دورہ یورپ و افریقہ کے تاثرات · مولانا منظور احمد چنیوٹی
Dora Europe and Africa kay Tasuraat · Maulana Manzoor Ahmad Chinioti
PDF 1

ختم نبوت زندہ باد

سفیر ختم نبوت ، فاتح قادیانیت

مولانا

منظور احمد چنیوٹی

کے

دورہ یورپ و افریقہ

کے تاثرات

ناشر

ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ ، پاکستان

فون نمبر: 332820-0466 فیکس: 331330-0466

E-mail: Chinioti@fsd.comsats.net.pk

ارشاد پریس اینڈ گرافکس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر اندرون گلہ جامعہ عربیہ چنیوٹ فون نمبر 334420-0466

PDF 2

مصنف ایک نظر میں

مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کو چنیوٹ کے راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی۔ ۱۹۵۱ء میں مزید تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے دورہ حدیث اور دیگر مدارس سے تفسیر، رد رفض اور رد قادیانیت کے خصوصی کورس کئے۔ ۱۹۵۲ء سے تدریسی سلسلہ شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عربیہ، ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ، ۱۹۹۰ء میں ادارہ دعوت وارشاد امریکہ اور ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی چنیوٹ میں قائم کی۔ اور ۱۹۹۵ء میں مدرسہ عائشہ للبنات کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے پہلی بار ۲۲ سال کی عمر میں چھ ماہ کیلئے گرفتار ہوئے۔ اب تک گیارہ مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ رد قادیانیت کیلئے آپکی خدمات کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو ۲۰ مرتبہ حج اور بیسیوں مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے آپکی دینی خدمات کے اعتراف میں آپکو اپنے اخراجات پر کئی بار حج کرنے کی دعوت دی۔ عالم اسلام کے مقتدر مفتیانِ عظام سے فتویٰ حیاتِ مسیح حاصل کیا۔ مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں اور ان گنت پمفلٹ شائع کئے۔ ۳۳ غیر ملکی دوروں کے علاوہ لاتعداد ملکی وغیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔ اعلیٰ علمی قابلیت اور امت کے مسائل سے گہری دلچسپی کی بناء پر انجمن تبلیغ اسلام، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، مجاہدین احرار، حرکۃ الانصار، متحدہ علماء کونسل کے قابل قدر عہدوں پر بیک وقت فائز رہے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلدیہ چنیوٹ کے چیئر مین منتخب ہوکر اپنی دینی، انتظامی وسماجی صلاحیتوں کا لوہا بھی منواچکے ہیں۔ اس وقت آپ پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔

ابو عمار زاہد الراشدی

صفحہ 1

دورہ یورپ و افریقہ کے تاثرات

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

قادیانی امام کو مناظرہ کا چیلنج :

لندن۔ ۶ جولائی (نمائندہ جنگ) مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مسجد فضل لندن کے امام بشیر احمد رفیق پر الزام لگایا ہے۔ کہ انہوں نے گزشتہ ماہ لندن میں ”وفات مسیح کانفرنس“ بلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جو آج پاکستان سے مانچسٹر پہنچے ہیں۔ مسجد فضل کے امام کے نام ایک خط میں انہیں چیلنج کیا ہے کہ وہ لندن یا برطانیہ کے کسی شہر میں غلام احمد قادیانی کے بارے میں مناظرہ کریں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی مانچسٹر میں ۱۳۔ پونال ایونیو وٹنگٹن میں مقیم ہیں۔

تحفظ ختم نبوت کی دوروزہ کانفرنس میں اعادہ :

لندن۔ ۳۱۔ جولائی (نمائندہ جنگ) مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلامک کلچرل سینٹر لندن میں دوروزہ کانفرنس میں پھر ایک بار قادیانی مسجد الفضل کے امام کو حیات مسیح کے بارے میں مناظرہ کیلئے چیلنج کیا تھا۔ تحفظ ختم نبوت کی دوروزہ کانفرنس میں جس کی صدارت ذکی بدوی نے کی، قرآن کریم، حدیثوں اور دوسرے معتقدات کے ذریعے وفات مسیح کے بارے میں قادیانیوں کی سازش کو بے نقاب کیا گیا۔ اس کانفرنس کے کنوینر مولانا منظور احمد چنیوٹی تھے۔ کانفرنس میں ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مولانا بشیر سعید المدوش، مولانا

صفحہ 2

عبداللہ ، پرنسپل کلیہ شرعیہ ، ترکی کے ابراہیم فک ، مرکزی اسلامی مشاورتی کونسل کے جسٹس محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع اللہ خاں رحمتہ اللہ نے خطاب کیا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا چیلنج منظور :

لندن۔ ۱۲ اگست۔ مسجد الفضل کے نائب امام منیر الدین شمس نے امام مسجد بشیر احمد رفیق کی طرف سے تحریک ختم نبوت کے ممتاز رہنما ، مولانا منظور احمد چنیوٹی کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں وفات اور حیات مسیح پر مناظرہ کے بارے میں ان کا چیلنج منظور کیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ مناظرہ انگریزی میں تحریر ہوگا۔ یہ مناظرہ ۲۰ اگست کے بعد ممکن ہو سکے گا۔ کیونکہ بشیر احمد رفیق یورپ گئے ہوئے ہیں۔

مناظرہ سے فرار قادیانیوں کا اعتراف شکست

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے ۷ اگست تک

لندن۔ ۴ اگست (نمائندہ جنگ) تحریک ختم نبوت کے ممتاز رہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ انہوں نے مرزا غلام احمد کی سیرت پر مناظرہ کا جو چیلنج دیا تھا اسکے جواب میں مسجد فضل کے نائب امام منیر الدین شمس نے کھلا اعتراف شکست کر لیا ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ پہلا اعتراف شکست یہ ہے کہ نائب امام نے مرزا غلام احمد کی سیرت پر مناظرہ سے فرار کرتے ہوئے وفات مسیح پر تحریری مناظرہ کی پیش کش کی ہے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا ہے کہ مرزا غلام احمد کی تحریریں جن میں مرزا صاحب کی تاریک زندگی کا بیشتر مواد ہے زیادہ تر اردو میں ہے اور مرزا صاحب کی تحریک سے روایتی طور پر دلچسپی رکھنے والے انگلستان میں مقیم لوگ زیادہ تر اردو دان ہیں۔ اس پس منظر

صفحہ 3

اردو سے بھاگ کر انگریزی میں چھپنے کی کوشش قادیانیوں کا دوسرا اعتراف شکست ہے۔ تقریری مناظرہ کی بجائے تحریری مناظرہ کی شرط لگانا تیسرا اعتراف شکست ہے۔ اپنے امام بشیر احمد رفیق کو ۲۰ اگست تک ملک سے باہر رکھنا چوتھا اعتراف شکست اور ان کی عدم موجودگی میں جماعت کے کسی نمائندہ کو مناظرہ کیلئے پیش نہ کر سکتا پانچواں اعتراف شکست ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا قادیانی جماعت کی طرف سے مناظرہ پر آمادگی کیلئے ۷ اگست تک انتظار کیا جائیگا ورنہ ۱۱ اگست کو قادیانیوں کی شکست کا اعلان کر دیا جائے گا۔

قادیانیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی :

لندن ۱۹۔اگست (نمائندہ جنگ) تحریک تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا ہے کہ قادیانی نائب امام منیر الدین شمس نے تحریری مناظرہ کی نئی پیش کش کر کے مناظرہ سے راہ فرار اختیار کی ہے اور اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ۷ جولائی کو قادیانی مسجد کے امام بشیر الدین احمد رفیق کو مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی پر مناظرہ اور مباہلہ کرنے کا چیلنج کیا تھا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ انہوں نے قادیانی نائب امام منیر احمد شمس کے قبول چیلنج کے جواب میں ۲ اگست کو مفصل خط تحریر کیا تھا اور یہ دعوت دی تھی کہ وہ یا پھر ان کا کوئی نمائندہ ۷ اگست کو مسجد شاہ جہاں وو کنگ میں آکر مناظرہ کی شرائط اور دوسری تفصیلات طے کرے۔ اور مناظرہ ۱۱ اگست کو ہو گا۔ اگر قادیانیوں کا کوئی نمائندہ ۷ اگست کو مسجد شاہجہاں میں نہیں پہنچا۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ قادیانی امام کو مناظرہ کا چیلنج دیئے ہوئے ایک ماہ ہو گیا ہے اور وہ اس ایک ماہ میں ابتدائی گفتگو اور شرائط طے کرنے کیلئے بھی میدان میں نہیں آسکے تو مناظرہ کیلئے وہ کیسے میدان میں آسکتے ہیں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ چونکہ ان میں تقریری مقابلہ کرنے کی ہمت و جرات نہیں اس لئے وہ تحریر کی آڑ لیکر عوام میں اپنی شکست کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اور

صفحہ 4

انہوں نے روایتی فرار پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

ووگنگ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس :

ووگنگ (سرے جنگ نیوز) شاہ جہاں مسجد ووگنگ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ۵ اگست شام ۶ بجے زیر صدارت حافظ محمد یعقوب سابق سیکرٹری تعلیم آزاد کشمیر ہوا۔ اور کانفرنس کی کاروائی جو ۹ بجے شب تک جاری رہی۔ قاری بشیر احمد نے مرزا غلام احمد کی تحریک پر مدلل تقریر کی اور قادیانی لٹریچر سے اس کے حوالے پیش کئے۔ ڈاکٹر خالد محمود ڈائرکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر نے اس کے بعد اپنی عالمانہ تقریر میں ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قادیانیوں کے شائع کردہ ختم نبوت پر ایک پمفلٹ جو مسجد کے باہر تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کی پر فریب تحریروں کا پردہ چاک کیا۔ آخر میں جناب ہاشمی نے پہلے روز کی کانفرنس کی آخری تقریر کی جس میں انہوں نے ختم نبوت کے سلسلے میں مولان ثناء اللہ امرتسری، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی مولانا ظفر علی خان اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی خدمات کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

کانفرنس میں شریک مہمانوں کی افطاری اور کھانے کا انتظام منتظمین نے کیا تھا۔

ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست زیر صدارت وزیر تعلقات عامہ سفارت خانہ پاکستان مسٹر قطب الدین عزیز اتوار ۶ اگست منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مولانا منظور احمد چنیوٹی فاتح ربوہ نے اپنی دو گھنٹہ کی تقریر میں ختم نبوت پر جامع روشنی ڈالی اور بانی تحریک قادیانیت مرزا غلام احمد کے جھوٹے دعووں کو کتابوں کے حوالہ جات سے بے نقاب کیا۔ مولانا نے بتایا کہ ۱۴ویں صدی کے متعلق جو مشہور ہے کہ آخری صدی ہے یہ قرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہے بلکہ یہ عقیدہ کفریہ ہے جو مرزا غلام احمد نے گھڑا ہے۔ مولانا نے بتایا کہ حضور ﷺ نے کسی حدیث میں ۱۴ویں صدی کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی

