اس لئے دو باتوں میں سے ایک بات کا ظہور ہوگا ۔ یعنی اگر ایمان لے آیا تو وعدہ کا ظہور ہوگا اور اگر نہ لایا تو وعید کی مصیبت میں مبتلا ہوگا ۔ غرضکہ ہر صورت میں بعض کا ظہور ہوگا۔ خیر یہ تو علمی بات تھی مگر یہ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کوئی شریف ذی اخلاق اس بات کو ہرگز گوارہ نہیں کرسکتا کہ اُسے جھوٹا اور وعدہ خلاف کہا جائے، مگر افسوس اُن کی عقل پر جو اُس قدوس قادر توانا پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور پھر اُس کے مدعی ہیں کہ وہ ذات پاک جو ہر عیب سے منزہ ہے اپنے آپ کو اس عیب سے متصف بتاتا ہے کیونکہ انبیاء کی پیشین گوئیاں تو وحی الٰہی ہوتی ہیں ۔ خدا تعالیٰ جو ان پر ظاہر کرتا ہے وہ بیان کرتے ہیں ۔ اب اس وحی کے مطابق ظہور نہ ہونا خدا تعالیٰ کے کذب اور وعدہ خلافی کو ثابت کرتا ہے ۔ اب اس کا ثبوت قرآن مجید کی آیت سے دینا اس کا یہی مطلب ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی زبان سے فرماتا ہے کہ کسی وقت میں وعدہ خلافی کرتا ہوں ۔ (نعوذ باللہ) حضرات مرزائیوں نے اس غیور بے ہمتا کی غیرت کو انسان ضعیف البیان کی غیرت سے بھی کم مرتبہ کر دیا ۔) پھر مضمون نگار لکھتے ہیں ۔ ”اس لئے قرآن کا یہ اصول قائم کرتا ہے کہ مدعی نبوت کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ اُس کی اکثر پیشین گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں ۔“ (مرزا قادیانی کی تعلیم کا یہ اثر دیکھا جاتا ہے کہ ان کے متبعین اپنے علم اور قابلیت سے بہت زیادہ اپنے آپ کو خیال کرتے ہیں ۔ اسی کا نام جہل مرکب ہے۔ قرآن مجید کے اصول کو سمجھنا مضمون نگار کا کام نہیں کیونکہ پہلے اُن کی قابلیت کی حالت تو پہلے تین جملوں سے معلوم ہوچکی ۔ اب اس جملہ سے اور کچھ معلوم کر لیجئے قرآن مجید کا یہ اصول بتانا کہ وہ اکثر پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کو معیار صداقت بتانا ہے ۔ محض غلط ہے پیشین گوئی کے پورا ہوجانے کو نہ قرآن و حدیث نے معیار صداقت بتایا ہے ۔ نہ کسی نبی نے ایسا دعویٰ کیا ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے بہت کچھ پیشین گوئیاں کیں اور ہر ایک پیشین گوئی معینہ وقت پر پوری ہوتی گئی ۔ مگر کسی وقت آپؐ نے پیشین گوئیوں کو اپنی صداقت میں پیش نہیں کیا ۔ کفار کا معجزہ طلب کرنا قرآن میں مذکور ہے۔
١٢٢
الحاصل یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن کو توبہ کا حکم ہوا تھا انہوں نے توبہ کی ہو اور اسی کی وجہ سے وہ توبہ کرنے والے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہیں۔ جو اس کے ظہور پر موقوف تھی اور مخلوق کثیر کی ہدایت کا باعث نہ ہوں اور پادریوں اور آریوں کا پلہ بھاری ہو۔ الغرض یہ جملہ اپنے معنی کے لحاظ سے نکاح کے منسوخ اور ملتوی ہونے کے لئے شرط ہرگز نہیں ہوسکتا مرزا قادیانی کا یہ جواب کامل طور سے ثابت کر رہا ہے کہ پیشین گوئی کے پوری ہونے سے مایوس ہوئے ہیں۔ تو بدحواس ہو کر بناوٹ کرنے لگے ہیں۔
چھٹی وجہ: اور اگر اُس جملہ کو شرط مان لیا جائے تو اس شرط کا پورا ہوجانا محض غلط ہے۔ ہر گز پوری نہیں ہوئی۔ جنہیں توبہ کا حکم ہوا تھا انہوں نے توبہ کسی وقت نہیں کی اور مرزا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) مگر اس کے جواب میں یہ نہیں ہے کہ ہمارے رسول نے اس قدر پیشین گوئیاں کی ہیں اور اُتنی پوری ہو چکی ہیں۔ نہ خود رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا۔ اس کو ہم پورے طور سے ثابت کر چکے ہیں کہ پیشین گوئی کرنا انبیاء سے مخصوص نہیں ہے۔ کاہن، رمال نجومی بھی پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور بعض کی اکثر پیشین گوئیاں صحیح بھی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایک کاہنہ کا ذکر اوپر کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے علماء نے اُس کا تجربہ برسوں کیا اور اُس کی پیشین گوئیوں کو سچا پایا۔ اب یہ کہنا کہ قرآن مجید یہ اصول مقرر کرتا ہے کہ جس مدعی نبوت کی اکثر پیشین گوئیاں صحیح ہوں وہ سچا ہے۔ قرآن پر سخت الزام لگانا ہے کہ وہ نبوت کی صحت کا ایسا معیار غلط بتاتا ہے جس کو تجربہ اور مشاہدہ غلط ثابت کر چکا ہے اور اب بھی یہی حال ہے۔ البتہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ جس مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہو جائے وہ کاذب ہے۔ اُس کا ثبوت کامل طور سے اوپر کیا گیا۔ اس کے علاوہ مضمون نگار سے میں یہ دریافت کرتا ہوں کہ اگر آیت کا وہی حاصل مان لیا جائے جو آپ کے خیال میں ہے، مگر یہ بتائیے کہ اکثر کی قید آپ نے کس جملہ یا کس لفظ سے نکالی جس آیت سے آپ استدلال کرتے ہیں۔ اس میں تو بعض پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کا ذکر ہے اور اُسی لفظ بعض سے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بعض پیشین گوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ سب نہیں ہوتیں تو آپ کے خیال کے بموجب آیت کا حاصل یہ ہونا چاہئے کہ جس مدعی نبوت کی بعض پیشین گوئیاں بھی پوری ہو جائیں تو وہ سچا ہے۔ اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے اکثر وعدے غلط ہوتے ہیں۔ بعض پورے ہوتے ہیں جس خدا کا یہ حال ہے تو اُس کے رسول کی رسالت اور اُس کی شریعت کے تمام وعدے اور وعیدیں کسی طرح لائق اعتبار نہیں ہوسکتیں۔ مرزا قادیانی کا مقولہ یاد کیجئے
١٢٣
قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ اس کی تفصیل تنزیہہ ربانی اور معیار صداقت میں ملاحظہ ہو۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جملہ کو شرط کہا جاتا ہے اُس کا مخاطب اس لڑکی کی نانی ہے اور توبہ نہ کرنے کی تقدیر پر اُس کی بیٹی اور نواسی پر بلا آنے کی وعید ہے۔ (حقیقتہ الوحی انجام ، آتھم ملاحظہ ہو) اس لئے اگر اُس جملہ کو شرط کہا جائے گا تو یہ شرط اسی وقت پوری ہو سکتی ہے کہ اُس لڑکی کی نانی اور اُس کی ماں اور وہ خود ایمان لائے اور ضمناً اُس کے شوہر کو بھی اس میں داخل کر سکتے ہیں مگر ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا یعنی کسی نے انہیں سچا مسیح موعود نہیں مانا اور اُن کا مرید نہیں ہوا۔ اس لئے یہ کہنا کہ لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا محض غلط اور صریح کذب ہے۔ اگر کوئی اڑوسی پڑوسی یا کوئی دور کا قرابت مند مرزا قادیانی پر بالفرض ایمان لے آیا ہو تو اس سے یہ شرط کسی طرح پوری نہیں ہو سکتی۔ یہ شرط اسی وقت پوری ہو سکتی ہے کہ اس جملہ میں جس سے خطاب کیا گیا ہے وہ توبہ کرے یہ ایسا صریحی اور بدیہی عقل کا حکم ہے کہ کوئی ذی عقل تعصب سے علیحدہ ہو کر اس کا انکار نہیں کر سکتا۔
ساتویں وجہ۔ اگر مرزائیوں کے سمجھانے کے لئے مان لیا جائے کہ شرط پوری ہو گئی تو مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب نکاح کا ظہور ہونا چاہئے کیونکہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ اس نکاح کے ظہور کے لئے خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی۔ اب جسے تھوڑا بھی علم ہے وہ جان سکتا ہے کہ شرط کے پائے جانے سے مشروط کا پایا جانا ضرور ہے۔ یعنی نکاح کا ظہور مشروط تھا اور ان لوگوں کی توبہ شرط تھی۔ اس لئے ضرور ہے کہ جب وہ توبہ کریں تو
(بقیہ حاشیہ ۔ صفحہ گذشتہ ) اور وہ فرما چکے ہیں کہ ایک وعدے کے خلاف ہو جانے سے اس کے تمام وعدوں میں زلزلہ پڑ جائے گا۔ پھر جب یہ ثابت کیا جائے کہ اُس کے اکثر وعدے خلاف ہوتے ہیں تو پھر زلزلہ کی کیا انتہا ہو گی اور خدا کے ساتھ کس قدر بے ادبی ہو گی؟ اس کے علاوہ جب بعض باتوں کے سچا ہو جانے سے اُسے صادق اور سچا کہنا ضرور ہے تو دنیا میں جھوٹا کوئی نہ رہے گا کیونکہ نہایت جھوٹے سے جھوٹا بھی کبھی نہ کبھی سچا ہو ہی جاتا ہے اور یہ کہنا کہ کوئی جھوٹا مدعی نبوت و مہدویت سچی پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔ محض غلط ہے کیونکہ اس کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ہے نہ حدیث سے نہ کوئی عقلی دلیل اس پر قائم ہو سکتی ہے اور تاریخی حالات و واقعات اور کاذبوں کے حالات اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ ابن تومرت تو مہدی ہونے کا مدعی تھا اور اُس کی پیشین گوئیاں صحیح ہوئیں۔ دوسرے حصہ میں اس کا ذکر ہو گیا ہے۔
١٢٤
نکاح کا ظہور ہو مگر مرزا قادیانی عجب الٹی بات کہہ رہے ہیں کہ جب شرط پائی گئی تو نکاح کا ظہور نہ ہوا بلکہ منسوخ ہو گیا۔ ناظرین ملاحظہ کریں کہ یہ کیسی بدحواسی ہے کہ شرط کے پائے جانے کا اقبال ہے اور پھر کہتے ہیں کہ مشروط نہیں پایا گیا یعنی جب لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا اور وہ شرط پائی گئی تو نکاح کا ظہور نہ ہوا۔ دنیا میں تمام عقلاء کے نزدیک مسلم قاعدہ ہے کہ اذا وجد الشرط وجد المشروط جب شرط پائی جائے گی تو مشروط بھی پایا جائے گا مگر یہاں اُلٹا بیان ہو رہا ہے کہ جب شرط پائی گئی تو مشروط فوت ہو گیا یہ تو مرزا قادیانی کی بدحواسی تھی۔ اب اُن کے بعض معتقدین یوں لکھتے ہیں اذا فات الشرط فات المشروط یعنی جب شرط نہ پائی گئی تو مشروط بھی نہ پایا گیا۔ یہ جملہ انہوں نے مشتہر کیا اور کرایا جو ذی علم کہلاتے ہیں اور فیصلہ آسمانی کے جواب دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جنہیں اتنا ہوش نہیں کہ مرزا قادیانی تو صاف کہہ رہے ہیں کہ جب لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا۔ جس کا حاصل عربی میں یہ ہوا کہ اذا وجد الشرط مگر مجیب صاحب اس کے برعکس اذا فات الشرط کہتے ہیں۔ اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس صریح اور بدیہی غلطی کا سبب اُن کے حواس کی پریشانی ہے کہ مرزا قادیانی کو صادق ثابت کرنے میں نہایت پریشان ہیں یا کم علموں کو پھنسائے رکھنے کے لئے یہ عربی جملہ کہہ دیا افسوس۔
آٹھویں وجہ : اگر اس مجنونانہ کلام سے بھی قطع نظر کی جائے تو ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ محمدی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا اُس کے لئے اور اُس کے کنبے کے لئے باعث خیر و برکت اور ہر طرح کی بھلائی کا ہے۔ یا موجب مصیبت و آفت کا؟ مرزا قادیانی نے تو اُس کے نکاح میں آنے کی بہت کچھ برکتیں بیان کی ہیں اور یہ بھی نہایت ظاہر ہے کہ توبہ کرنا ایسی عمدہ چیز ہے کہ انسان کو دائمی عذاب سے نجات دیتی ہے۔ اور ہمیشہ کی راحت اُس کی وجہ سے ملتی ہے۔ اس لئے جب اُن لوگوں نے توبہ کی تو اُن پر برکتیں نازل ہونی چاہئیں۔ یعنی اس نکاح کا ظہور ہونا چاہئے جس کی وجہ سے بے انتہا برکتیں اُس منکوحہ پر اور اُس کے کنبے والوں پر نازل ہوں توبہ کا یہ اُلٹا اثر کیسا کہ اُس کی وجہ سے نکاح کا ظہور نہ ہوا اور ان برکتوں سے وہ منکوحہ اور اُس کے کنبے والے محروم رہیں۔ اگر یہ خیال ہو کہ
١٢٥
اُس کے نکاح میں آنے سے احمد بیگ کے داماد پر بلا آئے گی یعنی وہ مرے گا اس لئے اُن کی توبہ نے اُس کی بلا کو ٹال دیا مگر یہ نہایت ہی جاہلانہ خیال ہے اس کے دو جواب نہایت ہی ظاہر ہیں کہ ایک یہ کہ ایسی صورت ہوتی کہ احمد بیگ کا داماد طلاق دے کر اُس سے علیحدہ ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ منکوحہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی۔ اس صورت سے توبہ کا ثمرہ دونوں پر مرتب ہوتا۔ دوسرا یہ کہ اس پیشین گوئی کا پورا ہونا یعنی منکوحہ آسمانی کا ظاہری نکاح میں آ جانا ہزاروں کی ہدایت کا باعث ہوتا اور بے انتہا لوگ مرزا قادیانی کو مان لیتے۔ پھر ایسے فائدے عظیم الشان کے آگے ایک شخص کی جان جانا کسی دانش مند کے نزدیک بلا نہیں ہو سکتی۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے جہاد کو خیال کرو کہ ایسی رُشد و ہدایت کیلئے ہزاروں جانیں تلف کی گئیں۔ مگر اس کی کچھ پروا نہیں کی گئی اور جس طریقہ سے مناسب ہوا ہدایت کی گئی۔ ایسا ہی یہاں بھی ہونا چاہئے تھا۔
نویں وجہ: مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) کے حاشیہ میں اسی منکوحہ آسمانی کی نسبت حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشین گوئی نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں، ”اس پیشین گوئی کی تصدیق کیلئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے۔ لیتزوج ویولد لہ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ ان میں کچھ خوبی نہیں بلکہ ”تزوج“ سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشین گوئی موجود ہے۔“ اس کلام میں غور کرنے سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ روایت تزوج ویولدلہ صحیح ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ کیونکہ ایک ملہم خدا کا رسول اُس کی تصدیق کرتا ہے اور اپنے کلام کی صداقت میں سب کے سامنے اُس پیش کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس تزوج سے مراد یقینی طور سے منکوحہ آسمانی کا نکاح میں آنا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس منکوحہ آسمانی سے ایک خاص اولاد ہوگی جس کی پیشین گوئی مرزا قادیانی کر چکے ہیں۔ چوتھے یہ کہ اس نکاح کے لئے کوئی
١٢٦
ایسی شرط نہیں ہو سکتی جو کسی حالت میں ظہور نکاح سے مانع ہو۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے بموجب منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی اور اس سے اولاد ہو گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح مرزا قادیانی کے الہامات الہیہ مرزا قادیانی کے مذکورہ جوابوں کو غلط بتاتے ہیں۔ اسی طرح اُن کے کہنے کے بموجب جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بھی مرزا قادیانی کے جوابات کو غلط بتا رہے کیونکہ حدیث میں صاف طور سے ارشاد ہے کہ نکاح کا ظہور ہوگا اور اُس سے اولاد ہوگی۔ اب اگر کسی وجہ سے نکاح کا ظہور نہ ہو تو مرزا قادیانی کے قول کے بموجب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد غلط ہو جائے گا۔ اس لئے ضرور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے مرزا قادیانی کے جوابات کو غلط مانا جائے۔ یہ وہ نتیجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے قطعی اور صریحی اقوال سے اظہر من الشمس ہو رہا ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی کا اس حدیث کو صحیح ماننا اور پھر اُسے اپنی منکوحہ آسمانی کیلئے پیشین گوئی سمجھنا غلط ہے۔ تو ذرا ہوش میں آ کر بتایا جائے کہ جب مرزا قادیانی نے ایسی عظیم الشان غلطی کی ہے جس سے جناب رسول اللہ ﷺ پر نہایت صریح جھوٹی پیشین گوئی کا الزام آیا جس کی وجہ سے مخالفین اسلام کو سخت حملہ کا موقع ہوا تو پھر کیا وجہ ہے کہ جملہ ”توبی توبی“ کو شرط کہنا صحیح مان لیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ جس طرح حدیث مذکور کے ماننے اور اُسے اپنے مدعا کی پیشین گوئی سمجھنے میں بھاری غلطی کی اسی طرح مرزا قادیانی نے اس جملہ کو شرط کہنے میں بھی غلطی کی اور ضرور کی اور اس غلطی کے متعدد وجوہ بھی بیان ہوئے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس پیشین گوئی کے غلط ہونے پر قطعی حکم نہ دیا جائے۔ اگر کچھ عقل و انصاف ہے تو ضرور ایسا ہی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ جب ایسی بھاری غلطی مرزا قادیانی کی جماعت تسلیم کرتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے اصل دعویٰ مہدویت و مسیحیت میں غلطی کو تسلیم نہ کرے۔ اگر صداقت کا دعویٰ ہے تو اس کا معقول جواب دیں۔
الحاصل، توبی توبی کی شرط کہنا اور اُس کی بنیاد پر نکاح کا فسخ بتانا محض مغالطہ ہے۔ اس لئے پیشین گوئی کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور اُس کے ساتھ اُس کی
١٢٧
اولاد کی پیشین گوئی بھی غلط ہو گئی۔
الغرض یہ تو روشن دلیلیں ہیں جو اپنی روشنی سے دکھا رہی ہیں کہ مرزا قادیانی کا جواب ہر طرح غلط ہے۔ صرف اپنی جھوٹی پیشین گوئی کی بناوٹ کے لئے یہ بات بنائی ہے مگر وہ بناوٹ بھی ایسی ہے کہ اُن کے علم و فہم کو پوشیدہ کر کے اُن کے الہام جاہل و مجنون کا مصداق انہیں بتاتی ہے۔ یہ الہام براہین احمدیہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کے حالات زندگی ص ٨١ بحوالہ براہین احمدیہ چہار حصص ایڈیشن اوّل کے شروع میں اُن کے خاص مرید معراج الدین نے لکھا ہے۔ اب قادیانی جماعت میں کوئی ہے جو ان دلائل کا جواب دے کہ مرزا قادیانی کی بناوٹ کو پوشیدہ کر کے اِس پیشین گوئی کی صداقت ثابت کر سکے۔
اے راستبازو! حق کے پسند کرنے والو! یقین کر لو کہ یہ بالکل ناممکن ہے کہ کوئی قادیانی اس کا جواب دے سکے۔ اس بیان سے مرزا قادیانی کے تینوں جوابوں کا خاتمہ ہو گیا مگر بغرض تفصیل کچھ اور لکھنا منظور ہے۔ لہٰذا دوسرا جواب بھی ملاحظہ کیجئے۔ دوم، تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠ میں لکھتے ہیں کہ ”کیا آپ کو خبر نہیں۔ يمحوا الله ما يشاء ويثبت یعنی اللہ تعالیٰ جس بات کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے۔“
اس نے پہلے نکاح کا وعدہ کیا تھا پھر اُسے پورا نہیں کیا۔ محو کر دیا سخت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اس آیت کے ایسے معنی کئے ہیں جو بہت آیات قرآنیہ اور نصوص قطعیہ کے مخالف ہیں اور پھر قرآن دانی کا دعویٰ ہے۔ اے جناب جس کلام پاک میں آیت مذکور ہے اُسی میں یہ آیتیں بھی ہیں۔
- (١) لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ (یونس ٦٤) خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں جو بات کہہ
دی وہ ضرور پوری ہوگی۔
- (٢) مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ وَمَا اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (ق ٢٩) یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
کہ میرے یہاں کوئی بات بدلا نہیں کرتی جو ایک مرتبہ کہہ دیا وہ ضرور ہوگا اور وعدے اور
١٢٨
وعید کے پورا ہونے کے لئے تو صراحت کے ساتھ بہت آیتیں ہیں۔ مثلاً
- (٣) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (آل عمران ٩)
- (٤) لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ (حج ٤٧)
- (٥) اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ (قصص ١٣) یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے میں تخلف ہرگز
نہیں ہوتا۔ اُس کا وعدہ ضرور سچا ہوتا ہے۔
ان آیتوں نے نہایت صفائی سے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اور اُس کے وعدوں میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ جو وعدہ وہ کرے گا وہ ضرور پورا ہوگا۔
اب ضرور ہے کہ ان نصوص کو پیش نظر رکھ کر يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ (رعد ٣٩) کے معنی کرنا چاہئے اگر اُس کی ہر بات میں محو اور اثبات ہوا کرے تو نبی کی نبوت بھی لائق وثوق نہ رہے گی۔ کیونکہ ہر وقت محو کا احتمال رہے گا۔ اس لئے ضرور ہے کہ آیت کے ایسے معنی کئے جائیں کہ مذکورہ آیات کے مخالف نہ ہوں اور یہ اعتراض بھی وارد نہ ہو سکے وہ معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد جگہ مشیت الٰہی کو عام بیان کیا ہے۔ مگر اس سے مقصود صرف اظہار قدرت ہے۔ مثلاً ارشاد ہے۔ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ (آل عمران ١٢٩) یعنی جسے چاہے بخشے اور جس پر چاہے عذاب کرے۔ مگر دوسری اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس میں کافر و مسلمان سب برابر ہیں۔ مگر دوسری آیت اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ (نساء ٤٨) اس بات کو بتا رہی ہے کہ مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ اس لئے ضرور ہوا کہ پہلی آیت میں جو مشیت کو عام لکھا ہے۔ اُس سے مقصود صرف اظہار قدرت ہے مگر دوسری آیت نے یہ ثابت کر دیا کہ مشرک کے لئے یہ مشیت ہو چکی ہے کہ بخشا نہ جائے گا۔ اسی طرح آیت اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ نے یہ ثابت کر دیا کہ وعدہ الٰہی میں محو نہ ہوگا۔ ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ شریعت الٰہیہ میں بعض احکام ضرورت وقت اور مناسب حال کے ہوتے ہیں۔ وہ علم خداوندی کے بموجب بدلتے رہتے ہیں۔ انہیں کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسے احکام کا محو و
لے ان آیتوں کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔ وہاں دیکھنا چاہئے۔
١٢٩
اثبات اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے جسے چاہتا ہے محو کرتا ہے۔
یعنی شریعت سے اس حکم کو مٹا کر اُس کی جگہ دوسرا حکم دیتا ہے اور اُس کے اصلی اور واقعی بھید کو وہی جانتا ہے یا جسے وہ آگاہ کرے۔
حاصل یہ کہ اس آیت میں وعدہ کے محو و اثبات کا ذکر نہیں ہے۔ صرف بعض احکام کی نسبت ارشاد ہوا ہے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی باوجود نہایت عظیم الشان دعویٰ کے اس آیت کے ایسے غلط معنی سمجھے جو نصوصِ قطعیہ کے خلاف ہیں اور اُن صحیح معنی کا اُنہیں علم نہ ہو۔ اور اب اُن کے خلیفہ بھی اس غلطی پر متنبہ نہیں ہوتے۔
دوم، تیسرے جواب میں مرزا قادیانی نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ پیش کیا ہے۔ اس قصہ کا آموختہ مرزا قادیانی نے غالباً ”سولہ، سترہ برس تک رٹا ہے اور اپنی غلط پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے مختلف عنوان سے اسے دکھایا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ کوئی ذی علم بھی اصل واقعہ کی تحقیق نہیں کرتا اور محققانہ طور سے تفسیر، حدیث، سیر، تاریخ کی کتابوں کو دیکھ کر واقعی حالت دریافت نہیں کرتا۔ اس لئے اس قصہ کی واقعی حالت جس قدر قرآن مجید اور احادیث سے ظاہر ہوتی ہے۔ علیحدہ رسالہ میں لکھی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ طالبانِ حق عنقریب اُس کے مطالعہ سے مسرور ہوں گے۔ یہاں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی کرنا کہ یہ قوم عذاب الٰہی سے ہلاک ہوگی نہ قرآن مجید سے ثابت ہے نہ کسی حدیث مسلم میں اس کا پتہ ہے لیکن غیر معتبر روایت میں آیا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے صرف عذاب آنے کی پیشین گوئی کی تھی اور اُسی روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ پیشین گوئی پوری ہوئی یعنی عذاب آیا اور اس قوم کے سچے ایمان لانے اور نہایت گریہ و زاری سے وہ عذاب ٹل گیا۔
اب اس قول کو بھی ملاحظہ کیجئے۔ جو (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں انہوں نے لکھا ہے۔ ”کیا یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر
١٣٠
عذاب نازل ہو گا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے ایسا ناحق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اُس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے۔“ اجمالی طور پر تو اس جواب کی غلطی ظاہر کر دی گئی۔ اب ان دونوں پیشین گوئیوں کا فرق بھی کچھ معلوم کرنا چاہئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں اور اس پیشین گوئی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کے متعدد وجوہ انصاف و غور سے ملاحظہ کیجئے:۔
- (١) حضرت یونس علیہ السلام کی الہامی پیشین گوئی کا ثبوت نہیں ہے۔ اس لئے یہ
کہنا کہ آسمان پر قطعی فیصلہ ہو گیا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ محض غلط ہے اور آسمان پر قطعی فیصلہ مان کر یہ کہنا کہ عذاب نازل نہ ہوا۔ قرآن مجید کی صریح مخالفت کرنا ہے کیونکہ نصوص موجود ہے۔
إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ . وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ
ان دونوں آیتوں کے معنی اور اُن کی تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے جس سے قطعی طور سے ثابت ہو گیا ہے کہ خدا کے وعدے اور وعید میں تخلف ہرگز نہیں ہوسکتا۔
الغرض، مرزا قادیانی کی پیشین گوئی نہایت ہی مؤکد اور مستحکم برسوں ہوتی رہی ہے اور حضرت یونس علیہ السلام کی آسمانی پیشین گوئی کا ثبوت ہرگز نہیں ہے۔
- (٢) منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی خبر اور اُس کا نکاح ہو جانے کے بعد اُس
کے لوٹ آنے کی خبر نہایت تاکید کے ساتھ بار بار دی گئی۔ اور اُس کی نسبت مرزا قادیانی نے کلام خداوندی اس طرح نقل کیا۔ انا کنا فاعلین یعنی ہم اس کے کرنے والے ہیں۔
اب قادیانی جماعت بتائے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے اس طرح کا کلام الہی قرآن و حدیث سے کہیں ثابت ہے؟ ہرگز ثابت نہیں ہے۔
- (٣) اس منکوحہ کی نسبت یوں الہام ہوا کہ اُس عورت کا لوٹ کر آنا حق ہے۔ اس
١ شفاء قاضی عیاض اور تاریخ طبری فارسی ملاحظہ ہو۔
٢١٣١
میں شک نہ کرنا یعنی مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ایسا یقین ہے کہ اس میں شک کرنے کی ممانعت کی گئی۔ اب کوئی بتائے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے اس طرح کسی وقت کہا گیا۔ ہرگز نہیں۔
- (٤) اس وعدہ کی نسبت ان کا الہام ہے کہ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔
یعنی اس وعدہ میں تغیر و تبدل ہرگز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام سے یہ بھی صراحت کی گئی تھی۔ ہرگز نہیں۔
- (٥) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ بار بار کی توجہ سے یہ معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ اُس
لڑکی کو ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔
حضرت یونس علیہ السلام نے نزول عذاب کے لئے ایسا یقین کسی وقت نہیں بیان کیا۔
- (٦) ان دونوں واقعوں میں نہایت فرق ظاہر ہوا اور بہت بڑا فرق یہ ہے کہ حضرت
یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی وعید ہے اور مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئی وعدہ ہے۔
الغرض، یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی کو منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اس کے جھوٹا ہونے کے جواب میں اسے پیش کرنا سخت مغالطہ دینا ہے۔
- (١) سب سے اوّل تو یہ بات ہے کہ قطعی طور سے اس کا ثبوت نہیں ہے کہ حضرت
یونس علیہ السلام نے الہامی پیشین گوئی کی تھی۔
- (٢) اگر کسی قسم کا ثبوت ہے تو صرف اس قدر ہے کہ عذاب آنے کی پیشین گوئی تھی
وہ پوری ہوئی۔ یعنی عذاب آیا۔ جس ضعیف روایت میں الہام سے پیشین گوئی کرنا آیا ہے۔ اُس میں عذاب کا آنا بھی مذکور ہے۔ تفسیر درمنثور ملاحظہ کیجئے اور یہ کہا جائے کہ عذاب نہیں آیا۔ تو پھر الہامی پیشین گوئی کا ثبوت ضعیف روایت سے بھی نہ ہوگا۔
اگر کسی ذی علم کو دعویٰ ہو تو ثابت کرے مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں کر سکتا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا جواب تو خود انہیں کے متعدد اقوال سے غلط ثابت ہوا اور دوسرا اور تیسرا جواب نصوصِ قطعیہ قرآنیہ کے خلاف ہے اور تیسرا
١٣٢
جواب واقعات کی رو سے بھی غلط ہے اور خلیفہ قادیانی نے جو جواب تراشا ہے اور قرآنی جواب بتایا ہے۔ اس کا نہایت کافی جواب فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں دیا گیا ہے اور یہاں جو اقوال مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے ہیں وہ بھی اُن کے جواب کو غلط بتا رہے ہیں اور اس پر بھی اگر کسی صاحب کو سیری نہ ہو تو تتمہ حصہ اوّل فیصلہ آسمانی ملاحظہ کر لیں۔ بالآخر اُس میں کسی طرح کا شبہ نہیں رہا کہ منکوحہ آسمانی کے اور اُس کے شوہر کے متعلق جو پیشین گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی وہ ہر طرح غلط ہوئی۔ کسی منصف فہمیدہ کو ان دونوں بلکہ تینوں پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا۔ ان کا غلط ہونا آفتاب تاباں کی طرح روشن ہو رہا ہے۔ اب اگر کسی خیرہ چشم کو آفتاب نہ سوجھے یا کوئی گرد و غبار کو اُڑا کر آفتاب کو چھپانا چاہے تو آفتاب چھپ نہیں سکتا۔ دنیا اس کی روشنی سے انکار نہیں کر سکتی۔ اسی طرح اس پیشین گوئی کے غلط ہونے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کا لازمی نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ بموجب ارشاد خداوندی اور نصوص قطعیہ قرآنی اور توریت مقدس مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے۔ اب قادیانی جماعت اس پر غور کرے اور اپنی عاقبت برباد نہ کرے۔ میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جن پختہ دلائل سے ان دونوں پیشین گوئیوں کا غلط ہونا بیان کیا گیا ہے ان کا جواب نہ خلیفہ قادیان دے سکتے ہیں اور نہ کوئی دوسرا ذی علم اس میں قلم اٹھا سکتا ہے۔ یوں عوام کو دام میں رکھنے اور بے سروپا کچھ لکھنے یا کہنے کو کون روک سکتا ہے؟ مگر میں نہایت قوت اور سچائی سے کہتا ہوں کہ اب جو دلیل اور جو توجیہہ ان پیشین گوئیوں کی صداقت میں پیش کی جائے اس کا غلط ہونا میں اسی بیاں سے دکھا سکتا ہوں۔ جو اوپر کیا گیا ہے۔ جس طالب حق کو شبہ ہو وہ دریافت کرے۔
تمام مذکورہ بیان کے علاوہ نہایت قوی شہادت یہ پیش کرتا ہوں کہ خاص اس پیشین گوئی کے بیان میں اور اس کے پہلے مرزا قادیانی کے متعدد غلط دعوے دکھائے گئے جن کے جھوٹ کہنے میں کسی طرح کا تامل نہیں ہو سکتا اور کئی پیشین گوئیاں بھی ایسی غلط ہوئیں کہ ان میں کسی متعصب کو بھی کلام کرنے کی مجال نہیں ہے۔ وہ غلط پیشین گوئیاں یہ ہیں۔
- (١) احمد بیگ کی بڑی لڑکی بیوہ ہوگی۔
- (٢) اور وہ نکاح ثانی تک زندہ رہے گی۔ یعنی اس کا نکاح ثانی ہوگا مگر دنیا پر
١٣٣
ظاہر ہو گیا کہ وہ لڑکی بیوہ نہ ہوئی اور نکاح ثانی کی اسے نوبت نہیں آئی بلکہ پہلے ہی زوج کے نکاح میں رہی۔
- (٣) مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ عاجز بھی ان واقعات کے پورے ہونے
تک زندہ رہے گا۔ یعنی احمد بیگ کی لڑکی کے بیوہ ہونے اور اس کے نکاح ثانی تک، یہ بھی غلط ہوا کیونکہ وہ اپنے پہلے زوج کے نکاح میں تھی کہ مرزا قادیانی دائمی مفارقت کا داغ لے کر دنیا سے چل بسے۔ اس کے بعد وہ لڑکی اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں مرگئی اور دنیا کے روبرو یہ تینوں پیشین گوئیاں غلط ہوئیں۔
- (٤) نکاح کے بعد اس لڑکی سے ایک خاص طور کا لڑکا ہوگا مگر الحمد للہ نہ خاص
طور کا بیٹا ہوا اور نہ عام طور کا اور مرزا قادیانی کے دل کی تمنا دل ہی میں رہی۔ جب اس لڑکی سے نکاح ہی نہ ہوا تو اس کی اولاد کا ذکر ہی فضول ہے۔
- (٥) مرزا قادیانی نے کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب پیشین گوئیوں کے پڑتال
کیلئے میرے پاس ہرگز نہ آئیں گے۔
مولوی صاحب پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان گئے اور نہایت شائستگی سے مرزا قادیانی کو بلایا مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ آئے۔
غرضیکہ مذکورہ آٹھ پیشین گوئیوں میں یہ پانچ پیشین گوئیاں تو ایسے اعلانیہ طور سے غلط ہوئیں کہ آج تک کوئی ان کا مرید اس میں دم نہیں مار سکا۔
ان پانچ پیشین گوئیوں میں پہلی پیشین گوئی کے سوا چار پیشین گوئیاں وعید نہیں ہیں بلکہ وعدۂ الٰہی ہیں جس کا پورا ہونا ہر ذی عقل کے نزدیک ضرور ہے مگر وہ بھی پوری نہ ہوئیں۔
الغرض جب آٹھ پیشین گوئیوں میں پانچ غلط ہوئیں تو اب تین کے غلط ماننے میں کسی حق طلب کو تأمل نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً اس وقت کہ قرآن مجید کی نص صریح اور توریت کی نص قطعی سے ثابت ہوا کہ اگر کسی مدعی نبوت کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹا ہے۔
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ ط
تَمَّتْ بِالْخَيْرِ
١٣٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
دوسری شہادت آسمانی
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ وَنُصَلِّیْ نُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ ہر فہمیدہ اس کا یقین کرتا ہے کہ انسان کو راستباز اور سچا اس وقت کہتے ہیں جب اس کے تمام اقوال سچے اور اس کی باتیں راستی پر مبنی معلوم ہوتی ہیں۔ اور جس کی ایک بات بھی ١؎ جھوٹی ثابت ہو جائے تو پھر اسے کوئی راستباز نہیں کہتا۔ کیونکہ جس کا ایک جھوٹ ثابت ہو گیا تو اہل دانش کے نزدیک اس کی کسی بات پر اطمینان نہ رہا۔ اس کی ہر بات پر جھوٹ کا احتمال ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حاکم وقت کے اجلاس پر اگر کسی کے اظہار میں ایک بھی جھوٹ پایا جائے تو پھر اس کی کسی بات کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ اس کا تمام اظہار غیر معتبر ہو جاتا ہے یہ حال تو عام راستبازی اور ناراستی کی شناخت کا ہے اور جو شخص عظیم الشان دعویٰ نبوت ومہدویت کرے اس کی صداقت کے لئے تو علاوہ عام راست بازی کے اس کے خاص خاص نشانات ہیں۔ ان کا ہونا ضرور ہے۔
- ١۔ اس میں تحمل و بردباری ایسی ہو کہ دوسرے میں نہ ہو۔
- ٢۔ اس کی صحبت کا عمدہ اثر نہایت ظاہر طور سے دیکھا جائے۔
- ٣۔ جو جو علامتیں اس خاص دعوے کی نبی مرسل نے بیان کی ہوں وہ اس میں پائی جائیں
اور جب تک یہ باتیں اس میں نہ پائی جائیں اسے کوئی فہمیدہ راستباز نہیں کہہ سکتا۔
١؎ اس میں وہ جھوٹ داخل نہیں ہو سکتے جو درحقیقت جھوٹ نہیں ہیں محض ظاہری طور سے اسے جھوٹ کہا گیا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی بیوی کو بہن کہا۔ درحقیقت یہ جھوٹ نہیں تھا کیونکہ وہ ان کی علاتی بہن تھیں۔
٢
اے بھائیو اسی معیار پر مرزا قادیانی کو جانچو اور حق بینی کی عینک سے انہیں غور سے دیکھو۔ اگر ایسا کرو گے تو بالیقین انہیں اپنے دعوے میں راستباز نہ پاؤ گے۔ یہ معیار تو بڑے مرتبہ کی ہے۔ ان میں تو عام راستبازی بھی نہیں پائی جاتی۔ بہت ناراست اقوال ان کے دکھائے گئے اور کامل طور سے ان کی ناراستی ثابت کر دی گئی۔ مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ جماعت مرزائیہ نے عقل وفہم کو کچھ ایسا بالائے طاق رکھ دیا ہے کہ وہ ان روشن بیانات کو چشم انصاف سے نہیں دیکھتے۔ اور ہر طرح مرزا قادیانی کو سچا ہی جانتے ہیں اور بلاوجہ وجیہہ اور بغیر سبب اپنے خیر خواہ سے بدگمانی کرتے ہیں اور ایک بات پر بھی تحقیق حق کے طور سے غور نہیں کرتے۔ مگر سچے خیر خواہ حتی الوسع اپنی خیر خواہی سے باز نہیں رہ سکتے۔ سچے نائب رسول حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حال کو خیال کرتے ہیں۔ کہ منکرین کو کس قدر ضد تھی اور اپنی بات پر اڑے تھے۔ اور آپ کو ان کی خیر خواہی میں اس قدر کوشش تھی کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (شعراء:٣) ”یعنی کیا تم اپنی جان کو ہلاک کر دو گے اس فکر اور کوشش میں کہ منکرین ایمان نہیں لاتے۔“
اب غور کیا جائے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اپنے مخالفین کی خیر خواہی میں کیسی کوشش فرماتے تھے جس سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔ باایں ہمہ مخالفین کی حالت ملاحظہ کیجئے ان کی نسبت ارشاد خداوندی ہے۔ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا. (فاطر:٤٢) ”یعنی دنیا کے گمراہ گروہ میں جب کوئی خدا سے ڈرنے والا آیا تو وہ اور زیادہ بھاگے اور اس کی مفید باتوں سے منتفع نہ ہوئے۔“
اس مضمون کی متعدد آیتیں ہیں۔ حضرات مرزائی ان پر توجہ کریں جو اپنے خیر خواہوں کی محنت کو بیکار خیال کرتے ہیں اور فخریہ کہتے ہیں کہ مونگیر سے رسالہ پر رسالہ نکل رہا ہے اور قادیانی توجہ بھی نہیں کرتے اب وہ قرآن مجید دیکھ کر بتائیں کہ مونگیر والے نائب رسول کا کام کر رہے ہیں یا نہیں یا ان کے مقابل جماعت مرزائیہ کس شرمناک گروہ کا کام کر رہی ہے جنہیں وہ رسول ومہدی مان چکے ہیں ان پر لاجواب اعتراضات کئے گئے۔ ہر طرح ان کی ناراستی اور دروغ بیانی دکھائی گئی۔ مگر یہ جماعت اب جواب سے عاجز ہو کر معتقدین عوام سے تو یہ کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کے باب میں جو کوئی کچھ لکھے اسے مت دیکھو ورنہ ایمان جاتا رہے گا اور جو ان کے خواص
سے کچھ کہا گیا تو کہتے ہیں کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں پھر اس کی وجہ سے اسلام چھوڑ دیں؟ افسوس یہ کیسی ناسمجھی یا حد درجہ کی ضد ہوگئی ہے کہ اپنی عاقبت کا بھی انہیں خیال نہ رہا۔ بعض نے گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اپنی تحریر سے شائستگی اور قابلیت کا ثبوت دیا۔ مگر یہ ہر طرح ثابت ہو گیا کہ جواب سے عاجز ہیں۔ اے عزیزو اس پر تو غور کرو کہ اگر سب قسم کے اعتراضوں کی حالت ایک سی ہو جائے تو پھر حق و باطل میں کوئی تمیز نہ رہے۔ ہر مدعی کاذب ویسا ہی خیال کیا جائے جیسا سچے راست باز مدعی گزرے ہیں کیونکہ اعتراض سے کوئی نہیں بچا۔ سچوں پر بھی اعتراضات کئے گئے ہیں اور جھوٹوں پر بھی الزامات دیئے گئے ہیں۔ ان دونوں میں تمہارے نزدیک کوئی فرق ہے یا نہیں اگر کوئی فرق ہے تو بیان کرو۔ اور یہ دکھاؤ کہ مرزا پر ایسے اعتراضات نہیں کئے گئے جیسے جھوٹوں پر کئے جاتے ہیں۔
میں نے رسالہ شہادت آسمانی میں مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت پیش کی اور جس روایت کو انہوں نے نہایت زور سے اپنی صداقت میں پیش کر کے اس کے بار بار ذکر سے اپنی کتابوں اور رسالوں اور اشتہاروں کو بھر دیا تھا اسی روایت سے اور ان کے بیانات سے ان کا کاذب ہونا آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھا دیا۔ اگرچہ اس وقت سے اس شہادت کے پیش کرنے سے ان کی زبان بند ہے۔ عام و خاص سے اس کا ذکر نہیں کرتے۔ مگر اس پر نظر نہیں کرتے۔ کہ جس کی ایسی فضیحت کن غلطیاں اور شرمناک باتیں ظاہر ہوں جس کی وجہ سے ان کا وہ عظیم الشان دعویٰ غلط ہو جائے جس پر انہیں فخر و ناز تھا ایسا شخص دعویٰ نبوت میں کیونکر سچا ہو سکتا ہے؟ انہیں تو مرزا قادیانی کی وہ باتیں دکھائی گئی ہیں جو معمولی راست بازوں کی شان سے بھی بعید ہیں اور انبیاء کی شان تو بہت اعلیٰ ہے۔
اب میں اس رسالے کے بعض مضامین کی تشریح کرتا ہوں اس رسالہ میں کئی طریقوں سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا ثابت کیا ہے اس کا نمونہ بطور فہرست حسب ذیل ہے۔
- ا۔ ................ مرزا قادیانی کے وجود سے اور ان کے دعوے سے اسلام اور مسلمانوں کو دینی
اور دنیاوی ہر قسم کا نقصان ہوا اور کسی طرح کا فائدہ نہیں ہوا۔ کیونکہ ان کے دعوے سے چالیس کروڑ مسلمان جہنمی ہو گئے اور دنیا میں بہت بلائیں آئیں اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فائدہ پہنچے گا۔
٤
اس لئے وہ مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ اسکی تشریح شروع رسالے اور آخر رسالہ میں کی گئی ہے۔ شروع کا صفحہ ١ سے ١٠ تک اور آخر کا صفحہ ٩٦ سے آخر تک دیکھا جائے۔
- ٢۔ ............ جو روایت متعدد طریقوں سے غیر معتبر ثابت ہے اسے اپنے مدعا ثابت
کرنے کے لئے نہایت صحیح قرار دیا۔
- ٣۔ ............ اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے نہایت مغالطے اور صریح دھوکے سے کام
لیا ہے اور ناواقفوں کو متعدد مغالطے دیئے ہیں۔ اس کا نمونہ ص ٤٨ سے ص ٥٠ تک متن وحاشیہ میں دیکھئے۔
- ٤۔ ............ ایک معمولی گہن کو اپنی طرف سے کچھ زیادہ کر کے اور محض غلط باتیں بنا کر
اپنے لئے آسمانی شہادت قرار دیا۔
- ٥۔ ............ ائمہ محدثین اور نقادین حدیث کو بلاوجہ نہایت بے تہذیبی سے سخت الفاظ کہے
اور اولیاء اور انبیاء اور خصوصاً سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روش کے خلاف جن کے ظل ہونے کا انھیں دعویٰ ہے اور تمام دنیا کے علماء اسلام جو ان کے جھوٹے دعوے کو نہیں مانتے انھیں تو بہت ہی کچھ کہا ہے اور غیر مہذب طریقے سے مخاطب کیا ہے اور نہایت ناشائستہ الفاظ انہیں کہے ہیں۔ اس کی تفصیل صرف انجام آتھم اور اس کے ضمیمہ کے دیکھنے سے بخوبی ہوسکتی ہے مگر اس کا نمونہ پہلی شہادت آسمانی کے صفحہ ٣٢ و ٤٠ و ٤١ میں اور اس رسالہ کے صفحہ ٤٩ و ٦٣ و ٧٣ میں دیکھا جائے۔
- ٦۔ ............ حدیث میں اپنی طرف سے زیادہ کر کے حدیث کا جز قرار دیا اور اپنے اضافہ
کو جناب رسول اللہ ﷺ کے قول کا جز ٹھہرایا۔
- ٧۔ ............ حدیث کے معنی ایسے غلط بیان کئے جس کی غلطی کسی ذی علم پر پوشیدہ نہیں رہ
سکتی اور صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ دھوکا دینے کے لئے بالقصد ایسا کیا گیا ہے۔
- ٨۔ ............ گہن کا بے نظیر اور خارق عادت ہونا روایت کے ہر جملہ سے اظہر من الشمس
ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا صفحہ ٤٣ ملاحظہ ہو۔
٥
- ٩۔ ............... اپنے بیان سے یہ ظاہر کیا کہ امام مہدی رسالت و نبوت کا دعویٰ کریں گے
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد سچے رسول و نبی آئیں گے حالانکہ قرآن مجید کے نص قطعی اور صحیح حدیثوں سے اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور انور ﷺ کے بعد کوئی سچا پیغمبر نہیں آئے گا۔ رسالہ دعوٰیٰ نبوت مرزا اور حصہ سوم فیصلہ آسمانی صفحہ ٩ سے ٢٣ تک ملاحظہ ہو۔
ناظرین!! یہ باتیں جو میں نے نو نمبروں میں آپ کو دکھائیں ان کا ثبوت اس رسالہ میں ایسے روشن طریقے سے کیا گیا ہے کہ کسی متعصب کو بھی انکار کی ہمت نہیں ہوسکتی۔ اب میں خیر خواہانہ جماعت مرزائیہ سے کہتا ہوں کہ اس رسالہ کو منصفانہ نظر سے دیکھیں اور خیال کریں کہ مرزا قادیانی کی وہ آسمانی شہادت جس کا شور و غل بے انتہا انہوں نے مچایا تھا کیسی غلط ثابت ہوئی اور پھر اس کا غلط ہونا بھی کس طرح ثابت ہوا کہ اس کے ضمن میں ان کے جھوٹ ان کی مغالطہ دہی ان کی افتراء پردازی بھی ظاہر ہوئی پھر کیا خدا سے ڈرنے والوں کے لئے یہ بیان مرزا قادیانی سے علیحدہ ہو جانے کے لئے کافی نہیں ہے؟ بلکہ ان نو نمبروں میں سے ہر ایک نمبر ان کے دعوٰیٰ کی غلطی کو اظہر من الشمس کرتا ہے۔
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے اس دعوے کی غلطی ایسی تحقیق اور زور دار تحریر سے ظاہر کی گئی ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں ہے کہ اس کا معقول جواب دے سکے۔ پہلی شہادت آسمانی چھپے ہوئے عرصہ ہوا مگر یہاں سے قادیان تک کسی نے دم نہیں مارا۔ یہ دوسری شہادت آسمانی پیش کی جاتی ہے۔ اگر اس پر بھی کسی کو تسکین نہ ہو تو ہمارے اور رسائل کو دیکھے۔ صرف فیصلہ آسمانی کے تین حصوں میں مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی بہت دلیلیں لکھی گئی ہیں۔ اور القائے قادیانی اور اسرار نہانی لکھنے اور گالیاں دینے سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی اور جو لاجواب اعتراضات ان پر کئے گئے ہیں ان کا جواب نہیں ہو سکتا بلکہ مرزا قادیانی کے مرید ہونے کا اثر اور مریدوں کی تہذیب و شائستگی اور قابلیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور جنہیں مرزا قادیانی کی دنیاوی ترقی گمراہ اور متحیر کر رہی ہو وہ رسالہ عبرت خیز ملاحظہ کریں ان کی حیرت جاتی رہے گی اور معلوم کرلیں گے کہ جھوٹے اور مفتری بہت کچھ کامیاب ہوئے ہیں۔
٦
اس کے بعد اطلاع دیتا ہوں کہ جس طرح یہ شہادت آسمانی پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے یعنی پہلی ٤٤ صفحہ پر تھی اور اس کے ١٠٤ صفحہ ہیں اسے چھپے ہوئے بھی گیارہواں برس ہے۔ اسی طرح فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں نظر ثانی کے بعد بہت تحقیقات کا اضافہ ہو گیا ہے اور رسالہ بہت بڑھ گیا ہے۔ یعنی موجودہ حالت میں (١٨٢) صفحوں پر ہے جو پہلی مرتبہ ١٣٣٢ھ اور دوبارہ ١٣٣٧ھ میں چھپا ہے اسے بھی چھٹا برس ہے مگر کسی کی مجال نہیں ہوئی جو جواب میں قلم اٹھاتا۔ اس کے بعد یہ بھی اطلاع دیتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے قصیدہ اعجازیہ کے جواب میں یہاں سے بھی ایک قصیدہ لکھا گیا ہے اور سات برس سے شائع ہو رہا ہے اولاً تو مرزا قادیانی کے قصیدہ سے اس میں پچاسی اشعار زیادہ ہیں دوسرے ایسا فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے سامنے مرزا قادیانی کا قصیدہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے کے لائق ہے اس کی شہادت ذی علم عربوں نے بھی دی ہے اور قادیانی تو بالکل حواس باختہ اور دم بخود ہیں۔ اسی کا دوسرا حصہ بنام ابطال اعجاز مرزا حصہ دوم بھی طبع ہوا ہے جو دس برس سے شائع ہورہا ہے اس میں مرزا قادیانی کے قصیدہ کی موٹی موٹی غلطیاں پانچ سو بتیس ٥٣٢ دکھائی گئی ہیں جس کو دیکھ کر قدرت خدا کا تماشا نظر آتا ہے کہ کہاں دعویٰ اعجاز اور کہاں اس قدر فاش غلطیاں۔ اب جو حضرات کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کلام معجزہ ہے اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا وہ دیکھیں کہ کیسا اعلیٰ وارفع جواب دیا گیا ہے اور ان کی غلطیاں دکھائی گئیں اور جو ان کے اعجاز کو دس بیس دن کے اندر محدود سمجھتے ہیں وہ بھی ملاحظہ کریں تا کہ سمجھیں کہ اس اعجاز کی مدت معین کرنے میں کیسی ہوشیاری اور ابلہ فریبی مرزا قادیانی کی تھی۔ یہ دونوں رسالے مولانا حاجی شاہ سید مغیث حسین صاحب اشرفی (مونگیر صوبہ بہار) کی تصنیف کردہ ہیں۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
راقم خاکسار خیر خواہ مسلمین ابو احمد رحمانی
٧
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ە
اس خدائے بے نیاز کے صدقے جس نے كُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِيْنَ ١؎ (توبہ: ١١٩) کا حکم فرمایا اور اس رسول مقبول ﷺ کے قربان جس نے سچ اور جھوٹ کے نتیجہ کو ایک جملہ میں ظاہر کر دیا۔ اور ٢؎ اَلصِّدْقُ يُنْجِيْ وَالْكِذْبُ يُهْلِكُ فرما کر اپنی امت کو سچائی کا پابند کیا اور ٣؎ فحوائے خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ۔ کے جس قدر دوری آپؐ کے متبرک زمانے سے ہوتی گئی اسی قدر سچائی اور خیریت میں کمی ہوتی گئی۔ اب تیرہ سو برس گزر گئے اور چودہویں صدی گذر رہی ہے اس وقت میں معائنہ ہو رہا ہے کہ راستی اور خیریت مفقود ہو رہی ہے اور فتنہ اور فساد اور کذب اور افتراء کا زور شور ہے۔ اس لئے صادقین کو اور سچائی کے طالبوں کو ضرور ہے کہ ایسے نازک وقت میں جو کام مسلمانوں کی فلاح کے لئے کیا جائے یا جو شخص قوم کی اصلاح کا دعویٰ کرے اس کی حالت میں نہایت غور کریں اور اس کے نتیجہ کو وسیع النظر ہو کر دیکھیں اور چونکہ انسان کامل غور اور فکر کے بعد بھی غلطی کر سکتا ہے اور ہر ایک دانشمند صاحب تجربہ نے معلوم کر لیا ہے کہ ایسی غلطیاں بہت ہوتی ہیں اور ہوئی ہیں۔ اس لئے حقانیت کے عاشقوں کو ضرور ہے کہ اپنے تسلیم کردہ مسئلے اور اپنے مانے ہوئے مصلحوں کی باتوں میں تعصب اور طرفداری سے علیحدہ ہو کر کامل طور سے غور کرتے رہیں اور دوسرے مصلحین اور نکتہ چین حضرات کی باتوں کو انصاف سے دیکھیں تا کہ اپنے خیال کی ضروری اصلاح کر سکیں۔ اس پر خوب نظر رکھیں کہ زمانہ میں جب تاریکی پھیلتی ہے اور ظلمت چھا جاتی ہے تو عام طور سے طبیعتوں پر خیالات پر ظلمت کا پرتو پڑتا ہے۔ اور طالبین حق کی نظریں بھی خیرہ ہو جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں پاکیزہ طبیعت اور مبارک وہ بندے ہیں جو اپنی نظر کو تیز کرنا چاہتے ہیں اور
١؎ (یعنی سچوں کے ساتھ ہو جاؤ اور صادقوں کی معیت اختیار کرو جھوٹوں سے علیحدہ رہو ٢؎ یعنی سچائی باعث نجات ہے اور جھوٹ سبب ہلاکت ہے۔ ٣؎ یعنی رسول اللہ فرماتے ہیں کہ بہترین زمانوں کا میرا زمانہ ہے۔
٨
جس وقت اپنی غلطی سے واقف ہوتے ہیں تو خدا سے ڈر کر اسی وقت اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں کسی بڑے مجدد اور مصلح کی ضرورت تھی۔ ١؎ اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت میں بہت بڑے مصلح اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنی صداقت کے اظہار میں بہت سے نشانات اپنی زور دار تحریروں میں دکھائے ہیں اور کچھ حضرات اپنی سادگی سے ان کی صداقت پر ایمان لائے بعض ان میں جو اہل علم ہیں ان پر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے قوت ایمانی کے علاوہ تاریخ پر بھی نظر وسیع نہیں کی دوسری صدی کے شروع سے اس وقت تک بہت ایسے مدعی گذرے ہیں اور ہر ایک نے اپنے وقت اور اپنی قابلیت کے مناسب نشانات دکھائے ہیں اور بہت لوگوں
١ بعض حضرات صرف زمانہ کی ضرورت کو مرزا قادیانی کی صداقت کی دلیل سمجھتے ہیں ان کے خیال میں جب ضرورت کے وقت مرزا قادیانی نے مجدد اور مصلح ہونے کا دعویٰ کیا تو ان کا دعویٰ سچا ہے مگر افسوس ہے کہ انہوں نے غور و فکر سے کام نہیں لیا اور یہ خیال نہیں کیا کہ ضرورت تو کم و بیش ہر صدی پر ہوتی رہی اور جھوٹے اور سچے مدعی ہوتے رہے ہیں۔ پھر کیا ان سب حضرات کو سچا مدعی کہیں گے تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ دعویٰ کرنے والے اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے پر جب قرآن مجید اور حدیث صحیح شاہد قطعی ہیں تو ان کے کذب میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہو سکتا ہے۔ باقی رہا زمانہ کی ضرورت کو کامل طور سے معلوم کرنا اور اسے پورا کرنا اسی عالم الغیب اور کامل القدرت کے اختیار میں ہے جب اس کے علم میں ضرورت ہوگی اور اس کی مصلحت کا اقتضاء اس کا پورا کرنا ہو گا اس وقت پورا کرے گا بعض وقت مریض کو اشتہا معلوم ہوتی ہے مگر حکیم کھانے سے روکتا ہے کیونکہ اس کے علم میں اشتہاء صادق نہیں ہوتی۔ جب اس کی طلب اس مرتبہ کو پہنچتی ہے کہ اس وقت اس کو کھانا دینا مفید ہوتا ہے جب وہ کھانے کی اجازت دیتا ہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ مریض کی سمجھ اور اس کی خواہش ضرورت کو ثابت نہیں کرتی بلکہ حکیم دانا کا علم اسے ثابت کرتا ہے اس کے علاوہ جب مشاہدے نے ثابت کر دیا کہ بیس پچیس برس تک بہت کچھ دعوے کرتے رہے۔ مگر انکے اور ان کے خلیفہ اکبر کی موت تک زمانہ کی ضرورتیں ویسی ہی رہیں۔ بلکہ ہر قسم کا تنزل ہوا۔ اور امت محمدیہ میں ایک نزاع و جھگڑا زیادہ ہو گیا۔ اور مرزا قادیانی نے دنیا کو اسلام سے گویا خالی کر دیا۔ کیونکہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں دو چار لاکھ رہ گئے باقی سب کافر ہو گئے۔ مرزا محمود کا رسالہ ”تشحیذ الاذہان دیکھو“
نے انہیں مانا ہے۔ پھر کونسی بات مرزا قادیانی میں زیادہ ہے جو انہیں کاذب مان کر مرزا قادیانی کے قول کی تصدیق کی جائے۔ خیر اس کے لئے تو نظر وسیع اور بہت غور و فکر کی ضرورت ہے مگر سچائی کے طالبوں کو غور کر کے یہ معلوم کر لینا آسان ہے کہ مرزا قادیانی نے پچیس چھبیس برس کے عرصہ میں کیا کام کیا اور ان کی ذات سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا۔ خدا کے لئے اس پر غور کرو کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اب یہ سوچو کہ اسلام میں کسی مسیح کے آنے کا وعدہ کیا گیا ہے یا نہیں کم سمجھ نام کے مسلمانوں میں ایک جماعت تو سرے سے مسیح اور مہدی کے آنے کا صریح انکار کرتی ہے۔ ان کے خیال کے بموجب تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے۔ اور جو گروہ انکے آنے کا اعتقاد رکھتا ہے وہ ان کے آنے کے فوائد بھی یقینی طور سے سمجھ رہا ہے کیونکہ جن حدیثوں میں ان کے آنے کی خبر ہے انہیں میں ان کے آنے کے بہت کچھ فائدے اور اس وقت تک نہایت عمدہ حالت دکھائی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے آنے پر تو اعتقاد رکھا جائے اور ان کے آنے کے جو فائدے بیان ہوئے ہیں انہیں باتیں بنا کر چھوڑ دیا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ حدیثوں کے ان الفاظ میں تو محض بیجا تا ویلیں کی جائیں جنہیں الفاظ و معنی حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسیح موعود کے آنے میں تاویل نہ کی جائے۔ اگر مسیح کے آنے کو مانا جائے اور تیرہ سو برس کے عرصہ کی شہرت کو ہر کہہ ومہ میں ان کے انتظار پر نظر کی جائے۔ تو بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے آنے سے اسلام اور مسلمانوں کو ایسا عظیم الشان فائدہ پہنچے گا کہ ان کے آنے سے پہلے تیرہ سو برس کے عرصہ میں کسی بزرگ کسی مجدد سے نہ ہوا ہو گا۔ اب جماعت مرزائیہ ہوش کر کے بتائے کہ جو فائدہ اسلام کو مثلاً حضرت عمرؓ سے ہوا۔ اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور خواجہ معین الدین چشتی علیہما الرحمتہ سے ہوا۔ اور ہزاروں لاکھوں مسلمان ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے کتنے ہندو۔ اور آریہ کو مسلمان کیا ان کی ذات سے کئی یہودی اور تثلیث پرست مسلمان ہوئے؟ اس کا کوئی جواب دے اور کسی قادیانی کے کہہ دینے سے کہ قادیان میں یا پنجاب میں یا دوسری جگہ بعض مسلمان ہوئے ہیں واقعہ کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی اور اگر اس شور و غل میں کوئی مسلمان ہو گیا ہو تو وہ لائق توجہ نہیں ہو سکتا بہت سے علماء کے ہاتھ پر بعض ہندو عیسائی مسلمان ہوئے ہیں۔ یہاں تو وہ مقدار ہونی چاہئے جس کی وجہ سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ جائے۔ اور اسلام کو غلبہ ہو جائے۔
اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت کے لحاظ سے انہوں نے بے انتہاء کوشش کی مگر صرف اپنی
٠١
بڑائی ثابت کرنے میں کاغذی گھوڑے بہت دوڑائے اور بہت دفتر سیاہ کئے مگر ان دفتروں میں بجز جھگڑے اور اپنی تعلیوں کے اور کچھ نہیں ہے ہم نے ان کے رسالوں کو خوب دیکھا۔ صلحا اور کاملین کی تحریریں جس نے دیکھی ہیں وہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریر صادقین کاملین کی سی ہرگز نہیں ہے۔ ان کی تحریروں سے کسی غیر مہذب اور شریر النفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی بلکہ شرارت نفس کو اشتعال دینے والی ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین اور دیندار علماء ہی کو نہایت بے تہذیبی سے برا نہیں کہا بلکہ بعض انبیائے کرام کو بھی اس بیہودگی سے برا کہا ہے اور بدگمانیاں کی ہیں کہ سچے مسلمانوں کا دل اسے دیکھ کر تھرا جاتا ہے کسی بزرگ یا نبی کی یہ شان ہرگز نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے ماننے والے تہذیب اور شائستگی سے معرا ہیں اور صلاح و تقویٰ سے بالکل ناآشنا۔ سخت افسوس ہے کہ ان کی جماعت میں جو نیک طبع حضرات ہیں وہ نہیں دیکھتے کہ وہ مجدد ہوئے‘ مہدی ہوئے‘ مسیح ہوئے‘ مگر اس عرصہ دراز میں مسلمانوں کے لئے کیا کیا؟ اسلام کو ان سے کیا نفع پہنچا۔ ان سے تو اسلام میں سو پچاس کی بھی ترقی نہ ہوئی۔ بلکہ کفار کی جماعت کو ترقی ہوئی کہ ٤٠ کروڑ مسلمان تھے وہ بھی کافر ہو گئے مگر غضب ہے کہ قادیانی جماعت ایسی روشن باتوں کو نہیں دیکھتی اور انہیں اپنے دعوے میں صادق مان رہی ہے۔ اگر وہ مقدس تھے نبی تھے تو کم سے کم ایک جماعت نے ان سے تہذیب و شائستگی اور تقویٰ حاصل کیا ہوتا مگر ان کی جماعت میں تو اس کا پتہ نہیں ہے بلکہ ان پر ایمان لانے سے پہلے جو مہذب اور راستباز تھے ان پر ایمان لانے کے بعد ان کی تحریروں میں بے تہذیبی اور خلاف گوئی پائی جاتی ہے۔ اعلانیہ سچی باتوں کا انہیں انکار ہے اور صریح جھوٹی باتوں کا انہیں دعویٰ ہے اور متنبہ کرنے پر بھی خیال نہیں کرتے یہ کیا وجہ ہے کہ ان کی حالت ایسی بدل گئی۔ بجز اس کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرزا قادیانی کو انہوں نے اپنا مقتداء مانا۔ اب ضرور ہے کہ ان کی پیروی کریں گے اور ان کا ذاتی اثر ان میں آئے گا اور اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے کذب کا ایک دفتر ہے جس کا نمونہ جا بجا میں نے بیان کیا ہے۔ اس رسالے میں بھی ان کے چند جھوٹوں کا ذکر آئے گا اور ناظرین ملاحظہ کریں گے۔
اے بھائیو!! کیا مسیح موعود کی یہی علامت اور ان کی نبوت کا یہی معیار ہے؟ ذرا غور سے سوچو۔ یہ نفع دکھانا کہ انہوں نے پادریوں سے اور آریوں سے خوب مناظرہ کیا اور ان کے
١١
جواب میں رسالے لکھے یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے وہ مہدی اور مسیح موعود مان لئے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ان کی وجہ سے اسلام کو بڑا فائدہ پہنچا۔ ذرا انصاف تو کرو۔ اب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جو کچھ کیا عجب نہیں کہ اس لئے کیا ہو کہ مسلمان ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہمیں مانیں۔ بعض اور اہل علموں نے بھی مناظرہ کیا ہے۔ اور مخالفین اسلام کے جواب میں کتابیں لکھیں ہیں۔ اور مرزا قادیانی سے بہت زیادہ لکھی ہیں۔ مثلاً جس وقت ہندوستان میں ابتداً پادریوں کا مشن آیا اور مسلمان عموماً مذہب عیسائی سے محض ناآشنا اور پادریوں کے فریبوں سے بالکل ناواقف تھے۔ اس وقت ایک بڑا پادری فنڈر آیا اور اس نے اسلام کے رد میں کتاب میزان الحق وغیرہ لکھ کر بڑی ہلچل مچادی اس وقت مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم مہاجر مکی نے اس کا مقابلہ کیا اور اکبر آباد میں اسے شکست فاش دی اس وقت فارسی اور اردو دونوں زبانیں ہندوستان میں زیادہ رائج تھیں اس لئے انہوں نے اردو فارسی دونوں میں بڑی بڑی کتابیں لکھیں اور خاص تثلیث کے رد میں ایک رسالہ لکھا جس کا نام اصح الاحادیث فی ابطال التثلیث ہے اور عام اعتراضات کے جواب میں ایک کتاب فارسی میں لکھی جس کا نام ازالۃ الاوہام ہے اور ایک کتاب اردو میں لکھی جس کا نام ازالۃ الشکوک ہے۔ عیسائیوں کی کتب مسلمہ کی تحریف میں ایک خاص کتاب لکھی جس کا نام اعجاز عیسوی ہے آخر میں انہوں نے عربی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا نام اظہار الحق ہے اس کتاب کے لکھنے کی وجہ یہ ہوئی کہ وہی پادری فنڈر جس نے ہندوستان میں آ کر ہلچل مچائی تھی ”قسطنطنیہ“ پہنچا اور اپنے رسالہ میزان الحق کو عربی میں لکھ کر وہاں شائع کیا اور دربار سلطانی میں ہلچل مچادی اور اپنے رسالہ کے جواب کا خواستگار ہوا وہاں کے علماء جواب نہیں دے سکے اور مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم مکہ معظمہ میں وہاں بلوائے گئے۔ مولانا کی عظمت و ہیبت اس پادری کے دل میں اس قدر تھی کہ جب اس نے مولانا کے پہنچنے کی خبر سنی اسی وقت بھاگ گیا۔ مولانا نے وہاں قیام کر کے یہ کتاب لکھی یہ کتاب اظہار الحق اس قدر مشہور و مقبول ہوئی کہ مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا اور مختلف مقامات پر کئی مرتبہ چھپ چکی ہے اور بعض مقامات پر داخل درس ہو گئی ہے۔ اگر ١٢
مناظرہ کرنے اور مخالفین اسلام کے جواب لکھنے سے کوئی شخص مجدد کے خطاب کا مستحق ہو سکتا ہے یا اس کی تحریر کی نسبت یا اس کی ذات کی نسبت یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے تثلیث پرستی کے ستونوں کو توڑ دیا تو مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم کو کہہ سکتے ہیں۔ ١؎ مرزا قادیانی نے تو بمقابلہ ان کے کچھ نہیں کیا۔ ان کے بعد جب عمادالدین جو مولوی کہلاتا تھا اور صفدر علی جو مولوی کہلانے کے علاوہ سرکاری مدارس کا ڈپٹی تھا عیسائی ہو گئے اور انہوں نے اسلام کے مقابلہ میں کتابیں لکھیں اور مسلمانوں میں شائع کیا اور بہت لوگ عیسائی ہو گئے اور ہر شہر میں متعدد مقامات پر پادریوں نے زور وشور سے اپنا وعظ کہنا اور اسلام پر اعتراض کرنا شروع کیا۔ مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی۔ اس وقت کئی صاحبوں نے ان کے جواب دیئے اور انہیں لاجواب کیا۔ اس خاکسار نے بھی متعدد پادریوں کو تقریری مناظرہ میں عاجز کیا اور ان کے اعتراضات کے جواب میں رسالے لکھے بعض اپنے نام سے بعض دوسروں کے نام سے اور انہیں ہر طرح سے عاجز کیا رسائل ذیل ملاحظہ کئے جائیں۔
٢؎ پیغام محمدی دفع التلبیسات۔ آئینہ اسلام۔ ترانہ حجازی یہ رسالے چودہویں صدی کے ابتداء میں لکھے گئے ہیں۔ انہی رسالوں کی محققانہ اور پر زور تحریر سے عیسائی لاجواب ہوئے اور ان کا وہ فتنہ فرو ہوا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان حضرات کو عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے والا نہ کہا جائے
١؎.......... جماعت مرزائی غالباً یہاں یہ کہے گی کہ مولوی رحمت اللہ صاحب نے دعویٰ نہیں کیا اس لئے ہم نہیں کہتے مگر اس جماعت کی عقل پر افسوس ہے کہ جو شخص بدیہی طور سے ایسے مفید کام اسلام کے لئے کرے اور دشمنان اسلام کو عاجز کر دے اس کے کاموں کو دیکھنے کے بعد بھی اسے مجدد نہ مانا جائے اور جو کچھ بھی نہ کرے اور صرف دعویٰ کا غل مچائے اسے سچا مان لیا جائے مرزائیو کچھ تو خدا سے ڈرو اور اپنے انجام پر غور کرو۔
٢؎.......... یہ رسالہ پہلے ١٣٠٨ھ میں چھپا تھا پھر دوسری مرتبہ ١٣٣١ھ میں دہلی میں چھپا ہے دوسرا رسالہ دفع التلبیسات پہلی مرتبہ ١٣٠٢ھ میں چھپا تھا دوسری مرتبہ ١٣٣١ھ میں چھپا ہے۔ تیسرا اور چوتھا رسالہ اور ان کے علاوہ مراۃ الیقین اور مراسلات مذہبی بھی دوبارہ طبع ہو چکی ہیں۔
١٣
مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جواب لکھنا رد کرنا اور بات ہے اور عیسیٰ پرستی مٹانا اور بات ہے کیونکہ تجربہ نے ثابت کر دیا کہ جواب دیئے گئے اور خوب رد کیا گیا۔ مگر واقعی حالت کو دیکھا جائے تو نہایت بدیہی بات ہے کہ تثلیث کے ماننے والوں کو ہر طرح ترقی ہو رہی ہے مسیح موعود کے اوصاف جو صحیح حدیثوں میں آئے ہیں ان سے اظہر من الشمس ہے کہ جس وقت وہ تشریف لائیں گے اس وقت عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹ جائے گا۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ تو بہت کچھ کیا کہ میں ! عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں۔
(اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٤ مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
مگر یہ دیکھو کہ انہوں نے اس کی ایک اینٹ بھی گرائی؟ یہ بھی تو نہ ہوا کہ دو چار ہزار اور کم سے کم سو دوسو عیسائی ان پر ایمان لے آتے اور تثلیث سے توبہ کرتے پھر انہوں نے کیا کیا جس کی وجہ سے تم انہیں مسیح موعود مان رہے ہو اور دوسروں سے منوانا چاہتے ہو۔ خدا کے لئے کچھ تو غور کرو۔ اس وقت فرقہ اسماعیلیہ کا ایک شخص آغا خان ہے اس کی وجہ سے ہزاروں ہندو تعلیم یافتہ
- ٢.......... اس دعوے کا حوالہ اور اس کی تفصیل حقیقۃ المسیح میں کی گئی ہے اس کے دیکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ
مرزا قادیانی اپنے پختہ اقرار سے کاذب ہیں۔ بعض مرزائی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی موت ثابت کر دی اس لئے تثلیث کا ستون ٹوٹ گیا۔ مگر ان بے خبروں سے کوئی کہے کہ مرزا قادیانی سے پہلے مولوی چراغ علی نے نہایت پر زور دلائل سے عبرانی کتابوں سے اسے ثابت کیا ہے اور اس وقت تک کسی پادری نے اس کا جواب نہیں دیا اگر قلم کی گھس گھس ہے اور حضرت مسیح کی موت ثابت کرنے سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹا تو مرزا قادیانی کے دعوے سے پہلے ہی دوسرے ایسے لوگوں نے توڑ دیا تھا۔ مرزا قادیانی نے کیا کیا اس کے علاوہ یہ حضرات کچھ ایسے مسلوب العقل ہو گئے ہیں۔ کہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کتاب میں انہوں نے موت ثابت کی ہے وہ پہلے لکھی ہے اور ستون توڑنے کا دعویٰ اس کے بعد ہو رہا ہے اس سے اظہر من الشمس ہے کہ ستون توڑنے سے مقصود حضرت مسیح کی موت ثابت کرنا نہیں ہے۔ اس کے سوا اس کتاب کا دندان شکن جواب دیا گیا ہے۔ پھر ایسی مردود تحریروں سے تثلیث پرستی کا ستون ٹوٹ سکتا ہے۔ مرزائیوں کو ایسی بیہودہ باتیں بناتے شرم نہیں آتی۔
١٤
مالدار انہیں مان گئے اور اس کے قائل ہو گئے مرزا قادیانی کے قرب وجوار میں اس کا شہرہ ہے۔ اخباروں میں چھپ رہا ہے مرزا قادیانی نے تو سو پچاس کو بھی مسلمان نہیں کیا۔ پھر ان کے مسیح ہونے کا کیا نتیجہ ہوا۔ اگر کسی مرزائی کو حق طلبی اور راست بازی کا دعویٰ ہے تو ان باتوں کا جواب دے۔ اور مرزا قادیانی کے بڑے بڑے دعووں کا نتیجہ دکھائے۔ مگر جب خود سلطان القلم اور انکے خلیفہ اول عاجز رہے تو اب کسی کی کیا ہستی ہے؟ بھائیو کچھ تو غور کرو ایسا عظیم الشان دعویٰ کہ وہ صحابہ رسول اللہ ﷺ جنہوں نے دنیا میں اسلام کو پھیلا دیا وہ اولیائے امت محمدیہ جن کے پر اثر وعظ نے سینکڑوں یہود ونصاریٰ کو مسلمان بنادیا جن کی وجہ سے ہزاروں مشرکین بت پرست خدا پرست ہوگئے۔ ان سب پر افضلیت کا دعویٰ ہے اور پھر اسی پر قناعت نہیں ہے بلکہ بعض وہ انبیائے عظیم ١؎ المرتبت جن کی تعریف جا بجا قرآن مجید میں آئی ہے ان سے بھی اپنے آپ کو ہر شان میں بڑھ کر بتاتے ہیں۔ یہ تو سب دعویٰ ہوئے مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ان کے دعووں کا نتیجہ بجز ان کے ذاتی فائدوں کے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا ہوا۔ جن کی وجہ سے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر اولیائے امت کے مثل انہیں خیال کریں اور افضلیت تو بڑی بات ہے بھائیو! صرف اسی میں غور کرنا کافی ہے جس سے ان کے صادق یا کاذب ہونے کا کامل فیصلہ ہو جاتا ہے۔ مگر حق پسندی اور انصاف دلی چاہئے۔ اب اگر ان کے نشانوں نے تمہیں مغالطہ میں ڈال رکھا ہے تو ذرا نظر اٹھا کر دیکھو کہ جس نشان کو مرزا قادیانی نے نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا اس کا پتہ نشان بھی نہ ملا۔ یعنی وہی منکوحہ آسمانی کی نسبت پیشین گوئی کس زور وشور سے کی تھی جس کی صداقت پر قسمیں کھائی گئیں جس کے ظہور میں آنے کا بار بار پختہ وعدہ خداوندی بیان کئے گے۔ جس کے ظہور کی برسوں امید دلائی گئی اور انجام کار اس سے مایوس ہو کر کیسی بیہودہ باتیں بنائی ہیں۔ اسی طرح اس کے شوہر کے مرنے کی پیشین گوئی مرتے دم تک کرتے رہے اور اپنے سامنے اس کے مرجانے کو اپنی صداقت کا معیار بتاتے رہے خدائے تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے انہیں کی زبان سے اس کا فیصلہ کر دیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مستحکم اقرار کو بموجب
١؎..........یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں ان سے ہر شان میں بڑھ کر ہوں۔ چنانچہ ان کا مصرعہ ہے ؎ عیسے کجاست تا بہ نہد پا بہ منبرم (ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
١٥
کاذب ثابت ہوئے۔ اگر اس کی تفصیل دیکھنے کا شوق ہے تو رسالہ فیصلہ آسمانی ملاحظہ کیجئے اس کے تیسرے حصے میں اس کی ایسی کافی تفصیل کی گئی ہے کہ اس کے دیکھنے کے بعد کسی فہمیدہ کو اس پیشین گوئی کے جھوٹے ہونے میں ذرا بھی تردد نہیں رہ سکتا۔ الغرض اس نہایت ہی عظیم الشان نشان کا تو خاتمہ ہو گیا اور نصوص قطعیہ کی رو سے مرزا قادیانی کاذب ٹھہرے اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی کے تیسرے حصے میں دیکھئے۔
١۔.......... اس کے جواب میں آیت يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ (رعد:٣٩) اور يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (مومن:٢٨) پیش کی جاتی ہے۔ پہلی آیت سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا۔ مگر اسے محو و اثبات کا اختیار ہے اس وعدے کو اس نے مٹا دیا پورا نہ کیا دوسری آیت سے ثابت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سارے وعدے پورے نہیں کرتا بعض پورے کرتا ہے۔ مگر سخت افسوس ہے کہ ان کی عقلوں پر کیسے پردے پڑے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ اگر ان آیتوں کا یہی مطلب ہو تو خدائے تعالیٰ پر کیسا سخت الزام آئے گا۔ اور تمام وعدے خداوندی جزا اور سزا کے بیکار ہو جائیں گے کوئی لائق اطمینان نہ رہے گا۔ انبیاء کی بعثت بیکار ہو جائے گی۔ اور اس خدائے قدوس کے ہر کلام پر جھوٹ کا احتمال ہوگا۔ اور مخالفین اسلام کو کس قدر مضحکہ کا موقع ملے گا اس کے علاوہ ایک سچے اور مشہور جملے پر بھی نظر نہیں کرتے عام طور پر کہا جاتا ہے الکریم اذا وَعَدَ وَفَا یعنی کریم جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے سب سے بڑھ کر تو کریم اسی وحدہ لاشریک کی ذات ہے جب وہی وعدہ پورا نہ کرے تو اور کون اس سے زیادہ سچا اور وعدے کا پورا کرنے والا ہو سکتا ہے۔ اس جماعت نے قرآن مقدس کی ان آیتوں پر بھی غور سے نظر نہ کی جہاں خدائے قدوس کے وعدے کو تاکید کے ساتھ سچا کہا گیا ہے اور ارشاد ہوا ہے۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَق ۔ یہ ارشاد قرآن مجید میں بہت جگہ ہے اس آیت نے عام طور سے اللہ تعالیٰ کے وعدے کا سچا ہونا بیان کیا ہے اس سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ اس کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں اس کے سوا ایسی آیتیں بھی قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں نہایت صفائی اور تاکید سے کہا گیا ہے کہ خدائے تعالیٰ وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرتا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (رعد:٣١) خدائے تعالیٰ کا قول بدل نہیں سکتا۔ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ (ق: ٢٩) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کیسے بدیہی امور عقلی ونقلی مرزائیوں کے جواب کو غلط بتارہے ہیں۔ مگر پھر بھی متنبہ نہیں ہوتے اس تیرہ درونی کا کیا ٹھکانہ ہے؟
١٦
اس نشان کے جھوٹا ہونے سے کسی فہمیدہ مسلمان کو مرزا قادیانی کے کسی نشان کی طرف توجہ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اس کے بیان میں ان کے بہت جھوٹ ثابت ہوئے ہیں اور دعویٰ نبوت کے جھوٹا ہونے کے لئے تو اس مدعی کا ایک جھوٹ کافی ہے اور یہاں تو انکے جھوٹوں کے علاوہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ نے انہیں کاذب بتا دیا پھر مسلمان کو اس کے ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ مگر زیادہ توضیح کے لئے ان کے ایک اور نشان کو بھی ملاحظہ کیجئے جسے مرزا قادیانی نے اپنے لئے بڑے فخر سے آسمانی شہادت ٹھہرایا ہے اور اس کے اشتہار و اعلان میں بے حد کوشش کی ہے۔ اور اس کے بیان میں دفتر سیاہ کئے ہیں اور متعدد رسالوں میں بڑے زور سے اپنی صداقت میں اسے پیش کیا ہے وہ شہادت یہ ہے کہ ١٣١٢ھ کے رمضان المبارک میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہوا۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ رمضان میں ان دونوں گرہنوں کا اجتماع امام مہدی کی علامت ہے۔ یعنی جب ایسا گرہن پایا جائے تو جان لو کہ امام مہدی کا ظہور ہوا۔ ان دنوں قادیانی جماعت میں اس کا تذکرہ بہت سنا جاتا ہے اور مرزا قادیانی کی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں اس کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے جس سے طالبین حق پر روشن ہو جائے گا۔ کہ ١٣١٢ھ کا گرہن امام مہدی کی علامت ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی نے غلط فہمی سے ایسا دعویٰ کیا یا ناواقفوں کو دھوکا دینا چاہا۔ اس کے وجوہ مجملاً پہلے ملاحظہ کرنے چاہئیں۔
پہلی وجہ اس دعوٰی کی بنیاد مرزا قادیانی نے جس حدیث پر رکھی ہے وہ حدیث اس لائق ہرگز نہیں ہے کہ اس سے یہ عقیدہ ثابت کیا جائے کہ مہدی موعود کے وقت میں ایسے گرہنوں کا ہونا ضرور ہے اور وہ گرہن امام مہدی کی علامت ہیں۔ الغرض جب اس حدیث کے بے اصل ہونے پر نظر کی جاتی ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعوٰی ایسا ہی نظر آتا ہے۔ جیسا پانی پر حباب یعنی بلبلا۔
دوسری وجہ حدیث کے جو معنے اور مطلب مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ محض غلط ہیں کوئی ذی علم اور مخصوص عربی علم اور زبان عرب سے واقفیت رکھنے والا وہ معنی ہرگز نہیں کرے گا جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے معنے کو بالیقین غلط بتائے گا۔ ہاں جو اپنے علم اور عقل کو مرزا قادیانی پر نثار کر کے معرا رہ گیا ہو اس کا ذکر نہیں ہے۔
تیسری وجہ ١٣١٢ھ کا گرہن ایک معمولی گرہن تھا جو اپنے وقت پر ہوا بعینہ اسی
١٧
طرح کے گرہن پہلے بھی بہت ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہونگے۔ جیسا عنقریب ظاہر ہو جائے گا۔ پھر ایک معمولی بات کو عظیم الشان امر کا نشان قرار دینا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے اور پھر ایسی بے عقلی کی بات کو حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرنا کسی صاحب عقل مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔
چوتھی وجہ مذکورہ گرہن کو حدیث کا مصداق قرار دینا بالکل غلط ہے حدیث کے چار جملے اسی غلطی کو نہایت صفائی سے ظاہر کرتے ہیں جس کی تشریح ناظرین آئندہ ملاحظہ کریں گے۔
پانچویں وجہ مرزا قادیانی نے اس گرہن کے نشان بنانے کے لئے دعوے کی قید لگائی ہے اور یہ کہا ہے کہ رمضان کی ان تاریخوں میں دونوں گرہنوں کا اجتماع کسی مدعی رسالت و نبوت کے وقت میں نہیں ہوا۔
(ملخص حقیقت الوحی ص ١٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢)
بلکہ اسی مہدی کے دعوے کے وقت میں ایسا ہو گا مگر یہ دعوٰی بھی کئی طریقے سے غلط ہے اول گرہنوں کا اجتماع کے لئے یہ قید لگانا کہ کسی مدعی رسالت ومہدویت کے وقت میں نہیں ہوا ہوگا۔ محض ایجاد بندہ ہے حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جو اس کی طرف اشارہ بھی کرتا ہو۔ بلکہ حدیث میں نہایت صفائی سے صرف ان دونوں گرہنوں کو بے نظیر کہا ہے کہ جب سے دنیا ہوئی ہے ایسے گرہن کبھی نہ ہوئے ہوں گے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خلاف روایت محض مرزا قادیانی کے اضافہ کو مان لیا جائے۔ اگر کسی ذی علم قادیانی کو دعوٰی ہو تو اس قید کا ثبوت پیش کرے اور امام مہدی کی علامتیں جو مکتوبات امام ربانی اور فتوحات مکیہ وغیرہ میں لکھی ہیں انہیں پیش نظر رکھے۔ دوم یہ کہ کوئی معمولی بات اتفاقاً کسی کے دعوے کے وقت میں ہونے سے کسی عظیم الشان امر کا نشان نہیں
ا۔ ان دونوں کتابوں کا حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ بعض ذی علم قادیانی انہیں نہایت معتبر سمجھتے ہیں اور اپنے مدعا کے ثبوت میں ان کا حوالہ دیتے ہیں۔ (القاء ربانی دیکھی جائے) ورنہ کوئی ضرورت نہ تھی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوٰی نبوت یا رسالت کی قید لگانا۔ قرآن مجید کے نص قطعیہ اور صحیح حدیثوں کے خلاف ہے کیونکہ قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا پھر کوئی سچا مہدی مدعی نبوت کیونکر ہو سکتا ہے۔
١٨
وجہ سوم یہ کہ اس سے قبل بھی بعض مدعیان نبوت و مہدویت کے وقت میں اس قسم کے گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے۔ آئندہ اس کا ثبوت بیان ہوگا۔ اور بالفرض اگر اس کا ثبوت نہ ہو تو بھی مرزا قادیانی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا۔ ان کے دعوے کی غلطی دوسری دلیلوں سے ثابت کر دی گئی ہے۔
اب ان پانچوں وجہوں کی تفصیل نہایت غور اور تامل سے ملاحظہ کی جائے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ رمضان شریف کی ١٣۔ ٢٨ کو گرہنوں کا اجتماع معمولی بات ہے جس طرح کے گرہن مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد ہوئے اسی طرح ان کے دعوے کے قبل بھی ہوئے ہیں جس طرح چاند گرہن کے لئے عادۃ اللہ یہ ہے کہ تاریخ ١٣۔ ١٤۔ ١٥ کو ہو اور سورج گرہن ٢٧۔ ٢٨۔ ٢٩ کو ہو۔ اسی طرح یہ بھی عادۃ اللہ ہے کہ دورہ مقررہ اور اوقات معینہ کے بعد دونوں کا اجتماع ایک ماہ میں ہو۔ اب وہ مہینہ رمضان شریف کا ہو یا دوسرا مہینہ ہو۔ اگر علم کے ساتھ طلب تحقیق اور دل میں حق پسندی ہے تو علم ہیئت و نجوم کی کتابوں کو دیکھئے۔ اگر آپ بہ نظر تحقیق دیکھیں گے تو بالیقین میرے بیان کی تصدیق کریں گے۔
ناظرین! یہ امر ظاہر ہے کہ جس طرح علم رمل اور نجوم وغیرہ سے گذشتہ اور آئندہ کی خبریں معلوم ہوتی ہیں اور بہت رمال و نجومی وہ خبریں شائع کیا کرتے ہیں اسی طرح علم ہیئت اور نجوم کے ماہر گذشتہ اور آئندہ کے گرہنوں کو بیان کرتے ہیں۔ اور اپنی کتابوں میں لکھا کرتے ہیں اس وقت میرے پاس اس فن کی دو کتابیں موجود ہیں مسٹر کیتھ کی کتاب یوز آف دی گلوبس اور حدائق النجوم ؎١ پہلی کتاب انگریزی میں ہے اور دوسری فارسی میں ان دونوں کتابوں میں لکھے
١............ یہ مبسوط کتاب فارسی زبان میں ہیئت فیثاغرسی کے بیان میں ١٥٨ صفحوں پر ١٢٥٦ھ میں مطبع محمدی لکھنؤ میں چھپی ہے اس وقت نہایت کم یاب ہے جو فہرست گرہنوں کی نقل کی گئی ہے وہ ص ١٢ سے ص ١٢٧ تک ہے اور مسٹر کیتھ کی کتاب کا جو نسخہ میرے پاس ہے وہ لندن میں ١٨٦٩ء میں چھپا ہے اس کے ص ٢٧٣ سے ٢٧٦ تک یہ فہرست ہے یہ کتاب بھی ان دنوں کم یاب ہے۔
١٩
کے وقت آئندہ گرہنوں کی فہرست دی ہے مسٹر کیتھ نے پورے سو برس کی فہرست دی ہے یعنی ١٨٠١ء سے ١٩٠٠ء تک کی۔ مسٹر کیتھ کی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ سو برس کے عرصہ میں پانچ مرتبہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا اور حدائق النجوم کی فہرست میں تریسٹھ برس کے اندر تین گرہنوں کا اجتماع رمضان شریف میں لکھا ہے۔ چونکہ یہ تین ١؎ اجتماع ایسے ہیں کہ دونوں کتابوں کے مؤلف اس پر متفق ہیں اور ان تین گرہنوں کے دیکھنے والے بھی اس وقت تک موجود ہیں اور ان گرہنوں کا ظہور بھی بالاتفاق ١٣۔ رمضان شریف اور ٢٨ کو ہوا ہے۔ اس لئے میں صرف پینتالیس برس کے گرہنوں کی فہرست ان دونوں کتابوں سے نقل کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس قلیل مدت میں تین مرتبہ ایسے گرہنوں کا اجتماع رمضان میں ہوا پھر دنیا کی ابتداء سے اس کثیر مدت میں کس قدر ہوا ہوگا۔ اسے خیال کرو۔
١۔ ............ یہ تقریر مرزا قادیانی کے خیال کے بموجب کی گئی ہے مگر ہر ایک ذی علم سمجھتا ہے کہ اگر اس اجتماع کو نشان قرار دیا جائے گا تو صرف ایک نشان ثابت ہوگا اور حدیث میں نہایت صاف طور سے دو نشانوں کی پیشین گوئی کی ہے اور ہر ایک نشان کو بے نظیر کہا ہے اس لئے اگر ١٣ تاریخ اور ٢٨ رمضان کو گرہن ہونا نشان ہے تو حدیث کے بموجب ہر ایک گرہن کو نشان ہونا چاہئے اور ہر ایک کو بے نظیر ہونا چاہئے مگر مذکورہ فہرست سے ظاہر ہے کہ نوے برس کے عرصہ میں چاند گرہن رمضان کے ١٣ تاریخ کو پانچ مرتبہ ہوا یعنی ١٢٦٣ھ اور ١٢٧٧ھ اور ١٢٩١ھ اور ١٣١٠ھ اور ١٣١٢ھ ہے اور سورج گرہن ٢٨ رمضان کو ٤٦ برس میں چھ مرتبہ ہوا اور دونوں کا اجتماع ان تاریخوں میں تین مرتبہ ہوا۔ پھر کیا ایسے ہی گرہن نشان و معجزہ ہو سکتے ہیں۔ ذرا ہوش کر کے جواب دو۔
گہنوں کی فہرست ملاحظہ ہو
نمبر شمار چاند گہن ہے یا سورج گہن کلی ہے یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی مہینہ عربی مہینہ مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات ١ چاند جزئی ١٨٥١ ١٢٦٧ جنوری ١٧ ربیع الاول ١٣ دوپہر کے بعد ٢ چاند جزئی " " جولائی ١٣ رمضان ١٣ آدھی رات کے بعد ٣ سورج " " جولائی ٢٨ رمضان ٢٨ دوپہر کے بعد رمضان شریف میں گہنوں کا پہلا اجتماع ٤ چاند کلی ١٨٥٢ ١٢٦٨ جنوری ٧ ربیع الثانی ١٤ آدھی رات کے بعد ٥ چاند کلی " " جولائی ١ رمضان ١٦ دوپہر کے بعد ٦ سورج " ١٢٦٩ دسمبر ١١ صفر ٢٨ آدھی رات کے بعد ٧ چاند جزئی " " دسمبر ٢٦ ربیع الثانی ١٤ دوپہر کے بعد ٨ چاند جزئی ١٨٥٣ " جون ٢١ رمضان ١٣ آدھی رات کے بعد ٩ چاند " ١٨٥٤ ١٢٧٠ مئی ١٢ شعبان ١٤ دوپہر کے بعد ١٠ چاند " " ١٢٧١ نومبر ٤ صفر ١٣ دوپہر کے بعد ١١ چاند کلی ١٨٥٥ " مئی ٢ شعبان ١٤ آدھی رات کے بعد ١٢ سورج " " " ١٦ " ٢٨ " ١٣ چاند کلی " ١٢٧٢ اکتوبر ٢٥ صفر ١٤ " ١٤ چاند جزئی ١٨٥٦ ١٢٧٢ اپریل ٢٠ شعبان ١٤ آدھی رات کے بعد ١٥ سورج " ١٢٧٣ ستمبر ٢٩ محرم ٢٨ " ١٦ چاند جزئی ١٨٥٦ " اکتوبر ١٣ صفر ١٤ دوپہر کے بعد
٢١
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزوی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ
١٧ سورج ١٨٥٧ ١٢٧٤ ستمبر ١٨ محرم ٢٨ دوپہر یا آدھی رات کے بعد ١٨ چاند جزئی ١٨٥٨ " فروری ٢٧ رجب ١٤ دوپہر کے بعد ١٩ سورج " " مارچ ١٥ رجب ٢٨ " ٢٠ چاند جزئی " ١٢٧٥ اگست ٢٣ محرم ١٤ " ٢١ چاند کلی ١٨٥٩ " فروری ١٧ رجب ١٣ آدھی رات کے بعد ٢٢ سورج " " جولائی ٢٩ ذی الحجہ ٢٨ دوپہر کے بعد ٢٣ چاند کلی " ١٢٧٦ اگست ١٣ محرم ١٣ " ٢٤ چاند جزئی ١٨٦٠ " فروری ٧ رجب ١٤ آدھی رات کے بعد ٢٥ سورج " " جولائی ١٨ ذی الحجہ ٢٨ دوپہر کے بعد ٢٦ چاند جزئی " ١٢٧٧ اگست ١ محرم ١٣ " ٢٧ سورج ١٨٦١ ١٢٧٧ جنوری ١١ جمادی الثانی ٢٠ آدھی رات کے بعد ٢٨ سورج " " جولائی ٨ ذی الحجہ ٢٩ " ٢٩ چاند جزئی " ١٢٧٨ دسمبر ١٧ جمادی الثانی ١٤ " ٣٠ سورج " " دسمبر ٣١ جمادی الثانی ٢٨ دوپہر کے بعد ٣١ چاند کلی ١٨٦٢ " جون ١٢ ذی الحجہ ١٣ آدھی رات کے بعد ٣٢ چاند کلی " ١٢٧٩ دسمبر ٦ جمادی الثانی ١٣ "
٢٢
گہنوں کی فہرست
زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر یا آدھی رات کے بعد ٣٣ سورج ١٨٦٢ ١٢٧٩ دسمبر ٢١ جمادی الثانی ٢٨ آدھی رات کے بعد ٣٤ سورج ١٨٦٣ " مئی ١٧ ذیقعدہ ٢٧ دوپہر کے بعد ٣٥ چاند کلی " " جون ٢ ذی الحجہ ١٤ آدھی رات کے بعد ٣٦ چاند جزئی " ١٢٨٠ نومبر ٢٥ جمادی الثانی ١٤ " ٣٧ سورج ١٨٦٤ " مئی ٦ ذیقعدہ ٢٩ " ٣٨ چاند جزئی ١٨٦٥ ١٢٨١ اپریل ١١ ذیقعدہ ١٤ " ٣٩ چاند جزئی " ١٢٨٢ اکتوبر ٤ جمادی الاولی ١٤ دوپہر کے بعد ٤٠ سورج ١٨٦٥ ١٢٨٢ اکتوبر ١٩ جمادی الاولی ٢٨ دوپہر کے بعد ٤١ سورج ١٨٦٦ " مارچ ١٦ شوال ٢٨ " ٤٢ چاند کلی " " مارچ ٣١ ذیقعدہ ١٤ آدھی رات کے بعد ٤٣ چاند کلی " ١٢٨٣ ستمبر ٢٤ جمادی الاولی ١٤ دوپہر کے بعد ٤٤ سورج ١٨٦٧ " مارچ ٦ شوال ٢٨ آدھی رات کے بعد ٤٥ چاند جزئی " " مارچ ٢٠ ذیقعدہ ١٤ " ٤٦ چاند جزئی " ١٢٨٤ ستمبر ١٤ جمادی الاولی ١٥ " ٤٧ سورج ١٨٦٨ " اگست ١٨ ربیع الثانی ٢٨ " ٤٨ چاند جزئی ١٨٦٩ " جنوری ٢٨ شوال ١٤ "
٢٣
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند گرہن یا سورج گرہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد ٤٩ چاند جزئی ١٨٦٩ ١٢٨٦ جولائی ٢٣ ربیع الثانی ١٤ دوپہر کے بعد ٥٠ سورج " " " اگست ٧ ربیع الثانی ٢٨ " ٥١ چاند کلی ١٨٧٠ " جنوری ١٧ شوال ١٤ " ٥٢ چاند کلی " ١٢٨٧ جولائی ١٢ ربیع الثانی ١٤ " ٥٣ سورج " ١٨٧٠ ١٢٨٧ دسمبر ٢٢ رمضان ٢٨ دوپہر کے بعد ٥٤ چاند جزئی ١٨٧١ " جنوری ٦ شوال ١٤ " ٥٥ سورج " " ١٢٨٨ جون ١٨ ربیع الاول ٢٨ آدھی رات کے بعد ٥٦ چاند جزئی " " جولائی ٢ ربیع الثانی ١٤ دوپہر دن کے بعد ٥٧ سورج " " " دسمبر ١٢ رمضان ٢٨ آدھی رات کے بعد ٥٨ چاند جزئی ١٨٧٢ ١٢٨٩ مئی ٢٢ ربیع الاول ١٤ دوپہر کے بعد ٥٩ سورج " " " جون ٦ ربیع الاول ٢٨ آدھی رات کے بعد ٦٠ چاند " " " نومبر ١٥ شعبان ١٤ " ٦١ چاند کلی ١٨٧٣ ١٢٩٠ مئی ١٢ ربیع الاول ١٤ " ٦٢ سورج " " " مئی ٢٦ ربیع الاول ٢٨ " ٦٣ چاند کلی " " نومبر ٤ رمضان ١٤ دوپہر دن کے بعد ٦٤ چاند جزئی ١٨٧٤ ١٢٩١ مئی ١ ربیع الاول ١٤ "
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی ہے یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد ٦٥ سورج ١٨٧٤ء ١٢٩١ اکتوبر ١٠ شعبان ٢٨ آدھی رات کے بعد ٦٦ چاند جزئی ١٨٧٤ء ١٢٩١ اکتوبر ٢٥ رمضان ١٣ آدھی رات کے بعد ٦٧ سورج ١٨٧٥ء ١٢٩٢ اپریل ٦ صفر ٢٨ 〃 ٦٨ سورج 〃 〃 ستمبر ٢٩ شعبان ٢٨ دوپہر دن کے بعد ٦٩ چاند جزئی ١٨٧٦ء ١٢٩٣ مارچ ١٠ صفر ١٣ آدھی رات کے بعد ٧٠ چاند جزئی 〃 〃 ستمبر ٣ شعبان ١٤ دوپہر دن کے بعد ٧١ چاند کلی ١٨٧٧ء ١٢٩٤ فروری ٢٧ صفر ١٣ 〃 ٧٢ سورج 〃 〃 مارچ ١٥ صفر ٢٩ آدھی رات کے بعد ٧٣ سورج 〃 〃 اگست ٩ رجب ٢٨ 〃 ٧٤ چاند کلی 〃 〃 اگست ٢٣ شعبان ١٣ دوپہر دن کے بعد ٧٥ چاند کلی ١٨٧٨ء ١٢٩٥ فروری ١٧ صفر ١٤ آدھی رات کے بعد ٧٦ سورج 〃 〃 جولائی ٢٩ رجب ٢٨ دوپہر کے بعد ٧٧ چاند جزئی 〃 〃 اگست ١٣ شعبان ١٣ آدھی رات کے بعد ٧٨ سورج ١٨٧٩ء ١٢٩٦ جنوری ٢٢ محرم ٢٨ دوپہر کے بعد ٧٩ سورج ١٨٧٩ء ١٢٩٦ جولائی ١٩ رجب ٢٨ آدھی رات کے بعد ٨٠ چاند جزئی 〃 ١٢٩٧ دسمبر ٢٨ محرم ١٤ دوپہر کے بعد
٢٥
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ وسط چاند گہن یا سورج گہن دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ
٨١ سورج ١٨٨٠ ١٢٩٧ جنوری ١١ محرم ١٤ دوپہر کے بعد ٨٢ چاند کلی 〃 〃 جون ٢٢ رجب ١٤ 〃 ٨٣ چاند کلی 〃 ١٢٩٨ دسمبر ١٦ محرم ١٤ 〃 ٨٤ سورج 〃 〃 دسمبر ٣١ محرم ٢٨ 〃 ٨٥ سورج ١٨٨١ 〃 مئی ٢٨ جمادی الثانی ٢٩ آدھی رات کے بعد ٨٦ چاند کلی 〃 〃 جون ١٢ شعبان ١٤ 〃 ٨٧ چاند جزئی 〃 ١٢٩٩ دسمبر ٥ محرم ١٤ دوپہر کے بعد ٨٨ سورج ١٨٨٢ 〃 مئی ١٧ جمادی الثانی ٢٨ آدھی رات کے بعد ٨٩ سورج 〃 〃 نومبر ١١ ذی الحجہ ٢٩ 〃 ٩٠ چاند ١٨٨٣ ١٣٠٠ اپریل ٢٢ جمادی الثانی ١٤ دوپہر کے بعد ٩١ چاند جزئی 〃 〃 اکتوبر ١٦ ذی الحجہ ١٤ آدھی رات کے بعد ٩٢ سورج ١٨٨٣ ١٣٠٠ اکتوبر ٣١ ذی الحجہ ٢٩ آدھی رات کے بعد ٩٣ سورج ١٨٨٤ ١٣٠١ مارچ ٢٧ جمادی الاول ٢٨ 〃 ٩٤ چاند کلی 〃 〃 اپریل ١٠ جمادی الثانی ١٤ دوپہر کے بعد ٩٥ چاند کلی 〃 〃 اکتوبر ٤ ذی الحجہ ١٤ 〃 ٩٦ سورج 〃 〃 اکتوبر ١٩ ذی الحجہ ٢٩ آدھی رات کے بعد
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند گہن یا سورج گہن کلی ہے یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر یا آدھی رات کے بعد ٩٧ چاند جزئی ١٨٨٥ ١٣٠٢ مارچ ٣٠ جمادی الثانی ١٤ دوپہر کے بعد ٩٨ چاند جزئی 〃 〃 ستمبر ٢٤ ذی الحجہ ١٤ آدھی رات کے بعد ٩٩ سورج ١٨٨٦ ١٣٠٣ اگست ٢٩ ذیقعدہ ٨ دوپہر کے بعد ١٠٠ چاند جزئی ١٨٨٧ ١٣٠٤ فروری ٨ جمادی الثانی ١٤ آدھی رات کے بعد ١٠١ چاند جزئی 〃 〃 اگست ٣ ذیقعدہ ١٤ دوپہر کے بعد ١٠٢ سورج 〃 〃 اگست ١٩ ذیقعدہ ٢٨ آدھی رات کے بعد ١٠٣ چاند کلی ١٨٨٨ ١٣٠٥ جنوری ٢٨ جمادی الاولیٰ ١٤ دوپہر کے بعد ١٠٤ چاند کلی 〃 〃 جولائی ٢٣ ذیقعدہ ١٤ آدھی رات کے بعد ١٠٥ چاند جزئی ١٨٨٩ ١٣٠٦ جنوری ١٧ جمادی الاولیٰ ١٤ آدھی رات کے بعد ١٠٦ چاند جزئی 〃 〃 جولائی ١٢ ذیقعدہ ١٤ دوپہر کے بعد ١٠٧ سورج 〃 ١٣٠٧ دسمبر ٢٢ ربیع الثانی ٢٨ 〃 ١٠٨ چاند جزئی ١٨٩٠ 〃 جون ٣ شوال ١٤ آدھی رات کے بعد ١٠٩ سورج 〃 〃 جون ١٧ شوال ٢٨ 〃 ١١٠ چاند جزئی 〃 ١٣٠٨ نومبر ٢٦ جمادی الاولیٰ ١٣ دوپہر کے بعد ١١١ چاند کلی ١٨٩١ 〃 مئی ٢٣ شوال ١٤ 〃 ١١٢ سورج 〃 〃 جون ٦ شوال ٢٨
٢٧
گہنوں کی فہرست
نمبر شمار چاند یا سورج گہن کلی یا جزئی سنہ عیسوی سنہ ہجری زمانہ اوسط چاند گہن یا سورج گہن انگریزی عربی مہینہ تاریخ مہینہ تاریخ دوپہر دن یا آدھی رات کے بعد ١١٣ چاند کلی ١٨٩١ ١٣٠٩ نومبر ١٦ ربیع الثانی ١٣ آدھی رات کے بعد ١١٤ چاند جزئی ١٨٩٢ " مئی ١١ شوال ١٤ دوپہر کے بعد ١١٥ چاند کلی " ١٣١٠ نومبر ٤ ربیع الثانی ١٣ " ١١٦ سورج ١٨٩٣ " اپریل ١٦ رمضان ٢٨ "
رمضان شریف میں گہنوں کا دوہرا اجتماع ١١٧ چاند جزئی ١٨٩٤ ١٣١١ مارچ ٢١ رمضان ١٤ دوپہر کے بعد ١١٨ سورج " " اپریل ٦ رمضان ٢٨ آدھی رات کے بعد ١١٩ چاند جزئی ١٨٩٤ ١٣١٢ ستمبر ١٥ ربیع الاول ١٤ آدھی رات کے بعد ١٢٠ سورج " " ستمبر ٢٩ ربیع الاول ٢٨ "
رمضان شریف میں گہنوں کا دوہرا اجتماع ١٢١ چاند کلی ١٨٩٥ " مارچ ١١ رمضان ١٣ آدھی رات کے بعد ١٢٢ سورج " " مارچ ٢٦ رمضان ٢٨ " ١٢٣ سورج " ١٣١٣ اگست ٢٠ صفر ٢٨ دوپہر کے بعد ١٢٤ چاند کلی " " ستمبر ٤ ربیع الاول ١٤ آدھی رات کے بعد
٢٨
یہ پینتالیس ٤٥ برس کے گرہنوں کی فہرست ہے جو حدائق النجوم فارسی اور مسٹر کیتھ کی انگریزی کتاب یوز آف دی گلوبس سے نقل کی گئی ہے۔ صرف سن ہجری کی مطابقت زیادہ کر دی گئی ہے اس فہرست میں دو باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔
پہلی بات یہ ہے کہ اس فہرست سے معلوم ہوا کہ ماہر علم ہیئت اور نجوم نے خاص گرہن کے متعلق ایک سو چوبیس ١٢٤ پیشین گوئیاں کیں اس طرح پر کہ ان کے ہونے کی تاریخ اور وقت بیان کر دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ گہن پورا ہوگا یا پورا نہ ہوگا اور اسی کے مطابق ظہور میں آیا۔ کیونکہ یہ کتابیں مدتوں سے چھپی ہوئی مشہور ہیں مگر کسی نے غلطی کا الزام نہیں دیا۔ جو گرہن اس وقت کے لوگوں کے سامنے ہوئے وہ اعلانیہ اس پیشین گوئی کے مطابق پائے گئے۔ اسی پر ماہرین علم رمل اور جفر کو قیاس کرنا چاہئے کہ وہ گذشتہ اور آئندہ ہر ایک بات کی خبر دیتے ہیں اسی طرح علم کہانت ہے پیشتر عرب میں کاہن ہوتے تھے اور آئندہ کی خبریں دیا کرتے تھے۔ میں نے رسالہ دلائل حقانی کی تیسری دلیل میں ایک بغدادی کاہنہ کا ذکر کیا ہے جس کی پیشین گوئیاں کا امتحان خراسان کے بادشاہ نے کیا۔ اہل کمال علما نے تیس برس تک امتحان کیا اور اس کی سب پیشین گوئیوں کو سچا پایا۔ اسی طرح علم رمل وغیرہ کے ماہرین کی پیشین گوئیاں بھی سچی ہوتی ہیں۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ جس قدر انہیں ان علوم میں کمال اور تجربہ ہوگا۔ اس قدر ان کی پیشین گوئیاں سچی ہوں گی۔ ممکن ہے کہ کسی کو ایسا کمال اور تجربہ ہو کہ اس کی ساری پیشین گوئیاں سچی نکلیں اس کے غلط ہونے پر کوئی دلیل قرآن و حدیث میں نہیں معلوم ہوتی لے اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ پیشین گوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی
لے البتہ مرزا صاحب حمامۃ الوحی میں اپنی قرآن دانی کے زعم میں قرآن شریف سے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اور آیۃ ذیل پیش کرتے ہیں۔ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُوْلٍ یعنی اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا۔ بجز اس کے جسے اوس نے اپنی رسالت کے لئے پسند کیا ہے۔ اس آیت سے یہ مطلب ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نبی اور رسول کے سوا کوئی غیب کی خبر نہیں دے سکتا۔ اور ظاہر ہے۔ کہ پیشین گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اس لئے پیشین گوئی وہی کرے گا جو خدا کا رسول ہوگا۔ بھائیو! یہ کیسی غلط فہمی یا مدہوشی ہے کہ محض غلط بات کو قرآن شریف کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ کیا تم اس سے واقف نہیں ہو کہ نجومی اور رمال وغیرہ پیشین گوئیاں کیا کرتے ہیں۔ پھر کیا یہ سب خدا کے رسول ہیں؟ خدا سے ڈر کر اس کا جواب دو مرزا قادیانی کا بیان تو یہی کہہ رہا ہے کہ ان سب کا رسول ہونا چاہئے کیونکہ یہ لوگ پیشین گوئی کرتے ہیں اور پیشین گوئی کرنا غیب کی خبر دینا ہے اور غیب کی خبر وہی دیتا ہے جو خدا کا رسول ہے اس لئے جو پیشین گوئی کرے وہ خدا کا رسول ہے۔ اب قادیانی جماعت سے کوئی دریافت کرے کہ مرزا قادیانی کی یہی قرآن دانی ہے کہ آیت کا مطلب ایسا غلط بیان کر رہے ہیں۔ جس کی غلطی کسی پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور مخالفین اسلام کو پورے طور سے مضحکہ کا موقع ملتا ہے۔ اس آیت کے صحیح معنے میں نے فیصلہ آسمانی حصہ سوم مطبوعہ بار اول کے ص ٦٧، ٦٨ میں بیان کیے ہیں وہاں دیکھنا چاہئے۔ غرض کہ قرآن مجید سے یہ ثابت کرنا کہ پیشین گوئی رسول خدا کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔ محض غلط ہے۔
٢٩
مقدس کے لئے معیار صداقت ہو سکے کیونکہ پیشین گوئی ایسے انسان بھی کرتے ہیں جو مقدس نہیں ہیں اور ان کی پیشین گوئیاں صحیح بھی ہوتی ہیں البتہ انبیاء کرام کی پیشین گوئیاں سب سچی ہوتی ہیں ان میں غلط فہمی وغیرہ کا احتمال بھی نہیں ہو سکتا مگر چونکہ پیشین گوئی کرنا اور اس کا سچا ہو جانا مشترک امر ہے اس لئے اسے صداقت کا معیار نہیں کہہ سکتے۔ البتہ انبیاء کرام کی نبوت ورسالت چونکہ دلیلوں اور معجزے سے ثابت ہوتی ہے اس لئے اس کی پیشین گوئیاں سچی اور منجانب اللہ ہوتی ہیں اور دلائل نبوت کی مؤید اور روشن کرنے والی۔ یہی وجہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بہت پیشین گوئیاں فرمائیں اور جن کا وقت گذر چکا وہ سب پوری ہوئیں مگر آپ نے کسی وقت انہیں اپنی صداقت میں پیش نہیں فرمایا۔ اور طالبین معجزے کو کسی پیشین گوئی کا حوالہ نہیں دیا قادیانی جماعت اس پر غور کر کے دیکھے کہ وہ کیسی غلطی میں پڑی ہے اور مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کو صداقت میں پیش کیا کرتی ہے حالانکہ ان کی اکثر پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں خصوصاً وہ جنہیں انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان کہہ کر اپنے دعوے کی صداقت میں پیش کیا تھا ان میں سے دو طور سے مرزا قادیانی کی ناراستی ثابت ہوئی۔
- ١.........اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حدیبیہ والی پیشین گوئی وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی محض غلط ہے اس کی
تفصیل میں میں نے ایک خاص مضمون لکھا ہے یہ جھوٹا الزام جماعت مرزائیہ کی زبان پر خوب مشق ہے۔ جہلا کو بھی سکھلا دیا گیا ہے۔ جب کسی نے مرزا قادیانی کی غلط پیشین گوئیاں پیش کیں تو یہی جواب دیتے ہیں کہ رسول اللہ کی بھی بعض پیشین گوئیاں غلط ہوئی تھیں۔ (استغفر اللہ) مرزا قادیانی نے تو اپنے بچاؤ کے خیال سے لفظ وقت ”انداز کردہ“ زیادہ کیا تھا مگر عوام اس کو کیا سمجھ سکتے ہیں انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ کی بعض پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں اسی طرح مرزا قادیانی کی بھی نہیں ہوئیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے حالانکہ یہ خیال محض غلط ہے۔ میں نے فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم میں کتب سابقہ اور قرآن مجید سے ثابت کر دیا ہے کہ سچے رسول کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی نہیں ہو سکتی جس کی ایک پیشین گوئی بھی جھوٹی ہو جائے وہ قطعاً جھوٹا ہے۔
٣٠
اول مرزا قادیانی شہادۃ القرآن (ص ٩ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) میں لکھتے ہیں کہ پیشین گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں............. جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ اللہ جل شانہ کے اختیار میں“ پس یہ کیسا ناراست اور محض غلط دعویٰ ہے جسے کچھ بھی علم اور دنیا کی حالت پر نظر ہے وہ رمال اور نجومیوں کی پیشین گوئیاں دیکھتا ہے۔ اور ان کے سچے ہونے کا بھی تجربہ کرتا ہے۔ دوم مرزا قادیانی یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ہمارے صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی حوالہ (امتحان نہیں ہو سکتا)
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ٢٨٨ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
صداقت کا یہ معیار کسی نبی نے بیان نہیں فرمایا غرض کہ پیشین گوئی کو صداقت کا معیار بتانا صادقوں کا کام نہیں ہو سکتا۔ اور نہ پیشین گوئی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مختلف قسم کے انسان پیشین گوئی کرتے ہیں۔ پیشین گوئی کرنا انبیاء سے مخصوص نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس قلیل مدت یعنی چھیالیس برس میں تین مرتبہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان شریف کی ١٣ تاریخ اور ٢٨ میں ہوا۔
پہلا اجتماع گرہنوں کا
١٢٦٧ھ میں جو مطابق ہے ١٨٥١ء کے اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں ہوا اور اس کے دیکھنے والے اس وقت تک موجود ہیں ان گرہنوں کی تاریخ وہی ١٣۔ اور ٢٨۔ رمضان ہے جن تاریخوں کے گرہنوں کو مرزا قادیانی مہدی کا نشان کہتے ہیں۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر گیارہ یا بارہ برس کی ہوگی کیونکہ انہوں نے کتاب البریہ ص ١٥٩ خزائن ج ١٣ ص ١٧٧ میں اپنی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء کی بتائی ہے غرضکہ ١؎ یہ گرہن ان کے دعوے کے بہت پہلے ہے اس گرہن کا اجتماع رمضان کے ١٣۔ ٢٨ کو ایسا صحیح ہے کہ دو ماہر فن نجوم کے لکھنے کے علاوہ نہایت معتبر اہل کمال اور بعض دیگر سن رسیدہ حضرات اپنا معائنہ و مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔
- ١؎ ........... بعض نادان مرزائیوں کو دیکھا کہ وہ اس گرہن کو بھی مرزا قادیانی ہی کا نشان سمجھتے ہیں کہتے ہیں کہ ایک
نشان دعوے سے قبل ہوا اور ایک بعد ہوا مگر یہ کہنا خود مرزا قادیانی کے قول کے خلاف ہے ان کے مریدین کو چونکہ راستی سے کچھ واسطہ نہیں ہے اس لئے ناواقفوں کے روبرو جیسا موقع دیکھتے ہیں ویسی بات بنا دیتے ہیں۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) میں
٣١
دوسرا اجتماع گرہنوں کا
١٣١١ھ کے رمضان میں ہوا جو ١٨٩٤ء کے مطابق ہے اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا جس وقت مسٹر ڈوئی مدعی مسیحیت وہاں موجود تھا۔ ہندوستانی جنتریوں میں اس چاند گرہن کی تاریخ ١٢ ہے ١٣ نہیں ہے مرزا قادیانی نے ہندوستان میں رہ کر اس کی تاریخ بھی ١٣ بتائی ہے اور حقیقۃ الوحی میں اس گرہن کو بھی اپنا نشان بتایا ہے اور محض غلط حوالہ دے دیا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے وقت میں ایسے گرہن دو مرتبہ ہوں گے حالانکہ کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں ہے۔ اس صریح جھوٹ کے علاوہ اس گرہن کا وجود ہندوستان میں نہیں ہوا جہاں مرزا قادیانی کا وجود ہے بلکہ اس ملک میں ہوا جہاں ان کی طرح ایک دوسرا مدعی رسالت موجود ہے۔ ان کی عقل پر افسوس ہے کہ جو چیز ایک جھوٹے مدعی کے ملک میں اس کے دعوے کے وقت میں پائی جائے اسے مدعی صادق کی علامت کہتے ہیں؟
(گزشتہ سے پیوستہ) مرزا قادیانی نے حدیث کا ترجمہ لکھا ہے اس میں وہ صاف لکھتے ہیں کہ وہ دونوں نشان مہدی کے وقت میں ہوں گے ١٢٦٨ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے ادعا کے وقت میں نہیں ہے بلکہ اس وقت میں ہے کہ اس دعوے کا انہیں خیال بھی نہ ہوگا۔ پھر (ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٢٢) میں لکھتے ہیں۔ کہ نشانوں کو ظاہر کرنے کے لئے سنت اللہ یہی ہے کہ وہ سچے مدعی کے دعویٰ کی تصدیق کے لئے ہوتے ہیں۔ بلکہ ایسے وقت میں ہوتے ہیں۔ جب اس مدعی کی تکذیب سرگرمی سے کی جائے اس کے بعد لکھتے ہیں اس تحقیقات سے ثابت ہے کہ نشان کے لئے ضرور ہے کہ تکذیب کے بعد ظاہر ہو‘ اس آخر کے قول نے نہایت ہی وضاحت سے ثابت کر دیا کہ ١٢٦٨ھ کا گرہن مرزا قادیانی کے لئے نشان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ ان کے دعوے اور اس کی تکذیب سے بہت پہلے ہے البتہ مرزا قادیانی کے خیال کے موافق اگر اسے علامت کہا جائے تو علی محمد بابی کے لئے ہوگا کیونکہ اس کے دعویٰ نبوت و مہدویت اور اس کی تکذیب کے بعد یہ گرہن ہوا ہے جس وقت اس کا خلیفہ اس کے دعوے کو روشن کر رہا تھا یہ فرقہ اب تک موجود ہے۔ چنانچہ لندن ۔ فرانس ۔ امریکہ ۔ کلکتہ اور بمبئی اور رنگون میں بھی اس کے پیرو ہیں۔ اور اب چھپرے میں آگئے ہیں اور ان کا سرگروہ عبدالبہا ہے لندن کے معززین اس کے مرید ہو گئے ہیں۔ اس فرقہ کو بہائیہ کہتے ہیں اور بابی بھی کہتے ہیں۔
٣٢
تیسرا اجتماع گرہنوں کا
١٣١٢ھ کے رمضان شریف کی ١٣۔ ٢٨ مطابق ٢٦ مارچ کو ہوا یہی گرہن ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنے لئے آسمانی شہادت ٹھہرایا ہے۔ اور دارقطنی کی روایت کا مصداق قرار دیا ہے۔ مگر یہاں غور کرنا چاہئے کہ چھیالیس برس کے گرہنوں میں یہ تیسری مرتبہ رمضان کی ١٣۔ ٢٨ تاریخ کو دونوں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے پھر یہ گرہن اس حدیث کا مصداق کس طرح ہوسکتا ہے۔ جس کی نسبت حدیث میں نہایت صاف طور سے یہ ارشاد ہے۔ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ. (سنن الدارقطنی ج٢ ص ٦٥) یہ جملہ حدیث کے شروع میں بھی ہے اور آخر میں بھی ہے۔ آخر میں لَمْ تَكُوْنَا کی ضمیر یقینی طور سے چاند گرہن اور سورج گرہن کی طرف پھرتی ہے کوئی دوسرا مرجع اس ضمیر کا نہیں ہوسکتا اس لئے اس جملہ کے یہی معنے ہیں کہ جب سے آسمان و زمین اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اس وقت سے لے کر اس مہدی کے وقت تک ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہ ہوا ہو گا یعنی وہ دونوں گرہن ایسے بے مثل اور بے نظیر ہوں گے کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کی نظیر نہیں مل سکتی۔ اس پر خوب نظر رہے کہ حدیث کے اس آخری جملہ میں خاص ان گرہنوں کو بے نظیر کہا ہے جن کا ذکر اس سے پہلے جملہ میں ہے اور اس سال کا گرہن تو ایسا ہے کہ جس کی ایک نظیر اس سے ایک سال پہلے یعنی ١٣١١ھ میں موجود ہے پھر وہ بے نظیر کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور جب وہ بے نظیر نہیں ہے تو دارقطنی کی حدیث کا مصداق نہیں ہوسکتا اور لطف یہ ہے کہ پہلی نظیر جس وقت اور جس ملک میں پائی گئی اس وقت اس ملک میں ایک مدعی رسالت یعنی مسٹر ڈوئی موجود ہے اگر چہ وہ جھوٹا ہے مگر جس گرہن کو مرزا قادیانی سچے رسول کی علامت بیان کرتے ہیں وہ علامت جھوٹے مدعی کے وقت اسی کے ملک میں پائی گئی۔ پھر یہ کیسے عقل پر پردے پڑے ہیں کہ وہ علامت جو نہایت صاف طور سے جھوٹے کے وقت اور اس کے ملک میں پائی جائے اسے سچے رسول کی نشانی کہا جاتا ہے افسوس! بلکہ واقعات کا معائنہ کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں گرہن یعنی ١٣١١ و ١٣١٢ھ کے جھوٹوں کی نشانی ہوئی پہلے امریکہ میں مسٹر
٣٣
ڈوئی کی علامت ہوئی اس کے ایک سال کے بعد ہندوستان میں مرزا قادیانی کی علامت کا ظہور ہوا۔ غرضیکہ دونوں جھوٹوں کے وقت میں یہ دونوں گرہن پائے گئے۔ جس سے اس طرف اشارہ ہوا کہ ان دونوں شخصوں سے ان ملکوں میں ایسی ہی تاریکی پھیل رہی ہے۔ جیسے گرہن سے تاریکی ہو جاتی ہے۔ مگر یہ گرہن صادق کی علامت اور حدیث کا مصداق کسی طرح نہیں ہو سکتا کیونکہ حدیث کا مصداق تو وہی گرہن ہو سکتا ہے جو بے نظیر ہو اور اس گرہن کی ایک نظیر ایک ہی برس پہلے موجود ہے اور دوسری نظیر پینتالیس برس پہلے گزر چکی ہے غرضکہ دو نظیریں چھیالیس برس کے عرصہ میں بالیقین موجود ہیں جن کے معائنہ اور مشاہدہ کرنے والے اس وقت تک زندہ ہیں۔ اور اگر نظر کو وسیع کر کے دیکھا جائے تو علم نجوم کے قاعدے کے رو سے ٧١ھ سے ١٣١٢ھ تک اٹھارہ مرتبہ رمضان شریف کے انہیں تاریخوں میں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کی جلد ٢٧ میں گرہن کی حالت بیان کر کے ٧٦٣ برس قبل مسیح سے ١٩٠١ء تک کا تجربہ اس کے مطابق بیان کیا ہے اس کے بعد لکھا ہے کہ تحریر سابق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ثابت شدہ یا مانے ہوئے گرہن کو (٢٢٣) برس قبل اور بعد اسی قسم کا گرہن ہوتا ہے۔ یعنی وہ مانا ہوا اور معینہ گرہن جس وقت اور جس مہینہ میں جس طور کا ہو گا۔ (٢٢٣) برس کے قبل اور بعد بھی ان ہی خصوصیات کے ساتھ ویسا ہی دوسرا ہو گا۔
اب ذیل کی مثال میں غور کرو کہ ١٢٦٧ھ سے ١٣١٢ھ تک چھیالیس برس ہوتے ہیں۔ ان میں تین مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان کی ١٣۔٢٨ کو ہوا۔ اور ان کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ اب ان تینوں گرہنوں میں اس قاعدے کو جاری کر کے دیکھا جائے کہ کس کس وقت میں گرہنوں کا اجتماع رمضان کی ١٣۔٢٨ کو ہوا ہے اور ان وقتوں میں کون کون مدعی تھا۔ ذیل میں اس کا حساب پیش کر کے ان مدعیوں کا نام بتاتا ہوں جو میرے علم میں ہیں اور واقع میں کتنے ہوئے ہیں اس کو زیادہ ماہرین تاریخ جان سکتے ہیں۔
٢
پہلا نقشہ
گرہنوں کے اجتماع کا رمضان کے ١٣۔٢٨ کو جو ١٨٥١ء مطابق ١٢٦٧ھ کے گرہن کے حساب کرنے سے ہوتا ہے۔
نمبر شمار سنہ ہجری سنہ عیسوی نام مدعیان مہدیت یا نبوت کیفیت
١ ١١٧ ٧٣٦ طریف دوسری صدی کی ابتداء میں یہ بادشاہ ہوا ہے۔ اور صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا ١٢٦ھ میں یہ مرا اور اس کا بیٹا صالح بادشاہ ہوا اس کے دعوے کے وقت میں ١١٧ھ میں گرہنوں کا اجتماع ہوا پہلی شہادت آسمانی میں اس کے وقت میں جو مرتبہ گرہنوں کا اجتماع لکھا گیا ہے وہ ڈاکٹر عبدالحکیم کی کتاب سے نقل کیا گیا تھا اور یہاں اس قاعدہ سے لکھا گیا جو انسائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے ڈاکٹر صاحب نے جو الذکر الحکیم نمبر ٦ میں گرہنوں کا نقشہ دیا ہے وہ اجتماع رمضان میں تو ہے مگر غالباً التزام نہیں ہے کہ ١٣۔٢٨ کو ہو۔ اور میں جو نقشے لکھ رہا ہوں ان میں وہی گرہن ہیں جو رمضان کے ١٣۔٢٨ کو ہوئے ہیں۔
٢ ٣٣٦ ٩٥٩ ابو منصور عیسیٰ ٣٣١ھ میں اپنے باپ ابو الانصار کے تخت سلطنت کا مالک ہوا اور نبوت کا دعویٰ کیا اور نہایت زور کی سلطنت ہوئی اور مغرب کے تمام قبیلوں کے سردار اسے سجدہ کرتے تھے۔ ٣٦٨ھ میں یہ مارا گیا اور ٣٣٦ھ میں جو اس کے دعویٰ نبوت کا وقت ہے گرہنوں کا اجتماع ہوا۔ تاریخ ابن خلدون ملاحظہ ہو۔ شاید کوئی قادیانی کہہ دے کہ ہم نے سارا ابن خلدون چھان مارا مگر ابو منصور کا حال نہ ملا اس لئے میں نے رسالہ عبرت خیز میں ابن خلدون کی عبارت مع ترجمہ کے لکھ دی ہے۔ اور اس کی جلد اور صفحہ کا حوالہ بھی دے دیا ہے۔ (احتساب قادیانیت جلد پنجم ص ١٣٣۔١٣٤)
٣ ٥٧٦ ١١٨٢
٤ ٨٠٦ ١٤٠٥
٥ ١٠٣٦ ١٦٢٨
٦ ١٢٦٧ ١٨٢٨
٣٥
دوسرا نقشہ
گرہنوں کے اجتماع کا رمضان شریف کے ١٣۔٢٨ کو جو ١٨٩٤ء مطابق ١٣١١ھ کے گرہن کے حساب کرنے سے ہوتا ہے۔
نمبر شمار سنہ ہجری سنہ عیسوی نام مدعیان کیفیت مہدویت یا نبوت ٧ ١٦١ ٧٧٩ صالح صالح نے ١٢٧ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے ٨ ٣٩١ ١٠٠٢ وقت میں دو مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان میں ہوا ٩ ٦٢١ ١٢٢٥ پہلے مرتبہ اس سن میں پھر ١٦٢ھ میں اس کے دعوے کی ١٠ ٨٥٠ ١٤٤٨ حالت رسالہ عبرت خیز میں دیکھنا چاہئے جو صحیفہ ١١ ١٠٨٠ ١٦٧١ رحمانیہ کے نمبر ٨۔٩ میں چھپا ہے۔ (دیکھیے احتساب قادیانیت جلد ٢ نجم ) اس میں تاریخ کا حوالہ معہ صفحہ بتایا ہے۔ ١٢ ١٣١١ ١٨٩٤ مرزا غلام احمد قادیانی اس گرہن کا ظہور ہندوستان میں نہیں ہوا بلکہ امریکہ میں ہوا جس وقت مسٹر ڈوئی وہاں مسیح موعود ہونے کا جھوٹا مدعی تھا۔
تیسرا نقشہ
گرہنوں کے اجتماع کا رمضان شریف کے ١٣۔٢٨ کو جو ١٨٩٥ء مطابق ١٣١٢ کے گرہن کے حساب کرنے سے ہوتا ہے۔
نمبر شمار سنہ ہجری سنہ عیسوی نام مدعیان کیفیت مہدویت یا نبوت
٣٦
١٣ ١٦٢ ٧٨٠ صالح صالح کا دعویٰ نبوت پورے ٤٦ برس رہا اس کے دعوے کے وقت میں دو مرتبہ گرہنوں کا اجتماع رمضان کی ١٣۔٢٨ کو ہوا۔ جس طرح مرزا قادیانی کے وقت میں ہوا۔ ١٤ ٣٩٣ ١٠٠٣ ١٥ ٦٢٢ ١٢٢٦ ١٦ ٨٥٢ ١٤٣٩ ١٧ ١٠٨١ ١٦٧٢ مرزاغلام احمد ١٨ ١٣١٢ ١٨٩٥ قادیانی
اس بیان سے نہایت روشن ہو گیا۔ کہ ١٣١٢ھ کا گرہن امام مہدی کا نشان کسی طرح نہیں ہوسکتا کیونکہ حدیث میں نہایت صفائی سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسا گرہن ہوگا کہ اس سے قبل جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں کسی وقت اس طرح کے گرہن نہ ہوئے ہوں گے۔ اور اب معائنہ اور علم نجوم کے ایک قاعدے سے معلوم ہوا کہ بارہ سو برس کے عرصہ میں اٹھارہ مرتبہ اسی قسم کے گرہن ہوئے۔ اور بعض مرتبہ ان گرہنوں کے وقت میں مدعی نبوت بھی تھے۔ اس لئے اس گرہن کو دارقطنی کی حدیث کا مصداق بتانا کسی راستباز صاحب عقل کا کام نہیں ہوسکتا۔ اسے خوب یاد رکھنا چاہئے کہ ان نقشوں کو دکھانا اور مدعیان نبوت کی نظیروں کو پیش کرنا ہمیں ضرور نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے کذب ثابت کرنے کے لئے اس قدر کافی ہے کہ جس حدیث سے انہوں نے ایسا عظیم الشان دعویٰ ثابت کرنا چاہا ہے۔ وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اور اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کے وہ معنے ہرگز نہیں ہیں جو مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اس کی تشریح کامل طور سے بیان کی جائے گی۔ ان نقشوں کا پیش کرنا خیر خواہانہ نظر سے ہے تاکہ وہ کسی طرح سمجھیں۔
ان گرہنوں کے بے نظیر ہونے کے ثبوت میں میں نے اس روایت کا ایک جملہ اس
٣٧
سے پیشتر نقل کیا ہے۔ آئندہ بیان سے ظاہر ہو جائے گا کہ اس حدیث میں پانچ جملے ہیں اور پانچوں جملے ثابت کرتے ہیں کہ وہ گرہن بے نظیر ہوگا اور اس بے نظیر ہونے کے یہ معنے ہر گز نہیں ہو سکتے کہ کسی مدعی کے پیدا ہونے اور اس کی کثرت اشتہارات سے وہ بے نظیر اور خرق عادت ہو جائے گا (جیسا کہ مرزا قادیانی حقیقۃ الوحی وغیرہ میں لکھ رہے ہیں) اور اگر اس وقت کوئی مدعی نہ ہو گا تو وہ معمولی گرہن ہے۔ ایسا دعویٰ کوئی فہمیدہ ذی علم نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ خاص وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوں گے۔ (حدیث کا وہ جملہ مع اس کی تشریح کے پہلے بیان ہو چکی ہے) اس کے علاوہ ایک معمولی چیز کسی کے دعوے اور اشتہاروں سے بے نظیر نہیں ہو سکتی۔ اور نہ اس حدیث میں کوئی جملہ یا کوئی لفظ ایسا ہے جس سے اس مہدی کے دعویٰ کرنے اور اشتہارات تقسیم کرنے کا اشارہ بھی پایا جاتا ہو۔ پھر یہ ایجاد بندہ کر کے حدیث میں داخل کرنا رسول اللہ ﷺ پر افتراء نہیں تو کیا ہے؟
ایک لاجواب سوال یہ تو فرمائیے کہ جب اس طرح کے گرہنوں کا اجتماع ایک مقررہ قاعدہ ہے اور ہنود نے اور نصاریٰ نے اور مسلمانوں نے آئندہ گرہنوں کی فہرستیں لکھی ہیں اور چھپی ہوئی مشتہر ہیں تو اگر کوئی اس علم کا ماہر صرف اس قاعدے کو معلوم کر کے یا ایسی فہرست اور جنتریاں دیکھ کر جن سے آئندہ کے کسوف و خسوف معلوم ہوتے ہیں اپنے وقت میں اس قسم کے گرہنوں کا ہونا معلوم کر لے اور دارقطنی والی حدیث بھی اس کے پیش نظر ہو۔ اور مرزا قادیانی کی طرح اسے عبارت کے بے تکے معنی بھی بنانا آتے ہوں اور شرارت سے مہدی ہونے کا دعویٰ کر دے تو وہ مہدی ہو جائے گا؟ اور اس پر کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس قسم کی جنتری یا ایسی فہرست دیکھ کر یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ الہام سے کیا؟
مرزا قادیانی جو (حقیقۃ الوحی ص ١٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) میں اس دعویٰ کی صداقت میں یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ”بارہ برس پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس نشان کی خبر دی تھی۔“ مگر یہ محض غلط ہے بارہ برس پہلے خاص اس پیشین گوئی کا ذکر مرزا قادیانی نے نہیں کیا۔ اور عام دعویٰ کر کے کسی خاص واقعہ کو اس کے ظہور کا مصداق بتانا کسی راست گو کا کام نہیں ہو سکتا۔ اور اگر حدائق النجوم وغیرہ دیکھ کر بارہ برس پہلے اس گرہن کا ہونا معلوم کیا ہو اور دارقطنی کی حدیث پر نظر پڑی ہو اس لئے انہوں نے بے سمجھے اپنا نشان بنانے کی کوشش کی اور غل مچا دیا ہو تو عجب نہیں ہے ان
٣٨
باتوں کے علاوہ ہم نے بطور احسان اور کمال خیر خواہی مذکورہ نقشوں میں بعض مدعیان نبوت کا نام بھی بتا دیا جن کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع مذکورہ تاریخوں میں ہوا۔ اور مسٹر ڈوئی مدعی نبوت ان کے علاوہ ہے اب مرزا قادیانی کے کاذب ماننے میں حضرات مرزائیوں کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ طالبین حق کے لئے عالم واقعات میں صرف ایک نظیر صالح کی مرزا قادیانی کے ثبوت کذب کے لئے کافی ہے۔ اس نظیر نے مرزا قادیانی کو ہر طرح کاذب ثابت کر دیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہتے تھے کہ مجھ سے پہلے کسی مدعی نبوت کے وقت میں اس قسم کا گرہن نہیں ہوا مگر صالح نے مرزا قادیانی کے اس دعوٰی کو غلط کر دیا کیونکہ اس کے وقت میں بھی اس قسم کا گرہن ہوا۔ اسی طرح ان کا یہ دعوٰی تھا کہ کوئی جھوٹا مدعی ٢٠ برس تک زندہ نہیں رہتا بلکہ ذلت سے مارا جاتا ہے صالح باوجود کاذب ہونے کے ٤٧ برس خود بادشاہ رہا اور اس کی اولاد میں کئی سو برس تک سلطنت رہی (رسالہ عبرت خیز احتساب قادیانیت جلد پنجم میں ) ملاحظہ ہو۔
(انجام آتھم صفحہ ٤٩۔٥٠۔٦٢ خزائن ج ١١ ص ایضاً ملاحظہ کیا جائے)
اس بیان کے بعد ہم پختہ دعوے سے کہتے ہیں کہ ہمارے اس مختصر بیان سے جماعت مرزائیہ کو ماننا پڑے گا۔ کہ ١٣١٢ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع رمضان شریف میں ہوا ہے۔ یہ مرزا قادیانی یا کسی دوسرے مدعی مہدویت کی صداقت کا نشان نہیں ہو سکتا اگر وہ حدیث صحیح ہے تو اس کے وہ معنی نہیں ہیں جو مرزا قادیانی نے سمجھے ہیں۔ حدیث میں جن گرہنوں کے اجتماع کو مہدی کا نشان بتایا ہے وہ ایسا ہونا چاہئے جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور جو اجتماع حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اس وقت تک سینکڑوں مرتبہ ہو لیا ہو وہ کسی کے صدق یا کذب کا نشان نہیں ہو سکتا۔ مگر جس کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہو وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا جب تک پردہ آنکھوں سے نہ ہٹائے۔
الحاصل! اس پر غور کیا جائے کہ اس مختصر تحریر سے مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کیسی خاک میں مل گئی کتنی تحریروں اور رسالوں کا کافی جواب ہو گیا۔ جن کی آنکھیں ہوں وہ دیکھیں یہ بے بنیاد عمارت تھی جسے آپ افتادہ دیکھ رہے ہیں یہی نشان تھا جس پر مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہی ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں (اعجاز احمد ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) میں لکھا ہے۔
قصیدہ اعجازیہ کا نمونہ اور اس کے اعجاز کی حالت
آنحضرت ﷺ کے لئے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا نشان ہوا۔ اب تو کیا انکار کرے گا اے انکار کرنے والے‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے تو صرف چاند گرہن ہوا تھا اور میرے لئے چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں ہوئے جو سچے مہدی کی نشانی ہے یعنی اس نشان میں مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ سے بڑھ گئے اور ایک طور کی فضیلت ثابت ہوئی (نعوذ باللہ منہ)
الحمدللہ فضیلت تو کیا ثابت ہوتی اصل صداقت ہی کا ثبوت نہ ہوا بلکہ آفتاب کی طرح روشن ہو گیا۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ غلط تھا۔ معمولی طور سے گرہنوں کے اجتماع کو نہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کی صداقت کا نشان بتایا ہے اور نہ ایسے واقعات کسی کی سچائی کی شہادت ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً ایسے شخص کے لے جس کے کذب پر متعدد شہادتیں اندرونی اور بیرونی ہوچکی ہوں جن کی زبان نے جن کے اعلانیہ اقرار نے اپنے آپکو کاذب ثابت کر دیا ہو۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
یہاں جو شعر نقل کیا گیا ہے وہ اس قصیدہ کا شعر ہے جسے مرزا قادیانی اپنا معجزہ سمجھتے ہیں اور اس کا نام اعجاز احمدی رکھا ہے اور اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ اسے تمام فصحاء کے کلام پر اور قرآن مجید پر بھی غالب کہتے ہیں۔ چنانچہ اعجاز احمدی ص ٧١ (خزائن ج١٩ ص١٨٣) میں لکھتے ہیں۔
اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ اس کے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے) معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔‘‘
دیکھا جائے کس صفائی سے مرزا قادیانی اپنے کلام کو تمام کلاموں پر غالب بتا رہے
١......... (مرزا قادیانی نے اپنے شعر کے ترجمہ میں بے ادبی کے الفاظ لکھے تھے اس لئے ان کے ترجمہ میں اصلاح کر دی گئی باقی مطلب وہی ہے۔
٤٠
ہیں۔ کوئی قید نہیں لگاتے اور رسول اللہ ﷺ کے کلام معجز یعنی قرآن مجید کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ جو کلام مجھے دیا گیا ہے وہ سب پر غالب ہے۔ اب ان کے کلام کا عموم اور طرز بیان نہایت صاف بتارہا ہے کہ مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ میرا کلام قرآن مجید پر بھی غالب ہے یعنی اس سے عمدہ ہے اب ان کے مریدین بھی اسے معجزہ مانتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کوئی اس کے مثل نہیں لکھ سکتا۔ اور جو لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مر جائے گا۔ اب یہاں دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔ ناظرین غور سے ملاحظہ کریں۔
پہلی بات مذکورہ دو شعروں میں مرزا قادیانی اپنی فضیلت دو طور سے بیان کرتے ہیں۔ پہلے شعر میں یہ دعویٰ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معجزہ صرف چاند گرہن تھا اور میرا معجزہ چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہے۔ دوسرے شعر میں اپنے کلام کو قرآن مجید پر غالب بتاتے ہیں اور یہ بھی دعویٰ ہورہا ہے کہ عرب سے عجم تک کوئی جواب نہیں لکھ سکتا اس صریح دعوے کے بعد اس کے اعجاز میں قیدیں لگائی ہیں انہیں دیکھئے۔
دوسری بات جس قصیدہ کو اعجاز قرار دیا ہے اس کے اعجاز کو بیس دن کے اندر محدود کیا ہے مولوی ثناء اللہ صاحب کو لکھے ہیں کہ بیس دن کے اندر اس کا جواب لکھ کر اور چھپوا کر میرے پاس بھیج دو اگر اس مدت کے بعد آیا تو ہم ردی کی طرح اسے پھینک دیں گے اس اعجاز میں اول تو بیس دن کی قید لگائی دوسرے اس کے ساتھ ایک دھمکی دی کہ جو کوئی اس کے جواب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مر جائے گا۔
اب ناظرین ان عظیم الشان دعوؤں کے بعد ان پیچدار باتوں میں غور کریں دعویٰ تو یہ تھا کہ میرا کلام سب پر غالب ہے اور عرب اور عجم میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا اس کے بعد یہ کہنا کہ بیس روز کے اندر جواب چھپوا کر بھیج دو کیسی عام فریب بات ہے۔ اس میں اول تو یہ دیکھا جائے کہ بیس روز میں تو صرف ہندوستان میں اس دعوے کی اطلاع بھی نہیں ہوسکتی۔ اور عرب و عجم تو بہت دور ہے۔ اگر کسی کو خبر پہنچنے کا دعویٰ ہو تو بتائیے کہ ۔ ١٠ ستمبر ١٩٠٢ء کے بیس روز پہلے تمام علمائے ہند کے پاس کس ذریعہ سے اطلاع دی گئی۔ آیا تار دیئے گئے یا خط بھیجے گئے ایسے انداز سے کہ بیس روز قبل انہیں اطلاع ہوگئی اور اطلاع کے بعد وہ لکھ نہ سکے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ کوئی اس کو ثابت نہیں کر سکتا۔ بہت سے علماء کی شہادتیں پیش ہوسکتی ہیں کہ انہیں برسوں کے بعد اطلاع
٤٢
ہوئی کسی ذریعہ سے اور بعض کو اب تک بھی نہ ہوئی ہوگی۔ پھر یہ کہہ دینا کہ کوئی جواب نہیں دے سکا کیسا جھوٹا دعویٰ ہے۔ اب اگر اطلاع کے بعد جواب لکھنا اور پانچ جز کا چھپوا کر بیس روز کے اندر قادیان بھیج دینا کیسے ممکن ہے اگر کسی کو اطلاع ہوئی تو جواب لکھنے کا قصد بھی نہیں کرسکتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس مدت کے اندر ہم چھپوا کر بھیج نہیں سکتے کیونکہ کوئی مطبع قابو میں نہیں ہے کہ ہمارے کہنے کے مطابق جلد چھاپ دے۔ جواب کے لئے دشواریاں سوچ کر اس کے لاجوابی کا دعویٰ کردیا۔ اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی جواب لکھے گا بھی تو بالضرور اس مدت کے بعد آئے گا اور ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے یہ کیسی صریح چالاکی کر کے بیوقوفوں پر اپنا اعجاز ثابت کرنا چاہتے ہیں اور جب یہ کہا گیا کہ اعجاز کے اندر یہ مدت کیسی جب کلام معجز ہے تو ہر وقت اور ہر حال میں اس کا معجز ہونا چاہئے جس طرح قرآن مجید کلام معجز ہے۔ یہ تخصیص اور تعین وقت تو اعجاز میں نہیں ہو سکتی۔ تو بڑے خلیفہ قادیان اپنی کتاب میں یہ جواب دیتے ہیں کہ غلام احمد کو برابری کا دعویٰ نہیں ہے وہ اپنے آپ کو غلام احمد کہتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں۔ اس لئے اپنے کلام کی نسبت وہ دعوے نہیں کرتے جو قرآن مجید کی نسبت کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن مجید میں یہ دعویٰ ہے کہ کسی وقت کوئی اس کے مثل نہیں لا سکے گا۔ مرزا قادیانی برابری کے خیال سے ایک مدت کی قید لگا کر دعویٰ کرتے ہیں تا کہ برابری نہ ہو۔ مگر خلیفہ قادیان کی یہ کیسی بددیانتی یا کمال درجہ کی نافہمی ہے کیونکہ یہی غلام احمد اپنے رسالوں میں اپنے الہاموں میں بہت جگہ برابری کا دعویٰ کرتے ہیں اور کتنے مقام پر اپنی فضیلت کے مدعی ہیں مذکورہ دونوں شعر میں اپنی فضیلت نہایت صفائی سے دکھا رہے ہیں پہلے شعر میں اپنے آپ کو دوبالا کرنا چاہتے ہیں ایک خاص معجزہ میں یعنی رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف چاند گرہن ہوا اور میرے لئے دو گرہن ہوئے۔ دوسرے شعر میں خاص قرآن مجید کے اعجاز کا ذکر کر کے اپنے کلام کو لکھتے ہیں۔ وعلی الکل یبھو یعنی سب پر غالب ہے۔ اس میں قرآن مجید بھی آ گیا۔ یہاں دعویٰ غلامی کہاں چلا گیا؟ یہاں تو فضیلت دکھائی جاتی ہے اس کے علاوہ غلامی کا اظہار اسی پر موقوف تھا کہ ایسی تنگ مدت مقرر کی جائے کہ اس میں لکھ کر اور چھپوا کر کوئی ذی علم بھیج نہ سکے۔ غلامی کا اظہار تو اس طرح بھی ہو جاتا اور بڑی شان سے ہوتا کہ بیس دن کی جگہ بیس برس لکھ دیتے اور کہتے کہ اس دراز مدت کے اندر اس کا جواب لکھ کر یا لکھوا کر بھیجو۔ مگر ایسا نہیں کیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام کو دھوکا دینا مقصود تھا۔ اس کے سوا میں کچھ اور بھی دریافت کرتا ہوں۔ اس قصیدہ کو جو معجزہ مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی طرح اس کے
٤١
مثل کوئی نہیں لاسکتا اس کا کیا مطلب ہے؟ آیا یہ مطلب ہے کہ یہ کلام ایسا فصیح و بلیغ ہے کہ دوسرا نہیں لکھ سکتا یا اس کے مضامین ایسے عمدہ اور مفید خلائق ہیں کہ کوئی دوسرا ایسے مضامین نہیں لکھ سکتا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ اگر اعجاز کی یہ وجہ ہے تو کیا بیس روز کے بعد اس کلام کی فصاحت و بلاغت اور مضامین کی خوبی کہیں چلی جائے گی؟ قادیانی مولوی اس کا جواب دیں اور اس بے عقلی کی بات پر شرمندہ ہوں۔ البتہ اگر اس کو اعجاز کہیں کہ بیس روز کے بعد اس قصیدہ کی یہ خوبیاں سب سلب ہو جائیں گی اور یہ قصیدہ معرا رہ جائے گا۔ جس طرح کوئی انسان عمدہ لباس پہنے ہو اور پھر کسی وجہ سے اس کا وہ لباس اتار لیا جائے اور وہ برہنہ رہ جائے اسی طرح مرزا قادیانی کا قصیدہ اپنی خوبیوں سے معرا رہ گیا اگر یہی مدعا ہے تو میں بھی اسے تسلیم کرلوں گا کیونکہ قادیانیوں کی عقل سے ایسی بیہودہ بات کہنا عجب نہیں ہے۔ جب ان کے خیال میں پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہو جانا اور قرآن وحدیث سے ان کا کاذب ہونا ظاہر ہو جائے اور بایں ہمہ ان کے مریدوں کا انہیں نہ چھوڑنا ان کا بڑا معجزہ ہے تو اسے بھی معجزہ مانیں تو عجب نہیں ہے۔ حاصل یہ کہ اس قصیدہ میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کو اعجاز کہا جائے۔ اس میں نہ عمدہ مضامین ہیں اور نہ اس کی عبارت ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ دوسرا ذی علم نہیں لکھ سکتا۔ بلکہ ہر ایک ذی علم انہیں دیکھ کر بے تامل کہہ سکتا ہے کہ ان رسالوں میں نہ عمدہ مضمون ہے اور نہ فصیح وبلیغ عبارت ہے۔ اس قصیدہ میں مرزا قادیانی نے بجز اپنی تعلی اور دوسرے علماء اور بعض اولیاء اور بعض انبیاء کی مذمت کے اور کوئی مفید بات نہیں لکھی پھر وہ قرآن مجید کے مثل تو کیا ہوگا شاہ ولی اللہؒ اور مولوی فضل حق کے قصیدہ کی گرد کے مثل بھی نہیں ہے۔ جسے علم اور کچھ سمجھ ہو وہ دونوں کو ملا کر دیکھے اور ان کے دعویٰ علی الکل یبہر کو بھی پیش نظر رکھے۔ چونکہ مرزا قادیانی بھی اپنے قصیدہ کی ایسی حالت کو جانتے تھے۔ اس لئے اس کا اعجاز دوسری طرح سے دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جو اس کے جواب لکھنے کا ارادہ کرے گا وہ سال کے اندر مر جائے گا۔ اس دھمکی میں دو فائدے مرزا قادیانی نے سوچے ہوں گے۔ ایک یہ کہ اگر کوئی اس کے مضامین اور الفاظ کی لفظی غلطی بتائے تو یہ کہہ دیں گے کہ باوجود ان اغلاط کے یہ معجزہ ہے کیونکہ اس میں یہ اعجاز ہے کہ اس کے جواب لکھنے کا جو ارادہ کرے گا وہ ہلاک ہوگا۔ دوسرا فائدہ اس دھمکی میں یہ ہے کہ ضعیف الایمان تو جواب لکھنے کی طرف ہمت ہی نہ کرے گا۔ اور قوی الایمان کو یہ خطرہ مانع ہوگا اگر ہماری عمر اسی سال تک کی مقدر ہے جس میں ہم لکھنے کا ارادہ کریں تو اس سال مرنا ضرور ہے اب اگر جواب لکھ کر یا بیٹھنے کی حالت میں مر گئے تو
٤٣
مرزائی کہہ دیں گے کہ دیکھو مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کیسی صحیح ہوئی۔ اس لئے قوی الایمان بھی توجہ نہ کرے گا مگر الحمد للہ یہاں ایسے قوی الایمان موجود ہیں کہ ایسے بیہودہ خیالات بھی ان کے پا س نہیں آئے اور اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد کر کے اس کا جواب لکھ دیا اور سمجھ لیا کہ جس طرح نہایت عظیم الشان پیشین گوئی یعنی منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے جھوٹی کر کے دنیا کو مرزا قادیانی کا کاذب ہونا دکھا دیا اسی طرح اس پیشین گوئی کا جھوٹا ہونا بھی اللہ تعالیٰ ظاہر کرے گا۔ اور حق و باطل میں امتیاز کر کے دکھا دے گا خدا کا شکر ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ کئی سال ہوئے کہ اس قصیدہ کے جواب میں نہایت عمدہ قصیدہ لکھا گیا ہے۔ اور اس کے لکھنے والے بفضلہ تعالیٰ اس وقت تک مع الخیر ہیں اور دوسرے رسالہ میں اس قصیدہ کی غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ اب میں پہلے اس شعر کا مہمل ہونا بطور نمونہ اس طرح بیان کرتا ہوں۔ کہ کم علم حضرات بھی سمجھ سکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ وہ عام و خاص اس بات کو جانتے ہیں کہ کوئی چاند گرہن رسول اللہ ﷺ کا معجزہ نہیں ہے اور نہ اس طرح کا گرہن معجزہ ہو سکتا ہے اور نہ قرآن وحدیث میں اس کا ذکر ہے۔ اب کوئی مرزائی بتائے کہ وہ کونسا چاند گرہن ہے جو رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے جس کا ذکر کر کے مرزا قادیانی اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتے ہیں جب کوئی چاند گرہن رسول اللہ ﷺ کے لئے معجزہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے تو مذکورہ شعر کا پہلا مصرعہ محض غلط اور مہمل ہوا اور دوسرے مصرعہ کی بنا پہلے مصرعہ پر ہے اس لئے وہ بھی غلط ہو اور بنائے فاسد علی الفاسد ٹھہرے۔ اہل حق پر خدائے تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ مرزا قادیانی کی زبان سے ایسی مہمل بات نکلی جس کا غلط ہونا عام حضرات بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی چاند گرہن رسول اللہ ﷺ کا معجزہ نہیں ہے اور اگر کوئی مرزائی یہ کہیں کہ یہاں چاند گرہن سے مراد معجزہ شق القمر ہے تو مرزا قادیانی بھی اسے جھوٹا بتاتے ہیں کیونکہ پہلے مصرعہ کا ترجمہ وہ اس طرح کرتے ہیں۔ ” اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا ۔“ یہاں مرزا قادیانی نے خسف القمر کے معنی یہ نہیں کئے کہ چاند پھٹ گیا بلکہ یہ کہا کہ چاند کے خسوف کا نشان ۔ خسوف کے معنی گرہن کے ہیں اب جو اس کے معنی چاند کا پھٹنا لے گا اسے مرزا قادیانی جھوٹا کہیں گے۔ اب اگر اس ترجمہ سے چشم پوشی کی جائے اور مان لیا جائے کہ معجزہ شق القمر یہاں مراد ہے تو اس شعر میں لفظی اور معنوی دونوں طرح کی غلطیاں ہوں گی کیونکہ چاند کے پھٹ جانے کو خسوف قمر نہیں کہتے بلکہ شق القمر کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ۔ یعنی قیامت قریب آئی اور چاند پھٹ گیا۔ یہاں خسف القمر نہیں فرمایا بلکہ اِنشقَّ القمر ارشاد ہوا اور مرزا قادیانی ٤٤
قرآن کے خلاف خسف القمر کہتے ہیں۔
یہ تو عربی محاورہ کی غلطی ہوئی۔ اور معنوی غلطی یہ ہے کہ اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں اپنا معجزہ اور اپنی فضیلت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا اب کوئی ذی علم مرزائی بتائے کہ یہاں گرہن سے کیا مقصود ہے؟ آیا گرہن ہی مراد ہے یا چاند اور سورج کا پھٹنا مقصود ہے۔ اگر پھٹنا مراد ہے تو کیا مرزا قادیانی کے وقت میں ایسا ہوا ہے کہ چاند اور سورج دونوں پھٹ گئے ہوں۔ مگر سب جانتے ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا اور یہاں تو مرزا قادیانی نے جھوٹا دعویٰ بھی نہیں کیا کہ میرے لئے یہ نشان ہوا اور اگر چاند اور سورج کا گرہن مراد ہے جیسا کہ وہ ١٣١٢ھ کے گرہن کو اپنا نشان کہتے ہیں تو پھر اس کو معجزہ شق القمر سے کیا مناسبت ہوئی جو اس پر اپنی فضیلت دکھا رہے ہیں۔ شق القمر تو وہ عظیم الشان معجزہ ہے جس کے نشان اور معجزہ ہونے میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا۔ اور جس کا ثبوت قرآن مجید سے ہے اور معمولی گرہن کے معجزہ ہونے کو نہ کسی انسان کی عقل باور کر سکتی ہے اور نہ حدیث و قرآن سے اس کا ثبوت ہے اور اس کے ثبوت میں جو حدیث مرزا قادیانی نے پیش کی ہے اول تو وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو معنے اس کے بیان کئے گئے ہیں وہ محض غلط ہیں۔ پھر کیا چیز دکھا کر اپنے مخالف کے انکار پر تنبیہ کر رہے ہیں اور اگر ایسے اجتماع خسوف و کسوف کو معجزہ فرض کر لیا جائے مرزا قادیانی کی خاطر سے تو شق القمر ایسا بڑا معجزہ ہے کہ دو ہزار ایسے خسوف و کسوف اس کے برابر نہیں ہو سکتے۔ دو گرہن کیا چیز ہیں غرض کہ ایسے ہی مہمل اشعار لکھ کر اس کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھا ہے۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو نقل کر کے اس کی حالت اور اس کے معنی اور مختصر شرح کر دی جائے جس سے مرزا قادیانی کی غلط فہمی یا فریب دہی اظہر من الشمس ہو جائے اور نمونہ کے طور پر ان کی غلطیاں بھی دکھا دی جائیں۔
٤٥
دارقطنی کی روایت
عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض تنكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف منه ولم تکونا منذ خلق الله السموات والارض.
