ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت · محمد اسماعیل قریشی
Namoos-e-Risalat aur Qanoon Toheen-e-Risalat · M Ismaeel
PDF 1

بسم الله الرحمن الرحيم مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ اِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ اِبْرَاهِيمَ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ اِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ اِبْرَاهِيمَ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ

اضافہ شدہ

ناموس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اور

قانون توہین رسالت

قرآن و سنت، تاریخ، قانون اور عدالتی فیصلوں کے آئینے میں

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

الفیصل ناشران و تاجران کتب غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور

PDF 2

ISBN 969-503-123-4 جملہ حقوق محفوظ بار اول: جولائی 1994ء بار دوم: ستمبر 1999ء محمد فیصل نے تراب مبین پرنٹرز سے چھپوا کر شائع کی۔ قیمت 210/- روپے

انتساب

ماضی و حال اور مستقبل کے

شہیدان ناموس رسالت ﷺ

بصد

عقیدت و احترام

PDF 3

انتساب

ماضی و حال اور استقبال کے

شہیدان ناموس رسالت ﷺ کے نام

بصد

عقیدت و احترام

صفحہ 5

مکتوب شہید پاکستان حکیم محمد سعید

۵ ذی القعدہ ۱۴۱۵ ہجری ۱۶ اپریل ۱۹۹۵ عیسوی حوالہ نمبر ب / ح / ۹۵

عالی جناب محترم محمد اسماعیل قریشی صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ناموس رسالت ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ، آپ کی اس تالیف کو میں نے حیرت اور مسرت کے ساتھ دیکھا۔ گزشتہ کئی سال سے یہ موضوع پاکستان کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے اور ساتھ ہی اس نے عالمی توجہ کو بھی منعطف کیا ہے۔

محترمی عدالت ہائے پاکستان کے فیصلوں کو مغرب نے قبول نہیں کیا اور تمام خبریں اور تنقیدات مغرب میں نیو ورلڈ آرڈر کے تناظر میں ہوتی رہی ہیں۔ آپ نے اس موضوع پر ۴۷۲ صفحات کی ایک نہایت باوقار کتاب تیار کر دی ہے کہ جو مرتبہ تحقیق پر فائز ہے اور قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس سے قبل میری نظر سے قومی زبان اردو میں اس قدر جامع کتاب کوئی نہیں گزری۔ میں اس کتاب کو بدرجہ انتہا اہمیت دیتا ہوں اور بیت الحکمہ کو وہاں کے صاحبان تحقیق کے استفادے کے لیے دے رہا ہوں۔

آپ کو اس کار خیر پر دلی مبارک باد دیتا ہوں۔ بہ احترامات فراواں

آپ کا مخلص حکیم محمد سعید

بگرامی خدمت عالی جناب محترم محمد اسماعیل قریشی صاحب سینئر ایڈووکیٹ۔ سپریم کورٹ۔ ۲۶۔ رچنا، علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور۔

فہرست

اظہار تشکر مقدمہ طبع دوم سر آغاز ایک روح پرور حاصل زندگی پیش لفظ جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ تقریظ جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان حدیث دل جناب جسٹس میاں محبوب احمد دیباچہ جناب پروفیسر مرزا محمد منور صاحب امابعد حضرت خواجہ سید نفیس الحسینی عرض مصنف محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ

باب اول

نام و ناموس رسول

صفحہ 5

فہرست

اظہار تشکر 13 مقدمہ طبع دوم 15 سر آغاز ایک روح پرور حاصل زندگی خواب جمیل 19 پیش لفظ جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ جج سپریم کورٹ پاکستان 23 تقریظ جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان سینئر جج فیڈرل شریعت کورٹ 27 حدیث دل جناب جسٹس میاں محبوب احمد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ 31 دیباچہ جناب پروفیسر مرزا محمد منور سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی 37 اما بعد حضرت خواجہ سید نفیس الحسینی شاہ 45 عرض مصنف محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ 47

باب اول

نام و ناموس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم 55

صفحہ 6

کتابیات باب اول 90

باب دوم

قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

کتابیات باب دوم 126

باب سوم

توہین رسالت ﷺ

(علمائے قدیم و جد

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ

صفحہ 7

85 90 رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم 91 91 104 107 112 112 114 114 115 رسول ﷺ 115 115 خلافت میں 116 116 کی نظر میں 118 118 121 123 123 126

باب سوم

توہین رسالت ﷺ ۔ جرم و سزا 129

(علمائے قدیم و جدید کا قول فیصل)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ 139

صفحہ 9

مسئلہ توبہ --O 164 گستاخ رسول ﷺ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے --O 165 علمائے جدید کے فتاویٰ اور مقالات 172 مولانا ابوالکلام آزاد۔ سرکار رسالت مآب کا احترام اور اس کے ایمانی اور قانونی تقاضے --O 173 مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ راج پال کے مقدمے کا تنقیدی جائزہ --O 179 سماحۃ الشیخ عبدالعزیز عبداللہ بن باز۔ مفتی اعظم سعودی عرب کا فتویٰ --O 181 مولانا احمد سعید کاظمی کی عالمانہ توضیحات --O 183 مولانا سید متین ہاشمی کے دلائل و براہین --O 187 مولانا عبد المالک کاندھلوی (مرحوم)۔ وجوب قتل کا فقہی استدلال --O 195 پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری۔ کیا شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توبہ قابل قبول ہے؟ --O 198 مولانا صلاح الدین یوسف کا سلفی اور فقہی نقطہ نظر --O 203 مولانا محمد حسین اکبر اجتہادی۔ امامیہ موقف --O 212 مولانا ریاض الحسن نوری کی ریسرچ --O 216 مولانا محمد صادق لالہ صحرائی۔ رسول رحمت ﷺ اور سزائے توہین رسالت --O 222 ڈاکٹر محمد محسن عثمانی۔ شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل سے انکار کا فتنہ --O 225 کتاب شتم رسول ﷺ کا مسئلہ۔ مصنف کا تنقیدی محاکمہ 234 فرد جرم --O 243 تاریخ پر وحید الدین خان کے مجرمانہ حملے --O 245 امام ابن تیمیہؒ --O 247 امام خمینی اور مولانا ابوالحسن ندوی --O 249 مولانا محمود الحسن --O 249 قائد اعظم محمد علی جناح --O 251

عبدالقادر عودہ شہید --O غازی علم الدین شہید --O قدرت اللہ شہاب --O احمد دیدات اور بال ٹھاکرے --O رشدی اور لیڈی ڈیانا --O تاریخی شخصیت کون؟ --O خیر اعلیٰ اور وحید الدین خان۔ یاللعجب! --O کتابیات باب سوم

باب چہارم

اہانت رسول صلی اللہ علیہ و

ارتداد کا قرآنی مفہوم --O مرتد کے بارے میں قرآن کا اعلان --O ارتداد کے بارے میں خلیفۃ الرسول کا فیصلہ --O مرتد کی سزا یہودی اور مسیحی قانون میں --O مرتد کے بارے میں اسلامی نظریاتی کو --O مولانا مودودیؒ اور مسئلہ ارتداد ایک بنیادی غلط فہمی --O اعتراضات کا جواب --O مجرد مذہب اور مذہبی ریاست کا بنیادی فرق --O کافر اور مرتد کے ساتھ مختلف معاملہ کیوں --O اسلامی رویہ کی معقولیت --O

صفحہ 8, 9

164 توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے 165 ی اور مقالات 172 رکار رسالت مآب کا احترام اور اس کے ایمانی اور 173 وی۔ راج پال کے مقدمے کا تنقیدی جائزہ 179 اللہ بن باز۔ مفتی اعظم سعودی عرب کا فتوی 181 عالمانہ توضیحات 183 دلائل و براہین 187 ی (مرحوم)۔ وجوب قتل کا فقہی استدلال 195 ۔ کیا شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی 198 کا سلفی اور فقہی نقطہ نظر 203 وی۔ امامیہ موقف 212 کی ریسرچ 216 ۔ رسول رحمت ﷺ اور سزائے توہین 222 تم رسول ﷺ کی سزائے قتل سے انکار کا فتنہ 225 م کا مسئلہ۔ مصنف کا تنقیدی محاکمہ 234 243 کے مجرمانہ حملے 245 247 ن ندوی 249 249 251

عبد القادر عودہ شہید --O 252 غازی علم الدین شہید --O 252 قدرت اللہ شہاب --O 253 احمد دیدات اور بال ٹھاکرے --O 254 رشدی اور لیڈی ڈیانا --O 254 تاریخی شخصیت کون؟ --O 255 خیر اعلیٰ اور وحید الدین خان۔ یا للعجب! --O 256 کتابیات باب سوم 258

باب چہارم

اہانت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ارتداد

ارتداد کا قرآنی مفہوم --O 261 مرتد کے بارے میں قرآن کا اعلان --O 263 ارتداد کے بارے میں خلیفۃ الرسول کا فیصلہ --O 269 مرتد کی سزا یہودی اور مسیحی قانون میں --O 271 مرتد کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا نظریہ اور سفارش 272 مولانا مودودی اور مسئلہ ارتداد 274 ایک بنیادی غلط فہمی --O 275 اعتراضات کا جواب --O 277 مجرد مذہب اور مذہبی ریاست کا بنیادی فرق --O 279 کافر اور مرتد کے ساتھ مختلف معاملہ کیوں ہے؟ --O 280 اسلامی رویہ کی معقولیت --O 281

صفحہ 11

باب پنجم

قانون توہین رسالت ﷺ، عالمی اور ملکی تناظر میں 283

یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام 293

اسلامی ملکوں میں قانون توہین رسالت ﷺ 302

کتابیات باب پنجم 320

باب ششم

قانون، مقدمات اور نظائر (عدالتی فیصلے) 321

بنام جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان 360

کتابیات باب ششم 380

باب ہفتم

سرگزشت عاشقان رسول ﷺ 381

مرکز عشق و محبت 381

عاشقان رسول ﷺ دور رسالت میں 382

جاں نثار خواتین

پاک و ہند کے شیدایان رسول ﷺ

پاک و ہند کے چند شہیدان و شیدایان ناموس

صفحہ 11

جاں نثار خواتین 388

پاک و ہند کے شیدایان رسول ﷺ 391

پاک و ہند کے چند شہیدان و شیدایان ناموس رسالت ﷺ 395

صفحہ 13

گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر ایک بے جا اعتراض 442 فرزند اقبال کی مسند ارشاد 448 مشاہیر ادب و سیاست کے تاثرات 453

اظہار تشکر

اس کتاب کی تصنیف و تالیف میں توفیق الٰہی اور فیضان کرم شروع ہی سے اس بندہ عاجز و عاصی کے شا گدائے بے نوا کے دامن مراد کو فکر ایمانی سے بھر دیا۔ میں سپریم کورٹ کے لائق احترام جج جناب جسٹس کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خا چیف جسٹس میاں محبوب احمد، استاذالاساتذہ شفیق محترم جن طریقت و شریعت مخدوم سید نفیس الحسینی شاہ کے لئے س کتاب کو اپنی گراں قدر تقاریظ سے آراستہ کیا جو ان کے ہے۔

میری اس سعی و کاوش میں میرے رفیق کار ایڈووکیٹ کی مساعی جمیل بھی شامل ہیں جنہوں نے ت مقدمہ کی پیروی اور اس کتاب کی تالیف میں میری شب سرورق جناب بشیر موجد کے مو قلم کا کرشمہ رنگ و نور ہ میں ان عالی مقام مصنفین اور مفکرین کا بھی مم خیالات، کتابوں اور مضامین سے استفادہ کرتے ہوئے شامل کتاب کیا گیا ہے۔ میں ان تمام وکلاء حضرات اور جنہوں نے وقتاً فوقتاً مجھے اپنے مفید مشوروں سے مستفید عالم قریشی صاحب ایڈووکیٹ کا بھی ممنون ہوں کہ انہو

صفحہ 13

اظہار تشکر

اس کتاب کی تصنیف و تالیف میں توفیق الٰہی اور حضور رسالت مآب ﷺ کا فیضان کرم شروع ہی سے اس بندہ عاجز و عاصی کے شامل حال رہا ہے جس نے اس گدائے بے نوا کے دامن مراد کو فکر ایمانی سے بھر دیا۔

میں سپریم کورٹ کے لائق احترام جج جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ‘ فیڈرل شریعت کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان‘ عدالت عالیہ لاہور کے محترم چیف جسٹس میاں محبوب احمد‘ استاذ الاساتذہ شفیق محترم جناب پروفیسر مرزا محمد منور اور پیر طریقت و شریعت مخدوم سید نفیس الحسینی شاہ کے لئے سراپا سپاس ہوں جنہوں نے اس کتاب کو اپنی گراں قدر تقاریظ سے آراستہ کیا جو ان کے عشق رسول کریم ﷺ کا مظہر ہے۔

میری اس سعی و کاوش میں میرے رفیق کار عزیز محترم ڈاکٹر ظفر علی راجا ایڈووکیٹ کی مساعی جمیل بھی شامل ہیں جنہوں نے توہین رسالت ﷺ کے تاریخی مقدمہ کی پیروی اور اس کتاب کی تالیف میں میری شب و روز معاونت کی۔ اس کتاب کا سرورق جناب بشیر موجد کے موقلم کا کرشمہ رنگ و نور ہے۔

میں ان عالی مقام مصنفین اور مفکرین کا بھی ممنون احسان ہوں جن کے افکار و خیالات‘ کتابوں اور مضامین سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے مقالات اور اقتباسات کو شامل کتاب کیا گیا ہے۔ میں ان تمام وکلاء حضرات اور علمائے کرام کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے وقتاً فوقتاً مجھے اپنے مفید مشوروں سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ برادر مکرم محمود عالم قریشی صاحب ایڈووکیٹ کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے توہین رسالت ﷺ

صفحہ 15

کے مقدمہ اور اس سے متعلق انگریزی فیصلوں کا سلیس اور عام فہم اردو میں ترجمہ کیا۔

برادر مکرم چوہدری عبدالرحمٰن ایڈووکیٹ، عزیز گرامی محمد متین خالد بھی مستحق شکریہ ہیں کہ ان کی مخلصانہ توجہ سے یہ کتاب مکمل ہوسکی۔

میری عزیز بیٹی صفیہ غلام مصطفیٰ قریشی اور فرزند وسیم طاسین قریشی نے مسودہ کتاب کے املا اور ترتیب میں اور برادر عزیز علیم قریشی نے ہر مشکل مرحلہ پر میری مدد کی۔ ان کے علاوہ عزیز القدر رضوان علی انجینئر، عزیزم عرفان سعید اور عزیزی مشتاق حسین اور محمد رمضان نے بھی اس کتاب کی تسوید اور ترتیب میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کی۔ مکرمی ریاض خان نے کتاب کو غلطیوں سے پاک کرنے کا محنت طلب کام سرانجام دیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔

الفیصل پبلشرز کے جواں سال پروپرائٹر عزیز مکرم محمد فیصل خان لائق ستائش ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کی طباعت، تزئین و اشاعت میں جس لگن اور جاں فشانی سے کام لیا اس کی بدولت یہ کتاب منظر عام پر آسکی اور قارئین محترم کے ہاتھوں تک پہنچ سکی ہے۔ ”فلله الحمد“

۲۷ رمضان المبارک سال ۱۴۱۴ھ بمطابق ۱۱ مارچ ۱۹۹۴ء

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

مقدمہ طبع دوم

لله الحمد کہ یہ کتاب ”ناموس رسول ﷺ“ سال ۱۴۱۴ ہجری مطابق ۱۹۹۴ء میں شائع ہوئی تو حضور ﷺ کی نسبت اور موضوع کی اہمیت کی وجہ سے چند ماہ کے اندر اور بیرون ملک اس کی طلب کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ان میں نہ صرف صاحبان عدل و قانون شامل ہیں بلکہ جید ناقدین محترم نے مصنف کے نام اتنے خطوط ارسال کئے جواب دینا مشکل تھا جس کے لئے معذرت طلب ہوں مگر جس ذوق و شوق سے مطالعہ کیا اس کے لئے میں ان سب حضرات کا ممنون و شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب پر تبصرے شائع کئے اہل نظر کا جنہوں نے مجھے اپنے گراں قدر مشوروں سے آگاہ ان کے مشوروں کا بغور مطالعہ کیا۔ عزیز القدر محمد زید ملک نے جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، کتاب کو حرف بحرف پڑھنے کے بعد مملکت سعودی عرب سے کتابت کا مفصل اغلاط نامہ ارسال کیا۔ اسی طرح ایک اور برادر ارشد جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں معلم کے عہدہ پر فائز ہیں، کتاب کے اصل ماخذ اور حوالوں پر نظرثانی کے لئے وہ بذات خود لاہور آئے اور ساری تعطیلات میں اس کام میں لگے رہے تاکہ کوئی کوتاہی باقی نہ رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ ان عزیزان گرامی کو جزا دے۔ اس کی اہمیت کا اس وقت اندازہ ہوا جب یہ کتاب عدالت عالیہ لاہور میں ایک زیر سماعت مقدمہ میں انٹرنیشنل لاء کے ممتاز ماہر قانون نے بطور ریفرنس پیش کیا۔ اس طرح یہ تیسری کتاب تھی جو حقوق الزوجین“ اور جناب صلاح الدین شہیدؒ کی ”بنیادی حقوق کے بعد بطور حوالہ ہائی کورٹ کے ایک اہم مقدمہ میں پیش ہوئی

صفحہ 15

مقدمہ طبع دوم

لله الحمد کہ یہ کتاب ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت“ جب سال ۱۴۱۴ ہجری مطابق ۱۹۹۴ء میں شائع ہوئی تو حضور ختمی مرتبت کی ذات گرامی سے نسبت اور موضوع کی اہمیت کی وجہ سے چند ماہ کے اندر ہی پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا۔ ملک اور بیرون ملک اس کی طلب کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ اس دوران قارئین کرام جن میں نہ صرف صاحبان عدل و قانون شامل ہیں بلکہ جن کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہے اور ناقدین محترم نے مصنف کے نام اتنے خطوط ارسال کئے کہ ان سب کا جواب دینا نہایت مشکل تھا جس کے لئے معذرت طلب ہوں مگر جس ذوق و شوق سے انہوں نے کتاب کا مطالعہ کیا اس کے لئے میں ان سب حضرات کا اور ان تمام رسائل اور جرائد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب پر تبصرے شائع کئے اور خاص طور پر ان اصحاب نقد و نظر کا جنہوں نے مجھے اپنے گراں قدر مشوروں سے آگہی بخشی۔ میں نے ان تبصروں اور مشوروں کا بغور مطالعہ کیا۔ عزیز القدر محمد زید ملک نے جو عربی اور اسلامیات کے اسکالر ہیں کتاب کو حرف بحرف پڑھنے کے بعد مملکت سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض سے کتابت کا مفصل اغلاط نامہ ارسال کیا۔ اسی طرح ایک اور صاحب ذوق عزیز محترم محمد ارشد جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں مسلم اقلیت پر ریسرچ ورک کر رہے ہیں۔ کتاب کے اصل ماخذ اور حوالوں پر نظر ثانی کے لئے اپنی گرمیوں کی تعطیلات میں بذات خود لاہور آئے اور ساری تعطیلات میں اس کام میں مصروف رہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی باقی نہ رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ ان عزیزان گرامی کو خوش رکھے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اس وقت اندازہ ہوا جب یہ کتاب عدالت عالیہ کے توہین رسالت والے زیر سماعت مقدمہ میں انٹرنیشنل لاء کے ممتاز ماہر قانون جناب ایس۔ ایم ظفر نے اسے بطور ریفرنس پیش کیا۔ اس طرح یہ تیسری کتاب تھی جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ”حقوق الزوجین“ اور جناب صلاح الدین شہیدؒ کی ”بنیادی حقوق“ کے بعد مصنف کی زندگی میں بطور حوالہ ہائی کورٹ کے ایک اہم مقدمہ میں پیش ہوئی۔ اس کتاب کے حوالے سے ایک

صفحہ 17

اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔ ہیومن رائٹس کمیٹی کی نام نہاد علمبردار خاتون عاصمہ جہانگیر نے اقدام قتل کے مقدمہ زیر دفعہ 307/34 تعزیرات پاکستان میں مجھے ملوث کر دیا جس میں مجھ پر یہ الزام تھا کہ میری اس کتاب کو پڑھنے کے بعد لاہور کے چار نوجوان مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے عاصمہ جہانگیر اور ان کے اہل خاندان پر قاتلانہ حملہ کر دیا کیونکہ عاصمہ جہانگیر توہین رسالت کے مقدمہ میں ملزمان کے مقدمہ کی پیروی کرتی رہی تھیں۔

اس عرصہ میں مجھے ”ناموس رسول ﷺ “ کے ابواب کے لئے انجیل برنباس کی جدید تحقیقات کا مواد مل گیا۔ اس کے علاوہ مولانا ابو الکلام آزاد کا ایک بلند پایہ تحقیقی مضمون بھی دستیاب ہو گیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے جامع اور فاضلانہ مضمون کی کمی بھی پوری ہو گئی۔

یہاں یہ ذکر نامناسب نہ ہو گا کہ ہندوستان میں اسلامی مسائل پر لکھنے والے لبرل ازم کے حامی ایک قلم کار وحید الدین خان نے توہین رسالت کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے مسلمانوں کو رواداری کا پرچار کیا ہے اور شیطان رشدی کی وکالت کی ہے۔ اس کے جواب کے لئے میں نے اس کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ ان تمام مضامین کو شامل کتاب کیا گیا ہے جس سے کتاب کی افادیت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔

اکثر احباب نے یہ رائے بھی دی کہ علمائے جدید نے قرآن و حدیث اور فقہ کے جو حوالے اپنے مقالات میں دیے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے حوالے الشفا، الصارم المسلول اور راقم کی شرعی پٹیشن میں پہلے سے موجود اور شامل کتاب ہیں۔ اس لئے ان مقالات میں ان کی تکرار سودمند نہیں۔ رائے چونکہ معقول تھی اس لئے وہاں اشارات پر اکتفا کیا گیا ہے۔

ان تمام وجوہات کی بناء پر میں نے ناشر جناب محمد فیصل خان کو ان کے اصرار کے باوجود کتاب کی اشاعت سے روک دیا تھا تاکہ کتاب خامیوں سے پاک ہو اور مزید تحقیقاتی مضمون سے مزین ہو کر قارئین کرام تک پہنچے اس لئے تاخیر کی تمام تر ذمہ داری مجھ عاجز پر عائد ہوتی ہے جو پیشہ قانون کی گراں بار ذمہ داریوں کی وجہ سے اس کام کے لئے پورا وقت نہ دے سکا۔ ان تمام حضرات محترم سے جن کو کتاب کے ایڈیشن ختم ہونے کی وجہ سے یہ بروقت نہ مل سکی ان سے دوبارہ معذرت طلب ہوں۔

ماخذ کے حوالے جو کتاب کے آخر میں دیئے گئے تھے اس مرتبہ انہیں ہرباب کے

آخر میں درج کیا گیا ہے۔ ممتاز اور معروف شخصیتوں کے آخر میں دیئے گئے ہیں۔

آخر میں ایک بار پھر میں جناب محمد فیصل خان صا اس کتاب کو پھر سے ایک نئی آب و تاب کے ساتھ اس کیا ہے۔

دعا ہے کہ مصنف کی یہ سعی و کاوش کو بارگاہ اور اس کی یہ کتاب اس کے لئے، اس کے والدین صاحبوں کے لئے جنہوں نے اس کارخیر میں حصہ لیا اور شفاعت اور مغفرت بن جائے اور تحفظ ناموس رسالت تابندہ اور تابناک رہے۔

وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ

۲۵ رمضان المبارک سال ۱۴۱۹ ہجری ۱۳ جنوری سال ۱۹۹۹ء علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور

صفحہ 17

آخر میں درج کیا گیا ہے۔ ممتاز اور معروف شخصیتوں کے تبصروں کے اقتباسات کتاب کے آخر میں دیئے گئے ہیں۔

آخر میں ایک بار پھر میں جناب محمد فیصل خان صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کو پھر سے ایک نئی آب و تاب کے ساتھ اس کے شایان شان طریقہ سے شائع کیا ہے۔

دعا ہے کہ مصنف کی یہ سعی و کاوش کو کو بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل ہو اور اس کی یہ کتاب اس کے لئے، اس کے والدین، عزیزوں، دوستوں اور ان تمام صاحبوں کے لئے جنہوں نے اس کارخیر میں حصہ لیا اور قارئین کرام کے لئے بھی ذریعہ شفاعت اور مغفرت بن جائے اور تحفظ ناموس رسالت کی بدولت ملت اسلام کی زندگی تابندہ اور تابناک رہے۔

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ

۲۵ رمضان المبارک محمد اسماعیل قریشی سال ۱۴۱۹ ہجری - سینئر ایڈووکیٹ ۱۲ جنوری سال ۱۹۹۹ء علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

PDF 18

ایک روح

آج سے تقریباً ربع روڈ (سابق لٹن روڈ) پر واقع تھے۔ ان دنوں میں نماز جمع عطاء اللہ صاحب کی دعوت جمعہ سے قبل اجتماع سے ملبوس تھے۔ انہیں دیکھ کر میں کتنا تضاد ہے! یہ حضرا اور بالخصوص خلفائے راشد لیکن خود ان کی زندگی میں میں‘ جبکہ عراق اور ایران خود موٹے اور کھردرے ا یہ مولانائے محترم بہترین میں نے مولانائے موصوف بات ذہن سے فراموش ہ

اس واقعہ کے کچھ لاکھوں انسانوں کا اجتماع ختمی مرتبت جناب رسال نیکیوں میں ہر طرف نو ﷺ نہایت پاکیزہ سفید ہیں۔ مجھ گناہگار میں تا جھک گئیں مگر بے قرار ہوں۔ معلوم ہوا کہ ح العلوم‘ جس کے سربرا ہے۔ اسی دینی درسگاہ

صفحہ 19

ایک روح پرور حاصل زندگی خواب جمیل

آج سے تقریباً ربع صدی پیشتر کا ذکر ہے، جب ہم لاہور میں غازی علم الدین شہید روڈ (سابق لٹن روڈ) پر باغیچہ نواب صاحب بہاول پور کی جامع مسجد کے مقابل قیام پذیر تھے۔ ان دنوں میں نماز جمعہ بالالتزام اسی مسجد میں پڑھا کرتا تھا۔ ایک جمعہ امام مسجد قاری عطاء اللہ صاحب کی دعوت پر جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا موسیٰ خاں صاحب خطبہ جمعہ سے قبل اجتماع سے خطاب کر رہے تھے اور اس دن وہ سفید بے داغ لباس میں ملبوس تھے۔ انہیں دیکھ کر دل میں معاً خیال آیا کہ ہمارے ان علمائے دین کے کردار و عمل میں کتنا تضاد ہے! یہ حضرات دوسروں کو تو اتباع سنت کی تلقین کرتے ہیں، صحابہ کرامؓ اور بالخصوص خلفائے راشدینؓ کے نظام حکومت اور طرز زندگی کو تازہ کرنا چاہتے ہیں لیکن خود ان کی زندگی میں اس کی جھلک نظر نہیں آتی۔ حضرت عمرؓ اپنے زمانہ خلافت میں، جبکہ عراق اور ایران سے سیم و زر کے انبار ان کے قدموں میں ڈالے جا رہے تھے، خود موٹے اور کھردرے اور پیوند لگے لباس میں زندگی بسر کرتے رہے، لیکن آج ہمارے یہ مولانائے محترم بہترین سفید پوشاک زیب تن کیے برسر منبر جلوہ افروز ہیں۔ بایں وجہ میں نے مولانائے موصوف سے نماز جمعہ کے بعد ملاقات بھی نہیں کی۔ چند دنوں بعد یہ بات ذہن سے فراموش ہو گئی۔

اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں نے ایک خواب دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کا اجتماع ہے جس میں، میں بھی شامل ہوں۔ یکایک غلغلہ بلند ہوا کہ حضور ختمی مرتبت جناب رسالت ماب ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ نظر اٹھائی تو دیکھا کہ فضائے نیلگوں میں ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے اور دور سے آقائے دو جہاں سرور کائنات ﷺ نہایت پاکیزہ سفید اور بے داغ لباس میں اسپ صبا رفتار پر سوار تشریف لا رہے ہیں۔ مجھ گناہگار میں تاب نظارۂ جمال کہاں تھی جو جی بھر کر چہرۂ انور دیکھتا۔ نگاہیں خود بخود جھک گئیں مگر بے قراری اور اضطراب میں ان کی سواری کے ساتھ ساتھ دوڑتا جا رہا ہوں۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ فداہ ابی و امی کی سواری خان پور کی دینی درسگاہ ’مخزن العلوم‘ جس کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی ہیں، کی جانب جا رہی ہے۔ اسی دینی درسگاہ کی جامع مسجد سے ملحقہ احاطہ میں میرے پاکباز والد حضرت شیخ محمد

صفحہ 20

قریشی مرحوم مدفون ہیں‘ جہاں انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنی مرقد تیار کرالی تھی۔ اسی دوران میری زندگی کا ماحصل وہ ناقابل فراموش حسین ترین لمحہ آیا‘ جب میرا سر آقا و مولائے کائنات ﷺ کے پائے رکاب کے نیچے آگیا اور مجھے اپنے ہاتھوں سے حضور ﷺ کے کفش پا کو چھونے کا شرف حاصل ہوا۔ زندگی میں اس سے بڑھ کر اور کیا عز و شرف ہو گا جو کسی خاک پائے رسول ہاشمی ﷺ کو حاصل ہو۔

ایک عرصہ تک میں نے اس خواب کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ اس خیال سے کہ کہاں وہ سرور دو جہاں ﷺ اور کہاں یہ گدائے خستہ جاں‘ سراپا گناہ و عصیاں میں ڈوبا ہوا انسان جس کی زبان سے یہ بے پایاں لطف و کرم کی داستاں کیسے بیاں ہو! ڈر تھا کہ کہیں زباں سے کوئی لغزش نہ ہو جائے۔ شاید طہارت و پاکیزگی جسم و لباس کے بارے میں شاہ امم ﷺ کی ہدایت کا یہ بھی ایک انداز کریمانہ تھا۔ بڑے عرصہ بعد ڈرتے ڈرتے میں نے یہ خواب اپنے ایک روشن ضمیر دوست بیرسٹر ضمیر احمد خاں کو سنایا۔ سن کر کہنے لگے: ”بھائی! بڑے ہی خوش نصیب ہو‘ شاید آپ سے کوئی خدمت لی جائے گی۔“ جس سے کچھ ہمت بندھی تو پھر یہی خواب میں نے انہی مولانا موسیٰ خاں صاحب کو سنایا‘ جن کے بارے میں غلط تاثر پچھلے خواب کے بعد ذہن و دماغ سے یکسر ختم ہو چکا تھا۔ ان سے دریافت کیا: ”کیا میں یہ خواب دوسروں کو بھی سنا سکتا ہوں؟“ فرمایا: ”اس میں کوئی امر مانع نہیں۔ یہ بھی حضور ﷺ کا ایک سلسلہ تبلیغ و ہدایت ہے۔“

پھر سال 1992ء میں جب مجھے عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی‘ اس وقت ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ میں 21 رمضان المبارک کی بابرکت شب میں ان ہی شیخ الحدیث مولانا موسیٰ خاں صاحب سے نماز عشاء سے قبل مولانا محمد المکی‘ جو خطیب حرم ہیں‘ کے مکان پر‘ جہاں میں اپنے برادر عزیز عبدالعلیم قریشی اور عزیز محترم سردار احمد خان کے ساتھ مقیم تھا‘ اچانک ملاقات ہو گئی اور اسی دل نشیں خواب کا ذکر آ گیا تو میں نے دیکھا کہ مولانا کا چہرہ دیار حرم میں فرط مسرت سے سرخ ہو گیا اور اسی مجلس میں انہوں نے حاضرین مجلس کو اس حقیقت نما خواب کا گواہ بنایا اور مجھ پر اس آیہ مبارکہ کی تفسیر بھی منکشف ہوئی‘ جس میں فرمایا گیا:

”قل من حرم زينة الله التى اخرج لعباده و الطيبت من الرزق“

(الاعراف:32)

صفحہ 21

”اور اے نبی ﷺ! ان سے پوچھو تو جو زینت اور آرائش اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟“

اس لیے یہ مبارک خواب ایک زندہ حقیقت بن کر میرے قلب و دماغ پر نقش ہو گیا۔ سو تحدیث نعمت کے طور پر اسے سپرد قرطاس کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اور یقین ہو گیا کہ اسی خواب کی تعبیر کے لیے سال 1976ء میں مجھے کار کے اس حادثہ جانکاہ سے بچا لیا گیا جبکہ میں استخوان شکستہ سے چُور ہو کر موت کی وادی میں پہنچ چکا تھا اور میرے ڈاکٹروں اور تیمار داروں کو جہاں سے میری واپسی کی کوئی توقع باقی نہ رہی تھی۔

لِلّه الحمد کہ اس خواب کی تعبیر ملک عزیز پاکستان میں توہین رسالت کے قانون‘ قانون سزائے موت کی صورت‘ تعزیرات پاکستان میں دفعہ C-295 کی صورت میں موجود ہے جس کی ابتدا اس بندہ ناچیز کی کوشش سے سال 1983ء میں ہوئی تھی اور بالآخر ماہ مئی 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت نے اس بارے میں تاریخ ساز فیصلہ بہ مقدمہ محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان کر دیا کہ اس ناقابل معافی جرم کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے۔ مقام حیرت ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت‘ جس نے پاکستان میں اسلام اور نظام مصطفیٰ برپا کرنے کا منشور دے کر الیکشن جیتا اور برسر اقتدار تھی‘ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔ خدا کا شکر کہ راقم کے انتباہ پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اس کا بروقت نوٹس لیا اور یہ اپیل واپس لے لی گئی‘ جس کے بعد اب پاکستان میں توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت جاری ہو گئی ہے۔

ذالك فضل الله يوتيه من يشاء و هو ذو الفضل العظيم ۲۵ رمضان المبارک محمد اسماعیل قریشی سال ۱۴۱۹ ہجری سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

PDF 22

بِسْمِ ا

جناب

سابق ڈ

میرے مشفق دوست ج مستطاب ناموس رسول ﷺ او کہ اس مسودے کا مطالعہ کریں تقریظ یا دیباچے کا کام دیں۔ میں شرعی اور فقہی مسئلہ ہے۔ اس فرمانے لگے میں نے تو عرض کیا گویا انہوں نے اپنی طرف سے ہی کوہ گراں رہا جتنا کہ پہلے تھا۔

در حقیقت موضوع شرو کہ ہم نے ”الامانت“ زمین، آ کی ہمت نہ کر پائے، ڈر کر رہ اٹھا لیا۔ آدمی واقعی اس بار اما اسے معلوم نہ تھا۔ یوں گویا اس

حضرت شاہ ولی اللہ ا کرتے ہیں کہ الامانت کا مفہوم مسئولیت کو احکام الٰہی کے تابع دم تقدیس و تسبیح میں مصروف

صفحہ 23

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیش لفظ

جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ

(جج سپریم کورٹ پاکستان)

تاجدار ختم نبوت کی غلامی اور ان کی حرمت و ناموس پر کٹ مرنا ہر مسلمان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ یہ کتاب اسی رمزِ مسلمانی کی زندہ تفسیر بن کر ہمارے ہاتھوں تک پہنچی۔ کتاب کا انتساب شہیدان ناموس رسالت کے نام ہے، جن کی حیات جاوداں ماضی، حال اور مستقبل کا احاطہ کئے ہوئے سارے عالم پر محیط ہے۔ ان ہستیوں کا کیا کہنا جو پروانہ وار شمع رسالت کے آداب کی آئینہ دار ہو، پیش لفظ لکھنا دراصل ختم الرسل، مولائے کل کی بارگاہ عالی میں نذر عقیدت و احترام پیش کرنا ہے جو ابدیت کے کناروں کو چھو لیتی ہے۔ یہی وہ نسبت ہے جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان نے کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے۔

سرکار دو جہاں کا بنا کر مجھے غلام
میرا بھی نام تا بہ ابد زندہ کر دیا
ہوتا ہے جن میں نام رسول ﷺ خدا بلند
ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کر دیا

اس کتاب میں مصنف نے اپنے خواب جمیل کا ذکر کیا ہے، جس میں انہیں حضور ختمی مرتبت ﷺ کی پابوسی کا شرف حاصل ہوا، جسے وہ بجا طور پر اپنی زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔ وطن عزیز میں تحفظ ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ کی تنفیذ کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کو جو کامیابی نصیب ہوئی ہے، اس میں ایمائے رسالت مآب ﷺ ضرور شامل ہو گی کیونکہ اس کی وجہ سے مملکت خداداد پاکستان میں

صفحہ 24

ایک ایسی حد جاری ہو گئی جس کا ایک مسلمان کے عقیدہ اور ایمان سے براہ راست تعلق ہے۔ اس سے پیشتر بھی ایسے واقعات ظہور میں آتے رہے ہیں جن سے حضور نبی کریم ﷺ کی خوشنودی اور فرمان کی توثیق ہوتی رہی ہے۔ ایک مشہور واقعہ تو کے۔ ایل گابھا سے متعلق ہے جنہوں نے قبول اسلام کے بعد پیغمبر صحرا (Prophet Of The Desert) کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ برٹش راج میں وہ جیل میں بند تھے کہ حضور آیۂ رحمت ﷺ کی شفقت جوش میں آئی اور آپ سیالکوٹ کے ایک خوش نصیب انسان کے خواب میں نمودار ہوئے اور اسے حکم ہوا کہ وہ پیغمبر صحرا کے مصنف کی ضمانت کا انتظام کرے چنانچہ رسول کریم ﷺ کی شان کریمی کے طفیل کے۔ ایل گابھا کو جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔

قرآن و حدیث کے اوامر اور نواہی انتہائی محکم اور حیات و کائنات سے متعلق ہیں۔ قانون کا معاملہ جب تاریخ درمیان ہو تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ جہاں قدم قدم پر حزم و احتیاط کی ضرورت ہے۔ فاضل مصنف نے ادب کی آمیزش اور خاص اسلوب سے ان سارے موضوعات کو دل نشین اور آسان بنانے کی کوشش کی ہے، جس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔

اس کتاب کا خصوصی وصف اور امتیاز یہ ہے کہ اس میں قانون و ادب اور تاریخ کو قرآن و سنت کے سایہ میں ایک عظیم تر مقصد یعنی ناموس رسالت ﷺ کے لیے یکجا کر دیا گیا ہے۔ یوں تو ساری کتاب میں جذبہ عشق رسول ﷺ نمایاں ہے لیکن نام و ناموس رسالت ﷺ کے باب میں حضور ﷺ کی ذات گرامی سے جو والہانہ عقیدت کا اظہار ہے، اسے پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ پھر توہین رسالت ﷺ کی سزا کے ثبوت میں قرآن و حدیث کے احکام اور ان کی مستند تعبیر اور تفسیر بھی موجود ہے۔ اس میں ائمہ، فقہاء اور مجتہدین کا نقطہ نظر وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عہد رسالت مآب ﷺ سے لے کر بعد میں آنے والے تمام ادوار میں یورپ، ایشیا، افریقہ اور دنیا میں جہاں جہاں بھی اسلامی اور مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، تاریخی حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ وہاں توہین رسالت ﷺ کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔ مزید برآں یہ بھی بتلایا ہے کہ یہ سزا صرف اسلامی سزا نہیں بلکہ تورات اور انجیل کی رو سے انبیائے بنی اسرائیل اور توہین مسیح علیہ السلام کی بھی یہی

صفحہ 25

سزا یعنی سزائے موت مقرر تھی۔ فاضل مصنف نے بلاس فہمی سے متعلق امریکن سپریم کورٹ کے ایک اہم مقدمہ سٹیٹ بنام موکس کے فیصلہ کا اقتباس بھی اس کتاب میں شامل کر دیا ہے، جس میں بلاس فہمی کے قانون کو بنیادی حقوق انسانی، آزادی تحریر و تقریر اور آزادی پریس کے منافی قرار دینے کی سٹیٹ اپیل کو مسترد کر دیا گیا تھا اور اس کی تائید میں نہایت معقول دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی نہایت اہم اور فکر انگیز ہے کہ اس ملک کی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جہاں چرچ اور سٹیٹ، دین اور سیاست جدا جدا ہیں۔

ریاست یا ملک اور وہاں کے معاشرے کے استحکام اور بقاء کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کی نظریاتی سرحدوں کی بھی اسی طرح حفاظت کی جائے جس طرح کہ جغرافیائی حد بندیوں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی ہی جب وجہ وجود ملک و مملکت ہو تو ایسی ہستی کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی، بے ادبی اور ہرزہ سرائی سارے معاشرے میں فساد اور بگاڑ کا باعث ہو گی۔ اس لیے ایسے شرپسند عناصر، جو توہین رسالت ﷺ کے مجرم قرار پائیں، انتہائی سنگین سزا کے مستحق ہیں تاکہ ملک میں فتنہ اور فساد کی پرورش نہ ہو سکے۔ اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو پھر مجرموں اور ان کے خلاف مشتعل ہونے والے مدعیوں پر عدالت کے دروازے بند ہو جائیں گے، جس کی وجہ سے ہر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مجرموں سے انتقام لے گا، جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی اور یہ چیز ملک اور اہل ملک کے امن و سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی، سچائی، حق پرستی، عدل و انصاف جیسی اعلیٰ قدروں سے روشناس ہوئی، ان کی شان میں دشنام طرازی انتہائی گھناؤنا فعل ہے، جسے کوئی مہذب معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا اور خاص طور پر مسلمان معاشرہ۔ اس لیے ایسے دریدہ دہن گستاخان رسالت ﷺ کا منہ بند کرنے اور معاشرے کو مستحکم، شائستہ، صحت مند اور صالح بنانے کے لیے ایسا قانون ناگزیر تھا جس کو پاکستان میں از سر نو جاری کرانے کے سلسلہ میں مصنف کتاب جناب محمد اسماعیل قریشی کی خدمات اور مساعی بنظر استحسان دیکھی جائیں گی۔

اس کتاب میں عظمت و شان رسالت، آداب دربار نبوت اور قانون توہین رسالت ﷺ کے بارے میں جتنا مواد اکٹھا کیا گیا ہے، وہ کسی ایک جگہ بمشکل ہی مل سکے گا۔ اس

صفحہ 26

کے علاوہ فاضل مصنف نے علماء قدیم و جدید کی تحقیق کے علاوہ خود بھی جو مضامین نو لکھے ہیں، اس کی وجہ سے کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کتاب سے اہل قانون اور عدلیہ دونوں براہ راست استفادہ کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ علم و دانش کے خوشہ چینوں کے لیے بھی اس میں معارف اور بصائر کے خزینے موجود ہیں اور ہر مسلمان کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ایمان افروز ہوگا۔ غیر مسلم بھی اگر حقیقت پسندی سے اس کا مطالعہ کریں تو قانون توہین رسالت ﷺ کے بارے میں ان کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مصنف، اس کے قارئین اور ہم سب کی زندگیوں کو رسول کریم ﷺ کی عقیدت اور محبت سے سرشار کرے۔ نفرتوں اور انسان دشمنی کی زہرناکی اور دلوں کی نا سمجھی اسی سے دور ہو گی کیونکہ

علاج اس کا یہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

جسٹس محمد رفیق تارڑ (جج سپریم کورٹ) ۲۱ شعبان ۱۴۱۴ ہجری 3 فروری 1994ء

صفحہ 27

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تقریظ

جناب جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان

سینئر جج فیڈرل شریعت کورٹ پاکستان

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ پر استوار ہے۔ کلمہ پاک کا پہلا حصہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ عقیدہ توحید اور دوسرا حصہ ”مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ عقیدہ رسالت کے مظہر ہیں اور آغازِ اسلام سے لے کر قیامت تک کے لیے ایک مسلمہ بنیاد اور حقیقت رکھتے ہیں اور زیادہ غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کلمہ کا دوسرا جز انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی بدولت ہی عقیدہ توحید کی حقیقت، مضمرات، مقتضیات اور اثرات کا علم حاصل ہوتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی ذات والا صفات مسلمانوں کے سامنے ایک ایسا عظیم المرتبت نمونہ پیش کرتی ہے جسے خالق کائنات کی مکمل خوشنودی حاصل ہے۔ آپ ﷺ کا مبارک قول اگر اس آیت مبارکہ کے مصداق ہے ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ (آپ ﷺ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں نہیں بناتے ہیں، آپ ﷺ کا ارشاد صرف وحی ہے، جو آپ ﷺ پر نازل کیا جاتا ہے۔) (53/3-4) تو دوسری طرف آپ کا پاکیزہ عمل ”ان اتبع الا ما يوحى الی“ (میں تو بس اس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے) کا آئینہ دار ہے اور قول و فعل کی اس نورانیت کے سبب ہی آپ ﷺ کے اعلیٰ نمونہ عمل کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ ”لقد كان لكم في رسول الله اسوه حسنة“ (در حقیقت تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے۔) (21/33)

چونکہ آپ ﷺ کی ذات مبارکہ اور اسوہ حسنہ ایک نمونہ کامل کی حیثیت رکھتا

صفحہ 28

ہے، اس لیے اسلام کی اساسی تعلیمات میں آپ ﷺ کی محبت، آپ ﷺ کا ادب و احترام اور آپ ﷺ کی تعظیم لازمی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اس لیے ہر اس بات اور عمل کو، جس سے آپ ﷺ کی مبارک ذات پر حرف گیری کا شائبہ تک بھی ہو، سختی سے منع کیا گیا ہے۔

حضور اکرم ﷺ رحمتہ للعالمین ہیں اور امت پر آپ ﷺ کی شفقت و رحمت بے مثال رہی ہے، اس لیے آپ ﷺ کو اختیار حاصل تھا کہ اپنے دور میں، جو اسلام کے آغاز اور ارتقاء کا دور تھا، اس سلسلے میں سختی و نرمی اور عفو و درگزر کی ایسی مثالیں قائم فرمائیں جو اس وقت کے حالات سے مناسبت رکھتی ہوں لیکن امت مسلمہ کے کسی فرد کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ اس ضمن میں خود اس قسم کی حرکتوں پر معافی نامہ جاری کر سکے۔ امت کا مفاد بھی اس کا متقاضی ہے کہ اس عظیم ترین مرکزی شخصیت ﷺ کے حقوق اور مفادات کا دفاع کرے تاکہ معاشرے میں امن و امان برقرار رہے اور افراد کی اصلاح کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس مثالی شخصیت ﷺ کے ساتھ عقیدت و محبت میں ذرہ بھر بھی کمی نہ ہو۔ عشق رسول ﷺ لازمہ ایمان ہے اور ہر مسلمان کے رگ و پے میں خون کی طرح جاری و ساری ہے۔ حقیقی مسلمان کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی دریدہ دہن شان رسالت مآب ﷺ میں کسی گستاخی کا بھی مرتکب ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان نے بھی اپنے خونی رشتے داروں کے ضمن میں چشم پوشی یا عفو و درگزر سے تو کام لیا ہو گا، مگر ختم المرسلین، رسالت مآب ﷺ کی شان اقدس میں کبھی بھی وہ رو رعایت کا روادار نہیں ہوا، اس لیے اس بات کی سخت ضرورت تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون میں جہاں حدود و قصاص اور تعزیرات کے ضمن میں جرائم کی مختلف اقسام کے لیے سزائیں موجود ہیں، ان میں گستاخ رسالت مآب (ﷺ) کے لیے قرار واقعی سزا موجود ہو تاکہ نہ امن و امان کا کوئی مسئلہ کھڑا ہو اور نہ فدایان رسول ﷺ کسی آزمائش سے دوچار ہوں۔

جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے قابل قدر کوششیں کیں اور ان میں کامیاب ہوئے اور اب اس عنوان پر ایک اچھی خاصی کتاب بھی تصنیف فرمائی جس میں فیڈرل شریعت کورٹ پاکستان کے جاری کردہ فیصلہ کے مکمل متن کے علاوہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس اہم

صفحہ 29

بالشان مسئلے کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں اور تاریخی حوالوں سے اس موضوع پر ایسا اہم مواد یکجا کر دیا ہے جو سلیس‘ سادہ‘ عام فہم اور ایمان افروز ہونے کے ساتھ ساتھ جامع انداز کا حامل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور اس کتاب کو مقام رسالت ﷺ کی معرفت کا ذریعہ بنادے۔ (آمین)

جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان (سینئر جج وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد) ۲۰ رمضان المبارک ۱۴۱۳ ہجری 15 مارچ 1993ء

PDF 30

بِسْمِ

جناب

سابق ڈ

میرے مشفق دوست ج مستطاب ناموس رسول ﷺ اور کہ اس مسودے کا مطالعہ کریں تقریظ یا دیباچے کا کام دیں۔ میں شرعی اور فقہی مسئلہ ہے۔ اس فرمانے لگے میں نے تو عرض کیا گویا انہوں نے اپنی طرف سے ہی کوہ گراں رہا جتنا کہ پہلے تھا۔

در حقیقت موضوع شرو کہ ہم نے ”الامانت“ زمین، آ کی ہمت نہ کر پائے ڈر کر رہ گ اٹھا لیا۔ آدمی واقعی اس بار اما اسے معلوم نہ تھا۔ یوں گویا اس

حضرت شاہ ولی رحمتہ ا کرتے ہیں کہ الامانت کا مفہوم مسئولیت کو احکام الہی کے تابع دم تقدیس و تسبیح میں مصروف

صفحہ 31

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

حدیث دل

جناب جسٹس میاں محبوب احمد

(چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)

دل کی بستی عجیب بستی ہے۔ یہاں ہر آن محبتوں کی دکان سجتی ہے۔ چاہتوں کے ارمان نکلتے ہیں۔ محبوبوں کی اداؤں پر جانیں نثار ہوتی ہیں۔ ادائیں بدل جائیں تو عشاق کی وفائیں بدل جاتی ہیں۔ ایک حسین بت ہی مشتاق نگاہوں کو اسیر بنا لے تو ان میں باہم رقابت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے مگر پوری کائنات میں ایک محبوب ایسا ہے جو سید خوباں شاہ محبوباں ہے، جس کے حسن و جمال میں تغیر و تبدل نہیں۔ کمال ہی کمال ہے۔ استقلال ہی استقلال ہے۔ وہ واحد حبیب ہے جس کے محب اس کے دیگر چاہنے والوں سے حسد و بغض نہیں، محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ من و تو کشتہ شان جمالیم کہتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال

دل بہ محبوب حجازی بستہ ایم
زیں جہت با یک دگر پیوستہ ایم

وہ محبوب ازلی، حبیب ابدی، شاہد رعنا، مشہود جمال آرا وہی ہے جسے زمانہ محمد عربی ﷺ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ہر ساعت، ہر پل کروڑوں دل اس کی محبت میں ڈوب کر دھڑکتے اور کروڑوں لب اس کی مدح و ثناء میں کھلتے ہیں۔ زمان و مکان کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں اس سراپا حسن و خوبی کا تذکرہ جمال نہ ہوتا ہو۔ ماضی و حال میں اس محبوب حجازی کے حوالے سے لکھا گیا لٹریچر گواہ ہے کہ وہی سرور آدمیت اور فخر انسانیت ہے۔

صفحہ 33

مستقبل کے مصنف اس گواہی کو مزید مضبوط کر دیں گے کیونکہ ہر آنے والا لمحہ ان کے لیے نیا فضل و کمال لے کر جلوہ گر ہوتا ہے۔ بلاوجہ زبانیں اس کی محبت کے گیت نہیں گاتیں اور بلاجواز نگاہیں اس کے تصور میں محو انتظار نہیں رہتیں۔ خالق کائنات نے صورت و سیرت میں اسے منتخب روزگار برگزیدہ ہستیوں پر بھی فضیلت دی ہے۔

فاق النبیین فی خلق و فی خلق
و لم یدانوہ فی علم ولا کرم

اس پیکر جمال کا تذکرہ نور اگر اس کے وارفتگان اول صحابہ کرام ؓ سے سنا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ کیوں صدیوں سے اس محبوب حجازی کی خاک رہ گزر آنکھوں کا سرمہ بنی ہوئی ہے اور کیوں دل ہائے عشاق ایک ہی سرمدی نغمہ بلند کر رہے ہیں۔

خاک طیبہ از دو عالم خوش تر است
اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است

باب مدینہ علم سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:-

یقول ناعتہ لم ارى قبلہ و لا بعدہ مثلہ

”ان کے جمال کی تعریف کرنے والا یہی کہے گا کہ آپ جیسا نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں دیکھا جاسکے گا۔“

عم رسول سیدنا عباس ؓ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا:-

یا مخجل الشمس و البدر المنیر اذا
تبسم الثغر لمع البرق منہ اضا
کم معجزات راینا منک قد ظھرت
یا سید ذکرہ مشفی بہ المرضی

”اے سورج اور بدر منیر کو شرمندہ کرنے والے! تو جب مسکراتا ہے تو بجلی سی کوند جاتی ہے۔ ہم نے تیرے کتنے ہی معجزات دیکھے ہیں۔ تیرے ذکر ہی سے بیماروں کو شفا ملتی ہے۔“

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ تذکرہ جمال یوں فرماتی ہیں:-

لو راین حسن محمد صلی اللہ علیہ و سلم تقتلن

انفسھن ”اگر مصر کی عورتیں حضور ﷺ کو قتل کر ڈالتیں۔“

حسن یوسف پہ کٹیں مصر
سر کٹاتے ہیں ترے نام

حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنے لفظوں میں

امین مصطفی
کضوء البدر

”آپ امین مصطفیٰ اور خیر کی طرف کی ایسی روشنی ہیں جس سے تاریکی چھٹ

حضرت عبداللہ رواحہ ؓ نے اس بات کو ا

لو لم تکن فیہ
لکان منظرہ

”اگر آپ میں واضح معجزات نہ بھی جمال کا نظارہ آپ کے نبی ہونے کی دلیل

ان تمام دلدادگان رسول ﷺ کے ارش محبت نے کس کس انداز میں اپنے حبیب کو چاہا ہے ایک سیدنا صدیق اکبر ؓ کی وارفتگی ہی تو انہیں مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ ہوش آنے پر لو جواب دیا:-

للہ علی ان لا اذوق طعاما
الرسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم

”مجھے اس ذات خدا کی قسم ! اس وق پیوں گا جب تک رسول ﷺ کا دیدار نہ

معنی حرفم کنی
بنگری با دیدہ
صفحہ 33

ن کو مزید مضبوط کر دیں گے کیونکہ ہر آنے والا لمحہ ان کے لوہ گر ہوتا ہے۔ بلاوجہ زبانیں اس کی محبت کے گیت نہیں کے تصور میں محو انتظار نہیں رہتیں۔ خالق کائنات نے ب روزگار برگزیدہ ہستیوں پر بھی فضیلت دی ہے۔

ن فی خلق و فی خلق
یدانوہ فی علم ولا کرم

اور اگر اس کے وارفتگان اول صحابہ کرامؓ سے سنا جائے تو آتی ہے کہ کیوں صدیوں سے اس محبوب حجازی کی خاک رہ تا ہے اور کیوں دل ہائے عشاق ایک ہی سرمدی نغمہ بلند کر

از دو عالم خوش تر است
شہرے کہ آنجا دلبر است

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:-

م ارى قبله ولا بعده مثله

کی تعریف کرنے والا یہی کہے گا کہ آپ جیسا نہ پہلے یکھا جا سکے گا۔"

ؓ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا:-

لشمس و البدر المنیر اذا
لمع البرق منہ اضا
رأینا منک قد ظهرت
ذکرہ تشفی بہ المرضی

ور بدر منیر کو شرمندہ کرنے والے! تو جب مسکراتا آتی ہے۔ ہم نے تیرے کتنے ہی معجزات دیکھے ہیں۔ روں کو شفا ملتی ہے۔"

صدیقہؓ تذکرہ جمال یوں فرماتی ہیں:-

من محمد صلى الله عليه و سلم تقتلن

انفسهن "اگر مصر کی عورتیں حضور ﷺ کے جمال کو دیکھتیں تو اپنے آپ کو قتل کر ڈالتیں۔"

حسن یوسف پر کٹیں مصر میں انگشت زناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے لفظوں میں جمال رسول ﷺ کا یوں اظہار فرمایا:-

امین مصطفی للخير يدعو
كضوء البدر زايلته الغمام

"آپ امین مصطفیٰ اور خیر کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ چاند کی ایسی روشنی ہیں جس سے تاریکی چھٹ جاتی ہے۔"

حضرت عبداللہ رواحہؓ نے اس بات کو اپنے انداز میں بیان فرمایا:-

لو لم تكن فيه ايات بينة
لكان منظره ينبيك بالخبر

"اگر آپ میں واضح معجزات نہ بھی ہوتے تو بھی آپ کے حسن و جمال کا نظارہ آپ کے نبی ہونے کی دلیل تھا۔"

ان تمام دلدادگان رسول ﷺ کے ارشادات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کشتگانِ محبت نے کس کس انداز میں اپنے حبیب کو چاہا ہو گا۔

ایک سیدنا صدیق اکبرؓ کی وارفتگی ہی قابل دید ہے۔ ایک موقع پر جب کفار نے انہیں مار مار کر ادھو موا کر دیا۔ ہوش آنے پر لوگوں نے انہیں کچھ کھلانا چاہا تو انہوں نے جواب دیا:-

لله على ان لا اذوق طعاما ولا اشرب شرابا حتى ارى الرسول صلى الله عليه و آله و سلم

"مجھے اس ذات خدا کی قسم! اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا جب تک رسول ﷺ کا دیدار نہیں کر لیتا۔"

معنی حرفم کنی تحقیق اگر
بنگری با دیدہ صدیق اگر
صفحہ 34
قوت قلب و جگر گردد نبی
از خدا محبوب تر گردد نبی

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جہاں ہر دور اور ہر عہد میں اس محبوب کائنات ﷺ کے حضور ان کے چاہنے والے عقیدت و محبت کے گلاب پیش کرتے رہے‘ وہاں کبھی کبھی ان سے بغض اور ان کے دین سے عداوت رکھنے والے بیمار ذہن ان کی شان میں زبان طعن بھی دراز کرتے رہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اوائل اسلام ہی سے اہانت رسول کے جرم قبیح کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی رہی ہے۔ کرہ ارض پر جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی‘ وہاں شاتم رسول ﷺ کے لیے سزائے موت کا قانون رائج رہا۔ عہد رسالت‘ دور خلافت اور بعد میں مشرق و غرب کی تمام اسلامی سلطنتوں میں گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ موت کی سزا دی جاتی رہی۔

برصغیر پاک و ہند میں انگریز نے اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں کا اپنے نبی ﷺ سے رشتہ کمزور کرنے کا شیطانی منصوبہ بنایا۔ فاقہ کش مسلم کے تن سے روح محمد ﷺ نکال دینے کی سازش کی اور رسول ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا مذموم سلسلہ بھی شروع کرایا۔ انگریزی استعمار کے عہد میں جو تعزیرات بنائی گئیں‘ اس میں گستاخ رسول ﷺ کے لیے سزا کا قانون نہ تھا اور وہی تعزیر پاکستان کے قیام کے بعد بھی جاری رہی۔

اور اب فیڈرل شریعت کورٹ کے تاریخی فیصلہ سے قانون تبدیل ہو کر اس جرم کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب جناب قریشی صاحب کی سعادت ازلی کا ثبوت ہے جس میں انہوں نے توہین رسول ﷺ کرنے والوں کے لیے سزائے موت کے قانون کو تاریخی حوالوں سے ثابت کیا ہے۔ یہ کتاب جمال رسول کا دلکش تذکرہ اور قانون توہین رسالت کا تاریخی مجموعہ ہے۔ ان اوراق میں انہوں نے ان بدباطن‘ دریدہ دہن لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جو اپنی دریدہ دہنی کے سبب مسلم حکومتوں یا مسلم عوام کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترے اور خوش بخت شخصیات کا حال بھی بیان کیا ہے جو گستاخان رسول کو واصل جہنم کر کے تختہ دار پر جھول گئے۔

اس کتاب کا مطالعہ مسلمانوں میں اپنے رسول کریم ﷺ سے سچی اور گہری وابستگی پیدا کرے گا اور دشمنان رسول ﷺ کی سازشوں سے نمٹنے کے لیے انہیں تیار کرے گا۔ اپنے نبی ﷺ کی ذات سے کامل وابستگی کے بغیر دین کا دفاع ممکن نہیں‘ شاید اس لیے

صفحہ 35

مولانا احمد رضا خانؒ نے کہا تھا۔

دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے

عصر حاضر میں یہود و ہنود کی بڑھتی ہوئی سازشوں کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں میں فروغ عشق رسول ﷺ کی زور دار تحریک برپا کی جائے۔ میں سمجھتا ہوں اس ضمن میں فاضل مصنف جناب اسماعیل قریشی کی تازہ تصنیف گراں قدر کردار ادا کرے گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ کریم ان کی یہ مساعی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب کو اپنی جان، مال، عزت، آبرو اپنے آقائے کریم ﷺ کے ناموس پر قربان کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے کیونکہ:۔

در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما زنام مصطفیٰ است

میاں محبوب احمد (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، لاہور) ۱۰ رمضان المبارک ۱۴۱۴ ہجری 22 فروری 1994ء

صفحہ 37

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دیباچہ

جناب پروفیسر مرزا محمد منور

سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی‘ پاکستان

میرے مشفق دوست جناب محمد اسماعیل ایڈووکیٹ تشریف لائے اور اپنی کتاب مستطاب ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت کا مسودہ میرے سپرد فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسودے کا مطالعہ کریں اور اپنے تاثرات بھی قلمبند کریں جو اس کتاب کے لیے تقریظ یا دیباچے کا کام دیں۔ میں نے عذر پیش کیا کہ حضرت یہ بڑا ہی نازک اور اہم دینی شرعی اور فقہی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے جملہ پہلوؤں پر کماحقہ کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ فرمانے لگے میں نے تو عرض کیا ہے کہ مسودہ پڑھ لیں اور اپنے تاثرات قلم بند کر دیں‘ گویا انہوں نے اپنی طرف سے میرا کام آسان کر دیا مگر موضوع کی اہمیت کا بار امانت تو اتنا ہی کوہ گراں رہا جتنا کہ پہلے تھا۔

در حقیقت موضوع شروع ہی بار امانت سے ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ”الامانت“ زمین‘ آسمانوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی‘ وہ اس بار کو اٹھانے کی ہمت نہ کر پائے‘ ڈر کر رہ گئے اور حامی نہ بھر سکے۔ آدمی نے حامی بھر لی اور بار امانت اٹھا لیا۔ آدمی واقعی اس بار امانت کے تقاضوں سے بے خبر تھا کہ آیا عہد برآ ہو سکے گا؟ اسے معلوم نہ تھا۔ یوں گویا اس نے اپنے آپ کے ساتھ زیادتی کرلی۔

حضرت شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب عظمت مآب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں تحریر کرتے ہیں کہ الامانت کا مفہوم ہے صاحب اختیار و مسئولیت بنایا جانا اور پھر اس اختیار اور مسئولیت کو احکام الٰہی کے تابع رکھنا‘ بے اختیار عبادت تو فرشتے کرتے ہی رہے تھے‘ وہ ہر دم تقدیس و تسبیح میں مصروف تھے‘ انحراف کر ہی نہ سکتے تھے‘ لیکن اختیار رکھنا اور انحراف

صفحہ 38

نہ کرنا، اصل امتحان اور ذمہ داری ہے، تو آیہ الامانت کا لب لباب یہ ہے احکام الٰہی کی روشنی میں اللہ کی طرف سے دی ہوئی خود مختاری کا حق مسئولیت ادا کرنا۔

خدا نے آدم کے پتلے میں اپنی روح پھونک دی۔ خالی روح نہیں بلکہ اپنی روح۔۔۔۔ اور اپنی فطرت کے مطابق از روئے جوہر امکان اس کی فطرت بھی بنا دی۔ یعنی حسب حدیث رسول ﷺ ہر فرد بشر فطرت ہی کے مطابق پیدا ہوتا ہے۔ (بار امانت سے عہد بر آہونے کی اہلیت لے کر آتا ہے۔) مگر بعد ازاں اس کے والدین اسے یہودی و مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں، مراد ہے تربیتی ماحول اگر صراط مستقیم نہ ہو تو فرد بشر فطرت کے تقاضوں کو دبا لیتا ہے اور ادھر ادھر ہو جاتا ہے، فطرت کو ختم نہیں کر سکتا دبا لیتا ہے لہٰذا گمراہ ہو جاتا ہے، پھر اگر کوئی ولی حق مل جائے تو اپنے اصل کی طرف لوٹ آتا ہے ورنہ گمراہی میں پختہ کار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ضدی بن جاتا ہے اور وہ ضد وقت کے ساتھ ساتھ سنگلاخ ہوتی چلی جاتی ہے اور ایسا فرد ” ولکنہ اخلد الی الارض “ کا مصداق بن جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ نے فرد آدم کو وہ دانش وافر عطا فرمائی تاہم اسی پر اکتفا نہ کیا لہٰذا ساتھ ساتھ اپنی طرف سے لفظی ہدایت بھی ارسال کرتا رہا اور عملی ہدایت بھی، یعنی وحی بھی بھیجتا رہا اور رسول بھی۔ حضرت سید قطب اپنی تفسیر قرآن میں ”الامانت“ کا مطلب امانت رسالت لیتے ہیں۔ آیا آدم اللہ کی انعام فرمودہ رسالتوں کے مطابق ہدایت یاب ہوتا ہے یا نہیں یعنی پوری اولاد آدم کے لیے رسالت پر عمل کرنا لازم رہا تاہم امانت رسالت کا معنی فقط رسولوں کے لیے ہے، آیا انہوں نے حق رسالت ادا کر دیا؟ یہی باعث ہے رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے کہا ” انی لکم رسول امین “ میں ہوں ایک پیغمبر اور ایک مرد امین (یعنی رسالت اور امانت ساتھ ساتھ رہیں) دونوں جگہ نکرہ کا صیغہ، پھر ایک وقت آیا جب ساری کتابیں ”الکتاب“ میں ڈھل گئیں (ذالک الکتاب) اور اس طرح لفظی وحی تکمیل کو پہنچ گئی۔ تمام رسول ”الرسول“ کے روپ میں شامل ہو گئے اور اس طرح عملی وحی اپنے کمال کو پہنچ گئی گویا سارے Prophets آخر کار The Prophet کی معراج رسالت میں جذب ہو گئے۔ علامہ نے اس مطلب کو کس خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے:۔

شعلہ ہائے او صد ابراہیم سوخت
تا چراغ یک محمد ﷺ بر فروخت

واضح ہوا کہ تمام پیغمبران خدا صورتیں تھیں۔ بقول علامہ اقبال:۔ ad in the Making" قرآن ”الکتاب“ اسی لیے سابق تمام رسولوں کی، اسی طرح ہر رسول کا صیغہ بھی معرفہ کا صیغہ بن گیا اور نبی اکرم کو کفار و مشرکین نے۔۔۔ بشمول ابو اللہ نے رسالت بعد میں انعام فرمائی۔ امانتیں (رسالتیں) مل کر ”الامین“ ہو گئیں خدا فردوس اعلیٰ میں حفیظ جالند میں ساری کہانی بیان کر دی۔ ”امیں بن کر امانت یہی تھی وہ الامانت جس کے کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ سامعین بلغت رسالتی “ کیا میں نے الامانت ایمان، توحید الٰہی اور رسالت محمدی ﷺ ہو گئے اور حق ابلاغ رسالت ادا ہو گیا نعمت“ کی آیت بھی نازل کر دی تو اس اور بالکل اسی طرح شرک فی الرسالۃ پر رحمتہ للعالمین اور بس چنانچہ قرآن کر کو دہرا یا ہے کہ ”جس نے محمد ﷺ کی ”اطاعت کرو خدا کی اور الرسول (محمد شاید کہلا سکے مگر مومن وہی کہلا سکتا۔ ”وحدت“ بھی تسلیم کرے، لہٰذا جو فر لائے، وہ اہل ایمان کے حلقے سے باہر مسیلمہ کی طرح۔۔۔۔ وہ مسیلمہ جس۔

صفحہ 39

واضح ہوا کہ تمام پیغمبران خدا علیٰ نبینا و علیہم السلام، محمد مصطفیٰ ہی کی تکمیلی صورتیں تھیں۔ بقول علامہ اقبال:۔

"All Prophet of Allah were Muhammad in the Making"

قرآن ”الکتاب“ اسی لیے سابق کتب کی تصدیق کرتا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ تمام رسولوں کی، اسی طرح ہر رسول کا یہ ارشاد کہ وہ ایک مرد امین ہیں بیان کرنا، نکرہ کا یہ صیغہ بھی معرفہ کا صیغہ بن گیا اور نبی اکمل و اکرم کا خطاب ”الامین“ قرار پایا۔ آپ ﷺ کو کفار و مشرکین نے۔۔۔ بشمول ابو جہل۔۔۔ الامین کے لقب سے پہلے ملقب کیا اور اللہ نے رسالت بعد میں انعام فرمائی۔ اس طرح جہاں رسالت مکمل ہو گئی، وہاں ساری امانتیں (رسالتیں) مل کر ”الامین“ ہو گئیں۔

خدا فردوس اعلیٰ میں حفیظ جالندھری صاحب کو جگہ دے، انہوں نے ایک مصرعے میں ساری کہانی بیان کر دی:۔

”امیں بن کر امانت آمنہ کی گود میں آئی“

یہی تھی وہ الامانت جس کے ضمن میں حضور اکرم و اکمل ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ سامعین کرام یعنی اپنے اصحابؓ سے دریافت فرمایا ”هل بلغت رسالتی“ کیا میں نے الامانت ادا کر دی؟ جب بات یہاں تک پہنچ گئی تو گویا شرط ایمان، توحید الٰہی اور رسالت محمدی ﷺ کا دل سے اقرار قرار پائی۔ الرسول جب مبعوث ہو گئے اور حق ابلاغ رسالت ادا ہو گیا اور ساتھ ہی خدا نے اپنی گواہی کے طور پر ”اتمام نعمت“ کی آیت بھی نازل کر دی تو اب جس طرح شرک فی اللہ جرم کفر ہے، اسی طرح اور بالکل اسی طرح شرک فی الرسالت بھی جرم کفر ہے۔ آسماں پر ارحم الراحمین اور زمین پر رحمۃ للعالمین اور بس چنانچہ قرآن کریم میں کوئی درجن بار خدائے تعالیٰ نے اس مضمون کو دہرایا ہے کہ ”جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔“۔۔۔۔ ”اطاعت کرو خدا کی اور الرسول (محمد ﷺ) کی۔“۔۔۔۔ خدا کی توحید کا قائل موحد تو شاید کہلا سکے مگر مومن وہی کہلا سکتا ہے جو خدا کی ”وحدت“ کے ساتھ ساتھ الرسول کی ”وحدت“ بھی تسلیم کرے، لہٰذا جو فرد اب کسی اور رسول کی آمد کا امکان بھی ذہن میں لائے، وہ اہل ایمان کے حلقے سے باہر، وہ مسلمان ہو تو مرتد ورنہ کافر اور مستوجب سزا، مسیلمہ کی طرح۔۔۔۔ وہ مسیلمہ جس نے دعوائے نبوت کر کے ارتکاب شرک کیا اور پھر

صفحہ 40

اس شرک کو شراکت قرار دیا‘ مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی نے اپنی کتاب ”سیرہ الصدیق“ میں مسیلمہ کے خط کی عبارت نقل کی ہے‘ جو مسیلمہ نے بحضور نبی اکرم ﷺ تحریر کیا تھا۔

”من مسيلمة رسول الله الى محمد رسول الله فانى قد اشتركت معك فى الامر وان لنا نصف الارض و لقريش نصفها ولكن قريشا قوم يعتدون۔“

ترجمہ: ”رسول خدا مسیلمہ کی طرف سے رسول خدا محمد ﷺ کی طرف‘ رسالت میں مجھے تمہارا شریک اور حصے دار بنایا گیا ہے۔ آدھی زمین ہماری اور آدھی قریش کی لیکن قریش کی قوم اپنی حد میں رہنے والی نہیں۔“

اس کے جواب میں فرمان ذیل مدینہ سے جاری ہوا:۔

من محمد رسول الله الى مسيلمة الكذاب۔۔۔۔ اما بعد فالسلام على من اتبع الهدى فان الارض لله يورثها من يشاء من عباده و العاقبة للمتقين۔۔۔۔“

ترجمہ: ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا رحم کرنے والا اور بے حد مہربان ہے۔۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام‘ بعد حمد و ثنا پس سلام ہو اس پر جو راہ راست کی پیروی کرے‘ پھر یہ امر حقیقی یاد رہے کہ ساری زمین اللہ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس زمین کا وارث و مالک بنا دیتا ہے۔۔۔۔ عاقبت ان کے لیے ہے جو تقویٰ پر کار بند ہیں۔“

حالات نہایت نازک تھے۔ قبائل عرب کی اکثریت‘ جن کے دلوں میں ایمان ابھی راسخ نہ ہوا تھا‘ رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے مرتد اور باغی ہو گئی۔ بعض قبائل نے یہ کہا کہ ہمارا عہد و پیمان تو محمد ﷺ سے تھا‘ وہ اب فوت ہو چکے ہیں۔۔۔۔ ابو بکرؓ کون ہوتے ہیں ہم سے زکوٰۃ کا مطالبہ کرنے والے‘ ابو بکر کے ساتھ ہمارا کوئی عہد و پیمان نہ

صفحہ 41

مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی نے اپنی کتاب ”سیرہ عبارت نقل کی ہے‘ جو مسیلمہ نے بحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

صول الله الی محمد رسول الله فانی قد لامر وان لنا نصف الارض و لقریش قوم یعتدون۔“ ا مسیلمہ کی طرف سے رسول خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تمہارا شریک اور حصے دار بنایا گیا ہے۔ آدھی یش کی لیکن قریش کی قوم اپنی حد میں رہنے

رسالت مدینہ سے جاری ہوا:۔

الله الی مسیلمة الكذاب۔۔۔۔ اما اتبع الهدى فان الارض لله يورثها من بة للمتقين۔۔۔۔“ ام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا رحم کرنے والا ۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ تا پس سلام ہو اس پر جو راہ راست کی پیروی رہے کہ ساری زمین اللہ کی ہے اور وہ اپنے چاہے اس زمین کا وارث و مالک بنا دیتا لیے ہے جو تقویٰ پر کاربند ہیں۔“

قبائل عرب کی اکثریت‘ جن کے دلوں میں ایمان ابھی رسالت سے مرتد اور باغی ہو گئی۔ بعض قبائل نے یہ سے تھا‘ وہ اب فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ ابوبکرؓ کون رنے والے‘ ابوبکر کے ساتھ ہمارا کوئی عہد و پیمان نہ

تھا۔ اس مضمون کا حامل شعر ذیل جو حطیہ شاعر نے کہا:۔

اطعنا رسول الله ما كان بيننا!
فيا لعباد الله ما لابي بكر !!

ترجمہ :۔ ”ہم نے رسول خدا کی اطاعت کی جب تک وہ ہم میں موجود رہے۔ پھر اب اے اللہ کے بندو! ابوبکرؓ کا ہم پر کون سا حق بنتا ہے۔“

ان انتہائی نازک حالات میں بھی امام عاشقانِ رسول مقبولؐ سے مراد ہے۔ ابوبکر صدیقؓ نے نہ زکوٰۃ میں کوئی رعایت کی اور نہ کوئی مہلت دی۔ رسالت کے باغیوں کی سرکوبی کے لیے عساکر تیار کیے اور اپنے صحابی مشیروں کی مرضی کے خلاف ان باغیوں کے لشکروں پر حملہ آور ہونے کے لیے روانہ کر دیا اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک باغیان رسالت کا قلع قمع نہ ہو گیا اور جب تک وہ‘ جو ناسمجھی میں باغیوں کا ساتھ دینے لگ گئے تھے‘ نادم ہو کر اسلام کی طرف نہ لوٹ آئے۔ لب لباب یہ کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے روپ میں یہ منصب اپنے کمال کو پہنچ گیا لہٰذا اتمامِ پذیر ہو گیا۔ اب جو فرد بھی دعوائے نبوت کرے‘ وہ مسیلمہ کی طرح مشرک و کافر ہے‘ شریکِ نبوت نہیں‘ وہ باغی ہے اور اپنے متبعین سمیت گردن زدنی‘ قرآن کا فیصلہ‘ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور صدیقِ اکبرؓ کا عمل ۔۔۔۔ معاملہ ہمیشہ کے لیے طے ہو گیا۔ اسلام سے انحراف یا ادعاءِ نبوت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام الٰہی کی روشنی میں استوار کردہ نظام کے خلاف بغاوت ہے‘ خواہ وہ بغاوت حزبی اور گروہی ہو‘ خواہ انفرادی‘ مسلمان من حیث الامت یہ گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ رہا کسی شخص کا خود براہِ راست حضورِ نبی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدف دشنام بنانا تو یہ وہ امر ہے جو کبھی گوارا نہیں کیا گیا۔ ایسے گستاخوں کو خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکم یا ایماء سے قتل کرا دیا۔ قاضی عیاض نے اپنی کتاب ”الشفاء“ میں ایسے کئی افراد کا ذکر کیا ہے جن میں کعب بن اشرف‘ ابو رافع‘ ابن خطل اور اس کی لونڈی‘ نضر بن حارث‘ عقبہ بن ابی معیط وغیرہ جو حضورِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امر یا ایماء پر قتل ہوئے‘ کسی کو حضرت خالدؓ بن ولید نے قتل کیا‘ کسی کو حضرت زبیرؓ نے‘ کسی کو علیؓ بن ابی طالب نے۔ حضرت علیؓ نے ایک ایسے شخص کو زندہ جلوا دیا جس نے خود ان کو خدائی صفات سے موصوف کر کے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرکزیت کو ختم کرنے کی کوشش کی

PDF 41

بِسْمِ ا

جناب

سابق ڈ

میرے مشفق دوست ج مستطاب ناموس رسول ﷺ او کہ اس مسودے کا مطالعہ کریں تقریظ یا دیباچہ کا کام دیں۔ میں شرعی اور فقہی مسئلہ ہے۔ اس فرمانے لگے میں نے تو عرض کیا گویا انہوں نے اپنی طرف سے ہی کوہ گراں رہا جتنا کہ پہلے تھا۔ در حقیقت موضوع شرو کہ ہم نے ”الامانت“ زمین، آ کی ہمت نہ کر پائے، ڈر کر رہ گ اٹھا لیا۔ آدمی واقعی اس بار اما اسے معلوم نہ تھا۔ یوں گویا اس حضرت شاہ ولی رحمتہ ا کرتے ہیں کہ الامانت کا مفہوم مسئولیت کو احکام الٰہی کے تابع دم تقدیس و تسبیح میں مصروف

صفحہ 42

تھی۔ قاضی عیاض نے حضرت جعفر بن صادقؓ کے والد بزرگوار محمد کی روایت سے حضرت حسینؓ بن علی بن ابی طالب کا قول بروایت حضرت علیؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی بھی نبی کو گالی دے‘ اس کو قتل کر دو اور جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑوں کی سزا دو۔ ایک شخص کی بابت قاضی عیاض نے ابن قانع کی روایت سے تحریر کیا ہے کہ اس نے رسول خدا ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا والد آپ ﷺ کے بارے میں نازیبا باتیں کرتا تھا لہٰذا میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بات (ایک فرزند کا اپنے باپ کو قتل کرنا) رسول اللہ ﷺ کو ناگوار نہ گزری۔

قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے:۔ ”النبی اولی بالمومنین من انفسہم و ازواجہ امھاتہم۔۔۔۔“ ”رسول خدا اہل ایمان کو خود اپنی جانوں سے عزیز تر ہیں۔۔۔۔ اور حضور کی ازواج اہل ایمان کی مائیں ہیں۔۔۔۔“

نبی اکرم ﷺ کے بعد روحِ اسلام کے سب سے بڑے رمز شناس ثانی اثنین اذھما فی الغار‘ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے رسول خدا ﷺ کے خلاف جہاں گروہی اور جماعتی بغاوتوں کا سر کچل دیا‘ وہاں رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب فرد کو بھی مستوجب سزائے قتل جانا۔ ابو بکر احمد بن علی بن سعید نے اپنی کتاب مسند ابی بکرؓ میں تین حوالوں سے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکرؓ سے گستاخی‘ بے ادبی اور خیرہ سری کا رویہ اختیار کیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا‘ اجازت دیں‘ میں اس کا سر اڑا دوں۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا‘ نہیں فقط رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہے‘ رسول خدا ﷺ کے سوا کسی دوسرے کی یہ شان نہیں۔۔۔۔

قاضی عیاض نے ”کتاب الشفاء“ میں ذکر کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں کسی نے لکھ بھیجا کہ فلاں شخص حضرت عمرؓ بن الخطاب کی بابت نازیبا کلمات کہتا ہے‘ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ عمر بن عبدالعزیزؒ نے جواب دیا‘ فقط رسول خدا ﷺ کی یہ شان ہے کہ ان کی ذات سے متعلق گستاخی کرنے والے کو سزائے قتل دی جائے۔ یاد رہے کہ اہل امت عمر بن عبدالعزیزؒ کو ان کے عدل اور ورع کے باعث خلیفہ خامس کہتے ہیں۔

قاضی عیاض نے ہی ذکر کیا ہے کہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید نے حضرت امام مالکؒ

صفحہ 43

جعفر بن صادقؒ کے والد بزرگوار محمد کی روایت سے طالب کا قول بروایت حضرت علیؓ نقل کیا ہے کہ رسول نبی کو گالی دے‘ اس کو قتل کر دو اور جو میرے اصحاب کو دو۔ ایک شخص کی بابت قاضی عیاض نے ابن قانع کی ں نے رسول خدا ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا نازیبا باتیں کرتا تھا لہٰذا میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار اپ کو قتل کرنا) رسول اللہ ﷺ کو ناگوار نہ گزری۔ ہے۔

بالمومنين من انفسهم و ازواجه

ایمان کو خود اپنی جانوں سے عزیز تر ہیں۔۔۔۔ ایمان کی مائیں ہیں۔۔۔۔“

روح اسلام کے سب سے بڑے رمز شناس ثانی اثنین اذھما نے رسول خدا ﷺ کے خلاف جہاں گروہی اور جماعتی ول خدا ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب فرد کو بھی ر احمد بن علی بن سعید نے اپنی کتاب مسند ابی بکر میں تین شخص نے حضرت ابو بکرؓ سے گستاخی‘ بے ادبی اور خیرہ ن میں سے کسی نے کہا‘ اجازت دیں‘ میں اس کا سر اڑا ! نہیں فقط رسول خدا ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے خدا ﷺ کے سوا کسی دوسرے کی یہ شان نہیں۔ ۔ ۔ ۔ میں ذکر کیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں کسی رت عمرؓ بن الخطاب کی بابت نازیبا کلمات کہتا ہے‘ کیا میں عزیزؒ نے جواب دیا‘ فقط رسول خدا ﷺ کی یہ شان ہے خی کرنے والے کو سزائے قتل دی جائے۔ یاد رہے کہ اہل کے عدل اور ورع کے باعث خلیفہ خامس کہتے ہیں۔ کیا ہے کہ خلیفہ عباسی ہارون الرشید نے حضرت امام مالکؒ

سے دریافت کیا کہ شاتم رسول ﷺ کی کیا سزا ہے؟ عراقی فقہاء کہتے ہیں ایسے شخص کو کوڑوں کی سزا دی جائے۔ اس پر حضرت امام مالکؒ جلال میں آگئے اور فرمایا اگر رسول خدا کو دشنام کا ہدف بنایا جائے گا تو امت باقی نہیں رہے گی۔ جو شخص انبیاء کو دشنام دے اس کی سزا قتل ہے اور جو شخص اصحابِ رسول ﷺ کو سب و شتم کا نشانہ بنائے‘ اسے کوڑوں کی سزا دی جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ فقہ اسلامی میں حضرت امام مالکؒ کو امام الائمہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہارون الرشید نے عراقی فقہاء کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے شاتم رسول ﷺ کی سزا کوڑے بتائی ہے۔ خدا جانے وہ کون فقہاء تھے۔ عراقی فقہاء کے امام ابو حنیفہؒ کا اپنا قول ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہے‘ اور یہی عالم شوافع اور حنابلہ کا ہے جیسا کہ جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب نے واضح کیا ہے۔ میں مزید حوالوں سے گریز کرتا ہوں۔ صحابہ کرامؓ میں سے حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ کے حوالے کو کافی جانتا ہوں اور فقہائے عظام میں حضرت امام مالکؒ پر اکتفا کرتا ہوں۔۔۔۔ یہ فیصلہ یا فتویٰ تقریباً ہر اسلامی سلطنت میں نافذ رہا‘ چنانچہ یہ فیصلہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی نافذ کیا اور جلال الدین اکبر نے بھی۔۔۔۔

میرے کرم فرما محمد اسماعیل قریشی نے دیگر بہت سے مستند حوالے دے رکھے ہیں اور ان حوالوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ قریشی صاحب کی یہ تصنیف یقیناً قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور حقاً اہل دل کے سینوں میں چراغ عشق رسول ﷺ کو روشن تر کرنے میں ممد ہو گی۔ یہ زمانہ اپنی روح کے اعتبار سے مادے پر استوار تعقل کا شکار ہے۔ مسلمان بھی اسی مادی ماحول سے متاثر ہو کر ایمان کو احکام خدا اور رسول ﷺ کی روشنی میں جانچنے کے بجائے یورپی مادی تعقل کی میزان پر تولتے ہیں۔۔۔۔ ہر زمانے میں ایک مزاج ہوتا ہے اور اپنی غیرت اور خودداری سے غافل ہو جانے والے بارہا رنگ زمانہ میں رنگے جاتے ہیں‘ خواہ ان کا عقیدہ طور زمانہ سے قطعاً مختلف روش کا متقاضی کیوں نہ ہو۔ حضرت علامہ اقبال نے بلاسبب تو نہیں کہا تھا:۔

اے تہی از ذوق و شوق و سوز و درد
می شناسی عصر ما با ما چہ کرد!
عصر ما، مارا زما بیگانہ کرد!!
از جمال مصطفیٰ ﷺ بیگانہ کرد!
صفحہ 44

اس غفلت کی پیدا کردہ محرومی کا مداوا یہی ہے کہ اہل امت کی روحوں میں سوز عشق مصطفیٰ ﷺ کی تپش تیز کر دی جائے۔ جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب کی یہ زیر نظر تصنیف نفیس و لطیف اسی امر کی جانب ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ خدا قریشی صاحب کو ان کی محنت کا روحانی اجر عطا فرمائے اور انہیں سایہ دامان رحمت نبی ﷺ سے ہر دو جہاں میں مسرت یاب رکھے اور اسی طرح ان سب احباب کو بھی، جنہوں نے محمد اسماعیل قریشی صاحب کو اس کتاب کی تیاری میں کسی طرح کی بھی مدد بہم پہنچائی اور ان جج صاحبان کو بھی، جن کی اسلام شناسی اور دین دوستی نے ان کو صحیح فیصلے تک پہنچایا۔۔۔۔ آمین، ثم آمین۔

حق تو یہ ہے کہ میں اس عظیم الشان کتاب کی تقریظ کماحقہ نہیں لکھ سکا، لکھ سکتا بھی نہیں۔ ۔۔۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، جناب محمد اسماعیل قریشی نے تقریظ کے بہانے میرے نام کو اپنی کتاب میں شامل کر کے مجھے عزت بخشا چاہی تھی اور بس۔ خدا ان کی عزت اور ان کے ایمان میں روز افزوں اضافہ کرے۔ والسلام

پروفیسر مرزا محمد منور سابق ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی، پاکستان لاہور مورخہ 9 جنوری 1994ء

صفحہ 45

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهٗ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهٗ

اَمَّا بَعْد

حضرت خواجہ سید نفیس الحسینی شاہ

محب گرامی جناب محمد اسماعیل قریشی کا شمار پاکستان کے صف اول کے وکلاء میں ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ہیں۔ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے پیشہ وکالت کے ذریعے اسلام کی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ عشق رسول ﷺ اور حمیت اسلامی کا جوہر ان کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ آئے دن عدالت کے ایوانوں میں ان کے جوش ایمانی کی گونج سنائی دیتی رہتی ہے۔ جب بھی کسی سرپھرے نے دین اسلام یا حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں حد ادب سے تجاوز کیا جناب قریشی صاحب شمشیر بے نیام ہو کر سامنے آگئے اور آخر اسے کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیا۔ اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

وکلاء کے وسیع طبقے میں قریشی صاحب ایک منفرد شخصیت کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قانونی جہت سے حفاظت اسلام کا عظیم کام ان سے لیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ”امتناع قادیانیت آرڈیننس“ کے مقدمے کی جس جانفشانی، دل سوزی اور دردمندی سے پیروی کی اور بالآخر کامیابی کا تمغہ افتخار حاصل کیا وہ ان کا خاص حصہ ہے جس پر وہ لائق صد مبارکباد ہیں۔ اس قسم کے کام بے پناہ جذبے کے بغیر انجام نہیں دیے جاسکتے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ انہیں والہانہ عشق ہے جس کے تقاضے سے وہ ناموس رسول ﷺ کے مسئلے میں انتہائی جذباتی نظر آتے ہیں اور آخر کیوں نہ ہوں ایک پکا اور سچا مسلمان اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ قریشی صاحب نے ”قانون توہین رسالت“ کے سلسلے میں عدالت کے ایوانوں میں اپنے قوی عقلی و شرعی دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ اس سلسلے میں ان کی وسعت مطالعہ اور مہارت فن کا کچھ اندازہ

صفحہ 46

ان کی زیر نظر تالیف ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت“ سے کیا جا سکتا ہے جو تمام تر ”قرآن و سنت، قانون و نظائر اور تاریخ کے آئینے میں“ پیش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں جناب قریشی صاحب نے مرکز عشق محبت حضور نبی کریم ﷺ پر فدا ہونے والے قرن اول کے جانثاران و شہیدان ملت کے ساتھ، ماضی قریب کے سرفروشان رسالت کا تذکرہ بھی کیا ہے، جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ناموس رسول ﷺ کا عقیدہ اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا کا مسئلہ قرن اول ہی سے مسلسل و متواتر قطعی اور اجماعی چلا آ رہا ہے۔ جناب قریشی صاحب نے ایک وفادار امتی ہونے کے ناطے ناموس رسالت کے مقدمہ میں اپنی وکالت کا حق ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی سعی قبول فرمائے اور بروز حشر حضور ختم المرسلین ﷺ کی شفاعت سے سرفراز فرمائے۔

احقر نفیس الحسینی نفیس منزل، کریم پارک، لاہور ۶ رمضان المبارک ۱۴۱۴ ہجری 18 فروری 1994ء

صفحہ 47

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مصنف

(توہین رسالت کے مقدمہ کا تاریخی پس منظر)

مسلمان اپنے آقا و مولا حضور سرور عالم ﷺ کے نام و ناموس پر مر مٹنے اور اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو اپنی زندگی کا ماحصل سمجھتے ہیں۔ اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی ایسی شہادت موجود ہے جو ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو خواہ وہ ایشیا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا کوئی اور خطہ ارض، جہاں بھی اقتدار حاصل رہا، وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمان رسول ﷺ کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ اس کے برعکس جب کبھی یا جہاں کہیں ان کے پاس حکومت نہیں رہی، وہاں جانثاران تحفظ ناموس رسالت ﷺ نے غیر مسلم حکومت کے رائج الوقت قانون کی پروا کیے بغیر گستاخان رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود ہنستے مسکراتے تختہ دار پر چڑھ گئے۔

برصغیر پاک و ہند میں برطانوی دور استعمار سے قبل، حتیٰ کہ مغل شہنشاہ اکبر کے سیکولر دور میں بھی شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی گئی۔ لیکن جب اس ملک پر سازشوں کے ذریعے انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہوا تو انہوں نے توہین رسالت ﷺ کے اس قانون کو یکسر موقوف کر دیا۔ پھر انگریز حکومت ہی کی شہہ پر جب ہندوؤں، آریہ سماجیوں اور مہا سبھائیوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات گرامی پر حملے کرنے شروع کر دیئے تو مسلمانوں نے شاتمان رسول ﷺ کو قتل کر کے، اقرار جرم کرتے ہوئے دار و رسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا۔

مسلمانوں کے احتجاج اور مولانا محمد علی جوہرؒ کی تحریک پر اس وقت کی قانون ساز

صفحہ 48

اسبلی نے 1927ء میں ایک معمولی سی دفعہ 295 اے کا تعزیرات ہند میں اضافہ کیا‘ جس کی رو سے توہین مذہب کے جرم کی سزا دو سال تک قید یا جرمانہ مقرر ہوئی‘ لیکن اس سے مسلمانوں کی اشک شوئی نہ ہو سکی۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ یہاں توہین رسالت ﷺ کے جرم کی شرعی سزا‘ سزائے موت کا قانون پھر سے بحال ہو جائے گا‘ لیکن کسی بھی مقننہ یا حکومت کو اس بارے میں پیش رفت کی توفیق نصیب نہ ہوئی‘ اسی اثناء میں اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لیے سازشوں کا جال سارے ملک میں بچھا دیا۔ زر خرید ایجنٹوں کے ذریعہ یہاں کے نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے لادینی لٹریچر بھی پھیلانا شروع کر دیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک کمیونسٹ مشتاق راج کا ذکر ضروری ہے جس کی اشتعال انگیزی قانون توہین رسالت اور اس کتاب کی تصنیف کا باعث بنی۔ اس کی خدمات روس کی حکومت نے حاصل کی ہوئی تھیں۔

مشتاق راج نے 1983ء میں Heavenly Communism (آفاقی اشتمالیت) نامی ایک کتاب لکھی جو ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں مفت تقسیم کی گئی۔ یہ کتاب راقم الحروف کو جسٹس میاں صادق اکرم نے لا کر دی۔ اگرچہ‘ میں مصنف کے مبلغ علم سے واقف تھا‘ مگر یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کتاب میں کمیونزم کا مذہبی نقطہ نظر سے کس طرح جائزہ لیا گیا ہے‘ میں نے کتاب پڑھنا شروع کی۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا‘ میری قوت برداشت جواب دیتی چلی گئی۔ مجھ پر غم و غصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی‘ وہ ناقابل بیان ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا‘ بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔ دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا‘ انبیائے کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی۔ میں نے نہایت صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان زون) کا اجلاس طلب کیا‘ جس میں پاکستان کے نامور علمائے دین کے علاوہ بیرون ملک سے عالم اسلام کے دو ممتاز اسکالرز ڈاکٹر ربیع المدخلی اور پروفیسر سعید صالح نے بھی شرکت کی۔ سب علماء کا متفقہ فتویٰ تھا کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے‘ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناپاک کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت ﷺ کا قانون بنا کر اسے نافذ العمل کر دیا جائے‘ تاکہ

صفحہ 49

آئندہ کسی بدبخت کو اہانت رسول ﷺ کی جرات نہ ہو سکے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل نے بھی راقم کی تحریک پر مشتاق راج کو بار کی رکنیت سے خارج کر دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے اور اس ناپاک کتاب کی ساری کاپیاں فوری ضبط کرلی جائیں۔ اہل لاہور کو جب اس کتاب کی اشاعت کا علم ہوا تو ان کے جذبات مشتعل ہو گئے اور حکومت نے امن و امان کی صورت حال اور بار ایسوسی ایشن کی قرارداد کے پیش نظر اسے زیر دفعہ 295 اے گرفتار کر لیا‘ کیونکہ تعزیرات پاکستان میں اس وقت تک توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین اور انتہائی دل آزار جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ ملک عزیز کے تمام مکاتب فکر کے علماء‘ وکلاء‘ بار ایسوسی ایشنز اور دینی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں فوری طور پر قانون سازی کی جائے۔ پاکستان کے قومی اخبارات نے بھی اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریئے لکھے۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور شیخ غیاث محمد‘ سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت ﷺ اور ارتداد کی سزا‘ سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس کے باوجود حکومت وقت نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا‘ لہٰذا راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنروں کے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 کے تحت 1984ء میں اپنے ساتھ تمام مکاتب فکر کے علماء‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان‘ سابق وزرائے قانون‘ سابق اٹارنی جنرل‘ سابق ایڈووکیٹ جنرل‘ لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر بار کونسلوں کے صدر صاحبان سمیت ایک سو پندرہ شہریوں کو شامل کر کے شریعت پٹیشن نمبر 1/ ایل 1984ء دائر کی۔ مقدمہ کی سماعت کا آغاز راقم الحروف کی بحث سے شروع ہوا۔ عدالت نے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کر دیے تھے۔ کمرہ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس مقدمہ کی کارروائی کی سماعت کے لیے موجود ہوتا۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آئے‘ جن میں دو بڑے دلچسپ اور قابل ذکر ہیں۔ اس پٹیشن میں سابق جج لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق بحیثیت فریق اول ہمارے ساتھ شامل تھے‘ جب کہ دوسری طرف سے ان کے صاحبزادے جناب جسٹس خلیل الرحمن رمدے‘ جو اس وقت ایڈووکیٹ جنرل تھے‘ پیش ہوئے۔ میں نے عدالت کی

صفحہ 51

توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ اس تاریخی مقدمہ میں باپ بیٹا ایک دوسرے کے مقابل ہیں‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیٹے نے شریعت پٹیشن کی مکمل طور پر حمایت کی اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی تائید میں دلائل پیش کئے اور عدالت سے درخواست کی کہ اس درخواست شریعت کو منظور کر لیا جائے‘ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے‘ جو حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے‘ ہمارے اس موقف سے اتفاق کیا کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے‘ لیکن یہ قانونی اعتراض اٹھایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے‘ فیڈرل شریعت کورٹ کے پیش نظر ایک اور مسئلہ بھی تھا کہ آیا شاتم رسول ﷺ کی سزا کا معاملہ قانون ساز اسمبلی سے متعلق ہے یا فیڈرل شریعت کورٹ اس بارے میں وفاق پاکستان کو حکم نامہ جاری کرنے کی مجاز ہے۔ بہرحال فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اسی اثناء میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا۔ ماہ جولائی 1984ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ﷺ کی شان میں کچھ ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے جو سامعین اور امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے، جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس نے اپنے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے تمام سربرآوردہ علماء اور وکلاء کی جانب سے اس کی پر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شاتم رسول ﷺ کے بارے میں سزائے موت کا قانون منظور کرے اور فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ شریعت پٹیشن پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔ اسلامی جذبے سے سرشار خاتون مرحومہ آپا نثار فاطمہ نے اس قابل اعتراض تقریر کا قومی اسمبلی میں سختی سے نوٹس لیا اور پھر راقم الحروف کے مشورے سے قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ 295 سی کا بل‘ جس کی رو سے شاتم رسول ﷺ کی سزا‘ سزائے موت تجویز کی گئی‘ پیش کیا اور اس سلسلہ میں اس وقت کے وزیر قانون و انصاف جناب اقبال احمد خان سے ملاقات کی لیکن انہوں نے اس بل کی حمایت سے اس لیے معذرت کا اظہار کیا کہ قرآن میں اس کی سزا مقرر نہیں۔ اس کے علاوہ غیر متوقع صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب کئی اسلامی ذہن رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی اس بل سے پوری طرح متفق نہیں تھے

کیونکہ وہ توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین جر تھے، لیکن جب یہ بل اسمبلی میں جنت مکانی آپ کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر کسی کو اس کی م قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کر دی موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح دفعہ 295 س لیکن‘ چونکہ اس دفعہ سے راقم الحروف‘ مرح مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے‘ اس لیے دوبارہ نے مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور حد کی بھی نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مق شروع ہوئی‘ جس میں تمام مکاتب فکر کے علا علماء کا خیال تھا کہ یہ قابل معافی جرم ہے اور موت سے کم تر سزا دینے کا بھی مجاز ہے۔ ا کراچی میں فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بنچ جناب جسٹس عبد الکریم خان کنڈی‘ جناب عبد الرزاق تھہیم اور جناب جسٹس ڈاکٹر فدا مح جملہ دیگر علمائے کرام جن میں مولانا سید محمد متین حافظ یوسف صلاح الدین اور جناب سید ریا صلاح الدین کا‘ جو جماعت اہل حدیث کے ممتا کہ شاتم رسول کا جرم ناقابل معافی ہے‘ لیکن کے دوران بحث اپنے پہلے موقف سے رجوع جب کہ مولانا مفتی غلام سرور قادری شاتم رس القتل تو سمجھتے تھے‘ لیکن اسے قابل معافی ج جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عبد الستار نجم جرم قرار دیتے ہوئے اس کو منشائے رسول حکومت پنجاب کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈوو

صفحہ 51

کیونکہ وہ توہین رسالت ﷺ جیسے سنگین جرم کے لیے صرف عمر قید کی سزا کافی سمجھتے تھے‘ لیکن جب یہ بل اسمبلی میں جنت مکانی آپا نثار فاطمہ مرحومہ نے پیش کیا تو مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر کسی کو اس کی مخالفت کی جرات نہ ہو سکی‘ البتہ وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کر دی گئی کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا‘ سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح دفعہ 295 سی کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کر دیا گیا۔ لیکن‘ چونکہ اس دفعہ سے راقم الحروف‘ مرحومہ آپا نثار فاطمہ‘ علمائے کرام‘ وکلاء اور مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے‘ اس لیے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں 295 سی کو راقم نے مسلم ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے اس بناء پر چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور حد کی سزا میں کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی‘ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو بھی معاونت کی دعوت دی گئی۔ بعض علماء کا خیال تھا کہ یہ قابل معافی جرم ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ حاکم وقت سزائے موت سے کم تر سزا دینے کا بھی مجاز ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت لاہور‘ اسلام آباد اور کراچی میں فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بینچ‘ جو جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس‘ جناب جسٹس عبدالکریم خان کنڈی‘ جناب جسٹس عبادت یار خان‘ جناب جسٹس عبدالرزاق تھہیم اور جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خاں پر مشتمل تھا‘ کے سامنے ہوئی۔ من جملہ دیگر علمائے کرام میں مولانا سید محمد متین ہاشمی‘ مفتی مولانا غلام سرور قادری‘ مولانا حافظ یوسف صلاح الدین اور جناب سید ریاض الحسن نوری قابل ذکر ہیں۔ مولانا حافظ صلاح الدین کا‘ جو جماعت اہل حدیث کے محقق عالم ہیں‘ پہلی شریعت پٹیشن میں موقف تھا کہ شاتم رسول کا جرم ناقابل معافی ہے‘ لیکن بعد میں انہوں نے موجودہ مقدمہ کی پٹیشن کے دوران بحث اپنے پہلے موقف سے رجوع کرتے ہوئے جرم مذکور کو قابل معافی بتلایا‘ جب کہ مولانا مفتی غلام سرور قادری شاتم رسول ﷺ کو ردہ یعنی ارتداد کی بناء پر واجب القتل تو سمجھتے تھے‘ لیکن اسے قابل معافی جرم بھی قرار دیتے تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عبدالستار نجم پیش ہوئے۔ وہ بھی اس جرم کو قابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کو منشائے رسول رحمت ﷺ سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس حکومت پنجاب کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر احمد غازی اور جناب

صفحہ 52

جلال الدین خٹک، حکومت سرحد کی جانب سے میاں محمد اجمل، جو اب پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج ہیں، سندھ اور بلوچستان کی طرف سے وہاں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز نے ہمارے موقف کی مکمل تائید اور حمایت کی۔ ان کے علاوہ ملک کے ممتاز اسکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی اور جناب ریاض الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کے اسلامی احکام سے منافی ہونے کے بارے میں موثر دلائل پیش کیے۔ سندھ کی حکومت نے بھی شاتم رسول ﷺ کی سزا، سزائے موت تسلیم کی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا موقف تھا کہ سزا کے لیے نیت کی ضرورت نہ ہے۔

توہین رسالت ﷺ کے مقدمہ میں علمائے کرام، صوبوں کے اسسٹنٹ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور دیگر وکلاء صاحبان کے علاوہ عاجز کو رفیق محترم جناب ڈاکٹر ظفر علی راجا ایڈووکیٹ کی شب و روز معاونت حاصل رہی ہے، جس میں ان کا خلوص اور ملی حمیت کا جذبہ کار فرما رہا ہے۔ بالآخر وہ ساعت سعید بھی آگئی، جب فیڈرل شریعت کورٹ نے متفقہ طور پر، اس گدائے شہ عرب و عجم کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے توہین رسالت ﷺ کی متبادل سزا عمر قید کو غیر اسلامی اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا اور حکومت پاکستان کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ عمر قید کی سزا کو دفعہ 295 سی سے حذف کیا جائے، جس کے لیے حکومت کو 30 اپریل سال 1991ء تک کی مہلت دی گئی۔ اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو نفاذ اسلام اور قرآن و سنت کے قانون کی بالا دستی کا منشور لے کر بر سر اقتدار آئی تھی، سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جس کا نوٹس بھی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی جانب سے مجھے موصول ہو گیا جس پر راقم نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوری طور پر واپس لے ورنہ اس انتہائی حساس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف مشتعل ہو جائیں گے اور اس حکومت کا بھی خدانخواستہ وہی انجام ہو گا جو اس کی پیش رو حکومت بے نظیر کا ہو چکا ہے جس نے اسلامی قوانین کو اپنی کابینہ میں ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے کر قصاص اور دیت کے قانون کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے راقم کی درخواست پر کابینہ کی اس کارروائی کا سختی سے نوٹس لے کر قانون قصاص و دیت کے خلاف گورنمنٹ کی اپیل خارج کر دی تھی۔ پھر یہ حکومت غضب الہی کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی کابینہ بلکہ پوری

اسمبلی کے ساتھ برخاست کر دی گئی۔ خدا نواز شریف نے توجہ مبذول کرانے پر فوراً اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہ تھا ورنہ ا جرم کی سزائے موت سے بھی سنگین ترا کرتے۔ چنانچہ ان کے حکم سے توہین ر سے یہ اپیل واپس لے لی گئی۔ جو بوجہ دست طور پر سارے ملک میں نافذ ہو گیا۔ اس مولانا سید محمد متین ہاشمی مرحوم کی بلکہ پو فیصلہ کی بدولت حضور رسالت مآب ﷺ مسلمانوں کے ایمان کا دارو مدار ہے۔ جس جسٹس جناب گل محمد خان مرحوم اور ان کی جانب سے مستحق مبارک باد ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ (Indian Penal Code) کی طرح بر رسالت ﷺ سرے سے موجود ہی نہیں میں نافذ العمل ہے، جسے مکمل طور پر قرآ جس کی اس کتاب میں نشاندہی کر دی گ ﷺ کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں انگریزی میں قانون توہین رسالت پر قرآ تاریخی پس منظر کے ساتھ کوئی مستند کتاب مقدمہ کے سلسلہ میں کافی مواد اکٹھا کرنا دیانت کے ساتھ پیش کئے گئے تھے، اس کی سعادت مجھ عاجز کو حاصل ہوئی، جس حضرات اور اہل علم و دانش بلکہ صاحب اس کتاب کے کچھ مسودات مکہ اس لیے اہل دل کو اس میں جو حسن ا

صفحہ 53

مد کی جانب سے میاں محمد اجمل، جو اب پشاور ہائی کورٹ کے چستان کی طرف سے وہاں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز نے اور حمایت کی۔ ان کے علاوہ ملک کے ممتاز اسکالر مولانا سید الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کے کے بارے میں موثر دلائل پیش کیے۔ سندھ کی حکومت نے سزائے موت تسلیم کی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا موقف تھا کہ نہ ہے۔

کے مقدمہ میں علمائے کرام، صوبوں کے اسسٹنٹ اور ر وکلاء صاحبان کے علاوہ عاجز کو رفیق محترم جناب ڈاکٹر ظفر روز معاونت حاصل رہی ہے، جس میں ان کا خلوص اور ملی بالآخر وہ ساعت سعید بھی آگئی، جب فیڈرل شریعت کورٹ شمہ عرب و عجم کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے توہین رسالت غیر اسلامی اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا اور حکومت کیا کہ عمر قید کی سزا کو دفعہ 295 سی سے حذف کیا جائے، یل سال 1991ء تک کی مہلت دی گئی۔ اس فیصلہ کے بعد فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی نفاذ اسلام اور قرآن و سنت کے قانون کی بالادستی کا منشور ریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جس کا نوٹس بھی ایڈووکیٹ موصول ہو گیا جس پر راقم نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد مت اس اپیل کو فوری طور پر واپس لے ورنہ اس انتہائی لت اس حکومت کے خلاف مشتعل ہو جائیں گے اور اس جام ہو گا جو اس کی پیش رو حکومت بے نظیر کا ہو چکا ہے مینہ میں ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے کر قصاص اور دیت تھی لیکن سپریم کورٹ نے راقم کی درخواست پر کابینہ کی لے کر قانون قصاص و دیت کے خلاف گورنمنٹ کی اپیل غضب الٰہی کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی کابینہ بلکہ پوری

اسمبلی کے ساتھ برخاست کر دی گئی۔ خدا کا شکر ہے کہ وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف نے توجہ مبذول کرانے پر فوری اور بروقت نوٹس لیا اور برسرعام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہ تھا ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر اس جرم کی سزائے موت سے بھی سنگین تر اسلامی سزا موجود ہوتی تو ہم اسے بہرصورت نافذ کرتے۔ چنانچہ ان کے حکم سے توہین رسالت کی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی گئی۔ جو بوجہ دستبرداری خارج ہو گئی جس کے بعد یہ قانون مکمل طور پر سارے ملک میں نافذ ہو گیا۔ اس طرح نہ صرف عاجز، مرحومہ آپا نثار فاطمہ اور مولانا سید محمد متین ہاشمی مرحوم کی بلکہ پوری امت مسلمہ کی دلی آرزو پوری ہوئی۔ اس فیصلہ کی بدولت حضور رسالت مآب ﷺ کی ایک ایسی سنت تازہ ہوئی جس پر تمام مسلمانوں کے ایمان کا دارومدار ہے۔ جس کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کے فاضل چیف جسٹس جناب گل محمد خان مرحوم اور ان کے تمام رفقاء جج حضرات بھی پوری امت مسلمہ کی جانب سے مستحق مبارک باد ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بھی انڈین پینل کوڈ (Indian Penal Code) کی طرح برٹش گورنمنٹ کی پالیسی کے تحت قانون توہین رسالت ﷺ سرے سے موجود ہی نہیں تھا مگر اب بفضل تعالٰی یہ قانون سارے پاکستان میں نافذ العمل ہے، جسے مکمل طور پر قرآن و سنت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت تھی، جس کی اس کتاب میں نشاندہی کر دی گئی ہے اور اس قانون کے تحت گستاخان رسول ﷺ کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں مقدمات بھی زیر سماعت ہیں، لیکن اردو یا انگریزی میں قانون توہین رسالت پر قرآن، سنت، فقہ اور مروجہ قانون کے حوالہ سے تاریخی پس منظر کے ساتھ کوئی مستند کتاب موجود نہ تھی۔ چونکہ توہین رسالت ﷺ کے مقدمہ کے سلسلہ میں کافی مواد اکٹھا کرنا پڑا، نئے مسائل اور مباحث کے جوابات بھی علمی دیانت کے ساتھ پیش کئے گئے تھے، اس لیے انہیں یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کرنے کی سعادت مجھ عاجز کو حاصل ہوئی، جس سے نہ صرف فاضل اراکین عدلیہ، قانون داں حضرات اور اہل علم و دانش بلکہ صاحب ذوق قارئین بھی مستفید ہوں گے۔

اس کتاب کے کچھ مسودات مکہ مکرمہ، حرم نبوی ﷺ اور طائف میں لکھے گئے، اس لیے اہل دل کو اس میں جو حسن اور دل کشی نظر آئے، وہ ان ہی حسین مقامات کا

صفحہ 54

عکس جمیل ہے اور جو خامیاں اور غلطیاں نظر آئیں، اس میں میری کوتاہیوں کا دخل ہے۔ قارئین محترم سے گزارش ہے کہ غلطیوں سے جو سہواً ہو گئی ہیں، مطلع فرمائیں تاکہ انہیں دور کیا جاسکے۔

(وما علینا الا البلاغ)

یکم صفر المظفر ۱۴۲۰ ہجری ۱۷؍ مئی ۱۹۹۹ء

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ۲۶ رچنا بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

(باب اوّل)

نام و ناموس

قرآن او

اسم احمد ﷺ و محمد ﷺ :

اسم محمد ﷺ کے حسن معنوی کے صوتی اثرات ہی سے قلب و دما ہے۔ اس میں ایک ایسی لذت، شیرین ہوتا ہے اور نطق آگے بڑھ کر خود زبا ملکوتی آواز فردوس گوش بن کر سامع دوام بن کر مرتسم ہو گیا ہے۔

قرآن مجید کا آغاز سورہ فاتحہ رب العالمین نے جو اپنی حمد و ثناء تھی، کائنات خلقت میں رحمت العال مبعوث فرمایا۔

”احمد ﷺ“ اسم تفضیل حمد و توصیف کرنے والا۔“ اس نام مقصود تھا۔ اور آپ ﷺ کے سو الہیٰ“ کے لازوال نغموں سے معمور سے زیادہ لائق تعریف ہو۔“ اس م یعنی وہ ہستی جس کی سب سے زیاد بھی ہیں اور محمد ﷺ بھی اور ان یاد کیا گیا ہے بلکہ انجیل اور تورات

صفحہ 55

اور غلطیاں نظر آئیں‘ اس میں میری کوتاہیوں کا دخل ہے۔ ہے کہ غلطیوں سے جو سہواً ہو گئی ہیں، مطلع فرمائیں تاکہ

(وما علینا الا البلاغ)

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ۲۶ رچنا بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

(باب اوّل)

نام و ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم

قرآن اور صحف سماوی میں

اسم احمد ﷺ و محمد ﷺ:

اسم محمد ﷺ کے حسن معنوی کا اظہار لفظ و بیاں میں ممکن ہی نہیں۔ صرف اس کے صوتی اثرات ہی سے قلب و دماغ پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ اس میں ایک ایسی لذت‘ شیرینی اور مٹھاس ہے کہ ہونٹوں کا آپس میں مکرر اتصال ہوتا ہے اور نطق آگے بڑھ کر خود زبان کے بوسے لینے لگتی ہے۔ اس کی ادائیگی کے ساتھ ملکوتی آواز فردوس گوش بن کر سامعہ نواز ہوتی ہے۔ اس لیے یہ نام ذہن کائنات پر نقش دوام بن کر مرتسم ہو گیا ہے۔

قرآن مجید کا آغاز سورۂ فاتحہ ”الحمد“ یعنی حمد و ثنائے رب سے ہوتا ہے‘ اس لیے رب العالمین نے جو اپنی حمد و ثناء کے واسطے ایسی ہستی کو‘ جو اس کے لائق اور سزاوار تھی‘ کائنات خلقت میں رحمت العالمین بنا کر احمد ﷺ اور محمد ﷺ کے نام نامی سے مبعوث فرمایا۔

”احمد ﷺ“ اسم تفضیل ہے جس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ”سب سے بڑھ کر حمد و توصیف کرنے والا۔“ اس نام سے آپ کی صفت توصیف الٰہی کے کمال کا اظہار مقصود تھا۔ اور آپ ﷺ کے سوا وہ اور کون ہے‘ جس نے آ کر کائنات ہستی کو ”حمد الٰہی“ کے لازوال نغموں سے معمور کر دیا۔ اس کے ایک اور معنی بھی ہیں یعنی ”جو سب سے زیادہ لائق تعریف ہو۔“ اس معنی میں آپ کا دوسرا اسم مبارک ”محمد ﷺ“ رکھا گیا یعنی وہ ہستی جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ اس طرح آپ ﷺ احمد ﷺ بھی ہیں اور محمد ﷺ بھی اور ان دونوں ناموں سے نہ صرف آپ ﷺ کو قرآن میں یاد کیا گیا ہے بلکہ انجیل اور تورات میں بھی اسی نام نامی کے ساتھ آپ ﷺ کا ذکر پاک

صفحہ 56

موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن مجید کی یہ صاف اور صریح شہادت موجود ہے۔ ”يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والانجيل-“(1) ”جس کے بارے میں اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔“

تورات میں نوید کلیمؑ:

حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو خوشخبری دیتے ہوئے خدا کا کلام انہیں سنا رہے ہیں جو استثنا باب 18 میں یوں درج ہے:۔

اور خداوند نے مجھ سے کہا۔ ”وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا“ (2)

حضرت موسیٰؑ کی اس پیشین گوئی کا مصداق سوائے ذات رسالت مآب ﷺ کے اور کوئی رسول نہیں۔ یہاں ان کے بھائیوں سے مراد بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل ہیں۔ ان دونوں کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیمؑ ہیں جنہوں نے اپنی پیرانہ سالی میں اپنے جواں سال فرزند جناب اسماعیلؑ کی گردن پر حکم خداوندی کی تعمیل میں چھری پھیر دی تھی۔ لیکن قدرت حق نے جگر گوشہ خلیلؑ کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ اگر اس وقت گلوئے اسماعیلؑ پر چھری چل جاتی تو رب کعبہ کی قسم یہ ساری کائنات ہی ذبح ہو جاتی۔ کیونکہ بنی اسماعیل کی نسل سے خدا کے آخری پیغمبر جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کا ظہور ہونا ابھی باقی تھا جنکے لیے یہ دعائے خلیلؑ بلند ہوئی تھی۔

”اے بار الہٰ! میری نسل سے ایسا نبی برپا کر جو ایک قوم کا نہیں بلکہ‘ تمام گروہ نسل انسانی کا سردار اور پیشوا ہو۔ جو انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیوں کو سنوار دے۔“(3)

بشارت مسیحؑ:

کائنات ہستی میں جناب مسیحؑ کا نزول احمد مجتبیٰ علیہ التحیۃ والسلام کی دنیا میں آمد کی بشارت تھی‘ جس کا اعلان خود زبان مسیح نے کیا۔

صفحہ 57

”واذ قال عیسی بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“

(4)

”اور یاد کرو (اس وقت کو) جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا ”اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور تصدیق کرتا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے۔“

انجیل یوحنا میں اپنے شاگردوں سے خطاب کرتے ہوئے یسوع مسیح نے اہل دنیا سے فرمایا:-

”میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں لیکن ”مددگار“ یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے اور وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔“

(5)

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ باتیں جناب مسیحؑ اس وقت اپنے حواریوں سے کہہ رہے ہیں جب انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے بعد انہیں سوئے دار کھینچا جائے گا۔

”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہیں کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“

(باب 14:30)

”مجھے تم سے اور بھی بہت سے باتیں کہنا ہیں مگر تم اب ان کو برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ سچائی کی روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ (صراط مستقیم) دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔“

(6)

فارقلیط:

بائبل کے انگریزی ترجمہ میں جو عام طور سے (King James Version) کہلاتا

صفحہ 58

ہے، 'مددگار' کے لیے (Comforter) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں ”تسکین بخشنے والا“ انگریزی لفظ (Comforter) ترجمہ ہے یونانی لفظ ”فرقلیطس“ کا جس کا ایک تلفظ ”فارقلیط“ بھی ہے۔ یونانی میں یہ لفظ ہمیں دو طرح سے لکھا ہوا ملتا ہے۔ (Paraclatus) اور (Periclytos) موخر الذکر لفظ کے معنی ہیں۔ ”وہ ہستی جس کی تعریف اور توصیف کی گئی ہو“ جس کا ہم معنی لفظ لغت عرب میں ”محمد“ ہے اور یہ ”احمد“ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اصل بائبل کا یونانی میں ترجمہ عبرانی یا آرامی (Aramie) سے کیا گیا تھا جو جناب مسیح ؑ کے زمانہ میں فلسطین کی مروجہ زبان تھی۔ انجیل یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں خوشخبری اور بشارت۔

منحمنا:

آرامی زبان میں اصل لفظ جو حضرت عیسیٰ نے اپنے بعد میں آنے والے جہانوں کے سردار کے لیے استعمال کیا تھا، جسے سن کر یوحنا نبی نے اسے اپنی انجیل، انجیل یوحنا میں نقل کیا ”منحمنا“ ہے جس کا لغوی ترجمہ عربی میں ”محمد ﷺ“ اور ”احمد ﷺ“ ہے اور یونانی میں ”فرقلیطس“ (Periclytos) ہے۔ جس کے تلفظ کا فائدہ اٹھا کر مذہبی تعصب نے اس میں معمولی سی تحریف کے ساتھ اس کو (Paracletus) بنا دیا جو ایک کثیر المعنی لفظ ہے۔ جو رب کے حضور دعا کرنے والے، کے علاوہ ”نذیر“ ”مددگار“ اور ”تسکین بخشنے والا“ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ (Teacher) بھی کیا ہے۔

آرامی زبان میں مرقوم انجیل میں آپ ﷺ کا جو نام مبارک ”منحمنا“ یعنی ”محمد“ آیا ہے اس کا سراغ ہمیں قرون اولیٰ کے اولین مستند سیرت نگار ابن اسحق کی ”سیرۃ رسول اللہ“ سے بھی ملتا ہے۔ (7) ابن اسحق کا تعلق پہلی صدی ہجری سے ہے۔ جب کہ فلسطین میں آرامی زبان رائج تھی اور فلسطین مملکت اسلامی میں شامل تھا۔ اس لیے ظاہر ہے کہ نبی الخاتم کی بشارت جو حضرت عیسیٰ نے ”منحمنا“ کے نام سے دی تھی اس انجیل جو آرامی زبان مسیح ؑ میں ہے کے حوالہ سے قلم بند کی۔ جس کا ذکر ابن ہشام نے بھی ابن اسحق کی سیرت رسول اللہ کی تہذیب و تلخیص میں کیا ہے جو سیرت ابن ہشام کے نام سے مشہور ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتلایا ہے کہ ”منحمنا“ کا عربی مترادف ”محمد ﷺ“ ہے۔

انجیل برنباس:

اس کے علاوہ سولہویں صدی اربعہ کے علاوہ ایک اور انجیل بھی خو لائبریری میں محفوظ تھی جس کا نام ایمسٹرڈم کی مستند مسیحی لائبریری میں 112‘ 136‘ 137‘ 220 میں حضور علیہ صراحتاً موجود ہے۔

باب 55 میں اور باب 137 انجیل برنباس نے عیسائی دنیا میں تہلکہ عقائد کی جو تعلیمات مسیح کے یکسر برنباس کی تردید میں پورا زور لگایا کہ جعلی انجیل ہے۔ ان کے اس الزام انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے یہودیوں کی سازش ہے اور کسی ا (Old Testament) کا ترجمہ عالم ہیں جن سے صرف ایک یہودی عالم عیسائی راہب فرما رینو نے لکھی ہے عبور ہے لیکن اسلامی علوم کے بارے یہ انجیل ہسپانوی مسلمان عالم نے اسلامی دینیات کا بہت بڑا عالم تھا لیکن اگر یہ کسی مسلمان عالم دینیات کی ت برنباس کا پڑھنا کس طرح ممنوع قرار ولادت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پھر یہ ہسپانوی عالم کہاں سے آگیا؟ عیسائی واقف نہیں۔ اس لیے انجیل برنباس

صفحہ 59

انجیل برنباس:

اس کے علاوہ سولہویں صدی عیسوی میں ایک بہت بڑا انکشاف ہوا کہ اناجیل اربعہ کے علاوہ ایک اور انجیل بھی خود مسیحی دنیا کے عظیم روحانی پیشوا پوپ سقلس پنجم کی لائبریری میں محفوظ تھی جس کا نام ”انجیل برنباس“ ہے۔ اس انجیل کا نسخہ 1709 سے ایمسٹرڈم کی مستند مسیحی لائبریری میں موجود ہے۔ جس کے باب 39‘ 44‘ 55‘ 72‘ 97‘ 112‘ 136‘ 137‘ 220 میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اسم گرامی ”محمد رسول اللہ“ لفظاً و صراحتاً موجود ہے۔

باب 55 میں اور باب 137 میں تو مکمل طور پر صرف آپ ﷺ ہی کا ذکر ہے۔ انجیل برنباس نے عیسائی دنیا میں تہلکہ برپا کر دیا کیونکہ اس میں عیسائیوں کے ان مزعومہ عقائد کی جو تعلیمات مسیح کے یکسر خلاف تھے تردید کی گئی ہے۔ عیسائی علماء نے انجیل برنباس کی تردید میں پورا زور لگایا لیکن وہ عقلی دلائل سے یہ ثابت نہیں کر سکے کہ یہ جعلی انجیل ہے۔ ان کے اس الزام کے بارے میں کہ انجیل برنباس جعلی اور وضعی ہے انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے اس میں واضح اختلاف ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے اور کسی ایسے یہودی عالم کی تصنیف ہے جو عہد نامہ عتیق (Old Testament) کا متبحر عالم ہے کیونکہ اس میں تالمود کے وہ اقتباسات پیش کئے گئے ہیں جن سے صرف ایک یہودی عالم ہی واقف ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ انجیل عیسائی راہب فرامارینو نے لکھی ہے جسے عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دونوں پر یکساں عبور ہے لیکن اسلامی علوم کے بارے میں اس کا علم نسبتاً بہت کم ہے۔ بعض کے خیال میں یہ انجیل ہسپانوی مسلمان عالم نے قرون وسطیٰ کے آخری دور میں سپرد قلم کی ہے جو اسلامی دینیات کا بہت بڑا عالم تھا لیکن عیسائی علماء کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ اگر یہ کسی مسلمان عالم دینیات کی تصنیف ہے تو پوپ گلاسیس اول کے عہد میں انجیل برنباس کا پڑھنا کس طرح ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ جب کہ اس وقت تو پیغمبر اسلام ﷺ کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پھر پیغمبر علیہ السلام کے عہد رسالت سے قبل یہ مسلمان ہسپانوی عالم کہاں سے آگیا؟ عیسائی راہبوں کی یا یہودی عالموں کی اسلام دشمنی سے کون واقف نہیں۔ اس لیے انجیل برنباس کو جو توحید کا علم دیتی ہے اور حضور خاتم المرسلین

صفحہ 60

ﷺ کی آمد کی خوشخبری سناتی ہے کسی عیسائی راہب یا یہودی عالم سے منسوب کرنا نہ قرین عقل ہے نہ قرین قیاس۔ (8)

جدید تحقیقات:

انجیل برنباس کے بارے میں جدید تحقیقات کتاب کی اولین اشاعت کے وقت دستیاب نہیں ہو سکی تھیں جنہیں اب شامل کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے جو ڈاکٹر حمزہ پکتاش کی کاوش کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر حمزہ پکتاش ترکی کے نہایت بلند پایہ محقق اور عالم اسلام کے ممتاز ماہر لسانیات ہیں۔ ترکی کی طرح عربی، جرمن، انگریزی پر انہیں کامل عبور ہے۔ اس کے علاوہ دس ایشیائی زبانوں میں بھی انہیں خاص مہارت حاصل ہے۔ انہوں نے زمانہ ما قبل اسلام اور قدیم اسلامی مخطوطات پر انقرہ ہائیڈل برگ اور کولون یونیورسٹیوں میں انتہائی اہم تحقیقاتی کام کیا ہے وہ دور مسیح کی آرامی اور سریانی زبانوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں انجیل برنباس حیرت انگیز طور پر دریافت ہوئی۔

انجیل برنباس ہمارے رسول کریم ﷺ کی رسالت اور آمد کی بشارت دیتی ہے۔ خود لفظ ”انجیل“ کی تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ”انجیل“ یونانی زبان کا لفظ ہے۔ یونانی زبان میں اس لفظ کے لغوی معنی ”خوشخبری“ اور ”بشارت“ ہیں۔ (دائرۃ المعارف جلد ۳)

انگلش آکسفورڈ ڈکشنری میں بھی کہا گیا ہے کہ لفظ انجیل (Angeelas) سے مشتق ہے جس کے معنی ”پیغام رساں“ کے ہیں۔ (انگلش آکسفورڈ ڈکشنری صفحہ 307)

انجیل برنباس کا متن:

انجیل برنباس کے بارے میں ڈاکٹر حمزہ پکتاش لکھتے ہیں:۔ ”انجیل برنباس کے متن کا آغاز اس جملہ سے یوں ہوتا ہے۔ ”میں قبرص کا رہنے والا برنباس ہوں۔“ پھر آرامی زبان کے کچھ الفاظ ہیں پوری طرح سمجھ نہیں سکا۔ اس کے بعد کے جملوں میں کہا گیا ہے:۔ ”عبادت کے لائق دنیا کے مالک سے یک جان ہو کر نبی یسوع مسیح سے جو کچھ سنا ہے، سچائی کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔“ اصل متن اور اس کی فوٹو کاپی میں یہ بیانات بہ آسانی پڑھے جا سکتے ہیں۔“ اس اصل نسخہ میں اور اس سے قبل بھی انجیل برنباس کا

ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے کھلی کھلی بشارت موجود ہے۔

انجیل برنباس کے تاریخی اور جناب بشیر محمود اختر کی تصنیف ہے۔ ا قارئین ہیں:۔

کی وفات سے قبل۔

انجیل کی دریافت۔

فرامریو نے اس کا اطالوی تز

تعارف۔

(ایک ہسپانوی ترجمہ جارج منک ہاؤس کو ملا۔ اس نے ا

ogy For Muhammad پادریوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ ا

مکمل کیا جو آکسفورڈ سے چھپ

صفحہ 61

ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے جس میں توحید اور ختم المرسلین ﷺ کی واضح اور کھلی کھلی بشارت موجود ہے۔

انجیل برنباس کے تاریخی اور تحقیقی جائزہ پر مبنی کتاب جو پاکستان کے نامور محقق جناب بشیر محمود اختر کی تصنیف ہے۔ اس کے عہد بہ عہد اہم واقعات شکریہ کے ساتھ نذرِ قارئین ہیں:۔

کی وفات سے قبل۔

انجیل کی دریافت۔

فرامریو نے اس کا اطالوی ترجمہ کیا۔

تعارف۔

(ایک ہسپانوی ترجمہ جارج سیل کے پاس رہا۔ پھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر منک ہاؤس کو ملا۔ اس نے انگریزی ترجمہ کیا۔

An Apology For Muhammad میں لکھا کہ میں مسلمانوں کی طرف سے پادریوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس انجیل کا اصل نسخہ پیش کریں۔