صفحہ 5

قادیانی حضور اکرم ﷺ کی ایسی حدیث بھی پیش کر دے جس میں چودھویں صدی کا ذکر ہو مولانا چنیوٹی اسے دس ہزار روپیہ انعام دیں گے۔

ختم نبوت کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں بھی دوبارہ ڈاکٹر علامہ خالد محمود نے تقریر کی۔ اس کے بعد صاحبزادہ امداد حسین نے مرزا غلام احمد کی سازشی نبوت سے پردہ سرکایا۔ کانفرنس کی آخری تقریر جناب قطب الدین عزیز نے کی۔ اپنی تقریر میں پاکستان میں قادیانیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے پر تفصیلی تبصرہ کیا۔ مسٹر عزیز نے کہا کہ یورپ میں اسلام کی تبلیغ کی سخت ضرورت ہے۔ مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا فضل کریم عاصم صدر جمعیت اہل حدیث اور حافظ یعقوب ہاشمی کی تقاریر کے بعد کانفرنس کی یہ نشست دعائے خیر کے بعد نماز عصر پر ختم ہوئی۔ دعائے خیر قاری بشیر احمد خطیب جامع مسجد وو کنگ نے کی۔

ہفت روزہ خدام الدین لاہور

قادیانیوں کی بیرون ملک سرگرمیوں پر جمعیت علماء اسلام کے ممتاز علماء کرام کی جوابی کاروائی قادیانیوں نے پاکستان اور عرب دنیا میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد بیرون ملک اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ مغربی افریقہ کے ممالک خاص طور پر ان کی آماجگاہ ہیں۔ مسلمانان پاکستان کے ذمہ تھا۔ کہ جس طرح انہوں نے برطانیہ کے خود کاشتہ پودے کو پاکستان میں ناکام کیا ہے وہ بیرون ملک بھی ان کا پورا محاسبہ کریں اور پاکستان پارلیمنٹ کی قرار داد ختم نبوت کی پوری اشاعت کریں۔

عنایت ایزدی سے یہ خدمت بھی علماء دیوبند کے نام لکھی تھی۔ جمعیت علماء اسلام کے راہنما علامہ ڈاکٹر خالد محمود ، منظور احمد چنیوٹی ۱۹۷۶ء کے بعد اب دوسری دفعہ ان ممالک میں پہنچے ہیں ادارہ خدام الدین اس دینی محنت سے رابطہ عالم اسلامی اور دارالافتاء سعودی عرب کا خاص طور پر ممنون ہے جنہوں نے اس دینی محنت کی سرپرستی کی اور سعودی

صفحہ 6

سعودی عرب کے سفیر مقیم لاگوس نائیجیریا اور ملحق دینی شیخ عبدالرحمن اور ان کے عملہ اور مبعوثین کرام نے مالی نصرت فرما کر ہم سب کو ممنون کیا۔ قرن اول میں ہدایت کے چشمے جہاں سے پھوٹے تھے۔ آج بھی وہیں ہماری علمی دنیا اور دینی محنت سیراب ہو رہی ہے۔

(ادارہ)

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی اپیل پر حکومت نے ربوہ کا نام چناب نگر رکھ دیا ہے

ارشاد پرنٹنگ پریس اینڈ جی ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر اندرون گلی جامعہ عربیہ چنیوٹ فون 334420-0466

صفحہ 7

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمده ونصلى الله على رسول الكريم .

۱۹۷۸ء میں ہم یہ دوسرا دورہ کر رہے ہیں پہلے ہم ۱۹۷۶ء میں یہاں آئے تھے ۱۹۷۶ء میں دورہ افریقہ کی تحریک مرزا ناصر کے دورہ مغربی افریقہ سے ہوئی تھی قادیانیوں نے اس دورے کی جو رپورٹ شائع کی اس میں مغربی افریقی ممالک کے سربراہوں سے مرزا ناصر کی ملاقاتیں دکھائی گئی تھیں۔

رپورٹ کچھ اس طرح پیش کی گئی تھی۔ گویا سارا افریقہ قادیانی ہو چکا ہے یہ وہ حالات تھے جو ہمارے ۱۹۷۶ء کے دورے کا باعث ہوئے۔ اس دورے میں ختم نبوت اور رد قادیانیت پر عام خطابات، خصوصی ملاقاتیں پریس کانفرنسیں، مناظرے اور مذاکرات سبھی طرح کی محنت تھی اور اس محنت پر خدا کے فضل سے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس دورے کی مفصل رپورٹ شائع ہو گئی تھی۔ اب ۱۹۷۸ء میں دورہ نائیجیریا میں ہم نے ۱۹۷۶ء کی کاشت پر بہار دیکھی اس کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں۔

کی قراردادوں نے قادیانیوں کو ہر جگہ غیر مسلم ثابت کر دیا ہے تاہم ان قراردادوں کی نشر و اشاعت میں مزید محنت کی ضرورت ہے مرزا غلام احمد اور مرزا ناصر کے بارے میں عام نفرت پائی جاتی ہے۔ اور یہ بات عام مشہور ہے کہ قادیانی اور اسرائیلی ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ اور دونوں کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ہمیشہ کی موت مرچکے ہیں اور اسکی نشر و اشاعت دونوں کی جدوجہد مشترک ہے۔

قادیانیوں کی توبہ :۔

ہمارے پچھلے دورے کے بعد تقریباً ہر شہر میں قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام

صفحہ 8

میں داخل ہوئے۔ اکوروڈو (نزد لاگوس دارالحکومت نائیجیریا) میں جہاں ایک ہزار سے زیادہ قادیانی تھے اور ان کا ایک اپنا مرزا اڑہ بھی تھا۔ اب وہاں ایک بھی قادیانی نہیں رہا۔ سب توبہ کر گئے ہیں اور وہ مرزا اڑہ بھی اب مسجد بن چکا ہے۔ اس کا امام جو پہلے قادیانی تھا اب مسلمان ہو چکا ہے۔ اس کی تحریر کا عکس آئندہ صفحات میں دیکھئے یہ افریقہ میں مرزائیت کی گرتی ہوئی دیوار کی منہ بولتی تصویر ہے۔

”اکری“ نزد (ابادان) میں سو کے قریب قادیانی توبہ کر چکے ہیں اور مسلمان ہو گئے ہیں ۱۵ اکتوبر بروز اتوار ہم وہاں تبلیغ کیلئے گئے۔ اور ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ وہاں قادیانیوں نے ایک لمبی قطار میں کھڑے ہو کر توبہ کی اور کلمہ پڑھا اور مرزا غلام احمد کو کذاب کہا۔ ان کی ایک فہرست مع ان کے دستخطوں کے ہمارے پاس ہے اس کا عکس بھی ہدیہ ناظرین کیا جا رہا ہے۔

”ابی تہ“ میں بھی کئی قادیانی توبہ کر چکے ہیں اور وہاں رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد پر بڑی محنت ہو رہی ہے وہاں کے پاکستانی حضرات عوام کو ان کے خطرات سے برابر مطلع کرتے رہتے ہیں اور وہاں رد قادیانیت پر بڑا کام ہو رہا ہے۔

مرزا ناصر کا ویزا کینسل :۔

۲ جولائی ۱۹۷۸ء میں مرزا ناصر احمد کی نائیجیریا میں آمد تھی لندن وفات مسیح کانفرنس کے بعد اس کا یہ پروگرام تھا تاریخ طے ہو چکی تھی اخبارات میں اس کی آمد کے بڑے چرچے اور بڑے بڑے اشتہارات میں اس کی آمد کا اعلان تھا۔ فیڈرل پیلس ہوٹل لاگوس میں کمرہ بھی ریزرو کرالیا گیا تھا۔ لندن میں اس نے نائیجیریا کا ویزا بھی لے لیا تھا لیکن یہاں مسلمانوں میں اس کی آمد کا شدید رد عمل تھا۔ یہ بات عام تھی کہ اسرائیل کا ایجنٹ آ رہا ہے اور مسلمان اسے کسی طرح برداشت نہ کریں گے اسلامی سپریم کونسل کے سربراہ سلطان ابو بکر سوم سلطان

صفحہ 9

آف سکوڑو نے مرزا ناصر کی آمد کو ملکی سلامتی اور اتحاد اسلامی کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں مرزا ناصر کا ویزا کینسل کر دیا گیا اور ان کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے۔ خدا کی شان دیکھئے کہ جب وہ پہلی مرتبہ نائجیریا آیا تو نائجیریا کے صدر یعقوب گاؤن نے اس کا استقبال کیا تھا۔ اب مسلمانوں کی بیداری سے یہاں تک نوبت پہنچی کہ وہ اس ملک میں داخل تک نہیں ہو سکا۔ اور جب تک امن عامہ کا یقین نہ دلائے آئندہ بھی کبھی داخل نہ ہو سکے گا۔

یہ مسلمانوں کی تھوڑی سی محنت کا ثمرہ ہے کہ چند سالوں میں مرزا ناصر پر دنیا بدل گئی اگر کچھ اور علماء بھی اس کام کو لے کر کھڑے ہو جائیں تو جن ممالک میں قادیانیوں نے جال بچھا رکھا ہے محنت کریں تو ان کیلئے زمین تنگ ہو جائے اور سوائے برطانیہ کے (جو ان کا اصلی مولد ہے) کوئی جائے پناہ نہ رہے۔

مسلم تنظیم سے قادیانی ممبروں کا اخراج :-

بڑی وقیع تنظیم ہے۔ ۲۸ جنوری ۱۹۷۸ء کو اس آرگنائزیشن نے یہ فیصلہ کر کے قادیانی اس کے ممبر نہیں ہو سکتے۔ اس علاقے میں ایک تہلکہ پیدا کر دیا۔ قادیانیوں نے شدید رد عمل اختیار کیا۔ لیکن انجام کار ناکام ہوئے۔ مسلم طلبہ کے ہاتھوں میں رابطہ عالم اسلامی کی قرار داد ایک بڑا ہتھیار تھی۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہر محاذ پر مدد فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پارلیمنٹ اور رابطہ کی تاریخی قرار داد سے دنیا کے ہر حصے میں قادیانیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔

قادیانی پروفیسر سے اسلامیات پڑھنے سے انکار :-

والا قادیانی ہے اور اس کا باپ قادیانیوں کے اخبار الفضل کے عملے میں کام کرتا ہے اور وہ اس

صفحہ 10

کالج میں ٹیچر ہے اس نے مسلم طلبہ کی اسلامی تعلیم کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ اسی کالج میں جناب ایم اے بھٹی بھی پڑھا رہے ہیں اور وہ از خود اسلامیات کا پیریڈ بھی لیتے ہیں کالج کے مسلم طلبہ نے یہ کہہ کر قادیانی مسلمان نہیں اس سے اسلامیات پڑھنے سے انکار کر دیا۔

بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور قادیانیت اور مرزا غلام احمد پر کھل کر تنقید کی۔ نہ کسی قسم کے سرکاری مصالح اس میں مانع آئے نہ طلبہ کی سطح پر اس میں کسی رعائت اور مصلحت کی گزارش کی گئی بلکہ ہر حلقے نے اس پر پوری مسرت اور پورے اطمینان کا اظہار کیا بعض نے یوں بھی کہا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں اس فرق کی وضاحت اگر پہلے سے عمل میں آتی تو اس ملک میں ایک شخص بھی قادیانی نہ رہ سکتا تھا۔ قادیانیوں نے ہماری ناواقفی سے فائدہ اٹھایا اور اسلام کے نام پر غیر اسلامی حلقے قائم کر دئیے۔ طلبہ کے ان اداروں میں انگریزی عام سمجھی جاتی تھی اور ان میں علامہ خالد محمود صاحب کی تقریروں کے لئے مترجم کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ ہاں بعض حلقوں میں ہم نے نوجوانوں کے ذہنوں پر عیسائی نظریات کی جھلک دیکھی۔ ہم نے محسوس کیا کہ ممالک افریقہ میں مسلم طلبہ اور مسلم نوجوانوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تقابلی مطالعہ پر کچھ فکری کام کی اشد ضرورت ہے۔

یہ اس دورے کے عمومی تاثرات ہیں آئندہ اس دورے کی تاریخ وار مختصر رپورٹ بھی گزارش کی جائے گی۔ اس رپورٹ کے ضمن میں تجویز بڑی صراحت سے آئے گی۔ کہ نائیجیریا میں دو مقامات پر ختم نبوت پر سہ روزہ موتمر سنوی کی اشد ضرورت ہے اور جہاں جہاں ختم نبوت پر کچھ محنت ہوئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر پندرہ روزہ مجالس مذاکرات ہونے چاہئیں اس سے ہماری ان خدمات کی آواز بہت دیر تک سنی جاتی رہے گی۔

صفحہ 11

دورہ یورپ وافریقہ سے واپسی پر مولانا منظور احمد چنیوٹی

کا روزنامہ جنگ کے چیف رپورٹر کو ایک اہم انٹرویو

افتتاحیہ

پاکستانی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ :-

سعودی عرب میں حکومت کا قانون یہ ہے کہ کسی ”غیر مسلم“ کو حرمین شریفین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ مگر تمام اسلامی ممالک سے اس کی پابندی کرائی جاتی ہے۔ اور غیر مسلم ممالک سے بھی کسی شخص کیلئے سعودی ویزا نہیں دیا جاتا۔ جب تک کہ وہ وہاں کے کسی لائق اعتماد مسلم تنظیم کی طرف سے اس امر کی شہادت مہیا نہ کر دی جائے کہ سفر کرنے والا مسلمان ہے۔

اس کے برعکس سعودی حکومت کو پاکستان سے ہمیشہ سے شکایت چلی آتی ہے کہ پاکستان سے بہت سے ایسے غیر مسلم جن کے نام مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں نہ صرف سعودی ویزا لے کر حرمین شریفین کو ملوث کرتے ہیں بلکہ سعودی مملکت میں اونچی اونچی ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔

سعودی حکومت کی اس شکایت کا اصل سبب یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ نہیں رکھا گیا۔ بلکہ بلا امتیاز صرف ”پاکستانی“ کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ انگریزوں کے دور میں جب ایک خاص منصوبے کے تحت مسلمانوں کو عیسائی بنایا

صفحہ 12

گیا تو ان کے نام تبدیل نہیں کئے گئے۔ بلکہ عیسائی بننے کے بعد بھی وہ عبداللہ، عبدالرحیم، عماد الدین وغیرہ رہے۔ چنانچہ پاکستان میں بہت سے مسیحی ایسے ہیں جن کے نام مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں اور کوئی شخص صرف نام اور ولدیت سے ان کا غیر مسلم ہونا معلوم نہیں کر سکتا۔

ان کے علاوہ ”قادیانی“ فرقہ کے افراد ”غیر مسلم“ ہونے کے باوجود مسلمانوں کے مشابہ نام رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے بھیس میں ان اسلامی ممالک میں جاتے ہیں جہاں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔

مسٹر بھٹو کے دور میں ”شناختی کارڈ“ کا حکم نازل ہوا مگر اس میں بھی مذہب کا خانہ موجود نہیں۔ جبکہ اس کے فارم میں مذہب کا باقاعدہ حلف نامہ بھی موجود ہے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہماری وزارت خارجہ نے پاسپورٹوں میں مذہب کا خانہ رکھنے کی آج تک کیوں زحمت نہیں کی۔ اور وزارت داخلہ نے ”شناختی کارڈ“ کو مذہب کے خانہ سے پاک رکھنے کی کیوں ضرورت محسوس کی اور ہماری مذہبی وزارت جب ”مسلم اور غیر مسلم“ کے درمیان امتیاز کرنے کی بھی روادار نہیں۔ تو آخر وہ کون سی مذہبی خدمت بجا لا رہی ہے۔

ہمارے علم میں بیسیوں افراد ایسے ہیں جو ہماری غفلت کی بنا پر سعودی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حج و عمرہ کا ویزا لے کر چلے گئے۔ اور سعودی حکومت نے معلوم ہونے پر ان کو وہاں سے نکالا۔ بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے وہاں ملازمتیں حاصل کر لیں۔ اور حقیقت حال معلوم ہونے پر انہیں ملازمت سے برخاست کیا گیا اور ابھی تک بہت سے ”غیر مسلم“ افراد ایسے ہیں جن کا سعودی حکام کو علم نہیں اس لئے وہ بڑے مزے سے وہاں ملازمتیں کر رہے ہیں اس شکایت کے ازالے کی یہی ایک صورت ہو سکتی ہے۔ کہ ہر شخص کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں دوسرے کوائف کے علاوہ اس میں مذہب کا بھی اندراج کیا جائے۔ سعودی حکومت کی یہ ایک اہم ترین شکایت ہے جس کی طرف ہماری حکومت کو

صفحہ 13

فوری توجہ کرنی چاہئے۔ موجودہ تغافل سے نہ صرف حرمین شریفین کا تقدس مجروح ہوتا ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ایسی قباحتیں جنم لیتی ہیں جو کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں۔

گھانا، نائیجیریا اور سیرالیون کے طالب علموں کو پاکستان میں دینی تعلیم دی

جائے گی

سوال : آپ تقریباً چھ ماہ کے تبلیغی دورے کے بعد واپس آئے ہیں کیا آپ بتائیں گے کہ کن کن ملکوں کا دورہ کیا۔ ان ملکوں کے حالات کیا ہیں اور کس ملک میں آپ نے کیا کام کئے ہیں ؟

جواب : میں ۶ جولائی کو انگلستان گیا تھا وہاں ۳۰ اگست تک رہا۔ پھر سعودی عرب گیا وہاں سے ۴ اکتوبر کو میں اور علامہ خالد محمود نائیجیریا، گھانا اور مغربی افریقہ کے دورے پر گئے۔ ۷ نومبر کو جدہ واپسی ہوئی۔ حج کیا مدینہ منورہ ، ریاض اور دہران کے دورے کے بعد اب وطن واپس آیا ہوں۔ سعودی عرب میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور محکمہ افتاء و ارشاد کے سربراہ شیخ عبد العزیز بن باز سے ملاقاتیں کیں اور بہت سی تجاویز بھی پیش کیں۔ شیخ بن باز نے بعض نوعیت کی تجویزیں منظور کیں اور ان پر عمل درآمد کے احکامات بھی جاری کر دئیے۔

اصل میں قادیانیوں نے انگلستان میں وفات مسیح کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی یہ کانفرنس ان کی تاریخ میں پہلی دفعہ جون میں منعقد ہوئی تھی اور اس پر انہوں نے ساڑھے چھ لاکھ پونڈ کی خطیر رقم خرچ کی تھی انہوں نے بڑا زبردست پروپیگنڈہ کیا تھا۔ اخبارات میں مضامین شائع کرائے اشتہارات ، کتابچے، بانٹے ، مسلمان خاصے پریشان ہوئے ہم نے مشورہ کیا تو دوستوں نے رائے دی کہ جوابی کاروائی ہونی چاہئے۔ چنانچہ میں

صفحہ 14

وہاں پہنچا لندن کے ریجنٹ پارک کی مسجد میں جناب ذکی راوی کی زیر صدارت ۲۹ اور ۳۰ جولائی کو شاندار حیات مسیح کانفرنس منعقد کی۔ اس میں علامہ خالد محمود اور اسلامی اکیڈمی نے بڑی زبردست اعانت اور مدد کی۔ اس کانفرنس میں رابطہ عالم اسلامی مصر ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے بھی شریک ہوئے ہم نے قادیانیوں کو مناظرے اور مباہلے کا چیلنج دیا۔ مگر وہ کچھ نہ بولے۔ کانفرنس میں ان کے نمائندے بھی آئے تھے مگر انہیں بات کرنے تک کی ہمت نہ ہوئی۔

پھر ۵ اور ۶ اگست کو شاہجہاں مسجد وو کنگ مشن میں ختم نبوت کانفرنس کی اس کی صدارت پاکستانی وزیر جناب قطب الدین عزیز نے کی تھی۔ یہاں بھی قادیانی نمائندے آئے مگر سوال یا اعتراض کی انہیں جرأت نہیں ہوئی اور وہ ہمارے چیلنج کا بھی جواب نہ دے سکے۔

اس کے بعد انگلستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور پاکستان کی اس قرارداد کی وضاحت کی جس کے تحت ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قادیانی وہاں پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ الحمد اللہ اس دورے کے باعث قادیانیوں کے فریب کا پردہ چاک ہو گیا۔