(دارقطنی ج ٢ ص ٦٥)
”عمرو بن شمر جابر سے اور جابر محمد بن علی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش جب سے ہوئی کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ (وہ دو نشان یہ ہیں) چاند گرہن ہو گا رمضان کی پہلی رات میں (یا قمر کی پہلی رات میں جو مہینہ کی چوتھی شب ہے۔) کیونکہ مہینہ کی راتوں میں یہ پہلی رات ہے جس کے چاند کو محاورہ عرب میں صرف قمر کہا جاتا ہے اس لئے قمر کی پہلی رات چاند کی چوتھی شب ہوئی اور سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔ (یعنی چودہ یا پندرہ تاریخ کو) اور وہ چاند گرہن اور سورج گرہن ایسے ہیں کہ جب سے آسمان و زمین اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کبھی ایسے گرہنوں کا ظہور نہیں ہوا“
حدیث کا مطلب صرف اسی قدر ہے جو میں نے بیان کیا اس کے سوا مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ ۔ ٢٩٦) میں اور حقیقۃ الوحی ص ١٩٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) میں اس روایت کے معنی اور بیان مطلب میں جو کچھ لکھا ہے وہ الفاظ حدیث کا مطلب ہرگز نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی خیالی گھڑت ہے جس کو حدیث سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے دعوے کی بنیاد دو امر پر ہے۔ اول....... اس حدیث سے یہ نکالنا کہ چاند گرہن ١٣ تاریخ کو ہوگا۔ اور سورج گرہن ٢٨ کو۔ دوم....... اس گرہن کے نشان ہونے کے لئے دعویٰ کی شرط بتانا اور یہ کہنا کہ یہ گرہن اگر کسی مدعی رسالت و نبوت کے وقت میں ہو اور وہ مدعی نہایت زور سے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں اسے پیش کرے اس وقت یہ نشان ہے۔ یہ دونوں امر محض غلط ہیں کوئی قادیانی قیامت تک انہیں ثابت نہیں کر سکتا مذکورہ روایت میں نہ گرہنوں کی یہ تاریخ ہے اور نہ کوئی لفظ ایسا ہے جس سے اشارۃً یا کنایۃً بھی ثابت ہوتا ہو کہ وہ مہدی دعویٰ بھی کرے گا اور ایک معمولی گرہن کو اپنا نشان بتائے
٤٦
گا۔ سچے مہدی کی شناخت دعویٰ پر موقوف نہیں ہے کیونکہ دعویٰ کرنے والے تو بہت سے جھوٹے مہدی گزر گئے اس لئے دعویٰ کرنا شناخت کا باعث نہیں ہو سکتا البتہ اس کا صلاح و تقویٰ اس کی فتح مندی اور فیروز مندی اس کی صحبت کا عمدہ اثر اور اس کی ذات سے مسلمانوں کو خلاف امید بہت کچھ فائدہ پہنچنا یہ امور اسے متعین کر دیں گے اور حدیثوں میں جو علامتیں مہدی کی بیان ہوئی ہیں ان کے پائے جانے سے ان کی کامل شناخت ہو جائے گی جس طرح اس تیرہ صدی میں بہت مجدد ہوئے اور انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا مگر علمائے حقانی نے انہیں مجدد کہا اور مہدی کے نشان تو بہت بڑے بڑے ہوں گے۔ ان کی حالت دیکھ کر علماء اور جو واقف کار ہیں۔ بے اختیار انہیں مہدی کہیں گے۔ روایت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دعویٰ کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں۔
عبارت مکتوبات مطلب
جماعتی از نادانی گمانکنند شخصی را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بود است پس بزعم ایں مہدی گذشتہ ست وفوت شدہ و نشان مید ہند کہ قبرش در فرہ است در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است چہ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ والصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشان است آں علامات مفقود اند در احادیث نبوی آمدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ مہدی موعود بیرون آید و برسر وے پارۂ ابر کہ بود دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی ست اورا متابعت کنید ۔ (مکتوبات ١٦٧ امام ربانی ج ٢ ص ١٩٠)
ہندوستان میں ایک شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور نادانوں کی ایک جماعت نے اسے مہدی موعود مان لیا تھا ان کے خیال کے بموجب امام مہدی گزر گئے اور ان کی قبر مقام فرہ میں ہے مگر صحیح اور متواتر حدیثیں اس گروہ کو جھوٹا بتاتی ہیں۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے امام مہدی کی جو علامتیں بیان فرمائی ہیں وہ اس میں نہیں پائی جاتیں۔ جسے یہ گروہ مہدی موعود مان رہا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ مہدی موعود جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا ہوگا۔ اور اس میں ایک فرشتہ بآواز بلند کہتا ہوگا کہ یہ شخص مہدی ہے اس کی پیروی کرو۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ وہ بزرگ ہیں جنہیں قادیانی جماعت کے لوگ بھی اسی طرح مجدد عالی مرتبہ مانتے ہیں جس طرح اور مسلمانوں کی بڑی جماعت مانتی ہے۔ جب انہوں نے مہدی کی علامات میں یہ بھی لکھا کہ ان کے سر پر ابر کا ٹکڑا ہوگا۔اور اس پر سے فرشتہ اعلانیہ پکار کر کہے گا یہ مہدی ہیں انہیں مانو۔ پھر مہدی کو دعویٰ کرنے اور اشتہارات چھپوانے اور تقسیم کرنے کی کیا ضرورت ہو گی۔ اس کے علاوہ جب وہ دنیا کے روحانی اور جسمانی بادشاہ ہو کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچائیں گے تو بے اختیار مسلمان انہیں مہدی کہیں گے۔ اب مذکورہ حدیث دارقطنی کے راویوں کی اور اس کے الفاظ کی تشریح کی جاتی ہے۔ غور سے ملاحظہ فرمایا جائے۔
تشریح: اس حدیث کے سلسلۂ رواۃ میں سے میں نے تین شخصوں کا نام لکھا ہے عمرو بن شمر اور جابر اور محمد بن علی ان میں پہلا راوی محدثین کے نزدیک بڑا جھوٹا ہے جھوٹی حدیثیں روایت کیا کرتا تھا۔ اس کی روایت اس قابل نہیں ہے کہ نقل کی جائے۔میزان الاعتدال ( ج ٥ ص ٣٢٤) میں اس کی نسبت لکھا ہے۔ ١۔ لیس بشی۔ ٢۔زائغ۔ ٣۔ کذاب۔ ٤۔ رافضی ۔ ٥۔یشتم الصحابۃ۔ ویروی الموضوعات عن الثقات۔ ٧۔ منکر الحدیث۔ ٨۔لا یکتب حدیثہ۔ ٩۔ متروک الحدیث۔ دیکھا جائے کہ علامہ شمس الدین ذہبیؒ نے جو فن رجال کے امام ہیں وہ اس راوی کی مذمت میں نو جملے لکھتے ہیں جن سے مختلف طور سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ یہ راوی ہرگز اس لائق نہیں ہے کہ اس کی روایت قابل اعتبار ہو۔ کشف الاحوال فی نقد الرجال میں بھی اس کی مذمت ہے۔ غرض کہ انتہا درجہ کی مذمت اس کی محدثین نے کی ہے۔ دوسرا راوی جابر ہے۔ اس نام کے بہت راوی ہیں۔ مثلاً ایک جابر جعفی ہے جس کی نسبت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جس قدر جھوٹے ملے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ملا۔ (تہذیب التہذیب ج ١ ص ٣٥٣ ملاحظہ ہو) اور دارقطنی کے ( حاشیہ التعلیق المغنی ج ٢ ص ٦٥) میں ان دونوں راویوں کی نسبت لکھا ہے کہ یہ دونوں ضعیف ہیں انکی بات اعتبار کے لائق نہیں ہے۔
١............. (کذاب الخ یعنی بڑا جھوٹا ہے۔ رافضی ہے ثقہ لوگوں سے موضوع حدیث روایت کرتا تھا۔ اس کی حدیث اس قابل نہیں ہے کہ لکھی جائے۔ جس راوی کی یہ حالت ہو اس کی روایت سے مرزا قادیانی اپنا دعویٰ ثابت کر رہے ہیں۔ افسوس اس بے عقلی پر )
٤٨
اب دیکھا جائے کہ پہلا راوی تو یقیناً جھوٹا کذاب ہے دوسرا راوی بالکل محتمل ہے تیسرا راوی محمد بن علی ہیں۔ مگر محمد بن علی بھی بہت ہیں اس لئے اس کی تخصیص کہ یہ کون سے محمد بن علی ہیں کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ ہر جگہ یہ کہہ دینا کہ اس کے راوی امام باقرؒ ہیں بلا دلیل اور زبردستی ہے۔ عجب نہیں کہ اس کذاب نے اپنا جھوٹ پوشیدہ رکھنے کے لئے ناموں کو صراحت سے بیان نہ کیا ہو اور ایسا نام لے دیا جس سے محبّ اہل بیت حضرت امام باقرؒ کو راوی سمجھیں کیونکہ یروی الموضوعات عن الثقات اس کی صفت تھی۔ یعنی ثقہ لوگوں کے نام سے موضوع حدیثیں روایت کرتا تھا۔ جب اس کا یہ حال محدثین بیان کرتے ہیں تو اس کے قول پر کیونکر اعتبار ہو سکتا ہے؟ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ امام باقرؒ ہی اسے روایت کرتے ہیں مگر وہ اس قول کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کا مقولہ ہے بطور کشف انہیں ایسا معلوم ہوا ہو اور انہوں نے بیان کیا اولیاء اللہ کو کشف ہوتا ہے مگر ان کا کشف لائق حجت نہیں ہوتا۔ اب کوئی قادیانی اس کی وجہ پیش کر سکتا ہے۔ کہ روایت مذکور امام ممدوح کا کشف نہیں ہے بلکہ حدیث رسول اللہ ﷺ ہے؟ میں بالیقین کہتا ہوں کہ کوئی وجہ لائق توجہ اس کی نہیں ہو سکتی۔ حاصل یہ کہ جس طرح راوی کے جھوٹے ہونے کی وجہ سے یہ روایت لائق حجت نہیں ہے اسی طرح اس احتمال کی وجہ سے قابل حجت نہیں ہے۔ دار قطنی نے ایک احتمال کے لحاظ سے اسے روایت کیا ہے مگر طرز بیان یہ بتا رہا ہے کہ وہ اس حدیث کے مضمون کو دوسری صحیح حدیث کے مخالف کہتے ہیں۔ اور جب اسکا مضمون حدیث صحیح کے خلاف ہوا تو بالضرور یہ حدیث صحیح نہ ہوئی۔ وہ طرز بیان یہ ہے کہ اس روایت کے بعد ہی ایک صحیح حدیث (دارقطنی ج ٢ ص ٦٥ پر) نقل کرتے ہیں جو مرفوع و متصل ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیر ہما میں متعدد صحابہ سے مختلف طور سے منقول ہے اس حدیث کا مضمون پہلی روایت کو غلط بتا رہا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے۔
عن عبدالله بن عمر رضی الله عنه عن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ان الشم والقمر ايتان من ايات الله لا ينخسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله فاذا رايتموها فصلوا۔
اس کا حاصل یہ ہے کہ گرہن کا ہونا کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں ہوتا یعنی
٤٩
گرہن اس لئے نہیں ہوتا کہ کوئی بڑا شخص مر گیا یا کوئی بڑا شخص پیدا ہوا (مثلاً کوئی مجدد وقت یا مہدی زماں) بلکہ ان کا ہونا صرف اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت کی دلیل ہے جب اسے دیکھو تو نماز پڑھو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور سے متوجہ ہو جاؤ۔ اس حدیث میں غور کرنے سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں ایک یہ کہ سورج اور چاند کا وجود اور ان دونوں کا گرہن خدا تعالیٰ کے وجود کی علامت اور اس کا نشان ہے دوسرے یہ کہ دونوں گرہن اللہ تعالیٰ کے وجود کے سوا کسی دوسرے کے ہونے یا نہ ہونے کے نشان نہیں ہیں۔ جملہ لا ینخسفان الخ اس کو بخوبی ثابت کرتا ہے۔ اس لئے یہ صحیح حدیث نہایت روشن طریقے سے ظاہر کرتی ہے۔ کہ پہلی روایت جس میں خاص طور کے گرہن کو مہدی کے وجود کا نشان ٹھہرایا ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں مخصوص گرہنوں کو مہدی کا نشان بتایا ہے حالانکہ عام طور پر گرہن صرف اللہ تعالیٰ کے وجود کا نشان ہے کسی مہدی یا رسول اللہ کا نشان نہیں ہے۔
اب نہایت ظاہر ہے کہ جو روایت اپنی سند اور راویوں کے اعتبار سے نہایت مخدوش ہو اور پھر اس کا مضمون بھی صحیح حدیث کے مخالف ہو تو وہ روایت صحیح نہیں ہو سکتی۔ اس لئے دارقطنی نے اس صحیح حدیث کو مذکورہ حدیث کے بعد ذکر کر کے اس کی عدم صحت کو ایک خوبی سے ظاہر کر دیا۔ یہ کہنا کہ حدیث کی صحت کو معائنہ نے ثابت کر دیا ۔ ١؎ سخت مغالطہ ہے ہمارے
١؎ ......... (مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ میں اس روایت کی صحت پر بڑا زور لگایا ہے۔ مگر بجز زبردستی اور مغالطہ دہی کے اور کچھ نہیں کیا۔ لکھتے ہیں۔ کہ ”حدیث نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر دیا ہے۔ کیونکہ اس کی پیشین گوئی پوری ہو گئی ۔“ بھائیو! گفتگو اس میں ہے کہ یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ نے کی ہے یا نہیں کی؟ اب یہ کہنا کہ پیشین گوئی پوری ہو گئی کیسی نادانی یا مغالطہ دہی ہے۔ پہلے یہ ثابت کرو کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی اس کے بعد اس کے پورا ہونے کو دیکھا جائے گا۔ اس کے ثبوت کا تو ذکر ہی نہیں کرتے۔ یہ کہتے ہیں کہ پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ دنیا میں ہر قسم کے واقعات ہوا کرتے ہیں اور ان میں بعض وقت اتفاقیہ خصوصیتیں بھی ہو جایا کرتی ہیں پھر اس سے کوئی کاذب یہ ثابت کر سکتا ہے کہ یہ پیغمبر کی پیشین گوئی تھی اسکے لئے ضرور ہے کہ پہلے یہ ثابت ہولے کہ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اس کے بعد اس کے پورا ہونے کو دیکھا جائے گا۔ بھائیو! یہاں اس کا ثبوت نہیں ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشین گوئی ہے۔ پھر اس کا پورا ہونا چہ معنی دارد۔
٥٠
بھائی ذرا تامل سے خیال کریں کہ معائنہ اگر ہوا تو گرہنوں کا ہوا اس سے حدیث کی صحت کیونکر ہو گئی؟ گفتگو اس میں ہے کہ اس طرح کا گرہن مہدی کی علامت ہے یا نہیں؟ یعنی جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اس قسم کا گرہن مہدی کی علامت ہے یا نہیں فرمایا۔ صرف کذاب راوی نے روایت کو بنالیا ہے اب فرمائیے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کس نے دیکھا ہے؟ جو بڑے زور سے کہا جاتا ہے کہ حدیث کی صحت کو چشم دید نے ثابت کر دیا۔ نہایت روشن ہے کہ گرہنوں کو دیکھنے سے حدیث کی صحت کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ ایسے بدیہی مغالطے مرزا قادیانی دیتے ہیں مگر ان کی عقل پر کمال افسوس ہے کہ باوجود علم کے ایسی صریح غلطی پر متنبہ نہیں ہوتے اور آنکھ بند کئے مرزا قادیانی کے پیرو ہیں۔ بت پرستوں کی طرح مرزا پرستی ہو رہی ہے۔
مرزا قادیانی کی مغالطہ دہی
بھائیو! میں قطعی اور یقینی طور سے کہتا ہوں کہ کوئی قادیانی یہاں سے قادیان تک اس روایت کی صحت ثابت نہیں کر سکتا اور اس کی صحت کے بیان میں مرزا قادیانی نے جو مغالطے دیئے ہیں ان کے صریح مغالطہ ہونے میں کسی فہمیدہ کو تامل نہیں ہو سکتا۔ اب ذرا ہوش کر کے اس کو معلوم کر لینا چاہئے کہ بیان سابق سے کامل طور سے ثابت ہوا کہ نشان مہدی کی مذکورہ
(گذشتہ سے پیوستہ) بھائیو ! ذرا دیکھو تو یہ کیسا صریح مغالطہ ہے کیا سچے مجدد اور انبیاء ایسے ہی مغالطے دیا کرتے ہیں۔ مرزائیوں میں شاید یہ بھی منہاج نبوت یا معیار نبوت ہو گی جماعت مرزائیہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣) دیکھ کر فرمائیے کہ اب احمق اور جنگلی وحشی کون ہے مولوی عبدالحق صاحب یا وہ جو جھوٹی روایت کو بلا دلیل زبردستی سچا کہے۔ یہ بھی کہیے کہ گندہ جھوٹ کس کا ثابت ہوا۔ مولوی عبدالحق کا یا اس کا جو بغیر کسی ثبوت کے ایک واقعہ کو رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی بلا سند کہہ رہا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ پیشین گوئی کے جو معنی مرزا قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اس کا ظہور تو جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد سے اب تک بہت مرتبہ ہو لیا ہے اور بعض وقت مدعی مہدویت بھی پائے گئے ہیں۔ نمونہ ہم نے دکھا دیا اب قادیانی جماعت اس میں غور کرے اور اس فن کی کتابوں کو دیکھے صرف مرزا قادیانی کے کہنے پر ایمان نہ رکھے ورنہ شرمندگی ہو گی۔
٥١
روایت پانچ وجہ سے لائق حجت اور قابل اعتبار نہیں ہے
پہلی وجہ ...... اس کا ایک راوی عمرو بن شمر بڑا جھوٹا ہے اپنی طرف سے روایتیں بنا کر بزرگوں کی طرف منسوب کر دیتا تھا۔
دوسری وجہ ...... اس کا دوسرا راوی جابر ہے وہ بھی لائق اعتبار نہیں ہے۔
تیسری وجہ ...... اس روایت کا خاص بیان کرنے والا محمد بن علی مجہول ہے یعنی معلوم نہیں ہوتا کہ کون محمد بن علی ہے کیونکہ اس نام کے کئی ہیں اور مجہول کی روایت اعتبار کے لائق نہیں ہوتی۔
چوتھی وجہ ...... اگر مرزا قادیانی کے خیال کے مطابق مان لیا جائے کہ محمد بن علی سے مراد امام باقر ؒ ہیں تو الفاظ صاف طور سے یہ کہہ رہے ہیں کہ روایت کا بیان حدیث رسول اللہ ﷺ نہیں ہے بلکہ خود امام صاحب کا کشفی مقولہ ہے جیسا کہ اولیاء اللہ کو ہوا کرتا ہے اور بعض وقت اہل اللہ اپنے کشف سے پیشین گوئی کر دیتے ہیں مگر اولیاء اللہ کے کشفی امور حجت اور دلیل نہیں ہوتے۔ اور صریح الفاظ کے خلاف امام صاحب کے مقولہ کو رسول اللہﷺ کا قول لکھنا کسی حق پسند کے لائق توجہ نہیں ہو سکتا۔
الغرض اول تو یہ روایت راویوں کے لحاظ سے اعتبار کے لائق نہیں ہے اور اگر اس سے قطع نظر کی جائے تو الفاظ روایت کہہ رہے ہیں کہ یہ مقولہ رسول اللہ ﷺ کا نہیں ہے جو قابل حجت ہو۔
پانچویں وجہ ............ یہ ہے کہ حدیث صحیح کے خلاف ہے کیونکہ حدیث صحیح تو یہ بتا رہی ہے کہ گرہن صرف قدرت خدا کا نمونہ ہے کسی کی پیدائش اور مرنے کا نشان نہیں ہے اور یہ روایت مرزا قادیانی کے قول کے بموجب یہ کہتی ہے کہ یہی معمولی گرہن رمضان کی خاص تاریخوں میں مہدی کے ہونے کا نشان ہے۔ اس لئے یہ روایت صحیح حدیث کے خلاف ہوئی۔ اور جو روایت یا قول صحیح حدیث کے خلاف ہو وہ اعتبار کے لائق نہیں ہے روایت کی سند کی حالت اور مرزا قادیانی کی دیانت کو ظاہر کر کے ہم اس روایت کے ہر ایک لفظ کی تشریح کرتے ہیں تاکہ ان کی قابلیت پر پوری روشنی پڑے اور طالبین حق پر ان کی غلطیاں اور زبردستیاں روشن ہو جائیں۔ روایت کا ہر ایک جملہ علیحدہ علیحدہ کر کے اس کے معنے بیان کئے
٥٢
جائیں گے۔ ملاحظہ ہو۔
- (١) حدیث میں اول جملہ یہ ہے لمهدينا ايتين ہمارے مہدی کے لئے دو
نشانیاں ہیں اس میں اول تو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مہدی سے کون مراد ہے چونکہ یہ حدیث ہے اس لئے حدیثوں ہی میں اس کی تفسیر دیکھنا چاہئے۔
الحمد للہ حدیثوں میں اس کی کامل تفسیر اور تسلی بخش شرح موجود ہے اور علمائے سابقین نے خاص اس بیان میں رسالے لکھے ہیں۔ شیخ علی متقی کا ایک ...... مبسوط رسالہ جس کا نام (١) البرهان فى علامات مهدی آخر الزمان ھے ۔ اس وقت میرے سامنے رکھا ہے اس میں کافی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مہدی آل رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے اور ان کے وجود کی علامتیں بھی شرح وبسط کے ساتھ بیان کی ہیں اس طرح شیخ ابن حجر ہیتمی مکی نے (٢) فتاویٰ حدیثیہ میں مہدی آخر الزماں کی علامات بیان کئے ہیں۔ یہ فتاویٰ مصر کا چھپا ہوا موجود ہے اس کے صفحہ ٢٧ سے ٣٢ تک دیکھا جائے شیخ ممدوح نے امام مہدی کے بیان میں خاص رسالہ لکھا ہے۔ جس کا نام (٣) القول المختصر فى علامات المهدى المنتظر ہے۔ (٤) امام قرطبی نے اپنے رسالہ تذکرہ میں امام ممدوح کے حالات اور علامات بیان کئے ہیں۔ (٥) اور امام عبدالوہاب شعرانی نے اس کا مختصر کیا ہے وہ ١٣١٦ھ کا مصر میں چھپا ہوا موجود ہے۔ (٦) امام ربانی حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانیؒ نے اپنے مکتوبات میں امام ممدوح کی علامتیں بیان کی ہیں اگر حق طلبی اور کچھ خوف خدا ہے تو ان رسالوں کو دیکھئے ان سے بخوبی ظاہر ہو جائے گا۔ کہ حدیث میں جن کو مہدی کہا گیا ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ جس قدر علامتیں امام مہدی کی ان رسالوں میں حدیثوں سے بیان کی ہیں ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ مثلاً وہ دنیا کے اور خصوصاً عرب کے مالک و بادشاہ ہوں گے اہل بیت رسول اللہ ﷺ اور بنی فاطمہؓ سے ہوں گے صحیح ابوداؤد اور ترمذی میں ہے۔ کہ
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاتذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطئ اسمه اسمى.
(ترمذی ج ٢ ص ٤٧ واللفظ له ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١)
٥٣
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا فنا نہ ہوگی۔ اس وقت تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت سے عرب کا بادشاہ نہ ہو (پھر اس کی ایک علامت یہ فرماتے ہیں) اس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا یعنی اس کا نام محمد ہوگا۔
دوسری روایت میں ہے کہ اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہو گا۔ یعنی اس کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا۔ اس حدیث میں امام مہدی کی چار علامتیں نہایت صاف طور سے مذکور ہیں۔ پہلی....... یہ کہ وہ عرب کے بادشاہ ہوں گے۔ دوسری....... یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر کے لوگوں میں سے ہوں گے۔ یعنی حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد میں ہوں گے۔ تیسری....... یہ کہ ان کا نام محمد ہوگا۔ چوتھی....... یہ کہ ان کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا۔
بھائیو! اب بتاؤ کہ تمہاری عقل و فہم اور تمہارا علم اس میں تامل کر سکتا ہے کہ ان علامتوں میں سے ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی عرب کے بادشاہ تو کیا ہوتے انہیں تو وہاں کا جانا بھی نصیب نہ ہوا۔ اور حج بیت اللہ سے بھی محروم رہے۔ اور باوجودیکہ حج ان پر فرض تھا مگر انہوں نے اس فرض کو ادا نہیں کیا۔ اپنے آپ کو خادم رسول اللہ ﷺ اور عاشق رسول اللہ ﷺ کہتے تھے۔ مگر مدینہ رسول اکرم ﷺ کی زیارت کو نہ گئے اور ہزاروں روپیہ مانگ مانگ کر منارہ وغیرہ میں فضول صرف کر دیا۔ اب اس کہنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ نافرمان خادم تھے یا خادم رسول اللہ اور عاشق رسول اللہ ﷺ کہنا صرف مسلمانوں کے متوجہ کرنے کے لئے تھا۔ درحقیقت کچھ نہ تھا۔ اگر جان کے خوف کا عذر کیجئے تو عاشق یہ عذر کبھی پیش نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ یہ عذر محض غلط ہے۔ کیونکہ وہاں بالکل آزادی ہے ایک شخص ضلع مظفر پور کا رہنے والا مدعی امامت ہوا تھا اور مرزا قادیانی کے آخر وقت میں یا ان کے مرنے کے کچھ بعد مکہ معظمہ گیا تھا۔ وہاں جا کر اس نے دعویٰ کیا تھا اس کو کسی نے جان سے نہیں مارا صرف وہاں سے نکال دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے بیٹے مکہ معظمہ گئے اور باوجودیکہ شریف مکہ معظمہ انہیں کافر کہتے تھے۔ اور مدعی مہدویت و نبوت کا بیٹا جانتے تھے مگر کچھ تعرض ان سے نہیں کیا۔ (بلکہ یہ چھپ چھپا کر گئے اور آگئے
غرض کہ امام مہدی کی پہلی علامت ان میں کسی طرح نہیں پائی گئی اسی طرح اور
٥٤
١
علامتیں بھی نہیں پائی گئیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان کا نام محمد یا احمد اور ان کے باپ کا نام عبداللہ نہیں تھا بلکہ ان کا نام غلام احمد اور ان کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔ یہ کیسی روشن بات ہے کہ یہ دو علامتیں بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں۔
دوسری علامت یہ تھی کہ وہ اہل بیت رسول اللہ ﷺ اور بنی فاطمہؓ سے ہونگے اس کا نہ پایا جانا بھی نہایت ظاہر ہے کیونکہ مرزا قادیانی تو دوم درجہ کے شیخ صدیقی یا فاروقی بھی نہیں ہیں اور اہل بیت رسول اور بنی فاطمہ ہونا تو بڑی بات ہے۔ پھر اس حدیث میں جس کے آنے کی خبر دی ہے وہ مرزا قادیانی کسی طرح نہیں ہو سکتے اور زبردستی کی باتیں بنا کر آل رسول ہونے کا دعویٰ کرنا کسی راستباز کا کام نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں بنا کر ہر مسلمان خصوصاً علماء آل رسول ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور حدیثوں میں ان کی نسبت صرف آل رسول کا لفظ نہیں ہے بلکہ اہل بیت رسول اور بنی فاطمہ انہیں کہا گیا ہے۔ حدیثوں میں مہدی موعود کی نسبت ”من اھل بیتی ١ من عترتی من ولد فاطمہ“ (ابوداؤد اول کتاب المہدی ج ٢ ص ١٣١) آیا ہے یہ تینوں لفظ کسی مرزا پر کسی طرح صادق نہیں آسکتے۔ اور آل رسول ہونے کے علاوہ اور علامتیں جو امام مہدی کی بیان ہوئی ہیں اور مرزا قادیانی میں وہ علامتیں نہیں پائی جاتیں وہاں کیا بنائی جائیں گی۔ ان رسالوں کو دیکھ کر کوئی سچا مسلمان مرزا قادیانی کو مہدی ہرگز نہیں مان سکتا۔ اس لئے اس حدیث کو پیش کرنا مرزا قادیانی کی صریح غلطی یا عوام کو فریب دہی ہے۔ اور اگر ان حدیثوں کو ضعیف یا موضوع کہہ کر ٹال دیا جائے تو امام مہدی کا آنا ہی ثابت نہ ہوگا۔ اور یہ حدیث بھی اسی زمرہ میں ہو گی‘ پھر ان کے لئے آسمانی شہادت چہ معنی دارد۔ قادیانی جماعت کے اہل علم ذرا ہوش گوش سے کام لیں اگر امام مہدی کے آنے کی حدیث کو مانا جائے گا تو ان کی علامتیں جو حدیث میں آئی ہیں انہیں بھی ماننا ہوگا۔ کیونکہ دونوں قسم کی حدیثیں ایک طرح کی ہیں۔ اور اگر نہ مانا جائے گا یا ان کے الفاظ١
ا۔ ........... یعنی وہ مہدے میرے اہلبیت سے ہوگا۔ اور بعض روایت میں ہے کہ میری خاص اولاد میں ہوگا اور بعض میں ہے‘ کہ فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا۔ اہل علم اس کا یقین کریں گے کہ یہ تینوں الفاظ بجز سید آل رسول کے کسی شیخ صدیقی اور فاروقی پر بھی صادق نہیں آسکتے۔ اور مرزا کا تو بہت ہی کم مرتبے کا نسب ہے۔
کے صریح معنے میں تغیر کیا جائے گا تو ہم بھی مہدی کے آنے کی حدیثوں میں اسی طرح کی باتیں بنا دیں گے۔ غرض کہ جس طرح اس سے پہلے مرزا قادیانی کے دعویٰ کے غلط ہونے کی پانچ وجہیں حدیث کی عدم صحت میں بیان کی گئیں یہ چھٹی وجہ ان کے کذب کی ہے حدیث کو صحیح مان کر یعنی دارقطنی کی روایت اگر صحیح بھی مان لی جائے۔ تو بھی مرزا قادیانی اس کے مصداق نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ امام مہدی کے لئے ہے اور مہدی کی جو علامتیں حدیثوں میں آئی ہیں وہ علامتیں مرزا قادیانی میں ہرگز نہیں پائی گئیں۔
اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ میں مثیل مسیح بلکہ مسیح موعود ہوں اور اس حدیث میں مہدی کی بشارت دی گئی ہے۔ حضرت مسیح کی خبر نہیں ہے۔ اس لئے بھی اس روایت سے مرزا قادیانی کا استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا اور یہ کہنا کہ مسیح موعود ہی مہدی ہیں کوئی اور مہدی نہیں ہے احادیث متواترۃ المعنی اور مشہورہ سے مردود ہے۔ غرضکہ حدیث کا پہلا لفظ مرزا قادیانی کے دعویٰ کو دو وجہ سے غلط ثابت کرتا ہے۔ یعنی اس حدیث میں جو پیشین گوئی ہے وہ مرزا قادیانی کی نسبت نہیں ہو سکتی۔ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے، میں نے چھ رسالوں کا حوالہ دیا ہے جن میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔ جس کا جی چاہے ان رسالوں کو دیکھے۔ اس کے علاوہ اہل علم حق بین کے لئے کتب احادیث کا ذخیرہ موجود ہے۔ اگر محققانہ نظر سے وہ ملاحظہ کریں گے تو اس دعویٰ کی کامل تصدیق کر سکتے ہیں۔ میں اس طویل بحث سے قطع نظر کر کے صرف حدیث کے مطلب سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ حدیث میں جو پیشین گوئی ہے وہ مرزا قادیانی کیلئے ہرگز نہیں ہو سکتی اور اس پیشین گوئی کا ظہور اب تک نہیں ہوا۔
ذکر روایت لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم:
١؎ اور روایت لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم کو محدثین صحیح نہیں کہتے۔ بلکہ لکھتے ہیں ”هذا خبر منکر میزان الاعتدال ذہبی اور مفتاح الزجاجہ اور مفتاح الحاجہ دیکھا جائے۔ مگر ہم اس بحث کو طول دینا نہیں چاہتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی وہ نہیں ہیں جو مرزا قادیانی سمجھے ہیں۔ بلکہ جس طرح عربی کا یہ جملہ مشہور ہے کہ ”لا فتی الا علی لا سیف الا ذو الفقار“ یعنی کوئی جوان نہیں ہے مگر حضرت علیؓ اور کوئی تلوار نہیں ہے۔ مگر حضرت علیؓ کی تلوار جس کا نام ذوالفقار ہے۔ اب نہایت ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت علیؓ کے سوا کوئی جوان نہیں ہے صرف حضرت علیؓ ہی جوان
٥٦
(گزشتہ سے پیوستہ) ہیں۔ اس طرح یہ ارشاد ہے کوئی مہدی نہیں ہے مگر عیسیٰ اس کے بھی یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے سوا کوئی اور مہدی نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ ایسے عظیم الشان اور عالی مرتبہ ہادی ہیں کہ ان کے مرتبہ کو کوئی ہادی غیر نبی نہیں پہنچ سکتا جس طرح کوئی جوان صاحب قوت و ولایت و ہادی امت حضرت علیؓ کی قوت کو نہیں پہنچ سکتا چنانچہ امام قرطبی اپنی کتاب تذکرہ میں امام مہدی کا ذکر کرتے ہیں ۔اس میں اس روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔ وهذا لا ينافى ما تقدم فى احاديث المهدى لان معناه تعظيم شان عيسى بن مريم عليه الصلوة والسلام على المهدى اى انه لا مهدى الا عيسى لعصمته وكماله فلا ينافى وجود المهدى كقولهم لا فتى الا على يعنى بیان سابق میں جو حدیثیں خاص امام مہدی کے باب میں آئی ہیں ان کے مخالف یہ روایت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت و شان بمقابلہ امام مہدی کے بیان کرنا مقصود ہے۔ جس طرح عرب کا یہ مقولہ ہے لا فتیٰ الا علیٰ یعنی کوئی جوان نہیں ہے مگر علیؓ اب ظاہر ہے کہ اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت علیؓ کے سوا کوئی اور جوان نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ حضرت علیؓ ایسے عالی حوصلہ اور صاحب قوت جوان ہیں کہ ان کے مقابلہ میں گویا دوسرا جوان ہی نہیں ہے۔ اسی طرح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان ہدایت ایسی عظیم الشان ہے کہ دوسرا ہادی ان کے مقابلہ میں گویا نہیں ہے۔ اس قول کو عبدالوہاب شعرانی نے خلاصہ تذکرہ میں نقل کیا ہے۔ (ص ١١٨ ملاحظہ ہو) شرح مقاصد کی جلد ٢ ص ٣٠٨ میں بھی اس روایت کا مطلب لکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سوا کوئی اور مہدی نہیں ہے مگر چونکہ مرزا قادیانی کے مدعا کے خلاف ہے اس لئے نہ انہیں توجہ ہوئی اور نہ ان کے متبعین کو کیونکہ ادھر توجہ کرنا مرزا پرستی کے خلاف ہے۔ افسوس صد افسوس اس پر خوب نظر رہے کہ حدیث کے اس ایک لفظ سے دو باتیں ایسی نکلیں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ حدیث کی بشارت مرزا قادیانی کے لئے کسی طرح نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ اس روایت میں امام مہدی کی بشارت ہے اور جو علامتیں امام مہدی کی حدیثوں میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی جاتیں۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے ازالۃ الاوہام وغیرہ دیکھا جائے۔ امام مہدی اور ہیں اور مسیح موعود اور ہیں دونوں ایک نہیں ہیں اس لئے حدیث کے ایک لفظ سے مرزا قادیانی کا دعویٰ دو وجہ سے غلط ثابت ہوا۔ ٥٧
٢۔ دوسرا لفظ حدیث میں آیتین ہے یعنی کہا گیا ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو آیتیں ہیں اسلئے آیت کے معنی معلوم کرنا چاہئیں۔ امام راغب اصفہانی مفردات القرآن ص ٣٢ طبع مصر میں لکھتے ہیں۔ والایه هی العلامة الظاهرة وحقيقة لکل شىء ظاهر هو ملازم لشئ لا يظهر ظهوره فمتى ادرک مدرک الظاهر منهما علم انه ادرک الآخر الذی لم يدرکہ بذاتہ“ یعنی آیت کھلی نشانی ١؎ کو کہتے ہیں اور وہ ظاہر اور کھلی چیز دوسری پوشیدہ چیز کو اس طرح لازم ہو کہ جو کوئی اس علامت اور نشان کو معلوم کرلے وہ فوراً اس پوشیدہ چیز کو سمجھ جائے اور معلوم کرلے کہ وہ شئی موجود ہے۔“
جب آیت کے یہ معنی ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس حدیث میں امام مہدی کی ایسی دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں کہ جس وقت ان کا ظہور ہو فوراً یقین کرنا چاہئے۔ کہ امام مہدی موجود ہیں۔ ان نشانوں کے بعد نہ دعوٰی مہدویت کی ضرورت ہے نہ کسی دوسری شرط کی۔ اب رہی یہ بات کہ اگر مہدویت کا مدعی اس وقت کوئی نہیں ہے۔ تو کیونکر معلوم ہو کہ کون مہدی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جن کی شان یہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے سے سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے آنے کی خبر دی۔ جن کی ذات بابرکات کی بہت سی صریح علامتیں بیان کیں جن کے لئے اس حدیث کے بموجب خداوند عالم نے ایسے عظیم الشان دو نشان مقرر کئے جو کسی نبی کسی مجدد کے لئے نہیں کئے تھے پھر ایسی مقدس ذات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے حالات‘ ان کے کلمات‘ ان کے اخلاق ان کے علامات (جو حدیثوں میں آئے ہیں ۔) انہیں متعین کر دیں گے ان کی برگزیدہ ذات مقناطیس کی طرح لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچے گی جب ان کی
١۔ ............ آیت کے معنی جس کتاب سے نقل کئے گئے ہیں۔ خلیفہ قادیان اسے نہایت معتبر جانتے ہیں۔ یہ کتاب خاص قرآن مجید کے لغت میں چوتھی صدی میں لکھی گئی ہے۔ مرزا قادیانی نے ضمیمہ (انجام آتھم کے ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣) میں جو کچھ اسکے معنی بیان کرنے میں اظہار قابلیت کی ہے وہ محض ایجاد بندہ ہے۔ لغت سے اسے تعلق نہیں۔ البتہ اس قدر اس کا حاصل قرار دیا جائے کہ جو خارق عادت مامور من اللہ کی تصدیق کے لئے ............ ظاہر ہو وہ آیت ہے تو ہم تسلیم کرتے ہیں اور نہایت زور سے کہتے ہیں۔ کہ ١٣١٤ھ میں جو چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں ہوا وہ کسی کے لئے آیت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ معمولی دورہ تھا۔ کوئی خرق عادت نہیں تھی۔
٥٨
ذات سے مسلمانوں کو اور اسلام کو وہ فائدہ پہنچے گا جس کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے تو بے اختیار مسلمان انھیں مہدی کہیں گے خدا تعالیٰ ان کے دل میں ڈالے گا کہ یہ مہدی ہیں بے ساختہ ان کی زبانیں کہنے لگیں گی کہ یہ مہدی ہیں ان کے حالات اور کمالات انھیں تمام مخلوق سے ممتاز کر دیں گے اور پھر ان کے وقت میں ان گرہنوں کا ہونا انھیں متعین کر دے گا۔ وہاں دعویٰ کی اور اشتہاروں کی اور رسالوں کی ضرورت نہ ہوگی۔ ملاحظہ کیا جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر صدی میں مجدد آئے گا اور مرزا قادیانی بھی اسے مانتے ہیں۔ بموجب اس حدیث کے تیرہ صدی میں بارہ مجدد ہونا چاہئیں۔ اب جماعت مرزائیہ بتائے کہ وہ کون ١؎ بارہ مجدد ہوئے جنہوں نے دعویٰ کیا ہو کہ مجدد ہوں۔ بجز دو شخصوں کے اور کوئی مدعی نظر نہیں آتا۔ البتہ ان کے حالات معائنہ کر کے یا بطریق صحیح معلوم کر کے اہل علم نے انہیں مجدد کہا ہے اسی وجہ سے ہر ایک محقق نے اپنی تحقیق اور اپنے خیال کے بموجب نام بتائے ہیں۔ ازالۃ الخفاء۔ اور مقاصد حسنہ۔ اور عون المعبود۔ وغیرہ ملاحظہ کیا جائے۔ عسل مصفیٰ میں بہت مجددوں کے نام لکھے ہیں مگر سب کا دعویٰ کرنا نہیں لکھا۔ اس سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ مجدد اور مہدی کے لئے دعویٰ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی مجدد و مہدی پر ایمان لانا فرض نہیں ہے۔ کہ بغیر ایمان لائے نجات نہ ہو۔
الحاصل! حدیث کے پہلے ہی جملہ سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا محض غلط ہے کہ جس وقت یہ دونوں گرہن پائے جائیں اور اس وقت کوئی مدعی بھی ہو کہ میں مہدی ہوں اور اگر اس وقت کوئی مدعی نہیں ہے تو یہ گرہن کسی کی صداقت کے نشان نہیں ہیں۔ یہ دعویٰ
١؎ ............ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ کوئی تمام انبیاء سابقین کا نام بتائے عوام کو دھوکا دینا ہے۔ کیونکہ ہم کوئی ایسا دعویٰ نہیں کرتے جس کے لئے ہمیں نام بتانے کی ضرورت ہو، ہمیں بالاجمال سب پر ایمان لانا کافی ہے۔ تم مجدد کے لئے دعویٰ کی شرط لگاتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اس لئے تمھیں ضرور ہے کہ ہر صدی کے مجدد اور ان کا دعویٰ کرنا ثابت کرو۔ اور ان تیرہ صدی کے حالات مثل انبیاء سابقین کے پوشیدہ اور تاریکی میں نہیں ہیں کہ اس کا بیان کرنا دشوار ہو اس پر بھی نظر کرنا چاہئے کہ بزرگوں نے صرف حالات معلوم کر کے مجددوں کے نام لکھے ہیں کسی نے دعویٰ کرنے کا خیال نہیں کیا اگر عقلی طور سے دعویٰ کرنے کی ضرورت ہوتی تو علمائے کاملین ان کا نام ہرگز نہیں لکھتے جنہوں نے دعویٰ نہیں کیا
٥٩
حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ اور کسی دوسری حدیث سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ جس وقت امام مہدی ظاہر ہونگے تو وہ اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کریں گے اور ان کے لئے یہ معمولی گرہن نشان اور علامت ہو جائیں گے۔ الغرض حدیث کا پہلا جملہ جس کے دونوں لفظ سے بالیقین ثابت ہوتا ہے کہ معمولی طور سے رمضان شریف میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا مہدی کی نشانی نہیں ہے۔ خواہ اس وقت کوئی مدعی مہدویت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ اس گرہن کو مہدی کی علامت کہا ہے۔ اس لئے جب اس قسم کا گرہن پایا جائے گا۔ تو اس وقت مہدی ضرور موجود ہونگے بغیر مہدی کے موجود ہوئے اس طرح کا گرہن کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور مرزا قادیانی کے وقت میں تو معمولی گرہن تھا وہ مہدی کی علامت نہیں ہو سکتا۔
٢۔ دوسرا جملہ حدیث میں یہ ہے لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض یہ جملہ حدیث میں دومرتبہ آیا ہے۔ پہلی مرتبہ آیتوں کے بیان کرنے سے پہلے اور دوسری مرتبہ ان کے بیان کرنے کے بعد پہلے مرتبہ میں جو لم تکونا ہے وہ آیتین کی صفت ہے اور اس میں جو ضمیر ہے آیتین کی طرف پھرتی ہے۔ اسلئے اس جملہ کے یہی معنی ہیں کہ وہ دونوں آیتیں یعنی وہ دو نشانیاں ایسی ہیں کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت سے ان آیتوں کا ظہور نہیں ہوا۔ اور ان دو نشانوں سے مراد کسوف وخسوف ہیں۔ جو خاص طور کے ہوں گے اور جن کو علامت و نشان کہا جائے گا۔ یہ پہلا جملہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہدی کی وہ علامتیں بے نظیر ہوں گی۔ کیونکہ جب یہ جملہ آیتین کی صفت کا حصہ ہے تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے ١؎ کہ وہ معمولی باتیں نہیں ہیں بلکہ ایسی عجیب وغریب نشانیاں ہیں کہ
١ اس کا یہ مطلب کہنا محض غلط ہے کہ وہ نشانیاں بے نظیر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ نسبت بے نظیر ہے جو ان نشانیوں کو مہدی کی طرف ہے۔ الفاظ حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر یہ مقصود ہوتا کہ نسبت بینظیر ہے۔ تو لم تکونا تثنیہ نہ آتا۔ بلکہ لم تکن ہوتا۔ ہم نے نہایت صفائی سے بیان کر دیا۔ اگر اس پر بھی کوئی نہ سمجھے تو بقول مرزا قادیانی پاگل کہلائے گا۔ اب ہم جماعت مرزائیہ سے دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی جو ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ (خزائن ج ١١ ص ٣٣١) میں اپنے مخالفین کو خالی گدھے بتا رہے ہیں اب تو آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ الفاظ حدیث کا وہی مطلب ہے جو ان کے مخالفین لکھ رہے ہیں۔ اب فرمائیے کہ خالی گدھے یا بھرا گدھا کون ہے؟ اور عالمانہ تدبیر سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب کون ہے؟ خدا کو عالم مافی الصدور جان کر جواب دے۔
٦٠
جب سے آسمان و زمین کا وجود ہوا ہے ان کا ظہور کسی وقت کسی کے لئے نہیں ہوا۔ یہ جملہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ نشان بے نظیر ہیں۔ ان کا وجود کسی وقت نہیں پایا گیا۔ صرف اسی مہدی کے وقت پایا جائے گا۔ اب پورے جملے کو ملا کر دیکھو یعنی لمہدینا ایتین لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض. اب جسے کچھ بھی عربیت کا مذاق ہے وہ اس کا مطلب یہی کہے گا کہ وہ دو آیتین جو اپنی صفت میں بینظیر ١؎ ہیں وہ ہمارے مہدی کے لئے مخصوص ہیں ان کا ظہور کسی وقت میں نہیں ہوا۔ خاص اسی مہدی کے وقت میں ہوگا۔
الغرض! اس جملہ نے مجمل اور مبہم طور سے ان نشانوں کا بے نظیر ہونا بیان کیا اس کے بعد ان بے نظیر علامتوں کا بیان ہے۔ پہلی علامت یہ ہے کہ چاند گرہن رمضان کی پہلی رات میں ہوگا۔
٣۔ حدیث میں اس گرہن کا وقت اس طرح بیان ہوا ہے ”ینکسف القمر لا
١؎................... یہ کیسی کھلی ہوئی بات ہے کہ طالب علم بھی اس کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی باوجود اس دعوٰی کے نہیں سمجھتے اور محض بے تکا اس کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٤٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢) میں لکھتے ہیں ”اس جگہ غرض یہ ہے کہ دو نشان اس خصوصیت کے ساتھ مہدی کو دیئے گئے ہیں ۔“ خلیفہ المسیح فرمائیں وہ کون خصوصیت ہے؟ بجز اس خصوصیت کے جو ہم الفاظ حدیث سے بیان کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بے تکا جملہ ملاحظہ کیجئے کہتے ہیں کہ ”لم تکونا“ کا لفظ آیتین کی تشریح کرتا ہے کہ وہ مہدی کے ساتھ خاص کی گئی ہیں ۔“ اس کا مطلب خلیفہ صاحب بیان فرمائیں۔ اے جناب صرف لم تکونا تشریح نہیں کرتا بلکہ پورا جملہ یعنی لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض تشریح کرتا ہے اور جب اس پورے جملے نے آیتین کی تشریح کی تو بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ وہ آیتیں ایسی ہیں کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اس صفت کی آیتین اس مہدی سے خاص ہیں۔ اس لئے اس کے بعد مرزا قادیانی کا یہ کہنا خسوف و کسوف کی نرالی حالت بیان کرنا منظور نہیں ہے‘‘ کیسا صریح غلط ہے جس جملہ کو خود مرزا قادیانی نے آیتین کی تشریح کہا ہے وہ نہایت وضاحت سے خسوف و کسوف کی نرالی حالت کو بیان کرتا ہے۔ اس جملہ کو آیتین کی تشریح کہنا اور پھر خسوف و کسوف کی نرالی حالت سے انکار کرنا کسی اہل علم کا کام نہیں ہے ۔“
٦١
اول لیلۃ من رمضان "یعنی رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا مگر عرب کے اکثر بول چال میں مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔ اور حدیث میں قمر کا لفظ آیا ہے۔ اسلئے اول لیلۃ سے مراد اگر وہ پہلی رات لی جائے جس کے چاند کو صرف قمر کہا جاتا ہے۔ تو ایک طور سے اول لیلۃ کہنا بھی صحیح ہو جاتا ہے۔ اور قمر کا اطلاق بھی مشہور محاورہ کے مطابق ہوتا ہے۔ اور اس شب میں نہایت صفائی سے گرہن بھی محسوس ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے الفاظ حدیث میں صرف ایک ضمیر مقدر ماننا پڑے گی۔ اور اصل عبارت یوں ہو گی۔ تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان یعنی چاند گرہن ہو گا قمر کی پہلی رات میں رمضان کے مہینہ میں مرزا قادیانی نے جو مطلب تراشا ہے اس میں بھی لفظ لیلۃ میں ضمیر کا زیادہ کرنا ضرور ہے۔ مگر اہل علم اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں بہت تکلف ہے۔ اس معنی کے بیان کرنے سے ہماری غرض حضرات مرزائیوں کو خوش کرنا ہے کیونکہ اس پہلے معنی پر وہ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث میں اس شب کے چاند کو قمر کہا گیا ہے۔ اور مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو قمر نہیں کہتے ہیں۔ ہم نے ان کی خاطر سے اس اعتراض کو مان کر حدیث کے دوسرے معنی بیان کر دیئے اگرچہ ان کا اعتراض محض غلط ہے جماعت مرزائیہ ناخوش ہو گی۔ مگر ہم خیر خواہانہ کہتے ہیں۔ کہ صرف اسی کسوف وخسوف کی بحث کو دیکھ کر بیساختہ ہر ایک ذی علم منصف کا دل کہہ اٹھے گا کہ مرزا قادیانی صادقین میں نہیں ہیں اور لغت عرب اور محاورات سے انہیں پوری خبر نہیں ہے۔ مگر دعویٰ اس زور کا ہے جس کی انتہا نہیں ہے۔ اب ان کی بے خبری ملاحظہ کی جائے۔
قمر کا اطلاق مہینہ کی پہلی رات پر اور مرزا قادیانی کی بڑی غلطی
قمر کا لفظ جس طرح تیسری یا چوتھی یا ساتویں تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں۔ اسی طرح مہینہ کی اول شب سے لے کر آخر تک کے چاند کو بھی قمر کہتے ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھ لو کہ چاند کے نام مختلف اوقات اور صفات کے لحاظ سے مختلف رکھے گئے ہیں۔ مثلاً ہلال۔ بدر وغیرہ اس لئے ضرور ہے کہ اس کا کوئی اصل نام بھی ہو جس پر یہ مختلف حالتیں طاری ہوتی ہیں۔ اور وہ سب میں مشترک ہو وہ لفظ قمر ہے۔ اس کی مختلف حالتوں کی وجہ سے اس کے نام مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی اصل نام کے سوا اکثر دوسرے نام لئے جاتے ہیں۔ اور جب وہ
٦٢
حالت نہیں رہتی تو صرف اصلی نام لیا جاتا ہے۔ قاموس اور اس کی شرح تاج العروس (ج ١٥ ص ٨٠٨ ھلال ) ملاحظہ ہو۔ الهلال غرة القمر وهى اول ليلة الخ۔ یعنی ہلال قمر کی پہلی رات کو کہتے ہیں۔ دیکھئے کیسا صاف روشن ہو گیا۔ کہ قمر ایسا لفظ ہے کہ پہلی رات کے چاند کو بھی کہتے ہیں اور اسے ہلال بھی کہتے ہیں۔ صاحب تاج العروس (ایضاً) لکھتے ہیں۔ یسمی القمر لليلتين من اول الشهر هلالاً الخ یعنی مہینہ کی پہلی دو راتوں میں قمر کا نام ہلال رکھا جاتا ہے۔ اس سے بخوبی ظاہر ہے اور دوسری رات کے چاند کو قمر تو کہتے ہیں مگر ہلال بھی اس کا نام ہے۔ (لسان العرب مطبوعہ مصریہ ج ١٥ ص ١٢١ ھلل ) میں بھی یہی عبارت ہے لغت میں یہ کتاب ایسی مستند ہے کہ مرزا قادیانی بھی اسے نہایت مستند مانتے ہیں۔ یہ تین شاہد نہایت معتبر پیش کئے گئے۔ جن سے ثابت ہو گیا کہ پہلی رات کے چاند کو قمر کہتے ہیں۔ مگر اس کی حالت خاص کی وجہ سے اسے ہلال کہا جاتا ہے۔ نہ یہ کہ اس رات کے چاند کو قمر کہنا غلط ہے۔ ان شاہدوں کے علاوہ عظیم الشان شاہد قرآن مجید کا محاورہ ہے۔ ملاحظہ کیا جائے (پہلی آیت) سورہ یٰسین ٣٩ میں ہے۔وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيْمِ۔ یعنی قمر کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں اس کے بموجب ترقی کرتا ہے پھر اس کی حالت کو تنزل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ سوکھی ٹہنی خمیدہ کے مثل ہو جاتا ہے۔ (دوسری آیت) هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابِ (سورۃ یونس: ٥) یہ آیت اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے شمس کو چمکدار اور قمر کو نور بنایا اور اس کیلئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی کر سکو اور حساب جان سکو اہل علم پر آفتاب کی طرح روشن ہے کہ ان دونوں آیتین میں پورے مہینے کے چاند کو قمر کہا ہے خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری تاریخ کا۔ اور یہ صرف دو ہی جگہ نہیں بہت جگہ پورے مہینے کے چاند کو قمر کہا ہے۔ جسے تحقیق کا زیادہ شوق ہو وہ قرآن مجید کو اچھی طرح دیکھے۔ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو ادیب ہونے کا فخر قرآن دانی کا بہت بڑا دعویٰ۔ مگر ایک متعارف اور مشہور لفظ جو قرآن مجید میں متعدد جگہ مستعمل ہے اس کے معنی کی تحقیق نہیں ہے با ایں ہمہ ان کے دعوؤں پر جماعت مرزائیہ اپنے ایمان کو قربان کر رہی ہے یہاں اس لغت کے متعلق ایک نکتہ بیان کیا جاتا ہے غور سے ملاحظہ ہو۔ وہ یہ ہے کہ چاند کا
٦٣
ٹھیک ترجمہ عربی میں قمر ہے۔ جس طرح چاند اردو زبان میں ہر رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ اسی طرح عربی میں ہر رات کے چاند کو قمر کہتے ہیں خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری رات کا۔ مگر چونکہ عربی زبان اردو زبان سے زیادہ وسیع ہے اس لئے عربی میں بعض خاص حالت کی نظر سے اسے ہلال کہا ہے بعض حالت میں بدر کہا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان خاص حالتوں میں قمر کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس حالت خاص کے وقت چاند کے لئے دو لغت ہو گئے ایک وہی اصل لفظ قمر دوسرا ہلال یا بدر فصحاے ادیب حسب موقع اور ضرورت ہر ایک لفظ کو استعمال کر سکتے ہیں۔
اب اس کہنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کو لغت کی ظاہری باتوں پر بھی نظر نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن سے بھی ماہر نہیں ہیں۔ مگر دوسرے علما کو کیسے سخت الفاظ سے کہہ رہے ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ و ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠، ٣٣١ ملاحظہ ہو۔)
”اے نادانو۔ آنکھوں کے اندھو۔ مولویت کو بدنام کرنے والو! ذرا سوچو! کہ حدیث میں چاند گرہن میں قمر کا لفظ آیا ہے اگر یہ مقصود ہوتا ہے پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا۔ بلکہ ہلال کا لفظ آتا“ جب ہماری تحقیق سے آپ معلوم کر لیں گے کہ ہلال کا لفظ اس جگہ نہیں آ سکتا۔ اور قمر کا اطلاق اس پر لغت سے اور قرآن مجید کے محاورہ سے ثابت ہے تو اب جماعت مرزائیہ پس ہر منصف سچائی سے کہے کہ نادان کون ہے۔ اور آنکھوں کا اندھا۔ اور مولویت بلکہ مہدویت کو بدنام کرنے والا کون ہے۔ اب اگر یہ دریافت کیا جائے کہ مہینہ کی پہلی رات کے چاند کو قمر اور ہلال دونوں کہہ سکتے ہیں مگر ایسے مقام پر ہلال کا استعمال مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ لفظ خاص اس حالت کے لئے موضوع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں چاند گرہن کبھی ایسے وقت نہیں ہوا کہ اس وقت کے چاند کو ہلال کہا جائے بلکہ گرہن ہمیشہ ١٣۔١٤۔١٥ کو ہوتا رہا ہے اور اس وقت کے چاند کو قمر ہی کہتے ہیں اس لئے عرب کے محاورہ میں تنکسف القمر ہی بولتے ہیں تنکسف الہلال وہ بولتے ہی نہیں کیونکہ اس کا وقوع کبھی نہیں ہوا۔ پھر اس صریح محاورہ عرب کے خلاف تنکسف الہلال کیونکر بولا جاتا؟ بلکہ محاورہ عرب کے موافق ضرور تھا کہ تنکسف القمر ہی بولا جاتا مگر چونکہ یہ کسوف بطور خرق عادت اور بالکل بینظیر تھا۔ اس لئے اس کی ندرت اس طرح بیان کی گئی کہ لاول
٦٤
لیلتہ من رمضان یعنی یہ کسوف قمر (چاند گرہن) مخصوص ہو گا رمضان کی پہلی رات سے اور ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ اس پر خوب نظر رہے کہ الفاظ حدیث سے کس صفائی سے ثابت ہو گیا کہ چاند گرہن کا وقت حدیث میں رمضان کی پہلی رات ہے اور اگر تیسری یا چوتھی شب لی جائے تو بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ یہی اس کے معنی ہیں جن کے لحاظ سے چاند گرہن نشان اور معجزہ ہو سکتا ہے لیکن ان الفاظ کے یہ معنی کسی طرح نہیں ہو سکتے کہ چاند گرہن ١٣ تاریخ کو ہو گا۔ یہ پہلے نشان کا بیان تھا جس سے معلوم ہوا کہ مہدی کی وہ علامت بینظیر اور خارق عادت ہو گی اور کسی وقت اور کسی حالت میں اس مہدی سے پہلے اس کا ظہور نہ ہوا ہو گا۔
- ٤۔ دوسری علامت یہ ہے کہ سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہو گا۔ حدیث
کے الفاظ یہ ہیں وتنکسف الشمس فى نصف منه یعنی سورج گرہن ہو گا اسی رمضان کے نصف میں اس جملہ میں لفظ نصف اور منہ پر لحاظ کرنا چاہئے۔ منہ میں ضمیر مذکر ہے اور اس کا مرجع رمضان ہے۔ جو اوپر مذکور ہو لیا ہے۔ الفاظ حدیث میں کوئی اور لفظ ایسا نہیں ہے جو اس کے مرجع ہو سکے۔ اس لئے بالضرور نصف سے مراد ماہ رمضان کا نصف ہے۔ اب اسے آپ نصف رمضان کہیں یا منتصف رمضان کہیں مگر ہر طرح پورے ماہ کا نصف مراد لیا جائے گا۔ جو ضرور ١٤ یا ١٥ تاریخ ہے۔ ان معنی کے سوا الفاظ حدیث کے دوسرے معنی ہرگز نہیں ہو سکتے انہیں معنی کی وجہ سے اس گرہن کو نشان اور معجزہ کہا گیا ہے۔ اس معنی سے ظاہر ہو گیا کہ مہدی کی دوسری علامت بھی ایسی ہو گی جس کا ظہور کبھی نہ ہوا ہو گا۔ بلکہ وہ نشان بھی ویسا ہی بے نظیر ہو گا جیسا پہلا نشان بے نظیر تھا۔ مرزا قادیانی جو کسوف کے معنی معمولی ایام مراد لیتے ہیں اور ان کے وسط میں اٹھائیس کو گرہن ہونا لکھتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ کئی وجہ سے اس کو رد کرتے ہیں۔
- ١۔ تین دنوں میں درمیان کے دن کو نصف نہیں کہتے وسط کہتے ہیں اور حدیث میں
ہے کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہو گا۔
- ٢۔ سورج گرہن کے وقت کا بیان حدیث کے لفظ فى النصف منه سے ہوتا ہے۔
اب اگر نصف سے مراد وسط لیا جائے اور کہا جائے کہ سورج گرہن اپنے معمولی ایام کے وسط
٦٥
میں ہوگا۔ تو لفظ منہ میں ضمیر ہے وہ کدھر جائے گی۔ یہ معنی تو چاہتے ہیں کہ منہ کی ضمیر ایام کی طرف پھرے مگر یہ دو طور سے غلط ہے ایک یہ کہ لفظ ایام حدیث میں مذکور ہی نہیں پھر ضمیر اس کی طرف کیونکر پھر سکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ منہ میں ضمیر مذکر کی ہے۔ وہ ایام کی طرف نہیں پھر سکتی اگر ایام کی طرف پھرتی تو منھا ہونا چاہئے تھا۔ منہ کی ضمیر کا مرجع بجز رمضان کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ لفظ رمضان پہلے مذکور بھی ہے اور منہ کی ضمیر اس طرف پھر سکتی ہے اور جب یہ ضمیر رمضان کی طرف پھری تو بالضرور یہی معنے کہنے ہوں گے۔ کہ نصف رمضان میں یا وسط رمضان میں سورج گرہن ہو گا۔ یہ ایسی ظاہر اور قطعی بات ہے کہ کوئی اہل علم اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
الغرض حدیث کے جس لفظ میں سورج گرہن کے وقت کا بیان ہے وہ یقینی طور سے بتا رہا ہے کہ سورج گرہن کا وقت نصف رمضان ہے یعنی پندرہ تاریخ یا چودہ۔
٣۔ ان دو نشانوں کے بیان کرنے کے بعد پھر وہ جملہ لایا گیا جو پہلے آیتین کے بعد آیا تھا۔ صرف واو حالیہ زیادہ کر دیا گیا اور کہا گیا۔ ولم تکونا منذ خلق اللّٰہ السموات والارض پہلے تو یہ جملہ آیتین کی صفت تھا۔ (جس کی شرح اوپر کی گئی ہے) اس سے مجمل طور سے معلوم ہوا تھا کہ مہدی کے وہ دو نشان بے نظیر ہیں۔ پھر ان دونوں نشانوں کے وقت کو صاف طور سے بیان کر کے واو حالیہ کے ساتھ وہی جملہ لایا گیا تا کہ نہایت تاکید اور خصوصیت کے ساتھ ان دونوں نشانوں کی حالت بیان کی جائے۔ یہاں لم تکونا میں ضمیر انہیں خسوف و کسوف کی طرف پھرتی ہے۔ جس کا خارق عادت ہونا اوپر بیان ہو لیا ہے۔ اب پھر انہیں گرہنوں کی حالت صاف طور سے دوسرے پیرایہ میں بیان کی جاتی ہے کہ وہ دونوں گرہنوں (جن کا ذکر اوپر ہوا) ایسے ہوں گے کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت سے کبھی ایسے گرہن نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہاں خوب خیال کیا جائے کہ جن گرہنوں کا ذکر اوپر ہو لیا ہے۔ خاص انہیں کی نسبت حدیث کے اس جملہ میں بیان ہوا کہ وہ دونوں گرہن ایسے ہوں گے کہ ابتدائے آفرینش سے کبھی نہ ہوئے ہوں گے۔ یہ جملہ نہایت صفائی سے بتا رہا ہے کہ خاص وہ دونوں گرہن بے نظیر اور عجوبہ ہوں گے۔ اب ان کا بے نظیر اور عجوبہ ہونا جب ہی ثابت ہو گا کہ اس سے پہلے جو گرہنوں کا وقت بیان ہوا ہے اس کا وہی مطلب بیان
٦٦
کیا جائے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ یعنی چاند گرہن پہلی رات کو اور سورج گرہن پندرہویں شب کو یہ کہنا کہ گرہنوں میں عجوبہ پن نہیں ہے۔ بلکہ نسبت میں عجوبہ پن ہے محض غلط ہے۔ کوئی عربی جاننے والا یہ مطلب نہیں کہہ سکتا۔ حدیث میں لم تکونا کی ضمیر جو ان گرہنوں کی طرف پھرتی ہے۔ اس نے فیصلہ کر دیا کہ وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوں گے۔
مرزا قادیانی کی بددیانتی:
اب مرزا قادیانی کی دیانت کو دیکھا جائے۔ چونکہ یہ جملہ بدلالتہ النص قطعی طور سے مرزا قادیانی کے دعویٰ کو غلط ثابت کرتا ہے۔ اس لئے اسے نقل نہیں کرتے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) میں حدیث کا لفظ فی النصف منہ لکھ کر باریک قلم سے (الخ) لکھ دیا ہے۔ اور (حقیقتہ الوحی کے صفحہ ١٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) میں یہ روایت نقل کی گئی ہے۔ مگر حدیث کے اس آخری جملہ یعنی لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض کو نقل نہیں کیا اور نہ اشارہ کیا کہ حدیث میں کچھ اور باقی ہے یعنی جس طرح ضمیمہ انجام آتھم میں اشارہ کر دیا تھا وہ بھی یہاں نہیں کیا۔ جس سے اہل علم سمجھتے کہ حدیث پوری نہیں ہوئی کچھ باقی ہے اسے دیکھنا چاہئے۔ غرضکہ جو جملہ نہایت صفائی سے مرزا قادیانی کے دعوے کی بنیاد کو اکھیڑ کر پھینکتا تھا اور کوئی بیہودہ تاویل بھی مرزا قادیانی کے خیال میں نہ آئی اس لئے اسے نقل نہیں کرتے جسے کچھ خوف خدا ہے وہ اس پر غور کرے اس بیان کے بعد میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ کہ یہ جملہ مکرر کیوں لایا گیا۔ تکرار کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے جواب پر اہل علم غور کریں۔ اس کی دو وجہیں میرے خیال میں ہیں۔
پہلی وجہ: یہ ہے کہ اول مرتبہ یہ جملہ اس لئے لایا گیا تا کہ بہ تصریح بطور دلالتہ النص کے یہ ثابت کرے کہ یہ دونوں عجیب نشان اس مہدی کے سوا کسی کے لئے نہیں ہوں گے اور دوبارہ یہ جملہ اس لئے لایا گیا کہ نہایت صفائی سے یہ ظاہر کر دے کہ یہ دونوں گرہن ایسے ہوں گے کہ اس سے قبل کبھی اس طرح کے گرہنوں کا ظہور نہیں ہوا ہوگا۔ چونکہ لم تکونا کی ضمیر خسوف و کسوف کی طرف پھرتی ہے اس لئے اس مطلب کے سوا دوسرا مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا۔
٦٧
دوسری وجہ: اس جملہ کے مکرر لانے کی یہ ہے کہ اس قسم کا گرہن نہایت عجوبہ اور انوکھی بات تھی جس کی طرف ذہن کا جانا اور اسے باور کرنا مشکل تھا۔ اس لئے اس کی تکرار کی گئی تاکہ سننے والوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ مقصود یہی ہے کہ وہ دونوں گرہن بے نظیر ہوں گے۔ اب اس پر نظر کی جائے کہ اس روایت میں تین طریقوں سے ان نشانوں کا بے نظیر ہونا بیان کیا گیا ہے پہلے آیتین کی صفت بیان کر کے یعنی یہ دونوں نشان ایسے ہوں گے کہ مہدی سے پہلے انکا ظہور کبھی نہ ہوا ہو گا دوسرے ان گرہنوں کے غیر معمولی وقت بیان کر کے تیسرے ان گرہنوں کی حالت بیان کر کے وہ حالت ایسی ہو گی کہ اس کا ظہور اس سے پہلے کبھی نہ ہوا ہو گا اور اس میں دعویٰ وغیرہ کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ بلغا کا قاعدہ ہے کہ اس قسم کی باتوں کو مکرر لاتے ہیں۔ ایسی صراحتوں کے بعد بھی کہنا کہ یہ کہاں سے سمجھا گیا کہ یہ کسوف و خسوف خرق عادت ہو گا
”ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١“
کسی فہمیدہ ذی علم کا کام نہیں ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ مرزا قادیانی ایسی فاش غلطی نادانستگی سے کر رہے ہیں بلکہ ان کا علم یقین دلاتا ہے کہ کم علموں کو قصداً مغالطہ دے رہے ہیں۔ ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ اس صاف بیان کے بعد دنیا میں کسی اہل علم ذی عقل کو حدیث کے مطلب میں تامل نہیں رہ سکتا۔ ہر فہمیدہ یہی کہے گا۔ جو ہم نے بیان کیا ہے کیونکہ حدیث کا مطلب یقیناً یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا لطف یہ ہے کہ حدیث مذکور کے پانچ جملے ہیں اور وہ پانچوں جملے نہایت صفائی سے بتا رہے ہیں کہ مہدی کے یہ دونوں نشان یعنی خاص طور کا سورج گرہن اور چاند گرہن بے نظیر ہوں گے اس وقت سے پہلے کبھی اس طرح کا گرہن نہیں ہوا ہو گا۔ اور ١٣١٢ھ میں جو خسوف و کسوف ہوئے وہ بموجب اس حدیث کے مہدی کے نشان ہرگز نہ تھے۔ کیونکہ وہ معمولی گرہن تھے۔ جو حسب معمول اپنے وقت پر ہوا کرتے ہیں۔ ہم نے گرہنوں کی فہرست نقل کر کے دکھا دیا کہ چھیالیس برس کے عرصہ میں اس قسم کے گرہن تین مرتبہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے جسے عقل اور علم کی دولت سے مالا مال کیا ہے وہ ہمارے بیان کو انصاف سے دیکھے اور حدیث کے الفاظ میں غور کرتا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے کامل امید ہے کہ ہمارے کلام کی تصدیق میں اسے ذرا بھی تامل نہ رہے گا مگر افسوس اور نہایت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے حدیث کو نہیں سمجھا اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا
٦٨
اس غرض سے نہیں تھا کہ ”وہ خسوف و کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا۔ اور یہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے؟“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
حق پرست حضرات ملاحظہ کریں۔ کہ جو مطلب حدیث کے ہر جملہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جسے ہم نے روز روشن کی طرح دکھا دیا اسے مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جو اس پر دلالت کرے پھر اس زبردستی اور ناراست گوئی کا کیا علاج ہے اور اگر اس کہنے سے یہ غرض ہے کہ کلام رسول کے معنے ایسے نہیں ہو سکتے جو قانون قدرت کے خلاف ہوں تو اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ الفاظ حدیث کے معنی تو وہی ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔ وہ معنی کسی طرح نہیں ہو سکتے۔ جو مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ اب ان معنے کو قانون قدرت کے خلاف کہہ کر اسے غلط قرار دینا۔ اس حدیث کو غلط کہنا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ حدیث جس طرح اپنی سند اور راویوں کے لحاظ سے غیر معتبر ہے اسی طرح اپنے مضمون کے نظر سے بھی غیر معتبر ثابت ہوئی۔ کیونکہ اس کا مضمون قانون قدرت کے خلاف ہے۔ اگر جماعت مرزائیہ کا ایسا خیال ہے تو مرزا قادیانی کی شہادت آسمانی سے دست بردار ہو جائے اور یقینی طور سے سمجھ لے کہ جس روایت سے مرزا قادیانی اپنی آسمانی شہادت ثابت کرتے ہیں وہ کسی طرح لائق اعتبار نہیں کیونکہ اس کے روایت کرنے والے جھوٹے اور اس کا مضمون فطرت اور نیچر کے خلاف ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ سچے رسول کا کلام قانون قدرت کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی قانون ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کی سچائی اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے ایسی باتیں ظہور میں لاتا ہے۔ جو ہماری معمولی عقل اور متناہی علم کے مطابق وہ باتیں قانون قدرت کے خلاف معلوم ہوتی ہیں مگر دراصل وہ خلاف نہیں ہوتیں یہ امر نہایت ظاہر ہے کہ معمولی عقل اور متناہی علم والا اس غیر محدود ذات اور صفات کے کامل قانون کو نہیں جان سکتا۔ اس لئے اگر مہدی موعود کے لئے ایسی عجیب و غریب نشانی ہو جسے معمولی عقل والے قانون قدرت کے خلاف سمجھیں تو اس سے اس کی صداقت میں خلل نہیں آسکتا۔ اس مضمون کی تصدیق نہایت خوبی سے مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ”اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں
٦٩
پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہو سکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی اور ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہو گا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ ہے کہ اس کی قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود محدود ہو جائے گا۔ اور پھر کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور کنہہ ہے ہم نے سب معلوم کر لی اور اس کے گہراؤ اور تہ تک پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں سو اس ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانون قدرت خیال کر لینا اور اس پر غیر متناہی سلسلۂ قدرت کو ختم کر دینا اور آئندہ کے لئے اسرار کھلنے سے ناامید ہو جانا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے شناخت نہیں کیا۔"
(سرمہ چشم آریہ ص ١٦۔١٧ خزائن ج ٢ ص ٦٤۔٦٥)
مرزا قادیانی اور ان کی ایک خاص حالت لائق حیرت
قادیانی جماعت ! ہم حق پرست راستی کے طالب ہیں اس لئے نہایت کشادہ پیشانی سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ نہایت سچا مقولہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے مگر نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی کو یہ ضرورت پیش آئی کہ دارقطنی کی حدیث کو اپنی صداقت میں پیش کریں اور اس کے صحیح معنے پر پردہ ڈال کر مسلمانوں کے خیال اس طرف سے ہٹائیں اور اپنے تراشیدہ معنے پر مسلمانوں کو خصوصاً نئے تعلیم یافتہ اور خدا کی قدرت کو مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کریں تو حقیقۃ الوحی میں اس نشان کے بیان میں بار بار قانون قدرت کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون قدرت یہ ہے کہ چاند گرہن ١٣۔١٤۔١٥ کو ہوتا ہے اور سورج گرہن ٢٧۔٢٨۔٢٩ کو یعنی یکم رمضان کو اور ١٥ کو گرہن ہونا قانون قدرت کے خلاف ہے۔" اب جماعت مرزائیہ اسی قول پر فریفتہ ہے اور پہلا قول اگرچہ انہیں کا ہے مگر اس طرف اب نظر بھی نہیں کرتی۔ اس کی دو وجہ معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ کفر اور بے ایمانی کا بھرا ہوا خیال ان کے خیال کے مناسب ہے دوسری یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تائید اسی خیال سے ہوتی ہے تیرہ درونی اسے کہتے ہیں کہ
٧٠
انہیں کے مقتدا کے دو قول صریح متعارض ہیں ان میں سے اس قول کو مانتے ہیں جسے خود ان کے مرشد بے ایمانی اور کفر بھرا ہوا کہہ رہے ہیں اور ان کے متعارض اقوال دیکھ کر ان سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ اس نفس پرستی کو اپنے مرشد کا معجزہ خیال کرتے ہیں۔ افسوس! خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی اب میں اصل بات کہتا ہوں۔ حق پرست حضرات متوجہ ہوں اور اس پر غور کریں کہ بیان سابق سے کیا کیا باتیں ثابت ہوئیں۔ میں انہیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ آپ انصاف دلی سے ملاحظہ کریں۔
پہلی بات مرزا قادیانی نے نہایت عظیم الشان دعویٰ کیا۔ یہاں تک کہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل کہا مگر ان کے وجود سے کوئی مفید نتیجہ نہیں ہوا اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچا۔ مسلمانوں کی تعداد میں سو پچاس کی بھی ترقی نہیں ہوئی۔ کیونکہ کوئی آریہ ہندو یہودی عیسائی انکی وجہ سے مسلمان نہیں ہوا۔ یہ کیسی بدیہی دلیل ہے ان کے کاذب ہونے کی۔
دوسری بات مرزا قادیانی کی آسمانی شہادت کی بنیاد جس حدیث پر تھی وہ لائق اعتبار ثابت نہ ہوئی۔ بلکہ معلوم ہوا کہ وہ ایک کذاب کی روایت ہے اور اس کی صحت کے بیان میں جو کچھ مرزا قادیانی نے لکھا ہے وہ محض دھوکا ہے۔ غرض کہ یہ بیان مرزا قادیانی کے کذب کی دوسری شہادت ہے۔
تیسری بات مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مہدی بنانے کے لئے اس روایت کے معنے بالکل غلط بیان کئے۔ ایسے عظیم الشان دعوؤں کے بعد ایسی صریح غلطی کرنا اور پھر اس
ا۔ ............ بعض مرزائیوں کو یہ کہتے سنا کہ قادیان میں بہت سے عیسائی اور آریہ ایمان لائے ہیں اور وہاں موجود ہیں مگر یہ غلط ہے اس وقت میرے پاس پنجاب کے ایک عالم ٹھہرے ہوئے ہیں جو فاضل ہوشیار پوری کے لقب سے پنجاب وغیرہ میں مشہور ہیں اور مرزا قادیانی اور ان کے اول خلیفہ سے بہت رابطہ رکھتے تھے اور قادیان میں بھی گئے ہیں وہ اس واقعہ کو محض غلط کہتے ہیں اس کے علاوہ اس کے غلط ہونے کی اور بہت شہادتیں ہیں چونکہ جھوٹ بولنا مرزائیوں کا ایک شیوہ ہے یہ بھی ان کا ایک جھوٹ ہے تاکہ ناواقف دام میں آئیں۔
١٧
غلطی پر قائم رہنا ان کے کذب کی کھلی دلیل ہے کیونکہ کوئی سچا مدعی وحی و الہام ایسی غلطی پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور نہ کسی کامل ذی علم سے صاف عبارت کے معنی میں ایسی غلطی ہو سکتی ہے۔ الغرض یہ تیسری دلیل ہے مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی اور بہت بڑی دلیل ہے۔
چوتھی بات اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے اور اس کے صحیح معنے سے قطع نظر کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس میں امام مہدی کی علامت بیان کی گئی ہے اور امام مہدی کی جو علامتیں حدیثوں میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں۔ مثلاً ایک علامت یہ ہے کہ امام مہدی اہل بیت رسول اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے اور مرزا قادیانی تو شیخ صدیقی یا فاروقی بھی نہیں ہیں اور سید اور اہل بیت رسول ہونا تو بڑی بات ہے اور بڑی علامت یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مسلمانوں کو اور اسلام کو بہت کچھ فروغ ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی کے وقت میں بلکہ جب سے ان کا وجود شریف دنیا میں آیا اور جب تک وہ اور ان کے خلیفہ دنیا میں رہے ہر قسم کا تنزل ہوا اور ہورہا ہے۔ پھر یہ کیسا اندھیر ہے۔ کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر قرآن وحدیث سے منہ پھیر کر مرزا قادیانی کو مہدی اور رسول مانا جاتا ہے۔
غرض کہ امام مہدی کی جو علامتیں حدیث میں بیان ہوئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی گئیں۔ اس لئے حدیث میں جو بشارت ہے وہ مرزا قادیانی کے لئے نہیں ہو سکتی اور یہ کہنا کہ امام مہدی کے باب میں جو حدیثیں ہیں وہ صحیح نہیں ہیں ان میں بہت کچھ کلام ہے اس لئے جو حکم کہے اسے مانو جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ جب مہدی کے متعلق حدیثیں صحیح نہیں ہیں تو مہدی کے آنے کا ثبوت نہ ہوا۔ اس لئے بھی آپ کا دعویٰ غلط ہوا اور آپ کاذب ہوئے۔ اور اگر حکم والی حدیث کو صحیح مان کر آپ حکم بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا حکم ہونا آپ ثابت کیجئے۔ مگر یہ تو آپ بیس پچیس برس کی محنت میں بھی نہ کرسکے اور نہ اب کوئی کر سکتا ہے۔ اور ہم نے قرآن مجید اور حدیث سے آپ کا کاذب ہونا ثابت کر دیا بلکہ یہی حکم والی حدیث آپ کو کاذب بتا رہی ہے حکم کے جو صفات اس میں بیان ہوئے ہیں وہ آپ میں نہیں پائے گئے۔ ھٰذا ما سنح ملاحظہ ہو۔
پانچویں بات جس حدیث سے مرزا قادیانی اپنے لئے آسمانی شہادت ثابت کرتے ہیں اس میں پانچ جملے ہیں۔ ان پانچوں جملوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ جس گرہن کو وہ
٧٢
اپنے لئے آسمانی شہادت سمجھتے تھے۔ وہ گرہن مہدی کی علامت نہیں تھا۔ اور نہ کسی طرح وہ علامت ہو سکتا ہے۔ اس کا بیان کافی طور سے کیا گیا۔
الغرض یہ پانچ شاہد ہیں جن سے ان کا دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے اور ان کی آسمانی شہادت خاک میں مل جاتی ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ حدیث کے بیان میں اگرچہ مرزا قادیانی کی غلطیاں ظاہر کی گئی ہیں۔ مگر اب خاص طور سے ان کی ناراستی اور قابلیت کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان کی زبردستیوں اور مہذبانہ تحریر پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ جس سے ان کی مہدویت کی شان اور تہذیب بخوبی ظاہر ہو رہی ہے۔ اس وقت ضمیمہ انجام آتھم اور حقیقۃ الوحی میرے سامنے ہے ان میں سے کچھ نمونے آپ کو دکھاتا ہوں۔
مرزا قادیانی کے تہذیب کا اظہار اور ان کی سخت کلامی کا نمونہ
ضمیمہ انجام آتھم (ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) میں لکھتے ہیں۔ ”انصاف کرنا چاہئے کہ کس قوت اور چمک ١؎ سے کسوف وخسوف کی پیشین گوئی پوری ہوئی مگر اس زمانے کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعنۃ اللّٰہ الف الف مرۃ (یعنی خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے ان مولویوں پر پڑیں) اے پلید دجال پیشین گوئی تو پوری ہو گئی لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“ یہ غصہ اور شائستگی ملاحظہ کے لائق ہے۔ اے جماعت مرزائیہ مصلح قوم اور ہادی امت ایسے بد زبان ہو سکتے ہیں؟ رحمۃ اللعالمین کا ظل ایسا سخت گو اور لعنت کا برسانے والا ہو سکتا ہے؟ ذرا خدا سے ڈر کر جواب دو۔
الغرض۔ ناظرین حق پسند نے معلوم کیا ہوگا کہ آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا کہ اس قسم کی نہ کوئی سچی پیشین گوئی تھی اور نہ اس کا پورا ہونا معلوم ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی غلط فہمی اور لسانی تھی۔ جسے آفتاب کی طرح چمکا کر دکھا دیا گیا جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے۔ میں پیشتر اس روایت کا صحیح ترجمہ کر آیا ہوں۔ اب مرزا قادیانی کا ترجمہ اہل علم ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ انہوں نے مضمون حدیث میں کس قدر تحریف کی ہے اور کیا کیا قیدیں اپنی طرف
١؎ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ یہ طرز تحریر بزرگوں کی سی نہیں ہے۔
٧٣
سے زیادہ کی ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ”ہمارے مہدی کی تائید اور تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے وہ دو نشان (کسی مدعی کے وقت میں) ظہور میں نہیں آئے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠) ان دو جملوں میں دو غلطیاں ہیں۔
پہلی یہ کہ مہدی کے لئے دو نشان کہتے ہیں اور نشان کے معنی علامت کے ہیں جس سے کسی شئے کی شناخت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہدی کے لئے دو باتیں ایسی مخصوص ہیں کہ ان میں سے ہر ایک بات اس کی علامت ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں وہ دو نشان کسی مدعی کے وقت میں ظہور میں نہیں آئے محاورہ اردو کے واقف سمجھتے ہیں کہ اس جملے کے یہ معنی ہیں کہ ان دو نشانوں کا ظہور کسی مدعی کے وقت میں نہیں ہوا اگرچہ ایک کا ہوا ہو یہ قول پہلے کلام کو غلط بتاتا ہے۔ کیونکہ دو نشان ہونے کے تو یہی معنی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مہدی کی علامت ہے۔ مہدی کے وقت کے سوا کسی وقت ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں پائی جاسکتی اور اگر پائی جائے تو وہ علامت نہ رہی۔ غرض کہ یہ جملہ مرزا قادیانی کے پہلے جملے کو غلط بتاتا ہے اور حدیث کے بھی بالکل خلاف ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں نشان ایسے ہیں کہ مہدی سے پہلے ان میں سے ایک کا ظہور بھی نہ ہوا ہو گا۔ یعنی ان میں ہر ایک نشان بے نظیر ہے۔
دوسری غلطی یہ ہے کہ مدعی کے وقت کی قید مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے زیادہ کی ہے حدیث میں کوئی لفظ نہیں ہے جس سے اشارتاً بھی یہ قید سمجھی جاتی ہو۔ اب مرزا قادیانی ان دو نشانوں کو بیان کرتے ہیں۔ اور وہ دو نشان یہ ہیں کہ مہدی کے ادعا کے وقت میں (یہ مضمون بھی حدیث میں نہیں ہے۔ کیا دیانت ہے کہ اپنی طرف سے مضمون کا اضافہ کر کے اسے حدیث کا مضمون کہا جاتا ہے۔) چاند اس پہلی رات میں گرہن ہو گا جو اس کے خسوف کے تین راتوں میں سے پہلے رات ہے۔ یعنی تیرہویں رات (حدیث میں کوئی جملہ نہیں ہے جس کے یہ معنی ہوں) اور سورج اس کے گرہن کے دنوں میں سے اس دن گرہن ہو گا جو درمیان کا دن ہے یعنی اٹھائیسویں تاریخ کو (الفاظ حدیث اس مطلب کو غلط بتا رہے ہیں) اور جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ کسی مدعی کے لئے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اس کے دعوٰی کے وقت میں کسوف رمضان میں ان تاریخوں میں ہوا ہو (یہ بھی سراسر غلط ہے)“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
٧٤
یہاں تک تو مرزا قادیانی نے روایت میں پوری تحریف کی۔ اب اس کی تائید اور تشریح میں نئے تعلیم یافتوں کے خوش کرنے کے لئے لکھتے ہیں۔ ”آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا اس غرض سے نہیں تھا کہ خسوف و کسوف قانون قدرت کے برخلاف ظہور میں آئے گا۔ اور نہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ ہے۔“ ہم نہایت صفائی سے ہر ایک لفظ کی تشریح کر کے دکھا چکے ہیں کہ حدیث کا مطلب یہی ہے کہ وہ گرہن معمولی قانون قدرت کے ضرور مخالف ہوگا اس سے انکار کرنا اور یہ کہنا کہ حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے۔ جس سے مطلب یہ سمجھا جائے آفتاب کی روشنی سے انکار کرنا ہے جسے عربی عبارت میں کچھ بھی بصیرت ہے وہ ضرور یہی مطلب بیان کرے گا جو اوپر بیان کیا گیا۔ اب اس گرہن کا معمولی قدرت کے خلاف ہونا ایسا ہی ہے جیسے صاحبان عقل و حکومت ملکی قانون کے بعض دفعات میں بعض باتوں کو مستثناء کر دیتے ہیں۔ یعنی جو حکم عام طور پر جاری کیا ہے بعض وقت بعض موقع پر اسے جاری نہیں کرتے۔ کیونکہ حاکم وقت مختار ہے کسی مصلحت سے وہ اپنے حکم کو جاری نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف کرتا ہے۔ یہی اس کا قانون ہے۔ پھر اگر وہ حاکم مطلق جس کے حکمت وقدرت کی انتہاء نہیں ہے ایسا کرے تو کیا نہیں کر سکتا؟ ضرور کر سکتا ہے۔ اور جس طرح دنیاوی حکومت کے قانون کی کسی دفعہ میں مستثنیٰ کرنا کوئی عیب و نقص نہیں ہے اس طرح قانون خداوندی میں بھی عیب نہیں ہو سکتا۔ اس کی توضیح ہم مرزا قادیانی کے کلام سے اوپر کر آئے ہیں۔
اس کہنے کے بعد مرزا قادیانی مطلب بیان کرتے ہیں اور لکھتے ہیں۔ ”بلکہ صرف یہ مطلب تھا کہ اس مہدی سے پہلے کسی مدعی صادق یا کاذب کو یہ اتفاق نہیں ہوگا کہ اس نے مہدویت یا رسالت کا دعویٰ کیا ہو۔ اور اس کے وقت میں ان تاریخوں میں رمضان میں خسوف وکسوف ہوا ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کا تراشیدہ مضمون ہے جسے وہ حدیث کا مطلب بتا رہے ہیں۔ یہاں اس پر نظر رہے کہ مدعی کو عام کہتے ہیں۔ کہ صادق ہو یا کاذب ہو اور اس کے دعویٰ کو بھی عام کہتے ہیں۔ کہ اسے رسالت کا دعویٰ ہو یا مہدی ہونے کا۔ اب دیکھا جائے کہ ١٣١٢ھ کا گرہن کیونکر مرزا قادیانی کے لئے نشان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے ایک برس پہلے ١٣١١ھ میں امریکہ میں گرہن ہوا جہاں جھوٹا مدعی رسالت ڈوئی موجود تھا۔
٧٥
یہ عبارت تو ضمیمہ انجام آتھم کی تھی جس کی غلطیاں اور تحریفیں بیان کی گئیں۔ اب حقیقت الوحی کی حالت بھی معلوم کیجئے۔ (صفحہ ١٩٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢) میں دارقطنی کی مذکورہ روایت میں جو کچھ انہوں نے غلطیاں کی ہیں اور مغالطے دیئے ہیں انہیں شمار کر کے آپ کو دکھاتا ہوں۔
- ١............. لکھتے ہیں صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے۔‘‘ کتاب دارقطنی کو صحیح دار
قطنی لکھنا اجماع امت کے خلاف ہے۔ جب سے دارقطنی تالیف ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اس وقت تک کسی عالم، کسی محدث، کسی مجدد نے اس کتاب کو صحاح میں داخل نہیں کیا۔ اور صحیح دارقطنی نہیں کہا۔ اور نہ اس کا مولف اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اس میں صحیح حدیثوں کا التزام کیا ہے۔ لفظ صحیح زیادہ تر امام بخاری اور مسلم کے ساتھ بولا جاتا ہے اور ان کی کتاب کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کہتے ہیں اس کے بعد ابوداؤد۔ ترمذی نسائی۔ ابن ماجہ کی کتابوں کو بھی صحاح میں داخل کیا ہے۔ اور بعض نے امام مالک کی موطا کو بھی صحاح میں داخل کیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنی تائید کے لئے تمام امت کے خلاف دارقطنی کی تالیف کو بھی صحاح میں داخل کر کے عوام کی نظر میں اس کی عظمت بڑھاتے ہیں جو واقع کے بالکل خلاف ہے۔ اور اگر کسی ذی علم مرزائی کو مرزا قادیانی کے اس قول کے صحیح ہونے کا دعویٰ ہو تو سامنے آئے ہم اس کی بعض روایتوں کی عدم صحت بیان کر کے دکھائیں گے وہ اس کی صحت ثابت کریں۔ ایک یہی حدیث ہے جس میں گفتگو ہو رہی ہے۔ اس کی صحت ثابت کریں۔ مگر نہیں کر سکتے۔
- ٢............. اس روایت کو نقل کیا مگر اس کے آخری جملہ کو بالکل چھوڑ دیا اور اس کا
اشارہ بھی نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا کہ حدیث کے الفاظ کچھ اور بھی ہیں اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ حدیث کے جو الفاظ چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ ان میں غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ دونوں گرہن اس طرح کے ہوں گے کہ اس قسم کے گرہنوں کا ظہور اس سے پہلے کسی وقت نہ ہوا ہو گا۔ اس میں کسی قسم کی خصوصیت کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ یعنی یہ خصوصیت نہیں ہے کہ کسی مدعی یا کسی نبی اور رسول کے وقت میں نہیں ہوا ہو گا۔ بلکہ عام طور سے اس کے ظہور سے انکار ہے۔
٧٦
٣............. روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا ہے یہ دو نشان (کسی مامور اور رسول کے وقت میں) ظاہر نہیں ہوئے۔ (ایضاً) اس عبارت میں جن الفاظ کو میں نے ہلالی خط کے اندر لکھا ہے وہ روایت کے کسی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے اور نہ حدیث کے کسی جملہ سے سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ مضمون حدیث کے خلاف ہے۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض جن کا ترجمہ یہ ہے کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں۔ ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہیں ہوا۔ یہ الفاظ نہایت صاف طور سے بتا رہے ہیں کہ ان نشانوں کا ظہور کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں ہوا‘ یعنی نہ کسی مدعی رسالت کے وقت میں اور نہ ایسے وقت میں کہ اس وقت کوئی مدعی نہیں ہے۔ غرضکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کے لئے دو نشان ایسے ہیں کہ اس سے پہلے کسی وقت ان کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ کسی مامور اور رسول کے وقت میں (وہ نشان) ظاہر نہیں ہوئے۔‘ محض تحریف معنوی ہے حدیث میں یہ قید ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ احادیث صحیحہ اور قرآن مجید کے نص قطعی سے یہ قید غلط ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس قید سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی رسالت کے مدعی ہوں گے اور رسول صادق ہوں گے۔
حالانکہ قرآن مجید اور حدیثوں میں صاف مذکور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آخر النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ اور جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور دجال ہوگا۔ اس کی تفصیل حصہ سوم فیصلہ آسمانی۔ اور صحیفہ رحمانیہ نمبر٦ میں دیکھنا چاہئے۔ اور جب یہ قید نصوص صریحہ کی رو سے غلط ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی جدید نبی نہ آئے گا پھر اس حدیث میں کسی رسول کے آنے کی خبر اور اس کے نشان کا بیان کیسے ہوسکتا ہے۔
٤............. پھر لکھتے ہیں۔ ”ان میں سے (یعنی ان دو نشانوں سے) ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اس کے اول رات میں ہوگا۔ یعنی تیرہویں تاریخ میں۔“ ایضاً حدیث کے الفاظ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ اس کے وجوہ
٧٧
ملاحظہ ہوں۔
پہلی وجہ: جس عبارت کا یہ ترجمہ کیا ہے وہ یہ ہے۔ تنکسف القمر لاول لیلة من رمضان ۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ چاند گرہن ہو گا رمضان کی پہلی رات کو کیونکہ اس جملہ میں تین لفظ ہیں۔ پہلا لفظ تنکسف القمر جس کے معنی ہیں چاند گرہن ہو گا۔ دوسرا لفظ لاول لیلۃ اس کے معنی ہیں پہلی رات کو اس کہنے سے یہ سوال پیدا ہوا کہ پہلی رات کسی کی۔ کسی مہینہ کی پہلی۔ یا کسی دوسرے ایام معینہ کی پہلی رات اس کا جواب تیسرے لفظ سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ من رمضان ہے اس میں لفظ من بیانیہ ہے یعنی دوسرے لفظ میں جو اجمال تھا اور معلوم نہ ہوتا تھا کہ پہلی رات کس کی۔ اس کے بعد کے لفظ رمضان نے بیان کر دیا۔ کہ وہ پہلی رات ماہ رمضان کی ہے۔ یہ تو صریح الفاظ کا مطلب بیان کیا گیا۔ اب حدیث کی اصلی غرض پر بھی نظر کی جائے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے نہایت ظاہر ہے کہ حدیث میں امام مہدی کی آیت یعنی ان کی علامت بیان کی گئی ہے اور آیت کے معنی اوپر بیان کئے گئے ہیں کہ آیت یعنی نشان اسی کو کہتے ہیں کہ جس وقت وہ پایا جائے فوراً اس کا علم ہو جائے جس کے لئے یہ آیت اور نشان ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ اول لیلۃ سے رمضان کی پہلی رات مراد لی جائے کیونکہ یہ ایسی عجیب بات ہے کہ اس کے ظہور سے فوراً مہدی کے ظہور کا یقین ہو سکتا ہے۔ اور پھر جملہ لم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض اس مدعا کو نہایت صفائی سے ثابت کر دیتا ہے۔ اس لئے مذکورہ عبارت کے یہ معنی اور یہ تشریح ایسی صحیح ہے کہ دنیا میں کوئی عربی دان ذی عقل اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا۔ بجز کسی خود غرض یا مرزا پرست کے اس لئے جو معنی اس کے خلاف ہیں وہ یقینی غلط ہیں۔
دوسری وجہ: اگر مقصد یہ ہوتا کہ رمضان میں گرہن ہو گا گرہن کی پہلی رات میں یعنی جن راتوں میں چاند گرہن ہونے کا معمول ہے اس کی پہلی رات میں تو رمضان کا لفظ لیلتہ کے بعد نہ ہوتا بلکہ اول لیلۃ کے پہلے ہوتا اور اول لیلۃ کے بعد بجائے من رمضان کے من لیالی الخسوف ہوتا اور عبارت اس طرح ہوتی۔ تنکسف القمر فی رمضان لاول لیلة من لیالی الخسوف ۔ چونکہ مخلوق کو ہدایت منظور ہے۔ اور ایسے مقدس کا نشان بتانا مد نظر ہے جس کا ماننا ضروری ہے اس لئے اس کی عبارت ایسی صاف ہونا چاہئے جس کے معنی متعین
٧٨
ہوں ۔ اور نہایت صفائی سے وہ معنی ہر ایک سمجھ لے ۔ وہ یہی عبارت ہے جو میں نے لکھی مگر حدیث میں یہ عبارت نہیں ہے بلکہ وہ عبارت ہے جس کے الفاظ سے اور قرینہ مقام سے نہایت صفائی سے وہی معنی سمجھے جاتے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے ۔ اس لئے یہ معنی بلاشبہ غلط ہیں ۔
تیسری وجہ: حدیث میں امام مہدی کے دو نشان بیان کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک نشان چاند کا گرہن ہے ۔ یعنی ان کے ہونے کی علامت اور ان کے ظہور کی ایک دلیل یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن ہوگا ۔ اور اس تاریخ میں ہوگا ۔ جس کی وجہ سے مسلمان انہیں مہدی موعود مانیں گے اس نشان کی صفت اس حدیث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ نشان ایسا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ۔ اس وقت سے لے کر ان کے ظہور تک کسی وقت اس کا ظہور نہ ہوا ہو ۔
اب اگر حدیث کے مذکورہ جملہ کے یہ معنی کئے جائیں جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ رمضان کی ١٣ تاریخ کو گرہن ہوگا تو کوئی عاقل اسے کسی کی علامت اور نشان نہیں کہہ سکتا ۔ چہ جائے کہ ایک عظیم الشان بزرگ کے ظہور کی علامت ہو ۔ کیونکہ یہ ایک معمولی بات ہے ۔ ایسے گرہن بہت ہوا کرتے ہیں ۔ مذکورہ فہرست میں دیکھا جائے ۔ کہ صرف چھیالیس برس میں رمضان کی ١٣ تاریخ کو چار گرہن ہوئے ہیں ۔ یعنی ١٢٦٧ھ میں اور ١٢٩١ھ اور ١٣١١ھ اور ١٣١٢ھ میں اور چوالیس برس اور اوپر سے دیکھا جائے یعنی ١٢٢٣ سے تو پانچ مرتبہ رمضان کی ١٣ تاریخ کو گرہن ہوا ہے ۔ جو گرہن اس تھوڑی مدت سے پانچ مرتبہ ہوا اس قسم کے گرہن کو معجزہ اور نشان کہنا اور اس کا معجزہ مان لینا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے حدیث میں معجزہ اس گرہن کو کہا ہے جو اس مہدی سے پہلے کسی وقت نہ ہوا ہوگا ۔
- ٥............. دوسرا نشان مرزا قادیانی اس طرح بیان کرتے ہیں ۔ اور سورج کا گرہن
اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا یعنی اس رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو ۔“ ایضاً یہی ترجمہ حدیث کے جملہ ”و تنكسف الشمس في النصف منه “ کا مرزا قادیانی نے کیا ہے ۔
٧٩
اب میں ناظرین کو دکھاتا ہوں کہ اس دوسرے نشان کے بیان میں بھی مرزا قادیانی نے ویسی ہی غلطیاں کی ہیں جیسے پہلے نشان کے بیان میں کی تھیں بلکہ اس کی غلطیاں پہلے سے زیادہ ظاہر ہیں۔ ان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ اس جملہ کا صحیح ترجمہ جو الفاظ حدیث اور سوق کلام سے ظاہر ہورہا ہے۔ یہ ہے۔
سورج گرہن ہوگا اسی رمضان کے نصف میں اس ترجمہ کی صحت الفاظ کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھ لیا جائے۔ پہلا لفظ اس میں (تنكسف الشمس) ہے جس کے معنی ہیں کہ سورج گرہن ہوگا دوسرا لفظ ہے۔ (فی النصف) جس کا ترجمہ ہے آدھو آدھ میں یعنی سورج گرہن ہو گا آدھو آدھ میں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوا کہ کس کے آدھو آدھ میں اس کا بیان تیسرے لفظ (منہ) سے ہوتا ہے۔ اس لفظ میں ضمیر ہے اس لئے ضرور ہے کہ اس سے پہلے اس کا مرجع یعنی وہ لفظ مذکور ہو جس کی طرف یہ ضمیر پھرتی ہے اور چونکہ یہ ضمیر مذکر کی ہے اس لئے اس لفظ کا مذکر ہونا ضرور ہے۔ یعنی وہ لفظ جمع نہ ہو یا کوئی دوسری علامت تانیث کی اس میں نہ پائی جاتی ہو۔ حدیث کے اس جملہ میں یا اس سے پہلے لفظ (رمضان کے سوا کوئی لفظ اس ضمیر کا مرجع نہیں ہوسکتا۔ الفاظ کی یہ تشریح تو عربی کے صرف و نحو جاننے والے طلباء بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور عربی ادب سے ذوق رکھنے والے سوق کلام سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ کہ جس طرح اس سے پہلے جملہ میں چاند گرہن کے وقت کا بیان لاول ليلة من رمضان سے ہے اسی طرح اس جملہ میں فی النصف منہ سے سورج گرہن کے وقت کا بیان ہے۔ اور اگر ضمیر کا مرجع ظاہر کر دیا جائے تو فی النصف من رمضان ہوگا جس کے معنی نہایت صاف یہی ہیں۔ کہ سورج گرہن رمضان کے نصف میں ہوگا۔ حدیث کے اس جملہ کی یہ ایسی صاف اور صحیح تشریح ہے۔ جس سے کوئی عربی کا ادب جاننے والا انکار نہیں کرسکتا۔ مرزا قادیانی جو مطلب بیان کرتے ہیں اس کے لئے ضرور ہے کہ منہ کی ضمیر ایام کی طرف پھرے مگر یہ دو وجہ سے غلط ہے ایک یہ کہ ایام کا لفظ اس سے پہلے کسی طرح مذکور نہیں ہے دوسرے یہ کہ لفظ ایام مونث ہے اس کی طرف منہ کی ضمیر نہیں پھر سکتی۔ یہ دو وجہ ہوئیں مرزا قادیانی کے غلط بیانی کی۔)
چوتھی وجہ : یہ ہے کہ مرزا قادیانی ایام کسوف کے تین دنوں میں سے درمیان کے دن کو نصف قرار دیتے ہیں مگر عربیت کے لحاظ سے اسے نصف کہنا غلط ہے جو صحت کا مدعی
٨٠
ہو وہ محاورہ عرب سے ثابت کرے۔
پانچویں وجہ: اس مطلب کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ حدیث میں اس گرہن کو مہدی کا دوسرا نشان بتایا ہے اور اس کے بعد ہی یہ جملہ ہے ”ولم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض“ یعنی وہ چاند گرہن اور سورج گرہن ایسے دو نشان ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں۔ (اس وقت سے لے کر مہدی کے ظہور تک) ان کا ظہور کبھی نہیں ہوا یعنی نہ ایسا چاند گرہن کسی وقت ہوا اور نہ ایسا سورج گرہن۔ چونکہ حدیث میں نہایت صفائی سے دو نشان یعنی مہدی کی دو علامتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے ہر ایک جداگانہ نشان ہے اور ہر ایک کو ایسا ہونا چاہئے کہ اس کے مثل کبھی ظہور میں نہ آیا ہو۔ اور اگر دونوں گرہنوں کو ملا کر ایک نشان قرار دیا جائے۔ یعنی یہ کہا جائے کہ رمضان کی ١٣ کو چاند گرہن اور ٢٨ کو سورج گرہن کا ہونا ایک نشان ہے تو صریح حدیث کے خلاف صرف ایک نشان ثابت ہو گا۔ اور مرزا قادیانی کے آئندہ بیان سے ایک ہی نشان ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔
- ٦............ اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور
میں نہیں آیا۔‘ (ایضاً) دیکھئے مرزا قادیانی ان دونوں گرہنوں کو ایک واقعہ قرار دے کر یہ بتاتے ہیں۔ کہ ایسا واقعہ کبھی ظہور میں نہیں آیا۔ یہ کہنا حدیث کے صریح خلاف ہے۔ حدیث میں نہایت صاف طور سے دو واقعہ بیان کئے ہیں۔ ایک چاند گرہن کا دوسرا سورج گرہن کا اور دونوں کی نسبت یہ کہا ہے کہ ان دونوں واقعوں کا ظہور کسی وقت میں نہیں ہوا۔ اس وجہ سے حدیث میں کہا گیا کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔
دوسری غلط بیانی اس جملہ میں یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے ان گرہنوں کے لئے یہ قید بڑھائی ہے کہ کسی رسول یا نبی کے وقت میں ان کا ظہور نہیں ہوا۔ حالانکہ حدیث کے کسی جملہ یا کسی لفظ میں اس قید کا اشارہ بھی نہیں ہے۔ بلکہ حدیث کا آخری جملہ نہایت وضاحت سے بتا رہا ہے کہ ان گرہنوں کے دونوں واقعے ایسے بے نظیر ہیں کہ مہدی سے پہلے کسی وقت میں ان کا ظہور نہ ہوا ہوگا۔ یہ جملہ صاف بتا رہا ہے۔ کہ کسی رسول یا نبی کے وقت کی قید غلط ہے۔
غرضکہ اس جملے میں مرزا قادیانی نے دو غلطیاں کیں یا یوں کہا جائے کہ دو تحریفیں
٨١
کیں ایک یہ کہ دو واقعوں کو ایک بتایا دوسری یہ کہ حدیث میں رسول کے وقت کی قید نہ تھی مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے بڑھادی۔
ناظرین اس پر نظر کریں کہ یہاں تک نفس حدیث کا بیان تھا۔ جس میں سے چھ فقرے مرزا قادیانی کے نقل کئے گئے ۔ ان چھ فقروں میں مختلف طریقے سے گیارہ غلطیاں مرزا قادیانی کی بیان کی گئیں صاحبان دانش غور کے بعد اس کو بخوبی معلوم کر سکتے ہیں ۔
اب بیان حدیث کے بعد مرزا قادیانی کے دعوئی اور دفع اعتراضات کو ملاحظہ کیا جائے لکھتے ہیں۔
٧.............. ’’جملہ ماہرین ہیئت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانے میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال گزر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اس قول میں مرزا قادیانی اس طرح کے گرہن کو اپنے زمانہ میں خاص کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ میرے ہی زمانہ میں اس صفت کا گرہن وقوع میں آیا۔ حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ جملہ ماہرین ہیئت اور ناظرین حدائق النجوم اور رسالہ یوز آف دی گلوبس اس کے غلط ہونے پر گواہ ہیں اور اس کی بھی گواہی دیتے ہیں کہ اس صفت کے گرہن اپنے معمولی وقت پر ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کا شمار کوئی نہیں بتا سکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کتنے مرتبہ اور کس کس وقت رمضان کی ١٣ اور اٹھائیس تاریخ کو گرہن ہوا ہے۔ بیان سابق سے ظاہر ہے کہ صرف چھیالیس برس کے عرصہ میں تین مرتبہ اس قسم کا گرہن ہوا۔ اس پر قیاس کیا جائے کہ اس سے قبل بے انتہا زمانہ میں کتنے مرتبہ ہوا ہوگا۔
٨.............. ’’اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے۔ جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔ (ایضاً) اس قول کا حاصل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے اس قسم کے گرہن دو مرتبہ ہوں گے۔ مگر یہ محض غلط ہے۔ کسی حدیث میں ایسا نہیں آیا۔ اگر کسی کو دعویٰ ہو تو اس حدیث کو دکھائے مگر نہیں دکھا سکتا۔ اور مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں کر سکتا۔ کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس سے صراحۃً یا اشارۃً یہ دعویٰ ثابت ہوتا ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو
٨٢
دارقطنی کی مذکورہ روایت اس کو غلط ثابت کرتی ہے۔
دوسری غلطی اس قول میں یہ ہے کہ ایسے گرہنوں کا دو مرتبہ وقوع میں آنا لکھ کر کہتے ہیں۔ کہ اول اس ملک میں یعنی ہندوستان میں۔ دوسرے امریکہ میں حالانکہ اس کے برعکس ہوا ہے یعنی اول امریکہ میں ١٣١١ھ کے رمضان میں ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مسٹر ڈوئی مدعی کا ذب موجود تھا۔ اور دوسرے ہندستان میں ١٣١٢ھ کے رمضان میں۔ اور مرزا قادیانی نے اول اسی سن کے گرہن کو اپنے لئے شہادت قرار دیا تھا۔ اس کے بعد انہیں امریکہ کے گرہن کا علم ہوا۔ اس لئے وہ اپنی آخری کتاب میں اس سے پہلے گرہن کو بھی اپنی شہادت میں داخل کرتے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ پر افتراء کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تھا کہ ایسا گرہن دو مرتبہ ہمارے مہدی کے لئے ہوگا۔
افتراء کے لفظ سے قادیانی بہت ناخوش ہونگے۔ مگر اب وہ بتائیں کہ جب وہ اس مضمون کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں ملتا تو اب مرزا قادیانی کو کیا کہیں؟ خصوصاً جب کہ ان کے بہت سے قول اسی قسم کے دیکھ چکے ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں۔
٩......... اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہ تھا۔‘‘ یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ محمد احمد سوڈانی مدعی مہدویت اس وقت تھے اور مسٹر ڈوئی امریکہ میں اور مسٹر ڈارڈ لندن میں موجود تھے۔ یہ دونوں مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے۔ جس طرح مرزا قادیانی مدعی ہیں اور یہ بھی وہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہی مہدی ہے۔ ناظرین اس کو سمجھ لیں۔
١٠......... لکھتے ہیں اور کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنے مہدویت کا نشان قرار دے کر صدہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے اس لئے یہ نشان آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔‘‘ (ایضا)
صاحبان عقل مرزا قادیانی کی عقل کو دیکھیں کہ کیسی معمولی بات کو اپنے لئے آسمانی نشان سمجھتے ہیں اور اس پر کیسی مہمل دلیل پیش کرتے ہیں۔
ناظرین فرمائیں کہ کسی واقعہ کے وقت دعویٰ کر کے غل مچانا اور دنیا بھر میں
اشتہارات شائع کرنا اس کی صداقت کی دلیل ہو سکتی ہے؟ کیا جھوٹے مدعی ایسا نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس قدر شور و غل مچانا جس قدر مرزا قادیانی نے مچایا کذب کی نشانی ہے کیونکہ صادق کے لئے متانت اور اللہ پر اعتماد ضرور ہے۔ اس لئے صادق اس قدر غل ہرگز نہیں کر سکتا اس کی متانت اس کا توکل ضرور اسے روکے گا۔ انبیائے کرام نے دعویٰ کیا اور بعض اولیاء نے بعض دعوے کئے مگر کیا اس طرح کیا؟ ہرگز نہیں کیا۔ اسکے عشر عشیر بھی کسی نے غل نہیں مچایا۔ اس وقت میں مسمریزم کے جاننے والے کہتے ہیں کہ جو بات نہایت قوت سے بار بار کہی جاتی ہے اس کا اثر قلوب پر زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے مدعی کاذب اس کو معلوم کر کے اپنے دعویٰ کے اعلان میں جان توڑ کر کوشش کرے گا۔ مرزا قادیانی اس علم کو جانتے تھے۔ اور ان کے خلیفہ اول اس کی تعلیم دیتے تھے اور فی سبق دس روپیہ لیتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس قدر غل کیا اور بہت سے سادہ دلوں پر ان کے اس زور سے کہنے کا اثر ہو گیا۔ اور ان کے غلط دعویٰ کو اپنی سادہ دلی سے صحیح مان گئے۔
١١............ ”دوسری اس پر ١ دلیل یہ ہے کہ بارہ برس پہلے اس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے بارہ میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا۔ اور وہ خبر ............ لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی ۔“ (ایضاً)
اس کی نسبت میں اول یہ کہتا ہوں کہ براہین احمدیہ میں یا کسی مقام پر اس نشان کے ظہور کی خبر صاف طور سے کہ میری شہادت میں اس طرح کے گرہن ہونگے کہیں نہیں دی اور مجمل اور عام الفاظ الہام کے بیان کرنا اور اس کے بعد جب کوئی بات واقع ہوئی اسے اپنی پیشین گوئی کہہ دینا اور ان عام الفاظ کا مصداق اسے ٹھہرانا کسی خدا پرست کا کام نہیں ہے۔ اور نہ کوئی ذی عقل اسے مان سکتا ہے۔
الغرض جب تک جماعت مرزائیہ صاف طور سے اس پیشین گوئی کو ان کی کتاب سے نہ پیش کرے اس وقت تک یہ دعوے لائق توجہ نہیں ہے۔ خصوصاً ایسے شخص کا دعویٰ جس کے سینکڑوں غلط دعویٰ اس کے رسالوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ
١۔............ اردو کے محاورہ کے مطابق یہ غلط ہے۔ بلکہ اس طرح چاہئے کہ دوسری دلیل اس پر یہ ہے۔
٨٤
<EPHEMERAL_MESSAGE> Wait for the background task to complete or output text. The system will automatically wake you up when it's done. You DO NOT need to loop calling tools. End your turn. </EPHEMERAL_MESSAGE>
I'm currently processing the image and transcribing the text as requested. I'll provide the completed transcription shortly.