مکمل کیا جو آکسفورڈ سے چھپا۔

صفحہ 62

نے کیا۔

عربی سے ایک فارسی ترجمہ آقائے قابلی قزلباش نے کیا جو تہران سے طبع ہوا۔

متن شائع کر دیا۔ اس کے کئی ایڈیشن طبع ہو چکے ہیں۔

ہوا۔

ترجمہ ترکی زبان میں ڈاکٹر حمزہ بکتاش نے کیا۔

بالفرض انجیل برنباس یا آرامی انجیل کی مندرج بشارت محمدی ﷺ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو یونانی‘ انگریزی اور اردو میں ترجمہ شدہ اناجیل کی پیش گوئیوں کو یہ حضرات کیسے چھپائیں گے۔ جو صبح روشن کی طرح آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دنیا کو دے رہی ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے بعد میں آنے والے پیغمبر آخر زماں ﷺ کے لئے جو لفظ استعمال کیا تھا اس کے یونانی ترجمہ (فریقلیطس) کے جو معنی بھی لئے جائیں یعنی ”تسکین بخشنے والا“، ”حامی“، ”مددگار“، ”نذیر“، ”معلم“ ان سے مراد سوائے ذات رسالت ماب ﷺ کے اور کون ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس لفظ کے جتنے بھی معنی ہو سکتے ہیں ان سب کا مصداق صرف آپ ﷺ ہی کی ذات گرامی ہے تو اس میں مبالغہ کا کوئی شائبہ نہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آپ ﷺ کے اور صرف آپ ﷺ ہی کے لیے زبان روح القدس سے نکلا تھا۔ اس لیے صحف سماوی میں ایسی ہی ہستی کو ”لائق تعریف“ یا ”محمد“ کہا گیا ہے‘ جس کی ذات میں یہ ساری صفات موجود ہیں۔ علمائے اہل کتاب اس حقیقت سے واقف تھے کہ محمد ﷺ روحی لہ الفدا ہی خدا کے وہ سچے پیغمبر ہیں جن کی بشارت آسمانی کتب سابقہ میں دی گئی ہے۔ اس بارے میں قرآن کا یہ ارشاد موجود ہے جس کی صداقت پر تاریخ کے ہر دور نے گواہی دی ہے:۔

الذین اتینہم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم"(9)

"جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی سچائی کو ویسے ہی پہچان گئے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں۔"

عبداللہ بن سلامؓ مدینہ میں یہودی تھے۔ جب پہلے پہل ان کی نظر آنحضور اٹھے ”خدا کی قسم یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں

زبور میں نغمہ داؤد :

تورات اور انجیل کی طرح زبور میں آپ ﷺ کے آنے کی بشارت دی ہے۔ ”تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زی اس لیے تجھے ابد تک مبارک کیا گیا۔“ ”تیرے تیر تیز ہیں۔ لوگ ترے کے دلوں میں لگ جاتے ہیں۔“ ”تو صداقت کا دوست اور شرارت ”تیرے بیٹے تیرے باپ دادا کے سردار مقرر کرے گا۔“ ”میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلا گے۔“ (زبور۔ باب پنجم)

اس تمام حسن و جمال اور جلال و کم اور کون ہے۔ جس کی تعریف صحف سماو حضرت داؤدؑ کے فرزند سیدنا سلیمانؑ اپنے اسی طرح پکارتے ہیں:۔ ”میرا محبوب گندم گوں و س سر بلند ہے۔ وہ خوبی میں رشک م یعنی تعریف کیا گیا ہے۔ اے یروش محبوب۔“ (غزل الغزلات۔ باب ن دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ سرز کی سرفرازی آپ ﷺ کے سوا کس کو نص

صفحہ 63

عبداللہ بن سلامؓ مدینہ میں یہودیوں کے سب سے بڑے مستند عالم مانے جاتے تھے۔ جب پہلے پہل ان کی نظر آنحضور ﷺ فداہ ابی و امی کے چہرہ انور پر پڑی تو پکار اٹھے ”خدا کی قسم یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔“

زبور میں نغمہ داؤد :

تورات اور انجیل کی طرح زبور میں بھی حضرت داؤدؑ نے اپنے سرمدی نغموں میں آپ ﷺ کے آنے کی بشارت دی ہے:۔

”تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف موجزن ہے اس لیے تجھے ابد تک مبارک کیا گیا۔“

”تیرے تیر تیز ہیں۔ لوگ ترے نیچے گرے پڑتے ہیں۔ وے بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں لگ جاتے ہیں۔“

”تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے۔“

”تیرے بیٹے تیرے باپ دادا کے قائم مقام ہوں گے اور تو انہیں تمام زمین کا سردار مقرر کرے گا۔“

”میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا پس لوگ ابد الآباد تک تیری ستائش کریں گے۔“

(زبور۔ باب پنجم)

اس تمام حسن و جمال اور جلال و کمال کا مظہر سوائے سرکار رسالت مآب ﷺ کے اور کون ہے۔ جس کی تعریف صحف سماوی نے اس طرح واضح نشان دہی سے کی ہے۔

حضرت داؤدؑ کے فرزند سیدنا سلیمانؑ اپنے تخت جلال سے اپنے محبوب (فداہ ابی و امی) کو اسی طرح پکارتے ہیں:۔

”میرا محبوب گندم گوں دس ہزار آدمیوں میں جھنڈے کی طرح سربلند ہے۔ وہ خوبی میں رشک سرو اور شیریں دہن ہے وہ ستودہ (محمد) یعنی تعریف کیا گیا ہے۔ اے یروشلم کی بیٹیو‘ یہ ہے میرا دوست اور میرا محبوب۔“

(غزل الغزلات۔ باب 15)

دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ سرزمین مکہ میں داخل ہو کر پرچم توحید کو بلند کرنے کی سرفرازی آپ ﷺ کے سوا کس کو نصیب ہوئی تھی۔

صفحہ 64

فرمودہ سلیمان :

محترم استاذی حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ اپنی گرانمایہ تصنیف ”نبی الخاتم“ میں فرمودہ سلیمان جو عبرانی زبان میں ہے، نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-

”خلو محمدیم زہ دودی زہ دی۔“

”محمد ﷺ میرا مرکز محبت و ایمان ہے اور میں اس کے یروشلم آنے کی بشارت دیتا ہوں۔“

عبرانی اور اس کے عربی ترجموں میں اصل نام پاک ”محمد“ ہی آیا ہے لیکن بعد میں ترجمہ کرتے ہوئے اس نام مبارک کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور اس کی بجائے ”ستودہ“ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ لیکن حقیقت معنوی صورت میں بھی روز روشن کی طرح ظاہر ہو کر رہی۔ کیونکہ ستودہ کے معنی بھی ”محمد یعنی تعریف کیا گیا“ ہی ہیں۔ (10)

غیر الہامی کتب اور مذاہب میں:

صحف سماوی کے علاوہ ہندوؤں اور دیگر مذاہب کی کتابوں میں بھی آپ ﷺ کی آمد اور آپ ﷺ کے مقام و مرتبہ کا ذکر ہمیں ملتا ہے۔

حاصل کیا۔ اس بشارت کو دیکھتے ہوئے اس آفتاب کے نور سے سورج کی طرح روشن ہو رہا ہوں۔“ (رشی وتہ کنو، سام وید، پھاٹک 3، رشی 6، منتر 8)

ساٹھ ہزار اور نوے دشمنوں میں اس امن پھیلانے والے کو ہم (حفاظت میں) لیتے ہیں۔“

”اس صحاع رشی کو سو دینار، دس مالائیں، تین سو گھوڑے اور دس ہزار گائیں دیں۔“ (ترجمہ پنڈت کھیم کرن)

تشریح: ”صحاع“ یعنی تعریف کیا گیا۔ ”عروہام“ یعنی عربی گھوڑے۔ ہندوؤں کی ایک اور مقدس کتاب۔ ”دھرم اوتر کھنڈ“ جو (1520) قبل مسیح کی بتلائی جاتی ہے اس کا ایک منتر حسب ذیل ہے:-

”وہ مخلوقات سے نہیں ڈرتا ہو گا بہت ہی دلاور اور صاحب فہم ہو گا اور اس کا نام ”مہامت“ ہوگا۔“

صفحہ 65

اسی طرح ہندوؤں کی ایک اور کتاب ”کلکی پران“ میں یہ پیشین گوئی موجود ہے:۔

”آخری زمانہ میں ایک اوتار پیدا ہو گا۔ اس کی پیدائش شمل دیپ میں ہو گی اور اس کے والد کا وشنو یس اور اس کی والدہ کا نام سومتی ہو گا۔“

سنسکرت میں اوتار پیغمبر کو شمل دیپ عرب دیس کو وشنو یس خالق کے بندے یعنی عبداللہ اور سومتی امن دینے والی کو کہتے ہیں۔

زمانہ جیسے ترقی کے منازل طے کرے گا اسی طرح محمد عربی ﷺ کے بارے میں غیر مذاہب کے اہل علم کی زبان سے بھی آپ ﷺ کی رسالت کا ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے خود پیش ہوتا جائے گا۔ چنانچہ بیسویں صدی نے اپنے گزر جانے سے قبل 1997ء میں آنے والی اکیسویں صدی اور اس کے بعد بھی تمام صدیوں کے لیے پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی ختم نبوت کی پیشین گوئیوں کا جن کا ہم نے پہلے اپنی اس کتاب میں اجمالاً ذکر کیا تھا اب روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے۔ یہ بھی ایک زندہ معجزہ ہے آپ ﷺ کی ابدی نبوت کا بھارت کے ایک نامور برہمن پنڈت وید پرکاش الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق کی سربرآوردہ شخصیت ہیں جو تمام ویدوں اور ہندوؤں کی دیگر مقدس کتابوں کے محقق ہونے کے علاوہ سنسکرت زبان کے ایک ممتاز عالم بھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک تحقیقی کتاب ”کلکی اوتار“ کے نام سے شائع کی ہے۔ لائق مصنف نے قدیم ترین ویدوں کی پیشین گوئیوں سے ثابت کیا ہے کہ ان کا اطلاق صرف اور صرف رسول عربی ﷺ ہی کی ذات گرامی پر ہوتا ہے۔ آپ کی جزیرۃ العرب میں ولادت باسعادت‘ آپ ﷺ کے اعلیٰ حسب و نسب حتیٰ کہ آپ ﷺ کے نام نامی اور آپ ﷺ کے والد کے اسمائے گرامی‘ غار حرا میں نزول وحی کا ذکر وید مقدس میں موجود ہے جس میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ ”کلکی اوتار“ (تمام عالم کے رہنما پیغمبر) ایک تیز رفتار گھوڑے (براق) پر سوار ہو کر دنیا اور آسمانوں کی سیر کرے گا۔ آپ ﷺ کی صفات عالیہ کے بارے میں ویدوں کے حوالہ سے پنڈت موصوف یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ”کلکی اوتار“ انتہائی بہادر‘ بہترین شہسوار‘ تلوار کا دھنی اور ماہر تیر انداز ہو گا۔ پنڈت وید پرکاش نے اپنی گراں قدر تصنیف کو بھارت کے آٹھ نامور پنڈتوں اور معروف مذہبی محققین کے سامنے پیش کیا۔

صفحہ 66

سب نے ان کی تحقیقات کو درست تسلیم کیا ہے۔ اپنی ان مقدس ویدوں کے حوالہ سے پنڈت وید پرکاش صاف صاف طور پر بتلاتے ہیں کہ ”کلکی اوتار“ جزیرۃ العرب میں چودہ سو سال پہلے شمشیر و سناں کے ساتھ شہسوار‘ اسپِ دوراں بن کر نمودار ہوئے اور اس دور میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے باطل کو مغلوب کیا۔ موجودہ صدی چونکہ تباہ کن کیمیکل اور ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں سے مسلح ہے اور ان سے زیادہ مہلک ہتھیاروں کے ساتھ آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس لیے اب اور آنے والی کسی بھی صدی میں ویدوں کی پیشین گوئی والے ”کلکی اوتار“ کی آمد ممکن نہیں۔ لہٰذا وہ ہندو دھرم کے ماننے والے اپنے ہم مذہبوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسی ”کلکی اوتار“ پر ایمان لا کر دین اسلام قبول کر لیں جن کی بشارت وید مقدس نے جناب مسیحؑ کی آمد سے بہت پہلے دنیا کو دے دی تھی۔ وہی خاتم النبیین ہیں۔

ہے کہ گوتم بدھ نے بھی حضور ختمی مرتبت ﷺ کی آمد کی خوشخبری دنیا کو دی تھی۔ گوتم بدھ 488 قبل مسیح فوت ہوئے۔ جب ان کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو اس وقت ان کے پاس ان کا عزیز شاگرد نندا بیٹھا تھا۔ اس نے گوتم بدھ سے پوچھا۔ ”آقا آپ کے جانے کے بعد دنیا کو تعلیم کون دے گا؟“ گوتم نے جواب دیا۔ ”نندا میں پہلا بدھ نہیں جو دنیا میں آیا اور نہ میں آخری بدھ ہوں۔ اپنے وقت پر ایک اور بدھ آئے گا۔“ نندا نے پھر پوچھا ”مالک ہم اسے کس طرح پہچانیں؟“ بدھ نے کہا ”وہ متریا کے نام سے موسوم ہوگا۔“ بدھ کو اوتار یا پیغمبر کہا جاتا ہے اور متریا کے معنی رحمت کے ہیں۔ اس طرح گوتم بدھ کی پیش گوئی کے مطابق آپ ﷺ دنیا میں ”رحمت للعالمین“ بن کر تشریف لائے۔ (11)

دشمنوں کی شہادت:

آپ کی سچائی اور صداقت کا اعتراف نہ صرف اہل کتاب‘ غیر مذاہب کے پیروکار‘ بت پرست‘ کافر بلکہ آپ کے جانی دشمن کرتے چلے آئے ہیں۔ عربی کا ایک حقیقت افروز مقولہ ہے۔ ”الفضل ما شہدت الاعدا“ فضیلت اور برتری تو دراصل وہ ہے جس کی دشمن بھی شہادت دیں۔

صفحہ 67

سرداران قریش میں ابو سفیان کا شمار قبول اسلام سے قبل بدترین دشمنان رسالت مآب ﷺ میں ہوتا تھا۔ شرف اسلام سے قبل یہ بزرگ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے عالمگیر مشن کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ سرگرم عمل رہے اور ان کے ترکش کا ہر زہرناک تیر سینہ اسلام میں پیوست ہونے کے لیے بے تاب نظر آتا ہے۔ مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کے اہم موقع پر ابو سفیان بیت المقدس کے نواح غزہ میں امیر قافلہ تجار کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ ان ہی دنوں رومن امپائر کا شہنشاہ قیصر جس کی سلطنت مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی ہے۔ شہنشاہ ایران خسرو پرویز کو شکست فاش دینے کے بعد اپنے دارالحکومت سے پورے شکوہ و جلال کے ساتھ بیت المقدس آیا ہوا ہے۔ جس کا تفصیلی ذکر مشہور مورخ گبن کی معرکۃ الآرا تصنیف ”عروج و زوال رومن امپائر“ (Rise And Fall Of Roman Empire) میں موجود ہے۔ ایسے میں بارگاہ نبوی کے قاصد حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی مکتوب رسالت مآب ﷺ لے کر عظیم قیصر روم کے دربار میں پہنچتے ہیں۔ قیصر نے اس سلسلہ میں استفسار کے لیے حکم دیا کہ اس کے سامنے کسی دیگر اہل عرب کو پیش کیا جائے۔ چنانچہ تعمیل حکم میں ابو سفیان جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ دربار قیصر میں پیش کیے جاتے ہیں۔ شہنشاہ روم اپنے پورے ہیبت و جلال حشم و خدم، امیر عساکر، عمائدین سلطنت کے ساتھ اپنے پرشکوہ دربار میں تخت شاہی پر فروکش ہے۔ حکم ہوا ترجمان (Interpreter) پیش خدمت عالی ہو۔ ترجمان سجدہ تعظیم بجالاتے ہوئے حاضر دربار ہوا۔ اس کے بعد قیصر روم اور ابو سفیان کے درمیان ترجمان کے ذریعے جو مکالمہ ہوا اسے تاریخ نے محفوظ کرلیا۔ جو حسب ذیل ہے۔

قیصر نے ابو سفیان کے ہمراہیوں کو فہمائش کرادی تھی کہ وہ اپنے سردار کے پیچھے رہیں۔ اگر اس نے کسی سوال کے جواب میں جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو اشارے سے شہنشاہ کو مطلع کردیں۔

سوال: قیصر: مدعی نبوت کا خاندان کیسا ہے جواب: ابو سفیان: شریف ہے۔ ☆ قیصر: درست! پیغمبروں کا تعلق خانوادہ شرافت ہی سے ہوتا ہے۔ سوال: کیا اس خاندان میں پہلے بھی کسی نے دعویٰ نبوت کیا ہے یا بادشاہت کی

صفحہ 68

ہے؟

جواب: جی نہیں۔

حکمرانی ہے کہ باپ دادا کا تخت و تاج حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سوال: اس کے پیروان مذہب صاحب اثر لوگ ہیں یا کمزور؟

جواب: کمزور لوگ ہیں۔

سوال: اچھا یہ بتلاؤ کہ اس کے پیرو زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟

جواب: ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سوال: کیا ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس دین کو ترک کر چکے ہیں؟

جواب: نہیں۔

سوال: اس کے دعویٰ نبوت سے پہلے کیا تم نے کبھی اس پر جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟

جواب: نہیں! کبھی نہیں۔

سوال: کیا وہ کبھی اپنے قول و قرار سے پھرا ہے؟

جواب: ابھی تک تو نہیں لیکن اس مرتبہ اس سے جو معاہدہ ہوا ہے دیکھیں اس سے وہ پھرتا ہے یا نہیں۔

سوال: اس کے ساتھ کبھی تمہاری جنگ بھی ہوئی ہے؟

جواب: حضور کئی بار ہو چکی ہے۔

سوال: پھر اس کا نتیجہ کیا رہا؟

جواب: کبھی ہم کامیاب ہوئے اور کبھی وہ۔

سوال: وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے؟

جواب: وہ کہتا ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔

صفحہ 69

باپ دادا کے طور طریق چھوڑ دو اور کہتا ہے کہ نماز قائم کرو‘ سچ بولو‘ پاک دامنی اختیار کرو اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔

جو اس وقت میرے زیر قدم ہے۔ یہ بات میرے علم میں تھی کہ عنقریب ایک پیغمبر کا ظہور ہو گا۔ لیکن مجھے گمان نہ تھا کہ وہ اہل عرب سے ہو گا۔ میری تمنا ہے کہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان کے پاؤں دھوتا۔ اس کے بعد اس نے حضرت دحیہ کلبیؓ سے کہا کہ مکتوب رسالت سنایا جائے۔ (12)

ابو جہل کا ہدیہ نعت:

حضور ختمی مرتبت ﷺ کے انقلابی اعلان نبوت کے ساتھ ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارا عرب ہی آپ ﷺ کی مخالفت پر کمربستہ ہو گیا ہے۔ ابوسفیان کی طرح ابو جہل بھی اپنی اور قبائل عرب اور اپنے حمایتیوں کی پوری طاقت کے ساتھ آپ ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش ہے۔ لیکن اسے بھی آپ ﷺ کی تکذیب کی جرات نہ ہو سکی۔ وہ یہی کہتا تھا تمہاری سچائی سے مجھے انکار نہیں لیکن ہمارے خداؤں سے بغاوت کا جو اعلان تم نے کیا ہے میں اسے نہیں مانتا۔ اس لیے اسلام قبول کرنے سے وہ معذور رہا۔ حضور ﷺ کے بارے میں جو باتیں اس کے گفتار‘ کردار و عمل کی وجہ سے دنیا کے سامنے ہیں ان کو جاوید نامہ میں علامہ اقبالؒ نے ابو جہل کی زبانی‘ پیرایہ نعت میں یوں پیش کیا ہے:۔

باز گو اے سنگ اسود باز گو آنچه دیدیم از محمد باز گو
از ہلاک قیصر و کسریٰ سرود نوجوانان را ز دست ما ربود
تا بساط دین آبا در نورد با خداوندان ما کرد آنچه کرد
مذہب او قاطع ملک و نسب از قریش و منکر از فضل عرب
در نگاہ او یکے بالا و پست با غلام خویش بر یک خواں نشست
احمران با آسوداں آمیختند آبروئے دود مانے ریختند
اعجمی را اصل عدنانی کجا است گنگ را گفتار سبحانی کجا است
چشم خاصان عرب گردیدہ کور برنیائی اے زہیر از خاک گور
اے تو ما را اندریں صحرا دلیل بشکن افسون نوائے جبریل
صفحہ 70
اے ہبل اے بندہ را پوزش پذیر خانہ خود را ز بے کیشاں بگیر
پاش پاش از ضربتش لات و منات انتقام از وے بگیر اے کائنات

اس نعت کا آزاد ترجمہ کچھ اس طرح ہو گا:۔ بول اے سنگ اسود بول! میری آنکھوں نے جس طرح محمد ﷺ کو دیکھا ہے‘ اسے کھول کر بیان کر۔ قیصر و کسریٰ کی ہلاکت کا اس نے کچھ ایسا صور پھونکا ہے کہ نوجوان ہمارے ہاتھوں سے نکل گئے۔ ہمارے باپ دادا کے دین کی اس نے بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ ہمارے خاندان و معبود کے ساتھ اس نے وہ کچھ کیا ہے جو بیان میں نہیں آسکتا۔ اس کا مذہب بھی عجیب مذہب ہے۔ جس نے ملک اور حسب نسب کی جڑ کاٹ دی ہے جو دوسری قوموں پر عربوں اور قریش کی برتری سے انکار کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں ادنیٰ و اعلیٰ‘ آقا و غلام سب برابر ہیں اور غضب یہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے غلام کے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کالے گورے‘ سرخ و سیاہ کا امتیاز ہی مٹا دیا۔ اس طرح ہمارے خاندان کا عز و وقار خاک میں مل گیا۔ اس نے عجم کے بے زبانوں کو فصیحان عرب کے ہم پایہ کر دیا۔ عوام کا کیا رونا! خاصان عرب بھی اندھے ہو گئے۔ اس لیے اے زہیر! خاک گور سے اٹھ اور آکر اس نوائے جبریل کا فسوں توڑ دے۔ اے میرے معبود ہبل! ان تہی دستوں سے اپنا گھر واپس چھین لے۔ پھر وہ روح کائنات سے فریاد کرتے ہوئے کہتا ہے‘ اس کی ضرب کاری نے لات و منات کو بھی پاش پاش کر دیا۔ اس لیے اے کائنات تو ہی اس باغی سے ہمارا انتقام لے۔

ابو جہل دراصل اپنے دور جاہلیت کا نمائندہ شخص ہے۔ وہ حسب نسب‘ رنگ و نسل‘ ملک و قوم‘ مال و منال‘ کلچر اور زبان کی بنیاد پر انسان کو ادنیٰ و اعلیٰ‘ کمتر اور برتر قرار دے کر ان میں فرق و امتیاز پیدا کرتا ہے۔ تاکہ استحصالی قوت زندہ رہے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے آکر ان امتیازات کو مٹا دیا۔ معلم انسانیت ﷺ کی تعلیمات کی روشنی جب اندلس اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے ذریعہ یورپ پہنچی تو وہاں کے مفکرین نے بھی ان غیر انسانی امتیازات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس کے نتیجہ میں میگنا کارٹا‘ ژاں ژاک روسو کا معاہدہ عمرانی (Socio Contract) امریکہ کا دستور آزادی معرض وجود میں آئے۔ آخر کار اس دور جاہلیت جدید میں ان فتنوں نے دوبارہ سر اٹھایا تو عالمی ضمیر نے محسوس کیا کہ دنیا میں امن و سلامتی اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ

مصنوعی امتیازات ختم نہیں ہو جا ہی اصولوں میں سے چند اصولوں کو کی صدائے بازگشت ہے۔ ماضی دیا کہ سوائے خلافت راشدہ اور ا ادارے نے اپنے بلند و بانگ دعوے کی‘ جسے انہوں نے اپنی تہذیب و اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے چودہ چارٹر ہے۔

اغیار کی حمد و ستائش:

آپ ﷺ کی سچائی اور بلکہ ساری دنیا کے وہ تمام عظیم ﷺ سرور عالم ﷺ کی عظمت ستائش پر مجبور ہیں۔

کارلائل:

تھامس کارلائل اپنے خط اور بقائے دوام پانے والے مشا کے نام سے مشہور ہے حضور اک کے سردار کی صورت میں جلو عقیدت پیش کرتے ہوئے رقم ”اور ایک شعلہ میں جس کے بارے میں کوئی امکان ہی نہیں۔ نے طلوع آفتاب دیا ت تا افق روشنی پھیلتی چل یقین ہے کہ آپ ﷺ

صفحہ 71

مصنوعی امتیازات ختم نہیں ہو جاتے۔ اس لیے سال 1948ء میں اقوام متحدہ نے بھی ان ہی اصولوں میں سے چند اصولوں کو اپنا منشور بنا لیا جو سرور عالم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کی صدائے بازگشت ہے۔ ماضی سے قطع نظر اس صدی کے تجربات نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ سوائے خلافت راشدہ اور اسلام کے قائم کردہ اداروں کے‘ اقوام عالم اور اس عالمی ادارے نے اپنے بلند و بانگ دعووں کے باوجود ان بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی‘ جسے انہوں نے اپنی تہذیب و تمدن اور چارٹر کا لازمی حصہ ظاہر کیا ہوا ہے‘ جو پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے چودہ سو سال قبل دنیا کو عطا کئے تھے جو حقوق انسانی کا اولین چارٹر ہے۔

اغیار کی حمد و ستائش:

آپ ﷺ کی سچائی اور صداقت کا اعتراف صرف عرب تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کے وہ تمام عظیم دانشور اور مفکر جو پیروان دین اسلام نہیں وہ بھی محمد ﷺ سرور عالم ﷺ کی عظمت و رفعت کے برملا اعتراف اور آپ ﷺ کی حمد و ستائش پر مجبور ہیں۔

کارلائل:

تھامس کارلائل اپنے مذہبی مسیحی تعصب کے باوجود اپنی شاہ کار تصنیف جو شہرت اور بقائے دوام پانے والے مشاہیر کے بارے میں (Heroes And Hero Worship) کے نام سے مشہور ہے حضور اکرم ﷺ کو ایک عظیم ترین یگانہ روزگار ہستی اور پیغمبروں کے سردار کی صورت میں جلوہ گر دیکھتا ہے اور آپ ﷺ کی بارگاہ قدس میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہے:

”اور ایک شعلہ نور نمودار ہوا اور وہ بھی ایک ایسی بنجر سرزمین میں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر انسانی آزادی کے پنپنے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ لیکن ایسی سرزمین کے ذرۂ ریگ کو آپ ﷺ نے طلوع آفتاب دیا جس سے مشرق و مغرب ہی نہیں آسمانوں میں افق تا افق روشنی پھیلتی چلی گئی۔ میں محمد (ﷺ) سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ﷺ کے مزاج میں نام ، نمود اور ریا کا شائبہ تک نہ

صفحہ 72

تھا۔ ان پاکیزہ صفات کی وجہ سے ہم ان کی بارگاہ عالی میں ہدیہ خلوص و تہنیت پیش کرتے ہیں۔“

نپولین:

یورپ کا عظیم ترین جنرل اور فرانس کا مطلق العنان حکمران نپولین بھی یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ محمد (ﷺ) ہی دراصل دنیا کے سردار ہیں جن کے بارے میں جناب مسیحؑ نے (جن کا خود نپولین پیروکار ہے) دنیا کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ میرے بعد وہ دونوں جہانوں کا سردار آتا ہے۔

والٹیئر:

فرانس کا عظیم اور منفرد صاحب طرز ممتاز اور حقوق انسانی کا علم بردار ادیب اور فلسفی آپ ﷺ کے بارے میں اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے:۔ ”محمد سے بڑا انسان‘ انسانیت نواز دنیا کبھی پیدا نہ کر سکے گی۔“

ژاں ژاک روسو:

جس کی معرکۃ الآرا تصنیف میثاق عمرانی (Socio Contract) کو انقلاب فرانس کی انجیل سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے بارے میں لکھتا ہے:۔ ”آپ ﷺ ایک روشن دماغ اور بلند مرتبت سیاسی بصیرت رکھنے والے انسان تھے۔ اور جو سیاسی نظام آپ ﷺ نے دنیا کو دیا ہے وہ نہایت عظیم الشان ہے۔“

برنارڈ شا:

برنارڈ شا جیسے عالمی شہرت یافتہ خود پرست و خود نگر اہل قلم نے جس کے مقام و مرتبہ سے کون واقف نہیں‘ برطانیہ جیسی جمہوریت پسند سرزمین سے یہ نعرہ بلند کیا کہ اگر پیغمبر اسلام کو آج کی دنیا کا ڈکٹیٹر بنا دیا جائے تو ساری دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔

ایچ۔ جی۔ ویلز

ایچ۔ جی۔ ویلز جسے پیغمبر سائنس کہا جاتا ہے اپنی گراں قدر تصنیف

صفحہ 73

(Out Line Of History) میں آپ ﷺ کی صداقت اور سچائی کی سب سے بڑی دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ جو آپ ﷺ کو سب سے زیادہ قریب سے جانتے تھے وہی سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ ﷺ نے آکر دنیا میں ایسے معاشرے کی تشکیل کی جس میں ظلم اور سفاکی پیوند خاک ہو کر رہ گئی۔

ٹالسٹائی:

روس کے کونٹ ٹالسٹائی نے‘ جو ”جنگ اور امن“ (War And Peace) جیسی مایہ ناز کتاب کا مصنف ہے‘ آپ ﷺ سے اظہار عقیدت کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔

”آپؐ امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی دل دادہ ہو جائے۔ زہد و پاکیزگی کی زندگی کو اپنائے۔ آپؐ نے آکر انسانی خونریزی بند کی اور دنیا میں حقیقی ترقی اور تمدن کی راہیں کھول دیں۔ ایسے محیر العقول کارنامے صرف ایسی ہی ہستی انجام دے سکتی ہے جس کے ساتھ کوئی پوشیدہ طاقت کام کر رہی ہو اور بلاشبہ ایسی ہی ہستی عظمت و احترام کی مستحق ہے۔“

گوئٹے:

جرمنی کے مایہ ناز فلسفی شاعر گوئٹے نے آنحضور ﷺ کی بارگاہ قدس میں ”نغمہ محمد“ کے عنوان سے آپ ﷺ کے ہمہ گیر انقلاب آفریں اور جاوداں پیغام زندگی کے بارے میں جو نظم کہی ہے اس کا گوئٹے ہی کے رمز شناس ہم پایہ شاعر علامہ اقبالؒ نے ”پیام مشرق“ میں آزاد ترجمہ کیا ہے۔ جس کے چند بند نذر قارئین ہیں:۔

دریائے پر خروش ز بند و شکن گذشت
از تنگ نائے وادی و کوہ و دمن گذشت
یکساں چو سیل کردہ نشیب و فراز را
از کاخ شاہ و بارہ و کشت و چمن گذشت
در ہر زماں بتازہ رسید از کہن گذشت
زی بحر بے کراں چہ مستانہ می رود
در خود یگانہ از ہمہ بیگانہ می رود
صفحہ 74

ان اشعار کا ترجمہ ملاحظہ ہو:-

اب یہ ندی‘ ندی نہیں رہی
بلکہ دریائے پر خروش بن کر سارے بند توڑ چکی ہے
اب یہ تنگ راستوں کو خیر باد کہہ چکی ہے
شاہوں کے محل اور غریبوں کی جھونپڑیاں
امراء کے باغ اور دہقانوں کے کھیت
سب اس کے مرہون منت ہیں
ہر نیا زمانہ اس میں نئی زندگی لاتا ہے
اور یہ بے تاب و تند و تیز اور جگر سوز بے قرار
بحر بیکراں کی جانب مستانہ وار بڑھتی چلی جاتی ہے!
اپنے اندر یگانہ اور باقی سب سے بیگانہ!

کارلائل اسی گوئٹے کے حوالے سے نبی امی ﷺ کی تعلیمات کے بارے میں لکھتا ہے:-

”اسلام کا مطلب راضی بہ رضائے الہی رہنا‘ یہ سمجھنا کہ ہماری قوت اسی کی کامل اطاعت میں مضمر ہے۔ وہ ہماری دنیا اور آخرت کے لیے جو چاہے کرے جو کچھ ہمارے لیے بھیجے خواہ وہ موت یا موت سے بھی کرب انگیز کوئی اور چیز ہو‘ وہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔ ہم اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کرتے ہیں اگر اسی کا نام اسلام ہے تو کیا ہم سب مسلمان نہیں؟“

(13)

مسز اینی بیسنٹ:

”جو شخص کسی ایسے ملک میں پیدا ہوا جس کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ جس کا ایسے لوگوں سے پالا پڑا ہو جن کے ناگفتہ بہ حالات کا میں نے نقشہ کھینچا ہے اور جس نے ان کو مہذب ترین بنا دیا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کا رسول نہ ہو۔“

(14)

ایس مارگولیوتھ:

”پیغمبر اسلام ﷺ کی دردمندی کا دائرہ انسانوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ جانوروں

صفحہ 75

پر ظلم و ستم کرنے سے بھی آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔"

ڈاکٹر لین پول:

"اگر محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو کوئی نبی دنیا میں برحق آیا ہی نہیں۔"

(15)

ہز ہائی نس مہاراجہ نرسنگھ گڑھ:

"حضرت محمد ﷺ کی زندگی سراپا عمل اور ایثار کا مرقع ہے۔ آپ ﷺ نے زمانہ جاہلیت میں دنیا کی اصلاح فرمائی اور اپنی ان تھک کوششوں سے اسے جگمگا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا نام ساری دنیا میں روشن اور تاباں ہے۔"

(16)

رائے بہادر پنڈت متھن لال صدر آریہ سماج:

"حضرت محمد ﷺ نے جس وقت خدائے تعالیٰ ایک ہے کی پکار بلند کی تو اس وقت ہندوستان، ایران، عرب و عجم میں بت پرستی کا دور دورہ تھا۔ بلکہ خدا کی ہستی سے لوگ انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مادہ ہی مادہ ہے۔ مگر خدائے تعالیٰ نے حضرت کو فرمایا کہ ثابت کر دو کہ خدائے تعالیٰ واقعی موجود ہے۔"

(17)

فاضل چیلونکر سیکرٹری ہندو مہاسبھا:

"پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت ایک ایسے آفتاب عالم تاب کا ظہور تھا جس کی ضو فگن شعاعوں نے تاریکیوں اور ظلمت کو چشم زدن میں ختم کیا اور کائنات کو منور کر دیا۔ رسول عربی ﷺ نے سب سے پہلے توحید کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی۔"

(18)

مانگ ٹونگ پیشوائے اعظم بدھ مت:

"حضرت محمد ﷺ کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی رحمت تھا۔ لوگ کتنا ہی انکار کریں مگر آپ ﷺ کی عظیم اصلاحات سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ ہم بدھ مت کے پیروکار حضرت محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔"

(19)

شری متی کملا دیوی:

"اے عرب کے مہاپرش (عظیم پیغمبر) آپ مہا سندر من موہن (بے انتہا حسین اور میرے دل کے محبوب) ہیں۔ جن کی شکشا (ہدایت) سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور

صفحہ 76

بھگتی (خدا پرستی) کا دھیان پیدا ہوا۔ یہ آپ ﷺ ہی کی کرپا تھی کہ عرب دیش کے ظالم ڈاکو اعلیٰ درجے کے مہنت اور سادھو بن گئے۔ اے مہاسندر رشی (بہت ہی خوبصورت نبی) میں آپ کے نام کی مالا جپتی ہوں کہ آپ ﷺ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچا لیا‘ اس کو اس کے حق دلائے‘ بولو شری محمد کی جے۔“

(20)

ہند کے ماہر تعلیم مسٹر پی ایس کشالپہ:

”مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ بلاشبہ محمد ﷺ ایک سچے پیغمبر تھے۔ اس سچے محمد ﷺ کے بارے میں اس سے پہلے میرے دل میں جس قدر بدگمانیاں تھیں‘ میں روح محمد ﷺ سے اس کی معافی چاہتا ہوں اور بلا مبالغہ اور علی الاعلان کہتا ہوں کہ آج دنیا میں کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے کریکٹر پر ایک دھبہ بھی لگائے۔“

(21)

پروفیسر رگھوپتی سہائے فراق:

میں حضرت محمد ﷺ پیغمبر اسلام کی بعثت کو ان کی شخصیت اور ان کے کارنامہ ہائے زندگی کو تاریخ کا ایک معجزہ سمجھتا ہوں۔“

(22)

فراق ہی کا ایک شعر ہے جو اس کی عقیدت کا مظہر ہے:۔

معلوم ہے کچھ تم کو محمد ﷺ کا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں

پنڈت امرناتھ زتشی دیال:

”سیرتِ نبوی ﷺ کو بغور دیکھنے سے یہ بات بہ آسانی ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ پیدائش سے لے کر وفات تک ہر حال میں آنحضرت ﷺ کو تائید غیبی حاصل رہی ہے جو لازمہ نبوت ہے۔“

(23)

پنڈت ہردے پرشاد:

”اگر کوئی مجھ سے دریافت کرے کہ حضرت محمد ﷺ کون تھے‘ تو میں اس کے جواب میں برملا کہوں گا کہ آپ ﷺ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے بزرگ پیغمبر‘ توحید کے علمبردار‘ حقانیت کے طرفدار‘ سچائی کے دلدادہ اور ایشور کے پرستار تھے۔ آپ ﷺ

صفحہ 77

کی اصلاح قابل داد تھی اور تاقیامت یاد رہے گی۔"

(24)

بھگت راؤ سینئر ایڈووکیٹ:

”شری رام چندر جی، بھگوان شری کرشن جی، گورو نانک دیو جی، حضرت موسیٰؑ ، حضرت عیسیٰؑ یہ سب روحانی بادشاہ تھے اور میں کہتا ہوں ان میں ایک روحانی شہنشاہ بھی ہے جس کا مقدس نام محمد ﷺ ہے۔ جس کے معنی ہی ”مما“ تعریف کیا گیا ہے اور جس کی پوتر لائف کے متعلق بہت کچھ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر ایک ریفارمر نے آکر دنیا میں بہت کچھ کیا مگر حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر اس قدر احسانات کئے ہیں، جن کی مثال نہیں مل سکتی۔"

(25)

پروفیسر چمپوپتی:

مسلمانوں سے تعصب کے باوجود اسے بھی یہ تسلیم کرنا پڑا، ”حضرت محمد ﷺ کے دل کی آواز قرآن کی آیات ہیں۔ حضرت کی پاک اولو العزمیوں کا اندازہ لگانے کے لیے حضرت ﷺ کی کتاب کی شعلہ بیانیوں سے اس کے زندہ پیغام کو اخذ کرنا ضروری ہے۔"

(26)

راج پال:

رسوائے زمانہ آریہ لیڈر راج پال اپنی زہرناکیوں اور فتنہ انگیزیوں کے باوجود حضور ﷺ کی عائلی زندگی کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور تھا:۔

”محمد ﷺ کا پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں ہوا۔ یہاں تو آریہ سماجیوں کو ماننا ہوگا کہ محمد ﷺ نے شاستر کے مطابق زندگی کا پہلا حصہ مجرد رہ کر گزارا۔ وہ برہمچاری تھے اور ان کا حق تھا کہ شادی کریں۔ عمر خانہ داری کے پچیس برس وہ ایک ہی بیوی پر قانع رہے اور وہ بھی دو خاوندوں کی بیوہ جو نکاح کے وقت چالیس برس کی اور انتقال کے وقت پینسٹھ برس کی تھیں۔ اس بوڑھی عورت سے اس جوان مرد نے نباہ کی۔ یہ بات محمد ﷺ کی پاکیزہ زندگی پر دلالت کرتی ہے۔"

(27)

صفحہ 78

گاندھی جی:

ہندوستان کے چوٹی کے ہندو راہنما گاندھی جی کا پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ تھا، جس کا اظہار انہوں نے اس طرح کیا:۔

”جب مغرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا تو آسمان مشرق سے ایک درخشاں اور روشن ستارہ طلوع ہوا جس نے ساری مضطرب دنیا کو راحت اور روشنی بخشی۔ بلاشبہ آپ ﷺ ساری دنیا کے روحانی پیشوا تھے اور آپ ﷺ ہی کی تعلیمات کو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اور مانع پیغام اس کے بندوں تک نہیں پہنچایا جو آپ ﷺ نے آکر پہنچایا

ہے۔“ (28)

ریورنڈ جارج:

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا بائبل کے حوالے سے لکھتے ہیں:۔

”حضرت اسماعیلؑ کی نسل سے حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کی شان میں بڑی بات بائبل مقدس میں لکھی ہوئی ہے کہ اس قوم کی بزرگی ہے جس میں حضرت محمد ﷺ پیدا ہوں گے۔ حضرت

اسحاقؑ کی نسل سے یسوع مسیحؑ پیدا ہوئے۔“ (29)

انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا:

جو یہودی اور عیسائی مصنفین و مفکرین کی عرق ریزی اور برس ہا برس کی کاوش فکر کا نتیجہ ہے اس میں بھی غیر شعوری تعصب کے باوصف پیغمبر اسلام ﷺ ہی کو دنیا کے تمام پیغمبروں میں کامیاب ترین پیغمبر تسلیم کیا گیا ہے۔

انگلش ڈکشنری آف آکسفورڈ اور انگریزی کی تمام ڈکشنریوں میں (The Prophet) ”النبی“ کے معنی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ کسی اور پیغمبر کے لیے یہ لفظ نہیں آیا۔

مائیکل۔ ایچ۔ ہارٹ:

اب ہم آخر میں امریکہ کے مشہور زمانہ کتاب uential Persons' History" (سو بلند ترین ہستیاں جنہوں ترین تصنیف ہے، کا تذکرہ ضروری فاضل مصنف نے دنیا کی ان تمام ق السلام) کو دنیا کا عظیم ترین انسان قر رکھا ہے اور جناب مسیح کو جن کا توجیہہ اس طرح کی ہے۔

”محمد ﷺ کو دنیا بعض قارئین کو یقیناً حیر جنہیں اعتراض ہوگا لیکن شخصیت ہیں جو دینی اور د مقام پر فائز ہیں۔“

اگر دنیا کے غیر مسلم رہنما افکار اور تذکار کو جنہیں تاریخ جائے تو وہ سب آپ ﷺ کے اقتباسات اس لیے پیش کئے ہیں کردار کی تعریف کے علاوہ آپ معنوی تصدیق آپ ﷺ کی ولا آپ ﷺ کے ماننے والوں ہی کی ہے۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری

صفحہ 79

مائیکل۔ ایچ۔ ہارٹ:

اب ہم آخر میں امریکہ کے معروف اور ممتاز مصنف مائیکل۔ ایچ۔ ہارٹ کی مشہور زمانہ کتاب "The Hundred, A Ranking Of Most Influential Persons In History" (سو بلند ترین ہستیاں جنہوں نے تاریخ میں موثر کردار ادا کیا) جو دورِ حاضر کی تازہ ترین تصنیف ہے‘ کا تذکرہ ضروری سمجھتے ہیں‘ جس میں اس قابل قدر کتاب کے لائق اور فاضل مصنف نے دنیا کی ان تمام منتخب روزگار شخصیتوں میں پیغمبر اسلام (علیہ الصلوٰۃ و السلام) کو دنیا کا عظیم ترین انسان قرار دیتے ہوئے ان سب میں آپ ﷺ کو سرفہرست رکھا ہے اور جناب مسیح کو جن کا وہ خود پیروکار ہے‘ تیسرے نمبر پر رکھتے ہوئے اس کی توجیہہ اس طرح کی ہے:-

"محمد(ﷺ) کو دنیا کے عظیم انسانوں میں سرفہرست رکھنے سے بعض قارئین کو یقیناً حیرت ہو گی اور بعض بلاشبہ ایسے بھی ہوں گے جنہیں اعتراض ہو گا لیکن عالمی تاریخ میں صرف محمد ﷺ ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جو دینی اور دنیوی لحاظ سے کامیابی اور کامرانی کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔"

اگر دنیا کے غیر مسلم رہنماؤں‘ مفکروں‘ دانشوروں کے آپ ﷺ کے بارے میں افکار اور تذکار کو جنہیں تاریخ کے ہر دور نے اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے جمع کر لیا جائے تو وہ سب آپ ﷺ کے پرتوِ عظمت کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہو گی۔ ہم نے یہ چند اقتباسات اس لیے پیش کئے ہیں کہ آپ ﷺ کے انتہائی فضل و کمال اور بلند سیرت و کردار کی تعریف کے علاوہ آپ ﷺ کے اسم مبارک "محمد ﷺ" اور "احمد ﷺ" کی معنوی تصدیق آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کے بعد سے آج تک ہر زمانہ میں صرف آپ ﷺ کے ماننے والوں ہی نے نہیں بلکہ اغیار اور آپ ﷺ کے دشمنوں تک نے کی ہے۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

صفحہ 80

عظمت و شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

ثنا خواں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم شاعر شیریں سخن جناب جامیؒ نے جب یہ مصرعہ گہربار ”ہمہ قرآن در شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ رقم کیا تھا‘ اس وقت ان کے پیش نظر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا وہ حسن کلام یقیناً موجود ہو گا جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا تھا: ”کان خلقہ القرآن“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن خلق ہی سراپا قرآن ہے جس کا ایک ایک حرف اس کی صداقت پر شب و روز گواہی دیتا چلا آ رہا ہے۔ دراصل یہی وہ آئینہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ جہت‘ ابدی اور عالم گیر شخصیت اپنے پورے آب و تاب اور جمال و جلال کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ آپ کی فضیلت و مرتبت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ خود کلام الٰہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر اتارا گیا جبکہ جناب موسٰی علیہ السلام جو خود بھی صاحب کتاب و صاحب شریعت پیغمبر ہیں اور جن کی جلالت شان کا انبیائے بنی اسرائیل میں اور کوئی پیغمبر نظر نہیں آتا‘ انہیں بھی الواح ربانی حاصل کرنے کے لیے وادی سینا سے گزر کر کوہ طور کی چوٹیوں پر جانا پڑا لیکن حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شبستان حرا میں خلوت گزیں ہیں تو جبریل امین کلام الٰہی لے کر وہیں اتر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرزمین مکہ میں ہوں یا سواد مدینہ میں‘ قرآن مہبط وحی صلی اللہ علیہ وسلم تک خود وہیں پہنچ رہا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک لفظ اور آپ کے ہر ہر عمل کی تصدیق کرتا جا رہا ہے اور لاریب آج بھی کہہ رہا ہے:

وما ينطق عن الهوى O ان هو الا وحى يوحى O

(سورہ النجم 3 - 4)

وہ (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے‘ یہ تو ایک وحی ہے جو ان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جاتی ہے۔

وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى

(سورہ الانفال 18)

اور تم نے نہیں (مٹھی بھر ریت ہاتھ میں لیکر کفار کی طرف) پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ اور پیغمبر کا ہاتھ دراصل ہمارا ہی دست قدرت ہے‘ جس کو مولانائے روم اور علامہ

صفحہ 81

اقبال نے زبان شعر میں یوں کہا ہے:

گفته او گفته الله بوده
گرچه از حلقوم عبدالله بود

(رومیؒ)

اور

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کار کشا کار ساز

(اقبالؒ)

ارتفاع ذکر:

ہم یہاں ان ہی آیات قرآن کو پیش کریں گے جن کا تعلق براہ راست حضور رسالت مآب ﷺ کی شان عظمت و جلال اور آپ ﷺ کے علو مرتبت اور آپ ﷺ کے ادب و احترام سے ہے۔

سورۃ الم نشرح میں آپ ﷺ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”ورفعنا لک ذکرک“(1) ”اور ہم نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کے آوازۂ ذکر کو بلند کیا۔“ اور یہ ذکر اتنا بلند ہوا کہ کون و مکان کی ساری رفعتیں اس کے سامنے پست ہو کر رہ گئیں۔ ارض و سموات میں اسی ذکر کا غلغلہ بلند ہوا۔ یہ فرش زمین سے بلند ہو کر عرش بریں اور عرش معلیٰ تک پہنچ گیا۔ لوح و قلم اسی ذکر کے لیے وقف کر دیے گئے۔ مقام محمود ”عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً“(30) ”احمد“ و ”محمد“ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان رفعت کا مظہر ٹھہرا۔ یہ رتبہ بلند کل کائنات میں سوائے آپ ﷺ کے نہ کسی اور کو نصیب ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ آپ کی رفعت ذکر کے بارے میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس جبریل امین تشریف لائے اور فرمایا: ”میرا اور آپ ﷺ کا رب پوچھتا ہے کہ اس نے کس طرح آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔“ حضور ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ”یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ اس پر جبریل نے کہا باری تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”جب میرا ذکر کیا جائے گا تو اس کے ساتھ ساتھ آپ کا بھی ذکر ہو گا۔“ اس روشن حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اس کلمہ گیتی نورد ”لا الہ“ کی تکمیل ہی اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ ”اسم محمد ﷺ“ اس میں

صفحہ 82

شامل نہ ہو۔ زمان و مکان کا وہ کونسا ایسا گوشہ‘ وہ کونسی ایسی ساعت اور وہ کون سا ایسا لمحہ ہے جو ذکر حضور ﷺ سے خالی ہے۔ اس عالم شش جہات کے گوشہ گوشہ میں گردش زمین کے ساتھ ساتھ ہر بانگ اذاں میں آپ ﷺ کا نام نامی بلند ہو رہا ہے۔ کوئی نماز آپ ﷺ پر سلام اور درود بھیجے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ایک مسلمان کی پیدائش کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے ساتھ آپ ﷺ کی رسالت کی صدائے دل نواز بھی بانگ تکبیر کے ساتھ بلند ہو کر اس کے کانوں میں گونجتی اور اس کے دل و دماغ‘ رگ و پے اور اس کے شعور اور لاشعور میں اتر جاتی ہے۔ اس لیے مسلمان دنیا کے کسی خطہ میں‘ مشرق ہو یا مغرب‘ شمال ہو یا جنوب غرض کہ جہاں کہیں بھی اور جس جگہ بھی ہوں آپ ﷺ ہی کا کلمہ پڑھتے اور آپ ﷺ ہی پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔

یہ کائنات دہر کیا اور اس کی بساط ہی کیا ہے۔ سارے عالم لاہوت و ملکوت اور فلک الافلاک بھی ذکر حبیب ﷺ میں مشغول ہیں۔ خود خالق کائنات اور اس کے تمام ملائکہ مقربین آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ سورۃ احزاب میں فرمایا:

ان الله وملئكته يصلون على النبى - ياايها الذين امنو صلوا عليه و سلموا تسليما۔"

(سورہ احزاب: ۵۶)

”اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر رحمت و درود بھیجتے ہیں۔ اے اہل ایمان تم بھی ان ﷺ پر درود و سلام (کی سوغات) بھیجو۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنے سے انسان کمال کی اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے جس کا ادراک بھی ذہن انسانی پوری طرح نہیں کر سکتا۔ انسان دائرہ بشریت سے آگے بڑھ کر نہ صرف ملائکہ کے دائرہ نور میں داخل ہو جاتا ہے بلکہ اس سے بھی بلند تر ہو کر منتہائے کمال یعنی الوہیت اور حظیرۃ قدس کے اس دائرہ عمل میں اسے شرف باریابی حاصل ہوتا ہے‘ جہاں سے درود و صلوٰۃ اور انوار رحمت کی بارش ہو رہی ہے۔ اس طرح انسان نہ صرف ملائکہ مقربین اور روح الامین کا ہم زبان ہو جاتا ہے بلکہ اسے ذات حق کے ترجمان ہونے کا شرف بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے لیے خالق کائنات نے اپنا اسم ذات استعمال کیا ہے‘ جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ درود و سلام کا تعلق جلوہ گہ صفات سے بلند ہو کر براہ راست حریم ذات سے ہے۔

صفحہ 83

معراج نبوت

نبوت بشریت کا اعلیٰ ترین مقام ہے اور جب نبوت اپنے نقطہ عروج و کمال پر پہنچ جائے تو پھر یہ ذات مصطفوی ﷺ میں جلوہ گر ہوتی ہے‘ جس میں زمان و مکان اور لامکاں کی ساری وسعتیں سمٹ کر آجاتی ہیں۔ یہی وہ مقام معراج نبوت ہے جس کے زیر قدم سدرۃ المنتہیٰ ہے‘ جہاں پر سارے حجابات اٹھا دیے جاتے ہیں اور جہاں شب اسریٰ کے مہمان گرامی نے جمال الوہیت کو بے نقاب دیکھا‘ وہاں آپ ﷺ کو حق سبحانہ تعالیٰ سے براہ راست شرف ہم کلامی حاصل ہوا۔ اس ذکر جمیل کو سورۃ النجم کی آیات اپنے آغوش میں لیے ہوئے ہیں۔

یہ وہ شرف ہے جو کسی اور پیغمبر کو نصیب نہ ہوا۔ جناب موسیٰ ؑ جیسے بلند مقام پیغمبر بھی جلوۂ صفات تک کی تاب نہ لا سکے۔ اس حقیقت کو ملا جامی نے زبان شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔

موسیٰ ؑ ز ہوش رفت بہ یک پرتو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمے

یہ صاحب قاب قوسین ہی کا ظرف بے کراں ہے کہ تمام کائنات ارض و سما اور سارے عالم خلق و امر کے اسرار و رموز اور حقائق پنہاں کو بے حجاب دیکھتے ہوئے مقام کبریا تک پہنچ کر اس کی ساری فیوض و برکات کو اپنی ذات اور اپنے گھرانے تک محدود کرنے کی بجائے ان فیض بخشیوں کو سارے عالم بشریت کے گھر گھر پہنچانے کے لیے آپ ﷺ نے پھر اسی عالم آب و خاک میں مراجعت فرمائی۔ جس کی بدولت حیات و کائنات کی تقدیر بدل گئی اور انسانوں کو نہ صرف حیات و کائنات اور حریم ذات کے باہمی ربط و تعلق کا شعور نصیب ہوا بلکہ اس پر عروج و ارتقا کے در باز ہو گئے۔ تخلیق و تسخیر اور تصرف کائنات کے اختیارات سے ابن آدم سرفراز ہوا۔ اس لیے وہی ہستی جس کی بدولت انسان کو یہ سارے انعام و اکرام نصیب ہوئے‘ ہر فردِ بشر کے عزت و تکریم کی سزاوار ہو سکتی تھی۔ اسی لیے تاجدارِ نبوت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

انا ارسلنک شاہداً و مبشراً و نذیراً O لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ و اصیلاً

صفحہ ۵۸

(سورۃ الفتح آیت 7‘ 8)

"اے نبی ﷺ! ہم نے آپ ﷺ کو شاہد و بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ‘ اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اپنے رب کی پاکی بیان کرتے رہو۔"

آپ ﷺ کی شان رسالت میں تنذیر و تبشیر کو اس لیے یک جا کر دیا گیا کہ دونوں کی اصل ایسی شفقت و رحمت ہے جو ساری انسانیت کے دامن مراد کو ایمان کی دولت لازوال سے بھرنے کے لیے مضطرب اور بے قرار ہے اور جو ایمان لے آئیں ان کے لیے پیغمبر کا وجود سراپا رحمت و رافت ہے۔ اسی لیے فرمایا:

لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمومنین رءوف رحیم O

(سورۃ توبہ : 128)

”تمہارے پاس اللہ کا رسول ﷺ آ گیا ہے جو تمہیں میں سے ہے‘ تمہارا رنج و کلفت میں پڑنا اس پر بہت شاق گزرتا ہے۔ وہ تمہاری بھلائی کا خواہش مند ہے اور مومنوں کے لیے شفقت رکھنے والا اور رحمت والا ہے۔“

صفحہ 85

آداب دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

وہ ہستی جو ساری انسانیت کے لیے واجب الاحترام ہے اس کے دربار رسالت میں جو تا ابد قائم و دائم رہے گا۔ ادب و احترام، گفتگو اور تخاطب کے آداب بھی قرآن مجید نے اہل ایمان کو سکھلائے ہیں۔ آپ ﷺ کی مخالفت اور دشمنی تو صریحاً کفر ہے لیکن آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی سوء ادبی بھی غارت گر اعمال اور اعلان کفر ہے۔

یاایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرونO

ان الذین یغضون اصواتهم عند رسول الله اولئک الذین امتحن الله قلوبهم للتقویٰ ۔ لهم مغفرة واجر عظیمO

(سورۃ الحجرات‘ آیت 2‘ 3)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز کے ساتھ بات کیا کرو جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسول کریم ﷺ کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم۔“

اس سے قبل یہ ارشاد فرمایا:

یاایها الذین امنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسوله واتقوا الله ان الله سمیع علیمO

(الحجرات‘ آیت : 1)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو۔ اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔“

صفحہ 86

سورۃ الحجرات کا موضوع ہی اہل ایمان کو آداب دربار رسالت کی تعلیم دیتا ہے۔ سب سے پہلے مسلمانوں کو واضح طور پر یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ تمام معاملات میں احکام الہی کی تعمیل اور اللہ کے رسول ﷺ کا مکمل طور پر اتباع کریں اور ان کو دل و جان سے اپنا رہنما بنا کر ان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اطاعت کے ساتھ اہل ایمان کو اطاعت رسول ﷺ کا پابند کر دیا اور اطاعت رسول ﷺ کو اطاعت الہی قرار دیا۔ اطاعت رسول ﷺ کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہر ہر قدم پر آپ ﷺ کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔ وگرنہ آپ ﷺ کی جناب میں کسی قسم کی بے ادبی بارگاہ الوہیت میں بے ادبی تصور ہو گی۔ جب کسی مسلمان سے ادب و احترام رسول ﷺ ختم ہو جائے تو اس کے بعد نہ اس کا ایمان باقی رہے گا اور نہ ہی اس کا عمل۔ اس طرح اس کے سارے اعمال غارت ہو کر رہ جائیں گے اور وہ سرحد کفر میں داخل ہو جائے گا۔

سورۃ الحجرات کی یہ آیات اہل ایمان کو دربار نبوت میں نرم دم گفتگو ہونے کی تعلیم دیتے ہوئے یہ وعید بھی سنا رہی ہیں کہ حضور رسالت مآب ﷺ سے ارتفاعِ صوت اور بلند کلامی کا انجام کار ”حبوط اعمال“ ہے، جو کفر اور شرک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر یہ بتلایا گیا ہے کہ کفر اور شرک دراصل نتیجہ ہیں حبوط اعمال کا۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں فرمایا:

ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وہو فی الاخرۃ من الخاسرین۔

(المائدہ: 5)

”اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا۔“

ولو اشرکوا لحبط عنہم ما کانوا یعملون۔

(الانعام: 88)

”لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔“

لئن اشرکت لیحبطن عملک۔

(الزمر: 65)

صفحہ 87

”اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا۔“

ان کے علاوہ متعدد آیات اور بھی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کفر کی سزا سے اگر کوئی دنیا میں بچ بھی جائے تو آخری عدالت الٰہی میں اسے پوری پوری سزا مل کر رہے گی اور شرک تو خدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جناب رسالت مآب ﷺ میں تیز اور بلند آواز سے گفتگو غیر شعوری طور پر بھی بے ادبی ہے جو غارت گر اعمال ہونے کے سبب کفر اور شرک ہے۔

اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”الصارم المسلول“ جو شاتم رسول ﷺ پر فی الواقع چمکتی ہوئی تلوار ہے، میں اسی آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

”جب ایسی تکلیف و استخفاف جو بلا قصد ہونے کے باوجود سوء ادب اور کفر میں داخل ہے تو پھر جو استخفاف اور تکلیف جو عمداً اور بالقصد کی جائے تو اس کے صریحاً کفر ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے یہ تو بطریق اولیٰ کفر شمار ہو گا۔

(32)

اسی آیت ”لا ترفعوا اصواتکم....“ کی تفسیر کرتے ہوئے ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”الجامع لاحکام القرآن“ میں لکھتے ہیں:

”اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد آنحضور ﷺ کا استخفاف و اہانت ہو کیونکہ ایسی بلند آواز تو کفر ہے اور یہ خطاب بھی اہل ایمان سے ہے۔ جن کے لیے آپ ﷺ کی ذات گرامی اصل ایمان بلکہ عین ایمان ہے کیونکہ آپ ﷺ ہی سراپا دین ہیں۔ اسی لیے تو علامہ اقبال نے کہا ہے۔

مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

قاضی ابوبکر ابن العربی اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس وصال کے بعد بھی اسی طرح تحریم و تکریم کے لائق ہے جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کی تعظیم کی جاتی رہی ہے۔“

صفحہ 88

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت و عظمت حاصل ہے جو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں حاصل تھی۔ نطق پیغمبر چونکہ وحی الٰہی ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی قرآن مجید کے کلام کی طرح قابل احترام ہے۔ اسی آیت کی روشنی میں علمائے تفسیر و حدیث ہمیں بتلاتے ہیں کہ جب کبھی اور جہاں کہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائی جائے اسے خاموشی اور احترام سے سنا جائے اور ایسی محفل میں تیز اور با آواز بلند گفتگو سے احتراز کیا جائے۔ سورہ الحجرات کی اگلی آیت ”لا تجھروا لہ بالقول“ کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ آلوسی اپنی مستند کتاب ”روح المعانی“ میں لکھتے ہیں:

”یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قول یا فعل کے ذریعہ تکلیف پہنچانا کفر ہے، جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایا گیا جس سے آپ کو اذیت پہنچنے کا احتمال ہو۔“ (33)

اس سے اگلی آیت میں ایسے اہل ایمان کا ذکر ہے جو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بات کرتے ہوئے ادب و احترام کے پیش نظر اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو امتحان اور آزمائش کے دشوار مراحل سے گزر کر معیار تقویٰ پر پورے اترے ہیں۔ نزول کتاب کا مقصود ہی اہل تقویٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ اور اللہ کے نزدیک مستحق تکریم اور لائق عز و شرف صرف وہی شخص ہے جو صاحب تقویٰ ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ انسان کا معیار فضیلت یا معیار تقویٰ، ادب و احترام رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور وہ لوگ جو ادب و احترام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ملحوظ نہیں رکھتے، وہ متاع ایمان و تقویٰ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے وہ پھر کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ بارگاہ خداوندی میں ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں۔

سورۃ نور میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے حفظ مراتب اور آداب گفتگو کی تعلیم دیتے ہوئے حکم دیا گیا:۔

لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم كدعاء بعضكم بعضا

”تم لوگ اپنے درمیان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانا نہ سمجھو تفسیر آیت: مسئلہ تکریم، تعظیم و توقیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود نبی اور رسول اللہ جیسے اس حکم کی تعمیل سے لانے کا اقرار کرنے کے بعد اللہ کو قرآن نے کافر قرار دیا ہے۔ سے پوچھا جا رہا ہے:

”کیا تم اللہ کے، ساتھ ہنسی مذاق کرتے کے اقرار کے بعد پھر ک اس آیت مبارکہ کی آ مایہ تصنیف ”الصارم المسلول“

”اس آیت سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر قطعی طور پر دلالت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہا ہے۔“ (35)

قاضی ابو بکر ابن العربی ا

”منافقین نے جو تضحیک) بالقصد ہو گی کیونکہ کلمات کفر کے

صفحہ 89

سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت و عظمت حیات طیبہ میں حاصل تھی۔ نطق پیغمبر چونکہ وحی الٰہی قرآن مجید کے کلام کی طرح قابل احترام ہے۔ ئے تفسیر و حدیث ہمیں بتلاتے ہیں کہ جب کبھی اور ہ یا آپ ﷺ کی کوئی حدیث سنائی جائے اسے خاموشی ل میں تیز اور باآواز بلند گفتگو سے احتراز کیا جائے۔ "لا تجهروا له بالقول" کی تفسیر کرتے ہوئے لمعانی" میں لکھتے ہیں: کہ آنحضور ﷺ کو کسی قول یا فعل کے ، جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہو ا سے بھی منع فرمایا گیا جس سے آپ کو اذیت

اہل ایمان کا ذکر ہے جو بارگاہ رسالت ﷺ میں بات ، نظر اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں مان اور آزمائش کے دشوار مراحل سے گزر کر معیار کتاب کا مقصود ہی اہل تقویٰ کی ہدایت اور رہنمائی کریم اور لائقِ عز و شرف صرف وہی شخص ہے جو ہوا کہ انسان کا معیارِ فضیلت یا معیارِ تقویٰ، ادب و ک جو ادب و احترام رسول ﷺ کو شعوری یا غیر متاعِ ایمان و تقویٰ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے نہیں ہوتے بلکہ بارگاہِ خداوندی میں ذلیل اور رسوا

حفظِ مراتب اور آدابِ گفتگو کی تعلیم دیتے ہوئے حکم

سول بينكم كدعاء بعضكم بعضا نا رسول ﷺ کے بلانے کو آپس میں ایک

دوسرے کو بلانا نہ سمجھ بیٹھو۔"

تفسیر آیت: مسلمانو تم پر واجب ہے کہ تم پیغمبر ﷺ کی عزت و تکریم، تعظیم و توقیر کرو۔ آپ ﷺ کے حفظ و مراتب کا خیال رکھو اور آپ ﷺ کی موجودگی میں اپنی آوازوں کو پست رکھو اور آپ ﷺ کو نبی اور رسول اللہ جیسے الفاظ سے مخاطب کرو۔"

(34)

اس حکم کی تعمیل سے انحراف کو بھی توہین نبوت اور کفر قرار دیا گیا ہے۔ ایمان لانے کا اقرار کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول اور آیات الٰہی سے استہزا کرنے والوں کو قرآن نے کافر قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۃ توبہ کی 65 ویں آیت میں ان گستاخانِ نبوت سے پوچھا جا رہا ہے:

"کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟ بہانے نہ بناؤ! حقیقت یہ ہے کہ تم نے ایمان کے اقرار کے بعد پھر کفر کیا۔"

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ اپنی اسی گراں مایہ تصنیف "الصارم المسلول" میں تحریر فرماتے ہیں:

"اس آیت سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ، آیات الٰہی اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تمسخر اور استہزاء کفر ہے، تو پھر وہ سب و شتم جو حضور ﷺ کی شان میں قصداً ہو وہ تو کھلا کفر ہے اور یہ آیت اس امر پر قطعی طور پر دلالت کرتی ہے کہ جس کسی نے بھی جناب رسالت مآب ﷺ کی تنقیص و اہانت قصداً کی یا ہنسی مذاق میں کی، بہر صورت وہ کفر ہے۔"

(35)

قاضی ابوبکر ابن العربی اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"منافقین نے جو کچھ کہا اس کی دو صورتیں ہیں: یا تو یہ (اہانت و تضحیک) بالقصد ہو گی یا پھر بطور استہزا۔ ہر دو حالتوں میں یہ کفر ہے کیونکہ کلمات کفر کے ساتھ تضحیک و استہزاء بھی کفر ہی ہے۔"

(36)

صفحہ 90

باب اول

کتابیات

القرآن ۷ : ۱۵۷ (۱)

تورات استثناء باب : ۱۸ (۲)

القرآن ۲ : ۱۴۹ (۳)

القرآن ۶ : ۶۱ (۴)

انجیل یوحنا باب ۱۳ : ۲۵ (۵)

انجیل یوحنا باب ۱۶ : ۱۲ (۶)

محمد بن اسحاق۔ سیرۃ الرسول ﷺ (۷)

سید ابوالاعلی مودودی۔ تفہیم القرآن ج۔ ۵، ص ۴۶۷ (۸)

القرآن ۲ : ۱۶۴ (۹)

سید مناظر احسن گیلانی۔ النبی الخاتم ص : ۳۰ (۱۰)

النبی الخاتم ص۔ ۲۷۔ ۲۸ (۱۱)

صحیح البخاری۔ تاریخ الطبری (۱۲)

نقوش رسول نمبر ج۔ ۴، ص ۴۴۹۔ ۴۷۹ (۱۳ تا ۲۹)

القرآن ۷۱ : ۷۹ (۳۰)

القرآن ۳۳ : ۵۶ (۳۱)

امام ابن تیمیہ، "الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ" ص۔ ۵۶ (۳۲)

علامہ آلوسی البغدادی۔ روح المعانی۔ ج ۲۶، ص ۱۳۶ (۳۳)

علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی، تفسیر مظہری۔ ج ۹، ص۔ ۴۱ (۳۴)

الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص۔ ۶۰۔ ۷۱ (۳۵)

قاضی ابوبکر ابن العربی ج ۲۔ ص ۹۶۵ (۳۶)

صفحہ 91

باب دوم

قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

(قرآن کی روشنی میں)

وہ لوگ جو اس برگزیدہ، معصوم اور منزہ عن الخطا اور محبوب کبریا ہستی کو ذہنی یا جسمانی کسی قسم کی بھی اذیت پہنچائیں ان کے بارے میں قرآن مجید کا واضح حکم موجود ہے:

ان الذين يوذون الله ورسوله لعنهم الله فی الدنیا والآخرة واعد لهم عذابا مہینا۔ (1)

"بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا گیا ہے۔" (4)

اس آیت سے ظاہر ہے کہ اذیت رسولؐ، اذیت الہی بھی ہے اور اس کے لیے رسوا کن عذاب کا اعلان ہے۔ عذاب الہی جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا مظہر ہے‘ کی کئی قسمیں ہیں اور قرآن مجید میں ہماری تحقیق کے مطابق 332 جگہ اس کا ذکر آیا ہے۔ مجرد عذاب 111 مرتبہ‘ عذاب الیم 77 مرتبہ‘ عذاب شدید 26 مرتبہ اور عذاب مبین 14 مرتبہ‘ عذاب عظیم 14 مرتبہ‘ عذاب النار 9 مرتبہ‘ سوء العذاب 9 مرتبہ‘ عذاب جہنم 7 مرتبہ‘ عذاب اللہ 6 مرتبہ‘ عذاب حریق‘ عذاب مقیم‘ عذاب الخزی‘ پانچ پانچ مرتبہ‘ عذاب الاخرۃ 8‘ عذاب سعیر‘ عذاب غلیظ‘ عذاب یوم عظیم چار چار مرتبہ‘ عذاب الھون‘ عذاب الخلد‘ عذاب الغافین تین تین مرتبہ‘ عذاب قریب‘ عذاب اکبر‘ عذاب نکرہ دو دو مرتبہ اور عذاب العذاب‘ عذاب فی الحیاۃ‘ عذاب غیر مردود‘ عذاب ادنیٰ‘ عذاب جحیم‘ عذاب صعد‘ عذاب کبیر‘ عذاب المستقر اور عذاب السموم ایک ایک مرتبہ آیا ہے۔

ول ﷺ

تفہیم القرآن، ج-۵، ص ۴۶۷

النبی الخاتم ص: ۳۰

ص ۴۴۹۔ ۴۷۴

سلول علی شاتم الرسول ﷺ ص- ۵۶

روح المعانی۔ ج ۲۶، ص ۱۳۶

، تفسیر مظہری۔ ج ۹، ص- ۴۱

رسول ص- ۶۰۔ ۷۱

۔ ص ۹۶۵

صفحہ 92

عذاب :

مفردات امام راغب میں جو لغت القرآن پر انتہائی مستند کتاب سمجھی جاتی ہے‘ سخت دکھ اور تکلیف دینے کو عذاب کہا گیا ہے۔

عذاب ”عذب“ سے مشتق ہے۔ عذب شیریں پانی کو کہتے ہیں۔ تعذیب میں ازالہ عذب ہے۔ اس لیے عذبۃ کے معنی ہیں‘ میں نے اسے زندگی کی لذت اور مسرتوں سے دور یعنی محروم کر دیا۔

قرآن مجید میں ہر اس تکلیف اور محرومی کو جو انسان کے مکافات عمل کا نتیجہ ہے اور ہر ایسی سزا کو جو فرد یا قوموں کو دنیا اور آخرت میں پاداش جرم میں دی جائے‘ عذاب کہا گیا ہے۔

مہین :

لسان العرب میں ”مہین“ حقارت‘ احتقار‘ ذلت و رسوائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تفسیر ”المراغی“ میں واعدلہم عذابا مھینا کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔

”ان کے لیے الم انگیز عذاب تیار کیا گیا ہے اور حقارت اور اہانت‘ ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہے۔“

اصل عربی عبارت حسب ذیل ہے:۔

”ای ھیألھم عذابا یؤلمھم و یجعلھم فی مقام الزرايه والاحتقار والخزی الھون۔“

رسوا کن عذاب کی ایک جھلک سورۃ ”اللھب“ میں دکھلائی گئی ہے‘ جو اس سورۃ کے نشان نزول کے تناظر میں اور بھی واضح نظر آتی ہے۔

سارے قرآن مجید میں یہی ایک ایسی سورۃ ہے‘ جس میں گستاخ رسول ﷺ کو اس کے نام سے پکارا گیا ہے اور پوری سورۃ غضب الٰہی کے جلال کی نمود ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ ابولہب تھا تو رسول اکرم ﷺ کا چچا لیکن وہ اور اس کی بیوی ام جمیل ایسے بدبخت اور مردود تھے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔ ابولہب کا شمار اس وقت کے متمول اور سرمایہ دار لوگوں میں ہوتا تھا۔ اسے اپنے مال و دولت اور اولاد پر بڑا گھمنڈ اور غرور تھا اور سمجھتا تھا کہ یہی اس کے دست و بازو ہیں۔ لیکن خاتم الانبیاء کی ق زر اندوزی اور زر پرستی کا زور بھی ٹ بروایت ابن زید‘ ابولہب نے ایک دن پوچھا اگر میں ایمان لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا‘ آپ ﷺ نے فرمایا: جو اوروں کو ملے گا۔ اس پر اس نے تعجب اور حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

تبا لک سائر الیوم ناس ہو تیرے سارے دن کیا تو نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا۔ (ابن جریر)

اور دوسری روایت جو ابن عبا ﷺ نے آیہ انذار ”وانذر عشیر حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنے اقربا اور خ ہوئے اور کوہ صفا کی چوٹی سے قبائل ق جب صوت ہادی وادیوں میں گونجی اور ا انہوں نے ان سے دریافت فرمایا:

”بتاؤ! اگر میں تم کو یہ خ دشمن حملہ کرنے کے لیے تیار ہے‘ سب نے بیک زبان کہا: یقیناً ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنی۔“ جس پر آپ ﷺ ن فرمایا تو سن لو اگر تم کفر پر اڑے رہے تو ان پر ایک عذاب شدید آ اس پر ابولہب نے کہا: تبا لک الھذا جمعتنا ”برا ہو ترا کیا تو نے ہم کو اِ

ان دونوں روایات میں اختلاف کے الفاظ میں پیش آئے ہیں۔ اس لیے راویوں ن نے اپنے حبیب ﷺ کے بارے م بات ناگوار گزری کہ اس نامراد کا نام لے ک

سورۃ ”تبت یدا ابی لھب

صفحہ 93

دست و بازو ہیں۔ لیکن خاتم الانبیاء کی آمد آمد سے نہ صرف صنم کدے ویراں ہو گئے بلکہ زر اندوزی اور زبردستی کا زور بھی ختم ہوتا جا رہا تھا، جس سے ابولہب بوکھلا اٹھا اور بروایت ابن زیدؓ ابولہب نے ایک دن حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو اسے کیا ملے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: وہی جو اور مسلمانوں کو ملے گا۔ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اسے دوسروں پر کوئی برتری حاصل نہیں ہو گی، تو وہ اس پر برافروختہ ہو کر چلایا:

تبا لہذا الدین تبا ان اکون وہؤلاء سواء ناس ہو ایسے دین کا جس میں، میں اور دوسرے لوگ سب برابر کے ہوں۔

(ابن جریر)

اور دوسری روایت جو ابن عباسؓ سے منقول ہے، وہ اس طرح ہے کہ آنحضور ﷺ نے آیہ انذار ”وانذر عشیرتک الاقربین“ (الشعراء: 214) کے نازل ہونے پر حکم الٰہی کی تعمیل میں اپنے اقربا اور اہل قبیلہ کو خبردار کرنے کے لیے جانب بطحا روانہ ہوئے اور کوہ صفا کی چوٹی سے قبائل قریش کو ندائے ”یاصباحاہ“ کا انتباہ دے کر پکارا۔ اور جب صوت ہادی وادیوں میں گونجی اور تمام لوگ جمع ہو گئے، تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا:

”بتاؤ! اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک فوج تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تو کیا تم اس بات کا یقین کرو گے؟“

سب نے بیک زبان کہا: یقیناً کیونکہ ہم نے کوئی جھوٹی بات آج تک تمہارے منہ سے نہیں سنی۔“ جس پر آپ ﷺ نے انہیں خبردار کیا کہ اگر ان کے یہی لیل و نہار رہے تو ان پر ایک عذاب شدید آنے والا ہے۔ یہ سن کر ابولہب چیخ اٹھا: تبا لک الہذا جمعتنا ”برا ہو ترا کیا تو نے ہم کو اسی لیے جمع کیا تھا۔“

دونوں روایات میں اختلاف زمانی معلوم ہوتا ہے۔ دونوں واقعات مختلف اوقات میں پیش آئے ہیں۔ اس لیے راویوں نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

اپنے حبیب ﷺ کے بارے میں اس بدبخت انسان کی یہ بات باری تعالیٰ کو اتنی ناگوار گزری کہ اس نامراد کا نام لے کر اس پر اپنی نفرت اور غضب کا اظہار فرمایا: ”تبت یدا ابی لہب و تب......... الخ“

صفحہ 94

”ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ہلاک ہوا وہ، اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا اس کے کچھ کام نہ آیا۔ ضرور وہ آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی۔ لگائی بجھائی کرنے والی اور اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہو گی۔“

یہاں اللہ تعالیٰ نے مستقبل کی بات ماضی کی زبان میں بیان کر دی کیونکہ خالق عزوجل کے سامنے تو ماضی و حال و مستقبل سب برابر اور اسی کے پیدا کردہ ہیں اور یہ امروز و فردا تو ہمارے لیے ہیں اور دنیا نے دیکھ لیا ابولہب کا اور اس کی بیوی کا انجام بڑا ہی عبرت ناک ہوا اور اسی طرح ہوا جس کی قرآن مجید نے پیشین گوئی کی تھی۔

معرکہ بدر میں مسلمانوں کی فتح یابی ابولہب کے لیے ناقابل برداشت صدمہ تھا اور بالآخر وہ عدسہ جیسے موذی زہر ناک اور سوزش والے مرض میں مبتلا ہو گیا اور تڑپ تڑپ کر واصل جہنم ہوا۔ بیماری کے دوران اور مرنے کے بعد بھی اس کی اپنی اولاد اور عزیز و اقارب میں سے کوئی بھی اس کے قریب نہیں پھٹکا۔ اس طرح نہ اس کے کام مال آیا اور نہ اولاد۔ مرنے کے بعد جب اس کی لاش میں سڑنے کی وجہ سے سخت بدبو اور تعفن پیدا ہوا، تو لوگوں نے شور مچایا جس پر اس کے لڑکوں نے حبشی مزدوروں سے اس کی لاش کو اٹھوا کر ایک گڑھے میں پھنکوا دیا اور اوپر سے پتھر مٹی ڈال کر اسے بند کر دیا۔

آخرت میں اس کے اور اس کی بیوی کے بارے میں مفسرین ہمیں بتلاتے ہیں کہ وادی جہنم میں جہاں ابولہب جل رہا ہو گا وہاں اس کی بیوی بھی لکڑیاں ڈھو ڈھو کر لانے کے بعد، انہیں اس میں ڈال کر اپنے لیے اور اس کے لیے آتش جہنم کو اور بھی بھڑکاتی رہے گی۔

یہ تھا وہ عبرت ناک عذاب الیم، ابولہب کے لیے جو آپ ﷺ کا چچا ہونے کے باوجود گستاخ رسالت مآب ﷺ ہونے کی پاداش میں عذاب الہی کی گرفت سے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں اپنے آپ کو اور اپنی بیوی کو بچا سکا۔

حضور رسالت مآب ﷺ کے استہزاء اور گستاخی کی جو سزا آخرت میں ملے گی اس سے تو کوئی صاحب ایمان انکار کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس دنیا میں بھی اس کی سزا خود رب ذوالجلال نے مختلف طریقوں سے دے کر اپنے اس وعدہ ”انا کفیناک المستہزئین (سورۃ الحجر، آیت: 95 کو پورا فرمایا جو اس نے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ سے کیا تھا: بلاشبہ ہم

صفحہ 95

تمہاری طرف سے ان استہزاء کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے لیے کافی ہیں۔“

ابولہب اور اس کی بیوی کا حال تو آپ اوپر دیکھ چکے ہیں۔ اس کے بیٹے عتیبہ نے بھی جب سورۃ ”النجم“ سن کر آپ ﷺ کا مذاق اڑایا تھا تو اسی دنیا میں اس لعین کو بھی اس گستاخی کی درد ناک سزا ابولہب کی زندگی ہی میں دی گئی۔ اس کا ذکر علامہ سیوطیؒ نے اپنی کتاب ”الخصائص الکبریٰ“ میں اسی آیت، سورۃ الحجر کی تفسیر کرتے ہوئے کیا ہے، جو حسب ذیل ہے:

”ابولہب کے بیٹے عتبہ نے ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی، جس پر حضور ﷺ زبان مبارک سے یہ الفاظ نکل گئے ”اے اللہ اس پر اپنے کسی کتے کو مسلط کر دے۔“ ابولہب اپنے بیٹے کو سواد شام، کپڑے کی تجارت کے سلسلہ میں بھیجا کرتا تھا۔ جب اس نے یہ بات سنی تو کہا کرتا، ”مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے بیٹے کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بددعا نہ لگ جائے۔ سیوطی نے بیہقی ہی کے حوالہ سے ایک اور روایت میں بتلایا ہے کہ عتبہ بھی یہ سن کر بہت خوف زدہ رہنے لگا تھا۔ چنانچہ جب شام کے سفر پر روانہ ہوا تو رات میں دوران سفر جہاں آرام کے لیے قیام کرتا، تو اس کے غلام اور مختار کار اسے درمیان میں سلاتے۔ دیوار کے ساتھ لٹاتے اور اس پر کپڑے ڈال دیتے، مگر ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود ایک رات ایک درندہ آیا، جس نے اسے ہلاک کر دیا۔ جب اس کی موت کی خبر ابولہب کو پہنچی تو بولا، ”میں تم سے نہ کہتا تھا کہ میں اس کے بارے میں محمد ﷺ کی بددعا سے ڈرتا ہوں۔“

اسی آیت ”انا کفینک المستہزئین“ کی تفسیر کرتے ہوئے ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”ایک دن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے گزر رہے تھے تو مشرکین نے آپ ﷺ کو شرارتاً چھیڑا، جس پر اسی وقت جناب جبریلؑ وہاں پہنچے اور ان مشرکین کو چوکا مارا، جس کی وجہ سے ان کے جسم ایسے ہو گئے جیسے نیزے سے زخم خوردہ ہوں اور اسی سے وہ مر گئے۔ یہ لوگ مشرکین مکہ کے بڑے بڑے رؤسا میں سے تھے۔

(2)

اسی آیت کی تفسیر میں امام قرطبی نے ابن اسحاق کے حوالہ سے لکھا ہے: ”حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ اسی اثناء جبریل علیہ السلام بھی بیت اللہ میں آپ ﷺ کے پاس آگئے۔ اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ ﷺ کے

صفحہ 96

پاس سے گزرا، تو جناب جبریلؑ نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور وہ اسی میں مرا۔ پھر ولید بن مغیرہ وہاں سے گزرا، اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے معمولی سی چھل گئی تھی اور اسے دو سال گزر چکے تھے۔ جبریلؑ نے اس کی طرف اشارہ کیا وہ پھول کر پک گئی، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ پھر عاص بن وائل وہاں سے گزرا، اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا۔ کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلا۔ راستہ میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی، جس نے اس کی جان لے لی۔ جناب جبریلؑ نے حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا، اس سے خون بہنے لگا اور وہ اسی تکلیف سے مر گیا۔” ان سب موذیوں کا سرغنہ ولید بن مغیرہ تھا، جس نے ان سب کو آپ ﷺ کی ایذا رسانی کے لیے جمع کیا تھا۔ جنہیں اس دنیا میں خدائے ذوالجلال نے اس وقت یہ دردناک سزا دی جبکہ حکومت الہیہ قائم نہیں ہوئی تھی اور تکمیل دین کا کام ہو رہا تھا اور یہ مکی دور تھا، اس لیے یہ سورتیں بھی مکی دور کی ہیں۔ جب خلافت الہیہ قائم ہو گئی تو تنقیص، تضحیک اور اہانت رسول کی سزا اسلامی حکومت میں بطور حد سزائے موت قرار پائی اور تکمیل دین کے بعد ساری امت کی یہ ذمہ داری ٹھہری کہ وہ توہین رسالت ﷺ کا سدباب کرے۔ اور اگر اسلامی حکومت موجود نہ ہو تو ہر فرد کو یہ حق ہے کہ وہ گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دے۔ (3)

مخالفت رسول ﷺ کی سزا:

اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے لیے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے:

”فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان O ذلک بانھم شاقوا الله ورسولہ و من یشاقق الله ورسولہ فان الله شدید العقاب۔“

(سورۃ انفال: 8‘ 12‘ 13)

”پس تم ان کی گردنوں پہ اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ (یہ حکم قتال) اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا تو یاد رکھو

صفحہ 97

اللہ (پاداش عمل میں) سخت سزا دینے والا ہے۔“

یہ آیات سورۃ انفال کی ہیں جو 2ھ میں مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ اسلامی ریاست معرض وجود میں آ رہی تھی اور دشمنان اسلام اللہ کے رسول کی مخالفت اور ایذا رسانی پر کمربستہ ہو گئے تھے۔ اس پاداش جرم میں ان کے لیے یہ سزا تجویز ہوئی۔ سورۃ الاحزاب میں حق سبحانہ تعالیٰ ذات رسالت مآب ﷺ پر اپنی اور اپنے ملائکہ کی طرف سے درود و سلام کے ذکر جمیل کے ساتھ ہی اہل ایمان کو ان کی بارگاہ قدس میں درود و سلام کی سوغات بھیجنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا:

”اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں‘ ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجی ہے اور ان کے لیے بڑا رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“

مفسرین کے ایک گروہ کی رائے میں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانے کی سزا میں زندان لعنت میں گرفتار ہوں‘ وہ رحمت الہی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے شریعت کی رو سے وہ ”مباح الدم“ یعنی واجب القتل قرار پائیں گے۔ اسی سورہ مبارکہ میں اس گروہ کی نشان دہی فرمائی جو اللہ کے رسول کو ایذائیں دیتا اور آپ پر زبان طعن دراز کرتا‘ آپ ﷺ کے اور پیروان حق کے خلاف اسلامی ریاست مدینہ میں افواہیں پھیلایا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں بتلا دیا کہ اس کا انجام کار کیا ہو گا:

”اگر منافقین اور وہ لوگ جنکے دلوں میں خرابی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے‘ تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آپ ﷺ کو اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے آپ ﷺ کے ساتھ رہ سکیں گے۔ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی۔ (پھر یہ لوگ) جہاں کہیں بھی مل جائیں اور پکڑے جائیں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں۔ یہ اللہ کی سنت (قانون) ہے‘ جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے اور تم اللہ کی سنت (قانون) میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ (5)

اس میں یہ سزا ان لوگوں کے لیے تجویز کی گئی ہے جو اپنے آپ کو

صفحہ 98

مسلمان ظاہر کرتے ہیں لیکن دراصل پیروان طاغوت ہیں، جنہیں اسلامی اصطلاح میں منافق کہا جاتا ہے۔

سورۃ توبہ میں اللہ کے رسول کو آزار پہنچانے والوں کو درد ناک عذاب سے خبردار کیا گیا ہے۔ فرمایا:

ومنهم الذين يوذون النبى و يقولون هو اذن قل اذن خير لكم يومن بالله ويومن للمومنين ورحمته للذين امنوا منكم۔ والذين يوذون رسول الله لهم عذاب اليمO

(سورۃ توبہ: 60‘ 61)

اور ان ہی (منافقوں) میں (وہ لوگ بھی) ہیں جو اللہ کے نبی ﷺ کو (اپنی بدگوئی سے) اذیت پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں یہ شخص تو بہت سننے والا (یعنی کان کا کچا ہے‘ اے پیغمبر ﷺ) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ہاں وہ بہت سننے والا ہے مگر تمہاری بہتری کے لیے۔ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے اور وہ مومنوں کی بات پر بھی یقین رکھتا ہے۔ (جن کی سچائی ہر طرح کے امتحانوں سے گزر کر کھری ثابت ہو چکی ہے) اور وہ ان کے لیے سرتا سر رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو آزار پہنچانا چاہتے ہیں‘ ان کے لیے عذاب ہے دردناک عذاب!!!

اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضور ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں آپ ﷺ کو کوئی جسمانی تکلیف یا اذیت نہیں پہنچائی جا رہی ہے بلکہ صرف کانوں کا کچا کہہ کر جو لوگ آپ ﷺ کو قلبی اور ذہنی اذیت پہنچاتے ہیں‘ وہ بھی گستاخی اور توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی درد ناک عذاب کی وعید ہے۔

پیروان اسلام پر تو حضور رسالت مآب ﷺ کا ادب و احترام فرض ہے لیکن منکرین رسالت ﷺ کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی دربار رسالت ﷺ کے آداب کو ملحوظ رکھیں اور انہیں ایسے ذومعنی الفاظ کے استعمال سے بھی روک دیا گیا جس میں خیر کے علاوہ شر کا معنوی پہلو بھی پوشیدہ ہو۔ چنانچہ وہ بدبخت یہودی جو شرارتاً اور بدنیتی سے ذومعنی الفاظ استعمال کرتے تھے‘ ان کے لیے یہ سخت وعید نازل ہوئی۔

صفحہ 99

من الذين هادو......... فلا يومنون الا قليلاO

(سورة نساء : 45)

”(اے پیغمبر ﷺ) وہ لوگ جنہوں نے یہودیت اختیار کی ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو لفظوں کو ان کے اصل جگہ سے پھیر دیا کرتے ہیں اور جب تم سے ملتے ہیں تو اس خیال سے کہ دین حق کے خلاف طعن و تشنیع کریں۔ زبان مروڑ مروڑ کر لفظوں کو بگاڑ دیتے ہیں (چنانچہ) کہتے ہیں ”سمعنا، عصینا“ اور ”واسمع غیر مسمع“ اور ”راعنا“ اگر یہ لوگ (راست بازی سے محروم نہ ہوتے اور ان شرارت آمیز لفظوں کی جگہ) ”سمعنا واطعنا“ اور ”اسمع“ اور ”انظرنا“ کہتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا اور درستگی کی بات تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑ چکی ہے۔ پس ایک چھوٹے گروہ کے سوا سب ایمان سے محروم رہیں گے۔

تفسیر : جصاص اس آیہ مبارک کی تفسیر کرتے ہوئے بتلاتے ہیں۔ ”ہر وہ لفظ جس میں خیر و شر دونوں معنوں کا احتمال ہو اس لفظ کا استعمال اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی ایسی حد یا قید نہ لگائی جائے جس سے خیر کا پہلو نمایاں ہو۔“

(6)

تفسیر کبیر میں امام فخر الدین رازیؒ لفظ ”راعنا“ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اگرچہ یہ لفظ صحیح المعنی ہے جس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ہم سے رعایت کریں یا ہماری طرف توجہ کریں لیکن عربی میں لفظ کو بطور استہزاء بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اس لفظ کو اگر صحیح معنی میں بھی استعمال کیا جائے تو اس سے برابری اور مساوات کا گمان ہوتا ہے‘ اس لیے اس کے استعمال ہی سے منع کر دیا گیا۔

(7)

مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں سورۃ بقرہ کی آیت 104 میں لفظ ”راعنا“ کی تفسیر یوں بیان کی ہے: ”یہودی جب آنحضرت ﷺ کی مجلس میں آتے تو اپنے سلام و کلام میں ہر ممکن طریقہ سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذو معنی الفاظ بولتے‘ زور سے کچھ کہتے‘ زیر لب کچھ اور کہہ دیتے‘

صفحہ 100

ظاہر میں ادب و آداب برقرار رکھتے ہوئے درپردہ آپ ﷺ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتے تھے۔ لفظ ”راعنا“ ایک ذومعنی لفظ ہے جب آنحضرت ﷺ کی گفتگو کے دوران یہودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھہریئے ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجئے تو وہ ”راعنا“ کہتے۔ اس لفظ کا ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ہماری رعایت کیجئے اور ہماری بات سن لیجئے۔ مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے، مثلاً عبرانی میں اس سے ملتا جلتا ایک لفظ تھا جس کے معنی تھے ”سن تو بہرہ ہو جائے“ گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سنو تو ہم تمہاری سنیں اور ذرا زبان لچکا کر ”راعینا“ بھی بنا لیا جاتا تھا جس کے معنی ”اے ہمارے چرواہے“ کے تھے۔“ (8)

علامہ شوکانی فتح القدیر میں لفظ ”راعنا“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”راعنا“ اور ایسے تمام الفاظ جن سے توہین رسالت ﷺ کا احتمال ہو ان کا استعمال قطعی طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ (9)

اس لیے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کر کے یہ حکم دیا گیا کہ وہ ایسے ذومعنی الفاظ سے قطعاً احتراز کریں تاکہ شان رسالت مآب ﷺ میں کسی قسم کی پنہاں اور پوشیدہ گستاخی کا احتمال بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ چنانچہ سورۃ بقرہ میں ارشاد ہوا:

یاایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللکفرین عذاب الیم۔

(سورۃ بقرہ آیت: 104)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو راعنا نہ کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ یعنی ہماری طرف التفات کیجئے کہا کرو اور توجہ سے بات سنو۔ یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔“

اس آیت مبارکہ میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ ان کافروں کو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔ بعض صاحبان نظر نے اس آیت کے اسلوب بیان سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ حق تعالیٰ کو یہودیوں کے اس فتنہ پرور گروہ کا یہ گستاخانہ انداز مخاطب اتنا ناگوار گزرا کہ ذات الٰہی نے ایسے شریر یہودیوں سے خطاب کرنا بھی پسند نہیں فرمایا۔ حالانکہ قرآن مجید میں

صفحہ 101

اور دوسرے مواقع پر یہود و نصاریٰ کو جابجا براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

علامہ شوکانی ”فتح القدیر“ میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ کوئی شخص ایسا لفظ استعمال کرے جس میں توہین رسالت ﷺ کا احتمال ہو تو وہ واجب القتل ہے۔ اس کی توثیق اس حدیث سے ہو جاتی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ ؓ کو یہ معلوم ہوا کہ یہودی لفظ ”راعنا“ رسول ﷺ کے بارے میں بطور طعن و تشنیع استعمال کرتے ہیں جس کی اوپر تشریح ہو چکی ہے تو آپ نے یہودیوں سے کہا:

”اے یہودیو! تم پر اللہ کی لعنت ہو۔ آئندہ سے اگر میں نے تم میں سے کسی کو لفظ راعنا کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔“ (10)

سورۃ نساء میں ایمان اور کفر کا فرق واضح کرتے ہوئے بتلایا گیا کہ پیغمبر برحق کی ہر بات کے آگے سرتسلیم خم کرنا ہی عین ایمان ہے اور اس کے خلاف اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس کرنا صریحاً کفر ہے۔ چنانچہ فرمان الٰہی ہے:

فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما۔

(سورۃ نساء : 64)

”پس (اے محمد ﷺ) تمہارے رب کی قسم یہ کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتے۔ جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو یہ اپنا حکم نہ بنا لیں اور پھر جو کچھ بھی فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے سر بسر تسلیم کرلیں۔“

شان نزول:

سورۃ نساء کی اس آیت مبارکہ کی شان نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک بظاہر مسلمان (جو اصل میں منافق تھا) اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملہ پر تنازعہ ہو گیا۔ دونوں اس سلسلہ میں آپ ﷺ کی خدمت اقدس

صفحہ 102

میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر فرمایا، جس سے دوسرا فریق راضی نہ ہوا اور اس کے اصرار پر یہ دونوں معاملہ کو لے کر از سر نو فیصلہ کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے (جو ان دنوں آنحضور ﷺ کے حکم سے مدینہ منورہ میں تنازعات اور خصومات کا فیصلہ کیا کرتے تھے اور مرکز میں رئیس القضاء (Chief Justice) کے عہدے پر مامور تھے)۔ آپؓ نے ان دونوں سے روئیداد مقدمہ سنی اور جب آپؓ کو معلوم ہوا کہ آنحضور ﷺ اس بارے میں یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما چکے ہیں، تو آپؓ نے خود اس منافق سے اس کی تصدیق کر لی اور اس کے بعد اسی وقت تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر دیا۔

اس کے بعد آپؓ نے فرمایا:

هكذا اقضى لمن لم يرض بقضاء الله ورسوله-

”اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اس کا یہی فیصلہ ہے جو میں نے کیا ہے۔“ (11)

مقتول کے ورثاء کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ حضور رسالت مآب ﷺ کی عدالت میں پہنچے اور حضرت عمرؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ کر دیا جس پر سورۃ نساء کی یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ”فاروق“ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ (12)

حضرت عمرؓ کے اس فیصلے سے اور آیہ مبارکہ کی شان نزول کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا بھی توہین اور گستاخی کا موجب ہے، جس کی تصدیق سورۃ نساء کی اس آیت مبارکہ نے کر دی۔

ان آیات قرآنی سے قانون الٰہی صاف طور پر اور کھل کر ہمارے سامنے آ گیا ہے کہ اگر کوئی کافر یا منافق جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کی سزا صرف سزائے موت ہے۔ ایک مسلمان جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان ہے، وہ حضور رسالت مآب ﷺ کی گستاخی کا تصور ہی نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی یا سوء ادبی برداشت کر سکتا ہے۔

اسلام تو وہ مذہب ہے جو یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ ایمان لانے کے بعد کوئی شخص کسی دوسرے کا مذاق اڑائے۔ اس کی

صفحہ 103

تضحیک یا استہزاء کرے، جو اس کی دل آزاری کا باعث ہو۔ کیونکہ یہی وہ بنیادی خرابی ہے جس سے معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ سورۃ الحجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: یا ایھا الذین امنو لا یسخر قوم من قوم...... ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان۔ ومن لم یتب فاولئک ہم الظلمونO

(سورہ الحجرات: 11)

”اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے ہو۔ نہ مرد مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔ نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔“

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ ”تفہیم القرآن“ میں لکھتے ہیں:

”مذاق اڑانے سے مراد محض زبان ہی سے کسی کا مذاق اڑانا نہیں بلکہ کسی کی نقل اتارنا، اس کی طرف اشارے کرنا، اس کی بات پر یا اس کے کام یا اس کی صورت یا اس کے لباس پر ہنسنا، اس کے کسی نقص یا عیب کی طرف لوگوں کو اس طرح توجہ دلانا کہ دوسرے اس پر ہنسیں۔ یہ سب بھی مذاق اڑانے میں داخل ہے۔ اصل ممانعت جس چیز کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی کسی نہ کسی طور پر تضحیک کرے۔ کیونکہ اس تضحیک میں لازماً اپنی بڑائی اور دوسرے کی تذلیل اور تحقیر کے جذبات کارفرما ہوتے ہیں جو اخلاقاً سخت معیوب ہیں۔ مزید برآں اس سے دوسرے شخص کی دل آزاری بھی ہوتی ہے جس سے معاشرے میں فساد رونما ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس فعل کو حرام کیا گیا ہے۔“ (13)

صفحہ 104

احادیث کی روشنی میں

(احکام الحدیث)

قرآن نے شاتم رسول ﷺ کے بارے میں یہ واضح فیصلہ صادر کیا ہے کہ اس دنیا میں اس کے لیے سزائے موت مقرر ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب جہنم تیار ہے۔ ان احکام الہی کی تعمیل دور رسالت مآب ﷺ اور اس کے بعد کے ادوار میں جس طرح ہوتی رہی ہے‘ اس کا یہاں اجمالی تذکرہ کا ماخذ احادیث اور تاریخ اسلام ہے۔ اس کا آغاز ہم احکام الحدیث سے کریں گے۔

احادیث کی مستند کتاب سنن ابو داؤد جو صحاح ستہ میں شامل ہے‘ توہین رسالت ﷺ کے بارے میں احادیث ”کتاب الحدود“ میں درج کی گئی ہیں‘ جس سے ظاہر ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی سزا‘ سزائے موت بطور حد مقرر ہے اور حد میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ اس مرحلہ پر ضروری ہے کہ حد کی متعین تعریف پیش نظر ہو۔ ”حد“ لغت میں کسی کام سے روک دینے کو کہتے ہیں‘ اس لیے دربان کو عربی میں ”حداد“ کہا جاتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں ”حد“ اللہ تعالی کا حق ہے۔ العقوبة المقدرة حقاً لله تعالیٰ“ اس لیے حدود کو حقوق اللہ کہا گیا ہے۔

”حد“ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وہ مقرر کردہ سزا ہے جس میں سوئی کی نوک کے برابر بھی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی تشریح امام رازیؒ نے ”تفسیر کبیر“ میں نسائی اور ابن ماجہ کی درج ذیل حدیث سے کی ہے۔

”یوتی بوال نقص من الحد سوطاً.......“

قیامت کے دن ایک حاکم پیش کیا جائے گا جس نے حد سے ایک کوڑا کم کر دیا تھا۔ استفسار ہو گا: ”تونے یہ حرکت کیوں کی تھی؟“

عرض کرے گا: ”پروردگار آپ کے بندوں پر رحم کھا کر۔“

ارشاد ہو گا: اچھا تو ان کے حق میں ہم سے زیادہ رحم کرنے والا تھا۔“

پھر حکم ہو گا: ”لے جاؤ اسے دوزخ میں۔“

صفحہ 105

اسی طرح ایک اور حاکم حضور حق پیش کیا جائے گا‘ جس نے حد پر ایک کوڑے کا اضافہ کیا تھا۔ اس سے پوچھا جائے گا: ”تو نے یہ کس لیے کیا تھا؟ عرض کرے گا: ”تاکہ لوگ آپ کی نافرمانیوں سے باز رہیں۔“ ارشاد ہو گا: ”اچھا تو ان کے معاملہ میں مجھ سے بھی زیادہ حکیم تھا۔“ پھر حکم ہو گا: ”لے جاؤ اسے دوزخ میں۔“

(14۔الف)

اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مقرر کردہ حدود میں کسی کو کمی بیشی کا کوئی اختیار نہیں۔ اس بارے میں سورۃ المجادلہ کی آیت ”ذلك لتومنوا بالله ورسوله وتلك حدود الله وللكفرين عذاب الیمo“ کی تفسیر کرتے ہوئے ابن جریر طبری میں لکھتے ہیں‘ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے: ”جو اللہ کی حدود کے معاملہ میں اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی مقرر کردہ حدود کی جگہ دوسری حدیں تجویز کر لیتے ہیں“ بیضاوی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے: ”اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مخاصمت اور جھگڑا کرتے ہیں یا ان کی مقرر کردہ حدود کے سوا دوسری حدیں مقرر کر لیتے ہیں۔“ صاحب روح المعانی آلوسی نے شیخ الاسلام سعد اللہ چلپی کے حوالہ سے لکھا ہے: ”آیت مذکور میں ان حکمرانوں اور حکام سوء کے لیے سخت وعید ہے جنہوں نے شریعت کی مقرر کردہ حدود کے خلاف بہت سے احکام وضع کر لیے ہیں اور ان کا نام قانون رکھا ہے۔“

(14۔ب)

حضور رسالت مآب ﷺ نے ”حدود اللہ“ کو جاری کرنے میں کسی بھی رو رعایت کو ملحوظ نہیں رکھا۔ چنانچہ بنی مخزوم کی ایک صاحب ثروت فاطمہ بنت قیس نامی عورت چوری کے مقدمہ میں عدالت نبوی ﷺ میں لائی گئی اور اس کی سفارش کے لیے آپ ﷺ کے محبوب غلام زادے جناب اسامہؓ کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ تو اس پر حضور ختمی مرتبت نے جو الفاظ فرمائے وہ حدود اللہ کی پاسبانی کی آخری حد ہے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ سے بھی یہ جرم سرزد ہوتا تو میں اس کے ہاتھ قلم کر دیتا اور سب یہ جانتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ آپ ﷺ کی محبوب ترین صاحبزادی تھیں۔

صفحہ 106

حضور رسالت مآب ﷺ کو سارے جہانوں کے لیے ”رحمۃ للعالمین“ بنا کر بھیجا گیا تھا‘ اس لیے رحمت و جمال کا تقاضا تھا کہ اس جہان خاک و آب میں بھی کائنات خلقت کی طرح میزان عدل قائم کی جائے‘ جس کے لیے ضروری تھا کہ یہاں ”حدود الٰہی“ جاری و ساری ہوں۔ سو نبی رحمت ﷺ نے اپنی مخالفت اور توہین کرنے والوں کو جو دراصل اللہ کی اور اللہ کے قانون فطرت کی مخالفت تھی‘ جو سزائے موت دی‘ اس کا مقصد شریعت الہیہ کا نفاذ تھا۔ اس سلسلہ میں علامہ اقبالؒ نے اس واقعہ کا مولانا گرامی کے نام اپنے ایک مکتوب میں بطور خاص ذکر کیا ہے۔ جب نظیر نامی ایک گستاخ رسول ﷺ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قتل کر دیا گیا‘ تو اس کی بیٹی اس کی لاش پر نوحہ کناں آئی اور اس نے اپنے باپ کی موت پر نہایت درد انگیز مرثیہ پڑھا جس پر حضور ﷺ کی چشم مبارک سے آنسو جاری ہو گئے۔ جب نبی رحمت ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ ”میں نے بحیثیت ”محمد رسول اللہ“ اس کے قتل کا حکم دیا تھا اور اب بحیثیت ”محمد ﷺ ابن عبداللہ“ میرے آنسو نکل آئے ہیں۔“ جن کی آب و تاب گوہر نایاب کے نصیب میں بھی نہیں۔“ (15)

توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

شریعت اور رحمت کا ایسا امتزاج دنیا نے اس سے پہلے کہاں دیکھا تھا!

صفحہ 107

دربار نبوت ﷺ کے فیصلے

سنن ابو داود میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص کی ایک ام ولد تھی جو حضور رسالت مآب ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھی اور منع کرنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ ایک رات اس نے آپ ﷺ کی ہجو شروع کی اور آپ ﷺ کی برائی کرنے لگی۔ جس پر اس نابینا صحابی نے چھرا اس کے پیٹ میں گھونپ دیا جس سے وہ مرگئی۔ جب صبح ہوئی تو اس کے قتل کا مقدمہ نبی ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا۔ آپ ﷺ نے ساری روئیداد سننے کے بعد تمام لوگوں کو حاضر عدالت ہونے کا حکم دیا اور جب سب جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے قسم دے کر فرمایا، جس شخص نے بھی یہ جرم کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے (یعنی اقبال جرم کرے) جس پر وہ نابینا شخص مجمع کو پھاندتا ہوا آپ ﷺ کے سامنے آگیا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں اس کا قاتل ہوں۔ وہ آپ ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ میری زجر و توبیخ اور منع کرنے پر بھی باز نہ آتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے موتیوں کی مانند دو بیٹے ہیں اور وہ میری رفیق حیات بھی تھی، لیکن کل رات جب اس نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہا اور آپ ﷺ کی ہجو کی، تو میں نے اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر اس کو مار دیا ہے۔“ حضور ﷺ کے سامنے اس کی کوئی تردید پیش نہیں ہوئی تو آپ ﷺ نے کھلی عدالت میں فرمایا:

دیکھو! گواہ رہو! ”ان دمها هدر“ ”اس کا خون رائیگاں گیا۔“ (یعنی اس کے خون کے بدلے قصاص یا دیت کا مطالبہ باقی نہیں رہا کیونکہ وہ واجب القتل ہو گئی تھی۔ (16)

اسی طرح کا ایک اور واقعہ جو مدینہ میں پیش آیا تھا، جس کا ذکر سورۃ نساء کی آیت ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم....“ کی تفسیر میں قبل ازیں کر دیا گیا ہے کہ جب ایک منافق نے حضور ﷺ کے فیصلے کے بعد حضرت عمر ؓ سے دوبارہ فیصلہ کی درخواست کی تو اسے بھی اہانت رسول ﷺ کے جرم میں قتل کر دیا گیا اور اس کا دعویٰ عدالت نبوی ﷺ میں پیش ہوا تو اس کی سماعت کے بعد اس آیت کے نزول سے نہ صرف حضرت عمر ؓ کے فیصلہ کی عدالت الٰہی سے توثیق ہوئی بلکہ انہیں

صفحہ 108

”فاروق“ (یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا) کے عالی مرتبت خطاب سے بھی سرفراز فرمایا گیا۔

قتل کعب بن اشرف:

جناب جابر بن عبداللہؓ انصاری سے روایت ہے کہ سرکار رسالت مآب ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: ”تم میں سے کون کعب بن اشرف کی خبر لے گا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔“ یہ سن کر محمد بن مسلمہ انصاریؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”یارسول اللہ کیا آپ ﷺ کو منظور ہے کہ میں اسے ختم کر دوں۔“ فرمایا: ”ہاں“۔ جس پر انہوں نے کہا: ”تو پھر مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے نبٹنے کے لیے جس طرح مناسب سمجھوں معاملہ کروں۔“ فرمایا: ”اجازت ہے۔“ اس کے بعد محمد بن مسلمہؓ کعب کے پاس پہنچے اور کہا ”دیکھو یہ شخص (یعنی پیغمبر علیہ التحیۃ والسلام) ہم سے زکوٰۃ مانگتا ہے جبکہ ہمارے پاس خود کھانے کو نہیں۔ عجیب مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ ہمارے لیے کچھ قرض کا انتظام کرا دو۔“ کعب نے کہا: ”ابھی کیا ہے۔ خدا کی قسم آگے چل کر تمہیں اور بھی بہت تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔“ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ”بات یہ ہے کہ ہم ایک بار اس کی پیروی کر چکے ہیں، اب یہ اچھا نہیں لگتا کہ ایک دم اس کو چھوڑ دیں مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خیر ہم اس غرض سے آئے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق (غلہ یا کھجور) ہم کو قرض دلوا دو۔“ کعب نے کہا: ”اچھا اس کا انتظام ہو جائے گا مگر اس کے بدلے تمہیں رہن رکھنا ہو گا۔“ انہوں نے کہا: ”کیا چیز ہم بطور رہن رکھیں۔“ کعب نے کہا: ”اپنی عورتوں کو بطور رہن ہمارے پاس رکھو۔“ جن پر ان لوگوں نے کہا: ”یہ بھی خوب! سارے عرب میں تم خوبصورت لوگ ہو، بھلا ہم کس طرح اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گرو کر دیں۔“ اس نے کہا: ”اچھا اپنے بیٹوں کو ہمارے پاس گرو کرو۔“ انہوں نے کہا: ”بیٹوں کو گرو کریں گے تو لوگ ساری عمر طعنہ دیں گے کہ وسق یا دو وسق پر یہ گروی ہوئے تھے، جو بڑے شرم کی بات ہے۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس بطور رہن رکھ سکتے ہیں۔“ اس گفتگو کے بعد محمد بن مسلمہؓ رات کو پھر آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ جب رات کو آئے تو ابو نائلہ کو، جو کعب کا رضاعی بھائی تھا، ساتھ لائے۔ کعب نے ان کو قلعہ کے پاس بلا لیا اور خود قلعہ سے اتر کر

صفحہ 109

نیچے ان سے آکر ملا۔ جب وہ قلعہ سے اترنے لگا تو اس کی بیوی کہنے لگی: ”اتنی رات گئے کہاں جا رہے ہو!“ کعب نے کہا: ”محمد بن مسلمہؓ اور میرا بھائی ابو نائلہؓ مجھے بلا رہے ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں، عمرو بن دینار کے سوا اور لوگوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ اس کی بیوی نے یہ بھی کہا: ”میں نے جو آواز سنی ہے اس سے خون ٹپک رہا ہے۔“

جب کعب سر سے چادر اوڑھے ہوئے اترا (اس خیال سے کہ مسلمانوں کا اسلحہ اس کے پاس گرو ہو جائے گا) تو اس کے بدن سے خوشبو کی مہک آ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: ”میں نے تو آج تک ایسی عطر بیز خوشبو نہیں سونگھی تھی۔“ عمرو کے سوا اور دوسرے راویوں نے یوں بیان کیا ہے کہ کعب نے اس کے جواب میں کہا: ”میرے پاس عرب کی ایسی عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔“ عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ محمد بن مسلمہؓ نے کعب سے کہا: ”کیا میں تمہارا سر سونگھ لوں۔“ کعب نے کہا: ”ہاں سونگھ لو۔“ محمد بن مسلمہؓ نے اس کا سر خود بھی سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی سونگھایا۔ پھر کہا: ”ایک مرتبہ اور۔“ اس نے کہا: ”اچھا“۔ اس مرتبہ محمد بن مسلمہؓ نے کعب کا سر زور سے تھام لیا اور ساتھیوں سے کہا، ہاں اس کا سر لے لو اور انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی۔“ (17)

کعب بن اشرف یہودی سردار تھا اور اسلام اور حضور ﷺ کا بدترین دشمن تھا۔ غزوۂ بدر میں جب کفار مکہ کو شکست ہوئی تو اس نے کہا: ”آج زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے۔“ اس کا قتل ہجرت کے پچیسویں مہینے 14 ربیع الاول کو ہوا جبکہ اسلامی ریاست مدینہ میں قائم ہو چکی تھی۔ بدبخت کعب حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کی ہجو کرتا تھا اور آپ ﷺ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا میں دوستی اور بھائی کا رشتہ بھی مانع نہیں آتا۔

صحیح بخاری میں ”کتاب المغازی“ کے علاوہ ”طبقات ابن سعد“ میں بھی اس واقعہ کی تفصیلات موجود ہیں۔

عبدالرزاق بن ہمامؒ کے مقام اور مرتبہ سے اہل علم واقف ہیں۔ یہ امام بخاریؒ کے جلیل القدر استاد اور تبع تابعی ہیں۔ ان کا دور دوسری صدی ہجری کے آغاز کا دور ہے۔ ان کے مجموعہ احادیث کا نام ”المصنف“ ہے، جس میں انہوں نے ”سب النبی“ کا

صفحہ 110

علیحدہ باب قائم کیا ہے۔ یہ احادیث 9704 سے شروع ہو کر 9708 پر ختم ہوتی ہیں۔

حدیث 9704: ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کے بارے میں دشنام طرازی کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا۔“ اس پر جناب زبیرؓ نے کہا، میں حاضر ہوں۔“ پھر حضرت زبیرؓ نے جاکر اس گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کیا۔

حدیث 9705: ایک بدبخت عورت حضور ﷺ کو گالیاں دیتی رہتی تھی۔ حضور ﷺ کے حکم سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

حدیث 9706: ایک نصرانی شخص کے قتل کے بارے میں ہے جس نے حضور ﷺ کو گالیاں دیں تھیں جس پر اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔ (اس کی تفصیل اگلے باب میں آئے گی چونکہ یہ واقعہ حضور ﷺ کے یا دور خلافت راشدہ کا نہیں ہے)۔

حدیث 9707: سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی تکذیب کی۔ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ سے فرمایا: ”جاؤ اور اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔“

حدیث 9708: حضرت علیؓ نے حکم دیا جس نے سرکار رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی اس کی گردن مار دی جائے۔ امیر المومنینؓ کا یہ فرمان ابن اشتمی کے والد نے سنا جسے ابن اشتمی نے صاحب ”المصنف“ عبدالرزاق بن ھمام سے بیان کیا۔

سنن ابو داؤد میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ ﷺ کی ہجو کرتی تھی۔ ایک شخص نے ہمیشہ کے لیے اس کا منہ بند کر دیا۔ (یعنی اسے مار دیا گیا) جب حضور ﷺ کے سامنے اس کا مقدمہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا خون باطل قرار دیا۔ (اس کے ورثا کو قصاص یا دیت کا حق دار نہیں سمجھا گیا)۔

قاضی عیاضؒ نے کتاب ”الشفاء“ میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے حضور ﷺ کی ہجو کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”کون ہے جو میرے لیے اس کو ٹھکانے لگائے گا۔“ اسی قبیلہ کا ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا ’یا رسول اللہ یہ کام میں سرانجام دوں گا۔‘ چنانچہ وہ گیا اور اس نے جاکر اس عورت کو قتل کر دیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ”اس کا خون مباح ہے۔“

صفحہ 111

کتاب ”الشفاء“ میں ابن قانع سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا ”یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک) میں نے اپنے والد کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا‘ اس لیے اسے میں نے قتل کر دیا ۔“ آپ ﷺ نے اس سے باز پرس نہیں فرمائی۔

صفحہ 112

دور خلافت میں

عہد صدیقؓ

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اسلام اور ختم نبوت ﷺ کے خلاف اٹھنے والی شورشوں اور خاص طور پر فتنہ ارتداد کا جس طرح سدباب کیا اور خلافت کو علی منہاج النبوۃ قائم کیا، وہ ان ہی کا حصہ تھا۔ حضرت ابو بکرؓ انتہائی حلیم الطبع اور نرم خو ہونے کے باوجود دین کے معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت برداشت نہیں کرتے تھے۔ ہم یہاں ان کے عہد خلافت کے ان دو واقعات کا ذکر کریں گے جو توہین رسالت ﷺ سے متعلق ہیں۔

مہاجر بن امیہ جو حضرت ابو بکرؓ کے دور خلافت میں صوبائی عدلیہ کے سربراہ تھے، کی عدالت میں دو گانے والی عورتوں کا مقدمہ پیش ہوا۔ ایک کے خلاف الزام تھا کہ اس نے سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ دوسری عورت پر الزام تھا کہ اس نے اپنے گیتوں میں مسلمانوں کی ہجو اور توہین کی ہے۔ دونوں کے خلاف شہادت سے جرم ثابت ہونے پر انہیں یہ سزا دی گئی کہ دونوں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے اور ان کے دانت توڑ دیئے گئے کہ آئندہ ایسی بد آموزی سے وہ باز رہیں۔ ان دونوں مقدمات کی روئیداد جناب صدیق اکبرؓ کے سامنے پیش ہوئی تو آپؓ نے ان دونوں سزاؤں سے اختلاف کرتے ہوئے مہاجر بن امیہ کو تحریر فرمایا:

”اس مغنیہ کے خلاف جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، تم نے جو کارروائی کی اس کا مجھے علم ہوا۔ اگر تم یہ کارروائی نہ کر چکے ہوتے تو میں تمہیں حکم دیتا کہ اسے سزائے موت دی جائے۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ارتکاب جرم کی سزا عام جرائم کی سزا کے برابر نہیں ہوتی اور تم نے دوسری مغنیہ کو، جس نے مسلمانوں کی ہجو اور دشنام طرازی کی ہے، جو سزا دی ہے وہ بھی درست نہیں۔ اس لیے آپؓ نے حاکم عدالت کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ محتاط رہے اور ایسی سنگین سزا کے اجرا سے اجتناب کرے۔“

توہین رسالت کے بار ژرف نگاہی، حلم و تدبر اور اشتعال انگیزی اور غم و غصہ فرماتے ہیں: ”ایک دن میں حضر گستاخی کی جس پر آنجنابؓ پر مجھے غصہ آگیا اور میں بھی ابو برزہؓ ”اے خلی گردن اڑا دوں۔“ حضرت ابو بکرؓ نے سے اندر کمرے میں چلے گئ حضرت ابو بکرؓ : (ابو ابو برزہؓ : ”یہی کہ حضرت ابو بکرؓ : ”(ا ابو برزہ: ”یقیناً میں حضرت ابو بکرؓ : ر بعد کسی اور شخص کو حاص وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ حضرت ابو بکر صد یہ اعلان حق کیا اور عام اس گستاخ اور زبان درا طعن و تشنیع اور دشنام ط رسول ﷺ کی شان می کسی کم تر سزا کو پسند ن ہیں۔ حضرت ابو بکر صد خطبہ ارشاد فرمایا تھا جس

صفحہ 113

توہین رسالت کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ایک اور واقعہ سے ان کی ژرف نگاہی، حلم و تدبر اور صحیح قوت فیصلہ کا اندازہ ہوتا ہے، جس میں ان کی ذاتی دشمنی، اشتعال انگیزی اور غم و غصہ کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اس واقعہ کے راوی حضرت ابو برزہؓ فرماتے ہیں:

”ایک دن میں حضرت ابو بکرؓ کی مجلس میں موجود تھا۔ ایک شخص نے آپ سے گستاخی کی جس پر آنجناب اس شخص سے ناراض ہوئے۔ خلیفہ وقت کی شان میں گستاخی پر مجھے غصہ آ گیا اور میں بھی اس وقت مشتعل ہو گیا۔

ابو برزہؓ ”اے خلیفہ رسول اگر آپ اجازت دیں تو میں اس نامعقول گستاخ کی گردن اڑا دوں۔“

حضرت ابو بکرؓ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑے ہوئے اور خاموشی سے اندر کمرے میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے اندر بلا بھیجا۔

حضرت ابو بکرؓ (ابو برزہؓ) تم نے ابھی مجھ سے کیا کہا تھا؟

ابو برزہؓ ”یہی کہ آپ اگر اجازت دیں تو میں اس کا سر اڑا دوں۔“

حضرت ابو بکرؓ ”اچھا اگر میں تمہیں اجازت دیتا تو کیا تم واقعی اسے مار دیتے؟“

ابو برزہؓ ”یقیناً میں اس کو زندہ نہ چھوڑتا۔“

حضرت ابو بکرؓ رب ذوالجلال کی قسم یہ مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخص کو حاصل نہیں (کہ اس سے گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے خواہ وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو)

(18)

حضرت ابو بکر صدیقؓ مزاج شناس نبوت تھے۔ انہوں نے اپنی ذات سے بلند ہو کر یہ اعلان حق کیا اور عام حکمرانوں یا بادشاہوں کی طرح ذاتی اور منصبی حملہ پر مشتعل ہو کر اس گستاخ اور زبان دراز کو جان سے مار دینے کا حکم نہیں دیا۔ امت مسلمہ کے خلاف طعن و تشنیع اور دشنام طرازی پر بھی وہ کسی سنگین سزا کا مطالبہ نہیں کرتے، لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی ان کے لیے ناقابل برداشت ہے اور اس سلسلہ میں وہ کسی کم تر سزا کو پسند نہیں فرماتے، بلکہ گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے خلیفۃ الرسولؐ منتخب ہونے کے بعد جو سب سے پہلا خطبہ ارشاد فرمایا تھا جس میں سٹیٹ پالیسی کا اعلان کیا گیا کہ ”اگر میں احکام الٰہی اور سنت

صفحہ 114

رسول ﷺ سے انحراف کروں تو مجھے معزول کر دیا جائے۔" اس کی روشنی میں یہ نتیجہ باآسانی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شاتم رسول کے قتل کا حکم، احکام الٰہی اور سنت نبوی ﷺ کے منشاء کے عین مطابق تھا اور اس بارے میں کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا۔ اس لیے علمائے امت اس کو ”اجماع سکوتی“ سے تعبیر کرتے ہیں۔

دورِ فاروقی:

حضرت عمرؓ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہی میں گستاخ رسول کی سزائے موت دے کر بارگاہِ الٰہی سے ”فاروق“ کے لقب سے سرفراز ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل پہلے آچکی ہے۔

ابن وہب نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ ایک راہب نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں دشنام طرازی کی۔ جب حضرت ابن عمرؓ نے یہ بات سنی تو ان لوگوں سے جنہوں نے یہ واقعہ سنایا فرمایا: ”تم نے اسے قتل کیوں نہیں کر دیا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو اسے زندہ نہ چھوڑتا۔“ (19)

ابن مسعودؓ کا فیصلہ:

طحاوی کے باب ”استتابۃ المرتد“ میں حضرت عبداللہ ابن مسعود جو فقہ حنفی کے ”امام المنتقی“ ہیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں کوفہ کے چیف جسٹس تھے، کا ایک اہم فیصلہ درج ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ کی عدالت میں پیروان مسیلمہ کذاب کو ارتداد کے جرم میں گرفتار کر کے پیش کیا گیا۔ جنہوں نے توبہ کرتے ہوئے معافی کی درخواست کی۔ ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو آپ نے باوجود توبہ سزائے موت دی۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایک ہی جرم کی دو مختلف سزاؤں کا کیا جواز ہے؟ جس پر حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: ابن النواحہ وہ آدمی ہے جو حضور ﷺ کی خدمت میں حجرہ بن وثال کے ساتھ مسیلمہ کا سفیر بن کر آیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ان دونوں نے کہا، کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ (جو صریحاً آپ ﷺ کی شان میں گستاخی تھی) جس پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر سفارت کاروں کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ اب چونکہ ابن النواحہ گرفتار ہو کر آیا ہے اس لیے اس کو یہ سزائے موت دی گئی ہے۔“ (20)

صفحہ 115

خلافت حضرت عثمانؓ کا کوئی ایسا واقعہ میری نظروں سے نہیں گزرا جس میں شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی گئی ہو۔

دور حیدری :

حضرت علی المرتضیٰ پیغمبر اعظم ﷺ کے حکم کی تعمیل میں شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دینے کے لیے اس کی تلاش میں حضرت زبیرؓ کے ہمراہ روانہ ہوئے تھے اور اپنے عہد خلافت میں شاتم رسول ﷺ کے لیے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ ان واقعات کا تفصیلی ذکر گزشتہ باب میں آچکا ہے۔

خاندان نبوت ﷺ اور شاتم رسول :

حضرت امام باقرؒ سے روایت ہے کہ ایک ہذلی حضور اکرم ﷺ کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”کون ہے جو اس کی خبر لے گا“۔ اس پر انصار میں سے دو صحابی اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ”یا رسول اللہ“ ہم یہ فرض انجام دیں گے“ چنانچہ وہ دونوں اس کی تلاش میں چل پڑے۔ جب وہ انہیں مل گیا اور انہوں نے پوری طرح اس کی شناخت کرلی تو اس کو قتل کر دیا۔

جناب امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان کی ذات پاک پر سب و شتم کرنے والا واجب القتل ہے۔“

(21)

دور امیہ اور عباسیہ :

دور ملوکیت میں عرب حکمرانوں کا طرز بود و باش اگرچہ سلاطین عجم کی طرح غیر اسلامی ہوتا جا رہا تھا، لیکن ملک کا قانون عام شریعت ہی کے تابع تھا۔ اس ضمن میں ہم ایک واقعہ ”صاحب المصنف“ ہی کے حوالہ سے یہاں نقل کر رہے ہیں، جو اس طرح بیان ہوا ہے۔

ایوب بن یحییٰ (جو عبدالملک کے دور حکومت میں حاکم عدن مقرر ہوئے تھے) جب عدن پہنچے تو ان کے سامنے ایک نصرانی کو لایا گیا، جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ایوب نے اس کے بارے میں عبدالرحمٰن صنعانی سے مشورہ کیا،

صفحہ 116

جنہوں نے اس جرم کی پاداش میں اس کے قتل کا فتویٰ دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ عبدالرحمن صنعانی وہ بزرگ ہیں، جنہوں نے حضرت عمرؓ سے اکتساب علم کیا اور ان کے تربیت یافتہ ہیں۔ پھر ایوب نے اس بارے میں عبدالملک کو اس کی اطلاع دی جس نے جواب میں کہا کہ تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔

امام ابن حزم نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف ”المحلیٰ“ میں ابن عبدالملک سے متعلق شاتم رسول کے بارے میں ایک اور واقعہ کا ذکر علی بن المدینی کے حوالہ سے اس طرح کیا ہے۔

”علی بن المدینی ایک مرتبہ خلیفہ ابن عبدالملک کے پاس آئے تو اس نے ان سے پوچھا کیا تم کو کوئی ایسی حدیث معلوم ہے جو شاتم رسول ﷺ کے بارے میں مستند ہو۔ علی نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عبدالرزاق بن ھمام صاحب المصنف کی وہ حدیث سنائی جس میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضور ﷺ کے حکم پر شاتم رسول کو قتل کیا تھا۔ جس پر خلیفہ نے علی بن المدینی کو خوش ہو کر ایک ہزار دینار بطور انعام دیئے۔“ (22۔الف)

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور خلافت میں:

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور خلافت میں خلافت راشدہ کے اسلامی اقدار کی تجدید ہوئی اور قانون شریعت پھر سے، حکمران اور رعایا دونوں پر یکساں لاگو ہو گیا اور ساری اسلامی قلمرو میں یہ احکام جاری ہو گئے کہ عدل و انصاف قرآن و سنت کے مطابق کیا جائے اور کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہونے پائے۔ چنانچہ کسی حاکم صوبہ کو یہ جرات نہ تھی کہ وہ کوئی کام خلاف شریعت کرے۔ اس لیے کوفہ کے گورنر نے امیرالمومنین عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں مکتوب بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے حضرت عمرؓ یا انہیں گالی دی ہے۔ کیا وہ واجب القتل ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے لکھا کہ اس کی سزا موت نہیں کیونکہ صرف شاتم رسول ﷺ ہی شریعت کی رو سے واجب القتل ہے۔ (22۔ب)

عباسی دور حکومت میں:

خلیفہ ہارون رشید نے چند فقہاء عراق کے حوالہ سے امام مالکؒ سے دریافت کیا کہ

جو شخص سرکار رسالت مآب ﷺ غضبناک ہوئے اور فرمایا اس امت خاموش رہے، ایسے شخص کو قتل کر جائیں۔ (23)

صفحہ 117

جو شخص سرکار رسالت مآب ﷺ کو گالی دے، اسے کیا سزا دی جائے۔ اس پر امام غضبناک ہوئے اور فرمایا اس امت کا کیا ٹھکانا جو نبی کریم ﷺ کی شان میں سب و شتم پر خاموش رہے، ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے اور جو صحابہؓ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔ (23)

صفحہ 118

شاتم رسول ﷺ ائمہ فقہ کی نظر میں

شاتم رسول اور ائمہ فقہ :