سوال : نائجیریا کا اب کیا حال ہے؟

جواب : نائجیریا کا جہاں تک تعلق ہے میں نے اور علامہ خالد محمود نے یہاں بھی دوروں میں بساط بھر کام کیا۔ یہاں اب الحمد اللہ حالات بہت اچھے ہیں اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ وفات مسیح کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد مرزا ناصر نے افریقہ کے دورے کا پروگرام بنایا تھا۔ لاگوس میں ان کے شاندار استقبال کا بندوبست کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو پتہ چلا تو انہوں نے شدید احتجاج کیا اور حکومت کو بتایا کہ مرزا ناصر کو ”امیر المومنین“ کہا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں ”وہ کافر“ ہیں وہ اگر آئے تو فساد ہو جائے گا۔ آخر کار نائجیریا کی حکومت نے ویزا منسوخ کر دیا

صفحہ 15

اور یوں مرزا ناصر کو نائجیریا میں گھسنا نصیب نہیں ہوا۔ یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ آٹھ سال پہلے مرزا ناصر نے دورہ کیا تھا۔ تو صدر یعقوب گووان نے خیر مقدم کیا تھا۔ اس مرتبہ نائجیریا میں داخلہ ہی بند ہو گیا۔

لاگوس کے قریب ایک شہر اکوروڈو میں ایک ہزار سے زیادہ تھے الحمد للہ وہ مسلمان ہو گئے۔ ایک اور شہر ایکری ہے وہاں ایک سو میں سے ۶۵ قادیانی تائب ہو گئے۔ یہاں مسٹر مالکی بہت متمول اور بااثر شخصیت ہیں انہوں نے بیس لاکھ نیرا (نائجیریا کا سکہ) صرف کر کے قادیانیوں کی عبادت گاہ بنائی تھی۔ ہم نے ان سے ملاقات کی اور مرزا غلام احمد کی تصانیف اصل پیش کر کے اس کے عقائد بتاتے ہوئے تو مسٹر مالکی رو پڑے توبہ کی اور کہا کہ وہ اپنے ہزاروں معتقدین کے ساتھ قادیانیت سے تائب ہونے کا پبلک اعلان کریں گے۔ ان کے دونوں بیٹے بھی مسلمان ہو گئے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ الحمد اللہ نائجیریا کے حالات ہماری تبلیغی کاوشوں کے اعتبار سے یہ تسلی بخش ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس ملک میں بہت جلد انشاء اللہ قادیانیت کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔

سوال : اب کچھ گھانا کے متعلق بتائیے ؟

جواب : گھانا کی طرف ہمیں خصوصی توجہ دینی ہو گی۔ یہ ملک قادیانیوں کا بہت مضبوط مرکز اور ان کی کارستانیوں کا مستحکم اڈہ بنا ہوا ہے۔ یہاں مذہبی امور کا وزیر قادیانی ہے۔ سرکاری محکموں میں بہت سے افسر بھی قادیانی ہیں اگر مسلمانوں کی آبادی اس ملک میں ۳۰ فیصد ہے لیکن وہ بیچارے بہت کمزور اور مرعوب ہیں قادیانیوں کی پوری کوشش ہے کہ مسلمان مرتد ہو جائیں۔ تعلیمی ادارے قادیانیوں کے ہیں یا پھر عیسائیوں کے۔ قادیانی اداروں میں اساتذہ اور عملہ کے لوگ بھی قادیانی ہیں۔ یہی حال ہسپتالوں کا بھی ہے۔ عیسائیوں اور قادیانیوں کے ہسپتالوں میں ان کا ہی زور ہے۔ پھر قادیانی اسلام کے نام پر تبلیغ کر رہے ہیں اور وسیع پیمانے پر لٹریچر پھیلا رہے ہیں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نائجیریا، گھانا، اور سیر الیون دس

صفحہ 16

لاکھ کتابچے تقسیم کئے ہیں اب مسلمانوں کی تسلی کیلئے سعودی حکومت نے ایک پرائمری سکول کھولا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ وہاں حکومت نئے تعلیمی اداروں کے قیام کی اجازت نہیں دیتی انگریزی دور حکومت میں جن اداروں کے قیام کی اجازت دی گئی تھی وہی چل رہے ہیں۔ گھانا میں ہم نے کئی مقامات پر تبلیغی اجتماعات سے خطاب کیا اور قادیانیوں کے فریب کا پردہ چاک کیا۔ پاکستان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی جو قرار داد منظور کی تھی۔ اس کے نسخے بھاری تعداد میں تقسیم کئے عکرہ میں خاص طور سے ایک بڑے اجتماع کا بندوبست کیا گیا تھا جس میں ہم نے قادیانیوں کے عقائد اور اسلام کے نام پر دھوکہ دینے کی تفصیلات سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ گھانا کے دورے میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ہم سب سے بہت تعاون کیا۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کہ بہت کچھ کام ہم اس سفارت خانہ کی اعانت کے بغیر نہیں کر سکتے تھے اس کے مقابلے میں پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔

سوال : ان تبلیغی دوروں میں آپ نے حالات کا جو اندازہ لگایا ان کے آئندہ مقابلے کے لئے آپ نے کیا سوچا۔ کیا رابطہ عالم اسلامی کو اس ضمن میں کچھ تجاویز دیں ؟

جواب : ہم نے ان دوروں میں اندازہ لگایا ہے کہ نائیجریا، گھانا اور سیرالیون میں جم کر کام کیا جائے۔ تو انشاء اللہ قادیانیت کا بہت جلد خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر اس کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تبلیغ کیلئے جو لوگ بھیجے جائیں گے انہیں پہلے تین ماہ کی تربیت دی جائے گی۔ مثلاً سعودی عرب کی طرف سے جو مبعوث بھیجے گئے ہیں وہ اکثر اساتذہ ہیں ہم نے سعودی حکومت کے دار الافتاء والارشاد کے سربراہ شیخ عبد العزیز کو تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ ایسے مبلغ بھیجے جائیں جن کو تبلیغ کی تین ماہ تک تربیت دی گئی ہو۔ یہ تجویز مان لی گئی ہے۔ میں عنقریب سعودی عرب پہنچ کر مبلغین کے پہلے دستے کو ترتیب دوں گا۔ تاکہ وہ قادیانیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ گھانا ، نائیجریا اور سرالیون سے ہم دس دس منتخب

صفحہ 17

طلباء کو جامعہ عربیہ چنیوٹ میں تعلیم دیں گے۔ اور ان کے تمام اخراجات خود اٹھائیں گے۔ یہ جامعہ ۵۴ھ سے کام کر رہی ہے۔ یہاں میٹرک ادیب، عربی، عربی عالم، اور فاضل عربی کے امتحان ہوتے ہیں اور مبلغ تیار کئے جاتے ہیں۔ ہماری اسکیم یہ ہے کہ اللہ کی تڑپ رکھنے والے تیس مسلمان بھائی ان افریقی طلباء کی تعلیم و تربیت کے اخراجات برداشت کرنا منظور کر لیں۔ الحمد للہ مدینہ منورہ میں تیرہ دوستوں نے تیرہ طلبہ کے اخراجات اٹھانے کی پیش کش کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ بقیہ کے اخراجات برداشت کرنے والے مسلمان بھائی بھی جلد مل جائیں گے۔ یہ طلبہ فارغ ہونے کے بعد تینوں ملکوں میں تبلیغ اسلام کے مقدس فریضہ انجام دیں گے۔ سعودی عرب سے ہم نے جامعہ عربیہ کے لئے صرف اساتذہ کی حد تک تعاون مانگا ہے۔ اور ایک استاد کی خدمات ہمیں مل جائیں گی۔ ہم نے رابطہ عالم اسلامی سے یہ بھی کہا ہے کہ تینوں ملکوں میں سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ اسی طرح سکولوں ہسپتالوں اور اسلامی لٹریچر کے بارے میں تجویزیں پیش کی ہیں اور درخواست کی ہے کہ رابطہ عالم اسلامی کوشش کر کے گھانا میں بالخصوص مسلم سکول کھلوائے۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ قادیانیوں کی طرف سے قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ ان ملکوں میں بہت تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ ترجمہ خرافات اور تحریفات سے پُر ہے۔ اگرچہ سعودی حکومت کی طرف سے علامہ عبداللہ یوسف کا انگریزی ترجمہ والا قرآن پاک وہاں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مگر ہمیں دشمنان اسلام کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے اور بھی تدبیریں کرنی ہوں گی۔ قادیانی پاکستان میں طبع شدہ ترجمے نسخے تقسیم کرتے ہیں اور بھولے بھالے لوگ محض پاکستان اور اس کی اسلامی حیثیت کے باعث قادیانیوں کے فریب میں آجاتے ہیں میرے خیال میں تو قادیانیوں کے کلام پاک کے ترجمے کی اشاعت پر پابندی لگنی چاہئے۔

سوال : سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قادیانیوں کو ملازم رکھنا ممنوع ہے اور آپ نے بہت سے قادیانی ملازمین کو پہلے ان ملکوں سے نکلوایا بھی ہے کیا اب بھی ان ملکوں میں

صفحہ 18

قادیانی ملازم موجود ہیں اگر ہیں تو آپ نے ان کے بارے میں کوئی کاروائی کی ہے؟

جواب : جی ہاں میں نے بڑی محنت اور جستجو کے بعد سعودی عرب کے پرائیویٹ اداروں میں سترہ قادیانی ملازموں کا پتہ چلایا اور تمام شہادتوں اور ثبوت کے ساتھ ان کی تفصیلات سے حکومت سعودی عرب کو آگاہ کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس ضمن میں ضروری کاروائی ہوگی۔

اصل میں دشواری یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں ہے قادیانیوں کے نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور پاسپورٹ پاکستانی ہوتا ہے اس لئے انہیں بھی مسلمان ہی سمجھ لیا جاتا ہے۔ آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ مدینہ منورہ میں یوسف نامی ایک عیسائی ملازم کا مجھے پتہ چلا ہے اگرچہ حرم کی حدود میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے لیکن لوگ فریب دے کر پہنچ جاتے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ اس مرتبہ پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مفتی محمود سے ملاقات میں یہ ساری باتیں ان کے گوش گزار کر کے درخواست کروں گا۔ کہ وہ حکومت کو اس پر تیار کریں کہ پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بھی ہو تاکہ دھوکہ بازی کا سدباب ہو سکے۔