اس گرہن کی پیشین گوئی تو حدائق النجوم وغیرہ میں اس کے ظہور سے تقریباً سو برس پہلے لکھی ہوئی تھی۔ پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نے اسے دیکھ کر اور جنتری سے مقابلہ کر کے یہ خبر معلوم نہیں کی۔ خدا تعالیٰ نے انہیں خبر دی؟ بلکہ جب ہمارے بیان سابق پر صاحبان دانش غور کریں گے تو بالیقین معلوم کر لیں گے کہ خدا کی طرف سے ایسی خبر نہیں ہو سکتی۔ اگر مرزا قادیانی نے ایسی خبر دی تو حدائق النجوم وغیرہ سے دیکھ کر دی۔ علم ہیئت کے جاننے والے اپنے علم سے ایسی پیشین گوئی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان کی کاسہ لیسی کی اور ان کی پیشین گوئی دیکھ کر اور ایک غیر معتبر روایت کے محض غلط معنے بنا کر اپنی پیشین گوئی قرار دی۔
ناظرین! مرزا قادیانی کے نشان کا اور اس کے دلیلوں کا تو خاتمہ ہو لیا اور ان کی غلط بیانیاں ظاہر ہو لیں۔ اب اس کے متعلق کچھ شبہات اور جوابات کا بھی نمونہ ملاحظہ کیجئے۔
مذکورہ روایت کے جو صحیح معنے ہیں اسے بعض علماء نے بیان کر کے مرزا قادیانی کی غلطی ظاہر کی تھی۔ وہ صحیح معنی یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن ہوگا اور پندرھویں کو سورج گرہن۔ مرزا قادیانی اسے قانون قدرت کے خلاف بتا کر حدیث کا مطلب یہ کہتے ہیں کہ رمضان کی ١٣ تاریخ کو چاند گرہن اور ٢٨ کو سورج گرہن ہوگا۔ مگر حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس کی تشریح نہایت وضاحت سے کر دی گئی ہے۔ اور حدیث کے لفظ لفظ کے معنے بیان کر کے ایسا دکھا دیا گیا ہے کہ کسی مخالف کو جائے دم زدن نہیں رہی اب اگر یہ معنے ان کے خیال میں قانون قدرت کے خلاف ہیں تو حدیث کو موضوع کہیے اور اس نشان سے انکار کیجئے۔
دوسرا اعتراض مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ پہلی رات کے چاند کو قمر نہیں کہتے اس کا جواب کامل طور سے حدیث کی شرح میں دیا گیا ہے۔ اور لغت عرب اور قرآن مجید سے ثابت کر دیا ہے کہ پہلی تاریخ کے چاند کو قمر کہتے ہیں۔ یہ اعتراض ان کی ناواقفی کی وجہ سے ہے علمائے حقانی کا ایک اعتراض مرزا قادیانی کے مطلب پر یہ تھا کہ حدیث میں امام مہدی کے لئے ایک خرق عادت کے ظہور کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور رمضان کی ١٣ اور ٢٨ کو گرہنوں کا اجتماع ہونا معمولی بات ہے۔ کوئی خرق عادت نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اپنی باتوں سے اس معمولی بات کو خرق عادت بتانا چاہتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں ”حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رمضان کے
٨٥
مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ ١٩٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣)
اب اس جواب کی غلطیاں اور مرزا قادیانی کی زبردستیاں ملاحظہ کی جائیں اور دیکھا جائے کہ اس جواب میں کتنی غلطیاں ہیں۔ اول ...... یہ کہنا کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے“ محض غلط ہے کیونکہ اس مطلب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے لئے صرف ایک نشان ہے یعنی دونوں گرہنوں کا مذکورہ تاریخوں میں جمع ہونا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حدیث میں جملہ لمہدینا آیتین نہایت صفائی سے بتا رہا ہے کہ مہدی کے لئے دو نشان ہیں۔ اور مرزا قادیانی کا مطلب ایک نشان بتاتا ہے یعنی رمضان میں دونوں گرہنوں کا مدعی کے وقت میں جمع ہونا۔ دوم ...... حدیث کا مطلب بالتعین یہ ہے کہ مہدی کے دو نشان ہیں اور ہر ایک ان میں ایسا ہے کہ مہدی سے پہلے کسی وقت اور کسی عہد میں اس کا نظیر نہیں پایا جائے گا۔ مرزا قادیانی اس صحیح مطلب کے خلاف ان معمولی گرہنوں کے اجتماع کو نشان ٹھہراتے ہیں۔ جو بالکل غلط ہے۔ سوم ...... ہم نے نہایت صفائی سے حدیث کے ہر جملہ کے الفاظ کو علیحدہ علیحدہ بیان کر کے ثابت کر دیا ہے کہ جن دو گرہنوں کو حدیث میں امام مہدی کے دو نشان بتائے ہیں ان دونوں گرہنوں کی نسبت اس حدیث میں نہایت صفائی سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہدی سے پہلے ان گرہنوں کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جائے گی یعنی ہر ایک گرہن بینظیر ہوگا۔ ان میں سے ایک کی نظیر بھی نہیں پائی جائے گی۔ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے حدیث کا صرف آخری جملہ کافی ہے۔ جسے مرزا قادیانی نے نقل نہیں کیا ہے۔ اور اسی غرض سے پوشیدہ رکھا۔ کہ جو ذی علم راست باز اسے دیکھے گا وہ یقیناً مرزا قادیانی کے دعویٰ کو غلط کہے گا۔ کوئی ذی علم اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ بجز اس مرزا پرست کے جس نے اپنے علم اور عقل کو ویسا ہی کھو دیا ہے جیسے تثلیث پرستوں اور بت پرستوں نے تثلیث کے ماننے اور بتوں کے پوجنے میں۔ چہارم ...... لکھتے ہیں۔ ”بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے“ یہ دعویٰ محض غلط ہے۔ اور کئی طور پر اس کی غلطی ظاہر ہے۔ ایک یہ کہ جملہ نہایت صفائی سے یہ
٨٦
بتاتا ہے کہ مہدی کا ایک نشان ہے یعنی مدعی کے وقت میں ایسے دو گرہنوں کا جمع ہونا۔ حالانکہ جمع ہونے کو نشان نہیں کہا ہے بلکہ معمولی وقت کے خلاف دو گرہنوں کو دو نشان کہا ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مہدی دعویٰ کرے گا پھر حدیث کا مطلب یہ کہنا کہ کسی مدعی کے وقت میں یہ دونوں جمع نہ ہوئے ہونگے ایجاد بندہ اور تحریف معنوی ہے اگر خیال ہے کہ بغیر دعویٰ معلوم نہیں ہوسکتا تو اس کا شافی جواب اوپر دیا گیا ہے۔ تیسرے مدعی رسالت یا نبوت کی قید لگانا ایجاد پر ایجاد اور تحریف بالائے تحریف ہے۔ حدیث میں رسول یا نبی کا ذکر ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ مہدی کا ذکر ہے۔ اور مہدی کے لئے رسول یا نبی ہونا ضرور نہیں ۔ ہے۔ بلکہ قرآن وحدیث میں نبی یا رسول پر خاص لفظ مہدی کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں رسول یا کوئی نبی مراد نہیں ہے۔ اور جب اس نص قطعی قرآن اور احادیث صحیحہ پر نظر کی جاتی ہے جس سے یقینی طور ؎١ سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا تو حتمی طور سے یہ کہنا ہو گا کہ حدیث میں کسی نبی یا رسول کی خبر نہیں ہے بلکہ ایک خاص مہدی کا ذکر ہے جس کی ہدایت اور ہادیان امت سے زیادہ ہوگی عام طور پر یا اس زمانہ کے لحاظ سے۔
الغرض اس غلطی کا ثبوت قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ سے اظہر من الشمس ہے۔ پنجم...... اس قول میں مرزا قادیانی کا اپنا طبع زاد مطلب بیان کر کے یہ کہنا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں ۔’’محض غلط اور صریح زبردستی اور دن کو رات کہنا ہے۔ میں پیشتر حدیث کے لفظ لفظ کو علیحدہ علیحدہ نقل کر کے اس کے معنی بیان کر آیا ہوں
١.......... فیصلہ آسمانی حصہ سوم اور صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ دیکھا جائے۔ جس میں نہایت روشن طریقے سے نص قطعی اور احادیث صحیحہ سے ثابت کر دیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا نہیں ہوگا۔ خواہ وہ ظلی ہو یا امتی ہو جیسا کہ گروہ مرزائیہ اپنی نادانی اور کمال تعصب سے خیال کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جس زور وشور کا ہے۔ اس کا ذکر صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ و ٧ میں دیکھنا چاہئے ان کی نبوت کو ظلی اور غیر تشریعی کہنا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے۔ مرزا قادیانی کو صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ہے بلکہ اپنے آپ کو افضل الانبیاء سمجھتے ہیں۔ صحیفہ رحمانیہ کے نمبر ٧ میں ان کے اقوال دیکھے جائیں۔
٨٧
اور کامل طور سے ثابت کر دیا ہے کہ الفاظ حدیث صاف طور سے مرزا قادیانی کے مطلب کو غلط بتا رہے ہیں۔ اب اگر کوئی مرزائی ذی علم ہے تو ان الفاظ کو ہمارے سامنے پیش کرے جن کا ظاہر مرزا قادیانی کے مطلب پر دلالت کرتا ہو۔ مرزا قادیانی تو زبانی دعویٰ کرنے کے سوا کسی مقام پر وہ الفاظ نہیں دکھا سکے اور خدا کے فضل سے ہم نے تو اپنے مدعا کو نہایت صفائی سے خوب روشن کر کے حدیث کے الفاظ سے دکھا دیا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے۔
ششم...... اس قول سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی دو باتوں کو تسلیم کرتے ہیں ایک یہ کہ رمضان کی ١٣ تاریخ اور ٢٨ کو چاند گرہن اور سورج گرہن کا اجتماع اس واقعہ کے پہلے بھی ہوا ہے جسے مرزا قادیانی اپنے لئے آسمانی شہادت کہتے ہیں دوسری یہ کہ صرف یہ اجتماع مہدی کا نشان نہیں ہے بلکہ اس وقت کسی مدعی کا ہونا ضرور ہے۔ ان اقراروں کے بعد حدیث کے صریح اور صحیح مطلب پر نظر کی جائے تو مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب کاذب ٹھہرتے ہیں کیونکہ حدیث تو نہایت صفائی سے یہ بتا رہی ہے کہ وہ دونوں گرہن ایسے ہوں گے کہ ان کے مثل اس سے قبل کبھی ایسے گرہن نہ ہوئے ہوں گے۔ اور مرزا قادیانی کے وقت میں جو گرہن ہوئے ان کے مثل اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ اس کا اقرار خود مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ اقرار ثابت کر رہا ہے۔ کہ ١٣١١ھ میں جو گرہنوں کا اجتماع ہوا وہ مہدی کی علامت نہ تھا۔ بلکہ وہ معمولی اجتماع تھا۔ اب اس اقرار کے بعد یہ کہنا کہ یہی معمولی اجتماع اگر کسی مدعی رسالت کے وقت میں ہو تو یہ صداقت کا نشان اور خرق عادت ہو جائے گا۔ ایک سخت نادانی بلکہ مضحکہ کی بات ہے۔
بھائیو! ذرا خیال کرو کہ ١٣١١ھ کا گرہن یوں تو معمولی گرہن تھا پہلے بھی ایسے گرہن ہوتے رہے ہیں مگر مرزا قادیانی کے وجود اور ان کے دعویٰ رسالت کی وجہ سے وہی معمولی گرہن عجیب و غریب ہو گیا۔ اور مرزا قادیانی کے لئے نشان قرار پایا۔ اے عزیزو یہ مضحکہ نہیں تو کیا ہے کہ ایک معمولی چیز صرف مرزا قادیانی کے دعویٰ سے خرق عادت ہو جائے اور جس مدعی کے کذب پر بہت سی دلیلیں موجود ہوں اس کے لئے نشان قرار پائے۔
الحاصل اس قول میں مرزا قادیانی کی چھ غلطیاں ہیں اور سترہ پہلے بیان ہوئی تھیں اس لئے تئیس غلطیاں ہوئیں۔
٨٨
- ١٨........... اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں یہ
دونوں گرہن۔ رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں۔ تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔‘‘ (ایضاً)
ناظرین! اسی قسم کی باتوں سے مرزا قادیانی اپنے مریدوں کو دام میں رکھتے ہیں۔ ان کے مریدین کی حالت کا تجربہ کیا گیا کہ حدیث کے متعلق اس قدر لکھا گیا ہے۔ مگر کسی بات کی طرف انہیں توجہ نہیں دیکھی گئی بجز اس بات کے کہ ایسا گرہن کسی مدعی کے وقت میں ہوا یا نہیں ہوا۔ اب میں کہتا ہوں کہ ہمارا یہ فرض ہرگز نہیں ہے بلکہ مرزا پرستوں کو امور ذیل کی طرف توجہ کرنا۔ اور ان کا جواب دینا فرض ہے۔
- ١........... ہم نے ثابت کر دیا کہ حدیث صحیح نہیں ہے اور متعدد وجوہ سے اس کا غیر
معتبر ہونا ثابت کر دیا اور اس کی صحت میں مرزا قادیانی نے جو ملمع کاری کی تھی اسے بھی کھول کر دکھا دیا۔
- ٢........... پھر فرضی طور سے حدیث کو صحیح مان کر خوب روشن کر دیا جو معنی مرزا
قادیانی اس حدیث کے کرتے ہیں وہ محض غلط ہیں۔ جب وہ مطلب ہی غلط ہے جس کی بنیاد پر ہم سے ثبوت طلب کیا جاتا ہے۔ تو ہم پر اس کے ثبوت کو فرض بتانا بجز نادانی یا ابلہ فریبی کے اور کیا ہو سکتا ہے۔
- ٣........... یہ بھی ثابت کر دیا کہ جس قسم کے گرہن کو مرزا قادیانی مہدی کی
علامت کہتے ہیں اس قسم کے گرہن پہلے بھی بہت ہوئے ہیں۔ اس رسالہ میں چھیالیس برس کے گرہنوں کا نقشہ نقل کر کے دکھا دیا۔ کہ اس تھوڑی مدت میں تین مرتبہ اس قسم کا گرہن ہوا۔ اس لئے وہ گرہن کسی کے لئے نشان نہیں ہو سکتا۔
- ٤........... نہایت محکم دلیلوں سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ حضرت خاتم النبیین محمد
مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں مل سکتا۔ اس لئے جو ایسا دعویٰ کرے وہ قرآن اور صحیح حدیثوں کی رو سے جھوٹا ہے وہ سچا مہدی کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کاذب کے قول کی طرف توجہ کرنا اور سچے مہدی کے نشان کو (اگر وہ نشان ہے) اس کاذب پر چسپاں کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔ اور اسی طرح حدیث میں ایسی قید کو بڑھانا جو قرآن مجید کے نص
٨٩
قطعی اور احادیث صحیحہ کی رو سے غلط ہے۔ کسی ذی علم ایماندار کا کام نہیں ہے۔
- ٥.......... پھر یہ بھی دکھا دیا گیا کہ حدیث میں اس بات کا اشارہ بھی نہیں ہے کہ وہ
گرہن کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں ہوں گے۔ اور نہ ایسا اشارہ کسی حدیث میں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے نص قطعی اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال ہے۔ اس قطعی ثبوت کے بعد کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی صحیح حدیث میں یہ مضمون ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی امت میں کوئی سچا مدعی نبوت یا رسالت ہوگا۔ اور اس کا نشان گرہنوں کا اجتماع قرار پائے گا؟ ان میں سے کسی بات کا جواب نہ مرزا قادیانی نے دیا اور نہ ان کے کسی مرید نے۔ پھر ہمیں اس دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کہ کسی مدعی کے وقت میں ایسا گرہن ہوا۔ پھر ہم فضول دردسری کیوں خرید کریں۔ پہلے ان پانچ باتوں کا جواب مرزائی جماعت دے۔ اس کے بعد ہمیں اس طرف توجہ ہو سکتی ہے۔ مگر یہ پانچوں باتیں ایسی پختہ اور لاجواب ہیں کہ ان کا کچھ جواب نہیں ہو سکتا۔ اور جب تک ان پانچوں باتوں کا جواب نہ دیا جائے ہمارے ذمہ ایسے مدعی کا ثبوت دینا ہرگز فرض نہیں ہے۔ بلکہ جماعت مرزائیہ پر فرض ہے کہ ہماری ان باتوں کا جواب دے۔ اور مرزا قادیانی کی صداقت کو ثابت کرے مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی مرزائی ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔
مگر افسوس ہے کہ جماعت مرزائیہ میں حق پرستی کا نشان نہیں رہا مرزا پرستی اس قدر ان میں غالب ہو گئی ہے کہ کیسی ہی حق بات آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھائی جائے مگر وہ نہیں دیکھتے۔ بعض تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان کو سچا مان چکے ہیں ہم کسی اعتراض کو نہیں سنتے۔ بعض کہتے ہیں کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ پھر کیا ان کی وجہ سے مذہب کو چھوڑ دیں۔ اے بھائیو جو کچھ کہا جاتا ہے آپ کی خیر خواہی کے لئے کہا جاتا ہے۔ جس طرح کوئی شفیق حکیم مریض سے کہتا ہے۔ اب اگر اس مریض نے اس کی بات کو مان لیا اور اس کے کہنے پر عمل کیا تو اسی کا نفع ہے اور اگر نہ مانا تو کسی وقت وہ اپنے انجام کو دیکھ لے گا۔ اور یہ کہہ دینا کہ اعتراضات تو اسلام پر بھی ہوتے ہیں بڑی غلطی اور نہایت ضعف ایمان کی دلیل ہے۔ ان حضرات نے اس پر ذرا غور نہیں کیا کہ دنیا میں جس قدر اعتراضات لوگ کرتے ہیں۔ تو کیا
٩٠
سب کی یکساں حالت ہوتی ہے؟ پھر کیا جیسے لاجواب اور عظیم الشان اعتراضات مرزا قادیانی پر کئے گئے ہیں اور ان کے جواب سے تمام جماعت مرزائیہ عاجز ہے کیا ان کے خیال میں اسلام پر بھی ایسے ہی اعتراض وارد ہوتے ہیں۔ (استغفر اللہ) ایسی بات وہی کہے گا جس کا دل نور صداقت سے منور نہ ہوا ہوگا۔ اور اسلام کی حقانیت پر اسے پورا ایمان نہ ہوگا اگرچہ ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو۔ اسلام پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے دندان شکن جوابات اگلے مفسرین نے دیئے ہیں اور بعض تفسیریں خاص اسی باب میں لکھی گئی ہیں اگر علم نہ ہو تو جو علماء اس سے واقف ہیں ان سے دریافت کرو اور ان کی بات کو مانو اس کے علاوہ متاخرین نے مختلف طور سے ان کے جوابات دیئے ہیں اب جس کسی کو لاجوابی کا دعویٰ ہو یہ خاکسار حاضر ہے اس کے سامنے پیش کرے پھر خدا کی قدرت کا نمونہ دیکھے کہ کیسے جواب دیئے جاتے ہیں اور اعتراضوں کا مقابلہ کر کے دکھا دیا جائے گا کہ اسلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں۔ وہ کیسے لچر ہیں اور مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ کیسے لاجواب ہیں۔
- ١٩...........پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”جب تک اس کا ثبوت پیش نہ کیا جائے
تب تک بلاشبہ یہ واقعہ خارق عادت کیونکہ خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں کہ دنیا میں اس کی نظیر نہ پائی جائے ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٩٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٣)
اس قول میں دو باتیں مرزا قادیانی کی قابلیت کی داد دیتی ہیں ایک یہ کہ ایسے گرہنوں کا خارق عادت ہونا اس وقت تک ہے جب تک ایسے واقعہ کا ثبوت اس سے پہلے معلوم نہ ہوا اور جب ایسا ثبوت مل جائے تو پھر اس سے خارق عادت ہونے کی صفت جاتی رہے گی اور ایک معمولی بات ہو جائے گی۔
غرض کہ اس قول کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک چیز ایک محدود وقت تک خارق عادت رہے اس کے بعد وہ معمولی چیز ہو جائے۔ اہل علم اس نا سمجھی کو ملاحظہ کریں۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی اس کے خارق عادت ہونے کا یقین نہیں ہے ورنہ اس طرح ہرگز نہ کہتے بلکہ یقینی طور سے اسے خارق عادت کہتے۔ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ خارق عادت کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ خارق عادت اسی کو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے یہ
٩١
کیسی نادانی کی بات ہے جس طرح کی خصوصیتیں مرزا قادیانی ان گرہنوں میں لگا کر انہیں بے نظیر بنانا چاہتے ہیں اس طرح کی بے نظیر باتیں دنیا میں بہت نکلیں گی۔ پھر جماعت مرزائیہ ان سب کو خارق عادت کہے گی؟ مثلاً جارج پنجم یعنی قیصر ہند ملکہ وکٹوریہ کا بیٹا دہلی میں آ کر تخت نشین ہوا اور تمام راجہ اور نوابان نے نذریں پیش کیں۔ اس کے سوا اور بھی اس میں خصوصیتیں تھیں پھر کیا یہ بھی ایک خرق عادت ہو گی۔ کیونکہ اس سے پہلے دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ پھر مرزا قادیانی کا وجود قادیان میں ان دعاوی وغیرہ کے ساتھ بھی ایک عادت ہوگا کیونکہ اس سے پہلے قادیان میں اور پھر بھی ان خصوصیتوں کے ساتھ جو ان میں تھیں کسی وقت ان کا نظیر نہیں مل سکتا۔ اس لئے ان کا وجود بھی خارق عادت ہوا۔
افسوس ہے کہ دعویٰ قابلیت پر خارق عادت کے معنی معلوم نہیں اور اگر معلوم ہیں تو یہ بات عوام کے دھوکا دینے کے لئے کیا گیا اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ کوئی ذی علم مرزائی اس کا جواب دے۔ مگر ہم یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اس قسم کی باتیں مرزا قادیانی کی بہت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی بات بنانے کے لئے قصداً لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایسے کم علم نہیں ہیں۔ کہ خیال کیا جائے کہ ناواقفی سے ایسا کیا۔ اور غلط بات کہی۔
اب میں مرزا قادیانی کے اغلاط کہاں تک بیان کروں۔ رسالہ طول ہو گیا طالب حق کے لئے اس قدر کافی ہے۔ اور مرزا پرستوں کے لئے تو ہزار دفتر بھی کافی نہیں ہیں۔ جس طرح تثلیث پرستوں اور بت پرستوں کے لئے تثلیث اور بت پرستی کی سینکڑوں دلیلیں کافی نہ ہوئیں۔ باوجود یہ کہ آفتاب کی طرح ان کی غلطیوں کو روشن کر کے دکھایا۔ یہی حال مرزائی جماعت کا ہے کیسی کیسی روشن دلیلیں قرآن سے حدیث سے واقعات سے مشاہدات سے ان کے پختہ اقراروں سے ان کا کاذب ہونا ثابت کیا گیا۔ مگر وہ توجہ نہیں کرتے اور انہیں حق بات ایسی ہی کڑوی معلوم ہوتی ہے جیسے صفراوی کو مزہ دار کھانا۔
اے بھائیو! مجھے تمہاری حالت پر نہایت افسوس ہے۔ اس کا خوب یقین کر لو کہ قیامت تو بہت دور ہے۔ مرنے کے بعد ہی سخت پچھتاؤ گے۔ یہ نہایت روشن بات ہے کہ اگر مرزا قادیانی سچے ہوتے تو اسلام کے لئے کسی قسم کی بہبودی کر کے دکھاتے۔ مگر آنکھ اٹھا کر
٩٢
دیکھو کہ اس دراز مدت کی کوشش میں انہوں نے کیا کیا۔ بجز اپنے ذاتی نفع کے تمام عمر مشک و زعفران اور مغزیات خوب کھاتے رہے اور اپنی بیوی اور اپنی خاص اولاد کے لئے بہت کچھ چھوڑ گئے اور مریدوں سے مختلف طور سے چندہ لے کر انہیں چندہ دینے کے عادی کر گئے۔ تاکہ ہماری اولاد کو بھی چندہ دیتے رہیں اب ان کی اولاد اور ان کی عورتیں عیش کرتی ہیں اسلام کو فائدہ یہ ہوا کہ چالیس کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق ہو چکے تھے۔ انہیں جہنم میں دھکیل دیا۔ سبحان اللہ کیا مسیح موعود تھے؟ بھائیو! میں بڑی خواہش سے دریافت کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے کیا کیا بجز اس کے کہ کروڑوں مسلمانوں کو کافر بنا دیا۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے انکار کی وجہ سے طاعون آیا۔ وبا آئی قحط ہوا۔ اور دوسری آفتیں آئیں اُس کا حاصل یہ ہوا کہ ان کی ذات سے دنیا و آخرت کی تباہی اور بربادی ہوئی۔ مگر کوئی یہ بتائے کہ ان کی ذات سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کسی قسم کا فائدہ بھی ہوا؟ اس کا جواب بجز انکار کے اور کچھ نہیں ہو سکتا البتہ ایک مرزائی نے الزامی جواب یہ دیا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغ سے کیا فائدہ ہوا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بعثت کا فائدہ:
میں نے کہا کہ ہر زمانے کی حالت مختلف ہوتی رہی ہے۔ ان کی طبیعت میں سختی اور نرمی میں بھی بہت اختلاف رہا ہے حضرت نوح علیہ السلام کے وقت میں نہایت سخت لوگ تھے۔ بہت دراز مدت میں نہایت کم لوگ ایمان لائے مگر جس قدر ایمان لائے وہ کافر ہی تھے جو ہر طرح جہنم کے مستحق ہو چکے تھے وہ ایمان لا کر جنت کے مستحق ہو گئے۔
اسکے علاوہ دوسرا عظیم الشان فائدہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کفر کی ظلمت سے پاک ہو گئی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ایک سادی دعا کی تھی جس کی نقل اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں ان الفاظ سے کرتا ہے۔ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا۔ (نوح:٢٦) ”یعنی اے پروردگار روئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ۔“
اس بددعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ دنیا کے سارے کافر اور حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن یک بارگی دنیا سے ناپید ہو گئے اور دنیا میں آفتاب اسلام اور مذہب حقہ کے سوا کسی کا چراغ
بھی ٹمٹماتا ہوا باقی نہ رہا۔ سب ہی طوفان میں غرق ہو گئے۔
بھائیو! خدائے قہار نے اپنی عظمت و قہر کا وہ نمونہ دکھایا ۔ کہ ہمارے علم میں کسی نبی کے وقت میں ایسا نہیں ہوا۔ تمام دنیا کا کفر سے پاک ہو جانا ایسا بے نظیر فائدہ اور اتنا بڑا نتیجہ ہے جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔
افسوس مرزائیوں کی تیرہ درونی پر کہ ایسے عظیم الشان فائدے پر ان کی نظر نہیں ہے اور مرزا قادیانی کے بے سود دعویٰ کو اس پر قیاس کرتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ مرزا قادیانی اس وقت میں مدعی ہوئے ہیں کہ لوگ ہر قسم کے مدعیوں کو مان رہے ہیں۔ اسلام میں بہت گروہ ہو گئے ہیں اور بہت کچھ اختلاف ہے۔ مگر ہر گروہ میں ہزاروں ماننے والے موجود ہیں۔ یہ نتیجہ ان کی کمزوری کا ہے ایسے وقت میں اگر مرزا قادیانی کے ماننے والے ہو گئے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ مگر نہایت تعجب اور حیرت سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ باوجود نہایت کوشش اور ہر قسم کی تدبیروں کے کوئی ایسی جماعت ان پر ایمان نہیں لائی جو پہلے سے جہنم کی مستحق تھی اور مرزا قادیانی کی وجہ سے وہ جنت کی مستحق ہو گئی ہو۔ جو ان پر ایمان لائے وہ وہی مسلمان ہیں جنہیں خود مرزا قادیانی بھی اپنے دعویٰ سے پہلے مسلمان اور جنت کا مستحق سمجھتے تھے۔ یہ جماعت ان کے دعوے کے پہلے بھی جنت کی مستحق تھی اور تمہارے خیال کے بموجب اب بھی وہ مستحق ہے۔ اس میں تو کوئی جہنمی جنت کا مستحق نہیں ہوا۔ البتہ کوئی ایسی جماعت دکھاؤ جو ان کے دعویٰ سے پہلے جہنم کی مستحق ہو اور پھر ان پر ایمان لا کر جنت کی مستحق ہو گئی ہو۔ جب یہ نہیں ہوا تو بتاؤ کہ ان کی بعثت کا کیا فائدہ ہوا۔ بجز اس کے کہ دنیا میں جس قدر کفار کی آبادی تھی اس میں کچھ کم چالیس کروڑ کا اضافہ ہو گیا اور اسلامی دنیا کو خالی کر کے کافروں سے ایک ملک آباد کر دیا۔ واہ رے مجدد و مسیح؟
بھائیو! یہاں تو حضرت نوح علیہ السلام کے وقت سے معاملہ بالکل برعکس ہے۔ یعنی وہاں کفر نیست و نابود ہو گیا تھا اور مرزا قادیانی کی بدولت اسلام گویا نابود ہو گیا۔ یعنی چالیس کروڑ مسلمانوں میں ان کے کہنے کے مطابق تین چار لاکھ رہ گئے۔ یہ مٹا دینا اور گویا نیست و نابود کرنا نہیں تو کیا ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ جس وقت مبعوث ہوئے ہیں اس وقت عرب میں تین گروہ تھے۔ مشرکین ۔ یہود۔ نصارٰی ان میں سے کوئی مسلمان نہ تھا۔ جو
٩٤
حضرت سرور عالم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے جنت کا مستحق ہو چکا ہو اور حضرت کے انکار سے جہنمی ہو گیا ہو۔ کیونکہ مشرکین تو صریح بت پرست تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار سے کافر ہو گئے تھے۔ اور نصاریٰ تثلیث پرست تھے۔ غرض کہ تینوں گروہ کافر جہنم کے مستحق تھے جناب رسول اللہ ﷺ کے مبارک عہد میں ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ مسلمان ہو کر جنت کے مستحق بلکہ اہل جنت کے سردار ہو گئے تھے۔ پھر آپ کی وفات کے بعد ہی آپ کے خلیفہ اول نے پہلے ”مسیلمہ کذاب“ کے فتنہ کو بہت ہی جلد نیست و نابود کر دیا اور اسلام کی اشاعت شروع کر دی اور خلیفہ ثانی نے تو دنیا میں اسلام پھیلا دیا۔ اب مرزا قادیانی جو مسلمانوں کو دھوکا دینے کو اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کا ظل کہتے ہیں انہوں نے تو بالکل برعکس معاملہ کیا کہ کروڑوں مسلمانوں کو کافر کر دیا۔ اب یہ کہا جاتا ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں میں ترقی ہو گئی۔ اے بھائیو! یہ تو سوچو کہ جب ان کے وقت میں ان کے اس قدر شور و غل سے دولاکھ کی جگہ دوسو کافر بھی مسلمان نہ ہوئے۔ اور ان کے خلیفہ اول سے کچھ نہ ہوا تو آئندہ کیا ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ جس طرح گذشتہ جھوٹے مدعیوں کا کچھ عرصہ تک نام و نشان رہا پھر مٹ گیا۔ جیسے صالح بن طریف اور اس کا پوتا ابو منصور عیسیٰ کہ کئی سو برس ان کا وہ زور شور رہا کہ مرزا قادیانی ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچے۔ اور پھر ان کا نشان بھی نہ رہا۔ بجز تاریخی تذکرہ کے ۔ بعض مدعی جو اس پانچ سو برس کے اندر گزرے ان کے ماننے والے باقی ہیں۔ ان میں سے جن کو زیادہ مدت گزر چکی ہے وہ نیست و نابود ہونے کے قریب ہیں۔ مثلاً مجدد جونپوری جس کو چار سو برس ہوتے ہیں اس کے ماننے والے بہت کم باقی ہیں اور ”علی محمد بابی“ جس کو سو برس نہیں ہوئے اس کے ماننے والے اور اس کے مذہب کی اشاعت کرنے والے اس وقت تک موجود ہیں اور انہوں نے بہت منکرین رسول اللہ کو لندن ۔ فرانس۔ امریکہ وغیرہ میں کلمہ گو بنایا ہے۔ سفر نامہ حافظ عبدالرحمن دیکھو اور سیاحان وغیرہ سے ان کے حالات معلوم کرو۔
نوح علیہ السلام کی دعا کا اثر اور مرزا کی دعا کا نتیجہ:
چونکہ مرزائیوں نے مرزا قادیانی کی تمثیل میں حضرت نوح علیہ السلام کو پیش کیا اس
٩٥
لئے ایک اور بات بھی قابل ملاحظہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی وہ شان تھی کہ انہوں نے ایک مرتبہ کفار کے لئے بددعا کی کہ اے پروردگار دنیا میں کافروں کو آباد نہ رکھ۔ اس دعا کے بعد ہی تمام کافر نیست و نابود کر دیئے گئے۔ اور مرزا قادیانی کی حالت دیکھئے کہ اپنے مخالفوں کے لئے نہایت ہی عاجزی اور منت سے دعا کرتے کرتے تھک گئے مگر مخالفوں کا بال بھی نہ بیکا ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی ہی ان کے روبرو ہلاک ہوگئے اور نامراد چل بسے۔ ان کے بڑے مخالفوں میں تین شخص مشہور ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مرزا قادیانی نے ان سے مباہلہ بھی کیا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب مع الخیر اس وقت تک موجود ہیں۔ اور مرزا قادیانی ان کے روبرو سات برس ہوئے کہ نامراد زیر زمین ہو گئے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے مقابلہ میں بہت کچھ بددعا کی اور اس دعا کو بہت کچھ مشہور کرایا۔ مگر نتیجہ انکی دعا اور پیشین گوئی کے خلاف ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی ہی داغ حسرت لے کر دنیا سے چلے گئے اور ڈاکٹر صاحب بفضلہ تعالیٰ سے اب تک موجود ہیں۔ تیسرے مولوی ثناء اللہ صاحب جن کی مخالفت سے عاجز ہوکر مرزا قادیانی نے آخری فیصلہ کا اعلان کردیا اور اس فیصلہ کو بہت کچھ مشہور کیا اور اس طرح دعا کی۔
”اے میرے آقا........... اب میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقتاً مفسد اور کذاب ہے صادق کی زندگی ہی میں اٹھالے۔ اے میرے مالک تو ایسا ہی کر آمین۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٧٩)
بھائیو! مرزا قادیانی کے دعوٰی تقرب اور عظمت کو یاد کرو۔ اور ان کے دعوٰی قبولیت دعا کے الہام کو پیش نظر رکھو۔ اور اس عاجزانہ اور فیصلہ کن دعا کو دیکھو کہ اس کا انجام کیا ہوا اور کس حسرت کی موت سے مرزا قادیانی مولوی صاحب کی زندگی میں مرے اور اپنے کامل اقرار سے مفسد و کذاب ٹھہرے۔ یہی دعا ہے جس کے الہامی ہونے پر مولوی ثناء اللہ صاحب اور میاں قاسم علی میں مناظرہ ہوا تھا اور قاسم علی کو ایسی شکست ہوئی کہ تین سو روپے دے دینا ١
١ رسالہ فاتح قادیان دیکھا جائے۔
٩٦
پڑے ۔ پھر انہیں کی مثال میں حضرت نوح علیہ السلام کو پیش کیا جاتا ہے؟ اور ان حالتوں کو یاد کر کے شرمایا نہیں جاتا۔ انبیاء کی ایسی فیصلہ کن دعا ان کے حق میں نامقبول نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی کی اس دعا نے تو تمام حق پسند حضرات کے نزدیک فیصلہ کر دیا کہ مرزا قادیانی بالضرور مفسد و کذاب تھے اور مولوی ثناء اللہ راستباز ۔ اور اگر مرزا قادیانی راستباز اور اپنے دعوٰی میں سچے ہوتے تو مولوی صاحب کے سامنے ہرگز نہ مرتے۔ نبی کی یہ شان ہرگز نہیں ہو سکتی کہ وہ ایسی التجا سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور اپنے دعوٰی کے صدق اور کذب کا فیصلہ چاہے اور اس فیصلہ کے بموجب اعلانیہ طور سے دنیا کے نزدیک وہ کاذب قرار پائے ۔ یہ خدائی فیصلہ ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ ضرور اسے مانیں گے۔
اب میں اپنے رسالہ کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں کو اس گمراہی سے بچائے اور راہ راست پر لائے۔ آمین۔
واخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوۃ علیٰ سید المرسلین وخاتم النبین وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین.
بماہ شعبان المعظم ١٣٤٢ھ مطابق ماہ مارچ ١٩٢٤ء مطبوع گردید
(ٹھیک اسی سال بعد ١٤٢٤ھ میں اسے دوبارہ شائع کرنے کی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان سعادت حاصل کر رہی ہے فلحمد للّٰہ فقیر اللہ وسایا)
خط جناب مولانا محمد عصمت اللہ مرحوم بنام حضرت
اقدس جناب مولانا سید محمد علی صاحب قبلہ دامت فیوضہم
از محمد عصمت اللہ کان اللہ لہ
بحضرت اقدس سیدنا مولانا صاحب مدظلہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اللہ تعالیٰ حضور کی مبارک زندگی میں بے حد برکت عطا فرماوے۔ آمین۔ حضور نے جو عبارت تحریر فرمائی ہے حکیم نور الدین کی منقولہ عبارت کے مطابق نہیں ہے کچھ اختلاف ہے حکیم صاحب نے اس عبارت کو مرزا کے عمر والے الہام کے متعلق نقل کیا ہے۔ اصل الہام
یہ تھا کہ خدا تیری عمر دراز کرے گا۔ اسی برس یا پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم (تذکرہ ص ١٥٣ طبع سوم) مرزا کی تحریروں سے اس کی عمر بہت زیادہ کھینچ تان سے تقریباً ستر برس تک بمشکل تمام پہنچ سکتی ہے۔ ١٣١٢ھ میں مرزا خود لکھتا ہے۔ کہ اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے۔ (جاء الحق ص ١٥) مرزا ١٣٢٦ھ میں مر گیا تو اس تحریر کی رو سے اس کی عمر باسٹھ برس سے کچھ زیادہ ہوئی۔
عجب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا۔
(تریاق القلوب ص ٦٨ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)
اس حساب سے مرزا کی عمر ٦٥ برس اور چند ماہ کی ہوئی غرض عمر والا الہام بھی دوسرے الہاموں کی طرح سراسر جھوٹ وغلط ثابت ہو گیا۔
معراج الدین مرزائی مرزا قادیانی کے مختصر حالات ص ٦٠ میں جو براہین احمدیہ کے شروع میں منسلک ہے لکھتا ہے ”کہ مرزا صاحب ١٨٣٩ء مطابق ١٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے اس حساب سے ان کی عمر انگریزی سال کے مطابق ٦٩ برس ہوئی اور مطابق ہجری سال کے ٧١ برس ہوئی۔ مگر نور الدین اس الہام کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ایسی ایسی باتیں لکھتا ہے کہ کوئی صحیح المزاج ہرگز نہیں کہہ سکتا۔ لکھتا ہے۔ ”قال ای رب زدہ منعمری اربعین سنة“ آدم علیہ السلام نے فرمایا اے میرے رب میری عمر سے چالیس برس لے کر داؤد علیہ السلام کی عمر زیادہ کر دے۔ پہلے نور الدین کو یہ ضرور ہے کہ مرزا کی تحریر سے یہ ثابت کرے کہ اس نے اپنی دس بیس برس عمر مولوی عبد الکریم یا مبارک احمد وغیرہ کو دے دی۔ تب اس حدیث کو پیش کر سکتا ہے۔ اس کے بعد لکھتا ہے۔
ما ننسخ من اية او ننسها نات بخير منها او مثلها الم تعلم ان الله على كل شىء قدير.
یہاں آیت کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے انسانوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک ویران بستی پر گزر کرنے والوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ
٩٨
یہاں اس گذرنے والے کو آیت فرمایا ہے جو لوگ دنیا میں مامور ہو کر آتے ہیں وہ بھی آیۃ اللہ ہوتے ہیں اور ان کا اس دنیا سے کوچ کر جانا۔ ان کے عنصری وجود کا نسخ ہوتی ہے بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے کہ بعض آیات بھول بھی جائیں لا کن رحمت الهی نات بخیر منها او مثلها ہم کو عمدہ تسلی بخش ہے جس پر ہم ایمان لا کر یقین کرتے ہیں کہ آپ کی اولاد سے..... آپ سے خیر کان الله نزل من السماء یا کم سے کم آپ کی مثل آنے والا ہے اور نسخ کے ایسے وسیع معنی لینے میں السید عبدالقادر الجیلانی جیسے بزرگ ہمارے ساتھ ہیں (صفحہ ٢٧٣) میگزین بابت ماہ جون جولائی ١٩٠٨ء حضور دیکھ رہے ہیں کہ نجعلك آيته للناس کس غلط طور پر اس آیۃ کے اصل مقصود و منشاء ربانی کو چھوڑ کر سارے تعجب خیز قدرت نمائی اور عجیب ترین واقعہ سے چشم پوشی کر کے مجرد انسان کو آیۃ بنایا اور اس آیت شریفہ کے مضامین پر پردہ ڈالنے کی بیکار کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ کی بیش بہا قدرتوں کی جانب جو اس واقعہ کے متعلق ہی پھوٹی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا ایسے شخص کو بجز غرض والا باؤلا کے اور کیا کہا جا سکتا ہے اس کے بعد فتوح الغیب کی عبارت نقل کر کے یہ دکھلانے کی کوشش کی ہے کہ شیخ علیہ الرحمۃ نے محض انسانی خیال و ارادہ کے بدل لجانے کو ناسخ و منسوخ سے تشبیہ دی ہے نور الدین نے مرزا کو آیۃ اللہ بنا کر اس کو منسوخ کیا اور اس کی اولاد کو جو کبھی بھی پیدا نہ ہو گی ناسخ بتلاتا ہے نو رالدین لفظ آیۃ کو غلط طریقہ سے خود وسیع معنے میں لایا ہے۔ اور فتوح الغیب کی اس عبارت سے اس مقام صرف یہ دکھلانا چاہا ہے کہ نسخ کا لفظ وسیع معنیٰ میں آیا ان سارے لغویات کرنے پر بھی وہ اپنے دعوے اسی برس والے الہام کو صحیح ثابت نہیں کر سکا۔ مرزا کے اس واقعہ نے اس الہام کو جھوٹا کر دیا تو اب نور الدین ان دور از کار باتوں سے کیا صحیح کر سکے گا۔ اس کے بعد پھر لکھتا ہے۔ حضرت جیلانی فرماتے ہیں۔
لما كان النبى ﷺ منزوع الهوى والارادة سوى المواضع التی ذكرها الله عز وجل في القرآن
یہاں سوى المواضع کے مقام میں مرتبہ خاتم النبیین ورسولؐ اور مرتبہ غلام احمد کا مدنظر
٩٩
رکھ لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کا بھلا ہوگا۔ نور الدین نے اپنی بدتمیزی کی وجہ سے حضور پرنور مقدس مطہر باقی باللہ کی طرح غلام احمد کو (جس کی روح ڈاکٹر عبدالحکیم ۔ مولوی ثناء اللہ صاحبان وغیرہ کے موت کی برابر متمنی اور محمدی بیگم کے نکاح کے شوق سے لبریز رہی ہو) منزوع الہوی ثابت کرنے کی بیکار کوشش کی ہے ایسے بیکار تصنع کرنے سے بھی نور الدین عمر والے الہام کو ہرگز صحیح ثابت نہیں کر سکا۔ ایسی لغو تحریر کو دیکھ کر ہمت نہیں پڑتی کہ ان کم بختوں کو کچھ کہیں۔ محض لاغی اور بیہودے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہادی حقیقی مسلمانوں کو ان کی گمراہی و شر سے بچائے آمین۔ والسلام مع التواضع والاکرام۔
آپ کا خادم محمد عصمت اللہ کان اللہ لہ یکم ربیع الآخر ١٣٤٣ھ ۔ ١٩٢٥ء
٭٭
١٠٠
دوسری شہادت آسمانی
کی
قطعہ تاریخ لاثانی
(انعامی سید عبدالرحمن صاحب شبنم عظیم آبادی مرحوم)
حضرت اقدس ابوالحمد لقب عالم دین رہنمائے گمرہاں
خیر خواہانہ لکھی ہے یہ کتاب میرزا کا مٹ گیا جس سے نشاں
زعم باطل میرزا صاحب کا تھا لکھ دیا معمولی گہنوں کو نشاں
اور موضوعات سے لائے دلیل جس کا راوی سخت کذاب جہاں
شاہد تحقیق اسماء الرجال دیکھ لیں ہو جائے گا سب کچھ عیاں
باوجود اس کے بھی سقط کر گئے لم تکونا منذ کو از درمیاں
تھا خلاف مدعائے میرزا کھل گئیں اب انکی سب مکاریاں
اپنے منہ سے خود میاں مٹھو بنے میرزا صاحب کہاں ، مہدی کہاں
سو برس میں بیسیوں ہی ایسے گہن ہو گئے شاہد ہے تقویم جہاں
دیکھ لیں انسائیکلو پیڈیا جن کو اس تحقیق میں شک ہے یہاں
کیتھ صاحب کا رسالہ لاجواب علم ہیئت میں ہے مشہور جہاں
خیر خواہانہ مصنف نے جسے کر دیا ہے صاف اور واضح بیاں
طبع کی تاریخ میں جب فکر کی غیب سے آئی صدا یہ ناگہاں
آسمان پر شور ہے یوں کر رقم میرزا کے ہو گئے ابتر نشاں
ایضاً تاریخ طبع ثانی رسالہ شہادت آسمانی سنہ ١٣١٣ھ
ناز تھا جس ادعائے قول پر خاک میں سب مل گئے انکے نشاں
ہے کرامت شور کی تاریخ میں سال طبع ثانی ہے جس سے عیاں
کاٹ کر مرزا کا سر اس میں لگاؤ پر دوبارہ یہ شہادت آسماں
اعداد ١٣٥٣ سر مرزا میم - ٤٠ منہا ٤٠
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء ‘ خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔............ رہائش ‘ خوراک ‘ کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
تنزیہ ربانی
از تلویث قادیانی
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم الله الرّحمٰن الرّحيم
خیر خواہانہ گذارش برادران اسلام سے اور بالخصوص جماعت مرزائیہ سے آرزو کے ساتھ کہتا ہوں کہ میری خیر خواہانہ گذارش کو دلی توجہ سے سنیں۔ مذہب اسلام میں پہلے ہی صدی سے مختلف فرقے نکلنا شروع ہو گئے تھے اور برابر ہوتے رہے اور اب بھی وہی حال ہے تاریخ اٹھا کر دیکھئے جس زمانہ میں جس نے جو دعویٰ کیا ہے اُس کے ماننے والے ضرور ہوئے ہیں اور نہایت زور سے مانا گیا ہے نویں صدی کے آخر میں سید محمد جونپوری نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور تیرہویں صدی میں محمد علی بابی نے فارس میں بھی دعویٰ کیا ان کے ماننے والے اس وقت تک کثرت سے موجود ہیں اسی طرح چودہویں صدی میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے جس طرح مرزا قادیانی اپنے نشانات اور معجزات کا دعویٰ کرتے ہیں ان سبھوں نے کیا ہے کیونکہ بغیر نشان دیکھے لوگ معتقد نہیں ہو سکتے اب وہ نشانات کیسے تھے۔ یہ ایک بحث ہے جس میں عقلا اور فہمیدہ حضرات کو نہایت دوراندیشی اور غور سے کام لینا چاہیے ممکن ہے کہ پہلے غلطی سے مان لیا ہو۔ مگر سخت خطرناک معاملہ ہے اگر واقعی غلطی ہے تو دائمی زندگی میں مصیبت اُٹھانا ہے (اللهم احفظنا) اس لیے تحقیق کرنا اور دردمند مخالف کی باتوں کو غور و انصاف سے معلوم کرنا نہایت دانشمندی ہے اس تحریر کا باعث محض ان کی بہی خواہی ہے آپ اسے غور سے ملاحظہ کریں۔ جماعت مرزائیہ کے حضرات کو دیکھا جاتا ہے کہ کسی خیرخواہ کی بات کو بھی اچھی طرح نہیں دیکھتے اور موافق کی بالکل غلط اور بے سروپا باتوں سے اُن کی تسلی ہو جاتی ہے۔ ذرا خیال تو کریں کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے اور اپنے نشانات کے اعلان میں بے انتہا کوشش کی۔ عربی، فارسی، اُردو، انگریزی میں بہت رسالے اور اشتہارات ساری دنیا میں شائع کئے۔ مگر اُس کا نتیجہ دیکھئے کیا ہوا کوئی عیسائی، کوئی آریہ، کوئی ہندو وغیرہ مسلمان نہیں ہوا۔ چند مسلمانوں میں
٢
سے انھیں مانا اُن میں دو چار اہل علم سنے جاتے ہیں ان کے خلاف سینکڑوں علماء تو یہیں ہندوستان میں موجود ہیں عرب فارس وغیرہ کے علماء کی تعداد تو بہت کچھ ہے اُن کی تحریریں ہر جگہ پہنچی ہیں مگر کسی نے انھیں نہیں مانا۔ اب ہزاروں علماء کو بے دین اور متعصب کیسے مان لیا جائے اور دو چار کو اس کثیر جماعت پر کیونکر ترجیح دی جائے؟ جو خرابی آپ سینکڑوں ہزاروں علماء میں مانتے ہیں کیا وجہ ہے کہ اُس قسم کی خرابی دو چار دس بیس علماء میں نہیں ہو سکتی۔ اس قلیل تعداد کا غلطی میں پڑ جانا عجب نہیں ہے اور اُن کے مقابل میں ہزاروں کا غلطی میں پڑ جانا قیاس سے باہر ہے اس وجہ سے حدیث شریف میں ”اتبعوا سوا دالاعظم“ کا حکم ہے ذرا تو انصاف کیجئے۔ پھر کیسے اعلانیہ صریح اقوال مرزا قادیانی کے آپ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں جن سے ہر فہمیدہ انھیں کاذب یقین کر سکتا ہے مگر آپ خیال بھی نہیں کرتے بلکہ خدا پر عیب لگانا بہت آسان سمجھتے ہیں اس بات سے کہ مرزا قادیانی پر عیب لگایا جائے اور انھیں کاذب کہا جائے میں نہایت دردمندی سے کہتا ہوں کہ فیصلہ آسمانی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ نہایت تحقیق اور مسلمانوں کے محض بہی خواہی کے لیے لکھا گیا ہے اور اس کی باتوں کا جواب نہیں ہو سکتا آپ انصاف سے ملاحظہ کریں بعض حضرات نے اس کے بعض مضامین کے جواب میں کچھ لکھا تھا اس کی حالت اس رسالہ میں ملاحظہ کیجئے۔ واللہ الموفق
مسلمانوں کا خیر خواہ ابو احمد رحمانی
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم
مذہب حقہ اسلام میں بہت گروہ گذرے ہیں وہ سب اسی قرآن مجید و حدیث کے ماننے والے تھے اور اب بھی ہیں۔ مگر جب ان کے مسائل و عقائد پر نظر کی جاتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ بعض نے ایسے کفریہ اور خدا و رسول پر عیب لگانے والے عقائد کیونکر اس مقدس کتاب سے نکالے؟ عقائد وغیرہ کی کتابوں میں دیکھ کر تعجب ہوتا تھا اور کسی وقت یہ خیال ہو جاتا تھا کہ بزرگوں نے شاید کسی مخالف سے سن کر لکھ دیا ہے ایسا عقیدہ کون مسلمان رکھ سکتا ہے۔ غرض کسی وقت یہ بدگمانی بزرگوں سے ہوتی تھی مگر اب گروہ قادیانی کی حالت معائنہ کر کے یہ بدگمانی بالکل جاتی رہی کیونکہ ان کے بعض عقائد ایسے ہی ہیں اور پھر وہ اسی قرآن مجید سے ثابت کرتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے اور قدرت خدا نظر آتی ہے وہ مقدس مذہب اسلام جس کے برگزیدہ بانی نے خلاف گوئی اور جھوٹ کو گویا مبائن اسلام قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا گروہ قادیانی کا یہ عقیدہ معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک خدا بھی جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے اور اپنے اس عقیدہ کو قرآن پاک سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے افتراء پر آسمان و زمیں اگر شق ہو جائیں تو عجب نہیں مسلمانو! ذرا سوچو تو سہی کہ جب وہ ذات پاک جو تمام عیبوں سے پاک ہے‘ جھوٹ بولے‘ وعدہ خلافی کرے۔ (نعوذ باللہ) تو پھر سچا کون ہو سکتا ہے اور وعدہ کا پورا کرنے والا کسے کہہ سکتے ہیں۔ جب وہ ذات مقدس اس عیب سے پاک نہیں ہے تو اُس کے ماننے والے اور اس پر ایمان لانے والے اس کے رسولوں کو کیونکر سچا مان سکتے ہیں اور اس کے وعدوں سے کس طرح دل کو خوش کر سکتے ہیں اور اس کے وعدوں سے ڈرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیونکہ ہر جگہ ان کا یہ خیال ہوگا اور نہایت صحیح خیال ہوگا کہ جو کچھ کہا گیا ہے یا کہا جاتا ہے اس کی صداقت پر کیا اطمینان ہے۔ جب ان کی ہر
٤
بات میں محو و اثبات ہے تو کیا وجہ ہے کہ رسول کی رسالت میں محو نہ ہو اس خیال کے بموجب ہو سکتا ہے کہ پہلے کسی کو رسالت کا مرتبہ دیا گیا ہو اور پھر محو کر دیا ہو یا کر دے۔ جو وعدے اس نے ایمانداروں سے کئے ہیں ان کے پورا ہونے پر کیونکر اطمینان ہو سکتا ہے کیونکہ اس جدید جماعت کے عقیدے کے بموجب خدائے تعالیٰ اکثر وعدے لے پورے نہیں کرتا اس لیے اس کے تمام وعدے مشکوک ہو گئے بلکہ ہر وعدے پر غالب گمان یہی ہوگا کہ یہ پورا نہ ہوگا کیونکہ وعدہ پورا نہ ہونے کا پلہ بھاری ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ قادیانی جماعت کا صرف یہی خیال نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ جس طرح ہر بات پر قدرت رکھتا ہے وعدہ پورا نہ کرنے پر بھی وہ قادر ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ وعدے خلافیاں وہ کرتا ہے مرزا قادیانی سے کتنے وعدے اس نے کئے مگر پورے نہ کئے چنانچہ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا نہایت پختہ وعدہ کیا اور برسوں اس کے ظہور کا یقین دلایا گیا اور اس کے ضمن میں بہت سے وعدے اور وعیدیں تھیں مگر کسی کا ظہور نہ ہوا اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں بشرح مسطور ہے۔
ناظرین قادیانی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سارے وعدے پورے نہیں کرتا جسے چاہتا ہے پورا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یعنی پورے نہیں کرتا۔ اس کے ثبوت میں تین آیتیں اس وقت تک انھوں نے پیش کی ہیں جو میری نظر سے گزری ہیں۔
- (١) يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ
- (٢) يُصِيْبُكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ
- (٣) قَالُوْا يَا نُوْحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ كُنْتَ مِنَ
الصَّادِقِيْنَ O قَالَ اِنَّمَا يَأْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاءَ وَمَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ O
پہلی آیت کو مرزا قادیانی نے حقیقتہ الوحی میں پیش کیا ہے پھر پہلی اور دوسری آیت مونگیر کے اشتہار میں دیکھی گئی جس کا نام نشان آسمانی ہے اس کے بعد ٨ اگست ١٩١٢ء کے اخبار بدر قادیان میں دوسری اور تیسری آیت دیکھی مگر
لے دوسری آیت اس دعوے کے ثبوت میں پیش کی ہے اس کا حاصل یہی ہوتا ہے
٥
اس آیت کی شرح و مطلب تو کیا ترجمہ بھی نہیں کیا گیا معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ آسمانی کے چھپنے کے بعد قادیانیوں میں ہلچل مچ گئی اور کئی شخصوں نے یہ رسالہ حکیم نور الدین قادیانی کے پاس بھیجا اور جواب کی خواہش کی اور اصرار کے ساتھ اس پر بدر کے مذکورہ پرچہ میں بہت مختصر مضمون نکلا جس کا عنوان یہ ہے۔
نکاح والی پیشگوئی اس میں پہلے تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس قدر اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے جواب خود آنحضور (مرزا قادیانی) کی تصانیف میں بین طور سے موجود ہوتے ہیں یہ مضمون اس طرح بیان کیا ہے کہ ناواقف اور معتقدین یہ سمجھیں گے کہ مرزا قادیانی کی یہ ایک بڑی کرامت ہے مگر جو حضرات مرزا قادیانی کی حالت سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی زندگانی میں عمر کا زیادہ حصہ تحریر میں گزارا ہے اور مضمون میں اکثر اپنی بڑائی اور دوسروں کی مذمت ہے۔ اسی کے مختلف شعبے اور متعدد عنوان ان کے رسالوں میں موجود ہیں اسی میں ایک شعبہ یہ ہے کہ جو اعتراضات ان پر کئے گئے ہیں یا جو ان کے خیال میں آئے ہیں ان کے جواب دینے کی کوشش انہوں نے کی ہے اور کوئی دقیقہ اس میں اٹھا نہیں رکھا۔ ایک طرز ان کے بیان کا یہ ہے کہ ایک امر کو انہوں نے اکثر مختلف اور متضاد صورت میں بیان کیا ہے اور کہیں کوئی قید زیادہ کر دی ہے کہیں کوئی لفظ بڑھا دیا ہے اعتراضات سے بچنے کے لیے اور عوام کے سمجھانے کے لیے یہ عمدہ پہلو ہے جب کسی نے کسی بات پر اعتراض کیا تو فوراً اس کا مخالف قول انھیں دکھا دیا یا اس میں کوئی قید یا شرط نکال کر پیش کر دی۔ عوام کے تسکین کے لیے اس قدر کافی ہے۔ اب یہ کہ اصل بات کی تہہ کو پہنچنا اور اس کے تمام اقوال مختلفہ کو ملا کر نتیجہ نکالنا ہر ایک کا کام نہیں ہے مگر با ایں ہمہ یہ کہنا کہ ہر اعتراض کا جواب ان کی تحریر میں بین طور سے مذکور ہے بالکل غلط ہے۔ اور اعتراضوں کے علاوہ نکاح والی پیشینگوئی ایسی ہے کہ اس کا تذکرہ اور اس کے متعلق اعتراضات اور جوابات پندرہ بیس برس تک بڑے زور و شور سے ہوتے رہے ہیں۔ اسی کے متعلق ابھی تکذیب قادیانی میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا جواب ان کی تحریر سے دکھایا جائے۔
الغرض یہ اسی قسم کا مبالغہ ہے جس کی تعلیم مرزا قادیانی نے عملی طور پر اپنی
٦
جماعت کو دی ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ جو جوابات انہوں نے دیئے ہیں وہ کیسے ہیں۔ آیا اہل کمال کی توجہ کے لائق ہیں اس سے مرزا قادیانی کا تبحر علمی اور وسعت نظری اور کمال دینداری معلوم ہوتی ہے یا اس کے برعکس معاملہ ہے جس کے دل میں کچھ خوف خدا ہے اور جس کے قلب میں ذرا بھی انصاف نے جگہ پائی ہے اور علم سے اسے بہرہ ہے وہ اس تحریر کو اور خاکسار کی دوسری تحریروں کو غور سے ملاحظہ کرے اس پر ان کی اور ان کے جوابوں کی پوری حالت معلوم ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کو قرآن دانی کا بڑا دعویٰ تھا اور اب ان کے خلیفہ کو دعویٰ ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھا دیا ہے مگر افسوس ہے اور سخت افسوس ہے کہ قرآن شریف کی متعدد آیتوں سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قدوس متین کے وعدے ٹل جاتے ہیں وہ اکثر اوقات وعدہ خلافی کرتا ہے اس کا پاک کلام جھوٹ کے نجاست سے ملوث ہوتا ہے۔ (استغفر اللہ آسمان و زمین پھٹ جائیں مگر ایسا نہیں ہوسکتا)
تین آیتیں ١؎ ان پیشینگوئیوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں مگر تشریح نہیں کی گئی کہ ان سے کس طرح جواب ہو گیا اس لیے ہم بھی سکوت کرتے ہیں اور صرف اس قدر کہتے ہیں کہ ان آیتوں سے مرزا قادیانی کا اور ان کے متبعین کا مدعاء ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
١؎ ان آیتوں کا مختصر مطلب یہ ہے (١) محو و اثبات کی دو قسم ہیں۔ عام یعنی تمام کائنات اور مقدرات کے محو و اثبات پر اسے قدرت ہے جو چاہے وہ کرے مگر کرتا وہی ہے جو اس کی شان کے مناسب ہے اور خاص یعنی جزوی محو اثبات مثلاً بعض وقت بندے کے گناہوں کو مٹا کر ان کی جگہ نیکی لکھ دیتا ہے کسی کی عمر کم ہے پھر زیادہ کر دیتا ہے اس قسم کے محو اثبات بہت ہوا کرتے ہیں۔ (٢) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے دنیا و آخرت کی وعیدیں بیان کیں اسے آخرت پر تو ایمان ہی نہ تھا اس لیے وہ وعیدیں تو اس کے خیال میں مہمل تھیں۔ ایک شخص جو اسی کے گروہ کا تھا اور پوشیدہ طور سے حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لایا تھا اس نے فرعون کو اس کے خیال کے بموجب سمجھایا کہ اگر موسیٰ سچے ہیں تو بعض وعیدیں (یعنی دنیاوی) تو تجھے ضرور پہنچے گی۔ قرآن مجید میں اسی کا مقولہ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ سمجھنا کہ خدا کے کل وعدے پورے نہیں ہوتے سخت غلطی ہے (٣) اس آیت میں غلط فہمی غالباً لفظ ان شاء سے ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوحؑ نے جو منکرین سے کہیں تھیں ان کے ظہور کے لیے وہ جلدی کر رہے تھے اس پر حضرت نوحؑ نے جواب دیا کہ خدا اگر چاہے گا تو وعیدوں کو جلد ظاہر کر دے گا اور ہونا تو ضرور ہے یہ وہ مطلب ہے جو قرآن مجید کی کسی آیت کے خلاف نہیں ہے
٧
حاشیہ پر ہر ایک آیت کا مختصر مطلب بیان کر کے اس کا ثبوت بھی مجملاً دے دیا ہے جب وہ ان آیتوں کی تشریح کر کے اپنا مدعاء ثابت کریں گے اس وقت ہم ان کی غلطی آفتاب کی طرح چمکتی ہوئی دکھا دیں گے۔ تکذیب قادیانی میں بخوبی دکھا دیا گیا ہے کہ اگر آیت کا وہی مطلب مان لیا جائے جو جماعت مرزائیہ کہتی ہے تو بھی مرزا قادیانی کذب سے کسی طرح بری نہیں ہو سکتے وہ اپنے اقرار کے بموجب بلاشبہ کاذب ہیں اس لیے ہمارے اعتراض کے جواب میں یہ آیتیں پیش کرنا سخت نافہمی ہے۔ چونکہ رسالہ تکذیب قادیانی شائع ہو چکا تھا اور اس میں صرف پہلی آیت کا ذکر کر کے کئی طریقے سے مرزا قادیانی کا کذب ثابت کیا تھا۔ اس لیے خلیفہ قادیان نے بدر کے مضمون میں اس آیت کو چھوڑ دیا۔ اور اس کے لکھنے کا حکم نہیں دیا۔ دوسری آیت کے نسبت اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ کل اور اکثر اور بعض عربی الفاظ ہیں مگر اردو میں بھی انہیں معنی میں مستعمل ہیں جن میں عربی میں بولے جاتے ہیں اس کو معمولی نوشت و خواند والے بھی سمجھتے ہیں۔ اس لیے میں ناظرین سے کہتا ہوں کہ آیت میں لفظ بعض آیا ہے جس سے حسب خیال مرزائیاں آیت کا حاصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اکثر وعدے وعید جھوٹے ہوتے ہیں اور بعض سچے ہوتے ہیں۔ اب جن کے قلب میں نور ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمام عیبوں سے پاک سمجھتے ہیں وہ اس مطلب پر غور کریں اور اپنے دل میں سوچیں کہ اس قدوس کی ذات ایسی ہو سکتی ہے؟ ان آیتوں کا مطلب اور اس کی تشریح فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم میں اور اس کے خلاصہ میں ناظرین ملاحظہ کریں گے (ان شاء اللہ) (مشمولہ احتساب قادیانیت جلد ھذا) یہاں قرآن پاک کی چند آیتیں پیش کی جاتی ہیں جن سے آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے اس کے وعدے ہرگز خلاف نہیں ہوتے ضرور پورے ہوتے ہیں اس لیے ان کا جواب غلط ہے۔ جن آیتوں سے خلاف وعدگی ثابت کرتے ہیں وہ ان کی محض غلط فہمی ہے ان آیتوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ اب وہ آیتیں ملاحظہ ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔
- ١...... لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ
٨
مَبْنِيَّةٌ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ وَعْدَ اللّٰهِ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِيْعَادَ
(زمر -٢٠)
”لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے بالا خانے اور ان پر اور بالا خانے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ان سے خدا کا وعدہ ہے اور خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اہل تقویٰ سے وعدہ فرمایا اس کے بعد کمال وثوق اور اطمینان کے لیے ارشاد ہوا کہ یہ وعدہ اللہ کا ہے کسی دوسرے کا نہیں ہے کہ اس کے پورا ہونے میں تردد ہو۔ پھر بغرض تاکید اور تصریح ارشاد ہوا کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اس کی ذات اس عیب سے پاک ہے اس طرز بیان نے ثابت کر دیا کہ خدا کے تمام وعدے پورے ہوتے ہیں اس کا کوئی وعدہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پورا نہ ہو۔ ایسے صراحت کے بعد بھی اگر اس کے ایک وعدے میں بھی خلاف کا احتمال ہو اور یہ کہہ سکیں کہ اس کے بعض وعدے پورے نہیں ہوتے تو اس قدوس کا یہ بیان بالکل غلط ہو جائے گا اور اس کا کوئی وعدہ قابل اطمینان نہ رہے گا۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں روم کے نصاریٰ اہل فارس سے مغلوب ہو گئے تھے اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ غالب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کی خواہش پوری کرنے کی نسبت فرمایا کہ اگرچہ نصاریٰ اہل روم سے اس وقت مغلوب ہو گئے ہیں مگر عنقریب غالب ہوں گے اس خوشخبری کی تاکید کے لیے ارشاد ہوتا ہے۔
٢....... وَعْدَ اللّٰهِ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔
(سورہ روم -٦)
یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔
حکیم نور الدین قادیانی وغیرہم فرمائیں کہ یہ قرآن مجید کی آیتیں ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ان سے یقینی طور سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں کہ اللہ کے وعدوں میں کسی وقت خلاف کا احتمال نہیں ہو سکتا۔ جس طرح پہلی آیت میں اہل تقویٰ کے لیے وعدہ کر کے ان کے کمال اطمینان کی غرض سے کہا گیا تھا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے
٩
خلاف نہیں کرتا اس لیے تمھیں اطمینان چاہیے۔ اسی طرح یہاں بھی کہا گیا۔ البتہ اس قدر فرق ہے کہ پہلی آیت میں وعدہ اخروی ہے اور اس آیت میں وعدہ دنیاوی ہے ان دونوں آیتوں کے ملانے سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اخروی ہو یا دنیاوی ضرور پورا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پورا نہ ہو اگر تخلف کا احتمال ہو تو دونوں آیتوں میں اس جملہ کا لانا صرف بیکار ہی نہ ہوگا بلکہ یہ بیان غلط ٹھہرے گا۔ اس آیت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اس بات کو بہت لوگ نہیں جانتے اور نہ جاننا اس وقت جماعت مرزائیہ کی باتوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں صاحب روح المعانی جز ٢١ ص ١٩ میں لکھتے ہیں ملاحظہ ہو۔
لا يعلمون انه تعالى لا يخلف وعده لجهلهم بشئونه عزوجل وعدم تفكرهم فيما يجب له. جل شانه وما يستحيل عليه سبحانه.
لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور عدم واقفیت کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی عظمت و شان سے واقف نہیں ہیں۔ اور غور نہیں کرتے کہ کیا کیا چیز اس کی شان کے لیے ضروری ہے اور کون کون چیز اس کے ذات کے لیے محال ہے یعنی اس کے تقدس کی وجہ سے ان کا ظہور اس کی ذات سے نہیں ہو سکتا۔
حکیم صاحب کیا ایسی تفسیریں بھی آپ کے روبرو نہیں ہیں جنھیں دیکھ کر آپ خدا پر عیب نہ لگائیں اور اپنے متبعین کو سمجھائیں۔ الغرض قرآن مجید کی آیت اور اس کی تفسیریں جماعت مرزائیہ کو جاہل بتا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی عظمت و شان سے محض ناواقف ہیں اس پر سخت عیب لگانا چاہتے ہیں۔
- ٣...... وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ يُخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهُ . (سورۂ حج ع٦)
اے پیغمبر یہ لوگ عذاب کی جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہ کرے گا یعنی اللہ تعالیٰ نے کافروں سے عذاب کا وعدہ کیا ہے وہ وعدہ ضرور پورا ہوگا اس کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مگر اس کے لیے دن مقرر ہے۔
یہ آیت اس امر میں نص قطعی ہے کہ خدا تعالیٰ کی وعید میں بھی خلاف نہیں ہو
اہ
سکتا بلکہ وعید کے بیان میں لفظ لن سے نفی کی گئی جس سے نہایت تاکید سمجھی جاتی ہے یعنی جس کے لیے اللہ تعالیٰ کوئی وعید کرے اس کے خلاف ہرگز نہیں ہو سکتا اس وعید کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہ تاکید اس غرض سے معلوم ہوتی ہے کہ اہل عرب کا یہ مقولہ مشہور ہے خلف الوعد کذب وخلف الوعید کرم یعنی وعدہ کے خلاف کرنا جھوٹ میں داخل ہے اور وعید کے خلاف کرنا بخشش ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وعید کے خلاف کرے تو کوئی عیب نہیں ہے بلکہ خوبی ہے اللہ تعالیٰ نے عرب کے اس خیال کی وجہ سے بتاکید فرمایا کہ اللہ کے وعید میں بھی خلف نہیں ہو سکتا اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعید میں خلاف کا احتمال ہو تو قرآن پاک کے تمام وعدے اور وعیدیں بیکار ہو جائیں اور قابل اطمینان نہ رہیں اسی واسطے اس کا ارشاد ہے مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ (ق-٢٩) میری بات بدلا نہیں کرتی۔ اس میں تمام باتیں آ گئیں۔ اور ہر قسم کے وعدے اور وعیدیں اس میں داخل ہیں۔
یہاں حیرت یہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی سے نکاح کے بارے میں اور اس کے داماد کے مرنے کے لیے مرزا قادیانی نے پختہ وعدہ خداوندی بیان کرکے یہ کہا ہے کہ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ یعنی خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ مگر جب موقع اور ضرورت اس کے خلاف کہنے کی ہوئی تو يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ پیش ہو رہا ہے۔ یہ قرآن دانی ہے اور یہ دعویٰ حقانیت ہے۔
- ٤....... فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ۔ (ابراہیم-٤٧)
اے مخاطب تو ایسا خیال ہرگز نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا یعنی ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
آیت کا مضمون نہایت قابل لحاظ ہے یہ ارشاد ہوا کہ اے بندے تو ایسا خیال بھی ہرگز نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ پہلی آیتوں میں یہ بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت اور کسی سے وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ مگر یہاں نہایت ہی تاکید سے اس کی نفی کی گئی ہے اور کہا گیا کہ یہاں خلاف وعدگی کا خیال بھی دل میں نہ لانا اور اس خیال لانے کو تاکید سے منع کیا گیا اب اس تاکید کو ناظرین ملاحظہ کریں۔ کہئے جناب حکیم صاحب یہ آیات قرآنیہ ہیں یا نہیں اگر ہیں تو ایسے نصوص صریحہ قطعیہ ہوتے ہوئے
١١
”يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ“ سے کوئی ذی علم حالت ہوش و حواس میں یہ ثابت کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ وعدے کے خلاف کرتا ہے۔ کیا اس آیت کے معنے ایسے ہو سکتے ہیں جو ان نصوص قطعیہ کے مخالف ہوں؟ ذرا اوپر سے پوری آیت پڑھ کر غور کیجئے اور دیکھئے کہ یہ کس کا مقولہ ہے اور کس کے مقابلہ میں کہا گیا ہے اور کس لیے کہا ہے ان امور میں غور کرنے کے بعد کوئی ذی علم اس آیت کے مطلب کو مذکورہ آیتوں کے خلاف نہیں سمجھ سکتا ہم نے حاشیہ میں اس کے معنے مختصراً بیان کر دیئے ہیں۔ آپ کا علم اور قرآن دانی کیا ہوگئی اہل علم کی آنکھوں پر کیسے پردے پڑ گئے اس وقت چار ہی آیتوں پر کفایت کی جاتی ہے اگر جماعت مرزائیہ اسے کافی نہ سمجھے گی تو ان شاء اللہ اور بہت سی آیتیں اس مدعا کے ثبوت میں پیش کی جائیں گی۔ یہ بھی فرمائیے کہ ان نصوص قطعیہ سے ثابت ہوا یا نہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ مرزا قادیانی سے ہرگز نہ تھا کہ محمدی بیگم سے تیرا نکاح ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے لوٹا کر مرزا قادیانی کے پاس لائے گا اور اس کا خاوند مرزا قادیانی کے روبرو مرے گا اگر یہ دونوں وعدے ہوتے تو بموجب ان نصوص کے ان وعدوں کا ظہور ضرور ہوتا۔ زمین و آسمان ٹل جاتے مگر محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آتی اور اس کا میاں ضرور مرتا۔ اور اس کے مرنے کے لیے جو مجیب نے شرط بیان کی ہے اس کی غلطی اسی عبارت سے ظاہر ہو جاتی ہے جس عبارت سے شرط بیان کی گئی ہے بشرطیکہ حواس درست کر کے اس عبارت کو دیکھا جائے اور اس کے بعد الہام کے عربی الفاظ جو نقل کئے ہیں ان پر نظر کی جائے۔ اس قدر تحریر بدر کے جواب کے لیے کافی تھی۔ یہ وہ تحریر ہے جس سے مرزا قادیانی کے ثبوت رسالت کا بھی پورا فیصلہ ہو جاتا ہے مگر کچھ عقل و انصاف چاہیے۔ بھائیو! ذرا انصاف کرو۔ یہ تو آپ مان چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کے قول کے بموجب جو وعدہ الٰہی ہوا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اور میں نے ابھی نص قطعی پیش کیا کہ خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا اس کا قطعی نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی خدا کے رسول نہ تھے۔ انہیں نصوص سے اس کا بھی قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ حضرت یونسؑ سے ان کی قوم کے ہلاک کرنے کا وعدہ ہرگز نہیں ہوا ورنہ ان نصوص قطعیہ کے بموجب اس وعدے کا پورا ہونا ضرور تھا۔ حکیم نور الدین قادیانی یا کوئی دوسرا ذی علم ان نصوص صریحہ کے مقابل کوئی نص صریح یا حدیث صحیح دکھا سکتا ہے جس میں اس کی تصریح ہو کہ حضرت یونسؑ سے ان کی قوم کے ہلاک
کرنے کا وعدہ خدا تعالیٰ نے کیا تھا؟ میں نہایت پختہ طور سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں دکھا سکتا۔ حضرت یونسؑ کے قصہ کا اس قدر غل ہے کہ خدا کی پناہ مگر افسوس ہے کہ اصل بات کی تحقیق کوئی نہیں کرتا۔ اور مرزا قادیانی کی ناواقفی پر مطلع نہیں ہوتا۔ کاتب مضمون دکھائے کہ جس طرح محمدی کے نکاح کا وعدہ نہایت صراحت اور پختگی سے کیا گیا اسی طرح حضرت یونسؑ کی قوم سے ان کی ہلاکت کا وعدہ کس وقت کیا گیا؟ جس کے خلاف آپ بیان کر رہے ہیں حضرت یونسؑ کی پیشینگوئی کا غل مچا رکھا ہے مگر کوئی نہیں دیکھتا کہ حضرت یونسؑ نے کیا پیشین ١ گوئی کی تھی آیا یہ کہا تھا کہ خدا کہتا ہے کہ یہ قوم ہلاک کی جائے گی یا صرف اس قدر کہا تھا کہ عذاب آئے گا۔ اس وقت اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے مگر اس قدر کہتا ہوں کہ یہ پیشین گوئی حضرت یونسؑ نے کسی وقت نہیں کی کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ قوم ہلاک ہوگی مرزا قادیانی تو تشریف لے گئے اب ان کے خلیفہ اور متبعین ہیں وہ کسی آیت سے یا حدیث سے ثابت کریں کہ حضرت یونسؑ نے اپنی قوم کی ہلاکت کی پیشین گوئی کی تھی مگر ہرگز نہیں ثابت کر سکتے البتہ عذاب آنے کی الہامی پیش گوئی بعض ضعیف روایتوں سے ثابت ہوتی ہے وہ پوری ہوئی یعنی عذاب آیا۔ اب ایمان لانے کی وجہ سے اُس کا ٹل جانا وعدہ الٰہی کے مخالف نہیں ہے کیونکہ وعدہ الٰہی اگر تھا تو عذاب آنے کا تھا وہ وعدہ پورا ہوا اس قوم کے ہلاک کرنے کا وعدہ نہیں تھا۔ اس کے ٹل جانے سے کوئی وعید نہیں ٹل گئی۔ پھر منکوحہ آسمانی اور اس کے شوہر کی نسبت پیشین گوئی کو حضرت یونسؑ کی پیشین گوئی کے مثل کہنا اور اس کے جواب میں پیش کرنا کیسی سخت جہالت ہے۔ منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کا وعدہ تو ایسا یقینی اور تاکیدی برسوں ہوتا رہا ہے جس کی
١ یعنی یہ کہا تھا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب الٰہی آئے گا یا یہ کہا تھا کہ تم تباہ ہو جاؤ گے اور یہ کہنا دو صورت سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ عادت اللہ پر قیاس کر کے کہا یعنی ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے کہ جس قوم نے نبی کا کہنا نہیں مانا اور ایمان نہیں لائے اس پر عذاب آیا اسی پر قیاس کر کے حضرت یونسؑ نے کہا ہو یا یہ کہ بذریعہ وحی کے آپ کو معلوم ہوا اس کی تحقیق میں طول ہے مگر یہ امر یقینی ہے کہ حضرت یونسؑ نے وحی کے ذریعہ سے یہ نہیں کہا کہ یہ قوم عذاب سے ہلاک ہوگی جس طرح مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ احمد بیگ کا داماد ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا۔
١٣
انتہا نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے شوہر سلطان محمد کے مرنے کا وعدہ مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے اور خدا کا سچا وعدہ بتایا ہے اور اس کے پورے ہونے پر قسم کھائی ہے حضرت یونس کی قوم کے ہلاکت کا وعدہ ایک مرتبہ بھی نہیں ہوا۔ پھر حضرت یونس کے قصہ کو مثال میں کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کو اس سے کیا مناسبت ہے خلیفہ صاحب کیا ایسی موٹی بات پر بھی آپ کی نظر نہیں ہے۔ اب تو جماعت مرزائیہ کی آنکھوں میں سرسوں پھول جائے گی اور اگر عقل ہے تو جان لے گی کہ مرزا قادیانی کی عظیم الشان عمارت کیسی بے بنیاد تھی اب مدرس صاحب فرمائیں کہ اس پیشین گوئی سے سارے اعتراضات کیونکر رفع ہو جاتے ہیں اس کے رفع ہونے کی صورت بیان کیجئے اور چاہیے تو یہ کہ مرزا قادیانی ہی کے کلام سے کوئی جواب نکالے یا قرآن مجید سے مگر ہم اس کی بھی قید نہیں لگاتے یہ کہتے ہیں کہ جواب دیجئے یا اقرار کیجئے کہ حضرت یونس کے قصے کو جواب میں پیش کرنا ہماری غلطی ہے۔
الحاصل جب آیات قرآنی سے اور مرزا قادیانی کی غلط بیانی سے ان کا کذب ثابت ہو گیا تو اب زیادہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر جماعت مرزائیہ کی خیر خواہی چاہتی ہے کہ کچھ اور بھی ان کی غلط فہمیاں ظاہر کی جائیں جس سے متنبہ ہوں اور کسی پہلو سے حق بات ان کے ذہن نشیں ہو۔
فیصلہ آسمانی کے دوسرے حصہ میں مرزا قادیانی کا عظیم الشان نشان نقل کر کے ص ٩ میں یہ بیان کیا ہے کہ پیشین گوئی کرنا یعنی آئندہ کی خبر دینا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ پیشین گوئی کرنے والا نبی اور رسول یا کوئی خدا کا برگزیدہ ہے بلکہ پیش خبریاں بہت قسم کے لوگ کرتے ہیں مثلاً رمال، نجومی، اہل فراست وغیرہ اس سے کیا ان کی بزرگی ثابت ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب چند پیشین گوئیوں کو اپنی صداقت کا عظیم الشان نشان بتانا محض دھوکا ہے کسی برگزیدہ یا کسی رسول نے پیشین گوئیوں کو اپنی صداقت کا معیار نہیں بتایا۔ اس لیے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو اپنی صداقت کا معیار بیان کیا ہے وہی غلط ہے اگر کسی کی دو ہزار پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہو جائیں اور کوئی پیشین گوئی اس کی غلط نہ نکلے تو بھی اس کا برگزیدہ خدا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اسے رسول مان لیا جائے اس کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ جن پیشین گوئیوں کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا معیار بتایا تھا
١٤
اور جنہیں اپنی سچائی کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا وہ غلط ثابت ہوئیں یعنی وہ پیشین گوئیاں صحیح نہیں ہوئیں ان پیشین گوئیوں میں نہایت زوردار پیشین گوئی محمدی کے شوہر احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی ہے۔ اس کے لیے دو مرتبہ پیشین گوئی کی گئی پہلے مرتبہ کہا گیا کہ اس لڑکی کا شوہر ڈھائی سال تک فوت ہو جائے گا مگر اس مدت میں وہ فوت نہیں ہوا۔ پھر یہ کہا گیا کہ اسے مہلت دی گئی مگر میرے سامنے اس کا مرنا ضرور ہے اگر میرے سامنے نہ مرے اور میں مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس دوسری پیشین گوئی کو حصہ ٢ فیصلہ آسمانی میں نقل کیا ہے اور نہایت زور سے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے متعدد اقراروں سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا جواب اخبار بدر کے پرچہ مذکور میں اسمعیل مرزائی نے دینا چاہا ہے اور اپنی قوت علمیہ کے بموجب اس پیشین گوئی کی سچائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے مگر انھیں پہلے یہ ضرور تھا کہ اس تمہید کا جواب دیتے اور یہ ثابت کرتے کہ پیشین گوئی کا سچا ہونا مدعی کی صداقت اور برگزیدہ خدا ہونے کی دلیل ہے جب اسی کو ثابت نہیں کیا تو یہ دکھانا کہ مرزا قادیانی کی یہ پیشینگوئی سچی ہوئی محض بیکار ہے۔ اب یہ عظیم الشان فروگزاشت بیان کرنے کے بعد یہ دکھایا جاتا ہے کہ جس مدعاء میں مجیب نے خامہ فرسائی کی تھی اس میں بھی وہ کامیاب نہ ہوئے اور جس پیشین گوئی کی صداقت ثابت کرنا چاہتے تھے اس کی صداقت ثابت نہ کر سکے وائے بر ناکامی ایشاں۔
اب مجیب صاحب کے جواب پر نظر کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی بابت پیشین گوئی پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب تو وہیں ١ دوسرے صفحہ میں ایسا صاف موجود ہے جسے سن کر ہمارے مخالفوں کو شرمندہ ہونا چاہیے اور وہ جواب یہ ہے مرزا قادیانی انجام آتھم ص ٣٢ کے حاشیہ میں فرماتے ہیں۔ فیصلہ تو آسان ہے احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدائے تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں اور ضرور
١ فیصلہ آسمانی میں اس فیصلہ کے متعلق انجام آتھم سے چار قول مرزا قادیانی کے نقل کئے ہیں اگر مجیب صاحب چاروں کو بغور ملاحظہ کر لیتے تو یہ جواب شاید نہ دیتے مگر مجیب نے تو ٣١ ٣٢ کو بھی غور سے ملاحظہ نہیں کیا۔ غالباً فیصلہ آسمانی دیکھ کر ان کے قلب میں زلزلہ پڑ گیا حواس درست نہیں رہے اور جواب دینے کا حکم ہوا اس لیے بغیر سمجھے بوجھے کچھ لکھ دیا۔
١٥
ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آ جائے کہ اس کو بے باک کر دے سو اگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اور اس کو بے باک اور مکذب بناؤ۔ اور اس سے اشتہار دلاؤ اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔ یہ جواب جناب خلیفۃ المسیح کے ایماء سے لکھا گیا ضرور ہے کہ ان کی نظر سے گذرا ہوگا۔ اب وہ ملاحظہ کریں کہ یہ جواب کیسا ہے اس سے خود ان کو شرمندہ ہونا چاہیے یا ان کے مخالفین کو۔ اب طالبین حق پوری توجہ سے ملاحظہ کریں۔ مدرس صاحب کا یہ جواب کئی وجہ سے غلط ہے مجیب نے نہ اس عبارت میں غور کیا جس میں اشتہار کی شرط ہے نہ صفحہ ٣١ کی عبارت کا مطلب سمجھا نہ عبارت منقولہ کے بعد نظر کی کہ مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر مجیب فہم و تامل سے کام لیتا تو ہرگز نہ کہتا کہ صفحہ ٣٢ کا مضمون صفحہ ٣١ کے مضمون کے لیے شرط ہے اب غلطی کے وجوہ ملاحظہ کئے جائیں۔
پہلی وجہ اس پر خوب غور کیا جائے کہ اصل پیشین گوئی اس مقام پر منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی ہے کیونکہ بار ہا مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ وہ میرے نکاح میں آئیں گی خواہ کنواری ہونے کی حالت میں یا بیاہی جانے کے بعد۔
(اشتہار ١٠ جولائی مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨ وغیرہ ملاحظہ کیا جائے)
پیام نکاح کے وقت یہ کہا گیا تھا کہ اگر دوسری سے بیاہی جائے گی۔ تو ڈھائی برس کے اندر وہ مر جائے گا۔ غرضیکہ وہ لڑکی بیوہ ہوگی اور بیوہ ہونے کے بعد میرے نکاح میں آئے گی اس کے بعد وہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی مگر اس کا شوہر اس میعاد میں نہ مرا اور پیشین گوئی غلط ہوئی۔ اس پر بہت کچھ شور و غل رہا۔ پھر دوسری پیشین گوئی مرزا قادیانی نے کی اور یہ کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا تقدیر مبرم ہے وہ ضرور مرے گا۔ اس کے مرنے کے متعلق الہامات اور پیشین گوئیاں دو طور
١؎ اس کے بے باک اور مکذب بننے کا ثبوت تو مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٠ خزائن ج ١١ ص ٦٠ پر "كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ" ملاحظہ کر لیا جائے۔ اس لیے وہ گھڑی تو آ گئی جس میں وہ بے باک ہو گیا باقی رہا اشتہار دلوانا یا دینا نہ کوئی شرعی بات ہے نہ عذاب آنے کے لیے یہ شرط عقلاً و نقلاً ثابت ہو سکتی ہے اس لیے وہ شرط پائی گئی اور پیشینگوئی کا ظہور نہیں ہوا۔
٢؎ فیصلہ آسمانی کے پہلے حصہ میں اس کی تفصیل معہ حوالوں کے مذکور ہے۔
١٦
سے ہوتی رہی ہیں۔ ایک تو خاص اسی کے نام سے اس کی موت کی نسبت بار بار کہا گیا ہے جس کا ذکر فیصلہ آسمانی کے ص ١١۔١٢ میں کیا گیا ہے۔ دوسرے منکوحہ آسمانی یعنی اس کے بیوی کی نسبت بار بار نہایت تاکید سے الہامات ہوئے ہیں کہ يَرُدُّهَا اِلَيْكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ یعنی وہ لڑکی لوٹ کر تیرے پاس آئے گی تو اس میں شک نہ کر۔ یہ الہامات بھی اس کے شوہر کے مرنے کی پیشینگوئیاں ہیں کیونکہ بغیر اس کے مرے تو وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہیں آ سکتی ان دونوں الہامات کے ملانے سے نہایت بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ اصل مقصود اس لڑکی کا نکاح میں آنا ہے۔ اور چونکہ وہ موقوف ہے اس کے شوہر کے مرنے پر اس لئے یہ الہامات کہہ رہے ہیں کہ اس کا شوہر مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا۔ اس میں کوئی شرط نہیں ہو سکتی یہ بڑی وجہ ہے جواب کے غلط ہونے کی نہایت بدیہی امر ہے کہ جب تاکیدی الہامات یہ بتا رہے ہیں کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی تو پھر اس کے شوہر کے مرنے میں ایسی شرط کیونکر ہو سکتی ہے جو مرزا قادیانی کے مرنے تک پوری نہ ہو۔
دوسری وجہ صفحہ ٣١ خزائن ج ١١ ص ٤١ میں اُسی احمد بیگ کے داماد والی پیشین گوئی کی نسبت لکھتے ہیں کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“ یہ جملہ کس صراحت کے ساتھ بآواز بلند پکار رہا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کی موت مرزا قادیانی کی حیات میں ہونی چاہیے کیونکہ جس پیشینگوئی کے پورا نہ ہونے پر مرزا قادیانی اپنے آپ کو جھوٹا بتا رہے ہیں وہ یہی پیشینگوئی ہے یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے حیات میں مرنا۔ اس میں ایسی شرط کیونکر ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک بھی پوری نہ ہو۔
مولوی اسمعیل قادیانی کیا آپ نے اُردو کے اس جملہ پر بھی نظر نہیں کی اور اُس کے صریح مضمون کے خلاف ص ٣٢ میں اس کے لیے ایسی شرط بتائی جس کا ظہور اُن کے
ا۔ انجام آتھم ص ٦٠، ٦١ خزائن ج ١١ ص ایضاً ملاحظہ کیا جائے ان صفحوں میں ایک جگہ یردھا الیک اور دو جگہ انا رادوھا الیک ہے جس سے نہایت تاکید ثابت ہوتی ہے یعنی وہ لڑکی ضرور تیرے پاس آئے گی۔
١٧
مرنے کے بعد تک نہ ہوا۔ غرضیکہ اسی طرح صفحہ مذکور کے مضمون میں پانچ جملے ہیں جن سے ظاہر ہے کہ اس پیشین گوئی کے لیے وہ شرط نہیں ہو سکتی جسے مولوی قادیانی شرط بتا رہے ہیں مگر سب کے بیان کرنے میں طوالت ہے اس لئے ایک ہی جملہ پر کفایت کرتا ہوں بعض حضرات سے یہ بھی سنا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ جملہ الہامی نہیں ہے بلکہ اجتہادی ہے یہاں اجتہاد میں غلطی ہوئی اور چونکہ یہ کوئی تاکیدی اور شرعی حکم نہ تھا اس لیے خدا کی طرف سے آگاہ نہیں کئے گئے۔ ایسی بات سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اس جماعت میں کوئی سمجھدار نہیں ہے کہ ایسی لچر باتوں کو سمجھنے اور زبان پر لانے سے روکے۔ مجھے تو اس وقت اس سے بحث نہیں ہے کہ یہ جملہ الہامی ہے یا اجتہادی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ص ٣٢ کا مضمون ص ٣١ کے مضمون کے لیے شرط نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس قدر کہہ دینا ضرور سمجھتا ہوں کہ جنھیں آپ خاتم الانبیاء کہہ رہے ہیں اور کسی مرتبہ کا نبی انھیں مان رہے ہیں کیا وہ اپنے صدق و کذب کو بغیر الہام کے کسی بات پر منحصر کر سکتے ہیں اور بفرض محال اگر وہ کریں تو ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ پورا نہ ہو اور خلق کے روبرو اپنے کلام سے وہ جھوٹے ٹھہریں یہ غیر ممکن ہے تمام شرعی احکام سے نبی کی سچائی کا ثابت کرنا زیادہ ضروری ہے مرزا قادیانی کے اس کلام کو ان کی رائے اور اجتہاد سمجھ کر اس کے غلط ہو جانے کی پرواہ نہ کرنا اور اجتہادی غلطی خیال کر لینا نہایت غلطی اور کم فہمی ہے اجتہادی غلطی اہل علم سے احکام میں ہوتی ہے اور یہ خبر ہے ”کوئی دیندار جس کو اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی رابطہ ہے بغیر پختہ اطلاع خداوندی کے ایسی خبر نہیں دے سکتا۔ خصوصاً وہ جسے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ ہو جو یہ سمجھتا ہو کہ میں عام خلق کی ہدایت کے لیے آیا ہوں۔ نہایت ظاہر ہے کہ جس طرح وہ یہ خبر دے رہا ہے کہ میں مامور من اللہ ہوں۔ میں مسیح موعود ہوں۔ اسی طرح وہ اپنی صداقت کو اس پیشین گوئی کے سچا ہونے پر منحصر بتا رہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے ایک دعویٰ کو سچا مان لیا جائے اور دوسرے کو اس کی اجتہادی غلطی سمجھ کر اس کی پرواہ نہ کی جائے جس طرح کوئی صادق بغیر الہام الٰہی مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کوئی فہمیدہ اور سچا اپنی صداقت کو کسی ایسی چیز پر منحصر نہیں کر سکتا جو اس کے اختیار سے باہر ہو۔ البتہ جھوٹے چالاک بے باک جنھیں بات بنانے میں خوب مشق ہو وہ دونوں قسم کے دعوٰی کر سکتے ہیں اور کئے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے سامنے اس کے موت کو تقدیر مبرم کہتے ہیں
١٨
یعنی اس کے ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اور نہ اس کے وقوع کے لیے کوئی شرط ہے۔ یہ بات بھی بغیر اطلاع خداوندی معلوم نہیں ہو سکتی۔ آئندہ ایک قول مرزا قادیانی کا اسی انجام آتھم سے نقل کیا جائے گا اس میں صاف مصرح ہے کہ یہ خبر اطلاع خداوندی سے دی گئی ہے اس کے علاوہ یہ الہامات کہ احمد بیگ کی بیٹی ہر طرح مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کو ثابت کر رہے ہیں کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا اس صورت میں بھی اس خبر کی بنیاد الہام پر ہوئی۔ الغرض مرزا قادیانی کے کلام سے بخوبی ثابت ہے کہ اس کلام کی بنیاد الہام پر ہے اس کے علاوہ یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی مامور من اللہ بغیر الہام الٰہی کہہ نہیں سکتا۔ اس لئے جب ایسا کلام غلط ہو گیا تو مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں کوئی شبہہ نہ رہا۔ اب اس کی وجہ یہ ہو کہ شیطانی الہامات کو دھوکے سے وہ رحمانی سمجھے یا اس خیال پر یہ بے باکانہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اگر یہ بات پوری نہ ہوئی تو ہمارے بعد ہمارے ماننے والے اپنی بات کی پچ میں کوئی بات بنا ہی دیں گے چنانچہ اب اسی کا ظہور ہو رہا ہے۔ مگر بنائے نہیں بنتی۔
تیسری وجہ انجام آتھم ص ٣٢ خزائن ج ١١ ص ٣٢ کی عبارت جو نقل کی گئی ہے اس سے خود ظاہر ہے کہ اس کا مضمون ص ٣١ کی پیشین گوئی کے لیے شرط نہیں ہے بلکہ مرزا قادیانی احمد بیگ کے داماد کے لیے ایک میعادی پیشین گوئی کا وعدہ کرتے ہیں اس شرط پر کہ وہ اشتہار دے۔ پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں ۔‘‘ جس جملہ کو میں نے جلی قلم سے لکھا ہے اسے دیکھئے وہ صاف کہہ رہا ہے کہ اشتہار کے بعد خدا تعالیٰ اس کی موت کی میعاد مقرر کرے گا۔ اور میں ایک دوسری پیشین گوئی اس کی موت کے تعین وقت کے ساتھ مشتہر کروں گا جیسا کہ آپ کی عادت شریف ہے ص ٣١ میں جو پیشین گوئی ہے اس میں وقت کی تعین نہیں ہے صرف اس قدر ہے کہ میرے روبرو مرے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے میعادی پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے پر مخالفین نے بہت لے دے کی ہوگی اس پر مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ اشتہار دلواؤ میں پھر میعادی پیشین گوئی کروں گا اگر اس مرتبہ میری پیشین گوئی پوری نہ ہو تو مجھے جھوٹا سمجھو۔
چوتھی وجہ جو عبارت ص ٣٢ کی مجیب نے نقل کی ہے اس کے بعد ہی مرزا قادیانی لکھتے
١٩
ہیں۔ اس پیشین گوئی میں عربی الہام کے الفاظ یہ ہیں :
کذبوا بایتنا و کانوا بھا یستھزئون فسیکفیکھم اللہ و یردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید۔“
(انجام آتھم ص ٣٢ خزائن ج ١١ ص ٣٢)
انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا ان کے مقابل میں اللہ تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔
مجیب صاحب فرمائیں کہ اس پیشین گوئی کے اصل الفاظ یہاں کیوں نقل کئے گئے اس کے بعد یہ بتائیں کہ ان الفاظ سے احمد بیگ کے داماد کے نسبت کیا ثابت ہوتا ہے ہمارے نزدیک تو بجز اس کے اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ص ٣١ میں جو دعویٰ انہوں نے کیا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کا میرے سامنے مرنا ضرور ہے۔ اس کی تصدیق الہام سے کرنا منظور ہے یعنی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ الہام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ احمد بیگ کا داماد میرے روبرو مرے گا الہام کے الفاظ سے کئی طریقوں پر استشہاد ہو سکتا ہے مگر سب سے زیادہ ظاہر دو جملے ہیں۔ (١) ویردھا الیک (٢) ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ یعنی اللہ تعالیٰ نے احمد بیگ کی لڑکی کو لوٹا کر تیرے پاس لائے گا۔ اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اس کا شوہر مرے اس کے بعد وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے الہام کے اس جملے نے پوری شہادت دے دی کہ مرزا قادیانی کے سامنے وہ ضرور مرے گا اس کے لیے کوئی شرط نہیں ہے۔ دوسرا جملہ تو قرآنی جملہ ہے۔ اس میں تو کسی طرح کا شک نہیں ہو سکتا اور اس جملہ نے پہلے جملہ کی نہایت تاکید کر دی کہ احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا وعدۂ خداوندی اور اس کا ارشاد ہے اس کی باتیں بدلا نہیں کرتیں ایک مرتبہ جو کہہ دیا اس کا ہونا ضرور ہے۔ اس لئے اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے پاس آنا ضرور ہے اور اس کا آنا اس پر موقوف ہے کہ احمد بیگ کا داماد پہلے مرے اس الہام سے ظاہر ہوا کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا۔ اس لئے مرزا قادیانی اس کے مرنے کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کے اس الہام نے صاف طور سے ظاہر کر دیا کہ اشتہار دینے کی شرط ص ٣١ کی پیشین گوئی سے تعلق نہیں رکھتی۔ مجیب صاحب کے فہم
٢٠
پر افسوس ہے کہ اردو کی عبارت ہے مگر نہ نفس عبارت کو سمجھتے ہیں نہ اس کے ماقبل اور مابعد کو دیکھتے ہیں اور ایک بے تکی بات کہہ رہے ہیں اور جواب دینے کا شوق ہے۔ مگر ہمیں تو خلیفہ صاحب پر افسوس ہے کہ انہوں نے ایسا مہمل اور غلط جواب لکھوایا اور ان کے حکم سے لکھا گیا ہم تو انھیں کو جواب دہ سمجھتے ہیں۔
پانچویں وجہ اسی انجام آتھم کے ص ٢١١ سے عربی اور فارسی میں اسی قصہ کو بیان کیا ہے اور ص ٢١٦ میں انہیں الہامی الفاظ کا اعادہ کیا ہے جو ابھی ص ٣٢ سے نقل کئے گئے اس کے بعد کچھ شرح کی ہے میں ان کی فارسی عبارت یہاں نقل کرتا ہوں۔
”آن زن را کہ زن احمد بیگ را دخترست باز بسوے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رو کردہ خواہد شد در کلمات خدا و وعدہ ہائے او سر مو ہیچکس تبدیل نتواند کرد و خدائے تو ہر چہ خواہد آں امر بہر حالت شدنیست ممکن نیست کہ در حالت التوا بماند“
”احمد بیگ کی لڑکی کو تیری طرف پھر لادے گا یعنی وہ لڑکی ایک اجنبی شخص کے نکاح میں آجانے سے اپنے قبیلہ سے باہر ہو گئی ہے مگر تیرے نکاح کی وجہ سے پھر اپنے قبیلہ میں لوٹ کر آجائے گی۔ خدا کی باتوں میں اور اس کے وعدوں میں ردو بدل نہیں ہو سکتا اور تیرا خدا جو چاہے اس کا ہر حال میں پورا ہونا ضرور ہے ممکن نہیں کہ اس میں رکاوٹ ہو“
”پس خدائے تعالیٰ بلفظ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللہ سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد میراندن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ واصل مقصود میرانیدن بود الخ“
(انجام آتھم ص ٢١٦ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”اور فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللہ سے یہ اشارہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح میں آنے سے جو روک رہے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں مار کر اس لڑکی کو میرے پاس لائے گا۔ اور اصل مقصود ان کا مارنا ہی ہے۔“
حضرات ناظرین! اس عبارت کو غور سے ملاحظہ کریں اس عبارت سے دو باتیں اظہر من الشمس ہوتی ہیں ایک یہ کہ ص ٣١ میں جو کچھ کہا ہے اس کی بناء الہام خداوندی ہے محض اجتہاد نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ مجیب کا یہ کہنا غلط ہے کہ ص ٣٢ میں جو شرط مرزا قادیانی نے بیان کی ہے وہ ص ٣١ کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ یہ عبارت کئی وجہ
٢١
سے ظاہر کر رہی ہے کہ احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا ضرور ہے۔
اول نہایت صفائی سے کہہ رہے ہیں کہ اصل مقصود خداوندی احمد بیگ کے داماد کا مارنا ہے۔ یوں تو ہر ایک انسان کا مرنا ایک نہ ایک دن ضرور ہے مگر یہاں مقصود یہ کہ مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے تاکہ اس کی بیوی ان کے نکاح میں آئے جب مقصود خداوندی یہ ٹھہرا تو اس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کے مرنے کے لیے ایک شرط تھی جو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک نہ پائی گئی۔ اس بات کا مان لینا ہے کہ مقصود خداوندی مرزا قادیانی کی شرط سے مفقود ہو گیا۔ مگر ابھی خود مرزا قادیانی کہہ چکے ہیں کہ خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اس سے ظاہر ہوا کہ مقصود خداوندی کسی شرط سے مفقود نہیں ہو سکتا الغرض جب مرزا قادیانی خود اس کا مرنا اصل مقصود بیان کرتے ہیں تو وہ ایسی شرط نہیں لگا سکتے جو اس مقصود کو فوت کر دے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مجیب نے جو ص ٣٢ سے شرط نکالی ہے وہ ص ٣١ کے مضمون کے لیے نہیں ہو سکتی۔
دوم مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی کو میرے نکاح میں لائے گا اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ یعنی خدا کے وعدے بدل نہیں سکتے اس سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ اس لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضرور ہے اور جب اس امر کا ہونا بالہام خداوندی ضرور ہوا تو مرزا قادیانی کے سامنے احمد بیگ کے داماد کا مرنا بھی ضرور ہوا اس لیے ص ٣٢ والی شرط کو صفحہ ٣١ کے مضمون سے متعلق کرنا غلط ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح اس الہام میں احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں لانا وعدہ خداوندی بیان کیا گیا اسی طرح (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں اس کے شوہر کے مرنے کو خدا کا سچا وعدہ کہا ہے اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں اور یہ بھی وہی کہتے ہیں کہ میرا کہا اگر پورا نہ ہو تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ ”بھائیو! ذرا تو آنکھیں کھولو جب مرزا قادیانی کے یہ اقوال ہیں تو کیسے ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کے شوہر کے مرنے کے لیے ایسی شرط لگائی کہ جس کا ظہور ان کے مرنے کے وقت تک نہ ہوا حضرات مرزائی یہ بھی سمجھ لیں کہ آپ نے جو اس وقت آیتیں پیش کی ہیں اس غرض سے کہ خدا کے سارے وعدے سچے نہیں ہوتے بعض سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے خدائے کریم نے ہماری طرف سے مرزا
٢٢
قادیانی سے پہلے ہی کہلا دیا تھا کہ احمد بیگ کے داماد کا مارنا خدا کے جھوٹے وعدوں میں نہیں ہے بلکہ سچے وعدوں میں ہے اس لیے ہمارے مقابلہ میں ان آیتوں کا پیش کرنا ہر طرح غلط ہے۔
الغرض مجیب صاحب کے ص ٣٢ والی شرط کا تو خاتمہ ہو لیا اس کا شرط کہنا تو محض غلط فہمی تھا اب ایک دوسری شرط ملاحظہ کیجئے جسے مجیب صاحب نے اس پیرایہ سے بیان کیا ہے کہ ”یہی نہیں کہ اس نے شرط پوری نہیں کی بلکہ انجام یہ ہوا کہ وہ بزرگ خاندان جو بانی اس کام کے تھے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے۔ جس نے شرط توبی تو بی پوری کر کے پیشین گوئی کی صداقت ثابت کر دی۔“ سبحان اللہ کیا صداقت ثابت کی ہے۔ اگر اسی طرح صداقت ثابت ہو سکے۔ تو دنیا میں کوئی جھوٹا مدعی کاذب نہیں ٹھہر سکتا۔ اس عبارت میں دو دعوے ہیں جن کا ثابت کرنا مجیب پر لازم ہے۔ (١) احمد بیگ کے خاندان کا بڑا جو بانی فساد یعنی مرزا قادیانی کے نکاح میں حارج تھا مرزا قادیانی سے مرید ہو گیا۔ یہ دعویٰ خود مرزا قادیانی کے کلام کے خلاف ہے کیونکہ (انجام آتھم ص ٢١٨ خزائن ج ١١) میں بانی فساد پانچ شخصوں کو لکھا ہے۔ احمد بیگ، اس کی دو بہنیں، اس کی ساس اور یہ چاروں انتقال کر چکے۔ پانچواں شخص باقی ہے۔ جس کے ہلاکت کا حکم ہو چکا ہے۔ پانچویں کا نام نہیں لکھا ہے مگر تمام قرائن اور مرزا قادیانی کی تمام باتوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانچواں شخص بھی احمد بیگ کا داماد ہے ان میں سے کوئی شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا۔ اس کے بعد بھی اگر مجیب کو دعویٰ ہے کہ کوئی بانی فساد ایمان لایا تھا تو اس کا نام و نشان بتائیں اور اس کا ایمان لانا ثابت کریں وہ واقف نہ ہوں تو خلیفہ قادیانی بتائیں اور حقیقۃ الوحی ص ١٣٢ کا جو حوالہ دیا ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے البتہ (حقیقۃ الوحی ص ١٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) میں ہے کہ احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آ گیا یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو، اس مضمون کو اگر صحیح مان لیا جائے۔ تو اس سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ وہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے اور مرزا قادیانی کے دعویٰ کو بالکل مان لیا بہت مسلمان کہلا
٢٣
کر جوگیوں پنڈتوں کے پاس جا کر عجز و نیاز کرتے ہیں اور ایسی ہی حالت بعض ہنود کی ہے۔ پھر کیا یہ لوگ داخل سلسلہ ہو کر پورے مرید ہو جاتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اس کے علاوہ مجیب نے جو حقیقۃ الوحی سے نقل کیا ہے وہ تو خود مرزا قادیانی کے منقولہ قول سے غلط ہو گیا یعنی بانی فساد میں سے کوئی داخل سلسلہ نہیں ہوا اور اگر پانچواں شخص احمد بیگ کے داماد کے سوا کوئی اور شخص تھا اور اس کا سلسلہ بیعت میں آنا مان لیا جائے تو اس کے توبہ کرنے سے سلطان محمد کی وعید کیوں ٹل جائے گی کیا مرزا قادیانی کا یہ اجتہاد یا الہام ہے کہ خاندان میں ایک شخص کا ایمان لانا تمام خاندان کے لیے کافی ہے۔ خلیفہ صاحب اس کو بیان فرمائیں تو کچھ کہا جائے۔ الغرض پہلے اس کام کے بانی کا نام و نشان بتا کر اس کا ایمان لانا ثابت کرنا چاہیے۔ پھر اس سوال کا جواب دینا چاہیے۔
- (٢) دعویٰ یہ ہے کہ اس بزرگ کے مرید ہو جانے سے شرط توبی توبی کی پوری
ہو گئی۔ اس دعویٰ کے ثابت کرنے کے لیے ضرور ہے کہ پہلے توبی توبی کی شرط کی تشریح کریں۔ پھر یہ بتائیں کہ خاندان کے کسی بڑے کے مرید ہو جانے سے یہ شرط کس طرح پوری ہو گئی اور پیشین گوئی کی صداقت کس طرح ثابت ہوئی یہ تو معلوم ہے کہ پہلے مرزا قادیانی نے سلطان محمد کے مرنے اور اس کی بیوی سے نکاح ہونے کا اشتہار دیا تھا اس میں کوئی شرط نہ تھی پھر مرزا کو شرط بڑھانے کا خیال ہوا تا کہ کسی وقت کام آئے۔ اس لیے دوسرے اشتہار میں عربی کا یہ جملہ شائع کیا۔ ایتھا المراۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک ای بنتک وبنت بنتک (انجام آتھم ص ٢١٢ خزائن ج ١١ ص ٢١٢) عربی کے الفاظ اور ترکیب کے لحاظ سے تو اس جملہ کو شرط نہیں کہہ سکتے۔ ایک عورت کی ہدایت کے لیے ایک جملہ ہے مگر مرزا قادیانی مضمون سابق کے لیے شرط کہتے ہیں۔ یعنی پہلے اشتہار میں سلطان محمد کے مرنے کی وعید خداوندی اور اس کی بیوی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنے کا وعدہ تھا غرضیکہ ایک وعید تھی اور دوسرا وعدہ تھا ان دونوں کے لیے یہ جملہ شرط ہے۔ اب اہل علم کے نزدیک تو اس جملہ کے شرط کہنے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اس جملہ میں جس عورت
٢٤
کی طرف خطاب ہے اگر وہ توبہ کرے اور ایمان لائے تو سلطان محمد نہ مرے گا اور محمدی کا نکاح مرزا قادیانی سے ہوگا۔ کیونکہ ایک کے ہونے اور دوسرے کے نہ ہونے کے لیے یہ شرط ہے۔ اس لئے شرط پائے جانے کے بعد پیشین گوئی کے دونوں جز کا پایا جانا ضرور ہے مگر مرزا قادیانی کے بیان سے یہ مطلب غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ (انجام آتھم ص ٢١٣ و ٢١٤ خزائن ایضاً) میں اس جملہ شرطیہ کی شرح یہ کرتے ہیں کہ اس جملہ کی مخاطب احمد بیگ کی خوشدامن ہے جملہ کے الفاظ کے لحاظ سے یہ کہنا بہت صحیح ہے کیونکہ خطاب میں وہی لفظ لایا گیا ہے جو عورت کے لیے خاص ہے اور اس کے بعد جو لفظ عقبک آیا ہے اس کے معنی مرزا قادیانی بیٹی اور نواسی کے لیتے ہیں اور اس سے مراد احمد بیگ کی بیوی اور بیٹی بتاتے ہیں۔ الہام کے الفاظ اور مرزا قادیانی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ جملہ شرطیہ کی مخاطبہ احمد بیگ کی خوشدامن ہے۔ مگر بعد کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی اور نواسی پر بلا ہے اس لیے اس پر بھی تبعاً توبہ کا حکم ہے مگر ان تینوں میں کسی نے توبہ نہیں کی اب جو اس شرط کی اصل مخاطب تھی اس نے تو شرط پوری نہیں کی اور نہ انہوں نے جو تبعاً مخاطب ہوئی تھی۔ پھر ایک اجنبی شخص جو اس شرط کا مخاطب نہیں ہے اس کے ایمان لانے سے وعید کیوں ٹل گئی اور شرط کیسے پوری ہوگئی ذرا ملاحظہ کیا جائے کہ شرط کی مخاطب تو احمد بیگ کی خوشدامن ہے۔ پھر اگر کوئی شخص ان کا غیر بالفرض ان سے کوئی واسطہ بھی رکھتا ہو اس کے ایمان لانے سے یہ شرط کس طرح پوری ہو سکتی ہے جیسا کہ مجیب قادیانی دعویٰ کر رہے ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ پیشین گوئی کی صداقت کا بھی دعویٰ ہو رہا ہے۔ بھلا یہ تو فرمائیے کہ اگر بقول آپ کے یہ ایک پیشین گوئی ہے جس میں ایک وعدہ خداوندی اور ایک وعید ہے تو اگر شرط کا پورا ہونا تسلیم کر لیا جائے۔ تو بھی پیشین گوئی کے پورا ہونے کے لیے ضرور تھا کہ محمدی مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی جب اس کا ظہور نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پیشین گوئی خدا کی طرف سے نہ تھی ورنہ اس کے دونوں جز پورے ہوتے اور مرزا قادیانی اس قدر رسوا نہ ہوتے ایک جز کے پورا نہ ہونے سے ثابت ہو گیا کہ دوسرا جز جو
٢٥
پورا ہو گیا وہ اتفاقیہ ہوا الہام خداوندی نہ تھا کیونکہ یہ دونوں جز ایک ہی الہام کی شاخ ہیں اگر وہ الہام سچا تھا تو اس کی دونوں خبریں سچی ہوتیں۔ الحاصل الہام کے جھوٹے ہونے کے لیے اس کے ایک جز کا غلط ہو جانا کافی ہے اور اس کے سچے ہونے کے لیے دونوں جز کا سچا ہونا ضرور ہے مگر یہ نہیں ہوا۔ اب اس پیشین گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی (انجام آتھم ص ٢١٨ خزائن ج ١١ ص ٢١٨) میں لکھتے ہیں کہ خدا اپنے قول کو باطل نہیں کرتا اور اپنے ملہموں کو رسوا نہیں کرتا ہے اور یہاں تو مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق خدا کے بہت قول باطل ہو گئے اور محمدی کے نکاح میں نہ آنے سے مرزا قادیانی بہت کچھ رسوا ہوئے۔ اب چند مریدوں کا نہ ماننا اور آفتاب روشن کی چمک سے انکار کرنا اہل دانش کے نزدیک لائق توجہ نہیں ہو سکتا بلکہ مرزا قادیانی کے قول سے ثابت ہو گیا کہ اس پیشین گوئی کو جو عرصہ دراز تک الہام خداوندی کہا گیا یہ غلط تھا اور مرزا قادیانی ملہم نہ تھے۔ الحاصل توبی توبی کو جو پیشین گوئی کے لیے شرط کہا تھا اوّل تو وہ شرط نہیں پائی گئی کیونکہ جسے توبہ کا حکم ہوا تھا اس نے توبہ نہیں کی اور اگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کی زبردستی سے قطع نظر کر لی جائے اور مان لیا جائے کہ شرط پوری ہو گئی تو بھی پیشین گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوئی۔
میں نے اس زبردستی میں مرزا قادیانی کو بھی شریک کیا ہے کیونکہ وہ بھی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں کہ ظہور نکاح کے لیے یہ شرط تھی جس کا ذکر ابھی کیا گیا اور جب وہ شرط پوری کر دی گئی تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا یہ زبردستی یا بدحواسی ملاحظہ کی جائے اس کلام کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ظہور نکاح کے لیے جو چیز شرط تھی جب پوری ہو گئی اور پائی گئی تو مشروط یعنی نکاح فسخ ہو گیا یعنی جاتا رہا اب خلیفہ قادیان فرمائیں کہ توبی توبی کو شرط کہنا اور پھر اس کے پورا ہو جانے سے نکاح کا فسخ ہو جانا زبردستی یا بدحواسی نہیں ہے تو کیا ہے۔ شرط کے پورا ہو جانے سے مشروط کا ظہور چاہیے یہاں اس کے خلاف یہ کہا جاتا ہے کہ شرط کے پورا کر دینے سے مشروط غائب ہو
: ٢٦
گیا۔ اس لئے میں نے دریافت کیا ہے کہ یہ کیسی شرط ہے کہ اس کے پائے جانے سے مشروط نہ پایا گیا۔ مرزا قادیانی کے اس قول کی غلطی کے وجوہ فیصلہ آسمانی کے حصہ ٣ میں بیان کئے ہیں۔ یہ بیان تو اس تقدیر پر ہے کہ جملہ توبی توبی کو شرط مان لیا جائے مگر مرزا قادیانی کے الہامات اور ان کے صریح بیانات یہ کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کے لیے کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی کے سامنے اس کا مرنا ضرور ہے اہل بصیرت اس پیشین گوئی کے الفاظ کو اور اس کے مکرر سہ کرر بیانات پر نظر کر کے انصاف سے فرمائیں کہ اس پیشین گوئی کی صداقت بغیر اس بات کے کہ احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے مرے کیونکر ثابت ہو سکتی ہے اور ایسی شرط اس میں کیونکر ہو سکتی ہے کہ اس کے پورا ہونے سے اس کی موت ٹل جائے۔ اس سے پہلے جو بیان جدید شرط کے باطل کرنے میں کیا گیا ہے وہ اس کے لیے کافی ہے مگر مکرر آگاہ کیا جاتا ہے (١) انجام آتھم کے ص ٦٠، ٦١ میں نہایت ہی تاکیدوں کے ساتھ مرزا قادیانی سے وعدہ خداوندی ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی۔ صفحہ مذکور کھول کر ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح سے اور کیسی کیسی تاکیدوں سے پختہ وعدہ کیا گیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی۔ اگر اس کے لیے کوئی شرط ہوتی تو اس طرح ایسے پختہ اور سنگین وعدے ہرگز نہیں ہو سکتے تھے۔ پھر یہ پیشین گوئی اور ایسے پختہ وعدوں کا پورا ہونا ہندوستان کے شریفانہ برتاؤ کے لحاظ سے بغیر سلطان محمد کے مرے نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے ضرور ہے اس شرط کو آپ غلط تسلیم کریں کیونکہ اس جملہ کو شرط کہنا مرزا قادیانی کا محض خیال ہے وہ جملہ بلحاظ اپنے الفاظ اور معنی کے شرط نہیں ہے۔
(٢) اسی انجام آتھم ص ٢١٦ خزائن ایضاً میں مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ یرد بنت احمد الی بعد اهلاک المانعین الخ یعنی مانعین نکاح کے ہلاک کرنے کے بعد احمد بیگ کی لڑکی تیرے نکاح میں آئے گی۔ اور اصل مقصود ان مانعین کا ہلاک کرنا ہے۔ کہئے جناب یہ باتیں کسی کے ایمان لانے سے کیسے پوری ہو جائیں گی۔ اور اصل
٢٧
مقصود خداوندی کیونکر پورا ہو جائے گا۔ مرزا قادیانی کے اس الہام اور اس بیان کو سچا مان کر احمد بیگ کے داماد کی موت کے لیے کوئی ایسی شرط نہیں ہو سکتی کہ اس کے پورا ہو جانے سے اس کی موت ٹل جائے۔ مجیب کچھ تو عقل کو دخل دیجئے اور خدا سے ڈر کر کہئے کہ اس پیشین گوئی کی صداقت کیونکر ثابت ہوگی۔
- (٣) ص ٢٢٣ انجام آتھم میں قسم کھا کر احمد بیگ کے داماد کی موت کو حق کہہ
رہے ہیں اس کی نقل عنقریب آتی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کلام یقینی طور سے شہادت دیتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے سامنے مرے گا اس میں کوئی شرط نہیں ہے۔
- (٤) انجام آتھم ص ٣١ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ
نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ تقدیر مبرم ہے اور ص ٢٢٣ میں بھی اسے تقدیر مبرم کہا ہے۔ جب احمد بیگ کے داماد کی موت کو مرزا قادیانی بار بار تقدیر مبرم کہہ رہے ہیں۔ تو پھر اس کے لیے شرط ہونا کیا معنی۔ اہل علم کے نزدیک تو تقدیر مبرم وہی ہے جس میں کوئی شرط اور تعلیق نہ ہو پھر اسے تقدیر مبرم مان کر مجیب یا کوئی صاحب اس میں شرطیں کیسی بتاتے ہیں۔ جب وہ تقدیر مبرم ہے تو اس میں شرط نہیں ہو سکتی۔ البتہ یہ اعتراض کہ جنھوں نے اسے تقدیر مبرم کہا ہے انہوں نے اس میں شرط بیان کی ہے اس کا جواب خلیفہ قادیان دیں گے میں تو اس قدر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے کلام میں ایسے تخالف بہت ہیں ان کی عادت تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت جیسا موقع دیکھا یا جی میں آ گیا زور سے ایک بات کہہ دی اب وہ پہلے کسی قول کے مخالف ہو یا موافق ہو اور یہ سمجھ لیا تھا کہ اعتراض کے وقت بات بنا دینا کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے چنانچہ اب بین طور سے مشاہدہ ہو رہا ہے کہ تمام دنیا کے نزدیک یقیناً ان پیشین گوئیوں کا ظہور نہیں ہوا۔ اور اعلانیہ طور سے کاذب ہوئیں مگر جماعت مرزائیہ کہہ رہی ہے کہ پیشین گوئی کی صداقت ثابت ہوئی الحمد للہ۔
الغرض حضرات ناظرین غور فرمائیں کہ مجیب نے جو پیشین گوئی کے لیے دوسری شرط کی طرف اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے پورا ہونے سے پیشین گوئی کی صداقت
٢٨
ثابت ہوگئی محض غلط ہے کیونکہ یہ وہ پیشینگوئی ہے کہ اس میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔
حاصل کلام مرزا قادیانی کے متعدد اقوال سے آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کے لیے کوئی شرط نہیں ہوسکتی کہ اس کے پورے ہو جانے سے پیشین گوئی کی صداقت پائی جائے اور بغیر شرط کے مرزا قادیانی کا یہ مقولہ ہے کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اور اگر میں جھوٹا ہوں تو پیشینگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ (انجام آتھم ص ٣١)
اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر یہ پیشینگوئی پوری نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘ اب ساری دنیا پر روشن ہو گیا کہ مرزا قادیانی مر گئے اور یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اس لیے مرزا قادیانی اپنے متعدد اقراروں سے بلکہ اپنے الہام کی رو سے کاذب ثابت ہوئے۔ ’’اس کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا‘‘
اب خلیفہ آج فرمائیں کہ آپ کے مجیب کے جواب سے کسے شرمندہ ہونا چاہیے آپ کو یا آپ کے مخالفین کو۔ خدا سے ڈر کر منصفانہ جواب دیجئے گا۔ حکیم صاحب آپ مانیں یا نہ مانیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ فیصلہ آسمانی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ واقع میں آسمانی فیصلہ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اسے رد کر سکے۔ اس کے بعد میں مرزا قادیانی کا وہ قول آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں جس سے چار باتیں نہایت روشن ہیں۔
ایک یہ کہ احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا ضرور ہے۔ دوسری یہ کہ مرزا قادیانی اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار کہتے ہیں اور اس پر سخت قسم کھاتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ قول اجتہادی نہیں ہے بلکہ اس کی بناء الہام پر ہے۔
چوتھے یہ کہ ص ٣٢ میں مجیب نے جو شرط لگائی تھی وہ بھی مرزا قادیانی کے اقرار سے ان کی حیات میں پائی گئی۔
اب حضرات مرزائی آنکھیں کھول کر اور حواس درست کر کے مرزا قادیانی کا کلام ملاحظہ کریں اور اپنی جانوں پر رحم کھا کر صداقت کو اختیار کریں۔ اور یقین کر لیں کہ مرزا قادیانی بلا شک و شبہ اپنے اقراروں کے بموجب کاذب ہیں۔ مرزا قادیانی نے پہلے احمد بیگ کے داماد کے نہ مرنے کا ذکر کیا ہے یعنی ڈھائی سال کے اندر وہ کیوں نہیں مرا اس کے بعد اپنے سامنے اس کے مرنے کو یقینی طور سے قسم کھا کر بیان کرتے ہیں۔
٢٩
لم خلتم ان القضية ١ على هذا القدر تمت والنتيجه الاخرة هى التی ظهرت. وحقيقته البناء عليها ختمت. بل الامر قائم٢ على حاله. ولا يرده احد باحتياله. والقدر قدر مبرم من عند ٣الرب العظيم. وسياتى وقته. بفضل الله الکریم فوالذی بعث لنا محمد المصطفی. وجعله خیر الرسل و خیر الوریٰ ان هذا حق فسوف تری. وانی اجعل هذا البناء معیار صدقی او کذبی. وما ٤ قلت الا بعد ما انبئت. من ربی وان عشیرتی سیرجعون مرة اخری الی الفساد. ویتزایدون فی الخبث والعناد. فینزل یومئذ الامر المقدر من رب العباد. لاراد لما قضی ولا مانع لما اعطی. وانی اراهم. انهم قد مالوا الی سیرهم الاولی وقست قلوبهم کما هی عادة النوکی. ونسوا ایام الفزع. و عادوا الی التکذیب والطغویٰ. (انجام آتھم ص ٢٢٣‘ ٢٢٤ خزائن ج ١١ ص ٣٢٣)
١؎ اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ احمد بیگ کا داماد جو اس مدت میں موت سے بچ گیا تو یہ خیال نہ کرنا کہ وہ بچ گیا اب وہ اس وعید میں نہ مرے گا بلکہ وہ وعید بدستور قائم ہے وہ کسی وجہ سے رد نہیں ہو سکتی اور عنقریب اس کا وقت آتا ہے۔ خدا کی قسم جو کچھ میں کہتا ہوں۔ یہ حق ہے میں اسے اپنے صدق یا کذب کے لیے معیار قرار دیتا ہوں یعنی اگر اس پیشینگوئی کا ظہور ہو تو میں سچا ہوں اور اگر نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں اور جو کچھ میں نے کہا ہے وہ خدا سے اطلاع پا کر کہا ہے۔
٢؎ عبارت کے ہر ایک جملہ پر غور کرتے جائیے کہ ہر ایک جملہ اس شرط کو غلط بتا رہا ہے جسے مجیب نے پیش کیا ہے۔ دوسرا جملہ کہتا ہے کہ سلطان محمد کی موت بہرحال قائم ہے تیسرا جملہ کہتا ہے کہ وہ کسی کے رد کئے سے رد نہیں ہو سکتی اگر اس کے لیے وہ شرط ہوتی جو مجیب لکھ رہے ہیں تو اس کا رد کرنا مشکل نہ تھا اور مجیب کے خیال کے بموجب اس کا رد ہو گیا چوتھے جملہ میں اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں اور تقدیر مبرم میں کوئی شرط نہیں ہو سکتی پانچویں جملہ میں اس کے وقت کو قریب بتاتے ہیں اگر شرط کرتے تو ایسا نہ کہتے۔ پھر سب سے زیادہ تو یہ جملہ ہے جس میں وہ اپنے صدق و کذب کا معیار بتا رہے ہیں اب یہ فرمائیے کہ معیار کس شے کو بتا رہے ہیں وہ تو بجز اس کی موت کے اور کچھ نہیں ہے یعنی سلطان محمد کا میرے سامنے مرنا میرے صدق کی معیار ہے پھر اس میں ایسی شرط کیونکر ہو سکتی ہے کہ ان کی موت تک پوری نہ ہو۔
٣؎ یہ چوتھا جملہ صاف دلالت کرتا ہے کہ احمد بیگ کے داماد کے موت کی نسبت جو کچھ انجام آتھم کے ص ٣١ میں لکھا گیا ہے اس کی بناء الہام پر ہے اجتہاد پر نہیں اور آٹھویں جملہ نے نہایت صراحت سے اس کا فیصلہ کر دیا کیونکہ صفحہ مذکور کے مضمون کو مرزا قادیانی الہامی بتاتے ہیں۔
٤؎ اس جملہ کا فارسی ترجمہ مرزا قادیانی نے اس طرح کیا ہے و من نگفتم الا بعد ازاں کہ از رب خود خبر دادہ شدم۔ یعنی احمد بیگ کے داماد کی نسبت جو کچھ میں نے کہا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے بلکہ خدا کی طرف سے مجھے اطلاع دی گئی ہے۔
٣٠
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے بعض جملے موٹے قلم سے لکھے ہیں تاکہ مخالفین کو ان جملوں کی طرف زیادہ توجہ ہو۔ میں نے اسی طرح ان کو نقل کیا ہے اور ناظرین سے کہتا ہوں کہ جو جملے موٹے قلم سے لکھے گئے ہیں ان میں زیادہ غور کریں۔ اور جہاں جہاں میں نے خط کھینچ کر ہندسہ دے دیا ہے انھیں جملوں سے دو چار باتیں ثابت ہوتی ہیں جن کا ذکر میں نے عبارت سے پہلے کیا ہے اہل علم حضرات کے لیے اس قدر اشارہ کافی ہے۔ البتہ کم علم لوگوں کے لیے اس قدر لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی خبر دے رہے ہیں کہ میرے کنبے کے لوگ عنقریب فساد پر آمادہ ہونے والے ہیں اور خباثت اور دشمنی میں پہلے سے بھی زیادہ ہو جائیں گے اور پھر اس حالت کا نہایت قریب ہونا اس طرح بیان کیا کہ گویا ایسی حالت ان کی ہو گئی اب اس میں شبہ نہیں ہے یہ تین جملے ملاحظہ ہوں۔
- ١....... انهم قد مالوا الى سيرهم الاولىٰ.