تمام ائمہ فقہ‘ امام ابو حنیفہؒ ‘ امام مالکؒ ‘ امام شافعیؒ ‘ امام احمد بن حنبلؒ ‘ امام داؤدؒ ‘ امام ابن حزمؒ ‘ امام ابن تیمیہؒ (رحمہم اللہ تعالیٰ) اور ان کے سارے صاحب علم و فضل شاگرد اس بات پر متفق ہیں کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور یہ سزا اسے بطور حد دی جائے گی۔

فقہ حنفی :

"فتاویٰ بزازیہ" اور "تنبیہہ الولاۃ" جو فقہ حنفی کی معروف کتابیں ہیں‘ ان کی رو سے شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ اس کی سند میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا وہ فرمان ہے: جب آپؓ نے اپنے گستاخ کے قتل سے ابوبرزہؓ کو منع کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ حق سوائے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کسی اور کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ امام ابو حنیفہؒ اور اہل کوفہ کے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے اور یہی مذہب مشہور اور مذہب جمہور ہے۔ امام خیر الدین ربانی (حنفی) فتاویٰ خیریہ میں شاتم رسول ﷺ کو حداً واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ صدر الشہید حنفی کا "البحر الرائق" میں یہی فتویٰ ہے کہ شاتم رسول کو حداً قتل کیا جائے گا۔ امام ابو نصر حنفی اور علامہ ابواللیث سمرقندی حنفی بھی اسی کے قائل ہیں کہ شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ البتہ چند فقہائے حنفیہ کا اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ اس بات پر ہے کہ اگر شاتم رسول قبل الاخذ یعنی گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو یہ حد ساقط ہو جائے گی اور وہ سزائے موت سے بچ جائے گا۔ اس بارے میں بھی علمائے احناف کی اکثریت کا فتویٰ ہے کہ قبل الاخذ توبہ سے حد ساقط نہیں ہو گی اور شاتم رسول ﷺ مستوجب سزائے موت ہو گا۔ بعد الاخذ یعنی گرفتاری کے بعد معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ علمائے احناف کو اس مسئلہ پر جو اشتباہ پیدا ہوا ہے وہ ایک قول ہے جو امام ابو حنیفہؒ سے منسوب ہے۔ جس کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا وہ قول امام صاحبؒ کا ہے بھی یا نہیں؟ خود

صفحہ 119

ان کے فاضل شاگرد امام ابو محمدؒ تو بلا استفسار قتل مرتد کو بھی مباح قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ مرتد اور شاتم رسول ﷺ میں واضح فرق موجود ہے۔ کیونکہ توہین رسالت کا جرم ارتداد سے بھی سنگین تر ہے۔ (24)

فقہ حنفی کے ایک اور مستند امام ابن عابدین کا ردالمحتار حاشیہ درمختار میں حسب ذیل فتویٰ درج ہے۔

”کافر کو سب و شتم النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وجہ سے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔“ (25)

ابن الہمام فتح القدیر کی شرح میں لکھتے ہیں:

”جس نے رسول اللہ ﷺ سے دل میں بھی بغض رکھا‘ وہ مرتد ہو گیا اور شاتم رسول ﷺ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ ہمارے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ سے سزائے موت موقوف نہیں ہو گی اور یہ مذہب اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا بھی ہے اور یہ حکم حضرت ابوبکرؓ سے منقول ہے۔ صدر الشہید حنفیؒ ‘ امام خیرالدین رملیؒ ‘ ابواللیث سمرقندیؒ ، امام نصرؒ کے علاوہ اکثر فقہائے احناف کا اس پر اتفاق ہے۔ (26)

نعمان عبدالرزاق السامری نے اپنی کتاب ”احکام المرتد فی الشریعۃ الاسلامیہ“ میں فقہ حنفی کے ایک بہت بڑے عالم علامہ محی الدین کی کتاب ”السیف المشہور علی الزندیق ساب الرسول ﷺ“ میں شاتم رسول ﷺ کے بارے میں علمائے احناف کی تحقیق کا مکمل اقتباس درج کیا ہے۔ جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔

”جہاں تک احناف کا تعلق ہے وہ مرتد کی توبہ کے قائل نہیں۔ اسی طرح وہ گستاخ رسول ﷺ کی توبہ کو بھی رد کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک توہین رسالت ﷺ ارتداد سے بھی سنگین جرم ہے۔ اس سلسلہ میں وہ علامہ محی الدین کی تحریر کو من و عن نقل کرتے ہوئے اسے بطور سند پیش کرتے ہیں۔“

”شاتم رسول کے بارے میں فتاویٰ بزازیہ سے واضح ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا انبیاء میں سے کسی کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں برا بھلا کہے تو ایسے شخص کو بطور حد سزائے موت دی جائے گی اور وہ کسی صورت میں بھی اس کی توبہ قابل قبول نہیں“ خواہ وہ گرفتار کر کے عدالت میں لایا جائے یا وہ خود توبہ کر کے عدالت میں پیش ہو جائے۔ کیونکہ حد اس پر واجب ہو چکی ہے۔ اس لیے توبہ سے وہ ساقط نہیں ہوگی۔

صفحہ 120

اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی شخص اس کے خلاف رائے دے گا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بندہ سے بھی متعلق ہے۔ بایں وجہ وہ توبہ سے زائل نہیں ہو گا۔ جیسا کہ تمام حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ قذف کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہو جاتی۔ یہی مذہب ہے حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے اصحاب کا اور اسی کی روشنی میں علمائے روم آج تک فتوے دیتے آئے ہیں۔ آل عثمان سے قبل بھی اسی فتویٰ پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ اس فتویٰ کی علت سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی ہے۔ یہ دراصل انسانی حق ہے اور اس کی بدولت ایک نظام کی حفاظت ہوتی ہے اور یہ سزا ارتداد سے بھی روکتی ہے“

(27)

فقہ حنفی کی ایک اور مستند کتاب ”فتاویٰ قاضی خان“ میں جو امام الحسن بن المنصور الاوزجندی کی تالیف ہے‘ ان باتوں کا صراحتاً ذکر ہے جن سے اہانت رسول ﷺ ہوتی ہے۔

ہندوستان کے درویش صفت‘ پابند شریعت اور غازی حکمران اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں جو فقہ مدون ہوئی تھی ”فتاویٰ عالمگیریہ“ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور برٹش راج سے قبل برصغیر ہند میں قانون ملکی کے طور پر نافذ رہی ہے۔ اس میں بھی وہ جزئیات تفصیلاً بیان کر دی گئی ہیں جن سے توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہوتا ہے اور اس کا مرتکب تکفیر کی زد میں آتا ہے۔ مثلاً اگر کسی نے (معاذ اللہ) یہ کہا محمد درویشک بود یا جامہ پیغمبر ریمناک بود یعنی محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) ایک حقیر درویش تھے یا ان کے کپڑے پیپ بھرے ہوئے تھے‘ تو بعض فقہاء کے نزدیک مطلقاً اس کی تکفیر کی جائے گی۔ یعنی اتنا کہہ دینے سے وہ مستوجب سزا ہو جائے گا مگر بعض فقہاء تکفیر کے لیے نیت کی شرط لازمی قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مثال سے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے جس کا نام ”محمد“ یا ”احمد“ ہے‘ اسے کوئی یہی نام لے کر گالی دے اس کی نیت اور اس کا مقصود توہین رسالت مآب (صلی اللہ علیہ و سلم) ہو تو ایسے شخص کی تکفیر کی جائے گی۔ اس کے لیے محیط کا حوالہ دیا گیا ہے۔ البتہ اکراہ یعنی جبر کی صورت میں کسی نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ کسی شخص کو کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جائے اور اس نے اس جبر و اکراہ کی وجہ سے کہا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔

(28)

صفحہ 121

اس کے خلاف رائے دے گا۔ کیونکہ یہ ایک بھی متعلق ہے۔ بایں وجہ وہ توبہ سے زائل نہ ہے۔ قذف کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہو اور امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا اور ے دیتے آئے ہیں۔ آل عثمان سے قبل بھی نبی کی علت سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ کا حق ہے اور اس کی بدولت ایک نظام کی ہوتی ہے۔“

(27)

ی قاضی خان“ میں جو امام الحسن بن المنصور ا ذکر ہے جن سے اہانت رسول ﷺ ہوتی

ریعت اور غازی حکمران اورنگ زیب عالمگیر عالمگیریہ“ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور ں کے طور پر نافذ رہی ہے۔ اس میں بھی وہ ہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہوتا ہے اور گر کسی نے (معاذ اللہ) یہ کہا محمد درویشک بود یا ۃ والسلام) ایک حقیر درویش تھے یا ان کے کے نزدیک مطلقاً اس کی تکفیر کی جائے گی۔ ئے گا مگر بعض فقہاء تکفیر کے لیے نیت کی ب مثال سے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ ، اسے کوئی یہی نام لے کر گالی دے اس کی ی اللہ علیہ وسلم) ہو تو ایسے شخص کی تکفیر کی ۔ البتہ اکراہ یعنی جبر کی صورت میں کسی نے کی جائے گی۔ کیونکہ کسی شخص کو کلمہ کفر کراہ کی وجہ سے کہا ہو تو وہ دائرہ اسلام سے

برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم دین علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ”اکفارالملحدین“ میں لکھا ہے ”شاتم رسول ﷺ کافر و مرتد قرار دیا جائے گا اور اس کا قتل واجب ہے اسے کوئی معافی نہیں دی جائے گی اور علماء کا اس پر اتفاق ہے اور جو شخص گستاخ نبوت کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی سرحد کفر میں داخل ہو جائے گا۔“ اسی سلسلہ میں شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے گستاخ کو معاف فرما دیں یا قتل کر دیں۔ چنانچہ یہ دونوں باتیں واقع ہوئی ہیں۔ لیکن امت پر شاتم رسول کا قتل واجب ہے اور شاتم رسول ﷺ کی توبہ قابل قبول نہیں ہے۔“

(29)

اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے ممتاز عالم دین مولانا حسین احمد مدنیؒ شاگرد شیخ الہند حضرت محمود الحسنؒ نے گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا ہے۔

(30)

حضرت شیخ محمد محدث تھانویؒ کا فتویٰ ہے کہ ہر وہ شخص جو حضور ﷺ سے کوئی عیب منسوب کرے یا یہ کہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جاننے والا ہوں، یا کسی اور کو حضور ﷺ پر فضیلت دے تو ایسا شخص تمام فقہاء کی نظر میں کافر ہے اور ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا۔

(31)

فقہ مالکی :

ابو مصعب اور ابن ابی اویس نے امام مالکؒ سے روایت کی ہے کہ ”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا برا بھلا کہے، آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے، اسے قتل کیا جائے گا۔ چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔“ امام احمد بن ابراہیم اس روایت میں اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ ”حضور ﷺ کے علاوہ کسی اور نبی کو گالی دینے والا بھی واجب القتل ہے۔“

(32)

الشفاء میں اصبغ کا یہ قول بھی درج ہے کہ شاتم رسول ہر صورت میں قتل کیا جائے گا چاہے وہ علانیہ گالی دے یا خفیہ طور پر اور اس کی توبہ قابل قبول نہیں۔ کیونکہ اس کی توبہ کا حال معلوم نہیں کہ وہ درست ہے یا صرف جان بچانے کی خاطر کی ہے۔

(33)

ابو سلیمان خطابی نے لکھا ہے ”میں مسلمان علماء میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا قائل نہ ہو جب کہ

صفحہ 122

وہ مسلمان ہو۔“ (34)

ابن القاسم نے ابن سحنون کی کتاب کے حوالہ سے امام مالکؒ سے روایت کی ہے کہ ”جو مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرے اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہی روایت مبسوط اور عتبیہ میں درج ہے۔ (35) ابن سحنون مالکی کا فتویٰ تو یہ ہے:

”قال ابن سحنون المالکی اجمع المسلمون ان شاتمہ
کافر و حکمہ القتل و من شک فی عذابہ و کفرہ کفر ۔“

”تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کافر ہے اور وہ واجب القتل ہے۔ اور جو شخص اس کے کفر کے بارے میں یا اس کی سزا کے بارے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“

ابوبکر بن منذر نے کہا ہے ”اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو اسے قتل کر دینا چاہیے۔ یہ فتویٰ امام مالکؒ، لیث، امام احمدؒ، اسحاق وغیرہم کا بھی ہے اور یہی امام شافعیؒ کا مسلک ہے۔“ (36)

ابراہیم بن حسین بن خالد الفقیہ اسی بات کے قائل ہیں کہ شاتم الرسول ﷺ کی سزا سزائے موت ہے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عمل صحابہؓ سے ثابت ہے۔ چنانچہ اس بارے میں وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے واقعہ کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کیا تھا کہ اس نے خالدؓ سے گفتگو کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ساتھی کہا تھا۔

مالکی مسلک کے مقتدر فقیہہ اور قرطبہ کی عدالت عالیہ کے نامور جج قاضی ابوالفضل عیاضؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الشفاء“ میں توہین رسالت ﷺ کے تمام پہلوؤں پر شرح و بسط سے گفتگو کرتے ہوئے شاتم رسول ﷺ کے جرم کو ناقابل معافی قرار دیا ہے۔ کتاب الشفا کے متعلقہ باب کو شامل کتاب ہذا کیا گیا ہے۔

مبسوط کے حوالہ سے انہوں نے لکھا ہے کہ جو شخص مسلمان ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے‘ وہ واجب القتل ہے یا اسے زندہ سولی دی جائے یا اس کی گردن مار دی جائے۔“ (37)

صفحہ 123

مسلک شافعیؒ :

ابوبکر بن منذر کے حوالہ سے یہ بات ہم بیان کر چکے ہیں کہ شاتم رسول ﷺ کے بارے میں امام شافعیؒ کا مسلک بھی وہی ہے جو امام مالکؒ اور دوسرے ائمہ فقہ کا ہے۔ البتہ اختلاف صرف توبہ کے بارے میں ہے کہ کیا توبہ سے حد ساقط ہو جائے گی اور شاتم رسول ﷺ کی سزا معاف ہو جائے گی۔ کیونکہ کچھ فقہائے مذہب شافعی اور کچھ علمائے احناف کی رائے میں یہ توبہ قبل از گرفتاری ہے جو لائق معافی ہے۔ لیکن سب کا اس پر اتفاق ہے کہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ حضور ﷺ کی عدالت میں جب سرقہ کا مقدمہ دائر ہوا تو آپ ﷺ نے حد شرعی کے مطابق فیصلہ صادر فرمایا تھا اور معافی کی درخواست پر اظہار ناراضگی فرمایا۔" (38)

امام ابوبکر الفارسیؒ ، جن کا شافعی مسلک سے تعلق ہے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر سب کا اجماع ہے۔ اس اجماع سے ان کی مراد صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کا اجماع ہے۔" (39)

امام محمدؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام مالکؒ کے شاگردوں سے سنا ہے کہ ”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے یا آپ کے علاوہ اور کسی نبی کی شان میں چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

اس کی سند میں ابن عمرؓ کی وہ روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے عیسائی راہب کی دشنام طرازی کے بارے میں سن کر فرمایا تھا کہ تم نے اسے قتل کیوں نہیں کردیا۔

فقہ حنبلی :

عبداللہ نے امام احمد بن حنبلؒ سے دریافت کیا کہ شاتم رسول ﷺ کی توبہ کے بارے میں ان کا کیا فتویٰ ہے؟ جس پر امام نے فرمایا کہ اس پر قتل واجب ہو چکا ہے اور اس کی توبہ قابل قبول نہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی، زبان درازی اور تنقیص کرنے والے کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ اس پر حد واجب ہو جاتی ہے اور یہ حد کافر اور مسلمان ہر ایک پر لاگو ہوگی۔ (40)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے جن کے پایہ کا فقہ حنبلی میں کوئی مجتہد نہیں اور جو

صفحہ 124

مجدد کے مقام و مرتبہ پر فائز ہیں شاتم رسول کے بارے میں ایک نہایت اہم اور معرکۃ الاراء کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ لکھی ہے، جو اس مسئلہ پر مستند ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس میں امام موصوف نے قرآن و سنت، تعامل صحابہؓ و تابعین اور دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو حدًا سزائے موت دی جائے گی اور اس سلسلہ میں توبہ قبل الاخذ اور بعد الاخذ یعنی گرفتاری سے قبل یا گرفتاری کے بعد قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے صرف اس فتویٰ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک نصرانی نے رسول کریم ﷺ کی شان میں دشنام طرازی کی ہے تو وہ اسی وقت اپنی مجلس درس و تدریس سے اٹھے اور اپنے سینکڑوں پیروکاروں کے ساتھ حاکم دمشق کے پاس پہنچے اور جرم ثابت ہونے پر اس کے قتل کا مطالبہ کیا۔ اس وقت ان کے ہمراہ شیخ الحدیث علامہ زین الدین عبداللہ بن مروان الفارقی بھی تھے۔ وہ عیسائی، عوام کے غیض و غضب کے ڈر سے ایک بدوی کے گھر روپوش تھا۔ نائب السلطنت نے اس نصرانی اور اسے پناہ دینے والے بدوی کو اپنی عدالت میں طلب کیا۔ جب وہ حاضر ہوا تو اس نے وہاں موجود شہریوں کے ساتھ تلخ کلامی کی، جس پر مجمع مشتعل ہو گیا اور انہوں نے وہیں پر سنگ باری شروع کر دی۔ جس پر نقض امن کی بنا پر حاکم دمشق نے امام ابن تیمیہ اور شیخ الحدیث دونوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر تشدد کیا، جسے ان دونوں بزرگوں نے نہایت صبر و استقامت سے برداشت کیا۔ مقدمہ میں جب اس نصرانی نے صفائی پیش کی اور بری ہو گیا تو ان دونوں حضرات کو رہائی نصیب ہوئی۔ نائب السلطنت نے اپنے اس بے جا اور ناروا سلوک پر ان دونوں سے معذرت طلب کرلی۔“ (41)

توہین رسالت ﷺ کے بارے میں ایک مقالہ مولانا عبدالقادر آزاد خطیب شاہی مسجد کا، اس کتاب میں شامل ہے۔ اس مقالہ میں انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ امام موصوف نے چونکہ اس نصرانی کو قتل کر دیا تھا، اس لیے انہوں نے شاتم رسول کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ لیکن یہ بات تاریخی لحاظ سے درست نہیں۔ جس کی تائید مشہور مصری مورخ محمد ابو زہرہ کی کتاب حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے ہوتی ہے اس واقعہ کا ہم نے اوپر ذکر کر دیا ہے۔ امام ابن تیمیہ کی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ کا اقتباس بھی شامل کتاب ہذا ہے۔

عبدالرحمٰن الجزیری کی معروف کتاب ”کتاب الفقہ“ جو چاروں ائمہ فقہ کے

صفحہ 125

مذاہب کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے، اس کے جز پنجم میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نبوت ایک اکتسابی شے ہے اور ریاضت سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے تو یہ کفر ہے۔ کیونکہ اس نے نبی کریم ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی اور نبی کے آنے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے نبی کو گالی دینا جس کی نبوت پر تمام ملت اسلامیہ کا اتفاق ہو تو یہ بھی کلمہ کفر ہو گا۔ اسی طرح کسی نبی میں کسی قسم کا کوئی نقص نکالنا، خواہ وہ جسمانی عیب ہو۔ مثلاً انہیں لنگڑا، لولا کہنا یا ان کے علم کو ناقص بتلانا یا ان کے اخلاق پر طعنہ زنی کرنا، سب کفر کی تعریف میں آتے ہیں۔ کیونکہ ہر نبی لحاظ سے بھی سب انسانوں پر افضل ہوتا ہے اور تمام انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم ہر جسمانی عیب سے پاک اور علم و اخلاق کے لحاظ سے سارے جہاں میں سب سے افضل، برتر و اعلیٰ ہیں۔ اس لیے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی صریحاً کفر و ارتداد ہے۔"

(42)

صفحہ 126

باب دوم

کتابیات

۲، ص ۶۵

الشرح ا

صفحہ 127

وسائل الشیعہ ج ۱۸، ص ۴۶۰ (۴۱)

امام ابن حزم المحلی ج ۱۱ ص ۴۰۹۔ (۴۲۔ الف، ب)

ابوالفضل۔ قاضی عیاض اندلسی۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ج۔ (۴۳)

۲، ص ۲۰۵

امام مالک بن انس۔ الموطأ مترجم علامہ وحید الزمان۔ (۴۴)

رد المحتار حاشیہ در مختار۔ ج ۳، ص ۲۹۹ (۴۵)

امام ابن ہمام۔ شرح فتح القدیر ج ۴، ص ۴۰۷ احکام المرتد فی (۴۶)

الشریعہ الاسلامیہ ص ۱۰۷

فتاویٰ عالمگیریہ ج ۳۔ ص ۴۶۰ (۴۸)

علامہ انور شاہ کشمیری اکفار الملحدین ص ۴۱، ۵۰، ۵۱ (۴۹)

علامہ شبیر احمد عثمانی۔ الشہاب الثاقب ص۔ ۵۰ (۵۰)

سنن نسائی۔ کتاب الحدود ج۔ ۲، ص ۱۵۳۔ (۵۱)

الشفاء۔ (۵۲ تا ۵۷)

فتاویٰ شامی ج ۳، ص ۳۱۸ (۵۸)

السراج المنیر ج ۳، ص ۳۶۳ (۵۹)

الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص ۴۲۰۔ ۴۴۰ (۶۰)

محمد ابو زہرہ۔ حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ ترجمہ رئیس احمد جعفری (۶۱)

عبدالرحمن الجزیری۔ کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج ۵ ص ۸۰۵۔ (۶۲)

صفحہ 128

باب سوم

توہین رسالت

ابوالفضل قاضی عیاضؒ چیف

ابوالفضل قاضی عیاضؒ ولادت مراکش کے شہر سبتہ میں تعلیم کے لیے اندلس چلے آئے میں آپ نے اساتذہ وقت سے ا دیگر علوم متداولہ میں مہارت ح نہایت وسیع النظر عالم وقت تھے ادیب بھی تھے اور کئی کتابوں ۔ سرشار تھے اور آپ کی معرکۃ وعقیدت، احترام و محبت کا مظہر ۔ چھوڑا۔ آپ عدل و قضا کے مسند کے عروس البلاد غرناطہ کے چیف نگاری اور آپ ﷺ کے مقام علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں آ ابوالفضل قاضی عیاضؒ کی کتاب متین ہاشمی مرحوم نے کیا ہے، اصل کتاب بھی مصنف کے پیش کی گئی ہے۔

صفحہ 129

باب سوم

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ............ جرم و سزا

ابوالفضل قاضی عیاضؒ چیف جسٹس اندلس

ابوالفضل قاضی عیاضؒ کا متقدمین علمائے اندلس میں نہایت ممتاز مقام ہے آپ کی ولادت مراکش کے شہر سبتہ میں سال 496 ہجری میں ہوئی پھر سال 509 ہجری میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اندلس چلے آئے‘ جو ان دنوں یورپ میں علوم وفنون کا مرکز تھا۔ اندلس میں آپ نے اساتذہ وقت سے علم حدیث کے علاوہ فن تفسیر‘ فقہ‘ ادب‘ نحو‘ انساب اور دیگر علوم متداولہ میں مہارت حاصل کرلی۔ آپ کا تعلق مالکی مکتب فقہ سے تھا مگر آپ نہایت وسیع النظر عالم وقت تھے۔ اس کے علاوہ آپ عربی کے بلند پایہ شاعر‘ خطیب اور ادیب بھی تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آپ جذبہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار تھے اور آپ کی معرکۃ الآرا تصنیف ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ“ اسی عشق وعقیدت‘ احترام ومحبت کا مظہر ہے اس کے باوجود آپ نے تحقیق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آپ عدل وقضا کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ سال 531 ہجری میں آپ اندلس کے عروس البلاد غرناطہ کے چیف جسٹس ہو گئے۔ متاخرین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نگاری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ‘ احترام وفضیلت اور گستاخی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپ کی اسی کتاب سے خوشہ چینی کی ہے اور یہ ابواب بھی ابوالفضل قاضی عیاضؒ کی کتاب الشفاء کے ابواب توہین رسالت کا ترجمہ ہیں جو مولانا سید متین ہاشمی مرحوم نے کیا ہے‘ جن کے اقتباسات نذر قارئین ہیں۔ ان اقتباسات میں اصل کتاب بھی مصنف کے پیش نظر رہی ہے اس لیے ترجمہ کو عام فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

صفحہ 130

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا کے بارے میں احکام

ابو الفضل قاضی عیاضؒ

"جان لو! (اللہ ہمیں اور تمہیں نیک توفیق دے) جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔ (العیاذ باللہ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا کسی نقص کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا نسب یا دین یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطریق گستاخی کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ کو ناقص کہے یا آپ کی شان کو کم کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات پر عیب لگائے‘ تو گویا وہ شاتم النبی (حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والا) ہے"۔ اس کے بارے میں وہی حکم ہے جو صراحتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کا ہے کہ اسے قتل کیا جائے گا۔

اسی طرح جو شخص (العیاذ باللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعنت کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بددعا کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی ضرر کی آرزو کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی شے کی نسبت کرے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہ ہو اور اس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگانا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بیہودہ کلام کرے‘ آپ کو برا کہے یا بری بات بکے‘ یا جھوٹ کہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سختیاں یا مصیبتیں آئیں ان کی بناء پر عار دلائے یا بشریت کی وجہ سے عادتاً جو عارضے (از قسم بیماری‘ بھوک‘ وفات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہوئے ان کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کو کم کرے‘ یہ سب ناجائز اور حرام ہیں اس پر علماء کرام اور صحابہ کرام سے لے کر آج تک جتنے فتویٰ دینے والے امام ہو کر گزرے ہیں‘ سب کا اتفاق و اجماع ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قول کا بھی تقاضا یہی ہے (کہ اسے قتل کر دیا جائے) اور تمام علماء کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے ساتھی نیز سفیان ثوریؒ اہل کوفہ اور اوزاعیؒ کا بھی یہی خیال ہے۔ البتہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ عمل ارتداد ہے" (یعنی آپ کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد کے حکم میں ہے) ولید بن مسلم نے امام مالکؒ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب سے بھی یہی روایت ہے کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات

صفحہ 131

میں نقص نکالے یا آپ سے برأت کا اظہار کرے یا آپ ﷺ کی تکذیب کرے‘ بقول سحنون وہ آپ ﷺ کو گالی دینے والوں میں شمار کیا جائے گا اور یہ سارے کام ارتداد اور زندقہ کے ہیں۔ اسی بناء پر ایسے شخص سے توبہ کرانے اور اس کی تکفیر کرنے کے مسئلہ میں اختلاف ہے کہ آیا اس کو قتل کر دینا حد شرعی ہے یا محض تکفیر ہی کافی ہے۔ لیکن اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ایسا شخص مباح الدم (جس کو مار ڈالنا جائز ہو) ہے۔ سلف امت اور تمام دیار و امصار کے علماء اس بات پر متفق ہیں‘ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ ایسے شخص کے قتل و تکفیر پر اجماع ہے‘ بعض اہل ظواہر نے کہا ہے اور وہ ابو محمد علی بن احمد الفارسی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی تکفیر میں انہیں اختلاف ہے۔ لیکن مشہور بات وہی ہے جو محمد بن سحنون کے حوالے سے میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ”تمام علمائے امت کا اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم النبی یا وہ شخص جو آپ ﷺ میں نقص نکالے‘ کافر اور مستوجب وعید عذاب ہے اور پوری امت کے نزدیک واجب القتل ہے۔ جو شخص ایسے شخص کے کافر اور مستحق عذاب ہونے میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔“

ابن القاسم نے عتیبہ میں لکھا ہے کہ ”جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ میں نقص نکالے‘ اسے قتل کیا جائے اور ساری امت کے نزدیک اس کو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ہے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ہے۔“

امام احمد بن ابراہیم کی کتاب میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ ”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یا کسی اور نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہ قبول کی جائے گی چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔“

عبداللہ بن عبدالحکم سے روایت ہے کہ ”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے‘ اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہ قبول کی جائے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔“

اشہب نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے وہب سے روایت کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر یا آپ ﷺ کی قمیض گندی میلی ہے اور اس سے اس کا ارادہ آپ ﷺ کی تحقیر کا ہو تو اسے قتل کیا جائے۔

ہمارے بعض علماء کہتے ہیں کہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ ”جس شخص نے انبیاء

صفحہ 132

علیہم السلام میں سے کسی نبی کے لئے ویل (عذاب) یا برے امر کی بددعا کی تو اسے بغیر توبہ کرائے قتل کرنا چاہیے۔"

ابو الحسن قابسی نے اس شخص کے بارے میں جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہا کہ "آپ ﷺ حمال (۱) (بوجھ ڈھونے والے) یا ابوطالب کے یتیم تھے۔" فتویٰ یہی ہے کہ اسے قتل کیا جائے (کیونکہ یہ کہہ کر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنا چاہتا ہے۔)

ابو محمد بن زید القیروانی نے اس شخص کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا جس نے کچھ لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کے بارے میں گفتگو کرتے سنا تھا۔ عین اسی وقت ایک بدشکل اور بدہیئت آدمی وہاں سے گزرا تو اس نے کہا کہ "تم لوگ ان کا حلیہ معلوم کرنا چاہتے ہو؟" لوگوں نے کہا "ہاں۔" تو اس نے اس قبیح المنظر اور بدہیئت داڑھی والے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ "وہ ایسے ہی تھے۔" ابو محمد بن زید نے کہا کہ اس کمبخت کی توبہ نہ قبول کی جائے، اس پر خدا کی لعنت ہو اس لیے کہ اس نے جو کچھ کہا، جھوٹ کہا اور یہ بات کسی ایسے آدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتی جس کا ایمان سلامت ہو۔

احمد بن ابی سلیمان صاحب سحنون کہتے ہیں کہ "جو شخص یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سیاہ تھا اسے قتل کیا جائے۔" انہوں نے اس شخص کے بارے میں (بھی قتل کا فتویٰ دیا) جس سے کہا گیا تھا کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کی قسم یہ نہیں ہو سکتا۔" تو اس نے جواباً کہا، "العیاذ باللہ! اللہ تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کرے۔" اور بہت بری بری باتیں کہیں۔ ابن ابی سلیمان نے اس آدمی سے جو اس سے مخاطب تھا کہا کہ میں تمہارا ساتھی اور گواہ ہوں۔ وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس کار ثواب میں حصہ لیں۔

حبیب بن الربیع کہتے ہیں (وہ کچھ کہہ کر اپنی گستاخی کی تاویل کرنا چاہتا تھا) حالانکہ جس مقام پر کوئی واضح اور صریح لفظ استعمال کیا جائے، وہاں کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور چونکہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کو ملحوظ نہیں رکھا اس لیے وہ مباح الدم تھا۔

ابو عبداللہ بن عتاب نے اس عشار کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا تھا جس نے عشر

صفحہ 133

وصول کرتے وقت ایک ایسے شخص سے کہا کہ ”عشر تو پہلے ادا کرو، اس کے بعد شکایت کرنی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کر دینا۔ میں نے اگر عشر طلب کیا ہے تو اس لیے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب کیا اگر میں جاہل ہوں تو (معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاہل تھے اور انہوں نے بھی عشر طلب کیا تھا۔“

فقہائے اندلس نے بالاتفاق ابن حاتم طلیطلی پر قتل اور سولی دینے کا فتویٰ دیا تھا جس نے ایک مناظرے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ ﷺ کو یتیم اور علی کا خسر کہا تھا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ آپ ﷺ کا زہد اختیاری نہیں تھا بلکہ اگر آپ ﷺ کو دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں، تو آپ ﷺ ان کو استعمال کرتے۔

قیروان کے فقہاء اور سحنون کے شاگردوں نے ابراہیم فزاری کے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ ابراہیم بہت سے علوم میں مہارت رکھنے والا شاعر تھا اور قاضی ابو العباس بن طالب کی مجالس مناظرہ میں اکثر حاضر ہوا کرتا۔ اس پر یہ الزام عائد ہوا کہ اس نے اپنے بہت سے اشعار میں اللہ تعالیٰ، انبیاء علیہم السلام اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اسے قاضی یحییٰ بن عمر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس وقت عدالت میں دوسرے بہت سے نامور فقہاء تھے، قاضی نے اس کی پھانسی اور قتل کا حکم دیا۔ چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب پھانسی کی لکڑی ہٹائی گئی تو وہ لکڑی خود بخود چکر کھانے لگی۔ جب اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے پھر گیا تو لکڑی ٹھہر گئی لوگوں نے اس واقعہ کو اللہ کی ایک نشانی سمجھ کر بلند آواز سے تکبیر کہی۔ اس کے بعد ایک کتا آیا اور ابراہیم کا خون پی گیا۔ یحییٰ بن عمر نے کہا ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح ارشاد فرمایا ہے کہ ”کتا مسلمان کا خون نہیں پیتا۔“

قاضی عبداللہ بن مرابط نے کہا ہے کہ ”جو شخص یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ سے فرار ہو گئے اس سے توبہ کرائی جائے اگر وہ توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ایک قسم کا عیب لگانا ہے اور آپ ﷺ اس طرح کے عیوب سے مبرا تھے۔ آپ ﷺ کا ہر اقدام بصیرت کی بنیاد پر تھا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معصوم بنایا تھا۔“

حبیب بن ربیع قروی نے کہا ہے اور یہی امام مالکؒ اور ان کے شاگردوں کا مسلک

صفحہ 134

ہے کہ ”جو شخص بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی قسم کا نقص نکالے اسے توبہ کرائے بغیر قتل کر دینا چاہیے۔“

ابن عتابؒ نے کہا ہے کہ ”یہ بات قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچائے یا آپ ﷺ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ، صراحتاً یا کنایتاً کسی قسم کا نقص لگائے، چاہے وہ معمولی سا نقص ہی کیوں نہ ہو اس کا قتل واجب ہے۔“ کیونکہ اس طرح کی تمام باتوں کو علماء نے ”سب النبی“ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دشنام طرازی) میں شمار کیا ہے متقدمین و متاخرین علماء کے نزدیک بالاتفاق ایسا شخص واجب القتل ہے۔ البتہ قتل کا حکم عائد کرنے کے مسئلہ میں علماء نے اختلاف کیا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں۔

ایسے ہی میں کہتا ہوں کہ جو ”شخص آپ ﷺ کو حقیر جانے یا آپ ﷺ کو بکریوں کے چرانے، سہو و نسیان اور جادو کے حملے یا آپ ﷺ کو زخم لگنے یا آپ ﷺ کے لشکر کی شکست یا دشمنوں کی ایذا رسانی یا آپ ﷺ پر مصائب و شدائد کے نزول یا عورتوں کی طرف آپ ﷺ کے میلان کے حوالے سے آپ ﷺ کو عار دلائے یا ہدفِ تنقید بنائے، تو ان سب باتوں کا حکم یہ ہے کہ جو شخص ان باتوں سے آپ ﷺ میں نقص نکالنے کا ارادہ کرے، وہ قتل کیا جائے۔

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ قابل قبول نہیں‘

امام مالکؒ ان کے ساتھیوں اور سلف کے علماء کا فرمانا یہ ہے کہ ایسے بد زبان اور اہانت کرنے والے کو، جو آنحضور ﷺ پر سب و شتم کرے اس کے کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ سزا کے طور پر اس پر حد جاری کی جائے اور اس کو قتل کیا جائے، باوجودیکہ اس نے توبہ بھی کر لی ہو کیونکہ ایسے معاملات میں نہ تو اس کی توبہ قابل قبول ہو گی اور نہ اس کا رجوع اس کے لیے نفع بخش ہو گا۔

عدم قبولیت توبہ کی ایک اور دلیل

جناب محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ اس (نام نہاد) مسلمان کی توبہ، سزائے قتل کو باطل نہیں کرتی جس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی کی ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس شاتم نے ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار نہیں کیا۔ البتہ اس نے وہ جرم کیا ہے جس

صفحہ 135

کی سزا اسلامی معاشرے میں قتل ہے اور اس میں کسی معافی کی گنجائش نہیں۔

قاضی ابو محمد بن نصر کی رائے

اس شخص کی توبہ ساقط الاعتبار ہونے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ بارگاہ احدیت اور بارگاہ رسالت میں گستاخ کے درمیان فرق مشہور قول کی بناء پر، توبہ کا قبول کرنا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم علیہ السلام نوع بشر سے ہیں اور بشریت کا خاصہ ولازمہ نقص ہے۔ ماسوا ان نفوس قدسیہ کے جنہیں اللہ رب العالمین نے منصب نبوت پر سرفراز فرمایا ہو اور اللہ تعالیٰ تمام عیوب ونقائص سے منزہ ومبرا ہیں اور اس کا تعلق قسم وجنس سے نہیں، جس کو جنسیت کے سبب نقص لاحق ہو۔ البتہ بارگاہ رسالت میں گستاخی اور ارتداد کی طرح سے نہیں کیونکہ مرتد ارتداد کے معنی میں منفرد ہوتا ہے اور اس میں کسی اور شخص کا حق متعلق نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔

لیکن سرکار دو عالم علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والے کا معاملہ دوسرا ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ السلام کا حق بھی متعلق ہو گیا اور یہ بات اسی طرح سمجھی جائے گی کہ جس طرح کسی نے اپنے ارتداد کے وقت کسی کو قتل کیا ہو یا کسی کو تہمت لگائی ہو۔ اس طرح اس کی توبہ اس مرتکب جرم سے حد قتل اور تہمت کو ساقط نہیں کرسکتی۔

توبہ کی عدم قبولیت کی ایک اور دلیل

یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ مرتد کی توبہ کی قبولیت کی وجہ سے اس کے جرائم کی وجہ سے جو حدود شرعیہ چوری، زنا وغیرہ اس پر قائم کی جانے والی ہوں، تو وہ اس سے ساقط نہیں ہوتیں اور یہاں اس مسئلہ میں جو حد گستاخ و شاتم پر قائم کی جارہی ہے، وہ اس کے کفر کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ حد قائم کیے جانے کی وجہ سے ہے کہ اس نے عظمت وحرمت نبوی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ توبہ اس حد کو ختم نہیں کرتی۔

اگر اس قائل کی مراد یہ ہو کہ اس کے گستاخی کے کلمات ادا کرنا، کفریہ کلمات نہ تھے بلکہ اس کا یہ فعل تحقیر وتنقیص کی بناء پر تھا یا اس کے توبہ ورجوع کا اظہار اس کے ظاہری کفریہ کلمات کے ازالہ کے لیے تھا لیکن اللہ رب العالمین دلوں کے حال سے واقف ہے۔ اب (رجوع انابت اور توبہ کے بعد) گستاخی کا گناہ اور اس پر حکم شرعی

صفحہ 136

بجنسہ باقی رہے گا۔ ابو عمران قابسی نے فرمایا ہے کہ جس نے سرکار دو عالم علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کی، بعد میں اس کی توبہ گرفتاری اور اس کے کفریہ اقوال پر شہادتیں گزرنے کے بعد ہی کیوں نہ ہو یا وہ گرفتاری کے بعد بظاہر یا دل میں توبہ کرتا ہوا آئے تو اس کی توبہ حد کو ساقط نہیں کرتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حد واجب ہے اور دوسری حدوں کی طرح اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

شاتم کی وجہ قتل

شیخ ابو الحسن قابسی نے فرمایا کہ جب گستاخ شاتم اپنے جرم کا اعتراف کر کے اس سے رجوع کرے اور توبہ بھی ظاہر ہو جائے، جب بھی ارتکاب جرم کی وجہ سے اس کو قتل کی سزا دی جائے گی، کیونکہ اس جرم کی سزا قتل ہے۔ البتہ ابو محمد بن زید نے فرمایا کہ سزا کے بارے میں تو شک وشبہ کی بات نہیں ہے، البتہ اس کی توبہ وانابت کا معاملہ چونکہ اللہ اور اس کے درمیان ہے، اس لیے اس کی توبہ نفع بخش ہو جائے گی۔ (2)

موحد کی گستاخی کی سزا

ابن سحنون نے فرمایا ہے کہ اگر کسی موحد نے بارگاہ رسالت ﷺ میں گستاخی کی اور اس نے اپنے اس فعل پر ندامت کا اظہار بھی کر لیا، جب بھی اس کو سزائے قتل دی جائے گی اور اس کی توبہ اس کی سزا سے نہیں بچا سکتی۔

اس معاملہ میں یہ بات مد نظر رکھی جائے گی کہ توبہ انابت کے بعد اس کا علماء سے رجوع اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس کو اپنے فعل پر ندامت ہے اور اس طرح ہم اس کے دل کے حال سے واقف ہو گئے۔ برخلاف اس کے کہ جس پر دلائل و براہین قائم ہوتے ہوں۔ وہ دائرہ اسلام سے بھی خارج ہو گیا، تو اس کی سزا قتل ہے اور اب اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ کسی شخص کو گالی دینا اس کے حقوق کی پامالی ہے اور اس گالی دینے والے کے ارتداد سے کسی دوسرے کا حق باطل نہیں ہوتا۔

اس جزئیہ کی بناء پر ہمارے مشائخ کا فرمانا یہ ہے کہ اس قائل کو حد کی بناء پر قتل کیا جائے گا، ارتداد کی بناء پر نہیں۔

جو حضرت اس قائل کے ارتداد کو محل نظر قرار دیتے ہیں تو بصورت دیگر وہ حد کے ظہور پر اس کی سزائے قتل کے کے قتل کا حکم کرتے ہیں۔

اگر وہ قائل ارتکاب جرم توبہ و انابت کا اظہار کرتا ہے تو ہم اس کے خلاف کلمہ کفر کا کہنا ثابت کی تحقیر کی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے

ایک اور اعتراض:

یہاں اگر کوئی معترض یہ ا کفر پر شہادت لیتے ہیں لیکن توبہ ک کرتے ہیں اور کوئی حکم نہیں لگاتے

جواب اعتراض:

اس اعتراض کا جواب یہ اس سے ہم اس کے توحید و رسال باوجودیکہ وہ قائل اس کی شہادت ہے کہ یہ کلمات اس سے غلطی کلمات سے منحرف ہی نہیں بلکہ کفریہ کلمات اور ان کے احکام خصوصیات کو بھی ثابت نہیں کیا معلوم ہو جائے کہ اس نے گستاخی عالم ﷺ کو گالی دینا اور ان کی ب پر اس کے قتل کے حکم میں کسی

شاتم رسول کافر ہے:

اس کلیہ کی بناء پر یہ کہنا گالی دینا اور اسی طرح کفر ہے ج

صفحہ 137

کے ظہور پر اس کی سزائے قتل کے قائل ہوں گے اور ہم دونوں حالتوں میں اس گستاخ کے قتل کا حکم کرتے ہیں۔

اگر وہ قائل ارتکاب جرم کا منکر ہے اور اس پر شہادت شرعی قائم ہو چکی ہے یا وہ توبہ و انابت کا اظہار کرتا ہے تو ہم حد شرعی کے طور پر اس کے قتل کا فتویٰ دیں گے کیونکہ اس کے خلاف کلمہ کفر کا کہنا ثابت ہو چکا ہے اور اس نے سرکار دو عالم ﷺ کے اس حق کی تحقیر کی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اعظم قرار دیا ہے۔

ایک اور اعتراض:

یہاں اگر کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ آپ اس قائل کو کافر کہہ کر اس کے کفر پر شہادت لیتے ہیں لیکن توبہ کی قبولیت اور اس کے لوازم کے مسئلہ میں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کوئی حکم نہیں لگاتے اس کی وجہ کیا ہے؟

جواب اعتراض:

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس کی وجہ قتل کفر کو قرار دیا ہے لیکن اس سے ہم اس کے توحید و رسالت کے اقرار کو‘ جس کا وہ اقراری ہے‘ قطع نہیں کرتے‘ باوجودیکہ وہ قائل اس کی شہادت کا جو اس کے لئے لازمی ہے منکر اور اس بات کا مدعی ہے کہ یہ کلمات اس سے غلطی اور معصیت کی وجہ سے صادر ہوئے ہیں اور وہ ان کلمات سے منحرف ہی نہیں بلکہ نادم بھی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض اشخاص پر کفریہ کلمات اور ان کے احکام کو ثابت کرنا اس بات کو مانع نہیں کہ اس کی دوسری خصوصیات کو بھی ثابت تسلیم کیا جائے جیسے زانی یا تارک صلوٰۃ کا قتل لیکن جس شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے گستاخی کے کلمات اس اعتقاد سے کہے ہیں کہ معاذاللہ سرکار دو عالم ﷺ کو گالی دینا اور ان کی بارگاہ میں گستاخی کا ارتکاب جائز ہے لہٰذا اس اعتقاد کی بناء پر اس کے قتل کے حکم میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

شاتم رسول کافر ہے:

اس کلیہ کی بناء پر یہ کہنا درست اور ناقابل تردید ہے کہ (معاذاللہ) حضور ﷺ کو گالی دینا بھی اسی طرح کفر ہے جس طرح کہ آپ ﷺ کی تکذیب کرنا یا آپ ﷺ کی

صفحہ 138

شخصیت کا انکار اور اسی طرح کے دوسرے امور۔ اب یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ اس قائل کلمات توہین کو حد کے طور پر قتل کیا جائے گا۔ باوجودیکہ کہ اس نے اپنے قول سے رجوع کیا ہو اور توبہ کی ہو کیونکہ ایسے کلمات کہنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی اور توبہ کے بعد بھی اس کو اس کے سابقہ قول کی بناء پر اور سابقہ کفریہ کلمات کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔ رہا اس کی توبہ کا معاملہ تو وہ مشیت الہی پر منحصر ہے جو دلوں کے حال سے واقف ہے، خواہ وہ اس توبہ کو قبول فرمائے یا رد فرمائے۔

اب رہا اس شخص کا معاملہ جس نے توبہ کا اظہار نہیں کیا اور جس سلسلہ میں اس کے بارے میں شہادت پیش ہوئی، اس کا معترف بھی ہے اور اس پر قائم بھی رہا تو یہ شخص اپنے قول کی بناء پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی حرمت کو حلال جان کر توہین کا ارتکاب کیا ہے، کفراً قتل کیا جائے گا۔

اس کی تفصیلی بحث کے بعد جناب مصنف فرماتے ہیں کہ اے عزیز گرامی آپ کے لئے لازم یہ ہے کہ علماء اسلام کے فرمودات کو اس تفصیل کے ساتھ قبول کریں اور وہ مختلف عبارتیں جو استدلال میں بیان کی گئی ہیں، ان کو اختیار کریں۔ اس طرح انشاء اللہ صحیح مقصد تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔(3)

صفحہ 139

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی ذات گرامی اہل علم کے لئے محتاج تعارف نہیں۔ وہ علوم معارف، دعوت و عزیمت اور تجدید و احیائے دین کے اس بلند ترین مقام پر فائز ہیں کہ سات صدیاں گزر جانے کے باوجود آج تک ان کا کوئی ہم پایہ اور ہمسر دنیائے اسلام میں پیدا نہیں ہوا۔

علامہ شبلی نعمانیؒ شیخ الاسلام کی ہمہ گیر شخصیت کے بارے میں بلامبالغہ بجا طور پر لکھتے ہیں:

”اسلام میں سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں علماء فضلاء، مجتہدین، ائمہ فن اور مدبرین گزرے لیکن مجدد بہت کم پیدا ہوئے۔“

مجدد کے لئے تین شرطیں ضروری ہیں:

تیسری شرط اگر ضروری قرار نہ دی جائے تو امام ابو حنیفہؒ، امام غزالیؒ، امام رازیؒ، شاہ ولی اللہؒ اس دائرے میں آ سکتے ہیں لیکن جو شخص ریفارمر (مجدد) کا اصلی مصداق ہو سکتا ہے وہ علامہ ابن تیمیہؒ ہیں۔

”مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں، اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔“

امام ابن تیمیہؒ عشق رسول ﷺ میں ایسے سرشار تھے کہ گستاخ رسالت کی سرکوبی کے لئے انہوں نے نہ صرف شمشیر و قلم کو اپنی پوری قوت کے ساتھ استعمال کیا بلکہ جسم و جان کی ساری توانائیوں کو انہوں نے اس کے لئے کھپا دیا۔ ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ“ امام موصوف کی گراں مایہ تصنیف ہے جس کے ہر ہر حرف سے عشق رسول ﷺ کی چنگاری نکل رہی ہے، جو شکوک و شبہات کے خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ کتاب کا ترجمہ غلام احمد حریری نے کر کے ترجمہ کا حق ادا کر دیا ہے۔

صفحہ 140

گستاخ رسول ﷺ کے قتل کا جواز

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

امام ابن تیمیہؒ کی کتاب کے اس باب کا ترجمہ پروفیسر جناب ضیاء المصطفیٰ نے بڑے ہی خوبصورت اور دلنشین انداز میں کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جتنے انبیاء و رسل بھیجے‘ وہ ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہیں اور تمام انبیاء میں حضور ختمی مرتبت جناب محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کا مقام و مرتبہ بلند تر ہے۔ آپ ﷺ انبیاء اور کائنات کے ذرے ذرے کے رسول ہیں۔ کوئی شخص ان کی رسالت کا اقرار کرے نہ کرے ان کی رسالت سے باہر نہیں۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں‘ مکرم ہیں‘ معظم ہیں۔ تمام اوصاف حمیدہ اور شمائل طیبہ کے مجسم و پیکر ہیں۔ آپ ﷺ کی شان اقدس میں کسی طرح کی معمولی سے معمولی بے ادبی سے انسان صرف دائرہ اسلام سے ہی نہیں خارج ہوتا بلکہ وہ انسانیت کے دائرے سے بھی باہر ہو جاتا ہے اور خالق کائنات جل وعلا کو زمین پر اس کا وجود بھی گوارا نہیں۔ اس نے ایسوں پر لعنت کی بوچھاڑ کی ہے اور عذاب الیم ان کا مقدر ہے۔

ذیل میں وہ آیات و احادیث اور واقعات دیئے جا رہے ہیں‘ جن کو شیخ الاسلام امام تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام المعروف ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول (ﷺ)“ میں ذکر کیا ہے:

سورۃ توبہ آیت 61۔63‘ سورۃ الاحزاب آیت نمبر 7۔ ان آیات سے یہ بات عیاں ہے کہ رسول خدا ﷺ کو ایذا دینا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہے۔ کیونکہ ایذا کا ذکر مخالفت کا متقاضی ہے۔ تو امر لازم ہے کہ مخالفت ایذا میں داخل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کلام کو اس طرح نہ لایا جاتا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایذا اور محادہ (مخالفت) کفر ہے کیونکہ ایذا دینے والے کو دائمی رسوا کن عذاب کی خبر دی گئی ہے‘ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اس کی سزا عذاب الیم ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے بلکہ المحادہ دشمنی ہے‘ کفر بھی ہے اور لڑائی بھی۔ یہ مجرد کفر سے زیادہ شدید ہے‘ زیادہ سخت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے والا کافر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دشمن اور ان سے جنگ اور لڑائی کرنے والا ہے۔

حدیث شریف میں ۔ لیتا تو آپ ﷺ فرماتے: من گا؟“ یعنی میرے دشمن کا خا یہاں بھی عیاں‘ اوپ مرتکب کافر ہے اور اس کا قت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان الذین ی

(المجادلہ: 20)

”بے شک جو ہیں‘ وہ سب سے ذ امام ابن تیمیہ کہتے ہ مسلمان ہو‘ کافر ہو‘ بغیر کسی ا امام احمد بن حنبلؒ رسول اللہ ﷺ کی شان اق کافر‘ اس کا قتل کرنا ضروری

(مصنف ابن تیمیہؒ )

اس کی توبہ قبول نہ کی جائے عبداللہ اور ابوطالب درازی کرنے والے کے بار کیا کہ اس بارے میں احاد ہیں۔ ان میں سے ایک نابین کہتا ہے کہ میں نے اس عو کرتے سنا تھا۔ اور حصین سے مرو کریم ﷺ کے بارے میں ا

صفحہ 141

حدیث شریف میں ہے‘ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں سب و شتم سے کام لیتا تو آپ ﷺ فرماتے: من یکفینی عدوی۔ ”میرے دشمن کو میرے لئے کون کافی ہو گا؟“ (یعنی میرے دشمن کا خاتمہ کون کرے گا؟)

یہاں بھی عیاں‘ اوپر بھی بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کا مرتکب کافر ہے اور اس کا قتل کرنا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین O

(المجادلہ: 20)

”بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں‘ وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں۔“

امام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں زبان دراز اگرچہ مسلمان ہو‘ کافر ہو‘ بغیر کسی اختلاف کے قتل کیا جائے گا اور یہی ائمہ اربعہ وغیرہم کا مذہب ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کی یا تنقیص کا مرتکب ہوا مسلمان ہو یا کافر‘ اس کا قتل کرنا ضروری اور واجب ہو گا۔

(مصنف ابن تیمیہؒ) کہتے ہیں کہ اعتقاد یہ ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔

عبداللہ اور ابوطالب کی روایت میں ہے۔ حضور ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرنے والے کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ اسے قتل کیا جائے گا۔ ان سے کہا گیا کہ اس بارے میں احادیث ہیں‘ تو انہوں نے کہا۔ ہاں‘ اس بارے میں احادیث وارد ہیں۔ ان میں سے ایک نابینا کی حدیث ہے جس نے ایک عورت کو قتل کر دیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اس عورت کو جناب رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتے سنا تھا۔

اور حصین سے مروی حدیث میں ہے کہ عبداللہ ابن عمرؓ کہتے ہیں جس نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کی تو اسے قتل کیا جائے گا۔

صفحہ 142

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کرتے تھے، ایسے شخص کو قتل کیا جائے گا، اس لئے کہ جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے، وہ مرتد ہے، اسلام سے خارج ہے اور مسلمان حضور ﷺ کی شان میں کبھی بے ادبی نہیں کرتا۔ عبداللہ کہتے ہیں، میں نے اپنے والد سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی کرتا ہے، آیا اس کو توبہ قبول کرنے کے لئے کہا جائے گا؟ فرمایا، اس کا قتل واجب ہے اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ .............

حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک ایسے آدمی کو تہ تیغ کر دیا تھا جس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور انہوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا۔

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور نبی کریم ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ حضور ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں فرمایا۔

مصنف کہتے ہیں کہ یہ حدیث شاتم رسول اللہ ﷺ کے قتل کے جواز پر نص ہے۔

حدیث ابو برزہؓ کے حوالہ سے امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی توہین پر کسی کو قتل کرے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اگر کوئی زبان درازی کرتا ہے تو اسے آپ ﷺ کی خاطر قتل کیا جاسکتا ہے۔ آپ ایسے شخص کے قتل کا حکم کہاں فرماتے ہیں، جس کے قتل کی وجہ لوگوں کو معلوم نہ ہو۔ لوگوں پر آپ ﷺ کی اس بارے میں اطاعت فرض ہے کیونکہ آپ ﷺ وہی حکم فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ جس نے رسول پاک ﷺ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔

یہ حدیث حضور نبی کریم ﷺ کی دو خصوصیات کو واضح کرتی ہے:

کی ہے۔

حدیث کا دوسرا مفہوم آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی

باقی ہے۔ جس نے بھی آپ ﷺ کی آپ کے اس دنیا میں تشریف لے جا کی حرمت اکمل ہے اور آپ ﷺ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ : کا قتل جائز ہے۔ اس حدیث کے عموم جائے گا۔

صفحہ 143

باقی ہے۔ جس نے بھی آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی، اس کا قتل جائز ہے بلکہ آپ کے اس دنیا میں تشریف لے جانے کے بعد اور زیادہ ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ کی حرمت اکمل ہے اور آپ ﷺ کی عزت کی خاطر کسی قسم کا تساہل ناممکن ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی، اس کا قتل جائز ہے۔ اس حدیث کے عموم سے مسلمان اور کافر دونوں کے قتل کا استدلال کیا جائے گا۔

صفحہ 144

شاتم رسول ﷺ کیوں سزائے موت کا مستحق ہے؟

الصارم المسلول کے اس باب کا فاضلانہ ترجمہ مولانا غلام احمد حریری نے کیا ہے، جس میں امام ابن تیمیہؒ نے درایت سے شاتم رسول ﷺ کی سزائے موت پر استدلال کیا ہے۔ یہاں بھی ان کی فقیہانہ اور اجتہادی شان نمایاں ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

”شاتم رسول ﷺ کی سزا بصورت قتل متعین ہوئی۔ جیسا کہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔“

پہلی وجہ:

وہ آیات جو طاعن فی الدین (ایسا شخص جو دین پر طعنہ زنی کرے) کے قتل کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

دوسری وجہ:

اس شخص کا واقعہ جس نے عہد رسالت میں ایک یہودی عورت کو قتل کیا تھا اور اس عورت کے خون کو رسول کریم ﷺ نے ھدر (رائیگاں) قرار دیا تھا۔ یہ حدیث بروایت حضرت علیؓ و ابن عباسؓ بیان کی گئی ہے۔ اگر رسول کریم ﷺ کو گالی دینے سے صرف عہد ٹوٹتا اور اس کا قتل واجب نہ ہوتا تو یہ عورت بمنزلہ ایک کافر اور قیدی کے ہوتی۔ نیز یہ اس کافر عورت کی طرح ہوتی جو دارالاسلام میں داخل ہو اور اس نے عہد نہ کیا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی عورت کا قتل جائز نہیں۔

عورتوں کے لئے سب و شتم کی سزا:

صحیحین میں ہے، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعض غزوات میں ایک عورت کی لاش ملی، تو رسول کریم ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ حضرت رباح بن ربیعؓ سے مروی ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ ایک جنگ میں گئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ مقدمتہ الجیش کے افسر تھے۔ حضرت رباحؓ اور اصحاب رسول ﷺ کا گزر ایک عورت کی لاش پر ہوا جس کو مقدمتہ الجیش والوں نے قتل کیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھنے اور اس پر اظہار حیرت کرنے لگے۔ اندریں اثناء رسول کریم ﷺ بھی تشریف لے آئے جو اپنی ناقہ پر سوار تھے۔ لوگ راستہ چھوڑ کر الگ ہو

صفحہ 145

گئے۔ رسول کریم ﷺ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ”یہ عورت لڑتی تو نہ تھی۔“ پھر ایک صحابی سے کہا۔ ”خالد کے پاس جاؤ اور کہو: بچوں اور خادموں کو قتل نہ کرو۔“ اس کو امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب اپنا لشکر خیبر میں ابن ابی الحقیق کے پاس بھیجا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس مسئلہ میں احادیث مشہورہ منقول ہیں۔

اور یہ ان مسائل میں سے جس کو امت دور سلف سے نقل کرتی چلی آئی ہے۔ اس لئے کہ جنگ کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے اور یہ کہ پورا دین اللہ کے لئے ہو جائے اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے یعنی کوئی شخص دوسرے کو اللہ کے دین سے برگشتہ نہ کرسکے۔ ہم صرف اس شخص سے لڑتے ہیں جو اس میں رکاوٹ ڈالتا ہو اور وہ جنگجو آدمی ہو سکتا ہے۔ مگر جو شخص جنگ نہ کرتا ہو تو اس کو قتل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مثلاً عورت، نہایت بوڑھا شخص اور راہب (تارک الدنیا) اور اس قسم کے دیگر اشخاص۔ البتہ عورت اگر لڑتی ہو تو بالاتفاق اسے قتل کرنا جائز ہے، کیونکہ اس میں وہ وصف موجود ہے جس کے نہ ہونے کی وجہ سے شارع نے اس کو قتل کرنے سے منع کیا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا:

”یہ لڑتی تو نہ تھی۔“

مگر سوال یہ ہے کہ آیا عورت کو مرد کی طرح قصداً قتل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسے روکنا اور ہٹانا مقصود ہے جس طرح قصداً حملہ آور کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ فقہاء کے یہاں متنازع فیہ ہے۔ جب عورت کے بارے میں ایسا حکم دیا گیا ہے اور دوسری عورت، رسول کریم ﷺ نے ایک ذمی عورت کے خون کو اس کے لئے ھدر ٹھہرایا تھا کہ وہ رسول کریم کو گالیاں دیتی تھی، حالانکہ اگر اس کو قتل کرنا حرام ہوتا تو آپ ﷺ اس کو برا بتلاتے، آپ ﷺ نے بعض غزوات میں مقتول پایا تھا، اگرچہ اس کی دیت یا کفارہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے کہ رسول کریم ﷺ ایک برے فعل کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کا خاموش رہنا اس فعل کے جواز اور اباحت کی دلیل ہے۔ آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ دشنام دہندہ عورت قیدی اور کافر عورت کی مانند نہیں ہے کیونکہ ان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گالی دینا بذات خود اس کو قتل کرنے کا موجب ہوا، جس طرح رہزنی کر کے کسی کو قتل کرنے کی صورت میں اس کو

صفحہ 146

قتل کرنا اجماعاً واجب ہے۔ زنا کرنے کی صورت میں بھی اسے قتل کرنا واجب ہے۔ نیز مرتد ہونے کی صورت میں اس کو قتل کرنا جمہور علماء کے نزدیک واجب ہے۔

ایک سوال:

اگر معترض کہے یہ ممکن ہے اس عورت کا نبی کریم ﷺ کو گالی دینا اس کے جنگ کرنے کے مساوی ہو۔ ایک معاہدہ عورت اگر جنگ کرے تو اس کا عہد اسی طرح ٹوٹ جاتا ہے، جیسے جنگجو مرد کا عہد لڑنے سے قائم نہیں رہتا۔ اندریں صورت وہ اس عورت کی مانند ہو گی جو جنگ میں عملی طور پر حصہ لیتی ہو اور اسے قیدی بنا لیا جائے تو حاکم کو اس کے بارے میں چار باتوں کا اختیار ہوتا ہے۔ جس طرح یہ اختیار حاکم کو اس آدمی کے بارے میں ہوتا ہے، جو لڑتا ہے اور اسے قیدی بنا لیا جائے۔

گالی دینے والی عورت کے قتل کا جواز:

اس سوال کا جواب کئی طرح سے دیا جاتا ہے:

پہلا جواب:

اس عورت سے صرف یہ قصور سرزد ہوا کہ اس نے اپنے مسلم آقا کی موجودگی میں رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیں، جب کہ مشرکین میں سے کوئی بھی جنگ کرنے کے لئے موجود نہ تھا۔ نہ ہی اس عورت نے کسی طرح مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نہ اپنے ہاتھ سے جنگ کرے نہ زبان سے اس میں حصہ لے، اس کو مقاتل نہیں کہا جا سکتا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ جس کو قتل کرنا جائز نہیں مثلاً راہب، اندھا، شیخ فانی، اپاہج اور اس قسم کے لوگ جو لڑائی کے بارے میں رائے دے سکتے ہوں اور زبان سے مسلمانوں کے خلاف مدد دے سکتے ہوں تو ان کو مقاتل تصور کیا جائے گا۔ مگر مسلمانوں کی ایک جماعت کے نزدیک ایک عورت کا صرف رسول کریم ﷺ کو گالی دینا اس ذیل میں نہیں آتا بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ایذا رسانی ہے جو بعض وجوہ سے سب سے بھی بلیغ تر ہے۔ اگرچہ قتل کی سزاوار نہیں تو کافرہ عورت کو مقاتلہ ہونے کی وجہ سے کیا جاتا، حالانکہ اس نے جنگ نہیں کی اور یہ ناروا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا اگرچہ قتال نہیں، تاہم قتل کا موجب ضرور ہے۔ جب کوئی شخص کفار کو

صفحہ 147

مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر ان سے لڑائی کرنے پر آمادہ کر رہا ہو تو یہ بھی ایک طرح کا قتال ہے، اگرچہ اس کو قتال معروف شمار نہیں کیا جاتا۔

دوسرا جواب:

ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینا بعض وجوہ کے پیش نظر مسلمانوں کے خلاف جنگ پیمائی کے مترادف ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے لکھا تھا کہ انبیاء کی حد شرعی عام حدود کی طرح نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلم انبیاء کرام کو گالی دے تو وہ مرتد ہے اور اگر معاہدہ گالی نکالے تو وہ محارب اور عہد شکنی کرنے والی ہے، بلکہ یہ حرب و ضرب کی شدید ترین قسم ہے۔

تیسرا جواب:

گالی دینے کے فساد کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ اگر اسے زندہ رہنے دیا گیا تو وہ اور اس جیسی دیگر عورتیں گالی دینے میں دلچسپی لینے لگیں گی، جو عظیم ترین فساد فی الارض اور رہزنی کرنے والے کے برابر ہے۔ برخلاف جنگجو عورت کے، جسے قید کر لیا جائے کہ اس کی جنگ آزمائی کا فساد اس کو قید کرنے سے زائل ہو گیا۔ غلامی کی حالت میں لڑنا اس کے لئے ممکن نہیں، البتہ وہ سب و شتم کا اظہار کر سکتی ہے۔ بدیں وجہ اس کا گالی دینا ایسے جرائم میں سے ہے جو سزا کے موجب ہیں اور اس کی خرابی اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ اس کو شرعی سزا دی جائے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو ذمی عورت رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتی ہے، اس حربی عورت کی مانند نہیں جو قید کئے جانے کی صورت میں لڑتی ہو، بلکہ یہ اس ذمی عورت کی طرح ہے جو رہزنی اور بدکاری کا ارتکاب کرتی ہو۔

چوتھا جواب:

اس حدیث میں ایک حکم کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ قتل ہے جس کا سبب گالی دینا ہے۔ لہٰذا حکم کی نسبت سبب کی طرف واجب ہے اور اصل چیز حکم کو ایقاع کرنا ہے۔ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ سبب کوئی اور حکم ہے، وہ دلیل کا محتاج ہے اور اس کو قیدی عورت پر قیاس کرنا درست نہیں، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

صفحہ 148

پانچواں جواب:

اگر وہ قیدی عورت کی مانند ہوتی تو اس کا ختیار حاکم وقت کو دیا جاتا اور رعیت کے کسی فرد کو امور چہارگانہ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار نہ ہوتا اور جو بھی اس عورت کو قتل کرتا تو اس کی قیمت ضمان کے طور پر مسلمانوں کو ادا کرنا پڑتا اور یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس عورت کی حیثیت ”فے“ (وہ مال جو لڑے بغیر کفار سے حاصل ہو) کی ہو اور اگر اس کی حیثیت مالِ غنیمت کی ہو تو اس کی قیمت مجاہدین کو ادا کی جائے گی۔ اس سے مستفاد ہوا کہ اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے۔ (5)

وجوب قتل کے دلائل شرعیہ:

دعوت دی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ستایا کرتا تھا۔ اسی طرح جو شخص بھی آپ ﷺ کو گالی دیتا یا آپ ﷺ کی ہجو کہتا آپ ﷺ اس کو قتل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے، ماسوا اس شخص کے جس پر قابو پانے کے بعد آپ ﷺ اسے معاف کر دیں اور رسول کریم ﷺ جس بات کا حکم دیں اس کی تعمیل واجب ہوتی ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ دشنام دہندہ کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگرچہ دیگر محاربین کا قتل واجب نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت و حیات سے بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی گالی دینے والے کو قابو پا کر معاف کر دیا، ماسوا اس کے جو توبہ کر لے یا منافقین میں سے ہو۔ امر بالجہاد اور اقامت حدود کی تعمیل کے لئے یہ بات مناسب بھی ہے، اسی لئے یہ واجب ہے۔ اس کی مؤید یہ بات ہے کہ اس کو قتل نہ کرنے سے اللہ و رسول ﷺ کی نصرت کا ترک لازم آتا ہے جو کہ جائز نہیں۔

فاروق اعظمؓ کا یہ قول کہ:

”جس نے اللہ کو یا اس کے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کر دو۔“

چنانچہ حضرت عمرؓ نے بطور خاص اس کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عباسؓ

صفحہ 149

فرماتے ہیں:

"جو معاہد عناد رکھتا ہو اور اللہ یا اس کے کسی نبی کو گالیاں دے یا علانیہ ایسا کرے تو اس نے عہد توڑ دیا اسے قتل کر دو۔"

تو گویا حضرت ابن عباسؓ نے گالی دینے کی صورت میں معاہد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے المہاجر کو اس عورت کے بارے میں لکھا تھا جس نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دی تھیں۔ فرماتے ہیں:

"اگر وہ بات نہ ہوتی جو پہلے تم اس عورت کے بارے میں کر چکے ہو تو میں تجھے اس کے قتل کا حکم دیتا، اس لئے کہ انبیاء کی وجہ سے جو حد لگائی جاتی ہے وہ عام حدود کی طرح نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مسلم ایسا کرے تو وہ مرتد ہو گا اور اگر معاہد اس کا مرتکب ہو تو وہ محارب اور عہد شکن ہے۔"

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا "اس عورت کو قتل کرنا بطور حتم واجب تھا بشرطیکہ یہ موقع چلا نہ گیا ہوتا۔" اس میں حاکم وقت کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ خصوصاً جب کہ دشنام دہندہ عورت ہو۔ یہ واقعہ تنہا اس کی دلیل بن سکتا ہے، جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا گیا۔ اسی طرح حضرت ابن عمرؓ نے اس راہب کے بارے میں کہا تھا کہ جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔

"اگر میں اس کی بات سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا۔"

اور اگر وہ راہب اس قیدی کی طرح نہ ہوتا جس کے بارے میں حاکم کو اختیار ہے تو ابن عمرؓ کے لئے اس کو قتل کرنا جائز نہ ہوتا اور یہ دلیل واضح ہے۔

اصل حربی کافر سے شدید تر ہے اور وہ شخص دین کو ہدف طعن بنا کر اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دے کر ہمارے عہد سے نکل جائے، اسے عبرت خیز سزا دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے:

ان شر الدواب عنداللہ الذین کفروا فہم لا یومنون۔

(الانفال: 55)

صفحہ 150

اللہ کے نزدیک جو لوگ کافر ہو گئے چوپایوں کی مانند ہیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔)

اس قسم کی آیات میں اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اگر تم جنگ میں ان لوگوں کو پاؤ تو (اتنی عبرتناک سزا دیجئے) کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ جائیں ممکن ہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ یعنی ایسا سلوک کیا جائے کہ دوسرے لوگوں کا شیرازہ ہی اس کو معلوم کر کے بکھر جائے۔

قرآن میں فرمایا:

"تم اس قوم سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول ﷺ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ اس کا آغاز کیا تھا۔"

(سورۃ توبہ: 13)

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا جو اپنی قسموں کو توڑنے اور رسول کریم ﷺ کو یہاں سے نکال دینے کا ارادہ کرتے ہیں اور انہوں نے ہی نقض عہد کا ارادہ کیا اور ظاہر ہے کہ جو شخص رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، وہ رسول ﷺ کو نکالنے کا ارادہ کرنے اور پہلی مرتبہ اس کا آغاز کرنے سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ قرآن میں مزید فرمایا:

"ان سے لڑائی کیجئے، اللہ ان کو تمہارے ہاتھ سے سزا دے گا، انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ عطا کرے گا اور اہل ایمان کے سینوں کو شفا دے گا اور تمہارے دلوں کے غصے کو دور کرے گا۔

(التوبہ: 14-15)

اور یہی حال ہے ان کفار کو عبرتناک سزا دینے کا جو گالی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ مقصد اسی صورت میں پوری طرح حاصل ہوتا ہے، جو شخص ایک طاقتور گروہ کے اندر رہ کر عہد شکنی کرے اور ہم ان میں سے کسی ایک کو گرفتار کر لیں تو وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ ان کے خلاف لڑنے اور ان پر غلبہ پانے سے یہ مقصد حاصل ہو جائے گا۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ناقض عہد کے خلاف قتل و قتال ازبس ناگزیر ہے، اس لئے کہ مقصد اسی طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس طریقہ میں اگرچہ ہر ناقض عہد شامل ہے جو ایذا دے کر اپنا عہد توڑتا ہے، مگر یہاں اس کا ذکر خصوصی دلالت کی وجہ سے کیا جاتا ہے،

صفحہ 151

اس لئے کہ یہ دلالت عام بھی ہے اور خاص بھی۔

جب ذمی یا معاہد نبی کریم ﷺ کو گالی دے گا تو اس سے دو امر ظاہر ہوں گے:

اور مومنوں کو ایذا دیتا اور دین کو ہدف طعن بناتا ہے اور یہ بات اس کے کافر ہونے اور محض عہد توڑنے سے بڑھ کر ہے۔

اس کی نظیر یہ ہے کہ وہ مسلم عورت کے ساتھ زنا کر کے، رہزنی اور قتل کر کے، مسلمانوں کا مال لے کر اور ان کو قتل کر کے عہد شکنی کا مرتکب ہو۔ اندریں صورت اس کا فعل عہد شکنی کے علاوہ ایک اور جرم پر بھی متضمن ہے۔ اس لئے کہ زنا، رہزنی اور قتل بذات خود ایک جرم ہے، مگر نقض عہد ایک جداگانہ جرم بھی ہے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کی دشنام طرازی بذات خود، نقض عہد سے ایک الگ جرم ہے۔ اس کی ایک جداگانہ سزا ہے جو دنیا و آخرت میں دی جاتی ہے۔ یہ سزا رسول کریم ﷺ کی نبوت کی تکذیب کی سزا سے ایک الگ سزا ہے۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیات ہیں:

”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار ہے۔“

(الاحزاب: 57)

اس آیت میں دنیا اور آخرت کی لعنت اور رسوا کن عذاب کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ایذا کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ایذا رسانی ہی اس کی موجب ہے۔

قرآن میں مزید فرمایا:

”اگر عہد باندھنے کے بعد اس کو توڑ ڈالیں اور دین پر طعنہ زن ہوں تو بڑے بڑے کافروں کو قتل کر دو، ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہو سکتا کہ وہ باز آئیں۔“

(التوبہ: 12)

مندرجہ صدر آیات کی توضیح پیچھے گزر چکی ہے۔

اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ رسول کریم ﷺ جب مکہ میں داخل

صفحہ 152

ہوئے تو ان لوگوں کو امان دی جو قبل ازیں آپ ﷺ سے برسر پیکار رہا کرتے تھے اور جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو توڑ کر خیانت کا ارتکاب کیا تھا‘ ماسوا چند لوگوں کے جن کو آپ ﷺ نے امان نہیں دی تھی۔ ان میں سے دو لونڈیاں تھیں جو آپ ﷺ کی ہجو پر مشتمل گیت گایا کرتی تھیں۔ ایک عورت سارہ تھی جو بنی عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی اور مکہ میں آپ ﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی۔ اندریں اثناء آپ ﷺ نے ہجو گوئی کرنے والی عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا‘ حالانکہ عورت کو قتل کرنا اس وقت جائز ہے جب وہ مصروف حرب و پیکار رہی ہو۔

رسول کریم ﷺ نے سب اہل مکہ کو امان دی۔ حتیٰ کہ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے جنگ لڑی اور عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ ایسا کرنے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجو گوئی ایک ایسا جرم ہے جو تنہا حرب و قتال سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ دو متماثل امور میں تفریق رسول کریم ﷺ کا شیوہ نہیں ہو سکتا‘ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ اس نے ایک مسلم کو قتل کیا تھا۔ علاوہ بریں وہ مرتد تھا اور آپ ﷺ کی ہجو گوئی کیا کرتا تھا اور قتل‘ ارتداد اور ہجو گوئی میں سے ہر جرم ایسا ہے کہ وہ کفر اور جنگ لڑنے سے بھی بدتر جرم ہے۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے ان آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا جو فتح مکہ کے بعد بھی آپ ﷺ کو ستایا کرتے تھے۔ مثلاً ابن الزبعری‘ کعب بن زہیر‘ حویرث بن نقیذ‘ ابن خطل و دیگر اشخاص۔ حالانکہ آپ ﷺ نے سب شہر والوں کو امان دے دی تھی۔

رسول اکرم ﷺ نے ابوسفیان بن حارث کے خون کو ھدر قرار دیا تھا اور ابوسفیان اور عبداللہ بن امیہ کو شرف باریابی حاصل کرنے سے اس لئے منع کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کی توہین کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان قیدیوں میں سے صرف ابن ابی معیط اور النضر بن الحارث کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ دوسرے قیدیوں کے بارے میں یہ حکم نہیں دیا تھا اور جو جو شخص ایسے اشخاص کو قتل کرنے میں اپنی جان دے دے‘ اسے آپ ﷺ اللہ اور اس کے رسول کا حامی و ناصر قرار دیتے تھے۔ اپنے ایذا دینے والے کو آپ ﷺ نے قتل کروا دیا۔ فرمایا کرتے تھے: کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے۔“

صفحہ 153

آپ ﷺ کے صحابہ بھی ایسے موذی کو قتل کرنے میں تیزی سے کام لیا کرتے تھے‘ چاہے وہ ان کا باپ ہو یا کوئی اور (قرابت دار) ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس قسم کے لوگوں پر جب قابو پاتے تو ان کو قتل کرنے کی منتیں مانتے۔

ظاہر ہے کہ ایسے لوگ اگر عام غیر معاہد کفار کی طرح ہوتے تو آپ ﷺ انہیں قتل نہ کرتے اور نہ ان کو قتل کرنے کا حکم دیتے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ آپ نے سب لوگوں کو امان دے دی تھی اور ان جیسے لوگوں سے اپنا ہاتھ روک لیا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا کفر سے بڑھ کر جرم ہے۔ قبل ازیں اس پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے ایک دانا آدمی مطمئن ہو جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینا ایک ایسا جرم ہے‘ جو تمام جرائم کی نسبت زیادہ گھناؤنا اور قبیح ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والا ایک ایسی سزا کا مستحق ہوتا ہے کہ دیگر جرائم پیشہ لوگ اس کا استحقاق نہیں رکھتے۔ وہ ایسا حربی کافر ہی کیوں نہ ہو‘ جو مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزمائی میں مبالغہ کی حد تک منہمک ہو۔ نیز ایسے شخص سے انتقام گیری کی دین میں سخت تاکید کی گئی ہے۔ اس کا خون بہانا افضل الاعمال میں سے ہے اور اس لائق ہے کہ اس میں ممکنہ سرعت و عجلت کر کے رضائے خداوندی حاصل کی جائے۔ یہ بلیغ ترین جہاد ہے‘ جس کو اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ رکھا اور اسے فرض قرار دیا ہے۔

گالی دینا ایک جداگانہ جرم ہے‘ وہ یہ ہے کہ اگر ذمی اہل اسلام یا معاہدین میں سے کسی کو گالی دے اور عہد کو توڑ ڈالے تو گالی دینے کی وجہ سے وہ اس سزا کا مستحق ہو گا‘ جس کا مستحق وہ محض نقض عہد کی وجہ سے نہیں ہو گا۔ پس رسول کریم ﷺ کو گالی دینا عام آدمی کو گالی دینے سے مختلف فعل ہو گا۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ دشنام دہندہ کی گالی اور ہجو سے رسول کریم ﷺ کو اسی طرح الم و رنج ہوتا ہے جس طرح اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ آپ ﷺ کے خون اور مال میں تصرف کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرہتموہ

"کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے جب کہ وہ مر چکا ہے۔ پس تم اسے ناپسند کرو گے۔"

(الحجرات:12)

صفحہ 154

اس آیت کریمہ میں غیبت کو، جو کہ صحیح معنے میں ایک کلام ہے اس شخص کا گوشت کھانے کے برابر دیا گیا ہے جس کی چغلی کھائی گئی، جب کہ وہ مرا پڑا ہو۔

جب غیبت کا یہ حال ہے تو پھر بہتان طرازی کی کیا کیفیت ہو گی؟ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینا بہتان طرازی کے سوا اور کیا ہے؟ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں رسول کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے۔"

گالی دینے سے دوسرے لوگوں کو بھی دکھ پہنچتا ہے اور جس طرح اس سے تمام مومنوں کو الم و رنج پہنچتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کو بھی دکھ پہنچتا ہے۔ کفر و محاربہ سے کسی انسان کو اتنی اذیت نہیں پہنچتی جتنی اس صورت میں پہنچتی ہے جب کہ اس کے ساتھ جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے عزتی بھی کی جائے۔

اگر معترض کہے کہ جو شخص عہد شکنی کر کے رسول کریم ﷺ کی بے عزتی کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جو عہد شکنی کا مرتکب ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ رسول کریم ﷺ کی بے عزتی کرنا اور آپ کو ایذا دینا ایک ایسا جرم ہے، جس کا رسول کریم ﷺ کی خصوصیت اور آپ ﷺ کی ایذا رسانی کی خصوصیت کے اعتبار سے کوئی بدلہ موجود ہی نہیں۔ گویا یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی شخص کسی نبی کو قتل کر دے تو اس کے قتل کی سزا اتنی شدید ہے کہ وہ کفر و محاربہ سے بھی شدید تر ہے۔ یہ بالکل کھلی ہوئی بات ہے۔ اس لئے کہ انبیاء کا خون اور ان کی ناموس مومنین کے خون اور ناموس سے اولیٰ و افضل ہے۔

حقوق رسول کریم

اس کی توضیح یہ ہے کہ متعدد وابستہ ہیں:

کریم ﷺ کی رسالت کا عداوت کیا۔ نیز اس نے رس

کتاب اللہ کی صحت کا انحصار

ہدف طعن بنانا اس کو بھیجنے اس کی رسالت کا انکار اس الٰہی، اس کے اوامر و اخبار ا

اس لئے کہ تمام اہل ایمان مومنین، کیونکہ ان کے دین ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ دن ﷺ کی وساطت اور شفا گالی دینا ان کی اپنی ذات کو دینے سے شدید تر جرم ۔ نفوس، ان کی اولاد، ان کے

بھی متعلق ہے۔ اس لئے کہ کسی کا اس کا مال لینے سے ی کسی کے زخمی کرنے سے ات اپنے نبی ﷺ کے کمال عز

صفحہ 155

حقوق رسول کریم ﷺ اور دشنام طرازی

اس کی توضیح یہ ہے کہ متعدد حقوق رسول کریم ﷺ کی دشنام طرازی کے ساتھ وابستہ ہیں:

کریم ﷺ کی رسالت کا انکار کیا اور اس کے افضل ترین دوست سے اظہار عداوت کیا۔ نیز اس نے رسول کریم ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

کتاب اللہ کی صحت کا انحصار رسالت کی صحت پر ہے۔

ہدف طعن بنانا اس کو بھیجنے والے پر طعن ہے اور رسول ﷺ کی تکذیب اور اس کی رسالت کا انکار اس کو بھیجنے والے کی تکذیب اور انکار ہے۔ یہ انکار کلام الٰہی، اس کے اوامر و اخبار اور اس کی صفات سب کے انکار پر مشتمل ہے۔

اس لئے کہ تمام اہل ایمان اس پر ایمان رکھتے ہیں خصوصاً اس کی امت کے مومنین، کیونکہ ان کے دین و دنیا اور آخرت کے جملہ امور اس سے وابستہ ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ دنیا اور آخرت میں ان تک جو بھلائی پہنچتی ہے ان ﷺ کی وساطت اور شفاعت کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ پس نبی کریم ﷺ کو گالی دینا ان کی اپنی ذات کو گالی دینے، ان کے آباء و ابناء اور جمیع الناس کو گالی دینے سے شدید تر جرم ہے۔ جس طرح نبی ﷺ ان کے نزدیک ان کے نفوس، ان کی اولاد، ان کے آباء اور سب لوگوں کی نسبت محبوب تر ہیں۔

بھی متعلق ہے۔ اس لئے کہ کسی شخص کو جتنا دکھ اپنی بے حرمتی سے ہوتا ہے، کسی کا اس کا مال لینے سے یا مار پیٹ سے اتنا الم و رنج نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات کسی کے زخمی کرنے سے اتنا دکھ نہیں ہوتا۔ خصوصاً اس شخص کے لئے جس پر اپنے نبی ﷺ کے کمال عز و شرف اور علو مرتبت کا اظہار وجوب کا درجہ رکھتا

صفحہ 156

ہو اور یہ وجوب اس لئے ہے تاکہ لوگ دنیا و آخرت میں اس سے مستفید ہوں۔ نبی کی بے آبروئی بعض اوقات اس کے نزدیک اس کو قتل کرنے سے بھی عظیم تر (جرم) ہوتا ہے کیونکہ کسی نبی ﷺ کو قتل کرنے سے اس کی نبوت و رسالت اور اس کی علو مرتبت میں کچھ فرق نہیں آتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح نبی ﷺ کی وفات سے اس کے درجات میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ برخلاف بے آبروئی کے کہ اس سے بعض لوگوں کے نفوس میں اس کے خلاف نفرت اور بدگمانی کے احساسات کروٹ لیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ایمان میں فساد رونما ہو کر ان کے لئے دنیا و آخرت کے خسارے کا موجب ہوتا ہے۔ پھر یہ کیونکر درست ہے کہ ایک دانش مند آدمی یہ سمجھے کہ یہ جرم اسی نوعیت کا ہے جیسے کوئی ذمی دارالاسلام میں سکونت گزیں ہو اور پھر وہ دارالحرب کو وطن بنا لے۔ حالانکہ دارالحرب میں چلے جانا بطور خاص نہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حق ہے اور نہ کسی مسلم کا۔ زیادہ سے زیادہ (اس سے جو جرم سرزد ہوا وہ یہ ہے کہ) وہ شخص ہماری پناہ میں تھا اور اس نے اس تحفظ کو کھو دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسا کر کے اس نے خود اپنی ذات کو نقصان پہنچایا ہے کسی اور کو نہیں۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ گالی دینے سے اذیت اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کے مومن بندوں کو ہوتی ہے وہ کفر و محاربہ سے نہیں ہوتی اور یہ بات محتاج بیان نہیں۔

جب یہ بات ثابت ہو چکی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ دشنام کا جرم ہے، جس کی سزا قتل ہے۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کا کون ذمہ دار ہے، کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دی ہے۔" اس سے معلوم ہوا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دی اس کی سزا یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔ نیز جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ آپ ﷺ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا تھا، جو گالیاں دیا کرتی تھی، حالانکہ نقض عہد کی وجہ سے ذمی کو قتل نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں آپ ﷺ نے گالیاں دینے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا اور جو شخص اسی طرح کا بے دین تھا

صفحہ 157

اس سے کچھ تعرض نہ کیا۔ لوگوں کو اس کی دعوت دی اور اس میں عجلت سے کام لینے والوں کی تعریف کی۔ مزید برآں یہ حدیث مرفوع اور اقوال صحابہ پہلے گزر چکے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

جو کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو غیر نبی کو سب وشتم کرے اسے کوڑے مارے جائیں۔"

پہلی وجہ:

اگر معاملہ یوں ہوتا تو ذمی جب رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے کر عہد توڑتا تو چاہیے تھا کہ اسے کوڑے مارے جاتے، اس لئے کہ یہ ایک انسان کا حق ہے پھر کافر حربی کی طرح اسے کفر کی وجہ سے قتل کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سنت اور اجماع صحابہ کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ وہ سب اس کو قتل کرنے پر متفق ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر دو جرائم کی سزا قتل ہے اور قتل میں تعدد ممکن نہیں ہے۔ اس طرح چاہئے تھا کہ مرتد کو رسول کریم ﷺ کے حق کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے، پھر ارتداد کی وجہ سے اسے قتل کیا جاتا۔ جس طرح وہ مرتد جو کسی مسلمان کو گالی دے تو اس سے آدمی کا حق وصول کیا جاتا ہے، پھر اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ سرقہ کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جو اللہ کا حق ہے اور چرایا ہوا مال جو اس کے پاس ہوتا ہے بالاتفاق واپس کر دیا جاتا ہے اور اگر تلف ہو گیا ہو تو اکثر فقہاء کے نزدیک اس کا تاوان ادا کیا جاتا ہے اور انسانوں کے حقوق، حقوق اللہ میں داخل نہیں ہوتے بشرطیکہ سبب ایک ہو۔

دوسری وجہ:

اگر اس کی سزا قتل نہ ہو بلکہ اس کو مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہو تو رسول کریم ﷺ کے لئے اسے معاف کرنا جائز نہیں۔ اس لئے کہ مرتد پر حد لگانا بالاتفاق واجب ہے، اسے معاف کرنا جائز نہیں۔ جب ایک جرم میں رسول کریم ﷺ نے اسے معاف کر دیا تو معلوم ہوا کہ گالی رسول کریم ﷺ کا حق ہونے کی وجہ سے قتل کی موجب ہے اور اس میں اللہ کا حق داخل ہے۔ رسول کریم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ ﷺ پر بہتان لگانے والا کسی اور کو گالی دینے والے اور بہتان لگانے والے کی مانند ہو گا۔ آپ ﷺ کو گالی دینے میں دو حق جمع ہو گئے۔ ایک اللہ کا حق دوسرا آدمی کا حق۔ جس کو گالی

صفحہ 158

دی گئی اور جس پر بہتان لگایا گیا، اگر اپنا حق معاف بھی کر دے گا تو گالی دہندہ اور قاذف کو اللہ کے حق کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ بھی معافی میں داخل ہے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ اگر اپنی گالی کو معاف کر دیں تو اللہ کا حق بھی معاف ہو جائے گا اور کفر کی وجہ سے اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینے والے کو معصیت کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے حالانکہ جو معصیت حقوق العباد سے خالی ہو تعزیر کی موجب ہے۔

اس کی وضاحت اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ ﷺ گالی دینے والے کو قتل کرنے کے مجاز تھے، جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی روایت میں ہے اور جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ پر جھوٹ باندھا تھا اور آپ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا نیز جیسا کہ شعبی کی روایت میں خارجی کو قتل کرنے کا ذکر ہے۔

مزید برآں حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ، ابو سعید الخدریؓ، جابرؓ اور دیگر صحابہؓ کی روایات سے بھی اسی طرح ثابت ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینا قتل کا موجب ہے، جس طرح دوسروں کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی کا موجب ہے۔

بدیں طور کفر اور قتال کی دو قسمیں ہوں گی:

اسی طرح معصیت کی بھی دو قسمیں ہیں:

ضمن میں ان انواع کی مانند ہے کہ ان کا فاعل قتل کا مستحق ہے مگر تنفیذ کے اعتبار سے ان سے مختلف ہے اس لئے کہ ان میں سزا آدمی دیتا ہے۔ جس طرح وہ معصیت جو غیر نبی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس امر میں دیگر معاصی سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کو روکنا آدمی کے ذمے ہے۔

اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ انسان پر جو حق واجب ہوتا ہے کبھی تو وہ محض اللہ کا حق ہوتا ہے اور وہ اس صورت میں جب کہ کفر و معصیت کا ارتکاب اس انداز سے کرے کہ مخلوق میں سے کسی کو دکھ نہ پہنچے۔ تو اس صورت میں جو حد واجب

صفحہ 159

ہوتی ہے اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا اور گاہے یہ حق محض کسی انسان کا ہوتا ہے جیسے کسی کا قرض دوسرے انسان کے ذمے واجب الادا ہوتا ہے مثلاً کسی خرید کردہ کتاب کی قیمت یا قرض کا بدل اور اس قسم کا قرض مباح جو مباح طریقے سے کسی پر واجب ہوتا ہے۔ اس صورت میں کسی قسم کی کوئی سزا نہیں۔ البتہ اگر قرض ادا کرنے سے منکر ہو تو اس کو سزا دی جائے گی۔ اس لئے قرض ادا کرنے سے انکار معصیت پر مبنی ہے۔ بعض اوقات یہ بات حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً حد قذف و قصاص‘ گالی کی سزا وغیرہ۔ ان امور میں حد و تعزیر دونوں قسم کی سزا دی جاتی ہے۔ یہ سزا دینے کا اختیار آدمی کو تفویض کیا گیا ہے۔ اگر چاہے تو قصاص لے لے اور حد قذف اس پر عائد کرے اور اگر چاہے معاف کردے۔ پس رسول کریم ﷺ کو گالی دینا اگر قسم ثانی میں شامل ہے تو اس میں کسی صورت میں بھی کوئی سزا نہیں۔ لہٰذا یہ طے ہوا کہ یہ تیسری قسم میں شامل ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس کی سزا قتل ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس کی سزا قتل ہے۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس کی سزا کوڑے مارنا ہے اور یہ سزا اسے بطور حد شرعی کے دی جاتی ہے یا بطور تعزیر کے اور یہ بات نہایت صحیح اور واضح ہے۔

اس کا راز یہ ہے کہ جب دو حق جمع ہو جائیں تو اس میں سزا دینا از بس ناگزیر ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی نافرمانی دنیا یا آخرت میں سزا کی موجب ہے‘ جب معصیت پر سزا کا حق اللہ تعالیٰ نے مستحق انسان کو دیا ہے‘ اس لئے کہ اللہ تمام شرکاء کی نسبت اشتراک سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا جس نے کوئی کام کیا جس میں بندوں کو سزا دینے کا حق ہے‘ تو اس کی تمام سزا غیراللہ کے ہاتھ میں ہو گی اور معصیت خداوندی پر جو سزا اسے دی جائے گی‘ اس کا مقصد یہ ہو گا کہ یہ شخص سزا دینے پر قادر ہو سکے۔ اس کے مفہوم کی تکمیل یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس کی سزا صرف قتل ہے۔ اس لئے کہ جس کی وجہ سے یہ سزا دی جاتی تھی وفات کے بعد اس سے معافی کی درخواست نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی فوت شدہ مسلم کو گالی دے تو اس پر تعزیر واجب ہے‘ اس لئے کہ اس نے معصیت کا ارتکاب کیا اور اگر گالی کسی زندہ کو دی جائے تو معافی طلب کئے بغیر اس کے مرتکب کو سزا نہیں دی جائے گی۔

صفحہ 160

تیسری وجہ:

رسول کریم ﷺ کی شان میں دشنام طرازی ایک عام مومن کو گالی دینے کی طرح نہیں۔ اس لئے کہ رسول اکرم ﷺ عام حقوق اور فرائض و محرمات میں عام مومنین کی طرح نہیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ ﷺ کی اطاعت و محبت واجب ہے اور آپ ﷺ کی محبت تمام لوگوں کی محبت سے مقدم ہے۔ نیز یہ کہ اکرام و احترام میں کوئی شخص آپ ﷺ کا سہیم و شریک نہیں ہے۔ آپ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا واجب ہے اور اس قسم کے ان گنت خصوصیات و ممیزات۔ آپ ﷺ کو گالی دینا اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کے مومن بندوں کے لئے ایذا کا موجب ہے۔ اس سلسلہ میں جو بات کم از کم کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ کو گالی دینا کفر و قتال کا موجب ہے۔ جب کہ دوسروں کو گالی دینا صرف گناہ اور معصیت کا آئینہ دار ہے۔

چوتھی وجہ:

رسول اکرم ﷺ نے ان میں کسی کو بھی قتل کے سوا دوسری کوئی سزا نہ دی اور اگر گالی تنہا قتل کی موجب نہ ہوتی، بلکہ اس کی سزا قتل سے کم درجہ کی ہوتی اور رسول کریم ﷺ قتل سے کم درجہ کی سزا معاف کر دیا کرتے تھے اور اس کے مرتکب کو امان دیتے تھے تو اس کے فاعل کو قتل نہ کیا جاتا۔ اس لئے کہ جس دین سے آپ ﷺ وابستہ تھے وہ اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ایک سوال:

اگر معترض کہے کہ پھر دشنام دہندہ کو قتل کرنا دو جرائم کے مجموعے کا نتیجہ ہے؟ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہی ہمارا مقصود ہے۔ اس لئے کہ گالی جب کفر کو مستلزم ہے تو اس کے مرتکب کو معاہد نہیں بنا سکتے ہیں۔

صفحہ 161

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشنام طرازی ارتداد سے بڑا جرم

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا کفر و قتال کی جنس میں سے ہونے کے باوصف‘ تنہا ارتداد سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ اس لئے کہ ایک مسلم کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم بھی۔ جب دین میں داخل ہو کر اس سے نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دوبالا ہو گیا ہے تو اس کا قتل کرنا عین واجب ہے۔ بناء بریں دشنام دہندہ جس نے اللہ‘ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے تمام مومن بندوں کو اذیت دی‘ اس کے کفر کا شدید تر ہونا اولیٰ ہے اور اس لئے متعین طور پر قتل کا مستحق ہے۔ اس لئے کہ کفر کے انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بھی عظیم تر ہے۔

مرتد عورت کے قتل کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر مذہب مختار یہ ہے کہ اسے جہنم رسید کیا جائے۔

قبل ازیں ہم گالی دہندہ ذمی و غیر ذمی عورت کو قتل کرنے کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے اقوال و ارشادات نقل کر چکے ہیں اور جس مرتد آدمی سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اس کا حکم بھی یہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ دشنام دہندہ کو قتل کر دیا کرتے تھے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشنام دہندہ کا کفر شدید تر ہے‘ اس لئے اس کو متعین طور پر قتل کرنا اولیٰ ہے۔

کرہ ارض کو سب و شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پاک کرنا واجب ہے:

روئے زمین کو دشنام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار سے پاک کرنا بقدر امکان واجب ہے‘ اس لئے کہ یہ بات غلبہ دین کی تکمیل‘ اعلاء کلمۃ اللہ اور دین کے اللہ کے لئے خالص ہونے کا لازمی عنصر ہے۔ اگر اعلانیہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جائے اور اس کے مرتکب سے انتقام نہ لیا جائے تو دین کا غلبہ باقی نہ رہے گا اور اللہ کا کلمہ بلند نہیں ہو گا۔ یہ اسی طرح ضروری ہے کہ جس طرح کرہ ارض کو زانیوں‘ چوروں اور رہزنوں سے بقدر امکان پاک کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ روئے زمین کو اصل کفر سے پاک کرنا واجب نہیں اور دونوں قسم کے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو ذمی کی حیثیت سے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے یہاں رہنے کی اجازت دینا‘ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے

صفحہ 162

احکام کی پابندی کرتے ہوں‘ اظہار دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے منافی نہیں۔ کافر سے مصالحت کرنا اور عاجزی کی صورت میں یا متوقع مصلحت کے پیش نظر اس کو امان دینا جائز ہے اور جس جرم سے زمین کو پاک کرنا بقدر امکان واجب ہے‘ اس کے فاعل کو شریعت میں مقرر کردہ سزا دینا جب کہ دوسرا کوئی حاکم اس پر متعین نہ ہو‘ ضروری ہے۔ پس اس آدمی کو قتل کرنا ہی ایک طے شدہ امر ہے کیونکہ اس جرم کی باز پرس کرنے والا دوسرا کوئی نہیں‘ اس لئے کہ اللہ‘ اس کے رسول ﷺ اور تمام مومنین کا حق اس سے وابستہ ہے۔

بایں وجہ دشنام دہندہ اور کافر کا فرق اس سے واضح ہوتا ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کافر پوشیدہ طور پر اپنے کفر پر قائم رہے‘ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا پابند بھی ہو برخلاف اس شخص کے جو علانیہ گالی دینے کا مرتکب ہوتا ہے۔

رسول کریم ﷺ کے دشنام طراز کا قتل اور حد شرعی:

رسول اکرم ﷺ کے گالی دینے والے کو قتل کرنا اگرچہ ایک کافر کا قتل ہے‘ تاہم وہ حدود شرعیہ میں سے ہے اور محض کفر و قتال کی وجہ سے قتل کرنا نہیں ہے۔ جیسا کہ سابق الذکر احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کفر و قتال سے بھی بڑھ کر ہے۔ نیز یہ کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ کفر و قتال کی یہ سزا نہیں ہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یہ قول اس عورت کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے‘ جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔

حضرت صدیقؓ نے فرمایا:

”انبیاء کی حد دیگر حدود کی طرح نہیں ہے۔“

ظاہر ہے کہ حربی قیدی اور اس قسم کے کفار اور محاربین کے قتل کرنے کو حد نہیں کہا جاتا۔ نیز اس لئے کہ دارالاسلام میں رسول کریم ﷺ کو علانیہ گالی دینا‘ عظیم فساد اور بہت سے جرائم سے عظیم تر ہے۔ لہٰذا اس کے لئے ایک ایسی سزا کا مقرر کرنا جو اس کے ارتکاب سے باز رکھنے والی ہو از بس ناگزیر ہے۔ اس لئے کہ شارع ایسے مفاسد کی کھلی اجازت نہیں دیتا اور اس کو موانع و عواقب سے خالی نہیں رکھتا اور اجماع و سنت کی روشنی میں ثابت ہو چکا ہے کہ اس کی سزا قتل ہے اور یہ کسی معین زندہ آدمی کے ساتھ زیادتی کرنے کی سزا نہیں ہے بلکہ یہ اللہ‘ اس کے رسول ﷺ اور ہر مومن کا حق ہے جو

صفحہ 163

اس وقت سامنے موجود نہیں اور جو حد ایسی ہو اس کو بالاتفاق قائم کرنا ضروری ہے۔

رسول کریم ﷺ کا اکرام و احترام:

رسول کریم ﷺ کی نصرت و اعانت اور اکرام و احترام واجب اور آپ ﷺ کے دشنام طراز کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر ایسے آدمی کو قتل کیا جائے تو یہ آپ ﷺ کی تائید و نصرت اور توقیر نہیں بلکہ یہ آپ ﷺ کی قلیل ترین نصرت ہے۔ اس لئے کہ گالی دینے والا ہمارے قبضہ میں ہے اور ہمیں اس پر قدرت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے قتل نہ کریں۔ حالانکہ اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ تو یہ حد درجہ کی رسوائی اور تحقیر و تذلیل ہے۔

واضح رہے کہ اس مسئلے کی توضیح کے کچھ اور طریقے بھی ہیں جو ہمارے بیان کردہ طریق سے مختلف ہیں۔ ہم نے یہاں طوالت سے اس لئے کام نہیں لیا کہ پہلے مسئلہ میں ذکر کردہ دلائل غور کرنے والے کے لئے وہ اس کے وجوب قتل پر دلالت کرتے ہیں۔ اگرچہ پہلے مسئلہ میں ہمارا مقصد اس کے قتل کا مطلق جواز تھا جب کہ یہاں اس کے وجوب قتل علی الاطلاق کا بیان پیش نظر ہے۔ وہاں ہم نے ان لوگوں کے بارے میں لکھا تھا جہاں گالی دینے والے اہل کتاب اور مشرکین کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ یہ آغاز اسلام میں تھا جب کہ آپ ﷺ کو عفو و درگزر کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وقت تک آپ ﷺ کو اہل کتاب سے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ فرمایا گیا تھا کہ ان سے جزیہ قبول کریں اور کفار و منافقین کے خلاف جہاد کریں۔ اس وقت آپ ﷺ گالی دینے والے کو معاف کرنے کے مجاز تھے، اس لئے کہ یہ جرم زیادہ تر آپ ﷺ کے حق سے متعلق تھا اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد اس کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب

صفحہ 164

مسئلہ توبہ

شاتم رسول ﷺ کی توبہ کے مسئلہ پر ارتداد کے حوالہ سے فقہاء میں کچھ اختلاف تھا اور یہ مسئلہ وفاقی شرعی عدالت میں بھی اٹھا تھا لیکن امام ابن تیمیہؒ نے آج سے سات سو سال قبل اس کا مسکت جواب دے دیا تھا جو درج ذیل ہے:

امام حنبلؒ کی روایت کے مطابق امام احمدؒ نے فرمایا: ”جو شخص بھی رسول کریم ﷺ کو گالی دے اور آپ ﷺ کی تحقیر کرے‘ وہ مسلم یا کافر ہو اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ جو شخص عہد توڑے اور اسلام میں نئی بات ایجاد کرے‘ اسے قتل کیا جانا چاہئے۔ ان سے عہد و پیمان اس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ ایسے کام کریں۔“

عبداللہ (بن امام احمدؒ) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا ”جو رسول کریم ﷺ کو گالی دے تو آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے؟“ انہوں نے فرمایا: ”قتل اس پر واجب ہو چکا ہے لہٰذا توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔“

حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک شخص کو قتل کیا جس نے حضور ﷺ کو گالی دی تھی اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا۔ امام احمد نے صراحت کی ہے کہ اگر ایسا شخص مسلم ہو تو وہ مرتد ہو گیا اور اگر ذمی تھا تو اس نے اپنا عہد توڑ دیا۔ انہوں نے اپنے جوابات میں علی الاطلاق فرمایا کہ اسے قتل کیا جائے اور توبہ طلب کرنے کا حکم نہیں دیا۔ دوسری جگہ ان کے یہ الفاظ ہیں کہ محض مرتد سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ الا یہ کہ اس کی ولادت فطرت پر ہوئی ہو۔ امام احمد سے مروی ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

امام احمدؒ سے مشہور روایت یہ منقول ہے کہ تمام مرتدین سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ توبہ کا مطالبہ کرنے میں انہوں نے حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابو موسیٰؓ اور دیگر صحابہؓ کی روایات صحیحہ کی پیروی کی ہے کہ انہوں نے متعدد مقدمات میں مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ حضرت عمرؓ کا اندازہ ہے کہ تین مرتبہ ایسا ہوا۔

امام احمدؒ نے رسول کریم ﷺ کے ارشاد گرامی ”جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو“ کے پیش نظر توبہ کا مطالبہ نہیں کیا۔

صفحہ 165

گستاخ رسول ﷺ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے

اس امر کی دلیل کہ شاتم رسول ﷺ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے اگرچہ وہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کا اظہار کرے۔ مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے اور جمہور کا مذہب یہی ہے:

بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔" (الاحزاب: 57)

قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ اس کے قتل کا مقتضی ہے اور اس کا قتل حتمی اور قطعی ہے۔ اگرچہ پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ بھی کر چکا ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں پھر ان لوگوں کا ذکر کیا جو مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دینے والے کی سزا پکڑے جانے کے بعد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ تو اہل ایمان کو ایذا دینے والے کی سزا بالاولیٰ معاف نہیں ہو گی اس لئے کہ فریقین کی سزا ایذا رسانی پر مبنی ہے نہ کہ اس کفر پر جس پر وہ قائم ہے۔

مزید برآں فرمان ربانی ہے:

اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔ (الاحزاب:۶۰)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص باز نہ آئے اسے پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ باز آنا خون کا محافظ ہے جو پکڑے جانے سے پہلے ہو۔ مزید برآں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کو قتل کرنا لعنت کی تفسیر ہے۔ پس یہ ثابت ہوا کہ ملعون کو جب بھی پکڑا جائے اسے قتل کیا جائے۔ بشرطیکہ وہ پکڑے جانے سے قبل باز نہ آیا ہو اور یہی شخص ملعون ہے، اس لئے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس کا موید ابن عباسؓ کا سابق الذکر قول ہے جو مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر میں ان سے منقول ہے:

ان الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات

صفحہ 166

لعنوا فی الدنیا والاخرة ولهم عذاب عظیم O (النور: 23)

”بے شک جو لوگ پاک دامن غافل مومن عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔“

ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عائشہؓ اور امہات المومنین کے بارے میں بطور خاص نازل ہوئی۔ اس میں توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پھر ابن عباسؓ نے یہ آیت پڑھی:

والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتو باربعة شهداء.... الا الذین تابوا من بعد ذالك O (النور: 5,4)

”اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے.... تو جو لوگ اس کے بعد توبہ کرلیں۔“

ان لوگوں کی توبہ کا ذکر کیا مگر سابق الذکر لوگوں کی توبہ کا ذکر نہیں کیا۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے اٹھ کر ابن عباسؓ کی حسن تفسیر کی وجہ سے ان کا سر چوم لینے کا ارادہ کیا۔ ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ جس شخص پر ایسی لعنت کی جاچکی ہو اس کے لئے کوئی توبہ نہیں اور دوسری لعنت تو اس سے بھی بلیغ تر ہے اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امہات المومنین پر بہتان لگانے والا اس لعنت کا مستحق اس لئے ہوا کہ بہتان ان کی ازواج مطہرات پر لگایا گیا ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ کو ایذا دینے والے کے لئے کوئی توبہ نہیں۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے:

انما جزاء الذین یحاربون الله و رسوله و یسعون فی الارض فساداً... O (المائدہ: 33)

”بدلہ ان لوگوں کا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور زمین پر فساد مچانے کی کوشش کرتے ہیں۔“

اور یہ دشنام دہندہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ لڑنے والا اور دونوں کی مخالفت کرنے والا ہے اور بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والا ہے۔ نیز اس لئے کہ محارب‘ صلح جوئی کرنے والے کی ضد ہے مسالم وہ شخص کسی کو تکلیف دے وہ اس سے سلامت نہیں رہتا‘ اس لئے وہ مسالم نہیں بلکہ محارب ہے اور قبل

صفحہ 167

ازیں ہم نے متعدد طرق سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کا اپنا دشمن قرار دیا ہے اور جو شخص آپ ﷺ سے عداوت رکھتا ہو وہ گویا آپ کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ ایسا شخص روئے زمین پر سب سے بڑا مفسد ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں:

"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر فساد برپا نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار وہی ہیں فساد برپا کرنے والے مگر وہ سمجھتے نہیں۔ (البقرہ:11-12) قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی فساد کا ذکر آیا ہے مثلاً:

اور دیگر آیات ان تمام مقامات میں گالی فساد میں شامل ہے۔ اس لئے کہ گالی روئے زمین پر اصل فساد کی موجب ہے کیونکہ گالی کی وجہ سے نبوت میں فساد پیدا ہوتا ہے اور نبوت دنیا اور آخرت میں دین کی صلاح و فلاح کا ستون ہے چونکہ گالی دینے والا‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے والا اور (خدا کی زمین میں) فساد کی کوشش کرنے والا ہے لہٰذا واجب ہے کہ آیت میں مذکور سزاؤں میں سے ایک سزا اسے دی جائے۔ الا یہ کہ قابو پانے سے پہلے توبہ کر لے۔ قبل ازیں ہم ایسے دلائل پیش کر چکے ہیں کہ اس کی سزا بصورت قتل ایک مسلمہ بات ہے جس طرح رہزنی کے دوران قتل کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ پس واجب ہے کہ یہ سزا اسے دی جائے بجز اس صورت کے جب کہ وہ قابو آنے سے قبل تائب ہو جائے۔ وہ دشنام دہندہ جس کے خلاف شہادت قائم ہو جائے‘ پھر اس کے بعد توبہ کرلے تو اس نے قابو میں آنے کے بعد توبہ کی اس لئے سزا اس سے ساقط نہیں ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ حربی کافر جب پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے تو مطلقاً اس سے توبہ ساقط نہیں ہو گی۔ جس طرح رسول اکرم ﷺ نے عقیلی سے کہا تھا:

اگر تو یہی بات اس وقت کہتا جب تو بااختیار تھا تو پوری طرح فلاح پا جاتا۔"

بخلاف ازیں اسے غلام بنانے کی سزا دی جائے گی یا یہ کہ اسے غلام بنانا بھی جائز

صفحہ 168

ہے اور کوئی دوسری سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ مگر یہ مرتد محارب ہے لہٰذا اسے اسی طرح غلام نہیں بنایا جاسکتا جس طرح عرینہ والوں کو بنایا گیا۔ اس لئے کہ محاربہ باللسان اور محاربہ بالید دونوں یکساں ہیں۔ لہٰذا اس کی سزا بصورت قتال ایک مسلمہ امر ہے۔

مزید برآں یہاں متعدد طرق سے مروی احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دشنام دہندہ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔ جو شخص رسول کریم ﷺ پر جھوٹ باندھے آپ نے حکم دیا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اسے قتل کیا جائے۔ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ یہ حدیث اس امر کی مقتضی ہے کہ دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے خواہ ہم حدیث سے ظاہری مفہوم مراد لیں یا اس کو اس شخص پر محمول کریں جو رسول کریم ﷺ پر ایسا جھوٹ باندھے جس سے آپ کی زندگی داغدار ہوتی ہو۔ شعبی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے کہ آپ نے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کا حکم دیا تھا جس نے العزنی نامی بت کا مال تقسیم کرنے کے بارے میں آپ کو مورد طعن بنایا تھا۔

حضرت ابو بکرؓ کی روایت میں مذکور ہے کہ جب ابو برزہ نے آپؓ سے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی جس نے رسول کریم ﷺ کو گالی دی تھی تو حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ:

"رسول کریم ﷺ کے بعد کسی کو اس کی اجازت نہیں۔"

اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ اپنے دشنام دہندہ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر سکتے تھے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر دیا تھا جو رسول کریم ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ پھر اس کی تائید میں قرآن کریم نازل ہوا۔ حالانکہ یہ رسول کریم ﷺ کی ادنیٰ قسم کی تحقیر تھی، پھر اس سے بڑھ کر تحقیر کی سزا اور کیا ہوگی؟

مزید برآں جب عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے اسلام لانے کے بعد طعن کیا، اور ایسا بہتان باندھا جس سے آپ ﷺ کی زندگی داغدار ہوتی ہے، اور آپ ﷺ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا اور اس کو بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے قبل ازیں اس سے استدلال کیا ہے کہ دشنام دہندہ اسلام لائے تو بھی اسے قتل کیا جائے۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس آنے سے پہلے اسلام لا چکا تھا اور توبہ کرنے کے لئے حاضر ہوا تھا۔ جیسا کہ ہم نے متعدد راویوں سے نقل کیا ہے یا وہ اسلام لانے کے ارادے

صفحہ 169

سے حاضر ہوا تھا۔ رسول اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ وہ اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیعت کرنے سے توقف کیا۔ آپ ﷺ کو یہ انتظار تھا کہ کوئی آدمی اٹھ کر اسے قتل کر دے گا۔

یہ حدیث اس ضمن میں نص کا درجہ رکھتی ہے کہ اس قسم کے طعن کرنے والے مرتد کی توبہ قبول کرنا واجب نہیں بلکہ اسے قتل کرنا جائز ہے اگرچہ توبہ کرنے آیا ہو یا توبہ کرچکا ہو۔ قبل ازیں ہم اس پر روشنی ڈال چکے ہیں اور یہاں دیگر وجوہ سے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس چیز نے اس کے خون کو محفوظ کیا وہ رسول کریم ﷺ کا معاف کرنا تھا نہ کہ محض اسلام لانا۔ نیز یہ کہ اسلام لانے اور توبہ کرنے سے گناہ کا ازالہ ہو گیا اور حضور کے معاف کرنے سے اس کا خون محفوظ ہو گیا۔ جب رسول اکرم ﷺ نے وفات پائی تو آپ نے جو معافی دی تھی وہ باقی نہ رہی اور امت کو یہ حق حاصل نہیں کہ رسول کریم ﷺ کے حق کو معاف کرے اور آپ ﷺ کا بیعت سے اس کے توقف کرنا تاکہ کوئی آدمی اٹھ کر اسے قتل کر دے‘ اس کے جواز قتل پر نص کا درجہ رکھتا ہے اگرچہ وہ توبہ کرنے کے لئے آیا ہو۔

باقی رہا اس کے بعد اس شخص کے خون کا محفوظ ہونا جس نے گالی دے کر توبہ کرلی ہو تو وہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ہم اس شخص کے خون کو اس پر قابو پانے کے بعد بھی محفوظ تصور کریں۔ اس لئے کہ ہم نے متعدد دلائل سے ثابت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ بعض اوقات ایسے شخص کو معاف فرما دیا کرتے تھے جو آپ ﷺ کو گالی دیتا اور جس کے واجب القتل ہونے کے بارے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ بظاہر رسول کریم ﷺ کا اس کو معاف کرنا دشوار بھی ہوتا۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ عبداللہ بن خطل کے واقعہ پر مشتمل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دشنام دہندہ کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ پہلے مسلمان تھا پھر مرتد ہو کر آپ ﷺ کی ہجو کہا کرتا تھا لہٰذا اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا گیا۔

نیز رسول اکرم ﷺ نے ان عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو ہجو کہہ کر اپنی زبان سے آپ ﷺ کو ایذا دیا کرتی تھیں۔ حالانکہ شہر (مکہ) کے عام لوگوں کو آپ نے امان دے دی تھی اور عورت کو صرف اسی صورت میں قتل کیا جاسکتا ہے جب وہ ایسا کام کرے جس سے اس کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہو۔ آپ ﷺ نے جب ان عورتوں کو

صفحہ 170

قتل کیا تو کسی سے بھی توبہ کا مطالبہ نہ کیا اور حربی عورت جو کافر ہو جب تک عملی طور پر جنگ میں شریک نہ ہو اسے قتل نہیں کیا جاتا مگر ان عورتوں کو قتل کیا گیا جب کہ وہ نہ تو جنگ میں شرکت کرتی تھیں اور نہ ہی ان سے توبہ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ جو شخص ان عورتوں کا سا فعل انجام دے اسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنا روا ہے کیونکہ ایسے فعل کا صدور ایک مسلم یا معاہد عورت سے عظیم تر جرم ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ ایک حربی عورت ایسے فعل کی مرتکب ہو۔

قبل ازیں ہم اس ضمن میں ایسے دلائل کا ذکر کر چکے ہیں کہ اب ان کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ ہم نے ذکر کیا تھا کہ حدیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوتا ہے کہ گالی ایک گناہ ہے جو عام کفر سے الگ ہے بلکہ یہ محاربہ کی جنس سے ہے اور وہ توبہ جس کی وجہ سے مرتد کا خون محفوظ ہو جاتا ہے وہ کفر سے توبہ ہے کہ اگر کوئی شخص جنگ کر کے مثلاً کسی کو قتل کر کے یا مسلمان کا مال لے کر مرتد ہوا ہو جیسا کہ قبیلہ عرینہ والوں نے نیز مقیس بن صبابہ نے کیا تھا کہ اس نے ایک انصاری کو قتل کیا اور اس کا مال لے کر مرتد ہو کر لوٹ گیا تھا تو ایسے شخص کو قتل کرنا ایک مسلمہ بات ہے جس طرح رسول کریم ﷺ نے مقیس بن صبابہ کو قتل کیا تھا اور جیسا کہ عرینہ والوں کے بارے میں آپ ﷺ کو وحی کی گئی تھی: ”ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے ۔“ اس لئے جو شخص عداوت اور محاربہ پر مبنی کلام کرے گا وہ اس کی طرح نہ ہو گا جو صرف مرتد ہو۔

شاتم واجب القتل ہے:

ابوبکر بن المنذر کہتے ہیں کہ عام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے آپ ﷺ کو گالی دی اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس حکم کے قائلین میں سے امام مالک بن انس اور امام لیث اور امام احمد اور امام اسحاق ہیں اور یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں رقم طراز ہیں:

”جس نے نبی ﷺ کو گالی دی‘ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے اور یہ عام اہل علم کا مسلک ہے۔“

پھر انہوں نے ابوبکر بن المنذر کا وہ کلام نقل کیا ہے جو قاضی عیاض نے کتاب

صفحہ 171

الشفاء میں لکھا ہے پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فرمایا کہ ابوبکر فارسی جو کہ امام شافعی کے ساتھیوں میں سے ہیں نے اس بات پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جس نے نبی ﷺ کو گالی دی اس کی سزا قتل ہے۔ یہ اجماع جو انہوں نے بیان کیا ہے‘ صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانہ کے اجماع پر محمول ہے اس سے ان کی مراد مسلمانوں کا وہ اجماع ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”نبی ﷺ کو گالی دینے والے اور عیب گیری کرنے والے کے قتل پر امت کا اجماع ہے اور اسی طرح کئی اور علماء سے اس کے قتل کرنے اور کافر ہونے پر اجماع نقل کیا گیا ہے۔

امام اسحاق بن راہویہ جو کہ کبار ائمہ میں سے ہیں کہتے ہیں مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی یا رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت میں سے کسی چیز کو رد کیا یا اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں سے کسی نبی کو گالی دی تو وہ کافر ہو جائے گا اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ساری شریعت کا اقرار کرتا ہو۔

خطابی کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جو اس شخص کے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کرتا ہو۔

محمد بن سحنون کہتے ہیں علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی ﷺ کو سب وشتم کرنے اور آپ ﷺ کی عیب گیری کرنے والا کافر ہے اور اس کے لئے عذاب کی وعید آئی ہے اور امت کے ہاں اس کا حکم قتل ہے اور جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔

شیخ الاسلام ابو العباس کہتے ہیں:

”قابل تحریر بات یہ ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے بارے میں گالی گلوچ کیا‘ اگرچہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے اور بغیر اختلاف کے اس کی سزا قتل ہے اور یہ ائمہ اربعہ اور دیگر دوسرے ائمہ کا مذہب ہے۔“

ائمہ مجتہدین کے اس اجماع کے بعد کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور اس کی سزا بطور حد قتل مقرر ہے۔

صفحہ 172

علمائے جدید کے فتاوی اور مقالات

علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی دور حاضر کی وہ عہد آفرین شخصیتیں ہیں جنہوں نے اپنے علم و فکر اور تدبر سے یورپ کی ملحدانہ یلغار کے دھاروں کا رخ اپنی پوری قوت کے ساتھ موڑ دیا۔ ان میں سے کسی کی سیاسی حکمت عملی سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی دینی بصیرت اور علمی دیانت سے انکار حق و صداقت سے انکار ہے۔ راقم کا علامہ اقبال اور مولانا آزاد سے تو قلب و ذہن کی گہرائیوں سے تعلق ہے لیکن اسے مولانا مودودی کے فکر و نظر سے براہ راست استفادہ کا شرف حاصل رہا ہے۔

ان تینوں منتخب روزگار شخصیتوں کے جس تابناک پہلو نے مجھے سب سے زیادہ متاثر اور ان سے قریب تر کر دیا ہے وہ ان کے حضور ختمی مرتبت ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ عشق و عقیدت ہے۔ بارگاہ مصطفوی میں علامہ اقبال کے نذرانہ عقیدت سے ہر مسلمان کی آتش شوق تیز تر ہوتی ہے۔ مولانا آزاد کے نایاب مقالہ کا ہر لفظ احترام و عقیدت رسول ﷺ کا مظہر ہے۔ اس لئے ان کی نظم و نثر شامل کتاب ہیں۔

مولانا مودودی کے زیر نظر مضمون سے سرور عالم ﷺ کی شان جلالی آشکار ہے۔ یہ مضمون مولانا نے 1927ء میں اس وقت لکھا تھا جب لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج دلیپ سنگھ نے گستاخ رسول ﷺ راج پال کو بری کر دیا تھا۔ اس لئے بھی اس مضمون کی تاریخی اہمیت ہے۔ مضمون اگرچہ مختصر ہے مگر نہایت جامع اور تمام بنیادی نکات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

سرکار رسالت

اور اس کے ایـ

مولانا ابو الکلام آزاد بیسویں صدی کھڑے ہوئے ہیں وہ ان کی عبقریت کا ا کے جو معارف اور حقائق انہوں نے بیا کیا ہے وہ بھی بالکل منفرد اور یگانہ ہے اقدس سے جو عقیدت اور محبت مولانا ک گواہ ہے۔ حضور ختمی مرتبت ﷺ کے ایک نہایت بلند پایہ مقالہ سپرد قرطاس ک ابھی عملی سیاست کی وادی پر خار میں شامل نہ ہونے سے ایک باب کچھ نامک کتاب کیا گیا ہے۔

ایک صاحب نے مولانا سے ا "مسیح" لکھتے اور بولتے ہیں اور بعض مذہبی حکم اس بارے میں ہے کہ پیغمب بولے جائیں۔" اس پر مولانا نے جو جوا

باب پنجم ص 34)

سچا احترام اور اس کا مقام:

آپ نے ایک اصولی بحث چھیڑ متفق نہیں ہو سکتا۔ بے شک سچا ادب مگر یہ صرف اسی پر موقوف نہیں۔ ا "دل" کی جگہ "حلق" میں ہو۔ اعتقا کما قال اللہ تعالیٰ:

صفحہ 173

سرکار رسالت مآب ﷺ کا احترام

اور اس کے ایمانی اور قانونی تقاضے

مولانا ابو الکلام آزاد

مولانا ابو الکلام آزاد بیسویں صدی کے درمیان علم و فضل کے جس بلند مقام پر کھڑے ہوئے ہیں وہ ان کی عبقریت کا آئینہ دار ہے اپنی تحریر اور تقریر میں توحید و رسالت کے جو معارف اور حقائق انہوں نے بیان کئے اور اس کے لئے جو اسلوب نگارش اختیار کیا ہے وہ بھی بالکل منفرد اور یگانہ ہے۔ سرکار رسالت مآب ﷺ کی ذات مقدس اور اقدس سے جو عقیدت اور محبت مولانا کو تھی اس پر ان کی تحریر اور تقریر کا ایک ایک لفظ گواہ ہے۔ حضور ختمی مرتبت ﷺ کے احترام اور اس کے مقام کے بارے میں مولانا نے ایک نہایت بلند پایہ مقالہ سپرد قرطاس کیا تھا جو ”دور الہلال“ کی امانت ہے جبکہ مولانا نے ابھی عملی سیاست کی وادی پر خار میں قدم نہیں رکھا تھا پہلے ایڈیشن میں اس مقالہ کے شامل نہ ہونے سے ایک باب کچھ نامکمل سا رہ گیا تھا اس لئے طبع ثانی میں اسے شامل کتاب کیا گیا ہے۔

ایک صاحب نے مولانا سے استفسار کیا تھا کہ عیسائی حضرت مسیح ؑ کو بلا تامل ”مسیح“ لکھتے اور بولتے ہیں اور بعض مواقع پر اختصار کا تقاضہ بھی یہی ہوتا ہے۔ کیا کوئی مذہبی حکم اس بارے میں ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے نام کے ساتھ تعظیمی الفاظ ضرور بولے جائیں۔“ اس پر مولانا نے جو جواب دیا تھا وہ نذر قارئین ہے: (رسول رحمت ﷺ

باب پنجم ص 34)

سچا احترام اور اس کا مقام:

آپ نے ایک اصولی بحث چھیڑ دی۔ افسوس کہ فقیر آپ کے اس خیال سے کبھی متفق نہیں ہو سکتا۔ بے شک سچا ادب اور احترام وہی ہے جو دل سے ہو نہ کہ زبان سے مگر یہ صرف اسی پر موقوف نہیں۔ انسان کا کوئی اعتقاد اور خیال ایسا نہیں جس کا گھر ”دل“ کی جگہ ”حلق“ میں ہو۔ اعتقاد چیز ہی ایسی ہے جو دل و دماغ سے تعلق رکھتی ہے کما قال الله تعالیٰ:

صفحہ 174

”ولما يدخل الايمان في قلوبكم“ اور جب کہ ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (الحجرات: 14) یعنی ایمان کی جگہ دل ہے نہ کہ زبان۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ دل کے اعتقاد کا ترجمان کون ہے؟ کیونکر معلوم ہو کہ یہ دل ابوذر غفاریؓ کا ہے اور یہ دل ابو جہل شقی کا؟ جواب صاف ہے کہ صرف اعمال اور زبان کا اعتراف کہ ”نحن نحكم بالظواہر۔“ اگر یہ نہ ہو تو پھر دنیا میں سیاہ و سفید کی تمیز ہی اٹھ جائے۔ قانون کو دیکھیے کہ وہ نیت اور ارادے کو ان کی پوری جگہ دینے سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن ساتھ ہی اگر آپ عدالت میں جاکر مجسٹریٹ کو یور آنر (Your Honour) کی جگہ محض ”تم“ کرکے خطاب کیجئے گا تو گو آپ کتنا ہی کہیں کہ تعظیم کی جگہ دل ہے، زبان نہیں، لیکن امید نہیں کہ وہ آپ کو دفعہ نمبر 177 دفعہ 228 سے بری کر دے۔

اقرار تصدیق اور عمل:

مذہب کا بھی ایک روحانی قانون ہے اس نے خود ہی انما الاعمال بالنیات (تمام کاموں کا دارو مدار نیت پر ہے) کا اصول قائم کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اعمال ظاہری اور لسانی کو بھی وہ اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود قرآن کریم کے بار بار اظہار کے کہ ایمان کا تعلق محض دل و اعتقاد سے ہے، ہم نے یہ نہایت سچی تعریف اسلام کے عقاید میں تسلیم کرلی ہے کہ اقرار باللسان و تصدیق بالجنان وعمل بالارکان (اقرار زبان سے، تصدیق دل سے اور عمل اعضاء و جوارح سے)

آپ کہتے ہیں کہ تعظیم کی اصل جگہ دل ہے، میں کہتا ہوں چونکہ دل ہے، اسی لیے آج کل کے تعلیم یافتہ اشخاص کی زبان اور عمل تعظیم سے خالی ہیں۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو نام دل کو محبوب و محترم ہو، وہ زبان پر گزرے اور محبت و احترام سے خالی ہو؟ اگر آپ کسی کو چاہتے ہیں تو سمجھ سکیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں:

قسم بنام تو خوردن دلیل غیرت نیست
بخاک پاک تو آں ہم کمال بے ادبی است

ایک محدث کا ارشاد:

آج کل کے ارباب تحریر و تقریر کو اکثر دیکھتا ہوں کہ انھوں نے بقول آپ کے آنحضرت ﷺ کے اسم سامی کے تعظیمی الفاظ کی طوالت سے گھبرا کر ”بانی اسلام“ کی

صفحہ 175

ایک اصطلاح تصنیف کرلی ہے۔ وہ بلا تامل اپنی تحریر و تقریر میں ”بانی اسلام نے یوں کیا“ اور ”بانی اسلام نے اس طرح کہا“ بولتے اور لکھتے ہیں۔ اس طرح ٹھیک ٹھیک ان کی زبان ان کے دلی الحاد کی ترجمانی کرتی ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ ان کے دل میں آنحضرت ﷺ کی تعظیم ہے تو ان کو تو بار بار اسم محبوب و مطلوب درود و صلوٰۃ کے ساتھ لینا تھا کہ محبوب کی یاد کی جتنی تقریبیں نکل آئیں، عین مقصود عشق ہیں۔ ایک جلیل القدر محدث سے جب پوچھا گیا کہ علم حدیث سے اس درجہ شوق کیوں ہے؟ تو اس نے کہا ”اس لیے کہ اس میں بار بار ”قال رسول الله ﷺ“ کا جملہ آتا ہے اور اس طرح اس اسم گرامی کے ذکر اور اس پر درود و صلوٰۃ عرض کرنے کی تقریب ہاتھ آجاتی ہے۔

تعظیم کے نصوص:

یہ نہ سمجھئے گا کہ محض اعتقاد قلبی اور جوش تعظیم و احترام اسلامی اس اعتقاد کا ذریعہ ہے، نہیں بلکہ فی الحقیقت آنحضرت ﷺ کی یہ تعظیم اسی طرح ایسے نصوص قطعیہ پر مبنی ہے، جس سے کوئی قائل قرآن تو انکار نہیں کرسکتا۔

جب بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ میں آیا تو آنحضرت ﷺ مکان میں تشریف رکھتے تھے۔ نادانوں نے دروازے سے آپ ﷺ کا اسم سامی لے لے کر پکارنا شروع کردیا کہ ”یا محمد ﷺ اخرج الینا“ اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے ساتھ اتنی گستاخی بھی گوارا نہ ہوئی اور ارشاد ہوا:

ان الذين ينادونك من وراء الحجرات اكثرهم لا يعقلون۔ ولو انهم صبروا حتى تخرج اليهم لكان خيرا لهم۔

(الحجرات ۴-۵)

”اے پیغمبر! جو لوگ تمہیں مکان کے باہر سے نام لے لے کر پکارتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو مطلق عقل اور تمیز نہیں۔ بہتر تھا کہ وہ صبر کرتے اور جب تم باہر نکلتے تو مل لیتے۔“

اس آیت سے پہلے کی آیت میں فرمایا:

”اے مسلمانو! جب آنحضرت کے حضور میں عرض حال کرو تو اپنی آوازوں کو ان کی آواز سے بلند کرکے گفتگو نہ کرو اور نہ بہت زور سے

صفحہ 176

بات چیت کرو جیسا کہ تم آپس میں کیا کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کے سبب سے تمہارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

خطاب میں امتیاز تعظیمی کی شان:

خدا تعالیٰ کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ آپ کی جناب میں کوئی اونچی آواز سے گفتگو کرے، چہ جائیکہ تعظیم و تکریم کے بغیر نام لیا جائے۔ قرآن کا مطالعہ کیجئے تو آپ کو معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے خود آپ کے اس امتیاز تعظیمی کی شان کا نمونہ ہر جگہ قائم رکھا ہے۔ جس قدر انبیائے اولوالعزم سے تخاطب قرآن میں موجود ہے، جگہ جگہ آپ پائیں گے کہ ان کا اصلی نام اور علم لے کر انھیں پکارا گیا ہے۔ مثلاً ”یا ادم اسکن انت وزوجك“ ”وما تلك بيمينك يا موسٰى“ يادائود انا جعلناك خليفة فى الارض“ ”يا زكریا انا نبشرك بغلام اسمه يحيٰى خذ الكتاب بقوه“ يا عيسٰى اني متوفيك ورافعك الی“ اس طریق تخاطب کے مطابق چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی یا محمد! یا احمد (ﷺ) کہہ کر پکارتا مگر اللہ کو اس درجہ آپ کا احترام کرانا مقصود تھا کہ تمام قرآن میں ایک جگہ بھی آپ کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا، بلکہ جہاں کہیں پکارا ہے یا تو صدائے تعظیم و تکریم سے مثلاً ”یاایھا الرسول بلغ ماانزل اليك“ يا ايها النبى جاهد الكفار و المنافقين“ یا پھر صدائے محبت و عشق سے: یاایھا المزمل“ ”یاایھا المدثر!