صفحہ 19

اسلام آباد :-

نمائندہ خصوصی

ہفت روزہ چٹان

ہم اس کائنات ارضی کے ہر گوشے سے فتنہ قادیانیت کو ختم کر دیں گے

مولانا منظور احمد چنیوٹی سے انٹرویو

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کا شمار ایسے علماء کرام میں ہوتا ہے جو قادیانی فتنے کا مسلسل محاسبہ کر رہے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ختم نبوت کے مسئلہ پر شہرہ آفاق کانفرنسیں بھی ہیں جو ان کی ذاتی کوششوں سے چنیوٹ انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔ سیاست اور مذہب میں چنیوٹ اور ربوہ کا جو خصوصی تعلق ہے وہ مولانا صاحب ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے جب بھی قادیانی ربوے میں اکھٹے ہوتے ہیں مولانا محترم ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے کیلئے پاکستان بھر کے مسلمانوں کو چنیوٹ آنے کی دعوت دے دیتے ہیں۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی جامعہ عربیہ چنیوٹ کے پرنسپل، ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کے ناظم اور سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام سے متعلق ہیں اسی وجہ سے وہ جمعیت علماء اسلام پنجاب کے ناظم بھی ہیں پچھلے دنوں مولانا صاحب راولپنڈی تشریف لائے تو ان سے برطانیہ، یورپ، مغربی افریقہ اور مشرق وسطہ کے چھ ماہ کے طویل دورہ کے متعلق گفتگو ہوئی۔ چونکہ مولانا صاحب کے غیر ملکی دورے کا مقصد قادیانی مذہب کو بے نقاب کرنا تھا اور ادارہ چٹان بھی سالہا سال سے اس مشن میں سرگرم عمل ہے۔ اسلئے ہم نے ان سے ایک انٹرویو لیا۔ آئیے آپ اس موضوع پر نمائندہ چٹان کے سوالات اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے جوابات ملاحظہ فرمائیے۔

صفحہ 20

آپ کے برطانیہ جانے کا کیا مقصد تھا؟

میرے دورے کا اصل محرک یہ تھا کہ قادیانی لندن میں وفات مسیح کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر رہے تھے۔ جس میں مرزا ناصر بھی شرکت کر رہا تھا۔ میں نے سعودی عرب اور بر صغیر پاک و ہند کے دوستوں سے مشورہ کیا کہ اس کا جواب دینا چاہئے لیکن مجھے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ ان دنوں میں علامہ خالد محمود یہاں تھے میں نے ان سے مشورہ کیا تو کہنے لگے کہ اگر آپ وہاں آجائیں تو کچھ حرکت ہو جائے گی۔ اگرچہ جون کے پہلے ہفتہ میں قادیانی کانفرنس منعقد کر چکے تھے تاہم میں نے جولائی میں برطانیہ کا پروگرام بنایا۔ میں نے انگلستان میں ہونے والی قادیانی کانفرنس کے چیئرمین امیر بشیر احمد رفیق کے نام ایک خط لکھا کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی سیرت پر تبادلہ خیال کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ اور مجھے موقع دیں گے جس طرح میں نے ربوہ اور اس کے مضافات بلکہ اندرون بیرون ملک مرزا صاحب کی سیرت پر مفصل بحثیں کی ہیں۔ ۷ جولائی کے جنگ لندن میں میری طرف سے مناظرے کے چیلنج کے عنوان سے خبر بھی شائع ہو گئی

قادیانیوں نے آپ کے چیلنج کا کوئی جواب تو دیا ہو گا؟

جی نہیں انہوں نے ہمارے چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیا۔

پھر آپ نے کیا طے کیا؟

ہم نے فیصلہ کیا کہ وہاں پر ایک زور دار کانفرنس منعقد ہونی چاہئے قادیانیوں کی تاریخ میں وفات مسیح کے عنوان سے پہلی باقاعدہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ وفات مسیح کے عنوان سے مناظرے ہوئے کتابیں لکھی گئیں۔ لیکن اس موضوع پر قادیانیوں نے پہلی بار بیرون ملک ایک کانفرنس منعقد کی۔۔ چونکہ وطن عزیز یا کسی اور اسلامی ملک میں اس نوعیت

صفحہ 21

کی کانفرنس تو منعقد نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے انہوں نے برطانیہ جا کر پناہ ڈھونڈی ہم پر بھی فرض عائد ہوتا تھا کہ ہم وہاں پر ان کا پیچھا کریں۔

کیا آپ کو وہاں کامیابی ہوئی ؟

ہم نے لندن کی بڑی مسجد میں ۲۹ اور ۳۰ جولائی کو کانفرنس منعقد کی ۔ یہ مسجد عربوں کے تعاون سے تیار ہوئی ہے ۔ اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر زکی بداوی نے کانفرنس کے اجلاس کی صدارت کی کانفرنس میں عربی، انگریزی ، ترکی، اور اردو میں ختم نبوت پر تقریریں کی گئیں ۔ کانفرنس میں رابطہ عالم اسلامی، متحدہ عرب امارات، ترکی اور ہندوستان کے علماء نے شرکت کی۔

سنا ہے وہاں مناظرے و مباہلے کا بھی اہتمام ہوا تھا کچھ

اسکی تفصیلات ؟

ہم نے کانفرنس سے قبل جنگ لندن میں اپنا خط بطور اشتہار شائع کرا دیا۔ جس میں قادیانی کو مناظرے کی دعوت دی گئی ۔ ہم نے اس اشتہار کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کروادیں ۔ ہم نے کانفرنس میں اپنے چیلنج کو پھر دوہرایا ۔ کہ آپ حیات مسیح اور مرزا قادیانی دونوں کی سیرت پر مناظرہ کریں ۔ یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ اس کانفرنس میں قادیانیوں کے نمائندے بہ نفیس نفیس موجود تھے ۔ لندن میں قادیانیوں کا نائب امام منیر الدین شمس اجتماع میں موجود تھا۔ اسی طرح لاہوری پارٹی کے نمائندے رپورٹ لے رہے تھے ۔ لیکن کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ ہمارے چیلنج کا جواب دے ۔ بعد ازاں ہمیں جواب دیا گیا کہ بشیر احمد رفیق یورپ کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ وہ ۲۰ اگست کو واپس آئیں گے ۔ میں زیادہ سے زیادہ اگست کے وسط تک برطانیہ میں رہنا چاہتا تھا ۔ لیکن قادیانیوں کی ناکہ بندی

صفحہ 22

کیلئے مجھے پروگرام کو وسعت دینا پڑی۔ ہم نے ایک بار پھر قادیانیوں کو لکھا کہ وہ اپنے امام کو بلائیں اگر وہ نہیں آتا تو ان کے نائب تو موجود ہیں وہ مناظرے کے متعلق شرائط طے کریں۔ اس پر ہمیں عجیب سا جواب دیا گیا کہ ہم آپ سے مناظرہ تو کریں گے لیکن انگریزی میں اور وہ بھی تحریری طور پر ہم نے جواب دیا یہ آپ کا راہ فرار ہے۔ مناظرہ بالمشافہ ہوتا ہے کتابیں تو آپ کے بزرگوں نے بھی لکھی ہیں اور ہمارے اکابرین نے بھی اسی موضوع پر لکھا ہے اس میں آپ کو جج مقرر کر کے فیصلہ کرالیں۔ لیکن مناظرہ وہ ہے جو بالمشافہ گفتگو ہو۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی باوجود ”انگریزی نبی“ ہونے کے اس کی کوئی تصنیف انگریزی میں نہیں۔ اس کی کتابیں عربی اردو اور فارسی میں ہیں علاوہ ازیں اس مسئلہ سے دلچسپی رکھنے والے سارے اردو جانتے ہیں انگریزی میں مناظرہ کرنے کا کیا مطلب ہے کسی اور زبان میں ہی مناظرہ کرنا ہے تو عربی زبان میں بے شک کرلیں۔ اس کے باوجود ہم نے ۷ اگست مقرر کی تاکہ ووکنگ کی مسجد شاہجہان میں ان کا کوئی نمائندہ آکر شرائط طے کرے۔ لیکن ان کا کوئی نمائندہ نہ آیا تو ہم شکست کا اعلان کریں گے۔ ۷ اگست کو ہم سب شاہجہان ووکنگ میں اکٹھے ہوئے ظہر تک انکا انتظار کیا۔ مگر ان کا کوئی نمائندہ نہ آیا۔ ہم نے حاضرین سے دستخط لے کر بیان دے دیا کہ قادیانیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔

کیا برطانیہ میں ختم نبوت پر کوئی کانفرنس ہوئی؟

جی ہاں! ہم نے ۶ اگست کو شاہ جہاں مسجد ووکنگ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کی یہ وہ مسجد ہے جو پہلے ساٹھ تک قادیانیوں کا مرکز رہی۔ مسلمانوں نے مقدمہ لڑا اور پھر یہ مسجد مسلمانوں کو واگزار ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر ہے کہ یہ کانفرنس بھی کامیاب رہی۔ پہلے روز جناب یعقوب ہاشمی نے کانفرنس کی صدارت کی۔ اگلے روز کی کانفرنس کی صدارت کا شرف سفارت خانہ پاکستان سے تعلقات عامہ کے مسٹر قطب عزیز کو حاصل ہوا۔ بعد ازاں

صفحہ 23

ہم نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں ختم نبوت کے موضوع پر جلسے کئے میرا لندن آنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قادیانیوں کا ان کے مسکن موعود تک تعاقب کیا جائے قادیانیوں نے وفات مسیح کے عنوان پر جو کانفرنس کی تھی دراصل وہ ایک سازش تھی مرزا ناصر احمد نے اپنے ہمراہ دو سو آدمی لے کر گیا تھا۔ سر ظفر اللہ ایم ایم احمد سمیت کئی بڑے بڑے قادیانی وہاں موجود تھے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کانفرنس کی آڑ میں پاکستان میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے سازش کرنا ہے۔ میں حکومت کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ لندن میں بھٹو بچاؤ کی تحریک قادیانیوں کے تعاون سے چل رہی ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ پاکستان کے سفارتخانے میں کئی قادیانی گھسے ہوئے ہیں ان میں پاسپورٹ افسر بھی ہیں بہر حال میرا دورہ برطانیہ خاصہ کامیاب رہا۔ اور ہم لندن اور دوسرے شہروں میں قادیانیوں کی سازشوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