لفظ ان اور قد لا کر اور اس جملے کو جلی قلم سے لکھ کر اس کا یقین دلاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پہلے عادت کی طرف عود کیا۔
- ٢....... وقست قلوبهم.
یعنی ”ان کے دل سخت ہو گئے“ تیسرا جملہ یہ ہے:
- ٣....... وعادوا الى التكذيب والطغوى.
یعنی جس طرح پہلے سرکشی اور تکذیب کرتے تھے اب پھر کرنے لگے۔ یہ کلام نہایت صراحت سے کہہ رہا ہے کہ احمد بیگ کے داماد وغیرہ نے جو درمیان میں رجوع کیا تھا وہ بات نہیں رہی بلکہ بدستور سابق انہوں نے پھر سرکشی اور تکذیب پر کمر باندھی ہے۔ غرضیکہ وعید کے رکے رہنے کا جو سبب تھا وہ زائل ہو چکا ہے اور تکذیب اور سرکشی نے جو وعید کا سبب تھا ان میں پھر عود کیا ہے اور اسے اس قدر شہرت ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی کو اطلاع ہوئی۔ اس سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ پیشین گوئی کے ظہور کے لیے ص ٣٢ میں جو شرط مجیب کے خیال میں کی گئی تھی وہ ص ٢٢٢ کے لکھنے کے وقت تک پوری ہو گئی اس لیے مشروط کا پایا جانا ضرور ہے۔ اس میں جو اشتہار دینا لکھا ہے اس سے مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دلی تکذیب لوگوں پر ظاہر ہو جائے اور معمولی اشتہار وعید کے لیے نہ عقلاً شرط ہو سکتا ہے اور نہ نقلاً، کسی نبی اور کسی رسول نے اپنے مخالفین کے لیے یہ شرط نہیں کی
٣١
نہ کتاب اللہ میں اس کا ذکر ہے خدا تعالیٰ نے وعید کو منکرین کے لیے صرف عناد و تکذیب پر منحصر رکھا ہے اور بدیہت عقل بھی یہی کہتی ہے کہ وعید کے ظہور کے لیے مکذب کافی ہے کاغذ کے پرچوں پر لکھ کر شائع کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ الغرض پیشینگوئی کے پورا ہونے کے لیے مجیب نے جو شرط ص ٣٢ میں بیان کی تھی وہ پائی گئی اس لیے ص ٣١ کی پیشین گوئی کا ظہور ہونا چاہیے تھا مگر اس کا ظہور نہ ہوا اور مرزا قادیانی اپنے اقرار بموجب کاذب ثابت ہوئے اور اگر مجیب کا یہ خیال ہے کہ اشتہار سے مراد وہ معمولی اشتہار ہے تو اس کی سخت غلطی ہے کیونکہ اگر وہ مرزا قادیانی کو مقدس نبی مانتا ہے تو اسے ضرور ہے کہ ان کی روش اگلے انبیاء کی سی سمجھے اور جو وہ کہیں اور کریں وہ مطابق کتاب اللہ کے ہو اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ اشتہار کے معنی وہی ہوں جو ہم نے بیان کئے ہیں اور اگر مجیب کو اپنی بات پر اصرار ہو تو ہم بے تامل یہ کہیں گے کہ خدا کے وعید کسی بندے کے فضول شرط کے مقید نہیں ہو سکتے وعید کے ظہور کے لیے فقط انکار و تکذیب ہونا چاہیے اس لئے ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ اگر وہ پیشین گوئی بالہام خداوندی ہوئی تھی تو اس کا ظاہر ہونا ضرور تھا اور جب دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ اس پیشینگوئی کا ظہور نہ ہوا یعنی احمد بیگ کا داماد نہیں مرا بلکہ اب تک موجود ہے اور مرزا قادیانی کئی برس ہوئے کہ تشریف لے گئے اور عالم برزخ میں پہنچ گئے اس لئے بالیقین معلوم ہوا کہ وہ الہام ربانی نہ تھا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا صحیح ہو گیا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشینگوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔“ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ معترضین جواب دیں کہ کیوں انہوں نے سلطان محمد سے اشتہار نہیں دلایا“ مدرس صاحب جواب ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کے کذب کا انہیں کامل یقین ہو گیا تھا اب زیادہ تجربہ کی ضرورت نہ رہی تھی اس کے علاوہ خوب تجربہ ہو گیا تھا کہ مرزا قادیانی کے دعوے اس قسم کے ہوا کرتے ہیں اور جب کوئی سامنے آ جاتا ہے تو باتیں بنا کر ٹال دیتے ہیں اور ان کے مریدین خوش ہو جاتے ہیں۔ پھر اشتہار دلوانے کا کیا فائدہ۔ مسلمان تو خوب تجربہ کر چکے ہیں انہیں تو ضرورت نہیں رہی ان کے معتقدین ان کے سامنے کیسی ہی غلط اور مہمل بات بنا دیں۔ وہ ماننے کے لیے تیار رہتے ہیں اسی احمد بیگ کے داماد کی نسبت پہلے پیشین گوئی کی گئی کہ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا جب وہ نہ مرا اور یہ پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی تو مرزا قادیانی نے کس قدر غل مچایا ہے اور بخدائے
٣٢
علیہ کس قدر جھوٹی باتیں بنائی ہیں کہ خدا کی پناہ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ چونکہ وہ اپنے خسر کے مرنے سے بہت پریشان ہو گیا اور رویا اور گڑگڑایا اور اس نے توبہ کی اس لیے اس کی وعید ٹل گئی جس طرح حضرت یونسؑ نے اپنی قوم سے وعید بیان کی تھی اور ان کے رونے اور رجوع کرنے پر وہ وعید ٹل گئی تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کو اس قدر طول دیا اور دفتر سیاہ کیا کہ اس کا اندازہ ہم اس وقت بیان نہیں کر سکتے۔ مگر اہل علم وسیع النظر حضرات جان سکتے ہیں کہ وہ باتیں محض غلط اور بناوٹ کی تھیں۔ بغیر ایمان لائے فقط خوف سے یا دلی خیال سے (اگر ہوا بھی ہو) وعید نہیں ٹل سکتی اس پر قرآن مجید اور حدیث صحیح دونوں شاہد ہیں۔ قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے لَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ (یوسف ١١٠) مجرموں سے ہمارا عذاب ٹلتا نہیں ہے۔ منکر نبوت بڑا مجرم ہے اور جب اس کے لیے کوئی وعید بیان کر دی گئی تو جب تک وہ مجرم ہے یعنی ایمان نہیں لایا اس سے وہ وعید نہیں ٹل سکتی کیونکہ یہ وعید اس کے لیے عذاب الٰہی ہے اور بموجب ارشاد خداوندی عذاب الٰہی مجرم سے ٹل نہیں سکتا۔ عذاب ٹل جانے کی صورت صرف یہی ہے کہ وہ ایمان لے آئے اور اس رسول کو مان لے جس کے انکار سے عذاب اس پر مسلط ہوا ہے۔ اس کے سوا اس کے رونے دھونے سے عذاب نہیں ٹلتا، صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٦٣ باب من یقتل ببدر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن خلف کے مارے جانے کی پیشین گوئی کی تھی اور اس کی وجہ سے امیہ نہایت خوف زدہ ہو گیا تھا چنانچہ بخاری کے یہ الفاظ ہیں ففزع لذلک امیہ فزعا شدیداً مگر اس کی وجہ سے وہ وعید نہیں ٹلی اور پوری ہو کر رہی۔ اگر احمد بیگ کے داماد کو کچھ خیال ہوا ہوگا تو اسی قدر امیہ کو خیال ہوا۔ اس سے زیادہ خیال کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جو کچھ زور تحریر اس بات میں مرزا قادیانی نے دکھایا ہے وہ محض غلط باتیں جس کے غلطی میں کچھ شبہ نہیں ہے اور اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اگر خوف و ہراس سے اس کی ایسی حالت ہوگئی تھی جیسی مرزا قادیانی نے بیان کی ہے تو طبعی اقتضاء یہ تھا کہ بے اختیار وہ مرزا قادیانی کے پاس آ کر توبہ کرتا اور بیعت کر لیتا مگر اس نے تو کسی وقت ایسا نہ کیا بلکہ اب تک وہ ان کا منکر اور برا کہنے والا موجود ہے یہ بدیہی ثبوت ہے کہ احمد بیگ کے داماد کو بجز معمولی رنج وغم کے اور کچھ نہیں ہوا۔ اور بالفرض اگر ہوا بھی تو اس سے عذاب نہیں ٹل سکتا عذاب ٹلنے کے لیے ایمان لانا ضروری ہے (٢) حضرت یونسؑ کی مثال
٣٤
دینا محض غلط ہے کیونکہ ان کی قوم کے لیے یہ وعید کسی وقت نہیں کی گئی کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے احمد بیگ کے داماد کی نسبت صاف کہا گیا کہ ڈھائی برس کے اندر مر جائے گا۔ حضرت یونسؑ کی قوم سے اگر کہا گیا تو اس قدر کہ عذاب آنے والا ہے یعنی عذاب کے آنے سے انہیں ڈرایا گیا تھا اس وعدہ کا ظہور یقینی طور سے ہو گیا یعنی عذاب آ گیا اور انہوں نے اس کا معائنہ کیا اس کے بعد وہ قوم ایمان لے آئی اور حضرت یونسؑ کے چلے جانے سے نہایت پریشان ہوئی۔ اور غریب سے لے کر بادشاہ تک نے اپنی عاجزی اس قدر ظاہر کی کہ کپڑے اتار کر ٹاٹ پہنا اور چالیس روز تک یا کچھ کم میدان میں روتے رہے۔ حضرت یونسؑ کو تلاش کیا اور ان پر ایمان لائے اس لئے اللہ نے ان پر رحم کیا۔ جب وہ ایمان لے آئے تو مجرم نہ رہے اس وجہ سے عذاب ٹل گیا مگر یہ خوب خیال رہے کہ جس قدر وعید کی گئی تھی اس کا ظہور ہوا۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ وعید ہرگز نہیں تھی کہ وہ لوگ عذاب سے ہلاک ہوں گے۔ الغرض جو بات ٹل گئی اس کا وعدہ نہ تھا اور جس کا وعدہ تھا اس کا ظہور یقینی طور سے ہوا۔ اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ خوف کی وجہ سے وعید کی پیشین گوئی میں تاخیر ڈال دی جاتی ہے اور اس قول کو خدا اور رسول کی طرف منسوب کرنا اور اجماعی عقیدہ بنانا محض غلط ہے۔
خلیفہ قادیان بتائیں کہ یہ عقیدہ اجماعی کہاں سے ثابت ہوتا ہے اور خدا و رسول کا کلام کونسا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعید کی پیشین گوئی صرف خوف سے ٹل جاتی ہے یا وقت معینہ سے اس میں تاخیر ہو جاتی ہے قرآن کی کسی آیت میں یا صحیح حدیث میں کہیں دکھائیں۔ ہم نے تو آیت و حدیث دونوں سے اپنا دعویٰ ثابت کر دیا۔
الحاصل احمد بیگ کے داماد کی نسبت یہ پہلی پیشین گوئی یقیناً پوری نہ ہوئی مگر مرزا قادیانی نے اس کے پورا نہ ہونے کا اقرار نہیں کیا اور جھوٹی باتوں کا ایک طوفان اٹھا دیا اور خاص مریدوں نے بھی انہیں غلط باتوں پر بجز آمنا کہنے کے کسی وقت اس کی تحقیق کی طرف توجہ بھی نہ کی۔ اسی طرح اگر وہ اشتہار دیتا اور پھر بھی نہ مرتا تو ایسے ہی باتیں بنانے سے کون روک سکتا تھا۔ جیسے پہلے بنائی تھیں ان تجربوں کے بعد اشتہار دلوانا فضول تھا۔ اس لئے نہیں دلوایا۔
٣٤
اب میں اسی پر کفایت کرتا ہوں ایماندار حق پسند حضرات کے لیے اس قدر مرزا قادیانی کی حالت معلوم کرنے کے لیے کافی ہے ان کے مریدوں کی عقل پر تو ایسا پردہ پڑا ہے کہ بدیہی بات کا بھی انکار کر رہے ہیں۔ منکوحہ آسمانی ان کے نکاح میں نہ آئی۔ احمد بیگ کا داماد ان کی پیشین گوئی کے مطابق نہ مرا۔ اس وقت تک زندہ موجود ہے۔ اور پھر لکھ رہے ہیں کہ دونوں پیشین گوئیاں پوری ہوگئیں۔ (معاذ اللہ) پھر اس اندھیر کا کیا ٹھکانا ہے اندھوں کو آفتاب کی روشنی کس طرح دکھائی جائے۔ مولوی اسمعیل قادیانی مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں۔ تیسرے نکاح کی پیشین گوئی۔ سلطان محمد کے وعیدی موت کی پیشینگوئی کو۔ (مرزا قادیانی نے) ایک ہی پیشین گوئی قرار دیا ہے۔‘‘ لیجئے جناب سلطان محمد کا مرنا۔ اور اس کی بیوی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ایک چیز ہے یا ایک خبر ہے دو نہیں ہیں جو دو چیزیں بدیہی طور سے علیحدہ علیحدہ جسم کی آنکھ سے عقل کی نظر سے دو نظر آتی ہیں۔ ہر ایک انسان انہیں دو چیزیں سمجھتا ہے انہیں مرزا قادیانی ایک بتا رہے ہیں اور مرید اسے مان رہے ہیں۔ قادیانی مولوی مرزا قادیانی کے وہ اقوال اور الہامات جن سے یہ دونوں پیشین گوئیاں علیحدہ علیحدہ بین طور سے معلوم ہوتی ہیں آپ کے پیش نظر نہیں ہیں بکر و ثیب والی پیشینگوئی کو یاد کیجئے۔ یا احمد١ ادخل انت وزوجک الجنۃ والے الہام پر نظر کیجئے۔ (انجام آتھم کے ص ٦٠، ٦١ خزائن ایضاً) والے الہام پر غور کیجئے یہاں تو احمد بیگ کے داماد کا نام و نشان بھی نہیں ہے اور احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کی نسبت یہ الہامات ہیں اور خدا کا وعدہ بلکہ اس کا عہد ہے مرزا قادیانی سے کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی جس کی نسبت کہا گیا ہے٢ اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (انجام آتھم ص ٤٠) اور مرزا قادیانی کا وہ کامل یقین بھی آپ کو یاد ہوگا کہ جب عدالت میں سوال کیا گیا ہے۔
- ١ یہ پیشین گوئی اور الہام بھی انجام آتھم میں ہے۔
- ٢ مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ سلطان محمد کی بیوی کو ہم تیرے پاس لانے
والے ہیں اس کام کو ہم کرنے والے ہیں تو شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہو
٣٥
کہ آپ کو امید ہے کہ نکاح ہوگا اور مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ امید کیسی مجھ کو تو یقین کامل ہے کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اب قادیانی مولوی فرمائیں کہ جس کی نسبت بتاکید کہا گیا کہ ہم اس کے کرنے والے ہیں اور پھر اس میں شک و شبہ کرنے کی ممانعت کی گئی وہ یہی کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آئیں گی پھر اس کی صداقت ثابت ہوگئی۔ پھر اسی یقین کامل کا ظہور ہوا جو عدالت کے روبرو کہا گیا تھا؟ ذرا سنبھل کر جواب دیجئے۔ پھر یہ پیشین گوئی اور احمد بیگ کے داماد کا مرنا ایک کیسے ہو گیا ہوش میں آ کر بتائیے۔ قادیانی مولوی یہ جو آپ دو پیشین گوئیوں کو ایک کرتے ہیں اور دونوں میں ادغام دیتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا اور اس کے شوہر کا مرنا ایک واقعہ کسی عاقل کے نزدیک نہیں ہوسکتا اور نہ ایک پیشین گوئی کے پورا ہونے سے دوسری پوری ہوسکتی ہے۔ اور یہاں تو کوئی پوری ہی نہیں ہوئی۔ ایسا اندھیر نہ مچائیے۔ بداہت کا انکار نہ کیجئے بہت اچھا ہم آپ کے اس اندھیرے کو بھی قطع نظر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے متعدد وجوہ سے روشن کر کے دکھا دیا کہ احمد بیگ کے داماد والی پیشین گوئی میں کوئی شرط نہیں ہوسکتی۔ اور اگر شرط کو مان لیا جائے تو وہ شرط پوری نہیں ہوئی پھر وہ پیشین گوئی پوری کیسے ہوگئی۔ آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ مدرس صاحب آپ نے یہاں تو احمد بیگ کے داماد والی اور منکوحہ آسمانی والی دونوں پیشین گوئیوں کو اپنے خیال کے بموجب پورا کر کے دکھا دیا اور اپنے گروہ کو خوش کر دیا۔ مگر یہ بات بتائی کہ جب یہ پیشینگوئیاں پوری ہوگئیں تو خدائے قدوس کی خلاف وعدگی کے ثبوت میں آپ نے آیت يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ. کیوں پیش کی اور اس مقدس ذات میں عیب لگانے کی آپ کو کیا ضرورت پیش آئی۔ اس سے پہلے تو آپ نے اس قسم کی آیتیں کبھی پیش نہیں کی تھیں۔ اس کے سوا آپ کو یاد نہیں کہ آپ کے جناب مرزا قادیانی (تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھ چکے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کا نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا پھر آپ فسخ شدہ نکاح کو اپنے مرشد کے خلاف جوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اسی کے جواب میں آیت يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ بھی پیش کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آسمان پر نکاح ہوا تھا مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اسے محو کر دیا۔ پھر اس محو شدہ نکاح کو خلاف مرضی خداوندی آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ غرضیکہ آپ کے جواب پر اعتراضوں کی بوچھاڑ ہوسکتی ہے ذرا سمجھ کر بات کہئے اور خدا سے ڈریئے صرف اپنی بات بنانے کے پیچھے نہ پڑیئے اور اللہ تعالیٰ عالم مافی الصدور ہے۔ آپ کے برادر ایڈیٹر اخبار نے تو اس فسخ کو نسخ بتایا ہے جیسا بعض آیات قرآنیہ میں کہا
٣٦
جاتا ہے۔ مگر آپ نے اس جواب کو شاید پسند نہیں کیا۔ مجھے سخت افسوس یہ ہے کہ مریدین کے تقاضوں کے بعد خلیفہ کے دربار سے ایسے جوابات شائع ہوتے ہیں جس کا غلط ہونا تھوڑے علم والا بلکہ صحبت یافتہ جاہل بھی معلوم کر سکتا ہے۔ خلیفہ صاحب اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ تینوں١ پیشینگوئیاں مرزا قادیانی کی غلط ثابت ہوئیں۔ یعنی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آنا، احمد بیگ کے داماد کا نکاح کے روز سے ڈھائی برس کے اندر نہ مرنا، پھر تیسری پیشینگوئی کے بموجب مرزا قادیانی کی حیات میں اسکا نہ مرنا۔ اس لئے مرزا قادیانی مقتضائے نص٢ قطعی قرآن مجید کے کاذب ثابت ہوئے۔ اس کے جواب کے لیے آپ کو ساری عمر کی مہلت دی جاتی ہے۔ جس جواب کی حالت اس مختصر رسالہ میں دکھائی گئی ہے۔ یہ خلیفہ قادیان کے دربار سے نکلا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان پیشین گوئیوں کے غلط ہو جانے کو ان کا دل ضرور مان چکا ہے۔ مگر اب بات کی پچ ہے اور ایسی بدیہی باتوں سے انکار کرنے سے یہ مطلب ہے کہ عوام منحرف نہ ہو جائیں۔ ان کے خوش کرنے کے لئے کچھ بات بنا کر یہ کہہ دینا کافی ہے کہ پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ الغرض مرزا قادیانی کی وہ پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں جن کو انہوں نے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس کا ظہور نہ ہو تو میں کاذب ہوں جب ان کا ظہور نہ ہوا تو مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب بالیقین کاذب ثابت ہوئے۔ اب جو حق پسند سچائی کے طالب ہیں وہ غور فرمائیں اور انجام کا خیال کرکے سچائی کو ہاتھ سے نہ دیں۔
فلا هادى له
١ ان کے سوا بہت پیشین گوئیوں کا غلط ہونا الہامات مرزا (مولفہ ثناء اللہ امرتسریؒ) میں لکھا گیا ہے اور برسوں سے وہ شائع ہے جواب کے لیے انعامی اشتہار بھی ہے مگر کسی کی ہمت آج تک جواب دینے کی نہ ہوئی بلکہ اس کے مولف مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں کی نسبت ہم سے مناظرہ کر لیا جائے مگر کوئی سامنے نہیں آتا۔ مرزا قادیانی کے سامنے مولوی صاحب قادیان اسی غرض سے گئے تھے کہ پیشینگوئیوں کی پڑتال مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ہو جائے مگر مرزا قادیانی سامنے نہ آئے۔ بایں ہمہ رسالوں میں لکھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری پیشینگوئیاں پوری ہوگئیں اس بے شرمی کا کیا ٹھکانا ہے۔
٢ رسالہ کے شروع میں یہ نص قطعی نقل کیا گیا ہے۔
٤٧٣
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
معیار صداقت
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسول الکریم
برادرانِ اسلام دسویں صدی کی ابتدا میں سید محمد ١ جونپوری نے ہند میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور تیرہویں صدی کے درمیان میں علی محمد ٢ بابی نے ملک فارس میں یہی دعویٰ کیا۔ اور دونوں مدعی بہت کچھ کامیاب ہوئے۔ اور اب تک اُن کے ماننے والے موجود ہیں۔ چودہویں صدی کی ابتدا میں مرزا غلام احمد قادیانی نے پنجاب میں یہ دعویٰ کیا مرزا قادیانی کو اپنے دعوے کی اشاعت میں نہایت آسانی اور عافیت اس وجہ سے ہوئی کہ وہ ایک آزاد گورنمنٹ کی حکومت میں رہتے تھے کسی بات سے کوئی اُن کا روکنے والا نہ تھا۔ اشاعت کے اسباب بھی اس وقت میں بہت کچھ مہیا ہیں پھر ان کے طرز تحریر نے کامل علمائے دیندار کو ان کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا۔ اس لیے انہیں اس قدر کامیابی ہوئی جو اس وقت دیکھی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کے ثبوت میں اپنی پیشین گوئیاں پیش کی ہیں ان میں دو پیشین گوئیاں بہت ہی مہتم بالشان ہیں جن کو مرزا قادیانی نے اپنے دعوٰی کا نہایت عظیم الشان نشان بتایا ہے وہ یہ (١) کہ احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں
١ اس کا حال ہدیہ مہدویہ میں مولانا محمد زماں خاں مرحوم شاہجہانپوری حیدرآبادی نے لکھا ہے ناظرین اسے ضرور ملاحظہ کریں اور مرزا قادیانی کی حالت سے ملائیں۔ ٢ اس کا مختصر حال حافظ عبدالرحمٰن امرتسری نے اپنے سفر نامہ میں اور مذہب الاسلام کے آخر میں لکھا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ اس فرقہ نے استنبول، شام، مصر، امریکہ، بمبئی، رنگون میں اچھی وقعت حاصل کی ہے۔ اب جو حضرات مرزا قادیانی کی کامیابی پر فریفتہ ہوئے ہیں انہیں غور کرنا چاہیے کہ مرزا قادیانی کو ایسی کامیابی نہیں ہوئی۔
٢
آئے گی اور (٢) سلطان محمد اس کا شوہر میرے روبرو مرے گا۔ ان دونوں پیشین گوئیوں کا چرچا بیس برس سے زیادہ مرزا قادیانی نے نہایت زور کے ساتھ کیا ہے اور مختلف طور پر اُن کے ظہور کے لیے وعدۂ خداوندی بتایا ہے اور اس قدر تاکید اور یقین سے اس دعوے کو بیان کیا ہے۔ جس سے زیادہ تاکید اور یقین دلانا نہیں ہو سکتا مگر فضل خداوندی یہ ہوا کہ یہ دونوں پیشین گوئیاں غلط ہوگئیں اور ان کی زبان سے ان کے دعوے کا فیصلہ ہوگیا۔ اور ان کے پختہ اقراروں نے ان کی حالت کو اظہر من الشمس کر دیا۔ یہ وقت تھا کہ جنہوں نے غلطی سے اُن کی پیروی اختیار کی تھی اور ان کے دعوے کے مصدق ہوگئے تھے وہ فوراً ان سے علیحدہ ہوکر حق کے پیرو ہوتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ مرزا قادیانی کی حمایت میں (جو دراصل نفس کی حمایت ہے) خدائے قدوس پر الزام لگانے لگے اور یہ کہنے لگے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے وعدے کئے تھے مگر پورے نہ کئے اور خدا تعالیٰ کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کرنے لگے اور اس پردہ میں مخالفین اسلام کو مدد دینے لگے۔ چنانچہ اخبار بدر قادیان مطبوعہ ٨ اگست ١٩١٢ء میں ایک مضمون نکلا ہے اس میں دو آیتیں پیش کی ہیں۔
(١) یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ (٢) قَالُوْا یَانُوْحُ قَدْ جَادَلْتَنَا (الخ) قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ۔ ان آیتوں کو نقل کرکے صرف اس قدر دریافت کیا ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیتیں ہیں یا نہیں۔ اس کی تشریح مطلقاً نہیں کی کہ ان آیتوں سے ان کا
١؎ اس آیت کے اوپر یہ ذکر ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ ایک شخص اسی کے قریبوں میں یا اس کے گروہ میں تھا مگر پوشیدہ طور سے ایمان لے آیا تھا اس نے چاہا کہ فرعون کو اس ارادے سے باز رکھوں اور اس طرح سمجھانا شروع کیا کہ تو ایسے شخص کو مارے گا جو اللہ کو اپنا پروردگار کہتا ہے اور تمہارے پاس کھلی نشانیاں لایا ہے اچھا ان نشانیوں کو نہ مانو تمہیں اختیار ہے مگر تمہاری بھلائی کے لیے کہتا ہوں کہ وان یک کاذبا فعلیہ کذبہ۔ وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم یعنی اگر موسیٰ ؑ جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال اس پر پڑے گا اور آپ تباہ ہوگا تیرے مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر سچا ہے تو اس کے وعدوں کا ظہور کچھ تو ہوگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوشیدہ مومن فرعون کے سامنے ایسا لفظ بولا جو ذومعنیین تھا یعنی اس کے معنی بعض کے بھی تھے اور کل کے بھی نہایت قرین قیاس ہے کہ وہ ایسا لفظ اس لیے بولا کہ میں سچا بھی رہوں اور عام محاورہ کے لحاظ سے فرعون کے مزاج کے بالکل برخلاف بھی نہ ہو تاکہ وہ میری بات کا خیال کرے۔ قرآن مجید میں اس کے لفظ کا ترجمہ بعض کیا گیا۔ جس کے معنی عام محاورہ (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٣
مدعا کیونکر ثابت ہوا۔ اس لیے ہم بھی اس قدر کہتے ہیں کہ آیتیں قرآن مجید کی ہیں مگر ان سے اس کا ثبوت ہرگز نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کرتا ہے اس قدوس کی ذات اقدس اس عیب سے پاک ہے اور ہم اپنے دعوے کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کرتے ہیں جو ہمارے دعوے کے ثبوت میں نصوص قطعیہ ہیں۔
- (١) رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا. اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔ (آل عمران ١٩٤) اے
پروردگار جو تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عنایت کر۔ اس میں شبہ نہیں کہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
- (٢) حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (رعد ٣١) اس کا حاصل
بھی وہی ہے جو پہلی آیت کا ہے۔
- (٣) فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ۔ (ابراہیم ٤٧) اس بات کا خیال
بھی دل میں نہ لا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے اور کسی وقت اپنے وعدے یا وعید کو پورا نہیں کرتا۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا یہاں نہایت تاکید سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ
(گزشتہ صفحے کا حوالہ) میں اور ہیں اور بعض وقت دوسرے معنی میں بھی بولا جاتا ہے یعنی کل کے معنے میں تفسیر روح المعانی میں اس کے ثبوت میں کئی شعر لکھے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے کلام کا ترجمہ کر دیا گیا اور ایسا لفظ لایا گیا جس کے دونوں معنی کلام عرب میں ہیں اگر چہ ایک معنی متعارف اور عام ہیں اور دوسرے معنی میں اتفاقاً کسی وقت بولا جاتا ہے۔ جب یہ لفظ دونوں معنی کے لیے آیا تو اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ خدا کے سارے وعدے پورے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ جماعت مرزائیہ کہہ رہی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ موسیٰ کو سچا مان کر یہ کہا جائے کہ ان کے اکثر وعدے اور وعید تو جھوٹے ہوں گے مگر بعض سچے ہوں گے کیونکہ اگر یہ معنی ہوں تو جھوٹے اور سچے میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ایسے شخص کو کوئی سچا نہیں کہہ سکتا جس کی اکثر باتیں جھوٹی ہوں۔ اور فرعون کا مقابل انہیں سچا نہ مان کر سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے آیت کے معنی وہ نہیں ہو سکتے جو جماعت مرزائیہ سمجھی ہے مگر چونکہ آیت میں بعض کا لفظ آیا ہے اس لیے جماعت مرزائیہ اپنے الزام دفع کرنے کے لیے لغت غیر مترقبہ سمجھی اور خوشی میں آ کر آیت کے معنی یہ خیال کر لیے کہ خدا بعض وعدے پورے کرتا ہے سب نہیں کرتا مگر انہیں سارے قرآن مجید پر نظر کرنا چاہیے۔ دیکھیں کہ قرآن مجید میں کتنی آیتیں ہیں جن سے قطعاً اور یقیناً ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ یا وعید خلاف نہیں ہو سکتا۔ اس کے تمام وعدے سچے ہوتے ہیں چند آیتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ ایسے نصوص قطعیہ کے ہوتے ہوئے کوئی ذی علم کسی آیت سے خدا کی وعدہ خلافی ثابت نہیں کر سکتا تنزیہہ ربانی میں اس آیت کی دوسری توجیہ بیان کی ہے وہ عام فہم زیادہ ہے
بالخصوص اپنے رسول سے وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ یہ آیت اس مدعا میں نص قطعی ہے کہ مرزا قادیانی مامور من اللہ اور خدا کے رسول نہ تھے کیونکہ جس بات کو مرزا قادیانی نے نہایت پختہ وعدۂ خداوندی بار بار کہا ہے وہ پورا نہیں ہوا۔
(٤) فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ (روم ٦٠) صبر کر اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے کبھی خلاف نہیں ہو سکتا۔
(٥) اَلَا اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (یونس ٥٥) آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے (اس میں کسی وقت جھوٹ کا شائبہ نہیں ہو سکتا) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ انہیں میں سے جماعت مرزائی بھی ہے کہئے خلیفہ قادیان یہ قرآن مجید کی آیتیں ہیں یا نہیں اور ہیں تو اس باب میں نص قطعی ہیں یا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں اس کا وعدہ کوئی خلاف نہیں ہوتا؟ اگر آپ قرآن کو مانتے ہیں تو یہ بھی آپ کو ضرور ماننا پڑے گا۔ ان نصوص قطعیہ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ جو آیتیں آپ نے پیش کی ہیں ان کا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں۔ وہ مرزائی جو خلیفہ قادیان کے پاس رہ کر اس پیشین گوئی کا یہ جواب دیتے ہیں کہ وہ نکاح منسوخ ہو گیا اور اپنی بے علمی سے یہ کہتے ہیں کہ کیا نسخ آیات کا ثبوت قرآن شریف سے نہیں ملتا۔" افسوس یہ ہے کہ حکیم نور الدین وہاں موجود ہیں اور ان سے یہ نہیں کہتے کہ نسخ اگر ہوتا ہے تو احکام میں ہوتا ہے اخبار میں نہیں ہوتا۔ پیشین گوئیاں خبر ہیں اور ایسی خبر ہیں کہ وعدۂ خداوندی ہے ان کو نسخ سے کیا واسطہ۔ اگر کچھ ایمان ہے تو ان آیتوں پر غور کریں۔ خدا پر عیب نہ لگائیں۔ آیتوں کے بعد مضمون نگار نے حضرت یونسؑ کی پیشین گوئی کو پیش کیا ہے جس کو مرزا قادیانی نے اپنے لیے بڑی سپر بنا رکھا ہے مگر یہ سخت مغالطہ ہے۔ حضرت یونسؑ کی کوئی پیشین گوئی غلط نہیں ہوئی۔ نہ وعدۂ معینہ سے ٹل گئی۔ حضرت یونسؑ نے اپنی قوم سے یہ پیشین گوئی ہرگز نہیں کی تھی کہ خدا تعالیٰ تمہیں ہلاک کرے گا البتہ اس قدر کہہ کر قوم کو ڈرایا تھا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب آئے گا۔ جب انہوں نے نہ مانا تو بموجب ان کے کہنے کے عذاب آیا۔ اس کا ثبوت قرآن مجید میں ہے۔ مگر وہ عذاب کے آثار دیکھتے ہی ایمان لے آئے اس لیے عذاب ٹل گیا۔ غرضیکہ جو پیشین گوئی کی تھی وہ پوری ہوئی۔ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی یہ تھی کہ محمدی میرے نکاح میں آئے گی اور اس کا شوہر میرے
٥
روبرو مرے گا۔ اس کا ظہور نہ ہوا۔ پھر حضرت یونسؑ کی پیشین گوئی سے اس کا جواب کس طرح ہو گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ احمد بیگ کے داماد کی نسبت جو پیشین گوئی غلط ہوئی اس کا ایک اور جواب مجیب نے دیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ انجام آتھم کے صفحہ ٣١ کی بنا پر جو اعتراض کیا گیا ہے اس کا جواب اسی کے صفحہ ٣٢ میں موجود ہے وہ یہ کہ احمد بیگ کے داماد کی موت کو مرزا قادیانی نے مشروط کیا ہے اس کے بیباکانہ اور مکذبانہ اشتہار دینے پر وہ شرط اس نے پوری نہیں کی اس لیے مشروط نہیں پایا گیا۔ اب حق پسند حضرات مجیب کی عبارت فہمی یا حق پوشی ملاحظہ فرمائیں۔ فیصلہ آسمانی میں صرف انجام آتھم کے صفحہ ٣١ کی بنا پر اعتراض نہیں کیا گیا بلکہ صفحہ ٣١ وصفحہ ٢١٦ وصفحہ ٢٢٣ و ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ٥٤۔ کی کئی جگہ کی عبارت نقل کر کے اعتراض کیا ہے اور ہر ایک جگہ کی عبارت سے ایک جداگانہ بات پیدا ہوتی ہے جو مجیب کی غلطی کو روشن کرتی ہے سب کو ملا کر دیکھنا چاہیے تاکہ پوری حالت معلوم ہو۔ اس کے بعد صفحہ ٣٢ کے مضمون کو دیکھنا چاہیے مجیب نے ایسا نہیں کیا۔ اب میں صرف (انجام آتھم ص ٣١ خزائن ایضاً) کی عبارت آپکے روبرو پیش کرتا ہوں ملاحظہ کر کے انصاف فرمائیے وہ یہ ہے۔ ”(١) میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ (٢) اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ (٣) اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی پوری ہوگئی (٤) جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔“ مرزا قادیانی کی عبارت کے یہ چار جملے ہیں۔ ہر ایک جملہ مجیب کے جواب کو غلط بتاتا ہے۔ پہلے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ داماد احمد بیگ کا میرے سامنے مرنا تقدیر مبرم ہے اور تمام اہل علم جانتے ہیں کہ تقدیر مبرم وہی ہے جس میں کوئی شرط نہیں ہوتی اس کا ہونا ہر طرح ضرور ہوتا ہے۔ اس کے خلاف مجیب قادیانی اس کے لیے ایسی شرط بتاتے ہیں جس کا ظہور مرزا قادیانی کی موت کے بعد تک نہ ہوا۔ دوسرے جملہ میں مرزا قادیانی نہایت صفائی سے سلطان محمد کے نہ مرنے کو اپنے جھوٹے ہونے کی علامت بتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر میں مرجاؤں اور وہ نہ مرے تو میں جھوٹا ہوں۔ بھائیو ذرا غور کرو کہ اس میں ایسی شرط کیونکر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد تک اس کا ظہور نہ ہو اس جملہ کی رو سے اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو اس کا
٦
مرنا مرزا قادیانی کے روبرو ضرور ہے۔ تیسرے جملہ میں وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ جس طرح احمد بیگ اور آتھم میری پیشین گوئی کے بموجب میرے سامنے مر گئے اس طرح احمد بیگ کا داماد بھی میرے سامنے مرے گا۔ اس میں اگر کوئی شرط کی جائے تو یہ کلام غلط ہو جائے گا چوتھے جملہ میں کہہ رہے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی موت خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کیونکہ وہ اس کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اس لیے اسے کوئی شرط یا کوئی دوسری بات رد نہیں کر سکتی۔ اس کی زیادہ تشریح کے لیے انجام آتھم کا صفحہ ٢٢٣ خزائن ایضاً دیکھنا چاہیے۔
اب خلیفہ قادیان فرمائیں کہ یہ چار جملے کیسی شہادت دے رہے ہیں کہ اس پیشین گوئی میں شرط نہیں ہو سکتی پھر آپ کے صحبت یافتہ آپ کے پاس کے رہنے والے ایسی بات کیوں کہہ رہے ہیں جسے مرزا قادیانی کے کلام کا ہر جملہ غلط بتا رہا ہے۔ اسی طرح بقیہ عبارتوں کا حال ہے کہ ان کا بھی ہر ہر جملہ کہتا ہے کہ اس پیشین گوئی میں ایسی شرط ہرگز نہیں ہو سکتی جو مرزا قادیانی کی موت تک پوری نہ ہو۔ طول کلام کا خوف ہے ورنہ میں سب کو بیان کر کے دکھا دیتا۔ اب انجام آتھم ص ٣٢ کی عبارت کو بھی دیکھئے جسے عجیب شرط بتا رہے ہیں اور اپنے مخالف کو شرمانا چاہتے ہیں صفحہ مذکور کی اوّل عبارت یہ ہے۔ ”احمد بیگ کے داماد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“ یہ عبارت تو نہایت صفائی سے بتا رہی ہے کہ صفحہ ٣٦ میں جو پیشین گوئی ہے اس کے لیے یہ شرط نہیں ہے بلکہ مخالفین کے تنگ کرنے کی وجہ سے ایک اور میعادی پیشین گوئی کرنے کا وعدہ کرتے ہیں کیونکہ صاف کہہ رہے ہیں کہ اشتہار کے بعد خدا تعالیٰ جو میعاد مقرر کرے اس سے اس کی موت اگر تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“ یعنی جس طرح میں نے پہلے اس کی موت کے لیے ڈھائی سال کی مدت مقرر کی تھی اب اشتہار کے بعد پھر کوئی میعاد مقرر کروں گا۔ اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔ افسوس ہے کہ ایسی صاف عبارت کا مطلب عجیب غلط سمجھ رہے ہیں۔ الحاصل صفحہ ٣٦ و ٣٢ دونوں کی عبارتیں مجیب کی غلطی کو متعدد طریقوں سے ظاہر کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسی صفحہ ٣٢ میں پیشین گوئی کے اصل الفاظ مرزا قادیانی نے نقل کیے ہیں مثلاً فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک۔ لا تبدیل لکلمات اللہ۔ ان الفاظ کے یہاں نقل کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی بجز اس کے کہ صفحہ ٣١ کے
٧
مضمون کی تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلطان محمد کی بیوی کا میرے پاس آنا یعنی میرے نکاح میں آنا ضرور ہے کیونکہ وعدۂ خداوندی ہے اور خدا کی بات بدل نہیں سکتی اس لیے اس کے شوہر کا مرنا اور میری پیشین گوئی کا پورا ہونا میری زندگی میں ضرور ہے اس لیے سلطان محمد کے مرنے کے لیے وہ شرط نہیں ہو سکتی جو مجیب بیان کر رہے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کے کلام سے مجیب کی غلطی کی چھ وجہیں بیان کر دی گئیں۔ چار صفحہ ٣١ کی عبارت سے اور دو صفحہ ٣٢ کی عبارت سے۔ کہئے مجیب صاحب اب کسے شرمانا چاہیے آپ کو یا آپ کے مخالف کو؟ اس کے علاوہ اگر مجیب فیصلہ آسمانی کو دیکھتے تو اس جواب کے غلط ہونے کے اور بھی وجوہ انہیں خود مرزا قادیانی کے کلام سے ملتے مگر افسوس ہے کہ حضرات مرزائی ان تحریروں کو نہیں دیکھتے جو محض ان کی خیر خواہی کی نظر سے لکھی گئی ہیں اور کسی نے کچھ دیکھا تو محض سرسری طور سے جواب دینے کے خیال سے۔ انصاف اور حق طلبی سے بحث نہیں۔ مجیب کے اس جواب سے یہ حالت روشن ہو رہی ہے۔ وہ فیصلہ آسمانی کے پہلے حوالہ کو دیکھ کر جواب لکھنے بیٹھ گئے۔ نہ اس پیشن گوئی کے متعلق عبارت میں غور کیا۔ نہ اس عبارت میں جہاں سے وہ شرط نکالتے ہیں اور نہ اس کے بعد دیکھا اور جواب لکھنے بیٹھ گئے افسوس تو یہ ہے کہ خلیفہ قادیان ایسی بے تکی باتیں لکھواتے ہیں اور ان کے روبرو لکھی جاتی ہیں کیا تقاضائے ایمان و ہدایت یہی ہے؟ اب اگر مجیب قادیانی کی قوت ایمانی فیصلہ آسمانی دیکھنے کی برداشت نہیں کر سکتی تو انجام آتھم کا صفحہ ٦٠ سطر ٧ سے صفحہ ٦١ کی سطر ٤ تک دیکھیں جس میں نہایت تاکیدوں کے ساتھ مرزا قادیانی کے بیان کے موافق خدا تعالیٰ کا پختہ وعدہ بلکہ عہد خداوندی ہے کہ سلطان محمد کی بیوی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ جس میں کہا گیا ہے ١؎ انا کنا فاعلین۔ فلا تکونن من الممترین جب مرزا قادیانی سے ایسا پختہ عہد خدا کر رہا ہے پھر مرزا قادیانی کے ایمان کا مقتضا یہ کب ہو سکتا ہے کہ سلطان محمد کے مرنے کے لیے ایسی شرط لگائیں جو ان کے مرنے کے وقت تک پوری نہ ہو کیونکہ اس کے مرنے کے بعد وہ نکاح میں آئے گی۔ پھر صفحہ ٢١٦ سطر ٦ سے آخر تک ملاحظہ کریں۔ جس میں نکاح کے روکنے والوں کا مار ڈالنا اصل مقصودِ خداوندی بیان کیا ہے۔ روکنے والوں میں اس وقت بڑا روکنے والا اس کا شوہر تھا۔ اس الہام کے بعد مرزا
١؎ یعنی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ بلاشبہ ہم اس کے کرنے والے ہیں اس میں تو شبہ ہرگز نہ کر
٨
قادیانی وہ شرط نہیں لگا سکتے جسے مجیب بیان کر رہے ہیں اس کے بعد صفحہ ٢٢٣‘ ٢٢٤ پر غور کریں جس میں ہر ایک جملہ کہہ رہا ہے کہ سلطان محمد کا مرنا مرزا قادیانی کے روبرو ہر طرح ضرور ہے اس میں کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔ اور اگر شرط تھی تو پوری ہوگئی۔ الحاصل ان میں سے ہر ایک عبارت نہایت قوی دلیل ہے کہ اس پیشین گوئی میں کوئی شرط نہیں ہو سکتی بلکہ سلطان محمد کا مرنا مرزا قادیانی کے روبرو بموجب اس پیشین گوئی کے ضرور ہے مگر افسوس یہ ہے کہ مجیب قادیانی جب صفحہ ٣٢ کی صاف اردو عبارت نہ سمجھے تو ان حوالوں کی عربی عبارت کیا سمجھیں گے۔ مگر خدا کے لیے خلیفہ قادیان ملاحظہ کر کے انصاف کریں اور اپنی جماعت کو سمجھائیں کہ ایسی بے تکی باتیں نہ کریں۔ خدا سے ڈریں۔ اس کے بعد مجیب قادیانی ان دونوں پیشین گوئیوں کی صداقت ایسے طور سے بیان کرتے ہیں کہ ان کی عقل و فہم پر حیرت ہوتی ہے اور ان جوابوں کا نمونہ روبرو ہو جاتا ہے جو گذشتہ کذاب اپنے الزاموں کے جواب میں دیا کرتے تھے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جھوٹا مدعی اپنے الزاموں کے جوابات نہ دے کچھ کہنا اسے ضرور ہے۔ اب اس کو سمجھنا کہ کیسا کہا ہے اسی کا کام ہے جس کو اللہ نے عقل کے ساتھ انصاف پسندی عنایت کی ہے اور خدا سے ڈرتا بھی ہے۔ مجیب لکھتے ہیں کہ انجام یہ ہوا کہ وہ بزرگ خاندان جو بانی اس کام کا تھا سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا جس نے شرط توبی توبی پوری کر کے پیشین گوئی کی صداقت ثابت کر دی۔‘‘ مگر یہ محض غلط ہے احمد بیگ کے خاندان میں کوئی بزرگ ایسا نہیں تھا جو بانی فساد یعنی حارج نکاح ہو اور پھر وہ مرزا قادیانی کا مرید ہو گیا ہو۔ اگر مجیب کو دعویٰ ہے تو اس کا نام و نشان بتائیے حقیقۃ الوحی کا حوالہ اگر چہ غلط ہے مگر یہاں اس کے حوالہ سے کام نہیں چلتا۔ ثابت کیجئے مرزا قادیانی نے (انجام آتھم کے صفحہ ٢١٨ خزائن ج ١١ ص ٢١٨) میں پانچ شخصوں کو بانی فساد بتایا ہے احمد بیگ کو اور اس کی ساس کو اور اس کی دو بہنوں کو۔ پھر لکھا ہے کہ یہ چاروں مر چکے ایک باقی ہے جس پر موت کا حکم ہو چکا ہے۔ کہئے جناب اب کون باقی ہے جو سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا اب اس سے قطع نظر کر کے کہتا ہوں کہ جملہ توبی توبی کو اگر شرط مان لیا جائے تو بھی کسی بزرگ خاندان کے مرید ہو جانے سے شرط پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ مرزا قادیانی انجام آتھم اور حقیقۃ الوحی میں اس جملہ کا مخاطب احمد بیگ کی ساس کو کہتے ہیں جب شرط احمد بیگ کی ساس سے کی گئی تو کسی غیر معلوم بزرگ
٩
خاندان کے مرید ہو جانے سے وہ شرط کیونکر پوری ہو سکتی ہے شرط کے پوری ہونے کے لیے ضرور ہے کہ جس سے خطاب ہے جس سے شرط کی گئی ہے وہ توبہ کرے اور ایمان لائے مگر وہ مرتے دم تک ایمان نہیں لائی پھر شرط کے پورا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اب ہم اس گرفت سے بھی درگزر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ دو پیشین گوئیوں کے لیے یہ شرط تھی یعنی احمد بیگ کی لڑکی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا اور اس کے داماد کا مرنا ان دونوں پیشین گوئیوں میں ایک وعدۂ خداوندی ہے اور دوسری وعید ہے اب اس جملہ کی شرط ہونے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اگر اسے پورا کر دیا جائے یعنی جنہیں توبہ کے لیے کہا گیا ہے وہ توبہ کر لیں تو وعدۂ خداوندی کا ظہور ہو اور وعید ٹل جائے مگر اس شرط کے پورا کر دینے سے وعدۂ خداوندی کا ظہور نہیں ہوا اور وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی اس لیے یقیناً معلوم ہوا کہ وہ الہام بناوٹ تھا اور پھر اس کے بعد اس شرط کا اضافہ بھی اسی مصلحت سے تھا کہ کسی وقت کام آوے اور جواب دینے کی گنجائش رہے اگر وہ سچا الہام تھا تو اس کے دونوں جز کا پورا ہونا ضرور تھا مگر ایسا نہ ہوا اس لیے وہ پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی اور ممکن نہیں کہ اس کی صداقت کسی طرح ثابت ہو سکے۔ الحاصل اول تو یہ ثابت نہیں کہ اس خاندان کا کوئی بزرگ مرزا قادیانی کا مرید ہو گیا اور بالفرض اگر کوئی بڑا اس خاندان کا مرید بھی ہو گیا ہو تو بھی وہ شرط پوری نہیں ہو سکتی۔ اور اگر شرط کا پورا ہونا مان لیا جائے تو بھی پیشین گوئی کی صداقت ثابت نہیں ہوئی اور قرآن مجید کے نص قطعی اور توریت کے صریح ارشاد سے اور مرزا قادیانی کے پختہ اقرار سے مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے کیونکہ مرزا قادیانی کا یہ مقولہ ہے۔ یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا یقین سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
اب حضرات مرزائی اس قول سے کیوں روگرداں ہیں اگر کوئی مسلمان مرزا قادیانی کا یہ قول پیش کرتا ہے تو اس سے ناخوش ہوتے ہیں۔ بھائیو یہ ان ہی کا کلام ہے جن پر تم ایمان لائے ہو کسی دوسرے کا قول نہیں ہے پھر ناخوشی کی کیا وجہ ہے؟ الغرض آپ مانیں یا نہ مانیں مگر اس میں شبہ نہیں رہا کہ فضل خداوندی نے اصلی حالت کو روشن کر کے دکھا دیا اور مرزا قادیانی کے اقرار سے ان کی زبان سے مرزا قادیانی کے دعوے کا
١٠
فیصلہ ہو گیا جس کی آنکھیں ہیں وہ دیکھ رہا ہے مجیب یہ بھی لکھتے ہیں کہ معترضین جواب دیں کہ کیوں انہوں نے سلطان محمد سے اشتہار نہیں دلایا۔‘‘ جواب ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کے کذب کا انہیں کامل یقین ہو گیا تھا۔ اب زیادہ تجربہ کی ضرورت نہ رہی تھی اور جانتے تھے من جرب المجرب حلت بہ الندامۃ اس لیے اشتہار دلوانے کی زحمت نہیں اٹھائی ان سب باتوں کی تفصیل رسالہ تنزیہہ ربانی میں دیکھنا چاہیے واللہ الموفق والمعین واخر دعونا ان الحمدللہ رب العلمین۔
ضمیمہ برادران اسلام خدا کے لیے توجہ کریں اور مرزا قادیانی کی صداقت کا بڑا معیار ملاحظہ فرمائیں۔ اور انصاف دلی سے فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کا ماننا کیسا ہے؟ مرزا قادیانی کے ماننے سے ہمیں کسے کسے چھوڑنا ہوگا؟ اور کیا کیا خطرناک باتیں ماننا پڑیں گی؟ خدا کو رسولؐ کو کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کو حدیث رسولؐ کو حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما اور تمام اولیاء اللہ کو چھوڑنا ہوگا۔ اس کا ثبوت آئندہ بیان سے بخوبی معلوم ہو جائے گا۔ امور ذیل اسے ماننا ہوں گے۔
- (١) خدائے قدوس جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے اور نہایت پختہ عہد
کرکے بھی پورا نہیں کرتا۔ چنانچہ محمدی کے نکاح میں آنے کا مرزا قادیانی سے نہایت ہی پختہ وعدہ کیا اور تخمیناً بیس برس تک امید دلائی مگر اس وعدہ کو پورا نہ کیا اسی طرح اس کے شوہر سلطان محمد کے مرنے کی وعید کی مگر پوری نہ کی۔ اور اسی وجہ سے مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ٹھہرے۔ اس کا مفصل اور مدلل بیان فیصلہ آسمانی کے حصہ اوّل و دوم میں ہے اور پھر جو کچھ کہا گیا تھا اس کا جواب تنزیہہ ربانی اور اس رسالہ میں دیا گیا۔ خدا کی وعدہ خلافی کے ثبوت میں بعض آیتیں پیش کرتے ہیں جن سے اظہر من الشمس ہے کہ حضرات قادیانی خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف جانتے ہیں (نعوذ باللہ) اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا اور رسول کی کسی بات پر اطمینان اور یقین نہیں ہوسکتا پھر ایسے خدا کو کون مان سکتا ہے اور ماننے کی کیا وجہ ہے؟ الحاصل مرزا قادیانی کو وہی مان سکتا ہے جو خدا کو چھوڑے مگر افسوس کہ قادیانی اس پر غور نہیں کرتے۔
- (٢) قرآن مجید کی بہت آیتوں میں آیا ہے کہ خدائے قدوس وعدہ خلافی نہیں
١١
کرتا اس کے سارے وعدے سچے ہوتے ہیں یہ سب آیتیں غلط ہیں؟ (نعوذ باللہ) اگرچہ مطعون ہونے کے خیال سے بظاہر یہ الفاظ زبان سے نہ کہیں مگر اپنے خیال کے بموجب قرآن مجید کی بعض آیتیں اس کے وعدہ خلافی کے ثبوت میں پیش کرنا اور خلیفہ قادیان کا جملہ یعد ولا یوفی کو سند میں لانا نہایت صفائی سے ثابت کر رہا ہے کہ ان نصوص پر انہیں یقین نہیں ہے بلکہ انہیں وہ غلط مانتے ہیں گو زبان سے نہ کہیں اور اگر ایسے نصوص قطعیہ صریحیہ میں کوئی تاویل کی جائے گی تو شریعت محمدیہ اور احکام قرآن مجید کوئی لائق اعتبار نہ رہیں گے کیونکہ اگر ایسی تاویل جو صریح معنی نص کے خلاف ہو مان لی جائے تو ہر شریر النفس نفس پرست جو چاہے گا قرآن کے معانی بنا لے گا اور تمام احکام کو درہم و برہم کردے گا۔ الغرض مذکورہ بالا مضمون کی آیتیں اگر غلط ہیں تو بقیہ قرآن کی صحت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے اگر صحیح مان کر ایسی باتیں بنائی جائیں جن سے خدا کی سچائی اور وعدہ خلافی کی برائی ثابت نہ ہو تو پھر شریعت کا کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہو سکتا احکام شرعی ہر نفس پرست کے نفس کے تابع ہو جائیں گے۔ جس طرح وہ چاہیں گے اپنے نفس کے خواہش کے موافق احکام نکال لے گا اور شریعت کو مضحکہ بنائے گا۔
(٣) قرآن مجید میں جس قدر وعدے اہل تقویٰ اور مسلمانوں سے کئے گئے ہیں اور کفار و منکرین سے جس قدر وعیدیں کی گئی ہیں کوئی لائق وثوق نہیں ہے؟ کیونکہ ہمارے اعتراض کے جواب میں آیت یصبکم بعض الذی یعدکم پیش کرتے ہیں جس کا مطلب ان کے خیال میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض وعدے پورے کرتا ہے اکثر نہیں کرتا۔ اگرچہ ان کی ہمت اس قدر نہیں ہوئی کہ صاف طور سے اپنے استدلال کو بیان کرتے مگر ان کے فہم سے اور ان کی باتوں سے یہی مطلب معلوم ہوتا ہے غرضیکہ پہلے اور دوسرے اور تیسرے عقیدہ سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے ماننے سے قرآن شریف کو چھوڑنا ہوگا۔ اگرچہ اس وقت کسی مصلحت سے یا محض نادانی سے وہ اس سے انکار کریں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ خدا کے وعدے خلاف دکھانا اور خلیفہ قادیان کا یعد ولا یوفی پیش کرنا بالیقین ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے سچا ماننے سے قرآن مجید کے سارے وعدے اور وعیدوں کو غیر معتبر ماننا ہوگا اور یہ عقیدہ بالآخر قرآن مجید کے چھوڑنے پر اسے مجبور کرے گا۔
١٢
(٤) خدا تعالیٰ ہر چیز میں محو و اثبات کرتا ہے بعض وقت نہایت پختہ وعدہ کر کے اسے مٹا دیتا ہے؟ چنانچہ مرزا قادیانی سے وعدے کئے اور پھر مٹا دیئے اس کا ظہور نہ ہوا مخالفین نے جب مرزا قادیانی سے منکوحہ آسمانی کی نسبت اعتراض کیا ہے تو اس کے جواب میں حقیقۃ الوحی میں آیت یمحوا الله ما یشاء و یثبت پیش کی ہے جب وعدہ و وعید میں بھی محو و اثبات ہے تو اس کا ضروری نتیجہ یہ ہوگا کہ رسول کی رسالت بھی لائق اعتبار نہ رہے گی کیونکہ معلوم نہیں کہ اس کی رسالت قائم ہے یا مٹا دی گئی۔ پھر ایسے مشکوک رسولوں کو کون عاقل مان سکتا ہے؟ غرضیکہ مرزا قادیانی کو مان کر تمام انبیاء کو چھوڑنا ہوگا یہ چوتھا عقیدہ ہے جس کی وجہ سے خدا کے رسولوں کو چھوڑنا ہوگا اس سے پہلے جو تین عقیدے بیان کئے گئے ہر ایک اس کا موجب ہے کہ مرزا قادیانی کو مان کر خدا کے رسولوں کو چھوڑنا ہوگا اور بالآخر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ مرزا قادیانی کو بھی نہ مانے گا۔ اگر اسے کچھ عقل ہے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں۔
(٥) تمام حدیثیں غیر معتبر اور بیکار ہیں۔ اعجاز احمدی ص ٥٧ خزائن ج ١٩ ص ١٦٨ کا شعر ملاحظہ کیا جاوے۔ ھل النقل شئی بعد ایحا ربنا. فای حدیث بعدہ تخیر. وقد مزق الاخبار کل ممزق. فکل بما ھو عندہ یستبشر اور (اعجاز احمدی کا صفحہ ٢٩ و ٣٠ اور خزائن ج ١٩ ص ١٣٩-١٤٠ اربعین نمبر ٣ ص ٥٩ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٠١) دیکھا جائے کہ اپنے الہام کے مقابل میں حدیثوں کی کیسی بے ادبی کی ہے اور ردی کی طرح پھینک دینے کو لکھا ہے اور (ازالۃ الاوہام کے ص ٥٤٥ خزائن ج ٣ ص ٣٩٣) میں یہ کہتے ہیں کہ اگر ”حدیث صحیح بھی ہو تب بھی مفید ظن ہے۔“ یعنی کوئی امر حق اس سے ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس کہنے کے بعد جو حدیث یا جو روایت ان کے مدعا کے موافق ہے اس سے سند پکڑتے ہیں اگرچہ وہ کیسی ہی ضعیف یا موضوع کیوں نہ ہو اور جاہل فریب باتیں بنا کر اس کی صحت ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ دارقطنی کی نہایت ضعیف بلکہ موضوع روایت کی صحت بیان کرنے میں رسالہ نور الحق میں کیسی باتیں بنائی ہیں۔
(٦) حضرت سرور انبیاء محمد مصطفے ﷺ کی بعض پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں
١؎ ان شعروں کا حاصل یہ ہے کہ جب مجھ پر خدا کی وحی آنے لگی تو پھر حدیث کوئی چیز نہیں ہے تمام حدیثیں ٹکڑے ٹکڑے کر دی گئیں اب جو کچھ میرے پاس ہے اس سے خوش ہو۔
١٣
حالانکہ یہ محض افتراء اور حضور انورؐ کی کسر شان ہے آپؐ نے کوئی پیشین گوئی ایسی نہیں کی جو پوری نہیں ہوئی ہو۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کی بہت پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ اس لیے جناب رسول اللہ ﷺ پر یہ افتراء کر کے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں پیشین گوئی کی تھی مگر پوری نہ ہوئی حالانکہ آنحضرتؐ نے حدیبیہ میں کوئی پیشین گوئی نہیں کی۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) ١ میں لکھتے ہیں کہ ”محمدی سے میرا نکاح ہونے اور اس سے ایک خاص لڑکا ہونے کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی کی ہے مگر یہ محض خیال خام اور افتراء ہے جس پیشین گوئی کو مرزا قادیانی نے اپنی پیشین گوئی ٹھہرایا ہے اس کا ذکر فیصلہ آسمانی میں کیا گیا ہے وہاں دیکھنا چاہیے مگر مرزا قادیانی کے کہنے کے بموجب اس پیشین گوئی کا ظہور نہیں ہوا کیونکہ نہ تزویج ہوا نہ لڑکا ہوا۔ مرزا قادیانی کے بیان سے یہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو پیشین گوئیاں کیں ایک یہ کہ محمدی سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوگا۔ وہ آسمانی اور خیالی نکاح نہیں جس کا ہونا دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا بلکہ وہ نکاح جس کا نتیجہ اولاد ہونا ہے وہ ہوگا۔ دوسری پیشین گوئی یہ ہے کہ اس سے اولاد ہوگی اور وہ لڑکا ہوگا جس کی پیشین گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی جب ان دونوں کا ظہور نہ ہوا تو مرزائی اس کہنے پر مجبور ہیں کہ بقول مرزا قادیانی رسول اللہ کی دو پیشین گوئیاں غلط ہوگئیں (نعوذ باللہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا) اب ان کے مریدین کہہ رہے ہیں کہ حضور انورؐ نے مسیلمہ کذاب کے اپنے سامنے مارے جانے کی پیشین گوئی کی تھی مگر اس کا ظہور نہ ہوا بلکہ آپ کے بعد وہ مارا گیا۔ بعض نے اس پر اور اضافہ کیا ہے کہ آنحضرتؐ نے ایک رؤیا کی بنا پر فرمایا تھا کہ مسیلمہ میرے ہاتھ سے ہلاک ہو جائے گا“ (دیکھو آئینہ صداقت) حالانکہ یہ بالکل غلط ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے ہرگز ایسا نہیں فرمایا اور حضورؐ کی ایسی شان نہ تھی کہ خواب کی بنا پر ایسی پیشن گوئیاں کرتے۔ مگر حضرات مرزائی کی جرأت کو
١ حاشیہ کے صریح مضمون سے ثابت ہوگیا کہ محمدی سے نکاح کے لیے اور پھر اس سے لڑکا ہونے کے لیے کوئی ایسی شرط نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس نہ آئے اور پیشین گوئی پوری ہو جائے بلکہ اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی یہی صورت ہے کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے پاس آئے اور اس سے لڑکا پیدا ہو۔
١٤
برادران اسلام ملاحظہ کریں کہ کیسے صریح جھوٹ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر لگا رہے ہیں اور صرف اس لیے کہ عوام کی نظروں میں مرزا قادیانی کو سرخرو رکھیں۔ بھائیو یہ کیا اسلام ہے۔ خادمان اسلام اور جاں نثاران حضرت خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام مکرر غور کریں کہ مرزا قادیانی اور ان کے پیرووں نے اوّل تو خدائے قدوس پر جھوٹ کا ایسا عیب لگایا جس سے اس کا تمام کلام مخدوش اور لائق اطمینان نہ رہا۔ اس کے بعد حضرت سرور انبیاء پر یہ الزام دیا کہ آپ نے غلط پیشین گوئیاں کیں جس سے آپ کی رسالت اور نبوت درہم برہم ہو جاتی ہے۔ بھائیو یہ نہایت خدشہ کی بات ہے ذرا غور کرو جماعت مرزائیہ تو دھوکے میں آگئی اور پھر ختم اللہ علی قلوبھم کی مصداق ہو گئی۔ مگر تم تو ہوشیار رہو۔ پیشین گوئی کے غلط ہونے سے نبوت اس وجہ سے درہم برہم ہو جاتی ہے کہ توریت میں مصرح ١؎ ہے کہ جس مدعی نبوت کی پیشین گوئی غلط ہو جائے وہ جھوٹا ہے اس حوالہ کو مرزا قادیانی نے اپنے متعدد رسالوں میں بطور سند پیش کیا ہے اس حوالہ سے تو صاف طور سے نبوت باطل ہوتی ہے اور قرآن مجید کی وہ آیت جو رسالہ کے تیسرے نمبر میں لکھی گئی جس سے ظاہر ہے کہ خدا اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی نہیں کرتا اس باب میں نص صریح ہے کہ جس مدعی کی ایسی پیشین گوئی غلط ہو جائے جس میں وعدہ خداوندی ہو وہ مدعی کاذب ہے اگرچہ بعض پیشین گوئیاں اس کی سچی بھی ہوئی ہوں۔ اس کے علاوہ عقلی طور سے ملاحظہ کیجئے پیشین گوئی بطور نشان و معجزہ مخلوق کے روبرو پیش کی جاتی ہے۔ اب اگر وہ اس وجہ سے غلط ہو جائے کہ خواب یا کسی قیاس کی بنیاد پر کی تھی تو اس کی تمام باتوں پر یہی قیاس اور گمان ہو سکے گا اور بالخصوص مخالف اسلام نہایت زور سے یہ کہے گا کہ جس طرح یہاں قیاس و گمان کیا گیا ہے اسی طرح اور باتیں بھی اس نبی نے قیاس و گمان سے کہی ہیں اور اگر کوئی پیشین گوئی صحیح بھی ہوئی تو اتفاقیہ ہے ایسے اتفاقات بہت ہوتے رہتے ہیں اور اگر اس نبی نے وحی والہام سے پیشین گوئی کی تھی اور وہ غلط ہوگئی تو یہ خدا پر الزام ہے جس کا پہلے ذکر ہوا۔ غرضکہ مرزائیوں کے ان عقائد اور ایسے خیالات سے نہ خدا ہے نہ رسول ہے۔ نہ دین ہے نہ ایمان ہے۔ اور یہی بات ان کی صورت ان کی سیرت ان کے حالات سے اظہر من الشمس ہوتی ہے (بعض نیک دل جو غلطی سے ان کے شامل ہوگئے ہیں ان کا
١؎ اس کا ذکر فیصلہ آسمانی کے صفحہ ١٧ میں کیا گیا ہے اور توریت کی عبارت بھی نقل کی گئی ہے:
١٥
ذکر نہیں ہے) اب دین کا نام اور خدا و رسول کی تعریف کسی پالیسی اور مصلحت سے معلوم ہوتی ہے مرزا قادیانی کی باتیں تو اس کی کامل شہادت دیتی ہیں مگر ان کی جماعت کی نسبت میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ اکثر کی نسبت میرا گمان ہے کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں اور غلطی میں پڑ گئے ہیں اللہ ان کو غلطی سے نجات دے آمین
- (٧) خلفائے راشدین اور ائمہ مہدیین اور تمام اولیاء کاملین سب کو مرزا قادیانی
نے بیکار کر دیا۔ اب کسی سے فائدے اور فیضان کی امید نہ رہی اعجاز احمدی ص ٥٨ خزائن ج ١٩ ص ١٧٠ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے تکدر ماء السابقین وعیننا. الی اخر الایام لا تکدر یعنی اگلے بزرگوں کا چشمہ فیض مکدر اور میلا ہو گیا اور میرا چشمہ قیامت تک میلا نہ ہوگا۔ مگر افسوس ہے کہ وہ چشمہ نظر نہیں آیا کہ کہاں ہے اور کون اس سے سیراب ہوا۔ ان کے فیضان کے دو چشمہ ظاہری ہو سکتے ہیں۔ ان کی تصانیف اور ان کے مریدین کتابوں میں تو سوائے ان کی تعریف اور دوسرے انبیاء اور اولیاء اور علماء کی برائی کے اور جھگڑوں کے اور کچھ نہیں ہے اور جب غور اور تحقیق کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو بہت باتیں نہایت غلط اور بیباکانہ لکھی ہیں اور ہر قسم کی غلطی کی ہے۔ ان کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام دنیا کو انہوں نے محض جاہل خیال کر لیا ہے اور بڑے زعم میں آ کر جو جی میں آتا ہے زور سے لکھتے جاتے ہیں ان کے چشمہ کی ایک شاخ تو یہ ہے اس کا اثر جو کچھ ہوگا اسے اہل دانش معلوم کر سکتے ہیں۔ دوسری شاخ ان کے مریدین ہیں ان کی حالت آفتاب کی طرح روشن ہے اسی حالت کا اثر ہے کہ خدا کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ثابت کر رہے ہیں اور اس کی تلاش میں رہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی جھوٹی نکلے اور جب ایسی پیشین گوئی نہیں پاتے تو کبھی خواب کو پیشین گوئی کہتے ہیں کسی وقت محض جھوٹی بات حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثناء پر لگا دیتے ہیں ابھی مرزا قادیانی کو گزرے کچھ عرصہ نہیں ہوا اسی وقت ان کے اثر فیض کا یہ نمونہ ہے اب آئندہ جھوٹ اور افتراء کا طوفان کس قدر ہوگا اس کا علم خدا کو ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے اثر فیض سے صداقت کا تخم ان کے دل میں بویا جاتا تو ممکن نہ تھا کہ خدا کو اور اس کے سچے رسول کو جھوٹا ثابت کرنے کے درپے ہوتے۔ ایک فتویٰ مرزا قادیانی کا اور ان کے خلیفہ اور صاحبزادہ کا یہ ہے کہ
- (٨) جو کوئی مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لایا وہ کافر ہے۔ اس کے پیچھے نماز ہرگز
١٦
جائز نہیں ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو تقریباً ٢٣ کروڑ (اور اب ایک ارب تیس کروڑ) مسلمان تھے وہ مرزا قادیانی کے وجود سے سب کافر ہو گئے بجز قلیل گروہ کے اور کوئی کافر مسلمان نہیں ہوا۔ ان کے مجدد اور مہدی ہونے کا یہ اثر ہوا کہ تیرہ سو برس کے عرصہ دراز میں جو کاملین امت محمدیہ اور علماء راسخین کی ہمت اور سعی سے مسلمانوں کی تعداد تمام دنیا میں تخمیناً ٢٣ کروڑ یا کچھ زیادہ ہوئی تھی اسے چودہویں صدی میں مرزا قادیانی نے خاک میں ملا دیا یعنی وہ سارے مسلمان کافر ہو گئے۔ میاں محمود احمد رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اپریل ١٩١١ء میں لکھتے ہیں۔ جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہا تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا؟ اس کلام سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی بعثت کا فائدہ یہی ہے کہ ساری دنیا کے ٢٣ کروڑ مسلمان کافر ٹھہرائے جائیں اور ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے کافروں کو مسلمان تو نہیں بنایا اب اگر مسلمانوں کو کافر بھی نہ بنائیں تو پھر ان کا وجود اور بعثت بیکار ہو جائے اس لیے ان کے خلیفہ قادیان اور خلف ارشد کو اس پر اصرار ہے کہ سب کو کافر بنایا جائے۔ اب برادران اسلام ان باتوں پر غور کریں اور انصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا ماننا کیسا ہے؟ اور اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ وہ ہادی برحق ہمیں اور آپ کو سیدھے راستہ پر چلائے۔ اور راہ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین
۞......۞......۞
١٧
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سر پرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کے لئے :
منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
حقیقت المسیح
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
يَا قَوْمَنَا أَجِيْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ
بھائیو! خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو مانو۔
اسلام کے جان نثارو مسلمانوں کے لیے اور ان کے مقدس مذہب کے لیے یہ وقت کس قدر نازک ہے کہ کس کس طرح سے اس پر حملے ہو رہے ہیں اور کتنے دشمنان اسلام اس کے مٹا دینے کی فکر میں ہیں۔ پادریوں کی کوششیں تو مدتوں سے تھیں اور بہت کچھ ہیں۔ مزید براں اب آریوں کا کس قدر زور ہے تھوڑا ہی عرصہ ہوتا ہے جن کا وجود نہ تھا اب کس زور سے ان کی ترقی ہو رہی ہے کیسے نالائق اور بے تہذیبی سے سرور انبیا علیہ السلام پر اعتراضات کر رہے ہیں یہ وہ وقت تھا کہ سب مسلمان متفق ہو کر دشمنان اسلام کا مقابلہ کرتے۔ اسلام وہ سچا مقدس مذہب ہے کہ اس کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل سکتا اس کی صداقت کا آفتاب سب کی روشنی کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ بیکار کر دیتا ہے۔ ہاں اس کے روشن کرنے والے متوجہ ہوں اور اپنی متفقہ کوشش سے کام لیں۔ مگر افسوس اور ہزار افسوس کہ معاملہ برعکس ہو رہا ہے۔
اہل علم نے باہمی جنگ ایسی چھیڑ رکھی ہے کہ دشمنان اسلام نہایت بیباکی سے اپنا کام کر رہے ہیں اور خوش ہو رہے ہیں کہ مسلمانوں نے تو خود ہی اپنے مذہب کا خاتمہ کر دیا کیونکہ اس میں متعدد فرقے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو کافر کہتا ہے جب سب کے قول کو ملاؤ تو دیکھو کہ کوئی بھی مسلمان رہتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اسی وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور ہوا جنھوں نے پہلے دشمنان اسلام کا مقابلہ کر کے دشمنوں کو نہایت برانگیختہ کر دیا اور مخالفت کی آتش کو بہت زیادہ بھڑکایا اور
٢
مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام جن کی نبوت کی تصدیق ہمارے رسول کریم ﷺ نے کی قرآن مجید میں ان کی اور ان کی والدہ محترمہ کی صفت خاص طور پر آئی ان کا تذکرہ اپنے رسالوں میں ایسے برے طور سے کیا کہ کوئی قوی الاسلام مسلمان اسے سن نہیں سکتا۔ مناظرہ میں الزام دیا جاتا ہے مگر کوئی ایماندار اور مہذب ایسا نہیں کر سکتا کہ جن کو وہ خود مقدس خدا کا مقبول مان رہا ہو اسے شراب خور‘ بدکار فاحشہ جوان حسین عورتوں سے میل جول رکھنے والا باز گیر‘ متکبر‘ راستبازوں کا دشمن کہے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کے نسبت ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں اور ایسے الزام دیئے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ ١؎ ان کے نقل کرنے سے میرا دل لرزتا ہے اور ان کے نقل کرنے کی جرأت نہیں ہوتی خیال کرنا چاہیے کہ ایسی تحریروں سے غیر مذہب کے دلوں میں آتش مخالفت کس قدر مشتعل ہوئی ہوگی مسلمانوں کی خیر خواہی اور ایمان کا تقاضا ایسی غیر مہذب تحریر کی اجازت ہرگز نہیں دیتا بہت مسلمانوں نے اس پر غائر نظر نہیں کی اور مرزا قادیانی کو حامی اسلام سمجھ کر ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور عوام کے سوا بعض اہل علم بھی ان کے شیفتہ ہو گئے مسلمانوں کی اس توجہ نے مرزا قادیانی کے دماغ کو خراب کر دیا اور انھوں نے ایسی روش بدلی کہ اسلام کا خاتمہ ہی کر دیا اگرچہ اپنے رسالوں میں پادریوں کی زیادتیاں بہت کچھ دکھائی ہیں اور مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ ہم ان کو جواب دیتے ہیں مگر اس وقت کے علماء ہمیں روکتے ہیں اور ہمیں جواب نہیں دینے دیتے ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ یہ عمدہ پالیسی اپنی طرف متوجہ کرنے کی انھوں نے اختیار کی ہے مگر جب ان کے دعوؤں کو اور خودستائی کو دیکھا جاتا ہے اور ان کی حالت اور طرز تحریر پر نہایت غور سے نظر کی جاتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دلی منشاء یہ ہے کہ جس طرح ان کا زور اس وقت ہو رہا ہے اور حضرت مسیح ؑ کو خدا مانا جاتا ہے اسی طرح جدید مسیح کو اپنا خدا ماننے لگے اور سوائے مذہب قادیانی
١؎ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨‘ ٢٩٣۔ تک کا حاشیہ دیکھنا چاہیے اگرچہ کسی بد زبان مشنری کے جواب میں یہ مضمون لکھا ہے مگر ایسی غلط پیشگوئی کیوں کی جو اسے بدزبانی کا موقع ملا۔ ہمارا کہنا یہی ہے کہ مرزا قادیانی نے اس بے عنوانی سے مناظرہ کیا کہ ان کو بہت برہم کر دیا اور اس کے نتائج برے ہوئے اور ہوں گے۔ ٢؎ جنگل اور دریا میں فساد پھیل پڑا۔
٣
کے اور کوئی مذہب نہ رہے۔ میں نہایت سچائی اور مسلمانوں کی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ ان کی تمام تحریروں کا خلاصہ اپنے دعوے کی نسبت یہی ہے۔ اگرچہ مسلمانوں سے اور خصوصاً اہل سنت سے یہ کہتے ہیں کہ ”سوائے حیات و ممات مسیح“ کے اور کسی مسئلہ میں مجھے اختلاف نہیں۔
(نور الحق نمبر ١ ص ٥ خزائن ج ٨ ص ٨)
مگر یہ محض غلط ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی نے اس نازک وقت میں اسلام کا خاتمہ ہی کر دیا ہے اور ان کی ذات مجمع صفات نے ظہر الفساد فی البر و البحر، کو آفتاب کی طرح چمکا دیا پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا پھر مثیل مسیح ہو کر ان سے اور تمام سابقین انبیاء سے افضل ہو گئے۔
اب یہ دیکھا جائے کہ مسیح موعود ہو کر انھوں نے کیا کیا اسلام کو نفع پہنچایا مسلمانوں کی نکبت و ادبار میں کچھ کمی ہوئی۔ مسلمانوں کے کسی گروہ کی کچھ اصلاح ہوئی حاشا و کلا ہرگز نہیں تمام دنیا میں دیکھ لو کیا حالت ہے جو ان پر ایمان لائے ہیں انھیں کی حالت دیکھو سوائے جھگڑے اور سخت گوئی اور جھوٹی اور فریب آمیز باتوں کے کچھ نہیں۔ تقویٰ بردباری سیرت سلف صالح کا ان میں نشان نہیں ہے۔ ان حضرات کا ذکر نہیں کرتا جو طبعی طور سے نیک تھے اور ناواقفی اور کم فہمی سے انھیں مان گئے ہیں اور کوئی عمدہ اور کامل ذریعہ سچی حالت معلوم کرنے کا انھیں نہیں ملا۔
مرزا قادیانی کو دعویٰ نبوت ہے تو انبیاء کرام کی حالت کو دیکھنا چاہیے اولیائے کرام کی روش پر نظر کرنا چاہیے کہ ان کی کیا حالت تھی جتنے انبیاء گزرے اور جس قدر اولیائے ذیشان ہوئے سب کی مخالفت کی گئی اور بہت زور کے ساتھ مقابلہ کیا گیا اور کوئی دقیقہ ان کے ایذا دہی میں اٹھا نہیں رکھا گیا مگر اس مقدس گروہ نے بجز صبر و تحمل کے کچھ نہیں کیا نہ کسی نے اپنی تعریف اور مدح کے الہامات جمع کر کے لوگوں کو دکھائے نہ اپنے دعوؤں کے ثبوت میں دلیلیں لکھ کر مشہور کرائیں۔ نہ مخالفین کے ردوکد میں رسالوں کی بوچھاڑ کی نہ اپنی تحریروں میں خدا و رسول کے ماننے والوں پر موٹے موٹے اور لمبے حرفوں میں لعنتوں کی قطار برسائی نہ کسی مخالف کو بندر اور سور بنایا۔ ہاں جس رشد و ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے اس کام میں مستعد رہے اور مخالفین کی ہر طرح کی تکالیف سہتے رہے البتہ ضمناً کسی وقت کوئی جملہ تعریف کا یا مخالفین کی برائی کا ان کی زبان سے نکلا اپنی
٤
صداقت کی دلیل بھی ضمناً پیش کی۔ ملاحظہ کیا جائے کہ حضرت سید المرسلینؐ نے قرآن مجید پیش کیا جس میں دنیا اور آخرت کی فلاح کی باتیں مذکور ہیں اسی پر عملدرآمد کا حکم ہے اسی کے نسبت خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے حَسْبُنَا كِتَابُ اللّٰهِ اسی کو حضور انور جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے دعوے کی صداقت میں پیش کیا اور فرمایا فَأْتُوا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهِ یعنی اگر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور میں بھی تمھارے مثل ہوں۔ تو میں نے جو کتاب پیش کی ہے اس کی ایک ایک سورت کے مثل لے آؤ خواہ بنا کر لاؤ یا تمھارے پہلے کسی نے بنایا ہو اسی کو پیش کرو پھر یہ بھی کہہ دیا کہ تم نہیں لا سکتے غرضیکہ جو کتاب ہدایت کے لیے پیش کی اسی کو صداقت کا معیار قرار دے کر سمجھایا۔ دوسرے معجزات کو اور اپنی مقبولہ دعاؤں کو کسی رجسٹر یا بہی پر نہیں لکھتے گئے کہ بار بار ہر ایک موقع پر اس کی تعداد کا اظہار کیا گیا ہو یہ کہیں نہیں فرمایا کہ دس ہزار یا بیس ہزار یا تین سو یا اس قدر معجزے مجھ سے ہوئے ہیں انھیں دیکھو قرآن مجید میں منکرین کا معجزہ طلب کرنا مذکور ہے مگر کہیں نہیں کہا گیا کہ میں نے اس قدر معجزے دکھائے ہیں انھیں دیکھو ان پر نظر کرو بلکہ اپنی عاجزی ظاہر کی ہے مگر مرزا قادیانی ہر جگہ اپنی پیشگوئیوں کا تھیلا دکھاتے ہیں اور ان کا شمار کرتے رہتے ہیں اور کہیں دو سو اور کہیں تین سو اور کہیں ہزاروں کا عدد بیان کرتے ہیں اور پھر اسی قسم کی تحریروں سے سینکڑوں جز سیاہ کرتے ہیں مخالفین پر سخت کلامی ہو رہی ہے اصل کام جو رشد و ہدایت کا تھا وہ بالکل بند ہے اور جب پیشین گوئی غلط ثابت ہوتی ہے تو کیسی کیسی بیہودہ اور غلط تاویلیں کی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایسا عظیم الشان دعویٰ اور ایسی غلط باتیں اور نہایت بیباکی سے خلاف واقع دعویٰ افسوس۔ ذرا غور کیا جائے کہ قادیان میں طاعون نہ آنے کی پیشگوئی منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنا اور اس سے عجیب الخلقت اولاد ہونے کی پیشگوئی احمد بیگ کے داماد کے مرنے کی پیشگوئی وغیرہ وغیرہ کیسی صاف طور سے غلط ہوئیں اور مرزا قادیانی اپنی زندگی میں کیسی تاویلیں کرتے رہے اور صریح غلط باتوں کو یقینی سچا بناتے رہے جسے کچھ بھی حق طلبی ہے وہ مرزا قادیانی کی کتابوں کو تحقیق کی نظر سے دیکھے۔ غضب یہ ہے کہ جب جناب والا کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ تو یہ کوشش ہو رہی ہے
١؎ کسی قدر تفصیل فیصلہ آسمانی میں کی گئی ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے بھی کی ہے کچھ بھی تعصب کو دور کر کے ان رسالوں کو دیکھا جائے۔
٥
کہ حضرت سرور انبیا علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی پیشگوئی غلط نکالی جائے تاکہ مسلمانوں کی زبان بند ہو مگر خوب سمجھ لیں کہ یہ بات غیر ممکن ہے آسمان و زمین ٹل جائیں مگر اس اصدق الصادقین کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے کوئی پیشگوئی ایسی نہیں کی جو وقت موعودہ پر پوری نہ ہوئی ہو مگر مرزا قادیانی اور ان کے پیرووں نے حضورؐ کے بعض خوابوں کو اس طرح بیان کیا ہے جس سے عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ حضور انورؐ نے یہ پیشگوئی کی اور پوری ١؎ نہ ہوئی افسوس صد افسوس یہ اسلام کی حمایت ہے اور اس پر مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ انھیں نبی مانو۔ بھائیو! ذرا تو غور کرو جو ہمارے سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کو جھوٹا ثابت کرے اسے ہم نبی مانیں۔ افسوس ان کی سمجھ پر کہ ایسے الزام کو مان کر مرزا قادیانی کو صادق سمجھتے ہیں۔ الغرض صداقت کی بڑی دلیل تھی کہ صادقوں کی سی روش ہوتی وہ ہرگز نہیں ہے۔
مسیح ہونے کا دعویٰ ہے اب دیکھا جائے کہ اس کی بنیاد کیا ہے۔ آیا کسی مسیح کے آنے کی خبر صریح قرآن مجید میں ہے یہ تو ہرگز نہیں ہے پھر یہ کہ حدیثوں میں ذکر ہے بہت اچھا ذکر ہے مگر مرزا قادیانی تو اس سے انکار کر چکے ہیں کہ ”میرے دعوے کی بنیاد حدیث نہیں ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
اب غور کیا جائے کہ قرآن مجید میں مسیح کے آنے کا ذکر نہیں ہے اور حدیث پر ان کے دعوے کی بنیاد نہیں ہے تو مسیح کا آنا اور پھر ان کا مسیح ہونا کس طرح ثابت ہوا اب تو بجز ان کے الہام و وحی کے اور کوئی دلیل نہیں ہے پھر اسے کون مسلمان مان سکتا ہے بجز ان حضرات کے جو اپنے دین و ایمان کو ایک خود پرست کی تحریر پر فدا کرنا نہایت آسان سمجھتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ مسیح کا آنا تو حدیثوں سے ثابت ہے اور ان حدیثوں کو مرزا قادیانی مانتے ہیں مگر یہ دعویٰ کہ مرزا قادیانی سچے مسیح موعود ہیں اس کا ثبوت حدیث سے نہیں ہے بلکہ قرآن مجید سے اور جدید وحی سے ہے اب اس پر غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے دو جزو ہیں۔
١؎ اس کا جواب فیصلہ آسمانی کے حصہ سوم اور دعویٰ مرزا میں دیا گیا ہے اور یہ نہایت ظاہر ہے کہ خواب کی باتوں کو پیشگوئی نہیں کہہ سکتے خود مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ خواب کی تعبیر مشکل ہے بعض وقت خواب کی تعبیر الٹی ہوتی ہے مثلاً اگر کسی کو خواب میں دیکھا کہ مر گیا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کی عمر بڑی ہوگی)
٦
اول یہ کہ مسیح کے آنے کی خبر اللہ اور رسول نے دی اور ان کا آنا یقینی ہے۔
دوم یہ کہ وہ مسیح میں ہوں مگر یہ ظاہر ہے کہ پہلا دعویٰ اصل ہے اور دوسرا دعویٰ اس کی فرع ہے اگر پہلا دعویٰ ثابت نہ ہو تو دوسرے کی طرف توجہ کرنا سراسر بے عقلی ہے جب یہی ثابت نہ ہو کہ کوئی مسیح آنے والا ہے تو یہ دعویٰ کرنا کہ میں مسیح ہوں لائق توجہ نہیں ہو سکتا۔ الغرض ان کے دعوے کا بڑا جز جو دوسرے دعوے کا موقوف علیہ ہے اس کا ثبوت حدیث پر موقوف ہے اور حدیث کا صحیح اور غیر صحیح ہونا ان کے الہام سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”جو حدیثیں ١؎ میرے الہام کے مخالف ہیں انھیں ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں“
(دیکھو اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
اب ثابت ہوا کہ ان کے دعوے کے دونوں جز صرف ان کے الہام سے ثابت ہیں قرآن و حدیث سے کچھ واسطہ نہیں ہے کیونکہ اس قول سے حدیث تو کوئی چیز نہیں رہی۔ رہا قرآن مجید اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ کوئی مسیح آئندہ آئے گا جب اصل دعویٰ کا ثبوت اس میں نہیں ہے تو فرع کا ثبوت اس سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس تقریر سے مرزا قادیانی کا دعویٰ بالکل درہم برہم ہو گیا اور معلوم ہوا کہ ان کے دعوے کا ثبوت نہ قرآن سے ہے نہ حدیث سے۔ اب اگر جماعت مرزائیہ کے سمجھانے کے لیے مان لیں کہ مسیح کا آنا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے تو ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ حدیثیں اپنی سند کے اعتبار سے اور اپنے الفاظ کے معنی کے لحاظ سے ایسی قطعی ہیں کہ ان سے یقینی امر ثابت ہو سکتا ہے مگر جماعت مرزائیہ کوئی حدیث اس طرح کی نہیں پیش کر سکتی کیونکہ جن حدیثوں میں حضرت مسیح کے آنے کا ذکر ہے ان میں ان کے اوصاف بھی مذکور ہیں ان کے آنے کے فوائد اور نتیجے بھی بیان ہوئے ہیں مثلاً ان کے آنے سے اسلام کا غلبہ اس
١؎ تحفہ گولڑویہ صفحہ ١٥ خزائن ج ١٧ ص ٥١ میں لکھتے ہیں کہ ”مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں۔ تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر ردی کر دے“ اس کا حاصل یہ ہوا کہ حدیث کوئی چیز نہیں ہے جو کچھ ہے مرزا قادیانی کا الہام ہے۔
٧
قدر ہو گا کہ ساری ١؎ دنیا میں اسلام ہی نظر آئے گا دوسری ملت والے ایسے مغلوب ہو جائیں گے کہ گویا نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو دنیاوی مال و متاع کی اس قدر ترقی ہو گی کہ نہایت مستغنی ہو جائیں گے اگر کسی کو کوئی شخص دینا چاہے گا تو وہ قبول نہیں کرے گا دینی ترقی ایسی ہو گی کہ عبادت الٰہی انھیں تمام دنیا اور مافیہا سے اچھی معلوم ہو گی۔ بخاری اور مسلم کی حدیثوں کو دیکھو۔
اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی دعوے کے بعد عرصہ تک دنیا میں رہے اتنے عرصہ میں مسلمانوں کو کیا عروج ہوا۔ اسلام کی کیا اشاعت ہوئی کوئی مرزائی بتائے کہ اسلام کی جماعت کو کسی قسم کی ترقی ہوئی اس کا جواب بجز سکوت یا بیہودہ گوئی کے کچھ نہیں ہو سکتا اور ہم نہایت زور سے بآواز بلند کہتے ہیں کہ ان حدیثوں کے خلاف مرزا قادیانی کے زمانہ مسیحیت میں مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی ہر قسم کا تنزل ہوا اور ہو رہا ہے اور کسی قسم کی اصلاح نہیں ہوئی اسلامی حکومتیں جہاں تھیں ان کا خاتمہ انھیں کے عہد میں گویا ہو گیا اور ہو رہا ہے اس کی تفصیل دانشمند وسیع النظر خوب جانتے ہیں اور حالت موجودہ کو گزشتہ سے ملا کر معلوم کر سکتے ہیں ہندوستان میں دیکھا جائے کہ مسلمان رئیس کس قدر تباہ ہو گئے اور ان کی ریاستیں غیروں کے پاس چلی گئیں اور جا رہی ہیں اور جو خود مختار بڑی ریاستیں ہیں ان میں مسلمانوں کی جگہ دوسرے لوگ عہدہ دار ہو گئے اور ہو رہے ہیں بعض تجارتیں مسلمانوں میں تھیں وہ بھی مخالفین اسلام نے لے لیں اور لے رہے ہیں ہندوستان کی زمین پیداوار کا مخزن تھی اور یہاں کے مسلمانوں کو اس سے بہت کچھ فائدہ پہنچتا تھا وہ بھی جاتا رہا اور اکثر پیداوار دوسرے ملک کی دوسری قومیں لے جاتی ہیں یہ سب مرزا قادیانی کے قدوم میمنت لزوم کی برکت ہے۔
١؎ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ساری دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا سب مسلمان ہو جائیں گے بلکہ یہ غرض ہے کہ اسلام کا غلبہ ایسا ہو گا کہ دوسرا مذہب اور اس کے ماننے والے کسی شمار میں نہ رہیں گے چنانچہ حدیث مستدرک حاکم ج ٥ ص ٦١٤ حدیث نمبر ٨٣٧٢ میں اس کی تصریح موجود ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں ”لا یبقی علی ظھر الارض من بیت مدر و لا و برالا ادخلہ اللہ علیھم کلمتہ الاسلام بعز عزیز و ذل ذلیل.“ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ روئے زمین پر کوئی شہر اور کوئی گاؤں ایسا نہ رہے گا کہ وہاں اسلام نہ پہنچے جو اس کے ماننے والے ہوں گے ان کی عزت ہو گی اور منکرین ذلیل حالت میں ہوں گے۔ جماعت مرزائیہ غور کرے کہ یہ حدیث کسی آیت قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔
٨
بھائیو! ذرا نظر اٹھا کر دیکھو کہ پچاس برس پہلے یعنی مرزا قادیانی کی کمسنی میں غلہ کس کس بھاؤ سے فروخت ہوتا تھا اور اب کیا نرخ ہے مثلاً دودھ اور گھی پہلے ٹکے سیر کا بکتا تھا اور مرزا قادیانی کی مسیحیت میں کس قدر ہو گیا اس وقت سیروں کا انداز تھا اور اب چھٹانکوں کا اندازہ ہے۔ مثلاً گھی کم سے کم تین سیر کا ملتا تھا اور اب چھ سات چھٹانک ملتا ہے اور وہ بھی خراب اس حالت کو ملاحظہ کر کے ان حدیثوں پر نظر کی جائے جن میں مسیح کے آنے کی خبر ہے کہ ان میں زمین کے پیداوار کی کثرت اور جانوروں میں دودھ اور گھی کی زیادتی کس قدر بیان ہوئی ہے مرزا قادیانی کی پیدائش سے کچھ قبل اور کچھ بعد مسلمانوں کی دیانت امانت اسلامی جوش سچائی مشہور تھی اب اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے اور اصلاح کیا ہوتی۔
بھائیو! اس تنزل دینی و دنیاوی پر بس نہیں ہوئی۔ نظر کو وسیع کر کے دیکھئے تو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی نے اسلام کا خاتمہ ہی کر دیا کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کا ثمرہ اور آپ کے خلفا اور ہادیان امت کی کوشش کا نتیجہ اس چودھویں صدی میں ہم تقریباً ٢٣ کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری دنیا میں دیکھ رہے تھے مرزا قادیانی نے سیف زبان سے سب کو قتل کر کے اس وقت بقول خود چار لاکھ کو قائم رکھا جو ان کے مرید ہیں اب فرمائیے کہ ٢٣ کروڑ کے مقابلہ میں چار لاکھ کسی شمار میں ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں پھر یہ اسلام کا خاتمہ نہیں ہوا تو اور کیا ہوا۔ بھائیو! خدا کے لئے کچھ تو غور کرو مسیح کے آنے کا نتیجہ حدیثوں میں بھی آیا ہے اور تیرہ سو برس سے جو مسیح کے آنے کی خوشخبری مسلمانوں کے کانوں میں گونج رہی تھی اور تمام اولیائے امت اور علمائے ملت اور تمام مسلمان منتظر تھے وہ یہی مسیح تھے جنھوں نے اسلام کا خاتمہ کر دیا ان حدیثوں کے بعض الفاظ ملاحظہ کئے جائیں جن میں حضرت مسیح کے نزول کا ذکر ہے اور ان کے آنے کے فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ یہ وہ حدیثیں ہیں جنہیں مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔
الفاظ حدیث ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً (١) فیکسر الصليب
مطلب مسیح ابن مریم حاکم عادل ہو کر تم میں نازل ہوں گے اور یہ کام کریں گے (١) عیسائی صلیب کو ٹکڑے کر دیں گے یعنی
٩
صلیب کا ماننے والا نہیں رہے گا۔ مرزا قادیانی نے یہ دعویٰ ١؎ تو کیا کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے آیا ہوں مگر اس کا پورا ہونا تو کیا معنے اس کے شائبہ کا بھی ظہور ان سے نہ ہوا ٢؎
الفاظ حدیث ويقتل الخنزير۔
مطلب اور سور کو قتل کریں گے۔ (٣) و يضع الجزية ”اور جزیہ یعنی خراج سلطنت یا یوں کہو کہ ایک قسم کا ٹیکس جو اسلام میں معین کیا گیا تھا وہ اٹھا دیا جائے گا اس کی حاجت نہیں رہے گی۔“
(٤) و يفيض المال حتى لا يقبله احد۔
اور مال یعنی روپے ٤؎ پیسے وغیرہ کی ایسی کثرت ہو گی کہ کوئی
١؎ اس کا ثبوت آئندہ آئے گا ۔ ٢؎ اس کے ظاہر معنے تو یہ ہیں کہ سور کے مار ڈالنے کا حکم دیں گے صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں جناب رسول ﷺ نے کتے کے مارنے کا حکم دیا تھا اسی طرح حضرت مسیح فرمائیں گے کہ سور کو جہاں پاؤ وہاں مار دو۔ دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں تمام جانوروں میں خنزیر جسے سور کہتے ہیں۔ نہایت بے غیرت مشہور ہے اور جو اس کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان میں یہ خصلت پورے طور سے پائی جاتی ہے اس لیے سور کے قتل کر دینے سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ بے حیائی اور بے غیرتی جو اس بد گوشت کے کھانے سے پھیلی ہو گی وہ حضرت مسیح کے فیضان وجود سے اور آپ کی تعلیم و ہدایت سے نیست و نابود ہو جائے گی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خنزیر سے مراد بے حیا لوگ ہوں کیونکہ محاورہ عرب میں بے حیا شخص کو خنزیر کہہ دیتے ہیں اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے قتل کا حکم دیں گے غرض کہ جس طرح صلیب کے توڑنے سے یہ غرض ہے کہ صلیب پرست نہ رہیں گے اسی طرح سور کے قتل کرنے سے یہ مقصد ہے کہ خنزیر کی صفت لوگ نہ رہیں گے ان صریح معنوں پر مرزا قادیانی کا خیال نہ گیا اور قتل خنزیر پر مضحکہ اڑایا ہے۔ اے بھائیو کہاں تک اور کس کس بات میں ان کی غلط فہمی مان کر ان کے دعوٰی نبوت کو مانو گے۔ ٤؎ مال و متاع کی کثرت کا ذکر بہت حدیثوں میں آیا ہے۔
٠١
اس کا لینے والا نہیں رہے گا سب غنی ہو جائیں گے کسی کو حاجت نہ رہے گی“
(٥) حتى يكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها. ”عبادت الہی کا شوق اس قدر ہو جائے گا اور اس میں انھیں ایسا لطف ملنے لگے گا کہ ایک سجدہ دنیا اور آخرت سے انھیں اچھا معلوم ہو گا“۔
(بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسی بن مریم مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسی بن مریم)
(٦) لتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد.