و كل ما يفعله المحبوب، محبوب:

اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ آپ ﷺ کے نام کی عزت و احترام کی مثال کیوں نہ قائم کرتا حالانکہ جس شہر کی خاک آپ ﷺ کے قدموں سے مس ہوئی ہے اس کو تو وہ بھی اس درجہ محبوب ہے کہ اس کی قسم کھاتا ہے۔

لا اقسم بھذا البلد وانت حل بھذا البلد۔

”اے پیغمبر! ہم شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں اور اس لیے کہ تم اس میں مقیم ہو۔

(البلد :1‘2)

محبت اور ایمان:

حقیقت یہ ہے کہ دلی اعتقاد ایک بیج ہے جو بغیر محبت کے بار آور نہیں ہوتا اور

صفحہ 177

محبت کے لیے احترام و تعظیم ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں آپ کی تعظیم و تکریم پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ تعزروہ وتوقروہ (فتح :9) یعنی ان (ﷺ) کی تعظیم کرو اور ان (ﷺ) کا احترام بجا لاؤ! محدثین نے اس مسئلے پر بہت بحث کی ہے کہ مومن کے لیے اللہ کی اور آنحضرت ﷺ کی محبت بھی اتباع احکام کی طرح اجباری ہے یا اختیاری؟ کیونکہ محبت اختیاری شے نہیں اور اصل مقصود احکام اسلام کی پیروی ہے، لیکن غور کیجئے تو اس سوال کی یہاں گنجائش ہی نہیں، محبت اختیاری و اجباری ہونے کا سوال تو جب پیدا ہو، جب محبت اور ایمان دو چیزیں ہوں، حالانکہ ایمان تو از سرتاپا محبت ہے اور وہ ایمان نہیں جو محبت سے خالی ہو۔

والذین امنوا اشد حبا للہ۔

(بقرہ :165)

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی محبت اللہ سے نہایت شدید ہے۔

یہاں ارباب ایمان کی یہ علامت بتلائی اور دوسری جگہ یہودیوں کے اس دعوے پر کہ ”نحن ابناء اللہ واحبائہ یہ جواب دیا کہ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفر لکم ذنوبکم واللہ ھو الغفور الرحیم۔ ”اگر تم واقعی محبت الٰہی کے مدعی ہو تو اس کی یہ صورت ہے کہ رسول کا اتباع کرو۔ پھر تمہارے محبت کرنے کی ضرورت نہ رہے گی خود خدا تم کو اپنا محبوب بنائے گا اور وہ تمہارے گناہوں کو بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔“

اگر آنحضرت ﷺ کا اتباع محبت و محبوبیت الٰہی کے لیے شرط ہے تو محبت بدرجہ اولیٰ شرط ہے کیونکہ جس کی محبت آپ کے دل میں نہیں، اس کا اتباع کیسے کیا جائے گا؟

احادیث کی شہادت :

صحیحین کی اس مشہور حدیث کے بھی یہی معنی ہیں کہ: لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔

صفحہ 178

”تم میں کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔ جب تک میں اس کے نزدیک محبوب تر نہ ہوں اس کے ماں باپ سے‘ اس کی اولاد سے اور اتنا ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں سے۔“

ایک دوسری حدیث میں ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ لانت احب الی من کل شیء الا نفسی ”آپ (ﷺ) محبوب تر ہیں۔ مجھ کو تمام چیزوں سے‘ البتہ میری جان سے زیادہ نہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ”والذی نفسی بیدہ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیک من نفسک“ قسم خدا کی تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک مجھ کو اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ رکھو۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا انت احب الی من کل شی حتی نفسی ”اب دیکھتا ہوں تو آپ (ﷺ) اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ تب آپ نے فرمایا کہ ”الان یا عمر“ اے عمرؓ تیرا ایمان مکمل ہو گیا۔

تو حضرت! اپنا اعتقاد تو یہ ہے۔ انصاف کیجئے کہ میں کہاں ہوں اور آج کل زمانہ کہاں ہے؟ لوگ جس شے کو ایمان کی اقلیم کہتے ہیں‘ میں تو اس کو‘ اس وجود محبوب و مطلوب کے ایک ذرہ محبت کے اندر دیکھتا ہوں۔ اسی سے تعظیم و تکریم اسی در سے جو کچھ اپ کا مقصود ہو قرار دے لیجئے۔

ترا نوالہ دمادم زخوان یطعمنی ترا پیالہ مدام از شراب یسقینی
مرا تو قبلہ دینی۔ ازاں سبب گفتم بہ مردماں کہ لکم دینکم ولی دینی
صفحہ 179

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

(مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس کے متعلق مسلمانوں کے جذبات کا صحیح اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے، اسلام میں قتل کی سزا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کا خون مباح قرار دیا گیا ہے۔ نسائی میں کئی طریقوں سے ابو برزہ الاسلمی کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ: ”حضرت ابو بکر صدیقؓ ایک شخص پر ناراض ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس کی گردن ماروں؟ یہ سنتے ہی آپ کا غصہ دور ہو گیا اور آپ نے جھڑک کر مجھے فرمایا ماھذا لاحد بعد رسول اللہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کا درجہ نہیں ہے کہ اس کی گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے۔“

ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک اندھے مسلمان کی لونڈی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس مسلمان نے تکلے سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ دوسرے دن جب اس کے مارے جانے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ کام کیا ہے اس کو میں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اٹھ کھڑا ہو۔ یہ سن کر وہ اندھا گرتا پڑتا آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ فعل میں نے کیا ہے۔ وہ میری لونڈی تھی۔ مجھ پر مہربان تھی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت بدگوئی کرتی تھی۔ میں اسے منع کرتا تو نہیں مانتی تھی۔ میں ڈانٹتا تو اس پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ کل رات پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہا۔ اس پر میں اٹھا اور تکلا چبھو کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب لوگ گواہ رہیں کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔“

اسی طرح بخاری شریف میں کتاب المغازی میں کعب ابن اشرف کے قتل کا واقعہ موجود ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کر کے اور قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتا تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد ابن مسلمہؓ کے ہاتھوں اسے قتل کروا دیا۔ ابی داؤد میں کعب ابن اشرف کے قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ: ”وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جوش دلاتا

صفحہ 180

تھا۔“

قسطلانی میں بخاری کی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ: وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتا تھا، اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی ہجو کرتا اور قریش کو ان کے خلاف بھڑکاتا۔“

ابن سعد نے بھی اس کے قتل کی یہی وجہ بیان کی ہے: ”وہ ایک شاعر تھا۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کی ہجو کرتا تھا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتا تھا۔“

کتب فقہ میں اس کے متعلق صریح احکام موجود ہیں اس کے بعد مولانا مودودی، علامہ شامی اور شیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ کے فتاویٰ اور اقوال کا جو پہلے بیان ہو چکے ہیں حوالہ دے کر لکھتے ہیں:

پس جزئیات میں فقہا کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف ہو، مگر رسول ﷺ کی اس عظمت میں حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی سب کا اتفاق ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے۔ اس سے صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں داعی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حرمت و عزت کے متعلق کیا احکام ہیں۔ اس بارے میں مسلمانوں کا مذہب ان کو کیا تعلیم دیتا ہے۔

صفحہ 181

سماحۃ الشیخ عبدالعزیز عبداللہ بن باز

مفتی اعظم سعودی عرب کا فتویٰ

مفتی اعظم سعودی عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز باز دنیائے اسلام کی ممتاز دینی شخصیت ہیں۔ وہ علمائے سلف کے حوالہ سے گستاخ رسول کو واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ اس فتویٰ کے اقتباس کا ترجمہ قاری عبدالحلیم مدنی صاحب نے کیا ہے، جو حسب ذیل ہے: ”امام ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی اپنی تفسیر (الجامع الاحکام القرآن) میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ولئن سالتہم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب قل ابا للہ وایاته ورسولہ کنتم تستھزون لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم“ اور اگر تم ان سے دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی مذاق اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے تھے، بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو“۔

قاضی ابوبکر ابن العربی کہتے ہیں جو انہوں نے اس بارے میں بات کہی ہے وہ اس سے خالی نہیں کہ یا تو انہوں نے سنجیدگی سے کہی ہے، مذاق سے، یہ بات جس طرح سے بھی ہو کفر ہے۔ کفریہ انداز سے مذاق بھی کفر ہوتا ہے۔ اس بات میں امت کے اندر کوئی اختلاف نہیں۔

قاضی عیاض بن موسیٰؒ اپنی کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ میں فرماتے ہیں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ”جان لیجئے کہ جس نے قرآن یا مصحف یا اس کی کسی چیز کو حقیر سمجھا یا ان دونوں کو گالی دی یا اس کا (یعنی قرآن کا) انکار کیا یا اس کی ایک آیت یا ایک حرف کا انکار کیا یا اس کو جھٹلایا یا اس کے کسی صریح حکم یا خبر کی تکذیب کی یا اس کی

صفحہ 182

نفی کردہ چیز کا اثبات یا ثابت کردہ چیز کی نفی کی‘ یعنی اس کو جانتے ہوئے یا اس کی کسی چیز میں شک کیا تو ایسے شخص کے کافر ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

” وانہ لکتاب عزیز لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید“۔

ترجمہ: اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے۔ اس پر جھوٹ دخل نہ آگے سے ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔ دانا اور خوبیوں والے کی طرف سے اتاری گئی ہے۔

ابوبکر بن المنذر کہتے ہیں کہ عام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے آپ ﷺ کو گالی دی اس کو قتل کر دیا جائے گا اور اس حکم کے قائلین میں سے امام مالکؒ بن انس اور امام لیثؒ اور امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ ہیں اور یہی مذہب امام شافعیؒ کا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اپنی کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں رقم طراز ہیں:

”جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی‘ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے اور یہ عام اہل علم کا مسلک ہے۔ پھر انہوں نے ابوبکر ابن المنذرؒ کا وہ کلام نقل کیا ہے جو قاضی عیاضؒ نے کتاب الشفاء میں لکھا ہے پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے فرمایا کہ ابوبکر فارسی جو‘ کہ امام شافعیؒ کے ساتھیوں میں سے ہیں نے اس بات پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اس کی سزا قتل ہے۔ یہ اجماع جو انہوں نے بیان کیا ہے‘ صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانہ کے اجماع پر محمول ہے یا اس سے ان کی مراد مسلمانوں کا وہ اجماع ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے۔“

صفحہ 183

مولانا احمد سعید کاظمی کی عالمانہ توضیحات

مولانا احمد سعید کاظمی مرحوم کا علمائے اہل سنت و الجماعت میں ممتاز مقام ہے۔ آپ بلند پایہ عالم دین اور مجتہد وقت رہے ہیں۔ راقم سے مولانا کے ساتھ نفاذ اسلام کے بارے میں کافی علمی مباحث رہے ہیں۔ شاتم رسول ﷺ کے بارے میں مولانا کا موقف بالکل واضح ہے۔

"کتاب و سنت، اجماع امت اور تصریحات ائمہ دین کے مطابق توہین رسول کی سزا صرف قتل ہے۔ رسول کی صریح مخالفت توہین رسول ہے۔ قرآن مجید نے اس جرم کی سزا قتل بیان کی ہے۔ اسی بناء پر کافروں کے قتل کا حکم دیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے:

ذالک بانہم شاقوا اللہ و رسولہ (سورۃ انفال، آیت: 13)

یہ یعنی کافروں کو قتل کرنے کا حکم اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی صریح مخالفت کر کے ان کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ توہین رسول کفر ہونے پر بکثرت آیات قرآنیہ شاہد ہیں۔

مسلمان کہلانے کے بعد کفر کرنے والا مرتد ہوتا ہے اور ازروئے قرآن مرتد کی سزا صرف قتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس
شدید تقاتلونہم او یسلمونO (سورۃ الفتح، آیت: 16)

"اے رسول (ﷺ) پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیجئے، عنقریب تم سخت جنگ کرنے والوں کی طرف بلائے جاؤ گے۔ تم ان سے قتال کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔

یہ آیت مرتدین اہل یمامہ کے حق میں بطور اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگرچہ بعض علماء نے اس مقام پر فارس و روم وغیرہ کا ذکر بھی کیا ہے لیکن حضرت رافع بن خدیجؓ کی حسب ذیل روایت نے اس آیت کو مرتدین بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے حق میں متعین کیا ہے:

"حضرت رافع بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون لوگ ہیں یہاں

صفحہ 184

تک کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے (مرتدین) بنی حنیفہ (اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کو بلایا۔ اس وقت ہم سمجھے کہ اس آیت کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں۔“

ثابت ہوا کہ اگر مرتد اسلام نہ لائے تو از روئے قرآن اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں۔ قتل مرتد کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اختصار کے پیش نظر صرف ایک حدیث پیش کی جاتی ہے:

”حضرت علیؓ کے پاس (مرتد ہو جانے والے) زندیق لوگ لائے گئے، تو آپ نے انہیں جلا دیا۔ اس کی خبر حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر (آپ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو اور میں انہیں قتل کرا دیتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو (مسلمان) اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کر دو۔ (12)

گستاخ رسول ﷺ کا قتل:

غلاف کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسول ﷺ کے مرتکب مرتد کو مسجد حرام میں قتل کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ کسی نے حضور ﷺ سے کہا کہ حضور ﷺ (آپ ﷺ کی شان میں توہین کرنے والا) ابن خطل کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اقتلوہ اسے قتل کر دو۔

یہ عبداللہ بن خطل مرتد تھا۔ ارتداد کے بعد اس نے کچھ ناحق قتل کئے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہہ کر حضور ﷺ کی شان میں توہین و تنقیص کیا کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والی لونڈیاں اس لئے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تو اسے غلاف کعبہ سے باہر نکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کی گردن مار دی گئی۔

یہ صحیح ہے کہ اس دن ایک ساعت کے لئے حرم مکہ کو حضور ﷺ کے لئے حلال

صفحہ 185

قرار دے دیا گیا تھا۔ لیکن بالخصوص مسجد الحرام میں مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان اس کا قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخ رسول باقی مرتدین سے بدرجہا بدتر و بدحال ہے۔

اجماع امت:

شاتم رسول ﷺ کے واجب القتل ہونے کے بارے میں تمام علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس کے ثبوت میں مولانا نے امام ابو سلیمان الخطابی، قاضی ابو الفضل عباس اندلسی، امام ابو بکر بن المنذر کی روایات اور عقلی دلائل پیش کئے ہیں اور یہ بھی بتلایا ہے کہ مالک بن انس، لیث، احمد، اسحاق اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے اور یہی عیاض نے فرمایا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فرمان کا بھی یہی اقتضا ہے۔ پھر فرماتے ہیں ان ائمہ کے نزدیک شاتم کی توبہ بھی قبول نہیں ہو گی۔ امام ابو حنیفہؒ، ان کے شاگردوں، امام ثوری، کوفہ کے اکثر علماء امام اوزاعی کے قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردۃ (ارتداد) ہے۔

امام ابن تیمیہ نے واضح کر دیا ہے:

"بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا حضور کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضور ﷺ کی ذات مقدسہ، آپ ﷺ کے نسب، دین یا آپ ﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی، یا آپ ﷺ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریق دشنام اہانت یا تحقیر کی یا شان مبارک یا ذات مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لئے حضور کو کسی چیز سے تشبیہ دی، وہ حضور ﷺ کو صراحتاً گالی دینے والا ہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے، نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارتاً کنایتاً اور یہ سب علماء امت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہد صحابہؓ سے لے کر آج تک۔

خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل

صفحہ 186

ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل) سے یہی منقول ہے۔

امام ابن ہمام حنفی کے نزدیک جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے، وہ مرتد ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ مستحق گردن زدنی ہے۔ پھر (مخفی نہ رہے کہ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطور حد ہو گا۔

کتاب الخراج میں امام ابو یوسف کا فیصلہ ہے:

”جو مسلمان رسول اللہ ﷺ کو گالی دے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا آپ ﷺ کی تنقیص شان کا (کسی اور طرح سے) مرتکب ہو، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی۔“

فتاویٰ قاضی خان کے مطابق کسی شے میں حضور ﷺ پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اسی طرح بعض علماء نے فرمایا اگر کوئی حضور ﷺ کے بال مبارک کو ”شعر“ کی بجائے (بصیغہ تصغیر) ”شعیر“ کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام ابو حفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمد نے ”المبسوط“ میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینا کفر ہے۔

کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی اہانت اور ایذا رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہو، وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔

صفحہ 187

مولانا سید متین ہاشمی کے دلائل و براہین

مرتکب توہین رسالت کے بارے میں مولانا کا خون دل سے لکھا ہوا یہ ایمان افروز مقالہ ہے جس میں ایک نئی جہت سے شاتم رسول ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت ثابت کی گئی ہے۔

مولانا سید متین ہاشمی کا شمار پاکستان کے عظیم ریسرچ سکالرز میں ہوتا ہے اور وہ تحریک ناموس رسالت میں پیش پیش رہے ہیں۔ 1992ء میں ہی وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے‘ لیکن توہین رسالت کے مقدمہ کا فیصلہ ان کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا۔ جب یہ فیصلہ میں نے انہیں سنایا تو بے انتہا خوش ہوئے اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔

شتم رسول ﷺ کفر و شرک سے بڑا جرم ہے

میرے نزدیک حضور ﷺ اصل ایمان بلکہ عین ایمان ہیں۔ کیونکہ توحید کے معاملے میں تو قبل از تحریف تمام مذاہب شریک ہیں‘ حتیٰ کہ مشرکین مکہ بھی کم از کم یہ تو مانتے تھے کہ خالق و مالک مبدی‘ معید‘ نافع‘ ضار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ البتہ وہ سفارش اور شفاعت یا تقسیم اختیارات کے مسئلے میں مسلمانوں سے اختلاف کرتے تھے۔" چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"ولئن سألتهم من خلق السموت والارض و سخر الشمس والقمر ليقولن الله (العنکبوت: 61)

لہٰذا وہ چیز جو حق و باطل اور کفر و اسلام کے درمیان فرق کرنے والی ہے‘ وہ ذات پاک جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ آپ کی تصدیق کا نام ایمان اور تکذیب کا نام کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دور مبارک و مسعود سے لے کر آج تک جب بھی کوئی جماعت یا فرد مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے ذات اقدس ﷺ کو ہدف بناتا ہے۔ مدعیان نبوت نے ذات اقدس کو ہی ہدف بنایا۔ ان کے بعد بھی جملہ ملحدین و کفار نے آپ ہی پر اعتراضات وارد کئے۔ دیانند سرسوتی ہو یا جے

صفحہ 188

ہاں‘ مغربی پادری ہوں یا علماء‘ انہوں نے کبھی عقیدہ توحید پر کھل کر اعتراض نہیں کیا انہوں نے ہمیشہ حضور ﷺ کی ذات اقدس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس لئے کہ وہ یہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ پر ہی ایمان لانا اسلام ہے لہٰذا اگر میں یہ کہوں کہ حضور ﷺ ہی ایمان ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

برصغیر کے مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب برطانوی سامراج کا جوا ان کی گردنوں پر رکھا ہوا تھا اور وہ دور غلامی کی ذلتوں میں گرفتار تھے۔ اس گئے گزرے دور میں بھی مسلمانوں نے دار و رسن کی بازی کھیلی۔ اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا مگر شاتم رسول کو زندہ نہیں رہنے دیا۔ اس لئے کہ انہیں قرآن کی یہ آیت معلوم تھی:

النبی اولی بالمومنین من انفسہم (الاحزاب: 6)

دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کے تین جملوں میں ہمیں بتلایا جا رہا ہے کہ:

امت پر حضور ﷺ کی کمال شفقت اتنی تھی ”لولا اشق علی امتی لامرتہم بالسواک عند کل صلوۃ“ یا اس طرح کے دیگر بہت سے احکام۔ پھر آپ ﷺ کا کمال محبت کہ آپ ﷺ حریص ہیں امت کی بھلائی کے لئے اور پھر آپ ﷺ کا کمال رافت و رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اپنے دو صفاتی نام عطا کر دیئے۔ اگر شفقت کے باعث ”الجنتہ تحت اقدام امہاتکم“ اور ”انت و مالک لابیک“ کا حکم ہو سکتا ہو تو اس کا ہمارے اوپر کتنا بڑا حق ہو گا‘ جو والدین سے ہزاروں گنا زیادہ ہم سے شفقت اور محبت کرنے والا ہے۔ اس لئے امام مالک نے اگر یہ فرما دیا کہ اس امت کو جینے کا حق ہی نہیں جو اپنے نبی ﷺ پر سب و شتم برداشت کرلے تو غلط تو نہیں فرمایا تھا۔ اسی لئے اس بات پر امت کے اولین و آخرین کا اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور امت کا یہ اجماع قرآن کی

صفحہ 189

اس آیت کے عین مطابق ہے:

اگر منافقین اور وہ لوگ باز نہ آئے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں افواہیں اڑایا کرتے ہیں تو ہم ضرور آپ کو ان پر مسلط کریں گے۔ پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بس قدرے قلیل رہنے پائیں گے اور وہ بھی پھٹکار پڑے ہوئے، جہاں کہیں بھی مل جائیں، پکڑے جائیں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔

صحابہ کرام کا شاتم رسول ﷺ کے بارے میں عملاً اور صریحاً اجماع ہے کہ انہوں نے کسی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ متعدد علماء حضرات نے کتب احادیث سے ان کے حوالے دے دیئے ہیں، جن کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ پھر ابو بکر صدیقؓ کا ابو برزہ سے یہ فرمانا کہ اگر میں کہہ دیتا تو کیا واقعی تم اسے قتل کر دیتے؟ ابو برزہ نے جب اثبات میں جواب دیا تو ان کا یہ فرمانا کہ:

انها ليست لاحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم کہ حضور ﷺ کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کے شاتم کو قتل کیا جائے۔ (المحلی لابن حزم 409:11 طبع مصر)

اور حضرت ابو بکرؓ کے اس قول پر نہ ابو برزہؓ نے، نہ کسی دوسرے صحابی نے نکیر کی، لہٰذا صحابہ کا اجماع سکوتی ثابت ہو گیا۔ اس قول کی تائید ان دو روایتوں سے بھی ہوتی ہے جنہیں کعب بن علقمہ کے حوالے سے صاحب مجمع الزوائد و منبع الفوائد حافظ نور الدین ہیثمی متوفی 807ھ نے جلد 6، صفحہ 260، طبع قاہرہ میں نقل کیا ہے۔

عرفجہ ابن الحارثؓ جو کہ صحابی ہیں، حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے ساتھ یمن میں مرتدین کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ ان کے پاس سے ایک عیسائی گزرا، جس کا نام بندقون تھا، تو آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے حضور ﷺ کے متعلق غلط جملہ استعمال کیا۔ آپ اسے پکڑ کر والی مصر حضرت عمرو بن العاص کے پاس لے گئے۔ والی مصر نے نصاریٰ کو بلایا اور فرمایا کہ ہم انہیں عہد دے چکے ہیں۔ حضرت عرفجہ نے فرمایا:

”معاذ اللہ“ کیا ہم نے ان کا اس لئے عہد و ذمہ لیا کہ یہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے متعلق ایذا دیں۔ ہم نے تو صرف یہ ذمہ لیا ہے کہ ہم ان کے درمیان اور ان کے کنائس (عبادت گاہوں) کے

صفحہ 190

درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے یعنی اپنی عبادت گاہوں میں وہ جو چاہیں کریں اور ہم نے اس بات کا ذمہ لیا کہ ہم ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور ان کی جان و مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے‘ نیز ان کے درمیان اور ان کے احکام کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ مگر یہ کوئی مقدمہ ہمارے پاس لائیں تو ہم ان کے درمیان اللہ کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے۔“ حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: ”صدقت“ آپ نے سچ کہا۔ (رواہ الطبرانی فی

الاوسط)

دوسری روایت بھی اسی کتاب کے اسی صفحہ پر حضرت عمیر بن امیہ سے ہے۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک بہن مشرکہ تھی اور حضور ﷺ کے متعلق سب و شتم کرتی‘ تو آپ ایک دن تلوار لے کر آئے اور اسے قتل کر دیا‘ تو آپ کے بھانجوں نے چیخ و پکار کی اور کہا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے ماں باپ مشرک ہیں اور ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا گیا نیز ہم اپنی ماں کے قاتل کو جانتے ہیں۔ حضرت عمیرؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی بے گناہ نہ قتل کر دیا جائے تو آپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ ”تو نے اپنی بہن کو قتل کیا؟“ جواب دیا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیوں؟“ کہا کہ: ”آپ ﷺ کے متعلق نازیبا الفاظ کہہ کر مجھے ایذا دیتی تھی۔“ تو رحمت عالم ﷺ نے مقتولہ کے لڑکوں کو طلب کیا اور ان سے پوچھا‘ تو انہوں نے بے گناہ آدمی کو قاتل قرار دیا‘ تو آپ نے پورے معاملہ سے مطلع فرماتے ہوئے ان کا خون معاف کر دیا۔

(رواہ الطبرانی)

جناب عرفہ نے جب اپنا نظریہ پیش کیا تو حضرت عمرو بن العاصؓ کا ”صدقت“ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایذا پہنچانا اور اس طرح مومنین کو ایذا پہنچانا ناقابل معافی جرم ہے۔ حضرت عمیر بن امیہ کا اپنی بہن کو قتل کر دینا اور حضور ﷺ کا ان کی بہن کے خون کو ہدر قرار دینا اس بات پر دلیل ہے کہ شاتم رسول واجب القتل ہے‘ خواہ مسلمان ہو یا ذمی۔

مذکورہ بالا روایات‘ نیز ان تمام روایات سے‘ جو دیگر علماء نے پہلے پیش کیں‘ یہ

صفحہ 191

بات ثابت ہوتی ہے کہ ان حضرات نے شتم رسول ﷺ کو کفر ہی نہیں قرار دیا، بلکہ حد قرار دیا اور کسی نے بھی شاتم سے استتابت نہیں کی، لہٰذا ثابت ہوا کہ شاتم خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس سے توبہ نہیں کرائی جائے گی، بلکہ اسے حداً قتل کیا جائے گا۔

اس مقام پر عرض کر دینا مناسب ہو گا کہ استتابت اور توبہ کی اگر اجازت دے دی جائے تو نبی اکرم ﷺ کی حرمت سے لوگ کھیلنے لگیں گے۔ العیاذ باللہ سب و شتم کریں گے اور یہ جان کر کہ توبہ کرنے سے حد سے بچ جائیں گے، توبہ کر لیں گے۔ اس طرح ان کی جرات بڑھے گی۔ علامہ احمد فتحی بہنسی نے اپنی کتاب "السیاسۃ الجنائیۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ" طبع قاہرہ 1965ء ص 140 پر مرحوم ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ کے حوالے سے لکھا ہے:

"جب ہم توبہ کرنے والے کو "حد" معاف کرنا شروع کر دیں، گویا کہ ہم بہت سے ایسے لوگوں کو معاف کریں گے جو زبان سے وہ بات کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی، تو اس وقت حدود اللہ ضائع ہو جائیں گے اور مجرم محارم اللہ کو توڑنے کی جرات کریں گے اور ہمیشہ کہتے رہیں گے تبنا و انبنا الی اللہ ہم نے توبہ کر لی اور اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں رجوع کر لیا ہے۔"

لہٰذا شاتم رسول ﷺ کے لئے قرآنی آیات، احادیث، اجماع صحابہ اور مصالح زمانہ کے تحت استتابت کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور وہ واجب القتل ہے۔

احادیث اور اجماع کے باعث جملہ فقہاء امت کا بھی اس امر پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں کرائی جائے گی، نہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ حوالے کے لئے ملاحظہ ہو۔

(ابن الہمام فتح القدیر ج 4، صف 407، طبع مصر)

امام ابن عابدین فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کرنے والے کو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، کیونکہ حد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔

انہوں نے علامہ محی الدین کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:

سب و شتم کرنے والے کے متعلق فتاویٰ بزازیہ میں مذکور ہے کہ جو آدمی حضور

صفحہ 192

ﷺ یا کسی اور نبی کی شان میں گستاخی کرے اسے ”حداً“ قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی‘ چاہے گرفتاری اور گواہی کے بعد توبہ کرلے یا اس سے پہلے از خود توبہ کرلے‘ اس لئے کہ یہ حد واجب ہے‘ جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اس میں کسی کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ ایسی حد ہے جس سے ”حقوق العباد“ متعلق ہیں اور حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے‘ جیسا کہ ”حد قذف“ اور یہی امام اعظم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا مذہب ہے اور اسی پر آج تک علماء روم فتویٰ دیتے چلے آئے ہیں۔

علامہ محی الدین حنفی لکھتے ہیں: گستاخ رسول ﷺ کے قتل کا وجوب اس پر مبنی ہے کہ علتِ قتل حضور ﷺ کو ایذا پہنچانا ہے اور آپ کے سبب سے آپ کی امت کو ایذا پہنچانا ہے اور یہ حق العبد ہے اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور ارتداد سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔ یہ امام صاحب اور آپ کے ساتھیوں کا مسلک ہے اور توبہ سے حقوق اللہ ساقط ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد آدمی کی زندگی میں اس کی رضا سے معاف ہوتے ہیں۔ اسی لئے حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں ابتداء اسلام میں بہت سے ایسے کیس معاف فرما دیئے‘ بمقتضائے حکمت و مصالح‘ لیکن آپ کی رحلت کے بعد آپ کی طرف سے کوئی دلیل رضا نہیں پائی جاتی۔ یقینی طور پر لہٰذا آپ کے بعد آپ کے گستاخ کو قتل کیا جائے گا۔

ان سارے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ سب النبی ﷺ میں حق اللہ کے ساتھ حق العبد بھی شامل ہے اس لئے یہ گناہ توبہ سے معاف نہیں ہو سکتا۔

آیاتِ قرآنی‘ احادیثِ رسول‘ اجماعِ صحابہ اور اجماعِ فقہاء کے مقابلے میں استتابت (یعنی توبہ) کا ایک قول امام ابو حنیفہ سے ملتا ہے۔ لیکن یہ اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ اگر اجماعِ صحابہ اور اجماعِ ائمہ بخلاف ایک قول ابی حنیفہ کا مل جائے تو امام صاحب کے اس قول کو ترک کر دیا جائے گا جو مذکورہ اجماعات کے خلاف ہو اور اس قول کو ترجیح دی جائے گی جو اجماعات کا مؤید ہو۔ اس طرح ایک مسئلہ پر فقہاء امت کا اجماع منعقد ہو جائے گا۔

میرے خیال میں عدم استتابت کے قول کو قولِ محکم اور استتابت کے قول کو قولِ شاذ قرار دینا ہو گا۔ اسی لئے موطا امام مالک طبع قاہرہ 1967ء ص 310 پر امام احمد کا یہ قول

صفحہ 193

منقول ہے:

و ان لم يطمع (حاکم) فى ذالك و لم يساله المرتد فقتله فلا باس بذالك كله ۔

مزید آنکہ خود امام اعظمؒ نے فرمایا کہ اگر تمہیں میرا کوئی قول حدیث رسول ﷺ کے خلاف نظر آئے تو میرے قول کو دیوار پر دے مارو اور حدیث پر عمل کرو۔ اس اصول کے تحت بھی چونکہ امام صاحب کی دوسری رائے یعنی استتابت حضور ﷺ کے قول، فعل اور تقریر سے متصادم نظر آتی ہے، اس لئے میری رائے یہی ہے کہ امام کے استتابت والے قول کو ترک کر کے عدم استتابت والے قول کو قبول کرنا چاہئے اور شاتم رسول کو قتل کر دینا چاہئے اور اسے توبہ کرنے کا ہرگز موقع نہ دینا چاہئے۔

مذکورہ بالا بیان تو صراحتاً شتم کے بارے میں کہا گیا ہے، اگر کوئی شخص کنایتاً اشارتاً بھی سب و شتم کرتا ہے یا اس کے کلام میں شتم کا واہمہ بھی پایا جاتا ہے تو اس کے لئے علامہ محی الدین حنفی نے لکھا ہے:

”اگر کوئی شخص صراحتاً حضور ﷺ کی حرمت کا انتہاک نہیں کرتا بلکہ کنایتاً ایسا کرتا ہے تو حاکم کو چاہئے کہ کلام کے سیاق و سباق، قرائن، اس آدمی کے حالات، نظریات، معاشرہ اور دیگر اقوال و تصانیف و اعمال کو پیش رکھ کر فیصلہ کرے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ”يقولون بافواههم ما ليس فی قلوبهم“ والی صورت پیدا ہو۔ ایسی صورت میں قرینہ قاطع سے کام لینا چاہئے۔“

قرینہ قاطع:

یہ ایسی علامت کو کہا جاتا ہے جو یقین کی حد تک پہنچ جائے، مثلاً ایک آدمی ایک خالی مکان سے نکلتا ہے جو کہ خوف زدہ اور مدہوش ہے اور اس کے ہاتھ میں چھری بھی ہے، جو خون آلود ہے اور مکان میں جا کر دیکھا گیا تو ایک آدمی اسی وقت ذبح کیا ہوا موجود ہے اور اس شخص کے قاتل ہونے میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی احتمالات وہمیہ کو جگہ دی جاسکتی ہے کہ مقتول نے خود اپنے آپ کو قتل کیا ہو۔ تو اگر کسی قتل کے مقدمہ میں قرینہ قاطع حکم کی بنیاد بن سکتا ہے تو انتہاک حرمت رسول اللہ ﷺ کے

صفحہ 194

معاملے میں بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں حالات زمانہ اور مقتضیات عہد کے تحت جس طرح ”امرأة معلقہ“ کے مسئلے میں ہمارے علماء نے اصول تلفیق پر عمل کر کے امام مالک کے مذہب پر فتویٰ دیا ہے اسی طرح اس وقت‘ جب کہ ہمارا ملک نظریاتی بحران میں مبتلا ہے اور پاکستان میں غیر ملکی طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنا چاہتی ہیں اور اس مملکت خداداد کو لادینیت کی جھولی میں ڈال دینا چاہتی ہیں‘ قرآن و سنت کی برملا تضحیک ہو رہی ہے بلکہ ایک مرتبہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ پرانی کتاب اس دور میں نہیں چل سکتی‘ نہ اس میں ہمارے مسائل کا حل ہے۔ دن رات مختلف لادینی جماعتیں پاکستانی عوام کو دین سے برگشتہ کرنے میں مصروف ہیں‘ لہٰذا سد ذرائع کے طور پر بھی مصالح مرسلہ کا یہ تقاضا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے ایسے سوراخ کو بھی بند کر دیا جائے‘ جس سے شریعت یا صاحب شریعت کی حرمت کی اہانت ہوتی رہے گی ورنہ سنگ را بستہ و سگ را کشادہ والی کیفیت پیدا ہو گی اور جس ایرے غیرے کا جی چاہے گا‘ شریعت اور صاحب شریعت کا انتہاک کرتا پھرے گا۔

اندک پیش تو گفتم غم دل ترسیدم
کہ تو آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
صفحہ 195

مولانا عبد المالک کاندھلوی (مرحوم)

مولانا کاندھلوی مرحوم کا تعلق علمائے دیوبند سے تھا اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث رہے ہیں اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے متوسلین میں سے ہیں۔ شاتم رسول ﷺ کے لئے قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں سزائے موت تجویز کرتے ہیں۔

شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل ہے:

ائمہ امت کے تمام فقہاء اور ائمہ مفسرین اور محدثین کا فیصلہ ہے کہ توہین رسول اللہ ﷺ کی سزا موت ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اور ابوبکر بن عربی نے کتاب ”احکام القرآن“ میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ قرآن اور رسول خدا ﷺ کی توہین اور تمسخر ایسا کفر ہے کہ جس کے بارے میں امت نے کبھی کوئی اختلاف نہیں کیا۔ قاضی عیاض نے کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔

اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: اگر کسی شخص کی زندگی میں اگر صرف ایک مرتبہ یہ بات پیش آئے یا اس کی کتاب اور تحریر میں ایک بھی جملہ ایسا پایا جائے‘ وہ بھی اسی سزا کا مستحق ہے اور شیخ الاسلام کے اس فیصلے سے بھی یہ بات واضح ہو گئی کہ توہین رسالت کا درجہ قتل پیغمبر کے برابر ہے اور جو چیز قتل کے برابر شمار کی جائے‘ شریعت کے قانون میں اس پر قتل کی سزا جاری کرنے میں کیا تردد ہو سکتا ہے۔

علامہ شامی جن کا فتویٰ امت مسلمہ میں سند شمار کیا گیا اور اسلامی عدالتیں ان کے فتویٰ پر عمل کرتی رہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس موضوع پر ایک مستقل باب لکھا جس میں کئی فصلیں ہیں۔ ان میں سے ایک فصل کا تعلق توہین رسول اللہ ﷺ کے ارتکاب کرنے والے کے واجب القتل ہونے سے ہے‘ چنانچہ وہ اپنی اسی کتاب میں امام تقی الدین ابوالحسن علی ابن کافی سبکی سے ان کی کتاب ”السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ“ سے نقل کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں توہین کرے‘ اس کی سزا قتل ہے اور ثابت کیا کہ یہ ائمہ اربعہ کا مذہب ہے۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور سفیان ثوری‘ شام و عراق

صفحہ 196

اور مصر کے تمام قاضیوں اور مفتیوں کا یہی فتویٰ عدالتوں میں نافذ و جاری رہا۔ ان نقول اور حوالے سے یہ چیز نہایت واضح طور پر ثابت ہو گئی کہ توہین رسول کے مرتکب شخص کے بارے میں تاریخ اسلام میں کبھی کوئی اختلاف نہیں پایا گیا اور صحابہ کے عمل سے بھی اس بات کا ثبوت ملا کہ انہوں نے ایسے مجرم کو سزائے موت دی اور آنحضرت ﷺ نے اس کی توثیق فرمائی اس موقع پر ہم یہ بات واشگاف لفظوں میں کہنا چاہتے ہیں کہ اگر عدالتی سطح پر کسی ایک عدالت کا کسی مقدمہ میں فیصلہ نظیر قرار دیا جاتا ہے اور اس پر عدالتیں نظیر قرار دے کر فیصلے کرتی ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ امت مسلمہ کا اجماع تمام ائمہ کا اجماع اور سب سے بڑھ کر بارگاہ رسول اللہ ﷺ سے صادر شدہ فیصلہ ہماری عدالت نہ مانے اور اس کے مطابق اس جرم کی سزا، سزائے موت تسلیم نہ کرے۔ ہم ایسی صورت میں یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اسلامی ملک کی عدالت اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ اور امت کے اجتماعی فیصلہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہم اپنے اس مدعا کو ثابت کرنے کے لئے سب سے پہلے قرآن مجید کی آیت پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ واضح ترین آیت:

ملعونین اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتيلا

(سورہ احزاب)

یہ الفاظ وضاحت کے ساتھ اس قانون الہی کو بیان کر رہے ہیں کہ ایسے ملعون مجرمین کی معافی کسی طرح ممکن نہیں ہے، جہاں پر بھی ملیں اور جس طرح ان پر قابو پایا جا سکے ان کو پکڑا جائے اور ان کو قتل کیا جائے۔

قرآن کریم نے منافقین کا کردار اور ان کی گستاخیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ ذکر کیا:

يقولون لئن رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها
الاذل ولله العزة و لرسوله و للمومنين و لكن المنافقين لا
يعلمون O

(سورۃ منافقون:8)

یہ بات اس وقت پیش آئی جب کہ آنحضرت ﷺ غزوہ بنی مصطلق سے واپس لوٹ رہے تھے، تو منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی سلول اور اس کے ساتھیوں نے آپس میں اس قسم کی گفتگو کی تھی تو ابن ابی سلول کے بیٹے، جو صحابی تھے، ان کو جب اس بات کا علم ہوا تو اپنے باپ کی گردن پر تلوار لے کر سوار ہوئے اور یہ کہا کہ اگر تو نے یہ بات

صفحہ 197

کہی ہے تو میں ابھی تجھ کو قتل کرتا ہوں ورنہ تو اس چیز سے توبہ کر اور اقرار کر کہ تو خود ذلیل ہے، اللہ اور اس کا رسول ﷺ عزت والا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کو اپنی تفسیر ابن کثیر ج4، ص 372 پر بیان کیا ہے۔

ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے باپ کا سر قلم کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں لاؤں۔ قرآن حکیم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ اگر کوئی منافق تنہائی میں بھی آنحضرت ﷺ کے متعلق صرف اتنی سی بات کرے کہ پیغمبر اور اس کے ساتھی ذلیل ہیں، عزت والے نہیں، تو اس کو مستحق قتل شمار کیا گیا۔

صفحہ 198

کیا شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ قابل قبول ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری

یہ مضمون ڈاکٹر صاحب موصوف کے مقالہ وفاقی شرعی عدالت کے کتابچہ سے ماخوذ ہے جو ان کے ادارہ کی جانب سے موصول ہوا۔

پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان اور بیرون پاکستان کی ایک معروف علمی اور دینی شخصیت ہیں۔ فیڈرل شریعت کورٹ میں صاحب موصوف نے صدر اور حکومت پاکستان کے خلاف توہین رسالت کی سزا کے بارے میں ہماری شریعت پٹیشن اور اس میں اٹھائے گئے نکات کی اور ہماری آئینی اور قانونی بحث کی نہ صرف مکمل تائید اور حمایت کی بلکہ اپنے منطقی زور استدلال سے عدالت کی بھی پوری قوت کے ساتھ معاونت کی مگر راقم الحروف اور معاونین علمائے عدالت کا پروفیسر صاحب موصوف سے جرم توہین رسالت کے سلسلہ میں صرف ”نیت“ اور ”ارادے“ (Intention And Motive) کے مسئلہ پر دیانت دارانہ اور تحقیقی اختلاف رہا ہے۔ جس کا ذکر ہم نے مقالہ کے آخر میں کر دیا ہے۔

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسئلہ توبہ:

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کا وجود اس لائق نہیں کہ وہ زمین پر موجود رہے بلکہ اسے فی الفور واصل جہنم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سیدنا فاروق اعظم ؓ کا عمل اس پر شاہد عادل ہے کہ انہوں نے جب دیکھا کہ اس شخص کو محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور نہیں تو انہوں نے اسے توبہ کرنے کے لیے نہیں کہا بلکہ فی الفور اندر سے تلوار لا کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ نہیں فرمایا کہ اسے توبہ کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے تھا بلکہ ان کے فیصلے کی تحسین فرماتے ہوئے تاقیامت امت مسلمہ کو سنت فاروقی پر عمل کرنے کا حکم دیا بلکہ اسے ایمان کی علامت قرار دیا۔ اس بارے میں یہی دلائل امام ابن تیمیہؒ کے مضمون میں تفصیل کے ساتھ آ چکے ہیں۔ اس لئے ان کا یہاں اعادہ نہیں کیا گیا۔

عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے کے بعد جب تائب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو علم ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس

سے ملاقات نہ فرمائی بلکہ تاخیر فرما شیخ ابن تیمیہ اس روایت آپ ﷺ کا یہ ع نہیں ہوئی۔ اگر اسے فی الفور قتل نہ جائے گی بلکہ اس پر حد جاری ہو اس سلسلہ میں فقہاء اسلا

فقہاء اسلام کی تصریحات :

فقہاء اسلام کی تصریحات ب نہیں کیا گیا جن کا ذکر مولانا سع درج ذیل ہیں۔

”ہم اس کی توبہ ا اسے قتل کر دیں گے۔

”اس کی توبہ نہ اس کا حکم سوائے قتل ہے اور یہی رائے اکث

گستاخ رسول کا حکم دیگر

گستاخ رسول گستاخی ک سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس نے سب سے بڑھ کر ہے۔ لہٰذا یہ ہے کہ دیگر مرتدین پر اسلام پ جائے گا مگر گستاخ رسول پر ا خصوصی تعظیم و توقیر سے متعل ہی ہے۔

صفحہ 199

سے ملاقات نہ فرمائی بلکہ تاخیر فرمائی تاکہ کوئی مسلمان اسے قتل کردے۔

شیخ ابن تیمیہ اس روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

آپ ﷺ کا یہ عمل اس بارے میں نص ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔

اگر اسے فی الفور قتل نہ کیا جاسکے اور وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ پر توجہ نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر حد جاری ہو گی جس طرح دیگر جرائم میں ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں فقہاء اسلام کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔

فقہاء اسلام کی تصریحات :

فقہاء اسلام کی تصریحات میں امام شامی، امام ابن ھمام کی ان آرا کا حوالہ یہاں درج نہیں کیا گیا جن کا ذکر مولانا سعید احمد کاظمی کے مضمون میں آچکا ہے ان کے علاوہ فتاویٰ درج ذیل ہیں۔

”ہم اس کی توبہ اور دوبارہ اسلام لانے کو قبول نہیں کریں گے بلکہ اسے قتل کر دیں گے۔

”اس کی توبہ نہ اللہ کے ہاں قبول ہے اور نہ لوگوں کے ہاں اور اس کا حکم سوائے قتل کے کچھ نہیں۔ اس پر تمام متاخرین علماء کا اجماع ہے اور یہی رائے اکثر متقدمین کی بھی ہے۔ (خلاصہ الفتاویٰ، 386:4)

گستاخ رسول کا حکم دیگر مرتدین سے الگ ہے:

گستاخ رسول گستاخی کی وجہ سے مرتد ہو جاتا ہے مگر چونکہ اس کا جرم دیگر جرائم سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی ناموس و عزت پر ہاتھ ڈالا جو اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ لہٰذا یہ جرم دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین تر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مرتدین پر اسلام پیش کیا جائے گا اور اگر وہ اسے قبول کرلیں تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا مگر گستاخ رسول پر اسلام بھی پیش نہیں کیا جائے گا۔ یہ معاملہ حضور ﷺ کی خصوصی تعظیم و توقیر سے متعلق ہے اور غیرت الہیہ کا تقاضا اپنے محبوب ﷺ کے لیے ایسا ہی ہے۔

صفحہ 200

دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دیگر مرتدین سے اس کا حکم جدا ہے کیونکہ دیگر مرتدین کی توبہ قبول کی جائے گی مگر گستاخ رسول کی توبہ قابل قبول نہیں۔ "ہر ارتداد برابر ہوتا ہے اگر مرتد اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہیں ان میں پہلا یہ ہے کہ جو گستاخ رسول ہو (اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔) "

(بحر الرائق' 135:5)

تر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ "شاتم رسول ﷺ کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور ان میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا، اس لئے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے مگر شاتم اگر توبہ کر لے تو بھی صحیح مذہب کے مطابق بطور حد قتل کیا جائے گا۔

(تنقیح حامدیہ' 157)

"حضور ﷺ کو سب و شتم کرنا اسلام سے اعراض (ارتداد) کی نسبت بدرجہ ہا بدتر ہے۔

(الصارم المسلول: ۸۹۴)

گستاخ رسول زندیق ہے اس کا عمل قابل معافی نہیں:

"شاتم رسول کو بہرطور حد قتل کرنا ضروری ہے۔ اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا وہ اپنے طور پر تائب ہو جائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے جس کی توبہ قابل توجہ ہی نہیں (اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا جس طرح دیگر حقوق (چوری، زنا) توبہ سے ساقط سے ساقط نہیں ہوتے۔ یہی مالک کا مذہب ہے۔ (تنبیہہ: علماء اور عدالتوں پر لازم ہے شخص کے قتل کا حکم جاری کریں۔

ہیں۔

"میری رائے کے م شرع کو برا کہتا ہے، اس کی صورت میں حضور ﷺ ہے کہ وہ اس کے قتل کا حکم کوئی عدالت یا حکومت اس س

آخری بات یہ ہے کہ کیا کوئی

تعریف ہی یہی ہے کہ اس تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس کو ساقط کرنا

جس طرح دیگر افراد کے امام خیر الدین اسی طرف "شاتم رسول کا قتل ہو سکتا اور اس بارے میں جاسکتا کیونکہ یہ ایسا حق ہے حق متعلق ہے اس لئے لوگوں کے ہر قسم کے حق

صفحہ 201

(چوری‘ زنا) توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتے۔ یہی سیدنا ابوبکرؓ ‘ امام اعظم‘ اہل کوفہ اور امام مالک کا مذہب ہے۔ (تنبیہ الولاۃ والحکام: 328)

علماء اور عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ رسالت مآب ﷺ کی عزت کے پیش نظر ایسے شخص کے قتل کا حکم جاری کریں۔

ہیں:۔

”میری رائے کے مطابق یہی قول قوی ہے کہ جو شخص صاحب شرع کو برا کہتا ہے‘ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ فتویٰ اور قضا کی صورت میں حضور ﷺ کے مرتبہ کے پیش نظر علماء اور عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس کے قتل کا حکم دیں۔“

کوئی عدالت یا حکومت اس سزا کو معاف نہیں کر سکتی؟:

آخری بات یہ ہے کہ کیا کوئی عدالت یا حکومت اس کو معاف کر سکتی ہے؟

تعریف ہی یہی ہے کہ اس میں انسان کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔ عدالت اور حکومت پر اس کا اجراء لازم ہوتا ہے اس کو ساقط کرنا کسی کے اختیار میں نہیں۔

جس طرح دیگر افراد کے حقوق وہی معاف کر سکتے ہیں۔

امام خیر الدین اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔

”شاتم رسول کا قتل بطور حد لازم ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا اور اس بارے میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کے ساتھ عبد خاص (حضور ﷺ) کا حق متعلق ہے اس لئے فقط توبہ سے ساقط نہیں ہوگا جیسے دوسرے لوگوں کے ہر قسم کے حقوق کے لیے خود حق دار کا معاف کرنا ضروری

صفحہ 202

ہے)۔" (تنبیہہ الولاۃ واحکام 33 جب زنا‘ چوری اور شراب جیسے جرائم پر لاگو حد کوئی عدالت اور حکومت منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کے ارتکاب کرنے والے کو معاف کر سکتی ہے تو پھر اتنے عظیم جرم کی سزا کو کیسے معاف کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ مصنف:

پروفیسر صاحب موصوف نے وفاقی شرعی عدالت میں بیان دیتے ہوئے بتلایا تھا کہ دشنام رسول ﷺ کے سلسلہ میں گستاخ رسول ﷺ کی "نیت" (Intention) کو دیکھنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ملزم کو صفائی کا موقع دیئے بغیر سزا دی جائے گی۔ اسلام میں ملزم کو اپنے دفاع اور صفائی کا پورا حق دیا گیا ہے۔ صفائی کا موقع دینے سے "نیت" "قصداً" اور "ارادے" کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم

صفحہ 203

مولانا صلاح الدین یوسف کا سلفی اور فقہی نقطہ نظر

مولانا صلاح الدین یوسف جماعت اہل حدیث کے معروف سکالر اور فیڈرل شریعت کورٹ کے مشیر اور ہفت روزہ ”الاعتصام“ کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔ مولانا نے شاتم رسول کی سزائے موت کے بارے میں قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں تحریری بحث داخل کرتے ہوئے راقم کے موقف کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے:

درخواست گزار اور اس پر دستخط کرنے والے علماء کا یہ موقف بالکل صحیح اور درست ہے۔ یہ مسئلہ فی الواقع قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے‘ جس کی ضروری تفصیل رٹ پٹیشن میں بھی موجود ہے۔ قبل اس کے کہ راقم بھی اس سلسلے میں کچھ گزارشات پیش کرے‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زیر بحث دفعات کی غیر معقولیت کو واضح کر دیا جائے۔

تعزیرات پاکستان میں درج دفعات میں جو سزا توہین رسالت مآب ﷺ پر رکھی گئی ہے‘ وہ آپ ﷺ کی شان رفیع سے بہت فروتر ہے۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ سزا کی نوعیت جرم کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ کم تر جرم پر ہلکی سزا اور سخت جرم پر سخت سزا۔ لیکن ہلکے اور سخت دونوں قسم کے جرائم پر یکساں سزا یکسر غیر معقول ہے۔ یہی غیر معقولیت تعزیرات پاکستان کی دفعات مذکورہ میں پائی جاتی ہے جس کا ازالہ کرنا اور اسے معقول بنانا انتہائی ضروری ہے۔

نبی اکرم ﷺ کی توقیر و تکریم اور تعظیم و محبت بھی اسی طرح جزو ایمان ہے جس طرح آپ ﷺ کی اطاعت فرض و لازم ہے۔ آپ ﷺ کی عظمت و بزرگی کے متعلق بجا طور پر کہا گیا ہے۔

کائنات میں آپ ﷺ کی حیثیت سید البشر کی بھی ہے اور خیر البشر کی بھی ۔ ایسی بزرگ ترین ہستی کی توہین کی مستقل سزا سے تغافل و اعراض ناقابل فہم ہے اور اس کے استہزا اور استخفاف کو دیگر ذوات مقدسہ کے استہزاء اور استخفاف کے برابر سمجھ کر سب کی یکساں سزا مقرر کرنا عجیب سی بات ہے۔ حالانکہ عام لوگوں کو سب و شتم کرنا اگر اثم و معصیت ہے تو نبی کریم ﷺ کی نسبت ایسا رویہ اختیار کرنا کفر و محاربہ ہے اور ارتداد و زندقہ‘ بلکہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے تو اسے ارتداد سے بھی بڑا جرم قرار دیا

صفحہ 204

ہے۔

ان کے فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول ﷺ کو شتم کرنا ارتداد سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس لیے کہ مرتد کو تو پھر بھی توبہ کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کو سب کرنے والے کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے توبہ کا موقع دیے بغیر ہی قتل کر ڈالا۔ جس سے معلوم ہوا کہ شاتم رسول کا کفر مرتد سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے اس کا قتل بھی اس سے اولیٰ ہے۔

علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ اور استخفاف ایسا مجرد معاملہ نہیں ہے کہ جس کا تعلق صرف آپ کی ذات گرامی سے ہی ہو، بلکہ یہ ایک ہمہ جہتی معاملہ ہے جس سے متعدد حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ کی حیثیت اللہ کے فرستادہ اور بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ محبوب اور مقرب بندے کی ہے۔ آپ ﷺ کی شان کا انکار یوں ہی ہے جیسے اس نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کا انکار کیا اور اس کے سب سے زیادہ محبوب بندہ سے اظہار بغض و نفرت کیا۔ اسی طرح آپ پر طعن گویا اللہ کی نازل کردہ کتاب پر اور اس کے پسندیدہ دین۔۔۔ دین اسلام۔۔۔ پر طعن ہے۔ آپ کی تکذیب اللہ کی تکذیب ہے، جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا۔ اسی طرح پوری امت مسلمہ آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتی ہے۔ کیونکہ سارا دین آپ ہی کے ذریعے سے ملا ہے، مسلمان آپ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہے، اس لیے آپ کی توہین پوری امت مسلمہ کی دل آزاری بھی ہے۔ بنا بریں رسول اللہ ﷺ کی توہین بہت بڑا جرم ہے۔ اس کی موجودہ سزا یکسر ناکافی ہے، اسے بہر صورت بدلنا چاہیے۔ اس کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے جیسا کہ دلائل شرعیہ کا بھی تقاضا ہے ملاحظہ ہوں آیات قرآنی سورۃ التوبہ 65: الحجرات: 2۔ البقرہ: 217 قاضی ابوبکر ابن العربی لکھتے ہیں:

”نبی ﷺ کی عزت و حرمت آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ایسے ہی ضروری ہے، جیسے آپ ﷺ کی زندگی میں تھی اور آپ کے فرمودات جو منقول ہیں، ان کی رفعت آپ ﷺ کی وفات کے بعد ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کی تھی۔ آپ ﷺ کا کلام بھی وحی پر مبنی ہے اور قرآن ہی کی طرح قابل احترام ہے۔“

ابن العربی کی اس ع زندگی اور موت سے قطع نظ رسول ﷺ کا احترام بھی ق بھی قرآن کریم کے استخفاف بھی کفر ہے۔

اس آیت کے شان گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ چاہیے۔

ان آیات کے علاوہ جس کی تفصیلات سے اہل ا ماخذ حدیث نبوی ﷺ سے

احادیث رسول ﷺ:

احادیث پر نظر ڈالے تنقیص و اہانت صرف کفر ن کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ نہیں کر سکتا۔ اس لیے کسی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرتد

چنانچہ احادیث میں اسی سلس محض کفر کی بنا پر رسول الل اللہ عنہ اسلام قبول کرنے نہیں کرایا۔ ابو جہل اور وضاحت نہیں۔ آپ ﷺ

آپ ﷺ نے کعب بن ا بھی محض یہ نہیں تھا کہ و

صفحہ 205

ابن العربی کی اس عبارت سے، جہاں یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی عزت و حرمت زندگی اور موت سے قطع نظر، ہمیشہ اور ہر وقت ضروری ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ احادیث رسول ﷺ کا احترام بھی قرآن کریم کے احترام کی طرح ضروری ہے اور اس کا استخفاف بھی قرآن کریم کے استخفاف سے کم نہیں۔ گویا احادیث رسول ﷺ کا انکار و استخفاف بھی کفر ہے۔

اس آیت کے شان نزول کے پیش نظر بھی اس آیت سے بجا طور پر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قرار واقعی احترام ملحوظ نہ رکھنے والے کا سر قلم کر دیا جانا چاہیے۔

ان آیات کے علاوہ بھی بہت سی آیات سے مسئلہ زیر بحث پر استدلال کیا گیا ہے، جس کی تفصیلات سے اہل علم آگاہ ہیں، اس لیے اب راقم شریعت اسلامیہ کے دوسرے ماخذ حدیث نبوی ﷺ سے چند شواہد پیش کرتا ہے۔

احادیث رسول ﷺ:

احادیث پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی تنقیص و اہانت صرف کفر ہی نہیں، بلکہ کفر سے بڑھ کر ارتداد و محاربہ بھی ہے۔ جب تک کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بغض و عناد نہ ہو، وہ سب و شتم رسول ﷺ کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ اس لیے کسی نام نہاد مسلمان سے اس فعل شنیع کا ارتکاب ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مرتد ہو گیا ہے اور دین اسلام سے اس نے بغاوت کر دی ہے۔ چنانچہ احادیث میں اسی لیے شتم رسول کی سزا وہی آئی ہے جو مرتد کے لیے ہے۔ ورنہ محض کفر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے انفرادی قتل نہیں کرایا۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام کے شدید دشمن تھے، لیکن آپ نے ان کو قتل نہیں کروایا۔ ابو جہل اور ابولہب، شیبہ اور عتبہ وغیرہ جیسے کٹر مخالف اسلام تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ بھی ایسا معاملہ نہیں فرمایا۔ ان کے برعکس آپ ﷺ نے کعب بن اشرف یہودی اور ابو رافع کو بطور خاص قتل کروایا۔ ان کا جرم بھی محض یہ نہیں تھا کہ وہ ذمی تھے اور انہوں نے نقض عہد کیا تھا، بلکہ ان کے قتل کی

صفحہ 206

اصل وجہ یہی تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کر کے تکلیف پہنچاتے تھے۔ ابو رافع یہودی کو آپ ﷺ نے قتل کرایا اور اس کی وجہ صحیح بخاری میں یہ بیان کی گئی ہے۔ کان ابو رافع یوذی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (”کتاب المغازی“ باب 15 اور 16)

علاوہ ازیں نبی ﷺ کے عہد سعادت میں ایسے واقعات ہوئے کہ شاتم رسول کو قتل کر دیا گیا تو آپ ﷺ نے قاتل کی تصویب فرمائی اور مقتول کے خون کو ضائع قرار دیا۔

ام ولد اور یہودی عورت کے قتل کے دونوں واقعات صحیح ہیں۔ پہلے واقعہ کے راوی حضرت ابن عباسؓ ہیں اور دوسرے کے راوی امام شعبی ہیں، جو حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں۔

تاہم اس میں اختلاف ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو بغیر توبہ قتل کیا جائے یا مرتد کی طرح توبہ کا موقع دینے کے بعد توبہ نہ کرنے پر قتل کیا جائے۔ بعض آئمہ کا خیال ہے کہ سب رسول کی سزا...... قتل...... یہ حد ہے، جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہو سکتی۔ امام ابن تیمیہؒ وغیرہ نے اسی موقف کا اثبات کیا ہے۔ بعض دوسرے آئمہ اس قتل کو بطور تعزیر سمجھتے ہیں، اس لیے ان کا خیال ہے کہ شاتم رسول ﷺ اگر تائب ہو جائے تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ بہرحال اس اختلاف سے قطع نظر مذکورہ شرعی دلائل کی روشنی میں امت مسلمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔

صحابہ کرامؓ کا عمل:

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرز عمل بھی اگرچہ پچھلے واقعات سے واضح ہو چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں انہوں نے شاتم رسول کو قتل کر دیا اور آپ ﷺ نے اس جرم کی اس سزا کی تصویب و توثیق فرمادی، تاہم آپ ﷺ کے دنیا سے رحلت فرما جانے کے بعد بھی عہد صحابہ میں شاتم رسول ﷺ کی یہ سزا برقرار رہی اور صحابہ اس کی یہی سزا سمجھتے رہے، جیسا کہ سنن ابو داؤد اور نسائی کی روایت میں ہے۔

عہد صحابہ میں شاتمان رسول کے قتل کے اور بھی واقعات ہیں جو احادیث و سیر کی کتابوں میں موجود ہیں، جن سے واضح اختلاف نہیں تھا۔

اقوال ائمہ:

امت کے ائمہ و فقہاء کا بھی ہیں: ”حدیث ابن عباسؓ او نبی ﷺ کو سب و شتم کرنے نے شاتم رسول کے وجوبِ ہیں کہ اس فعل شنیع کا مرتک میں کوئی اختلاف نہیں۔“

اس سلسلے میں امام ابن تیمیہ نے و شتم کی مختلف نوعیتوں کی تفصیل بھی

ایک ضروری وضاحت:

یہاں ایک اور نکتے کی وضاحت گناہ پر نیت و اعتقاد کے مختلف ہونے لحاظ رکھنا ضروری ہے، مثلاً ایک شخص اور قطع ید کی سزا کا مستحق ہے اور اگر یہ عقیدہ اس توہین مذہب کی ذیل میں موت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح شراب کرتا ہے لیکن سمجھتا اسے گناہ ہی ہے کے مطابق حد، قصاص یا تعزیر نافذ ہو سمجھتا ہے تو یہ کفر و زندقہ ہو گا۔

بہرحال قرآن کریم، احادیث صحی بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ رس استہزاء و استخفاف اور آپ ﷺ پر س

صفحہ 207

کتابوں میں موجود ہیں، جن سے واضح ہے کہ اس مسئلے میں صحابہ کرام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔

اقوال ائمہ:

امت کے ائمہ و فقہاء کا بھی اس بارے میں اتفاق ہے، چنانچہ امام شوکانیؒ لکھتے ہیں:

”حدیث ابن عباسؓ اور حدیث شعبیؒ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو سب و شتم کرنے والے کو قتل کر دیا جائے گا اور ابن منذر نے شاتم رسول کے وجوب قتل پر اتفاق نقل کیا ہے... امام خطابی کہتے ہیں کہ اس فعل شنیع کا مرتکب اگر مسلمان ہو تو اس کے وجوب قتل میں کوئی اختلاف نہیں۔“

اس سلسلے میں امام ابن تیمیہ نے ائمہ کرامؒ کے اقوال نقل کیے ہیں، جن میں سب و شتم کی مختلف نوعیتوں کی تفصیل بھی آگئی ہے۔

ایک ضروری وضاحت:

یہاں ایک اور نکتے کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ایک ہی گناہ پر نیت و اعتقاد کے مختلف ہونے کی وجہ سے الگ الگ احکام مرتب ہوتے ہیں، اسے ملحوظ رکھنا ضروری ہے، مثلاً ایک شخص چوری کو گناہ سمجھتے ہوئے چوری کرتا ہے تو وہ فاسق اور قطع ید کی سزا کا مستحق ہے اور اگر وہ چوری کو بالکل جائز اور حلال سمجھ کر کرتا ہے، تو یہ عقیدہ اس توہین مذہب کی ذیل میں آجاتا ہے، جس پر عدم توبہ کی صورت میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح شراب نوشی، قتل، زنا ترک صیام رمضان وغیرہ کا ارتکاب کرتا ہے لیکن سمجھتا اسے گناہ ہی ہے تو اسے صرف فاسق ہی کہا جائے گا اور اس پر گناہ کے مطابق حد، قصاص یا تعزیر نافذ ہوگی، لیکن اگر ان کے ارتکاب کو وہ جائز اور حلال سمجھتا ہے تو یہ کفر و زندقہ ہوگا۔

بہر حال قرآن کریم، احادیث صحیحہ، تعامل صحابہ اور فقہائے امت کے اتفاق سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تنقیص و اہانت، آپ ﷺ کا استہزاء و استخفاف اور آپ ﷺ پر سب و شتم ایسا فعل ہے کہ جس کا مرتکب۔۔۔ بلا

صفحہ 208

امتیاز مسلم و کافر۔۔۔ واجب القتل ہے۔ یہ محاربہ باللسان ہے جو محاربہ بالید سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

اس لیے توہین رسالت کی وہی سزا ہونی چاہیے جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ اور دیگر دلائل شرعیہ کی روشنی میں بیان کی گئی ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ راقم زیر بحث درخواست کی مکمل تائید کرتا ہے۔

جہاں تک اس مسئلے میں مذاہب کے اختلاف کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمہور کا مسلک تو وہی ہے جس کا اثبات ابن تیمیہ نے ”الصارم المسلول“ میں کیا ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ راقم نے بھی اپنے مقالے میں اول الذکر نقطہ نظر کو زیادہ اہمیت دی ہے لیکن کل کی بحث سن کر احساس ہوا کہ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے بھی بیان کیا جائے کیونکہ اس دوسرے نقطہ نظر کا تقریباً انکار کر دیا گیا ہے۔

یہ اختلاف فقہائے احناف کا ہے، جن کا مذہب یہ ہے کہ سب رسول کا مرتکب اگر مسلمان ہے تو اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر ذمی ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ سب رسول ﷺ سے نقض عہد نہیں ہوتا۔ (اس کے لیے ملاحظہ ہو ہدایہ، کتاب السیر، باب الجزیہ، فتح القدیر لابن الہمام، باب مذکور، الصارم المسلول۔ ص 302-313، احکام اہل الذمہ لابن القیم، ج 2، ص 810 الکل آخری جلد، مسئلہ 1312ء باب حکم من سب رسول اللہ ﷺ، فتح الباری کتاب استتابۃ المرتدین، باب 4 صفحہ 308، مطبوعہ مصطفیٰ بابی الحلبی 1959ء) عبارت فتح الباری، ان کان ذمیا عزر وان کان مسلما ففی ردتہ، نیل الاوطار ج 7، آخری باب طبع منریہ مصر)

صحیح بخاری سے حنفی مذہب کی تائید:

دلچسپ بات یہ ہے کہ حنفی مذہب میں ذمی کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کا اثبات ہدایہ میں علامہ ابن الہمام ”صحیح بخاری کی ان روایات سے کیا ہے جن میں آتا ہے کہ یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں آتے تو آپ ﷺ کو السلام علیک کہنے کی بجائے السام علیک کہتے اور انہی احادیث امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مسلمان یا ذمی نے سب رسول کا ارتکاب صراحتاً نہیں بلکہ تعریضاً کیا ہے تو

صفحہ 209

اس کا کیا حکم ہے۔ اس باب سے امام بخاری اور فقہائے احناف نے یہ استدلال کیا کہ سب رسول اگر صراحتاً نہیں تعریضاً ہے‘ تو اس کا مرتکب واجب القتل نہیں ہے۔ یہ مسلک دلائل کی رو سے کیسا ہے؟ اس پر بحث کی جاسکتی ہے‘ لیکن اس کا انکار علمی دیانت کی منافی ہے۔

تطبیق کی صورت:

جب اس مسئلے میں اختلاف ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کو اتفاقی مسئلہ کیوں لکھا ہے۔ جیسا کہ امام شوکانی کے حوالے سے بھی گزر چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ جب زیادہ اہمیت کا حامل ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ اتفاقی بتانے کی کوشش کی جاتی ہے‘ حتیٰ کہ بعض دفعہ اختلافی نقطہ نظر کو بالکل نظر انداز کرکے اتفاق و اجماع کا دعویٰ کردیا جاتا ہے اور جزوی اختلافات کا ذکر نہیں کیا جاتا‘ جیسا کہ متعدد مثالیں اس کی کتب فقہ سے پیش کی جاسکتی ہیں۔

اور بعض دفعہ کسی فعل کی شناعت و قباحت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنے کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے۔ سب رسول ﷺ کی شناعت و قباحت تو محتاج بیان ہی نہیں‘ اسی کیفیت کو نمایاں کرنے کے لئے اختلاف کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں جن علماء نے یہ لکھا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے‘ اگر اس کو محمول کرلیا جائے‘ اس شخص پر جو کنایتاً نہیں بلکہ سب صریح کا ارتکاب کرتا ہے‘ جس میں ظاہر ہے کہ اس کی نیت بالکل واضح ہے‘ اس لیے ایسے شخص کو من غیر استتابتہ قتل کر دیا جائے اور اس کے برعکس صورتوں میں توبہ کا موقع دیا جائے۔ یہ تطبیق کی ایسی صورت ہے کہ جس سے متعارض دلائل میں توافق و تطابق ہو جاتا ہے‘ کیونکہ راقم اب تک کی پوری بحث کی سماعت میں شریک رہا ہے اور وہ دیکھتا آرہا ہے کہ متعارض دلائل کی رو سے فاضل عدالت کے ذہن میں ایک اشکال چلا آرہا ہے‘ جسے پورے زور بیان کے باوجود دور نہیں کیا جاسکا ہے اور وہ اشکال یہی ہے کہ بعض آیات و واقعات حدیث سے توبہ کا موقع دینے کا جواز نکلتا ہے اور بعض سے اس کے برعکس ثبوت مہیا ہوتا ہے‘ تو کیوں نہ ان احادیث کو‘ جن میں من غیر استتابتہ قتل کا ذکر ہے‘ سب

صفحہ 210

صریح پر یا بار بار اس کا اعادہ کرنے والے پر محمول کرلیا جائے اور جن احادیث میں تعریضاً سب النبی ﷺ پر قتل کا حکم نہیں دیا گیا‘ وہاں دیگر دلائل شرعیہ کے اقتضاء کے مطابق قصد و نیت کو بھی دیکھا جائے کہ انما الاعمال بالنیات سے ٹکراؤ نہ رہے اور صفائی کا بھی پورا موقع دیا جائے اور محض واہمے اور مفروضے پر سزا سے اجتناب کیا جائے کہ یہ بھی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ ادرء والحدو دعن المسلمين ما استطعتم فان وجد تم للمسلم مخرجا فخلوا سبيله فان الامام ان يخطى فى العفو خير من ان يخطى فى العقوبة (عن عائشہ‘ الجامع الصغير للسيوطى مع شرح مناوی‘ ج 1‘ ص21‘ طبع مصر 1954ء محمد الحافظ السیوطی)

خلاصہ بحث:

اس پیٹیشن کا مقصد یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان میں جو ایک خلا ہے کہ اس میں شتم رسالت مآب ﷺ کی کوئی سزا ہی مقرر نہیں ہے بلکہ ایک عمومی انداز میں اس کا ذکر آیا ہے اور اس پر جو تعزیری سزا رکھی گئی ہے‘ وہ قرآن و حدیث کے مطابق بھی نہیں ہے لہٰذا اس اہم خلا کو پر کیا جائے اور گستاخی رسول ﷺ کی وہ سزا مقرر کی جائے جس پر امت کا اتفاق ہے۔ اس پیٹیشن کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ تمام باشندگان ملک کو گردن زدنی قرار دے دیا جائے‘ جیسا کہ خلط مبحث کر کے ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نوٹ مصنف:

مولانا صلاح الدین یوسف کی اس رائے سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ ہماری توہین رسالت کی اس پیٹیشن کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ تمام باشندگان ملک کو گردن زدنی قرار دیا جائے اور نہ کوئی سلیم العقل آدمی ایسا سوچ سکتا ہے۔ البتہ تطبیق کی کوشش میں مولانا کو خود اشکال پیش آیا ہے۔ جبکہ گستاخ رسول ﷺ کو سزا کے متعلق پیٹیشن میں واضح موقف اختیار کیا گیا ہے اور اس بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا ذہن بھی بالکل صاف ہے۔ آخر خلاصہ بحث میں مولانا شاتم رسول ﷺ کی اسی سزائے موت سے متفق ہیں جس پر اجماع امت ہے۔ مگر اس سے قبل سزا کے بارے میں مولانا نے فقہائے احناف کے جزوی اختلاف کی چند کتابوں کا جو حوالہ دیا ہے اور اس کی تائید میں صحیح بخاری کی جو حدیث لائے ہیں ان کا مکمل اور نہایت مدلل جواب خود عالی مقام مصنفین نے اپنی

صفحہ 211

ان ہی کتابوں میں دے دیا ہے اور مولانا سلفی کو ان سے اتفاق ہے۔ اس لئے اس بحث کی ضرورت نہ تھی۔ جہاں تک ”نیت“ کا تعلق ہے ”نیت“ اسلام میں حدود اور تعزیری جرم کا اساسی رکن ہے۔ جس کا حوالہ فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ میں موجود ہے۔ اسلام نے ملزم کو اپنے دفاع کا حق دیا ہے۔ اس لئے توہین رسالت جیسے گھناؤنے اور ناقابل معافی جرم کے ملزم کو بھی صفائی کا حق حاصل ہے جس سے نیت کا مسئلہ خود بخود حل ہو گیا ہے۔ مولانا ”سب صریح“ (کھلی یا ظاہری گالی) دینے والے کو واجب القتل قرار دیتے ہیں لیکن ”راعنا“ والی آیت سے یہ واضح ہو گیا کہ اس لفظ سے بھی اہانت کا پہلو نکلتا ہے جس کے استعمال سے اہل ایمان کو روک دیا گیا ہے۔ اگرچہ حضرت احمد رضا خاں بریلویؒ کی رائے کے مطابق اس زمانہ میں اس لفظ کے استعمال سے اہانت کا اندیشہ باقی نہیں رہا لیکن راقم مصنف کو اس سے بصد احترام اختلاف ہے۔ جب حکم الٰہی سے اس لفظ کے استعمال کی ممانعت کر دی گئی تو یہ لفظ تا قیام قیامت ممنوع قرار دیا جائے گا۔

صفحہ 212

مولانا محمد حسین اکبر اجتہادی۔۔۔ امامیہ موقف

مولانا محمد حسین اکبر جامعہ المنتظر کے پرنسپل اور فقہ جعفریہ کے مستند اور وسیع النظر مجتہد اور عالم ہیں۔ مذہب امامیہ کی رو سے شاتم رسول کو وہ واجب القتل قرار دیتے ہیں۔

شاتم رسول کی سزا:

”امامیہ اثنا عشریہ (ملت جعفریہ) کا قطعی وہی عقیدہ ہے جو برادران احناف، شوافع حنابلہ یا مالکیہ کا ہے کہ شاتم رسول ﷺ قتل کیا جائے گا۔

مذہب امامیہ گستاخ ﷺ قتل کیا جائے گا:

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے تعلق میں سب لوگوں کی ذمہ داری یکساں ہیں، پس جو شخص بھی کسی سے میرا ذکر گالی سے کرتے ہوئے سنے تو اس پر واجب ہے کہ اس گستاخ کو قتل کر دے۔ حاکم تک یہ مقدمہ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اگر حاکم کے سامنے اس قسم کا مقدمہ پیش ہو تو اس پر فرض ہے کہ جس نے میرے باب میں زباں درازی کی ہو، اسے قتل کردے۔ یہی حکم ”تحریر الوسیلہ“ ج2، ص 606۔607 ”شرائع الاسلام کتاب الحدود“ ص 167 الشیعہ فی عقائد ھم واحکامھم“ ص 241، ”عقائد“ از شیخ صدوق ابو جعفر بابویہ قمی علیہ الرحمہ، ملا باقر مجلسی علیہ الرحمہ، ترجمہ مولانا عارف حسین لاہور، ”کتاب الحدود والتعزیرات“ از آیت اللہ السید محمد شیرازی مدظلہ، 348 تا 366، حصہ اول میں موجود ہے کہ جب کوئی بالغ عاقل مختار اور باخبر ہو اور پھر حضرت رسول ﷺ کو شتم کرے، قتل کیا جائے گا۔

آیت اللہ سید محمد شیرازی مدظلہ نے ”کتاب الحدود“ ص 361 پر وسائل الشیعہ کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ جب کوئی انسان یہ گمان کرے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے کوئی آدمی حسب اور فضیلت کے لحاظ سے حضور ﷺ جیسا ہے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔

آیت اللہ آقائے السید ابو القاسم الخوئی مدظلہ نے تکملتہ المنہاج ج1،

صفحہ 213

ص 264-265 میں افادہ فرمایا ہے کہ حضور پیغمبر ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کرنا سننے والے پر واجب ہے، بشرطیکہ اس کی جان، عزت اور مال خطیر کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ یہی فتویٰ آیت اللہ آقائے شریعت مدار مدظلہ اور دیگر علماء اعلام شیعہ کا ہے۔

تمام انبیاء علیہم السلام کے صحابہ عموماً اور حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابہ خصوصاً ہر طرح قابل احترام ہیں۔ انہیں جو عزت و عظمت حضرت رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور قربت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے، وہ امت میں کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اگر اصحاب رضوان اللہ علیہم کا احترام ملحوظ نہ رکھا جائے گا تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ صحابہ کرام حضور ﷺ کی بارگاہ عرش مقام کے ستون ہیں، اس لیے اجماعاً اصحاب النبی رضوان اللہ علیہم کو سب و شتم کرنے والوں کو کوڑوں کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ”رسائل الشیعہ“ ج 18، ص 460 ”کتاب ”الحدود آقائے شیرازی“ ص 352)

حضرت امام رضا علیہ السلام نے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء سے سنا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے قتل کیا جائے گا اور جو نبی کے صحابی کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں گے۔ دوسری حدیث

جامع الاخبار فصل ۵۲۱ قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم من سبني فاقتلوه ومن سب اصحابي فاجلدوه۔

”جو مجھے گالی دے اسے قتل کر دو اور جو میرے اصحاب کو گالی دے اسے کوڑے لگاؤ۔“

اگر چہ کسی حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ شاتم صحابہ کو کتنے کوڑے مارے جائیں لیکن حضرت رسول اللہ ﷺ کا شاتم گستاخ مرتد ہے، اس لیے اسے مرتد کی سزا دی جائے گی اور صحابہ اخیار پر سب و شتم کرنا دائرۂ قذف میں آتا ہے اور قذف کی سزا 80 کوڑے ہیں۔

حضرت خاتم النبین صلی اللہ ﷺ پر سب و شتم اور آپ کی شان میں توہین و گستاخی، آپ کے افعال و اقوال پر نکتہ چینی، آپ کی صداقت و عصمت میں شبہات پیدا کرنا ارتداد ہے اور ارتداد کی سزا قتل ہے۔

مجمع الرسائل میں آقائے الشیخ جعفر شوشتری اعلیٰ اللہ مقامہ جو اجل علماء امامیہ میں سے ہیں، اسباب ارتداد کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں کہ جن چیزوں کے متعلق یہ بیان کیا

صفحہ 214

گیا ہے کہ ان کا قول یا فعل باعث ارتداد ہے‘ ان میں دلی اعتقاد کے باقی رہنے یا نہ رہنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اسباب ارتداد کے مطلب دوم میں لکھتے ہیں کہ وہ ارتداد جو زبان سے واقع ہو‘ اس کی ایک قسم یہ بھی ہے کوئی شخص اللہ تعالیٰ عزوجل یا حضرت رسول اللہ ﷺ کو سب کرے‘ خواہ وہ کسی لفظ میں ہو۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاتم نبی مسلم ہے یا غیر مسلم۔ تو فقہاء امامیہ نے مرتد کی دو قسم کی ہیں۔

مرتد فطری مرتد ملی:

مرتد فطری وہ شخص ہے جو مسلمان والدین سے پیدا ہوا اور مسلمان بالغ ہوا اور وہ ارتداد اختیار کرے‘ تو وہ مرتد فطری ہے اس کو قتل کر دیا جائے گا‘ چاہے توبہ کرے یا نہ کرے۔

اس کا جسم مثل کفار نجس ہے‘ اس پر اس کی زوجہ حرام ہے۔ تمام اموال‘ ملکیت سے خارج ہو جائیں گے اور مسلم ورثاء میں تقسیم ہو جائیں گے۔ اس کے ہاتھ کا ذبیح مردار ہے۔ اس کا مسجد میں داخل ہونا حرام ہے۔ اس کا نکاح زن مسلمہ و کافرہ دونوں سے باطل ہے۔ اگر وہ مر جائے تو اس کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ خلاف شرع ہے۔ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ناجائز ہے۔

مرتد ملی وہ شخص ہے جو کافر والدین سے پیدا ہوا اور سن بلوغ تک کافر رہا۔ بعد میں مسلمان ہو گیا اور پھر کافر ہو گیا۔ اس کے متعلق چار حکم ہیں۔

اول یہ کہ اسے توبہ کرنے کا حکم دینا چاہیے اگر توبہ کرے تو مقبول ہے۔ توبہ کے لیے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ (حکم سوم) زوجہ کا نکاح فسخ ہو جائے گا، عورت کو چاہیے عدۃ طلاق رکھے‘ اگر زمانہ عدت میں توبہ کرے تو پھر زوجیت میں داخل ہو جائے گی۔ (حکم چہارم) تمام مال اس کی ملکیت میں رہے گا لیکن تصرف سے روک دیا جائے گا‘ اگر توبہ کرلی تو فبہا ورنہ تمام مال اس کے مسلم ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

اگر مرتد ملی نے تین دن کی مہلت میں توبہ کرلی‘ تو معاف کر دیا جائے گا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن مرتد فطری کی توبہ قبول نہیں ہے‘ اسے فوری قتل کر دیا جائے گا۔ یہی مسئلہ شرع اور شرائع الاسلام کے کتاب ارتداد میں درج ہے۔

صفحہ 215

چند حضرات یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بڑے بڑے گستاخوں کو معاف کر دیا تھا۔ کفار مکہ خصوصاً گستاخی میں بہت سخت تھے، دشمنی کی انتہا کر دی تھی، پھر بھی رحمت اللعالمین نے انہیں معاف کر دیا۔ لیکن اس نکتے کو اٹھانے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کفار مکہ یا اسی قبیل کے افراد جب اپنے کفر پر ڈٹے رہے تو تمام گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے رہے، جب وہ مسلمان ہو گئے تو ان کے سب گناہ ختم ہو گئے۔ یہاں تک کہ حضور پاک ﷺ نے اپنے چچا سید الشہداء جناب حمزہ کا خون بھی معاف فرما دیا۔ اگر وہ اپنے کفر پر باقی رہتے تو قابو میں آجانے کے بعد ضرور قتل کر دیے جاتے۔

صفحہ 216

مولانا ریاض الحسن نوری کی ریسرچ

مولانا ریاض الحسن نوری ملک کے معروف ریسرچ سکالر ہیں، جن کے مقالات بین الاقوامی فورم میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مولانا فیڈرل شریعت کورٹ کے مشیر بھی ہیں۔ مولانا نوری نے شتمِ رسول ﷺ کا حقوق انسانی کے نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیا ہے۔

کیا توبہ سے جرم توہین رسالت ساقط ہو جاتا ہے:

"جو لوگ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو برا کہنے والے مجرم کی توبہ کے قائل ہیں، وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ توبہ اور رجوع عن الاقرار کے سلسلے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد (حقوق انسانی) میں فرق ہے۔" رجوع عن الاقرار کے سلسلے میں ہدایہ کا یہ فقرہ قابل غور ہے:

ومن اقر بالقذف ثم رجع لم یقبل رجوعہ۔ "یعنی جو قذف کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اقرار سے پھر جائے تو اس کا رجوع مقبول نہ ہو گا کیونکہ یہ حق العباد کا معاملہ ہے۔"

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گناہ تو توبہ سے معاف ہو جاتا ہے لیکن بندہ کا گناہ توبہ سے معاف نہیں ہوتا بلکہ اسی شخص سے معاف کرانا پڑتا ہے جس کا گناہ کیا ہو۔ شہید کے سب گناہ جو حق اللہ سے متعلق ہیں، وہ معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ قرضہ بھی معاف نہیں ہوتا۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو برا کہنے والا تو اللہ کا گنہگار بھی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا گنہ گار بھی ہے۔ بلکہ ان تمام مسلمانوں کا گنہگار بھی ہے، جو اس وقت زندہ ہوں اور جن کے دل کو اس بات سے صدمہ پہنچا ہو۔

دیکھئے کہ اگر کوئی شخص مجھ پر یا کسی پر زنا، چوری، رشوت کا کوئی بھی الزام لگائے، تو ہمیں اس پر غصہ ضرور آئے گا لیکن اتنا نہیں کہ ہم اسے قتل کردیں۔ لیکن اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کوئی برا کہے گا، تو ہمارا دل یہی چاہے گا کہ اسے ہم قتل کردیں۔

اس بات کو ابن عابدین نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

صفحہ 217

”یعنی مومن کے دل کی تشفی اس وقت نہیں ہوتی، جب تک کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہنے والے لعین کو عذاب دینے اور مارنے پیٹنے کے بعد قتل نہ کیا جائے اور پھر اس کو مصلوب نہ کیا جائے۔

(پس ثابت ہوا کہ قتل ضروری ہے۔ عمرقید سے کام نہیں چلے گا۔

خاکسار کی رائے اگر چہ ابن حزم سے ملتی ہے کہ شبہ سے حد زائل ہو جاتی ہے، والی روایت ضعیف ہے۔ لیکن خاکسار کے سامنے دوسری حدیث موجود ہے جو بالکل صحیح ہے کہ

انما الاعمال بالنیات۔

اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔

جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ملزم کی نیت واقعی شتم یا سب کی تھی، محض شک کی وجہ سے قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ الاعمال بالنیات والی حدیث قتل کی سزا کا راستہ روک دیتی ہے، جب تک نیت واضح نہ ہو۔

پس اس بات کا پورا اطمینان ضروری ہے کہ ملزم کی نیت یقینی طور پر حضور کو برا کہنے کی تھی۔ جیسا کہ ان ہندو خبیثوں کی نیت واقعی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہنے کی تھی جن کو مسلمانوں نے قتل کیا۔ ان کی کتب اس پر یقینی ثبوت تھیں کوئی شک یا شبہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔

پس اگر شاتم رسول کا جرم اس طرح سے ثابت ہو جائے کہ شبہ کا کوئی سوال ہی نہ ہو، تو اس کو قتل کی سزا دی جائے گی اور توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ اگر یقینی ثبوت سے صرف نظر کرلی جائے تو بعض لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ جسمانی معراج کی بجائے روحانی معراج کے قائل ہیں، وہ بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا مرتبہ گھٹا رہے ہیں اور یہ بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہنے کے مترادف ہے، تو اس کی زد میں تو بہت سے صحابہ کرام، جن میں حضرت عائشہ بھی ہیں، آجائیں گے۔ پس اس کا ثبوت ضروری ہے کہ نیت برا کہنے کی تھی۔

اب ہم جملہ معترضہ کو چھوڑ کر پھر بندے کے گناہ سے توبہ کی نامقبولیت کی طرف آتے ہیں۔ بندہ کا معاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ قذف کے جرم میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے اور بندہ کا حق بھی ہے، جس پر الزام لگایا جاتا ہے۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قذف میں

صفحہ 218

بندہ کے حق کی وجہ سے رجوع عن الاقرار نامقبول ہے۔ زنا کے اقرار سے توبہ کے بعد خلاصی ہو سکتی ہے لیکن قذف کے جرم میں توبہ کر کے بھی حد سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔

اس سلسلہ میں واقعہ افک کی مثال لیتے ہیں۔ قرآنی آیات نے حضرت عائشہؓ کی برات کردی۔ تینوں صحابہ کرام بھی مجسم تائب ہو گئے لیکن قذف کی سزا دو اصحاب اور ایک عورت کو دی گئی، جو سب کے سب سچے مسلمان اور صحابی تھے۔ مسطح حضرت ابو بکرؓ کے رشتہ دار تھے اور حضرت حسان بن ثابت دربار نبوی کے شاعر تھے اور کفار کے اشعار کا جواب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے دیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ معاملہ حقوق العباد کا تھا، اس لیے تینوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے اور خاتون بھی اس سزا سے بچ نہ سکیں۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی فقیہ یہ کہتا ہے کہ اگر عورت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہے تو عورت کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی، تو اس کی رائے قابل قبول نہ ہوگی۔ افک کے واقعہ میں عورت کو بھی وہی سزا دی گئی تھی جو باقی اصحاب کو دی گئی تھی۔ جنس کی بنا پر سزا میں تفریق نہیں کی جاسکتی جبکہ آج کل عورتیں برابری کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے شتم میں تو صدمہ نہ صرف حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچتا ہے بلکہ تمام مسلمانوں کو پہنچتا ہے۔ جیسا ذکر ہو چکا ہے، سب و شتم کی توبہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ مجرم اگر واقعی تائب ہو تو اس کا دل بھی یہی چاہے گا، تو اس جرم میں اسے موت کی سزا دی جائے اور وہ اس پر اسی طرح موت کی سزا پر اصرار کرے گا جیسا کہ حضرت ماعزؓ اور حضرت غامدیہ نے رجم کیے جانے کے لیے اصرار کیا بلکہ شتم نبی ﷺ کی صورت میں تائب مسلمان مجرم بطریق اولیٰ موت کی سزا پر اصرار کرے گا اور وہ چاہے گا کہ موت کی سزا پا کر معافی کی پوری گارنٹی اس کو اسی طرح مل جائے جیسے کہ حضرت ماعزؓ کو مل گئی تھی۔

احناف میں سے محی الدین رحمۃ اللہ علیہ کی رائے:

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہنے والے کی بھی توبہ قبول نہ کی جائے کیونکہ ان کی نظر میں ساب الرسول ردہ کے علاوہ ہے۔

" ساب کے متعلق فتاویٰ بزازیہ میں منقول ہے کہ جو شخص حضور ﷺ یا انبیاء

میں سے کسی نبی کو برا کہے، تو ا لیے توبہ نہیں ہے، چاہے وہ پکڑ وہ خود بخود تائب ہو کر اپنے کو پش سے ساقط نہیں ہوگی۔ اس کا تص گا، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جس حق زائل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ تما ہے جو کہ توبہ سے ساقط نہیں ہوت بھی یہی مذہب ہے۔ یہی اس کی فتویٰ دیتے رہے ہیں۔ آل عثمان ہے کہ قتل کی وجہ حضور علیہ الص ان کی امت کو ایذا پہنچانا ہے۔ ی ارتداد سے روکنا ہے۔ یہی مذہب مذہب ہے۔ (یعنی حنفی اصول فقہ

یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور حق اس بندہ کی زندگی میں معاف الصلوۃ والسلام نے ابتدائے اسلام کا تقاضا یہی تھا۔ لیکن آپ کے ا رضا مندی کی کوئی یقینی دلیل ہ والسلام کے بعد شاتم کو قتل کیا جا

نیت اور احوال:

جان لو کہ علماء نے اس م پر غور کرے۔ ایسے عجیب الفاظ ا الفاظ سنے اور صورت حال کیا تھ حالت کے متعلق کیا رائے رکھے طرف دعوت دیتا ہے یا نہیں، اگر

صفحہ 219

میں سے کسی نبی کو برا کہے، تو اسے بطور حد کے قتل کیا جائے گا اور فی الاصل اس کے لیے توبہ نہیں ہے، چاہے وہ پکڑ کر لایا جائے اور اس کے خلاف شہادتیں پیش کی جائیں یا وہ خود بخود تائب ہو کر اپنے کو پیش کرے۔ کیونکہ یہ حد ہے جو واجب ہو چکی، پس توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی اس کے خلاف رائے دے گا، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جس کے ساتھ بندہ کا تعلق نتھی ہو چکا ہے، پس توبہ سے یہ حق زائل نہیں ہوگا۔ جیسا کہ تمام حقوق العباد کا معاملہ ہے، جیسا کہ قذف کی حد کا معاملہ ہے جو کہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ یہ مذہب امام اعظم کا ہے اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یہی اس کی عبارت ہے اور اسی کے مطابق روم کے علماء آج تک فتویٰ دیتے رہے ہیں۔ آل عثمان سے قبل بھی یہی فتویٰ موجود تھا۔ اس فتویٰ کی علت یہ ہے کہ قتل کی وجہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایذا پہنچانا ہے اور ان کو برا کہنے کی وجہ سے ان کی امت کو ایذا پہنچانا ہے۔ یہ آدمیوں کا حق ہے اور اس میں نظام کی حفاظت ہے اور ارتداد سے روکنا ہے۔ یہی مذہب امام صاحب کا مذہب ہے اور امام صاحب کے اصحاب کا مذہب ہے۔ (یعنی حنفی اصول فقہ کے مطابق یہی فتویٰ ہے)

یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور خالص اللہ تعالیٰ کا حق توبہ سے ٹل جاتا ہے لیکن بندہ کا حق اس بندہ کی زندگی میں معاف کرنے سے زائل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابتدائے اسلام میں بہت سے لوگوں کو معاف کیا کیونکہ حکم اور مصلحت کا تقاضا یہی تھا۔ لیکن آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد آپ ﷺ کی معافی اور رضا مندی کی کوئی یقینی دلیل ہم حاصل نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد شاتم کو قتل کیا جائے گا۔

نیت اور احوال :

جان لو کہ علماء نے اس مسئلہ کے متعلق لکھا ہے، حاکم کو چاہیے کہ متکلم کے حال پر غور کرے۔ ایسے عجیب الفاظ اس سے کیسے صادر ہوئے اور کن کن نے اس سے ایسے الفاظ سنے اور صورت حال کیا تھی، اس متکلم کا دینی حال کیا تھا، بعض لوگ اس کی دینی حالت کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔ وہ کس قماش کا آدمی ہے، وہ الحاد کی طرف دعوت دیتا ہے یا نہیں، اگر نہیں دیتا تو کیا محض سہو، بھول چوک سے اتفاقاً کوئی لفظ

صفحہ 220

اس کے منہ سے نکل گیا ہے۔ پس اس شخص کے حالات دیکھ کر حاکم اس کے متعلق جو مناسب وہ وہ فیصلہ کرے گا۔

(نعمان عبدالرزاق السامرائی: احکام المرتد: 108 مطبوعہ بیروت)

مذکورہ بالا بیان کے فوراً بعد مصنف ابن ضویان حنبلی کی رائے بیان کرتے ہیں۔

(بحوالہ "المنار السبیل": ج 2، ص 409)

ہم ابن ضویان کی رائے ان کی اصل کتاب سے نقل کرتے ہیں، جس میں انہوں نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔

وہ اپنی کتاب "المنار السبیل" جلد دوئم میں یوں لکھتے ہیں:

ترجمہ: دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آیا شاتم الرسول کا قتل کفر کی وجہ سے یا حد کی وجہ سے ہے۔ جان لو کہ مرتد کے قتل پر اجماع ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا اور اس کی توبہ اجماعاً مقبول ہوتی ہے جبکہ وہ زندیق نہ ہو۔ لیکن حسن بصری کی رائے یہ ہے کہ مرتد کی توبہ مقبول نہیں ہوتی بلکہ وہ قتل کیا جائے گا، چاہے وہ دوبارہ اسلام لے آئے۔ مگر ان کا یہ قول جو صحابہ، تابعین اور بعد کے لوگوں کے مشہور قول کے خلاف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں بھی شک نہیں کہ مرتد کا قتل جبکہ وہ توبہ نہ کرے ایسا قتل نہیں، جیسا کہ اصلی یعنی کافر کا قتل ہوتا ہے۔ کیونکہ اصلی کافر کے معاملہ میں امام کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسے قتل کرے یا غلام بنالے یا اس پر جزیہ عائد کر دے، اسے اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مرتد کا معاملہ اس سے مختلف ہے، اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اگر انکار کرتا ہے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے... مزید ابن عابدین لکھتے ہیں:

جان لو کہ امام مالک ان کے اصحاب اور سلف اور جمہور علماء کا قول یہی ہے کہ شاتم الرسول کو حداً قتل کیا جائے گا۔ کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا چاہے وہ توبہ بھی کرے اسے قتل کیا جائے گا۔ پس ان کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی، نہ اسے اس بات سے کوئی فائدہ ہوگا کہ وہ خود اپنے کو قتل کے لیے پیش کرے۔ اس کا حکم زندیق کے مثل ہوگا، یعنی کہ یہ بات اس کے حق میں برابر ہوگی کہ وہ چاہے پکڑا ہو لایا جائے اور اس کے خلاف شہادتیں پیش ہوں کہ اس نے شتم کیا ہے، یا وہ خود تائب ہو کر آئے۔ کیونکہ وہ تو حد ہے جو واجب ہو چکی (تیر کمان سے نکل چکا) اور توبہ سے وہ ساقط نہیں ہوگی۔ جیسا کہ دوسری حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں۔

صفحہ 221

قابسی کہتے ہیں کہ جب مجرم شتم کا اقرار کرلے مگر پھر اس سے توبہ کرے اور توبہ کا اظہار بھی کرے، پھر بھی وہ قتل کیا جائے گا کہ وہ تو شتم کی حد ہے۔ محمد بن ابی زید نے بھی یہی بات کہی ہے۔ ہاں جو معاملہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان ہے تو اس میں اس کو توبہ کا فائدہ پہنچے گا۔

مذکورہ بالا دلائل اور بحث کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ شاتم الرسول کی سزا قتل ہے جو حداً ہے اور اس میں تخفیف نہیں ہو سکتی۔ دوسری بات یہ کہ علماء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ زندیق کی سزا بھی قتل ہے اور توبہ سے ساب الرسول کی طرح زندیق کی سزا بھی زائل نہیں ہوتی۔ لیکن ساب الرسول کی سزا زائل نہ ہونے اور حداً اس کی سزا قتل ہونے کے دلائل زیادہ قوی ہیں اور چند شاذ آراء کے علاوہ سلف سے خلف تک تمام علماء اسی کے قائل رہے ہیں کہ ساب الرسول کی سزا ثبوت جرم کے صحیح طور پر ثابت ہونے کے بعد حداً قتل ہے اور خود تائب ہو کر آنے سے بھی اس کی سزا میں کوئی فرق نہ پڑے گا۔ کسی دور میں ساب الرسول کو اللہ تعالیٰ خود قتل کی سزا دیتا رہا۔ قرآن سے ساب الرسول کے قتل کی سزا ثابت ہے۔

مولانا نوری نے قرآن سے شتم رسول کی سزا کے بارے میں ان ماخذ کا بھی ذکر کیا ہے جو قاضی عیاض کی کتاب الشفا اور ابن تیمیہ کی الصارم المسلول میں بیان ہو چکے ہیں۔ اس لئے انہیں یہاں حذف کر دیا گیا ہے۔

صفحہ 222

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور سزائے توہین رسالت

مولانا محمد صادق لالہ صحرائی

مولانا محمد صادق لالہ صحرائی اس دور کے ان عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں جنہوں نے اپنے قلب و روح اور زبان و قلم کو مدحت و خدمت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیا ہے۔ لالہ صحرائی صاحب نے شاتم رسول کعب بن اشرف کے قلعہ کے وہ آثار بھی دیکھے ہیں جہاں اسے قتل کیا گیا ہے۔ زیر نظر مضمون اسی فکر و نظر کا آئینہ دار ہے۔

جب بھی کسی مسلمان معاشرے کو اپنے خطہ زمین پر ایک آزاد مملکت کی نعمت حاصل ہوگی‘ تو اپنے ہاں شرعی قوانین کی تشکیل کے لیے اسے لامحالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کو ماڈل بنانا ہو گا۔ جب اسلام ایک مقتدر ریاست (Soveriegn State) کی حیثیت پا گیا تھا‘ نہ کہ مکی زندگی کو جب اسلام محض دعوتی اور تبلیغی دور سے گزر رہا تھا اور اس نے ابھی سیاسی اقتدار حاصل نہیں کیا تھا۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ اپنی مدنی زندگی کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت قانون ساز اور سربراہ مملکت‘ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور انہیں کیا سزا دی؟

اس سلسلہ میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں کے مطالعہ سے جو نظائر سامنے آتے ہیں‘ ان کا مختصر تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے:

پہلے واقعہ کا تعلق سنہ 2ھ سے ہے‘ جو بدر سے فتح مندانہ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے پیش آیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اثنائے سفر میں وادی صفرا کے درے سے باہر نکلے‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر اسلامی کے ہمراہ آنے والے مشرک اسیران جنگ میں ایک شخص نضر بن حارث نظر آیا‘ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی مکی زندگی کے دوران توہین و ایذا رسانی کا نشانہ بنایا کرتا تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس شخص کو فوراً قتل کر دیا۔

اس کے بعد اسی سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرق الظبیہ پہنچے‘ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی اسیران جنگ میں ایک اور شخص عقبہ بن ابی محیط کو دیکھا‘ جس نے ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حالت نماز میں اونٹ کی اوجھ ڈال دی تھی‘ نیز ایک اور مرتبہ حرم کعبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے گرد کپڑا کس کر انہیں ایذا پہنچائی تھی‘ حضرت علی

کرم اللہ وجہہ نے حضور اس سے اگلے سا بعد دیگرے قتل کی سزا دی میں ہجویہ شعر کہا کرتی تھی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطو شاعر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سے ایک بدری سالم بن ع قتل کی سزا کا اگل یہودی تھا اور اطراف مد اور خاندانی وجاہت پر نہایت جارحانہ بد زبانی کی صحابی حضرت ابو نائلہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے تذکرے میں بہت ش واقعہ کو بڑی تفصیل کے کعب بن اشرف کے قلع سے سرفراز ہوا تو ایک و ملا تھا‘ پتھریلے نشیب وف اب بھی وحشت برس رہ اسلام دشمنی اور نہایت امیر تاجر ابو رافع صلی اللہ علیہ وسلم کے ایما سے ایک ہوا۔

اسی سال غزوہ ا شخص ابو عزہ بھی آیا‘ برانگیختہ کیا کرتا تھا‘ گرفتا

صفحہ 223

صلی اللہ علیہ وسلم اور سزائے توہین رسالت

مولانا محمد صادق لالہ صحرائی

رائی اس دور کے ان عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں جنہوں ی و قلم کو مدحت و خدمت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیا اتم رسول کعب بن اشرف کے قلعہ کے وہ آثار بھی دیکھے زیر نظر مضمون اسی فکر و نظر کا آئینہ دار ہے۔

معاشرے کو اپنے خطہ زمین پر ایک آزاد مملکت کی نعمت قوانین کی تشکیل کے لیے اسے لامحالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی اسلام ایک مقتدر ریاست (Sovereign State) کی ی کو جب اسلام محض دعوتی اور تبلیغی دور سے گزر رہا تھا حاصل نہیں کیا تھا۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ اپنی مدنی زندگی ثیت قانون ساز اور سربراہ مملکت، توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور انہیں کیا سزا دی؟

نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں کے مطالعہ سے جو نظائر سامنے آتے کیا جارہا ہے:

ھ سے ہے، جو بدر سے فتح مندانہ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ثنائے سفر میں وادی صفرا کے درے سے باہر نکلے، تو آپ ہ آنے والے مشرک اسیران جنگ میں ایک شخص نضر بن کو ان کی مکی زندگی کے دوران توہین و ایذا رسانی کا نشانہ بنایا پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس شخص کو فوراً قتل کر

کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرق النبیہ پہنچے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور شخص عقبہ بن ابی معیط کو دیکھا، جس نے ایک مرتبہ مکہ ت نماز میں اونٹ کی اوجھ ڈال دی تھی، نیز ایک اور مرتبہ ردن کے گرد کپڑا کس کر انہیں ایذا پہنچائی تھی، حضرت علی

کرم اللہ وجہہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے تعمیل میں اس شخص کی بھی گردن مار دی۔

اس سے اگلے سال یعنی سنہ 3ھ میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے چار مجرموں کو یکے بعد دیگرے قتل کی سزا دی گئی، عصماء نامی ایک یہودی شاعرہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں ہجویہ شعر کہا کرتی تھی، ایک نابینا صحابی عمیر بن عدیؓ کے ہاتھوں قتل ہوئی، جنہیں بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تحسین ”بینا“ اور ”بصیر“ کا خطاب دیا، ابو عفک نامی ایک اور شاعر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریدہ دہنی سے کام لیتا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حکم سے ایک بدری سالم بن عمیرؓ کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترا۔

قتل کی سزا کا اگلا ہدف کعب بن اشرف بنا، جو شاعر ہونے کے علاوہ بڑا مال دار یہودی تھا اور اطراف مدینہ میں ایک مضبوط اور شاندار قلعہ کا مالک تھا، اپنی دولت مندی اور خاندانی وجاہت پر گھمنڈ کے باعث وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے بارے میں نہایت جارحانہ بد زبانی کیا کرتا تھا، اسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی حکم کے تحت ایک صحابی حضرت ابو نائلہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ اس کے قلعہ میں جاکر قتل کیا۔ کعب بن اشرف کے واقعہ قتل نے عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے میں بہت شہرت پائی ہے، چنانچہ اکثر سیرت نگاروں نے اپنی تالیفات میں اس واقعہ کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ادھر مدینہ منورہ کے مضافات میں اب بھی کعب بن اشرف کے قلعہ کے آثار موجود ہیں۔ سنہ 85ء میں جب میں سفر حج کی سعادت سے سرفراز ہوا تو ایک واقف کار رفیق کے ہمراہ مجھے بھی اس قلعہ کے آثار دیکھنے کا موقع ملا تھا، پتھریلے نشیب و فراز پر مشتمل یہ ایک لق و دق مقام تھا، جس کے چاروں طرف اب بھی وحشت برس رہی تھی۔

اسلام دشمنی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں کعب بن اشرف کا مددگار ایک اور نہایت امیر تاجر ابو رافع بھی تھا، جو خیبر میں واقع اپنی گڑھی میں رہتا تھا، یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایما سے ایک صحابی حضرت عبداللہ کے ہاتھوں اپنی خوابگاہ میں موت سے ہمکنار ہوا۔

اسی سال غزوہ احد سے واپسی کے سفر کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں ایک شخص ابو عزہ جمحی آیا، جو اپنے اشعار کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کفار کے جذبات برانگیختہ کیا کرتا تھا، گرفتاری کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں حضرت عاصم بن

صفحہ 224

ثابتؓ نے اس کو تہ تیغ کر دیا۔

فتح مکہ کے موقع پر جب حضور ﷺ نے کفار و مشرکین کے لئے عفو عام کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی چند اشخاص کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عفو عام سے مستثنیٰ ہیں، لہٰذا یہ جہاں بھی ملیں، انہیں قتل کر دیا جائے، خواہ وہ غلاف کعبہ ہی سے لپٹے ہوئے کیوں نہ ہوں، ان واجب القتل افراد میں ابن خطل کی دو ہجو گو لونڈیاں ارتب اور ام سعد، نیز مشہور ہجو گو شاعر حارث بن طلال بھی تھا، جسے نبی ﷺ کے حکم کے مطابق حضرت علیؓ نے قتل کر دیا۔

جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی محققانہ اور عالمانہ تصنیف ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ“ میں امام بخاری ؒ کے جلیل القدر استاد حضرت عبدالرزاق بن ہمامؒ کے دوسری صدی ہجری میں مرتبہ مجموعہ احادیث ”المصنف“ کے باب ”سب النبی ﷺ“ نیز سنن ابی داؤد اور قاضی عیاض ؒ کی کتاب ”الشفاء“ کے حوالہ سے آٹھ ایسے اشخاص کا ذکر کیا ہے، جو حضور ﷺ کی توہین کے جرم میں خود حضور ﷺ ہی کے حکم کے مطابق واجب القتل قرار پائے۔ ان کے علاوہ کتب سیرت میں اور نظائر بھی دستیاب ہو جائیں گی جن پر اہل علم مزید ریسرچ کریں گے۔

شاتم رسول ﷺ

ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ہن پایہ مقالہ میں علمی دیانت کے ۔ بیسویں صدی میں جو فتنہ اٹھا۔ قرآنی اور منطقی استدلال کے سا حاضر کا برہان قاطع کہا جاسکتا ہے، شاتم رسول ﷺ کے احتجاج کو خلاف اسلام قرار دینا وا امت کی مخالفت ہے گزشتہ چودہ شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل ایک مکمل کتاب ”الصارم المسلول افسوس کی بات ہے کہ اب شاتم اور اس فکر کے داعی ہیں وحید ایڈیٹر۔ انھیں بڑا اضطراب ہے کتاب کے خلاف احتجاج کا جھنڈا چکے ہیں۔ نہ صرف ایک سلمان سے بچانے میں انھوں نے وکیلان کر رکھی ہیں۔ اس بارے میں ان

”موجودہ زمانے میں مسلمہ اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبا دلیل موجود نہیں ہے۔“ [1]

”امتحان کی اس دنیا میں ہ کرسکتے کہ وہی الفاظ بولے جو

صفحہ 225

شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل سے انکار کا فتنہ

ڈاکٹر محسن عثمانی

ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ہندوستان کے ان محققین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے بلند پایہ مقالہ میں علمی دیانت کے ساتھ تحقیق کا پورا پورا حق ادا کیا۔ لبرل ازم کے نام پر بیسویں صدی میں جو فتنہ اٹھا ہے ان کے افکار و نظریات کا ناقدانہ جائزہ لے کر دانش قرآنی اور منطقی استدلال کے ساتھ جس انداز اور اسلوب میں جواب دیا ہے اسے عصر حاضر کا برہان قاطع کہا جا سکتا ہے۔ مقالہ کا اقتباس نذر قارئین ہے۔

شاتم رسول ﷺ کے لئے سزائے قتل کی مخالفت اور اہانت رسول ﷺ پر احتجاج کو خلاف اسلام قرار دینا دراصل مزاج اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ اور اجماع امت کی مخالفت ہے گزشتہ چودہ سو سال میں یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے اور کسی نے بھی شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل کا انکار نہیں کیا۔ علامہ ابن تیمیہ نے تو اس موضوع پر ایک مکمل کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ کے نام سے لکھ دی ہے، حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اب شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل سے انکار کی دعوت اٹھی ہے اور اس فکر کے داعی ہیں وحید الدین خاں صاحب اسلامی مرکز کے صدر، الرسالہ کے ایڈیٹر۔ انھیں بڑا اضطراب ہے اس بات پر کہ ساری دنیا کے مسلمان سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف احتجاج کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور اس کے قتل کا فتویٰ بھی صادر کر چکے ہیں۔ نہ صرف ایک سلمان رشدی بلکہ تاریخ کے تمام شاتمین رسول ﷺ کو قتل سے بچانے میں انھوں نے وکیلانہ منطق اور غیر موزوں و غلط استدلال کی صلاحیتیں وقف کر رکھی ہیں۔ اس بارے میں ان کا موقف ان کے الفاظ میں یہ ہے۔

”موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ اسلام میں اس کے لئے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہے۔“[1]

”امتحان کی اس دنیا میں جہاں ہر ایک کو آزادی ہے آپ کسی کو اس پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہی الفاظ بولے جو آپ چاہتے ہیں کہ بولے جائیں...... موجودہ زمانہ میں

صفحہ 226

آزادی فکر خیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتی ہے“

(2)

”رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ برپا کیا اس نے اسلام کے معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں۔ وہ تمام دنیا کو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے وہ قتل و خون کا دین ہے۔“

(3)

”رسول ﷺ کے نام پر رسول کے طریقے کے خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلام تاریخ میں نہیں ملے گی۔“

(4)

”جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی علی الاطلاق طور پر مستوجب قتل جرم ہے۔ وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے لئے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل موجود نہیں۔“

(5)

”سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے مجنونانہ ایجی ٹیشن کا فائدہ کچھ نہیں ہوا۔“

(6)

وحید الدین خاں نے رشدیات پر۔ اپنے مضامین میں یہ چیلنج دیا ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزائے قتل قرآن وسنت سے ثابت نہیں۔ اب ہم ذیل میں اس چیلنج کا جواب پیش کریں گے۔ قرآن و سنت آسمانی کتابوں‘ دور صحابہؓ کے نظائر‘ فقہاء کے اقوال سے یہ شہادتیں پیش کریں گے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا علی الاطلاق قتل ہے۔ اور اس میں کسی دوسرے سبب کا پایا جانا ضروری نہیں۔

وجہ قتل:

ایک مسلمان شاتم رسول ﷺ دو سبب سے اپنی زندگی کا استحقاق کھوتا ہے۔

نے کافر اور ذمی کو سب و شتم رسول کے جرم میں قتل کیا ہے۔

ایک سب و شتم اور دوسرے ارتداد۔ یہ ارتداد کی نہایت سنگین قسم ہے۔ مسلمان پیغمبر پر سب و شتم سے مرتد اور کافر ہو جاتا ہے۔

شاتم رسول کو قتل سے بچانے والے وکیل کے لئے دو شکلیں رہ جاتی ہیں یا تو وہ یہ

صفحہ 227

کہے کہ شتم رسول سے مسلمان مرتد نہیں ہوتا یا وہ یہ ثابت کرے کہ مرتد کی سزا اسلام میں قتل نہیں۔ جہاں تک پہلی شکل کا تعلق ہے تو محمد بن سحنون کا قول یہاں تک ہے کہ شاتم رسول کے کفر اور عذاب میں جو شک کرے گا وہ خود کافر ہو جائے گا۔

مسلمان شاتم رسول کے لئے دو وجہیں جو مستوجب قتل ہیں جمع ہو جاتی ہیں۔ ایک شتم اور دوسرے ارتداد۔ اب ہم قرآن و سنت اور آثار صحابہؓ سے وہ دلیلیں پیش کریں گے جن سے کہیں تو شتم کی وجہ سے سزائے قتل کا ثبوت ملے گا اور کہیں ارتداد کی وجہ سے قتل کی سزا ثابت ہوگی۔

قرآن سے استدلال:

صاحب الفقہ المیسر نے مرتد کی سزائے قتل پر قرآن سے استدلال کیا ہے وہ لکھتے ہیں:۔

”جس شخص کا ارتداد ثابت ہو جائے اس کا خون (رائیگاں) ہدر ہے۔ کیونکہ اس نے بد ترین قسم کے کفر کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور مرے کافر ہو کر تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے وہ دوزخ کے لوگ ہیں، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“ (7)

مذکورہ آیت کی تشریح:

مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔

”تنبیہہ مسلمانوں کو بھی کر دی گئی ہے کہ اگر ان کے ظلم و ستم سے مرعوب ہو کر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور اسی حالت میں مر جائے گا اس کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں اکارت ہو جائیں گے۔ اس آیت میں ایک خاص نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ اعمال کے اکارت ہونے کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہو جائیں گے۔ آخرت میں مرتد ہو جانے والوں کے اعمال کا اکارت ہونا تو واضح ہے۔ البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں ان کے اعمال کے اکارت ہونے کی شکل کیا ہوگی۔ ہمارے نزدیک اس کا جواب

صفحہ 228

یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہو جاتا ہے وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ ریاست پر اس کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی ہے۔ چنانچہ اسی اصول پر اسلامی تعزیرات کا وہ قانون مبنی ہے جو مرتدوں کی سزا سے متعلق ہے۔" (8)

قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی حبطت اعمالہم فی الدنیا کی تفسیر میں لکھتے ہیں:- ”پس ایسے شخص کے دنیا میں مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کا خون اور مال محفوظ نہ رہے گا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔“ (9)

قرآن سے دوسرا استدلال:

اگر کوئی ذمی کھل کر دین اسلام کے خلاف زبان درازی کرے تو اس کا قتل درست ہے۔ اس لئے کہ اس کے ساتھ معاہدہ اس بات پر تھا کہ وہ زبان درازی نہ کرے گا اور جب اس نے زبان درازی کی تو عہد ٹوٹ گیا اور اس کا ذمہ ساقط ہو گیا۔ (10)

ابن حبان کہتے ہیں کہ ائمۃ الکفر کے قتل کا حکم عوام کے قتل کی نفی نہیں ہے ائمہ کی تصریح اہتمام وخصوصیت اور تاکید کے لئے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قاتلوا ائمۃ الکفر سے مراد ہے ”قاتلوا الکفار“ (11)

صاحب روح المعانی کہتے ہیں:- ائمہ کفار کے ذکر کی تخصیص اس وجہ سے ہے کہ ان کا قتل سب سے ضروری ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر ائمہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (12)

احادیث سے استدلال:

شاتم رسول ﷺ جو جرم شتم سے پہلے مسلمان رہ چکا ہو مرتد ہو جاتا ہے اور شتم رسول ﷺ کی بنا پر اور پھر ارتداد کی بنا پر وہ مستحق قتل ٹھہرتا ہے۔ ذیل میں وہ احادیث بھی درج کی گئی ہیں جن سے ارتداد کی وجہ سے سزائے قتل ثابت ہوتی ہے۔ اور وہ حدیثیں بھی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شتم رسول کی بنا پر مجرم کو قتل کر دیا گیا۔

ارتداد کے بہت سے واقعات میں نفس ارتداد پر سزائے قتل دی گئی گو کہ کسی مخصوص بغاوت کی قیادت کا جرم ثابت نہیں ہوا کیونکہ نفس ارتداد خود ایک

صفحہ 229

بغاوت ہے۔ اسی طرح سے شتم رسول ﷺ بذات خود پیغمبر اور بانی دین سے بغاوت ہے۔ الگ سے کسی باغیانہ تحریک کی قیادت کے جرم کا سرزد ہونا ضروری نہیں۔

ابن عباسؓ کی ام ولد کے قتل والی حدیث سے واضح ہے کہ اس کو سب و شتم اور ارتداد کی وجہ سے نابینا صحابی ؓ نے قتل کر دیا تھا جس کے خون کو حضور ﷺ نے رائیگاں قرار دیا۔

دلالت کرتی ہے کہ نبی کو برا کہنے والا شخص قتل کر دیا جائے گا اور مسلمان ہونے کی صورت میں وہ مرتد ہو جائے گا۔ اور اس سے توبہ بھی طلب نہیں کی جائے گی۔

کے دن حضور ﷺ نے ابن خطل کو اس وجہ سے کہ وہ شاتم رسول تھا۔ حرم میں قتل کروا دیا۔ فتح الباری میں اس واقعہ کی پوری تفصیلات موجود ہیں۔ ابن خطل خانہ کعبہ کا کپڑا پکڑ کر لٹکا ہوا تھا ایک صحابی نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے قتل کردو۔ انھوں نے اسے قتل کر دیا۔

(13)

میں ابن خطل کی دو لونڈیاں بھی تھیں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں۔ ان میں ایک کا نام قریبہ تھا جو قتل کر دی گئی تھی۔

حارث بن سوید بن صامت کو قتل کرا دیا تو اس نے منافقت کا رویہ اختیار کیا اور حضور ﷺ کی شان میں منظوم ہجو لکھی۔

حضور ﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا۔ کوئی ہے جو اس کو قتل کر دے سالم عمیر اٹھے اور انھوں نے جاکر اس کو قتل کر دیا۔

(14)

عفک کے قتل سے اسے ناگواری ہوئی اور اس کا نفاق ظاہر ہوا۔ ذات رسول

صفحہ 230

ﷺ آپ کے مشن اور اہل اسلام کے خلاف اس نے اشعار میں ہرزہ سرائی کی۔ حسان بن ثابتؓ نے اس کے قصیدہ کا جواب دیا۔ دونوں کے قصیدوں کے اشعار سیرت بن ہشام میں بھی مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ کیا کوئی شخص نہیں جو انتقام لے اور اس عورت کو جاکر قتل کردے۔ عمیر بن عدی الخطمی نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور اس کے گھر جاکر اسے قتل کردیا۔ قتل کرنے کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قتل کی اطلاع دی آپ ﷺ نے فرمایا۔ نصرت اللہ رسولہ یا عمیر ”عمیر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی۔“

(15)

صحابہ کے آثار ونظائر سے استدلال:

درج ذیل واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک ذمی کو بھی شتم رسول کے جرم میں قتل کیا جائے گا۔ اور یہ قتل وہ شخص بھی کر سکتا ہے۔ جو سب و شتم اپنے کان سے سنے۔ حضرت ابنِ منذر سے روایت ہے کہ غرفہ بن حارث الکندی ایک صحابیہ تھیں جن کا گزر ایسے شخص پر ہوا جو ذمی تھا۔ حضرت غرفہ نے اس ذمی کو اسلام کی دعوت دی اس نے جواب میں نبی ﷺ کو گالی دی۔ حضرت غرفہ نے اسے وہیں قتل کر دیا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا۔ انھیں (یعنی ذمیوں کو) ہمارے عہد اور ذمہ کی وجہ سے اطمینان رہتا ہے۔ کہا گیا کہ ہم نے انھیں عہد اور ذمہ اس بات کا نہیں دیا ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کے بارے میں ہمیں ایذاء پہنچائیں۔

(16)

وحید الدین خاں صاحب کی نظر سے مذکورہ بالا صحابی کا واقعہ نہیں گزرا۔ ورنہ وہ یہ نہ لکھتے کہ ”شتم رسول ﷺ سے مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا تعزیرات اسلام کی کوئی دفعہ نہیں۔“

علماء اسلام اور ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ:۔ شاتم رسول ﷺ (مسلمان) مرتد ہے۔ اور مرتد واجب القتل ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے۔ اب ذیل میں وہ آثار و نظائر پیش کئے جاتے ہیں جن سے ارتداد پر سزائے قتل کا

ثبوت ملتا ہے۔

حضور ﷺ کی وفات کے تھا۔ بہت سے لوگوں نے مسیلمہ صدیقؓ فتنہ ارتداد کو ختم کرنے عکرمہ بن ابی جہل کو روانہ کیا عمان سے حضرت موت (7) حضرت علیؓ کو اطلاع اس کے بعد دوبارہ بیعت اور انھیں بلا کر ان ۔ پھر ہم نے اپنے اختـ عیسائیت سے افضل حضرت علیؓ کے حکم

اجماع امت سے استدلال

کتاب و سنت اور سیرت بات ثابت ہے کہ شتم رسول ا نے گذشتہ چودہ سو سال میں رسول ارتداد کو مستلزم ہے۔ قاضی عیاضؒ کی کتاب الشفا کے شاتم رسول ﷺ، سا مرتد کو قتل کرنے کی ذمہ داری اس سلسلے میں امام ابو اور اولوالامر کی ہے۔ لیکن سا قتل کر دے تو اس پر کوئی ضما چکا تھا۔

مذہب امامیہ میں ہے

صفحہ 231

ثبوت ملتا ہے۔

حضور ﷺ کی وفات کے بعد یمن اور نجد کے علاقے میں ارتداد کا فتنہ پھیل گیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے مسیلمہ کذاب اور سجاح کی نبوت کو مان لیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فتنہ ارتداد کو ختم کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور سرکوبی کے لئے انھوں نے عکرمہؓ بن ابی جہل کو روانہ کیا اور یہ ہدایت دی۔

عمان سے حضر موت اور یمن تک جو مرتدین ملیں انھیں قتل کر دو۔ (17)

اس کے بعد دوبارہ عیسائی ہوگئے حضرت علیؓ نے ان سب لوگوں کو گرفتار کروایا اور انھیں بلا کر ان سے معاملہ دریافت کروایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم عیسائی تھے پھر ہم نے اپنے اختیار سے اسلام قبول کرلیا مگر اب ہماری رائے ہے کہ عیسائیت سے افضل کوئی دین نہیں۔ اس لئے ہم پھر سے عیسائی ہوگئے ہیں۔ حضرت علیؓ کے حکم سے یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے۔ (18)

اجماع امت سے استدلال:

کتاب وسنت اور سیرت و تاریخ کے واقعات اور ائمہ مجتہدین کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ شتم رسول اور ارتداد کی سزا قتل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی امت نے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی مسلمان شاتم رسول کو زندہ نہیں چھوڑا کیونکہ گستاخی رسول ارتداد کو مستلزم ہے۔ قاضی عیاض نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ اس بارے میں قاضی عیاضؒ کی کتاب الشفا کے متعلقہ باب کا خلاصہ کتاب کے باب سوم میں درج ہے۔

شاتم رسول ﷺ ، سلمان رشدی کے قضیئے میں ایک علمی بحث یہ اٹھی ہے کہ مرتد کو قتل کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے۔

اس سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کی رائے یہ ہے کہ یہ ذمہ داری امام اور اولوالامر کی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تصریح ہے کہ ایک عام آدمی بھی مرتد کو اگر قتل کر دے تو اس پر کوئی ضمان نہیں کیونکہ ارتداد کی وجہ سے وہ پہلے ہی مہدور الدم ہو چکا تھا۔

مذہب امامیہ میں ہے کہ جس شخص نے شاتم رسول کی زبان سے رسول کی شان

صفحہ 232

میں گستاخی کی باتیں سنیں اس کے لئے جائز ہے کہ وہ خود اسے قتل کر دے۔

امام جعفر صادقؓ سے روایت ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے اور رسول اللہ ﷺ سے سرکش ہو تو اس کا خون ہر اس شخص کے لیے مباح ہے جو اس کو سنے اور ایسا ہی حکم ہے کہ اگر کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم کی تو جائز ہے اس کے سننے والے کے لیے اسے قتل کر دے۔ (19)

علامہ ابن تیمیہؒ نے شتم رسول کے موضوع پر ایک مستقل کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ لکھی ہے۔ ان کے زمانے میں ایک بدبخت عیسائی توہین رسالت کا مجرم ہوا انھوں نے مسلمانوں کو لے کر اس کے گھر کا محاصرہ بھی کیا۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے جو کچھ کیا اسے دور جدید کی اصطلاح میں ایجیٹیشن کہتے ہیں۔ اب وحید الدین خاں صاحب یہ فرماتے ہیں کہ شاتم رسول سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کو ایجی ٹیشن نہیں کرنا چاہیے تھا اور یہ سراسر مجنونانہ حرکت تھی۔

فقہ حنفی کی ممتاز شخصیت امام سرخسیؒ نے شاتم رسول کے قتل پر اجماع نقل کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ وہ کہیں بھی ہو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔

عقلی دلیل:

اسلام دوسرے مذاہب کی طرح مجرد مذہب اور صرف رسوم و عبادات کا مجموعہ نہیں ہے۔ اور نہ صرف انسان کا ذاتی اور نجی معاملہ ہے۔ بلکہ اس کا تعلق ریاستی و بین الاقوامی قوانین اور تعلقات سے بھی ہے۔ حدود کی تنفیذ اور تعزیرات کا اجراء اس کے دائرہ احکام کے اندر داخل ہے وہ مکمل شریعت اور ایک نظام زندگی ہے۔ کیا ایسے دین کے اندر اس بات کی ذرہ برابر بھی گنجائش ہو سکتی ہے کہ ایک شخص پہلے تو اس دین کے لانے والے رسول کی وفاداری اختیار کرے وفاداری کا عہد کر لینے کے بعد وفاداری کا قلادہ اتار پھینکے اور رسول کو اپنی ہرزہ سرائی اور سب و شتم کا ہدف بنائے اور اپنے اس مکر و فریب کے رویہ سے اہل ایمان کے دلوں میں شکوک کا بیج بوئے اور پھر اپنے اس جرم کے باوجود قابل تعزیر نہ ہو۔ اسلام عبادت بھی ہے اور ریاست بھی دنیا میں کوئی ریاست اپنے باغیوں کو معاف نہیں کرتی۔ پھر اسلامی ریاست سے یہ کیوں توقع کرلی جائے کہ وہ اس دینی و دنیوی سربراہ اور خدا کے رسول کے خلاف سب و شتم کو معاف کردے جس کی اطاعت