دورہ برطانیہ کے بعد آپ کہاں تشریف لے گئے؟

اس کے بعد میرا پروگرام مغربی افریقہ کا تھا۔ اگرچہ علامہ خالد محمود اور میں نے ۱۹۷۶ء میں بعض ممالک کا دورہ کیا تھا لیکن تشنگی دور نہ ہوئی تھی۔ یہ پہلا دورہ تھا عوام کو قادیانیت کے فتنے سے آگاہ کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت سے کوئی عالم وہاں نہ پہنچا تھا۔ چونکہ ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو ان ملکوں میں ہمارے لئے کام کرنے کے راستے کھل گئے ہم چاہتے تھے کہ ماضی میں ہم نے جو تبلیغی دورہ کیا ہے اس کے اثرات معلوم کریں۔ اور فتنہ قادیانیت کے خاتمہ کے لئے مزید کام کریں۔

ہم نے پہلے دورے میں پانچ چھ ملکوں کا دورہ کیا تھا اب کی بار نائیجیریا اور گھانا میں کام کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ جو قادیانیوں کے سب سے بڑے مراکز ہیں پچھلے دورے کی رپورٹ ہم نے رابطہ عالم اسلامی کے اکابرین کو دی تھی چونکہ اب کی بار بھی رابطہ عالم اسلامی

صفحہ 24

کے شیخ عبدالعزیز باز کا خصوصی تعاون حاصل تھا۔ اس لئے ان کی طرف سے ہمیں کئی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

اس تبلیغی دورے کے دوران آپ کی مالی معاونت کس نے کی؟

رابطہ عالم اسلامی کے شیخ عبدالعزیز باز نے بخوشی ہماری آمدورفت کا بذریعہ طیارہ انتظام کر دیا تھا۔ نائیجریا اور گھانا میں ہم سعودی سفارتخانے کے مہمان تھے۔

ان ملکوں میں ہمارے سفارت خانوں نے بھی اپنی بساط

کے مطابق تعاون کیا ہوگا؟

قطعاً نہیں۔ ہم نے ان ملکوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ سعودی سفارت خانے کی مرہون منت ہے۔ سعودی سفارتخانے کا بڑا عمل دخل ہے ان ملکوں میں بھی ہمارے سفارتخانے قادیانیوں کے زیر تسلط ہیں۔ اگر کوئی مسلمان ہے تو اسے بھی کوئی لگاؤ نہیں یہی وجہ ہے کہ اپنوں کی جانب سے دست تعاون نہ بڑھایا گیا۔ حتیٰ کہ گھانا جو قادیانیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے یہاں سفیر صاحب سے باتیں ہوئیں۔ انہوں نے زبانی باتیں کیں لیکن عملاً کوئی تعاون نہ کیا۔

ایسی کوئی مثال ہے آپ کے پاس؟

جناب سعودی عرب کے سفیر اس حد تک سرگرم تھے کہ ہمارے پروگرام رکھوائے۔ ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے اعلانات بھی کروائے۔ ایک اشتہار سائیکلو سٹائل کرانے کیلئے ہمیں سفارتخانے جانا پڑا۔ ہم سفارت خانہ پہنچے تو سٹاف جاچکا تھا۔ سفیر محترم نے از خود معلوم کر لیا تھا۔ انہوں نے سٹاف کی عدم موجودگی میں خود ہی اشتہار سائیکلو سٹائل کر دیا۔

صفحہ 25

نائجیریا کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

نائجیریا کا دورہ خاصا کامیاب رہا۔ ہم پندرہ سولہ دن نائجیریا میں رہے۔ نائجیریا کی فضاء پہلے سے کچھ ہموار ہے انصار الدین اور انوار الاسلام دو خاص مضبوط تنظیمیں ہیں جو کام کر رہی ہیں اور ایک عرصے سے قادیانیت سے تائب ہوچکی ہیں پہلے دورہ میں ہمیں ان کا خاصا تعاون حاصل رہا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہوئے۔ لاگوس سے ۲۰ میل دور اکورڈو میں تقریباً ایک ہزار قادیانی مشرف بااسلام ہوگئے۔ حتیٰ کہ ان کا امام بھی مسلمان ہوا اور وہ عبادت گاہ جو قادیانیوں کے پاس تھی اب مسلمانوں کے پاس ہے اسی طرح اکری میں کافی تعداد میں قادیانی تائب ہوئے۔

سنا ہے ان دنوں مرزا ناصر بھی نائجیریا جارہے تھے؟

یہ خبر درست ہے کہ مرزا ناصر لندن سے فارغ ہونے کے بعد افریقہ کا دورہ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے لندن سے نائجیریا کا ویزا بھی حاصل کرلیا تھا۔ نائجیریا میں اس کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں حتیٰ کہ پیلس ہوٹل لاگوس میں مرزا ناصر کیلئے کمرے بھی ریزرو کرالئے گئے تھے مرزا ناصر کی آمد کے سلسلے میں قادیانی بڑے بڑے اشتہارات شائع کر رہے تھے۔ اخبارات کے اشتہارات میں اہلاً و سہلاً مرحبا، امیر المومنین خلیفہ ثالث، اسلام کا ترجمان وغیرہ لکھا ہوتا۔ جب نائجیریا کے مسلمانوں نے قادیانی مذہب کے پیشواء کی آمد کے اشتہارات پڑھے تو انہوں نے شدید احتجاج کیا اور کہا حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے سعودی عرب میں حج کے موقع پر ان کا داخلہ بند ہے اب اگر مرزا ناصر امیر المومنین کا روپ دھار کر نائجیریا آیا تو پھر بڑے پیمانے پر بدامنی ہوگی۔ اس سلسلے میں ابوبکر ثالث نے اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نائجیریا

صفحہ 26

نے مرزا ناصر احمد کا ویزا منسوخ کر دیا۔ اس ملک میں یہ ہماری بڑی کامیابی ہے۔ کہ جہاں اس وقت کئی صوبوں میں قادیانی وزارتیں اور بڑی تعداد میں بڑے بڑے عہدوں پر قادیانی قابض ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب آج سے ۸ سال قبل ۱۹۷۰ء میں مرزا ناصر نے نائیجیریا کا ارادہ کیا تو اس وقت کے صدر یعقوب گوان بہ نفس نفیس ائر پورٹ پر استقبال کرنے آئے۔ اور مرزا ناصر ان کا سرکاری مہمان تھا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے فیصلے، رابطہ عالم اسلامی کی کوشش کے بعد ہم نے اس حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کہ جس ملک میں مرزا ناصر سرکاری مہمان کی حیثیت سے قیام کرنا تھا وہاں پر اس کے داخلے کی اجازت نہ ملی۔

آپ نائیجیریا میں کامیابی سے مطمئن ہیں؟

جی ہاں! ہم کسی حد تک مطمئن ہیں لیکن ہم اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر وہاں کام کیا جائے تو بڑی زرخیز مٹی ہے اور اس کے بہت جلد مثبت نتائج برآمد ہوں گے افسوس یہ ہے کہ وہاں پر ہمارا کوئی ایسا مبلغ جو اس فتنے کا ماہر ہو۔ انگریزی اور عربی دونوں پر عبور رکھتا ہو موجود نہیں۔ ۷۶ میں ہم ہی گئے اور اب بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی۔ بہر حال اس دفعہ ہم نے وہاں اسکولوں اور کالجوں میں تبلیغ کی۔ ہم نے اسلام کا پیغام نوجوانوں میں پہنچایا۔

آپ اپنے ہمراہ کوئی کتابیں بھی لے کر گئے تھے؟

ہم ان کے عقائد کی مستند کتابیں اپنے ساتھ لے کر گئے تھے ہم نے ان کتابوں سے حوالے دیئے۔ لاگوس سے ۷۰ میل دور جو کوٹہ میں قادیانیوں نے اپنی کتابوں کی ایک نمائش منعقد کی۔ ہم نے وہاں پر چیف امام سے مشورہ کر کے اگلے ہفتے کانفرنس کے موقع پر پروگرام

صفحہ 27

طے کیا۔ وہاں چند پاکستانی دوستوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر صابر حسین شاہ سے ملاقات ہوئی جب انہوں نے ہمارے پاس کتابوں کا بکس دیکھا تو انہیں عید کے چاند سے زیادہ خوشی ہوئی۔ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ لوگوں کو بلانے کا پروگرام بنارہے تھے کہ اللہ نے خود ہی آپ کو یہاں بھیج دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ایک بڑا موثر قادیانی ہے۔ جس نے بیس ہزار لیرے سے قادیانی عبادت گاہ بنائی ہے اس کے بیٹے تو ڈاکٹر صابر کی تبلیغ سے قادیانیت سے تائب ہوگئے ہیں لیکن وہ نہیں مانتا ہے چونکہ وہ پڑھا لکھا آدمی ہے اس لئے کتابیں دیکھنے پر اصرار کرتا ہے شکر ہے کہ آپ اپنے ہمراہ کتابیں لائے ہیں ہم نے اس پختہ عقیدہ قادیانی کو کتابیں دکھائیں اور کتابوں کے حوالے بتائے۔ وہ شخص عربی سمجھتا تھا پون گھنٹے تک حوالے بتاتا رہا۔ اس شخص پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور پھر قادیانیت سے تائب ہوگیا۔ پھر اس نے کہا کہ وہ اپنی بستی میں قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کرے گا۔ تاکہ ہزاروں آدمی تائب ہوں۔

گھانا کی کیا صورت حال ہے؟

گھانا قادیانیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے ۵۰ کے لگ بھگ ایسے ہائی سکول و کالج سینکڑوں پرائمری سکول اور ہسپتال ہیں جو قادیانیوں کے زیر انتظام ہیں ہم جب وہاں پہلی مرتبہ گئے تھے تو صحیح طور پر کام نہ کرسکے تھے۔ اس دفعہ سعودی سفیر کے خصوصی تعاون سے بہت کام کیا۔ دارالحکومت اکرہ میں پندرہ روز تک کام کیا۔ مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ وہاں پر یہ معلوم کرکے بہت افسوس ہوا کہ قادیانیوں اور عیسائیوں کے مشنوں کے سوا ایک بھی مسلم سکول نہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے ایک پرائمری سکول قائم کیا ہے لیکن وہ بھی غیر منظور شدہ ہے وہاں پر مسلم منتظمین موجود ہیں لیکن انہوں نے جو اپنی مشکلات بتائیں وہ یہ کہ آج سے پچاس سال قبل جو تعلیمی یونٹ منظور ہوئے ہیں عیسائیوں اور