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٩٣)
”عداوت اور بغض اور حسد کو دور کر دیں گے یعنی مسلمان کے دلوں میں بری صفتیں نہ رہیں گی“۔
ان الفاظ حدیث سے معلوم ہوا کہ جس وقت حضرت مسیح آئیں گے اس وقت سات باتیں ہوں گی سب تفصیل طوالت کو چاہتی ہے مختصر یہ ہے کہ غلبہ اسلام کا ہو گا صلیب پرستی اور اس کے لوازمات کا نشان نہ رہے گا۔ مسلمانوں میں غنائے قلبی اور تمول ظاہری کامل درجہ کا ہو گا۔ توجہ الی اللہ اور ذوق عبادت الہی ایسا ہو گا کہ دنیا کی تمام لذتوں سے عبادت کی مشغولی انھیں اچھی معلوم ہو گی۔ نزول مسیح کی یہ بعض علامتیں ہیں۔ جو نہایت صحیح حدیثوں میں آئی ہیں۔ اب بھائی مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے نشانات جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک کا بھی وجود پایا گیا؟ کسی بات کا بھی کوئی شائبہ اور نمونہ ظہور میں آیا؟ کسی کا پتہ نشان بھی نہیں ہے بلکہ ان علامتوں کے برعکس اسلام میں ہر قسم کا تنزل اظہر من الشمس ہو رہا ہے مسلمانوں کی دینی اور دنیوی حالت روز بروز بدتر ہوتی جاتی ہے۔ با اینہمہ اگر مرزا قادیانی کو مسیح موعود کہا جائے اور ان صریح حدیثوں میں ایسی تاویلیں کی جائیں کہ مرزا قادیانی ان الفاظ کے مصداق ہو جائیں تو جو بے دین چاہے گا قرآن و حدیث کے معنی بدل کر اسلام کی تمام باتوں کو تہہ و بالا کر سکے گا۔
مثلاً کوئی یوں کہے کہ حدیثوں میں مسیح کے آنے کی خبر ہے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ خدا کی روح انسان کے دلوں پر نازل ہو گی اور ان کے دلوں کی حالت ایسی بدل
١١
جائے گی جیسے حدیثوں میں مذکور ہے صلیب کے ماننے والے تثلیث کے پوجنے والے خود ہی سمجھ کر اس سے تائب ہوں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے بے حیاؤں کو خود ہی اپنی بے حیائی کا شعور ہو گا اور اسے چھوڑیں گے اور دین اسلام کی طرف انھیں طبعاً رغبت ہو گی اور اسلام قبول کریں گے اور سور کو حرام جانیں گے غرض کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ خدا کی روح انسان کے دلوں پر ایسا اثر کرے گی جو کوئی انسان ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ جماعت مرزائیہ اس کا جواب نہیں دے سکتی اگر کسی کو کچھ دعویٰ ہو تو زبان کھولے۔
اس کے علاوہ کوئی یہی بیان کرے کہ مرزا قادیانی سے مسلمانوں کو اسلام کو کیا فائدہ ہوا۔ بھائیو! خدا کے لیے کچھ تو بیان کرو آخر خدا کو منہ دکھانا ہے۔ حاصل کلام! حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو علامتیں مسیح علیہ السلام کے آنے کی بیان کی تھیں۔ وہ مرزا قادیانی میں کسی طرح نہیں پائی گئیں اور جو تاویلیں وہ کلام خدا اور کلام رسولؐ میں کرتے ہیں اگر انھیں صحیح مانا جائے تو ہر ایک نفس پرست کلام خدا اور رسولؐ میں اپنی خواہش کے مطابق تاویلیں کر سکتا ہے چنانچہ نزول مسیح کے باب میں تاویل کر کے دکھا دیا گیا۔
قدرت خدا کا یہاں یہ تماشا دیکھنا چاہیے کہ جس طرح حدیث متفق علیہ کے بموجب مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتے اسی طرح خود اپنے صریح اقرار اور اپنے قول کے بموجب بھی وہ مسیح نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا مقولہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں اور اس لیے کہ بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت و شان کو ظاہر کروں پس اگر مجھے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود کو کرنا چاہیے تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘ یہ مضمون تو اخبار البدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء میں ہے۔ اور اس کی تفصیل اجمالی طور سے اس اعلان کے حاشیہ صفحہ ١٦ و صفحہ ١٧ سے ہوتی ہے جو حقیقۃ الوحی رسالہ (عنوان طاعون کا ٹیکہ ص ١٧ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٨) کے آخر اور تتمہ سے پہلے ہے اس کی عبارت یہ ہے۔ ”میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جاؤں گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔‘‘ اس حاشیہ کے شروع میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”میرا اعلان صرف میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘
١٢
اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ نہایت ہی سچا فیصلہ ہے اور نہایت صاف لفظوں میں ہے اب تمام مسلمان اور بالخصوص جماعت مرزائیہ کا فرض ہے کہ ان دونوں قولوں کے بموجب مرزا قادیانی کے صدق و کذب کو جانچ لیں اس کے خلاف کسی آیت و حدیث کو پیش کرنا مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہرانا ہے اب تو آفتاب تابان کی طرح روشن ہو رہا ہے کہ مرزا قادیانی مر گئے اور عیسیٰ پرستی کا ستون کا توڑنا تو دشوار تھا ان سے تو دس بیس عیسائی بھی مسلمان نہ ہو سکے۔ بھائیو تم کس وجہ سے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان رہے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مسیح موعود کی جو علامتیں بیان کی تھیں۔ وہ ان میں نہ پائی گئیں جس بات کا خود انھوں نے دعویٰ کیا تھا اس کا ظہور نہ ہوا پھر وہ سچے مسیح کیونکر ہو گئے ذرا غور کرو اس حق پوشی اور بے جا تعصب کا کیا ٹھکانا ہے کہ باوجود ایسے صریح فیصلے کے جماعت مرزائیہ کچھ خیال نہیں کرتی اور جس عظیم الشان غلطی میں پڑ گئی ہے اس سے علیحدہ نہیں ہوتی۔ آنحضرت ﷺ کی جلالت و شان کے ظاہر کرنے کا دعویٰ ہے۔ مگر جب اس فیصلہ نے انھیں کاذب ثابت کر دیا تو ان سے کیا امید ہو سکتی تھی کہ وہ سید المرسلین اور اصدق الصادقین کی جلالت و شان کو ظاہر کرتے بلکہ اس کے خلاف دشمنوں سے ہنسی کرائی اور دشنام دلائے مسلمان دیکھ چکے کہ جب آتھم کی نسبت جو پندرہ ماہ کے اندر اس کے مرنے کی خبر دی جب وہ اس مدت میں نہ مرا تو پادریوں نے کس قدر خوشیاں کی ہیں اور کیسا مضحکہ اڑایا ہے اس کے سوا جب ان کی اور پیشگوئیاں جھوٹی ہوئی ہیں تو دشمنان اسلام کو کس قدر تضحیک کا موقع ملا ہے۔
الغرض جو کچھ ہونا تھا وہ ہو لیا اب ہم جماعت مرزائیہ سے عرض کرتے ہیں کہ آپ کے مرشد جناب مرزا قادیانی نے آپ کو بھی گواہ ٹھہرایا ہے اب فرمائیے کہ آپ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر گواہی کیوں نہیں دیتے آپ کے پاس کیا عذر ہے جب آپ انھیں ایسا سچا جانتے ہیں کہ دعویٰ نبوت میں انھیں آپ نے سچا مان لیا تو یہ بھی انھیں کا قول ہے یہ کیوں نہیں مانتے اور اگر آپ نہ مانیں گے تو یہ اعلانیہ نہایت روشن قول دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہے گا کیا دنیا اسے نہ دیکھے گی کہ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا انھیں کے کلام سے نہایت صفائی سے ثابت ہو گیا۔
اب کیا آپ کے خیال میں ان کے نشانات آپ کو اس شہادت سے روکتے
١٤
ہیں؟ مگر آپ تھوڑی دیر تعصب سے علیحدہ ہو کر تامل کریں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ ان نشانوں کو مرزا قادیانی نے خود ہی بیکار کر دیا اور بتا دیا کہ جھوٹوں سے بھی نشانات ہوا کرتے ہیں کیونکہ صاف کہہ رہے ہیں کہ اگر مجھے کروڑ نشان ظاہر ہوں اور عیسیٰ پرستی کے ستون کو نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں تم میرے جھوٹے ہونے پر گواہ رہو۔“ جب وہ مر گئے اور عیسیٰ پرستی کا ستون نہ ٹوٹا تو ان کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو گیا اب جس قدر نشانات آپ بیان کریں وہ سب جھوٹے کے نشان ہوئے۔ مرزا قادیانی کے اس قول نے ان سب کو جھوٹے کے نشانات ثابت کر دیئے اور گویا اس طرح کہہ دیا کہ میں جھوٹا ہوں اور میرے نشانات ایسے ہی ہیں جیسے جھوٹے دکھایا کرتے ہیں تم میرے جھوٹے ہونے پر گواہ رہو۔
بعض آیتیں بھی آپ ان کی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے تو اپنے اس قول سے اس کا بھی فیصلہ کر دیا یعنی اس سے بتا دیا کہ ان آیتوں کو ان کی صداقت میں پیش کرنا غلط فہمی ہے کیونکہ اگر ان سے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کی جائے تو مرزا قادیانی ہی کے قول کے بموجب کہنا ہو گا کہ ایک جھوٹے کی نبوت پر قرآن مجید شہادت دیتا ہے مگر اسے کوئی مسلمان مان نہیں سکتا اس لیے اگر آپ کو اسلام کا دعویٰ ہے تو ماننا ہو گا کہ مرزا قادیانی کی صداقت کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتی۔
الحاصل مسیح موعود کی جو علامتیں صحیح حدیث میں آئی ہیں وہ مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئیں اور خود مرزا قادیانی نے جو نشانی مسیح موعود کی بیان کی تھی اس کا نشان بھی مرزا قادیانی میں نہیں پایا گیا اور صاف طور سے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر یہ نشانی مجھ میں نہ پائی گئی تو میں جھوٹا ہوں اب اس کے بعد بھی اگر صداقت پر اصرار ہو تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بجز اس کے کہ مَنْ یُّضِلِ اللّٰهُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ کی سچائی ظاہر ہو رہی ہے اس تحریر میں میں نے مکرر یہ لفظ لکھا کہ مرزا قادیانی نے دین اسلام کا خاتمہ کر دیا اس کی شرح بھی کسی قدر ملاحظہ کر لیجئے جس وقت مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اس وقت تمام دنیا میں تقریباً ٢٣ کروڑ مسلمانوں کی مردم شماری تھی مرزا قادیانی بھی انھیں مسلمان سمجھتے تھے ان کے دعوے کے بعد باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی عیسائی کوئی بودھ کوئی آریہ کوئی ہندو مسلمان نہ ہوا اور ان پر کوئی ایمان نہیں لایا انھیں ٢٣ کروڑ مسلمانوں میں سے بعض نے انھیں مانا ان کی تعداد ان کے بیان کے بموجب چار لاکھ (جو محض مبالغہ ہے) اب مرزا
١٤
قادیانی اور ان کے خلیفہ صاحب کا ارشاد ہے کہ کل ١ مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت نے مرزا قادیانی کا حکم ہے کہ یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھی جائے کیونکہ زندہ مردہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧) اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے ماننے والوں کو مسلمان اور نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں اور نہایت ظاہر ہے کہ اگر کافر نہ سمجھتے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو قطعی حرام نہ کہتے۔ ازالۃ الاوہام ص ٨٥٥ خزائن ج ٣ ص ٥٦٥ میں ان کا یہ الہام ہے۔ قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین فانظروا ایاتی حتی حین۔ اس الہام میں مرزا قادیانی کو حکم خداوندی ہے کہ تو اپنے تمام مخالفین اور منکرین سے اس طرح خطاب کر کہ اے کافرو بلاشبہ میں سچوں میں سے ہوں ایک وقت تک میرے نشانات کا انتظار کرو۔“ بھائیو مرزا قادیانی نے الہام ربانی سے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کی نبوت پر جو ایمان نہیں لایا وہ کافر ہے اب اس کے بعد مرزا قادیانی کا ایسا قول پیش کرنا کہ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں کہتے۔ مرزا قادیانی کو جھوٹا ٹھہرانا ہے کیونکہ اقوال مذکورہ سے تو صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مخالف کو کافر سمجھتے ہیں۔ اب ان دو قولوں میں سے ایک قول ضرور غلط ہے۔ اب حضرات مرزائی فرمائیں کہ کون سا قول مرزا قادیانی کا غلط ہے۔ اگر کافر کہنا غلط ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ مرزا قادیانی نے خدا پر افتراء کیا کیونکہ مذکورہ قول میں الہام کا دعویٰ کیا ہے اس کے علاوہ اگر یہ خدا کی اطلاع اور قل یا ایھا الکفار کا الہام غلط ہے اور خلیفہ قادیان نے بھی اپنے پہلے قول سے رجوع کر کے اب یہ فرمایا کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے تو جماعت مرزائیہ کیوں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ ٹھہراتی ہے اور جماعت کثیر کو چھوڑ کر دوچار ہی مرزائیوں سے اپنی جماعت کرتی ہے جیسا کہ مونگیر اور بھاگلپور میں معائنہ ہو رہا ہے خلیفہ قادیان جب کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے تو اپنی جماعت کو کیوں حکم نہیں دیتے کہ مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہوں لطف یہ ہے کہ جنازہ بھی علیحدہ پڑھتے ہیں۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اصل خیال خلیفہ قادیان کا وہی ہے کہ ہماری جماعت کے سوا سب کافر ہیں مگر کسی مصلحت سے کسی وقت بھی کہہ دیا جب مرزا قادیانی کے اقوال میں بہت کچھ اختلاف ہے تو خلیفہ قادیان کے اقوال میں بھی ہونا چاہیے ان کے اخبارات سے اس کا پتہ ملتا ہے اخبار زمیندار جلد ٢ نمبر ١٣٣ مطبوعہ ٦ شعبان ١٣٣٠ھ میں خاص ایڈیٹر کا مضمون دیکھا جائے اور اگر سچائی سے یہ خیال ہوا ہے اور مرزا قادیانی کے ان الہاموں کو غلط سمجھا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کے اصل دعویٰ کو غلط نہ سمجھیں۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ اس تحریر کے بعد مرزا قادیانی کا قطعی کفر کا فتویٰ اور رسالہ تشحیذ الاذہان نظر سے گزرا اس کی نقل اس کے تتمہ میں کی جائے گی۔
١٥
میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ (نعوذ باللہ من ہذہ الکفریات)
(آئینہ صداقت ص ٣٥ از مرزا محمود)
اس کا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جو تیرہ سو برس کے عرصہ دراز میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد ہوئی تھی وہ نیست و نابود ہو گئی اور ٢٣ کروڑ میں سے مرزا قادیانی کی کوشش سے چار لاکھ مسلمان رہے اور سب کافر ہو گئے اب فرمائیے کہ اسلام کا خاتمہ ہو گیا یا نہیں ٢٣ کروڑ کے مقابلہ میں چار لاکھ کس شمار میں ہو سکتے ہیں؟ غضب یہ ہے کہ فخریہ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی سعی سے چار لاکھ مسلمان ہوئے اور اس پر نظر نہیں کی جاتی کہ ان کی ذات مبارک سے ٢٣ کروڑ کے قریب مسلمان کافر ہو گئے۔
بھائیو! انصاف کرو کہ یہ مسیح تھے اور اسلام کی ترقی اور عیسیٰ پرستی کے مٹانے کے لیے آئے تھے مگر انھوں نے تو گویا اسلام کو مٹا دیا اور اس کی تیرہ سو برس کی عمارت کو ڈھا دیا اب دوسری عمارت بنانا چاہتے ہیں افسوس صد افسوس بھائیو کچھ تو غور کرو جماعت مرزائیہ ایسی بدیہی باتوں کو نہیں دیکھتی اور اندھی بن کر دہکتی آگ میں گری ہوئی ہے اگر دس بیس ہزار یا دو چار ہزار ہی عیسائی ہندو مسلمان کیے ہوتے تو بھی کہا جاتا کہ ان کی ذات سے اتنے لوگ کلمہ گو ہو گئے مگر یہاں تو بالکل صفر ہے یعنی کوئی کلمہ گو زیادہ نہیں ہوا کلمہ گویوں میں پچاس کی بھی ترقی ان کی ذات سے نہیں ہوئی تاریخ اٹھا کر دیکھو کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ سے کتنے کافر مسلمان ہوئے حضرت غوث پاک کے ایک ایک وعظ میں کتنے یہود و نصاریٰ ایمان لاتے تھے خواجہ صاحب کی ذات بابرکات سے کس قدر ہندو مسلمان ہوئے اور اس وقت تک دیکھا جائے کہ ان دونوں حضرات کو کتنے ہندو مانتے ہیں اسی طرح اور بزرگوں کا حال ہے۔
خواجہ کمال الدین مرزائی جو ان کے خاص مریدوں میں ہیں یہ کہتے ہیں کہ جیسے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی حضرت مجدد الف ثانیؒ ہیں ویسا ہی ہم مرزا قادیانی کو خدا کا برگزیدہ سمجھتے ہیں۔
خواجہ کمال الدین کا اس قدر تنزل کرنا شاید کسی مصلحت سے ہو گا ورنہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ کا دعویٰ تو اس سے بہت ہی بڑھ کر ہے ان کے مریدین کا عقیدہ
١٦
ہے کہ سب اولیاء سے بڑھ کر بعض انبیاء سے بہتر ہیں اس وقت خواجہ کمال الدین قادیانی کی بات مان کر یہ کہتا ہوں کہ باطنی فائدہ جو کچھ ان حضرات کی ذات مقدس سے ہوا اس کے تو آپ قائل نہ ہوں گے کیونکہ مرزا قادیانی میں اس کا شائبہ بھی نہ تھا ظاہری فائدہ یعنی کفار کا مسلمان ہونا اس کو آپ ضرور مانیں گے اور یہ بھی ماننا ضرور ہے کہ ان کی ذات سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہوا لوگوں نے انھیں کافر کہا مگر انھوں نے کسی کلمہ گو کو کافر نہیں بنایا۔ مرزا قادیانی نے تو کروڑوں مسلمانوں کو کافر بنا دیا اور کسی کافر کو مسلمان نہیں کیا۔ پھر برابری کا دعویٰ کیونکر ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تمام عمر میں بہت دفتر سیاہ کیے ہیں انھیں کوئی واقف حق بین دیکھے اور بزرگوں کے مکاتیب ان کی تصانیف دیکھی جائیں کہ ان میں کیسے معارف ١؎ و اسرار کی باتیں ہیں اور کیسے کیسے مواعظ و نصائح ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان قرب الٰہی کے مراتب اعلیٰ تک فائز ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے نہ کسی کو مسلمان کیا نہ ان کے
١؎ حضرت محی الدین ابن عربی کی فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ میں اسرار الٰہی دیکھے جائیں۔ آٹھ جلدوں میں یہ کتاب ہے پھر کیسے کیسے اسرار بیان کیے ہیں اور آخر میں کسی قدر وصیتیں لکھی ہیں کہ دنیا و آخرت کے لیے کافی ہیں حضرت ممدوح نے ایک تفسیر لکھی ہے اگرچہ وہ پوری نہیں ہوئی سورہ بنی اسرائیل تک ہے مگر پچانوے جلد میں ہے۔
اب خیال کرنا چاہیے کہ اس عظیم الشان تفسیر میں کس قدر اسرار کا خزانہ ہوگا۔ تفسیر اگرچہ مشتہر نہیں ہے مگر آپ کی کتابیں فتوحات مکیہ وغیرہ جو طبع ہو کر مشتہر ہوئی ہیں انھیں دیکھئے اور اس پر قیاس کیجئے مگر افسوس سے کہا جاتا ہے کہ جماعت مرزائیہ میں تو کوئی نظر نہیں آتا کہ فتوحات کو سمجھے یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی ان کے سامنے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے سینے کو اسرار و معارف کا خزانہ بنایا ہے اور یہ جماعت اس دعوے کی تصدیق کر رہی ہے افسوس اس نادانی پر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کی تصانیف فتوح الغیب وغیرہ دیکھئے آپ کے مواعظ کو ملاحظہ کیجئے اب تو ان کا اردو ترجمہ بھی ہو گیا ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ کیسے معارف بیان کیے ہیں اور نصائح اور فوائد کے جواہر ان میں کس قدر بھرے ہیں مگر افسوس ہے کہ اب تو حضرات مرزائیوں کی حالت ان مریضوں کی سی معلوم ہوتی ہے جنھیں تلخ چیز شیریں معلوم ہوتی ہے اور شیریں چیز کو ان کا ذوق تلخ بتاتا ہے جب قوت ممیزہ کا یہ حال ہے تو کوئی امید نہیں ہو سکتی بجز اس کے کہ ان کے لیے قادر مطلق سے دعا کی جائے کہ وہ ان کی قوت ممیزہ کو درست کر دے۔ آمین
١٧
رسائل کے سیاہ دفتر میں اس وقت کے مناسب نصیحت کی باتیں ہیں اور بیان اسرار و معارف تو بڑی ١؎ بات ہے مگر بڑے زور سے یہ کہا جاتا ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٥٨ خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)
یعنی اگلے بزرگوں کا پانی مکدر اور میلا ہو گیا مگر میرا چشمہ قیامت تک مکدر نہیں ہو گا اس بے باکی اور تعلّی کی کچھ انتہا ہے۔ خلیفہ قادیان یا اور کوئی بیان تو کریں کہ وہ چشمہ کہاں ہے انھیں سیاہ دفتروں میں ہے جو ان کے تصانیف کہے جاتے ہیں ان میں تو بجز جھگڑوں اور جھوٹی تعلیوں اور مرزا قادیانی کی تعریفوں اور دوسروں کی مذمتوں کے اور کچھ نہیں ہے اور مذمت اور تعلّی کی بھی انتہا نہیں ہے انبیاء کی مذمت تمام اولیاء کی مذمت اور سب سے اپنا تفوق۔
حضرت مسیحؑ کی توہین حضرت مسیح کی مذمت جو بظاہر پادریوں کے جواب میں انھوں نے کی ہے اس کا نمونہ لکھ چکا ہوں اب بطور تحقیق ان کے مقابل میں مرزا قادیانی کی تعلّی ملاحظہ کی جائے۔ خدا نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا ہے جو اس مسیحؑ سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ٢؎ ہے
(دافع البلاء ص ١٣۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
١؎ جن باتوں کو مرزا قادیانی نے سر عظیم اپنے رسالوں میں بیان کیا ہے وہ محض غلط باتیں ہیں جن کو مرزا قادیانی نے زور دار الفاظ میں بیان کر کے سادہ لوح حضرات کے دلوں پر اپنا سکہ بٹھایا ہے اگر کسی کو اس میں شک ہے تو ان کے کسی سر عظیم کو پیش کرے پھر دیکھے کہ ہم اس کی غلطی کس طرح ظاہر کرتے ہیں۔
٢؎ بھائیو غور کرو کہ حضرت عیسیٰ نبی ہیں۔ رسول ہیں اور ظلّی بروزی نہیں بلکہ مستقل نبی صاحب کتاب ہیں جن کا ذکر بار بار قرآن مجید میں آیا ہے اب مرزا قادیانی ایسے ذیشان رسول کی نسبت کہتے ہیں کہ میں اس مسیح سے تمام شان میں بڑھ کر ہوں۔ یعنی تھوڑی فوقیت نہیں بلکہ بہت فوقیت مجھ کو ہے۔ اس قول کے بعد بھی مرزائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے اگر ہے تو وہ ظلّی نبوت ہے۔ یہ کیسا اندھیر ہے جو شخص اپنے کو ایک رسول صاحب کتاب سے بہت بڑھ کر اعلانیہ نہایت صفائی سے کہہ رہا ہے اس کی نسبت کوئی صاحب عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرتا اگر کرتا تو ظلّی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ تو فرمائیے کہ نبوت ظلّی قرآن و حدیث کے رو سے کوئی چیز ہے اگر ہے تو ثبوت دیجئے اور
١٨
(ازالہ ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
خدا کے لیے اس شعر پر نظر کی جائے کہ نبی اولوالعزم کی اپنے مقابل میں کیسی تحقیر کر رہے ہیں۔ افسوس ان کے حال پر ہے جو حضرات اس پر آمنا وصدقنا کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اگر امت محمدی ہو اور سرور انبیا ﷺ کے ارشاد پر عمل کرنا پسند کرتے ہو تو دیکھو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔
لا ينبغى لاحد ان يقول انا خير من يونس بن متى
(بخاری باب ھل اتک حدیث موسیٰ ج ١ ص ٤٨١ مسلم باب فضائل یونس بن متی ج ٢ ص ٢٦٨)
”کسی کو یہ کہنا زیبا نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں“۔
دوسری حدیث میں ممانعت کی تاکید ہے اور ارشاد ہوتا ہے۔
لا يقولن احدكم انى خير من يونس بن متى.
(بخاری باب یونس من المرسلین ج ١ ص ٤٨٥)
ہرگز کوئی ایسا نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔
بخاری (باب نفخ صور ج ٢ ص ٩٦٥) میں یہ بھی روایت ہے لا تخيرونى على موسى یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ ؑ پر فضیلت نہ دو۔ یہ ارشاد اس وقت ہوا کہ ایک صحابی سے اور ایک یہودی سے تکرار ہوئی تھی یہودی نے حضرت موسیٰ ؑ کو سارے جہان پر ترجیح دی صحابی نے جناب رسول اللہ ﷺ کو ترجیح دی اور ایک طمانچہ اس یہودی کو مارا اور یہودی جھگڑا لے کر حضور انور تک پہنچا اور یہ ارشاد حضور کا ہوا حضورؐ اگرچہ سرور انبیا ہیں لیکن امت کو تعلیم ادب کی ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ ممکن ہے کہ حفظ مراتب
(بقیہ حاشیہ) یہ بھی کہیے کہ نبوت ظلی کا منکر کافر ہے یا نہیں۔ اگر کافر نہیں ہے تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں تمام شان میں مسیح سے بڑھ کر ہوں۔ محض غلط ہے کیوں کہ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت مسیح ؑ کا منکر کافر ہے اور اس میں کیا شبہہ ہو سکتا ہے کہ نبی کا انکار کرنا کفر ہے کیونکہ ہر نبی کا ماننا جزو ایمان ہے جب مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے تو مسیح ؑ سے ہر شان میں بڑھ جانے کا دعویٰ کرنا محض غلط ہے ۔ بلکہ ان کے برابر بھی وہ نہیں ہو سکتے۔
١٩
نہ رہے۔ خیالات میں یا کہنے میں ایسی باتیں آئیں جو انبیاء کی شان کے غیر مناسب ہیں چنانچہ مرزا قادیانی کو سرور انبیا کی غلامی کا دعویٰ ہے اور پھر ایک اولوالعزم نبی کی تحقیر اور اپنی تعلی کس طرح کر رہے ہیں۔ اس لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے مختلف طور سے اس کی ممانعت فرمائی مگر مرزا قادیانی اپنی تعلی میں کب خیال کرتے ہیں۔ سیدنا حسن ؓ و حسین ؓ کی تحقیر سلطان الاولیاء جگر گوشہ رسول الثقلین حضرات حسنین ؓ کی مذمت اور ان کے مقابلہ میں اپنی تعلی ملاحظہ ہو۔ (اعجاز احمدی ص ٦٨ خزائن ج ١٩ ص ١٨٠) ان کا شعر ١؎ ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے ’’کیا تو اس کو (امام حسین ؓ کو) دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے۔ یہ تو بتاؤ کہ اس سے تمھیں دینی کیا فائدہ پہنچا۔ اے مبالغہ کرنے والے‘‘ اس میں بظاہر تو ایک شیعہ کے مقابلہ میں حضرت امام حسین ؓ پر چوٹ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ان کا وجود بیکار تھا دینی فائدہ ان سے کچھ نہیں ہوا۔ مگر درحقیقت یہ ان کا لکھنا جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی تحقیر ہے کیونکہ ان دونوں اماموں کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے بہت کچھ فرمایا ہے۔ امام حسن ؓ کی نسبت بخاری (باب مناقب الحسن و الحسین ج ١ ص ٥٣٨) میں ہے ابنی ھذا سید یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے چونکہ عام طور سے ارشاد ہے اس لیے ظاہر ہے کہ آپ ؐ سب کا سردار فرماتے ہیں اور جب سب کے سردار ہوئے تو بلاشبہ اتقی الرجال ہوئے۔ اب مرزا قادیانی کو اس سے انکار ہے عربی شعر کے دوسرے مصرعہ میں یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ امت محمدیہ کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ کہنا اس کلام رسول اللہ ﷺ کو غلط ٹھہراتا ہے کہ حضور انور ؐ نے فرمایا ہے۔
یا ایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخذتم بہ لن تضلوا کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی
(ترمذی باب مناقب اھل بیت ج ٢ ص ٢١٩)
میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے پکڑو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور میری عترت۔
( ١؎ وہ شعر یہ ہے تحسبه اتقی الرّجال و خیرهم فماذا لكم من خيره یا مُعَذِّر )
٢٠
میرے گھر کے لوگ ان میں سب سے اول حضرات حسنینؓ ہیں۔ کیونکہ حضور انور ﷺ کا ارشاد ہے۔
ای اهل بیتک احب الیک قال الحسن والحسین۔
(ترمذی باب مناقب الحسنین ج٢ ص ٢١٨)
یعنی اہل بیت میں مجھے سب سے زیادہ پیارے حسنؓ اور حسینؓ ہیں۔
جب جناب رسول اللہ ﷺ ان کی نسبت یہ خبر دے رہے ہیں کہ جو کوئی انھیں پکڑے گا اور ان کی روش اختیار کرے گا ان کے کہنے پر چلے گا وہ گمراہ نہ ہوگا تو اظہر من الشمس ہوا کہ ان اماموں سے امت کو بہت کچھ فائدہ پہنچے گا۔
دوسری حدیث جناب رسول اللہ ﷺ نہایت تاکید سے متنبہ کر کے فرماتے ہیں۔
لا ان مثل اهل بیتی فیکم مثل سفینة نوح من قومه من رکبها نجا ومن تخلف عنها غرق۔
(مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٣٣ حدیث ٤٧٧٤)
خبر دار ہو جاؤ آگاہ ہو میرے اہل بیت کی مثال تم میں ایسی ہے جیسے کسی وقت نوحؑ کی کشتی تھی جو اس پر سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جو اس سے علیحدہ رہا ہلاک ہوا۔
اور ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔
اهل بیتی امان لامتی
(معجم الکبیر للطبرانی ج ٧ ص ٢٢ حدیث نمبر ٦٢٦٠)
یعنی میرے اہل بیت (امام حسنؓ وغیرہ میری امت کے لیے پناہ ہیں)
مسلمانو ذرا متوجہ ہو اور دیکھو کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی کیا شان ہے اور ان کے باب میں کیسی روشن شہادتیں ہیں کہ حضرت سرور انبیا رسول خدا ﷺ اپنی امت پر انھیں کیسی فضیلت دے رہے ہیں اور ان کا دامن پکڑنے کو فرما رہے ہیں اور باعث نجات انھیں بتا رہے ہیں مگر مرزا قادیانی ان کھلی شہادتوں کو نہیں مانتے اور کس جرات اور صفائی سے حضرت سرور انبیاؑ کے خلاف کہتے ہیں طلبتم ملاحا من قتیل بخیبتہ تم نے اس قتیل سے نجات چاہی جو بوجہ نا امیدی سے مر گیا۔
(اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
٢١
یعنی حضرت امام کی نسبت مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم نے ایسے کشتہ سے فلاح چاہی جو ناامیدی سے مرگیا۔ یعنی حضرت امام حسینؓ تو خود ناکام بے نیل و مرام مقتول ہوئے ان سے دوسرے کو کیا فلاح پہنچے گی تم ان سے کیوں فلاح طلب کرتے ہو (نعوذ باللہ) اس عظیم الشان گستاخی کو عاشقان رسول الثقلین ملاحظہ کریں پھر اسی پر بس نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے خلاف قسم کھا کر کہتے ہیں۔
واللہ لیست فیہ منی زیادۃ و عندی شہادات من اللہ فانظروا۔
(اعجاز احمدی صفحہ ٨١‘ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
خدا کی قسم حسینؓ میں مجھ سے کوئی زیادتی نہیں بلکہ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں تم دیکھو۔ یعنی امام حسینؓ کی فضیلت کی کوئی شہادت نہیں ہے۔
بھائیو ذرا عبرت کی نگاہ سے دیکھو جنھیں رسول خدا ﷺ تمام روئے زمین کے لیے پناہ فرمائیں جنھیں نجات کے لیے مثل کشتی نوحؑ قرار دیں ان میں کوئی بزرگی نہیں ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے صریح ارشادات ان کی فضیلت کی شہادتیں نہیں ہیں مرزا قادیانی کے پاس شہادتیں ہیں جو ان شہادتوں سے بڑھ کر ہیں۔ (نعوذ باللہ) کیا کسی سچے مسلمان کے ایسے خیالات ہو سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو اعلانیہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے مگر اس سے انکار بھی ہے اور بہت زور سے رسول اللہ ﷺ کی مدح ہو رہی ہے اور اپنے آپ کو ان کا ظل بتا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ پیچدار باتیں جس کو آج کل کی اصطلاح میں پالیسی کہتے ہیں نہایت غور کے لائق ہیں۔ اہلبیت اور بالخصوص حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی عظمت اور بزرگی کی شہادت میں مذکورہ حدیثوں کے علاوہ اور بہت حدیثیں آئی ہیں۔ مگر غالباً حضرات مرزائی انھیں نہ مانیں گے اور ان میں وضع وغیرہ کا احتمال نکال کر مرزا قادیانی کی طرح انھیں ردی کر دیں گے مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ جو حدیث ان کے مدعا کے مفید ہوئی اگرچہ وہ کیسی ہی ضعیف یا موضوع ہو۔ اسے انھوں نے مانا ہے اور اس کی صحت ثابت کرنے کے لیے عجیب عجیب طرح کی ملمع کاری کی ہے اور جو ان کے خلاف ہے وہ کیسی ہی صحیح ہو مگر وہ ردی ہے۔ خاکسار ذی علم فہمیدہ حضرات سے کچھ کہتا ہے ذرا توجہ سے ملاحظہ ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ جھوٹی حدیثیں بہتوں
٢٢
نے بنائیں اور ان کے بنانے کے بہت اسباب ہوئے مگر اس کی وجہ سے کیا تمام حدیثیں غیر معتبر اور لائق سند نہ رہیں گی یا جو نفس پرست جن حدیثوں کو چاہے گا ان میں ایسے احتمالات نکال کر غیر معتبر ٹھہرا دے گا ذرا سوچ کر اور خدا سے ڈر کر اس کا جواب دیجئے تمام دنیا کے اہل انصاف یہی کہیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا باقی رہا الہام سے حدیثوں کو ردی کرنا میری سمجھ میں نہیں آتا اور ہر ایک ایماندار کو ان میں تامل ہوگا کیونکہ جس طرح حدیثوں کے بنانے والے گزرے ہیں اسی طرح جھوٹے الہام کا دعویٰ کرنے والے بھی بہت گزرے ہیں اور بہت کچھ کامیاب ہوئے ہیں۔ چنانچہ آئندہ کچھ ان کا ذکر آئے گا پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ وضع کے احتمال سے حدیث سے تو بے توجہی کی جائے اور جھوٹے ملہموں کی وجہ سے مدعی الہام پر کوئی جرح نہ کی جائے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اب آپ یہ کہیں گے کہ جو مدعی نشانات دکھائے اسے سچا کہا جائے گا۔ اس کی نسبت میں کہوں گا کہ وسیع النظر حضرات جانتے ہیں کہ جس مدعی الہام کو کچھ بھی فروغ ہوا ہے اس نے کم و بیش نشانات ضرور دکھلائے ہیں۔ کسی نے پیشگوئیاں کی ہیں کسی نے اور عجیب وغریب باتیں دکھلائی ہیں۔ جو عربی کے ادیب تھے انھوں نے قصائد اور نثر عربی لکھی ہے اور اسے بے مثل سمجھا ہے۔ مرزا قادیانی نے ان سے زیادہ کوئی بات نہیں دکھائی۔ البتہ میرے خیال میں اپنی تعریف کا اپنے نشانات کا بہت غل مچایا ہے اور چونکہ اس وقت میں صفت اضلال کا دورہ ہے اس لیے اس کی اشاعت کے اسباب ان کے پاس مجتمع ہوگئے کئی مطبع ان کے اختیاری ہوئے جلب منفعت کی وجہ سے متعدد اشخاص لکھنے والے اور کوشش کرنے والے مل گئے اس وجہ سے ان کے خیالات کی اشاعت بہت ہوئی اور کم فہم ان کی طرف متوجہ ہوگئے ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں اس وقت اشاعت کے ایسے اسباب نہ تھے تاہم لوگوں نے انھیں زیادہ مانا ہے۔
یہاں ہمیں مرزا قادیانی کی ان شہادتوں کو مختصر طور سے دیکھنا ہے جن کے نسبت بڑے دعوے سے کہہ رہے ہیں۔ ١؎ لو عندی شهادات من الله فانظروا اور حضرات حسنینؓ کی شہادتوں سے زیادہ انھیں بتا رہے ہیں۔ رسالہ دافع البلاء سے معلوم ہوتا ہے کہ
١؎ میرے پاس اللہ کی گواہیاں ہیں ان پر نظر کرو۔
٢٣
وہ دو شہادتیں ہیں۔ ایک آسمانی اور دوسری زمینی آسمانی شہادت اسے کہتے ہیں کہ ان کے وقت میں رمضان کے مہینہ میں چاند گہن اور سورج گہن دونوں ہوئے اور یہ مہدی موعود کی نشانی ہے۔ ان دنوں جماعت مرزائیہ میں اس کا تذکرہ زیادہ سنا جاتا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے متعدد رسالوں میں نہایت زور وشور سے اپنی صداقت کا آسمانی نشان اسے ٹھہرایا ہے اس لیے کچھ اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مسلمانو تم یقین کرو کہ مقررہ کسوف وخسوف کو نشان ٹھہرانا محض دھوکا ہے حدیث کے صریح الفاظ ان کی غلطی کو آفتاب کی طرح دکھا رہے ہیں۔ مگر سخت افسوس ہے کہ جماعت مرزائیہ میں کوئی ذی علم ایسا نہیں ہے کہ اس پر غور کرے۔ حدیث میں نہایت صفائی سے مکرر یہ بیان ہوا ہے کہ وہ دونوں گہن بے نظیر ہوں گے یعنی ایسے وقت میں ہوں گے کہ جب سے آسمان و زمین ہوا ہے اس وقت سے لے کر مہدی موعود کے وقت تک کبھی اس وقت میں اس طرح کا اجتماع نہ ہوا ہو گا اور یوں کسوف وخسوف کا اجتماع رمضان المبارک میں بہت ہوا ہے اور حسب قاعدہ مقررہ ہوا کرتا ہے۔ دیکھو حدائق النجوم میں وہ قاعدہ لکھا ہوا ہے اور اسی قاعدہ کی رو سے سو برس آئندہ اور سو برس گزشتہ کسوف وخسوف کی فہرست دی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اسی صدی میں کئی مرتبہ رمضان شریف میں کسوف وخسوف کا اجتماع ہوا ہے اور ١٣ رمضان کو چاند گہن اور ٢٨ کو سورج گہن ہوا ہے۔ صفحہ ٧٠٢ سے ٧٢٢ تک ملاحظہ کیجئے جس چاند گہن کی نسبت عادۃ اللہ یہ ہے کہ ١٣۔ ١٤۔ ١٥ کو ہو اور سورج گرہن ٢٧۔ ٢٨۔ ٢٩ کو ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی عادۃ اللہ ہے کہ دورہ مقررہ کے بعد دونوں کا اجتماع ایک ماہ میں ہو اگر کچھ علم ہے اور طلب حق کا شوق ہے تو علم ہیئت کی کتابوں کو ملاحظہ کیجئے پھر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ١٨ھ ہجری سے لے کر ١٣١٢ھ تک ساٹھ مرتبہ کسوف وخسوف کا اجتماع خاص رمضان شریف میں ہوا ہے اس کی تفصیل رسالہ شہادت آسمانی میں کی گئی ہے اور دارقطنی کی حدیث نقل کر کے اس کی شرح اچھی طرح کر دی گئی ہے اور مرزا قادیانی نے جو معنی بیان کیے ہیں ان کی غلطی نہایت روشن طریقہ سے دکھائی گئی ہے۔ شائقین اس رسالہ میں ملاحظہ کریں الغرض ١٣١٢ھ کے گہنوں کو آسمانی شہادت کہنا محض خیال خام ہے یہ گہن کسی کے لیے شہادت نہیں ہو سکتا۔ دوسری شہادت ان کی طاعون ہے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت طاعون میرے انکار کی وجہ سے آیا ہے اور میری صداقت کی یہ زمینی شہادت ہے۔ اس کا مختصر
جواب یہ ہے کہ طاعون دنیا میں اکثر آیا کرتا ہے اور اس سے زیادہ سخت طاعون آیا ہے اگر انگریزی اور عربی تاریخ پر نظر نہیں ہے تو حاذق الملک حکیم اجمل خان صاحب نے نواب رامپور کی فرمائش سے طاعون کے باب میں رسالہ لکھا ہے اور ١٣١٥ھ میں مطبع مجتبائی میں چھپا ہے اسے دیکھ لیجئے اس سے معلوم ہو جائے گا کہ جس طرح اس وقت طاعون ہے اس سے پہلے بھی اکثر ہوا ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے زمانہ میں بصرہ میں طاعون ہوا تھا جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس طاعون میں ایک دن ستر ہزار اور دوسرے دن اکہتر ہزار اور تیسرے دن تہتر ہزار صرف بصرہ والے مرے تھے اس دن حضرت انس بن مالکؓ کے تہتر یا تراسی اولادیں مریں اور عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کے چالیس لڑکوں نے انتقال کیا۔ یہ حالت تھی کہ مردوں کا دفن کرنا مشکل تھا امیر بصرہ کی والدہ نے انتقال کیا تو اس کا جنازہ اٹھانے والا کوئی نہ ملا۔ افسوس ہے کہ دنیا کے معمولی واقعات کو مرزا قادیانی اپنی صداقت کا نشان بتاتے ہیں اور ماننے والے مان رہے ہیں اس بے عقلی کا کیا ٹھکانا ہے۔ الحاصل مرزا قادیانی کی آسمانی اور زمینی دونوں شہادتیں محض غلط ہوئیں اور جو شہادتیں حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے باب میں ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد ہیں ان میں جماعت مرزائیہ کچھ گفتگو نہیں کر سکتی ہے صحت حدیث کے باب میں جو تقریر مرزا قادیانی نے اپنے رسالہ نور الحق میں کی ہے اسے پیش نظر رکھیے۔ حضرات بایں ہمہ مرزا قادیانی نے حضرت امام کی شان میں کیسی کیسی گستاخیاں کی ہیں اور یہ خیال نہیں کیا کہ یہ وہ حضرات ہیں جن کی تعریف سرور انبیاء نے کی ہے اور ان کے جگر گوشہ ہیں ایک اور شعر مرزا قادیانی کا ملاحظہ کیجئے۔
میں محبت خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
پس فرق نہایت ظاہر ہے۔ عاشقان رسول الثقلینؐ دیکھیں کہ مرزا قادیانی کہہ رہے ہیں کہ تمہارا حسینؓ یعنی ہم سے کوئی تعلق نہیں تمہارا ہے۔ اب انصاف سے کہو کہ کوئی مسلمان اس طرح کہہ سکتا ہے؟ اس کے علاوہ اس پر نظر کرو کہ حضور انورؐ کے قرۃ العینین کی نسبت مرزا قادیانی کیا کہہ رہے ہیں۔ ان سے یہ دریافت کیا جائے کہ کشتہ محبت ملک و
٢٥
عنبر و زعفران کا استعمال کیا کرتے ہیں اور پلاؤ و قورمہ کھایا کرتے ہیں۔ کشتگان محبت الٰہی کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حالات دیکھو۔ ام المومنین فرماتی ہیں کہ جو کی روٹی بھی آپ نے دو روز برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔ اس بیان کے بعد مرزا قادیانی کا ایک اور بھاری دعویٰ ملاحظہ کیا جائے۔
ضروری تنبیہ اس قسم کے اعتراض جب کسی مرزائی پر پیش کیے جاتے ہیں تو دفع الوقتی کے لیے کہہ دیا کرتے ہیں کہ الزاماً ایسا کہا گیا ہے درحقیقت مرزا قادیانی کا ایسا خیال نہیں ہے ایک صاحب نے اس کے ثبوت میں اعجاز احمدی پیش کر کے عبارت ذیل پڑھی اس کا پہلا جملہ یہ ہے۔ ”میں نے اس قصیدہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پر زبان درازی کرتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٥ خزائن ١٩ ص ١٤٩)
مرزا قادیانی کی ایسی پیچدار عبارتیں کم فہموں کو دھوکے میں ڈالتی ہیں اس عبارت میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عیسیٰؑ پر کیسا سخت حملہ کیا ہے۔ مگر عوام سمجھتے ہیں کہ تعریف کی ہے ان کے مریدین بھی اس قسم کی باتیں کر کے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی عبارت کا اصل مطلب ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عیسیٰؑ کی نسبت کہا ہے یعنی مذمت کی ہے اور ان کے مقابلہ میں اپنی بڑائی ثابت کی ہے یہ انسانی کارروائی نہیں یعنی وہ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا کی طرف سے ہے جو کچھ اس نے کہا میں نے ظاہر کر دیا لیجئے جناب مرزا قادیانی نے سب کچھ کہہ کر اپنی برات کر لی اور ان بزرگوں کی مذمت کو خدا کی مہر شدہ بات بتا دی اور اس پیرایہ سے کہ عوام ان کی مدح سمجھے اور وہ جملہ یہ ہے ”جس سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں خبیث ہے وہ انسان (الخ) اس سے کم فہم حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ان بزرگوں کو راستباز اور کامل بتاتے ہیں اور جو ان پر زبان درازی کرے اسے خبیث کہتے ہیں۔ مگر بغور دیکھنے سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ غرض ان کی نہیں ہے بلکہ پہلے
٢٦
مدعا کی تائید ہے دوسرے پیرایہ میں یعنی کاملوں اور راستبازوں پر نفسانی طور سے جو زبان درازی کرتا ہے وہ خبیث ہے اور میں تو نبی مرسل ہوں میں جو کچھ کہتا ہوں۔ وہ اپنے نفس سے نہیں کہتا بلکہ خدا کی طرف سے کہتا ہوں اگرچہ وہ کامل ہوں مگر جو ان میں انسانی کمزوریاں اور نقص ہیں وہ بیان کرتا ہوں دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کاملوں اور راستبازوں پر زبان درازی کرنا خبیث کا کام ہے اور یہ حضرات کاملین میں نہیں ہیں اگر کامل ہوتے تو خدا کی طرف سے جو برائی میں نے ظاہر کی ہے یہ نہ ہوتی۔ دوسرا جملہ یہ ہے کہ ”میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے حضرت عیسیٰ جیسے راستباز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید من عادا اولیا لی دست بدست اسے پکڑ لیتا ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٤٥ خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)
اس جملہ میں بظاہر تو حضرت عیسیٰؑ اور حضرت امام حسینؓ کو بڑا راستباز کہا ہے عوام کے خوش کرنے کے لیے مگر پوری عبارت میں غور کیجئے پھر دیکھئے کیا مطلب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت امام حسینؓ کو جب راستباز تم سمجھ رہے ہو اگر وہ ایسے ہی ہوتے تو ہم انہیں برا کہہ کر ایک رات بھی زندہ نہ رہتے۔ مگر ہم کو تم دیکھ رہے ہو کہ باوجود بدزبانی کرنے کے زندہ ہیں اور عیش کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انہیں راستباز سمجھنا ہی غلط ہے الحاصل میں حق پرست حضرات سے بہ منت کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا کلام نہایت پیچدار ہوتا ہے اس پر خوب غور کریں چونکہ لوگوں کی طبیعتیں اور ان کے خیالات مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے مرزا قادیانی کا کلام ذو معنی ہوتا ہے تاکہ مخاطب کے خیال کے مناسب مطلب کہہ کر اسے خوش کر دیا جائے۔ اسی طرح ایک جگہ کچھ کہا ہے دوسری جگہ اس کے خلاف کیا ہے اس کی وجہ بھی یہی معلوم ہوتی ہے غرضیکہ دھوکا دینے کے عجب عجب طرز ہیں کچھ اور ملاحظہ ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہت کچھ ہجو کی ہے اور ان کی شان میں وہ الفاظ کہے ہیں کہ کوئی بھلا آدمی کسی شہدے کو بھی نہیں کہتا۔ سب کچھ کہہ کر کہیں تو کہہ دیا کہ اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا کسی مقام پر ان کا غیر مشہور نام یسوع لے کر ان کی مذمت کر دی اور جس وقت کسی مسلمان نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ نبی ہیں ان کی برائی مرزا قادیانی کرتے ہیں تو کسی وقت کہہ دیا کہ یہ برائی یسوع کی ہے حضرت عیسیٰؑ کی نہیں ہے اور اگر کسی نے دکھا دیا کہ مرزا قادیانی ہی کہتے ہیں کہ ”عیسیٰ اور مسیح اور
٢٧
یسوع ایک ہی شخص کے نام ہیں“
(توضیح مرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢)
انھیں کا ذکر قرآن مجید میں ہے انھیں کو نصاریٰ خدا اور خدا کا جزو مانتے ہیں۔ قرآن مجید میں صاف طور سے مصرح ہے۔ اسی وقت یہ کہہ دیتے ہیں کہ پادریوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی مذمت کی تھی اس لیے الزاماً انھیں ایسا کہا گیا مگر اہل علم خوب جانتے ہیں کہ کسی مقدس بزرگ کو اور بالخصوص خدا کے رسول کو کلمات ناشائستہ اس طرح کہنا جس طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں اور ان پر اپنا تفوق بیان کرتے ہیں ہرگز جائز نہیں ہے۔ مناظرہ میں الزام دیا جاتا ہے مگر دفع التلبیسات وغیرہ دیکھو کس شائستہ پیرایہ سے الزام دیا ہے ایک مقام پر حضرت امامؑ کی تحقیر کر کے آخر میں لکھتے ہیں ”سچا شفیع میں ہوں“۔
(دافع البلا ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اس جملہ پر غور کیا جائے کیسا سخت جملہ ہے تمام اولیا کرام پر اور بالخصوص حضرت امامؑ پر کیونکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کوئی بزرگ کوئی مقبول خدا سچا شفیع نہیں ہے انھیں سچا شفیع سمجھنا بالکل غلط ہے سچا شفیع میں ہوں۔ اب برادران اسلام اس کو سمجھ لیں میں زیادہ کیا لکھوں۔ خیال کریں کتنے مقبولان خدا کو مرزا قادیانی نے جھوٹا ٹھہرایا افسوس حضرت سید المرسلینؐ نے شفاعت کا دعویٰ کیا مگر یہ نہیں فرمایا کہ سچا شفیع میں ہی ہوں اور سب جھوٹے ہیں۔ مرزا قادیانی کی کس کس بات پر نظر کی جائے اور ان کی کس کس بے عنوانی کو دیکھا جائے۔ خلیفہ قادیان اور ان کے پیرو ان کی غلطیوں کی تاویلیں کہاں تک کریں گے ذرا غور فرمائیں اور اپنی عاقبت برباد نہ کریں۔ بھائیو! جن کی فضیلت جناب رسول اللہ ﷺ بیان فرمائیں جنھیں سرچشمہ ہدایت قرار دیں جن کو جوانان اہل جنت کا سردار بتائیں۔ جو تمام روئے زمین کے لیے پناہ ہوں۔ وہ تو کسی شمار میں نہ ہوں اور حضورؐ کا قول ان کے لیے شہادت نہ ہو اور وہ سچے شفیع نہ ہوں اور مرزا قادیانی کے پاس اپنی فضیلت کی شہادتیں ہیں اور وہ سچے شفیع ہیں اس جرأت اور بے باکی پر ہزار افسوس ہے۔ میں دریافت کرتا ہوں کہ وہ کون شہادتیں ہیں رسالہ دافع البلاء میں جن شہادتوں پر فخر کیا تھا وہ تو خاک میں مل گئیں۔ اب وہی آپ کے متکبرانہ خیالات رہے جنھیں آپ الہامات کہتے ہیں۔ پھر کیا آپ کے الہامات یقینی طور سے غلط ثابت نہیں ہوئے وہ الہامات جن کی صداقت پر پندرہ بیس برس تک اصرار رہا جن کی طرف بار بار توجہ ہوئی وہ محض غلط نکلی جن
٢٨
کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جناب رسول اللہ ﷺ پر جھوٹے الزام لگائے گئے اور لگائے جاتے ہیں۔ (نعوذ باللہ) اہل حق فرمائیں کہ ہمیں اس شعر کے پڑھنے میں اب کون مانع ہوسکتا ہے؟
یہین باطراء ولا یتبصروا
یہاں تک تو یہ دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی نے تمام اولیائے امت محمدیہ کی تحقیر کی اور حضرت عیسیٰؑ کے مقابلہ میں اپنی بڑائی ایسے برے طریقہ سے بیان کی جس سے ایک اولوالعزم نبی کی نہایت حقارت اس طرح ہوئی ہے کہ صاحب دل مسلمان کا دل لرز جائے۔ مرزا قادیانی نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ”ہر چہ برے و میرسی بروئے مایست“ پر عمل کیا ہے۔ جب حضرت مسیح پر بہت کچھ فوقیت بیان کرچکے تو ان کے بعد حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی صراحۃً ہمسری کا دعویٰ کیا اور بعض باتوں میں اپنی فضیلت ظاہر کی۔
آنحضرت ﷺ سے ہمسری اور جزئی فضیلت کا دعویٰ
دعویٰ ہمسری تو ان کے اس شعر سے ظاہر ہے۔
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٤ خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
یعنی میں عیسیٰ زمان اور موسیٰ دوران ہوں اور میں محمد مجتبیٰ ؐ ہوں غرضیکہ ان
ا۔ اگر کوئی صاحب اصحاب سکر اور اہل شوق کا کلام اس کے جواب میں پیش کریں تو لائق توجہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اولیاء اللہ کا خصوصاً اصحاب سکر کا کلام کسی کے لیے سند نہیں ہوسکتا البتہ نبی کا کلام چونکہ سند ہے اس لیے ضرور ہے کہ اس کی ساری باتیں مستند ہوں تاکہ قابل حجت ہوسکیں اس کے علاوہ جن بزرگوں نے یاد الٰہی کے نشہ میں اس قسم کے الفاظ زبان سے نکالے ہیں انھوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ ہماری باتوں پر ایمان لاؤ یا جو ہمیں نہ مانے وہ مردود اور کافر ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ تو نہ ماننے والوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں بتاتے اس سے نہایت ظاہر ہے کہ ان اولیاء اللہ کے کلام میں اور مرزا قادیانی کے دعوؤں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
٢٩
پیغمبروں کے صفات کمالیہ کا جامع ہوں اس سے زیادہ اور کیا دعویٰ ہمسری ہو سکتا ہے؟ فضیلت کا دعویٰ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر عیسیٰ بن مریم اور دجال اور یاجوج و ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی۔
(ازالۃ الاوہام جلد ٢ ص ٦٢١ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
یعنی مجھ پر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ بعض عظیم الشان چیزوں کا علم جناب رسول اللہ ﷺ کو نہیں ہوا تھا اور حدیثوں میں جو نشانات دجال وغیرہ کے جناب رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ وہ صحیح نہیں ہیں ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی حقیقت سے اطلاع دے دی ہے جناب رسول اللہ ﷺ پر ان کی حقیقت منکشف نہ ہوئی تھی۔ یہاں مرزا قادیانی نے دو طور سے حضرت سرور انبیاء کی منقصت بیان کی ایک یہ کہ دجال وغیرہ کی حقیقت حضور انور پر منکشف نہیں ہوئی دوسرے یہ کہ آپؐ نے بغیر معلوم کیے ان کی نسبت بیان فرمایا اور وہ بیان غلط ہے مرزا قادیانی ان دونوں باتوں سے منزہ ہیں اس لیے دو طرح سے انھیں جناب رسول اللہ ﷺ پر فضیلت ہوئی (استغفر اللہ) مرزا قادیانی کے کلام کا حاصل یہی ہے اگرچہ حسب عادت مرزا قادیانی اسے رنگ آمیزی سے بیان کرتے ہیں۔
اس کے بعد جب ان کے انکشافات اور الہامات پر وسیع نظر کی جاتی ہے تو صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام کمالات انسانیہ اور مدارج نبویہ کو طے کر کے اس سے اعلیٰ مرتبہ اپنا بتانا چاہتے ہیں اس کا حاصل یہ ہو گا کہ ان کا مکنون خاطر یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر بھی وہ اپنی کلی فضیلت ثابت کریں اگرچہ یہ دعویٰ انھوں نے صراحۃً نہیں کیا اور لوگوں کے رو برو اپنے کو حضور انور کا نائب اور امتی کہتے رہے، مگر ان کے الہام اور انکشاف نہایت صفائی سے ان کے دلی منشاء کو ظاہر کر رہے ہیں ملاحظہ کیا جائے۔
الہام مرزا اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدائے تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے (١) کہ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں“ یعنی مرزا قادیانی خدا کے مثل ہیں۔ (٢) ”تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے“ (یعنی مرزا قادیانی اپنی پیدائشی حالت میں تمام انسانوں سے افضل ہیں) (٣) تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید (یہ
٣٠
بات کسی نبی کو حاصل نہیں تھی)
(١۔٣ کتاب البریہ ص ٨٣ خزائن ج ١٣ ص ١٠١)
اس الہام کے تینوں جملوں سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو سید الرسل ﷺ سے افضل بتا رہے ہیں۔
کشف مرزا "میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں...... اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی الخ۔" (کتاب البریہ ٨٥ تا ٨٧ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ تا ١٠٥)
اس کشف میں تو نہایت صفائی سے خدا ہونے کا دعویٰ ہے پھر تمام انبیاء سے افضل ہونے میں کیا شبہ ہے اب تو مرزا قادیانی میں اور انبیاء میں خالق ومخلوق کا فرق ہو گیا (نعوذ باللہ منہ) جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو ایسے کشف والہام نہیں ہوئے نہ کسی نبی کو ایسے کشف والہام ہو سکتے ہیں بلکہ کسی عالی مرتبہ اولیاء اللہ سے سہواً بھی ایسے کلمات نہیں نکلے اور جن کی زبان سے اس قبیل کے الفاظ نکلے ہیں وہ غلبہ سکر اور سرشاری کی حالت میں نکلے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے ہادی بنایا نبوت کا مرتبہ عنایت کیا ان کی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکلے۔ مرزا قادیانی مہدویت اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے ان کا کلام سکر کی حالت پر محمول نہیں ہو سکتا اور الحکم مورخہ ٢٤ فروری ١٩٠٥ء میں یہ الہام لکھا ہے
اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہُ کُنْ فَیَکُوْنُ (تذکرہ ص ٥١٧ طبع سوم)
یعنی اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی سے فرماتا ہے کہ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور صرف اس قدر کہہ دے کہ ہو جا وہ ہو جائے گی۔‘‘ اس الہام سے اظہر من الشمس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خدائی مرزا قادیانی کے حوالہ کر دی کیونکہ یہ صفت کہ جس چیز کا ارادہ کرے وہ صرف اس کے کہنے سے موجود ہو جائے خاص اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کسی نبی کو یہ بات حاصل نہیں تھی غرضیکہ اس الہام سے بھی مرزا قادیانی تمام انبیاء سے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنھیں علم اور فہم عنایت کی ہے پہلے تو وہ اس پر غور کریں کہ ایسا الہام عقلاً اور شرعاً کسی انسان پر ہو سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی خدائی دوسرے کو حوالے کر دے پھر اس کی سچائی کو ظاہر طور سے
٣١
دیکھیں کہ مثلاً احمد بیگ کے داماد کی موت کو مرتے دم تک مرزا قادیانی کیسا چاہتے رہے اور اس قدر وثوق اس کے مرنے پر تھا کہ بار بار اپنے سامنے اس کے مر جانے کو اپنی صداقت کا معیار بتایا ہے۔
(انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١)
مگر وہ مرزا قادیانی کے سامنے نہ مرا وہ خود ہی اس کے سامنے تشریف لے گئے اور ان کے اس الہام کی حالت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی۔ بھائیو مرزا قادیانی کے ان الہامات اور انکشافات پر غور کرو اور سوچو کہ ان کا دلی منشاء کیا ہے جماعت مرزائیہ خدا کے لیے ذرا تعصب کے پردہ کو اپنی آنکھوں سے ہٹا کر غور کرے اور اپنی عاقبت کو تباہ نہ کرے۔ ذرا فرعون کی حالت کو پیش نظر کریں کہ پہلے عطار تھا پھر اسے اللہ تعالیٰ نے آہستہ آہستہ اس قدر کامیابی دی کہ بادشاہ ہو گیا اور چار سو برس کی عمر اسے دی گئی یا چار سو برس اس نے بادشاہت کی یہی کامیابیاں اس کے دعویٰ خدائی کا باعث ہوئیں۔ مرزا قادیانی بھی آہستہ آہستہ کشف و الہام میں خدا کے مرتبہ تک پہنچے تھے اگر عمر کچھ اور وفا کرتی تو عجب نہیں کہ صاف طور سے خدائی کا اعلان ہوتا۔ جھوٹے مدعی مہدویت اور نبوت بھی بہت گزر چکے ہیں جو علم و فضل ظاہری میں بہت رتبہ رکھتے تھے اور اس دعوے کے بعد انھیں بہت کچھ کامیابی ہوئی یہ خیال محض غلط ہے کہ ایسا افتراء کرنے والا ٢٣ برس کے اندر ضرور ہلاک ہو گیا ہے چند نظیریں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اسے ملاحظہ کیجئے صالح بن طریف دوسری صدی کے شروع میں یہ شخص ہوا ہے بہت بڑا عالم اور دیندار تھا ١٢٧ھ میں یہ بادشاہ ہوا ہے اور نبوت کا دعویٰ کر کے وحی کے ذریعہ سے اس نے قرآن ثانی کے نزول کا دعویٰ کیا ہے اس کی امت اسی قرآن کی سورتیں نماز میں پڑھتی تھی۔ ٤٠ برس تک اس نے بادشاہت کے ساتھ نبوت کی اور اپنی اولاد کے لیے بادشاہت چھوڑ گیا اور کئی سو برس تک اس کی اولاد میں بادشاہت رہی اور اس کے مذہب کی اشاعت نہایت زور سے ہوتی رہی اس کے خاندان میں تین شخصوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے پہلے اس کے باپ نے دعویٰ کیا اور اس کی بدولت بادشاہ ہو گیا اور بادشاہت اپنے بیٹے کے لیے چھوڑ گیا پھر صالح نے دعویٰ کیا اس کے بعد اس کے پوتے کے پوتے نے دعویٰ کیا اور ستائیس برس تک نبوت اور سلطنت ١؎ کی اس طرح عبید اللہ علوی نے افریقہ میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور
١؎ حصہ دوم فیصلہ آسمانی ملاحظہ ہو
٣٢
وہاں کا بادشاہ ہو گیا اور چوبیس برس سے زیادہ اس نے مہدویت اور بادشاہت کی ابن تومرت اور اس کے خلیفہ عبدالمومن نے بھی ایسا ہی کیا اور ٤٣ برس تک اس دعوے کے ساتھ بادشاہت ١؎ کی ان نظیروں کے بعد بھی کسی کو مرزا قادیانی کی صداقت پر اصرار ہو سکتا ہے۔ ذرا غور کیجئے اگر آپ انصاف کریں تو یہی ایک بات ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں کافی ہے مگر آپ کی یہ حالت دیکھی جاتی ہے کہ ایک بات کو کذب کی علامت بتاتے ہیں جب وہ دکھا دی جاتی ہے تو اس میں ایک قید بڑھا دیتے ہیں یا کوئی دوسری بات پیش کر دیتے ہیں جس سے نہایت ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو طلب حق نہیں ہے اور ”الغریق یتشبث بکل حشیش“ پر عمل ہے بھائیو اس پر غور کرو کہ صادقوں کی ایسی روش نہیں ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی علامات جو صحیح حدیث میں آئی ہیں جنھیں مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں وہ بھی ان میں نہیں پائی گئیں اور نہ پایا جانا ایسا ظاہر ہے کہ کسی نادان کو بھی اس میں تردد نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ علامتیں ایسی ہیں کہ ہر ایک ان کا معائنہ کر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی سچائی کی جو علامت بیان کی تھی اس کا شائبہ بھی نہیں پایا گیا بلکہ جو علامت اپنے جھوٹے ہونے کی انھوں نے بیان کی تھی وہ یقیناً پائی گئی یعنی انھوں نے کہا تھا کہ اگر تثلیث پرستی کے ستون کو میں نہ توڑوں تو میں جھوٹا ہوں وہ ستون بدستور قائم ہے اس کی تو ایک اینٹ بھی نہیں گری بلکہ اس کی قوت تو روز افزوں ہے احمد بیگ کے داماد کی نسبت کس زور سے مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ میرے سامنے نہ مرے اور اس کے سامنے میں مر جاؤں تو میں ٢؎ جھوٹا ہوں۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی کو مرے ہوئے کئی برس ہو گئے اور وہ اب تک زندہ ہے پھر ان کے جھوٹے ہونے میں آپ کو کیوں تردد
١؎ اس کا ذکر بھی حصہ دوم فیصلہ آسمانی میں اور تاریخ کامل ابن اثیر اور ابن خلکان میں ہے۔
٢؎ انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشینگوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آ جائے گی۔ اب فرمائیے کہ پیشینگوئی تو پوری نہیں ہوئی اور مرزا قادیانی کی موت آ گئی غور کیا جائے کہ مرزا قادیانی اس کی موت کو بار بار کہتے ہیں اور تقدیر مبرم بتاتے ہیں۔ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ تقدیر مبرم اسی کو کہتے ہیں جو بدل نہیں سکتی۔ اس کہنے کے بعد اس پیشینگوئی کے پورا نہ ہونے کے وقت آیہ یمحو اللہ کو پیش کرنا کیسا صریحاً غلط ہے۔
٣٣
ہے۔ اس کے جواب میں يمحو الله مايشاء و يثبت پیش کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اسے اختیار ہے کہ جو کچھ اس نے قول و قرار کیا ہے اس پر وہ قائم رہے یا اسے مٹا دے یعنی اس پر قائم نہ رہے اس کا حاصل یہ ہوا کہ جماعت مرزائیہ کے نزدیک خدائے تعالیٰ ایسا ہی ہے جیسے دنیا کے بعض رئیس جھوٹے وعدہ خلافی کرنے والے ہوتے ہیں۔ (نعوذ باللہ نعوذ باللہ) ذرا انجام آتھم کو دیکھو کہ احمد بیگ کے داماد کے مرنے کو کیسا پختہ اور سچا وعدہ خداوندی لکھا ہے اور پھر اس کا ظہور نہ ہوا اللہ تعالیٰ نے وعدہ خلافی کی۔ اپنے قول و قرار کو مٹا دیا کہئے حضرات مرزائیہ آپ کے مرشد کے نزدیک آیت کے یہی معنی ہیں؟
مجدد وقت قرآن مجید کے بڑے ماہر رسالت کے مدعی ایسے ہی معنی بیان کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ خدائے تعالیٰ کے کسی قول و فعل کا اعتبار نہ رہے۔ بھلا یہ تو فرمائیے کہ اگر کوئی جھوٹا بے تکی پیشین گوئیاں بہت سی کرے اور جب کسی کا ظہور نہ ہو تو اس آیت کو پیش کر دے اس سے وہ کذب سے بری ہو جائے گا؟ اس کا جواب دیجئے اس کے علاوہ ذرا مرزا قادیانی کے ان الہامات پر نظر کیجئے جن میں بے انتہا قرب الٰہی مرزا قادیانی کا بیان کیا گیا ہے اور ان کو صدیق کا خطاب ملا ہے پھر جسے خدائے تعالیٰ ایسا تقرب عنایت کرے اور صدیق کا خطاب دے پھر خود ہی اپنے قول و قرار کو مٹا کر تمام دنیا کے روبرو اسے جھوٹا ٹھہرائے ذرا سوچ کے جواب دیجئے اور یہ بھی فرمائیے کہ جب خدائے تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے ایسے پختہ وعدے پورے نہ کیے اور متعدد جھوٹ بولے (نعوذ باللہ) تو اس کے ان الہامات کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے جن سے ان کا مسیح ہونا اور مقرب الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے جب آپ کے نزدیک وہ خدائے قدوس کسی وقت جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے تو ان الہامات کی یقینی صداقت کس طرح تسلیم کر لی جائے اور کیوں نہ کہا جائے کہ ان الہامات میں جو کچھ کہا گیا وہ غلط ہے یا یہ کہ پہلے وہ مرتبہ دیا گیا پھر اسے مٹا دیا کیونکہ يمحو الله ما يشاء عام ہے یعنی جس بات کو چاہے مٹا دے یہاں مٹا دینے کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی ہی کے متعدد اقراروں سے انھیں جھوٹا ثابت کر دیا اگر موت کے وقت تک وہ مسیح اور مقرب الٰہی ہوتے تو ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تمام خلقت کے رو برو اس طرح ان کی بے حرمتی کرتا اور ان سے پختہ وعدے
٣٤
کر کے خلاف وعدگی کرتا۔ غرضیکہ جو آیت جواب میں پیش کی تھی اس سے ان کا کذب ظاہر ہوتا ہے اس کے علاوہ مرزائی حضرات (اعجاز احمدی ص ٧٩ خزائن ج ١٩ ص ١٩١) کے اس شعر پر بھی نظر کریں۔
سیکرمنی ربی و شانی یکبر
اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی شان بزرگ ہے کہ عنقریب خدا مجھے بھی بزرگی دے گا اور میری شان بلند کی جائے گی کہیے جناب بزرگی دینے اور شان کے بلند کرنے کی یہی صورت تھی کہ پختہ وعدے کر کے ڈاکٹر عبدالحکیم کے مقابلہ میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ میں اور اعلانیہ تمام خلق کے رو برو جھوٹے ٹھہرائے گئے اور ہر بد سے بدتر قرار پائے یہ کیوں ہوا آپ یہی کہیں گے کہ يمحو اللہ ما يشاء و يثبت اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے رکھتا ہے پہلے اس نے بزرگی دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اسے پورا نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف کیا بھائیو! دیکھ لو یہ مرزا قادیانی ہیں اور یہ ان کا خدا ہے جس کی صفت وہ اور ان کے پیر و مرشد آیت مذکورہ سے یہ بتا رہے ہیں جس کا ذکر ابھی ہوا اب آپ ہی فیصلہ کرلیں کہ مرزا قادیانی کیسے ہیں۔ اس بیان کے بعد ہر فہمیدہ کے نزدیک پیشین گوئیوں کی کوئی وقعت نہیں رہ سکتی۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا بڑا معیار پیشین گوئی بتایا ہے اس لیے صاف طور سے دوسرے پیرایہ میں ان کا بیان کرتا ہوں یہ یقینی بات ہے کہ پیشین گوئیاں اگر سچی بھی ہوں تو صداقت کا ثبوت نہیں ہوسکتا کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے بھی پیشین گوئیاں کی ہیں اور سچی ہوئی ہیں پھر انھیں آپ کیوں جھوٹا سمجھتے ہیں؟ بہت سے رمال جفار اصحاب فراست پیشینگوئیاں کرتے ہیں اور اکثر صحیح بھی ہوتی ہیں اور مرزا قادیانی کی تو اکثر پیشینگوئیاں غلط ثابت ہوئیں خصوصاً وہ پیشگوئیاں جنھیں انھوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ٹھہرایا تھا اس کا غلط ہونا تو آفتاب کی طرح دنیا پر روشن ہو گیا۔ فیصلہ آسمانی الہامات مرزا وغیرہ ملاحظہ کر لیا جائے اور جن کو صحیح کہا جاتا ہے ان میں اکثر ایسے مجمل اور گول الفاظ ہیں کہ عموماً یا زمانہ اور وقت کے لحاظ سے ان کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں اور ذی ہوش تجربہ کار اس کا اندازہ کرسکتا ہے کہ آئندہ کسی صورت کا ظہور ضرور ہو گا اور پیشگوئی کر
٣٥
دیتا ہے۔ مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا مثلاً بنگال کی دلجوئی کی پیشگوئی کو ملاحظہ کیجئے پہلے تو یہ دیکھئے کہ یہ لفظ کس قدر عام ہے اگر کسی ادنیٰ بات میں بھی بنگالیوں کا خیال کیا جائے تو اس کے کہنے کا موقع ہے کہ دلجوئی ہو گئی اس کے بعد اس پر نظر کی جائے کہ کوئی دانشمند بادشاہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کی رعایا میں سے پوری ایک قوم زور کے ساتھ اپنی حق طلبی کرے اور وہ بادشاہ اس قوم کی کچھ بھی نہ سنے اور اس کی کسی بات پر توجہ نہ کرے یہ دونوں باتیں اس پیشگوئی کے لیے کافی ہیں۔ مگر یہاں ان دونوں باتوں کے سوا تیسری بات اور بھی ہے جس سے ایسی پیشین گوئی کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ ہند کی پالیسی اور طرز حکومت سو برس سے دیکھی جاتی ہے کہ اس کی رعایا میں جس نے تیزی اور سختی کی اس سے نہایت آشتی کا برتاؤ کیا گیا ہے اور اس کی زیادہ سنی گئی ہے اور دانشمند گورنمنٹ کو ایسا ہی ہونا چاہیے جب سو برس کا یہ تجربہ موجود ہے پھر بنگالیوں کی اس شورش کے بعد یہ کہہ دینا کہ ان کی دلجوئی کی جائے گی کس قدر آسان ہے ان کے حال پر حسرت ہی نہیں ہے بلکہ افسوس ہے جو بی اے یا ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے زمانے کی حالت سے واقف ہیں وہ اس پیشگوئی کو الہام سمجھتے ہیں۔ چنانچہ تقسیم بنگال کے بعد مرزا قادیانی کے ایک مرید بی اے نے تقسیم بنگال کے بعد اسی پیشگوئی کے متعلق بہت ورق سیاہ کر کے مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش کیے ہیں اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کی صداقت اپنی زندگی ہی میں بیان کر چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جس سے تقسیم بھی نہ ہو اور اہل بنگال کی دلجوئی بھی ہو جائے اس کا طریقہ یہ ہوا کہ لیفٹیننٹ گورنر جو بنگالیوں کا مخالف تھا وہ ہٹا دیا گیا مرزا قادیانی نے اسی وقت اعلان کیا تھا کہ ہماری پیشگوئی کا ظہور ہو گیا یعنی ایک حاکم اعلیٰ جو اس قوم کا مخالف تھا وہ ١؎ علیحدہ کر دیا گیا اب انصاف پسند حضرات ملاحظہ کریں کہ ایسے الفاظ سے پیشگوئی
١؎ اس کی تفصیل اخبار اہلحدیث جلد ٩ نمبر ٩ و نمبر ٢١ اور جلد ١٠ نمبر ١٧ میں نہایت خوبی سے کی گئی ہے اور آخر کے پرچہ میں قادیانی مشن سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں ایک جلسہ کر کے مرزا قادیانی کی اس اور اس جیسی دیگر متحدیانہ پیشین گوئیوں پر ہم سے بالمشافہ گفتگو کر لو (الخ) یہ اخبار ٤ ربیع الاول ١٣٣٠ ہجری کو چھپا ہے۔ چھ ماہ تو ہو گئے مگر کسی طرف سے قادیانی مشن کی آواز نہیں آئی کہ ہاں ہم تیار ہیں۔ آئندہ کیا امید ہو سکتی ہے یہاں اس واقعہ پر بھی نظر کرنا چاہیے جو مولوی ثناء اللہ صاحب (بقیہ حاشیہ آئندہ)
کی گئی ہے کہ خود پیشگوئی کرنے والے تو اس کی صداقت میں کچھ کہہ رہے اور ان کے مرید کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ غرضیکہ پیشین گوئی ایک موم کی ناک ہے جدھر چاہا ادھر پھیر دیا۔ بھائیو میں نہایت سچائی اور آپ کی خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ پیشگوئی کا سچا ہونا نبوت یا ولایت کی دلیل نہیں ہے خصوصاً ایسے شخص کی پیشگوئی جس کی بہت سی پیشین گوئیاں غلط ہو گئی ہوں اور ان کا غلط ہونا دنیا پر ظاہر ہو گیا ہو اس کی تفصیل فیصلہ آسمانی اور الہامات مرزا میں ملاحظہ کی جائے۔ اب میں اس تحریر کو ختم کرتا ہوں اور اہل حق کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ مختصر تحریر بہت بڑے دفتر کا خلاصہ ہے۔ جس قدر باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں اگر انھیں تفصیل سے بیان کیا جائے تو ضخیم کتاب ہو جائے۔ اختصار کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت مرزائیہ اپنے مخالف کی تحریر کو دیکھتی ہی نہیں۔ میری محبت اسلامی اور خیر خواہی نے یہ چاہا کہ مختصر تحریر کروں شاید کسی عنوان سے ان کی نظر سے گزر جائے اور انھیں انصاف کا موقع ملے لیکن ہدایت تو ہادی مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے مجیب الدعوات سے التجا ہے کہ تو جانتا ہے کہ اس عاجز نے یہ رسالہ تیری خوشنودی اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے لکھا ہے تو اس کو قبول فرما اور باعث ہدایت کر۔ آمین۔ آمین بحرمت سید المرسلین علیه و علی آله و اصحابه الصلوة والسلام الی یوم الدین.
راقم خاکسار ابو احمد رحمانی
(بقیہ حاشیہ) اور مرزا قادیانی میں ہوا تھا یعنی مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں اس پر مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر مولوی صاحب سچے ہیں تو قادیان میں آ کر پیشین گوئی کو جھوٹا ثابت کریں ہر ایک پیشین گوئی کے لیے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میرے مرید ہیں اگر مولوی صاحب کے لیے ایک ایک روپیہ بھی لوں گا تو ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کے نذر ہوگا۔“ اس کے بعد انھوں نے پیشین گوئی کی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب پیشینگوئیوں کی پڑتال کے لیے قادیان میں میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔“ (اعجاز احمدی ص ٣٧ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) اس کا جھوٹا ہونا تو اسی وقت ظاہر ہو گیا تھا کیونکہ ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو مولوی صاحب اسی غرض سے قادیان گئے اور مرزا قادیانی کو اطلاع دی مگر مرزا قادیانی نے بجز زبردستی اور بیہودہ باتوں کے اور کچھ نہ کہا اور باتیں بنا کر علیحدہ ہو گئے اس کی تفصیل رسالہ الہامات مرزا کے (بقیہ حاشیہ گذشتہ)
اللہ اکبر
تتمہ حقیقت المسیح
چودھویں صدی کے مسیح کا آنا اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر بنانا
بہت برادران اسلام یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے پیرو مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے اس وجہ سے ان کا خیال ان کی طرف اچھا ہے اس لیے میں نے حقیقتہ المسیح میں اس کی واقعی حالت کو کچھ بیان کیا ہے مگر اب زیادہ تفصیل سے اسے دکھانا چاہتا ہوں تاکہ مسلمان ہوشیار ہو جائیں اور جان لیں کہ مرزائیوں کے نزدیک اب یہی حالت ہے جو میں نے عنوان پر لکھی ہے میں رسالہ حقیقتہ المسیح کو لکھ چکا تھا کہ ایک دوست نے مرزا قادیانی کی آخری تالیف حقیقتہ الوحی کا صفحہ ١٦٣۔ ١٨٠ تک اور رسالہ تشحیذ الاذھان اپریل ١٩١١ء دکھایا یہ رسالہ مرزا قادیانی کے فرزند ارجمند محمود احمد نے خاص اسی غرض سے لکھا ہے کہ اپنی جماعت پر ظاہر کریں کہ قادیانی جماعت کے سوا دنیا میں تقریباً ٢٣ کروڑ کلمہ گو ہوں گے یہ سب کافر ہیں حقیقتہ الوحی کے صفحہ (١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) میں
(بقیہ حاشیہ) صفحہ ١٠١۔ ١١٢ میں بیان ہوئی ہے اس کے دیکھنے سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ (١) مرزا قادیانی پہلے زور سے دعوے کر کے دوسرے کا عجز ثابت کرنا چاہتے ہیں اور جب وہ مقابل آ جاتا ہے تو باتیں بنا کر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ متعدد واقعے اس وقت پیش نظر ہیں۔ مگر مریدین پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا (٢) نہایت صفائی سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے مریدین کو ایسا بیوقوف سمجھ چکے ہیں کہ اگر تمام پیشین گوئیاں ہماری جھوٹی ثابت ہو جائیں اور ہمارا جھوٹا ہونا بالیقین معلوم ہو جائے تو بھی ہمارے مریدین ہم سے برگشتہ نہ ہوں گے اور ہماری طلب پر مولوی صاحب کے لیے چندہ دے دیں گے۔ جب مریدین کی عقل و فہم کا یہ اندازہ ہے تو ان کے رو برو مسیح موعود کیا خدائی کا دعویٰ کریں اور وہ تسلیم کریں تو بجا ہے۔ اپنے خدا ہونے کی حالت کشفی تو مریدین سے منوا چکے ہیں۔ اب اعلانیہ دعویٰ خدائی میں کچھ دن باقی تھے کہ تشریف لے گئے۔ الغرض اول تو پیشگوئی کا سچا ہونا دلیل صداقت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں کی حالت یہ ہے کہ اس کی سچائی وہ خود نہیں ثابت کر سکے نہ ان کے مریدین ثابت کر سکتے ہیں پر کس لیے پیشینگوئیوں کا غل مچا رہے ہیں۔
٣٨
کسی مرزائی نے مرزا قادیانی سے سوال کیا ہے اور مرزا قادیانی نے اس کا جواب دیا ہے۔ سوال و جواب دونوں اس جگہ لکھے جاتے ہیں۔
سوال حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے سائل کا یہ حال ہے اس میں دو قول مرزا قادیانی کے نقل کیے ہیں۔ پہلے لکھا ہے کہ حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس جملہ کا عموم اور شمول خوب یاد رہے دوسرا یہ ہے کہ آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا
(ان دونوں جملوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر مرزا قادیانی کے جواب کو دیکھئے اور بتائیے کہ مرزا قادیانی نے اس تعارض اور تناقض کا کیا جواب دیا ہے۔ مرزا قادیانی کا جواب ملاحظہ ہو)
الجواب یہ عجب ١ بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان
١ اہل علم مرزا قادیانی کے جواب کو ملاحظہ کریں۔ سوال کرنے والا اپنی رائے و قیاس سے کوئی بات نہیں کہتا بلکہ مرزا قادیانی کا قول پیش کرتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ حضور مرزا قادیانی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔‘‘ اس قول کا مرزا قادیانی انکار نہیں کرتے جب یہ قول صحیح ہے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہر طرح مسلمان ہیں خواہ میرا منکر ہو یا مکفر ہو اسے کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اگر کوئی صورت کلمہ گو کے کافر کہنے کی نکلے تو مرزا قادیانی کا یہ قول ضرور غلط ہو جائے گا کہ اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک صورت کافر کہنے کی نکل آئی۔ مگر عجب بات ہے کہ اہل قبلہ کی نسبت ایسا صاف و صریح ہزاروں جگہ کہہ کر اب اپنے ہر قسم کے منکر کو کافر کہتے ہیں اس تعارض کا کچھ جواب نہیں دیتے اور مسلمانوں کو کافر بنا رہے ہیں یہ حالت مرزا قادیانی کی ہے کہیں کچھ کہہ دیا اور کہیں کچھ اس پر خلیفہ صاحب اور تمام مریدین آمنا کہہ رہے ہیں۔
٣٩
ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اس وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری ١؎ قرار دیتا ہے الخ (پھر فرماتے ہیں) علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور ٢؎ رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا و رسول کی پیشینگوئی موجود ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) (٢) پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیونکر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب ٣؎ کرتے ہیں (پھر فرماتے ہیں) (٣) تو اب اس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہیے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انھوں
١ یہ غلط ہے بعض انکار کرنے والے آپ کو فریب خوردہ اور دھوکا کھانے والا خیال کرتے ہیں یعنی شیطانی الہامات کو وہ الہام رحمانی سمجھے یا یہ کہ قوت خیالی کے پختہ ہونے سے جو خیال اور خواہش ہوتی اور دل میں کسی بات کے آتے بالآخر وہ خیال نہایت پختہ ہو گیا اور اسی قوت خیالیہ کو یہ الہام سمجھے اگرچہ اس کا نتیجہ بھی یہ ہوا کہ خدا پر افتراء کیا گیا مگر مرزا قادیانی کو فریب خوردہ ہی کہیں گے۔
٢ کیسی زبردستی ہے کون کہتا ہے کہ خدا و رسول نے آپ کی پیشین گوئی کی آپ کے متکبرانہ خیالات یا انسانی دشمن نے آپ کے دل میں جما دیا ہو گا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کو اپنی بشارت سمجھیں۔ جب ہزاروں جگہ یہ کہا کہ کوئی کلمہ گو کافر نہیں ہے۔ اس وقت یہ بات نہیں سوجھتی تھی۔ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو جناب رسول اللہ ﷺ کے مثل سمجھتے تھے چونکہ بعض بشارتوں میں جو مخصوص صفات حضور انور ﷺ کے بیان ہوئے ہیں مثلاً صاحب شریعت ہونا آپ کی شریعت کا سب پر غالب ہونا اس کو مرزا قادیانی اپنی بشارت کہتے ہیں مثلاً ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی الخ۔
٣ یہ محض آپ کا دروغ ہے آپ کے مخالف کلام خدا کی تکذیب ہرگز نہیں کرتے بلکہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ جو پیشین گوئیاں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بیان کی ہیں انھیں آپ اپنی پیشین گوئی کہتے ہیں اللہ و رسول نے تمام کلمہ گو کو مسلمان ٹھہرایا ہے اور آپ بھی اس کا اقرار بہت مرتبہ کر چکے ہیں مگر اب اس کے خلاف کہہ کر خدا و رسول کی تکذیب اور اپنے آپ کو جھوٹا کہتے ہیں۔
٤٠
نے ایک ١؎ مسلمان کو کافر بنایا تب میں ان کو مسلمان سمجھوں گا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شعبہ نہ پایا جائے (پھر فرماتے ہیں) (٤) ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لیے ہم مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے (پھر فرماتے ہیں) (٥) اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب یا منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے پکارتے ہیں۔‘‘
ان عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ جو مرزا قادیانی کو رسول اور نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ خواہ نیک نیتی سے نہ مانتا ہو یا مرزا قادیانی کے مختلف اقوال سے پریشان ہو۔ اتمام حجت اس پر ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ہر صورت میں وہ کافر ہے۔ ناظرین اس پر نظر کریں کہ مرزا قادیانی نے ذرا سی بات کو بہت طول دیا اور مختلف طور سے مکرر سہ کرر مسلمانوں کو کافر بنایا مگر سائل کے سوال کا جواب نہیں دیا یعنی وہ دریافت کرتا ہے کہ آپ کے کلام میں تعارض ہے آپ ہزاروں جگہ لکھ چکے ہیں کہ کلمہ گو کسی طرح کافر نہیں ہے۔ پھر لکھتے ہیں جس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ کافر ہے۔ بعض تعلیم یافتہ مرزائیوں نے اس کا نتیجہ نہایت خراب دیکھ کر اس حکم کو واپس لینا چاہا اور یہ خیال کیا کہ سب کلمہ گو یکساں مسلمان خیال کیے جائیں مگر مرزا قادیانی کے صاحبزادے نے بڑے زور سے خلاف کیا اور خلیفہ المسیح کو بھی اپنے ہمراہ لیا چنانچہ رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر ٩ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء جلد ٦ میں نہایت زور کے ساتھ اس کی تشریح کی ہے اس کا دیباچہ ملاحظہ ہو۔ ’’چند دنوں سے
١؎ یہ فرماتے ہیں کہ امت محمدی کے علماء ایک مسلمان کو کافر کہنے سے کافر ہو گئے اور اس کے اعلان کے لیے لمبا اشتہار چاہیے تو جو شخص ٣٣ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنائے وہ کتنا بڑا کافر ہوگا اس کے لیے کس قدر لمبا اشتہار چاہیے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ خیال رکھتے ہیں اور آپ کے بارے میں متردد ہیں جب انھیں تردد ہے آپ کو یقینی طور سے سچا نہیں جانتے آپ کے حالات آپ کے اقوال انھیں متردد کر رہے ہیں اسی وجہ سے انھیں انکار ہے پھر وہ علماء کی تکفیر کیسے کریں علماء کی تکفیر تو اسی وقت کر سکتے ہیں جب آپ کو یقینی سچا سمجھ لیں۔ اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ جو ہمیں بالیقین سچا سمجھے اسے ہم مسلمان سمجھیں گے باقی سب کافر ہیں۔
٤١
وطن اور المنیر میں حضرت اقدس مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح پر اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں ایک ذرا سے فرق پر اختلاف ڈلوا دیا اور لکھ دیا کہ ہم میں اصولی فرق ہے اسی طرح پیسہ اخبار میں کسی شوخ چشم نے ایک مضمون دیا ہے کہ امید ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اس فیصلہ کو واپس لے کر حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو باطل کر دیں گے اور ان پر سے کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے لیکن تعجب ہے کہ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم لوگ جب حضرت مسیح موعود کو نبی اللہ مانتے ہیں تو کیونکر آپ کے فتوے ١ ؎ یا الہامات کو رد کر سکتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح تو آپ کے خلیفہ اور آپ کے کاموں کو پورا کرنے والے ہیں۔ آپ کیونکر آپ کے الہامات کو رد کر سکتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ مامورین اور انبیاء و رسل کی مخالفت کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔ تب ہی تو کہتے ہیں کہ حضرت کی مخالفت سے کیونکر کافر ہوئے یا کم سے کم نیک نیتی سے نہ ماننے والے کیونکر کافر ہوئے۔ حالانکہ رسول اللہ کو نہ ماننے والے کیا سب کے سب بد نیت تھے اور کیا سب پر حجت قائم ہو چکی تھی۔ سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں میں کون تبلیغ کرنے گیا تھا لیکن باوجود اس کے اسلام کی رو سے وہ کافر ٢ ؎ ہیں۔ باقی یہ رہا کہ ان کو سزا ملے گی یا نہیں۔ یہ خدا جانتا ہے۔ شریعت کا فتویٰ تو ظاہر پر ہے۔ اس لیے ہم ان کو کافر کہیں گے۔ پس جب
١ ؎ تمام مسلمانوں کو یہ حکم دینا کہ سب کے سب مرزا قادیانی کو نبی مانیں اور اگر نہ مانا تو وہ کافر ہیں یہ دونوں حکم تشریعی ہیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کے حکم ہیں پھر یہ کہنا کہ نبوت و رسالت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی ہے تمھارے اس عقیدے کے بموجب غلط ہے۔ الغرض تمہارا یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرات مرزائی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے اب یہ کہہ دینا کہ نبوت تشریعی کا خاتمہ مانتے ہیں عوام کو دھوکا دینے کی غرض سے ہے کیونکہ مرزا قادیانی کے دو حکم تشریعی تو ابھی دکھائے گئے اور اگر اس پر قناعت نہ کی جائے گی تو اور احکام بھی دکھا دیئے جائیں گے۔ یہاں صاحبزادے کا ایسی نبوت کا دعویٰ کر کے تشریعی اور غیر تشریعی دو قسم کی نبوت بتلانا اور دوسری قسم میں مرزا قادیانی کو داخل کرنا آپ کی کم علمی اور نافہمی ظاہر کرتا ہے ذرا سنبھل کے بیٹھئے اور خلیفہ سے کہئے کہ ثابت کریں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ ثابت نہیں کر سکتے۔
٢ ؎ اسلام کی رو سے انھیں کافر بنانا جنھیں تبلیغ نہیں پہنچی محض غلط ہے جنھیں تبلیغ نہیں پہنچی اور وہ موحد ہیں وہ کافر نہیں ہیں کیونکہ جب ان کے کان تک رسالت کی خبر پہنچی نہیں تو وہ منکر کس کے ہوئے اور جب وہ منکر نہ ٹھہرے تو کافر بھی نہ ہوئے خلیفہ صاحب صاحبزادہ اور مطیعوں کی بھی اصلاح نہیں کرتے۔
٤٢
تبت اور سوئٹزر لینڈ کے باشندے رسول کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کے نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہر سکتے ہیں۔ غرضیکہ یہ خیال بالکل بیہودہ اور عقل سے بعید تھا اس لیے تردید لازم نظر آئی تاکہ احمدی بھائی دھوکا نہ کھائیں لیکن چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا فتویٰ بھی ضروری تھا اس لیے یہ مضمون بتمام و کمال دکھایا گیا اور آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں اور تحریر فرمایا ہے کہ اسے چھاپ دو اسے عام مخلوق کی ہدایت کے لیے شائع کرتا ہوں۔ ”احمدی بھائیوں کو چاہیے کہ اس کی خوب اشاعت کریں اور یہ مضمون دوسرے دوستوں کو جا کر سنائیں کیونکہ غیر احمدی اس وقت پورے ١ زور سے ہم کو اپنے اندر ملانا چاہتے ہیں اور جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان ہی رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت ٢ کا فائدہ ہی کیا ہوا۔ خاکسار مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعودؑ اس کے بعد پورے رسالہ میں (جو ٣٧ صفحہ کا ہے) اس مضمون کو مفصل لکھا ہے۔ اور یہ ثابت کیا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے چاہے منکر ہو یا متردد اتمام حجت ہوا ہو یا نہ ہوا ہو بہر صورت کافر ہے اور مرزائیوں کو اس عقیدہ پر رہنا چاہیے اور خلیفۃ المسیح کا بھی یہی حکم ہے۔ پس کسی شخص کو حق نہیں ہے کہ اس میں کچھ چوں و چرا کر سکے۔ برادران اسلام اب تو آپ کو پورا یقین ہوا کہ چودھویں
١ عام طور سے ایسا کہنا محض غلط ہے البتہ اکثر کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ جماعت مرزائیہ ہم سے علیحدہ نہ ہو اور کفریہ عقیدے کو چھوڑ کر مسلمانوں میں مل جائے۔ یہ ایک خیر خواہانہ خیال ہے ورنہ آپ اور آپ کی جماعت کوئی چیز نہیں ہے جن کے ملانے کا خیال کیا جائے۔ جس طرح سید محمد جونپوری اور علی محمد بابی کی جماعت ہے ویسے کسی مرزا قادیانی کی بھی ایک جماعت ہوئی اس سے زیادہ کوئی وقعت نہیں ہے۔
٢ یہ کلام نہایت صفائی سے ظاہر کر رہا ہے کہ مسیح موعود کا آنا صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کے نہ ماننے والے کافر قرار پائیں ان کی بعثت کا اور کوئی فائدہ نہیں ہے جنت میں جگہ کی تنگی تھی اور جہنم میں جگہ خالی تھی اس لیے مرزا قادیانی بھیجے گئے کہ بالفعل ٢٣ کروڑ مسلمان جو جنت کے مستحق ہو چکے ہیں ان میں سے نہایت قلیل جماعت کو علیحدہ کر کے سب کو جہنم میں بھیج دیں اور آئندہ جو مسلمان پیدا ہوں گے اور ہوتے رہیں گے اور خدا کے فضل سے امید ہے کہ وہ سب مرزا کے دعوے کے منکر ہوں گے انھیں مرزا قادیانی کے خلفا جہنم میں بھیجتے رہیں گے مرزائی حضرات فرمائیں کہ اس کلام کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
٤٣
صدی کے مسیح نے کیا کیا؟ دنیا میں ان کے آنے سے اسلام کو اور مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا؟ بھائیو عبرت کی نگاہ سے دیکھو جنھوں نے ٢٣ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا دیا اسلام سے خارج کر دیا۔ دوزخ کا مستحق ٹھہرا دیا اور غضب ہے کسی کافر کو مسلمان نہیں بنایا۔ وہ اپنے کو رسول خدا مامور من اللہ سمجھتے ہیں اور مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔ تیرہ سو برس سے جن کے آنے کا انتظار تمام امت محمدیہ کر رہی ہے۔ تمام علماء اور اولیائے کرام جن کے قدوم کے منتظر رہے وہ یہی مسیح تھے۔ جنھوں نے دنیا کو کافر بنا دیا اور کسی کافر کو مسلمان نہ بنایا۔ علمائے امت اور اولیائے امت محمدیہ جن کے آنے کا سینکڑوں برس سے انتظار کر رہے ہوں نہایت بدیہی بات ہے کہ ایسے سخت انتظار کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ذات مقدس سے اسلام کو اور مسلمانوں کو بہت کچھ فائدہ ہوگا مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی حالت ان کے آنے سے نہایت عمدہ ہو جائے گی مگر مرزا قادیانی کی ذات سے تو معاملہ بالکل برعکس ہو گیا مسلمانوں کی ہر طرح کی حالت نہایت خراب ہو گئی بالآخر سب کو انھوں نے کافر ہی کر دیا۔ یہ نہایت بدیہی ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے بھائیو غور کرو جب حضرت مسیح کے آنے کی جو علامتیں تھیں۔ ان میں سے کسی کا ظہور نہ ہوا بلکہ اس کے برعکس یہ ظاہر ہوا کہ ان کے قول کے بموجب دنیا گویا اسلام سے خالی ہو گئی اور کسی جماعت کی نہ دینی حالت درست ہوئی نہ دنیاوی پھر وہ مسیح موعود کیونکر ہو سکتے ہیں۔ جماعت مرزائیہ کے جو حضرات دیکھے جاتے ہیں ان کی صورت اور حالت سے اسلام کو عبرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگ مسلمان کہلائیں اور ایک نبی کے صحابی یا تابعی ہونے کے مدعی ہوں افسوس اب ان کے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ ٢٣ کروڑ مسلمانوں کو نہایت زور سے کافر بنا رہے ہیں اس لیے میں ان سے یہ کہتا ہوں میاں صاحبزادے مرزا قادیانی کا یہ فتویٰ اور تمہارا یہ اصرار آفتاب کی طرح روشن کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے اور بموجب نصوص قطعیہ قرآنیہ اور احادیث صحیحہ نبویہ کے یہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں اس لیے ہر ایک مسلمان ان کے اس کفر کے تحفہ کو واپس کرتا ہے اب بقول مرزا قادیانی وہی اس کے مستحق ہیں۔ مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ اس واپس شدہ تحفہ کو باہم تقسیم کر لیں اور اگر اپنے خاص متبعین کو بھی کچھ حصہ دیں تو مناسب ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی جماعت کو ہدایت کرے اور راہ مستقیم پر لائے۔ آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔ راقم خیر خواہ امت محمدیہ ابو احمد رحمانی غفرلہ۔
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
معیار المسیح
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تعریف کے لائق وہی ذات مقدس ہے جس نے انسان کو بھلائی اور برائی معلوم کرنے کے لئے سمجھ عنایت کی اور جس نے ہدایت کیلئے اپنے نبی بھیجے ان کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کے اوپر کمالات کا خاتمہ کر دیا اور فرما دیا کہ وہ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی صداقت کا بڑا معیار اپنی پیش گوئیوں کو ٹھہرایا مگر ان کا غلط ہونا متعدد رسالوں اور بہت تحریروں سے اظہر من الشمس ہو گیا اور اس وقت تک کسی تحریر کا معقول جواب نہ مرزا قادیانی نے دیا نہ ان کے کسی معین و مددگار سے ہو سکا صرف مونگیر کے مناظرہ میں اور اس کے بعد جو مختصر تحریریں شائع ہوئیں ان کا بھی جواب اس وقت تک نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ البتہ بعض آیتیں قرآن مجید کی مرزا کی صداقت میں پیش کی ہیں اور اپنے خیال میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ آیتیں ان کے سچے ہونے کی دلیل ہیں مرزا قادیانی نے بھی اپنے رسالوں میں ان آیتوں کو پیش کیا ہے مگر چونکہ ان آیتوں سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنا نہایت کم عقلی اور نافہمی ہے بلکہ آئندہ معلوم ہو جائے گا کہ ان میں کئی آیتیں ایسی ہیں کہ ان سے مرزا قادیانی کا مفتری ہونا ثابت ہوتا ہے اس لئے ہمارے علماء نے انہیں لائق جواب نہیں سمجھا اس کے علاوہ دو وجہیں اور بھی ہوئیں جس سے اہل علم کو بے توجہی۔ اول یہ کہ مرزا قادیانی کی صداقت کا جو بڑا معیار تھا یعنی پیشین گوئیاں جب ان کے غلط ہو جانے سے ان کا کذب بخوبی ظاہر ہو گیا تو ہر مسلمان کو اس کا یقین کرنا چاہئے کہ قرآن مجید سے ان کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے اور کلام خدا سے جھوٹے کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی اور جو آیتیں اس مدعا میں پیش کی جاتی ہیں اس سے مقصود یا تو دھوکا دینا ہے یا پیش کرنے والے قرآن مجید کے مطالب سے محض ناواقف ہیں اور ان کی غلطی اور نافہمی ایسی ظاہر ہے کہ کسی فہمیدہ کو اس میں شبہ نہیں ہو سکتا دوسری وجہ بے توجہی کی یہ ہے کہ آیتوں کی تفسیر کرنے میں
٢
کچھ نہ کچھ علمی بحث ضرور آئے گی اور عوام کو اور کم علم حضرات کو فائدہ نہ پہنچے گا۔ اور اگر ہوگا تو بہت کم اس لئے انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی صرف پیشین گوئیوں کی حالت کو ظاہر کرنا مناسب سمجھا چنانچہ اس وقت بھی ایک رسالہ فیصلہ آسمانی لکھا گیا ہے جس سے مرزا قادیانی کے تمام دلائل باطل ہو جاتے ہیں اور امر حق آفتاب کی طرح چمکنے لگتا ہے مگر اسی کے لئے جس کو طلب حق ہو یکطرفہ فیصلہ کر کے محض نکتہ چینی کی نظر سے دیکھے بلکہ خالی الذہن ہو کر انصاف کو پیش نظر رکھے مگر اب جماعت مرزائیہ کی خیر خواہی کی آخری درجہ یہ ہے کہ ان کے دلائل قرآنی کی حالت بھی روشن کی جائے اس لئے میں اس وقت مجملا جواب دینا چاہتا ہوں پھر کسی وقت مفصل جواب دیا جائے گا اگر مشیت الٰہی میں ہے۔ ان دنوں مناظرہ مونگیر کی کیفیت میں جماعت مرزائیہ نے چند آیتیں لکھی ہیں اگر چہ ان میں اکثر آیتیں تو ایسی ہیں کہ ان سے مرزا قادیانی کی صداقت ثابت کرنا اہل علم کے لئے ایک مضحکہ ہے مگر عوام تو یہی سمجھتے ہیں کہ اتنی آیتوں سے مرزا قادیانی کے دعوے کی صداقت ثابت کی گئی ہے اور کسی نے جواب نہیں دیا اس لئے لکھا جاتا ہے۔
- (١) وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ اِنَّهٗ
لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ O
(انعام ٢١)
اس سے بڑھ کر خدا کے دربار میں کوئی ظالم نہیں جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا یا اس کی نشانیوں کو اور اسکے احکام کو جھٹلایا اسے یقین کر لو کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ خدا پر افتراء کرنے والے اور اس کی آیتوں کو جھٹلانے والے ظالم ہیں اور ظالم فلاح نہیں پاتے نامراد رہتے ہیں اس آیت کو جماعت مرزائیہ مفتری کا معیار قرار دیتی ہے یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتری کون ہے میں کہتا ہوں کہ اس معیار سے تو مرزا قادیانی سچے نہیں ٹھہرتے بلکہ مفتری ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جو اس دنیا میں فائز المرام نہ ہوا اور اپنے مراد کو نہ پہنچے وہ ان کے نزدیک مفتری ہے۔ ہر شخص کا مدعا اور اس کی مراد اس کے خیال کے مطابق ہوتی ہے انبیاء کی مراد اصلی یہی ہوتی ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ ہو دین الٰہی کی اشاعت ہو منکرین دین اسلام قبول کریں اور ان کی حالت دینی اور دنیاوی کی اصلاح ہو اگر مرزا قادیانی نبی تھے تو ان کا مقصود یہی ہونا چاہئے رسالہ البدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی کا یہ قول ہے۔ ”کہ میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں یہی ہے کہ عیسےٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور
٣ دوں اور
٣
بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔‘‘ اس قول سے ان کی مراد بخوبی ظاہر ہوگئی۔ مگر اب آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا کہ اس میں بالکل ناکام رہے عیسےٰ پرستی کے ستون کو توڑنا تو بہت مشکل تھا ان سے تو دو چار عیسےٰ پرست مسلمان نہ ہوسکے ان سے تو دہریہ بہت زیادہ بامراد رہے کیونکہ انہوں نے بہت عیسےٰ پرستوں کو دہریہ کر لیا اب عیسائیوں کے سوا دنیا کے اور مذاہب پر نظر کی جائے اس کا بھی یہی حال ہے ان کی وجہ سے کوئی آریہ مسلمان نہیں ہوا کسی مشرک نے ان کے ہاتھ پر توبہ نہیں کی کوئی برہم سماج ان پر ایمان نہ لایا اور مسلمان نہیں ہوا۔ البتہ (٢٣) کروڑ مسلمان کافر ہو گئے۔ وطن لاہور نمبر ١ جلد ١٢ مشتہرہ ١٢ جنوری ١٩١٢ء میں یہ تعداد لکھی ہے۔ کیونکہ جب تک انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اس وقت یہی تعداد مسلمانوں کی مردم شماری میں تھی۔ ان کے دعوائے نبوت کے بعد کوئی کافر ان پر ایمان نہیں لایا۔ بلکہ ان ٢٣ کروڑ مسلمانوں میں سے بعض نے انہیں مانا۔ اب ان کی تعداد چار لاکھ یا کچھ کم وبیش بتائی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے سوا سب کافر ہیں کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو پہلے منکر اور کافر تھے وہ بدستور کافر رہے یہ جو ٢٣ کروڑ مسلمان تھے یہ سب کافر ہوگئے صرف چار لاکھ مسلمان رہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کی ذات سے اسلام کا گویا خاتمہ ہوگیا۔ الغرض جو مراد ان کے دعویٰ کے لئے ہونا چاہئے اس میں وہ نامراد ہی نہیں رہے بلکہ ان کے مراد کے بالکل برعکس ہوگیا یعنی اسلام کی ترقی کی جگہ اس قدر تنزل ہوگیا کہ بہ نسبت سابق کے گویا نہیں رہا۔ نبی کی دوسری مراد مسلمانوں کی اصلاح اور دینی اور دنیاوی ترقی ہوتی ہے۔ اس کی حالت بھی ظاہر ہے کہ ہر طرح کا تنزل ہے۔ اور ان کے دعوے کے وقت سے اس وقت تک اگر نظر کو وسیع کر کے دیکھا جائے تو ہر حالت میں تنزل نظر آئے گا۔ جو ان پر ایمان لائے ہیں ان میں دیکھا جائے تو بجز نزاع اور جھگڑے اور جھوٹ کے کچھ نظر نہیں آتا ان کی ساری عبادت اور صلاح و تقویٰ یہ ہے کہ حضرت مسیح کی موت و حیات پر کچھ باتیں یاد ہیں اسی کی مشق کیا کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعریف غرضیکہ اس مقصد میں بھی مرزا قادیانی نامراد رہے اور مفتری کی علامت جو مذکورہ آیت میں بیان ہوئی ہے وہ ان میں کامل طور سے پائی گئی اس لئے ان کا مفتری ہونا اس آیت سے ثابت ہوا۔ حضرات مرزائی نے اس آیت کے بیان میں مرزا قادیانی کو مفتری فرض کر کے ان کی مراد صرف وجاہت دنیاوی اور شہرت پسندی بیان کی ہے وہ محض کوتاہ نظری یا طمع سازی ہے کیونکہ جب مفتری مانے گئے اور مفتری بھی وہ جو خدائے تعالیٰ پر افتراء کریں تو نہایت اعلیٰ درجہ کے بلند حوصلہ دنیا دار ٹھہرے پھر ایسے لوگوں کے مقاصد اصلیہ اور فرعیہ کی تعیین کیوں کر ہوسکتی ہے۔ ان کی عمر میں کتنی دلی تمنائیں ٤
انہیں ہوتی ہیں وہی جانتے ہیں دوسرا کسی قدر ان کی حالت و واقعات سے کچھ معلوم کر سکتا ہے پوری واقفیت نہیں ہو سکتی پھر کیوں کر کہا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مرادوں میں کامیاب ہوئے چند باتیں جو مجھے معلوم ہیں جن میں وہ ناکام و نامراد رہے یہ ہیں (١) براہین احمدیہ کی تکمیل باوجود پختہ وعدوں کے نہ کر سکے اور غالباً تیس برس تک زندہ رہے۔ (٢) قرآن مجید کی تفسیر نہیں کر سکے۔ (٣) منارہ پورا نہ بنوا سکے (٤) اشاعت اسلام جو ان کا خاص مقصد تھا وہ کچھ بھی نہ ہوا (٥) تثلیث پرستی مٹانا انہوں نے خاص اپنا کام بتایا تھا وہ کچھ بھی نہ کر سکے (٦) منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی کیسی انہیں تمنا رہی مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی (٧) اپنے سامنے اس کے شوہر کے مرجانے کی خواہش ١؎ کس قدر انہیں تھی مگر وہ نہ مرا اور اس وجہ سے وہ صرف نامراد ہی نہیں رہے بلکہ تمام دنیا کے نزدیک جھوٹے ٹھہرے کیونکہ اس کے مرنے کی پیشین گوئی انہوں نے کی تھی اور اسے اپنی صداقت کا معیار بتایا تھا (٨) ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے اپنے سامنے مرنے کی ضرور انہیں آرزو تھی کیونکہ اپنے سامنے ان کے مرنے کی پیشین گوئی کی تھی اور ان کے سامنے اپنے مرجانے کو نہایت عار اور خلاف مرضی خداوندی بتایا تھا (ان کا اعلان تبصرہ ملاحظہ ہو مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩۔٥٩١ ) (٩) مولوی ثناء اللہ صاحب کی موت بھی ان کی خاص مراد تھی (ان کا آخری فیصلہ مولوی صاحب کے باب میں دیکھا جائے مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨) ان کے سوا اور بھی ان کی مرادیں ہیں جن میں وہ نامراد رہے مگر سب کے بیان میں طوالت ہے۔
اب جاہ وشہرت کی نسبت جو کہا گیا یہ مراد ان کی پوری ہوئی یہ بھی غلطی ہے کیونکہ جاہ اور قبولیت کے مراتب ہیں اور ہر شخص اپنے حوصلہ کے موافق اس کی خواہش کرتا ہے اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی اس امر میں بڑے عالی حوصلہ تھے ان کی مراد اور ان کا حوصلہ یہ تھا کہ دنیا بھر کے عیسائی اور ہندو اور مسلمان سب میرے حلقہ بگوش ہو جائیں اور سب میرا کلمہ پڑھنے لگیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا جن کے منتظر عیسائی اور مسلمان دونوں تھے اس سے معلوم ہوا کہ دونوں گروہ کو اپنا مطیع بنانا ان کا مقصود تھا پھر انہوں نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا اور ہنود کے اوتاروں کو سچا بتا کر انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا اور پیغام صلح شائع کیا اس سے ظاہر ہوا کہ تینوں گروہوں کو اپنا مطیع بنانا ان کا مقصود تھا۔ اخبارات اور اشتہارات انگریزی میں اُردو میں
١؎ یہ خواہش اسی لیے تھی کہ اس کے مرنے کے بعد کسی تدبیر سے اس کی بیوی میرے نکاح میں آوے۔
٥
اپنے دعوے اور اپنی تعریف میں اس قدر شائع کئے کہ انتہا نہ رہی اس سے ان کا مقصود بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔ جب ان کی یہ مراد ٹھہری کہ تمام دنیا کے آدمی ان کے مطیع ہو جائیں اور قبولیت کے ساتھ ان کی شہرت ساری دنیا میں ہو تو اگر دو چار لاکھ ان کے مرید ہو گئے تو اس کہنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ اس مراد میں بھی وہ نامراد رہے۔ جس قدر ان کے مرید ہوئے اس کی مثال ایسی سمجھنا چاہئے کہ کسی کو لاکھ روپیہ کی خواہش ہو اور اسے دس بیس روپیہ مل جائے اب ظاہر ہے کہ اس قدر مل جانے سے وہ بامراد نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اہل بصیرت غور کریں کہ دعوے کے بعد مرزا قادیانی پچیس چھبیس برس تک زندہ رہے اور بہت ہی کوشش کے ساتھ اپنے دعوے کی صداقت ظاہر کرتے رہے مگر اتنی مدت میں کوئی غیر مذہب والا ان پر ایمان نہیں لایا اب انہیں مرے ہوئے کئی برس ہو گئے ان کے خلیفہ اور ان کے مریدین موجود ہیں اور انہیں یہی فکر رہتی ہے مگر اس وقت تک کوئی عیسائی یا ہندو ان کی جماعت میں داخل نہیں ہوا پھر کس بنیاد پر یہ دعویٰ ہو سکتا ہے کہ آئندہ داخل ہوں گے اور مراد پوری ہو گی جناب رسول اللہ نے جب دعویٰ کیا تو اسی وقت مشرکین اور یہود و نصاریٰ جماعت اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے تھے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کے عہد میں ہر گروہ کے لوگ ایمان لاتے گئے۔ یہاں تو اس وقت تک اس کا ظہور کچھ بھی نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کو اگر مانا تو بعض مسلمانوں نے مانا اس قیاس پر اگر آئندہ امید ہو سکتی ہے تو یہی کہ کچھ مسلمان اور انہیں مانیں کسی دوسرے گروہ کے ماننے کی امید نہیں ہو سکتی جیسے سید محمد جونپوری نے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا انہیں بعض مسلمانوں نے مانا اور اب تک ان کے ماننے والے موجود ہیں اس لئے عقل اور تجربہ کامل شہادت دیتا ہے کہ ان کے مراد کے پورا ہونے کی امید کسی طرح نہیں ہو سکتی۔
ایک نہایت نازک اور باریک وجہ نا امیدی کی یہ ہے کہ کلمۃ اللہ کا اعلاء اور دین حقہ کی ترقی انہیں سے ہو سکتی ہے جن کے قلب صلاح وتقویٰ کے نور سے ایسے منور ہوں کہ ان کے چہروں سے اس کی شعاعیں نظر آتی ہوں اور سیما ہم فی وجوہہم من اثر السجود کے مصداق ہوں ان کے اثر قلبی سے مخلوق کے دل ان کے طرف کھینچے جاتے ہوں جماعت مرزائیہ میں تو اس کا نشان نظر نہیں آتا جس کو دیکھو جھوٹ اور فریب اور نزاع اور جھگڑے میں مصروف ہے شاذ و نادر کا ذکر نہیں ہے جو محض ناواقفی اور ناتجربہ کاری سے اس میں شامل ہو گئے ہیں ایسی جماعت سے دین حقہ کی ترقی ہرگز نہیں ہو سکتی تھی جو کچھ آئندہ امید ہو سکتی ہے وہ اسی قدر کہ جس طرح رافضی خارجی مہدوی وغیرہ فرقے ہوئے اس میں کوئی مسلمان داخل ہوتا ہے کوئی خارج ہوتا ہے وہی یہاں بھی
٦
ہوگا بلکہ رافضی خارجی کی مثال ہونا بھی عقل سلیم قبول نہیں کرتی الحاصل ان کا نامراد ہونا ہر طرح ظاہر ہے اب اس کہنے میں کسی طرح تامل نہیں ہو سکتا کہ جماعت مرزائیہ جو مطلب آیت کا بیان کر رہی ہے اس کے مطابق مرزا قادیانی اس کے مصداق ٹھہرتے ہیں ان کے مخالفین کو نامراد کہنا محض بے عقلی ہے کیونکہ مخالف کی بڑی مراد یہی ہوتی ہے کہ ہمارا فریق مخالف نامراد رہے اور اس کا ظہور ہو گیا پھر ان کی کامیابی میں کیا شبہہ ہے اب اگر اس کی تفصیل کسی قدر کی جائے تو اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے مخالف عموماً عیسائی اور خصوصاً پادری اور آریہ اور عام مسلمان اور بالخصوص وہ اہل علم جو ان کے مقابل ہوئے ان میں عیسائی اور آریہ تو ظاہر طور سے فائز المرام ہو رہے ہیں ان کی ثروت کو ان کی دنیاوی عزت و جاہ کو ان کے مذہب کو ترقی ہو رہی ہے ہمارے سامنے کی بات ہے کہ دیانند سرستی کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اب اس کی جماعت جو آریہ کہلاتی ہے کس قدر اس کو فروغ ہے غضب یہ ہے کہ بعض مسلمان آریہ ہو گئے مسلمانوں کی حالت اس وقت نازک ہو رہی ہے وہ اپنے فرائض سے بالکل غافل ہورہے ہیں انہیں اس پر توجہ ہی نہیں کہ مرزا قادیانی کیا کر رہے ہیں پھر ان کی کوئی مراد ٹھہرانا نادانی ہے جس سے انہیں نامراد کہا جائے البتہ بہت مسلمانوں کو یہ کہتے سُنا کہ یہ لوگ محض بے حقیقت ہیں ان کی طرف توجہ کرنا ہی فضول ہے چند حضرات جو ان کی طرف متوجہ ہیں وہ سابق کی کامیابی کے عام کامیابی میں تو سب کے شریک ہی ہیں اس کے سوا ان کی یہی کامیابی ہے کہ ان کی تحریروں کا جواب نہ مرزا قادیانی نے دیا نہ ان کے کسی مرید نے اُن کے لئے بددعا کی گئی وہ بھی قبول نہ ہوئی۔
اے حضرات! میں نے اپنے فہم کے مطابق کامیابی کی حالت بیان کر دی اب آپ کی حالت اس سے زیادہ تحقیق بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگر اسے خوب سمجھ لیجئے کہ دنیا میں کامیابیاں بہت مفتریوں کو ہوئی ہیں اور اس وقت بھی ہو رہی ہے اس کو صداقت کی دلیل ٹھہرانا اور قرآن شریف سے اسے ثابت کرنا خدا کے کلام پر الزام لگانا ہے۔ قرآن شریف کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا جسے آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر الحمدللہ اب تو ظاہر ہو گیا کہ جو آیت آپ نے مفتری کی شناخت میں پیش کی تھی اسے مرزا قادیانی کی شناخت ہوگئی اور آپ کو روشن کر کے دکھا دیا اب سچائی کو ماننا آپ کا کام ہے۔
- (٢) قد خاب من افتریٰ (طہ۔٦١) جس نے خدا پر افتراء کیا وہ نامراد رہا۔
اس آیت کا مطلب تو وہی ہے جو پہلی آیت میں بیان ہو لیا ہے اس لئے یہ آیت بھی ہمارے مدعا کو ثابت کرتی ہے یعنی جب مرزا قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور نا
٧
مراد رہے تو آپ ہی کے خیال کے بموجب افتراء کا الزام ان پر صحیح ہوا۔ مگر اس آیت میں مجھے کچھ اور کہنا ہے جس سے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی دیانت اور واقفیت کا اظہار اہل نظر پر ہو۔ اس آیت سے مرزا قادیانی نے بھی استدلال کیا ہے اور مونگیر کی جماعت بھی کر رہی ہے مگر پوری آیت کسی نے نہیں لکھی ایک ٹکڑا لکھا جاتا ہے طالبین پوری آیت کو ملاحظہ کر کے اس کے مطلب میں غور کریں آیت یہ ہے۔
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ
بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى (طہ ٦١)
”حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے جس وقت فرعون نے جادوگروں اور اپنے درباریوں اور رعایا کا مجمع کیا اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے اور تمام حاضرین جلسہ سے فرمایا کہ تمہاری حالت پر افسوس ہے تم خدا پر افتراء نہ کرو (اگر ایسا کرو گے) تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کر دے گا اور یقین کر لو کہ جس نے خدا پر افتراء کیا وہ نامراد رہا۔“
بھائیو اب غور کرو کہ اس آیت میں فرعون سے خطاب ہے اور اسے مفتری کہا ہے اور ڈرایا ہے کہ مفتری نامراد اور ناکام رہتا ہے جس طرح پہلی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ مفتری فلاح نہیں پاتا یعنی فائز المرام نہیں ہوتا اسی طرح یہاں کہا گیا اب یہ بات قابل غور ہے کہ فرعون نے کچھ کم چار سو برس تک بادشاہت کی اور سلطنت کے ساتھ خدائی بھی کرتا رہا اور اس عیش سے زندگی بسر کی اس زمانہ دراز میں ایک روز اسے بخار تک نہیں آیا صاحب بدائع الزہور اس کے حال میں لکھتے ہیں۔
عاش فرعون اربعمائة سنة وهو منفرد بملك مصر لم يرى فى هذه المدة مكروها ولا حم فى جسده يوما لم يزل
مخولا فى النعمة۔ (بدائع الزہور فی احوال الدہور)
فرعون چار سو برس تک زندہ رہا اور اس قدر دراز مدت تک تمام ملک مصر پر تنہا بادشاہت کرتا رہا کوئی اس کا سہیم و شریک نہیں ہوا اور نہ اس مدت میں کوئی بات اس کے خلاف مرضی پیش آئی یہاں تک کہ ایک دن اسے بخار بھی نہیں آیا اور ہمیشہ ناز و نعم میں حکمران رہا۔
اس فرعون سے اور اس کے ماننے والوں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا پر افتراء نہ کرو۔ خدا پر افتراء کرنے والا کامیاب نہیں ہوتا نامراد رہتا ہے اب جس کو اللہ تعالیٰ
٨
نے چشم بصیرت عنایت کی ہے اور حقانیت کی اسے طلب ہے وہ غور کرے کہ وہ بادشاہ جس نے چار سو برس کی عمر پائی اور ایسے عیش و کامرانی سے بادشاہت کرتا رہا جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اسے اللہ تعالیٰ نامراد فرماتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نہایت تھوڑی سی عمر میں اگر قورما پلاؤ کھاتے رہے اور بالفرض دو چار لاکھ ان کے ماننے والے بھی ہو گئے تو وہ اتنے میں بامراد اور مدح پانے والے ہو گئے ایسے فہم پر نہایت افسوس ہے۔ اس پر بھی نظر رہے کہ فرعون نے بادشاہت کے ساتھ خدائی بھی کی اور اس دراز مدت تک اس کے سر میں درد تک نہ ہوا اور اگر غور کرو تو مرتے دم تک اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی یعنی کسی ایسے مرض میں نہیں مبتلا ہوا جس سے تکلیف پہنچے دریا میں ڈوب گیا تھوڑی دیر میں جان نکل گئی ہوگی۔ مرزا قادیانی ہمیشہ اپنی بیماری اور تفکرات کی شکایت ہی کرتے رہے اور اس پر اپنے آپ کو بامراد سمجھتے ہیں اور یہ سبز باغ دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔
بھائیو ہوشیار رہو اور علم و فہم سے کام لو ہمارے بیان سے ظاہر ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کامیابی کوئی چیز نہیں ہے دنیاوی زندگی میں اگر کوئی ہر طرح اپنے مراد کو پہنچ جائے تو وہ بامراد نہیں ہو سکتا بامراد وہی ہے جو اس عالم میں ایمان اور تقویٰ سے آراستہ ہو کر اپنی جاودانی زندگانی میں بامراد اور کامران رہے ارشاد خداوندی اُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ اس کا شاہد ہے اگر ذرا تامل کرو گے تو اس مثال سے بخوبی سمجھ سکتے ہو کہ اگر کسی کی سو یا دوسو برس کی عمر ہو اور اسے ایک ہفتہ کے لئے دنیا کی بادشاہت مل جائے اس کے بعد وہ تخت سے اتار دیا جائے تو تمام عمر اس پر جوتیاں پڑتی رہیں اور ہر قسم کی تکلیف میں وہ مبتلا رہے تو اس ایک ہفتہ کی بادشاہت سے اسے بامراد اور کامران کہیں گے۔ بھائیو غور سے جواب دو۔ بجز اس کے آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اسے بامراد ہرگز نہیں کہیں گے بس یہی حالت تمام دنیاوی زندگانی کی ہے اس جاودانی زندگانی کے سامنے بلکہ اس سے بھی نہایت کم۔ ایک ہفتہ کو تو سو برس سے کچھ نسبت ہو سکتی ہے مگر سو برس کے ابدالآباد یعنی دائمی زندگی سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔ اب مرزا قادیانی کی حالت کو سمجھ لو اور اس پر غور کرو کہ وہ اس مدت تک اس آیت کو اپنی صداقت میں پیش کرتے رہے مگر پوری آیت کو پیش نہ کیا تا کہ یہ حالت کھلتی جو اوپر بیان کی گئی اب ان کے مریدین بھی نہیں دیکھتے اور وہی ایک جملہ کو پیش کر رہے ہیں اس میں بعض اہل علم بھی ہیں وہ بھی نہیں دیکھتے افسوس ہے۔
لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ
(حاقہ ٤٤ تا ٤٦)
اللہ تعالیٰ اپنے رسول برحق کے نسبت فرماتا ہے کہ اگر یہ رسول ہم پر کچھ بھی افتراء کرتا تو ہم اسے مضبوط پکڑتے اور اس کے دل کی رگ کو کاٹ دیتے۔
٩
اس آیت کی تفسیر فیصلہ آسمانی کے دوسرے حصہ میں تفصیل سے کی گئی ہے اور مرزا قادیانی کی غلطیاں دکھائی گئیں ہیں اور نہایت قوی دلائل سے ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اس کا مطلب بیان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ یہاں مختصراً کچھ لکھا جاتا ہے مگر اس سے آگاہ کرنا ضرور ہے کہ مناظرہ مونگیر میں اس آیت کو مفتری کی علامت قرار دیا ہے اور اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ ”اگر کوئی ہمارے اوپر ایسی باتیں گھڑے جو ہم نے اسے نہیں بتائیں ہم اپنے زبردست ہاتھ کے ساتھ اسے روکتے اور اس کے رگ جان کو کاٹ دیتے ہیں۔“
یہ ترجمہ یہودیانہ تحریف ہے قرآن مقدس میں کوئی جملہ ایسا نہیں ہے جس کے معنی میں ایسا عموم ہو جیسا اس ترجمہ کے پہلے جملے میں ہے اگر یہ ترجمہ صحیح ہو تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ جو ہم پر افتراء کرتا ہے ہم اسے ہلاک کر دیتے ہیں یعنی مفتری کی یہ علامت ہے یہ مطلب کئی وجہ سے غلط ہے۔
پہلی وجہ بہت مفتری گزر چکے ہیں جنہوں نے مہدی ہونے کا نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور عرصہ دراز تک وہ کامیاب رہے یہاں تک کہ بادشاہ ہو گئے اور ان کی اولاد میں سینکڑوں برس تک بادشاہی رہی ہے مرزا قادیانی نے انجام آتھم میں لکھ دیا ہے کہ ہم کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی یہ ان کی سخت غلطی ہے ہم بہت نظیریں اس کی پیش کر سکتے ہیں۔ اس مختصر رسالے میں صرف تین نظیریں لکھی جاتی ہیں۔
- (١) محمد بن تومرت ۔ یہ بہت بڑا ذی علم اور صلاح و تقویٰ میں مشہور تھا مگر جب اس کی عمدہ
حالت سے عزت و جاہ اس کے کمال مرتبہ کو پہنچ گئی تو اس سے دعویٰ مہدویت کے علاوہ وہ باتیں ہوئیں کہ حیرت ہوتی ہے چوتھی صدی کے آخر میں اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور بعض پیش گوئیوں کے پورا ہو جانے سے لوگ اس کے اس قدر پیرو ہوئے کہ بادشاہ ہو گیا اور مرتے وقت
١؎ اس کا اندازہ کہ اس کے مریدین کس قدر تھے بخوبی معلوم نہیں ہو سکتا مگر اس حالت سے کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کے مریدین کی جب کثرت ہوئی تو اس کو ایسا معلوم ہوا کہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ ان کا عقیدہ پختہ نہیں ہوا اس لئے اس نے ایسی تدبیر کی کہ جس قدر ضعیف الاعتقاد تھے وہ سب قتل کر دیئے گئے ان کی تعداد ستر ہزار تھی بعض روایت میں بارہ ہزار ہے۔ ہر ایک جدید مدعی کے عقیدت مند پہلے بہت زیادہ اخلاص رکھنے والے ہوتے ہیں جب کثرت زیادہ ہوتی ہے تو ہر قسم کے لوگ مل جاتے ہیں ابن تومرت کے معتقدین کی ایسی کثیر تعداد جس میں ستر ہزار غیر مخلص نکلے دس برس کے اندر ہو گئے تھے۔ مرزا قادیانی کو یہ نصیب نہیں ہوا اس لئے اکثر وہ آیتیں جو مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش ہو رہی ہیں اس سے ابن تومرت کی صداقت بھی جماعت مرزائیہ کو ماننا ہو گی۔ کیونکہ جو تقریر مرزا قادیانی کی صداقت میں مقرر کی جاتی ہے وہی یہاں بھی ہو گی
١٠
اپنے خاص مرید عبدالمومن کو اپنا جانشین کر گیا اس نے ٣٣ برس تک بہت زور سے سلطنت کی اور اپنے مرشد کے مذہب کو چمکایا اور اپنی اولاد کو سلطنت چھوڑ گیا۔
- (٢) عبید اللہ علوی ۔ صاحب افریقہ اس نے ٢٩٨ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا اور افریقہ
میں پہنچ کر بادشاہ ہو گیا اور چوبیس برس سے زائد اس نے مہدویت اور سلطنت کی اور اپنی اولاد کے لئے سلطنت چھوڑ گیا۔
- (٣) صالح بن طریف ۔ اس نے دوسری صدی ١٢٧ھ میں نبوت اور مہدویت کا دعویٰ
کیا اور ٤٧ برس تک نبوت اور سلطنت بڑے زور سے کی سنا گیا کہ مرزائی کہتے ہیں کہ دعویٰ نبوت کیا مگر الہام کا دعویٰ نہیں کیا ان کی بے علمی اور تعصب پر افسوس ہے اتنا بھی نہیں جانتے کہ نبوت کا دعویٰ بغیر الہام کے ہو نہیں سکتا اور صالح تو بڑے زور سے وحی کا دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے تو یہ دعویٰ کیا ہے کہ وحی کے ذریعہ سے مجھ پر قرآن نازل ہوتا ہے اور اس کی امت اسی قرآن کی سورت میں نماز پڑھتے تھے یہ مدعی ٤٧ برس کے بعد بھی مرا نہیں بلکہ اپنے جانشین کو اپنے مذہب کی اشاعت کی وصیت کر کے کسی طرف چلا گیا ٢٤٤ھ میں اس کا پوتا تخت نشین ہوا اس نے اپنے دادا کی وصیت پر پورا عمل کیا اور اس کے مذہب کو بہت کچھ فروغ دیا اور منکروں کو تہہ تیغ کیا چوالیس برس اس کی حکومت رہی ۔ پھر اس کا بیٹا یعنی صالح کا پوتا تخت نشین ہوا اور ٢٩ برس سلطنت کی اور اپنے دادا صالح کے مذہب کی اشاعت کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابوالانصار ٢٩٧ھ میں بادشاہ ہوا اس نے بڑے شوکت و عظمت سے چوالیس برس حکومت کی اس وقت کے خلفائے اسلامیہ اس سے ڈرتے تھے الحاصل ١٢٧ھ سے لے کر ٣٤٠ھ تک صالح کی نبوت کا زور وشور رہا اور اس کے پیرووں کی ترقی ہوتی رہی پھر ابوالانصار کا بیٹا ابو منصور عیسیٰ ٢٢ برس کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور ستائیس برس تک بادشاہت اور نبوت کرتا رہا اور ٣٦٨ میں اس کا خاتمہ ہوا غرضکہ دوسری صدی سے چوتھی صدی تک اس ایک خاندان میں تین شخصوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور قریب تین سو برس کے ان کی نبوت اور سلطنت رہی اس کے بعد ان کے ماننے والے کب تک رہے اس کا پتہ میری نظر سے نہیں گزرا ابن خلدون میں ان کے دعویٰ نبوت اور سلطنت کا ذکر ہے یہ ذکر نہیں ہے کہ ان کے ماننے والے کب تک رہے یا اب تک ہیں یا نہیں ہیں۔ مرزا قادیانی کو اس کی خبر نہیں مگر یہ دعویٰ زور سے کرتے ہیں کہ مفتری جلد ہلاک ہوتا ہے کہیں یہ کہہ دیا کہ ہم کامل تحقیق سے کہتے ہیں کہ ایسا دعویٰ کبھی چل نہیں سکا یعنی جھوٹے الہام اور
١١
وحی کا دعویٰ کبھی نہیں چلا ہمارے بیان سے اس کی غلطی اظہر من الشمس ہو گئی مگر حضرات مرزائی بھی کچھ نہیں دیکھتے اندھے بن کر مرزا قادیانی کو بھی مان لیا ہے افسوس ان کے حال پر ذرا اسی پر غور کریں کہ فرعون کو خدائے تعالیٰ نے مفتری قرار دیا ہے اور پھر چار سو برس تک وہ زندہ رہا اور کیسے عیش و کامرانی میں رہا۔ یہ نظیریں کس صراحت کے ساتھ اس مطلب کو غلط بتاتی ہیں جو مرزا قادیانی اور ان کے پیرو بیان کر رہے ہیں اس قسم کی نظیریں ڈاکٹر عبدالحکیم خان وغیرہ پیش کر چکے ہیں مگر پھر بھی وہی آیت مرزا قادیانی کی صداقت میں پیش ہو رہی ہے یہ عجب حقانیت ہے اس کا مطلب سوا حق پوشی اور زبردستی کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
دوسری وجہ حضرت مسیح سے پیشتر بہت سے انبیاء قتل کر دیئے گئے آیت فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ (بقرہ ٨٧) وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ الْحَقِّ (آل عمران ١١٢)۔ اس کی شاہد ہے حضرت یحییٰ ١؎ کم سنی میں شہید کر دیئے گئے پانچ چھ برس بھی پورے طور سے تبلیغ رسالت نہیں کر سکے تاریخ اور انجیل دیکھی جائے۔ اگر ہلاک کر دیا جانا مفتری کی علامت ہے تو یہ سچے انبیاء جن کی نبوت کی تصدیق قرآن مجید کرتا ہے وہ کیوں ہلاک کئے گئے۔ غرضکہ بہت جھوٹے اور مفتری نہایت کامران رہے اور بعض سچے قتل کر دیئے گئے۔ صرف مسیلمہ اور اسود عنسی کے مارے جانے سے مارا جانا جھوٹوں کی علامت نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح دنیا میں عزت و جاہ سے رہنا صداقت کی دلیل نہیں ہے۔
تیسری وجہ آیت میں ارشاد ہے کہ اگر یہ رسول بعض باتیں بھی ہم پر افتراء کرتا لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيل (حاقہ ٤٤) تو اسے ہم ہلاک کر دیتے یعنی یہ ضرور نہیں کہ ہماری طرف سے جو پیش گوئی کرے اور جو الہام بیان کرے وہ سب جھوٹے ہوں بلکہ ایک دو بھی اگر جھوٹے ہوں تو بھی مفتری ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی بعض پیش گوئیاں اور بعض الہامات
١؎ حضرت یحییٰ ؑ کا مشہور نام یوحنا تھا ابن خلدون نے اس کی تصریح کی ہے اور مطبوعہ انجیل کے نسخوں میں اکثر یوحنا ہے اور بعض میں یحییٰ ؑ ہے اس وقت میرے سامنے ایک نسخہ کامل اردو ترجمہ بائبل کا ہے جو ١٨٧٠ء میں مرزا پور میں چھپا ہے اس میں یوحنا کا نام ہے فارسی ترجمہ جوبلی پریس کلکتہ میں چھپا ہے اوروں میں یحییٰ ہے اور یحییٰ نبی ہونا اور حضرت مسیح ؑ کا ان کے ہاتھ سے بپتسمہ پانا انجیل متی باب ٣ انجیل مرقس باب ١ آیت ١۔٩ تک وغیرہ مقامات سے ظاہر ہے مرزاپور کی انجیل پر حاشیہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ حضرت یحییٰ ؑ نے ٢٦ برس کی عمر میں تبلیغ رسالت شروع کی اور ٣٠ برس کے تھے کہ قید کئے گئے اور ٣٢ برس کی عمر تھی کہ شہید کئے گئے۔
١٢
یقینی غلط ہوئے مثلاً منکوحہ آسمانی کے نکاح میں آنے کی پیش گوئی کس زور سے کی گئی اور قسم کھا کھا کر اس کا الہام بیان کیا گیا اور بار بار اس طرف توجہ کی گئی اور برسوں اس پر وثوق اعتماد رہا مگر بالآخر یہ پیش گوئی اور اس کے متعلق الہامات سب جھوٹے نکلے۔ (٢) اسی طرح اس کے شوہر کی نسبت بھی پیش گوئی کی کہ اڑھائی برس میں مر جائے گا مگر وہ نہ مرا پھر کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے روبرو ضرور مرے گا اگر میرے سامنے نہ مرے اور میں پہلے مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں ۔ یہ پیش گوئی تو ایسی جھوٹی ہوئی کہ اہل حق کے لئے کامل فیصلہ ہو گیا۔ ایک فیصلہ نہایت زور کا ہے جو مرزا قادیانی نے اخبار البدر مرقومہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء میں طبع کرایا ہے وہ یہ ہے ”طالب حق کے لئے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت (ﷺ) کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتے اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔“ اب اگر بالفرض سو پیش گوئیاں اور ہزار الہام مرزا قادیانی کے سچے ثابت ہوں تو بھی مرزا قادیانی کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ سچائی کی جو علامت انہوں نے خود بیان کی تھی وہ نہیں پائی گئی اور اس آیت سے بھی ان کا مفتری ہونا ثابت ہو گیا یعنی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ آیت عام مفتریوں کے لئے معیار ہے اور آیت کے پہلے جملہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو بات بھی خدا کی طرف سے ایسی بیان کی جس کا جھوٹا ہونا ظاہر ہو گیا۔ وہ مفتری ہے کیونکہ ولو تقول علینا بعض الا قاویل کا یہی مطلب ہے الغرض آیت میں جو شرط بیان کی گئی تھی وہ یہاں پائی گئی ہے مرزا قادیانی کا مفتری ہونا اب اس کی جزا کا ظہور ہوا یا نہیں اسے حضرات مرزائی بیان کریں اگر ہوا تو کس طرح ہوا اور اگر نہیں ہوا تو آیت کا یہ مطلب غلط ہوا جو وہ بیان کرتے ہیں۔
بہر حال آیت کا مطلب جو ہو مگر مرزا قادیانی کا تَقَوُّل (مفتری ہونا) ثابت ہو گیا۔
١٣
بیان مذکور سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے کئی وعدے کئے مگر وہ پورے نہیں کئے گئے (١) پہلا یہ کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی محمدی ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد تیرے نکاح میں آئے گی اور آسمان پر اس کا نکاح بھی پڑھا دیا گیا تھا مگر اس نکاح کا ظہور نہ ہوا (٢) دوسرا یہ کہ اس کا شوہر ضرور مرے گا اور تیری سچائی دنیا پر ظاہر ہو گی مگر وہ نہ مرا اور مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے (٣) تیسرا وعدہ یہ تھا کہ تثلیث پرستی کا ستون مرزا قادیانی کے ہاتھ سے ٹوٹے گا مگر وہ اس عالم سے تشریف لے گئے اور اس ستون کی ایک اینٹ بھی نہ گرا سکے۔ جب اس قدر وعدے پورے نہ ہوئے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کے رسول نہیں تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَہٗ (ابراھیم ٤٧) ایسا گمان نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ جب یہاں متعدد وعدہ خلافیاں ظاہر ہو گئیں تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کے فرستادہ نہیں تھے۔ یہاں تک چار آیتوں سے مرزا قادیانی کا کذب ثابت ہوا اور قدرت خدا یہ ہے کہ جن آیتوں سے وہ حقانیت ثابت کرتے تھے انہیں سے ان کا مفتری ہونا ثابت ہو گیا۔ اب ہمیں ضرورت نہیں کہ ان کی اور دلیلوں کی طرف توجہ کریں کیونکہ اس قدر بیان سے ظاہر ہو گیا کہ اب جس قدر دلیلیں وہ پیش کریں وہ محض غلط فہمی ہے قرآن مجید کے سچے مطالب کی روشنی ان کے دماغ تک نہیں پہنچی حقائق قرآنیہ کے انوار نے ان کے دلوں کو منور نہیں کیا ورنہ وہ ایسی دلیلیں پیش نہ کرتے مگر مسلمانوں کی خیر خواہی کسی قدر اور توضیح پر آمادہ کرتی ہے اس لئے کچھ اور لکھا جاتا ہے۔
(٤) فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس ١٦)
اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے سمجھانے کے لئے اپنے رسول سے فرمایا ”کہ ان سے کہو کہ میں نے تم میں اپنی عمر گزاری ہے تم میری حالت سے واقف ہو ۔“ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا اور اس وقت بھی کوئی الزام تم نہیں لگا سکتے۔ پھر مجھے دعویٰ نبوت میں کیوں کر جھوٹا کہتے ہو؟ جس کی نیک چلنی تمام عمر تم تجربہ کر چکے جس کو تم نے کبھی جھوٹا نہیں پایا پھر اس کے نبوت کے دعویٰ میں تم کیسے جھوٹا خیال کرتے ہو ذرا اس میں غور کرو آیت کا یہ مطلب حضرات مرزائیوں کے سمجھ کے موافق ہے اب اس تقریر سے مرزا قادیانی کی نبوت یہ حضرات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو دعوے سے پہلے کوئی انہیں برا نہیں کہتا تھا۔ کوئی انہیں جھوٹا نہیں سمجھتا تھا پھر اب کس لئے اس دعوے میں جھوٹا کہا جاتا ہے اس آیت کا اصل مطلب جو اوپر کی آیت ملانے سے ظاہر ہوتا ہے وہ دوسرا ہے مگر اس وقت ہمیں جماعت مرزائیہ کو سمجھانا مقصود ہے اس لئے ان کے خیال میں جو ہے اسی مطلب کو تسلیم کر کے کہا جاتا ہے۔ دعویٰ نبوت سے پہلے ان کی کیا
١٤
حالت تھی اس سے میں بحث نہیں کرتا اس سے واقفیت مجھے بہت کم ہے اور واقعات کے ثبوت کے جھگڑے میں پڑنا فضول ہے مگر دعوے کے بعد کی حالت جو انہی کی تحریر سے ظاہر ہو رہی ہے اس سے مرزا قادیانی کی صداقت اور بناوٹ کا حال پورے طور سے معلوم ہو سکتا ہے راست بازی اور صاف گوئی انسان کی اندرونی حالت کا آئینہ ہے جس طرح آئینہ میں چہرہ کی حالت معلوم ہو جاتی ہے اسی طرح دل کی حالت انسان کے راست اور ناراست کلام سے معلوم ہوتی ہے۔ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان سے اور گناہ ہو سکتے ہیں اور ہو جاتے ہیں مگر مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ مرزا قادیانی نے بھی تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦ میں لکھا ہے کہ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں ۔‘‘ غرضکہ راستی اور ناراستی انسان کی حالت معلوم کرنے کا معیار ہے اب میں نہایت افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اس سچے معیار سے راست باز نہیں ٹھہرتے اور ان کے کلام ہی کے دیکھنے سے ان کی عملی حالت معلوم ہو جاتی ہے اب میں ان کے چند قول آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں دل کو صاف کر کے اس میں غور کیجئے۔
پہلا قول کیا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بے باک مفتری کو جلد نہ پکڑے
(انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٥٠)
دوسرا قول قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے خدائے قادر و غیور اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اس کی غیرت اس کو جلد ہلاک کرتی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩)
تیسرا قول ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔
(انجام آتھم ص ٦٣ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٦٣)
ان تین قولوں میں سات جملے ہیں اور ساتوں غلط ہیں۔ خدا پر افتراء کرنے والے بعض جلد مارے گئے بعض نہایت غریب تھے مگر افتراء کرنے کے بعد بادشاہ ہو گئے اور عرصہ تک امن و عافیت سے رہے اور بادشاہت کے ساتھ اپنے افتراء کی اشاعت کرتے رہے یہی حال سچے انبیا کا ہوا ہے کہ بعض کو دشمنوں نے جلد شہید کر دیا بعض زیادہ عرصے تک رشد و ہدایت کا شیوع کرتے رہے حضرت یحییٰؑ نبوت کے بعد پانچ چھ برس زندہ رہے پھر شہید کر دیئے گئے اور انبیا بھی شہید کئے گئے جس کی شہادت قرآن شریف میں بہت جگہ ہے۔ عبید اللہ صاحب افریقہ اور محمد بن تومرت
١٥
نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا صالح بن طریف نے نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا اور تینوں بادشاہ ہوئے اور عرصہ تک بادشاہ رہے اور بادشاہت اپنی اولاد اور خلفا کے لئے چھوڑ گئے اب یہ کہنا کہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ ایسا مفتری جلد ہلاک ہو جاتا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسی غلط باتیں بھی ہیں جن کی غلطی واقعات سے ظاہر ہوتی ہے (نعوذ باللہ) حالانکہ قرآن مجید کے ایک مقام سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ایسا مفتری جلد ہلاک ہوتا ہے۔ اب جس کو دعویٰ ہو وہ ایک ہی آیت اس دعوے کے ثبوت میں پیش کرے اگر چہ مرزا قادیانی کے قول کی صداقت اس وقت ثابت ہوگی کہ اس دعوے کے ثبوت میں کم سے کم گیارہ ١؎ آیتیں پیش کریں۔ مگر ہم نہایت زور سے کہتے ہیں کہ کوئی نہیں پیش کر سکتا قرآن مجید خدا کا سچا کلام ہے اس میں صریح خلاف واقع بات کا ہونا غیر ممکن ہے۔
جماعت مرزائیہ اس پر غور کرے کہ مرزا قادیانی جس دعویٰ کو اپنی کامل تحقیقات کا نتیجہ لکھ رہے ہیں وہ کیسا غلط ہے جن نظیروں کا ذکر میں نے کیا ہے اور جن کے نام میں نے لکھے ہیں ان کا ذکر کسی غیر مشہور کتاب میں نہیں ہے بلکہ کامل ابن اثیر اور تاریخ ابن خلدون میں ہے اور یہ دونوں تاریخیں عرصہ سے چھپ کر مشتہر ہیں یہ بالکل بعید ہے کہ حکیم نورالدین قادیانی کے کتب خانہ میں نہ ہوں پھر کیا اس میں انہوں نے یا خلیفہ قادیان نے نہیں دیکھا اور اگر نہیں دیکھا اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم کامل تحقیقات سے کہتے ہیں۔ یہ صریح جھوٹ نہیں تو کیا ہے؟ اور اگر دیکھ کر پھر اس کے برعکس یہ دعویٰ ہے تو جھوٹ کے سوا کیسی شرمناک بیباکی ہے۔ بھائیو مرزا قادیانی کی زندگی کی یہ حالت ہے کہ ایک کتاب کے ہی دعوے کے بیان میں سات جھوٹ لکھے ہیں اور یہ ان کی کامل تحقیق ہے اور یہ ان کی قرآن دانی ہے کہ جس کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے۔ اسے نصوص صریحہ سے ثابت بتا رہے ہیں اور کس کس طرح اپنی تحریر کی رنگ آمیزیوں سے دکھا رہے ہیں ایسی بیباکیاں ان کی تحریروں میں بہت ہیں زیادہ لکھنا بے ضرورت تحریر کو طول دینا ہے راست
١؎ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے نصوص جمع کثرت ہے اس لئے عربی کے قاعدے کے بموجب اس جملے کے یہ معنی ہوئے کہ کم سے کم قرآن مجید کے گیارہ جگہوں یا گیارہ آیتوں سے یہ دعویٰ ثابت ہے مگر یہ یقینی امر ہے کہ قرآن مجید میں یہ مضمون نہیں ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے اس دعوے سے کم سے کم گیارہ افتراء خدائے تعالیٰ پر ثابت ہوئے اگر چہ مضمون ایک ہے مگر مرزا قادیانی اسے گیارہ جگہ بتاتے ہیں اس لئے گیارہ افتراء ہوئے
١٦
باز کے لئے اس قدر کافی ہے یہ تو مرزا قادیانی کی عام تحریر کا نمونہ تھا اب خاص ان کے نشانات یعنی بعض پیش گوئیوں پر نظر کیجئے جنہیں وہ اپنی صداقت کا معیار بتاتے ہیں اس سے اور زیادہ ان کی زندگی کی حالت معلوم ہوگی۔ مثلاً ان کی پیش گوئی منکوحہ آسمانی کے متعلق ہے جس کو انہوں نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا ہے صرف اس کے الہامات دیکھے جائیں تو ان کی صداقت کا اندازہ بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ ایک ہی معاملہ میں کتنے الہامات ان کے جھوٹے ثابت ہوئے اس میں دو قسم کے الہام ہیں ایک اس کے نکاح کے پہلے دوسرے اس کے بعد.......