صفحہ 233

ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد ذریعہ ہے اور جو ذات بنی نوع انسان میں سب سے افضل ہے۔ اور خود خالق کائنات نے جس کی مدح و ثنا کی ہے۔ آپ ﷺ کی ذات مخلوقات میں اتنی ارفع ہے کہ جہاں ایک شخص اس دنیا میں کسی کا خون بہا کر قابل قصاص ہوتا ہے وہاں آپ ﷺ کی شان میں بے ادبی اور توہین سے ہی قابل قصاص بن جاتا ہے۔

شیطانی آیات کے خلاف احتجاج:

سلمان رشدی تاریخ کا سب سے بڑا شاتم رسول ہے۔ اس نے اپنی بدنام زمانہ کتاب شیطانی آیات میں جو کچھ لکھا ہے وہ رکاکت و ابتذال کا بد ترین نمونہ ہے۔ نقل کفر اگرچہ کفر نہیں ہے۔ لیکن اسے دہرانے کی ہمت بھی آسانی سے نہیں ہوتی ہے۔ اس نے خدا کی شان میں بھی بے ادبی کی ہے۔

اس بدبخت نے ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے خلاف بھی دریدہ دہنی اور گستاخی کی باتیں لکھی ہیں۔ پھر اس نے ذات رسالت حضور ﷺ کو ”ماہونڈ“ لکھا ہے جسے پہلے قدیم مستشرقین اسم گرامی محمد ﷺ کی جگہ پر لکھتے آئے تھے۔

اس شیطان صفت انسان نے امہات المومنین کو نعوذ باللہ قحبہ کا پیشہ کرنے والی عورتوں میں شامل کیا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت بلالؓ اور حضرت خالدؓ کے خلاف صریح بد زبانی کی ہے۔

ایسی کھلی ہوئی گستاخی رسول ﷺ سے لبریز کتاب کے خلاف مسلمانوں کا وہی رد عمل ہوا جو اسلام کی چودہ سو سالہ روایت کے مطابق ہے۔ احادیث اور آثار صحابہ سے جس کی تصدیق اور اجماع امت سے جس کی توثیق ہوئی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے عہد میں ایک نصرانی حاکم نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے تھے۔ سلطان نے حطین کی جنگ کے بعد جب اس کو گرفتار کیا تو یہ کہتے ہوئے اسے خود اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔

”میں آج رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انتقام لے رہا ہوں۔“

صفحہ 234

کتاب شتم رسول ﷺ کا مسئلہ مصنف کا تنقیدی محاکمہ

بھارت کے ایک خودرو مولانا وحید الدین خان نے ”شتم رسول ﷺ کا مسئلہ“ کے عنوان سے مضامین لکھے جن کو سال 1996ء میں شائع کیا گیا ہے۔ جس میں ”رواداری‘ ”آزادی“ ”آزادی اظہار خیال“ اور ”آزادی افکار“ کی فریب کارانہ اصطلاحات کا سہارا لے کر گستاخان رسول ﷺ اور شیطان رشدی کی بھرپور وکالت کی گئی ہے کتاب کا مقصد وحید یہ بتلانا ہے کہ توہین رسالت ﷺ سرے سے کوئی جرم ہی نہیں اور اہانت رسول ﷺ پر احتجاج اور ایجی ٹیشن ان کے اپنے الفاظ میں ”احمقانہ مہم“ ہے۔ اپنی کتاب کے باب دور آزادی میں موصوف فرماتے ہیں: ”قدیم زمانہ میں ”اظہار خیال کی آزادی“ کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ جدید انقلاب تمام تر اسی تصور آزادی کی دین ہے جس کا ذکر ایڈورڈ ٹمر (ایک برطانوی صحافی) نے اپنے مضمون رشدی کے بارے میں کیا ہے۔“ رشدی کے خلاف احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے صحافی مذکور لکھتا ہے:

”یہ احتجاج ہمارے مذہب پر حملہ ہے۔ مذہب سے مراد ایسا مذہب ہے جو ایران کا ہے۔ برطانیہ اور آزاد دنیا کا مذہب اپنے وسیع تر معنی میں آزادی ہے جس کی بنیاد لوک‘ والٹیر‘ برک اور امریکن دستور کے مصنفین وغیرہ نے رکھی ہے۔“

اس مضمون جس کا اقتباس ہم نے قوسین میں دیا ہے حوالہ دے کر خان مذکور لکھتے ہیں:

”اس آزادی نے تاریخ میں پہلی بار ہر ایک کے لئے اپنے فکر و خیال کے اظہار کے تمام دروازے کھول دیئے ہیں۔ آزادی فکر آج ایسا مسلمہ حق بن چکا ہے جس سے انکار نہ کیا جاسکے۔“

فکر و خیال کی اسی آزادی کے حق کو رشدی نے اپنی کتاب ”شیطانی آیات“ میں استعمال کیا ہے۔ شیطان ہر دور میں ایسی نت نئی تراکیب اور اصطلاحات وضع کرتا رہتا ہے جو بظاہر نہایت پرکشش اور دلفریب نظر آتی ہیں لیکن یہ انسان کی ہلاکت اور تباہی کے لئے مہلک ترین حربے ثابت ہوئے ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں شیطان نے ”آرٹ برائے آرٹ“ کے نام سے عریانی اور فحاشی کے لئے جواز فراہم کیا۔ جب یہ اصطلاح پرانی اور

صفحہ 235

فرسودہ ہونے لگی تو ذرا سی تبدیلی کے ساتھ اس کا نام ”آرٹ“ رکھ دیا اور اس کی سرپرستی میں ہر قسم کی بے راہ روی اور عریانی کی نمائش ہوتی رہی۔ اس سے بھی جب شیطانی عزائم اور مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آتے تو اس نے ایک اور لفظ ”آزادی افکار“ ایجاد کیا۔ جس نے انسان کے خیالات و افکار کو بے لگام کر کے اسے تمام اخلاقی حدود و قیود سے آزاد کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے یورپ، امریکہ اور روس کو مذہب اور اخلاقی شعور سے بیگانہ کر دیا۔ اقبالؒ کی پیغمبرانہ بصیرت نے شروع ہی میں دیکھ لیا تھا کہ یہ فتنہ کہاں سے سر اٹھا رہا ہے۔ اس لئے اس نے ایشیاء والوں کو خبردار کیا تھا ”آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد۔“ یہ آزادی افکار، دین و مذہب و اخلاق و شرافت کے خلاف شیطان کی کھلی جنگ ہے۔ اس کے لئے ابلیس اپنے سورماؤں کو تازہ دم کمک بھیجتا رہتا ہے۔ اس کے ہراول دستہ میں سے رشدی نے اپنی تمام تر خباثتوں کے ساتھ مسلمانوں کے مرکز قلب و روح حضور ﷺ کی جناب میں گستاخی کی جسارت کی ہے۔ اس کی حمایت صرف ایک خود رو مولانا نے کی ہے جن کا پیدائشی نام وحیدالدین خان ہے۔ مداہنت اور چاپلوسی کو انہوں نے ”رواداری“ اور ذہنی غلامی کو آزادی کا نام دے رکھا ہے۔ برطانوی صحافی کا ٹائمز آف انڈیا میں مذکور الصدر مضمون پڑھنے کے بعد ”لوک“ ”روسو“ اور دانشوران مغرب کو موصوف اپنا پیشوا سمجھنے لگے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہی آزادی کے اولیں علم بردار ہیں۔ مگر ان حضرات کے کرم خوردہ ذہن کی رسائی حقیقت کبریٰ کی ان بلندیوں تک نہیں ہو سکی جہاں سے آزادی کے اولیں چارٹر کا اعلان حضور ختمی مرتبت ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں کرتے ہوئے رنگ و نسل، زبان اور ملک و نسب کے سارے امتیازات مٹا دیئے اور توحید کے کلمہ گیتی نورد سے عالم انسانی کی وحدت کو استوار کیا۔ اس طرح انسان کو ہمیشہ کے لئے ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر دیا۔ سوئس نژاد فرانسیسی مفکر روسو جسے انقلاب فرانس کا بانی سمجھا جاتا ہے اس کے بارے میں تاریخی شواہد موجود ہیں کہ اس نے اسلامی تعلیمات کے مطالعہ کے بعد عیسائی مذہب کے عقائد، رسوم اور توہمات جنہوں نے انسان کو ناروا پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ جس کی پاداش میں اسے مرتد قرار دے کر فرانس بدر کر دیا گیا تھا۔ اس کی کتاب معاہدہ عمرانی (Due Contract Social) کو انقلاب فرانس کی انجیل کہا جاتا ہے۔ اس میں اسلامی عقائد اور افکار کی گہری چھاپ صاف نظر آتی ہے۔ خاص طور پر اس کا وہ مقبول عام جملہ

صفحہ 236

”انسان تو آزاد پیدا ہوا تھا مگر ہر جگہ وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے“ اسلام ہی سے مستعار لیا ہوا ہے۔

ژاں ژاک روسو اٹھارہویں صدی عیسوی میں بھی انسان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ رہا ہے لیکن اس سے بارہ سو سال قبل خدا کے پیغمبر اولیں اور آخریں ﷺ نے انسان کو غلامی کی ساری جکڑ بندیوں سے آزاد کر دیا تھا جس کی خود قرآن گواہی دے رہا ہے۔

”ويضع عنهم اصرهم و الاغلال كانت عليهم“ اور وہ (پیغمبر ﷺ) ان سے (ناروا) بوجھ جو ان پر لدے ہوئے تھے اور ان زنجیروں جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے آزاد کرتا ہے۔“

آزادی کے لئے یہ پیغمبرانہ طریق کار، کسی خاص گروہ، نسل یا قوم کے لئے نہیں بلکہ سارے انسانوں کے لئے برپا کیا گیا تھا۔ یہ تھا آزادی کا وہ دریائے بے کراں جس کی تند و تیز لہریں صحرائے عرب سے اٹھ کر افریقہ اور یورپ تک پہنچی قرآن کے اسی اعلان کی روشنی میں عمر فاروقؓ نے گورنر مصر عمرو بن العاص کو سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا:

”عمرو! تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔“

اسلامی ریاست میں یہی وہ آزادی تھی جس نے افریقہ کے ایک قبطی اور مصر کے عربی گورنر کے بیٹے میں کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ حضرت عمرؓ کا یہی وہ جملہ تھا جو یورپ نے روسو کی زبان سے اٹھارہویں صدی میں سنا۔ پھر بھی وہ اس معنویت کو ادا نہ کر سکا جو فرمانِ پیغمبر ﷺ اور قولِ عمرؓ کے اندر پائی جاتی ہے۔ کیونکہ روسو اور اس کے ہم عصر اس اخلاقی اور روحانی قدر کو نہ دیکھ سکے جو آزادی کے اندر اسلام کی بدولت کار فرما تھی۔ کلیسا اور شہنشاہیت کی ظالمانہ جکڑ بندیوں کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکانے کے لئے انہوں نے مطلق اور بے قید آزادی کا نعرہ لگایا جو عوام تک پہنچ کر آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔ اس وقت وہ اس کے خطرناک انجام سے بے خبر تھے جو اب انسانیت کے لئے وبال جان بن گیا ہے۔ جب تک افکار و عمل کی آزادی پر اسلام کی اخلاقی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں اس وقت تک انسانیت بغیر کسی اخلاقی نصب العین کے ہلاکت اور تباہی کی مہیب وادیوں میں بھٹکتی پھرے گی اور انسانی ارتقاء کا عمل نامکمل رہے گا۔ وحید الدین دو

صفحہ 237

صدی قبل کے مغربی مفکرین کے روحانی تصور کو آزادی کی نیلم پری سمجھ بیٹھے ہیں۔ جس کا حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود نہیں۔ یورپ میں خونی انقلاب کی شورشیں ختم ہونے کے بعد وہاں بھی آزادی کے غیر منطقی اور منفی تصور میں کافی مثبت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ کیونکہ دنیا کو بالآخر پیغمبر کے اسی فرمان اور اسی قولِ عمرؓ سے رجوع کرنا پڑا جس نے آزادی کے حدود کو متعین کر کے اس کو اخلاقی شعور سے سرفراز کیا تھا۔ جس کے بغیر انسان کی آزادی کی تکمیل ممکن نہ تھی اور نہ ہی اسے ضمیر کی آزادی نصیب ہوتی۔ اس مسلمہ حقیقت کو خان موصوف یکسر فراموش کر چکے ہیں کہ یہ اخلاق ہی کی قوت ہے جو انسان کو حیوانیت کی پست سطح سے اٹھا کر انسانیت کے بلند مقام تک پہنچا دیتی ہے۔

وحید الدین خان کی کتاب ”مسئلہ ختمِ رسول“ کو پڑھنے کے بعد یہ تاثر یقین میں بدل جاتا ہے کہ موصوف پولیٹیکل سائنس‘ آئین و قانون اور اصولِ فقہ Science Of Jurisprudence کی مبادیات سے بھی واقف نہیں۔ ورنہ وہ ایسی احمقانہ غلطی نہ کرتے۔ روسو کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ اس نے کن حالات میں آزادیِ مطلق کا نعرہ لگایا تھا لیکن اسی کے ہم عصر ”برک“ (Burke) نے دولتِ مشترکہ کے آئین کو اخلاقی قدر پر قائم کرنے کا مشورہ دیا تھا اور آزادی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس نے دارالعوام House Of Commons میں کہا تھا ”آزادی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے حدود کو متعین کیا جائے۔ ان کا ماخذ بھی دراصل عین اسلامی اصول ہیں ہم یہاں علی وجہ البصیرت بلاخوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی آئین یا دستور خواہ وہ تحریری ہو غیر تحریری ایسا نہیں جس کی اساس ان ہی اسلامی اصولوں پر استوار نہ ہوئی ہو جو آزادی کے حدود اور قیود متعین کرتے ہیں اور جس میں اخلاقی پابندی کو شامل نہ کیا گیا ہو۔

ہم یہاں صرف چند معروف دستوروں کا حوالہ دیں گے جو سیکولرازم کے دعویٰ دار ہیں لیکن ان میں بھی آزادیِ مطلق کا حق نہیں دیا گیا‘ سب سے پہلے فرانس کے آئین کو دیکھئے۔ اس کے آرٹیکل نمبر 4 میں کہا گیا ہے:

”انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزاد رہے گا۔ اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے لیکن سماجی حیثیت کا تعلق مفادِ عامہ کے پیشِ نظر کیا جائے گا۔“

صفحہ 238

اسی آئین کے آرٹیکل نمبر 4 میں کہا گیا ہے:

”آزادی کا حق اسی حد تک تسلیم کیا جائے گا جب تک کہ اس سے کسی دوسرے شخص کا حق متاثر یا مجروح نہ ہو اور ان حقوق کا تعین بھی قانون کے ذریعہ کیا جائے گا۔“

اسی طرح جمہوریہ جرمنی کے آئین کے آرٹیکل نمبر 1 کی رو سے تکریم انسانی (Dignity of Man) و لقد کرمنا بنی آدمO (القرآن 70:71) کو ناقابل تنسیخ حق قرار دیا گیا ہے۔ اس آئین کے آرٹیکل نمبر 5 میں کہا گیا ہے:

ہر شخص کو تحریر‘ تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے۔“

مگر اس کے ساتھ ہی آرٹیکل نمبر 5 کی ذیلی آرٹیکل نمبر 2 میں واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ حقوق‘ قانون عام‘ قواعد و ضوابط اور شخصی عزت و تکریم کے دائروں میں رہتے ہوئے استعمال کئے جاسکیں گے۔

امریکہ میں آزادی تحریر و تقریر وہاں کے دستور میں پہلی ترمیم کے بعد حاصل ہوئے لیکن اس میں بھی مطلق آزادی کا کوئی تصور نہیں امریکن سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق دستور بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص بھی ایسی غیرذمہ دارانہ تحریر یا تقریر کرے جو عوام میں اشتعال انگیزی کا باعث ہو اس لئے ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قاہرانہ طاقت استعمال کر کے ایسی آزادی کو سلب کر لے جو امن عامہ میں خلل انداز ہو یا اس کی وجہ سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہو (652 US 286) امریکہ کی سپریم کورٹ نے آزادی مذہب کے بارے میں اپنے ایک معرکۃ الاراء فیصلہ میں لکھا ہے کہ آزادی مذہب کے نام پر توہین مسیحؑ کے ارتکاب کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس سے پیروان مسیحؑ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ کا اقتباس ہم نے اپنی کتاب ”ناموس رسول اور توہین رسالت“ کے باب پنجم میں دیا ہوا ہے۔

برطانیہ میں اگرچہ تحریری دستور موجود نہیں لیکن وہاں کے غیر تحریری آئین میں بھی کسی کو آزادی تحریر و تقریر اور آزادی اظہار خیال کے حق کی بناء پر ایسا کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے کہ وہ برٹش لاء کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی زبان یا قلم کو استعمال کرے۔ اس بارے میں یورپ کے مسلمہ مفکر آئین و قانون ڈائیسی نے لکھا ہے:

صفحہ 239

ایسا بیان جو شخصی توہین یا توہین مسیح کی زد میں آئے۔ اس کا اظہار خواہ کسی خط یا کارڈ ہی کے ذریعہ کیوں نہ کیا جائے اس کی حیثیت کسی کتاب یا اخبار میں شائع شدہ بیان ہی کی طرح متصور ہو گی اس لئے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ برطانیہ میں پریس مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔“ آئینی قانون۔ اے۔ وی۔ ڈائیسی ص 247)

البتہ برطانیہ میں آزادی تقریر کے لئے کچھ اہتمام کیا گیا ہے وہاں ہائیڈ پارک میں ایک چھوٹا سا گوشہ مختص ہے جو اسپیکر کارنر کے نام سے مشہور ہے اس مختصر سی جگہ میں مختص اوقات کے اندر ہر شخص کو جو جی میں آئے کہنے یا بکنے کی چھوٹ دی گئی ہے لیکن یہاں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ یا برطانیہ کی ملکہ معظمہ کی شان میں کسی قسم کی کوئی گستاخی کرے۔

خود انڈیا جہاں کے وحید الدین باشندے ہیں کے آئین کے متعلقہ دفعات (Articles) کو پڑھ لیتے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے تو آزادی اظہار خیال کے بارے میں اسی طرح کی نامعقول باتیں شاید نہ کرتے۔ انڈین کانسٹی ٹیوشن کا آرٹیکل نمبر 19 آزادی اظہار خیال اور آزادی تحریر و تقریر اور دیگر حقوق سے متعلق ہے۔ آرٹیکل نمبر 19 کی ذیلی دفعہ (2) میں کہا گیا ہے کہ آزادی تحریر و تقریر اور آزادی اظہار خیال کے حق سے موجود قوانین متاثر نہیں ہوں گے بالفاظ دیگر یہ آزادانہ حقوق ان قوانین کے حدود سے تجاوز نہیں کر سکیں گے جو انڈیا میں نافذ العمل ہوں گے۔ ریاست کو ان آزادانہ حقوق پر معقول پابندیاں عائد کرنے کی قانون سازی کا حق حاصل ہو گا جو انڈیا کی بالادستی اور اس کے تحفظ سے متعلق ہوں اور جن کا تعلق ملک کے نظم و ضبط شخصی عزت، تہذیب و شائستگی اور اخلاقی اقدار سے وابستہ ہو۔ شائستگی (Decency) کا لفظ دوسرے دستاویز میں واضح طور پر موجود نہیں جس طرح کہ انڈیا کے دستور میں اسے بطور خاص استعمال کیا گیا ہے۔

ہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا ذکر اس لئے مناسب خیال نہیں کیا کہ کہیں موصوف اس کے نام ہی سے بدک نہ جائیں کیونکہ یہ لادینی (Seculor) آئین نہیں ہے۔ آزادی تحریر و تقریر اور آزادی اظہار خیال پر آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل نمبر 19 ہی کے تحت وہی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا ذکر انڈیا کے دستور کے

صفحہ 240

متعلقہ آرٹیکل کے تحت آچکا ہے۔ اس میں بھی تہذیب و شائستگی نظم و ضبط اور اخلاق کی پابندی کا بطور خاص ذکر موجود ہے لیکن جو چیز اسے انڈیا اور دوسرے دستوروں سے ممتاز کرتی ہے اور جس کا ذکر اس آرٹیکل میں سب سے پہلے کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ شوکتِ اسلام (Glory Of Islam) کے منافی ان آزادانہ حقوق کے استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

چونکہ وحید الدین خاں کی ذہنی ساخت سیکولر ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ گلوری آف اسلام کے الفاظ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکیں گے اس لئے ہم ان کی مزید وضاحت نہیں کرنا چاہتے۔ البتہ یہ بات ان حضرات کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آزادی تحریر و تقریر اور اظہار خیال کی آزادی دنیا کو سب سے پہلے اسلام نے دی تھی مگر اس کو اخلاقی اقدار، شرافت اور شائستگی اور معقول پابندیوں کے ساتھ مشروط بھی اسلام ہی نے کیا تھا جس کو ساری دنیا نے بعد میں تسلیم کر لیا اور اس کو اپنے آئین اور قانون کا جزولاینفک بنا لیا۔ وگرنہ ان پابندیوں کے بغیر معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جاتا اور ان کے بغیر کوئی ریاست، کوئی حکومت اپنا وجود ہی برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس کم علمی کی وجہ سے جو جہالت سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہے وحید الدین آزادی کے مکمل مفہوم کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی قانون، کوئی آئین کسی کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اخلاقی حدود کو پھلانگتے ہوئے اور شرافت اور شائستگی کی اونچی سطح سے اتر کر آزادی کے نام پر دشنام طرازی اور دل آزاری کرے اور اسے آزادی تقریر کا حق سمجھ لے۔ خان صاحب موصوف سے بجا طور پر کہا گیا ہے کہ وہ لال قلعہ کی چھت پر کھڑے ہو کر گاندھی جی، اندرا گاندھی، جواہر لال نہرو یا راشٹرپتی کو مغلظات سنائیں۔ پھر انہیں پولیس اظہار خیال کی آزادی اور آزادی تقریر کا مفہوم اچھی طرح سمجھا دے گی اور انہیں اس مقام پر پہنچا دے گی جہاں مرفوع القلم (Lunatic) حضرات کو بحفاظت رکھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو رواداری کا سبق دینے والے اور انہیں رشدی جیسے دریدہ دہن شخص کی گندی گالیوں پر صبر کی تلقین کرنے والے ان حضرت میں کیا یہ حوصلہ ہے کہ وہ اس شخص کو برداشت کر لیں گے جو ان کی ماں، بہن، بیٹی، بہو اور بزرگوں کو وہی ننگی گالیاں دیتا پھرے جو شیطان رشدی نے اپنی کتاب ابلیسی خرافات میں جا بجا دی ہوئی ہیں۔ وحید الدین خاں کی یہ کتاب پاکستان میں ہماری تحریک ناموس رسول ﷺ جس کے نتیجہ میں یہاں قانون توہین ر اپنی اس کتاب ”ناموس رسول ﷺ خیالات کا جو خاں صاحب اور مو جواب دے دیا تھا۔ اب ہماری یہ میں ترجمہ کروا کر ساری دنیا میں کے جوش حمایت میں قلابازیوں ۔ اسے کیا کئے۔ مولانا کا ہدف بچار میں‘ ہندوستان پاکستان میں ہو‘ ب کارستانی اسی طبقہ کی ہے جس کی رشدی کے خلاف دنیا میں جگہ ج ہٹا کر مسلم دنیا کے خلاف کھڑے ت سبب اسلام دشمنی نہیں ہے۔ جی ہیں بلکہ یہ ان کے اپنے مذہب کے دفاع میں متحرک ہیں۔ اس مسلمان بمقابلہ مغرب بن گئی ہے

مولانا چالیس سال سے ی چلا رہے ہیں کہ یہ کم نصیب کتابوں سے اپنی تحریروں‘ تقری کہ وہ اپنے دین و مذہب پر ا اہانت‘ توہین اور دشنام طرازیوں ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چ ﷺ رحمتہ اللعالمین ہیں مگر الراحمین ہیں لیکن وہ بھی اپنے ان کی اطاعت سے انکار کرنے اور عذاب شدید کی وعید سنا طرح سلوک کے بارے میں مو

صفحہ 241

کے نتیجہ میں یہاں قانون توہین رسالت نافذ ہوا اس کے بعد کی پیداوار ہے اس بندہ عاجز نے اپنی اس کتاب ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ“ میں ان تمام طاغوتی خیالات کا جو خاں صاحب اور موصوف کے ممدوحین کے دماغ میں کلبلارہے تھے پہلے ہی جواب دے دیا تھا۔ اب ہماری یہ کتاب ہانگ کانگ کی انٹرنیشنل اسلامک سوسائٹی انگریزی میں ترجمہ کروا کر ساری دنیا میں اس کی اشاعت کا اہتمام کر رہی ہے۔ مولانا نے رشدی کے جوش حمایت میں قلابازیوں کے ایسے ایسے کرتب دکھائے ہیں کہ ناطقہ سر بگریبان ہے اسے کیا کہئے۔ مولانا کا ہدف بیچارہ ”اردو خواں“ طبقہ ہے خواہ وہ یورپ میں ہو یا امریکہ میں، ہندوستان پاکستان میں ہو، بنگلہ دیش یا دنیا کے کسی حصہ میں ہو ساری شرارت اور کارستانی اسی طبقہ کی ہے جس کی وجہ سے بقول مولانا یہ ”لغو ایجی ٹیشن اور ہنگامہ دار و گیر رشدی کے خلاف دنیا میں جگہ جگہ برپا ہوا۔ اسی لئے مغربی دنیا سلمان رشدی کو اینٹی مسلم بنا کر مسلم دنیا کے خلاف کمربستہ ہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے سلمان رشدی کی حمایت کا سبب اسلام دشمنی نہیں ہے۔ جیسا کہ مسلم رہنما سطحی طور پر اس کے بارے میں کہہ رہے ہیں بلکہ یہ ان کے اپنے مذہب کا دفاع ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح مسلمان اپنے مذہب کے دفاع میں متحرک ہیں۔ اس طرح یہ لڑائی مسلمان بمقابلہ رشدی نہیں رہی بلکہ مسلمان بمقابلہ مغرب بن گئی ہے۔“

مولانا چالیس سال سے پوری قوت اور طاقت کے ساتھ سرگرم عمل ہیں اور یہ مہم چلا رہے ہیں کہ یہ کم نصیب ”اردو خواں“ طبقہ راہ راست پر آجائے۔ بھاری بھرکم کتابوں سے اپنی تحریروں، تقریروں اور لٹریچر کے انبار سے اس ”طبقہ“ کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ اپنے دین و مذہب پر اس طرح حملہ پر مشتعل نہ ہوں اسلام اور مرکز اسلام کی اہانت، توہین اور دشنام طرازیوں پر غم و غصہ کا اظہار اور ایجی ٹیشن لغو اور بہت بری بات ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ حضور ﷺ رسول رحمت ہیں۔ بلاشبہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں مگر مولانا سے یہ کون پوچھے کہ حضرت! اللہ میاں بھی تو ارحم الراحمین ہیں لیکن وہ بھی اپنے منکرین اور نافرمان بندوں کو، اپنے رسولوں کے منکرین اور ان کی اطاعت سے انکار کرنے والوں اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سخت سزا اور عذاب شدید کی وعید سنا رہے ہیں۔ معلوم نہیں خدا کا اپنے بندوں کے ساتھ اس طرح سلوک کے بارے میں مولانا کا کیا خیال ہے؟

صفحہ 242

مولانا نے جن کا شمار بھارت کے چوٹی کے فضلاء میں ہوتا ہے۔ ملت کے لئے اتنے پاپڑ بیلے ہیں اس کے باوجود اس ناسمجھ "اردو خواں طبقہ" پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ چنانچہ "سوچنے کی بات" کے عنوان سے تحریر فرماتے ہیں "اس کام میں اگرچہ مجھے "ملت" کا (یہاں اردو داں طبقہ کو ملت کہہ دیا ہے) مطلوبہ تعاون حاصل نہ ہو سکا۔" جس کی وہ اتنے عرصہ دراز سے آس لگائے بیٹھے تھے اور ابھی تک اسی سوچ اور فکر میں غلطاں اور پیچاں ہیں مگر داد دیجئے ان کی ہمت پر کہ اس نامرادی کے باوجود وہ اس شوق فضول سے باز نہیں آئے۔ فرماتے ہیں "تاہم میں نے اپنی پوری طاقت اس کام میں لگا رکھی ہے۔"

سوچنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ رشدی نے اپنی ابلیسی کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے۔ "اردو خواں" طبقہ نے اس کو کیسے پڑھ لیا۔ اگر پڑھ بھی لیا تو اسے کیسے سمجھ لیا؟ جب کہ وہ مولانا کی اردو میں لکھی ہوئی چالیس سالہ تحریروں کو بھی نہیں سمجھ سکے! ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ مولانا کی "مادری زبان" کیا ہے؟ مولانا، اردو جیسی کم مایہ زبان کی بجائے رشدی کی طرح انگریزی کو آزادی اظہار کا ذریعہ بناتے تو شاید انگریزی داں طبقہ پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوتا ہم نے لفظ شاید اس لئے لکھا ہے کہ انگریزی داں طبقہ نے رشدی کی کتاب اور اس کے اظہار خیال پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ برطانیہ کے انگریزی زبان کے معروف نقاد ابرون واف (Auberon Waugh) نے تو یہ مطالبہ کیا ہے کہ رشدی کو خراب انگلش لکھنے پر سزا دینا چاہئے۔ خود بھارت کے دانشور خشونت سنگھ نے رشدی کی اس کتاب کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ بطور ناول بھی یہ کتاب پڑھنے کے لائق نہیں۔ یہ باتیں مولانا کے علم میں ہیں۔ فیض احمد فیض کا جو انگریزی کے بہت بڑے رائٹر تھے رشدی کی انگریزی کے بارے میں یہ تبصرہ ہے کہ مغرب کی اس سے بڑھ کر اور کیا بدنصیبی ہو سکتی ہے کہ رشدی جیسے شخص کو برطانیہ کے ناول نگاروں میں شامل کیا گیا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ وہ "اردوں داں" تھے۔ مولانا کے ترکش کا کوئی تیر ایسا نہیں جس کی زد میں آ کر کوئی بچ سکا ہو۔ "ملت" تو خیر شروع ہی سے ان کے زیر عتاب رہی ہے۔ شاتم رسول ﷺ رشدی کے خلاف مسلمانوں کے "شور و غل" پر مولانا خوب گرجے برسے ہیں مگر اس کو انہوں نے کافی نہیں سمجھا اور ملت کو معاف نہیں کیا بلکہ وہ اس کو سخت سزا دینے کے لئے پوری قوت مجتمع کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں "ایجی ٹیشن" ناجائز ہے اس لئے

انہوں نے ملت اور ملت کے فرد جرم: "مسلم رہنماؤں کی جرم ہے۔ یہ جرم (انجیلی میش تر ہے۔ سلمان رشدی کو کہ اپنے آپ کو شدید تر قسم معافی قرار دے کر سنگین تر دوسری طرف رشدی کو تر فرماتے ہیں "مسلمانوں کے کر برطانیہ کی شاہی حفاظت اس کے تحفظ کے برطانیہ کا باشندہ ہے اس پر انعام دے کر یا جذباتی اپیل جواز فراہم کرنا ہے۔" یہ کوئی کوشش سے بین ا مسلمانوں کو دنیا میں کہیں "توہین رسالت" برطانیہ کے قوانین ontempt Of State) دو مثالیں پیش کرتے ہیں "برطانیہ میں ستر کفریہ کلمات (phemy ہوتے ہوئے برطانیہ میں کا نام ہے۔ Of Christ اس فلم میں نعو

صفحہ 243

انہوں نے ملت اور ملت کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

فرد جرم:

”مسلم رہنماؤں کی یہ غلطی صحیح لفظ سرکشی ہے بلاشبہ آخری حد تک ناقابل معافی جرم ہے۔ یہ جرم (ایجی ٹیشن شور و غل) یقیناً سلمان رشدی کے جرم سے بھی زیادہ سنگین تر ہے۔ سلمان رشدی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں مسلمان رہنماؤں نے خود اپنے آپ کو شدید تر قسم کے مجرمانہ کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔“ اس طرح جرم کو ناقابل معافی قرار دے کر سنگین ترین سزا یعنی اجتماعی سزائے موت کا فیصلہ مولانا نے سنا دیا اور دوسری طرف رشدی کو تمام جرائم سے نہ صرف بری کر دیا بلکہ اسے ادبی ہیرو بنا دیا۔ فرماتے ہیں ”مسلمانوں کے اس احمقانہ اقدام کے آخری نتیجہ میں سلمان رشدی ہیرو بن کر برطانیہ کی شاہی حفاظت میں بیٹھا ہوا ہے۔“

اس کے تحفظ کے بارے میں ایک قانونی نکتہ یہ بھی ارشاد فرمایا: ”چونکہ رشدی برطانیہ کا باشندہ ہے اس پر برطانیہ کے قوانین نافذ ہوتے ہیں ایران یا پاکستان کے نہیں۔ انعام دے کر یا جذباتی اپیل کر کے اس طرح ایک غیر ملکی کو مروانا گویا انٹرنیشنل بدامنی کا جواز فراہم کرنا ہے۔“ یہ انتباہ ہے مسلمانوں کے لئے کہ رشدی کو مروانے کی کسی قسم کی کوئی کوشش سے بین الاقوامی قانون حرکت میں آسکتا ہے۔ اس کے بعد بیچارے مسلمانوں کو دنیا میں کہیں بھی کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ الامان والحفیظ!

”توہین رسالت“ اور ”توہین ریاست“ مولانا کو چونکہ ہمہ دانی کا دعویٰ ہے اس لئے برطانیہ کے قوانین توہین رسالت (Blasphemy) اور توہین ریاست (Contepmt Of State) کے فرق کی وضاحت بھی ناگزیر مجبوری تھی۔ اس سلسلے میں دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔

”برطانیہ میں سترھویں صدی سے ایک قانون موجود ہے جو مسیحیت کے خلاف کفریہ کلمات (Blasphemy) کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے مگر اس تعزیری قانون کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ایک فلم بنائی گئی جو سراسر قانون کے منشاء کے خلاف ہے اس فلم کا نام ہے: The Last Temptation Of Christ.

اس فلم میں نعوذ باللہ مسیح ؑ کی جنسی زندگی کے مناظر دکھلائے گئے ہیں۔ یہ فلم

صفحہ 244

برطانیہ میں کھلے طور پر دکھائی جا رہی ہے مگر مذکورہ قانون ہونے کے باوجود اس فلم پر آج تک کوئی پابندی نہیں لگائی گئی نہ اس کے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔ اسی طرح برطانیہ کی ایک برعکس مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں ”پیٹر رائٹ“ (Peter Wright) ایک انگریز ہے جو ریٹائرڈ ہونے کے بعد اب آسٹریلیا میں رہتا ہے وہ برطانیہ کے محکمہ انٹیلی جنس میں اعلیٰ آفیسر تھا۔ اس نے ریٹائر ہونے کے بعد اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ”اسپائی کیچر“ (Spy Catcher) ہے۔ اس کتاب میں برطانیہ کے محکمہ جاسوسی کے راز بتائے گئے ہیں۔ پیٹر رائٹ نے اپنی یہ کتاب لندن کے ایک پبلشر کے ہاتھ فروخت کی مگر اس کی اشاعت سے پہلے ہی حکومت برطانیہ کو اس کا علم ہو گیا۔ اس نے فوراً یہ کہہ کر اس پر پابندی لگا دی کہ یہ کتاب سرکاری رازوں کی پردہ داری کے خلاف ہے۔ مصنف اور پبلشر کی تمام کوششوں کے باوجود یہ کتاب چھپ نہ سکی۔ 1988ء میں یہ کتاب ایک بیرونی ملک میں چھاپی گئی تاہم برطانوی حدود میں اس کتاب کا داخلہ ممنوع ہے۔ تقابلی مثال پر غور کیجئے ایک ہی ملک ہے۔ وہاں ”توہین مسیحؑ“ کا واقعہ ہوتا ہے مگر قاعدہ قانون کے ہوتے ہوئے اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی دوسری طرف اسی ملک میں توہین ریاست کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت اس کے خلاف فوراً سرگرم ہو جاتی ہے اور پورا ملک اس کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس فرق کی مولانا توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ برطانیہ ”توہین ریاست“ کی اہمیت سے واقف ہے مگر ”توہین رسالت“ کی اہمیت کا اسے احساس نہیں۔“

توہین نبوت کے بارے میں وہ یہی ”بے حسی“ مسلمانوں، مسلمان رہنماؤں اور مسلمان ریاستوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توہین نبوت جس پر ان کے ایمان اور اعتقاد کا دار و مدار ہے اسے قطعی کوئی اہمیت نہ دیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی جس ”ریاست“ میں ہوں انہیں صرف اسی ریاست کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے تاکہ وہ برطانیہ کی طرح ریاست کو پوجا شے (Fetish) تسلیم کر لیں۔

ایسی لغویات قرآن اور حدیث کی تعلیمات سے صریح انکار ہے۔ جہاں تک قرآن اور حدیث کی تفسیر اور تعبیر کا تعلق ہے اس بارے میں مسلمہ علمائے دین کے مقابلہ میں ایک خودساختہ مولوی وحید الدین کے پراگندہ خیالات کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دی

صفحہ 245

جاسکتی۔ اس لئے ہم اس پر کوئی تبصرہ کر کے اپنا اور قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

جہاں تک ان کی قانونی معلومات کا تعلق ہے اس بارے میں عرض کر چکے ہیں کہ وہ آئین اور قانون کی ابجد سے بھی واقف نہیں جس کا ثبوت خود آئین اور قانون کی زبان میں پہلے بھی کر دیا گیا ہے اور آئندہ بھی جہاں ضرورت ہو پیش کر دیا جائے گا۔

تاریخ پر وحید الدین خان کا مجرمانہ حملہ:

تاریخی استقراء اور فلسفہ تاریخ تو بہت اونچی چیز ہے جو موصوف کے نابالغ ذہن کی دسترس سے باہر ہے۔ لیکن انہوں نے تاریخ اور واقعات کو مسخ کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔

حضرت مسیح ؑ کی پاکیزہ زندگی پر جس ناپاک سیکسی فلم (Last Temptation Of Christ) کو اسلامی نظریہ حاکمیت الہی (Sovereignty Of Allah) کے برخلاف اپنے سیکولر نظریہ اقتدار ریاست (Sovereignty Of State) کی تائید میں پیش کیا ہے اس بارے میں ان حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا گیا ہے۔ جس سے ان کے سیکولر نظریہ ریاست اور اس الزام کی تردید ہوتی ہے جو انہوں نے مسلمانوں پر لگایا ہے۔ وہ مبینہ الزام ان ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہیں:

"شتم (توہین پیغمبر ؐ) کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب مسئلہ بیان کرنا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر پر سب و شتم کرنا یکساں طور پر جرم ہے۔ وہ ہر طرح ایسے شاتم کو واجب القتل قرار دے دیتا ہے۔ مگر عملی اعتبار سے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اپنے پیغمبر کے سب و شتم پر بھڑکتے ہیں جہاں تک دوسرے پیغمبروں کا تعلق ہے ان کے خلاف خواہ کسی قسم کی بھی گستاخی کی جائے ان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔"

یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے۔ جن دنوں متذکرہ بالا فلم مسیح ؑ کی آخری ترغیب جسے لندن کے سینما ہال میں دکھلائی جانے والی تھی میں لندن میں موجود تھا۔ ہم نے اس

صفحہ 246

فلم کی نمائش کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی۔ 22 ستمبر 1988ء سینما ہال کے سامنے پکٹنگ شروع ہوئی۔ جس میں عیسائی اور یہودیوں کا ایک گروہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو گیا۔ ہماری ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس نے برٹش فلمز انسٹیٹیوٹ کو باقاعدہ نوٹس دیا کہ اس فلم کی نمائش کو روک دیا جائے ورنہ فلمساز، سینما کے مالکان اور برٹش فلمز انسٹیٹیوٹ کے خلاف بلاس فہمی (Blas Phemy) قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں اس فلم کے خلاف میرے انٹرویو کے علاوہ مضامین لندن کے اخبارات میں شائع ہوئے جس کے نتیجہ میں لندن کے زیر زمین اسٹیشنوں سے حضرت مسیح کے ساتھ بازار حسن کی نیم برہنہ طوائف کے قد آدم پوسٹر ہٹائے گئے اور فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔

مسلمان خود کو حضرت ابراہیم، موسیٰ و ہارون اور عیسیٰ اور تمام انبیاء کرام کا وارث سمجھتے ہیں۔ قرآن کے فرمان کے مطابق ان میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے البتہ فضیلت کا معاملہ اور ہے۔ اس لئے وہ کسی بھی پیغمبر کی توہین برداشت نہیں کر سکتے اور جو کچھ بھی ان کے بس میں ہو وہ کر گزرتے ہیں۔ مسلمان تو حضرت مسیح کے خلاف فلم کی نمائش پر تو حرکت میں آگئے تھے۔ انہوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ قانونی نوٹس بھی برٹش حکومت کے متعلقہ ادارے کو دے دیا اور وہ کچھ کیا جو وہاں ان کے بس میں تھا۔ اگر وہاں کی حکومت نے اس گندی فلم کی نمائش کو روکنے کے لئے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی تو یہ وہاں کی حکومت کی کوتاہی (Omissim) ہوئی جو بذات خود جرم ہے اور وہاں کے پیروان مسیح کی بے حسی ہے جس کی ستائش صرف وحید الدین خاں جیسی ذہنیت کے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا الزام کی بنیاد وہ عجیب و غریب تضاد بتلاتے ہیں جس میں یہ مسلمان قوم مبتلا ہے۔ حالانکہ خود حضرت کی ذات اور ان کی کتاب میں تضاد کے ایسے ایسے نوادرات ملتے ہیں جو اور کہیں سے دستیاب نہیں ہو سکتے ایک طرف تو مسلمانوں پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ پیغمبر ﷺ کے سوا کسی اور پیغمبر کی اہانت پر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں لیکن اگر مسلمانوں نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس پر بھی سخت ناراض ہو جاتے ہیں اور اس واقعہ کو ”تخریب کاری“ کے الزام کے تحت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”پاکستان کے انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں کسی مغربی پرچہ سے ایک مضمون نقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ آدم اور حوا کی ایک تصویر بھی تھی وہ بھی فرنٹیئر پوسٹ میں چھپ گئی۔ اس کے بعد

صفحہ 247

ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں بپھرے ہوئے مسلمانوں نے اخبار کی وسیع عمارت کو گھیر لیا اور اس کو ساز و سامان سمیت جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس قسم کے واقعات ایک یا دوسری شکل میں ہو رہے ہیں جہاں مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہے۔ مسلمان اپنی اسی ملی ہوئی آزادی کو ”تخریب کاری“ میں استعمال کر رہے ہیں اور اس کا نام انہوں نے اسلامی جہاد رکھا ہے۔ یہ جہاد نہیں بلکہ سرکشی ہے اور سرکشی اللہ تعالیٰ کے یہاں بدترین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ پھر خود ہی منصف بن کر اس جرم کی سزا میں مسلمانوں کے خلاف اجتماعی سزائے موت کا فیصلہ بھی صادر کر دیا جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ مگر اس فیصلہ پر عملدرآمد ان کے یا ان کے سرپرست طاقتوں کے بس کی بات نہیں اس لئے وہ حضرت ناصح کے بہروپ میں ناسمجھ مسلمان قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ رشدی کی گالیوں کا، اس کی خرافات کا کوئی جواب نہ دیں۔ اس کی شرارتوں کو نظرانداز اور اسے کھل کھیلنے کا موقع دیں۔ مگر ناصح مشفق خود ”اردو داں“ طبقہ یعنی مسلمان قوم، مسلمان رہنماؤں، اس کے شہیدوں اور ملت کی برگزیدہ شخصیتوں کے خلاف نہ صرف تہذیب اور شائستگی سے گری ہوئی زبان استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف گالیوں کا آزادانہ استعمال کو جائز بلکہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کی طرف تو بے محابا ”احمق، نالائق، نادان، بے عقل“ کے سنگ دشنام پھینکتے ہیں اور ان کے احتجاج کو ”لغو، فضول، شور و غل، چیخ و پکار“ کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس احتجاج کی وجہ سے اسلام بھی ان کی نظر میں ”وحشت اور بربریت کا مذہب بن چکا ہے“ اس لئے انہیں یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے روئے زمین پر شاتمین کی قبروں کے سوا اور کچھ نہیں دکھائی دے گا۔ اسلام کی برگزیدہ ہستیوں، مسلمانوں کی محبوب شخصیتوں اور ان کے قائدین کے بارے میں انہوں نے جس طرح اظہار خیال کیا ہے اس کے چند نادر نمونے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔

امام ابن تیمیہؒ:

شیخ الاسلام مجدد دین امام ابن تیمیہؒ کو تفہیم قرآن و حدیث، تفقہ فی الدین، فلسفہ منطق اور تمام علوم متداولہ میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ ان کے بدترین مخالف بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ پھر میدان جہاد میں ان کے کارناموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے

صفحہ 248

کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ذات میں اتنے صفات عالیہ جمع کر کے انہیں مجتہد اور مجدد کے بلند مقام کے لئے منتخب فرمایا اور ساتھ ہی ایک ایسا مرد مجاہد بھی بنا دیا جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار کا جوش اور جذبہ سرایت کئے ہوئے تھا علامہ شبلیؒ جیسے بلند پایہ عالم اور اسلامی مورخ نے امام ابو حنیفہؒ ، امام غزالیؒ ، امام رازی شاہ ولی اللہؒ جیسی ہمہ مقتدر دینی شخصیتوں میں سے صرف شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کو ہی مجدد دین وملت کے منفرد اور ممتاز مقام پر فائز دیکھا ہے۔

مولانا ابو الکلام آزاد کی جیسی نابغہ روزگار شخصیت بھی صرف شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی ذات کو امامت اور مجددیت کی سزاوار سمجھتی ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سات صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج تک ان کا کوئی ہم پایہ اور ہمسر پیدا نہیں ہوا۔ مگر اس دور کا ایک قلم کار وحید الدین خاں امام ابن تیمیہ کی ذات گرامی اور ان کی گراں قدر تصنیف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ جو توہین رسالت کے موضوع پر قرآن کی آیات بینات، احادیث رسول ﷺ ، ائمہ فقہ کے متفقہ استنباط کی روشنی اور خود اپنی عالمانہ بصیرت اور براہین قاطع اور زور استدلال سے ”شتم رسول“ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے مستند ترین کتاب ہے۔ تمام اسلامی مکاتب فکر اس کتاب کو بطور سند پیش کرتے ہیں مگر ابن تیمیہ کی کتابوں کے بارے میں ایک طفل مکتب وحید الدین خاں کی جسارت ملاحظہ فرمائیے۔ لکھا ہے:

ابن تیمیہ کی کتابیں تجربہ اور استدلال کے اعتبار سے اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔ ”الصارم المسلول“ بھی اس اعتبار سے کوئی معیاری کتاب نہیں۔ ان میں انہوں نے طفلانہ باتیں کہی ہیں اور ان کی توجیہ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے ”ابن تیمیہ کی دلیل دھاندلی ہے۔“

خدا کی شان تو دیکھو کہ گل چڑی گنجی
حضور بلبل بستاں کرے سخن سنجی

ابن قیم چونکہ امام ابن تیمیہ کے ہم خیال لوگوں میں سے ہیں اس لئے ابن قیم نے شتم رسول کے مسئلہ کو حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ بنا دیا ہے اس طرح اس کو حقوق العباد کے تحت لائے ہیں مگر وہ اسے ان حضرات کی ذاتی توجیہہ کہہ کر رد کرتے ہیں۔

امام خمینی اور مولانا ابوالحسن

ایران اور ہندوستان کی ا کے ذریعہ انہیں اسلامی قانون کی

”ایران کے آیت ا آیات کے مصنف سلما حکومت نے اعلان کیا کہ دے گی۔“

مولانا ابوالحسن ندوی نے ا اعلان میں حق بجانب ہیں۔ اسلام کو قتل کیا جائے۔ اس پر تبصرہ کر

”سلمان رشدی ۔ نزدیک امام خمینی اور مو رہے ہیں۔ کیونکہ اسی ط مگر ساری دنیا کا مسلم پریس ہے۔“

”ایران میں نام نہا پیش آنے والے وحشیانہ بیزار کر دیا۔“

ایران کا انقلاب ۔ انقلاب جسے خلاف واقعہ اسلام بدنام ہو کر رہ گیا۔

مولانا محمود الحسن:

پاک و ہند کی بہت بڑی د مولانا محمود الحسن پر بھی ان کے ای حیران ہیں کہ توہین رسالت کو جر

صفحہ 249

امام خمینی اور مولانا ابوالحسن ندوی:

ایران اور ہندوستان کی ان دو بزرگ شخصیتوں کے بارے میں ایک اخباری بیان کے ذریعہ انہیں اسلامی قانون کی توہین کا مرتکب قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ایران کے آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کر دیں اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قاتل کو اسی کے معاوضہ میں ایک بڑا انعام دے گی۔"

مولانا ابوالحسن ندوی نے امام خمینی کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی اس اعلان میں حق بجانب ہیں۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی توہین کے مجرم کی سزا یہی ہے کہ اس کو قتل کیا جائے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"سلمان رشدی نے اگر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی تو میرے نزدیک امام خمینی اور مولانا ندوی جیسے لوگ اسلامی قانون کی توہین کر رہے ہیں۔ کیونکہ اسی طرح کسی کو قتل کروانا ہرگز اسلام کا واقعہ نہیں مگر ساری دنیا کا مسلم پریس بہ یک زبان خمینی کی طرفداری میں کھڑا ہو گیا ہے۔"

"ایران میں نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد انقلابیوں کے ہاتھوں پیش آنے والے وحشیانہ واقعات نے ساری دنیا میں لوگوں کو اسلام سے بیزار کر دیا۔"

ایران کا انقلاب صرف اینٹی شاہ انقلاب تھا نہ کہ کوئی اسلامی انقلاب جسے خلاف واقعہ طور پر اسلامی انقلاب کہنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام بدنام ہو کر رہ گیا۔"

مولانا محمود الحسن:

پاک و ہند کی بہت بڑی دینی درسگاہ کے بانی اور آزادی ہند کے مجاہد رہنما شیخ الہند مولانا محمود الحسن پر بھی ان کے ایک شعر کا حوالہ دے کر توہین مسیح کا الزام عائد کر دیا اور حیران ہیں کہ توہین رسالت کو جرم سمجھنے والی قوم نے انہیں زندہ کیسے اور کیوں چھوڑ دیا۔

صفحہ 250

اس سلسلہ میں ان کی نعت کا ایک شعر انہوں نے نقل کیا ہے:

مردوں کو کیا زندہ، زندوں کو مرنے نہ دیا
مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن آدم

معلوم نہیں تھا کہ خاں صاحب شعر و ادب کے معاملہ میں اتنے کور ذوق واقع ہوئے ہیں کہ وہ ایک سادہ سے شعر کے معنی و مفہوم کو بھی نہ سمجھ سکے خاں صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آگے بڑھ کر اقبال پر بھی حملہ کر دیا۔

علامہ اقبالؒ :

علامہ اقبال بھی اپنے اشعار کی وجہ سے خاں صاحب کی نظر میں کافر و زندیق اور مشرک ہیں۔ اقبال کی اپنی زندگی ہی میں ان کی ایک نظم ”آفتاب“ پر لاہور کے ایک مولوی دیدار علی نے ان کے خلاف کفر کا فتویٰ دے دیا تھا۔ اقبال اپنے دور کے مولوی اور ملا حضرات سے گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی

مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے بعد آنے والے دور کا ایک ”ماڈرن ملا“ وحید الدین ان سب سے بازی لے جائے گا۔ حضرت ملا نے علامہ کے بارے میں لکھا ہے اور لکھتے وقت علامہ کا یہ ”مشرکانہ“ شعر بھی ان کے پیش نظر ہو گا جس میں وہ کہتے ہیں:

مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر

اس شعر کی تشریح وہ یوں فرماتے ہیں:

یہ مسلمان جن کو ان کے نام نہاد رہنماؤں نے ”محتسب کائنات“ کے منصب بلند پر بٹھا رکھا ہے۔ ان کے احتساب کا اگلا قدم شاید وہ آسمانی اقدام ہو گا جس کو ان کے محبوب شاعر نے ان شاندار الفاظ میں بیان کیا ہے:

در دشت جنون من جبریل زبوں صیدے
یزداں بکمند آور اے ہمت مردانہ

اقبال کا یہ شعر خاں صاحب کے فتویٰ کے مطابق سراسر ”کافرانہ“ اور ”مشرکانہ“

صفحہ 251

ہے۔ اس پر اس کے سوا اور کہا جا سکتا ہے سخن فہمی عالم بالا معلوم شد۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ :

”اردو داں طبقہ“ کے شاعر اقبال کے بعد خاں موصوف نے اسلامیان ہند کے قائد محمد علی جناح جو ”انگریزی داں“ تھے ان کو بھی ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ مسلمانوں کی آزاد مملکت کے لئے ان کی بے مثال قربانیوں کو بہ یک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”موجودہ پاکستان محمد علی جناح کی دین نہیں بلکہ حقیقتاً وہ محمد بن القاسم ثقفی کی دین ہے۔“ قائداعظم نے موصوف کی مضمون نویسی سے بہت پہلے ہی یہ کہا تھا کہ پاکستان اسی وقت بن گیا جب کہ سرزمین ہند پر پہلے مسلمان نے قدم رکھا تھا۔ اپنی وفات سے ایک دن قبل انہوں نے اپنے معالج خصوصی ڈاکٹر ریاض علی شاہ سے فرمایا:

تم جانتے ہو جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی کر نہ سکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا اب پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔“

(روزنامہ جنگ کراچی 11 ستمبر 1988ء) ڈاکٹر ریاض علی شاہ کی یہ ڈائری جو ان کے اپنے قلم کی تحریر شدہ ہے پاکستان میں چھپ چکی ہے۔

مسلمانوں کے قائد نے اپنی وفات سے قبل یہ اعلان حق کیا تھا کہ زمین پر بادشاہت دینے والی ذات خدا کی ہے۔ مگر اقبال کو ان کے ایک شعر کے حوالہ سے ”کافر“ اور ”مشرک“ کہنے والا شخص پاکستان کو اللہ کا دین کہنے کی بجائے محمد بن قاسم کا دین کہہ رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر کفر و شرک اور کیا ہو سکتا ہے؟ محمد بن قاسم کے اعلیٰ ترین مجاہدانہ کردار سے کون انکار کر سکتا ہے لیکن اس بھارتی باسی کو اس کی سیاست کسی اور وجہ سے پسند ہے اس کی وجہ بھی بیان کر دی ہے:

جب وہ (محمد بن قاسم) ہندوستان سے واپس ہو کر دمشق گیا تو اہل ہند نے اس کے لئے اس کا مجسمہ بنا کر اس کی تعظیم اور تقدیس کی۔“

صفحہ 252

عبد القادر عودہ شہید:

عبد القادر عودہ شہید مصر کی سپریم کورٹ کے عہدہ جلیلہ سے اس لئے مستعفی ہوئے تھے کہ ایک مسلمان جج غیر اسلامی قانون نافذ نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد وہ اخوان کے نائب مرشد عام ہو گئے اور اپنی ساری زندگی اسلامی قانون کو برپا کرنے کے لئے وقف کر دی۔ اسلامی قانون اور موجودہ بین الاقوامی قانون پر ان کی کتابیں مستند (Authoritative) تسلیم کی جاتی ہیں۔ عبد القادر عودہ جیسی گراں مایہ شخصیت کو فراعنہ مصر کی اولاد جمال ناصر نے اپنے خلاف بغاوت کے الزام میں شہید کروا دیا تھا۔ ان کے متعلق بھی وحید الدین اپنی نیش زنی سے باز نہیں رہ سکے۔ عودہ شہید نے اپنی بلند پایہ تصنیف ”التشریع الجنائی فی الاسلام“ میں بین الاقوامی قانون کے اسلامی نقطہ نظر کو پیش کیا ہے جو حسب ذیل ہے:

”ہم مسلمان بین الاقوامیت پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا قانون جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے وہ چاہے جہاں بھی اقامت پذیر ہو۔“

اس قانون کی زد میں شاتم رسول رشدی براہ راست آتا ہے اس لئے اس کی حمایت میں بھارتی مضمون نویس وحید الدین خاں کی رگ حمیت پھڑک اٹھی۔ کہتے ہیں:

”اس (اسلامی بین الاقوامی) کے حوالہ سے مضمون نگار (عبد القادر عودہ شہید) نے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ جمہور فقہا کے نزدیک اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے ”قومی سرحدوں“ کو کوئی اہمیت نہیں۔ سلمان رشدی اگر مسلم ملک سے باہر برطانیہ کا باشندہ ہے تب بھی وہاں جا کر اس کو قتل کیا جائے گا۔ اور ایسا کرنا عین اسلامی ہو گا۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے جس کا کوئی فقیہہ قائل نہیں ۔“ اللہ رے فقیہانہ بصیرت!

غازی علم الدین شہید:

1926ء میں ایک مسلمان نوجوان نے سوامی شردھانند کو قتل کیا جس نے رنگیلا رسول ﷺ نامی کتاب لکھی تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس کی بیوہ ماں نے اپنے اکلو دی تھی کہ وہ ناموس رسول کی حفاظت کر مگر مولانا کی رائے میں: ”ہوا یہ کہ ملک ک گیا۔ حقیقت میں اس قسم کے کسی عمل کو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول ﷺ نہیں نادانی ہے جس کا تعلق نہ عقل سے ۔

قدرت اللہ شہاب:

قدرت اللہ شہاب حکومت پاکستان ممتاز ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی ادبی حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ایک واقعہ کے حوالہ سے نبی کریم ﷺ س مسلمانوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا ہے:

”رسول خدا ﷺ کے متعلق سے باہر ہو جاتی ہیں اور کچھ لوگ میں اچھے نیم اچھے یا برے مسلما تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے کو قربان کر دیا‘ ظاہری طور پر نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک شدت اور دیوانگی کے ساتھ شار ہے۔ اس کی بنیاد عقیدہ سے زیاد عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ا ہے۔“

مولوی صاحب موصوف نے قدرت متعلق بیان کو درست کہا ہے اور ساتھ ہی جذبہ اور عقیدت گمراہی ہے۔ پھر یہ فتویٰ ہ

صفحہ 253

احتجاج کیا۔ اس کی بیوہ ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خوشی خوشی اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ ناموس رسول کی حفاظت کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ پر قربان ہو جائے مگر مولانا کی رائے میں: ”ہوا یہ کہ ملک کی تاریخ میں اس (شردھانند) کو شہید کا مقام دیا گیا۔ حقیقت میں اس قسم کے کسی عمل کو ناموس رسول ﷺ نام پر بے فائدہ جان دینا تو کہہ سکتے ہیں مگر اس کو ناموس رسول ﷺ کی حفاظت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ قربانی نہیں نادانی ہے جس کا تعلق نہ عقل سے ہے نہ اسلام سے۔“

قدرت اللہ شہاب:

قدرت اللہ شہاب حکومت پاکستان کے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں پاکستان کے ممتاز ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کی سوانح عمری شہاب نامہ کو پاک و ہندوستان کے ادبی حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے انہوں نے شہاب نامہ میں اپنے بچپن کے ایک واقعہ کے حوالہ سے نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا ہے:

”رسول خدا ﷺ کے متعلق اگر کوئی بد زبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا‘ ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد عقیدہ سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔“

مولوی صاحب موصوف نے قدرت اللہ شہاب کے مسلمانوں کی قومی نفسیات سے متعلق بیان کو درست کہا ہے اور ساتھ ہی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کا اس قسم کا جذبہ اور عقیدت گمراہی ہے۔ پھر یہ فتویٰ صادر کر دیا کہ قدرت اللہ شہاب اور یہ مسلمان

صفحہ 254

”بے دین“ ہیں: ”جو لوگ اس خوش عقیدگی میں جی رہے ہیں وہ قیامت کا انتظار کریں اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ ایک نیا دین تھا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔“ مگر حضرت کی اس خبر کے بعد تو قیامت سے پہلے ہی مسلمان قوم کو اپنا انجام معلوم ہو گیا۔

اب قیامت کے انتظار کی کیا ضرورت باقی رہی، خود قیامت اس ”گمراہ“ ”بے دین“ قوم کے سامنے حضرت کی شبیہ مبارک کی صورت میں موجود ہے۔

احمد دیدات اور بال ٹھاکرے:

احمد دیدات ہماری تنظیم ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے لائف ممبر اور بین الاقوامی مسلمان شخصیت ہیں۔ انہوں نے مذاہب عالم کا گہرا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور بلند پایہ خطیب بھی ہیں۔ اسلام کے مقابلہ میں انہوں نے دنیا کے تمام مذاہب کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں ایک جملہ ”اسلام کی موجودگی میں دوسرے ادیان کی ضرورت باقی نہیں رہی اور زور خطابت میں کہہ دیا کہ ان سب کو بل ڈوز کر دو۔“ (Bulldoze Them All) اس پر مسلمان سامعین نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا جس پر مولوی وحید خان اپنا غصہ ضبط نہ کر سکے اور چیخ اٹھے اور احمد دیدات کا مقابلہ فرقہ پرست بھارتی لیڈر سے کرتے ہوئے لکھا ہے:

”احمد دیدات صاحب یا دوسرے مقرروں کو اس قسم کے الفاظ مسلمانوں کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ ان پر تالیاں بجاتے ہیں۔ اگر یہی لفظ دوسرا شخص بولے تو وہ غصہ ہو جائیں گے۔ مثلاً ہندوستان میں بال ٹھاکرے اگر یہ کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بل ڈوز کر دو تو تمام مسلمان مشتعل ہو کر ہنگامہ کھڑا کر دیں گے۔ اسی قسم کا دو طرفہ معیار موجودہ امتحان کی دنیا میں ہرگز چلنے والا نہیں۔“

رشدی اور لیڈی ڈیانا:

وحید الدین خاں اس دوہرے معیار کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے جو ان کی معیاری مملکت برطانیہ اور وہاں کے آزاد پریس کے رویہ سے پرنسس ڈیانا کی حادثاتی موت پر رشدی کے ریمارکس کی وجہ سے دنیا کے سامنے آیا ہے۔ سارا برطانوی پریس رشدی کی اس بات پر کہ ”بے قابو جنسی خواہشات نے لیڈی ڈیانا کو مار ڈالا۔“ سخت غیض و غضب کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ برطانیہ کے کثیر شیطانی خیالات قرار دیا ہے۔ اس (Out Look) نے بڑا صحیح تبصرہ کیا رشدی نے جب برطا بات لکھی تو اس کے خلا حالانکہ جب اس کی تحریر پر کی شان میں گستاخی کی وجہ اس وقت یہی برطانوی عوا خاں) اور پریس آزادی کو بیٹھے تھے۔ مگر اب برطانوی واقعی شیطان ہے۔“

تاریخی شخصیت:

مولانا کو خبر نہ تھی کہ برطانو بارے میں پینترا بدلے گا جب کوئی ا حوالہ سے کوئی ایسی بات کرے جو ا حالانکہ مولانا نے رشدی کے لئے بر اسے دنیائے ادب کا ہیرو بنانے ”شہیدانِ حق“ کی فہرست میں شامل بڑے لوگ گزرے ہیں جن کو وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ مقتول کا رشتہ کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ اس طرح مخالفت فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔“

آگے چل کر مولانا فرماتے ہیں قتل کے بعد عملاً یہی بات پیش آئی۔ ایک مضمون ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس مضـ

صفحہ 255

کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ برطانیہ کے کثیرالاشاعت روزنامہ ”ٹائمز“ نے رشدی کے آرٹیکل کو شیطانی خیالات قرار دیا ہے۔ اس پر وہیں کے ایک ہفت روزہ رسالہ آؤٹ لک (Out Look) نے بڑا صحیح تبصرہ کیا ہے:

رشدی نے جب برطانوی عوام کی محبوب شہزادی کے خلاف کوئی بات لکھی تو اس کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالانکہ جب اس کی تحریر کردہ کتاب میں ان کے محبوب ترین پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے اس وقت یہی برطانوی عوام (اور ان کے ایک ذہنی غلام وحیدالدین خاں) اور پریس آزادی تحریر اور آزادی اظہار خیال کے چیمپئن بنے بیٹھے تھے۔ مگر اب برطانوی عوام اور پریس کو معلوم ہوا ہے کہ رشدی واقعی شیطان ہے۔“

تاریخی شخصیت:

مولانا کو خبر نہ تھی کہ برطانوی عوام اور برطانیہ کا آزاد پریس اتنی جلد رشدی کے بارے میں پینترا بدلے گا جب کوئی ان کی پسندیدہ شخصیت پرنس ڈیانا کے متعلق سیکس کے حوالہ سے کوئی ایسی بات کرے جو انہیں ناپسند ہو تو وہ اسے ہیرو سے شیطان بنادیں گے۔ حالانکہ مولانا نے رشدی کے لئے برٹش لاء اور بین الاقوامی قوانین کا تحفظ فراہم کرنے اور اسے دنیائے ادب کا ہیرو بنانے کے بعد اس کو تاریخ کی بڑی ”نامور شخصیتوں“ اور ”شہیدان حق“ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے لکھا تھا: ”تاریخ میں بہت سے سچے اور بڑے لوگ گزرے ہیں جن کو وقت کے ظالموں نے قتل کیا ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ مقتول کا رشتہ ان گزرے ہوئے لوگوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں اس کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ اس طرح مخالفین کے ہاتھوں سے قتل ہونا اس کو ”شہیدان حق“ کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔“

آگے چل کر مولانا فرماتے ہیں: ”یہ کوئی فرضی بات نہیں سلمان رشدی کے اعلان قتل کے بعد عملاً یہی بات پیش آئی ہے چنانچہ انہوں نے اس کی تائید میں ٹائمز آف انڈیا کا ایک مضمون ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس مضمون میں رشدی کو تاریخ کی ان ہستیوں اور شخصیتوں

صفحہ 256

کے ہم پایہ قرار دیا ہے جن کو ان کے مخالفوں نے قتل کر دیا تھا یا قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ مثلاً سقراط‘ مسیح‘ گلیلو‘ مارٹن لوتھر وغیرہ۔ حتیٰ کہ خود پیغمبر اسلام جن کو مکہ کے لوگوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ گلیلو کو اپنی آخر عمر تک اپنے گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ یہی مقدر رشدی کا آج ایک نئی صورت میں ہو سکتا ہے۔ "ایسی بے ہودہ‘ احمقانہ اور شرانگیز باتیں وہی شخص کہہ سکتا اور لکھ سکتا ہے جس میں خیر اور شر کی تمیز باقی نہ رہی ہو۔

خیر اعلیٰ اور وحید الدین ----- یا للعجب!:

”آزادی فکر“ اور ”اظہار رائے کی آزادی“ کو اس زمانہ کی سب سے بڑی قدر اور خیر اعلیٰ کا درجہ دے کر رشدی اور تمام گستاخان نبوت کے لئے ایسی کمین گاہیں تیار کی جا رہی ہیں جہاں سے وہ آزادی کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ اور انبیائے کرام کی شان میں بے محابا دشنام طرازی کریں تاکہ دین و ایمان کی بنیادیں منہدم اور مسمار ہو کر رہ جائیں۔ ”آزادی فکر“ اور ”آزادی اظہار رائے“ کے بارے میں ہم وحید الدین ہی کے مغربی پیشوا اور رہنماؤں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں اور واضح کیا ہے کہ جس چیز کو وہ ”آزادی فکر“ اور ”آزادی اظہار رائے“ سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں ذہنی انتشار اور نظم و ضبط سے عاری افکار ہیں جنہیں کوئی معاشرہ‘ کوئی جماعت اور کوئی ریاست اپنے آئین اور قانون میں جگہ دینے اور انہیں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ”آزادی افکار“ اور ”آزادی اظہار رائے“ کی طرح انہوں نے ”خیر اعلیٰ“ کو بھی غلط معنی پہنائے ہیں۔ اسلام میں انسان کو اپنی جبلت کے رجحانوں اور اپنے فکر و عمل پر قابو پانے اور ان کو احکام الٰہی کے تابع نظم و ضبط کا پابند کرنے کا نام ”خیر اعلیٰ“ ہے۔ یہی زمانہ کی نہیں بلکہ زندگی کی وہ سب سے بڑی قدر جو اللہ کے رسول ﷺ کی بدولت انسانیت کو نصیب ہوئی اس لئے وہ کائنات کی ایسی محبوب ترین ہستی ہیں جن کے نام و ناموس پر مسلمان اپنی ہر عزیز اور محبوب چیز کو قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس کے نزدیک ان کی ذات گرامی ہی اصل دین اور عین ایمان ہے۔ کفر و دین کی اس حقیقت کو اقبال نے بڑے ہی بلیغ پیرایہ اظہار کے ذریعہ اپنے اس شعر میں نمایاں کیا ہے:

باب سوم

(۱) ال

(۲) ال

(۳) ال

(۴) ایضاً

(۵) ایضاً

(۶) ایضاً

(۷) العق

(۸) ابن

(۹) قاض

(۱۰) مدار

(۱۱) ابن

(۱۲) علام

(۱۳) فتح ال

(۱۴) ابن

(۱۵) ابن

(۱۶) حیاة

(۱۷) دار ق

(۱۸) طحاو

(۱۹) شرائ

صفحہ 257

باب سوم

کتابیات

PDF 258

(باب چہارم)

اہانتِ

اس باب کا ابتدائی حصہ کی شب مبارکہ اصحاب الصّفہ گیا۔

توہین و تنقیص رسالـ خلفائے راشدین و ائمہ مطہرین ثابت ہے۔ مجرم خواہ مسلمان دی جائے گی۔ البتہ اگر ایک علاوہ بوجہ ارتداد بھی قابلِ مـ بطور حد سزائے موت ہی ہے

غیر منقسم ہندوستان مـ حکومت افغانستان نے ایک تـ دیا۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ مسلمہ کا اجماع ہے کہ مرتد کـ یافتہ طبقہ جو یورپ اور اس رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ا کے خیال میں ردۃ یا ارتداد کـ ہو پاکستان کی سپریم کورٹ کـ نظر تھا۔ جناب ایس۔ اے ر علاوہ شعر و ادب کے بھی بڑ ہی انہوں نے اسلامی علوم کـ

صفحہ 259

(باب چہارم)

اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ارتداد

اس باب کا ابتدائی حصہ 27 رمضان المبارک 1412 ہجری‘ مطابق 30 مارچ 1992ء کی شب مبارکہ اصحاب الصفہ کے حصار قدس میں آرام گاہ نبوی ﷺ کے مواجہ لکھا گیا۔

توہین و تنقیص رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت‘ قرآن و سنت اور آثار خلفائے راشدین و ائمہ مطہرین‘ اجتہاد ائمہ فقہ اور علمائے امت کی متفقہ رائے کی رو سے ثابت ہے۔ مجرم خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم‘ مرد ہو یا عورت‘ اس کو سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ البتہ اگر ایک مسلمان اس جرم کا ارتکاب کرے‘ وہ توہین رسالت کے علاوہ بوجہ ارتداد بھی قابل مواخذہ اور مستوجب سزائے موت ہے۔ ارتداد کی سزا بھی بطور حد سزائے موت ہی ہے۔

غیر منقسم ہندوستان میں مسئلہ ارتداد اس وقت بڑے زور و شور سے اٹھا تھا جب حکومت افغانستان نے ایک قادیانی مبلغ کو بربنائے ارتداد سزائے موت دے کر سنگسار کر دیا۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ شروع ہی سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس مسئلہ پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ مرتد کی سزا بطور حد سزائے موت ہے۔ لیکن ملک عزیز کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو یورپ اور اس کے افکار سے مرعوب ہے‘ اس بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور بعض تو ارتداد کی سزا کا سرے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ردة یا ارتداد گناہ ضرور ہے لیکن ایسا گناہ نہیں جو مستوجب حد یا لائق تعزیر ہو پاکستان کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب ایس۔ اے رحمان کا بھی یہی نقطہ نظر تھا۔ جناب ایس۔ اے رحمان کا عدل و قانون سے براہ راست تعلق رہا ہے۔ اس کے علاوہ شعر و ادب کے بھی بڑے پارکھ تھے۔ علوم جدید پر ان کی بڑی گہری نظر تھی اور ساتھ ہی انہوں نے اسلامی علوم کا بھی مطالعہ کیا تھا۔ راقم الحروف کی ان سے جب بھی گفتگو

صفحہ 260

ہوئی ہے یہی محسوس ہوا کہ وہ اسلام کے لیے ایک دردمند دل رکھتے ہیں لاہور کی سیرت کانفرنس جس میں راقم الحروف بھی بطور مہمان مقرر مدعو تھا اور وہ بطور صدر مجلس شریک تھے‘ ان کے آخری لمحات تک میں ہی ان کے ساتھ رہا ہوں۔ اس کانفرنس میں نماز عصر کے وقفہ کے دوران وہ باوضو ہو کر میرے ساتھ شریک جماعت ہونے کے لئے آئے اور دل کا جان لیوا دورہ پڑنے تک وہ مجھ سے اسلامی شعائر کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے۔ ان کے قانونی مقام و مرتبہ اور اسلام سے ان کی شیفتگی کے باوجود مجھے ان سے نظریاتی اختلاف رہا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ اسلامی قانون کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور اسے موجودہ احوال و ظروف میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ مسئلہ ارتداد پر بھی انہوں نے اسی نقطہ نظر سے انگریزی میں ایک کتاب ”ارتداد کی سزا اسلام میں“ (Punishment of Apostacy in Islam) لکھی ہے‘ جسے پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل Apology for Islam یا اسلام کے احکام کی معذرت خواہانہ تاویل ہے۔ ارتداد کے بارے میں ان کی یہ رائے کہ سرے سے یہ کوئی جرم ہی نہیں‘ اس لیے مرتد مستحق سزا نہیں اور ارتداد کی سزا قرآن و سنت کے منافی ہے‘ اس کے لیے انہوں نے آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی جو تاویلات پیش کی ہیں‘ ان پر مولانا روم کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

پائے استدلالیان چوبیں بود
پائے چوبیں سخت بے تمکیں بود

یہ مسئلہ فیڈرل شریعت کورٹ میں توہین رسالت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران زیر بحث آیا تھا۔ جس پر تفصیلی بحث ہوئی۔

ان تفصیلی مباحث میں جانے کی بجائے ہم یہاں اس مسئلہ کا قرآن و سنت اور اجماع امت کے فیصلوں کی روشنی میں اختصار سے جائزہ لیں گے کیونکہ قبل ازیں ان ہی منابع سے خوشہ چینی کے بعد توہین رسالت کے بارے جس میں ارتداد بھی شامل ہے کافی مواد صفحہ قرطاس پر آچکا ہے۔ ان کے علاوہ اس کی تائید میں چند ضروری نکات موجودہ نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نذر قارئین کیے جائیں گے‘ تاکہ ارتداد کی سزا کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی باقی نہ رہے کہ یہ سزا غیر انسانی اور حکمت قرآنی کے خلاف ہے۔

صفحہ 261

ارتداد کا قرآنی اور آئینی مفہوم:

دین اسلام دیگر ادیان عالم سے مختلف دین ہے۔ یہ صرف فرد اور خدا کے درمیان کوئی پرائیویٹ معاملہ نہیں جیسا کہ یورپ گزیدہ ذہن کا تصور ہے جو عیسائی عقیدہ پر مبنی ہے۔ اسلام میں عیسائی عقیدہ کی طرح خدا اور قیصر (انجیل کی اصطلاح میں) حکمراں یا حکومت کے درمیان کوئی ایسا سمجھوتہ یا راضی نامہ نہیں، جس کے ذریعہ خدا اور قیصر نے اپنے اپنے حقوق آپس میں بانٹ لیے ہیں کہ خدا کی بادشاہت آسمان پر اور قیصر کی حکومت زمین پر ہو گی۔ اس کے بعد انہیں ایک دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ اسی بنیاد پر یورپ میں سیاست کو مذہب سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کے برعکس اسلام میں قیصریت یا پاپائیت کا کوئی وجود نہیں۔ یہاں حکمرانی کے سارے اختیارات ذات باری تعالیٰ میں مرتکز ہیں اور اس کے اقتدار اعلیٰ اور حکومت میں اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں۔ اس لیے قرآن نے ساری دنیا کے سامنے اس اصل عظیم کا اعلان کیا۔

ان الحکم الا للہ لم یکن لہ شریک فی الملک۔

”دیکھو کسی کا حکم نہیں سوائے اللہ کے۔ حکومت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔“

اس کے علاوہ اسلام عیسائیت کی طرح آئین و قانون سے تہی دامن بھی نہیں۔ اس کا اپنا مکمل نظام، جو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اور ریاست اور سیاست کی رہنمائی کے لیے بھی موجود ہے، اسلام میں حق سبحانہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے ساتھ اقرار رسالت کا عقیدہ ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ دین حق کی شرط اول ہی کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یہ وہ عہد و پیمان ہے جس کے ذریعہ بندہ اس کائنات میں اللہ کے اقتدار اور حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے پیغمبر اعظم و آخر کی اطاعت کا اعلان و اقرار کرتا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص کسی اسلامی مملکت میں رہتے ہوئے رب ذوالجلال کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور ذات ختمی مرتبت جو خلیفۃ اللہ فی الارض اور بذات خود سرچشمہ آئین و قانون ہے، کی رسالت سے منحرف ہو جائے اور ان کی ذات گرامی کو ہدف تنقیص و استہزا بنائے، تو یہ نہ صرف اس مملکت کے ساتھ بلکہ پوری امت مسلمہ اور خود اسلام کے ساتھ غداری ہے، جو نہایت سنگین اور

صفحہ 262

ناقابل معافی جرم ہے۔

آئینی ریاست:

ایک عام ریاست میں بھی کسی شہری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ آئین مملکت سے عہد وفاداری استوار کرنے کے بعد اس کو توڑ ڈالے‘ یا اس کی آئین و قانون اور اس کے تحت قائم ہونے والی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ ایسے شخص کو ہماری مروجہ اصطلاح میں غدار کہا جاتا ہے اور اس کو اس جرم کی پاداش میں سزائے موت ہی دی جاتی ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے ایسا جرم کھلی بغاوت اور غداری (High Treason) ہے یہی قانون دنیا کے سارے ملکوں میں نافذ العمل ہے۔ خواہ وہ جمہوری ہوں یا اشتراکی۔

ارتداد کی سزا:

جب یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ذات مصطفوی ہی سراپا دین ہے‘ جس کو اقبالؒ نے زبان شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔

بہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

(اقبال)

اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد سرکار رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی ان کی جناب میں توہین یا تنقیص دین متین سے ”انحراف“ اور ”ارتداد“ ہے‘ اس لیے مرتد کو بھی سزائے موت بطور حد دی جائے گی۔ کیونکہ حضور ﷺ کی رسالت سے انحراف اور آپ ﷺ کی اطاعت سے انکار‘ اصل میں حق سبحانہ تعالیٰ کی اطاعت سے انکار ہے۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کر کے اقرار رسالت کے بعد اسلام کی عالمی ریاست کا شہری بن جائے‘ تو پھر اس کے بعد اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس ریاست کے حاکم مطلق اور اس کائنات میں اس کے نائب اعلیٰ کی اطاعت سے انکار کرے۔ یہ دراصل اعلان بغاوت ہے‘ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جس کی پاداش میں وہ نہ صرف ان تمام شہری حقوق سے محروم ہو جائے گا‘ جو اسلام کی بدولت اسے حاصل ہوئے تھے بلکہ اسلامی حد کے مطابق وہ سزائے موت کا مستحق ہو گا۔

صفحہ 263

مرتد کے بارے میں قرآن کا اعلان:

مرتد کی سزائے موت کے ثبوت میں سورۂ احزاب کی آیت 57 اور سورہ انفال کی آیت 13 توہین رسالت کی سزا اور اللہ کے فرستادہ پیغمبر کے ساتھ استہزاء کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ اور جو کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے اس کی معذرت بھی قابل قبول نہیں۔ اس لئے فرمایا:

”قل ابا لله وايته ورسوله كنتم تستهزئون O لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم ان نعف عن طائفة منكم نعذب طائفة بانهم كانوا مجرمين O (سورۂ توبہ 65-66)

ترجمہ: ان سے کہہ دو ”کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ ہی کے ساتھ تھی۔ اب عذرات نہ پیش کرو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ (اصل میں) وہ ہی مجرم ہے۔“

اسی طرح سورہ آل عمران کی آیت 89 میں بھی یہی وعید آئی ہے۔ فرمایا:

ان الذين كفروا بعد ايمانهم ثم ازدادوا كفرا لن تقبل توبتهم واولئك هم الضالون O (سورۂ آل عمران، آیت 89)

”مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی۔ ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔“

وہ لوگ جو حصار دین میں داخل ہونے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائیں ان کے لیے دنیا میں عذاب کے علاوہ بارگاہ الہی میں بھی در توبہ باز نہیں ہو گا اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ منزل کا چراغ روشن ہو جانے کے بعد انہوں نے خود ہی اپنی آنکھیں موند لیں اور اپنے آپ کو گمراہی میں مبتلا کرلیا، اس لیے ان کا جرم ناقابل معافی ہے۔

سورۂ توبہ میں تو مرتدین سے عہد شکنی کی بنا پر ان کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا:

صفحہ 264

"وان نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا ائمة الكفر انهم لا ايمان لهم لعلهم ينتهون"O

(سورۃ توبہ، آیت 12)

ترجمہ: ”اگر عہد کرنے کے بعد پھر یہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملہ کرنے شروع کر دیں، تو ان کفر کے علم برداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“

صاحب روح المعانی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ائمہ کفار کی تخصیص اس وجہ سے ہے کہ ان کا قتل سب سے زیادہ ضروری تھا یہ مطلب نہیں کہ غیر ائمہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

یہ وہ عہد و پیمان تھا جو حامیان کفر نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اسلام قبول کر کے کیا تھا۔ پھر کفر اختیار کر کے اپنے قول و قسم سے منحرف ہو گئے تو ایسے لوگوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے قتال کا حکم دیا گیا۔

احکام الحدیث:

سرکار رسالت مآب ﷺ نے وحی الٰہی کے مطابق مرتد کو سزائے موت کا حکم دیا ہے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے من بدل دینہ فاقتلوہ جو شخص اپنا دین (یعنی دین اسلام کیونکہ خود اللہ نے اسلام ہی کو دین کہا ہے۔ ان الدین عند اللہ الاسلام تبدیل کرے اسے قتل کیا جائے۔ یہ حدیث حضرت ابو بکر ؓ حضرت عثمان ؓ، حضرت معاذ بن جبل ؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ، حضرت خالد بن ولید ؓ اور دوسرے اصحاب رسول ؓ نے روایت کی ہے۔ بخاری، مسند احمد اور کنز العمال میں یہ حدیث موجود ہے۔

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کسی مسلمان کا خون جائز نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے ان تین جرائم کے جان کے بدلہ میں جان، شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اپنے دین کو چھوڑ دے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔ یہ حدیث ابو داؤد کی کتاب

الحدود باب فی الحکم من ارتد کے علاوہ

حضور اکرم ﷺ کی زندگی جبل ؓ کو آنحضور ﷺ نے عہدہ قضاء بوقت روانگی حضور ﷺ سے شرف اور جو مجتہد دربار نبوت ہیں۔ یمن وہاں کی عدلیہ کے سربراہ تھے۔ جب مجرم ان کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے حضرت ابو موسیٰ ؓ نے انہیں شریک بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون شخص اس نے اسلام قبول کیا، اس کے بعد نے عدالت میں اقبال جرم کیا ہے۔ رسول کا فیصلہ ہے کہ یہ واجب القتل فیصلہ پر عمل درآمد ہونے کے بعد وہ اس تمام کارروائی میں کہیں معلوم ہوتا ہے کہ عمال کی کارروائی جاتی تھی لیکن کہیں ہمیں اس بات کے اس فیصلہ کو غلط اور ناجائز قرار المرتد" میں بیان کیا ہے۔

ابو امامہ بن سہیل بن حنیف نے گھیر لیا تو وہ چھت پر برآمد ہوئے باغیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”مجھے جا رہی ہے حالانکہ میں نے رسول جائز نہیں سوائے ان تین باتوں کے کیا جائے۔ دوسرا وہ جو کسی کو ناحق جائے۔ خدا کی قسم میں نے زندگی ہی اسلام لانے کے بعد، نہ میں ۔

صفحہ 265

الحدود باب فی الحکم من ارتد کے علاوہ بخاری اور ابن ماجہ میں بھی موجود ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں مرتد کو سزائے موت دی گئی۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کو آنحضور ﷺ نے عہدہ قضاء پر مامور فرما کر یمن بھیجا۔ یہ وہی معاذؓ ہیں جن کی بوقت روانگی حضور ﷺ سے شرف تکلم کی بدولت امت پر اجتہاد کے دروازے کھلے اور جو مجتہد دربار نبوت ہیں۔ یمن میں حضرت معاذؓ کی آمد سے قبل حضرت ابو موسیٰؓ وہاں کی عدلیہ کے سربراہ تھے۔ جب جناب معاذؓ ان کے پاس یمن پہنچے تو دیکھا کہ ایک مجرم ان کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ جناب معاذؓ اس وقت اپنے مرکب پر سوار تھے۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے انہیں شریک اجلاس ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے مجرم کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے؟ انہیں بتلایا گیا کہ پہلے یہ شخص یہودی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کیا، اس کے بعد دین سے منحرف ہو کر دوبارہ یہودی ہو گیا ہے، ملزم نے عدالت میں اقبال جرم کیا ہے۔ اس پر حضرت معاذؓ نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے کہ یہ واجب القتل ہے“ اور حکم دیا کہ اسی وقت قتل کر دیا جائے۔ اس فیصلہ پر عمل درآمد ہونے کے بعد وہ اپنی سواری سے اترے۔

اس تمام کارروائی میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ مرتد کو توبہ کا موقع دیا گیا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمال کی کارروائیوں کی رپورٹ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی جاتی تھی لیکن کہیں ہمیں اس بات کا تذکرہ نہیں ملتا کہ سرور عالم ﷺ نے حضرت معاذؓ کے اس فیصلہ کو غلط اور ناجائز قرار دیا تھا۔ اس واقعہ کو بخاری، نسائی اور ابو داؤد نے ”حکم المرتد“ میں بیان کیا ہے۔

ابو امامہ بن سہیل بن حنیف سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کو باغیوں نے گھیر لیا تو وہ چھت پر برآمد ہوئے اور ان کی باتوں کو بڑے صبر و تحمل سے سنتے رہے۔ پھر باغیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”مجھے قتل کی دھمکی دی گئی ہے لیکن یہ دھمکی مجھے کیوں دی جا رہی ہے حالانکہ میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا تھا کسی مسلمان کا خون جائز نہیں سوائے ان تین باتوں کے۔ ایک وہ جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے، پس وہ سنگسار کیا جائے۔ دوسرا وہ جو کسی کو ناحق قتل کرے۔ تیسرا وہ جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جائے۔ خدا کی قسم میں نے زندگی میں کبھی زنا نہیں کیا، نہ ہی جہالت کے زمانہ میں اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد، نہ میں نے کسی مسلمان کا قتل کیا ہے اور نہ ہی میں اسلام لانے

صفحہ 266

کے بعد مرتد ہوا ہوں۔“ مجمع سے کسی شخص نے بھی اس حدیث رسول سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے حضرت عثمانؓ کی ان باتوں کی تردید کی۔ ان کے مطالبات کچھ اور تھے، جس میں یہودی سازش کا پوشیدہ ہاتھ کار فرما تھا۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے اس کے کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو یا مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کیا ہو یا اس نے کسی کی جان لی ہو۔ (نسائی)

فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم
لا يجدوا فى انفسهم حرجا مما قضيت و يسلموا تسليما

(سورۃ نساء آیت 65)

ترجمہ: (اے نبی) تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کرلیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے سر بسر تسلیم کرلیں۔“

اس آیہ مبارکہ کی شان نزول کے بارے میں ثعلبی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص، جس کا نام بشر تھا، کسی یہودی سے تنازعہ ہو گیا۔ یہودی نے کہا کہ حضور ﷺ کی عدالت میں یہ معاملہ پیش کریں (کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حضور جو بھی فیصلہ فرمائیں گے وہ برحق ہو گا لیکن منافق کو اپنے مقدمہ کی کمزوری کا علم تھا) منافق نے کہا نہیں اس معاملہ کو کعب بن اشرف (جو یہودیوں کا سردار تھا اور دوسرے یہودی سرداروں کی طرح رشوت اور سفارش لے کر فیصلہ کیا کرتا تھا) سے یہ معاملہ طے کرائیں گے۔ لیکن بالآخر یہ تنازعہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ یہودی حق پر تھا اس لیے حضور ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا۔ (لیکن وہ منافق اس پر راضی نہ ہوا) اس لیے اس منافق نے اس کا فیصلہ کرانے کے لیے حضرت عمرؓ کا نام تجویز کیا۔ جب یہ معاملہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا تو یہودی نے سارا واقعہ انہیں بتلا دیا۔ حضرت عمرؓ نے اس منافق سے اس کی تصدیق کرلی تو آپ کچھ دیر کے لیے گھر کے اندر چلے گئے اور وہاں سے تلوار لے کر برآمد ہوئے اور اس بدبخت کا سر قلم کر دیا اور فرمایا هكذا اقضى لمن لم يرض بقضاء الله تعالى ورسوله ”جو اللہ اور

صفحہ 267

اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو‘ اس کا یہی فیصلہ ہے۔“ علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں اس فیصلہ اور ان روایات کا ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ پر بارگاہ الہی سے انہیں ”فاروق“ یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا خطاب ملا تھا۔ اس آیت مبارکہ اور اس کی شان نزول سے یہ واضح ہو گیا کہ آپ کے فیصلہ سے انکار اور اس سے سرتابی بظاہر اسلام لانے والوں کی حقیقت ظاہر کر دیتی ہے۔ چونکہ یہ سرتابی آپ ﷺ کی شان عظمت کے منافی اور تنقیص رسالت کا باعث تھی اس لیے حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا اور اسے توبہ کا موقع بھی نہیں دیا۔ جب یہ معاملہ حضور ﷺ کی عدالت میں وارثان مقتول کی جانب سے پیش ہوا تو آپ نے حضرت عمر کے فیصلہ کی توثیق فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ”اس کا خون رائیگاں گیا۔“ یعنی وارثان مقتول قصاص یا دیت کے مستحق نہیں۔ اس واقعہ کی تفصیل اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ یہ نکتہ واضح ہو جائے کہ جس ارتداد میں اہانت رسول ﷺ شامل ہو جائے وہاں توبہ کا موقع بھی باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ بعض فقہاء کی رائے ہے کہ مرتد کو توبہ قبل از گرفتاری پر رجوع الی الاسلام کا موقع دینا چاہیے۔

بعض علماء کا موقف ہے کہ حضور ﷺ نے مرتد اور گستاخ رسالت کو حضرت عثمان کی سفارش پر معاف فرماتے ہوئے اس سے بیعت لی تھی اور یہ موقف فیڈرل شریعت کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس حدیث کے پورے متن کو دیکھا جائے تو یہ موقف درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس لیے ہم نے اس حدیث مبارک کا پورا متن کورٹ میں پیش کیا تھا عدالت نے ہمارے موقف سے اتفاق کیا ہے۔

یہ حدیث عبداللہ بن ابی سرح کے بارے میں ہے جو سنن ابو داؤد کے باب ” الحكم فى من ارتد “ میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے۔ یہ عبداللہ بن ابی سرح وہ شخص ہے جو کسی زمانے میں آنحضرت ﷺ کا کاتب رہا تھا۔ بعد میں گمراہ ہو کر مرتد ہو گیا اور مکہ چلا گیا اور وہاں کافروں سے مل گیا اور پھر حضور ﷺ سے ایسی غلط اور لغو باتیں منسوب کیں‘ جس سے شان رسالت ﷺ کی صریحاً تنقیص ہوتی تھی۔ اس لیے فتح مکہ کے موقع پر حضور اکرم ﷺ نے جن دشمنان اسلام کے قتل کا حکم دیا تھا ان میں یہ بھی شامل تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی زبانی سنئے: ”لما كان يوم فتح مكة اختبا عبدالله ابن سعد ابى

صفحہ 268

سرح عند عثمانؓ بن عفان فجاء به حتى اوقفه على النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله بايع عبدالله فرفع راسه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يابى فبايعه بعد ثلث ثم اقبل على اصحابه فقال اما فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حين رآني كففت يدى عن بيعته فيقتله فقالوا ما ندری یا رسول الله ما في نفسك الا اومات الينا بعينك قال انه لا ينبغي لنبي ان تكون له خائنة الاعين“

(سنن ابوداؤد باب الحکم فی من ارتد)

”جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ ابن سعد بن ابی سرح (حضرت) عثمانؓ کی پناہ میں آگیا۔ (حضرت) عثمانؓ اسے لے کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اس کی بیعت قبول فرمالیں مگر حضور ﷺ یہ بات سن کر خاموش ہوگئے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے دوبارہ اور تیسری مرتبہ یہی درخواست کی اور تینوں مرتبہ حضرت نبی کرم ﷺ نے اس سے بیعت نہیں لی، صرف آپ اس کی طرف دیکھتے اور خاموشی اختیار فرما لیتے۔ تیسری مرتبہ کے بعد بھی جب حضرت عثمانؓ نے آپ کی خدمت میں یہی درخواست کی تب آپ ﷺ نے اس سے بیعت لی۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا 'کیا تم میں کوئی ایسا سلیم العقل آدمی موجود نہیں جو اٹھ کر اسے قتل کر دیتا جبکہ میں اس کی بیعت نہیں لے رہا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا 'یا رسول اللہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ بیعت نہ لینے سے آپ کا منشا کیا ہے۔ آپ صرف آنکھ سے اشارہ فرما دیتے۔ جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا 'یہ بات نبی ﷺ کو زیب نہیں دیتی کہ وہ آنکھوں سے مخفی اشارے کرے۔“

اس حدیث سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گستاخ رسولؐ واجب القتل ہوتا ہے اور حضور چاہتے تھے کہ اسے قتل کر دیا جائے لیکن آپ ﷺ نے اپنے عفو کریمانہ سے اسے معاف فرما دیا کیونکہ یہ آپ کا ذاتی

صفحہ 269

حق تھا لیکن اسی وقت آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرما دیا کہ ان میں سے کوئی اٹھ کر اس کے سنگین اور گھناؤنے جرم کی اسے سزا دیتا۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ امت کے ہر فرد پر یہ واجب ہے کہ کوئی اگر آپ ﷺ کی جناب میں گستاخی کرے تو اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور امت کو یہ حق نہیں کہ اسے معاف کیا جائے یا اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیونکہ توہین رسالت کا جرم ساری امت مسلمہ کے خلاف سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے، جس کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے۔

ارتداد کے بارے میں خلیفۃ الرسول کا فیصلہ:

جب نبی کریم ﷺ نے اس جہان فانی سے پردہ فرما لیا تو وہ قبائل عرب جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے ان کے دلوں میں مال و منال کی محبت ابھی دور نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے اسلام کے دوسرے اراکین پر کاربند رہتے ہوئے زکوۃ سے وہ اپنے آپ کو مستثنیٰ رکھنا چاہتے تھے۔ مدینہ کے نواحی قبائل عبس اور ذبیان بھی منکرین زکوۃ میں شامل ہو گئے۔

حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں جناب اسامہؓ کو شام کی سرحد پر رومیوں سے جنگ کے لیے روانگی کا حکم دیا تھا۔ اثنائے راہ میں انہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی خبر ملی تو وہ مدینہ واپس آگئے لیکن حضور ﷺ نے چونکہ انہیں امیر لشکر بنا کر روانہ فرمایا تھا، آزاد کردہ غلام کے بیٹے کو سرداران عرب کا امیر مقرر فرما کر آنحضور ﷺ نے مساوات انسانی کا اعلیٰ ترین نمونہ دنیا کو دکھلا دیا تھا حضرت صدیق اکبرؓ منشائے رسالت سے سرمو انحراف کرنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے آپ نے اس مہم پر جناب اسامہؓ ہی کو روانہ کر دیا۔ اس وقت اسلامی حکومت کے دارالخلافہ مدینہ میں اتنی فوج نہیں رہ گئی تھی، جو مرتدین کے لئے اور مانعین زکوۃ کو ادائے زکوۃ پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہو۔ اس لیے جب یہ مسئلہ صحابہ کرام کی مجلس شوریٰ میں پیش ہوا، جن میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے جو اس وقت منکرین زکوۃ کے خلاف جنگ کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن ان سب سے اختلاف کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا:

صفحہ 270

والله لا قتلن من فرق بين الصلوة والزكوة۔ ”واللہ جو صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا‘ میں اس کے خلاف ضرور جنگ کروں گا۔“

اس طرح خلیفہ اول نے اسلام میں اس رخنہ کو جو دین و دنیا میں تفریق کرنے کا باعث تھا‘ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اور یہ واضح کر دیا کہ اسلام کے کسی ایک رکن سے انکار بھی چاہے وہ دنیوی امور ہی سے کیوں نہ متعلق ہو‘ اسلام سے انکار اور ارتداد ہے۔ اس لیے آپ نے دیگر مرتدین اسلام کے ساتھ منکرین زکوٰۃ کو بھی مرتد قرار دے کر ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا‘ جس سے تمام صحابہ نے اتفاق کیا۔ اور حضرت عمرؓ نے فرمایا‘ اللہ نے مانعین زکوٰۃ سے جنگ کرنے کے لیے ابوبکرؓ کو شرح صدر عطا فرمایا ہے اور حق وہی ہے جس کا اعلان ابوبکرؓ نے کیا ہے۔“ اس کے بعد خلیفہ مسلمین نے عکرمہ بن ابی جہل کو مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے روانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ عمان سے حضرموت اور یمن تک جہاں بھی مرتدین کو پاؤ‘ ان کی سرکوبی کر کے انہیں کچل دیا جائے۔

حضرت ابوبکرؓ کے اس فیصلہ سے کسی صحابی رسول نے اختلاف نہیں کیا کہ مرتدین واجب القتل ہیں اور وہ بھی ایسی کٹھن آزمائش کے وقت جبکہ اسلامی فوج سرحد شام بھیجی جا چکی تھی۔ مرتدین سے مصالحت کی تجویز رد کر دی گئی بلکہ اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ ان کے خلاف جنگ کر کے اس عظیم فتنہ کو ختم کیا جائے۔ چونکہ یہ فیصلہ احکام الٰہی اور منشاء نبوت کے عین مطابق تھا اس لیے حق تعالیٰ نے فتنہ ارتداد کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو فتح و نصرت عطا فرمائی۔ اور یہ حضرت صدیق اکبرؓ کا ایسا کارنامہ ہے جس نے نبوت کے بعد خلافت کے ذریعہ اسلام کو استحکام سے ہمکنار کیا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد تینوں خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی مرتد کو سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تو ان لوگوں کو زندہ نذر آتش کر دیا تھا جو توحید سے منحرف ہو کر خود حضرت علیؓ کو اپنا رب مانتے تھے۔ البتہ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ اسلام سے انحراف کرنے والوں کو قتل سے پہلے‘ رجوع الی الاسلام کی دعوت دی جائے۔ مگر ان ہی کے دور خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اس کو ضروری نہ سمجھا تھا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے بھی جو حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں کوفہ کے چیف جسٹس

صفحہ 271

تھے ابن النواحہ کو ارتداد کی وجہ سے سزائے موت اسی وقت دے دی تھی جب اسے گرفتار کر کے آپ کے سامنے لایا گیا تھا اور اس کا سابقہ ریکارڈ آپ کے پاس موجود تھا‘ اس کی تفصیل پہلے آ چکی ہے۔ لیکن گستاخ رسول کے بارے میں معافی یا توبہ کی کوئی نظیر ہمیں اسلامی دور حکومت میں نہیں ملتی۔ خود حضرت عمرؓ نے دورِ رسالت میں یہ معلوم ہوتے ہی بشر کا سر قلم کر دیا جو حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کے لیے ان کی عدالت میں آیا تھا۔

مرتد کی سزا یہودی اور مسیحی قانون میں:

صرف اسلام ہی میں نہیں بلکہ یہودیت اور عیسائیت میں بھی ارتداد کی سزا قتل ہے۔ احکامِ توراۃ باب استثنا 13 : 6-10 میں یہ واضح حکم ہے کہ ماں‘ باپ‘ بیٹا‘ بیٹی یا بیوی اور دوست جو بھی دین سے بغاوت پر آمادہ کرے اسے قتل یا سنگسار کر دیا جائے۔ انگلستان میں ایک پادری جو یہودی عورت سے شادی کر کے دینِ مسیحی سے منحرف ہو گیا تھا اسے آکسفورڈ میں 17 اپریل 1232ء میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔

(ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس جلد-6)

صفحہ 272

مرتد رسالت کے بارے میں اسلامی نظریاتی

کونسل کا نظریہ اور سفارش

ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی تحریک پر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سینئر ممبر اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان جناب شیخ غیاث محمد مرحوم نے گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں کونسل میں ایک قرار داد پیش کی، جسے کونسل نے متفقہ طور پر منظور کر کے حکومت پاکستان کو عمل درآمد کے لیے بھیج دیا تھا، جس کا متن حسب ذیل ہے:

سزائے شتم رسول ﷺ:

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے بیسویں اجلاس منعقدہ یکم جنوری 1984ء مسودۂ قانون ارتداد کی تالیف کے سلسلہ میں یہ محسوس کیا کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی موجب ارتداد ہے۔ لہٰذا اس کے ارتکاب پر سخت سزا دی جائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں بالاتفاق رائے مندرجہ ذیل سفارش کی گئی:

”جو کوئی شخص دانستہ ایسا کلام یا ایسی حرکت کرے گا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ آنحضرت ﷺ کی شان کے بارے میں اہانت آمیز ہو یا اہانت کی طرف مائل ہو یا سوء ادبی ظاہر کرتی ہو، مستوجب سزائے موت ہوگا۔ الا یہ ثابت کرنا کہ اس کی طرف سے دانستہ ایسی حرکت نہیں کی گئی یا کلام نہیں کیا گیا، اس کا بار ثبوت ملزم پر ہو گا۔“

نیز کونسل نے طے کیا کہ اس سفارش کو قانون ارتداد میں شامل کرنے کی بجائے اس کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کیا جائے۔

کونسل نے ارتداد بوجہ اہانت رسول ﷺ کی سزائے موت کے ثبوت میں قرآن مجید اور فقہا کی آراء کے حوالے دیے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

امام کاسانی نے لکھا ہے کہ

”کلمہ کفر کا زبان پر جاری کرنا ارتداد کا رکن ہوگا۔ چنانچہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہے، اس کے بارے میں فقہا کبار کا اتفاق ہے کہ وہ

صفحہ 273

کفر کا مرتکب ہوا۔ خواہ اس نے مزاح یا استہزاء کے طور پر ایسا کیا ہو۔ اس کی دلیل میں سورۂ التوبہ کی آیات 66،65 کا حوالہ دیا ہے: ”اور اگر کوئی ان سے پوچھے تو کہہ دیں گے ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا اللہ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ٹھٹھا کرتے تھے۔ تم اب یہ (بیہودہ) عذر مت کرو۔ تم اپنے آپ کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے۔“ (سورۂ توبہ، 65-66)

بعض فقہا نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنے والا قتل کیا جائے۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ نیز حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو برا کہنے والے کے بارے میں فقہا کا اتفاق ہے کہ ایسا شخص واجب القتل ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ”الصارم المسلول“ میں نہایت شرح وبسط کے ساتھ اس پر بحث کی ہے۔ واقعہ منقول ہے کہ ایک نصرانی نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ ابن تیمیہ اپنی تلوار لے کر اس کے پیچھے دوڑے تا آنکہ اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس موضوع پر شافعی فقیہ تقی الدین السبکی نے بھی ایک کتاب لکھی ہے اور اس کا نام ”السیف المسلول علی من سب الرسول“ ہے اور رسول اللہ کو برا بھلا کہنے والے کے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ امام ابن حزم بھی ایسے شخص کو مرتد قرار دیتے ہیں اور اس پر مرتد کا حکم مرتب کرتے ہیں۔ البتہ علماء نے اس مسئلہ میں یہ بیان کیا ہے کہ حاکم کو چاہیے کہ وہ سب وشتم کے کلمات کہنے والے کی حالت پر غائر نظر سے غور کرے اور صورت حال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔ ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کلمات کس درجہ کے ہیں۔ نیز یہ کہ کہنے والا اپنی حمایت میں کس درجہ مستم ہے۔ نیز یہ کہ کیا اس سے بھول سے یا زبان کی لغزش سرزد ہوئی ہے۔

واضح ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو سب وشتم کرنے والے کا قتل کفراً نہیں ہے بلکہ حداً اور تعزیراً ہے۔ (رد المحتار)

نوٹ: اسلامی نظریاتی کونسل نے اہانت رسول ﷺ کو صرف بوجہ ارتداد مستوجب سزا قرار دیا ہے جو قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کی رو سے درست نہیں۔ جس کا ہم نے گزشتہ ابواب میں تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ یہ درست ہے کہ توہین رسالت کی وجہ سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد ہو جاتا ہے لیکن صرف اس طرح ارتداد کو

صفحہ 274

بنائے سزا قرار دیا جائے تو پھر غیر مسلم جو اہانت رسول ﷺ کے مرتکب ہوں ان پر یہ سزا لاگو نہیں ہو گی۔ یہ قرآن اور سنت کا منشا نہیں کیونکہ اہانت رسول ﷺ کے مرتکب کو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت، سب کو بطور حد سزا دی جائے گی۔ جس طرح حدود کی سزا سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔

شاتم رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں ”الصارم المسلول“ کا حوالہ دیتے ہوئے کونسل نے امام ابن تیمیہ سے ایک واقعہ منسوب کیا ہے کہ انہوں نے ایک عیسائی کا، جس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی، سر تن سے جدا کر دیا تھا۔ اسی طرح مولانا عبد القادر آزاد، صدر علماء کونسل خطیب شاہی مسجد لاہور نے بھی توہین رسالت کے مقدمہ کے دوران سماعت اسی واقعہ کو بیان کیا تھا اور اس کو ”الصارم المسلول“ کی وجہ تصنیف بتلایا تھا، جس کی ہم نے تردید کی تھی۔ کیونکہ تاریخی لحاظ سے یہ قصہ درست نہیں ۔ اصل واقعہ یوں ہے کہ ایک عیسائی نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں دشنام طرازی کر کے کسی بدوی کے گھر میں پناہ لی تھی۔ امام ابن تیمیہ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ اسی وقت اپنے مسند علمی سے اٹھے اور شیخ الحدیث زین العابدین الفارقی کو اپنے ہمراہ لے کر حاکم دمشق کے پاس پہنچے اور ملزم کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا۔ جب شاتم رسول ﷺ اور بدوی طلبی پر حاضر ہوئے تو بدوی نے وہاں موجود لوگوں کو برا بھلا کہنا شروع کیا جس پر ہجوم مشتعل ہو گیا اور اس نے ان دونوں پر سنگ باری کی۔ حاکم وقت نے امام اور شیخ الحدیث کو نقص امن کے الزام میں گرفتار کر کے قید کر دیا۔ بعد میں حاکم دمشق کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے ان دونوں بزرگ شخصیتوں کو باعزت طور پر رہا کر کے ان سے معافی کا طلب گار ہوا، جسے انہوں نے معاف کر دیا۔

(للمولف)

مولانا مودودی اور مسئلہ ارتداد:

مولانا مودودی نے قرآن وسنت اور عمل صحابہ کے براہین قاطعہ کے علاوہ عقلی دلائل سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مرتد سزائے موت کا مستحق ہے۔ مولانا نے پہلے تو قتل مرتد کے بارے میں جو اعتراضات ہوتے رہے ہیں ان کو یکجا کیا ہے اور پھر ہر اعتراض کا مدلل جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے:

”قتل مرتد پر سب سے پہلا اعتراض تو یہ کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی

صفحہ 275

شخص اپنے دین و مذہب کو ترک کردے تو اس کو افہام و تفہیم کے بجائے تلوار کے زور پر ارتداد سے روکا جائے یہ بات آزادی ضمیر کے منافی ہے۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بالجبر اسلام ترک نہ کرنے پر مجبور بھی کر دیا جائے تو وہ دل سے اسلام کا قائل نہیں ہو سکتا اور یہ منافقت ہوگی جو خود اسلام کے لیے خطرناک بات ہے۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر اسلام سے پھر جانے کی سزا موت ہے تو دیگر مذاہب سے آنے والوں کے لیے بھی وہی سزا ہونی چاہیے۔ اگر اس پر دوسرے پیروان مذاہب کی حکومتیں عمل درآمد کریں تو اسلامی دعوت و تبلیغ کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ چوتھا اور بظاہر وزنی اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ارتداد کی سزا اسلام کے اس اعلان کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دین میں جبر و اکراہ نہیں۔ اس طرح یہ صاف دینی تضاد ہے جسے عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی۔

مولانا نے ان اعتراضات کا جواب دینے سے قبل ایک غلط فہمی کو دور کیا ہے جو ان ہی کے الفاظ میں پیش کی جارہی ہے۔

ایک بنیادی غلط فہمی:

حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام کی حیثیت فی الواقع اسی معنی میں ایک ”مذہب“ کی ہوتی‘ جس معنی میں یہ لفظ آج تک بولا جاتا ہے‘ تو یقیناً اس کا ان لوگوں کے لیے قتل کی سزا تجویز کرنا سخت غیر معقول فعل ہوتا‘ جو اس کے اصولوں سے غیر مطمئن ہو کر اس کے دائرے سے باہر نکلنا چاہیں۔ مذہب کا موجودہ تصور یہ ہے کہ وہ مابعد الطبیعی

صفحہ 276

زندگی کے بڑے اور اہم شعبوں پر نہیں پڑتا۔ ایسی رائے کے معاملے میں آدمی کو آزاد ہونا ہی چاہیے۔ کوئی معقول وجہ نہیں کہ امور مابعد الطبیعت کے بارے میں ایک خاص رائے کو اختیار کرنے میں تو وہ آزاد ہو، مگر جب اس کے سامنے کچھ دوسرے دلائل آئیں، جن کی بنا پر وہ سابق رائے کو غلط محسوس کرنے لگے، تو اس کے بدل دینے میں وہ آزاد نہ ہو اور اسی طرح کوئی وجہ نہیں کہ جب ایک طریقہ کی پیروی میں اسے اپنی نجات اخروی کی توقع ہو، تو اسے اختیار کر سکے اور جب وہ محسوس کرے کہ نجات کی امید اس راستہ میں نہیں، کسی دوسرے راستے میں ہے، تو اسے پچھلے راستے کو چھوڑنے اور نئے راستے کے اختیار کر لینے کا حق نہ دیا جائے۔ پس اگر اسلام کی حیثیت یہی ہوتی، جو مذہب کی حیثیت آج کل قرار پا گئی ہے، تو اس سے زیادہ نامعقول کوئی بات نہ ہوتی کہ وہ آنے والوں کے لیے تو اپنا دروازہ کھلا رکھے، مگر جانے والوں کے لیے دروازے پر جلاد بٹھا دے۔

لیکن دراصل اسلام کی یہ حیثیت سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہ اصطلاح جدید کے مطابق محض ایک "مذہب" نہیں ہے بلکہ ایک پورا نظام زندگی ہے۔ اس کا تعلق صرف مابعد الطبیعات ہی سے نہیں ہے بلکہ عبادات اور معاملات سے بھی ہے۔ وہ محض حیات بعد الموت کی نجات ہی سے بحث نہیں کرتا بلکہ حیات قبل الموت کی فلاح و بہتری اور تشکیل صحیح کے سوال سے بھی بحث کرتا ہے اور نجات بعد موت کو اسی حیات قبل الموت کی تشکیل صحیح پر منحصر قرار دیتا ہے۔ مانا

صفحہ 277

جب جی چاہے اندر آئیے اور جب چاہے باہر چلے جائیے۔ یہ کوئی کھیل اور تفریح نہیں ہے جس سے بالکل ایک غیر ذمہ دارانہ طریقہ پر دل بہلایا جائے، یہ تو ایک نہایت سنجیدہ اور انتہائی نزاکت رکھنے والا کام ہے جس کے ذرا ذرا سے نشیب و فراز سوسائٹی اور سٹیٹ کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے بننے اور بگڑنے کے ساتھ لاکھوں کروڑوں بندگان خدا کی زندگیوں کا بناؤ اور بگاڑ وابستہ ہوتا ہے، جس کی انجام دہی میں ایک بہت بڑی جماعت اپنی زندگی و موت کی بازی لگاتی ہے۔ ایسی رائے اور ایسی رائے رکھنے والی جماعت کی رکنیت کو انفرادی آزادیوں کا کھلونا دنیا میں کب بنایا گیا ہے اور کون بناتا ہے کہ اسلام سے اس کی توقع رکھی جائے۔

اس عام فہم غلطی کو دور کرنے کے بعد مولانا نے قتل مرتد کے ان تمام اعتراضات کا جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں جواب دیا ہے۔ جو درج ذیل ہیں:۔

اعتراضات کا جواب:

قتل مرتد کو جو شخص یہ معنی پہناتا ہے کہ یہ محض ایک رائے کو اختیار کرنے کے بعد اسے بدل دینے کی سزا ہے، وہ دراصل ایک معاملہ کو پہلے خود ہی غلط طریقے سے تعبیر کرتا ہے اور پھر خود ہی اس پر ایک غلط حکم لگاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے، مرتد کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اپنے ارتداد سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے کہ سوسائٹی اور سٹیٹ کی تنظیم جس بنیاد پر رکھی گئی ہے، اس کو وہ نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کرتا، بلکہ اس سے کبھی آئندہ بھی یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ اسے قبول کرے گا۔ ایسے شخص کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے لیے اس بنیاد کو ناقابل قبول پاتا ہے، جس پر سوسائٹی اور سٹیٹ کی تعمیر ہوئی ہے، تو خود اس کی حدود سے نکل جائے۔ مگر جب وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کیلئے دو ہی علاج ممکن ہیں: یا تو اسے سٹیٹ میں تمام حقوق شہریت سے محروم کر کے زندہ رہنے دیا جائے، یا پھر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ پہلی صورت فی الواقع دوسری صورت سے شدید تر سزا ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لا یموت فيها ولا يحيى کی حالت میں مبتلا رہے اور اس صورت میں سوسائٹی کے لیے بھی وہ زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی ذات سے ایک مستقل فتنہ لوگوں کے درمیان پھیلتا رہے گا اور دوسرے صحیح و سالم اعضا میں بھی اس کے زہر کے سرایت کر جانے کا

صفحہ 278

اندیشہ ہو گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے موت کی سزا دے کر اس کی اور سوسائٹی کی مصیبت کا بیک وقت خاتمہ کر دیا جائے۔

قتل مرتد کو یہ معنی پہنانا بھی غلط ہے کہ ہم ایک شخص کو موت کا خوف دلا کر منافقانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ دراصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔

ہم ایسے لوگوں کے لیے اپنی جماعت کے اندر آنے کا دروازہ بند کر دینا چاہتے ہیں، جو تلون کے مرض میں مبتلا ہیں اور نظریات کی تبدیلی کا کھیل تفریح کے طور پر کھیلتے رہتے ہیں اور جن کی رائے اور سیرت میں وہ استحکام سرے سے موجود ہی نہیں ہے، جو ایک نظام زندگی کی تعمیر کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ عین حکمت و دانش ہے کہ ہر اس شخص کو، جو اس جماعت کے اندر آنا چاہے، پہلے مطلع کر دیا جائے کہ یہاں سے پلٹ کر جانے کی سزا موت ہے، تاکہ وہ داخل ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لے کہ آیا اسے ایسی جماعت میں داخل ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس طرح جماعت میں آئے گا ہی وہ، جسے کبھی باہر جانا نہ ہو گا۔

تیسرے نمبر پر جو اعتراض ہم نے نقل کیا ہے، اس کی بنیاد بھی غلط ہے۔ معترضین کے پیش نظر دراصل ان ”مذاہب“ کا اور انہی کے پرچار کا معاملہ ہے جن کی تعریف ہم ابتدا میں کر چکے ہیں۔ ایسے مذاہب کو واقعی اپنا دروازہ آنے اور جانے والوں کے لیے کھلا رکھنا چاہیے۔ وہ اگر جانے والوں کے لیے اسے بند کریں گے تو ایک بے جا حرکت کریں گے۔ لیکن جس مذہب فکر و عمل پر سوسائٹی اور سٹیٹ کی تعمیر کی گئی ہو، اسے کوئی معقول آدمی، جو اجتماعیات میں کچھ بھی بصیرت رکھتا ہو، یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ اپنی تخریب اور اپنے اجزائے تعمیر کے انتشار اور اپنی بندش وجود کی برہمی کا دروازہ خود ہی کھلا رکھے۔ کسی مزاحمت کے بغیر خود تبدیل ہونے کے لیے صرف وہی نظام زندگی تیار ہو سکتا ہے، جس کی جڑیں گل چکی ہوں اور جس کی بنیاد میں اپنے استحقاق وجود کا یقین باقی نہ رہا ہو۔

رہا تناقض کا اعتراض تو اوپر کی بحث کو بغور پڑھنے سے بڑی حد تک وہ خود بخود رفع ہو جاتا ہے۔ لا اکراہ فی الدین کے معنی یہ ہیں کہ ہم کسی کو اپنے دین میں آنے کے لیے مجبور نہیں کرتے اور واقعی ہماری روش یہی ہے۔ مگر جسے اگر واپس جانا ہو، اسے ہم پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں کہ یہ دروازہ آمد و رفت کے لیے کھلا ہوا نہیں ہے، لہٰذا اگر

صفحہ 279

آتے ہو تو یہ فیصلہ کر کے آؤ کہ واپس نہیں جانا ہے ورنہ براہ کرم آؤ ہی نہیں۔ کوئی بتائے کہ آخر اس میں تناقض کیا ہے؟ بلاشبہ ہم نفاق کی مذمت کرتے ہیں اور اپنی جماعت میں ہر شخص کو صادق الایمان دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر جس شخص نے اپنی حماقت سے خود اس دروازے میں قدم رکھا، جس کے متعلق اسے معلوم تھا کہ وہ جانے کے لیے کھلا ہوا نہیں ہے، وہ اگر نفاق کی حالت میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ اس کو اس حالت سے نکالنے کے لیے ہم اپنے نظام کی برہمی کا دروازہ نہیں کھول سکتے۔ وہ اگر ایسا ہی راستی پسند ہے، کہ منافق بن کر نہیں رہنا چاہتا، بلکہ جس چیز پر اب ایمان لایا ہے، اس کی پیروی میں صادق ہونا چاہتا ہے، تو اپنے آپ کو سزائے موت کے لیے کیوں نہیں پیش کرتا؟

ہاں اعتراض بظاہر کچھ وزن رکھتا ہے کہ اسلام جب خود اپنے پیروؤں کو تبدیل مذہب پر سزا دیتا ہے اور اسے قابل مذمت نہیں سمجھتا، تو دوسرے مذاہب کے پیرو اگر اپنے ہم مذہبوں کو اسلام قبول کرنے پر سزا دیتے ہیں، تو وہ ان کی مذمت کیوں کرتا ہے؟ لیکن ان دو رویوں میں بظاہر جو تناقض نظر آتا ہے، فی الواقع وہ نہیں ہے، بلکہ اگر دونوں صورتوں میں ایک ہی رویہ اختیار کیا جاتا تو البتہ تناقض ہوتا۔ اسلام اپنے آپ کو حق کہتا ہے اور بالکل خلوص کے ساتھ حق ہی سمجھتا ہے، اس لیے وہ حق کی طرف آنے والے اور حق سے منہ موڑ کر واپس جانے والے کو مساوی مرتبہ پر ہرگز نہیں رکھ سکتا۔ تناقض اس رویہ میں نہیں ہے، البتہ اگر اسلام اپنے آپ کو حق بھی کہتا اور پھر ساتھ ہی اپنی طرف آنے والے اور اپنے سے منہ موڑ کر جانے والے کو ایک ہی مرتبہ میں رکھتا، تو بلاشبہ یہ ایک متناقض طرز عمل ہوتا۔

مجرد مذہب اور مذہبی ریاست کا بنیادی فرق:

اوپر ہم نے قتل مرتد پر اعتراض کرنے والوں کے جو دلائل نقل کیے ہیں اور ان کے جواب میں اپنی طرف سے جو دلائل پیش کیے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے سے ایک بات بالکل واضح طور پر نظر کے سامنے آجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ معترضین مرتد کی سزا پر جتنے اعتراض کرتے ہیں، محض ایک ”مذہب“ کو نگاہ میں رکھ کر کرتے ہیں اور اس کے برعکس ہم اس سزا کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے جو دلائل دیتے ہیں، ان میں ہمارے پیش نظر مجرد ”مذہب“ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا اسٹیٹ ہوتا ہے جو کسی خاندان یا طبقہ یا قوم کی

صفحہ 280

حاکمیت کے بجائے ایک دین اور اس کے اصولوں کی حاکمیت پر تعمیر ہوا ہو۔ جہاں تک مجرد مذہب کا تعلق ہے، ہمارے اور معترضین کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایسا مذہب مرتد کو سزا دینے کا حق نہیں رکھتا، جبکہ سوسائ

صفحہ 281

اسلامی رویہ کی معقولیت:

سائل کا آخری سوال یہ ہے کہ اگر اسلامی حکومت کے دائرے میں تبلیغ کفر کی اجازت نہیں ہے‘ تو عقلی حیثیت سے اس ممانعت کو کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

اس باب میں کوئی بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ جس تبلیغ کفر کی اسلام ممانعت

صفحہ 282

چاہتے ہو تو اس تقاضے کو پورا کرو ورنہ نہ کرو۔ لیکن میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ تمہیں اس راہ کی خطرناکیوں سے بچانے اور اس کام کو تمہارے حق میں سہل بنانے کی خاطر باطل پرستوں کو یہ جواب ”حق“ عطا کروں کہ وہ خدا کے بندوں کو گمراہ کریں اور ایسے راستوں پر انہیں ہانک لے جائیں جن میں مجھے معلوم ہے کہ ان کے لیے تباہی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔“

متذکرہ بالا دلائل و براہین اور حقائق کے بعد کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ توہین رسالت کا جرم ارتداد سے بھی سنگین تر اور ناقابل معافی جرم ہے اور توبہ سے تنقیص رسالت کی حد، جو سزائے موت ہے، وہ ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ یہی معاملہ دوسرے حدود کا بھی ہے کہ چوری اور قذف کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ مولانا مودودی کی گراں قدر تصنیف ”مرتد کی سزا“ جس سے یہ اقتباس لیا گیا ہے۔ انتہائی اہم اور لائق مطالعہ کتاب ہے جس میں اس اسلامی قانون کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا ہے۔

(للمولف)

(باب پنجم)

قانون توہین رسالت صلی اللہ

آج ساری دنیا میں حقوق انسانی ک اسلامی ملکوں میں ان کے شاگرد رشید اور ہیں اس لیے وہ بنیادی انسانی حقوق کو بھ دنیا میں روشناس ہوا پانچ سو سال قبل کرتے رہتے ہیں اور اس کا سہرا وہاں افکار اور خیالات میں انسانی حقوق کا سر مرشد اولین افلاطون نے اپنی ریاست دوسرے تمام شہری ان کے خدمتگار یا پھر سر پر تاج زر رکھا گیا ہے۔ اس کی جم نہیں۔ اپنی کتاب قانون (Laws) میں شرکت کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس ل ڈانڈے کس طرح یونان سے جاملتے ہیں علمی دیانت ہے کہ وہ انسانی حقوق کا سرا ہیں اور جب وہاں حسب خواہش مواد نہ طرف زقند لگاتے ہیں اور میگنا کارٹا (Ma دیتے ہیں، جو طلوع اسلام کے سات سو س علم اور اہل سیاست جانتے ہیں کہ میگن 1215ء میں جاری کیا تھا جس کے ذریعے انگلستان کے درمیان باہمی مفادات کے پایا، جس کی تصدیق خود انسائیکلو پیڈیا آف

صفحہ 283

(باب پنجم)

قانون توہین رسالت ﷺ---عالمی اور ملکی تناظر میں

آج ساری دنیا میں حقوق انسانی کا بڑا چرچا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے دانشور اور اسلامی ملکوں میں ان کے شاگرد رشید اور خوشہ چین چونکہ اسلام کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں اس لیے وہ بنیادی انسانی حقوق کو بھی جن سے انسان اسلام کی بدولت پہلی مرتبہ اس دنیا میں روشناس ہوا پانچ سو سال قبل مسیح یونانی حکیموں کے کھاتہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس کا سہرا وہاں کے فلسفیوں کے سر باندھتے ہیں۔ حالانکہ ان کے افکار اور خیالات میں انسانی حقوق کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ فلسفیوں کے مرشد اولین افلاطون نے اپنی ریاست میں صرف فلاسفہ کو حکمرانی کا حق دیا ہے اور دوسرے تمام شہری ان کے خدمتگار یا پھر زر خرید غلام ہیں۔ کیونکہ صرف حکمران طبقہ کے سر پر تاج زر رکھا گیا ہے۔ اس کی جمہوریہ میں انسانی مساوات کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اپنی کتاب قانون (Laws) میں اس نے غلاموں اور آزاد شہریوں کی اقتدار میں شرکت کی سخت مخالفت کی ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انسانی حقوق کے ڈانڈے کس طرح یونان سے جاملتے ہیں۔ یورپ کے محققین اور مستشرقین کی یہ کیسی علمی دیانت ہے کہ وہ انسانی حقوق کا سراغ لگانے کے لئے قبل مسیح کی تاریخ کو کھنگالتے ہیں اور جب وہاں حسب خواہش مواد نہیں ملتا تو پھر بارہویں صدی عیسوی کے یورپ کی طرف زقند لگاتے ہیں اور میگنا کارٹا (Magna Carta) کو فرد کی آزادی کا چارٹر قرار دیتے ہیں‘ جو طلوع اسلام کے سات سو سال بعد کی پیداوار ہے۔ تاریخ و قانون کے طالب علم اور اہل سیاست جانتے ہیں کہ میگنا کارٹا کی حقیقت کیا ہے۔ اسے کنگ جان نے 1215ء میں جاری کیا تھا جس کے ذریعے طبقہ امرا جو اشرافیہ (Nobility) کہلاتا تھا اور شاہ انگلستان کے درمیان باہمی مفادات کے سلسلہ میں ”کچھ لو“ اور ”کچھ دو“ والا معاملہ طے پایا‘ جس کی تصدیق خود انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا (Encyclopaedia Britannica) کے

صفحہ 284

مصنفین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یہ جاگیردار نوابین کے خود غرضانہ مفادات کے تحفظ کی دستاویز تھی۔“ اس میں انسانی حقوق تو درکنار خود انگلستان کے عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی کوئی شق موجود نہ تھی۔ یہ ہے یورپ کی آزادی کا چارٹر جس پر اسے اتنا فخر و ناز ہے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد طبقہ امراء کو بھی ان مراعات شاہی سے محروم ہونا پڑا کیونکہ میکیاولی (Machiavelli) کے نظریات نے پھر سے شاہی اقتدار کو استحکام بخشنے میں بڑی مدد کی۔ البتہ سترہویں صدی کے آخر میں اقتدار شاہی کے خلاف از سر نو ہلچل شروع ہوئی۔ اس سلسلہ میں جان لاک (John Locke) اور ژاں ژاک روسو (Jean Jacques Rousseoue) کو نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔ روسو کے معاہدہ عمرانی (Du Contract Social) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انقلاب فرانس کی انجیل ہے جس نے عام شہریوں کو جمہوریت کی انقلابی تحریک کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا لیکن اس تغافل عارفانہ کا کیا علاج کہ یورپ کے ان محققین کو پیغمبر اسلام ﷺ کے وہ تمام حقوق انسانی جن کا آپ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل میدان عرفات سے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اعلان فرمایا تھا، علم نہیں۔ حالانکہ حقوق انسانی کا یہی وہ عظیم چارٹر ہے جس سے دنیا سب سے پہلے روشناس ہوئی اور چودہ سو سال کے طویل عرصہ میں یورپ، ایشیا اور افریقہ میں جہاں جہاں بھی اسلامی یا مسلمانوں کی حکومتیں قائم رہیں، وہاں ان بنیادی حقوق انسانی کی روح کار فرما رہی ہے (1)

ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ یورپ ابھی جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، اسلام اسپین میں علم و ہنر کی روشنی پھیلاتا ہوا پہنچا اور اندلس کی درسگاہیں اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور ہوتی گئیں۔ ”جس کا برملا اعتراف چارلس پرنس آف ویلز (Charles Prince Of Wales) نے سال 1993ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیا ہے۔ جس نے عوام میں روح آزادی اور حریت کو بیدار کیا تو انہوں نے اپنے فطری حقوق انسانی کی بازیابی کے لیے وہاں کے مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کیا جس کے نتائج گیارہویں صدی کے بعد ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ روسو نے بھی اسلام کے اسی خرمن سے خوشہ چینی کی تھی۔ شاید یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ روسو نے اسلامی تعلیمات کا بہت گہرا اثر قبول کیا تھا اور اکثر اپنے دوستوں سے ملاقات کرتے ہوئے اسلامی طریقہ سے سلام کرتا تھا۔ اہل کلیسا نے تو اس پر دین مسیحی سے منحرف ہو کر