صفحہ 28

مسلمانوں کے رہنماؤں کو اجازت دی گئی۔ مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں نے اجازت حاصل کر لی۔ اب ہم اگر سکول کھولنا چاہتے ہیں تو ہمیں اجازت نہیں ملتی۔ تمام تعلیمی ادارے قادیانیوں کے زیر کنٹرول ہیں اسلئے وہ مجبور ہیں کہ اپنے بچوں کو قادیانیوں یا عیسائیوں کے تعلیمی اداروں میں داخل کرائیں۔ ان سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل اکثر ایسے اساتذہ ہیں جو ربوہ میں سے تعلیم یافتہ ہیں۔ آٹھ دس سال تک انہیں ربوہ میں تعلیم دی جاتی ہے۔ قرآن مجید کا انگریزی زبان میں تحریف شدہ ترجمہ لاکھوں کی تعداد میں وہاں تقسیم کیا جاتا ہے۔

آپ نے اس کا کوئی علاج سوچا ہے؟

ہم نے مغربی افریقہ کے ممالک کے سامنے تجویز رکھی ہے کہ وہ اپنے ہاں سے نوجوان بھیجیں ہم انہیں دینی تعلیم کیلئے آٹھ سال ٹریننگ دیں گے۔ انہوں نے اس امر پر آمادگی کا اظہار کیا ہے فی الحال دس طلباء کی آمد متوقع ہے اسی طرح نائجیریا وغیرہ سے بھی ۲۰ کے لگ بھگ طلباء آئیں گے۔ فروری میں گھانا کے لڑکے پہنچ رہے ہیں۔ ہم نے بھی گھانا میں اپنا ایک ایسا مبلغ بھیج رہے ہیں جو انگریزی عربی اور گھانا سے بھی واقف ہو۔ ہم نے اس کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ان شاء اللہ خاصی کامیابی ہو گی۔

آپ ربوہ کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟

چونکہ قادیانیوں نے قرآن مجید میں ایک خطرناک معنوی تحریف کرتے ہوئے اپنے عالمی مرکز کا نام ربوہ رکھا ہے اور وہ یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن کریم کے پارہ نمبر ۱۸، آیت نمبر ۵۰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہ السلام کے ذکر میں جو ربوہ کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد یہی ربوہ ہے جو پاکستان میں موجود ہے اور یہ مکہ مدینہ کی طرح مقدس شہر ہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے۔

صفحہ 29

چنانچہ ہمیں دورہ افریقہ میں خاص طور پر اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا پڑا۔ کہ قرآن کریم جو لفظ ربوہ آیا ہے اس سے مراد جو کہ قادیانیوں کا مرکز ہرگز نہیں ہے۔ مرزائیوں کے ان خلاف اسلام سرگرمیوں کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے اور ”ربوہ“ کا نام تبدیل کیا جائے اور اسے میونسپلٹی چنیوٹ کی حدود میں شامل کیا جائے۔

آپ نے حکومت کی توجہ اس کے علاوہ کن امور کی

طرف مبذول کرائی؟

جب سے محکمہ اوقاف قائم ہوا ہے قادیانیوں کے اوقاف نہ تو مسلم اوقاف میں لئے گئے اور نہ ہی غیر مسلم اوقاف میں لئے گئے اب جبکہ قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جا چکے ہیں حکومت کو چاہئے کہ ان کے اوقاف اپنی تحویل میں لے تاکہ قادیانیوں کے ساتھ جو ایک مدت سے جو ترجیحی سلوک کیا جارہا ہے اس کا خاتمہ ہوسکے اور ان کی تبلیغی اور مذہبی سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔

قادیانی قرآن کریم کے انگریزی اور دیگر زبانوں میں تراجم شائع کر رہے ہیں یہ تراجم تحریف شدہ ہیں اور یہ بات اور بھی افسوس ناک ہے کہ تحریف شدہ تراجم نہ صرف بیرون ملک بھیجے جارہے ہیں بلکہ اندرون ملک بھی تقسیم کئے جارہے ہیں چونکہ پاکستان کو اسلامی قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے اس کی صحت کیلئے مطبوعہ پاکستان ہونا ہی کافی سند سمجھا جاتا ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں کی گمراہی کا اندیشہ ہے قرآن حکیم میں تحریف ایک شدید جرم ہے لہذا قادیانیوں کو اس جرم کے ارتکاب سے روکا جائے اور ان کے ترجمہ قرآن پر پابندی لگا کر انہیں بحق سرکار ضبط کیا جائے تاکہ مسلمان ان کے مذموم ہتھکنڈوں سے محفوظ ہو سکیں۔

نمائندہ خصوصی ہفت روزہ چٹان

الحمد للہ فاتح قادیانیت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کی سالہا سال کی کوششیں رنگ لائیں اور مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۹۸ء کو پنجاب اسمبلی نے ربوہ نام کی تبدیلی کی قرارداد منظور کی۔

صفحہ 30

افریقہ میں صحیح العقیدہ مسلم مبلغین کی ضرورت

والد نے پانچ بیٹوں میں سے دو دین کی تعلیم کیلئے وقف کر دئیے ۔

افریقہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا خصوصی مرکز ہے اور قادیانی امت نے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے دور وزارت میں بیرونی ممالک میں اپنے اثرات پھیلانے اور مشن قائم کرنے میں پوری دلچسپی لی ہے ۔ ان بیرونی مشنوں میں سب سے زیادہ مشن افریقی ممالک میں ہیں ۔ اور ان ممالک میں قادیانیوں کے سینکڑوں تبلیغی مشن اور مدارس و مکاتب مصروف عمل ہیں چونکہ قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ربوہ پاکستان ہے اور پاکستان دنیا کے اہم ترین مسلم ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ اس لئے پاکستان کا نام ان کی تبلیغ اور مشن کے لئے سند سمجھا جاتا رہا۔ حتی کہ ۱۹۷۴ء میں عظیم الشان تحریک ختم نبوت کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو اس وقت دنیا کو پہلی بار پتہ چلا کہ قادیانی امت مسلمانوں سے مختلف ہے ورنہ انہیں مسلمانوں کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ خود کو یہی ظاہر کر کے دنیا کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔

لیکن قومی اسمبلی کے فیصلہ کے باوجود بیرونی ممالک میں قادیانیوں کے اثر و رسوخ اور منظم کام کرنے کی وجہ سے اس حقیقت کی اشاعت پوری طرح نہ ہو سکی۔ اور قادیانی امت نے اس فیصلہ کے بارے بھی شکوک و شبہات کی فضاء قائم کرنا شروع کر دی ۔ چنانچہ قادیانیوں کے پروپیگنڈے کے جواب میں اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کی تشہیر کے لئے دو ممتاز پاکستانی علماء برطانیہ میں اسلامک اکیڈمی کے صدر علامہ خالد محمود اور جمعیت علماء اسلام

صفحہ 31

پنجاب کے شعبہ تبلیغ کے سربراہ اور ختم نبوت کے عالمی مبلغ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ۱۹۷۶ء میں افریقی ممالک کینیا، گھانا، سیرالیون، نائیجیریا اور گیمبیا کا دورہ کیا اور کم و بیش ایک ماہ تک ان ممالک میں عمومی اور خصوصی اجتماعات میں شرکت کر کے افریقی عوام کو قادیانی امت کے عقائد اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر یہ ضرورت سامنے آئی کہ قادیانی گروہ نے ربوہ میں افریقی ممالک کے طلباء کو تعلیم و تربیت دینے کا خصوصی انتظام کر رکھا ہے اور وہ یہاں تعلیم حاصل کر کے اپنے علاقوں میں جاتے ہیں اور موثر طریقے قادیانی مشن کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن مسلم طلبہ کو اس قسم کی تعلیم دینے کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہے۔

چنانچہ دورے سے واپسی پر مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اس قسم کے انتظامات کے امکانات کا جائزہ اور ذہن میں ایک مرتب کر کے ۱۹۷۸ء میں دوبارہ افریقی ممالک کا دورہ کیا اور افریقی مسلمانوں سے تقاضا کیا کہ وہ اپنے نو آموز بچے اس مقصد کیلئے وقف کریں جن کی تعلیم کا وہ پاکستان میں اہتمام کریں گے اور یہ بچے واپس آکر اپنے ممالک میں اسلام کی صحیح تبلیغ کرسکیں گے۔ چنانچہ متعدد افریقی مسلمانوں نے اس دعوت پر لبیک کہا اور گھانا، نائجیریا اور سیر سیرالیون سے دس دس بچوں کے گروپ تیار ہوئے اور بات طے پائی کہ ان کی آمد و رفت کے اخراجات والدین کے ذمہ ہوں گے جبکہ پاکستان میں قیام و طعام اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات مرکزی ادارہ دعوت و ارشاد چنیوٹ اور جامعہ عربیہ چنیوٹ برداشت کریں گے۔ ان دونوں اداروں کے انچارج مولانا منظور احمد چنیوٹی ہیں۔

ان میں گھانا کے چھ بچوں کا ایک گروپ چنیوٹ پہنچ چکا ہے۔ اور جامعہ عربیہ چنیوٹ میں تعلیم کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں جمعیت العلماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پاکستان قومی اتحاد پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی ان طلبہ سے ملاقات کیلئے چنیوٹ تشریف لائے اور مختلف نشستوں میں افریقہ کی

صفحہ 32

صورت حال کے طلبہ کے عزائم اور مستقبل کے پروگرام کے بارے میں ان سے بات چیت کی چونکہ یہ طلبہ اپنی مادری زبان یا انگلش میں بات چیت کر سکتے ہیں اس لئے راقم الحروف نے ترجمان کے فرائض سر انجام دیئے ۔ بچوں کے پاکیزہ جذبات اور عزائم دیکھ کر راقم الحروف نے اس گفتگو کو ریکارڈ کر لیا جو پاکستانی عوام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔

محمد عیسیٰ :۔

اس گروپ میں پہلا بچہ محمد عیسیٰ گھان کے دارالحکومت عکرہ سے ۱۱۵ میل دور واقع بڑے شہر کوپ کوسٹ کے نواحی گاؤں کشیا کا رہنے والا ہے ۔ والد کا نام محمد موسیٰ ہے پیدائشی مسلمان ہے میٹرک تک تعلیم حاصل کر چکا ہے ۔ مادری زبان چی ہے لیکن انگلش روانی کے ساتھ بولتا ہے اس نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ دین اسلام کی تعلیم اس لئے حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی قوم میں جاکر صحیح دین کی تعلیم دے سکے اور قادیانیوں نے اس کے علاقے میں مکر و فریب کا جو جال بچھا رکھا ہے اس کے تار و پود کو بکھیر سکے ۔