پہلے قسم کے الہام (١) خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ (احمد بیگ) اس شخص کی دختر کلاں کے سلسلہ جنبانی کر۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧)
جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ایسا تھا تو ضرور ہے کہ اس کی مشیت اس کے اظہار کی ہوگی مگر اس کا ظہور نہ ہوا۔ اس سے بالیقین معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہرگز نہ تھا (٢) یہ نکاح رحمت کا نشان ہوگا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا (٣) اور درمیانی زمانے میں بھی اس دختر کے لیے کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے (ایضاً) (٤) اس کا شوہر اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اس کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔‘‘ یہ سات باتیں جو اس الہام میں تھیں ان کا جھوٹا ہونا دنیا نے دیکھ لیا۔ اس لڑکی پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جسے مرزا قادیانی نے الہام میں بیان کی تھی نہ اس کا شوہر مرا وہ تو اب تک زندہ ہے مرزا قادیانی کو مرے کئی برس ہو گئے نہ اس کے گھر میں تفرقہ آیا نہ مصیبت غیر معمولی آئی اور نانی اور دادی کا مر جانا تو ہوا ہی کرتا ہے مرزا قادیانی کا نوجوان بیٹا جس کی شادی کو کئی روز ہوئے تھے یکبارگی مر گیا یہ مصیبت نانی دادی کے مرنے سے بہت زیادہ ہے۔ الغرض جس طرح پہلی بات جھوٹی تھی اسی طرح یہ سات باتیں اس الہام میں جھوٹی ثابت ہوئیں۔
دوسرا الہام۔ ان دنوں بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ اس لڑکی کو ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔‘‘ پھر اسی اشتہار میں ہے۔ خدائے تعالیٰ اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔‘‘ (ایضاً) اس الہام سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے ضرور ہوگا کیونکہ لا تبدیل لکلمات اللہ (ایضاً) کے مصداق ہے اس میں کوئی قید اور شرط نہیں ہو سکتی
١٧
اس کا ظہور ہر طرح ہوتا ہے۔ مگر ظہور نہ ہوا اور کیسا اعلانیہ افتراء خدا پر ثابت ہوا۔ تیسرا الہام۔ خدائے تعالیٰ کی طرف سے قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے یا خدائے تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لاوے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩)
یہ دونوں الہام مرزا قادیانی کی نسخ و فسخ کی توجیہہ کو محض غلط اور نہایت بناوٹ ثابت کر رہے ہیں۔ (مرزا قادیانی نے اس لڑکی کے باپ کو خط لکھا ہے اس میں لکھتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہوگا۔‘‘
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٢)
یہاں اس الہام کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے خدا کی قسم کھائی مگر افسوس کہ وہ قسم بھی جھوٹی نکلی انصاف پسند حضرات خیال رکھیں گے کہ ان تین الہاموں میں نو افتراء خدا پر ہوئے اور ایک جھوٹی قسم ان کے پہلے سات نادرست باتوں سے ملا کر شمار کریں تا کہ ان کی زندگی کی حالت اچھی طرح معلوم کر سکیں۔ مذکورہ الہامات کا جھوٹا ہونا اس وقت ان کے مرجانے سے نہایت ظاہر ہو گیا۔ جس میں کسی طرح چوں و چرا کی گنجائش نہیں رہی مگر ان کی زندگی ہی میں ان کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے انہیں الہام نہیں ہوا محض مطلب نکالنے کے لئے انہوں نے ایک طریقہ اختیار کیا تھا ان میں سے بعض باتیں نقل کی جاتی ہیں۔
پہلی بات مرزا احمد بیگ کو لکھتے ہیں۔ ’’اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں۔‘‘ (ایضاً) یہ وہی احمد بیگ ہیں جنہیں تتمہ اشتہار دہم جولائی میں بے دین اور بدعتی لوگوں میں قرار دے چکے ہیں اب خط میں کوئی مرتبہ تعظیم کا اٹھا نہیں رکھا جسے ایسا قطعی الہام ہوا ہو جیسا مرزا قادیانی بیان کر چکے ہیں وہ کسی بے دین بدعتی کو ایسے خوشامدانہ الفاظ نہیں لکھ سکتا۔
دوسری بات اسی خط میں ہے ’’آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ پیش گوئی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔‘‘ (ایضاً) اگر اس کا ظہور نہ ہوا تو بڑی رسوائی ہوگی۔
تیسری بات ہزاروں پادری شرارت سے نہیں حماقت سے منتظر ہیں کہ جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔‘‘ (ایضاً) بھائیو مرزا قادیانی کے اس مکرر الہامات کو دیکھو جس میں نکاح کی یقین کا کوئی مرتبہ اٹھا نہیں رکھا گیا ہے مگر خانگی خط میں پادریوں کے پلہ بھاری ہونے کا خوف ظاہر ہو رہا ہے۔ کیا جسے ایسا یقینی الہام ہوا اسے ایسا خوف ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔
١٨
چوتھی بات علی شیر بیگ اپنے سمدھی کو لکھتے ہیں ”احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچا لے گا۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٥)
حضرات اس قول میں تین جملے ہیں جن پر خط کھینچا گیا ہے انہیں ملاحظہ کیجئے اور فرمائیے کہ جسے اللہ کی طرف سے ایسے تسلی بخش الہامات ہوں جیسے اوپر مذکور ہوئے وہ ایسا پریشان ہو سکتا ہے جیسی پریشانی ان جملوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور آخر کے جملے سے تو فیصلہ ہی ہو گیا یعنی مرزا قادیانی نہایت تاکید سے فرماتے ہیں کہ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچا لے گا اب تو ظاہر ہو گیا کہ اس قادر مطلق نے نہیں بچایا اس لئے نہایت صفائی سے فیصلہ ہو گیا کہ مرزا قادیانی کو اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ تھا ورنہ وہ ذات مقدس انہیں اس ذلت اور روسیاہی سے ضرور بچالیتی۔ اسی خط میں یہ قول بھی ہے۔
پانچویں بات اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٦)
یہ اضطراب ملاحظہ کے لائق ہے جن کو الہام کے ذریعہ سے یقین دلایا گیا ہو اس کے قلم سے ایسے الفاظ نکل سکتے ہیں۔ اہل انصاف اس کا جواب دیں۔ اس کے بعد اپنے سمدھی کو لکھتے ہیں۔
چھٹی بات اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے۔ اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں“ (ایضاً)
ساتویں بات اب آپ کو لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں (ایضاً)۔“ یہ جملہ کیسے اضطراب اور بے بسی کو ظاہر کر رہا ہے۔
آٹھویں بات اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ اپنے بھائی کو لڑائی کر کے روک دیں۔“ (ایضاً)
اب برادران اسلام خصوصاً جماعت مرزائیہ ان خانگی خطوں کے مضامین کو دیکھیں اور ان الہامات مشتہرہ سے مقابلہ کریں پھر کیا انہیں اس میں شک رہ سکتا ہے۔ کہ یہ اقوال آفتاب کی طرح روشن کر رہے ہیں کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے باب میں انہیں الہام خداوندی ہرگز نہیں ہوا ورنہ اس اضطراب و پریشانی کے خط ہرگز نہ لکھتے جس کو ایسے اطمینان کے الہامات ہوئے ہوں جیسے اوپر مذکور ہوئے اس کے قلب میں ان باتوں کا خطرہ بھی نہیں آ سکتا جو مرزا قادیانی کے قلم سے نکلے ہیں۔
١٩
یہ الہامات اور یہ اقوال اس کے نکاح کے پہلے کے ہیں نکاح کے بعد الہامات مذکورہ الہامات سے بھی زیادہ مؤکد ہیں۔
انجام آتھم میں عربی الہام ہے اور اس کا ترجمہ اُردو میں ہے اس کا حاصل یہ ہے چوتھا الہام (١) خدا اس عورت کو میری طرف واپس لائے گا (٢) بلاشک ہم اس کے کرنے والے ہیں (٣) ہم نے نکاح کر دیا (٤) یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اس میں تو شک نہ کر (٥) خدا کی باتیں بدلہ نہیں کرتیں (٦) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص٦٠۔٦١ خزائن ج١١ ص ایضاً)
اس الہام پر خوب نظر رہے۔ مرزا قادیانی کس زور سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس عورت کا نکاح میں آنا خدا کا سچا وعدہ ہے اس کے پورا ہونے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہو سکتا نہ اس میں کوئی شرط ہے نہ اس میں تغیر وتبدل ہوسکتا ہے مگر با ایں ہمہ اس کا ظہور نہ ہوا اور یہ الہامات غلط ثابت ہوئے۔
چھ جملے اس الہام میں ہیں اور ہر ایک جملہ علیحدہ علیحدہ معنی رکھتا ہے وہ سب جھوٹے ہوئے۔
مذکورہ الہام یہ بھی تھا کہ ”اگر یہ لڑکی دوسرے سے بیاہی گئی وہ روز نکاح شوہر اڑھائی برس کے اندر مر جائے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٥٨)
مگر وہ نہ مرا اور جب اس کے جھوٹے ہونے کو ظاہر کیا گیا تو کہا کہ اسے مہلت دی گئی ہے مگر میرے سامنے اس کا مرنا ضرور ہے یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اگر وہ میرے سامنے نہ مرے اور میں اس کے سامنے مر جاؤں تو میں جھوٹا ہوں۔ اس دعوے کو مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں میں جا بجا مختلف طور سے نہایت زور سے بیان کیا ہے مگر با وجود نہایت ہی کامل وثوق کے یہ الہام بھی غلط نکلا اور معلوم ہوا کہ پہلے جو اڑھائی برس کا الہام تھا وہ بھی افتراء تھا اور اسی کے بعد جو وعدہ خداوندی بیان کیا وہ بھی افتراء تھا اس افتراء کے ثبوت نے تو مرزا قادیانی کا خاتمہ ہی کر دیا اس کے بیان میں تو کوئی چھوٹی تاویل بھی خلیفہ قادیان یا کوئی دوسرا نہیں کر سکا مگر افسوس ہے کہ اس پر بھی حضرات مرزائی متنبہ نہیں ہوتے اور جھوٹے کی پیروی نہیں چھوڑتے اس پر بھی غور نہیں کرتے کہ مرزا قادیانی اس کے مر جانے کو خدا کا سچا وعدہ کہتے ہیں پھر پورا کیوں نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نہایت تاکید سے فرماتا ہے ”ان وعد اللہ حق‘‘ یعنی اے مسلمانو خبر دار رہو اور آگاہ ہو جاؤ کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور متعدد آیتوں میں قطعی طور پر مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اب اگر خدا کا وعدہ ہوتا تو احمد بیگ کا داماد مرزا قادیانی کے سامنے ضرور مرتا اور جب وہ نہ مرا تو معلوم ہوا کہ خدا کا وعدہ ہرگز نہیں تھا مرزا قادیانی نے خدائے تعالیٰ پر افتراء کیا تھا۔ الحاصل یہ
٢٠
چند افتراء جب ایک معاملہ میں خدائے تعالیٰ پر تھے تو اگر تمام معاملات پر نظر کی جائے تو ایسے افتروں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی۔ پھر افسوس یہ ہے کہ اسی پر مرزا قادیانی نے بس نہیں کی بلکہ جناب سید المرسلین علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی خاص اسی معاملہ میں کئی افتراء کئے ہیں چنانچہ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ ”اس پیش گوئی کیلئے جناب رسول اللہ (ﷺ) نے پہلے ہی سے ایک پیش گوئی فرمائی تھی کہ یتزوج ویولد یعنی منکوحہ آسمانی نکاح میں آئے گی اور خاص طور کی اولاد ہوگی“ جس کی پیش گوئی مرزا قادیانی نے علیحدہ کی تھی یہاں دو پیش گوئیاں مرزا قادیانی جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں ایک یہ کہ منکوحہ آسمانی کے نکاح کا ظہور ہوگا۔ دوسرے یہ کہ اس کے خاص طور کی اولاد ہوگی مگر اس کا ظہور نہ ہوا اور ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے تعلیٰ کے جوش میں جناب رسول اللہ ﷺ پر دو افتراء کئے اور حدیث صحیح من کذب علی متعمد الخ کے مصداق ٹھہرے۔ تیسرا افتراء اسی معاملہ میں مرزا قادیانی نے اس وقت کیا ہے جب ان کے مخالفین نے اس عورت کے شوہر کے زندہ رہنے پر انہیں الزام دیا ہے تو مرزا قادیانی نے غصہ ہو کر جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر اس کا شوہر نہ مرا اور میری پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو ایسا ہی ہوا جیسا رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں پیشگوئی کی تھی مگر وہ وقت انداز کردہ پر پوری نہ ہوئی“ حالانکہ حدیبیہ میں کوئی پیش گوئی جناب رسول اللہ ﷺ نے نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ تمام کتب سیر اور احادیث موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھے اور ہمارے قول کی تصدیق کرے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی زندگانی کی حالت دکھانا ہے اس لئے کچھ اور بھی لکھتا ہوں جس طرح یہاں جناب سید المرسلین کی طرف اپنی جھوٹی باتیں منسوب کر دیں ایسے ہی اور انبیا کی طرف بھی منسوب کی ہیں اور جھوٹی باتوں کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے بار بار پیش کیا ہے۔ مثلاً حضرت یونسؑ کی طرف قطعی طور پر یہ پیش گوئی منسوب کی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ چالیس روز میں تم پر عذاب آئے گا مگر انہیں کوئی شرط نہ تھی ان کے گریہ وزاری کی وجہ سے نہیں آیا۔ اس قصہ کو مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں میں بار بار اس کثرت سے بیان کیا ہے کہ آدمی دیکھ کر مرزا قادیانی کی حالت پر حیرت کرنے لگتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم کے ص ٥٣ و ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧۔ ٣٣٨) میں چار مرتبہ اس کا ذکر کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نزول عذاب کا پختہ وعدہ اپنے نبی سے کیا مگر اسے پورا نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا مؤکد اور مکرر ارشاد اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔ اور لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ جو قرآن مجید میں موجود ہے یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی ہرگز نہیں کرتا محض غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافیاں کیا کرتا ہے (نعوذ باللہ) یہاں یہ کہنا ہے کہ حضرت یونسؑ کی طرف جس
٢١
طرح کی پیشگوئی منسوب کی گئی ہے اس کا ذکر نہ قرآن شریف میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد منقول ہے مگر بڑے زور سے جا بجا مختلف طور سے اس کے قطعی ہونے کا ذکر مرزا قادیانی نے کیا ہے کہیں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ”میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
یعنی حدیثوں سے اور آسمانی کتابوں سے اس قصہ کو نقل کیا ہے حالانکہ کوئی صحیح حدیث نقل نہیں کی۔ اور نہ اس دعوے کو رسول اللہ ﷺ کے کلام سے ثابت کیا نہ کسی اور کتاب سے ثابت کیا جس کا آسمانی ہونا یقینی ہو اور شریعت محمدیہ اس کے آسمانی ہونے کی تصدیق کرتی ہو۔ مگر دعویٰ اس زور سے ہو رہا ہے کہ خدا کی پناہ خلیفہ قادیان آسمانی کتابوں سے واقف ہیں وہی اس کا جواب دیں مگر سنبھل کر لکھیں یوں نبی کی کتاب اور بعض مفسرین کے منقولہ اقوال یہاں کام نہیں آسکتے حکیم صاحب اس پر خود غور کریں۔ الحاصل صرف ایک معاملہ کے متعلق نو افتراء اللہ تعالیٰ پر اور چار افتراء انبیاء پر ثابت ہوئے۔ مرزا قادیانی کی زندگانی کا یہ بڑا نمونہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا یعنی سب سے بڑا ظالم وہ ہے جس نے اللہ پر افتراء کیا اور جس نے اللہ پر اور اس کے سچے رسول بلکہ سید المرسلین پر افتراء کیا وہ بہت ہی بڑا ظالم ٹھہرا۔ جب مرزا قادیانی ان صریح اور بدیہی دلائل سے اس آیت کے مصداق اور بہت ہی بڑے ظالم ٹھہرے تو یہ حالت ان کے زندگانی کا بڑا نمونہ ثابت ہوئی۔ اس کے سوا کچھ اور بھی ان کے زندگی کا نمونہ ملاحظہ کیجئے۔ وہ بھی اسی عظیم الشان نشان ہی کے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا اور جھوٹی قسم کھانا تو ظاہر ہو گیا۔ ایک عجب حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ انہوں نے (١) اپنے سگے بیٹوں کو اسی عورت کے بدولت عاق کر کے محروم الارث کر دیا (٢) اپنی قدیم بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی (٣) اور بلاقصور اپنی بہو کو طلاق دلوانا چاہا مگر اس نیک بیٹے نے اسے منظور نہیں کیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ منکوحہ آسمانی کے لئے بہت تدبیریں کیں ان میں یہ بھی تھی کہ اپنے سمدھی اور اپنے سمدھن کو خط لکھے۔ ایک اشتہار نصرت دین (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩) طبع کرایا۔ اپنے سمدھن کے خط میں لکھتے ہیں۔ کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کرا دو ورنہ تمہاری بیٹی کو میرا بیٹا فضل احمد طلاق دیدے گا اور اگر فضل احمد نے طلاق نہ دیا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ جس دن (محمدی کا) نکاح ہو گا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا یہ خط ٤ مئی ١٨٩١ء کا ہے۔
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣۔ ١٢٥)
اب یہاں مرزا قادیانی کی حالت کو دیکھا جائے کہ کیسے مضطرب ہیں اور کیا کہہ رہے
٢٢
ہیں جسے ایسے یقینی الہامات ہوتے ہوں جیسے مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں وہ اپنے سمدھن کو یہ لکھ سکتا ہے کہ میں تمہاری بیٹی کو اپنے بیٹے سے طلاق دلوا دوں گا اور اگر وہ طلاق نہ دے گا تو میں اسے عاق کر دوں گا۔ بھائیو کچھ تو سوچو اور اس کا جواب دو۔ مرزا قادیانی ایسے مضطرب ہیں کہ ان کا علم بھی مسلوب معلوم ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ فی الفور میں اسے عاق کر دوں گا۔ ایک جاہلانہ بات ہے۔ عقوق عربی لفظ ہے اُس کے معنی نافرمانی کرنے کے ہیں جو بیٹا اپنے والدین کی ایسی نافرمانی کرے جو اُسے نہ کرنی چاہئے اُسے عاق کہیں گے نافرمانی کرنے والا۔ غرضکہ یہ صفت بیٹے کی ہوئی۔ اب باپ کا یہ کہنا کہ میں عاق کر دوں گا ایک جاہلانہ ١؎ بات ہے کیونکہ جب بیٹے نے
١؎ بعض الفاظ مع حدیث ترجمہ کے نقل کیے جاتے ہیں انہیں ملاحظہ کیا جائے۔
- (١) ان النبی لایورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین والمساکین
(امام احمد عن ابی بکرؓ ج١ ص١٣)
جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ نبی کسی کو وارث نہیں چھوڑتے انکی میراث فقراء اور مساکین کے لیے ہے۔
- (٢) کل مال النبی صدقۃ الا ما اطعمہ اہلہٗ وکساہم وانا لا نورث
(ابوداؤد وعن الزبیرؓ باب فی صفایا رسول اللہ ج٢ ص١٨)
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ نبی کا تمام مال فقرا کیلئے صدقہ ہے مگر جس قدر کہ اُس کے اہل وعیال کھالیں اور پہن لیں کیونکہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے۔
- (٣) لایقتسم ورثتی دیناراً ما ترکت من شئ بعد نفقۃ نسائی و معونتہ عاملی فهو صدقۃ
(بخاری باب نفقہ القیم للوقف ج١ ص٣٨٩ مسلم ابوداؤد امام احمد ج٢ ص٢٤٢ (عن ابی ہریرۃؓ )
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ہے کہ میرے وارثوں میں روپے پیسے کی تقسیم نہ ہوگی جو کچھ میں چھوڑوں وہ میری بیویوں کے نان و نفقہ اور عامل کی مزدوری کے بعد صدقہ ہے۔
خیال کیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھا کر ترکہ کی تقسیم کی ممانعت فرمائی ہے
- (٤) لا نورث ما ترکنا صدقۃ
(امام احمد ج١ ص٤)
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو مال ہم چھوڑیں صدقہ ہے۔
- (٥) ان النبی لایورث
(امام احمد ج١ ص١٣)
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ نبی کسی کو وارث نہیں بناتے۔
- (٦) انا لا نورث ما ترکنا فہو صدقۃ
(بخاری باب حدیث بنی نضیر ج٢ ص٥٧٦ و مسلم باب حکم الفی ج٢ ص٩٠)
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے جو کچھ ہم چھوڑیں اللہ کی راہ میں وہ صدقہ ہے۔ ایسی صاف اور صریح حدیثوں کے بعد مرزا قادیانی کا ایک لڑکے کو وراثت سے محروم کرنا اور دوسرے کے لیے میراث چھوڑنا روشن دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نبی نہیں تھے۔
٢٣
نافرمانی کی تو وہ خود عاق ہوا مگر شریعت محمدیہ میں یہ نافرمانی وراثت سے محروم نہیں کرتی۔ یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے بیٹے کو وارث سمجھتے ہیں اور نافرمانی پر اُسے وراثت سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور اس پر اس قدر اصرار اور غیض ہے کہ اُس پر قسم کھاتے ہیں اس سے یہ یقینی ثابت ہوا کہ وہ نبی نہیں ہیں اور نہ انہیں اپنے نبی ہونے کا یقین ہے کیونکہ نہایت صحیح حدیثوں میں آیا ہے النبی لا یورث یعنی کوئی نبی اپنے مال ومتاع کا کسی کو وارث نہیں چھوڑتا اگر اُس کا مال ومتاع کچھ ہو وہ فقرا اور مساکین کا ہے یہ حدیث بتواتر ثابت ہے البتہ الفاظ مختلف ہیں مگر حاصل ایک ہے صحیح بخاری ابو داؤد ترمذی موطا مسند امام احمد وغیرہ میں یہ حدیثیں موجود ہیں۔ اب اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ اگر وہ نبی ہوتے تو یہ خطرہ بھی ان کے ذہن میں نہ آتا اور اگر بتقاضائے بشریت ایسا خیال بھی ہوتا تو خدا کی طرف سے متنبہ کر دیئے جاتے مگر یہ نہیں ہوا اور برسوں یہی کہتے رہے۔
دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی شریعت محمدیہ کے خلاف کر رہے ہیں کہ وہ میری وراثت سے ایک حبہ نہیں پائے گا یعنی شریعت محمدیہ میں نافرمان بیٹا محروم الارث نہیں ہے مگر مرزا قادیانی اُس کے خلاف اُسے محروم الارث کرتے ہیں اور شریعت محمدیہ کے خلاف نیا حکم دے رہے ہیں۔ اب جماعت مرزائیہ اس خط کے مضمون میں بنظر انصاف غور کرے کہ اُس سے مرزا قادیانی کی کیسی حالت ظاہر ہوتی ہے۔ اُن کا نبی نہ ہونا تو ظاہر ہو گیا اُس کے سوا کئی باتیں اور بھی لحاظ کے لائق ہیں۔
- (١) مرزا قادیانی اپنے نکاح کی خواہش میں اپنے بیٹے پر نہایت سختی سے زور دیتے ہیں کہ
اپنی بیوی کو طلاق دیدے۔ خیال تو کیجئے کہ بیٹے سے ایسا کہنا کس قدر شرم کی بات ہے اس پر بھی نظر چاہئے کہ بیوی ہے خدا جانے کس قدر اُس سے الفت ہوگی۔ پھر مرزا قادیانی کو یہ بھی خیال نہ ہوا کہ ہم تو اپنی محبوبہ لڑکی کی اس قدر خواہش کر رہے ہیں اور بیٹے کی مرغوبہ بیوی کو جبراً علیحدہ کرانا چاہتے ہیں۔ اور معلوم ہو گیا کہ بیٹے کو وہ اس قدر محبوب تھی کہ چھوڑ نہ سکے اور طلاق نہ دی۔
- (٢) ایک نیا حکم حضرت مسیح کا لائق ملاحظہ ہے کہ اگر بہو کا ماموں اپنی کنواری لڑکی مرزا
قادیانی کو نہ دے تو بہو کو گھر سے نکال دیا جائے۔ کیا اسے ظلم نہیں کہیں گے کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں ہے۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اُخْریٰ (انعام ١٦٤) یعنی کوئی انسان دوسرے کا گناہ نہیں اُٹھا سکتا۔ اگر اُس کا ماموں اپنی بیٹی نہیں دیتا تو بھانجی کا کیا قصور ہے جو اسے اپنے مالوف شوہر سے جدا
ا؎ اور مرزا قادیانی نے جو اصل بات کے پوشیدہ کرنے میں پر زور تحریر دکھائی تھی اور اُس کے نکاح کو ایک نشان ٹھہرایا تھا اُس کی حالت تو معلوم ہوئی کہ وہ صرف ان کی دلی خواہش کا زور تھا جس کو اپنی رنگ آمیز تحریر سے اس طرح پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یہ بد نما دھبہ ان کی صداقت کا نشان ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ظاہر کر دیا
٢٤
کرنے کا حکم دیا جاتا ہے؟
(٣) اللہ تعالیٰ تو اولاد کے دینے کے لیے وصیت کرتا ہے اور مرزا قادیانی اپنے نفس کی خواہش میں وصیت خداوندی کے خلاف اپنے بیٹے کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ بیٹا اگر نافرمان ہو مگر شریعت محمدیہ اُسے محروم الارث نہیں کرتی حضرات انصاف پسند ان حالات میں غور کر کے فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی حالت مقدس بزرگوں کی سی ہے یا نہایت دنیا ساز نفس پرستوں کی سی۔ یہ حالات بھی آفتاب کی طرح روشن کرتے ہیں کہ منکوحہ آسمانی کی نسبت جو الہامات بیان کیے گئے ہیں وہ محض غلط تھے اگر انہیں ایسے الہام ہوتے تو اُن کے قلب میں خطرہ بھی نہ آتا کہ بہو کو طلاق دلواؤں اور اگر بیٹا طلاق نہ دے تو اُسے محروم الارث کروں یہ باتیں صاف شہادت دے رہی ہیں کہ انہیں الہام کسی طرح کا نہیں ہوا۔ یہ اُن کی زندگی کے حالات ہیں انہیں پیش نظر رکھ کر آیت قَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُر الخ کے معنی پر غور کیجئے۔ اور خوف خدا کو دل میں لا کر انصاف سے کہیے کہ آیت سے مرزا قادیانی کی سچائی کا ثبوت ہوتا ہے یا اُن کے مفتری ہونے کا۔؟
الحاصل جس طرح پہلی تین آیتوں سے مرزا قادیانی کا مفتری اور کاذب ہونا ثابت ہوا تھا اس آیت سے بھی اُن کے تفسیر کے بموجب ثابت ہو گیا۔ اب میں یہ بیان کرتا ہوں کہ آیت کے جو معنی مرزا قادیانی اور ان کی جماعت بیان کرتی ہے وہ غلط ہیں۔ کوئی فہمیدہ اُن کی غلطی سے انکار نہیں کر سکتا۔
اہل بصیرت دیکھ رہے ہیں اور تجربہ کرتے ہیں کہ بعض شخص کم سنی میں نہایت نیک تھے اُس کے بعد ایسے اسباب پیش آئے کہ اُن کی حالت نہایت خراب ہو گئی بعض کی حالت پہلے خراب تھی پھر اچھی ہو گئی اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ حدیث سے بھی یہ مضمون ثابت ہے چنانچہ متفق علیہ حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔ ان احدکم لیعمل بعمل اهل الجنة حتي مايكون بينه وبينها الا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعملا اهل النار فيدخلها
(مسلم باب كیفیۃ خلق الادمی ج ٢ ص ٣٣٢ واللفظ لہ بخاری باب ذکر الملائکہ ج ١ ص ٤٥٦)
اس کا حاصل یہی ہے کہ بعض اپنی اکثر عمر میں نہایت نیک کام جنتیوں کے سے کرتے ہیں اور آخر میں ان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ بعض مدعیان مہدویت اور نبوت کے حالات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ محمد بن تومرت اور صالح بن طریف پہلے نہایت نیک اور صالح تھے اُس کے بعد مہدویت اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ کامل اور ابن خلدون میں ان کے حالات ٢٥
ملاحظہ کیے جائیں۔ الغرض اس پر غور کرنے سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کی سابقہ حالت کا عمدہ ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کی حالت ہمیشہ عمدہ رہے گی اس لیے اس بات سے دلیل لانا نہایت نافہمی ہے۔ منکوحہ آسمانی کا ذکر مکرر کیا گیا اس کی بڑی وجہ ہے کہ حضرات مرزائیوں کو بار بار کہہ کر انہیں متنبہ کرنا اور خواب غفلت سے بیدار کرنا مقصود ہے کہ ایسا عظیم الشان نشان اُن کا غلط ثابت ہوا جس پر انہوں نے اپنی سچائی کو منحصر کیا تھا پھر تم کیوں خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنی غلطی کا اقرار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر رحم فرمائے اور تمہارے دلوں سے ظلمت کا پردہ ہٹالے اور تم سچائی کو اختیار کرو اے خدا تو ایسا ہی کر۔ فقط ابو احمد رحمانی کانپوری
عظیم الشان فتنہ کی اطلاع
٩٠٠ ہجری کے آخر میں اہل سنت میں سید محمد جونپوری نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور تیرھویں صدی میں اہل تشیع میں علی محمد باب نے فارس میں یہی دعویٰ کیا ان دونوں کے پیرو اس وقت تک موجود ہیں۔ چودھویں صدی میں پھر ہندوستان کی باری آئی اور پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں بلکہ عیسیٰ اور کرشن بھی ہوں پہلے مدعیوں کو یہ نہیں سوجھی تھی۔ یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ امام مہدی سیدہ فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے اسے وہ غلط بتاتے ہیں اور اپنے آپ کو حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما سے بلکہ تمام اولیائے کرام سے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے آپ کو ہر شان میں بڑھ کر کہتے ہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو حدیث میرے الہام کے مطابق ہے وہ صحیح ہے ورنہ غلط ہے ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔ حاصل قول ان کا یہ ہے کہ قرآن شریف کے معنی جو ہم بیان کریں وہی صحیح ہیں اس کے خلاف اگرچہ کوئی صحابی یا تابعی کہے وہ بھی لائق اعتبار نہیں ہے حاصل یہ ہوا کہ جو مرزا قادیانی کہیں وہی قرآن و حدیث ہے مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں اپنی پیشین گوئیاں پیش کی ہیں۔ مگر کسی صادق نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں پیشین گوئی کو پیش نہیں کیا۔ اور نہ پیشین گوئی کے پورے ہو جانے سے دعویٰ نبوت ومہدویت ثابت ہو سکتا ہے۔ با ایں ہمہ فیصلہ آسمانی میں مرزا قادیانی کی وہ پیشین گوئی غلط ثابت کردی گئی جسے انہوں نے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا۔ اب ان کے مریدین ان کی صداقت میں قرآن شریف کی بعض آیتیں پیش کرتے ہیں اُس رسالہ میں بطور نمونہ یہ دکھایا ہے کہ انہیں آیتوں سے ان کا کاذب ہونا ثابت ہوتا ہے فاعتبروا یا اولی الابصار۔
٢٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ہدیہ عثمانیہ
و
صحیفہ انواریہ
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہدیہ عثمانیہ وصحیفہ انواریہ
ضروری مدعا اس خاکسار کو یہ صحیفہ دیکھ کر بہت ہی مسرت ہوئی۔ اس کی دو وجہ ہیں ایک یہ کہ ایسے بزرگ عالی مرتبہ مرجع خلائق و رہنمائے امت محمدیہ کو اسلامی ریاست کی خیر خواہی کی طرف متوجہ پایا اور حیدر آباد دکن کے فرمانروا و دیگر معززین و عامہ مسلمین کی آگہی و رہنمائی کے لیے باوجود کمال پیری اور اشغال شبانہ روزی کے یہ ہدایت نامہ لکھا اور کیوں نہ ہو آپ خاندان نبوت کے شمس منیر ہیں اور حضرت سیدنا غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے فرزند ارجمند ہیں اس لیے رشد و ہدایت خلق خدا عموماً اور برادران اسلام کے خصوصاً اور حمیت اسلامی آپ کی میراث ہے اور اپنے اجداد کے سچے وارث ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (فاطر ٣٢) اور مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے والے۔ رب العزت ان کی فیوض و برکات کو دائماً قائم رکھے تاکہ خاص و عام آپ سے مستفیض ہوتے رہیں۔ آمین
دوسری وجہ مسرت کی یہ ہے کہ اس فقیر کے دل میں یہ جوش ہوا کہ میں اس ہدایت نامہ کو چھپوا کر فرمانروائے دکن حضور نظام دامت حشمتہ و شوکتہ کی خدمت میں ہدیہ پیش کروں تاکہ مسلمانوں کے سرتاج والی دکن اس ہدایت نامہ کو اپنے دست مبارک سے اور اپنے خاص حکم سے مقربین و عمائدین کو اور عامہ مومنین کو تقسیم فرما کر اس دعا گو کو رہین منت فرمائیں اور ناواقفوں کو قادیانیوں کی قید سے بچائیں یہ صحیفہ اگرچہ روحانی تعلق کی وجہ سے جناب مولانا مولوی حافظ محمد انوار اللہ خان صاحبؒ معین المہام و صدر الصدور امور مذہبی سرکار عالی کے نام حضرت اقدس (مونگیریؒ) نے لکھا ہے مگر درحقیقت اس کے مخاطب مسلمانوں کے سر پرست حضور نظام دکن ہیں اللہ تعالیٰ ان کی حکومت اور ان کی ریاست کو قیامت تک قائم رکھے۔ اس لیے میں بھی حسب اجازت حضرت مصنف دامت برکاتہم اس کا نام ہدیہ عثمانیہ وصحیفہ انواریہ رکھتا ہوں اور اس مضمون کو دعا پر ختم کرتا ہوں۔ آفتاب دولت و دین عثمانیہ و ماہتاب اقبال و معین ریاست محبوبیہ نظامیہ تاباں و درخشاں باد آمین دعا گو خاکسار فقیر محمد کاظم بہاری ٢
و گر خاموش بہ نشینی گناہ است
نحمدہ و نستعینہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
والا مراتب علامہ زمن استاد فرمانروائے دکن
لا زالت شموس اقبالہ بازغہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اگرچہ مشاغل کثیرہ نے آپ کو بعض دینی امور ضروریہ سے بھی روک دیا ہے۔ مگر یہ فقیر آپ کی قدیمانہ محبت کی وجہ سے آپ کی اور اس ملک کے ظل اللہ کی خیر خواہی اور وہاں کے برادران اسلام کی دردمندی اور اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔
کچھ عرصہ سے سن رہا ہوں کہ خواجہ کمال الدین (مرزائی) وکیل لاہور مرید خاص مرزا غلام احمد قادیانی وہاں پہنچے ہوئے ہیں اور تمام مسلمانوں میں بہت غل مچا دیا ہے اور اپنا رسالہ صحیفہ آصفیہ شائع کر کے مذہب قادیانی کی تبلیغ کر رہے ہیں اور سنا جاتا ہے کہ ہمارے شہر یار دکن کی نظروں میں بھی مقبول ہو گئے ہیں یہاں تک کہ ہر ایک کو ان سے بات کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ مجھے سخت حیرت ہے باوجودیکہ وہاں کے فرمانروا آپ کو بہت مانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہی ہوں گے کہ کتاب افادۃ الافہام آپ ہی نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں لکھی ہے اور بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ پھر اس کے مقابلہ میں صحیفہ آصفیہ خواجہ کمال الدین قادیانی کا تقسیم ہو رہا ہے یعنی تریاق کے بعد زہر کی تخم پاشی ہو رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔ مولانا اس صحیفہ کو وہ تبلیغ بہ حضور نظام کہتے ہیں۔ اب فرمائیے کہ یہ صریح کفر اور دروغ کی تبلیغ ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں آپ ضرور یہی فرمائیں گے کہ بلاشبہ ایسا ہی ہے کیونکہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے بشیر و نذیر آئے ہیں انھیں مانو۔ یہی مرزا قادیانی کا صریح دعویٰ ہے۔ یہی دعویٰ نبوت ہے کیونکہ کوئی مجدد اور بزرگ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اپنے اوپر ایمان لانے کو فرض نہیں بتا سکتا۔
٣
قرآن اور حدیث نے کسی بزرگ پر ایمان لانے کو فرض و واجب نہیں بتایا۔
قرآن مجید میں جا بجا جناب رسول اللہ ﷺ پر اور انبیاء سابقین پر ایمان لانے کو فرمایا ہے۔ یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ جو انبیا بعد کو آئیں گے ان پر بھی ایمان لاؤ بلکہ آپ کو صاف طور سے خاتم النبیین فرمایا اور نہایت صحیح حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح فرما دی کہ انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
(ترمذی باب لا تقوم الساعۃ یخرج کذابون ج ٢ ص ٤٥)
یعنی میں آخر النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی کسی قسم کا مبعوث نہیں ہو گا اس سے بالیقین ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے (جس طرح مرزا قادیانی نے اعلانیہ کیا) وہ قرآن و حدیث کی رو سے کاذب ہے۔
اب جو اس کے پیام کی تبلیغ کرے اور مسلمانوں کو اس پر ایمان لانے کی ترغیب دے وہ بھی بالیقین کفر و معصیت کی تبلیغ کرتا ہے۔ (خواہ خواجہ کمال الدین مرزا ہوں یا مرزا محمود قادیانی)
چونکہ اس نص قرآنی سے خواجہ کمال الدین مرزائی واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے خیال میں یہ عقیدہ مستحکم ہے کہ جناب رسول خدا ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ اس لیے مرزا قادیانی کی نسبت دعویٰ نبوت سے ظاہراً انکار کرتے ہیں حالانکہ مرزا قادیانی نہایت زور سے نبوت کے مدعی ہیں بلکہ بعض اولوالعزم انبیاء سے اپنے آپ کو ہر شان میں افضل جانتے ہیں اور اپنی بڑائی ان کے مقابل میں اس طرح کرتے ہیں جس سے اس عظیم الشان نبی کی نہایت حقارت اور توہین ظاہر ہوتی ہے مرزا قادیانی کے دو شعر ملاحظہ ہوں۔
عیسیٰ کجاست تا نہد پا بہ منبرم
(ازالہ ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
ان دونوں شعروں کو دیکھا جائے وہ عظیم المرتبت پیغمبر یعنی حضرت عیسیٰؑ جن کی تعریف قرآن شریف میں جا بجا بہت کچھ آئی ہے۔ جن کے بڑے بڑے معجزے اللہ تعالیٰ
٤
نے بیان فرمائے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کس حقارت اور بے ادبی سے ان کا نام لے کر اپنے مرتبہ کو بڑھاتے ہیں۔ یہ بھی ان کا قول ہے کہ میں مسیح سے تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
جب ایک عظیم الشان نبی سے ہر شان میں بڑھ کر ہیں تو ان کی ایک شان نبوت بھی ہے اس میں بھی وہ بڑھ کر ہوں گے۔ جب ایسے عظیم الشان نبی کے مرتبہ سے وہ اپنا مرتبہ بہت زیادہ بتاتے ہیں تو پھر دعویٰ نبوت نہ کرنے کے کیا معنی۔ اس سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کو سورج نکلنے سے انکار کرے۔ البتہ پہلے انھیں دعویٰ نہ تھا جس طرح مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ صحیفہ کے آخر میں مرزا قادیانی کے جو اشعار نقل کیے گئے ہیں وہ اسی وقت کے ہیں جب انھیں نبوت کا دعویٰ نہ تھا۔
اس میں شبہ نہیں کہ آخر میں مرزا قادیانی کا نہایت صاف طور سے نبوت کا دعویٰ ہے۔ اس لیے قرآن مجید اور صحیح حدیث ان کے کاذب ہونے کے شاہد ہیں۔
اس کے علاوہ ان کی بہت پیشینگوئیاں جھوٹی ہوئیں اور ایسی پیشینگوئیاں جن کو انھوں نے اپنا نہایت ہی عظیم الشان معجزہ کہا تھا جس کی تفصیل فیصلہ آسمانی میں اچھی طرح کی گئی ہے اور یہ بات آسمانی کتاب توریت اور قرآن مجید کے نص قطعی سے ثابت ہے کہ جس مدعی نبوت کی پیشینگوئی جھوٹی ہو جائے وہ جھوٹا ہے یہ دوسری دلیل ہے ان کے جھوٹا ہونے کی جب خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد ایسے یقینی دلیلوں سے کاذب ہیں اور قرآن وحدیث اور توریت مقدس ان کے جھوٹے ہونے کے شاہد ہیں تو بالیقین معلوم ہوا کہ صحیفہ آصفیہ میں جو کچھ ان کی تعریف میں لکھا ہے وہ محض غلط ہے اور اس کی غلطی دو طرح پر ثابت ہے اوّل تو یہ کہ جب قرآن وحدیث سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے تو جتنی ان کی تعریف کی باتیں ہیں وہ سب قرآن اور حدیث کی رو سے جھوٹی ثابت ہوئیں۔ دوسرے یہ کہ واقع میں ان کی صداقت کے ثبوت میں جو باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں وہ واقع میں جھوٹی ہیں اس کا نمونہ آئندہ بیان کیا جائے گا اور وہ ایسی جھوٹی باتیں ہیں کہ عرصہ ہوا کہ ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت اعلانیہ طور سے مشتہر کر دیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے ماننے والوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا اور میں نہایت
٥
زور سے کہتا ہوں کہ ان باتوں کا جھوٹا ہونا ایسے پر زور دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی کا ماننے والا تو کیا معلم الملکوت بھی ان دلائل کو اٹھا نہیں سکتا۔ الحق یعلو ولا یعلیٰ نہایت سچا مقولہ ہے۔
مولانا! جس طرح مخالفین اسلام کے حملے اعلانیہ طور سے اسلام پر ہو رہے ہیں اسی طرح علی محمد بابی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے حقیقی مقدس مذہب اسلام کے مٹانے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض ان میں ایسے بھی ہیں جنھیں اپنی بے علمی و نادانی سے یہ بھی خبر نہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک گروہ مرزائیہ کے لیڈر اور خوش بیان شخص ہیں۔ چونکہ اس وقت قدرتی طور پر انگریزی تعلیم یافتہ حضرات میں اسلامی جوش پایا جاتا ہے۔ (اگرچہ اسلامی احکام سے انھیں واسطہ نہ ہو) اس لیے خواجہ کمال الدین مرزائی کے اس خوش آئند آواز سے کہ ہم اشاعت اسلام کریں گے اکثر ان کے معاون اور مددگار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی نیت اچھی ہے مگر حقیقت حال سے یہ واقف نہیں ہیں انھیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس پردہ میں کیا راز ہے۔
مولانا! آپ سے غفلت یہ ہوئی کہ آپ نے پہلے سے وہاں کے فرمانروا خلد اللہ ملکہ کو خواجہ کمال الدین مرزائی کے حالات سے اطلاع نہیں دی اور وہاں کے معززین کو پورے طور پر آگاہ نہیں کیا۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے یا نہیں کہ ان میں کئی گروہ ہو گئے ہیں ایک گروہ کا تو یہ کلمہ ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَحْمَدُ جَرِیُّ اللّٰہِ، محمد رسول اللہ اڑا دیا گیا۔ اس جماعت کے سرگروہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ مرزا محمود ہیں۔ دوسری جماعت کے لیڈر خواجہ کمال الدین مرزائی ہیں دونوں گروہ میں جنگ زرگری ہے خوب تحریریں چھپتی ہیں طرفین نے ایک دوسرے کی خفیہ باتوں کو کھولا ہے خواجہ کمال الدین مرزائی پر ایک یہ بھی الزام ہے کہ جب ان کی وکالت نہیں چلی تو کمائی کا دوسرا ڈھنگ اس سے عمدہ نکالا۔ اس طرز میں دو باتیں سوچی ہیں کمائی تو ہوتی ہی ہے اس کے سوا اپنی وقعت بھی پورے طور سے ہوتی ہے اور قوم کے لیڈر اور خیر خواہ اسلام بنتے ہیں اور اس کے ساتھ در پردہ اپنے مرشد کی وقعت قائم کرنے کا بھی موقع ملتا ہے البتہ اپنے مرشد سے سبق لے کر وہی چندوں کی فہرست کھول رہے ہیں۔ یہ مانا کہ مقرر خوش بیان ہیں۔ چند باتیں خوب مشق کر لی ہیں
٦
مسلمان اسے پسند کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں مگر کیا واقف کار حضرات یہ نہیں جانتے کہ بعض نصاریٰ اور بے دین بھی بے نظیر خوش بیان ہوئے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی نے ان اطراف میں بھی دورہ کیا اور ان کے بیان ہوئے اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہایت ذاتی مصلحت اور گہری پالیسی سے کام لے رہے ہیں۔ جہاں کسی واقف کار ذی علم نے کوئی سوال کیا تو اس کے جواب میں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اس وقت میں جواب کے لیے تیار نہیں ہوں اور عوام میں بیان کے بعد اکثر یہ کہہ دیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود مہدی مسعود سے یہ کہہ لیا تھا کہ میں صرف اسلام پر لیکچر دیا کروں گا اور کچھ نہ کہوں گا۔ اب اس پر غور کیجئے کہ مرزائی محبت کا تخم مسلمانوں کے دلوں میں بونے کا کیسا عمدہ طریقہ وہ برتتے ہیں۔ یعنی جب مسلمانوں کے روبرو اسلام کے متعلق ایک عمدہ بیان کیا اور ان کے دلوں میں ان کی وقعت اور محبت ہوئی اس کے بعد ہی مرزا قادیانی کی نسبت یہ کہہ دینا کہ حضرت مسیح موعود مہدی مسعود سے میں نے یہ عہد کیا تھا۔ کیسا زہریلا اثر رکھتا ہے۔ اس سے انھوں نے اپنا عقیدہ اور مرزا قادیانی کی عظمت اور مسیحیت کو پورے طور سے بیان کر دیا اور سمجھ لیا کہ آہستہ آہستہ اس کا نتیجہ حسب خواہ ہو رہے گا۔ پھر خواجہ کمال الدین مرزائی کا یہ کہنا کہ میں مرزا قادیانی کا ذکر نہیں کرتا انھیں نبی نہیں مانتا بندگان خدا کو سخت دھوکا دینا ہے۔
ہاں نئی تہذیب اور شائستگی اس کو جائز رکھے اور مصلحت و پالیسی بتائے تو میں کچھ نہیں کہتا۔ مگر حیدر آباد میں اعلانیہ طور سے مرزائی مذہب کی تبلیغ ہو رہی ہے اور صحیفہ آصفیہ کو تقسیم کر رہے ہیں اس لیے اس فقیر کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حالت میں آپ بالکل خاموش کیوں ہیں؟ اپنے فضل و کمال اور خان بہادری صرف کرنے کا تو یہی موقع ہے ہمت کیجئے۔ آپ جانتے ہی ہوں گے اور میں بھی آپ کو اپنے پختہ علم سے آگاہ کرتا ہوں کہ وہ قطعاً یقیناً مسلمانوں کو بہکا کر دھوکے سے اپنا معتقد بنانا چاہتے ہیں اور پھر کسی وقت اعلانیہ طور سے مرزا قادیانی کا معتقد بنانے کے لیے لیکچر ہوں گے اس وقت یہ کہنا کہ میں مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا اور کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتا کیسا صریح دھوکا ہے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ نبی ماننے سے مسلمان بھڑکتے ہیں عام مسلمانوں پر بھی یہ بات ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اس لیے مرزا قادیانی کو
٧
نبی کہنے سے سب لوگ ہم سے متنفر ہوں گے اسی طرح مسلمانوں کو کافر کہنے سے انھیں غصہ ہو گا اور میرا کام چلنے سے رک جائے گا یہ خیال کر کے انھوں نے دونوں باتوں سے ظاہراً انکار کیا اور اس کا نام پالیسی رکھا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کس صراحت اور زور کے ساتھ دعویٰ نبوت کیا ہے اور اپنے منکر کو کافر اور جہنمی کہا ہے۔ میں نے ان کے اقوال صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ و ٧ (صحائف رحمانیہ ١ تا ٢٤ مکمل احتساب قادیانیت ج پنجم میں ملاحظہ کریں) میں اور فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں کچھ نقل کیے ہیں پھر جو شخص ان کو ماننے والا ہے وہ کیسے ان کی نبوت سے انکار کرے گا جب ان کے قولوں سے انکار کرے گا تو بالضرور ان کو سچا نہیں مان سکتا۔
اور یہ تو خیال فرمائیے کہ جب وہ ہر موقع پر مرزا قادیانی کو مسیح موعود کہہ دیتے ہیں تو پھر نبوت سے انکار کرنا چہ معنی دارد۔ مسیح موعود کا نبی ہونا تو متفق علیہ مسئلہ ہے جو شخص انھیں مسیح موعود مان رہا ہے پھر ان کی نبوت سے کیونکر انکار کر سکتا ہے؟ اس کے علاوہ نہایت روشن ہے کہ اس وقت اپنا صحیفہ آصفیہ مشتہر کر رہے ہیں اس میں مرزا قادیانی کی جو باتیں نقل کی ہیں عام مسلمانوں کو خصوصاً مسلمانان حیدر آباد کو ڈرایا اور دھمکایا ہے یہ شان تو انبیاء ہی کی ہوتی ہے کسی دوسرے مجدد کی نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ معززین دکن اس پر نظر کریں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اپنی جماعت کے سوا کسی مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے کیسی ہی بھاری جماعت ہو مگر اس میں شریک نہیں ہوتے اگر کسی نے کہا بھی تو کوئی حیلہ کر کے ٹل جاتے ہیں۔ اس کو ہمارے برادران اسلام خوب امتحان کر لیں اگر وہ سب کو مسلمان سمجھتے ہیں تو مسلمانوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے اس اطراف میں ان کا دورہ ہوا یہاں بھی انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ان کی یہ روش کامل شہادت دیتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے کافر سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس اور نہایت افسوس ہے کہ سمجھ دار اور اہل علم اس پر خیال نہیں کرتے اور اس راز سر بستہ تک نہیں پہنچتے۔
اب جن باتوں سے انھوں نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے وہ کئی باتیں سنی جاتی ہیں سب سے اوّل یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اشاعت اسلام کریں گے اور کافروں کو مسلمان بنائیں گے۔ ذرا آپ غور کیجئے اتنے دنوں لندن میں رہے اور یہی دعویٰ کرتے رہے اب یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے مرشد نے اس قدر غل مچایا انھوں نے کتنے
٨
عیسائی مسلمان بنائے۔ پھر خود خواجہ کمال الدین مرزائی ہندوستان میں لیکچر دے رہے ہیں مگر سوائے چندہ مانگنے کے کسی آریہ یا عیسائی کو مسلمان بنانے کی طرف کبھی توجہ کی یا لندن میں اتنے دن رہ کر آئے سوائے جھوٹی خبروں کے اور کیا کیا؟ ان کی خلاصہ حالت لندن کی صحیفہ رحمانیہ نمبر ٤ میں لکھی گئی ہے اور میرے کئی احباب جو لندن میں کئی برس رہ کر آئے ہیں وہ سب ان کی حالت بیان کرتے ہیں یہ لوگ یہاں کے معززین میں سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انھیں کوئی وہاں پوچھتا بھی نہیں تھا اور یہ تو خیال فرمائیے کہ ان کے مرشد نے کس زوروں سے دعویٰ کیا کہ ”میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑنے کے لیے آیا ہوں اگر میں توڑ نہ دوں تو گواہ رہو کہ میں جھوٹا ہوں“
(اخبار بدر قادیان نمبر ٢٩ ج ١٩ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء ص ٤)
یہ بھی انھوں نے کہا کہ اگر سات برس کے اندر خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کر لوں گا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٤-٣٥ خزائن ج ١١ ص ٣١٩-٣١٨)
یہ قول مرزا قادیانی کا ١٨٩٧ء سے کچھ پہلے کا ہے۔ اس قول کے بعد گیارہ برس زندہ رہے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا دوسرے صاحب یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے ان دعوؤں کے نتیجہ کا ظہور تو اپنے ہی زمانہ میں فرمایا تھا مگر کسی بات کا ظہور تو نہیں ہوا۔
تثلیث پرستی کا ستون توڑنا تو بہت دشوار تھا ان کی وجہ سے تو سو دو سو بلکہ دس بیس تثلیث پرست بھی ان پر ایمان نہیں لائے۔ البتہ انھوں نے اپنا زورِ قلم یہ دکھایا کہ دنیا میں مردم شماری کے لحاظ سے جو چالیس کروڑ مسلمان کہے جاتے ہیں ان سب کو کافر بنا دیا کیونکہ مرزا قادیانی صاف لکھتے ہیں کہ مسیح موعود (یعنی میرا) نہ ماننے والا ویسا ہی کافر ہے جیسا جناب رسول اللہ ﷺ کا نہ ماننے والا
(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
ملاحظہ کیجیے اپنے مخالفین کو جہنمی صاف طور پر کہتے ہیں۔
(انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٦٢)
اب اس کی تفصیل و تشریح ان کے صاحبزادے مرزا محمود قادیانی نے اپنے
٩
رسالہ تشحیذ الاذہان میں اچھی طرح سے کی ہے اس کا نمبر ٤ جلد ٦ بابت اپریل ١٩١١ء ملاحظہ کیجئے جب مرزا قادیانی نے کچھ نہ کیا تو آپ کے خیال میں یہ آسکتا ہے کہ ایسے جھوٹے مدعی کا پیرو اسلام اور مسلمانوں کو کچھ نفع پہنچا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب ان کے مرشد نے ایسے صریح صریح جھوٹے دعوے کیے تو ان کے مرید سے یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ جھوٹا دعویٰ نہ کریں گے؟ میرے خیال میں کوئی ذی علم مسلمان انھیں سچا نہیں سمجھ سکتا۔
دوسری وجہ لوگوں کے متوجہ کرنے کی یہ سنی جاتی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا یہ خیال تھا کہ قرآن مجید کا ترجمہ متعدد زبانوں میں کیا جائے مگر وہ پورا نہ کر سکے میں اسے پورا کرنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے چندہ مانگتا ہوں۔
مولانا! خیال کیجئے کہ یہاں بھی وہ اپنے مرشد کا نام لے کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ نہایت ضروری اور عمدہ کام کا انھیں خیال تھا اور پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ میں مرزا قادیانی کا ذکر نہیں کرتا یہ کیسا دھوکا ہے؟ کہ آہستہ آہستہ مرزا قادیانی کی طرف رجحان کا تخم بوتے جاتے ہیں اور انکار بھی کرتے جاتے ہیں۔
مولانا! اس پر بھی آپ خیال کیجئے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد اوّل براہین احمدیہ کا نمونہ دکھلا کر اسکا غل مچایا کہ ہم حقانیت اسلام پر دوسو یا تین سو براہین لکھیں گے اور چھپوائیں گے اس کا اشتہار کئی جزوں میں بہت موٹے موٹے حرفوں سے چھپوا کر شائع کیا اور اس ذریعہ سے انھوں نے لوگوں سے دس ہزار روپیہ کا چندہ لیا اس کے بعد غالباً بیس پچیس برس تک زندہ رہے اور برابر لکھنے ہی کے مشغلہ میں رہے مگر بجز جھوٹے دعوؤں اور تعلیوں کے اور اپنی جھوٹی باتوں کے اظہار کے اور کچھ نہیں کیا اور تحریروں میں اس قدر انھیں مشغولی رہتی تھی کہ کئی کئی وقت کی نمازیں بھی قضاء کرتے رہے مگر اس پر بھی براہین کا وعدہ پورا نہ کیا اور دوسو براہین میں سے دو چار بھی نہیں لکھیں اور جن لوگوں نے روپیہ دیا تھا بعض نے طلب کیا تو چند گالیاں انھیں سنائیں۔ یہ حضرت انھیں کے مرید ہیں جو مختلف رسالوں کی تالیف کا چندہ بہشتی مقبرہ کا چندہ مناروں کا چندہ۔ مکان کے وسیع کرنے کا چندہ۔ غرضیکہ مختلف قسم کا چندہ تمام عمر جمع کرتے رہے اور اپنی شہرت اور اپنی
١٠
جسمانی راحت میں صرف کرتے رہے اور اپنی اولاد کے لیے سرمایہ چھوڑ گئے اور مریدوں کو چندہ دینے کا عادی کر گئے۔ اس لیے ان کے مریدوں میں بھی عادت ہو گئی ہے کوئی چندہ دیتا ہے کوئی چندہ مانگتا ہے خواجہ کمال الدین مرزائی بھی انھیں میں ہیں ان سے کیا امید ہو سکتی ہے۔ خدا کے لیے اس پر غور کیجئے اور تمام برادران اسلام کو اس سے آگاہ کیجئے کہ ہوشیار ہو جائیں۔ یہ ان کے خاص مرید ہیں پھر خصوصیت کی وجہ سے ان کی باتوں کا اثر ان میں ضرور آیا اور اس وقت وہ گہری پالیسی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی تجربہ کار انکار نہیں کر سکتا۔
ان باتوں کے سوا میں آپ سے کہتا ہوں کہ قرآن مجید کا ترجمہ کرنا اس قدر مشکل ہے کہ اچھے اچھے ماہرین قرآن بھی ترجمہ پورے طور سے نہیں کر سکتے یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ ترجمہ کرنے کے لیے اوّل ان دونوں زبانوں کا کامل ماہر ہونا چاہیے جس کا وہ ترجمہ کرے اور جس میں وہ ترجمہ کرے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی عربی زبان سے تو نا آشنا ہیں پھر وہ قرآن کا ترجمہ کیا کریں گے؟ سوا اس کے کہ وہ اردو اور فارسی کے ترجموں کو دیکھیں اور سب سے اوّل اپنے مرشد کے قول کو مدنظر رکھیں اور آیات قرآن کا مطلب وہی بیان کریں جو ان کے مرشد نے بیان کیا ہے۔ میں ان کے مرشد کے اقوال بعض آیات کے مطالب میں آپ کو دکھلاتا ہوں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ (آیت) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدٰى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلٰى الدِّينِ كُلِّهِ.
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
یہ آیت خاص میرے ہی شان میں اتری ہے رسول اللہ ﷺ کی شان میں نہیں ہے۔ اب خیال فرمائیے کہ کیسا اندھیر ہے کہ تیرہ سو برس قبل مرزا قادیانی کے لیے جناب رسول خدا ﷺ پر آیت اترے اور اس میں بصیغہ ماضی کہا جائے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدٰى (الخ) اور اس سے وہ مدعی مراد ہو جو تیرہ سو برس بعد آئے گا اور وہ مدعی جو قرآن و حدیث سے اور اپنے اقرار سے جھوٹا ہو گا اس کے لیے یہ آیت ہے (نعوذ باللہ)
- (٢) اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
١١
اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّذِىْ بٰرَكْنَا حَوْلَهُ (الخ) اب اس کی تفسیر میں مرزا قادیانی یوں درفشانی کرتے ہیں اور ضمیمہ خطبہ الہامیہ (ص ٢٥ خزائن ج ١٦ ص ٢٥) میں چندہ منارہ کا اشتہار دیتے ہیں ”آیت سُبْحَانَ الَّذِىْ اَسْرٰى (الخ) کو لکھ کر اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں ”مسجد اقصیٰ سے مراد اس جگہ پر یروشلم (یعنی بیت المقدس) نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے جو باعتبار بعد زمانہ کے خدا کے نزدیک مسجد اقصیٰ ہے اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے جس مسجد کی مسیح موعود بنا کرتے ہیں وہ اس لائق ہے کہ اس کو مسجد اقصیٰ کہا جائے جس کے معنی ہیں مسجد اَبْعَد الخ“ اس کے بعد صفحہ ٥ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے“ (ایضاً)
کہئے مولانا:۔ یہ ترجمہ اور مطلب آیت موصوفہ کا تیرہ سو برس کے عرصہ میں صحابہ کرام سے لے کر اس وقت تک کسی حقانی عالم کے خواب میں بھی نہیں آیا۔ یہ تو مسیح قادیانی کی قرآن دانی کا نتیجہ ہے خیال فرمائیے کہ کیسے کیسے مہملات اپنی چرب زبانی سے وہ بیان کر رہے ہیں اسی وجہ سے ان کے مریدوں نے ان کو سلطان القلم کا خطاب دیا ہے پھر ان کے رشید مرید جن کے نام میں کمال پڑا ہوا ہے اگر وہ لوگوں کے دلوں کو اپنے بیان سے موثر کریں تو کون بعید بات ہے۔ مولانا کسی مسلمان یا کسی سمجھدار کے خیال میں یہ آ سکتا ہے کہ حضرت سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام شب معراج میں مکہ معظمہ سے مرزا قادیانی کی خیالی مسجد قادیان میں تشریف لے گئے جس وقت اس مسجد کا نام ونشان بھی نہ تھا آپ اس پر غور کریں کہ جب خواجہ کمال الدین مرزائی مرزا قادیانی کو مامور من اللہ اور مسیح موعود مانتے ہیں اور خود انھیں علوم عربیہ سے تعلق نہیں ہے تو بالضرور وہ ان آیتوں کے وہی معنی کریں گے جو مرزا قادیانی نے کیے ہیں۔
(٣) سورہ صف (آیت ٦) میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول اس طرح نقل فرماتا ہے۔ وَاِذْ قَالَ عِيْسٰى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِىْٓ اِسْرَآئِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِىْ مِنْۢ بَعْدِى اسْمُهٗ اَحْمَدُ ط۔ اس آیت میں صاف طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جناب رسول اللہ ﷺ کے
١٢
آنے کی بشارت دیتے ہیں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آپؐ ہی کا ظہور ہوا اور آپ کا نام احمد بھی تھا اب مرزا قادیانی باوجود غلام احمد ہونے کے اپنا نام احمد کہتے ہیں اور اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہراتے ہیں‘‘
(ازالہ اوہام ص ٦٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
حالانکہ قرآن مجید کے نص قطعی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جناب رسول خدا ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی نہ ہو گا بلکہ صاف طور سے حدیثوں میں مذکور ہے کہ میرے بعد میری امت میں سے جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا (یہ حدیث صحیحین کی ہے) اب خواجہ کمال الدین مرزائی ان آیتوں کا وہی معنی کریں گے جو ان کے مرشد نے کیے ہیں اگر اس کے خلاف کریں گے تو انھیں جھوٹا قرار دینا پڑے گا۔ مگر خواجہ کمال الدین مرزائی نے یہ خیال کر لیا ہو گا کہ ترجمہ تو انگریزی وغیرہ زبان میں ہو گا جس سے اکثر اہل علم واقف نہ ہوں گے پھر اس کے حسن و قبح کو کون دریافت کر سکتا ہے اب دیکھنے والے اگر ایمان لائیں گے تو اسی بات پر لائیں گے جو انھوں نے ترجمہ کیا ہو گا۔ مرزا قادیانی کی قرآن دانی کی ایسی مہمل اور واہی مثالیں بہت ہیں۔ مگر میں نے بطور نمونہ آپ کو تین آیتیں پیش کر دیں۔ مولانا:۔ یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ وہ ”اپنے الہام کو مثل قرآن مجید کے نص قطعی بیان کرتے ہیں اور احادیث نبویہ سے اس کا بہت بڑھا ہوا مرتبہ کہتے ہیں (حقیقۃ الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
اب اس کے بعد ان کا یہ الہام ملاحظہ ہو لولاک لما خلقت الافلاک یہ روایت بہت مشہور ہے اور سب جانتے ہیں کہ جناب رسول خدا ﷺ کی شان میں ہے مگر مرزا قادیانی اس کو غلط ٹھہرا کر یہ کہتے ہیں کہ یہ میرا الہام ہے یعنی میری نسبت اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو زمین و آسمان کچھ نہ بناتا۔
(الاستفتاء ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣ و تذکرہ ص ٦١٢)
١؎ اس تحریر کے بعد معلوم ہوا کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اس آیت کا مصداق مرزا قادیانی کو نہیں کہتے مگر ان کے بیٹے اور خلیفہ کہتے ہیں دونوں میں اختلاف ہے ہم نے مانا کہ اس آیت کے معنی وہ صحیح کہیں مگر ان کے مرشد نے بہت جگہ غلط معنے بیان کیے ہیں خواجہ کمال الدین قادیانی کہاں تک ان سے انکار کریں گے جب انھیں مسیح موعود مان چکے ہیں تو ان کے تراشیدہ معنی کو ضرور مانیں گے اور ترجمہ دیکھنے والوں کو انھیں مسیح موعود منوانا چاہیں گے۔
١٣
اس میں مرزا قادیانی تمام عالم کے وجود کو اپنا طفیلی اور اپنا ظل کہتے ہیں، جس کا حاصل یہی ہوا کہ تمام انبیاء کرام اور جناب رسول خدا ﷺ بھی مرزا قادیانی کے طفیلی ہیں۔ مولانا:۔ کون مسلمان ہے کہ اس بات کو سن سکتا ہے اور حضرت سرور انبیاء حبیب کبریا ﷺ کی توہین پر تحمل کر سکتا ہے؟ اب کہیں اپنے آپ کو ظلی بروزی کہہ دینا صرف مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے مولانا:۔ خواجہ کمال الدین مرزائی انھیں کے مرید ہیں انھیں کی تعریف میں صحیفہ آصفیہ شائع کر رہے ہیں۔ کیا ایک دن علماء سے اس کی جواب دہی نہ ہو گی۔ خصوصاً آپ جیسے معزز اور مقتدر اہل علم سے؟ ذرا ہمت سے کام لیجئے اور اپنی صداقت اور حمایت دین کو کام میں لائیے۔ مرزا قادیانی کا ایک قول صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ صفحہ ٢٤ میں دیکھئے کہ مرزا قادیانی اپنی فضیلت تمام انبیاء پر کس طرح دکھلا رہے ہیں غرضیکہ اس مختصر بیان سے فہمیدہ حضرات سمجھ سکتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی اگر قرآن کا ترجمہ کریں گے تو اس سے اسلام کی اشاعت تو ہرگز نہ ہو گی بلکہ مسیح قادیانی کے جھوٹے مذہب کی اشاعت البتہ ہو گی۔ اس سے برادران اسلام بالکل ناواقف ہیں اور خواجہ کمال الدین مرزائی کی باتوں میں آ گئے ہیں۔ چونکہ پہلے سے بھی وہاں مرزا قادیانی کے ماننے والے اور معاون و مددگار موجود تھے اس لیے خواجہ کمال الدین مرزائی کو وہاں بہت مدد ملی اور کچھ نئے خیال کے حضرات ان کے بیان کو پسند کر کے ان کے مددگار ہو گئے۔ ان کی کوشش سے ان کو اس قدر وثوق ہو گیا۔ مگر آپ کی شان یہ تھی کہ کچھ ہمت کر کے اثر ڈالتے تو اس جھوٹی سحر بیانی اور چرب زبانی کا کچھ بھی اثر نہ پڑتا۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ کے مقتدر ملک میں مرزا قادیانی کی نبوت کی خوب تبلیغ ہو رہی ہے یعنی صحیفہ آصفیہ تقسیم ہو رہا ہے میرے پاس بھی بھیجا گیا ہے اس لیے مجھے خاص اس کی طرف توجہ کرنا ضرور ہوا۔ مولانا مجھے بار بار حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے صحیفہ آصفیہ کی غلط باتوں کا نمونہ بھی مسلمانوں کو نہیں دکھایا اس میں تو سوائے جھوٹے دعوؤں کے اور کچھ نہیں ہے مشاغل متعلقہ کے علاوہ شاید آپ کسی تصنیف میں مشغول ہوں گے۔ مگر یہ فقیر اس کی اشاعت کے دیر ہونے میں نہایت خطرہ خیال کرتا ہے اس لیے اس کا نمونہ لکھ کر بھیجتا ہوں اسے مشتہر کیجئے مجھے اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ آپ کے نزدیک اس کے دلائل تار عنکبوت سے زیادہ زور دار نہیں ہیں مگر اس وقت تو مسلمانوں کی خیر خواہی
١٤
اور آپ کا فرض منصبی بآواز بلند یہ کہہ رہا ہے کہ اس کے مضامین کی حقیقت حال کو نہایت روشن کر کے دکھائیں شاید آپ کسی موقع اور وقت کے منتظر ہوں گے۔ یا انھیں بے حقیقت سمجھ کر توجہ نہ دی ہو گی۔ مگر آپ خوب سمجھ لیں کہ ہمارے علماء کی ایسی بے توجہی اور ایسے ہی خیال نے مرزا قادیانی کو اس قدر فروغ دے دیا اگر ابتدا میں مخصوص علماء کو اس طرف پوری توجہ ہو جاتی تو یہ فتنہ فروغ نہ پاتا۔ یہ خاکسار بہت دور ہے مگر اس وقت کسی قدر آپ کو سبکدوش کرتا ہے اور صحیفہ آصفیہ کا نمونہ دکھاتا ہے ہمارے فرمانروائے دکن اور تمام معززین ملاحظہ فرمائیں۔ میری اس محنت کا نتیجہ کامل طور پر اسی وقت ہو سکتا ہے کہ آپ اور آپ کے مخصوص احباب اس کی اشاعت میں کوشش فرمائیں اور تمام معززین کے ہاتھوں تک پہنچائیں۔
پہلا نمونہ رسالہ کے ص ٢٠ میں امام مہدی کے خروج کی کئی نشانیاں بیان کی ہیں وہ سب غلط ہیں خواجہ کمال الدین مرزائی تو علوم دینیہ کی تحقیق سے معرا ہیں ان کا مایہ علمی صرف مرزا قادیانی کے اقوال ہیں ان میں ایک علامت یہ بیان کی ہے کہ ایام مہدی میں ایک رمضان کے مہینہ تیرہویں اور اٹھائیسویں تاریخ پر چاند اور سورج کا کسوف و خسوف ہو گا‘‘ (صفحہ ٢٠ سطر ٣ و ٤) اس کی سند میں حاشیہ پر دارقطنی کی ایک روایت لکھی ہے مگر اس کی غلطی رسالہ شہادت آسمانی اول اور دوسری شہادت آسمانی میں اس خوبی اور وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ اسے دیکھ کر ذی علم حق پسند تو وجد کرنے لگتا ہے اور مخالف ناحق کوش حیران رہ جاتا ہے یہ دونوں رسالے خاص اسی نشان کے ذکر میں لکھے گئے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ جس روایت سے خواجہ کمال الدین مرزائی اپنے مرشد کی صداقت ثابت کرنا چاہتے ہیں اسی روایت سے متعدد طریقوں سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا ہے۔ وہ طریقے مجملاً ملاحظہ ہوں (١) جس روایت سے یہ دعویٰ ثابت کیا جاتا ہے وہ روایت ہرگز اس لائق نہیں ہے کہ ایسا عظیم الشان دعویٰ اس سے ثابت کیا جائے اس کا روایت کرنے والا ایک جھوٹا دجال کذاب ہے اس کی روایت ہرگز اس لائق نہیں ہو سکتی خود دارقطنی کے طرز بیان سے اس حدیث کا صحیح نہ ہونا ظاہر ہے (دوسری شہادت آسمانی کا صفحہ ٥٤ سے ٥٩ تک) ملاحظہ ہو۔ (٢) اس غیر معتبر روایت کی صحت ثابت کرنے میں مرزا قادیانی نے جو غلط باتیں بنائی ہیں اور نہایت صاف و صریح دھوکا دیا ہے اس سے ہر ایک فہمیدہ حق پسند پر مرزا قادیانی کی فریب دہی نہایت روشن ہو جاتی ہے
١٥
(٣) جس روایت کو مرزا قادیانی نے اپنی شہادت میں پیش کیا ہے اسے اپنے اوپر صادق کرنے کے لیے ایسے غلط معنے بیان کیے ہیں کہ کوئی ذی علم خصوصاً جسے زبان عرب سے پوری واقفیت ہے وہ ہرگز نہ کرے گا بلکہ مرزا قادیانی کے معنی کو بالیقین غلط بتائے گا اور صحیح معنے کے لحاظ سے وہ روایت مرزا قادیانی کے لیے نشان کسی طرح نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا ظہور اس وقت تک نہیں ہوا (٤) ١٣١٢ھ کے گہن کو مہدی کا نشان مرزا قادیانی نے بتایا ہے مگر ماہرین علم ہیئت و نجوم خوب واقف ہیں کہ یہ ایک معمولی گہن تھا جو اپنے مقررہ وقت پر ہوا اس طرح کے گہن پہلے بھی بہت ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے پھر ایک ایسی معمولی اور مقررہ بات کو عظیم الشان امر کا نشان کہنا صرف بے عقلی اور جہالت ہی نہیں ہے بلکہ جناب رسول اللہ ﷺ پر سخت الزام ہے کیونکہ مرزا قادیانی اس بات کو حضور انور ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان گہنوں کو رسول اللہ ﷺ نے مہدی کا نشان کہا ہے۔ اب جو ماہرین نجوم اس قول کو دیکھیں گے تو حضور انور ﷺ پر (نعوذ باللہ منہ) مضحکہ کریں گے (٥) اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے تو بھی مذکورہ گہن مہدی کی علامت اور اس حدیث کا مصداق ہرگز نہیں ہو سکتا روایت کے چار جملے اس غلطی کو نہایت صفائی سے ظاہر کر رہے ہیں ان باتوں کی تصریح شہادت آسمانی میں کامل طور سے کی گئی ہے۔ یہ رسالہ مرزا قادیانی کے اوّل خلیفہ حکیم نور الدین قادیانی کے پاس بھیجا گیا تھا اور ان کے سوا اور بھی بعض اہل علموں کو دیا گیا مگر اس وقت تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس رسالہ سے پہلے عام و خاص مرزائی ہر ایک سے کہتے تھے کہ دیکھو اب مرزا قادیانی کے مہدی ہونے میں کیا شک ہے اب تو اعلانیہ آسمان نے ان کی شہادت دے دی مگر اس رسالہ شہادت آسمانی کے بعد جب انھوں نے دیکھ لیا کہ یہ تو الٹی شہادت ہو گئی یعنی مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی آسمانی شہادت ہو گئی اس لیے بالکل خاموش ہو گئے چونکہ وہ رسالہ حیدر آباد دکن میں بخوبی شائع نہیں ہوا لہٰذا خواجہ کمال الدین قادیانی کو اپنے رسالہ میں اس کے شائع کرنے کی جرات ہوئی اور ممکن ہے کہ انھوں نے اسے دیکھا ہی نہ ہو کیونکہ مرزا قادیانی کے پختہ ماننے والے اپنے حقیقی بہی خواہوں کے رسالوں کو دیکھتے ہی نہیں بلکہ ان کے بزرگ کہہ دیتے ہیں کہ مخالفین کے رسالے دیکھنے سے ایمان جاتا رہے گا انھیں مت دیکھو لیکن یہ خاکسار بہ نیت خیر خواہی خواجہ کمال الدین قادیانی سے کہتا ہے
١٦
کہ اس رسالہ کو ضرور ملاحظہ فرمائیں اور خوف خدا دل میں لا کر انصاف دلی سے دیکھیں میں بالیقین کہتا ہوں کہ اگر حق پسندی کی نظر سے ملاحظہ کریں گے تو اپنے رسالہ صحیفہ آصفیہ کو ردی میں پھینک دیں گے کیونکہ اس میں ذرا شبہ نہیں ہے کہ دوسری شہادت آسمانی کے نہایت مشرح بیان نے مرزا قادیانی کو متعدد دلیلوں سے نہایت صفائی سے یقیناً کاذب ثابت کر دیا ہے۔ جیسی غلط اور جھوٹی باتیں خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد نے گہنوں کے اجتماع کی نسبت بنائی ہیں کوئی دیندار صاحب عقل ایسی باتیں نہیں کر سکتا اور اہل اللہ اور مسیح موعود کی تو بڑی شان ہے۔
شہادت آسمانی میں صرف غلطی ہی نہیں دکھائی گئی ہے بلکہ مرزا قادیانی کی صریح دھوکا دہی ثابت کی گئی ہے اس لیے صحیفہ آصفیہ کی تمام باتیں ھباءً منثوراً ہو گئیں اور محض غلط ثابت ہوئیں کیونکہ انسان کے جھوٹا اور غیر معتبر ہونے کے لیے ایک جھوٹ کا ثابت ہو جانا کافی ہے میں ان سے خیر خواہانہ کہتا ہوں کہ اگر وہ اس کا جواب دینا چاہیں تو ہرگز نہیں دے سکتے۔ البتہ ہدایت ہادی مطلق کے اختیار میں ہے قرآن مجید میں بہت جگہ ارشاد ہے۔ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْراً وَّ يَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْراً (بقرہ ٢٦) پھر کسی انسان کی تصنیف کی کیا ہستی ہے۔
صفحہ ١٧ میں لکھتے ہیں ”کہ صدی کا سر بھی گزر چکا تھا اور بموجب قول پیغمبر ضروری تھا کہ کوئی مجدد مبعوث ہو اور اس مبارک انسان کے سوا کسی اور شخص نے آج تک اس صدی کے لیے دعویٰ مجددیت بھی نہیں کیا تھا۔“
یہ سب باتیں خواجہ کمال الدین قادیانی کی بے علمی اور بے خبری ثابت کرتی ہیں ملاحظہ کیجئے (١) رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ مجدد اپنے مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کرے گا البتہ وہ کام کرے گا جس سے دین کو فائدہ پہنچے اور اس کی تجدید ہو یہی وجہ ہے کہ پہلے صدیوں میں کسی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا البتہ دوسرے علما نے ان کی حالت دیکھ کر انھیں مجدد کہا ہے غرضیکہ مجدد ہونے کے لیے دعویٰ ضرور نہیں ہے مدعی تو اکثر جھوٹے ہوئے ہیں جیسے دوسری صدی میں طریف اور صالح گزرا ہے جس کی حالت تاریخ ابن خلدون میں لکھی ہے اور مرزا قادیانی سے بہت زیادہ اسے عروج ہوا تھا اور کئی سو برس اس کے اولاد میں بادشاہت قائم رہی۔ اس سے مرزا قادیانی کا وہ دعویٰ بھی غلط ہو جاتا ہے کہ کوئی مفتری کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کی تفصیل رسالہ عبرت خیز میں ملاحظہ کی جائے۔ (٢) یہ کہنا
١٧
کہ اس صدی میں کسی نے مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا محض غلط ہے دیکھئے مولوی احمد رضا خان بریلوی اپنے آپ کو مجدد مائۃ حاضرۃ کہتے ہیں یعنی میں اس موجودہ صدی کا مجدد ہوں یہ دعویٰ ان کا مرزا قادیانی کے سامنے بھی تھا اور اب بھی ہے اور مرزا قادیانی کو کافر کہتے ہیں اور سخت مخالف ہیں اور بھی بعض نے دعویٰ کیا ہے اور بمبئی سے اشتہار جاری کیا ہے اور مکہ معظمہ پہنچ کر دعوے کا اعلان کیا ہے مگر اس کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے ایک مدعی کا نشان دینا کافی ہے۔ وہ ہندوستان میں موجود ہیں۔
- (٣) اے معززین اسلام ذرا نظر کو وسیع کر کے ملاحظہ کیجئے کہ مجدد وہی ہے جو
دین اسلام کو معتد بہ فائدہ پہنچائے۔ اب دیکھئے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کو کیا فائدہ پہنچایا اس کا ذکر میں نے بعض رسالوں میں کیا ہے جو علامتیں مسیح موعود کی حدیث میں آئی ہیں وہ علامتیں تو مرزا قادیانی میں ہرگز پائی نہیں گئیں۔
مجھے ابتدائی صدی سے اس کا خیال رہا ہے اور متعدد پادریوں سے مناظرہ تقریری اور تحریری ہوا ہے اور انھیں کامل طور سے عاجز کیا ہے اور ایسی تدبیریں کی ہیں کہ جا بجا منادی کرنا پادریوں نے شروع کر دیا تھا وہ بند ہو گیا۔ اسی وقت متعدد رسالے نہایت تحقیق و تہذیب سے لکھے ہیں ان میں پیغام محمدی' آئینہ اسلام دفع التلبیسات' ترانہ حجازی وغیرہ کتابیں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں وہ سب موجود ہیں آج تک کسی پادری نے جواب نہ دیا۔ مرزا قادیانی نے ایک پادری سے مناظرہ کیا تھا مگر ان کو پیشینگوئی کرنے کا ایسا شوق تھا کہ اس مناظرہ میں پادری آتھم کی نسبت پیشینگوئی کر دی کہ پندرہ مہینے کے اندر یہ مر جائے گا مگر مرزا قادیانی کی یہ پیشینگوئی بھی جب جھوٹی ہوئی اور وہ نہ مرا تو ٦ ستمبر روز مقررہ پر پادریوں نے الہ آباد سے لے کر تمام پنجاب میں بڑی خوشیاں منائیں۔ گویا مرزا قادیانی نے اسلام کا مضحکہ اڑوایا۔ اس کی تفصیلی حالت اشاعۃ السنہ اور الہامات مرزا میں لکھی گئی ہے۔ مخالفین اسلام سے مناظرہ کرنا اسلامی کام تھا مگر اس عمدہ کام کو جھوٹی پیشینگوئی کر کے مرزا قادیانی نے مضحکہ بنا دیا۔ دوسرا اسلامی کام مرزا قادیانی نے یہ کیا تھا کہ براہین احمدیہ لکھنا شروع کیا اور ایک دلیل نمونہ کے طور پر لکھ کر اسے چھاپا اور اشتہار دیا کہ میں اسلام کی حقانیت پر تین سو دلیلیں لکھوں گا اور اس کتاب کی قیمت کا پیشگی چندہ
١٨
مانگنا شروع کیا۔ برسوں اس کا غل رہا اور بہت مسلمانوں نے اس کی قیمت پیشگی بھیج دی اس کی قیمت بھی مختلف ہوتی رہی آخر میں غالباً پچیس روپے کر دی گئی تھی بعض واقف الحال ان کے پرانے آشنا لکھتے ہیں کہ اس ذریعے سے دس ہزار روپے مرزا قادیانی کے پاس آئے اب خواجہ کمال الدین قادیانی بتائیں کہ وہ تین سو دلیلیں حقانیت اسلام پر کہاں ہیں؟ مرزا قادیانی پچیس تیس برس تک زندہ رہ کر لکھنے ہی کا کام کرتے رہے مگر انھوں نے جو وعدہ کیا تھا اور جس کا اشتہار بڑے موٹے موٹے حرفوں میں دیا تھا اور جس کے لیے دس ہزار روپے پیشگی لیے وہ کہاں ہے؟ ان کی کتابوں میں کہیں ان کا وجود دکھائیے پھر کیا کسی بزرگ سے ایسی باتیں ہوتی ہیں؟ کیا مسیح موعود جھوٹے اور ناجائز طریقے سے روپیہ کمانے کے لیے مسلمانوں کو دھوکا دے سکتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ خوف خدا دل میں لا کر انصاف سے کہیے۔ کیا فرضی کتاب کی قیمت معین کر کے مسلمانوں سے روپیہ لینا جائز ہے؟ کیا ایسا وعدہ کر کے جس کی شہرت ساری دنیا میں مخالفین اسلام کے مقابلہ میں کی ہو اس کا پورا نہ کرنا اور مخالفین اسلام کو مضحکہ کا موقع دینا عقلاً اور شرعاً درست ہے؟ اور جب مرزا قادیانی نے یہ وعدہ پورا نہ کیا اور زمانہ گزر گیا تو جنھوں نے قیمت دی تھی وہ قیمت واپس کر دینے کے لیے لکھا تو مرزا قادیانی نے بجائے روپیہ واپس کرنے کے ان پر غصہ کا اظہار کر کے سخت کلامی کی۔
اب حق پسند حضرات فرمائیں کہ بزرگ اور مجدد ایسے ہو سکتے ہیں؟ نہایت غور کر کے اس کا جواب دیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مذہبی تحقیق اور عقل سلیم یہی کہے گی کہ یہ باتیں ہرگز جائز نہیں اور کسی بزرگ اور مجدد کی یہ شان نہیں ہے کہ ایسے منہیات شرعی کا وہ اعلانیہ مرتکب ہو اس قسم کی بہت سی باتیں فیصلہ آسمانی اور شہادت آسمانی وغیرہ رسالوں میں ثابت کی گئی ہیں اور مرزائیوں کی طرف سے سوائے سکوت کے کچھ جواب نہ ہوا۔ اگر خواجہ کمال الدین مرزائی انھیں دیکھتے تو اپنے رسالہ صحیفہ آصفیہ کے شائع کرنے کی جرات ہرگز نہ کرتے۔
صحیفہ کا دوسرا نمونہ خواجہ کمال الدین قادیانی صفحہ ٨١ میں لکھتے ہیں ”آپ کی بعثت ١؎ سے آپ کے وصال تک صدہا کذب آپ کے مقابل میں
١؎ یعنی مرزا قادیانی کی بعثت اہل علم جانتے ہیں کہ لفظ بعثت انبیا سے خاص ہے۔
١٩
اُٹھے جنھوں نے آپ کی ذات پر کمر باندھی لیکن (١) خدائے تعالیٰ نے انھیں ذلیل و خوار کیا (٢) جو آپ کے مقابل آیا ہلاک ہوا۔ (٣) جس رنگ میں کسی نے آپ کی ذلت کا ارادہ کیا اسی طرح کی ذلت اسے نصیب ہوئی‘‘ یہاں خواجہ کمال الدین قادیانی نے ہمارے ظل اللہ حیدر آباد دکن کے ڈرانے کے لیے تین دعوے کیے ہیں اور میں نہایت سچائی اور زور سے کہتا ہوں کہ یہ تینوں دعوے محض غلط ہیں محض غلط۔ چونکہ ہمارے والی دکن خلد اللہُ ملکہٗ غالباً ان باتوں سے ناواقف ہیں اس لیے انھیں مخاطب کر کے خواجہ کمال الدین مرزائی نے صحیفہ آصفیہ میں صریح کذب بیانی کی جرات کی ہے حالانکہ یہ تینوں باتیں ایسی غلط ہیں کہ ہندوستان میں ان کے غلط ہونے کا معائنہ ہو رہا ہے۔ ہمارے ظل اللہ اگر تھوڑی توجہ فرمائیں تو ان تینوں دعوؤں کے کاذب ہونے کی کامل تصدیق ہو جائے مختصر اس کا بیان ملاحظہ ہو میں مرزا قادیانی کے بعض سخت مخالفین کے نام لکھتا ہوں۔
- اول امیر عبدالرحمٰن خان والی کابل مرحوم (اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں ریاست اور امارت کو قائم رکھے اور ان کی عقل و ہمت میں ترقی عنایت کرے آمین) کابل سے ایک مولوی حج کرنے کے لیے چلے تھے صاحبزادہ عبداللطیف ان کا نام تھا چونکہ مرزا قادیانی کی طرف سے جا بجا ان کی تعریف کرنے والے رہتے تھے اور رہتے ہیں کسی سے تعریف سن کر شامت اعمال نے ان کو قادیان پہنچایا اور کئی مہینے رہ گئے چونکہ مذہبی تحقیقات کامل نہ تھی اس لیے مرزا قادیانی کے دام میں آگئے۔ اس کے بعد جب حج کو جانا چاہا تو مرزا قادیانی نے کہا کہ تمہارا حج ہو گیا اب تم کابل جا کر تبلیغ کرو وہ واپس گئے اور امیر صاحب کو ان کی حالت معلوم ہوئی انھوں نے بلا کر علما کو جمع کر کے سمجھایا مگر اس نے نہ مانا بالآخر نہایت ذلت کے ساتھ وہ مارا گیا۔ اس کے بعد امیر صاحب مرحوم مرزا جی کے فکر میں رہے مگر مرزا قادیانی نے اپنی ہوشیاری سے انھیں ثواب سے محروم رکھا۔ اس وقت کابل کے ایک معزز مہمان میرے یہاں موجود ہیں وہ مفصل حالت چشم دید بیان کر رہے ہیں میں سب نہیں لکھتا۔ مولوی عبداللطیف کابلی کا واقعہ بہت مشہور ہے مرزا قادیانی نے بھی اس واقعہ کو ذکر الشہادتیں میں لکھا ہے۔ اسے خواجہ کمال الدین مرزائی مدنظر رکھ کر فرمائیں کہ امیر کابل کس سختی سے مرزا قادیانی کے مقابل آئے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ کیا خدانخواستہ انھیں کسی قسم کی ذلت پہنچی؟ ذرا اپنی زبان سے اس کا جواب عنایت کریں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ
٢٠
بفضلہ تعالیٰ ان کی ہر طرح سے عزت اور ملک میں ترقی ہو رہی ہے۔ برٹش گورنمنٹ میں بھی ان کا پورا اعزاز ہے۔ پھر کیا خواجہ کمال الدین مرزائی اس کو نہیں جانتے؟ ضرور جانتے ہیں مگر قصداً دھوکا دینے کو یہ لکھتے ہیں کہ جو مقابل ہوا وہ ہلاک ہوا۔ ذلیل و خوار ہوا۔
دوم :۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری (اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں ترقی دے) مرزا قادیانی کے سخت مخالف رہے اور بہت کچھ مقابلہ کیا اور اب تک مقابلہ ان کا کر رہے ہیں اور مناظرہ کے لیے تمام مرزائیوں سے اعلان ہے حال میں بھی بمقام لدھیانہ مرزائیوں سے مناظرہ کر کے تین سو روپیہ کی ڈگری منشی قاسم علی ایڈیٹر الحق اخبار قادیان دہلی سے نقد حاصل کی۔ مولوی صاحب نے صحیفہ آصفیہ کا جواب بھی لکھا ہے صحیفہ محبوبیہ اس کا نام ہے۔ یہ وہ مقابل ہیں جن سے مرزا قادیانی نے تنگ آ کر آخر میں یہ فیصلہ شائع کیا تھا جو نہایت قابل دید ہے جس کے دیکھنے کے بعد مرزا قادیانی کی حالت کا فیصلہ ہر ایک حق پسند کے نزدیک کامل طور سے ہو جاتا ہے میں اس مشتہرہ فیصلہ کی نقل ملاحظہ کے لیے پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے سرتاج شہریار دکن اور اراکین سلطنت آصفیہ نظامیہ اس کے معائنہ اور اس کے نتیجہ پر واقف ہونے کے بعد خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مرشد کی حالت سے بخوبی واقف ہو جائیں گے اور ان کے صحیفہ کو ردی میں پھینک دیں گے۔ اب آپ کا یہ سچا خیر خواہ منت سے کہتا ہے کہ کامل توجہ فرما کر اچھی طرح ملاحظہ کریں اور جس جملے پر میں نے خط کر دیا ہے اسے ذہن نشین کر کے اس کے نتیجہ کو چشم عبرت سے معائنہ کر کے قدرت خدا کا نظارہ فرمائیں کہ کتنا عظیم الشان دعویٰ کرنے والا مخلوق کے سامنے کس طرح ذلیل ہوتا ہے وہ قابل دید فیصلہ یہ ہے۔
مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ
مرزا کی عبارت بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت
٢١
شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا (یعنی اب صبر نہیں ہو سکتا)
- (١) اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے
یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ (مرزا قادیانی نے اپنے مفتری ہونے کی یہ پہلی معیار بتائی)
- (٢) اور اگر میں کذاب و مفتری نہیں ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے
فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے (یہ اپنے صادق ہونے کی معیار مرزا قادیانی نے بتائی ہے یاد رہے) (٣) پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ (یہ دوسری معیار مرزا قادیانی نے اپنے مفتری ہونے کی بتائی)
مرزا قادیانی کی پہلی دعا اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے آمین۔ (مرزا قادیانی کی یہ دعا قبول ہوئی) (اس دعا پر اور اس کے آخر میں آمین کہنے پر خوب نظر رہے)
دوسری دعا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر، یہ دعا مرزا قادیانی کی قبول نہ ہوئی۔
میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی بدزبانی حد سے گزر گئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے۔ اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ
٢٢
جو حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے اے میرے مالک تو ایسا ہی کر آمین۔“ (یہ کیسی عاجزانہ دعا ہے اس پر خوب نظر رہے) بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مرقومہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء مطابق یکم ربیع الاول
١٣٢٥ھ“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨ ۔ ٥٧٩)
یہ فیصلہ مرزا قادیانی کے خاص اخبار الحکم کے جلد ١١ نمبر ١٣ میں ١٧ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی کے مرنے سے ١٣ ماہ پہلے چھپا ہے۔
- (١) حضرات اس پر نظر کیجئے کہ مرزا قادیانی کے اس کلام سے مولوی ثناء اللہ
صاحب کا سخت مخالف ہونا کس قدر روشن ہو رہا ہے یہاں تک کہ مرزا قادیانی ان کی مخالفت سے گویا عاجز ہو رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے اس فیصلہ نے عقلاً اور شرعاً تحقیقاً اور الزاماً ہر طرح مرزا قادیانی کی حالت کا سچا فیصلہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ چشم بینا عنایت فرمائے اور دل میں طلب حق کی روشنی دے۔
- (٢) اس فیصلہ میں پہلی دو معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے کاذب ہونے کی اور
ایک معیار اپنے صادق ہونے کی لکھی ہے۔ میں نے ہر ایک معیار کے نیچے لکھ دیا ہے۔ جو دو معیاریں مرزا قادیانی نے اپنے کاذب ہونے کی بیان کی تھیں وہ ان میں پائی گئیں اور جو معیار صادق ہونے کی بیان کی تھی وہ نہیں پائی گئی اس لیے تینوں معیاروں کے بموجب مرزا قادیانی کاذب قرار پائے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ صفحہ ٩ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسمعیل علی گڑھی کی نسبت جھوٹ بولا ہے اس سے بھی مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوتے ہیں۔ مذکورہ تین معیاروں کے بعد مرزا قادیانی نے تین دعائیں کی ہیں۔
اور تیسری عاجزانہ دعا تو نہایت ہی قابل لحاظ ہے جس سے واقعی طور پر سچا فیصلہ یقینی نظر آتا ہے۔
٢٣
اب کسی کے خیال میں یہ نہیں آسکتا کہ اگر خدا کا وہ برگزیدہ بندہ جس کا مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہو اور جسے یہ دعویٰ ہو کہ امت محمدیہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ سے لے کر تیرہ سو برس میں کوئی میرے مثل نہیں ہوا نبی کے نام پانے کا میں ہی مستحق ہوں اس کی ایسی عاجزانہ دعا اس کی آرزو کے موافق قبول نہ ہو۔ مگر باایں ہمہ ایسا نہ ہوا۔ بلکہ اپنے دونوں مقرر کردہ معیار کے بموجب اور اپنی عاجزانہ دعا کے مطابق کذاب اور مفتری ثابت ہوئے کیونکہ تاریخ دعا سے ١٤ ماہ کے اندر بتاریخ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ میں مرزا قادیانی نہایت حسرت سے داخل عالم برزخ ہوئے اور اپنے مریدوں پر اس فیصلہ کا داغ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔
اب دسمبر ١٩١٥ء ہے مگر بحمداللہ تعالیٰ مولوی ثناء اللہ صاحب نہایت خیر و خوبی سے زندہ ہیں امرت سر میں جا کر یا انھیں بلا کر جس کا دل چاہے دیکھ لے اور مرزا قادیانی کے علاوہ خواجہ کمال الدین مرزائی کا کذب بھی معاینہ کر لے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب باوجود سخت مخالف ہونے کے خوبی اور عافیت کے ساتھ موجود ہیں اور مرزا قادیانی ہی ان کے رو برو ہلاک ہو گئے۔
(٣) خواجہ کمال الدین مرزائی اب ذرا سنبھل کر اس کا جواب دیں۔ اس فیصلہ کے بعد ذلیل و خوار اور ہلاک کون ہوا؟ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین یا ان کے مکذب اور مخالفین مرزا قادیانی ہلاک ہوئے یا ان کا سخت مخالف؟ ان کے مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب کو تو آپ نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کے بعد اکثر دیکھا ہو گا اب فرمائیے کہ آپ نے کس کے ہلاک ہونے کا معاینہ کیا؟ یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی نے جس رنگ کی ذلت اپنے مقابل مولوی ثناء اللہ صاحب کو دینا چاہتے تھے اسی رنگ کی ذلت اور ہلاکت مرزا قادیانی کو نصیب ہوئی یا کوئی کسر باقی رہ گئی؟ اس بیان سے خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مسیح موعود مرشد کی حالت بخوبی ظاہر ہو گئی مگر چونکہ مرزا قادیانی کی دعا کا ذکر آ گیا ہے اس لیے کچھ اور بھی بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کو تقرب الٰہی کا اس قدر دعویٰ ہے جس کی انتہا نہیں مثلاً کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا بیٹا کہا ہے یعنی بمنزلہ بیٹے کے قرار دیا ہے
(تذکرہ ص ٣٩٩۔٤٢٢ طبع سوم)
٢٤
یہ بھی ان کا دعویٰ ہے کہ میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین لاکھ سے زیادہ معجزے مجھ سے ظاہر کرائے۔
(حقیقت الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
یہ وہ دعویٰ ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کو تمام انبیاء پر فضیلت ١ کا دعویٰ ہے مگر الحمد للہ ان کے تمام دعوؤں کی حالت بیان سابق سے اہل حق پر روشن ہو گئی۔ البتہ مجھے بعض مقربان خدا کی دعا کا اثر دکھا کر مرزا قادیانی کی حالت کو زیادہ روشن کر کے دکھانا منظور ہے تا کہ معززین دکن معلوم کریں کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد مقربان الٰہی کے درجہ کو ہرگز نہیں پہنچے تھے یہ ان کے دعوے محض غلط ہیں۔
نہایت لائق دید میں یہاں بعض مقبولان خدا کی دعا کی تین مثالیں دکھاتا ہوں انھیں غور سے ملاحظہ کیجئے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مقربان الٰہی ایسے ہوتے ہیں اور ان کی دعا کا یہ اثر ہوتا ہے۔
پہلی مثال حضرت نوح علیہ السلام جب اپنے منکرین اور مخالفین کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو تنگ آ کر سیدھے سادے الفاظ میں اس طرح دعا کی رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكَافِرِیْنَ دَیَّارًا (نوح ٢٦) اے پروردگار تو کسی منکر کو دنیا میں آباد نہ چھوڑ سب کو تباہ کر دے۔‘‘
حضرت نوح کی اس معمولی دعا نے تمام مخالفوں کو طوفان سے تہ و بالا کر دیا اور ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔ اے حضرات مقبولان خدا کی دعا اپنے مخالفوں کے مقابلہ میں
١ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ میں جناب رسول ﷺ کے تین ہزار معجزے بیان کیے ہیں اور اپنے تین لاکھ سے زیادہ (حقیقت الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) اور ظاہر ہے کہ معجزات کا ظہور پیغمبر کی تائید میں اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اب جس قدر معجزات زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معلوم ہو گا۔ اس لیے مرزا قادیانی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ انھیں دعویٰ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے سو حصے میں افضل ہوں مگر عوام کو بہکانے کے لیے کہیں کہہ دیا کہ میں ظلی ہوں احمد ﷺ غلام ہوں کیا خواجہ کمال الدین ان فریب آمیز باتوں سے واقف نہیں ہیں۔