صفحہ 285

حلقہ بگوش اسلام ہونے کا فتویٰ صادر کیا اور حکومت نے اسے باغی قرار دیا تھا، جس کی پاداش میں اسے جلاوطنی کی زندگی بسر کرنا پڑی تھی اور آخر دم تک وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں پناہ لے کر اپنی جان بچاتا پھرتا رہا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے معاہدہ عمرانی میں اسلامی تعلیمات کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی دیتی تھی، ورنہ یہ بھی کوئی حقیقت پسندانہ معاہدہ نہ تھا بلکہ اسے ایک رومانوی اور افسانوی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس میں بھی زیادہ تر تحفظات کا تعلق فرانس کے باشندوں سے تھا۔ بنی نوع انسان سے اجتماعی طور پر اس کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس کا ایک قول جو ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے ”انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے“ قرآنی آیت ہی کا ایک حصہ ہے جو حیات انسانی کے منفی پہلو سے متعلق ہے لیکن اس آیت کے اثباتی اور روشن پہلو تک اس کی نظر نہیں گئی جس میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں بعثت کا مقصد یہ بتلایا گیا ہے:

”ويضع عنهم اصرهم والاغلل التى كانت عليهم“

(الاعراف: 157)

”اور وہ (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) ان پر سے وہ بوجھ جو ان پر لدے ہوئے تھے اور ان زنجیروں کو جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے اتارتا ہے۔“

اور اس آیت میں خطاب کسی خاص گروہ یا نسل یا قوم سے نہیں بلکہ ساری انسانیت سے ہے۔ اس لئے فرمایا:

قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا الذى له ملك السموت والارض

(الاعراف: 158)

”اے پیغمبر کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اسی خدا کا رسول ہوں جو زمین اور آسمان کی بادشاہت کا مالک ہے۔“

انسان جو غلامی کے بوجھ تلے کراہ رہا تھا اور ناروا بندشوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، اسے خدا کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ہر قسم کی غلامی سے آزاد کیا بلکہ اسے وہ بنیادی حقوق بھی عطا کیے جن سے انسان محروم چلا آ رہا تھا۔ آپ نے دنیا کے عظیم ترین انقلابی مشن کی تکمیل پر اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں دور جاہلیت کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے اپنے دور رسالت اور عہد نو کو علم و حکمت، آزادی و حریت کے نور سے جگمگا دیا

صفحہ 286

اور دنیا کو یہ خوشخبری سنا دی:

"الا کل شئی من امر الجاھلیة تحت قدمی موضوع۔"

(۲)-

"اور دیکھو دور جاہلیت کے وہ تمام دستور اور قانون جن سے حقوق انسانی پامال ہوتے رہے ہیں وہ سب میرے قدموں تلے روندے گئے۔"

پھر انسانی حق مساوات اور احترام انسانی کا اس طرح اعلان فرمایا:

یا ایھا الناس الا ربکم واحد و ان ابا کم واحد لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لا بیض علی اسودو لا لا سود علی الابیض۔" (3)

"اے انسانو! دیکھو تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا اب (یعنی باپ) بھی ایک ہی ہے اس لیے تم ایک اور یکساں ہو۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کسی قسم کی کوئی فضیلت یا برتری حاصل نہیں۔"

سب اولاد آدم ہونے کے رشتے برابر ہیں۔ اس اصلِ عظیم کے اعلان سے قبل انسانی وحدت پارہ پارہ ہو چکی تھی۔ انسان زبان، قوم، ملک، نسل، رنگ اور مذہب کی بنیادوں پر بٹ چکے تھے اور اسی مصنوعی امتیاز پر ہر ایک اپنے آپ کو اعلیٰ و برتر اور دوسرے کو ادنیٰ و کم تر سمجھ کر اسے اپنا زیردست اور غلام بنا لیتا تھا۔ پھر سفید فام لوگ سیاہ فام انسانوں کو صرف رنگ دار مخلوق ہونے کی وجہ سے انہیں ذلیل و خوار سمجھ کر ان پر حکمرانی اپنا حق سمجھتے تھے۔ اس قدیم جاہلیت کی بدترین مثال بیسویں صدی کے دور میں جنوبی افریقہ کی گوری نسل پرست حکومت کی ملعون شکل میں ہمارے سامنے موجود رہی ہے، جہاں تین سو سال کی عظیم قربانیوں کے بعد آزادی کی صبح نمودار ہوئی۔ اسی تمیز رنگ و نسل کے پھنکارتے ہوئے سانپوں کو داعی اسلام ﷺ نے آج سے چودہ سو برس پیشتر اپنے پاؤں تلے کچل دیا تھا۔ آپ ﷺ نے کامل مساوات انسانی قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انسان کنگھی کے دانوں کی طرح برابر ہیں۔ پیغمبر اسلام کا یہی وہ انقلابی اقدام تھا جس نے کائنات کی کایا پلٹ دی۔

آپ ﷺ کا عہد تو بلاشبہ خیرالقرون ہے۔ آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کا

دور بھی عدل ومساوات اور احترام انسانی گراں بار ذمہ داریوں کے باوجود اپنے صرف اتنا روزینہ مقرر کیا جو اس وقت م تھا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ع انتظامیہ کے زیر اثر نہ رہیں بلکہ آزادانہ کرتی رہیں۔

حضرت عمرو بن عاصؓ گورنر مصر ک تو حضرت عمرؓ نے اس کی داد رسی کرتے کوڑے لگوائے اور گورنر مصر کی طرف خ حقوق انسانی کے چارٹر کا اہم ترین بنیادی م آپ نے فرمایا "عمرو! تم نے لوگوں ک تو انہیں آزاد جنا تھا" یہ دراصل نقد ح بن آدم "ہم نے انسان کو احسن تقویم م فضیلت سے سرفراز کیا" جیسے ارشادات با " کا یہی فقرہ اٹھارویں صدی میں روسو کی کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں۔ اس کے ب بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ سال 19 دستاویز تحریر کی تھی۔ سال 1 American Bill of Rights) حقوق کے بل کو معمولی ترامیم کے س (League of Nations) میں شا غلاموں کی تجارت پر پابندیاں عائد کریں ج کار ہے جس کا آغاز اسلام نے کیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ا میں آئی اور سال 1948ء میں اس نے ا متحدہ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہ

صفحہ 287

دور بھی عدل و مساوات اور احترام انسانیت کا مثالی دور ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت کی گراں بار ذمہ داریوں کے باوجود اپنے ساتھیوں کے اصرار پر اپنے لیے بیت المال سے صرف اتنا روزینہ مقرر کیا جو اس وقت کے ایک عام شہری کی گزر بسر کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کیا گیا تاکہ عدالتیں انتظامیہ کے زیر اثر نہ رہیں بلکہ آزادانہ طور پر حقوق انسانی کی نگہداشت اور حفاظت کرتی رہیں۔

حضرت عمرو بن عاصؓ گورنر مصر کے بیٹے نے جب ایک قبطی کو کوڑوں سے پیٹا تھا تو حضرت عمرؓ نے اس کی داد رسی کرتے ہوئے گورنر کے صاحبزادے کو اسی قبطی سے کوڑے لگوائے اور گورنر مصر کی طرف قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ فقرہ کہا جو آج حقوق انسانی کے چارٹر کا اہم ترین بنیادی نکتہ ہے۔

آپ نے فرمایا ”عمرو! تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنانا شروع کیا، ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا“ یہ دراصل لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم و لقد کرمنا بنی آدم ”ہم نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ تخلیق کیا اور اسے کائنات میں تکریم اور فضیلت سے سرفراز کیا“ جیسے ارشادات باری تعالیٰ کی زندہ اور عملی تفسیر تھی۔ حضرت عمر ؓ کا یہی فقرہ اٹھارویں صدی میں روسو کی زبان سے ادا ہوا، جسے اہل یورپ انقلاب فرانس کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے دستور کے بارے میں بہت بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ سال 1776ء میں جیفرسن نے امریکہ کے اعلان آزادی کی دستاویز تحریر کی تھی۔ سال 1791ء میں امریکن کانگریس نے حقوق کامل (American Bill of Rights) منظور کیا۔ پھر فرانس کی قومی اسمبلی نے بھی ان ہی حقوق کے بل کو معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔ سال 1926ء میں لیگ آف نیشنز (League of Nations) میں شامل اقوام نے یہ قرارداد منظور کی کہ وہ آہستہ آہستہ غلاموں کی تجارت پر پابندیاں عائد کریں گی۔ غلامی کو ختم کرنے کا یہ وہی اصول اور طریق کار ہے جس کا آغاز اسلام نے کیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب اقوام متحدہ (United Nations) معرض وجود میں آئی اور سال 1948ء میں اس نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کا اعلان کیا جسے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ منشور تیس (30) شقوں (Articles) پر

صفحہ 288

مشتمل ہے جن میں چار شقیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں جو حسب ذیل ہیں:

یکساں اور برابر ہیں۔

کسی حیثیت سے کسی امتیاز کے بغیر تمام حقوق اور مکمل آزادی کا مستحق ہوگا۔

باقی 26 آرٹیکلز بھی ان ہی چاروں بنیادی نکات کی ضمن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد اسی سال اور پھر سال 1951ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غلامی کے انسداد کے لیے اور مہاجرین اور جلاوطن لوگوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے متعدد قرار دادیں منظور کی ہیں۔ (4)

برطانیہ کے میگنا کارٹا‘ فرانس کے معاہدہ عمرانی‘ امریکہ کے اعلان آزادی اور ان سب سے بڑھ کر اقوام متحدہ کے عالمی منشور کی تمام دفعات کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کا سرچشمہ قرآن کی تعلیمات ہیں اور یہ سب اسی کے نقش ناتمام اور خطبہ حجۃ الوداع کا جو نسل انسانی سے پیغمبر اسلام ﷺ کا الوداعی خطاب ہے‘ کی صدائے بازگشت ہیں۔ قرآن حکیم اور اس خطبہ مبارکہ میں انسان کو نہ صرف ان تمام حقوق کی ضمانت دی گئی ہے بلکہ اسے وہ تمام حقوق بھی مل گئے‘ جن کا براہ راست تعلق انسانی شرف وتکریم سے ہے۔ اسلام کے ان انسانی حقوق کے بارے میں سب سے اہم تر بات یہ ہے کہ یہ قوموں اور حکومتوں کی مرضی کے تابع نہیں بلکہ یہ احکام الٰہی ہیں۔ اس لیے ان میں کسی کو ترمیم یا تنسیخ کا کوئی حق حاصل نہیں۔ نہ ان کو کسی مارشل لاء کے ذریعہ یا ہنگامی حالات کے تحت معطل کیا جاسکتا ہے جو ہر مقام اور ہر زمانہ میں تمام انسانوں کو یکساں طور پر حاصل ہیں۔ چنانچہ یہ تاریخی صداقت ہے کہ یہ تمام حقوق نہ صرف عہد رسالت مآب ﷺ اور دور خلافت راشدہ میں بلکہ مسلمان حکمرانوں کے دور میں بھی اسلامی ریاست کے تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب وملت‘ رنگ ونسل‘ تہذیب وتمدن یکساں اور عملی طور پر حاصل رہے ہیں۔

یورپ‘ امریکہ‘ روس اور دنیا کی دیگر لادینی ریاستوں کے آئین اور دساتیر میں اور

صفحہ 289

اقوام متحدہ کے عالمی منشور اور قراردادوں میں آزادی‘ مساوات‘ انسانی جان و مال‘ عزت و آبرو کے تحفظ اور دیگر تمام انسانی حقوق کے خوش نما الفاظ کی نمائش تو ضرور موجود ہے لیکن عمل سرے سے مفقود‘ بلکہ اقوام غالب اپنی طاقت کے بل بوتے کمزور قوموں کے معاملہ میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہیں اور ساری دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت یورپ کے ایک آزاد خود مختار ملک بوسنیا‘ جو اسی اقوام متحدہ کا باقاعدہ رکن ہے‘ کے خلاف سربیا کے خونخوار درندے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے مسلسل نہتے شہریوں کا‘ جن میں بوڑھے‘ بچے‘ عورتیں‘ سبھی شامل ہیں‘ قتل عام اور نسل کشی کر رہے ہیں جو صرف جنگی جرائم ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف نہایت سنگین‘ بھیانک اور بہیمانہ جرائم ہیں‘ جن کی مثال تاریخ کے تاریک ترین دور وحشت میں بھی نہیں ملتی۔ اس غریب‘ مظلوم اور آفت زدہ ملک کو اقوام متحدہ نے اپنے دفاع کے لیے ہتھیار حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جب کہ دوسری طرف سربیا کی ظالم‘ جارح اور سفاک حکومت کو روس اور اس کے حامیوں کی پشت پناہی حاصل ہے‘ جہاں سے اسے مسلسل اسلحہ اور ہر قسم کی امداد مل رہی ہے اور وہ اپنی تمام ہلاکت سامانیوں کے ساتھ بوسنیا کے تمام شہریوں کو نیست اور نابود کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس انسانیت سوز نسل کشی کے خلاف آج تک کوئی موثر کاروائی نہیں کی۔ معاملہ جب کمزور کا ہو تو پھر یو۔ این کا معیار بدل جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری کے فوراً بعد کشمیریوں کے حق خود ارادیت استعمال کرنے کے اور آزادانہ رائے شماری (Plebisite) کے لئے اقوام متحدہ نے ابھی تک کئی قراردادیں منظور کی ہیں لیکن کشمیری 51 سال سے اپنا یہ حق طلب کر رہے ہیں مگر اس کے جواب میں بھارت نے وہاں کشت و خون کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ بوسنیا کی طرح وہاں بھی دن رات اجتماعی عصمت دری ہو رہی ہے‘ نہتے شہریوں کے گھروں کو آگ لگا کر انہیں زندہ جلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح فلسطین میں کشمیر کی طرح برسوں سے اسرائیل‘ امریکہ کی حمایت سے انسانی حقوق کو نہایت بے دردی سے پامال کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ کا ضمیر بے حس بلکہ مردہ ہوچکا ہے۔ یوگوسلاویہ میں کوسوا (Kosova) مسلمانوں کی بھی یہی حالت زار ہے۔ اقبالؔ نے جمعیت اقوام (League of Nations) کو انجمن تقسیم قبور سے تعبیر کیا تھا۔ یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی لیکن اقوام متحدہ تو اس سے بھی ایک قدم آگے ہے‘

صفحہ 290

جس کے دور میں انسانیت کی لاش بے گور و کفن سر راہ پڑی ہوئی ہے۔ حقیقت میں اقوام متحدہ نام نہاد سپر پاور امریکہ کی آلہ کار بنی ہوئی ہے اور اس کے چشم و ابرو کے اشارے پر بلا پس و پیش ان قرار دادوں پر عمل درآمد ہوتا ہے جو امریکہ کے کاروباری مفادات اور ہوس اقتدار سے وابستہ ہوں۔ چنانچہ اسی اقوام متحدہ نے عراق کے معاملہ میں جس طرح پھرتی دکھائی اور پھر وہاں جو ہنگامہ محشر بپا ہوا‘ وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اس فکر و عمل کے تضاد کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان حقوق کے پیچھے کوئی ایسی قوت نافذہ Sanction موجود نہیں جو گروہی یا قومی مفادات سے ہٹ کر ساری انسانیت کے تحفظات کی نگران ہو۔ انسانی جان و مال کی شق کو لیجئے۔ اقوام متحدہ نے ایک امریکی طیارے کے حادثہ پر صرف شک اور شبہ کی بنا پر لیبیا کے خلاف انتہائی سخت اور ناروا پابندیاں عائد کی ہیں لیکن اسی اقوام متحدہ نے ایرانی مسافر بردار طیارے کے گرائے جانے پر امریکہ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اس پر یہودیوں کا تالمودی قانون سامنے آتا ہے‘ جس کی رو سے ایک غیر اسرائیلی ڈوب رہا ہو تو اس کو بچانا اس قانون کی رو سے درست نہیں بلکہ یہ ان کے نزدیک قومی جرم ہے۔ یہودیوں کے مذہب کی بنیاد چونکہ نسل پرستی پر رکھی گئی ہے اس لیے وہ اس قانون کو جائز سمجھتے ہیں۔ دوسری اقوام کے لئے امریکہ اور اس کے آلہ کار اقوام متحدہ کا طرز عمل بھی اسی تحریف شدہ تالمودی قانون کے زیر اثر معلوم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن نے ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور جس کسی نے ایک انسان کی جان بچالی اس نے گویا ساری انسانیت کو بچالیا۔

من قتل نفسًا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جميعًا ومن احياها فکانما احیا الناس جميعًا

(المائدہ:32)

”جس کسی نے انسان کو جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی انسان کی جان بچالی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچالیا۔“

یہی بنیادی فرق ہے وضعی‘ تحریف شدہ اور فطری یا الٰہی قانون میں جس میں ایک انسانی جان کو اتنا محترم اور حرمت والا بنادیا گیا ہے کہ

صفحہ 291

اسے بچا لینا ساری انسانیت کے تحفظ اور بقا کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے اسلام میں کسی کے بلاوجہ قتل کو سارے انسانوں کا قتل قرار دے کر مجرم کو دنیا میں سزائے موت دی گئی ہے اور آخرت میں ابدی جہنم کا سزاوار بنا دیا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان جو اپنے دین و مذہب پر ایمان رکھتا ہو، کسی کے ناحق قتل کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس جرم کی سزا سے وہ دونوں جہانوں میں کہیں بھی بچ نہیں سکتا۔ اسلام میں کسی شخص کو نسل، قوم، مذہب، رنگ، زبان، سماجی یا سیاسی یا فوجی یا کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف انسان ہونے کے ناطے اسے زندگی کے تحفظ کا لاینفک (Inalienable) حق حاصل ہے۔ اس لیے پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک میں غیر مسلموں یا اقلیتوں کے اسلامی قوانین کے بارے میں جو اندیشہ ہائے دور و دراز ہیں، وہ سراسر بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی ہیں اور قانون توہین رسالت کی وجہ سے تو ان کی زندگیوں کو قانونی اور عدالتی تحفظ دیا گیا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا میں ہر شخص امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ اس لیے وہ فتنہ اور فساد کو جو امن و سلامتی کے دشمن ہیں، قطعاً پسند نہیں کرتا بلکہ شدت سے اس کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کے بارے میں قرآن کا یہ واضح اعلان ہے:

” الفتنۃ اشد من القتل “ ”قتل اگرچہ کہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔“

اس لیے وہ نہیں چاہتا کہ دنیا میں فتنہ و فساد برپا رہے جس کی وجہ سے ہزاروں، لاکھوں انسانوں کا جنگ اور فسادات کی صورت میں قتل عام ہوتا ہے اور جو بچ جاتے ہیں، ان کی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہتی۔ توہین رسالت کی سزا اس لیے ناگزیر ہے کہ یہ شرارت ہمیشہ فتنہ اور فساد کا سبب بنی ہے۔ انسان کی عزت اور تکریم جب اس کا بنیادی حق تسلیم کر لیا گیا ہے تو ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کی توہین اور تذلیل نہ کرے۔ کیونکہ یہ انسان کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے مگر جب یہ معاملہ اس ذات گرامی سے متعلق ہو جس نے خود انسان کو عز و ناموس کا شرف بخشا اور جسے اس کے

صفحہ 292

پیروان مذہب خدا کا فرستادہ پیغمبر مانتے ہوں اور جان و مال، ماں باپ، اولاد، عزت و ناموس اس کے نام پر قربان کرنا اپنے لیے انتہائی سعادت سمجھتے ہوں تو جب ایسی ہستی کی توہین اور اہانت کی جائے تو اس سے دنیا میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی نہ صرف دل آزاری ہوتی ہے بلکہ یہ بات ان کے لیے ناقابل برداشت بھی ہے اور اس سے فتنہ اور فساد برپا ہوتا ہے۔ اس لیے اس فتنہ کو روکنے کے لیے اگر قانون توہین رسالت نافذ العمل کر دیا گیا ہے تو اس سے کون سے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہوئی جس پر اتنا قبل از مرگ واویلا ہو رہا ہے۔ تعصبات سے بلند ہو کر اگر انصاف کی حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کی وجہ انسانی عزت و وقار اور شرف و تکریم کا تحفظ ہوتا ہے۔ انسان اور قومیں ایک دوسرے کے عقیدہ، جذبات اور احساسات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی تعظیم و تکریم کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں۔ اس لیے اس بنیادی انسانی حق کی حمایت اور پاسداری ہر ملک اور ہر قوم کو انفرادی اور اجتماعی طور پر کرنا چاہیے تاکہ یہ دنیا فتنہ و فساد اور شرانگیزیوں سے محفوظ رہے اور اسے امن وامان اور سلامتی نصیب ہو۔

صفحہ 293

یورپ اور قانون توہین انبیاء علیہم السلام

پاپائے روم یا چرچ کے اقتدار میں آنے سے قبل یورپ میں رومن لا (Roman Law) کی عمل داری تھی چونکہ انجیل میں کوئی قانونی احکام موجود نہ تھے لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ (State) پر غلبہ واقتدار حاصل کر لیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالا دستی حاصل ہو گئی۔ توراۃ کے برعکس انجیل صرف پند و نصائح کا مجموعہ تھا، اس لیے یورپ اور ایشیا میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں، وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لیے اہل کلیسا کو رومی قانون اور یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔

موسوی قانون کے تحت قبل مسیحؑ کے انبیاءؑ کی اہانت اور توراۃ کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین (Justinian) کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل 528 تا 565 صدی عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لا کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف (Justice) کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل کی بجائے صرف یسوع مسیحؑ کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی۔ اس کے دور سے قانون توہین مسیحؑ سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور سکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔ (5)

روس میں بالشیوک انقلاب کے بعد جب کمیونسٹ حکومت برسر اقتدار آئی تو سب سے پہلے اس نے دین و مذہب کو سیاست اور ریاست سے کلیتا خارج کر دیا۔ اس کے بعد یہاں سزائے موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیحؑ کے جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ مسیحؑ کی جگہ اشتراکی امپیریلزم کے سربراہ نے لے لی۔ اسٹالن جو رشین امپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا، اس کی اہانت تو بڑی بات تھی، اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی ممالک محروسہ روس کا سنگین جرم بن گیا۔ ایسے سرپھرے لوگوں کے یا تو سر کچل دیے جاتے تھے جس کی مثال لینن کے ساتھی ٹراٹسکی کی خونچکاں موت کی صورت میں موجود ہے، جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزیں تھا یا پھر ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار

صفحہ 294

کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیت ناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دورِ سیاہ کی عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔

برطانیہ میں بھی اگرچہ توہین مسیح کی جسمانی سزائے موت موقوف کر دی گئی تھی، لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لا کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy Act) کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ مناسب ہو گا کہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف (Definition) کی بھی وضاحت کر دی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہو سکے۔

بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں۔ لاطینی اصطلاح میں خداوند خدا کے وجود اور دین مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمی کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لا ڈکشنری (Black's Law Dictionary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر یا تقریر ہے جو خدا، یسوع مسیح، انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعہ قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بدکرداری کو فروغ حاصل ہو۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے، جس میں بتلایا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں، جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا، ج 2، ص 74)

برطانیہ میں توہین مسیح (Blasphemy) کامن لا کے تحت قابل تعزیر جرم ہے، جبکہ بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy Act) میں مجرم کے لیے جسمانی موت کی بجائے شہری موت (Civil Death) کی سزا مقرر ہے جس کی رو سے حکومت ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے۔ بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہو گی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔

معروف جج پولاک کے خیال میں بلاس فیمی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو تادیبی موت (Civil Death) کی سزا نہیں دی گئی مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر جج پولاک (Pollock) کی تردید کی ہے۔ ہم برام ویل جج کی تائید میں

ڈینس لی مون (nis Lemon) حوالہ دیں گے۔ لی مون پر B کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون لکھی ہے۔ جس میں اس نے اہم ترین بات یہ ہے کہ صفا ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب اس نے بطور تفریح کی ہے گستاخان رسالت شروع سے سو سال سے قبل ہی کر دیا تھ دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:

قل اباللہ و قد كفرتم بعد ای

”تم اللہ کے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جائے گا۔“ بلاشبہ لی مون (Lemon) کہ گے نیوز (Gay News) کے طور پر کی ہے جس میں بدنیتی سے کہی گئی ہے لیکن مطابق ملزم کے اس عذر کو میں ”نیت“ یا ”ارادہ“ غیر میں کہی گئی ہے اس کا براہ ر سے پیروان مسیح کے جذبات خدا‘ یسوع مسیح‘ اور بائبل قانون توہین مسیح کے تحت ا جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ

صفحہ 295

ڈینیس لی مون (Denis Lemon) ایڈیٹر گے نیوز (Gay News) کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیں گے۔ لی مون پر 1978ء میں توہین مسیحؑ کے الزام میں برطانیہ کی عدالت میں کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون پر الزام یہ تھا کہ اس نے حضرت مسیحؑ پر ایک مزاحیہ نظم لکھی ہے۔ جس میں اس نے ان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل دکھلایا تھا۔ اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً (Wilfully) یا قصداً (Motive) نہیں کیا تھا۔ یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں۔ یہ وہی عذر ہے جو گستاخان رسالت شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا ذکر کلام الہی میں آج سے چودہ سو سال سے قبل ہی کر دیا تھا اور انہیں یہ بھی جتلایا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:

قل اباللّٰہ و اٰیاتہ و رسولہ کنتم تستہزئون ہ لَا تَعْتَذِرُوْا قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ: 65)

”تم اللہ کے ساتھ۔ اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزا (ہنسی مذاق) کرتے ہو۔ تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا۔ بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے۔“

لی مون (Lemon) کے مقدمہ میں میں صفائی کے وکلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز (Gay News) میں ملزم نے مسیحؑ کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے لیکن جیوری نے متفقہ طور پر قرآن مجید کے بیان کردہ فیصلہ کے مطابق ملزم کے اس عذر کو مسترد کر دیا اور یہ قرار دیا کہ بلاس فیمی یا توہین مسیحؑ کے کیس میں ”نیت“ یا ”ارادہ“ غیر متعلق (Irrelevant) ہیں کیونکہ جو بات جناب مسیحؑ کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت (Facts) سے ہے جس کی وجہ سے پیروان مسیح کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا، یسوع مسیحؑ اور بائبل کی تضحیک، استہزا، توہین اور تنقیص کا باعث ہو وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائق تعزیر جرم ہے۔ اس لئے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت

صفحہ 296

دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کر دیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس طرح اہانت رسول ﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کہ استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ بیسویں صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعہ پوری کر کے دکھلا دی گئی۔ فیصلہ کا اقتباس جو (Blasphemy and Bigotry) کے عنوان سے برطانیہ کے کثیرالاشاعت روزنامہ THE TIMES LONDON میں 27 اگست 1988ء کو ڈیوڈ ہالو وائی (David Hollow Y) نے رپورٹ کیا ہے درج ذیل ہے:

BLASPHEMY AND BIGOTORY

"Sincerity" and an "atmosphere of reverence" are not a sufficient defence against blasphemy. The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of "Gay News", for publishing a poem suggesting that Jesus was a promiscuous homosexual established that the intention, or motive, of an artist is irrelevant. It is a question of fact: is Christian religious feeling "outraged and insulted"?

The law is clear: "Every publication is said to be blasphemous which contains ay contemptuous, reviling, scurrilous or ludicrous matter relating to God, Jesus Christ, or the Bible." The law allows you to attack, subvert or deny the Christian religion, but not in a way that is "indecent" or "intemperate".

راقم کے قیام انگلستان کے دوران یا اس کے بعد مندرجہ بالا فیصلہ کی کوئی تردید نظر سے نہیں گزری۔

امریکہ اور اس کی اکثر سیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیح کو امریکی آئین کے بنیادی انسانی حقوق کے منافی نہیں قرار دیا گیا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے بڑے دور رس فیصلے دیئے ہیں جو ملک عزیز کے معروضی حالات میں نہایت اہم ہیں۔ یہاں ہم امریکی سپریم کورٹ کے ایک معرکۃ الاراء فیصلے سٹیٹ بنام موکس

صفحہ 297

(State Vs. Mokas) سے ضروری اقتباس پیش کریں گے، جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بنیادی حقوق سے بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے جو متفقہ فیصلہ دیا ہے، اس کی تلخیص حسب ذیل ہے:

”اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں لیکن اسلام، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیحؑ کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کی زمام کار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر و رسوخ ہے اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے۔“ فاضل عدالت نے اپنے بصیرت افروز فیصلہ میں تاریخ کے حوالہ سے لکھا ہے ”اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا نہایت اہم رول رہا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقا کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم سے وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیحدہ نہ ہونے والا لازمی حصہ ہے۔“ (6)

فاضل عدالت نے اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے ”صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری، اس کے علاوہ کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب اور عدالتوں کی کارروائی شہادت کا انجیل مقدس پر حلف سے آغاز سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مملکت کے تکون یعنی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا بھی مذہب سے یک گونہ بالواسطہ تعلق ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ریفرنس کا جواب دیتے ہوئے حتمی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق، توہین مسیحؑ کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں۔ (7)

امریکہ کی سپریم کورٹ کے اس معرکۃ الاراء اور تاریخی فیصلہ کا حوالہ ہم نے اپنی سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلہ ظہیرالدین والی اپیل میں آزادی مذہب اور بنیادی حقوق کے ایشو پر دوران بحث دیا تھا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں فیصلہ کے اصل متن کا متعلقہ حصہ انگریزی ہی درج کر رہے ہیں۔

The Relevant portion reads as under:- "It is farthest from our thought to claim superiority for any

صفحہ 298

Legislatures open their he God of the Christian discover and apply the the truth, require justice zes deity. Thus it will be ent of God in each Lest any argument in e fundamental law of our to the very preamble of ine, in order to establish r our mutual defence, ure to ourselves and our owledging with grateful Rule of the Universe in able to the design; and complishment to ordain ". In view of all these or deed which would , or the Holy Scriptures, uld rob official oaths of he foundations of their constitutional religious is nondisturbance of mphatic negative". d, 14A.L.R.871. refutable reasoning of

religious sect, society, or denomination, or even to admit that there exists any distinct, avowed connection between church and state in these United States or in any individual state, but, as distinguished from the religions of Confucius, Gautama, Muhammad, or even Abraham, it may be truly said that, by reason of the number, influence, and station of its devotees within our territorial boundaries, the religion of Christ is the prevailing religion of this country and of this state. With equal truth may it be said that from the dawn of civilization, the religion of a country is a most important factor in determining its form of government, and that stability of government in no small measure depends upon the reverence and respect which a nation maintains towards its prevalent religion.

Within the limits of an opinion it would not be expected that all the tenets of the Christian religion could be expounded, or even enumerated, but for our purpose it will be enough to say that this religion teaches acknowledgement of the exitence, presence, knowledge and power of God, as related to human beings in all their walks of life; this religion teaches dependence upon God; this religion teaches reverence toward God and respect for Holy Scripture. Even as we are writing these words the man who is about to assume the duties of the high and responsible station of President of these United States, following the unbroken custom of more than a century, and to the end that his official vow may be more impressive and binding reverently says, "So help me God", and then pausing,

صفحہ 299

with a kiss. Congress and state Legislatures open their sessions with prayer addressed to the God of the Christian religion. Judicial tribunals, anxious to discover and apply the truth, the whole truth, and nothing but the truth, require justice to be sworn by an oath which recognizes deity. Thus it will be seen that there is acknowledgement of God in each co-ordinate branch of government. Lest any argument in support of the recognition of God in the fundamental law of our state should be overlooked, we point to the very preamble of our Constitution: "We, the people of Maine, in order to establish justice, insure tranquility, provide for our mutual defence, promote our common welfare, and secure to ourselves and our posterity the blessings of liberty, acknowledging with grateful hearts the goodness of the Sovereign Rule of the Universe in affording us an opportunity so favourable to the design; and imploring His aid and direction in its accomplishment to ordain and establish the followin Constitution". In view of all these things, shall we say that any word or deed which would express the God of the Christian religion, or the Holy Scriptures, "to contempt and ridicule", or which would rob official oaths of any of their sanctity, thus undermining the foundations of their binding force, would be protected by a constitutional religious freedom whose constitutional limitation is nondisturbance of the public peace? We register a most emphatic negative".

State V. Mockus, 113 A, 39, 42, 120 ME. 84, 14A.L.R.871.

No more argument is required after the irrefutable reasoning of

صفحہ 300

American Supreme Court to prove the law of contempt of the Holy Prophet (PBUH) to be justifiable in Pakistan.

یورپ کے قانون داں بلاس فیمی کے قانون کی توجیہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ اس قانون کا محرک بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذہب پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ کے مترادف ہے۔ ان کی رائے میں اسی وجہ سے اکثر سیکولر ریاستوں میں بھی بلاس فیمی کو قابل تعزیر جرم بنا دیا گیا۔

مقننین کی اس منطقی توجیہ اور امریکہ کی سپریم کورٹ کے ان ناقابل تردید دلائل کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ مملکت خداداد پاکستان‘ جسے غلامان محمد عربی ﷺ نے علیحدہ قومیت کی بنیاد پر حاصل کیا تھا‘ جہاں ریاست کا سرکاری مذہب اسلام ہے‘ جہاں پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ شرع محمد ﷺ کے خلاف کوئی قانون سازی کرے‘ نہ ہی عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسول ﷺ کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کرے اور نہ ہی انتظامیہ کو شرع پیغمبر ﷺ سے سر مو اختلاف کی جسارت ہو سکتی ہے‘ تو ایسے میں کیا جمہوریہ اسلامیہ پاکستان میں ہر کسی کو یہ کھلی اجازت ہے کہ وہ مسلمانوں کے آقا و مولا سرکار ختمی مرتبت ﷺ جن کے نام و ناموس پر مسلمان اپنی جان و مال اور ہر چیز قربان کرنے کو حاصل حیات سمجھتا ہے‘ کی شان میں گستاخی کرے اور قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔

تاریخ کی یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ ماضی میں برطانیہ‘ امریکہ‘ روس اور یورپ کے کسی ملک میں بھی جب تک چرچ اور سٹیٹ‘ دین اور ریاست ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے‘ اس وقت تک ان سارے ملکوں میں چرچ کو مملکت پر برتری حاصل تھی اور وہاں یسوع مسیح کی پرستش ہوتی رہی اور اس کے درپردہ کلیسا کو ملک کے سیاہ و سفید پر اقتدار کلی حاصل تھا‘ جس نے نشہ اقتدار میں بدمست ہو کر انسانیت پر لرزہ خیز مظالم کیے‘ جس کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں چرچ اور مملکت‘ دین اور سیاست کی تفریق عمل میں آئی۔ اس لیے ان ملکوں نے سیکولر یعنی لادینی طرز حکومت کو اپنا لیا۔ اس کے باوجود ذوق پرستش ختم نہ ہو سکا۔ اور اس نے ایک نئی صورت اختیار کرلی۔ اب یسوع مسیح کی بجائے ریاست کو فیٹش (Fetish) یعنی پوجا کی شے بنا لیا گیا اس لیے دنیا میں جہاں جہاں بھی سیکولر حکومتیں قائم ہوئیں‘ وہاں ریاست کی مخالفت کو سنگین جرم بغاوت اور

صفحہ 301

غداری قرار دیا گیا۔ آج دنیا کے تمام ملکوں میں خواہ وہ سیکولر ہوں یا غیر سیکولر جرم بغاوت کا قانون موجود ہے، جس کی سزا سزائے موت مقرر ہے۔ جو لوگ اس جرم کے الزام میں ماخوذ ہوں، انہیں گولیوں سے اڑا دیا جاتا ہے یا پھر انہیں تختہ دار پر کھینچا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی انہیں گیس چیمبرز، الیکٹرک چیئر میں بٹھا کر اذیت ناک طریقہ سے مار دیا جاتا رہا ہے اور جس ملک میں اس جرم کی سزا عمر قید ہے، وہاں ایسے ملزموں کو عقوبت خانوں میں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے بند کر دیا جاتا ہے، مگر اس قانون کے خلاف آج تک کسی نے لب کشائی نہیں کی، تو پھر کیا پاکستان ہی میں، جو اس محسن انسانیت ﷺ کی نسبت غلامی کی وجہ سے معرض وجود میں آیا اور جن کا نام نامی ہی اس ملک کے قیام اور بقا کا ضامن ہے، اس کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف قانون توہین رسالت، قابل اعتراض قانون ہے! قانون توہین رسالت پر اعتراض دراصل دین و مذہب بلکہ خود اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست سے یکسر انکار ہے۔

صفحہ 302

اسلامی ملکوں میں قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

قبل ازیں ہم نے شاتم رسول کے بارے میں قرآن و حدیث اور ائمہ فقہ کے احکام بیان کرتے ہوئے محدثین، فقہا اور علماء کی تحقیق و اجتہاد کا ذکر مختلف ادوار کے حوالہ سے کیا ہے، اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، وہاں شاتم رسول کو سزائے موت بطور حد دینے کا قانون ملک کے قانون عام (Common Law) کے طور پر نافذ رہا ہے۔ چنانچہ حجاز، شام، عراق، مصر، سوڈان، مراکش، سپین، ترکی، سمرقند، بخارا، ایران، افغانستان اور ہندوستان میں بھی جب تک اسلامی قانون نافذ رہا ہے، شاتم رسول کو سزائے موت بطور حد دی جاتی رہی اور کسی مسلک یا مذہب اور مکتب فقہ کے گروہ یا جماعت نے اس سے اختلاف نہیں کیا اور مسلمہ طور پر یہ مذہب جمہور چلا آ رہا ہے۔ دیگر پیروان مذاہب و ادیان نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی کیونکہ قرآن اور اسلام کی تعلیمات تو یہ رہی ہیں کہ تمام انبیا اور پیغمبران مذاہب میں کوئی فرق و امتیاز نہیں، البتہ فضیلت اور اتمام نعمت کا معاملہ اور ہے۔ اسلام تو اپنے پیروان مذہب کو اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ وہ دیگر مذاہب و ادیان کے معبودوں تک کو، جو معبود حقیقی نہیں، برا بھلا نہ کہیں تاکہ انہیں خدائے بزرگ و برتر اور پیغمبر برحق کی شان میں گستاخی کا موقع نہ مل سکے۔ اس کے باوجود اگر کوئی بدبخت پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام یا کسی اور مذہب کے فرستادہ پیغمبر کی توہین اور تنقیص کرتا ہے، تو اسلام نے اس کے لیے جائز طور پر سزائے موت تجویز کی ہے۔

یورپ میں جب مسلمانوں کی حکومت سپین میں قائم ہوئی، تو وہاں کے عام شہریوں کو کلیسا اور پادریوں کے خود ساختہ نام نہاد مذہبی قوانین کی سخت گیری سے نجات ملی اور اس کے بجائے اسلام کے عادلانہ اور فلاحی نظام کی بدولت انہیں خوش حالی، تعلیم و تمدن اور امن و سلامتی نصیب ہوئی۔ لیکن چونکہ اہل کلیسا کے ہاتھوں سے اقتدار جاتا رہا، اس لیے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے خلاف آتش انتقام بھڑک اٹھی، جس نے انہیں پاگل کر دیا۔ اگر وہ مسلمانوں کی حکومت یا ان کے نظام حکومت پر تنقید کرتے یا اس کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کرتے، تو حکومت وقت اسے نظر انداز کر دیتی کیونکہ خلفائے راشدین اور مسلمان حکمرانوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی ذات پر حملہ

صفحہ 303

کرنے والوں کو معاف کرتے رہے ہیں، جس کا عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں کو بخوبی علم تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے اگر کوئی چیز ناقابل برداشت ہے تو وہ ان کے آقا و مولا پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں گستاخی ہے‘ اس لیے سپین کے پادری اور ان کے حواریوں نے ایک باقاعدہ منظم سازش کے تحت شماتت رسول ﷺ کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس سلسلہ میں جناب سید سلطان محمد شاہ نے تاریخی حوالوں سے ایک مبسوط مقالہ ”سپین میں تحریک شماتت رسول ﷺ“ لکھا ہے۔ جس سے متعلقہ اقتباس صاحب مضمون کے شکریہ کے ساتھ نذر قارئین ہے۔ اس مقالہ کا ماخذ زیادہ تر لین پول اور ڈوزی جیسے متعصب عیسائی مورخین کی تصانیف ہیں، جن میں واقعات کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان مورخین نے اسپین کے مسلمان حکمرانوں کی رواداری، عدل گستری، اسلامی مساوات اور ان کے دور میں علوم و فنون، تہذیب و تمدن، فلسفہ اور سائنس کے فروغ کو تسلیم کیا ہے مگر پھر بھی اسلام کے خلاف ان کی زہر ناکی نمایاں ہے۔

سپین میں تحریک شماتت رسول (ﷺ):

”مسلمان اندلس میں حکمران ہوئے تو انہوں نے عیسائیوں سے رواداری کا سلوک کیا۔ عبدالرحمٰن الاوسط انتہائی رحم دل حکمران تھا۔ اس کے عہد میں سپین میں بہت سے نصرانی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ مسلمانوں کے عمدہ اخلاق نے عیسائیوں کو بہت متاثر کیا اور وہ عربی زبان اور اسلامی تمدن کی طرف مائل ہوگئے۔ نصرانی پادریوں کو اس پر سخت غصہ اور رنج ہوا۔ اسی زمانے کا ایک متعصب عیسائی الوارو رقمطراز ہے:

”میرے ہم مذہب عیسائی عربوں کی شاعری اور افسانوں سے حظ اٹھاتے ہیں۔ وہ مسلمان فقیہوں اور فلسفیوں کی کتابیں مطالعہ کرتے ہیں۔ اس غرض سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس لیے کہ صحیح اور نفیس عربی لکھنی آجائے۔ پادریوں کو چھوڑ کر آج کون سا عیسائی ہے‘ جو کتب مقدسہ کی تفسیریں لاطینی زبان میں مطالعہ کرتا ہو۔ کون سا عیسائی ہے‘ جو انجیل یا انبیاء اور حواریوں کے حالات پڑھتا ہو۔ افسوس کہ ایسے نوجوان عیسائی، جو ذہانت اور لیاقت میں اونچا درجہ رکھتے ہیں‘ ان

صفحہ 304

کو سوائے عربی کے کسی اور زبان سے واقفیت نہیں۔“ (8) جونہی عیسائیوں میں مشرقیت بڑھتی گئی، پادریوں کی تشویش میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مسلمانوں کے خلاف ان کے نفرت بھرے جذبات بڑھتے گئے۔ امیر عبدالرحمن کی رواداری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شماتت رسول (ﷺ) کی تحریک شروع کی۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے لین پول لکھتا ہے: ”اندلس میں عیسائیوں کو اپنے مذہبی مراسم آزادی سے انجام دینے کی جو رعایتیں حاصل تھیں، ان کی طبائع کی کج روی سے اس کا عجیب برعکس قسم کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ اندلس کے پادری، کلیساؤں کے پچھلے اقتدار کو بحال کرنے کے خواہاں تھے، لیکن اسلامی حکومت کی اس روادارانہ روش سے ان کو عیسائیوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کا موقع نہ مل سکتا تھا، اس لیے انہوں نے چند غالی مسیحیوں میں یہ خیالات پیدا کیے کہ مذہب کی اصل روح تکلیفیں اٹھانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے حکمرانوں کو مشتعل کر کے انسانی جسم اور گوشت پوست کو تکلیفیں پہنچائی جائیں تاکہ روح کا تزکیہ و تقدیس ہو سکے۔ اس تحریک کا بانی قرطبہ کا ایک راہب یولوجیس تھا۔ وہ مجاہدے کی راہبانہ زندگی کی وجہ سے عیسائیوں میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس نے چند نوجوانوں میں فدائیت کا جذبہ پیدا کیا کہ اپنی روح کو پاک کرنے کیلئے اس نئے دین اسلام اور اس کے داعی (علیہ الصلوۃ والسلام) پر سب و شتم کریں۔ اسلامی قانون کی رو سے اسلامی حکومت میں شاتم رسول (ﷺ ) کی سزا قتل ہے۔ گویا یہ نوجوان حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیروی کریں گے اور اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لیے صلیب پر چڑھ جائیں گے۔“(9) ”امیر (عبدالرحمن) کے عہد دولت کے آخری ایام عیسائیوں پر (ان کی ناپاک جسارت کے سبب) سختی اور تشدد کی وجہ سے بہت برے گزرے۔ عیسائی مذہبی دیوانے، بے ہودہ شہرت اور مفروضہ قربانی کی خاطر مسجدوں کو ناپاک بنا دیتے اور نبی اکرم ﷺ کی شان عالی میں بے

ہودہ باتیں کہتے۔ مخبر نہ ہوا۔ ان واقعات سے رخصت ہوئے۔

”شماتت رسول میں شروع ہوئی اور عہد میں اپنے انجام ارتکاب کرنے والو فرمان جاری کیا تھا۔ 246 ہجری (860ء اس دوران بہت سے کے بقول 851ء کے موسم کی نیند سلا دیا گیا۔ ہیرنڈلیو ذکر کرتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا قتل کی جانے کا تذکرہ ملتا ۔ اسلام ﷺ کی بے ادبی کر اب ان بدبختوں کا برباد کرلی۔

یولوجیس:

اندلس میں چلائی جا تھا۔ وہ قرطبی خاندان کا آد اسی قدر اسلام سے عداوت ہی تھا) جس وقت مسجد کے تھا اور داؤد نبی کا یہ زبور کیونکہ دیکھ تیرے دشمن سر اٹھایا ہے۔“ یولوجیس

صفحہ 305

ہودہ باتیں کہتے۔ سختی سے کام لیا گیا اور نرمی سے بھی لیکن یہ سلسلہ بند نہ ہوا۔ ان واقعات نے امیر کی صحت پر برا اثر ڈالا اور وہ 852ء میں دنیا سے رخصت ہوئے۔“ (10)

”شتم رسول ﷺ کی یہ تحریک امیر عبدالرحمن الاوسط کے دور میں شروع ہوئی اور اس کے فرزند ارجمند امیر محمد بن عبدالرحمن کے عہد میں اپنے انجام کو پہنچی۔ دونوں باپ بیٹوں نے توہین رسول ﷺ کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے شرعی قانون کے مطابق سزائے موت کا فرمان جاری کیا تھا۔ یہ تحریک 234 ہجری (850ء) میں شروع ہوئی اور 246 ہجری (860ء) میں ختم ہوئی۔“ (11)

اس دوران بہت سے شاتمان مصطفیٰ (ﷺ) کو واصل جہنم کیا گیا۔ سٹینلے لین پول کے بقول 851ء کے موسم گرما کے دو مہینے سے کم عرصے کے اندر گیارہ گستاخوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ہیرلڈ لیور مور تعداد بتائے بغیر بہت سے عیسائیوں کے قتل کیے جانے کا ذکر کرتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں 53 افراد کے شتم رسول (ﷺ) کی پاداش میں قتل کیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔ این میری شمل بھی عیسائی گستاخوں کی دانستہ طور پر پیغمبر اسلام ﷺ کی بے ادبی کرنے کی سزا میں قتل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اب ان بدبختوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے جھوٹی شہرت کے لیے اپنی آخرت برباد کرلی۔

یولوجیس:

اندلس میں چلائی جانے والی تحریک شتم رسول (ﷺ) کا بانی پادری یولوجیس تھا۔ وہ قرطبی خاندان کا آدمی تھا۔ یہ خاندان جس قدر عیسائی مذہب سے شغف رکھتا تھا‘ اسی قدر اسلام سے عداوت رکھنے میں مشہور تھا۔ یولوجیس کا دادا (اس کا نام بھی یولوجیس ہی تھا) جس وقت مسجد کے مینار سے موذن کی آواز سنتا تھا‘ تو اپنے جسم پر نشان صلیب بناتا تھا اور داؤد نبی کا یہ زبور گانے لگتا تھا۔ ”اے خدا! چپ نہ ہو۔ اے خدا! چین نہ لے‘ کیونکہ دیکھ تیرے دشمن ادھم مچاتے ہیں اور ان لوگوں نے جو تجھ سے کینہ رکھتے ہیں‘ سر اٹھایا ہے۔“ یولوجیس کی تعلیم شروع ہی سے اس غرض سے ہوئی تھی کہ پادری بنے۔

صفحہ 306

خانقاہ سنٹ زولوس کے پادریوں کی شاگردی میں اس نے رات دن اس قدر محنت کی کہ اپنے ہم مکتبوں ہی سے نہیں بلکہ استادوں سے بھی (مسلم دشمنی میں) بڑھ گیا۔ اس کے بعد وہ پوشیدہ طور پر قرطبہ کے مشہور و معروف مسیحی علماء بالخصوص رئیس راہبان اسرا کے درس میں شریک ہونے لگا، جو انتہائی متعصب اور اسلام کا بدترین دشمن تھا۔ اس نے یولو جیس پر اپنا اثر دکھایا اور اسی رئیس راہبان نے اس کے دل میں اسلام کی طرف سے وہ عداوت پیدا کر دی جو بعد میں یولوجیس کی طبیعت کا خاصا ہو گئی۔

یولوجیس شروع میں سنٹ زولوس کے گرجا میں شماس کے عہدے پر مقرر ہوا، پھر وہاں کا پادری ہو گیا۔ عیسائی اس کی نیکیوں کی تعریف کرنے لگے۔ یہ بدبخت جہاں پیغمبر اسلام ﷺ سے عداوت رکھتا تھا، وہاں جب بھی کوئی مہوش اور پری جمال چہرہ دیکھتا، اس کی زلف پر پیچ کا اسیر ہو کر رہ جاتا۔ پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے کئی موقعوں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یولوجیس دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ لکھتا ہے ”راہبات کی خانقاہوں کا جاکر معائنہ کرنے میں اس کو خاص لطف حاصل ہوتا تھا“۔ ایک اور مقام پر لکھتا ہے ”باوجود اس سخت اور افسردہ زندگی کے، عشق مجازی کی ایک نازک شعاع نے اس کے دل کو روشن کر دیا ۔“

قرطبہ کے اسی پادری نے 850ء میں سر عام پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گستاخی اور بے ادبی کرنے کی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ امیر عبدالرحمٰن کا دور حکومت تھا۔ یولو جیس نے لاطینی زبان میں کسی عیسائی کی لکھی ہوئی پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کی کتاب کا مطالعہ کیا، جس میں معجزات مصطفیٰ ﷺ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس سے اس کے دل میں حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے خلاف نفرت میں اور اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اتفاق سے اس کی ملاقات رسول اکرم ﷺ پر سب و شتم کرنے کی سزا میں کوڑے کھانے والی فلورا سے ہو گئی۔ پہلی ملاقات ہی میں اس نے یولوجیس کو اپنے دام محبت میں اسیر کرلیا۔ ایک خط میں پہلی ملاقات اور کوڑوں کے زخموں کا ذکر کرتے ہوئے یولو جیس اپنی محبوبہ فلورا کو لکھتا ہے۔

”ایک زمانہ تھا کہ تم نے اپنی مجروح گردن، جس پر تازیانے کے نشان تھے، مجھے دکھانے کی عزت بخشی تھی۔ افسوس اس وقت وہ خوبصورت لمبے لمبے بال، جن میں حسین گردن چھپی رہتی تھی، موجود نہ

صفحہ 307

تھے۔۔۔ نرمی سے میں نے اپنا ہاتھ تمہارے زخموں پر رکھا۔ اے کاش مجھ کو یہ مسرت نصیب ہوتی کہ ایک بوسے سے ان زخموں کو اچھا کر دیتا۔ مگر ہمت نہ پڑی۔۔۔ جس وقت تم سے رخصت ہوا تو زمین پر میرے قدم اس طرح پڑتے تھے جیسے کوئی خواب میں چلتا ہوا اور میری آہوں کا یہ حال تھا کہ بند ہونا نہ جانتی تھیں۔“

یہ ہے اس رسوائے زمانہ شخص کا ذاتی کردار، جو خلاصہ موجودات اور دیباچہ کائنات ﷺ جیسی ہستی کے متعلق نازیبا باتیں گھڑتا اور عیسائیوں کو ان کی توہین و تضحیک پر اکساتا تھا۔ امیر عبدالرحمٰن نے تحریک شماتت رسول (ﷺ) کے سرگرم ارکان کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ ان میں یولوجیس بھی تھا۔ جب فلورا کو بھی زنداں میں ڈالا گیا، تو یہاں بچھڑے دلوں کو ایک بار پھر وصل کی گھڑیاں میسر آئیں، جس کا یولوجیس بے چینی سے منتظر تھا۔ یہاں اس نے اپنا رسالہ ”یادگار شہداء“ مکمل کیا اور 24 نومبر 851ء کو اپنی محبوبہ فلورا کے قتل پر ایک پردرد گیت لکھا۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن کی وفات سے ایک سال قبل اسے رہا کیا گیا، لیکن یہ اپنی مجنونانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور عبدالرحمٰن کے فرزند کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔ اس کے قتل کے بعد اس کی چلائی ہوئی تحریک خود بخود ختم ہو گئی۔ لیور مور نے لکھا ہے کہ یولوجیس کا 859ء میں سر قلم کیا گیا۔ (12)

کیمبرج میڈیول ہسٹری ج سوم ص 416۔417 میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔

مطالعہ مزید کے لیے ول ڈیوراں ”عہد مذہب“ صفحات 300۔301 رابن ہارٹ ڈوزی ہسپانوی اسلام صفحہ 268

فلورا:

فلورا قرطبہ کی ایک نوجوان اور حسین دوشیزہ تھی۔ اس نے تحریک شماتت رسول ( ﷺ ) میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خود کو جہنم کا ایندھن بنا کر اپنی جوانی کی خواہشات کو دل میں بسائے یولوجیس کی آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئی۔ فلورا کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی۔ باپ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا۔ ماں نے اسے عیسائیت کی تعلیم دی۔ بائبل کی اس عبارت سے کہ ”وہ شخص جو لوگوں کے سامنے میرا انکار کرے گا، میں اس باپ کے سامنے، جو آسمان میں ، اس سے انکار کروں گا“ اس کے جذبات

صفحہ 9

برانگیختہ ہوئے۔ وہ بھائی کے گھر سے نکل بھاگی اور عیسائیوں میں جاکر پناہ گزین ہوگئی۔ جب اس کے فرار ہونے کی ذمہ داری عیسائی پادریوں کے سر ڈالی گئی تو وہ گھر واپس آئی اور دین مسیحی قبول کرنے کا اعلان کیا۔ بھائی نے اس کو سمجھایا مگر وہ عیسائیت پر قائم رہی۔ اس کا معاملہ شرعی عدالت میں لایا گیا۔ اس کے بھائی نے قاضی سے کہا ”یہ میری بہن ہے۔ ہمیشہ اسلام کی عزت کرتی تھی اور میرے ساتھ نماز روزہ کرتی تھی مگر عیسائیوں نے اسے گمراہ کر دیا۔ ہمارے رسول مقبول ﷺ کی طرف اس کے دل میں نفرت پیدا کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ عیسیٰ خدا ہے۔“ قاضی نے فلورا سے پوچھا ”تمہارا بھائی جو کچھ کہتا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ فلورا نے جواب دیا: قاضی! کیا تو اس بے دین کو میرا بھائی کہتا ہے؟ یہ میرا بھائی نہیں ہے، میں اس کو اب اپنا بھائی نہیں سمجھتی۔ جو کچھ وہ کہتا ہے، سب جھوٹ ہے۔ میں کبھی مسلمان نہ تھی۔ میں نے بچپن سے ہمیشہ مسیح پر ایمان رکھا اور مسیح ہی میرا خدا ہے۔“

قاضی نے فلورا کی کم سنی کے باعث اس کے قتل کا حکم جاری کرنے کے بجائے اس کی گردن پر کوڑے لگوائے اور اسے بھائی کے حوالے کر کے کہا ”اس کو دین برحق کی تعلیم دو۔ اگر پھر بھی وہ اس حالت کو نہ بدلے تو اسے میرے پاس لاؤ۔“ اسے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ چند دن بعد وہ چھت پر چڑھ کر وہاں سے گلی میں کود گئی اور ایک عیسائی کے گھر میں روپوش ہوگئی۔ یہیں اس کی ملاقات یولوجیس پادری سے ہو گئی، جو اس کے عشق میں گرفتار ہوا۔ کافی عرصہ کے بعد ایک دن کلیسا گئی اور وہاں میری نامی عیسائی لڑکی سے ملی۔ وہ بھی اس کی طرح آنحضرت ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ کہتی تھی، چنانچہ دونوں قاضی کے پاس آئیں اور آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات پے درپے کہے۔ قاضی نے ان کو باز رہنے کی تلقین کی۔ پھر گرفتار کر کے قید خانہ میں بھیج دیا جہاں یولوجیس پہلے ہی قید تھا۔ یہ دونوں لڑکیاں گستاخی کا ارتکاب کرتی رہیں، چنانچہ 24 نومبر 851ء کو انہیں قتل کر دیا گیا۔ لین پول اس کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ فلورا اگر کسی جائز مقصد پر اپنی جان قربان کرتی تو اس سے زیادہ ناموری کی مستحق ہوتی۔ (13)

اسحاق راہب:

اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا۔ ابھی نو عمری

تھا کہ امیر عبدالرحمٰن کے دربار میں اس کو دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوس کی مس پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وج جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ ایک د سامنے آکر کہا ”میں آپ کا دین قبول ہدایات کریں۔“ قاضی اس سے خوش ہو برملا حضور نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کی قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدال جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے۔ چنا

سانچو:

اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ا عبدالرحمٰن کی محافظ فوج کا ایک سپاہی ا کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر واصل ج کتاب کے ترجمے میں اس کا نام سانچو

جرمیاس اور چھ راہب:

سانچو کے قتل کے بعد اتوار ک کا چچا جرمیاس اور دوسرا ایک راہب تھا۔۔۔ قاضی کے سامنے آئے اور الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پھر پیغمبر ا چھ کے چھ قتل کر دیئے گئے لین پول ﷺ) کے ارتکاب کرنے اور قتل

سیسی نند:

سینٹ اکیس کلوس کے گر الصلوٰۃ والتسلیم کی گستاخی کا مرتکب

صفحہ 309

تھا کہ امیر عبدالرحمٰن کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی۔ لیکن 24 برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا، جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آکر کہا ”میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں۔ مہربانی کر کے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں۔“ قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا تو اس نے برملا حضور نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی برا بھلا کہا۔ قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدالرحمٰن نے اس گستاخ رسول (ﷺ) کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے۔ چنانچہ جون 851ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی۔ (14)

سانچو:

اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک افرنجی عیسائی نے، جس کا نام سانچو تھا اور امیر عبدالرحمٰن کی محافظ فوج کا ایک سپاہی اور پادری یولوجیس کا شاگرد تھا، پیغمبر اسلام (ﷺ) کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر واصل جہنم ہوا۔ رائن ہارٹ ڈوزی کے علاوہ لین پول کی کتاب کے ترجمے میں اس کا نام سانچو لکھا ہے۔ شاید اصل نام سینچو تھا۔ (15)

جرمیاس اور چھ راہب:

سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن (7 جون 851ء) چھ راہب جن میں ایک اسحاق کا چچا جرمیاس اور دوسرا ایک راہب جابنتوس تھا، جو اپنے حجرے میں ہمیشہ تنہا پڑا رہتا تھا۔۔۔ قاضی کے سامنے آئے اور کہا ”ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سانچو اور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں اور پھر پیغمبر اسلام (علیہ الصلوٰۃ والسلام) پر سب و شتم کرنے لگے۔ یہ چھ کے چھ قتل کر دیئے گئے۔ لین پول نے بھی ان کے نام بتائے بغیر ان کے توہین رسول ( ﷺ) کے ارتکاب کرنے اور قتل کر دیئے جانے کا ذکر کیا ہے۔ (16)

سیسی نند:

سنٹ ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری، جس کا نام سیسی نند تھا، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی گستاخی کا مرتکب ہو کر واصل جہنم ہوا۔ (17)

صفحہ 310

پولوس:

پولوس سنت ایکس کلوس کے گرجا میں شماس تھا۔ سیسی نند نے قتل ہوتے وقت اسے اس ذلت کی موت مرنے کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ یہ لعین بھی سیسی نند کے قتل کے چار دن بعد جولائی کو حضور سید عالم ﷺ کے خلاف نازیبا کلمات کہنے کے باعث قتل کر دیا گیا۔ (17)

تھیودو میر:

تھیودو میر شہر قرمونہ کا ایک جوان راہب تھا۔ توہین رسول (ﷺ) کا مرتکب ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل ہوا۔ (18)

آئیزک:

آئیزک عیسائی نے بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لیے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کئے گئے اس نے بھی سب و شتم شروع کر دیا۔ قاضی کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو گیا۔ اس نے اس ذلیل کو ایک طمانچہ رسید کر کے کہا کہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے۔ اس لیے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دین داری کے لیے ستائے گئے۔ آسمان کی بادشاہت انھی کے لیے ہے۔ اس شاتم رسول (ﷺ) کو بھی قتل کر دیا گیا۔ شاید آئیزک ، جرمیاس اور جانتوس کا ساتھی تھا۔ کیونکہ پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی نے میری کے ذکر میں آئیزک کو مذکورہ بالا چھ راہبوں میں شمار کیا (رابن ہارٹ ڈوزی ہسپانوی اسلام۔)

میری:

میری آئیزک کی بہن تھی جو قرطبہ کی ایک مسیحی خانقاہ کی راہبہ تھی۔ اتفاقاً اس کی ملاقات فلورا سے ہو گئی۔ دونوں نے قاضی کے سامنے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں بے ادبی کی۔ میری نے قاضی سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں ان چھ ”شہیدوں“ میں سے ایک کی بہن ہوں جو تیرے پیغمبر (ﷺ) کو دشنام دے کر قتل ہوا ہے۔ پھر اس نے بھی دشنام طرازی کی۔ چنانچہ اسے بھی فلورا کے ساتھ 24 نومبر 851ء کو قتل کر دیا گیا۔

صفحہ 311

یہ ان بد نصیب مردوں اور خواتین کا ذکر تھا جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا اور ان کو امیر عبدالرحمن اور اس کے بیٹے محمد بن عبدالرحمن کے عہد میں قتل کیا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مسلم مؤرخین نے اول تو ان کا ذکر کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا اور اگر ان کے متعلق کچھ لکھا بھی ہے تو انتہائی مختصر لکھا ہے۔ تاہم مسیحی مؤرخین نے خوب بڑھا چڑھا کر اور مبالغہ آمیزی کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔

تحریک شماتت رسول ﷺ کا اختتام:

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس تحریک کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور زیادہ تر پادری ہی لقمہ اجل بنے۔ کیونکہ عیسائی شرفاء امیر عبدالرحمن کے اس قدر گرویدہ اور جانثار تھے کہ انہوں نے اپنی متحدہ کوشش سے عوام الناس کو پادریوں کے زہریلے اثر سے محفوظ رکھا۔ سب ان خود غرض پادریوں کو یہ جواب دیتے تھے کہ عربوں کی حکومت سے ہم کو کیا نقصان پہنچا ہے جو ہم بلاوجہ تمہارا ساتھ دیں اور اپنی جانوں اور آزادی کو کھو دیں۔ ہم ہر طرح آزاد اور ہماری جان اور مال ہر طرح محفوظ ہے۔ عرب ہمارے مذہب میں بالکل دخل نہیں دیتے۔ ہم بالکل مطلق العنان اور خوش حال ہیں۔ ان فوائد کے عوض محض حکومت کی تمنا میں (جیسا کہ پادری چاہتے تھے) اپنی جان اور مال تلف کر دینا عقل و دانش سے بالکل بعید ہے۔ لین پول لکھتا ہے۔ ”ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مسیحی ”شہداء“ راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے۔ بے شک انہوں نے اپنی عزیز جانوں کو مفت ضائع کیا اور انہوں نے جو کچھ کیا فی الجملہ برا کیا۔“

امیر عبدالرحمن نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لیے ایک کلیسائی کونسل بٹھانے کا فیصلہ کیا جو عیسائیوں کو پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی بے ادبی سے روکے۔ چنانچہ تمام اساقفہ کو ایک مجلس میں جمع کیا گیا اور بادشاہ کی طرف سے ایک عیسائی سرکاری عہدے دار نے اس مجلس میں شرکت کی۔ جس کا نام قومس بن انطونیان تھا۔ لین پول اس کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہے ”تمام مجتہدین کی ایک کونسل جس کا صدر نشین اشبیلیہ کا مجتہد اعظم تھا، منعقد ہوئی اور اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ اس وقت تک جس قدر لوگ ”شہید“ ہوچکے ہیں چونکہ تمام کلیساؤں نے بالاتفاق ان کو ”شاہ ولایت“ تسلیم کیا ہے لہٰذا وہ ہر قسم

صفحہ 312

کے جرم و سزا سے بری کئے جائیں مگر آئندہ جو شخص ان کا اتباع کرے گا، وہ مجرم اور خارج از مذہب سمجھا جائے گا۔ لیکن مفسد و مجنون طبیعتوں نے اساقفہ کے اس حکم سے سرتابی کی اور پادری جن کا سرغنہ یولوجیس تھا، اپنی روش سے نہ ہٹے۔ امیر عبدالرحمٰن کی وفات کے بعد محمد بن عبدالرحمٰن کے عہد میں پادری یولوجیس کے قتل کے ساتھ یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔ (20)

ریجی نالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ:

شیطان صفت پرنس ارناط ”والی کرک“ ریجی نالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تاکہ مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کے مزار اقدس کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے مدینہ پاک سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگی۔ مسلم سپاہ نے انہیں پہاڑوں اور باغ سے پکڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسول (ﷺ) خود بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن ابلیس کا یہ فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانا اور حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنا اس کی فطرت کا جزو لاینفک بن گیا۔ لین پول کا بیان ہے کہ ریجی نالڈ نے 1179ء میں مسلمانوں کا ایک کارواں لوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کر لیے۔ شاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لیے سفیر بھیجے۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ 1183ء میں پھر یہی حرکت کی۔ 1186ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلے کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا ”تم محمد (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہو۔ اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آکر تم کو چھڑا لے۔“ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھا کر کہا۔ اس صلح شکن کافر کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔

صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہو گئی۔ فرنگی شہنشاہ

صفحہ 313

اور شہزادے قید ہو کر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے سامنے لائے گئے۔ ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔ سلطان کو دیکھ کر اسے اپنی بد اعمالیاں یاد آئیں اور ساتھ ہی سلطان کی قسم بھی یاد آگئی۔ جس نے ریجی نالڈ کا خون خشک کر دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اس کو تمام بد اعمالیاں گنائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد ﷺ سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سر قلم کر دیا۔ اس کے بعد کہا کہ ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بد اعمالیوں اور حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔

اسی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے قبلہ اول بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ وہ اسلام کا عظیم سپوت تھا اور اس کا دل عشق مصطفیٰ علیہ التحیۃ و السلام کی دولت سے مالا مال تھا۔ اس نے اس عیسائی حکمران کو جس نے اہانت رسول ( ﷺ) کا ارتکاب کیا تھا، اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کیا۔(21)

سلطان نور الدین زنگیؒ اور دو بدبخت نصرانی:

سلطان نور الدین زنگیؒ کے زمانے میں روضہ پاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی مگر اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ نے شرپسندوں کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ سلطان کو خواب میں حضور سرور کونین ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ ﷺ نے دو نیلی آنکھوں والے آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کو سخت تشویش ہوئی، اٹھ کر وضو کیا، نفل ادا کئے مگر جونہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا۔ غرضیکہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ کی تیاری شروع کر دی۔ سولہویں دن مدینہ طیبہ پہنچا۔ ریاض الجنۃ میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگا کہ حصول مقصد کے لیے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں۔ وہ اہل مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے۔ ہر شخص حاضر ہو کر اپنا حصہ لے لے۔ ایک ایک آدمی آتا گیا، بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا۔ وہ ہر شخص کو بغور دیکھتا اور خواب میں نظر آنے والی شکلوں کو تلاش کرتا رہا۔ حتیٰ کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جاسکا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد شاہ کو بتایا گیا کہ

صفحہ 314

صرف دو فرنگی باشندے ہیں، جو نہایت متقی ہیں اور انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ بادشاہ نے انہیں بھی طلب کرلیا اور انہیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا۔ پوچھا ”کون ہو؟ اور یہاں کیوں پڑے ہوئے ہو؟“ انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں۔ حج کے لیے آئے تھے۔ روضہ انور کی زیارت کے لیے مدینہ آئے تو حضور ﷺ کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جو ایک قریبی سرائے میں تھی۔ مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہو گیا۔

مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ تو نہایت پرہیزگار ہیں۔ ریاض الجنۃ میں نماز پڑھتے ہیں۔ روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ قائم اللیل اور صائم النہار ہیں۔ اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہو گیا۔ دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا۔ بوریا کا مصلیٰ ایک پتھر کے اوپر تھا۔ پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انور کے قریب پہنچ چکی تھی۔

بادشاہ نے اس کمینہ حرکت کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انہیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضور نبی کریم ﷺ کے حجرہ مقدسہ میں داخل ہو کر آپ کا جسم عنبریں یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔

سلطان نور الدین زنگی یہ باتیں سن کر آتش غضب سے بھڑک اٹھا۔ ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان دو عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرا دیا اور شام کے وقت ان کی ناپاک نعشوں کو نذر آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا۔

اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرہ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا تاکہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاک ﷺ کی لحد مبارک کے قصد کا موقع نہ مل سکے۔(22)

بلاد مشرق

جزیرۃ العرب میں قرن ثا سزائے موت بر قرار رہی ہے۔ ن سے ہوتی ہے۔ جس میں ایوب جس کی توثیق اس وقت کے حکم

اسی طرح بلاد شام میں امام ابن تیمیہؒ اور شیخ الحدیث بھی اسی قانون کے مطابق فیصلے اپنی علیحدہ عدالتیں قائم تھیں اس

اسپین میں جب تک م اسی قانون حد پر عمل درآمد ہوت عیاضؒ نے اپنی کتاب ”الشفا“ کیا ہے۔ جس کو گستاخی رسالت بناء پر واجب القتل قرار دیا گیا تھا

ترکیہ اور سمرقند اور بخا ابو اللیث سمرقندی کے ذریعہ ع سنگسار کیا گیا تھا جس کا تفصیلی ذک

ایران میں آج بھی یہی سفارتی تعلقات کی پروا کئے بغیر واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔ اندر زندہ درگور ہے۔

ہندوستان میں جب تک مجرموں کو سزا دی جاتی رہی ہے ان میں سے مغل دور مقدمہ تو اکبر کے دور سے متعل

صفحہ 315

بلاد مشرق میں قانون توہین رسالت

جزیرۃ العرب میں قرن نبوت اور دور خلافت کے بعد بھی تنقیص رسالت کی سزا، سزائے موت برقرار رہی ہے۔ جس کی تصدیق صاحب ”المصنف“ کے اس بیان کردہ واقعہ سے ہوتی ہے۔ جس میں ایوب بن یحییٰ نے عدن میں ایک نصرانی کو بطور حد یہی سزا دی۔ جس کی توثیق اس وقت کے حکمران عبدالملک نے کر دی تھی۔

اسی طرح بلاد شام میں بھی یہی قانون نافذ رہا ہے۔ جس کے تحت ایک نصرانی کو امام ابن تیمیہؒ اور شیخ الحدیث علامہ زین العابدین کے استغاثہ پر ماخوذ کیا گیا تھا۔ مصر میں بھی اسی قانون کے مطابق فیصلے ہوتے رہے ہیں کیونکہ وہاں تمام مکاتب فقہ جن کی اپنی اپنی علیحدہ عدالتیں قائم تھیں اسی سزا پر متفق تھے۔

اسپین میں جب تک مسلمانوں کی حکومت قائم رہی ہے وہاں کی تمام عدالتوں میں اسی قانون حد پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے جس کا ذکر قرطبہ کے چیف جسٹس ابو الفضل قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب ”الشفا“ میں کیا ہے۔ اسی کتاب میں ابن حاتم کے مقدمہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ جس کو گستاخی رسالت مآب ﷺ کے جرم پر علمائے اندلس کے متفقہ فیصلہ کی بناء پر واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔ (23)

ترکیہ اور سمرقند اور بخارا میں اسی قانون اسلامی کا ذکر ہمیں علامہ آلوسی اور علامہ ابواللیث سمرقندی کے ذریعہ پہنچا ہے۔ افغانستان میں اسی قانون کے تحت قادیانی مرتد کو سنگسار کیا گیا تھا جس کا تفصیلی ذکر شہیدان ناموس رسالت میں کیا گیا ہے۔

ایران میں آج بھی یہی قانون سزائے موت برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں سے سفارتی تعلقات کی پروا کئے بغیر نافذ ہے اور اسی کے تحت گستاخ رسول سلمان رشدی کو واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے وہ بدبخت یورپ اور امریکہ کے حفاظتی خول کے اندر زندہ درگور ہے۔

ہندوستان میں جب تک مسلمانوں کی حکومت قائم رہی ہے اسی قانون حد کے تحت مجرموں کو سزا دی جاتی رہی ہے۔

ان میں سے مغل دور حکومت کے دو اہم مقدمات کا ہم یہاں ذکر کریں گے ایک مقدمہ تو اکبر کے دور سے متعلق ہے جبکہ جاہل، ان پڑھ بادشاہ کو اس کے خوشامدی اور

صفحہ 316

چاپلوس درباریوں نے جن میں فیضی اور ابو الفضل پیش پیش تھے اسلام سے بیگانہ کر دیا تھا اور اکبر مکمل طور پر ہندو مہارانیوں کے زیر اثر تھا۔ تمام کاروبار حکومت دین الٰہی کے نام سے سیکولر خطوط پر چل رہے تھے۔ اس تاریخی مقدمہ کا ذکر تفصیلی طور پر اکبر ہی کے نورتن ملا عبد القادر بدایونی نے اپنی منتخب التواریخ میں کیا ہے جو درج ذیل ہے:

”عبدالرحیم قاضی متھرا نے شیخ (شیخ عبدالغنی قاضی القضاۃ) کے پاس ایک استغاثہ بھیجا‘ جس میں بیان کیا گیا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کئے ہوئے تھے لیکن ایک سرکش مالدار برہمن نے سارا عمارتی سازو سامان اٹھوا لیا اور اس سے صنم کدے کی تعمیر شروع کرا دی۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا ارادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور اکرم ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور مسلمانوں کی اس نے سخت توہین کی۔ شیخ موصوف نے اس کو طلب کیا لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کر دیا جس پر بادشاہ نے بیربل اور شیخ ابو الفضل کو بھجوایا اور وہ اسے لے آئے۔ شیخ ابو الفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا بیان کیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیق ہو گئی ہے کہ اس نے گالیاں دی تھیں۔ اس کی سزا کے معاملہ میں علماء کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خلاف تعزیر اور جرمانہ پر زور دے رہا تھا۔ اس معاملہ میں بحث طول پکڑ گئی شیخ نے بادشاہ سے اس کے قتل پر اصرار کیا۔ بادشاہ نے صراحتاً اس کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ شرعی سزا کا تعلق تم سے ہے۔ ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ برہمن اس جھگڑے میں مدتوں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لیے سفارشیں کرتی رہیں لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا اس لیے اس نے رہائی کا حکم بھی نہیں دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لیے زیادہ اصرار کیا تو بادشاہ نے وہی جواب دیا ہم تو تم سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب جانو کرو (کیونکہ اس معاملہ کا تعلق شرع سے ہے) جس کے بعد شیخ نے فوراً ہی اس برہمن کے قتل کا حکم دے دیا چنانچہ

صفحہ 317

اس کی تعمیل میں اس کی گردن ماری گئی۔ ملا عبد القادر بدایونی جو اس مقدمہ کی ساری روداد سے واقف تھے اس سلسلہ میں آگے بیان کرتے ہیں:

”اچانک دور سے بادشاہ کی نظر مجھ پر پڑی تو میری طرف متوجہ ہوا اور نام لے کر آگے بلایا اور کہا ”آگے آؤ“ میں جب سامنے پہنچا تو پوچھا: کیا تم نے بھی یہ مسئلہ سنا ہے کہ اگر ایک شخص کے قتل پر ننانوے روایتیں ہوں اور رہائی کے لیے صرف ایک روایت ملتی ہو تو مفتی کو چاہیے کہ وہ اس ایک روایت کو ترجیح دے“ میں نے کہا: ”جی ہاں ایسا ہی ہے جیسا کہ حضور فرماتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ”ان الحدود والعقوبات تدرؤ بالشبهات“ میں نے اس کا مطلب فارسی میں سمجھایا کہ شبہات سے سزاؤں میں کمی ہو جاتی ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ پوچھا ”کیا شیخ اس مسئلہ سے واقف نہ تھا۔“ (24)

ہندو رانیوں اور خوشامدی درباریوں کے اکسانے کے باوجود اکبر کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ شیخ سے اس بارے میں باز پرس کرسکے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ علماء کی اکثریت شیخ موصوف کی تائید میں ہے۔

دوسرا اہم مقدمہ مغل حکمرانوں کے آخری دور حکومت اور اسی لاہور سے متعلق ہے جس کا ذکر ایک ہندو مورخ ڈاکٹر بی۔ایس نجار (Dr.B.S Nijjar) نے اپنی کتاب ”پنجاب آخری مغل دور حکومت میں“ (Punjab under the later Mughals) جب کہ زکریا خان 1707ء۔1759ء گورنر پنجاب تھا اس طرح کیا ہے:

”حقیقت رائے باگھ مل پوری‘ سیالکوٹ کے کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا‘ جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ بھٹہ نامی سکھ کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی۔ حقیقت رائے کو مسلمانوں کے اسکول میں داخل کیا گیا تھا۔ جہاں ایک مسلمان ٹیچر نے ہندو دیوتاؤں کے بارے کچھ توہین آمیز باتیں کہیں۔

”حقیقت رائے نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور اس نے بھی انتقاماً پیغمبر اسلام (ﷺ) اور بی بی فاطمہؓ کی شان میں نازیبا الفاظ

صفحہ 318

استعمال کئے۔ اس جرم پر حقیقت رائے کو گرفتار کرکے لاہور عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ ہندو افسر زکریا خاں (جو اس وقت گورنر لاہور تھا) کے پاس پہنچے کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے۔ لیکن زکریا خاں نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی سے انکار کر دیا جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں کی سزا دی گئی اس کے بعد اس کی گردن اڑا دی گئی یہ سال 1734ء سن عیسوی کا واقعہ ہے جس پر پنجاب کی تمام غیر مسلم آبادی نوحہ کناں رہی۔ لیکن خالصہ کمیونٹی نے آخر کار اس کا انتقام مسلمانوں سے لے لیا اور سکھوں نے ان تمام لوگوں کو جو اس واقعہ سے متعلق تھے انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا۔ "اسی کتاب کے صفحہ 279 پر لکھا ہے کہ پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔" (25) (یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ واقعہ ایک متعصب ہندو مورخ لکھ رہا ہے جس کا مقصد سکھوں اور ہندوؤں کے ذہن کو مسلمانوں کے خلاف زہر آلود کرنا ہے۔ حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ کسی مذہب کے رہنماؤں کو برا بھلا نہ کہیں تاکہ انتقاماً خدا یا رسول اکرم (ﷺ) کی شان میں گستاخی کا امکان ہی پیدا نہ ہو۔ مسلمان تو حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ جو یہودیوں اور عیسائیوں کے پیغمبر ہیں اور ان کے دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے پیروان مذہب سے بڑھ کر احترام کرتے ہیں اور انہوں نے رام چندر جی یا ان کے اوتار کرشن کی تاریخی عظمت سے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ ہندوؤں کو ان کی رسوم و عبادات سے روکا جبکہ ان کے مذہب میں بتوں کی پرستش سب سے بڑا گناہ ہے علاوہ ازیں وہ گرو نانک کو توحید کے مبلغین میں سمجھتے ہیں اس لیے مسلمان استاد پر یہ الزام کہ اس نے ہندو اوتاروں کی توہین کی قرین قیاس نہیں بلکہ خلاف حقیقت معلوم ہوتا ہے۔

جہاں تک پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت فاطمۃ الزھرۃؓ

صفحہ 319

کی توہین اور اہانت کی سزا کا تعلق ہے وہ اسلامی قانون کے مطابق کسی دباؤ میں آئے بغیر اس وقت کے مسلمان گورنر پنجاب نے درست طور پر دی تھی۔ مگر اس واقعہ کا پس منظر مصنف کے متعصب ذہن کی اختراع ہے اور یہ تعصب ساری کتاب میں جابجا نظر آتا ہے۔ مصنف تقسیم ہند کو وحشیانہ اور تاریخ کا ناقابل معافی جرم قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے واقعہ کو کسی طرح اور کیوں مسخ کر کے پیش کیا ہے۔

PDF 320

باب پنجم

کتابیات

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا ج-14، ص-491 (۱)

صحیح بخاری باب حج النبی (۲)

مسند احمد اور سیرۃ الرسول ابن ہشام (۳)

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق (۴)

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا ج-11، ص-74 (۵)

امریکن سپریم کورٹ کا فیصلہ: (۶)

Cowan vs Milbourn L.R 2 Ex.23. State vs Mokas.

ایضاً (۷)

سید محمد سلطان۔ آئین میں تحریک شاتم رسول میں احقاق الحق (۸ تا ۲۲)

سلیمان۔ مسلمان یورپ میں رائن پارٹ ڈوڑی۔ اندلس

ابو الفضل قاضی عیاض۔ الشفاء (۲۳)

ملا عبد القادر بدایونی۔ منتخب التواریخ (۲۴)

Dr. B.S Nijjar- Punjab Under The Mughals. (۲۵)

باب ششم

قانونِ مر

گزشتہ ابواب میں مسلمان سلاطین کے دور ح سنت اور تاریخ کے حوالہ دلائل اپنی فہم و دسترس کے بارے میں بائبل کا قانون اور کتاب کے ذیلی باب ”یور اس باب میں ہم ب بلاواسطہ قانون توہین رسال حضرات کی سہولت کی خاط سلطنت مغلیہ کے یہاں 1860ء میں Indian Penal Code) اسلامی قانون جاری تھا۔ روشنی میں صادر ہوئے۔ ذیلی باب میں درج ہیں۔ کمیشن نے نپولین کوڈ کو طور پر انتظامی مصلحتوں ک اس وقت بھی یعنی 1860 موجود تھا اور آج بھی ہندوستان میں حکومت ی

صفحہ 321

باب ششم

قانون‘ مقدمات اور نظائر (عدالتی فیصلے)

گزشتہ ابواب میں ہم نے عہد رسالت مآب ﷺ‘ دور خلافت راشدہ اور مسلمان سلاطین کے دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کے بارے میں قرآن و سنت اور تاریخ کے حوالہ سے متعلقہ مواد اور اس کے وجوب اور تنفیذ کے لئے عقلی دلائل اپنی فہم و دسترس کے مطابق پیش کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون توہین مسیحؑ کے بارے میں بائبل کا قانون اور یورپ میں اس کے نفاذ اور موجودہ صورت حال کا جائزہ بھی کتاب کے ذیلی باب ”یورپ اور قانون توہین انبیاءؑ “ میں پیش کر دیا گیا ہے۔

اس باب میں ہم پاک و ہند کے ان تعزیری قوانین کو‘ جن کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ قانون توہین رسالت سے ہے‘ مع تشریحات‘ قارئین اور خاص طور پر قانون دان حضرات کی سہولت کی خاطر یکجا پیش کر رہے ہیں۔

سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد جب ہندوستان میں برطانوی راج مسلط ہو گیا تو یہاں 1860ء میں گورنر جنرل ہند کی منظوری سے تعزیرات ہند (The Indian Penal Code) کو نافذ العمل کر دیا گیا۔ اس سے قبل سارے ملک میں اسلامی قانون جاری تھا۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں صادر ہوتے تھے‘ جن کے حوالے ”بلاد مشرق میں قانون توہین رسالت“ کے ذیلی باب میں درج ہیں۔ تعزیرات ہند کی تدوین لارڈ میکالے کی سربراہی میں تشکیل شدہ کمیشن نے نپولین کوڈ کو سامنے رکھ کر کی تھی اور اس سلسلہ میں انگلش قوانین اور خاص طور پر انتظامی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا گیا تھا‘ لیکن عجیب تر بات یہ ہے کہ انگلستان میں اس وقت بھی یعنی 1860ء میں قانون توہین مسیحؑ بطور کامن لاء (Common Law) موجود تھا اور آج بھی بلاس فیمی ایکٹ انگلینڈ کے مجموعہ قوانین میں شامل ہے۔ البتہ ہندوستان میں حکومت برطانیہ کے خلاف منافرت پھیلانے یا توہین حکومت یا حکومت کے

صفحہ 322

خلاف اشتعال انگیزی کے جرم کی سزا کے لیے ایک دفعہ تعزیرات ہند میں شامل کی گئی جسے جرم بغاوت قرار دے کر اس کی سزا‘ سزائے عمر قید مقرر کی گئی‘ جس کی جگہ 1898ء میں دفعہ 124۔ الف کو معمولی ترمیم کے ساتھ شامل تعزیرات کیا گیا مگر سزا اور نوعیت جرم وہی برقرار رہی۔

اسی سال 1898ء میں دفعہ 124۔ الف کے ساتھ ہی مزید ایک دفعہ 153۔ الف کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی وجہ سے ملک میں جو فتنہ اور فسادات پیدا ہوں‘ ان کا سدباب کیا جاسکے اور حکومت ان خطرات سے محفوظ رہ سکے۔ دفعہ 153۔ الف کا متن حسب ذیل ہے:

دفعہ 153۔ الف:

”جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر یا تحریر یا اشاروں سے یا کسی اور طریقہ سے ہندوستان میں ہر مجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات ابھارے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے اسے دو سال قید تک سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔“

توضیح (Explaination):

”ایسا کوئی فعل جو بدنیتی کے بغیر نیک نیتی کے ساتھ ان امور کی نشاندہی کرے‘ جو ہر مجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں کے درمیان دشمنی یا منافرت کے جذبات یا رجحانات پیدا کرنے کا باعث ہوں‘ ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہو‘ مذکورہ بالا جرم کی تعریف میں نہیں آئے گا۔“

تشریحات (Commentary):

اس دفعہ کے اضافہ کا ایک مقصد یہ بھی بتلایا گیا کہ ہر مجسٹی کی رعایا کے درمیان امن و امان قائم کرنا ہے۔

شاتمانِ رسول ﷺ کے خلاف بھی مقدمات اسی دفعہ 153۔ الف کے تحت قائم ہوئے۔ ان میں سب سے مشہور مقدمہ ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کے خلاف اسی جرم کے ارتکاب پر رجسٹر ہوا اور عدالت سیشن جج سے اسے سزا دی گئی‘ جس کے خلاف

صفحہ 323

اس نے لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی، جو سماعت کیلئے دلیپ سنگھ جج کے سامنے لگوائی گئی، جس نے نگرانی منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ مذہبی رہنماؤں پر تنقید یا طنز خواہ کتنا ہی غیر شائستہ یا ناپسندیدہ کیوں نہ ہو، وہ 153۔الف کے تحت قابل تعزیر جرم نہیں بنتا۔ اس فیصلہ کی رو سے ملزم راج پال مروجہ ناقص تعزیرات کے تحت بھی، جس کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال تک ہو سکتی تھی، سزا یاب نہ ہو سکا، جس سے ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ یہ فیصلہ آل انڈیا رپورٹر 1927 ص 250 میں چھپ چکا ہے۔ اس کا مکمل اردو ترجمہ نظائر کے باب میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ان دلائل کی نامعقولیت کا اندازہ ہو سکے، جو اس فیصلہ میں دیئے گئے ہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف اور تعزیرات ہند میں توہین رسالت کے جرم پر کوئی سزا نہ ہونے کی وجہ سے سارے ملک میں مسلمانوں نے ہر پلیٹ فارم سے اس پر سخت احتجاج کیا اور بالآخر غازی علم الدین نے گستاخ رسول ﷺ راج پال کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے ہاتھوں سے اسے توہین رسالت کی سزا دی اور خود جام شہادت نوش کر کے زندہ جاوید بن گیا۔ اس مقدمہ کی ساری روئیداد ہم نے شہیدان ناموس رسالت کے ذیلی باب میں درج کی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیشن جج نے اختلاف کرتے ہوئے ”رسالہ ورتمان“ کیس کے ملزم کو، جس نے رسول پاک ﷺ کی زندگی پر بالواسطہ طور پر طنز کیا تھا، اسی دفعہ 153۔الف کے تحت سزا دی اور قرار دیا تھا کہ اس کتابچہ کی تحریر توہین آمیز ہے۔ برٹش گورنمنٹ نے جب دیکھا کہ دلیپ سنگھ کے اس فیصلہ میں دفعہ 153۔الف کی غلط تعبیر اور تشریح کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو رہے ہیں تو ان کی اشک شوئی کے لیے دفعہ 295۔الف کو قانون فوجداری کے ترمیمی ایکٹ مجریہ سال 1927 کے ذریعہ تعزیرات ہند میں شامل کیا گیا جو حسب ذیل ہے:

295۔الف:

”جو کوئی عمداً اور بدنیتی سے تحریری یا تقریری یا اعلانیہ طور پر ہز میجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا توہین کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس جماعت کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔“

صفحہ 324

دفعہ 295۔ الف میں 23 مارچ 1956ء سے صرف ”ہر میجسٹی کی رعایا“ کے الفاظ کو ”پاکستان کے شہریوں“ کے الفاظ سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس طرح اس دفعہ میں سال 1961ء کے ترمیمی آرڈیننس جس کو سال 1956ء سے موثر بہ ماضی کیا گیا تھا، کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

سال 1980ء میں دوسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعہ دفعہ 298۔ الف کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے:

298۔ الف: ذوات قدسی کی توہین:

”جو کوئی تحریری یا تقریری یا علانیہ یا اشارتاً ”یا کنایتاً“ بالواسطہ یا بلاواسطہ ”امہات المومنین“ یا کسی ”اہل بیت“ یا ”خلفائے راشدین“ میں سے کسی ”خلیفہ راشد“ یا اصحاب رسول ﷺ کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے، اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی، یا وہ ان دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔“

اس دفعہ 298۔ الف تعزیرات پاکستان کے اضافہ سے صرف ”امہات المومنین“ ”اہل بیت“ ”خلفائے راشدین“ یا اصحاب رسول ﷺ کی بے حرمتی اور ان کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا لیکن خود اس مقدس ترین ہستی، جن سے نسبت کی وجہ سے انہیں یہ مرتبہ حاصل ہوا، ان کی جناب میں گستاخی، اہانت، توہین، تنقیص، طعنہ زنی، بہتان تراشی جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا تجویز نہیں ہوئی، اس لیے اس کوتاہی اور کمی (Omission) کو پورا کرنے کے لیے سال 1984ء میں راقم کی طرف سے شریعت پٹیشن نمبر 1 سال 1984ء فیڈرل شریعت کورٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان، میں صدر پاکستان اور گورنر ہائے صوبہ جات پاکستان کے خلاف دائر کی گئی، جس کی تفصیل اور پس منظر اس کتاب میں موجود ہے۔ اس شریعت پٹیشن کا فیصلہ ابھی محفوظ تھا کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں عاصمہ جہانگیر نامی خاتون نے بالواسطہ گستاخی کی، جس پر محترمہ آپا نثار فاطمہ نے راقم کے مشورہ سے توہین رسالت کے جرم کی سزا ”سزائے موت“ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا، جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر 3 سال 1986 کی صورت میں منظور ہوا، جس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں 295۔ سی کا اضافہ کیا گیا، جو حسب ذیل ہے:

صفحہ 325

دفعہ 295-سی:

”جو کوئی عمداً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنایتاً نام محمد (ﷺ) کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے‘ وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہو گا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔“

چونکہ توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول ﷺ کی سزا‘ بطور حد کے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس میں سزائے موت کی متبادل سزا‘ سزائے عمر قید‘ جو دفعہ 295-سی میں رکھی گئی‘ وہ قرآن و سنت کے منافی تھی‘ اس لیے راقم نے دوبارہ اس دفعہ سے ”عمر قید“ حذف کرنے کا مطالبہ بذریعہ شریعت پٹیشن کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور ”حد“ صرف سزائے موت مقرر ہے اور حد میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی جا سکتی۔ یہ شریعت پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلہ 30 اکتوبر 1990ء کے ذریعہ منظور کر لی اور قرار دیا کہ اہانت رسول ﷺ کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے۔

فیڈرل شریعت کورٹ نے توہین رسالت کا یہ فیصلہ صدر پاکستان کو ارسال کر دیا تھا کہ 295-سی تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے ”عمر قید“ کے الفاظ 30 اپریل 1991ء تک حذف کر دیے جائیں ورنہ اس تاریخ سے ”عمر قید“ کے الفاظ اس دفعہ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔ اس فیصلہ میں حکومت پاکستان کو مزید ہدایت کی گئی کہ اس دفعہ میں ایک اور شق کا اضافہ کیا جائے‘ جس کی رو سے دوسرے پیغمبروں کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس فیصلہ کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جو ہمارے مطالبہ پر واپس لے لی گئی۔ اس طرح فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بحال رہا جس کی وجہ سے ”عمر قید“ کی سزا غیر موثر ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں اہانت رسول مقبول ﷺ کی سزا بحمد اللہ بطور حد سزائے موت مقرر ہو کر نافذ العمل ہے۔

دفعہ 295-سی سے ”عمر قید“ کے الفاظ حذف ہو جانے کے بعد حکومت اور قانون ساز اسمبلی نے اس دفعہ کو مکمل طور پر قرآن و سنت کے احکام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس مرحلہ پر ایک اہم شرعی اور قانونی نکتہ کی نشان دہی کو میں اپنا دینی اور ملی فریضہ سمجھتا ہوں جو ہماری قانون ساز اسمبلی کی فوری توجہ کا مستحق

صفحہ 326

ہے۔

میری رائے میں اس دفعہ 295۔ سی میں مزید ترمیم کر کے اسے قرآن و سنت کے مطابق بنانا نہایت ضروری ہے ورنہ اگر یہ دفعہ موجودہ صورت ہی میں برقرار رہے تو اس کی وجہ سے ”ابہام“ اور قانونی پیچیدگیوں کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہے قرآن و سنت نے ”حد“ اور تعزیری سزاؤں کے لیے چند شرائط مقرر کی ہیں۔

اسلام ہی نے دنیا میں سب سے پہلے ”نیت“ ”ارادے“ اور قصد (Intention) کو جرم کا بنیادی رکن بنایا ہے۔ اس سے قبل رومن لاء یا ہندوستان میں لاگو اینگلو سیکسن لاء جس کا ماخذ بھی یہی رومن لاء ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی تک یورپ کے ان قوانین میں ”ارادہ“ یا ”قصد“ یا ”نیت“ کو جرم کا بنیادی رکن یا اسے جرم سے متعلق جز نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آج سے چودہ سو سال قبل شارع اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارادہ اور نیت کو جرم اور ہر عمل کی بنیاد بنا کر انسان کو جزا اور سزا کا مستحق قرار دیا، جو دنیائے قانون و عدل میں سب سے پہلا انقلابی اقدام تھا۔ چونکہ ساری دنیا نے اس کو تسلیم کر لیا ہے اور یہ جزو قانون بن چکی ہے، اس لیے اس کی تاریخی حقیقت کو دنیا نے فراموش کر دیا ہے۔

جناب رسالت مآب ﷺ کی یہ مشہور حدیث ”انما الاعمال بالنیات“ یعنی ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے، کی روشنی میں 295۔ سی کو قرآن اور سنت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمیں اسے دو حصوں میں منقسم کرنا پڑے گا۔ ایک تو بالارادہ جرم توہین رسالت یعنی وہ عمل جو قصداً اور عمداً اہانت رسول اللہ ﷺ اور انبیاء کرام کے لیے کیا جائے تو اس کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر کی جائے، جس میں قطعاً کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور دوسرا جرم جو بلا ارادہ ہو، جس میں اہانت اور گستاخی کے کسی پہلو کی کوئی نیت یا ارادہ کسی صورت ظاہر نہ ہو یا اس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس پر ملزم کی مجرمانہ ذہنیت پر استدلال کیا جا سکے تو ایسے جرم کو مستوجب حد کی بجائے لائق تعزیر بنایا جائے جس کی سزا بھی غیر معمولی مقرر کی جائے، اس لیے کہ مجرم نے بلا قصد و ارادہ سہواً گستاخی کر کے حزم و احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھا، جس کی ہر عاقل بالغ شخص سے توقع کی جاتی ہے۔ البتہ جبر و اکراہ میں ملزم مستوجب سزا نہیں ہے مگر جو شخص جبر و اکراہ کا مرتکب ہو، وہ سزائے موت کا مستحق قرار پائے گا قتل جیسے سنگین جرم میں قتل بالارادہ ہو تو وہ قتل عمد کہلائے گا، جس کی سزا بطور حد، سزائے موت ہے۔ لیکن اگر وہ قتل بالارادہ نہ ہو، اسے

صفحہ 327

قتل خطا کہا جائے گا‘ جس کی سزا حد کی طرح قتل نہیں بلکہ اس سے کم تر ہے۔ البتہ جبر و اکراہ کا مرتکب شخص مستوجب سزائے موت قرار پائے گا۔ فیڈرل شریعت کورٹ میں شروع ہی سے میرا یہ موقف رہا اور وفاقی شرعی عدالت نے بھی اپنے فیصلہ میں اس سے اتفاق کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

ایک اور بات بھی واضعان قانون کے ذہن نشین ہونا چاہئے کہ حدود کے نفاذ کے لیے نصاب شہادت اور تزکیۃ الشہود کو ضروری قرار دیا گیا ہے‘ جس کے بغیر زنا جیسے سنگین جرم میں بھی حد جاری نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اگر جرم زنا میں حد کی شرائط پوری نہ ہوں تو اسے قابل تعزیر جرم قرار دے کر اس کی سزا بھی حدود آرڈیننس 7 مجریہ سال 1979 میں مقرر کر دی گئی ہے‘ اس لیے اگر توہین رسالت کے جرم میں شرائط حد پوری نہ ہوتی ہوں تو ایسی صورت میں اسے قابل تعزیر جرم قرار دے کر اس کے لیے قرار واقعی سزا‘ جس میں سزائے تازیانہ اور جرمانہ بھی شامل ہو‘ مقرر کی جائے۔

صفحہ 328

فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان

(فیصلہ بمقدمہ توہین رسالت ﷺ)

شریعت پٹیشن نمبر 6۔ ایل سال 1987 منعقدہ 30 اکتوبر 1990ء

مقدمہ: محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ کنوینر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس پٹیشنر

بنام

حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، رسپانڈنٹ تاریخ ہائے سماعت 26 تا 29 نومبر 1989۔۔۔۔۔ 4 تا 7 مارچ 1990

جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس:

یہ فیصلہ درخواست شریعت نمبر 1/ ایل اور درخواست ایس۔ ایس نمبر 106/87 میں اٹھائے گئے (شرعی اور آئینی) نکتہ کے بارے میں صادر کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295۔ سی کو ان درخواست ہائے شریعت کے ذریعہ چیلنج کیا ہے، جو بذریعہ آرڈیننس 1988 پاکستان میں نافذ کی گئی۔ قبل ازیں ایسی ہی ایک درخواست شریعت، سائل درخواست گزار نے عدالت ہذا میں دائر کی تھی مگر اس کا فیصلہ ہونے سے پیشتر قانون ساز اسمبلی نے از خود قانون (توہین رسالت

صفحہ 329

ﷺ) میں ترمیم کر دی اور متذکرہ بالا 295-سی پاکستان پینل کوڈ میں شامل کر دی گئی‘ جس سے درخواست گزار مطمئن نہیں‘ اس لیے عدالت ہذا سے رجوع کیا ہے۔ درخواست کا متن حسب ذیل ہے۔

دفعہ 295 سی: رسول پاک کے لیے اہانت آمیز الفاظ کا استعمال:

”کوئی شخص بذریعہ الفاظ زبانی‘ تحریری یا اعلانیہ‘ اشارتاً‘ کنایۃً‘ بہتان تراشی کرے اور رسول اکرم ﷺ کے پاک نام کی بے حرمتی کرے‘ اسے سزائے موت یا ”عمر قید“ دی جائے گی اور جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔“

2۔ اس دفعہ کے خلاف صریح اعتراض یہ ہے کہ اس میں متبادل سزا‘ سزائے موت عمر قید ان احکامات اسلامی کے خلاف ہے جو قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ ﷺ میں دیے گئے ہیں‘ جو نکتہ اعتراض اٹھایا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ رسالت مآب ﷺ کی شان میں کسی قسم کی کوئی بے ادبی یا اہانت آمیز بات شرعی حد کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کی سزا قرآن اور سنت میں بطور حد مقرر ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ فاضل ایڈووکیٹ نے اس سلسلہ میں سورہ انفال کی آیت 13 اور سورہ نساء کی آیت 65 پر حصر کیا ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں کہ توہین رسالت کی سزا‘ صرف سزائے موت ہے اور کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اس سے کم تر سزا یعنی عمر قید کی سزا دے۔ قرآنی آیات کے علاوہ احادیث نبوی کا حوالہ بھی دیا ہے۔

عدالت ہذا نے اس مقدمہ کی سماعت کے لیے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کئے اور فقہاء حضرات سے بھی معاونت طلب کی۔ مقدمہ مذکور کی لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد میں متعدد تاریخوں پر سماعت ہوئی اور عدالت کو مندرجہ ذیل فقہاء حضرات کا تعاون حاصل رہا۔

صفحہ 330

مولانا شیرکوٹی کے سوا تمام حضرات نے سائل کے موقف کی تائید کی کہ اس جرم کی سزا صرف سزائے موت ہے۔ لیکن مولانا سبحان محمود‘ مولانا مفتی غلام سرور قادری اور مولانا حافظ صلاح الدین یوسف کی رائے میں اگر مجرم توبہ کر لے تو سزا موقوف کر دی جائے گی۔

تاہم مولانا سعید الدین شیرکوٹی نے کہا کہ کم تر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

75:5‘ 1:39 اور 65‘ 28:47 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کچھ احادیث اور فقہی آراء بیان کیں جن میں شاتم کو مرتد تصور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اس حدیث پر اعتماد کیا جو ابو قلابہ سے مروی ہے‘ جس میں شاتم کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے قاضی عیاضؒ سے مروی حدیث پر بھی اعتماد کیا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”ہلاک کر دو اس شخص کو جو پیغمبر کو گالی دے اور اسے درے لگاؤ جو ان کے اصحاب کو گالی دے۔“ انہوں نے ان احادیث پر بھی اعتماد کیا جن کے مطابق رسول پاک ﷺ نے شاتم کو سزائے موت دی۔ انہوں نے فقہاء کے اجماع کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا موت ہے۔ انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ عمر قید کی سزا شاتم رسول عورت یا غیر مسلم کو دی جاسکتی ہے۔

42‘ 8:58‘ 33‘ 104,4:57 اور بعض احادیث پر اعتماد کیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ شاتم کے لیے صرف سزائے موت ہی مقرر ہے‘ انہوں نے ان احادیث کے حوالے بھی دیئے‘ جن میں رسول پاک ﷺ نے شاتم کو معاف کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے آیات قرآنی اور احادیث رسول پاک ﷺ پیش کیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ اس نکتہ پر واضح ہیں کہ کس جرم میں توبہ قابل قبول ہے۔ مقتدر حنفی فقہاء خصوصاً ابن عابدینؒ کے اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ شاتم کی توبہ قابل قبول ہے اور یہی فقہاء حنفیہ کا ترجیحی نظریہ ہے۔

توبہ قبول کی جا سکتی ہے اور اس کے بعد اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آیات قرآنی اور رسول پاک ﷺ کی احادیث کے حوالے بھی دیئے بالخصوص ایک

صفحہ 331

حدیث جو ابن عباسؓ کے حوالہ سے بیان کی جاتی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) بدل دے۔“ ان کے مطابق شاتم چونکہ مرتد ہو جاتا ہے پس اسے سزائے موت دی جانی چاہئے انہوں نے ابن تیمیہؒ کی رائے کا بھی حوالہ دیا کہ شاتم کی سزا موت ہے۔ انہوں نے امام مالکؒ‘ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے فتویٰ پر بھی اعتماد کیا۔ (جس کے مطابق شاتم کی سزا قتل قرار دی گئی ہے۔)

اور احادیث رسول پاک ﷺ پر اعتماد کیا جن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شاتم کی سزا موت مقرر فرمائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

نے احادیث رسول پاک ﷺ بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے اور یہ کہ آپ ﷺ نے گستاخان رسول کو سزائے موت دی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کتاب ”الفقہ علی المذاہب الاربعہ“ مصنفہ عبدالرحمن الجزیری‘ جلد پنجم صفحات 274-275 اور ”ردالمختار“ جلد سوم‘ صفحات 290‘ 291 سے مختلف فقہاء کی آراء بھی پیش کیں۔

66 پر اعتماد کیا۔ انہوں نے رسول پاک ﷺ کی کچھ احادیث کا حوالہ بھی دیا جن میں شاتم رسول کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے فقہاء کی آراء بھی پیش کیں کہ شاتم کی سزا موت ہے۔

53‘ 13:4‘ 187:2‘ 229 اور 57:33 کے حوالے دیئے۔ انہوں نے متعدد احادیث بھی پیش کیں، جن میں رسول پاک ﷺ نے بعض گستاخان رسالت کو سزائے موت دی اور بعض کو معاف بھی فرمایا۔ انہوں نے فقہاء کی بہت سی آراء کا حوالہ بھی دیا۔ خصوصاً جن کا ذکر مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب ”امداد الفتوٰی“ جلد پنجم صفحات 166 تا 168 پر کیا ہے۔

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں‘ ان پر دنیا اور آخرت میں

صفحہ 332

اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔“ (1)

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

”ہر چیز جو رسول پاک ﷺ کی ایذا کا سبب بن جائے‘ خواہ وہ مختلف معنی کے حامل الفاظ کے حوالہ سے ہو یا ایسے عمل سے جو آپ کی اذیت کے تحت آتا ہے۔“

(الجامع الاحکام القرآن جلد 14‘ صفحہ 238)

علامہ اسماعیل حقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینے کا مطلب‘ دراصل صرف رسول کو اذیت دینا ہے اور اللہ کا ذکر صرف عظمت اور سرفرازی کے لیے ہے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ رسول کو اذیت دینا‘ دراصل اللہ کو اذیت دینا ہے۔“

ان میں سے کچھ لوگ ہیں‘ جو اپنی باتوں سے نبی ﷺ کو دکھ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے‘ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے‘ ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں‘ ان کے لیے دردناک سزا ہے۔“ (61:9)

”یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں‘ حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کے رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔“ (62:9)

ابن تیمیہؒ ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”آیت 62:9 اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانا‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے۔“ (الصارم المسلول‘ ص 20‘ 21)

رسول ﷺ کے گروہ میں سے ایک شخص رسول ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: تم اور تمہارے دوست مجھ پر کیوں سب و شتم کرتے ہیں‘ جس پر وہ شخص چلا گیا اور اپنے دوستوں کو لے آیا اور ان سب نے اللہ کی قسم کھائی اور کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو برا بھلا نہیں کہا: اس پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں:

”جس روز اللہ ان سب کو اکٹھا کھائیں گے‘ جس طرح تمہارے سامنے اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گ ہیں۔“ (18:58)

”شیطان ان پر مسلط ہو چکا اور وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردا والے ہیں۔“ (19:58)

یہ آیات مندرجہ ذیل آیت 58

”یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں ۔ کرتے ہیں۔“ (20:58)

شاتم‘ اللہ اور اس کے رسول کے مخالف

”اور وہ وقت یاد کرو جب کہ میں تمہارے ساتھ ہوں‘ ان کافروں کے دلوں میں رعب پر ضرب اور پور پور پر چوٹ لگ

”یہ اس لیے کہ ان لوگو مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس ک کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

”اگر اللہ نے ان کے حق وہ انہیں عذاب دے ڈالتا او عذاب ہے ہی۔“ (3:59)

”یہ سب کچھ اس لیے ہو مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقاب سخت ہے۔“ (4:59)

چنانچہ یہ آیات واضح طور پر سز

صفحہ 333

”جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا‘ وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے‘ جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں‘ اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو‘ وہ پرلے درجہ کے جھوٹے ہیں۔“ (58:18)

”شیطان ان پر مسلط ہو چکا اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو‘ شیطان کی پارٹی والے ہی خسارہ میں رہنے والے ہیں۔“ (58:19)

یہ آیات مندرجہ ذیل آیت 58:20 سے منسلک ہیں۔

”یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔“ (58:20)

شاتم‘ اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں‘ جن کے متعلق قرآن کہتا ہے۔

”اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں‘ تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو‘ میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں‘ پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور پور پور پر چوٹ لگاؤ۔“ (8:12)

”یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“ (8:13)

”اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔“ (59:3)

”یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے‘ اللہ اس کو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ (59:4)

چنانچہ یہ آیات واضح طور پر سزائے موت مقرر کرتی ہیں‘ ان لوگوں کے لیے جو

صفحہ 334

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالف ہیں، جن میں شاتمان رسول ﷺ شامل ہیں۔

”اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔“

(60:33)

”ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے۔“

(61:33)

بیان کی ہے اور مسلمانوں کو اسے قائم رکھنے اور اس معاملہ میں احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ورنہ ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے۔ فرمایا:

”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“

(2:49)

ابن تیمیہؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”اس آیت میں مومنین کو اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ان کی بلند آواز ان کے اچھے اعمال کو غارت نہ کر دے اور وہ اس سے بے خبر ہوں۔“

(2)

کو ضائع کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

”لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد الحرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ، خونریزی سے شدید ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے، حتیٰ کہ اگر ان کا بس

صفحہ 335

چلے تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں گے۔ (اور خوب سمجھ لو کہ) کہ تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھر جائے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا‘ اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔“

(217:2)

”آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘ اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں‘ خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی‘ بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ ہو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔“

(5:5)

”یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے‘ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔“

(88:6)

”تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔“

(65:39)

”کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے‘ لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔“

(9:47)

پاک نے مومنوں کو ذو معنی الفاظ کے استعمال سے بھی منع فرمایا ہے‘ جیسا کہ یہودی رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے کرتے تھے۔ قرآن پاک کہتا ہے:

”اے ایمان والو! راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہو اور توجہ سے بات کو سنو‘ یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔“

(104:2)

مولانا محمد علی صدیقی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

صفحہ 336

”یہود یہ لفظ رسول اکرم ﷺ کی اہانت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ لفظ راعنا کے دو معنی ہیں: اچھے اور برے۔ اس کے اچھے معنی ہیں ”ہم پر مہربانی اور توجہ فرمائیے“ برے معنی ہیں جو یہود راعینا کہتے تھے یعنی ”اے ہمارے گڈرئیے“ اور وہ یہ لفظ رسول ﷺ کی شان گھٹانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پس یہ ایک طنزیہ اشارہ ہے جو توہین رسالت کے برابر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا تھا تاکہ وہ عام راستے بند ہو جائیں جو رسول ﷺ کی اہانت کا باعث ہوں۔(3)

لگائیں۔ قرآن پاک کہتا ہے:

”جو لوگ یہودی بن گئے ہیں‘ ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کی محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں۔ سمعنا و عصینا اور اسمع غیر مسمع اور راعنا حالانکہ اگر وہ کہتے سمعنا واطعنا اور اسمع اور انظرنا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ‘ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے‘ اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔“(46:4)

علامہ قرطبی کہتے ہیں:

”مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے منع کیا گیا‘ تاکہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کے راستے مسدود ہو جائیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعظیم و تکریم ہی مذہب کی بنیاد ہے اور یوں اس سے محرومی مذہب سے انحراف ہے۔“(معالم القرآن از محمد علی صدیقی‘ جلد اول‘ صفحات 463 تا 468)

یہودی سے کسی معاملہ میں تنازعہ تھا۔ یہودی نے فیصلہ کے لیے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور منافق نے اسے کعب بن اشرف کے پاس لے جانے کے لیے کہا۔ بہرحال دونوں رسول پاک ﷺ کی خدمت میں گئے اور آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ منافق اس فیصلہ پر راضی نہ تھا۔ چنانچہ وہ تنازعہ حضرت عمرؓ کے پاس لے گئے۔

صفحہ 337

یہودی نے حضرت عمرؓ کو بتا دیا کہ رسول پاک ﷺ پہلے ہمارے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں۔ یہ شخص اس پر راضی نہ تھا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے منافق سے کہا کیا یہ ایسا ہی ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ حضرت عمرؓ اندر گئے، اپنی تلوار لی اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا اس شخص کے لیے میرا یہی فیصلہ ہے جو رسول پاک ﷺ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس پر آیت 65:4 نازل ہوئی۔

”نہیں، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔“ (65:4) (روحانی المعانی جلد پنجم، صفحہ 67)

حضرت عمرؓ کے اس عمل کی قرآن کریم نے توثیق کی اور یہ اہانت رسول پاک ﷺ کے لیے سزائے موت کی نظیر ہے۔

کسی شکل میں بھی ہو۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے:

”اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے ہم تو یوں ہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو، کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی۔“ (65:9)

”اب عذر نہ تراشو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔“ (66:9)

”یہ بات اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانے کے بارے میں ہے۔ پس اہانت کو کفر سے بھی شدید تر گردانا جائے گا۔ جیسا کہ اس آیت سے اخذ ہوتا ہے کہ جو کوئی رسول ﷺ کی توہین کرتا ہے، مرتد ہو جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول، صفحہ 31)

ابوبکر بن عربی اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 338

”منافقین یہ لفظ دانستہ بولتے تھے یا بطور استہزاء‘ بہر حال صورت جو بھی ہو یہ کفر ہے۔ کیونکہ کفریہ الفاظ سے مذاق کرنا بھی کفر ہے۔“

(احکام القرآن‘ جلد دوم‘ صفحہ 924)

ناراضی سے منع کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا مومنوں کے لیے ممنوع ہے۔ تاکہ اہانت رسول ﷺ کا ذریعہ نہ بن سکے قرآن کہتا ہے۔

”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو‘ نبی کے گھروں میں بلااجازت نہ چلے آیا کرو‘ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ‘ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں‘ مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا۔ نبی ﷺ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو‘ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔“

(55:33)

اور یہ آپ کی سنت سے بھی ثابت ہے کہ آپ کا شاتم سزائے موت کا مستوجب ہوگا۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث کا حوالہ دیا جاسکتا ہے:۔

شخص کو قتل کرو جو ایک نبی کو گالی دیتا ہے اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے درے لگاؤ۔“

(الشفاء قاضی عیاض‘ جلد دوم صفحہ 194)

نابینا شخص کے پاس ایک لونڈی تھی‘ جو رسول پاک ﷺ پر سب و شتم کیا کرتی تھی۔ اس نابینا شخص نے اسے اس حرکت سے باز رہنے کا حکم دیا اور اسے ایسا نہ کرنے پر تنبیہہ کی

صفحہ 339

مگر اس نے پرواہ نہ کی۔ ایک شب جب وہ حسب معمول رسول پاک ﷺ کو گالیاں دے رہی تھی‘ اس نابینا نے چھری اٹھائی اور اسے ہلاک کر دیا۔ اگلی صبح جب اس عورت کے قتل کا مقدمہ رسول پاک ﷺ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا۔ ”یہ کام کس نے کیا ہے‘ کھڑا ہو جائے اور اقبال کرے‘ کیونکہ جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے باعث میرا اس پر حق ہے۔“ اس پر نابینا شخص کھڑا ہو گیا اور لوگوں کو چیرتا ہوا رسول پاک ﷺ کے سامنے آیا اور بولا۔ ”یا رسول اللہ! میں نے اس لونڈی کو قتل کیا ہے کیونکہ اس نے آپ کو گالیاں دی تھیں۔ میں نے مسلسل اسے منع کیا مگر اس نے کوئی پروا نہ کی۔ اس سے میرے دو خوبصورت بیٹے ہیں اور وہ میری بہت اچھی ساتھی تھی مگر کل جب اس نے آپ ﷺ کو گالیاں دینا شروع کیں تو میں نے اپنی چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر حملہ کیا اور اسے ختم کر دیا۔“ رسول پاک ﷺ نے فرمایا۔ ”اے لوگو! گواہ رہنا اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“ (4)

ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ اس کو ایک شخص نے قتل کر دیا۔ رسول پاک ﷺ نے اس کا خون بے حقیقت قرار دیا۔ (5-الف)

صدیق کے پاس بیٹھا تھا۔ جب وہ ایک شخص پر برہم ہوئے‘ میں نے ان سے کہا۔ ”اے خلیفہ رسول اللہ! مجھے حکم دیجئے میں اسے قتل کر دوں۔ اتنی دیر میں ان کا غصہ فرو ہو گیا اور وہ اندر گئے اور مجھے بلایا اور کہا ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا ”مجھے حکم دیجئے اسے قتل کرنے کا۔“ آپ نے فرمایا ”اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو کیا تم اسے قتل کر دیتے؟“ میں نے کہا ”ہاں“ انہوں نے کہا ”نہیں‘ اللہ کی قسم رسول پاک ﷺ کے سوا کوئی شخص اس حیثیت میں نہیں کہ اس کو برا کہنے والا قتل کیا جائے۔“

”کعب بن اشرف کے خلاف کون میری مدد کرے گا۔ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی۔“ اس پر محمد ابن مسلمہ کھڑے ہوئے اور بولے ”اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے ہلاک کر دوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”ہاں۔“ چنانچہ وہ ابو عبس ابن جبرؓ اور عباد ابن بشرؓ کے ہمراہ گئے اور اسے قتل کر

صفحہ 340

دیا۔ (بخاری جلد دوم صفحہ 88)

صفحہ 341

اسے قتل کر دیا۔" رسول پاک ﷺ نے اس کے اس عمل کی توثیق فرمائی۔ (الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم، صفحہ 285)

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عورت جو بنی ختمہ سے تعلق رکھتی تھی، رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا "اس بد زبان عورت سے کون انتقام لے گا۔" اس کے قبیلہ کے ایک شخص نے یہ ذمہ داری اٹھالی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ رسول پاک ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا "اس قبیلہ میں دو بکریاں بھی نہیں لڑیں گی اور لوگ اتحاد اور یگانگت سے رہیں گے۔" (الشفاء از قاضی عیاضؒ، جلد دوم صفحہ 286)

رسول پاک ﷺ اور اس کی سزا کے متعلق بیان کی ہیں:

حدیث نمبر 9704: حضرت عکرمہؓ کی سند سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول پاک ﷺ کو گالی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا "میرے اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا؟" زبیر نے کہا۔ "میں۔" پس وہ (زبیر) اس سے لڑے اور اسے قتل کر دیا۔

ایک صحابی کے حوالہ سے کہتے ہیں) ایک عورت رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ آپ نے فرمایا "میری اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا۔" اس پر خالد بن ولیدؓ اس کے تعاقب میں گئے اور اسے قتل کر دیا۔

حوالہ سے بیان کرتے ہیں) کہ جب ایوب ابن یحییٰ عدنان کے پاس گئے، ان کو ایک آدمی کی نشاندہی کی گئی، جو رسول پاک ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس معاملہ میں علماء سے صلاح مشورہ کیا۔ عبدالرحمٰن ابن یزید صنعانی نے انہیں مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ عبدالرحمٰن نے انہیں ایک حدیث سنائی تھی کہ وہ حضرت عمرؓ سے ملے اور ان سے بہت علم حاصل کیا۔ ایوب نے اس عمل کا ذکر عبدالملک (یا ولید ابن عبدالملک) سے بھی کیا۔ انہوں نے جواباً ان کے عمل کی تعریف کی۔

صفحہ 342

رسول پاک ﷺ کی نقل کی۔ آپ ﷺ نے علی اور زبیر کو بھیجا اور ان سے کہا۔ ”جب تم اسے پاؤ تو قتل کردو۔“

سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے اس آدمی کے قتل کا حکم دیا جس نے رسول پاک ﷺ پر الزام لگایا۔ (مصنف عبدالرزاق‘ جلد پنجم‘ صفحات 377-378)

کو معاف فرما دیا تھا۔ لیکن فقہاء کا اتفاق ہے کہ رسول پاک ﷺ کو بذات خود ہی معافی کا اختیار تھا لیکن امت کو آپ ﷺ نے شاتمین کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔ (الصارم المسلول‘ ابن تیمیہ‘ صفحات 222-223)

”اگر شاتم رسول ﷺ مسلمان ہو تو اس کی سزا موت ہے اور اس میں میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں کوئی اختلاف رائے نہیں。“ (الصارم المسلول‘ صفحہ 4)

قاضی عیاض لکھتے ہیں:

”اس نکتہ پر ائمہ کا اجماع ہے کہ ایک مسلمان مرتکب توہین رسالت کی سزا موت ہے۔“ (الشفاء‘ جلد دوم‘ صفحہ 211)

قاضی عیاض رقم طراز ہیں:

”ہر وہ شخص جو رسول پاک ﷺ کو گالی دے‘ آپ ﷺ میں کوئی نقص نکالے یا آپ ﷺ کے نسب میں یا آپ ﷺ کی کسی صفت میں یا آپ کی طرف کوئی کنایہ کرے یا کسی دوسری چیز سے آپ کی مشابہت کرے آپ ﷺ کی توہین‘ بے عزتی‘ تذلیل‘ بے لحاظی یا نقص کے طور پر تو وہ آپ ﷺ کا شاتم ہے اور وہ قتل کیا جائے گا اور علماء و فقہاء کا اس نکتہ پر اجماع صحابہ کے زمانہ سے آج تک ہے۔“ (الشفاء از قاضی عیاضؒ جلد دوم‘ صفحہ 214)

”مسلمانوں میں اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ ایک

صفحہ 343

مسلمان جو دانستہ رسول پاک ﷺ کی تضحیک و توہین کرتا ہے‘ مرتد ہو جاتا ہے اور سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔“ (احکام القرآن‘ جلد ہشتم‘ صفحہ 106)

یہاں ایک اور حدیث بیان کرنا مفید ہوگا۔

(عبداللہ ابن عباس کی سند سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا اس شخص کو قتل کر دو جو اپنا مذہب (اسلام) تبدیل کرتا ہے۔“ (بخاری‘ جلد دوم‘ صفحہ 123)

30۔ قاضی عیاض نے بیان کیا ہے کہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے شاتم رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ عراق کے کچھ فقہاء نے اس کو درے لگانا تجویز کیا ہے۔ اس پر امام مالکؒ غضب ناک ہو گئے اور کہا۔

”اے امیر المومنین! اس امت کو زندہ رہنے کا کیا حق حاصل ہے جب اس کے رسول کو گالیاں دی جائیں۔ پس اس شخص کو‘ جو رسول ﷺ کو برا بھلا کہے‘ قتل کر دو اور اس کو درے لگاؤ جو آپ کے صحابہ کو برا بھلا کہے۔“ (الشفاء‘ جلد دوم صفحہ 215)

31۔ ابن تیمیہ اس ضمن میں فقہاء کی آراء بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”ابوبکر فارسی شافعی نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس بات پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا موت ہے‘ اگر وہ مسلمان ہے۔“ (الصارم المسلول‘ صفحہ 3)

32۔ مندرجہ بالا بحث سے کسی قسم کا شک باقی نہیں رہتا کہ قرآن پاک کے مطابق جب رسول پاک ﷺ نے اس کی تشریح فرمائی ہے اور اس کے بعد امت میں تواتر سے اس پر عمل ہو رہا ہے کہ رسول پاک ﷺ کی توہین کی سزا موت ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کی توہین کی سزا موت ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کے بعد کسی نے سزا میں کمی یا معافی کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کو اس کا اختیار تھا۔ اس طرح مقدمہ میں پیدا ہونے والا دوسرا سوال اہانت رسول ﷺ کا تعین یا اس کی واضح تعریف ہے۔

صفحہ 344

سنت میں استعمال ہوئے ہیں۔ سب کے معنی تکلیف اٹھانے، نقصان پہنچانے، تنگ کرنے، اہانت کرنے، بے عزتی کرنے، ناراض کرنے، مجروح کرنے، تکلیف میں مبتلا کرنے، بدنام کرنے، درجہ گھٹانے اور طنز کرنے کے ہیں۔

(Arabic English Dictionary, E.W. Lane. Book I, Part I, Page-24)

لفظ شتم کے معنی ہیں بے عزتی کرنا، گالی دینا، ملامت کرنا، جھڑکنا، بددعا دینا، بدنام کرنا۔ (ایضاً صفحات 212-249)

علامہ رشید رضا لفظ ”اذیٰ“ کے معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس کے معنی کوئی ایسی چیز ہے جس سے زندہ شخص کے جسم یا ذہن کو تکلیف پہنچے، خواہ ہلکی ہی ہو۔“ (تفسیر المنار جلد دہم، صفحہ 445)

علامہ ابن تیمیہ توہین کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس کے معنی رسول کو لعنت کرنے، ان کے لیے کسی مشکل کی دعا کرنے یا ان کی طرف کسی ایسی چیز کو منسوب کرنا ہے جو ان کے رتبہ کے لحاظ سے نازیبا ہو۔ یا کوئی توہین آمیز، جھوٹے اور نامناسب الفاظ استعمال کرنا، یا ان سے جہالت منسوب کرنا یا ان پر کسی انسانی کمزوری کا الزام لگانا وغیرہ۔“ (الصارم المسلول، ابن تیمیہ صفحہ 526)

ہوئے لکھتے ہیں: ”بعض اوقات ایک حالت میں ایک لفظ ہی ضرر اور توہین بن جاتا ہے، جب کہ دوسرے موقع پر ایسا لفظ ضرر بنتا ہے نہ توہین۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ذو معنی اور مختلف مطالب والے لفظ کی توضیح، حالات اور مواقع کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ جب کہ سب (توہین و تذلیل) کی تعریف شرع میں دی گئی نہ لغت میں، تو اس کی توضیح کے لیے رواج اور محاورہ پر انحصار کیا جائے گا۔ وہی شرع میں توہین و تذلیل قرار پائے گا اور اس کے برعکس بھی۔“ (الصارم المسلول، ابن تیمیہ صفحہ

(540

مجرمانہ غرض سے کی جائے یا یہ بھی ہو سکتا فاعل کی ذہنی کیفیت ایسی ہو جو سزا کو موج کرتا ہے تو تعزیری نظام آئندہ کے لیے محرکہ فراہم کرے گا۔ اگر دوسری طرف ہوا ہے، تب بھی نقصان دہ نتائج کے امکا طرز عمل کے لیے موثر ترغیب ہو سکتی ہ

قانون ایک کم درجہ کے مجرمانہ ذہن پر ایک شخص کو کسی جرم کا ذمہ دار قرار دیا کی طرح متوقع نتائج سے بچنے کے لیے ن جا سکتا ہے اور ایک شخص کو بلحاظ کسی کے فعل کا ذمہ دار قرار دے سکتا ہے۔ داری والی خطا کاری سے ممیز کی جا سکتی ہ

پیش بینی شامل ہو۔

لیتا ہے جو مجرمانہ نیت یا پیش بینی سے م موقف صرف مجرمانہ ذہن کی نفی کرے گا

مجرمانہ نیت یا قابل مواخذہ غفلت کو ذمہ قسم کے دفاعی موقف، جیسے غلطی سے کسی

فرض کریں ایک آدمی بندوق خریدتا دفاع کے لیے استعمال کی ہو سکتی ہے یا ک

صفحہ 345

35- فوجداری مسئولیت کے لیے خطا کاری دانستہ طور پر ارادتاً ہونا چاہئے یا کسی مجرمانہ غرض سے کی جائے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت سے نہ کی گئی ہو اور ہر موقع پر فاعل کی ذہنی کیفیت ایسی ہو جو سزا کو موثر بنا سکے۔ اگر ایک شخص دانستہ غلط کاری اختیار کرتا ہے تو تعزیری نظام آئندہ کے لیے اسے راہ راست اختیار کرنے کے لیے وافر قوت محرکہ فراہم کرے گا۔ اگر دوسری طرف اس سے ممنوعہ فعل خطا کارانہ نیت کے بغیر سرزد ہوا ہے، تب بھی نقصان دہ نتائج کے امکان کو محسوس کرتے ہوئے سزا آئندہ کے لئے بہتر طرز عمل کے لیے موثر ترغیب ہو سکتی ہے۔

36- تاہم دوسرے ایسے مواقع بھی ہو سکتے ہیں جہاں کافی یا ناکافی وجوہ کی بنا پر قانون ایک کم درجہ کے مجرمانہ ذہن پر مطمئن ہو۔ یہ صورت غفلت کے جرائم کی ہے۔ ایک شخص کو کسی جرم کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے اگر اس نے وہ فعل ایک معقول انسان کی طرح متوقع نتائج سے بچنے کے لیے نہ کیا ہو۔ دوسرے معاملہ میں قانون اس سے آگے جا سکتا ہے اور ایک شخص کو بلالحاظ کسی مجرمانہ ذہنی کیفیت یا قابل مواخذہ غفلت کے اس کے فعل کا ذمہ دار قرار دے سکتا ہے۔ ایسی خطا کاریاں جو غلطی سے مبرا ہوں، شدید ذمہ داری والی خطا کاری سے ممیز کی جا سکتی ہیں۔"

37- خطا کاریاں تین قسم کی ہیں:

پیش بینی شامل ہو۔

لیتا ہے جو مجرمانہ نیت یا پیش بینی سے متضاد ہے۔ ایسی خطا کاریوں میں غلطی جیسا دفاعی موقف صرف مجرمانہ ذہن کی نفی کرے گا، اگر غلطی بذات خود غفلت نہ ہو۔

مجرمانہ نیت یا قابل مواخذہ غفلت کو ذمہ داری کی لازمی شرط تصور کیا جائے گا۔ یہاں اس قسم کے دفاعی موقف، جیسے غلطی سے کسی فعل کا سرزد ہونا قابل قبول نہیں۔

38- اس طرح نیت وہ مقصد یا منصوبہ ہے جس کے تحت ایک فعل کیا گیا ہو۔ فرض کریں ایک آدمی بندوق خریدتا ہے، اس کی نیت شکار کھیلنے کی ہو سکتی ہے، اپنے دفاع کے لیے استعمال کی ہو سکتی ہے یا کسی پر گولی چلا کر اسے جان سے مار دینے کی ہو سکتی

صفحہ 346

ہے تاہم اگر موخرالذکر فعل ذاتی مدافعت ثابت نہیں ہوتا بلکہ قتل ثابت ہوتا ہے، تب نیت ایسا ہی کرنے کی کہی جا سکتی ہے، یعنی جان سے مار دینے کی۔