ابراہیم عبداللہ :۔

گروپ میں ابراہیم اور عبداللہ نامی دو سگے بھائی جن کے باپ کا نام بھی ابراہیم ہے یہ عکرہ سے ۴ میل دور ڈنسو نامی جگہ کے رہنے والے ہیں ۔ ابراہیم کی عمر ۱۵ سال ہے اور فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا جبکہ عبداللہ کی عمر ۱۴ سال ہے اور میٹرک میں تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔ ان بچوں نے بتایا کہ وہ پانچ بھائی ہیں جب مولانا منظور احمد چنیوٹی نے دین اسلام کی تعلیم کیلئے طلبہ بھیجنے کا مطالبہ کیا تو ان کے والد نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم و تبلیغ کے لئے وقف کر دے گا ۔ چنانچہ وہ اسی فیصلہ کے تحت یہاں آئے ہیں اور یہاں بہت خوش ہیں ۔

صفحہ 33

عبداللہ رشید :۔

گروپ کا سب سے بڑا لڑکا عبداللہ رشید عکرہ سے ۲۴ میل دور کراویا کا رہنے والا ہے۔ اس کی عمر ۲۵ سال ہے اور وہ ایک ٹیکنیکل سکول میں الیکٹریشن کی ٹریننگ حاصل کر رہا تھا اس کے والدین عیسائی ہیں اور باپ کا نام انقرہ ہے۔

رشید کی ہمشیرہ کا خاوند مسلمان ہے اور اس کی کوشش اور توجہ سے ۵ سال قبل عبداللہ رشید نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اور جب مولانا چنیوٹی گھانا کے دورے پر گئے تو اس نے ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر خود کو دین کی تعلیم کیلئے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ رشید کے والد ڈرائیور ہیں لیکن غیر مسلم ہونے کے باوجود انہوں نے رشید کے جذبات کی قدر کی۔ اور اسے طلبہ کے گروپ میں پاکستان آنے کی اجازت دے دی۔

عیسیٰ :۔

عکرہ کے نواحی گاؤں کوڈوا کے رہنے والے ۲۰ سالہ عیسیٰ کے والد کا نام متی ہے اور وہ پیدائشی مسلمان ہے آٹھویں جماعت تک آٹو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ اس نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسے صرف دین حق کا جذبہ یہاں کھینچ لایا ہے اور ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ خدا کے سچے دین اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی کی حفاظت کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کر دیں۔

سلیمان :۔

عکرہ سے سات میل دور منہیا کا رہنے والا ہے۔ ۱۵ سالہ سلیمان بھی عیسائی والدین کا فرزند ہے اس کے والد کا نام نیلسن ہے اور وہ سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے اس نے بتایا کہ اُن کے سکول میں مذہب کے بارے میں اکثر بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ اور ایک سینئر طالب علم

صفحہ 34

مسلمان تھے۔ جو مجھے اسلام کے بارے میں باتیں بتاتا رہتا تھا چنانچہ اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر میں نے اسلام قبول کر لیا۔ والدین نے مخالفت کی لیکن عبداللہ اور ابراہیم (دونوں بچے اس گروپ میں شامل ہیں) کے والدین نے جو ہمارے رشتہ دار ہیں میری حمایت کی اور میری حوصلہ افزائی کی اور انہی کوششوں سے میں طلبہ کے اس گروپ میں شامل رہا ہوں۔

ان تمام طلباء نے اپنے عزائم کے بارے میں بیک زبان یہی کہا کہ وہ صرف دین حق کی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں تاکہ اپنے وطن جا کر سچے دین کی روشنی پھیلا سکیں۔ اور انہوں نے خود کو اس عظیم مقصد کے لئے وقف کر دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا موسم گھانا کے موسم سے مختلف ہے۔ اور یہاں کا درجہ حرارت وہاں سے زیادہ ہے اسی طرح یہاں کی خوراک بھی وہاں سے مختلف ہے بالخصوص مسلمان بھائی محبت اور شوق میں ان کی جو دعوتیں کرتے ہیں ان کا کھانا ہمارے لئے بالکل اجنبی ہوتا ہے اسی طرح انہیں والدین کی یاد بھی کبھی کبھی ستاتی ہے لیکن یہ ساری مشکلات ان کے پائے استقلال میں جنبش پیدا نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ وہ ایک عظیم مشن کے لئے اپنا وطن چھوڑ کر آئے ہیں اور اس کے لئے بڑی سے بڑی تکلیف کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔

تعلیمی پروگرام :-

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان طلبہ کو پہلے مرحلہ میں اردو سکھانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ جو اندازاً چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا اس کے بعد درس نظامی کا متوسط کورس اور بی اے تک عصری تعلیم کا خاکہ مرتب کیا گیا جو آٹھ سال میں مکمل ہو گا اور اس دوران قادیانیت کے بارے میں تفصیلی معلومات اور تربیت بھی دی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

صفحہ 35

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ انہوں نے صرف ان بچوں کی خاطر اپنے تبلیغی پروگراموں کا سلسلہ بالکل کم کر دیا ہے وہ خود ان کی تعلیم و تربیت کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گھانا سے چار بچے اور آئیں گے اور اسی طرح نائجیریا اور سیر الیون سے دس دس بچوں کے گروپ بھی عنقریب پہنچنے والے ہیں۔

تعلیمی اخراجات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ تقریباً ۵۰۰ روپیہ ماہوار ایک طالب علم کا خرچہ ہے اور متعدد اصحاب خیر نے ایک ایک بچہ کا خرچہ اپنے ذمے لے لیا ہے اور باقی کیلئے کوشش جاری ہے۔

مولانا نے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ افریقی طلبہ کو دینی تعلیم دینے کی یہ مہم نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ اور یہ بچے افریقہ میں دین حق کی روشنی پھیلانے اور قادیانی مکر و فریب کے ازالہ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

نوٹ :۔ گھانا سے مزید دو بچے پہنچ چکے ہیں۔

PDF 38

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت ۱ القادیانی ومعتقداتہ عربی مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰ ۲ قادیانی اور ان کے عقائد اردو “ “ ۳۰ ۳ انگریزی نبی اردو “ “ ۲۵ ۴ عبرتناک انجام اردو “ “ ۳۵ ۵ علماء کنونشن اردو “ “ ۲۰ ۶ بوڑھیو اس کو ہاں نہ بیاہئے اردو “ “ ۲۵ ۷ دورہ افریقہ اردو “ “ ۶۰ ۸ مناظرہ نائیجیریا اردو “ “ ۶۰ ۹ The Double Dealer انگلش “ “ مفت ۱۰ Al-Qadiani & His Faith انگلش “ “ ۳۰ ۱۱ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کا تعارف اردو “ “ ۳۰ ۱۲ مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ اردو “ “ ۳۰ ۱۳ حصول الامانی فی الرد علی تلبیس القادیانی اردو “ “ ۲۲۰ ۱۴ Africa Speakes The Truth انگلش “ “ ۵۰ ۱۵ دورہ یورپ وافریقہ اردو “ “ ۵۰ ۱۶ تصویر کے دو رخ اردو “ “ ۲۵ ۱۷ برطانیہ میں مراسلت مباہلہ اردو “ “ ۳۰ ۱۸ ربوہ کا نام تبدیل کرو اردو “ “ ۲۰ ۱۹ الحقائق الاصلیہ فی جواب اللجۃ الفتریہ اردو “ “ ۴۰

PDF 39

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات

نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت

۲۰ چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے اردو " " ۲۰ ۲۲ معرکہ حق و باطل اردو " " ۷۰ ۲۳ فتوی حیات مسیح اردو " " ۱۳۰ ۲۴ پنجابی نبی اردو " " ۳۰ ۲۵ مناظرہ ناروے اردو " " ۴۰ ۲۶ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا اردو " " ۴۰ ۲۷ معرکہ حق و باطل قادیانیت کے خلاف اردو " " ۴۰ ۲۸ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو " " ۷۰ ۲۹ حرف ناقدانہ بجواب اک حرف ناصحانہ اردو " " ۲۰ ۳۰ ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو " " ۲۵ ۳۱ نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۰ ۳۲ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ ۳۳ قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۵ ۳۴ الحق الصریح مما تواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶ خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷ تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر و ماسٹر محمد روز ۵۰ ۳۸ تقریب سنگ بنیاد اردو و عربی استاد اشفاق ناصر و ملک مختار احمد ۵۰ ۳۹ خسوف و کسوف اردو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰

PDF 40

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کا مختصر تعارف و اپیل

حضرات تقسیم ملک کے بعد چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر امت مرزائیہ (انگریز کا خود کاشتہ پودا) نے اپنا ایک مستقل مرکز ربوہ (مرزائیل) کے نام سے قائم کیا۔ یہ ان کی ارتدادی اور تخریبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جس میں تعلیم، علاج، ملازمت، رشتہ وغیرہ کے لالچ اور دیگر مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے اس میں ان کا ایک مستقل ادارہ نظارت اصلاح وارشاد کے نام سے قائم ہے جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے مبلغ تیار کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔

ہر زبان میں گمراہ کن لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا سالانہ بجٹ لاکھوں روپے ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید ضرورت تھی کہ قادیانیوں کے اس ادارے کے مقابلہ میں شہر چنیوٹ میں ایک مضبوط اور مستقل ادارہ قائم ہو جس کا مقصد وحید ان کا علمی، تبلیغی، سیاسی اور دینی محاسبہ کرنا ہو۔ الحمد للہ کہ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر استاذ العلماء محدث عصر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی زیر سرپرستی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد ۱۹۷۰ء کو چنیوٹ میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تین بنیادی شعبے ہیں۔ تعلیم۔ تصنیف۔ تبلیغ محلہ ترکھاناں۔ سیٹلائٹ ٹاؤن۔ چٹھہ کا کھوہ چاہ توتاں والے پر شعبہ حفظ کی شاخیں کام کر رہی ہیں۔

ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات باحسن طریق اندرون و بیرون ملک سر انجام دے رہا ہے۔ ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً 24 لاکھ روپے ہے۔ تعمیراتی کام اس کے علاوہ ہے جس میں آپ کے ہر قسم کے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس ادارے کے مستقل معاون بن کر خدام خاتم النبین ﷺ کی فہرست میں اپنا نام رجسٹرڈ کرائیں اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی روح مبارک کو خوش کریں اور استدعا ہے کہ زکوۃ عشر، صدقات وغیرہ اور تعمیری سامان دے کر ثواب دارین حاصل کریں

ترسیل زر :

الداعی الی الخیر (خادم ختم نبوت) منظور احمد چنیوٹی

ناظم اعلی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان

فون نمبر : 332820-0466 فیکس 331330-0466 E mail . chiniot@fsd.comsats.net.pk