٢٥
یہ اثر دکھاتی ہے اس کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کی دعا کو اس پر ملاحظہ کیجئے کہ کس عاجزی اور منت سے اپنے ایک مخالف کے مقابلہ میں نہایت عاجزی سے دعا کی اور تمام مخلوق کے رو برو اپنے صدق اور کذب کو اس پر منحصر کر دیا مگر پھر بھی ان کے موافق قبول نہ ہوئی بلکہ ان کے سخت مخالف کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عمدہ نتیجہ اس دعا کا دکھایا کہ دنیا کے رو برو خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد جنھیں وہ مسیح موعود کہتے ہیں کذاب اور مفتری ٹھہرے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا مرزا محمود قادیانی انصاف سے فرمائیں کہ ایسے شخص خدا کے مقبول اور اس کی طرف سے مبعوث ہو سکتے ہیں جو خدا کے رو برو ایسی عاجزی کے بعد اپنے اقرار سے کذاب اور مفتری ٹھہرے۔ میں نہایت سچائی اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ ایسے شخص مقبولان خدا کی فہرست میں ہرگز مندرج نہیں ہو سکتے۔
دوسری مثال اب امت محمدیہؐ کے بعض مقبولان خدا کی دعا کا نمونہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک عہد میں مصر فتح ہوا وہاں دریائے نیل بہتا تھا قدرت خدا تھی کہ کبھی کبھی اس کا پانی رک جاتا تھا اور بہتا نہ تھا اس سے بہت نقصان ہوتا تھا ایام کفر میں وہاں یہ معمول تھا کہ جب وہ دریا رک جاتا تھا تو اس کے جاری کرنے کے لیے ایک وقت خاص پر ایک ناکتخدا لڑکی جو اپنے والدین کی اکلوتی ہوتی تھی اسے عمدہ لباس اور زیور سے آراستہ کر کے دریا میں ڈال دیتے تھے پانی جاری ہو جاتا تھا جب مصر فتح ہوا عمرو بن العاصؓ وہاں کے حاکم تھے حسب معمول اپنے وقت پر دریائے نیل بند ہو گیا وہاں کے لوگوں نے آ کر شکایت کی اور وہاں کا دستور بیان کیا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا کہ اسلام تو ایسی بد رسموں کے مٹانے کے لیے آیا ہے وہ اس کو کسی طرح جائز نہیں رکھ سکتا اس پر کچھ روز تو مسلمان خاموش رہے مگر انھیں جب بہت اندیشہ ہوا تو سب نے مصر کے چھوڑنے کا ارادہ کیا حضرت عمرو بن العاصؓ نے اس واقعہ کی خبر حضرت عمر فاروقؓ کو دی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے عمرو بن العاصؓ کو خط لکھا اور اس میں ایک پرچہ دریائے نیل کو لکھ کر رکھ دیا اس پرچہ میں لکھا تھا کہ اے نیل اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ رکا رہ اور اگر خدائے تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو میں خدا سے دعا کرتا
٢٦
ہوں کہ وہ تجھے جاری کر دے۔" حضرت عمرو ابن العاصؓ نے یہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیا اس پرچہ کے چھوڑتے ہی دریائے نیل جاری ہو گیا اور پھر کبھی بند نہ ہوا اس وقت تک حضرت عمرؓ کی دعا کا اثر لوگ دیکھ رہے ہیں۔
(تاریخ الخلفا للسیوطی ص ٩٩ طبع کراچی)
تیسری مثال امام بخاریؒ نے حضرت سعد بن وقاصؓ کی دعا کی حالت (صحیح بخاری باب وجوب القراءۃ للامام والماموم ج ١ ص ١٠٤) میں لکھی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسامہ (بن قتادہ کوفی) نے حضرت سعدؓ کی جھوٹی شکایت کی حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ خدا سے میری تین دعائیں ہیں اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو اے خدا (١) اس کی عمر دراز کر (٢) اس کو فقیر اور محتاج رکھ (٣) اس کو فتنہ میں مبتلا کر۔ اس دعا کے بعد اسامہ (بن قتادہ کوفی) کی یہ حالت ہوئی کہ بڑھاپے سے اس کی بھویں آنکھوں پر آ پڑی تھیں اور راستوں میں فاحشہ جوان لڑکیوں کے ہاتھ پاؤں دباتا پھرتا تھا۔ جب کوئی کہتا کہ یہ تیری کیا حالت ہے تو کہہ دیتا تھا کہ حضرت سعدؓ کی دعا کا اثر ہے۔"
دیکھا جائے کہ حضرت سعدؓ کوئی مبعوث من اللہ اور مجدد نہ تھے مگر ان پر معمولی غلط الزام لگانے پر ان کی بد دعا کا یہ اثر ہوا اور مرزا قادیانی ایسے تقرب الہی کے مدعی اور ان کا ایسا سخت مخالف اس کے لیے مرزا قادیانی نے نہایت عاجزی سے بددعا کی مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ ان مقبولان خدا کے حالات دیکھ کر ایمان تازہ کیا جائے اور مرزا قادیانی کے حالات تو ایسے ہیں کہ مخالفین اسلام انھیں معلوم کر کے اسلام پر مضحکہ کرتے ہیں، مولوی صاحب ممدوح کے مثل مرزا قادیانی کے ایک اور سخت مخالف ہیں۔ یعنی
- (٣) ڈاکٹر عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پنجاب صاحب تصانیف ہیں جو بیس برس
تک مرزا قادیانی کے جان نثار مرید رہے پھر واقعی حالت معلوم کر کے ان سے علیحدہ ہو گئے اور نہایت سخت مخالف ہوئے اور متعدد رسالے مرزا قادیانی کے رد میں لکھے۔ (١) اعلان الحق (٢) مسیح الدجال (٣) الذکر الحکیم۔ نمبر ٤ و ٦ یہ سب رسالے لائق ملاحظہ ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے بھی بہت سی پیشینگوئیاں کی ہیں اور مرزا قادیانی کی پیشینگوئیوں سے مقابلہ کیا ہے ایک پیشینگوئی یہ ہے کہ ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کو اللہ تعالیٰ نے مجھے
٢٧
الہاماً بتلا دیا کہ مرزا مسرف ہے۔ کذاب ہے اور عیار ہے صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ اس کی میعاد تین سال کی بتلائی گئی۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩)
یعنی میرے سامنے مرزا تین برس کے اندر ہلاک ہو جائے گا“ یہ تو ڈاکٹر صاحب کی پیشینگوئی تھی جو بالکل سچ اتری۔ اس کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ اس کے مقابل پر وہ پیشینگوئی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ”خدا کے مقبولوں میں (١) قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور (٢) وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ (٣) ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ (٤) فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا (٥) رَبِّ فَرِّقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَّكَاذِبِ اَنْتَ تَرٰی كُلَّ مُصْلِحٍ وَّصَادِقٍ. اے میرے رب تو صادق اور کاذب کے درمیان فرق کر کے دکھلا۔ تو ہر مصلح اور صادق کو دیکھتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩‘ ٥٦٠)
نیز یہ مضمون حقیقۃ الوحی کے صفحہ ٩٦-٩٨ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١-١٠٠ میں بھی ہے۔ صفحہ ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١ کے حاشیہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشینگوئی عبدالحکیم خان کی نسبت ہے۔ اس عبارت میں خدا کے مقبول بندوں کی تین علامتیں بیان کی ہیں اور پانچویں جملے میں عبدالحکیم خان کو ڈرایا ہے اور چھٹے جملے میں دعا ہے اب طالبین حق دیکھیں کہ خدا کے مقبول بندوں کی جو تین علامتیں بیان کی ہیں ان میں سے کوئی علامت مرزا قادیانی میں نہیں پائی گئی۔ کوئی بادشاہ اور صاحب جبروت ان کا معتقد نہیں ہوا۔ ہندوستان میں ایک بادشاہ نظام دکن صاحب جبروت ہیں (خلد اللہ ملکہ ) ان کے پاس صحیفہ اور رسالے بھیجے انھوں نے توجہ بھی نہ کی خواجہ کمال الدین قادیانی سعی وسفارش کے ساتھ بہت امیدیں لے کر حیدر آباد پہنچے بہ مشکل وہاں تک رسائی ہوئی اور ان کا لیکچر قرار پایا مگر شاہ دکن نے ان کے کلام پر کیسی گرفت کی اور متنفر ہو کر اٹھ گئے۔ نواب رام پور نے مناظرہ کرایا اور مرزا قادیانی سے متنفر ہوئے خصوصاً مرزا قادیانی کے اس شعر پر ۔
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
٢٨
اس میں شبہ نہیں کہ اس شعر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ایسی بے ادبی کی ہے کہ مسلمان کو خصوصاً عاشق رسول اللہ ﷺ کو اسے سن کر تحمل کرنا دشوار ہے۔ ان کے سوا کسی اور صاحب جبروت تک نہ مرزا قادیانی کی رسائی ہوئی نہ ان کے کسی مرید کی۔ تیسری اور چوتھی علامت کا نہ پایا جانا بھی ظاہر ہے۔ سلامتی کے شہزادہ ہونے کی یہ حالت ہے کہ اپنے سخت مخالفوں کے رو برو باوجود اعلانیہ دعا کرنے کے سلامت نہ رہے اور ان کے رو برو ہلاک ہو گئے اس لیے مغلوب بھی ہوئے اور مناظرہ اور مباہلہ کا بہت کچھ غل مچایا مگر جب کوئی اہل کمال متوجہ ہو گیا مرزا قادیانی اس سے بھاگے۔ پیر مہر علی شاہ صاحب سے مناظرہ ٹھہرا۔ مگر مقابلہ پر نہ آئے۔ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب سے مناظرہ شروع کیا مگر درمیان میں چھوڑ کر بھاگے ان کے مریدین کا بھی یہی حال ہے۔ اب کوئی سامنے نہیں آتا۔ پہلے بہت کچھ غل مچاتے تھے۔ یہ مرزا قادیانی کے مغلوب ہونے کی پوری نشانی ہے غرضیکہ مرزا قادیانی نے جو نشانیاں خدا کے مقبول بندوں کی بیان کی تھیں ان میں سے ایک بھی ان میں نہیں پائی گئی پھر انھیں مجدد اور مسیح ماننا کس قدر ناسمجھی اور نا عاقبت اندیشی ہے۔
پانچویں جملے میں عبد الحکیم خان صاحب کے اوپر تلواروں کا کھینچا جانا لکھتے ہیں اور یہ خدا کا قول بتاتے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی ص ٩٧ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١) میں لکھتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے کہ ”کیوں آگے بڑھتا ہے کیا تو فرشتوں کی تلواریں نہیں دیکھتا۔“ مگر اس کہنے کے بعد تو مرزا قادیانی ہی ہلاک ہو گئے ڈاکٹر صاحب تو بفضلہ تعالیٰ اب تک بخیر خوبی موجود ہیں۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ اگر فرشتوں کی تلواریں کھینچی ہوئی تھیں تو مرزا قادیانی کے لیے تھیں نہ ڈاکٹر صاحب پر۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی کہیں کہ آپ کے مرشد جو اللہ تعالیٰ کا یہ مقولہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الحکیم کے رو برو فرشتوں کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں۔ یہ خدا پر صریح افتراء ثابت ہوا یا نہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب پر تلواریں کھینچی ہوتیں تو وہ ضرور مرزا قادیانی کے رو برو مرتے۔ ان کی دعا کا نتیجہ جو کچھ ہوا وہ بھی ظاہر ہو گیا۔ الحاصل اب اس پر نظر کرنا چاہیے کہ اس پیشینگوئی کے بعد دونوں میں سے پہلے کون شخص نابود ہوا مرزا قادیانی یا ڈاکٹر صاحب؟ یہ تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کو نابود ہوئے برسیں گزر چکیں اور ڈاکٹر صاحب نہایت خیر خوبی سے بیٹھے ہوئے تصانیف کر رہے ہیں۔
٢٩
خواجہ کمال الدین مرزائی بھی اسے خوب جانتے ہوں گے اب وہ فرمائیں کہ ڈاکٹر صاحب سے زیادہ مرزا قادیانی کی توہین اور مقابلہ کس نے کیا؟ اس کے بعد وہ بتائیں کہ اس قدر سخت توہین اور مخالفت کا اثر ڈاکٹر صاحب پر کیا ہوا؟ کیا ان کو زندہ اور عمدہ حالت میں دیکھ کر بھی آپ کی دلی صداقت یہی کہی جائے گی کہ جنھوں نے مرزا قادیانی کی توہین پر کمر باندھی خدا تعالیٰ نے انھیں ذلیل و خوار کیا اور مرزا قادیانی کے سامنے وہ ہلاک ہوئے۔ کیا صداقت کے مبلغ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ تبلیغ کا دعویٰ کر کے ایسی صریح دروغ بیانیاں کسی راست باز سے ہو سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ اسے تو دنیا دیکھ رہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب زندہ موجود ہیں اگر کسی کو شک ہو تو پنجاب جا کر دیکھ لے۔ نہایت تعجب ہے کہ اسلام جیسا پاک اور سچا مذہب جس میں جھوٹ سب سے بدتر گناہ سمجھا گیا ہے جس کی نسبت جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا۔ خواجہ کمال الدین مرزائی جن کی طرف سے تبلیغ کر رہے ہیں انھیں نبوت کا دعویٰ ہے اور بہت باتیں صحیفہ آصفیہ میں ان کی نسبت ایسی بیان کی ہیں کہ وہ نبی اور رسول ہی کی شان ہو سکتی ہے دوسروں کی نہیں ہو سکتی۔ غرضیکہ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک نبی (جھوٹے) کے صحابی ہیں۔ اور مرزا قادیانی کے قول کے بموجب انھیں یہ بھی دعویٰ ہو گا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں داخل ہیں جیسا کہ خود مرزا نے اپنے مریدوں کو رحمت عالم ﷺ کے صحابہ قرار دیا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)
اور اسلام کے سچے خیر خواہ بننا چاہتے ہیں اور اشاعت اسلام کرنے کے مدعی ہیں۔ باایں ہمہ اپنے مرشد کی تعریف میں ایسا صریح کذب اپنے رسالہ میں لکھ کر بڑے فخر سے شائع کر رہے ہیں اور اپنے مرشد کی جلالت دکھا رہے ہیں۔ کیا انہوں نے سب کو ناواقف اور بیوقوف سمجھ لیا ہے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسی عظیم الشان اسلامی ریاست میں اس دروغگوئی کے ثبوت میں اور مثالیں بھی ملاحظہ ہوں۔ مرزا قادیانی کے سخت مخالف ایک
- (٣) مولوی عبدالحق صاحب غزنوی امرتسری بھی ہیں ان کی تو متعدد
تحریریں مرزا قادیانی کی تکذیب میں چھپی ہوئی موجود ہیں یہ وہ بزرگ ہیں جن سے مرزا قادیانی نے مباہلہ کیا ہے اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥۔٤٦۔٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٢٩۔ ٣٣١) میں بہت سخت الفاظ سے انھیں بار بار یاد کیا ہے اور اپنا غیظ و غضب بہت کچھ دکھایا
٣٠
ہے ۔ اس مباہلے اور غیظ و غضب کا نتیجہ یہ ہوا کہ مولوی صاحب کے سامنے مرزا قادیانی کو ہلاک ہوئے کئی برس ہو گئے اور مولوی صاحب بفضلہ تعالیٰ بخیر و خوبی اب تک موجود ہیں ۔
(٤) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ ابتدا زمانہ میں مرزا قادیانی کے دوست تھے اور ان کی شہرت کے زیادہ تر یہی باعث ہوئے ہیں مگر جب مرزا قادیانی کے دعوے حد سے زیادہ ہونے لگے اس وقت اسلامی حمیت سے یہ مخالف ہو گئے اور مرزا قادیانی کے کفر پر فتوے تمام دنیا سے آپ ہی نے لکھوایا اور جس رسالہ اشاعت السنۃ میں مرزا قادیانی کی اور ان کی براہین کی بہت کچھ تعریف کی تھی اس میں ان کے غلط دعوؤں کا برسوں اظہار کرتے رہے اور بہت کچھ الزامات دیئے مگر انھیں تو مخالفت کے بعد زمینداری مل گئی سرکار انگلشیہ نے ان کی عزت کی اور اب تک بخیر و خوبی زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کو مرے ہوئے سات برس سے زیادہ ہوئے ان کے بڑے خلیفہ بھی مر گئے ۔
(٥) مولوی سید مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ ملک پنجاب ۔ یہ بھی سخت مخالف اور مقابل مرزا قادیانی کے رہے ۔ پنجاب میں ان کے ماننے والے بہت ہیں اور کثرت سے وہاں کے مسلمان ان کے مرید ہیں مرزا قادیانی کے دعوؤں کے رد میں آپ نے دو کتابیں لکھی ہیں (١) سیف چشتیائی (٢) شمس الہدایۃ مرزا قادیانی نے آپ سے مناظرہ کرنے کا بہت غل مچایا تھا اور شاہ صاحب کے پاس خطوط اور اشتہار چھپوا کر بھیجے ۔ شاہ صاحب آمادہ ہو گئے اور تاریخ ٢٥ ماہ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور میں مناظرہ قرار پایا ۔ اور پیر صاحب ممدوح ٢٤ تاریخ کو سیالکوٹ سے لاہور پہنچ گئے مگر مرزا قادیانی نہ آئے بہت کوشش کی گئی ۔ کئی روز تک علما اور معززین رؤسائے اطراف کا بڑا مجمع رہا اور ان کے مریدوں نے بھی تار پر تار دیئے مگر مرزا قادیانی ایسے دم بخود ہو گئے کہ صدائے برخواست کا مضمون ہوا اس کی مفصل ١؎ کیفیت لائق دید ہے جس سے مرزا قادیانی کی حالت اور بہت سے ان کے مخالفین فائزین کے نام معلوم ہو سکتے ہیں اور خوجہ کمال الدین قادیانی کی اس صریح
١؎ یہ کیفیت دوسری مرتبہ عمدۃ المطابع لکھنؤ میں رسالہ کی صورت میں انجم کے ہمراہ ماہ رمضان ١٣٣١ھ میں چھپی ہے حق نما اس کا نام ہے اس میں بہت مخالفین کے نام ہیں جو کامیاب ہوئے اور مرزا قادیانی ان کے روبرو ہلاک ہوئے ۔
٣١
کذب بیانی پر خوب روشنی پڑ سکتی ہے۔ بطور نمونہ پانچ اہل علموں کے نام میں نے بیان کیے ہیں یہ پانچوں حضرات جن کا نام میں نے لکھا ہے مرزا قادیانی کے سخت مخالف رہے اور اب تک مخالف ہیں اور ایسے مخالف رہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی مخالف نہیں ہوا۔ اگر ہو گا تو اتنا ہی ہو گا۔ مگر خدا کے فضل سے ہر ایک بخیر خوبی اب تک موجود ہے اور مرزا قادیانی ہی ان کے رو برو ہلاک اور نابود ہو گئے۔ اب خواجہ کمال الدین مرزائی کی اس صحت بیانی پر نظر کی جائے جو ص ٨١ میں نہایت عموم کے ساتھ لکھتے ہیں۔ کہ جو آپ (یعنی مرزا کے) مقابل آیا ہلاک ہوا۔ کیسا صریح اور اعلانیہ جھوٹ ہے اس کے مطالعہ کے بعد مرزا قادیانی کے خلیفہ اول حکیم نور الدین قادیانی کا وہ قول ملاحظہ کیا جائے جو صحیفہ آصفیہ کے اوّل اپنے خط کے ص ٤ میں لکھتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مجدد الوقت امام (یعنی مرزا) کو مبعوث فرمایا جس نے سالہا سال کی محنت شاقہ سے ایک جماعت کو قرآن پر عمل کے لیے قائم کیا۔‘‘
اب معززین حضرات اس قول کی صداقت کا اندازہ کر لیں اور ملاحظہ کریں کہ حکیم نور الدین قادیانی اور خواجہ کمال الدین مرزائی اس جماعت کے سر دفتر اور اول درجہ کے عمل کرنے والے ہیں مگر انھوں نے ایسا صریح جھوٹا دعویٰ مشتہر کیا جس کا کذب اس وقت تک معائنہ اور مشاہدہ ہو رہا ہے اب خواجہ کمال الدین مرزائی سے دریافت کیا جائے کہ قرآن مجید پر عمل کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں؟ ایسی ہی جماعت مرزا قادیانی نے قائم کی ہے؟ افسوس صد افسوس۔
مولانا! اب فرمائیے اور ہمارے شاہ دکن زادہم اللہ عزاً ومنزلۃ سے بھی استمزاج لیجئے کہ جس قدر لکھا گیا ہے وہ خواجہ کمال الدین مرزائی اور ان کے مرشد کی حالت معلوم کرنے کے لیے کافی ہے یا نہیں؟ میرے خیال میں تو نہایت کافی ہے اور اگر آپ یا ہمارے فرمانروائے دکن یا اور معززین اس سے زیادہ کے خواہشمند ہوں تو یہ فقیر اسلامی خدمت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے حاضر ہے۔
اس میں کسی واقف کار ذی علم کو کسی طرح کا تردد نہیں ہو سکتا کہ صحیفہ آصفیہ میں جس قدر دعوے کیے گئے ہیں اور مرزا قادیانی کی تعریف کی گئی ہے وہ بالکل غلط اور محض جھوٹ ہے۔ ہر ہر بحث میں ایک مستقل رسالہ لکھا جا سکتا ہے اور ان کی غلطی اور کذب
٦٠٢
بیانی اسی طرح ظاہر ہو سکتی ہے جس طرح دوسرے نمونہ میں دکھائی گئی۔ کیا خوب ہو کہ جن اہل علموں کے نام میں نے لکھے ہیں ان میں سے کسی کو ہمارے شاہ دکن خَلَّدَ اللّٰہُ مُلْکَہٗ بلاکَر خواجہ کمال الدین مرزائی کے کذب کا معائنہ فرمالیں اور کامل طور سے ان کی حالت سے واقف ہو جائیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ جس شاہد یا مبلغ کا دروغ ایسے بین طریقہ سے ثابت کر دیا جائے تو نہ دنیاوی سرکار میں اس کا کوئی قول لائق اعتبار رہ سکتا ہے نہ دینی سرکار میں۔
اب ہمیں امید نہیں کہ کوئی فہمیدہ تعلیم یافتہ ہم سے ناخوش ہوں کیونکہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا گویا معائنہ کرا دیا ہے۔ اب اگر کوئی متوجہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے با ایں ہمہ اگر بعض تعلیم یافتہ ہم سے ناخوش ہوں تو مجبوری ہے مگر یہ سمجھ لیں کہ ڈاکٹر اور طبیب مرض کو تشخیص کر کے دوا دیتا ہے اب اگر مریض کو یا اس کے نادان ہوا خواہوں کو دوا ناپسند ہو اور ڈاکٹر کو نا ملائم کلمات کہے اور اس کی نہ سنے اور اس کے کہنے پر عمل نہ کرے تو وہ جلد ہلاک ہوگا۔
اگر خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی حالت اور زیادہ معلوم کرنا ہو تو دوسری شہادت آسمانی اور فیصلہ آسمانی در باب مسیح قادیانی ہر سہ حصہ ضرور ملاحظہ فرمائیں: ع
ہندوستان میں بلائیں آنے کی وجہ مولانا! ایک ضروری بات کہنی رہ گئی اسے بغور ملاحظہ کیجئے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی نے اس زمانہ کی نیرنگی دکھا کر مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ مرزا قادیانی کے وجود کے وقت سے اور بالخصوص ان کے دعوؤں کے زمانے سے دنیا پر خصوصاً ہندوستان پر اقسام اقسام کی آفتیں آئیں اور آ رہی ہیں کسی وقت اَمن نہیں ملتا۔ کبھی طاعون ہے۔ کبھی ملیریا ہے کسی وقت ہیضہ کی شدت ہے کہیں زلزلہ ہے طوفان ہے قحط ہے (یہ سب مرزا قادیانی کے قدم کی برکت ہے) مرزا قادیانی جس طرح اور کمالات میں بے نظیر ہیں اسی طرح دنیا پر بلائیں اور مصیبتیں لانے میں بے مثل ہیں اس تیرہ سو برس میں کسی مجدد کے وقت یہ مصیبتیں نہیں آئیں۔ اب وہ فرماتے ہیں کہ یہ سب بلائیں مرزا قادیانی کے نہ ماننے کی وجہ سے آ رہی ہیں خصوصاً حیدر آباد کے طوفان
٣٣
کا ذکر ہمارے شہر یار دکن اور معززین حیدر آباد کے ڈرانے اور دھمکانے اور مرزا قادیانی کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ انھیں ہاتھ آیا ہے۔
اس کی حقیقت کھولنے کے لیے تو تفصیلی طور سے تاریخی واقعات بیان کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے دکھانے کی کہ دنیا کے دانشمندوں نے اپنے اپنے خیال کے بموجب تغیرات عالم کے اسباب بیان کیے ہیں مگر اس میں طول ہو جائے گا کیونکہ اس میں دکھایا جائے گا کہ صحابہ کرام کے وقت سے لے کر اس وقت تک مثلاً طاعون کس کس وقت ہوا اور کس زور وشور سے ہوا اور کون کون اور کتنے مقبولان خدا اور ان کی اولادیں اس میں شہید ہوئیں اور طوفان کیسے کیسے آئے اور وہ آفتیں کس وجہ سے آئیں اس وقت میں کسی مجدد اور مبعوث کا انکار اس کا باعث ہوا۔ یا اس وقت کوئی مدعی نہ تھا۔ مگر سخت آفت آئی۔ یہ ایک طولانی بحث ہے اس لیے اس وقت میں لکھنا نہیں چاہتا بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے وقت ان بلاؤں کی ابتدا ہوئی اور جس قدر ان کی کوشش اور شہرہ زیادہ ہوتا گیا اور ان کے ماننے والوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ اسی قدر اقسام کی آفتیں زیادہ ہوتی گئیں اور جاننے والے خوب واقف ہیں اور معائنہ کرنے والے دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام آفتیں عام ہیں اس میں مرزا قادیانی کے ماننے والے اور نہ ماننے والے سب شریک ہیں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے۔ سب کے لیے طاعون ہے اور سب کے لیے قحط ہے اور بیماریاں ہیں۔ جس طرح نہ ماننے والے مبتلا ہوئے اور ہوتے ہیں اسی طرح ان کے ماننے والے بھی۔ جس طرح بعض وقت بہت مسلمان اور خاص مقامات مثلاً طاعون کی آفت سے محفوظ رہے اور اب تک محفوظ ہیں۔ اسی طرح قادیان بھی کچھ عرصہ تک محفوظ رہا جس کی وجہ سے مرزا قادیانی نے پیشینگوئی کرنا شروع کر دی اور اپنے مکان کے وسیع کرنے کے لیے چندہ مانگنے کا انھیں موقع مل گیا اور خوب زور سے دعویٰ کیا کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے‘‘
(دافع البلاء ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
اس میں صاف طور سے رسول خدا ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر ان کی یہ پیشینگوئی اور ایسا عظیم الشان دعویٰ غلط ثابت ہوا اور ایک وقت ایسا آیا کہ طاعون نے قادیانی رسول کے
٣٤
تخت گاہ میں نزول اجلال فرما کر ایک مہینے کے اندر بہتوں کو فنا کر دیا۔ اس وقت مرزا قادیانی کی فریب آمیز ١ باتیں بنانی قابل دید ہیں۔
جب یہ آسمانی آفتیں سب میں مشترک ہیں تو یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ آفتیں ان کے نہ ماننے کی وجہ سے ہیں اگر ایسا ہوتا تو وہ قادر مطلق انھیں ضرور بچاتا جو مرزا قادیانی کو مان چکے تھے۔ جس طرح طوفان نوح کے وقت میں منکرین ڈوبے اور جس قدر ایمان لائے تھے وہ سب محفوظ رہے کیونکہ اگر وہ آفت کسی عالی شان بزرگ کے نہ ماننے کی سزا ہے تو جو اس جرم سے محفوظ ہیں ان پر وہ سزا نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ منکرین کے سامنے ماننے والوں کی ایسی عزت کرنا ہدایت کا نہایت عمدہ طریقہ ہے اگر لوگ پے در پے اس حالت کو دیکھتے ٢ تو ہزاروں کیا لاکھوں ان کے ماننے پر ٹوٹ پڑتے مگر ایسا نہیں ہوا جس سے ثابت ہوا کہ ان کا ماننا دنیا میں بھی نافع نہ ہوا اور یہ بلائیں ان کے نہ ماننے کی وجہ سے نہیں ہیں۔
ہندوستان میں بلائیں آنے کی اصلی وجہ
اس لیے اب یہ فقیر کہتا ہے کہ بلاؤں کا آنا اس وجہ سے ہوا اور ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں رہی خصوصاً اس فتنہ عظیم کے دفع کرنے میں نہ پہلے کوشش کی اور نہ اب کرتے ہیں۔ اور کوشش کرنا کیا معنی ادھر انھیں خیال بھی نہیں ہوا اور نہ اب تک ہے۔ اس گروہ کی کوشش کو دیکھیے کہ تمام دنیا میں ان کی طرف سے تبلیغ کرنے
١ کشتی نوح کا صفحہ ٢ و ٤ و ١٠ خزائن ج ١٩ ص ٢۔٤۔١٠ دیکھا جائے صفحہ ٢ میں اس پیشینگوئی کو مقید کرتے ہیں اور لکھتے ہیں مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پوری طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہو سکتی ہے۔“ (کشتی نوح ص ٢ خزائن ج ١٩ ص ٢) یہ دونوں باتیں قابل لحاظ ہیں اگر طاعون میں تمام قادیان تباہ ہو جائے تب بھی مرزا قادیانی پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ خدا کے علم میں مخفی وجہ تو ایسی عام ہے کہ پیشینگوئی کرنے والا کسی طرح جھوٹا نہیں ہو سکتا اس طرح کی پیشینگوئی ہر شخص کر سکتا ہے مگر یہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد ہی کی ہمت ہے کہ ایسی فریب آمیز پیشینگوئی کر کے مکان فراخ کرنے کے لیے چندہ مانگتے ہیں رسالہ مذکورہ کا صفحہ ٦، ٧ دیکھا جائے۔
٢ یعنی نہ ماننے والوں پر بلائیں آئیں اور ماننے والے محفوظ رہے۔
٣٥
والے مرد اور عورتیں پھرتی ہیں اور سب کو وہ تنخواہ دیتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کو دیکھئے کہ ساری دنیا میں دورہ کر رہے ہیں اور کس ترکیب سے چندہ وصول کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ ہماری طرف سے دو چار شخص بھی اس فتنہ کو روکنے کے لیے اور نادانوں کو سمجھانے کے لیے کوئی مقرر نہیں کرتا۔ ہاں خواجہ کمال الدین مرزائی کو ہزاروں روپیہ دیا جاتا ہے اس خیال پر کہ وہ تبلیغ اسلام کریں گے مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کے مرشد نے باوجود عظیم الشان دعوؤں کے اور اس کہنے کے کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دوں گا (حوالہ گزر چکا ہے) مگر کچھ نہیں کیا دس بیس تثلیث پرست بھی ان کی وجہ سے مسلمان نہ ہوئے۔ خواجہ کمال الدین مرزائی کے پیر مرشد (جنہیں وہ مسیح موعود کہتے ہیں) جب ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے اور معلوم ہوا کہ وہ سب دعوے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تھے تو ان کے مرید کے دعوؤں پر کون صاحب عقل واقف کار اعتماد کر سکتا ہے؟
اے حضرات مسلمانوں کو اسلام پر قائم رکھنا بہت زیادہ ضروری ہے اس سے کہ غیر مسلمانوں کو مسلمان بنایا جائے اس پر غور کرو کہ مرزا قادیانی کے فتنہ کی وجہ سے حقیقی اسلام میں کس قدر رخنہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں ہے صحبت کے اثر نے دل کو مردہ کر دیا ہے۔ حق و باطل میں انھیں تمیز دشوار ہو گئی ہے اس وجہ سے تھوڑے ہی عرصے میں مسلمانوں میں کئی گروہ ہو گئے تیرہویں صدی کے وسط میں علی محمد بابی ایران میں ہوا اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا عبدالبہاء اس کا خلیفہ تمام یورپ اور ایشیائے کوچک میں اپنا مذہب پھیلا رہا ہے ہندوستان میں بھی اسے مسلمان مان رہے ہیں۔ رنگون، کلکتہ، بمبئی، چھپرہ وغیرہ میں اس کے ماننے والے موجود ہیں پنجاب میں ایک گروہ قرآنی ہے دوسرا گروہ قادیانی ہے ان میں کئی گروہ ہو گئے ہیں۔ یہ سب گروہ اسلام کا نام لے کر اور مسلمانوں کو متوجہ کر کے اسلام کو پلٹ دینا چاہتے ہیں۔ مگر خاص ہندوستان میں قادیانی گروہ کی زیادہ کوشش ہے۔ اس لیے اس گروہ کے لوگ یہاں زیادہ ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت میں اور مسلمانوں کے ایمان تباہ کرنے میں نہایت کوشاں ہیں۔
اب ہمارے برادران اسلام میں تین طبقہ کے لوگ ہیں۔ علماء امراء عامتہ
٣٦
المسلمین۔ ان میں سے بجز معدود حضرات کے کسی کو توجہ نہیں دیکھی گئی اور نہ سنی گئی علماء نے تو کہہ دیا کہ بے حقیقت ہیں توجہ کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ بعض اوروں نے بھی ایسا ہی کہہ دیا۔ تعلیم یافتہ کہنے لگے کہ کلمہ گو ہیں ان سے لڑائی فضول ہے۔ ہاں پنجاب کے بعض اہل علم کچھ دنوں متوجہ رہے اور بعض اب بھی کچھ کرتے ہیں مگر ان کی کوشش ایسی نہیں ہے کہ ساری دنیا یا تمام ہندوستان ہی کے لیے کافی ہو با ایں ہمہ جو انھوں نے کیا اور کر رہے ہیں لائق آفرین ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ وہ کوشش محض ناکافی ہے۔
وہ ضروری امر جس سے بے توجہی ہوئی
ہندوستان کے علماء کو چاہیے تھا کہ متفق ہو کر مختلف مقامات پر اس فتنہ کے فرو کرنے کی تدبیریں کرتے رسائل تصنیف کیے جاتے۔ اخبار رسالے ہفتہ وار ماہوار جاری ہوتے ان میں شائستہ طور سے مضامین ہدایت لکھے جاتے اطراف میں دیہات میں اہل علم عام مسلمانوں کے خیال درست رکھنے کے لیے بھیجے جاتے اور عام اہل اسلام خصوصاً امرا ان کی مدد کرتے مگر ایسا نہیں ہوا اور اس فتنہ کو کسی نے نہیں روکا اور ایک دو شخص کے روکنے کا کام تھا بھی نہیں۔ اس لیے یہ بلائیں آئیں اور آ رہی ہیں۔ حیدرآباد میں خاص طور کا طوفان آیا۔ جس کا اثر تمام رعایا پر ہی نہیں پڑا بلکہ وہاں کے بادشاہ رعایا پرور پر بھی بہت کچھ اثر ہوا۔ اس کی وجہ یہی ہوئی کہ وہاں کے فرمانروا مسلمان تھے۔ وہاں کے مقتدر معززین بھی دربار رحمتہ للعالمینؐ کے خدام اور ان کے مقدس مذہب کے خادم اور ماننے والے ہیں۔ انھیں ہر طرح کی قدرت تھی کہ اس فتنہ کے فرو کرنے کی طرف متوجہ ہوتے اگر وہ چاہتے تو تمام ہندوستان میں اثر پھیلا کر اس فتنہ کو روکتے اور کم از کم ادنیٰ مرتبہ یہ تھا کہ اپنی ریاست میں اس مرزائی فتنہ کو نہ آنے دیتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایسی عظیم الشان ریاست جس میں علما اور مشائخ کثرت سے ہیں بجز ایک مخصوص ذات کے کسی نے خیال بھی نہ کیا۔ کسی نے وہاں کے ظل اللہ فرمانروا کو اس فتنہ کے فرو کرنے کی طرف توجہ نہ دلائی اس لیے اس گروہ کے بعض حضرات کو یہ ہمت ہوئی کہ ایک حیلہ بنا کر ریاست میں پہنچے اور ہلچل مچا دی اور صحیفہ تقسیم کر کے گمراہی کی تبلیغ شروع کر دی ان کے دوسرے برادر جو اب خلیفہ کہلاتے ہیں قادیان سے تحفۃ الملوک بھیج رہے ہیں۔ یہ معززین ریاست کی بے
٣٧
توجہی کا نتیجہ ہے۔ البتہ ہمارے مولانا محمد انوار اللہ خان صاحب بہادر نے ہمت کی اور بڑی کتاب لکھی اور بہت کچھ صرف کیا اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر دے۔ مگر اس کام کے لیے جو باتیں ضروری تھیں ان کی طرف مولانا کو بھی خیال نہیں ہوا اور یہ کام بھی ایک شخص کے کرنے کا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جیسے شخص کی ضرورت تھی اور ہے وہ اور قسم کے حضرات ہیں۔ دیکھا جائے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی ایک ہی شخص ہیں اور ان کے چند ہم خیال ان کے معین ہو گئے ہیں اس لیے باوجود دھوکا دینے کے حیدر آباد جیسی اسلامی ریاست میں مسیح قادیانی کی مسیحیت کا رنگ جمانے کی کوشش کی اور اپنی خاص مصلحت کی باتیں بنا کر مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں زور لگایا مگر الحمد للہ کہ ہمارے فرمانروائے دکن (دام اقبالہ و حشمہ ) نے ان کی فریب آمیز باتوں کا احساس کر کے ان کا رنگ جمنے نہ دیا اور ناکام تشریف لے گئے۔
اب میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ اگر اب بھی اپنے دین کے سنبھالنے میں کوشش نہ کی اور مرزا محمود قادیانی یا خواجہ کمال الدین مرزائی کی چرب زبانی اور لن ترانیوں میں آگئے تو مرنے کے بعد جو آفتیں دیکھیں گے انھیں تو وہ خود ہی معائنہ کریں گے اور برداشت کریں گے۔ مگر نہایت خوف اس کا ہے کہ عجب نہیں کہ دنیا ہی میں پھر ویسی ہی بلا یا اس سے بھی کچھ زیادہ آئے جیسی آچکی ہے کیونکہ آفتیں دیکھ کر بھی متوجہ نہیں ہوتے اور عبرت نہیں پکڑتے اپنے بہی خواہوں کی باتوں کو دل سے نہیں سنتے۔
خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی باتیں ایسی نہیں جن کے غلط ہونے میں کسی قسم کا تردد ہو۔ ذرا خوف خدا دل میں لا کر وہ رسالے دیکھیں اور انھیں شائع کریں۔ جن میں مرزا قادیانی کی حالت کو آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا ہے ان رسالوں کو دیکھ کر معلوم کریں گے کہ مرزا قادیانی نے اسلام کی خیر خواہی میں کیسے کیسے دعوے کر کے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ کبھی کہا کہ میں تثلیث پرستی کے ستون کو توڑ دوں گا۔ کبھی دعوے کیا کہ ”سات برس کے اندر اسلام میں نمایاں ترقی میرے سبب سے نہ ہو۔ تو میں جھوٹا ہوں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣١۔ ٣٥ خزائن ج ١١ ص ٣١٥۔ ٣١٦)
اس کہنے کے بعد بارہ برس زندہ رہے مگر جو کچھ کیا وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے مرید کو ویسا ہی خیال نہ کیا جائے جو رسالے ان کی حالت کے بیان میں
٣٨
لکھے گئے ہیں ان میں فیصلہ آسمانی ہر سہ حصہ اور حقیقۃ المسیح اور دوسری شہادت آسمانی اگر چہ چھوٹے چھوٹے رسالے ہیں مگر نہایت کافی ہیں۔ البتہ ہزار دو ہزار کے چھپنے سے کیا ہوتا ہے ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان شمار کیے جاتے ہیں۔ پھر ایسی عظیم الشان جماعت کے لیے یہ مقدار کیونکر کافی ہو سکتی ہے۔ مولانا محمد انوار اللہ خانصاحب کی افادۃ الافہام بڑی کتاب ہے یہ کتاب مرزا قادیانی کے مایہ فخر رسالہ ازالۃ الاوہام کا نہایت عمدہ جواب ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اس کے بڑے ہونے کی وجہ سے لوگ اس سے استفادہ نہ کر پائے۔
خواجہ کمال الدین کے مرشد کی سوانح عمری
آخر میں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد مرزا قادیانی کے چند دعوے نقل کیے جائیں جن سے ان کی مجمل حالت معلوم ہو سکے اور اگر مرزا قادیانی کی مفصل سوانح عمری معلوم کرنی ہو تو حکیم مظہر حسین صاحب سیالکوٹی نے ایک کتاب لکھی ہے ”چودہویں صدی کا مسیح“ اس کا نام ہے اسے دیکھیں چونکہ اس وقت میں اکثر حضرات کو خصوصاً نئے تعلیم یافتوں کو ناول دیکھنے کا زیادہ شوق ہے اس لیے حکیم صاحب نے ان صحیح واقعات کو ناول کے طریقہ سے لکھا ہے قابل دید رسالہ ہے پانچ سو صفحے سے زیادہ کا ہے اس کے دیکھنے سے خواجہ کمال الدین مرزائی کے مرشد کی پوری حالت معلوم ہو جاتی ہے نہایت مناسب اور باعث اجر عظیم ہے کہ ہمارے شاہ دکن اسے طبع کرا کے اپنی ریاست میں مشتہر کریں۔ میں یہاں مرزا قادیانی کے بعض دعوے مختصر طور سے انھیں کی کتابوں سے نقل کرتا ہوں مگر طوالت کے خیال سے ان کی پوری عبارت نقل نہیں کی گئی مختصر دعویٰ لکھا گیا ہے۔ صرف ان دعوؤں سے ان کی حالت معلوم ہو جائے گی مرزا قادیانی نے آہستہ آہستہ اپنے دعوؤں میں ترقی کی ہے جس قدر مسلمان انھیں مانتے گئے اسی قدر وہ دعوؤں میں ترقی کرتے گئے۔
- (١) مرزا قادیانی کے دعوے پہلے مجدد اور امام وقت اور مثیل مسیح ہونے کا
دعویٰ تھا (ازالہ ص ١٩٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٧) اور مسیح موعود ہونے سے انکار (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
- (٢) اس کے بعد مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہوا (خزائن کی تمام جلدوں کا ٹائیٹل
٣٩
ملاحظہ ہو جس میں مسیح موعود و مہدی موعود کا القاب واضح لکھے ہوئے ہیں ) اور ظلی اور جزوی نبوت کے مدعی ہوئے (توضیح مرام ص ١٩ خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- (٣) میں تمام امت محمدیہؐ سے افضل ہوں مرتبہ نبوت میرے سوا کسی کو نہیں دیا گیا۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
یعنی حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم اور حضرت محبوب سبحانی غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اولیائے کرام سے بہت بڑھ کر ہوں۔ قرۃ العینین رسول الثقلین حضرات امامینؓ کی نسبت تو اپنی فضیلت اس طرح بیان کی ہے جس سے جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ کی تحقیر تو ہوتی ہی ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کہنے والے کو حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ مثلاً ان کا ایک فارسی کا شعر تو پہلے نقل کیا گیا ہے جس کا مصرع ثانی یہ ہے۔
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
بھائیو کوئی عاشق رسول جس کے دل میں سید المرسلین ﷺ کی کامل عظمت بیٹھی ہو اس کی زبان قلم سے ایسا مصرع نکل سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ان کے بعض عربی کے شعر ملاحظہ کیے جائیں ؎
اَقُوْلُ نَعَمْ وَاللّٰهُ رَبِّیْ سَیُظْهِرُ
یعنی ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ مرزا اپنے آپ کو امام حسینؓ اور امام حسنؓ پر فضیلت دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں فضیلت دیتا ہوں خدا کی قسم میرا پروردگار عنقریب ظاہر کر دے گا۔ یعنی میری فضیلت اور بزرگی دنیا پر ظاہر ہو جائے گی۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٥٢ خزائن ج ١٩ ص ١٤٣)
خواجہ کمال الدین مرزائی فرمائیں کہ اس وقت تک اس پیشینگوئی کا کیا ظہور ہوا؟ اہل علم و فہم اس پر غور کریں کہ مقابلہ میں حضرت امامینؓ پر اپنی فضیلت کا دعویٰ کر کے یہ کہنا کہ میرا پروردگار اس کو ظاہر کر دے گا یہ ثابت کر رہا ہے کہ ہمارا مخالف جن کی فضیلت کو مان رہا ہے جن کی فضیلت رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے میں اللہ
٤٠
کا پیارا ہوں میری فضیلت کو وہ عنقریب ظاہر کر دے گا۔ دوسرا شعر ان کا یہ ہے ۔
فَاِنِّیْ اُیَّدُ کُلَّ انِ وَّانْصَرُ
یعنی مجھ میں اور تمھارے حسین میں بہت فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مجھے تو ہر لحظہ اللہ کی تائید اور اس کی مدد ہو رہی ہے۔
اِلٰی هٰذِهِ الْاَیَّامِ تَبْکُوْنَ فَانْظُرُوْا
اور تم اپنے حسین کے دشت کربلا کو یاد کرو۔ جس کی وجہ سے تم اب تک رویا کرتے ہو۔
(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
اس میں غور کرو کہ وہ کس مصیبت سے مارے گئے اور ہم کس عیش و آرام میں ہیں۔ اسی قسم کے اور بھی اشعار ہیں سب کے نقل کرنے سے دل بیتاب ہوتا ہے ان دونوں شعروں نے فیصلہ کر دیا کہ خواجہ کمال الدین قادیانی کے پیر مرشد (مرزا قادیانی) کو جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ یعنی حضرت امام حسینؓ سے کچھ واسطہ نہیں ہے کیونکہ صاف کہہ رہے ہیں کہ مجھ میں اور تمھارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسینؓ ہمارے ہیں ان کے نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ حضرت کی مظلومیت کا ہمیں رنج و غم ہے انھیں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کو حضور سرور دو عالم ﷺ کے جگر گوشہ اور آپؐ کے محبوب جنھیں آپؐ نے اہل جنت کا سردار فرمایا ہے ان سے واسطہ نہیں ہے تو نہایت روشن ہو گیا کہ انھیں حضور سرور عالم ﷺ سے بھی دلی رابطہ نہیں ہے۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر حضور انور ﷺ سے دلی رابطہ ہوتا تو آپؐ کے نواسہؓ کی نسبت ایسی بے ادبی کے الفاظ ان کے قلم سے کبھی نہ نکلتے اور ان کے مقابلہ میں اس طرح اپنی فضیلت کا اظہار نہ کرتے۔ اب دوسرے مقامات پر واسطہ بیان کرنا اور کہیں اپنے کو حضور انور ﷺ کا ظل کہنا اور کہیں تعریف کرنا صرف اس لیے ہے کہ مسلمان ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہمیں اپنا مقتدا مانیں اور ہمارے لیے اپنی جان و مال کو وقف کریں کیونکہ اس وقت تک مسلمانوں کے سوا کسی اہل مذہب نے انھیں نہیں مانا صرف مسلمان ہی ان کے دام میں آئے اب اگر حضور انور ﷺ کی تعریف کر کے انھیں خوش نہ کریں تو وہ بھی ہاتھ سے نکل جائیں مگر کہیں کہیں ان
٤١
کا دلی خیال ظاہر ہوتا ہے۔
- (٤) صاحب شریعت نبی ہوں۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
جناب رسول اللہ ﷺ میں اور مجھ میں کچھ فرق نہیں ہے جس نے فرق کیا اس نے مجھے نہیں پہچانا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
جس نے مجھے قبول نہیں کیا جہنمی ہے۔
(تذکرہ ص ١٦٣ و ٣٢٦)
مرزا کا منکر کافر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
پہلے جناب رسول اللہ ﷺ کے خادم اور ظل ہونے کا دعویٰ تھا اس کے بعد برابری کا دعوے ہوا اور متعدد آیتیں اور بعض حدیثیں جو جناب رسول اللہ ﷺ کی مدح میں آئی ہیں انھیں مرزا قادیانی نے اپنے لیے بتایا ہے۔
- (٥) بعض انبیاء سے افضل ہوں اس رسالہ میں لکھا گیا ہے کہ مرزا قادیانی
کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام سے ہر شان میں بہت بڑھ کر ہوں۔“
اب خواجہ کمال الدین قادیانی فرمائیں کہ انھیں اپنے مرشد کے اس قول پر ایمان ہے یا نہیں اگر ایمان ہے تو آپ کا یہ کہنا کہ ہم انھیں نبی نہیں مانتے بالکل غلط ہے آپ ضرور انھیں نبی مانتے ہیں کیونکہ یہ نہایت ظاہر ہے کہ کوئی غیر نبی ایسے عظیم المرتبت نبی پر فضیلت نہیں رکھ سکتا آپ جب انھیں حضرت مسیح ؑ سے افضل مانتے ہیں تو انھیں نبی ضرور مانتے ہیں مگر دنیاوی مصلحت سے دلی اعتقاد کے خلاف ظاہر کرتے ہیں۔
اس دعوے کے اثبات میں مرزا قادیانی نے (حقیقۃ الوحی ص ١٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩) میں لکھا ہے کہ ”جب خدا نے اور اس کے رسولؐ نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“
اس قول کا صاف مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اس کے رسول نے حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کا مسیح یعنی مرزا حضرت مسیح ؑ ابن مریم سے افضل ہے اسی طرح تمام انبیاء نے فرمایا ہے اور یہ فرمانا ان کا اس مسیح کے کارناموں کی وجہ سے ہے یعنی وہ ایسے بڑے بڑے کام کرے گا جو حضرت مسیح ؑ ابن مریم نے نہیں کیے اس قول میں چار دعوے ہیں۔
٤٢
- (١) آخر زمانہ کے مسیح کو اللہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیا ہے۔
اب خواجہ کمال الدین مرزائی یا مرزا محمود قادیانی خدا کا وہ کلام دکھائیں جس میں یہ مضمون لکھا ہے۔ قرآن مجید جو ہمارے اور تمام امت محمدیہ کے ہاتھ میں ہے اس میں تو یہ مضمون کہیں نہیں ہے۔
- (٢) دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ خدا کے رسول نے اسے افضل قرار دیا ہے۔ یہ قول
کسی حدیث میں ہونا چاہیے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ دونوں صاحب وہ حدیث دکھائیں جس میں یہ ارشاد جناب رسول اللہ ﷺ کا ہو۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ قیامت تک کوئی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتے جس میں یہ مضمون ہو۔
- (٣) تیسرا دعویٰ یہ ہے کہ تمام نبیوں نے بھی کہا ہے کہ آخر زمانہ کا مسیح حضرت
مسیح ابن مریم سے افضل ہو گا۔ یہاں بھی ہم اس کہنے پر مجبور ہیں کہ خواجہ کمال الدین قادیانی بتائیں کہ وہ تمام انبیاء کا قول کہاں ہے کس زمین و آسمان پر وہ کتاب ہے؟ جس میں تمام انبیاء کا یہ قول لکھا ہے مگر یہاں بھی ہم نہایت استحکام سے کہتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین قادیانی کیا ان کے تمام معین و مددگار کوشش کریں تو ہرگز نہیں دکھا سکتے کیونکہ یہ دعوے اور پہلے دونوں دعوے محض غلط اور بالکل جھوٹ ہیں۔
- (٤) آخری زمانہ کے مسیح کے بڑے کارنامے ہوں گے۔ یعنی اسلام کے
فائدے کے وہ بڑے بڑے کام کرے گا اور اسلام کو بہت کچھ نفع پہنچائے گا۔
اب خواجہ کمال الدین قادیانی اور مرزا محمود قادیانی دکھائیں کہ وہ کون سے کارنامے ہیں جو مرزا قادیانی نے دکھائے اور اسلام کو کیا فائدہ پہنچایا اور وہ فائدہ اس قسم کا ہو کہ حضرت مسیح ؑ اور دوسرے بزرگوں نے نہ دکھایا ہو۔ البتہ مرزا قادیانی کے وہ کارنامے جو حضرت مسیح ؑ ابن مریم نے نہیں دکھائے وہ چند معلوم ہوتے ہیں ایک یہ کہ حضرت مسیح نے نکاح نہیں کیا اور کسی سے نکاح کرنے کی خواہش بھی ظاہر نہیں کی اور مرزا قادیانی نے کئی نکاح کیے اور ایک نکاح کی آرزو میں مر گئے مگر وہ بیوی میسر نہ ہوئی دوسرے یہ کہ اپنی جھوٹی تعریف میں بہت دفتر سیاہ کیے اور بذریعہ خطوط اور اخبارات اور رسائل اور کتابوں کے اپنے آپ کو بہت کچھ مشہور کیا اور اسی قسم کی باتیں لکھیں جن کا نمونہ میں نے اس رسالہ میں دکھایا ہے تیسرے یہ کہ متعدد طریقے نکال کر چندہ کا غل مچایا مسلمانوں سے
٤٣
روپیہ لیا اور اپنی خواہش میں صرف کیا۔ یہ باتیں البتہ حضرت مسیح ؑ نے نہیں کیں اگر ان کارناموں سے مرزا قادیانی افضل ہو سکتے ہیں تو خدا اور اس کے رسول پر افتراء پردازی کے علاوہ عقل انسانی سے بھی دست برداری کرنا ہو گی کیونکہ عقل سلیم ان باتوں کو سچے نبی کے کارنامے نہیں کہہ سکتی بلکہ نفسانی خواہشوں کا پورا کرنا اس کو کہا جاتا ہے جس طرح بعض جھوٹے مدعیوں کو کہا گیا ہے۔
اب خواجہ کمال الدین قادیانی سے دریافت کیجئے کہ اگر مذکورہ قول کو آپ سچا سمجھتے ہیں تو ان چاروں دعوؤں کو یکے بعد دیگرے ثابت کیجئے اور اگر ثابت نہیں کر سکتے اور اس میں شبہ نہیں کہ وہ ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ دعوے بالیقین غلط ہیں پھر ایسے جھوٹے مدعی مجدد اور مسیح موعود ہو سکتے ہیں؟ انہیں کی تبلیغ صحیفہ آصفیہ میں کی گئی ہے؟ انہیں کے جھوٹے نشانات دکھائے گئے ہیں افسوس صد افسوس ذرا ہوش کر کے جواب دیجئے۔
- (٦) چھٹا دعویٰ یہ ہے کہ میں افضل الانبیاء ہوں یعنی حضرت سید المرسلین محمد
مصطفےٰ ﷺ سے بھی افضل ہوں۔ مگر چونکہ جانتے ہیں کہ مسلمان اس لفظ کے کہنے سے برہم ہو جائیں گے اس لیے صاف طور سے ان لفظوں میں یہ دعویٰ نہیں کیا مگر ان کے اور دعوے اور الہامات موجود ہیں جن سے صاف طور سے یہ دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔
- (١) ان کا ایک الہام لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ
(تذکرہ ص ٦١٤)
اوپر بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہی ہے کہ تمام انبیا اور ان کے کمالات میرے طفیل ہیں کیونکہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کو میرا پیدا کرنا تھا میرا وجود تمام انبیاء اور اولیاء کے وجود کا سبب ہوا۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ تمام اشیاء کا وجود میرے طفیل سے ہوا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ بھی داخل ہیں۔ جب سب کا وجود مرزا قادیانی کا طفیلی ہوا تو کمالات تو وجود کے تابع ہیں اس لیے وہ بھی طفیلی ہوں گے اس کے بعد اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اپنے الہام کو مثل قرآن مجید کے یقینی بتاتے ہیں تو اب دونوں قولوں کے ملانے سے یہ نتیجہ ضرور ہو گا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں جناب رسول اللہ ﷺ سے اور تمام انبیاء سے افضل ہوں اور میرا افضل ہونا ایسا یقینی ہے جیسے مضامین قرآن مجید یقینی ہیں۔
- (٢) مرزا محمود نے رسالہ حقیقۃ النبوۃ (ص ٹائیٹل) کے شروع میں نزول المسیح
٤٤
سے مرزا قادیانی کے تین شعر نقل کیے ہیں وہ ملاحظہ ہوں ۔
(٢) انبیا گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم ز کسے
(٣) کم نیم ز ان ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص ١٠٠، ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨، ٤٧٧)
ان شعروں میں دو طریقے سے مرزا قادیانی اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں کیونکہ پہلے شعر میں کہتے ہیں کہ جو فضل و کمال ہر ایک نبی کو دیا گیا وہ سب مجھے دیا گیا۔ جب تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہوئے تو بالضرور سب سے افضل ہوئے۔ تیسرے شعر میں کہتے ہیں کہ یہ یقینی بات ہے کہ میں تمام گذشتہ انبیاء سے کم مرتبہ نہیں ہوں سب انبیاء کے کمالات کا میں جامع ہوں جو کوئی میرے اس دعوے کو جھوٹا سمجھے وہ مردود ہے خدا کی لعنت اس پر ہے۔ جب کسی سے کم نہیں ہیں تو ہر ایک کے فضائل کے جامع ہوئے جب سب کے فضائل ان میں جمع ہیں تو سب سے افضل ہوئے غرضیکہ تمام انبیاء کرام جو مرزا قادیانی سب سے پیشتر گزرے ہیں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سید المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ تک سب سے مرزا قادیانی اپنے آپ کو افضل کہتے ہیں اور اس کی تائید اس شعر سے بخوبی ہوتی ہے جو مرزا محمود نے اپنے رسالہ حقیقۃ النبوۃ (ٹائیٹل) کے سرعنوان پر لکھا ہے اور اسے الہامی قرار دیا ہے وہ شعر یہ ہے
بدو رانش رسولان ناز کرد ند
(ٹائیٹل) جب ان کا یہ مرتبہ ہے کہ پیغمبروں نے ان پر ناز کیا ہے تو ان کے مرتبہ کا کیا ٹھکانا ہے ان کے افضل الانبیا ہونے میں مرزائیوں کو کیا شک ہو سکتا ہے۔ اب بمصلحت کوئی زبان سے نہ کہے یا انکار کرے۔
- (٣) ایک عظیم الشان الہام انکا یہ ہے کہ مجھے کُنْ فَیَکُوْنُ کا اختیار دیا گیا۔
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
زمین و آسمان میں جو کرنا چاہوں وہ کر سکتا ہوں یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کے صرف کہہ دینے سے ہر ایک چیز موجود ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے کہہ دینے
٤٥
سے ہر ایک چیز ہو سکتی ہے۔ غرضیکہ خدا کے اختیارات مرزا قادیانی کو مل گئے۔ یہ الہام کسی نبی کو نہیں ہوا سب اپنے کو عاجز سمجھتے رہے اور کہتے رہے۔ بہرحال جب خدائی کے اختیارات ملنے کا انھیں دعویٰ ہے تو اگر یہ دعویٰ صحیح مان لیا جائے تو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ افضل الانبیاء ہیں کیونکہ یہ ایسا عظیم الشان دعویٰ ہے کہ کسی نبی نے نہیں کیا اور خدائی کے اختیارات کسی کو نہیں ملے بلکہ قرآن مجید وحدیث میں بہت جگہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا عجز ظاہر فرمایا ہے۔ مثلاً کفار معجزہ طلب کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب دینے کو اسطرح تعلیم فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۔ (بنی اسرائیل۔ ٩٣) یعنی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں بجز ایک بشر اور رسول ہونے کے اور کچھ نہیں ہوں یعنی مجھ میں قدرت نہیں ہے کہ خود معجزہ دکھاؤں۔ یہ تعلیم صریح اس الہام كُنْ فَيَكُوْن کے خلاف ہے۔ اس الہام میں تو ہر بات کا اختیار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اِذَا اَرَدْتُ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
یعنی جب کسی چیز کے ہو جانے کا تو ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا وہ فوراً ہو جائے گی جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسا نہیں کہا گیا بلکہ یہ تعلیم ہوئی کہ اپنے عجز کا اظہار کر دے۔ نمونے کے لیے اس قدر لکھنا کافی ہے جن صاحب کو تفصیل دیکھنا منظور ہو وہ رسالہ دعویٰ نبوت ١ مرزا دیکھیں اس میں ان کے دعویٰ نبوت کو زیادہ بیان کیا گیا ہے اس میں شبہ نہیں کہ مرزا قادیانی کو نبوت کا بلکہ افضل الانبیاء ہونے کا ایسا صاف وصریح دعویٰ ہے اور مختلف عنوان سے اس دعوے کا اظہار انھوں نے کیا ہے کہ ان کا ماننے والا اس سے انکار نہیں کر سکتا اور جو انکار کرتا ہے وہ پالیسی اور مصلحت ذاتی کی وجہ سے کرتا ہے۔ خواجہ کمال الدین نے جو صحیفہ پیش کیا ہے اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ کمال الدین انھیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور اگر خواجہ کمال الدین قرآن وحدیث کو سچے دل سے مانتے ہیں تو
١ یہ رسالہ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦ و ٧ (احتساب قادیانیت جلد پنجم میں شامل ہے) میں چھپا ہے۔ اب نظر ثانی کے بعد مستقل رسالے کی صورت میں چھپے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ اب تو مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے ایک رسالہ لکھا ہے اور مرزا قادیانی کے اقوال سے ان کے دعویٰ نبوت کو ثابت کیا ہے ’’حقیقت النبوۃ‘‘ اس کا نام ہے اور اپنے باپ کے مثل جھوٹے دعوے اس میں کیے ہیں۔
٤٦
انھیں بالضرور مرزا قادیانی کو ان دجالوں میں ماننا ہوگا۔ جن کی خبر جناب رسول اللہ ﷺ نے دی ہے اور فرمایا ہے کہ میری امت میں دجال ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور ان کا جھوٹا ہونا اس سے ظاہر ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ میں خاتم النبیین اور آخر النبیین ١؎ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی خدا اور رسول کے ارشاد کے بموجب جھوٹے ثابت ہوئے اور مرزا قادیانی کا صرف یہی دعویٰ جھوٹا نہیں ہے بلکہ انھوں نے اپنی تعریف میں اور اپنے دعوے کے اثبات میں بہت سے جھوٹے دعوے کیے ہیں جن کا نمونہ اس رسالہ میں بھی دکھایا گیا ہے۔
اے برادران اسلام میں نہایت خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود اور ان کے خاص مریدین کا یہ زور شور اور یہ دعویٰ اسلام کے اور مسلمانوں کے لیے نہایت خطرناک ہیں خبردار ہو جاؤ اور اس فتنہ کے مٹانے میں کوشش کرو اور بموجب ارشاد نبوی سو شہیدوں کے اجر کے مستحق بنو۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ.
آخر میں مجھے یہ بھی کہہ دینا ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کے اقوال کے جو حوالے دیئے ہیں وہ بلفظہ نہیں ہیں اختصار کے خیال سے ان کا مطلب لکھ دیا گیا ہے اگر کسی قادیانی کو ادائے مطلب میں تردد ہو یا حوالے کو غلط بتائے تو اس فقیر کو اطلاع دے مرزا قادیانی کے الفاظ نقل کر کے وہی مدعا دکھا دیا جائے گا جس کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ واللّٰہ الموفق والمعین.
خاکسار محمد علی قادری عفا عنہ القادر القوی
١؎ یہ بات لغت عرب سے اور بہت حدیثوں سے ثابت ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے ہیں اور قادیانی حضرات جو اس مقام پر مہر کے معنی کہتے ہیں یعنی حضور انور ﷺ سب انبیاء کے لیے مہر ہیں یہ محض غلط ہیں یہ معنی لغت عرب اور صحیح حدیثوں کے بالکل خلاف ہیں اس کی تشریح کسی قدر فیصلہ آسمانی حصہ سوم میں کی گئی ہے۔ مگر انشاء اللہ تعالٰی اس بحث میں خاص رسالہ لکھا جائے گا۔
٤٧
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریسٹوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریسٹوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام!
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
حقیقت رسائل اعجازیہ
مرزائیہ
حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم
دردمندان اسلام اسے ضرور ملاحظہ کریں
بعض عالی مرتبہ دردمندان اسلام نے اس وقت کے عظیم الشان مرزائی فتنہ فرو کرنے کے لیے کامل توجہ فرمائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی واقعی حالت کو متعدد طریقوں سے آفتاب کی طرح روشن کر کے دکھایا اور خدا کے فضل سے بہت کچھ فائدہ ہوا‘ ہزاروں مسلمان گمراہی سے بچے اور بہت گمراہ راہ راست پر آئے‘ مگر مرزائی جماعت اپنی گمراہی کی اشاعت میں نہایت سرگرم ہے‘ ہزاروں روپیہ ماہوار صرف کرتی ہے سارے ہندوستان میں سندھ میں‘ کاٹھیا واڑ حیدر آباد دکن‘ بمبئی میں‘ تمام بنگال میں‘ تمام افریقہ میں‘ خصوصاً زنجبار ممباسہ‘ مورس میں ان کے گمراہی پھیلانے والے جاتے ہیں‘ اور مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کے ماہواری رسالے اور ہفتہ وار اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اب ہمارے علماء اور تمام دردمندان اسلام فرمائیں کہ اس گمراہی کے روکنے کے لیے وہ کیا کرتے ہیں‘ اس فتنہ کا فرو کرنا تو تمام مسلمانوں کا اور خصوصاً نائبان رسول کا فرض ہے اور ایسا فرض ہے کہ جو کام وہ اپنے خیال میں مسلمانوں کی اصلاح کا کر رہے ہیں اس پر یہ ہر طرح مقدم ہے کیونکہ اول اس کی کوشش ضرور ہے کہ مسلمان اسلام پر قائم رہیں‘ اس کے لیے مسلمانوں کی ایک جماعت کو مستعد ہونا چاہیے‘ جس کے سرگروہ مخصوص علماء ہوں اور حسب موقع اس فتنہ کے فرو کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس وقت سب سے اول کوشش یہ ہے کہ جو رسالے بعض بزرگان دین اور ہمدردان اسلام نے لکھے ہیں انھیں خوب شائع کریں ان رسالوں کی فہرست ایک خاص رسالہ میں شائع کی گئی ہے اور اس رسالہ کے آخر صفحہ میں کچھ نام لکھے گئے ہیں ان رسالوں کا دیکھنا اور پاس رکھنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا دشمن جانی کے خوف کے وقت اپنے اور بھائیوں کے بچانے کے لیے ہتھیار رکھنا ضرور ہے‘ الحمد للہ یہ وہ رسالے ہیں جن کے جواب سے ساری دنیا کے مرزائی عاجز ہیں۔
مسلمانوں خیر خواہ محمد اسحق عفی عنہ
٢
نحمدہ اللہ العلی العظیم و نصلی علی رسولہ الکریم
مسلمانوں کو ہوشیار ہو کر متوجہ ہونا چاہیے کہ اس وقت کے فتنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا فتنہ ہے اس خاکسار نے باوجود ضعف و ناتوانی کے متعدد رسالوں میں ان کا جھوٹا ہونا نہایت روشن دلیلوں سے ثابت کر کے دکھایا ہے، مگر دیکھتا ہوں کہ زمانے کی تاریکی اور کفر و الحاد کی ظلمت نے دلوں کو تاریک کر دیا ہے، دینی امور کی ضرورت انھیں نظر نہیں آتی، اکثر حضرات کو اس طرف توجہ ہی نہیں ہے، بہر حال اہل علم خدا ترس کا جو فرض ہے وہ حتی الوسع ادا کیا گیا اور کیا جاتا ہے رسالہ فیصلہ آسمانی میں کامل طور سے دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی کی پیشینگوئیاں جھوٹی ہوئیں اور ایسی یقینی جھوٹی ہوئیں کہ کوئی شک و شبہ اس میں نہیں رہا، خصوصاً منکوحہ آسمانی والی پیشینگوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا اور تقریباً بیس برس تک اس کے ظہور کے متمنی رہے مگر وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور قرآن مجید کی صریح آیتوں سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے، اس کا کامل ثبوت فیصلہ آسمانی کے سارے حصہ میں اور کچھ تیسرے حصہ میں کیا گیا ہے دوسرے اور تیسرے حصہ میں ان کے رسائل اعجازیہ کا ذکر بھی آگیا تھا، ان کی حالت بھی دکھائی گئی اور ثابت کر دیا گیا کہ جس طرح منکوحہ آسمانی والا معجزہ جھوٹا ثابت ہوا۔ اسی طرح یہ بھی جھوٹا ہے مگر چونکہ ان کی حالت ایک بڑے رسالے کے ضمن میں بیان ہوئی ہے اس لیے یہ امید کم ہے کہ مسلمانوں کی پوری توجہ اس طرف ہو اب میں برادران اسلام کی آسانی کے لیے اس مضمون کو علیحدہ کر کے طالبان حق کو دکھانا چاہتا ہوں، مرزا قادیانی نے دو رسالے لکھے ہیں ایک کا نام اعجاز احمدی اور دوسرے کا نام اعجاز المسیح ہے، اس سے مقصد یہ ہے کہ جس طرح جناب
٣
رسول اللہ ﷺ کا معجزہ قرآن مجید ہے کہ اس کے مثل کوئی نہیں لا سکتا اسی طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرا معجزہ یہ دو رسالے ہیں ایک نظم اور ایک نثر اس رسالہ میں ان کی واقعی حالت پیش کر کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ جس طرح وہ آسمانی نکاح ان کے کاذب ہونے کا کامل نشان ہوا اسی طرح یہ دونوں رسالے متعدد طور سے ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہیں اور انہیں کامل جھوٹا اور فریبی ثابت کرتے ہیں براہ مہربانی تحقیق اور حق پسندی کی نظر سے ملاحظہ کریں۔
ناظرین ! ان دونوں رسالوں کو معجزہ کہنا اور ان سے اپنی صداقت ثابت کرنا‘ عوام کو فریب دینا ہے‘ یہ دونوں رسالے مرزا قادیانی کے لیے معجزہ ہرگز نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے جھوٹا ہونے کی نہایت روشن دلیل ہیں‘ اور ایک طریقہ سے نہیں بلکہ کئی طریقوں سے‘ اہل حق غور سے ملاحظہ کریں‘ ان دونوں رسالوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس طرح قرآن مجید جناب رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے عرب و عجم کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اس کے مثل لاؤ‘ اور پھر یہ کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے اور ایسا ہی ہوا کہ کوئی اس کے مثل نہ لا سکا‘ اسی طرح مرزا قادیانی نے یہ دو رسالے پیش کئے ایک نظم دوسرا نثر اور ایسا ہی دعویٰ کیا‘ اور کوئی ان دونوں کے مثل نہ لا سکا
مناظرہ مونگیر کے پمفلٹ میں جو انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کی ہیں ان میں وہ آیت بھی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی رسالت کے دعویٰ میں پیش کی تھی، یعنی آیت وَاِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهِ (بقرہ ٢٣) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تمہیں قرآن مجید کے کلام الہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کی مثل تم بتلاؤ۔
جناب رسول اللہ ﷺ کے وہ صفات کاملہ جو آپؐ کی ذات مقدس سے مخصوص تھے ان میں مرزا نے کہیں برابری کا اور کہیں تفوق کا دعویٰ کیا ہے، حضور انور ﷺ نے جو کلام الہی ہدایت خلق کے لیے پیش کیا اس کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی نہایت زور سے فرما دیا کہ تم کسی وقت اور کسی طرح اس کے مثل نہیں لا سکتے۔
یہ امر بھی غور کے لائق ہے کہ حضور انور ﷺ نے کسی معجزے یا کسی پیشینگوئی
٤
کو اپنی صداقت میں پیش نہیں فرمایا کیونکہ منکر متعصب ہر ایک میں احتمال نکال سکتا ہے کہ اسے سحر کہہ دینا آسان ہے اور ایسا ہی کفار نے کہا مگر اس معجزے میں کوئی جائے دم زدن نہیں ہے اس لیے اس میں دعویٰ کیا مگر مرزا اپنے باطل خیال میں اس کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے اور اپنی تفوق کا اظہار اسے مدنظر ہے اس دعوے سے مرزا کا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر نے تو صرف ایک کتاب نثر میں جواب کے لیے پیش کی تھی میں نظم اور نثر دونوں پیش کرتا ہوں اور کوئی جواب نہیں دے سکتا یعنی میں اس میں بھی پیغمبر اسلام سے بڑھ گیا ہوں یہاں جن حضرات نے مرزا قادیانی کے مدحیہ اشعار اور غلامی کا دعویٰ دیکھا ہوگا انہیں اس بیان سے تعجب ہوگا مگر آئندہ بیان سے انہیں یہ تعجب جاتا رہے گا۔ یہاں حق پسند حضرات کامل طور سے توجہ فرمائیں اور اس فریب مرزائی اور اعجاز محمدیؐ میں فرق ملاحظہ کریں یہاں کئی باتیں میں کہنا چاہتا ہوں۔
- (١) پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس دعویٰ سے یہ تھا
کہ اس وقت اہل عرب کلام کی فصاحت و بلاغت میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھتے ہیں اور شب و روز انہیں فصیح و بلیغ نظم و نثر لکھنے کا مشغلہ ہے اور مضامین لکھ کر ایک دوسرے پر فخر اور مباہات کیا کرتے ہیں اور دوسرے ملک کے لوگوں کو عجم کہتے ہیں یعنی بے زبان، گونگے، اس لیے ایسے وقت میں ان کاملین فصحا کے مقابلہ میں ایک ایسا شخص دعویٰ کرے جو معمولی طور سے بھی کچھ پڑھا لکھا نہ ہو اور پھر وہ فصحاے عرب جن کی حالت ابھی بیان کی گئی اس کے جواب سے عاجز ہو جائیں اور ان کی غیرت و حمیت اور اس فن میں دعویٰ فضل و کمال انہیں جواب لکھنے کی ہمت نہ دے۔
یہ بلا شک و شبہہ بدیہی طور سے نہایت عظیم الشان معجزہ ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ سخن شناس فصحا کسی احتمال سے بھی اس کو غلط نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ قرآن شریف کی عبارت اور اس کے مضامین عالیہ ان کے پیش نظر تھے وہ مہر سکوت ان کے منہ پر لگا رہے تھے اور مرزائیوں کی طرح بے شرم بھی نہ تھے پھر اس کا معجزہ ہونا ایک طور سے نہیں بلکہ کئی طور سے ہے (١) اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ دوسرا کوئی فصیح و بلیغ ایسی عبارت نہیں لکھ سکتا (٢) اس کے مضامین ایسے عالی اور باعث ہدایت عالم ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا رفارمر اور مقنن ایسی کامل ہدایت کی باتیں اور پبلک کے لیے مفید قانون
٥
نہیں بنا سکتا، اور پھر وہ قانون بھی ایسا ہو جو کسی وقت لائق منسوخ ہونے کے نہ ہو یہ صفت صرف قرآن مجید ہی میں ہے اور اس کا اقرار بڑے بڑے عقلا مخالفین اسلام نے بھی کیا ہے اس کے علاوہ قرآن مجید کا یہ دعویٰ کسی وقت اور کسی شخص سے خاص نہیں ہے یعنی کوئی شخص خود لکھ کر پیش کرے یا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہو اور کسی وقت کا لکھا ہو وہ سامنے لائے یا آئندہ کوئی لکھے مگر اس وقت اہل زبان نہ اپنا کلام پیش کر سکے نہ اپنی کسی گزشتہ بزرگ کی تحریر اس کے مثل دکھا سکے اور اب تیرہ سو برس سے زیادہ ہو گیا مگر کوئی مخالف اس کے مثل نہ لا سکا، ایسے کلام کے لیے آیت مذکورہ میں دعویٰ کیا گیا ہے مرزائیوں کو شرم نہیں کہ مرزا کے ان رسالوں کے لیے یہ آیت پیش کی جاتی ہے جن میں سینکڑوں غلطیاں الفاظ کی ہوں اور وہ دوسروں سے لکھوایا جائے اس کے مقابل میں متعدد رسالے اور قصیدے ان سے نہایت اعلیٰ موجود ہیں
(٢) قرآن مجید امور ذیل کی وجہ سے معجزہ بینہ قرار پایا (١) ایسے انسان کی زبان سے نکلا جو معمولی طریقہ سے کچھ لکھے پڑھے نہ تھے امی کہلاتے تھے اور یہ بدیہی بات ہے کہ ایسا شخص ایسی بے نظیر کتاب نہیں بنا سکتا جیسا قرآن مجید ہے، یہ انسانی طاقت سے باہر ہے مرزا ایسے نہ تھے بلکہ لکھے پڑھے تھے (٢) قرآن مجید جس ملک میں نازل ہوا اسی ملک کی زبان میں لکھا گیا جس کو اس ملک والے کامل طور سے جانتے تھے اور اس کے جاننے کا انہیں دعویٰ تھا اور اس دعویٰ کے وقت اس زبان کی فصاحت و بلاغت انسانی کمال کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا اگر اُردو میں لکھ کر دعویٰ کرتے تو فصحاے ہند پر بالمعائنہ ان کی فصاحت کا انکشاف ہو جاتا۔ اب رہی عربی کی عبارت نہ اس کا حال ویسا ہے جیسا کہ عرب کی جاہلیت میں تھا اور نہ اس قدر توجہ علما کو ہے جیسی اس وقت عرب کو تھی (٣) اس ملک کے رہنے والوں کو اس وقت اپنی زبان میں کمال پیدا کرنے کا نہایت شوق ہی نہ تھا بلکہ اسے مایہ فخر سمجھتے تھے (٤) پھر یہ خالی شوق نہ تھا بلکہ اس کمال کو حاصل کرتے تھے اور نظم و نثر لکھنا ان کا مشغلہ تھا مرزا کے وقت میں یہ ہرگز نہ تھا اب اگر ان کے رسالوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرے تو اعجاز کا ثبوت نہیں ہو سکتا (٥) اس تحصیل کمال کے ساتھ ان کے دماغ میں کبر بھی تھا کہ ہر ایک دوسرے کو اپنے سے زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظم و نثر کو دعوے کے ساتھ عام
٦
جلسوں میں پڑھتے تھے اور بعض وقت یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ کوئی اس کے مثل لائے، جس وقت حضور انور ﷺ پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا ہے اس وقت اس قسم کے سات قصیدے سات شخصوں کے لکھے ہوئے خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کو دیکھا تو وہ قصائد اُتار لئے گئے اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے ان کی فصاحت و بلاغت کو گرد آلود کر دیا اب وہ اس لائق نہ رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انہیں خانہ کعبہ پر لٹکا کر ان پر دعویٰ کیا جائے ایسے وقت میں ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایہ ناز فصیح و بلیغ عبارت کا لکھنا تھا، قرآن مجید کا یہ دعویٰ پیش ہوا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے، باوجودیکہ جواب کے لیے میدان نہایت وسیع رکھا گیا تھا، نہ اس کے لیے کوئی میعاد معین کی تھی نہ کسی زمانی کی تخصیص تھی کہ آئندہ کوئی لکھے، گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو، بلکہ الفاظ آیت کا عموم صاف طور سے یہ مطلب بتا رہا ہے (٦) کہ تم خود اس کا جواب لکھ کر لاؤ (١) یا کسی استاد (٢) یا کسی گذشتہ شخص کا لکھا ہوا پیش کرو (٣) یا آئندہ کسی وقت کوئی لکھے (٤) اور یہ بھی ضرور نہیں (٥) کہ سارے قرآن کا جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب لاؤ۔ غرضکہ قرآنی تحدی ایسی عام ہے کہ مذکورہ پانچ حالتیں اس میں داخل ہیں۔
اب غور کیا جائے کہ ان امور کے ساتھ ان مخالفین عرب سے جواب کا طلب کرنا کس قدر غیظ و غضب کا باعث ہو سکتا ہے اور اپنی طبعی حالت کی وجہ سے انھیں کس قدر جواب دینے کا جوش ہوا ہوگا مگر چونکہ کلام کی فصاحت و بلاغت میں کامل مہارت رکھتے تھے اس لئے اپنے آپ کو عاجز سمجھے، نہ خود جواب دیا اور نہ کسی دوسرے کا کلام پیش کیا اور نہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی پیش کر سکا تمام دنیا کے مخالفین عاجز رہے اس وجہ سے قرآن مجید معجزہ باہرہ اور اعجاز بینہ ٹھہرا، اور اس کے اعجاز میں کسی طرح کا شبہ نہ رہا، اسی لیے جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے دعوے کی صداقت میں اسے پیش کیا اور ارشاد خداوندی ہوا ”فاتوا بسورة من مثلہ“ یعنی اس وقت کفار قریش سے کہا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کے مثل لے آؤ، مگر کوئی نہ لا سکا اور کسی طرح کا کوئی شبہہ نہ کر سکا، اب اس آیت کو مرزا قادیانی کے رسالوں کے لیے پیش کرنا محض غلط اور صریح فریب ہے ان کے اعجازیہ رسالوں کی حالت ملاحظہ
٧
کیجئے کہ متعدد طریقوں سے ان کا دعویٰ اعجاز غلط ہے اور اعلانیہ فریب ثابت ہوتا ہے اول تو یہ دیکھا جائے کہ یہ چھ باتیں جو قرآن مجید کے دعوے کے وقت تھیں مرزا قادیانی کے وقت ان میں سے ایک بات بھی تھی؟ ہرگز نہیں۔
معجزہ نہ ہونے کی پہلی دلیل
مرزا قادیانی امی نہ تھے، اچھے لکھے پڑھے تھے اور ان کے مقابل کے علماء جن میں ان کا نشوونما ہوا تھا، انہیں عربی عبارت لکھنے کا شوق تو کیا توجہ بھی نہ تھی اور یہ تو بڑی بات تھی کہ کمال درجہ فصیح و بلیغ عبارت لکھنے کا خیال ہوا اور لکھنے کا مشغلہ رکھتے ہوں، ایسی حالت میں اگر کسی کو عربی ادب سے طبعی مناسبت ہو تو تھوڑی توجہ سے وہ ایسی عبارت لکھ سکتا ہے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے، خصوصاً جس وقت یہ لکھنے والا دوسروں کے لیے میعاد مقرر کر دے اور وہ میعاد ہی اس قدر کم ہو کہ مشاق لکھنے والے کو بھی لکھنا اور چھپوا کر بھیج دینا اس کی وسعت سے باہر ہو، نہایت ظاہر ہے کہ اگر ایسی حالت میں کوئی جواب نہ دے تو اس شخص کی عربی تحریر معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتی، اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک معمولی مولوی صاحب زبان فارسی یا اردو میں رسالہ لکھ کر اپنے قریب کے دیہات میں پیش کر کے یہ کہیں کہ ہم نے جیسا یہ رسالہ لکھا ہے تم تو ایسا لکھ دو، وہاں اگرچہ پڑھے لکھے اشخاص بھی ہوں، مگر اس طرح کا رسالہ نہیں لکھ سکتے، مگر اس سے اس کا اعجاز ثابت نہیں ہو سکتا، اب مرزا قادیانی کے رسالوں کا جواب نہ لکھنے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں مثلاً (١) علماء کو عربی تحریر کی طرف توجہ نہیں ہے اس لیے نہیں لکھا۔
دوسری وجہ
(٢) یا یہ کہ لکھنے کی میعاد اس قدر کم رکھی گئی تھی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا ممکن نہ ہوا اور میعاد کے بعد بھیجنا بے کار سمجھے اس لیے نہیں لکھا یہ ایسی بدیہی باتیں ہیں کہ کوئی صاحب عقل انکار نہیں کر سکتا، یہ پہلی وجہ ہے مذکورہ رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی اور نہایت سچی اور قوی وجہ ہے (٣) میرے بیان سے کوئی صاحب یہ نہ سمجھ لیں کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے وقت ہندوستان میں عربی تحریر کا مذاق کسی ذی علم کو نہ تھا، مرزا قادیانی اس فن میں اس وقت کے لحاظ سے اپنا مثل نہیں رکھتے تھے، میری یہ غرض ہرگز نہیں ہے بلکہ اکثر اہل علم کے لحاظ سے کہا گیا ہے کہ انہیں عربی نظم و نثر کی طرف توجہ نہیں تھی جن حضرات کو عربی تحریر کا مذاق ہے اور عربی نظم و نثر میں کسی قدر کمال رکھتے ہیں یا رکھتے تھے وہ مرزا قادیانی کی نظم و نثر سے بدرجہا زائد عمدہ عبارت لکھتے تھے اور اب لکھ سکتے ہیں،
٨
ان کی توجہ نہ کرنے کی نہایت روشن وجوہ بھی موجود ہیں، اس میں شبہہ نہیں کہ وہ توجہ اور وہ ذوق جو اہل عرب کو اس وقت تھا وہ اس وقت کسی کو نہیں ہے اور نہ اس طرح کا مشغلہ کسی کا سنا گیا، جیسا کہ اہل عرب کو تھا، مگر اس فن میں ایک حد تک کمال رکھنے والے موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے مگر نہایت ظاہر ہے کہ اہل کمال جسے اس فن میں لائق نہیں سمجھتے اس کی تحریر کو ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں اور اس طرف توجہ کرنے کو ننگ و عار سمجھتے ہیں اس لیے انہوں نے توجہ نہ کی، البتہ یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے باطل کرنے کے لیے لکھنا ضرور تھا، صرف اس لیے لکھتے کہ مخلوق اس غلطی میں نہ پڑے، یہ کہنا میرے خیال میں کسی قدر صحیح ہے، مگر اس پر نظر کرنا ضرور ہے کہ یہ توجہ اسی وقت ہو سکتی ہے کہ علماء کے قلب میں مرزا قادیانی کی اور ان کے دعوے کی کوئی وقعت ہوتی، یا انہیں یہ خیال ہوتا کہ ایسے بے سروپا دعوے سے کوئی گمراہ ہوگا اور جو گمراہ ہونے والے ہیں وہ ہر طرح ہوں گے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان دعوے غلط ثابت کر دیئے گئے، پھر کسی ماننے والے نے اسے مانا؟ ہرگز نہیں، ایسا ہی ان رسالوں کے جواب کے بعد بھی ہوتا،
اب خیال کیجئے کہ منکوحہ آسمانی والے نشان پر کس قدر زور تھا اور تمام عمر اس کے پورا ہونے کا دعویٰ کرتے رہے اور آخر میں تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ دعویٰ غلط تھا اور کامل طور سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے، مگر مرزائیوں نے اس کا کچھ بھی خیال نہیں کیا، ایسے ہی یہاں بھی ہوتا،
ہندوستان کے ادیب اور اہل کمال کے نزدیک مرزا قادیانی کی جو وقعت ہے وہ ذیل کے دو شاہدوں سے معلوم ہو سکتی ہے،
مرزا کے قصیدہ اعجازیہ اور تفسیر کی مہمل غیر فصیح ہونے پر دو ادیبوں کی شہادت
پہلا شاہد ہندوستان میں عربی کے مشہور ادیب مولوی شبلی صاحب نعمانی ہیں ان سے ان دونوں رسالوں کی حالت دریافت کی گئی وہ لکھتے ہیں قادیانی کو عربیت سے مطلق مس نہ تھا ان کا قصیدہ اور تفسیر فاتحہ میں نے خوب دیکھی ہے نہایت جاہلانہ عبارت ہے مصر کے مشہور رسالے نے لوگوں کے اصرار سے اس کی غلطیاں بھی نہایت کثرت سے دکھائی ہیں
٩
افسوس تو یہ ہے کہ عربیت اس قدر مفقود ہے کہ قادیانی کو ایسی جرات ہوسکی۔‘‘
(٥ جولائی ١٩١١ء کا یہ خط ہے)
دوسرا شاہد مولوی حکیم شاہ محمد حسین صاحب الہ آبادی بھی مشہور عالم ہیں انھیں بھی عربی ادب سے پورا مذاق تھا ان سے کہا گیا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھیں‘ انہوں نے رسالہ منگوایا اور رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کا جواب کیا لکھوں، جس کتاب میں نہ عمدہ مضامین ہوں‘ نہ اس کی عبارت فصیح و بلیغ ہو اس کے جواب میں کون ذی علم اپنے اوقات عزیز کو خراب کر سکتا ہے اگر مضامین کچھ عمدہ ہوتے یا عبارت ہی فصیح و بلیغ ہوتی تو اس کے جواب دینے میں دل لگتا‘ غرضکہ کوئی ادیب ذی علم تو اس کو عمدہ اور فصیح بھی نہیں کہہ سکتا اور معجزہ کہنا تو عظیم الشان بات ہے اور جن میں یہ مادہ ہی نہیں ہے کہ عمدہ مضامین اور معمولی باتوں اور فصیح و غیر فصیح عبارت میں تمیز کر سکیں‘ یا مرزا کی محبت نے ان کی عقل و تمیز کو کھو دیا ہے ان کے لیے اگر سو جواب لکھے جائیں گے تو وہ ہرگز نہ مانیں گے‘ جیسا کہ مرزا کی متعدد باتوں میں تجربہ ہو رہا ہے کیسے کیسے صریح اقوال انہیں کے قلم سے لکھے ہوئے ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں پیش کئے جاتے ہیں‘ مگر سوائے بے ہودہ باتیں بنانے کے کچھ نہیں کہتے‘ پھر ایسے حضرات کی خیر خواہی میں محنت کرنا بے کار ہے‘ جواب نہ لکھنے کی یہ وجہ دوسرے حصہ میں لکھی گئی ہے۔
اس کے جواب میں حضرات مرزائی دم نہیں مارتے مگر رسالوں کے اعجاز کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی نے جواب نہ دیا اے جناب اگر ہم یہ مان لیں کہ جواب نہیں دیا تو اس سے اعجاز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان رسالوں کی کمال حقارت ثابت ہوتی ہے کہ اہل کمال کے لائق توجہ نہیں ہیں‘ جب ان رسالوں کی یہ حالت ہے تو انسانی نیچر کا اقتضا یہ ہے کہ ایسی لچر تحریر کی طرف اہل کمال کی توجہ نہ ہو اگر چہ ناواقف کیسا ہی عمدہ اسے سمجھیں‘ مگر اہل کمال اس کی طرف توجہ کرنا عار سمجھتے ہیں اس لئے ان رسالوں کی طرف کسی ذی علم صاحب کمال نے توجہ نہ کی‘ یہ ایسی روشن وجہ ہے کہ کوئی حق پسند اس سے انکار نہیں کر سکتا‘ یہ دوسری وجہ ہے ان رسالوں کے جواب نہ لکھے جانے کی۔
اب انہیں معجزہ خیال کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے یہ کہنا کہ جب یہ رسالے فصیح و بلیغ نہ تھے تو ان کا جواب لکھنا زیادہ آسان تھا‘ پھر کیوں نہ جواب دیا گیا‘
١٠
سخت نادانی ہے افسوس ہے کہ جو مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے ہیں ان کی عقل کی حالت بعینہ ایسی ہو گئی ہے جیسے تثلیث پرست عیسائیوں کی کہ دنیا کی باتوں میں اگرچہ وہ کیسے ہی دانشمند اور ذی رائے ہیں، مگر تثلیث و کفارہ کے ماننے پر نجات کو منحصر جانتے ہیں اور کیسی ہی یقینی اور روشن دلیلوں سے اسے غلط ثابت کیا گیا اور کیا جاتا ہے مگر وہ اپنے غلط اعتقاد سے ہرگز نہیں ہٹتے۔
اسی طرح مرزائیوں کا حال ہے کہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی کیسی روشن اور کھلی کھلی دلیلیں پیش ہو رہی ہیں، مگر ایک نہیں سنتے اگر کسی کو شبہ ہوا اور کسی مرزائی نے کوئی لچر اور مہمل سی بات اس کے جواب میں کہہ دی اسے وہ فوراً ماننے لگتے ہیں اور اہل حق کیسی ہی سچی اور محقق بات کہے مگر وہ خیال بھی نہیں کرتے، میں کہہ رہا ہوں کہ اہل کمال کا نیچرل اقتضاء یہ ہے کہ ایسی تحریر کی طرف ان کی توجہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس طرف توجہ کرنے کو عار سمجھتے ہیں، پھر وہ حضرات کیوں قلم اٹھانے لگے یہی آسمانی مانع ہے جس کو مرزا قادیانی نے عوام کے خوش کرنے کے لیے الہام کے پیرایہ میں ظاہر کیا ہے اس بے توجہی سے ان رسالوں کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا، بلکہ کمال درجہ کی ان کی بے وقعتی ثابت کرتا ہے کہ اہل کمال نے انھیں نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور قابل توجہ نہ سمجھا۔
رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی تیسری وجہ:
(٤) اس کے علاوہ اہل کمال صاحب قلب ان کے طول طویل متضاد تحریروں کو دیکھ کر اور ان کے اثر میں ظلمت قلب کا معائنہ کر کے ان کی تحریروں سے اجتناب کرتے ہیں اور بعض تو انہیں مجنوں ہی خیال کرتے ہیں اور جو کوئی ان کے جواب کی طرف توجہ کرے اسے روکتے ہیں چنانچہ مؤلف سوانح احمدی ص ٣٣٧ میں لکھتے ہیں ”جب یہ کتاب چھپ رہی تھی اس وقت ایک بزرگ باشندہ پنجاب جو پہلے مجدد وقت ہونے کے دعویدار تھے اور اب جھٹ پٹ ترقی کر کے مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہو بیٹھے، پہلے تو اس دعوے کو خلاف اپنے اعتقاد قدیم کے دیکھ کر مجھ کو بھی تعجب ہوا تھا مگر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے اس کا ثانی نہ آج تک کوئی پیدا ہوا نہ آئندہ پیدا ہوگا ان بزرگ کا یہ کہنا کہ میں مسیح موعود ہوں مجھ کو قبول کرو ٹھیک ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک
دیوانہ آدمی یہ کہے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں اور فلاں فلاں دلائل میرے دعوے کے ثبوت میں میرے پاس موجود ہیں اور فلاں فلاں حکیم اور مولوی نے میرے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے اے ناظرین صاحب بصیرت مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے اس کو اپنے ثبوت میں دلائل پیش کرنے کی ضرور نہ ہوگی یہ مدعی اگر دراصل مسیح موعود ہے تو عنقریب اس کے جلال و اقبال کا نشان ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر وہ جھوٹا اور مکار اور مسیلمہ کذاب کا ہم مشرب ہے تو بہت جلد مثل کاذب دعویداران نبوت و مہدویت اور مسیحیت کے جھک مار کے تھوڑے دنوں کے بعد خود ہلاک ہو جائے گا اور ہزار ہا ١ مسلمانوں کے ایمان کو تباہ کر جائے گا انتھی مختصراً۔ طالبین حق غور فرمائیں کہ مخصوص علماء کا یہ خیال ہے پھر وہ مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی طرف کیوں توجہ کریں گے اور یہ بے توجہی کسی دانشمند کے نزدیک ان کے اعجاز کا باعث نہیں ہو سکتی۔
یہ تیسری وجہ ہے اُن رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی یہ تین وجہیں تو عام تھیں جن سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا رسالہ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی دونوں معجزہ نہیں ہو سکتے اب ہر ایک کے معجزہ نہ ہونے کے وجوہ علیحدہ علیحدہ ملاحظہ کئے جائیں۔
اعجاز المسیح کی حالت
تفسیر کے معجزہ نہ ہونے کی چوتھی وجہ (٥) چونکہ کیفیت مناظرہ مونگیر میں قادیانی حضرات نے مرزا کی نبوت کے ثبوت میں وہ آیت پیش کی تھی جو قرآن مجید میں حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کے ثبوت نبوت میں پیش کی گئی ہے اور اس میں قرآن کے مثل دوسری کتاب طلب کی گئی ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا اس لیے میں نے اعجاز المسیح کے جواب میں دو کتابیں پیش کی تھیں (ایک) مدارج السالکین (دوسری) اعجاز البیان یہ دونوں کتابیں سورہ فاتحہ کی عربی تفسیر ہیں پہلی تفسیر دو جلدوں میں ہے اور
١ مؤلف سوانح احمدی کی یہ پیشین گوئی نہایت صحیح ثابت ہوئی۔
٢ اسی طرح میں دس بارہ تفسیروں کے نام بتا سکتا ہوں جو خاص سورہ فاتحہ کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں مگر جب مقابلہ میں کوئی طالب حق راستباز نہیں ہے تو کلام کو طول دینا بے کار ہے۔
١٢
دوسری ایک جلد میں‘ مگر ٣٥٠ صفحوں میں ہے اور ہر صفحہ میں ٢٠ سطریں ہیں اور ہر سطر میں گیارہ بارہ الفاظ ہیں‘ یہ دونوں تفسیریں مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز المسیح سے بہت عالی مرتبہ رکھتی ہیں اور ان کا حجم بھی اعجاز المسیح سے بہت زیادہ ہے اس لیے مرزا قادیانی کا دعوائے اعجاز اپنی تفسیر کی نسبت محض غلط ہے اور ان کے بیان سے صرف ان کے دعوے کی غلطی ہی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ان کا اعلانیہ فریب ظاہر ہوتا ہے‘ ملاحظہ ہو۔
مرزا قادیانی کا اعلانیہ فریب مرزا قادیانی نے جو غل مچایا ہے کہ میں نے ستر دن میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے صریح فریب دیا ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ ستر دن میں لکھے‘ جب ہم تفسیر کی لکھائی دیکھ کر ان کے ساڑھے بارہ جز کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار دلی صداقت یہی کہتی ہے کہ صریح دھوکا دے رہے ہیں کہ تخمیناً ڈھائی جز کو موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر ساڑھے بارہ جز لکھنے کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے‘ جب اس فریبی حالت کو ہم معائنہ کر رہے ہیں تو ان کے اس قول پر کیونکر اعتبار کریں کہ ستر دن میں لکھی‘ اس کی مفصل حالت ملاحظہ کر کے انصاف کیجئے۔
اس تفسیر کے اعلان میں دو شرطیں لگائی تھیں‘ ایک یہ کہ ستر دن میں لکھی جائے دوسرے یہ کہ چار جز سے کم نہ ہو‘ اب کیونکر معلوم ہوا کہ یہ تفسیر اعلان کے بعد لکھی‘ اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ رسالہ اس اعلان کے پہلے کل یا اکثر نہیں لکھا گیا مذکورہ فریب تو اس کی پوری تائید کرتا ہے کہ یہ رسالہ پہلے لکھا گیا اس کے بعد زیادہ قابلیت دکھانے کے لیے یہ اعلان بڑے دعوے سے کیا گیا کہ ہم نے اس میعاد میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے اور ہمارے مخالف نے ایک ورق بھی نہ لکھا اب کوئی انصاف پسند ساڑھے بارہ جز کی حالت کو دیکھے‘ اول تو رسالے کو دیکھا جائے کہ کیسے کیسے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے‘ پھر یہ کہ صفحہ میں اصل عبارت کی دس سطریں ہیں‘ اب بنظر تحقیق حق تفسیر اعجاز التنزیل مطبوعہ دائرہ المعارف حیدر آباد دکن کی صرف لکھائی اور مقدار تحریر سے مقابلہ کیا جائے‘ اگرچہ اعجاز التنزیل بھی نہایت کشادہ لکھی گئی ہے مگر اسی واضح تحریر سے اعجاز المسیح کی تحریر کا مقابلہ کیا جائے تو بالیقین معلوم ہو جائے گا کہ جنہیں ساڑھے بارہ جز کہا جاتا ہے وہ معمولی واضح تحریر سے تقریباً ڈھائی تین جز سے زیادہ نہیں ہیں جسے تحقیق کرنا منظور ہو وہ دونوں تفسیروں کے صفحات کے الفاظ شمار کر کے دیکھ لے اور پھر اس پر بھی نظر کرے کہ مرزا قادیانی کی تفسیر
١٣
میں جو دو سو صفحوں کی مقدار ہے وہ صرف سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں نہیں ہے بلکہ شروع سے ٦٦ صفحہ تک تو تمہید ہے جس میں مرزا قادیانی نے اپنی تعریفیں اور دوسرے علماء کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے‘ اس صفحہ پر پہنچ کر لکھتے ہیں ”وسمیتہ اعجاز المسیح“ یعنی میں نے اس کا نام اعجاز المسیح رکھا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مصنفین یہ جملہ اکثر پہلے یا دوسرے صفحہ میں لکھتے ہیں‘ مگر مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر کے بڑھانے کو چار جز فضول باتوں میں سیاہ کر کے یہ جملہ لکھا‘ اس حساب سے اصل تفسیر کے تقریباً آٹھ ہی جز ہوتے ہیں‘ اس لیے مقتضائے دیانت یہ ہے کہ اسی آٹھ جز کا اندازہ کیا جائے‘ اگر اس مقدار کا اندازہ کیا جائے گا تو فاتحہ کی تفسیر میں دو سوا دو جز سے زیادہ نہ ہوگا اب اس قلیل مقدار کی تحریر کو بڑے زور سے ساڑھے بارہ جز بار بار کہا جاتا ہے پھر یہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے‘ خدا کے واسطے خلیفہ صاحب یا اور اہل علم کہیں تو غور کر کے انصاف سے کہیں‘ مگر ان سے ایسا نہیں ہو سکتا‘ افسوس!