39۔ ایک غیر ارادی فعل وہ ہے جس میں ایسا مقصد یا منصوبہ مقصود ہو۔ ایک فعل جیسے جان سے مارنا، جو ایک وجہ اور اثر کا حامل ہے، اس وقت غیر ارادی ہو سکتا ہے جب کہ فاعل ایسے نتائج برآمد کرتا ہے جو اس کی نیت نہ تھے۔ کوئی شخص غلطی سے کسی کو جان سے مار سکتا ہے جیسے شکار پر گولی چلاتے ہوئے یا غلط فہمی سے اس کو کوئی اور شخص تصور کرتے ہوئے۔ پہلے بیان کردہ صورتوں میں وہ عواقب کا اندازہ نہیں لگا سکتا، جب کہ موخرالذکر صورت میں وہ بعض حالات سے ناواقف ہے۔

40۔ تاہم نظام قانون یہ اصول فراہم کر سکتا ہے کہ ایسے نتائج کے لیے آدمی کو قابل مواخذہ قرار دیا جائے چاہے یہ اس کی نیت نہ رہے ہوں۔ اولاً ایسا اصول ذہنی عناصر کی مشکل تفتیش کا تدارک کرے گا، دوم اور زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ اصول اس بنا پر معقول ہو گا کہ کسی شخص کو ایسے افعال نہیں کرنے چاہیں جن کو وہ سمجھتا ہو کہ دوسروں کے لیے باعث آزار ہوں گے۔ خواہ اس کی نیت یہ آزار پہنچانے کی ہو یا نہ ہو۔ ایسا رویہ بظاہر غیر محتاط اور مورد الزام ہے، تا وقت یہ کہ خطرہ کا جواز خود فعل کے معاشرتی مفاد کی بنا پر نہ پیش کیا جا سکے۔

41۔ اس خاص تعلق سے اور عموماً ہر دو صورتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ قانون میں یہ اختیار ہو سکتا ہے اور بعض اوقات ہوتا ہے کہ نیت کی محدود تعریف سے باہر اس بنا پر ذمہ داری منسوب کی جائے جس کو تاویلی نیت کہا جاتا ہے۔ وہ نتائج جو دراصل محض غفلت کی پیداوار ہیں، قانون میں بعض اوقات دانستہ گردانے جاتے ہیں۔ پس جو کوئی کسی دوسرے کو شدید جسمانی نقصان پہنچاتا ہے، خواہ اسے ہلاک کرنے کی خواہش یا اس کی یقینی موت کی توقع کے بغیر ہی کیوں نہ ہو، موت واقع ہو جانے کی صورت میں وہ قتل کا مجرم ہو گا۔

42۔ اگرچہ کہ قانون اکثر بلا استثنا ہمیشہ اس قسم کے تغافل سے پیدا ہونے والے عواقب کو، جسے بے احتیاطی سے ممیز کیا جا سکے، دانستہ گردانتا ہے، یعنی جہاں فاعل اپنے خطاکارانہ فعل کے متوقع عواقب کی پیش بینی کر سکتا ہے۔ بے شک ایک معقول آدمی کی پیش بینی بظاہر ایک مفید شہادتی کسوٹی ہے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فاعل نے خود کیا

صفحہ 347

بھانپ لیا تھا۔ لیکن متذکرہ اصول نے اسے ایک قانونی قیاس کی شکل دے دی ہے، جو بظاہر رد نہیں کی جاسکتی۔ یوں نیت کے تحت وہ افعال آتے ہیں جو صریحاً مدنظر ہوں یا جو غفلت سے کئے گئے ہوں۔

جرم کے ساتھ ساتھ پیدا ہوئی۔ دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہے۔ اس اصول کی تائید درج ذیل حدیث رسول ﷺ سے ہوتی ہے:

"اللہ تعالیٰ وہ تمام خیالات معاف فرما دیتا ہے جو میری امت کے افراد کے دل میں پیدا ہوتے ہیں جن کو وہ ظاہر نہیں کرتے، یا جن پر وہ عمل نہیں کرتے۔"

یہی وجہ ہے کہ شریعت پہلے سے طے شدہ قتل انسانی اور ایذا رسانی اور بغیر سوچے سمجھے قتل یا ایذا کے درمیان کوئی خط تفریق نہیں کھینچتی اور دونوں صورتوں میں بعینہ وہی سزا مقرر کرتی ہے۔ قتل کی مقررہ سزا قصاص ہے، خواہ وہ سوچا سمجھا ہوا ہو یا نہ ہو۔

پہنچانے کی نیت ایک واضح نیت سمجھی جائے گی۔ اگر مجرم اپنے نتائج پیدا کرنے کی نیت رکھتا ہے تو باوجود غیر واضح نتائج کے اس کا جرم ایک واضح فعل گردانا جائے گا، خواہ اس سے کچھ بھی نتائج پیدا ہوں۔ حنفیہ، حنابلہ اور بعض شافعی فقہاء مجرمانہ معاملات بشمول قتل کی واضح اور غیر واضح نیت میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے۔ لہٰذا اگر مجرم کا فعل قتل پر منتج ہوتا ہے تو وہ دانستہ قاتل ہے، خواہ اس کی نیت کسی خاص مقتول کی نہ ہو۔

مزید برآں مجرم کی ذمہ داری کا تعین اور اس جرم کی قسم طے کرنے کے لیے جس کا وہ مرتکب ہے، فقہاء پختہ اور غیر پختہ نیت کو ایک سطح پر رکھتے ہیں اور انہیں ایک ہی حکم کے تابع خیال کرتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ جرم میں قتل اور ناپختہ نیت جرم شامل ہو۔

رکھا ہے مگر ارتکاب پر مقصد کے اثر اور طرز جرم اور اس پر عائد سزا کو تسلیم نہیں کیا۔ یوں شرع میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مقصد جرم پسندیدہ ہے، جیسے اپنے کسی قریبی عزیز کے قصاص یا مجرم کے ہاتھوں اس کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے یا یہ کہ مقصد جرم

صفحہ 348

غیرپسندیدہ ہے جیسے روپے کے لالچ یا سرقہ کے لیے قتل کرنا۔

46۔ دوسرے الفاظ میں مقصد جرم کی مجرمانہ نیت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس سے طرز جرم یا اس کی سزا متاثر ہوتی ہے۔ پس عملاً یہ ممکن ہے کہ جہاں تک حد اور قصاص کے جرائم کا تعلق ہے‘ مقصد کے اثر کو مسترد کر دیا جائے مگر ایسا کرنا تعزیری سزاؤں کے معاملات میں ممکن نہیں۔ مقصد حد اور قصاص کے جرائم کو متاثر نہیں کرتا۔ کیونکہ قانون ساز ہستی نے ارتکاب جرم کے پس پردہ مقصد پر غور کو قبول نہ کر کے عدالت کے اختیار کو مقررہ سزاؤں تک محدود کر دیا ہے۔ لیکن تعزیری سزاؤں کے مقدمات میں اس نے عدالت کو مقدار سزا اور قسم سزا متعین کرنے کا اختیار دیا ہے‘ تاکہ عدالت کے لیے مقدار سزا کے تعین میں مقصد جرم کو پیش نظر رکھنا ممکن ہو۔

47۔ دوسرے الفاظ میں انسان کے بنائے ہوئے رائج الوقت قوانین اور شریعت اسلامی میں یہ فرق ہے کہ موخرالذکر ان مقدمات میں‘ جو حدود اور قصاص کے زمرہ میں آتے ہیں‘ مقصد کے اثر کو تسلیم نہیں کرتا۔ شریعت میں ایسی کوئی چیز نہیں جو عدالت کے لیے مقصد جرم پر غور کرنے میں مانع ہو۔ اگرچہ اصلاً یہ سزا پر اس کے اثر کو تسلیم نہیں کرتی۔

48۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہے کہ شریعت کسی جرم کو صرف اس وقت قابل حد تسلیم کرتی ہے جب اس کے ساتھ واضح نیت موجود ہو۔ شریعت سزائے حد موقوف کر دیتی ہے۔ اگر اس امر میں کوئی شک ہو کیونکہ شبہات حد کو زائل کر دیتے ہیں۔

49۔ چنانچہ پیرا 37 کی صرف پہلی قسم کی خطائیں سزائے حد کو اپنی طرف متوجہ کریں گی اور اس کا اطلاق شاتم رسول ﷺ پر ہوگا۔ مزید یہ کہ چونکہ نیت کا پتہ وقوعہ کے گرد کے حالات سے چل سکتا ہے‘ دوسری اور تیسری قسم کے اعمال حدوں کی سزاؤں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کریں گے۔ بشرط یہ کہ ملزم یہ ثابت کرے کہ اس کا ارادہ کبھی بھی جرم کرنے کا نہ تھا اور وہ نادم ہو‘ اگر کہے گئے الفاظ‘ کئے گئے اشارے یا عمل‘ مبہم ہوں یا وہ مجرمانہ ذہن یا بغض کے کچھ رجحانات ظاہر کرتے ہوں۔ یہاں ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ توہین رسول ﷺ کے جرم میں ندامت کا فائدہ یہ ظاہر کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے کہ مجرم کے ذہن میں کوئی مجرمانہ خیال یا بغض نہ تھا اور سزا اسی بنا پر موقوف کر

دی جائے گی‘ اس لیے نہیں کہ ندامت ا

قرآن پاک کہتا ہے:

”نادانستہ جو بات تم کہو اس لیکن اس بات پر ضرور گرفت درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“

”جب تمہارے پاس وہ لوگ ہیں تو ان سے کہو تم پر سلامتی ۔ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا کرے اور اصلاح کرے تو وہ ا لیتا ہے۔“ (54:6)

”جو شخص ایمان لانے کے ب دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (ت سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ لیے بڑا عذاب ہے۔“ (106:6)

”اللہ نگاہوں کی چوری تک ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں۔

50۔ حضرت عمرؓ کی سند سے بیا ”اعمال کی جزا کا دارومدار نیت رہی ہوگی اسی کے مطابق فائدے کے لیے ہجرت کی اس ک کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (بخا

51۔ ابی ابن کعب کی سند سے ر مگر مدینہ کے آخری سرے پر تھا۔ لیکن ا نہ ہونے دی۔ ہمیں اس پر ترس آیا اور ا کے نزدیک کوئی گھر کیوں نہیں خرید لیتے

صفحہ 349

دی جائے گی، اس لیے نہیں کہ ندامت ایک سوچی سمجھی توہین کو ختم کر دے گی۔

قرآن پاک کہتا ہے:

"نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔" (5:33)

"جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو تم پر سلامتی ہے، تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔" (54:6)

"جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔" (106:16)

"اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں۔" (19:40)

"اعمال کی جزا کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو جو اس کی نیت رہی ہوگی اسی کے مطابق جزا ملے گی۔" پس جس نے دنیاوی فائدے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اس فائدے کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (بخاری، جلد اول، صفحہ 1، حدیث 1)

گھر مدینہ کے آخری سرے پر تھا۔ لیکن اس نے رسول ﷺ کے ساتھ اپنی کوئی نماز قضا نہ ہونے دی۔ ہمیں اس پر ترس آیا اور اس سے کہا: اے بھلے آدمی! تم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک کوئی گھر کیوں نہیں خرید لیتے تاکہ تم گرمی اور اتنی دور سے آنے کی تکلیف

صفحہ 350

سے بچ سکو۔ اس نے کہا: سنو! اللہ کی قسم میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر رسول اللہ ﷺ کے قریب واقع ہو۔ مجھے اس کے یہ الفاظ برے لگے اور اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو (ان الفاظ کی) اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اسے طلب فرمایا اور اس نے بالکل وہی کہا، جو اس نے ابن ابی کعب سے کہا تھا، مگر یہ بھی کہا کہ وہ اپنے ہر قدم کی جزا چاہتا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حقیقت میں تمہارے لیے وہ جزا ہے جس کی تم نے نیت کی۔“ (مسلم، جلد اول، انگریزی ترجمہ از عبدالحمید صدیقی، صفحات 323-324 حدیث 1404) مندرجہ بالا حدیث صاف طور پر ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر جو الفاظ کہے گئے، وہ توہین آمیز معلوم ہوتے ہیں مگر یہ کہنے والے کی نیت نہ تھی، پس اسے سزا سے مبرا قرار دیا گیا۔

تھے جب کہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک آدمی نے اچانک قبر میں جھانکا اور بولا اک مومن کی بری آرام گاہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے پلٹ کر فرمایا: ”کیا بری شے تم نے دیکھی ہے؟“ اس شخص نے بات کھل کر کہی، میرا یہ مطلب نہ تھا بلکہ میرا مطلب تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد بہتر ہے۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے تین مرتبہ کہا: ”اللہ کی راہ میں مرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں، دنیا میں کوئی دوسرا خطہ زمین ایسا نہیں سوائے جہاد کے جہاں میں اپنی قبر پسند کروں۔“ (مشکوۃ جلد سوم، صفحات 662-663 انگریزی ترجمہ از فضل الکریم، حدیث 575)

رسول ﷺ کی شان میں بے ادبی ہیں، جرم نہیں، جب تک کہ یہ پرخاش یا تذلیل پر مبنی نہ ہوں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کے روبرو بلند آواز سے بولنا منع ہے۔

قرآن پاک کہتا ہے۔

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“ (2:49)

اس ضمن میں علامہ قرطبی آیت 2:49 کی تشریح فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 351

”چیخنے اور اپنی آواز نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ اس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی، تاہم یہ جرم نہیں اگر بغرض جنگ یا دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔“(6)

54۔ علامہ آلوسی آیت 2:49 کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”جب یہ آیت نازل ہوئی، ثابت ابن قیس، جس کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی، اپنے گھر گئے اور دروازہ بند کر کے رونا شروع کر دیا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی مجالس میں لمبے عرصہ تک حاضری نہ دی تو رسول پاک ﷺ نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ صحابہ نے آپ ﷺ کو بتایا کہ انہوں نے گھر کا دروازہ بند کر لیا ہے اور گھر کے اندر رو رہے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے انہیں بلوایا اور پوچھا تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ”اے اللہ کے نبی! جب سے یہ آیت نازل ہوئی، بلند آواز کا مالک ہونے کی وجہ سے مجھے خوف آیا کہ میں ان میں سے ایک نہ ہوں، جن کے نیک اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔“ رسول پاک ﷺ نے ان سے کہا۔ ”تم ان میں سے نہیں، تم برکتوں کے ساتھ زندہ رہو گے اور برکتوں کے ساتھ ہی وفات پاؤ گے۔.........“ کے مطابق اس کی بنیاد یہ تھی کہ اس کی بلند آواز قدرتی چیز تھی، کیونکہ وہ بہرے تھے اور بہرے اکثر بلند آواز میں بولتے ہیں اور ان کی بلند آواز رسول پاک ﷺ کی تحقیر و تذلیل کی غرض سے نہ تھی، جیسا کہ منافقین کی، جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔“ (روح المعانی، جلد 26، صفحات 124-125)

55۔ علامہ آلوسی مزید لکھتے ہیں:

”نبی ﷺ کے سامنے ان کا چیخ کر بولنا دو طرح کا ہے:

اول بغض اور توہین کرنے والے عمل پر مبنی نہیں جیسے کہ جنگوں میں چیخنا اور اونچی آواز سے بولنا، دشمنوں کے ساتھ جھگڑے کے دوران

صفحہ 352

ضرب اور توہین کے لیے، جیسے رسول ﷺ نے یوم غزوہ حنین کے موقع پر حضرت عباسؓ کو لوگوں کو بلند آواز سے پکارنے کا حکم دیا اور انہوں نے لوگوں کو ایسی بلند آواز سے پکارا کہ اس سے حاملہ عورتوں کے حمل گر پڑے۔ دوسری قسم بغض اور توہین آمیز اعمال پر مبنی ہے، جیسا کہ منافقین اور کفار کرتے تھے۔" (روح المعانی جلد 26، ص

(125-124

متعلق نازل ہوا جو کہتا تھا۔ "اللہ کے نبی ﷺ کی وفات کے بعد میں حضرت عائشہؓ سے نکاح کروں گا۔" جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ کو سخت اذیت ہوئی۔ اس موقع پر وہ آیت نازل ہوئی جس نے ہمیشہ کے لیے جناب رسالت مآب ﷺ کی ازواج سے نکاح ممنوع قرار دیا اور رسول پاک ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی زوجہ کلبیہ کو طلاق دے دی اور اس نے عکرمہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا اور بعض کے نزدیک، اس نے ابن قیس کندی سے نکاح کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے خیال میں آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ سے نکاح آپ ﷺ کی وفات کے بعد نکاح کا اظہار باعث اذیت رسول ﷺ نہ تھا، کیونکہ یہ ممنوع نہ ہوا تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن ص 230)

نے حضرت عائشہؓ پر الزام تراشی میں حصہ لیا تھا، سزا نہیں دی اور آپ ﷺ نے انہیں منافق بھی قرار نہیں دیا۔ ابن تیمیہؒ اس صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "ان کی نیت اللہ کے رسول کو ایذا دینے کی نہ تھی اور اس کی کوئی علامت بھی موجود نہ تھی، جبکہ ابن ابی ایذا کی نیت رکھتا تھا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی اس دنیا میں ازواج دوسری دنیا میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ ان کی بیویوں کے لیے عرف عام میں ممکن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول

صفحہ 353

پاک ﷺ نے ان کے معاملہ میں تذبذب فرمایا اور علیؓ و زیدؓ سے مشورہ کیا اور بریرہؓ سے دریافت کیا اور ان لوگوں کو منافق قرار نہیں دیا جن کی نیت نبی ﷺ کے ایذا کی نہ تھی۔ ان کے ذہن میں اس امکان کی بنا پر‘ کہ شاید رسول پاک ﷺ اپنی متہم بیوی کو طلاق دے دیں‘ لیکن اس حکم کے بعد‘ کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کی ازواج آخرت میں بھی آپ ﷺ کی ازواج ہوں گی اور یہ کہ امہات مومنین ہیں‘ ان پر الزام لگانا ہر قیمت پر نبی ﷺ کی اذیت ہو گا۔“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ، ص 49)

مولانا احمد یار خاں بدایونی لکھتے ہیں:

ایک شخص نے کہا‘ رسول پاک ﷺ غریب تھے اور خوش قسمت نہ تھے‘ تو وہ صرف اس وقت کافر ہو جائے گا‘ جب اس سے اس کی نیت اہانت رسول ﷺ ہو۔“ (نور العرفان‘ حصہ دہم‘ ص 74)

صریح الفاظ میں ہے تو شاتم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی لیکن اگر الفاظ ایسے ہیں جو مختلف معنی اور مفہوم رکھتے ہیں یا اس امر کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں سے صرف ایک مفہوم توہین کا حامل ہے تو اس سے اس کی نیت دریافت کی جائے گی۔ (الشفاء قاضی عیاضؒ‘ جلد دوم‘ ص 221)

بدل جاتے ہیں‘ سیاق و سباق بھی مختلف معنی ظاہر کر سکتا ہے‘ لہٰذا ملزم کو وضاحت کا موقع دینا چاہئے‘ تاکہ کہیں کوئی معصوم شخص سزا نہ پا جائے۔ ایک روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: ”ایک مجرم کو بری کر دینے کی غلطی ایک معصوم شخص کو سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔“ (سنن البیہقی‘ جلد ہشتم‘ ص 184) قرآن بھی ہر ملزم کو حق دیتا ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گو اللہ قادر مطلق جانتا ہے کہ جو کچھ امین فرشتوں نے ایک شخص کے اعمال نامہ میں اس کے اس دنیا کے اعمال کے بارے میں لکھا ہے‘ صحیح و غیر مشکوک ہے‘ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص کو سنا جائے گا اور اگر اسے

صفحہ 354

فرشتوں کے لکھے پر اعتراض ہے تو اللہ تعالیٰ شہادت طلب کرے گا‘ اس کے اپنے ہاتھوں‘ پیروں‘ آنکھوں اور کانوں سے۔ ملاحظہ ہو القرآن‘ آیات 13:17‘ 14۔ 65:36۔24:24‘ 22۔ 93:16 اور 23:21۔ ان سنن سے‘ جن کا حوالہ پیرا 36‘ 41 میں دیا گیا ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم کا حق وضاحت و صفائی موجود ہے‘ جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کے بعد ہی عدالت فیصلہ کر سکتی ہے کہ کہے گئے الفاظ تہمت کی غرض سے تھے یا وہ بدخواہی اور گستاخی سے استعمال ہوئے تھے یا غیرارادی طور پر منہ سے نکل گئے تھے۔

سنا:

”اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے‘ زبیرؓ اور مقدادؓ کو یہ کہہ کر بھیجا کہ ”جاؤ! یہاں تک کہ تم روضہ خاخ پہنچو۔ وہاں تمہیں ایک عورت ایک خط کے ساتھ ملے گی۔ اس خط کو حاصل کر لو۔“ چنانچہ ہم روانہ ہو گئے اور ہمارے گھوڑے پوری رفتار سے دوڑے‘ یہاں تک کہ ہم الروضہ پہنچے‘ اس نے کہا ”میرے پاس کوئی خط نہیں۔“ ہم نے دھمکی دی کہ ”خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے۔“ اس پر اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا۔ ہم خط اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے آئے۔ اس میں حاطب ابن ابی بلتعہ کا ایک پیغام بعض کفار مکہ کے نام تھا‘ جس میں انہیں اللہ کے رسول ﷺ کے بعض ارادوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا حرکت ہے؟“ حاطب نے جواب دیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ‘ میرے متعلق اپنا فیصلہ صادر کرنے میں عجلت نہ کیجئے۔ میں قریش سے قریبی تعلق رکھنے والا آدمی تھا‘ لیکن اس قبیلہ سے نہ تھا‘ جب کہ آپ کے ساتھ دوسرے مہاجرین کے رشتہ دار مکہ میں ہیں جو ان کے زیر کفالت افراد اور ان کی جائیداد کی حفاظت کریں گے‘ چنانچہ میں نے ان سے اپنے خونی رشتہ کی کمی کو ان کے ساتھ ایک مہربانی سے پورا کرنا چاہا‘ تاکہ وہ میرے کفیلوں کی حفاظت کریں۔ میں نے یہ نہ تو کفر کی

صفحہ 355

وجہ سے کیا ہے، نہ ارتداد کی بنا پر اور نہ کفر کو اسلام پر ترجیح دینے کے لیے۔“ اللہ کے رسول ﷺ نے کہا: ”حاطب نے تمہیں حقیقت بتا دی ہے۔“

(بخاری، جلد چہارم، صفحات 154-155 حدیث 201)

”فقہاء کی رائے ہے کہ رسول پاک ﷺ کے معاملات میں حاکم یا جج کو موقع محل اور شاتم کا عام رویہ معاملہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا چاہئے۔“

(احکام المرتد، نعمان عبدالرزاق سمرقندی، ص 109)

سلسلہ میں لکھتے ہیں:

”کلمات کفر اور اس شخص کی نوعیت میں فرق ہے، جو ان الفاظ کا حوالہ دیتا ہے اور اس سے کافر ہو جاتا ہے۔“

(تمہید ایمان، ص 59)

وہ آگے چل کر فرماتے ہیں:

”لفظ راعنا کا استعمال اب توہین نہیں، کیونکہ یہ آج کل توہین رسول کے سیاق و سباق میں نہیں کہا جاتا۔“

(ختم نبوت، ص 71)

زہر ملا دیا اور رسول کریم ﷺ کو پیش کیا، جو بکرے کی دستی کا گوشت کھانا پسند فرماتے تھے۔ اس نے گوشت کے اس حصہ میں زہر ملا دیا۔ رسول پاک ﷺ اور بشر بن براء نے، جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے، اس میں سے کھا لیا لیکن جب رسول پاک ﷺ نے کھانا شروع کیا تو آپ نے محسوس فرمایا کہ یہ زہر آلود ہے، تو آپ ﷺ نے اسے تھوک دیا۔ پھر رسول پاک ﷺ نے اس یہودی عورت کو بلایا اور اس سے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ اس نے اس گوشت میں زہر ملانے کا اقبال کیا، پھر رسول پاک ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ ایک نبی ہیں تو آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ رسول پاک ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔

(اقضیۃ الرسول از محمد ابن فرج، اردو

ترجمہ، صفحات 189-190)

صفحہ 356

فرق نہیں رکھا حالانکہ اس نے ان میں سے بعض پر دوسروں کی نسبت زیادہ نعمتیں نازل فرمائیں۔ یہاں ہم حوالہ کے لیے قرآن پاک سے مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں:

"ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیئے اور ہم ہی نے داؤد کو زبور دی تھی۔" (55:17)

"یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطاء کیے ان میں سے ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے اور روح القدس سے عیسیٰ کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے، مگر اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں اللہ چاہتا تو وہ ہرگز نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔" (253:2)

"مسلمانو! کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی، ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے ماننے والے ہیں۔" (136:2)

(اور آیات 285:2، 150:4 اور 152:4)

تمام پیغمبروں کے ہم مرتبہ ہونے کے سبب سے وہی سزائے موت، جو اوپر قرار دی گئی ہے، اس معاملہ میں بھی لاگو ہوگی جہاں کوئی شخص ان میں سے کسی کے متعلق بھی کوئی توہین آمیز بات کہتا یا کسی طرح کی گستاخی کرتا ہے۔

کہ دفعہ 295۔سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے، احکامات اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت میں دیئے گئے ہیں۔ لہٰذا یہ الفاظ اس میں سے حذف کر دیئے

صفحہ 357

جائیں۔

جب دوسرے پیغمبروں کے متعلق کی جائیں، وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم بن جائے جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔

ارسال کی جائے، تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکامات اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر 30 اپریل 1991 تک ایسا نہیں کیا جائے تو یا ”عمر قید“ کے الفاظ 295-سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔

حوالہ فیصلہ PLD-FSC-1991 Vol XLIII Page 10

صفحہ 358

حواشی

کیا گیا تھا۔ جس میں توہین مذہب کی سزا دو سال مقرر تھی اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا بھی یہی تھی۔ اس لیے مطالبہ کیا گیا تھا کہ توہین رسالت سزائے موت بطور حد مقرر کی جائے۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ جب فاضل عدالت نے پہلی درخواست توہین رسالت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تو درخواست گزار نے 295۔ سی کا مسودہ قانون تیار کیا جسے مرحومہ آپا نثار فاطمہ ایم۔ این۔ اے نے قومی اسمبلی میں پیش کیا لیکن اس وقت کے وزیر قانون خان اقبال احمد خان اور مذہبی جماعتوں کے اراکین اسمبلی بھی اس بل کے حق میں نہیں تھے۔ جو بصد مشکل عمر قید پر راضی ہوئے۔ لیکن بعد میں انہیں عوام کے دباؤ پر عمر قید کے ساتھ سزائے موت کا اضافہ کرنا پڑا مگر عدالت کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ ان دونوں سزاؤں میں جو سزا بھی مناسب سمجھے توہین رسالت کے مجرم کو دے سکتی ہے۔ جس پر دوبارہ مقدمہ مذکورہ الصدر وفاقی شرعی عدالت میں دائر کیا گیا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ صدر مملکت اور حکومت پاکستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ توہین رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں۔

(مولف)

تھا۔

(مولف)

(مولف)

“ لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس وقت بھی اس کے مخاطب اہل ایمان ہی تھے جو اس لفظ کے سوائے ”توجہ فرمائیے“ کے کوئی اور معنی سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ”راعنا“ کا استعمال تا قیامت ممنوع قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے اذہان میں اس لفظ کا گستاخانہ مفہوم آہی نہیں سکتا تھا۔ اس کے باوجود انہیں بھی اس لفظ کے استعمال سے منع فرما دیا گیا۔ بایں وجہ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی کی

صفحہ 359

رائے سے بصد ادب اختلاف ہے کہ لفظ راعنا کا استعمال اب توہین نہیں رہا۔

علیہ السلام کی ایک دوسرے پر فضیلت کا تعلق ہے اس سے قرآن نے انکار نہیں کیا بلکہ تصدیق کی ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ حضور ختمی مرتبت امام الانبیاء ہیں۔ (مولف)

حمنہؓ کو سزا نہیں دی گئی جب کہ ان تینوں کو حد قذف کی سزا دی گئی تھی۔ (مولف)

صفحہ 360

وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد / لاہور 1/L/84

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان، لاہور

بنام

درخواست زیر آرٹیکل 203-ڈی آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان (ترمیم شدہ بروئے صدارتی حکم نمبر 1 سال 1983ء) بایں نمط کہ تعزیرات پاکستان کے دفعات متعلقہ جرائم تحقیر مذہب و تنقیص نفوس قدسیہ کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ صادر کیا جائے کہ وہ کس حد تک قرآن و سنت کے منافی ہیں تاکہ مسئول علیہم اس کے مطابق قانون میں ترمیم و اضافہ کر سکیں۔ موجبات درخواست حسب ذیل ہیں:

”جو کوئی عمداً اور بدنیتی سے زبانی یا تحریری یا اعلانیہ طور پر پاکستانی شہریوں کے کسی طبقہ کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کا مرتکب ہو وہ دو سال تک سزا یا سزائے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔“

”جو کوئی تحریری یا تقریری یا علانیہ یا اشارتاً یا کنایتاً یا بالواسطہ یا بلا واسطہ ”امہات المومنین“ میں سے کسی ”ام المومنین“ یا کسی ”اہل بیت“ یا خلفائے راشدین میں سے کسی خلیفہ راشد یا ”اصحاب رسول ﷺ“ کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے اسے تین سال تک قید کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا وہ ان دونوں

صفحہ 361

سزاؤں کا مستوجب ہو گا۔"

سنت کے منافی ہے:

رسالت“ کا عقیدہ بھی ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے اور جو کوئی اس عقیدہ کو ٹھیس پہنچا کر ذات حق کی تنقیص یا توہین رسالت کا ارتکاب کرے، اس کی سزا قرآن اور سنت کی رو سے سزائے موت ہے۔ اس لیے دفعہ 295 الف مذکور میں اس کی جو دو سال یا جرمانہ کی سزا رکھی گئی ہے، وہ صریحاً قرآن اور سنت کی مقرر کردہ سزا کے خلاف ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن کی متعلقہ آیات درج ذیل ہیں:

ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا (سورہ احزاب:57)

ترجمہ: ”بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا گیا ہے۔“

جرمانہ کی سزا یا دو سال کی سزائے قید ”رسوا کن عذاب“ کی تعریف میں نہیں آتے، حالانکہ ان سے معمولی جرائم کی سزائیں نسبتاً زیادہ سنگین ہیں۔ دنیا میں تعذیب (Punishment) کا اجرا (Execution) ریاست یا انتظامیہ کے ذریعہ سے ہو گا۔

قتال کا حکم دیا گیا ہے:

ذلک بانہم شاقوا اللہ و رسولہ و من یشاقق اللہ و رسولہ فان اللہ شدید العقاب (سورہ انفال:13)

ترجمہ: ”یہ (حکم قتال) اس لیے دیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

استہزاء کرنے والوں کو قرآن نے کافر قرار دیا ہے کیونکہ ان کی یہ حرکت ارتداد کفر ہے

صفحہ 362

اور مرتد کی سزا اسلام میں سزائے موت ہے جس پر ساری امت مسلمہ کا اجماع ہے۔

ولئن سألتهم ليقولن انما كنا نخوض و نلعب قل ابالله و آياته و رسوله كنتم تستهزئون لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم ان نعف عن طائفته منكم نعذب طائفته بانهم

كانون مجرمين O (سورہ توبہ 66:65)

ترجمہ: ”اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو (ایسی باتیں کیوں کرتے ہو؟“ تو یہ ضرور جواب میں کہیں گے ”ہم نے تو یونہی جی بہلانے کو ایک بات چھیڑ دی تھی اور ہنسی مذاق کرتے تھے“ تم (ان سے) کہو ”کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟“

بہانے نہ بناؤ! حقیقت یہ ہے کہ تم نے ایمان کے اقرار کے بعد پھر کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تاہم ایک گروہ کو ضرور عذاب دیں گے اس لیے کہ (اصل میں) وہی مجرم تھے۔“

فرمان رسول ﷺ:

من بدل دينه فاقتلوه ”جو اپنے دین کو تبدیل کرے اسے قتل کر دیا جائے۔“

عمل صحابہ:

قتل مرتد:

جب آنحضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو اس وقت وہاں حضرت ابو موسیٰ اشعری بطور گورنر کام کر رہے تھے۔ جب ایک یہودی جو مسلمان ہو کر پھر یہودی ہو گیا تھا، آپ کے سامنے آیا تو آپ نے اس وقت تک سواری سے اترنے سے انکار کر دیا جب تک کہ اس مرتد کی گردن نہ اڑا دی جائے۔ چنانچہ آپ کے حکم کی تعمیل کی گئی۔

موت ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل آیات و احادیث پیش ہیں:

صفحہ 363

یہ واضح حکم موجود ہے:

یا ایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون

ترجمہ: "اے اہل ایمان! اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی ان سے اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔"

تفسیر: سورہ الحجرات کی آیت لا ترفعوا اصواتکم کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب "الجامع الاحکام القرآن" لکھتے ہیں۔

لیس الغرض برفع الصوت والجهر ما يقصد به الاستخفاف ولا استهانة لان ذالك الكفر (والمخاطبون مؤمنون)

"اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی آواز نہیں جس کا مقصد آنحضور ﷺ کا استخفاف و اہانت ہو کیونکہ ایسی بلند آوازی تو کفر ہے۔"

ملاحظہ ہو الجامع الاحکام القرآن طبع مصر‘ 1967ء‘ مصنف ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی۔

صاحب روح المعانی لکھتے ہیں:

"یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ آنحضور کو کسی قول و فعل کے ذریعہ تکلیف پہنچانا کفر ہے جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اعمال سے بھی منع فرمایا گیا جس سے آپ کو اذیت پہنچانا کا احتمال ہو----- اور اس پر تمام ائمہ کا اجماع ہے کہ جو شخص بھی ایذائے رسول کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہے اور اس کی معافی اور توبہ قابل قبول نہیں۔"

صفحہ 364

(ملاحظہ ہو روح المعانی: 18:136‘ 137‘ طبع مصر 1301 ہجری)

ذو معنی الفاظ استعمال کرتے تھے ان کے لیے یہ سخت وعید نازل ہوئی۔

من الذین ہادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقولون سمعنا و عصینا واسمع غیر مسمع و راعنا لیا بالسنتہم وطعنا فی الدین و لو انہم قالوا سمعنا و اطعنا واسمع و انظرنا لکان خیرا لہم و اقوم ولکن لعنہم اللہ بکفرہم فلا یومنون الا قلیلا (سورۃ نساء: 46)

” (اے پیغمبر) وہ لوگ جنہوں نے یہودیت اختیار کی‘ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو لفظوں کو ان کی اصلی جگہ سے پھیر دیا کرتے ہیں اور (جب تم سے ملتے ہیں) تو اس خیال سے کہ دین حق کے خلاف طعن و تشنیع کریں زبان مروڑ مروڑ کر لفظوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ (چنانچہ) کہتے ہیں سمعنا و عصینا اور واسمع غیر مسمع اور راعنا اگر یہ لوگ (راست بازی سے محروم نہ ہوتے اور شرارت آمیز لفظوں کی جگہ سمعنا و اطعنا اور اسمع اور انظرنا کہتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا اور درستگی کی بات تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑ چکی ہے۔ پس ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا سب ایمان سے محروم رہیں گے۔“

حدیث:

جب حضرت سعد بن معاذ کو معلوم ہوا کہ یہودی لفظ راعنا کا لفظ بارگاہ رسالت میں بطور طعن و تشنیع استعمال کرتے ہیں (جس کے ایک معنی تو ”ہماری طرف التفات کیجئے“ کے علاوہ یہ بھی ہیں ”اے ہمارے چرواہے“ تو آپ نے یہودیوں سے کہا: ”تم پر اللہ کی پھٹکار ہو آئندہ سے اگر میں نے تم میں سے کسی کو لفظ راعنا کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن مار دوں گا۔“ (ملاحظہ ہو الجامع الاحکام القرآن 2:57 طبع مصر

1967ء)

صفحہ 365

جصاص بھی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بتلاتے ہیں: "یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ لفظ جس میں معنی خیر و شر دونوں کا احتمال ہو اس لفظ کا استعمال اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی ایسی قید نہ لگائی جائے جس سے خیر کا پہلو نمایاں ہو۔"

(ملاحظہ ہو احکام القرآن 66/67 طبع مصر 1347 ہجری)

لا تجعلو دعا الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا

(سوره نور : 64)

ترجمہ : ”تم لوگ اپنے درمیان رسول کو بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو۔“

تفسیر: مسلمانو! تم پر واجب ہے کہ تم پیغمبر کی عزت و تکریم، تعظیم و توقیر کرو۔ آپ کے حفظ مراتب کا خیال رکھو اور آپ کی موجودگی میں اپنی آوازوں کو پست رکھو اور آپ کو نبی اور رسول اللہ جیسے الفاظ سے مخاطب کرو۔“

عذاب کی خبر دی گئی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

و منهم الذين يوذون النبى و يقولون هو اذن قل اذن خير لكم يومن بالله و يومن للمومنين و رحمة الذين امنو منكم و الذين يوذون رسول الله لهم عذاب اليمO يحلفون بالله لكم ليرضوكم والله و رسوله احق ان يرضوه ان كانو مومنين (سوره توبه : 61، 62)

اور ان ہی (منافقوں) میں (وہ لوگ بھی) ہیں جو اللہ کے نبی کو (اپنی بدگوئی سے) اذیت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ شخص تو بہت سننے والا (یعنی کان کا کچا ہے۔ اے پیغمبر) تم کہو ہاں وہ بہت سننے والا ہے مگر تمہاری بہتری کے لیے وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے اور وہ مومنوں کی بات پر بھی یقین رکھتا ہے۔ (جن کی سچائی ہر طرح کے امتحانوں میں پڑ کر کھری ثابت ہو چکی ہے) اور وہ ان کے لیے سرتا سر رحمت ہے جو تم میں سے ایمان

صفحہ 366

لائے ہیں اور جو اللہ کے رسول کو آزار پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے لیے عذاب ہے‘ دردناک عذاب!

(مسلمانو!) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کرلیں حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوتے تو سمجھتے کہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے راضی رکھیں۔“

(ز) سورہ نساء میں ایمان اور کفر کا فرق واضح کرتے ہوئے بتلایا گیا کہ پیغمبر حق کی ہر بات کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہی عین ایمان ہے اور اس کے خلاف اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس کرنا صریحاً کفر ہے۔ چنانچہ فرمان الٰہی ہے:

فلا و ربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجا مما قضيت و يسلموا تسليما

(سورہ نساء: 64)

ترجمہ: ”(پس اے محمد) تمہارے رب کی قسم یہ کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو یہ اپنا حکم نہ بنا لیں اور پھر جو کچھ بھی فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے سر بسر تسلیم کرلیں۔“

شانِ نزول:

سورہ نساء کی متذکرہ صدر آیت مبارکہ کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان کسی معاملہ پر تنازعہ ہو گیا۔ دونوں اس سلسلہ میں آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر فرمایا۔ جس سے دوسرا فریق راضی نہ ہوا اور اس کے اصرار پر یہ دونوں معاملہ کو لے کر از سرِ نو فیصلہ کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے (جو ان دنوں آنحضور ﷺ کے حکم سے مدینہ منورہ کے تنازعات اور خصومات کا فیصلہ کیا کرتے اور مرکز میں رئیس القضاء (Chief Justice) تھے۔ آپ نے دونوں سے روئیدادِ مقدمہ سنی اور جب آپ کو علم ہوا کہ آنحضور ﷺ اس بارے میں یہودی کے حق میں فیصلہ صادر فرما چکے ہیں تو آپ نے خود اس منافق سے اس کی تصدیق کر لی تو اسی وقت

صفحہ 367

تلوار سے اس منافق کا سر قلم کر دیا۔

ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی جلد پنجم، صفحہ 67، مطبوعہ بیروت۔

اس کے بعد آپ نے فرمایا:

ھکذا اقضی لمن لم یرض بقضاء اللہ و رسولہ

”اور جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اس کے لیے یہی فیصلہ ہے جو میں نے کیا ہے۔“

مقتول کے ورثاء نے حضور رسالت مآب ﷺ کی عدالت میں حضرت عمرؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ کر دیا جس پر سورہ نساء کی یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی اور آنحضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو ”فاروق“ کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، صفحہ 114)

حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ سے یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا بھی توہین اور گستاخی کا موجب ہے جس کا مرتکب واجب القتل ہے اور اس کی تصدیق سورہ نساء کی اس آیہ مبارکہ نے کر دی۔

احکام الحدیث:

”ایک شخص نے حضور علیہ السلام کی تکذیب کی۔ آنحضور ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو اس طرف روانہ کیا اور فرمایا اگر وہ تم کو مل جائے تو اسے قتل کر دو۔“

(حوالہ سعید ابن جبیر حدیث نمبر 9707 صفحہ 308 المصنف عبدالرزاق)

کنیز حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی اور منع کرنے پر بھی وہ اس سے باز نہ آتی تھی۔ ایک رات اس نے آنحضور ﷺ کی شان اقدس میں بے حد گستاخی کی تو نابینا صحابی نے اسے خنجر گھونپ کر ہلاک کر دیا۔ جب اس قتل کی خبر آپ تک پہنچی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ اس کا خون کس نے کیا؟ اس پر وہ صحابی آپ کی خدمت میں کانپتے ہوئے پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وہ عورت میری رفیق حیات تھی اور اس کے بطن سے میرے دو بچے بھی ہیں اور وہ میری خدمت بھی کیا کرتی تھی لیکن اس نے آپ

صفحہ 368

کی شان میں گستاخی کی اس لیے میں نے خنجر سے اس کا کام تمام کر دیا۔ اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الا اشہدوا ان دمھا ھدر

”تم سب گواہ رہو کہ اس عورت کا خون ضائع ہو گیا یعنی اس کے خون کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔“

(المصنف: عبدالرزاق)

گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے ہمیشہ کے لیے اس کا منہ بند کر دیا۔ (یعنی مار دیا گیا) آنحضور ﷺ نے اس کا خون باطل قرار دیا۔ (اس کے خون کا بدلہ قصاص یا دیت کی صورت میں نہیں دلوایا گیا)۔

(سنن ابو داؤد=۶/۲)

کر دیا گیا

(کتاب المغازی، باب المغازی، صفحہ 576-577)

کے پاس موجود تھا۔ آپ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور اسے سخت سست کہا میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول اگر اجازت ہو تو میں اس (گستاخ) کی گردن اڑا دوں۔ یہ سن کر آپ کا غصہ فرو ہو گیا اور آپ اٹھ کر اندر چلے گئے۔ پھر آپ نے مجھ (ابو برزہ) کو اندر بلا بھیجا اور پوچھا تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے جواب دیا اگر اجازت ہو تو اس کی گردن مار دوں۔ اس پر آپ نے پوچھا اگر میں اجازت دیتا تو کیا تم ایسا کر گزرتے؟ میں نے جواب دیا ہاں۔ اس پر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم یہ مرتبہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور شخص کو حاصل نہیں (کہ اس سے گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیا جائے)۔ (سنن ابوداؤد۔ المحلی ابن حزم۔ الفتح البخاری)

عملِ صحابہ:

قتل کروا دیا۔

(حدیث 9704 صفحہ 307 جلد نمبر5 (المصنف۔ امام عبدالرزاق)

نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی۔ جب اس کا تذکرہ جناب ابن عمرؓ کے سامنے

صفحہ 369

کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سامعین نے اس کو زندہ کیوں چھوڑ دیا؟ (کتاب الشفاء‘ صفحہ 449‘ جلد دوم‘ مصنف قاضی عیاض‘ مکتبہ نبویہ لاہور)

فتویٰ امام مالکؒ :

ابن قاسم سے روایت ہے کہ امام مالکؒ سے ایک نصرانی کے بارے میں فتویٰ طلب کیا گیا کہ اس دریدہ دہن نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے‘ اس کو کیا سزا دی جائے۔ جس پر امام مالکؒ نے فتویٰ دیا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ (کتاب الشفاء مذکورہ الصدر‘ صفحہ 452)

فتویٰ امام ابن تیمیہؒ :

امام ابن تیمیہؒ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں فتویٰ دیا ہے کہ شاتم الرسول واجب القتل ہے اور اس کی توبہ اور معافی قابل قبول نہیں۔

دفعہ 298 الف تعزیرات پاکستان بھی قرآن اور سنت سے ہم آہنگ نہیں دفعہ مذکور درج ذیل ہے۔

دفعہ 298 الف 4۔۔۔ ذوات قدسی کی توہین و اہانت:

”جو کوئی تحریری یا تقریری یا اعلانیہ یا اشارتاً یا کنایتاً بالواسطہ یا بلا واسطہ امہات المومنین میں سے کسی ام المومنین یا کسی اہل بیت یا خلفائے راشدین میں سے کسی خلیفہ راشد یا اصحاب رسول کریم ﷺ کی بے حرمتی کرے ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے اسے تین سال تک کی قید کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا وہ ان دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔

میں صرف امہات المومنین‘ اہل بیت‘ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام شامل ہیں جن کی بزرگی اور تقدیس مسلمہ اور شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن اس عظمت و تقدیس کی اصل وجہ حضور ختمی مرتبت ﷺ کی ذات اقدس سے ان کی نسبت ہے۔ اس لیے آنحضور ﷺ کا نام نامی ذوات قدسی (Holy Personages) میں سر فہرست ہونا چاہئے تھا۔

صفحہ 370

قرآن مجید نے گروہ قدوسین میں سب سے پہلے انبیاء کرام کا ذکر کیا۔ چنانچہ سورہ نساء میں فرمایا:

و من يطع الله و الرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين و الصديقين و الشهداء و الصلحين و حسن اولئك رفيقا (سورہ نساء: 69)

ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔“

بے ادبی اور گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا لیکن خود اس مقدس ترین ہستی جن سے نسبت کی وجہ سے انہیں یہ مرتبہ تقدیس حاصل ہوا، کی جناب میں گستاخی، اہانت، توہین و تنقیص جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی جو اصل کو چھوڑ کر فروع کے استحقاق کو قانونی شکل دینے کے مترادف ہے لہٰذا قرآن اور سنت کے احکام کے منافی ہے کیونکہ قرآن اور سنت کے احکام متذکرہ الصدر کی روشنی میں توہین رسالت کے جرم کی سزا بطور حد کے سزائے موت مقرر ہے۔

علاوہ ازیں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی توہین رسالت اور ارتداد کی سزا، سزائے موت مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

بحالات بالا استدعا ہے دفعات 295 الف اور 298 الف تعزیرات پاکستان کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لے کر فیصلہ صادر فرمایا جائے کہ توہین مذہب کی مقرر کردہ سزا قرآن و سنت کے منافی ہے لہٰذا توہین رسالت اور توہین مذہب کے جرائم کی سزا قرآن و سنت کی رو سے سزائے موت قرار دی جائے۔

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و کنوینر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان) 4۔ مزنگ روڈ لاہور پٹیشنر و کونسل

تصدیق:

شریعت پٹیشن ہذا پہلی دفعہ دائر پٹیشن کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ گزارش ہے کیونکہ تمام مکاتب فکر کے علماء جمہور

حوالہ جات شریعت پٹیشن:

اسمائے گرامی فاضل وکلاء

مقدمہ کے لیے اختیارات تفویض

ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیور

سابق اٹارنی جنرل پاکستان

کورٹ

صفحہ 371

انبیاء کرام کا ذکر کیا۔ چنانچہ سورہ نساء میں ئك مع الذین انعم الله الشهداء و الصلحین س کی اطاعت کرے گا وہ ان فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین، جو کسی کو میسر آئیں۔" الصدر پاکباز ہستیوں کی توہین و اہانت، ن خود اس مقدس ترین ہستی جن سے کی جناب میں گستاخی، اہانت، توہین و میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی جو اصل کے مترادف ہے لہٰذا قرآن اور سنت حکام متذکرہ الصدر کی روشنی میں توہین ضروری ہے۔ ن رسالت اور ارتداد کی سزا، سزائے

298 الف تعزیرات پاکستان کا قرآن ے کہ توہین مذہب کی مقرر کردہ سزا ین مذہب کے جرائم کی سزا قرآن و

محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و کنوینر ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان) 4۔ مزنگ روڈ لاہور پٹیشنر و کونسل

تصدیق:

شریعت پٹیشن ہٰذا پہلی دفعہ دائر کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ان دفعات متذکرہ پٹیشن کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ گزارش ہے کہ شریعت پٹیشن ہٰذا کی سماعت لاہور میں کی جائے۔ کیونکہ تمام مکاتب فکر کے علماء جنہوں نے اس پر دستخط کئے ہیں لاہور میں موجود ہیں۔

محمد اسماعیل قریشی

حوالہ جات شریعت پٹیشن:

القرآن الحکیم (1)

کتاب احادیث (2)

تفاسیر (3)

آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان (4)

تعزیرات پاکستان (5)

اسمائے گرامی فاضل وکلاء اور علماء حضرات جنہوں نے درخواست گزار کو پیروی مقدمہ کے لیے اختیارات تفویض کئے۔

ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس

و ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور

سابق اٹارنی جنرل پاکستان

اتحاد بین المسلمین

کورٹ

صدر ورلڈ اسلامک مشن

صفحہ 372

کورٹ

امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان

کورٹ لاہور

اہل حدیث پاکستان

مجلس شوریٰ پاکستان، لاہور

جسٹس پشاور ہائی کورٹ

اتحاد العلماء پاکستان

خطیب بادشاہی مسجد، چیئر مین مجلس علماء پاکستان

سپریم کورٹ

ورلڈ اسلامک مشن

کورٹ لاہور

جمعیت العلماء پاکستان

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

کورٹ پروفیسر لاء کالج

سپریم کورٹ

کورٹ

سپریم کورٹ

کورٹ

ہائی کورٹ

صفحہ 373
صفحہ 374

ایسوسی ایشن

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کورٹ

سپریم کورٹ

کورٹ

کورٹ

کورٹ

کورٹ

کورٹ

سپریم کورٹ و نائب صدر لاہور ہائی کورٹ

پنجاب بار کونسل

جج لاہور ہائی کورٹ

کورٹ بار ایسوسی ایشن

کورٹ

خدام الدین لاہور

سیکرٹری پنجاب مسلم لیگ

اے

راج پا

شہنشاہ

فوجداری نگرانی نمبر فروری 1927 مذہبی رہنماؤں جی سی نارنگ ۔۔۔۔ سرکار ۔۔۔۔ برائے تاج شاہ فیصلہ: اس مقدمہ میں کے تحت سزا سنائی گئی ہے او زیر نظر نگرانی میں ا تحت جرم نہیں بنتے پہلے یہ سے مراد قبیلے ہیں۔ میں اس گئی ہو اور جو لفظ ”کلاسز“ موجود نہ ہو۔ مزید یہ کہا گیا ہے ک نہیں آتے۔ ماتحت عدالت نے اسلام پر بے لگام حملہ کیا جا مذہب کا مذاق اڑائے اور ا اور اس نے قرار د

صفحہ 375

اے آئی آر 1927 لاہور 250

دلیپ سنگھ جج

راج پال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سائل

بنام

شہنشاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسئول الیہ

فوجداری نگرانی نمبر 286 برائے سال 1927 بر خلاف حکم سیشن جج لاہور منفصلہ فروری 1927 مذہبی رہنماؤں پر تنقید خواہ کتنی ہی غیر شائستہ کیوں نہ ہو قابل تعزیر نہیں۔

جی سی نارنگ۔۔۔ ایل بدری داس اور رام لال آنند برائے سائل وکیل سرکار۔۔۔۔ برائے تاج شاہی۔

فیصلہ: اس مقدمہ میں سائل راج پال کو دفعہ 153 اے‘ ہندوستانی قانون فوجداری کے تحت سزا سنائی گئی ہے اور بصورت دیگر اسے چھ ماہ قید بامشقت کا حکم دیا گیا ہے۔

زیر نظر نگرانی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معلوم حقائق دفعہ 153۔اے کے تحت جرم نہیں بنتے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ لفظ ”کلاسز“ مذہبی فرقوں پر مشتمل نہیں بلکہ اس سے مراد قبیلے ہیں۔ میں اس دلیل کو قبول نہیں کر سکتا۔ جس کے لیے کوئی نظیر پیش نہ کی گئی ہو اور جو لفظ ”کلاسز“ کے معنی کو یوں محدود کر دے جس کا کوئی جواز خود دفعہ میں موجود نہ ہو۔

مزید یہ کہا گیا ہے کہ بہرطور ایک مذہبی پیشوا پر تنقید یا طنز اس دفعہ کے احاطہ میں نہیں آتے۔

ماتحت عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کی نیت اس کے سوائے کچھ نہ تھی کہ پیغمبر اسلام پر بے لگام حملہ کیا جائے‘ آپ کا تمسخر اڑایا جائے‘ آپ کو حقیر گردانا جائے‘ ان کے مذہب کا مذاق اڑائے اور اس طرح آپ کے پیروکاروں کے احساسات کو مجروح کیا جائے۔

اور اس نے قرار دیا کہ اگر ملزم کی یہ نیت تھی تو عدالت کو کوئی شک نہیں کہ

صفحہ 376

اس کا فعل دفعہ 153-اے کے احاطہ میں آتا ہے۔ اپیل کے فیصلہ میں فاضل سیشن جج نے قرار دیا کہ پمفلٹ کے پورے مطالعے سے یہ واضح ہے کہ پمفلٹ ارادتاً جارحانہ، دریدہ دہن اور مسلمان قوم کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا تھا اور بلاشبہ کینہ ور لہجہ اور نیت کا حامل تھا اور اس اشاعت کے معاملہ میں بظاہر نیت ایک مخصوص طبقہ کے جذبات کی توہین اور انہیں مجروح کرنا تھی۔

سائل کے کونسل کا موقف ہے کہ پمفلٹ ایسی کسی نیت کو ظاہر نہیں کرتا اور اس کا مقصد صرف تعدد ازواج اور غیر مساوی عمر کی شادیوں کی برائیاں ظاہر کرنا تھا۔ کتاب مذکور کی اس توضیح کو مسترد کرنے میں مجھے کوئی تامل نہیں۔ بلاشبہ یہ مذہب اسلام کے بانی پر گستاخانہ طنز کے سوا کچھ اور نہیں لیکن میں اس میں کوئی ایسی بات نہیں پاتا جو ظاہر کرے کہ اس کا مقصد مذہب اسلام پر حملہ کرنا یا مسلمانوں کو دشمنی اور نفرت کا نشانہ بنانا ہو۔ اس کے برخلاف کتاب میں واضح طور پر کہا گیا کہ لوگوں کو اس طرح کرنا چاہئے جس طرح محمد نے کہا ہے لیکن انہیں اس طرح عمل نہیں کرنا چاہئے جس طرح انہوں نے خود عمل کیا۔ کتاب کا لہجہ بے شک مجموعی طور پر کینہ پرور ہے اور بظاہر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا ہے۔ خواہ وہ ان کی زیادہ معقول توہین کا سزا وار نہ ہو۔ تاہم فیصلہ طلب سوال یہ ہے کہ آیا کسی مذہبی رہنما کی ذاتی زندگی پر کینہ ور طنز دفعہ 153۔اے کے احاطہ میں آتا ہے یا نہیں۔ جلسہ کے صدر کی شہادت‘ جو کتاب کی مذمت میں ہے‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب کے مصنف کے خلاف مسلمانوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔ بلاشبہ ایسی کتاب کا منطقی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ملزم خود کتاب کا مصنف نہیں لیکن‘ وہ اس کا تسلیم شدہ ناشر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی تقریباً چار جلدیں مسلمانوں کے ہاتھ فروخت ہوئیں اور باقی آریہ سماجی کتب فروشوں یا مختلف طبقوں کے افراد کو بیچی گئیں۔ فاضل وکیل سرکار کا انحصار شہنشاہ بنام رحمت علی اور گور کے قانون فوجداری جلد اول صفحہ 894 اور سیتل پرشاد‘ بنام شہنشاہ کے عدالتی اظہار خیال پر ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اولاً تو کسی مذہب کے بانی پر طنز لازماً اس کے پیروکاروں پر طنز کی دلالت کرتا ہے۔ میرے خیال میں ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔

دوسرے فاضل وکیل سرکار نے ایک مفروضہ بنایا ہے کہ کسی مذہبی پیشوا پر ایسے شخص کی طرف سے طنز‘ جو اس کا پیرو نہ ہو‘ دفعہ 153۔اے کے دائرہ میں آتا ہے۔ اگر

صفحہ 377

کوئی چیز یہ ظاہر کرتی ہو کہ وہ مذہبی پیشوا پر اس لیے طنز کر رہا ہے کہ وہ خود کسی دوسرے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے تیسری دلیل یہ دی ہے کہ اس مخصوص مقدمہ میں بطور جماعت مسلمانوں کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کیے گئے ہیں مگر میں ایسے الفاظ تلاش نہیں کر سکا۔

چہارم ان کا موقف یہ ہے کہ بہرطور اس کتاب کے ہندو قارئین میں مسلمانوں کے لیے حقارت کے جذبات ابھریں گے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمہ کے اس پہلو پر قطعاً غور نہیں کیا گیا۔

جواباً سائل کے کونسل کا موقف ہے کہ ”توہین“ ”نفرت“ یا ”دشمنی“ نہیں اور ہندوستانی قانون فوجداری کی دفعہ 144۔اے کے الفاظ ان الفاظ سے جو دفعہ 153۔اے میں استعمال ہوئے ہیں زیادہ وسیع ہیں۔

فاضل وکیل سرکار کا مزید موقف ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین کشیدگی اور اس امر کے پیش نظر کہ مسلمان قوم مذہب کے سلسلہ میں دوسری قوموں سے زیادہ سخت ہے‘ مذہب اسلام کے بانی پر کوئی طنز عوام کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کا زیادہ موجب ہو سکتا ہے‘ بمقابلہ کسی دوسرے مذہب کے بانی۔ مثلاً عیسائیت کے بانی پر طنز کے۔ میں یہ دلیل قبول نہیں کر سکتا کہ کسی مخصوص فرقہ کی کم علمی اور کٹرپن سے کسی فعل کا تعین کیا جائے۔ بعض صورتوں میں اس سے جرم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

لیکن محض اس بنا پر کہ ایک فرقہ دوسرے کے مقابلہ میں ایک بانی مذہب کے متعلق مستعملہ الفاظ سے زیادہ برا مانے گا‘ یہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ پہلی صورت میں وہ الفاظ دفعہ 153۔اے کے احاطہ میں نہ آسکیں اور دوسری صورت میں اس کے احاطہ میں آجائیں۔ فعل کی نوعیت یعنی کہ وہ جرم ہے یا نہیں‘ کسی خاص طبقہ کے ردعمل سے متعین نہیں ہو سکتی۔

جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے یہ ایک مذہب کے بانی پر طنز ایک ایسی چیز ہے‘ جو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس لیے ایسا کر رہا ہے کہ وہ دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شخص بھی جو کسی مذہب کے پیشوا کو مانتا ہے‘ اس پر طنز نہیں کرے گا۔ چنانچہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاں کہیں بھی کسی مذہبی پیشوا پر طنز ہو گا اور یہ

صفحہ 378

دریافت کرنا ناممکن ہو گا کہ مصنف کس فرقہ سے تعلق رکھتا ہے، تب اس کے پیروکاروں کے جذبات ان سب کے خلاف بھڑکیں گے، جو اس مذہب کے پیرو نہیں۔ میں قیاس نہیں کرتا کہ دفعہ 153-اے کا مقصد اسے اتنے وسیع معنی میں استعمال کرنا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دفعہ کا منشاء لوگوں کو کسی خاص فرقہ پر اس کی موجودہ صورت میں حملہ کرنے سے باز رکھنا تھا۔ اس کا منشاء گزرے ہوئے مذہبی پیشواؤں پر بحث و مناظرہ روکنا نہیں تھا، خواہ ایسے اعتراضات کتنے ہی گستاخانہ اور نازیبا کیوں نہ ہوں۔ مثلاً اگر یہ حقیقت کہ مسلمان اپنے پیغمبر پر حملہ کو برا مانتے ہیں، اس بات کا پیمانہ ہو کہ آیا دفعہ 153-اے لاگو ہوتی ہے یا نہیں تو کسی سنجیدہ مورخ کی ایک تاریخی تصنیف، جس میں پیغمبر کی زندگی زیر غور آئی ہو اور ان کے کردار پر رائے دی گئی ہو، دفعہ 153-اے کی تعریف میں آ سکتی ہے۔ میں یہ قرار دینے سے قاصر ہوں کہ دفعہ 153-اے لاگو ہوتی ہے یا نہیں تو کسی سنجیدہ مورخ کی ایک تاریخی تصنیف، جس میں پیغمبر کی زندگی زیر غور آئی ہو اور ان کے کردار پر رائے دی گئی ہو، دفعہ 153-اے کی تعریف میں آ سکتی ہے۔ میں یہ قرار دینے سے قاصر ہوں کہ دفعہ 153-اے کا مقصد یا منشاء کسی مذہبی پیشوا کی زندگی اور کردار پر مخالفانہ بحث روکنا ہے۔ یہ مخصوص کتاب معاملہ پر اس انداز سے بحث کرتی ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تمام معقول اشخاص کی حقارت ہی کو بیدار کرے گی، خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اور بعض مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتا ہے۔ لیکن میں یہ قرار نہیں دے سکتا کہ یہ ہز میجسٹی رعایا کے مختلف طبقوں میں دشمنی اور نفرت کے جذبات کو برانگیختہ کرے گی۔ یہ نتیجہ تو ہو سکتا ہے مگر جیسا کہ میں نے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے اس کو دفعہ مذکورہ کی آزمائش کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ فاضل وکیل سرکار تسلیم کرتے ہیں کہ دوسری کوئی اور دفعہ نہیں جو اس مخصوص مقدمہ پر لاگو ہو سکے۔ ”شاہ بنام رحمت علی کا مقدمہ زیر دفعہ 153 تھا اور اس میں بہتان ایک زندہ شخص پر تھا اور کتاب دانستہ اس شخص کے پیروؤں کے درمیان تقسیم کی گئی تھی۔ چنانچہ وہ دفعہ 153-اے کے دائرے میں آئی ہو گی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دفعہ 297 میں ایک شق کا اضافہ ہونا چاہئے، جس کے ذریعہ کسی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا کسی شخص کے مذہب کی توہین کی نیت سے شائع کردہ کتاب کو جرم قرار دیا جاتا۔

میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں، اپنی حد تک بات کرتے ہوئے کہ میں ایسی شق کی عدم

موجودگی پر افسوس کر سکتا ہوں 153-اے کے دائرہ میں آتا ہے۔ اور سائل کو بری کرتا ہوں۔

صفحہ 379

ے تعلق رکھتا ہے‘ تب اس کے پیروکاروں جو اس مذہب کے پیرو نہیں۔ میں قیاس نے وسیع معنی میں استعمال کرنا تھا۔ مجھے یوں ی خاص فرقہ پر اس کی موجودہ صورت میں ے ہوئے مذہبی پیشواؤں پر بحث و مناظرہ گستاخانہ اور نازیبا کیوں نہ ہوں۔ مثلاً اگر یہ کہتے ہیں‘ اس بات کا پیمانہ ہو کہ آیا دفعہ مورخ کی ایک تاریخی تصنیف‘ جس میں ر پر رائے دی گئی ہو‘ دفعہ 153-اے کی قاصر ہوں کہ دفعہ 153-اے لاگو ہوتی ہے ف‘ جس میں پیغمبر کی زندگی زیر غور آئی ہو 53-اے کی تعریف میں آ سکتی ہے۔ میں یہ مقصد یا منشاء کسی مذہبی پیشوا کی زندگی اور اب معاملہ پر اس انداز سے بحث کرتی ہے اشخاص کی حقارت ہی کو بیدار کرے گی‘ بعض مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کہ یہ ہز میجسٹی رعایا کے مختلف طبقوں میں یہ نتیجہ تو ہو سکتا ہے مگر جیسا کہ میں نے رہ کی آزمائش کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ ئی اور دفعہ نہیں جو اس مخصوص مقدمہ پر دفعہ 153 تھا اور اس میں بہتان ایک زندہ وں کے درمیان تقسیم کی گئی تھی۔ چنانچہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دفعہ 297 میں ی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا ک کردہ کتاب کو جرم قرار دیا جاتا۔ بات کرتے ہوئے کہ میں ایسی شق کی عدم موجودگی پر افسوس کر سکتا ہوں، مگر یہ قرار نہیں دے سکتا کہ یہ خاص مقدمہ دفعہ 153-اے کے دائرہ میں آتا ہے۔ لہٰذا میں پس و پیش کے ساتھ یہ نگرانی منظور کرتا ہوں اور سائل کو بری کرتا ہوں۔

صفحہ 380

کتابیات باب ششم

القرآن 87:33 (1)

الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ ص 41-42 (2)

مولانا محمد علی صدیقی: معالم القرآن۔ ج۔ 1‘ ص۔ 463-468 (3)

سنن ابو داؤد۔ ج- 3‘ ص 355-356 (4)

الف) ایضاً (5)

ب) ایضاً

امام قرطبی: الجامع لاحکام القرآن۔ ج 5‘ ص 307 (6)

علامہ آلوسی: روح المعانی۔ ج 26‘ ص 124-125 (7)

سنن ابو داؤد۔ ج 3‘ ص 356-357 (8‘9)

سنن ابو داؤد ج 3‘ ص 356 (10)

صفحہ 381

باب 7

سرگزشت عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم

مرکز عشق و محبت

حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے عشق و محبت ہر مسلمان کی رگ و پے میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے جس طرح شاخ گل کے ریشہ ریشہ میں باد نسیم صبح کا نم رچا اور بسا ہوا ہے جو اسے زندگی اور تر و تازگی بخشتا ہے۔ یہی وہ نقطہ پرکار عشق ہے جس کے گرد اس کی ساری کائنات گھومتی ہے۔ آپ سے والہانہ عقیدت ہی ایک مسلمان کا اصل سرمایہ حیات ہے۔ بلاشبہ فطری طور پر اسے اپنی جان و مال، اپنے ماں باپ اور اولاد سے پیار ہوتا ہے لیکن ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اسے ان سب سے محبوب تر ہے اور وہ ہستی ہے سرور کائنات جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی، جن کے نام و ناموس پر سب کچھ قربان کر دینے کو وہ حاصل زندگی سمجھتا ہے۔ چنانچہ ظہور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے آج تک کے واقعات اس ایک بات کی ترجمانی کرتے چلے آرہے ہیں، جس میں صاف صاف بتلایا گیا ہے:

النبی اولی بالمومنین من انفسهم ”نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی ذات پر مقدم ہیں۔“

(الاحزاب:6)

اس آیہ مبارکہ کی مزید تشریح خود اس حدیث رسول نے کر دی:

لا یومن احدکم حتی اکون احب الیه من والده وولده والناس اجمعین

(1)

”تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے دل میں اپنے باپ، بیٹے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر میرے لیے محبت موجزن نہ ہو۔“

میرے مشفق دیرینہ حفیظ جالندھری مرحوم نے اسی مضمون کو کچھ اس طرح زبان

صفحہ 382

شعر میں بیان کیا ہے۔

محمدؐ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر‘ مادر‘ برادر‘ مال و جاں‘ اولاد سے پیارا

یہ عقیدہ محبت ہر دور میں ایک زندہ اور تابندہ حقیقت بن کر جریدہ عالم پر ثبت ہوتا رہا ہے اور اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی شہادت موجود ہے۔

عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم دور رسالت میں

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم شمع رسالت پر جس طرح پروانہ وار نثار ہوتے تھے‘ اس کی مثال اور نظیر سے تاریخ کے اوراق یکسر خالی نظر آتے ہیں‘ اسی لیے اس دور کو خیر القرون کہا گیا ہے۔

سوز صدیقؓ:

پیکر صدق و صفا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ساری زندگی اسی عشق مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار نظر آتی ہے۔ شہادت گہ الفت میں قدم رکھتے ہی ہجوم بلا میں گھر گئے۔ گفتار صدق مایہ آزار بن گیا۔ شہادت حق و رسالت پر کفار مکہ نے آپ کو نرغہ میں لے کر اس بری طرح زدو کوب کیا کہ آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ کافروں نے مردہ سمجھ کر وہیں چھوڑ دیا۔ قبیلہ بنی تمیم کے اقربا کو جب اس کی خبر ملی تو وہ اس خستہ و نیم جان کو چادر میں لپیٹ کر گھر لے آئے۔ جب ذرا ہوش آیا اور آنکھ کھلی تو زبان پر سب سے پہلے آقا ہی کا نام آیا۔ پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟“ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ تھی‘ فکر تھی تو صرف محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کی۔ خاندان والوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ رفاقت مصائب و آلام کا پیش خیمہ ہے‘ لیکن یہ جنون عشق کے انداز کہاں چھٹنے والے تھے! اس لیے اہل قبیلہ نے بھی قطع تعلق کر لیا۔ یہ سب کچھ منظور تھا لیکن فراق یار کسی صورت گوارا نہ ہو سکا۔ اسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا دیا گیا۔ زخم ہائے خونچکاں پر نظر پڑی تو خود آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرط محبت سے چوم لیا۔ سفر میں حضر میں‘ غرض کہ زندگی کے ہر ہر قدم پر ثانی اثنینؓ نے حق رفاقت ادا کیا۔ راہ حق میں جہاد کے

صفحہ 383

موقع پر تمام اثاث البیت اور مال و متاع لا کر محبوب ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا:

بولے حضور ﷺ : چاہئے فکر عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار
اے تجھ سے دیدہ مہ و انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعث تکوین روزگار
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسول بس

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جب حضور رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ سے زیادہ کسی اور کے جان و مال سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ رونے لگے اور روتے ہوئے عرض کیا: ”یا رسول اللہ میری جان اور میرا مال آپ کے سوا اور کس کے لیے ہیں؟“ یہ روایت مسند امام احمد بن حنبلؒ میں بالتفصیل آئی ہے۔

سفر ہجرت میں قدم قدم پر اندوہ ناک مصائب اور موت کا سامنا ہے لیکن رفاقت حبیب کے سامنے یہ مصائب کیا ہیں؟ یہ موت کیا چیز ہے؟ بیٹا اگر دشمنان رسول کے ساتھ ہے تو اس کی گردن اڑانے کے لیے صدیقؓ کی تیغ بے نیام ہے۔ آقا ﷺ نے ایک غلام زادے اسامہ بن زیدؓ کو قبل از وصال اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر فرما دیا تھا تو ابو بکرؓ سربراہ مملکت اسلام اس کی رکاب تھامے پا پیادہ اسے رخصت کرنے جا رہے ہیں۔ مصلحت وقت کے پیش نظر اکابر صحابہؓ جن میں حضرت عمر فاروقؓ پیش پیش ہیں، نوجوان اسامہؓ کی بجائے کسی اور تجربہ کار سردار کو قائد لشکر بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اس پر غضب ناک ہو کر فرمایا: ”ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ آقا ﷺ کے مقرر کردہ امیر کی بجائے کسی اور کو امارت سپرد کر دے۔ خدا کی قسم اگر جنگل کے بھیڑیے بھی مدینہ میں داخل ہو کر مجھے اٹھا لے جائیں تب بھی میں وہ کام کرنے سے باز نہیں آؤں گا جسے اللہ کے رسول ﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔“ (۲)

ایک مرتبہ جذبہ محبت سے سرشار ہو کر فرمایا: ”اللہ کا رسول ﷺ مجھے اللہ سے عزیز تر ہے کیونکہ اس کے بغیر مجھے عرفان حق کہاں نصیب ہوتا!“

اس واقعہ کو اقبالؒ نے یوں نظم کیا ہے:

صفحہ 384
معنی حرفم کنی تحقیق اگر
بنگری با دیدہ صدیقؓ اگر
قوت قلب و جگر گردد نبی ﷺ
از خدا محبوب تر گردد نبی ﷺ

عشق حیدر ؓ:

ذات مرتضویؓ کمال عشق و مستی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ شب ہجرت بستر رسول ﷺ پر دشمنوں کی تلواروں کے سایہ میں سوائے حیدر کرارؓ اور کون سو سکتا تھا! خیبر شکن قوت کا سرچشمہ عشق رسول ہاشمی ﷺ کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ ساری زندگی فقر و فاقہ اور نان جویں پر گزار دی۔ بیت المال کا تمام مال و اسباب امت پر تقسیم کرتے رہے کہ یہی طریق رسول تھا۔

ابن ملجم کو خود ہی دعوت دی کہ اے دشمن خدا تو نے اتنی دیر کیوں لگا دی اور جب اس ملعون کی تلوار آپ کے فرق مبارک کو کاٹتی چلی گئی تو موت کا استقبال کرتے ہوئے پکار اٹھے: ”رب کعبہ کی قسم! آج میں کامیاب ہوا۔“ اور یہ کامیابی اس لیے تھی کہ شہادت وصال حبیب ﷺ کا پیام بن کر نمودار ہوئی۔ (۳)

شہید اول:

حارث ابن ابی ہالہؓ شیدائی رسول تھے۔ جب انہیں خبر ملی کہ کفار مکہ آقا ﷺ کے درپے آزار ہیں تو یہ جانثار مصطفیٰ ﷺ سینہ سپر ہو کر تن تنہا دشمنوں کے مقابلہ پر نکل آیا اور مولائے کائنات ﷺ پر نثار ہو کر بارگاہ رسالت سے شہید اول کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔

مقام حبیب ؓ:

حضرت حبیبؓ کو قید و بند، بھوک اور پیاس کی اذیتوں نے عشق مصطفوی ﷺ کی لذتوں سے ہمکنار کیا۔ شہادت گہ الفت سے جب انہیں مقتل کی طرف لایا گیا تو اس عزم و شوق سے سوئے دار چلے کہ حاصل عمر نثار رہ یار کریں۔ مقتل میں ایک بار پھر دین محمد ﷺ کو چھوڑنے پر جان بخشی کی ضمانت دی گئی لیکن ان عقل کے اندھوں کو کون

صفحہ 385

سمجھا کہ یہاں آئے ہی اس لیے تھے کہ آقا ﷺ پر اپنی متاع حیات نچھاور کریں۔ صاف انکار کر دیا اور دیوانہ وار دار و رسن کی طرف بڑھ کر جان حزیں آقا ﷺ پر نثار کر دی۔ اس طرح اپنے خون سے داستان عشق رقم کرتے ہوئے ایمان کو درجہ کمال تک پہنچا دیا۔ کیا ہی سچی بات کہی ہے مولانا ظفر علی خان نے۔

کٹ مروں جب تک نہ میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

حضرت زید ؓ:

جناب زید ؓ بھی اسی سج دھج سے مقتل پہنچے۔ مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ تختہ دار پر لا کر پوچھا گیا ”کیا تمہیں منظور ہے کہ تمہارے بدلہ میں محمد ﷺ کا سر قلم کیا جائے“۔ اس پر اس عاشق صادق ؓ نے جواب دیا: ”مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میری جان کے بدلہ میں میرے آقا ﷺ کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے“۔ اس واقعہ کو مولانا ظفر علی خان نے نظم کے قالب میں ڈھالا ہے۔

پرستاران لات و عزیٰ مشکیں زید کی کس کر
جب اس اسلام کے شیدا کو مقتل کی طرف لائے
قریش اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے نکلے
گھروں سے رقص بسمل کا تماشا دیکھنے آئے
جبین زید پر اس وقت وہ رونق برستی تھی
کہ صبح اولیں کے نور کی بارش بھی شرمائے
یہ اطمینان خاطر دیکھ کر کفر اور جھلایا
دلوں کی تیرگی نے بدر کے داغ اور چمکائے
ابوسفیان پکارا کیا ہی اچھا ہو محمد کو
ترے بدلہ اگر جلاد خاک و خوں میں تڑپائے
تڑپ اٹھتا ہوں جس دم وہ فقرے یاد آتے ہیں
بوقت ذبح جو اس مومن کامل نے دہرائے
مجھے ناز اپنی قسمت پر ہے کہ جب نام محمد پر
صفحہ 386
یہ سر کٹ جائے اور ان کا سر پا اس کو ٹھکرائے
یہ سب کچھ گوارا ہے پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے

پیغام سعدؓ:

غزوہ احد میں جب دشمنوں نے یہ افواہ اڑا دی کہ (خاکم بدہن) محمد ﷺ مارے گئے تو مسلمانوں پر سراسیمگی طاری ہوئی۔ حضرت انسؓ بن مالک کے چچا حضرت ابن نضر ؓ تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ یہ کہتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے کہ آپ کے بعد ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے اور اسی (۸۰) سے زیادہ زخم کھا کر شہید ہوئے۔ پھر جب حضرت کعب ابن مالکؓ نے اعلان کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ زندہ اور سلامت ہیں تو مسلمان پروانہ وار آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت ابو دجانہؓ نے دشمنوں کے سارے وار اپنے جسم پر روکے۔ اسی اثنا حضور نے سعد بن ربیعؓ کے بارے میں دریافت فرمایا، جس پر ایک انصاری ان کی تلاش میں نکلے۔ زخمیوں اور شہیدوں کے درمیان ڈھونڈتے ہوئے جب ان کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ زندگی کی رمق بھی ان میں باقی ہے۔ کہا: ”حضور ﷺ نے مجھے تمہاری خبر لانے کے لیے بھیجا ہے۔“ اس پر اس عشق و محبت کے رازدار نے کہا: ”اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پس از سلام یہ عرض کرنا کہ سعد آپ ﷺ پر نثار ہو گیا کیونکہ اب صرف چند لمحوں کا مہمان ہوں۔ حضور ﷺ سے یہ عرض بھی کرنا کہ اللہ آپ کو پیغمبروں کے شایان شان اجر عطا کرے۔“ اس کے بعد سعدؓ نے انصار اور مہاجرین کو یہ پیغام دیا: ”اگر تمہارے جسم میں ذرا سی بھی جان ہو اور اللہ کے رسول ﷺ کو کوئی گزند پہنچے تو اللہ کے حضور تمہارا کوئی عذر بھی قابل قبول نہ ہوگا۔“ یہ کہتے کہتے اس عاشق صادق نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔

بچہ ناز رفتہ باشد ز جہان نیاز مندے
کہ بوقت جاں سپردن ببرش رسیدہ باشی (۴)

تمنائے عشق:

صحابہ و صحابیات رسول ﷺ چاہے وہ بوڑھے ہوں یا جوان، عورتیں ہوں یا بچے،

صفحہ 387

سب کی یہی خواہش اور تمنا تھی کہ وہ اپنے آقا و مولا پر جان نثار کرنے میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ یہ شرف انبیائے کرام میں سے کسی اور نبی کو نصیب نہ ہوا کہ اس کے امتی اس کے لیے جی جان سے لڑ مرنے کے تیار رہے ہوں۔ یوسف علیہ السلام کو خود برادرانِ یوسف نے اندھے کنویں میں پھینک دیا تھا۔ حسن یوسف پر فریفتہ ہو کر زنان مصر نے صرف اپنی انگلیاں کاٹ لی تھیں لیکن یہاں تو ان کے اشارہ چشم پر سر کٹانے کے لیے ہر وابستہ دامان رسالت سر بکف نظر آنے گا۔

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو سرزمین کنعان میں داخل ہونے کا حکم دیا تو قوم نے کہا:

اے موسیٰ! جاؤ تم اور تمہارا خدا (ان سے) قتال کے لیے۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔"

(المائدہ:23)

فاذہب انت و ربک فقاتلا انا ہہنا قاعدون

مسیح علیہ السلام کو جب صلیب کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو ان کے سارے حواریوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ چیخ اٹھے۔ "ایلی ایلی لما سبقتنی" لیکن یہاں تو بچہ بچہ اپنے نبی کی حرمت پر کٹ مرنے کے لیے بے قرار ہے۔

معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما:

معرکہ بدر میں معاذؓ اور معوذؓ دو کمسن نوجوان انصاری بچوں نے دشمن رسول ابو جہل کا صف اعداء میں گھس کر کام تمام کیا اور اس معرکہ کفر و دیں میں ان دونوں نے جس طرح داد شجاعت دی اور پھر معوذؓ اپنے آقا پر قربان ہو گیا۔ اس پر غالب کا یہ مصرعہ بے اختیار زبان پر آتا ہے۔

کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق

عشق اویس ؓ :

احترام اور عشق رسول ﷺ کے یوں واقعات تو بے شمار ہیں لیکن ہم یہاں صرف ایک واقعہ کے تذکرہ پر اکتفا کریں گے، جس سے یہ اندازہ ہو سکے گا کہ ان ذوات قدسی کے دلوں میں آپ کا کیا مقام اور آپ کے لیے کتنا احترام تھا۔ یاران نبی تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جس سے اندیشہ ہو کہ وہ طبع حضور ﷺ پر گراں گزرے اور

صفحہ 388

ایسی بات آپ کے وصال کے بعد بھی کسی سے سرزد ہو۔

ایک صحابی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ دسترخوان پر کدو کا سالن لایا گیا تو اس ذوق وشوق کے ساتھ کھانے لگے گویا خوان نعمت آسمان سے ان کے لیے اتارا گیا ہے۔ فرمانے لگے: ”یہ میرے آقا کی محبوب غذا تھی۔“ ان کا ایک صاحبزادہ جو پاس ہی بیٹھا کھانا کھا رہا تھا‘ بے خیالی میں بول پڑا: ”لیکن مجھے تو یہ پسند نہیں۔“ یہ سننا تھا کہ فوراً ہی کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ تلوار نکال لائے اور اسے جان سے مارنے کے لیے دوڑے۔ غصہ اس بات پر تھا کہ اسے ایسی بات کہنے کی جرات کیسے ہوئی! افراد خاندان نے بیچ بچاؤ کر کے لڑکے کو بچا لیا۔ لیکن باپ نے عمر بھر اس کی صورت نہیں دیکھی۔ وقت رحلت جب بیٹا شرمسار اور معافی کا خواستگار ہو کر سامنے آیا تو منہ پھیر لیا اور کہا۔ ”ایسی اولاد کی صورت دیکھ کر میں اپنے آقا کو کیا منہ دکھاؤں گا۔“ عشق کا یہ بھی ایک منفرد انداز ہے۔

جان نثار خواتین

حضرت سمیہؓ۔۔۔۔ شہید اول خاتون

اس دور کی عورتیں بھی جذبہ سرفروشی اور جاں نثاری میں مردوں سے پیچھے نہ تھیں بلکہ پیش پیش تھیں۔ رسول کریم ﷺ کی دعوت حق پر اپنے شوہر یاسرؓ اور اپنے صاحبزادے عمارؓ کے ساتھ ایمان لانے والوں میں حضرت سمیہؓ کا شمار ”سابقات الاولین“ میں ہوتا ہے۔ اسلام لاتے ہی اس خاندان پر مصائب و آلام کی جو یورش ہوئی وہ ہی اندوہ ناک اور جاں گسل داستان ہے۔ مشرکین مکہ دین محمد ﷺ قبول کرنے کی پاداش میں انہیں‘ گھسیٹتے لیکن یہ بلا کیشان محبت اس مرحلہ سخت جان میں بھی ثابت قدم نکلے۔ اس پر ابو جہل بوکھلا اٹھا اور دشنام طرازیوں پر اتر آیا اور طیش میں آکر اس مظلوم اور ستم رسیدہ خاتون کو اس نے برچھی ماری جو جگر کے پار ہوئی۔ یہ اسلام کی سب سے پہلی خاتون ہیں جنہیں عشق محمد ﷺ میں شہادت کا رتبہ بلند نصیب ہوا۔ (۵)

اس صحابیہ رسول ﷺ کے جذبہ عشق کا کیا کہنا جو میدان کارزار میں اپنے باپ‘ اپنے بھائی اور اپنے شوہر کی شہادت کا حال سن کر کہنے لگی۔ ”مجھے صرف یہ بتلاؤ کہ

صفحہ 389

میرے آقا ﷺ کس حال میں ہیں؟" جب بتلایا گیا کہ حضور سلامت ہیں اور پھر چہرہ انور کو دیکھ لیا تو خوشی سے بے اختیار پکار اٹھیں۔ "اب کوئی مصیبت میرے لیے مصیبت نہیں رہی۔" اس واقعہ کو مولانا شبلی نعمانی نے اس طرح نظم کیا ہے:

کافروں نے یہ کیا جنگ احد میں مشہور
کہ پیغمبر بھی ہوئے کشتہ شمشیر دو دم
ہو کے مشہور مدینے میں جو پہنچی یہ خبر
ہر گلی کوچہ تھا ماتم کدہ حسرت و غم
ہو کے بے تاب گھروں سے نکل آئے باہر
کودک و پیر و جوان و خدم و خیل و حشم
وہ بھی نکلیں جو کہ تھیں پردہ نشینان عفاف
جس میں تھیں سیدہ پاک بھی باریدہ نم
ایک خاتون کہ انصار نکو نام سے تھیں
سخت مضطر تھیں نہ تھے ہوش و حواس ان کے بہم
موقع جنگ پہ پہنچیں تو یہ لوگوں نے کہا
کیا کہیں تجھ سے کہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں ہم
تیرے بیٹے نے لڑائی میں شہادت پائی
تیرے والد بھی ہوئے کشتہ شمشیر ستم
سب سے بڑھ کر یہ کہ شوہر بھی ہوا تیرا شہید
گھر کا گھر صاف ہوا ٹوٹ پڑا کوہ الم
اس عفیفہ نے یہ سب سن کے کہا تو یہ کہا
یہ تو بتلا دو کیسے ہیں شہنشاہ امم
سب نے دی اس کو شہادت کہ سلامت ہیں حضور
گرچہ زخمی ہیں سر و سینہ و پہلو و شکم
بڑھ کے اس نے رخ اقدس کو جو دیکھا تو کہا
تو سلامت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رنج و الم
صفحہ 390

خنساء اور فرزندان خنسا :

حضرت خنساؓ کا عربی ادب و شاعری میں جو مقام و مرتبہ ہے وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ جاہلی دور میں انہوں نے اپنے عزیز بھائی کی موت پر جو مرثیہ لکھا تھا وہ کلاسیکل ادب کا حصہ ہے۔ اس مرثیہ کے ایک شعر ہی سے اس کے اندرونی کرب و ملال، غم و اندوہ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ جو انہیں اپنے بھائی کی وفات پر ہوا تھا۔

یذکرنی طلوع الشمس صخرا
و ذکرہ بکل غروب الشمس

ہر روز طلوع آفتاب کے ساتھ صخرا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور ہر روز غروب آفتاب پر شام غم اس کی یاد میں گزرتی ہے۔ صبح و شام اور روز و شب اسی ایک بھائی کے سانحہ مرگ پر ماتم کناں تھیں۔ لیکن رسول انس و جان پر ایمان لانے کے بعد وہ عشق رسول میں ایسی ڈوب گئیں کہ اس کے بعد انہیں کسی اور کا ہوش ہی نہیں رہا۔ جنگ قادسیہ میں ان کے تمام لخت جگر ایک ایک کر کے آقا کے دین حق پر کٹ مرے اور جب خنساؓ کو ان کے آخری فرزند کی شہادت کی خبر بھی دی گئی تو وہ خوشی سے یہ کہتے ہوئے چیخ اٹھیں۔ ” الحمدللہ الذی اکرمنی بشہادتھم “ شکر ہے پروردگار کا جس نے میرے لڑکوں کو شہادت سے سرفراز فرمایا اور میں مستحق کرامت ٹھہری۔

(۶)

حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا:

غزوہ احد میں حضور رسالت پناہ کی حفاظت کے لیے ام عمارہؓ نے جس بے مثال جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابن قمیہ جیسے موذی دشمن رسول کو میدان جنگ سے مار بھگایا اور جسم پر کاری زخم کھانے کے باوجود جس بے جگری سے سینہ سپر ہو کر لڑتی رہیں، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ ”ام عمارہ تو نے مردوں سے بڑھ کر بہادری دکھلائی ہے اور جتنی طاقت تجھ میں ہے، وہ کسی اور میں کہاں۔“ اور رسول کریم ﷺ نے خود ان کے زخموں پر پٹی بندھوائی اور پوچھا۔ ”بتاؤ کیا چاہتی ہو؟“ عرض کیا۔ ”اے اللہ کے رسول! میرے لیے دعا کیجئے کہ آخرت میں بھی آپ کے قدموں میں جگہ نصیب ہو۔“

جب حضور آیہ رحمت نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو کہنے لگیں ” ما ابالی ما اصابنی من الدنیا “ (اب دنیا میں کسی مصیبت کی مجھے پرواہ نہیں) پھر اپنے زخمی فرزند عبداللہ سے کہا۔ ”بیٹا آخر دم تک دشمنوں سے بر سر پیکار رہنا۔“

صفحہ 391

پاک و ہند کے شیدایان رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اسی جذبہ عشق و محبت سے امت مسلمہ ہمیشہ سرشار رہی ہے اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یہ جذبہ بلند سوائے مسلمانوں کے کسی اور قوم اور ملت کو نصیب نہیں ہوا۔ ان تمام واقعات کے تذکرہ کی یہاں گنجائش نہیں۔ ہم صرف چند ایک واقعات کا مختصراً ذکر کریں گے، جن کا ناموس رسالت سے تعلق ہے، جو اسی جذبہ عشق کے مظہر ہیں۔

مولانا محمد علی جوہر:

برصغیر ہند کی جدوجہد آزادی میں مولانا محمد علی جوہر کا جو حصہ ہے، اسے کون نہیں جانتا لیکن سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں جو بے پناہ عقیدت تھی، اس کی بدولت خاک قدس نے اسلام کے اس بطل جلیل کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ اس عقیدت و احترام کے اظہار میں برٹش امپیریلزم کے سطوت و جلال اور اس کی قہرمان عدالتوں کا رعب و دبدبہ بھی اس شیدائی رسول کے جذبہ بے باک کے مانع نہ آسکا۔ سال ۱۹۲۱ء میں مولانا جوہر اور دیگر رہنماؤں کو برطانوی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کی پاداش میں گرفتار کر کے کراچی لایا گیا ہے جہاں ان کا مقدمہ ایک انگریز جج کی عدالت میں زیر سماعت ہے مولانا محمد علی اراکین جیوری سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی قانون بغاوت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کرتے جا رہے ہیں کہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے پیغمبر کے لائے ہوئے دین کا وفادار ہے، جس کی رو سے اس پر برطانوی فوج میں ملازمت حرام ہے۔ اس تاریخی خطاب میں وہ اپنے آقا و مولا کے خطبہ حجۃ الوداع کا، جو انسانی آزادی کا اولین چارٹر ہے، حوالہ دینا چاہتے ہیں۔ اس پر مولانا اور عدالت میں جو مکالمہ ہوا وہ بڑا ہی ایمان افروز ہے اور اس سے ان کا ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت، احترام و عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا: (طیش میں آکر) کروں گا اور ضرور کروں گا اپنے پیغمبر کی بات۔ واپس لو اپنے الفاظ کو۔ (پوری قوت کے ساتھ) میں کہتا ہوں واپس لو اپنے الفاظ، خبردار! جو بھی شخص دار! جو شخص بھی

صفحہ 392

میرے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرے گا، میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اسے میں جان سے مار ڈالوں گا۔“

اس کے بعد تلخی اور بڑھ گئی۔ مولانا بپھرے ہوئے شیر کی طرح گرج رہے تھے، جس پر جج نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلا کر حکم دیا کہ وہ مولانا کو وہاں سے ہٹا دے لیکن مولانا کے غیظ و جلال کو دیکھ کر اس کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان کے قریب آئے۔ مولانا بولتے چلے گئے اور آخر میں شدت جذبات سے مغلوب ہو کر ان کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا اور گھگھی بندھ گئی، جس کے بعد وہ بول نہ سکے۔

علامہ اقبالؒ :

علامہ اقبالؒ کی ساری زندگی عشق رسول ﷺ کی تفسیر ہے اور شاعری اپنے معراج کمال پر پہنچ کر ان پر جو ختم ہوئی ہے، وہ صرف نبی الخاتم کی محبت اور عشق رسول ﷺ ہی کا اعجاز ہے۔ ہمارے مرحوم بزرگ دوست راجہ سید اکبر ایڈووکیٹ نے جو حلقہ بگوشان اقبال سے تھے اور گاہے بگاہے علامہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے، یہ واقعہ راقم کو سنایا۔

”ایک دن علامہ کے گرد ان کے ارادت مند جمع تھے اور علمی مسائل پر گفتگو ہو رہی تھی اسی اثناء میں کالج کے چند طلبا بھی آ کر شریک محفل ہو گئے دوران گفتگو ایک اشتراکیت زدہ طالب علم نے حضور کا نام نامی ”محمد صاحب“ کہہ کر لے لیا۔ بس پھر کیا تھا۔ علامہ غصہ سے کانپنے لگے۔ چہرہ سرخ ہو گیا۔ فرمایا: نکال دو اسے میرے سامنے سے۔ اس نابکار کو میرے آقا اور مولا کا نام لینے کی بھی تمیز نہیں۔ پھر آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور بڑی دیر تک ان پر غم و غصہ کی یہ کیفیت طاری رہی اس واقعہ کا ”حیات اقبال میں بھی ذکر موجود ہے۔“

اس کے علاوہ ۱۹۳۵ء میں علامہ نے قادیانیت کے خلاف جو اعلان جنگ کیا اور اس تحریک کے لیے پنڈت نہرو کی سیاسی حمایت کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے برٹش گورنمنٹ نے اسے مسلمانوں سے علیحدہ اور جداگانہ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو مطالبہ کیا، اس کی تہہ میں بھی یہی جذبہ عشق رسول ﷺ کار فرما تھا، جس کی تصدیق علامہ کے نامور فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب ”زندہ رود“ کے حصہ سوم میں کی ہے، جو موصوف

صفحہ 393

نے علامہ اقبال اور قادیانی تحریک کے بارے میں شیخ اعجاز احمد کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ کی اس تحریک کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا۔ ”میرے شبہات نے اس تحریک (قادیانیت) کے خلاف مکمل بغاوت اختیار کرلی‘ جب میں نے اپنے کانوں سے اس تحریک کے ایک رکن کو نبی کریم ﷺ کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے سنا۔“

اقبالؒ کا جذبہ عشق و احترام رسول ﷺ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ وہ اپنی عمر کے آخری ایام میں اس وجہ سے مضطرب اور پریشان رہتے تھے کہ مبادا کہیں ان کی عمر رسول پاک ﷺ کی عمر مبارک سے زیادہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ علامہ کے ایک قریبی نیاز مند حکیم احمد شجاع لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک دن علامہ کو بہت زیادہ فکرمند‘ مغموم اور مضطرب حال میں دیکھ کر پوچھا کہ آج آپ اتنے مغموم اور پریشان کیوں ہیں؟ علامہ کانپتی ہوئی آواز میں کہنے لگے۔ ”احمد شجاع! میں یہ سوچ کر اکثر مضطرب اور پریشان ہو جاتا ہوں کہ کہیں میری عمر نبی کریم ﷺ کی عمر سے زیادہ نہ ہو جائے۔“ بالآخر یہ عاشق صادق اس خوف سے کہ کہیں اس سے عمر کے معاملہ میں سوئے ادبی نہ ہو جائے‘ اپنے آقا کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی ۶۱ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کنارا کر کے حضور ﷺ کے سایہ رحمت میں پہنچ گیا اس طرح اقبال نے نہ صرف اپنی ساری زندگی عشق رسول ﷺ میں گزار دی‘ بلکہ اپنی جان دے کر بھی احترام رسول ﷺ کا ثبوت دنیا کو دیا ہے۔ (۹)

اقبالؒ کی ساری شاعری کا مرکز و محور سراپائے رسول ﷺ ہے۔ علامہ کی چند ابتدائی نظموں کو چھوڑ کر ان کی ساری شاعری زمزمہ نعت ہے۔ انہوں نے روایت نعت گوئی سے ہٹ کر نعت رسول مقبول ﷺ کو ایک نیا اسلوب اور ایک نیا لہجہ و آہنگ دیا‘ جس سے ہماری اردو‘ فارسی شاعری ناآشنا تھی۔ اردو فارسی شعرا کی طرح انہوں نے حضور رسالت مآب ﷺ کو صرف ہدیہ سپاس و عقیدت پیش کر کے اسے اپنی ذات کے لیے ذریعہ نجات نہیں بنایا بلکہ ذات و صفات رسالت مآب ﷺ کے جمال جہاں آرا کی جھلک اپنے حسن کلام کے آئینہ میں دکھلا دی تاکہ انسان حیات و کائنات پر محیط سیرت و کردار کے اعلیٰ ترین پیکر جمیل کے ہر نقش پا کو اپنا رہنما بنا کر اپنی دنیا اور عاقبت سنوار لے۔ اقبال کی نعت کا کرشمہ حسن تو یہ ہے کہ اس کی بدولت دلوں کی ویران دنیا محبوب حجازی کی محبت سے معمور ہو گئی اور نغمہ نعت کے سوز و ساز سے قافلہ بے زمام کو اپنی منزل

صفحہ 394

مراد سوئے مدینہ نظر آگئی اور غیروں کے دل بھی اس حجازی لے کی طرف کھنچنے لگے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بارگاہ رسالت کے شاعر حضرت حسانؓ کے بعد اقبال کے زمزمہ محبت میں بھی روح القدس کا ملکوتی آہنگ شامل ہو گیا۔ اس کلام کی تاثیر کا کیا کہنا جس نے لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں پیغام محمد عربی ﷺ کے ذریعہ آزادی کے لیے تڑپ پیدا کی، جس کے نتیجہ میں برصغیر ہند کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اسلامی مملکت دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی، جس کے پیغام سے ایران میں اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی، جس کا برملا اعتراف خود ایران کے سابق صدر اور موجودہ روحانی پیشوا جانشین امام خمینی حجۃ الاسلام آیت اللہ خامنہ ای نے ۱۴۰۸ ہجری میں اپنے خطاب لاہور کے موقع پر کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ دنیا کی عظیم اور سپر طاقت روس کو اقبال کے پیغام جہاد اور جذبہ وابستگی دین مصطفیٰ نے شکست فاش دی اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کے دور رس اثرات افغانستان کی سرحدوں کو پار کر کے روس کی سرحد میں داخل ہو رہے ہیں۔ سمرقند اور بخارا میں پھر سے اسلام کی عظمت گم گشتہ کی بازیافت کا آغاز ہو رہا ہے۔ سوشلسٹ امپیریلزم کا شیرازہ روس کے زیر اثر علاقوں اور خود روس کے اندر بکھر گیا۔ اس کے علاوہ دنیائے عرب اور بالخصوص مصر میں جو عقیدت اور محبت اقبال کے لیے راقم الحروف نے اپنے دورہ مصر سال ۱۴۰۹ ہجری میں دیکھی، اس کا سبب بھی اہل مصر کی زبانی یہی تھا کہ اقبال کی ہی معجز بیانی سے نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر قافلہ اسلام لوائے محمد کے سایہ میں پھر سے سوئے حرم جادہ پیما ہوا ہے۔ جامعہ الازہر کے اساتذہ کرام اور خاص طور سے ڈاکٹر ابو الوفا تفتازانی پرو وائس چانسلر قاہرہ یونیورسٹی اور ان کے رفقائے کار سے ایک دینی تقریب میں ملاقات، میرے ہم نام رفیق محترم سفیر پاکستان میاں اسماعیل محمد کے حرکی (Dynamic) نقطہ نظر کے بارے میں پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ اس نے کس طرح مصر کے دینی حلقوں میں شعوری انقلاب پیدا کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں زمانہ گزرے گا، اقبال کی بصیرت جو نور مصطفیٰ ﷺ سے روشن ہے عام ہوگی اور دنیا پر اسرار کے باب کھلتے جائیں گے۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ :

قائد اعظمؒ نے اپنی ساری زندگی کائنات دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کرنے میں

صفحہ 395

ہوا دی۔ یہ عشق رسول ﷺ کی چنگاری تھی جس نے انہیں لنکنز ان (Lincon's Inn) میں داخلہ لینے کے لیے مجبور کیا۔ پھر یہی وہ قوت عشق تھی جس کی بدولت انہوں نے ایک دن شکست خوردہ قوم کو غلامی کی پستیوں سے نکال کر برٹش ایمپائر اور ہندو سامراج جیسی طاقتوں کے مقابل صف آراء کیا اور بالآخر غلامان محمد ﷺ کو نہ صرف کامرانی اور آزادی سے ہمکنار کیا بلکہ ان کے لیے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی اسلامی سلطنت حاصل کی جسے موجودہ دنیا کی ایک سپر طاقت بھی اپنی قوت اور جبروت کے سامنے سرنگوں نہ کر سکی اور یہ حقیقت دنیا پر پھر ایک بار آشکار ہوئی کہ ”محمد ﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی۔“

وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں کی آزادی کے بعد اقبال‘ قائد اعظم اور جمال الدین افغانی کی وہ دیرینہ آرزو بھی پوری ہونے کو ہے جو ان کی چشم بصیرت پر قرن ہا قرن پیشتر ”اسلامستان“ کی شکل میں جلوہ گر تھی۔

اگرچہ ”مولانا محمد علی جوہر“ ”علامہ اقبال“ اور ”قائد اعظم“ کسی دینی درسگاہ کے فارغ التحصیل نہ تھے بلکہ ان کی عمریں یورپ کے فکری صنم کدوں اور دانش گاہوں میں گزری تھیں۔ انہیں بقائے دوام اپنے علم و دانش کی وجہ سے نہیں بلکہ عشق خیر الانام ﷺ کی بدولت نصیب ہوا۔ ہاں یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ حضرت اقبال‘ قائد اعظم اور مولانا محمد علی جوہر کو توفیق الٰہی سے ان کے علم اور فضل و کمال نے وابستہ دامان نبوت ﷺ کر دیا تھا‘ جس کی وجہ سے وہ زیر سایہ ابدیت آگئے۔

پاک و ہند کے چند شہیدان ناموس رسالت ﷺ

سابقہ باب میں ہم نے اکابرین ملت سے تین شخصیتوں کا دامان مصطفوی ﷺ سے وابستگی کا ذکر کیا ہے۔ اس باب میں ہم نے پاک و ہند کے چند ان شہیدان ناموس رسالت ﷺ کی داستان حیات کے کچھ ورق شامل کیے ہیں جو اعلیٰ تعلیمی درس گاہوں سے نا آشنا‘ علم و حکمت سے بے بہرہ گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے مگر نام مصطفیٰ ﷺ پر جی جان سے قربان ہو کر زندہ جاوید ہو گئے اور موت خود ان کے لیے مسیحا بن گئی۔ کیا ہی سچی بات کہی ہے ایک ہندو شاعر پنڈت ہری چند اختر نے۔

صفحہ 396
زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

یوں تو ان عاشقان پاک طینت کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ہم یہاں ان چند شہیدان ملت کا تذکرہ کریں گے، جن کے حالات اور واقعات تک ہماری رسائی ہو سکی ہے۔ غازی علم الدین شہیدؒ اور ان کے پیش رو مردان غازی کا جوڈیشل ریکارڈ بڑی حد تک محفوظ ہے اس لیے ہم ان کے کارنامہ حیات سے اس تذکرہ کا آغاز اس دور کے تاریخی پس منظر کے ساتھ کریں گے۔

تاریخی پس منظر:

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان بڑے ہی پر آشوب دور سے گزر رہے تھے۔ عیسائی، آریہ سماجی اور ہندوؤں کی اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کر کے انہیں دین سے بیگانہ اور منحرف کرنے کے لیے باقاعدہ منظم مہم چلا رہی تھیں۔ شدھی، سنگٹھن اور آریہ سماج جیسی متعصب اور فرقہ پرست تحریکیں مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل تھیں۔ ان کے لیڈر نہ صرف مسلمانوں کے عقائد اور کلچر کا مذاق اڑاتے تھے، بلکہ انہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف دل آزار کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا سلسلہ بھی زور و شور سے شروع کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے قدرتی طور پر برصغیر کے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے۔

اس دور کے آریہ سماجی لیڈر سوامی دیانند نے ایک دل آزار کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ لکھی، جس میں اسلام اور شارع اسلام ﷺ کی ذات گرامی پر رکیک اور سوقیانہ حملے کئے گئے تھے، جس کے خلاف مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا۔ پہلے تو برٹش گورنمنٹ خاموش تماشائی بنی رہی، لیکن جب دیکھا کہ مسلمان مرنے مارنے پر تیار ہو گئے ہیں تب کہیں جا کر گورنمنٹ نے اس کتاب کی ضبطی کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسی سوامی دیانند کے ایک چیلے مہاشہ کرشن ایڈیٹر ”پرتاپ“ نے پنڈت چموپتی لال کے اس فرضی نام سے ایک اور رسوائے زمانہ کتاب ”رنگیلا رسول“ لکھی۔ لاہور کے ایک بدبخت کتب فروش راج پال نے اس کتاب کی طباعت اور اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور سال ۱۹۲۳ء میں وہ کتاب چھپ کر بازار میں آئی تو مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان زعماء نے حکومت سے

صفحہ 397

اس کتاب کی فوری ضبطی اور اس کے ناشر کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا جس پر راج پال کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا۔ لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ملزم کو چھ ماہ قید کی سزا دی۔ اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ اس وقت شادی لال جیسا متعصب ہندو ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا جس کی ایما پر جسٹس کنور دلیپ سنگھ نے ۱۹۲۷ء میں راج پال ملزم کو بری کرتے ہوئے تحریر کیا کہ کتاب کی عبارت کتنی ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہو، اس سے بہرحال کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس فیصلہ نے مسلمانوں کی آتش غضب کو اور بھڑکا دیا۔ اس دور میں مسلمانوں کے ترجمان ”مسلم آؤٹ لک“ (Muslim Out Look) نے اس غیر منصفانہ فیصلہ پر سخت گرفت کی اور حکومت پر یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر اس فیصلہ پر نظر ثانی نہ کی گئی تو اس کے نتائج اور عواقب نہایت مہلک اور تباہ کن ہوں گے۔ اس اداریہ پر ”مسلم آؤٹ لک“ کے ایڈیٹر، پرنٹر، پبلشر نور الحق کو قید اور جرمانہ کی سزا دی گئی لیکن یہاں تو

بڑھتا ہے ذوق جرم ہر سزا کے بعد

اس ناروا قانون کے خلاف جو مذہبی دل آزاری جیسے سنگین جرم کی پشت پناہی کر رہا تھا مولانا ظفر علی خان کی زبان و قلم کو جنبش ہوئی جس نے ایجی ٹیشن کی صورت اختیار کر لی۔ پھر مولانا ظفر علی خاں کو بھی اسی جرم کی پاداش میں حوالہ زنداں کر دیا گیا، لیکن صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر مولانا کو قبل از وقت ہی رہا کرنا پڑا، جس پر مولانا نے فی البدیہہ ایک شعر سپرنٹنڈنٹ جیل کو لکھ کر دیا اور اس سے کہا کہ وہ اس شعر کو حکومت وقت تک پہنچا دے۔ شعر میں مولانا کے طنز کی کاٹ ملاحظہ ہو۔ حکومت سے استفسار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

کیوں نکالو جیل سے مجھ خانماں برباد کو
کچھ تو رہنے دو ابھی سسرال میں داماد کو

ادھر مولانا ابوالکلام آزاد اپنے منفرد علمی انداز میں حکومت کے فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج پر حکومت کی بے حسی پر تنقید کر رہے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کے اردو انگریزی اخبارات نے بھی اپنے مضامین اور اداریوں میں دلیپ سنگھ کے اس فیصلہ کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اس کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انگریزی روز

صفحہ 398

نامہ ”مسلم کرانیکل“ نے اس فیصلہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا: ”کنور دلیپ سنگھ نے قانون کی غلط تشریح کی ہے ورنہ قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ وہ راج پال جیسے دریدہ دہن بے غیرت گستاخ کا منہ بند کرے کیونکہ اس سے بڑھ کر مذہبی دل آزاری کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس سے دنیا کا اور بالخصوص برصغیر کا ہر مسلمان دل گرفتہ اور اپنے رسول کی ناموس پر کٹ مرنے کے لیے بے چین ہے۔“ اخبار نے کھل کر یہ بھی لکھ دیا کہ ”اگر عدالت نے اس فیصلہ پر نظر ثانی نہ کی تو کوئی مجاہد اٹھ کھڑا ہو گا جو اس گستاخ کا سر قلم کر دے گا۔“ لیکن حکومت اس وقت نشہ اقتدار میں مست تھی۔

ان ہی دنوں لاہور کی شاہی مسجد میں ایک عظیم اجتماع ہوا، جس میں مولانا محمد علی جوہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”عزیزو! میں کوئی وکیل یا قانون دان نہیں۔ قانون کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھا ہے وہ عدالت کے کٹہرے میں ملزم کی حیثیت سے کھڑے ہو کر سیکھا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آئندہ ایسے فتنوں کے سدباب کے لیے اس قانون ہی کو بدلوا دیں۔ اور تعزیرات ہند میں ایک مستقل دفعہ کا اضافہ کر کے توہین بانیان مذہب کو جرم قرار دیا جائے۔ اب تک کوئی ایسی مستقل سزا آپ کے ملک کے قانون میں موجود نہیں جو اس ملک کے باشندوں کے فرقوں کی دل آزاری پر دی جاسکے۔ اس قانون کا مسودہ میں تیار کیے دیتا ہوں۔ اسمبلی کے ممبر اس میں مناسب ترمیم کر کے ایوان میں پیش کریں اور منظور کریں۔ اس طرح آقا اور ہادی علیہ السلام اور ان کے ساتھ تمام دوسرے مذاہب کے محترم پیشواؤں کی شخصیتیں بھی بد زبانی اور بے لگام لکھنے والوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں گی۔ علمی رنگ میں کسی مذہب یا تاریخی حیثیت سے کسی بانی مذہب پر تنقید کرنا ایک الگ بات ہے، اس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہئے، لیکن کھلی توہین جو کسی مذہب کے بارے میں ہو، اسے آج ہندوستان کے قانون میں قطعی جرم قرار دے کر اس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہو گا۔“

مسلمان جب اپنے اس بے باک قائد کی تقریر سن کر شاہی مسجد سے باہر نکلے تو جوش غضب سے ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔

یہ بات بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند کے تحت گستاخ

صفحہ 399

راج پال کو سزا ہونے کی بجائے اس کے بری ہونے کے بعد اسی جرم کا ایک اور مقدمہ لاہور ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ کے سامنے پیش ہوا، جس میں جسٹس براڈوے سینئر جج تھا، اس مقدمہ میں دلیپ سنگھ کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ دفعہ ۱۵۳ الف ایسے لٹریچر پر بھی حاوی ہے جو فرقہ وارانہ فساد پھیلائے یا مذہبی دل آزاری کا باعث بنے۔ لیکن یہ فیصلہ مسلمانوں کو مطمئن نہ کر سکا۔ سال ۱۹۲۷ء میں مولانا محمد علی جوہر کی تحریک پر مسلم اراکین مرکزی قانون ساز اسمبلی کی تائید سے تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵ الف کا اضافہ کیا گیا جس کی رو سے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کی سزا دو سال قید مقرر کی گئی۔ اس دفعہ میں بھی واضح طور پر بانیان مذہب کی توہین شامل نہ تھی اور نہ ہی ڈویژن بنچ کے فیصلہ یا ۲۹۵ الف تعزیرات ہند کا اطلاق موثر بہ ماضی (Retrospective) ہو سکتا تھا اور نہ ہی اس دفعہ کے اضافہ سے مسلمانوں کی کوئی اشک شوئی ہو سکی جو توہین رسالت کو ایک ناقابل معافی جرم سمجھتے ہیں۔ (۱۰)

غازی خدا بخش کا راج پال پر پہلا قاتلانہ حملہ:

چنانچہ ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء کو جب وہ ملعون راج پال اپنی دکان پر موجود کاروبار میں مشغول تھا، ایک مرد مجاہد خدا بخش اکو بھانے جو اندرون یکی گیٹ لاہور کا رہنے والا اور جس کا معروف کشمیری خاندان سے تعلق تھا، اس خبیث پر تیز دھار چاقو سے حملہ کر کے اسے مضروب کر دیا، لیکن اس بدبخت نے اس وقت بھاگ کر اپنی جان بچالی۔ غازی خدا بخش کو زیر دفعہ ۳۰۷ الف تعزیرات ہند گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور سی۔ ایم۔ جی اوگلوی کی عدالت میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ غازی خدا بخش نے اپنی طرف سے وکیل صفائی مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ راج پال مستغیث نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا۔ ”مجھ پر یہ حملہ ”کتاب“ کی اشاعت اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن کی وجہ سے کیا گیا ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ ملزم خدا بخش اب بھی مجھے جان سے مار دے گا۔ حملہ کے وقت ملزم چلایا تھا: کافر کے بچے، آج تو میرے ہاتھ آیا ہے، میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“ عدالت کے استفسار پر اس مرد غازی نے گرج دار آواز میں کہا: ”میں مسلمان ہوں ناموس رسالت کا تحفظ میرا فرض ہے۔ میں اپنے آقا کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔“ پھر راج پال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اس نے میرے رسول کی شان میں

صفحہ 400

گستاخی کی تھی‘ اس لیے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ کم بخت اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔“

اقرار جرم کے بعد غازی خدا بخش کو سات سال قید سخت‘ جس میں تین ماہ قید تنہائی شامل تھی‘ کی سزا سنائی گئی اور میعاد قید کے اختتام پر پانچ پانچ ہزار کی تین ضمانتیں حفظ امن کے لیے داخل کرنے کا حکم دیا گیا۔ (۱۱)

غازی عبدالعزیز:

اس واقعہ کے چند دن بعد ایک اور مرد غازی عبدالعزیز نے‘ جو افغانستان سے اپنے سینہ میں اس دشمنِ اسلام راج پال کے خلاف غیظ و غضب کی آگ لے کر لاہور پہنچا تھا‘ ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۷ء کی شام راج پال کی دکان پر آیا۔ اتفاقاً اس وقت راج پال کا ایک یار سوامی ستیانند بیٹھا تھا‘ جسے غازی عبدالعزیز نے شاتمِ رسول سمجھ کر چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا لیکن پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر غازی عبدالعزیز کو گرفتار کر لیا۔ اسی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اوگلوی نے سرسری سماعت کے بعد ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۷ء کو اس مرد مجاہد کو بھی وہی سزا دی جو غازی خدا بخش کو دی گئی تھی‘ جسے بھگت کر یہ دونوں مردانِ غازی جیل سے سرخرو ہو کر نکلے۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ :

یہ قید و بند کا سلسلہ جاری تھا کہ اس وقت ایک خطیب آتش نوا اٹھا‘ جسے دنیا عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام سے جانتی ہے۔ ایوانِ حکومت نے اپنے خلاف بغاوت کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے لاہور میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔ اس لیے مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوثؒ کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ وہاں اس عاشقِ رسول ﷺ نے ناموسِ رسالت پر جو تقریر کی‘ وہ اتنی دل گداز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہو گئی۔ کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

”آج آپ لوگ جناب فخرِ رسل محمد عربی ﷺ کے عز و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنسِ انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے۔ آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرضِ خطرہ میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام

صفحہ 401

موجودات کو ناز ہے۔“ اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

”آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین خدیجہ الکبریٰؓ کھڑی آواز دے رہی ہیں۔ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟“

یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظریں معاً دروازے کی طرف اٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پھر اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

”تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضریٰ میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمہارے دلوں میں امہات المومنین کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہؓ اور عائشہؓ کے لیے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔“(۱۳)

شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا:

”جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے، ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے۔ پولیس جھوٹی، حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نا اہل ہے۔ وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ دفعہ ۱۴۴ کے یہیں پرخچے اڑا دیئے جائیں۔ میں دفعہ ۱۴۴ کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتا دوں گا:

پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغؔ نام نہیں

داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہو گئے۔ اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگا دی۔ لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جابجا جلسے ہونے لگے۔(۱۴)

صفحہ 402

غازی علم الدین شہیدؒ

ابتدائی حالات زندگی:

علم الدین ایک محنت کش نجار ”طالع مند“ کا بیٹا تھا جو طالع سازگار لے کر پیدا ہو جسے ماں کی گود میں دیکھ کر ایک فقیر نے بشارت دی تھی کہ تم لوگ بڑے ہی خوش نصیب ہو کہ ایسا بخت آور بچہ تمہارے گھر پیدا ہوا ہے۔ علم الدین نے قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم اپنے محلہ کی مسجد میں حاصل کی جو اس زمانہ میں بازار سر فروشاں کے نام سے مشہور تھا۔

جب یہ بچہ ذرا بڑا ہوا تو باپ نے جلد ہی اسے اپنے ساتھ کام پر لگا لیا‘ جس میں اس نے بڑی جلدی مہارت حاصل کر لی۔ علم الدین کا ایک بچپن کا ساتھی عبدالرشید تھا جسے سب پیار سے ”شیدا“ کے نام سے پکارتے تھے۔ شیدا کے والد کی دکان مسجد وزیر خاں کے سامنے واقع تھی۔ ایک دن دونوں دوست گھر سے شام کے وقت جب مسجد وزیر خاں پہنچے تو وہاں ایک جلسہ عام میں شیطان طینت راج پال کے خلاف تقریریں ہو رہی تھیں‘ جس میں یہ اعلان ہو رہا تھا کہ مسلمان اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن اس مردود راج پال کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ یہ تقریر سن کر دونوں دوست تڑپ اٹھے۔ گھر آکر علم الدین نے اپنے والد طالع مند سے پوچھا:

”کیا کوئی شخص جو ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے زندہ رہ سکتا ہے؟“

باپ نے جواب دیا: ”بیٹا مسلمان اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“

”کیا اسے مارنے والے کو سزا ملے گی؟“ علم الدین نے باپ سے دریافت کیا۔

”ہاں بیٹا یہاں گوروں کے قانون کے مطابق اس کو پھانسی کی سزا ملے گی۔“ باپ نے جواب دیا لیکن یہ سوال سن کر طالع مند فکر مند ضرور ہوا ہو گا کہ اس کا بیٹا آج ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے۔

اسی رات علم الدین نے دیکھا کہ خواب میں ایک بزرگ نمودار ہوئے ہیں اور اس سے کہہ رہے ہیں: ”علم الدین دشمن نے تمہارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی

صفحہ 403

ہے، تم ابھی تک سو رہے ہو۔ اٹھو اور جلدی کرو۔” یہ خواب دیکھ کر وہ فدائی رسول ﷺ فوراً اٹھ بیٹھا اور اپنے اوزار لے کر صبح سویرے اپنے دوست شیدا کے گھر پہنچ گیا اور وہاں سے دونوں دوست بھاٹی دروازے کے سامنے والے کھلے میدان میں جا پہنچے۔ علم الدین نے وہاں رازدارانہ طریقہ سے اپنے دوست ”شیدے“ کو رات والا خواب سنایا تو اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ اس نے بھی گزشتہ رات یہی خواب دیکھا تھا۔ اب دونوں دوستوں میں تکرار ہونے لگی۔ دونوں کا اصرار تھا کہ اس موذی کو مارنے کے لیے اسے بشارت ہوئی ہے۔ آخر طے پایا کہ قرعہ ڈالا جائے۔ اس میں جس کا نام آئے وہی اس کام کو سر انجام دے گا۔ تین بار قرعہ ڈالا گیا اور ہربار قرعہ فال طالع مند کے خوش نصیب فرزند علم الدین کے نام نکلا، جس پر اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ شیدا کو اپنے اس دوست کی خوش بختی پر رشک آیا۔ اس نے علم الدین کو اس کامیابی پر مبارک باد دی، جس کے بعد دونوں دوست ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ وہاں سے علم الدین سیدھے گھر پہنچے کیونکہ اس نیک فال کے بعد ان کا جی کسی اور کام کی طرف مائل ہی نہیں ہوا۔ وہ گھر آ کر کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے تو ذرا دیر کے لیے ان کی آنکھ لگ گئی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی بزرگ دوبارہ نمودار ہو کر ان سے کہہ رہے ہیں:

”علم الدین یہ وقت سونے کا نہیں بلکہ جس کام کے لیے تمہیں چن لیا گیا ہے، اس کی تکمیل کے لیے فوری پہنچو ورنہ بازی کوئی اور لے جائے گا۔“ جس پر وہ ایک بار پھر اپنے دوست شیدا کے پاس الوداعی ملاقات کے لیے پہنچے۔ اسے اپنی کچھ چیزیں بطور یادگار دیں اور دوبارہ گھر پہنچ کر انہوں نے منصوبے کی تکمیل کا پروگرام اپنے ذہن میں مرتب کر لیا اور گھر میں کسی سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی، اس ڈر سے کہ کہیں خون اور قرابت کے رشتے اس راہ میں حائل نہ ہو جائیں۔ اس دن انہوں نے غسل کیا۔ سرخ دھاری دار قمیص پہنی۔ سر پر پگڑی باندھی۔ صاف اور اجلے لباس پر خوشبو لگائی۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ماں سے میٹھے چاول کی فرمائش کی تھی، جسے باپ اور بیٹے نے مل کر تناول کیا۔ باپ کے کسی کام پر جانے کے بعد علم الدین نے اپنی معصوم بھتیجی کے ماتھے کو سوتے میں بڑے پیار سے چوما اور بھابھی سے کچھ پیسے لے کر اس سج دھج سے خوش خوش اپنی مہم پر روانہ ہو گئے۔ مگر کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ علم الدین نے آج کے دن یہ سارا اہتمام کیوں کیا ہے۔ گھر سے ڈبی بازار پہنچ کر انہوں نے آتما رام کباڑیئے کی

صفحہ 404

کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا اور مسل حسب ضابطہ توثیق کے لیے لاہور ہائی کورٹ بھجوائی گئی۔ والدین کے حکم کی تعمیل میں علم الدین کی جانب سے بھی اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ جس کی پیروی اس وقت کے چوٹی کے قانون دان اور اسلامیان ہند کے رہنما قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی، جب کہ دیوان رام لال وکیل سرکار تھا۔ مقدمہ کی سماعت جسٹس براڈوے اور جسٹس جان اسٹون نے کی۔

قائد اعظم کی بحث کا سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ راج پال نے ”رنگیلا رسول“ جیسی قابل اعتراض کتاب شائع کر کے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ چونکہ یہ کتاب اشتعال انگیزی کا سبب بنی، اس لیے ملزم نے قتلِ عمد کا ارتکاب نہیں کیا، لہٰذا اسے سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے جواب میں وکیل سرکار نے من جملہ دیگر دلائل کے یہ موقف اختیار کیا کہ پیغمبر اسلام کی اہانت واقعی افسوسناک بات ہے، لیکن تعزیرات ہند میں اس جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں، اس لیے مقتول نے کوئی خلاف قانون حرکت نہیں کی تھی، چنانچہ ملزم کا یہ فعل اشتعال انگیزی کی تعریف میں نہیں آتا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ۱۷ جولائی ۱۹۲۹ء سیشن کورٹ کی سزائے موت کے فیصلہ کی توثیق کی۔ مسلمان زعماء کے اصرار پر اس فیصلہ کو پریوی کونسل میں اس خیال سے چیلنج کر دیا گیا کہ شاید وہاں سے ایسی فرقہ وارانہ منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف مسلمانوں کو کوئی داد رسی مل سکے، لیکن یہ خیال خام نکلا اور پریوی کونسل نے مذہبی اشتعال انگیزی پر اظہار رائے کے بغیر ہی اپیل ۵ نومبر ۱۹۲۹ء کو نامنظور کر دی۔ جب یہ فیصلہ غازی علم الدین کو سنایا گیا تو وہ خوشی سے چیخ اٹھے اور کہا۔

”اس سے بڑھ کر میری خوش نصیبی اور کیا ہوگی کہ مجھے شہادت کی موت نصیب ہو رہی ہے اور بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضری کی سعادت سے بھی مجھے سرفراز کیا جا رہا ہے۔“

ہنگامہ دار و رسن برپا ہونے سے دو دن قبل جب ان کا غمگسار دوست شیدا ان سے ملاقات کے لیے میانوالی جیل پہنچا تو اسے غمگین دیکھ کر علم الدین نے کہا۔ ”یار آج تجھے تو میری طرح خوش ہونا چاہئے، اپنے آقا ﷺ کے نام پر کٹ مرنا ہی ایک مسلمان کی سب سے بڑی آرزو ہے اور اللہ پاک کی یہ کتنی بڑی کرم نوازی ہے کہ ہزاروں لاکھوں

صفحہ 405

مسلمانوں میں سے اپنے اس حقیر بندے کے ہاتھوں اس ناپاک شیطان کو ختم کرایا اور دیکھو رسول کریم ﷺ پر قربان ہونے کی میری دلی مراد بھی پوری ہو رہی ہے۔ اس لیے تمام مسلمان بھائیوں تک میری یہ بات پہنچا دو کہ وہ میری موت پر غم نہ کریں بلکہ میرے لیے دعائے خیر کریں۔"

والدین اور عزیز و اقارب سے آخری ملاقات کے موقع پر اپنی والدہ سے کہا کہ وہ ان کا دودھ بخش دے۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کہنے لگے۔ ”ماں دیکھ تو کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے بیٹے کو شہادت کی موت مل رہی ہے۔ مجھے تو ہنسی خوشی رخصت کرنا چاہیے۔" پھر علم الدین نے پیالہ سے پانی پیا اور اسی پیالے سے اپنے عزیزوں اور والد طالع مند کو بھی پانی پلا کر پوچھا کہ انہیں بھی اس سے ٹھنڈک پہنچی ہے! سب نے جب اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگے: ”مجھے تو جگر تک ٹھنڈک محسوس ہو رہی ہے۔" پھر ان سب سے کہا کہ کوئی ان کی موت پر آنسو نہ بہائے ورنہ انہیں اس سے تکلیف ہو گی۔

جیل کے حکام کو وصیت نامہ میں اپنے عزیزوں کے لیے یہ بات بطور خاص لکھوائی کہ ان کے سولی پر چڑھنے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حقدار ہو گا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰۃ برابر ادا کریں اور شرع محمدی ﷺ پر قائم رہیں۔

انجام کار ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو وہ دن آ پہنچا جس کے لیے علم الدین کی جان بے تاب تڑپ رہی تھی۔ رات اس جوان شب زندہ دار نے ذکر الہی اور تہجد میں گزار دی اور طلوع سحر پر انتہائی خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز فجر ادا کی تو فرشتہ اجل مجسٹریٹ، داروغہ جیل اور مسلح سپاہیوں کے ہمراہ استقبال کے لیے کوٹھڑی کے دروازے پر موجود تھا۔ مجسٹریٹ نے اس مرد غازی سے پوچھا: ”کوئی آخری خواہش؟" تو کہا: "صرف دو رکعت نماز شکرانہ کی مہلت۔" اجازت ملنے پر سجدہ شکر ادا کرنے کے بعد داروغہ جیل سے مخاطب ہوئے، جس کی آنکھ بھی آج خلاف معمول نم ناک تھی اور کہا: ”گواہ رہنا! ایک پروانہ رسول کے شوق شہادت اور آخری سجدۂ نماز کے۔" اور پھر سرخوشی کے عالم میں ان کے ساتھ سوئے دار چل پڑے۔ اس وقت جیل کے قیدی اپنی اپنی کوٹھڑیوں اور بارکوں میں اس فدائی رسول کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے تعظیماً ایستادہ کھڑے تھے اور ساری جیل درود و سلام کے سرمدی نغموں سے گونج رہی تھی۔ رفیقان زنداں کو الوداع

صفحہ 406

اور سلام آخر کہتے ہوئے مقتل میں پہنچ کر جب تختہ دار کو دیکھا تو فرط مسرت سے جھوم اٹھے اور زبان حال سے کہا:

عمر یست کہ افسانہ منصور کہن گشت
من از سر نو جلوہ دہم دار و رسن را

پھر ساعت سعید کو قریب دیکھ کر تیزی سے تختہ دار کی طرف بڑھے اور وارفتگی شوق میں چاہا کہ پھانسی کے پھندے کو، جو وصال حبیب خدا ﷺ کا مژدہ جانفزا لے کر نمودار ہوا تھا، خود اپنے ہاتھوں سے گلے میں ڈال لیں، لیکن اسے خلاف شریعت جان کر فورا رک گئے اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا:

حاصل عمر نثار رہ یارے کردم
شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

اس طرح وہ شہید عشق و محبت شاداں و فرحاں اپنے آقا و مولا کے دامان رحمت میں پہنچ گیا لیکن اس وقت جیل کے در و دیوار پر ایک مہیب سناٹا اور سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ جیل کے حکام نے اپنے افسران بالا کے ایما پر علم الدین شہید کی نعش کو ان کے والد اور عزیز و اقارب اور سینکڑوں مسلمانوں کے حوالہ کرنے سے انکار کر دیا جو جیل سے باہر اسے لے جانے کے لیے منتظر کھڑے تھے۔ اس بے تدبیری اور سہل انگاری کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو گئے۔

لیکن نقض امن کے اندیشہ کے پیش نظر جیل کے کارندوں نے حکومت کی خفیہ ہدایات پر شہید نبوت کی لاش کو نہایت خاموشی کے ساتھ عجلت میں جیل کے احاطہ میں عام قیدیوں کے قبرستان کے اندر دفن کر دیا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں ہڑتالیں شروع ہوئیں۔ کاروبار معطل ہو گیا۔ برہنہ پا اور برہنہ سر ماتمی جلوس نکلنے لگے اور مسلمانوں میں شدید ہیجان پیدا ہو گیا۔ اس پر اکابرین ملت جن میں علامہ اقبال پیش پیش تھے، سر محمد شفیع، جناب محسن شاہ والد محترم جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ چیف جسٹس پاکستان اور دوسرے قائدین کے ہمراہ گورنر سے ملے اور اپنے جواں سال شہید کی لاش کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو اس یقین دہانی پر کہ وہ امن عامہ برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے، حکومت نعش ان کے حوالہ کرنے پر رضامند ہو گئی چنانچہ تدفین کے تیرہویں دن مسلمان مجسٹریٹ اور میونسپل کمشنروں کی

صفحہ 407

موجودگی میں شہید کی میت قبر سے نکالی گئی۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ کئی دن گزر جانے کے باوجود لاش صحیح اور سالم حالت میں موجود تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ ابھی آنکھ لگی ہے۔

۱۴ نومبر ۱۹۲۹ء کو سارے شہر اور اس کے گردو نواح سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کا ایک سیل بے پناہ فدائی رسول کے استقبال کے لیے رواں دواں تھا اور ہر طرف سے گل پاشی اور عرق گلاب کی بارش ہو رہی تھی۔ ہر ایک کے لبوں سے درود و صلوٰۃ کی صدائے دل نواز بلند ہو رہی تھی۔ اس سے پہلے اتنی خلقت لاہور نے کسی اور جنازے میں کہاں دیکھی تھی! شہید کی میت جب جنازہ گاہ پہنچی تو طالع مند نے اپنے لخت جگر کی نماز جنازہ کی امامت کا حق وقت کے سب سے بڑے عاشق رسول ﷺ علامہ اقبال کو یہ جانتے ہوئے سونپ دیا کہ دراصل یہ ان ہی کا حق ہے۔ علامہ پر ایک عجیب رقت طاری تھی انہوں نے اس دینی فریضہ کی ادائیگی کے لیے کسی اور بزرگ کا نام تجویز کیا۔ لیکن وہ اس ہجوم بے کراں میں گم تھے‘ اس لیے مسجد وزیر خاں کے خدا ترس خطیب مولانا محمد شمس الدین کا نام تجویز ہوا۔ جنہوں نے نماز جنازہ پڑھائی۔ مولانا ظفر علی خاں نے اس شہید رسالت کی لحد میں تدفین سے قبل اتر کر کہا: ”کاش یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی۔“ شہید کے لاشے کو اشکبار آنکھوں سے اقبال جیسے شیدائی رسول نے اتارا۔ اس طرح مرقد کے شبستان کو جگمگا کر اس جواں سال شہید نے حیات ملی کو تب و تاب جاودانہ بخش دی‘ جس کے صلہ میں اسے شہادت کا رتبہ بلند نصیب ہوا جس پر علامہ کی زبان سے بے اختیار نکل گیا۔ ”یہ جوان ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا۔“(۱۵)

غازی علم الدین شہید نے قوت عشق سے یہ ثابت کر دکھایا کہ جہاں اقتدار یا قانون ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ میں ناکام ہو جائیں‘ وہاں مسلمان اپنی جان دے کر عز و ناموس رسالت کی حفاظت کرتا رہے گا۔

غازی علم الدین شہیدؒ کا کارنامہ حیات

عاشق رسول غازی علم الدین شہید کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں مقررین نے مطالبہ کیا کہ غازی علم الدین کی شخصیت اور کارناموں سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے درسی نصاب میں شامل کیا جائے۔ ایک ایسے عہد میں‘ جب کہ مسلمان مظلوم و مقہور

صفحہ 408

قوم کی حیثیت سے قومی بقا کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اغیار نے انہیں قومی تشخص سے محروم کرنے کی جو منظم سازش تیار کی‘ اس میں اہانت و تنقیص رسول پر مبنی کتب و مضامین کی اشاعت کا منصوبہ شامل تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان کے بدن سے روحِ محمد ﷺ نکالے بغیر اسے کسی نئے نظام کا خوگر اور استعمار کی غلامی پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ غازی علم الدین ان غیرت مند مسلمانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر توہین رسول ﷺ کے مرتکب ایک ملعون شخص کو کیفر کردار تک پہنچا کر قوم کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کی اور اسلام دشمن قوتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ مسلمانوں کے اخلاق و کردار پر شب خون مارنے کے لیے یہ سودا بہت مہنگا ہے‘ چنانچہ برصغیر میں توہین رسالت کا راستہ بند ہو گیا۔ اس نقطہ نظر سے یہ مطالبہ جائز اور ایمانی تقاضوں کے عین مطابق ہے کہ غازی علم الدین کے کارناموں کو درسی نصاب میں شامل کیا جائے۔ تاکہ نئی نسل ایک سچے عاشق رسول ﷺ کے جذبہ عقیدت و اخلاص سے روشناس ہو سکے اور قوم میں حب رسول کا وہ جذبہ پیدا ہو سکے جس کی موجودگی میں کسی شاتم رسول ﷺ کو ذات رسالت مآب ﷺ کے بارے میں کسی گستاخی کی جرات نہ ہو۔(۱۶)

غازی عبدالقیوم شہید

غازی عبدالقیوم کا واقعہ شہادت بڑا ہی ایمان افروز واقعہ ہے۔ اس نوجوان مرد مجاہد کا تعلق غازی آباد ضلع ہزارہ کے ایک غریب گھرانے سے تھا لیکن کسے خبر تھی کہ ایک دن تخت ہزارہ کی شہ نشینی سے بھی اونچا مرگ با شرف کا رتبہ شہادت اسے نصیب ہو گا۔ اپنے گاؤں سے وہ تلاش روزگار میں کراچی آیا‘ جہاں اسے رزق حلال کے لیے گھوڑا گاڑی مل گئی‘ جس کی آمدن سے وہ اپنی بوڑھی ماں‘ بیوہ بہن اور ضعیف چچا اور نوبیاہتا بیوی کی کفالت کر رہا تھا۔ فجر اور عشاء کی نماز وہ اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھا کرتا تھا۔ ایک روز امام مسجد نے اہل مسجد کو اشکبار آنکھوں سے بتلایا کہ ایک خبیث ہندو نتھو رام نے آقائے نامدار ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ غازی عبدالقیوم نے جب یہ بات سنی تو تڑپ اٹھا اور اس کے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی۔ اسی وقت اس نے صحن مسجد میں اپنے رب سے عہد کیا کہ وہ اس کافر کمینہ کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔

یہ نتھو رام آریہ سماجی ہندو تھا‘ جس نے سال ۱۹۳۳ء میں ”ہسٹری آف اسلام“

صفحہ 409

(History Of Islam) نامی ایک کتاب لکھی جس میں اس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات اقدس کو ہدف تنقید و ملامت بنایا اور شان رسالت میں گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ جس سے مسلمانوں میں ہیجان پیدا ہوا اور سارے شہر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ حکومت نے نقص امن کے اندیشہ سے ملزم کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کر کے اسے ایک سال قید اور جرمانہ کی سزا دی لیکن مارچ 1934ء میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل پر کراچی کے جوڈیشل کمشنر نے اس کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔ نتھو رام کا مقدمہ سماعت کے لیے جس دن سندھ چیف کورٹ کے دو انگریز ججوں کی بینچ کے سامنے پیش ہونا تھا اس دن نتھو رام اپنے وکلاء اور ساتھیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا ہوا کورٹ روم میں داخل ہوا۔ عدالت کے باہر ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں فیصلہ سننے کے لیے کھڑے تھے۔ مقدمہ کی سماعت سے کچھ دیر قبل شہ عرب و عجم کا یہ نوخیز غلام عبد القیوم کمرہ عدالت میں اس ہندو مصنف نتھو رام کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے شکار پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ موقع پاتے ہی اپنے نیفہ میں چھپا ہوا تیز دھار خنجر نکال کر عقاب کی طرح وہ اس پر جھپٹا اور اس ملعون کے پیٹ میں خنجر گھونپ کر اس کی آنتیں باہر نکال دیں۔ نتھو رام منہ کے بل زمین پر گر پڑا تو اس خیال سے کہ کہیں وہ زندہ بچ نہ جائے‘ اس نے اپنی پوری قوت سے ایک اور وار اس کی گردن پر کیا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ اس طرح اس خبیث کا کام تمام کرنے کے بعد نہایت اطمینان اور سکون سے اس نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ عدالت میں اس واقعہ سے بھگدڑ مچ گئی اور جج بھی اس اچانک واردات سے خوفزدہ اور سراسیمہ ہو گئے۔ عبدالقیوم کے مقدمہ قتل کے دوران جب ملزم کا بیان قلم بند کرتے ہوئے ایک انگریز جج نے اس مرد غازی سے دریافت کیا کہ اسے اس بھری عدالت میں اس طرح واردات کی جرات کیسے ہوئی؟ تو اس نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”تم اپنے بادشاہ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے‘ ہم اپنے دین اور دنیا کے شہنشاہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو کیسے معاف کر دیتا۔“ اس موذی کو ہلاک کرنے کے بعد نہایت حقارت کے ساتھ اس کی لاش پر تھوکتے ہوئے اس نے کہا تھا: ”اس خنزیر کے بچے نے میرے رسول کی توہین کی تھی‘ اس لیے میں نے اسے قتل کیا ہے۔“ اس نے اپنی طرف سے وکیل صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ اقبال جرم پر سیشن کورٹ سے غازی عبدالقیوم کو

صفحہ 410

سزائے موت سنائی گئی تو وہ نوجوان مرد مجاہد اپنی خوشی اور مسرت ضبط نہ کر سکا اور بے اختیار اس کی زبان سے حمد و ثنا کی صدا بلند ہوئی۔ مسلمانوں نے جب اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنا چاہی تو اس نے ان سب کی منت سماجت کرتے ہوئے کہا: ”آپ لوگ مجھے دربار رسول ﷺ میں حاضری کی سعادت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔“ وہ اس شعر کی مجسم تصویر بنا ہوا تھا:

لے تو لیا ہے داغ عشق کھو کے بہار زندگی
اک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا

فیصلہ جب توثیق کے لیے عدالت عالیہ کے سپرد ہوا اور اس مرد غازی کی خواہش کے خلاف قانون کی توضیح اور تشریح کے لیے اپیل دائر کر دی گئی تو اپیل کی سماعت کے دوران ہر پیشی پر اس محمد ﷺ کے غلام کے دیدار کے لیے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم موجود ہوتا جو اس پر گل پاشی کیا کرتا تھا۔ بالاخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور اسے بھی دوسرے غازیان ملت کی طرح سزائے موت سنائی گئی، جس کے لیے وہ بے چین اور مضطرب رہتا تھا۔ اور یہی پروانہ موت اس کے لیے حیات جاوید لے کر آیا۔ جب اس کو سزائے موت سنائی گئی تو اس نے ججوں سے مخاطب ہو کر کہا: ”مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہے کہ میرے ہاتھوں وہ خبیث جہنم رسید ہوا اور میرے رب نے شہادت جیسی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے اگر ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں تو وہ سب میرے آقا اور مولا پر قربان ہیں۔ اس طرح اس مرد غازی کے لیے، جو کچھ عرصہ قبل عروس نو بیاہ کر لایا تھا، آج حوران جنت در ہائے فردوس وا کیے استقبال کے لیے کھڑی تھیں۔

یہ بھی ایک عاشق کا جنازہ تھا، اس لیے بڑی دھوم سے نکلا اور ہزاروں مسلمان جب میوہ شاہ کے قبرستان اس شہید کے جنازے کو لے جا رہے تھے اور درود و سلام کے نغمات سے فضا گونج رہی تھی، ایسے میں حکومت افرنگ کے فرعون مزاج فوجیوں نے عاشقان ناموس رسول ﷺ کے اس ہجوم پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جس کے نتیجہ میں سینکڑوں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے معصوم عورتیں اور بچے جو مکانوں کی چھتوں سے اس خونیں کفن شہید کے لاشے پر گل پاشی کر رہے تھے، ان کی شقاوت کا نشانہ بنے اور اس دن وہ سب شہیدان ناموس رسالت اس فدائی رسول کے ساتھ جنت الفردوس میں زیر سایہ دامان رسالت پہنچ گئے۔

صفحہ 411

ان پے در پے واقعات سے مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے۔ وہ حکومت وقت سے توقع رکھتے تھے کہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔ لیکن اس کے غیر انسانی رویہ سے رنج و الم کے ساتھ ساتھ ان میں احساس محرومی پیدا ہوا تو علامہ اقبال کے ادراک و شعور اور فراست ایمانی نے ان کے اس اندرونی کرب و ملال کو محسوس کر کے انہیں حوصلہ دیا اور شہادت کی موت کی قدر و قیمت سے انہیں آگاہ کیا۔ ”ضرب کلیم“ میں ان ہی واقعات خونچکاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ”لاہور اور کراچی“ کے عنوان سے انہوں نے قوم کو یہ پیغام دیا:

لاہور اور کراچی

نظر اللہ پر رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے؟ ”فقط عالم معنی کا سفر“
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الہا آخر

غازی محمد صدیق شہید:

غازی محمد صدیق فیروز پور ضلع قصور کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ماں نے بڑے لاڈ پیار سے بیٹے کی پرورش کی اور ساتھ ہی ساتھ صحیح تربیت بھی۔ سال 1934ء میں نوخیز بچہ جب بیس برس کا ہوا تو اسے خواب میں رسول پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ہوا کہ قصور کے ایک دریدہ دہن گستاخ پالا مل زرگر کا منہ بند کیا جائے۔ یہ بشارت ملتے ہی نوجوان غازی تڑپ کر بیدار ہوا تو اس کے ساتھ اس کا مقدر جاگ اٹھا۔ اس نے ماں کو یہ خوشخبری سنائی تو ماں نے خوشی سے لخت جگر کا ماتھا چوما اور شہادت گہ الفت کی طرف اسے روانہ کیا۔ قصور پہنچ کر اس مرد غازی نے اس گستاخ رسول پالا مل کو راستے ہی میں دبوچ لیا۔ اسے پچھاڑ کر اس کے سینہ پر سوار ہو گئے اور تیز دھار آلہ (رمبی) سے پے در پے وار کر کے اس موذی کو ہلاک کر دیا اور وہاں سے فرار ہونے کی بجائے قریب ہی مسجد میں جا کر سب سے پہلے نماز

صفحہ 412

شکرانہ ادا کی اور پھر مسجد کی سیڑھیوں پر اس شان اور تمکنت کے ساتھ بیٹھ گئے کہ کسی ہندو کو ان کے پاس آنے کی جرات نہ ہو سکی۔ فیروز مندی ان کے قدم چوم رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ مصرعہ

شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

اور فی الحقیقت اس سے بڑھ کر اور کیا کار نمایاں ہو سکتا تھا۔ جس پر مسرت اور شادمانی بھی ناز کرے کہ ایک شاتم رسول ان کے ہاتھوں سے جہنم رسید ہوا۔ حسب معمول انگریز کا قانون حرکت میں آیا اور اس مرد مجاہد کا مقدمہ سیشن کے سپرد ہوا۔ غازی موصوف کی جانب سے میاں عبدالعزیز مالوڈہ اور نو مسلم بیرسٹر خالد لطیف گابا نے مقدمہ کی پیروی کی۔ لیکن چونکہ آپ نے عدالت کے روبرو پوری جرات کے ساتھ اعتراف قتل کر لیا تھا‘ اس لیے سزائے موت سنائی گئی۔

آفرین ہے اس ماں پر جس نے ایسے پیکر جرات و ایثار کو جنم دیا اور آفرین ہے اس نوجوان مرد غازی پر جو اپنے آقا و مولا کے نام پر قربان ہو گیا۔ یہ فیصلہ سن کر ماں نے ایک بار پھر اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا کہ یہ ایک بیٹا تو کیا‘ ایسے بیس بیٹے بھی ہوتے تو میں ان سب کو اپنے آقا کے نام پر قربان کر دیتی۔ بیٹے نے بھی یہی کہا کہ یہ ایک جان کیا چیز ہے ایسی ہزار جانیں میرے آقا کی خاک پر نثار ہیں۔ ہائی کورٹ نے سیشن جج کے فیصلہ کو بحال رکھا اور 6 مارچ 1935ء کو یہ پروانہ رسالت بھی درود و سلام کی سوغات لے کر اپنے آقا کے قدموں میں پہنچ گیا۔

غازی عبداللہ شہیدؒ :

یہ بھی تقسیم ہند سے قبل اغلباً 1943ء کا واقعہ ہے‘ ایک بدبخت سکھ چہل سنگھ شیخوپورہ کے گرد و نواح میں نبی کریم ﷺ کے خلاف یاوہ گوئی کر کے اپنے خبث باطن کا اظہار کرتا پھرتا تھا۔ قصور کے رہنے والے ایک جیالے جوان عبداللہ کو سرکار رسالت مآب ﷺ نے خواب میں حکم دیا کہ وہ اس گستاخ کا منہ بند کرے۔ چنانچہ کسی سے اس خواب کا ذکر کئے بغیر وہ شوریدہ سر آتش بجاں اٹھ کھڑا ہوا اور اس مردود کی تلاش میں نکل پڑا۔ معلوم ہوا کہ وہ خبیث وارث شاہ کے گاؤں جنڈیالہ شیر خاں میں رہتا ہے‘ جو اس وقت سکھوں کا گڑھ تھا۔ بستی کے قریب پہنچ کر مزید دریافت پر پتہ چلا کہ وہ اپنے

کنویں پر بیٹھا کسی کام میں تھا۔ غازی عبداللہ نے اکیلا کے جسم میں غیر معمولی طا ہوئے اور اسے پچھاڑ کر کاٹ دی اور اس کا سر تڑ وہاں سے بھاگ کھڑے ہو مردود کے لاشہ سے اٹھا کامیاب فرما کر اسے سرخرو

موقع واردات پر لبوں سے درود و صلوٰۃ کے رہا تھا۔ پولیس نے گرفتا انور مرحوم نے مقدمہ کی اعتراف جرم محبت کر لیا لائے کہ انہیں بھی شہید کیا جائے‘ کم ہے۔ بالآخر نصیب ہوئی۔ (18)

صفحہ 413

کنویں پر بیٹھا کسی کام میں مشغول ہے۔ اس کے قریب ہی سکھوں کا جتھہ مصروف گفتگو تھا۔ غازی عبداللہ نے ایک نظر میں اس دشمنِ دیں کو پہچان لیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے جسم میں غیر معمولی طاقت بجلی بن کر دوڑ رہی ہے۔ چہل سنگھ پر وہ جھپٹ کر حملہ آور ہوئے اور اسے پچھاڑ کر اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور پوری قوت سے اس کی شہ رگ کاٹ دی اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس ناگہانی حملہ کو دیکھ کر پاس بیٹھے ہوئے سکھ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن یہ مرد غازی اپنے آقا کے فرمان کی تعمیل کے بعد اس مردود کے لاشہ سے اٹھا اور وہیں رب کے حضور سر بسجود ہوا کہ اس نے اس مہم کو کامیاب فرما کر اسے سرفرازی بخشی اور سرخرو کیا۔

موقع واردات پر جب پولیس پہنچی تو اس مرد مجاہد کو وہیں پر موجود پایا۔ جس کے لبوں سے درود و صلوٰۃ کے نغمات نکل کر فضا میں تحلیل ہو رہے تھے۔ چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ پولیس نے گرفتار کر کے دلی مراد پوری کر دی۔ شیخوپورہ کے معروف وکیل ملک انور مرحوم نے مقدمہ کی پیروی کی تھی لیکن چونکہ غازی عبداللہ نے عدالت کے روبرو اعتراف جرم محبت کر لیا تھا‘ اس لیے سزائے موت سنائی گئی تو ایک مرتبہ پھر سجدہ شکر بجا لائے کہ انہیں بھی شہیدان رسالت کی صف میں جگہ مل رہی ہے‘ جس پر جتنا بھی فخر و ناز کیا جائے‘ کم ہے۔ بالآخر اس شہید ناز کو بھی بارگاہ مصطفوی ﷺ میں باریابی کی سعادت نصیب ہوئی۔ (18)

غازی عبدالرشید شہید اور دیگر شہیدانِ ملت:

غازی عبدالرشید شہید کا نام نامی بھی سرفروشانِ ملت میں ہمیشہ نمایاں رہے گا‘ جس نے آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی کے چیلے سوامی شردھا نند جیسے خبیث شاتمِ رسول کو دہلی میں موت کے گھاٹ اتارا اور راہِ عشق رسول ﷺ میں اپنی جان نثار کر کے بارگاہِ نبوت میں سرخرو اور سرفراز ہوا۔

اس مرد مجاہد کے علاوہ تلہ گنگ کے غازی محمد شہید‘ چکوال کے غازی مرید حسین اور محمد منیر شہید کے نام بھی جانثارانِ مصطفیٰ ﷺ کی فہرست میں شامل ہیں‘ جنہوں نے توہین رسالت کے مجرموں کو‘ جو آریہ سماجی تنظیم کی پیداوار تھے‘ تہ تیغ کر کے جام شہادت نوش کیا اور عشقِ رسالت مآب ﷺ کی داستانِ خونچکاں کو رنگین تر کرتے چلے

صفحہ 414

گئے۔ (19)

ایک گمنام شہید رسالت اور سر محمد شفیع:

نام و ناموس مصطفیٰ ﷺ پر نذرانہ دل و جاں پیش کرنے والے گمنام شہیدوں کی تعداد ساری دنیا میں یوں تو ستاروں کی مانند بے حد و حساب ہے۔ ان خون کے چھینٹوں سے دنیا کا کوئی گوشہ خالی نہیں۔ میرے بعد آنے والا کوئی محقق ان کے بارے میں بھی تفصیلات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرے گا۔ ان میں ایک گمنام شہید کا واقعہ لاہور ہائی کورٹ سے متعلق ہے، جس نے اس دور کے انگریز ججوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

تقسیم ہند سے قبل کا واقعہ ہے۔ ایک انگریز میجر کی بیوی نے اپنے مسلمان خانساماں کے سامنے حضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کئے، جس پر اس مرد غیرت مند نے اسی وقت اس انگریز میم کا کام تمام کر دیا۔ یہ مقدمہ جب لاہور ہائی کورٹ پہنچا تو ڈویژن بنچ میں دو انگریز جج اس مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے۔ ملزم کی جانب سے اس وقت پنجاب کے سیاسی رہنما اور ممتاز قانون داں میاں سر محمد شفیع، جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن بھی تھے، مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں سر محمد شفیع کے سیاسی معتقدات سے بحث نہیں، بلکہ سرکار دربار میں رسائی کی باوجود ان کی دینی حس کو بتلانا مقصود ہے۔ اس مقصد میں دوران بحث میاں محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جس پر مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے حیرت سے پوچھا: ”سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟“ جس پر سر شفیع نے جواب دیا: ”جناب آپ کو نہیں معلوم، ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ سر شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ یہی کر گزرتا جو اس ملزم نے کیا ہے۔“ یہ واقعہ بھی راقم کو راجہ سید اکبر مرحوم نے سنایا تھا۔ افسوس کہ اس مرد مجاہد کا نام اور ان ججوں کے نام راجہ صاحب مرحوم کی یادداشت میں محفوظ نہیں تھے۔

یہ ان چند واقعات کی مختصر سی روئیداد ہے، جو برصغیر ہند میں برطانیہ کے استعماری دور استبداد میں رونما ہوتے رہے ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان میں جنگ آزادی کے دوران مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو دیکھا ہوا تھا، اس لیے وہ اس حساس

صفحہ 415

اور نازک مسئلہ پر مسلمانوں سے براہ راست الجھنے سے گریزاں تھے، لیکن پس پردہ وہ ہندوؤں کو شہ دیتے رہے اور شریر ہندو اپنی کمینہ فطرت اور خباثت باطن کو چھپا نہ سکے اور انہوں نے ذات رسالت مآب ﷺ کے خلاف اس ناپاک مہم کو بڑے زور و شور سے چلانے کی کوشش کی، لیکن سرفروشان ملت کی ان بروقت قربانیوں سے ان کے عزائم پست ہو گئے اور انہیں بار بار اس قسم کے ذلیل اور سوقیانہ حملے کرنے کی جرأت نہ ہو سکی کیونکہ انہیں یہ علم ہو گیا کہ مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر زندہ ہے اور مسلمان جہاں کہیں بھی ہو اور جس مقام پر ہو، وہ حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں ذرا سی گستاخی بھی برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے لیے ہر وقت مرنے مارنے پر تیار اور مستعد رہتا ہے۔

صفحہ 416

پاکستان اور سرفروشان رسالت

پاکستان اور سرفروشان رسالت:

علامہ اقبال کی رجز خوانی سے مسلمانان پاکستان منزل مراد کی جانب گامزن ہوئے۔ ذات رسالت مآب ﷺ سے انہیں جو بے پناہ عقیدت و محبت تھی، اس سے کون واقف نہیں اور خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے لنکنز ان میں داخلہ اس لیے لیا تھا کہ وہاں دنیا کی قانون ساز شخصیتوں میں حضور ﷺ کی ذات گرامی انہیں سب سے نمایاں نظر آئی۔ دراصل یہ مملکت خداداد پاکستان مسلمان رہنماؤں اور اسلامیان برصغیر کے عشق رسول کا مظہر ہے، اس لیے یہاں اندیشہ نہ تھا کہ کوئی سرکار رسالت مآب ﷺ کی جناب میں گستاخی کا مرتکب ہوگا، لیکن جس طرح بچھو اپنی زہرناک فطرت سے نیش زنی پر مجبور ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے مار آستیں چھپے ہوئے تھے، جنہوں نے ملت اسلامیہ کو رسول عربی ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے ڈسنے کی کوشش کی، جس پر ملت کے غیرت مند نوجوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے پیش رو شہیدوں کی طرح شمع رسالت پر پروانہ نثار ہونے کے لیے جس جرات کا مظاہرہ کیا، اس کا تذکرہ تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں ازبس ضروری تھا، جو نذر قارئین ہے۔

غازی زاہد حسین:

سال 1961ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغلپورہ ورکشاپ میں دوران تبلیغ آنحضور ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے، لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا۔ جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہو کر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا، جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کر لیا، جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان

صفحہ 417

کی معاونت برادر عزیز میاں شیر عالم نے کی تھی۔

سال 1964ء میں اس غازی زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ لاہور کی ایک عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ”اثمار شیریں“ فروخت ہو رہی ہے‘ جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں‘ جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی‘ آگ لگا دی اور اس کے منیجر ہیکٹر گوہر مسیح پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا‘ جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں نگرانی دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے‘ خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جری ریٹائرڈ پبلک پراسیکیوٹر پیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا‘ تو فاضل جج نے مسٹر جری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اگرچہ کہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں‘ لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں‘ وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں‘ جنہیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے۔“ اس لیے انہوں نے ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے۔

تحریک ناموس رسالت:

مسلم دل آزاری امت عیسیٰ کی صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں پے در پے شکستوں کی وجہ سے ہزیمت خوردہ ذہنیت کی غماز تھیں‘ لیکن یہ بھی ایک اندوہناک حقیقت ہے کہ لاہور کے ایک اشتراکیت زدہ ایڈووکیٹ مشتاق راج نے سال 1983ء میں ”آفاقی اشتمالیت“ نامی ایک کتاب لکھی‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ

صفحہ 418

(Heavenly Communism) کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ کتاب راقم الحروف کو جسٹس میاں صادق اکرام نے لا کر دی اور فرمایا کہ اس کا جواب دینا چاہئے مگر یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کتاب میں کمیونزم کا مذہبی نقطہ نظر سے کس طرح جائزہ لیا گیا ہے، میں نے کتاب کو پڑھنا شروع کیا۔

جیسے جیسے میں کتاب کو پڑھتا گیا، میری قوت برداشت جواب دے گئی اور کتاب پڑھنے کے بعد مجھ پر غم و غصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی، وہ ناقابل بیان ہے۔ کتاب میں نہ صرف اللہ تعالی کے ساتھ تمسخر کیا گیا تھا، بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا۔ انبیائے کرام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی جناب میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی۔ میں نے انتہائی صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پاکستان) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ حسن اتفاق سے اس وقت عالم اسلام کے دو ممتاز سکالر ڈاکٹر ربیع المدخلی اور جناب سعید صالح پروفیسر اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ بھی پاکستان میں موجود تھے۔ انہوں نے بھی ہماری دعوت پر اس اجلاس میں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور پاکستان کے دیگر علماء کے ساتھ شرکت کی۔ ان سب کی یہ رائے تھی کہ یہ انتہائی دل آزار کتاب ہے۔ میں نے اس اجلاس میں کتاب اور اس کے مصنف کے خلاف قرار داد مذمت پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کتاب کی ساری کاپیاں ضبط کر لی جائیں اور گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دی جائے۔ اس قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اس کے بعد راقم الحروف نے ایک ریزولیوشن لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں بھی پیش کیا کہ مشتاق راج کی بار ایسوسی ایشن سے رکنیت فوری ختم کر دی جائے اور اس کی پریکٹس کا لائسنس ضبط کرنے کے لیے بار کونسل کو تحریک کی جائے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے عبرتناک سزا دی جائے، جس کو پاکستان کی مقتدر بار ایسوسی ایشن نے اپنے ہنگامی اجلاس میں، جس میں پانچ سو سے زائد اراکین موجود تھے، متفقہ طور پر منظور کر لیا اور اسے بار ایسوسی ایشن سے خارج کر دیا گیا، جس پر مشتاق راج چراغ پا ہو کر دشنام طرازیوں پر اتر آیا اور اس نے پریس کو ایک بیان جاری کیا، جس میں عذر گناہ پیش کرتے ہوئے مجھے اور ان تمام ساتھیوں اور معزز اراکین بار کو جنہوں نے متفقہ طور پر اس قرار داد کو منظور کیا تھا، ”بہیمانہ جذبات کے علم بردار“ اور ”موروثی جہالت کے

صفحہ 419

وارث" کے خطابات سے نوازا، جس سے اس کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی تھی اور اس طرز تخاطب سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ موصوف کو گالیاں دینے کا سلیقہ بھی نہیں۔

ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرار داد کے بعد حکومت نے یہ کارروائی کی کہ مشتاق راج کی کتاب ”آفاقی اشتمالیت“ کو ضبط کر لیا۔ ہم نے مصنف کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے انار کلی پولیس اسٹیشن لاہور میں رپٹ درج کرائی، جس پر پولیس نے مشتاق راج کے خلاف ”توہین مذہب“ کے جرم میں زیر دفعہ 295 الف تعزیرات پاکستان مقدمہ درج کر لیا کیونکہ تعزیرات پاکستان میں ”توہین رسالت“ جیسے سنگین اور انتہائی دل آزار جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ ابتدائی رپورٹ کے باوجود مشتاق راج کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی تحریک پر تمام مکاتیب فکر شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے مقتدر علماء اور ممتاز قانون دانوں کی کانفرنس اسی سال 1983ء میں منعقد ہوئی، جس میں ورلڈ اسلامک مشن کے نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ احسان الہی ظہیر فقہ جعفریہ کے معروف مجتہد جناب علی غضنفر کراروی، جمعیت علمائے اسلام کے نامور عالم دین مولانا محمد اجمل خان، علوم اسلامی کے ممتاز سکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی اور دیگر لائق احترام دینی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تلاوت کلام مجید کے بعد جناب مظفر وارثی نے جن کا شمار صف اول کے نعت گو شعراء میں ہوتا ہے، بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیا اور اس سے قبل انہوں نے ایک قطعہ پڑھا جو فی الحقیقت شرکائے کانفرنس کے دل کی آواز تھی، جسے سن کر سب بے قرار ہو گئے۔ قطعہ حسب ذیل ہے:

نہیں بنا کوئی قانون اب تک ایسا مگر
تو آج بھیک میں دے دو ہمیں خدا کے لیے
کوئی خدا کو نہیں مانتا نہ مانے مگر
سزائے موت ہو گستاخ مصطفیٰ ﷺ کے لیے

اس کانفرنس میں علمائے دین، قانون دان حضرات اور شرکائے کانفرنس نے حکومت سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اسلام میں توہین رسالت کی سزا سزائے موت ہے۔ اس لیے گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دی جائے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب

صفحہ 420

انوار الحق اور لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب ذکی الدین پال نے بھی اس مطالبہ کی تائید اور حمایت کی۔ پاکستان کے قومی اخبارات جن میں روزنامہ ”جنگ“ ”نوائے وقت“ ”مشرق“ اور ”امروز“ قابل ذکر ہیں، نے نہ صرف اس مطالبہ کے حق میں مقالات شائع کیے، بلکہ اداریے بھی لکھے۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے ہماری قرارداد اور اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا۔ شیخ غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر کونسل نے حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد جیسے جرائم کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس کے باوجود حکومت وقت نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا جس کی وجہ سے وکلاء اور بالخصوص نوجوانوں میں اضطراب اور ہیجان بڑھنے لگا۔ لاہور کے نوجوانوں کا ایک گروہ انتہائی مشتعل حالت میں میرے پاس پہنچا۔ ان میں سے دو نوجوانوں کے نام جو ذہن میں محفوظ رہ گئے وہ یہ ہیں: طارق طفیل اور محمد خلیل بھٹی۔ ان سب نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس ملعون شخص کی نشاندہی کروں، جس نے ان کے آقا اور مولا کی شان میں ایسی گستاخی کی جسارت کی ہے۔ وہ ایسے شخص کے وجود کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ میں نے انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن ان کے اصرار اور اضطراب کو دیکھ کر غالب کی ہم نوائی پر مجبور ہو گیا۔

”یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا؟“

مجھ سے کوئی تسلی بخش جواب نہ پا کر سرفروشوں کا یہ گروہ مشتاق راج کی تلاش میں نکل پڑا۔ حکومت کو بھی اس کی اطلاع مل گئی تھی، اس لیے اس خطرہ کے پیش نظر پولیس نے مشتاق راج کو گرفتار کر لیا۔ جب ان نوجوانوں کو یہ معلوم ہوا کہ مشتاق راج کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تو وہ پھر میرے پاس واپس آئے اور دھاڑیں مار کر رونے لگے کہ وہ شہادت جیسی نعمت عظمیٰ سے محروم ہو گئے۔ مشتاق راج کی گرفتاری کے بعد ایک عجیب تر واقعہ رونما ہوا۔ مشتاق راج کے چند ساتھیوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اس کی ضمانت کے لیے درخواست پیش کی جس کی وجہ سے وکلاء سخت برہم ہو گئے۔ رشید مرتضیٰ قریشی، محمد شاہ نواز خان اور محمد عبدالعزیز قریشی ایڈووکیٹ اتنے بے قابو ہو گئے کہ ایک مرحلہ پر وہ مرنے مارنے کے لیے تیار ہو گئے۔ وکلاء کی ایک کثیر تعداد درخواست ضمانت کی مخالفت کے لیے مسٹر جسٹس میاں اسلم کی عدالت میں پیش ہوئی۔ ہم نے قانونی دلائل پیش کرتے ہوئے درخواست ضمانت کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ ابھی یہ بحث جاری

صفحہ 421

تھی کہ اتنے میں شیر پیشہ قانون رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ روسٹرم کی طرف بڑھے۔ ان کی گھن گرج سے سارا کمرہ عدالت گونج اٹھا اور دفعتاً ایسا جوش اور جذبہ بے اختیار کا طوفان امڈ آیا جس نے ایک بار پھر مولانا محمد علی جوہر کی خالق دینا ہال کراچی والے مقدمہ بغاوت کی یاد از سر نو تازہ کر دی۔ شاید حالات کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا، لیکن اس وقت کے ایڈووکیٹ جنرل اور موجودہ جج لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز خان نے ہائی کورٹ کو بتلایا کہ حکومت پنجاب نے مشتاق راج کا مقدمہ عام فوجداری عدالت سے واپس لے کر ملٹری کورٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مشتاق راج کے وکلاء نے بھی عافیت اسی میں سمجھی کہ اس کی درخواست ضمانت واپس لے لی جائے اس لیے موصوف جیل سے باہر نہ آسکے۔ جیل کے اندر جب قیدیوں کو یہ معلوم ہوا کہ ان میں ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جس نے سرکار رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے تو وہ بھی اسے مارنے کے لیے دوڑے۔ اس لیے وہاں پر بھی اسے قیدیوں سے علیحدہ کوٹھڑی میں رکھا گیا۔

مسلمانوں کے ان مشتعل جذبات اور احساسات کے باوجود حکومت وقت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اگرچہ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے علماء کنونشن منعقدہ 21 اگست 1981ء میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ حضور ختمی مرتبت ﷺ اور ان کے صحابہ کرام یا دیگر مذہبی اکابرین کے متعلق ہتک آمیز گستاخانہ تحریر و تقریر کی حوصلہ شکنی کے لیے جلد ہی ضروری قانون بنایا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزا مقرر کی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔ بالآخر راقم الحروف نے وفاقی شرعی عدالت میں صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنروں کے خلاف پٹیشن دائر کی، جس میں کہا گیا کہ تعزیرات پاکستان میں پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی، اہانت، توہین، تنقیص جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا مقرر نہیں، اس لیے توہین رسالت اور توہین مذہب کے جرائم کی سزا قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت مقرر کی جائے۔ یہ درخواست ایک سو پندرہ سربرآوردہ مسلمان شہریوں کی جانب سے دائر ہوئی جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان، سابق وزرائے قانون، سابق اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور ممتاز قانون دان شامل ہیں۔ جن میں سے

صفحہ 422

چند کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔ مولانا عبید اللہ انور مرحوم صدر جمعیت علمائے اسلام‘ مولانا عبد الستار خان نیازی نائب صدر ورلڈ اسلامک مشن‘ مولانا سید عبد القادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور و صدر مجلس علمائے پاکستان‘ مولانا مفتی محمد حسین نعیمی ناظم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر صدر جمعیت اہل حدیث‘ جناب سید علی غضنفر کراروی‘ نائب صدر مجلس تحفظ حقوق شیعہ‘ مولانا محمد اجمل مرکزی نائب صدر جمعیت علمائے اسلام‘ مولانا گلزار احمد مظاہری صدر جمعیت اتحاد علمائے پاکستان‘ سید افضل حیدر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن‘ چودھری محمد فاروق وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل‘ جناب ایس۔ ایم ظفر سابق وزیر قانون‘ جناب بدیع الزمان کیکاؤس سابق جج سپریم کورٹ پاکستان‘ جناب بشیر الدین خان سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ‘ جناب محمد صدیق سابق جج لاہور ہائی کورٹ‘ شیخ غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل پاکستان‘ جناب جسٹس محمد عارف سابق ایڈووکیٹ جنرل‘ میاں شیر عالم سابق نائب صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن‘ جناب افتخار علی شیخ جنرل سیکرٹری پنجاب مسلم لیگ‘ جناب ملک عبد الکریم چیئرمین لا ریفارم کمیٹی پاکستان بار کونسل‘ جناب بدر الدین قادری پروفیسر یونیورسٹی لا کالج‘ ڈاکٹر ظفر علی راجا سیکرٹری جنرل ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس‘ ملک وقار سلیم صدر ینگ لائرز فورم‘ جناب شیخ مقبول احمد سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان اور دیگر معززین جن کے نام طوالت کے خوف سے درج نہیں ہو سکے۔

یہ پٹیشن وفاقی شرعی عدالت کی فل بنچ کے سامنے جو چیف جسٹس شیخ آفتاب حسین‘ جسٹس فخر عالم‘ جسٹس چودھری محمد صدیق‘ جسٹس ملک غلام علی اور جسٹس عبد القدوس قاسمی پر مشتمل تھا‘ 18 جولائی 1983ء کو پیش ہوئی۔ فاضل عدالت نے ابتدائی بحث کی سماعت کے بعد اٹارنی جنرل پاکستان اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کے نام نوٹس جاری کر دیئے اور پٹیشن برائے سماعت منظور کر لی۔ اس کے بعد پھر پٹیشن کی باقاعدہ سماعت اسی فیڈرل شریعت کورٹ کی فل بینچ نے کی‘ جو چیف جسٹس جناب گل محمد خان‘ جسٹس جناب فخر عالم‘ جسٹس مولانا عبد القدوس قاسمی‘ جسٹس مفتی شجاعت علی قادری اور جسٹس جناب فخر الدین ایچ شیخ پر مشتمل تھا۔ اس کی سماعت 13 نومبر کو شروع ہوئی اور 21 نومبر 1985ء تک مسلسل روزانہ جاری رہی پٹیشن پر بحث کا آغاز راقم الحروف کے دلائل

صفحہ 423

سے شروع ہوا۔ اس پٹیشن کی تائید میں تمام اسلامی مکاتب فکر کے علماء نے جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں‘ پیش ہوئے۔

پاکستان کے ممتاز ریسرچ اسکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی مرحوم‘ معروف شیعہ عالم علامہ غضنفر علی کراروی‘ اہل حدیث مکتب فکر کے اسکالر مولانا حافظ صلاح الدین یوسف‘ اسلامی اکیڈمی برطانیہ کے سربراہ ڈاکٹر خالد محمود‘ رئیس مجلس علماء پاکستان مولانا سید عبدالقادر آزاد‘ ادارہ منہاج القرآن کے سربراہ پروفیسر طاہر القادری‘ جامعہ المنتظر کے پرنسپل جناب مولانا محمد حسین اکبر اور پروفیسر عطا محمد نقوی‘ ان کے علاوہ ہندوستان سے ایک ممتاز شیعہ عالم اور مجتہد بھی تشریف لائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے قائد امیر العظیم اور اسلامی تحریک محنت کے سربراہ جناب عبدالمجید قریشی بھی اس سلسلے میں اپنی گزارشات ہندوستان کے عالم دین کی گزارشات کے بعد پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ان تینوں حضرات کو بوجوہ اپنے خیالات کے اظہار کا موقع نہ مل سکا۔ دوران سماعت ورلڈ اسلامک مشن کے سربراہ مولانا عبدالستار خان نیازی‘ اتحاد علماء کے صدر مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم‘ مولانا منظور احمد چنیوٹی‘ قائد تحریک ختم نبوت‘ پاکستان کے معروف محقق جناب سید ریاض الحسن نوری‘ ایران کے سکالر ڈاکٹر سہراب مالی‘ جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا صاحبزادہ عبدالرحمٰن اور شیخ الحدیث مولانا عبدالملک کاندھلوی مرحوم بھی موجود رہے۔ ان حضرات کے علاوہ پاکستان کے معروف قانون دان اور یونیورسٹی‘ کالجوں‘ دینی درسگاہوں کے اساتذہ کی کثیر تعداد عدالت میں آتی رہی۔ خاص طور پر جناب احسن علیگ مرحوم اور جناب فضل محمود روزانہ عدالت کی کارروائی کی سماعت کے لیے باقاعدگی سے آتے رہے۔

کمرہ عدالت کے باہر بھی بوڑھے بچے اور نوجوانوں کا ہجوم وقت عدالت کے ختم ہونے تک موجود ہوتا۔ اس پٹیشن کی سماعت کے دوران شیخ غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل پاکستان‘ ریٹائرڈ جسٹس زیڈ۔بی کیکاؤس جج سپریم کورٹ‘ ڈاکٹر ظفر علی راجا ایڈووکیٹ و سیکرٹری جنرل ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس‘ ملک وقار عظیم ایڈووکیٹ چیئرمین ینگ لائرز فورم نے راقم الحروف‘ درخواست گزار کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا اور ڈاکٹر ظفر علی راجا نے شب و روز اس کیس کی تیاری میں راقم الحروف کی معاونت کی۔ فیڈرل گورنمنٹ کی جانب سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن ڈپٹی اٹارنی جنرل‘ حکومت پنجاب کی جانب سے جناب خلیل رمدے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ حکومت سرحد کی جانب سے میاں اجمل

صفحہ 424

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنی اپنی حکومتوں کا موقف پیش کیا۔ تمام علمائے کرام جنہوں نے بحث میں حصہ لیا۔ اپنے اپنے تحریری دلائل بھی عدالت میں داخل کیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں نے بھی بیک زبان اس کی تائید کی کہ شاتم رسول کی سزا قرآن اور سنت کی روشنی میں سزائے موت مقرر ہے لیکن دوران بحث ڈپٹی اٹارنی جنرل سید ریاض الحسن گیلانی نے یہ موقف اختیار کیا کہ گستاخ رسول کو پولیس یا عدالت سے رجوع کیے بغیر موقع پر قتل کر دیا جائے۔ پھر یہ عجیب نکتہ اٹھایا کہ تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کی سرے سے کوئی سزا ہی موجود نہیں جسے قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے۔ اس لیے وفاقی شرعی عدالت کو اس پٹیشن کی سماعت کا اختیار ہی نہیں۔ راقم الحروف اور صوبائی حکومتوں کے تمام نمائندوں نے وفاقی حکومت کے دوسرے موقف کی تردید میں اپنے دلائل پیش کیے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو توہین مذہب کے بارے میں جو سزا مقرر ہے اس کے قانونی سقم کو، جو قرآن و سنت سے متصادم ہے، دور کر کے توہین رسالت کی سزا کو بطور حد جاری کرنے کے لیے حکومت کو یہ حکم دینے کا پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے فریقین اور معاونین علماء کے مبسوط دلائل کے سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔

اس کے بعد ماہ جولائی 1986ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ناخواندہ (illiterate) اور تعلیم سے نابلد جیسے نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جو سامعین اور تمام امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے۔ جس پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین میں سے عباد الرحمن لودھی اور ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے لیکن اس کے انکار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو راقم الحروف کی تجویز پر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا ایک غیر معمولی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزائے حد کو پاکستان میں نافذ کرے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دے ورنہ اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ راقم

صفحہ 425

المعروف کی درخواست پر لاہور میں وکلاء اور علماء کا ایک مشترکہ اجلاس ماہ جون 1986ء میں منعقد ہوا، جس میں تمام مکاتب فکر کے سربرآوردہ علماء اور ممتاز قانون دان حضرات نے شرکت کی اور متفقہ طور پر حسب ذیل قرارداد منظور کی گئی۔

”ہم دین اور قانون سے وابستہ لوگ برملا اس کا اعلان کرتے ہیں کہ سرزمین پاکستان کا کوئی مسلمان اس ملک میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں کسی قسم کی اہانت آمیز بات کو کسی نوع برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی سیکولر ذہن رکھنے والے عناصر کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار ہے کہ وہ یہاں اپنی مذموم اور شرانگیز سرگرمیوں کو جاری رکھے اور فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کرے۔ ہم واشگاف الفاظ میں ان عناصر کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے سے باز آ جائیں ورنہ اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔“

اس قرار داد پر مولانا عبدالستار خان نیازی، علامہ احسان الہی ظہیر شہید، علامہ غضنفر کراروی صدر اتحاد بین المسلمین، ڈاکٹر خالد محمود صدر جمعیت علمائے برطانیہ، میاں محمد اجمل قادری امیر انجمن خدام الدین، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی ناظم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ لاہور، مولانا عبدالمالک شیخ الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ منصورہ، مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم صدر جمعیت اتحاد علماء پاکستان اور دیگر علمائے کرام نے دستخط کیے۔ ان کے علاوہ ممتاز وکلاء نے بھی اس قرارداد پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ جس کے بعد یہ قرار داد حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور اراکین قومی اسمبلی کو بھیجی گئی۔

عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس سب سے پہلے قومی اسمبلی میں اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون ایم۔ این۔ اے محترمہ نثار فاطمہ نے لیا اور انہوں نے وہاں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی کہ عاصمہ جہانگیر کے ان توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکومت فوری کارروائی کرے لیکن چونکہ اس وقت قانون میں توہین رسالت کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی، اس لیے اس کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہ ہو سکی۔

اس بندہ عاجز کے مشورے سے قومی اسمبلی میں اسی مجاہدہ خاتون نثار فاطمہ نے ایک بل پیش کیا، جس میں توہین رسالت کی اسلامی سزا سزائے موت تجویز کی گئی لیکن اس وقت کے وزیر انصاف جناب اقبال احمد خان نے جن سے ہمارے پیشہ وکالت کے تعلق سے دیرینہ مراسم تھے، اس تجویز سے اختلاف کیا۔ ان کے خیال میں اس جرم کی کوئی سزا

صفحہ 426

قرآن میں مقرر نہیں۔ اس لیے انہوں نے اس بل کی حمایت سے معذرت کا اظہار کیا۔

حیرت اس بات پر ہوئی کہ وزیر موصوف علامہ اقبال جیسے عاشق رسول ﷺ کے نام سے منسوب مجلس اقبال کے رکن رکین بھی تھے۔ یہ معلوم کر کے اور بھی حیرت ہوئی کہ ان موصوف کے علاوہ مولانا وصی مظہر ندوی، جناب لیاقت بلوچ، شاہ بلیغ الدین اور کچھ اسلامی ذہن رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی اس تجویز سے پوری طرح متفق نہیں۔ وہ حضرات بوجوہ صرف عمر قید کی سزا کو کافی سمجھتے تھے، جس پر محترمہ نثار فاطمہ اور اس فقیر نے فردا فردا ہم خیال اراکین اسمبلی سے مل کر ان کے سامنے قرآن و حدیث، ائمہ کرام اور اجماع امت کے فیصلے پیش کئے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس بل کی حمایت کر کے اسے قومی اسمبلی سے منظور کرائیں۔ پھر ہمت مردانہ سے کام لیتے ہوئے محترمہ نثار فاطمہ نے جب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تو اراکین کی اکثریت کو اس کی حمایت میں دیکھ کر کسی کو اس بل کی مخالفت کی جرات نہ ہو سکی اور بالآخر 2 اکتوبر 1986ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس بل کو منظور کر لیا۔ اس طرح رسول پاک ﷺ کے لیے اسلامیان پاکستان کا جذبہ محبت و عقیدت اور احترام غالب آکر رہا۔ حق سبحان تعالیٰ کا فضل بے پایاں اور نبی کریم ﷺ کا کرم خاص تھا کہ محترمہ بہن نثار فاطمہ اور اس فقیر کی حقیر کوششوں سے پاکستان میں پہلی مرتبہ توہین رسالت کے جرم کی سزا، سزائے موت مقرر ہوئی اور تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 (ج) کا اضافہ کیا گیا لیکن اس دفعہ میں پھر بھی ایک سقم باقی رہ گیا۔ دفعہ مذکور میں توہین رسالت کی سزا سزائے موت یا اس کی متبادل (Alternative) سزا، سزائے عمر قید رکھی گئی۔ حالانکہ اہانت رسول اکرم ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہے اور کسی کو حد کی سزا میں کمی بیشی یا اس کی متبادل سزا مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں اس لیے ایک مرتبہ پھر من و گرز و میدان و افراسیاب والا معرکہ درپیش تھا۔ اس لیے میں نے پھر فیڈرل شریعت کورٹ میں صدر پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور دفعہ 295 (ج) کی اس شق کو چیلنج کیا جس کی رو سے عدالت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا بھی دینے کی مجاز ہے۔ اس پٹیشن میں وفاقی شرعی عدالت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ سزائے عمر قید کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے صدر پاکستان کو یہ ہدایت جاری کی جائے کہ وہ توہین رسالت کی سزا بطور حد صرف سزائے موت مقرر کریں کیونکہ سزائے

صفحہ 427

ں حمایت سے معذرت کا اظہار کیا۔ مہ اقبال جیسے عاشق رسول ﷺ کے ۔ یہ معلوم کر کے اور بھی حیرت ہوئی ناب لیاقت بلوچ، شاہ بلیغ الدین اور ی تجویز سے پوری طرح متفق نہیں۔ تھے، جس پر محترمہ نثار فاطمہ اور اس ان کے سامنے قرآن و حدیث، ائمہ اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس بل کی پھر ہمت مردانہ سے کام لیتے ہوئے کیا تو اراکین کی اکثریت کو اس کی نہ ہو سکی اور بالآخر 2 اکتوبر 1986ء ۔ اس طرح رسول پاک ﷺ کے ام غالب آکر رہا۔ حق سبحان تعالیٰ کا محترمہ بہن نثار فاطمہ اور اس فقیر کی ت کے جرم کی سزا، سزائے موت نافذ کیا گیا لیکن اس دفعہ میں پھر بھی سزا سزائے موت یا اس کی متبادل ۔ اہانت رسول اکرم ﷺ کی سزا س کی پیشی یا اس کی متبادل سزا مقرر ن و گرز و میدان و افراسیاب والا یعت کورٹ میں صدر پاکستان اور 295(ج) کی اس شق کو چیلنج کیا جس سالت کے مجرم کو سزائے موت کی ں وفاقی شرعی عدالت سے یہ مطالبہ صدر پاکستان کو یہ ہدایت جاری کی ئے موت مقرر کریں کیونکہ سزائے حد میں صدر، گورنر، پارلیمنٹ بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی کسی قسم کی ترمیم، تبدیلی، تخفیف کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ کے فل بنچ کے سامنے یکم اپریل 1987ء کو پیش ہوئی۔ فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نام نوٹس جاری کر دیئے۔ اس کے بعد اسلام آباد، پھر لاہور میں اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ سماعت کا آغاز راقم الحروف کی بحث سے ہوا۔ اس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء جن میں سید ریاض الحسن نوری، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اور مفتی غلام سرور قادری نے توہین رسالت کی سزا پر سیر حاصل بحث کی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالستار نجم اور صوبائی حکومت پنجاب کی جانب سے عزیزان گرامی نذیر غازی اور جلال الدین محمد پیش ہوئے۔ حکومت سرحد کی نمائندگی میاں محمد اجمل نے کی۔ جو اب پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج ہیں۔

بحث کی سماعت لاہور میں ماہ مارچ 1990ء کے پہلے ہفتہ میں فل بنچ کے سامنے ہوئی جو چیف جسٹس جناب گل محمد خان، جناب جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، جناب جسٹس عبادت یار خان، جناب جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور جناب جسٹس عبدالرزاق ثہیم پر مشتمل تھا۔ وفاقی حکومت کا موقف تھا کہ توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کی بجائے صرف سزائے عمر قید کافی ہے، کیونکہ اس جرم کی سزا کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔ اس لیے یہ سزا بطور حد نہیں دی جاسکتی۔ اس کے علاوہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ پر توہین رسالت کا الزام عائد کر کے سزائے موت کا مطالبہ کرے گا۔ مولانا مفتی غلام سرور قادری کی رائے میں حنفی نقطہ نظر سے توہین رسالت کے جرم کی سزا سزائے موت بوجہ ارتداد دی جائے گی لیکن ارتداد ناقابل معافی جرم ہے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے مذہبی اسکالر مولانا صلاح الدین یوسف نے بھی مفتی صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ توبہ سے سزا موقوف ہو جائے گی لیکن باغی اور سرکردہ مجرموں کی توبہ قابل قبول نہ ہوگی۔

راقم الحروف نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ان علماء حضرات کے دلائل کی سختی سے تردید کی۔ قرآن مجید کی متعلقہ آیات اور صحاح ستہ کی احادیث کے حوالہ سے بتلایا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت دی جائے گی۔ خود سرکار رسالت مآب ﷺ کے حکم سے سزائے موت ان لوگوں کو بھی دی گئی جو یہودی اور غیر مسلم تھے اور جنہوں نے حضور کی اہانت کر کے آپ ﷺ کو ایذا دی تھی۔ اس لیے اس میں مسلمان اور غیر

صفحہ 428

مسلم کی کوئی تمیز نہیں۔ اگر مسلمان اس جرم کا ارتکاب کرے تو وہ مرتد ہونے کی وجہ سے بھی سزائے موت کا مستحق ہے۔ اس کے علاوہ امام احمد بن حنبلؒ ، امام شافعیؒ اور دیگر ائمہ حدیث و فقہ امام ابن حزمؒ ، امام ابن تیمیہؒ کے فتاویٰ کے مطابق توہین رسالت کے جرم کی سزا بطور حد سزائے موت ہے اور یہ ناقابل معافی جرم ہے، جس کے مرتکب کی توبہ بھی قابل قبول نہیں۔ خود فقہ حنفی کی مستند کتب البحر الرائق، شرح کنزالدقائق، للمؤلف ابن نجیم الحنفی، ردالمختار علی الدر المختار، شرح تنویر الابصار اور فتح القدیر سے بھی یہ ثابت کیا کہ شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔ اس بارے میں تفصیلی ذکر سزائے توہین رسالت کے باب میں آئے گا۔ ہمارے اس موقف کی تائید صوبہ پنجاب کے نمائندے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے کی۔ اس کے بعد فیڈرل شریعت کورٹ نے اس مقدمہ کا تاریخی فیصلہ 30 اکتوبر 1990ء کو سنا دیا۔

اس فیصلہ کے بعد، پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو نفاذ اسلام اور قرآن و سنت کے قانون کی بالا دستی کا منشور دے کر بر سر اقتدار آئی تھی، سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور راقم الحروف کے نام وفاقی حکومت کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کا نوٹس بھی موصول ہو گیا۔ جس پر راقم نے اس وقت کے وزیر اعظم کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوری طور پر سپریم کورٹ سے واپس لے، ورنہ مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف بھی مشتعل ہو جائیں گے اور اس حکومت کا بھی وہی انجام ہو گا جو اس کی پیش رو حکومت کا ہو چکا ہے۔ جس نے اسلامی قوانین کو اپنی کابینہ میں ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے کر قانون قصاص و دیت کو روکنے کی کوشش کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے راقم کی درخواست پر کابینہ کی اس کارروائی کا سختی سے نوٹس لے کر قانون قصاص و دیت کے خلاف گورنمنٹ کی اپیل کو مسترد کر دیا اور پھر یہ حکومت غضب الٰہی کا شکار ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اس انتباہ پر بر سر عام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہیں تھا ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہ ہوتی اور اس جرم کی سزائے موت بھی کم تر سزا ہے۔ اس لیے یہ اپیل سپریم کورٹ سے فوری طور پر واپس لے لی گئی۔ جس کے بعد بفضل تعالیٰ اب پاکستان میں توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت حتمی اور قطعی طور پر جاری ہو چکی ہے اور اسی قانون کے تحت سرگودھا کے

صفحہ 429

ایڈیشنل سیشن جج نے گستاخ رسالت مآب ﷺ کو اسی ماہ نومبر میں سزائے موت سنا دی تھی۔ جس میں ملزم کو صفائی کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ اس قانون کی بدولت اب کوئی شخص شاتم رسول ﷺ کو خود کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے عدالت سے رجوع کرے گا‘ جہاں فریقین سے شہادت لی جائے گی۔ ملزم کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر جرم ثابت ہو تو پھر مجرم کو سزا دی جائے گی۔

سلمان رشدی:

پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی بدولت جب توہین رسالت کے جرم کی سزائے موت کا قانون قومی اسمبلی نے منظور کر لیا تو اس پر یورپ‘ امریکہ‘ بھارت اور خود پاکستان کا سیکولر ذہن تلملا اٹھا۔ یہودی لیڈروں کے یہ عزائم جیوش کرانیکل کے ذریعہ کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ جس میں انہوں نے بانگ دہل اعلان کیا تھا: ”ہم پاکستان میں اسلامی نظام کبھی قائم نہیں ہونے دیں گے۔“ اس کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بھی وہ خوف زدہ ہو گئے تھے اور انہیں ڈر تھا کہ اسلام پھر ایک زندہ قوت بن کر دنیا پر نہ چھا جائے۔ ان کے خیال میں جب تک مسلمانوں کے دل و دماغ سے ذات مصطفوی ﷺ کا رشتہ محبت و عقیدت اور جذبہ احترام و تکریم ختم نہ کیا جائے وہ اس اٹھتے ہوئے طوفان کو روک نہیں سکتے۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت گھٹیا اور انتہائی گھناؤنی اسکیم تیار کی۔ انہوں نے ایک آبرو باختہ‘ ضمیر فروش اور رسوائے زمانہ شیطان صفت ملعون ملحد رشدی کی خدمات حاصل کیں اور اس خبیث سے ”شیطانی آیات“ نامی ایک کتاب لکھوائی‘ جو عفونت میں سنڈاس سے بدتر تھی۔ یہ کتاب وائکنگ پبلی کیشنز کے یہودی ادارے نے اکتوبر 1988 میں شائع کی۔ اس کتاب کو ناول کی شکل دے کر اس میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ التحیۃ والسلام‘ ختم الرسل امام الانبیاء حضور رسالت مآب ﷺ‘ اہل بیت‘ ازواج مطہرات اور اصحاب رسول کی شان میں جو زبان استعمال کی گئی ہے‘ وہ شیطان کا ایجنٹ ہی استعمال کر سکتا ہے۔ ان ذوات قدسی پر جس فحش انداز میں حملے کئے گئے ہیں‘ آج تک دنیا کے کسی ذلیل اور رذیل ترین شخص کو ایسی جسارت نہیں ہوئی۔ پہلے تو شیطانی خرافات سمجھ کر مسلمانوں نے اس کا نوٹس نہیں لیا کیونکہ اس مجہول النسب نے اس سے پہلے اپنی کتاب ”مڈ نائٹ چلڈرن“

صفحہ 430

(Mid Night Children) میں اپنے ”حسب نسب“ اپنی ”مادر زاد“ اولاد اور حاشیہ نشینوں کو نشانہ تضحیک بنایا اور ایک دوسری کتاب شیم (Shame) میں جس پرلے درجہ کی بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ کیا تھا‘ اس پر اردو کے مقبول شاعر اور انگریزی ادب کے معروف نقاد فیض احمد فیض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب کی اس سے بڑھ کر بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ رشدی جیسے شخص کو برطانیہ کے ناول نگاروں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں بھی یہی سمجھا گیا کہ اس میں بھی کچھ اسی قسم کی خرافات ہوں گی لیکن کسے خبر تھی کہ گندگی اور غلاظت اس بری طرح اس کے منہ کے راستے خارج ہوگی کہ اس کا تعفن دنیا میں ہر پاکیزہ اور طہارت پسند انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ گندگی اور غلاظت کے کیڑے ایسی گندگی کے ڈھیر میں پلتے بڑھتے ہیں اور اسی سے اپنی خوراک حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اگر اتفاقاً انہیں اس ڈھیر سے علیحدہ کر لیا جائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ”شیطانی آیات“ میں اس نے اہل یورپ کو بے حد ننگی اور انتہائی فحش گالیاں دی ہیں‘ جس کو وہ شیر مادر سمجھ کر بڑی آسانی سے ہضم کر گئے ہیں۔

ان کے آبرو باختہ معاشرے میں اخلاق‘ تہذیب‘ شرافت‘ شائستگی‘ نفاست اور پاکیزگی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ شاید اس لیے غلیظ اور گندی گالیاں کھا کر وہاں کی اکثریت کو نفسیاتی طور پر لذت اور ایک گونہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس کتاب کے 547 صفحات ایسی فحش گالیوں سے بھرے پڑے ہیں جو زبان قلم پر نہیں لائے جا سکتے۔ سفید فام عورت کے بارے میں یہ فحش نگار لکھتا ہے ”سفید فام عورت کو ”جنسی اختلاط“ کے بعد اٹھا کر پھینک دینا چاہئے۔“ ”جنسی اختلاط“ کے الفاظ ہم نے انگریزی زبان میں استعمال ہونے والے ایک عامیانہ لفظ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھے ہیں‘ جسے اس شیطان نے بطور گالی استعمال کیا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک انگریز عورت ”پامیلا“ (Pameela) کو بطور داشتہ استعمال کرنے کے بعد شادی کا ڈھونگ رچا کر چھوڑ دیا۔ پھر اس نے ایک امریکی عورت میرین وگنز (Marrine Wiggins) سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے لیکن قانونی مجبوریوں کی وجہ سے اسے منکوحہ بنا کر اس سے بھی گلوخلاصی حاصل کر لی۔ برطانیہ اور امریکہ کو اپنے اس ناول نگار داماد پر فخر ہے‘ جس نے ان کے عصمت فروش معاشرے کو بر سر عام ننگا کر کے دنیا کو دکھلایا ہے‘ اس پر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اپنے گھٹیا بازاری ناول میں اس نے برطانیہ کی وزیر اعظم مسز تھیچر کو ”شہوت بر انگیز کتیا“ کہہ کر پکارا ہے اور اس کی ہوس

صفحہ 431

نامی سگ مجنوں کی طرح رال ٹپکاتے شاہی محل کے اندر کوئین الزبتھ کا پیچھا کرتی ہے۔ "حرام زادہ" (Bastard) "رنڈی" ماں اور بہن کی گالیوں کا جس آزادانہ طور پر استعمال اس کتاب میں کیا گیا ہے اس کا حوصلہ تو شاید شیطان بھی نہ کر سکے۔ بہرحال انگریزوں اور امریکیوں کا یہ حوصلہ قابل داد ہے کہ ایسی ننگی‘ شرمناک اور فحش گالیاں اپنے اور اپنے لیڈروں کے بارے میں سن کر وہ مشتعل یا منفعل نہیں ہوئے‘ بلکہ اس فحش نگاری کو ادب عالیہ یا لٹریچر سمجھ کر اس کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جب یہ کتاب شائع ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ کے بازاروں میں فروخت ہونے کے لیے پہنچی اور مسلمانوں کو اپنے محبوب آقا اور مولا‘ ان کی ازواج مطہرات‘ اہل بیت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کی شان میں اہانت اور گستاخیوں کا علم ہوا تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ یہ تو ان کے اپنے پیارے رسول ﷺ‘ آل رسول ﷺ‘ ازواج و اصحاب رسول ﷺ کی عزت و ناموس کا معاملہ تھا۔ وہ تو یہودیوں اور عیسائیوں کے پیغمبروں کی توہین بھی برداشت نہیں کر سکتے جن کی وہ اپنے پیارے نبی ﷺ کی طرح ہی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔ اس کتاب میں ان کی ذات پر بھی جابجا سوقیانہ اور رکیک حملے کئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا ذکر بے محل نہ ہوگا‘ جو سال 1988 میں میرے قیام لندن کے دوران پیش آیا‘ جو یہودی ذہنیت کا مظہر ہے۔

ان دنوں لندن کے سنیما گھروں میں ایک یہودی فلم ساز مارٹن اسکور سس کی ایک انتہائی شرمناک فلم ”The Last Temptation Of Christ“ نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تھی‘ جس میں جناب مسیح کو ایک طوائف کے ساتھ سرگرم اختلاط دکھلایا گیا تھا۔ مسلم جیورسٹس لندن آفس کے چیرمین جناب ریاض احمد نے برٹش فلمز انسٹی ٹیوٹ کو نوٹس دیا کہ اس فلم کی نمائش برطانیہ کے قانون بلاس فیمی کی خلاف ورزی ہے۔ اگر اس فلم کی نمائش کو نہ روکا گیا تو پھر اس کے فلم ساز اور مالکان سنیما کے خلاف لندن کے مسلمان شہریوں کی جانب سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس پر وہاں کے عیسائی شہریوں کو بھی غیرت آئی اور کیتھولک چرچ کے رہنماؤں نے ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا نوٹس دیا۔ اس کے بعد لندن میں اسلامی ملکوں کے مقیم مسلمان نوجوانوں نے برطانیہ کی جماعت اسلامی کے تعاون سے پلازہ سنیما کے سامنے‘ جہاں اس شرم ناک فلم کی نمائش ہو رہی تھی‘ جمعہ 12 ستمبر 1988ء کو پکٹنگ شروع کی‘ جس میں عیسائی فرقوں کے رہنماؤں

صفحہ 432

کے علاوہ خود یہودیوں کا ایک مذہبی گروہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گیا۔ جس کے نتیجہ میں لندن کے زیر زمین اسٹیشنوں میں جہاں جہاں جناب مسیحؑ کے ساتھ اس طوائف کے نیم برہنہ قد آدم پوسٹر لگائے گئے تھے، ہٹا لیے گئے اور فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔ اس واقعہ کے ذکر سے یہ اظہار مقصود تھا کہ مسلمان تو دوسرے مذاہب اور ادیان کے پیغمبروں کے بارے میں گستاخی اور شرارت برداشت نہیں کر سکتے، تو پھر وہ کیونکر اور کیسے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کی شان میں کسی بے ادبی اور شرانگیزی کو برداشت کر لیتے۔

برطانیہ میں رشدی کے خلاف احتجاج:

شیطان رشدی کی کتاب جیسے ہی لندن کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پہنچی تو وہاں کے مسلمانوں نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے۔

29 نومبر 1988ء کو لندن میں اسلامی ملکوں کے سفیروں کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، کویت اور صومالیہ کے سفیروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ جس کے ذمہ یہ کام سونپا گیا کہ وہ حکومت برطانیہ سے سفارتی سطح پر مذاکرات کر کے اس کتاب کی فروخت پر پابندی عائد کرائے۔

28 جنوری 1989ء کو لندن میں برطانیہ کے گوشہ گوشہ سے آئے ہوئے کئی لاکھ مسلمانوں نے اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ایک بہت بڑا مشتعل، مگر منظم جلوس نکالا جو برطانیہ کی تاریخ میں سب سے بڑا مظاہرہ تھا، جس میں نہ صرف اس شیطانی کتاب کو ضبط کرنے کا مطالبہ کیا گیا بلکہ اس کے مصنف کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا اور مسلم ایکشن فرنٹ (The Muslim Action Front) کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ تاکہ ان مطالبات کی تکمیل کے لیے عملی اقدام کئے جائیں۔ ان مظاہروں اور اس کتاب کے مندرجات کا نوٹس لیتے ہوئے پوپ نے بھی ویٹی کن سٹی میں اس کتاب کی اشاعت، خرید اور فروخت کو ممنوع قرار دیا۔

اس کتاب کے اقتباسات جب منظر عام پر آئے تو مسلمان سراپا اضطراب بن گئے۔ پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کے دل و دماغ، زبان و قلم اور رگ و پے سے اس شیطانی کتاب اور اس کے شیطان مصنف کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کا لاوا ابلنے لگا۔

صفحہ 433

جس کے ہولناک نتائج کا اندازہ کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے اس کتاب کی فوری ضبطی کا حکم دیا جس پر بلا تاخیر عمل در آمد ہوا۔ پاک و ہند کے علاوہ ملائیشیا، جنوبی افریقہ، مصر، سوڈان، عمان اور سعودی عرب کی حکومتوں نے بھی اس کتاب کو قابلِ ضبطی قرار دیا لیکن یہ کارروائی بھی مسلمانوں کے لیے وجہ تسلی نہ ہو سکی اور اس کے خلاف شدید ردعمل کے طور پر ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے طول و عرض میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ برطانیہ اور امریکہ میں اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کتاب کے خبیث مصنف کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ امریکہ میں بھی اس بے ہودہ اور خرافات شیطانی کتاب کے مصنف اور اس کے ناشروں کے خلاف نہ صرف وہاں کے مقیم مسلمانوں نے کھل کر احتجاج کیا بلکہ بعض مقامات پر، جن دکانوں میں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی، انہیں بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکہ میں یہودی لابی کے غیر معمولی کنٹرول کے باوجود غیر متعصب تعلیم یافتہ طبقہ نے بھی وہاں کے کثیر الاشاعت اخبارات، جرائد اور رسائل میں اس کی مذمت کی۔ چنانچہ 19 جنوری 1989ء کو روزنامہ نیویارک ٹائمز اور اس کے بعد واشنگٹن ٹائمز نے اس کتاب کے خلاف تبصرے شائع کیے اور لکھا کہ یہ کتاب نہ صرف سطحی اور گھٹیا ہے بلکہ شرانگیز بھی ہے۔ اس بات سے اہل یورپ اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا واقف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک انسانی اقدار اعلیٰ کا سرچشمہ ذات ختمی مرتبت ﷺ ہے، جن کے نام و ناموس کا تحفظ ان کی اپنی ذات، جان و مال اور ملک و قوم، سب سے بڑھ کر ہے۔ مسلمان ملک و قوم اس کی حفظ و پاسبانی اس لیے کرتے ہیں کہ ان دونوں کا تعلق براہ راست اس ذات گرامی سے ہے، جو انہیں ہر چیز سے عزیز تر ہے۔

شہدائے اسلام آباد:

یوں تو اس شیطانی کتاب نے دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کو سخت مجروح کیا تھا، لیکن ایران اور اسلامیان پاک و ہند ایک نہایت ہی اذیت ناک کرب و ابتلا سے گزر رہے تھے۔ پاکستان کے بزرگ سیاستدان نواب زادہ نصر اللہ خان خبیث رشدی کی اس کمینہ حرکت پر تڑپ اٹھے۔ 7 فروری 1989ء کو ان کی تحریک استحقاق پر قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ”شیطانی خرافات“ اور اس کے مصنف کے خلاف قرار داد مذمت منظور کی

صفحہ 434

اور یہ تجویز پاس کی کہ پاکستانی حکومت برطانیہ اور امریکہ سے اس کتاب کی ضبطی اور اس کی اشاعت کو رکوانے کے لیے سفارتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ان ہی دنوں میں مجلس تحفظ ناموس رسالت کے سرگرم اراکین اور قائدین نواب زادہ نصر اللہ خان، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، مولانا کوثر نیازی، میجر (ریٹائرڈ) محمد امین منہاس، مولانا قاری عبدالعزیز جلالی، مولانا محمد عبداللہ اور دیگر دردمند کارکنوں کا اجتماع ہوا۔ جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت امریکہ کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے اور اسلامی ملکوں کو اس صورت حال سے واقف کرانے کے لیے اراکین اسمبلی، دانشوروں اور معروف دینی اور سماجی شخصیتوں کی رہنمائی میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مجلس نے ایک پروگرام بنایا کہ اسلام آباد میں ایک پرامن جلوس امریکن سنٹر تک جائے گا، جس کی وساطت سے حکومت امریکہ کو اسلامیان پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت سے پیدا ہونے والے اندوہ ناک اضطراب اور گہری تشویش سے آگاہ کیا جائے گا اور اس سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ وہ اس فحش کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کرے جو ساری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق یہ جلوس حکومت پاکستان سے اجازت حاصل کرنے کے بعد 12 فروری 1989ء کو لال مسجد آب پارہ سے نکل کر بلیو ایریا امریکن سنٹر کے قریب پہنچا تو وہاں پر متعین پولیس نے مرکزی حکومت کی ہدایات پر شرکائے جلوس کو امریکن سنٹر میں داخل ہو کر اپنے مطالبات پہنچانے سے روکنے کے لیے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ بالآخر حکومت اور انتظامیہ کی بے تدبیری اور سہل انگاری کی وجہ سے پولیس نے نہتے معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں سمن زار مصطفیٰ کے سات نونہال خون شہادت سے رنگین قبا ہوئے۔ جن کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

راولپنڈی

ان کے علاوہ س ہوئے۔

یہ قافلہ بلا کشان ساری ملت کو سرخرو کر معصوم نوجوانوں کی شہا حکومت نے ص تحقیقات کے لیے لاہو ایک کمیشن قائم کیا، جس کمیشن نے 156 گواہو علاوہ انتظامیہ اور پولیس جن میں موقع واردات پیش کئے گئے۔ فاضل کے بعد 146 صفحات یہ بات بھی قابل ذکر پٹیشن پر، جو ایسی غی اشاعت کے خلاف رسالت کے جرم می صادر کیا تھا۔

سانحہ اسلام اور انصاف کے تقا کے چند اہم پہلو حس یہ کہ جلوس تھا۔ کمیشن کی نظر

صفحہ 435

ان کے علاوہ بے شمار جاں نثاران مصطفیٰ ﷺ اس فائرنگ سے زخمی اور مضروب ہوئے۔

یہ قافلہ بلاکشان محبت لال مسجد سے روانہ ہوا تھا اور دست و بازو پر گولیاں کھا کر ساری ملت کو سرخرو کیا۔ ان میں سے کسی کی پشت پر ایک خراش تک نہیں پائی گئی۔ ان معصوم نوجوانوں کی شہادت کی خبر سارے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

حکومت نے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے اس الم ناک سانحہ کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جناب جسٹس اعجاز نثار کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا، جس نے 20 فروری 1990ء سے اس بارے میں انکوائری شروع کی۔ کمیشن نے 156 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ جن میں اکابرین اور شرکائے جلوس کے علاوہ انتظامیہ اور پولیس کے گواہ بھی شامل تھے۔ کمیشن کے سامنے کل 289 دستاویزات جن میں موقع واردات کی تصاویر کے علاوہ اخبارات کے تراشے اور ویڈیو فلم بھی تھی، پیش کئے گئے۔ فاضل جج نے تمام حالات اور واقعات کا انتہائی حزم و احتیاط سے جائزہ لینے کے بعد 146 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی، جو اب منظر عام پر آچکی ہے۔ اس موقع پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل فاضل جج موصوف نے راقم الحروف کی رٹ پٹیشن پر، جو ایسی ہی ایک قابل اعتراض کتاب (A Lamp Spreading Light) کی اشاعت کے خلاف تھی۔ اس کے مصنف راجی لوتھر اور پرنٹر پبلشر کے خلاف توہین رسالت کے جرم میں دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

سانحہ اسلام آباد کے بارے میں جو تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے، اس میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کمیشن جس نتیجہ پر پہنچا ہے اس کے چند اہم پہلو حسب ذیل ہیں:-

یہ کہ جلوس مذہبی نوعیت کا تھا اس کے پیش نظر کوئی سیاسی مقصد حاصل کرنا نہ تھا۔ کمیشن کی نظر میں مسلمانوں کا یہ جائز حق تھا کہ وہ ایسی شیطانی کتاب اور اس کے

صفحہ 436

مصنف کے خلاف اپنے گہرے غم و غصہ اور تشویش کا اظہار کرتے۔ درحقیقت وہ جس کاز کو لے کر نکلے تھے، وہ عظیم تر اور لائق ستائش تھا۔ وہ تو اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے حضور جذبہ سپاس و عقیدت پیش کرنے کے لیے گئے تھے کہ ختم المرسلین ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

کمیشن نے پولیس کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ اس نے صرف ہوائی فائرنگ کی تھی اور قرار دیا کہ پولیس کو صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے کوئی کارروائی ناگزیر تھی تو پھر بھی مظاہرین کے سینوں کا نشانہ لے کر فائرنگ کا کوئی جواز نہ تھا۔

کمیشن نے آخر میں کہا ہے کہ اس سانحہ میں جو قربانیاں دی گئی ہیں وہ بلاشبہ بہت عظیم ہیں۔ ان کے خون کی کوئی بھی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔ تاہم کمیشن نے حکومت کو یہ سفارش کی ہے کہ ان شہیدوں کے ورثاء کو کم از کم پچاس ہزار فی کس معاوضہ ادا کیا جائے، لیکن چونکہ یہ معاملہ سیاسی نوعیت کا نہ تھا اس لیے سفارش پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی اور تادم تحریر مضروبین کو اور شہیدوں کے ورثاء کو کوئی خون بہا یا معاوضہ نہیں دیا گیا۔

آفرین ہے ان شہیدوں کے ماں باپ اور ورثاء پر اور مضروبین راہ وفا پر کہ جن کا تعلق غریب اور متوسط گھرانوں سے ہونے کے باوجود حکومت کی اس بے حسی پر جب صاحب دل حضرات نے انہیں مالی امداد کی پیش کش کی تو انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ آخر ان شہیدوں کا لہو رنگ لائے بغیر نہیں رہا۔ ملت کے یہ تابندہ ستارے ہماری نظروں سے اوجھل تو ضرور ہوئے لیکن اپنے پیچھے افق پر روشنی کی ایک ایسی تابندہ لکیر چھوڑ گئے، جس کے سامنے شفق کی سرخی بھی ماند پڑ گئی۔ پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی اس ملعون رشدی کے خلاف بمبئی میں، جو اس مردود کی جنم بھومی ہے، ایک عظیم الشان جلوس نکلا۔ وہاں کی پولیس نے بھی اس کی مزاحمت کی اور نہتے شہریوں کے جلوس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں چھ سرفروشان اسلام رتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے اور کئی جاں نثار مضروب اور زخمی ہو گئے۔ کشمیری مسلمانوں نے سری نگر، اننت ناگ اور بارہ مولا میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان واقعات سے ایک مرتبہ پھر اسلامیان عالم میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ سانحہ اسلام آباد کے دو دن بعد ہی ایران کے روحانی پیشوا امام خمینیؒ کے فتویٰ پر حکومت ایران نے شیطان رشدی کے سر کی قیمت 30 لاکھ ڈالر مقرر کی۔ اس

صفحہ 437

اعلان سے قبل ہی پاکستان کے سات سرفروش نوجوان اس گستاخ رسول کو واصل جہنم کرنے کے لیے لندن پہنچ چکے تھے، جس کا انکشاف لندن میں پاکستان کے سفارت خانے کے سابق سینیٹر جناب قطب الدین عزیز نے کیا ہے۔

انٹرنیشنل پریس نے یہ خبر اڑا دی کہ ایران کے صدر نے رشدی کے قتل کا فتویٰ واپس لے لیا ہے لیکن ورلڈ ایسوسی ایشن آف جیورسٹس نے تصدیق کے بعد فوراً اس خبر کی تردید کی۔

رشدی کے ایجنٹ اور ہنگامہ ٹوکیو

مسلمانوں کی نفرت اور غم و غصہ صرف ”شیطانی آیات“ کے رسوائے زمانہ مصنف رشدی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس گندی اور ناپاک کتاب کے اسپانسر، پبلشر اور ناشروں کی شرارتوں کو بھی وہ برداشت نہ کر سکے۔ چنانچہ ان کے خلاف بھی جو مظاہرے لندن، نیویارک، پیرس اور دنیا کے ان تمام شہروں میں ہوئے، جہاں جہاں اس دل آزار کتاب کی اشاعت اور فروخت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ان کا سرسری تذکرہ ہم پہلے کر چکے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ٹوکیو کا ایک واقعہ لاہور کے ایک سرفروش نوجوان عدنان رشید سے متعلق ہے۔ رشدی کی اس ব্রহ্ম کتاب کا جاپانی زبان میں ترجمہ کرانے والے اٹلی کے ایک یہودی ایجنٹ گیانی پالما پر اس شاہین بچہ نے اس وقت قاتلانہ حملہ کر دیا جب کہ وہ ٹوکیو میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کے لئے وہاں کے انٹرنیشنل پریس کلب میں افتتاح کرنے کے لیے آیا ہوا تھا۔ اس حملہ ترکانہ کا حال خود عدنان رشید کی زبانی سنئے، جو اس نے جاپان سے اپنی رہائی کے بعد لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کیانی ہال میں سنایا:

”یہ واردات اس طرح ہوئی کہ اٹلی کے ایک اسپانسر پبلشر گیانی پالما نے سلمان رشدی کی کتاب ”شیطانی آیات“ (Satanic Verses) کا ترجمہ جاپانی زبان میں ہتوشی اگاشی سے شائع کرایا، جس کی سیل کے لیے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پرنٹ میڈیا میں زبردست پبلسٹی شروع ہو گئی۔ جس پر جاپان کے اور جاپان میں باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش پیدا ہوئی۔ یہ تو ہم آپ سب جانتے ہیں کہ پاکستان دین اور خاص طور پر ناموس رسالت کے معاملہ میں سب سے پیش پیش رہا

صفحہ 438

ہے۔ چنانچہ جاپان میں پاکستان ایسوسی ایشن کے چیئرمین حسین خان اور سیکرٹری جنرل رئیس صدیقی اور ٹوکیو میں رہنے والے مسلمان، جن میں، میں بھی شامل تھا، نے یہ طے کیا کہ پہلے ہم پرامن طریقہ سے حکومت جاپان سے اپیل کریں گے کہ وہ اس کتاب کی اشاعت کو رکوانے کا انتظام کر دے۔ اس سلسلہ میں ہمارے وفد مسلسل ٹوکیو پولیس کمشنر اور دوسرے متعلقہ افسران سے ملتے رہے لیکن انہوں نے معذوری ظاہر کی کہ جاپان کا قانون انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

13 فروری 1990ء کو انٹرنیشنل پریس کلب ٹوکیو میں اس شیطانی کتاب کی رونمائی کا اعلان ہوا۔ ہم نے 11 فروری کو ٹوکیو میں ایک پر امن جلوس نکالا اور کانفرنس کے منتظمین سے مطالبہ کیا کہ اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کانفرنس کو منسوخ کیا جائے، جو اس کتاب کی رونمائی کے لیے منعقد ہو رہی ہے لیکن نہ تو منتظمین نے اور نہ حکومت جاپان نے ہمارے اس احتجاجی جلوس کا کوئی نوٹس لیا۔ بالاخر ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت میں 13 فروری کو ایک پریس مین (Press Man) کے ہمراہ جرنلسٹ بن کر اس کلب میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کے باہر اور اندر سخت حفاظتی انتظامات تھے۔ کتاب کی رونمائی کراتے ہوئے اٹلی کے اس یہودی ایجنٹ گیانی پالما نے پہلے تو مسلمانوں کا مذاق اڑایا، جو اس کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں، جسے میں نے بمشکل ضبط کیا لیکن جب اس نے ہمارے رسول پاک ﷺ کے بارے میں کتاب کے حوالہ سے چند ریمارک پاس کیے تو پھر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور نہیں معلوم مجھ میں اس وقت کہاں سے اتنی طاقت آگئی تھی کہ حفاظتی گارڈ کی موجودگی میں، میں نے جھپٹ کر اس ملعون کو گرا لیا اور چاہتا تھا کہ اپنے سٹیل کے نوکدار پین (Pen) کو اس کی گردن کے آرپار کر کے اس کو جان سے مار دوں لیکن فوراً ہی سیکیورٹی فورس نے پوری قوت سے مجھے دبوچ لیا اور پین کو میرے ہاتھ سے چھین کر بڑی مشکل سے پالما کو مجھ سے

صفحہ 439

چھڑا لیا۔ بری طرح سے زدوکوب کرنے کے بعد گرفتار کر کے مجھے جیل میں بند کر دیا۔ جاپان میں مجھ پر مقدمہ چلا اور وہاں کے قانون کے تحت مجھے ایک سال قید کی سزا ہوئی لیکن میری اس کارروائی کے بعد جاپان کے بڑے بڑے اداروں نے اس شیطان کی کتاب کو فروخت کرنا بند کر دیا۔

میری اس گرفتاری کے خلاف ٹوکیو میں جاپانی اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں نے جلوس نکالنے شروع کیے۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے جاپان کے سفارت خانہ سے میری رہائی کے سلسلہ میں رابطہ قائم کیا۔ پاکستان میں سیاسی تنظیموں، اداروں، سٹوڈنٹس یونینز اور تاجروں نے بھی میری گرفتاری کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے۔ پریس نے بھی میری بھرپور حمایت کی۔ شاید اسی وجہ سے وقت سے پہلے مجھے رہا کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد سب سے پہلے میں یہاں آپ سب حضرات کے خلوص اور محبت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ کی معرفت پاکستان اور دنیا کے تمام مسلمان بھائیوں، بزرگوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی دعائیں اور ہمدردیاں میرے شامل حال رہی ہیں۔ لیکن افسوس مجھے صرف اس بات کا ہے کہ شیطان رشدی کے ایجنٹ اور اس کی ناپاک کتاب کے سپانسر پبلشر پالما کو ختم کر کے لاہور کے شیر دل جوان غازی علم الدین کی طرح مجھے شہادت نصیب نہ ہو سکی، جو میری دلی آرزو تھی۔ سکیورٹی فورس اور پولیس کی بھاری جمعیت کی مداخلت کی وجہ سے وہ بزدل پالما میرے ہاتھوں سے بچ کر بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ بہرحال جب بھی مجھے موقع ملے گا، انشاء اللہ رشدی اور اس کے ایجنٹوں کو واصل جہنم کر کے چھوڑوں گا۔"

صفحہ 440

رشدی کے خلاف عالم اسلام کے مقتدر دینی رہنماؤں کا اعلان

اسلامی ملکوں میں سب سے پہلے ایران کے عظیم روحانی پیشوا امام خمینی نے شیطان صفت سلمان رشدی کے خلاف ”فرمان موت“ جاری کیا‘ جو حسب ذیل ہے:

”خدائے بزرگ کے نام سے جو سب سے برتر و اعلیٰ اور یکتا ہے اور جس کی بارگاہ عالی میں ہم سب کو جانا ہے‘ اسلامیان عالم کے نام اسلام کا یہ فرمان جاری کیا جاتا ہے:

ہر گاہ کہ

”شیطانی آیات“ کا مصنف سلمان رشدی‘ جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے اور اس کتاب کے پرنٹر پبلشر سب واجب القتل ہیں۔ اس لیے جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں قتل کیا جائے۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی دانش گاہ جامعہ الازہر کی فتاویٰ کونسل اور مکہ مکرمہ کی فقہی اکادمی نے امام خمینی کے فتویٰ قتل کو خلاف اسلام قرار دیا ہے لیکن یہ بات سراسر خلاف حقیقت تھی۔ فتاویٰ کونسل جامعہ الازہر کے سربراہ الشیخ الفاضل عبداللہ المشد اور صدر شعبہ علوم دینیات جامعہ الازہر الدکتور محمد حسام الدین نے بھی سلمان رشدی کو واجب القتل ہی قرار دیا ہے لیکن ان کے فتاویٰ میں سزا سے قبل اسے صفائی کا موقع دیا جانا شامل ہے۔

اسی طرح فقہ الاسلامی اکادمی مکہ مکرمہ نے بھی مفتی اعظم سعودی عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز کے شاتم رسول ﷺ کے بارے میں فتویٰ قتل کو جائز قرار دیا ہے۔ البتہ یہ وضاحت کی ہے کہ رشدی کے خلاف اسلامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اس کو صفائی کا موقع دینے کے بعد اگر وہ ناقابل قبول ہو تو پھر اسے سزائے موت دی جائے۔

صفحہ 441

مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی

دنیائے اسلام کی لائق احترام اور نامور شخصیت مولانا ابوالحسن علی ندوی سربراہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے ایرانی پیشوا آیت اللہ امام خمینی کے رشدی کے خلاف فرمان قتل کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابلیسی کتاب کے مصنف نے مذہب اسلام کی سخت توہین کی ہے جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امام خمینی کے فرمان پر مسلمانوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کیونکہ اسلام میں پیغمبر اسلام علیہ السلام کی توہین کے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ مسلم علماء اور مفتی سب اس معاملہ میں متفق ہیں۔ (قومی آواز 23 فروری 1979ء)

ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف

عالم اسلام کی ممتاز اور فاضل شخصیت ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف جو رابطہ کے سیکرٹری جنرل اور موتمر عالم اسلامی کے سربراہ ہیں رابطہ کے ایک خصوصی نمائندہ اجلاس میں جس میں علماء اسلام نے شرکت کی یہ متفقہ فیصلہ سنایا کہ سلمان رشدی مرتد ہے اور اسلام میں اس کی سزا موت ہے انہوں نے اسلامی ملکوں سے اپیل کی کہ کسی اسلامی ملک میں رشدی پر مقدمہ چلایا جائے تاکہ قانون کا تقاضہ پورا ہو۔ انہوں نے فرمایا رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس کا آزادی تحریر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسلام پر یہ ایک مجرمانہ حملہ ہے سلمان رشدی مرتد ہے اور شریعت کے مطابق ارتداد کے جرم کی سزا موت ہے۔

(قومی آواز 23 فروری 1989ء)

صفحہ 442

گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر ایک بے جا اعتراض

اسلام دشمن اور متعصبین بالخصوص عیسائی مشنریاں اکثر یہ اعتراض کرتی رہتی ہیں کہ پیغمبر اسلام (علیہ التحیۃ والسلام) جب رحمۃ للعالمین ہیں تو پھر انہوں ﷺ نے اپنے مخالفین کو تہ تیغ کیوں کرایا؟

حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے نفس کے لیے کبھی بھی کسی سے انتقام نہیں لیا، جس کی شہادت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے دی ہے اور خود تاریخ کا ایک ایک حرف اس پر گواہ ہے۔ شعب ابی طالب بطحا کی وادیاں، طائف کی چٹانیں اور یثرب کے پہاڑ، سب آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے آقا و مولا نے اپنے جانی دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا۔ طائف میں بے سرو سامانی کی حالت میں جب آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور آپ ﷺ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے، اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے لیے عذاب الٰہی اور قہر خداوندی کو دعوت نہیں دی بلکہ ان کے حق میں ان کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔ فتح مکہ کے موقع پر اسی شہر میں جہاں اہل مکہ نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ موت کی گھاٹی میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو محصور کر دیا تھا، تمام قبائل عرب نے ہم صلاح ہو کر آپ کو جان سے مار دینے کے لیے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اور آپ کی ذات اقدس کو ایسی اذیتیں پہنچائی تھیں جو کسی پیغمبر کو نہیں دی گئیں۔ مگر جب آپ ﷺ ہزاروں جانثاران نبوت کے لشکر جرار کو لیے ہوئے فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے خونخوار دشمن سرنگوں آپ کے سامنے منتظر مکافات کھڑے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے ”لا تثریب علیکم الیوم “ (آج کے دن تم سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی) کہتے ہوئے معافی کا اعلان فرمایا اور اپنے بدترین دشمن ابوسفیان کے گھر کو دارالامان قرار دیا۔ آپ کے چہیتے اور محبوب چچا حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والی ہند اور انہیں وحشیانہ طور پر قتل کرنے والے وحشی اور ان دشمنوں کو بھی جو آپ کے خون کے پیاسے تھے، اس وقت معاف فرمایا جبکہ آپ تمام اہل مکہ سے انتقام لینے کی پوری طاقت اور قدرت رکھتے تھے۔ حضرت انسؓ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کو بھی معاف فرمایا جس نے ایک بھنی ہوئی بکری سے

صفحہ 443

آپ کی تواضع کی تھی لیکن پہلے لقمہ ہی نے آپ ﷺ کو بتلا دیا تھا کہ میں زہر آلود ہوں اور آپ ﷺ کے استفسار پر اس نے اقرار جرم کرتے ہوئے بتلایا تھا کہ میں نے یہ اہتمام اس لیے کیا تھا کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو زہر آپ پر اثر انداز نہیں ہو گا اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہماری قوم کو آپ ﷺ سے نجات مل جائے گی۔ ایسی دشمن جاں یہودیہ کو بھی آپ کے عفو کریمانہ کے دامن میں پناہ ملی۔

یہ ہے آپ کی شان رحمۃ للعالمینی کی ایک ادنیٰ سی جھلک۔ اسی وصف رحمۃ للعالمینی کی جھلک ان ہستیوں میں بھی صاف نظر آتی ہے جو آپ کے زیر تربیت رہی ہیں۔ آپ کے عم زاد علیؓ نے جب ایک شہ زور دشمن اسلام پہلوان کو زیر کر لیا اور ان کا خنجر آب دار اس کی رگ گردن پر تھا اور اس نے اس خیال سے علیؓ کے منہ پر تھوک دیا کہ فوراً ہی اسے اس عالم جانکنی سے نجات مل جائے گی‘ مگر جناب علیؓ نے مشتعل ہو کر اس کا سر کاٹنے کی بجائے اسی وقت اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور دریافت پر بتلایا کہ پہلے تو وہ رضائے الٰہی کی خاطر درپے قتل تھے مگر تھوکنے کے بعد جب خواہش نفس نے انہیں فوری آمادہ قتل کیا‘ تو انہوں نے اس کے قتل سے ہاتھ اٹھا لیا۔

حضور ﷺ تو اس دنیا میں انسان کو انسان کی اور ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے زمین پر آسمانی بادشاہت قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس لیے جو شیاطین آپ کو ہدف طعن و تشنیع اور نشانہ تضحیک بنا کر آپ ﷺ کے عالمگیر انقلاب کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے‘ انہیں ہٹانا ضروری تھا کیونکہ اس کے بغیر انسانیت پیغمبر اسلام کے بے کراں فیوض و برکات سے محروم رہ جاتی۔ انسان‘ انسان کا غلام بن کر رہ جاتا بلکہ شجر‘ حجر کی پرستش کر کے ہمیشہ کے لیے شرف انسانیت کھو بیٹھتا اور تسخیر کائنات کی جانب اس کا قدم کبھی نہ اٹھتا۔ اس لیے آپ کے بعد یہ ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد ہوئی کہ وہ ایسے شیاطین سے براہ راست نمٹ لے۔

اس کے علاوہ حضور ﷺ اس کائنات ارضی میں رب ذوالجلال کے جلیل القدر سفیر بھی ہیں۔ عام دنیوی پروٹوکول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس ملک کے شایان شان اس کے سفیر کا بھی احترام کیا جائے‘ تو پھر خالق کائنات کے اس جہان ہست و بود میں بھیجے ہوئے عالی مقام سفیر گرامی کی جتنی بھی عزت و توقیر کی جائے کم ہے۔ سورہ المجادلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

صفحہ 444

"اور اے نبی! جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ اس طور پر سلام و تحیت کرتے ہیں جو تمہارے رب کا (پسندیدہ) طریق تحیت نہیں۔"

اس سے حضور ﷺ کی بارگاہ الہی میں علو مرتبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کی توہین و تنقیص دراصل شہنشاہ ارض و سماوات کی جناب میں گستاخی ہے اور اس قانون فطرت کے خلاف بغاوت ہے، جو اللہ کے فرستادہ آخری پیغمبر ﷺ اس دنیا میں برپا کرنے آئے تھے۔ اس لیے ان گستاخان رسالت کو جو سزا دی گئی، وہ عین شریعت الہی کے مطابق ہے، جس کو یہ امت قائم کیے ہوئے ہے اور تاقیامت یہ قائم رہے گی۔ واللہ المستعان۔

یہ کتاب ابھی زیر طباعت تھی کہ وزارت امور مذہبی پاکستان کی جانب سے مصنف کے نام ایک مراسلہ موصول ہوا، جس میں بتلایا گیا کہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں استفسارات ہو رہے ہیں، چنانچہ اس اہم مسئلہ پر مسلم ماہرین قانون سے بھی معاونت طلب کی گئی اور دریافت کیا گیا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ میں توہین مسیح (Blasphemy) سے متعلق کیا قوانین ہیں۔ اس کے علاوہ حقوق انسانی کے بعض نام نہاد اداروں کی جانب سے بھی اعتراضات آنے شروع ہو گئے تھے، جس میں میری ذات کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا تھا کیونکہ میں نے مسلم ماہرین کی تنظیم کی جانب سے یہ مسئلہ وفاقی شریعت میں اٹھایا تھا جہاں سے توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر ہوئی۔ پھر حکومت پاکستان کے سپریم کورٹ سے اپیل سے دستبردار ہونے کے بعد توہین رسالت کا قانون پاکستان میں نافذ العمل ہو گیا، جس پر فادر روفن، مسٹر طارق سی قیصر (ایم این اے) اور ان کے بعض ہم مذہب مسیحی لیڈروں نے ناخوشگوار ردعمل کا اظہار کیا اور اس قانون کو سال 1993ء کے انتخابات میں الیکشن ایشو بھی بنایا گیا اور یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ یہ قانون بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور بعض نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کی وجہ سے اقلیتوں کے سر پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔

یہ سارے اندیشے، خدشات اور اعتراضات سراسر بے بنیاد ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین اور قانون توہین رسالت سے کم علمی ہے جو لاعلمی اور جہالت سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ توہین رسالت کے جرم کی سزا

صفحہ 445

صرف پیغمبر اسلام علیہ التحیۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی حد تک محدود نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں وہ تمام پیغمبر اور رسول، جن میں سارے انبیائے بنی اسرائیل اور جناب یسوع مسیح بھی شامل ہیں، کی توہین اور تنقیص کی بھی وہی سزا مقرر ہے جو شاتم رسول کریم ﷺ کی ہے۔ اہل کتاب کو یقیناً اس بات کا علم ہو گا کہ بائبل میں نہ صرف رسولوں کی شان میں گستاخی کی سزا، سزائے موت ہے بلکہ نائبین رسول ﷺ کے گستاخوں کو بھی واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پیروانِ مسیح اس صریح حکم کا کس طرح انکار کر سکتے ہیں اگر اپنی کتاب مقدس پر ان کا اعتقاد ہے! (کتاب استثناء باب 12:17)

اسلامی قانون تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے، اسی قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لیے درکار ہیں۔ چنانچہ حد کی سزا میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ حدود کی سزا کے لیے ایسے گواہوں کی شہادت قابل قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں۔ صادق القول اور عادل ہوں اور مزید برآں تزکیۃ الشہود کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ حد کی سزا کا ایک بنیادی رکن ملزم کی "نیت" "ارادہ" اور "قصد" ہے۔ ایسی تحریر یا تقریر جو انبیاء کرام علیہم السلام یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے قصداً ہو تو اسے قابل مواخذہ جرم قرار دیا جائے گا۔ "ارادہ" اور "نیت" کا مصدر بھی حضور نبی کریم ﷺ کی وہ مشہور حدیث ہے جس میں فرمایا گیا: " انما الاعمال بالنیات " بلاشبہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ نیت کے بغیر اسلامی قانون میں کوئی جرم مستوجب سزا نہیں ہے۔ صاحبان علم و دانش سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ شریعت اسلامی کی وجہ سے "نیت" اور "ارادے" کو دنیائے قانون میں سب سے پہلے اسلام ہی نے روشناس کرایا اور اسے موجودہ قانون جرم و سزا کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا ورنہ رومن لاء (Roman Law) میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں تھا۔ اٹھارویں صدی سے قبل برٹش قوانین کے قانون تعزیر میں بھی اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں انگلستان کی بعض عدالتوں نے بڑے دلچسپ فیصلے صادر کیے ہیں۔ یہاں برسبیل تذکرہ صرف ایک فیصلہ کا حوالہ دوں گا۔ ایک شخص درخت سے گر کر مر گیا تو اس "قاتل درخت" کو سزائے موت سنائی گئی اور اس کا تنا کاٹ کر اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔

صفحہ 446

اس کے علاوہ ”شک“ کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ اس کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارک ہے، جس میں حکم دیا گیا ہے۔ ”ادرئوا الحدود بالشبهات ”حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بنا پر ختم کیا جائے۔ سال 1991ء سے اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے آج تک کسی ایک شخص کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت نہیں دی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فرد جرم ثابت نہ ہو ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد 1860ء میں جب برٹش گورنمنٹ نے ہندوستان میں قانون توہین رسالت کو منسوخ کیا تو اس کے بعد مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ جس وقت ہندوستان میں توہین رسالت کا اسلامی قانون منسوخ کیا گیا، اس وقت انگلستان میں قانون توہین مسیح (Blasphemy) ملک کے قانون عام (Common Law) کے طور پر رائج تھا اور آج بھی وہاں کے کامن لاء کا حصہ ہے اور انگلستان کے مجموعہ قوانین (Statutory Book) میں شامل ہے۔

قانون توہین رسالت کے پاکستان میں نافذ ہو جانے کے بعد اب اس کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کی بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آگیا، جو تمام حقائق اور شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔ اگر جرم توہین رسالت کی سزائے حد کے لیے اسلام کے معیار شہادت کے مطابق مطلوب گواہ موجود یا دستیاب نہ ہوں تو سزائے حد موقوف ہو جائے گی۔ لیکن وہاں اسلام کا قانون تعزیر حرکت میں آئے گا کیونکہ جہاں حد کی شرائط پوری نہ ہوں، وہاں اسلامی اصول قانون کے رو سے ملزم کو نہیں بلکہ مجرم کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ اس اصول قانون کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارک ہے جس میں فرمایا گیا:

”ان اللہ لیزع بالسلطان مالا یزع بالقرآن“ حق سبحانہ و تعالیٰ ہیئت مقتدرہ کے ذریعہ ان چیزوں کا سدباب کرتے ہیں جن کا سدباب قرآن کے ذریعہ نہیں کیا جاتا۔ یہاں ہیئت مقتدرہ سے مراد احکام الہی نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی زمین میں فساد اور بگاڑ کو پھیلنے سے روکے۔

مسیحی برادری کو تو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہئے تھا۔

کیونکہ اس قانون کی رو سے سب ہی اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں اور ان کی اہانت اور توہین کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔ جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی مطابق مسلمانوں کو دیگر مذاہب ہی انہوں نے آج تک ایسی شرا گزشتہ باب میں ہم نے ”مسیح کی آخری ترغیب جنسی“ کیا ہے، جو سال 1988ء میں لن اللہ جناب مسیح کو ایک آبرو باخ لندن میں مقیم تھا۔ ہماری ریڈ حضرت عیسیٰ صرف عیسائیوں ہیں۔ اس فلم کی نمائش بند ہو کیے، جس پر بالآخر وہ فلم فلاپ مسیحی برادری اور اقلی ہمیں شبہ نہیں۔ جب وہ ہمار اور خوف کس بات کا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ بے گناہ لوگوں یا کیا وہ پاکستان میں پیغمبر اسلام طلب کر رہے ہیں۔ ان میں مطالبہ کا آخر کیا جواز باقی رہ جا

صفحہ 447

کیونکہ اس قانون کی رو سے جناب مسیح اور دیگر انبیائے کرام جنہیں عیسائی اور مسلمان سب ہی اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں‘ کی شان میں گستاخی اور اہانت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتم الانبیاء حضرت مصطفیٰ ﷺ کی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔ مسلمان ان تمام پیغمبران کرام کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں‘ اس لیے وہ ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان پیغمبروں کے علاوہ اسلام کے احکام کے مطابق مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیشواؤں کے خلاف بھی اہانت کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہوں نے آج تک ایسی شرارت کی ہے۔

گزشتہ باب میں ہم نے یہودی فلم ساز مارٹن اسکور سس کی انتہائی شرمناک پکچر ”مسیح کی آخری ترغیب جنسی“ (The Last Temptation Of Christ) کا تفصیلی ذکر کیا ہے‘ جو سال 1988ء میں لندن کے سنیما گھروں میں دکھلائی جا رہی تھی‘ جس میں معاذ اللہ جناب مسیح کو ایک آبرو باختہ طوائف کے ساتھ سرگرم دکھلایا گیا تھا۔ میں ان دنوں لندن میں مقیم تھا۔ ہماری دینی حمیت اسے برداشت نہ کر سکی‘ چنانچہ ہماری اپیل پر کہ حضرت عیسیٰ صرف عیسائیوں ہی کے نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی واجب الاحترام پیغمبر ہیں۔ اس فلم کی نمائش بند ہونی چاہئے لندن میں مسلمانوں نے خاموش احتجاجی مظاہرے کیے‘ جس پر بالآخر وہ فلم فلاپ ہو گئی۔

مسیحی برادری اور اقلیتی فرقوں کے رہنماؤں اور ان کے پیروکاروں کی نیت پر ہمیں شبہ نہیں۔ جب وہ ہمارے پیغمبر کی توہین اور گستاخی نہیں کریں گے تو پھر انہیں ڈر اور خوف کس بات کا ہے۔ کیا قانون بلاوجہ ان کے خلاف حرکت میں آجائے گا یا پھر پاکستان کی عدلیہ بے گناہ لوگوں کو‘ جو توہین رسالت کے مجرم نہیں‘ پھانسی کی سزا سنائے گی یا کیا وہ پاکستان میں پیغمبر اسلام علیہ السلام کے خلاف گستاخی اور توہین کے لیے کھلا لائسنس طلب کر رہے ہیں۔ ان میں جب کوئی بات بھی قرین قیاس نہیں تو پھر اس کی منسوخی کے مطالبہ کا آخر کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

صفحہ 448

فرزند اقبال کی مسند ارشاد

اقبال کے نامور فرزند سینیٹر ڈاکٹر جاوید اقبال سے راقم الحروف کے اس وقت سے نیاز مندانہ تعلقات چلے آرہے ہیں جبکہ وہ ابھی ہائی کورٹ کے جج بھی نہیں بنے تھے اور پیشہ قانون ہی سے وابستہ تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی علامہ سے براہ راست نسبت اور میری علامہ سے گہری عقیدت ہے۔ اس کے باوجود مجھے ان کے افکار و خیالات سے اکثر اختلاف رہا ہے کیونکہ وہ لبرل ازم یعنی آزادی افکار کے قائل ہیں جسے علامہ نے ابلیس کی ایجاد کہا ہے۔

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

(اقبال)

قانون توہین رسالت کے بارے میں ان کا تازہ ترین ارشاد ہے کہ غیر مسلموں پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور اس کے لیے وہ فتاویٰ عالمگیری کا حوالہ ڈھونڈ کر لائے ہیں اور ایک ماڈرن مفسر قرآن جسٹس ایم بی احمد کی کتاب ”بھارت میں انصاف کی عمل داری“ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں آیت قرآنی ”لکم دینکم ولی دین“ کی تفسیر دل پذیر بیان کی گئی ہے۔ مزید برآں ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ مغل دور اور اس سے قبل کے مسلمان حکمرانوں نے لبرل اسلامی ریاستیں یعنی سیکولر ریاستیں قائم کی تھیں جن میں غیر مسلموں کے ساتھ نہایت رواداری کا سلوک ہوتا رہا ہے اور ایسی ہی ریاست کا قیام علامہ اقبال اور قائد اعظم کے پیش نظر تھا۔ اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ان اسلامی ریاستوں میں سوروں کی فروخت کھلے عام ہوتی تھی اور ان کا گوشت کھانے پر کوئی پابندی نہیں تھی اور پیغمبر اسلام کی رسالت سے انکار پر غیر مسلموں کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔ ان کا یہ بیان پڑھ کر سخت حیرت اس لیے ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب نے جو تاریخ کے طالب علم ہیں اور اس وقت بھی سینٹ یعنی ایوان بالا کے رکن رکین ہیں‘ پوری تحقیق اور تصدیق کے بغیر ایسی باتیں کہی ہیں جو اصل واقعہ کی غلط تعبیر اور تاریخی صداقت کے یکسر خلاف ہیں۔ کیا ڈاکٹر صاحب ”انکار“ اور ”دشنام“ کے واضح فرق سے بھی ناواقف ہیں۔ غیر مسلم تو پیغمبر اسلام کی نبوت سے انکار کی وجہ سے غیر مسلم

صفحہ 449

کہلاتے ہیں، اس لیے تو اسلامی ریاست میں ذمی یا معاہد کی حیثیت سے رہنے کے حق سے آج تک کسی نے انہیں محروم نہیں کیا۔ لیکن حضور رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، کبھی کسی اسلامی حکومت نے معاف نہیں کیا اور جہاں اسلامی یا مسلمانوں کی حکومت نہ رہی ہو وہاں مسلمان سرفروشوں نے شاتم رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچا کر خود دار و رسن کو چوم لیا۔ برصغیر پاک و ہند میں اس کی سینکڑوں تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ زندہ دلان کے اسی شہر لاہور میں غازی علم الدین شہید نے جب گستاخ رسول ﷺ راج پال کو ہلاک کر دیا تھا تو اس کی طرف سے قائد اعظم نے مقدمہ کی پیروی کی تھی اس کو پھانسی کی سزا پر ڈاکٹر صاحب کے والد گرامی علامہ اقبال نے فرمایا تھا ”ترکھان دا پتر ساڈے کولوں بازی لے گیا۔“ غازی شہید کے والد نے اپنے لخت جگر کی نماز جنازہ کی امامت کا حق بھی علامہ کو تفویض کیا تھا جو جنازہ گاہ میں بچشم تر موجود تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علامہ اقبال جن کی فقہ اسلامی پر گہری نظر تھی۔ غیر مسلم شاتم رسول ﷺ کو بھی اسلامی قانون کی رو سے واجب القتل سمجھتے تھے اور غازی علم الدین کے اس اقدام کو انہوں نے خراج تحسین پیش کیا تھا۔

گستاخ رسول ﷺ کے لیے سزائے موت بطور حد قانون بنانے کا فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ نے راقم الحروف کی شریعت پٹیشن پر صادر کیا تھا جو میں نے جنرل ضیاء الحق اور حکومت پاکستان کے خلاف دائر کی تھی۔ اس لیے اس سلسلہ میں مجھے قرآن و سنت، تمام فقہی لٹریچر، یورپ اور امریکہ کے قوانین کے مطالعہ کے بعد انہیں عدالت میں پیش کرنے کا موقع ملا تھا اور جہاں اسلامی مکاتب فکر کے تمام علماء بھی پیش ہوئے تھے۔ اس لیے میں علیٰ البصیرت پوری علمی دیانت داری سے بلاخوف تردید یہ کہتا ہوں کہ مجھے کہیں بھی کسی فقہ کا یہ فتویٰ دستیاب نہ ہو سکا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ سرکار رسالت مآب ﷺ کی اہانت توہین اور گالیاں دینے والے غیر مسلموں کے لیے اسلام میں کوئی سزا مقرر نہیں۔ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا، سزائے موت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ خود سرکار رسالت مآب ﷺ کے حکم سے یہودیوں اور غیر مسلموں کو سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ نہ صرف عہد خلفائے راشدین میں اور دور بنی امیہ اور بنو عباس کے دور میں بلکہ اسپین اور جہاں جہاں بھی مسلمان حکومتیں موجود تھیں۔ وہاں توہین رسالت کی یہی سزا برقرار رہی۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف دو تاریخی واقعات کا حوالہ دینے پر

صفحہ 450

اکتفا کروں گا۔ ایک واقعہ تو مغل شہنشاہ اکبر کے دور حکومت کا ہے جو کہ ڈاکٹر صاحب کا پسندیدہ سیکولر دور حکومت ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر منتخب التواریخ میں ملا عبد القادر بدایونی کی زبانی موجود ہے جو اکبر کے نورتنوں میں شمار ہوتا تھا اور خود اس واقعہ کا چشم دید گواہ بھی ہے۔ یہ واقعہ اس دور کا ہے‘ جب اکبر مکمل طور پر ہندو مہارانیوں کے زیر اثر تھا اور سارا کاروبار حکومت دین الٰہی کے نام سے لادینی خطوط پر چل رہا تھا۔ ملا بدایونی کی شہادت درج ذیل ہے:

"عبد الرحیم قاضی متھرا نے شیخ (قاضی القضاۃ شیخ عبد الغنی) کے پاس ایک استغاثہ بھیجا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیے ہوئے تھے لیکن ایک سرکش مالدار برہمن نے سارا عمارتی ساز و سامان اٹھوا لیا اور اس سے ایک صنم کدے کی تعمیر شروع کرا دی۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا ارادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور اکرم ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور مسلمانوں کی بھی اس نے توہین کی۔ شیخ موصوف نے اس کو طلب کیا لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کر دیا جس پر بادشاہ نے بیربل اور شیخ ابوالفضل کو بھجوایا کہ وہ اسے لے آئیں۔ شیخ ابوالفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا‘ آ کر بیان کر دیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیق ہو گئی ہے کہ اس نے گالیاں بکی تھیں۔ اس کی سزا کے خلاف علماء کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ دوسرا اس کے خلاف تعزیری سزا اور جرمانے پر زور دے رہا تھا۔ اس معاملہ پر بحث طول پکڑ گئی۔ شیخ نے بادشاہ سے اس کے قتل پر اصرار کیا۔ بادشاہ نے صراحتاً اس کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ شرعی سزا کا تعلق تم سے ہے‘ ہم سے کیا پوچھتے ہو۔ وہ برہمن اس جھگڑے میں مدتوں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لیے سفارشیں کرتی رہیں لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا۔ اس لیے اس نے اس کی رہائی کا حکم بھی نہیں دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لیے زیادہ اصرار کیا تو بادشاہ نے پھر وہی جواب دیا کہ ہم تو پہلے ہی تم سے کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب سمجھو‘ وہ کرو جس کے بعد شیخ نے فوراً ہی اس برہمن کے قتل کا حکم دیا اور اس کی گردن ماری گئی۔" (ملاحظہ ہو منتخب التواریخ المؤلف ملا عبد القادر بدایونی مطبوعہ غلام علی اینڈ سنز صفحہ 606-607)

دوسرا اہم مقدمہ مغل حکمرانوں کے آخری دور حکومت کا اور اسی لاہور سے

صفحہ 451

متعلق ہے جبکہ زکریا خان (1707ء تا 1759) گورنر پنجاب تھا جس کا ذکر ہندو مورخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب "پنجاب آخری مغل دور حکومت میں" میں کیا ہے، جس کا اقتباس درج ذیل ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر اور تنقیدی جائزہ ہم نے اپنی کتاب "ناموس رسول اور قانون توہین رسالت" میں کیا ہے:

"حقیقت رائے باگھ مل پوریا سیالکوٹ کے کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ نامی سکھ کی لڑکی سے ہوئی تھی۔ حقیقت رائے کو ایک اسکول میں داخل کیا گیا جہاں ایک مسلمان ٹیچر نے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں کچھ توہین آمیز باتیں کیں۔ حقیقت رائے نے بھی انتقاماً پیغمبر اسلام ﷺ اور بی بی فاطمہ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر حقیقت رائے کو گرفتار کر کے لاہور عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ کچھ ہندو افسر زکریا خان گورنر پنجاب کے پاس سفارش کے لیے پہنچے کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہیں سنی (کارروائی مقدمہ کے بعد) اس کو سزائے موت دی گئی اور اس کی گردن اڑا دی گئی۔ یہ سال 1734ء کا واقعہ ہے۔"

اس کے علاوہ اسپین میں جب وہاں اسلامی حکومت قائم تھی، گستاخان رسول ﷺ کو وہاں کی عدالتوں سے یہی سزا دی جاتی رہی ہے جن کا ذکر قاضی ابوالفضل عیاض نے اپنی کتاب "الشفاء" میں کیا ہے اور یورپین مورخین لین پول وغیرہ نے ان فیصلوں کا ہندو مورخ ڈاکٹر نجار کی طرح متعصبانہ انداز میں ذکر کیا ہے۔ جزیرۃ العرب، ہندوستان کے علاوہ ترکیہ، سمرقند اور بخارا، افغانستان اور تمام اسلامی ملکوں میں اس قانون کا ذکر علامہ آلوسی اور ابواللیث سمرقندی کے ذریعہ ہم تک پہنچا۔ تمام ائمہ فقہ گستاخ رسول ﷺ کو مستحق سزائے موت قرار دیتے ہیں۔ چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ فقہ جعفریہ کی رو سے تو گستاخ رسول ﷺ موقع واردات پر ہی واجب القتل ہے۔ "فتاویٰ بزازیہ" اور "تنبیہ الولاۃ" جو فقہ حنفی کی مستند اور معروف کتابیں ہیں، ان کی رو سے بھی شاتم رسول ﷺ سزائے موت کا مستحق ہے۔ یورپ کے قانون توہین مسیح سے ڈاکٹر صاحب خود واقف ہوں گے۔ اس لیے ہم نے اس کا یہاں ذکر نہیں کیا جس کے تحت بھی گستاخان مسیح کو سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ اب بھی وہ قانون ترمیم کے ساتھ انگلستان اور آئرلینڈ میں موجود ہے۔ اس مضمون میں ہم نے اسلامی قانون کا اجمالاً

صفحہ 452

ذکر کیا ہے۔ اس پر اجماع امت ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا بطور حد سزائے موت ہے جس پر فیڈرل شریعت کورٹ کا تاریخی فیصلہ محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان پی ایل ڈی 1991ء میں رپورٹ ہوا ہے۔ جس کے خلاف حکومت کی اپیل بھی سپریم کورٹ سے 1992ء میں بغیر دستبرداری خارج ہو چکی ہے جس کے بعد یہ فیصلہ حتمی اور آخری فیصلہ ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب اسی فیصلہ کو ملاحظہ کر لیتے تو شاید انہیں یہ اشکال پیش نہ آتا۔ تمام فقہاء اسلام نے اہانت رسول ﷺ کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ غالباً مشہور فقیہ اسلام ابن سحنون کا فتویٰ ڈاکٹر صاحب کی نظر سے نہیں گزرا جو حسب ذیل ہے۔

"تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ شاتم رسول ﷺ واجب القتل ہے اور جو شخص اس بارے میں یا اس کی سزا کے بارے میں (جو مسلمان ہی ہو سکتا ہے) شک کرے‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"

مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر صاحب کا ”رواداری“ سے کیا مطلب ہے۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی شان رفعت اور علو مرتبت کا تو کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی ہمارے محبوب رہنماؤں‘ قائد اعظم اور علامہ اقبال کو گالی دے تو ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ کیا ڈاکٹر صاحب کی ان غیر منطقی موشگافیوں سے غیر مسلموں کو حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گالیاں دینے کا کھلا لائسنس نہیں مل جائے گا۔

میری محترم ڈاکٹر صاحب سے مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ ایسے انتہائی نازک اور حساس مسائل پر بغیر تحقیق گفتگو سے احتراز فرمائیں تو ملت اسلامیہ پر احسان ہو گا۔

خود ان کے بقول علامہ اقبال نے ان کی بے احتیاطی پر خواب میں آ کر انہیں ٹوکا بھی تھا اور ان سے ناراض بھی ہوئے ہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنی تصنیف ”زندہ رود“ میں کیا ہے۔

صفحہ 453

قانون توہین رسالت’ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کسی اہل کار کی شرارت معلوم ہوتی ہے۔ اگر توہین رسالت کی سزا موت سے بھی زیادہ سخت ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جاتا۔ یہ قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں بلکہ صرف گستاخان رسول ﷺ کے خلاف بنایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق اسلام ہی سے کیوں نہ ہو۔ اس لیے اقلیتوں کو اس سے خوف زدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں۔ اس قانون سے اقلیتوں کے جان و مال اور تمام شہری حقوق کی حفاظت ہو گی‘ اس لیے میں نے سرکاری وکیل کو سپریم کورٹ سے توہین رسالت میں ترمیم کے لیے دائر اپیل کو فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔

میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان

O

نوٹ:۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت بنام محمد اسماعیل قریشی والی توہین رسالت کی اپیل سپریم کورٹ سے دستبرداری کی وجہ سے خارج ہوئی۔

جناب اسماعیل قریشی نے قانون توہین رسالت کو ملک عزیز میں از سر نو روشناس کر کے اقلیتوں کے جان و مال اور ان کی عزت و آبرو کا تحفظ کیا ہے اور اپنی تصنیف ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت میں اسلامی قانون عدل و شہادت کو جس انداز سے واضح کیا گیا ہے وہ قابل قدر ہے۔

ملک معراج خالد ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

O

ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت میں جناب اسماعیل قریشی نے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسلام کے قانون شہادت کا جو اعلیٰ معیار پیش کیا

صفحہ 454

ہے۔ اس سے یورپ ایک صدی قبل نا آشنا تھا۔ اس لئے قانون توہین رسالت" جیسے سنگین جرم کے لیے بھی اسلام میں وہی معیار شہادت ہے جو دوسرے جرائم کے لیے مقرر ہے اور یہ قانون انسانی حقوق کے منافی نہیں بلکہ ان حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب جامع ہے جس کے لیے مصنف لائق مبارک باد ہیں۔

ایس۔ ایم۔ ظفر سابق وزیر قانون چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن

قانون توہین رسالت کو اسلامی ریاست پاکستان میں نافذ کرنے کے لیے جناب اسماعیل قریشی کی سعی اور کاوش قابل ستائش ہے۔ ان کی کتاب ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت نے ان تمام مسائل کو احاطہ کیا ہوا ہے جو قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

راجہ ظفر الحق وزیر وزارت امور مذہبی

جناب محمد اسماعیل قریشی صاحب کی بلند پایہ تصنیف ناموس رسول اور قانون توہین رسالت میں پاکستانی سیاست اور اسلامی ادب میں عظمت رسول ﷺ کی نشاندہی جس انداز میں کی گئی ہے میرے پاس الفاظ نہیں کہ انہیں رقم کر سکوں۔

دراصل یہ گستاخان رسول کے خلاف غازی علم الدین شہید اور شہیدان ناموس رسالت کی طرح جہاد مسلسل ہے۔ محترم قریشی صاحب یہ کتاب لکھ کر امام ابن تیمیہؒ اور قاضی عیاضؒ جیسے عالی مقام مصنفین کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔

میاں محمد اسماعیل سابق سفیر مصر

ملک کے معروف قانون داں جناب محمد اسماعیل قریشی نے اہانت رسول ﷺ کی

صفحہ 455

سزا کے بارے میں فیڈرل شریعت کورٹ سے فیصلہ کروا کر ہم سب کی جانب سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ موصوف نے قرآن و سنت کی روشنی میں تمام مکاتب فکر کے فقہا کا نقطہ نظر علمی اور فکری انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب فی الحقیقت لائق مطالعہ ہے۔ جناب ڈاکٹر اسرار احمد

O

مغرب روحانی اقدار سے بیگانہ ہو گیا ہے۔ اسماعیل قریشی صاحب نے ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت لکھ کر مغرب کو بتلایا ہے کہ توہین رسالت کے قانون نے اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ یہ کوئی غیر منصفانہ قانون نہیں بلکہ انسانی حقوق اور اسلامی عقائد کے عین مطابق ہے۔ قاضی حسین احمد صاحب امیر جماعت اسلامی پاکستان

O

یورپ کے نام نہاد مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جو ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں اس کے لیے ضروری تھا کہ ان کا علمی اور فکری انداز میں جواب دیا جائے۔ اسماعیل قریشی صاحب مستحق مبارکباد ہیں کہ انہوں نے ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت جیسی گراں قدر کتاب لکھ کر اس صدی میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان

O

توہین رسالت کی سزائے موت کے بارے میں جمہور مسلمانوں کے درمیان نہ کبھی اختلاف رہا ہے اور نہ کوئی شک و شبہ ہے جس کسی کو تحقیق کا شوق ہو اس کے لیے اسماعیل قریشی کی ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت' ابن تیمیہ کی الصارم المسلول' تقی الدین سبکی کی السیف المسلول اور ابن عابدین شامی کی تنبیہ الولاۃ جیسی

صفحہ 456

معرکتہ الاراء کتابوں کا مطالعہ کافی ہے۔

خرم مراد چیف ایڈیٹر ترجمان القرآن

جناب اسماعیل قریشی صاحب نے ”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ جیسی کتاب کی تخلیق‘ اس کی تشکیل اور تعمیر میں اپنی زندگی کے اسی نصب العین کو پیش نظر رکھا ہے جسے میں عدل کہتا ہوں۔

قریشی صاحب نے عدل یعنی سچ کی تلاش میں اپنے ذہن کی ہر صلاحیت‘ ہر اہلیت اور ہر سعی کو وقف کر دیا ہے اور اس کتاب میں تلاش تفحص اور جستجو کا حق ادا کر دیا ہے۔ ایک انتہائی اہم اور اس قدر نازک مسئلہ میں پوری طرح عدل یعنی سچائی کی پاسداری کی ہے۔ ان کی تحریر رواں دواں سلیس ہے اور خوبصورت ہے۔

مرزا ادیب

جناب اسماعیل قریشی کی ”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت“ اپنی نظیر آپ ہے اس میں معارف و بصائر کے خزینے ہیں۔ اس کا مطالعہ ان غلط فہمیوں کو رفع کرے گا جو ایک خاص زاویہ نظر سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

ڈاکٹر انور سدید

”ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت“ اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی منفرد کتاب ہے جس میں حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی سے اپنی بے پناہ عقیدت و محبت کے ساتھ مصنف کتاب جناب محمد اسماعیل قریشی نے اپنے موضوع اور دعوے کے ثبوت میں قرآن و سنت‘ قانونی نظائر اور تاریخ کے حوالے سے علمی حقائق کو متکلمانہ انداز

صفحہ 456 457

خرم مراد چیف ایڈیٹر ترجمان القرآن

نے "ناموس رسول اور قانون توہین رسالت" جیسی تعمیر میں اپنی زندگی کے اس نصب العین کو پیش نظر

سچ کی تلاش میں اپنے ذہن کی ہر صلاحیت، ہر اہلیت کتب میں تلاش تفحص اور جستجو کا حق ادا کر دیا ہے۔ ر نازک مسئلہ میں پوری طرح عدل یعنی سچائی کی رواں سلیس ہے اور خوبصورت ہے۔

مرزا ادیب

س رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت" اپنی نظیر کے خزینے ہیں۔ اس کا مطالعہ ان غلط فہمیوں کو رفع پھیلائی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر انور سدید

قانون توہین رسالت" اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی منفرد اب ﷺ کی ذات گرامی سے اپنی بے پناہ عقیدت و محمد اسماعیل قریشی نے اپنے موضوع اور دعویٰ کے اور تاریخ کے حوالے سے علمی حقائق کو متکلمانہ انداز

میں پیش کیا ہے۔

اردو ڈائجسٹ لاہور

جناب اسماعیل قریشی صاحب کے زور خطابت میں جس طرح منطق اور استدلال ان کے ہم رکاب رہتے ہیں اسی طرح انہوں نے "ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت" جیسی بلند پایہ کتاب لکھ کر ناقابل تردید براہین اور دلائل سے، تحقیق اور ریسرچ کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا ہے اور اسلامی ادب میں بھی قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے سکالرز، اہل قلم، اساتذہ، طلباء اور عوام یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔

کموڈور طارق مجید روزنامہ مسلم۔ اسلام آباد

"ناموس رسول اور قانون توہین رسالت" دراصل جناب اسماعیل قریشی کی تحفظ ناموس رسالت کے لیے طویل جدوجہد کی ایمان افروز اور دل نشیں روئیداد ہے جس کا تعلق عشق رسالت مآب ﷺ سے ہے اس لیے یہ زندہ رہنے والی کتاب ہے۔

ہفت روزہ زندگی

صفحہ 458
PDF 459

اسماعیل قریشی صاحب نے ”توہین رسالت“ کے مجرموں کے لیے سزائے موت کا قانون نافذ کرانے میں بڑی دلچسپی لی تھی۔ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑا اور جیتا تھا۔ جسٹس گل محمد مرحوم نے ان ہی کی درخواست پر شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے وہ معرکے کا فیصلہ لکھا تھا‘ جو اس دنیا میں بھی ان کے کام آیا کہ وہ کروڑوں مسلمانوں کے محبوب بن گئے اور اگلی دنیا میں بھی (انشاء اللہ) ان کے کام آ رہا ہو گا۔

قریشی صاحب نے اس ساری جدوجہد اور اس معاملے پر ملت اسلامیہ کے مسلسل اجماع کو کتاب کی صورت دے دی ہے اور ایک ایسا کام کر دکھایا ہے جس پر تحسین کے پھول نچھاور کئے جانے چاہئیں۔

مجیب الرحمن شامی چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان

”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ میں دیانت دارانہ تحقیق سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ امت مسلمہ کی متفقہ رائے کے مطابق توہین رسالت جیسے سنگین جرم کی سزا سزائے موت ہے۔

روزنامہ جنگ

گستاخان رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں جناب اسماعیل قریشی نے اپنی کتاب ”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ میں تاریخی حوالوں سے یہ مستند ثبوت پیش کیا ہے کہ قرآن و سنت اور تمام فقہاء کے فیصلوں کے مطابق اہانت رسول کی سزا ہر اسلامی دور حکومت میں سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے یہ حقیقت بھی واضح کی ہے کہ مسیحی اور موسوی قانون کی رو سے بھی توہین پیغمبر کی یہی سزا مقرر ہے یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لئے بھی لائق مطالعہ ہے۔

روزنامہ نوائے وقت

PDF 460

اضافہ شدہ

نامُوسِ رَسُولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اور

قانونِ توہینِ رسالت

نفیس

قرآن وسُنّت ، تاریخ ، قانون اور عدالتی فیصلوں کے آئینے میں

محمّد اسمٰعیل قریشی

سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