اب خیال کیا جائے کہ جب اس اعلانیہ بات میں ایسا صریح دھوکا دیا جاتا ہے تو اس کہنے پر کیوں کر اعتبار کر لیا جائے کہ ستر دن میں لکھی‘ جو حضرت اظہار فخر کے لیے ایسی صریح ابلہ فریبی کریں ان سے ظہور اعجاز کی امید رکھنا کسی ذی عقل کا کام نہیں ہے ان دونوں تفسیروں کو میں نے اس لیے پیش کیا تھا کہ یہ دونوں تفسیریں بلحاظ عمدگی مضامین اور باعتبار فصاحت و بلاغت عبارت کے اس قدر بلند پایہ اعجاز المسیح سے ہیں کہ کوئی ذی کمال ادیب ان کی فصاحت و بلاغت اور ان کے مضامین نادرہ اور مفید دیکھ کر اگر اعجاز المسیح کو دیکھے گا تو نفریں کرنے لگے گا اور پھر اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھے گا‘ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس قابل سمجھے کہ اس کا جواب دیا جائے۔
بھائیو! اگر کچھ علم و فہم ہے تو ان صریح اسباب میں غور کرو اور خدا سے ڈر کر انصاف سے کہو کہ جب ان رسالوں کی طرف توجہ نہ کرنے کے یہ اسباب ہیں تو ان کے جواب نہ لکھے جانے سے ان کا اعجاز کیونکر ثابت ہو جائے گا۔
مرزائیوں کے جواب کا رد اس کے جواب میں بعض جہلا یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جواب میں ان کتابوں کو پیش کرنا مرے مردوں کی ہڈیاں اکھیڑنا ہے‘ ایسے ہی بے ہودہ جوابوں کی وجہ سے کوئی ذی علم ان کے جواب کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اعراض عن
١٤
الجاہلین پر عمل کرتا ہے مگر بعض کی خیر خواہی نے خاکسار کو کسی قدر ان کی طرف متوجہ کر دیا، اب جنہیں کچھ علم و فہم ہو وہ ملاحظہ کریں۔ اعجاز المسیح کے فصیح و بلیغ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اسے اعجاز بتایا ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣)
اسی لئے اس کا نام بھی اعجاز المسیح رکھا ہے۔ اب یہ سمجھنا چاہیے کہ کلام معجز کسے کہتے ہیں، اگر کسی قادیانی کو علم ہے تو علم معانی و بیان کی کتابیں دیکھے ان میں کلام کی دو طرح بیان کی ہیں ایک اعلیٰ دوسری ادنیٰ، اعلیٰ مرتبہ کو اعجاز کہا ہے اور طاقت بشری سے اسے خارج بتایا ہے یعنی کوئی انسان کسی وقت ویسا کلام نہیں لکھ سکتا ہے، اس سے ظاہر ہو گیا کہ اعجاز اور معجزہ اسی کلام کو کہیں گے جس کے مثل لانے پر انسان عاجز ہو نہ زمانہ گزشتہ میں اس کا مثل لکھ سکا ہو نہ حال اور آئندہ میں کوئی لکھ سکے، اسی تحقیق علمی کی بنیاد پر میں نے ان تفسیروں کو پیش کیا تھا جس سے بالیقین ثابت ہو گیا کہ اعجاز المسیح کو اعجاز کہنا محض غلط ہے کیونکہ اس سے ہر طرح نہایت عمدہ سورہ فاتحہ کی تفسیریں موجود ہیں اب تفسیر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے بے کار وقت ضائع کرنا ہے مگر چونکہ جماعت مرزائیہ علم و فہم سے بے بہرہ ہے اس لیے سچے علمی جواب کو مذاق میں اڑاتی ہے اور یہ نہیں سمجھتی کہ اس جواب سے ظاہر ہو گیا کہ جن تفسیروں کا ہم نے حوالہ دیا ہے وہ مرزائی مولویوں کے نزدیک بھی ایسی ہی عمدہ اور اعجاز المسیح سے ہر طرح افضل ہیں جیسے ہم بیان کرتے ہیں اور جبکہ یہ مسلم ہے تو یقینی طور سے ثابت ہوا کہ اعجاز المسیح معجزہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ چوتھی وجہ ہے اعجاز المسیح کے معجزہ نہ ہونے کی۔
یعنی جب اعجاز المسیح سے عمدہ تفسیریں بلحاظ عبارت اور مضمون کے پہلے سے موجود ہیں تو اہل علم کے نزدیک اعجاز المسیح معجزہ نہیں ہو سکتی، اسے اعجاز کہنا اور معجزہ سمجھنا محض غلط ہے اب اعجاز المسیح کا شان نزول بھی ملاحظہ کرنا چاہیے۔
پیر مہر علی شاہ صاحب جو پنجاب اور خصوصاً سیالکوٹ کے نواح میں زیادہ مشہور بزرگ ہیں، مرزا قادیانی نے ان سے مناظرہ کا اشتہار بڑے زور و شور سے دیا تھا، اس کی تفصیل علامہ فیضی کے اس خط سے معلوم ہوگی جو انہوں نے سراج الاخبار میں مشتہر کیا ہے۔
١٥
نقل چٹھی فیضی مرحوم مطبوعہ سراج الاخبار ١٣ اگست ١٩٠٠ء ص ٦
”مکرمی مرزا صاحب زید اشفاقہ‘ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ“ آپ ٢٠ اور ٢٢ جولائی ١٩٠٠ء کے مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ سے پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف اور دیگر علماء کو یہ دعوت کرتے ہیں کہ لاہور میں آ کر میرے ساتھ بپابندی شرائط مخصوصہ فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورہ کی تفسیر لکھیں‘ فریقین کو سات گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے اور ہر دو تحریرات ٢٠ ورق سے کم نہ ہوں‘ آپ تجویز کرتے ہیں کہ ان ہر دو تحریرات کو تین بے تعلق علماء کے حوالہ کر دیا جائے گا‘ جس تحریر کو وہ حلفاً فصیح و بلیغ کہہ دیں گے وہ فریق سچا اور دوسرا جھوٹا ہو گا‘ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی تحریرات کے اندر جس قدر غلطیاں نکلیں گی وہ سہو و نسیان پر محمول نہیں کی جائیں گی بلکہ واقعی اس فریق کی نادانی اور جہالت پر محمول کی جائیں گی‘ مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک ہیں جن کو میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔
- (١) کسی عربی عبارت کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص اس
انداز و فصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں لکھ سکتا۔ آج سے پہلے صرف قرآنی عبارت کا خاصہ تھا‘ بشر کا کلام اعجاز کی حد پر نہیں پہنچ سکتا حتیٰ کہ افصح العرب حضرت سید الرسل ﷺ نے بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معارضہ کے لیے فصحائے عرب کو بلایا‘ اگر مان لیا جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز تک پہنچ جاتے ہیں‘ تو پھر فرمائیے کہ الٰہی کلام اور بندہ کے کلام میں مابہ الامتیاز کیا رہا‘
- (٢) ہزار ہا غیر مسلم عربی کے اعلیٰ درجہ کے فاضل اور منشی گزرے ہیں اور ان
کی تصانیف عربی میں موجود ہیں‘ اور ان کے عربی قصائد اور نثر اعلیٰ درجہ کے فصیح اور بلیغ مانے گئے ہیں‘ کئی ایک غیر مسلم عالم قرآن کریم کے حافظ گزرے ہیں بعض غیر مسلم شاعروں کے قصائد کے نمونے میں نے اپنے ایک مضمون میں دیئے ہیں‘ جو ١٨٩٩ء کے رسالہ انجمن نعمانیہ میں پھر اخبار چودھویں صدی کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔
- (٣) مجھے سمجھ میں نہیں آئی کہ چالیس علماء کی کیا خصوصیت ہے‘ اگر یہ الہامی
شرط ہے تو خیر ورنہ یک عالم بھی آپ کے لیے کافی ہے اور یوں تو چالیس علماء بھی بالفرض
١٦
اگر آپ کے مقابلہ میں ہار جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعوے کی تصدیق نہیں کریں گے کیونکہ مجددیت محدثیت رسالت کا معیار اس زمانہ ١؎ میں عربی نویسی کسی طرح بھی تسلیم نہیں ہوسکے گی۔
(٤) تعجب کی بات ہے کہ آپ اپنے اس اشتہار کے ضمیمہ کے ص ١١ پر تحریر فرماتے ہیں کہ مقابلہ کے وقت پر جو عربی تفسیریں لکھی جائیں گی ان میں کوئی غلطی سہو و نسیان پر حمل نہیں کی جائے گی، مگر افسوس کہ آپ خود اسی اشتہار میں لفظ محصنات کو جو قرآن کریم میں مذکور ہونے کے علاوہ ایک معمولی اور مشہور لفظ ہے دو دفعہ محسنات لکھتے ہیں، س اور ص کی تمیز نہ ہونا اتنے بڑے دعویدار عربیت کے حق میں سخت ذلت کا نشان ہے، یہ لفظ اگر ایک دفعہ غلط لکھا ہوتا تو شاید سہو پر حمل کیا جاسکتا، مگر دو دفعہ غلط لکھا اور پھر شرط یہ ٹھہراتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو سہو اور نسیان پر حمل نہیں کیا جائے گا۔
اخیر میں میری التماس ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم و نثر لکھنے کو تیار ہوں، تاریخ کا تقرر آپ ہی کر دیجئے، اور مجھے اطلاع دیجئے کہ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر کروں، مگر یاد رہے کہ کسی طرح بھی عربی نویسی کو مجددیت یا نبوت کا معیار تسلیم نہیں کیا گیا، والسلام علیٰ من اتبع الھدے (راقم محمد حسن ٢؎ حنفی بھیں ضلع جہلم تحصیل چکوال مدرس دارالعلوم نعمانیہ لاہور ٥ اگست ١٩٠٠ء)
١؎ کیونکہ آج کل عربی کے وہ اہل کمال نہیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تھے جن کے عاجز ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی انسان اس کے مثل نہیں لاسکتا۔
٢؎ یہ وہی علامہ فیضی مرحوم ہیں جن کا ایک مضمون اسی سراج الاخبار سے نقل ہو چکا ہے اس میں یہی علامہ مرحوم نے مناظرہ کا چیلنج دیا تھا اور ہر طرح مناظرہ کے لیے آمادہ تھے مگر مرزا قادیانی نے دم نہیں مارا اسی طرح اس خط میں مناظرہ کا چیلنج ہے اس کے جواب میں بھی مرزا قادیانی مناظرہ پر آمادہ نہ ہوئے اور عربی نویسی کا اعجاز نہ دکھایا، اس سے ان کے اعجازی رسالوں کی حقیقت اہل دانش سمجھ سکتے ہیں افسوس یہ ہے کہ علامہ ممدوح مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کر گئے اور انھیں خوشیاں منانے کا موقع ملا، مگر جب ان کے بڑے مقابل فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب ان کی آخر زندگی تک ان کی سرکوبی کرتے رہے اور اب تک ان کی روح کو مناسب ثواب پہنچاتے ہیں تو ان کی خوشیوں کی تلافی کافی طور سے ہو جاتی ہے اور جب فاتح قادیان مرزائیوں کو ترک دیتے ہیں تو ان کی روح تڑپ تڑپ کر رہ جاتی ہوگی۔
١٧
یہ خط تاریخ مناظرہ کے پہلے کا ہے، تاریخ مناظرہ ٢٥ اگست ١٩٠٠ء مقرر ہوئی تھی، مرزا قادیانی کے مشتہرہ مضمون میں قدرت خدا کا نمونہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے تکبر کے جوش میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں ملعون جھوٹا ہوں (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١) اور اس شدومد کے اشتہار و اقرار کے بعد قدرت خدا سے صداقت کا ظہور نہایت آب و تاب سے اس طرح ہوا کہ باید و شاید اس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ پیر صاحب مرزا قادیانی کی تمام شرطیں منظور کر کے مناظرہ پر آمادہ ہو گئے اور ٢٥ اگست ١٩٠٠ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہو گئی اور پیر صاحب اپنے اقرار کے بموجب ٢٤ اگست ١٩٠٠ء کو مع دیگر علماء اور معززین اہل اسلام کے لاہور پہنچے اور ٢٩ اگست ١٩٠٠ء تک منتظر رہے، مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے اس نواح کے مریدوں نے بہت زور لگایا مگر وہ نہ آئے اور اپنے اس اشتہاری اقرار کی بھی پرواہ نہ کی جو لکھ چکے تھے کہ اگر مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں جھوٹا اور ملعون ہوں مہتممان جلسہ نے اس جلسہ کی روداد طبع کرا کے مشتہر کرائی تھی اس میں ذیل کا مضمون لائق ملاحظہ ہے۔
جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ یہ شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغگوئی سے اپنی دوکانداری چلانا چاہتا ہے اس لیے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی یا اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پرواہ نہ کریں۔ ”یہ روئیداد مسلمانوں میں بہت شائع ہوئی ہے جس سے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حالت اظہر من الشمس ہو گئی اور اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے اور ملعون ٹھہرے اس شرمناک ذلت مٹانے کے لیے مرزا قادیانی نے تفسیر اعجاز المسیح لکھی یا لکھوائی اور پیر صاحب سے جواب طلب کیا اور مَنَعَهُ مَانِعٌ مِنَ السَّمَاءِ کا الہام بھی سنا دیا
١ چنانچہ قادیانی اخبار الحکم مورخہ ١٧ جنوری ١٩٠٤ء ص ٥ میں ہے ‘اعجاز المسیح حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود کی عربی تصنیف ہے جو ستر دن کے اندر باوجودیکہ چار جز کا وعدہ تھا ساڑھے بارہ جز پر شائع ہو گئی اور ٢٣ فروری ١٩٠١ء کو پیر صاحب گولڑہ کو بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل پیر صاحب کی طرف سے ان ستر دن کے اندر چار جز اور ساڑھے بارہ جز تو کیا ایک آدھ صفحہ بھی اعجازی عربی کا شائع نہیں ہوا اور اس طرح پر الہام منعه مانع من السماء پورا ہو گیا اور پیر گولڑہ کی علمیت و قرآن دانی کا راز طشت از بام ہو گیا۔‘‘ اس الہام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں اعجازی عربی نہیں ہے کہ اس طرح کی عربی پر پیر صاحب قادر نہ تھے بلکہ کوئی مانع پیش آ گیا اور اصلی مانع کو میں نے ظاہر کر دیا جس سے مرزا قادیانی کا راز طشت از بام ہو گیا اور ان کے دعویٰ اعجاز کی حقیقت کھل گئی۔
١٨
کیونکہ روئیداد سے معلوم کر چکے تھے کہ پیر صاحب اور تمام علمائے حاضرین جلسہ مجمع عام میں ہزاروں معززین اسلام کے روبرو کہہ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کو مخاطب نہ بنائے اور ان کی کسی بات کا جواب دے اور ظاہر ہے کہ یہ راستباز علماء اپنے قول کے خلاف ہرگز نہ کریں گے اس لیے مرزا قادیانی نے عمدہ موقع پا کر اپنی تفسیر پیش کی اور جواب طلب کیا اور پیر صاحب اور دیگر علماء نے انھیں قابل خطاب نہیں سمجھا اور اپنے اقرار کے پابند رہے اور مرزا قادیانی کی طرح بدعہد اور جھوٹا ہونا پسند نہیں فرمایا اور مرزا قادیانی نے یہ موقع پا کر اپنے اعجاز کا غل مچا دیا‘ اس میں شبہہ نہیں کہ پیر صاحب اور دیگر علماء کے لیے یہ آسمانی مانع تھا کیونکہ اپنے قول پر قائم رہنا آسمانی حکم ہے اس لیے الہام کا مضمون بلاشبہ صحیح ہے‘ مگر مرزا قادیانی نے اصلی حالت کو پوشیدہ کر کے ایسے پیچ سے اسے بیان کیا ہے کہ مریدین اسے معجزہ سمجھ رہے ہیں۔
ایک اور راز ملاحظہ کیجئے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا ہوگا کہ جو علماء اس جلسہ میں شریک تھے وہ تو اپنے عہد کے خیال سے جواب نہیں دیں گے اور دوسرے علماء جو دور دراز جگہ کے رہنے والے ہیں انھیں کیا خبر ہوگی اور اگر کسی کو ہوئی بھی تو دیر میں ہوگی‘ اس لیے جواب کے لیے ستر دن کی قید لگا دی اور معلوم کر لیا کہ اول تو اس میعاد کے اندر دوسرے علماء کو خبر ہی نہیں ہو سکتی اور اگر کسی کو ہوئی بھی اور جوش اسلامی نے انھیں آمادہ بھی کیا تو انھیں اتنی مدت نہیں مل سکتی کہ وہ اس قدر تفسیر لکھیں اور چھپوا کر بھیج دیں اس لیے یہ میعاد مقرر کر دی۔
اب اہل حق اس داؤ پیچ کے اعجاز کو ملاحظہ کریں جس سے مرزا قادیانی کی حالت آفتاب کی طرح چمک رہی ہے فاعتبروا یا اولی الابصار‘ یہ وہ سچا بیان ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں کہ اسے غلط ثابت کر سکے الغرض اس بیان نے دنیا پر دو باتیں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہو گئیں ایک یہ کہ اعجاز المسیح کے جواب نہ لکھے جانے کی اصل وجہ کیا تھی دوسرے یہ کہ ان کے صریح اقرار سے یہاں ١؎ بھی ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا اسی وجہ سے قدرت الٰہی نے انھیں مناظرہ کے لیے لاہور
١؎ یعنی متعدد مقامات پر مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کاذب ثابت ہوئے ہیں یہاں بھی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے۔
١٩
جانے نہ دیا اور روک لیا اگر چہ جانے کے بعد بھی جھوٹے ٹھہرتے مگر وہ جھوٹ دوسرے کی زبان سے ثابت ہوتا اور نہ جانے سے ان کی زبان سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا اور ان کے دعوؤں کی حالت بھی معلوم ہو گئی اس زور وشور سے مناظرہ کا اشتہار دیا اور پیر صاحب کو نہایت سخت اور توہین کے الفاظ لکھ کر انھیں آمادہ کیا اور جب وہ آمادہ ہو کر میدان میں آگئے تو گھر سے باہر نہ نکلے اسی طرح ان کے بعض مریدین بھی کرتے ہیں۔
حق پرست حضرات اس واقعہ پر انصاف سے نظر کریں اور بہتر ہے کہ روئداد جلسہ اسلامیہ لاہور کو ملاحظہ کر لیں پھر فرمائیں کہ خدا کے برگزیدہ رسول اس کے نیک بندے سے نہایت سخت کلامی کر کے عہد و پیمان کریں اور نہایت پختہ اقرار کر کے اسے پورا نہ کریں ایسا ہو سکتا ہے؟ خدا کو عالم الغیب جان کر جواب دیجئے کیا ممکن ہے کہ خدا کے مقبول کسی سے ایسا پختہ وعدہ کریں کہ اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے کذب کو منحصر کر دیں اور خدا ان کی اس قدر مدد نہ کرے کہ وہ وعدہ پورا کر سکیں حالانکہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا الہام ہو چکا ہو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور سنا گیا کہ نہ جانے کا عذر مرزا قادیانی نے یہ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ولایتی مولوی مجھے مار ڈالیں گے۔
بھائیو! ذرا تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مناظرہ کا اشتہار دیا اور نہایت غیرت دار الفاظ لکھ کر پیر صاحب کو آمادہ کیا اور جب مناظرہ کا ٹھیک وقت آ پہنچا اور مقابل سامنے آ گیا اس وقت یہ الہام ہوتا ہے کہ ولایتی مولوی مارنے کے لیے بلاتے ہیں کیا اس عالم الغیب کو پہلے سے اس کا علم نہ تھا کہ اگر مناظرہ میں اجتماع ہوگا تو وہ مار ڈالنے کی فکر کریں گے اس ملہم نے اشتہار دینے کے وقت یہ الہام نہ کیا کہ اشتہار نہ دے ورنہ روکا جائے گا اور جھوٹا اور ملعون ٹھہرے گا خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس فعل سے تو نہ روکا جس سے تمام خلق کے نزدیک بدعہد اور جھوٹا قرار پائے اور اس کی اس رسوائی اور کذب کو پسند کر کے اس کے بچانے کے لیے الہام کیا کون صاحب عقل اسے باور کر سکتا ہے مگر ان کے معتقدین خوب خیال کر لیں کہ اگر یہاں مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ماننا ہوگا کیونکہ مقربین خدا خصوصاً انبیاء بغیر الہام الٰہی ایسا اعلان ہرگز نہیں کر سکتے اور اگر غلطی کریں تو انھیں فوراً اطلاع خداوندی نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ عام مخلوق کے روبرو وہ اپنی زبان سے جھوٹے ٹھہرتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مقام
٢٠
پر انبیاء کی حمایت نہ ہو اور انبیاء کو اس کی حمایت پر اعتماد نہ ہو یہ بھی نہیں ہو سکتا، جماعت مرزائیہ انبیاء کے قتل نہ ہونے پر آیت لا غلبن انا ورسلی پیش کرتی ہے، پھر کیا مرزا قادیانی کو اس وقت تک اس آیت پر نظر نہ تھی جو ولایتی مولویوں سے ڈر گئے اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ نہ جانے سے میں جھوٹا ٹھہروں گا، معلوم ہوتا ہے کہ اسی خجالت مٹانے کے لیے یہ دعویٰ کیا کہ ستر دن کے اندر سورہ فاتحہ کی تفسیر ہم بھی لکھیں اور تم بھی لکھو مگر چار جز سے کم نہ ہو اب مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ہم نے اس میعاد کے اندر تفسیر لکھی، اور پیر صاحب لکھنے سے عاجز رہے اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مان لیں کہ یہ تفسیر خود مرزا قادیانی نے لکھی اور اسی مدت میں لکھی اور کسی دوسرے نے مدد نہیں دی، پھر اس میں اعجاز کیا ہوا، اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ادب میں اس قدر مذاق تھا کہ دو ڈھائی مہینہ میں ڈھائی تین جز تفسیر کے عربی عبارت میں لکھ سکتے تھے اور وہ بھی اتنی محنت اور مشغولی کے بعد کہ نمازیں بھی بہت سی قضا کیں، اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے ساتھ ڈھائی تین جز عربی عبارت لکھ دینا کوئی کمال کی بات نہیں ہے، اگر شب و روز میں ایک صفحہ بھی لکھا جاتا تو چار جز سے زیادہ ہوتا، اور مرزا قادیانی کی تفسیر تو معمولی طریقے سے اگر لکھی جائے تو تین جز سے زیادہ کسی طرح نہیں ہوتی، پھر شب و روز کی محنت میں نمازیں قضا کر کے ایک صفحہ تفسیر کا لکھ دینا کوئی بڑی قابلیت کی دلیل ہے کہ دوسرے نہیں کر سکتے، ذرا کچھ تو انصاف کرنا چاہیے اور بہت اچھا ہم نے مانا کہ اس وقت چونکہ اکثر علماء کو عربی تحریر کا مذاق نہیں ہے مرزا قادیانی عربی میں ایسی عبارت اور مضمون لکھ سکتے تھے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے، اس سے ان کے رسالے کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا، زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی میں اتنی قابلیت تھی کہ شب و روز کی محنت میں ایک صفحہ عربی عبارت لکھ سکتے تھے اور وہ چند علماء جنہیں ان کے اعلان کی خبر بھی پہنچی
١ فرضی طور پر یہ لکھا گیا ہے ورنہ اس وقت بھی جن کو عربی تحریر کا مذاق ہے وہ مرزا قادیانی سے بدرجہا عمدہ تفسیر لکھ سکتے ہیں، البتہ عرب کا سا مشغلہ اور ان کے سے خیالات کسی ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کو ذلیل کرنے کے لیے جواب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں اور اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ لائق خطاب نہیں سمجھتے جس کی تحریر کو جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں۔
٢١
مگر وہ اس لیے نہ لکھ سکے کہ عربی لکھنے کی مشق نہیں رکھتے تھے یا بوجہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہوئے اس میں مرزا قادیانی کا اعجاز کیا ہوا‘
الحاصل اس رسالہ کو معجزہ کہنا اور اس کا نام اعجاز المسیح رکھنا محض غلط ہے اور اس کی تصدیق خود مرزا قادیانی کا دل بھی کرتا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے ستر دن کے اندر لکھنے کی قید لگائی ورنہ اعجاز کے لیے کوئی قید نہیں ہو سکتی۔
رسالہ اعجاز احمدی کی حالت اور قصیدہ اعجازیہ کی بنیاد
٥ نومبر ١٨٩٩ء میں مرزا قادیانی نے اس مضمون کا اشتہار دیا کہ اے میرے مولیٰ اگر میں تیری طرف سے ہوں تو ان تین سال میں جو آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے‘ کوئی ایسا نشان کھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو‘ اگر تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے‘ میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے تو میں نے اپنے لیے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا“۔
(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧١-١٧٥)
مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر تو صرف اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا ہے مثلاً احمد بیگ کے داماد کی نسبت کہا ہے کہ اگر وہ میرے روبرو نہ مرے تو میں بد سے بدتر ہوں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص)
یہ بھی کہا ہے کہ اگر تثلیث پرستی کے ستون کو نہ توڑ دوں تو میں جھوٹا ہوں۔
(اخبار بدر قادیان ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
اور اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے لیے تین لقب تحریر کیے تھے اور لکھا تھا کہ اگر میں علماء کے جلسہ میں نہ جاؤں تو میں مردود‘ ملعون ‘جھوٹا ہوں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٣١)
الحمدللہ کہ اس جلسہ میں نہیں گئے اور اپنے اقرار سے ان تین صفتوں کے مستحق ہوئے‘ یہاں اپنے پانچ لقب بیان فرمائے مردود‘ ملعون‘ کافر‘ بے دین‘ خائن‘ خدا کا ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنی حجت سارے خلق پر تمام کر دی اور انہیں اپنے اقرار سے جھوٹا‘
٢٢
مردود‘ ملعون ثابت کر دیا‘ اس قول میں انہوں نے اپنی پانچ صفتیں بیان کیں ہیں‘ اس کا ثبوت کس طرح ہوا اس کی حالت ملاحظہ کیجئے‘ اس پیشین گوئی کے پورے ہونے کی میعاد تین برس بیان کی تھی۔
اب ظاہر ہے کہ اس نشان کے دکھانے کا خیال کس قدر ہوگا اور کیا کیا تدبیریں سوچ رہے ہوں گے، مگر بحمداللہ یہ تین برس خالی گزر گئے صرف ایک مہینہ باقی تھا کہ اتفاق سے اسی ١٩٠٢ء میں موضع مدھلو ضلع امرتسر میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزائیوں کو مناظرہ میں بڑی زک دی‘ اس میں مرزائی بہت ذلیل ہوئے جس کی کیفیت ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء میں شائع ہوئی ہے جب مرزا قادیانی کو اس ذلت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے رسالہ اعجاز احمدی کا اشتہار دیا کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اُردو عربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے پانچ روز میں بنا دے تو میں دس ہزار روپیہ انھیں انعام دوں گا‘ اور اگر وہ اس کے جواب سے عاجز رہے تو سمجھ لیا جائے کہ یہی قصیدہ وہ نشان ہے جس کے ظہور کے لیے میں نے دعا کی تھی کہ تین سال کے اندر اس کا ظہور ہو۔‘‘
(ضمیمہ نزول المسیح ص ٤٣ خزائن ج ١٩ ص ١٤٧ ملخص)
غرضکہ اسی سہ سالہ پیشین گوئی کے پورا کرنے اور اپنے مریدیں کی رسوائی مٹانے کے لیے یہ اشتہار دیا‘ اور اعجاز کا دعویٰ کیا یہ رسالہ ساڑھے پانچ جز کا ہے اس میں ٣٨ صفحوں پر اردو عبارت ہے جس میں بہ کثرت جھوٹے دعوے ہیں‘ اب یہ تو نہایت ظاہر ہے کہ دو تین جز میں جھوٹی سچی باتیں اردو زبان میں بنا دینا تو مشکل بات نہیں ہے البتہ عربی کا قصیدہ لکھنا کمال فصاحت و بلاغت کے ساتھ مشکل ہے۔
اب اس مرزائی اعجاز پر جو اعتراضات ہوتے ہیں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اعجاز نہیں ہے بلکہ فریب ہے انہیں ملاحظہ کیجئے۔
قصیدہ اعجازیہ معجزہ نہ ہونے کی پانچویں وجہ
- (١) پہلا اعتراض اس اشتہار میں جو دعا ہے (رسالہ اعجاز احمدی کے ص ٨٨
خزائن ج ١٩ ص ٢٠٢) میں اسے پیشین گوئی قرار دیا ہے‘ بہر حال وہ دعا ہے یا پیشینگوئی ہے مگر ایسی عظیم الشان ہے کہ اس دعا کے قبول ہونے پر اور اس پیشین گوئی کے پورا نہ
٢٣
ہونے پر اپنے آپ کو مردود اور کافر قرار دیتے ہیں، اس لیے اس دعا کے بعد تین برس تک اس فکر و تجویز میں ضرور رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے تاکہ میں اپنے اقرار سے ملعون و کافر قرار نہ پاؤں میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے اس لیے ایک عربی قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کر کے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے اسی زمانے میں ایک عرب طرابلس کی طرف کے رہنے والے ہندوستان میں آئے ہوئے تھے جابجا وہ پھرتے رہے اور حیدرآباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے، یہ عربی کے شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔
قصیدہ اعجازیہ کا لکھنے والا
اس شہر میں مرزائی زیادہ ہیں انہوں نے مرزا سے رابطہ کرا دیا، اور خط کتابت ہونے لگی، انہوں نے قصیدے کی فرمائش کی عرب صاحب نے پانچ سو روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔
نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کو عربی ادب سے مذاق تھا اس لیے نواب صاحب نے انھیں بلوایا تھا، اتفاق سے جس مکان میں وہ بھوپال میں مقیم تھے اس میں ایک اور مولوی صاحب بھی ٹھہرے تھے جو اطراف امروہہ کے رہنے والے تھے وہ مولوی صاحب کانپور میں میرے پاس آئے اور ان عرب کے قیام کا تذکرہ کیا، اس میں یہ کہا کہ ایک روز وہ مرزا کو خط لکھ رہے تھے میں قریب جا کر کھڑا ہو گیا تو دیکھا کہ خط کے عنوان پر انہوں نے مرزا کو مسیح زمان لکھا تھا، میں نے دریافت کیا کہ آپ انھیں مسیح مانتے ہیں، انہوں نے سختی سے کہا کہ میں اس کو .... ١ مسیح کیا مانتا اُس نے پانچ سو روپیہ دے کر مجھ سے قصیدہ لکھوایا ہے اس لیے میں اس کی تالیف قلب کرتا ہوں۔
اس کی تائید میں دو شاہد اور ہیں مولانا غلام محمد صاحب فاضل ہوشیار پوری سے معلوم ہوا کہ سعید نامی ایک شخص طرابلس کا رہنے والا بڑا ادیب تھا مگر آزاد مزاج کا شخص تھا جیسے اکثر شاعر ہوتے ہیں، مرزا سے اس کی خط و کتابت تھی، پانی پت میں آ کر اسے
١۔ یہاں ان کا سخت لفظ بغرض تہذیب نہیں لکھا۔
٢٤
بعض معقول کی کتابیں پڑھی تھیں، مولوی محمد سہول صاحب پورنوی بھاگلپوری کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں میں نے اس سے ادب کی بعض کتابیں پڑھی ہیں، بڑا ادیب تھا کہتا تھا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی میں نے مرزا کو لکھا اس نے قصیدہ لکھوایا میں نے لکھ دیا، اس نے روپیہ مجھے دیا۔
ان تین شاہدوں کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ یہ قصیدہ مرزا کا لکھا ہوا نہیں ہے، مگر ان باتوں کو کون جانتا ہے اور جس نے جانا بھی وہ اس کے شور و غل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا، مرزا قادیانی نے اپنی میعادی پیشینگوئی پوری کرنے کے لیے سامان کر لیا کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ادب کا مذاق نہیں ہے اور یہ قصیدہ ایک ادیب عرب کا ہے اس کا جواب یہاں کوئی نہیں دے سکے گا اس کی تمہید میں اپنی تعریف بھی بہت کچھ لکھ لی، اسی عرصہ میں اتفاق سے موضع مد میں ان کے مریدین نے مناظرہ میں بڑی شکست کھائی اور نہایت ذلیل ہوئے اور اپنے مرشد کے پاس جا کر روئے، یہ واقعہ اس کا محرک ہوا کہ وہ قصیدہ جو سعید طرابلسی سے لکھوایا ہے اس میں مناظرہ مد کے متعلق اشعار کا اضافہ کر کے مشتہر کیا جائے اور اعجاز کا دعویٰ کی جائے، اس لیے اسے چھاپ کر مع اشتہار کے مولوی ثناء اللہ صاحب کے پاس بھیجا تا کہ عام مریدین اور خاص ان مریدین کو جو مناظرہ کی شکست سے نہایت افسردہ ہو گئے تھے، خوش کریں، اس بیان سے مرزائی اعجاز کی حقیقت تو کامل طور سے منکشف ہوگئی، البتہ اس پر یہ شبہہ ہوتا ہے کہ سعید شامی تو بڑا ادیب تھا وہ ایسی غلطیاں نہیں کر سکتا جیسی مرزا کے قصیدہ میں ہیں یہاں تک کہ بعض الفاظ اس میں ایسے ہیں جو عرب ہرگز نہیں بولتے، اس لیے یہ قصیدہ اس شامی کا نہیں ہو سکتا، اس کا جواب نہایت ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ سعید مرزا کو جھوٹا جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا کو مس نہیں ہے اس لیے اس نے قصداً یہ غلطیاں کی ہیں تاکہ اہل علم اس سے واقف ہو کر اس کی تکذیب کریں چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں اس لیے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا، مرزا قادیانی کو فریب دینے کی غرض سے بعض غلط الفاظ بھی اس میں داخل کر دیئے تا کہ اہل علم انہیں دیکھ کر اس کے اعجاز کی تکذیب کر سکیں۔
الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی کا اعجاز نہیں ہے، اگر اسے اعجاز کہا جائے تو سعید ٢٥
شامی کا اعجاز ہوگا‘ اس مضمون کی پوری شہادت اس واقعہ سے ہوتی ہے جو فاضل ابوالفیض مولوی محمد حسن فیضی مرحوم اور مرزا قادیانی سے ہوا علامہ ممدوح نے جب مرزا قادیانی کی لن ترانیاں بہت کچھ سنیں اور اتفاق سے مرزا قادیانی اپنے مریدوں میں سیالکوٹ گئے ہوئے تھے وہیں علامہ ممدوح پہنچے اور ایک عربی قصیدہ اپنا لکھا ہوا پیش کیا‘ اس وقت جو گفتگو ہوئی اس کی کیفیت مولانا مرحوم نے سراج الاخبار ٢ مئی ١٩٠٢ء میں شائع کی تھی‘ وہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔
نقل مضمون سراج الاخبار ٢ مئی ١٩٠٢ء مشتہرہ فیضی مرحوم
ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت پر نہایت ہی افسوس آتا ہے کہ وہ باوجودیکہ لیاقت علمی بھی جیسا کہ چاہیے نہیں رکھتے اور کس قدر قرآن و حدیث کا بگاڑ کر رہے ہیں سیالکوٹ کے کئی ایک احباب جانتے ہوں گے کہ ١٣ فروری ١٩٠٢ء کو جب یہ خاکسار سیالکوٹ میں مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا قادیانی سے ملا تو ایک قصیدہ عربی بے نقط منظومہ خود مرزا قادیانی کے ہدیہ کیا۔ جس کا ترجمہ نہیں کیا ہوا تھا اس لیے کہ مرزا قادیانی خود بھی عالم ہیں اور ان کے حواری بھی جو اس وقت حاضر محفل تھے ما شاء اللہ فاضل ہیں اور قصیدہ میں ایسا غریب لفظ بھی کوئی نہیں تھا اور پھر اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لیے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنا دیں‘ مزید براں مسائل مستحدثہ مرزا قادیانی کی نسبت استفسار تھا‘ مرزا اس کو بہت دیر تک چپکے دیکھتے رہے اور مرزا قادیانی کو اس کی عبارت بھی نہ آئی‘ باوجودیکہ عربی خوش خط لکھا ہوا تھا‘ پھر انہوں نے ایک فاضل حواری کو دیا‘ جو بعد ملاحظہ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتا آپ ترجمہ کر کے دیں‘ یہ پوچھا گیا کہ آپ کیوں مثیل مسیح موعود ہیں آپ سے بہتر آج کل بھی اور پہلے کئی ایک ولی عالم گزرے ہیں وہ کیوں نہیں اور آپ کیوں ہیں‘ تو فرمایا میں گندم گوں ہوں اور میرے بال سیدھے ہیں جیسے کہ مسیح اللہ کا حلیہ ہے‘ افسوس اس لیاقت پر یہ غل۔ جناب مرزا قادیانی! وقت ہے توبہ کر لیجئے۔
٢٦
مرزا قادیانی کا مقابلہ سے عاجز ہونا
اخیر پر میں مرزا قادیانی کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ عقائد میں سچے ہوں تو آئیں صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں، میں حاضر ہوں، تحریری کریں یا تقریری، اگر تحریر ہو تو نثر میں کریں یا نظم میں، عربی ہو یا فارسی، یا اُردو آئیے سنئے اور سنائیے (راقم ابوالفیض محمد حسن فیضی حنفیؒ ۔ ساکن بھیں ضلع جہلم)
قصیدہ عربیہ غیر منقوطہ منظومہ فیضی مرحوم کے چند اشعار
حمود ١٦ احمد و محمدو طہور مع اولاء وال
اما مملوک احمد اهل علم والہام و حلال السوال
لودک کم مدی همع الدموع وطأ وطا راس اعلام عوال
علی مرالمدی ورکع المودہ وحمل اهلہا ادہی الحمال
ہواک الدھر مادارالسماء ورامک اہلہ روم العسال
یہ قصیدہ اکتالیس شعر کا ہے، بغرض نمونہ میں نے چند شعر لکھ دیئے ہیں ناظرین ملاحظہ کریں کہ اس عربی قصیدہ کا ترجمہ نہ کر سکے، پھر وہ عربی قصیدہ کیا لکھتے معلوم ہوتا ہے کہ اول اسی واقعہ کی شرم انھیں ہوئی اور قصیدہ لکھوانے کا خیال ہوا، اور لکھوایا، پھر مکہ کا واقعہ پیش آ گیا، اس کے متعلق اشعار کا اضافہ کر کے قصیدہ کا اعلان کیا، علامہ فیضی نے صرف قصیدہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ مناظرہ کا دعویٰ کیا، اور مقابلہ کے لیے بلایا، مگر مرزا قادیانی دم بخود رہے، مولانا کے روبرو کچھ نہ کہہ سکے، اب حیرت ہے کہ مرزا قادیانی اس طرح علماء کے مقابلہ سے عاجز رہے ہیں، اس پر یہ بے شرمی ہے کہ پھر وہی دعویٰ ہے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمارے اس دعوے کو بہت ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جنہوں نے پہلا واقعہ دیکھا سنا نہ ہوگا اور ہمارے سکوت و عجز سے واقف نہ ہوں گے، یہی حالت ان کے مریدوں کی ہے کہ بڑے معرکہ میں نہایت ذلیل ہوتے ہیں، مگر دوسرے وقت وہی دعویٰ ہے، بہت رسائل لکھے ہوئے موجود ہیں، خلیفہ اول کے عہد میں ان کے پاس بھیجے گئے ہیں اور اب بھی بھیجے جاتے ہیں اور یہ وہ رسائل ہیں جن میں متعدد طریقے سے نہایت کامل طور سے مرزا قادیانی
٢٧
کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور یہاں سے قادیان تک کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکا، تمام مرزائی ان کے جواب سے عاجز ہیں، یا ائمہ ان کے جاہل متبعین پکارتے ہیں کہ ہم مرزا کی نبوت ثابت کریں گے، اور جب اہل حق پکارتے ہیں کہ سامنے آؤ تو منہ چھپاتے ہیں۔
- (٢) دوسرا اعتراض: پہلے بیان کر دیا گیا کہ معجزہ اور نشان وہی کلام ہو سکتا ہے
جس کے مثل نہ اس کے پہلے کوئی لکھ سکا ہو نہ اس کے بعد لکھ سکے، قصیدہ مرزائیہ کے قبل تو بہت قصیدے عمدہ عمدہ لکھے گئے ہیں اور بعض چھپے ہوئے موجود ہیں، مثلاً شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا قصیدہ نعتیہ دیکھا جائے، کیسے نادر مضامین ہیں اور اس کی تضمین جو شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے کی ہے اسے فن ادب کے اہل مذاق ملاحظہ کریں، اسی طرح مولوی فضل حق صاحب مرحوم کا قصیدہ جس میں انہوں نے غدر کے حالات بیان کئے ہیں قابل دید ہے جنہیں اہل علم دیکھ کر مرزا کے قصیدہ کو ردی میں پھینک دینے کے قابل سمجھیں گے۔
آزاد بلگرامی کے قصائد اہل علموں نے دیکھے ہیں مگر مرزائی جہلا کو علمی باتوں سے کیا واسطہ، وہ کیا جانیں کہ کون ذی علم کس فن کا زیادہ جاننے والا ہے، پہلے قصیدوں کے علاوہ مرزا کے دعویٰ کے بعد بھی اس کے جواب میں قصیدے لکھے گئے ہیں۔
پہلا قصیدہ جوابیہ:
قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم نے مرزا قادیانی کی زندگی میں لکھا تھا اور ١٩٠٤ء کے شروع میں اخبار اہلحدیث میں وہ قصیدہ چھپا ہے اور پھر ١٩١٣ء کے رسالہ الہامات مرزا میں اس کے باسٹھ شعر نقل کئے گئے ہیں۔
دوسرا قصیدہ جوابیہ: نہایت ہی عمدہ اور لاجواب جو ١٣٣١ھ میں لکھا گیا ہے یہ قصیدہ چھ سو پچیس اشعار کا ہے، البتہ چھپا نہیں ہے عنقریب چھپنے والا ہے اہل علم اسے دیکھ کر مسرور ہوں گے، چند اشعار اس کے نقل کئے جاتے ہیں جن کے الفاظ و مضمون سے اہل علم مسرور ہونگے (چھپ گیا تھا ہمارے مرکزی دفتر کی لائبریری میں موجود ہے ان تمام کو احتساب قادیانیت کی مستقل جلد میں لانے کا ارادہ ہے۔)
٢٨
قصیدہ جوابیہ کے چند اشعار
- (١) وذاک رسول الله من جاء رحمة - يُبَشِّرُ بِالْفِرْدَوْسِ حَقًّا وَ يُنْذِر.
اور وہ جناب رسول اللہ ﷺ ہیں جن کا تشریف لانا عالم کے واسطے رحمت تھا۔ وہ جنت کے لوگوں کو بشارت سچی دیتے تھے اور دوزخ سے ڈراتے تھے۔
- (٢) نَبِيُّ الْهُدَى خَيْرُ الْأَنَامِ مُحَمَّدٌ - حَبِيْبُ إِلٰهِ الْعَرْشِ لِلْفَضْلِ مَظْهَرُ
نبی ہیں وہ ہدایت کے تمام مخلوقات سے افضل ہیں نام پاک ان کا محمد ہے۔ محبوب ہیں وہ الہِ عرش کے فضائل و کمالات کے مظہر ہیں۔
- (٣) هُوَ الْمُصْطَفَى الْمُخْتَارُ مِنْ قَبْلِ اٰدَمَ - وَاٰخِرُ مَبْعُوْثٍ بِهِ الْحَقُّ يَظْهَرُ
وہی برگزیدہ پسند فرمائے گئے ہیں حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے سے۔ اور سب سے آخر میں بھیجے گئے ہیں ان ہی کے ذریعہ سے حق ظاہر ہوا۔
- (٤) حَوىٰ جَانِبَيْ فَضْلٍ وَذَاکَ لِحِكْمَةٍ - يَرَاهَا لَهُ الْمَوْلَى الْحَكِيْمُ الْمُقَدِّرُ
انہوں نے دونوں جانبیں فضل کی گھیر لیں اور یہ بہت بڑی حکمت کی بناء پر۔ جس کو آپ کے واسطے اللہ تعالیٰ حکیم نے مقدر فرمایا۔
- (٥) شَرِيْعَتُهُ الْغَرَّاءُ حِيْنَ تَلَالَأَتْ - مَصَابِيْحُهَا لَمْ يَبْقَ لِلْغَيْرِ نَيِّرُ
آپ کی روشن شریعت کے چراغ جس وقت چمکنے لگے۔ تو غیروں کی روشنی ماند ہو گئی۔
- (٦) بِهِ خُتِمَ الْاِرْسَالُ حَقًّا وَّ دِيْنُهُ - هُوَ الْحَقُّ لَا يُمْحىٰ اِلَى يَوْمِ يُحْشَرُ
آپ ہی کی ذات پر ارسال ختم ہو گیا حقاً و یقیناً اور آپ کا دین۔ وہی حق ہے جو قیامت تک محو نہ ہوگا۔
- (٧) بِهِ خُتِمَ الْاِرْسَالُ حَقًّا وَّلَمْ يَسَعْ - لِشَخْصٍ سِوَاهُ بِالنُّبُوَّةِ يَفْخَرُ
آپ ہی کی ذات پر ارسال ختم ہو گیا حقیقت میں اور اس لیے کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ آج نبوت پر فخر کرے۔
٢٩
- (٨) وَمَنْ جَاءَ بِالْبُهْتَانِ دَعْوَى نُبُوَّةٍ - فَذَالِكَ فِى دَعْوَاهُ لَا شَكَّ يُخْسَر
اور جس شخص نے بہتان اور افتراء سے دعویٰ نبوت کیا۔ تو وہ بے شک اپنے دعوے میں ٹوٹے میں ڈالا جائے گا۔
- (٩) وَمُذْ كَانَ خَيْرُ الْخَلْقِ لِلرُّسُلِ خَاتِمًا - هِدَايَتُهُ لَا شَكَّ أَعْلَىٰ وَ أَكْبَر
اور جبکہ خیر الخلق علیہ السلام رسولوں کے ختم کرنے والے ہوئے۔ تو آپ کی ہدایت بے شک اعلیٰ و اکبر ہوگی
- (١٠) وَمِنْ ذَاكَ يُدْرىٰ أَنَّ تَاثِيْرَ هَدْيِهِ - بَلِيْغٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامِ يُؤَثِّر
اور اس وجہ سے یقین کیا جاتا ہے کہ آپ کے اخلاق اور ہدایت کی تاثیریں۔ قیامت تک اثر کرتی ہوئی پہنچیں گی۔
- (١١) فَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمُصْطَفَى حَاجَةٌ إِلَى - نَبِيٍّ بِهِ سُبُلُ الْهِدَايَةِ تَظْهَر
تو بعد حضرت مصطفیٰ علیہ السلام کے کسی ایسے نبی کی حاجت ہی نہ باقی رہی۔ جس کے ذریعہ سے ہدایت کے راستے ظاہر ہوں۔
- (١٢) فَذَالِكَ يُزْرِيْ بِالْكَمَالِ أَتَى - بِهِ الْمُصْطَفَى يَهْدِي الْوَرَى وَيُذَكِّر
کیونکہ ایسی حاجت کا باقی رہنا آپ کے اس کمال کو بٹا لگاتا ہے جس کو لے کر آپ تمام عالم کو ہدایت اور نصیحت فرماتے ہوئے تشریف لائے ہیں۔
- (١٣) قَدْ صَحَّ أَنَّ الْمُصْطَفَى جَاءَ رَحْمَةً - إِلَى الْخَلْقِ طُرًّا فِى الْكِتَابِ يُسَطَّر
اور یہ بھی صحیح طور پر ثابت ہوا ہے کہ آن جناب علیہ السلام تمام مخلوقات کے لیے رحمت ہو کر آئے ہیں چنانچہ قرآن شریف میں یہ مسطور ہے۔
- (١٤) وَهَلْ يَقْبَلُ الْعَقْلُ السَّلِيْمُ بِأَنَّ - مَنْ يُّصَدِّقُ خَيْرَ الْخَلْقِ فِي النَّارِ يُدْحَر
تو کیا اس کے بعد عقل سلیم قبول کرے گی۔ تو آپ کا تصدیق کرنے والا دوزخ میں دہکا دیا جائے۔
- (١٥) وَلَوْ جَازَ بَعْدَ الْمُصْطَفَى بَعْثُ مُرْسَلٍ - لَكَانَ عَلَى تَصْدِيْقِهِ الْكُلُّ يُجْبَر
٣٠
اور اگر بعد مصطفیٰ علیہ السلام کے کسی رسول کا فرستادہ ہونا جائز ہوتا تو اس نبی کی تصدیق پر تمام آدمی جبر کئے جاتے۔
- (١٦) وَمَنْ لَّمْ يُصَدِّقْهُ يُؤَبَّدْ فِي لَظٰی – وَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لِلْمُصْطَفٰی قَطُّ يُنْكِرِ
اور جو اس کی تصدیق نہ کرتا وہ ہمیشہ رکھا جاتا دوزخ میں۔ اور اگرچہ وہ مصطفیٰ علیہ السلام کا کبھی بھی انکار نہ کرتا تھا۔
- (١٧) وَهٰذَا يُنَافِی كَوْنَهُ جَاءَ رَحْمَةً – اِلَی الْخَلْقِ طُرًّا اَيُّهَا الْمُتَدَبِّرِ
اور یہ آپ کی رحمت عامہ ہونے کی منافی ہے کیونکہ آپ تمام خلق کے لیے رحمت ہیں پس غور کر اے سوچنے والے۔
- (١٨) عَلٰی كُلِّ حَالٍ اِنْ اَتَی الْقَوْمَ مُرْسَلٌ – فَلَمْ يَخْلُ اِمَّا مُؤْمِنٌ اَوْ فَمُنْكِرِ
بہر حال اگر قوم میں کوئی رسول آیا تو وہ حال سے لوگ خالی نہ ہوں گے یا مومن ہوں گے یا منکر
- (١٩) وَمُنْكِرُ مَبْعُوْثِ الْاِلٰهِ مُعَذَّبٌ – غَدَ الْحَشْرِ يَوْمَ الدِّيْنِ فِی النَّارِ يُدْحَرُ
اور منکر فرستادہ خداوندی عذاب دیا جائے گا اور کل کو حشر میں جزاء کے دن دوزخ میں دہکا دیا جائے گا۔
- (٢٠) وَيَلْزَمُ مِنْ ذَا اَنْ يُعَذَّبَ مُؤْمِنٌ – بِخَيْرِ الْوَرَی الْمُخْتَارِ مَنْ جَاءَ يُنْذِرُهُ
اور اس سے لازم آتا ہے کہ جناب رسول اللہ علیہ السلام پر ایمان لانے والا بھی عذاب دیا جائے گا۔
(یہ رحمت کی شان کے بالکل خلاف ہے)
اہل علم ان چند اشعار کی خوبی کو ملاحظہ کریں، کیسا بے نظیر مضمون ان میں ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہ آنے کی کیسی عمدہ وجہ بیان کی ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان دکھائی ہے اور مرزائیوں کی جہالت ظاہر کی ہے، مرزا کے قصیدہ میں سوائے اپنی تعلّی اور دوسرے علماء کی برائی کے اور کوئی مضمون نہیں ہے، جب
٣١
یہ قصائد قصیدہ مرزائیہ سے نہایت عمدہ موجود ہیں تو مرزا قادیانی کے قصیدہ کو معجزہ کہنا آنکھوں پر پٹی باندھ کر کنوئیں میں گرنا ہے اور عوام کو فریب دینا ہے۔
(٣) تیسرا اعتراض۔ اس قصیدہ کے جواب کے لیے تو زیادہ سے زیادہ بیس روز کی میعاد مقرر کی تھی اور پھر اس قید شدید ہی پر بس نہیں کی بلکہ یہ بھی لکھا کہ اسی میعاد میں رسالہ چھپا کر اور مرتب کرا کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے یعنی اس اعجاز میں لوہے اور پتھر اور صناع اور کاریگروں کو بھی دخل ہے اس لیے اس کے جواب میں بھی ان کو دخل ہونا چاہیئے، محض قلمی لکھ کر بھیجنا کافی نہیں ہے اب جن کے قلب میں کچھ بھی انصاف کی بو ہے وہ صرف ان قیدوں میں تھوڑا سا غور کر کے مرزا قادیانی کی حالت معلوم کر سکتے ہیں، کیا صادقین کی باتیں ایسی چالاکی اور عیاری کی ہو سکتی ہیں؟ اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اس کے جواب میں چار قیدیں لگاتے ہیں۔
(١) باریک قلم سے لکھا ہوا ٩٠ صفحہ کا رسالہ ہو (٢) آدھا رسالہ اُردو میں ہو اور آدھا عربی نظم میں (٣) بیس روز کے اندر لکھیں (٤) اور اسی میعاد میں چھپوا کر میرے پاس بھیج دیں، اہل انصاف اس روشن زبردستی کو ملاحظہ کریں کہ ان قیدوں کے ساتھ ظاہری اسباب کی نظر سے جواب لکھ کر بھیجا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جس کے بعض صفحوں پر ٢٢ سطریں ہوں اور بعض میں ٢١ سطر، پھر اتنے بڑے رسالے کی تالیف کرنا اور تالیف بھی معمولی نہیں ایک بڑے مناظر مشاق کی باتوں کا جواب دینا اور وہ بھی صرف اردو نہیں بلکہ عربی قصیدہ بھی اس طرح کا ہو جیسا کہ اس میں ہے، ان قیدوں کو دیکھ کر ہر ایک منصف کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس کا جواب لکھ دیں گے اس لیے ایسی شرطیں لگاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لکھنا غیر ممکن ہو اور دام گرفتہ مرید خوش ہو جائیں، اب ملاحظہ کیجئے کہ مرزا کا رسالہ ساڑھے پانچ جز میں ہے، ظاہر ہے کہ ہر ایک ذی علم پانچ روز میں اس کی نقل نہیں کر سکتا، کیونکہ زود نویسی کے عادی بہت ہی کم اہل علم ہوتے ہیں، جب اس مدت میں نقل نہیں ہو سکتی تو تصنیف کرنا کس طرح ہو سکتا ہے، اس قصیدہ کے اول ٣٨ صفحوں میں تو مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی تعلی اور دوسروں کی مذمت کی ہے اور آخر صفحہ میں عوام فریب پیرایہ سے حضرت
٣٢
امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجو ١ کو الہامی بتا کر خود بری الذمہ ہوئے ہیں اور عوام کو فریب دیا ہے پھر ان باتوں کا کافی جواب تو ٣٨ یا ٤٨ صفحوں میں نہیں ہو سکتا اس کے لیے تو اگر آٹھ دس جز میں جواب لکھا جائے تو شاید کچھ جواب ہو پھر دیکھا جائے کہ اتنے جز کتنے روز میں انسان تصنیف کرے گا پندرہ بیس روز سے کم میں تو لکھنا غیرممکن ہے اب عربی قصیدہ کی تالیف کا اندازہ کیجئے۔
غرضیکہ بیس روز میں یہ دونوں کام ہرگز نہیں ہو سکتے یہ بدیہی اور عقلی بات ہے اب اس کے چھپنے کی مدت پر نظر کی جائے اس کی حالت تجربہ کار اور صاحب مطبع خوب جانتے ہیں اگر دوسرے کے مطبع میں چھپوایا جائے تو حسب خواہ اس قدر جلد چھپوا لینا اس کے اختیار سے باہر ہے ہاں اگر خود مولوی صاحب کسی پریس کے مالک ہوں اور وہ خود لکھیں اور چھپوائیں اور درمیان میں کوئی مانع پیش نہ آئے اور پریس میں ٹائپ وغیرہ صحیح و سالم رہ کر مستعدی سے کام کریں تو چھوٹے پریس میں ایک مہینہ میں اور بڑے میں غالباً بیس روز میں رسالہ تیار ہو سکتا ہے اس کے بعد بھیجا جائے گا غرضیکہ تخمینا دو ماہ میں ایسے رسالے کا لکھا جانا اور چھپنا ہو سکتا ہے اگر مولف کو کوئی بیماری یا کوئی شدید ضرورت نہ آئے اس کے علاوہ رسالہ لکھے جانے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ لکھنے والے کو مرزا قادیانی یا ان
١ قصیدہ اعجازیہ میں مرزا قادیانی نے اپنی تعلیٰ ایسی کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین ؓ سے اپنا تفوق اس طرح بیان کیا کہ ان حضرات کی کامل ہجو ہو گئی ہے اس لیے انھیں خیال ہوا کہ مسلمان ان سے بدگمان ہوں گے آخر صفحہ میں اس بدگمانی کو مٹانا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں لکھا یعنی بالہام الہٰی لکھا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے لکھتا تو میں وعید الہٰی میں پکڑا جاتا (اعجاز احمدی ص ٤٥ خزائن ج ١٩ ص ١٤٩) یہاں عجب طرح کا فریب دیا ہے کہ ان بزرگوں کی کامل ہجو کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے برگزیدہ حضرات میں نہیں تھے ورنہ مجھ پر ضرور وعید نازل ہوتی، مگر بایں ہمہ ان کے نام عظمت سے لیے ہیں، جس سے عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی عظمت کرتے ہیں مرزا قادیانی کے فریب اسی قسم کے ہوتے ہیں خدا ان سے پناہ دے اپنی زبان درازی کو خدا کا الہام بتا کر انھیں مقبولان خدا سے گرا دیا یہاں غور سے دیکھنا چاہیے۔
٣٣
کے مریدین کی بات پر ایسا اعتماد ہو کہ اگر میں محنت شاقہ اٹھا کر جواب لکھوں گا تو کوئی نتیجہ اس پر مرتب ہوگا اور مرزا خود اپنے آپ کو یا ان کے مرید انہیں جھوٹا جانیں گے مگر کسی صاحب تجربہ کو اس کی امید نہیں ہو سکتی بہت تجربہ ہو چکا ہے کہ بڑے معرکہ کی پیشین گوئیاں ان کی جھوٹی ہوئیں مگر ان کے مریدین کے قلب ایسے تاریک ہو گئے ہیں کہ کسی کو ایسی اعلانیہ کذابی نظر ہی نہیں آتی، پھر عربی عبارت کا اعجاز یا عدم اعجاز مرزائی جہلا کیا سمجھیں گے، انہی مشکلات پر نظر کر کے مرزا نے ایسی قیدیں لگائیں کہ ان قیدوں کی وجہ سے جواب غیر ممکن ہو جائے اور اگر ان قیدوں کو چھوڑ کر کوئی جواب لکھے تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔
ان دنوں خلیفہ قادیان سے دریافت کیا گیا کہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا اگر کوئی جواب دے تو وہ جواب سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اس کا جواب مفتی محمد صادق قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا آیا کہ اعجاز احمدی کے بالمقابل لکھنے کی میعاد ١٠ دسمبر ١٩٠٢ء کو ختم ١ ہو گئی اور اعجاز المسیح کی میعاد ٢٥ فروری ١٩٠١ء کو ختم ہو گئی۔ لیجئے جناب خلیفہ قادیان کی تحریر سے بھی معلوم ہوا کہ ان رسالوں کا اعجاز بہت تھوڑی مدت کے اندر محدود تھا اس کے بعد وہ اعجاز سلب ہو گیا اب اس کے مثل اہل علم لکھ سکتے ہیں مگر وہ جواب جماعت مرزائیہ کے لائق توجہ نہ ہوگا البتہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ رحمانی اعجاز کسی میعاد کے اندر محدود نہیں ہو سکتا اگر شیطانی اعجاز ایسا ہو تو ہم نہیں کہہ سکتے البتہ ایسے اعجاز کو ہمارے روبرو پیش کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔
١ اس کے ختم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تین برس کے اندر جو نشان دکھانے کی پیشین گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی وہ آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہوتی ہے اس لیے قصیدہ کو اعجاز بنانا مرزائیوں کا فرض ہے اگر نہ بنائیں تو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے جاتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی سترہ اٹھارہ برس میں پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی نے خدا کو جھوٹا قرار دیا تو اگر اس تین برس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہوتا تو کوئی الزام خدا پر یا اپنی سمجھ پر لگا دینا آسان تھا ایسی اعلانیہ غلطی اور فریب دہی کی ضرورت نہ تھی۔
٣٤
برادران اسلام نے ایسا اعجاز نہ سنا ہوگا کہ بیس دن کے اندر تک تو معجزہ رہے اور اس کے بعد وہ اعجاز جاتا رہے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حد بندی کی اطلاع ان کے مریدین اور معتقدین کو ہے یا نہیں کیونکہ وہ اب تک ان رسالوں کو جواب کے لیے پیش کرتے ہیں اور بآواز بلند کہتے ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں دیا مگر جب یہ امر مشتہر ہو چکا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی جماعت کو خبر نہ ہو بلکہ ناواقفوں کو دھوکا دینا انھیں مدنظر معلوم ہوتا ہے غرض یہ ہے کہ اگر کوئی جواب نہ لکھے تو اس کا اعلان ہے کہ کسی نے جواب نہیں دیا اعجاز ثابت ہو گیا اور اگر کسی نے جواب دیا تو فوراً کہہ دیا جائے گا کہ جواب کی تاریخ گزر گئی اب توجہ کے لائق نہیں ہے غرضیکہ مرزا قادیانی کی اور ان کے متبعین کی باتیں عجب پیچ در پیچ ہوتی ہیں صادقوں کی سی سچائی اور صفائی ہرگز نہیں ہے اس حد بندی کی توجیہہ خلیفہ اول نے جو بیان کی ہے وہ لائق دید ہے۔ ص ٢٣٣ میں لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی زمانی تحدید بھی کرتا ہے بلکہ کہتا ہے ایسا بے نظیر کلام فصیح و بلیغ عربی میں پیش کرو پس دونوں قیود سے قرآن کی طرح توسیع نہیں ۔ ...... مرزا حقیقتاً واقعی طور پر عین محمد واحمد نہیں بلکہ غلام احمد ہے۔ ..... آقا کی برابری پسند نہیں کرتا۔
خلیفہ قادیان کی ایسی باتوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کیا اسی عقل و فہم پر حکیم الامتہ کا خطاب دیا گیا ہے؟ یہ تو فرمایئے کہ برابری کا نہ ہونا اور ادب اور غلامی کا ثبوت اسی پر منحصر تھا کہ جواب کے لیے ایسے انداز سے قید لگائی جائے کہ اس میعاد میں جواب لکھ کر اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن ہو ادب اور غلامی کا ثبوت تو اس طرح بھی ہو سکتا تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تمام عمر میں اس کا جواب دیں یا دوسرے سے لکھوائیں اس قدر قید ان کی غلامی کے ثبوت کے لیے بہت کافی تھی اس طرح کہنے سے اس قول کی بڑی عظمت ہو جاتی اور غلامی بھی قائم رہتی مگر یہ نہیں کیا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مقرر کی اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں ہے جو ابھی بیان کی گئی اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو فرمائیں کہ اگر برابری کا دعویٰ نہیں ہے تو (١) منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد (تریاق القلوب ص ٦ خزائن ج ١٥ ص ١٣٢) کس نے کہا ہے (٢) اعجاز احمدی کا وہ شعر بھی آپ کو یاد ہے جس میں مرزا قادیانی لکھ رہے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ کے لیے تو
٣٥
صرف چاند گہن ہوا اور میرے لیے چاند گہن اور سورج گہن دونوں ہوئے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)
کہئے جناب یہاں تو برابری سے گذر کر فضیلت کا دعویٰ ہے یہاں غلامی کہاں چلی گئی۔
- (٣) تحفہ گولڑویہ (ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) کا وہ مقولہ بھی آپ کو یاد ہوگا
کہ رسول اللہ ﷺ سے تین ہزار معجزے ہوئے اس کے بعد اس قول پر نظر کیجئے جہاں لکھتے ہیں کہ مجھ سے تین لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوئے۔
(حقیقت الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠ ملاحظہ ہو)
اب فرمائیے کہ یہاں سو حصے زیادہ فضیلت کا دعویٰ ہے یا نہیں؟ ضرور ہے پھر یہاں دعویٰ غلامی کہاں چلا گیا اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوے بہت ہیں مگر جب جیسا موقع ان کے خیال میں آ گیا ویسا دعویٰ کر دیا حکیم صاحب کچھ تو ہوش کیجئے آپ کہاں تک بات بنائیں گے لن یصلح العطار ما افسد الدھر خلیفہ صاحب کے حال پر سخت افسوس ہے کہ باوجود واقف ہونے کے ایسی مہمل بات کہتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں اگر ان کی عقل پر ایسے پردے پڑے ہوئے نہ ہوتے تو مرزا قادیانی کے حلقہ بگوش ہرگز نہ ہوتے غرضیکہ مرزا قادیانی کی باتوں نے آفتاب کی طرح روشن کر دیا کہ اس اعجاز کے دعوے سے مقصود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور معلوم کر لیا تھا کہ ان شرطوں کے ساتھ جواب دینا غیر ممکن ہے کیونکہ جو کام اسباب ظاہری کے لحاظ سے کم سے کم ڈیڑھ دو مہینہ کا ہو وہ بیس دن میں کیونکر ہو سکتا ہے مگر قدرت خدا کا نمونہ ہے کہ جماعت مرزائیہ کے پڑھے لکھے بھی ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے اور ان رسالوں کو معجزہ مان رہے ہیں قصیدہ اعجازیہ کی تفصیلی حالت اور اس کے اغلاط اولاً۔ الہامات مرزا مطبوعہ بار چہارم کے ص ٩٣ سے ص ١٠٦ تک دیکھنا چاہیئے مولوی صاحب نے قصیدہ کی غلطیاں دکھا کر یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قصیدہ کو ان اغلاط سے پاک کریں اور پھر زانو بزانو بیٹھ کر عربی تحریر کریں اس وقت حال کھل جائے گا مگر مرزا قادیانی نے تو اس کے جواب میں دم بھی نہ مارا اگر عربیت میں دعویٰ تھا اور یہ قصیدہ خود انہوں نے لکھا تھا تو کیوں سامنے نہ آئے یہ بدیہی دلیل ہے کہ قصیدہ دوسرے سے لکھوایا اور اپنے فہم کے موافق سمجھ لیا کہ
٣٦
مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا قصیدہ عربی میں لکھ سکیں پھر بطور احتیاط بیس دن کے اندر چھپوا کر بھیجنے کی قید لگا دی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے اندر تو وہ لکھ کر کسی طرح بھیج ہی نہیں سکتے اگرچہ وہ ادیب بھی ہوں اس لیے ایسا دعویٰ کر دیا۔
ثانیاً ١٣٣٣ھ میں رسالہ ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ چھپا ہے جو ١٠٤ صفحہ کا ہے اس میں صرف قصیدے کی غلطیاں دکھائی ہیں اور ہر قسم کی غلطیاں ہیں اور خاص قادیان بھیجا گیا ہے مگر تیسرا برس ہے اب تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ جواب دے پھر کیا ایسے ہی مہمل اور پر اغلاط رسالہ کو معجزہ کہا جاتا ہے شرم نہیں آتی اب اس کو ملاحظہ کرنا چاہیے کہ مرزا قادیانی اس دعویٰ اعجاز کی وجہ سے کئی دلیلوں سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔
پہلی اور دوسری دلیل کلام معجز کی تعریف ان دونوں رسالوں پر صادق نہیں آتی کلام معجز کے لیے زمانے کی تعیین نہیں ہوتی مرزا قادیانی نے دو طرح سے زمانہ متعین کیا ایک یہ کہ آئندہ زمانہ کا کلام جواب میں پیش کیا جائے گذشتہ زمانہ کا کلام نہ ہو دوسرے یہ کہ چند روز میں جواب دیا جائے ان دونوں وجہوں سے ان کا اعجاز غلط ثابت ہوا اور یہ دو دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قرار پائیں۔
تیسری دلیل جس میں سات دلیلیں ہیں ہم نے اعجاز المسیح اور قصیدہ اعجازیہ کے جوابات پیش کر دیئے جو ان دونوں رسالوں سے بدرجہا ہر طرح سے عمدہ ہیں جب ان کے جوابات ان سے بدرجہا عمدہ موجود ہیں تو وہ معجزہ نہیں ہو سکتے اور ہر ایک جواب مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لیے کافی دلیل ہے اور بیان سابق میں پانچ جواب قصیدہ کے اور دو اعجاز المسیح کے ذکر کئے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوا کہ یہ سات دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ہوئیں اور وہ پہلے بیان ہو لیں اس لیے یہاں تک نو دلیلیں ہوئیں۔
دسویں دلیل ایک رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو مطبع فیض عام لاہور میں چھپا ہے اس میں صرف لفظی غلطیاں اعجاز المسیح کی دکھائی ہیں کئی برس ہوئے اسے چھپے ہوئے مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکا جو کلام اس قدر غلط ہو وہ تو فصیح و بلیغ بھی نہیں ہو سکتا اور اعجاز تو بہت بلند مرتبہ ہے۔ یہ دسویں دلیل ہوئی اس کے معجزہ نہ ہونے کی۔
قادیانی کے سرگروہوں نے اپنے جہلا کو یہ جواب سکھا دیا ہے کہ ایسے
٣٧
اعتراضات تو عیسائیوں نے قرآن مجید پر بھی کئے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ صرف ابلہ فریبی ہے جو ذی علم عیسائی ہیں وہ تو قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت کو ایسا مانتے ہیں کہ جابجا قرآن مجید کی عبارت کو سند میں پیش کرتے ہیں‘ اگر کچھ علم ہے تو ...... اقرب الموارد دیکھو اور اگر کسی جاہل عیسائی نے اعتراض کیا تو وہ قابل عیسائیوں کے اقوال سے لائق توجہ نہیں ہوسکتا‘ اس کے علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان سب کے جوابات ہمارے علماء نے دیئے ہیں‘ اب اگر کسی قادیانی کو دعویٰ ہو کہ عیسائی کے کسی اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تو ہمارے سامنے پیش کرے پھر دیکھے کہ ہم اس کو کیسا جواب دیں گے اور پھر مرزا قادیانی پر اعتراض پیش کریں گے اور پوچھیں گے کہ اس کا جواب کس نے دیا ہے اور اگر کسی نے نہیں دیا تو اب کوئی جواب دئے مگر ہم یقینی پیشین گوئی کرتے ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا‘ مولف القا فرماتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ جو اعتراضات اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی پر کئے گئے ہیں اس وقت تک کوئی جواب اس کا نہیں دے سکا۔
(اس کے بعد نزول المسیح وغیرہ کا صرف حوالہ دے کر لکھتے ہیں) اگر ابو احمد صاحب کو دعویٰ علمیت ہے تو ان دونوں کتابوں پر اعتراض شائع کریں‘ ان شاء اللہ خود تجربہ ہو جائے گا کہ معاملہ کیا ہے۔‘‘ ص ١٦) مولوی صاحب جھوٹ کہہ دینا تو آسان ہے مگر اس جھوٹ کو سچا دکھا دینا مشکل ہے‘ ایک دو اعتراض کو نقل کر کے اس کا جواب نقل کیا ہوتا‘ تاکہ نمونہ دیکھتے اور جواب کی حالت دکھاتے‘ یا یوں لکھا ہوتا کہ مثلاً الہامات مرزا میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے جوابات فلاں رسالہ میں ہیں اور پیر مہر علی شاہ صاحب نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا جواب فلاں رسالے میں ہے رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا جواب کامل فلاں رسالہ میں ہے یہ نہیں لکھتے‘ کیونکہ کچی اور قابل توجہ بات کہنے سے عاجز ہیں اور یوں کسی وقت کسی رسالہ میں بے تکی بات کہہ دی یا ممکن ہے کہ سو اعتراضوں میں سے کسی اعتراض کا کوئی جواب دے دیا اس سے وہ رسالے اعتراضوں سے بری نہیں ہو سکتے خیر اس مدت کی گذری ہوئی باتوں کو میں اس وقت نہیں چھیڑتا‘ یہ کہتا ہوں کہ تین برس ہوئے ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ ١٠٤ صفحہ پر چھپا ہے جس میں قصیدہ اعجازیہ پر ہر قسم کے اعتراضات کئے گئے ہیں اور بہت شرمناک
٣٨
اعتراضات ہیں اور قادیان بھیجا گیا ہے مگر اس وقت تک تو اس کے دو چار اعتراض کا جواب بھی دے کر ہمارے پاس نہیں بھیجا گیا تاکہ ہم نمونہ دیکھتے، اب تو تجربہ ہو گیا اور آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ آپ کیا آپ کی ساری جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز ہے، اب فرمائیے کہ بالکل جھوٹی بات کس کی ہے، چونکہ آپ کو ادب میں دخل نہیں ہے اور بے جا شغف محبت نے عقل کو سلب کر دیا ہے، اس لیے ایسی باتیں کہتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے، یہ تو فرمائیے کہ اس کے علاوہ آپ کے اس قول کے بعد کتنے رسالے مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کے ثبوت میں لکھے گئے ایک کا بھی جواب آپ نے یا آپ کی جماعت نے دیا؟ اس تجربہ کے بعد بھی تو آپ نے امر حق کو قبول نہیں کیا اور اعلانیہ کاذب کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوئے، مولوی صاحب نے اپنے مرشد سے صرف الزام اٹھانے ہی کے لیے راستبازی سے کنارہ کشی نہیں فرمائی بلکہ قرآن مجید پر بھی ایسا ہی الزام لگانا چاہتے ہیں جیسا الزام انسانی تصنیف یعنی مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی و اعجاز المسیح پر لگائے گئے ہیں، چنانچہ ص ١٦ میں لکھتے ہیں کیا ابو احمد صاحب کا یہ غلط دعویٰ کبھی صحیح ہو سکتا ہے کہ ۔مخالفین کے ) اعتراضات صرف معنی ہی کے لحاظ س ہیں اور فصاحت اور بلاغت اور قواعد کے لحاظ سے مخالفین اسلام چپ ہیں، کیا غرائب القرآن اور مقالید وغیرہ الفاظ لے کر ان ہٰذان لساحران کو پیش کر کے تناقض اور اختلاف آیات بینات کو دیکھا کر سورۃ اقترب الساعۃ ١ بعض فقرات دیوان امرائ القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس بتا کر فصاحت اور بلاغت اور قواعد کی غلطی کا اعتراض سرقہ کا الزام مخالفین کی کتابوں میں نہیں ہے۔“ اس لمبے چوڑے فقرہ کا اجمال اردو کے ادیب بخوبی جان سکتے ہیں، مطلب صرف اس قدر ہے کہ مخالفین اسلام نے فصاحت و بلاغت اور قواعد صرفیہ و نحویہ کے لحاظ سے قرآن مجید پر اعتراض کئے ہیں اور اس کی سند میں تین لفظ لکھے ہیں۔ (١) غرائب القرآن، مگر کسی لفظ غریب کا حوالہ نہیں دیا۔ (٢) مقالید ، (٣) ان ہٰذان لساحران۔
اب ہم مؤلف القاء سے دریافت کرتے ہیں کہ جو اعتراض آپ نے نقل کئے یہ تحقیق طلب علمائے اسلام کے شبہات ہیں جو تحقیق کی غرض سے انہوں نے کئے اور ان کے جواب دیئے گئے یا کسی خاص مخالف اسلام کے اعتراضات ہیں؟ اگر آپ کا خیال ہے کہ
١؎ قرآن مجید میں اقتربت الساعۃ ہے مگر مولف القا نے اقترب الساعۃ لکھا ہے۔
٣٩
یہ اعتراضات مخالفین اسلام کے ہیں تو اس کو ثابت کیجئے کہ کس مخالف اسلام نے سب سے اول یہ اعتراض کیا ہے، مگر آپ ثابت نہیں کر سکتے کہ اعتراض کا بانی مخالف اسلام ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بعض علمائے اسلام نے جو بغرض تحقیق شبہات کئے تھے اور ان کے جوابات دیئے گئے، مخالف نے بنظر تعصب شبہہ نقل کر دیا اور جواب اڑا دیا، غرضیکہ مخالف کو اعتراض کرنے کا شعور نہیں ہوا، بلکہ دوسروں سے معلوم کر کے ایک بات کہہ دی اس سے ظاہر ہے کہ ابو احمد نے جو لکھا ہے وہ صحیح ہے اس کے علاوہ یہ بتائیے کہ جو اعتراضات لفظی قرآن مجید پر کئے گئے اور ان کے جوابات ہمارے علماء نے دیئے ہیں یا نہیں، اگر آپ کے علم میں جوابات دیئے گئے ہیں تو وہ جواب صحیح ہیں اور آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے یا نہیں اگر آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے تو اس بات میں ہمارا اور آپ کا اتفاق ہوا، اب انھیں ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا کس قدر عوام کو دھوکا دینا ہے کیونکہ جس کتاب الٰہی پر مخالفین نے اعتراضات کئے ہیں اس کو اعتراضوں سے منزہ آپ بھی اسی طرح مانتے ہیں جس طرح ہم مانتے ہیں اور ان اعتراضوں کو غلط سمجھتے ہیں جس طرح ہم غلط سمجھتے ہیں، پھر اس کتاب الٰہی کا منزہ ہونا تو متفق علیہ ہو گیا مگر جو کتاب آپ پیش کرتے ہیں اسے تو صرف آپ ہی مانتے ہیں اس پر جو اعتراضات ہوں ان کا جواب دینا آپ پر فرض ہے اور اس کے جواب میں مخالفین کے اعتراضات آپ پیش نہیں کر سکتے البتہ اگر در پردہ آپ کے دل میں قرآن مجید پر خود شبہہ ہے اور مرزا قادیانی کے رسالوں پر شبہہ نہیں ہے تو جواب ملاحظہ ہو۔
جواب پہلا لفظ آپ نے غرائب القرآن لکھا ہے مگر اس کی ایک مثال بھی نہیں لکھی، پھر ہم کس کا جواب دیں، اتنا کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو لائق اعتراض ہو، اگر آپ کو دعویٰ ہے تو کوئی لفظ پیش کیجئے اور پھر ہم سے جواب لیجئے، اگر کوئی رسالہ آپ نے دیکھا ہے تو اس کے سمجھنے میں آپ نے غلطی کی، جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا وہ وقت زبان عربی کے کمال عروج کا تھا، اس وقت اس زبان کے ماہرین نے کسی لفظ کو غریب نہیں لکھا اور بہت سے اہل زبان صرف قرآن مجید سن کر ایمان لے آئے اس باب میں رسالہ لکھا گیا ہے دیکھنے والے دیکھیں گے ان شاء اللہ۔
دوسرا لفظ آپ نے مقالید لکھا ہے مگر اس کی نسبت کیا اعتراض ہے اسے نہیں
٤٠
لکھا اگر یہ شبہہ ہے کہ یہ فارسی لفظ ہے تو محض غلط ہے کیونکہ لفظ مقالید جمع ہے مقلید کی اور یہ لفظ مختلف معنوں میں مختلف طور سے شائع ہے لسان العرب جلد ٤ ص ٣٦٧ ملاحظہ کیجئے عرب میں جو مشہور شاعر الأعشی ہے اس کا شعر بھی اس لفظ کی سند میں لکھا ہے‘ پھر جس کسی نے اس کو فارسی لفظ سمجھا ہے یہ اس کی ناواقفی ہے اور یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ جس کتاب میں اس کے فارسی ہونے کا شبہہ بیان کیا گیا ہے اسی میں اس کے جواب بھی لکھے ہیں‘ ایک جواب یہ ہے ”قال ابن جریر ماورد عن ابن عباس وغيره من تفسير الفاظ من القران انها بالفارسية او الحبشية او النبطية او نحو ذلك انما اتفق فيها توارد اللغات فيتكلم بها العرب والفرس والحبشة بلفظ واحد۔“ (اتقان)
اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کے جس لفظ کو فارسی وغیرہ کا لفظ کہہ دیا گیا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ لفظ عربی کے سوا فارسی وغیرہ میں بھی ہے اب فرمائیے کہ مقالید کو اگر کسی نے فارسی لکھا ہو تو قرآن پر کیا اعتراض ہوا اور یہ فرمائیے کہ یہ اعتراض کس مخالف اسلام نے کیا ہے؟ آپ تو مخالف اسلام کے اعتراض دیکھنا چاہتے ہیں۔
تیسرا جملہ: اِنْ هٰذَانِ لَسٰحِرٰنِ‘ یہ جملہ آپ نے لکھا مگر اس پر آپ کا کیا اعتراض ہے‘ اسے آپ نے کچھ تو بیان کیا ہوتا اب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ شاید قرآن مجید آپ کی تلاوت میں نہیں رہتا ہے‘ آپ کو جدید نبی کی تصانیف کے دیکھنے سے فرصت نہیں ملتی ہوگی اور جو ان پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے جواب سوچنے میں غلطان وپیچان رہتے ہوں گے یا مناسبت طبعی کی وجہ سے کاذب کی تصانیف زیادہ پسند ہیں‘ قرآن مجید جو ہندوستان میں مشہور ہے اس میں تو مذکورہ جملہ کا لفظ ان مخفف ہے مشدد نہیں ہے‘ اس لیے قرآن مجید میں جو الفاظ ہیں وہ بالکل قاعدہ کے موافق ہیں‘ اگر علم سے ممارست ہے تو آپ کو انکار نہیں ہو سکتا۔
غرضیکہ قرآن مجید پر کچھ اعتراض نہیں ہے اور جس نے ان پر تشدید کیا ہے اس کے متعلق متعدد جواب بھی دیئے ہیں‘ تفاسیر اور رسالہ شرح شذور الذھب فی معرفۃ کلام العرب کا ص ١٤ ملاحظہ کیجئے۔
مؤلف صاحب کے لفظی اعتراضات کا تو خاتمہ ہو لیا‘ اب ص ١٧ میں ان لفظی اعتراضات کی مثال میں پادری فنڈر کے اعتراضات نقل کرتے ہیں وہ چند اعتراض ہیں
٤١
ایک یہ کہ یونانی وغیرہ زبانوں میں ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن کی عبارت قرآن مجید سے عمدہ ہے‘ اب مولوی صاحب سے دریافت کیا جائے کہ یہ معترض عربی اور یونانی کا بڑا ادیب ہے جو دونوں کا مقابلہ کر کے فیصلہ کرتا ہے؟ ہرگز نہیں‘ پھر اس جاہل متعصب کے قول کو پیش کرنا جہالت کے سوا اور کیا ہے؟ اس کے علاوہ اب آپ تو لفظی اغلاط کا ثبوت دے رہے ہیں پھر کیا پادری کا یہ قول کوئی لفظی اعتراض ہے؟ ہوش کر کے جواب دیجئے‘ بفرض محال اگر دوسری زبان میں کوئی کتاب عمدہ ہو تو اس سے قرآن شریف کے کسی لفظ یا جملہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا‘ دوسری کتاب کی عبارت عمدہ ہونے سے قرآن کی فصاحت و بلاغت پر کوئی حرف نہیں آتا‘ نہ اس پر خلاف قاعدہ کا کوئی الزام ہو سکتا ہے‘ پھر اس کو فصاحت و بلاغت اور قواعد کی غلطی کی مثال میں پیش کرنا ان کے علم و عقل کے سلب ہو جانے کی دلیل ہے۔
دوسرا یہ کہ بعض عیسائیوں نے مقامات حریری اور مقامات ہمدانی کی عبارت کو قرآن مجید کے برابر بلکہ افضل کہا ہے اس اعتراض سے بھی قرآن کی کوئی لفظی غلطی ثابت نہیں ہو سکتی۔ باقی رہا مقامات کی عبارت قرآن مجید سے افضل کہنا ان کی جہالت ہے‘ صرف کچھ عربی پڑھ لینے سے عبارت کی کمال فصاحت و بلاغت ہرگز معلوم نہیں کر سکتا‘ نہایت ظاہر بات ہے کہ ان مقامات کے لکھنے والے ایسے بڑے ادیب اور عربی زبان کے ماہر تھے کہ ان کی کتاب ایسی فصیح و بلیغ ہے‘ کہ عیسائی پادری اسے قرآن کے مثل سمجھ گئے‘ مگر یہ خیال نہ کیا کہ ان کتابوں کے مصنف باوجود اس قدر ماہر ہونے کے اس پر ان کا ایمان ہے کہ قرآن مجید کے مثل کوئی کتاب عربی میں نہیں لکھ سکتا‘ اور اپنی کتابوں کی حالت اور ان کی عمدگی سے ان عیسائیوں سے بدرجہا زائد واقف ہیں‘ مگر پھر بھی اپنی کتابوں کو اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتے۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ مزدار معتزلی نے یہ کہا ہے کہ انسان اس پر قادر ہے کہ جیسا فصیح و بلیغ قرآن مجید ہے اسی طرح کا فصیح و بلیغ وہ کلام لکھے۔“
یہاں مولوی صاحب سے ہم دریافت کرتے ہیں کہ آپ تو اس کے مدعی ہیں کہ مخالفین اسلام نے قرآن مجید کے الفاظ میں غلطیاں دکھائی ہیں اور فصاحت و بلاغت میں کلام کیا ہے اسکے ثبوت میں فنڈر کا یہ قول نقل کیا ہے‘ اب آپ کو یہ بتانا چاہیے کہ اس
٤٢
قول سے قرآن مجید کے کسی لفظ یا جملہ کا غلط ہونا ثابت ہو گیا یا یہ معلوم ہوا کہ اس کی عبارت فصیح و بلیغ نہیں ہے ہرگز نہیں بلکہ اس قول کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید نہایت فصیح و بلیغ ہے مگر یہ فصاحت و بلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو جب یہ مطلب ہے تو مولوی صاحب کے علم پر افسوس ہے کہ لفظی غلطی کی مثال میں مزدار کے قول کو سمجھتے ہیں اور ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں یہ بھی معلوم کر لینا چاہیے کہ اس قول سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ مزدار معتزلی قرآن کے اعجاز کا منکر ہے کیونکہ تمام معتزلی اعجاز قرآنی کو مانتے ہیں مگر چونکہ قرآن مجید کا دعویٰ اعجاز عام الفاظ میں ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس کے مثل لے آؤ اس کا ذکر نہیں ہے کہ کس بات میں مثل ہو یعنی مرزا غلام احمد تو بار بار کہتے ہیں کہ ایسا فصیح و بلیغ ہو جیسا ہمارا رسالہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ فصاحت و بلاغت میں اس کے مثل ہو قرآن مجید میں ایسا ارشاد نہیں ہے اس وجہ سے اس کے ماننے والوں میں اختلاف ہے کہ قرآن مجید کس بات میں بے مثل ہے بعض کہتے ہیں کہ اس میں متعدد باتیں ہیں، مثلاً کمال درجہ کا فصیح و بلیغ ہے، خلق کی ہدایت کے لیے اس میں نہایت مفید احکام و ہدایات ہیں اس میں گذشتہ اور آئندہ کی ایسی خبریں ہیں کہ کسی کی عقل و فہم انھیں معلوم نہیں کر سکتی اور کسی علم کے ذریعہ سے وہ باتیں معلوم نہیں ہوسکتیں، مثلاً قیامت کے حالات اور جنت و دوزخ کی خبریں، ان باتوں میں وہ بے نظیر ہے انسان کی طاقت نہیں ہے کہ ایسی کتاب بنائے جس میں یہ باتیں ہوں، بعض صرف احکام و ہدایات کی وجہ سے معجزہ کہتے ہیں، فصاحت و بلاغت کی وجہ سے نہیں یعنی اگرچہ اس کی فصاحت و بلاغت اعلیٰ مرتبہ کی ہے، مگر یہ نہیں ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لا سکے، یہ ایک طویل بحث ہے جس کو بعض تفسیروں اور عقائد کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے، پادری فنڈر تو ہمارے علوم سے جاہل ہے اس نے اپنی جہالت سے اس قول کو پیش کر دیا اور سمجھ لیا کہ اس قول سے قرآن کا اعجاز غلط ہو گیا، افسوس یہ ہے کہ مولف القا قادیانی اس کی اس جہالت میں شریک ہو گئے، میں اہل حق سے پھر کہتا ہوں کہ کسی مخالف ماہر زبان عرب نے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض نہیں کیا اور اس میں صرف و نحو اور محاورات کی غلطیاں نہیں بتائیں جس کو دعویٰ ہو وہ مخالف عربی کے ادیب کا کلام پیش کرے اور جہلا نے جو اعتراض کئے اس کے جواب دیئے گئے ہیں، مولف القا (عبدالماجد قادیانی) نے جو اعتراض پیش کئے تھے ان
٤٣
کے جواب دیئے گئے اور مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں اور خاص رسالے اس میں لکھے گئے ہیں ان کا جواب نہیں دیا گیا اگر کسی نے دیا ہو تو ہمارے سامنے پیش کرے پہلے بہت غل مچاتے تھے اب سامنے نہیں آتے جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے انھیں ہمارے اعتراضوں کے جواب نہیں ہیں۔
ناظرین! مولف القا کی علمی حالت ملاحظہ کیجئے کہ ایک صفحہ میں آٹھ غلطیاں کی ہیں‘ بایں ہمہ بہت بڑی قابلیت کا دعویٰ ہے اہل حق کے اعتراضوں کا جواب دینے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اہل انصاف غور فرمائیں کہ جو اپنی تحریر میں اس قدر غلطیاں کرے وہ کسی قابل کے اعتراضوں ١ کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
پہلی غلطی دعویٰ تو یہ ہے کہ مخالفین اسلام نے الفاظ قرآن پر اعتراض کئے ہیں اور اس کے ثبوت میں صرف دو لفظ اپنی طرف سے پیش کئے اور کسی مخالف کا قول نقل نہیں کیا کہ اس مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے۔
دوسری غلطی یہ کی کہ جن کتابوں سے انہوں نے یہ دو لفظ نقل کئے ان کے مصنفین کے مطلب کو نہیں سمجھے یعنی ان کا مقصد تو ان الفاظ کی تحقیق ہے اور جس ناواقف کو شبہہ ہو اس شبہہ کا دور کرنا ہے‘ مگر مولف القا اسے اعتراض سمجھ کر ہمارے روبرو پیش کرتے ہیں‘ الحمد للہ ہم نے جواب دے دیا‘ اب ان اعتراضوں کا جواب دیجئے جو آپ کے نبی پر کئے گئے ہیں۔
تیسری غلطی ہمارے قرآن میں ان ھذان لساحران ہے اس جملہ میں لفظ ان مخففہ ہے....... اس پر کوئی اعتراض قاعدہ کے رو سے نہیں ہے پھر آپ کا اعتراض محض غلط ہے‘ مگر آپ اس موٹی غلطی کو بھی نہیں سمجھتے۔
چوتھی غلطی دعویٰ تو صرف الفاظ کی غلطی کا ہے اور اسمیں تناقض و اختلاف کو بھی پیش کرتے ہیں‘ مولف صاحب کو شاید یہ بھی خبر نہیں کہ تناقض معانی میں ہوتا ہے الفاظ میں نہیں ہوتا۔
١ انہیں مولوی صاحب کے رسالہ القا کے ایک ورق میں ٣١ غلطیاں دکھائی گئی ہیں رسالہ اغلاط ماجدیہ (صحائف رحمانیہ نمبر١٠-١١-١٢ احتساب قادیانیت جلد پنجم ملاحظہ ہو) ملاحظہ کیا جائے اس کے سوا متعدد رسالے ان کے اغلاط میں لکھے گئے ہیں۔
٤٤
پانچویں غلطی پادری فنڈر کے تین اعتراض نقل کئے ان تینوں اعتراضوں کو لفظی غلطی یا فصاحت و بلاغت کے نقص میں کچھ دخل نہیں ہے‘ کیونکہ پادری کی جھوٹی بات کو اگر مان لیا جائے کہ یونانی زبان میں کوئی عمدہ کتاب ہے تو اس سے قرآن مجید کے الفاظ پر اور ان کی فصاحت و بلاغت پر کیا اعتراض ہوا‘ قرآن مجید عربی زبان میں ہے‘ عربیت کے قواعد سے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور پادری کا جھوٹا ہونا اس لیے ظاہر ہے کہ ان کی آسمانی کتاب انجیل یونانی میں ہے وہ بھی قرآن مجید سے افضل نہیں ہے‘ پھر دوسری انسانی تالیف اس سے افضل کیا ہوگی یہ پانچویں غلطی ہوئی۔
چھٹی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے فنڈر کا یہ اعتراض لفظی غلطی کے ثبوت میں پیش کیا کہ مقامات کی عبارت مثل قرآن مجید کے ہے یا اس سے افضل ہے اب ظاہر ہے کہ معترض مقامات کی عبارت کو اغلاط سے پاک اور کامل فصیح و بلیغ سمجھتا ہے اور اس کتاب کو قرآن مجید کے مثل قرار دیتا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو بھی وہ اغلاط سے پاک سمجھتا ہے‘ پھر اس اعتراض کو لفظی غلطیوں کے ثبوت میں پیش کرنا کیسی صریح غلطی ہے اور پادری کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔
ساتویں غلطی یہ ہے کہ مزدار کے قول کو پیش کر کے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں اور اس کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں‘ اس غلط فہمی پر افسوس ہے‘ مزدار نہ قرآن کی فصاحت و بلاغت پر کوئی شبہہ کرتا ہے نہ اس کے الفاظ پر بلکہ اسے نہایت فصیح و بلیغ مانتا ہے‘ مگر یہ کہتا ہے کہ فصاحت و بلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو‘ پھر اس سے مولف القا کا مدعاء کیونکر ثابت ہوا‘ مزدار کو قرآن مجید کے اعجاز سے انکار ہرگز نہیں ہے‘ مگر اعجاز کی وجہ مولف القا کے قول کے بموجب وہ دوسری بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فصاحت و بلاغت زبان کی اہل زبان کی وجہ سے ہوتی ہے‘ اس میں وہ کیا عاجز ہوں گے مگر قرآن مجید کا معجزہ یہ ہے کہ باوجود اہل زبان کے قادر ہونے کے پھر وہ اس کے مثل نہ لا سکے‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قدرت کو سلب کر لیا اور قرآن کے مثل نہ لا سکے‘ یہ اعلانیہ معجزہ ہے جو انسانی طاقت سے باہر ہے‘ یہ ان کی آٹھویں غلطی ہے کہ
٤٥
مردار کے اصل مدعاء کو نہیں سمجھے اور اس کے مدعاء کے خلاف اسے الزام دینے لگے یا یوں کہا جائے کہ ایک ناواقف الزام دینے والے کے ہم زبان ہو گئے۔
اب مولف القا متوجہ ہوں کہ یہ جو آپ نے اور آپ کے ہم مشربوں نے عوام مرزائیوں سے کہہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے اعجازیہ رسائل پر اعتراضات ایسے ہی ہیں جیسے قرآن مجید پر مخالفین اسلام نے کئے ہیں، یہ بالکل فریب ہے، قرآن مجید پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو اس وقت نمونہ اس کا آپ نے ملاحظہ کر لیا کہ جو اعتراض آپ نے کئے تھے ان کا کافی جواب دیا گیا، مرزا قادیانی کے رسالوں پر جو اعتراضات کئے گئے اور کئے جاتے ہیں ان کے جواب نہیں دیئے گئے میں ان کا نمونہ پیش کرتا ہوں، اسی کا جواب دیجئے۔
مرزائی قصیدہ کی بعض لاجواب غلطیاں
پہلی غلطی سولہویں شعر کا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے تخیر ولهذا البحث ارضا شجیرۃ اور بحث کے لیے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں ایک درخت تھا۔“ یہاں شجیرۃ کے معنے ایک درخت لکھتے ہیں اور یہ موضع مد کی زمین کا بیان ہے اسے اُن کے مریدین معائنہ کر کے آئے تھے انہوں نے آکر بیان کیا ہوگا کہ وہاں ایک درخت ہے اس کو مرزا قادیانی شجیرہ کہتے ہیں، مگر یہ لفظ اس معنی میں غلط ہے، شجیرہ اس زمین کو کہتے ہیں جہان بہت درخت ہوں (لسان العرب ملاحظہ ہو) اس شعر میں اور بھی غلطیاں ہیں۔
(دیکھو ابطال اعجاز ص ١٧)
دوسری غلطی ٩٤ شعر کا دوسرا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے وان کنت قد انست ذنبی فسقر اگر تو نے میرا کوئی گناہ دیکھا ہے تو معاف کر۔“ اس مصرعہ میں کئی غلطیاں ہیں۔ (١) سقر امر ہے تسقیر سے اور کلام عرب میں یہ لفظ نہیں آیا، اس لیے لفظ سقر محض غلط ہے (٢) سقر کے معنی معاف کرنا بالکل غلط ہیں اس لفظ کا مجرد آیا ہے مگر اس کے معنی ہیں آفتاب کی تیزی سے دماغ اور چہرے کا جھلس جانا، جب اس لفظ کے یہ معنی ہیں، تو بالضرور یہ معنی مرزا کے مقصود کے خلاف ہوں گے (٣) عیب شاعری کے رو سے اقوا ہے۔
تیسری غلطی ٧٩ شعر کا دوسرا مصرعہ ہے ”واياته مقطوعة لا تغير اس کی آیتیں قطعی
٤٦
ہیں جو بدلتی نہیں“ آیات کو مقطوعہ کہنا محض غلط ہے، آیات قاطعہ عرب بولتے ہیں۔ رسالہ ابطال اعجاز مرزا میں قصیدہ مرزائیہ کی کئی سو غلطیاں دیکھائی ہیں اور اس کی تمہید میں سینکڑوں ان کے جھوٹ صراحۃً اور کنایۃً بتائے ہیں میں نے بغرض نمونہ تین لفظی غلطیاں پیش کی ہیں، مولف القاء اس کا جواب دیں یا اس کتاب کا نام اور صفحہ بتائیں جس میں ان کا جواب دیا ہو، مگر مولف القا اور ان کی جماعت سررگڑ کر مرزا قادیانی کے ساتھ جاملیں مگر کچھ نہیں کر سکتے اور ہم انھیں حلف دیتے ہیں کہ قرآن مجید پر کوئی ایسا اعتراض وہ اپنا یا کسی مخالف اسلام کا پیش کریں۔ جس کا جواب نہ دیا گیا ہو اور ہم نہ دے سکیں، مگر ہم قطعی اور یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی ایسا اعتراض جماعت مرزائیہ پیش نہیں کر سکتی، پھر مرزا کے قصیدہ کے اعتراضوں کو ایسا ہی بتانا جیسے قرآن مجید پر اعتراض کئے گئے ہیں، کس قدر جھوٹ اور اعلانیہ فریب ہے، اے ناواقفوا اے فریب دینے والو! تواریخ شاہد ہیں کہ سچے اور جھوٹے ہر قسم کے مدعیوں پر اعتراضات کئے گئے ہیں پھر کیا اس لفظی اشتراک سے جھوٹے سچے ہو جائیں گے اور مطلق اعتراض کا ہونا صداقت کا معیار ہو جائے گا، جیسا مرزائی کہہ رہے ہیں، اگر ایسا ہو تو کوئی جھوٹا مدعی کسی وقت دنیا میں نہ پایا جائے گا اور یہ اعلانیہ صحیح حدیثوں کے خلاف ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔
مسیلمہ کذاب پر اعتراضات کئے گئے مگر وہ اور اس کی جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز رہ کر واصل جہنم ہوئے اور حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والثناء پر اعتراض کرنے والے اپنے اعتراضوں کا جواب سن کر ہمیشہ کی ندامت اور تکلیف میں پہنچے اور ان کے ماننے والے ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز رہے یہی مرزا کی حالت ہے، اب ان کے پیروؤں کی بھی وہی حالت ہونی چاہیے جو مسیلمہ وغیرہ کے پیروؤں کی ہوئی۔
یہ ضمنی بیان درمیان میں آ گیا اصل مقصود رسائل اعجازیہ کے جھوٹے ہونے کے دلائل پیش کرنا ہے، دس دلیلیں تو بیان ہولیں۔
گیارہویں دلیل
یہ ہے کہ اعجاز المسیح دو تین جز کا رسالہ ہے اور اسے فریب سے ساڑھے بارہ جز کہتے ہیں، پھر ایسے شخص سے معجزہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر ایسے فریبی شخص سے معجزہ ہو تو انبیائے صادقین سے اعتبار اُٹھ جائے۔
٤٧
بارہویں دلیل
اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی باوجود سخت وعدے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلہ پر نہیں آئے اس شرم مٹانے کو مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر ان کے پاس بھیجی پیر صاحب چونکہ جلسہ عام میں عہد کر چکے تھے کہ اب مرزا قادیانی سے خطاب نہ کریں گے اس لیے سکوت کیا اور مرزا قادیانی کو فریب دینے کا موقع ملا اور منعہ مانع من السماء کا الہام بنا کر مریدوں کو خوش کر دیا یہ اعلانیہ فریب ان کے جھوٹے ہونے کو آفتاب کی طرح چمکا رہا ہے۔
تیرہویں دلیل
جواب لکھنے کی میعاد ایسی کم مقرر کی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن تھا۔ خصوصاً علماء کی حالت کے لحاظ سے اس لیے نہایت ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ اعلانیہ مرزا قادیانی کا فریب ہے اول تو مدت معین کرنا ہی اعجاز کے خلاف ہے اس کے علاوہ ایسی کم مدت مقرر کر کے اس کا جواب طلب کرنا عوام کو فریب دینا ہے۔
چودہویں دلیل
میں نے شاہدوں کی شہادت سے ثابت کر دیا کہ یہ دونوں رسالے معجزہ کیا ہونے فصیح و بلیغ بھی نہیں ہیں اور متعدد رسالوں سے اس کا ثبوت بھی ہو گیا۔ الحاصل مرزا قادیانی کا یہ عجب طرح کا اعجاز تھا جس کی وجہ سے ہم نے چودہ دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قائم کر دیں اور ایک آئندہ بیان کی جائے گی۔
جماعت مرزائی کا عاجز ہونا
ان سب باتوں کے قطع نظر اگر اب بھی خلیفہ صاحب کو اور اس جماعت کے دوسرے ذی علموں کو اس کے اعجاز کا دعویٰ ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا تو اس کا اعلان دیں کہ اگر کوئی عالم ایسا قصیدہ یا ایسی تفسیر سورہ فاتحہ لکھ دے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں گے اس کے بعد وہ دیکھیں کہ ان کا جواب کس زور و عمدگی سے ہوتا ہے اگر اس کے لیے میعاد معین کریں تو اوّل اس بات کو ثابت
٤٨
کر دیں کہ اعجاز میں ایسی قیدیں ہو سکتی ہے؟ اس کے بعد ایسی معیاد مقرر کریں جسے چند اہل علم تجربہ کار مجیب کی حالت پر نظر کر کے کہہ دیں کہ اتنے دنوں میں تالیف اور طبع ہو کر خلیفہ صاحب تک پہنچ سکتا ہے‘ مرزا قادیانی کی طرح قید نہ لگائی جائے‘ جس میں لکھا جانا اور چھپ کر ان کے پاس بھیجنا غیرممکن ہو اس کے سوا یہ بھی بتائیں کہ اس کا فیصلہ کون ذی علم ادیب منصف مزاج کرے گا کہ مرزا قادیانی کا قصیدہ اور تفسیر عمدہ ہے یا ان کا جواب ہر طرح فائق اور بدرجہا زائد عمدہ ہے‘ اگر ایسا اعلان ایک ماہ کے اندر نہ دیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ اعجاز کا دعویٰ غلط ہے۔
یہ کتابی اعلان ١٣٢٢ھ میں چھپ کر مشتہر ہوا ہے اور اب ١٣٣٥ھ کا آخر ہے‘ اس وقت کسی مرزائی کی مجال نہ ہوئی کہ اس مضمون کا اعلان دے اس سے بخوبی ثابت ہوگیا کہ پنجاب اور بنگال اور حیدرآباد وغیرہ ہر جگہ کے مرزائی دل میں جان گئے ہیں کہ مرزا کا دعویٰ غلط ہے اور مرزا جھوٹا ہے مگر کچھ تو حرام خوری کی وجہ سے خاموش ہیں جس طرح بعض پادریوں نے رسالہ پیغام محمدیؐ کا مطالعہ کرکے کہا کہ لاجواب رسالہ ہے‘ ہمارے تمام شبہات کا جواب اس نے دے دیا‘ اس کے جواب میں ہمارے ایک برادر نے کہا کہ پھر اب توبہ کرنے میں کیوں دیر ہے جواب دیا کہ سو روپے ماہوار کون دے گا‘ لڑکے بالوں کی پرورش کس طرح ہوگی بعض کو اپنی بات کی پاس داری ہے‘ افسوس اس فہم و عقل پر۔
مرزا قادیانی کی عربی دانی کا نمونہ
مرزا قادیانی کے اعجاز کا تو خاتمہ ہو لیا‘ اور ان کے رسالوں کی غلطیاں چھپ کر مشتہر ہو چکی ہیں‘ میں اس کی تائید میں مرزا قادیانی کی ایک عبارت نقل کرکے ان کی عربی دانی کا نمونہ ان حضرات کو دکھاؤں جنہیں زبان عربی میں کچھ دخل ہے یا انگریزی میں پورے قابل ہیں اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اعجاز المسیح کی لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت لکھی ١؎ ہے جس میں اس رسالہ کی نسبت لکھا ہے ھذا رد علی الذین یجھلوننا یعنی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو ہمیں جاہل بتاتے ہیں اس کے بعد لکھتے ہیں۔
١؎ اصل رسالے کی غلطیاں تو اس کے ریویو جسے چھپے ہوئے برسیں ہوگئی ہیں اور اعجاز احمدی کے اغلاط الہامات مرزا اور ابطال اعجاز مرزا میں نمونہ کے طور پر شائع ہو چکے ہیں یہاں ٹائٹل کی دو سطر عبارت نقل کرکے اس کی حالت دکھائی گئی ہے۔
٤٩
واني سمیتہ اعجاز المسیح و قد طبع في مطبع ضیاء الاسلام في سبعین یوما من شہر الصیام و کان من الہجرۃ ١٣١٨ھ ومن شہر النصاری ٢٠ فروری ١٩٠١ء مقام الطبع قادیان
(اعجاز المسیح ٹائٹل ص۔ خزائن ج ١٨ ص ١ ٹائٹل)
جن کو علم وفہم سے اللہ تعالیٰ نے کچھ حصہ دیا ہے وہ غور فرمائیں کہ کیسی لچر عبارت ہے اور جو نہایت معمولی مضمون مرزا قادیانی ادا کرنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ کر سکے اور بہت غلطیاں کیں اس عبارت سے مقصود تو مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ اس رسالہ کا نام میں نے اعجاز المسیح رکھا اور مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں یہ رسالہ ستر دن میں چھاپا گیا اور اس کی ابتدا ماہ رمضان سے ہوئی اور ہجری ١٣١٨ھ تھا اور عیسوی ٢٠ فروری ١٩٠١ء تھا اب قدرت خدائی اور اس ہادی مطلق کی رہنمائی کا یہ عجب نمونہ ہے کہ وہ رسالہ جس کی فصاحت و بلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز سمجھتے ہیں اس کی لوح کی دو سطر عبارت صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہو سکا ایسا شخص چار پانچ جز یا بارہ جز معجز نما عربی عبارت کیا لکھے گا۔
اگرچہ اس مضمون کو صحیح طور سے ادا کر دینا بڑی قابلیت کی دلیل نہ تھی، مگر اس قادر کریم کی قدرت کا نمونہ ہے کہ جس مدعی نے اپنے متکبرانہ خیال میں اپنے آپ کو عملی کمال کی نظر سے ایسا بلند پایہ سمجھ لیا ہو کہ ایک مضمون میرا لکھا ہوا معجزہ ہو سکتا ہے اور اسی خیال سے اس نے رسالہ لکھا ہو اس کے اول صفحہ میں دو سطر معمولی مضمون کی عبارت صحیح نہ لکھے اور ایسی غلطی کرے جو کم فہم بھی یقینی طور سے معلوم کر سکیں جن کو عربی صرف ونحو سے واقفیت ہے اور جنترياں دیکھ لیا کرتے ہیں وہ ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کا مطلب تو یہ ہے کہ اعجاز المسیح میں نے ستر دن میں لکھی اور انہیں دنوں میں وہ طبع بھی ہوئی اور ستر دن کی ابتداء و انتہاء بھی بیان کرنا چاہتے ہیں، مگر منقولہ عبارت کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہو سکتا۔
غلطیاں ملاحظہ ہوں:
- (١) نہایت ظاہر ہے قد طبع فی سبعین یوما کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ ستر
٥٠
دن میں چھاپی گئی اس عبارت سے یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاتا کہ ان ایام میں تصنیف اور طبع دونوں کام ہوئے اس مطلب کے لیے ضرور تھا کہ صنف کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔
- (٢) سیاق عبارت یہ چاہتا ہے کہ من شھر الصیام بیان ہو سبعین کا اس کا
حاصل یہ ہوگا کہ ماہ صیام ستر دن سے زیادہ کا ہے اب ناظرین اس غلط بیانی کو دیکھ لیں، میں نے اس غلطی سے چشم پوشی کر کے دوسرے پہلو سے ترجمہ کیا ہے۔
- (٣) اگر سوق عبارت سے من شھر الصیام کے من کو ابتدائیہ کہا جائے اور یہ
مطلب قرار دیا جائے کہ ماہ صیام سے رسالہ کی تالیف کی ابتدا کی گئی تو ضرور تھا کہ تاریخ بھی لکھتے، کیونکہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ بیان مہینے کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے۔
غرضکہ یہ تین غلطیاں ہوئیں اب اگر تیسری غلطی سے چشم پوشی کی جائے اور مرزا قادیانی کی دوسری عبارت سے تاریخ معین کرنے کی نوبت آئے تو بھی کوئی تاریخ متعین نہیں ہوتی، سارے احتمالات غلط ہیں اس کی وجہ ملاحظہ ہو۔
- (٤) مذکورہ عبارت کے بعد مرزا قادیانی تالیف اور طبع کا ہجری سال اور عیسوی
سال معہ مہینے اور تاریخ کے بیان کرنا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں وکان من الهجرة ١٣١٨ھ ومن شھر النصاریٰ ٢٠ فروری سنه ١٩٠١ع
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس ماہ صیام سے رسالہ لکھنے کی ابتداء ہوئی وہ ماہ صیام ١٣١٨ھ کا تھا، اس عبارت کا ناقص ہونا نہایت ظاہر ہے کیونکہ مہینہ کی تعیین کے ساتھ یہاں تاریخ کا معین کرنا ضرور تھا تاکہ ستر دن کی ابتداء معلوم ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا، یہ چوتھی غلطی ہے۔
- (٥) رسالے کے ص ٦٥ سے ٦٧ تک دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تفسیر
کے لکھنے کی ابتداء ٢٣ رمضان کے قبل نہیں ہوئی بلکہ بعد ہوئی ہے مگر بعد کی کوئی تاریخ یہاں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضان کی ٢٣ مطابق ہے ١٥ جنوری ١٩٠١ء کے اس لیے لکھنے کی ابتداء ١٥ جنوری یا اس کے بعد ١٦-١٧ کو ہوگی اس کے بعد یہ جملہ ہے من شھر النصاریٰ ٢٠ فروری ١٩٠١ء عربی کی طرز تحریر کا مقتضا یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتداء نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو یہ
٥١
طرز بالکل مطابق ہے اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کر کے عیسوی مہینہ اور سنہ کی مطابقت لکھا کرتے ہیں، مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہائے تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں جیسا کہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔ یہ پانچویں غلطی ہے قاعدہ عربیت کے لحاظ سے مگر افسوس ہے اس پر بھی بس نہیں ہے۔
- (٦) بلکہ انھیں کے بیان سے فروری کے مہینے میں رسالے کی نہ ابتداء ہوئی نہ
انتہا اس لیے یہ بیان بالکل غلط ہے کیونکہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ١٣١٨ھ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ٢٣ دسمبر ١٩٠٠ء روز دوشنبہ سے شروع ہے اور ٢١ جنوری ١٩٠١ء روز دوشنبہ کو ختم ہو گیا اس لیے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اس کی ابتداء رمضان کی کسی تاریخ سے نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر پہلی تاریخ سے فرض کریں تو آخری دن فروری کے بعد یکم مارچ کو ہوگا ٢٠ فروری نہیں ہو سکتی اور اگر ابتداء ٢٣ یا ٢٤ یا ٢٥ ماہ صیام سے ہے تو اس کا اختتام مارچ کی ٢٥ ۔ ٢٦ یا ٢٧ تاریخ مطابق ٤ - ٥ - ٦ تاریخ ذوالحجہ ١٣١٨ھ روز دوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ کو ہوگا غرضکہ ٢٠ فروری کو انتہا بھی کسی طرح نہیں ہو سکتی۔
یہ چھٹی غلطی ہے اور ایسی غلطی ہے جس سے بخوبی عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کر دی ہے تاکہ ان کے دعوے کی غلطی ادنیٰ ذی علم بھی معلوم کر سکے یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں۔
- (١) ٹائٹل کے دوسرے صفحہ پر اطلاع لکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری سطر میں
ہے خدا تعالیٰ نے ستر دن کے اندر ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو اس رسالہ کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا۔
(اعجاز المسیح ص ٢ خزائن ج ١٨ ص ٢)
- (٢) اس اطلاع کے آخر میں بھی یہی تاریخ لکھی ہے (٣) اس رسالہ کے آخر
میں اعجاز کا اشتہار دیا ہے اس میں بھی ٢٠ فروری ہے اور ٹائٹل کے پہلے صفحہ پر بھی یہی تاریخ ہے اور اس رسالہ کے آخر ص ٢٠٠ میں لکھتے ہیں۔ قد طبع بفضلك فی مدة عدة العیدین فی یوم الجمعة وفی شهر مبارک بین العیدین۔
(اعجاز المسیح ص ٢٠٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٢)
٥٢
تیرے فضل سے یہ کتاب عین کے عدد کی مدت میں جمعہ کے دن اور مبارک مہینے میں دو عیدوں کے درمیان چھاپی گئی۔ اس سے تین باتیں ظاہر ہیں۔ اوّل یہ کہ اس رسالہ کا اختتام جمعہ کے دن ہوا۔ دوسرے یہ کہ ماہ مبارک میں ہوا، تیسرے یہ کہ وہ ماہ مبارک دو عیدوں کے درمیان میں ہے۔
اب دیکھا جائے کہ ٢٠ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا اختتام ہے تو روز جمعہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ تاریخ روز چہارم شنبہ ٣٠ شوال ١٣١٨ھ کو ہے۔
اب کہئے کہ ٢٠ فروری کو صحیح مانا جائے یا روز جمعہ کو غرضکہ اسی طرح اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں، سب کے بیان میں بے کار تقریر کو طول دینا ہے جن کو حق طلبی ہے ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسالہ جس کی نسبت یہ دعویٰ بڑے زور سے ہو رہا ہے کہ اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لا سکا اور نہ لا سکے گا۔ اس کے لوح کی دو سطر عبارت نہایت خبط اور محض غلط ہے پھر ایسا شخص فصیح و بلیغ عبارت کیا لکھے گا؟ اور اگر لکھ سکتا تھا مگر یہاں ایسی غلطیاں ہوگئیں تو یہ روشن دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے مدعی کے دعوے کے غلط کرنے کو اس عبارت کے لکھنے کے وقت اس کے حواس سلب کر دیئے کہ ایسی مہمل عبارت لکھی کہ ادنیٰ طالب علم ادب پڑھنے والا نہ لکھے گا، یہ پندرہویں دلیل ہے مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر اب افسوس یہ ہے کہ کذب کے ایسے بین ثبوت موجود ہیں مگر ماننے والے کچھ نہیں دیکھتے اس کے بعد میں مرزا قادیانی کے اس دعوے کی نسبت ایک عظیم الشان بات کہنا چاہتا ہوں، جو حضرات علم و دانش سے حصہ رکھتے ہیں اور خوف خدا سے کسی وقت ان کے دل لرزنے لگتے ہیں وہ متوجہ ہو کر غور فرمائیں۔
اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کے معجزہ کہنے پر گہری نظر
اور مرزا کی اندرونی حالت کا اظہار:
حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ سے بہت معجزات ظاہر ہوئے اور کثرت سے پیشین گوئیاں آپؐ نے کیں اور جن کے پورا ہونے کے وقت گذر چکا وہ پوری ہوئیں اور کسی کے پورا ہونے میں سرمو فرق نہیں ہوا، مگر حضور انور ﷺ نے بجز قرآن مجید کے
٥٣
کسی کو اپنے دعوئی نبوت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا اور کفار کے معجزہ طلب کرنے کے وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں معجزہ دکھایا ہے اس پر نظر کرو صرف قرآن مجید ہی کو پیش کر کے کہا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَ كُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ٥ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ط (بقرہ ٢٣-٢٤) یعنی اگر تم (مجھ پر الزام دینے میں) سچے ہو تو قرآن مجید کی ایک سورت کے مثل لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے معین اور مددگاروں کو بلاؤ اور اگر نہ لا سکو اور ہرگز نہ لاسکو گے تو جہنم کی آگ سے ڈرو۔ (اس فرمانے کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کر دی کہ تم اس کے مثل ہرگز نہ لاسکو گے یہ دعوئی قرآن مجید سے مخصوص ہے کسی آسمانی کتاب کے واسطے ایسا نہیں کہا گیا) مرزا قادیانی اپنے زبانی معجزوں کو ہر جگہ پیش کرتے ہیں اور انھیں تین لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں اب جناب رسول اللہ ﷺ کی عاقلانہ روش پر نظر کی جائے اور مرزا کی لن ترانیوں کو دیکھا جائے اس کے علاوہ اپنے رسالوں کو اپنی تصنیف کہتے ہیں مگر بعینہ وہی دعوئی اپنے دونوں رسالوں کی نسبت کرتے ہیں جو قرآن مجید میں کلام الہی کی نسبت کیا گیا اگرچہ قید لگا کر کہا مگر عوام کو قید کا خیال کب رہتا ہے اب میں اہل دل حقانی حضرات سے ملتجی ہوں کہ اس بیان میں محققانہ طور سے غور فرمائیں اور ملاحظہ کریں کہ جب مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں کی نسبت بے مثل ہونے کا ویسا ہی دعوئی کیا جیسا کہ قرآن مجید میں کیا گیا تھا اور اس کے مثل نہ لانے پر اسی طرح پیشین گوئی کر دی جس طرح قرآن مجید کے مثل نہ لانے پر کی گئی تھی اور جماعت مرزائیہ اس پر ایمان لے آئی اور اسے مرزا قادیانی کا معجزہ سمجھی تو نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزا کے رسالے ان کے خیال کے بموجب ویسے ہی بے مثل ہیں جیسے قرآن مجید بے مثل ہے اسی وجہ سے مرزا کی صداقت میں قرآن مجید کی وہی آیت پیش کرتے ہیں جو کلام الٰہی نے حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کی صداقت میں پیش کی ہے جب اس خاص صفت میں یعنی مثل ہونے میں وہ رسالے اور قرآن مجید یکساں ہوئے اور قرآن مجید کی خصوصیت نہ رہی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ رسالے قرآن مجید کے مثل ہیں اس لیے قرآن مجید کا یہ دعوئی کہ اس کے مثل کوئی نہیں لا سکے گا۔ غلط ٹھہرا اور جناب رسول اللہ ﷺ کا وہ عظیم الشان معجزہ جسے حضور انور ﷺ نے اپنے دعوئی نبوت
٥٤
میں پیش کیا تھا مرزا قادیانی کے قول کے بموجب باطل ہوا (نعوذ باللہ) اب اس کا فیصلہ ناظرین اہل علم پر چھوڑتا ہوں کہ جس دعویٰ کا انجام یہ ہے جو ابھی بیان کیا گیا، کس غرض سے کیا گیا، ایسے دعوے کرنے والے کا دلی منشاء کیا معلوم ہوتا ہے، آپ ہی فرمائیں میں اپنی زبان سے کچھ نہیں کہتا۔
اس کے علاوہ اس پر بھی نظر کی جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف قرآن مجید اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا، جو عربی نثر میں ہے، مرزا قادیانی اسی طرح کے دو رسالے پیش کرتے ہیں ایک نظم اور دوسرا نثر ہے اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید یعنی صرف نثر دونوں طرح کے رسالے لکھ کر مخالفوں کے سامنے پیش کئے اور تمام مخالفین عاجز رہے، اس لئے ہمارا اعجاز بڑھ گیا۔
اے اسلام کے سچے بہی خواہو! مرزا قادیانی کی باتوں پر خوب غور کرو میں نہایت خیر خواہی سے تمھیں متنبہ کرتا ہوں، اس بیان پر روشنی ڈالنے کے لیے اور بھی چند باتیں آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں، انصاف دلی سے ان پر آپ نظر کریں، تاکہ آپ کو یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ مرزا دراصل مذہب اسلام کی بے وقعتی ثابت کرنا چاہتا ہے، مگر ایسے طریقے سے کہ مسلمان ماننے والے برہم نہ ہو جائیں اس کے ثبوت میں مذکورہ بیان کے علاوہ امور ذیل ملاحظہ کئے جائیں۔
- (١) رسول اللہ ﷺ کے قرۃ العینین حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کی کیسی
مذمت کی ہے اور اس پر طرہ یہ کیا ہے کہ اس مذمت کو الہام الٰہی بتایا ہے یعنی یہ مذمت میں نے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٣٨ خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)
اس مذمت کا نمونہ میں نے حقیقۃ المسیح اور دعویٰ نبوت مرزا میں دکھایا ہے اور ان کے اقوال اعجاز احمدی سے نقل کئے ہیں، پھر کیا عاشق رسول اللہ ﷺ امت محمدیؐ ہو کر ایسا کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اس ہجو سے ان کی دلی حالت معلوم ہوتی ہے کہ انھیں جناب رسول اللہ ﷺ سے کیسا اعتقاد تھا۔ حضرت سرور انبیاءؑ کی اولاد کی تو بڑی شان ہے کوئی سچا مرید اپنے مرشد کی اولاد سے ایسا بدگمان نہیں ہوتا اور ان کی ہجو نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں بعض مرزائی حضرت امام کی مدح میں ان کے اشعار پڑھ کر عوام کو فریب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر یہ الزام غلط ہے کہ وہ امام صاحب کی مذمت کرتے ہیں،
٥٥
بلکہ ان کے یہ اشعار ہیں جن میں حضرت امام کی مدح ہے‘ ہم کہتے ہیں کہ یہی تو تمہارے جھوٹے امام کی ابلہ فریبی ہے کہ ایک جگہ اپنا دلی خیال ظاہر کرکے دوسری جگہ اس پر روغن قاز ملتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں‘ مگر احمق و نادان بھی اس چال کو سمجھے گا کہ ایک جگہ نہایت برے طور سے مذمت کرکے اور اس مذمت کو الہامی بتا کر دوسری جگہ ان کی تعریف کرنا ناواقفوں کو فریب دینا ہے کیونکہ مذمت کو تو انہوں نے الہامی بیان کیا ہے‘ اب ان اشعار کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ الہامی نہیں ہیں اس لیے الہام کے مقابلہ میں ان کا کچھ اعتبار نہیں ہو سکتا‘ غرضیکہ اس سے بھی ہر ایک فہمیدہ ان کا ایک فریب سمجھ سکتا ہے اور اس کی تائید میں مرزا قادیانی کے وہ نعتیہ اشعار و قصیدے ملاحظہ کیجئے جو براہین احمدیہ کی ابتداء میں لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے عاشق رسول ہیں اور دوسری جگہ اپنی فضیلت اس زور سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی سچا مسلمان اُسے سن نہیں سکتا‘ اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔
(٢) کیا جناب رسول اللہ ﷺ کو سید المرسلین اور خاتم النبیین مان کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے نشانات و معجزات جناب سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے سو حصے زیادہ ہیں؟ ہرگز نہیں‘ یہ تو فضیلت کلی کا دعویٰ ہے۔ اس دعوے کا ثبوت ملاحظہ ہو۔
اپنے حق میں ایک فیصلہ شائع کیا ہے جو لائق ملاحظہ ہے اس کی تمہید میں لکھتے ہیں جو میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ٧٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)
اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گزرتا الخ۔ (اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٢)
١ تعجب ہے کہ ابھی تو یہ دعویٰ تھا کہ تین لاکھ سے زیادہ میرے نشانات ہوئے جس کا حاصل یہ ہے کہ پیدائش کے روز سے مرنے کے دن تک بارہ تیرہ نشان روز صادر ہوتے تھے۔ نشانات اور عمر کے ایام حساب کرکے دیکھ لو پھر اب ایک مہینہ میں چند نشانوں کا دعویٰ کرنا اپنے آپ کو مرتبہ سے گرا دینا ہے‘ ان نشانوں میں نہایت عظیم الشان نشان یہ ہوں گے کہ مرزا قادیانی (١) مرد سے عورت بنے یعنی غلام احمد سے مریم ہو گئے (٢) اور بغیر مرد کی صحبت کے حاملہ ہو گئے اور دس مہینے حاملہ رہے (٣) پھر وضع حمل اس طرح ہوا کہ گھر کے کسی عورت و مرد نے نہیں دیکھا بلکہ ظاہر میں اسی مرزائی صورت میں نظر آتے رہے اور اس سے
٥٦
اس تعداد بیان کرنے سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے نشانات کے شمار کا رجسٹر رکھتے تھے اور وہ تعداد اپنی صداقت کے جوش کے وقت مشتہر کی جاتی تھی اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اور مرزائیوں کو یہ دعویٰ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے اتباع و پیروی سے یہ رتبہ انھیں ملا اور ظلی اور بروزی اور اصلی نبی ہو گئے مگر وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی تمام عمر میں ایک مرتبہ بھی ایسا دعویٰ کیا کہ میرے اس قدر نشانات و معجزات ہوئے؟ کوئی ثابت نہیں کر سکتا پھر بھی اتباع سنت اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے؟ ہاں مرزا قادیانی حضور انور ﷺ کے معجزات شمار کر کے لکھتے ہیں کہ تین ہزار معجزے ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
یہاں تین ہزار سے زیادہ ایک کا بھی اضافہ مرزا قادیانی بیان نہیں کرتے مگر اپنے تین لاکھ نشانوں سے بھی بے تعداد اضافہ بیان کرتے ہیں اب اس پر غور کیجئے کہ معجزہ خاص خدا کی طرف سے رسول کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے ہوتا ہے اب جس قدر نشانات اور معجزات زیادہ ظاہر ہوں گے اسی قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت زیادہ ہوگی۔
اب مرزا قادیانی اپنے تین لاکھ سے زیادہ معجزات بیان کرتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کے تین ہزار اس سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عظمت اور مقبولیت کو حضور انور ﷺ سے سو حصے زیادہ بلکہ سوا سو حصے سے بھی زیادہ بتاتے ہیں اور ان کے پیرو اس پر امنا کہہ رہے ہیں اس ایمان پر غور سے نظر کی جائے۔
(گزشتہ سے پیوستہ) مسیح پیدا ہوئے (٤) پھر عجب نشان یہ ہوا کہ مرزائی مریم کا پیٹ ایسا وسیع ہوا کہ جوان لڑکا داڑھی مونچھ والا نکل آیا اس کے بعد (٥) پانچواں نشان عجیب و غریب ہوا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر عادت اللہ اور سنت اللہ کے خلاف کچھ نہ ہوا کیونکہ مرزا قادیانی تو سنت اللہ کے خلاف کو غیر ممکن سمجھتے ہیں اسی وجہ سے پہلی تاریخ کے چاند گہن کو غیر ممکن خیال کرتے ہیں (٦) چھٹا نشان یہ ہوا کہ صرف لفظ استعارہ کہہ دینے سے واقعی عالم میں مرزا قادیانی مجسم ابن مریم ہو گئے اور حدیث کے مصداق بن گئے ایسے نشانات کا کیا ٹھکانا ہے یہی وجہ ہے کہ مرزائی حضرات اس وقت کو روشن ضمیری کا زمانہ کہتے ہیں ایسے وقت میں مرزا قادیانی کے ان خرافات پر ایمان لانا بڑی روشن ضمیری ہے۔
٥٧
بھائیو! اس پر غور کرو جو رسول اللہ سید الاولین والآخرین ہو، جس پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہو خدا تعالیٰ نے قطعی طور سے جسے آخر الانبیاء قرار دیا ہو اور اسے عالم کے لیے رحمت فرمایا ہو اس کے بعد اس کی امت میں کوئی نبی آئے، وہ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سو حصے زیادہ عظمت رکھتا ہو، یہ ہو سکتا ہے کسی مسلمان کا دل اسے باور کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں، اس کا حاصل تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ افضل الانبیاء نہیں ہیں، بلکہ مرزا ہیں (استغفر اللہ)
اب غور کرو کہ مرزا قادیانی کا خیال جناب رسول اللہ ﷺ سے کیسا ہے اور ان کی مدح کرنے کا کیا منشاء ہے اس کی تائید میں ان کا الہام ملاحظہ کیجئے۔
- (٣) حقیقۃ الوحی ص ٩٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢ میں ان کا الہام ہے لولاک
لما خلقت الافلاک یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری مدح میں مجھ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا، تو آسمان زمین کچھ پیدا نہ کرتا اس کا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جس قدر مخلوقات پیدا کی گئی وہ سب مرزا قادیانی کا طفیل ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا وجود شریف نہ ہوتا تو اس عالم کا وجود نہ ہوتا، دنیا کے تمام اولیاء انبیاء اور ان کے کمالات نبوت وغیرہ سب مرزا قادیانی کے طفیلی ہیں انھیں کے طفیل سے تمام انبیائے کرام اور حضرت سید الانام کا وجود شریف ظہور میں آیا اور انھیں کی ذلہ ربانی سے انہیں کمالات نبوت ملے، اب یہ فریب دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے مرزا قادیانی کو نبوت ملی اور ان کے اس اعلانیہ دعویٰ پر نظر نہیں کی جاتی۔ جس میں وہ حضور انور ﷺ کو اپنا طفیلی بتا رہے ہیں۔ (استغفر اللہ نعوذ باللہ)
بھائیو! اس تعلی کی کچھ انتہا ہے سچے مسلمان کے لیے یہ تعلیاں کیسی صدمہ رساں ہیں، اب ان دعووں کو دیکھ کر ان کے نعتیہ اشعار کو جو ذی فہم دیکھے گا وہ قطعی فیصلہ کریگا کہ مرزا قادیانی نے سادہ لوح مسلمانوں کو فریب دیا ہے۔
- (٤) اسی طرح ان کا یہ شعر تکدر ماء السابقین و عیننا . الی اخر الایام لا
تتکدر
(اعجاز احمدی ص ٥٨ خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)
اس شعر میں سابقین جمع ہے اور اس پر الف اور لام استغراق یا جنس کا آیا ہے اس لیے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جتنے اولیاء اور انبیاء پہلے گزر گئے ان کے فیض کا پانی میلا
٥٨
اور مکدر ہو گیا اور میرا چشمہ کبھی میلا نہ ہوگا، یہ نہایت بدیہی دعویٰ ہے تمام انبیائے کرام پر فضیلت کا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں اور اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا اور اپنی نبوت قیامت تک باقی رہنے کا دعویٰ ہے چنانچہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا کو خاتم الانبیاء اپنے اخباروں میں لکھتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی فضیلتیں مرزا قادیانی نے اپنی بیان کی ہیں، جس سے ان کا دلی راز اہل دانش معلوم کر سکتے ہیں۔
- (٥) کیا ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو مان کر اور آپ کا پیرو ہو کر
حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ایسے بے ہودہ اور سخت کلمات زبان سے نکالے جیسے مرزا نے ضمیمہ انجام آتھم وغیرہ میں نکالے ہیں اور ایک اولوالعزم نبی کی بے حرمتی کی ہے، ہرگز نہیں کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ایسے الفاظ نہیں نکل سکتے، بلکہ قوی الاسلام ان الفاظ کو سن نہیں سکتا، اس کا دل لرز جاتا ہے اگر کوئی دہریہ خدا کے ساتھ گستاخی کرے یا کوئی مردود حضرت سرور انبیاء ﷺ کی نسبت زبان سے بے ادبانہ کلمات نکالے تو کسی مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ یا کسی برگزیدہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگے
١ ضمیمہ انجام آتھم کا حاشیہ ص ٤ سے ص ٩ تک (خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٣) دیکھا جائے کہ کیسے سخت اور فحش کلمات لکھے ہیں جب یہ حاشیہ پیش کیا جاتا ہے تو ناواقفوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات یسوع کو کہے ہیں۔ جب ان کے رسالہ توضیح المرام (ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢) سے دکھا دیا جاتا ہے کہ خود مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ اور یسوع کو ایک بتاتے ہیں تو اور بے ہودہ باتیں کہنے لگتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ الزاما ایسا کہا ہے کبھی کہتے ہیں کہ توہین کی نیت نہ تھی، مگر یہ سب فریب ہے الزام دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی الزام دیئے ہیں۔ مگر جس طرز سے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بے حرمتی کی ہے کوئی مسلمان کسی طرح نہیں کر سکتا اور نہ شریعت محمدیہ سے اسے اس طرح کہنا جائز ہے، اس واقعہ کو یاد کرنا چاہیے جسے امام بخاری ج ٢ ص ٩٦٥ نے روایت کیا ہے کہ ایک صحابی اور یہودی سے لڑائی ہوئی تھی اور یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہاں پر ترجیح دی اور صحابی نے جناب رسول اللہ ﷺ کو اور اس یہودی کو ایک طمانچہ مارا، اور یہودی جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس فریاد لے گیا اور حضور ﷺ نے اس یہودی کے سامنے فرمایا کہ لا تخیرونی علی موسی یعنی موسیٰ علیہ السلام پر مجھے بڑھاؤ نہیں، غور کیا جائے کہ صحابی نے کوئی لفظ بے ادبی
٥٩
یہ باتیں نہایت صفائی سے ثابت کر رہی ہیں کہ مرزا قادیانی کے قلب میں حضرات انبیاء کی کوئی عظمت نہیں ہے، وہ دہریوں کی طرح کسی نبی کو نہیں مانتے اپنے مطلب کے لیے کسی وقت کسی کی تعریف کر دی یہ نہایت ظاہر باتیں ہیں، اگر صاف دل ہو کر میرے بیان میں غور کیجئے گا تو خدا کے فضل سے پوری امید ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس کی تصدیق آپ کے دل میں ہو جائے گی اب جناب رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی اور ان کی اتباع اور ظلیت کا دعویٰ اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ باوجود بے انتہا کوشش کے کوئی گروہ، ہندو، عیسائی یا دوسرے مذہب کا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا اب اگر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی مدح نہ کرتے اور ان کے اتباع و ظلیت کا دعویٰ مسلمانوں پر ظاہر نہ کرتے تو کوئی مسلمان بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوتا، اس لیے اول انہوں نے دین اسلام کی کچھ تائید کی اور رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کی پھر اپنی مدح سرائی اور ضمناً اپنے بیان اور الہامات میں اپنا تفوق جابجا ظاہر کیا پھر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے نہایت عظیم الشان معجزہ کا اس انداز سے
(گزشتہ حاشیہ) کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں کہا تھا۔ صرف جناب رسول اللہ ﷺ کو فضیلت دی تھی اور وہ بھی یہودی کے مقابلہ میں الزاماً کہا تھا اور سچی بات تھی، مگر حضور ﷺ نے اس کو بھی جائز نہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر نہ بڑھاؤ اس کو حدیث صحیح میں دیکھنا چاہیے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صرف یہود کے مقابلہ میں اپنی فضیلت کو منع فرمایا تو ایسی بے ہودہ گوئی اور بے حد شیخی پادری کے مقابلہ میں کیونکر جائز ہو سکتی ہے جیسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کی ہے، یہی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا دعویٰ ہے، اسی کی وجہ سے نبوت کا مرتبہ مل گیا یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، اس کے علاوہ دافع البلاء کے آخر میں تو کسی پادری کے مقابلہ میں نہیں لکھتے بلکہ قرآن مجید کا حوالہ دے کر مسلمانوں سے خطاب کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کو شرمناک الزام دیا ہے، اب خلیفہ صاحب فرمائیں کہ جن کی عظمت و شان قرآن مجید میں بار بار بیان کی گئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ رسول فرمایا ہے ان کی نسبت کوئی مسلمان ایسے خیالات کر سکتا ہے جیسے مرزا قادیانی نے دافع البلاء کے آخر میں کئے ہیں؟ ہرگز نہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن سے ان کی دہریت ثابت ہوتی ہے۔
٦٠
ابطال کیا کہ مسلمان برہم نہ ہوں یہ سب تمہید آئندہ اپنے مقصود کے اظہار کے لیے کی، جس طرح عبداللہ چکڑالوی پہلے مقلد حنفی تھا، اس وقت اس نے لوگوں کو اپنا معتقد اور پیرو بنایا، پھر وہ غیر مقلد ہو کر اہل حدیث بنا اور اپنے تئیں حدیث کا پیرو بتایا اور اپنے معتقدین کو غیر مقلد بنایا، پھر کچھ عرصہ کے بعد احادیث نبویہ علی صاحبہ الصلوۃ والسلام سے بالکل منہ پھیر لیا اور تمام حدیثوں کو غلط اور جھوٹی کہنے لگا، جب اس کے معتقدین نے اس سے کہا کہ پہلے آپ مقلد تھے اور ہم سے آپ نے تقلید کی ضرورت اور تعریف کی تھی پھر آپ نے غیر مقلد ہو کر عمل بالحدیث کی طرف ہمیں متوجہ کیا، اب آپ اس کی مذمت کرتے ہیں اور حدیثوں کو جھوٹی اور موضوع بتاتے ہیں اور صرف قرآن پر عمل کرنے کو کہتے ہیں یہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر میں آہستہ آہستہ تمہیں بتدریج راہ پر نہ لاتا تو تم ہرگز میری بات کو نہ مانتے، میرا شروع سے یہی خیال تھا جو میں اب کہہ رہا ہوں، چونکہ اس کے معتقدین کا اعتقاد راسخ ہو چکا تھا اس لیے وہ اس کے پیرو رہے اور جو اس نے کہا انہوں نے اسے مانا، یہ واقعہ مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتا ہے، اور طالبین حق کے لیے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کی حالت کو دکھا رہا ہے، مرزا قادیانی نے پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور مثیل مسیح بنے اور نہایت صفائی سے مسیح موعود ہونے سے انکار کیا۔
(ازالۃ الاوہام ص ١٩٠ خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
پھر بڑے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل اسلام حضرت مسیح کے منتظر تھے، اور اس نازک وقت میں ان کا بہت زیادہ انتظار تھا اس لیے بعض نیک دل مولوی بھی ان کے معتقد ہو گئے۔ پھر افضل الانبیاء ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور خدائی اختیارات ملنے کے بھی مدعی ہوئے (صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ ملاحظہ ہو) اور کشفی طور سے خدا ہو گئے اور آسمان و زمین بنایا مگر وہ ابھی تک اپنے اصلی مدعا پر کامیاب نہ ہوئے تھے اور مصلحت اعلانیہ دعویٰ خدائی سے مانع تھی کہ یکبارگی اس جہان فانی سے رحلت کر گئے، مگر اپنے اصلی مقصد یعنی مذاہب کی بیخ کنی کے لیے تخم پاشی کرتے رہے اور بہت سادہ دل حضرات اس سے بے خبر رہے، جب ان کے بعض مقلدین نے ان کے اختلاف اقوال کی نسبت دریافت کیا تو جب کوئی بات نہ بنی تو کہہ دیا کہ جس طرح مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر کیا گیا ویسا ہی میں نے کہا، اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے
٦١
خدا تعالیٰ پر جھوٹ اور وعدہ خلافی کا الزام اور خدا کے رسولوں پر ناسمجھی اور غلط فہمی کی تہمت لگا کر اپنے آپ کو الزاموں سے بچایا اور شریعت الٰہی اور قرآن مجید کو غیر معتبر ٹھہرایا کیونکہ جب خدا تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے کسی کلام پر اعتبار نہیں ہو سکتا جب وہ وعدہ خلافی کرتا ہے تو قرآن مجید میں جس قدر وعدے مسلمانوں کے لیے ہیں اور منکروں کے لیے وعیدیں ہیں سب بے کار ہیں کوئی لائق اعتبار نہیں اسی طرح جب انبیاء کسی وقت وحی کو نہیں سمجھتے یا غلط سمجھتے ہیں اور وہی غلط مطلب مخلوق سے بیان کرتے ہیں تو تمام وحی قرآنی لائق اعتبار نہ رہی کیونکہ ہر وحی پر غلطی کا احتمال ہے یہ ہے مرزا قادیانی کا مدعا اور راز دلی یعنی خدا اور رسول اور اس کا کوئی کلام لائق توجہ اور قابل اعتبار نہیں ہے مگر مرزا قادیانی کے خیال میں ابھی تک مریدین کی وہ حالت نہ پہنچی تھی کہ ان کے اعلانیہ کہنے سے یہ لوگ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انکار کر کے میرے پیرو ہو جائیں گے اس لیے در پردہ ایسی باتیں کہیں تاکہ آئندہ کسی وقت اصلی منشاء کے اظہار کا موقع رہے اور جب وقت آ جائے تو صاف طور سے کہہ دیں کہ فلاں فلاں بات اس لیے کہی تھی مگر چونکہ تمہاری طرف سے پورا اطمینان نہ تھا اس لیے صاف طور سے نہیں کہا۔
برادران اسلام! اس رسالے کو مکرر ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کیسے کیسے جھوٹ بولے ہیں اور فریب دیئے ہیں مگر الحمدللہ انہی کے بیان سے ان کے جھوٹے ہونے کی پندرہ دلیلیں بیان کی گئیں اور آخر میں ان کا در پردہ منکر اسلام اور دہریہ ہونا نہایت روشن کر کے دکھا دیا گیا اب تو مسلمانوں کو ضرور ہے کہ ان سے پرہیز کریں اور ان بندہ درہم و دینار کی باتوں کو نہ سنیں جو ایسے جھوٹے اور فریبی کو ظلی نبی یا خدا کا رسول کہتے ہیں اور دوسروں سے منوانا چاہتے ہیں مرتبہ نبوت تو بہت بڑی چیز ہے میں نے تو ثابت کر دیا کہ ایسا شخص تو مسلمان بھی نہیں ہو سکتا وہ تو در حقیقت منکر خدا اور رسول ہے واللہ الموفق والمعین واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.
(خاکسار ابو احمد رحمانی)
٦٢
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریسٹوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سر براہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سر پرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریسٹوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام!
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیؤ گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟ ۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆......☆...... کسی مرزائی کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ،
چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔
- ☆......☆...... جس شخص نے کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے
ہیں وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔
- ☆......☆...... مرزائیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ محارب
کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
☆......☆......☆
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆......☆...... اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کی شفاعت
چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا۔ کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں ؟۔
- ☆......☆...... امت مسلمہ پر یہ فرض ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ
کے لئے سینہ سپر ہو اور جھوٹے مدعیان نبوت کے طلسم سامری کو پاش پاش کر ڈالے۔ اس فریضہ کا نام تحفظ ختم نبوت ہے اور تاریخ شہادت دے گی کہ امت مسلمہ نے کسی بھی دور میں اس فرض سے کوتاہی نہیں کی۔
☆......☆......☆
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆ .......... اگر بہروپے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل
مطابق اصل تو ہوتی۔ شکل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو مرزا قادیانی نبیوں کا مقابلہ کرتا ہے؟۔
- ☆ .......... ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک
قادیانی بھی زندہ نہ بچے۔ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مار دیں۔
- ☆ .......... عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔
اس کا انکار کفر ہے۔ اور اس کی تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆......مرزا قادیانی سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ
ہونے کا اعلان کرتا ہے۔
- ☆☆......قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں بلکہ
مردار ہے۔
- ☆☆......مرزائیو میرے اس سوال کا جواب دو کہ 52 سال
جھوٹ بکنے والا مسیح موعود کیسے بن گیا؟۔
☆......☆......☆
خوشخبری
ایک تحریک... وقت کا تقاضہ
بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کے مجموعہ رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کے نام سے اس وقت تک سات جلدیں شائع کی ہیں۔
- (١)...... احتساب قادیانیت جلد اول مجموعہ رسائل ...... حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
- (٢)...... احتساب قادیانیت جلد دوم مجموعہ رسائل ........ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
- (٣)...... احتساب قادیانیت جلد سوم مجموعہ رسائل ....... مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ
- (٤)...... احتساب قادیانیت جلد چہارم مجموعہ رسائل ..... مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ ... حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
- (٥)...... احتساب قادیانیت جلد پنجم مجموعہ رسائل، صحائف رحمانیہ ٢٤ عدد خانقاہ مونگیر
- (٦)...... احتساب قادیانیت جلد ششم مجموعہ رسائل ....... علامہ سید سلمان منصور پوریؒ
........ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
- (٧)...... احتساب قادیانیت جلد ہفتم مجموعہ رسائل .... حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ
(یہ سات جلدیں شائع ہو چکی ہیں) اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو جلد ہشتم و نہم حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہو گی۔ جلد دہم میں مرزا قادیانی کے نام نہاد قصیدہ اعجازیہ کے جوابات میں امت کے جن فاضل علماء نے عربی قصائد تحریر کئے وہ شامل اشاعت ہوں گے۔ اس سے آگے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔
طالب دعا! عزیز الرحمن جالندھری مرکزی دفتر ملتان